Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء ثاني · dars-010

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Muhammad Ghayyas
📍 Location Lahore, Pakistan
📅 Approved Date 08 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 30
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
آگے سبق دیکھیے بھئی: ”ولا بأمه من الرضاعة ولا بأخته من الرضاعة، لقوله تعالى: {وأمهاتكم اللاتي أرضعنكم وأخواتكم من الرضاعة}، ولقوله عليه السلام: "يحرم من الرضاع ما يحرم من النسب"، ولا يجمع بين أختين نكاحاً ولا بملك يمين وطأً“. بھئی گزشتہ سبق میں محرمات کے بارے میں صاحبِ ہدایہ نے بیان کرنا شروع کیا تھا۔ یعنی وہ عورتیں جن کے ساتھ نکاح حرام ہے۔ میں نے آپ کو بتلایا کہ محرمات دو قسم پر ہیں: کچھ محرم ہیں مؤبد بھئی، ہمیشہ کے لیے، اور کچھ محرم ہیں مؤقت بھئی، کچھ وقت کے لیے یعنی وہاں کوئی مانع موجود ہوتا ہے۔ حرمتِ مؤبدہ ہے مثلاً ماں ہے، بہن ہے، بیٹی وغیرہ، ان کو محرم کہتے ہیں۔ جو انسان پر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے حرام ہیں اور وہاں نکاح کی کوئی صورت نہیں، تو یہ محرماتِ مؤبدہ ہیں اور ان کو محرم کہتے ہیں۔ اور کچھ محرماتِ مؤقتہ ہیں یعنی کچھ وقت کے لیے، وہاں نکاح نہیں ہو سکتا، کوئی مانع موجود ہے۔ جب وہ مانع چلا جائے گا پھر نکاح جائز ہوگا، مثلاً زید کی منکوحہ ہے وہ زید کے نکاح میں ہے تو کوئی اور اس سے نکاح نہیں کر سکتا کیونکہ زید سے اس کا نکاح ہو چکا ہے۔ ہاں، اگر زید نے اس کو طلاق دے دی یا زید کا انتقال ہو گیا تو پھر اس کے بعد کوئی دوسرا اس کے ساتھ نکاح کر سکتا ہے بھئی۔ صاحبِ قدوری نے بتلایا کہ کسی شخص پر اس کی ماں اور اس کی دادیاں نانیاں جو ہیں وہ حرام ہیں، چاہے وہ مردوں کی طرف سے ہوں یعنی باپ کی طرف سے ہوں اور چاہے عورتوں کی طرف سے یعنی ماں کی طرف سے ہوں، تو یہ سب دادیاں نانیاں انسان پر حرام ہیں۔ اور دلیل ذکر فرمائی تھی کہ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں: ”{حرمت عليكم أمهاتكم}“ کہ تم پر تمہاری مائیں حرام کر دی گئی ہیں۔ اب یہاں سوال پیدا ہوا کہ امہات جمع ہے ام کی، اور ام ماں کو کہتے ہیں۔ اس آیت سے تو صرف ماں کی حرمت کا پتہ چلا، یہ دادیوں نانیوں کے حرمت کے لیے یہ آیت کیسے آپ دلیل بنا سکتے ہیں؟ تو صاحبِ ہدایہ نے بتلایا تھا کہ ام جو ہے عربی زبان میں اصل کو کہتے ہیں۔ میں نے بتلایا تھا ایک ہے اصل اور ایک ہے فرع۔ اصل جو ہے وہ جڑ کو کہتے ہیں اور فرع یہ شاخ کو کہتے ہیں۔ جڑیں ہوں گی تو اس سے آگے تنا اور شاخیں نکلیں گی، جڑیں نہیں تو شاخیں اور تنا بھی نہیں ہو سکتے، تو جڑیں ہیں اصل۔ تو جڑوں کو اصول کہتے ہیں اور شاخیں فرع ہیں، اور فرع کی جمع فروع، تو شاخوں کو فروع کہتے ہیں۔ تو یہاں پر امہات کا ذکر آیا اور ام جو ہے عربی زبان میں اصل کو کہتے ہیں، اور یہ دادیاں نانیاں یہ سب بھی کیا ہیں؟ انسان کے لیے اصل ہیں۔ تو عربی زبان کے اعتبار سے ان سب پر ام کا لفظ بولا جاتا ہے، یہ سب ام ہیں۔ ماں بھی ام یعنی اصل ہے، دادیاں نانیاں بھی ام یعنی اصل ہیں بھئی۔ تو یعنی کہنا یہ چاہتے ہیں صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ یہ دادیوں نانیوں کی حرمت بھی آیت ہی سے ثابت ہے، یا ان کے لیے دلیل جو ہے وہ اجماع ہے کہ تمام فقہائے اسلام کا اس بات پر اتفاق اور اجماع ہے کہ دادیوں نانیوں سے یعنی اپنے اصول میں جو عورتیں ہیں ان سے نکاح جائز نہیں ہے بھئی۔ اور اسی طرح آیت میں آیا: ”{وبناتكم}“ اور تمہاری بیٹیاں بھی تم پر حرام ہیں بھئی۔ اور اسی طرح آگے آیت میں آیا: ”{وأخواتكم}“ اور تمہاری بہنیں بھی تم پر حرام ہیں، اور میں نے بتلایا تھا کہ بہنیں تین قسم پر ہیں: یا وہ بہن حقیقی ہوگی، یا علاتی ہوگی، یا اخیافی ہوگی۔ حقیقی بہن وہ ہے کہ اس شخص کا اور اس کی بہن دونوں کے ماں باپ ایک ہی ہوں۔ بعض اوقات دونوں کے ماں باپ ایک ہی ہوتے ہیں، بعض اوقات دونوں کا باپ ایک ہوتا ہے، ماں الگ الگ، اور بعض اوقات ماں ایک ہوتی ہے اور باپ الگ الگ۔ مثلاً ایک شخص ہے اس کی بہن ہے، دونوں کے ماں باپ ایک ہی ہیں۔ یعنی اس آدمی کے جو ماں باپ ہیں وہی اس کی بہن کے بھی ماں باپ ہیں تو اس کو اس کی حقیقی بہن کہیں گے۔ اور اگر صرف باپ ایک ہے، مائیں الگ ہیں، مثلاً ایک شخص کی دو بیویاں ہیں، ایک بیوی سے بیٹا ہے اور دوسری بیوی سے بیٹی ہے، تو یہ دونوں بھی آپس میں بہن بھئی ہیں۔ بہن بھئی ہیں لیکن مائیں ان کی الگ الگ ہیں، باپ تو ایک ہے لیکن مائیں الگ، تو ان کو علاتی بھئی بہن کہیں گے۔ اور اگر ماں ایک ہے اور باپ الگ ہے، مثلاً ایک عورت نے کسی شخص سے نکاح کیا تھا اس سے اولاد ہوئی، پھر اس نے طلاق دے دی اور پھر اس عورت نے کسی اور آدمی سے نکاح کر لیا، اس آدمی سے بھی اس عورت کی اولاد ہوئی، تو یہ جو اولاد ہے عورت کی، ان کی ماں تو ایک ہی ہے لیکن باپ الگ الگ ہیں تو ان کو کیا کہیں گے؟ اخیافی بھئی بہن۔ تو بہنیں تین قسم کی ہو سکتی ہیں: حقیقی بہنیں بھی، علاتی بہنیں بھی اور اخیافی بہنیں بھی۔ تو قرآن میں کیا آیا کہ تمہاری بہنیں تم پر حرام ہیں۔ اور صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ یہ اسم کی جہت عام ہے، اسم کی جہت یعنی یہ بہن کی جہت عام ہے، یہ سب پر بولا جاتا ہے، چاہے حقیقی بہن ہو اس کو بھی بہن کہتے ہیں، علاتی بہن ہو اس کو بھی بہن کہتے ہیں، اخیافی بہن ہو اس کو بھی بہن کہتے ہیں۔ تو اسم کی جہت عام ہے یعنی تینوں قسم کی بہنوں کو شامل ہے۔ اسی طرح قرآن میں آگے اللہ فرماتے ہیں: ”{وعماتكم وخالاتكم}“ اور تمہاری پھوپھیاں اور خالائیں بھی تم پر حرام ہیں۔ تو پھوپھیاں اور خالائیں یہ بھی تین قسم کی ہو سکتی ہیں۔ پھوپھی کہتے ہیں باپ کی بہن کو، باپ کی بہن جو ہے وہ اس کی حقیقی بہن بھی ہو سکتی ہے، علاتی بہن بھی ہو سکتی ہے اور اخیافی بہن بھی ہو سکتی ہے، لیکن عمہ کا جو اسم ہے ”عمة“، یہ اسم کی جہت عام ہے۔ باپ کی جو بہن ہے چاہے وہ حقیقی بہن ہو، علاتی بہن ہو یا اخیافی بہن ہو، یہ عمہ کا لفظ سب پر بولا جاتا ہے، ہر ایک کو عمہ کہتے ہیں یعنی پھوپھی کہتے ہیں۔ تو عمہ کا جو اسم ہے اس کی جہت عام ہے یعنی یہ سب پر بولا جاتا ہے۔ اسی طرح خالہ کہتے ہیں ماں کی بہن کو، اور ماں کی بہن بھی تین طرح کی ہو سکتی ہے: حقیقی بھی ہو سکتی ہے، علاتی بھی اور اخیافی، تو جب کہا کہ تمہاری خالائیں تم پر حرام ہیں تو تینوں قسم کی خالائیں اس میں داخل ہو گئیں۔ تو قرآن میں اللہ کیا فرماتے ہیں: ”{وعماتكم وخالاتكم}“ اور تمہاری پھوپھیاں اور تمہاری خالائیں بھی تم پر حرام ہیں، اور میں نے بتایا کہ عمہ اور خالہ یہ اسم عام ہیں، یہ ہر قسم کی عمہ اور ہر قسم کی خالہ کو شامل ہیں تو وہ تینوں قسم کی حرام ہو گئیں۔ آگے قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ”{وبنات الأخ وبنات الأخت}“ اور بھئی کی بیٹیاں یعنی بھتیجیاں، ”{وبنات الأخت}“ اور بہن کی بیٹیاں یعنی بھانجیاں۔ یاد رکھو بھتیجیاں اور بھانجیاں بھی انسان پر حرام ہیں، وجہ یہ کہ بھئی بہنوں کی اولاد اپنی اولاد کی طرح ہوتی ہے اور جیسے اپنی اولاد انسان پر حرام ہے تو بھئی بہنوں کی اولاد بھی اس پر حرام ہے، وہاں نکاح کی کوئی صورت نہیں، اور بھئی بہن میں نے بتلا دیا کہ بھئی بہن حقیقی بھی ہو سکتے ہیں، علاتی بھی اور اخیافی بھی، تو جو بھی بھئی ہو چاہے حقیقی ہو، علاتی ہو یا اخیافی، اس کی بیٹیاں انسان پر حرام۔ اسی طرح جو بھی بہن ہو چاہے حقیقی ہو، علاتی ہو یا اخیافی ہو، اس کی بیٹیاں انسان پر حرام ہیں بھئی۔ اور پھر آگے اللہ قرآن میں فرماتے ہیں: ”{وأمهاتكم اللاتي أرضعنكم}“ اور تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا۔ تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا وہ بھی تم پر حرام ہیں۔ یاد رکھو رضاعت کی وجہ سے بھی وہ سب رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب کی وجہ سے حرام ہیں۔ جیسے حقیقی ماں انسان پر حرام، اسی طرح رضاعی ماں بھی انسان پر حرام۔ جیسے حقیقی بہن انسان پر حرام، اسی طرح رضاعی بہن بھی انسان پر حرام۔ تو یاد رکھو مدتِ رضاعت کے اندر کوئی بچہ کسی عورت کا دودھ پی لے تو وہ عورت اس کی رضاعی ماں بن جاتی ہے۔ اور مدتِ رضاعت جو ہے، مدتِ رضاعت یاد رکھو صاحبین کے نزدیک مدتِ رضاعت دو سال ہے اور جبکہ امام صاحب کے نزدیک مدتِ رضاعت ڈھائی سال ہے۔ تو یہ جو مدتِ رضاعت ہے یعنی ڈھائی سال، جو بچہ بھی ڈھائی سال کی عمر کے اندر اندر کسی عورت کا دودھ پی لے گا تو وہ عورت اس کی رضاعی ماں بن جائے گی۔ تو کہتے ہیں: ”{وأمهاتكم اللاتي أرضعنكم}“ اور تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا وہ بھی تم پر حرام ہیں، ”{وأخواتكم من الرضاعة}“ اور اسی طرح رضاعی بہنیں جو ہیں وہ بھی انسان پر حرام ہیں بھئی۔ آگے قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ”{وأمهات نسائكم}“ اور تمہاری بیویوں کی مائیں یعنی جو تمہاری ساس ہے وہ بھی تم پر حرام ہے۔ یاد رکھو کوئی شخص کسی عورت سے جیسے ہی نکاح کرتا ہے تو اس عورت کی ماں یعنی جو اس شخص کی ساس ہے وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس شخص پر حرام ہو گئی۔ توجہ ہے؟ حرام ہو گئی۔ اور اسی طرح ربیبہ بھئی، ربیبہ کہتے ہیں بیوی کی بیٹی، یعنی سوتیلی بیٹی۔ ایک عورت ہے اس کی پہلے خاوند سے بیٹی ہے اور پھر پہلے خاوند کا انتقال ہوا اور اس نے کسی دوسرے شخص سے نکاح کر لیا، اور پہلے خاوند سے اس کی بیٹی ہے، تو یہ جو بیٹی ہے یہ اس نئے خاوند کے لیے ربیبہ کہلائے گی، یہ اس کی کیا ہے؟ ربیبہ یعنی سوتیلی بیٹی ہے، اور سوتیلی بیٹی جو ہے وہ بھی انسان پر حرام ہو جاتی ہے جب وہ اس سوتیلی بیٹی کی ماں کے ساتھ صحبت کر لے۔ جب خاوند اپنی اس نئی بیوی کے ساتھ صحبت کر لے گا تو اس بیوی کی پہلے خاوند سے بیٹی ہے وہ اس خاوند پر ہمیشہ کے لیے حرام ہو گئی۔ اور جب تک صحبت نہیں کی تب تک وہ بیٹی حلال ہے، یعنی اس عورت کو طلاق دے کر بیٹی سے نکاح کرنا چاہتا ہے اور صحبت ابھی نہیں کی تو اس ربیبہ سے نکاح کر سکتا ہے۔ پھر کیا کر سکتا ہے اس ربیبہ سے؟ تو یاد رکھنا بھئی ایک ہے بیوی کی ماں اور ایک ہے بیوی کی بیٹی یعنی ربیبہ۔ بیوی کی ماں نکاح کرتے ہی ہمیشہ کے لیے حرام ہو جاتی ہے جبکہ بیوی کی بیٹی یعنی ربیبہ وہ تب حرام ہوگی جب اس بیوی سے انسان صحبت کر لے گا۔ نکاح کرتے ہی ساس حرام ہو جائے گی۔ ایک شخص نے ایک عورت سے نکاح کیا اور نکاح کے بعد ابھی رخصتی نہیں ہوئی وہ اس عورت کو طلاق دے کر اس کی ماں کے ساتھ نکاح کرنا چاہتا ہے؟ نہیں بھئی، جیسے ہی آپ نے اس عورت سے نکاح کیا تھا اس کی ماں آپ پر ابد الآباد کے لیے حرام ہو چکی، اب وہاں نکاح کی کوئی صورت نہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ دوسری صورت: ایک شخص نے ایک عورت سے نکاح کیا اور اس عورت کی پہلے خاوند سے ایک بیٹی ہے۔ اب وہ شخص اس عورت کو چھوڑ کر اس کی بیٹی سے نکاح کرنا چاہتا ہے تو یاد رکھو یہ اس شخص نے اگر اپنی اس بیوی سے ابھی تک صحبت نہیں کی تو پھر بیٹی سے نکاح جائز ہے، اس عورت کو چھوڑ دے اور کیا کر لے؟ اس کی بیٹی سے نکاح کر لے، لیکن اگر یہ شخص اس بیوی سے صحبت کر چکا ہے تو اس بیوی کی جو بیٹی ہے پہلے خاوند سے وہ اس شخص پر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے حرام ہو چکی۔ تو یہ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ”{وأمهات نسائكم}“ اور تمہاری بیویوں کی مائیں، یعنی تمہاری بیویوں کی مائیں بھی تم پر حرام ہیں، اور اس میں دیکھو کوئی قید نہیں ہے کہ اس بیوی سے آپ صحبت کر چکے ہوں یا آپ نے صحبت نہ کی ہو، بس بیوی کی ماں ہے تو وہ آپ پر ہمیشہ کے لیے حرام ہے۔ آگے دیکھیے قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ”{وربائبكم اللاتي في حجوركم}“، میں نے بتلایا ربائب جمع ہے ربیبہ کی اور ربیبہ کسے کہتے ہیں؟ بیوی کی جو پہلے خاوند سے بیٹی ہے وہ اس نئے خاوند کے لیے ربیبہ ہے یعنی سوتیلی بیٹی ہے۔ تو ”{وربائبكم اللاتي في حجوركم}“ اور تمہاری وہ ربیبائیں جو تمہاری پرورش میں ہیں۔ جو تمہاری پرورش میں ہیں، ”{من نسائكم اللاتي دخلتم بهن}“ اور وہ ربیبائیں تمہاری ان بیویوں سے ہیں جن سے تم صحبت کر چکے ہو۔ وہ ربیبائیں جو تمہاری پرورش میں ہیں اور یہ ربیبائیں تمہاری ان بیویوں سے ہیں یعنی ان بیویوں کی بیٹیاں ہیں جن سے تم صحبت کر چکے ہو، تو اس طرح کی جو ربیبائیں ہیں وہ بھی انسان پر ہمیشہ کے لیے حرام ہیں۔ تو دیکھو یہاں دو قیدیں ذکر ہیں قرآن کے اندر بھئی: ایک تو قید کیا ”{اللاتي في حجوركم}“ وہ ربیبائیں تمہاری پرورش میں ہوں، اور دوسری قید ہے ”{من نسائكم اللاتي دخلتم بهن}“ تمہاری ان بیویوں سے ہوں یہ ربیبائیں جن سے تم صحبت کر چکے ہو۔ تو دو قیدیں ذکر ہوئیں ربیبہ کے ساتھ: تمہاری وہ ربیبائیں جو تمہاری پرورش میں ہیں اور تمہاری ان بیویوں کی بیٹیاں ہیں جن سے تم صحبت کر چکے ہو۔ یاد رکھو عند الاحناف یہ ”{في حجوركم}“ کی قید، یہ قید اتفاقی ہے، اور ”{اللاتي دخلتم بهن}“ کہ ان بیویوں سے ہوں جن سے تم صحبت کر چکے ہو، یہ قید احترازی ہے۔ یاد رکھو ایک قید اتفاقی ہوتی ہے اور ایک قید احترازی۔ قید احترازی وہ ہے جس کے ذریعے کسی چیز سے احتراز مقصود ہو، کسی کو نکالنا مقصود ہو، تو یہاں کیا ذکر ہوا؟ تمہاری ان بیویوں سے ہیں جن سے تم صحبت کر چکے ہو۔ معلوم ہوا اگر وہ ربیبائیں ان بیویوں سے ہیں جن سے ابھی تک آپ نے صحبت نہیں کی تو وہ آپ کے لیے حلال ہیں۔ یہ قید احترازی ہے، قید احترازی کسے کہتے ہیں؟ احتراز کا کیا معنی ہے؟ کسی چیز سے بچنا، تو یہاں پر بھی یہ قید لگا کر کون سی بیویوں کو نکال دیا گیا؟ جن سے ابھی صحبت نہیں کی، تو معلوم ہوا یہ صحبت کی قید احترازی ہے۔ اور پرورش میں ہونے کی جو قید ہے وہ عند الاحناف وہ اتفاقی ہے، یعنی عادتاً عموماً ایسا ہوتا ہے کہ جو ربیبہ ہوتی ہے وہ اس کو ماں اپنے ساتھ رکھتی ہے تو اسی نئے خاوند کی پرورش میں ہوتی ہے۔ یاد رکھو بیٹی جو ہے اس کا ماں بہت زیادہ خیال رکھتی ہے، ہر وقت اس کو اپنے ساتھ رکھتی ہے، اس کی حفاظت کرتی ہے ماں، تو عموماً عادتاً ایسا ہوتا ہے کہ اگر پہلے خاوند سے عورت کی کوئی بیٹی ہے تو دوسری جگہ بھی ماں جب نکاح کرے گی تو بیٹی کو اپنے ساتھ ہی رکھے گی اس کی حفاظت کے لیے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو عادتاً ربیبہ جو ہے اس نئے خاوند کی پرورش میں ہوتی ہے۔ تو یہ جو قید ذکر ہے کہ وہ ربیبائیں تمہاری پرورش میں ہوں، یہ قید احترازی نہیں ہے، اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ جو تمہاری پرورش میں نہ ہوں ان سے تم نکاح کر سکتے ہو، نہیں نہیں، یہ قید اتفاقی ہے یعنی واقع میں ایسا ہوتا ہے، عادت میں عموماً ایسا ہوتا ہے کہ ربیبہ عموماً اس اپنے سوتیلے باپ کی پرورش میں ہوتی ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو عند الاحناف یہاں دو قیدیں ہیں: ”{في حجوركم}“ یہ قید اتفاقی ہے یعنی عادتاً چونکہ ایسا ہوتا ہے اس لیے یہ قید ساتھ ذکر کر دی گئی قرآن میں، اور دوسری قید صحبت والی لگائی گئی کہ ان بیویوں سے تم صحبت کر چکے ہو، تو پہلی قید اتفاقی ہے اور یہ دوسری قید احترازی ہے۔ اس پر اشکال ہوتا ہے کہ اے احناف! دو قیدیں قرآن میں ذکر ہیں اور آپ نے ایک قید کو اتفاقی قرار دیا اور دوسری کو احترازی قرار دیا؟ تو جواب یہ کہ بھئی قرآن سے خود پتہ چل رہا ہے کہ پہلی قید اتفاقی ہے اور دوسری قید احترازی ہے۔ چنانچہ آگے اللہ فرماتے ہیں: ”{فإن لم تكونوا دخلتم بهن}“ اگر تم نے اپنی ان بیویوں سے صحبت نہیں کی، یہ بیویاں جن سے ربیبائیں ہیں، جن سے سوتیلی بیٹیاں ہیں ان سے اگر تم نے صحبت نہیں کی، ”{فلا جناح عليكم}“ پھر تم پر کوئی حرج نہیں ہے، یعنی پھر تم اس ربیبہ سے نکاح کر سکتے ہو۔ اگر اس بیوی سے تم نے ابھی تک صحبت نہیں کی تو وہ ربیبہ تمہارے لیے حلال ہے۔ تو دیکھو قرآن سے پتہ چل رہا ہے کہ یہ جو صحبت کی قید لگائی گئی تھی یہ احترازی قید تھی، چنانچہ آگے خود اللہ فرما رہے ہیں کہ اگر صحبت نہیں کی تو ربیبہ تمہارے لیے حلال ہے۔ اگر پہلی قید بھی احترازی ہوتی تو پھر دونوں کی یہاں نفی ہوتی کہ وہ ربیبائیں تمہاری پرورش میں بھی نہ ہوں اور ربیبہ کی ماں یعنی اپنی اس بیوی سے تم صحبت بھی تم نے نہ کی ہو تو پھر تمہارے لیے وہ حلال ہیں، لیکن یہاں پر صرف صحبت کی نفی پر ربیبہ کو حلال قرار دیا جا رہا ہے۔ اگر یہ دونوں قیدیں احترازی ہوتیں تو پھر دونوں کی نفی پر حلال قرار دیا جاتا کہ ان بیویوں سے تم نے صحبت بھی نہ کی ہو اور وہ ربیبائیں تمہاری پرورش میں بھی نہ ہوں پھر وہ تمہارے لیے حلال ہیں، لیکن قرآن میں صرف صحبت کی نفی پر ربیبہ کو حلال قرار دیا گیا، معلوم ہوا صحبت کی جو قید تھی وہ احترازی تھی اور ”{في حجوركم}“ کی جو قید تھی وہ احترازی نہیں، وہ قید اتفاقی ہے بھئی۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟ اور نیز آگے پھر قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ”{وحلائل أبنائكم الذين من أصلابكم}“، حلائل جمع ہے حلیلہ کی، اور تمہارے ان بیٹوں کی بیویاں جو تمہاری پشت سے ہیں۔ یعنی جو تمہارے حقیقی بیٹے ہیں ان کی جو بیویاں ہیں وہ بھی تم پر حرام ہیں، اور اسی طرح یاد رکھو جو بھی مذکر فروع ہوں گے ان کی بیویاں انسان پر حرام ہیں۔ جو بھی مذکر فروع ہیں انسان کے ان کی بیویاں انسان پر حرام: بیٹے کی بیوی بھی حرام، پوتے کی بیوی بھی حرام، پڑپوتے کی بیوی بھی حرام، اسی طرح بیٹی سے نیچے چلے جائیں نواسہ، یہ نواسہ، نواسے کی بیوی بھی انسان پر حرام، پڑنواسہ اس کی بیوی بھی انسان پر حرام، تو پشت سے انسان کے جو بھی مذکر فروع ہیں ان کی بیویاں انسان پر حرام ہیں۔ اور آگے اللہ فرماتے ہیں: ”{وأن تجمعوا بين الأختين إلا ما قد سلف}“ اور یہ بھی تم پر حرام ہے کہ تم دو بہنوں کو جمع کرو، مگر یہ کہ جو پہلے گزر چکا، یعنی اب تک جو ہو چکا وہ تو معاف ہے لیکن اب آگے اس کی اجازت نہیں، اب دو بہنوں کو ایک نکاح میں جمع کرنا حرام ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ اور پھر اس کے بعد صاحبِ قدوری نے آپ کو یہ بھی بتلایا تھا کہ انسان پر اپنے باپ کی بیویاں اور اپنے اجداد کی بیویاں بھی حرام ہیں۔ باپ کی ایک بیوی تو ہے وہ اس شخص کی حقیقی ماں ہے، اور ماں کی حرمت تو پہلے ہی ذکر ہو چکی۔ قرآن میں اللہ نے کیا ذکر فرمایا تھا؟ ”{حرمت عليكم أمهاتكم}“، تو حقیقی ماں اور جدات کی حرمت کا تو یہیں سے پتہ چل گیا تھا، لیکن اگر باپ نے اور بھی نکاح کیے ہوئے ہیں یا اسی طرح اوپر جو اجداد ہیں یعنی دادا نانا وغیرہ انہوں نے اور بھی نکاح کیے ہوئے ہیں، تو یاد رکھو یہ بھی اس کے اصول کی بیویاں ہیں، یہ سب اس شخص پر حرام ہیں۔ یہ سب اس شخص پر حرام ہیں، اور دلیل ذکر کی تھی صاحبِ ہدایہ نے کہ اللہ قرآن میں فرماتے ہیں: ”{ولا تنكحوا ما نكح آباؤكم من النساء}“ کہ تم لوگ نکاح نہ کرو ان عورتوں سے جن سے تمہارے آباء نے نکاح کیے ہیں، تمہارے اصول نے نکاح کیے ہیں۔ میں نے بتلایا تھا کہ آباء کا یہاں ترجمہ کر لیں گے اصول، اصول۔ تو جب اصول اس کا معنی کیا تو اس کے اندر باپ بھی داخل ہوا اور دادا نانا وغیرہ سب اوپر تک داخل ہو گئے، ان سب کی بیویاں جو ہیں وہ انسان پر حرام ہیں۔ اور میں نے بتلایا تھا یہ عمومِ مجاز ہے بھئی۔ آباء کا کیا ترجمہ ہم نے کیا؟ اصول، اصول۔ اصول، عمومِ مجاز اس کو کہتے ہیں، بھئی آپ جانتے ہیں ایک لفظ کا حقیقی معنی ہوتا ہے اور ایک مجازی معنی ہوتا ہے۔ ایک وقت میں ایک معنی کا ارادہ کیا جا سکتا ہے دونوں معانی کا نہیں، یا حقیقی معنی کا ارادہ کریں گے یا مجازی معنی کا ارادہ کریں گے، لیکن مثلاً ایک مقام ایسا ہے کہ وہاں وہاں ہم دونوں کو اس میں داخل کرنا چاہتے ہیں، تو عند الاحناف یہ جمع بین الحقیقۃ والمجاز جائز نہیں۔ ہاں ایک طریقہ ہے کہ عمومِ مجاز کے ذریعے آپ دونوں کو داخل کر دیں۔ عمومِ مجاز اس کو کہتے ہیں لفظ کا کوئی مجازی معنی کر لیں، کون سا معنی کر لیں بھئی؟ ایک وقت میں ایک معنی ہو سکتا ہے یا حقیقی یا مجازی، ہم مجازی معنی کر لیتے ہیں لیکن وہ مجازی معنی ایسا ہوتا ہے کہ حقیقی معنی بھی اس کے اندر داخل ہو جاتا ہے۔ حقیقی معنی بھی داخل اس کے اندر داخل ہو جاتا ہے، مثلاً دیکھو شیر کا حقیقی معنی کیا؟ جنگلی درندہ، اور شیر کا مجازی معنی کیا؟ بہادر آدمی۔ تو اب ایک وقت میں ایک معنی ہو سکتا ہے اس کا، یا تو حقیقی معنی ہوگا یا مجازی معنی، لیکن عمومِ مجاز یہ ہے کہ آپ ایسا مجازی معنی کر لیں کہ جس میں حقیقی معنی بھی داخل ہو جائے بھئی۔ مثلاً میں آپ کو کہتا ہوں: کل میں نے ایک شیر دیکھا تھا، اور شیر کا معنی میں کرتا ہوں بہادر حیوان کے۔ کیا معنی کرتا ہوں؟ بہادر حیوان۔ اب دیکھو یہ بہادر حیوان یہ شیر کا حقیقی معنی نہیں ہے کیونکہ شیر کا حقیقی معنی تو کیا ہے؟ جنگلی درندہ ہے۔ تو میں نے شیر کے لفظ کا مجازی معنی کیا، لیکن ایسا مجازی معنی کیا کہ حقیقی معنی بھی اس کے اندر داخل ہو گیا، کیونکہ جنگلی درندہ وہ بھی کیا ہے؟ ایک بہادر حیوان ہے۔ بہادر آدمی بھی کیا ہے؟ بہادر حیوان، اور جنگلی درندہ بھی کیا ہے؟ بہادر حیوان، تو اب اس کے اندر دونوں داخل ہو گئے۔ کل میں نے ایک شیر دیکھا تھا، کیا معنی؟ ایک بہادر حیوان دیکھا تھا۔ اب بہادر آدمی بھی اس کے اندر آ گیا اور وہ جنگلی درندہ بھی اس کے اندر داخل ہو گیا۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ عمومِ مجاز، یعنی ایسا مجازی معنی کر لو جو عام ہے، جس میں عموم ہے، حقیقی معنی بھی اسی کے اندر آ گیا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہاں آباء، اب کا حقیقی معنی کیا؟ باپ، اور مجازی معنی کیا؟ دادا نانا وغیرہ، لیکن ہم نے اب کا کیا معنی کر لیا؟ اصل کے، اور اصل یہ عام ہے، اس کے اندر دادا نانا بھی داخل اور باپ وہ بھی اصل ہے وہ بھی اس کے اندر داخل ہو گیا، تو یہ کیا ہے؟ عمومِ مجاز۔ اور اس کے بعد صاحبِ قدوری نے آپ کو یہ بھی بتلایا تھا کہ کسی شخص پر اس کے بیٹے کی بیوی بھی حرام اور اس کی اولاد کے جو بیٹے ہیں ان کی بیویاں بھی انسان پر حرام ہیں۔ اور دلیل ذکر کی تھی کہ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ”{وحلائل أبنائكم الذين من أصلابكم}“ اور تمہارے ان بیٹوں کی بیویاں کہ وہ بیٹے تمہاری پشت سے ہیں یعنی حقیقی بیٹے ہیں۔ تمہارے حقیقی بیٹوں کی بیویاں بھی تم پر حرام ہیں۔ میں نے بتلایا تھا کہ یہاں پر بھی ابناء کا ترجمہ کس کے کر لیں؟ فروع کے، یہ ہم نے مجازی معنی کر لیا۔ اب صرف بیٹوں کی بیویاں نہیں حرام بلکہ بیٹے یا نیچے جو بھی مذکر فروع ہیں ان کی بیویاں انسان پر حرام ہو گئیں۔ پوتے کی بیوی بھی حرام، پڑپوتے کی بیوی بھی حرام، نواسے کی بیوی بھی حرام اور پڑنواسے کی بیوی بھی حرام کیونکہ یہ سب انسان کی فروع ہیں اور اس کی پشت سے ہیں، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو یہاں پر قید آئی تھی کہ تمہاری وہ اولاد جو تمہاری پشت سے ہو، تو صاحبِ ہدایہ نے بتلایا تھا کہ یہ جو ”{من أصلابكم}“ کی قید ہے یہ رضاعی بیٹے کو نکالنے کے لیے نہیں ہے، رضاعی بیٹے کی بیوی بھی حرام ہے جس طرح حقیقی بیٹے کی بیوی حرام ہے، تو یہ پھر قید کس لیے لگائی گئی؟ انہوں نے بتلایا کہ یہ متبنیٰ کو نکالنے کے لیے یہ قید ہے۔ یعنی منہ بولا بیٹا، بعض لوگ کسی شخص کو اپنا منہ بولا بیٹا بنا لیتے ہیں بھئی، تو یہ جو منہ بولا بیٹا ہے یہ حقیقی بیٹے کی طرح نہیں ہے بھئی۔ یہ ان کے کہنے سے ان کا بیٹا نہیں بن گیا، لہٰذا یہ بیٹا کسی عورت سے نکاح کرتا ہے اور پھر اس کو چھوڑ دیتا ہے، اب اس کا منہ بولا باپ جو ہے وہ اس عورت سے نکاح کرنا چاہتا ہے تو بالکل نکاح کر سکتا ہے بھئی، کیونکہ یہ کوئی اس کے حقیقی بیٹے کی بیوی نہیں ہے بھئی۔ اسی طرح بتلایا کہ بیٹے کی بیوی بھی حرام اور نیچے اولاد میں جو بھی بیٹے ہیں، چاہے یعنی بیٹے کی طرف سے چاہے بیٹی کی طرف سے، جو بھی مذکر فروع ہیں ان کی بیویاں بھی حرام ہیں، اور دلیل کیا ذکر کی؟ ”{وحلائل أبنائكم}“ تمہارے بیٹوں کی بیویاں، اور میں نے کیا کہا تھا؟ ابناء کا کیا ترجمہ کر لیں؟ فروع، تمہارے فروع کی بیویاں، وہ فروع جو تمہاری پشت سے ہیں یعنی جن سے تمہارا نسبی رشتہ ہے۔ جن سے تمہارا نسبی رشتہ ہے، تو ان کی بیویاں بھی انسان پر حرام ہیں۔ تو یا تو یوں کہیں کہ یہ جو فروع کی بیویاں ہیں وہ بھی حرام ہیں، اس آیت سے ہی ثابت ہو رہا ہے عمومِ مجاز کے طریقے پر۔ کس طریقے پر؟ کہ ابناء کا کیا ترجمہ ہم نے کر لیا؟ فروع کے کر لیا، تو عمومِ مجاز کے طریقے پر یہ سب بیویاں انسان پر حرام۔ یا یوں کہو کہ ان کی بیویاں جو فروع کی بیویاں ہیں نیچے تک ان کی حرمت اجماع کے ذریعے ثابت ہے۔ بیٹے کی بیوی کی حرمت یہ نص سے یعنی قرآن سے ثابت ہے، اور باقی جو فروع ہیں مذکر نیچے پوتا، پڑپوتا وغیرہ اور اسی طرح نواسہ اور پڑنواسہ وغیرہ، ان کی بیویوں کی جو حرمت ہے وہ اجماع سے ثابت ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ حاصلِ کلام کیا ہوا کہ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ”{حرمت عليكم أمهاتكم}“ تم پر تمہاری مائیں حرام ہیں۔ تو اس امہات سے ماؤں کی بھی حرمت ثابت ہو گئی اور جدات کی حرمت بھی ثابت ہو گئی کیونکہ ماں اصل کو کہتے ہیں اور جدات بھی انسان کے لیے اصل ہیں تو امہات کا لفظ ان سب کو شامل ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یا آپ یوں بھی کہہ سکتے ہیں، صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ امہات کی حرمت تو آیت سے ثابت ہوئی اور جدات کی حرمت جو ہے وہ اجماع کے ذریعے ثابت ہوئی۔ اسی طرح آگے بتلایا تھا کہ انسان پر اپنے باپ کی بیوی بھی حرام ہے، حقیقی ماں کے علاوہ اور بیوی، اور اسی طرح اپنے اجداد کی جو بیویاں ہیں انسان پر وہ بھی حرام ہیں یعنی نانی دادی کے علاوہ اگر نانا یا دادا کی اور بیویاں ہیں تو وہ بھی انسان پر حرام ہیں اور یہ سب کتاب اللہ سے ثابت ہیں۔ قرآن میں اللہ کیا فرماتے ہیں: ”{ولا تنكحوا ما نكح آباؤكم من النساء}“ کہ تم لوگ نکاح نہ کرو ان عورتوں سے جن سے تمہارے آباء نے نکاح کیا ہے، تو یہ آباء، باپ بھی اس کے اندر داخل اور نانا دادا وغیرہ بھی داخل، تو سب کی بیویوں کی حرمت اس آیت سے ثابت ہو گئی یعنی عمومِ مجاز کے طریقے پر۔ اور یا آپ یوں بھی کہہ سکتے ہیں میں نے آپ کو بتلایا کہ آیت سے صرف باپ کی بیوی کی حرمت ثابت ہو رہی ہے، دادا یا نانا وغیرہ کی جو اور بیویاں ہیں ان کی حرمت کتاب اللہ سے نہیں ثابت بلکہ اجماع سے ثابت ہے، آپ یوں بھی کہہ سکتے ہیں۔ اسی طرح صاحبِ قدوری نے آپ کو بتلایا کہ اپنے بیٹے کی بیوی بھی انسان پر حرام، اور اسی طرح اپنی اولاد کے جو بیٹے ہیں ان کی بیویاں بھی انسان پر حرام یعنی پوتا، پڑپوتا، نواسہ، پڑنواسہ وغیرہ ان کی بیویاں بھی کیا ہیں؟ انسان پر حرام۔ اور دلیل صاحبِ ہدایہ نے ذکر کی: ”{وحلائل أبنائكم الذين من أصلابكم}“ اور تمہارے ان بیٹوں کی بیویاں کہ وہ بیٹے تمہاری پشت سے ہیں یعنی تمہارے جو حقیقی بیٹے ہیں ان کی بیویاں بھی تم پر حرام ہیں۔ تو یہاں پر میں نے آپ کو بتلایا کہ یا تو ابنائکم کس معنی میں کر لو؟ فروع کے معنی میں کر لو، تمہاری فروع کی بیویاں، اور فروع کے اندر سب آ گئے: بیٹا بھی آ گیا، پوتا بھی، پڑپوتا بھی، نواسہ بھی، پڑنواسہ بھی، نیچے تک سب اس کے اندر آ گئے۔ تو عمومِ مجاز کے طریقے پر بیٹے کی بیوی کی حرمت بھی آیت سے پتہ چل گئی اور نیچے والوں کی بیویوں کی حرمت بھی آیت سے ہی پتہ چل گئی، یا آپ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ آیت سے صرف بیٹے کی بیوی کی حرمت کا پتہ چلا ہے، باقی نیچے والی جو فروع ہیں ان کی بیویوں کی حرمت، ان کی حرمت کی دلیل اجماع ہے یعنی اس پر تمام فقہاء کا اجماع ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اب آئیے آج کے سبق پر: ”ولا بأمه من الرضاعة ولا بأخته من الرضاعة لقوله تعالى: {وأمهاتكم اللاتي أرضعنكم وأخواتكم من الرضاعة} ولقوله عليه السلام: "يحرم من الرضاع ما يحرم من النسب" ولا يجمع بين أختين نكاحاً ولا بملك يمين وطأً“. آگے صاحبِ قدوری فرما رہے ہیں: ”ولا بأمه من الرضاعة ولا بأخته من الرضاعة“، اور آدمی کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ نکاح کرے اپنی رضاعی ماں کے ساتھ، ”ولا بأخته من الرضاعة“، اور نہ ہی اپنی رضاعی بہن کے ساتھ۔ رضاعی ماں بھی حرام اور رضاعی بہن بھی حرام۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ رضاعت اسے کہتے ہیں کہ مدتِ رضاعت کے اندر کوئی بچہ جو ہے کسی عورت کا دودھ پی لے، اور مدتِ رضاعت صاحبین کے نزدیک دو سال ہے جبکہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مدتِ رضاعت جو ہے وہ ڈھائی سال ہے، اور اکثر احناف اس پر فتویٰ دیتے ہیں۔ تو ڈھائی سال کی مدت کے اندر جس بچے نے کسی عورت کا دودھ پی لیا تو وہ عورت اس کی رضاعی ماں بن گئی، اور جیسے حقیقی ماں انسان پر حرام اسی طرح رضاعی ماں بھی انسان پر حرام، جیسے حقیقی بہن انسان پر حرام اسی طرح رضاعی بہن بھی انسان پر حرام۔ تو بچے نے جس عورت کا دودھ پی لیا مدتِ رضاعت میں وہ اس کی رضاعی ماں بن گئی، اور اس عورت کا خاوند جو ہے وہ اس بچے کا رضاعی باپ بن گیا، اور اس عورت کی جو اولاد ہے وہ اس بچے کے رضاعی بھئی بہن بن گئے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”ولا بأمه من الرضاعة ولا بأخته من الرضاعة“، اور جائز نہیں ہے کہ کوئی شخص نکاح کرے اپنی رضاعی ماں سے اور نہ اپنی رضاعی بہن سے، ”لقوله تعالى“، اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے۔ اب دلیل ذکر کر رہے ہیں کہ یہ کیوں حرام ہیں انسان پر؟ کہتے ہیں: ”{وأمهاتكم اللاتي أرضعنكم}“، قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: اور تمہاری وہ مائیں ”{اللاتي أرضعنكم}“ جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا، ”{وأخواتكم من الرضاعة}“ اور تمہاری وہ بہنیں جو رضاعت سے ہیں یعنی تمہاری رضاعی بہنیں، وہ بھی تم پر حرام ہیں۔ اور نیز ”ولقوله عليه السلام“، حضور علیہ السلام کا فرمانِ مبارک ہے، آپ نے فرمایا: ”يحرم من الرضاع ما يحرم من النسب“ کہ حرام ہو جاتے ہیں رضاعت کی وجہ سے ”ما“، وہ رشتے، وہ عورتیں ”يحرم من النسب“، جو نسب کی وجہ سے حرام ہوتی ہیں۔ جو عورتیں نسب کی وجہ سے حرام ہو جاتی ہیں وہ رضاعت کی وجہ سے بھی حرام ہو جاتی ہیں بھئی۔ اب اس میں یاد رکھیے، یہ جو دودھ پلانے والی عورت ہے یہ ہے مرضِعہ۔ یہ کیا ہے؟ مرضِعہ، دودھ پلانے والی، اور جس بچے نے دودھ پیا ہے وہ ہے رضیع بھئی، رضیع، دودھ پینے والا بچہ۔ تو یاد رکھو مرضِعہ کی طرف سے سب جو ہیں وہ رضیع کے رشتہ دار بن جاتے ہیں۔ دودھ پلانے والی کی طرف سے سب رشتہ دار بن جاتے ہیں کس کے؟ رضیع کے۔ یعنی وہ جو دودھ پلانے والی ہے وہ ماں بن گئی، اس کا خاوند جو ہے وہ اس کا رضاعی باپ بن گیا، اس عورت کی جو اولاد ہے وہ اس کے رضاعی بھئی بہن بن گئے، اور جو ان رضاعی ماں باپ کے اصول ہیں وہ اس بچے کے رضاعی اصول بن گئے، اور جیسے حقیقی اصول جو ہیں نسبی اصول انسان پر حرام ہوتے ہیں یہ رضاعی اصول بھی کیا ہو گئے؟ بچے پر حرام ہو گئے۔ تو یہ بیان کرنے کے لیے کہ رضاعت کی وجہ سے کون کون سے رشتے جو ہیں حرام ہوتے ہیں، تو علماء نے اس ضابطے کو ایک شعر میں ذکر کیا ہے بھئی، یہ شعر آپ لکھ لیں یہ آپ کو کام آئے گا ہر جگہ بھئی۔ لکھیے بھئی: از جانبِ شیر دہ از جانبِ شیر، ش، ی، ر، شیر دہ، د اور گول ہ ہے۔ از جانبِ شیر دہ ہمہ ہ، م، ہ بھئی، ہ، ہمت والی ہ ہے بھئی، ہ مہ، چھوٹی ہ، ہ، م، ہ۔ خویش، خ، و، ی، ش۔ یہ و بہت معمولی سا پڑھتے ہیں، خویش بھئی۔ کیا لکھا؟ از جانبِ شیر دہ ہمہ خویش شوند، ش، و، ن، د۔ از جانبِ شیر دہ ہمہ خویش شوند اگلا مصرع ہے: و از جانبِ شیر خوار و از جانبِ شیر خوار شیر، ش، ی، ر اور خوار، خ، و، ا، ر، خ، و، ا، ر، یہ و بھی معمولی سا پڑھتے ہیں بھئی۔ و از جانبِ شیر خوار زوجان و فروع زوجان زوجان و فروع و فروع لکھ لیا بھئی؟ دیکھیے پھر اس پورے شعر کو دیکھ لیجیے: از جانبِ شیر دہ ہمہ خویش شوند و از جانبِ شیر خوار زوجان و فروع بھئی۔ اس میں پورا ضابطہ ذکر ہو گیا کہ کون کون رشتہ دار بنیں گے۔ دیکھیے! از جانبِ شیر دہ، شیر فارسی زبان میں دودھ کو کہتے ہیں، شیر دہ، شیر دہ وہ جو دودھ پلانے والی ہے بھئی۔ ہمہ، ہمہ کا معنی ہے سب۔ خویش کا معنی ہے رشتہ دار، رشتہ دار۔ از جانبِ شیر دہ، دودھ پلانے والی کی جانب سے ہمہ خویش شوند سارے رشتہ دار بن جاتے ہیں۔ و از جانبِ شیر خوار، اور دودھ پینے والے کی جانب سے زوجان و فروع، میاں بیوی، زوجان، زوج کی تثنیہ ہے۔ زوجان میاں بیوی، و فروع اور ان کی اولاد۔ زوجان تثنیہ ہے زوج کی، میاں بیوی، و فروع اور ان کی اولاد۔ بھئی دیکھو: از جانبِ شیر دہ ہمہ خویش شوند و از جانبِ شیر خوار زوجان و فروع۔ از جانبِ شیر دہ، دودھ پلانے والی کی طرف سے ہمہ خویش شوند سب رشتہ دار ہو جاتے ہیں، و از جانبِ شیر خوار اور دودھ پینے والے کی طرف سے زوجان و فروع، میاں بیوی اور ان کی جو اولاد ہے، ان کی جو اولاد ہے۔ یاد رکھو دودھ پلانے والی جو مرضِعہ ہے اس کی طرف سے سب رشتہ دار بن گئے۔ یہ بچے نے جس عورت کا دودھ پیا یہ اس کی رضاعی ماں بن گئی، اس عورت کا جو خاوند ہے وہ بچے کا رضاعی باپ بن گیا، اور یہ جو رضاعی ماں باپ کے جو اصول ہیں وہ بچے کے دادا دادی اور نانا نانی بن گئے رضاعی طور پر۔ اور یہ جو دودھ پلانے والی مرضِعہ ہے ان کے جو فروع ہیں یعنی ان کی جو اولاد ہے وہ اس رضیع کے بھئی بہن بن گئے۔ وہ اس کے رضاعی بھئی بہن بن گئے، تو مرضِعہ کی طرف سے سب رشتہ دار بن گئے اس بچے کے۔ جبکہ رضیع جو دودھ پینے والا ہے اس کی طرف سے صرف میاں بیوی اور ان کی اولاد حرام ہوتے ہیں۔ مثلاً دودھ پینے والا یا بچہ ہوگا یا بچی، اگر وہ بچہ ہے تو بڑا ہو کر یہ جس سے جس عورت سے نکاح کرے گا وہ اس رضاعی ماں باپ کی بہو بن گئی، اور جیسے حقیقی بہو انسان پر حرام ہوتی ہے اسی طرح یہ رضاعی بہو بھی کیا ہے ان پر؟ حرام ہے۔ اور اگر یہ دودھ پینے والی بچی ہوئی تو آگے چل کر بڑی ہوگی اور یہ جس آدمی سے نکاح کرے گی وہ ان کا رضاعی داماد بن گیا، کیا بن گیا؟ رضاعی داماد بن گیا، اور جیسے حقیقی داماد پر ساس حرام ہوتی ہے اسی طرح رضاعی بیٹی کا جو خاوند ہے اس پر بھی یہ رضاعی ساس ہمیشہ ہمیشہ کے لیے حرام ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو معلوم ہوا دودھ پینے والے کی طرف سے رشتہ دار کون بنے؟ زوجان، میاں بیوی۔ دودھ پینے والا بچہ ہے تو وہ رضاعی بیٹا بن گیا اور اس کی جو بیوی ہوگی وہ بہو بن گئی بھئی، وہ کیا بن گئی؟ بہو، اور اگر وہ دودھ پینے والی لڑکی تھی تو اس کا جو خاوند ہے وہ داماد بن گیا، جیسے حقیقی بیٹی کا خاوند داماد ہوتا ہے رضاعی بیٹی کا خاوند بھی داماد ہے۔ تو دودھ پینے والے کی طرف سے یہ میاں بیوی جو ہیں یہ ان پر حرام ہیں۔ اور نیز آگے ان کی اولاد، یہ جو رضاعی بیٹا یا رضاعی بیٹی ہے اس کی جو اولاد ہے وہ بھی اپنے رضاعی ماں باپ پر حرام ہے، جیسے حقیقی بیٹے یا بیٹی کی اولاد انسان پر حرام ہوتی ہے اسی طرح رضاعی بیٹے یا بیٹی کی جو اولاد آگے ہوگی وہ بھی اس رضاعی ماں باپ پر حرام ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔ ضابطہ سمجھ میں آ گیا؟ مرضِعہ کی طرف سے سب رشتہ دار بن جاتے ہیں اور رضیع دودھ پینے والے کی طرف سے صرف میاں بیوی اور ان کی جو اولاد ہے بھئی۔ آگے دیکھیے: ”ولا يجمع بين أختين نكاحاً ولا بملك يمين وطأً“. بھئی یاد رکھو یہ جائز نہیں ہے کہ کوئی شخص دو بہنوں کو اپنے نکاح میں جمع کرے، مثلاً ایک شخص نے ایک عورت سے نکاح کیا ہے، یہ عورت اس کی بیوی ہے، اور اب اس شخص کا ارادہ بنا کہ اپنی بیوی کی بہن سے بھی نکاح کر لے تو شریعت نے منع کیا ہے کہ جب تک یہ عورت تمہاری بیوی ہے تم اس کی بہن سے نکاح نہیں کر سکتے، ورنہ تو کیا خرابی لازم آئے گی؟ جمع بین الاختین لازم آئے گا، دو بہنوں کو جمع کرنا لازم آئے گا۔ کوئی شخص دو بہنوں کو اپنے نکاح میں جمع کرے یہ جائز نہیں ہے بھئی۔ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ”{وأن تجمعوا بين الأختين}“ کہ تم پر حرام کر دیا گیا ہے کہ تم دو بہنوں کو جمع کرو۔ وجہ یہ کہ بہنوں کے درمیان بڑی محبت ہوتی ہے بھئی، لیکن جب ایک شخص دو بہنوں سے نکاح کرے گا تو وہ دونوں ایک دوسرے کی سوکنیں بن جائیں گی اور سوکنوں کے درمیان طبعاً نفرت ہوا کرتی ہے۔ تو دیکھو یہ دو بہنوں کا نکاح میں جمع کرنا یہ اس بات کی طرف لے گیا کہ ان بہنوں کے درمیان قطعِ تعلق آ جائے گا، آپس میں نفرت آ جائے گی، اور اسلام تو صلہ رحمی کا حکم دیتا ہے کہ رشتہ داروں کے ساتھ جوڑ کر رکھو بھئی، ان کے ساتھ تعلق بنا کر رکھو، لیکن یہ رشتہ جو ہے دو بہنوں کو ایک شخص کے عقد میں جمع کرنا یہ کس طرف لے گیا؟ قطعِ رحمی کی طرف لے گیا۔ اسلام درس دیتا ہے صلہ رحمی کا کہ رشتہ داروں سے تعلق جوڑ کر رکھو، اور یہ قطعِ تعلق کی طرف لے گیا لہٰذا شریعت نے اس پر پابندی لگا دی، شریعت نے اس سے روک دیا، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: ”ولا يجمع بين أختين نكاحاً“، اور جمع نہیں کر سکتا کوئی شخص دو بہنوں کو نكاحاً، نکاح کے اعتبار سے کہ وہ دونوں بہنیں اس کے نکاح میں جمع ہو جائیں، ”ولا بملك يمين“، اور کوئی شخص دو بہنوں کو جمع نہیں کر سکتا بملک یمین، ملکِ یمین کے ذریعے کہ دونوں بہنیں اس کی باندیاں ہوں، ”وطأً“، باعتبار وطی کے۔ یاد رکھو جیسے دو بہنوں کو ایک شخص نکاح میں جمع نہیں کر سکتا اسی طرح دو بہنیں کسی ایک شخص کی مملوکہ ہیں تو وہ ان دونوں سے صحبت نہیں کر سکتا۔ جیسے دو بہنوں کو نکاح میں جمع کرنا جائز نہیں اسی طرح دو ایسی باندیاں جو آپس میں بہنیں ہیں ان دونوں کو وطی کے اعتبار سے جمع کرنا بھی جائز نہیں کہ ان کا آقا اور مالک دونوں بہنوں سے وطی کرے، دونوں بہنوں سے صحبت کرے۔ آپ جانتے ہیں آقا کے لیے اپنی باندی سے صحبت جائز ہے، تو ایک شخص ہے اس کی ملکیت میں دو بہنیں ہیں تو ان دو بہنوں میں سے یاد رکھو وہ ایک سے صحبت کر سکتا ہے، دونوں سے صحبت نہیں کر سکتا بھئی، ورنہ تو کیا لازم آئے گا؟ دو بہنوں کا جمع کرنا باعتبار وطی کے، اور یہ حرام ہے۔ جیسے دو بہنوں کو نکاح کے اعتبار سے جمع کرنا جائز نہیں اسی طرح دو بہنوں کو وطی اور صحبت کے اعتبار سے جمع کرنا بھی جائز نہیں ہے۔ تو دیکھیے، کہتے ہیں: ”ولا يجمع بين أختين نكاحاً“، اور جمع نہیں کر سکتا کوئی شخص دو بہنوں کو نكاحاً، باعتبار نکاح کے، ”ولا بملك يمين وطأً“، اور نہ دو بہنوں کو جمع کر سکتا ہے ملکِ یمین کے ذریعے کہ وہ اس کی مملوکہ ہوں تو ملکِ یمین کے ذریعے وطأً، باعتبار وطی کے کہ ان دونوں سے وطی کرے یہ جائز نہیں، دلیل کیا؟ دلیل آگے ذکر فرما رہے ہیں صاحبِ ہدایہ لقولہ تعالی، اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے: ”{وأن تجمعوا بين الأختين}“ اور یہ کہ تم جمع کرو دو بہنوں کو، یعنی تم پر حرام قرار دیا گیا ہے کہ تم دو بہنوں کو جمع کرو، ”ولقوله عليه السلام“، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کی وجہ سے کہ: ”من كان يؤمن بالله واليوم الآخر“، اور جو شخص تم میں سے ایمان رکھتا ہے اللہ پر اور آخرت کے دن پر، ”فلا يجمعن ماءه“، تو وہ ہرگز جمع نہ کرے اپنے پانی کو، ”في رحم أختين“، دو بہنوں کے رحم میں۔ دو بہنوں کے رِحم، رَحم اور رِحم دونوں طرح آپ پڑھ سکتے ہیں، ح کو ساکن بھی پڑھ سکتے ہیں اور ح کے نیچے کسرہ بھی بھئی، اور رحم کہتے ہیں جس میں بچے کی پیدائش ہوتی ہے، پرورش ہوتی ہے یعنی بچہ دانی بھئی۔ اور ماءہ، ”فلا يجمعن ماءه“، وہ ہرگز جمع نہ کرے اپنے پانی کو، ماء سے مراد مادہ منویہ ہے جس سے بچے کی پیدائش ہوتی ہے۔ تو حضور فرماتے ہیں: ”من كان يؤمن بالله واليوم الآخر“، جو شخص تم میں سے ایمان رکھتا ہے اللہ پر اور آخرت کے دن پر، ”فلا يجمعن ماءه في رحم أختين“، تو وہ ہرگز جمع نہ کرے اپنے پانی کو دو بہنوں کے رحم میں۔ آگے دیکھیے: ”فإن تزوج أخت أمة له قد وطئها صح النكاح، لصدوره من أهله مضافاً إلى محله“. ادھر دیکھیے بھئی! یاد رکھو جس عورت سے کوئی انسان نکاح کر لیتا ہے تو یہ جو اس کی منکوحہ ہے اس کو موطوءہ قرار دیا جاتا ہے یعنی موطوءہ ہونے کا اس پر حکم لگا دیا جاتا ہے۔ موطوءہ، وہ عورت جس سے صحبت کی جا چکی۔ تو کوئی شخص جب کسی عورت سے نکاح کرتا ہے ابھی اس نے بے شک اس سے صحبت نہیں کی اپنی بیوی سے لیکن یہ حکماً موطوءہ ہے، یعنی اس پر بھی حکم لگا دیا گیا کہ گویا یہ اس سے صحبت کر چکا ہے۔ اسی طرح باندی ہے بھئی باندی، باندی کا آپ جانتے ہیں کہ کوئی شخص باندی کا جب مالک ہو تو آقا کے لیے باندی سے صحبت جائز ہوتی ہے، لیکن باندی کے اندر ایسا نہیں ہے کہ کوئی شخص باندی کو خرید لے، اس کا مالک بن جائے، اس کو موطوءہ قرار نہیں دیا جائے گا یہاں تک کہ آقا باقاعدہ اس کے ساتھ صحبت کر لے۔ جب آقا باقاعدہ اس سے صحبت کر لے گا اب یہ موطوءہ بن گئی۔ جبکہ منکوحہ جو ہے وہاں نکاح کرتے ہی اس کو موطوءہ قرار دیا جائے گا یعنی وہ حکماً موطوءہ ہے، اس پر موطوءہ ہونے کا حکم لگا دیا جائے گا۔ تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ فرق کیوں کیا گیا بھئی؟ عورت سے نکاح کیا وہ عورت بھی حلال اس کے لیے، باندی کو خرید لیا، باندی کا مالک بن گیا تو یہ باندی بھی اس کے لیے حلال ہو گئی، دونوں عورتیں اس کے لیے حلال ہیں لیکن ایک پر موطوءہ ہونے کا حکم لگا دیا جاتا ہے اور دوسری پر موطوءہ ہونے کا حکم نہیں لگایا جاتا جب تک حقیقتاً اس سے وطی نہ کر لے بھئی؟ تو جواب یہ کہ نکاح کیا ہی وطی کے لیے جاتا ہے۔ کوئی شخص کسی عورت سے نکاح کرتا ہے وہاں یہی مقصد ہوتا ہے کہ یہ عورت اس کے لیے حلال ہو جائے۔ عورت اس کے لیے حلال ہو جائے، تو نکاح کے اندر چونکہ مقصد ہی وطی اور صحبت ہے لہٰذا اس لیے منکوحہ جو ہے اس پر موطوءہ ہونے کا حکم لگا دیا جاتا ہے کہ یہ کیا ہے؟ اس شخص کی موطوءہ ہے، اس سے یہ صحبت کر چکا ہے۔ جبکہ باندی، اس کو تو وطی کے لیے نہیں خریدا جاتا، اس کو تو کام کاج کے لیے خریدا جاتا ہے، ہاں جب وہ مملوکہ ہو گئی اس تو مالک کے لیے صحبت بھی جائز ہو جاتی ہے لیکن اس کی مرضی ہے مالک کی، اس سے صحبت کرے یا نہ کرے، تو باندی کو کام کاج کے لیے خریدا جاتا ہے، صحبت کے لیے عموماً نہیں خریدا جاتا، تو اس پر موطوءہ ہونے کا حکم نہیں لگایا جائے گا جب تک آقا اس سے صحبت نہ کر لے۔ ضابطہ سمجھ میں آ گیا کہ منکوحہ نکاح کرتے ہی کیا بن گئی؟ موطوءہ بن گئی یعنی اس پر حکم لگا دیا گیا۔ اسی طرح صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتایا کہ ملکِ یمین کے ذریعے بھی دو بہنوں کو جمع کرنا باعتبار وطی کے یہ جائز نہیں۔ یعنی دو باندیاں ہوں انسان کی اور وہ دونوں بہنیں ہیں اور دونوں سے وہ صحبت کر لے، یہ اس کے لیے جائز نہیں ہے بھئی۔ اب ایک شخص ہے اس کی ملکیت میں دو بہنیں ہیں، اس کی باندیاں ہیں، ان میں سے ایک کے ساتھ یہ صحبت کرتا ہے تو یہ اس کی موطوءہ ہے۔ اب بعد میں اس کا ارادہ بنا دوسری بہن سے بھی صحبت کرنے کا، تو فقہاء فرماتے ہیں کہ یہ جائز نہیں الا یہ کہ پہلی باندی کو اپنے اوپر حرام کر لے کسی بھی طریقے سے۔ اس لیے کیونکہ ایک بہن سے یہ وطی کرتا ہے، دوسری سے بھی وطی کرے گا تو یہ تو اس نے دونوں بہنوں کو وطی کے اعتبار سے جمع کر دیا، لہٰذا پہلے دوسری بہن جو اس کی موطوءہ ہے اس کو اپنے اوپر حرام کر دے۔ یعنی وہ بہن کسی کو اور کو بیچ دے، یا کسی کو تحفے میں دے دے، ہبہ کر دے یعنی کسی دوسرے کو مالک بنا دے، جب کسی دوسرے کو مالک بنایا تو اس کی ملکیت سے وہ باندی نکل گئی، اس پر حرام ہو گئی، یا اس باندی کا کسی سے نکاح کروا دے۔ یاد رکھو جب باندی کا کسی سے نکاح کروا دیا جاتا ہے تو اب وہ صرف خاوند کے لیے حلال ہے، اب آقا کے لیے اس باندی سے صحبت جائز نہیں۔ یا اسی طرح اگر ایک باندی کئی افراد کے درمیان مشترک ہو تو اس صورت میں بھی کسی کے لیے بھی اس سے صحبت جائز نہیں ہوتی۔ مثلاً زید اور عمرو دونوں نے مل کر ایک باندی خریدی ہے خدمت کے لیے کہ چند دن وہ زید کے گھر خدمت کا کام کیا کرے اور چند دن عمرو کے گھر خدمت کا کام کیا کرے، تو یہ جو باندی دو افراد کی مشترکہ ہے، زید اور عمرو کی، زید اور عمرو دونوں کے لیے یہ حرام ہے، دونوں میں سے کسی ایک کے لیے بھی اس سے صحبت جائز نہیں۔ تو باندی سے کب صحبت جائز ہوگی؟ جب پوری باندی ایک ہی شخص کی ملکیت میں ہو بھئی۔ تو مسئلہ میں ذکر کر رہا تھا ایک شخص کے ملکیت میں دو بہنیں ہیں اور باندیاں ہیں، ان میں سے ایک کے ساتھ یہ صحبت کرتا ہے، اب یہ دوسری کے ساتھ بھی صحبت کرنا چاہتا ہے تو یہ جائز نہیں ہے الا یہ کہ پہلی والی باندی کو اپنے اوپر حرام کر لے کہ یہ باندی کسی کو بیچ دے، یا اس کا کسی اور سے نکاح کروا دے، یا اس باندی کا کچھ حصہ دوسرے کو بیچ دے، تو جب کچھ حصہ بھی بیچے گا تو باندی مشترکہ ہو جائے گی اور مشترکہ باندی کے ساتھ کسی بھی مالک کے لیے صحبت جائز نہیں۔ تو جب یہ آقا اپنی پہلی باندی کو اپنے اوپر حرام کر لے گا تو اب اس باندی کی جو بہن ہے وہ اس آقا کے لیے حلال ہو جائے گی۔ صورت سمجھ میں آ گئی۔ اسی طرح دوسری صورت بنائیں بھئی: ایک شخص ہے اس کی ملکیت میں دو بہنیں ہیں، اور اس کو مسئلے کا پتہ نہیں، وہ دونوں سے صحبت کر لیتا ہے، یاد رکھو دونوں بہنیں اب اس پر حرام ہو گئیں۔ اس نے دونوں سے صحبت کر لی تو وطی کے اعتبار سے دو بہنوں کو جمع کر لیا اور آپ نے ضابطہ پڑھا ہے کہ جیسے دو بہنوں کو نکاح کے اعتبار سے کوئی شخص جمع نہیں کر سکتا اسی طرح دو بہنوں کو وطی کے اعتبار سے بھی کوئی شخص جمع نہیں کر سکتا۔ تو اس شخص کو مسئلے کا پتہ نہیں تھا، اس نے دونوں سے صحبت کر لی، بعد میں اس کو مسئلے کا پتہ چلا کہ بھئی یہ تو اب دونوں آپ پر حرام ہو چکی ہیں، تو اب یاد رکھو اب اس کے لیے دونوں میں سے کسی ایک سے بھی صحبت جائز نہیں الا یہ کہ ان میں سے ایک کو اپنے اوپر حرام کر لے۔ جب ایک کو اپنے اوپر حرام کر لے گا مثلاً وہ ایک باندی کو پورا بیچ دیا یا اس کا کچھ حصہ بیچ دیا یا اس باندی کا کسی سے نکاح کروا دیا تو اب پھر دوسری والی اس کے لیے حلال ہو جائے گی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ اب آئیے مسئلے پر جو متن کے اندر صاحبِ ہدایہ ذکر فرمائیں گے۔ مسئلہ یہ ہے: ایک شخص ہے، ایک عورت اس کی باندی ہے اور یہ اس کے ساتھ صحبت کرتا ہے۔ اب یہ جو مالک ہے اس کا ارادہ بنا اپنی اس باندی کی بہن سے نکاح کر لے، تو اب ایک بہن اس کی مملوکہ ہے اور دوسری بہن سے آقا نکاح کرنا چاہتا ہے تو شرعاً یہ جائز ہے، یہ اس سے نکاح کر سکتا ہے۔ کیا کر سکتا ہے؟ نکاح۔ تو یہ مثلاً اس دوسری بہن سے نکاح کر لیتا ہے، تو یہ جس سے اس نے نکاح کر لیا یہ بھی موطوءہ ہو گئی حکماً۔ یہ کیا ہوئی؟ منکوحہ کیا ہوتی ہے؟ حکماً موطوءہ، تو یہ جس بہن سے اس نے نکاح کیا یہ موطوءہ ہوئی حکماً، اور وہ جو اس کی مملوکہ باندی ہے وہ ہے موطوءہ حقیقتاً، اسے حقیقتاً یہ وطی کرتا ہے۔ تو ایک بہن کیا ہوئی؟ موطوءہ حکماً، دوسری کیا ہوئی؟ موطوءہ حقیقتاً، تو یہ شخص جامع بین الاختین ہو گیا وطی کے اعتبار سے، اس نے دو بہنوں کو جمع کر دیا وطی کے اعتبار سے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ اگرچہ ایک موطوءہ ہے حقیقتاً اور ایک موطوءہ ہے حکماً، لیکن ہے تو دونوں موطوءہ، اور شریعت نے تو دو بہنوں کو وطی کے اعتبار سے جمع کرنے سے منع فرمایا ہے، اور میں نے وہ صورت ذکر کی تھی اگر ایک شخص کی ملکیت میں دو بہنیں ہیں اور دونوں سے اس نے لا علمی میں صحبت کر لی تو دونوں اس پر حرام ہو جائیں گی۔ یہاں پر بھی یہ شخص جو ہے کیا بن گیا؟ جامع بین الاختین ہو گیا وطی کے اعتبار سے، اگرچہ ایک حقیقتاً موطوءہ ہے اور ایک حکماً، لیکن ہے تو دونوں موطوءہ، اور جب دونوں بہنیں موطوءہ ہوں تو دونوں حرام ہو جاتی ہیں، ایک کے ساتھ بھی صحبت جائز نہیں ہوتی الا یہ کہ دونوں میں سے ایک کو اپنے اوپر حرام کر لے۔ تو یہ شخص بھی کیا کرے گا؟ یا تو جس سے نکاح کیا ہے اسی کو چھوڑ دے، جب طلاق دے گا تو یہ منکوحہ حرام ہو گئی، اب وہ باندی کے ساتھ صحبت اس کے لیے پھر جائز ہو گئی، یا اس باندی کو اپنے اوپر حرام کر لے یعنی یہ پوری باندی کسی کو بیچ دے یا اس کا جز کسی کو بیچ دے یا اس باندی کا کسی سے نکاح کروا دے، تو جب یہ باندی اس پر حرام ہو جائے گی تو اب اس کی جو منکوحہ ہے وہ اس کے لیے حلال ہو جائے گی۔ مسئلہ سمجھ میں آ گیا؟ اب دیکھیے کتاب پر۔ کہتے ہیں: ”فإن تزوج أخت أمة له قد وطئها صح النكاح“، ”فإن تزوج أخت أمة له“، أمةٌ یہ نکرہ ہے اور ”له“ اس کے بعد جار مجرور آیا، اور یاد رکھیں نکرہ کے بعد جار مجرور آ جائے اور وہ کسی سے نہ جڑ رہا ہو تو وہ اسی نکرہ کی صفت بنے گا۔ تو یہاں پر بھی یہ ”له“، ”أمة“ کی صفت بنے گا، ای ”أمة ثابتة له“، ”فإن تزوج أخت أمة ثابتة له“، ”أمة“ ایسی باندی ”ثابتة له“ جو اس کے لیے ثابت ہے یعنی جو اس کی ہے، یا یوں کہیں ”ثابتة“ کے بجائے ”مملوكة“ نکال لیں جو آپ نے متعلق نکالنا ہے: ”أمة مملوكة له“، ایسی باندی جو اس آدمی کی مملوک ہے یعنی اس کی اپنی باندی، اس کی اپنی باندی۔ تو ”أمة له“ کا ہم کیا ترجمہ کریں گے؟ اپنی باندی۔ ”فإن تزوج أخت أمة له“، اور اگر کسی شخص نے نکاح کر لیا اپنی باندی کی بہن سے، کس سے نکاح کیا؟ اپنی باندی کی بہن سے نکاح کر لیا، ”قد وطئها“، اس حال میں کہ اس باندی کے ساتھ یہ صحبت کر چکا ہے، یہ باندی اس کی حقیقتاً موطوءہ ہے بھئی۔ ”صح النكاح“، تو یہ نکاح صحیح ہے، یہ نکاح ہو جائے گا۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ باندی سے وہ صحبت کر چکا ہے اب اس کی بہن سے نکاح کرنا چاہتا ہے تو کہتے ہیں جائز ہے، نکاح کر سکتا ہے، لیکن پھر وطی نہیں کر سکے گا کسی ایک سے بھی۔ نکاح تو جائز ہوگا لیکن وطی اب کسی سے بھی جائز نہیں ہوگی الا یہ کہ دونوں میں سے ایک کو اپنے اوپر حرام کر دے۔ تو کہتے ہیں: ”فإن تزوج أخت أمة له“، اگر کسی شخص نے نکاح کر لیا اپنی باندی کی بہن سے، ”قد وطئها“، اس حال میں کہ اس باندی کے ساتھ یہ شخص صحبت کر چکا ہے، ”صح النكاح“، تو یہ نکاح صحیح ہوگا، یہ نکاح جائز ہو جائے گا۔ بھئی کیوں؟ نکاح کیوں جائز ہوگا؟ ایک بہن اس کی باندی ہے تو دوسری بہن سے تو نکاح جائز ہی نہیں ہونا چاہیے؟ کہتے ہیں: نہیں نہیں، نکاح جائز ہے، نکاح میں کوئی مانع نہیں۔ کیوں نہیں مانع؟ دیکھیے بھئی، کہتے ہیں: ”صح النكاح“، نکاح صحیح ہو جائے گا، ”لصدوره من أهله مضافاً إلى محله“، ”لصدوره من أهله“، اس لیے کیونکہ یہ نکاح صادر ہوا ہے، یہ پیش آیا ہے ”من أهله“، اہلِ نکاح سے۔ وہ شخص جو نکاح کا اہل ہے بھئی، یہ جو آقا ہے جو نکاح کرنا چاہتا ہے یہ عاقل ہے، بالغ ہے، آزاد ہے، یہ اپنا نکاح کرنا چاہے تو؟ بھئی جو بھی عاقل بالغ اور آزاد ہو وہ اپنا نکاح اپنی مرضی سے کر سکتا ہے، تو یہ شخص کیا ہے؟ اہلِ نکاح ہوا، یہ نکاح کر سکتا ہے۔ اور کس سے نکاح کرنا چاہتا ہے؟ اپنی باندی کی بہن سے نکاح کرنا چاہتا ہے تو وہ بہن اس کے لیے اجنبیہ ہے بھئی۔ وہ بہن اس آدمی کے لیے اجنبیہ ہے، وہاں کوئی مانع موجود نہیں ہے۔ آپ کہیں گے بھئی اس کی بہن اس کی مملوکہ ہے، بھئی دو بہنوں کو نکاح کے اندر جمع کرنے سے شریعت نے منع کیا ہے، اسی طرح دو بہنوں کو وطی کے اعتبار سے جمع کرنے سے شریعت نے منع کیا ہے۔ تو اگر اس کی بہن سے اب نکاح کرے گا تو نکاح میں تو دونوں نہیں، ایک تو باندی ہے اور دوسری کیا ہو جائے گی؟ منکوحہ، تو نکاح کے اعتبار سے دونوں جمع نہیں، اور نیز وطی کے اعتبار سے بھی دونوں جمع نہیں ہوں گی اس لیے کیونکہ ایک سے وطی کی ہے، دوسری سے تو ابھی وطی نہیں کی، بات سمجھ میں آ رہی ہے۔ تو کہتے ہیں: ”لصدوره من أهله“، اس لیے کیونکہ یہ نکاح جو ہے صادر ہوا ہے، پیش آیا ہے اس شخص سے جو اہلِ نکاح ہے یعنی عاقل بالغ آزاد ہے، ”مضافاً إلى محله“، اس حال میں کہ اس نکاح کی نسبت ہو رہی ہے اپنے محل کی طرف، یعنی وہ نکاح کا محل بھی ہے۔ وہ باندی کی بہن نکاح کا محل بھی ہے، اس سے نکاح ہو سکتا ہے، وہ ایک اجنبیہ عورت ہے، نہ وہاں قرابت رشتہ داری والا کوئی تعلق ہے اور نہ کوئی رضاعت والا تعلق وغیرہ ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو اس کے ساتھ نکاح جائز ہے، ”وإذا جاز“، اور جب اس عورت کے ساتھ نکاح جائز ہو گیا، ”لا يطأ الأمة“، اب یہ آقا جو ہے اپنی باندی سے صحبت نہیں کر سکتا، ”وإن كان لم يطأ المنكوحة“، اگرچہ اس نے منکوحہ سے صحبت نہیں کی۔ اگرچہ ابھی اس نے منکوحہ سے صحبت نہیں کی لیکن نکاح کرتے ہی باندی کیا ہو گئی؟ حرام ہو گئی اس کے اوپر، کیوں؟ کیونکہ باندی موطوءہ ہے حقیقتاً اور منکوحہ کیا بن گئی؟ موطوءہ ہے حکماً، تو دونوں موطوءہ ہو گئیں اور جب دونوں موطوءہ ہیں تو اب دونوں میں سے ایک کو اپنے اوپر کیا کرنا پڑے گا؟ حرام کرنا پڑے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وإن كان لم يطأ المنكوحة“، اگرچہ اس نے منکوحہ سے صحبت نہیں کی ابھی تک، ”لأن المنكوحة موطوءة حكماً“، اس لیے کیونکہ جو منکوحہ ہوتی ہے حکماً وہ موطوءہ ہوتی ہے، ”ولا يطأ المنكوحة للجمع“، اور یہ شخص منکوحہ جو ہے اس کے ساتھ صحبت نہیں کر سکتا ”للجمع“، جمع کی وجہ سے، ورنہ کیا خرابی لازم آئے گی؟ جمع بین الاختین لازم آئے گا وطی کے اعتبار سے، بات سمجھ میں آ رہی ہے۔ تو کہتے ہیں: ”ولا يطأ المنكوحة للجمع“، اور منکوحہ سے بھی یہ صحبت نہیں کر سکتا ورنہ تو حقیقتاً جمع کرنا لازم آئے گا وطی کے اعتبار سے، ”إلا إذا حرم الموطوءة على نفسه“، مگر اس وقت جب یہ شخص حرام کر دے اس موطوءہ باندی کو ”على نفسه“، اپنے اوپر، ”بسبب من الأسباب“، اسباب میں سے کسی سبب کے ذریعے، مختلف طریقوں میں سے کسی طریقے کے ذریعے کیا کر لے؟ اس باندی کو اپنے اوپر حرام کر لے یعنی اس کا نکاح کروا دے یا کسی کو بیچ دے تو یہ باندی حرام ہو جائے گی، اور پھر اس کے لیے اس منکوحہ سے صحبت حلال ہو جائے گی۔ تو کہتے ہیں: ”فحينئذ يطأ المنكوحة“، تو اس وقت یہ منکوحہ سے صحبت کر سکتا ہے، ”لعدم الجمع وطأً“، اس لیے کیونکہ پھر دونوں کو وطی کے اعتبار سے جمع کرنا نہیں ہوگا کیونکہ ایک تو حرام ہو گئی اس پر، ”ويطأ المنكوحة إن لم يكن وطئ المملوكة“. بھئی دوسری صورت، دوسری صورت بھئی: ایک شخص ہے اس کی ملکیت میں ایک باندی ہے اور اس باندی سے اس نے صحبت نہیں کی، یہ صرف کام کاج کے لیے اس نے رکھی ہوئی ہے۔ اب اس باندی کی بہن سے نکاح کرنا چاہتا ہے تو کہتے ہیں: نکاح کر سکتا ہے، اور نکاح کے بعد وطی بھی اب اس سے کر سکتا ہے کیونکہ اب صرف منکوحہ کے ساتھ وطی کر رہا ہے، باندی تو اس کی موطوءہ ہے ہی نہیں، تو یہاں جمع بین الاختین وطأً لازم نہیں آئے گا، وطی کے اعتبار سے دو بہنوں کو جمع کرنا لازم نہیں آتا۔ تو کہتے ہیں: ”ويطأ المنكوحة“، اور منکوحہ سے وہ شخص صحبت کر سکتا ہے، ”إن لم يكن وطئ المملوكة“، اگر اس نے اپنی مملوکہ باندی سے صحبت نہیں کی، وہ اس کی موطوءہ نہیں ہے تو پھر منکوحہ سے وطی کر سکتا ہے۔ مسئلہ بھی سمجھ میں آ رہا ہے کہ نہیں؟ کہتے ہیں: ”لعدم الجمع وطأً“، اس لیے کیونکہ اس صورت میں وطی کے اعتبار سے جمع کرنا لازم نہیں آتا کیونکہ یہ باندی کے ساتھ تو یہ وطی کرتا ہی نہیں ہے، تو یہ وطی کے اعتبار سے جمع کرنا لازم نہیں آئے گا تو منکوحہ سے وطی کر سکتا ہے۔ ”إذ المرقوقة ليست موطوءة حكماً“، اس لیے کیونکہ مرقوقہ جو باندی ہوتی ہے، مرقوقہ، مرقوقہ یعنی باندی، مملوکہ، مملوکہ۔ رِقٌّ غلامی کو کہتے ہیں، کس کو؟ غلامی کو۔ رِقٌّ غلامی کو کہتے ہیں، غلام کو کہتے ہیں رقیق، غلام، اور باندی کو کہتے ہیں رقیقہ، رقیقہ۔ اسی طرح مرقوقہ یعنی وہی مملوکہ بھئی، باندی بھئی۔ ”إذ المرقوقة ليست موطوءة حكماً“، اس لیے کیونکہ باندی جو ہوتی ہے وہ حکماً موطوءہ نہیں ہوتی، بیوی تو حکماً موطوءہ ہوتی ہے لیکن باندی حکماً موطوءہ نہیں ہوتی۔ باندی سے وطی کرے گا تو وہ موطوءہ بنے گی، اس سے پہلے وہ حکماً موطوءہ نہیں۔ نئی توجہ، ایک شخص ہے اس کی ملکیت میں پہلے سے باندی موجود ہے، اس سے یہ صحبت نہیں کرتا، تو یہ حقیقتاً موطوءہ ہے باندی؟ حقیقتاً موطوءہ نہیں کیونکہ اس سے یہ وطی کرتا ہی نہیں، صحبت کرتا ہی نہیں، اور حکماً بھی موطوءہ نہیں ہے کیونکہ باندی حکماً موطوءہ نہیں ہوتی، وہ منکوحہ ہوتی ہے۔ تو باندی نہ حقیقتاً موطوءہ ہوئی اور نہ حکماً موطوءہ ہوئی، اور اب اس باندی کی بہن سے یہ نکاح کرتا ہے تو اس کے لیے صحبت جائز ہے کیونکہ دو بہنیں وطی کے اعتبار سے جمع نہیں ہو رہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔
24 approved lectures · 10 of 24