Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء ثاني · dars-008

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Muhammad Ghayyas
📍 Location Lahore, Pakistan
📅 Approved Date 08 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 32
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
سبق دیکھیے آگے بھئی: قال وإن تزوّج مسلم ذمّيّةً بشهادة ذمّيّين جاز عند أبي حنيفة وأبي يوسف رحمهما الله، وقال محمّد وزفر لا يجوز؛ لأنّ السّماع في النّكاح شهادة، ولا شهادة للكافر على المسلم، فكأنّهما لم يسمعا كلام المسلم. بھئی، گزشتہ سبق میں صاحبِ ہدایہ گواہوں کے اندر جو قیدیں اور جو صفات ذکر فرمائی تھیں صاحبِ قدوری نے، ان کی وجہ بیان فرما رہے تھے۔ صاحبِ قدوری نے آپ کو بتلایا کہ گواہ جو ہیں ان کے اندر چار صفات کا ہونا لازم ہے: کہ وہ آزاد ہوں، عاقل ہوں، بالغ ہوں، اور مسلمان ہوں۔ آزاد، عاقل اور بالغ کی قید اس لیے لگائی کیونکہ آزاد، عاقل اور بالغ ہو گا تو اسی کو ولایت حاصل ہو گی۔ اگر وہ غلام ہے یا غیر عاقل ہے، مجنون ہے، یا نابالغ ہے، بچہ ہے، تو پھر ان کو تو اپنی ذات پر ولایت حاصل نہیں۔ تو غیر پر ان کو کیسے ولایت حاصل ہو سکتی ہے؟ جو آزاد نہیں، یا عاقل نہیں، یا بالغ نہیں، وہ تو اپنا نکاح نہیں کر سکتے۔ لہٰذا ان کی موجودگی میں غیر کا نکاح بھی منعقد نہیں ہو گا۔ یہ جو شہادت ہے یہ شہادت ولایت کے باب سے ہے۔ ولایت کہتے ہیں کہ غیر پر آپ کا قول نافذ ہو جائے وہ چاہے یا نہ چاہے۔ اور شہادت کے اندر بھی جب گواہ گواہی دیتا ہے تو غیر پر اس کا قول لازم ہو جاتا ہے، اس پر نافذ ہو جاتا ہے، اور اس کے مطابق پھر قاضی فیصلہ کر دیتا ہے۔ اور پھر بتلایا تھا مسلمانوں کے نکاح میں گواہوں کا مسلمان ہونا بھی ضروری ہے۔ اس لیے کیونکہ کافر جو ہے وہ مسلمان کے خلاف گواہ نہیں ہو سکتا بھئی۔ کافر مسلمان کے خلاف گواہ نہیں ہو سکتا۔ کافر کو ہم یہ مقام نہیں دیں گے کہ وہ مسلمان کے خلاف گواہ بن جائے؛ کیونکہ گواہ کا قول غیر پر نافذ ہوتا ہے۔ تو اس کا تو یہ مطلب ہو گا کہ آپ نے کافر کو مسلمان پر ولایت دے دی، کافر کو مسلمان پر اختیار دے دیا۔ اور مملکتِ اسلامیہ کے اندر ہم کافر کو اتنا اونچا مقام نہیں دیں گے کہ اس کا قول کس پر نافذ ہو جائے؟ مسلمان پر نافذ ہو جائے۔ اور پھر بتلایا تھا کہ ہمارے نزدیک مذکر ہونے کی شرط بھی نہیں ہے، بلکہ ایک مرد ہو اور دو عورتیں ہوں، پھر بھی عقدِ نکاح منعقد ہو جائے گا۔ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک عورتوں کی موجودگی میں نکاح منعقد ہی نہیں ہو گا، یعنی گواہ مرد ہی ہونے چاہییں۔ اور وہ فرماتے ہیں کہ یہ جو نکاح ہے یہ بڑی معظم چیز ہے۔ مالی معاملات کے اندر تو شریعت نے اجازت دے دی، لیکن نکاح کے اندر عورتوں کی گواہی کی اجازت نہیں ہو گی۔ ہم کہتے ہیں: نہیں، نکاح معظم ہے اپنی جگہ، لیکن بہرحال ہمارے نزدیک نکاح اور طلاق تو مذاق مذاق میں بھی ہو جاتے ہیں۔ اور جب کہ مالی معاملات تو مذاق مذاق میں نہیں ہوتا۔ نکاح تو مذاق میں بھی دو گواہوں کے سامنے ایک مرد اور عورت مذاق میں کہہ دیں: "میں نے تجھ سے نکاح کیا"، ہنسی مذاق کر رہے ہیں، شریعت کہتی ہے: "بس، نکاح ہو گیا۔" یہ دونوں کیا بن گئے؟ میاں بیوی۔ مذاق میں بیوی سے کہہ دیا: "میں نے تمہیں طلاق دے دی"، مذاق میں بھئی آپس میں گپ شپ لگا رہے ہیں، تو شریعت کہتی ہے: "نہیں، طلاق ہو گئی۔" تو نکاح اور طلاق یہ تو مذاق میں بھی ہو جاتے ہیں، اور مالی معاملات تو مذاق میں نہیں ہوتا۔ اس سے تو پتہ چل رہا ہے مالی معاملات جو ہے اس کا مقام اونچا ہے۔ جب مالی معاملات کا مقام اونچا ہے اور اس کے اندر شریعت نے عورت کی گواہی قبول کی ہے، ایک مرد اور دو عورتیں، تو نکاح میں بطریقِ اولیٰ کیا ہونا چاہیے؟ عورت کی گواہی قبول ہونی چاہیے بھئی۔ اور نیز ہمارے نزدیک گواہوں کا عادل ہونا بھی شرط نہیں ہے۔ گواہ چاہے عادل ہوں یا فاسق ہوں، نکاح منعقد ہو جائے گا بھئی۔ جب کہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ جو شہادت ہے، یہ جو گواہی ہے، یہ اعزاز کی بات ہے اور فاسق جو ہے وہ تو اہلِ اہانت ہے، اس کو اہمیت نہیں دی جائے گی اور اس کو یہ عزت والا مقام نہیں دیا جائے گا۔ لہٰذا نکاح کے اندر صرف فاسق موجود ہوں تو نکاح منعقد ہی نہیں ہو گا۔ اور پھر اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے احناف کی دلیل ذکر فرمائی: عند الاحناف فاسق جو ہے وہ اہلِ ولایت ہے، اور جب وہ اہلِ ولایت ہے تو اہلِ شہادت بھی ہے۔ فاسق اہلِ ولایت کس طرح ہے؟ کہ وہ اپنی مرضی سے جہاں چاہے اپنا نکاح کر سکتا ہے۔ اسی طرح وہ اپنے غلام اور باندیوں کا نکاح بھی کروا سکتا ہے۔ اسی طرح وہ اپنی مرضی سے اپنے نابالغ بچوں کا نکاح بھی کروا سکتا ہے۔ تو معلوم ہوا فاسق اہلِ ولایت ہے۔ جب وہ اہلِ ولایت ہے تو پھر وہ اہلِ شہادت بھی ہو گا؛ کیونکہ شہادت بھی ولایت ہی کے باب سے ہے۔ گواہ کا قول غیر پر نافذ ہو جاتا ہے، غیر مانے یا نہ مانے۔ جب قاضی کے پاس ایک مسئلے میں دو عادل گواہ پیش ہو گئے تو پھر قاضی فیصلہ کر دیتا ہے اور وہ فریقِ مخالف پر یہ گواہوں کا قول نافذ ہو جاتا ہے۔ تو ہمارے نزدیک فاسق اہلِ ولایت ہے تو اہلِ شہادت بھی ہوا؛ کیونکہ شہادت بھی کس باب سے ہے؟ ولایت کے باب سے ہے۔ اس پر اشکال ہوتا ہے کہ یہ کیسی دلیل آپ نے ذکر کی بھئی؟ اہلِ ولایت کا مطلب یہ ہے کہ اس کو اپنی ذات پر ولایت حاصل ہے، یہ جہاں چاہے اپنا نکاح کر سکتا ہے۔ اور اہلِ شہادت ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس کو غیر پر ولایت حاصل ہو رہی ہے۔ تو اپنے لیے ولایت ثابت ہونے سے غیر پر ولایت کہاں سے آپ نے ثابت کر دی؟ اشکال سمجھ میں آیا؟ کہ یہ خود تو اہلِ ولایت ہے یہ بات تو تسلیم ہے، لیکن غیر پر بھی اس کو ولایت حاصل ہو جائے، غیر پر بھی اس کا قول نافذ ہو جائے، یہ غیر کے معاملے میں بھی گواہ بن جائے اور گواہی دے، تو یہ اپنی ولایت سے غیر پر ولایت کیسے ثابت ہو سکتی ہے؟ آپ ولایت علیٰ نفسہٖ کو دلیل بنا رہے ہیں ولایت علیٰ غیرہٖ پر۔ تو صاحبِ ہدایہ نے اس کی دلیل ذکر فرمائی تھی کہ دیکھو فاسق کے اندر دو چیزیں ہیں: ایک ہے اس کا فاسق ہونا، یعنی اس کا فسق بھئی، اور دوسری چیز جو ہے اس کا مسلمان ہونا ہے۔ اس کا فاسق ہونا تقاضا کرتا ہے کہ فاسق کو اپنی ذات پر بھی ولایت حاصل نہیں ہونی چاہیے؛ کیونکہ فاسق گناہوں میں مبتلا ہے اور ان گناہوں کا نقصان اسی کی ذات کو ہو گا کسی اور کو نہیں، تو معلوم ہوا اس کی عقل میں کمی ہے۔ تو اس کی مثال بچے کی طرح ہوئی، جیسے بچے کی عقل کے اندر کمی ہوتی ہے تو شریعت نے اس کو ولایت نہیں دی یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے۔ تو لہٰذا فاسق کا فسق کیا تقاضا کر رہا ہے؟ کہ اس کو اپنی ذات پر بھی ولایت نہیں ہونی چاہیے۔ جب کہ دوسری طرف یہ مسلمان ہے، اس کا مسلمان ہونا تقاضا کر رہا ہے کہ اس کو ولایت ہونی چاہیے کیونکہ یہ عاقل، بالغ، آزاد ہے بھئی۔ یہ عاقل، بالغ اور آزاد ہے لہٰذا اس کو ولایت ہونی چاہیے۔ اور آپ مجھے بتائیے کہ فاسق اپنی مرضی سے اپنا نکاح کر سکتا ہے یا نہیں کر سکتا؟ فاسق اپنی مرضی سے اپنا نکاح کر سکتا ہے۔ معلوم ہوا فاسق کا فسق وہ مانع نہ بن سکا اس کی ولایت علیٰ نفسہٖ پر۔ توجہ ہے؟ فاسق میں کتنی چیزیں؟ دو۔ ایک اس کا فسق، وہ مانع بن رہا ہے کہ اس کو ولایت اپنے اوپر حاصل نہیں ہونی چاہیے۔ اور دوسری طرف اس کا اسلام ہے، اس کا اسلام تقاضا کر رہا ہے کہ یہ عاقل ہے، بالغ ہے، آزاد ہے، اس کو اپنے اوپر ولایت ہونی چاہیے۔ اور دیکھو، اس کا فاسق ہونا مانع نہ بنا، شریعت نے اس کو ولایت دی ہے، یہ اپنا نکاح اپنی مرضی سے کر سکتا ہے۔ معلوم ہوا اس کا فسق مانع نہیں بنا اس کی ولایت علیٰ نفسہٖ پر۔ اس کو جو ولایت حاصل ہے علیٰ نفسہٖ اپنی ذات پر، اس سلسلے میں فسق مانع نہیں بنا۔ کیوں نہیں مانع بنا؟ اس کے مسلمان ہونے کی وجہ سے۔ تو جب اس کا فسق ولایت علیٰ نفسہٖ میں مانع نہیں بنا تو اس کا فسق ولایت علیٰ غیرہٖ میں بھی مانع نہیں بنے گا؛ کیونکہ وہاں پر بھی یہی علتِ اسلام موجود ہے۔ بھئی دوسرا شخص جس کے خلاف یہ گواہی دینا چاہتا ہے وہ بھی کیا ہے؟ مسلمان ہے بھئی۔ جیسے اس کے اندر اسلام موجود تھا، اس نے فسق کو مانع نہیں بننے دیا، اسی طرح دوسرے کے اندر بھی کیا موجود ہے؟ اسلام موجود ہے، تو وہاں پر بھی یہ فسق مانع نہیں بنے گا۔ تو جیسے فسق مانع نہیں بنا تھا کس چیز میں؟ ولایت علیٰ نفسہٖ میں، اسی طرح یہ فسق مانع نہیں بنے گا ولایت علیٰ غیرہٖ میں؛ کیونکہ دونوں جگہ علتِ اسلام موجود ہے۔ فاسق کا فسق مانع نہیں بنا کس چیز میں؟ ولایت علیٰ نفسہٖ میں۔ کیوں نہیں مانع بنا؟ کیونکہ اسلام موجود ہے، یہ مسلمان ہے۔ تو یہی ولایت علیٰ غیرہٖ، وہاں بھی یہ فسق مانع نہیں بنے گا کیونکہ وہاں بھی اسلام موجود ہے، وہ رجلِ آخر بھی، وہ دوسرا شخص بھی مسلمان ہے، وہ بھی اسی کی جنس میں سے ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو حاصلِ کلام کیا ہوا؟ کہ فاسق ہمارے نزدیک اہلِ ولایت ہے تو وہ اہلِ شہادت بھی ہو گا۔ اس پر سوال پیدا ہوا کہ اہلِ ولایت ہے یعنی اس کو اپنی ذات پر ولایت حاصل ہے یہ بات تو ہمیں تسلیم ہے، لیکن آپ کہہ رہے ہیں اس سے اس کا اہلِ شہادت ہونا بھی ثابت ہو گیا۔ اہلِ شہادت ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس کو غیر پر بھی ولایت حاصل ہے، غیر کے خلاف بھی اس کا قول نافذ ہو جاتا ہے وہ چاہے یا نہ چاہے جب یہ جا کر گواہی دے گا قاضی کے پاس اور قاضی اس کی گواہی قبول کرے بھئی۔ تو آپ اپنی ولایت سے غیر پر ولایت کو کیسے ثابت کر سکتے ہیں؟ تو صاحبِ ہدایہ نے جواب دیا کہ بھئی دیکھو دونوں جگہ ولایت ہی ہے: ایک ہے ولایت علیٰ نفسہٖ یعنی اپنی ذات پر ولایت، اور ایک ہے ولایت علیٰ غیرہٖ۔ اور مانع کیا چیز بننا چاہتی ہے؟ فسق۔ فسق مانع بننا چاہتا ہے۔ تو جب یہ فسق ولایت علیٰ نفسہٖ میں مانع نہیں بن سکا تو ولایت علیٰ غیرہٖ میں بھی مانع نہیں بن سکے گا؛ کیونکہ اسلام کی علت دونوں جگہ موجود ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اور دوسری دلیل یہ ذکر کی تھی صاحبِ ہدایہ نے کہ فاسق وہ مقلد بن سکتا ہے، جب وہ مقلد بن سکتا ہے تو مقلّد اور گواہ بھی بن سکتا ہے۔ مقلّد اس کو کہتے ہیں جو دوسروں کو ذمہ دار بناتا ہے، مراد ہے خلیفہ یا اسی طرح بادشاہ ہے یا گورنر ہے۔ یہ قاضی وغیرہ کا تقرر کرتے ہیں۔ تو جب یہ لوگ، جو خلیفہ ہے یا بادشاہ ہے یا گورنر ہے، اگر یہ فاسق ہوں پھر بھی یہ قاضی کا تقرر کر سکتے ہیں۔ تو جب یہ قاضی کا تقرر کر سکتے ہیں شرعاً، تو پھر یہ خود بھی شرعاً قاضی بن سکتے ہیں بھئی۔ اور جب یہ قاضی بن سکتے ہیں تو پھر گواہ بھی بن سکتے ہیں؛ کیونکہ قاضی ہونا اور گواہ ہونا ایک ہی باب سے ہے۔ گواہ کا قول بھی غیر پر نافذ ہوتا ہے جب وہ گواہی دیتا ہے، اور قاضی کا قول بھی غیروں پر نافذ ہوتا ہے جب وہ فیصلہ کرتا ہے بھئی، بلکہ قاضی کا مقام اونچا ہے بھئی۔ قاضی کا مقام جیسے مقلّد کا مقام اونچا ہے مقلَّد سے، تو جب فاسق مقلّد بن سکتا ہے تقرری کرنے والا بن سکتا ہے تو فاسق مقلَّد بھی بن سکتا ہے، یعنی قاضی بھی بن سکتا ہے۔ اور جب یہ قاضی بن سکتا ہے تو پھر گواہ بھی بن سکتا ہے؛ کیونکہ قاضی کا مقام گواہ سے اونچا ہے بھئی۔ دونوں ایک ہی باب سے ہیں لیکن قاضی کا مقام اونچا ہے بھئی گواہ سے؛ کیونکہ اس کو ولایتِ عامہ حاصل ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو معلوم ہوا گواہ فاسق ہو سکتا ہے۔ جب وہ مقلّد ہو سکتا ہے تو مقلَّد اور گواہ بھی فاسق ہو سکتا ہے۔ اور پھر اس کے بعد بتلایا تھا کہ یہ جو محدود فی القذف ہے یہ بھی نکاح کے اندر گواہ بن سکتا ہے۔ وہ شخص جس پر حدِ قذف جاری ہوئی ہو، اس کے بارے میں اللہ قرآن میں کیا فرماتے ہیں؟ کہ اس کی گواہی قبول نہ کرو: "وَلَا تَقْبَلُوا لَهُمْ شَهَادَةً أَبَدًا"، کہ کبھی بھی ان کی گواہی قبول نہ کرو۔ عند الاحناف یہ حد کا حصہ ہے۔ یہ شخص اب توبہ بھی کر لے پھر بھی تمام زندگی کسی معاملے کے اندر قاضی اس کی گواہی کو قبول نہیں کرے گا بھئی۔ تو یہ جو محدود فی القذف ہے ہمارے نزدیک یہ بھی نکاح میں گواہ بن سکتا ہے۔ تو سوال پیدا ہوا کیسے گواہ بن سکتا ہے؟ اللہ تعالیٰ نے تو منع فرمایا ہے اس کی گواہی قبول کرنے سے۔ تو جواب ہم دیتے ہیں کہ یہ بھی اہلِ ولایت ہے۔ یہ اپنا جہاں چاہے نکاح کر سکتا ہے یا نہیں کر سکتا؟ تو یہ اہلِ ولایت ہے۔ اور جو اہلِ ولایت ہوتا ہے وہ اہلِ شہادت بھی ہوتا ہے۔ اور اہلِ شہادت اس کے اندر دو چیزیں ہیں: ایک اہلِ تحمل ہونا اور ایک اہلِ ادا ہونا، یعنی ایک ہے گواہ بننا اور ایک ہے گواہی دینا۔ تو یہ اہلِ تحمل تو ہے، یہ گواہ بن تو سکتا ہے، البتہ اس گواہ بننے پر جو ثمرہ اور نتیجہ مرتب ہوتا ہے کہ یہ گواہی ادا کرے، گواہی دے دے، وہ نتیجہ یہاں مرتب نہیں ہو گا؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہی آ چکی ہے، اللہ نے منع فرما دیا ہے کہ اس کی گواہی قبول نہ کرو۔ توجہ ہے؟ ایک ہے گواہ بننا اور ایک ہے گواہی دینا۔ پہلے کوئی شخص کسی چیز پر گواہ بنتا ہے اور پھر اگر ضرورت پیش آئے تو قاضی کے پاس جا کر گواہی دیتا ہے۔ تو ہم کہتے ہیں کہ یہ جو فاسق ہے یہ اہلِ ولایت ہے، جہاں چاہے اپنا نکاح کر سکتا ہے۔ تو یہ اہلِ شہادت بھی ہوا، اور شہادت کے اندر دو چیزیں ہیں: ایک اہلِ تحمل ہونا اور ایک اہلِ ادا ہونا۔ اور یہ اہلِ تحمل ہے، یہ گواہ بن سکتا ہے اور اسی تحمل پر نتیجہ کیا مرتب ہوتا ہے؟ جب یہ گواہ بن جائے گا تو اسی پر کیا نتیجہ مرتب ہوتا ہے؟ کہ یہ گواہی دے بھی سکتا ہے، لیکن یہاں نہی آ گئی اس لیے یہ گواہی دے نہیں سکتا۔ بلکہ اللہ نے جو اس کی گواہی قبول کرنے سے منع فرمایا ہے، اس سے ہی پتہ چل رہا ہے کہ اس میں گواہ بننے کی صلاحیت ہے۔ کیونکہ منع اسی کو کیا جاتا ہے جس میں ایک چیز کی صلاحیت ہو، جس میں ایک چیز کی صلاحیت ہی نہ ہو اسے اس چیز سے منع بھی نہیں کیا جاتا، اس چیز سے روکا بھی نہیں جاتا۔ جیسے کسی شخص میں دیکھنے کی صلاحیت ہو، اسی کو کہا جاتا ہے کہ تم ادھر نہ دیکھو۔ جس شخص میں سننے کی صلاحیت ہو، اسی کو کہا جاتا ہے کہ آپ ہماری باتیں نہ سنیں۔ جس میں دیکھنے کی صلاحیت ہی نہیں ہے یا سننے کی صلاحیت ہی نہیں ہے، اس کو کبھی بھی منع نہیں کیا جاتا کیونکہ اس میں صلاحیت ہی نہیں ہے۔ تو یہاں جو اللہ کیا فرما رہے ہیں؟ اس کی گواہی قبول نہ کرو۔ معلوم ہوا اس میں گواہی دینے کی صلاحیت موجود ہے لیکن منع فرما دیا اللہ نے۔ اور گواہی کب دیتا ہے انسان؟ پہلے گواہ بنے تو سہی۔ پہلے گواہ بنے تو سہی، تو اللہ نے گواہی دینے سے منع فرمایا ہے، معلوم ہوا گواہ بن سکتا ہے یہ ابھی بھی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ کہتے ہیں یہ اسی طرح ہے جیسے اندھا ہے۔ اندھا جو ہے گواہ بن تو سکتا ہے لیکن گواہی دے نہیں سکتا۔ وجہ یہ کہ یہ تو صرف آواز سن کر گواہی دے گا اور صرف آواز سننے میں ہو سکتا ہے اس سے غلطی ہو جائے، وہ شخص تو اس کو نظر نہیں آ رہا صرف اس کی آواز سن کر اس کے خلاف گواہی دینا چاہ رہا ہے تو ہو سکتا ہے اس سے غلطی ہو جائے۔ تو اندھا وہ تحملِ شہادت تو کر سکتا ہے، ادائے شہادت نہیں کر سکتا۔ اندھوں کے سامنے نکاح کیا جائے تو وہ منعقد ہو جائے گا بھئی۔ اور اسی طرح عاقد کرنے والوں کے بیٹے، عاقد کرنے والوں کے بیٹے۔ بھئی دیکھیے، مثلاً مرد اور عورت نکاح کر رہے ہیں، مرد کی پہلی بیوی سے دو بالغ بیٹے موجود ہیں وہ گواہ بن جاتے ہیں، یا عورت جو ہے اس کے پہلے خاوند سے دو بیٹے موجود ہیں جو بالغ ہیں تو یہ گواہ بننا چاہتے ہیں تو یاد رکھو اس صورت میں نکاح منعقد ہو جائے گا۔ چاہے دونوں بیٹے کس کے ہوں؟ مرد کے ہوں، چاہے دونوں بیٹے عورت کے ہوں، یا ایک بیٹا مرد کا ہو اور ایک بیٹا عورت کا ہے اور یہ آپس میں نکاح کر رہے ہیں تو گواہ تو موجود ہیں بھئی۔ وہ دونوں بیٹے آزاد بھی ہیں، عاقل بھی ہیں، بالغ بھی ہیں، اور مسلمان بھی ہیں، تو چاروں صفاتِ لازمہ ان میں موجود ہیں تو پھر ان کی موجودگی میں نکاح منعقد ہو جائے گا۔ ہاں، البتہ یہ بیٹے اگر اپنے قریبی عزیز کے، اپنے قریبی رشتہ دار کے حق میں گواہی دینا چاہیں گے تو ان کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی۔ ان کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی، وجہ اس کی یہ ہے کہ ضابطہ ہے کہ جن لوگوں کے مفادات مشترک ہوں ان کی گواہی ایک دوسرے کے حق میں قبول نہیں کی جاتی۔ اور دیکھو، باپ اور بیٹوں کے مفادات مشترک ہوتے ہیں، باپ بیٹے ایک دوسرے کی چیزیں عام استعمال کرتے ہیں تو باپ کو فائدہ ہو تو گویا بیٹوں کو بھی فائدہ ہوا۔ اسی طرح میاں بیوی ہیں، میاں بیوی جو ہیں ان کے مفادات مشترک ہیں بھئی، یہ دوسرے کی چیزیں استعمال کرتے ہیں تو خاوند کو جو کوئی نفع ہو گا تو یہ اسی طرح ہے جیسے بیوی کو بھی فائدہ ہوا ہے۔ تو لہٰذا وہ قریبی رشتہ دار جن کے مفادات مشترک ہوتے ہیں، ان کی گواہی ایک دوسرے کے حق میں قبول نہیں کی جاتی۔ خاوند بیوی کے حق میں گواہی دینا چاہتا ہے، یہ قبول نہیں کی جائے گی۔ ہاں، ایک دوسرے کے خلاف گواہی دینا چاہیں تو وہ قبول کی جائے گی؛ کیونکہ وہاں پر دلوں میں بدگمانی نہیں آتی۔ ایک دوسرے کے حق میں گواہی دیں گے تو دلوں میں بدگمانی آتی ہے کہ چونکہ اس میں اس کا اپنا فائدہ ہے اس لیے گواہی دے رہا ہے بھئی۔ تو حاصلِ کلام یہ ہوا کہ جیسے اندھے اور عاقد کرنے والوں کے بیٹے یہ ادائے شہادت نہیں کر سکتے لیکن اس سے کوئی خرابی لازم نہیں آئی، یہ تحملِ شہادت تو کر سکتے ہیں لہٰذا ان کی موجودگی میں نکاح منعقد ہو جائے گا۔ اسی طرح محدود فی القذف جو ہے ادائے شہادت سے اس کو روکا گیا ہے لیکن وہ تحملِ شہادت تو کر سکتا ہے جیسے اندھے اور وہ عاقد کرنے والوں کے بیٹے۔ جیسے وہ تحملِ شہادت کر سکتے ہیں اور ان کی موجودگی میں نکاح منعقد ہو جاتا ہے تو یہ محدود فی القذف بھی تحملِ شہادت کر سکتا ہے تو ان کی موجودگی میں بھی نکاح منعقد ہو جائے گا۔ ہاں، البتہ اگر قاضی کے پاس گواہی کی ضرورت پڑی تو قاضی ان لوگوں کی گواہی قبول نہیں کرے گا۔ اور عاقد کرنے والوں کے بیٹے جو ہیں ان کی گواہی اپنے قریبی رشتہ دار کے حق میں تو قبول نہیں کی جائے گی، ہاں اس کے خلاف اگر گواہی دینے گئے تو وہ قبول کی جائے گی۔ تو جیسے اندھے کے اندر اور عاقد کرنے والوں کے دو بیٹوں کے اندر ادا فوت ہو چکی ہے لیکن پھر بھی وہ تحمل کر سکتے ہیں، ادا کے فوت ہونے کے باوجود یہ کیا کر سکتے ہیں؟ تحملِ شہادت کر سکتے ہیں اور نکاح میں گواہ بن سکتے ہیں، تو محدود فی القذف بھی اسی طرح ہے وہ تحمل کر سکتا ہے تو وہ بھی ان کی طرح گواہ بن سکتا ہے اور اس کی موجودگی سے نکاح منعقد ہو جائے گا۔ اب آئیے آج کے سبق پر: قال وإن تزوّج مسلم ذمّيّةً بشهادة ذمّيّين جاز عند أبي حنيفة وأبي يوسف رحمهما الله تعالى، وقال محمّد وزفر رحمهما الله تعالى لا يجوز۔ مسئلہ یہ ذکر فرما رہے ہیں صاحبِ قدوری کہ اگر ایک مسلمان کسی ذمیہ عورت سے نکاح کرتا ہے، یعنی اہلِ کتاب عورت ہے، عیسائی ہے، یہودی، اور نکاح کے اندر گواہ ضرور چاہییں لیکن وہاں پر کوئی مسلمان گواہ نہیں ہے، وہ دو ذمیوں کی موجودگی میں نکاح کر لیتا ہے، تو کیا یہ نکاح منعقد ہو گیا؟ یہ نکاح جو مسلمان نے کس سے کیا ہے؟ ذمیہ عورت سے، اور گواہ کون ہیں؟ ذمی مرد ہیں، تو کیا یہ نکاح ہو جائے گا؟ تو صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلا رہے ہیں کہ شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک یہ نکاح منعقد ہو جائے گا۔ جب کہ امام محمد اور امام زفر رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، یہ نکاح منعقد نہیں ہو گا۔ اس لیے کیونکہ مسلمان کا نکاح چاہے ذمیہ سے ہی کیوں نہ ہو رہا ہو، گواہوں کا مسلمان ہونا ضروری ہے۔ اور یہ دو گواہ تو مسلمان نہیں، ذمی ہیں، لہٰذا یہ نکاح منعقد ہی نہیں ہو گا۔ جب کہ شیخین کیا فرماتے ہیں؟ یہ نکاح منعقد ہو جائے گا۔ دیکھیے بھئی، کہتے ہیں: قال، صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: وإن تزوّج مسلم ذمّيّةً بشهادة ذمّيّين جاز، اگر نکاح کیا کسی مسلمان نے کسی ذمیہ عورت سے بشهادة ذمّيّين دو ذمیوں کی گواہی کے ساتھ، جاز تو یہ جائز ہے عند أبي حنيفة وأبي يوسف رحمهما الله شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک، وقال محمّد وزفر رحمهما الله لا يجوز اور امام محمد اور امام زفر رحمہما اللہ کے نزدیک یہ جائز نہیں ہے، یعنی ذمیوں کی موجودگی سے یہ نکاح منعقد نہیں ہو گا۔ لأنّ السّماع في النّكاح شهادة۔ یاد رکھنا، یہ اردو میں لفظ 'سِماع' استعمال ہوتا ہے سین کے کسرہ کے ساتھ، البتہ عربی میں یہ لفظ سین کے فتحہ کے ساتھ ہے۔ تو عربی عبارت میں جہاں لفظ آئے تو اس کو 'سَماع' پڑھنا ہے، اور اردو میں عام رائج جو ہے وہ 'سِماع' ہے سین کے کسرہ کے ساتھ۔ لأنّ السّماع في النّكاح شهادة۔ جی، یہاں سے دلیل ذکر فرما رہے ہیں صاحبِ ہدایہ امام محمد اور امام زفر کی۔ ادھر دیکھیے، دلیل سمجھ لیجیے۔ امام زفر اور امام محمد رحمہما اللہ فرماتے ہیں: یہ نکاح منعقد نہیں ہو گا دو ذمی گواہوں کی موجودگی میں، وجہ یہ کہ نکاح نام ہے ایجاب اور قبول کا، اور یہ ایجاب اور قبول کو سننا ہی گواہ بننا ہے۔ جو اس ایجاب اور قبول کو سنے گا وہ گواہ ہو جائے گا اس نکاح کے اندر۔ بھئی گواہ جو ہیں نکاح کے اندر ویسے ان کی موجودگی ہونی چاہیے یا ان کا باقاعدہ ایجاب اور قبول کو سننا ضروری ہے؟ سننا ضروری ہے بھئی، سنیں بھی اور اس کا معنی بھی ان کو سمجھ میں آ رہا ہو۔ تو نکاح کے اندر جو بھی ایجاب اور قبول کو سنے گا وہ گواہ ہو جائے گا۔ تو یہ ذمی بھی مسلمان کے کلام کو اگر سنیں گے تو مسلمان کے خلاف گواہ ہو جائیں گے۔ اور کافر جو ہے وہ تو مسلمان کے خلاف گواہ نہیں ہو سکتا، ہم نے ضابطہ بتلایا تھا بھئی۔ گزشتہ سبق میں آیا تھا کہ بھئی کافر جو ہے وہ مسلمان کے خلاف گواہ نہیں ہو سکتا۔ گواہ جو ہوتا ہے اس کا قول تو مخالف پر نافذ ہو جاتا ہے۔ کافر کو ہم اتنا اونچا مقام نہیں دے سکتے کہ کافر کا قول مسلمان پر نافذ ہو جائے۔ گواہی میں غیر پر ولایت حاصل ہوتی ہے وہ چاہے یا نہ چاہے غیر پر اس کا قول نافذ ہو جاتا ہے۔ تو مملکتِ اسلامیہ کے اندر ہم کافر کو اتنا اونچا مقام نہیں دیں گے کہ مسلمان پر اس کو ولایت حاصل ہو جائے اور مسلمان کے خلاف اس کا قول نافذ ہو جائے۔ تو چنانچہ امام محمد اور امام زفر رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ یہ نکاح ہو رہا ہے اور نکاح کے اندر سماع سے ہی گواہ بن جاتا ہے، تو یہاں اگر ہم یہ کہیں کہ ان دو گواہوں نے، یہ جو ذمی ہیں، انہوں نے مسلمان کے ایجاب یا قبول کو سن لیا ہے، تو یہ تو مسلمان کے خلاف گواہ ہو جائیں گے۔ اور کافر جو ہے وہ تو مسلمان کے خلاف گواہ نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا یہ جو مسلمان کے ایجاب اور قبول کو سن رہے ہیں، یہ ان کو قیاس کرتے ہیں ان ذمیوں پر جنہوں نے مسلمان کے قول کو یعنی ایجاب اور قبول کو سنا ہی نہ ہو۔ ادھر دیکھیے، نکاح ہو رہا ہے تو جو شخص مسلمان کے ایجاب یا قبول کو سنے ہی نہ، کیا وہ مسلمان کے خلاف گواہ بن سکتا ہے؟ بھئی اس نے سنا ہی نہیں ہے تو وہ تو گواہ ہی نہیں ہے، سنے گا تو گواہ بنے گا۔ یہ تو گواہ ہیں ہی نہیں نکاح کے، یہ تو وہاں موجود ہی نہیں تھے۔ تو جیسے وہ شخص جو اس مسلمان کے قول کو نہ سنے وہ مسلمان کے خلاف گواہ نہیں بن سکتا، اسی طرح یہ دو ذمی ان کو بھی ہم انہی پر قیاس کریں گے کہ انہوں نے مسلمان کے کلام کو یعنی اس کے ایجاب اور قبول کو گویا سنا ہی نہیں ہے۔ جب سنا ہی نہیں ہے تو یہ مسلمان کے خلاف گواہ بھی نہیں ہو سکتے۔ دلیل سمجھ میں آئی؟ کیا دلیل؟ امام محمد، امام زفر رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ نکاح کے اندر ایجاب اور قبول کو سننا ہی گواہ ہونا ہے۔ اور اگر ہم یہ کہیں یہ دو ذمی جو ہیں انہوں نے مسلمان کے قول کو سن لیا ہے، پھر تو یہ مسلمان کے خلاف گواہ ہو گئے بھئی۔ تو آپ نے تو ان کو مسلمان کے خلاف گواہ بنا دیا، حالانکہ کافر مسلمان کے خلاف گواہ نہیں ہو سکتا۔ تو وہ ان دو ذمیوں کو قیاس کرتے ہیں ان ذمیوں پر جنہوں نے مسلمان کے قول کو سنا ہی نہیں، جیسے وہ مسلمان کے خلاف گواہ نہیں ہو سکتے تو یہ بھی اسی طرح ہے کہ انہوں نے مسلمان کے قول کو سنا ہی نہیں ہے، مسلمان کے خلاف گواہ ہیں ہی نہیں۔ کیونکہ کافر کبھی مسلمان کے خلاف گواہ نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا یہ جو دو ذمی موجود ہیں نکاح کے اندر، انہوں نے مسلمان کے ایجاب یا قبول کو سنا ہے لیکن یہ سننا بھی نہ سننے کی طرح ہے، گویا انہوں نے سنا ہی نہیں۔ کیونکہ اگر ہم یہ کہیں گے کہ انہوں نے سنا ہے تو پھر تو یہ مسلمان کے خلاف گواہ ہو گئے بھئی، اور کافر تو کبھی بھی مسلمان کے خلاف گواہ نہیں ہو سکتا، اس کو اتنا اونچا مقام ہم نہیں دے سکتے کہ اس کو مسلمان پر ولایت دے دی جائے مملکتِ اسلامیہ میں۔ تو ان کا یہ سننا بھی نہ سننے کی طرح ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو حاصلِ کلام یہ ہوا کہ امام زفر اور امام محمد رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ یہ دو ذمی جو محفلِ نکاح میں موجود ہیں، انہوں نے گویا مسلمان کے کلام کو سنا ہی نہیں۔ یعنی وہ ان کو قیاس کرتے ہیں ان ذمیوں پر جنہوں نے مسلمان کے کلام کو نہ سنا ہو، اور جنہوں نے مسلمان کے ایجاب اور قبول کو نہیں سنا وہ مسلمان کے خلاف گواہ نہیں بنے تو یہ بھی انہی کی طرح ہیں، یہ بھی مسلمان کے خلاف گواہ نہیں ہو سکتے۔ تو وہ ان سننے والوں کو کس پر قیاس کرتے ہیں؟ نہ سننے والوں پر۔ جیسے وہ مسلمان کے خلاف گواہ نہیں ہو سکتے اس نکاح کے اندر، یہ بھی مسلمان کے خلاف گواہ نہیں ہو سکتے؛ کیونکہ اگر آپ یہ کہیں گے انہوں نے سنا ہے پھر تو یہ مسلمان کے خلاف گواہ بن گئے، اور کافر تو مسلمان کے خلاف گواہ نہیں ہو سکتا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو وہ فرماتے ہیں: لأنّ السّماع في النّكاح شهادة اس لیے کیونکہ سننا جو ہے، یعنی ایجاب اور قبول کو، ایجاب اور قبول کو سننا في النّكاح نکاح میں، شهادة یہ شہادت ہے، یہ گواہ بننا ہے بھئی۔ ولا شهادة للكافر على المسلم اور کافر جو ہے مسلمان کے خلاف گواہ نہیں ہو سکتا، فكأنّهما لم يسمعا كلام المسلم تو گویا کہ ان دونوں نے مسلمان کے کلام کو سنا ہی نہیں۔ جب سنا ہی نہیں تو مسلمان کے خلاف یہ گواہ بھی نہیں ہوں گے۔ اب آگے شیخین رحمہما اللہ کی دلیل آ رہی ہے، وہ فرماتے ہیں: ولهما اور ان کی دلیل یہ ہے، أنّ الشّهادة شرطت في النّكاح على اعتبار إثبات الملك لوروده على محلّ ذي خطر۔ شیخین رحمہما اللہ کی دلیل سنیے بھئی، عجیب دلیل ذکر فرماتے ہیں صاحبِ ہدایہ۔ ادھر دیکھیے، شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ نکاح میں دو چیزیں ہیں بھئی: خاوند کے ذمے مہر یعنی مال لازم ہو جاتا ہے جب نکاح ہو جائے، اور عورت پر خاوند کو ملکِ متعہ حاصل ہو جاتی ہے۔ تو عورت کو کیا ملے گا؟ مال اس کے لیے لازم ہو گیا خاوند کے ذمے۔ اور خاوند کس چیز کا مالک ہوا؟ متعہ کا مالک ہو گیا، یعنی عورت سے وہ صحبت کر سکتا ہے، عورت سے صحبت کا نفع وہ اٹھانے کا مالک بن گیا۔ تو شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ یہاں پر یہ جو دو گواہوں کی شرط رکھی گئی ہے نکاح کے اندر، یہ ملکِ متعہ کے اثبات کے اعتبار سے ہے، لزومِ مال کے اعتبار سے نہیں۔ بھئی دیکھیے، شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ نکاح کے اندر دو چیزیں ہیں بھئی: خاوند کے ذمے مال آئے گا، اور عورت پر خاوند کو ملکِ متعہ حاصل ہو گا۔ اور یہ جو نکاح کے اندر دو گواہ لازم قرار دیے گئے ہیں، یہ اثباتِ ملکِ متعہ کے لیے لازم قرار دیے گئے ہیں، لزومِ مال کے لیے لازم قرار نہیں دیے گئے۔ وجہ یہ کہ کسی پر جب مال لازم ہوتا ہے تو اس میں گواہوں کا ہونا ضروری نہیں۔ اس میں گواہوں کا ہونا ضروری نہیں ہے۔ مثلاً آپ ایک آدمی سے بیع و شراء والا معاملہ کرتے ہیں، آپ ایجاب کرتے ہیں وہ قبول کرتا ہے، دیکھو بیع منعقد ہو گئی۔ لیکن مجھے بتائیے، کیا اگر گواہ نہ ہوئے تو یہ آپ کی بیع منعقد ہو گی یا منعقد نہیں ہو گی؟ گواہ نہ ہوئے پھر بھی آپ کی بیع منعقد ہو جائے گی؛ اس لیے کیونکہ بیع و شراء کے اندر شریعت نے گواہوں کی شرط نہیں لگائی۔ آپ بغیر گواہوں کے بھی ایجاب اور قبول کرتے ہیں، آپ دونوں کے درمیان عقدِ بیع منعقد ہو گیا۔ لیکن اگر آپ نکاح کریں گے بغیر گواہوں کے تو نکاح منعقد نہیں ہو گا۔ تو دیکھو بیع و شراء کے اندر ایک دوسرے پر مال لازم ہو جاتا ہے۔ بائع کو جو ہے مبیعہ اب حوالے کرنا پڑے گا اور مشتری کو پیسے اور ثمن حوالے کرنے پڑیں گے۔ تو دیکھو یہاں بیع کے اندر لزومِ مال آتا ہے، دونوں میں سے ہر ایک پر مال لازم ہو رہا ہے اور یہاں شریعت نے گواہوں کی شرط نہیں رکھی۔ اور نکاح کے اندر بھی دیکھیں، خاوند پر مال لازم ہو رہا ہے لیکن لزومِ مال کے لیے تو شریعت نے گواہوں کی شرط نہیں رکھی۔ معلوم ہوا یہ جو خاوند پر مال لازم ہو رہا ہے، یہ گواہ اس کے لیے نہیں رکھے گئے بلکہ یہ گواہ رکھے گئے ہیں وہ جو بیوی پر خاوند کو ملکِ متعہ حاصل ہو رہی ہے، اس سے جو فائدہ اٹھانے کا حق اس کو مل رہا ہے، یہ گواہ اس کے اعتبار سے شریعت نے مقرر فرمائے ہیں۔ اس لیے کیونکہ انسان معظم اور محترم ہے۔ جب انسان معظم اور محترم ہے تو ہر انسانی عضو بھی کیا ہوا؟ معظم اور محترم۔ تو دیکھو، عورت کے ایک جز سے خاوند کو ملکِ متعہ کا حق مل رہا ہے تو شریعت نے اس ملکِ متعہ کے اثبات کے اعتبار سے ان گواہوں کو شرط قرار دیا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ دیکھیے بھئی، صاحبِ ہدایہ اس کو اور اچھے الفاظ میں ذکر فرمائیں گے: ولهما اور شیخین رحمہما اللہ کی دلیل یہ ہے، أنّ الشّهادة شرطت في النّكاح على اعتبار إثبات الملك کہ شہادت جو ہے اس کی شرط لگائی گئی ہے نکاح میں، على اعتبار إثبات الملك ملکیت کے اثبات کرنے کے اعتبار سے، کہ خاوند کی ملکِ متعہ ثابت کی جا سکے، یہ گواہ کس لیے رکھے گئے ہیں نکاح کے اندر؟ تاکہ خاوند کی ملکِ متعہ ثابت کی جا سکے۔ کل کہیں ایسا نہ ہو یہ عورت انکار کر دے تاکہ ان گواہوں کے ذریعے اس کو ثابت کیا جا سکے۔ تو کہتے ہیں: أنّ الشّهادة شرطت في النّكاح على اعتبار إثبات الملك کہ یہ جو شہادت کی شرط لگائی گئی ہے نکاح کے اندر، یہ ملکِ متعہ کے اثبات کے اعتبار سے ہے، لوروده على محلّ ذي خطر اس لیے کیونکہ یہ ملکِ متعہ وارد ہو رہا ہے، ورود کا معنی ہے آنا بھئی، آنا۔ لوروده یہ ملکِ متعہ آ رہا ہے، یہ ملکِ متعہ حاصل ہو رہا ہے، على محلّ ذي خطر ایک ایسے محل پر، ایک ایسی جگہ پر، ذی خطر، خطر کا معنی ہے حرمت اور عزت۔ ذی خطر، حرمت والا، عزت والا۔ لوروده على محلّ ذي خطر اس لیے کیونکہ یہ ملکیت آ رہی ہے ایک ایسے محل پر، ایک ایسی جگہ پر، ذی خطر جو عزت والا ہے۔ وہ جگہ کیا ہے؟ عزت والی ہے، حرمت والی ہے۔ بھئی انسان سارا معظم ہے تو ہر انسانی عضو بھی کیا ہے؟ معظم اور محترم ہے بھئی۔ جب کل محترم ہے تو جز بھی محترم ہے بھئی۔ بھئی دیکھیے، یہ جو آیا محلِ ذی خطر، محلِ ذی خطر یاد رکھو اس سے مراد عورت کی شرمگاہ ہے بھئی۔ اور اس کے نیچے میری کتاب میں لکھا ہوا ہے: البضع، با، ضاد، اور عین۔ بضع یاد رکھو یہ عورت کی شرمگاہ کا نام ہے۔ تو یہاں دیکھو خاوند کی ملکیت آ رہی ہے کس پر؟ اس حرمت والے محل پر۔ اس عورت کے اس عضو سے خاوند کے لیے نفع اٹھانا جائز ہو جائے گا۔ خاوند کے لیے وہ عورت حلال ہو گئی، اس سے صحبت کرنا جائز ہو گیا۔ تو ایک حرمت والے محل پر خاوند کی ملکیت آ رہی تھی تو شریعت نے کہا دو گواہ بنا لو۔ کیا کر لو؟ دو گواہ بنا لو۔ یہ حرمت والا محل ہے اور اس کے اوپر ملکیت آنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ اس کے اوپر ملکیت کا آنا آسان کام نہیں۔ عورت کا مرد کے لیے حلال ہونا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ آپ دیکھتے ہیں لوگ بیچارے ایک شادی کے مسئلے میں کتنے پریشان ہوتے ہیں، کتنی کتنی رکاوٹیں ہوتی ہیں، ان کی شادی نہیں ہو پاتی بھئی۔ تو دیکھو، معلوم ہوا عورت مرد کے لیے حلال ہو رہی ہے، مرد کو اس سے نفع اٹھانے کا حق مل رہا ہے تو دو گواہ بنا لو۔ خاوند کے ذمے مہر آ رہا ہے، اس کے اوپر مال لازم ہو رہا ہے لیکن یہ گواہ جو ہیں اس مال کے اعتبار سے شریعت نے مقرر نہیں فرمائے، بلکہ اس یہ جو ملکِ متعہ خاوند کے لیے آ رہا ہے، ثابت ہو رہا ہے عورت پر، اس کے لیے شریعت نے گواہ مقرر فرمائے ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ پھر ایک دفعہ ترجمہ دیکھ لیجیے۔ کہتے ہیں: ولهما شیخین رحمہما اللہ کی دلیل یہ ہے، أنّ الشّهادة شرطت في النّكاح على اعتبار إثبات الملك کہ جو شہادت کی شرط لگائی گئی ہے نکاح کے اندر، یہ ملکیت یعنی ملکِ متعہ کے ثابت کرنے کے اعتبار سے ہے، لوروده على محلّ ذي خطر اس لیے کیونکہ یہ ملکیت آ رہی ہے ایک ایسے محل پر جو حرمت والا ہے، جو عزت والا ہے، لا على اعتبار وجوب المهر یہ جو شہادت کی شرط لگائی گئی ہے یہ وجوبِ مہر کے اعتبار سے نہیں ہے۔ خاوند پر کیا واجب ہو رہا ہے؟ مہر، مال لازم ہو رہا ہے، لیکن مہر کے وجوب کے اعتبار سے یہ گواہوں کی شرط نہیں لگائی گئی، إذ لا شهادة تشترط في لزوم المال اس لیے کیونکہ شہادت جو ہے اس کی شرط نہیں لگائی گئی مال کے لازم ہونے میں۔ جیسے ہم بیع و شراء کرتے ہیں، وہاں دیکھو گواہوں کی کوئی شرط نہیں۔ ایجاب اور قبول کرنے والے بالکل اکیلے ہوں پھر بھی ان کے درمیان بیع منعقد ہو جائے گی۔ تو معلوم ہوا یہ جو گواہوں کی شرط رکھی گئی ہے نکاح میں، یہ لزومِ مال کے اعتبار سے نہیں ہے، وجوبِ مہر کے اعتبار سے نہیں ہے، بلکہ یہ ملکِ متعہ کے اعتبار سے ہے کہ اس کو ثابت کیا جا سکے۔ آگے دیکھیے، کہتے ہیں: وهما شاهدان عليها اور یہ دونوں گواہ اس عورت یعنی اس ذمیہ کے خلاف ہیں۔ امام محمد اور امام زفر رحمہما اللہ نے کیا فرمایا تھا؟ کہ یہ جو دو گواہ ہیں یہ ذمی ہیں، اور ذمی تو مسلمان کے خلاف گواہ ہو ہی نہیں سکتا تو گویا انہوں نے مسلمان کے ایجاب یا قبول کو سنا ہی نہیں۔ مسلمان کا جو بھی قول ہے چاہے وہ ایجاب کر رہا ہے چاہے وہ قبول کر رہا ہے اس عقد میں، تو یہ مسلمان کے قول کو انہوں نے گویا سنا ہی نہیں؛ کیونکہ اگر آپ یہ کہیں گے کہ انہوں نے سن لیا ہے پھر تو یہ مسلمان کے خلاف گواہ ہو گئے۔ اور مسلمان کے خلاف تو ذمی گواہ نہیں ہو سکتا۔ شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ بھئی یہ جو دو گواہ ہیں، یہ ملکِ متعہ کو ثابت کرنے کے لیے ہیں، اور ملکِ متعہ کس پر آ رہی ہے؟ عورت پر آ رہی ہے خاوند کے لیے۔ تو کل کہیں عورت انکار نہ کر دے تو یہ گواہ اس اعتبار سے ہیں۔ تو یہ گواہ عورت کے خلاف ہوئے، مرد کے خلاف نہ ہوئے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ انہوں نے مسلمان کے قول کو سن بھی لیا لیکن یہ نہ کہیں یہ مسلمان کے خلاف گواہ ہیں، یہ حقیقت میں کس کے خلاف گواہ بن گئے؟ عورت کے خلاف گواہ بنے ہیں۔ اور مجھے بتائیے، ذمیوں کی گواہی ذمیہ کے خلاف ہو سکتی ہے یا نہیں ہو سکتی؟ وہ تو ہو سکتی ہے بھئی بالاتفاق۔ لہٰذا یہ اس عورت کے خلاف گواہ بنے ہیں، مسلمان کے خلاف گواہ نہیں بنے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وهما شاهدان عليها اور یہ دونوں گواہ جو ذمی ہیں، یہ عليها اس ذمیہ کے خلاف گواہ ہوئے ہیں۔ بخلاف ما إذا لم يسمعا، یہ جواب دے رہے ہیں امام محمد اور امام زفر رحمہما اللہ کے قیاس کا۔ ادھر دیکھیے، امام محمد اور امام زفر رحمہما اللہ نے انہوں نے یہ جو دو گواہ ہیں جو مسلمان کے ایجاب اور قبول کو سن رہے ہیں، ان کو کس پر قیاس کیا تھا؟ نہ سننے والوں پر، کہ یہ بھی کن کی طرح ہیں؟ نہ سننے والوں کی طرح۔ اور جیسے نہ سننے والے مسلمان کے خلاف گواہ نہیں ہو سکتے تو یہ بھی مسلمان کے خلاف گواہ نہیں ہو سکتے، گویا انہوں نے سنا ہی نہیں مسلمان کے کلام کو۔ تو اس کا جواب دے رہے ہیں کہ نہیں، یہ آپ نہیں کہہ سکتے کہ انہوں نے مسلمان کے کلام کو سنا ہی نہیں۔ وجہ یہ کہ نکاح جو ہے وہ کس سے منعقد ہوتا ہے؟ ایجاب اور قبول سے، اور ایجاب اور قبول میں سے ایک تو مسلمان ضرور کرے گا، ایک کس کی طرف سے ہو گا؟ وہ ذمیہ کی طرف سے، اور ایک چیز مسلمان کی طرف سے ہو گی۔ تو ایجاب اور قبول سے ہی تو یہ عقد منعقد ہو رہا ہے، اور یہ ایجاب اور قبول پر گواہوں کا ہونا شرط شریعت نے قرار دیا ہے۔ یہ ایجاب اور قبول کو سنیں گے تو ہم کہیں گے یہ عقد پر گواہ ہیں۔ اگر آپ کہیں انہوں نے سنا ہی نہیں تو یہ تو عقد پر گواہ ہی نہ ہوئے، جب گواہ ہی نہ ہوئے پھر تو عقد ہی منعقد نہیں ہونا چاہیے۔ امام محمد اور امام زفر رحمہما اللہ انہوں نے یہ جو دو ذمی جو مجلسِ نکاح میں موجود ہیں، ان کو قیاس کیا تھا ان ذمیوں پر جو اس مجلس میں موجود ہی نہیں، جیسے وہ ذمی مسلمان کے خلاف گواہ نہیں بن سکتے کیونکہ انہوں نے ایجاب یا قبول کو سنا ہی نہیں ہے، تو یہ ذمی بھی اسی طرح ہو گئے جیسے انہوں نے مسلمان کے قول کو سنا ہی نہیں ہے۔ تو اس کا جواب دے رہے ہیں صاحبِ ہدایہ شیخین رحمہما اللہ کی طرف سے کہ آپ ان کے سماع کو عدمِ سماع پر قیاس نہیں کر سکتے۔ وجہ یہ ہے کیونکہ یہ عقدِ نکاح ہو رہا ہے اور عقدِ نکاح نام ہے ایجاب اور قبول دونوں کا، اور ایجاب اور قبول کو گواہ سنیں گے تو عقدِ نکاح منعقد ہو گا۔ تو اگر ہم یوں کہیں ان دو ذمیوں نے مسلمان کے قول کو سنا ہی نہیں، تو عقد تو نام ہی کس چیز کا تھا؟ ایجاب اور قبول کا۔ اور گواہوں کا دونوں کو سننا ضروری تھا، ایجاب کو بھی اور قبول کو بھی۔ تو اگر انہوں نے مسلمان کے قول کو نہیں سنا، انہوں نے صرف ایجاب یا صرف قبول کو سنا ہے تو پھر تو یہ عقد پر گواہ نہ ہوئے۔ جب گواہ نہ ہوئے تو پھر تو نکاح منعقد نہیں ہو گا، اور ہماری بات نکاح کے گواہوں کے بارے میں چل رہی ہے، اور نکاح کے اندر گواہ کس کو کہتے ہیں؟ جو ایجاب اور قبول دونوں کو سنے بھئی۔ تو اگر ہم یہ کہیں انہوں نے مسلمان کے قول کو سنا ہی نہیں، یہ تو پھر گواہ ہی نہ ہوئے۔ جب گواہ ہی نہ ہوئے پھر تو عقد ہی منعقد نہیں ہو گا، عقد کے اندر تو گواہوں کا ہونا ضروری تھا اور گواہ بنیں گے ہی کب؟ جب وہ سماع کریں گے، سنیں گے بھئی ایجاب کو بھی اور قبول کو بھی۔ دلیل سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: بخلاف ما إذا لم يسمعا كلام الزّوج بخلاف اس کے کہ جب ان دو ذمیوں نے خاوند کے یعنی مسلمان کے کلام کو سنا ہی نہیں، لأنّ العقد ينعقد بكلاميهما اس لیے کیونکہ یہ جو عقدِ نکاح ہے یہ منعقد ہو رہا ہے بكلاميهما اس مسلمان اور ذمیہ دونوں کے کلام سے یہ عقد منعقد ہو رہا ہے، والشّهادة شرطت على العقد اور گواہی کی شرط لگائی گئی ہے على العقد کس پر؟ عقد پر۔ عقد کے اندر گواہی ہو گی، عقد پر دو گواہ ہوں گے تو پھر ہی عقد منعقد ہو گا۔ تو اگر ان دونوں نے مسلمان کے قول کو سنا ہی نہیں تو یہ عقد پر گواہ نہ ہوئے، اور جب عقد پر گواہ نہ ہوئے پھر تو ہم بھی کہتے ہیں کہ عقد منعقد ہی نہیں ہو گا۔ تو بات چل رہی ہے جب یہ گواہ ہوں بھئی۔ بات کیا چل رہی ہے؟ کہ ذمی گواہ ہوں پھر عقد ہو گا یا عقد نہیں؟ اور ذمیوں کو گواہ کب کہیں گے ہم؟ جب وہ ایجاب کو بھی سنیں اور قبول کو بھی سنیں۔ اگر ان میں سے ایک چیز کو سنتے ہیں اور ایک کو نہیں سنتے پھر تو یہ نکاح پر گواہ ہی نہ ہوئے، اور نکاح پر گواہ نہ ہوں تو عقد منعقد ہی نہیں ہوتا۔ تو لہٰذا ان سماع کرنے والے ذمیوں کو عدمِ سماع والوں پر آپ قیاس نہیں کر سکتے، یعنی ان کے سماع کو عدمِ سماع قرار نہیں دے سکتے ورنہ عقد ہی منعقد نہیں ہو گا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ حاصلِ کلام پھر سن لیں بھئی: ایک مسلمان کا نکاح ہوا ذمیہ کے ساتھ اور گواہ دو ذمی بنے، تو کیا یہ عقدِ نکاح منعقد ہوا یا نہیں ہوا؟ تو شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں یہ نکاح منعقد ہو جائے گا، دو ذمیوں کی گواہی بھی کافی ہے کہ جب مسلمان کا نکاح کس سے ہو رہا ہو؟ ذمیہ سے۔ جب کہ امام محمد اور امام زفر رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ یہ جائز نہیں، یہ عقدِ نکاح منعقد ہی نہیں ہو گا۔ وجہ یہ کہ کافر مسلمان کے خلاف گواہ نہیں ہو سکتا، اور نکاح کے اندر ایجاب اور قبول کو سن لے تو وہ گواہ بن جاتا ہے۔ تو لہٰذا ہم کہیں گے ان ذمیوں نے مسلمان کے قول کو سنا ہی نہیں، اس لیے کیونکہ اگر ہم یہ کہیں انہوں نے مسلمان کے ایجاب یا قبول کو سنا ہے پھر تو یہ مسلمان کے خلاف گواہ ہو گئے، حالانکہ ذمی اور کافر تو مسلمان کے خلاف گواہ نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا وہ ان دو ذمیوں کو قیاس کرتے ہیں ان ذمیوں پر جنہوں نے مسلمان کے کلام کو سنا ہی نہیں، جب انہوں نے مسلمان کے کلام کو یعنی ایجاب یا قبول کو سنا ہی نہیں تو وہ مسلمان کے خلاف گواہ بھی نہ بنے۔ تو یہ والے دو جو حاضر ذمی ہیں، یہ بھی انہی کی طرح ہیں، یہ بھی مسلمان کے خلاف گواہ نہیں بن سکتے اور یہ اسی صورت میں ہو گا جب یہ کہا جائے کہ انہوں نے مسلمان کے قول کو نہیں سنا۔ تو وہ اس سماع والے ذمیوں کو کس پر قیاس کرتے ہیں؟ عدمِ سماع والے ذمیوں پر۔ جیسے وہ مسلمان کے خلاف اس عقد میں گواہ نہیں بن سکتے کیونکہ انہوں نے سنا ہی نہیں ہے تو یہ بھی گواہ نہیں بن سکتے، انہوں نے گویا مسلمان کے کلام کو سنا ہی نہیں۔ شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ دیکھیے عقدِ نکاح کے اندر وہ ذمیہ کے لیے خاوند پر مہر لازم ہوتا ہے تو خاوند کے ذمے مال آ گیا، اور خاوند کے لیے بیوی پر ملکِ متعہ حاصل ہوتی ہے، تو یہ جو دو گواہوں کی شرط لگائی گئی ہے یہ وجوبِ مہر اور مال کے اعتبار سے نہیں ہے؛ کیونکہ مال کے سلسلے میں شریعت نے گواہوں کی شرط نہیں لگائی۔ آپ کسی سے بھی عقدِ بیع کرتے ہیں، ایجاب و قبول کرتے ہیں اور کوئی بھی گواہ موجود نہ ہو تو بھی عقدِ بیع منعقد ہو جائے گا؛ کیونکہ بیع کے اندر گواہوں کی شرط نہیں ہے۔ ہاں، اگر آپ کو پھر بعد میں کسی وجہ سے قاضی کے پاس جانا پڑا پھر آپ اس عقدِ نکاح کو ثابت نہیں کر سکتے کیونکہ گواہ موجود نہیں ہیں، لیکن بہرحال عقد منعقد ہو جائے گا۔ تو نکاح کے اندر یہ جو دو گواہوں کی شرط لگائی گئی ہے، یہ جو خاوند پر مال لازم ہو رہا ہے یہ اس کے اعتبار سے نہیں ہے، بلکہ یہ جو خاوند کی ملکیت ثابت ہو رہی ہے بیوی پر اس کے اعتبار سے گواہوں کی شرط لگائی گئی ہے۔ اس لیے کیونکہ خاوند کی ملکِ متعہ ثابت ہو رہی ہے ایک محلِ ذی خطر پر، ایک حرمت والے، ایک عزت والے محل پر اس کو ملکِ متعہ حاصل ہو رہی ہے، یعنی بیوی اس کے لیے حلال ہو رہی ہے اور یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ لہٰذا شریعت نے کہا دو گواہ بنا لو۔ یہ معمولی بات نہیں ہے لہٰذا کیا کرو؟ دو گواہ بنا لو۔ تو لہٰذا یہ جو دو گواہ ہیں یہ ملکِ متعہ کے اثبات کے اعتبار سے ہیں، تو یہ اس عورت کے خلاف گواہ بنیں گے۔ اگر یہ عورت کل انکار کر دیتی ہے تو یہ دو گواہ گواہی دے سکتے ہیں؛ کیونکہ ذمیوں کی گواہی ذمیہ کے خلاف تو بالاتفاق مقبول ہے بھئی۔ سو یہ اس عورت کے خلاف گواہ بن رہے ہیں، مسلمان کے خلاف گواہ بن ہی نہیں رہے۔ اور پھر آگے ان کے قیاس کا جواب بھی دیا کہ آپ نے ان ذمیوں کے سماع کو بھی کس کے درجے میں اتار لیا؟ عدمِ سماع کے درجے میں اتار لیا۔ یعنی یوں کہو یہ جو سماع کرنے والے ذمی ہیں ان کو قیاس کیا ان ذمیوں پر جنہوں نے مسلمان کے کلام کو سنا ہی نہیں۔ کہتے ہیں: نہیں، آپ ان پر قیاس نہیں کر سکتے ان کو۔ وجہ یہ کہ یہاں عقدِ نکاح منعقد ہو رہا ہے اور عقدِ نکاح نام ہے ایجاب اور قبول کا، اور یہ دونوں ذمی اس عقدِ نکاح پر گواہ ہیں، اور گواہ تبھی بنیں گے جب وہ ایجاب کو بھی سنیں اور قبول کو بھی سنیں۔ اگر آپ کہیں انہوں نے مسلمان کے قول کو سنا ہی نہیں تو انہوں نے معلوم ہوا صرف ذمیہ کے کلام کو سنا ہے، تو صرف ایک کے کلام کو سننے سے تو وہ عقد پر تو گواہ نہ بنے۔ عقد صرف ایک کے قول کا نام تھا یا دونوں کے قول کا؟ تو دونوں کے قول کو سننا ضروری ہے پھر ہی عقدِ نکاح منعقد ہو گا۔ اگر یہ کہا جائے ایک کے قول کو سنا اور دوسرے کے قول کو سنا ہی نہیں تو پھر تو عقدِ نکاح ہی منعقد نہیں ہو گا؛ کیونکہ نکاح کے اندر گواہوں کا ہونا ضروری ہے۔ لہٰذا یہ نکاح کی بات چل رہی ہے، یہاں آپ ان کے سماع کو عدمِ سماع کے درجے میں نہیں اتار سکتے۔ آگے دیکھیے: ومن أمر رجلًا بأن يزوّج ابنته الصّغيرة فزوّجها والأب حاضر بشهادة رجل واحد سواهما جاز النّكاح۔ ومن أمر رجلًا اور جس شخص نے حکم دیا کسی دوسرے آدمی کو بأن يزوّج ابنته الصّغيرة کہ وہ نکاح کروا دے اس کی نابالغ بیٹی کا، اس کی صغیرہ بیٹی کا یعنی نابالغ بیٹی کا، فزوّجها تو اس وکیل نے نکاح کروا دیا، والأب حاضر اس حال میں کہ باپ بھی وہاں موجود تھا، وہ بھی حاضر تھا اس مجلسِ نکاح میں، تو اس نے اس کا نکاح کروا دیا بشهادة رجل واحد سواهما ایک آدمی کی گواہی سے جو ان دونوں کے علاوہ تھا، یعنی وکیل اور مؤکل کے علاوہ ایک اور گواہ موجود تھا، جاز النّكاح تو یہ نکاح جائز ہے بھئی۔ صورتِ مسئلہ یہ: ایک شخص نے دوسرے شخص کو اپنا وکیل بنایا کہ تم میری نابالغ بیٹی کا نکاح کروا دو، مثلاً زید سے۔ اب مجلسِ نکاح کے اندر وہ لڑکی کا باپ بھی موجود ہے، اور اس کا وکیل بھی موجود ہے، اور ایک خاوند ہے جس کے ساتھ نکاح کروایا جا رہا ہے، اور ان کے علاوہ ایک گواہ موجود ہے۔ تو چار افراد اس مجلسِ نکاح میں موجود ہیں، کون کون؟ لڑکی کا باپ یعنی مؤکل جس نے وکیل بنایا، اور وکیل جو نکاح کروا رہا ہے، اور خاوند موجود ہے جس سے عقد کیا جا رہا ہے، اور صرف ایک گواہ ہے اس مجلس کے اندر۔ تو کیا یہ عقدِ نکاح منعقد ہو گا یا نہیں؟ کیونکہ گواہوں کا دو ہونا ضروری ہے۔ تو صاحبِ قدوری آپ کو بتلا رہے ہیں کہ یہ نکاح منعقد ہو جائے گا۔ بھئی نکاح کیسے منعقد ہو گا؟ اس میں تو صرف ایک گواہ ہے۔ تو کہتے ہیں: دیکھو، یہاں مؤکل اور وکیل دونوں موجود ہیں۔ تو عقد کرنے والا تو وکیل ہے، لیکن جب مؤکل خود بھی اس مجلس میں موجود ہو تو وکیل کی عبارت منتقل ہو جاتی ہے مؤکل کی طرف۔ یعنی زبان تو وکیل کی حرکت کر رہی ہے، نکاح تو وہ کروا رہا ہے، لیکن یوں سمجھا جائے گا کہ مؤکل خود عقد کروا رہا ہے اپنی بیٹی کا، وہ خود نکاح کروا رہا ہے۔ تو یہ جو وکیل ہے یہ بھی گواہ کے درجے میں ہو گیا۔ تو کتنے گواہ ہو گئے؟ دو گواہ ہو گئے۔ دو عقد کرنے والے ہو گئے اور دو گواہ ہو گئے تو یہ نکاح منعقد ہو جائے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ دیکھیے بھئی، کہتے ہیں: ومن أمر رجلًا بأن يزوّج ابنته الصّغيرة اور جس شخص نے دوسرے شخص کو حکم دیا کہ وہ اس کی نابالغہ بیٹی کا نکاح کروا دے، ابنته الصّغيرة اس کی نابالغہ بیٹی جو ہے اس کا نکاح کروا دے، یعنی اس کو وکیل بنا دیا، فزوّجها تو اس وکیل نے اس کا نکاح کروا دیا، والأب حاضر اس حال میں کہ باپ بھی حاضر ہے، یعنی اس مجلسِ نکاح میں موجود ہے، تو اس نے نکاح کروایا وکیل نے بشهادة رجل واحد سواهما صرف ایک آدمی کی گواہی سے سواهما ان دونوں کے علاوہ، یعنی باپ اور وکیل کے علاوہ صرف ایک اور آدمی موجود تھا۔ اس وکیل نے خاوند سے نکاح کروایا۔ وکیل نے کس سے نکاح کروایا؟ خاوند سے، اور باپ اور وکیل کے علاوہ صرف ایک گواہ موجود ہے۔ خاوند تو گواہ نہیں نا، خاوند کے ساتھ تو عقد کروایا جا رہا ہے۔ تو اس کے علاوہ تو باپ اور وکیل کے علاوہ ایک گواہ موجود ہے تو کہتے ہیں: جاز النّكاح، یہ نکاح جائز ہو گا۔ کیونکہ یہ وکیل بھی کس کے درجے میں ہو گیا؟ گواہ کے درجے میں ہو گیا، اور باپ جو مؤکل ہے یوں سمجھیں گے وہ عقد کروا رہا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ کہتے ہیں: لأنّ الأب يجعل مباشرًا اس لیے کیونکہ باپ جو ہے اس کو مباشر قرار دیا جائے گا۔ مباشر کا معنی ہے کسی کام کو سرانجام دینے والا۔ یہ نکاح کون کروا رہا ہے؟ وکیل، لیکن یوں سمجھیں گے وکیل کی صرف زبان حرکت کر رہی ہے، وکیل صرف پیغام رساں ہے، پیغام پہنچا رہا ہے، باقی عقد حقیقت میں مؤکل یعنی باپ کروا رہا ہے۔ تو کہتے ہیں: لأنّ الأب يجعل مباشرًا اس لیے کیونکہ باپ جو ہے یعنی وہ جو مؤکل ہے يجعل مباشرًا اس کو نکاح سرانجام دینے والا قرار دیا جائے گا، لاتّحاد المجلس مجلس کے اتحاد کی وجہ سے، کہ مجلس متحد ہے، یعنی وکیل اور مؤکل کی مجلس ایک ہی ہے، باپ اسی مجلس میں موجود ہے۔ توجہ ہے؟ جب کوئی شخص کسی آدمی کو وکیل بنائے اور وہ وکیل وہ عقد کر رہا ہے اور مؤکل بھی وہیں پر موجود ہو تو یوں سمجھا جاتا ہے کہ یہ عقد درحقیقت کون کر رہا ہے؟ مؤکل ہی کر رہا ہے۔ تو یہاں بھی باپ خود موجود ہے تو یوں سمجھیں گے باپ خود ہی عقدِ نکاح کروا رہا ہے۔ یہ معنی ہے: لأنّ الأب يجعل مباشرًا لاتّحاد المجلس، اس لیے کیونکہ باپ جو ہے اس کو نکاح سرانجام دینے والا قرار دیا جائے گا مجلس کے متحد ہونے کی وجہ سے، کہ وکیل اور مؤکل کی مجلس ایک ہی ہے، فيكون الوكيل سفيرًا ومعبّرًا تو یہ جو وکیل ہے یہ صرف سفیر ہے، یعنی پیغام رساں ہے، پیغام پہنچانے والا ہے، ومعبّرًا اور تعبیر کرنے والا ہے، یعنی لفظوں کو زبان سے ادا کر رہا ہے۔ بول وکیل رہا ہے، نکاح وہ کروا رہا ہے، لیکن کیا سمجھا جائے گا؟ کہ یہ صرف پیغام پہنچا رہا ہے، یہ صرف الفاظ کو تعبیر کر رہا ہے، حقیقت میں عقد کون کروا رہا ہے؟ مؤکل یعنی باپ کروا رہا ہے۔ تو کہتے ہیں: فيكون الوكيل سفيرًا ومعبّرًا۔ جی، یاد رکھو، یہ جو عقدِ نکاح ہے اس کے اندر جو وکیل ہوتا ہے وہ سفیر اور معبر ہوتا ہے، یہ بات آپ پہلے پڑھ چکے۔ وکیل کیا ہوتا ہے؟ بھئی آپ نے پڑھا تھا کہ نکاح کے اندر ایک ہی شخص دونوں جانب کا متولی ہو سکتا ہے، جب کہ بیع کے اندر ایک ہی شخص دونوں جانب کا متولی نہیں ہو سکتا۔ آپ اپنی گاڑی بیچنا چاہتے ہیں اور زید وہ گاڑی خریدنا چاہتا ہے، آپ دونوں نے ایک ہی آدمی کو وکیل بنا دیا۔ اور یہ وکیل جو ہے کہتا ہے کہ "میں نے آپ کی گاڑی زید کے ہاتھ بیچ دی"، اور پھر زید کی طرف سے کہتا ہے "میں نے قبول کر لی"، نہیں بھئی، ایک ہی آدمی دونوں طرف کا متولی نہیں ہو سکتا۔ بائع اور ہونا چاہیے اور مشتری اور ہونا چاہیے، دونوں کے وکیل الگ الگ ہونے چاہییں۔ وجہ یہ کہ بیع کے اندر جو حقوقِ عقد کا تعلق ہوتا ہے وہ عقد کرنے والے سے ہوتا ہے۔ جب دو افراد عقد کر لیں گے، بیع و شراء والا عقد کر لیں گے، تو خریدار مبیعہ کا مطالبہ کرے گا اور بائع ثمن اور پیسوں کا مطالبہ کرے گا، تو یہ ہوئے مطالب۔ جو مطالبہ کرنے والا ہے وہ کیا ہے؟ مطالب، اور دوسرا شخص کیا بن جائے گا؟ مطالب۔ مثلاً مشتری مبیعہ کا مطالبہ کرتا ہے تو مشتری ہوا مطالب، اور کس سے مطالبہ کرے گا؟ بائع سے، تو بائع ہوا مطالب۔ تو یہاں پر ایک فرد مطالب ہوتا ہے اور ایک مطالب ہوتا ہے، اور مطالب اور مطالب الگ الگ ہونے چاہییں۔ یہ نہیں ہو سکتا ایک ہی آدمی مطالب بھی ہو جائے اور مطالب بھی ہو جائے۔ تفصیلی بحث پیچھے گزر چکی ہے۔ تو بیع کے اندر حقوقِ عقد کا تعلق عقد کرنے والے سے ہوتا ہے، عقد کرنے والا ایک فرد مطالب بنے گا اور دوسرا فرد مطالب بنے گا۔ اگر آپ ایک ہی آدمی کو آپ متولی بنا دیں گے تو وہی شخص مطالب بھی بن گیا اور وہی شخص مطالب بھی بن گیا۔ بھئی یہ مطالبہ کر رہا ہے، بھئی کس سے مطالبہ کر رہا ہے؟ بھئی اپنی ذات سے مطالبہ کر رہا ہے۔ بھئی یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ مطالبہ تو غیر سے کیا جاتا ہے، اپنے آپ سے تو مطالبہ نہیں کیا جا سکتا۔ تو لہٰذا اس لیے عقدِ بیع کے اندر ایک ہی شخص دونوں جانب کا متولی نہیں ہو سکتا۔ جب کہ نکاح کے اندر وکیل جو ہے وہ صرف سفیر ہوتا ہے، وہ صرف پیغام رساں ہے اور معبر ہے، الفاظ کو اپنی زبان سے ادا کر رہا ہے۔ حقوقِ عقد کا تعلق وکیل سے نہیں ہوتا۔ لہٰذا ایک وکیل ہوا مرد کی طرف سے، ایک وکیل ہوا عورت کی طرف سے، ان دونوں نے عقد کروا دیا اس مرد اور عورت کا۔ تو اب یہ جو وکیل ہیں انہوں نے صرف عقد کروایا ہے، حقوقِ عقد کا تعلق ان سے نہیں۔ یہ ایک دوسرے سے مطالبہ نہیں کر سکتے کہ خاوند کا وکیل مطالبہ کرے دوسرے وکیل سے کہ اس شخص کا نکاح ہو گیا، اب اس کی بیوی اس کے حوالے کرو۔ نہیں بھئی، یہ مطالبہ وکیل سے نہیں ہو گا، یہ اس عورت کے گھر والوں سے مطالبہ ہو گا۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ اسی طرح عورت کا وکیل خاوند کے وکیل سے مطالبہ کرے اور کہے کہ بھئی عقدِ نکاح ہو گیا، تمہارے اوپر مہر لازم ہو گیا، اب لاؤ بھئی وہ مہر دے دو اس عورت کا جو مہر آپ پر واجب ہوا، تو یہ مطالبہ وکیل نہیں کر سکتا۔ وہ عورت خود تو مطالبہ کر سکتی ہے یا اس کے گھر والے، لیکن وکیل مطالبہ نہیں کر سکتا۔ تو معلوم ہوا بیع کے اندر حقوقِ عقد کا تعلق عقد کرنے والوں سے یعنی وکیل سے ہوتا ہے، لیکن نکاح کے اندر حقوقِ عقد کا تعلق وکیل سے نہیں ہوتا، وکیل صرف کیا ہوتا ہے؟ سفیر اور معبر۔ تو اتنی لمبی میں نے تقریر کی، یہ جو یہاں لفظ آیا: فيكون الوكيل سفيرًا ومعبّرًا، تو یہ جو وکیل ہے یہ صرف سفیر ہے، پیغام پہنچانے والا ہے، ومعبّرًا اور تعبیر کرنے والا ہے، یعنی الفاظ کو زبان سے ادا کرنے والا ہے۔ تو یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ نکاح کے اندر تو وکیل ہوتا ہی سفیر اور معبر ہے، نکاح میں تو وکیل سفیر اور معبر ہی ہوتا ہے بھئی، حقوقِ عقد کا تعلق اس سے نہیں ہوتا۔ تو پھر یہاں یہ کہنے کا کیا مطلب کہ وکیل جو ہے صرف سفیر اور معبر ہے، عقد کروانے والا باپ ہے؟ توجہ ہے؟ تو یاد رکھنا، وکیل سفیر بھی ہوتا ہے اور عقد کروانے والا بھی ہے۔ نکاح میں وکیل جو ہے سفیر بھی ہوتا ہے اور عقد کروانے والا بھی ہوتا ہے، ہاں حقوقِ عقد کا تعلق اس سے نہیں ہوتا بھئی۔ تو وہ عقد بھی کروانے والا ہے، سفیر بھی ہے اور عقد بھی کروانے والا ہے۔ لیکن یہاں پر وکیل صرف سفیر ہے، عقد کروانے والا بھی نہیں ہے، عقد تو مؤکل کروا رہا ہے کیونکہ مجلس متحد ہے، مؤکل بھی اسی مجلس میں موجود ہے۔ توجہ ہے؟ تو یہاں وکیل صرف کیا ہے؟ سفیر اور معبر ہے، عقد کروانے والا بھی نہیں ہے، وہ مؤکل ہے بھئی۔ تو یہ معنی ہے: فيكون الوكيل سفيرًا ومعبّرًا، تو وکیل جو ہے وہ پیغام رساں اور تعبیر کرنے والا ہو گا، یعنی عقد کروانے والا بھی نہیں ہے، فيبقى المزوّج شاهدًا۔ مزوج، نکاح کروانے والا۔ نکاح کون کروا رہا ہے اس وقت؟ وکیل کروا رہا ہے، لیکن حقیقت میں مؤکل یعنی باپ کروا رہا ہے۔ تو عقد کروانے والا کون ہوا؟ مؤکل ہوا، تو یہ جو وکیل ہے یہ بھی گواہ بن جائے گا۔ یہ جو وکیل ہے وکیل اس مجلس میں موجود ہے۔ زبان بے شک اس کی حرکت کر رہی ہے لیکن حقیقت میں عقد کون کروا رہا ہے؟ مؤکل۔ کس سے کروا رہا ہے؟ زوج سے۔ تو ایک گواہ اور موجود، اور ایک یہ وکیل بھی تو موجود ہے، یہ بھی کیا بن جائے گا؟ گواہ بن جائے گا۔ تو کتنے گواہ ہو گئے؟ دو گواہ ہو گئے۔ یہی بات بیان کر رہے ہیں: فيبقى المزوّج شاهدًا، تو یہ جو نکاح کروانے والا یعنی وکیل ہے یہ باقی رہ جائے گا شاهدًا گواہ ہو کر۔ یہ وکیل صرف گواہ ہو کر باقی رہ جائے گا، یہ یعنی یہ بھی ایک گواہ بن جائے گا، اور ایک گواہ اور ہے تو دو گواہ ہو گئے۔ عبارت سمجھ میں آ گئی؟ فيبقى المزوّج شاهدًا تو یہ جو نکاح کروانے والا وکیل ہے یہ گواہ ہو کر رہ جائے گا۔ وإن كان الأب غائبًا لم يجز اور اگر باپ غائب ہوا، یعنی اس مجلس میں موجود نہ ہوا، لم يجز پھر یہ نکاح جائز نہیں؛ کیونکہ پھر تو ایک گواہ رہے گا۔ اور وکیل کی عبارت ہم مؤکل کی طرف منتقل نہیں کر سکتے کیونکہ مؤکل اس مجلس میں موجود ہی نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وإن كان الأب غائبًا لم يجز اور اگر باپ غائب ہوا تو پھر یہ جائز نہیں ہے، لأنّ المجلس مختلف اس لیے کیونکہ مؤکل کی مجلس مختلف ہے، وہ تو یہاں پر موجود نہیں، وہ کہیں اور موجود ہے، فلا يمكن أن يجعل الأب مباشرًا تو پھر ممکن نہیں ہو گا کہ باپ کو نکاح سرانجام دینے والا قرار دیا جائے۔ جب باپ اس مجلس میں موجود نہیں ہے، پہلے تو باپ اسی مجلس میں موجود تھا تو ہم نے کیا کہا تھا؟ کہ یہ عقد گویا وہ خود کر رہا ہے۔ لیکن اب تو باپ کی مجلس اور وہ یہاں پر موجود نہیں، لہٰذا اب یہ کہا جائے کہ باپ حقیقت میں عقد کروا رہا ہے یہ ممکن نہیں۔ یہ معنی ہے: فلا يمكن أن يجعل الأب مباشرًا لہٰذا یہ ممکن نہیں ہے کہ باپ کو نکاح سرانجام دینے والا قرار دیا جائے۔ وعلى هذا إذا زوّج الأب ابنته البالغة بمحضر شاهد واحد وعلى هذا اور اسی بنا پر إذا زوّج الأب جب نکاح کروا دے باپ ابنته البالغة اپنی بالغ بیٹی کا بمحضر شاهد واحد ایک گواہ کی موجودگی میں۔ صورت یہ ہے، صورت یہ ہے: باپ جو ہے اپنی بیٹی کا نکاح کروا رہا ہے خاوند کے ساتھ اور صرف ایک گواہ موجود ہے، وکیل نہیں ہے، وکیل یہاں موجود نہیں باپ خود نکاح کروا رہا ہے، اور بیٹی بالغ ہے اس مسئلے میں۔ بیٹی کا بالغ ہونا ضروری ہے۔ بیٹی کا بالغ ہونا ضروری ہے کیونکہ نابالغ جو ہے وہ تو اپنا نکاح خود نہیں کر سکتا۔ تو یہاں پر بیٹی بالغ ہے اور باپ جو ہے اس کا عقد کروا رہا ہے زوج کے ساتھ اور ایک گواہ اور موجود ہے۔ تو اگر وہ بیٹی بھی اس مجلس میں موجود ہوئی تو نکاح منعقد ہو جائے گا، اور اگر بیٹی وہاں موجود نہ ہوئی تو پھر عقد منعقد نہیں ہو گا۔ بھئی دیکھو، مثلاً بیٹی موجود ہے تو مجلسِ نکاح میں کون کون ہیں؟ بیٹی ہے، باپ ہے، خاوند ہے، اور ایک گواہ ہے۔ لیکن جب بیٹی خود موجود ہے تو بے شک عقد کروانے والا باپ ہے اور باپ وکیل ہے کس کا؟ بیٹی کا۔ تو بیٹی کیا بن گئی؟ مؤکل بن گئی، اور مؤکل جب خود مجلس میں موجود ہو تو یوں سمجھا جاتا ہے وہ خود یہ عقد سرانجام دے رہا ہے تو باپ بھی کیا بن جائے گا؟ گواہ بن جائے گا۔ تو ایک گواہ اور ہے اور ایک یہ باپ ہے، دو گواہ ہو گئے تو لہٰذا یہ عقد منعقد ہو جائے گا۔ یہ اس صورت میں ہے جب وہ بالغ بیٹی بھی اسی مجلس میں موجود ہے۔ اور اگر وہ بالغ بیٹی اس مجلس میں موجود نہیں تو پھر یہ عقدِ نکاح منعقد نہیں ہو گا کیونکہ صرف ایک گواہ ہے بھئی۔ یہ معنی ہے: وعلى هذا اور اسی بنا پر إذا زوّج الأب جب نکاح کروا دے باپ ابنته البالغة اپنی بالغ بیٹی کا بمحضر شاهد واحد ایک گواہ کی موجودگی میں، إن كانت حاضرةً اگر وہ بیٹی حاضر ہے، موجود ہے، جاز تو یہ نکاح جائز ہو گا، وإن كانت غائبةً لا يجوز اور اگر وہ بیٹی غائب ہے یعنی وہ اس مجلس میں موجود نہیں، لا يجوز تو پھر یہ نکاح جائز نہیں بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ حل ہو گیا؟ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔
24 approved lectures · 8 of 24