آگے سبق دیکھیے بھئی فصل فی الکفاءة الکفاءة فی النکاح معتبرة قال علیہ الصلوٰة والسلام الا لا یزوج النساء الا اولیاء ولا یزوجن الا من الاکفاء و لأن انتظام المصالح بین المتکافئین عادتاً لان الشریفة تأبی ان تكون مستفرشتاً للخسیس فلا بد من اعتبارها۔
گذشتہ سبق میں آپ نے مسئلہ پڑھا تھا کہ خیار بلوغ جو ہے وہ تین قسم کے افراد کو مل سکتا ہے یعنی ایک تو صغیر جب بالغ ہوگا اسی طرح صغیرہ باکیرہ جب وہ بالغہ ہوگی اور صغیرہ ثیبہ۔ جیسے ابتدائے نکاح میں تھا بھئی جیسے باکیرہ بالغ ہو یا ثیبہ بالغ ہو یا لڑکا بالغ ہو تو ان میں سے کسی پر بھی ولایت اجبار ولی کو حاصل نہیں ہوتی اور وہ ان کا کسی جگہ نکاح کروانا چاہتا ہے تو ان تینوں سے اس کو اجازت لینی پڑے گی البتہ باکیرہ کی خاموشی بھی اجازت اور رضامندی ہے جبکہ ثیبہ اور جو لڑکا ہے ان کی خاموشی رضامندی نہیں ان کا زبان سے اجازت دینا ضروری ہے تو خیار بلوغ کے موقع پر بھی اسی چیز کا اعتبار کیا جائے گا باکیرہ بالغ ہوئی ہے تو اس کو خیار بلوغ ملا لیکن اس کی خاموشی رضامندی کی علامت ہے لہذا یہ کچھ دیر بھی خاموش رہی تو اس کا خیار بلوغ جو ہے وہ باطل ہو جائے گا معلوم ہوا یہ راضی ہے اس نے اجازت دے دی ہے لہذا جس مجلس میں یہ بالغ ہو جس مجلس میں حیض جاری ہو اسی مجلس میں فورا اس کا یہ کہنا کہ میں اس نکاح کو فسخ کرتی ہوں یا میں اس نکاح کو رد کرتی ہوں یہ کہنا ضروری ہے جبکہ ثیبہ اور لڑکا جو ہے ان کا خیار بلوغ باطل نہیں ہوگا جب تک وہ زبان سے اجازت نہ دے دیں وجہ یہ کہ ان کی جو خاموشی ہے وہ رضامندی کی علامت نہیں ہے لہذا ان کا زبان سے اجازت دینا ضروری ہے اور میں نے اپ کو بتلایا تھا کہ وہ اختیار جو کسی انسان کی طرف سے دوسرے انسان کو ملتا ہے وہ مجلس کے اختتام تک رہتا ہے جیسے ایجاب و قبول کرتے ہوئے جب ایک شخص ایجاب کر لے تو دوسرے کو مجلس کے اندر خیار قبول مل جاتا ہے تو معلوم ہو وہ اختیار جو انسان کی طرف سے ملے اس میں مجلس کا اعتبار ہے لیکن وہ اختیار جو شریعت کی طرف سے ملے اس کا دارو مدار مجلس پر نہیں ہوتا وہ مجلس کے بعد بھی باقی رہتا ہے لہذا یہ ثیبہ بالغ ہوئی یا یہ صغیر بالغ ہوا لڑکا جو ہے تو ان کا زبان سے اجازت دینا ضروری اور نیز ان کا یہ خیار مجلس تک نہیں رہے گا بعد میں بھی جب تک یہ اجازت نہیں دیتے ان کو خیار بلوغ رہے گا بھئی اور رد کر دیں گے پھر تو انہوں نے خیار بلوغ کو باقاعدہ استعمال کر لیا بات سمجھ میں آ گئی تو لہذا اس خیار میں امتداد ہوتا ہے جو خیار بلوغ ہوتا ہے پھر آپ کے ذہن میں اشکال آئے گا جب اس خیار بلوغ کے اندر امتداد ہے یہ مجلس پر بند نہیں تو پھر تو باکیرہ کو بھی خیار لمبا ملنا چاہیے جواب آپ کے ہاں باکیرہ کو بھی جو خیار ملا تھا وہ لمبا ہی ملا تھا لیکن اس کی خاموشی بھی درمیان میں آ گئی اور باکیرہ کی خاموشی تو رضامندی کی علامت ہے لہذا اس کی رضامندی آ گئی اس لیے یہ خیار اس کا کیا ہو گیا باطل ہو گیا۔
اور جبکہ خیار عتق جو باندی کو ملتا ہے وہ آقا کے آزاد کرنے کی وجہ سے ملتا ہے لہذا وہ اسی مجلس تک رہے گا مجلس کے اندر وہ نکاح فسخ کر سکتی ہے مجلس کے اس مجلس کے بعد نہیں اسی طرح مخیرہ وہ عورت جس کو خاوند نے اختیار دے دیا میاں بیوی میں طلاق پر جھگڑا چل رہا ہے آخر خاوند نے بیوی سے کہا کہ تجھے میری طرف سے اختیار ہے تم میرے ساتھ رہنا چاہتی ہو یا جدائی کو اختیار کرنا چاہتی ہو تو اب دیکھو یہ ہے مخیرہ جس کو اختیار دیا گیا ہے اور یہ اختیار اس کو خاوند نے دیا ہے لہذا یہ اختیار مجلس تک رہے گا اور نیز یہ خیار جو ہے یہ طلاق کے حکم میں ہوگا اگر عورت جدائی کو اختیار کرے گی تو یہ طلاق شمار کی جائے گی وجہ یہ کہ اختیار اس کو خاوند نے دیا ہے اور خاوند تو طلاق کا مالک ہے اور جو شخص جس چیز کا خود مالک ہو دوسرے کو بھی اس کا مالک بنا سکتا ہے تو لہذا یہ مخیرہ اگر اپنے اختیار کو استعمال کرے تو پھر یہ طلاق شمار ہوگی۔ بخلاف اس کے وہ جو خیار عتق ہے یا خیار بلوغ ہے وہ طلاق شمار نہیں ہوگا وہ فسخ نکاح شمار ہوگا گویا نکاح کو فسخ کر دیا۔
وجہ یہ کہ وہ خیار صغیرہ جو بالغ ہوئی اس کو بھی ملا یعنی مونث کو بھی ملا اور اسی طرح خیار عتق جو ہے وہ باندی کو ملتا ہے تو یہ تو مونث ہیں اور مونث کو تو طلاق کا اختیار نہیں ہوتا لہذا یہ طلاق کے حکم میں نہیں ہے بھئی اور پھر یہ بھی بتلایا تھا کہ یہ صغیر اور صغیرہ جن کا نکاح ان کے ولی نے کروایا ہے یہ صغیر مر گیا یا جس عورت سے اس کا نکاح کروایا تھا وہ مر گئی یا اسی طرح وہ صغیرہ مر گئی یا جس جگہ اس کا نکاح کروایا تھا وہ خاوند مر گیا تو پھر دونوں ایک دوسرے کے وارث بنیں گے بھئی اور اگر بالغ ہونے کے بعد یہ صغیر یا صغیرہ بالغ ہو گئے اس کے بعد انتقال ہوا لیکن قاضی کے جدائی کروانے سے پہلے پہلے تو اس صورت میں بھی نکاح موجود ہے لہذا میاں بیوی میں سے جو بھی مرا دوسرا اس کا وارث بنے گا بھئی۔
جبکہ اس کے مقابلے میں فضولی جو ہے کسی کا نکاح کروا دیتا ہے یعنی ایک غیر متعلقہ آدمی تو پھر اس صورت میں یاد رکھو جب فضولی کسی کا نکاح کرواتا ہے تو وہ نکاح ان لوگوں کی اجازت پر موقوف رہے گا جن کا نکاح کروایا ہے اگر وہ اجازت دیں گے تو وہ نافذ ہوگا وہ اجازت نہیں دیں گے تو نافذ نہیں ہوگا تو فضولی نے ایک مرد اور عورت کا نکاح کروا دیا ابھی ان سے اجازت نہیں لی تھی کہ اس سے پہلے ہی ان میاں بیوی میں سے ایک کا انتقال ہو گیا تو بھئی اس صورت میں نکاح باطل کیونکہ ابھی نافذ ہی نہیں ہوا تھا ابھی انہوں نے اجازت ہی نہیں دی تھی اجازت سے پہلے ہی نکاح باطل ہو گیا بھئی اور پھر صاحب ہدایہ نے آپ کو یہ بتلایا کہ غلام صغیر یعنی نابالغ اور مجنون یعنی پاگل ان کو کسی پر ولایتِ اجبار حاصل نہیں ہو سکتی وجہ یہ کہ ان کو خود اپنی ذات پر ولایتِ نکاح حاصل نہیں ہے تو دوسرے کی ولایتِ نکاح بھی ان کے سپرد نہیں کی جائے گی اور پھر یہ بھی بتلایا تھا کہ کافر جو ہے اس کو مسلمان پر ولایتِ نکاح حاصل نہیں ہو سکتی مثلاً ایک شخص کافر ہے لیکن اس کا نابالغ بیٹا یا بیٹی وہ مسلمان ہو گئے تو اب یہ کافر باپ کو اپنی مسلمان نابالغ اولاد پر ولایتِ اجبار حاصل نہیں ہے کیونکہ مملکتِ اسلامیہ کے اندر کافر کو مسلمان پر ولایت نہیں دی جا سکتی کہ کافر کا مسلمان پر قول نافذ ہو جائے اسی لیے کافر مسلمان کے خلاف گواہی نہیں دے سکتا اور نیز یہ مسلمان اور کافر ایک دوسرے کے وارث بھی نہیں بنتے اگرچہ اہل کتاب عورت سے نکاح جائز ہے مسلمان کے لیے لیکن خاوند کا دین ہے اسلام اور بیوی یہودی یا عیسائی ہے تو دونوں ایک دوسرے کے وارث نہیں بنیں گے۔
البتہ دونوں کافر ہیں تو پھر وارث بنیں گے بھئی اور ان کی گواہی بھی ایک دوسرے کے خلاف قبول کی جائے گی اور میں نے بتلایا تھا کہ آپ نے سراجی کے اندر پڑھا ہوگا کہ اختلافِ دین جہاں ہو تو پھر ایک دوسرے کے وارث نہیں بنتے میں نے بتلایا کہ یہ اختلافِ دین صرف مسلمان اور غیر مسلم کے اعتبار سے اس کو دیکھا جائے گا ایک مسلمان ہے اور دوسرا غیر مسلم ہے تو پھر یہ ایک دوسرے کے وارث نہیں بنیں گے لیکن اگر خود کافر آپس میں ان کا دین الگ الگ ہے ایک عیسائی ہے ایک یہودی ہے بھئی تو پھر یہ ایک دوسرے کے وارث بنیں گے اس کو اختلافِ دین نہیں کہیں گے وجہ یہ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں الکفر ملة واحدۃ کہ کفر سارا کا سارا ایک ہی دین ہے بھئی۔
چاہے ان کا دین مختلف لیکن اس کو ایک ہی شمار کیا جائے گا تو یہ ایک دوسرے کے وارث بنیں گے بھئی۔
اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے یہ مسئلہ ذکر فرمایا کہ کیا عصبات کے علاوہ اور رشتے دار جو ہیں یعنی ذوی الارحام کیا ان کو بھی ولایتِ نکاح حاصل ہے تو امام صاحب فرماتے ہیں ہاں کہ جب کسی شخص کے عصبات نہ ہوں تو پھر ذوی الارحام کو بھی ولایتِ نکاح حاصل ہے جبکہ جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں نکاح کروانا صرف عصبات کے ذمے ہے حدیث کے اندر آیا ہے النکاح الی العصبات کہ نکاح جو ہے عصبات کے سپرد ہے لہذا ذوی الارحام کو ولایتِ اجبار اور ولایتِ نکاح حاصل نہیں ہوگی اور نیز قیاس بھی اس کی تائید کرتا ہے کہ عصبات کے علاوہ کسی اور کو ولایتِ نکاح نہیں ہونی چاہیے وجہ یہ کہ ولایتِ نکاح جو عصبات کو شریعت نے دی ہے اس لیے تاکہ غیر کف کے اندر کہیں وہ لڑکی نکاح نہ کر لے یا غیر کف میں کوئی اس کا نکاح نہ کروا دے غیر کف کی طرف یعنی کم خاندان والوں کی طرف ان کی نسبت نہ ہو جائے تو اپنے خاندان کو کم درجے کے لوگوں سے بچانا یہ عصبات کا کام ہوتا ہے یہ ذوی الارحام کا کام نہیں۔
بھئی وجہ یہ ہے کہ یہ جو عصبات جتنے ذکر ہوئے یہ باپ کی طرف سے رشتے دار ہیں جی یہ کس کی طرف سے رشتے دار ہیں باپ کی طرف سے اور نسب کا اعتبار باپ کی طرف سے ہوتا ہے تو لڑکی یہ باپ کے خاندان کی شمار ہوتی ہے ماں کے خاندان کی شمار نہیں تو ذوی الارحام وہ تو عورتیں ہیں یا عورتوں کی طرف سے جو رشتے دار ہیں وہ ہیں تو ان کا تو خاندان الگ ہوگا اور ان کا خاندان الگ ہوگا تو اور اپنے خاندان کی حفاظت یہ خود عصبات کریں گے ذوی الارحام کا کیا کام ہے کہ وہ دوسروں کے خاندان کی غیر کف کی طرف نسبت سے حفاظت کریں جی تو غیر کف سے اپنے خاندان کی حفاظت کرنا یہ کس کے ذمے ہوتا ہے عصبات کے کیونکہ یہ وہ باپ کے خاندان والے ہیں اور یہ اپنے خاندان کی حفاظت کے ذمہ دار ہیں بات سمجھ میں آ گئی جبکہ امام صاحب فرماتے ہیں کہ اس ولایت کی بنیاد شفقت پر ہے لہذا اور رشتے دار جن میں ایسی رشتہ داری موجود ہے جو شفقت پر ابھارنے والی ہے ان کو بھی ولایتِ نکاح حاصل ہوگی اور ذوی الارحام بھی اسی طرح ہیں ان میں بھی بے انتہا شفقت ہوتی ہے نانا ہے، نانی ہے، ماں ہے اور ماموں ہے، خالہ ہے، یہ سب بھی کیا ہیں انسان پر شفقت کرنے والے ہیں تو ان کو بھی ولایتِ اجبار حاصل ہوگی اور باقی اعتراض یہ ہوتا ہے کہ حدیث کے اندر تو صرف عصبات کا ذکر آیا کہ نکاح ان کے سپرد ہے تو امام صاحب تو گویا حدیث کی مخالفت کر رہے ہیں تو جواب کہ نہیں بھئی امام صاحب حدیث کی مخالفت نہیں کر رہے حدیث میں وہ صورت ذکر ہے جب عصبات موجود ہوں اور جب عصبات موجود ہوں تب تو امام صاحب بھی اسی بات کے قائل ہیں کہ عصبات ہی کو ولایتِ نکاح ملے گی اور ذوی الارحام کو نہیں ملے گی امام صاحب وہ صورت ذکر فرما رہے ہیں جب عصبات موجود ہی نہ ہوں اور جب عصبات موجود ہی نہ ہوں اس کا ذکر تو حدیث میں نہیں ہے لہذا اس صورت میں پھر ذوی الارحام کو بھی ولایتِ نکاح حاصل ہو جائے گی۔
اور یہاں پر استحسان کا بھی ذکر آیا تھا صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ یہ امام صاحب نے یہ جو امام صاحب فرماتے ہیں کہ دیگر ذوی الارحام کو بھی ولایتِ نکاح حاصل ہوگی جب عصبات موجود نہ ہوں اور یہ استحسان ہے بھئی اور میں نے بتلایا تھا استحسان اس متفق علیہ دلیل کو کہتے ہیں جس کے مقابلے میں قیاس آ جائے بھئی تو قرآن کی آیت ہے اور مقابلے میں قیاس آ گیا تو اس آیت کو ترجیح ہوگی اور اس کو استحسان کہیں گے یا حدیث کے مقابلے میں قیاس آ گیا تو حدیث کو ترجیح ہوگی اور اس حدیث کو استحسان کہیں گے یا اجماع کے مقابلے میں قیاس آ گیا تو وہ اجماع جو ہے اس کو ترجیح ہوگی کیونکہ وہ تو قطعی دلیل ہے تو اس کو استحسان کہیں گے بھئی تو استحسان وہ متفق علیہ دلیل ہے جس کے مقابلے میں قیاس آ جائے لیکن زیادہ تر جو ہے یہ استحسان کا اطلاق جو ہے وہ قیاسِ خفی پر ہوتا ہے میں نے بتایا قیاس دو قسم پر ہے ایک کو قیاسِ جلی کہتے ہیں اور ایک کو قیاسِ خفی، قیاسِ جلی جس میں بات ظاہر ہو عقل فورا اس تک پہنچ جاتی ہے کہ ایسا ہی ہونا چاہیے اور قیاسِ خفی وہ ہے جہاں ذرا بات گہری ہو بھئی غور و فکر کرنا پڑتا ہو پھر ذہن وہاں تک پہنچتا ہے پھر عقل وہاں تک پہنچتی ہے تو لہذا استحسان کا زیادہ تر اطلاق جو ہے وہ قیاسِ خفی پر ہوتا ہے لیکن قیاسِ خفی کو بھی تب استحسان کہیں گے جب اس کے مقابلے میں قیاسِ جلی آ جائے اگر قیاسِ خفی کے مقابلے میں قیاسِ جلی نہیں ہے تو پھر اس کو استحسان نہیں کہیں گے بھئی اور علماء لکھتے ہیں کہ فتوی ہمیشہ استحسان پر ہوتا ہے کل بیس بائیس مسائل ہیں صرف جہاں پر فتوی قیاس پر ہے ورنہ باقی ہر جگہ فتوی استحسان پر ہوتا ہے تو قیاسِ خفی کے مقابلے میں اگر قیاسِ جلی نہ ہو تو پھر اس کو استحسان نہیں کہیں گے اور استحسان جو ہے یہ پسندیدہ ہوتا ہے بھئی مستحسن کا معنی ہے پسندیدہ تو استحسان کو استحسان اس لیے کہتے ہیں کہ یہ پسندیدہ ہوتا ہے اس لیے کیونکہ اس میں لوگوں کے لیے آسانی اور سہولت ہوتی ہے تو یہ ہے استحسان بھئی۔
اور پھر یہ بھی بتلایا تھا کہ اگر ولیِ اقرب جو ہے وہ غائب ہو جائے غیبتِ منقطعہ کے ساتھ یعنی اس کا پتہ ہی نہیں چل رہا اور ادھر ایک رشتہ ہے ہم پلہ لوگوں کا برابر کے لوگوں کا وہ ہاتھ سے نکل جائے گا اور ولیِ اقرب غائب ہے اس کا پتہ ہی نہیں چل رہا تو کیا ولیِ ابعد کو اختیار ہوگا وہ یہ نکاح کروا سکتا ہے تو امامِ زفر فرماتے ہیں نہیں ولیِ ابعد نہیں کروا سکتا وجہ یہ کہ یہ ولیِ اقرب کا حق ہے اور کسی کا حق اس کے غائب ہو جانے سے باطل نہیں ہو جاتا وہ بے شک غائب ہے لیکن حق اسی کا ہے وہی کروا سکتا ہے لیکن ہم کہتے ہیں نہیں یہ جو حق دیا ہے شریعت نے یہ شفقت کے طور پر ہے اور ایک شخص جس کی رائے سے ہم کوئی فائدہ ہی نہیں اٹھا سکتے ایک رشتہ موجود ہے لیکن وہ آدمی غائب ہے تو ابھی بھی اختیار اسی کے سپرد رکھنا اس میں کوئی شفقت نہیں ہے لہذا جب ولیِ اقرب غائب ہے پتہ نہیں چل رہا تو ولیِ ابعد اس کے برابر کا ہو گیا اور جب دونوں برابر ہو گئے تو دونوں میں سے جو بھی نکاح کروا دے گا تو یہ نکاح ہو جائے گا دونوں برابر کس طرح ہوئے ولیِ اقرب جو ہے اس میں رشتہ قریبی ہے اور ولیِ ابعد میں رشتہ دور کا ہے لیکن ولیِ ابعد جو ہے اس کی رائے سے اس وقت فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے اور ولیِ اقرب جو ہے اس وقت غائب ہے اس کی رائے سے فائدہ نہیں اٹھایا جا سکتا تو رشتہ داری کو دیکھیں تو زیادہ حقدار کون ہے؟ ولیِ اقرب اور اگر رائے سے فائدہ اٹھانے کو دیکھیں تو زیادہ حقدار کون ہے؟ ولیِ ابعد لہذا دونوں برابر ہو گئے جب دونوں برابر ہو گئے تو جو بھی نکاح کروا دے گا نکاح ہو جائے گا اور میں نے یہ بھی بتلایا تھا ولیِ ابعد نکاح کروا دے ولیِ اقرب موجود ہے ولیِ اقرب موجود ہے اور باپ موجود ہے پھر بھی چچا نے رشتہ کروا دیا بیٹی صغیرہ کا تو پھر یاد رکھو کہ یہ ولیِ اقرب کی اجازت پر موقوف ہے وہ اجازت دے گا تو یہ نکاح ہوگا وہ اجازت نہیں دے گا تو یہ نکاح بھی نہیں ہوگا اور اگر ایک ہی درجے کے کئی اولیاء موجود ہیں مثلاً صغیرہ کے کئی بالغ بھئی ہیں تو ہر ایک کو ولایتِ اجبار حاصل ہے جب باپ دادا وغیرہ نہیں ہیں تو پھر ہر بھئی کو ولایتِ اجبار حاصل ہے لہذا جو پہلے نکاح کروا دے گا تو وہ نکاح منعقد ہو جائے گا۔
اور اگر دو بھائیوں نے نکاح کروایا ہے دونوں نے کروا دیا تو پھر جس نے پہلے نکاح کروایا تھا وہ نکاح منعقد ہو جائے گا اور اگر دونوں نے ایک ہی وقت میں نکاح کروایا ہے تو پھر دونوں میں سے ایک بھی منعقد نہیں ہوگا اور پھر یہ بھی بتلایا تھا کہ غیبتِ منقطعہ کسے کہتے ہیں تو صاحبِ قدوری فرماتے ہیں کہ غیبتِ منقطعہ یہ ہے کہ کوئی شخص ایسی جگہ پر ہو جہاں سال بھر میں ایک دفعہ ہی قافلہ جاتا ہو بھئی میں نے بتایا قدیم زمانے میں سفر بڑا مشکل ہوتا تھا آپ نے ایک شہر سے دوسرے شہر جانا ہے تو فورا سفر پر نہیں نکل سکتے تھے بلکہ انتظار کرنا پڑتا تھا بھئی اوروں کا پتہ کروانا پڑتا تھا کوئی اور اس شہر کی طرف جانے والا ہے یا نہیں پھر آہستہ آہستہ لوگ اکٹھے ہوتے کئی دن گزر جاتے پھر اچھے خاصے لوگ جب جمع ہو جاتے تو پھر سارے اکٹھے قافلے کی صورت میں اس شہر کی طرف چل پڑتے تھے تو قدیم زمانے میں سفر بڑا مشکل تھا لہذا صاحبِ قدوری فرماتے ہیں کہ غیبتِ منقطعہ یہ ہے کہ وہ ولیِ اقرب ایسے علاقے میں گیا ہے جہاں سال بھر میں ایک ہی دفعہ قافلے جاتے ہیں لیکن صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں کہ بعض علماء فرماتے ہیں کہ غیبتِ منقطعہ جو ہے اس میں ادنی مدتِ سفر کا اعتبار کیا گیا ہے یعنی جو تین دن کی مسافت پر جو ولیِ اقرب موجود ہے تو پھر اس صورت میں اس کو غیبتِ منقطعہ کہیں گے اتنی دور گیا ہوا ہے اور ادھر رشتہ ہاتھ سے نکل رہا ہے جبکہ بعضوں نے کہا کہ ولیِ اقرب ایسی حالت پر ہے کہ اس کی رائے کا پتہ نہیں چل سکتا چاہے اسی شہر کے اندر وہ غائب ہے شہر کے اندر وہ کہیں چلا جاتا ہے اور کئی کئی دن تک پتہ ہی نہیں ہوتا وہ کہاں گیا ہوا ہے اب بے شک دیکھو وہ شرعی سفر کے فاصلے پر نہیں ہے شہر کے اندر ہی ہے لیکن ایسی حالت پر ہے کہ اس کی رائے کا پتہ نہیں چل سکتا تو پھر جتنا انتظار ہو سکتا ہے وہ تو کیا جائے گا لیکن اگر رشتہ ہاتھ سے نکل رہا ہے تو پھر ولیِ ابعد نکاح کروا سکتا ہے اور صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ یہ جو رائے ہے یہ فقہاء کی یہ فقہ کے یعنی فقہی اصولوں اور فقہی دلائل کے زیادہ قریب ہے کیونکہ اس ولایتِ نکاح کی بنیاد شفقت پر ہے کس پر ہے؟ شفقت پر ہے اور جس کی رائے کا ہی پتہ نہیں چل سکتا اسی کے سپرد اس کو کرنا اس میں کوئی شفقت نہیں ہے لہذا اس صورت میں ولیِ ابعد کروا سکتا ہے نکاح اور پھر صاحبِ ہدایہ نے آخر میں یہ مسئلہ بتلایا تھا کہ ایک مجنونہ ہے معتوهہ ہے جو مجنونوں کے ساتھ مشابہت رکھتی ہے اس کا بالغ بیٹا بھی موجود ہے اور باپ بھی موجود ہے تو کس کو ولایتِ نکاح حاصل ہوگی تو شیخین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بیٹے کو ولایتِ نکاح حاصل ہوگی کیونکہ وہ پہلے درجے کا عصبہ ہے جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ باپ کو ولایتِ نکاح حاصل ہوگی کیونکہ باپ کی شفقت بیٹے سے زیادہ ہوتی ہے لیکن شیخین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہاں شفقت پر مدار نہیں ہے بلکہ عصبہ ہونے پر ہے اور عصبہ ہونے میں بیٹا مقدم ہے لہذا اسی کو ولایتِ نکاح حاصل ہوگی۔
بات سمجھ میں آ گئی اب آئیے آج کے سبق پر فصل فی الکفاءة الکفاءة فی النکاح معتبرة قال علیہ الصلوٰة والسلام الا لا یزوج النساء الا اولیاء ولا یزوجن الا من الاکفاء کفائت کے معنے ہیں برابری بھئی برابر ہونا ہم پلہ ہونا ہم مرتبہ ہونا یاد رکھو شریعت میں اس بات کا بڑا خیال رکھا گیا ہے کہ عورت کا، لڑکی کا جہاں نکاح کروایا جائے وہ مرد اس کے ہم پلہ ہو اس کے برابر کا ہو اس سے ادنا نہ ہو وجہ یہ ہے کہ معزز عورت اس بات کو برداشت نہیں کرتی کہ وہ کسی ادنا شخص کے ماتحت رہے بھئی اس لیے کہ خاوند تو حاکم کی مثل ہوتا ہے اور اس نکاح کی وجہ سے عورت پر بہت سی پابندیاں آ جاتی ہیں یہاں تک کہ خاوند کی اجازت کے بغیر اس کے لیے گھر سے نکلنا جائز نہیں ہے تو لہذا یہ عورت کے لیے قابل برداشت نہیں کہ وہ ایک ادنا اور خسیس آدمی کی حاکمیت میں زندگی گزارے بھئی اور نیز ادنا شخص کے ساتھ نکاح کروایا جائے گا تو یہ اس خاندان والوں کے لیے بھی عار اور عیب کا سبب بنے گا لوگ ان کو طعنہ دیں گے کہ تم نے تو اپنی بیٹیاں چھوٹے چھوٹے لوگوں کو دی ہوئی ہیں بھئی تو لہذا اس لیے شریعت میں کفائت کا اعتبار ہے بھئی کفائت معتبر ہے بہت سی ایسی چیزیں ہیں جن پر لوگ فخر کرتے ہیں فخر کرتے ہیں تو لہذا ان چیزوں میں کفائت معتبر ہے مثلاً عرب ان کے ہاں نسب پر بڑا فخر کیا جاتا ہے کہ ہمارا ہم تو قبیلے سے ہیں فلاں قوم سے ہیں تو لہذا نسب کے اندر بھی کفائت معتبر ہے اسی طرح آگے آپ کو بتائیں گے اسلام مسلمان ہونے میں بھی کفائت معتبر ہے اور اسی طرح آزادی کے اندر اور اسی طرح دین داری کے اندر اور مال کے اندر اور پیشوں کے اندر ان کے اندر کفائت کا شریعت نے اعتبار کیا ہے بھئی۔
تو یہ مختلف چیزیں ہیں جن میں شریعت برابری کا اعتبار کرتی ہے بھئی اور یاد رکھنا یہ جتنی چیزیں یہاں ذکر ہوں گی جن میں برابری کا اعتبار کیا جاتا ہے یہ وہ چیزیں ہیں جن پر لوگ فخر کرتے ہیں اور ان میں کمی آ جائے تو اسے لوگ عار محسوس کرتے ہیں بھئی تو یہ فخر والی چیزیں ہیں لہذا شریعت نے بھی ان میں کفائت کا اعتبار کیا ہے بھئی دیکھیے بھئی کہتے ہیں الکفاءة فی النکاح معتبرة کفائت جو ہے نکاح میں معتبر ہے یعنی برابری اور یاد رکھنا یہ آگے صاحبِ ہدایہ بھی بتلائیں گے یہ برابری مرد کی طرف سے ہونی چاہیے یعنی جہاں عورت یا لڑکی کا نکاح کروایا جا رہا ہے وہ مرد جو ہے اس کو اس عورت کے برابر کا ہونا چاہیے عورت کی طرف سے برابری ضروری نہیں وجہ یہ کہ حاکم مرد ہے عورت تو اس کے ماتحت رہے گی اور نیز نسب کا اعتبار خاوند کی طرف سے ہوتا ہے لہذا اگر ادنا عورت بھی اس کے عقد میں ہے تو نسب تو باپ کی طرف سے ہی جاری ہوگا لہذا وہ پرواہ نہیں کرتا اس بات کی کہ اس کے ماتحت ادنا عورت ہو بھئی بات سمجھ میں آ گئی تو لہذا کفائت کا اعتبار کس کی طرف سے کیا جائے گا؟ خاوند کی طرف سے کیا جائے گا عورت کی طرف سے کفائت معتبر نہیں ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں الکفاءة فی النکاح معتبرة کفائت یعنی ہم مرتبہ ہونا ہم رتبہ ہونا یہ نکاح کے اندر معتبر ہے قال علیہ الصلوٰة والسلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں الا لا یزوج النساء الا اولیاء الا حرف تنبیہ ہے سنو یا اس کا ترجمہ کر لیں آگاہ رہو الا سنو لا یزوج النساء نکاح نہ کروائے عورتوں کا الا اولیاء مگر اولیاء یعنی اولیاء ہی عورتوں کا نکاح کروائیں اور لوگ ان کا نکاح نہ کروائیں ولا یزوجن الا من الاکفاء اور ان عورتوں کا نکاح نہ کیا جائے مگر ہم پلہ لوگوں سے ہی برابر کے لوگوں سے ہی ان کا نکاح کیا جائے۔
آگے دیکھئے ۔ کہتے ہیں ولأن انتظام المصالح بین المتکافئین عادتاً بھئی نقلی دلیل ذکر کر دی حدیث بھئی اور اب عقلی دلیل بھی ذکر کر رہے ہیں کہتے ہیں ولأن انتظام المصالح بین المتکافئین عادتاً اس لیے کیونکہ کہتے ہیں یہ جو نکاح کی جو مصلحتیں ہیں دیکھو نکاح میں بہت سی مصلحتیں ہوتی ہیں ایک نیا خاندان بنتا ہے اور گھر بسانا ہے گھر کو چلانا ہے اولاد حاصل ہوگی اولاد کی تربیت کرنی ہے تو پورے گھر کا ایک نظام چلانا ہے اور اطمینان اور سکون کی زندگی حاصل کرنی ہے تو نکاح کے بہت سارے مقاصد ہوتے ہیں اور یہ مقاصد اور یہ مصلحتیں جو ہیں عموماً دو ہم پلہ لوگوں میں ہی حاصل ہوتی ہیں جی جب دونوں ہم پلہ ہوں گے برابر کے ہوں گے تب ہی ان کے مزاج ایک جیسے ہوں گے اور یہ مصلحتیں حاصل ہوں گی کہتے ہیں ولأن انتظام المصالح اس لیے کیونکہ یہ جو نکاح کی مصلحتیں ہیں ان کا انتظام بین المتکافئین یہ دو ہم مرتبہ لوگوں کے درمیان ہوتا ہے عادتاً عام طور پر عادت اسی طرح ہے عام طور پر اسی طرح ہوتا ہے دو ہم پلہ لوگ ہوں تب ہی نکاح صحیح چلتا ہے اور نکاح کی مصلحتیں حاصل ہوتی ہیں لأن الشریفة تأبی ان تكون مستفرشتاً للخسیس اس لیے کیونکہ الشریفہ شریفہ کا کیا معنی کریں گے؟ معزز عورت شاباش شریفہ کا معنی شریف عورت کے نہ کرنا بلکہ شرف سے ہے یعنی شرف والی معزز عورت لأن الشریفة اس لیے کیونکہ معزز عورت جو ہے تأبی وہ انکار کرتی ہے ان تكون مستفرشتاً للخسیس کہ وہ مستفرشہ بنے خسیس یعنی گھٹیا آدمی کے لیے وہ مستفرشہ بنے گھٹیا آدمی کے لیے میں نے بتایا تھا کہ بیوی جو ہے وہ انسان کا فراش ہے اور یہ فراش قوی ہے اور اس سے جو اولاد پیدا ہوگی وہ خود بخود خاوند کی شمار ہوگی اور اس کی اگر نفی کرنا چاہتا ہے تو پھر لعان کے ساتھ نفی کرنا پڑے گی ویسے اولاد کی نفی نہیں کر سکتا بھئی تو اب دیکھو یہ خاوند ہوا مستفرش وہ ہے اس عورت کو فراش بنانے والا اور عورت جو ہے وہ مستفرشہ ہے بھئی اس میں مفعول ہے مستفرشہ یعنی جس کو فراش بنایا گیا ہے تو شریف اور معزز عورت وہ انکار کرتی ہے کہ وہ کسی گھٹیا اور ادنا آدمی کے لیے مستفرشہ بنے۔
ادنا درجے کے آدمی کے لیے مستفرشہ بننا اس کو معزز عورت پسند نہیں کرتی اور نیز یاد رکھو یہ نکاح کے اندر نکاح میں عورت کے لیے غلامی والا معنا ہے کیونکہ عورت پر بہت سی پابندیاں آ جاتی ہیں وہ عورت مرد کی اجازت کے بغیر گھر سے بھی نہیں نکل سکتی تو اس نکاح میں عورت کے لیے رقیّت اور غلامی والا معنی یعنی اس کا کچھ نہ کچھ اثر پایا جاتا ہے تو عورت یہ برداشت نہیں کرے گی کہ اس پر حاکم جو ہے وہ گھٹیا درجے کا آدمی بنے وہ گھٹیا درجے کے آدمی کے محکومہ بنے اس کو وہ پسند نہیں کرے گی کہتے ہیں لأن الشریفة تأبی ان تكون مستفرشتاً للخسیس اس لیے کیونکہ معزز عورت انکار کرتی ہے کہ وہ مستفرشہ بنے گھٹیا آدمی کے لیے فلا بد من اعتبارها لہذا کفائت کا اعتبار ضروری ہے ہم مرتبہ ہونے کا اعتبار ضروری ہے بخلاف جانبها بخلاف عورت کی جانب یعنی مرد تو ہم پلہ ہونا چاہیے عورت کا ہم پلہ ہونا ضروری نہیں۔
بخلاف جانبها بخلاف عورت کی جانب میں (یعنی وہاں کفائت معتبر نہیں ہے) لأن الزوج مستفرش اس لیے کیونکہ خاوند جو ہے وہ اس کو فراش بنانے والا ہے فلا تغیضہ دناءة الفراش تغیضہ غضب ناک کرنا فلا تغیضہ لہذا مرد کو غضب ناک نہیں کرے گا دناءة الفراش فراش کا گھٹیا اور ادنا ہونا اگر عورت اگر ادنا یا گھٹیا خاندان سے ہے تو مرد مستفرش ہے مرد اس پر حاکم ہے لہذا یہ بات اسے غضب ناک نہیں کرے گی اسے غصہ اس بات پر نہیں چڑھے گا کہ اس کی عورت تو ادنا خاندان والی ہے بات سمجھ میں آگئی کیونکہ نسب وغیرہ سارا مرد کی طرف سے چلے گا عورت کم خاندان والی بھی ہے پھر بھی جو اولاد ہے وہ تو باپ کے خاندان کی ہی شمار ہوگی بھئی لہذا چونکہ نسب مرد کی طرف سے ہوتا ہے حاکم بھی مرد ہوتا ہے حکم اسی کا چلتا ہے تو لہذا عورت اگر کم خاندان والی بھی ہوئی تو یہ بات اس کو غضب ناک نہیں کرے گی بھئی یہ معنی ہے لأن الزوج مستفرش کیونکہ خاوند اس کو فراش بنانے والا ہے فلا تغیضہ دناءة الفراش لہذا فراش کا ادنا اور گھٹیا ہونا یہ اس کو غضب ناک نہیں کرے گا یہ بات اس کو غصہ نہیں چڑھائے گی واذا زوجت المرأة نفسها من غیر کفؤ اور جب عورت نکاح کر دے نفسہا اپنی ذات کا من غیر کفؤ من غیر کف میں کم مرتبہ کے لوگوں میں اگر عورت نے خود اپنا نکاح کر دیا تو کہتے ہیں فلال اولیاء ان یفرقوا بینهما تو اولیاء کو یہ حق ہے کہ وہ جدائی کروا دیں ان دونوں کے درمیان دفعاً لضرر العار عن أنفسهم دور کرنے کے لیے اپنی ذات سے عار کے ضرر کو بھئی دیکھو عورت اگر کم مرتبہ کے لوگوں میں نکاح کر لے گی تو یہ خاندان والوں کے لیے عیب بن جائے گا طعنہ بن جائے گا تو لہذا اولیاء کو حق ہے کہ وہ اعتراض کر سکتے ہیں وہ قاضی کے پاس جا کر مقدمہ کر سکتے ہیں تو قاضی ان میں جدائی کروا دے گا۔
بات سمجھ میں آ گئی تو یہاں تو آیا متن میں کہ اولیاء اعتراض کر سکتے ہیں عورت اگر غیر کف میں نکاح کرے گی تو اولیاء کیا کر سکتے ہیں؟ اعتراض کر سکتے ہیں اور قاضی کے پاس جا کر نکاح تروالوا سکتے ہیں لیکن یاد رکھو میں نے پہلے بھی ذکر کیا فتوی اس پر ہے کہ یہ نکاح منعقد ہی نہیں ہوگا وجہ یہ کہ اس غیر کف میں عورت نکاح کرے گی تو اولیاء کو شدید تکلیف ہوگی بھئی یہ بات ان کے لیے طعنے کا باعث بن جائے گی لیکن پتہ نہیں اتنی ہمت وہ کرتے ہیں یا نہیں کہ قاضی کے پاس بھی جائیں اور مقدمہ بھی لڑیں اور پھر پتہ نہیں قاضی بھی انصاف کرتا ہے یا انصاف نہیں کرتا لہذا فتوی اس پر ہے اور وہی امام صاحب کا دوسرا قول بھی ہے کہ اگر عورت غیر کف میں نکاح کرے گی تو نکاح منعقد ہی نہیں ہوگا جبکہ یہاں اوپر متن میں تو آیا کہ اگر عورت غیر کف میں نکاح کرے گی تو اولیاء ان یفرقوا بینهما اولیاء ان میں جدائی کروا سکتے ہیں معلوم ہوا نکاح منعقد ہو چکا ہے اب وہ اولیاء قاضی کے پاس جا کر جدائی کروانا چاہیں تو جدائی کروا سکتے ہیں یہ ایک روایت ہے لیکن امام صاحب سے دوسری روایت کے مطابق یہ نکاح منعقد ہی نہیں ہوگا اور اسی پر فتوی ہے بھئی یہ معنی ہے فلال اولیاء ان یفرقوا بینهما تو اولیاء کا یہ حق ہے کہ وہ ان دونوں کے درمیان جدائی کروا دیں دفعاً لضرر العار عن أنفسهم دور کرنے کے لیے عار کے ضرر کو اپنی ذات سے کہ عار اور طعنے کو اپنے آپ سے کیا کر دیں؟ دور کر دیں۔
آگے دیکھیے بھئی کہتے ہیں ثم الکفاءة تعتبر فی النسب لأنه یقع به التفاخر بھئی اب وہ چیزیں بیان کرنے لگے ہیں جن میں کفائت معتبر ہے پہلی چیز جو ان میں بیان فرما رہے ہیں وہ ہے نسب نسب یعنی خاندان بھئی اور وجہ یہ ہے کہ خاندان جتنا اونچا ہوتا ہے لوگ اس پر فخر کرتے ہیں اور خاندان جتنا کم ہو اس پر لوگ طعنے دیتے ہیں تو معلوم ہوا نسب ایسی چیز ہے جس پر لوگ فخر کرتے ہیں لہذا اس کے اندر بھی برابری کا اعتبار کیا جائے گا یہ جتنی چیزیں کفائت میں ذکر ہوں گی یہ سب وہ چیزیں ہیں جن پر لوگ فخر کرتے ہیں اور نہ ہونے پر اس کو حقیر محسوس کرتے ہیں بھئی تو یہ فخر والی چیزیں ہیں لہذا شریعت نے بھی ان میں کفائت کا اعتبار کیا ہے بھئی دیکھیے بھئی کہتے ہیں ثم الکفاءة تعتبر فی النسب پھر کفائت جو ہے برابری جو ہے معتبر ہے نسب میں لأنه یقع به التفاخر اس لیے کیونکہ اس کے ذریعے تفاخر ہوتا ہے (یعنی باہم ایک دوسرے پر فخر کرنا تو باہم ایک دوسرے کے مقابلے میں فخر کرنا اس کے ذریعے ہوتا ہے) فقریش بعضهم اکفاء لبعض تو قریش جو ہیں وہ ایک دوسرے کے کف ہیں قریش جو ہیں ایک دوسرے کے کف ہیں بھئی میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ اگر اس طرح کی عبارت کہیں آ جائے مثلاً جیسے یہاں پر ہے فقریش بعضهم اکفاء لبعض تو عموماً طلبہ اس کا ترجمہ یوں کرتے ہیں کہ قریش جو ہیں وہ ان میں سے بعض کف ہیں بعض کے تو یوں یہ با محاورہ ترجمہ نہیں بھئی عوام کے سامنے با محاورہ آسان ترجمہ ہونا چاہیے تو یوں ترجمہ کریں گے فقریش بعضهم اکفاء لبعض کہ قریش جو ہیں وہ ایک دوسرے کے کف ہیں۔
قریش ایک دوسرے کے کف ہیں بھئی یاد رکھنا یہ جو قریش ہے اس کے اندر بہت سے چھوٹے قبیلے شامل ہیں بھئی قریش عرب کا ایک بڑا قبیلہ ہے اور اس کے اندر چھوٹے چھوٹے بہت سے قبیلے ہیں یہ قبیلے جو ہیں باپ دادا کے نام کی نسبت سے مشہور ہو جاتے ہیں مثلاً کوئی ایک باپ دادا مشہور گزرا تو آگے اس کی ساری اولاد اسی کے نام سے مشہور ہو جاتی کہ یہ اس فلاں کی اولاد ہے تو اسی طرح قریش کے اندر بہت سے چھوٹے قبیلے ہیں جو بعد میں انے والے باپ دادوں کے نام سے مشہور ہو گئے مثلاً قریش میں بنو ہاشم بھی شامل ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جو خاندان ہے اسی طرح بنو المطلب جو ہیں وہ بھی شامل ہیں بنو اسد ہیں بنو عبد شمس ہیں بنو امیہ ہیں بنو عباس وغیرہ بہت سے یہ قبیلے یہ قریش کے اندر داخل ہیں تو کیا قریش والے ایک دوسرے کے کف ہیں یا نہیں ہر قبیلہ کہتا ہے ہمارا خاندان اعلیٰ ہے تو کیا یہ ایک دوسرے کے کف ہیں یا نہیں تو یاد رکھو یہ سب قریش والے ایک دوسرے کے کف ہیں۔
بات سمجھ میں آ گئی باہم بے شک ایک دوسرے پر فخر کرتے ہیں ایک کہتا ہے ہمارا قبیلہ اعلیٰ ہے دوسرا کہتا ہے ہمارا اعلیٰ ہے لیکن یہ سب ایک دوسرے کے کف ہیں ہم پلہ ہیں لہذا ایک قریشی عورت نے کسی بھی اور قریشی خاندان کے مرد سے نکاح کر لیا تو ہم یہ کہیں گے اس نے اپنے کف میں نکاح کیا ہے بھئی تو یہ معنی ہے فقریش بعضهم اکفاء لبعض تو قریش جو ہیں وہ ایک دوسرے کے کف ہیں والعرَب بعضهم اکفاء لبعض اور عرب جو ہیں وہ ایک دوسرے کے کف ہیں (یعنی قریش کے علاوہ جتنے عرب ہیں وہ سب ایک دوسرے کے کف ہیں) کسی ایک قبیلے کی عورت کسی دوسرے قبیلے کے مرد سے نکاح کر لے تو ہم یہ نہیں کہیں گے یہ غیر کف میں نکاح کیا ہے کیونکہ دونوں عرب ہیں تو دونوں ایک دوسرے کے کف ہیں بھئی کہتے ہیں والاصِل فیه قوله علیہ الصلوٰة والسلام اور کہتے ہیں اصل اس کے اندر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول ہے آپ نے فرمایا قریش بعضهم اکفاء لبعض کہ قریش جو ہیں وہ ایک دوسرے کے کف ہیں بطن بطن بطن کہتے ہیں بڑے قبیلے کے اندر کوئی چھوٹا قبیلہ جو ہے وہ بطن کہلاتا ہے جیسے میں نے ابھی بتلایا کہ قریش ایک بڑا قبیلہ ہے تو اس کے تحت بہت سے چھوٹے قبیلے ہوں گے بنو امیہ ہے بنو عباس ہے بنو اسد ہے بنو عبد شمس وغیرہ یہ سب چھوٹے قبیلے تو کہتے ہیں قریش وہ ایک دوسرے کے کف ہیں بطن بطن ہر بطن دوسرے بطن کا ترجمہ یہاں یاد رکھنا بھئی آپ پریشان ہوں گے ترجمہ کیا کریں بطن بطن ہر بطن دوسرے بطن کا (یعنی ہر بطن دوسرے بطن کا کف ہے بھئی قریش میں سے) والعرَب بعضهم اکفاء لبعض اور عرب جو ہیں وہ ایک دوسرے کے کف ہیں قبیلة بقبیلة یعنی ایک قبیلہ دوسرے قبیلے کا کف ہے بھئی والمووالی بعضهم اکفاء لبعض اور مووالی مووالی سے مراد عجمی لوگ ہیں یعنی غیر عرب ہیں بھئی والمووالی بعضهم اکفاء لبعض اور مووالی جو ہیں (یعنی عجمی جو ہیں) وہ ایک دوسرے کے کف ہیں رجل برجلی ایک مرد دوسرے مرد کا ایک آدمی دوسرے آدمی کا کف ہے بات سمجھ میں آ گئی تو یہاں مووالی لفظ آیا میں نے بتایا اس سے مراد عجمی ہیں بھئی تو یہ عجمیوں کا نام پڑ گیا تھا مووالی بھئی ان کو کیا کہتے تھے مووالی ان کا نام پڑ گیا مووالی جمع ہے مولا کی اور مولا کے معنے مددگار کے بھی ہیں اور مولا کے معنے آزاد کیا ہوا (یعنی کوئی شخص پہلے غلام تھا اور اس کو آزاد کر دیا جائے تو وہ بھی کیا کہلاتا ہے عربی زبان میں مولا کہلاتا ہے) تو چونکہ یہ عرب جو ہے اکثر عجمیوں پر غالب آ جاتے تو یہ عجمی ان کے پھر محکوم بن جاتے ان کے مددگار ہوتے تھے تو اس لیے ان کا نام ہی کیا پڑ گیا مووالی یعنی یہ مددگار ہیں یا یہ مووالی مولا سے ہے جس کا معنی ہے آزاد کیا ہوا تو قدیم زمانے کے اندر جنگیں ہوتی تھیں اور جو غالب آ جاتیں وہ دوسرے جو قیدی بنتے ان سب مرد اور عورتوں کو غلام اور باندیاں بنا لیتے تھے تو عرب بھی عجمیوں پر غالب آ جاتے تو ان کو غلام اور باندیاں بنا لیتے اور پھر ان کو آزاد کیا جاتا تھا تو وہ ان کے کیا کہلاتے مولا کہلاتے تھے تو عجمیوں کا نام ہی مووالی پڑ گیا بھئی۔
اور چاہے پھر عربوں نے ان کو غلام بنایا یا نہ بنایا قطع نظر اس سے جیسے کسی کا کوئی نام مشہور ہو جائے تو وہی ہر طرف پھیل جاتا ہے تو یہ چونکہ ان میں سے بعض جو تھے وہ آزاد کیے ہوئے تھے وہ مولا تھے تو ان کی وجہ سے باقی ساروں کا نام بھی کیا پڑ گیا مووالی ہی پڑ گیا کہ یہ سب گویا آزاد شدہ ہیں بھئی تو مراد اس سے عجمی لوگ ہیں بھئی آگے دیکھیے ولا یعتبر التفاصل فیما بین قریش لما روینا اور تفاضل کہتے ہیں باہم ایک دوسرے پر برتری کا دعوی کرنا ایک کہے میں افضل ہوں دوسرا کہے میں افضل ہوں تو قریش کے قبائل تو ایک دوسرے پر فضیلت کا دعوی کرتے ہیں ہر قبیلے والا کہتا ہے ہمارا قبیلہ اعلیٰ ہے تو کیا یہ تفاضل معتبر ہے؟ کہتے ہیں نہیں حدیث میں پیچھے ذکر ہو گیا کہ قریش جو ہیں وہ ایک دوسرے کے کف ہیں لہذا اس تفاضل کا کوئی اعتبار نہیں ایک قریشی عورت کسی دوسرے قبیلے کے قریشی نوجوان سے شادی کر لے تو ہم یہ نہیں کہیں گے کہ اس نے غیر کف میں نکاح کیا ہے بلکہ کیا کہیں گے کہ یہ اس نے کف ہی میں نکاح کیا ہے یہ معنی ہے ولا یعتبر التفاصل اور تفاضل معتبر نہیں ہے فیما بین قریش قریش کے بیچ میں لما روینا اس حدیث کی وجہ سے جو ابھی ہم نے روایت کر دی وعن محمد رحمه الله اور امام محمد رحمہ اللہ سے یہ روایت ہے الا ان یکون نسبا مشهورا كأهل بيت الخلافة امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قریش کے اندر تفاضل معتبر نہیں الا ان یکون نسبا مشهورا مگر یہ کہ اگر وہ نسب مشہور ہو نسب کیا ہو جائے؟ مشہور ہو جائے كأهل بيت الخلافة جیسے کہ خلافت کے اہل ہیں۔
خلافت کے گھر والے (یعنی خلیفہ کی اولاد مراد ہے) خلیفہ کی اولاد مراد ہے یعنی اگر نسب ایسا ہے قریش میں سے جو مشہور ہو جائے جیسے خلیفہ کی اولاد ہے تو وہاں تفاضل معتبر ہے۔
وہاں برتری کا دعوی معتبر ہے بھئی اس پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ بھئی حدیث میں تو آیا کہ تفاضل معتبر نہیں ہے سب ایک دوسرے کے کف ہیں تو امام محمد رحمہ اللہ کیسے فرما رہے ہیں کہ بعض جگہ تفاضل معتبر ہے تو آگے صاحبِ ہدایہ بتلائیں گے کہ گویا امام محمد رحمہ اللہ نے یہ جو فرمایا یہ خلافت کی تعظیم کے طور پر فرمایا ہے اور نیز فتنے کا دروازہ بند کرنے کے لیے یہ انہوں نے فرمایا ہے ان کے کہنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہاں کفائت ہے ہی نہیں کفائت تو ہے وہ تو حدیث میں آ چکا ہے لیکن فتنے کا دروازہ بند کرنے کے لیے اور خلافت کی تعظیم کے طور پر انہوں نے یہ فرمایا۔
کیونکہ خلیفہ کی اولاد ہے وہ یقیناً اپنے آپ کو اعلی سمجھے گی اور نیز وہ قوت کے اندر ہیں اقتدار کے اندر ہیں طاقت کے اندر بھی ہیں لہذا اب اگر ان کے خاندان کی کوئی عورت جو ہے کسی دوسرے قبیلے کے قریشی نوجوان سے نکاح کر لے اور پھر خلافت کی باقی اولاد اس پر اعتراض کرے تو اگر کوئی مفتی یہ فتوی دے کہ یہ تو آپ کا کف ہے لہذا آپ کچھ نہیں کر سکتے تو یہ بات تو ان کو اور زیادہ غضب ناک کر دے گی بھئی اور چونکہ وہ تو طاقتور لوگ ہیں خلیفہ کی اولاد ہیں تو کہیں اس مفتی کو نقصان نہ پہنچائیں یا وہ جو نوجوان ہے اس کو نقصان نہ پہنچائیں جی اور اگر تفاضل کا اعتبار کیا جائے گا کہ بھئی یہ نوجوان بیشک قریشی ہے لیکن اس خلیفہ کی اولاد میں سے جو لڑکی ہے یہ اس کا کف نہیں تو پھر وہاں جدائی کروا دی جائے گی اور اس طرح دیکھو جدائی کروا کر فتنہ ختم ہو جائے گا لیکن اگر جدائی بھی نہیں کروائی جائے گی تو یقیناً خلیفہ کی اولاد طاقتور ہے فتنہ پھیلنے کا خطرہ ہوگا بات سمجھ میں آگئی اور نیز فتنے کا دروازہ اس طرح بھی بند ہو جائے کہ عام لوگ عام قریشی بھی خلافت کی اولاد میں جو عورتیں ہیں ان کی امید نہ لگانے لگیں ورنہ اس سے تو کئی فتنے پھیلیں گے بات سمجھ میں آ گئی تو یہ فتنے کا دروازہ بند کرنے کے لیے انہوں نے فرمایا تو کہتے ہیں وعن محمد رحمه الله اور امام محمد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ الا ان یکون نسبا مشهورا کہ تفاضل معتبر نہیں ہے مگر یہ کہ نسب مشہور ہو کأهل بیت الخلافة جیسے کہ خلافت کے گھر والے ہیں کان هو قال تعظیماً للخلافة وتسكيناً للفتنة گویا کہ امام محمد رحمہ اللہ نے خلافت کی تعظیم کے طور پر یہ فرمایا وتسكيناً للفتنة اور فتنے کو روکنے کے لیے یہ فرمایا خلیفہ کی اولاد تو طاقتور لوگ ہوں گے تو یہاں اگر تفاضل کا اعتبار نہ کیا جائے تو پھر فتنہ پھیلنے کا خدشہ ہے بات سمجھ میں آ گئی و بنو باهلة لیسوا بأكفاء لعامة العرب اور بنو باهلة وہ جو ہیں عام عرب کے کف نہیں بنو باهلة بھئی عرب کا کوئی قبیلہ گزرا ہے باهلة باهلة نام کی کوئی عورت تھی اس کی اولاد جو ہے وہ بنو باهلة کہلاتاتی ہے تو یہ اس عورت کے نام سے یہ قبیلہ مشہور ہے اور کہتے ہیں یہ عام عربوں کا کف نہیں وجہ یہ کہ ان کے اندر بعض بڑی گھٹیا قسم کی عادتیں تھیں جن کو تمام عرب بڑا برا اور گھٹیا سمجھتے تھے اور ان کو حقیر سمجھتے تھے تو عرب ان کو اپنے برابر کا نہیں سمجھتے تھے تو یہ عام عرب کے کف نہیں ہے بھئی کہتے ہیں و بنو باهلة لیسوا بأكفاء لعامة العرب اور بنو باهلة جو ہیں وہ عام عرب کے کف نہیں ہیں لأنه معروفون بالخصاسة اس لیے کیونکہ وہ مشہور ہیں بالخصاسة گھٹیا پن کے ساتھ (یعنی ان میں بہت سی گھٹیا اور ادنا عادتیں ہیں ان کے ساتھ یہ مشہور ہیں) یاد رکھو خاندانوں کے اندر بعض عادتیں ہوتی ہیں بھئی عادتیں ہوتی ہیں اور لوگوں میں مشہور ہوتی ہیں لوگوں کو پتہ ہوتا ہے تو مختلف خاندانوں میں مختلف قسم کی عادتیں ہوتی ہیں تو اس خاندان کے تمام افراد میں تو وہ عادتیں نہیں ہوں گی لیکن اکثر کے اندر وہ عادتیں ملتی ہیں بھئی اور اعتبار اکثر کا ہی ہوتا ہے تو یہ جو بنو باهلة والے ہیں ان میں اکثر افراد میں یہ ان میں خسیس اور گھٹیا ادنا عادتیں پائی جاتی ہیں تو لہذا عرب ان کو حقیر سمجھتے ہیں تو یہ عام عربوں کے برابر کے نہیں کہتا ہے و اما الموالی تو دوسری چیز آ گئی عربوں کے اندر تو نسب پر فخر کیا جاتا ہے جبکہ عجمیوں کے اندر اسلام پر فخر کیا جاتا ہے لہذا اسلام میں بھی کفائت کا اعتبار کیا جائے گا لہذا ایک عورت نے نکاح کیا ایک مرد سے اس عورت کا باپ مسلمان ہے دادا نہیں مسلمان لیکن باپ مسلمان ہوا تھا اور یہ اس کی بیٹی ہے مسلمان اس نے ایک مرد سے نکاح کیا اور وہ مرد مسلمان ہے لیکن اس مرد کا باپ نہیں مسلمان تو دیکھو لڑکی کے اباء میں سے ایک مسلمان ہے اور مرد کے اباء میں سے کوئی بھی نہیں مسلمان تو یہ اس لڑکی کا کف نہیں ہے جی یہ اس لڑکی کا کف نہیں ہے اور پھر یہ بھی یاد رکھنا اسلام کے اندر جو کفائت ہے وہ صرف دادا تک معتبر ہے اس لیے کیونکہ نسب دادا تک پورا ہو جاتا ہے یعنی لوگ جب ایک دوسرے سے تعارف کرواتے ہیں پہچان کرواتے ہیں تو باپ کے ساتھ زیادہ سے زیادہ دادا کا ذکر کیا جاتا ہے دادا وغیرہ کا ذکر نہیں کیا جاتا لہذا اسلام کے اندر بھی کفائت دادا تک معتبر ہے لہذا ایک شخص ہے اس کا باپ اور دادا دونوں مسلمان ہیں پر دادا نہیں مسلمان تھا پر باپ اور دادا دونوں مسلمان ہیں تو دیکھو دادا تک ہی برابری معتبر ہے اور وہ دونوں مسلمان ہیں لہذا یہ شخص نکاح کر لیتا ہے ایک ایسی عورت سے جس کے اوپر کئی اباء مسلمان گزرے ہیں باپ دادا پر دادا اوپر تک بھئی تو اب ہم یہ نہیں کہیں گے کہ یہ مرد اس عورت کا کف نہیں۔
اس مرد کے صرف دو اباء مسلمان ہیں اور عورت کے کئی اباء مسلمان ہیں لیکن پھر بھی ہم کہیں گے یہ مرد اس عورت کا کف ہے کیونکہ اسلام کے اندر کفائت صرف کہاں تک معتبر ہے؟ دادا تک اور مرد کا دادا مسلمان ہے تو یہ اس عورت کا کف ہے کہتے ہیں واما الموالی اور باقی عجمی لوگ ہیں فمن كان له أبوان في الإسلام فصاعِداً تو جس کے دو اب ہیں اسلام کے اندر فصاعداً یا زیادہ فمن الأکفاء تو وہ وہ ہم پلہ لوگوں میں سے ہے وہ برابر کے لوگوں میں سے ہے یعنی لَمَنْ له آباء فيه (یعنی اس اوکے لیے جس کے کئی ابا ہیں جس کے کئی ابا اسلام میں گزرے ہیں) اس آدمی کے صرف دو ابا ہیں اسلام میں اور دوسرے کے کئی ابا ہیں اسلام میں تو دونوں کو ایک دوسرے کا ہم پلہ کہیں گے۔
وجہ یہ کہ اسلام کے اندر کفائت کہاں تک معتبر صرف دادا تک اور دادا تو اس کا مسلمان ہے۔
جی وہ کہتے ہیں و من أسلم بنفسه أو له أب واحد فی الإسلام لا يكون كفاً لمن له أبوان فی الإسلام اب ایک عورت ہے اس کا باپ مسلمان گزرا ہے دادا نہیں تو ایک اب مسلمان ہے یہ عورت نکاح کر لیتی ہے ایک ایسے نوجوان سے جو خود مسلمان ہوا ہے اس کا اب بھی نہیں مسلمان یا اس کا صرف باپ مسلمان ہوا ہے تو دیکھو لڑکی کا ایک اب مسلمان ہے اور مرد کا ایک اب بھی نہیں مسلمان یا مرد کا صرف باپ مسلمان ہوا ہے۔
فرما رہے ہیں تو یاد رکھو یہ مرد اس عورت کا کف نہیں۔
کیونکہ اس عورت کا ایک اب مسلمان گزرا ہے اور اس مرد کا ایک بھی اب مسلمان نہیں گزرا تو یہ اس کا کف نہیں تو کہتے ہیں و من أسلم بنفسه اور جو شخص خود مسلمان ہوا اولهو أب واحد فی الإسلام یا اس کا ایک باپ اسلام میں ہے لا يكون كفاً تو یہ شخص کف نہیں ہوگا لمن له أبوان فی الإسلام اس شخص کا جس کے دو اب اسلام میں گزرے ہیں لأن التفاخر فيما بین الموالی بالإسلام اس لیے کیونکہ عجمیوں کے درمیان باہمی فخر جو ہوتا ہے بالاسلام وہ اسلام کے ذریعے ہوتا ہے وہ باہمی ایک دوسرے پر جو فخر کا اظہار کرتے ہیں وہ کس کے ذریعے کرتے ہیں؟ اسلام کے ذریعے اور کفائت فی الحرية نظيرها فی الإسلام فی جميع ما ذکرنا اب یہ تیسری چیز آ گئی کفائت فی الحرية آزادی میں کفائت۔
ایک شخص ہے وہ پہلے غلام تھا اس کو کسی نے آزاد کر دیا اب یہ ایک آزاد عورت سے نکاح کرنا چاہتا ہے اور اس عورت کا باپ بھی آزاد ہے دادا بھی آزاد ہے تو یاد رکھو یہ شخص اس عورت کا کف نہیں۔
آگے صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے بھئی کہ یہ جو آزادی کے اندر کفائت ہے یہ بالکل اسی طرح ہے جس طرح اسلام میں کفائت تھی اور اسلام میں کفائت کہاں تک معتبر ہے؟ دادا تک معتبر ہے تو یہاں حریت میں بھی دادا تک آزادی معتبر ہے لہذا ایک شخص ہے اس کا باپ جو تھا وہ کسی نے اس کو آزاد کیا تھا وہ غلام تھا تو اس کا ایک اب آزاد ہے اور دوسری طرف عورت ہے اس کے کئی اب آزاد گزرے ہیں باپ دادا پردادا وغیرہ اور اس آدمی کا صرف ایک اب آزاد ہے لہذا یہ آدمی اس عورت کا کف نہیں کیونکہ آزادی پر بھی لوگ فخر کرتے ہیں غلاموں کو حقیر سمجھا جاتا ہے بات سمجھ میں آرہی ہے ہاں اگر ایک آدمی ہے اس کے باپ اور دادا دونوں آزاد تھے دادا کو کسی نے آزاد کر دیا تھا تو دادا بھی آزاد باپ بھی آزاد اور یہ بھی آزاد اور دوسری طرف عورت ہے اس کے کئی پشتے آزاد چلی آ رہی ہیں باپ دادا پردادا اوپر تک بھئی تو بھی یہ شخص اس عورت کا کف ہے۔
تو یہ حریت کے اندر اس عورت کا کف ہے۔
حریت کے اندر اس عورت کا کف ہے بھئی کیونکہ اسلام اور حریت کہاں تک معتبر ہے؟ دادا تک اور دادا تو اس شخص کے بھی دادا مسلمان بھی گزرا ہے اور آزاد بھی گزرا ہے لہذا یہ اس عورت کا کف ہے دادا سے اوپر والوں کو نہیں دیکھیں گے اگرچہ اوپر والے اس کے غلام گزرے ہیں اس مرد کے تو کہتے ہیں والکفاءة فی الحرية نظيرها فی الإسلام نظيرها یہاں ضمیر یہ بھی کفائت کو راجع ہے لہذا اس ضمیر کو اٹھائیں اور اس کی جگہ الکفاءة کو رکھیں اب عبارت ذرا دیکھیں غور سے والکفاءة فی الحرية اور وہ کفائت جو حرّیت میں ہوتی ہے نظیرها النظير الکفاءة فی الإسلام یہ نظیر ہے اس کفائت کی جو اسلام میں ہوتی ہے (یعنی اس کے بھی وہی احکام ہیں کفائت فی الحرية کے جو کفائت فی الإسلام کے احکام تھے بھئی) یہ معنے ہے والکفاءة فی الحرية نظیرها فی الإسلام فی جميع ما ذكرنا واما الرقّ اثر الكفر اس لیے کیونکہ غلامی یہ بھی کفر کا اثر ہے۔
غلامی بھی کیا ہے؟ کفر کا اثر ہے مسلمانوں نے جو علاقے فتح کیے تو وہاں کے لوگوں کو غلام بنایا تو یہ کس کا اثر تھا؟ کفر کا اثر تھا وہ کافر تھے اس لیے غلام بنایا لأن الرق اثر الكفر اس لیے کیونکہ غلامی جو ہے کفر کا اثر ہے وفيها معنى الذلی اور نیز اس کے اندر حقارت والا معنی بھی ہے غلام کو لوگ حقیر سمجھتے ہیں تو لہذا یہاں پر کفائت کو دیکھا جائے گا تو يعتبر فی حكم الكفاءة لہذا کفائت کے حکم میں اس کا بھی اعتبار کیا جائے گا یاد رکھو یہاں جتنی چیزیں کفائت میں ذکر کر رہے ہیں یہ وہ چیزیں ہیں جن پر لوگ فخر کرتے ہیں اور نہ ہونے پر اس کو حقیر سمجھا جاتا ہے تو لہذا اس لیے شریعت نے بھی ان کا اعتبار کیا ہے آگے دیکھیے قال وتعتبر أيضا فی الدين اور نیز یہ کفائت معتبر ہے دین کے اندر بھی ای الدیانتی (یعنی دین داری میں) بھئی متن میں تو آیا کفائت معتبر ہے دین میں صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں کہ بھئی دین سے دین نہیں مراد بلکہ الدیانتی دین داری مراد ہے (یعنی تقویٰ وغیرہ مراد ہے)۔
ورنہ اصل دین بھئی اصل دین میں تو کفائت ضروری ہے مسلمان عورت کا نکاح مسلمان مرد سے ہی ہو سکتا ہے غیر مسلم سے تو اس کا نکاح ہی نہیں ہو سکتا تو اصل دین میں تو کفائت ہے ہی ضروری اس کی بات اب نہیں کر رہے بلکہ اب کس میں کفائت کی بات کر رہے ہیں؟ دین داری میں ایک نیک ہے متقی آدمی ہے اور گناہوں سے اپنے آپ کو بچاتا ہے اور دوسرا فاسق اور فاجر ہے تو یاد رکھو ان دونوں میں کفائت نہیں ہے لہذا عورت جو ہے وہ نیک متقی اور پارسا ہے یا نیک متقی خاندان سے تعلق رکھتی ہے اور اس نے نکاح ایک ایسے آدمی سے کر لیا جو فاسق و فاجر ہے سب کو پتہ ہے یہ شراب پیتا ہے فاجر آدمی ہے لہذا معلوم ہوا یہاں کفائت نہیں نکاح منعقد ہی نہیں ہوگا تو دین داری میں بھی کفائت معتبر ہے۔
تو کہتے ہیں قال اور امام محمد جامع صغیر میں فرماتے ہیں وتعتبر أيضا فی الدين کہ کفائت معتبر ہے دین کے اندر بھی ای الدیانتی (یعنی دین داری میں اور تقویٰ میں) وهذا قول ابی حنیفة و ابی يوسف رحمہما اللہ اور یہ شیخین رحمہ اللہ کا قول ہے وهو الصحيح (یہی قول صحیح ہے)۔
بھئی دیکھیے دراصل یہاں امام صاحب کے بارے میں دو روایتیں ہیں بھئی یاد رکھو اس مسئلے میں امام ابو یوسف رحمہ اللہ جو ہیں وہ دین داری میں کفائت کا اعتبار کرتے ہیں اور جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دین داری میں کفائت معتبر نہیں ہے کیونکہ دین داری کا تعلق آخرت سے ہے لہذا آخرت کی چیزوں پر دنیا میں حکم نہیں لگایا جا سکتا لیکن امام ابو یوسف رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں؟ دین داری میں بھی کفائت معتبر ہے اب امام صاحب سے اس بارے میں دو روایتیں ہیں ایک روایت سے پتہ چلتا ہے کہ وہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے ساتھ ہیں وہ بھی دین داری میں کفائت کا اعتبار کرتے ہیں اور دوسری روایت سے پتہ چلتا ہے وہ امام محمد رحمہ اللہ کے ساتھ ہیں اور وہ دین داری میں کفائت کا اعتبار نہیں کرتے تو صاحبِ ہدایہ بتا رہے ہیں کہ امام ابو حنیفہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے ساتھ ہیں وهو الصحيح یہی بات صحیح ہے بھئی تو کہتے ہیں یہ شیخین رحمہ اللہ کا قول ہے وهو الصحيح یہی قول صحیح ہے لأنه من أعلى المفاخر اس لیے کیونکہ یہ فخر کرنے والی چیزوں میں سب سے اعلیٰ ہے دین داری اور تقویٰ تو فخر والی چیزوں میں سب سے اعلیٰ ہے ان کوئی خاندان اپنی دین داری پر فخر کرتا ہے کہ اللہ نے انہیں نیک اعمال کی توفیق نصیب فرمائی ہے والمرأة تعیر بفِسق الزوج اور عورت جو ہے تعیر اس کو طعنے دیے جاتے ہیں اس کو عار دلائی جاتی ہے بفِسق الزوج خاوند کے فاسق ہونے کی وجہ سے فوق ما تعیر بضِعَّة نسبه اس سے زیادہ تعیر کہ جو اس کو عار دلائی جاتی ہے طعنے دیے جاتے ہیں بیضعة نسبه اس کے نسب کے گھٹیا ہونے پر۔
زَعَة مصدر ہے بھئی زَعَة یاد رکھنا اور زَعَة اور ضِعَّة ضات کے فتحہ اور کسرہ دونوں کے ساتھ اور اصل میں یہ کیا تھا: وزعُن تھا وزعُن آپ نے پڑھا ہے بھئی وعد یعید وعداً وعدعۃ کہ جو بھی مصدر فَعَل وزن پر آئے اور اس کے فا کی یوا ہو تو پھر واو کو حذف کر کے یہ کسرہ اگلے حرف کو دے دیا جاتا ہے اور آخر میں گول تا ملا دی جاتی ہے تو وعَدْن سے کیا بن گیا عِدَة وَزْنُن سے کیا بن گیا زِنة تو لہذا یہ اصل میں وزعُن تھا پھر واو حذف کر کے ضاد کو زیر دے دی گئی زِعَة ہوا اور اس میں ضاد پر فتحہ بھی جائز ہے اگر اس فعل کا مضارع مفتوح العین ہو وعزَع یزعُ دیکھو مضارع کیا ہے؟ مفتوح العین ہے تو پھر وہاں ضاد پر فتحہ بھی جائز ہے لہذا زَعَة پڑھنا بھی جائز زِعَة پڑھنا بھی جائز اور ضَعَة پڑھنا بھی جائز۔
اب دیکھو بات یہ چل رہی ہے کہ دین داری یہ تو فخر والی چیزوں میں سے سب سے زیادہ ہے تو جیسے کسی عورت کا خاوند اگر گھٹیا خاندان والا ہو تو جیسے اس عورت پر عورتیں اس کو طعنہ دیتی ہیں اسی طرح اگر خاوند فاسق اور فاجر ہے اور گناہ وغیرہ کرتا رہتا ہے تو اس پر تو اس نسب سے بھی بڑھ کر طعنے دیے جاتے ہیں عورت کو تو یہ معنی ہے والمرأة تعیر بفِسق الزوج اور عورت جو ہے اس کو عار دلائی جاتی ہے خاوند کے فاسق ہونے کی وجہ سے فوق ما تعیر بیضعة نسبه اس سے زیادہ وہ جو اس عورت کو عار دلائی جاتی ہے نسب کے گھٹیا ہونے کی وجہ سے وضعة نسبه اس خاوند کے نسب کے گھٹیا ہونے کی وجہ سے جو عار دلائی جاتی ہے اس سے بڑھ کر عار دلائی جاتی ہے خاوند کے فاسق ہونے پر وقال محمد رحمه الله لا يعتبر و امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دین داری میں کفائت معتبر نہیں لأنه من أمور الآخرة اس لیے کیونکہ دین داری اور تقویٰ جو ہے یہ تو آخرت کی چیزوں میں سے ہے فلا تبتبنی أحکام الدنيا عليه لہذا اس پر دنیاوی احکام کی بنیاد نہیں رکھی جائے گی دنیاوی احکام اس پر مبنی نہیں ہوں گے الا اذا كان یُسفَع ویسخَر منه ہاں امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دین داری جو ہے وہ آخرت کے امور میں سے ہے اس پر دنیاوی احکام مرتب نہیں ہوں گے لیکن اگر خاوند ایسا فاسق و فاجر ہے کہ لوگوں میں اس کی عزت ہی نہیں ہے گناہ ایسے کھلے عام کرتا ہے کہ کوئی اس کی عزت نہیں کرتا جہاں جاتا ہے لوگ اس کا مذاق اڑاتے ہیں تھپڑ مارتے ہیں کوئی کچھ کرتے ہیں تو پھر یہاں کفائت کا اعتبار کیا جائے گا معلوم ہوا یہ اس عورت کا کف نہیں ہے بھئی تو کہتے ہیں الا اذا كان یُسفَع ویسخَر منه مگر یہ کہ اس شخص جو ہے جس سے عورت نے نکاح کیا ہے اس کو لوگ اس کے فسق کی وجہ سے یُسفَع اس کو تھپڑ مارے جاتے ہیں ویسخَر منه اور اس سے مذاق کیا جاتا ہے اور یخرج الی الأسواق سکرانا یا وہ نکلتا ہے بازاروں کی طرف نشہ آور چیزیں استعمال کرتا ہے اور اسی طرح نشے کی حالت میں بازار کی طرف نکل جاتا ہے ویلعب به الصبيان اور بچے اس سے کھیلتے ہیں یعنی ہنسی مذاق وغیرہ کرتے ہیں تو پھر یہاں کفائت کا اعتبار کیا جائے گا لأنه مستخف به اس لیے کیونکہ اس طرح کے آدمی کو حقیر سمجھا جاتا ہے مستخف به اس کو حقیر سمجھا جاتا ہے بات سمجھ میں آ گئی آگے دیکھیے قال وتعتبر فی المال اور امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کفائت مال کے اندر بھی معتبر ہے یہ پانچویں چیز آ گئی ایک تو کفائت فی النسب تھی پھر کفائت فی الاسلام پھر کفائت فی الحرية پھر کفائت فی الدين (یعنی دین داری میں) اور اب پانچویں ہے وتعتبر فی المال اور کفائت فی المال بھی معتبر ہے وہو ان يكون مالكاً للمهر والنفقتی اور وہ یہ کہ خاوند جو ہے وہ مالک ہو مہر اور نفقے کا یعنی اتنا مال ہو کہ عورت کا مہر ادا کر سکے اور اتنا مال ہو کہ گھر کا خرچہ چلا سکے عورت کو خرچہ وغیرہ دے سکے تو کہتے ہیں وہو ان يكون مالكاً للمهر والنفقتی اور وہ یہ کہ وہ شخص مالک ہو مہر اور نفقے کا اب کتنے نفقے کا مالک ہو بھئی؟ تو بعض علماء نے لکھا کم از کم اس کے پاس ایک ماہ کا نفقہ ہو بیوی کو خرچہ دینے کے لیے اور بعضوں نے کہا کہ کم از کم چھ ماہ کا نفقہ ہو بعضوں نے ایک سال کا لکھا ہے لیکن عام علماء فرماتے ہیں کہ اگر وہ کاریگر نہیں ہے کاریگر یا پیشے والا آدمی نہیں ہے تو پھر کم از کم ایک ماہ کا خرچہ اس کے پاس ہونا چاہیے اور اگر کاریگر ہے پھر ایک ماہ کا خرچہ بھی ضروری نہیں ہے بس اتنا ہو کہ وہ روزانہ کما سکے اور گھر کا خرچہ چلا سکے تو یہ بھی کافی ہے بھئی تو کہتے ہیں وہو ان يكون مالكاً للمهر والنفقتی کہ وہ شخص مالک ہو مہر اور نفقے کا وهذا هو المعتبر فی ظاهر الروایة اور یہی معتبر ہے ظاہر روایت میں حتی ان من لا یملك هما أو لا یملك أحدهما لا يكون کفاً یہاں تک کہ جو شخص ان دونوں کا مالک نہ ہوا اور لا یملك أحدهما یا دونوں میں سے ایک کا مالک نہیں ہے مہر کے پیسے بھی نہیں اور خرچے کے پیسے بھی نہیں یا خرچہ ہے تو مہر نہیں ہے یا مہر ہے تو نفقہ نہیں ہے تو لا يكون کفاً تو یہ اس عورت کا کف نہیں ہے۔
ترجمہ سمجھ میں آیا حتی ان من لا یملك هما یہاں تک کہ جو شخص ان دونوں (یعنی مہر اور نفقے) کا مالک نہ ہوا اور لا یملك أحدهما یا دونوں میں سے ایک کا مالک نہ ہوا لا يكون کفاً تو یہ کف نہیں ہے لأن المهر بدل البضع فلا بد من إيفائه وبالنفقتی قوام للإزواج ود وامه بھئی بتا رہے ہیں ان دونوں چیزوں کا ہونا کیوں ضروری ہے کہتے ہیں لأن المهر بدل البضع اس لیے کیونکہ مہر جو ہے بدلہ ہے بضعہ (عورت کی شرمگاہ کو کہتے ہیں) کہتے ہیں یہ جو مہر ہے یہ بدلہ ہے اس عورت سے جو صحبت کا مالک بنا ہے اس عورت سے جو نفع اٹھانے کا مالک بنا ہے مہر تو اس کا بدلہ ہے لہذا اس کی ادائیگی تو ضروری ہے لہذا اتنا مال اس کے پاس ہونا چاہیے اور نیز نفقہ نفقے کے ذریعے تو پھر آگے اس جوڑ کا اس شادی کا دوام ہوگا بیوی کو خرچہ وغیرہ جب دیگا تو یہ رشتہ دوام کے ساتھ چلے گا لہذا نفقے کا ہونا بھی ضروری ہے بھئی ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے لأن المهر بدل البضع اس لیے کیونکہ مہر جو ہے وہ بضعہ کا بدل ہے فلا بد من إيفائه لہذا اس کی ادائیگی ضروری ہے وبالنفقتی قوام للإزواج ود وامه اور نفقے کے ذریعے تو اس شادی کے اجزائے ترکیبی ہیں ود وامه اور اس نفقے کے ذریعے اس شادی کا دوام ہے نفقہ دیگا تو شادی دائمی چلتی رہے گی والمراد بالمهر اب مہر کا ذکر آیا اب یہ معنی نہیں ہے کہ اس شخص کے پاس سارا مہر ہونا چاہیے بلکہ اتنی مقدار مہر جو عورت کو پہلی رات میں تحفہ وغیرہ خاوند دیتا ہے تو وہ اتنی مقدار کم از کم اس کے پاس ہونی چاہیے بھئی ہتا کہ اور عورتیں بعد میں اس سے پوچھتی ہیں کہ خاوند نے تمہیں کیا تحفہ دیا تھا تو جتنا متعارف ہو لوگوں میں رائج ہو عام طور پر اس علاقے کے اندر اتنے مہر کا وہ مالک ہونا چاہیے کہتے ہیں والمراد بالمهر قدر ما تعارف تعجيله کہ مہر سے مراد اتنی مقدار ہے کہ جس کی جلدی ادائیگی متعارف ہو لوگوں میں عام اس علاقے میں رائج ہو لأن ما وراءه مؤجل عرفاً اس لیے کیونکہ اس کے علاوہ جو باقی مہر ہوتا ہے وہ مؤجل ہوتا ہے عرفاً (یعنی عام لوگوں کی عادت یہ ہے کہ باقی مہر مؤجل ہوتا ہے وہ عورت عموماً مطالبہ کرتی ہی نہیں ہے وہ جب مطالبہ کرے گی تب ادا کر دیا جائے گا ورنہ وہ مؤجل ہوتا ہے یعنی کسی وقت دیا جاتا ہے بھئی) کہتے ہیں لأن ما وراءه مؤجل عرفاً یعنی اس کے علاوہ جو باقی مہر ہوتا ہے وہ مؤجل ہوتا ہے عرفاً (یعنی عام طور پر اس میں مدت ہوتی ہے عرفاً) وعن أبي يوسف رحمه الله أنه اعتبار القدرة على النفقة دون المهر و امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے ایک روایت یہ بھی ہے کہ انہوں نے نفقے پر قادر ہونے کا اعتبار کیا ہے مہر کا اعتبار ہی نہیں کیا سرے سے وہ کہتے ہیں اس خاوند کے پاس اتنا مال ہو کہ یہ خرچہ چلا سکے عورت کو کھلا پلا سکے کپڑے دے سکے تو بس یہ کفائت ہے مہر کا انہوں نے اعتبار ہی نہیں کیا بھئی وعن أبي يوسف رحمه الله و امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے ایک روایت یہ ہے انه اعتبار القدرة على النفقة دون المهر کہ انہوں نے نفقے پر قدرت کا اعتبار کیا ہے نہ کہ مہر پر لأنہ تجری المساهلة فی المهور مہور جمع ہے مہر کی مساهلة کہتے ہیں سستی کو اور نرمی کو لأنہ تجری المساهلة فی المهور اس لیے کیونکہ مہروں کے اندر جو ہے سستی اور نرمی کی جاتی ہے مہر کے معاملے میں نرمی کی جاتی ہے عورتیں فورا اس کا مطالبہ نہیں کرتی بھئی ویعد المرء قادرا علیه بيسار ابيه اور نیز مرد جو ہے اس کو مہر پر قادر شمار کیا جاتا ہے بيسار ابيه اپنے والد کی مالدار ہونے کی وجہ سے اگر مرد کے پاس خود مال نہ بھی ہو لیکن باپ کے پاس اگر مال موجود ہے تو پھر مرد کو بھی مہر کی ادائیگی پر قادر ہی شمار کیا جاتا ہے بھئی باپ بیٹے کی طرف سے مہر تو ادا کر دیتا ہے لیکن نفقہ ہمیشہ اس کو کھلاتا بھی رہے یہ وہ ادا نہیں کرے گا تو نکاح کروا رہا ہے مہر تو وہ دے دے گا خاوند کے پاس مہر کے پیسے نہیں تو باپ مالدار ہے تو خاوند کو بھی مہر پر قادر ہی شمار کیا جائے گا۔
یہ معنی ہے ویعد المرء قادرا علیه بيسار ابيه اور مرد کو مہر پر قادر ہی شمار کیا جاتا ہے بيسار ابيه اپنے باپ کی مالداری (يسار کہتے ہیں خوشحالی اور مالداری) کی وجہ سے فاما الكفاءة في الغنا فمعتبرة في قول أبي حنيفة ومحمد رحمهما الله این تو تھا اصل مال میں کفائت کہ مہر اور نفقے کے برابر مال ہو ویسے مالدار تو اب دیکھو اب ایک عورت ہے وہ کروڑپتی خاندان سے تعلق رکھتی ہے وہ ایک ایسے شخص سے نکاح کر لیتی ہے جو زیادہ مالدار نہیں ہے تو کیا اس مرد کو اس عورت کا کفؤ سمجھا جائے گا یا نہیں مالداری میں کفائت معتبر ہے یا نہیں تو اب بیان کر رہے ہیں کہتے ہیں فاما الكفاءة في الغنا و باقی مالداری کے اندر جو کفائت ہے فمعتبرة في قول أبي حنيفة ومحمد رحمهما الله তো طرفین رحمہ اللہ کے قول میں یہ بھی معتبر ہے حتی ان الفائقة في اليسار لا يكافئها القادر على المهر والنفقتی یہاں تک کہ وہ عورت جو بلند ہے مالداری میں لا يكافئها القادر على المهر والنفقتی تو اس کا کف نہیں ہے وہ شخص جو قادر ہے مہر اور نفقے پر ایک شخص کے پاس صرف اتنا مال ہے کہ مہر اور نفقہ ادا کر سکتا ہے زائد مال نہیں ہے اور عورت خوب مالدار ہے تو وہ مرد اس عورت کا کف نہیں ہے ہاں اگر دولت ہے اس کے پاس بھی لیکن ان کے مقابلے میں کم ہے پھر کفائت ہے۔
تو یہاں کون سی صورت ذکر ہو رہی ہے عورت کے پاس زیادہ مال ہے اور مرد کے پاس صرف نفقے اور مہر کے برابر مال ہے یہ کفائت نہیں ہے ہاں اگر مرد بھی مالدار ہے لیکن ان کے مقابلے میں کم ہے تو پھر کفائت ہی کفائت ہے بھئی بات سمجھ میں آگئی لأن الناس يتفاخرون بالغنا و يعتیرون بالفقر وجہ اس کی یہ ہے کہ لوگ جو ہیں باہم فخر کرتے ہیں مالداری کے ذریعے ویعتیرون بالفقر اور عار محسوس کرتے ہیں فقر کے ذریعے (یعنی غریبی کے ذریعے)۔
وقال أبو يوسف رحمه الله لا يعتبر و امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مالداری میں کفائت معتبر نہیں لأنہ لا ثبات له اس لیے کیونکہ مال کے اندر دوام نہیں ہے مال ہمیشہ دائمی کسی کے پاس نہیں رہتا اس المالو غاد ورايح اس لیے کیونکہ مال جو ہے صبح انے والا ہے تو شام کو جانے والا ہے (یعنی مال تو آنے جانے والی چیز ہے جیسے اس وقت آپ نے دیکھا یہ دنیا کے اندر کرونا پھیلا بھئی اور اربوں پتی لوگ جو ہیں وہ بالکل کنگال ہو گئے بھئی) تو مال تو آنے جانے والی چیز ہے غادِ غدا یغدو سے ہے غدا یغدو غدُوّاً کا معنی ہے صبح کے وقت نکلنا اور رائِح راح یروح رواحاً سے ہے شام کے وقت نکلنا تو غادِ صبح کے وقت نکلنے والا یعنی دن کے اول حصے میں نکلنے والا رائع کہتے ہیں دن کے آخری حصے میں نکلنے والا تو غادِ صبح کے وقت نکلنے والا یعنی دن کے اول حصے میں نکلنے والا رائع کہتے ہیں دن کے آخری حصے میں نکلنے والا تو غادِ صبح کے وقت نکلنے والا یعنی دن کے اول حصے میں نکلنے والا رائع کہتے ہیں دن کے آخری حصے میں نکلنے والا تو غادِ صبح کے وقت نکلنے والا یعنی دن کے آخری حصے میں نکلنے والا بات سمجھ میں آ گئی آگے دیکھیے بھئی وتعتبر فی الصناعی اور یہ کفائت جو ہے پیشوں کے اندر بھی معتبر ہے صناعی جمع ہے صنعت کی پیشے بھئی جیسے جیسے کوئی موچی ہے کوئی لوہار ہے کوئی سنار ہے وغیرہ مختلف پیشے بھئی۔
تو یہ بھی معتبر ہے کہتے ہیں وتعتبر فی الصناعی اور پیشوں کے اندر بھی کفائت معتبر ہے وهذا عند أبي يوسف ومحمد رحمهما اللہ اور یہ صاحبین رحمہ اللہ کے نزدیک ہے وعن أبي حنيفة رحمه الله في ذلك روايتان اور امام صاحب سے اس بارے میں دو روایتیں ہیں امام صاحب سے دو روایتیں ہیں معلوم ہوا ایک روایت میں ہے کہ پیشوں میں بھی برابری معتبر ہے دوسری روایت میں ہے کہ پیشوں میں برابری معتبر نہیں ہے بھئی وعن أبي يوسف رحمه الله أنہ لا يعتبر کہ پیشوں میں برابری معتبر نہیں الا ان يفهش مگر یہ کہ وہ خوب کثیر ہو جائے یعنی گھٹیا ہونے میں کثیر ہو جائے پیشا گھٹیا ہونے میں (یعنی خوب زیادہ گھٹیا پیشہ ہے) پھر وہ مرد اس عورت کا کف نہیں ہے مثلاً عورت ہے اس کے گھر والے وہ اونچا پیشہ ہے ان کا مثلاً وہ کپڑا بیچنے والے ہیں یا مثلاً وہ سنار ہیں زیورات وغیرہ بناتے ہیں اور جس عورت سے نکاح کیا ہے وہ موچی ہے یا لوہار وغیرہ ہے تو معلوم ہوا یہ اس کا کف نہیں ہے۔
تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ أنه لا يعتبر کہ پیشوں میں کفائت معتبر نہیں الا ان يفحش مگر یہ کہ فرق بہت زیادہ ہو جائے بہت زیادہ گھٹیا پیشہ ہو پھر کفائت کا اعتبار کریں گے مثلاً عورت ہے اس کے گھر والے اونچا پیشہ ہے ان کا مثلاً وہ کپڑا بیچنے والے ہیں یا مثلاً وہ سنار ہیں زیورات وغیرہ بناتے ہیں اور جس عورت سے نکاح کیا ہے وہ موچی ہے یا لوہار وغیرہ ہے تو معلوم ہوا یہ اس کا کف نہیں ہے تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ أنه لا يعتبر کہ پیشوں کے اندر برابری معتبر نہیں الا ان يفحش مگر یہ کہ وہ فرق بہت زیادہ ہو جائے یعنی گھٹیا ہونے میں کثیر ہو جائے پیشا گھٹیا ہونے میں (یعنی خوب زیادہ گھٹیا پیشہ ہے) پھر وہ مرد اس عورت کا کف نہیں ہے مثلاً عورت ہے اس کے گھر والے وہ اونچا پیشہ ہے ان کا مثلاً وہ کپڑا بیچنے والے ہیں یا مثلاً وہ سنار ہیں زیورات وغیرہ بناتے ہیں اور جس عورت سے نکاح کیا ہے وہ موچی ہے یا لوہار وغیرہ ہے تو معلوم ہوا یہ اس کا کف نہیں ہے۔
تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ کہ ان کے نزدیک بھی پیشوں میں کفائت معتبر نہیں ہے الا ان يفحش مگر یہ کہ فرق بہت زیادہ ہو جائے جیسے الحجام والحائك والدباغ حجام کہتے ہیں پچھنے لگانے والا قدیم زمانے میں جو پچھنے لگاتا تھا بھئی وہ جسم پر سینگی وغیرہ لگا کر فاسد خون کو بدن سے نکالتا تھا اس کو حجام کہتے ہیں بھئی یا جیسے آج کل نائی ہے موچی ہے اور اسی طرح یہ جھاڑو دینے والے ہیں مختلف تو یہ سب کیا ہیں ادنا پیشے شمار ہوتے ہیں گھٹیا پیشے شمار ہوتے ہیں الحجام جیسے کہ حجام ہیں یعنی وہ پچھنے لگانے والا والالحائك حائك جلاہے کو کہتے ہیں جو کپڑے بننے کا کام کرتا ہے والدباغ اور جیسے دباغ ہے کھالوں کو دباغت دیتا ہے بھئی جانوروں کی کھال ہے اس کو اتارنے کے بعد دباغت وغیرہ دی جاتی ہے تو اس کو محفوظ کیا جاتا ہے تو یہ سب کم درجے کے پیشے شمار ہوتے ہیں وجہل الإعتبار اعتبار کی وجہ یہ ہے ایک قول تو کیا ہو گیا کہ اس کا اعتبار کیا جائے گا بھئی صاحبین کے نزدیک پیشوں میں بھی کفائت معتبر امام صاحب سے دو روایتیں ہیں امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے بھی ایک روایت یہ ہے کہ پیشوں میں کفائت معتبر نہیں مگر یہ کہ فرق بہت زیادہ ہو جائے اب دونوں کی وجہ ذکر کر رہے ہیں جنہوں نے کہا کہ پیشوں میں کفائت معتبر ہے اس کی کیا وجہ ہے اور جنہوں نے کہا پیشوں میں کفائت معتبر نہیں اس کی کیا وجہ ہے کہتے ہیں وجہل الإعتبار پیشوں کے اندر کفائت کے معتبر ہونے کی وجہ یہ ہے کہ الناس يتفاخرون بشرف الحرف کہ لوگ جو ہیں باہم فخر کرتے ہیں بشرف الحرف (حرف جمع ہے حرفت کی یہ پیشوں کو کہتے ہیں) بشرف الحرف پیشوں کے معزز ہونے پر لوگ فخر کرتے ہیں ويتعارون بداننتها اور وہ عار محسوس کرتے ہیں بداننتها پیشوں کے ادنا اور گھٹیا ہونے پر وجہ القول الاخر اور دوسرے قول کی وجہ کہ یہ معتبر نہیں ہے کہ الحرفة لیست بلازمة وجہ یہ ہے کہ پیشے لازم نہیں ہوتے کسی آدمی کے ساتھ ویيمكن التحول عن الخسيسة الی النفیسة منها اور ممکن ہوتا ہے کہ آدمی پھر جائے گھٹیا پیشے سے اعلیٰ پیشے کی طرف تو گھٹیا سے عمدہ پیشے کی طرف پلٹنا ممکن ہے ایک آدمی ایک پیشہ چھوڑ کر دوسرا پیشہ شروع کر دے گا تو لہذا چونکہ یہ لازم نہیں ہے اس لیے اس میں کفائت معتبر نہیں جبکہ ایک قول کے مطابق کفائت معتبر ہے بھئی چلیے بس کریں بات سمجھ میں آ گئی حل ہو گیا چلیے بس بھئی ہذا هو المرام واللہ أعلم بحقیقة الکلام۔