وَإِذَا تَزَوَّجَ الرَّجُلُ صَغِيرَةً وَكَبِيرَةً فَأَرْضَعَتِ الْكَبِيرَةُ الصَّغِيرَةَ حَرُمَتَا عَلَى الزَّوْجِ، لِأَنَّهُ يَصِيرُ جَامِعًا بَيْنَ الْأُمِّ وَالْبِنْتِ رَضَاعًا، وَذَلِكَ حَرَامٌ كَالْجَمْعِ بَيْنَهُمَا نَسَبًا، ثُمَّ إِنْ لَمْ يَدْخُلْ بِالْكَبِيرَةِ فَلَا مَهْرَ لَهَا لِأَنَّ الْفُرْقَةَ جَاءَتْ مِنْ قِبَلِهَا قَبْلَ الدُّخُولِ بِهَا، وَلِلصَّغِيرَةِ نِصْفُ الْمَهْرِ۔
گزشتہ سبق میں صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ مدتِ رضاعت کے بعد اگر کوئی عورت کسی بچے کو دودھ پلائے تو اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے بھئی، اور نیز یہ جائز نہیں ہے بھئی، اس لیے کیونکہ یہ جو دودھ ہے یہ انسانی جز ہے اور کسی بھی انسانی جز کو بغیر ضرورت کے استعمال کرنا اور اپنے کام میں لانا یہ جائز نہیں ہے بھئی، اور بچے کے اندر چونکہ ضرورت اور حاجت ہے اس لیے وہاں شریعت نے اجازت دی ہے، اس کے علاوہ باقی جگہ اجازت نہیں ہوگی بھئی۔
اور پھر اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا تھا کہ رضاعت کی وجہ سے بھی وہ رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں، البتہ چند ایک کا استثنا کیا تھا انہوں نے، جیسے رضاعی بہن کی ماں۔ نسبی بہن کی ماں وہ تو انسان پر حرام ہے لیکن رضاعی بہن کی ماں اس کے ساتھ تو کوئی رشتہ نہیں، لہٰذا اس کے ساتھ نکاح جائز ہے۔ اور اسی طرح رضاعی بیٹے کی جو بہن ہے اس کے ساتھ نکاح جائز ہے لیکن نسبی بیٹے کی بہن کے ساتھ نکاح جائز نہیں ہے بھئی۔
اور پھر اسی طرح یہ بھی بتلایا کہ رضاعی باپ کی بیوی بھی انسان پر حرام اور اسی طرح رضاعی بیٹے کی بیوی بھی انسان پر حرام ہے، جیسے نسبی باپ کی بیوی حرام اور جیسے نسبی بیٹے کی بیوی انسان پر حرام ہوتی ہے۔ اور پھر یہ بھی بتلایا تھا کہ یہ جو حرمت ہے یہ صرف اس دودھ پلانے والی میں نہیں آئے گی بلکہ وہ جو اس کا خاوند ہے اس کے لیے بھی حرمت آ جائے گی۔ بچے نے عورت کا دودھ پیا تو یہ دودھ پلانے والی اس کی رضاعی ماں بن گئی اور اس کا جو خاوند ہے وہ اس کا رضاعی باپ بن گیا، وجہ یہ کہ وہ خاوند اس دودھ کے اترنے کا سبب ہے۔ وہ خاوند اس دودھ کے اترنے کا سبب ہے بھئی۔
اور پھر صاحبِ ہدایہ نے آپ کو ضابطہ بتلایا کہ جو دو بچے بھی ایک عورت کا دودھ پی لیں ان کا آپس میں نکاح حرام ہو گیا کیونکہ وہ رضاعی بھئی بہن بن گئے بھئی۔
اور پھر مسئلہ ذکر فرمایا کہ اگر عورت کا دودھ نکال کر بچے کو پلایا جائے تو کیا اس سے حرمت ثابت ہوگی؟ تو آپ نے پڑھا کہ اس صورت میں بھی حرمت ثابت ہو جائے گی۔ اور اگر اس دودھ کے ساتھ پانی ملا لیا گیا یا کھانا ملا لیا یا دوا ملا لی یا کوئی اور چیز ملائی تو ان سب کی بھی تفصیل صاحبِ ہدایہ نے بیان فرمائی۔ کہ اگر اس دودھ کے ساتھ پانی ملا دیا گیا تو پھر غالب کو دیکھیں گے، اگر پانی غالب ہے تو پھر دودھ مغلوب ہوا اور مغلوب کو کالعدم شمار کرتے ہیں، مغلوب کو یوں شمار کرتے ہیں جیسے وہ ہے ہی نہیں، وہ ختم ہو چکا ہے۔ تو لہٰذا اگر پانی غالب ہوا پھر تو حرمت ثابت نہیں ہوگی لیکن اگر دودھ پانی کے برابر ہوا یا دودھ غالب ہوا تو اس صورت میں حرمت ثابت ہو جائے گی بھئی۔
اور اسی طرح اگر دودھ کو طعام کے ساتھ ملایا تو امام صاحب فرماتے ہیں کہ تغذی کے اندر اصل طعام ہے اور دودھ جو ملایا گیا وہ اس طعام کے تابع ہو گیا تو وہ مغلوب کی طرح ہو گیا اور مغلوب کا تو کوئی اعتبار نہیں بھئی، جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ اگر دودھ غالب ہو، طعام کے اندر بھی اگر دودھ غالب ہے تو پھر اس صورت کے اندر حرمت آئے گی، وہ پھر اس کا اعتبار کرتے ہیں۔ اور اگر دودھ کے ساتھ دوا ملا کر بچے کو پلائی گئی تو کہتے ہیں اس میں بھی اگر دودھ غالب ہے تو پھر حرمت ثابت ہو جائے گی، کیونکہ دودھ کا غالب ہونا بتلا رہا ہے کہ یہاں اصل مقصود بچے کو دودھ پہنچانا ہے اور دوا اس میں صرف تقویت دینے کے لیے شامل کی گئی ہے تاکہ اچھی طرح دودھ ہضم ہو سکے، تو اصل مقصود دودھ پہنچانا ہی ہے لہٰذا حرمت ثابت ہو جائے گی۔
اور پھر اگر اس عورت کے دودھ کو کسی بکری کے دودھ کے ساتھ ملا کر بچے کو پلایا گیا تو اس کے اندر بھی اسی طرح مسئلہ ہوگا جیسے پانی کے اندر مسئلہ تھا، اگر بکری کا دودھ غالب ہے تو پھر حرمت ثابت نہیں ہوگی اور اگر بکری کا دودھ برابر ہے اس عورت کے دودھ کے یا عورت کا دودھ غالب ہے تو پھر حرمت ثابت ہو جائے گی۔
اور اگر دو عورتوں کا دودھ ملا کر بچے کو پلایا تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہاں پر بھی غالب کا اعتبار کریں گے، کس کا؟ غالب کا اعتبار کریں گے، جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، یہاں دونوں میں حرمت آ جائے گی، چاہے ایک غالب ہو ایک مغلوب ہو لیکن پھر بھی دونوں کے اندر حرمت آ جائے گی، کیونکہ کوئی چیز اپنی جنس میں مل کر وہ فنا نہیں ہوتی، ختم نہیں ہوتی بلکہ وہ بڑھ جاتی ہے۔ اور امام صاحب سے اس بارے میں دو روایتیں ہیں، ایک روایت کے مطابق وہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے ساتھ ہیں اور دوسری روایت کے مطابق وہ امام محمد اور امام زفر رحمہما اللہ کے ساتھ ہیں بھئی۔
اور اسی طرح اگر کسی باکرہ جو ہے، باکرہ کی چھاتی میں دودھ اتر آیا اور اس نے وہ بچے کو پلا دیا تو اس صورت میں بھی حرمت ثابت ہو جائے گی۔
اور پھر یہ مسئلہ ذکر کیا کہ اگر کسی عورت کا انتقال ہو گیا ہے اور پھر اس کے مرنے کے بعد اس کا دودھ نکالا گیا اور وہ بچے کو پلایا گیا تو کیا اس صورت میں حرمت ثابت ہوگی یا نہیں؟ تو عند الاحناف حرمت ثابت ہو جائے گی، جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس صورت میں حرمت ثابت نہیں ہوگی۔ وہ فرماتے ہیں وجہ یہ ہے کہ اس حرمت کے اندر اصل وہ عورت ہے جس نے دودھ پلایا ہے، اصل میں جب کوئی بچہ کسی عورت کا دودھ پیتا ہے تو اصل میں یہ عورت اس پر حرام ہوتی ہے اور پھر اس عورت کے واسطے سے اس عورت کے اصول و فروع اور اس کے خاوند وغیرہ بھی حرام ہو جاتے ہیں، تو حرمت کے اندر اصل یہ عورت ہے، لیکن یہاں پر یہ عورت اب مر چکی ہے، یہ تو محلِ حرمت ہی نہیں رہی، یہاں حرمت ثابت کرنے کا کوئی فائدہ ہی نہیں، تو جب اس عورت کے اندر حرمت نہیں آئے گی تو باقیوں کے اندر بھی حرمت نہیں آئے گی، اور نیز وہ اس کو قیاس کرتے ہیں حرمتِ مصاہرت کے مسئلے پر۔
حرمتِ مصاہرت بھئی، یہ عند الاحناف اگر کوئی شخص کسی عورت سے زنا کر لے تو اس عورت کے اصول و فروع اس مرد پر حرام ہو جاتے ہیں اور اسی طرح اس مرد کے جو اصول اور فروع ہیں وہ اس عورت پر حرام ہو جاتے ہیں اور اس کو حرمتِ مصاہرت کہتے ہیں، مصاہرت کا معنی سسرالی رشتہ اور حرمت کا معنی حرام ہونا، تو دیکھو یہ چونکہ سسرالی رشتے بن گئے لہٰذا اس لیے حرام ہو گئے بھئی۔
آپ نے پڑھا تھا کہ کسی عورت سے انسان جیسے ہی نکاح کرتا ہے اس عورت کی ماں فوراً اس آدمی پر حرام ہو گئی، وہ اس کی ساس بن گئی۔ جبکہ اس عورت کی اگر کوئی بیٹی ہے تو وہ نکاح سے حرام نہیں ہوئی لیکن اگر وہ خاوند اس عورت سے صحبت کر لے گا تو پھر اس کی بیٹی بھی حرام ہو جائے گی۔ تو منکوحہ کی ماں نکاح کرتے ہی حرام ہو جاتی ہے لیکن منکوحہ کی بیٹی صحبت کے بعد حرام ہوتی ہے اس سے پہلے حرام نہیں۔ تو جیسے حلال وطی کی وجہ سے یہ اصول اور فروع حرام ہیں اسی طرح حرام وطی بھی کر لی یعنی زنا کر لیا تو بھی اس عورت کے اصول اور فروع حرام ہو جائیں گے۔
اور اگر کوئی عورت مر گئی ہے اور اس کے ساتھ کوئی شخص صحبت کر لیتا ہے تو پھر یاد رکھو عند الاحناف حرمتِ مصاہرت ثابت نہیں ہوگی، حرمتِ مصاہرت ثابت نہیں ہوگی، تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اے احناف! اگر کوئی عورت مر جائے اور اس کے ساتھ کوئی وطی کر لیتا ہے تو وہاں حرمتِ مصاہرت نہیں آتی اے احناف آپ کے نزدیک، تو یہ عورت جو مر گئی ہے اس کا دودھ جب بچے کو پلائیں تو اس سے بھی حرمت نہیں آنی چاہیے بھئی، تو ہم جواب دیتے ہیں کہ نہیں، یہ دونوں مسئلے ایک دوسرے سے مختلف ہیں، دونوں میں حرمت کا سبب الگ الگ ہے۔ دودھ پلانے کی وجہ سے حرمت اس لیے آتی ہے کہ وہ دودھ بچے کا جز بن جاتا ہے اور یہ دودھ تو کس کا جز تھا؟ عورت کا، تو عورت کا جز بچے کا جز بن گیا، معلوم ہوا یہ بچہ عورت کا جز ہے بھئی۔ یہ بچہ کیا بن گیا؟ کیونکہ اس عورت کا جز بچے کے جسم کا حصہ بن گیا تو یہ بچہ بھی اس کے لیے جز ہو گیا اور اپنا جز تو انسان پر حرام ہوتا ہے اس لیے یہ بچہ بھی اب اس عورت پر حرام ہو گیا، تو یہ عورت جو مر چکی ہے مرنے کے بعد اس کا دودھ نکالا گیا تو اس دودھ میں بھی گوشت اور ہڈیاں بڑھانے کی قوت موجود ہے، لہٰذا یہ بچے کو پلائیں گے تو اس سے اس کے گوشت اور ہڈیاں بنیں گی لہٰذا دیکھو یہاں جزئیت والا شبہ موجود ہے، جز ہونے کا شبہ موجود ہے اس لیے یہاں حرمت آ جائے گی۔
لیکن حرمتِ مصاہرت والے مسئلے میں وہ جو حرمت کا سبب ہے وہ یہ ہے کہ جب کوئی شخص کسی عورت سے صحبت کرتا ہے تو اس کی وجہ سے آگے اولاد پیدا ہوتی ہے اور اولاد خاوند کا بھی جز اور بیوی کا بھی جز، تو اس اولاد کے اندر آ کر میاں بیوی کے جز اکٹھے ہو گئے یعنی میاں بیوی ہی ایک دوسرے کا جز بن گئے۔ میاں بیوی ایک دوسرے کا جز بن گئے تو وہاں پر اس لیے حرمت آتی ہے بھئی، وہاں پر اس لیے حرمت آتی ہے کہ یہ جو وطی ہوتی ہے یہ اولاد تک پہنچانے والی ہے اور اولاد میں آ کر میاں بیوی ایک دوسرے کا جز بن جاتے ہیں، لیکن یہاں پر تو یہ عورت مر چکی ہے بھئی، اس سے تو آگے اولاد ہونے کا کوئی احتمال ہی نہیں، تو یہ جو مردہ عورت کے ساتھ وطی کی ہے معلوم ہوا یہ اولاد تک پہنچانے والی نہیں، جب یہ اولاد تک پہنچانے والی نہیں ہے تو یہاں پر میاں بیوی کے ایک دوسرے کا جز بننے کا شبہ بھی نہیں لہٰذا اس لیے یہاں حرمت نہیں آئے گی بھئی۔
پھر صاحبِ ہدایہ نے مسئلہ ذکر فرمایا کہ اگر کسی بچے کا حقنہ کروایا جائے عورت کے دودھ کے ساتھ، میں نے بتلایا حقنہ اسے کہتے ہیں کہ بعض اوقات کوئی شخص بیمار ہوتا ہے تو پاخانے کے راستے سے اس کے بدن میں دوا داخل کی جاتی ہے اس کو حقنہ کہتے ہیں۔ تو اگر کسی بچے کو حقنہ کروایا گیا عورت کے دودھ کے ساتھ تو کیا اس سے حرمت ثابت ہوگی یا نہیں؟ تو امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے بھی حرمت ثابت ہو جائے گی، وہ اس کو قیاس کرتے ہیں روزے پر۔ روزے کے اندر جب حقنہ کروایا جائے تو اس صورت میں روزہ فاسد ہو جاتا ہے تو یہاں پر بھی دودھ کے ساتھ جب حقنہ کروایا جائے گا تو حرمت ثابت ہو جائے گی، جبکہ ظاہرِ روایت کے مطابق حقنہ کروانے سے حرمت ثابت نہیں ہوگی اور دونوں میں فرق ہے، روزے کے مسئلے میں روزہ اس لیے فاسد ہوا کیونکہ اس حقنے سے بدن کو فائدہ ہوا ہے، بدن کی اصلاح ہوئی ہے اور بدن میں کوئی ایسی چیز داخل ہو جس سے بدن کی اصلاح ہو اس سے روزہ فاسد ہو جاتا ہے، لہٰذا وہاں تو روزہ فاسد ہوا لیکن یہاں پر بدن کے اندر دودھ پہنچنے سے بدن کو غذا حاصل نہیں ہوئی، اس لیے کیونکہ غذا وہ چیز بنتی ہے جو اوپر سے بدن میں داخل ہو، تو یہاں پر تو ایسا نہیں ہے لہٰذا اس لیے حقنے کی صورت میں حرمت ثابت نہیں ہوگی۔
اور پھر آپ کو یہ بھی بتلایا کہ اگر کسی مرد کی چھاتی میں دودھ اتر آیا اور اس نے وہ کسی بچے کو پلایا تو اس سے حرمت ثابت نہیں ہوگی، اس لیے کیونکہ یہ دیکھنے میں دودھ جیسا ہے یہ حقیقت میں دودھ ہے ہی نہیں، کیونکہ دودھ تو اسی کے چھاتی میں اترتا ہے جس سے ولادت کا تصور کیا جا سکے، جو اولاد کو جنم دے سکے اور وہ تو عورت ہے بھئی۔ اور اسی طرح یہ بھی مسئلہ بیان کیا کہ اگر دو بچے کسی ایک بکری یا گائے وغیرہ کا دودھ پی لیں تو اس سے حرمت ثابت نہیں ہوگی، اس لیے کیونکہ انسان اور جانور میں کوئی جزئیت نہیں ہے، بکری کا دودھ پینے سے کوئی بچہ اس کا جز نہیں بنے گا، انسان اور حیوان میں جزئیت کا تعلق نہیں ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟
اب آئیے آج کے سبق پر:
”وَإِذَا تَزَوَّجَ الرَّجُلُ صَغِيرَةً وَكَبِيرَةً فَأَرْضَعَتِ الْكَبِيرَةُ الصَّغِيرَةَ حَرُمَتَا عَلَى الزَّوْجِ“
صورتِ مسئلہ یہ کہ ایک شخص نے ایک کبیرہ سے بھی نکاح کیا ہے اور ایک صغیرہ سے بھی نکاح کر لیا اور وہ صغیرہ جو ہے اس کی عمر دو سال سے کم ہے، اس کی عمر دو سال سے کم ہے لیکن اس کے ولی نے اس آدمی کے ساتھ اس کا نکاح کروا دیا ہے، تو اب یہ دونوں اس کی بیویاں ہیں صغیرہ اور کبیرہ۔ اب اس کبیرہ نے اس صغیرہ کو دودھ پلا دیا تو فقہاء فرماتے ہیں کہ اس صورت میں یہ دونوں عورتیں اس شخص پر حرام ہو گئیں، دودھ پلانے والی بیوی وہ بھی حرام ہو گئی اور وہ صغیرہ بیوی جس نے دودھ پیا وہ بھی حرام ہو گئی۔ توجہ ہے؟ وجہ یہ کہ یہ دونوں بیویاں آپس میں رضاعی ماں بیٹی بن گئیں، رضاعی ماں بیٹی بن گئیں تو یہ شخص اپنے نکاح میں ماں بیٹی کو جمع کرنے والا بن گیا اور جیسے نسبی ماں بیٹی کو نکاح میں جمع کرنا ممنوع ہے اسی طرح رضاعی ماں بیٹی کو بھی نکاح میں جمع کرنا ممنوع ہے تو لہٰذا دونوں حرام ہو جائیں گی۔
بھئی قرآن میں جہاں اللہ تعالیٰ ان عورتوں کا ذکر فرماتے ہیں جن سے نکاح حرام ہے تو وہاں اللہ فرماتے ہیں: ”وَأَنْ تَجْمَعُوا بَيْنَ الْأُخْتَيْنِ“ کہ یہ بھی تم پر حرام ہے کہ تم دو بہنوں کو جمع کرو، معلوم ہوا دو بہنیں بیک وقت ایک شخص کے نکاح میں جمع نہیں ہو سکتیں اور فقہاء فرماتے ہیں کہ یہ صرف بہنوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ وہ دو عورتیں جن میں محرمیت والا رشتہ ہو ان دونوں کو ایک شخص نکاح میں جمع نہیں کر سکتا، وجہ یہ کہ یہ جو محرم ہیں یہ قریبی رشتہ دار ہیں ان میں محبت والا رشتہ ہوتا ہے لیکن جب ایک شخص کے نکاح میں جمع ہوں گی تو یہ آپس میں سوکنیں بن جائیں گی اور سوکنوں میں طبعاً ایک دوسرے سے نفرت ہوتی ہے، لہٰذا اب وہ جو محبت والا رشتہ تھا وہ ختم ہو جائے گا اور نفرت آ جائے گی تو اس لیے شریعت نے منع کر دیا۔ لہٰذا وہ دو عورتیں جن میں محرمیت والا رشتہ ہو ان دونوں کو ایک شخص بیک وقت اپنے نکاح میں جمع نہیں کر سکتا، مثلاً ماں اور بیٹی ہیں، ماں اور بیٹی کیا ہیں؟ محرم ہیں، تو ایک شخص دونوں کو نکاح میں جمع نہیں کر سکتا۔ اسی طرح پھوپھی اور بھتیجی کو کوئی شخص اکٹھا نہیں کر سکتا نکاح میں، یا اسی طرح خالہ اور بھانجی کو کوئی شخص نکاح میں جمع نہیں کر سکتا، بات سمجھ میں آ گئی؟
اور نیز کبیرہ نے صغیرہ کو دودھ پلایا تو کبیرہ اس کی ماں بن گئی، ماں بن گئی، اب ذرا صغیرہ کی طرف سے دیکھیں، یہ صغیرہ اس آدمی کی بیوی ہے اور یہ کبیرہ اس کی کیا بن گئی؟ ماں، یعنی وہ اس آدمی کی ساس بن گئی، یہ خاوند کی کبیرہ جو ہے خاوند کی ساس بن گئی ہے اور آپ جانتے ہیں کہ ساس انسان پر ہمیشہ کے لیے حرام ہوتی ہے، لہٰذا یہ کبیرہ ہمیشہ کے لیے اس خاوند پر حرام ہو گئی۔
اب ذرا کبیرہ کی طرف سے دیکھیں، یہ کبیرہ اس آدمی کی بیوی ہے اور صغیرہ کو دودھ پلایا تو صغیرہ اس کی بیٹی بن گئی، صغیرہ اس کی بیٹی بن گئی، گویا یہ خاوند کی ربیبہ بن گئی، اپنی بیوی کی بیٹی، اپنی بیوی کی بیٹی جو اس خاوند سے نہ ہو وہ اس کی ربیبہ کہلاتی ہے، تو یہ صغیرہ بھی کیا بن گئی؟ ربیبہ بن گئی اور ربیبہ جو ہے وہ تو انسان پر تب حرام ہوتی ہے، وہ تو انسان پر تب حرام ہوتی ہے جب اس کی ماں کے ساتھ خاوند صحبت کر لے، تو لہٰذا فقہاء فرماتے ہیں کہ یہاں اس نے ماں اور بیٹی کو جمع کر لیا نکاح میں اور جیسے نسبی ماں بیٹی کو نکاح میں جمع کرنا حرام تو رضاعی ماں بیٹی کو بھی نکاح میں جمع کرنا حرام، لہٰذا دونوں سے نکاح ٹوٹ گیا۔ لیکن کبیرہ وہ ساس ہو گئی تھی، وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے حرام ہو گئی، اب دوبارہ اس سے نکاح نہیں کر سکتا یہ آدمی، اور جبکہ صغیرہ جو ہے وہ اس کی ربیبہ بن گئی تھی، وہ کیا بن گئی ہے؟ ربیبہ، اور ربیبہ کب حرام ہوتی ہے؟ جب اس کی ماں سے صحبت کر لے، تو اگر یہ آدمی اس کبیرہ سے صحبت کر چکا ہے پھر تو صغیرہ بھی ہمیشہ کے لیے حرام ہو گئی، اب اس سے بھی دوبارہ نکاح نہیں کر سکتا لیکن اگر اس نے ابھی اس کبیرہ سے صحبت نہیں کی تھی اس آدمی نے تو پھر صغیرہ سے دوبارہ نکاح حرام نہیں، اس وقت تو نکاح فسخ ہو گیا لیکن آدمی دوبارہ صغیرہ سے نکاح کر سکتا ہے جبکہ اس نے کبیرہ سے ابھی صحبت نہ کی ہو، مسئلہ اچھی طرح سمجھ میں آ گیا؟
تو کہتے ہیں:
”وَإِذَا تَزَوَّجَ الرَّجُلُ صَغِيرَةً وَكَبِيرَةً“ اور جب کسی آدمی نے نکاح کر لیا ایک صغیرہ اور ایک کبیرہ سے، ”فَأَرْضَعَتِ الْكَبِيرَةُ الصَّغِيرَةَ“ تو دودھ پلایا کبیرہ نے صغیرہ کو، ”حَرُمَتَا عَلَى الزَّوْجِ“ تو یہ دونوں حرام ہو جائیں گی خاوند پر، ”لِأَنَّهُ يَصِيرُ جَامِعًا بَيْنَ الْأُمِّ وَالْبِنْتِ رَضَاعًا“ اس لیے کیونکہ وہ شخص رضاعی ماں بیٹی کو جمع کرنے والا ہو گیا، ”لِأَنَّهُ يَصِيرُ جَامِعًا بَيْنَ الْأُمِّ وَالْبِنْتِ رَضَاعًا“ اس لیے کیونکہ وہ شخص رضاعی ماں بیٹی کو جمع کرنے والا ہو گیا، ”وَذَلِكَ حَرَامٌ“ اور رضاعی ماں بیٹی کو جمع کرنا تو حرام ہے، ”كَالْجَمْعِ بَيْنَهُمَا نَسَبًا“ جیسے کہ نسبی ماں بیٹی کو جمع کرنا حرام ہے۔
”ثُمَّ إِنْ لَمْ يَدْخُلْ بِالْكَبِيرَةِ فَلَا مَهْرَ لَهَا“ اب جدائی تو آ گئی، جدائی آ گئی، اب دیکھیں گے خاوند نے کبیرہ سے صحبت کی تھی یا صحبت نہیں کی تھی؟ اگر صحبت کر چکا ہے کبیرہ سے پھر تو مہر پہلے سے ہی پکا ہو چکا ہے، اب بیشک یہ جدائی کا سبب کبیرہ بنی ہے اس کے دودھ پلانے کی وجہ سے یہ نکاح ٹوٹے ہیں لیکن مہر تو پہلے ہی کا پکا ہو چکا ہے صحبت کی وجہ سے، لہٰذا پورا مہر ملے گا کبیرہ کو۔ لیکن اگر خاوند نے صحبت نہیں کی تھی ابھی کبیرہ سے اور اس نے دودھ پلا دیا صغیرہ کو تو اب اس صورت میں نصف مہر ملتا ہے، لیکن آپ پڑھ چکے ہیں کہ اگر عورت جدائی کا سبب بن جائے صحبت سے پہلے تو نصف مہر بھی اس کو نہیں ملتا، جیسے عورت کوئی مرتدہ ہو جائے صحبت سے پہلے تو اس کو نصف مہر بھی نہیں ملتا یا کوئی عورت مطاوعت کر لے یعنی خاوند کے بیٹے سے غلط تعلق قائم کر لے، خاوند کے بیٹے سے غلط تعلق قائم کر لیا تو لہٰذا یہ عورت بھی خاوند پر ہمیشہ کے لیے حرام ہو گئی اور یہ جدائی کا سبب اس عورت کی طرف سے آیا ہے، لہٰذا اگر صحبت کر چکا تھا اس سے پھر تو پورا مہر ہی دینا پڑے گا کیونکہ صحبت سے مہر پکا ہو جاتا ہے، لیکن اگر یہ مطاوعت کرنے والی عورت سے اس نے صحبت نہیں کی تھی تو پھر اس صورت میں نصف مہر ملتا ہے لیکن یہ تو عورت یہاں جدائی کا سبب بنی ہے اس کی وجہ سے جدائی آئی ہے لہٰذا اس کو نصف مہر بھی نہیں ملے گا۔
تو یہاں پر بھی اسی طرح ہے، یہاں پر یہ جو کبیرہ ہے اگر اس کے ساتھ صحبت کر چکا تھا خاوند پھر تو پورا مہر ملے گا لیکن اگر صحبت نہیں کی تو پھر اس کو نصف مہر بھی نہیں ملے گا کیونکہ یہ جدائی کا سبب بنی ہے، اس کی طرف سے جدائی آئی ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔
تو کہتے ہیں:
”ثُمَّ إِنْ لَمْ يَدْخُلْ بِالْكَبِيرَةِ فَلَا مَهْرَ لَهَا“ پھر اگر خاوند نے اس کبیرہ سے صحبت نہیں کی تو پھر اس کے لیے کوئی مہر نہیں ہے، ”لِأَنَّ الْفُرْقَةَ جَاءَتْ مِنْ قِبَلِهَا قَبْلَ الدُّخُولِ بِهَا“ اس لیے کیونکہ جدائی جو ہے وہ اس کبیرہ کی جانب سے آئی ہے اس کے ساتھ صحبت کرنے سے پہلے، ”وَلِلصَّغِيرَةِ نِصْفُ الْمَهْرِ“ ہاں صغیرہ کو نصف مہر ملے گا کیونکہ صغیرہ اس کی بیوی تھی اور صحبت سے پہلے جدائی آ گئی اور صحبت سے پہلے جدائی آ جائے تو نصف مہر ملتا ہے تو صغیرہ کو ملے گا۔
تو کہتے ہیں:
”وَلِلصَّغِيرَةِ نِصْفُ الْمَهْرِ“ اور صغیرہ کے لیے نصف مہر ہوگا، ”لِأَنَّ الْفُرْقَةَ وَقَعَتْ لَا مِنْ جِهَتِهَا“ اس لیے کیونکہ یہ جدائی واقع ہوئی ہے ”لَا مِنْ جِهَتِهَا“ اس صغیرہ کی طرف سے نہیں، یہ جدائی صغیرہ کی طرف سے واقع نہیں ہوئی۔
”وَالِارْتِضَاعُ وَإِنْ كَانَ فِعْلًا مِنْهَا لَكِنَّ فِعْلَهَا غَيْرُ مُعْتَبَرٍ فِي إِسْقَاطِ حَقِّهَا“ یہ ایک سوال کا جواب دے رہے ہیں کہ آپ نے کہا کہ اس جدائی میں صغیرہ کا کوئی دخل نہیں۔ تو معترض کہتا ہے نہیں صغیرہ کا بھی دخل ہے، اس نے دودھ پیا ہے، اگر وہ دودھ نہ پیتی تو جدائی بھی نہ آتی تو صغیرہ کے بھی عمل کا دخل آ گیا۔ تو اس کا جواب دے رہے ہیں صاحبِ ہدایہ کہ بھئی صغیرہ تو نابالغہ ہے اس کو تو پتہ ہی نہیں کسی چیز کا، صغیرہ تو نابالغہ ہے اس کو تو کسی چیز کا پتہ ہی نہیں، صغیرہ جو ہے وہ تو نابالغہ ہے اور نابالغ کے فعل کا شریعت میں کوئی اعتبار نہیں ہوتا۔ تو یہاں تو صغیرہ ہے اس کو تو سمجھ ہی نہیں ہے، دو سال سے بھی کم عمر ہے اور ویسے بھی نابالغ کے فعل کا شریعت میں کوئی اعتبار نہیں لہٰذا اس کے دودھ پینے کا کوئی اعتبار نہیں کیا جائے گا، لہٰذا اس کو نصف مہر ملے گا۔
تو کہتے ہیں:
”وَالِارْتِضَاعُ وَإِنْ كَانَ فِعْلًا مِنْهَا“ اور دودھ پینا، ارتضاع کا کیا معنی؟ دودھ پینا، ”وَالِارْتِضَاعُ وَإِنْ كَانَ فِعْلًا مِنْهَا“ اور دودھ پینا اگرچہ وہ اس صغیرہ کا فعل ہے، ”لَكِنَّ فِعْلَهَا غَيْرُ مُعْتَبَرٍ فِي إِسْقَاطِ حَقِّهَا“ لیکن اس صغیرہ کا فعل معتبر نہیں ہے ”فِي إِسْقَاطِ حَقِّهَا“ اس کا حق ساقط کرنے میں، اس کے فعل کی وجہ سے اس کا حق ساقط نہیں ہوگا، ”كَمَا إِذَا قَتَلَتْ مُورِثَهَا“ جیسے یہ صغیرہ اپنے مورث کو قتل کر دے۔
بھئی یاد رکھو آپ نے علمِ میراث میں پڑھا ہوگا کہ اگر کوئی وارث اپنے مورث کو قتل کر دے تو اس کو مالِ وراثت نہیں ملے گا بھئی، مثلاً بیٹا اپنے باپ کو قتل کر دیتا ہے تو اب بیٹا اس کا وارث نہیں بنے گا اسے کوئی مال نہیں دیا جائے گا بھئی، وجہ یہ کہ دلوں میں بدگمانی آتی ہے کہ شاید وارث نے اسی وجہ سے مورث کو قتل کیا تھا تاکہ جلدی سے مجھے مالِ وراثت مل جائے، تو لہٰذا شریعت پھر اس وارث کو پورے طور پر ہی وراثت سے محروم کر دیتی ہے اس کو وراثت میں سے کوئی حصہ نہیں ملتا۔ لیکن یاد رکھو اگر وہ جو قاتل ہے وہ جو وارث ہے وہ نابالغ ہے، نابالغ بچہ ہے اس نے اپنے مورث کو قتل کر دیا ہے تو پھر اس صورت میں اس کو حصہ ملے گا بھئی۔ معلوم ہوا نابالغ کے فعل کا شریعت نے اعتبار نہیں کیا، اس نابالغ کے قتل کی وجہ سے وراثت میں سے اس کا حصہ ساقط نہیں ہوا۔
جی تو صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں:
”وَالِارْتِضَاعُ وَإِنْ كَانَ فِعْلًا مِنْهَا“ کہ دودھ پینا اگرچہ ایک صغیرہ کا فعل ہے، ”لَكِنَّ فِعْلَهَا غَيْرُ مُعْتَبَرٍ فِي إِسْقَاطِ حَقِّهَا“ لیکن اس صغیرہ کا فعل جو ہے وہ اس کا حق ساقط کرنے میں معتبر نہیں، ”كَمَا إِذَا قَتَلَتْ مُورِثَهَا“ جیسے یہ اپنے مورث کو قتل کر دے، صغیرہ اپنے مورث کو قتل کر دے تو بھی اس کا حق ساقط نہیں ہوگا، اسے وراثت میں پورا پورا حصہ ملے گا۔ تو دیکھو ”كَمَا إِذَا قَتَلَتْ مُورِثَهَا“ جیسے کہ یہ صغیرہ اپنے مورث کو قتل کر دے، یہ تو صغیرہ دو سال کی ہے مثلاً کوئی اور صغیرہ ہے نابالغہ ہے ابھی بالغ نہیں ہوئی لیکن اس سے پہلے اس نے کیا کر دیا؟ اپنے مورث کو قتل کر دیا تو وہ اس کا حق وراثت میں ساقط نہیں ہوگا۔
آگے دیکھیے:
”وَيَرْجِعُ بِهِ الزَّوْجُ عَلَى الْكَبِيرَةِ إِنْ كَانَتْ تَعَمَّدَتْ بِهِ الْفَسَادَ، وَإِنْ لَمْ تَتَعَمَّدْ فَلَا شَيْءَ عَلَيْهَا وَإِنْ عَلِمَتْ بِأَنَّ الصَّغِيرَةَ امْرَأَتُهُ“
تو آپ نے مسئلہ پڑھ لیا کہ کبیرہ سے اگر صحبت نہیں کی تو اسے تو کوئی مہر نہیں ملے گا لیکن صغیرہ کو نصف مہر ملے گا اور یہ نصف مہر جو خاوند پر آیا ہے یہ کبیرہ کی وجہ سے آیا ہے، کبیرہ دودھ نہ پلاتی تو خاوند کو یہ نصف مہر بھی ادا نہ کرنا پڑتا۔ توجہ ہے؟ تو یہ نصف مہر جو ہے خاوند پر کبیرہ کی وجہ سے آیا ہے تو خاوند کیا اس نصف مہر کا ضمان کبیرہ سے وصول کرے گا؟ کیا وہ صغیرہ کو ادائیگی کرنے کے بعد پھر کبیرہ پر رجوع کرے گا، اس سے یہ نصف مہر وصول کرے گا کہ تمہاری وجہ سے میرا یہ نقصان ہوا ہے لہٰذا تم مجھے یہ نصف مہر ادا کرو؟
تو ہمارے فقہاء فرماتے ہیں یاد رکھو اس میں ضابطہ یاد رکھیں، ایک ہوتا ہے مباشر اور ایک ہوتا ہے مسبب۔ مباشر کا معنی ہے کوئی فعل سرانجام دینے والا اور مسبب کا معنی ہے جو فعل کا سبب بنا ہے، فعل سرانجام نہیں دیا اس نے وہ ایک فعل کا سبب بنا ہے۔ تو مباشر کسے کہتے ہیں؟ سرانجام دینے والا، اور مسبب؟ جو سبب بنتا ہے، تو مباشر اور ہوتا ہے، مسبب اور ہوتا ہے۔ اور تعدی کا معنی بھی سمجھ لیں، تعدی کا معنی ہے کسی کے ساتھ زیادتی کرنا، کسی کے ساتھ ظلم کرنا، یہ کیا ہے؟ تعدی ہے بھئی، توجہ ہے؟
اب یاد رکھو، یاد رکھو ضابطہ یہ ہے کہ اگر کوئی شخص آپ کی کوئی چیز تلف کر دے، کوئی چیز آپ کی ضائع کر دے تو اگر وہ مباشر تھا تو پھر اس میں ضمان آئے گا، اس میں یہ نہیں دیکھا جائے گا کہ اس نے نقصان کا ارادہ کیا تھا یا نقصان کا ارادہ نہیں کیا تھا، مباشر کے اندر تعدی اور غیر تعدی کو نہیں دیکھا جائے گا کہ اس نے زیادتی کی ہے یا زیادتی نہیں کی۔ مثلاً دیکھو ایک آدمی کی گاڑی کھڑی ہے اور دوسرا آدمی گاڑی چلاتا ہوا آیا اور اس نے سیدھی اس کی گاڑی میں اپنی گاڑی مار دی، اب دیکھو یہ جو شخص ہے اس نے دوسرے کی گاڑی تباہ کر دی اور یہ جو گاڑی چلانے والا ہے یہ جو اس نے گاڑی کو نقصان پہنچایا ہے وہ اس کا مباشر ہے۔ وہ کیا ہے؟ مباشر ہے۔ یہ نقصان اس آدمی نے کیا ہے، یہ نقصان والا فعل اس نے خود سرانجام دیا ہے تو یہ کیا ہوا؟ مباشر۔ تو جو شخص کسی کو نقصان پہنچائے اور وہ مباشر ہے وہ اس نقصان کو سرانجام دینے والا ہے، یہ کام اس نے خود کیا ہے تو پھر وہاں یہ نہیں دیکھیں گے کہ اس کا ارادہ تعدی کا تھا یا ارادہ تعدی کا نہیں تھا، بس اس نے نقصان پہنچایا ہے تو اب یہ نقصان اس کو بھرنا پڑے گا بھئی، لہٰذا اس سے یہ نقصان وصول کیا جائے گا۔
لیکن اگر ایک شخص کے فعل سے کسی کو نقصان پہنچے لیکن وہ اس فعل کو سرانجام دینے والا نہیں بلکہ صرف مسبب ہے، وہ صرف سبب بنا ہے تو پھر دیکھیں گے کہ اس کا تعدی کا ارادہ تھا یا تعدی کا ارادہ نہیں؟ اگر اس کا تعدی کا ہی ارادہ تھا تو پھر اس صورت میں اس پر ضمان آئے گا اور اگر تعدی کا ارادہ نہیں تھا تو پھر اس صورت میں اس پر ضمان نہیں آئے گا۔ مثلاً ایک شخص کے پاس پنجرے میں قیمتی پرندہ موجود ہے، دوسرا شخص آیا اور اس نے پنجرے کا دروازہ کھولا اور وہ پرندہ اڑ گیا، اب دیکھو یہ شخص جو ہے یہ مباشر نہیں ہے، اس نے کوئی پرندے کو نکال کر نہیں اڑایا، اس نے صرف پنجرے کا دروازہ کھولا ہے، یہ سبب بنا ہے پرندے کے اڑنے کا، تو یہ شخص یہ جو پنجرے کا دروازہ کھولنے والا ہے یہ مسبب ہے اس نقصان کا مباشر نہیں۔ مباشر کب ہوتا؟ اگر خود اپنے ہاتھ سے پرندہ نکال کر اس کو باہر ہوا میں اڑا دیتا لیکن یہاں تو یہ صرف مسبب ہے بھئی، پنجرے کا دروازہ تو ویسے بھی کھولا جاتا ہے ضرورت وغیرہ کی وجہ سے، کوئی چیز پنجرے میں رکھنی ہے، کوئی چیز نکالنی ہے، تو پنجرے کا دروازہ کھولنا یہ سبب بنا اس پرندے کے اڑنے کا لہٰذا یہ پنجرے کا دروازہ کھولنے والا شخص مسبب ہے۔
اور مسبب پر ضمان آئے گا کہ نہیں؟ میں نے ضابطہ بتلا دیا کہ اس کے اندر تعدی کو دیکھا جائے گا یعنی اگر اس کا ارادہ نقصان کا تھا تو پھر تو اس پر ضمان آئے گا اگر اس کا ارادہ نقصان کا نہیں تھا تو پھر اس پر ضمان نہیں آئے گا۔ اگر اس کا ارادہ یہ تھا کہ میں دروازہ کھولوں تاکہ یہ پرندہ اڑ جائے تو پھر اس پر ضمان آئے گا اور اگر اس کا یہ ارادہ نہیں تھا وہ تو پنجرے میں پانی رکھنا چاہ رہا تھا اور اس دوران پرندہ اڑ گیا معلوم ہوا اس کا تعدی کا ارادہ نہیں تھا لہٰذا اس پر ضمان نہیں آئے گا۔ تو جو مباشر ہوتا ہے اس کے ارادے کو نہیں دیکھا جاتا کہ نقصان کا ارادہ اس نے کیا تھا یا نہیں کیا، اس نے نقصان تو پہنچایا ہے لہٰذا اس پر تو ہر حال میں ضمان آئے گا، لیکن مسبب پر ضمان کب آئے گا؟ جب اس نے نقصان کا ارادہ کیا ہو۔
یا اسی طرح دوسری مثال لے لیں، ایک شخص ہے اس نے اصطبل کا دروازہ کھول دیا اور ایک گھوڑا نکل کر بھاگ گیا، گھوڑا نکل کر بھاگ گیا اور جنگل میں غائب ہو گیا تو اب دیکھو اس شخص کی وجہ سے مالک کا نقصان ہو گیا، ایک گھوڑا اس کے ہاتھ سے نکل گیا تو کیا اس پر ضمان آئے گا یا نہیں؟ تو علماء فقہاء فرماتے ہیں کہ یہ جو دروازہ کھولنے والا ہے یہ مسبب ہے مباشر نہیں، اس نے کوئی گھوڑے کو نکال کر نہیں بھگایا، اس نے تو صرف اصطبل کا دروازہ کھولا ہے اور اصطبل کا دروازہ تو ویسے بھی کبھی کھولا جاتا ہے کوئی چیز اصطبل کے گھوڑے کے لیے چارہ یا پانی وغیرہ کا انتظام کرنا ہے تو اصطبل کا دروازہ کھولنا پڑتا ہے، تو لہٰذا یہ شخص مسبب ہے مباشر نہیں، جب مسبب ہے تو پھر اس کے اندر اس کے ارادے کو دیکھا جائے گا اگر اس نے نقصان کا ارادہ کیا تھا تو پھر یعنی اس نے تعدی کی ہے، زیادتی اور ظلم کیا ہے تو پھر اس صورت میں اس پر ضمان آئے گا اور اگر اس کا نقصان کا ارادہ نہیں تھا تو پھر تعدی نہیں پائی گئی لہٰذا، لہٰذا ضمان نہیں آئے گا۔
اسی طرح ایک غلام ہے وہ بھاگ جاتا ہے تو بھگوڑا غلام ہے اور یاد رکھو یہ جو بھاگنا ہے یہ غلام میں عیب شمار ہوتا ہے۔ تو ایک شخص کا ایک بھگوڑا غلام ہے اس کو کسی طرح پکڑ کر لے آئے اب اس شخص نے اس کو باندھا ہوا ہے، زنجیر کے ساتھ باندھا ہوا ہے کام وغیرہ تو کرے لیکن بھاگ نہ سکے، اب دوسرا شخص آیا اس نے اس کی زنجیر کھول دی اور یہ غلام پھر بھاگ گیا تو اس صورت میں بھی فقہاء فرماتے ہیں کہ یہ مسبب ہے مباشر نہیں۔ زنجیر تو ویسے بھی کبھی کھول دی جاتی ہے کسی ضرورت وغیرہ کی وجہ سے تو یہ تو صرف مسبب ہے غلام تو اپنی مرضی سے بھاگا ہے بھئی، لہٰذا اب یہاں یہ دیکھیں گے یہ زنجیر کھولنے والے نے نقصان کا ارادہ کیا تھا یا نقصان کا ارادہ نہیں کیا؟ اگر اس نے نقصان کا ارادہ کیا ہے تو تعدی پائی گئی، زیادتی پائی گئی لہٰذا اب اس پر ضمان آئے گا اور اگر اس کا نقصان کا ارادہ نہیں تھا تو تعدی نہیں پائی گئی لہٰذا اس پر ضمان بھی نہیں آئے گا۔
تو حاصلِ کلام کیا؟ کہ مباشر جو ہے وہ اس پر ضمان آتا ہے اس میں تعدی اور غیر تعدی کو نہیں دیکھا جاتا، جس نے آپ کو نقصان پہنچایا ہے براہِ راست ایک فعل کیا ہے مثلاً گاڑی آپ کی گاڑی میں لا کر مار دی اور آپ کا نقصان ہو گیا تو یہ شخص مباشر ہے تو پھر اس پر ضمان آئے گا اس میں یہ نہیں دیکھا جائے گا کہ تعدی ہے یا تعدی نہیں یعنی اس کا ارادہ تھا یا اس کا ارادہ نہیں تھا، لیکن مسبب کے اندر تعدی کو دیکھا جائے گا، اگر تعدی ہے یعنی اس نے ارادہ کیا تھا پھر ضمان آئے گا اگر تعدی نہیں یعنی اس نے نقصان کا ارادہ نہیں کیا پھر اس پر ضمان بھی نہیں آئے گا۔
تو یہاں پر بھی کبیرہ نے صغیرہ کو دودھ پلایا ہے تو فقہاء فرماتے ہیں کہ یہ کبیرہ مسبب ہے مباشر نہیں، یہ جو نکاح دونوں کے فاسد ہو گئے تو یہ یہ کبیرہ یہ مسبب ہے مباشر نہیں ہے اور جب مسبب ہے تو پھر اس کے اندر دیکھا جائے گا کہ اس نے فساد کا ارادہ کیا تھا یا نہیں؟ اگر اس نے فساد کا ارادہ کیا تھا پھر اس پر ضمان آئے گا یعنی جو یہ جو صغیرہ کو نصف مہر دینا پڑا یہ جو خاوند کو صغیرہ کو نصف مہر دینا پڑا یہ نصف مہر پھر اس سے وصول کیا جائے گا اس کبیرہ سے اگر اس نے تعدی کا ارادہ کیا تھا۔
تو اگر اس نے تعدی کا ارادہ کیا تھا مثلاً، مثلاً اس کبیرہ کو بھی پتہ ہے کہ یہ صغیرہ اس کی بیوی ہے اور نیز کبیرہ کو مسئلے کا بھی پتہ تھا مثلاً اس نے ہدایہ پڑھی ہوئی ہے اس کو پتہ تھا کہ اگر میں اس صغیرہ کو دودھ پلاؤں گی تو دونوں کا نکاح فاسد ہو جائے گا، دونوں کا نکاح فاسد ہو جائے گا، تو اس نے جان بوجھ کر اس صغیرہ کو دودھ پلایا کہ تم میرے اوپر سوکن کو لے کر آتے ہو، اس نے صغیرہ کو دودھ پلایا تاکہ دونوں ہی نکاح فاسد ہو جائیں، توجہ ہے؟ معلوم ہوا اس نے تعدی کا ارادہ کیا ہے پھر تو یہ نصف مہر اس کبیرہ سے وصول کیا جائے گا۔
اور اگر کبیرہ نے نقصان کا ارادہ نہیں کیا، مثلاً اس کو نکاح کا پتہ ہی نہیں تھا کہ یہ صغیرہ اس کی منکوحہ ہے اور یہ صغیرہ بھوک وغیرہ کی وجہ سے بہت زیادہ رو رہی تھی تو اس نے دودھ پلا دیا، تو اب اس کو تو نکاح کا ہی پتہ نہیں تھا تو یہ کیسے فساد کا ارادہ کر سکتی ہے بھئی؟ یا دوسری صورت یہ ہے اس کو کبیرہ کو یہ تو پتہ ہے کہ یہ صغیرہ اس آدمی کی بیوی ہے اس کے ساتھ بھی اس نے نکاح کر لیا ہے لیکن اس کو مسئلے کا پتہ نہیں تھا کہ دودھ پلانے سے یہ ہم دونوں کا نکاح فاسد ہو جائے گا تو اس صورت میں بھی تعدی نہیں پائی جائے گی، اگر اسے نکاح کا پتہ نہیں ہے اور دودھ پلایا پھر بھی تعدی نہیں اور اگر اسے مسئلے کا پتہ نہیں اور دودھ پلایا ہے پھر بھی تعدی نہیں، کیونکہ تعدی تبھی ہو سکتی ہے جب کبیرہ کو نکاح کا بھی پتہ ہو اور کبیرہ کو یہ بھی پتہ ہو کہ دودھ پلانے سے نکاح فاسد ہو جائے گا پھر اس کے بعد اگر اس نے جان بوجھ کر فساد کی نیت سے دودھ پلایا ہے پھر نکاح فاسد ہوگا۔
اور اگر اس کو نکاح کا بھی پتہ ہے اور اس کو مسئلے کا بھی پتہ ہے لیکن صغیرہ کی ہلاکت کے خوف سے اس نے اس کو دودھ پلا دیا، صغیرہ کو کوئی دودھ پلانے والی عورت نہیں ہے اور اب اس کی ہلاکت کا خطرہ ہے تو مجبور ہو کر اس کبیرہ نے اس کو دودھ پلا دیا تو پھر اس صورت میں بھی اس کی طرف سے کوئی زیادتی اور تعدی نہیں پائی گئی، کیونکہ یہ تو شریعت کا حکم ہے کہ دوسروں کی جان بچائی جائے بھئی، یہ تو شریعت کا حکم ہے، شریعت نے ہمیں دوسروں کی جان بچانے کا حکم دیا ہے، تو اگر اس کو نکاح کا بھی پتہ ہے، اس کو مسئلے کا بھی پتہ ہے لیکن صغیرہ کی ہلاکت کے خوف سے اس نے دودھ پلایا ہے تو اس صورت کے اندر بھی کوئی تعدی نہیں پائی گئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ مسئلہ سمجھ میں آ گیا۔
تو یہ ظاہرِ روایت میں مباشر اور مسبب میں فرق کیا جائے گا جبکہ امام محمد رحمہ اللہ سے ایک روایت ہے کہ مباشر اور مسبب میں فرق نہیں کیا جائے گا، ان کے نزدیک دونوں برابر ہیں، وہ مباشر اور مسبب میں کوئی فرق نہیں کرتے، وہ فرماتے ہیں جیسے مباشر پر ہر صورت میں ضمان آئے گا اسی طرح مسبب پر بھی ہر صورت میں ضمان آئے گا چاہے اس نے ارادہ کیا ہو نقصان کا چاہے نہ کیا ہو، لہٰذا ان کے نزدیک کبیرہ کو یہ ضمان دینا پڑے گا، یعنی یہ نصف مہر جو خاوند نے صغیرہ کو ادا کیا ہے یہ کبیرہ کو اب ادا کرنا پڑے گا، خاوند اس پر رجوع کر سکتا ہے۔
دیکھیے بھئی کہتے ہیں:
”وَيَرْجِعُ بِهِ الزَّوْجُ عَلَى الْكَبِيرَةِ“ اور یہ جو صغیرہ کو نصف مہر خاوند نے دیا تھا اس نصف مہر کے ساتھ خاوند رجوع کرے گا ”عَلَى الْكَبِيرَةِ“ کبیرہ پر، ”إِنْ كَانَتْ تَعَمَّدَتْ بِهِ الْفَسَادَ“ اگر اس کبیرہ نے اس دودھ پلانے کے ذریعے فساد کا ارادہ کیا تھا، ”وَإِنْ لَمْ تَتَعَمَّدْ فَلَا شَيْءَ عَلَيْهَا“ اور اگر کبیرہ نے فساد کا ارادہ نہیں کیا تو اس پر کوئی چیز نہیں ہے، ”وَإِنْ عَلِمَتْ بِأَنَّ الصَّغِيرَةَ امْرَأَتُهُ“ اگرچہ اس کبیرہ کو یہ پتہ ہو کہ صغیرہ اس آدمی کی بیوی ہے، جب اس نے فساد کا ارادہ نہیں کیا تو پھر اس پر کوئی ضمان نہیں ہے بھئی۔
”وَعَنْ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور امام محمد رحمہ اللہ سے روایت ہے ”أَنَّهُ يَرْجِعُ فِي الْوَجْهَيْنِ“ کہ خاوند رجوع کرے گا دونوں صورتوں میں، چاہے کبیرہ نے فساد کا ارادہ کیا ہے چاہے فساد کا ارادہ نہیں کیا دونوں صورتوں میں رجوع کرے گا، کیونکہ ان کے نزدیک مسبب بھی مباشر کی طرح ہے، جیسے مباشر پر ہر حال میں ضمان آتا ہے اسی طرح مسبب پر بھی ہر حال میں ضمان آئے گا۔ تو کہتے ہیں:
”وَعَنْ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى أَنَّهُ يَرْجِعُ فِي الْوَجْهَيْنِ“ اور امام محمد رحمہ اللہ سے ایک روایت یہ ہے کہ خاوند رجوع کرے گا دونوں صورتوں میں یعنی چاہے کبیرہ نے فساد کا ارادہ کیا ہے چاہے فساد کا ارادہ نہیں کیا۔
”وَالصَّحِيحُ ظَاهِرُ الرِّوَايَةِ“ صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں کہ صحیح وہ ہے جو ظاہرِ روایت ہے کہ صحیح جو ہے وہ ظاہرِ روایت جو متن میں آ گیا کہ اگر اس نے فساد کا ارادہ کیا تھا پھر اس کبیرہ پر ضمان آئے گا ویسے ضمان نہیں آئے گا۔
تو کہتے ہیں:
”وَالصَّحِيحُ ظَاهِرُ الرِّوَايَةِ“ اور صحیح جو ہے وہ ظاہرِ روایت ہے، ”لِأَنَّهَا وَإِنْ أَكَّدَتْ مَا كَانَ عَلَى شَرَفِ السُّقُوطِ، وَهُوَ نِصْفُ الْمَهْرِ، وَذَلِكَ يَجْرِي مَجْرَى الْإِتْلَافِ، لَكِنَّهَا مُسَبِّبَةٌ فِيهِ“
”لِأَنَّهَا وَإِنْ أَكَّدَتْ مَا كَانَ عَلَى شَرَفِ السُّقُوطِ“ اس لیے کیونکہ اس لیے کیونکہ کبیرہ جو ہے ”وَإِنْ أَكَّدَتْ“ اگرچہ اس نے پکا کر دیا ہے ”مَا كَانَ عَلَى شَرَفِ السُّقُوطِ“ اس چیز کو یعنی اس نصف مہر کو جو سقوط کے قریب تھا، شرف کا معنی قریب ہونا۔ بھئی دیکھو خاوند کو نصف مہر ادا کرنا پڑا صغیرہ کو لیکن یہ جو صغیرہ کے لیے خاوند پر نصف مہر واجب ہوا اور خاوند کو ادا کرنا پڑا یہ بھی خاوند پر کوئی لازم ابھی نہیں ہوا تھا، اس کے بھی ساقط ہونے کا احتمال تھا کس طرح؟ کہ مثلاً صغیرہ بڑی ہو گئی اور پھر بڑے ہو کر یہ مرتد ہو گئی تو دیکھو جب عورت مرتد ہو جائے صحبت سے پہلے تو اس کو نصف مہر بھی نہیں ملتا، تو دیکھو یہ صغیرہ کے ارتداد کی صورت میں یہ نصف مہر بھی خاوند سے ساقط ہو سکتا تھا۔ یا یہ صغیرہ بڑی ہوئی اور بڑی ہونے کے بعد اس نے خاوند کے بیٹے کے ساتھ غلط تعلق قائم کر لیا، تو یہ جو مطاوعت ہے خاوند کے بیٹے کا ساتھ دیا تو اس مطاوعت کی صورت میں بھی دیکھو صحبت سے پہلے جدائی آ جائے تو عورت کو عورت کو نصف مہر نہیں ملتا کیونکہ جدائی اس کی طرف سے آئی ہے، تو معلوم ہوا یہ جو خاوند کو نصف مہر دینا پڑا صغیرہ کو یہ نصف مہر بھی خاوند پر کوئی پکا نہیں تھا، یہ بھی ساقط ہو سکتا تھا، لیکن اس کبیرہ نے جب دودھ پلا دیا نکاح فاسد ہوئے اب نصف مہر پکا ہو گیا اب خاوند کو ادا کرنا پڑا۔ اگر کبیرہ دودھ نہ پلاتی تو یہ نصف مہر بھی ساقط ہو سکتا تھا، احتمال تو تھا ابھی تک پکا نہیں تھا، توجہ ہے؟
تو لہٰذا وہ مال جو ایک آدمی پر ابھی واجب نہیں ہوا جو ساقط ہونے کے قریب ہو اگر کوئی شخص اس مال کو پکا کر دے تو اس کو بھی اتلاف ہی شمار کیا جاتا ہے، گویا اس کبیرہ نے خاوند کا نصف مہر کیا کر دیا؟ نصف مہر کے برابر مال ضائع کر دیا۔ خاوند پر تو یہ نصف مہر لازمی ابھی نہیں ہوا تھا یہ بھی ساقط ہونے کا احتمال رکھتا تھا ہو سکتا ہے یہ صغیرہ بڑی ہو کر مرتد ہو جاتی یا مطاوعت کر لیتی تو خاوند سے یہ نصف مہر ساقط ہو جاتا، تو یہ نصف مہر خاوند پر پکا نہیں تھا لیکن اس کبیرہ نے کیا کر دیا؟ اس نصف مہر کو پکا کر دیا تو اس کو بھی اتلاف ہی شمار کیا جائے گا کہ گویا اس نے خاوند کا اتنا مال ہلاک کر دیا، ضائع کر دیا، لہٰذا اس صورت میں اس پر ضمان آئے گا۔
تو لہٰذا ایسا مال جو ساقط ہونے کے قریب ہو اس کو اگر کوئی پکا کر دے تو اس کو بھی اتلاف شمار کیا جاتا ہے، یہ فقہ کا ضابطہ ہے۔ کیا ضابطہ ہے؟ کہ ایسا مال جو ساقط ہونے کے قریب ہو اور کوئی شخص اس کو پکا کر دے تو اس کو اتلاف شمار کیا جاتا ہے جیسے کہ کسی نے اس مال کو تلف کر دیا، ہلاک کر دیا۔ ”لَكِنَّهَا مُسَبِّبَةٌ فِيهِ“ لیکن یہ کبیرہ اس اتلاف کے اندر مسبب ہے مباشر نہیں ہے، اور مسبب پر ضمان تبھی آتا ہے جب اس نے فساد اور تعدی کا ارادہ کیا ہو۔
”فَلَا يَجِبُ الضَّمَانُ عَلَيْهَا إِلَّا بِالتَّعَمُّدِ“ تو لہٰذا اس کبیرہ پر ضمان واجب نہیں ہوگا مگر ارادہ کرنے کی صورت میں، جان بوجھ کر فساد کا ارادہ کرنے کی صورت میں، ”كَفَاتِحِ الْقَفَصِ“ جیسے کہ پنجرہ کھولنے والا، ”وَمُرْسِلِ الْقَيْدِ“ اور زنجیر کھولنے والا، ”وَشَاهِدِ الزُّورِ“ اور جھوٹی گواہی دینے والا، یہ سب کے سب مسبب ہیں اور ان پر ضمان تبھی آتا ہے جب ان کی طرف سے تعدی اور ارادہ پایا جائے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ چلیے بھئی، سبق یہیں تک رکھتے ہیں۔
ساقط ہونے کے قریب ہو، اس کو اگر کوئی شخص پکا کر دے تو اس کو بھی کیا شمار کرتے ہیں؟ اتلاف شمار کرتے ہیں کہ گویا اس شخص نے دوسرے کا نقصان کر دیا۔ ورنہ یہ مال تو کوئی ابھی پکا نہیں تھا۔
تو دیکھیے بھئی، کہتے ہیں: ”لِأَنَّهَا“ اس لیے کیونکہ کبیرہ جو ہے، ”وَإِنْ أَكَّدَتْ“ اگرچہ اس نے پکا کر دیا ہے، ”مَا كَانَ عَلَى شَرَفِ السُّقُوطِ“ اس چیز کو جو ساقط ہونے کے قریب تھی۔ کبیرہ نے اگرچہ اس چیز کو پکا کر دیا ہے جو ساقط ہونے کے قریب تھی، بھئی وہ کیا چیز تھی؟ کہتے ہیں: ”وَهُوَ نِصْفُ الْمَهْرِ“ اور وہ نصف مہر ہے۔ یہ نصف مہر بھی ابھی خاوند پر پکا نہیں تھا، اس کے بھی ساقط ہونے کا احتمال تھا۔ تو ”وَذٰلِكَ يَجْرِي مَجْرَى الْإِتْلَافِ“ اور یہ پکا کرنا، یہ بھی اتلاف ہی کے قائم مقام ہے، اس کو بھی اتلاف اور اہلاک ہی شمار کیا جاتا ہے اور اس کی وجہ سے بھی ضمان آتا ہے۔
”لٰكِنَّهَا مُسَبِّبَةٌ فِيهِ“ لیکن یہ کبیرہ اس کے اندر مسببہ ہے، مباشرہ نہیں۔ اگر مباشرہ ہوتی تو پھر اس صورت میں اس پر ضمان آنا تھا، لیکن یہ کیا ہے؟ مسببہ ہے۔ اب مسببہ کس طرح ہے؟ آپ کو بتائیں گے کہ دیکھو اس کبیرہ نے دودھ پلایا ہے اور اس دودھ پلانے سے نکاح فاسد ہوا۔ لیکن یہ دودھ پلانا تو فساد کے لیے وضع نہیں ہے۔ یہ بچوں کو دودھ کس لیے پلایا جاتا ہے؟ فسادِ نکاح کے لیے پلایا جاتا ہے یا ان کی پرورش کے لیے؟ ان کی پرورش کے لیے دودھ پلایا جاتا ہے، تو دودھ پلانے کا جو فعل کبیرہ نے کیا ہے، وہ تو فسادِ نکاح کے لیے وضع نہیں، وہ تو اس کے لیے مقرر نہیں ہے، بلکہ وہ تو بچوں کی پرورش کے لیے ہوتا ہے۔ لہٰذا دودھ پلا کر اس نے کوئی زیادتی نہیں کی، کیونکہ دودھ پلانا یہ تو فسادِ نکاح کے لیے وضع نہیں۔ تو یہ تو اتفاقاً یہاں پر ایسا ہوا کہ یہ صغیرہ اس آدمی کی بیوی تھی، اس لیے فسادِ نکاح آ گیا، اگر یہ اس کی بیوی نہ ہوتی یہ صغیرہ تو فسادِ نکاح بھی نہ آتا۔
اور نیز اس کبیرہ کی وجہ سے نکاح فاسد ہوا ہے، لیکن فسادِ نکاح کو بھی ضمان کا سبب قرار نہیں دیا جا سکتا، کہ بھئی تم نے اس آدمی کا نکاح فاسد کیا ہے لہٰذا تمہیں ضمان دینا پڑے گا۔ نہیں نہیں، فسادِ نکاح وجوبِ ضمان کا سبب نہیں ہے۔ اس لیے کیونکہ نکاح وہ تو ایک عقد کا نام ہے، میاں بیوی کے درمیان ایجاب و قبول کا نام ہے، وہ تو صرف ایک عقد کا نام ہے، اس کی کوئی قیمت نہیں ہے۔ نکاح کوئی قیمت والی چیز نہیں ہے، لہٰذا نکاح کی بیع و شراء اور اجارہ اور ہبہ وغیرہ نہیں ہو سکتا بھئی۔ اگر نکاح جو ہے، یہ جو عقدِ نکاح ہے، یہ کوئی قیمت والی چیز ہوتی تو پھر تو اس کی بیع بھی جائز ہوتی، پھر اس کا ہبہ بھی جائز ہوتا، پھر اس کا اجارہ بھی جائز ہوتا۔ خود فی ذاتہٖ نکاح وہ تو ایک عقد کا نام ہے، اس عقد کی کوئی قیمت نہیں ہے بھئی۔ وہ جو نکاح کے اندر مہر آتا ہے وہ تو عورت کے منافع کا عوض ہے بھئی، خود نکاح کا عوض نہیں ہے۔ تو نکاح کی اپنی کوئی قیمت نہیں ہے اور اس کبیرہ نے نکاح فاسد کیا ہے۔ جب نکاح فاسد کیا ہے تو اس کی وجہ سے مال نہیں آ سکتا، کیونکہ نکاح کی تو کوئی قیمت ہی نہیں تھی۔ نکاح کی تو کوئی قیمت ہی نہیں تھی لہٰذا ضمان نہیں آنا چاہیے، بلکہ فسادِ نکاح جو ہے یہ تو مال کے ساقط ہونے کا سبب ہے۔ فسادِ نکاح یہ تو کیا ہے؟ مال کے ساقط ہونے کا سبب ہے، جب نکاح فاسد ہو گا تو خاوند سے مہر ساقط ہو جانا چاہیے بھئی۔
مثلاً ایک شخص نے ایک عورت سے نکاح کیا ہے۔ آپ پڑھ چکے ہیں کہ اگر نکاح کے اندر یا تو مہر مقرر کیا جائے گا یا مہر مقرر نہیں کیا جائے گا۔ اگر مہر مقرر نہ کریں تو وہاں مہر مثل آ جاتا ہے، توجہ ہے؟ تو کوئی شخص جب کسی عورت سے نکاح کرتا ہے تو وہاں اگر مہر مقرر کیا ہے وہ آ جاتا ہے اور اگر مہر مقرر نہیں کیا تو مہر مثل آ جائے گا۔ اور پھر اگر صحبت کر لے گا تو پھر یہی مقررہ مہر پکا ہو جائے گا، وہ سارا دینا پڑے گا اور اگر مہر مثل آیا تھا اور صحبت کر لی تو مہر مثل پکا ہو جائے گا، اب یہ سارا دینا پڑے گا۔ لیکن اگر صحبت سے پہلے خاوند طلاق دیتا ہے تو پھر اگر مہر مقرر کیا تھا تو نصف مہر دینا پڑے گا۔ قرآن میں اللہ کیا فرماتے ہیں؟ ﴿فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ﴾ جو تم نے مقرر کیا تھا اس کا نصف جو ہے وہ عورت کا حق ہے۔ تو صحبت سے پہلے اگر طلاق دے گا تو وہ مہر مقررہ کا نصف دینا پڑے گا، اور اگر مہر مقرر نہیں کیا تھا اور صحبت سے پہلے طلاق دیتا ہے تو وہاں متعہ آتا ہے بھئی، متعۃ الطلاق بھئی، تین کپڑے دینے پڑتے ہیں۔
اب یاد رکھو، صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ بھئی جب ایک شخص کا صحبت سے پہلے نکاح فاسد ہو گیا تو قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے اس آدمی پر کوئی مال نہیں آنا چاہیے، کیونکہ اس نے عورت سے صحبت نہیں کی، اس نے اپنے منافع وصول نہیں کیے، تو جب اس آدمی کو مبدل نہیں ملا تو بدل بھی اس پر واجب نہیں ہونا چاہیے۔ صحبت سے پہلے طلاق دے دی ہے تو اس نے منافع وصول نہیں کیے، جب منافع اور مبدل وصول نہیں کیا تو اس پر بدل یعنی مہر بھی نہیں آنا چاہیے۔ ہاں، پھر بھی خاوند کو یا متعہ دینا پڑتا ہے اگر مہر مقرر نہیں کیا تھا، یا نصف مہر دینا پڑتا ہے اگر مہر مقرر کیا تھا۔ تو یہ جو متعہ انسان دیتا ہے، یہ خلافِ قیاس چونکہ اللہ تعالیٰ کا حکم تھا اس لیے دینا پڑا بھئی۔ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ﴿وَمَتِّعُوهُنَّ﴾ اور ان کو کیا کرو؟ نفع دے دو، یعنی کوئی تحفہ دے دو بھئی۔
تو قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے صحبت سے پہلے ایک آدمی نے ایک عورت کو طلاق دی ہے تو خاوند نے تو کوئی منافع وصول نہیں کیے، کوئی صحبت نہیں کی، لہٰذا خاوند کو جب مبدل نہیں ملا تو بدل یعنی مہر بھی خاوند پر نہیں آنا چاہیے، لیکن خلافِ قیاس نص میں آ گیا کہ ان کو متعہ دینا پڑے گا۔ یہ وہ صورت ہے جب مہر مقرر نہیں کیا۔ اور اگر مہر مقرر کیا ہوا تھا تو قرآن میں آ گیا: ﴿فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ﴾ تو تمہیں اس مقررہ مہر کا نصف دینا پڑے گا بھئی۔ تو یہ جو قرآن کے اندر متعہ اور نصف مہر دینے کا حکم ہے یہ خلافِ قیاس ہے، قیاس کے مطابق تو خاوند پر کچھ بھی نہیں آنا چاہیے، عورت کے پاس مبدل سلامت رہا تو خاوند کے پاس بدل سلامت رہنا چاہیے بھئی۔ اور یاد رکھو، یہ جو نصف مہر بھی آتا ہے، یہ بھی متعہ ہی کے طریقے پر ہے بھئی، یہ صاحبِ ہدایہ پہلے بیان کر چکے، کہ ویسے ہی عورت کو گویا تحفہ دے رہا ہے بھئی۔ یہ نصف مہر جو خاوند کو دینا پڑا، مہر مقرر تھا اور صحبت سے پہلے طلاق دے دی تو کتنا دینا پڑا؟ نصف مہر۔ یہ بھی متعہ کے طریقے پر ہے کیونکہ قیاس کے مطابق تو خاوند پر کچھ نہیں آنا چاہیے تھا بھئی۔ تو معلوم ہوا صحبت سے پہلے طلاق دی جائے تو یہ جو نصف مہر بھی دینا پڑتا ہے، یہ متعہ ہی کے طریقے پر ہے کہ ویسے ہی عورت کو گویا تحفہ دے رہا ہے بھئی۔
معلوم ہوا فسادِ نکاح جو ہے، نکاح کا فاسد ہونا، صحبت سے پہلے، یہ تو مہر کے ساقط ہونے کا سبب ہے، اگر خلافِ قیاس متعہ کا حکم نہ آتا تو وہ بھی ادا نہ کرنا پڑتا۔ بھئی بات یہ چل رہی تھی کہ کبیرہ نے صغیرہ کو دودھ پلایا ہے، جس کی وجہ سے نکاح فاسد ہوا اور خاوند کو صغیرہ کو نصف مہر ادا کرنا پڑا، تو کبیرہ پر ضمان آئے گا یا نہیں آئے گا؟ تو صاحبِ ہدایہ بیان فرما رہے ہیں کہ یہ جو کبیرہ ہے یہ مسببہ ہے، مباشرہ نہیں۔ یہ مسببہ ہے مباشرہ نہیں، اس نے دودھ پلایا ہے صغیرہ کو اور دودھ پلانا یہ تو کوئی فسادِ نکاح کے لیے وضع نہیں، یہ تو بچے کی پرورش کے لیے ہوتا ہے۔ لہٰذا دودھ پلانے کے اندر بھی کوئی تعدی نہیں پائی جا رہی، اور نیز نکاح فاسد ہوا ہے، فسادِ نکاح کی وجہ سے بھی اس کبیرہ پر ضمان واجب نہیں کیا جا سکتا کیونکہ فسادِ نکاح جو ہے، وہ تو ضمان کا سبب نہیں، کیونکہ نکاح کی تو کوئی قیمت ہی نہیں ہے کہ اس کے فساد کی وجہ سے کسی پر ضمان آ جائے۔ بلکہ فسادِ نکاح جو ہے وہ تو ضمان کو ساقط کرنے والا ہے، قیاس یہ تقاضا کرتا ہے صحبت سے پہلے جب نکاح فاسد ہو تو مرد پر کوئی مال نہیں آنا چاہیے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
پھر دیکھیے، کہتے ہیں: ”لٰكِنَّهَا مُسَبِّبَةٌ فِيهِ“ لیکن یہ جو کبیرہ ہے اس اتلاف کے اندر، یہ جو اس نے خاوند کا نصف مہر ضائع کر دیا، اس کے اندر یہ مسببہ ہے یعنی مباشرہ نہیں۔ ”إِمَّا لِأَنَّ الْإِرْضَاعَ لَيْسَ بِإِفْسَادِ النِّكَاحِ وَضْعًا“ یا تو اس لیے کیونکہ یہ جو دودھ پلانا ہے، یہ نکاح فاسد کرنا نہیں ہے وضعاً، وضع کے اعتبار سے، بلکہ یہ تو بچے کی پرورش کے لیے ہوتا ہے دودھ پلانا۔ ”وَإِنَّمَا يَثْبُتُ ذٰلِكَ بِاتِّفَاقِ الْحَالِ“ اور یہ جو فسادِ نکاح ثابت ہوا، یہ تو اتفاقِ حال سے ہوا، یعنی اتفاقاً ایسا حال پیش آ گیا کہ یہ صغیرہ اس خاوند کی بیوی تھی، ورنہ اگر یہ اس کی بیوی نہ ہوتی تو کوئی فسادِ نکاح وغیرہ نہ آتا، تو یہ اتفاقاً آیا اس حال کی وجہ سے کہ صغیرہ خاوند کی بیوی تھی بھئی۔ تو لہٰذا اس ارضاع کی وجہ سے بھی کبیرہ جو ہے اس پر ضمان نہیں آ سکتا۔ ”أَوْ لِأَنَّ فَسَادَ النِّكَاحِ لَيْسَ بِسَبَبٍ“ اور نیز اس لیے کیونکہ نکاح کا فاسد ہونا یہ سبب نہیں ہے ”لِإِلْزَامِ الْمَهْرِ“ مہر کے لازم کرنے کا، فسادِ نکاح سے مہر لازم نہیں ہوتا، ”بَلْ هُوَ سَبَبٌ لِسُقُوطِهِ“ بلکہ فسادِ نکاح تو سبب ہے سقوطِ مہر کا۔ صحبت سے پہلے، صحبت سے پہلے اگر فسادِ نکاح آئے گا تو اس سے انسان پر مہر لازم نہیں ہوتا بلکہ مہر اس سے ساقط ہو جاتا ہے، یعنی قیاس یہ تقاضا کرتا ہے، قیاس کے مطابق صحبت سے پہلے نکاح فاسد ہو تو مہر نہیں آنا چاہیے اور جو آتا بھی ہے وہ خلافِ قیاس نص کی وجہ سے آتا ہے اور وہ بھی متعہ کے طریقے پر ہے کہ ویسے ہی عورت کو گویا تحفہ دے رہا ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”أَوْ لِأَنَّ فَسَادَ النِّكَاحِ لَيْسَ بِسَبَبٍ“ یا اس لیے کیونکہ نکاح کا فاسد ہونا وہ سبب نہیں ہے ”لِإِلْزَامِ الْمَهْرِ“ مہر کے لازم کرنے کا، ”بَلْ هُوَ سَبَبٌ لِسُقُوطِهِ“ بلکہ فسادِ نکاح یہ تو سبب ہے مہر کے ساقط ہونے کا، یعنی عقل یہ تقاضا کرتی ہے۔ ”إِلَّا أَنَّ نِصْفَ الْمَهْرِ يَجِبُ بِطَرِيقِ الْمُتْعَةِ“ مگر یہ کہ وہ جو نصف مہر واجب ہوتا ہے وہ متعہ کے طریقے پر ہے یعنی تحفے کے طریقے پر ہے، ”عَلَى مَا عُرِفَ“ بوجہ اس کے جو کہ جان لیا گیا، جو پیچھے ذکر ہو چکا تھا کہ یہ نصف مہر بھی جو دیا جاتا ہے یہ متعہ کے طریقے پر ہے، ورنہ قیاس کے مطابق تو خاوند نے کوئی منافع وصول نہیں کیے، کوئی صحبت نہیں کی، لہٰذا اس پر مہر نہیں آنا چاہیے۔
”لٰكِنْ مِنْ شَرْطِهِ إِبْطَالُ النِّكَاحِ“ لیکن اس مہر کے وجوب کی جو شرط ہے وہ نکاح کا باطل کرنا ہے۔ تو معلوم ہوا یہ عورت مسببہ ہے، اس نے کیا کیا؟ نکاح باطل کیا ہے۔ اور نکاح کا باطل کرنا شرط تھا اس نصف مہر کے وجوب کا۔ ایک عورت سے صحبت نہیں کی ہے تو اس خاوند پر نصف مہر پکا نہیں، لیکن لیکن جب نکاح ٹوٹ جائے گا تو اب نصف مہر کیا ہو جائے گا؟ پکا ہو جائے گا۔ معلوم ہوا یہ جو صحبت سے پہلے نصف مہر دینا پڑتا ہے، یہ خاوند پر کب واجب ہو گا؟ اس کی شرط کیا ہے؟ ابطالِ نکاح۔ نکاح باطل ہو گا تو خاوند پر نصف مہر آئے گا صحبت سے پہلے، نکاح باطل نہیں تو خاوند پر نصف مہر بھی نہیں۔ معلوم ہوا نکاح کا باطل ہونا شرط ہے وجوبِ نصفِ مہر کے لیے۔
پھر توجہ سے سنو، بات یہ کرنا چاہتے ہیں صاحبِ ہدایہ کہ عورت مسببہ ہے مباشرہ نہیں۔ کہتے ہیں اس لیے، اس لیے کیونکہ مثلاً دیکھو جیسے وہ جو پنجرے کا دروازہ کھولنے والا تھا، وہ سبب بنا تھا، وہ سبب بنا تھا کیونکہ اس نے شرط پوری کی تھی۔ پرندے کے اڑنے کے لیے شرط تھا کہ پنجرے کا دروازہ کھلا ہو، تو اس آدمی نے پنجرے کا دروازہ کھول کر کیا پوری کی تھی؟ شرط پوری کی تھی، اور جو شرط پوری کرے اس کو مسبب کہتے ہیں، اس کو مباشر نہیں کہتے۔ لہٰذا پنجرے کا دروازہ کھولنے والا مسبب ہے کیونکہ اس نے شرط پوری کی ہے۔ اصطبل کا دروازہ کھلا ہونا یہ شرط ہے گھوڑے کے بھاگنے کے لیے، تو جس نے اصطبل کا دروازہ کھولا اس نے شرط پوری کی ہے، تو وہ مسبب ہے، وہ گھوڑے کے بھگانے کا مباشر نہیں ہے۔ اسی طرح ایک شخص نے بھگوڑے غلام کی زنجیر کھول دی تو پھر وہ غلام بھاگ گیا، تو اس غلام کے بھاگنے کی شرط ہے کہ زنجیر کھلی ہو پھر ہی یہ بھاگ سکتا ہے، تو اس آدمی نے شرط پوری کی ہے، اور جو آدمی شرط پوری کرتا ہے اس کو مباشر قرار نہیں دیتے۔ جیسے ایک آدمی نے راستے میں کنواں کھود دیا اور دوسرا آدمی اس میں گر کر مر گیا، تو یہ جو کنواں کھودنا ہے یہ شرط ہے کنویں میں گرنے کے لیے، کنواں کھودے گا تو کوئی اس میں گرے گا بھئی، تو اس آدمی نے شرط پوری کی ہے، راستے میں کنواں کھودا ہے، لہٰذا اس کو مسبب کہیں گے، مباشر نہیں کہیں گے کہ وہ سبب بنا ہے اس قتل کا، ایسا نہیں کہ اس نے خود قتل کیا ہے بھئی۔ معلوم ہوا جو شرط پوری کرنے والا ہو وہ مسبب ہوتا ہے، مباشر نہیں، یعنی اس نے اس فعل کو خود نہیں کیا صرف اس کی شرط پوری کی تھی۔ تو یہاں پر بھی، یہاں پر بھی اس کبیرہ کے دودھ پلانے کی وجہ سے صغیرہ کو نصف مہر خاوند کو دینا پڑا، تو یہ کبیرہ نے صرف شرط پوری کی ہے بھئی۔ نصف مہر کا وجوب خاوند پر کب ہو گا صغیرہ کے لیے؟ جب نکاح باطل ہو گا، جب تک نکاح باطل نہیں خاوند پر نصف مہر بھی صغیرہ کے لیے واجب نہیں۔ تو کبیرہ نے صرف شرط پوری کر دی، نکاح کو کیا کر دیا دودھ پلا کر؟ باطل کر دیا ہے، تو اس نے شرط پوری کی ہے اور جو شرط پوری کرتا ہے اس کو مباشر نہیں کہتے۔ بات سمجھ میں آ گئی، لہٰذا معلوم ہوا یہ مسببہ ہے۔ اس نے شرط پوری کی ہے وجوبِ نصفِ مہر کی۔ تو یہ مسببہ ہوئی، اور مسببہ میں پھر کیا دیکھا جاتا ہے کہ تعدی ہے یا تعدی نہیں؟ اگر تعدی ہو یعنی جان بوجھ کر ایسا کیا ہو پھر تو یہ تعدی ہے، زیادتی ہے، پھر تو اس پر ضمان آتا ہے، ورنہ ضمان نہیں آتا۔
تو کہتے ہیں: ”لٰكِنْ مِنْ شَرْطِهِ إِبْطَالُ النِّكَاحِ“ لیکن اس نصف مہر کے وجوب کی جو شرط ہے ”إِبْطَالُ النِّكَاحِ“ وہ نکاح کا باطل کرنا ہے، تو معلوم ہوا یہ مسببہ ہے، اس نے شرط پوری کی ہے۔ ”وَإِذَا كَانَتْ مُسَبِّبَةً“ اور جب یہ کبیرہ مسببہ ہے ”يُشْتَرَطُ فِيهِ التَّعَدِّي“ تو اس کے اندر تعدی شرط ہو گی پھر ہی اس پر ضمان آئے گا ”كَحَفْرِ الْبِئْرِ“ جیسے کہ کنویں کا کھودنا۔ جیسے کہ کنویں کا کھودنا، دیکھو کوئی شخص کنواں کھودتا ہے اور پھر کوئی آدمی اس میں گر کر مر گیا، تو دیکھو یہ کنواں کھودنے والا سبب بنا اس آدمی کے مرنے کا۔ کیا بنا؟ سبب ہے، معلوم ہوا یہ مسبب ہے مباشر نہیں۔ کنواں کھودنے والا مسبب ہے، مباشر نہیں، اس نے کوئی خود اس آدمی کو اٹھا کر کنویں میں نہیں پھینکا، اس نے صرف کنواں کھودا ہے۔ توجہ ہے؟ اور کنویں میں گرنے کے لیے شرط کیا ہے؟ کنویں کا کھودنا، کنواں کھودے گا تو کوئی گرے گا، کنواں نہیں کھودا تو کوئی اس میں گرے گا بھی نہیں۔ تو دیکھو یہ جو کنواں کھودنے والا ہے اس نے شرط پوری کی ہے، معلوم ہوا یہ مسبب ہے، یہ سبب بنا ہے اس آدمی کے کنویں میں گر کر مرنے کا۔ تو یہ مسبب ہے اور مسبب کے اندر پھر تعدی دیکھی جاتی ہے کہ اس نے زیادتی کی ہے یا زیادتی نہیں کی۔ اگر زیادتی کی ہو تو اس پر ضمان آتا ہے، اگر زیادتی نہ کی ہو تو اس پر ضمان نہیں آتا۔ لہٰذا ایک آدمی نے کنواں کھودا ہے اور اس میں ایک آدمی گر کر مر گیا ہے تو اب ہم یہ دیکھیں گے اس نے زیادتی کی اس کنواں کھودنے والے نے یا زیادتی نہیں کی۔ چنانچہ اگر یہ کنواں اس نے اپنی زمین میں کھودا تھا، تو پھر تو کوئی تعدی نہیں، اپنی زمین میں تو ہر ایک کو اجازت ہے، کوئی بھی کنواں کھود سکتا ہے۔ اور اگر یہ کنواں اس نے راستے میں کھودا ہے، تو پھر اس نے تعدی کی ہے، زیادتی کی ہے، راستے کے اندر تو لوگ چلتے ہیں بھئی، تو لہٰذا اس صورت میں پھر اس پر ضمان آئے گا اور اس کو پوری دیت ادا کرنا پڑے گی۔ بات سمجھ میں آ گئی، تو معلوم ہوا مسبب کے اندر تعدی کو دیکھا جاتا ہے جیسے کنواں کھودنے والے میں بھی تعدی کو دیکھا جائے گا، اگر تعدی ہے یعنی راستے میں کنواں کھودا ہے تو اس پر ضمان آئے گا، اگر تعدی نہیں یعنی اپنی زمین میں کنواں کھودا ہے اور اس میں کوئی گر کر مر گیا تو پھر اس پر کوئی ضمان نہیں ہے۔ یہ معنی ہے: ”وَإِذَا كَانَتْ مُسَبِّبَةً“ اور جب یہ کبیرہ مسببہ ہے ”يُشْتَرَطُ فِيهِ التَّعَدِّي“ تو اس کے اندر تعدی کی شرط ہو گی ”كَحَفْرِ الْبِئْرِ“ جیسے کہ کنواں کھودنا، اس کے اندر بھی تعدی کی شرط ہو گی۔
”ثُمَّ إِنَّمَا تَكُونُ مُتَعَدِّيَةً“ اب بتلانے لگے ہیں کس صورت میں یہ تعدی کرنے والی ہو گی، اب وہ بیان کرنے لگے ہیں۔ کہتے ہیں: ”ثُمَّ إِنَّمَا تَكُونُ مُتَعَدِّيَةً“ کہ کبیرہ جو ہے وہ تعدی کرنے والی ہو گی ”إِذَا عَلِمَتْ بِالنِّكَاحِ“ جب اس کو نکاح کا پتہ ہو، کہ صغیرہ سے اس خاوند کا نکاح ہے ”وَقَصَدَتْ بِالْإِرْضَاعِ الْفَسَادَ“ اور نیز اس نے دودھ پلانے کے ذریعے فساد کا بھی ارادہ کیا ہے، تو اب کیا ہے؟ معلوم ہوا یہ متعدیہ ہے، اس نے تعدی کی ہے۔ ”أَمَّا إِذَا لَمْ تَعْلَمْ بِالنِّكَاحِ“ باقی اس کو اگر نکاح کا علم نہیں ہے ”أَوْ عَلِمَتْ بِالنِّكَاحِ وَلٰكِنَّهَا قَصَدَتْ دَفْعَ الْجُوعِ وَالْهَلَاكِ مِنَ الصَّغِيرَةِ دُونَ الْإِفْسَادِ“ یا اس کو نکاح کا تو علم ہے ”وَلٰكِنَّهَا قَصَدَتْ دَفْعَ الْجُوعِ وَالْهَلَاكِ مِنَ الصَّغِيرَةِ“ لیکن اس نے بھوک اور ہلاکت کو دور کرنے کا ارادہ کیا صغیرہ سے، اس کو نکاح کا تو پتہ ہے لیکن فساد کا ارادہ نہیں کیا، صغیرہ کے ہلاک ہونے کا خطرہ تھا یا بھوک سے وہ بہت زیادہ رو رہی تھی تو اس نے صرف اس کی بھوک دور کرنے کا ارادہ کیا۔ تو کہتے ہیں: ”أَوْ عَلِمَتْ بِالنِّكَاحِ“ اور اگر اس کبیرہ کو نکاح کا علم ہے ”وَلٰكِنَّهَا قَصَدَتْ دَفْعَ الْجُوعِ وَالْهَلَاكِ مِنَ الصَّغِيرَةِ دُونَ الْإِفْسَادِ“ لیکن اس نے صغیرہ سے بھوک اور ہلاکت کو دور کرنے کا ارادہ کیا، نکاح کو فاسد کرنے کا ارادہ نہیں کیا ”لَا تَكُونُ مُتَعَدِّيَةً“ تو اس صورت میں بھی یہ تعدی کرنے والی نہیں ہو گی ”لِأَنَّهَا مَأْمُورَةٌ بِذٰلِكَ“ اس لیے کیونکہ وہ تو مامور ہے اس چیز کی، مامورہ یعنی اس کو تو شریعت نے حکم دیا ہے اس چیز کا۔ شریعت نے ہمیں کیا حکم دیا ہے؟ شریعت نے ہمیں دوسروں کی جان بچانے کا حکم دیا ہے بھئی، دوسروں کی بھوک مٹانے کا ہمیں حکم دیا ہے۔ تو یہ مامورہ یعنی جس کو حکم دیا گیا ہے یعنی شریعت کی طرف سے۔ تو کہتے ہیں: ”لَا تَكُونُ مُتَعَدِّيَةً“ اس صورت میں یہ متعدیہ نہیں ہو گی ”لِأَنَّهَا مَأْمُورَةٌ بِذٰلِكَ“ اس لیے کیونکہ وہ تو اس بات کی مامورہ ہے، اس کو تو شریعت کی طرف سے یہ حکم دیا گیا ہے۔
”وَلَوْ عَلِمَتْ بِالنِّكَاحِ“ اور اگر اس کو نکاح کا بھی علم ہے ”وَلَمْ تَعْلَمْ بِالْفَسَادِ“ لیکن اس کو مسئلے کا پتہ نہیں، اس کو فساد کا علم نہیں کہ دودھ پلانے سے نکاح فاسد ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ عَلِمَتْ بِالنِّكَاحِ“ اور اگر اس کو نکاح کا علم ہے ”وَلَمْ تَعْلَمْ بِالْفَسَادِ“ اور لیکن اس کو فساد کا علم نہیں ہے ”لَا تَكُونُ مُتَعَدِّيَةً أَيْضًا“ تو اس صورت میں بھی یہ متعدیہ نہیں ہے، ”وَهٰذَا مِنَّا اعْتِبَارُ الْجَهْلِ لِدَفْعِ قَصْدِ الْفَسَادِ لَا لِدَفْعِ الْحُكْمِ“ یہ سمجھ لیں بھئی، یہ مشکل جگہ ہے۔ مشکل جگہ، یہاں اشکال ہوتا ہے، اعتراض ہوتا ہے۔ اعتراض یہ کہ اے صاحبِ ہدایہ! یہاں آپ نے اس کبیرہ کی جہالت کو عذر قرار دے دیا کہ اگر کبیرہ کو اس مسئلے کا پتہ نہیں تھا کہ میرے دودھ پلانے سے نکاح فاسد ہو جائے گا، تو پھر اس صورت میں اس کے اوپر ضمان واجب نہیں ہو گا، یہ جو نصف مہر خاوند نے صغیرہ کو دیا ہے، اب اس میں وہ کبیرہ پر رجوع نہیں کر سکتا کیونکہ اس کو مسئلے کا پتہ نہیں تھا۔ تو آپ نے تو جہالت کو عذر قرار دے دیا، حالانکہ آپ نے پیچھے ایک مسئلے میں ہمیں بتلایا تھا کہ دار الاسلام کے اندر مسئلے سے جہالت کوئی عذر نہیں ہے۔ کسی کو مسئلے کا پتہ ہو یا نہ ہو، حکم ثابت ہو جائے گا۔ تو وہاں خیارِ بلوغ کا مسئلہ پیچھے گزرا تھا۔ خیارِ بلوغ آپ نے پڑھا تھا کہ اگر صغیر یا صغیرہ کا نکاح جو ہے اگر باپ یا دادا کروا دیں تو پھر اس صورت میں وہ نکاح ان پر لازم ہے، وہ بالغ ہونے کے بعد بھی اس کو فسخ نہیں کر سکتے۔ لیکن باپ دادا کے علاوہ اگر کوئی اور ولی جو ہے صغیر یا صغیرہ کا نکاح کر دے تو پھر بالغ ہونے پر ان کو خیارِ بلوغ ملتا ہے، یہ اس نکاح کو فسخ کر سکتے ہیں۔ اور وہاں آپ نے پڑھا تھا کہ یہ جو بالغ ہونے والا ہے، یا یہ باکرہ ہو گی یا ثیبہ ہو گی یا صغیر ہو گا بھئی۔ اگر ثیبہ اور صغیر جو ہیں وہ بالغ ہوئے ہیں اور ان کا نکاح باپ دادا کے علاوہ کسی اور ولی نے کروایا تھا، تو پھر اس صورت میں یہ ثیبہ بالغہ اور یہ جو صغیر جو بالغ ہو گیا، ان کی زبان سے رضامندی ضروری ہے، یہ زبان سے اجازت دیں گے تو پھر ہی ان کا خیارِ بلوغ ساقط ہو گا، ورنہ جب تک ان کے پاس اختیار ہے وہ نکاح کو فسخ کر سکتے ہیں۔ جبکہ اگر وہ صغیرہ باکرہ تھی اور وہ بالغ ہوئی ہے، تو باکرہ کی تو خاموشی بھی رضامندی کی علامت ہوتی ہے، آپ نے پڑھا تھا کہ باکرہ بالغہ سے ولی نکاح کی اجازت لے گا اور باکرہ بالغہ اگر خاموش رہی اجازت کے موقع پر تو اس کی خاموشی بھی رضامندی کی علامت ہے۔ تو یہاں پر بھی اگر یہ صغیرہ باکرہ تھی اور یہ بالغ ہوئی، تو علماء اور فقہاء فرماتے ہیں کہ اس کو خیارِ بلوغ ملا ہے، لیکن اگر یہ بالغ ہونے کے بعد کچھ دیر بھی خاموش رہی تو اس کی خاموشی وہ تو رضامندی کی علامت ہے تو اس کا خیارِ بلوغ ساقط ہو جائے گا۔ اس کا خیارِ بلوغ ساقط ہو جائے گا۔ معلوم ہوا صغیرہ باکرہ جس مجلس میں بالغ ہو، جس مجلس میں اس کو حیض کا خون شروع ہو، فوراً اس کا یہ کہنا کہ میں نکاح کو فسخ کرتی ہوں یا میں نکاح کو رد کرتی ہوں، یہ کہنا ضروری ہے۔ اگر اس نے تھوڑی سی بھی دیر کر دی تو اس کا خیارِ بلوغ ساقط ہو جائے گا اور یہ نکاح اس پر لازم ہو جائے گا، کیونکہ تھوڑی دیر خاموش رہی تو خاموشی آ گئی اور باکرہ کی خاموشی تو رضامندی کی علامت ہے، تو یہ اس کی رضامندی آ گئی، لہٰذا اب نکاح لازم ہو گیا۔ اور وہاں پر صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا تھا کہ اگر یہ جو باکرہ جو بالغ ہوئی ہے، اگر اس کو مسئلے کا پتہ نہ ہو پھر بھی خیارِ بلوغ ساقط ہو جائے گا۔ پھر بھی، کیونکہ دار الاسلام کے اندر مسئلے سے جاہل ہونا یہ کوئی عذر نہیں ہے۔ دار الاسلام کے اندر تعلیم کے مواقع موجود ہیں، تعلیم کے ادارے موجود ہیں، اور ہر مسلمان مرد اور عورت پر ضروری دینی مسائل کا جاننا ضروری ہے تو لہٰذا ان کی جہالت کوئی عذر نہیں ہو گی۔
تو یہاں اعتراض ہوا کہ اے صاحبِ ہدایہ! آپ نے ہمیں اس پچھلے مسئلے میں بتایا تھا کہ دار الاسلام کے اندر مسئلے سے جہالت کوئی عذر نہیں ہے، لیکن یہاں پر آپ کہہ رہے ہیں کہ اگر اس کبیرہ کو مسئلے کا پتہ نہیں تھا تو اس پر ضمان نہیں آئے گا، معلوم ہوا یہاں آپ جہالت کو عذر قرار دے رہے ہیں۔ اگر اس کو مسئلے کا پتہ نہیں تو اس پر ضمان نہیں آئے گا۔ تو صاحبِ ہدایہ نے جواب دیا کہ بھئی دیکھیے ایک ہے علت اور ایک ہے حکم۔ علت جب بھی پائی جائے، حکم ضرور پایا جائے گا۔ ایسا نہیں ہو سکتا علت پائی جائے اور حکم نہ پایا جائے۔ تو اگر علت پائی جاتی اور ہم کہتے کہ چونکہ اس کو مسئلے کا پتہ نہیں تھا اس لیے حکم نہیں آئے گا، توجہ ہے؟ علت جب بھی پائی جائے، حکم کا پایا جانا ضروری۔ اب اگر ایک علت پائی جاتی لیکن ہم کہتے نہیں چونکہ اس کو مسئلے کا پتہ نہیں تھا، بے شک علت پائی جا رہی ہے لیکن حکم نہیں آئے گا، پھر آپ ہم پر اعتراض کر سکتے تھے کہ علت پائی جا رہی ہے لیکن آپ جہالت کو عذر قرار دے رہے ہیں دفعِ حکم کے لیے۔ کس کے لیے؟ دفعِ حکم کے لیے آپ جہالت کو علت قرار دے رہے ہیں، دفعِ حکم کے لیے آپ جہالت کا اعتبار کر رہے ہیں۔ تو صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ یہاں ایسا نہیں ہے، بلکہ یہاں پر عورت پر ضمان تب آئے گا جب اس نے فساد کی نیت کی ہو۔ اور فساد کی نیت تبھی ہو سکتی ہے جب اس کو مسئلے کا پتہ ہو کہ میرے دودھ پلانے سے یہ نکاح فاسد ہو جائیں گے۔ جب اس کو یہ علم ہو گا پھر ہی ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس نے مسئلہ جاننے کے باوجود دودھ پلایا ہے، اس کا ارادہ ہی کس چیز کا تھا؟ فساد کا تھا۔ تو یہاں ہم نے جو جہالت کا اعتبار کیا ہے وہ علت کو دور کرنے کے لیے کیا ہے، کہ وجوبِ ضمان کی علت کیا تھی؟ قصدِ فساد، کیا علت تھی؟ فساد کا ارادہ، فساد کا ارادہ تبھی ہو سکتا ہے جب اس کو مسئلے کا پتہ ہو۔ تو یہاں ہم نے جو جہالت کا اعتبار کیا ہے وہ قصدِ فساد کو دفع کرنے کے لیے کیا ہے، یعنی جو اس مسئلے کی علت ہے، توجہ ہے؟ جو مسئلے کی علت ہے اس علت کو دفع کرنے کے لیے، کہ قصدِ فساد تبھی ہو سکتا ہے، فساد کا ارادہ تبھی ہو سکتا ہے جب اس عورت کو مسئلے کا پتہ ہو، پھر ہم کہیں گے اس نے فساد کا ارادہ کیا ہے۔ اگر اس کو مسئلے کا پتہ نہیں تو معلوم ہوا پھر قصدِ فساد بھی نہیں، اور قصدِ فساد تو علت تھی وجوبِ ضمان کی، تو جب اس کو مسئلے کا علم نہیں تو قصدِ فساد نہیں، جب قصدِ فساد نہیں تو حکم بھی نہیں یعنی ضمان بھی واجب نہیں ہو گا۔ تو ہم نے یہ جو جہالت کا اعتبار کیا ہے وہ حکم کو دور کرنے کے لیے نہیں کیا کہ علت تو پائی جا رہی ہو اور ہم کہیں پھر بھی حکم نہیں آئے گا، نہیں نہیں ایسا نہیں ہے، بلکہ ہم نے جہالت کا اعتبار کیا ہے علت کو دفع کرنے کے لیے کہ جب اس کو مسئلے کا پتہ نہیں تو قصدِ فساد نہیں پایا گیا، اور جب علت نہیں پائی گئی تو پھر وجوبِ ضمان یعنی حکم بھی نہیں آئے گا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو آپ ہمارے اوپر اعتراض تب کر سکتے تھے اگر علت تو پائی جاتی لیکن ہم کہتے کہ چونکہ اس کو مسئلے کا پتہ نہیں تھا اس لیے حکم نہیں آئے گا، علت پائی جا رہی ہے لیکن حکم نہیں آئے گا پھر آپ ہم پر اعتراض کر سکتے تھے کہ آپ نے جہالت کو عذر مانا ہے، بلکہ یہاں تو ہم نے جہالت کا اعتبار کس لیے کیا ہے؟ علت کو دور کرنے کے لیے، کہ جب جہالت ہے تو علت ہی نہیں پائی گئی اور جب علت نہ ہو پھر تو حکم نہیں آتا بھئی۔ تو یہاں پر وجوبِ ضمان کی جو علت ہے یعنی قصدِ فساد، فساد کا ارادہ، وہ وہ جہالت کی وجہ سے قصدِ فساد ہی نہیں پایا گیا، کیونکہ قصدِ فساد کب ہو گا جب مسئلے کا پتہ ہو۔ تو جب جہالت کی وجہ سے قصدِ فساد نہیں پایا گیا تو علت نہیں پائی گئی۔ علت نہیں، جب علت نہیں تو اس کا حکم وجوبِ ضمان بھی نہیں آئے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ جی تو صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں: ”وَهٰذَا مِنَّا اعْتِبَارُ الْجَهْلِ لِدَفْعِ قَصْدِ الْفَسَادِ لَا لِدَفْعِ الْحُكْمِ“ ”وَهٰذَا“ اور یہ جو ہے، ”مِنَّا“ ہماری طرف سے، ”اعْتِبَارُ الْجَهْلِ“ جہالت کا اعتبار، کہ یہ جو یہاں پر ہم نے جہالت کا اعتبار کیا ہے ”لِدَفْعِ قَصْدِ الْفَسَادِ“ یہ قصدِ فساد یعنی علت کو دور کرنے کے لیے ہے کہ علت ہی یہاں موجود نہیں، علت ہی یہاں موجود نہیں، ”لَا لِدَفْعِ الْحُكْمِ“ یہ دفعِ حکم کے لیے نہیں ہے۔ اگر ہم نے جہالت کا اعتبار کیا ہوتا دفعِ حکم کے لیے کہ علت تو پائی جا رہی ہے لیکن حکم نہیں آئے گا، پھر آپ ہم پر اعتراض کر سکتے تھے، لیکن یہاں تو ہم نے جہالت کا اعتبار کیا ہے کس لیے؟ علت کو دور کرنے کے لیے کہ جب جہالت ہے تو قصدِ فساد نہیں پایا گیا، علت نہیں پائی گئی، اور علت نہیں پائی گئی تو حکم یعنی وجوبِ ضمان بھی نہیں آئے گا، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں: ”وَهٰذَا مِنَّا اعْتِبَارُ الْجَهْلِ“ اور یہ جو ہماری طرف سے جہالت کا اعتبار کیا گیا ہے ”لِدَفْعِ قَصْدِ الْفَسَادِ“ یہ قصدِ فساد کو دور کرنے کے لیے ہے یعنی علت کو دور کرنے کے لیے ہے، ”لَا لِدَفْعِ الْحُكْمِ“ نہ کہ حکم کو دفع کرنے کے لیے۔
آگے دیکھیے: ”وَلَا يُقْبَلُ فِي الرَّضَاعِ شَهَادَةُ النِّسَاءِ مُنْفَرِدَاتٍ، وَإِنَّمَا يَثْبُتُ بِشَهَادَةِ رَجُلَيْنِ أَوْ رَجُلٍ وَامْرَأَتَيْنِ“ بھئی یہاں سے آپ کو بتلا رہے ہیں کہ رضاعت کے ذریعے جو حرمت ثابت ہوتی ہے تو اس کے اندر بھی کم از کم دو مردوں کی گواہی ضروری ہے یا ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی ضروری ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا يُقْبَلُ فِي الرَّضَاعِ شَهَادَةُ النِّسَاءِ مُنْفَرِدَاتٍ“ اور رضاعت کے اندر اکیلی عورتوں کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی، صرف عورتوں کی گواہی سے رضاعت ثابت نہیں ہو گی۔ ”وَإِنَّمَا يَثْبُتُ بِشَهَادَةِ رَجُلَيْنِ أَوْ رَجُلٍ وَامْرَأَتَيْنِ“ بلکہ رضاعت یہ تو ثابت ہو گی دو مردوں کی گواہی سے یا ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی سے۔
”وَقَالَ مَالِكٌ رَحِمَهُ اللهُ: يَثْبُتُ بِشَهَادَةِ امْرَأَةٍ وَاحِدَةٍ إِذَا كَانَتْ مَوْصُوفَةً بِالْعَدَالَةِ“ اور امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”يَثْبُتُ بِشَهَادَةِ امْرَأَةٍ وَاحِدَةٍ“ کہ یہ جو رضاعت ہے یہ ثابت ہو جائے گی ایک عورت کی گواہی سے بھی، ”إِذَا كَانَتْ مَوْصُوفَةً بِالْعَدَالَةِ“ جبکہ وہ عورت عدالت کے ساتھ موصوف ہو، یعنی عادلہ ہو، قابلِ اعتماد ہو۔ اور عادل کسے کہتے ہیں؟ آپ پڑھ چکے ہیں، قابلِ اعتماد یعنی جو جو کبیرہ گناہوں سے اپنے آپ کو بچاتا ہے، صغیرہ پر اصرار نہیں کرتا، اور نیز گھٹیا افعال اور عادتوں سے بھی اپنے آپ کو بچاتا ہے بھئی، تو اس کو کہتے ہیں قابلِ اعتماد بھئی۔ تو امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”يَثْبُتُ بِشَهَادَةِ امْرَأَةٍ وَاحِدَةٍ“ کہ یہ رضاعت جو ہے ثابت ہو جائے گی ایک عورت کی گواہی سے بھی ”إِذَا كَانَتْ مَوْصُوفَةً بِالْعَدَالَةِ“ جب یہ عورت جو ہے عدالت کے ساتھ موصوف ہو۔ ”لِأَنَّ الْحُرْمَةَ حَقٌّ مِنْ حُقُوقِ الشَّرْعِ“ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ رضاعت کی وجہ سے حرمت آتی ہے اور حرمت جو ہے بندے کے حقوق سے اس کا تعلق نہیں ہے بلکہ یہ اللہ کا حق ہے، یہ حقِ شرع ہے بھئی، یہ شریعت کا حق ہے یہ حرمت، یعنی یہ ایک دینی معاملہ ہے، یہ خالص دینی معاملہ ہے اور خالص دینی معاملات کے اندر تو اے احناف آپ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ ایک عادل آدمی کی گواہی بھی کافی ہے۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْحُرْمَةَ حَقٌّ مِنْ حُقُوقِ الشَّرْعِ“ اس لیے کیونکہ یہ جو حرمت ہے، حق من حقوق الشرع، یہ شریعت کے حقوق میں سے ایک حق ہے، ”فَيَثْبُتُ بِخَبَرِ الْوَاحِدِ“ تو لہٰذا یہ خبرِ واحد سے بھی ثابت ہو جائے گا، ایک عادل آدمی کے خبر دینے سے بھی یہ شریعت کا حق ثابت ہو جائے گا، یہ حرمت ثابت ہو جائے گی۔ ”كَمَنِ اشْتَرَى لَحْمًا فَأَخْبَرَهُ وَاحِدٌ أَنَّهُ ذَبِيحَةُ الْمَجُوسِيِّ“ امام مالک رحمہ اللہ کی دلیل چل رہی ہے، وہ فرماتے ہیں: اے احناف! آپ کے نزدیک بھی امرِ دینی کے اندر یعنی حرمت کے معاملے میں اگر ایک آدمی بھی آ کر خبر دے دیتا ہے تو اس پر عمل لازم ہو جاتا ہے، اس کی وجہ سے حرمت ثابت ہو جائے گی۔ مثلاً ایک مسلمان نے کہیں سے گوشت خریدا اور بعد میں آ کر پھر اس مسلمان کو کسی آدمی نے بتایا کہ بھئی یہ جو گوشت ہے یہ تو مجوسی کا ذبیحہ ہے، یہ حیوان تو ایک مشرک اور مجوسی آدمی نے ذبح کیا تھا، اور آپ جانتے ہیں مجوسی کا ذبیحہ حرام ہے۔ تو یاد رکھو ہمارے فقہاء بھی فرماتے ہیں کہ یہ گوشت اب حرام ہو گیا اس مسلمان پر، یہ اب اس کو نہیں کھا سکتا۔ تو امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: دیکھا! یہاں پر بھی اس آدمی کے خبر دینے کی وجہ سے حرمت آ رہی ہے، اور حرمت یہ تو ایک دینی معاملہ ہے، حقِ شرع ہے، ایک آدمی کے خبر دینے سے بھی یہ ثابت ہو جاتا ہے، چنانچہ یہاں پر بھی یہ گوشت اس مسلمان پر حرام ہو گیا۔ اے احناف! آپ کے نزدیک بھی مسئلہ اسی طرح ہے۔ تو کہتے ہیں: ”كَمَنِ اشْتَرَى لَحْمًا“ جیسے کہ کسی شخص نے گوشت خریدا، ”فَأَخْبَرَهُ وَاحِدٌ“ تو پھر اس کو کسی دوسرے نے خبر دی ”أَنَّهُ ذَبِيحَةُ الْمَجُوسِيِّ“ کہ یہ ایک مجوسی کا ذبیحہ ہے۔
”وَلَنَا“ اب ہماری دلیل آ گئی۔ ہم کہتے ہیں کہ دیکھیے اگر ایک معاملے کے اندر صرف حرمت آ رہی ہو تو پھر تو وہ حقِ شرع ہے، وہاں ایک آدمی کی خبر پر بھی عمل کیا جائے گا۔ اگر ایک معاملے میں صرف حرمت آ رہی ہو یعنی صرف حقِ شرع آ رہا ہے تو وہاں ایک آدمی کی خبر بھی کافی ہے۔ اور اگر وہاں پر حق العبد کا بھی دخل آ رہا ہے یعنی حرمت کے ساتھ ساتھ اس آدمی کی ملکیت بھی اس چیز پر سے ختم ہو رہی ہے، تو ملکیت یہ تو حق العبد ہے بھئی، ایک آدمی ایک چیز کا مالک ہے، یہ اس کا حق ہے بھئی، تو اگر حرمت کے ساتھ ساتھ ملکیت بھی ختم ہو تو پھر اس صورت میں معلوم ہوا یہ صرف حقِ شرع نہیں بلکہ اس میں حق العبد بھی آ گیا، اور حقوق العباد کے اندر تو دو مردوں کی گواہی ضروری ہے یا ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی ضروری ہے۔ توجہ ہے؟ تو کیا بات ہوئی؟ ہم کیا کہتے ہیں کہ اگر صرف حرمت آئے تو پھر تو یہ حقِ شرع ہے، پھر تو اس میں ایک آدمی کی خبر بھی کافی ہے، جیسے اس گوشت والے مسئلے میں۔ اس آدمی نے آ کر خبر دی تو اس کی وجہ سے یہ گوشت حرام ہو گیا، لیکن مسلمان کی اس گوشت پر سے ملکیت ختم نہیں ہوئی، وہ اب بھی اس گوشت کا مالک ہے۔ معلوم ہوا حرمت آئی ہے لیکن زوالِ ملک نہیں، ملکیت ختم نہیں ہو رہی، معلوم ہوا یہ صرف حقِ شرع ہے یہاں پر، اور حقِ شرع میں تو ایک آدمی کی خبر بھی کافی ہے، یہ ایک خالص دینی معاملہ ہے، لہٰذا اس مسلمان پر یہ گوشت کیا ہو گیا؟ حرام، اگرچہ یہ اب بھی اس گوشت کا مالک ہے۔ توجہ ہے؟ یاد رکھو یہ جو کھانے پینے اور استعمال کی چیزیں ہیں ان میں حرمت اور ملکیت جمع ہو سکتے ہیں، کہ ایک چیز حرام بھی ہو اور ملکیت بھی پائی جائے، جیسے اس گوشت کے اندر ایک آدمی نے آ کر خبر دے دی اب یہ مسلمان کے لیے کھانا تو حرام ہو گیا لیکن ملکیت اس کی ابھی بھی موجود ہے۔ تو دیکھو حرمت کے ساتھ ساتھ ملکیت جمع ہو گئی۔ یا دوسری صورت بنا لیں، ایک آدمی کے پاس انگور کا رس تھا، وہ انگور کا وہ رس پڑے پڑے شراب میں تبدیل ہو گیا، تو اب مسلمان اب بھی اس کا مالک ہے، دیکھو حرمت بھی آ گئی اور پھر مسلمان کی ملکیت بھی موجود ہے۔ تو ہم کہتے ہیں یاد رکھو کہ کھانے پینے اور استعمال کی چیزوں کے اندر حرمت اور ملکیت جمع ہو سکتے ہیں، حرمت اور ملکیت جمع ہو سکتے ہیں، لیکن نکاح ایک ایسی چیز ہے وہاں جب بھی حرمت آتی ہے ساتھ ہی اس عورت پر سے اس آدمی کی ملکِ نکاح ختم ہو جاتی ہے۔ بھئی خاوند کو بیوی پر ملکِ نکاح حاصل ہوتی ہے، نکاح کی ملکیت حاصل ہوتی ہے بیوی پر، تو نکاح کے اندر جب حرمت آئے گی تو وہاں حرمت کے ساتھ ساتھ زوالِ ملک بھی ہو گا۔ معلوم ہوا نکاح کے اندر جو حرمت آتی ہے وہ صرف حقِ شرع نہیں ہے بلکہ بندے کا بھی حق ہے، کیونکہ اس کی ملکیت ختم ہو رہی ہے بیوی پر سے۔ مثلاً امام مالک رحمہ اللہ کے نزدیک ایک عادلہ عورت نے آ کر خاوند اور بیوی کو بتلایا کہ میں نے تم دونوں کو بچپن میں دودھ پلایا تھا، تم تو آپس میں رضاعی بھئی بہن ہو، تمہارا تو نکاح جائز نہیں ہے، تو امام مالک رحمہ اللہ کے نزدیک یہ عورت خاوند پر حرام ہو جائے گی اور نیز جب عورت خاوند پر حرام ہوئی تو ساتھ ہی زوالِ ملک بھی آ گیا، نکاح بھی دونوں کا ختم ہو گیا، تو ملکِ نکاح ختم ہو گئی۔ تو یہاں پر جب رضاعت ثابت ہوتی ہے صرف حرمت نہیں آتی بلکہ زوالِ ملک بھی آتا ہے، اور کسی کی ملکیت کو زائل کرنا اس کے لیے کم از کم دو مردوں کی گواہی یا ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی ضروری ہے۔ مثلاً آپ کے پاس ایک کتاب ہے، آپ اس کے مالک ہیں، ایک اور آدمی آیا اور آ کر اس نے دعویٰ کر دیا یہ میری کتاب ہے، اور قاضی کے پاس آپ کو لے گیا، آپ اس کتاب کے ابھی بھی مالک ہیں، ہاں اگر اس نے دو گواہ پیش کر دیے، دو مرد گواہ پیش کر دیے یا ایک مرد اور دو عورتیں گواہ پیش کر دیں تو پھر اس صورت کے اندر قاضی اس کے حق میں فیصلہ کرے گا اور کتاب اس کی ہو جائے گی اور کتاب پر سے آپ کی ملکیت ختم ہو جائے گی۔ تو معلوم ہوا زوالِ ملک کے لیے کم از کم دو مردوں کی گواہی یا ایک مرد اور دو عورت کی گواہی ضروری ہے، اس کے بغیر زوالِ ملک نہیں ہو سکتا۔ تو اگر امام مالک رحمہ اللہ کی بات لی جائے، ایک عورت کے خبر دینے سے ہی حرمت ثابت ہو جائے تو حرمت ثابت ہونے کے ساتھ ساتھ زوالِ ملک بھی آئے گا، اور زوالِ ملک جو ہے وہ تو ایک فرد کی خبر دینے سے ثابت نہیں ہو سکتا، لہٰذا اس لیے ہم کہتے ہیں کہ نکاح کے اندر جب بھی حرمتِ رضاعت آئے گی وہاں زوالِ ملک ضرور ہو گا۔ ایسا نہیں ہو سکتا صرف حرمت آئے اور زوالِ ملک نہ آئے، تو معلوم ہوا حرمت کے ساتھ زوالِ ملک آ رہا ہے، یعنی حق اللہ کے ساتھ حق العبد بھی آ رہا ہے، لہٰذا اس لیے ہم کہتے ہیں کہ رضاعت جو ہے اس میں دو مردوں یا ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی ضروری ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
تو دیکھیے بھئی: ”وَلَنَا أَنَّ ثُبُوتَ الْحُرْمَةِ لَا يَقْبَلُ الْفَصْلَ عَنْ زَوَالِ الْمِلْكِ فِي بَابِ النِّكَاحِ“ ہماری دلیل یہ ہے کہ حرمت کا ثابت ہونا، یہ جو رضاعت کی وجہ سے حرمت آئی ہے، اس حرمت کا ثابت ہونا ”لَا يَقْبَلُ الْفَصْلَ“ یہ جدائی کو قبول نہیں کرتا، یعنی یہ جدا نہیں ہوتا ”عَنْ زَوَالِ الْمِلْكِ فِي بَابِ النِّكَاحِ“ زوالِ ملک سے، نکاح کے باب میں۔ نکاح کے باب میں جب بھی حرمت آئے گی زوالِ ملک ضرور آئے گا یعنی نکاح ختم ہو جائے گا۔ تو معلوم ہوا اس میں حق العبد بھی ہے، لہٰذا ضروری ہے کہ دو مرد گواہی دیں یا ایک مرد اور دو عورتیں گواہی دیں۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ جبکہ کھانے پینے اور استعمال کی چیزوں کے اندر وہاں صرف حرمت آئے اور زوالِ ملک نہ آئے وہاں ایسا ہو سکتا ہے، تو وہاں ایک آدمی کی خبر بھی کافی ہو گی بھئی، لیکن جہاں زوالِ ملک بھی آ رہا ہو اس حرمت کے اندر ایک آدمی کی خبر کافی نہیں۔
تو کہتے ہیں: ”وَلَنَا أَنَّ ثُبُوتَ الْحُرْمَةِ لَا يَقْبَلُ الْفَصْلَ عَنْ زَوَالِ الْمِلْكِ فِي بَابِ النِّكَاحِ وَإِبْطَالُ الْمِلْكِ لَا يَثْبُتُ إِلَّا بِشَهَادَةِ رَجُلَيْنِ أَوْ رَجُلٍ وَامْرَأَتَيْنِ“ اور کسی کی ملکیت کو باطل کرنا یہ ثابت نہیں ہو سکتا مگر دو مردوں کی گواہی سے یا ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی سے، ”بِخِلَافِ اللَّحْمِ“ بخلاف گوشت کے، ”لِأَنَّ حُرْمَةَ التَّنَاوُلِ“ تناوُل کا معنی ہے کھانا کھانا یا اسی طرح کوئی چیز استعمال کرنا، تو دیکھو اس گوشت کا کھانا کیا ہو گیا تھا؟ جب ایک آدمی نے آ کر خبر دی کہ یہ مجوسی کا ذبیحہ ہے تو اس گوشت کا کھانا حرام ہوا، لیکن اس حرمت کے ساتھ زوالِ ملک نہیں آیا، وہ آدمی ابھی بھی اس گوشت کا مالک ہے۔ تو کھانے پینے کی چیزوں میں حرمت زوالِ ملک سے جدا ہو جاتی ہے، معلوم ہوا وہ خالص دینی معاملہ ہے۔ لیکن نکاح کے اندر حرمت جو ہے وہ زوالِ ملک سے جدا نہیں ہوتی، معلوم ہوا وہ خالص دینی معاملہ نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ حُرْمَةَ التَّنَاوُلِ تَنْفَكُّ عَنْ زَوَالِ الْمِلْكِ“ اس لیے کیونکہ کھانے کا حرام ہونا یہ جدا ہو جاتا ہے زوالِ ملک سے، ”فَاعْتُبِرَ أَمْرًا دِينِيًّا“ لہٰذا اس لیے اس کو ایک امرِ دینی شمار کیا گیا ہے۔ وہ گوشت کے مسئلے میں حرمت آئی ہے زوالِ ملک نہیں آیا، لہٰذا وہ ایک امرِ دینی ہے بھئی، اور امرِ دینی کے اندر تو ایک آدمی کی خبر بھی قبول کر لی جاتی ہے اس لیے وہاں حرمت آ جائے گی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو یہ معنی ہے: ”فَاعْتُبِرَ أَمْرًا دِينِيًّا“ لہٰذا اس گوشت والے معاملے کو ایک دینی معاملہ شمار کیا گیا ہے۔ ”وَاللهُ أَعْلَمُ“ اور اللہ خوب جاننے والے ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ حل ہو گیا۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔
تھا نہیں کہ اس نے خود قتل کیا ہے بھئی۔ معلوم ہوا جو شرط پوری کرنے والا ہو، وہ مسبِّب ہوتا ہے، مباشر نہیں؛ یعنی اس نے اس فعل کو خود نہیں کیا صرف اس کی شرط پوری کی تھی۔ تو یہاں پر بھی اس کبیرہ کے دودھ پلانے کی وجہ سے صغیرہ کو نصف مہر خاوند کو دینا پڑا، تو یہ کبیرہ نے صرف شرط پوری کی ہے بھئی۔ نصف مہر کا وجوب خاوند پر کب ہوگا صغیرہ کے لیے؟ جب نکاح باطل ہوگا۔ جب تک نکاح باطل نہیں خاوند پر نصف مہر بھی صغیرہ کے لیے واجب نہیں۔ تو کبیرہ نے صرف شرط پوری کر دی، نکاح کو کیا کر دیا دودھ پلا کر؟ باطل کر دیا ہے، تو اس نے شرط پوری کی ہے اور جو شرط پوری کرتا ہے اس کو مباشر نہیں کہتے، بات سمجھ میں آگئی۔ لہٰذا معلوم ہوا یہ مسبِّبہ ہے۔ اس نے شرط پوری کی ہے وجوبِ نصفِ مہر کی۔ تو یہ مسبِّبہ ہوئی اور مسبِّبہ میں پھر کیا دیکھا جاتا ہے؟ کہ تعدّی ہے یا تعدّی نہیں؟ اگر تعدّی ہو یعنی جان بوجھ کر ایسا کیا ہو، پھر تو یہ تعدّی ہے زیادتی ہے، پھر تو اس پر ضمان آتا ہے ورنہ ضمان نہیں آتا۔
تو کہتے ہیں: ”لَكِنْ مِنْ شَرْطِهِ إِبْطَالُ النِّكَاحِ“ لیکن اس نصف مہر کے وجوب کی جو شرط ہے ”إِبْطَالُ النِّكَاحِ“ وہ نکاح کا باطل کرنا ہے، تو معلوم ہوا یہ مسبِّبہ ہے، اس نے شرط پوری کی ہے۔ ”وَإِذَا كَانَتْ مُسَبِّبَةً“ اور جب یہ کبیرہ مسبِّبہ ہے ”يُشْتَرَطُ فِيهِ التَّعَدِّي“ تو اس کے اندر تعدّی شرط ہوگی، پھر ہی اس پر ضمان آئے گا ”كَحَفْرِ الْبِئْرِ“ جیسے کہ کنویں کا کھودنا۔ جیسے کہ کنویں کا کھودنا۔ دیکھو کوئی شخص کنواں کھودتا ہے اور پھر کوئی آدمی اس میں گر کر مر گیا، تو دیکھو یہ کنواں کھودنے والا سبب بنا اس آدمی کے مرنے کا۔ کیا بنا؟ سبب ہے، معلوم ہوا یہ مسبِّب ہے، مباشر نہیں۔ کنواں کھودنے والا مسبِّب ہے، مباشر نہیں، اس نے کوئی خود اس آدمی کو اٹھا کر کنویں میں نہیں پھینکا، اس نے صرف کنواں کھودا ہے۔ توجہ ہے؟ اور کنویں میں گرنے کے لیے شرط کیا ہے؟ کنویں کا کھودنا۔ کنواں کھودے گا تو کوئی گرے گا، کنواں نہیں کھودا تو کوئی اس میں گرے گا بھی نہیں۔ تو دیکھو یہ جو کنواں کھودنے والا ہے اس نے شرط پوری کی ہے۔ معلوم ہوا یہ مسبِّب ہے، یہ سبب بنا ہے اس آدمی کے کنویں میں گر کر مرنے کا۔ تو یہ مسبِّب ہے اور مسبِّب کے اندر پھر تعدّی دیکھی جاتی ہے کہ اس نے زیادتی کی ہے یا زیادتی نہیں کی؟ اگر زیادتی کی ہو تو اس پر ضمان آتا ہے، اگر زیادتی نہ کی ہو تو اس پر ضمان نہیں آتا۔ لہٰذا ایک آدمی نے کنواں کھودا ہے اور اس میں ایک آدمی گر کر مر گیا ہے، تو اب ہم یہ دیکھیں گے اس نے زیادتی کی، اس کنواں کھودنے والے نے یا زیادتی نہیں کی؟ چنانچہ اگر یہ کنواں اس نے اپنی زمین میں کھودا تھا، تو پھر تو کوئی تعدّی نہیں، اپنی زمین میں تو ہر ایک کو اجازت ہے، کوئی بھی کنواں کھود سکتا ہے۔ اور اگر یہ کنواں اس نے راستے میں کھودا ہے، تو پھر اس نے تعدّی کی ہے، زیادتی کی ہے، راستے کے اندر تو لوگ چلتے ہیں بھئی، تو لہٰذا اس صورت میں پھر اس پر ضمان آئے گا اور اس کو پوری دیت ادا کرنا پڑے گی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو معلوم ہوا مسبِّب کے اندر تعدّی کو دیکھا جاتا ہے، جیسے کنواں کھودنے والے میں بھی تعدّی کو دیکھا جائے گا۔ اگر تعدّی ہے یعنی راستے میں کنواں کھودا ہے تو اس پر ضمان آئے گا، اگر تعدّی نہیں یعنی اپنی زمین میں کنواں کھودا ہے اور اس میں کوئی گر کر مر گیا تو پھر اس پر کوئی ضمان نہیں ہے۔ یہ معنی ہے ”وَإِذَا كَانَتْ مُسَبِّبَةً“ اور جب یہ کبیرہ مسبِّبہ ہے ”يُشْتَرَطُ فِيهِ التَّعَدِّي“ تو اس کے اندر تعدّی کی شرط ہوگی ”كَحَفْرِ الْبِئْرِ“ جیسے کہ کنواں کھودنا، اس کے اندر بھی تعدّی کی شرط ہوگی۔
”ثُمَّ إِنَّمَا تَكُونُ مُتَعَدِّيَةً إِذَا عَلِمَتْ بِالنِّكَاحِ“ اب بتلانے لگے ہیں کس صورت میں یہ تعدّی کرنے والی ہوگی، اب وہ بیان کرنے لگے ہیں۔ کہتے ہیں: ”ثُمَّ إِنَّمَا تَكُونُ مُتَعَدِّيَةً“ کہ کبیرہ جو ہے وہ تعدّی کرنے والی ہوگی ”إِذَا عَلِمَتْ بِالنِّكَاحِ“ جب اس کو نکاح کا پتہ ہو کہ یہ صغیرہ سے اس خاوند کا نکاح ہے ”وَقَصَدَتْ بِالْإِرْضَاعِ الْفَسَادَ“ اور نیز اس نے دودھ پلانے کے ذریعے فساد کا بھی ارادہ کیا ہے، تو اب کیا ہے؟ معلوم ہوا یہ متعدّیہ ہے، اس نے تعدّی کی ہے۔ ”أَمَّا إِذَا لَمْ تَعْلَمْ بِالنِّكَاحِ“ باقی اس کو اگر نکاح کا علم نہیں ہے ”أَوْ عَلِمَتْ بِالنِّكَاحِ وَلَكِنَّهَا قَصَدَتْ دَفْعَ الْجُوعِ وَالْهَلَاكِ مِنَ الصَّغِيرَةِ دُونَ الْإِفْسَادِ“ ”أَوْ عَلِمَتْ بِالنِّكَاحِ“ یا اس کو نکاح کا تو علم ہے ”وَلَكِنَّهَا قَصَدَتْ دَفْعَ الْجُوعِ وَالْهَلَاكِ مِنَ الصَّغِيرَةِ“ لیکن اس نے بھوک اور ہلاکت کو دور کرنے کا ارادہ کیا صغیرہ سے، اس کو نکاح کا تو پتہ ہے لیکن فساد کا ارادہ نہیں کیا، صغیرہ کے ہلاک ہونے کا خطرہ تھا یا بھوک سے وہ بہت زیادہ رو رہی تھی، تو اس نے صرف اس کی بھوک دور کرنے کا ارادہ کیا۔ تو کہتے ہیں: ”أَوْ عَلِمَتْ بِالنِّكَاحِ“ اور اگر اس کبیرہ کو نکاح کا علم ہے ”وَلَكِنَّهَا قَصَدَتْ دَفْعَ الْجُوعِ وَالْهَلَاكِ مِنَ الصَّغِيرَةِ“ لیکن اس نے صغیرہ سے بھوک اور ہلاکت کو دور کرنے کا ارادہ کیا ”دُونَ الْإِفْسَادِ“ نکاح کو فاسد کرنے کا ارادہ نہیں کیا ”لَا تَكُونُ مُتَعَدِّيَةً“ تو اس صورت میں بھی یہ تعدّی کرنے والی نہیں ہوگی ”لِأَنَّهَا مَأْمُورَةٌ بِذَلِكَ“ اس لیے کیونکہ وہ تو مامور ہے اس چیز کی، مامورہ یعنی اس کو تو شریعت نے حکم دیا ہے اس چیز کا، شریعت نے ہمیں کیا حکم دیا ہے؟ شریعت نے ہمیں دوسروں کی جان بچانے کا حکم دیا ہے بھئی، دوسروں کی بھوک مٹانے کا ہمیں حکم دیا ہے، تو یہ مامورہ یعنی جس کو حکم دیا گیا ہے یعنی شریعت کی طرف سے۔ تو کہتے ہیں: ”لَا تَكُونُ مُتَعَدِّيَةً“ اس صورت میں یہ متعدّیہ نہیں ہوگی ”لِأَنَّهَا مَأْمُورَةٌ بِذَلِكَ“ اس لیے کیونکہ وہ تو اس بات کی مامورہ ہے، اس کو تو شریعت کی طرف سے یہ حکم دیا گیا ہے۔ ”وَلَوْ عَلِمَتْ بِالنِّكَاحِ“ اور اگر اس کو نکاح کا بھی علم ہے ”وَلَمْ تَعْلَمْ بِالْفَسَادِ“ لیکن اس کو مسئلے کا پتہ نہیں، اس کو فساد کا علم نہیں کہ دودھ پلانے سے نکاح فاسد ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ عَلِمَتْ بِالنِّكَاحِ“ اور اگر اس کو نکاح کا علم ہے ”وَلَمْ تَعْلَمْ بِالْفَسَادِ“ لیکن اس کو فساد کا علم نہیں ہے ”لَا تَكُونُ مُتَعَدِّيَةً أَيْضًا“ تو اس صورت میں بھی یہ متعدّیہ نہیں ہے۔
”وَهَذَا مِنَّا اعْتِبَارُ الْجَهْلِ لِدَفْعِ قَصْدِ الْفَسَادِ لَا لِدَفْعِ الْحُكْمِ“ یہ سمجھ لیں بھئی، یہ مشکل جگہ ہے۔ مشکل جگہ، یہاں اشکال ہوتا ہے، اعتراض ہوتا ہے۔ اعتراض یہ کہ اے صاحبِ ہدایہ! یہاں آپ نے اس کبیرہ کی جہالت کو عذر قرار دے دیا کہ اگر کبیرہ کو اس مسئلے کا پتہ نہیں تھا کہ میرے دودھ پلانے سے نکاح فاسد ہو جائے گا، تو پھر اس صورت میں اس کے اوپر ضمان واجب نہیں ہوگا، یہ جو نصف مہر خاوند نے صغیرہ کو دیا ہے، اب اس میں وہ کبیرہ پر رجوع نہیں کر سکتا کیونکہ اس کو مسئلے کا پتہ نہیں تھا۔ تو آپ نے تو جہالت کو عذر قرار دے دیا، حالانکہ آپ نے پیچھے ایک مسئلے میں ہمیں بتلایا تھا کہ دار الاسلام کے اندر مسئلے سے جہالت کوئی عذر نہیں ہے۔ کسی کو مسئلے کا پتہ ہو یا نہ ہو، حکم ثابت ہو جائے گا۔ تو وہاں خیارِ بلوغ کا مسئلہ پیچھے گزرا تھا، خیارِ بلوغ آپ نے پڑھا تھا کہ اگر صغیر یا صغیرہ کا نکاح جو ہے اگر باپ یا دادا کروا دیں، تو پھر اس صورت میں وہ نکاح ان پر لازم ہے، وہ بالغ ہونے کے بعد بھی اس کو فسخ نہیں کر سکتے۔ لیکن باپ دادا کے علاوہ اگر کوئی اور ولی جو ہے صغیر یا صغیرہ کا نکاح کر دے، تو پھر بالغ ہونے پر ان کو خیارِ بلوغ ملتا ہے، یہ اس نکاح کو فسخ کر سکتے ہیں۔ اور وہاں آپ نے پڑھا تھا کہ یہ جو بالغ ہونے والا ہے یا یہ باکرہ ہوگی، یا ثیبہ ہوگی، یا صغیر ہوگا بھئی۔ اگر ثیبہ اور صغیر جو ہیں وہ بالغ ہوئے ہیں اور ان کا نکاح باپ دادا کے علاوہ کسی اور ولی نے کروایا تھا، تو پھر اس صورت میں یہ ثیبہ بالغہ اور یہ جو صغیر جو بالغ ہو گیا، ان کی زبان سے رضامندی ضروری ہے، یہ زبان سے اجازت دیں گے تو پھر ہی ان کا خیارِ بلوغ ساقط ہوگا، ورنہ جب تک ان کے پاس اختیار ہے وہ نکاح کو فسخ کر سکتے ہیں۔ جبکہ اگر وہ صغیرہ باکرہ تھی اور وہ بالغ ہوئی ہے، تو باکرہ کی تو خاموشی بھی رضامندی کی علامت ہوتی ہے، آپ نے پڑھا تھا کہ باکرہ بالغہ سے ولی نکاح کی اجازت لے گا اور باکرہ بالغہ اگر خاموش رہی اجازت کے موقع پر تو اس کی خاموشی بھی رضامندی کی علامت ہے۔ تو یہاں پر بھی اگر یہ صغیرہ باکرہ تھی اور یہ بالغ ہوئی، تو علماء اور فقہاء فرماتے ہیں کہ اس کو خیارِ بلوغ ملا ہے، لیکن اگر یہ بالغ ہونے کے بعد کچھ دیر بھی خاموش رہی تو اس کی خاموشی وہ تو رضامندی کی علامت ہے، تو اس کا خیارِ بلوغ ساقط ہو جائے گا۔ اس کا خیارِ بلوغ ساقط ہو جائے گا۔ معلوم ہوا صغیرہ باکرہ جس مجلس میں بالغ ہو، جس مجلس میں اس کو حیض کا خون شروع ہو، فوراً اس کا یہ کہنا کہ میں نکاح کو فسخ کرتی ہوں یا میں نکاح کو رد کرتی ہوں، یہ کہنا ضروری ہے۔ اگر اس نے تھوڑی سی بھی دیر کر دی تو اس کا خیارِ بلوغ ساقط ہو جائے گا اور یہ نکاح اس پر لازم ہو جائے گا، کیونکہ تھوڑی دیر خاموش رہی تو خاموشی آ گئی اور باکرہ کی خاموشی تو رضامندی کی علامت ہے، تو یہ اس کی رضامندی آ گئی لہٰذا اب نکاح لازم ہو گیا۔ اور وہاں پر صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا تھا کہ اگر یہ جو باکرہ جو بالغ ہوئی ہے، اگر اس کو مسئلے کا پتہ نہ ہو، پھر بھی خیارِ بلوغ ساقط ہو جائے گا۔ پھر بھی، کیونکہ دار الاسلام کے اندر مسئلے سے جاہل ہونا یہ کوئی عذر نہیں ہے۔ دار الاسلام کے اندر تعلیم کے مواقع موجود ہیں، تعلیم کے ادارے موجود ہیں، اور ہر مسلمان مرد اور عورت پر ضروری دینی مسائل کا جاننا ضروری ہے، تو لہٰذا ان کی جہالت کوئی عذر نہیں ہوگی۔
تو یہاں اعتراض ہوا کہ اے صاحبِ ہدایہ! آپ نے ہمیں اس پچھلے مسئلے میں بتایا تھا کہ دار الاسلام کے اندر مسئلے سے جہالت کوئی عذر نہیں ہے، لیکن یہاں پر آپ کہہ رہے ہیں کہ اگر اس کبیرہ کو مسئلے کا پتہ نہیں تھا تو اس پر ضمان نہیں آئے گا، معلوم ہوا یہاں آپ جہالت کو عذر قرار دے رہے ہیں۔ اگر اس کو مسئلے کا پتہ نہیں تو اس پر ضمان نہیں آئے گا۔ تو صاحبِ ہدایہ نے جواب دیا کہ بھئی دیکھیے، ایک ہے علت اور ایک ہے حکم۔ علت جب بھی پائی جائے، حکم ضرور پایا جائے گا۔ ایسا نہیں ہو سکتا علت پائی جائے اور حکم نہ پایا جائے۔ تو اگر علت پائی جاتی اور ہم کہتے کہ چونکہ اس کو مسئلے کا پتہ نہیں تھا اس لیے حکم نہیں آئے گا، توجہ ہے؟ علت جب بھی پائی جائے حکم کا پایا جانا ضروری۔ اب اگر ایک علت پائی جاتی لیکن ہم کہتے نہیں چونکہ اس کو مسئلے کا پتہ نہیں تھا بے شک علت پائی جا رہی ہے لیکن حکم نہیں آئے گا، پھر آپ ہم پر اعتراض کر سکتے تھے کہ علت پائی جا رہی ہے لیکن آپ جہالت کو عذر قرار دے رہے ہیں دفعِ حکم کے لیے۔ کس کے لیے؟ دفعِ حکم کے لیے آپ جہالت کو علت قرار دے رہے ہیں، دفعِ حکم کے لیے آپ جہالت کا اعتبار کر رہے ہیں۔ تو صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ یہاں ایسا نہیں ہے، بلکہ یہاں پر عورت پر ضمان تب آئے گا جب اس نے فساد کی نیت کی ہو۔ اور فساد کی نیت تب ہی ہو سکتی ہے جب اس کو مسئلے کا پتہ ہو کہ میرے دودھ پلانے سے یہ نکاح فاسد ہو جائیں گے۔ جب اس کو یہ علم ہوگا پھر ہی ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس نے مسئلہ جاننے کے باوجود دودھ پلایا ہے، اس کا ارادہ ہی کس چیز کا تھا؟ فساد کا تھا۔ تو یہاں ہم نے جو جہالت کا اعتبار کیا ہے وہ علت کو دور کرنے کے لیے کیا ہے کہ وجوبِ ضمان کی علت کیا تھی؟ قصدِ فساد، کیا علت تھی؟ فساد کا ارادہ۔ فساد کا ارادہ تب ہی ہو سکتا ہے جب اس کو مسئلے کا پتہ ہو۔ تو یہاں ہم نے جو جہالت کا اعتبار کیا ہے وہ قصدِ فساد کو دفع کرنے کے لیے کیا ہے یعنی جو اس مسئلے کی علت ہے، توجہ ہے؟ جو مسئلے کی علت ہے اس علت کو دفع کرنے کے لیے کہ قصدِ فساد تب ہی ہو سکتا ہے، فساد کا ارادہ تب ہی ہو سکتا ہے جب اس عورت کو مسئلے کا پتہ ہو، پھر ہم کہیں گے اس نے فساد کا ارادہ کیا ہے۔ اگر اس کو مسئلے کا پتہ نہیں تو معلوم ہوا پھر قصدِ فساد بھی نہیں اور قصدِ فساد تو علت تھی وجوبِ ضمان کی، تو جب اس کو مسئلے کا علم نہیں تو قصدِ فساد نہیں، جب قصدِ فساد نہیں تو حکم بھی نہیں یعنی ضمان بھی واجب نہیں ہوگا۔ تو ہم نے یہ جو جہالت کا اعتبار کیا ہے وہ حکم کو دور کرنے کے لیے نہیں کیا کہ علت تو پائی جا رہی ہو اور ہم کہیں پھر بھی حکم نہیں آئے گا، نہیں نہیں ایسا نہیں ہے، بلکہ ہم نے جہالت کا اعتبار کیا ہے علت کو دفع کرنے کے لیے کہ جب اس کو مسئلے کا پتہ نہیں تو قصدِ فساد نہیں پایا گیا اور جب علت نہیں پائی گئی تو پھر وجوبِ ضمان یعنی حکم بھی نہیں آئے گا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو آپ ہمارے اوپر اعتراض تب کر سکتے تھے اگر علت تو پائی جاتی لیکن ہم کہتے کہ چونکہ اس کو مسئلے کا پتہ نہیں تھا اس لیے حکم نہیں آئے گا، علت پائی جا رہی ہے لیکن حکم نہیں آئے گا، پھر آپ ہم پر اعتراض کر سکتے تھے کہ آپ نے جہالت کو عذر مانا ہے، بلکہ یہاں تو ہم نے جہالت کا اعتبار کس لیے کیا ہے؟ علت کو دور کرنے کے لیے کہ جب جہالت ہے تو علت ہی نہیں پائی گئی، اور جب علت نہ ہو پھر تو حکم نہیں آتا بھئی۔ تو یہاں پر وجوبِ ضمان کی جو علت ہے یعنی قصدِ فساد، فساد کا ارادہ، وہ جہالت کی وجہ سے قصدِ فساد ہی نہیں پایا گیا، کیونکہ قصدِ فساد کب ہوگا؟ جب مسئلے کا پتہ ہو۔ تو جب جہالت کی وجہ سے قصدِ فساد نہیں پایا گیا تو علت نہیں پائی گئی۔ علت نہیں، جب علت نہیں تو اس کا حکم وجوبِ ضمان بھی نہیں آئے گا، بات سمجھ میں آگئی۔ جی تو صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں: ”وَهَذَا مِنَّا اعْتِبَارُ الْجَهْلِ لِدَفْعِ قَصْدِ الْفَسَادِ لَا لِدَفْعِ الْحُكْمِ“ ”وَهَذَا“ اور یہ جو ہے ”مِنَّا“ ہماری طرف سے ”اعْتِبَارُ الْجَهْلِ“ جہالت کا اعتبار، کہ یہ جو یہاں پر ہم نے جہالت کا اعتبار کیا ہے ”لِدَفْعِ قَصْدِ الْفَسَادِ“ یہ قصدِ فساد یعنی علت کو دور کرنے کے لیے ہے کہ علت ہی یہاں موجود نہیں، علت ہی یہاں موجود نہیں ”لَا لِدَفْعِ الْحُكْمِ“ یہ دفعِ حکم کے لیے نہیں ہے۔ اگر ہم نے جہالت کا اعتبار کیا ہوتا دفعِ حکم کے لیے کہ علت تو پائی جا رہی ہے لیکن حکم نہیں آئے گا، پھر آپ ہم پر اعتراض کر سکتے تھے، لیکن یہاں تو ہم نے جہالت کا اعتبار کیا ہے کس لیے؟ علت کو دور کرنے کے لیے کہ جب جہالت ہے تو قصدِ فساد نہیں پایا گیا، علت نہیں پائی گئی، اور جب علت نہیں پائی گئی تو حکم یعنی وجوبِ ضمان بھی نہیں آئے گا، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں: ”وَهَذَا مِنَّا اعْتِبَارُ الْجَهْلِ“ اور یہ جو ہماری طرف سے جہالت کا اعتبار کیا گیا ہے ”لِدَفْعِ قَصْدِ الْفَسَادِ“ یہ قصدِ فساد کو دور کرنے کے لیے ہے یعنی علت کو دور کرنے کے لیے ہے ”لَا لِدَفْعِ الْحُكْمِ“ نہ کہ حکم کو دفع کرنے کے لیے۔
آگے دیکھیے: ”وَلَا يُقْبَلُ فِي الرَّضَاعِ شَهَادَةُ النِّسَاءِ مُنْفَرِدَاتٍ، وَإِنَّمَا يَثْبُتُ بِشَهَادَةِ رَجُلَيْنِ أَوْ رَجُلٍ وَامْرَأَتَيْنِ“ بھئی یہاں سے آپ کو بتلا رہے ہیں کہ رضاعت کے ذریعے جو حرمت ثابت ہوتی ہے، تو اس کے اندر بھی کم از کم دو مردوں کی گواہی ضروری ہے یا ایک مرد دو عورتوں کی گواہی ضروری ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا يُقْبَلُ فِي الرَّضَاعِ شَهَادَةُ النِّسَاءِ مُنْفَرِدَاتٍ“ اور رضاعت کے اندر اکیلی عورتوں کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی، صرف عورتوں کی گواہی سے رضاعت ثابت نہیں ہوگی ”وَإِنَّمَا يَثْبُتُ بِشَهَادَةِ رَجُلَيْنِ أَوْ رَجُلٍ وَامْرَأَتَيْنِ“ بلکہ رضاعت یہ تو ثابت ہوگی دو مردوں کی گواہی سے یا ایک مرد دو عورتوں کی گواہی سے۔ ”وَقَالَ مَالِكٌ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”يَثْبُتُ بِشَهَادَةِ امْرَأَةٍ وَاحِدَةٍ“ کہ یہ جو رضاعت ہے یہ ثابت ہو جائے گی ایک عورت کی گواہی سے بھی ”إِذَا كَانَتْ مَوْصُوفَةً بِالْعَدَالَةِ“ جبکہ وہ عورت عدالت کے ساتھ موصوف ہو یعنی عادلہ ہو، قابلِ اعتماد ہو، اور عادل کسے کہتے ہیں؟ آپ پڑھ چکے ہیں: قابلِ اعتماد یعنی جو جو کبیرہ گناہوں سے اپنے آپ کو بچاتا ہے، صغیرہ پر اصرار نہیں کرتا اور نیز گھٹیا افعال اور عادتوں سے بھی اپنے آپ کو بچاتا ہے بھئی، تو اس کو کہتے ہیں قابلِ اعتماد بھئی۔ تو امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”يَثْبُتُ بِشَهَادَةِ امْرَأَةٍ وَاحِدَةٍ“ کہ یہ رضاعت جو ہے ثابت ہو جائے گی ایک عورت کی گواہی سے بھی ”إِذَا كَانَتْ مَوْصُوفَةً بِالْعَدَالَةِ“ جب یہ عورت جو ہے عدالت کے ساتھ موصوف ہو ”لِأَنَّ الْحُرْمَةَ حَقٌّ مِنْ حُقُوقِ الشَّرْعِ“ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ رضاعت کی وجہ سے حرمت آتی ہے اور حرمت جو ہے بندے کے حقوق سے اس کا تعلق نہیں ہے بلکہ یہ اللہ کا حق ہے، یہ حقِ شرع ہے بھئی، یہ شریعت کا حق ہے یہ حرمت، یعنی یہ ایک دینی معاملہ ہے، یہ ایک خالص دینی معاملہ ہے، اور خالص دینی معاملات کے اندر تو اے احناف! آپ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ ایک عادل آدمی کی گواہی بھی کافی ہے۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْحُرْمَةَ حَقٌّ مِنْ حُقُوقِ الشَّرْعِ“ اس لیے کیونکہ یہ جو حرمت ہے، ”حَقٌّ مِنْ حُقُوقِ الشَّرْعِ“ یہ شریعت کے حقوق میں سے ایک حق ہے ”فَيَثْبُتُ بِخَبَرِ الْوَاحِدِ“ تو لہٰذا یہ خبرِ واحد سے بھی ثابت ہو جائے گا۔ ایک عادل آدمی کے خبر دینے سے بھی یہ شریعت کا حق ثابت ہو جائے گا، یہ حرمت ثابت ہو جائے گی ”كَمَنِ اشْتَرَى لَحْمًا فَأَخْبَرَهُ وَاحِدٌ أَنَّهُ ذَبِيحَةُ الْمَجُوسِيِّ“ امام مالک رحمہ اللہ کی دلیل چل رہی ہے، وہ فرماتے ہیں: اے احناف! آپ کے نزدیک بھی امرِ دینی کے اندر یعنی حرمت کے معاملے میں اگر ایک آدمی بھی آ کر خبر دے دیتا ہے تو اس پر عمل لازم ہو جاتا ہے، اس کی وجہ سے حرمت ثابت ہو جائے گی۔ مثلاً ایک مسلمان نے کہیں سے گوشت خریدا اور بعد میں آ کر پھر اس مسلمان کو کسی آدمی نے بتایا کہ بھئی یہ جو گوشت ہے یہ تو مجوسی کا ذبیحہ ہے، یہ حیوان تو ایک مشرک اور مجوسی آدمی نے ذبح کیا تھا اور آپ جانتے ہیں مجوسی کا ذبیحہ حرام ہے۔ تو یاد رکھو ہمارے فقہاء بھی فرماتے ہیں کہ یہ گوشت اب حرام ہو گیا اس مسلمان پر، یہ اب اس کو نہیں کھا سکتا۔ تو امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: دیکھا، یہاں پر بھی اس آدمی کے خبر دینے کی وجہ سے حرمت آ رہی ہے اور حرمت یہ تو ایک دینی معاملہ ہے، حقِ شرع ہے، ایک آدمی کے خبر دینے سے بھی یہ ثابت ہو جاتا ہے، چنانچہ یہاں پر بھی یہ گوشت اس مسلمان پر حرام ہو گیا۔ اے احناف! آپ کے نزدیک بھی مسئلہ اسی طرح ہے۔ تو کہتے ہیں: ”كَمَنِ اشْتَرَى لَحْمًا“ جیسے کہ کسی شخص نے گوشت خریدا ”فَأَخْبَرَهُ وَاحِدٌ“ تو پھر اس کو کسی دوسرے نے خبر دی ”أَنَّهُ ذَبِيحَةُ الْمَجُوسِيِّ“ کہ یہ ایک مجوسی کا ذبیحہ ہے۔
”وَلَنَا“ اب ہماری دلیل آ گئی۔ ہم کہتے ہیں کہ دیکھیے، اگر ایک معاملے کے اندر صرف حرمت آ رہی ہو تو پھر تو وہ حقِ شرع ہے، وہاں ایک آدمی کی خبر پر بھی عمل کیا جائے گا۔ اگر ایک معاملے میں صرف حرمت آ رہی ہو یعنی صرف حقِ شرع آ رہا ہے تو وہاں ایک آدمی کی خبر بھی کافی ہے۔ اور اگر وہاں پر حق العبد کا بھی دخل آ رہا ہے یعنی حرمت کے ساتھ ساتھ اس آدمی کی ملکیت بھی اس چیز پر سے ختم ہو رہی ہے، تو ملکیت یہ تو حق العبد ہے بھئی، ایک آدمی ایک چیز کا مالک ہے، یہ اس کا حق ہے بھئی۔ تو اگر حرمت کے ساتھ ساتھ ملکیت بھی ختم ہو، تو پھر اس صورت میں معلوم ہوا یہ صرف حقِ شرع نہیں بلکہ اس میں حق العبد بھی آ گیا، اور حقوق العباد کے اندر تو دو مردوں کی گواہی ضروری ہے یا ایک مرد دو عورتوں کی گواہی ضروری ہے۔ توجہ ہے؟ تو کیا بات ہوئی؟ ہم کیا کہتے ہیں کہ اگر صرف حرمت آئے تو پھر تو یہ حقِ شرع ہے، پھر تو اس میں ایک آدمی کی خبر بھی کافی ہے، جیسے اس گوشت والے مسئلے میں۔ اس آدمی نے آ کر خبر دی تو اس کی وجہ سے یہ گوشت حرام ہو گیا لیکن مسلمان کی اس گوشت پر سے ملکیت ختم نہیں ہوئی، وہ اب بھی اس گوشت کا مالک ہے۔ معلوم ہوا حرمت آئی ہے لیکن زوالِ ملک نہیں، ملکیت ختم نہیں ہو رہی، معلوم ہوا یہ صرف حقِ شرع ہے یہاں پر، اور حقِ شرع میں تو ایک آدمی کی خبر بھی کافی ہے، یہ ایک خالص دینی معاملہ ہے۔ لہٰذا اس مسلمان پر یہ گوشت کیا ہو گیا؟ حرام، اگرچہ یہ اب بھی اس گوشت کا مالک ہے۔ توجہ ہے؟ یاد رکھو یہ جو کھانے پینے اور استعمال کی چیزیں ہیں، ان میں حرمت اور ملکیت جمع ہو سکتے ہیں کہ ایک چیز حرام بھی ہو اور ملکیت بھی پائی جائے، جیسے اس گوشت کے اندر ایک آدمی نے آ کر خبر دے دی اب یہ مسلمان کے لیے کھانا تو حرام ہو گیا لیکن ملکیت اس کی ابھی بھی موجود ہے، تو دیکھو حرمت کے ساتھ ساتھ ملکیت جمع ہو گئی۔ یا دوسری صورت بنا لیں، ایک آدمی کے پاس انگور کا رس تھا، وہ انگور کا وہ رس پڑے پڑے شراب میں تبدیل ہو گیا، تو اب مسلمان اب بھی اس کا مالک ہے، دیکھو حرمت بھی آ گئی اور پھر مسلمان کی ملکیت بھی موجود ہے۔ تو ہم کہتے ہیں یاد رکھو کہ کھانے پینے اور استعمال کی چیزوں کے اندر حرمت اور ملکیت جمع ہو سکتے ہیں، حرمت اور ملکیت جمع ہو سکتے ہیں، لیکن نکاح ایک ایسی چیز ہے وہاں جب بھی حرمت آتی ہے ساتھ ہی اس عورت پر سے اس آدمی کی ملکِ نکاح ختم ہو جاتی ہے۔ بھئی خاوند کو بیوی پر ملکِ نکاح حاصل ہوتی ہے، نکاح کی ملکیت حاصل ہوتی ہے بیوی پر، تو نکاح کے اندر جب حرمت آئے گی تو وہاں حرمت کے ساتھ ساتھ زوالِ ملک بھی ہوگا، معلوم ہوا نکاح کے اندر جو حرمت آتی ہے وہ صرف حقِ شرع نہیں ہے بلکہ بندے کا بھی حق ہے کیونکہ اس کی ملکیت ختم ہو رہی ہے بیوی پر سے۔ مثلاً امام مالک رحمہ اللہ کے نزدیک ایک عادلہ عورت نے آ کر خاوند اور بیوی کو بتلایا کہ میں نے تم دونوں کو بچپن میں دودھ پلایا تھا، تم تو آپس میں رضاعی بھئی بہن ہو، تمہارا تو نکاح جائز نہیں ہے۔ تو امام مالک رحمہ اللہ کے نزدیک یہ عورت خاوند پر حرام ہو جائے گی، اور نیز جب عورت خاوند پر حرام ہوئی تو ساتھ ہی زوالِ ملک بھی آ گیا، نکاح بھی دونوں کا ختم ہو گیا تو ملکِ نکاح ختم ہو گئی، تو یہاں پر جب رضاعت ثابت ہوتی ہے صرف حرمت نہیں آتی بلکہ زوالِ ملک بھی آتا ہے۔ اور کسی کی ملکیت کو زائل کرنا اس کے لیے کم از کم دو مردوں کی گواہی یا ایک مرد دو عورتوں کی گواہی ضروری ہے۔ مثلاً آپ کے پاس یہ کتاب ہے، آپ اس کے مالک ہیں، ایک اور آدمی آیا اور آ کر اس نے دعویٰ کر دیا یہ میری کتاب ہے اور قاضی کے پاس آپ کو لے گیا، آپ اس کتاب کے ابھی بھی مالک ہیں، ہاں اگر اس نے دو گواہ پیش کر دیے، دو مرد گواہ پیش کر دیے یا ایک مرد دو عورتیں گواہ پیش کر دیں تو پھر اس صورت کے اندر قاضی اس کے حق میں فیصلہ کرے گا اور کتاب اس کی ہو جائے گی اور کتاب پر سے آپ کی ملکیت ختم ہو جائے گی۔ تو معلوم ہوا زوالِ ملک کے لیے کم از کم دو مردوں کی گواہی یا ایک مرد دو عورت کی گواہی ضروری ہے، اس کے بغیر زوالِ ملک نہیں ہو سکتا۔ تو اگر امام مالک رحمہ اللہ کی بات لی جائے، ایک عورت کے خبر دینے سے ہی حرمت ثابت ہو جائے، تو حرمت ثابت ہونے کے ساتھ ساتھ زوالِ ملک بھی آئے گا اور زوالِ ملک جو ہے وہ تو ایک فرد کی خبر دینے سے ثابت نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا اس لیے ہم کہتے ہیں کہ نکاح کے اندر جب بھی حرمتِ رضاعت آئے گی وہاں زوالِ ملک ضرور ہوگا، ایسا نہیں ہو سکتا صرف حرمت آئے اور زوالِ ملک نہ آئے، تو معلوم ہوا حرمت کے ساتھ زوالِ ملک آ رہا ہے یعنی حق اللہ کے ساتھ حق العبد بھی آ رہا ہے، لہٰذا اس لیے ہم کہتے ہیں کہ رضاعت جو ہے اس میں دو مردوں یا ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی ضروری ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
تو دیکھیے بھئی، ”وَلَنَا“ ہماری دلیل یہ ہے ”أَنَّ ثُبُوتَ الْحُرْمَةِ لَا يَقْبَلُ الْفَصْلَ“ کہ یہ حرمت کا ثابت ہونا، یہ جو رضاعت کی وجہ سے حرمت آئی ہے اس حرمت کا ثابت ہونا ”لَا يَقْبَلُ الْفَصْلَ“ یہ جدائی کو قبول نہیں کرتا یعنی یہ جدا نہیں ہوتا ”عَنْ زَوَالِ الْمِلْكِ“ کس سے؟ زوالِ ملک سے ”فِي بَابِ النِّكَاحِ“ نکاح کے باب میں۔ نکاح کے باب میں جب بھی حرمت آئے گی زوالِ ملک ضرور آئے گا یعنی نکاح ختم ہو جائے گا، تو معلوم ہوا اس میں حق العبد بھی ہے لہٰذا ضروری ہے کہ دو مرد گواہی دیں یا ایک مرد دو عورتیں گواہی دیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ جبکہ کھانے پینے اور استعمال کی چیزوں کے اندر وہاں صرف حرمت آئے اور زوالِ ملک نہ آئے، وہاں ایسا ہو سکتا ہے، تو وہاں ایک آدمی کی خبر بھی کافی ہوگی بھئی۔ لیکن جہاں زوالِ ملک بھی آ رہا ہو اس حرمت کے اندر ایک آدمی کی خبر کافی نہیں۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَنَا أَنَّ ثُبُوتَ الْحُرْمَةِ لَا يَقْبَلُ الْفَصْلَ عَنْ زَوَالِ الْمِلْكِ فِي بَابِ النِّكَاحِ“ ہماری دلیل یہ ہے کہ حرمت کا ثابت ہونا یہ جدائی کو قبول نہیں کرتا ملکیت کے زائل ہونے سے نکاح کے باب میں ”وَإِبْطَالُ الْمِلْكِ لَا يَثْبُتُ إِلَّا بِشَهَادَةِ رَجُلَيْنِ أَوْ رَجُلٍ وَامْرَأَتَيْنِ“ اور کسی کی ملکیت کو باطل کرنا یہ ثابت نہیں ہو سکتا مگر دو مردوں کی گواہی سے یا ایک مرد دو عورتوں کی گواہی سے ”بِخِلَافِ اللَّحْمِ“ بخلاف گوشت کے ”لِأَنَّ حُرْمَةَ التَّنَاوُلِ“ تناول کا معنی ہے کھانا کھانا یا اسی طرح کوئی چیز استعمال کرنا، تو دیکھو اس گوشت کا کھانا کیا ہو گیا تھا؟ جب ایک آدمی نے آ کر خبر دی کہ یہ مجوسی کا ذبیحہ ہے تو اس گوشت کا کھانا حرام ہوا، لیکن اس حرمت کے ساتھ زوالِ ملک نہیں آیا، وہ آدمی ابھی بھی اس گوشت کا مالک ہے۔ تو کھانے پینے کی چیزوں میں حرمت زوالِ ملک سے جدا ہو جاتی ہے، معلوم ہوا وہ خالص دینی معاملہ ہے۔ لیکن نکاح کے اندر حرمت جو ہے وہ زوالِ ملک سے جدا نہیں ہوتی، معلوم ہوا وہ خالص دینی معاملہ نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ حُرْمَةَ التَّنَاوُلِ يَنْفَكُّ عَنْ زَوَالِ الْمِلْكِ“ اس لیے کیونکہ کھانے کا حرام ہونا یہ جدا ہو جاتا ہے زوالِ ملک سے ”فَاعْتُبِرَ أَمْرًا دِينِيًّا“ لہٰذا اس لیے اس کو ایک امرِ دینی شمار کیا گیا ہے۔ وہ گوشت کے مسئلے میں حرمت آئی ہے زوالِ ملک نہیں آیا لہٰذا وہ ایک امرِ دینی ہے بھئی، اور امرِ دینی کے اندر تو ایک آدمی کی خبر بھی قبول کر لی جاتی ہے، اس لیے وہاں حرمت آ جائے گی، بات سمجھ میں آگئی۔ تو یہ معنی ہے: ”فَاعْتُبِرَ أَمْرًا دِينِيًّا“ لہٰذا اس گوشت والے معاملے کو ایک دینی معاملہ شمار کیا گیا ہے۔ ”وَاللَّهُ أَعْلَمُ“ اور اللہ خوب جاننے والے ہیں، بات سمجھ میں آ گئی، حل ہو گیا، چلیے بس بھئی ”هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ“.