آگے سبق دیکھیے بھئی:
﴿وَإِنْ تَزَوَّجَتْ بِإِذْنِ مَوْلَاهَا ثُمَّ أُعْتِقَتْ فَلَهَا الْخِيَارُ حُرًّا كَانَ زَوْجُهَا أَوْ عَبْدًا لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ لِبَرِيرَةَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهَا حِينَ أُعْتِقَتْ: مَلَكْتِ بُضْعَكِ فَاخْتَارِي، فَالتَّعْلِيلُ بِمِلْكِ الْبُضْعِ صَدَرَ مُطْلَقًا فَيَنْتَظِمُ الْفَصْلَيْنِ، وَالشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى يُخَالِفُنَا فِيمَا إِذَا كَانَ زَوْجُهَا حُرًّا﴾۔
بھئی گزشتہ سبق میں صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا تھا کہ اگر آقا اپنی باندی کا نکاح کروا دے کسی شخص سے، اور پھر خاوند کے صحبت کرنے سے پہلے ہی آقا اپنی اس باندی کو قتل کر دے، تو امام صاحب کے نزدیک آقا کو باندی کا مہر نہیں ملے گا۔ اس لیے کیونکہ آقا جو ہے وہ مانع بن گیا باندی کو حوالے کرنے سے، تو لہٰذا آقا سے بھی اس کے حق یعنی باندی کے مہر کو روک لیا جائے گا۔ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ نہیں، آقا کو باندی کا مہر دیا جائے گا، اور وہ اس کو قیاس کرتے ہیں طبعی موت پر۔ اور طبعی موت کے اندر تو بالاتفاق بھئی اگر عورت کا صحبت سے پہلے انتقال ہو جائے تو پھر خاوند پر مہر پورا واجب ہو جاتا ہے۔ اور نیز وہ فرماتے ہیں صاحبین کہ یہ جس کو قتل کیا جاتا ہے یہ بھی اپنے مقررہ وقت پر ہی مرا ہے، موت کا ایک وقت مقرر ہے اور یہ عین اپنے مقررہ وقت پر ہی مرا ہے تو یہ اسی طرح ہو گیا جیسے کسی اجنبی نے اس کو قتل کیا ہو، اور اجنبی کے قتل کی صورت میں تو بالاتفاق آقا کو مہر ملتا ہے تو یہاں پر بھی آقا کو مہر ملے گا۔ تو یہ آقا کا قتل بھی کس کی طرح ہوا؟ اجنبی کے قتل کی طرح، اور اجنبی کا قتل کس کی طرح ہے؟ طبعی موت کی طرح ہے، اور طبعی موت میں تو مہر دینا پڑتا ہے لہٰذا آقا کے قتل کی صورت میں بھی مہر دینا پڑے گا۔ جبکہ امام صاحب فرماتے ہیں کہ آقا مانع بن گیا باندی کے سپرد کرنے سے، تو آقا سے بھی اس کا حق یعنی مہر روک لیا جائے گا بھئی۔
یہ اسی طرح ہے جیسے العیاذ باللہ آزاد عورت مرتد ہو جائے تو پھر اس صورت کے اندر نکاح فسخ ہو جاتا ہے اور اس عورت کو مہر نہیں ملتا کیونکہ یہ مانع بن گئی بھئی، یہ منافع کو خاوند کے حوالے کرنے سے خود مانع بن گئی ہے، اس کے ارتداد کی وجہ سے نکاح فسخ ہوا ہے، تو اس عورت کو مہر نہیں ملتا۔ تو جیسے یہ عورت مانع بنی تھی منافع کے سپرد کرنے میں تو اس کو مہر نہیں ملا، تو اوپر والے مسئلے کے اندر بھی آقا جو ہے وہ مانع بن گیا ہے لہٰذا آقا کو بھی مہر نہیں ملے گا بھئی۔ اور نیز صاحبین فرماتے تھے کہ یہ قتل بھی جو ہے طبعی موت کی طرح ہے، تو اس کا بھی جواب دیا کہ دنیاوی احکام کے اعتبار سے قتل جو ہے اس کو طبعی موت نہیں شمار کیا جاتا بلکہ اس کو اہلاک شمار کیا جاتا ہے کہ ایک شخص نے دوسرے کو ہلاک کر دیا ہے، اس کی جان لے لی ہے، چنانچہ اسی وجہ سے پھر اگر جان بوجھ کر قتل کیا ہو آلۂ قتل سے تو قصاص آتا ہے، اور اگر جان بوجھ کر قتل نہ کیا ہو تو پھر پھر دیت آتی ہے۔ معلوم ہوا قتل جو ہے وہ دنیاوی احکام کے اعتبار سے اس کو اتلاف شمار کیا جاتا ہے، اہلاک شمار کیا جاتا ہے، طبعی موت شمار نہیں کیا جاتا، لہٰذا یہاں پر مہر کے سلسلے میں بھی آقا نے یہ جو باندی کو قتل کیا ہے اس قتل کو اہلاک ہی شمار کیا جائے گا، اس کو طبعی موت شمار نہیں کیا جائے گا۔
اور اسی طرح پھر مسئلہ ذکر فرمایا کہ اگر ایک آزاد عورت جو ہے وہ اپنے آپ کو قتل کر دے رخصتی سے پہلے ہی، تو اس صورت کے اندر اس عورت کو مہر ملے گا بھئی۔ جبکہ امامِ زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، جس عورت نے خودکشی کی ہے وہ بھی مانع بن گئی ہے منافع کو خاوند کے سپرد کرنے سے لہٰذا اس کو مہر نہیں ملے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ عورت کا تو انتقال ہو چکا ہے، مہر اس کے وارثوں کو ملنا ہے بھئی، لیکن امامِ زفر فرماتے ہیں کہ مہر نہیں ملے گا کیونکہ عورت مانع بن گئی ہے، وہ اس کو قیاس کرتے ہیں مرتدہ پر اور اس باندی پر جسے آقا نے قتل کیا ہو۔ جیسے مرتدہ مانع بن جاتی ہے اس کو مہر نہیں ملتا، اسی طرح اس عورت کو بھی نہیں ملے گا۔ اور جیسے آقا اپنی باندی کو قتل کر دے تو اس کو مہر نہیں ملتا کیونکہ وہ مانع بن گیا ہے تو یہاں بھی یہ عورت جس نے خودکشی کی ہے یہ مانع بن گئی ہے منافع کے سپرد کرنے سے لہٰذا اس کو بھی مہر نہیں ملے گا۔ جبکہ ہم جواب دیتے ہیں کہ نہیں، یہ جس عورت نے خودکشی کی ہے اس کو مہر ملے گا، اس لیے کیونکہ یہ جو آدمی اپنی ذات پر جو جنایت کرتا ہے اپنی ذات کو جو نقصان پہنچاتا ہے اس پر کوئی دنیاوی حکم مرتب نہیں ہوتا، اس پر کوئی دنیاوی حکم مرتب نہیں ہوتا۔ جبکہ مرتد ہونا یا آقا کا اپنی باندی کو قتل کرنا اس پر دنیاوی احکام مرتب ہوتے ہیں بھئی، چنانچہ مرتدہ کا نکاح فسخ ہو جاتا ہے اور نیز اس کو قید میں ڈالا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ دوبارہ مسلمان ہو جائے یا اسی قید میں اس کا انتقال ہو جائے۔ تو دیکھا؟ مرتدہ کے لیے بھی دنیاوی احکام ہیں، اور اسی طرح آقا اگر اپنی باندی کو قتل کر دے تو وہاں پر بھی دنیاوی احکام ہیں، وہاں قصاص اور دیت تو نہیں آئے گی لیکن کفارہ آ جائے گا بھئی۔ آقا پر کیا واجب ہوگا؟ اپنی باندی یا غلام کے قتل پر کفارہ واجب ہوتا ہے، اور کفارۂ قتل میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ ایک مومن غلام یا باندی کو آزاد کرنا پڑے گا یا ساٹھ روزے مسلسل رکھنا پڑیں گے بھئی۔
تو آقا پر کفارہ آئے گا، البتہ قصاص اور دیت آقا پر نہیں آئیں گے۔ اس لیے کیونکہ قصاص اور دیت کے لیے مطالب چاہیے، کوئی مطالبہ کرنے والا، اور یہ باندی تو آقا کی اپنی تھی تو مطالبہ کرنے والا بھی یہی خود ہوا، اور قتل بھی اس نے کیا ہے تو مطالب بھی یہی ہوا یعنی جس سے مطالبہ کیا جائے گا قصاص اور دیت کا۔ تو اس صورت میں مطالب اور مطالب کا ایک ہونا لازم آتا ہے، اس لیے آقا پر قصاص اور دیت نہیں آئے گی بھئی۔ اور نیز یہ بھی یاد رکھنا بھئی، یہ تو میں نے عقلی وجہ ذکر کر دی، اور یہ بھی یاد رکھنا حدیث میں بھی آتا ہے کہ آقا کو اپنے غلام کی وجہ سے قتل نہیں کیا جائے گا بھئی۔ اور نیز آقا پر اس لیے بھی قصاص نہیں آئے گا، اس لیے کیونکہ یہ باندی آقا کی مملوک تھی بھئی جس کو اس نے قتل کیا ہے، تو آقا نے باندی کو قتل کر کے اپنا مال ضائع کیا ہے، اپنا نقصان کیا ہے، لہٰذا آقا پر قصاص نہیں آئے گا بھئی۔ تو اپنی ملکیت کو تلف کرنے اور اپنی ملکیت کو ہلاک کرنے کی وجہ سے آقا پر قصاص نہیں آئے گا بھئی۔ یہ اسی طرح ہے جیسے باپ اپنے بیٹے کو قتل کر دے۔ باپ اپنے بیٹے کو قتل کر دے تو یاد رکھو وہاں بھی قصاص نہیں آتا، کیونکہ یاد رکھو یہ جو حدود اور قصاص ہیں یہ ادنیٰ شبہے سے بھی ساقط ہو جاتے ہیں۔ حدود یعنی وہ شرعی سزائیں جو اللہ کی طرف سے مقرر ہیں، اور اسی طرح جو قصاص ہے یہ شبہے کی وجہ سے ساقط ہو جایا کرتے ہیں۔ تو باپ اگر اپنے بیٹے کو قتل کر دے تو وہاں شبۂ مِلک آتا ہے، کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک صحابی نے آ کر اپنے بیٹے کی شکایت کی کہ وہ مجھ سے اپنا مال چھپا کر رکھتا ہے، روک کر رکھتا ہے، تو حضور علیہ السلام نے ان کے بیٹے کو بلوایا اور ان سے کہا: ”أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِيكَ“، تو اور تیرا مال دونوں تیرے باپ کے ہیں۔ تو دیکھو اس حدیث کی وجہ سے شبۂ ملک آ گیا کہ بیٹا بھی کیا ہے؟ باپ کی ملکیت ہے، تو اس شبۂ ملک کی وجہ سے اب باپ پر سے قصاص ساقط ہو جائے گا۔ تو جب شبۂ ملک کی وجہ سے قصاص ساقط ہو جاتا ہے تو اس مسئلے کے اندر تو آقا نے اپنی باندی قتل کی ہے جہاں شبۂ ملک نہیں ہے بلکہ باقاعدہ اس کی اپنی ملک ہے، وہ اس کا اپنا مال ہے، تو جب شبۂ ملک کی وجہ سے قصاص ساقط ہو جاتا ہے تو اپنی ملکیت ہونے کی صورت میں تو بطریقِ اولیٰ قصاص ساقط ہو جائے گا، بات سمجھ میں آ گئی؟ اور نیز اس لیے بھی قصاص باپ سے ساقط ہو جاتا ہے، اس لیے کیونکہ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں والدین کے بارے میں: ﴿فَلَا تَقُلْ لَّهُمَآ أُفٍّ﴾ کہ اپنے والدین کو اف بھی نہ کہو۔ معلوم ہوا والدین کو ادنیٰ تکلیف دینے سے بھی اولاد کو منع کیا گیا ہے۔ تو اگر بیٹے کے قتل کی وجہ سے باپ سے قصاص لیا جائے تو پھر اس صورت میں جب یقیناً جب باپ کو قتل کیا جائے گا تو باپ کو تکلیف ہوگی بھئی، اور یہ تکلیف کس کی وجہ سے آئی؟ بیٹے کی وجہ سے، کیونکہ بیٹا اس قصاص کا سبب بن رہا ہے، تو لہٰذا گویا یہ تکلیف بیٹے کی طرف سے پہنچ رہی ہے، اور باپ کو تو اف کہنے سے بھی منع کیا گیا ہے چہ جائے کہ کہ اس کو بیٹے کی وجہ سے قتل کیا جائے اور عظیم تکلیف دی جائے، تو اس لیے بھی باپ پر قصاص نہیں آئے گا بھئی۔
اس کے بعد دوسرا مسئلہ ہم نے یہ پڑھا تھا کہ اگر کوئی شخص باندی سے نکاح کر لیتا ہے تو پھر اس سے عزل کرتا ہے۔ عزل کہتے ہیں کوئی ایسا طریقہ اختیار کرنا جس سے حمل نہ ٹھہرے، یعنی اس کی بیوی حاملہ نہ ہو، تو یہ جو عزل کرنے میں اس خاوند کو آقا سے اجازت لینا پڑے گی یا اس باندی سے اجازت لینا پڑے گی؟ تو صاحبین فرماتے ہیں کہ اس باندی سے اجازت لینا پڑے گی، اس لیے کیونکہ یہ جو وطی کرتا ہے خاوند، یہ وطی اس باندی کا بھی حق ہے، حتیٰ کہ اگر خاوند وطی نہ کرے تو باندی قاضی کے پاس جا کر اپنے اس حق کے لیے مطالبہ کر سکتی ہے۔ تو یہ باندی اس حق میں آزاد عورت کی طرح ہوئی اور جیسے وہ قاضی کے پاس جا کر مطالبہ کر سکتی ہے یہ باندی بھی مطالبہ کر سکتی ہے۔ اور آزاد عورت کے اندر تو بالاتفاق خاوند کو بیوی سے اجازت لینا پڑے گی عزل کے لیے، کیونکہ اولاد بیوی کا بھی حق ہے، صرف خاوند کا حق نہیں ہے بلکہ بیوی کا بھی حق ہے۔ تو آزاد بیوی سے عزل کرنے میں خاوند کو بیوی سے اجازت لینا پڑتی ہے تو اسی طرح اس باندی سے بھی خاوند کو اجازت لینا پڑے گی عزل کے اندر۔ جبکہ امام صاحب فرماتے ہیں کہ نہیں، یہ جو باندی سے اولاد ہوتی ہے یہ اس آقا کا حق ہے، یہ اس آقا کے غلام اور باندیاں شمار ہوتے ہیں، تو اس باندی سے پیدا ہونے والی اولاد آقا کا حق ہے لہٰذا یہاں خاوند کو آقا سے اجازت لینا پڑے گی۔ اور نیز کہتے ہیں اس کے ذریعے فرق آ گیا منکوحہ باندی اور منکوحہ آزاد عورت کے درمیان بھی، کہ آپ ایک کو دوسرے پر قیاس نہیں کر سکتے، اس لیے کیونکہ دونوں میں فرق ہے۔ منکوحہ آزاد عورت جو ہے اس کے اندر اولاد اس کا اپنا حق ہے جبکہ منکوحہ باندی کے اندر جو اولاد ہے وہ اس کے آقا کا حق ہے، لہٰذا اس باندی کو آزاد عورت پر قیاس نہیں کیا جائے گا کیونکہ دونوں میں فرق ہے بھئی۔
اب آئیے آج کے سبق پر:
﴿وَإِنْ تَزَوَّجَتْ بِإِذْنِ مَوْلَاهَا ثُمَّ أُعْتِقَتْ فَلَهَا الْخِيَارُ حُرًّا كَانَ زَوْجُهَا أَوْ عَبْدًا﴾، بھئی یہ خیارِ عتق کا مسئلہ آ گیا۔ عند الاحناف باندی کو اگر آقا آزاد کرے اور وہ باندی منکوحہ ہے، تو اس کو جس مجلس میں اپنی آزادی کی خبر پہنچے اس مجلس کے اندر شریعت نے اس کو اختیار دیا ہے وہ اپنے نکاح کو فسخ کر سکتی ہے بھئی، اور اس اختیار کو یاد رکھو خیارِ عتق کہتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ ہمارے نزدیک یہ جو طلاقیں ہیں ان کا تعلق عورت سے ہوتا ہے۔ اگر بیوی آزاد عورت ہے تو خاوند جو ہے وہ تین طلاقوں کا مالک ہوتا ہے، اور اگر بیوی باندی ہو تو خاوند دو طلاقوں کا مالک ہوتا ہے۔ توجہ ہے؟ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ وغیرہ کے نزدیک طلاقوں کا تعلق بیوی سے نہیں ہوتا بلکہ خاوند سے ہوتا ہے، اگر خاوند آزاد آدمی ہو تو وہ تین طلاقوں کا مالک ہوتا ہے، بیوی چاہے آزاد ہو یا باندی اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک طلاقوں کا تعلق کس سے ہے؟ خاوند سے ہے، آدمی سے ہے، اگر خاوند آزاد آدمی ہے تو وہ تین طلاقوں کا مالک ہے، اور اگر خاوند غلام ہے تو وہ اپنی بیوی پر دو طلاقوں کا مالک ہے۔ جبکہ عند الاحناف طلاق کا تعلق عورت سے ہے، عورت آزاد ہے تو خاوند تین طلاقوں کا مالک، اور عورت اگر باندی ہے تو خاوند دو طلاقوں کا مالک ہے۔ تو ہمارے نزدیک مطلقاً جو بھی منکوحہ باندی ہو، جب اس کو آزادی ملے گی تو پہلے خاوند دو طلاقوں کا مالک تھا اور اب جب یہ آزاد عورت بنے گی تو خاوند تین طلاقوں کا مالک ہو جائے گا، تو بیوی کے اوپر خاوند کی ملکیت بڑھ رہی ہے۔ تو اس ازدیادِ ملک کی وجہ سے شریعت نے عورت کو یعنی باندی کو حق دیا ہے وہ اس نکاح کو فسخ کر سکتی ہے۔ تو باندی کو جس مجلس کے اندر اپنی آزادی کی اطلاع ملے اسی مجلس کے اندر اس کو اختیار ہے وہ اپنے نکاح کو فسخ کر سکتی ہے۔ اس کے اوپر خاوند کی ملکیت بڑھ رہی ہے، وہ اس ملکیت کو بڑھنے نہ دے، اس کو دفع کر دے، یعنی نکاح ہی کو کیا کر دے؟ فسخ کر دے۔ تو ہمارے نزدیک خیارِ عتق مطلقاً ہر منکوحہ باندی کو ملے گا چاہے اس کا خاوند آزاد ہو چاہے اس کا خاوند غلام ہو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، کیونکہ طلاقوں کا تعلق خاوند سے نہیں ہوتا بلکہ کس سے ہوتا ہے؟ بیوی سے ہوتا ہے، اور بیوی پہلے باندی تھی خاوند دو طلاقوں کا مالک تھا، اب آزاد ہو رہی ہے تو خاوند تین طلاقوں کا مالک بن جائے گا تو خاوند کی ملکیت اس کے اوپر بڑھ رہی ہے، تو اس ازدیادِ ملک کو روکنے کے لیے، اس ملکیت کے بڑھنے کو روکنے کے لیے شریعت نے اس کو خیارِ عتق دیا ہے وہ اسی مجلس میں اپنا نکاح فسخ کر سکتی ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ مطلقاً جو بھی منکوحہ باندی آزاد ہوگی اس کو اس مجلس میں خیارِ عتق حاصل ہوگا۔
جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ طلاق کا تعلق مرد سے ہوتا ہے عورت سے نہیں، خاوند آزاد ہے تو وہ تین طلاقوں کا مالک ہے اور اگر خاوند غلام ہے تو وہ اپنی بیوی پر دو طلاقوں کا مالک ہے، لہٰذا وہ فرماتے ہیں کہ مطلقاً ہر منکوحہ باندی کو خیارِ عتق نہیں ملے گا بلکہ صرف اس باندی کو خیارِ عتق ملے گا جس کا خاوند غلام ہو، جس کا خاوند غلام ہو۔ ایک باندی کو آقا نے آزاد کر دیا اور اس کا نکاح ایک غلام سے ہوا تھا بھئی، تو اس باندی کو خیارِ عتق ملے گا بھئی۔ اور نیز ہمارے نزدیک تو علت کیا تھی کہ خاوند کی ملکیت بیوی پر بڑھ رہی تھی، دو کے بجائے طلاقیں تین ہو رہی تھیں بھئی، پہلے عورت کے گلے میں دو رسیاں تھیں تو اب کتنی ہو جاتیں؟ تین ہو جاتیں، تو یہ کیسی آزادی ہے کہ اس کے گلے میں رسیاں بڑھ گئیں، اس پر ملکیت بڑھ گئی، لہٰذا شریعت نے اس کو خیارِ عتق دے دیا۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ وغیرہ کے نزدیک اس کی علت اس کی علت عدمِ کفاءت ہے۔ کیونکہ جب باندی آزاد ہو جائے گی اور اس کا خاوند غلام ہے تو یہ اس کا خاوند اس کا کفو نہ رہا، اس کا ہم پلہ اور اس کے برابر کا نہ رہا، کیونکہ آزاد کا تو بڑا اونچا مقام ہے، تو بیوی ہوئی آزاد اور خاوند کیا ہوا؟ غلام، تو دونوں میں کفاءت نہیں رہی، غلام اس کے برابر کا نہ رہا، یہ اس سے اعلیٰ ہو گئی، لہٰذا اس لیے شریعت نے اس کو اختیار دے دیا۔ تو معلوم ہوا عدمِ کفاءت صرف کس صورت میں ہوگی؟ جب خاوند غلام ہو، اگر خاوند پہلے سے ہی آزاد ہے اور یہ باندی اس کی منکوحہ ہے یہ بھی آزاد ہو گئی تو اب تو کفاءت ابھی بھی موجود ہے بھئی، کیونکہ وہ بھی آزاد ہے اور یہ بھی آزاد ہے۔ تو وہ فرماتے ہیں کہ مطلقاً ہر باندی کو خیارِ عتق نہیں ملے گا، صرف اس باندی کو خیارِ عتق ملے گا جس کا خاوند غلام ہو بھئی۔ تو ہمارے نزدیک یہ مطلقاً ہر باندی کو خیار ملے گا، اور ہمارے نزدیک علت کیا ہے؟ ازدیادِ ملک، خاوند کی ملکیت اس پر بڑھ رہی ہے، اس کی طلاقیں بڑھ رہی ہیں، جبکہ ان کے نزدیک علت کیا ہے؟ عدمِ کفاءت ہے کہ اب دونوں ایک دوسرے کے کفو نہ رہے، اور یہ صرف اس وقت ہوگا جب اس باندی کا خاوند غلام ہو۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
تو کہتے ہیں: ﴿وَإِنْ تَزَوَّجَتْ بِإِذْنِ مَوْلَاهَا﴾ اور اگر باندی نے نکاح کر لیا اپنے آقا کی اجازت سے، ﴿ثُمَّ أُعْتِقَتْ﴾ پھر اس باندی کو آزاد کر دیا گیا، ﴿فَلَهَا الْخِيَارُ حُرًّا كَانَ زَوْجُهَا أَوْ عَبْدًا﴾ تو اس باندی کو اختیار ہوگا اس کا خاوند چاہے آزاد ہو چاہے غلام۔ دیکھا؟ مطلقاً باندی کو خیار ملے گا، خاوند چاہے آزاد ہو چاہے غلام ہو بھئی۔
﴿لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ لِبَرِيرَةَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهَا حِينَ أُعْتِقَتْ﴾ بوجہ حضور علیہ السلام کے فرمانِ مبارک کے جو آپ نے حضرت بریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے فرمایا حین اعتقت جب ان کو آزاد کیا گیا۔ یہ حضرت بریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ان کو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے آزاد فرمایا تھا، اور ان کے بارے میں روایات میں آتا ہے کہ حضرت عائشہ فرماتی ہیں، یہ حاشیے میں حدیث دی ہوئی ہے کہ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ: ”كَانَ فِي بَرِيرَةَ ثَلَاثُ خِصَالٍ“ کہ بریرہ کے اندر تین خصلتیں تھیں بھئی، تین باتیں تھیں یعنی باقی سب سے الگ تین باتیں تھیں، وہ کیا تھیں؟ کہ: ”أَرَادَ أَهْلُهَا أَنْ يَبِيعُوهَا وَيَشْتَرِطُوا وَلَاءَهَا“، یہ کسی اور کی باندی تھیں، اس کے گھر والوں نے اس کو بیچنے کا ارادہ کیا، لیکن شرط یہ لگائی کہ ولاء ہمیں ملے گی، ولاء کے حقدار ہم ہوں گے۔ تو بات سمجھ میں آ گئی؟ ولاء بھی پہلے سمجھ لو یہیں پر بھئی۔ یاد رکھو ولاء جو ہے یہ فقہ کی کتابوں میں جگہ جگہ آپ پڑھتے ہیں، طالب علم حیران ہوتا ہے پتہ نہیں ولاء کیا چیز ہے، مالِ وراثت کو، ولاء کسے کہتے ہیں؟ مالِ وراثت۔ آپ نے پڑھا ہے کہ جب کسی شخص کا انتقال ہوتا ہے تو سب سے پہلے اس کے کفن دفن کا انتظام کیا جائے گا اس کے مال میں سے، پھر اس کے بعد اس کے سارے قرضے ادا کیے جائیں گے اس کے مال میں سے، اور اگر اس کے قرضے دو قسم کے ہیں کچھ دینِ صحت ہیں اور کچھ دینِ مرض ہیں تو اولاً دینِ صحت ادا کریں گے، اگر پیسے بچ گئے تو پھر دینِ مرض بھی ادا کر دیا جائے گا۔ اس کے بعد جو مال بچ گیا ہے تو پھر وہ اس کے ثلث کے اندر اگر اس نے کوئی وصیت کی ہے تو وہ وصیت نافذ کی جائے گی۔ اب چوتھے نمبر پر وارث آ گئے۔ سب سے پہلے کفن دفن تھا، پھر قرضے تھے، پھر ثلث کے اندر وصیت تھی، اب باقی کا مال وارثوں میں تقسیم ہوگا، اور وارثوں میں آپ نے پڑھا ہے کچھ ذوی الفروض ہیں جن کے باقاعدہ حصے مقرر ہیں قرآن اور حدیث کے اندر، کسی کو ثلث ملتا ہے، کسی کو نصف ملتا ہے، کسی کو ربع وغیرہ ملتا ہے، تو یہ باقاعدہ جن کے حصے مقرر ہیں ان کو ذوی الفروض کہتے ہیں۔ فروض حصے، حصے، ذوی الفروض حصوں والے۔ تو یہ کچھ حصوں والے ہیں، اور پھر ذوی الفروض کو مال دینے کے بعد جو مال بچ جائے وہ پھر عصبات میں تقسیم ہوتا ہے۔ اور عصبات آپ نے پڑھا ہے کہ وہ مرد ہیں عصبہ بنفسہٖ یعنی وہ مرد ہیں کہ جن کے ساتھ میت کا رشتہ جوڑنے میں درمیان میں کسی عورت کا واسطہ نہ آئے، جیسے بیٹا ہے، پوتا ہے، پڑپوتا ہے۔ دیکھا؟ بیٹے کے ساتھ میت کا براہِ راست واسطہ ہے، درمیان میں کسی عورت کا واسطہ نہیں، پوتا ہے دیکھو پوتے کے ساتھ بیٹے کے ذریعے رشتہ ہے، پھر پڑپوتا ہے اس کے ساتھ رشتہ کس کے ذریعے؟ بیٹے کے ذریعے اور پوتے کے ذریعے، تو دیکھو درمیان میں کہیں عورت نہیں آ رہی۔ اسی طرح میت کا باپ ہے، دادا ہے، پردادا ہے، دیکھو یہاں بھی درمیان میں کسی عورت کا واسطہ نہیں۔ یا اسی طرح میت کے بھئی ہیں بھئی، اب دیکھو میت کے بھئی ان کے ساتھ باپ کے ذریعے رشتہ ہے، ماں کے ذریعے بھی ان کے ساتھ رشتہ ہے لیکن جب باپ موجود ہے تو اسی کو دیکھا جائے گا، تو باپ کے واسطے سے ان کے ساتھ رشتہ ہے، درمیان میں کسی عورت کا واسطہ نہیں۔ اسی طرح دادا کی جو اولاد ہے یعنی باپ کے بھئی بہن، ان کے ساتھ دادا کے ذریعے رشتہ ہے بھئی، درمیان میں کسی عورت کا واسطہ نہیں ہے بھئی۔ تو باپ کے بھئی جیسے چچا وغیرہ ہیں، تو ان کے ساتھ دادا کے واسطے سے رشتہ ہے درمیان میں کسی عورت کا واسطہ نہیں ہے، یہ سب عصبات کہلاتے ہیں۔ تو ذوی الفروض کو دینے کے بعد باقی مال عصبات میں تقسیم ہوگا۔ آپ نے پڑھا ہے بیٹا بھی عصبات میں سے ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو اگر بیٹا موجود ہے تو وہ سارا مال پھر بیٹا لے جائے گا، اور اگر بیٹے کے ساتھ بیٹیاں بھی ہیں تو پھر بیٹے کو بیٹیوں سے دگنا حصہ ملے گا، تفصیل آپ پڑھ چکے ہوں گے۔ تو پہلا درجہ ذوی الفروض کا، اس کے بعد عصبات کو، اور یہ عصبات نسبی ہیں ان کے ساتھ نسب والا رشتہ ہے۔ اور اس کے بعد تیسرے درجے پر عصبہ سببی کا نمبر آتا ہے، عصبہ سببی وہ معتق کو کہتے ہیں، آزاد کرنے والا۔ فرض کرو یہ جو میت ہے یہ کسی زمانے میں غلام تھا یا باندی تھی اور پھر اس کو کسی نے آزاد کیا تھا، تو وہ جو معتق ہے معتق جس نے آزاد کیا تھا اس کو وہ اس کا عصبہ سببی ہے۔ وہ اس کا عصبہ سببی، تو لہٰذا اب اس کا درجہ آ گیا۔ اگر مال ذوی الفروض میں تقسیم کر دیا، جو مال بچا وہ عصبہ نسبی کو دینا ہے لیکن عصبہ نسبی کوئی نہیں، تو پھر یہ سارا مال عصبہ سببی کو مل جائے گا، اور عصبہ سببی کون ہے؟ معتق ہے جس نے میت کو آزاد کیا تھا۔ فرض کرو کسی وقت وہ میت کیا تھی؟ غلام تھی، اگر غلام نہیں تھی پھر تو اس کا کوئی معتق نہیں ہوگا بھئی۔ تو بہرحال اگر یہ معتق ہوا تو یہ مال اس کو مل جائے گا تیسرے نمبر پر، پہلا درجہ ذوی الفروض کا، پھر عصبہ نسبی کا اور پھر اس عصبہ سببی یعنی معتق کا، اور یہ جو معتق کو مال ملے گا اس کو ولاء کہتے ہیں، اس کو کیا کہتے ہیں؟ ولاء۔
تو ہم حدیث پڑھ رہے تھے، حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ حضرت بریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا میں تین باتیں تھیں بھئی: ایک تو یہ کہ اس کے گھر والوں نے ان کو بیچنے کا ارادہ کیا لیکن انہوں نے شرط لگائی ولاء ہمیں ملے گی، ولاء ہمیں یعنی ولاء کے حقدار ہم ہوں گے، اگر کوئی اور مال لینے والا نہ ہوا تو مالِ وراثت ہم لیں گے۔ تو دیکھو کہتے ہیں کہ حضرت بریرہ میں تین خصلتیں تھیں: ”أَرَادَ أَهْلُهَا أَنْ يَبِيعُوهَا وَيَشْتَرِطُوا وَلَاءَهَا“ اس کے گھر والوں نے ارادہ کیا ان کو بیچنے کا اور انہوں نے اس کی ولاء کی شرط لگائی کہ ولاء ہمیں ملے گی اس شرط پر ہم بیچیں گے۔ ”فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ“ تو میں نے یہ حضور علیہ السلام سے ذکر فرمایا، حضرت عائشہ کا ارادہ تھا کہ میں خرید کر آزاد کروں، لیکن انہوں نے ولاء کی شرط لگائی کہ ولاء ہمیں ملے گی، تو حضرت عائشہ نے حضور سے ذکر فرمایا، فقال تو حضور فرمانے لگے: ”اشْتَرِيهَا وَأَعْتِقِيهَا فَإِنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ“، کہ اس کو خرید لو اور آزاد کر دو، اس لیے کیونکہ ولاء تو اسی کے لیے ہوتی ہے جو آزاد کرے، یعنی ان کے شرط لگانے سے کچھ نہیں ہوتا، بس خرید لو اور آزاد کر دو، ولاء تو تمہیں ہی ملے گی کیونکہ تم ہو معتقہ اس کو آزاد کرنے والی۔ تو کہتے ہیں حضور نے فرمایا: ”اشْتَرِيهَا وَأَعْتِقِيهَا“ اس کو خرید لے اور آزاد کر دے، ”فَإِنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ“ ولاء اسی کے لیے ہوتی ہے جو آزاد کرے۔ ”وَعَتَقَتْ“ اور پھر وہ آزاد ہو گئیں، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے خرید کر انہیں آزاد کر دیا۔ ”فَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ زَوْجِهَا“ تو حضرت بریرہ یہ منکوحہ تھیں بھئی، ان کا نکاح ہوا تھا، تو حضور نے ان کو اختیار دیا من زوجہا ان کے خاوند سے کہ تم کیا کر سکتی ہو؟ تمہیں اختیار ہے اپنے خاوند کو اختیار کرو یا جدائی کو۔ ”فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا“ تو انہوں نے، حضرت بریرہ نے اپنی ذات کو اختیار کیا یعنی جدائی کو اختیار کیا۔ ”وَكَانَ النَّاسُ يَتَصَدَّقُونَ عَلَيْهَا“ اور لوگ ان پر صدقہ کرتے تھے، یعنی ان کے پاس صدقات وغیرہ بھیجتے تھے، ان کے پاس مال وغیرہ تھا نہیں تو لوگ صدقات ان کو دیتے تھے، ”وَيُهْدِي لَنَا“، یہدی ویسے تہدی ہونا چاہیے بھئی، أَهْدَى يُهْدِي کا معنیٰ آتا ہے کسی کو ہدیہ دینا، تحفہ دینا، تو لوگ ان کے پاس صدقات بھیجتے تھے تو یہاں تہدی ویسے ہونا چاہیے، بہرحال میری کتاب میں یہدی ہے، تو ”وَيُهْدِي لَنَا“ تو وہ ہمیں تحفے کے طور پر بھیج دیتی تھیں، لوگ ان کو صدقات کے طور پر چیزیں بھیجتے اور وہ ہمیں تحفے کے طور پر چیز بھیج دیتی تھیں، تو کہتے ہیں: ”فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ“ تو حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں نے حضور علیہ السلام سے یہ ذکر فرمایا، فقال تو حضور فرمانے لگے: ”هُوَ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ“، یعنی ان کے لیے تو یہ صدقہ ہے اور ہمارے لیے ہدیہ ہے، دیکھا؟ معلوم ہوا ملکیت کے بدلنے سے چیز کا حکم بھی بدل جاتا ہے۔ حضرت بریرہ کے قبضے سے پہلے تو وہ صدقہ ہے لیکن ان کے قبضہ کرنے کے بعد جب ہمیں بھیجیں گی تو وہ ہدیہ ہے بھئی۔
تو تین خصلتیں ان کی ذکر کیں بھئی، تین خصلتیں: ایک تو یہ کہ ان کے گھر والے ولاء اپنے لیے رکھنا چاہتے تھے، حضور نے فرمایا ولاء جو ہے جو معتق ہے اسی کے لیے ہوتی ہے، اور پھر دوسرا ان کو حضور علیہ السلام نے خیارِ عتق دیا بھئی، اور پھر تیسرا کہ وہ صدقات کو لیتی تھیں تو ہمیں بھیجتی تھیں تو حضور نے فرمایا ان کے لیے صدقہ ہے اور ہمارے لیے ہدیہ ہے بھئی۔
اچھا، تو یہ حضرت بریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بھئی، ان کے بارے میں یاد رکھو روایات مختلف ہیں۔ بعض روایات سے پتہ چلتا ہے کہ ان کے خاوند آزاد آدمی تھے، اور بعض روایات سے پتہ چلتا ہے کہ ان کے خاوند غلام تھے۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ ان روایات کو ترجیح دیتے ہیں کہ جن سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ غلام تھے، چنانچہ فرماتے ہیں دیکھا ان کے خاوند غلام تھے اس لیے حضور نے ان کو اختیار دیا تھا، جبکہ ہم احناف ترجیح دیتے ہیں ان روایات کو جن کے مطابق ان کے خاوند آزاد تھے بھئی۔
تو کہتے ہیں: ﴿لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ لِبَرِيرَةَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهَا حِينَ أُعْتِقَتْ﴾ بوجہ حضور علیہ السلام کے فرمانِ مبارک کے جو آپ نے حضرت بریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے فرمایا حین اعتقت جس وقت ان کو آزاد کیا گیا، حضور نے فرمایا ان سے: ”مَلَكْتِ بُضْعَكِ فَاخْتَارِي“، توجہ ہے متن پر بھئی؟ ”مَلَكْتِ بُضْعَكِ فَاخْتَارِي“ کہ تو اپنے بضع کی مالک بن گئی ہے فاختاری تو اختیار کر لے، یعنی تجھے اختیار ہے کہ تو اپنے آپ کو اختیار کرے یا اپنے خاوند کو۔ ﴿فَالتَّعْلِيلُ بِمِلْكِ الْبُضْعِ صَدَرَ مُطْلَقًا﴾ تعلیل کہتے ہیں علت بیان کرنا، کسی چیز کی علت اور سبب بیان کرنا، یہاں پر دیکھو حضور علیہ السلام نے باقاعدہ سبب بیان فرمایا ”فَاخْتَارِي“ کے لیے کہ تو اختیار کر لے، پہلے سبب بیان فرمایا: ”مَلَكْتِ بُضْعَكِ“ کہ تو اپنے بضع کی مالک بن گئی ہے، ”فَاخْتَارِي“ پس تو اختیار کر لے، تو دیکھو یہاں حضور علیہ السلام کے یہ الفاظ مطلق ہیں، ان کے اندر حضور علیہ السلام جو علت بیان فرما رہے ہیں کہ تو اپنے بضع کی مالک بن گئی ہے یہ مطلق ہیں، اس میں کوئی قید نہیں ہے کہ چونکہ تمہارا خاوند غلام ہے اس لیے تم مالک بن گئی ہو اپنے بضع کی، اگر آزاد ہوتا تو تم مالک نہ بنتی، ایسا کوئی حدیث میں ذکر نہیں ہے، حدیث میں اختیار کی علت مطلقاً حضور نے ذکر فرمائی ہے، اور الْمُطْلَقُ يَجْرِي عَلَى إِطْلَاقِهِ، معلوم ہوا مطلقاً ہر باندی کو اختیار ملے گا بھئی، کیونکہ وہ اپنے بضع کی مالک ہو گئی، اس کو آزادی مل گئی بھئی۔ تو حضور نے ان سے فرمایا: ”مَلَكْتِ بُضْعَكِ فَاخْتَارِي“ کہ تو اپنے بضع کی مالک ہو گئی ہے فاختاری تو تو اختیار کر لے، ﴿فَالتَّعْلِيلُ بِمِلْكِ الْبُضْعِ﴾ تو حدیث کے اندر جو علت بیان کی گئی ہے بضع کے مالک ہونے کی وجہ سے، ﴿صَدَرَ مُطْلَقًا﴾ وہ مطلقاً صادر ہوئی ہے، ﴿فَيَنْتَظِمُ الْفَصْلَيْنِ﴾ تو یہ دونوں صورتوں کو شامل ہوگی، دونوں صورتیں یعنی خاوند چاہے آزاد ہو چاہے غلام ہو۔ ﴿وَالشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى يُخَالِفُنَا فِيمَا إِذَا كَانَ زَوْجُهَا حُرًّا﴾ اور امام شافعی رحمہ اللہ تعالیٰ ہمارے خلاف ہیں اس صورت میں کہ جب اس کا خاوند آزاد ہو۔ یعنی امام شافعی فرماتے ہیں کہ اگر خاوند آزاد ہو تو اس باندی کو خیارِ عتق نہیں ملے گا، باندی کو خیارِ عتق صرف اس صورت میں ملے گا جب اس کا خاوند غلام ہو۔ جبکہ ہمارے نزدیک باندی کو خیارِ عتق ملے گا چاہے اس کا خاوند آزاد ہو چاہے اس کا خاوند غلام ہو، بات سمجھ میں آ گئی؟ چلیے بھئی، وقت ہو گیا، باقی انشاء اللہ کل پڑھیں گے۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم۔
مَالِک ہونے کے ساتھ، صَدَرَ مُطْلَقًا، یہ مطلق ہو کر صادر ہوئی ہے۔ یہ تعلیل مطلق ہو کر صادر ہوئی ہے، اس میں کوئی خاوند کے غلام ہونے کی قید موجود نہیں ہے۔ حدیث میں یہ نہیں ہے کہ تم اس لیے مالک بن گئی ہو کیونکہ تمہارا خاوند غلام ہے، نہیں، تعلیل مطلق ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو کہتے ہیں: فَالٹَّعْلِیْلُ بِمِلْکِ الْبُضْعِ صَدَرَ مُطْلَقًا، تو یہ جو تعلیل بضع کے مالک ہونے کے ساتھ ذکر کی گئی ہے، صَدَرَ مُطْلَقًا، یہ مطلق ہو کر صادر ہوئی ہے، مطلق ہو کر پیش آئی ہے یہ تعلیل، فَیَنْتَظِمُ الْفَصْلَیْنِ، تو یہ دونوں فصلوں کو شامل ہے، دونوں صورتوں کو شامل ہے، چاہے خاوند آزاد ہو، چاہے خاوند غلام ہو، دونوں صورتوں میں یہ تعلیل بنتی ہے کہ تو اپنے بضع کی مالک بن گئی ہے۔ جی۔ تو اپنے، آزادی مل گئی ہے تو اپنے بضع کی مالک بن گئی ہے، فَاخْتَارِیْ، تو تو اختیار کر لے، تو یہ دونوں صورتوں کو شامل ہے یہ علت، بھئی۔ دونوں صورتوں میں باندی مالک بن جاتی ہے اپنے بضع کی، لہٰذا اس کو اختیار ملے گا، بھئی۔
تو یہ معنی ہے: فَیَنْتَظِمُ الْفَصْلَیْنِ، تو یہ دونوں صورتوں کو شامل ہوگا یعنی چاہے خاوند آزاد ہو یا غلام۔ وَالشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللہُ تَعَالٰی یُخَالِفُنَا فِیْمَا إِذَا کَانَ زَوْجُھَا حُرًّا، اور امام شافعی رحمہ اللہ ہماری مخالفت کرتے ہیں اس صورت میں جبکہ اس باندی کا خاوند آزاد ہو، جی، وہ ہماری مخالفت کرتے ہیں کہ باندی کا خاوند اگر آزاد ہو پھر باندی کو اختیار نہیں ملے گا، جبکہ ہمارے نزدیک ہر صورت میں باندی کو اختیار ملے گا۔ تو کہتے ہیں: امام شافعی رحمہ اللہ یُخَالِفُنَا، وہ ہماری مخالفت کرتے ہیں، فِیْمَا إِذَا کَانَ زَوْجُھَا حُرًّا، اس صورت میں جبکہ اس باندی کا خاوند آزاد ہو، وَھُوَ مَحْجُوْجٌ بِہٖ، اور ان کے خلاف حجت قائم کی گئی ہے بِہٖ اس حدیث کے ذریعے۔ جی۔ ان کے خلاف حجت قائم کی گئی ہے اس حدیث کے ذریعے، بھئی۔ بھئی، یاد رکھو حَجَّ یَحُجُّ کا معنی ہے دلیل میں کسی پر غالب آنا۔ جی۔ دلیل پیش کرنا بھی ہے اور کسی پر دلیل کے ذریعے غالب آنا بھی ہے، تو حَجَّ یَحُجُّ سے اسمِ فاعل کیا بنے گا؟ حَاجٌّ، یعنی دلیل کے ذریعے کسی پر غالب آنے والا، اور مَحْجُوْجٌ، جس پر دلیل کے ذریعے غالب آیا جائے۔ تو یہ ترجمہ بھی آپ کر سکتے ہیں: وَھُوَ مَحْجُوْجٌ بِہٖ، اور ان پر غالب آیا گیا ہے دلیل میں بِہٖ اس حدیث کے ذریعے۔ جی۔ اس حدیث کے ذریعے ان پر دلیل میں غالب آیا گیا ہے، یا عام ترجمہ کر لیں وہ زیادہ بہتر ہے: وَھُوَ مَحْجُوْجٌ بِہٖ، اور ان کے خلاف حجت قائم کی گئی ہے بِہٖ اس حدیث کے ذریعے، وَلِأَنَّہٗ یَزْدَادُ الْمِلْکُ عَلَیْھَا عِنْدَ الْعِتْقِ، اور نیز اس لیے کیونکہ ملکیت جو ہے وہ بڑھ جاتی ہے عَلَیْھَا اس باندی پر عِنْدَ الْعِتْقِ آزادی کے وقت، فَیَمْلِکُ الزَّوْجُ بَعْدَہٗ ثَلَاثَ تَطْلِیْقَاتٍ، تو خاوند اس آزادی کے بعد مالک ہوتا ہے تین طلاقوں کا، فَتَمْلِکُ رَفْعَ أَصْلِ الْعَقْدِ، تو لہٰذا یہ عورت اب مالک ہوگی، کس چیز کی؟ رَفْعَ أَصْلِ الْعَقْدِ، کہ وہ اصلِ عقد ہی کو اٹھا دے، پورے عقد ہی کو کیا کر دے؟ ختم کر دے تاکہ اس کے اوپر ملکیت نہ بڑھے، بھئی۔
تو کہتے ہیں: فَتَمْلِکُ رَفْعَ أَصْلِ الْعَقْدِ، تو یہ عورت مالک ہوگی رَفْعَ أَصْلِ الْعَقْدِ کہ اصلِ عقد کو ہی اٹھا دے یعنی اس کو ختم کر دے، اس کو فسخ کر دے، دَفْعًا لِلزِّیَادَۃِ، اس زیادتی کو دور کرنے کے لیے، تاکہ کہیں اس پر خاوند کی ملکیت زیادہ نہ ہو جائے، تو اس زیادتی کو دور کرنے کے لیے اسے اصلِ عقد کو ختم کرنے کی ملکیت حاصل ہوگی۔
آگے دیکھیے: وَکَذٰلِکَ الْمُکَاتَبَۃُ، اور اسی طرح مکاتبہ بھی ہے۔ جی۔ یعنی مکاتبہ کو اگر آقا نے آزاد کر دیا، یا مکاتبہ نے پورا بدلِ کتابت ادا کر دیا، وہ آزاد ہوئی، جی، تو آزاد ہوتے ہی اس کو خیارِ عتق مل جائے گا، لہٰذا وہ بھی کیا کر سکتی ہے؟ اپنے نکاح کو فسخ کر سکتی ہے۔ وَکَذٰلِکَ الْمُکَاتَبَۃُ، اور اسی طرح مکاتبہ بھی ہے، یَعْنِیْ إِذَا تَزَوَّجَتْ بِإِذْنِ مَوْلَاھَا ثُمَّ عَتَقَتْ، یعنی جب مکاتبہ نے اپنے آقا کی اجازت سے نکاح کیا ثُمَّ عَتَقَتْ پھر وہ آزاد ہو گئی۔ اس کو عَتَقَتْ پڑھنا، بھئی، عُتِقَتْ نہ پڑھنا۔ عَتَقَ یَعْتِقُ کا معنی ہے آزاد ہونا، اور أَعْتَقَ یُعْتِقُ کا معنی ہے دوسرے کو آزاد کرنا۔ تو کہتے ہیں: ثُمَّ عَتَقَتْ، پھر یہ آزاد ہو گئی۔ اس نے آقا کی اجازت سے نکاح کیا اور پھر آزاد ہو گئی، تو اس کو بھی اختیار ہوگا، وَقَالَ زُفَرُ رَحِمَہُ اللہُ: لَا خِیَارَ لَھَا، امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مکاتبہ کو کوئی اختیار نہیں ہوگا، لِأَنَّ الْعَقْدَ نَفَذَ عَلَیْھَا بِرِضَاھَا، اس لیے کیونکہ یہ عقدِ نکاح اس پر نافذ ہوا ہے اس کی رضامندی سے، وَکَانَ الْمَھْرُ لَھَا، اور مہر بھی اس کے لیے ہی تھا، فَلَا مَعْنٰی لِإِثْبَاتِ الْخِیَارِ، تو کوئی علت نہیں ہے اس کے لیے اختیار ثابت کرنے کی۔ فَلَا مَعْنٰی، میں نے بتلایا، بھئی، معنی کا لفظ فقہ کی کتابوں میں علت اور سبب کے معنی میں عام استعمال ہوتا ہے، تو یہاں پر بھی یہ علت کے معنی میں ہے، فَلَا مَعْنٰی لِإِثْبَاتِ الْخِیَارِ، لہٰذا کوئی علت نہیں ہے کہ اس مکاتبہ کے لیے اختیار ثابت کیا جائے۔
جی۔ بھئی، دیکھیے امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مکاتبہ کو اختیار نہیں ملے گا یعنی خیارِ عتق نہیں ملے گا۔ گزشتہ اسباق میں آپ پڑھ چکے ہیں کہ آقا جو ہے مکاتب اور مکاتبہ کا نکاح ان کی مرضی کے بغیر زبردستی نہیں کر سکتا۔ عام غلام اور باندی جو ہیں ان پر تو آقا کو ولایتِ اجبار حاصل ہے، لیکن مکاتب اور مکاتبہ جو ہیں وہ آزاد لوگوں کی طرح ہیں اور آزاد لوگوں کا تو کوئی جبراً نکاح نہیں کروا سکتا تو ان کا بھی آقا جبراً نکاح نہیں کروا سکتا۔ تو امام زفر فرماتے ہیں کہ مکاتبہ کو خیارِ عتق نہیں ہوگا، اس لیے کیونکہ مکاتبہ کا جو نکاح ہوا تھا وہ اس کی مرضی سے ہوا تھا، اس کی رضامندی کے بغیر تو آقا نکاح ہی نہیں کروا سکتا، تو اس کی رضامندی سے نکاح ہوا تھا، اور نیز مکاتبہ کو جو مہر ملتا ہے وہ مکاتبہ ہی لیتی ہے، وہ آقا کو نہیں ملتا۔ وجہ یہ کہ مکاتبہ پیسوں کے لیے جدوجہد کر رہی ہے کہ کسی طرح مال ملے اور میں اپنے آپ کو آزاد کرواؤں، لہٰذا وہ آزاد عورتوں کی طرح ہو گئی ہے، اور یہ بھی یاد رکھنا، مکاتبہ کے ساتھ آقا کے لیے صحبت بھی جائز نہیں ہوتی۔ جی۔ مکاتبہ کے ساتھ آقا کے لیے صحبت بھی جائز نہیں ہے، معلوم ہوا آقا اب اس کے منافع کا مالک بھی نہ رہا، اس کے اوپر یعنی آقا کی ملکیت اب پورے طور پر نہیں ہے، آقا اس سے خدمت بھی نہیں لے سکتا، آقا اس کے ساتھ صحبت بھی نہیں کر سکتا، بھئی۔ تو اب مکاتبہ کے اندر آقا کا حقِ ملک تو ہے، ملکیت تو ہے لیکن پوری ملکیت نہیں ہے، بھئی۔ تو امام زفر فرماتے ہیں کہ مکاتبہ کا نکاح اس کی مرضی سے ہوتا ہے اور نیز مہر بھی خود اس مکاتبہ ہی کو ملتا ہے، لہٰذا اب کوئی سبب اور علت نہیں ہے کہ اس کو خیارِ عتق دیا جائے، یہ نکاح اس پر آقا نے کوئی زبردستی نہیں کروایا تھا بلکہ یہ اس نے اپنی مرضی سے آقا کی اجازت سے کیا تھا۔ جی۔
تو کہتے ہیں: وَقَالَ زُفَرُ رَحِمَہُ اللہُ: لَا خِیَارَ لَھَا، اور امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مکاتبہ کو کوئی اختیار نہیں ہوگا، لِأَنَّ الْعَقْدَ نَفَذَ عَلَیْھَا بِرِضَاھَا، اس لیے کیونکہ یہ عقدِ نکاح اس مکاتبہ پر نافذ ہوا ہے بِرِضَاھَا اس کی اپنی رضامندی سے، وَکَانَ الْمَھْرُ لَھَا، اور مہر بھی اس کے اپنے لیے ہی تھا، فَلَا مَعْنٰی لِإِثْبَاتِ الْخِیَارِ، لہٰذا کوئی علت نہیں ہے کہ اس کے لیے خیارِ عتق کو ثابت کیا جائے، بِخِلَافِ الْأَمَۃِ، بخلاف باندی کے، لِأَنَّہٗ لَا یُعْتَبَرُ رِضَاھَا، اس کی رضامندی معتبر نہیں ہے۔ عام باندی کا نکاح تو بے شک آقا اس کی مرضی سے ہی کیوں نہ کروائے لیکن اس کی رضامندی تو معتبر ہے ہی نہیں، بھئی، اس کا کوئی اعتبار نہیں کیونکہ آقا جبراً بھی کروا سکتا ہے، تو بے شک اس کی مرضی سے آقا نے نکاح کروایا ہو لیکن اس کی مرضی کا تو کوئی اعتبار ہی نہیں ہے، وہ نہ بھی راضی ہوتی آقا اس کا نکاح کروا سکتا تھا، بھئی۔ یہ امام زفر کی دلیل چل رہی ہے۔ کہتے ہیں: بِخِلَافِ الْأَمَۃِ، بخلاف عام باندی کے، لِأَنَّہٗ لَا یُعْتَبَرُ رِضَاھَا، کیونکہ اس کی تو رضامندی معتبر نہیں، لہٰذا اس کو خیارِ عتق ملے گا۔ وَلَنَا، ہماری دلیل یہ ہے، أَنَّ الْعِلَّۃَ ازْدِیَادُ الْمِلْکِ، کہ علت جو ہے وہ خاوند کی ملکیت کا بڑھنا ہے، وَقَدْ وَجَدْنَاہَا فِی الْمُکَاتَبَۃِ، اور تحقیق اس ازدیادِ ملک کو ہم نے مکاتبہ میں بھی پایا ہے۔ یہ علت جو ہے مکاتبہ میں بھی موجود ہے کیونکہ مکاتبہ کی بھی دو طلاقیں ہوتی ہیں اور جب وہ آزاد ہوگی تو اس کی طلاقیں تین ہو جائیں گی، تو یہاں بھی ازدیادِ ملک آ رہا ہے۔ جی۔ خاوند کی ملکیت بڑھ رہی ہے، لہٰذا اس کو بھی خیارِ عتق حاصل ہوگا۔
تو کہتے ہیں: وَلَنَا، ہماری دلیل یہ ہے، أَنَّ الْعِلَّۃَ ازْدِیَادُ الْمِلْکِ، کہ خیار کی جو علت ہے وہ ملکیت کا بڑھنا ہے، وَقَدْ وَجَدْنَاہَا فِی الْمُکَاتَبَۃِ، اور تحقیق یہ علت ہم نے مکاتبہ میں بھی پائی ہے، لِأَنَّ عِدَّتَھَا قُرْءَانِ، اس لیے کیونکہ اس کی عدت جو ہے وہ دو قرء ہیں یعنی دو حیض ہیں، وَطَلَاقُھَا ثِنْتَانِ، اور اس کی طلاقیں جو ہیں وہ دو ہیں۔ معلوم ہوا یہ بھی عام باندیوں کی طرح ہے، جیسے عام باندیوں کی عدت دو حیض ہوتے ہیں اور ان کی دو طلاقیں ہوتی ہیں، اسی طرح مکاتبہ کی عدت بھی دو حیض ہیں اور اس کی طلاقیں بھی دو ہیں، تو یہاں پر بھی اس کے اوپر ملکیت بڑھے گی خاوند کی، وہ تین طلاقوں کا مالک بنے گا، لہٰذا اس کو اختیار ہوگا۔ جی۔
آگے دیکھیے: وَإِنْ تَزَوَّجَتْ أَمَۃٌ بِغَیْرِ إِذْنِ مَوْلَاھَا ثُمَّ عَتَقَتْ صَحَّ النِّکَاحُ، صورتِ مسئلہ یہ ہے: ایک باندی نے آقا کی اجازت کے بغیر ہی نکاح کر لیا اور آپ نے پڑھا ہے کہ غلام یا باندی نکاح کر لیں آقا کی اجازت کے بغیر تو وہ نکاح آقا کی اجازت پر موقوف رہتا ہے، نافذ نہیں ہوتا۔ منعقد تو ہوا ہے لیکن موقوف ہو کر منعقد ہوا ہے، ابھی تک نافذ نہیں۔ تو پھر یہ باندی جس کا نکاح ابھی موقوف تھا، اس کو آقا نے آزاد کر دیا۔ جی۔ اور جب آزاد کر دیا تو یاد رکھو، اس کا نکاح آزاد کرتے ہی نافذ ہو گیا، اب اس کو خیارِ عتق نہیں ملے گا۔ جی۔ توجہ ہے؟ جس باندی کا نکاح جو ہے پہلے ہوا تھا، آقا کی رضامندی سے ہوا تھا، اس کو تو خیارِ عتق ملے گا، لیکن یہ باندی جس نے آقا کی اجازت کے بغیر نکاح کیا ہے اور پھر آقا نے اجازت دینے سے پہلے اس باندی کو کیا کر دیا؟ آزاد کر دیا، تو اب اس باندی کو کوئی خیارِ عتق نہیں، اس کا نکاح صحیح ہو جائے گا۔ وجہ یہ کہ دیکھو، باندی نے نکاح کر لیا آقا کی اجازت کے بغیر، اب یہ نکاح آقا کی اجازت پر موقوف ہے، یہ نکاح نافذ نہیں ہو رہا، مانع موجود ہے۔ کیا مانع ہے؟ آقا کی اجازت ابھی تک نہیں آئی۔ جی۔ اور جب آقا نے اس کو آزاد کر دیا، تو اب وہ جو مانع تھا وہ ختم ہو گیا، کیونکہ پہلے یہ تو آقا کی مملوکہ تھی، اب تو یہ آقا کی مملوکہ نہ رہی، تو وہ جو مانع تھا نکاح کے سلسلے میں، وہ مانع ختم ہوا، آقا کا حق کیا ہو گیا؟ ختم ہو گیا۔ اور جب آقا کا حق ختم ہوا تو اب اس کا وہ نکاح نافذ ہو گیا۔ جی۔ وہ نکاح نافذ، اور یہ نکاح کب نافذ ہوا ہے؟ آزادی سے پہلے یا آزادی کے بعد؟ آزادی کے بعد ہوا ہے، بھئی، آقا کا حق کب ساقط ہوگا؟ آزاد ہوتے ہی، جی، آزاد ہوتے ہی آقا کا حق کیا ہو جائے گا؟ ساقط، تو جس لمحے میں آقا نے آزاد کیا، اسی لمحے کے اندر آقا کا حق ساقط ہوا اور اگلے ہی لمحے کے اندر وہ نکاح نافذ ہو گیا کیونکہ مانع چلا گیا، تو لہٰذا یہ جو نکاح نافذ ہوا ہے، یہ آزادی کی حالت میں نافذ ہوا ہے۔ جی۔ اور آزادی کی حالت میں جو نکاح ہوتا ہے اس میں خاوند کتنی طلاقوں کا مالک ہے؟ تین، تو گویا اس میں ابتدا سے ہی تین طلاقوں کا خاوند مالک ہے، لہٰذا یہاں ازدیادِ ملک کی علت ہی نہیں پائی جا رہی۔ یہ نکاح نافذ ہوتے ہی کتنی طلاقوں کے ساتھ نافذ ہوا؟ تین طلاقوں کے ساتھ ہی نافذ ہوا، ایسا نہیں کہ پہلے دو تھیں اور اب تین ہو رہی ہیں، نہیں، پہلے تو یہ نافذ ہی نہیں تھا۔ تو جیسے ہی نافذ ہوا، آزادی کے اندر، تین طلاقوں کے ساتھ نافذ ہوا، لہٰذا اس باندی پر ازدیادِ ملک نہ پایا گیا، لہٰذا باندی کو اختیار بھی نہیں ہوگا اور یہ نکاح نافذ ہو جائے گا۔
تو کہتے ہیں: وَإِنْ تَزَوَّجَتْ أَمَۃٌ بِغَیْرِ إِذْنِ مَوْلَاھَا، اور اگر باندی نے نکاح کر لیا اپنے آقا کی اجازت کے بغیر، ثُمَّ عَتَقَتْ، پھر یہ آزاد ہو گئی، صَحَّ النِّکَاحُ، تو وہ نکاح صحیح ہو گیا یعنی اب اس کو کوئی اختیار نہیں۔ لِأَنَّھَا مِنْ أَھْلِ الْعِبَارَۃِ، اس لیے کیونکہ یہ باندی جو ہے وہ اہلِ عبارت ہے یعنی عاقلہ بالغہ ہے۔ جی۔ اور اس کی عبارت سے نکاح منعقد ہو سکتا ہے۔ عاقل بالغ کی عبارت سے نکاح منعقد ہو سکتا ہے، بھئی۔ شوافع وغیرہ کے نزدیک تو عورت کی عبارت سے نکاح منعقد ہی نہیں ہوتا، پڑھ چکے ہیں، لیکن ہمارے ہاں عند الاحناف عورت کی عبارت سے بھی نکاح منعقد ہو جاتا ہے، تو یہ باندی عاقلہ ہے، بالغہ ہے، اور اہلِ عبارت ہے، تو اس کی عبارت سے نکاح منعقد ہو سکتا ہے، تو اس نے نکاح کیا تھا وہ نکاح منعقد ہوا تھا، البتہ موقوف تھا، مانع موجود تھا، اور جیسے ہی آقا نے آزاد کیا وہ مانع چلا گیا تو نکاح نافذ ہو گیا۔
لِأَنَّھَا مِنْ أَھْلِ الْعِبَارَۃِ، اس لیے کیونکہ یہ باندی جو ہے اہلِ عبارت ہے، یعنی اس کی عبارت سے، یعنی اس کے الفاظ سے نکاح منعقد ہو جاتا ہے کیونکہ یہ عاقلہ ہے اور بالغہ ہے، بھئی۔ یعنی اس کے الفاظ کا اعتبار ہے، بھئی۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّھَا مِنْ أَھْلِ الْعِبَارَۃِ، اس لیے کیونکہ یہ باندی جو ہے اہلِ عبارت ہے، وَامْتِنَاعُ النُّفُوْذِ لِحَقِّ الْمَوْلٰی، نفوذ کا معنی ہے نافذ ہونا، اور یہ نکاح کا نافذ ہونا جو ممتنع تھا لِحَقِّ الْمَوْلٰی وہ آقا کے حق کی وجہ سے تھا، وَقَدْ زَالَ، اور تحقیق آقا کا حق تو زائل ہو گیا، ختم ہو گیا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے، کہتے ہیں: وَامْتِنَاعُ النُّفُوْذِ لِحَقِّ الْمَوْلٰی، اور اس نکاح کا نفوذ جو ممتنع تھا لِحَقِّ الْمَوْلٰی وہ آقا کے حق کی وجہ سے تھا، وَقَدْ زَالَ، اور آقا کا حق تحقیق زائل ہو گیا، ختم ہو گیا، وَلَا خِیَارَ لَھَا، اور اس باندی کو اب کوئی اختیار نہیں ہوگا، لِأَنَّ النُّفُوْذَ بَعْدَ الْعِتْقِ، اس لیے کیونکہ اس نکاح کا نافذ ہونا آزادی کے بعد ہوا ہے، فَلَا تَتَحَقَّقُ زِیَادَۃُ الْمِلْکِ، لہٰذا ملک کی زیادتی نہیں پائی گئی۔ جی۔ یہ نافذ ہی آزادی کے بعد ہوا ہے، تو نافذ ہوتے ہی تین طلاقیں آ رہی ہیں، ایسا تو نہیں کہ پہلے دو تھیں اور پھر تین ہو گئیں، نہیں، جس وقت نافذ ہوا اس وقت تین طلاقوں کے ساتھ ہی یہ نافذ ہوا۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّ النُّفُوْذَ بَعْدَ الْعِتْقِ، اس لیے کیونکہ اس نکاح کا نافذ ہونا آزادی کے بعد ہے، فَلَا تَتَحَقَّقُ زِیَادَۃُ الْمِلْکِ، تو لہٰذا خاوند کی ملکیت کا زیادہ ہونا نہ پایا گیا، کَمَا إِذَا زَوَّجَتْ نَفْسَھَا بَعْدَ الْعِتْقِ، یہ اسی طرح ہو گیا جیسے یہ اپنا نکاح کروائے آزادی کے بعد، جیسے آزادی کے بعد یہ اپنا نکاح کرواتی ہے اس کو اختیار نہیں ہوتا، تو اس نکاح میں بھی اس کو اختیار نہیں ہوگا کیونکہ آزادی کے بعد نافذ ہوا ہے۔
آگے دیکھیے: فَإِنْ کَانَتْ تَزَوَّجَتْ بِغَیْرِ إِذْنِہٖ عَلٰی أَلْفٍ وَمَھْرُ مِثْلِھَا مِائَۃٌ فَدَخَلَ بِھَا زَوْجُھَا ثُمَّ أَعْتَقَھَا مَوْلَاھَا فَالْمَھْرُ لِلْمَوْلٰی، صورتِ مسئلہ یہ ہے: ایک باندی نے آقا کی اجازت کے بغیر نکاح کر لیا اور پھر خاوند نے اس کے ساتھ صحبت بھی کر لی، اس کے بعد آقا نے اس کو آزاد کر دیا۔ ایک صورت یہ ہے۔ اور دوسری صورت یہ ہے کہ ایک باندی نے آقا کی اجازت کے بغیر نکاح کر لیا اور خاوند نے ابھی صحبت نہیں کی تھی کہ آقا نے اس کو آزاد کر دیا، اور پھر اس کے بعد خاوند نے اس کے ساتھ صحبت کر لی۔ توجہ ہے؟ دونوں صورتوں میں نکاح بغیر اجازت کے کیا ہے باندی نے، اور آقا نے اس کو آزاد کیا ہے دونوں صورتوں میں، لیکن ایک صورت میں خاوند نے آزاد کرنے سے پہلے اس سے صحبت کر لی تھی، اور ایک صورت میں آزاد کرنے کے بعد خاوند نے اس کے ساتھ صحبت کی ہے۔ تو یاد رکھو، اگر خاوند نے باندی کے آزاد ہونے سے پہلے اس کے ساتھ صحبت کی ہے، تو اس وقت باندی کے منافع کا مالک آقا تھا۔ جی۔ لہٰذا، لہٰذا اب وہ جو مہر ہوگا وہ آقا کو ملے گا، وہ آقا کا حق ہے۔ جی۔ اور اگر خاوند نے آزادی کے بعد صحبت کی ہے باندی کے ساتھ، تو آزادی کے بعد جو عورت کے منافع ہیں ان کی مالک وہ خود ہے، وہ آقا نہیں، لہٰذا اس صورت میں مہر کی حقدار یہ عورت ہی ہوگی۔ اور نیز یہ بھی یاد رکھنا، یہ بھی آپ کو بتلائیں گے کہ باندی نے چاہے یہ نکاح مہرِ مثل پر کیا ہو، چاہے مہرِ مثل سے زائد پر کیا ہو۔ جی۔ تو اگر آزادی سے پہلے خاوند نے صحبت کی ہے تو وہ سارا مہر جو ہے وہ آقا ہی کو ملے گا۔ وہ آقا ہی کو، آقا کو ملے گا۔ دیکھیے، بھئی۔
کہتے ہیں: فَإِنْ کَانَتْ تَزَوَّجَتْ بِغَیْرِ إِذْنِہٖ عَلٰی أَلْفٍ، اور اگر باندی نے نکاح کر لیا آقا کی اجازت کے بغیر ہی ایک ہزار درہم پر، وَمَھْرُ مِثْلِھَا مِائَۃٌ، اور اس جیسی باندی کا مہرِ مثل تو ایک سو درہم ہوتے ہیں، دیکھو مہرِ مثل سے زائد پر نکاح کیا ہے، فَدَخَلَ بِھَا زَوْجُھَا، پھر اس باندی کے ساتھ اس کے خاوند نے صحبت کر لی، ثُمَّ أَعْتَقَھَا مَوْلَاھَا، پھر اس باندی کو آزاد کر دیا اس کے آقا نے، صحبت کے بعد آزاد کیا ہے، فَالْمَھْرُ لِلْمَوْلٰی، تو وہ مہر جو ہے آقا کے لیے ہوگا، لِأَنَّہُ اسْتَوْفٰی مَنَافِعَ مَمْلُوْکَۃً لِلْمَوْلٰی، اس لیے کیونکہ خاوند نے وصول کیے ہیں، اِسْتَوْفٰی یَسْتَوْفِی کا معنی وصول کرنا، لِأَنَّہُ اسْتَوْفٰی، اس لیے کیونکہ خاوند نے وصول کیے ہیں، مَنَافِعَ، ایسے منافع، مَمْلُوْکَۃً لِلْمَوْلٰی، جو آقا کے مملوک تھے۔ جی۔ تو آقا کے مملوک منافع وصول کیے ہیں، لہٰذا مہر کس کو دے گا اب؟ آقا کو دے گا۔
وَإِنْ لَمْ یَدْخُلْ بِھَا، اور اگر خاوند نے نکاح کے بعد ابھی صحبت نہیں کی تھی، حَتّٰی أَعْتَقَھَا، یہاں تک کہ آقا نے باندی کو آزاد کر دیا، فَالْمَھْرُ لَھَا، تو پھر اس صورت میں مہر اس عورت، اس باندی کے لیے ہوگا، کیونکہ آزادی کے بعد خاوند نے صحبت کی ہے، اور اب تو آقا اس کے منافع کا مالک نہیں، لِأَنَّہُ اسْتَوْفٰی مَنَافِعَ مَمْلُوْکَۃً لَّھَا، اس لیے کیونکہ اس صورت میں خاوند نے ایسے منافع وصول کیے ہیں مَمْلُوْکَۃً لَّھَا جو خود اس عورت کے ہی مملوک تھے، وَالْمُرَادُ بِالْمَھْرِ الْأَلْفُ الْمُسَمّٰی، اور مہر سے مراد وہ ہزار ہے، الْمُسَمّٰی جس کو مقرر کیا گیا تھا۔ بھئی، متن میں آیا نا، پہلی صورت میں آیا: فَالْمَھْرُ لِلْمَوْلٰی، اور دوسری صورت میں آیا: فَالْمَھْرُ لَھَا، تو اس مہر سے کیا مراد ہے؟ دراصل ذہن میں یہاں شبہ آتا ہے۔ شبہ یہ کہ اس جیسی عورت کا مہر تو مثلاً سو درہم ہوتا ہے، اور عورت نے مہر کتنا مقرر کیا اس باندی نے نکاح کے وقت؟ ایک ہزار درہم۔ تو ذہن میں شبہ آتا ہے کہ یہ جو مہر ہے، یہ سارا آقا کو نہیں ملنا چاہیے کیونکہ آقا کا حق اس میں صرف سو درہم بنتا ہے، کیونکہ اس جیسی باندی کا مہرِ مثل کتنا ہوتا ہے؟ سو درہم، معلوم ہوا اس باندی کے منافع کی قیمت سو درہم ہے، اور خاوند نے آقا کے منافع وصول کر لیے، تو خاوند پر وہی قیمت آنی چاہیے جو ان منافع کی تھی اور وہ تو مثلاً سو درہم تھی، تو آقا کو سو درہم ملنے چاہئیں اور باقی نو سو درہم باندی کے ہونے چاہئیں۔ تو یہ ذہن میں شبہ آتا ہے، تو اس کا جواب دے رہے ہیں صاحبِ ہدایہ کہ جو متن میں آیا نا: فَالْمَھْرُ لِلْمَوْلٰی، یا دوسری بار، دونوں جگہ مہر سے پورا مہر مراد ہے یعنی آقا کو بھی پورا کا پورا ہزار درہم ہی دینا پڑے گا۔ جی۔ صرف مہرِ مثل اس کا حق نہیں ہے بلکہ سارا مسمیٰ آقا کا حق ہے۔ اب اس کی وجہ کیا ہے وہ آگے بیان کریں گے۔
تو کہتے ہیں: وَالْمُرَادُ بِالْمَھْرِ الْأَلْفُ الْمُسَمّٰی، اور مہر سے مراد جو ہے وہ ایک ہزار مسمیٰ ہے، وہ جو مقررہ ہے، لِأَنَّ نَفَاذَ الْعَقْدِ بِالْعِتْقِ، اس لیے کیونکہ عقد کا نافذ ہونا آزادی کی وجہ سے، اسْتَنَدَ إِلٰی وَقْتِ وُجُوْدِ الْعَقْدِ، اِسْتَنَدَ کا معنی ہے منسوب ہونا۔ بھئی، دیکھو یہاں اس مسئلے کے اندر باندی نے آقا کی اجازت کے بغیر نکاح کیا تھا تو اب آزادی کے بعد وہ نکاح نافذ ہو رہا ہے لیکن لیکن اس کی نسبت اسی وقت کی طرف کی جائے گی جب عقد ہوا تھا، یعنی اس وقت سے ہی اس کو نافذ شمار کیا جائے گا۔ جی۔ نافذ تو اس وقت ہو رہا ہے لیکن نسبت اس وقت کی طرف کی جائے گی جب عقد کیا تھا، جی، تو اس وقت سے ہی اس کو نافذ شمار کیا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّ نَفَاذَ الْعَقْدِ بِالْعِتْقِ، اس لیے کیونکہ عقد کا نافذ ہونا آزادی کی وجہ سے، اسْتَنَدَ إِلٰی وَقْتِ وُجُوْدِ الْعَقْدِ، یہ منسوب ہوگا جس وقت عقد کا وجود پایا گیا، جی، اس کی نسبت اسی وقت کی طرف کی جائے گی جس وقت عقد پایا گیا تھا، جس وقت عقد ہوا تھا، کہ یعنی کہ اسی وقت سے نافذ شمار ہوگا۔ نافذ تو ابھی ہوا ہے لیکن یہ نہیں کہیں گے کہ گویا عقد ہی ابھی سے ہوا ہے، نہیں نہیں، اس وقت کی طرف نسبت کی جائے گی کہ اس وقت سے ہی گویا نافذ ہے، بھئی۔ کیونکہ عقد تو وہی ہوا تھا، اس وقت تو کوئی عقد نہیں ہوا، تو نافذ ماننا پڑے گا تو اسی عقد کو نافذ ماننا پڑے گا، اس وقت آزادی کے بعد تو کوئی نیا عقد نہیں ہوا، بھئی۔ تو یہ معنی ہے: لِأَنَّ نَفَاذَ الْعَقْدِ بَعْدَ الْعِتْقِ، اس لیے کیونکہ آزادی کے بعد عقد کا نافذ ہونا، اسْتَنَدَ، یہ منسوب ہوگا، إِلٰی وَقْتِ وُجُوْدِ الْعَقْدِ، جس وقت عقد پایا گیا، فَصَحَّتِ التَّسْمِیَۃُ، تو لہٰذا وہ تسمیہ بھی صحیح ہو جائے گا۔ وہ جو عقد میں مہر مقرر کیا تھا ایک ہزار درہم وہ تسمیہ صحیح۔ بھئی، عقد نافذ ابھی ہوا ہے لیکن نسبت کس کی طرف کریں گے؟ وہ جو ماضی میں جس وقت عقد ہوا تھا، اور جب وہ عقد صحیح ہوا تو اس کا وہ تسمیہ بھی صحیح جو اس میں مہر مقرر کیا تھا، اور جب تسمیہ صحیح ہو گیا تو خاوند کے ذمے مسمیٰ واجب ہوا، اور جب یہ مسمیٰ واجب ہوا تو معلوم ہوا اس عقد میں یہی مسمیٰ آیا ہے، بھئی، جی، اور یہ مسمیٰ اگر خاوند نے آزادی سے پہلے صحبت کر لی تو سارا مسمیٰ کس کا حق ہوگا؟ آقا کا۔ اور اگر آزادی کے بعد صحبت کی خاوند نے تو پھر سارا مسمیٰ کس کا حق ہوگا؟ بیوی کا۔
توجہ ہے؟ جی۔ بھئی، دیکھیے نا یہاں پھر وہی اشکال جو میں نے ذکر کر دیا کہ ذہن میں خیال آتا ہے کہ باندی کے منافع کی قیمت تو سو درہم تھی، لہٰذا ہزار میں سے صرف سو آقا کو ملنا چاہیے باقی باندی کا حق ہونا چاہیے، تو جواب دے رہے ہیں کہ نہیں، بھئی، یہاں ایک ہی عقد ہوا ہے اور اس عقد کے اندر ایک ہی مسمیٰ تھا اور وہی مسمیٰ اس نکاح کی وجہ سے آیا ہے اور یہاں یہ نہیں کہ مسمیٰ الگ آ رہا ہے اور مہرِ مثل الگ، مہرِ مثل تو آقا کو دے دیا جائے اور مسمیٰ باندی کو دے دیا جائے، نہیں، یہاں ایک ہی مہر آ رہا ہے اور وہ وہی مسمیٰ ہے اور تو لہٰذا وہ مسمیٰ اگر خاوند نے آزادی سے پہلے صحبت کی ہے تو وہ سارا مسمیٰ آقا ہی کا حق ہوگا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
تو کہتے ہیں: فَصَحَّتِ التَّسْمِیَۃُ، تو وہ مہر مقرر کرنا صحیح ہوا، وَوَجَبَ الْمُسَمّٰی، اور وہی مقررہ مہر واجب ہو گیا، وَلِھٰذَا لَمْ یَجِبْ مَھْرٌ آخَرُ بِالْوَطْءِ فِیْ نِکَاحٍ مَوْقُوْفٍ، اور اسی لیے کوئی اور مہر واجب نہیں ہوا وطی کرنے سے نکاحِ موقوف میں۔ خاوند نے تو آزادی سے پہلے ہی صحبت کر لی تھی، تو اس صحبت کی وجہ سے کوئی اور مہر نہیں واجب ہوا بلکہ وہی مسمیٰ واجب ہوا ہے، لہٰذا وہی مسمیٰ کس کا حق بنے گا سارا؟ آقا کا حق بنے گا۔ تو کہتے ہیں: وَلِھٰذَا لَمْ یَجِبْ مَھْرٌ آخَرُ بِالْوَطْءِ فِیْ نِکَاحٍ مَوْقُوْفٍ، اور اسی لیے کوئی اور مہر واجب نہیں ہوا تھا نکاحِ موقوف میں وطی کرنے کی وجہ سے، لِأَنَّ الْعَقْدَ قَدِ اتَّحَدَ بِاسْتِنَادِ النَّفَاذِ، اس لیے کیونکہ عقد تو ایک ہی ہے بِاسْتِنَادِ النَّفَاذِ نافذ ہونے کے منسوب ہونے کی وجہ سے، کہ اس کا نفاذ کیا ہے؟ اس کا نافذ ہونا منسوب ہو رہا ہے ماضی کی طرف۔ جی۔
یاد رکھو یہاں لفظ آیا: اِتَّحَدَ۔ اِتَّحَدَ یَتَّحِدُ اتحاد کا یہ بھی معنی ہے کہ دو یا زیادہ چیزوں میں اتحاد آ جائے وہ ایک ہو جائیں، جی، اس کو بھی اتحاد کہتے ہیں، اور نیز اتحاد کا معنی اکیلا ہونا، منفرد ہونا، ایک ہونا، یہ بھی اتحاد کا معنی ہے۔ تو یہاں یہ اِتَّحَدَ کا معنی ایک ہونے کے کریں گے۔ جی۔ کیا؟ کہ یہ جو عقد کیا تھا اس میں ایک ہی مہر آیا یا دو مہر آئے؟ ایک ہی۔ ایک ہی مہر آیا، تو اِتَّحَدَ الْمَھْرُ، مہر کیا ہے؟ ایک ہی ہے، کیونکہ عقد کتنے ہوئے ہیں؟ ایک ہی عقد ہوا ہے اگرچہ آزادی کے بعد نافذ ہو رہا ہے یہ نکاح، لیکن اس کی نسبت اسی ماضی کے عقد کی طرف ہوگی کہ اس وقت سے ہی کیا ہے یہ نافذ ہے، بھئی۔ تو جب ایک ہی عقد ہے اور وہی مسمیٰ ہے تو وہی سارا کس کا حق بن جائے گا؟ آزادی سے پہلے اگر خاوند صحبت کر لے گا تو سارا مسمیٰ کس کا حق بن جائے گا؟ آقا کا حق بن جائے گا۔ یہ معنی ہے: لِأَنَّ الْعَقْدَ قَدِ اتَّحَدَ، اس لیے کیونکہ عقد جو ہے قَدِ اتَّحَدَ وہ ایک ہے، وہ ایک ہے یعنی وہ اکیلا ہے، بِاسْتِنَادِ النَّفَاذِ، اس کے نافذ ہونے کے منسوب ہونے کی وجہ سے، یعنی کہ یہ الگ نافذ ہوا ہے اور وہ الگ تھا، نہیں، نافذ ہونا اسی ماضی کی طرف منسوب ہے۔ تو یہ معنی ہے، پھر ترجمہ دیکھ لیجیے: لِأَنَّ الْعَقْدَ قَدِ اتَّحَدَ بِاسْتِنَادِ النَّفَاذِ، اس لیے کیونکہ یہ عقد ایک ہی ہے نفاذ کے منسوب ہونے کی وجہ سے، کہ اس کا نفاذ اس ماضی کی طرف منسوب ہوگا کہ اس وقت سے ہی نافذ ہے، بھئی۔ فَلَا یُوْجِبُ إِلَّا مَھْرًا وَاحِدًا، لہٰذا یہ عقد واجب نہیں کرتا مگر ایک ہی مہر، اور وہ سارا مہر پھر آقا کا حق ہوگا اگر آزادی سے پہلے خاوند نے صحبت کر لی، بات سمجھ میں آ گئی۔
آگے دیکھیے: وَمَنْ وَطِئَ أَمَۃَ ابْنِہٖ فَوَلَدَتْ مِنْہُ فَھِیَ أُمُّ وَلَدٍ لَّہٗ وَعَلَیْہِ قِیْمَتُھَا وَلَا مَھْرَ عَلَیْہِ، صورتِ مسئلہ یہ ہے: ایک شخص نے اپنے بیٹے کی باندی کے ساتھ صحبت کر لی اور پھر اس باندی سے ایک بچہ پیدا ہوا اور پھر باپ نے دعویٰ کر دیا کہ یہ میری اولاد ہے، تو یاد رکھو اس صورت کے اندر باپ کا دعویٰ صحیح ہو جائے گا، اس بچے کا نسب باپ سے ثابت ہو جائے گا اور یہ باندی اس کی امِ ولد بن جائے گی، لیکن یہ باندی تھی بیٹے کی اور اب باپ اس کا مالک بن گیا ہے تو باپ کو قیمت دینا پڑے گی، بھئی۔ جی۔ باپ بیٹے کو اس باندی کی قیمت ادا کرے گا۔ جی۔ تو کہتے ہیں: وَمَنْ وَطِئَ أَمَۃَ ابْنِہٖ، اور جس شخص نے وطی کی اپنے بیٹے کی باندی سے، فَوَلَدَتْ مِنْہُ، تو اس سے اس باندی نے ایک بچے کو جنم دیا، فَھِیَ أُمُّ وَلَدٍ لَّہٗ، تو یہ باندی اس وطی کرنے والے کی یعنی باپ کی امِ ولد ہوگی، وَعَلَیْہِ قِیْمَتُھَا، اور باپ پر اس باندی کی قیمت واجب ہوگی کہ وہ بیٹے کو ادا کرے، وَلَا مَھْرَ عَلَیْہِ۔
اور باپ پر مہر نہیں ہوگا۔
بھئی وجہ یہ ہے یہ آگے چل کر صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ یہاں پر وطی سے پہلے ہی یہ باندی باپ کی مملوکہ ہو جائے گی۔ ویسے تو یہ باندی کس کی ہے؟ بیٹے کی، لیکن باپ جب وطی کرنے لگا تو وطی سے پہلے یہ باپ کی مملوکہ ہو جائے گی۔ تو یہ باندی باپ کی ملکیت ہو جائے گی، تو گویا باپ اپنی باندی کے ساتھ صحبت کر رہا ہے۔ اور اپنی باندی کے ساتھ جب انسان صحبت کرے اور اس سے اولاد پیدا ہو جائے، اور پھر آقا جو ہے دعویٰ بھی کر دے کہ یہ میری اولاد ہے تو وہ باندی اس کی ام ولد بن جاتی ہے، تو یہاں پر بھی یہ باندی اس باپ کی ام ولد بن جائے گی۔ تو یہاں پر صحبت سے پہلے اس باپ کو باندی کا مالک قرار دے دیں گے۔ تفصیل آگے صاحبِ ہدایہ بیان فرمائیں گے۔
تو جب باپ نے اپنی باندی کے ساتھ صحبت کی ہے اور اس سے اولاد ہو اور انسان دعویٰ کرے تو وہ اس کی ام ولد بن جاتی ہے۔ بھئی کسی اور کی باندی کے ساتھ کوئی صحبت کرے اور باندی سے بچہ پیدا ہو اور پھر وہ کہے یہ میرا بچہ ہے؟ نہیں بھئی، یہ تو کسی اور کی باندی ہے، اس سے نسب ثابت نہیں ہو سکتا بھئی۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ لیکن یہاں کیا کہہ رہے ہیں؟ باپ سے نسب ثابت ہو جائے گا، اور باپ سے نسب تب ہی ثابت ہو سکتا ہے جب یہ باندی باپ کی مملوکہ ہو گئی، اگر مملوکہ نہیں تو نسب کیسے ثابت ہو سکتا ہے؟
توجہ ہے؟ لہٰذا باپ اس کا مالک بن جائے گا اور بچہ جو ہے اس کا نسب باپ سے ثابت ہو جائے گا، تو باپ نے جب وطی کی ہے وہ اپنی باندی کے ساتھ وطی کی ہے، بیٹے کی باندی کے ساتھ وطی نہیں کی کیونکہ وطی سے پہلے باپ مالک بن چکا تھا۔ اور جب اپنی باندی کے ساتھ باپ نے وطی کی ہے تو باپ پر مہر بھی واجب نہیں ہوگا کیونکہ اپنی باندی سے جب صحبت انسان کرے تو اس پر مہر واجب نہیں ہوتا، تو باپ بیٹے کو مہر نہیں دے گا کیونکہ باپ نے اپنی باندی سے صحبت کی ہے۔ ہاں، یہ باندی تھی بیٹے کی، تو بیٹے کا مال اس کے ہاتھ سے نکل گیا، باپ اس کا مالک بن گیا تو اب باپ کو قیمت دینا پڑے گی۔
مسئلہ سمجھ میں آ گیا؟ دیکھیے بھئی، کہتے ہیں:
﴿وَمَنْ وَطِئَ أَمَةَ ابْنِهِ﴾
اور جس نے اپنے بیٹے کی باندی سے صحبت کی،
﴿فَوَلَدَتْ مِنْهُ﴾
تو باندی نے اس سے ایک بچے کو جنم دیا،
﴿فَهِيَ أُمُّ وَلَدٍ لَهُ﴾
تو یہ باندی اس شخص کی ام ولد ہو جائے گی،
﴿وَعَلَيْهِ قِيمَتُهَا﴾
اور اس شخص پر یعنی باپ پر اس کی قیمت واجب ہوگی،
﴿وَلَا مَهْرَ عَلَيْهِ﴾
اور اس باپ پر مہر نہیں ہوگا،
﴿وَمَعْنَى الْمَسْأَلَةِ أَنْ يَدَّعِيَهُ الْأَبُ﴾
اور اس مسئلے کا معنی یہ ہے کہ باپ اس بچے کا دعویٰ بھی کرے۔
بھئی دیکھو یہ مسئلہ امام محمد رحمہ اللہ نے جامع صغیر میں ذکر فرمایا، اور انہوں نے صرف دیکھو متن میں اتنا کہا: ﴿فَوَلَدَتْ مِنْهُ﴾ اس باندی نے بچے کو جنم دیا اس آدمی سے، ﴿فَهِيَ أُمُّ وَلَدٍ لَهُ﴾ تو یہ باندی اس باپ کی ام ولد بن جائے گی، حالانکہ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ باندی سے جو اولاد پیدا ہو وہ خود بخود آقا کی شمار نہیں ہوتی الا یہ کہ آقا اقرار کر لے یا دعویٰ کر دے کہ یہ میری اولاد ہے، پھر وہ اس کی اولاد ہوگی اور باندی اس کی ام ولد بن جائے گی۔ تو امام محمد رحمہ اللہ نے متن کے اندر باپ کے دعوے کو ذکر نہیں کیا، بس اتنا کہا کہ وہ اس کی ام ولد ہو جائے گی۔ تو صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں: ﴿وَمَعْنَى الْمَسْأَلَةِ﴾ کہ اس مسئلے کا معنی یہ ہے: ﴿أَنْ يَدَّعِيَهُ الْأَبُ﴾ کہ باپ بھی اس بچے کا دعویٰ کرے، پھر ہی ام ولد بنے گی، ویسے نہیں۔
﴿وَوَجْهُهُ﴾ اور اس کی وجہ یہ ہے۔ اب تفصیل بیان کرنے لگے ہیں بھئی۔ دیکھیے انسان حیران رہتا ہے فقہاء کی فقاہت پر کہ زندگیاں انہوں نے لگا دیں مسائل کو، ایک ایک مسئلے کو باقاعدہ ضابطے اور قوانین کے تحت، ایک ایک مسئلے کو وہ کس طرح بیان فرماتے ہیں۔ کہتے ہیں: ﴿وَوَجْهُهُ﴾ اور وجہ اس کی یہ ہے: ﴿أَنَّ لَهُ وِلَايَةَ تَمَلُّكِ مَالِ ابْنِهِ﴾ کہ باپ جو ہے وہ اپنے بیٹے کے مال کے مالک بننے کی ولایت رکھتا ہے۔ تملک کا معنی ہے مالک بننا۔
یاد رکھو فقہاء فرماتے ہیں: باپ کا مال الگ ہے، بیٹے کا مال الگ ہے۔ بیٹا باپ کے مال کا مالک نہیں اور باپ بیٹے کے مال کا مالک نہیں، دونوں کا مال الگ الگ ہے، لیکن ضرورت اور حاجت کی صورت میں باپ بیٹے کا مال لے سکتا ہے۔ مثلاً باپ کے پاس مال وغیرہ نہیں ہے، اس کو زندگی بچانے کے لیے کھانے پینے چیزوں کی ضرورت ہے تو وہ بیٹے کے مال کو استعمال کر سکتا ہے، یعنی وہ بیٹے کے مال کا مالک بن جائے گا اس صورت میں، وہ اس کو استعمال کر سکتا ہے اپنی ضرورت کے اور اپنی حاجت کے بقدر۔ تو باپ بیٹے کے مال کا مالک تو نہیں لیکن مالک بننے کی ولایت ہے، ضرورت اور حاجت کے وقت وہ مالک بن جائے گا۔ وہ کھانے پینے کی اور چیزیں بیٹے کی استعمال کرتا ہے تو باپ کے ذمے یہ نہیں ہوگا کہ وہ ان کی قیمت اور پیسے ادا کرے کیونکہ باپ ان کا مالک ہے بھئی۔ تو حاصل کلام کیا؟ بیٹے اور باپ کا مال الگ الگ ہے لیکن باپ ضرورت اور حاجت کے موقع پر بیٹے کے مال کا مالک بن جاتا ہے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک صحابی آئے تھے اپنے بیٹے کی شکایت کی کہ یہ اپنا مال مجھ سے بچا کر رکھتا ہے، تو حضور علیہ السلام نے ان کے بیٹے سے فرمایا تھا: ”أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِيكَ“ تو اور تیرا مال تیرے باپ کے ہیں۔ تو فقہاء فرماتے ہیں کہ معلوم ہوا باپ بیٹے کے مال کا مالک بن سکتا ہے۔ مالک ہے نہیں، البتہ مالک بن سکتا ہے، فرق سمجھ میں آ رہا ہے؟ اس وقت مالک نہیں ہے لیکن حاجت میں وہ مالک بن سکتا ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں وجہ اس مسئلے کی یہ ہے: ﴿أَنَّ لَهُ وِلَايَةَ تَمَلُّكِ مَالِ ابْنِهِ﴾ کہ باپ جو ہے اس کو اپنے بیٹے کے مال کے مالک بننے کی ولایت حاصل ہوتی ہے، ﴿لِلْحَاجَةِ إِلَى الْبَقَاءِ﴾ اپنی بقاء کی حاجت کی وجہ سے، کیونکہ باپ جو ہے وہ اپنی زندگی کی بقاء کے لیے اور حاجت اور ضرورت میں اس کا مال استعمال کر سکتا ہے۔ تو کہتے ہیں: ﴿لِلْحَاجَةِ إِلَى الْبَقَاءِ﴾ یعنی اپنی بقاء کی حاجت کے لیے، اپنی جان کی حفاظت کے لیے، ﴿فَلَهُ تَمَلُّكُ جَارِيَتِهِ لِلْحَاجَةِ إِلَى صِيَانَةِ الْمَاءِ﴾ تو باپ کو بیٹے کی باندی کے مالک ہونے کی ولایت بھی ہوگی اپنے ماء کی، اپنے پانی کی حفاظت کی حاجت کی وجہ سے، کہ اس کو اپنے پانی کی حفاظت کی حاجت ہے۔
ماء سے مراد ہے منی بھئی، منی جس سے حمل ٹھہرتا ہے اور اولاد ہوتی ہے۔ تو باپ کو اپنے ماء کی حفاظت کی بھی حاجت ہے۔ تو باپ جو ہے وہ محتاج ہے اپنے ماء کی حفاظت کا بھئی، تاکہ اس کی نسل باقی رہے، جو آگے بچہ پیدا ہو اس کا نسب ثابت ہو سکے۔ تو باپ کو اپنے ماء کی حفاظت کی حاجت ہے بھئی، اور جیسے اپنی جان کی حفاظت کی حاجت کی وجہ سے وہ بیٹے کے مال کا مالک بن سکتا ہے تو اپنے ماء کی حفاظت کی حاجت کی وجہ سے وہ بیٹے کی باندی کا مالک بھی بن سکتا ہے، تاکہ اس کے ماء کی حفاظت ہو سکے، یعنی جو اولاد پیدا ہو اس کا نسب باپ سے ثابت ہو سکے۔
باپ اپنے ماء کی حفاظت کا محتاج ہے تاکہ اس کی نسل باقی رہ سکے، اس لیے کیونکہ نسل کب باقی رہے گی؟ جب نسب ثابت ہوگا، اور نسب تب ہی ثابت ہوگا جب اس باندی کو باپ کی باندی قرار دیا جائے۔ اگر اس باندی کو آپ باپ کی باندی قرار نہیں دیتے، اگر آپ یہ کہتے ہیں کہ باپ اس کا مالک نہیں بنا تو اس صورت کے اندر باپ یہ جو وطی کر رہا ہے یہ وطی بھی حرام ہوئی، اور اس کی وجہ سے جو اولاد آگے ہوگی وہ بھی ولد الزنا شمار ہوگی، تو اس طرح دیکھو وہ بچہ بھی ضائع ہو جائے گا، اس بچے کا نسب اس آدمی سے ثابت نہیں ہو سکتا بھئی، تو وہ بچہ بھی ضائع ہوگا اور باپ کی نسل بھی باقی نہیں رہے گی۔ لیکن اس کے بجائے اگر کیا کر دیا جائے؟ اس باندی کو باپ کی مملوکہ قرار دے دیا جائے تو اس صورت میں باپ جو صحبت کرے گا وہ صحبت بھی حرام نہ رہے گی کیونکہ وہ اپنی باندی سے وطی کر رہا ہے، اور نیز باپ کا ماء بھی محفوظ رہے گا کیونکہ اس کی وجہ سے آگے جو اولاد پیدا ہوگی اس کا نسب اس باپ سے ثابت ہو جائے گا اور وہ اس کے اولاد شمار ہوگی اور اس طرح اس کی نسل باقی رہے گی بھئی۔
توجہ ہے؟ تو باپ اپنے ماء کی صیانت کا محتاج ہے، لہٰذا اس باندی کو باپ کی مملوکہ قرار دیا جائے گا صحبت سے پہلے۔ جب باندی باپ کی مملوکہ ہوئی تو باپ فعلِ حرام سے بھی بچ گیا اور نیز اس کی نسل بھی باقی رہی کیونکہ اس بچے کا نسب باپ سے ثابت ہو سکے گا۔ اور اگر آپ باپ کو مالک قرار نہیں دیتے تو پھر اس صورت میں باپ کا پانی محفوظ نہ رہا، اس سے آگے جو بچہ پیدا ہوا اس کا نسب اب باپ سے ثابت نہ ہو سکے گا، جب نسب ثابت نہ ہو سکے گا تو اس کی نسل کی بقاء نہ رہے گی، بچہ بھی ضائع ہوگا اور باپ بھی فعلِ حرام کا مرتکب ہو جائے گا۔ تو باپ صیانتِ ماء کا محتاج ہوا۔ اور جب باپ صیانتِ نفس کا محتاج ہوتا تھا تو بیٹے کے مال کا مالک بن جاتا تھا، تو جب صیانتِ ماء کا باپ محتاج ہے تو وہ بیٹے کی باندی کا مالک بن جائے گا۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟ اچھی طرح تسلی ہوئی کہ نہیں؟ اس مقام پہ تسلی نہیں ہوتی اصل میں کہ صیانتِ ماء کے لیے، کیا معنی صیانتِ ماء؟ صیانتِ ماء کا معنی یہ ہے کہ آگے جو اولاد پیدا ہو وہ باپ ہی کی شمار ہو، نسب ثابت ہو سکے، اور اگر نسب ثابت نہ ہو سکا تو صیانتِ ماء نہ رہی، ماء ضائع ہوا، وہ بچہ ضائع ہوگا، جس بچے کا نسب ہی ایک شخص سے ثابت نہیں ہے تو اس کا کون خیال رکھے گا بھئی؟ بات سمجھ میں آ گئی۔
تو کہتے ہیں پھر دیکھیے: ﴿وَوَجْهُهُ أَنَّ لَهُ وِلَايَةَ تَمَلُّكِ مَالِ ابْنِهِ لِلْحَاجَةِ إِلَى الْبَقَاءِ فَلَهُ تَمَلُّكُ جَارِيَتِهِ لِلْحَاجَةِ إِلَى صِيَانَةِ الْمَاءِ﴾ کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ باپ کو اپنے بیٹے کے مال کا مالک بننے کی ولایت ہوتی ہے اپنی بقاء کی حاجت کی وجہ سے، تو باپ کو بیٹے کی باندی کے مالک ہونے کی ولایت بھی ہوگی اپنے ماء کی حفاظت کی حاجت کی وجہ سے، ﴿غَيْرَ أَنَّ الْحَاجَةَ إِلَى إِبْقَاءِ نَسْلِهِ دُونَهَا إِلَى إِبْقَاءِ نَفْسِهِ﴾ یہاں ایک اشکال کا جواب دے رہے ہیں۔ اشکال یہ کہ اگر صیانتِ ماء کی حاجت بھی صیانتِ نفس کی حاجت کی طرح ہے، جیسے باپ کے پاس کھانے پینے کے لیے نہیں ہے تو وہ بیٹے کے مال کا مالک بن جاتا ہے اور وہ اس کو استعمال کر سکتا ہے اور باپ کو قیمت نہیں دینا پڑتی، لیکن یہاں باندی کے معاملے میں باپ کو قیمت دینا پڑے گی بھئی۔ تو کہتے ہیں اگر صیانتِ ماء کی حاجت صیانتِ نفس کی حاجت کی طرح ہے تو پھر باندی کے اندر آپ قیمت کیوں واجب کرتے ہیں؟ صیانتِ نفس کے معاملے کے اندر تو آپ قیمت واجب نہیں کرتے کہ باپ جو کچھ بیٹے کے مال میں سے کھا لے، پی لے، استعمال کر لے، اس پر کوئی قیمت نہیں، لیکن باندی کے اندر آپ کہتے ہیں باپ پر قیمت واجب ہوگی۔ تو اس کا بھی جواب دینے لگے ہیں کہ حاجت تو دونوں میں ہے، لیکن جان بچانے کی حاجت زیادہ ہے لہٰذا وہاں پر مال واجب نہیں ہوگا، جبکہ صیانتِ ماء کی حاجت وہ کم درجے کی ہے لہٰذا اس میں قیمت دینا پڑے گی۔ صیانتِ نفس کی حاجت زیادہ ہے لہٰذا وہاں قیمت نہیں آئے گی اور صیانتِ ماء کی حاجت کم درجے کی ہے لہٰذا اس میں پھر قیمت دینا پڑے گی، باندی کی قیمت دے گا۔
کہتے ہیں: ﴿غَيْرَ أَنَّ الْحَاجَةَ إِلَى إِبْقَاءِ نَسْلِهِ﴾ علاوہ اس کے کہ اپنی نسل کو باقی رکھنے کی جو حاجت ہے، اپنی نسل کو باقی رکھنا کس طرح ہوگا؟ کہ نسب ثابت ہو سکے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اس لیے کیونکہ اپنی نسل کو باقی رکھنے کی جو حاجت ہے: ﴿دُونَهَا إِلَى إِبْقَاءِ نَفْسِهِ﴾ یہاں ”دُونَهَا“ کے اندر یہ ”هَا“ ضمیر حاجت کو راجع ہے۔ ”دُونَهَا إِلَى إِبْقَاءِ نَفْسِهِ“ بھئی دیکھیے! ”دُونَهَا“، ”دُونَهَا“ کے اندر یہ ”هَا“ ضمیر جو ہے یہ حاجت کو لوٹ رہی ہے، تو اس ”هَا“ ضمیر کی جگہ حاجت کا لفظ لگا دیں پھر آپ کو عبارت بہترین سمجھ میں آئے گی۔ ﴿غَيْرَ أَنَّ الْحَاجَةَ إِلَى إِبْقَاءِ نَسْلِهِ﴾ علاوہ اس کے کہ وہ جو نسل کو باقی رکھنے کی حاجت ہے، نسل کو باقی رکھنا کیسے ہوگا؟ کہ نسب ثابت ہو سکے، اور وہ کب نسب ثابت ہوگا؟ جب باپ کو مالک قرار دیا جائے، ورنہ تو ویسے نسب ثابت نہیں ہو سکتا۔ تو کہتے ہیں: ﴿غَيْرَ أَنَّ الْحَاجَةَ إِلَى إِبْقَاءِ نَسْلِهِ﴾ علاوہ اس کے کہ اپنی نسل کو باقی رکھنے کی جو حاجت ہے، ﴿دُونَهَا إِلَى إِبْقَاءِ نَفْسِهِ﴾ یہ ”دُونَهَا“ کی ”هَا“ ضمیر کی جگہ الحاجۃ کا لفظ رکھیں، میں نے بتایا آپ کو: ”دُونَ الْحَاجَةِ إِلَى إِبْقَاءِ نَفْسِهِ“، یہ حاجت اس حاجت سے کم ہے جو اپنے ذات کو باقی رکھنے کی ہے۔ ایک حاجت ہے إبقاءِ نسلہ کی، اپنی نسل باقی رکھنے کی، اور ایک حاجت ہے اپنی ذات باقی رکھنے کی کہ میں زندہ رہوں، میں باقی رہوں۔ تو ظاہر سی بات ہے اپنی ذات کو باقی رکھنے کی جو حاجت ہے وہ زیادہ ہے اور اپنی نسل کو باقی رکھنے کی حاجت اس سے کم درجے کی ہے، تو جو کم درجے کی ہے اس میں قیمت دینا پڑے گی اور جو اونچے درجے کی ہے اس میں قیمت نہیں آئے گی۔
تو کہتے ہیں: ﴿غَيْرَ أَنَّ الْحَاجَةَ إِلَى إِبْقَاءِ نَسْلِهِ دُونَهَا إِلَى إِبْقَاءِ نَفْسِهِ﴾ علاوہ اس کے کہ اپنی نسل کو باقی رکھنے کی جو حاجت ہے وہ اس حاجت سے کم ہے جو اپنی ذات کو باقی رکھنے کی ہے، ﴿فَلِهَذَا يَتَمَلَّكُ الْجَارِيَةَ بِالْقِيمَةِ﴾ اسی لیے باپ جو ہے باندی کا مالک بن جائے گا قیمت کے ساتھ، ﴿وَالطَّعَامَ بِغَيْرِ الْقِيمَةِ﴾ اور طعام کا یعنی کھانے پینے کا بغیر قیمت کے۔
﴿ثُمَّ هَذَا الْمِلْكُ يَثْبُتُ قَبْلَ الِاسْتِيلَادِ شَرْطًا لَهُ﴾ بھئی وہی بات بھئی، میں نے آپ کو بتلایا کہ باپ جب بیٹے کی باندی سے صحبت کرنے لگا تو وطی سے پہلے باپ کو اس کا مالک قرار دیا جائے گا۔ وجہ یہ تاکہ باپ کے ماء کی حفاظت ہو سکے، یعنی پیدا ہونے والے بچے کا نسب باپ سے ثابت ہو سکے، اور جب اپنی باندی سے کوئی بچہ پیدا ہو تو اس کا نسب ثابت ہو جاتا ہے آقا سے۔ تو اس باندی کو بھی کس کی مملوکہ قرار دے دیں گے؟ باپ کی مملوکہ۔ جب باپ کی مملوکہ ہو گئی صحبت سے پہلے، تو صحبت کے بعد جب بچہ پیدا ہوا تو وہ اپنی باندی سے پیدا ہوا، لہٰذا وہ باندی اس کی ام ولد بن جائے گی۔ اور اگر صحبت کے وقت مملوکہ نہیں تو پھر وہ اس شخص کی ام ولد بھی نہیں بن سکتی اور وہ نسب بھی ثابت نہیں ہو سکتا، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: ﴿ثُمَّ هَذَا الْمِلْكُ يَثْبُتُ قَبْلَ الِاسْتِيلَادِ شَرْطًا لَهُ﴾ استیلاد کا معنی ہے ام ولد بنانا۔ اِسْتَوْلَدَ يَسْتَوْلِدُ اِسْتِیْلَاد کا کیا معنی ہے؟ ام ولد بنانا۔ کہتے ہیں: ﴿ثُمَّ هَذَا الْمِلْكُ﴾ پھر یہ جو باپ کی ملکیت ہے اس باندی کے اندر، ﴿يَثْبُتُ قَبْلَ الِاسْتِيلَادِ شَرْطًا لَهُ﴾ یہ ام ولد بنانے سے پہلے ثابت ہوگی اس کے لیے شرط ہو کر۔
بھئی یاد رکھو، کوئی باندی کسی کی ام ولد تب ہی بن سکتی ہے کہ جب وہ اس کی مملوکہ ہو، تو باندی کا اس کے لیے مملوکہ ہونا شرط ہے پھر ہی وہ ام ولد ہو سکتی ہے اس شخص کی۔ ایک شخص اگر ایک باندی کا مالک نہیں ہے تو یہ باندی اس کی ام ولد بھی نہیں ہو سکتی۔ توجہ ہے؟ تو معلوم ہوا ام ولد ہونے کے لیے ملکیت کا ہونا شرط ہے، اور شرط مشروط پر مقدم ہوتی ہے جیسے وضو نماز کے لیے شرط ہے تو وضو نماز پر مقدم ہوتا ہے، یہاں پر بھی استیلاد کے لیے یعنی ام ولد بنانے کے لیے کیا شرط ہے؟ کہ باندی اس کی مملوکہ ہو۔ شرط مقدم ہوتی ہے اس لیے وطی سے مقدم ہی ہم نے بھی باپ کو اس باندی کا مالک قرار دے دیا۔ تو کہتے ہیں: ﴿ثُمَّ هَذَا الْمِلْكُ يَثْبُتُ قَبْلَ الِاسْتِيلَادِ شَرْطًا لَهُ﴾ پھر یہ جو باپ کی ملکیت ہے یہ ام ولد بنانے سے پہلے ثابت ہوگی اس استیلاد کے لیے شرط ہو کر، ﴿إِذِ الْمُصَحِّحُ حَقِيقَةُ الْمِلْكِ أَوْ حَقُّهُ﴾ مصحح بھئی، صَحَّحَ يُصَحِّحُ تَصْحِيْحًا کا معنی ہے درست کرنا، صحیح کرنا۔
تو یہاں پر باپ اپنے بیٹے کی باندی سے صحبت کر رہا ہے اور اولاد کے پیدا ہونے کے بعد باپ اس بچے کا دعویٰ کرتا ہے تو فقہاء اس کو باپ کی ام ولد قرار دیتے ہیں، اور اس باندی کا ام ولد ہونا تب ہی صحیح ہو سکتا ہے جب پہلے باپ کے لیے ملکیت ثابت کی جائے۔ صحبت سے پہلے ہی باپ کے لیے ملکیت ثابت کی جائے تو یہ ملکیت ثابت کرنا باپ کے لیے پہلے سے ہی یہ مصحح ہے، یعنی تصحیح کرنے والا ہے اس عورت کے ام ولد ہونے کی۔ پہلے ملکیت ہوگی تو اس کا ام ولد ہونا صحیح ہوگا، اگر پہلے ملکیت نہیں تو پھر اس کا ام ولد ہونا بھی صحیح نہیں بھئی۔ تو یہ معنی ہے: ﴿إِذِ الْمُصَحِّحُ حَقِيقَةُ الْمِلْكِ أَوْ حَقُّهُ﴾ اس لیے کیونکہ وہ چیز جو استیلاد کو صحیح کرنے والی ہے وہ حقیقتِ ملک ہے یا حقِ ملک ہے۔
یہ جگہ سمجھ لیں بھئی۔ حقیقتِ ملک کا معنی یہ ہے کہ ایک شخص ایک باندی کا حقیقتاً مالک ہے، حقیقتاً مالک ہے۔ جب ایک شخص ایک باندی کا حقیقتاً مالک ہے تو اس سے صحبت بھی کر سکتا ہے، جب صحبت کر سکتا ہے تو اس سے اولاد پیدا ہوئی تو یہ بعد میں کہہ سکتا ہے یہ میری اولاد ہے تو یہ باندی اس کی ام ولد ہو سکتی ہے۔ تو حقیقتِ ملک کی صورت میں بھی ام ولد بن سکتی ہے باندی، اور حقِ ملک کی صورت میں بھی باندی ام ولد بن سکتی ہے۔ حقِ ملک کا معنی یہ ہے کہ بعض اعتبار سے مالک ہو، پورے طور پر ایک چیز کا مالک نہیں لیکن بعض اعتبار سے کیا ہے؟ مالک ہے، تو یہ دیکھو یہ حقیقتِ ملک تو نہیں ہے یعنی حقیقتاً پورے کا تو مالک نہیں لیکن حقِ ملک تو ہے، ملکیت کا حق تو ہے یعنی بعض اعتبار سے تو مالک ہے۔ جیسے دیکھو مکاتبہ، میں نے ابھی آپ کو بتلایا کہ مکاتبہ کے ساتھ آقا کے لیے صحبت جائز نہیں ہوتی بھئی، وہ آزاد عورت کی طرح ہو گئی ہے، وہ جائے گی جا کر پیسے کمائے گی اور لا کر آقا کے حوالے کرے گی اور اپنے آپ کو آزاد کروائے گی، تو مکاتبہ جو ہے وہ آزاد لوگوں کے مشابہ ہو گئی، آقا کے لیے اس سے صحبت کرنا جائز نہیں۔ لیکن پتہ نہیں یہ مکاتبہ پیسے پورے ادا کر سکے گی یا نہیں کر سکے گی؟ اگر اس نے خود ہی عاجزی کا اظہار کر دیا کہ نہیں، مجھ سے اتنے پیسے نہیں ہو سکتے تو اس صورت میں بھی عقدِ کتابت ختم ہو جائے گا۔ یا اگر یہ کوشش تو کر رہی ہے لیکن پیسے پورے نہیں لا رہی، قسطیں صحیح طریقے سے ادا نہیں کر رہی تو آقا قاضی کے پاس جا کر اس عقدِ کتابت کو ختم کروا سکتا ہے۔ تو یہ باندی پھر عام باندیوں کی طرح بن جائے گی اور آقا کے لیے پھر اس سے صحبت جائز ہو جائے گی۔
تو معلوم ہوا مکاتبہ آزاد عورتوں جیسی ہو گئی ہے، آقا اس سے صحبت نہیں کر سکتا لیکن اس میں آقا کا حقِ ملک تو ہے۔ بعض اعتبار سے ابھی بھی آقا اس کا مالک ہے کہ یہ اگر عاجز آ گئی یا عقدِ کتابت کو فسخ کرنا پڑا تو یہ پھر پہلے جیسی باندی بن جائے گی۔ تو اس کے اندر آقا کی ملک حقیقتاً تو نہیں ہے لیکن حقِ ملک تو ہے، بعض اعتبار سے تو ملک ہے۔ تو اس مکاتبہ کے ساتھ اگر آقا صحبت کر لیتا ہے، جائز تو نہیں تھا لیکن اس نے صحبت کر لی، اور پھر اس سے ایک بچہ پیدا ہوا اور پھر آقا نے کہہ دیا یہ میرا بچہ ہے، یاد رکھو یہ مکاتبہ اس کی ام ولد بن جائے گی۔ کیونکہ استیلاد کے لیے، ام ولد ہونے کے لیے شرط کیا ہے؟ کہ ایک شخص باندی کا یا تو حقیقتاً مالک ہو یا اس باندی میں اس کا حقِ ملکیت ہو۔ یا باندی کا حقیقتاً مالک ہو یا اس باندی میں اس کا حقِ ملک ہو، اور مکاتبہ کے اندر اگرچہ حقیقتِ ملک تو نہیں ہے لیکن حقِ ملک تو ہے، اور حقِ ملک کا کیا معنی؟ بعض اعتبار سے مالک ہو، بات سمجھ میں آ گئی۔
پھر دیکھیے، کہتے ہیں: ﴿ثُمَّ هَذَا الْمِلْكُ يَثْبُتُ قَبْلَ الِاسْتِيلَادِ شَرْطًا لَهُ﴾ اور پھر یہ ملکیت باپ کے لیے ثابت ہو جائے گی ام ولد ہونے سے پہلے اس کے لیے شرط ہو کر، یعنی ام ولد ہونے کے لیے شرط ہے پہلے سے کیا ہونا چاہیے؟ مالک ہو یا حقِ ملک ہو۔ تو یہاں پر بھی ملکیت ثابت ہو جائے گی: ﴿شَرْطًا لَهُ﴾ اس استیلاد کے لیے شرط ہو کر، ﴿إِذِ الْمُصَحِّحُ حَقِيقَةُ الْمِلْكِ أَوْ حَقُّهُ﴾ اس لیے کیونکہ استیلاد کو صحیح کرنے والی چیز جو ہے وہ حقیقتِ ملک ہے یا حقِ ملک ہے، ﴿وَكُلُّ ذَلِكَ غَيْرُ ثَابِتٍ لِلْأَبِ فِيهَا﴾ اور ان دونوں میں سے کوئی بھی چیز ثابت نہیں ہے باپ کے لیے اس بیٹے کی باندی میں۔ میں نے بتایا بیٹے کا مال الگ ہوتا ہے، باپ کا مال الگ۔ تو بیٹے کا جو مال ہے، بیٹے کی جو باندی ہے، نہ وہ باپ کی حقیقتاً مملوک ہے، نہ باپ کا اس میں حقِ ملک ہے، بعض اعتبار سے بھی باپ اس کا مالک نہیں ہے۔ توجہ ہے؟ تو بیٹے کی باندی میں نہ حقیقتِ ملک ہے اور نہ حقِ ملک ہے، تو پھر استیلاد تو ہو ہی نہیں سکتا جب تک پہلے سے آپ اس کو صحبت سے پہلے مملوکہ نہ قرار دے دیں۔
تو کہتے ہیں: ﴿إِذِ الْمُصَحِّحُ حَقِيقَةُ الْمِلْكِ أَوْ حَقُّهُ﴾ کیونکہ استیلاد کو صحیح کرنے والی چیز جو ہے وہ حقیقتِ ملک ہے یا حقِ ملک ہے، ﴿وَكُلُّ ذَلِكَ غَيْرُ ثَابِتٍ لِلْأَبِ فِيهَا﴾ اور ان میں سے ہر ایک وہ غیر ثابت ہے باپ کے لیے اس باندی میں، یعنی باپ کو نہ تو حقیقتِ ملک اس باندی میں حاصل ہے اور نہ حقِ ملک ہے، ﴿حَتَّى يَجُوزُ لَهُ التَّزَوُّجُ بِهَا﴾ یاد رکھیے یہاں پر بھی ”حَتَّى“ نَصب نہیں دے گا۔ ”حَتَّى“ کے بعد یہاں ”أَنْ“ مقدر نہیں ہوگا، تو ”يَجُوزُ“ پر رفع پڑھیں گے۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ ”حَتَّى“ کے نَصب دینے کے لیے یعنی ”حَتَّى“ کے بعد ”أَنْ“ کے مقدر ہونے کے لیے دو شرطیں ہیں: ایک شرط یہ ہے کہ ”حَتَّى“ کا مابعد وہ مستقبل ہونا چاہیے ”حَتَّى“ کے ماقبل کی طرف نسبت کرتے ہوئے، اور دوسری شرط یہ ہے کہ وہ ”حَتَّى“ سببیّت یا غایت کا فائدہ دے رہا ہو۔ ”حَتَّى“ سببیّت کا فائدہ دے رہا ہو یعنی ”حَتَّى“ کا ماقبل وہ سبب ہو اور ”حَتَّى“ کا مابعد اس کا مسبَّب ہو، یا ”حَتَّى“ غایت کا فائدہ دے رہا ہو یعنی ”حَتَّى“ کا مابعد جو ہے وہ غایت بن رہا ہو ”حَتَّى“ کے ماقبل کے لیے، تو پھر ہی ”حَتَّى“ کے بعد ”أَنْ“ مقدر ہوتا ہے۔ تو یہاں یہ شرطیں پوری نہیں ہیں بھئی، یہاں ”حَتَّى“ کا مابعد ماقبل کی طرف نسبت کرتے ہوئے مستقبل ہی نہیں ہے۔ تو یہاں ”حَتَّى“ نَصب نہیں دے گا۔
تو کہتے ہیں: ﴿حَتَّى يَجُوزُ لَهُ التَّزَوُّجُ بِهَا﴾ یہاں تک کہ باپ کے لیے اس سے نکاح بھی جائز ہے۔ یاد رکھو ملکِ نکاح اور ملکِ رقبی جمع نہیں ہو سکتے۔ ملکِ نکاح اور ملکِ رقبی جمع نہیں ہو سکتے۔ ایک شخص جو ہے وہ اپنی مملوکہ باندی سے نکاح کرنا چاہتا ہے؟ نہیں، اس کی کوئی صورت نہیں ہے، یہ آپ پہلے پڑھ چکے ہیں۔ اس لیے کیونکہ باندی اس کی مملوکہ ہے، اور جب یہ شخص اس سے نکاح کر لے گا تو پھر باندی مالکن بن جائے گی، باندی کے کئی حقوق آ جائیں گے خاوند کے اوپر بھئی، کئی حقوق کی مالکن بن جائے گی۔ تو ایک ہی عورت مملوکہ بھی ہو اور مالکن بھی ہو، ایسا نہیں ہو سکتا، مملوک الگ ہوتا ہے، مالک الگ ہوتا ہے۔ تو ملکِ نکاح اور ملکِ رقبی جمع نہیں ہو سکتے۔ یا یوں کہو ملکِ رقبی ہے اعلیٰ، اس میں انسان پوری ذات کا مالک ہوتا ہے، اور ملکِ نکاح جو ہے وہ ہے ادنیٰ، کیونکہ اس میں صرف انسان منافع کا مالک ہوتا ہے۔ تو ملکِ رقبی کیا ہوئی؟ اعلیٰ، اور ملکِ نکاح کیا ہوئی؟ ادنیٰ۔ لہٰذا اعلیٰ ملک کے ہوتے ہوئے ادنیٰ ملک نہیں آ سکتی، ملکِ رقبی کے ہوتے ہوئے ملکِ نکاح نہیں آ سکتی۔ تو وہ عورت، وہ باندی جس کا آقا حقیقتاً مالک ہو یا اس میں حقِ ملک ہو، اس کے ساتھ اس کا نکاح جائز نہیں۔ لہٰذا آقا اپنی باندی کے ساتھ بھی نکاح نہیں کر سکتا کیونکہ یہاں حقیقتِ ملک ہے، اور نیز آقا اپنی مکاتبہ کے ساتھ بھی نکاح نہیں کر سکتا کیونکہ وہاں حقِ ملک ہے۔ لیکن بیٹے کی باندی کے ساتھ تو باپ کا نکاح جائز ہے۔ معلوم ہوا نہ وہاں حقیقتِ ملک ہے اور نہ حقِ ملک ہے، اگر وہاں حقیقتِ ملک ہوتی یا حقِ ملک ہوتا تو پھر وہاں نکاح جائز نہ ہوتا بھئی۔
تو کہتے ہیں: ﴿وَكُلُّ ذَلِكَ غَيْرُ ثَابِتٍ لِلْأَبِ فِيهَا حَتَّى يَجُوزُ لَهُ التَّزَوُّجُ بِهَا﴾ اور ان دونوں میں سے ہر ایک وہ ثابت نہیں ہے باپ کے لیے اس باندی میں، یہاں تک کہ باپ کے لیے جائز ہے اس باندی کے ساتھ نکاح کرنا، ﴿فَلَا بُدَّ مِنْ تَقْدِيمِهِ﴾ لہٰذا ضروری ہے ملکیت کو مقدم کرنا۔ بھئی کوئی ام ولد کب بنتی ہے؟ جب اس میں حقیقتِ ملک ہو یا حقِ ملک ہو، اور بیٹے کی باندی میں نہ تو حقیقتِ ملک ہے اور نہ حقِ ملک ہے، لہٰذا یہ ام ولد ہو ہی نہیں سکتی باپ کے لیے جب تک آپ صحبت سے پہلے ملکیت کو نہ مانیں۔ یہ معنی ہے: ”فَلَا بُدَّ مِنْ تَقْدِيمِهِ“، لہٰذا اس باپ کی ملکیت کو مقدم کرنا ضروری ہے وطی پر، ﴿فَتَبَيَّنَ أَنَّ الْوَطْءَ يُلَاقِي مِلْكَهُ﴾ تو یہ بات ظاہر ہو گئی کہ اس وطی نے ملاقات کی ہے اپنی ملکیت سے۔ وطی سے پہلے ہی باپ اس کا مالک بن گیا تو باپ اپنی ملکیت کے اندر وطی کر رہا ہے، یہ وہ فعلِ حرام نہیں کر رہا، زنا نہیں کر رہا، اپنی باندی سے صحبت کر رہا ہے بھئی۔
﴿فَلَا يَلْزَمُهُ الْعُقْرُ﴾ لہٰذا باپ پر مہر بھی لازم نہیں ہوگا۔ عُقر، یہ بھی مہر کو کہتے ہیں۔ عُقر کسے کہتے ہیں؟ مہر کو کہتے ہیں۔ تو باپ اپنی باندی سے نکاح کر رہا ہے، جب اپنی باندی سے نکاح کر رہا ہے تو اپنی باندی میں تو مہر نہیں آتا بھئی۔ تو یہ معنی ہے: ”فَلَا يَلْزَمُهُ الْعُقْرُ“، لہٰذا باپ پر مہر لازم نہیں ہوگا۔ بھئی یہ مہر کو عُقر کہتے ہیں یہ اس وقت جب وہاں نکاح نہ ہوا ہو، وطی بالشبهہ کر لی جائے۔ وطی شبہے کی وجہ سے کوئی کسی سے وطی کر لیتا ہے تو پھر اس صورت میں یاد رکھو جو مہر آتا ہے اس کو عُقر کہتے ہیں، کیونکہ مہر تو نکاح میں آئے گا، چاہے نکاحِ صحیح ہو چاہے نکاحِ فاسد، وہاں مہر کا لفظ بولتے ہیں، مہر بولتے ہیں یا صداق کا لفظ بولتے ہیں۔ لیکن اگر وطی بالشبهہ کر لی، مثلاً ایک شخص کا ایک نکاح ہوا اور وہ بیوی کے پاس آیا، عورتوں نے یوں کیا اس کی بیوی کی جگہ ایک کسی اور عورت کو بٹھا دیا کہ دیکھیں یہ اپنی بیوی کو پہچانتا ہے یا نہیں پہچانتا، لیکن یہ شخص آیا اس نے آتے ہی اس کے ساتھ صحبت کر لی، تو اب یاد رکھو یہ وطی بالشبهہ ہے۔ اور یہاں پر...
اس عورت کا مہر مثل اب اس آدمی کو دینا پڑے گا۔ لیکن اس کو مہر نہیں کہیں گے، کیونکہ یہاں ان دونوں میں تو کوئی نکاح ہی نہیں۔ نکاح ہو تو مہر کہتے ہیں، تو یہ جو شبہے کی وجہ سے جو وطی کر لی جائے، اس میں جو مال آتا ہے اس کو عقر کہتے ہیں۔ اور تو یہ آزاد عورت میں اس کا مہر مثل ہوتا ہے، اور باندی کے اندر علماء فرماتے ہیں کہ اگر باکرہ باندی ہو تو وہاں پر اس کا عشر دینا پڑتا ہے، باندی کی قیمت کا۔ مثلاً باندی دو لاکھ کی ہے، تو اس کا عشر بیس ہزار بنتا ہے، تو یہ بیس ہزار دینا پڑے گا بھئی، اس کی قیمت کا دسواں حصہ۔
اور اگر باندی ثیبہ ہے، اور اس کے ساتھ وطی بالشبہ کر لی، تو پھر اس صورت کے اندر نصف عشر دینا پڑتا ہے، یعنی بیسواں حصہ۔ یعنی اگر باندی دو لاکھ کی ہے، تو پھر دس ہزار بطورِ مہر کے دینے پڑیں گے، اور اس کو عقر کہیں گے۔ مہر بھی کہہ دیتے ہیں، لیکن ویسے یہ عقر کہلاتا ہے بھئی۔
تو یہ بعض علماء فرماتے ہیں کہ باکرہ باندی میں عشر اور ثیبہ میں نصف عشر۔ لیکن محشی حضرات فرماتے ہیں کہ مختار یہ ہے، پسندیدہ یہ ہے کہ اس باندی میں غور کیا جائے گا کہ اس جیسی باندی کا نکاح اس کا آقا عموماً کتنے میں کرواتے ہیں؟ اس جیسی حسن و جمال والی باندی ہو تو اس کا نکاح آقا کتنے مہر میں کرواتا ہے؟ تو وہ عقر کے طور پر آئے گا اگر باندی کے ساتھ شبہے میں وطی کر لی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
تو کہتے ہیں: ﴿فَتَبَيَّنَ أَنَّ الْوَطْءَ يُلَاقِي مِلْكَهُ﴾ تو یہ بات ظاہر ہو گئی کہ وطی نے اپنی ملکیت سے ملاقات کی ہے، ﴿فَلَا يَلْزَمُهُ الْعُقْرُ﴾ لہٰذا اس باپ پر عقر یعنی مہر لازم نہیں ہوگا، ﴿وَقَالَ زُفَرُ وَالشَّافِعِيُّ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى: يَجِبُ الْمَهْرُ﴾ امام زفر اور امام شافعی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ مہر واجب ہوگا، ﴿لِأَنَّهُمَا يُثْبِتَانِ الْمِلْكَ حُكْمًا لِلِاسْتِيلَادِ﴾ اس لیے کیونکہ یہ دونوں ملکیت کو ثابت کرتے ہیں استیلاد کے لیے بطورِ حکم کے۔ استیلاد کے لیے بطورِ حکم۔ بھئی دیکھو!
ملکیت وہ بھی ثابت کرتے ہیں، امام شافعی رحمہ اللہ اور امام زفر رحمہ اللہ، اور ملکیت ہم بھی ثابت کرتے ہیں؛ لیکن ہمارے نزدیک یہ ملکیت استیلاد کے لیے شرط ہے، لہٰذا اس کا وطی پر مقدم ہونا ضروری ہے، کیونکہ شرطِ شئے شئے پر مقدم ہوتی ہے۔ جبکہ وہ ملکیت کو استیلاد کا حکم قرار دیتے ہیں، کہ ملکیت استیلاد کا حکم ہے، یعنی استیلاد سے ملکیت آئے گی بھئی۔ کیونکہ آپ جانتے ہیں حکمِ شئے شئے کے بعد آتا ہے۔ ایک مرد اور عورت آپس میں نکاح کریں گے تو نکاح کے بعد یہ میاں بیوی بنیں گے۔ نکاح کا حکم یہ ہے کہ یہ دونوں اب آپس میں کیا بن گئے؟ میاں بیوی۔ تو حکمِ شئے اس شئے کے بعد آتا ہے۔ تو عقد کے بعد یہ آپس میں میاں بیوی بنیں گے، عقد سے پہلے نہیں۔
اسی طرح بائع اور مشتری بیع کرتے ہیں، تو بیع کرتے ہی مشتری مبیع کا مالک بن گیا۔ تو یہ بیع کا حکم ہے، تو یہ مشتری مالک کب بنے گا؟ بیع کے بعد، کیونکہ حکمِ شئے شئے کے بعد ہوتا ہے۔ بیع سے پہلے وہ مالک نہیں۔ یا اسی طرح ہے جیسے ہر فاعل مرفوع ہوتا ہے، تو کوئی لفظ پہلے فاعل بنے تو سہی، پھر وہ مرفوع ہوگا۔ تو فاعل بننا پہلے ہوگا اور رفع اس کے بعد ہوگا، کیونکہ یہ فاعل کا حکم ہے بھئی۔ تو حکمِ شئے شئے کے بعد ہوا کرتی ہے۔
تو ہمارے نزدیک استیلاد کے لیے ملکیت شرط ہے، اور شرطِ شئے شئے پر مقدم ہوتی ہے، لہٰذا اس ملکیت کا استیلاد پر مقدم ہونا ضروری ہے، یعنی اس وطی اور اس صحبت پر مقدم ہونا ضروری۔ اور ان کے نزدیک یہ جو ملکیت ہے یہ استیلاد کا حکم ہے، اور حکمِ شئے شئے کے بعد ہوتا ہے، لہٰذا یہ اس کے بعد جو ہے وہ ملکیت کو ثابت کرتے ہیں۔ جب اس کے بعد ثابت ہو رہی ہے ملکیت، تو معلوم ہوا پھر اس صورت میں باپ نے جو صحبت کی ہے، وہ اپنی ملک میں کی یا غیرِ ملک میں؟ ان کے نزدیک غیرِ ملک میں وطی کی ہے، اور غیرِ ملک میں یہ تو بیٹے کے منافع تھے جو باپ نے وصول کر لیے، لہٰذا باپ کو مہر دینا پڑے گا بھئی۔ باپ کو مہر بھی پورا دینا پڑے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
تو کہتے ہیں: ﴿وَقَالَ زُفَرُ وَالشَّافِعِيُّ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى: يَجِبُ الْمَهْرُ، لِأَنَّهُمَا يُثْبِتَانِ الْمِلْكَ حُكْمًا لِلِاسْتِيلَادِ، كَمَا فِي الْجَارِيَةِ الْمُشْتَرَكَةِ﴾ جیسے کہ مشترکہ باندی میں۔ جیسے مشترکہ باندی میں۔ مثلاً دیکھو بھئی! ایک باپ اور بیٹے نے مل کر ایک باندی خرید لی، کچھ پیسے باپ نے ملائے، کچھ پیسے بیٹے نے ملائے۔ اب دیکھو یہ مشترکہ باندی ہے، اور آپ جانتے ہیں مشترکہ باندی کے ساتھ کسی ایک مالک کے لیے بھی صحبت جائز نہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو نہ باپ کے لیے اس سے صحبت جائز ہے اور نہ بیٹے کے لیے صحبت جائز ہے۔ لیکن باپ کا حقِ ملک اس میں ہے، اسی طرح بیٹے کا بھی اس میں حقِ ملک ہے۔
اب یاد رکھو عند الاحناف اگر اس باپ نے اس باندی سے صحبت کر لی، تو پھر اس صورت میں باپ کو نصف مہر دینا پڑے گا، اور نیز نسب بھی ثابت ہو جائے گا۔ باپ اگر بعد میں دعویٰ کرتا ہے یہ میری اولاد ہے تو نسب بھی ثابت ہو جائے گا۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں دیکھا! جب باپ نصف کا مالک تھا تو وہاں آپ بھی مانتے تھے نصف عقر آئے گا۔ کیا آئے گا؟ نصف۔ بھئی دیکھو نا، اس صورت میں میں نے بتایا نصف عقر آئے گا، کیونکہ باندی باپ اور بیٹے کی دونوں کی ہے۔ تو نصف کا تو باپ کا حق ہے ہی، نصف باپ کا حق نہیں ہے، لہٰذا وہاں نصف عقر آئے گا۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دیکھو، جب نصف باندی میں بیٹے کی ملکیت ہو تو باپ پر نصف عقر آتا ہے، تو جب پوری باندی کے اندر ہی بیٹے کی ملکیت ہوگی تو باپ پر پورا عقر آئے گا۔ توجہ ہے؟ جب مشترکہ باندی کے اندر نصف ملکیت بیٹے کی ہے تو وہاں پر باپ پر نصف عقر آتا ہے، تو جب پوری باندی کے اندر ہی بیٹے کی ملکیت ہو تو اس صورت میں باپ پر پورا عقر آئے گا۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ یہاں عقر بھی واجب کرتے ہیں اور پھر باپ مالک بھی بن جائے گا تو باپ پر اس کی قیمت بھی آئے گی، جبکہ ہمارے نزدیک صرف قیمت آئے گی کیونکہ ملکیت صحبت سے پہلے ثابت ہو گئی۔ تو جب صحبت کی اس وقت اپنی باندی سے صحبت کی ہے، لہٰذا عقر نہیں دینا پڑے گا، البتہ قیمت دینا پڑے گی بھئی۔
تو امام شافعی رحمہ اللہ اس کو مشترکہ باندی پر قیاس کرتے ہیں، کہ مشترکہ باندی میں جب نصف عقر آتا ہے تو اس بیٹے کی مملوکہ باندی میں پورا عقر دینا پڑے گا۔ تو ہم جواب دیتے ہیں کہ اس مشترکہ باندی میں باپ کے لیے پہلے سے ہی ملکیت ثابت ہے۔ مشترکہ باندی میں پہلے سے ہی باپ کی ملکیت ثابت ہے، کیونکہ نصف باندی کا مالک تو باپ ہے بھئی۔ اور استیلاد کے لیے بھی کیا ضروری تھا؟ کہ یا ملکیت ہو یا حقِ ملکیت ہو۔ توجہ ہے؟ ملکیت ہو یا حقِ ملکیت ہو۔ تو جب مشترکہ باندی کے اندر باپ کے لیے نصف ملکیت پہلے سے ہی ثابت ہے تو یہ ام ولد بنانے کے لیے کافی ہے بھئی۔ اس کی وجہ سے اس باندی سے جو اولاد پیدا ہوگی اس کا نسب باپ سے ثابت ہو سکتا ہے، تو باپ کا اس کو ام ولد بنانا صحیح ہوگا۔
بھئی دیکھو، باندی مشترکہ ہے، اس باندی کے ساتھ نہ بیٹے کے لیے صحبت جائز، نہ باپ کے لیے صحبت جائز ہے۔ لیکن اگر باپ اس کے ساتھ صحبت کر لیتا ہے تو پھر اس صورت میں اس صحبت کے ناجائز ہونے کے باوجود پھر بھی یہ باندی باپ کی ام ولد بن سکتی ہے، کیونکہ باپ کی ملکیت تو اس کے اندر موجود ہے۔ جب ملکیت موجود ہے تو اب آگے بچے کا نسب بھی ثابت ہو سکتا ہے جب باپ دعویٰ کر دے گا۔ تو جب ملکیت پہلے سے موجود ہے باپ کی اس باندی کے اندر، تو اب علیحدہ سے کوئی ملکیت ثابت کرنے کی ضرورت نہیں۔ وہ باندی جو بیٹے کی مملوکہ تھی، اس میں تو وہاں باپ کے لیے نہ حقیقتِ ملکیت تھی اور نہ حقِ ملکیت تھا، لہٰذا اس لیے وہاں مجبورا ہمیں ملکیت کو پہلے ثابت کرنا پڑا، ورنہ اس کے بغیر تو باپ اس کو ام ولد بنا ہی نہیں سکتا، اس کے بغیر تو اس کا استیلاد ہی نہیں ہو سکتا۔ تو وہاں پر مجبورا ہمیں ملکیت کو پہلے ثابت کرنا پڑا، اور جب ملکیت پہلے ثابت ہو گئی تو باپ نے جو صحبت کی وہ اپنی باندی سے صحبت کی۔ جب اپنی باندی سے صحبت کی تو وہاں پر باپ پر عقر نہیں آئے گا، کیونکہ وہ بیٹے کی باندی سے صحبت نہیں کر رہا بلکہ اپنی باندی سے صحبت کر رہا ہے۔ تو آپ اس باندی کو اس مشترکہ باندی پر قیاس نہیں کر سکتے، اس لیے کیونکہ اس مشترکہ باندی کے اندر تو باپ کی ملکیت پہلے سے ہی موجود ہے۔ تو جب ملکیت پہلے سے موجود ہے تو باپ اس کو ام ولد بنا سکتا ہے، کوئی الگ ملکیت پہلے ثابت کرنے کی حاجت نہیں ہے، کیونکہ باپ کی ملکیت اس کے اندر موجود ہے، اور وہ ملکیت کافی ہے ام ولد بنانے کے لیے۔
تو وہاں ہم نے ملکیت کو مقدم کیوں کیا تھا؟ کہ اس کے بغیر استیلاد صحیح نہیں تھا، یعنی ام ولد بنانا صحیح نہیں تھا، اور یہاں پر ملکیت موجود ہے تو استیلاد صحیح ہے، لہٰذا الگ کوئی اور ملکیت ثابت کرنے کی ضرورت نہیں۔ اور پھر ملکیت تو نصف کے اندر ہے، لہٰذا باپ کو نصف عقر دینا پڑے گا یہاں پر۔ جبکہ وہاں پر، وہاں پر پہلے سے جب ملکیت کو ثابت مانا تو پوری باندی کا باپ مالک بن گیا تو وہاں باپ پر کوئی عقر نہیں آئے گا، وہ اپنی باندی کے ساتھ صحبت کر رہا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو لہٰذا آپ اس بیٹے کی مملوکہ باندی کو مشترکہ باندی پر قیاس نہیں کر سکتے، کیونکہ اس بیٹے کی مملوکہ باندی میں ملکیت کو مقدم ہم مانتے ہیں، جبکہ اس مشترکہ کے اندر کوئی ملکیت مقدم ماننے کی ضرورت نہیں، وہاں پہلے سے ہی ملکیت موجود ہے اور وہ کافی ہے ام ولد بنانے کے لیے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
تو یہ معنی ہے: ﴿كَمَا فِي الْجَارِيَةِ الْمُشْتَرَكَةِ﴾ جیسے کہ مشترکہ باندی میں، ﴿وَحُكْمُ الشَّيْءِ يَعْقُبُهُ﴾ اور کسی چیز کا حکم اس کے پیچھے آتا ہے۔ عقب یعقب کا معنی ہے پیچھے آنا، بعد میں آنا۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل چل رہی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ﴿وَحُكْمُ الشَّيْءِ يَعْقُبُهُ﴾ کہ کسی چیز کا حکم اس چیز کے بعد آتا ہے، ملکیت بھی استیلاد کا حکم ہے تو استیلاد کے بعد آئے گا، پہلے نہیں۔ ﴿وَالْمَسْأَلَةُ مَعْرُوفَةٌ﴾ اور یہ مسئلہ معروف ہے، مشہور ہے۔ صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں کہ یہ مسئلہ مشہور ہے بھئی، یعنی جامع صغیر کی شروحات وغیرہ میں علماء یہ مسئلہ ذکر فرماتے ہیں، علماء میں یہ مسئلہ مشہور ہے کہ ہمارے نزدیک ملکیت جو ہے وہ استیلاد کے لیے شرط ہو کر پہلے ثابت ہوگی، اور ان کے نزدیک ملکیت جو ہے استیلاد کے لیے حکم ہو کر بعد میں ثابت ہوگی بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَالْمَسْأَلَةُ مَعْرُوفَةٌ﴾ اور یہ مسئلہ معروف ہے۔
آگے دیکھیے بھئی:
﴿قَالَ: وَلَوْ كَانَ الِابْنُ زَوَّجَهَا أَبَاهُ فَوَلَدَتْ لَمْ تَصِرْ أُمَّ وَلَدٍ لَهُ، وَلَا قِيمَةَ عَلَيْهِ، وَعَلَيْهِ الْمَهْرُ، وَوَلَدُهَا حُرٌّ﴾
بھئی دوسری صورتِ مسئلہ: بیٹے نے اپنی باندی کا نکاح کروا دیا اپنے باپ سے۔ تو عند الاحناف یہ نکاح جائز ہے، اس لیے کیونکہ بیٹے کا جو مال ہے وہ الگ ہے، نہ تو اس میں باپ کے لیے حقیقتِ ملک ہے اور نہ حقِ ملک ہے، تو اس کے ساتھ باپ کا نکاح جائز ہے۔ اور جب باپ کا نکاح جائز ہے تو باپ صحبت کر لیتا ہے اور اولاد پیدا ہوتی ہے، تو اس صورت میں یہ اولاد اس کا نسب ثابت ہوگا، نیز اس صورت میں باپ پر باندی کی قیمت نہیں آئے گی، کیونکہ باندی تو ابھی بھی بیٹے ہی کی مملوکہ ہے، تو باپ نے صرف اس سے نکاح کیا ہے بھئی۔ ہاں باپ کو مہر دینا پڑے گا، کیونکہ خاوند کے ذمے مہر ہوتا ہے جو وہ باندی کے آقا کو ادا کرتا ہے۔ اور نیز یہ جو بچہ ہے یہ آزاد ہوگا۔ یہ بچہ کیا ہوگا؟ آزاد۔ وجہ یہ کہ یہ باندی بیٹے کی مملوکہ ہے، اور یہ جو بچہ ہے یہ اس کا مالک کا بھئی ہے بھئی۔ اور حدیث میں آتا ہے: ”مَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ مَحْرَمٍ مِنْهُ عَتَقَ عَلَيْهِ“ کہ جو اپنے قریبی محرم رشتہ دار کا مالک بن جائے وہ اس پر آزاد ہو جاتا ہے۔ قریبی رشتہ دار بھی ہو اور محرم بھی ہو۔ توجہ ہے؟ محرم کیا معنی؟ یعنی دونوں طرف سے نکاح جائز نہ بنتا ہو، جیسے یہاں یہ دونوں بھئی ہیں۔ تو ان میں سے ذرا ایک کو عورت فرض کر لیں، تو ان کا آپس میں کیا رشتہ ہوا؟ بہن بھئی، تو بہن بھئی کے درمیان تو نکاح کی کوئی صورت نہیں ہے، یہ محرم ہیں بھئی۔ پھر یوں کریں، اب دوسرے کو عورت فرض کریں، پہلے کو اسی طرح مرد رہنے دیں، تو اب بھی بہن بھئی والا رشتہ بنتا ہے، تو دیکھا دونوں طرف سے حرمت آ رہی ہے۔ تو محرم بھی ہیں یہ دونوں ایک دوسرے کے، اور قریبی رشتہ دار بھی ہیں، بھئی ہیں بھئی ایک دوسرے کے۔ تو اس صورت میں جو حدیث میں آتا ہے: ”مَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ مَحْرَمٍ مِنْهُ عَتَقَ عَلَيْهِ“ جو اپنے قریبی محرم رشتہ دار کا مالک بنا، وہ اس پر آزاد ہو جاتا ہے۔ آزاد کرنا نہیں پڑتا، جس لمحے میں مالک بنتا ہے اگلے لمحے میں وہ خود بخود آزاد ہو جاتا ہے۔ کسی کا بھئی مثلاً غلام ہے، یہ اپنے بھئی کو خریدتا ہے کہ میں اس کو خرید کر آزاد کروں، یاد رکھو خریدتے ہی اس کا بھئی آزاد ہو جائے گا، اس کو آزاد کرنا نہیں پڑے گا بھئی۔ توجہ ہے؟ تو یہاں پر بھی یہ جو بچہ پیدا ہوا یہ اپنے آقا کا بھئی ہے، لہٰذا یہ اس کا قریبی محرم رشتہ دار ہوا تو یہ فوراً ہی آزاد ہو جائے گا۔
تو کہتے ہیں: ﴿قَالَ: وَلَوْ كَانَ الِابْنُ زَوَّجَهَا أَبَاهُ﴾ اور اگر بیٹے نے نکاح کروا دیا اپنی اس باندی کا اپنے باپ سے، ﴿فَوَلَدَتْ﴾ تو پھر اس باندی نے بچے کو جنم دیا، ﴿لَمْ تَصِرْ أُمَّ وَلَدٍ لَهُ﴾ تو پھر یہ باپ کی ام ولد نہیں بنے گی۔ یہ باپ کی ام ولد نہیں بنے گی، کیونکہ باپ نے اس سے نکاح کیا ہے بھئی۔ ﴿وَلَا قِيمَةَ عَلَيْهِ﴾ اور نیز باپ پر اس کی قیمت بھی واجب نہیں ہوگی، کیونکہ باندی تو ابھی بھی بیٹے کی ہے بھئی۔ ﴿وَعَلَيْهِ الْمَهْرُ﴾ اور باپ پر مہر واجب ہوگا، کیونکہ اس نے نکاح کیا ہے اور نکاح میں مہر دینا پڑتا ہے۔ ﴿وَوَلَدُهَا حُرٌّ﴾ اور اس باندی کا بچہ جو ہے وہ آزاد ہے۔ ﴿لِأَنَّهُ صَحَّ التَّزَوُّجُ عِنْدَنَا﴾ اس لیے کیونکہ یہ نکاح ہمارے نزدیک صحیح ہے، ﴿خِلَافًا لِلشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ﴾ بخلاف امام شافعی رحمہ اللہ کے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ باپ کا بیٹے کے مال میں حقِ ملک ہے۔ باپ کا بیٹے کے مال میں حقِ ملک ہے، یعنی بعض اعتبار سے باپ مالک ہے ان کا۔ اس لیے کیونکہ حضور نے کیا فرمایا؟ ”أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِيكَ“ تو اور تیرا مال تیرے باپ کے ہیں۔ تو معلوم ہوا باپ بھی بیٹے کے مال کا مالک ہے بعض اعتبار سے۔ تو یعنی باپ کا حقِ ملک ہے۔ باپ کا حقِ ملک ہے، اور آپ ضابطہ پڑھ چکے ہیں کہ جہاں حقیقتِ ملک ہو یا حقِ ملک ہو وہاں نکاح جائز نہیں۔ کیونکہ جب ملکیت حاصل ہے تو پھر وہاں ملکِ نکاح نہیں آ سکتی بھئی۔ تو لہٰذا امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک باپ کے لیے بیٹے کے مال میں حقِ ملک ہے، جبکہ ہمارے نزدیک باپ کے لیے بیٹے کے مال میں حقِ ملک نہیں ہے، حقِ تملک ہے۔ ضرورت اور حاجت کے موقع پر وہ مالک بن سکتا ہے، اس وقت مالک نہیں۔ لیکن وہ فرماتے ہیں باپ کا بیٹے کے مال میں حقِ ملک ہے، بعض اعتبار سے باپ مالک ہے بھئی۔ اور جب بعض اعتبار سے باپ مالک ہے بیٹے کے مال کا، تو پھر بیٹے کی باندی کا باپ سے نکاح جائز ہی نہیں۔ توجہ ہے؟ کیونکہ نکاح اسی سے ہو سکتا ہے جہاں نہ حقیقتاً ملک ہو اور جہاں نہ حقِ ملک ہو بھئی۔
تو چنانچہ اسی لیے امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ باپ کا بیٹے کے مال میں حقِ ملک ہے، لہٰذا اگر باپ بیٹے کی باندی سے صحبت کرتا ہے، اور باپ کو یہ پتہ ہے کہ میرے لیے یہ باندی حرام ہے، میرے لیے اس کے ساتھ صحبت جائز نہیں، اس کے باوجود جانتے بوجھتے ہوئے بھی اگر باپ اس بیٹے کی باندی سے صحبت کرتا ہے تو اس پر حدِ زنا جاری نہیں کی جا سکتی۔ معلوم ہوا باپ کا حقِ ملک ہے، جبھی جانتے بوجھتے ہوئے بھی کہ یہ میرے لیے حرام ہے پھر بھی باپ صحبت کر لے تو بھی اس پر حدِ زنا جاری نہیں ہوتی۔ معلوم ہوا باپ کا حقِ ملک ہے، ورنہ تو حدِ زنا جاری ہونی چاہیے تھی جب باپ کو مسئلے کا بھی پتہ ہے کہ میرے لیے بیٹے کی باندی حلال نہیں ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: ﴿لِأَنَّهُ صَحَّ التَّزَوُّجُ عِنْدَنَا﴾ ہمارے نزدیک یہ نکاح صحیح ہے، باپ اپنے بیٹے کی باندی سے نکاح کر سکتا ہے، ﴿خِلَافًا لِلشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ﴾ بخلاف امام شافعی رحمہ اللہ کے، ﴿لِخُلُوِّهَا عَنْ مِلْكِ الْأَبِ﴾ اس لیے کیونکہ یہ باندی، یہ ہماری دلیل چل رہی ہے، درمیان میں صرف اتنا بتایا ﴿خِلَافًا لِلشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ﴾ بخلاف امام شافعی رحمہ اللہ کے، یعنی ان کے نزدیک یہ نکاح جائز نہیں، باقی ہماری دلیل چل رہی ہے۔ تو ہمارے نزدیک یہ نکاح صحیح ہے ﴿لِخُلُوِّهَا عَنْ مِلْكِ الْأَبِ﴾ اس لیے کیونکہ یہ باندی خالی ہے باپ کی ملکیت سے۔
﴿أَلَا يُرَى﴾ ہے آپ کی کتابوں میں؟ تو یہاں یاد رکھو، یہ عام طور پر ﴿أَلَا تَرَى﴾ استعمال ہوتا ہے، ﴿أَلَا تَرَى﴾ کیا آپ دیکھتے نہیں؟ یعنی کیا آپ کو یہ بات معلوم نہیں ہے؟ یہ دلیل دیتے ہوئے اس طرح دلیل کو ذکر کیا جاتا ہے۔ تو عموماً کیا استعمال ہوتا ہے؟ ﴿أَلَا تَرَى﴾ کیا آپ دیکھتے نہیں؟ یعنی کیا آپ کو یہ بات معلوم نہیں؟ اور یہاں غائب کا صیغہ ہے تو اس کو مجہول پڑھ لیں گے: ﴿أَلَا يُرَى﴾ یعنی کیا یہ بات معلوم نہیں ہے، ﴿أَنَّ الِابْنَ مَلَكَهَا مِنْ كُلِّ وَجْهٍ﴾ کہ بیٹا اس کا مالک ہے ہر اعتبار سے۔ تو کہتے ہیں: ﴿أَلَا يُرَى أَنَّ الِابْنَ مَلَكَهَا مِنْ كُلِّ وَجْهٍ﴾ کیا یہ بات معلوم نہیں ہے کہ بیٹا جو ہے وہ اس باندی کا مالک ہے ہر اعتبار سے۔ بیٹا باندی کا مالک ہے ہر اعتبار سے، تو یہ بات محال ہے کہ باپ بعض اعتبار سے مالک ہو۔ کیونکہ اگر باپ بعض اعتبار سے مالک ہے، معلوم ہوا اس اعتبار سے پھر بیٹا مالک نہیں ہوگا۔ توجہ ہے؟ آپ یہ کہنا چاہتے ہیں مثلاً دیکھو یہ باندی ہے، اگر آپ کہتے ہیں بیٹا ہر اعتبار سے اس کا مالک ہے، تو معلوم ہوا باپ کسی بھی اعتبار سے اس کا مالک نہیں۔ اور اگر آپ یہ کہتے ہیں کہ باپ بعض اعتبار سے باندی کا مالک ہے، تو معلوم ہوا بیٹا اس اعتبار سے تو باندی کا مالک نہیں۔ تو پھر ہم یہ نہیں کہہ سکتے بیٹا ہر اعتبار سے باندی کا مالک ہے، کیونکہ ہر اعتبار سے تو وہ مالک ہے ہی نہیں، بعض اعتبار سے تو باپ مالک ہے۔ لیکن بیٹا ہر اعتبار سے باندی کا مالک ہے، جب ہر اعتبار سے بیٹا باندی کا مالک ہے تو ایسا نہیں ہو سکتا کہ باپ بعض اعتبار سے باندی کا مالک ہو۔
تو کہتے ہیں: ﴿أَلَا يُرَى أَنَّ الِابْنَ مَلَكَهَا مِنْ كُلِّ وَجْهٍ، فَمِنَ الْمُحَالِ أَنْ يَمْلِكَهَا الْأَبُ مِنْ وَجْهٍ﴾ ﴿فَمِنَ الْمُحَالِ﴾ یہ یاد رکھو عربی میں لفظ ہے مُحال بھئی، مَحَال اور اردو میں البتہ یہ مَحال رائج ہے بھئی، میم کے فتحہ کے ساتھ رائج ہو گیا ہے۔ تو اردو میں یہ اگرچہ غلط رائج ہے، لیکن بلاغت کا ضابطہ ہے: الغلط الرائج افصح من الفصیح الغير الرائج۔ وہ غلط جو رائج ہو جائے وہ زیادہ فصیح ہوتا ہے اس فصیح کے مقابلے میں جو رائج نہ ہو بھئی۔ بہرحال اردو میں آ کر یہ لفظ بدل گیا ہے، اب اسی طرح استعمال کریں گے۔ تو کہتے ہیں: ﴿فَمِنَ الْمُحَالِ أَنْ يَمْلِكَهَا الْأَبُ مِنْ وَجْهٍ﴾ لہٰذا یہ بات محال ہے کہ باپ اس باندی کا مالک ہو جائے بعض اعتبار سے، جب بیٹا ہر اعتبار سے مالک ہے تو ایسا نہیں ہو سکتا کہ باپ بعض اعتبار سے مالک ہو، ورنہ تو پھر آپ یہ کہہ ہی نہیں سکتے کہ بیٹا ہر اعتبار سے مالک ہے۔ تو جب آپ یہ مانتے ہیں کہ بیٹا ہر اعتبار سے مالک ہے، تو آپ کو کہنا پڑے گا باپ کسی بھی اعتبار سے مالک نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ﴿فَمِنَ الْمُحَالِ أَنْ يَمْلِكَهَا الْأَبُ مِنْ وَجْهٍ﴾ تو یہ بات محال ہے کہ باپ اس باندی کا مالک ہو بعض اعتبار سے، ﴿وَكَذَا يَمْلِكُ مِنَ التَّصَرُّفَاتِ مَا لَا يَبْقَى مَعَهَا مِلْكُ الْأَبِ لَوْ كَانَ﴾ نیز ادھر دیکھیے! بیٹا باندی میں ایسے تصرفات کا مالک ہے کہ ان تصرفات کے ساتھ باپ کی ملکیت باقی رہ ہی نہیں سکتی۔ بیٹا باندی میں ایسے تصرفات کر سکتا ہے کہ ان تصرفات کی وجہ سے باپ کی ملکیت باقی رہ ہی نہیں سکتی، مثلاً بیٹا یہ باندی کسی اور کو بیچ دیتا ہے۔ جب بیٹا کسی اور کو باندی بیچ سکتا ہے، تو اس کے اندر تو دیکھو وہ دوسرا آدمی مالک بن گیا۔ اگر بعض اعتبار سے باپ مالک ہوتا، تو بیٹا خود اس باندی کو بیچ ہی نہیں سکتا تھا بھئی۔ تو یہ ایسا تصرف ہے جس کے ساتھ باپ کی ملکیت باقی نہیں رہ سکتی۔ بیٹے کو شریعت نے باندی بیچنے کی اجازت دی ہے، یہ بیٹا یہ باندی کسی کو ہبہ اور تحفہ کے طور پر بھی دے سکتا ہے، یہ ایسے تصرفات ہیں کہ ان کے ساتھ باپ کی ملکیت باقی رہ ہی نہیں سکتی بھئی۔ نہیں بات سمجھ میں آ رہی؟
بھئی دیکھو نا، میں نے اور آپ نے مل کر ایک چیز خریدی ہے، تو آپ اکیلے اس چیز کو نہیں بیچ سکتے، کیونکہ اس میں میری بھی ملکیت ہے۔ تو یہاں پر بھی بیٹا باندی کو اکیلا بیچ بھی سکتا ہے، ہبہ بھی کر سکتا ہے۔ اگر اس میں باپ کا بھی حقِ ملک ہوتا تو بیٹا ایسا نہیں کر سکتا تھا بھئی، لیکن بیٹے کو یہ تصرف شریعت نے دیا ہے، وہ یہ کر سکتا ہے۔ یہ تصرف بتلا رہا ہے کہ باپ کا کوئی حقِ ملک نہیں ہے، کیونکہ اس تصرف کے ہوتے ہوئے تو باپ کا حقِ ملک رہ ہی نہیں سکتا۔ بیٹا جس کو وہ باندی بیچے گا یا جس کو ہبہ کرے گا، وہ پورا مالک بن جائے گا بھئی۔ تو وہ باپ کی ملکیت کدھر گئی اگر باپ کی ملکیت تھی اس کے اندر؟ تو بیٹے کو شریعت نے ایسے تصرفات کا مالک بنایا ہے کہ ان تصرفات کے ہوتے ہوئے باپ کی ملکیت باقی رہ ہی نہیں سکتی، یہ بتلاتا ہے کہ باپ کا کوئی حقِ ملک نہیں ہے بیٹے کے مال میں، ورنہ بیٹے کو ان تصرفات کی اجازت نہ ہوتی بھئی۔
تو کہتے ہیں: ﴿وَكَذَا يَمْلِكُ مِنَ التَّصَرُّفَاتِ﴾ اسی طرح بیٹا ایسے تصرفات کا مالک ہے ﴿مَا لَا يَبْقَى مَعَهَا مِلْكُ الْأَبِ لَوْ كَانَ﴾ کہ ان کے ساتھ باپ کی ملکیت باقی نہیں رہ سکتی اگر وہ ہوتی۔ اگر باپ کی ملکیت ہوتی بھی تو ان تصرفات کے ساتھ باقی نہیں رہ سکتی تھی، معلوم ہوا باپ کی ملکیت نہیں ہے بھئی۔ باپ کا کوئی حقِ ملک اس میں نہیں ہے، ورنہ بیٹے کو ان تصرفات کی اجازت ہی نہ ہوتی بھئی۔ ﴿فَدَلَّ ذَلِكَ عَلَى انْتِفَاءِ مِلْكِهِ﴾ تو اس بات نے دلالت کر دی اس بات پر کہ باپ کی ملکیت منتفی ہے، باپ اس باندی کا مالک نہیں، ﴿إِلَّا أَنَّهُ يَسْقُطُ الْحَدُّ لِلشُّبْهَةِ﴾ بھئی امام شافعی رحمہ اللہ نے ذکر فرمایا تھا کہ باپ اگر جانتے بوجھتے ہوئے بھی بیٹے کی باندی سے صحبت کر لے، اس پر پھر بھی حد نہیں آتی، معلوم ہوا باپ کا حقِ ملک ہے، ورنہ تو اس پر حد آنی چاہیے تھی۔ تو اس کا جواب پہلے میں ذکر کر چکا ہوں بھئی کہ حدود اور قصاص جو ہیں وہ ادنیٰ شبہے کی وجہ سے بھی ساقط ہو جاتے ہیں۔ یہاں پر بھی باپ سے حد اس لیے ساقط ہو گئی ہے کہ شبہۂ ملک آ گیا ہے، کیونکہ حضور علیہ السلام نے کیا فرمایا تھا؟ ”أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِيكَ“ تو اور تیرا مال تیرے باپ کے ہیں۔ تو حضور علیہ السلام کے اس قول کی وجہ سے شبہۂ ملک آ گیا، جب شبہۂ ملک آ گیا تو اس شبہے کی وجہ سے حد ساقط ہو جائے گی کیونکہ حدود اور قصاص شبہے کی وجہ سے ساقط ہو جاتے ہیں، اس لیے باپ پر حد نہیں آئے گی بھئی۔ تو اس شبہۂ ملک کی وجہ سے باپ سے حد ساقط ہو جائے گی، اس وجہ سے حد ساقط نہیں ہوئی کہ باپ کا حقِ ملک ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
تو کہتے ہیں: ﴿إِلَّا أَنَّهُ يَسْقُطُ الْحَدُّ لِلشُّبْهَةِ﴾ مگر یہ کہ یہ حد جو ہے ساقط ہو جاتی ہے شبہے کی وجہ سے، ﴿فَإِذَا جَازَ النِّكَاحُ صَارَ مَاؤُهُ مَصُونًا بِهِ﴾ پس جب باپ کا اس بیٹے کی باندی سے نکاح جائز ہے، ﴿صَارَ مَاؤُهُ مَصُونًا بِهِ﴾ تو اس سے باپ کا پانی محفوظ ہو گیا۔ پانی کے محفوظ ہونے کا کیا معنی کیا میں نے؟ یعنی ہاں، آگے نسل پیدا ہو، اس کا نسب ثابت ہو سکے، ورنہ تو ماء بھی ضائع اور آگے بچہ بھی ضائع ہوگا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ﴿فَإِذَا جَازَ النِّكَاحُ صَارَ مَاؤُهُ مَصُونًا بِهِ﴾ تو جب باپ کا بیٹے کی باندی سے نکاح جائز ہو گیا تو باپ کا پانی محفوظ ہو گیا اس نکاح کی وجہ سے۔ جب نکاح کی وجہ سے ماء محفوظ ہو گیا ہے، تو اب ملکیت کو ثابت کرنے کی کوئی حاجت نہیں۔ تو جب اس کا ماء محفوظ ہو گیا ﴿فَلَمْ يَثْبُتْ مِلْكُ الْيَمِينِ﴾ تو باپ کے لیے ملکِ یمین ثابت نہیں ہوگی، ﴿فَلَا تَصِيرُ أُمَّ وَلَدٍ لَهُ﴾ تو پھر یہ باندی اس کے ام ولد بھی نہیں بنے گی، کیونکہ باندی جب باپ کی مملوک نہ ہوئی تو پھر اس کی ام ولد بھی نہیں ہو سکتی۔
یاد رکھو غلام اور باندی کے لیے ملکِ یمین کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ قرآن میں بھی اللہ فرماتے ہیں: ﴿فَمِمَّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُم﴾ جن کے تمہارے داہنے ہاتھ مالک ہیں۔ تو یہ ملکِ یمین بھئی، یہ مجازاً نسبت ہے یمین کی طرف، یمین دائیں ہاتھ کو کہتے ہیں۔ یمین دائیں، اور جیسے دائیں ہاتھ میں قوت ہوتی ہے، تو یہ جو غلام اور باندی کی ملکیت ہے اس کی نسبت دائیں ہاتھ کی طرف کر دی گئی یہ بتلانے کے لیے کہ یہ غلام اور باندی پر آقا کا پورا قبضہ ہے اور یہ پورے طور پر آقا کے اختیار میں ہیں۔ اس لیے اس ملک کو ملکِ یمین کہتے ہیں تاکہ پتہ چل جائے کہ یہ آقا کے پورے اختیار میں ہیں اور آقا کا ان پر پورا قبضہ ہے بھئی۔
تو باپ نے نکاح کیا ہے، تو یہ نکاح صحیح ہو گیا۔ جب نکاح صحیح ہوا تو ماء محفوظ ہو گیا، جب ماء محفوظ ہو گیا تو پھر اب ملکِ یمین کو ثابت کرنے کی ضرورت نہیں۔ جب ملکِ یمین ثابت نہیں تو اب یہ باندی باپ کی ام ولد بھی نہیں بنے گی۔ تو یہ معنی ہے، پھر ترجمہ دیکھ لیجیے: ﴿فَإِذَا جَازَ النِّكَاحُ صَارَ مَاؤُهُ مَصُونًا بِهِ﴾ جب یہ نکاح جائز ہے تو باپ کا ماء جو ہے وہ محفوظ ہو گیا اس کے ذریعے، ﴿فَلَمْ يَثْبُتْ مِلْكُ الْيَمِينِ﴾ تو لہٰذا اس کے لیے ملکِ یمین بھی ثابت نہیں ہوگی، ﴿فَلَا تَصِيرُ أُمَّ وَلَدٍ لَهُ﴾ تو لہٰذا یہ باندی اس کی ام ولد بھی نہیں بنے گی، ﴿وَلَا قِيمَةَ عَلَيْهِ فِيهَا﴾ اور اس باندی میں باپ پر قیمت بھی نہیں آئے گی، کیونکہ باپ تو اس کا مالک ہی نہیں ہے، مالک تو ابھی بھی بیٹا ہی ہے۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَلَا قِيمَةَ عَلَيْهِ فِيهَا وَلَا فِي وَلَدِهَا﴾ اور نہ تو اس باندی کے اندر باپ پر قیمت آئے گی اور نہ اس کے بچے میں، ﴿لِأَنَّهُ لَمْ يَمْلِكْهُمَا﴾ اس لیے کیونکہ باپ تو ان دونوں کا مالک نہیں ہے، ﴿وَعَلَيْهِ الْمَهْرُ﴾ اور باپ پر مہر لازم ہوگا ﴿لِالْتِزَامِهِ بِالنِّكَاحِ﴾ اس لیے کیونکہ باپ نے نکاح کے ذریعے خود اپنے اوپر مہر کو لازم کیا ہے، ﴿وَوَلَدُهَا حُرٌّ﴾ اور اس باندی کا جو بچہ ہے وہ آزاد ہوگا ﴿لِأَنَّهُ مَلَكَهُ أَخُوهُ﴾ اس لیے کیونکہ اس بچے کا مالک جو ہے وہ اس کا بھئی ہے، ﴿فَعَتَقَ عَلَيْهِ بِالْقَرَابَةِ﴾ تو یہ بچہ اس پر آزاد ہو جائے گا رشتہ داری کی وجہ سے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله اعلم بحقيقة الكلام۔