Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء ثاني · dars-009

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Muhammad Ghayyas
📍 Location Lahore, Pakistan
📅 Approved Date 08 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 31
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
دیکھیے بھئی آگے سبق: ”فصل في بيان المحرمات، قال: لا يحل للرجل أن يتزوج بأمه ولا جداته من قبل الرجال والنساء، لقوله تعالى: {حرمت عليكم أمهاتكم وبناتكم}، والجدات أمهات إذ الأم هو الأصل لغة أو ثبتت حرمتهن بالإجماع، قال: ولا بابنته لما تلونا، ولا بابنة ولده وإن سفلت للإجماع“. گزشتہ سبق میں آپ نے مسئلہ پڑھا تھا کہ اگر ایک مسلمان کسی ذمیہ سے یعنی کسی اہل کتاب عورت سے، یہودی، عیسائی عورت سے شادی کرتا ہے، نکاح کرتا ہے، اور اس نکاح کے اندر گواہ جو ہیں وہ دو ذمی ہیں تو شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ وہ نکاح منعقد ہو جائے گا۔ جبکہ امام محمد اور امام زفر رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ یہ نکاح منعقد نہیں ہوگا، اس لیے کیونکہ اگر اس نکاح کے اندر ذمیوں کو گواہ بنا دیا جائے تو پھر تو یہ مسلمان کے خلاف گواہ ہو جائیں گے، حالانکہ آپ ضابطہ پڑھ چکے ہیں کہ کافر جو ہے مسلمان کے خلاف گواہ نہیں ہو سکتا۔ اس لیے کیونکہ گواہ کا قول غیر پر نافذ ہو جاتا ہے، تو گویا آپ نے کافر کو اتنا اونچا مقام اور مرتبہ دے دیا کہ اس کا قول یعنی اس کی گواہی مسلمان کے خلاف نافذ ہو رہی ہے، لیکن مملکت اسلامیہ میں تو ہم کافر کو اتنا اونچا مقام نہیں دیں گے بھئی۔ تو لہٰذا اس نکاح کے اندر یہ جو دو ذمی ہیں اس طرح ہوں گے جیسے انہوں نے مسلمان کے کلام کو سنا ہی نہیں۔ وجہ یہ کہ نکاح ایجاب اور قبول کا نام ہے تو جو ایجاب اور قبول کو سنے گا وہ گواہ ہو گیا، تو اگر ہم یہ کہیں کہ ان ذمیوں نے مسلمان کے قول کو سنا ہے پھر تو یہ مسلمان کے خلاف گواہ ہو جائیں گے حالانکہ یہ تو مسلمان کے خلاف گواہ نہیں ہو سکتے۔ لہٰذا ان کا سماع بھی عدم سماع کی طرح ہے، ان کا سماع بھی عدم سماع کی طرح ہے بھئی۔ تو وہ قیاس کرتے ہیں ان دو ذمیوں کو ان دو ذمیوں پر جنہوں نے مسلمان کے ایجاب یا قبول کو سنا ہی نہیں۔ اور جب انہوں نے مسلمان کے قول کو سنا ہی نہیں تو وہ مسلمان کے خلاف گواہ بھی نہ بنے۔ تو یہ دو ذمی بھی انہی کی طرح ہیں یعنی یہ مسلمان کے خلاف گواہ نہیں ہو سکتے، تو ان کا سماع بھی کس درجے میں ہے؟ عدم سماع کے درجے میں ہے۔ جبکہ اس کے مقابلے میں شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ دو ذمیوں کی موجودگی میں بھی مسلمان کا نکاح ذمیہ کے ساتھ منعقد ہو جائے گا۔ شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ یہ جو نکاح کے اندر دو گواہوں کو شرط قرار دیا ہے شریعت نے، یہ لزومِ مال یعنی وجوبِ مہر کے اعتبار سے نہیں ہے بلکہ یہ ملکِ متعہ کے اثبات کے لیے ہے۔ بھئی دیکھیے! ایک ہے لزومِ مال، جیسے آپ کسی کے ساتھ بیع کرتے ہیں، جب آپ بیع کریں گے، ایجاب اور قبول کریں گے تو بیع منعقد ہو جائے گی اور اس میں شریعت نے کوئی گواہوں کی شرط نہیں رکھی۔ تو ایجاب اور قبول کریں گے بغیر گواہوں کے، پھر بھی بیع منعقد ہو جائے گی اور مشتری پر پیسے لازم ہو جائیں گے اور بائع پر مبیع لازم ہو جائے گا۔ تو دیکھو دونوں پر مال لازم ہو رہا ہے۔ پیسے بھی کیا ہیں؟ مال، اور مبیع بھی کیا ہے؟ مال، تو دونوں پر مال لازم ہو رہا ہے لیکن شریعت نے یہاں گواہوں کی شرط نہیں لگائی۔ اور جبکہ نکاح میں گواہوں کی شرط لگائی ہے، اور نکاح کے اندر آپ غور کریں تو خاوند کے ذمے مہر واجب ہوگا، عورت کے حوالے کرنا پڑے گا، اور جبکہ عورت پر خاوند کو ملکِ متعہ حاصل ہو جائے گی کہ خاوند کے لیے اس سے صحبت کرنا جائز ہو جائے گا۔ تو ایک طرف نکاح میں ایک طرف ہے لزومِ مال اور دوسری طرف کیا ہے؟ ملکِ متعہ حاصل ہو رہی ہے۔ اور لزومِ مال کے اندر تو شریعت نے گواہوں کو شرط قرار نہیں دیا، معلوم ہوا یہ جو دو گواہ شریعت نے شرط قرار دیے ہیں وہ اس ملکِ متعہ کو ثابت کرنے کے لیے ہیں۔ معلوم ہوا یہ جو دو گواہ بن رہے ہیں یہ حقیقت میں اس ذمیہ کے خلاف گواہ بن رہے ہیں، مسلمان کے خلاف گواہ نہیں بن رہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو شریعت نے ملکِ متعہ کے اثبات کے لیے دو گواہوں کو شرط قرار دیا۔ وجہ یہ کہ اس نکاح کے اندر ایک محلِ ذی خطر جو ہے، محلِ ذی خطر یعنی حرمت والا، عزت والے محل پر خاوند کو ملکیت حاصل ہو رہی ہے نفع اٹھانے کی اور یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی ہے؟ بھئی دیکھو انسان کی ذات معظم اور محترم ہے تو انسانی جز بھی کیا ہوا؟ معظم اور محترم ہوا۔ تو یہاں محلِ ذی خطر سے مراد عورت کی شرمگاہ ہے، تو دیکھو خاوند کو ملکِ متعہ حاصل ہو رہی ہے، ایک عزت والا، حرمت والا محل جو ہے اس کے لیے حلال ہو رہا ہے اور یہ کوئی معمولی چیز نہیں ہے بھئی، اس لیے شریعت نے کہا دو گواہ بنا لو۔ یہ معمولی چیز نہیں ہے بھئی، اس لیے کیونکہ آپ دیکھتے ہیں کہ کتنے ہی لوگ شادی کے سلسلے میں پریشان رہتے ہیں بھئی، شادی کوئی اتنی آسانی سے نہیں ہوتی بھئی۔ تو لہٰذا شریعت نے کہا کہ یہاں دو گواہ بنا لو، آپ کو ملکِ متعہ حاصل ہو رہی ہے محلِ ذی خطر سے۔ تو یہ گواہ حقیقت میں مسلمان کے خلاف ہیں ہی نہیں، کس کے خلاف ہیں؟ یہ اس ذمیہ کے خلاف گواہ بن رہے ہیں اور ذمیہ کے خلاف تو ذمی بالاتفاق گواہ بن سکتے ہیں بھئی۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ اور پھر امام محمد اور امام زفر رحمہما اللہ نے جو قیاس کیا تھا، شیخین رحمہما اللہ کی طرف سے اس کا جواب بھی دیا صاحبِ ہدایہ نے کہ یہ دو ذمی جو ہیں ان کے سماع کو آپ عدمِ سماع پر قیاس نہیں کر سکتے۔ وجہ یہ ہے کہ یہاں عقدِ نکاح ہو رہا ہے اور عقدِ نکاح کے اندر شریعت نے گواہوں کی موجودگی کو شرط قرار دیا ہے، اور گواہ بنیں گے ہی تب جب وہ ایجاب اور قبول کو سن لیں۔ تو لہٰذا اگر آپ یہ کہتے ہیں کہ ان ذمیوں نے گویا مسلمان کے قول کو سنا ہی نہیں، پھر تو یہ گواہ ہی نہ ہوئے۔ عقدِ نکاح پر گواہ ہی نہ ہوئے، جب گواہ ہی نہ ہوئے پھر تو نکاح منعقد ہی نہیں ہونا چاہیے بھئی۔ تو ان کا سننا شرط ہے، یہ سنیں گے تو ہی عقد منعقد ہوگا بھئی، تو لہٰذا اس سننے کو آپ عدمِ سماع پر قیاس نہیں کر سکتے بھئی۔ اور پھر اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا تھا کہ اگر ایک شخص جو ہے وہ کسی دوسرے شخص کو وکیل بناتا ہے کہ تم میری نابالغ بیٹی کا نکاح مثلاً زید سے کروا دو، اور اس مجلس کے اندر وہ موکل یعنی باپ بھی موجود ہے، اس کا وکیل بھی موجود ہے، اور وہ شخص جس سے نکاح کروایا جا رہا ہے یعنی زوج وہ بھی موجود ہے، اور صرف ایک گواہ اور ہے۔ تو اس مجلس کے اندر کہتے ہیں یہ وکیل نکاح کروائے گا تو نکاح منعقد ہو جائے گا۔ تو سوال پیدا ہوا کہ گواہ تو صرف ایک ہے، پھر نکاح کیسے منعقد ہوگا؟ تو جواب دیا تھا صاحبِ ہدایہ نے کہ یہاں پر چونکہ موکل خود اسی مجلس میں موجود ہے لہٰذا وکیل کی عبارت منتقل ہو جائے گی کس کی طرف؟ موکل کی طرف۔ وکیل گویا صرف الفاظ ادا کر رہا ہے، حقیقت میں یہ نکاح کروانے والا کون ہے اس وقت؟ موکل ہے۔ تو موکل موجود ہے اور کس سے نکاح کروا رہا ہے؟ زوج سے، اور ایک گواہ موجود ہے اور وکیل جو ہے وہ صرف معبر ہے، تعبیر کرنے والا ہے تو وہ بھی گواہ کے درجے میں ہو گیا۔ تو کتنے گواہ ہو گئے؟ دو گواہ ہو گئے، لہٰذا یہ عقدِ نکاح منعقد ہو جائے گا۔ لیکن اگر موکل یعنی باپ اس مجلس میں موجود نہیں پھر عقدِ نکاح منعقد نہیں ہوگا کیونکہ گواہ صرف ایک ہے۔ جب موکل خود موجود تھا تو وکیل بھی کیا بن گیا تھا؟ گواہ کے درجے میں ہو گیا تھا، تو گواہ دو پورے ہو گئے تھے، لیکن جب موکل خود نہیں موجود تو گواہ تو صرف ایک ہے اور ایک گواہ کی موجودگی میں تو عقدِ نکاح منعقد نہیں ہوتا۔ اور اسی طرح اگر وہ لڑکی جس کا نکاح کروا رہا ہے باپ، وہ بالغہ ہے اور وہ خود بھی اس مجلس میں موجود ہے، تو اب نکاح باپ کروا رہا ہے اور صرف ایک گواہ وہاں موجود ہے لیکن یوں سمجھا جائے گا گویا وہ بالغہ لڑکی اپنا نکاح خود کر رہی ہے اور باپ جو ہے وہ بھی کس کے درجے میں ہو جائے گا؟ گواہ کے درجے میں، تو دو گواہ ہو گئے تو اس صورت میں بھی عقدِ نکاح منعقد ہو جائے گا۔ لیکن اگر وہ عورت جو ہے وہ اس عقدِ نکاح میں موجود نہیں جس کا نکاح کروایا جا رہا ہے پھر عقدِ نکاح منعقد نہیں ہوگا کیونکہ صرف ایک گواہ ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ اب آئیے آج کے سبق پر۔ کہتے ہیں: ”فصل في بيان المحرمات، قال: لا يحل للرجل أن يتزوج بأمه ولا جداته من قبل الرجال والنساء، لقوله تعالى: {حرمت عليكم أمهاتكم وبناتكم}“. ”فصل في بيان المحرمات“، یہ فصل ہے ان عورتوں کے بیان میں جن کو حرام قرار دیا گیا ہے، یعنی جن سے نکاح نہیں کیا جا سکتا۔ تو اس فصل کے اندر صاحبِ ہدایہ ان عورتوں کو بیان فرمائیں گے جن سے نکاح جائز نہیں، جن سے نکاح نہیں کیا جا سکتا۔ یاد رکھو وہ عورتیں جن سے نکاح جائز نہیں ہے وہ دو قسم کی ہیں: کچھ وہ عورتیں ہیں جن سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے شریعت نے نکاح کو حرام قرار دیا ہے، وہاں نکاح کی کوئی صورت ہے ہی نہیں، جیسے ماں ہے، بیٹی ہے، بہن وغیرہ۔ یہ کیا ہیں؟ ان سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نکاح حرام ہے، یہاں نکاح کی کوئی صورت نہیں۔ یاد رکھو ان کو محرم کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ محرم، جو ہمیشہ کے لیے انسان پر حرام ہوں بھئی۔ تو کچھ یہ عورتیں ہیں جن سے ہمیشہ کے لیے نکاح حرام ہے۔ اور کچھ وہ عورتیں ہیں کہ جن کے ساتھ نکاح جائز نہیں ہوتا لیکن یہ پابندی ہمیشہ کے لیے نہیں ہوتی، وہاں کوئی مانع موجود ہوتا ہے۔ وہ مانع اگر چلا جائے گا تو پھر نکاح جائز ہو جائے گا۔ وہ مانع اگر چلا جائے گا تو نکاح جائز ہو جائے گا، مثلاً غیر کی منکوحہ۔ بھئی ایک عورت ہے اس کا زید سے نکاح ہوا ہے اور زید بھی زندہ ہے، عورت اس کے نکاح میں ہے، اب اس عورت کے ساتھ کوئی اور نکاح نہیں کر سکتا کیونکہ یہ زید کی منکوحہ ہے، یہاں مانع موجود ہے۔ لیکن اگر زید کا انتقال ہو گیا یا زید نے اس عورت کو طلاق دے دی اب وہ مانع اور رکاوٹ چلی گئی، اب اس کے ساتھ کوئی نکاح کرنا چاہے تو نکاح کر سکتا ہے۔ دیکھو یہ عورت بھی دوسرے پر حرام تھی لیکن یہ حرمت ابدی اور دائمی نہیں ہے بلکہ یہاں ایک مانع موجود ہے۔ یا اسی طرح ایک عورت ہے وہ غیر مسلم ہے اور اہل کتاب میں سے نہیں ہے، مثلاً آتش پرست ہے یا کوئی اور مذہب ہے لیکن وہ کوئی آسمانی دین کو تسلیم نہیں کرتی۔ تو یہ جو غیر مسلم عورت ہے اس کے ساتھ بھی دیکھو مسلمان کا نکاح حرام ہے۔ لیکن اگر یہ عورت مسلمان ہو گئی یا یہ عورت اہل کتاب بن گئی تو پھر اب اس کے ساتھ بھی مسلمان کا نکاح جائز ہو جائے گا، دیکھو وہ مانع اور وہ رکاوٹ جو تھی وہ چلا گیا تو اب نکاح جائز ہو گیا۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو صاحبِ ہدایہ یہاں ان عورتوں کو بیان کریں گے جن میں سے بعض کے ساتھ ہمیشہ کے لیے نکاح حرام ہے اور بعض کے ساتھ کسی مانع کے ہونے کی وجہ سے نکاح حرام ہوگا، یعنی یوں کہو، یعنی یوں کہو کہ بعض عورتوں کے ساتھ جو نکاح کی حرمت ہے وہ مؤبد ہوگی اور بعض کے ساتھ مؤقت ہوگی۔ مؤبد ہوگی، ہمیشہ کے لیے حرمت ہے نکاح کی کوئی صورت نہیں، اور بعض کے ساتھ نکاح کی حرمت جو ہوگی وہ مؤقت ہوگی یعنی کچھ وقت کے لیے ہے ایک مانع ہونے کی وجہ سے، جب وہ مانع ختم ہوگا تو نکاح جائز ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”فصل في بيان المحرمات“، یہ فصل ہے ان عورتوں کے بیان میں جن کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ ”قال: لا يحل للرجل أن يتزوج بأمه ولا جداته“، صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: حلال نہیں ہے آدمی کے لیے، جائز نہیں ہے آدمی کے لیے ”أن يتزوج بأمه“، کہ وہ نکاح کرے اپنی ماں سے، ”ولا جداته“، اور نہ اپنی دادیوں، نانیوں سے۔ آدمی اپنی ماں سے بھی نکاح نہیں کر سکتا، دادیوں، نانیوں سے بھی نکاح نہیں کر سکتا۔ یاد رکھیے اردو زبان میں تو باپ کی ماں کو دادی کہتے ہیں، باپ کی ماں دادی کہلاتی ہے، اور ماں کی ماں نانی کہلاتی ہے۔ تو دیکھو دونوں کے نام الگ الگ ہیں، دادی کہتے ہی سننے والا سمجھ جاتا ہے کہ باپ کی ماں کی بات کی جا رہی ہے اور نانی کہتے ہی وہ سمجھ جاتا ہے کہ ماں کی ماں جو ہے اس کی بات کی جا رہی ہے۔ لیکن عربی زبان میں دونوں کے لیے ایک ہی لفظ ”جدة“ استعمال ہوتا ہے۔ تو جدہ دادی کو بھی کہتے ہیں اور نانی کو بھی کہتے ہیں۔ اور دادی تو کس کی طرف سے ہے؟ مرد کی طرف سے یعنی باپ کی طرف سے، اور نانی کس کی طرف سے ہے؟ عورت کی طرف سے یعنی ماں کی طرف سے۔ بلکہ جدہ جو ہے اوپر کی طرف جتنی مائیں ہیں ان سب کو جدات کہتے ہیں۔ مثلاً باپ کی ماں، باپ کی ماں یہ بھی کیا ہے؟ جدہ۔ پھر یہ جو باپ کی ماں ہے اس کی جو ماں ہے وہ بھی کیا ہے؟ جدہ۔ باپ کا جو باپ ہے اس کی ماں وہ بھی کیا ہے؟ جدہ۔ اسی طرح ماں کی ماں وہ بھی کیا ہے؟ جدہ۔ پھر اس ماں کی ماں کی جو ماں ہے اوپر یعنی پرنانی وہ بھی کیا ہے؟ جدہ۔ اسی طرح نانا کی جو ماں ہے وہ بھی کیا ہے؟ جدہ ہے۔ تو دادا کی ماں، دادی کی ماں، نانا کی ماں، نانی کی ماں یہ سب بھی جدات ہیں۔ اسی طرح اوپر چلتے جائیں، سب یہ سب جدات کہلاتی ہیں۔ اوپر کی طرف جتنی عورتیں ہیں وہ کیا ہیں؟ جدات کہلاتی ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”لا يحل للرجل أن يتزوج بأمه ولا جداته من قبل الرجال والنساء“، حلال نہیں ہے آدمی کے لیے، جائز نہیں ہے کسی آدمی کے لیے کہ وہ نکاح کرے اپنی ماں سے اور نہ اپنی دادیوں، نانیوں سے، ”من قبل الرجال والنساء“، مردوں کی طرف سے اور عورتوں کی طرف سے۔ یعنی وہ دادیاں جو ہیں اوپر والی دادیاں، نانیاں چاہے مردوں کی طرف سے ہوں چاہے عورتوں کی طرف سے ہوں بھئی۔ ”لقوله تعالى“، دلیل آگے ذکر فرما رہے ہیں صاحبِ ہدایہ کہ ان کے ساتھ نکاح کیوں نہیں جائز؟ کہتے ہیں: ”لقوله تعالى“، اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے: ”{حرمت عليكم أمهاتكم وبناتكم}“. جی یہ آیت کا تھوڑا سا حصہ صاحبِ ہدایہ نے ذکر فرمایا بھئی، بقیہ آیت کا حصہ یہ حاشیے میں موجود ہے۔ دیکھیے پوری آیت کا ترجمہ آپ دیکھ لیجیے بھئی۔ تو اللہ فرماتے ہیں: ”{حرمت عليكم أمهاتكم وبناتكم}“، اور حرام قرار دی گئی ہیں تمہارے اوپر تمہاری مائیں اور تمہاری بیٹیاں، ”{وأخواتكم}“، اور اسی طرح تمہاری بہنیں وہ بھی تم پر حرام ہیں، ”{وعماتكم وخالاتكم}“، اور تمہاری پھوپھیاں اور تمہاری خالائیں۔ عمہ کہتے ہیں پھوپھی کو، باپ کی بہن۔ باپ کی بہن وہ پھوپھی ہے۔ اور خالہ کہتے ہیں ماں کی بہن کو۔ تو پھوپھی بھی انسان پر حرام اور خالہ بھی انسان پر حرام، یہ محرم عورتیں ہیں بھئی ان کے ساتھ نکاح کی کوئی صورت نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں: ”{وعماتكم وخالاتكم}“، اور تمہاری پھوپھیاں اور تمہاری خالائیں وہ بھی تم پر حرام ہیں، ”{وبنات الأخ وبنات الأخت}“، اور بھئی کی بیٹیاں یعنی بھتیجی، بھتیجیاں جو ہیں وہ بھی، اور بہن کی بیٹیاں یعنی بھانجیاں۔ بھئی کی بیٹیاں اور بہن کی بیٹیاں یہ بھی انسان پر حرام ہیں۔ وجہ یہ کہ بھئی بہنوں کی اولاد تو اپنی اولاد کی طرح ہے بھئی اور جیسے اپنی اولاد سے نکاح حرام ہے اسی طرح بھئی بہنوں کی اولاد سے بھی نکاح حرام ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”{وبنات الأخ وبنات الأخت}“، اور بھئی کی بیٹیاں اور بہن کی بیٹیاں یہ بھی تم پر حرام ہیں، ”{وأمهاتكم اللاتي أرضعنكم}“، اور تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا ہے۔ یاد رکھو رضاعت کی وجہ سے بھی وہ سب رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب کی وجہ سے حرام ہیں۔ جیسے حقیقی ماں انسان پر حرام اسی طرح رضاعی ماں بھی انسان پر حرام، جیسے حقیقی بہن انسان پر حرام اسی طرح رضاعی بہن بھی انسان پر حرام۔ تو یاد رکھو مدتِ رضاعت کے اندر کوئی بچہ کسی عورت کا دودھ پی لے تو وہ عورت اس کی رضاعی ماں بن جاتی ہے۔ اور مدتِ رضاعت جو ہے، مدتِ رضاعت یاد رکھو صاحبین کے نزدیک مدتِ رضاعت دو سال ہے اور جبکہ امام صاحب کے نزدیک مدتِ رضاعت ڈھائی سال ہے۔ تو یہ جو مدتِ رضاعت ہے یعنی ڈھائی سال، جو بچہ بھی ڈھائی سال کی عمر کے اندر اندر کسی عورت کا دودھ پی لے گا تو وہ عورت اس کی رضاعی ماں بن جائے گی۔ اور جیسے حقیقی ماں کے ساتھ نکاح حرام ہے ہمیشہ کے لیے، اس رضاعی ماں کے ساتھ بھی اس بچے کا نکاح ہمیشہ کے لیے حرام ہے، یہاں بھی دائمی حرمت آ گئی۔ تو یہ عورت اس بچے کی رضاعی ماں بن گئی اور اس عورت کا جو خاوند ہے وہ اس بچے کا رضاعی باپ بن گیا، اور اس عورت کی جو اولاد ہے وہ اس بچے کے رضاعی بھئی بہن بن گئے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”{وأمهاتكم اللاتي أرضعنكم}“، اور تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا ہے، ”{وأخواتكم من الرضاعة}“، اور تمہاری رضاعی بہنیں۔ میں نے بتایا بھئی رضاعت سے بھی اسی طرح حرمت آ جاتی ہے جس طرح نسب سے آیا کرتی ہے، تو اس عورت کی اولاد یعنی اس عورت کی بیٹیاں وہ اس دودھ پینے والے بچے کی بہنیں بن گئیں تو وہ بھی اس پر کیا ہو گئیں؟ حرام ہو گئیں، وہ بہنیں ہیں بھئی اس کی۔ تو کہتے ہیں: ”{وأخواتكم من الرضاعة}“، اور تمہاری رضاعی بہنیں، ”{وأمهات نسائكم}“، اور تمہاری بیویوں کی مائیں، یعنی جو تمہاری ساس ہے وہ بھی تم پر حرام ہے۔ یاد رکھو کوئی شخص کسی عورت سے جیسے ہی نکاح کرتا ہے تو اس عورت کی ماں یعنی جو اس شخص کی ساس ہے وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس شخص پر حرام ہو گئی۔ توجہ ہے؟ حرام ہو گئی۔ اور اسی طرح ربیبہ بھئی، ربیبہ کہتے ہیں بیوی کی بیٹی، یعنی سوتیلی بیٹی۔ ایک عورت ہے اس کی پہلے خاوند سے بیٹی ہے اور پھر پہلے خاوند کا انتقال ہوا اور اس نے کسی دوسرے شخص سے نکاح کر لیا، اور پہلے خاوند سے اس کی بیٹی ہے، تو یہ جو بیٹی ہے یہ اس نئے خاوند کے لیے ربیبہ کہلائے گی، یہ اس کی کیا ہے؟ ربیبہ یعنی سوتیلی بیٹی ہے، اور سوتیلی بیٹی جو ہے وہ بھی انسان پر حرام ہو جاتی ہے جب وہ اس سوتیلی بیٹی کی ماں کے ساتھ صحبت کر لے۔ جب خاوند اپنی اس نئی بیوی کے ساتھ صحبت کر لے گا تو اس بیوی کی پہلے خاوند سے بیٹی ہے وہ اس خاوند پر ہمیشہ کے لیے حرام ہو گئی۔ اور جب تک صحبت نہیں کی تب تک وہ بیٹی حلال ہے، یعنی اس عورت کو طلاق دے کر بیٹی سے نکاح کرنا چاہتا ہے اور صحبت ابھی نہیں کی تو اس ربیبہ سے نکاح کر سکتا ہے۔ پھر کیا کر سکتا ہے اس ربیبہ سے؟ تو یاد رکھنا بھئی ایک ہے بیوی کی ماں اور ایک ہے بیوی کی بیٹی یعنی ربیبہ۔ بیوی کی ماں نکاح کرتے ہی ہمیشہ کے لیے حرام ہو جاتی ہے جبکہ بیوی کی بیٹی یعنی ربیبہ وہ تب حرام ہوگی جب اس بیوی سے انسان صحبت کر لے گا۔ نکاح کرتے ہی ساس حرام ہو جائے گی۔ ایک شخص نے ایک عورت سے نکاح کیا اور نکاح کے بعد ابھی رخصتی نہیں ہوئی وہ اس عورت کو طلاق دے کر اس کی ماں کے ساتھ نکاح کرنا چاہتا ہے؟ نہیں بھئی، جیسے ہی آپ نے اس عورت سے نکاح کیا تھا اس کی ماں آپ پر ابد الآباد کے لیے حرام ہو چکی، اب وہاں نکاح کی کوئی صورت نہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ دوسری صورت: ایک شخص نے ایک عورت سے نکاح کیا اور اس عورت کی پہلے خاوند سے ایک بیٹی ہے۔ اب وہ شخص اس عورت کو چھوڑ کر اس کی بیٹی سے نکاح کرنا چاہتا ہے تو یاد رکھو یہ اس شخص نے اگر اپنی اس بیوی سے ابھی تک صحبت نہیں کی تو پھر بیٹی سے نکاح جائز ہے، اس عورت کو چھوڑ دے اور کیا کر لے؟ اس کی بیٹی سے نکاح کر لے، لیکن اگر یہ شخص اس بیوی سے صحبت کر چکا ہے تو اس بیوی کی جو بیٹی ہے پہلے خاوند سے وہ اس شخص پر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے حرام ہو چکی۔ تو یہ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ”{وأمهات نسائكم}“، اور تمہاری بیویوں کی مائیں، یعنی تمہاری بیویوں کی مائیں بھی تم پر حرام ہیں، اور اس میں دیکھو کوئی قید نہیں ہے کہ اس بیوی سے آپ صحبت کر چکے ہوں یا آپ نے صحبت نہ کی ہو، بس بیوی کی ماں ہے تو وہ آپ پر ہمیشہ کے لیے حرام ہے۔ آگے دیکھیے قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ”{وربائبكم اللاتي في حجوركم}“، میں نے بتلایا رائب جمع ہے ربیبہ کی اور ربیبہ کسے کہتے ہیں؟ بیوی کی جو پہلے خاوند سے بیٹی ہے وہ اس نئے خاوند کے لیے ربیبہ ہے یعنی سوتیلی بیٹی ہے۔ تو ”{وربائبكم اللاتي في حجوركم}“، اور تمہاری وہ ربیبائیں جو تمہاری پرورش میں ہیں۔ جو تمہاری پرورش میں ہیں، ”{من نسائكم اللاتي دخلتم بهن}“، اور وہ ربیبائیں تمہاری ان بیویوں سے ہیں جن سے تم صحبت کر چکے ہو۔ وہ ربیبائیں جو تمہاری پرورش میں ہیں اور یہ ربیبائیں تمہاری ان بیویوں سے ہیں یعنی ان بیویوں کی بیٹیاں ہیں جن سے تم صحبت کر چکے ہو، تو اس طرح کی جو ربیبائیں ہیں وہ بھی انسان پر ہمیشہ کے لیے حرام ہیں۔ تو دیکھو یہاں دو قیدیں ذکر ہیں قرآن کے اندر بھئی: ایک تو قید کیا ”{اللاتي في حجوركم}“، وہ ربیبائیں تمہاری پرورش میں ہوں۔ اور دوسری قید ہے: ”{من نسائكم اللاتي دخلتم بهن}“، تمہاری ان بیویوں سے ہوں یہ ربیبائیں جن سے تم صحبت کر چکے ہو۔ تو دو قیدیں ذکر ہوئیں ربیبہ کے ساتھ: تمہاری وہ ربیبائیں جو تمہاری پرورش میں ہیں اور تمہاری ان بیویوں کی بیٹیاں ہیں جن سے تم صحبت کر چکے ہو۔ یاد رکھو عند الاحناف یہ ”{في حجوركم}“ کی قید، یہ قید اتفاقی ہے اور ”{اللاتي دخلتم بهن}“ کہ ان بیویوں سے ہوں جن سے تم صحبت کر چکے ہو، یہ قید احترازی ہے۔ یاد رکھو ایک قید اتفاقی ہوتی ہے اور ایک قید احترازی۔ قید احترازی وہ ہے جس کے ذریعے کسی چیز سے احتراز مقصود ہو، کسی کو نکالنا مقصود ہو، تو یہاں کیا ذکر ہوا؟ تمہاری ان بیویوں سے ہیں جن سے تم صحبت کر چکے ہو۔ معلوم ہوا اگر وہ ربیبائیں ان بیویوں سے ہیں جن سے ابھی تک آپ نے صحبت نہیں کی تو وہ آپ کے لیے حلال ہیں۔ یہ قید احترازی ہے، قید احترازی کسے کہتے ہیں؟ احتراز کا کیا معنی ہے؟ کسی چیز سے بچنا، تو یہاں پر بھی یہ قید لگا کر کون سی بیویوں کو نکال دیا گیا؟ جن سے ابھی صحبت نہیں کی، تو معلوم ہوا یہ صحبت کی قید احترازی ہے۔ اور پرورش میں ہونے کی جو قید ہے وہ عند الاحناف وہ اتفاقی ہے، یعنی عادتاً عموماً ایسا ہوتا ہے کہ جو ربیبہ ہوتی ہے وہ اس کو ماں اپنے ساتھ رکھتی ہے تو اسی نئے خاوند کی پرورش میں ہوتی ہے۔ یاد رکھو بیٹی جو ہے اس کا ماں بہت زیادہ خیال رکھتی ہے، ہر وقت اس کو اپنے ساتھ رکھتی ہے، اس کی حفاظت کرتی ہے ماں، تو عموماً عادتاً ایسا ہوتا ہے کہ اگر پہلے خاوند سے عورت کی کوئی بیٹی ہے تو دوسری جگہ بھی ماں جب نکاح کرے گی تو بیٹی کو اپنے ساتھ ہی رکھے گی اس کی حفاظت کے لیے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو عادتاً ربیبہ جو ہے اس نئے خاوند کی پرورش میں ہوتی ہے۔ تو یہ جو قید ذکر ہے کہ وہ ربیبائیں تمہاری پرورش میں ہوں، یہ قید احترازی نہیں ہے، اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ جو تمہاری پرورش میں نہ ہوں ان سے تم نکاح کر سکتے ہو، نہیں نہیں۔ یہ قید اتفاقی ہے یعنی واقع میں ایسا ہوتا ہے، عادت میں عموماً ایسا ہوتا ہے کہ ربیبہ عموماً اس اپنے سوتیلے باپ کی پرورش میں ہوتی ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو عند الاحناف یہاں دو قیدیں ہیں ”{في حجوركم}“، یہ قید اتفاقی ہے یعنی عادتاً چونکہ ایسا ہوتا ہے اس لیے یہ قید ساتھ ذکر کر دی گئی قرآن میں، اور دوسری قید صحبت والی لگائی گئی کہ ان بیویوں سے تم صحبت کر چکے ہو، تو پہلی قید اتفاقی ہے اور یہ دوسری قید احترازی ہے۔ اس پر اشکال ہوتا ہے کہ اے احناف! دو قیدیں قرآن میں ذکر ہیں اور آپ نے ایک قید کو اتفاقی قرار دیا اور دوسری کو احترازی قرار دیا؟ تو جواب یہ کہ بھئی قرآن سے خود پتہ چل رہا ہے کہ پہلی قید اتفاقی ہے اور دوسری قید احترازی ہے۔ چنانچہ آگے اللہ فرماتے ہیں: ”{فإن لم تكونوا دخلتم بهن}“، اگر تم نے اپنی ان بیویوں سے صحبت نہیں کی، یہ بیویاں جن سے ربیبائیں ہیں، جن سے سوتیلی بیٹیاں ہیں ان سے اگر تم نے صحبت نہیں کی، ”{فلا جناح عليكم}“، پھر تم پر کوئی حرج نہیں ہے، یعنی پھر تم اس ربیبہ سے نکاح کر سکتے ہو۔ اگر اس بیوی سے تم نے ابھی تک صحبت نہیں کی تو وہ ربیبہ تمہارے لیے حلال ہے۔ تو دیکھو قرآن سے پتہ چل رہا ہے کہ یہ جو صحبت کی قید لگائی گئی تھی یہ احترازی قید تھی، چنانچہ آگے خود اللہ فرما رہے ہیں کہ اگر صحبت نہیں کی تو ربیبہ تمہارے لیے حلال ہے۔ اگر پہلی قید بھی احترازی ہوتی تو پھر دونوں کی یہاں نفی ہوتی کہ وہ ربیبائیں تمہاری پرورش میں بھی نہ ہوں اور ربیبہ کی ماں یعنی اپنی اس بیوی سے تم صحبت بھی تم نے نہ کی ہو تو پھر تمہارے لیے وہ حلال ہیں، لیکن یہاں پر صرف صحبت کی نفی پر ربیبہ کو حلال قرار دیا جا رہا ہے۔ اگر یہ دونوں قیدیں احترازی ہوتیں تو پھر دونوں کی نفی پر حلال قرار دیا جاتا کہ ان بیویوں سے تم نے صحبت بھی نہ کی ہو اور وہ ربیبائیں تمہاری پرورش میں بھی نہ ہوں پھر وہ تمہارے لیے حلال ہیں، لیکن قرآن میں صرف صحبت کی نفی پر ربیبہ کو حلال قرار دیا گیا، معلوم ہوا صحبت کی جو قید تھی وہ احترازی تھی اور ”{في حجوركم}“ کی جو قید تھی وہ احترازی نہیں، وہ قید اتفاقی ہے بھئی۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟ پھر دیکھیے ترجمہ، کہتے ہیں: ”{وربائبكم اللاتي في حجوركم}“، اور تمہاری وہ ربیبائیں، تمہاری وہ سوتیلی بیٹیاں جو تمہاری پرورش میں ہیں، ”{من نسائكم اللاتي دخلتم بهن}“، تمہاری ان بیویوں سے جن سے وہ ربیبائیں کس سے ہیں؟ تمہاری ان بیویوں سے ہیں جن سے تم صحبت کر چکے ہو، تو یہ بھی تم پر حرام ہیں۔ ہاں، ”{فإن لم تكونوا دخلتم بهن}“، اگر ان بیویوں سے تم نے صحبت نہیں کی، یہ جو ربیبہ کی ماں ہے اس کے ساتھ اگر تم نے صحبت نہیں کی، ”{فلا جناح عليكم}“، تو پھر تم پر کوئی حرج نہیں ہے۔ ”{وحلائل أبنائكم الذين من أصلابكم}“، حلائل جمع ہے حلیلہ کی، حلیلہ بیوی کو کہتے ہیں، حلال سے ہے نا، بیوی بھی انسان کے لیے کیا ہوتی ہے؟ حلال ہوتی ہے۔ تو کہتے ہیں: ”{وحلائل أبنائكم}“، اور تمہارے ان بیٹوں کی بیویاں، ”{الذين من أصلابكم}“، جو تمہاری پشت سے ہیں۔ وہ بیٹے جو تمہاری پشت سے ہیں، جو تمہارے حقیقی بیٹے ہیں ان کی بیویاں بھی تم پر حرام ہیں۔ یاد رکھو جب کسی شخص کا بیٹا کسی عورت سے نکاح کر لیتا ہے تو وہ عورت اس شخص کی بہو بن گئی، بیٹے کی حلیلہ بن گئی، بیٹے کی منکوحہ بن گئی اور یاد رکھو اپنی اولاد کی منکوحہ انسان پر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے حرام ہے۔ اب یہاں نکاح کی کوئی صورت نہیں، بیٹا اس عورت کو طلاق دے دیتا ہے اور بعد میں اس بیٹے کا باپ جو ہے یعنی اس کا سسر وہ اب اس عورت سے نکاح کرنا چاہتا ہے؟ نہیں بھئی، یہ آپ کے بیٹے کی حلیلہ ہے اور یہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے آپ پر حرام ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”{وحلائل أبنائكم الذين من أصلابكم}“، اور تمہارے ان بیٹوں کی بیویاں جو تمہاری پشت سے ہیں، ”{وأن تجمعوا بين الأختين}“، اور یہ کہ تم جمع کرو بین الاختین، دو بہنوں کے درمیان۔ ”{وأن تجمعوا}“، یہ عطف ہو رہا ہے ماقبل میں ”{أمهاتكم}“ پر۔ کس پر عطف ہے؟ آیت کے شروع میں آیا تھا: ”{حرمت عليكم أمهاتكم}“، یہ ”{أمهاتكم}“ کو ذرا ہٹائیں اور اس جگہ ”{أن تجمعوا}“ رکھ دیں: ”حرمت عليكم أن تجمعوا بين الأختين“، تمہارے اوپر حرام کر دیا گیا ہے کہ تم دو بہنوں کو جمع کرو۔ یاد رکھو دو بہنوں کا ایک شخص کے نکاح میں جمع کرنا حرام ہے بھئی۔ ایک شخص ایک عورت سے نکاح کر لیتا ہے، بعد میں اس کا ارادہ بنتا ہے کہ اس عورت کی بہن سے بھی نکاح کر لے؟ نہیں بھئی، یہ عورت آپ کی بیوی ہو اور آپ اس کی بہن سے بھی نکاح کر لیں یہ جائز نہیں ہے۔ ہاں اگر اپنی اس بیوی کو آپ چھوڑ دیتے ہیں اور پھر عدت گزر جاتی ہے، اب اس کے بعد آپ اس کی بہن سے نکاح کرنا چاہتے ہیں تو پھر کر سکتے ہیں، لیکن بیک وقت آپ دونوں بہنوں کو اپنے نکاح میں رکھیں اس کی کوئی صورت نہیں ہے بھئی، یہ جائز نہیں ہے بھئی۔ بھئی اس کی وجہ کیا ہے؟ دو بہنوں کو نکاح میں جمع کرنے سے شریعت نے کیوں منع فرمایا ہے؟ وجہ یہ کہ کہ سوکن جو ہوتی ہے، سوکنوں کے درمیان طبعاً نفرت ہوتی ہے بھئی، اور بہنیں، بہنوں میں تو بڑی محبت ہوتی ہے لیکن جب ایک شخص کے نکاح میں آئیں گی تو وہ ایک دوسرے کی سوکنیں بن گئیں اور سوکنوں کے درمیان نفرت ہوتی ہے تو وہ جو محبت کا رشتہ دونوں کے درمیان تھا وہ ختم ہو جائے گا اور آپس میں نفرت آ جائے گی۔ شریعت جو ہے ہر جگہ محبت کا درس دیتی ہے کہ رشتہ داروں سے اچھا سلوک ہو، نیک سلوک ہو، تو شریعت ان چیزوں پر بھی پابندی لگا دیتی ہے جو قطعِ رحم کی طرف لے جائیں، جو آپس کی نفرت کی طرف لے جائیں، تو یہ دو بہنوں کو نکاح میں جمع کرنا کس طرف لے جائے گا؟ نفرت کی طرف، لہٰذا دو بہنوں کو ایک شخص نکاح میں جمع نہیں کر سکتا۔ تو کہتے ہیں: ”{وأن تجمعوا بين الأختين}“، اور تم پر یہ حرام قرار دیا گیا ہے کہ تم جمع کرو دو بہنوں کو، ”{إلا ما قد سلف}“، مگر وہ جو پہلے گزر چکا۔ بھئی شریعت کے احکام ہیں بھئی، آہستہ آہستہ نازل ہو رہے ہیں، تو اللہ کیا فرماتے ہیں: جو اب تک ہو چکا، جو گزر چکا وہ معاف ہے لیکن آئندہ اس کی اجازت نہیں ہوگی کہ کوئی شخص کیا کر لے؟ دو بہنوں کو نکاح میں جمع کر لے بھئی۔ تو جو اس سے پہلے ہو چکا وہ معاف ہے لیکن آئندہ اس کی اجازت نہیں ہوگی۔ چنانچہ ایک صحابی کے بارے میں آتا ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف لائے کہ یا رسول اللہ! میں مسلمان ہو گیا ہوں لیکن میرے عقد میں دو بہنیں ہیں، تو حضور نے فرمایا: ایک کو رکھ لو اور ایک کو چھوڑ دو۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ جی دیکھیے اب کتاب پر، پھر دیکھیے متن پر۔ صاحبِ قدوری نے آپ کو بتلایا کہ جائز نہیں ہے کسی آدمی کے لیے کہ وہ اپنی ماں یا جدات سے نکاح کرے لقولہ تعالی، اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے: ”{حرمت عليكم أمهاتكم وبناتكم}“، ”والجدات أمهات“، اور جدات وہ بھی مائیں ہیں، ”إذ الأم هو الأصل لغة“، اس لیے کیونکہ ماں جو ہے وہ اصل ہے لغتًا، لغت یعنی عربی زبان کے اعتبار سے۔ یہاں سے ایک اعتراض کا جواب دینا چاہتے ہیں صاحبِ ہدایہ۔ اعتراض یہ ہوتا ہے کہ آیت کے اندر تو صرف ماؤں کا ذکر ہے، جدات کا ذکر تو نہیں ہے۔ جدات کا ذکر تو نہیں ہے لیکن صاحبِ قدوری نے کیا بتلایا کہ مائیں بھی حرام اور جدات بھی حرام ہیں تو اس کی کیا دلیل ہے؟ تو صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلا رہے ہیں کہ جدات جو ہیں وہ بھی مائیں ہی ہیں، تو جب ماؤں کو حرام قرار دیا گیا تو جدات بھی اس کے اندر داخل ہیں، وہ بھی انسان پر حرام ہیں بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ کیونکہ جدات کو بھی کیا کہا جاتا ہے؟ امہات کہا جاتا ہے، مائیں ہیں۔ یاد رکھو ایک ہے اصول اور ایک ہیں فروع بھئی۔ اصل عربی زبان میں جڑ کو کہتے ہیں، جڑ، جیسے جڑیں ہوں گی تو اس سے آگے شاخیں نکلیں گی بھئی، تو جڑ کو کہتے ہیں اصل، اور یہ جو شاخیں ہیں ان کو کہتے ہیں فروع بھئی۔ فروع، فرع کی جمع ہے، فرع شاخ کو کہتے ہیں۔ تو جڑیں اصل ہیں اور شاخیں فرع ہیں بھئی، فرع ہیں۔ تو یہ جو اوپر کی طرف جتنے اصول ہیں عورتیں، ان سب کو مائیں کہا جاتا ہے۔ ماں ہے، دادی ہے، پردادی ہے، اسی طرح نانی ہے، پرنانی ہے وغیرہ، تو اوپر کی طرف جتنی عورتیں ہیں یہ سب کیا ہیں؟ یہ سب اصول کہلاتی ہیں، ان سب کو امہات کہا جاتا ہے کہ یہ سب مائیں ہیں، ہاں کوئی قریب والی ماں ہے اور کوئی بعید والی ماں ہے۔ معلوم ہوا جدہ بھی کیا ہے؟ ام ہے، ام ہے۔ تو یہاں اشکال ہوتا ہے کہ اے احناف! آپ نے ہمیں اصول فقہ میں اپنا ضابطہ بتلا رکھا ہے کہ عند الاحناف جمع بین الحقیقۃ والمجاز جائز نہیں۔ اور یہاں آپ جمع بین الحقیقۃ والمجاز کر رہے ہیں کیونکہ ام، ام کا حقیقی معنی کیا؟ ماں، حقیقی ماں ہے جس نے جنم دیا ہے آپ کو وہ ہے ماں۔ اور دادی، نانی وغیرہ وہ بھی ماں ہیں لیکن ان کو مجازاً ماں کہا جاتا ہے کیونکہ انہوں نے حقیقت میں آپ کو جنم نہیں دیا بھئی۔ تو ام کا ایک حقیقی معنی ہوا اور ایک مجازی معنی ہوا۔ حقیقی معنی کیا؟ ماں جس نے جنم دیا ہے، اور مجازی معنی کیا؟ جدہ بھئی، یعنی اوپر نانیاں، دادیاں جو ہیں۔ تو آپ دونوں اس سے مراد لے رہے ہیں، یہ تو آپ نے جمع بین الحقیقۃ والمجاز کر دیا اور اے احناف! آپ کے نزدیک تو یہ جائز نہیں۔ تو صاحبِ ہدایہ اس کا جواب دیں گے کہ ہم نے جو جدات کو ام کے اندر داخل کیا یہ جمع بین الحقیقۃ والمجاز نہیں ہے بلکہ ام کے لغوی معنی کے اعتبار سے جدات کو اس میں داخل کیا ہے، کیونکہ عربی زبان میں ام کا معنی ہے اصل۔ ام کا کیا معنی ہے؟ اصل، اصل کو کہتے ہیں، اور یہ اوپر کی طرف جتنی عورتیں ہیں یہ سب کیا ہیں آدمی کے لیے؟ اصل ہیں، اوپر والے میں نے بتائے اصول ہیں بھئی انسان کے۔ تو یہ ماں یہ بھی اصل، دادی نانی یہ بھی اصل، اور پردادی پرنانی وہ بھی کیا ہیں؟ اصل ہیں، تو ام کا کیا معنی؟ اصل، اور یہ سب کیا ہیں؟ اصل۔ لغوی معنی کے اعتبار سے ام کا لفظ ان سب پر صادق آ رہا ہے۔ ہم نے جمع بین الحقیقۃ والمجاز نہیں کیا، جمع بین الحقیقۃ والمجاز کسے کہتے ہیں؟ کہ ایک لفظ بولیں اور آپ ایک ہی وقت میں اس کے حقیقی معنی کا بھی ارادہ کر لیں اور مجازی معنی کا بھی ارادہ کر لیں، یہ جائز نہیں ہے۔ ایک وقت میں لفظ کا یا تو حقیقی معنی مراد ہوگا یا مجازی معنی مراد ہوگا، دونوں معنی اکٹھے مراد نہیں ہو سکتے۔ جیسے شیر، شیر اردو زبان میں جنگلی درندے کو کہتے ہیں، یہ اس کا حقیقی معنی ہے، اور اسی طرح شیر اردو زبان میں بہادر آدمی کو بھی کہتے ہیں، یہ اس کا مجازی معنی ہے۔ آپ اپنے کلام میں لفظِ شیر بولیں تو اس سے ایک وقت میں ایک ہی معنی کا ارادہ ہوگا، یا آپ کا ارادہ حقیقی معنی کا ہوگا یا مجازی معنی کا ہوگا۔ مثلاً آپ کہتے ہیں: کل میں نے ایک شیر کو ہنستے ہوئے دیکھا، معلوم ہوا بہادر آدمی مراد ہے کیونکہ جنگلی درندہ تو نہیں ہنستا۔ یا کل میں نے ایک شیر کو تیر چلاتے ہوئے دیکھا، معلوم ہوا بہادر آدمی مراد ہے کیونکہ تیر جو ہے بہادر آدمی چلا سکتا ہے جنگلی درندہ نہیں چلا سکتا۔ یا آپ کہتے ہیں کہ کل میں چڑیا گھر گیا تھا وہاں میں نے ایک شیر دیکھا، یہاں دیکھو شیر کا حقیقی معنی یعنی جنگلی درندہ مراد ہے، یا کل میں جنگل گیا تھا وہاں میں نے ایک شیر دیکھا، یہاں بھی کون سا معنی مراد ہے؟ حقیقی معنی مراد ہے۔ تو لفظ سے ایک وقت میں ایک معنی کا ارادہ کیا جاتا ہے، یا حقیقی معنی کا یا مجازی معنی کا، دونوں معنی اکٹھے مراد نہیں ہو سکتے کہ آپ لفظِ شیر بولیں اور آپ کہیں اس کا معنی جنگلی درندہ بھی ہے اور اس کا معنی بہادر آدمی بھی ہے، یہ تو آپ نے جمع کر دیا حقیقت اور مجاز کو ایک ہی لفظ میں اور یہ جائز نہیں۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو احناف پر کیا اعتراض ہوا کہ آپ نے امہات سے مائیں بھی مراد لے لیں اور جدات بھی مراد لے لیں، یہ تو آپ نے کیا کر دیا؟ جمع بین الحقیقۃ والمجاز کر دیا۔ تو صاحبِ ہدایہ اس کا جواب دے رہے ہیں کہ یہاں ہم نے جمع بین الحقیقۃ والمجاز نہیں کیا بلکہ ام کے لغوی معنی کو دیکھا ہے، اور ام کا لغوی معنی کیا ہے؟ اصل، اور جیسے ماں اصل ہے اسی طرح دادی پردادی اور نانی پرنانی یہ بھی کیا ہیں انسان کے لیے؟ اصل ہیں، تو یہ لغوی معنی کے اعتبار سے یہ امہات میں داخل ہیں بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: ”والجدات أمهات إذ الأم هو الأصل لغة“، اور جدات وہ مائیں ہیں، اس لیے کیونکہ ام جو ہے ”هو الأصل“، وہ اصل ہے ”لغة“، زبان کے اعتبار سے، یعنی عربی زبان کے اعتبار سے ام اصل ہے۔ تو جو بھی اصل ہے وہ ام ہے اور جدہ بھی کیا ہے؟ اصل، تو وہ بھی ام ہے، تو یہ لفظ ان سب پر صادق آ رہا ہے۔ یعنی حاصلِ کلام یہ، کہنا یہ چاہتے ہیں کہ جدات کی حرمت بھی آیت سے ہی ثابت ہے کیونکہ ام کا کیا معنی؟ اصل، اور جدات بھی کیا ہیں؟ اصل، جیسے ماں اصل ہے اس طرح جدات بھی انسان کے لیے اصل ہیں تو یہ سب اس لفظ کے اندر داخل ہیں۔ ”أو ثبتت حرمتهن بالإجماع“، یا جو جدات ہیں ان کی حرمت اجماع کے ذریعے ثابت ہے۔ اس بات پر تمام فقہاء کا اتفاق ہے کہ انسان کی جدات اس پر حرام ہیں، وہاں نکاح کی کوئی صورت نہیں، تو جدات کی حرمت اجماع کے ذریعے ثابت ہے۔ تو صاحبِ ہدایہ بتلانا یہ چاہتے ہیں کہ یا تو جدات کی حرمت آیت ہی سے ثابت ہے کیونکہ ام کا معنی ہے اصل اور یہ سب اصل ہیں انسان کے لیے، ماں بھی اصل اور دادیاں نانیاں بھی اصل ہیں، یا ان کی حرمت اجماع کے ذریعے ثابت ہے، آیت کے ذریعے ثابت نہیں، تمام فقہاء کا اس پر اتفاق ہے کہ جدات انسان پر حرام ہیں۔ آگے دیکھیے، ”قال: ولا بابنته لما تلونا“، اور جائز نہیں ہے ”بابنته“، اپنی بیٹی کے ساتھ نکاح، اپنی بیٹی کے ساتھ بھی کسی آدمی کے لیے نکاح جائز نہیں، ”لما تلونا“، اس آیت کی وجہ سے جو ہم نے تلاوت کی۔ آیت میں کیا آیا تھا؟ ”{حرمت عليكم أمهاتكم وبناتكم}“، اور تمہاری بیٹیاں، تو دیکھو بیٹیاں بھی حرام ہیں انسان پر۔ ”ولا ببنت ولده وإن سفلت للإجماع“، اس کو سفَلت بھی پڑھ سکتے ہیں اور سفُلت بھی پڑھ سکتے ہیں، باب نصر سے بھی آتا ہے سفَل یسفُل، اور باب کرم سے بھی آتا ہے سفُل یسفُل۔ تو کہتے ہیں: ”ولا ببنت ولده وإن سفلت للإجماع“، ”ببنت ولده“، یاد رکھو ولد جو ہے نا ولد کا لفظ عربی زبان میں بیٹے اور بیٹی دونوں کو شامل ہے۔ ولد کا لفظ بیٹے اور بیٹی دونوں یعنی مذکر اور مؤنث دونوں کو شامل ہے بھئی، صرف بیٹا اس کو ابن کہتے ہیں، بیٹی ہو تو اس کو بنت کہتے ہیں، لیکن ولد کا لفظ بولا جائے تو اس میں بیٹا بھی داخل اور بیٹی بھی داخل ہو گئی۔ اردو میں اس کا بہترین ترجمہ اولاد کے ساتھ ہے، ولد کا کیا ترجمہ کریں؟ اولاد۔ ”ولا ببنت ولده“، اور نہ اپنی اولاد کی بیٹی کے ساتھ۔ اپنی اولاد کی بیٹی سے بھی نکاح جائز نہیں، اپنی اولاد کی بیٹی یعنی بیٹے کی بیٹی یعنی پوتی، اور بیٹی کی بیٹی یعنی نواسی، نواسی۔ پوتی بھی انسان پر حرام اور نواسی بھی انسان پر حرام کیونکہ یہ اس کی اپنی اولاد کی بیٹیاں ہیں بھئی۔ یہ معنی ہے ”ولا ببنت ولده“، اور نہ ہی اپنی اولاد کی بیٹی سے، ”وإن سفلت“، اگرچہ نیچے تک ہی کیوں نہ ہو۔ یعنی ان سے بھی نیچے چلے جائیں وہ سب بھی آپ کی اولاد کی بیٹیاں ہیں، ان سے بھی نکاح جائز نہیں۔ بیٹے کی بیٹی کیا ہوئی؟ پوتی، اس سے نیچے چلے جائیں، پڑپوتی وہ بھی انسان پر حرام، اسی طرح نواسی سے نیچے پڑنواسی وہ بھی انسان پر حرام، اسی طرح ان سے نیچے چلے جائیں تو یہ سب جو ہیں یہ اپنی اولاد کی بیٹیاں ہیں لہٰذا ان سے نکاح حرام ہے۔ تو کہتے ہیں: ”ولا ببنت ولده وإن سفلت“، اور نہ ہی اپنی اولاد کی بیٹی سے اگرچہ نیچے تک ہو، ”للإجماع“، اجماع کی وجہ سے۔ اس کی دلیل بھی کیا ہے؟ اجماع ہے بھئی کہ ان سے نکاح نہیں کیا جا سکتا۔ ”ولا بأخته ولا ببنات أخته ولا ببنات أخيه ولا بعمته ولا بخالته“. ”ولا بأخته“، اور اپنی بہن سے بھی نکاح جائز نہیں۔ ”ولا ببنات أخته“، اور اپنی بہن کی بیٹیوں سے بھی نکاح جائز نہیں۔ ”ولا ببنات أخيه“، اور اپنے بھئی کی بیٹیوں سے بھی نکاح جائز نہیں بھئی۔ یاد رکھو بھئی اور بہن یہ تین قسم کے ہو سکتے ہیں: حقیقی، علاتی اور اخیافی۔ بھئی اور بہن یہ تین قسم کے ہو سکتے ہیں: حقیقی، علاتی اور اخیافی۔ حقیقی بھئی بہن ان کو کہیں گے جو ایک ہی ماں باپ کی اولاد ہیں، وہ آپس میں کیا ہیں؟ حقیقی بھئی بہن ہیں۔ اور بعض اوقات باپ الگ ہوتا ہے، ماں ایک ہوتی ہے، اور بعض اوقات باپ ایک ہوتا ہے اور ماں الگ الگ ہوتی ہے۔ مثلاً دیکھو ایک شخص ہے اس کی دو بیویاں ہیں تو یہ دو بیویوں سے جو اولاد ہے یہ آپس میں علاتی بھئی بہن ہیں کیونکہ ان کی مائیں الگ الگ ہیں۔ ہاں باپ ایک ہی ہے، خاوند ایک ہی ہے لیکن اس کی دو بیویاں ہیں تو ایک بیوی کی اولاد دوسری بیوی کی اولاد کے لیے حقیقی بھئی بہن نہیں ہے کیونکہ مائیں الگ الگ ہیں، باپ ایک ہے لیکن مائیں الگ ہیں تو ان کو کیا کہیں گے؟ علاتی بھئی بہن کہ باپ ایک ہے۔ یعنی باپ شریک بھئی بہن۔ اور بعض اوقات ماں ایک ہوگی، باپ الگ الگ ہوگا، مثلاً ایک عورت کی پہلے خاوند سے اولاد ہے، پھر اس خاوند نے طلاق دے دی یا اس کا انتقال ہو گیا، پھر اس عورت نے دوسری جگہ نکاح کر لیا، اب اس نئے خاوند سے اس کی مزید اولاد پیدا ہوئی تو یہ جو اولاد ہے اس عورت کی، دیکھو ان کی ماں تو ایک ہی ہے لیکن باپ الگ الگ ہیں تو ان کو کہیں گے اخیافی بھئی بہن۔ یہ آپس میں کیا ہیں؟ اخیافی بھئی بہن۔ تو ماں اور باپ ایک ہی ہوں تو ان کو کہیں گے حقیقی بھئی بہن، اگر باپ ایک ہے، مائیں الگ الگ ہیں تو ان کو کہیں گے علاتی بھئی بہن، اور اگر ماں ایک ہے، باپ الگ الگ ہے تو اس کو کیا کہیں گے؟ اخیافی بھئی بہن۔ تو یہ جو آیا ”ولا بأخته“، اور اپنی بہن کے ساتھ بھی نکاح جائز نہیں، اس میں ہر قسم کی بہنیں آ گئیں: حقیقی بہن بھی اس میں داخل ہو گئی، علاتی بہن بھی داخل ہو گئی اور اخیافی بہن بھی داخل ہو گئی، ان تینوں میں سے کسی کے ساتھ بھی نکاح جائز نہیں۔ ”ولا ببنات أخته“، اور نہ اپنی بہن کی بیٹیوں سے، چاہے حقیقی بہن کی بیٹیاں ہیں، چاہے علاتی بہن کی بیٹیاں ہیں، چاہے اخیافی بہن کی بیٹیاں ہیں۔ ”ولا ببنات أخيه“، اور نہ ہی اپنے بھئی کی بیٹیوں سے نکاح جائز ہے، وہ بھئی چاہے حقیقی ہو، چاہے علاتی ہو، چاہے اخیافی ہو، اس کی بیٹیوں سے نکاح جائز نہیں کیونکہ میں نے آپ کو بتلایا کہ بھئی بہنوں کی اولاد کس کی طرح ہے؟ اپنی اولاد کی طرح ہے، اور جیسے اپنی اولاد سے نکاح جائز نہیں تو بھئی بہنوں کی اولاد سے بھی نکاح جائز نہیں بھئی۔ ”ولا بعمته“، اور نہ ہی اپنی پھوپھی سے نکاح جائز ہے، ”ولا بخالته“، اور نہ ہی اپنی خالہ سے نکاح جائز ہے، ”لأن حرمتهن منصوص عليها في هذه الآية“، اس لیے کیونکہ ان کی حرمت جو ہے منصوص علیہا ہے اس آیت میں۔ یاد رکھو قرآن اور حدیث کو نص کہتے ہیں، ن اور ص ہے، ”نصٌّ“. قرآن اور حدیث میں کوئی بات ذکر ہو تو کہتے ہیں نص کے اندر اس کا ذکر ہے یا اس پر نص آئی ہے، تو ”منصوصٌ عليها“، جس پر نص لائی گئی ہو یعنی جس کی صراحت کی گئی ہو۔ تو قرآن اور حدیث میں یہ منصوص علیہ ہیں یعنی ان پر نص لائی گئی ہے، یعنی قرآن اور حدیث کے اندر ان کا ذکر ہے بھئی۔ کیسے؟ کہتے ہیں یہی جو آیت ہم نے پڑھی اسی کے اندر ان کا ذکر ہے۔ اس آیت کے اندر پھوپھی کا بھی ذکر ہے، خالہ کا بھی ذکر ہے، بہن کا بھی ذکر ہے اور بھئی بہنوں کی بیٹیوں کا بھی ذکر ہے۔ یہ معنی ہے ”لأن حرمتهن منصوص عليها في هذه الآية“، اس لیے کیونکہ ان سب کی حرمت جو ہے منصوص علیہا ہے یعنی ان پر نص لائی گئی ہے، ان کی صراحت کی گئی ہے ”في هذه الآية“، اس آیت میں۔ ”وتدخل فيها العمات المتفرقات“، اور اسی کے اندر داخل ہیں متفرق قسم کی پھوپھیاں۔ بھئی جیسے بہن تین طرح کی ہو سکتی ہے: حقیقی، علاتی اور اخیافی، اسی طرح بھئی بھی تین طرح کا ہو سکتا ہے: حقیقی، علاتی اور اخیافی، اسی طرح پھوپھی بھی تین طرح کی ہو سکتی ہے: حقیقی، علاتی اور اخیافی۔ پھوپھی کسے کہتے ہیں؟ باپ کی بہن، تو باپ کی بہن یا تو وہ حقیقی بہن ہوگی، دونوں کے ماں باپ ایک ہوں گے، یا وہ علاتی بہن ہوگی یعنی صرف باپ ایک ہے اور مائیں الگ الگ، یا وہ اخیافی بہن ہوگی، لیکن سب کو پھوپھی کہیں گے۔ چاہے باپ کی حقیقی بہن ہے، چاہے علاتی بہن ہے، چاہے اخیافی، تو پھوپھی کے اندر یہ تینوں قسم کی پھوپھیاں داخل ہو گئیں۔ اسی طرح خالائیں بھی جو ہیں تین قسم کی ہو سکتی ہیں، خالہ کسے کہتے ہیں؟ ماں کی بہن۔ ہو سکتا ہے وہ ماں کی حقیقی بہن ہو، ہو سکتا ہے وہ ماں کی علاتی بہن ہو، اور ہو سکتا ہے وہ ماں کی اخیافی بہن ہو، تو وہ متفرق خالائیں وہ بھی اس خالہ کے لفظ میں داخل ہو گئیں کیونکہ خالہ کا لفظ سب پر بولا جاتا ہے۔ اسی طرح پھوپھی کے لفظ میں یہ تینوں قسم کی پھوپھیاں داخل ہو گئیں کیونکہ پھوپھی کا لفظ ان تینوں پر بولا جاتا ہے۔ اسی طرح بھئی اور بہن ہیں، بھئی کہا تو اس میں تینوں طرح کے بھئی داخل ہو گئے کیونکہ ان سب کو بھئی کہا جاتا ہے۔ اسی طرح بہن کہا تو بہن کے اندر تینوں قسم کی بہنیں داخل ہو گئیں کیونکہ ان سب کو بہن کہتے ہیں، چاہے حقیقی بہن ہو پھر بھی کہتے ہیں یہ بہن ہے، علاتی بہن ہو پھر بھی کہتے ہیں یہ میری بہن ہے، اخیافی بہن ہو پھر بھی کیا کہتے ہیں یہ میری بہن ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: ”وتدخل فيها العمات المتفرقات والخالات المتفرقات وبنات الإخوة المتفرقين“، اور داخل ہیں انہی کے اندر مختلف قسم کی پھوپھیاں، ”والخالات المتفرقات“، اور مختلف قسم کی خالائیں، ”وبنات الإخوة المتفرقين“، اور مختلف قسم کے بھئیوں کی بیٹیاں۔ اسی طرح مختلف قسم کی بہنوں کی بیٹیاں وہ سب اس میں آ گئیں، ”لأن جهة الاسم عامة“، اس لیے کیونکہ اسم کی جانب عام ہے۔ اسم کی جانب عام ہے یعنی یہ اسم عام ہے، یہ سب کو شامل ہے۔ اخ کا لفظ بولیں، ”أخٌ“ عربی میں کسے کہتے ہیں؟ بھئی کو، اور بھئی حقیقی بھئی ہو پھر بھی کیا کہتے ہیں یہ میرا بھئی ہے، علاتی بھئی ہو پھر بھی کیا کہتے ہیں یہ میرا بھئی ہے، اور اخیافی بھئی ہو پھر بھی کیا کہتے ہیں یہ میرا بھئی ہے، تو سب پر دیکھو بھئی کا لفظ بولا جاتا ہے۔ اسی طرح تینوں طرح کی بہنوں پر بہن کا لفظ بولا جاتا ہے، تینوں طرح کی پھوپھیوں پر پھوپھی کا لفظ اور اسی طرح خالہ کا لفظ بھی تینوں پر بولا جاتا ہے۔ یہ معنی ہے ”لأن جهة الاسم عامة“، اس لیے کیونکہ اسم کی جانب عام ہے۔ جہت کا کیا معنی؟ جانب۔ اسم کی جانب عام ہے یعنی یہ لفظ عام ہیں، یہ سب کو شامل ہیں۔ عمہ کا لفظ عام ہے، خالہ کا لفظ عام ہے، اخ اور اخت کا لفظ عام ہے، یہ سب پر بولا جاتا ہے۔ آگے دیکھیے: ”قال: ولا بأم امرأته التي دخل بابنتها أو لم يدخل“، ”ولا بأم امرأته“، اور اسی طرح نکاح جائز نہیں ہے ”بأم امرأته“، اپنی بیوی کی ماں سے۔ اپنی بیوی کی ماں یعنی ساس، ساس۔ آگے آ رہا ہے ”التي“، یاد رکھو یہ ”التي“ صفت ہے ”أم“ کی۔ ”امرأته“ کی صفت نہ بنا لینا اس کو، کس کی صفت ہے؟ ”أم“ کی۔ پھر دیکھیے: ”بأم امرأته“، اپنی بیوی کی اس ماں سے، اپنی بیوی کی اس ماں یعنی یوں کہو ساس، اپنی اس ساس سے بھی نکاح جائز نہیں ہے ”التي دخل بابنتها“، کہ جس کی بیٹی سے وہ شخص صحبت کر چکا ہے ”أو لم يدخل“، یا صحبت نہیں کی۔ ادھر دیکھیے! قرآن میں کیا آیا تھا؟ پیچھے وہ آیت میں دیکھیے: ”{وأمهات نسائكم}“، اور تم پر حرام ہے تمہاری بیویوں کی مائیں، بیوی کی ماں کو اردو میں کیا کہتے ہیں؟ ساس۔ ساس انسان پر حرام ہو جاتی ہے اور یہاں آگے دیکھو آیت میں کوئی قید نہیں ہے کہ وہ بیوی جس سے تم نے صحبت کی ہو یا وہ بیوی جس سے تم نے صحبت نہ کی ہو۔ معلوم ہوا کہ بیوی کی ماں نکاح کرتے ہی مطلقاً حرام ہو گئی، چاہے صحبت کی ہے یا صحبت نہیں کی، کیونکہ قرآن میں کوئی تفصیل ذکر نہیں، بس اتنا ذکر ہے تمہاری بیویوں کی مائیں تم پر حرام ہیں۔ اس میں اس بیوی کی ماں بھی آ گئی جس سے صحبت کی ہے، اس میں اس بیوی کی ماں بھی آ گئی جس سے صحبت نہیں کی، تو معلوم ہوا کہ بیوی کی ماں مطلقاً حرام ہے، چاہے بیوی سے صحبت کی ہے یا صحبت نہیں کی۔ جیسے ہی آپ ایک عورت سے نکاح کرتے ہیں، نکاح کرتے ہی ہمیشہ کے لیے ساس حرام ہو گئی، وہ ماں کی طرح بن گئی آپ کی، اس بیوی سے آپ نے صحبت نہیں کی آپ اس کو چھوڑ کر کس سے نکاح کرنا چاہتے ہیں؟ ساس سے نکاح کرنا چاہتے ہیں؟ نہیں بھئی، جیسے ہی آپ نے نکاح کیا تھا وہ ہمیشہ کے لیے آپ پر حرام ہو گئی بھئی۔ جبکہ اس کے برعکس میں نے بتایا آیت کے اندر تفصیل آئی تھی، بیوی کی بیٹی یعنی ربیبہ، ربیبہ کب حرام ہوگی انسان پر؟ جب اس بیوی سے صحبت کر لے گا۔ ایک شخص نے ایک عورت سے نکاح کیا ہے، صرف نکاح کرنے سے اس کی بیٹی حرام نہیں، لہٰذا اس عورت کو صحبت سے پہلے ہی طلاق دے دیتا ہے اور پھر اس کی بیٹی سے نکاح کرنا چاہتا ہے، نکاح کر سکتا ہے۔ لیکن اگر اس عورت سے اس شخص نے صحبت کر لی تو اب یہ ربیبہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے کیا ہو گئی؟ حرام ہو گئی، کیونکہ قرآن میں اللہ کیا فرماتے ہیں کہ: ”{وربائبكم اللاتي في حجوركم من نسائكم اللاتي دخلتم بهن}“، تمہاری وہ ربیبائیں جو تمہاری پرورش میں ہیں، تمہاری ان بیویوں سے جن سے تم صحبت کر چکے ہو، معلوم ہوا صحبت کی ہے تو وہ حرام ہے، صحبت نہیں کی تو آگے اللہ کیا فرماتے ہیں: ”{فلا جناح عليكم}“، تو پھر تم پر کوئی حرج نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”ولا بأم امرأته التي دخل بابنتها أو لم يدخل“، اور نہ ہی اپنی بیوی کی اس ماں سے نکاح جائز ہے کہ جس کی بیٹی سے یہ صحبت کر چکا ہے یا صحبت نہیں کی، ”لقوله تعالى“، دلیل کیا ہے؟ کہتے ہیں اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے: ”{وأمهات نسائكم}“، کہ تم پر حرام ہے تمہاری بیویوں کی مائیں، ”من غير قيد الدخول“، بغیر دخول کی قید کے، اس میں کوئی دخول کی قید نہیں ہے کہ بیوی کے ساتھ صحبت کی ہے تو پھر اس کی ماں حرام ہوگی، نہیں، بس تمہاری بیویوں کی مائیں مطلقاً تم پر حرام ہیں بھئی۔ ”ولا ببنت امرأته التي دخل بها“، اور نہ ہی اپنی اس بیوی کی بیٹی ”التي دخل بها“، جس سے وہ صحبت کر چکا ہے۔ بھئی یہاں آیا ”التي دخل بها“، یاد رکھو یہ صفت ہے ”امرأته“ کی۔ کس کی صفت ہے؟ ”امرأته“ کی۔ ”ولا ببنت امرأته“، اور نہ ہی اپنی اس بیوی کی بیٹی ”التي دخل بها“، جس سے وہ صحبت کر چکا ہے۔ ایک شخص ایک عورت سے اس کا نکاح ہوا، اس نے اس عورت سے صحبت کر لی، تو یہ جو بیوی جس سے یہ صحبت کر چکا، اس کی بیٹی اس پر ہمیشہ کے لیے کیا ہو گئی؟ حرام۔ معلوم ہوا اگر صحبت نہ کی تو وہ اس پر حرام نہیں، جیسے آیت میں تفصیل گزر گئی۔ تو کہتے ہیں: ”ولا ببنت امرأته التي دخل بها“، اور نہ اپنی اس بیوی کی بیٹی سے نکاح جائز ہے کہ جس بیوی سے یہ صحبت کر چکا ہے، ”لثبوت قيد الدخول بالنص“، اس لیے کیونکہ دخول کی قید ثابت ہے نص سے۔ قرآن میں اللہ کیا فرما رہے ہیں: ”{من نسائكم اللاتي دخلتم بهن}“، تمہاری وہ ربیبائیں جو تمہاری اس بیوی سے ہیں جس سے تم صحبت کر چکے ہو، وہ بھی حرام ہیں، ”{فإن لم تكونوا دخلتم بهن}“، اور اگر تم نے ان بیویوں سے صحبت نہیں کی اور ربیبہ سے نکاح کرنا چاہتے ہو، ”{فلا جناح عليكم}“، تو پھر تم پر کوئی حرج نہیں، پھر ربیبہ حلال ہے۔ یہ معنی ہے ”لثبوت قيد الدخول بالنص“، اس لیے کیونکہ صحبت کی قید جو ہے نص کے ذریعے ثابت ہے۔ ”سواء كانت في حجره أو في حجر غيره“، حِجر اور حَجر اس کا معنی ہے حفاظت، یہاں مراد پرورش ہے۔ جو تمہاری حفاظت میں ہو یعنی تمہاری پرورش میں ہو۔ تو کہتے ہیں: ”سواء كانت في حجره أو في حجر غيره“، برابر ہے کہ وہ ربیبہ اسی شخص کی پرورش میں ہو یا کسی اور کی پرورش میں ہو۔ بتلانا یہ چاہتے ہیں کہ ”{في حجوركم}“ کی جو قید آئی تھی آیت کے اندر وہ قید اتفاقی ہے، چاہے اس کی پرورش میں ہو چاہے اس کی پرورش میں نہ ہو، دونوں کا ایک ہی حکم ہے۔ یہ معنی ہے ”سواء كانت في حجره أو في حجر غيره“، برابر ہے کہ وہ ربیبہ اسی خاوند کی پرورش میں ہے یا اس کی پرورش میں نہیں ہے، ”لأن ذكر الحجر خرج مخرج العادة“، اس لیے کیونکہ جو پرورش کا ذکر آیا ہے ”خرج مخرج العادة“، یہ عادت کے طور پر ہوا ہے۔ یہ عادت کے طور پر اس کو ذکر کیا گیا ہے کیونکہ عادتاً ماں جو ہوتی ہے وہ اپنی بیٹی کو ہمیشہ ہر وقت اپنے ساتھ رکھتی ہے، اس کی حفاظت کرتی ہے بھئی۔ تو وہ عادتاً نئے خاوند کی پرورش میں ہی ہوگی بھئی۔ کہتے ہیں: ”لأن ذكر الحجر خرج مخرج العادة لا مخرج الشرط“، اس لیے کیونکہ پرورش کا ذکر جو ہے وہ عادت کے طور پر ہوا ہے، ”لا مخرج الشرط“، شرط کے طور پر نہیں ہوا، ”ولهذا اكتفي في موضع الإحلال بنفي الدخول“، اور اسی لیے اکتفاء کیا گیا حلال کرنے کے مقام میں دخول کی نفی پر۔ بھئی دیکھیے! آیت میں کیا آیا تھا؟ تمہاری وہ ربیبائیں جو تمہاری پرورش میں ہیں، ان بیویوں سے جن سے تم صحبت کر چکے ہو، تو دو قیدیں آئی تھیں، میں نے تفصیل بیان کی تھی: ایک کیا؟ کہ وہ تمہاری پرورش میں بھی ہوں، اور اور ان بیویوں سے تم صحبت بھی کر چکے ہو۔ میں نے بتلایا تھا کہ یہ ”{في حجوركم}“ کی قید اتفاقی ہے اور صحبت کی قید احترازی ہے۔ احترازی ہے، اور اس کا پتہ آیت سے ہی چل رہا ہے کہ آگے اللہ کیا فرما رہے ہیں: اگر تم نے ان سے صحبت نہیں کی تو پھر کوئی حرج نہیں، اگر تم نے صحبت نہیں کی تو پھر کوئی حرج نہیں، معلوم ہوا پھر وہ تمہارے لیے حلال ہیں۔ تو حلال ہونے کے مقام میں صرف صحبت کی نفی فرمائی اللہ نے، پرورش کی نفی نہیں فرمائی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے ”ولهذا اكتفي في موضع الإحلال“، اور اسی لیے حلال کرنے کے مقام میں یعنی جہاں ان کے حلال ہونے کو ذکر کیا گیا اور بتلایا گیا، اس مقام میں اکتفاء کیا گیا ”بنفي الدخول“، صرف صحبت کی نفی پر۔ اگر تم نے صحبت نہیں کی، ”{فلا جناح عليكم}“، پھر تم پر کوئی حرج نہیں۔ اگر پرورش کی قید بھی احترازی ہوتی تو ساتھ ذکر ہوتا: اگر تم نے ان بیویوں سے صحبت بھی نہیں کی اور وہ ربیبائیں تمہاری پرورش میں بھی نہیں ہیں، پھر تم پر کوئی حرج نہیں، لیکن پرورش کی وہاں نفی نہیں کی گئی، معلوم ہوا وہ قید اتفاقی ہے بھئی۔ آگے دیکھیے بھئی، ”قال: ولا بامرأة أبيه وأجداده“، اور کسی شخص کے لیے جائز نہیں ہے کہ نکاح کرے اپنے باپ کی بیوی سے، ”وأجداده“، اجداد کا عطف ”أبيه“ پر ہے، تو ”أبيه“ کو ہٹائیں اور وہاں اجداد کا لفظ لے آئیں: ”ولا بامرأة أجداده“، اور اپنے اجداد کی بیویوں سے بھی نکاح جائز نہیں۔ جد میں نے آپ کو بتلایا کہ دادی، نانی سب پر بولا جاتا ہے، اسی طرح جد کا لفظ جو ہے یہ بھی دادا، نانا وغیرہ سب پر بولا جاتا ہے۔ اوپر کی طرف جتنے اصول ہیں مذکر، ان کو اجداد کہیں گے، اور اسی طرح جتنی اصول ہیں مؤنث، ان کو جدات کہیں گے۔ تو کسی شخص کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ نکاح کرے اپنے باپ کی بیوی سے اور نہ اپنے دادوں، نانوں کی بیوی سے۔ بھئی اس سے حقیقی ماں مراد نہیں ہے کیونکہ حقیقی ماں کا ذکر تو پیچھے آ گیا تھا کہ ”{حرمت عليكم أمهاتكم}“، تمہاری مائیں تم پر حرام ہیں، وہاں متن کے اندر آ گیا تھا ام کا ذکر۔ تو یہاں مراد ہے کسی شخص کا باپ ہے اس نے اور نکاح کیے ہوئے ہیں تو ایک تو اس شخص کی حقیقی ماں ہو گئی اور باقی باپ کی دوسری بیویاں ہو گئیں۔ اسی طرح اس کے دادا نے کئی نکاح کیے ہوئے ہیں تو ایک تو اس کی حقیقی دادی ہو گئی اور باقی دادا کی اور بیویاں ہو گئیں تو ان کے ساتھ بھی نکاح جائز نہیں ہے، اس لیے کیونکہ وہ آپ کے اصول کی بیویاں ہیں۔ آپ کے اصول، جیسے اولاد جو ہے اپنی اولاد کی بیویوں کے ساتھ نکاح نہیں جائز، ”{وحلائل أبنائكم}“، تمہاری اولاد کی بیویوں سے جیسے نکاح جائز نہیں، اسی طرح تمہارے جو اصول ہیں اوپر کی طرف ان کی بیویوں سے بھی نکاح جائز نہیں۔ تو کہتے ہیں: ”ولا بامرأة أبيه وأجداده“، اور کسی شخص کے لیے جائز نہیں ہے کہ نکاح کرے اپنے باپ کی بیوی سے اور اپنے اجداد کی بیوی سے، ”لقوله تعالى“، اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے: ”{ولا تنكحوا ما نكح آباؤكم من النساء}“، اور تم لوگ نکاح نہ کرو ”ما“، ان عورتوں سے، ”نكح آباؤكم“، جن سے تمہارے آباء نے نکاح کیا تھا، ”من النساء“، یہ بیان ہے ”ما“ کا یعنی عورتیں۔ ”من النساء“ کس کا بیان ہے؟ ”ما“ کا۔ ”{ولا تنكحوا ما}“، اس ”ما“ سے کیا مراد ہے؟ نساء مراد ہے، آگے تفصیل آ گئی۔ یاد رکھو اس طرح کتابوں کے اندر بھی آتا ہے کہ ”ما“ موصولہ آتا ہے، آگے صلہ آتا ہے اور پھر ”مِن“ کے ساتھ اس کو بیان کیا جاتا ہے، اور اس میں پھر ترجمہ کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ یہ لفظِ ”ما“ کی جگہ اس بیان کو لے آئیں۔ تو یہ ”ما“ کی جگہ دیکھو اب میں ”النساء“ کا لفظ لے آؤں گا اور ترجمہ کروں گا: ”{ولا تنكحوا}“، اور تم لوگ نکاح نہ کرو ”ما“، ان عورتوں سے، دیکھو ”ما“ کا کیا ترجمہ کیا؟ عورتیں، ان عورتوں سے ”نكح آباؤكم“، جن سے تمہارے آباء و اجداد نے کیا کیا ہے؟ نکاح کیا ہے بھئی۔ بھئی دیکھیے! اس میں تو صرف آباء کا ذکر ہے، اب تو باپ کو کہتے ہیں، تو پھر دادوں کی بیویاں کیسے حرام ہو گئیں؟ باپ کی بیوی تو حرام ہو گئی، اللہ کیا فرما رہے ہیں: اپنے آباء کی بیویوں سے نکاح نہ کرو تم لوگ، تو باپ کی بیوی سے تو ٹھیک ہے نکاح حرام ہو گیا۔ دادوں کی بیویوں سے نکاح حرام ہے اس کا اس آیت سے کیسے پتہ چل رہا ہے؟ تو جواب یہ کہ بھئی یہ عمومِ مجاز کے طریقے پر، کس طریقے پر؟ عمومِ مجاز، عمومِ مجاز آپ نے پڑھا ہے کہ لفظ کا کوئی ایسا مجازی معنی کر لیا جائے جو عام ہو، حقیقی معنی بھی اس میں آ جائے اور مجازی معنی بھی اس میں آ جائے۔ مثلاً اب کا حقیقی معنی کیا؟ باپ، اور اب کا مجازی معنی کیا؟ دادا اور نانا، یا اوپر کی طرف جو بھی ہے۔ تو باپ ہوا اب کا حقیقی معنی اور دادا نانا اس کے ہوئے مجازی معنی، تو اب ہم آباء کا ترجمہ اصول کے کر لیں گے۔ کیا ترجمہ کر لیں گے؟ اصول، اب دیکھو ترجمہ یوں ہوگا: ”{ولا تنكحوا ما نكح آباؤكم}“، اور تم لوگ نکاح نہ کرو ان عورتوں سے ”نكح آباؤكم“، جن سے تمہارے اصول نے نکاح کیا۔ اب یہ اصول ایسا ترجمہ ہے اس میں باپ بھی آ گیا، اس میں دادا بھی آ گیا، نانا بھی آ گیا، پردادا بھی آ گیا، پرنانا بھی آ گیا، تو دیکھو ہم نے ایسا ترجمہ کیا کہ اس میں حقیقی معنی بھی آ گیا اور مجازی معنی بھی، اس کو کہتے ہیں عمومِ مجاز۔ تو یہ جمع بین الحقیقۃ والمجاز نہیں ہے، جمع بین الحقیقۃ والمجاز اور چیز ہے کہ اس میں آپ ایک ہی لفظ سے اس کا حقیقی معنی کا بھی ارادہ کرتے ہیں اور مجازی معنی کا بھی، یہ عند الاحناف جائز نہیں ہے۔ ایک وقت میں ایک معنی ہو سکتا ہے، آپ شیر کا لفظ بولیں یا تو اس کا ترجمہ بہادر آدمی کے ہوگا یا جنگلی درندے کے ہوگا، دونوں میں سے ایک وقت میں ایک ہوگا۔ لیکن عمومِ مجاز اس کو کہتے ہیں کہ لفظ کا ایسا معنی کر لو جو ہے تو مجازی معنی، ہے مجازی معنی، لیکن اس میں اتنا عموم ہو کہ حقیقی معنی بھی اس کے اندر داخل ہو جائے، تو یہاں آباء کا ہم نے کیا ترجمہ کر لیا؟ اصول، اب یہ مجازی معنی ہے اب کا، لیکن ایسا مجازی معنی ہے کہ اصول کے اندر باپ جو حقیقت ہے وہ بھی داخل ہو گئی۔ تو عمومِ مجاز کے طریقے پر۔ یا یہاں پر بھی اسی طرح دلیل بنا لیں جیسے جدات کے اندر تھا، وہاں کیا دلیل دی تھی؟ کہ امہات کے اندر ہی جدات بھی داخل ہیں یا جدات کی حرمت اجماع سے ثابت ہے۔ یہاں بھی اسی طرح ”ما نكح آباؤكم“، یہ آباء کے اندر اجداد بھی داخل ہیں، ان کی بیویاں بھی حرام ہیں، تو یہ آیت سے ہی اجداد کی بیویوں کی حرمت بھی ثابت ہو گئی۔ یا یوں کہیں کہ اجداد کی بیویوں کی حرمت اجماع سے ثابت ہے، کس سے ثابت ہے؟ اجماع سے۔ تو اللہ فرماتے ہیں قرآن میں: ”{ولا تنكحوا ما نكح آباؤكم من النساء}“، اور تم لوگ نکاح نہ کرو ان عورتوں سے جن سے تمہارے اصول نے نکاح کیا ہے۔ ”ولا بامرأة ابنه وبني أولاده“، ”ولا بامرأة ابنه“، اور نہ اپنے بیٹے کی بیوی سے، اپنے بیٹے کی بیوی سے بھی نکاح جائز نہیں یعنی بہو سے، بہو۔ ایک عورت ہے اس سے ایک شخص کے بیٹے نے نکاح کر لیا، یاد رکھو جیسے ہی بیٹے نے نکاح کیا یہ اس شخص کی بہو بن گئی، یہ اب اس مرد پر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے حرام ہے۔ اسی طرح ”وبني أولاده“، یاد رکھو یہ ”بني أولاده“ کا عطف ہے ”ابنه“ پر۔ ذرا ”ابنه“ کو ہٹاؤ اور اس کی جگہ ”بني أولاده“ لے آؤ: ”ولا بامرأة بني أولاده“، اور ترجمہ آخر سے ہوگا: اور نکاح جائز نہیں ہے اپنی اولاد کے بیٹوں کی بیویوں سے۔ اپنی اولاد کے بیٹوں کی بیویوں سے، ایک تو تھا نا بیٹے کی بیوی، بیٹے کی بیوی، اولاد میں نے بتایا بیٹے اور بیٹی دونوں کو شامل ہے، تو اپنی اولاد کے بیٹوں کی بیوی، اپنی اولاد کے بیٹے کون ہوئے؟ پوتا اور اسی طرح نواسا، پوتے کی بیوی بھی حرام اور نواسے کی بیوی بھی حرام، اسی طرح نیچے بھی، نیچے تک بھئی۔ یہ معنی ہے ”ولا بامرأة ابنه“، اور نہ ہی اپنے بیٹے کی بیوی سے نکاح جائز ہے، ”وبني أولاده“، اور نہ ہی اپنی اولاد کے بیٹوں کی بیوی سے نکاح جائز ہے، ”لقوله تعالى“، اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے: ”{وحلائل أبنائكم الذين من أصلابكم}“، اور تمہارے بیٹوں کی بیویاں، حلائل جمع ہے حلیلہ کی، ”{وحلائل أبنائكم}“، اور تمہارے ان بیٹوں کی بیویاں، ”{الذين من أصلابكم}“، اصلاب جمع ہے صلب کی، صلب ص سے ہے، پشت کو کہتے ہیں۔ تمہارے وہ بیٹے جو تمہاری پشت سے ہیں یعنی حقیقی بیٹے مراد ہیں۔ تو دیکھو یہاں پر بھی، یہاں پر بھی یہ ابناء کا ترجمہ فروع کے کر لیں گے عمومِ مجاز کے طریقے پر، ابناء کا ترجمہ کیا کریں گے؟ فروع، اور فروع کے اندر نیچے کی طرف جتنے مذکر ہیں وہ سب آ گئے۔ خود بیٹا بھی اور اس کی آگے مذکر اولاد بھی نیچے تک، اور اسی طرح بیٹی کی جو مذکر اولاد ہے وہ بھی اس میں آ گئی کیونکہ وہ بھی انسان کی فرع ہے بھئی، وہ فروع میں داخل ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”لقوله تعالى: {وحلائل أبنائكم الذين من أصلابكم}“، اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے: اور تمہارے ان بیٹوں کی بیویاں جو تمہاری پشت سے ہیں۔ آگے دیکھیے، کہتے ہیں: ”وذكر الأصلاب لإسقاط اعتبار التبني لا لإحلال حليلة الابن من الرضاعة“. بھئی آیت میں آیا کہ تمہارے وہ بیٹے جو تمہاری پشت سے ہیں یعنی حقیقی بیٹے ہیں ان کی بیویاں تم پر حرام ہیں۔ تو اس پر اشکال ہوتا ہے کہ رضاعی بیٹے کی بیوی بھی انسان پر حرام ہوتی ہے۔ ایک عورت نے جب ایک بچے کو دودھ پلا دیا تو یہ بچہ اس کا رضاعی بیٹا بن گیا اور جو اس عورت کا خاوند ہے وہ اس کا رضاعی باپ بن گیا۔ پھر یہ لڑکا بڑا ہوا جب تو اس نے ایک عورت سے نکاح کر لیا اور پھر اس عورت کو اس نے طلاق دے دی مثلاً، تو اب اس کا رضاعی باپ چاہتا ہے اس رضاعی بیٹے کی بیوی سے نکاح کر لے؟ یاد رکھو شرعاً یہ جائز نہیں۔ رضاعی بیٹے کی بیوی بھی اپنی بہو کی طرح ہے لہٰذا اس سے بھی نکاح کی کوئی صورت نہیں، تو یہاں آیت میں تو آ گیا کہ تمہارے حقیقی جو بیٹے ہیں ان کی بیویاں حرام ہیں۔ تو صاحبِ ہدایہ اس کا جواب دے رہے ہیں کہ یہ جو حقیقی بیٹوں کی قید لگائی، یہ رضاعی بیٹوں کو نکالنے کے لیے یہ قید نہیں لگائی بلکہ منہ بولے بیٹوں کو نکالنے کے لیے یہ قید ہے۔ آیت سے کیا پتہ چلا؟ حقیقی بیٹے کی بیوی حرام، معلوم ہوا رضاعی بیٹے کی بیوی حرام نہیں؟ کہتے ہیں: نہیں نہیں، یہ رضاعی بیٹے کی بیوی سے احتراز نہیں کیا جا رہا، یہ منہ بولے بیٹے کی بیوی سے احتراز کیا جا رہا ہے۔ رضاعی بیٹے کی بیوی وہ بھی انسان پر حرام ہے تو یہاں یہ ”{من أصلابكم}“ کی قید کس لیے لگائی؟ منہ بولے بیٹے کو نکالنے کے لیے۔ بھئی بعض لوگ جو ہیں کسی کو بیٹا بنا لیتے ہیں کہ آج سے تم ہمارے بیٹے ہو۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ منہ بولا بیٹا، تو یہ جو منہ بولا بیٹا ہے یہ حقیقی بیٹے کی طرح نہیں ہے بھئی۔ یہ ان کے کہنے سے ان کا بیٹا نہیں بن گیا، لہٰذا یہ بیٹا کسی عورت سے نکاح کرتا ہے اور پھر اس کو چھوڑ دیتا ہے، اب اس کا منہ بولا باپ جو ہے وہ اس عورت سے نکاح کرنا چاہتا ہے تو بالکل نکاح کر سکتا ہے بھئی، کیونکہ یہ کوئی اس کے حقیقی بیٹے کی بیوی نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وذكر الأصلاب لإسقاط اعتبار التبني“، تبنی کا معنی ہے منہ بولا بیٹا ہونا۔ منہ بولا بیٹا ہونا، تبنٰی یتبنّٰی تبنّیًا، تو یہ مصدر ہے، تبنی کا معنی منہ بولا بیٹا ہونا۔ تو کہتے ہیں: ”لإسقاط اعتبار التبني“، یہ متبنیٰ ہونے کے اعتبار کو ساقط کرنے کے لیے ہے، ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ پھر دیکھیے: ”وذكر الأصلاب“، اور یہ جو اصلاب کو ذکر کیا گیا یہ ”لإسقاط اعتبار التبني“، یہ متبنیٰ ہونے کے اعتبار کو ساقط کرنے کے لیے ہے، یعنی متبنیٰ ہونے کا کوئی اعتبار نہیں ہے، حقیقی بیٹے کی بیویاں تو حرام ہیں، متبنیٰ کی بیویاں حرام نہیں، تو یہ متبنیٰ ہونے کے اعتبار کو ساقط کرنے کے لیے ہے، ”لا لإحلال حليلة الابن من الرضاعة“، یہ رضاعی بیٹے کی بیوی کو حلال کرنے کے لیے نہیں ہے۔ رضاعی بیٹے کی بیوی کو حلال کرنے کے لیے یہ قید نہیں ہے بھئی۔ تو معلوم ہوا ”{من أصلابكم}“ کی قید جو لگائی گئی آیت کے اندر یہ منہ بولے بیٹوں کو نکالنے کے لیے ہے، رضاعی بیٹوں کو نکالنے کے لیے نہیں ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو یا تو یوں کہیں کہ یہ جو فروع کی بیویاں ہیں وہ بھی حرام ہیں، اس آیت سے ہی ثابت ہو رہا ہے عمومِ مجاز کے طریقے پر۔ کس طریقے پر؟ کہ ابناء کا کیا ترجمہ ہم نے کر لیا؟ فروع کے کر لیا تو عمومِ مجاز کے طریقے پر یہ سب بیویاں انسان پر حرام۔ یا یوں کہو کہ جو فروع کی بیویاں ہیں نیچے تک ان کی حرمت اجماع کے ذریعے ثابت ہے۔ بیٹے کی بیوی کی حرمت یہ نص سے یعنی قرآن سے ثابت ہے اور باقی جو فروع ہیں مذکر نیچے پوتا، پڑپوتا وغیرہ اور اسی طرح نواسا اور پڑنواسا وغیرہ ان کی بیویوں کی جو حرمت ہے وہ اجماع سے ثابت ہے۔ حاصلِ کلام یہ ہوا کہ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ”{حرمت عليكم أمهاتكم}“، تم پر تمہاری مائیں حرام ہیں۔ تو اس امہات سے ماؤں کی بھی حرمت ثابت ہو گئی اور جدات کی حرمت بھی ثابت ہو گئی کیونکہ ماں اصل کو کہتے ہیں اور جدات بھی انسان کے لیے اصل ہیں تو امہات کا لفظ ان سب کو شامل ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یا آپ یوں بھی کہہ سکتے ہیں، صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ امہات کی حرمت تو آیت سے ثابت ہوئی اور جدات کی حرمت جو ہے وہ اجماع کے ذریعے ثابت ہوئی۔ اسی طرح آگے بتلایا تھا کہ انسان پر اپنے باپ کی بیوی بھی حرام ہے حقیقی ماں کے علاوہ اور بیوی، اور اسی طرح اپنے اجداد کی جو بیویاں ہیں انسان پر وہ بھی حرام ہیں یعنی نانی، دادی کے علاوہ اگر نانا یا دادا کی اور بیویاں ہیں تو وہ بھی انسان پر حرام ہیں، اور یہ سب کتاب اللہ سے ثابت ہیں۔ قرآن میں اللہ کیا فرماتے ہیں: ”{ولا تنكحوا ما نكح آباؤكم}“، کہ تم نکاح نہ کرو ان عورتوں سے جن سے تمہارے آباء نے نکاح کیا ہے، تو یہ آباء، باپ بھی اس کے اندر داخل اور نانا، دادا وغیرہ بھی داخل تو سب کی بیویوں کی حرمت اس آیت سے ثابت ہو گئی یعنی عمومِ مجاز کے طریقے پر۔ اور یا آپ یوں بھی کہہ سکتے ہیں میں نے آپ کو بتلایا کہ آیت سے صرف باپ کی بیوی کی حرمت ثابت ہو رہی ہے، دادا یا نانا وغیرہ کی جو اور بیویاں ہیں ان کی حرمت کتاب اللہ سے نہیں ثابت بلکہ اجماع سے ثابت ہے، آپ یوں بھی کہہ سکتے ہیں۔ اسی طرح صاحبِ قدوری نے آپ کو بتلایا کہ اپنے بیٹے کی بیوی بھی انسان پر حرام اور اسی طرح اپنی اولاد کے جو بیٹے ہیں ان کی بیویاں بھی انسان پر حرام، یعنی پوتا، پڑپوتا، نواسا، پڑنواسا وغیرہ ان کی بیویاں بھی کیا ہیں؟ انسان پر حرام۔ اور دلیل صاحبِ ہدایہ نے ذکر کی: ”{وحلائل أبنائكم الذين من أصلابكم}“، اور تمہارے ان بیٹوں کی بیویاں کہ وہ بیٹے تمہاری پشت سے ہیں، یعنی تمہارے جو حقیقی بیٹے ہیں ان کی بیویاں بھی تم پر حرام ہیں۔ تو یہاں پر میں نے آپ کو بتلایا کہ یا تو ”أبنائكم“ کس معنی میں کر لو؟ فروع کے معنی میں کر لو، تمہاری فروع کی بیویاں، اور فروع کے اندر سب آ گئے: بیٹا بھی آ گیا، پوتا بھی، پڑپوتا بھی، نواسا بھی، پڑنواسا بھی، نیچے تک سب اس کے اندر آ گئے۔ تو عمومِ مجاز کے طریقے پر بیٹے کی بیوی کی حرمت بھی آیت سے پتہ چل گئی اور نیچے والوں کی بیویوں کی حرمت بھی آیت سے ہی پتہ چل گئی، یا آپ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ آیت سے صرف بیٹے کی بیوی کی حرمت کا پتہ چلا ہے، باقی نیچے والی جو فروع ہیں ان کی بیویوں کی حرمت، ان کی حرمت کی دلیل اجماع ہے یعنی اس پر تمام فقہاء کا اجماع ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ حل ہو گیا۔ چلیے بس کریں، بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔
24 approved lectures · 9 of 24