آگے سبق دیکھیے، باب فی الاولیاء والأکفاء، وینعقد نکاح الحرۃ العاقلۃ البالغۃ برضاھا وان لم یعقد علیھا ولیّ بکرًا کانت أو ثیّبًا، عند أبی حنیفۃ وأبی یوسف رحمھما اللہ تعالیٰ فی ظاہر الروایۃ۔
وعن أبی یوسفؒ أنہ لا ینعقد إلا ولیّ، وعند محمدؒ ینعقد موقوفًا۔ وقال مالک وشافعیؒ رحمھما اللہ تعالیٰ: لا ینعقد النکاح بعبارۃ النساء أصلاً۔
گذشتہ سبق میں آپ نے پڑھا تھا کہ نکاح متعہ اور نکاح مؤقت یہ باطل ہے بھئی۔ نکاح متعہ میں نے بتلایا کہ اس کے اندر نکاح یا تزویج کے الفاظ نہیں ہوتے بلکہ تمتع کے الفاظ ہوں گے۔ تمتع کا معنی ہے فائدہ اٹھانا۔ تو کوئی شخص کسی عورت سے کہتا ہے: أتَمَتّعُ بکی کذا مدّۃً بکذا من المال کہ میں تجھ سے اتنے مال کے بدلے اتنی مدت تک نفع اٹھاؤں گا۔
تو دیکھو اس کے اندر گواہوں کی بھی شرط نہیں ہوتی اور نیز مدت مقرر ہوتی ہے؛ تو یہ نکاح متعہ باطل ہے بھئی۔ اور صاحب ہدایہ نے ذکر فرمایا تھا کہ امام مالکؒ کے نزدیک یہ جائز ہے، لیکن میں نے بتایا کہ یہاں صاحب ہدایہ سے تسامح ہوا ہے، امام مالکؒ کی طرف یہ نسبت صحیح نہیں ہے۔ امام مالکؒ کے نزدیک بھی متعہ حرام ہے، حتی کہ انہوں نے اپنی حدیث کی مشہور کتاب مؤطا امام مالکؒ کے اندر باقاعدہ وہ حدیث درج فرمائی ہے، جس میں حضرت علیؓ روایت فرماتے ہیں کہ حضور علیہ السلام نے یوم خیبر کے دن متعۃ النکاح سے منع فرمایا تھا، اور امام مالکؒ کی عادت یہ ہے کہ وہ اپنی کتاب کے اندر انہی احادیث کو ذکر فرماتے ہیں جو ان کا مذہب ہوتا ہے، جو ان کے نزدیک قوی اور راجح ہوتی ہیں۔
تو معلوم ہوا ان کا یہی مذہب ہے، بلکہ مالکیّہ کی اور معتبر کتابیں بھی دیکھیں تو اس سے بھی پتہ چلتا ہے کہ مالکیّہ کے ہاں یہ متعہ جو ہے حرام ہے بھئی۔ تو یہاں صاحبِ ہدایہ سے تسامح ہوا، اور وجہ یہ تسامح ہونے کی شاید یہ ہے کہ یہ شیعہ کے ہاں متعہ جائز ہے اور انہوں نے اس کی بڑی فضیلتیں بیان کی ہیں بھئی، اور انہوں نے ابتدا کے اندر جن سے متعہ کے جواز کا اشارہ ملتا تھا، اس قسم کی روایات انہوں نے خوب پھیلائیں بھئی، خوب ان کی اشاعت کی یہاں تک کہ بڑے بڑے علماء بھی بعض اوقات اس سے غلطی کھا گئے جیسے صاحب ہدایہ یہاں پر۔
لیکن میں نے بتایا بہتر یہ ہے کہ یوں نہ کہا جائے کہ صاحب ہدایہ سے یہاں تسامح ہوا، وجہ یہ کہ صاحب ہدایہ بہت بڑے فقیہ ہیں بھئی، تو امام مالکؒ کا مذہب ان پر کیسے پوشیدہ رہ سکتا تھا بھئی؟ تو یوں کہا جائے کہ کسی لکھنے والے سے غلطی ہوئی، یا تو غلطی ہوئی یا کسی نے جان بوجھ کر یہاں تبدیلی کی کیونکہ پہلے کتابیں ہاتھ سے لکھی جاتی تھیں، تو شاید کوئی شیعہ وغیرہ ہو جس نے یہ تبدیلی کر دی اور وہی نسخہ پھر آگے پھیل گیا بھئی۔
تو بہرحال تمام علماء نے تمام شارحین وغیرہ نے تصریح کی ہے کہ امام مالک کی طرف یہ متعہ کے جواز کی نسبت صحیح نہیں ہے بھئی۔ اور میں نے تفصیل بیان کی تھی کہ ابتدائے اسلام میں متعہ جائز تھا بھئی، اور پھر اس کے بعد غزوہ خیبر کے موقع پر حضور علیہ السلام نے متعہ کو حرام قرار دے دیا، اس سے منع فرما دیا، اور پھر فتح مکہ کے موقع پر پھر تین دن کے لیے متعہ کی اجازت دی گئی، اور اس کے بعد پھر تین دن کے بعد ابد الآباد تک کے لیے ہمیشہ کے لیے اس کو حرام قرار دے دیا گیا بھئی۔
اور صحابہ میں سے حضرت عبداللہ بن عباسؓ جو ہیں وہ متعہ کے جواز کا فتویٰ دیتے تھے، لیکن وہ جواز بھی عام احوال کے اندر نہیں بلکہ ضرورت شدید کے موقع پر وہ جواز کے قائل تھے کہ مثلاً کوئی شخص جو ہے کہیں دور دراز علاقے میں سفر پر چلا گیا اور وہاں اس کا کوئی جاننے والا نہیں ہے، تو وہاں پر پھر وہ متعہ کی گنجائش دیتے ہیں ضرورت شدید کی بنا پر، کہ کسی عورت سے متعہ کر لیں کچھ مدت کے لیے، تو جب تک وہ شخص وہاں رہتا ہے تو وہ عورت اس کے گھر کی ضروریات کا خیال بھی رکھے گی اور نیز اس کے سامان وغیرہ کی دیکھ بھال بھی کرے گی بھئی۔
لیکن بعد میں حضرت ابن عباسؓ نے بھی اس سے رجوع فرما لیا بھئی، اور باقاعدہ توبہ کی اللہ کے حضور، علماء نے ان کے الفاظ بھی ذکر فرمائے ہیں بھئی۔
تو یہ تو عام علماء فرماتے ہیں کہ ابتدائے اسلام میں متعہ کی اجازت تھی، جبکہ شاہ عبدالعزیز دہلویؒ وہ فرماتے ہیں کہ یہ جو متعہ جس کی شہرت ہے، یہ تو اسلام میں کبھی بھی جائز نہیں رہا بھئی، یہ متعہ جس میں گواہ بھی نہیں ہوتے بھئی، تو یہ تو اسلام میں کبھی بھی یہ جائز نہیں رہا، اسی طرح علامہ انور شاہ کشمیریؒ بھی فرماتے ہیں کہ یہ جو متعہ آج کل مشہور ہے، جو شیعوں کے ہاں رائج ہے، یہ تو اسلام کے اندر کبھی بھی جائز نہیں رہا کہ بغیر نکاحوں کے جہاں عورت ملے اور وہاں اس کے ساتھ أتَمَتّعُ بکی کے الفاظ کہہ لیں اور بس یہ متعہ ہو گیا، کچھ اجرت کے بدلے میں تھوڑی سی دیر کے لیے، تو کہتے ہیں یہ کبھی بھی شریعت میں جائز نہیں رہا۔
وہ جو اسلام کے اندر بھی شروع کے اندر جو جواز تھا اور جو اجازت دی گئی تھی، اس میں بھی گواہ ہوتے تھے بھئی، اور اس کے اندر وہ شخص کچھ مدت کے لیے نکاح کرتا تھا، لیکن مدت کو ذکر نہیں کرتا تھا، بس دل میں چھپا کر کہ بس میں تو تھوڑی دن کے لیے یہاں آیا ہوں، تو تھوڑے دن کے لیے نکاح کر رہا ہوں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو لہٰذا دل کے اندر جو ہے نیت ہوتی تھی، کچھ مدت کی، لفظوں میں بھی ذکر نہیں کیا جاتا تھا اور گواہ بھی ہوتے تھے، تو عام نکاح کی طرح ہوتا تھا، لیکن بس دل کے اندر نیت تھی کہ یہ میں ہمیشہ کے لیے نکاح، ہمیشہ کے لیے میں نکاح نہیں کر رہا۔
لیکن بعد میں پھر حضور علیہ السلام نے اس سے بھی منع فرما دیا، بات سمجھ میں آ گئی؟
اس کے بعد پھر صاحبِ ہدایہ نے آپ کو یہ بھی بتلایا کہ نکاح مؤقت بھی باطل ہے۔ نکاح مؤقت میں نے بتلایا کہ اس میں نکاح اور تزویج کے الفاظ ہوتے ہیں اور اس میں گواہ بھی ہوتے ہیں، البتہ اس کے اندر تحدید وقت ہوتی ہے، کوئی وقت مقرر کیا جاتا ہے کہ دس دن کے لیے یا چھ ماہ کے لیے یا سال کے لیے۔
تو امام زفرؒ فرماتے ہیں کہ نکاح جو ہے وہ شروط فاسدہ سے فاسد نہیں ہوتا، لہٰذا یہاں پر یہ شرط فاسد ذکر کر دی جو وقت کو ذکر کیا، تو یہ شرط فاسد ہے اور نکاح صحیح ہے اور یہ نکاح مؤبد شمار ہوگا۔
ہم کہتے ہیں نہیں، یہ نکاح کے اندر جب وقت کو ذکر کیا، معلوم ہوا یہ ایجاب و قبول وہ مؤبد کار ہی نہیں رہے، ایجاب و قبول ہی تو یہ نکاح کے ارکان ہیں، انہی سے تو نکاح بن رہا ہے، تو یہ ایجاب و قبول ہی مقیّد ہیں وقت کے ساتھ، لہٰذا ان کو مطلق قرار نہیں دیا جا سکتا کہ نکاح مؤبد ہو گیا، بھئی مؤبد کیسے ہو گیا؟ انہوں نے یہ ایجاب و قبول کیا ہی کچھ وقت کے لیے ہے، تو یہ مؤبد نہیں ہو سکتا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
اور ہم کہتے ہیں کہ یہ شخص جو ہے اس نے وقت کو ذکر کیا تو معلوم ہوا یہ نکاح کر ہی نہیں رہا، متعہ کر رہا ہے اور متعہ تو بالاتفاق باطل ہے، لہٰذا یہ نکاح مؤبد بھی باطل ہے بھئی۔
اور بعض علماء نے ذکر کیا کہ اس کے اندر اگر لمبی مدت ذکر کر دی جائے جو زندگی سے بھی زیادہ ہو، تو پھر متعہ صحیح ہو جائے گا، معلوم ہوا وہ مؤبد نکاح ہی کر رہے ہیں، لیکن صاحبِ ہدایہ نے بتایا کہ نہیں، جب وقت ذکر کر دیا تو پتہ چل گیا یہ متعہ ہو رہا ہے، لہٰذا وہ جائز نہیں ہے، چاہے تھوڑی مدت ذکر کریں چاہے زیادہ۔
اس کے بعد مسئلہ ذکر ہوا، کہ جس شخص نے دو عورتوں سے ایک ہی عقد کے اندر نکاح کیا اور پھر پتہ چلا کہ ان میں سے ایک عورت تو اس شخص پر حرام ہے، یعنی وہ اس کے لیے محل نکاح ہی نہیں ہے، مثلاً وہ اس کی رضاعی بہن ہے بھئی، تو یہ نکاح کے بعد اس کو پتہ چلا، تو کیا دوسری کا نکاح ہو گا یا نہیں؟
تو بتایا کہ ہاں بھئی، دوسری کا نکاح ہو گیا اور یہ جو محلِ نکاح نہیں اس کے ساتھ نکاح نہیں ہوا بھئی، کیونکہ یہ محلِ نکاح ہی نہیں ہے اس کے لیے۔
تو حاصل کلام یہ کہ دو عورتوں سے نکاح کیا جائے اور ان میں سے ایک حرام ہو آدمی کے لیے، تو دوسری کے ساتھ نکاح ہو جائے گا، جبکہ اس کے مقابلے میں بیع کے اندر اگر مبیع کے ساتھ غیر مبیع کو ملا کر بیچا جائے، تو اس صورت میں ساری بیع ہی باطل ہوتی ہے، یہ نہیں کہا جائے گا کہ مبیع کے اندر تو بیع ہو گئی اور دوسری غیر مبیع میں بیع نہیں ہوئی۔ وجہ یہ، کیونکہ بیع جو ہے وہ شروط فاسدہ سے فاسد ہو جاتی ہے، تو ایجاب و قبول تو ایک ہی ہو رہا ہے، تو گویا مبیع کو قبول کرنے کے لیے ساتھ غیر مبیع کے قبول کرنے کی بھی شرط لگا دی، تو یہ شرط فاسد ہے اور شرط فاسد سے بیع بھی فاسد ہو جاتی ہے، اور نیز اس لیے بھی کیونکہ اگر اگر صرف مبیع میں بیع کو جائز قرار دیا جائے، پھر تو تفرقِ صفقتہ لازم آئے گا بھئی۔
کیا لازم آئے گا؟ بھئی یاد رکھو اگر بیع کے اندر کچھ حصے کے اندر بیع فاسد ہے تو سارے میں ہی فاسد ہو جائے گی، یا کچھ حصے میں باطل ہے تو سارے میں ہی بیع باطل ہو جائے گی۔ وجہ اس کی یہ کہ اگر کچھ میں بیع کو باطل قرار دیا جائے اور کچھ میں صحیح قرار دیا جائے تو وہ خریدار یا بیچنے والا مشکل میں پڑ جائے گا۔ کبھی مشکل میں بیچنے والا پڑے گا اور کبھی مشکل میں خریدار پڑ جائے گا کیونکہ سودا تقسیم ہو گیا۔
خریدار تو مثلاً دو غلام اکٹھا خریدنا چاہتا تھا، اب اگر ہم یہ کہیں کہ ایک تو یہی غلام لینا پڑے گا، اس میں بیع ہو گئی ہے، ایک کوئی اور آپ تلاش کر لیں، تو وہ مشکل میں پڑ جائے گا اور نیز اس کے لیے نیز غلام اس کو زیادہ قیمت میں ملیں گے کیونکہ الگ الگ غلام خریدے گا تو پوری پوری قیمت پہ ملے گا اور جب دو اکٹھے کسی ایک ہی آدمی سے خریدے گا تو ظاہر سی بات ہے وہ اکٹھے بیچنے کے لیے قیمت میں کچھ نہ کچھ ضرور کمی کر دے گا۔ تو بیع کے اندر چونکہ تفرقِ صفقتہ لازم آتا ہے، یعنی سودا اور معاملہ تقسیم ہو رہا ہے، لہٰذا وہاں پر کچھ کے اندر فساد آیا تو ساری بیع ہی فاسد ہو جائے گی۔
اور پھر اس کے بعد یہ بھی بتلایا کہ جس کے ساتھ نکاح صحیح ہو گیا، تو امام صاحب فرماتے ہیں اگر مہر دونوں کا ملا کر اکٹھا ذکر کیا تھا، تو پھر سارا مہر اس ایک کا ہی ہو جائے گا جس کے ساتھ عقد صحیح ہوا، کیونکہ وہ دوسری وہ محلِ نکاح ہی نہیں۔ وہ اس مہر کے مستحق ہونے کی اس میں صلاحیت ہی نہیں ہے، تو یہ سارا مہر کس کو مل جائے گا؟ اسی ایک عورت کو جس کے ساتھ نکاح ہو گیا ہے۔
جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ نہیں، سارا مہر اس عورت کو نہیں ملے گا جس کے ساتھ نکاح ہو گیا، بلکہ ان دونوں عورتوں کا مہرِ مثل دیکھا جائے گا۔ مہرِ مثل آگے صاحبِ ہدایہ بھی بتائیں گے، مہرِ مثل اسے کہتے ہیں کہ اس جیسی عورت کا جو مہر ہو۔ مہرِ مثل، یعنی اس کے مثل جو عورت ہے اس کا مہر، اور اس کے مثل عورت یعنی اسی کے خاندان میں دیکھا جائے گا کہ اس جیسی کوئی عورت ہو جو عمر میں بھی اسی جتنی ہو، اور جو حسن و جمال میں بھی اسی کی طرح ہو، اور نیز باکرہ یا ثیّبہ ہونے میں بھی اسی طرح ہو، تو اس جیسی عورت کا جو مہر ہے، وہ اس کا کیا ہے؟ مہرِ مثل ہے بھئی۔
تو ان دونوں عورتوں کے مہرِ مثل کا پتہ چلایا جائے گا، اور پھر ان دونوں کے مہرِ مثل میں جو تناسب ہے، اسی تناسب سے یہ جو مہر ذکر کیا خاوند نے، اس کو تقسیم کر دیں گے، تو ایک کے ساتھ تو نکاح ہوا ہی نہیں، اس کا حصہ تو ساقط ہو جائے گا اور جس کے ساتھ نکاح ہو گیا، تو اس کے حصے میں جو آ رہا ہے، وہ مہر اس کے لیے ہو جائے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
اس کے بعد پھر یہ مسئلہ ذکر ہوا کہ اگر کوئی عورت کسی شخص پر جھوٹا مقدمہ کر دے کہ اس سے میرا نکاح ہو چکا ہے اور یہ مجھے خرچہ اور رہائش نہیں دے رہا، اور وہ عورت دو جھوٹے گواه بھی پیش کر دے اور پھر قاضی ان گواہوں پر فیصلہ بھی کر دے، تو کیا یہ فیصلہ صرف ظاہراً نافذ ہو گا یا باطناً بھی نافذ ہو جائے گا؟
ظاہراً نافذ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ظاہری احکام جاری ہو جائیں گے، جیسے خاوند کے ذمے نفقہ ہوتا ہے، رہائش وغیرہ اور ضروریات پوری کرنا خاوند کے ذمے ہوتا ہے، تو یہ ساری چیزیں خاوند پر آ جائیں گی، اب اس کو یہ ساری چیزیں ادا کرنا پڑیں گی۔
اور باطناً نافذ ہونے کا معنی یہ ہے کہ عند اللہ بھی وہ نافذ ہو جائے بھئی، عند اللہ بھی نافذ ہو جائے (یعنی اب یہ عورت اس کے لیے حلال ہو جائے)۔
تو امام صاحب فرماتے ہیں، ضابطہ یہ ہے امام صاحب کا، کہ اگر، اگر املاکِ مقیدہ کے اندر، جی میں نے بتلایا، ایک ہے املاکِ مقیدہ اور ایک ہے املاکِ مرسلہ۔ املاکِ مقیدہ وہ ہیں جہاں سبب ملکیت کو ذکر کیا جائے، اور املاکِ مرسلہ وہ ہیں جہاں سبب ملکیت کو ذکر نہ کیا جائے۔ مثلاً ایک شخص ایک باندی کے بارے میں دعویٰ کر دیتا ہے کہ میں اس باندی کا مالِک ہوں اور وجہ ذکر نہیں کرتا، تو یہ ہے ملکِ مرسلہ بھئی (یعنی جس میں کوئی سبب ذکر نہیں کہ کس وجہ سے آپ مالک ہیں)۔
اور ایک یہ ہے کہ ساتھ وجہ بھی ذکر کرتا ہے کہ یہ باندی مجھے وراثت میں ملی ہے، یا اس باندی کو میں نے خریدا ہے، یا یہ باندی مجھے فلان تحفے میں دی ہے، تو دیکھو یہ سبب ذکر کر دیا، اس کو کہتے ہیں ملکِ مقید۔
تو امام صاحب کا ضابطہ یہ ہے کہ املاکِ مقیدہ کے اندر اگر کوئی شخص جھوٹی گواہی پیش کر دے اور قاضی اس پر فیصلہ کر دے، تو امام صاحب کے نزدیک قاضی کا یہ فیصلہ ظاہراً بھی نافذ ہو گا اور باطناً بھی نافذ ہو گا۔ جبکہ ملکِ مرسلہ کے اندر قاضی کا فیصلہ ظاہراً نافذ ہو گا اور باطناً نافذ نہیں۔
جبکہ صاحبین اور امام شافعیؒ رحمھما اللہ کے نزدیک قاضی سے اگر گواہی قبول کرنے میں غلطی ہو جائے، یعنی وہ جھوٹی گواہی پر فیصلہ دے دے تو چاہے املاکِ مرسلہ ہوں چاہے املاکِ مقیدہ ہوں، قاضی کا وہ فیصلہ ظاہراً ہی نافذ ہو گا، باطناً نافذ نہیں۔ وہ دونوں میاں بیوی نہیں بنے، لہٰذا خاوند کا اس عورت سے صحبت کرنا یا عورت کا اس کو اپنے اوپر قدرت دینا یہ جائز نہیں ہو گا، یہ حرام رہے گا۔ جبکہ امام صاحب کے نزدیک یہ املاکِ مقیدہ کی قبیل سے ہے، لہٰذا یہ عورت اس کے لیے حلال ہو گئی، یہ میاں بیوی بن گئے، اب خاوند اس سے صحبت بھی کر سکتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
پھر دہرالیں کہ ضابطہ کیا ہوا؟
صاحبین اور امام شافعی رحمھما اللہ کے نزدیک عقد اور فسخ کی بات ہو رہی ہے، عقد یا فسخ کے بارے میں قاضی اگر جھوٹی گواہی پر فیصلہ کر دے، تو یہ فیصلہ صرف ظاہراً نافذ ہو گا، باطناً نافذ نہیں۔ جبکہ امام صاحب کے نزدیک عقد اور فسخ میں قاضی نے یہ جو جھوٹی گواہی پر فیصلہ کیا ہے، یہ ملکِ مقید کے اندر کیا ہے یا ملکِ مرسلہ میں؟ اگر ملکِ مقید کے اندر یہ فیصلہ کیا ہے، تو ظاہراً بھی نافذ، باطناً بھی نافذ، اور اگر ملکِ مرسلہ پر کیا ہے، تو ظاہراً نافذ ہے، باطناً نافذ نہیں ہے بھئی۔
تو صاحبین نے یہ جو جھوٹی گواہ ہیں، ان کو قیاس کیا تھا ان گواہوں پر جو کافر ہوں یا غلام ہوں۔ آپ نے پڑھا ہے کہ گواہوں میں چار صفات کا ہونا لازم ہے، ورنہ مسلمان کے خلاف اس کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی، کہ وہ گواہ آزاد ہو، عاقل ہو، بالغ ہو اور مسلمان ہو۔ یہ چار صفات گواہ میں ہوں گی، تو پھر ہی قاضی اس کی گواہی قبول کر سکتا ہے مسلمان کے خلاف، ورنہ قبول نہیں کر سکتا۔
اب قاضی نے کسی معاملے میں فیصلہ کر دیا دو گواہوں پر، اور بعد میں پتہ چلا کہ وہ گواہ تو غلام تھے، وہ تو مسلمان کے خلاف گواہ بن ہی نہیں سکتے، یا وہ دو گواہ تو کافر تھے، اور کافر بھی مسلمان کے خلاف گواہ بن ہی نہیں سکتا، لیکن قاضی تو فیصلہ کر چکا ہے، تو ان گواہوں کے اندر جو غلام یا کافر تھے، اس میں امام صاحب بھی فرماتے ہیں کہ قاضی کا فیصلہ صرف ظاہراً نافذ ہے، باطناً نافذ نہیں۔
تو صاحبین فرماتے ہیں دیکھا اس مسئلے کے اندر تو بالاتفاق سب کے نزدیک قاضی کا فیصلہ ظاہراً نافذ ہو رہا ہے، قاضی نے غلطی کر دی گواہی قبول کرنے میں، تو جیسے وہاں قاضی نے غلطی کی، اسی طرح یہ جو گواہ جنہوں نے جھوٹی گواہی دی، اس میں بھی قاضی نے غلطی کی ہے، تو یہ بھی صرف ظاہراً نافذ ہونا چاہیے۔
جبکہ امام صاحب فرماتے ہیں کہ ان گواہوں کو آپ وہ کافر اور غلام گواہوں پر قیاس نہیں کر سکتے، اس لیے کہ کفر یا غلامی کا پتہ آرام سے چل سکتا ہے، ذرا سی تحقیق کروائی جائے تو پتہ چل جائے گا کہ یہ گواہ غلام ہیں یا کافر ہیں، جبکہ ایک شخص سچ بول رہا ہے یا جھوٹ بول رہا ہے، اس کا پتہ نہیں چل سکتا۔ بھئی بعض جگہ تو قرینے ہوتے ہیں، کوئی اور دلائل موجود ہوتے ہیں جس سے پتہ چل جاتا ہے کہ یہ سچ بول رہا ہے یا جھوٹ۔ بات اس محل کی چل رہی ہے جہاں ایسا کوئی قرینہ اور دلیل وغیرہ موجود نہیں ہے، اب وہاں پر اس شخص کے سچ کا پتہ نہیں چل سکتا، تو ان گواہوں کو ان کافر اور غلام گواہوں پر قیاس نہیں کر سکتے، ان کا حکم الگ ہو گا اور ان کا حکم الگ ہو گا۔
اور نیز امام صاحب فرماتے ہیں کہ اس فیصلے کو قاضی نے یہ جو ملکِ مقید پر فیصلہ کیا ہے، اس کو باطناً نافذ کرنا بھی ممکن ہے۔ جب باطناً نافذ کرنا ممکن ہے، تو اس کو باطناً بھی نافذ کر دیا جائے گا تاکہ مسلمانوں کے درمیان جھگڑا پورے طور پر ختم ہو جائے، کیونکہ قاضی کے فیصلے کا مقصد کیا ہوتا ہے؟ کہ لوگوں کے درمیان جھگڑا ختم ہو جائے اور جھگڑا کامل طور پر تب ہی ختم ہوگا جب کہا جائے کہ یہ ظاہراً بھی نافذ ہے فیصلہ اور باطناً بھی۔ اور اگر صرف ظاہراً نافذ کیا جائے تو معلوم ہوا جھگڑا پوری طرح ختم نہیں ہوا، تو کہتے ہیں اس کو باطناً نافذ کیا جا سکتا ہے، وہ اس طرح کہ انہوں نے سبب ذکر کیا ہے باقاعدہ، ان گواہوں نے آ کر کہا کہ یہ عورت واقعی نفقہ اور سکنیٰ کی مستحق ہے، کیوں؟ کیونکہ اس عورت نے اس آدمی سے نکاح کیا ہے بھئی۔
تو دیکھو انہوں نے سبب ذکر کر دیا ہے کہ عورت نفقہ اور سکنیٰ کے حق کی مالک ہے اور مالک کس وجہ سے ہے؟ سبب ذکر کر رہے ہیں نکاح کو، تو یہ ملکِ مقید کی قبیل سے ہوا یہ مسئلہ، اور اس کو باطناً بھی نافذ کیا جا سکتا ہے کہ اس قاضی کے فیصلے سے پہلے اس نکاح کو مقدر مان لیا جائے۔ وہ جو سبب انہوں نے ذکر کیا ہے، اس کو مقدر مان لیا جائے یعنی یوں کہو اس کو اقتضاءً مان لیا جائے، کیونکہ قاضی کا یہ فیصلہ تقاضا کر رہا ہے، جیسے میں نے مثال ذکر کی تھی، ایک شخص اپنی بیوی کو یا طالق کہہ کر پکارتا ہے، تو عند الفقہاء اس عورت کو طلاق ہو گئی۔ وجہ یہ کہ بھئی خاوند اس کو یا طالق کہہ رہا ہے، خاوند ہی کے تو ہاتھ میں اس کی طلاقیں ہیں اور خاوند اس کو یا طالق کہہ رہا ہے، تو خاوند کا یہ کلام تبھی صحیح ہو سکتا ہے جب اس کو پہلے طلاق وہ دے چکا ہو، اس کے بغیر تو اس کا کلام صحیح ہی نہیں بنتا، یا طالق کہنا صحیح ہی نہیں بنتا، تو لہٰذا یہاں اقتضاءً طلاق مان لی جائے گی کہ اے وہ شخص جو طلاقوں کا مالک ہے، تم اپنی بیوی کو یا طالق کہہ رہے ہو، معلوم ہوا تم طلاق دے چکے ہو، ورنہ تم کبھی بھی اپنی بیوی کو یا طالق نہ کہتے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
تو وہاں اقتضاءً طلاق کو مان لیا جائے گا کیونکہ طلاق کا مالک یا طالق کہہ رہا ہے، تو اس کا کلام صحیح کرنے کی صورت ہی یہ ہے کہ اس سے پہلے اقتضاءً طلاقِ مستر کو مان لیا جائے۔
تو یہاں پر بھی قاضی فیصلہ کر رہا ہے نفقہ اور رہائش وغیرہ کا، تو قاضی کے فیصلے کو باطناً نافذ کرنا یہاں ممکن ہے کہ اس قاضی کے فیصلے سے پہلے اس نکاح کو مقدر مان لیا جائے (یعنی جس عقد کا، جس عقد پر وہ فیصلہ کر رہا ہے اس کو اقتضاءً پہلے مان لیا جائے)۔
اور اگر اس دعویٰ کرنے والے نے اور اس کے گواہوں نے سبب ذکر نہیں کیا، تو پھر یہ ملکِ مرسلہ کی قبیل سے ہوا، اور ملکِ مرسلہ کے اندر پھر اقتضاءً کسی چیز کو ہم ماقبل میں مقدر نہیں مان سکتے، اس لیے کہ اس نے کوئی سبب ہی ذکر نہیں کیا۔ وہ بیع ذکر کرتا تو ہم اقتضاءً بیع کو پہلے مان لیتے، وہ تحفے کو ذکر کرتا یعنی ہبہ کو، تو ہم اقتضاءً پہلے ہبہ مان لیتے، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ وہ نکاح کو ذکر کرتا تو ہم پہلے نکاح کو مان لیتے، لیکن اس نے کوئی سبب ذکر ہی نہیں کیا، تو لہٰذا یہاں اقتضاءً کسی ایک سبب کو ترجیح دے کر اس کو ثابت نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اسباب کے اندر تزاحم ہے، ٹکراؤ ہے، مقابلہ ہے، ہر سبب کے احکام الگ الگ ہیں، ہر ایک کے ذریعے ملکیت آ رہی ہے، خریدے گا تو بھی مالک بن جائے گا، وراثت میں چیز ملے گی تب بھی مالک بن جائے گا، ہبہ ملے گا، تحفہ ملے گا تب بھی مالک بن جائے گا، تو لیکن ہر ایک کے احکام الگ الگ ہیں۔ تو لہٰذا ہم کسی ایک کو بھی ترجیح نہیں دے سکتے اپنی طرف سے، کیونکہ ملکیت تو ہر ایک سے آ رہی ہے، اور آپ کسی ایک کو ترجیح دے دیں، بھئی کس وجہ سے آپ ترجیح دے رہے ہیں؟ ترجیح کی یہاں کوئی صورت ہی نہیں ہے۔
تو یہ جو اسباب ہیں، ان کے درمیان ٹکراؤ ہے، کیا معنی ٹکراؤ ہے؟ یعنی اگر آپ ایک کو ترجیح دیتے ہیں، تو باقی اسباب بھی سامنے کھڑے ہیں کہ بھئی باقیوں کو کیوں نہیں ترجیح دے رہے، مقابلے میں اور بھی موجود ہیں۔ آپ دوسرے کو ترجیح دے دیں، تو باقی ابھی بھی مقابلے میں موجود ہیں کہ بھئی آپ اس ایک کو کیوں ترجیح دے رہے ہیں، باقیوں کو کیوں نہیں ترجیح دے رہے؟ بات سمجھ میں آ گئی۔
تو لہٰذا حاصل کلام یہ: صاحبین اور امام شافعی رحمھما اللہ کے نزدیک عقد اور فسخ میں قاضی اگر جھوٹی گواہی پر فیصلہ کر دے تو اس کا فیصلہ صرف ظاہراً نافذ ہوتا ہے، باطناً نہیں، جبکہ امام صاحب کے نزدیک عقد اور فسخ میں اگر ملکِ مقید پر قاضی فیصلہ کر رہا ہے جھوٹی گواہی پر، تو یہ ظاہراً بھی نافذ ہوگا اور باطناً بھی نافذ، اور اگر ملکِ مرسلہ پر قاضی فیصلہ کر رہا ہے تو ظاہراً نافذ ہے، باطناً نافذ نہیں ہے بھئی۔
اب آئیے آج کے سبق پر: باب فی الاولیاء والأکفاء، وینعقد نکاح الحرۃ العاقلۃ البالغۃ برضاھا وان لم یعقد علیھا ولیّ بکرًا کانت أو ثیّبًا، عند أبی حنیفۃ وأبی یوسف رحمھما اللہ تعالیٰ فی ظاہر الروایۃ۔
باب فی الاولیاء والأکفاء یہ باب ہے اولیاء اور اکفاء کے بیان میں۔ اولیاء جمع ہے ولی کی، اور ولی اس کو کہتے ہیں جس کو ولایت حاصل ہو، اور یہ بات پہلے ذکر ہو چکی کہ ولایت اس کو کہتے ہیں کہ غیر پر کسی کا قول نافذ ہو، چاہے وہ مانے یا نہ مانے۔ جیسے دیکھو شریعت نے باپ کو اختیار دیا ہے، وہ اپنے چھوٹے بچوں کا جہاں چاہے نکاح کر سکتا ہے۔
جہاں باپ نکاح کروائے گا، ان کا نکاح ہو جائے گا، اور وہ بالغ ہونے کے بعد بھی اب اس نکاح کو رد نہیں کر سکتے بھئی۔ تو دیکھو باپ کو جو شریعت نے یہ اختیار دیا، کہ باپ کا عقد ان پر نافذ ہو گیا، باپ کا قول ان پر نافذ ہو گیا، چاہے وہ مانے یا نہ مانے ہر حال میں، تو اس کو کہتے ہیں ولایت۔ تو باپ کیا ہوا؟ ولی۔ یعنی یوں کہو، ولایت کہتے ہیں کہ ایک آدمی کو دوسرے آدمی پر اختیار ہو بھئی، کسی معاملے کے اندر اختیار ہو تو اس کو ولایت کہتے ہیں، اور جو صاحبِ اختیار ہے یعنی جس کے پاس اختیار ہے، اس کو ولی کہتے ہیں۔
تو اس باب کے اندر صاحبِ ہدایہ اولیاء کے بارے میں بیان فرمائیں گے کہ کس کس کو ولایتِ نکاح حاصل ہوتی ہے، کون دوسرے کا نکاح کروا سکتا ہے، جیسے میں نے مثال ذکر کر دی کہ نابالغ بیٹا یا بیٹی ہو، تو باپ کو ان کا نکاح کروانے کا اختیار حاصل ہے، تو باپ ان کا ولی ہوا، کیا ہوا؟ ولی ہوا۔ تو کس کس کو یہ ولایت حاصل ہوتی ہے، اس کو صاحبِ ہدایہ بیان فرمائیں گے۔
اور نیز اکفاء کا بیان ہو گا، اکفاء کُفء سے ہے کُفء ان بھئی، ہمزہ ہے آخر میں، اور کفاءت کہتے ہیں برابری کو، کفاءت کا کیا معنی ہے؟ برابری۔ لوگ بھئی رشتے وغیرہ کرتے ہوئے کفاءت کا خیال رکھتے ہیں۔ بہت سی چیزیں ہیں جن پر لوگ فخر کرتے ہیں، مثلاً خاندان ہے، جس کا جتنا اچھا خاندان ہوتا ہے، آپ دیکھتے ہیں کہ وہ اس پر فخر کرتے ہیں، اسی طرح مال و دولت پر بھی لوگ فخر کرتے ہیں، جس کے پاس جتنی زیادہ دولت ہوتی ہے، وہ اتنا فخر کرتا ہے، اسی طرح پیشوں پر بھی لوگ فخر کرتے ہیں، جس کا جتنا اعلیٰ پیشہ ہوتا ہے، وہ اس پر فخر کرتا ہے۔ تو لہٰذا جب رشتہ کیا جاتا ہے، تو عموماً ان چیزوں میں برابری کو دیکھا جاتا ہے، ادنیٰ لوگوں کو لوگ اپنی بیٹی نہیں دیتے، خاندان ادنیٰ ہے یا مال میں کمزور ہیں، یا پیشہ ان کا کم درجے والا ہے، تو عموماً لوگ ان کے ساتھ رشتہ نہیں کریں گے بھئی۔
تو نکاح کے اندر ان چیزوں کے اندر کفاءت معتبر ہے، کیا ہے؟ کفاءت معتبر ہے، مثلاً آپ کو آگے بتائیں گے کہ عند الأحناف عاقل، بالغ لڑکی اپنا نکاح خود کر سکتی ہے، اور وہ خود اپنا نکاح کرے گی تو وہ منعقد ہو جائے گا، لیکن وہ اپنے برابر کے لوگوں میں ہونا چاہیے، اپنے برابر کے لوگوں میں، یعنی خاندان کے اعتبار سے، مال کے اعتبار سے اور پیشوں کے اعتبار سے، وہ جو لڑکے والے ہیں وہ ان کے برابر کے ہونے چاہیے۔
اس کو کہیں گے اس نے کف میں نکاح کیا ہے، کس میں؟ کف میں۔ نکاح کیا ہے، اور اگر یہ لڑکی غیر کف میں نکاح کرتی ہے، یعنی اپنے سے کمتر خاندان کے اندر، تو فتویٰ اس پر ہے کہ یہ نکاح منعقد ہی نہیں ہوگا۔
یہ نکاح منعقد ہی نہیں ہوگا۔
دیکھیے بھئی کتاب پر، کہتے ہیں باب فی الاولیاء والأکفاء یہ باب ہے اولیاء کے بیان میں والأکفاء اور ہم پلّہ لوگوں کے بیان میں، اکفاء جمع ہے کُفء ان کی، اور ہم پلّہ اور برابر کے لوگوں کو کہتے ہیں، ہم رتبہ لوگوں کو کہتے ہیں۔ تو باب فی الاولیاء والأکفاء یہ باب ہے اولیاء اور اکفاء (یعنی ہم پلّہ اور ہم مرتبہ لوگوں) کے بیان میں۔
یہ اکفاء کا آگے صاحبِ ہدایہ تفصیل سے بیان فرمائیں گے، پوری فصل ذکر کریں گے کہ کون لوگ برابر کے ہیں اور کون لوگ برابر کے نہیں ہیں۔
تو کہتے ہیں وینعقد نکاح الحرۃ العاقلۃ البالغۃ برضاھا وان لم یعقد علیھا ولیّ کہ منعقد ہو جاتا ہے آزاد، عاقلہ، بالغہ عورت کا نکاح برضاھا اس کی اپنی مرضی سے، وان لم یعقد علیھا ولیّ اگرچہ ولی اس پر عقد نہ باندھے، اگرچہ ولی اس کا نکاح نہ کروائے، یہ خود اپنی مرضی سے نکاح کر لے، تو نکاح ہو جائے گا، لیکن شرط یہ ہے اپنے برابر کے لوگوں میں ہونا چاہیے، اگر اپنے سے ادنی درجے کے لوگوں میں کیا تو یہ نکاح ہوگا ہی نہیں۔
تو کہتے ہیں وان لم یعقد علیھا ولیّ بکرًا کانت أو ثیّبًا باکرہ ہو یہ او ثیّبًا یا غیر باکرہ (یعنی چاہے کنواری ہو چاہے غیر کنواری، غیر کنواری ہے، مثلاً پہلے ایک جگہ نکاح ہو چکا تھا، اور پھر خاوند سے علیحدگی ہو گئی، تو یہ اب ثیّبہ ہے بھئی، باکرہ نہیں۔ تو نکاح کرنے والی عورت چاہے باکرہ ہو چاہے ثیّبہ ہو، وہ اپنی مرضی سے جہاں چاہے نکاح کر سکتی ہے، وہ نکاح منعقد ہو جائے گا، چاہے ولی خوش ہو چاہے نہ خوش ہو بھئی، چاہے اس کو بتایا ہے، چاہے اس کو نہیں بتایا، لیکن اپنے برابر کے لوگوں میں ہونا چاہیے۔
اگر اپنے سے کمتر درجے کے لوگوں میں کیا تو یہ نکاح ہوگا ہی نہیں۔
ہمارے نزدیک یاد رکھو، ضابطہ یہ ہے کہ جس شخص کو اپنے مال میں تصرف کا حق حاصل ہے، اس کو اپنی ذات کے بارے میں بھی تصرف کا حق حاصل ہے، وہ جہاں نکاح کرنا چاہے کر سکتا ہے۔
اور عاقلہ بالغہ اگر اس کے پاس مال ہے، تو وہ اپنے مال میں جیسے چاہے تصرف کر سکتی ہے، جہاں چاہے خرچ کرے، کوئی اس پر پابندی نہیں لگا سکتا، تو جب اس کو مال کے بارے میں تصرف کا حق ہے، تو اپنی ذات کے بارے میں بھی اس کو تصرف کا حق حاصل ہوگا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
پھر ترجمہ دیکھ لیجئے: وینعقد نکاح الحرۃ العاقلۃ البالغۃ برضاھا وان لم یعقد علیھا ولیّ کہ آزاد، عاقلہ، بالغہ کا نکاح منعقد ہو جاتا ہے اس کی رضامندی سے، وان لم یعقد علیھا ولیّ اگرچہ ولی نے اس پر عقد نہ باندھا ہو، بکرًا کانت أو ثیّبًا چاہے وہ آزاد عاقلہ بالغہ جو ہے، باکرہ ہو او ثیّبہ یا ثیّبہ ہو (یعنی چاہے کنواری ہو یا غیر کنواری) عند أبی حنیفۃ وأبی یوسف رحمھما اللہ یہ شیخین رحمھما اللہ کے نزدیک ہے، فی ظاہر الروایۃ کس میں؟ ظاہرِ روایت میں۔ ظاہرِ روایت بھئی، یہ تمام طلباء کو ہمیشہ یاد ہونا چاہیے کہ یہ ظاہرِ روایت کسے کہتے ہیں؟ یاد رکھو، ظاہرِ روایت امام محمد رحمہم اللہ کی چھ کتابیں جو ہیں وہ ظاہرِ روایت کہلاتی ہیں۔
مبسوط، زیادات، جامع صغیر، جامع کبیر، سیر صغیر اور سیر کبیر۔
یہ فقہ کے طالب علم کو ہر وقت یہ یاد ہونا چاہیے بھئی۔ تو یہ جو امام محمد رحمہم اللہ کی چھ کتابیں ہیں، یہ ظاہرِ روایت کہلاتی ہیں، وجہ یہ کہ ان کو روایت کرنے والے ہر ہر زمانے میں اتنے زیادہ لوگ ہیں کہ ان میں کسی کسی قسم کا شک و شبہ نہیں۔
معلوم ہوا یہ قطعی اور یقینی طور پر امام محمد رحمہم اللہ کی کتابیں ہی ہیں۔ اور جبکہ ان کے علاوہ جو کتابیں ہیں، وہ نوادر کہلاتے ہیں۔ (یعنی ان کے روایت کرنے والے اتنے زیادہ نہیں) تو وہاں تو شک و شبہ آ سکتا ہے کہ پتہ نہیں یہ امام محمد رحمہم اللہ کی وہی تصنیف ہے یا وہ نہیں ہے، یا اس میں کچھ ردوبدل تو نہیں کر دیا گیا، تو ان میں یہ شک و شبہ آ سکتا ہے، لیکن یہ جو ظاہرِ روایت ہیں، یہ تواتر کی طرح منقول ہیں، یعنی ہر زمانے میں ان کو نقل کرنے والے بہت زیادہ ہیں، اتنے زیادہ ہیں کہ عقل ان کے اجتماع علی الكذب کو محال سمجھتی ہے بھئی۔
تو یہ چھ کتابیں ہیں، کون سی چھ کتابیں؟ مبسوط، زیادات، جامع صغیر، جامع کبیر، سیر صغیر اور سیر کبیر بھئی، یہ چھ کتابیں ظاہرِ روایت۔ اور باقی کتابیں جو ہیں نوادر کہلاتی ہیں امام محمد رحمہم اللہ کی، اور یاد رکھنا امام محمد رحمہم اللہ کی بہت زیادہ تصانیف ہیں، حتیٰ کہ بعض علماء نے لکھا کہ ان کی تصانیف کی تعداد ایک ہزار ہے بھئی، ایک ہزار، اور ایسی ایسی تصانیف ہیں کہ انسان دیکھتا ہے تو حیران رہ جاتا ہے۔
ایسی فصیح و بلیغ عبارتیں ہیں کہ انسان دیکھتا ہے تو حیران رہ جاتا ہے بھئی، جیسے کہتے ہیں کہ ایک شخص جو تھا کوئی بڑا عالم تھا عیسائیوں یا یہودیوں کا اور وہ مسلمان ہو گیا بھئی۔
کسی نے پوچھا مسلمان ہونے کی وجہ پوچھی کہ آپ کیوں مسلمان ہو گئے؟ تو انہوں نے کہا کہ میں نے امام محمد رحمہم اللہ کی کتاب جامع کبیر دیکھی، یہ اتنی کمال کی کتاب ہے اور اتنی فصیح و بلیغ عبارتیں ہیں اس کی کہ اگر امام محمد یہ کتاب لکھ کر دعوائے نبوت کر دیتے کہ میں پیغمبر ہوں، دیکھو میں نے ایسی کتاب لکھی ہے، کوئی لکھ کر دکھائے بھئی ایسی کتاب، تو یقیناً وہ اس پر دعویٰ کر سکتے تھے، یعنی اتنی عظیم انہوں نے کتاب لکھی ہے، لیکن یہ کتاب لکھنے والا (یعنی امام محمد رحمہم اللہ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہیں، جب ایک امتی کا یہ حال ہے تو پیغمبر کا کیا حال ہو گا، آپ خود ہی اندازہ لگا سکتے ہیں، تو اس وجہ سے پھر میں مسلمان ہو گیا بھئی۔
تو امام محمد رحمہم اللہ کی کوئی ہزار تصانیف ہیں بھئی۔
تو یہ کس کا مذہب ہوا؟ شیخین رحمھما اللہ کا کہ عاقلہ بالغہ اپنی مرضی سے نکاح کر سکتی ہے، وعن أبی یوسفؒ أنہ لا ینعقد إلا ولیّ اور امام ابو یوسفؒ سے روایت ہے کہ عاقلہ بالغہ کا نکاح منعقد نہیں ہوگا، الا ولیّ مگر ولی کے ذریعے، ولی کروائے گا تو نکاح ہوگا ورنہ خود نکاح نہیں ہوگا، وعند محمدؒ ینعقد موقوفًا اور امام محمدؒ کے نزدیک یہ عاقلہ بالغہ نے جو اپنا نکاح خود کروایا ہے، یہ منعقد تو ہو جائے گا لیکن موقوف رہے گا۔
موقوف ہو کر منعقد ہو جائے گا (یعنی ولی اجازت دے گا تو یہ نکاح نافذ ہو جائے گا، اگر ولی نے اجازت نہ دی تو پھر یہ نافذ نہیں ہوگا)۔ تو یہ ولی کی اجازت پر موقوف رہے گا۔ یہ معنی ہے وعند محمدؒ ینعقد موقوفًا اور امام محمدؒ کے نزدیک یہ عاقلہ بالغہ کا نکاح موقوف ہو کر منعقد ہو جائے گا۔
وقال مالک وشافعیؒ رحمھما اللہ لا ینعقد النکاح بعبارۃ النساء أصلاً امام مالک اور امام شافعی رحمھما اللہ فرماتے ہیں کہ عورتوں کی عبارت سے، عورتوں کے ایجاب و قبول سے نکاح منعقد ہی نہیں ہوتا۔
یعنی ان کے نزدیک ولی اجازت دے بھی دے، پھر بھی عورت اپنا نکاح خود کرے وہ نکاح منعقد ہی نہیں ہوگا کیونکہ نکاح عورتوں کی عبارت سے من عقد نہیں ہوتا بھئی۔
بات سمجھ میں آ گئی؟
تو کہتے ہیں وقال مالک وشافعیؒ رحمھما اللہ لا ینعقد النکاح بعبارۃ النساء أصلاً امام مالک اور امام شافعی رحمھما اللہ فرماتے ہیں کہ عورتوں کی عبارت سے، عورتوں کے ایجاب و قبول سے نکاح منعقد ہی نہیں ہوتا، یعنی ان کے نزدیک ولی اجازت دے بھی دے، پھر بھی عورت اپنا نکاح خود کرے وہ نکاح منعقد ہی نہیں ہوگا کیونکہ نکاح عورتوں کی عبارت سے من عقد نہیں ہوتا بھئی۔
بات سمجھ میں آ گئی؟
تو کہتے ہیں وقال مالک وشافعیؒ رحمھما اللہ لا ینعقد النکاح بعبارۃ النساء أصلاً اور امام مالک اور امام شافعی رحمھما اللہ فرماتے ہیں کہ نکاح من عقد ہوتا ہی نہیں عورتوں کی عبارت سے، اصلاً یعنی قطعاً قطعاً طور پر۔ لان النکاح یُراد لمقاصدہ دلیل ذکر کر رہے ہیں امام مالک اور امام شافعی رحمھما اللہ کی۔
وہ فرماتے ہیں نکاح عورتوں کی عبارت سے (یعنی عورتوں کے ایجاب و قبول سے منعقد ہی نہیں ہوگا) لان النکاح یُراد لمقاصدہ اس لیے کیونکہ نکاح جو ہے اس کا ارادہ کیا جاتا ہے نکاح کے مقاصد کی وجہ سے۔ بھئی نکاح کے مقاصد ہوتے ہیں، نکاح کے ذریعے ایک نیا خاندان آباد کرنا ہے، گھر بسانا ہے، اولاد حاصل ہوگی، اولاد کی تربیت کرنی ہے، گھر کا نظام چلانا ہے، تو نکاح کے بہت سے فائدے ہوتے ہیں، ان مقاصد کے لیے نکاح کیا جاتا ہے، اور اگر یہ معاملہ عورتوں کے سپرد کر دیا جائے تو عورتوں کے اندر اتنی عقل نہیں ہوتی، وہ اتنی سمجھدار نہیں ہوتیں، لہٰذا ان مقاصد میں خلل آئے گا، خرابی آ جائے گی، لہٰذا اس لیے عورتوں کو نکاح کرنے کی اجازت نہیں ہے، ان کی عبارت سے نکاح من عقد ہی نہیں ہوگا بھئی۔
تو کہتے ہیں لان النکاح یُراد لمقاصدہ اس لیے کیونکہ نکاح جو ہے اس کا ارادہ کیا جاتا ہے نکاح کے مقاصد کے لیے والتفویض إلیھن مخل بھہا، فوز یفوض التفویض کا معنی ہے سپرد کرنا۔ مخل کا معنی ہے خلل ڈالنے والا۔
التفویض إلیھن اور اس نکاح کو ان عورتوں کے سپرد کرنا، مخل بھھا وہ ان مقاصد میں خلل ڈالنے والا ہے (یعنی پھر وہ مقاصد حاصل نہیں ہو سکیں گے پوری طرح اور ان میں خرابی آ جائے گی)۔
إلا أن محمداً رحمھ اللہ یقول یرتفع الخلل بإجازۃ الولی البتہ امام محمد رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ وہ خلل اٹھ جائے گا ولی کی اجازت سے۔ امام محمد نے کیا فرمایا تھا؟
کہ نکاح عورت کی عبارت سے من عقد تو ہو جائے گا لیکن موقوف رہے گا، نافذ نہیں ہوگا جب تک ولی اجازت نہ دے۔ تو وہ فرما رہے ہیں کہ دیکھو، عورت جو ہے اپنا نکاح کر رہی ہے، تو خود نفس نکاح کے اندر کوئی خرابی نہیں ہے۔
بھئی نکاح کوئی خراب چیز ہے یا اچھی چیز ہے؟
اچھی چیز ہے۔ تو نفس نکاح میں کوئی خرابی نہیں ہے، کہ جس کی وجہ سے ہم نے منع کیا ہو۔ ہم نے منع اس لیے کیا ہے، کیونکہ نکاح کے مقاصد میں خلل آئے گا، اس لیے ہم نے کہا کہ اس کو ولی سے اجازت لینی چاہیے، پھر نکاح کرنا چاہیے۔
اور جب ولی اجازت دے دے گا تو وہ جو خلل اور خرابی تھی، وہ دور ہو جائے گی۔
یہ معنی ہے إلا أن محمداً رحمھ اللہ یقول یرتفع الخلل بإجازۃ الولی مگر ایک امام محمد رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ یہ جو خلل اور خرابی آ رہی ہے، ان عورتوں کی عقل کم ہونے کی وجہ سے، تو یہ اٹھ جائے گی، یَرْتَفِعُ الخلل یہ خرابی اٹھ جائے گی، دور ہو جائے گی بإجازۃ الولی ولی کی اجازت سے۔ تو وہ اس لیے کہتے ہیں کہ ولی کی اجازت پر موقوف ہے، جب ولی کی اجازت ساتھ شامل ہو جائے گی، تو پھر یہ خرابی سے بچاؤ ہو جائے گا۔
آگے دیکھیے: ووجہ الجواز اب جواز کی وجہ ذکر کر رہے ہیں متن میں کیا فرمایا تھا؟
کہ عاقلہ بالغہ اپنا نکاح کرے گی تو منعقد ہو جائے گا چاہے یہ باکرہ ہو چاہے ثیّبہ ہو شیخین رحمھما اللہ کے نزدیک، اب اس کی وجہ ذکر کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں ووجہ الجواز اور اس نکاح کے جائز ہونے کی وجہ یہ ہے کہ أنھا تصرفّت فی خالص حقھا کہ اس عورت نے خالص اپنے حق میں تصرف کیا ہے۔
یہ عورت جو اپنا نکاح کر رہی ہے یہ جو عاقلہ بالغہ ہے، یہ خالص اپنے حق میں تصرف کر رہی ہے، کسی اور کے حق میں یہ دخل نہیں دے رہی، تو یہ خالص اپنے حق میں تصرف کر رہی ہے، وھی من أہلہ اور یہ اہل تصرف بھی ہے۔
(یعنی یہ آزاد ہے، عاقلہ بالغہ ہے اور آزاد اور عاقل بالغ وہ صاحبِ تصرف ہوتا ہے، وہ اپنے مال کے اندر بھی تصرف جیسے چاہے کرنا چاہے کر سکتا ہے، اسی طرح وہ اپنی جان میں بھی جیسے تصرف کرنا چاہے کر سکتا ہے)۔
تو کہتے ہیں وھی من أھلہ اور یہ (یہ عاقلہ بالغہ آزاد عورت جو ہے) یہ من أھلہ یہ اہل تصرف ہے، لکونھا عاقلۃ ممیزۃ اس لیے کیونکہ یہ عاقلہ ہے، ممیزہ ہے (یعنی سمجھدار ہے)۔
شیخین کیا فرماتے ہیں یہ عورت اپنا نکاح خود کر سکتی ہے، کیونکہ یہ عاقلہ ہے، یہ اچھے برے کو سمجھتی ہے بھئی، تو لہٰذا اس کو نکاح کی اجازت ہے۔ یہ معنی ہے کہ یہ عورت جو ہے اہل تصرف ہے لکونھا عاقلۃ ممیزۃ اس لیے کیونکہ یہ عقل والی ہے، ممیزۃً اچھے برے میں فرق کرنے والی ہے، امتیاز کرنے والی ہے، ولهذا کان لھا التصرف فی المال اور اسی وجہ سے اس کو مال میں بھی تصرف کا حق ہوتا ہے۔
اس کے پاس مال ہو تو جہاں چاہے خرچ کر سکتی ہے، شریعت کی طرف سے کوئی پابندی اس پر نہیں ہے بھئی۔ تو معلوم ہوا دیکھو اس کو مال میں بھی اسی لیے تصرف کا حق ہے، ونیز ولھا اختیارُ الأزواجِ نیز اس عاقلہ بالغہ آزاد کو خاوند اختیار کرنے کا بھی حق ہے۔
اس کو خاوند اختیار کرنے کا بھی حق ہے، چنانچہ اسی لیے جب باپ بیٹی کا نکاح کرواتا ہے تو جا کر پوچھتا ہے کہ تمہاری اجازت ہے، میں یہاں نکاح تمہارا کروا دوں۔ اگر وہ رد کر دے گی تو نکاح ہی نہیں ہوگا، تو معلوم ہوا یہ اس کو خاوند کے بھی اختیار کرنے کا حق دیا ہے شریعت نے، کہ جس خاوند کے بارے میں انکار کرے، اس کے ساتھ اس کا زبردستی نکاح نہیں کروایا جا سکتا۔
تو کہتے ہیں ولاھا اختیارُ الأزواجِ اور اس عاقلہ بالغہ آزاد کو اپنا خاوند اختیار کرنے کا بھی حق ہے، وإنما یطالب الولی بالتزویج یہ ایک سوال کا جواب دے رہے ہیں۔ سوال یہ کہ آپ نے ہمیں کہا کہ یہ جو عاقلہ بالغہ آزاد ہے یہ خالص اپنے حق میں تصرف کر رہی ہے، اور نیز یہ صاحبِ تصرف بھی ہے، اسی لیے یہ اپنے مال میں بھی تصرف کر سکتی ہے، اور نیز اس کو خاوند اختیار کرنے کا بھی حق ہے، کہ جس خاوند کے بارے میں انکار کرے اس کے ساتھ اس کا زبردستی نکاح نہیں کروایا جا سکتا، تو پھر اس کے ولی کو کیوں کہا جاتا ہے، پیغامِ نکاح ولی کو کیوں بھیجتے ہیں؟ براہ راست کس کو کیوں نہیں بھیجا جاتا؟
تو شادی کا پیغام ولی کو بھیجا جاتا ہے، باپ وغیرہ کو شادی کا پیغام بھیجا جاتا ہے، لڑکی کو نہیں بھیجا جاتا براہِ راست، اس کی پھر کیا وجہ ہے، جب سارا اختیار اسی کے پاس ہے۔ کہتے ہیں اس لیے کہ شریعت بھی یہی درس دیتی ہے کہ اس کے اولیاء کو پیغامِ نکاح بھیجو۔
اور عرف میں عرف کہتے ہیں عام لوگوں کی عادت، اور عام لوگوں کی عادت اور طریقہ بھی یہی ہے، براہِ راست لڑکی کو پیغامِ نکاح نہیں بھیجا جاتا بلکہ اس کے اولیاء کو پیغامِ نکاح بھیجا جاتا ہے۔
وہ اس لیے تاکہ کہیں اس لڑکی کی نسبت بے حیائی کی طرف نہ کی جائے۔
کیونکہ لڑکی کے اندر بے انتہا زیادہ حیا ہوتی ہے، اور یہ حیا عورت کا زیور ہے بھئی۔ تو یہ حیا جو ہے لڑکی کا زیور ہے، یہ اس کا باطنی حسن ہے، اور جتنی زیادہ اس کے اندر حیا ہوگی، اتنی ہی زیادہ وہ پسندیدہ ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
تو لہٰذا اس کو براہِ راست پیغام نہیں بھیجا جاتا، وہ براہِ راست ان معاملات میں دخل نہیں دیتی، تاکہ کہیں لوگ یہ نہ کہیں یہ تو بڑی بے حیا ہے، کہ یہ اپنے نکاح کے معاملات خود طے کر رہی ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں وإنما یطالب الولی بالتزویج کہتے ہیں کہ جو ولی ہے اسی سے نکاح کروانے کا مطالبہ کیا جاتا ہے کیلا تُنْسَبَ إلَی الوَقاحَۃِ تاکہ کہیں اس عاقلہ بالغہ آزاد لڑکی کی نسبت نہ کی جائے۔ إلی الوَقاحَۃِ وقاحت کہتے ہیں بے حیائی اور بے شرمی کو، کہ کہیں اس کی نسبت بے حیائی اور بے شرمی کی طرف نہ کی جائے، لوگ اپس میں باتیں کرنے نہ لگ پڑیں کہ اس میں تو حیا ہی نہیں ہے بھئی۔
ثم فی ظاہر الروایۃ لا فرق بین الکفء وغیر الکُفء کہتے ہیں پھر ظاہرِ روایت کے اندر کوئی فرق نہیں کیا گیا کُفء اور غیر الكُفء کا۔ (یعنی ظاہرِ روایت میں صرف اتنا ہے، جو متن میں آ گیا، کہ آزاد، حاقلہ، بالغہ لڑکی اپنی مرضی سے جہاں چاہے نکاح کر سکتی ہے، چاہے وہ لڑکی باکرہ ہو چاہے ثیّبہ ہو)۔
وہاں یہ نہیں لکھا گیا کہ برابر والوں میں کرے گی تو نکاح ہوگا، برابر والوں میں نہیں کرے گی تو نکاح نہیں، تو معلوم ہوا وہاں فرق نہیں کیا گیا۔
کہتے ہیں ثم فی ظاہر الروایۃ لا فرق بین الکفء وغیر الکفء پھر ظاہرِ روایت میں کوئی فرق نہیں ہے کُفء اور غیر کُفء کے اندر، لکنّ للولی الاعتراض فی غیر الکفء لیکن یہ ہے کہ ولی جو ہے وہ اعتراض کر سکتا ہے غیر کُفء میں۔
یعنی صرف یہ ہے کہ ولی جو ہے اعتراض کر سکتا ہے غیر کُفء میں، اگر نکاح کرے گی تو ولی اعتراض کر سکتا ہے کیا معنی اعتراض؟
یعنی ولی قاضی کے پاس جا کر مطالبہ کر سکتا ہے کہ اس نے کم لوگوں کے اندر شادی کی ہے، اور یہ تو ہمارے خاندان کے لیے عیب اور طعنے کی بات بن جائے گی، لوگ کل ہمیں طعنے دیں گے کہ تم لوگوں نے تو اپنی لڑکی اتنے چھوٹے خاندان کو دی ہوئی ہے، تو لہٰذا ولی اعتراض کر سکتا ہے قاضی کے پاس جا کر، اور پھر قاضی اس نکاح کو فسخ کروا دے گا۔
تو یہ معنی ہے لکنّ للولی الاعتراض فی غیر الکفء لیکن غیر کُفء کی صورت میں ولی کو اعتراض کا حق ہوگا، وعن أبی حنیفۃ وأبی یوسف رحمھما اللہ وکانہ لا یجوز فی غیر الکفء اور شیخین رحمھما اللہ سے یہ بھی روایت ہے کہّ انہ لا یجوز فی غیر الکفء کہ غیر کُفء میں اگر آزاد عاقلہ بالغہ اپنا نکاح کرے گی تو وہ ہوگا ہی نہیں۔
وہ من عقد ہی نہیں ہوگا۔
اور یاد رکھو اسی پر فتویٰ ہے۔
لڑکی اگر غیر کُفء میں نکاح کرے گی، تو ولی کو اعتراض کا حق نہیں ملے گا، بلکہ وہ نکاح ہی سرے سے نہیں ہوگا، حتیٰ کہ علماء نے لکھا ہے کہ اس فتنے کے زمانے میں اگر مطلقۃ ثلاثہ بھی اپنی مرضی سے غیر کُفء میں نکاح کرے گی تو بھی وہ نکاح من عقد نہیں ہوگا۔
ایک عورت ہے اس کا پہلے نکاح ہو چکا پھر خاوند سے جدائی آگئی اس نے تین طلاقیں دے دیں۔
اب یہ عورت اپنی مرضی سے جہاں چاہے نکاح کر سکتی ہے، لیکن یہ عورت بھی اگر غیر کُفء میں نکاح کرے گی تو نکاح من عقد ہی نہیں ہوگا۔
تو شیخین رحمھما اللہ سے روایت ہے کہ انہ لا یجوز فی غیر الکفء کہ یہ جائز نہیں ہے غیر کُفء میں لانہ کم من واقع لا یرفع إلی القاضی اس لیے کیونکہ کتنے ہی واقعات ہوتے ہیں کہ ان کی مرافعت نہیں کی جاتی قاضی تک (یعنی کتنے ہی معاملات ہوتے ہیں، وہ قاضی تک پہنچائے ہی نہیں جاتے لوگ ویسے ہی چھوڑ دیتے ہیں)۔
اور نیز اگر پہنچائے بھی قاضی تک، تو ہر ایک اچھے طریقے سے معاملہ بیان نہیں کر سکتا۔
اور نیز قاضی کا بھی پتہ نہیں، وہ عدل و انصاف کرتا ہے یا عدل و انصاف نہیں کرتا۔
لھذا ولی کو اعتراض کا حق دینے کے بجائے یوں کہا جائے گا کہ یہ نکاح ہی من عقد نہیں ہوا۔
کیونکہ اگر ولی کو صرف اعتراض کا حق دیا جائے کہ آپ اعتراض کر سکتے ہیں قاضی کے پاس جا کر، تو پتہ نہیں ولی قاضی کے پاس جاتا ہے یا نہیں جاتا۔
لھذا یہ نکاح من عقد ہی نہیں ہوگا۔
لانہ کم من واقع لا یرفع إلی القاضی اس لیے کیونکہ کتنے ہی واقعات ایسے ہوتے ہیں لا یررفع کہ ان کو اٹھایا نہیں جاتا (یعنی قاضی تک پہنچایا ہی نہیں جاتا لوگ ویسے ہی چھوڑ دیتے ہیں)۔
آگے دیکھئے: ویروی رجوع محمد رحمھ اللہ تعالی إلی قولهما اور روایت کیا گیا ہے امام محمد رحمہم اللہ کے رجوع کو إلی قولهما شیخین رحمھما اللہ کے قول کی طرف۔
روایت کیا گیا ہے کہ امام محمد رحمہم اللہ نے بھی شیخین رحمھما اللہ کے قول کی طرف رجوع فرما لیا تھا یہ عبارت اچھی طرح سمجھ لو، بظاہر یوں لگتا ہے کہ یہ جو ابھی پچھلی سطر میں مسئلہ ذکر ہوا کہ وعن أبی حنیفۃ وأبی یوسف رحمھما اللہ انہ لا یجوز فی غیر الکفء کہ شیخین فرماتے ہیں غیر کُفء میں خود نکاح کرے تو ہوگا ہی نہیں۔
تو لگتا ہے آگے کہ امام محمد نے اس قول کی طرف رجوع کر لیا شیخین کے، لیکن یہ مراد نہیں ہے، بلکہ اصل مسئلہ کی طرف آؤ۔ اصل مسئلہ کیا تھا؟
شیخین کے نزدیک وہ نکاح من عقد ہو جائے گا آزاد عاقلہ بالغہ خود کرے گی۔ امام محمد فرماتے ہیں کہ موقوف من عقد ہوگا جب تک ولی اجازت نہیں دے گا، وہ نافذ نہیں ہوگا۔
تو اس کے اندر ذکر فرما رہے ہیں کہ یہ روایت کیا گیا ہے کہ امام محمد رحمہم اللہ نے شیخین رحمھما اللہ کے قول کی طرف رجوع فرما لیا تھا کہ آزاد عاقلہ بالغہ اپنی مرضی سے نکاح کرے گی تو وہ موقوف نہیں من عقد ہو جائے گا، نافذ ہو جائے گا۔
یہ معنی ہے ویروی رجوع محمد رحمھ اللہ إلی قولهما اور روایت کیا گیا ہے امام محمد رحمہم اللہ کے رجوع کو شیخین رحمھما اللہ کے قول کی طرف۔
آگے دیکھئے: ولا یجوز للولی إجبار البکر البالغۃ علی النکاح یہاں ولایت کی تفصیل بیان کرنے لگے ہیں بھئی، صاحبِ ہدایہ۔
یاد رکھو، ولایت دو قسم پر ہے بھئی۔
ایک ولایتِ ندب
ولایتِ ندب
اور ایک ہے ولایتِ اجبار بھئی۔
ولایتِ اجبار یہ کہ صغیر یا صغیرہ ہو، نابالغ بچہ یا نابالغ بچی ہو، تو باپ کو ان پر ولایتِ حاصل ہوتی ہے۔
وہ جہاں چاہے ان کا نکاح کر سکتا ہے، اور جتنے مہر میں چاہے نکاح کروا سکتا ہے، چاہے تھوڑے میں کروائے چاہے زیادہ کے اندر کروائے۔
تو یہ ہے ولایتِ اجبار، اجبار کا معنی ہے مجبور کرنا، زبردستی کرنا۔ تو دیکھو باپ زبردستی جہاں چاہے ان کا نکاح کر سکتا ہے۔
بات سمجھ میں آگئی؟ تو یہ کیا ہے؟
ولایتِ اجبار۔ ولایتِ اجبار۔
اور دوسری ولایتِ ندب ہے۔ ولایتِ ندب جیسے عام طور پر ہوتا ہے، لڑکی جوان ہے، آزاد ہے، عاقل ہے، بالغ ہے، تو اس کا باپ اس کا نکاح کرواتا ہے، اس کا باپ اس کا نکاح کرواتا ہے، تو یہ ولایتِ ندب ہے۔ باپ کو ولایت ہے یا نہیں وہ نکاح کروا رہا ہے، لیکن یہ ولایتِ ندب ہے۔
یہ جو ولایتِ ندب ہے، یہ حقیقت میں توکیل ہوتی ہے، گویا لڑکی نے باپ کو اپنا وکیل بنایا ہوا ہے۔
تو یہاں گویا ولایت ہے ہی نہیں حقیقت میں کیا ہے؟
باپ وکیل ہے، باپ کروا رہا ہے یا بھئی جو بھی نکاح کروا رہا ہے وہ اس کا وکیل ہے، کیونکہ ابھی بتایا کہ زبردستی کوئی اس کا نکاح نہیں کروا سکتا وہ راضی ہوگی تو نکاح ہوگا وہ راضی نہیں تو نکاح بھی نہیں۔ تو اس کو ولایت کہتے ہیں لیکن حقیقت میں یہ
توکیل ہے۔ تو یہ ولایتِ ندب ہے۔
یہنی اچھی ہے، پسندیدہ ہے کہ اس طرح نکاح ہونا چاہیے بھئی۔ اور دوسری ولایتِ اجبار ہے، کہ اس میں باپ اپنی مرضی سے جہاں چاہے نکاح کروا دے صغیر یا صغیرہ کا، نابالغ بیٹا یا نابالغ بیٹی کا، اس کو ولایتِ اجبار کہتے ہیں۔ اس کے اور بھی کئی نام ہیں، اسی کو ولایتِ جبر بھی کہتے ہیں۔
ولایتِ اجبار بھی، ولایتِ جبر بھی۔ اسی طرح اس کو ولایتِ حتم بھی کہتے ہیں۔
ح تا م حا، حقّے والی حا بھئی، حا تا م ولایتِ حتم، حتم کا معنی ہوتا ہے لازم
اور پکی۔ (یعنی یہ بھی ولایتِ حتم ہے، پکی ولایت ہے، لازم ولایت ہے) وہ جیسے چاہے نکاح ان کا کروا سکتا ہے۔
اور نیز اس کو ولایتِ استبداد بھی کہتے ہیں۔
استبداد۔
استبدّ يستبد استبدادًا، استبداد کا معنی ہے مستقل ہونا (یعنی باپ کو مستقلاً پوری ولایت حاصل ہے جہاں چاہے ان کا نکاح کروا دے)۔
تو ولایت کتنی قسم پر؟ دو۔ ایک ولایتِ ندب، ایک ولایتِ اجبار۔ ولایتِ ندب کے اندر حقیقتاً کیا ہوتا ہے؟ وکیل بنایا جاتا ہے جیسے عام لڑکی کا باپ نکاح کرواتا ہے تو یہ دراصل اس کی طرف سے وکیل ہو کر نکاح کروا رہا ہے۔
لیکن بہرحال اس کو ولایتِ ندب کہتے ہیں نام اس کو دے دیا۔ اور دوسری ولایتِ اجبار ہے، اور اس کے کئی نام ہیں ولایتِ اجبار، ولایتِ جبر، ولایتِ حتم، ح تا م ولایتِ حتم، اور ولایتِ استبداد۔
اب کس پر ولایتِ ندب ہے اور کس پر ولایتِ اجبار ہے؟
تو میں نے بیان کر دیا کہ نابالغ بیٹا یا بیٹی ہوں تو ان پر ولایتِ اجبار حاصل ہے۔ جبکہ عاقلہ بالغہ جو ہے وہاں پر ولایتِ ندب ہے بھئی۔ (یعنی وہ وکیل بن کر باپ اس کا نکاح کروا سکتا ہے، جبراً اس کا نکاح نہیں کروا سکتا)۔
تو کہتے ہیں ولا یجوز للولی إجبار البکر البالغۃ علی النکاح اور جائز نہیں ہے ولی کے لیے إجبار البکر البالغۃ باکرہ بالغہ کو مجبور کرنے کی علی النکاح نکاح پر۔
ولی کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ باکرہ بالغہ کو مجبور کرے نکاح پر۔
دیکھیے بھئی، کہتے ہیں ولا یجوز للولی إجبار البکر البالغۃ علی النکاح اور جائز نہیں ہے ولی کے لیے إجبار البکر البالغۃ باکرہ بالغہ کو مجبور کرنے کی علی النکاح نکاح پر۔
ولی کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ باکرہ بالغہ کو مجبور کرے نکاح پر، خلافا للشافعی رحمھم اللہ بخلاف امام شافعی رحمہم اللہ کے۔ لہ الاعتبار بالصغیرۃ کہ امام شافعی رحمہم اللہ کی دلیل جو ہے صغیرہ پر قیاس کرنا ہے۔
بھئی پہلے امام شافعی رحمہم اللہ کا مذہب سمجھ لو اچھی طرح۔
امام شافعی رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ نابالغ بیٹا اور نابالغ بیٹی، ان پر باپ کو ولایتِ اجبار حاصل ہے۔
توجہ سے سن لو، ان پر باپ کو ولایتِ اجبار حاصل ہے جہاں چاہے نکاح ان کا وہ کروا سکتا ہے۔
لیکن علت کیا ہے؟ تو کہتے ہیں جو لڑکا ہے اس کے اندر علت صغر ہے کہ وہ چھوٹا ہے نابالغ ہے۔ جب وہ بالغ ہو جائے گا، اب باپ کو ولایتِ اجبار اس پر حاصل نہیں اس کی اجازت کے بغیر زبردستی باپ کہیں نکاح نہیں کروا سکتا۔
کس میں؟ صغیر میں۔ تو صغیر میں علت کیا ہے ولایتِ اجبار کی؟
صِغَر، نابالغ ہونا، چھوٹا ہونا۔
اور جب بالغ ہو گیا تو یہ علت ختم ہو گئی لہٰذا ولایتِ اجبار بھی حاصل نہیں۔ جبکہ لڑکی کے اندر وہ فرماتے ہیں کہ باپ کو ولایتِ اجبار ہوتی ہے باکرہ ہونے کی وجہ سے۔
صغیرہ جو ہے اس پر بھی باپ کو ولایتِ اجبار حاصل ہے، لیکن اس کے صغیرہ اور نابالغہ ہونے کی وجہ سے یہ ولایت نہیں ہے، بلکہ اس کے باکرہ ہونے کی وجہ سے ہے۔
اس کے باکرہ ہونے کی وجہ سے ہے، اور جب یہ لڑکی بالغ ہو گئی، تو یہ علت ابھی بھی موجود ہے، ابھی بھی یہ باکرہ ہے، تو لہٰذا ابھی بھی باپ کو ولایتِ اجبار حاصل ہے۔
تو امام شافعی رحمہم اللہ کے نزدیک لڑکی چاہے صغیرہ ہو چاہے بالغہ، جب وہ باکرہ ہے تو باپ کو ولایتِ اجبار حاصل ہے، تو وہ صغیر کا اعتبار نہیں کرتے بلکہ باقارت کا اعتبار کرتے ہیں لڑکی میں، لڑکی میں بکارت علت ہے۔
امام شافعی رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ نکاح چونکہ ایک عظیم چیز ہے، ساری زندگی کا ایک معاملہ ہے، لہٰذا نکاح میں تجربہ کار ہونا ضروری ہے۔
اور یہ تو باکرہ ہے، غیر تجربہ کار ہے، اس کو تو نکاح کا پتہ ہی نہیں ہے، لہٰذا اس پر ولی کو ولایتِ اجبار حاصل ہے۔
نکاح کیا ہے عظیم چیز ہے اس کے لیے انسان کو تجربہ کار ہونا چاہیے نکاح کے بڑے مقاصد ہوتے ہیں بھئی۔ دو دن کی بات نہیں ہے ساری زندگی گزارنی ہے، لہٰذا انسان کو تجربہ کار ہونا چاہیے اور باکرہ، باکرہ اس کو تو مرد کا تجربہ ہی نہیں ہے، اس کو تو پتہ ہی نہیں ہے نکاح وغیرہ کا، تو لہٰذا اس کو اختیار بھی نہیں، ولی اس کا جہاں چاہے نکاح کروا سکتا ہے، اور یہ باکرہ ہونا، جیسے صغیرہ کے اندر باکرہ ہونے کی علت موجود ہے، جب بالغہ ہو گئی پھر بھی کیا ہے؟
پھر بھی باکرہ ہے، معلومہ اس کو ابھی بھی نکاح کا کوئی تجربہ نہیں، لہٰذا اس پر بھی باپ کو ولایتِ اجبار حاصل ہے۔
تو امام شافعی رحمہم اللہ کے نزدیک لڑکے کے اندر ولایتِ اجبار حاصل ہوتی ہے صِغر کی وجہ سے، اور لڑکی کے اندر ولایتِ اجبار حاصل ہوتی ہے
بَقارَت کی وجہ سے، باکرہ ہونے کی وجہ سے۔
تو امام شافعی رحمہم اللہ کی دلیل چل رہی ہے، کہتے ہیں خلافا للشافعی رحمھم اللہ بخلاف امام شافعی رحمہم اللہ کے۔ لہ الاعتبار بالصغیرۃ ان کی دلیل جو ہے صغیرہ پر قیاس کرنا ہے۔
ادھر دیکھیے، وہ صغیرہ پر قیاس کرتے ہیں، یہ دیکھو، یہ باکرہ ہے، اس میں دو صورتیں ہیں، ایک یہ کہ ایک صغیرہ ہوگی اور ایک بالغہ ہوگی۔
تو وہ جو باکرہ بالغہ ہے، اس کو باکرہ صغیرہ پہ قیاس کرتے ہیں، اور صغیرہ جیسے نکاح کے معاملے میں نا تجربہ کار ہے، یہ بالغہ بھی کیا ہے نکاح کے معاملے میں نا تجربہ کار ہے، تو جیسے صغیرہ پر ولایتِ اجبار حاصل تھی، یہ بالغہ پر بھی کیا ہوگی ولایتِ اجبار حاصل ہوگی، دلیل سمجھ میں آگئی۔
تو کہتے ہیں لہ الاعتبار بالصغیرۃ امام شافعی رحمہم اللہ کی دلیل جو ہے صغیرہ پر قیاس کرنا، وھذا لانھا جاہلۃ بأمر النکاح اور یہ اس لیے کیونکہ یہ جو باکرہ ہوتی ہے، جاہلۃ بأمر النکاح یہ نکاح کے معاملے سے لاعلم ہوتی ہے، اس کو نکاح کا کوئی پتہ نہیں ہے، لعدم التجربۃ تجربہ نہ ہونے کی وجہ سے، کیونکہ اس کو نکاح کا تجربہ نہیں ہے۔
بھئی اردو میں تو ہم تجربہ پڑھتے ہیں، عربی میں ہے تجربۃ تفعِلۃ۔
آپ نے پڑھا ہے ناقص، لفیف، اور مھموز اللام سے باب تفعیل کا مصدر تفعِلۃ وزن پر آتا ہے۔ سمّی یسُمّی تسمیۃً دیکھو تفعِلۃً، تو یہ ناقص ہے، لفیف ہے، اور مھموز اللام باب تفعیل سے ان کا مصدر تفعِلۃ وزن پر آتا ہے اور باقی جگہ کوئی قانون اور ضابطہ نہیں ہے، تو یہاں دیکھو جَرّب یجربُ تجربۃً، یہ نہ تو ناقص ہے، نہ یہ لفیف ہے، نہ یہ مھموز اللام ہے، لیکن اس کے اندر بھی تفعِلۃ وزن پر آیا تو ان ابواب میں، ان میں تو قانون ہے، اور یہاں یہاں عرب کے استعمال کو دیکھیں گے کہ کہاں وہ یہ مصدر لاتے ہیں اور کہاں نہیں لاتے بھئی۔
آگے دیکھیے، ولهذا یقبض الأبو صداقھا بغیر أمرھا، اور اسی لیے تو باپ قبضہ کر سکتا ہے صداقھا اس بالغہ بیٹی کے مہر پر بغیر امرھا اس کے حکم کے ہی۔
صداق مہر کو کہتے ہیں۔
صداق کسے کہتے ہیں؟ مہر کو۔ اب دیکھو، امام شافعی رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ باکرہ بالغہ بیٹی پر ولایتِ اجبار حاصل ہے جہاں چاہے نکاح کروا سکتا ہے، اور نیز اس سے بھی اس بات کی تائید ہوتی ہے کہ باپ بیٹی کی اجازت کے بغیر ہی اس کے مہر پر قبضہ کر سکتا ہے۔ باپ نے نکاح کروا دیا، ابھی رخصتی نہیں کی، نکاح کرواتے ہی خاوند کو کہتا ہے لاؤ بھئی مہر ہمارے حوالے کر دو۔
دیکھئے ، باپ بیٹی کی اجازت کے بغیر ہی، بیٹی کے حکم کے بغیر ہی اس کے مہر پر قبضہ کر رہا ہے۔
اس سے بھی پتہ چلا کہ باپ کو باکرہ بالغہ پر ولایتِ اجبار حاصل ہے۔
ولنا ہماری دلیل یہ ہے کہ انھا حرّۃ فلا یکون للغیر علیھا ولایۃ الإجبار کہ یہ جو عاقلہ بالغہ ہے یہ آزاد ہے، فلا یکون للغیر علیھا ولایۃ الإجبار تو کسی اور کو اس کے اوپر ولایتِ اجبار حاصل نہیں ہوگی کہ جبرا اس جہاں چاہے نکاح کروا دے۔
اور باقی، والولایۃ علی الصغیرۃ لقصور عقلھا امام شافعی رحمہم اللہ نے تو کیا فرمایا تھا؟
کہ صغیرہ پر ولایت حاصل ہوتی ہے باپ کو، کیوں حاصل ہوتی ہے؟ کہ اس کو نکاح کا تجربہ نہیں ہے بھئی۔
اور ہم کہتے ہیں نہیں، باکرہ ہونا علت نہیں ہے، تجربہ نہ ہونا علت نہیں ہے، بلکہ اس کی علت صغر ہے، کہ نابالغ ہے، اس کو سمجھ نہیں ہے پوری طرح۔
اس لیے صغیرہ پر باپ کو ولایتِ اجبار حاصل ہے، اس کے صغیرہ ہونے کی وجہ سے، باکرہ ہونے کی وجہ سے نہیں۔
یہ معنی ہے والولایۃ علی الصغیرۃ لقصور عقلھا اور صغیرہ پر ولایت جو ہوتی ہے لقصور عقلھا اس کی عقل میں کمی کی وجہ سے ہوتی ہے، قُصور کا معنی کمی۔
وقد کَمُلَ بالبلوغ اور تحقیق بالغ ہونے سے عقل کامل ہو گئی بھئی۔ دلیل کیا ہے کہ بالغ ہونے سے عقل کامل ہو جاتی ہے؟ دلیل بھی صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں: کہتے ہیں بدلیل توجہ الخطاب اس دلیل سے کہ خطاب اس کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔
(یعنی اللہ کے احکام اس پر لاگو ہو جاتے ہیں، وہ جیسے ہی بالغ ہوئی اس پر نمازیں بھی فرض ہو گئیں، اس پر روزے بھی فرض ہو گئے، اگر وہ استطاعت والی ہے تو حج بھی فرض ہو جائے گا، اور اگر مال والی ہے تو زکوٰۃ بھی آئے گی سال پر، تو دیکھو یہ شرعی احکام اس کی طرف متوجہ ہو گئے)۔
معلوم ہوا اس کی عقل کامل ہے، اگر عقل کامل نہ ہوتی، تو پھر شرعی احکام تو اس کی طرف متوجہ ہی نہ ہوتے بھئی۔
تو کہتے ہیں وقد کَمُلَ بالبلوغ بدلیل توجہ الخطاب اور تحقیق اس کی عقل جو ہے وہ بالغ ہونے کی وجہ سے بھی دلیل توجہ الخطاب خطاب کے متوجہ ہونے کی دلیل کی وجہ سے، یاد رکھو یہ بدلیل توجہ الخطاب یہ اضافتِ بیانی ہے۔
یاد رکھو مضاف اور مضاف الیہ غیر ہوتے ہیں۔ غلام زیدین غلام مضاف زیدین مضاف الیہ۔ یہ دونوں ایک دوسرے سے غیر ہیں، غلام کی ذات اور ہے، زید کی ذات اور ہے۔ تو عموماً ایسا ہی ہوتا ہے کہ مضاف اور مضاف الیہ دونوں کی ذات الگ الگ ہوتی ہے۔
لیکن بعض اوقات، بعض اوقات جو مضاف الیہ ہوتا ہے، وہ اسی مضاف کا بیان کرتا ہے۔
یعنی اسی سے ابہام کو دور کر دیتا ہے۔
تو اس وقت پھر مضاف اور مضاف الیہ غیر نہیں ہوتے، دونوں ایک ہی چیز ہوتے ہیں۔
دونوں کیا ہوتے ہیں؟ ایک ہی چیز ہوتے ہیں۔ جیسے یہاں پر وققد کَمُلَ بالبلوغ کہ بالغ ہونے سے اس کی عقل کامل ہو گئی بدلیلٍ ایک دلیل کی وجہ سے۔
کِس کی وجہ سے؟ بھئی یہاں اضافت ہے، لیکن میں ذرا اضافت کو توڑ رہا ہوں۔ بدلیلٍ کس کی وجہ سے؟ ایک دلیل کی وجہ سے، بھئی وہ کیا دلیل ہے؟ توّجهُ الخطاب وہ کیا ہے خطاب کا متوجہ ہونا، تو خطاب کا متوجہ ہونا ہی تو دلیل ہے۔
تو عبارت میں کیا ہے؟ بدلیل توجہ الخطاب دلیل مضاف ہے اور توجہ الخطاب مضاف الیہ، تو معلوم ہو یہ توجہ الخطاب اسی دلیل کا بیان کر رہا ہے کہ وہ دلیل کون سی ہے؟ توجہِ خطاب ہے، خطاب کا متوجہ ہونا ہے۔ تو یہ اضافتِ بیانی ہے۔ اضافتِ بیانی کی علامت یہ ہے کہ آپ مضاف کو مبتدا بنا دیں، اور مضاف الیہ کو خبر بنا دیں، تو بات بالکل صحیح رہے گی اس میں خرابی نہیں آئے گی۔
جیسے یہاں پر مضاف کیا ہے? دلیل، اس کو بناؤ مبتدا اس پر الف لام لے آؤ معرفہ کر دو۔
اور توجہ الخطاب اس کو خبر بنا دو۔ الدلیلُ توجہ الخطاب۔
اس کی دلیل جو ہے توجہ الخطاب، خطاب کا متوجہ ہونا ہے۔
تو جب بھی اضافتِ بیانی ہو، تو وہاں پر آپ دونوں کو مضاف اور مضاف الیہ کو مبتدا خبر بنائیں گے، تو بات صحیح رہے گی، اور اگر اضافتِ بیانی نہ ہوئی تو پھر آپ ان کو مبتدا خبر نہیں بنا سکتے۔
فصارت كالغلام تو لہٰذا یہ عاقلہ بالغہ لڑکی بھی كالغلام لڑکے جیسی ہو گئی، کس کی طرح ہو گئی؟
لڑکے جیسی ہو گئی، اور اے امام شافعی رحمھم اللہ! لڑکے میں تو آپ بھی مانتے ہیں، جب یہ بالغ ہو جاتا ہے اس کی عقل کامل ہو جاتی ہے، لہٰذا اب اس کا کوئی زبردستی نکاح نہیں کروا سکتا۔ تو یہاں لڑکی کی بھی عقل جب کامل ہو گئی ہے لڑکے جیسی ہو گئی، جب لڑکے جیسی ہو گئی تو اب اس میں بھی ولایتِ اجبار حاصل نہیں ہونی چاہیے ولی کو۔
وقد تصرف فی المال اور یہ اسی طرح ہو گیا جیسے کہ مال کے اندر تصرف ہوتا ہے۔
(یعنی مال کے اندر تو امام شافعی رحمھم اللہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ لڑکی جب بالغ ہو جائے چاہے باکرہ ہی کیوں نہ ہو، تو اس کو اپنے مال کے اندر تصرف کا حق حاصل ہوتا ہے۔
تصرّف کا حق حاصل ہوتا ہے، اس لیے کہ اس کی عقل کامل ہو گئی، اب وہ جہاں چاہے اپنے مال کو خرچ کرے، شریعت کی طرف سے کوئی پابندی اس پر نہیں ہے بھئی۔ تو معلوم ہوا دیکھو اس کو مال میں بھی اسی لیے تصرف کا حق ہے، اور نیز والاھا اختيارُ الأزواجِ نیز اس عاقلہ بالغہ آزاد کو خاوند اختیار کرنے کا بھی حق ہے۔)
باپ باقی امام شافعی رحمھم اللہ فرماتے تھے کہ بھئی باکرہ پر باپ کو ولایتِ اجبار حاصل ہے۔
اسی لیے تو باپ اس کی اجازت کے بغیر ہی اس کے مہر پر قبضہ کر سکتا ہے۔
باپ نے نکاح کروا دیا، ابھی رخصتی نہیں کی، نکاح کرواتے ہی خاوند کو کہتا ہے لاؤ بھئی مہر ہمارے حوالے کر دو۔
دیکھو باپ بیٹی کی اجازت کے بغیر ہی، بیٹی کے حکم کے بغیر ہی اس کے مہر پر قبضہ کر رہا ہے۔
اس سے بھی پتہ چلا کہ باپ کو باکرہ بالغہ پر ولایتِ اجبار حاصل ہے۔
والنّما يملك الأبو قبض الصداق برضاھا اور باپ جو ہے مہر پر قبضے کا مالک ہے برضاھا دلالتاً، دلالتاً اس کی رضامندی کی وجہ سے، کہ دلالتاً اس کی رضامندی ہے اس کی اجازت ہے، ولهذا لا یملك مع نھیھا اور اسی لیے باپ مالک نہیں ہے معا نہیھا اس کی نہی کے ساتھ (یعنی جب وہ عورت کیا کر دے؟
معانہيھا اس عاقلہ بالغہ کی نہی کے ساتھ جو ہے باپ اس بات کا مالک نہیں ہے کہ وہ اس کے مہر پر قبضہ کر لے)۔
چلیے بس کریں بات سمجھ میں آ گئی، چلیے بس بھئی ھذا ھو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الكلام۔