آگے سبق دیکھیے بھئی:
”قَالَ: وَلَوْ كَفَلَ أَحَدُهُمَا بِمَالٍ عَنْ أَجْنَبِيٍّ لَزِمَ صَاحِبَهُ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ، وَقَالَا رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى: لَا يَلْزَمُهُ؛ لِأَنَّهُ تَبَرُّعٌ، وَلِهَذَا لَا يَصِحُّ مِنَ الصَّبِيِّ وَالْعَبْدِ الْمَأْذُونِ وَالْمُكَاتَبِ، وَلَوْ صَدَرَ مِنَ الْمَرِيضِ يَصِحُّ مِنَ الثُّلُثِ، وَصَارَ كَالْإِقْرَاضِ وَالْكَفَالَةِ بِالنَّفْسِ“.
بھئی، گزشتہ سبق میں ہم نے کتاب الشرکۃ شروع کی تھی بھئی۔ صاحب ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ شرکت جائز ہے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغمبر بنا کر بھیجا گیا اور اس وقت لوگ شرکت کے معاملات کر رہے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو رد نہیں فرمایا، ان کو ان پر برقرار رکھا، معلوم ہوا شرکت جائز ہے بھئی۔
اور پھر بتلایا کہ یہ شرکت دو قسم پر ہے: ایک شرکت املاک ہے اور ایک شرکت عقود ہے۔ شرکت املاک یہ ہے کہ ایک معین چیز کے اندر دو آدمی شریک ہو جائیں، مثلاً ایک معین چیز دو آدمیوں کو وراثت میں ملی یا ایک معین چیز دو آدمیوں نے مل کر خرید لی، تو یہ دونوں اس کے اندر شریک ہیں بھئی۔
اور صاحب ہدایہ نے بتلایا کہ ان دونوں میں سے ہر ایک جو ہے وہ اپنے ساتھی کے حصے میں اجنبی کی طرح ہے، لہٰذا اپنے ساتھی کے حصے میں وہ تصرف نہیں کر سکتا۔ البتہ اپنے حصے میں ساتھی کی اجازت کے بغیر تصرف کر سکتا ہے یا نہیں؟ تو صاحب ہدایہ نے تفصیل بیان فرمائی تھی کہ ایک صورت یہ ہے کہ وہ معین چیز اس کو دونوں نے خریدا ہے یا وارث ہوئے ہیں یا انہوں نے ہبہ قبول کیا ہے، مثلاً گندم ہے بھئی، تو یہ گندم مثلاً دو آدمیوں کو ورثے میں ملی ہے یا دونوں نے مل کر خریدی ہے یا دونوں کو کسی نے تحفے کے طور پر دی ہے، تو اس صورت کے اندر اس گندم کے ہر ہر دانے میں دونوں شریک ہیں۔ تو اگر اس قسم کی شرکت املاک ہو تو اس کے اندر ہر شریک اپنے حصے میں تصرف کر سکتا ہے دوسرے کی اجازت کے بغیر ہی۔
لیکن اگر دونوں کا مال وہ آپس میں مل گیا، مثلاً کچھ گندم ایک شخص کی ہے اور کچھ گندم دوسرے شخص کی ہے اور پھر یہ دونوں کی گندم کسی نے آپس میں ملا دی غلطی سے یا دونوں نے خود ہی آپس میں ملا دی، تو اس صورت کے اندر بھی اس گندم کے اندر دونوں شریک ہو گئے۔ لیکن اس کے اندر فرق یہ ہے کہ اس میں سے بعض دانے وہ ایک شریک کے ہیں اور بعض دانے دوسرے شریک کے ہیں۔ جب دونوں مل کر گندم خریدتے تھے تو ہر ہر دانے میں دونوں شریک ہوتے تھے، لیکن یہاں پر کچھ گندم ایک شریک کی تھی، کچھ دوسرے کی تھی، تو جب ملایا تو اب الگ الگ دانوں میں دونوں کی ملکیت ہے۔ کوئی ایک بھی دانہ ایسا نہیں ہے جس میں دونوں اکٹھے شریک ہوں۔ ہر دانہ یا تو پہلے شریک کا ہوگا یا دوسرے شریک کا، اگرچہ پتہ نہیں چل سکتا۔ تو پھر اس صورت کے اندر اب ایک شریک اپنے حصے میں تصرف کرنا چاہتا ہے تو پھر اپنے ساتھی شریک سے اجازت لینا پڑے گی۔ اس لیے کیونکہ یہ شخص اس بات پر قادر ہی نہیں رہا کہ اپنا حصہ اور اپنے دانے الگ کر لے، اس لیے کیونکہ یہ جب بھی اپنے دانے الگ کرے گا تو اس کے اندر دوسرے شریک کے دانے بھی آ جائیں گے۔ تو لہٰذا یہاں پر تصرف کے اندر دوسرے کی اجازت ضروری ہے بھئی۔
اور شرکت کی دوسری قسم شرکت عقود ہے۔ صاحب ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ شرکت عقود میں شرکت کا عقد کیا جاتا ہے اور عقد کے ارکان ایجاب اور قبول ہیں۔ مثلاً دونوں میں سے ایک کہتا ہے کہ میں تمہارے ساتھ فلاں فلاں تجارت کے اندر اتنے مال کے اندر شرکت کرتا ہوں اور دوسرا اس کو قبول کر لیتا ہے، تو یہ دونوں کے درمیان عقد ہو گیا۔ اور اس کے اندر ضروری ہے کہ جس تصرف پر یہ دونوں عقد کریں، مثلاً تجارت وغیرہ ہے، تو وہ تصرف ایسا ہونا چاہیے جس کے اندر وکالت جائز ہو۔ اگر اس کے اندر وکالت ہی جائز نہیں ہے تو وہاں پر شرکت بھی نہیں ہو سکتی، کیونکہ شرکت کے اندر ہر شریک دوسرے کا وکیل ہوتا ہے۔ تو صاحب ہدایہ نے یہ جو قید لگائی کہ وہ تصرف ایسا ہونا چاہیے جس میں وکالت جائز ہو، تو یہ احتراز کیا صاحب ہدایہ نے مباح چیزوں کے جمع کرنے سے، کیونکہ مباح چیزوں کے جمع کرنے کے اندر وکالت جائز نہیں ہے۔ جو بھی مباح چیز کو جمع کر لے گا اور اس کو محفوظ کر لے گا وہ اس کا مالک بن جائے گا، جیسے جنگل سے لکڑیاں لانا یا جنگل سے گھاس لانا یا اسی طرح جنگل سے شکار پکڑ کے لانا، تو یہ سب چیزیں مباح ہیں، جو بھی گھاس لائے گا یا لکڑی لائے گا یا شکار کو پکڑے گا وہ اس کا مالک ہو جائے گا۔ تو مباح چیزوں کے اندر توکیل جائز نہیں، دوسرے کو وکیل بنانا جائز نہیں۔ لہٰذا ان کے اندر عقد شرکت جائز نہیں۔ ان کے اندر عقد شرکت جائز نہیں۔
تو لہٰذا یہ دو شریک جس تصرف کا بھی عقد کریں اس کے اندر وکالت جائز ہونی چاہیے، اس لیے کیونکہ شرکت کا مقصد نفع کے اندر اشتراک ہے، اور نفع کے اندر اشتراک تبھی ہو سکتا ہے جب دونوں عقد کے اندر ایک دوسرے کے وکیل ہوں بھئی۔ دونوں میں سے جو کوئی بھی وہ تجارت والا عقد کرے گا تو اس عقد کو وہ خود کر رہا ہے تو اس اعتبار سے وہ اصیل ہے، اور دوسرے کی طرف سے بھی یہ عقد کر رہا ہے تو اس اعتبار سے دوسرے کا وکیل بھی ہے۔ تو اس طرح جو نفع حاصل ہوگا اس میں دونوں شریک ہو جائیں گے۔
اور پھر صاحب ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ یہ شرکت عقود چار قسم پر ہے: شرکت مفاوضہ، شرکت عنان، شرکت صنائع اور شرکت الوجوہ بھئی۔ تو سب سے پہلے ہم نے شرکت مفاوضہ کے بارے میں پڑھنا شروع کیا۔ آپ کو صاحب ہدایہ نے بتلایا کہ شرکت مفاوضہ کے اندر دونوں شریکوں میں برابری ضروری ہے۔ وجہ یہ ہے کہ مفاوضہ کا معنی ہی برابری ہے، یعنی باہم ایک دوسرے کے برابر ہونا بھئی۔ تو لہٰذا ضروری ہے کہ وہ دونوں شریک مال کے اندر بھی برابر ہوں اور تصرف کے اندر بھی برابر ہوں اور دین کے اندر بھی برابر ہوں۔ اور مال سے مراد وہ والا مال ہے جس کے اندر شرکت جائز ہو، اور وہ درہم ہیں، دینار ہیں اور فلوس نافقہ ہیں یعنی وہ جو رائج کرنسی ہے۔ صرف ان کے اندر شرکت ہو سکتی ہے، سامان یا زمین اور جائیداد وغیرہ کے اندر شرکت نہیں ہو سکتی۔ تو یہ جو درہم، دینار اور کرنسی ہے یہ دونوں کا مال برابر ہونا چاہیے۔ البتہ اگر ایک کی زمین زیادہ ہے یا ایک کے پاس اور سامان وغیرہ زیادہ ہے تو اس سے فرق نہیں پڑتا، کیونکہ اس کے اندر شرکت نہیں ہو سکتی۔ تو لہٰذا درہم اور دینار اور رائج کرنسی میں دونوں ایک دوسرے کے برابر ہونے چاہیئیں، تصرف کے اندر دونوں ایک دوسرے کے برابر ہونے چاہیئیں اور دین کے اندر بھی یہ دونوں ایک دوسرے کے برابر ہونے چاہیئیں۔
اور صاحب ہدایہ نے یہ بھی بتلایا تھا کہ یہ جو شرکت مفاوضہ ہمارے نزدیک جائز ہے، یہ استحساناً جائز ہے۔ قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ یہ شرکت مفاوضہ جائز ہی نہیں ہونی چاہیے، اس لیے کیونکہ اس کے اندر مجہول چیز پر توکیل اور مجہول چیز پر کفالت لازم آتی ہے، حالانکہ مجہول چیز پر وکیل بنانا یا مجہول چیز کا ضامن بننا یہ درست نہیں ہے۔ توجہ ہے؟ آپ کو میں نے بتلایا تھا کہ یہ عقد مفاوضہ کے اندر دونوں شریک ہر عقد کے اندر ایک دوسرے کے وکیل بھی ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کے ضامن بھی ہوتے ہیں یعنی کفیل بھی ہوتے ہیں۔ لہٰذا ایک پر جو دین لازم آئے اس کا مطالبہ دونوں سے کیا جا سکتا ہے، کیونکہ ایک نے عقد کیا ہے وہ ہے اصیل، اس سے بھی دین کا مطالبہ ہو سکتا ہے، اور شریک جو ہے اس سے بھی دین کا مطالبہ ہو سکتا ہے کیونکہ وہ ضامن ہے ہر عقد میں، توجہ ہے؟
تو لہٰذا جب ہر شریک دوسرے کا وکیل بھی ہے اور کفیل بھی ہے، تو شرکت مفاوضہ کے اندر مجہول چیز پر وکیل ہونا اور مجہول چیز پر کفیل ہونا لازم آتا ہے، اور مجہول چیز کی وکالت بھی جائز نہیں اور مجہول چیز کی ضمانت بھی جائز نہیں۔ مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں کہ جاؤ بھئی، بازار سے کچھ میرے لیے خرید لاؤ۔ تو اب یاد رکھو، یہ اس طرح وکیل بنانا جائز نہیں، کیونکہ اس چیز کا پتہ ہونا چاہیے جس چیز کے لیے میں آپ کو وکیل بنا رہا ہوں۔ تو جب میں نے کہا کہ میرے لیے کچھ لے آؤ، اس سے تو کوئی تعین نہیں ہوئی، کچھ پتہ نہیں چلا کہ کس چیز کے اندر میں نے آپ کو وکیل بنایا ہے۔ تو کم از کم جنس کا تو پتہ ہونا چاہیے کہ مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں گاڑی لے آؤ، اب گاڑیاں بہت قسم کی ہیں لیکن بہرحال جنس کا تو پتہ چل گیا کہ میں نے آپ سے کہا میرے لیے گاڑی خرید لاؤ، یا میں آپ سے کہتا ہوں میرے لیے کپڑے خرید لاؤ، اب اگرچہ کپڑوں کی بہت سی اقسام اور انواع ہیں لیکن بہرحال جنس کا تو پتہ چل گیا۔ تو مجہول چیز پر وکیل بنانا درست نہیں، اور اسی طرح ضمانت جب کسی شخص کو دی جاتی ہے تو اس کے اندر بھی مال معلوم ہونا چاہیے کہ وہ کتنے مال کی ضمانت دے رہا ہے۔
تو بات چل رہی تھی کہ یہ جو عقد مفاوضہ ہے یہ ہمارے نزدیک استحساناً جائز ہے، قیاس یہ تقاضا کرتا ہے کہ یہ عقد مفاوضہ جائز نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ اس میں مجہول چیز پر وکالت اور مجہول چیز پر ضمانت لازم آتی ہے، کیونکہ ہر شریک دوسرے کا وکیل بھی ہے اور ضامن بھی ہے، تو قیاس یہ تقاضا کرتا ہے یہ جائز نہیں ہونا چاہیے۔ لیکن استحساناً اس کو جائز قرار دیا گیا، اور دلیل جو ہے حدیث ہے، حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: ”فَاوِضُوا فَإِنَّهُ أَعْظَمُ لِلْبَرَكَةِ“ کہ تم عقد مفاوضہ کیا کرو کیونکہ یہ برکت کے اعتبار سے بڑا ہے، یعنی اس میں زیادہ برکت ہے بھئی۔ اور نیز دوسری دلیل تعامل ناس ہے، مسلمانوں کا اس پر تعامل ہے، مسلمان آپس میں عقد مفاوضہ کرتے ہیں اور فقہاء نے اس کا رد نہیں کیا، تو لوگوں کا عمل کرنا اور فقہاء کا رد نہ کرنا یہ کسی چیز کے جواز کی دلیل ہوتا ہے۔ اور باقی جو اس کے اندر جہالت آئی اس کا بھی جواب دیا کہ یہاں پر جو جہالت آ رہی ہے وہ طبعاً آ رہی ہے، اصل تو یہ عقد کیا جا رہا ہے نفع کے اندر شرکت پر، تو اگر یہاں اس کے تابع ہو کر اگر تابع ہو کر جہالت آ بھی رہی ہے تو یہ جہالت تابع ہو کر آ رہی ہے، یہ اصل میں مقصود نہیں ہے، لہٰذا اس قسم کی جہالت جو ہے اس کو برداشت کر لیا جاتا ہے، وہ جائز ہوتی ہے بھئی۔
یہ اسی طرح ہے جیسے مضاربت کے اندر، مضاربت کے اندر ایک شخص کا مال ہوتا ہے اور دوسرے شخص کا عمل ہوتا ہے۔ مثلاً زید کو تجارت آتی ہے لیکن اس کے پاس مال نہیں، میرے پاس مال موجود ہے لیکن مجھے تجارت نہیں آتی، تو میں زید کو اپنا مال دے دیتا ہوں کہ اس مال کے ساتھ آپ تجارت کریں اور جو نفع حاصل ہوگا وہ ہم آدھا آدھا آپس میں تقسیم کر لیں گے۔ تو اب اس کے اندر دیکھو، زید مختلف عقد و شراء کے معاملات کرتا ہے اور اس کے اندر وہ جس کا سرمایہ ہے، جس کا مال ہے، اس کی طرف سے وکیل ہوتا ہے، تو وہاں پر زید مختلف قسم کے عقد کر رہا ہے تو ایک مجہول چیز پر وکیل بنانا لازم آ رہا ہے، کیونکہ وہ مختلف عقد کرے گا، ہر عقد کا تو راس المال والے کو پتہ ہی نہیں، لیکن پھر بھی یہ جائز ہے کیونکہ یہ جہالت تابع ہو کر آ رہی ہے، یہ اصل یہاں پر مقصود نہیں ہے بھئی۔ تو قصداً جہالت آئے وہ جائز نہیں، لیکن اگر کسی چیز کے تابع ہو کر کچھ جہالت آ رہی ہو تو وہ جائز ہوتی ہے، اس کو برداشت کر لیا جاتا ہے۔ تو یہاں پر بھی عقد مفاوضہ کے اندر اگر وکالت اور کفالت میں کچھ جہالت آ رہی ہے تو اس کو برداشت کیا جائے گا، یعنی وہ جائز ہے۔
اور صاحب ہدایہ نے آپ کو یہ بھی بتلایا کہ آزاد اور غلام کے درمیان عقد مفاوضہ صحیح نہیں، اور اسی طرح بالغ اور نابالغ کے درمیان عقد مفاوضہ صحیح نہیں، اس لیے کیونکہ عقد مفاوضہ کی بنیاد برابری پر ہے اور آزاد اور غلام یا اسی طرح بالغ اور نابالغ یہ تو تصرف کے اندر برابر نہیں۔ غلام اپنے آقا کی اجازت کے بغیر تصرف نہیں کر سکتا اور اسی طرح نابالغ بھی اپنے ولی کی اجازت کے بغیر تصرف نہیں کر سکتا، تو یہاں دونوں عقد کرنے والوں میں برابری نہ رہی، تو لہٰذا آزاد اور غلام اور بالغ اور نابالغ کے درمیان عقد مفاوضہ درست نہیں ہے۔ اور اسی طرح مسلمان اور کافر کے درمیان بھی عقد مفاوضہ درست نہیں، اس لیے کیونکہ یہاں تصرف میں برابری نہیں ہے، کافر جو ہے وہ تو شراب اور خنزیر میں تصرف کر سکتا ہے لیکن مسلمان تو شراب اور خنزیر میں تصرف نہیں کر سکتا بھئی، تو یہاں بھی برابری نہیں۔
اور صاحب ہدایہ نے یہ بھی بتلایا تھا کہ عقد مفاوضہ کرنے والے دونوں شریکوں میں سے جو شریک بھی کسی چیز کو خریدے گا تو اس میں شرکت ہوگی دونوں کی، سوائے اپنے گھر والوں کے غلے کے یا اپنے گھر والوں کے اور اپنے کپڑوں کے بھئی۔ وجہ یہ ہے کہ اپنا اور اپنے گھر والوں کا خرچہ تو کسی دوسرے پر لازم نہیں کیا جا سکتا، لہٰذا یہ چیزیں جو خریدے گا یہ مستثنیٰ ہوں گی عقد شرکت سے بھئی۔ یہ عقد شرکت سے مستثنیٰ ہوں گی ضرورت کی وجہ سے، کہ ہر انسان جو ہے وہ ان چیزوں کا محتاج ہے بھئی، محتاج ہے۔ البتہ یہ چیزیں بھی کوئی خریدے گا تو وہ جو بائع ہے وہ دونوں سے مطالبہ کر سکتا ہے، کیونکہ دونوں ایک دوسرے کے کفیل ہیں۔ البتہ اگر وہ بائع اس کے شریک سے یہ مال لے لیتا ہے تو پھر اس صورت میں اس کے شریک نے چونکہ اس کی طرف سے مال ادا کیا ہے لہٰذا وہ اس پر رجوع کر سکتا ہے بھئی۔
اور پھر صاحب ہدایہ نے ضابطہ بیان فرمایا کہ عقد شرکت کرنے والے دو شریکوں میں سے اگر کسی پر کوئی دین لازم ہو جائے تو کس دین کے اندر اس کے شریک سے بھی اس کا مطالبہ کیا جا سکتا ہے اور کس دین کے اندر اس کے شریک سے مطالبہ نہیں کیا جا سکتا؟ تو بتلایا کہ وہ دیون جو کسی ایسی چیز کے بدلے میں آئیں جس میں اشتراک ہو سکے، یعنی عقد معاوضہ کی وجہ سے جو دیون آئیں گے اس کے اندر دونوں سے مطالبہ ہو سکتا ہے۔ البتہ وہ دیون کہ جو ایسی چیز کی وجہ سے آئیں جس میں اشتراک نہیں ہو سکتا تو اس میں جس پر دین آیا ہے اسی سے مطالبہ ہو سکتا ہے، دوسرے سے مطالبہ نہیں ہو سکتا۔ جیسے ان دونوں میں سے کسی ایک نے جنایت کر دی تو جنایت کی وجہ سے جو ضمان آئے گا اس کا مطالبہ اسی جنایت والے سے ہی کیا جائے گا، اس کے شریک سے اس کا مطالبہ نہیں ہو سکتا۔ یا دونوں شریکوں میں سے ایک شریک نکاح کر لیتا ہے تو نکاح کی وجہ سے اس پر مہر لازم آئے گا، تو مہر کا مطالبہ اسی شریک سے کیا جا سکتا ہے، اس کے دوسرے ساتھی سے اس کا مطالبہ نہیں کیا جا سکتا۔ یا اسی طرح خلع ہے، خلع کی وجہ سے عورت پر مال واجب ہوتا ہے، تو اب ایک عورت پر خلع کی وجہ سے مال واجب ہوا ہے اور اس عورت نے کسی سے عقد مفاوضہ کر رکھا ہے، تو یہ بدل خلع کا مطالبہ صرف اس عورت سے ہی کیا جا سکتا ہے، اس کے شریک سے نہیں کیا جا سکتا۔ یا اسی طرح دونوں شریکوں میں سے ایک نے قتل عمد کر دیا اور پھر بعد میں ان مقتول کے اولیاء سے صلح کر لی مال پر، تو یہ مال جو صلح عن دم العمد کی وجہ سے واجب ہوا ہے یہ اسی شریک پر آئے گا جس نے قتل عمد کیا تھا، تو اسی شریک سے مطالبہ ہو سکتا ہے، دوسرے شریک سے مطالبہ نہیں ہو سکتا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
اب آئیے آج کے سبق پر:
”قَالَ: وَلَوْ كَفَلَ أَحَدُهُمَا بِمَالٍ عَنْ أَجْنَبِيٍّ لَزِمَ صَاحِبَهُ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ، وَقَالَا رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى: لَا يَلْزَمُهُ“.
بھئی، عقد مفاوضہ کے اندر آپ پڑھ چکے ہیں کہ دونوں شریک ایک دوسرے کے وکیل بھی ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کے کفیل بھی، لیکن اگر ان دونوں شریکوں میں سے کوئی ایک جو ہے کسی اجنبی کی طرف سے کفیل اور ضامن بن جائے مال کا، تو کیا دوسرے شریک پر بھی وہ مال لازم ہوگا یا نہیں؟ یعنی اس سے بھی مطالبہ کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟ مثلاً دیکھو، زید اور عمرو ان دونوں نے آپس میں عقد مفاوضہ کیا ہوا ہے، یہ دونوں ایک دوسرے کے شریک ہیں، اور پھر ان میں سے زید جو ہے اس نے ایک اجنبی کی ضمانت دے دی، زید ایک اجنبی کا کفیل بن گیا۔ توجہ ہے؟ تو زید ہوا کفیل اور وہ اجنبی ہوا مکفول عنہ، یعنی جس کی طرف سے ضمانت دی گئی ہے۔
تو یہاں اب بار بار دو تین چیزیں ذکر ہوں گی، وہ آپ نے ذہن میں رکھنا ہے بھئی: ایک تو یہ ذہن میں رکھیے کہ زید اور عمرو ان دونوں کے درمیان عقد مفاوضہ ہوا ہے، یہ دونوں ایک دوسرے کے شریک ہیں۔ اور یہ جو زید ہے اس نے ایک اجنبی کی ضمانت دی ہے یعنی اس کی طرف سے کفیل بنا ہے، تو زید کو ہم تعبیر کریں گے کفیل کے ساتھ، اور عمرو جو ہے اس کو ہم تعبیر کریں گے شریک کے ساتھ، وہ زید کا شریک ہے، اور وہ جو مکفول عنہ ہے اس کو ہم تعبیر کریں گے اجنبی کے ساتھ۔ توجہ ہے؟ تو زید کیا ہے؟ کفیل، اور عمرو اس کا شریک، اور وہ جو مکفول عنہ ہے وہ ایک اجنبی آدمی ہے بھئی۔ تو زید اور عمرو میں عقد مفاوضہ ہے، زید اور عمرو تو ایک دوسرے کے وکیل بھی ہیں اور کفیل بھی ہیں، لیکن زید ایک معاملے کے اندر ایک اجنبی شخص کی طرف سے کفیل بن گیا، ضامن بن گیا۔ تو آپ جانتے ہیں کہ جیسے اصیل سے مال کا مطالبہ ہو سکتا ہے، اسی طرح اس کے کفیل سے بھی مال کا مطالبہ ہو سکتا ہے، تو اجنبی پر دین لازم ہے، اس کا مطالبہ جیسے اجنبی سے ہو سکتا ہے اب اس کا مطالبہ کفیل یعنی زید سے بھی ہو سکتا ہے کیونکہ زید نے ضمانت دی ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ زید سے جس دین کا مطالبہ ہو رہا ہے یعنی جس کی زید نے ضمانت دی ہے، کیا اسی دین کا مطالبہ عمرو سے بھی ہو سکتا ہے یا نہیں؟ کیا عمرو پر بھی یہ دین لازم ہوا یا نہیں؟ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟
تو یاد رکھو، اس میں امام صاحب اور صاحبین کا اختلاف ہے۔ امام صاحب فرماتے ہیں کہ زید سے اس مال کا مطالبہ جب ہو سکتا ہے تو عمرو جو ہے اس سے بھی اس مال کا مطالبہ ہو سکتا ہے، جبکہ صاحبین فرماتے ہیں نہیں، اس مال کا مطالبہ صرف زید سے ہو سکتا ہے یعنی کفیل سے ہو سکتا ہے، کفیل کے شریک یعنی عمرو سے اس مال کا مطالبہ نہیں ہو سکتا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
پھر اس میں یاد رکھیے، تفصیل یاد رکھیے: زید ایک اجنبی کی طرف سے کفیل بن گیا ہے، یا تو اجنبی نے اسے کہا تھا کہ میری طرف سے آپ کفیل بن جائیں یا اجنبی کے کہے بغیر ہی زید اس کی طرف سے کفیل بن گیا ہے، دو صورتیں ہیں۔ تو یاد رکھو، اگر زید اجنبی کے کہنے پر اس کی طرف سے ضامن بنا ہے، اجنبی نے اسے کہا تھا کہ آپ میری طرف سے ضمانت دے دیجیے، تو زید نے ضمانت دے دی یعنی وہ کفیل بن گیا۔ تو اس صورت میں یاد رکھو، اگر زید کو یہ مال ادا کرنا پڑ گیا، قرض خواہ زید کے پاس آ گئے، انہوں نے زید سے یہ مال وصول کر لیا، تو زید چونکہ اس اجنبی کے کہنے پر اس کا کفیل بنا تھا، لہٰذا زید اس اجنبی پر رجوع کر سکتا ہے کہ میں نے آپ کے کہنے پر ضمانت دی تھی اور آپ کی وجہ سے یہ مجھے مال ادا کرنا پڑا، لہٰذا اب آپ مجھے یہ مال ادا کریں۔
یعنی یوں کہو آسان لفظوں میں، کہ اگر زید اس اجنبی کے کہنے پر کفیل بنا ہے تو زید اگر یہ مال ادا کر دیتا ہے تو زید اس اجنبی سے ضمان وصول کر سکتا ہے۔ زید اس اجنبی سے ضمان وصول کر سکتا ہے کہ آپ کی وجہ سے مجھے یہ مال ادا کرنا پڑا ہے، اب آپ مجھے یہ مال ادا کریں، زید اس سے ضمان وصول کر سکتا ہے۔ لیکن اگر زید خود ہی کفیل بنا تھا، اجنبی نے اسے نہیں کہا، اور زید نے خود ہی ضمانت دے دی ان قرض خواہوں کو کہ یہ اجنبی آپ کا دین ادا کر دے گا اگر یہ ادا نہیں کرتا تو مجھ سے یہ دین وصول کر لینا، اور پھر بعد میں وہ قرض خواہ زید کے پاس آئے، اس سے مطالبہ کیا اور انہوں نے زید سے یعنی کفیل سے وہ مال وصول کر لیا، تو یاد رکھو، اس صورت میں زید اس اجنبی پر رجوع نہیں کر سکتا۔ زید اس صورت میں اس اجنبی پر رجوع نہیں کر سکتا، اس لیے کیونکہ اگر زید اس پر رجوع کرے گا تو اجنبی جواب میں کہہ سکتا ہے کہ میں نے تو آپ کو نہیں کہا تھا کہ میری طرف سے ضامن بنیں اور میری طرف سے مال ادا کریں، یہ آپ نے اپنی طرف سے مال ادا کیا ہے، میں اس کا ذمہ دار نہیں ہوں بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
معلوم ہوا، بات چل رہی ہے کفالت بالمال کی، زید نے کس چیز کی ضمانت دی ہے؟ مال کی، اور اس میں پھر دو صورتیں ہیں: یہ کفالت بالمال جو ہے یا تو بأمر الأجنبي ہوگی، اجنبی کے کہنے کی وجہ سے ہوگی، یا بغیر أمر الأجنبي اجنبی کے کہے بغیر ہوگی۔ اور اگر یہ کفالت بالمال جو ہے اگر بأمر الأجنبي ہو اور زید کو یہ دین ادا کرنا پڑ جائے تو زید اس اجنبی پر رجوع کر کے ضمان وصول کر سکتا ہے۔ اور اگر یہ کفالت بالمال جو ہے یہ بغیر أمر الأجنبي ہے تو اس صورت میں اگر زید یہ مال ادا کر دے تو زید اس اجنبی پر ضمان کے سلسلے میں رجوع نہیں کر سکتا۔ رجوع نہیں کر سکتا، معنی یہ ہے کہ جبراً اس سے وصول نہیں کر سکتا۔ اگر زید خود ہی ضامن بنا تھا اجنبی کے کہے بغیر، تو یہ معنی نہیں کہ زید اس سے ضمان لے ہی نہیں سکتا، معنی یہ ہے کہ زید اس سے جبراً ضمان نہیں لے سکتا، یعنی اسے قاضی کے پاس لے جائے اور اس سے ضمان کا مطالبہ کرے، نہیں، زید ایسا نہیں کر سکتا، کیونکہ اجنبی کہے گا کہ میں نے تو آپ کو نہیں کہا تھا کہ آپ میری طرف سے ضامن بنیں اور میری طرف سے ضمان ادا کریں۔ تو زید جب اجنبی کے کہے بغیر ضامن بنا ہے اور پھر زید نے یہ دین ادا کر دیا ہے تو بعد میں زید جبراً اس اجنبی سے ضمان وصول نہیں کر سکتا۔ ہاں، اخلاقی طور پر اس اجنبی کو یہ ضمان ادا کرنا چاہیے، کیونکہ زید نے اس کے ذمے ایک دین کو ادا کیا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
تو صورت مسئلہ یہ ذکر ہو رہی تھی کہ دو شریک ہیں زید اور عمرو، اور ان میں سے زید جو ہے ایک اجنبی کی طرف سے کفیل بن گیا ہے اور اس اجنبی کے کہنے پر کفیل بنا ہے، تو اس دین کا مطالبہ اس اجنبی کے ساتھ ساتھ اب زید سے بھی ہو سکتا ہے، لیکن کیا عمرو سے بھی اس دین کا مطالبہ ہو سکتا ہے یا نہیں؟ تو اس میں امام صاحب اور صاحبین کا اختلاف ہے۔ امام صاحب فرماتے ہیں کہ اس دین کا مطالبہ اس کفیل کے شریک یعنی عمرو سے بھی ہو سکتا ہے، جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ نہیں، یہ جو عقد کفالت ہے یہ عقد تبرع ہے۔ یہ عقد کفالت کیا ہے؟ عقد تبرع ہے، اور دو شریکوں میں سے ایک کا تبرع دوسرے پر لازم نہیں ہوتا۔ تبرعات میں ایک شریک کا تبرع دوسرے شریک پر لازم نہیں ہوتا۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا تبرع اسے کہتے ہیں کہ کوئی چیز آپ پر لازم نہ ہو اور آپ اپنی طرف سے ادا کریں، اس کو تبرع کہتے ہیں۔ جیسے مثلاً آپ کسی فقیر کو اپنی طرف سے ویسے ہی صدقہ نافلہ دیتے ہیں یعنی ویسے ہی صدقہ کرتے ہیں، آپ پر کوئی لازم نہیں، ایک تو صدقہ واجبہ ہے یعنی زکوٰۃ وغیرہ، اور ایک ہے صدقہ نافلہ کہ اپنی طرف سے ویسے خیرات وغیرہ کرنا، فقیر کے اوپر صدقہ کرنا، تو یاد رکھو، یہ جو نفلی صدقات آپ دے رہے ہیں یہ تبرع ہے بھئی، یہ کیا ہے؟ تبرع، یہ آپ پر لازم نہیں۔ یا اسی طرح آپ نفل پڑھتے ہیں، کچھ تو نمازیں فرض ہیں لیکن یہ جو آپ نفل پڑھ رہے ہیں یہ تو آپ پر لازم نہیں ہیں، تو یہ نفل کیا ہیں؟ یہ بھی تبرع ہیں بھئی۔ اسی طرح آپ نفلی روزے رکھتے ہیں تو یہ نفلی روزے بھی آپ پر کوئی لازم نہیں تو یہ بھی تبرع ہیں بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟
تو صاحبین فرماتے ہیں کہ یہ عقد کفالت جو ہے یہ تبرع ہے۔ یہ عقد کفالت کیا ہے؟ عقد تبرع ہے، اور ایک شریک کا تبرع دوسرے شریک پر لازم نہیں ہوتا، لہٰذا زید کفیل بنا ہے تو زید ہی سے اس دین کا مطالبہ ہو سکتا ہے، زید کے شریک یعنی عمرو سے اس دین کا مطالبہ نہیں ہو سکتا۔ اور نیز یہ بھی یاد رکھنا، یہ جو امام صاحب اور صاحبین کا اختلاف ہے آگے چل کر صاحب ہدایہ بھی آپ کو بتلائیں گے، یہ اس صورت میں اختلاف ہے جب زید نے اجنبی کے کہنے پر ضمانت دی ہو، جب زید اجنبی کے کہنے پر کفیل بنا ہے تو اس صورت میں امام صاحب اور صاحبین کا اختلاف ہے۔ امام صاحب فرماتے ہیں یہ دین جیسے زید پر لازم ہے اسی طرح اس کے شریک پر بھی لازم ہے، جبکہ صاحبین فرماتے ہیں نہیں، یہ عقد کفالت عقد تبرع ہے اور یہ صرف زید پر ہی لازم ہے، اس کے شریک یعنی عمرو پر لازم نہیں، عمرو سے اس دین کا مطالبہ نہیں کیا جا سکتا۔
اور یہ بھی سمجھ لو کہ یہ عقد کفالت تبرع کس طرح ہے؟ بھئی دیکھیے، تبرع میں نے آپ کو بتلایا ایک ایسی چیز ادا کرنا جو آپ کے ذمے لازم نہ ہو۔ آپ سے ایک آدمی کہتا ہے کہ آپ اس مسئلے کے اندر میرے ضامن بن جائیں، تو آپ کی مرضی ہے آپ ضامن بنیں یا نہ بنیں۔ معلوم ہوا، یہ عقد کفالت جو ہے کسی پر لازم نہیں ہوتا، اس کی مرضی ہوتی ہے، وہ کفیل بنے یا کفیل نہ بنے۔ معلوم ہوا عقد کفالت تبرع ہے بھئی۔ پھر سنیے، پھر سنیں بھئی، مسئلہ مشکل ہے اس لیے میں بار بار تکرار کروا رہا ہوں۔ مسئلہ جو ہے کفالت بالمال کا چل رہا ہے، اور کفالت بالمال کے اندر ایک شریک جو ہے کسی اجنبی کی طرف سے کفیل بن گیا ہے لیکن اس اجنبی کے کہنے پر۔ تو امام صاحب کے نزدیک اس کفیل پر بھی یہ دین لازم اور اس کے شریک پر بھی یہ دین لازم ہے، دونوں سے مطالبہ ہو سکتا ہے، جبکہ صاحبین فرماتے ہیں نہیں، صرف اسی شریک سے مطالبہ ہو سکتا ہے جو کفیل بنا ہے، اس کے دوسرے ساتھی سے اس کا مطالبہ نہیں ہو سکتا، بات سمجھ میں آ گئی۔
جی دیکھیے بھئی کتاب پر:
”قَالَ“: امام محمد رحمہ اللہ جامع صغیر میں فرماتے ہیں:
”وَلَوْ كَفَلَ أَحَدُهُمَا بِمَالٍ“: اور اگر دو شریکوں میں سے ایک جو ہے وہ مال کا کفیل ہو گیا
”عَنْ أَجْنَبِيٍّ“: کسی اجنبی کی طرف سے
”لَزِمَ صَاحِبَهُ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى“: تو اس شریک کے ساتھی پر بھی یہ دین لازم ہوگا امام صاحب کے نزدیک، یعنی اس کفیل کا جو شریک ہے اس سے بھی اس دین کا مطالبہ ہو سکتا ہے، اس پر بھی یہ دین لازم ہو گیا۔
”وَقَالَا“: اور صاحبین فرماتے ہیں:
”لَا يَلْزَمُهُ“: کہ اس کفیل کے ساتھی پر یعنی دوسرے شریک پر یہ دین لازم نہیں، اس سے مطالبہ نہیں ہو سکتا۔
اب صاحبین کی دلیل آ رہی ہے آگے بھئی۔ صاحبین فرماتے ہیں یہ عقد کفالت عقد تبرع ہے، اور ایک شریک کا تبرع دوسرے شریک پر لازم نہیں ہوتا بھئی۔ تو کہتے ہیں:
”وَقَالَا“: اور صاحبین فرماتے ہیں:
”لَا يَلْزَمُهُ“: کہ اس کے ساتھی پر یہ دین لازم نہیں ہوگا
”لِأَنَّهُ تَبَرُّعٌ“: اس لیے کیونکہ عقد کفالت جو ہے یہ تبرع ہے۔
صاحبین فرماتے ہیں کہ عقد معاوضہ کی وجہ سے جو دین ایک شریک پر لازم ہوگا وہ دوسرے پر بھی لازم ہو جائے گا۔ عقد معاوضہ کی وجہ سے، جیسے ابھی گزشتہ سبق کے آخر میں آیا تھا کہ دو شریکوں میں سے ایک پر جب دین لازم ہو جائے ایسے سبب کی وجہ سے جس میں شرکت ہو سکے، جیسے بیع و شراء اور اجارہ وغیرہ ہے، تو اس میں ایک شریک پر جو دین لازم ہوگا وہ اس کے دوسرے ساتھی پر بھی لازم ہو جائے گا، یعنی عقد معاوضہ کے اندر ایسا ہوگا، لیکن یہ کفالت تو عقد تبرع ہے، لہٰذا اس کی وجہ سے جو دین لازم ہوگا وہ دوسرے شریک سے اس کا مطالبہ نہیں ہو سکتا۔
تو کہتے ہیں:
”وَقَالَا: لَا يَلْزَمُهُ لِأَنَّهُ تَبَرُّعٌ“
اور صاحبین فرماتے ہیں اس کے ساتھی پر جو ہے یہ دین لازم نہیں ہوگا، اس لیے کیونکہ عقد کفالت یہ تبرع ہے۔
”وَلِهَذَا لَا يَصِحُّ مِنَ الصَّبِيِّ وَالْعَبْدِ الْمَأْذُونِ وَالْمُكَاتَبِ“
اور اسی وجہ سے یہ صحیح نہیں ہوتا بچے سے اور عبد ماذون سے اور مکاتب سے۔
یاد رکھو، بچہ، عبد ماذون اور مکاتب یہ اہل تبرع نہیں ہیں۔ میں نے بتلایا تبرع کسے کہتے ہیں کہ کوئی چیز اپنی طرف سے کسی کو دینا جو آپ پر لازم نہ ہو۔ تو یہ جو بچہ ہے، یہ اپنا مال کسی کو ویسے ہی دینا چاہتا ہے بطور صدقے کے یا ویسے کسی کو اپنے مال کا مالک بنانا چاہتا ہے؟ نہیں بھئی، اس میں تو بچے کا نقصان ہے، بچہ ناسمجھ ہے وہ اپنا مال اس طرح ضائع کرے گا، لہٰذا وہ اہل تبرع نہیں ہے، وہ کسی کو اپنے مال کا مالک ویسے نہیں بنا سکتا۔
اسی طرح یاد رکھو عبد ماذون، وہ غلام جسے آقا نے اجازت دی ہے کہ وہ تجارت کرے، مثلاً کسی آدمی کا غلام سمجھدار ہے تو آقا اسے کہتا ہے کہ جاؤ تجارت کرو اور مال کما کر لاؤ۔ تو یاد رکھو، یہ جو عبد ماذون ہے یہ بھی تبرع کا اہل نہیں ہے، یہ کسی کو مال کا مالک ویسے ہی نہیں بنا سکتا بھئی، وجہ یہ کہ اس کو آقا نے جو تجارت کی اجازت دی ہے وہ مال کمانے کے لیے اجازت دی ہے، مال کو اڑانے اور ختم کرنے کے لیے اجازت نہیں دی، کیونکہ مال تو سارا مالک کا ہے بھئی، تو عبد ماذون بھی تبرع کا اہل نہیں ہے۔
اسی طرح یاد رکھو، عبد مکاتب جو ہے جس نے آقا کے ساتھ عقد کتابت کیا ہے اور آقا نے مثلاً اسے کہا ہے کہ دو سال تک ہر مہینے مجھے ایک لاکھ روپے ادا کرو تو تم پھر آزاد ہو، اور آپ پڑھ چکے ہیں کہ یہ جو مکاتب ہے یہ آزاد آدمی کی طرح ہوتا ہے، آقا اس سے جبراً خدمت نہیں لے سکتا، یہ جائے گا جا کر محنت کرے گا، پیسے کمائے گا اور اپنے آپ کو آزاد کروائے گا۔ تو یہ جو مکاتب ہے یہ بھی اہل تبرع نہیں ہے، اس لیے کیونکہ شریعت نے اس کو آزاد آدمی کی طرح تصرفات کا مالک بنا دیا ہے، لیکن یہ تصرفات کا مالک اس کو شریعت نے آزادی کے لیے بنایا ہے تاکہ یہ بدل کتابت ادا کر کے اپنے آپ کو آزاد کرے، لہٰذا اس کو بھی مال اڑانے کی اجازت نہیں ہوگی کہ وہ اپنے مال کا مالک کسی دوسرے کو بنائے۔ تو معلوم ہوا بچہ، عبد ماذون اور مکاتب جو ہیں یہ اہل تبرع نہیں ہیں بھئی۔
تو صاحبین کی دلیل چل رہی ہے، صاحبین فرماتے ہیں کہ یہ عقد کفالت جو ہے یہ عقد تبرع ہے، اسی لیے بچے کی طرف سے اور عبد ماذون کی طرف سے اور مکاتب کی طرف سے کفالت صحیح نہیں۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ یہ عقد کفالت عقد تبرع ہے۔ اگر یہ عقد کفالت تبرع نہ ہوتا، یہ عقد معاوضہ ہوتا، پھر تو بچے کو بھی اجازت ہوتی، پھر تو عبد ماذون کو بھی اجازت ہوتی، اور پھر تو مکاتب کو بھی اجازت ہوتی بھئی، بچے کو بھی اگر اس کا ولی اجازت دے دیتا ہے تو وہ بیع و شراء کر سکتا ہے بھئی، لیکن بچہ، عبد ماذون اور مکاتب یہ عقد کفالت نہیں کر سکتے، یہ کسی کے ضامن نہیں بن سکتے، معلوم ہوا عقد کفالت عقد تبرع ہے، اسی لیے یہ اس کے اہل نہیں ہیں بھئی۔
یہ معنی ہے:
”وَلِهَذَا لَا يَصِحُّ مِنَ الصَّبِيِّ وَالْعَبْدِ الْمَأْذُونِ وَالْمُكَاتَبِ“
اور اسی لیے یہ عقد کفالت صحیح نہیں ہے بچے اور عبد ماذون اور مکاتب کی طرف سے۔
”وَلَوْ صَدَرَ مِنَ الْمَرِيضِ يَصِحُّ مِنَ الثُّلُثِ“
صاحبین کی دلیل چل رہی ہے، نیز صاحبین فرماتے ہیں کہ یہ عقد کفالت یہ عقد معاوضہ نہیں ہے بلکہ یہ عقد تبرع ہے، اسی لیے اگر وہ شخص جو مرض الموت میں مبتلا ہے وہ اگر یہ عقد کفالت کرنا چاہتا ہے تو اپنے مال کے ثلث تک وہ ضمانت کسی کو دے سکتا ہے، اس سے زیادہ کی ضمانت نہیں دے سکتا۔
بھئی آپ پڑھ چکے ہیں کہ انسان جب تک تندرست ہے وہ اپنے مال میں جس طرح تصرف کرنا چاہے کر سکتا ہے، وہ اپنا سارا مال کسی کو دینا چاہتا ہے وہ سارا مال دے سکتا ہے، لیکن جب انسان مرض الموت میں مبتلا ہو جائے تو اب اس کے وارثوں کا حق مال کے ساتھ متعلق ہو گیا، اب یہ اس دنیا سے جانے والا ہے اور اس کا مال اس کے وارثوں کی طرف منتقل ہونے والا ہے، تو مرض الموت میں مریض کے مال کے ساتھ وارثوں کا حق متعلق ہو جاتا ہے، اور اس کے بعد اگر مریض تبرع کرنا چاہتا ہے تو ثلث تک اس کو اجازت ہے، ثلث سے زائد جو ہے وہ وارثوں کا حق ہے۔ لہٰذا مرض الموت میں مبتلا شخص اپنے مال کو صدقہ اور خیرات کرنا چاہتا ہے تو صرف ثلث تک کر سکتا ہے، باقی وارثوں کا حق ہے۔ یا اسی طرح مرض الموت میں مبتلا شخص اپنے مال کی وصیت کرنا چاہتا ہے تو صرف ثلث تک وصیت کر سکتا ہے، اس سے زائد وارثوں کا حق ہے بھئی۔
چنانچہ صاحبین فرماتے ہیں کہ یہ عقد کفالت عقد تبرع ہے، اسی لیے مرض الموت میں مبتلا شخص اپنے مال کے ثلث تک جو ہے عقد کفالت کر سکتا ہے، اس سے زیادہ نہیں، معلوم ہوا عقد کفالت تبرع ہے۔ اگر یہ عقد معاوضہ ہوتا پھر تو مرض الموت میں مبتلا شخص بھی اپنے سارے مال کے اندر عقد کفالت کر سکتا، لیکن وہ اپنے سارے مال میں عقد کفالت نہیں کر سکتا، معلوم ہوا یہ عقد تبرع ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں:
”وَلَوْ صَدَرَ مِنَ الْمَرِيضِ“
اور یہ عقد کفالت اگر مرض الموت میں مبتلا مریض کی طرف سے صادر ہو جائے یعنی اس کی طرف سے پیش آ جائے
”يَصِحُّ مِنَ الثُّلُثِ“
تو یہ اس کے مال کے ثلث میں سے صحیح ہوتا ہے، زائد کے اندر صحیح نہیں بھئی۔
”وَصَارَ كَالْإِقْرَاضِ وَالْكَفَالَةِ بِالنَّفْسِ“
اقراض بھئی، اقرض یقرض اقراض کا معنی ہے کسی کو قرض دینا، قرض دینا۔ صاحبین فرماتے ہیں کہ یہ جو دو شریک ہیں ان دونوں میں سے اگر کسی ایک کو کوئی آدمی قرض کے طور پر کوئی مال دے دے، مثلاً زید اور عمرو شریک ہیں اور زید کو کچھ مال کی ضرورت پیش آ گئی اور اس نے کسی اجنبی سے قرض لے لیا، تو صاحبین فرماتے ہیں یہ جو قرض ہے یہ بھی عقد تبرع ہے۔ یہ اقراض جو ہے یعنی قرض دینا یہ بھی کیا ہے؟ عقد تبرع۔ یہ جو اجنبی نے ایک شریک کو قرض دیا ہے یہ عقد تبرع ہے، اور اسی لیے اس قرض کا مطالبہ اسی شریک سے ہو سکتا ہے جس کو قرض دیا گیا ہے، اس کے دوسرے ساتھی سے اس قرض کا مطالبہ نہیں ہو سکتا۔ تو صاحبین فرماتے ہیں اقراض جو ہے وہ بھی عقد تبرع ہے بھئی، جو شریک قرض لے گا اسی سے مطالبہ ہو سکتا ہے، اس کے دوسرے ساتھی سے قرض کا مطالبہ نہیں ہو سکتا۔
اور اسی طرح یاد رکھنا، ایک ہے کفالت بالنفس بھئی۔ کفالت بالمال میں تو ایک شخص مال کا ضامن بنتا ہے، توجہ ہے؟ مثلاً اجنبی کے اوپر دین تھا، اس نے کچھ مال ادا کرنا ہے کسی کا، تو زید اس کی طرف سے کفیل بن گیا، ضامن بن گیا مال کا، تو یہ ہے کفالت بالمال۔
اور ایک ہوتی ہے کفالت بالنفس بھئی، یعنی کسی کے نفس کا کفیل بننا، اس کی جان کا کفیل بننا۔ کفالت بالنفس کے اندر ایک شخص کو حاضر کرنے کی ضمانت دی جاتی ہے، کہ اس شخص کو فلاں موقع پر حاضر کرنا میرا کام ہے میری ذمہ داری ہے۔ تو یہ ہے کفالت بالنفس کہ آپ ایک شخص کے جان کی ضمانت دے رہے ہیں، مال کی ضمانت نہیں، اس میں آپ سے مال کا مطالبہ نہیں ہو سکتا، ہاں، آپ سے اس شخص کا مطالبہ ہو سکتا ہے کہ آپ اس شخص کو حاضر کریں، لے کر آئیں۔ مثلاً ایک اجنبی ہے اس کے اوپر دین ہے بھئی، اور وہ جو قرض خواہ ہیں وہ اس اجنبی کو پکڑ کر اب قاضی کے پاس لے جا رہے ہیں، تو آپ ضامن بن جاتے ہیں اور آپ کہتے ہیں کہ یہ جو مدیون ہے اس کو تین دن کی مہلت دے دیجیے، یہ آپ کا دین آپ کو ادا کر دے گا، اگر اس نے تین دن کے اندر یہ مال ادا نہ کیا تو اس شخص کو قاضی کے پاس حاضر کرنا میرا کام ہے۔ تو دیکھو آپ ضامن بن گئے اس آدمی کے، لیکن اس کے مال کے ضامن نہیں بنے، اس کے نفس کے ضامن بنے ہیں کہ اس آدمی کو قاضی کے پاس حاضر کرنا یہ میرا کام ہے۔ اس کو کہتے ہیں کفالت بالنفس بھئی، توجہ ہے؟
اور یاد رکھو، یہ جو کفالت بالنفس ہے یہ بھی عقد تبرع ہے بھئی۔ کفالت بالنفس بھی کیا ہے؟ عقد تبرع ہے، یہاں معاوضہ نہیں، آپ نے اس آدمی کو حاضر کرنا ہے۔ تو بات چل رہی ہے کفالت بالمال کی، صاحبین فرماتے ہیں یہ کفالت بالمال جو ہے یہ عقد تبرع ہے تو یہ بھی اقراض کی طرح ہو گیا اور یہ کفالت بالنفس کی طرح ہو گیا۔ کس چیز کی بات چل رہی ہے؟ کفالت بالمال کی، لیکن یہ کفالت بالمال بھی کس کی طرح ہے؟ یہ اقراض کی طرح ہے، قرض دینے کی طرح، اور کفالت بالنفس کی طرح ہے، اور اقراض اور کفالت بالنفس کے اندر جس نے قرض لیا ہے یا جو کفیل بالنفس بنا ہے اسی سے مطالبہ ہو سکتا ہے، دوسرے آدمی سے مطالبہ نہیں ہو سکتا، تو یہ کفالت بالمال بھی اسی کی طرح ہے۔
دلیل سمجھ میں آ گئی؟ صاحبین کی دلیل کا خلاصہ پھر سمجھ لیں: صاحبین فرماتے ہیں کہ یہ جو ایک شریک نے اجنبی کی طرف سے مال کی ضمانت دی ہے یہ عقد تبرع ہے، اور ایک شریک کا عقد تبرع دوسرے پر لازم نہیں ہوتا، لہٰذا دوسرے شریک سے اس مال کا مطالبہ نہیں کیا جا سکتا۔ تو یہ کفالت بالمال جو ہے یہ بھی کس کی طرح ہو گئی؟ اقراض کی طرح، قرض دینے کی طرح، اور کفالت بالنفس کی طرح، اور اقراض اور کفالت بالنفس کے اندر جو قرض لے یا جو کفیل بالنفس بنتا ہے اسی سے مطالبہ ہو سکتا ہے، اس کے شریک سے مطالبہ نہیں ہو سکتا، تو لہٰذا یہاں بھی کفالت بالمال کے اندر بھی کفیل سے ہی مطالبہ ہو سکتا ہے، اس کے شریک سے مطالبہ نہیں ہو سکتا۔
اب آگے امام صاحب کی دلیل آ رہی ہے:
”وَلِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى أَنَّهُ تَبَرُّعٌ ابْتِدَاءً وَمُعَاوَضَةٌ بَقَاءً“.
امام صاحب فرماتے ہیں یہ عقد کفالت بالمال جو بأمر الأجنبي ہو، یعنی بأمر المكفول عنه ہو، یہ عقد کفالت جو ہے یہ ابتداء کے اعتبار سے عقد تبرع ہے لیکن انتہاء کے اعتبار سے دیکھیں تو یہ عقد معاوضہ ہے۔ توجہ ہے؟ صورت کیا ذکر ہو رہی ہے؟ زید اور عمرو شریک ہیں، زید کفیل بن گیا ایک اجنبی کی طرف سے اس اجنبی کے کہنے پر، اور آپ کو میں نے بتلایا کہ جب مکفول عنہ کے کہنے پر کوئی کفیل بنتا ہے تو اگر اس کفیل کو مال ادا کرنا پڑ جائے تو وہ کفیل بعد میں اس مکفول عنہ سے ضمان وصول کر سکتا ہے کہ مجھے آپ کی وجہ سے یہ مال ادا کرنا پڑا ہے، لہٰذا اب آپ یہ مال مجھے ادا کریں۔ توجہ ہے؟
تو امام صاحب فرماتے ہیں کہ بات چل رہی ہے اس عقد کفالت بالمال کی جو بأمر الأجنبي ہے یا جو بأمر المكفول عنه ہے، اور یہ جو عقد کفالت ہے ابتداء کے اعتبار سے یہ عقد تبرع ہے۔ ابتداء کے اعتبار سے عقد تبرع ہے، آپ سے ایک آدمی نے کہا میری طرف سے ضمانت دے دیں، آپ کی مرضی ہے آپ ضامن بنیں یا ضامن نہ بنیں، تو لہٰذا ابتداء کے اعتبار سے یہ عقد کفالت بالمال بأمر الأجنبي یہ ابتداء کے اعتبار سے تبرع ہے لیکن انتہاء کے اعتبار سے یہ معاوضہ ہے، کیونکہ اگر کفیل کو یہ مال ادا کرنا پڑ جائے...
مال ادا کرنا پڑ جائے تو وہ اس کا ضمان وصول کر سکتا ہے مکفول عنہ سے۔ تو یہ کفالت بالمال جو بأمر الاجنبی ہو، یہ ابتداء کے اعتبار سے تبرع ہے لیکن انتہاء اور بقاء کے اعتبار سے یہ معاوضہ ہے بھئی۔ اور مفاوضہ کے اندر بھی آپ نے پڑھا کہ وہ دین جو ایک شریک پر لازم ہو کسی عقدِ معاوضہ کی وجہ سے، تو دوسرے شریک پر بھی وہ دین لازم ہو جاتا ہے، اس سے بھی اس کا مطالبہ کیا جا سکتا ہے۔ تو امام صاحب فرماتے ہیں یہ جو کفالت بالمال ہے بأمر الاجنبی، ابتداء کے اعتبار سے یہ تبرع ہے، لیکن انتہاء اور بقاء کے اعتبار سے یہ معاوضہ ہے۔ لہٰذا دوسرے شریک پر بھی یہ مال لازم ہو جائے گا اور اس سے بھی اس کا مطالبہ کیا جا سکتا ہے۔
تو کہتے ہیں: ”وَلِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى أَنَّهُ تَبَرُّعٌ ابْتِدَاءً وَمُعَاوَضَةٌ بَقَاءً“ اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے کہ یہ عقدِ کفالت جو ہے ابتداء کے اعتبار سے تبرع ہے اور یہ بقاء کے اعتبار سے معاوضہ ہے بھئی، ”لِأَنَّهُ يَسْتَوْجِبُ الضَّمَانَ“ بھئی ادھر دیکھیے، میں نے آپ کو بتلا دیا کہ یہ عقدِ کفالت بالمال جو بأمر الاجنبی ہو، ابتداء کے اعتبار سے تبرع اور انتہاء کے اعتبار سے معاوضہ۔ بھئی انتہاء کے اعتبار سے معاوضہ کیسے ہے؟ میں نے آپ کو بتلایا کہ اگر کفیل کو یہ مال ادا کرنا پڑ جائے، تو چونکہ اس نے اجنبی کے کہنے کی وجہ سے ضمانت دی تھی، تو اب یہ کفیل اس اجنبی پر رجوع کر کے اس سے ضمان لے سکتا ہے، تو یہ معاوضہ ہو گیا۔ وہی اب بیان کر رہے ہیں کہ یہ بقاء کے اعتبار سے معاوضہ کیسے ہے بھئی۔ کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ يَسْتَوْجِبُ الضَّمَانَ بِمَا يُؤَدِّي عَلَى الْمَكْفُولِ عَنْهُ“ استوجب یستوجب استیجاب کا معنی ہے مستحق ہونا۔ ”لِأَنَّهُ يَسْتَوْجِبُ الضَّمَانَ“ اس لیے کیونکہ وہ جو کفیل ہے وہ ضمان کا مستحق ہو جاتا ہے، وہ ضمان وصول کر سکتا ہے۔ بھئی کس چیز کا ضمان؟ کہتے ہیں: ”بِمَا يُؤَدِّي“ اس چیز کے بدلے میں جو اس نے ادا کیا ہے۔ کفیل نے اگر یہ دین ادا کیا ہے تو اس کی وجہ سے اب وہ اس اجنبی سے ضمان وصول کر سکتا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ يَسْتَوْجِبُ الضَّمَانَ بِمَا يُؤَدِّي“ اس لیے کیونکہ یہ کفیل جو ہے یہ جو اس نے ادائیگی کی ہے اس کی وجہ سے ضمان کا مستحق ہو جاتا ہے ”عَلَى الْمَكْفُولِ عَنْهُ“ کس پر ضمان کا مستحق ہوتا ہے؟ مکفول عنہ پر، یعنی وہ جو اجنبی ہے جس کی طرف سے اس نے ضمانت دی تھی، ”إِذَا كَانَتِ الْكَفَالَةُ بِأَمْرِهِ“ جب یہ کفالت اس مکفول عنہ کے کہنے پر ہو، ”فَبِالنَّظَرِ إِلَى الْبَقَاءِ يَتَضَمَّنُهُ الْمُفَاوَضَةُ“ تو بقاء کی طرف دیکھتے ہوئے عقدِ مفاوضہ اس کفالت کو متضمن ہے۔
یہ عقدِ کفالت بقاء کے اعتبار سے کیا ہے؟ معاوضہ، اور شرکتِ مفاوضہ میں بھی کیا ہوتا ہے؟ تجارت وغیرہ کی جاتی ہے اور اس میں بھی معاوضات ہوتے ہیں۔ تو بقاء کے اعتبار سے عقدِ مفاوضہ اس عقدِ کفالت کو بھی متضمن ہے، کیونکہ یہ بھی بقاء کے اعتبار سے معاوضہ ہے۔ یہ معنی ہے ”فَبِالنَّظَرِ إِلَى الْبَقَاءِ يَتَضَمَّنُهُ الْمُفَاوَضَةُ“ تو بقاء کی طرف دیکھتے ہوئے مفاوضہ متضمن ہے اس عقدِ کفالت کو۔ یہ کفالت بالمال بأمر الاجنبی یہ بھی انتہاء کے اعتبار سے معاوضہ ہے، تو مفاوضہ اس کو بھی متضمن ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”فَبِالنَّظَرِ إِلَى الْبَقَاءِ يَتَضَمَّنُهُ الْمُفَاوَضَةُ“ تو بقاء کی طرف نظر کرتے ہوئے عقدِ مفاوضہ اس کفالت کو متضمن ہے، ”وَبِالنَّظَرِ إِلَى الِابْتِدَاءِ“ یہاں سے جواب دے رہے ہیں۔ صاحبین فرماتے تھے کہ یہ عقدِ کفالت تبرع ہے، اسی لیے تو بچہ، عبد ماذون اور مکاتب یہ کفیل نہیں بن سکتے، کیونکہ عقدِ کفالت تبرع ہے اور یہ افراد تو تبرع کے اہل نہیں ہیں۔ تو اس کا جواب دے رہے ہیں کہ بچہ، عبد ماذون اور مکاتب یہ عقدِ کفالت کے اہل نہیں ہیں ابتداء کی طرف نظر کرتے ہوئے، کیونکہ عقدِ کفالت ابتداء کے اعتبار سے تبرع ہے بھئی، اور یہ بچہ اور عبد ماذون اور مکاتب یہ تو اہل تبرع نہیں ہیں، اس لیے یہ کفیل نہیں بن سکتے۔
تو کہتے ہیں: ”وَبِالنَّظَرِ إِلَى الِابْتِدَاءِ لَمْ تَصِحَّ مِمَّنْ ذَكَرَهُ“ اور ابتداء کی طرف نظر کرتے ہوئے یہ عقدِ کفالت صحیح نہیں ہے ان افراد کی جانب سے جن کو امام محمد رحمہ اللہ نے ذکر فرمایا ہے، یعنی بچہ ہے، عبد ماذون ہے یا مکاتب ہے۔ ابتداء کی طرف نظر کرتے ہوئے یہ بچہ، عبد ماذون اور یہ مکاتب یہ عقدِ کفالت کے اہل نہیں ہیں، کیونکہ ابتداء کے اعتبار سے یہ عقدِ کفالت تبرع ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَبِالنَّظَرِ إِلَى الِابْتِدَاءِ لَمْ تَصِحَّ مِمَّنْ ذَكَرَهُ“ اور ابتداء کی طرف نظر کرتے ہوئے یہ عقدِ کفالت صحیح نہیں ہے اس شخص کی طرف سے جس کو امام محمد رحمہ اللہ نے ذکر فرمایا۔ اور نیز صاحبین نے ذکر کیا تھا کہ عقدِ کفالت عقدِ تبرع ہے، اسی لیے مرض الموت میں مبتلا شخص جو ہے اپنے ثلث مال کے اندر یہ عقد کر سکتا ہے، اس سے زائد کے اندر یہ عقد نہیں کر سکتا۔ تو اس کا بھی جواب دے رہے ہیں کہ وہاں بھی ابتداء کی طرف دیکھا جائے تو یہ عقدِ کفالت تبرع ہے، تو ابتداء کی طرف نظر کرتے ہوئے مرض الموت میں مبتلا مریض جو ہے وہ اپنے ثلث مال سے زائد کے اندر یہ عقد نہیں کر سکتا۔
تو کہتے ہیں: ”وَيَصِحُّ مِنَ الثُّلُثِ مِنَ الْمَرِيضِ“ یہ ”وَيَصِحُّ“ کا عطف ہے پیچھے جو آیا ”لَمْ تَصِحَّ“، تو ”لَمْ تَصِحَّ“ کو اٹھائیں اور اس کی جگہ یہ عبارت لگا دیں اور پھر پیچھے سے جملہ پڑھیں۔ تو کہتے ہیں: ”وَبِالنَّظَرِ إِلَى الِابْتِدَاءِ يَصِحُّ مِنَ الثُّلُثِ مِنَ الْمَرِيضِ“ اور ابتداء کی طرف نظر کرتے ہوئے مریض سے بھی ثلث میں سے ہی صحیح ہے بھئی۔ توجہ ہے؟ تو کہتے ہیں: ”وَبِالنَّظَرِ إِلَى الِابْتِدَاءِ لَمْ تَصِحَّ مِمَّنْ ذَكَرَهُ وَيَصِحُّ مِنَ الثُّلُثِ مِنَ الْمَرِيضِ“ اور ابتداء کی طرف دیکھتے ہوئے یہ عقدِ کفالت صحیح نہیں ہے ان لوگوں سے جن کو امام محمد رحمہ اللہ نے ذکر فرمایا، یعنی بچہ ہے، عبد ماذون ہے اور مکاتب ہے، اور اسی طرح ابتداء کی طرف نظر کرتے ہوئے مرض الموت میں مبتلا شخص کے ثلث میں سے صحیح ہے، ”بِخِلَافِ الْكَفَالَةِ بِالنَّفْسِ“ صاحبین فرماتے تھے کہ یہ کفالت بالمال بأمر الاجنبی جو ہے، یہ کفالت بالنفس کی طرح ہے۔ اور کفالت بالنفس کے اندر جو شریک کفیل بنے گا، اسی سے مطالبہ ہو سکتا ہے، دوسرے سے نہیں۔ مثلاً زید ایک اجنبی کی ذات کا، اس کی جان کا کفیل بن گیا کہ اس کو قاضی کے پاس حاضر کرنا میرا کام ہے۔ تو جو کفیل بنا ہے جس نے عقدِ کفالت بالنفس کیا ہے، اسی سے اس کا مطالبہ ہو سکتا ہے۔ زید سے مطالبہ ہو گا کہ وہ اس آدمی کو قاضی کے پاس حاضر کرے، زید کے شریک یعنی عمر سے اس کا مطالبہ نہیں ہو سکتا۔ تو اس کا بھی جواب دے رہے ہیں کہ آپ اس کفالت بالمال بأمر الاجنبی جو ہے، اس کو آپ کفالت بالنفس کی طرح قرار نہیں دے سکتے، اس لیے کیونکہ کفالت بالنفس جو ہے وہ ابتداءً بھی تبرع ہے اور بقاءً بھی تبرع ہے، جبکہ کفالت بالمال بأمر الاجنبی وہ تو ابتداءً تبرع ہے لیکن انتہاءً وہ معاوضہ ہے۔ تو آپ اس کفالت بالمال کو کفالت بالنفس کی طرح قرار نہیں دے سکتے۔
تو کہتے ہیں: ”بِخِلَافِ الْكَفَالَةِ بِالنَّفْسِ لِأَنَّهُ تَبَرُّعٌ ابْتِدَاءً وَانْتِهَاءً“ بخلاف کفالت بالنفس کے اس لیے کیونکہ وہ تو تبرع ہے ابتداء اور انتہاء کے اعتبار سے۔ ”وَأَمَّا الْإِقْرَاضُ“ اب اقراض کا بھی جواب دے رہے ہیں۔ امام صاحب کی دلیل چل رہی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ یہ عقدِ کفالت بالمال بأمر الاجنبی جو ہے یہ ابتداءً تبرع ہے اور انتہاءً معاوضہ ہے، لہٰذا مفاوضہ اس کو متضمن ہوا، اور باقی آپ نے کہا کہ مریض ثلث سے زیادہ میں کفالت نہیں کر سکتا اور بچے وغیرہ جو ہیں وہ بھی کفالت نہیں کر سکتے، تو اس کا جواب یہ کہ بھئی وہ ابتداء کی طرف نظر کرتے ہوئے ہے، ہم نے بھی آپ کو بتلا دیا کہ ابتداء کے اعتبار سے یہ کفالت تبرع ہے، انتہاء کے اعتبار سے ہم بات کر رہے ہیں کہ مفاوضہ اس کو متضمن ہے بھئی۔ اور پھر یہ بھی بتلایا کہ آپ اس کفالت بالمال کو کفالت بالنفس کی طرح بھی قرار نہیں دے سکتے، کیونکہ کفالت بالنفس وہ تو ابتداءً جیسے تبرع ہے انتہاءً بھی تبرع ہے، جبکہ کفالت بالمال وہ ابتداءً تو تبرع ہے لیکن انتہاءً معاوضہ ہے، تو دونوں الگ چیزیں ہیں، آپ ایک کو دوسرے جیسا قرار نہیں دے سکتے۔
”وَأَمَّا الْإِقْرَاضُ فَعَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ یہاں سے اب وہ اقراض کا بھی جواب دے رہے ہیں۔ صاحبین نے ذکر کیا تھا کہ یہ جو کفالت بالمال ہے، یہ بھی اقراض کی طرح ہے، جیسے اقراض کے اندر جس شخص کو قرض دیا جاتا ہے اسی پر وہ قرض لازم ہوتا ہے، اسی سے قرض کا مطالبہ ہوتا ہے، اس کے شریک سے قرض کا مطالبہ نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح کفالت بالمال کے اندر بھی جو شخص کفیل بنا ہے اسی سے مال کا مطالبہ ہو سکتا ہے، اس کے شریک سے مال کا مطالبہ نہیں ہو سکتا۔ تو اب اس کا جواب دے رہے ہیں، اور یاد رکھنا دو جواب دیں گے۔ صاحبِ ہدایہ اس سلسلے میں دو جواب دیں گے امام صاحب کی جانب سے، اور ایک جواب انکاری اور ایک جواب تسلیمی۔ انکاری جواب جس میں مخالف کے دعوے کو رد کیا جاتا ہے، تسلیمی جواب جس میں مخالف کے دعوے کو تسلیم کر کے پھر جواب دیا جاتا ہے۔ تو پہلا جواب انکاری دیں گے کہ اے صاحبین! آپ کا یہ کہنا ہے کہ یہ جو اقراض ہے، یہ صرف اسی شخص پر لازم ہوتا ہے جس نے قرض لیا ہے، اس کے شریک پر یہ قرض لازم نہیں ہوتا، اس سے مطالبہ نہیں ہو سکتا، ہمیں آپ کا یہ دعویٰ تسلیم نہیں ہے، بلکہ اقراض کے اندر بھی جس طرح قرض لینے والے سے قرض کا مطالبہ ہو سکتا ہے، اسی طرح اس کے شریک سے بھی قرض کا مطالبہ ہو سکتا ہے۔ چنانچہ امام صاحب کی ایک روایت جو ان سے حسن بن زیاد رحمہ اللہ نے نقل فرمائی ہے، اس کے مطابق اقراض کے اندر بھی جس شریک نے قرض لیا ہے اس سے بھی مطالبہ ہو سکتا ہے قرض کا اور اس کے شریک سے بھی قرض کا مطالبہ ہو سکتا ہے۔ وجہ یہ کہ یہ جو اقراض ہے، یہ بھی عقدِ معاوضہ ہے۔ یہ اقراض کیا ہے؟ عقدِ معاوضہ ہے، اور جو بھی عقدِ معاوضہ ہوتا ہے مفاوضہ اس کو متضمن ہوتا ہے۔
تو یہ اقراض جو ہے یہ عقدِ معاوضہ کی طرح کس طرح ہے؟ یہ سمجھ لیجیے بھئی۔ دیکھیے صورت یہ ہے کہ آپ قرض لیتے ہیں ایک شخص سے مثلاً سو درہم آپ نے اس سے قرض لیے کہ مجھے حاجت ہے، ضرورت ہے۔ اس نے آپ کو سو درہم دے دیے۔ تو یہ سو درہم تو آپ اپنی ضرورت میں خرچ کر دیں گے، اور مثلاً دو مہینے کے بعد اب آپ کے پاس مزید سو درہم آ گئے، اب آپ وہ قرض واپس کرتے ہیں، تو مجھے بتائیے، جو درہم آپ نے قرض میں لیے تھے وہی درہم واپس کر رہے ہیں یا یہ انہی جیسے اور درہم ہیں؟ ظاہر سی بات ہے وہ درہم تو آپ خرچ کر چکے ہیں، یہ انہی جیسے اور درہم ہیں بھئی۔ تو معلوم ہوا آپ یہ جو درہم واپس کر رہے ہیں وہ جو درہم آپ نے لیے تھے یہ ان کا عوض ہیں بھئی۔ یہ ان کا عوض ہیں، یہ ان کے مثل ہیں بھئی۔ تو معلوم ہوا یہ جو اقراض ہے، یہ بھی عقدِ معاوضہ ہے۔ تو امام صاحب سے ایک روایت یہ ہے کہ اقراض عقدِ معاوضہ ہے، لہٰذا جب ایک شخص نے قرض لیا ہے تو اس کے شریک سے بھی قرض کا مطالبہ ہو سکتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَأَمَّا الْإِقْرَاضُ فَعَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى أَنَّهُ يَلْزَمُ صَاحِبَهُ“ اور باقی قرض دینا، تو امام صاحب سے روایت ہے کہ یہ بھی لازم ہو جاتا ہے اس کے ساتھی پر۔ یہ اقراض بھی اس کے ساتھی پر لازم ہو جاتا ہے، یعنی اس سے بھی اس قرض کا مطالبہ ہو سکتا ہے۔ تو یہ تو انکاری جواب تھا۔ صاحبین کیا فرماتے تھے؟ قرض کا مطالبہ جس نے قرض لیا ہے اسی سے ہو سکتا ہے، دوسرے شریک سے مطالبہ نہیں ہو سکتا، تو پہلا جواب انکاری دیا کہ نہیں، ہمیں آپ کی یہ بات تسلیم نہیں، قرض کا مطالبہ دوسرے شریک سے بھی ہو سکتا ہے، کیونکہ یہ عقدِ معاوضہ ہے بھئی۔ یہ عقدِ معاوضہ ہے۔ اب آگے تسلیمی جواب دیں گے، دوسرا جواب۔ کہتے ہیں: ”وَلَوْ سُلِّمَ“ اور اگر آپ کی بات تسلیم کر لی جائے کہ قرض کے اندر شریک سے مطالبہ نہیں ہو سکتا، تو اس صورت میں ہم کہتے ہیں کہ یہ جو اقراض ہے، یہ اعارہ ہے۔ اقراض کیا ہے؟ اعارہ۔ یاد رکھو، اعارہ کا معنی ہے کسی کو کوئی چیز عاریت کے طور پر دینا، استعمال کے لیے دینا۔ مثلاً گھروں میں مہمان آتے ہیں تو بعض اوقات ہمسایوں سے استعمال کے لیے برتن لے لیے جاتے ہیں اور پھر استعمال کے بعد واپس کر دیے جاتے ہیں، تو اس کو عاریت کہتے ہیں۔ یعنی کسی سے کوئی چیز استعمال کے لیے لینا بغیر کسی عوض کے۔ اگر آپ عوض بھی دیتے ہیں تو پھر یاد رکھو، پھر یہ اجارہ ہے بھئی، کرائے پر کوئی چیز لینا۔ لیکن اعارے کے اندر اجرت نہیں ہوتی، عوض نہیں ہوتا۔ اور یاد رکھنا، یہ جو اعارہ ہے یہ عقدِ تبرع ہے۔ میں نے آپ کو بتلایا تبرع اسے کہتے ہیں کہ ایک چیز آپ پر لازم نہیں ہے اور آپ اپنی طرف سے ادا کرتے ہیں، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ تبرع کہتے ہیں۔ تو یہ جو اعارہ ہے یعنی عاریتاً کسی کو کوئی چیز دینا استعمال کے لیے، یہ عقدِ تبرع ہے۔ یعنی یہ آپ نیکی اور احسان کر رہے ہیں، دوسرے کو یہ چیز استعمال کے لیے بغیر عوض کے دے رہے ہیں۔
تو تسلیمی جواب ذکر کر رہے ہیں صاحبِ ہدایہ امام صاحب کی طرف سے، کہ ہمیں آپ کی بات تسلیم ہے، اقراض کے اندر جس شریک نے قرض لیا ہے اسی سے مطالبہ ہو سکتا ہے، دوسرے شریک سے مطالبہ نہیں ہو سکتا، وجہ یہ کہ اقراض یہ اعارہ ہے۔ یہ کیا ہے؟ اعارہ ہے، اور اعارہ عقدِ تبرع ہے، اور ایک شریک کا تبرع دوسرے شریک پر لازم نہیں ہو سکتا، لہٰذا اسی شریک سے اس قرض کا مطالبہ ہو سکتا ہے جس نے قرض لیا ہے، اس کے دوسرے ساتھی سے قرض کا مطالبہ نہیں ہو سکتا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ سُلِّمَ فَهُوَ إِعَارَةٌ“ اور اگر آپ کی بات تسلیم کر لی جائے کہ یہ جو اقراض ہے یہ اس کے ساتھی پر لازم نہیں ہوتا، تو یہ اقراض جو ہے یہ اعارہ ہے، ”فَيَكُونُ لِمِثْلِهَا حُكْمُ عَيْنِهَا لَا حُكْمُ الْبَدَلِ“ تو اعتراض ہوتا ہے۔ اعتراض ہوتا ہے کہ آپ اقراض کو اعارہ کیسے قرار دے سکتے ہیں؟ اعارہ کے اندر تو جو چیز عاریتاً استعمال کے لیے لی ہے وہی چیز واپس کی جاتی ہے۔ ہمسایوں کے گھر سے برتن لیے ہیں استعمال کے لیے تو وہی برتن اس کو واپس کیے جائیں گے۔ اسی طرح آپ کا ساتھی آپ سے گاڑی لے جاتا ہے استعمال کے لیے تو پھر استعمال کے بعد وہی گاڑی وہ آپ کو واپس لوٹائے گا۔ لیکن قرض کے اندر جو درہم لیے تھے وہی درہم تو واپس نہیں کیے جاتے، وہ درہم تو ضرورت کے اندر خرچ کر دیے جاتے ہیں، بلکہ اقراض کے اندر تو ان درہموں کا مثل دیا جاتا ہے، ان جیسے درہم واپس کیے جاتے ہیں، تو آپ اقراض کو اعارہ کیسے قرار دے سکتے ہیں؟ اعارہ میں عین وہی چیز واپس کی جاتی ہے اور اقراض کے اندر اس چیز کا مثل واپس کیا جاتا ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو جواب دیں گے صاحبِ ہدایہ کہ اقراض جو ہے یہ اعارہ ہے، اور یہاں پر جو درہم اور دینار واپس کیے جا رہے ہیں اگرچہ وہ مثل ہیں، وہ بعینہٖ وہی درہم نہیں، ان کا مثل ہیں، ان کا بدل ہیں، لیکن یہاں اس مثل کا بھی وہی حکم ہے جو عین کا تھا، یوں سمجھو گویا آپ وہی درہم واپس لوٹا رہے ہیں جو آپ نے لیے تھے، جیسے استعمال کے بعد وہی برتن واپس کیے جاتے ہیں، یہاں بھی یوں ہی سمجھو آپ وہی درہم واپس لوٹا رہے ہیں۔ معلوم ہوا اقراض کے اندر مثل لوٹایا جاتا ہے لیکن مثل کا بھی وہی حکم ہے جو اس عین شے کا حکم تھا بھئی۔ تو یہ معنی ہے، کہتے ہیں: ”وَلَوْ سُلِّمَ فَهُوَ إِعَارَةٌ“ اور اگر آپ کی بات تسلیم کر لی جائے کہ قرض جو ہے اس کے ساتھی پر لازم نہیں ہوتا، تو یہ اقراض جو ہے یہ اعارہ ہے، ”فَيَكُونُ لِمِثْلِهَا حُكْمُ عَيْنِهَا“ تو اس اعارے کا جو مثل ہے، یعنی یہ جو اقراض ہے جس کو ہم نے اعارہ قرار دیا، تو اس کے مثل کا وہی حکم ہے جو اس کی عین کا حکم ہے، ”لَا حُكْمُ الْبَدَلِ“ بدل والا حکم نہیں ہے بھئی۔ اگر بدل کا حکم دے دیں گے پھر تو یہ اعارہ نہ رہا بھئی، پھر تو یہ عقدِ معاوضہ بن جائے گا۔ توجہ ہے؟ تو معلوم ہوا دو جواب دیے صاحبِ ہدایہ نے۔ ایک جواب انکاری تھا کہ ہمیں آپ کی بات تسلیم ہی نہیں ہے کہ قرض دوسرے ساتھی پر لازم نہیں ہوتا، بلکہ دوسرے ساتھی پر بھی قرض لازم ہو جاتا ہے، اس سے بھی مطالبہ ہو سکتا ہے۔ اور اس جواب کی بنیاد اس پر تھی کہ اقراض معاوضہ ہے۔ اقراض معاوضہ ہے۔ اور دوسرا جواب یہ دیا کہ ہمیں آپ کی بات تسلیم ہے، اقراض کے اندر جو قرض ہوتا ہے وہ دوسرے ساتھی پر لازم نہیں ہوتا، کیونکہ اقراض معاوضہ نہیں ہے بلکہ اعارہ ہے۔ یہاں پر جو بعد میں درہم اور دینار واپس کیے جا رہے ہیں، وہ جو درہم قرض میں لیے تھے ان کے مثل ہیں، لیکن یہاں مثل کا بھی وہی حکم ہے جو عین انہی درہم اور دنانیر کا تھا جو بطورِ قرض کے لیے تھے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: ”فَيَكُونُ لِمِثْلِهَا حُكْمُ عَيْنِهَا لَا حُكْمُ الْبَدَلِ“ تو ان کے مثل کا بھی وہی حکم ہے جو ان کی عین کا حکم ہے نہ کہ بدل کا حکم، ”حَتَّى لَا يَصِحُّ فِيهِ الْأَجَلُ“ یہاں تک کہ اس کے اندر مدت کا مقرر کرنا بھی صحیح نہیں ہے۔
یاد رکھو، یہاں پر بھی ”حَتَّى“ نصب نہیں دے گا، ”لَا يَصِحُّ“ پر رفع پڑھیں گے، کیونکہ یہاں بھی ”حَتَّى“ کے عمل کی شرائط پوری نہیں ہیں بھئی۔ یہاں بھی یہ ”حَتَّى“ تفریع کے لیے ہے، ماقبل پر تفریع کر رہے ہیں صاحبِ ہدایہ۔ کہتے ہیں: ”حَتَّى لَا يَصِحُّ فِيهِ الْأَجَلُ“ یہاں تک کہ اقراض کے اندر مدت کا مقرر کرنا بھی صحیح نہیں ہے۔ کسی کو کوئی قرض دیں تو اس میں مدت کا مقرر کرنا صحیح نہیں۔ آپ کہیں گے کہ بھئی ہم تو جب بھی قرض لیتے ہیں یا قرض دیتے ہیں ہم تو مدت مقرر کرتے ہیں، تو یاد رکھنا قرض کے اندر مدت کو ذکر کیا جاتا ہے لیکن مدت مقرر کرنے سے لازم نہیں ہوتی۔ مدت مقرر کرنے سے لازم نہیں ہوتی، تو معلوم ہوا قرض کے اندر مدت کا مقرر کرنا صحیح نہیں، یعنی مقرر کرنے سے وہ لازم نہیں ہوتی۔ اور یہ علامت ہے اس بات کی کہ اقراض اعارہ ہے۔ یاد رکھو اعارہ عقدِ تبرع ہے، آپ کسی کو کوئی چیز استعمال کے لیے دے رہے ہیں، یہ چیز دینا آپ پر لازم نہیں تھا لیکن آپ اپنی طرف سے نیکی اور احسان کرتے ہوئے یہ چیز اس کو دے رہے ہیں، اور اس اعارے کے اندر مدت کا مقرر کرنا صحیح نہیں ہے، اس لیے کیونکہ اس صورت میں تو جبر کرنا لازم آئے گا۔ آپ نیکی اور احسان کر رہے ہیں اور نیکی اور احسان کے اندر دوسرے پر جبر کریں، اس کو مجبور کر دیں، اس کے لیے مدت مقرر کر دیں؟ نہیں بھئی، آپ احسان نہیں کر سکتے، نیکی اور احسان کے ساتھ جبر جمع نہیں ہو سکتا۔ نیکی اور احسان اور چیز ہے اور جبر کرنا اور چیز ہے۔ ایک ہی چیز نیکی بھی ہو اور جبر بھی ہو، ایسا نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا اعارے کے اندر مدت مقرر کی جائے تو وہ مدت مقرر نہیں ہوتی۔ اسی طرح یہ جو اقراض ہے، اس کے اندر بھی مدت مقرر کی جائے تو وہ مدت مقرر نہیں ہوتی، یعنی لازم نہیں ہوتی۔ معلوم ہوا اقراض اعارہ ہے، جیسے اعارہ کے اندر مدت کا مقرر کرنا صحیح نہیں اسی وجہ سے اقراض کے اندر بھی مدت کا مقرر کرنا صحیح نہیں ہے بھئی۔
یہ معنی ہے: ”حَتَّى لَا يَصِحُّ فِيهِ الْأَجَلُ“ یہاں تک کہ اقراض کے اندر مدت کا مقرر کرنا صحیح نہیں ہے، ”فَلَا يَتَحَقَّقُ مُعَاوَضَةً“ تو اقراض جو ہے وہ معاوضہ ہو کر نہ پایا گیا۔ یہ دوسرا جواب چل رہا ہے۔ پہلے جواب کے مطابق اقراض معاوضہ ہے، دوسرا جواب دیا کہ اقراض معاوضہ نہیں، یہ تو اعارہ ہے۔ تو کہتے ہیں: ”فَلَا يَتَحَقَّقُ مُعَاوَضَةً“ تو اقراض جو ہے وہ معاوضہ ہو کر نہ پایا گیا۔
تو صاحبِ ہدایہ نے اقراض کے دو جواب ذکر کیے بھئی۔ ایک جواب انکاری اور ایک جواب تسلیمی۔ صاحبین نے ذکر کیا تھا کہ یہ کفالت بالمال بأمر الاجنبی جو ہے، یہ اقراض کی طرح ہے اور اقراض کے اندر جس نے قرض لیا ہے اسی سے مطالبہ ہو سکتا ہے، اس کے شریک سے مطالبہ نہیں ہو سکتا، تو کفالت بالمال کے اندر بھی جو کفیل بنا ہے اسی سے مطالبہ ہو سکتا ہے، اس کے شریک سے مطالبہ نہیں ہو سکتا۔ تو پہلا جواب انکاری دیا کہ ہمیں آپ کی یہ بات تسلیم ہی نہیں ہے کہ اقراض کے اندر صرف اسی قرض لینے والے سے مطالبہ ہو سکتا ہے، بلکہ اقراض بھی عقدِ معاوضہ ہے، لہٰذا شریک سے بھی اس کا مطالبہ ہو سکتا ہے۔ لہٰذا اگر آپ کفالت بالمال کو اقراض کی طرح قرار دے دیں، پھر بھی آپ کا دعویٰ ثابت نہیں ہوتا، کیونکہ اقراض کے اندر بھی دونوں سے مطالبہ ہو سکتا ہے، جیسے کفالت بالمال میں دونوں سے مطالبہ ہو سکتا ہے۔ اور دوسرا جواب تسلیمی دیا کہ اگر آپ کی بات تسلیم کر لی جائے، اقراض کے اندر دوسرے شریک سے مطالبہ نہیں ہو سکتا، تو اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ اقراض اعارہ ہے، یعنی عقدِ تبرع ہے، ابتداءً بھی تبرع اور انتہاءً بھی تبرع، جبکہ کفالت بالمال بأمر الاجنبی وہ ابتداءً تو تبرع ہے لیکن انتہاءً وہ معاوضہ ہے، لہٰذا آپ کا کفالت بالمال بأمر الاجنبی کو اقراض کی طرح قرار دینا صحیح ہی نہیں ہے، کیونکہ اقراض تو ابتداءً بھی تبرع ہے اور انتہاءً بھی تبرع ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
”وَلَوْ كَانَتْ بِغَيْرِ أَمْرِهِ لَمْ تَلْزَمْ صَاحِبَهُ فِي الصَّحِيحِ لِانْعِدَامِ مَعْنَى الْمُفَاوَضَةِ“ بھئی ابھی تک اس کفالت بالمال کی بات چل رہی تھی جو بأمر الاجنبی ہو، جو بأمر المكفول عنہ ہو۔ اجنبی کے کہنے پر ایک شریک کفیل بنا ہے، اور اگر اجنبی کے کہے بغیر ہی شریک جو ہے وہ کفیل بن گیا ہے، تو یاد رکھو اس کے اندر صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ امام صاحب اور صاحبین کا کوئی اختلاف نہیں۔ کیونکہ وہ کفالت جو بغیر امر الاجنبی ہو، وہ ابتداءً بھی تبرع ہے اور انتہاءً بھی تبرع ہے، کیونکہ وہاں پر اگر کفیل وہ مال ادا بھی کر دے تو پھر وہ اس اجنبی پر یعنی اس مکفول عنہ پر رجوع نہیں کر سکتا، تو وہ کفالت جو بأمر الاجنبی ہو وہ تو انتہاءً معاوضہ ہے، وہاں تو عوض وصول کیا جا سکتا ہے، لیکن وہ کفالت جو بغیر امر الاجنبی ہو اس کے اندر آخر میں اجنبی سے معاوضہ وصول نہیں کیا جا سکتا۔ تو لہٰذا یہ کفالت بغیر امر الاجنبی یہ انتہاءً بھی تبرع ہے۔ تو یہاں معاوضے والا معنی ہی نہیں، جب معاوضے والا معنی ہی نہیں تو عقدِ مفاوضہ جو ہے، عقدِ مفاوضہ اس کو متضمن نہیں، لہٰذا اس میں جو شخص کفیل بنا ہے اسی سے مطالبہ ہو سکتا ہے، اس کے شریک سے مطالبہ نہیں ہو سکتا۔
تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ كَانَتْ بِغَيْرِ أَمْرِهِ“ اور اگر وہ کفالت جو ہے وہ مکفول عنہ کے حکم کے بغیر ہی ہو، ”لَمْ تَلْزَمْ صَاحِبَهُ فِي الصَّحِيحِ“ تو صحیح قول کے مطابق یہ کفالت اس کے ساتھی پر لازم نہیں ہے، ”لِانْعِدَامِ مَعْنَى الْمُفَاوَضَةِ“ اس وجہ سے کہ مفاوضہ کا معنی معدوم ہے، یہاں پر مفاوضہ والا یعنی معاوضہ والا معنی نہیں پایا جا رہا، نہ ابتداءً اور نہ انتہاءً بھئی۔
”وَمُطْلَقُ الْجَوَابِ فِي الْكِتَابِ مَحْمُولٌ عَلَى الْمُقَيَّدِ“ بھئی پیچھے متن پر ذرا آئیے جہاں سے ہم نے سبق شروع کیا تھا: ”قَالَ“ امام محمد رحمہ اللہ جامع صغیر میں فرماتے ہیں: ”وَلَوْ كَفَلَ أَحَدُهُمَا بِمَالٍ عَنْ أَجْنَبِيٍّ“ اگر دو شریکوں میں سے ایک جو ہے وہ مال کا کفیل بن گیا ”عَنْ أَجْنَبِيٍّ“ کسی اجنبی کی طرف سے، ”لَزِمَ صَاحِبَهُ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ وَقَالَا لَا يَلْزَمُهُ“ تو امام صاحب کے نزدیک اس کے شریک پر بھی یہ مال لازم ہے اور صاحبین کے نزدیک اس کے شریک پر یہ مال لازم نہیں ہے۔ توجہ ہے؟ تو متن کے اندر مطلقاً کفالت کا ذکر ہے: ”وَلَوْ كَفَلَ أَحَدُهُمَا بِمَالٍ عَنْ أَجْنَبِيٍّ“ اگر ایک شریک اجنبی کی طرف سے مال کا کفیل بن گیا، یہاں یہ ذکر نہیں ہے کہ بأمر الاجنبی کفیل بنا ہے یا بغیر امر الاجنبی کفیل بنا ہے۔ تو متن کے اندر مطلق کفالت بالمال ذکر ہے۔ توجہ ہے؟ مطلق کفالت بالمال ذکر ہے، لیکن صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلا دیا کہ یہ جو صاحبین اور امام صاحب کا اختلاف ہے یہ مطلق کفالت بالمال میں نہیں ہے، بلکہ کفالت بالمال بأمر الاجنبی کے اندر یہ اختلاف ہے۔ تو اب اسی کو صاحبِ ہدایہ آگے بیان فرما رہے ہیں کہ متن کے اندر تو مطلق مسئلہ ذکر ہے لیکن وہ مقید پر محمول ہے، یعنی وہاں بھی بأمر الاجنبی کی قید ملحوظ ہے۔ وہاں بھی بأمر الاجنبی کی قید ملحوظ ہے، یعنی وہ کفالت وہاں مراد ہے جو بأمر الاجنبی ہو بھئی، یعنی بأمر المكفول عنہ ہو بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
اب آئیے سبق پر، کہتے ہیں: ”وَمُطْلَقُ الْجَوَابِ فِي الْكِتَابِ“ اور کہتے ہیں جامع صغیر کے اندر جو مطلق جواب ذکر ہے یعنی جہاں کوئی قید نہیں ہے، ”مَحْمُولٌ عَلَى الْمُقَيَّدِ“ یہ مطلق جواب مقید پر محمول ہے۔ یعنی ذکر تو مطلق کفالت ہے لیکن مراد کفالت بأمر الاجنبی ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَمُطْلَقُ الْجَوَابِ فِي الْكِتَابِ مَحْمُولٌ عَلَى الْمُقَيَّدِ“ اور کتاب یعنی جامع صغیر کے اندر یعنی وہ جو متن پیچھے گزرا ہے اس کے اندر جو مطلق جواب ذکر ہے وہ مقید پر محمول ہے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی۔
بھئی صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ متن کے اندر ذکر تو مطلق کفالت ہے لیکن مراد مقید کفالت ہے یعنی کفالت بأمر الاجنبی۔ کفالت بأمر الاجنبی، اور اگر کفالت بغیر امر الاجنبی ہو تو اس میں اختلاف نہیں ہے، اسی کو پیچھے ذکر بھی کیا تھا: ”وَلَوْ كَانَتْ بِغَيْرِ أَمْرِهِ لَمْ تَلْزَمْ صَاحِبَهُ فِي الصَّحِيحِ“ صحیح قول کے مطابق اگر بغیر امر الاجنبی کفیل بنے گا تو اس کے شریک پر یہ مال لازم نہیں۔ اور بتلایا ”فِي الصَّحِيحِ“ صحیح قول کے مطابق، تو یہ صحیح قول کے ذریعے دراصل احتراز کیا ہے صاحبِ ہدایہ نے دوسرے قول سے۔ بہت سے فقہاء اس بات کی طرف گئے ہیں کہ متن کے اندر جیسے مطلق کفالت کو ذکر کیا گیا ہے، اسی طرح امام صاحب اور صاحبین کا اختلاف مطلق کفالت بالمال میں ہی ہے۔ متن کے اندر مطلق کفالت بالمال کے اندر اختلاف تو ذکر کیا گیا ہے اور امام صاحب اور صاحبین کا اختلاف مقید کفالت میں نہیں ہے بلکہ مطلق کفالت میں ہی اختلاف ہے۔ اور اسی وجہ سے صاحبِ ہدایہ نے پیچھے کیا کہا تھا؟ ”فِي الصَّحِيحِ“ صحیح قول کے مطابق، دراصل یہ دوسرے فقہاء کے قول سے احتراز کیا بھئی۔
آگے دیکھیے بھئی: ”وَضَمَانُ الْغَصْبِ وَالِاسْتِهْلَاكِ بِمَنْزِلَةِ الْكَفَالَةِ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى لِأَنَّهُ مُعَاوَضَةٌ انْتِهَاءً“ بھئی دو آدمیوں نے آپس میں عقدِ مفاوضہ کیا ہوا ہے، تو دونوں میں سے ہر ایک دوسرے کا وکیل بھی ہے اور کفیل بھی ہے۔ اب صورت یہ ہے کہ ان دو شریکوں میں سے ایک شریک کسی کا کوئی مال غصب کر لیتا ہے اور آپ جانتے ہیں کہ غصب کی وجہ سے اس پر ضمان آئے گا۔ یا اسی طرح دو شریکوں میں سے ایک شریک نے کسی کا مال ہلاک کر دیا، تو اس استہلاک کی وجہ سے بھی اس پر ضمان آئے گا۔ تو کیا یہ ضمان جو غصب کی وجہ سے آیا یا یہ ضمان جو استہلاک کی وجہ سے آیا، کیا اس کا مطالبہ دوسرے شریک سے کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟ تو آپ کو صاحبِ ہدایہ بتلائیں گے کہ یہ جو ضمان آیا ہے، یہ بطورِ عوض کے آیا ہے، بطورِ معاوضہ کے آیا ہے۔ ایک شخص نے کسی کی چیز غصب کی تو عوض کے طور پر اس پر ضمان آ گیا، یا ایک نے دوسرے کا مال ہلاک کیا تو عوض کے طور پر اس پر ضمان آ گیا، تو یہاں معاوضے والا معنی ہے انتہاء کے اعتبار سے۔ ابتداءً تو غصب اور استہلاک ہے لیکن انتہاءً ضمان آ رہا ہے تو انتہاءً معاوضہ ہے۔ تو یہ بھی کس کی طرح ہوئے؟ کفالت کی طرح ہوئے، اور کفالت کی وجہ سے ایک شریک پر جو مال لازم ہوتا ہے اس کا مطالبہ دوسرے شریک سے بھی کیا جا سکتا ہے، تو یہ جو غصب اور استہلاک کی وجہ سے جو ضمان لازم ہو گا، اس کا مطالبہ بھی دوسرے شریک سے کیا جا سکتا ہے امام صاحب کے نزدیک بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَضَمَانُ الْغَصْبِ وَالِاسْتِهْلَاكِ“ اور غصب اور استہلاک کا جو ضمان ہے ”بِمَنْزِلَةِ الْكَفَالَةِ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ یہ بھی کفالت کے درجے میں ہے امام صاحب کے نزدیک، یعنی یہ اس کے شریک پر بھی یہ ضمان لازم ہو گا، اس سے بھی مطالبہ ہو سکتا ہے، ”لِأَنَّهُ مُعَاوَضَةٌ انْتِهَاءً“ اس لیے کیونکہ یہ ضمان جو ہے یہ بھی معاوضہ ہے انتہاء کے اعتبار سے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ یہاں شارحین نے اعتراض کیا ہے کہ صاحبِ ہدایہ نے صرف امام صاحب کو ذکر فرمایا، حالانکہ امام محمد رحمہ اللہ کا بھی یہی مذہب ہے۔ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک بھی غصب اور استہلاک کی وجہ سے جو ضمان لازم ہو گا، اس کا مطالبہ اس کے شریک سے بھی کیا جا سکتا ہے۔ تو صاحبِ ہدایہ نے صرف امام صاحب کو ذکر فرمایا، لیکن محشی حضرات فرماتے ہیں کہ امام محمد رحمہ اللہ کا بھی یہی مذہب ہے، لہٰذا صاحبِ ہدایہ کو امام محمد رحمہ اللہ کو بھی ذکر کرنا چاہیے تھا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
آگے دیکھیے: ”قَالَ فَإِنْ وَرِثَ أَحَدُهُمَا مَالًا يَصِحُّ فِيهِ الشَّرِكَةُ“ بھئی میں نے آپ کو بتلایا کہ یہ جو عقدِ مفاوضہ ہے، یا یوں کہو یہ جو عقدِ شرکت ہے، یہ درہم، دینار اور فلوسِ نافقہ میں جائز ہے، سامان، مکیلات، موزونات وغیرہ میں جائز نہیں۔ اسی طرح زمین کے اندر بھی یعنی غیر منقولی جائیداد میں بھی یہ عقدِ شرکت جائز نہیں ہے بھئی۔ تو اب صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ ہم نے آپ کو بتلایا تھا کہ عقدِ مفاوضہ کے اندر دونوں شریکوں کا مال برابر ہونا چاہیے۔ ہر مال نہیں، وہ مال جس میں شرکت ہو سکتی ہے، یعنی درہم، دینار اور فلوسِ نافقہ۔ ایک کے پاس اگر بیس درہم ہیں تو دوسرے کے پاس بھی بیس درہم ہی ہونے چاہییں۔ اگر دونوں کا مال برابر نہیں ہے تو پھر یہ عقدِ مفاوضہ نہیں ہے بلکہ یہ عقدِ عنان ہو گا۔ اب اسی کو صاحبِ ہدایہ بیان فرما رہے ہیں کہ دو آدمیوں نے آپس میں عقدِ مفاوضہ کر لیا لیکن پھر بعد میں ایک شریک کو کچھ زائد مال کہیں سے مل گیا اور ایسا مال ملا جس میں شرکت ہو سکتی ہے، یعنی درہم ملے یا دینار ملے یا فلوسِ نافقہ مل گئے بھئی۔ چاہے مثلاً وراثت کے طور پر اس کو مل گئے یا چاہے اس کو کسی نے ہبہ کر دیے یعنی تحفے کے طور پر دے دیے، تو دونوں کا مال برابر نہ رہا۔ جب دونوں کا مال برابر نہ رہا تو مفاوضہ باطل ہو جائے گا، کیونکہ مفاوضہ کے اندر جیسے ابتداءً مساوات ضروری ہے مال میں اسی طرح بقاءً بھی مال کے اندر مساوات اور برابری ضروری ہے بھئی۔ تو دو افراد نے عقدِ مفاوضہ کیا ہوا ہے، ان میں سے ایک کو وراثت کے اندر یا تحفے کے طور پر ایسا مال مل گیا جس میں شرکت ہو سکتی تھی، تو عقدِ مفاوضہ باطل ہو جائے گا۔
تو کہتے ہیں: ”قَالَ“ امام محمد رحمہ اللہ جامع صغیر میں فرماتے ہیں: ”فَإِنْ وَرِثَ أَحَدُهُمَا مَالًا“ اگر ان دونوں شریکوں میں سے ایک وارث ہو گیا ایسے مال کا، دیکھو ”مَالًا“ نکرہ ہے اور ”يَصِحُّ“ آگے فعل آ رہا ہے، تو یہ اس کے لیے صفت بنے گا اور موصوف صفت کا ترجمہ کیسے کرتے ہیں؟ موصوف سے پہلے ایسا یا ایسی کا لفظ لاتے ہیں، پھر ترجمہ دیکھ لیجیے۔ ”قَالَ“ امام محمد رحمہ اللہ جامع صغیر میں فرماتے ہیں: ”فَإِنْ وَرِثَ أَحَدُهُمَا مَالًا يَصِحُّ فِيهِ الشَّرِكَةُ“ اگر ان دونوں میں سے کوئی ایک شریک جو ہے وہ وارث بن گیا ایسے مال کا کہ جس کے اندر شرکت صحیح ہے، ”أَوْ وُهِبَ لَهُ وَوَصَلَ إِلَى يَدِهِ“ یا اس کو ایسا مال ہبہ کیا گیا اور یہ مال اس کے ہاتھ تک پہنچ گیا، یعنی اس کے قبضے میں آ گیا۔ بھئی میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ ہبہ کے اندر قبضہ بھی ضروری ہے پھر ہی ہبہ تام ہو گا۔ مثلاً آپ کو کسی شخص نے تحفے کے طور پر کوئی کتاب دی، تو جب تک وہ کتاب آپ کے قبضے میں نہیں پہنچے گی آپ اس کتاب کے مالک نہیں ہیں، صرف زبان سے کہنے سے کوئی شخص کسی چیز کا مالک نہیں بنتا جب تک وہ چیز اس کے قبضے میں نہ آ جائے۔ تو یہاں پر بھی اسی لیے یہ کہا کہ ”أَوْ وُهِبَ لَهُ“ یا ایک شریک کو وہ مال ہبہ کیا گیا ”وَوَصَلَ إِلَى يَدِهِ“ اور وہ مال اس کے قبضے کو پہنچ گیا یعنی اس کے ہاتھ میں آ گیا، تو یہ اس کا مالک بن گیا۔ جب مالک بن گیا، اب ایک کا مال زائد ہے اور دوسرے کا مال کم ہے، تو عقدِ مفاوضہ باطل ہو جائے گا۔
تو کہتے ہیں اس صورت کے اندر ”بَطَلَتِ الْمُفَاوَضَةُ“ تو عقدِ مفاوضہ باطل ہو جائے گا ”وَصَارَتْ عِنَانًا“ اور یہ شرکت جو ہے یہ شرکتِ عنان ہو جائے گی ”لِفَوَاتِ الْمُسَاوَاةِ فِيمَا يَصْلُحُ رَأْسَ الْمَالِ“ اس لیے کیونکہ برابری ختم ہو گئی اس چیز کے اندر جو راس المال ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ بھئی ایک شریک کو درہم، دینار یا فلوسِ نافقہ ملے ہیں اور ان پر تو شرکت ہو سکتی ہے، تو ایک شریک ایسے مال کا مالک بن گیا جس میں شرکت ہو سکتی ہے لیکن شرکت ہے نہیں، تو مال میں برابری نہ رہی۔ تو کہتے ہیں: ”لِفَوَاتِ الْمُسَاوَاةِ فِيمَا يَصْلُحُ رَأْسَ الْمَالِ“ اس وجہ سے کہ برابری فوت ہو گئی اس مال کے اندر جو راس المال ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے، ”إِذْ هِيَ شَرْطٌ فِيهِ ابْتِدَاءً وَبَقَاءً“ اس لیے کیونکہ یہ برابری تو شرط ہے عقدِ مفاوضہ میں ابتداءً وبقاءً ابتداء کے اعتبار سے بھی اور بقاء کے اعتبار سے بھی۔ ”وَهَذَا“ اور یہ اس وجہ سے، یہ عقدِ مفاوضہ اس لیے باطل ہوا ”لِأَنَّ الْآخَرَ لَا يُشَارِكُهُ فِيمَا أَصَابَهُ“ اس لیے کیونکہ دوسرا شریک جو ہے وہ تو شریک نہیں ہے اس مال کے اندر جو ایک کو ملا ہے ”لِانْعِدَامِ السَّبَبِ فِي حَقِّهِ“ اس لیے کیونکہ اس کے اندر شرکت کا سبب معدوم ہے۔ ایک کو وراثت کے طور پر کچھ مال ملا ہے یا کسی نے تحفے کے طور پر ایک کو مال دیا ہے، تو دوسرے شریک کے لیے تو ملکیت والا سبب نہیں پایا گیا، وہ اس مال کا مالک نہیں، جب وہ اس مال کا مالک نہیں تو دونوں کے مال میں برابری نہ رہی۔ تو کہتے ہیں: ”وَهَذَا لِأَنَّ الْآخَرَ لَا يُشَارِكُهُ فِيمَا أَصَابَهُ لِانْعِدَامِ السَّبَبِ فِي حَقِّهِ“ اور یہ عقدِ مفاوضہ اس لیے باطل ہو جاتا ہے اس لیے کیونکہ دوسرا شریک جو ہے وہ شریک نہیں ہے اس مال کے اندر جو ایک کو ملا ہے، اس لیے کیونکہ اس کے حق میں تو شرکت کا سبب معدوم ہے، ”إِلَّا أَنَّهَا تَنْقَلِبُ عِنَانًا لِلْإِمْكَانِ“ مگر یہ کہ یہ عقدِ مفاوضہ پلٹ کر عنان ہو جائے گا ممکن ہونے کی وجہ سے۔ یہ دونوں نے عقد تو مفاوضہ کا کیا تھا لیکن مال میں برابری نہ رہی تو مفاوضہ باطل ہو گیا، لیکن یہ عقد عنان بن سکتا ہے، تو یہ عقدِ عنان بن جائے گا۔
تو کہتے ہیں: ”إِلَّا أَنَّهَا تَنْقَلِبُ عِنَانًا لِلْإِمْكَانِ“ مگر یہ کہ یہ مفاوضہ جو ہے یہ پلٹ کر عنان ہو جائے گا ممکن ہونے کی وجہ سے، ”فَإِنَّ الْمُسَاوَاةَ لَيْسَ بِشَرْطٍ فِيهِ“ اس لیے کیونکہ عنان کے اندر مساوات شرط نہیں ہے، شرکتِ عنان کے اندر دونوں شریکوں کا مال برابر ہونا شرط نہیں ہے۔ کہتے ہیں: ”فَإِنَّ الْمُسَاوَاةَ لَيْسَ بِشَرْطٍ فِيهِ“ اس لیے کیونکہ عنان کے اندر مساوات شرط نہیں ہے، ”وَلِدَوَامِهِ حُكْمُ الِابْتِدَاءِ لِكَوْنِهِ غَيْرَ لَازِمٍ“ اور نیز یہ شرکتِ عنان کا جو دوام ہے، اس کا بھی ابتداء والا ہی حکم ہے اس وجہ سے کہ یہ لازم نہیں ہے۔ بھئی ایک اعتراض کا جواب دے رہے ہیں۔ اعتراض یہ ہوتا ہے، اعتراض یہ ہوتا ہے کہ پہلے عقدِ مفاوضہ تھا اور اب آپ اس کو کہہ رہے ہیں کہ یہ عقدِ عنان بن گیا۔ یہ کیا بن گیا؟ عقدِ عنان بن گیا، تو یہ تو بقاء کی حالت میں عنان بن رہا ہے۔ ابتداء تو کس سے کی تھی؟ شرکتِ مفاوضہ سے، اور بقاء میں یہ کون سی شرکت بن گئی؟ شرکتِ عنان بن گئی، تو یہ تو جائز نہیں ہونی چاہیے؟ تو جواب دے رہے ہیں کہ نہیں، شرکت کے اندر بقاء کا بھی وہی حکم ہوتا ہے جو ابتداء کا ہوتا ہے۔ یعنی جیسے ابتداء کے اندر شرکت کسی پر لازم نہیں، آپ ایک آدمی کے ساتھ عقدِ مفاوضہ کرتے ہیں، آپ پر لازم نہیں ہے، آپ کی مرضی ہے عقدِ مفاوضہ کریں یا نہ کریں، یا ایک آدمی کے ساتھ آپ شرکتِ عنان کرتے ہیں، آپ پر لازم نہیں ہے کہ آپ شرکتِ عنان کریں یا نہ کریں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ معلوم ہوا یہ جو شرکت والا عقد کیا جاتا ہے، جیسے ابتداء کے اندر یہ کسی پر لازم نہیں ہے، اسی طرح انتہاء کے اعتبار سے اور بقاء کے اعتبار سے بھی یہ کسی پر لازم نہیں ہے، آپ نے ایک آدمی کے ساتھ عقدِ شرکت کر لیا لیکن کچھ عرصے کے بعد آپ کہتے ہیں بس بھئی، آج کے بعد میرا اور آپ کا عقدِ شرکت ختم ہے، تو دیکھا؟ اب وہ آپ کو قاضی کے پاس لے جا کر بھی آپ پر اس اس شرکت کو لازم نہیں کر سکتا۔ معلوم ہوا یہ جو شرکت کا عقد ہوتا ہے یہ کسی پر بھی لازم نہیں ہوتا، جس وقت یہ دونوں چاہیں اس کو ختم کر سکتے ہیں۔ تو یہ شرکت کا جو عقد ہے جیسے ابتداءً غیر لازم ہے، اسی طرح انتہاءً اور بقاءً بھی غیر لازم ہے۔ معلوم ہوا یہاں بقاء کا بھی وہی حکم ہے جو ابتداء کا تھا، لہٰذا یہاں پر یہ جو عقدِ مفاوضہ تھا، یہ بقاءً کیا بن گیا؟ عنان بن گیا، لیکن بقاء کا بھی وہی حکم ہے جو ابتداء والا ہے، یوں سمجھو ابتدائے عنان ہو رہی ہے۔ ابتدائے عنان ہو رہی ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَلِدَوَامِهِ حُكْمُ الِابْتِدَاءِ“ اور عنان کے دوام کا وہی حکم ہے جو اس کی ابتداء کا حکم ہے ”لِكَوْنِهِ غَيْرَ لَازِمٍ“ اس وجہ سے کہ یہ عنان لازم نہیں ہے۔
”فَإِنْ وَرِثَ أَحَدُهُمَا عَرْضًا فَهُوَ لَهُ وَلَا تَفْسُدُ الْمُفَاوَضَةُ“ یہاں سے آپ کو یہ بتلائیں گے کہ اگر دونوں شریکوں میں سے ایک ایسے مال کا مالک بن گیا جس میں شرکت جائز ہی نہیں ہے، تو اس سے مفاوضہ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ انہوں نے آپ کو بتلایا بھئی، دو آدمیوں نے عقدِ مفاوضہ کیا ہوا ہے تو دونوں کا مال برابر ہونا ضروری ہے، اگر ایک شریک کو بھی زائد مال مل گیا تو مفاوضہ باطل ہو جائے گا۔ لیکن اگر دونوں میں سے ایک کو ایسا مال ملا ہے جس میں شرکت جائز ہی نہیں ہے، مثلاً سامان مل گیا، یا مکیلات اور موزونات مل گئے، یا زمین مل گئی، تو اس سے مفاوضہ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، کیونکہ مفاوضہ کے اندر درہم اور دینار اور فلوسِ نافقہ کا برابر ہونا ضروری ہے، سامان اور مکیلات اور موزونات اور زمین وغیرہ کا برابر ہونا ضروری نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں: ”فَإِنْ وَرِثَ أَحَدُهُمَا عَرْضًا“ تو اگر ان دو شریکوں میں سے ایک جو ہے وہ سامان کا وارث ہو گیا ”فَهُوَ لَهُ“ تو یہ سامان اسی کا ہو گا ”وَلَا تَفْسُدُ الْمُفَاوَضَةُ“ اور عقدِ مفاوضہ بھی فاسد نہیں ہو گا، ”وَكَذَا الْعَقَارُ“ اور اسی طرح ہے غیر منقولی جائیداد بھی۔ عقار کسے کہتے ہیں؟ غیر منقولی جائیداد جو ہے یعنی زمین ہے، دکان ہے، گھر وغیرہ۔ تو کہتے ہیں: ”وَكَذَا الْعَقَارُ“ اور اسی طرح غیر منقولی جائیداد بھی ہے، یعنی وہ بھی کسی ایک کو مل جائے تو اس سے عقدِ مفاوضہ باطل نہیں ہو گا۔ ”لِأَنَّهُ لَا يَصِحُّ فِيهِ الشَّرِكَةُ“ اس لیے کیونکہ یہ جو سامان اور غیر منقولی جائیداد ہے ان کے اندر شرکت صحیح نہیں ہے، ”فَلَا يُشْتَرَطُ الْمُسَاوَاةُ فِيهِ“ تو ان کے اندر برابری بھی شرط نہیں ہو گی، ان کے اندر برابری کی شرط بھی نہیں لگائی جائے گی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔
میں نے آپ کو بتلایا تبرع اسے کہتے ہیں کہ ایک چیز آپ پر لازم نہیں ہے اور آپ اپنی طرف سے ادا کرتے ہیں، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ تبرع کہتے ہیں۔ تو یہ جو اعارہ ہے، یعنی عاریتاً کسی کو کوئی چیز دینا استعمال کے لیے، یہ عقد تبرع ہے۔ یعنی یہ آپ نیکی اور احسان کر رہے ہیں دوسرے کو یہ چیز استعمال کے لیے بغیر عوض کے دے رہے ہیں۔
تو تسلیمی جواب ذکر کر رہے ہیں صاحب ہدایہ امام صاحب کی طرف سے، کہ ہمیں آپ کی بات تسلیم ہے، اقراض کے اندر جس شریک نے قرض لیا ہے اسی سے مطالبہ ہو سکتا ہے، دوسرے شریک سے مطالبہ نہیں ہو سکتا، وجہ یہ کہ اقراض یہ اعارہ ہے۔ یہ کیا ہے؟ اعارہ ہے، اور اعارہ عقد تبرع ہے، اور ایک شریک کا تبرع دوسرے شریک پر لازم نہیں ہو سکتا، لہٰذا اسی شریک سے اس قرض کا مطالبہ ہو سکتا ہے جس نے قرض لیا ہے، اس کے دوسرے ساتھی سے قرض کا مطالبہ نہیں ہو سکتا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ سُلِّمَ“ اور اگر آپ کی بات تسلیم کر لی جائے کہ یہ جو اقراض ہے یہ اس کے ساتھی پر لازم نہیں ہوتا، ”فَهُوَ إِعَارَةٌ“ تو یہ اقراض جو ہے یہ اعارہ ہے، ”فَيَكُونُ لِمِثْلِهَا حُكْمُ عَيْنِهَا لَا حُكْمُ الْبَدَلِ“ تو اعتراض ہوتا ہے، اعتراض ہوتا ہے کہ آپ اقراض کو اعارہ کیسے قرار دے سکتے ہیں؟ اعارہ کے اندر تو جو چیز عاریتاً استعمال کے لیے لی ہے وہی چیز واپس کی جاتی ہے۔ ہمسایوں کے گھر سے برتن لیے ہیں استعمال کے لیے تو وہی برتن اس کو واپس کیے جائیں گے۔ اسی طرح آپ کا ساتھی آپ سے گاڑی لے جاتا ہے استعمال کے لیے تو پھر استعمال کے بعد وہی گاڑی وہ آپ کو واپس لوٹائے گا۔ لیکن قرض کے اندر جو درہم لیے تھے وہی درہم تو واپس نہیں کیے جاتے، وہ درہم تو ضرورت کے اندر خرچ کر دیے جاتے ہیں، بلکہ اقراض کے اندر تو ان درہموں کا مثل دیا جاتا ہے، ان جیسے درہم واپس کیے جاتے ہیں، تو آپ اقراض کو اعارہ کیسے قرار دے سکتے ہیں؟ اعارہ میں عین وہی چیز واپس کی جاتی ہے اور اقراض کے اندر اس چیز کا مثل واپس کیا جاتا ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟
تو جواب دیں گے صاحب ہدایہ کہ اقراض جو ہے یہ اعارہ ہے، اور یہاں پر جو درہم اور دینار واپس کیے جا رہے ہیں اگرچہ وہ مثل ہیں، وہ بعینہٖ وہی درہم نہیں ان کا مثل ہیں، ان کا بدل ہیں، لیکن یہاں اس مثل کا بھی وہی حکم ہے جو عین کا تھا، یوں سمجھو گویا آپ وہی درہم واپس لوٹا رہے ہیں جو آپ نے لیے تھے، جیسے استعمال کے بعد وہی برتن واپس کیے جاتے ہیں یہاں بھی یوں ہی سمجھو آپ وہی درہم واپس لوٹا رہے ہیں۔ معلوم ہوا اقراض کے اندر مثل لوٹایا جاتا ہے لیکن مثل کا بھی وہی حکم ہے جو اس عین شے کا حکم تھا بھئی۔
تو یہ معنی ہے، کہتے ہیں: ”وَلَوْ سُلِّمَ فَهُوَ إِعَارَةٌ“ اور اگر آپ کی بات تسلیم کر لی جائے کہ قرض جو ہے اس کے ساتھی پر لازم نہیں ہوتا تو یہ اقراض جو ہے یہ اعارہ ہے، ”فَيَكُونُ لِمِثْلِهَا حُكْمُ عَيْنِهَا“ تو اس اعارے کا جو مثل ہے، یعنی یہ جو اقراض ہے جس کو ہم نے اعارہ قرار دیا ”فَيَكُونُ لِمِثْلِهَا حُكْمُ عَيْنِهَا“ تو اس کے مثل کا وہی حکم ہے جو اس کی عین کا حکم ہے، ”لَا حُكْمُ الْبَدَلِ“ بدل والا حکم نہیں ہے بھئی۔ اگر بدل کا حکم دے دیں گے پھر تو یہ اعارہ نہ رہا بھئی، پھر تو یہ عقد معاوضہ بن جائے گا۔ توجہ ہے؟ تو معلوم ہوا دو جواب دیے صاحب ہدایہ نے۔ ایک جواب انکاری تھا کہ ہمیں آپ کی بات تسلیم ہی نہیں ہے کہ قرض دوسرے ساتھی پر لازم نہیں ہوتا، بلکہ دوسرے ساتھی پر بھی قرض لازم ہو جاتا ہے اس سے بھی مطالبہ ہو سکتا ہے، اور اس جواب کی بنیاد اس پر تھی کہ اقراض معاوضہ ہے۔ اقراض معاوضہ ہے۔ اور دوسرا جواب یہ دیا کہ ہمیں آپ کی بات تسلیم ہے، اقراض کے اندر جو قرض ہوتا ہے وہ دوسرے ساتھی پر لازم نہیں ہوتا کیونکہ اقراض معاوضہ نہیں ہے بلکہ اعارہ ہے، یہاں پر جو بعد میں درہم اور دینار واپس کیے جا رہے ہیں وہ جو درہم قرض میں لیے تھے ان کے مثل ہیں، لیکن یہاں مثل کا بھی وہی حکم ہے جو عین انہی درہم اور دنانیر کا تھا جو بطور قرض کے لیے تھے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
تو کہتے ہیں: ”فَيَكُونُ لِمِثْلِهَا حُكْمُ عَيْنِهَا لَا حُكْمُ الْبَدَلِ“ تو ان کے مثل کا بھی وہی حکم ہے جو ان کی عین کا حکم ہے نہ کہ بدل کا حکم، ”حَتَّى لَا يَصِحُّ فِيهِ الْأَجَلُ“ یہاں تک کہ اس کے اندر مدت کا مقرر کرنا بھی صحیح نہیں ہے۔ یاد رکھو یہاں پر بھی ”حَتَّى“ نصب نہیں دے گا، ”لَا يَصِحُّ“ پر رفع پڑھیں گے کیونکہ یہاں بھی حتیٰ کے عمل کی شرائط پوری نہیں ہیں بھئی، یہاں بھی یہ حتیٰ تفریع کے لیے ہے، ماقبل پر تفریع کر رہے ہیں صاحب ہدایہ۔ کہتے ہیں: ”حَتَّى لَا يَصِحُّ فِيهِ الْأَجَلُ“ یہاں تک کہ اقراض کے اندر مدت کا مقرر کرنا بھی صحیح نہیں ہے۔ کسی کو کوئی قرض دیں تو اس میں مدت کا مقرر کرنا صحیح نہیں، آپ کہیں گے کہ بھئی ہم تو جب بھی قرض لیتے ہیں یا قرض دیتے ہیں ہم تو مدت مقرر کرتے ہیں، تو یاد رکھنا قرض کے اندر مدت کو ذکر کیا جاتا ہے لیکن مدت مقرر کرنے سے لازم نہیں ہوتی۔ مدت مقرر کرنے سے لازم نہیں ہوتی، تو معلوم ہوا قرض کے اندر مدت کا مقرر کرنا صحیح نہیں یعنی مقرر کرنے سے وہ لازم نہیں ہوتی۔ اور یہ علامت ہے اس بات کی کہ اقراض اعارہ ہے۔ یاد رکھو، اعارہ عقد تبرع ہے، آپ کسی کو کوئی چیز استعمال کے لیے دے رہے ہیں، یہ چیز دینا آپ پر لازم نہیں تھا لیکن آپ اپنی طرف سے نیکی اور احسان کرتے ہوئے یہ چیز اس کو دے رہے ہیں، اور اس اعارے کے اندر مدت کا مقرر کرنا صحیح نہیں ہے، اس لیے کیونکہ اس صورت میں تو جبر کرنا لازم آئے گا۔ آپ نیکی اور احسان کر رہے ہیں اور نیکی اور احسان کے اندر دوسرے پر جبر کریں، اس کو مجبور کر دیں، اس کے لیے مدت مقرر کر دیں؟ نہیں بھئی، آپ ایسا نہیں کر سکتے۔ نیکی اور احسان کے ساتھ جبر جمع نہیں ہو سکتا، نیکی اور احسان اور چیز ہے اور جبر کرنا اور چیز ہے، ایک ہی چیز نیکی بھی ہو اور جبر بھی ہو ایسا نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا اعارے کے اندر مدت مقرر کی جائے تو وہ مدت مقرر نہیں ہوتی، اسی طرح یہ جو اقراض ہے اس کے اندر بھی مدت مقرر کی جائے تو وہ مدت مقرر نہیں ہوتی یعنی لازم نہیں ہوتی، معلوم ہوا اقراض اعارہ ہے، جیسے اعارہ کے اندر مدت کا مقرر کرنا صحیح نہیں اسی وجہ سے اقراض کے اندر بھی مدت کا مقرر کرنا صحیح نہیں ہے بھئی۔
یہ معنی ہے: ”حَتَّى لَا يَصِحُّ فِيهِ الْأَجَلُ“ یہاں تک کہ اقراض کے اندر مدت کا مقرر کرنا صحیح نہیں ہے، ”فَلَا يَتَحَقَّقُ مُعَاوَضَةً“ تو اقراض جو ہے وہ معاوضہ ہو کر نہ پایا گیا۔ یہ دوسرا جواب چل رہا ہے۔ پہلے جواب کے مطابق اقراض معاوضہ ہے، دوسرا جواب دیا کہ اقراض معاوضہ نہیں یہ تو اعارہ ہے، تو کہتے ہیں: ”فَلَا يَتَحَقَّقُ مُعَاوَضَةً“ تو اقراض جو ہے وہ معاوضہ ہو کر نہ پایا گیا۔
تو صاحب ہدایہ نے اقراض کے دو جواب ذکر کیے بھئی، ایک جواب انکاری اور ایک جواب تسلیمی۔ صاحبین نے ذکر کیا تھا کہ یہ کفالت بالمال بامر الاجنبی جو ہے یہ اقراض کی طرح ہے، اور اقراض کے اندر جس نے قرض لیا ہے اسی سے مطالبہ ہو سکتا ہے اس کے شریک سے مطالبہ نہیں ہو سکتا، تو کفالت بالمال کے اندر بھی جو کفیل بنا ہے اسی سے مطالبہ ہو سکتا ہے اس کے شریک سے مطالبہ نہیں ہو سکتا۔ تو پہلا جواب انکاری دیا کہ ہمیں آپ کی یہ بات تسلیم ہی نہیں ہے کہ اقراض کے اندر صرف اسی قرض لینے والے سے مطالبہ ہو سکتا ہے بلکہ اقراض بھی عقد معاوضہ ہے لہٰذا شریک سے بھی اس کا مطالبہ ہو سکتا ہے، لہٰذا اگر آپ کفالت بالمال کو اقراض کی طرح قرار دے دیں پھر بھی آپ کا دعویٰ ثابت نہیں ہوتا کیونکہ اقراض کے اندر بھی دونوں سے مطالبہ ہو سکتا ہے جیسے کفالت بالمال میں دونوں سے مطالبہ ہو سکتا ہے۔ اور دوسرا جواب تسلیمی دیا کہ اگر آپ کی بات تسلیم کر لی جائے اقراض کے اندر دوسرے شریک سے مطالبہ نہیں ہو سکتا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ اقراض اعارہ ہے یعنی عقد تبرع ہے، ابتداءً بھی تبرع اور انتہاءً بھی تبرع، جبکہ کفالت بالمال بامر الاجنبی وہ ابتداءً تو تبرع ہے لیکن انتہاءً وہ معاوضہ ہے، لہٰذا آپ کا کفالت بالمال بامر الاجنبی کو اقراض کی طرح قرار دینا صحیح ہی نہیں ہے کیونکہ اقراض تو ابتداءً بھی تبرع ہے اور انتہاءً بھی تبرع ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
”وَلَوْ كَانَتْ بِغَيْرِ أَمْرِهِ لَمْ تَلْزَمْ صَاحِبَهُ فِي الصَّحِيحِ لِانْعِدَامِ مَعْنَى الْمُفَاوَضَةِ“ بھئی ابھی تک اس کفالت بالمال کی بات چل رہی تھی جو بامر الاجنبی ہو، جو بامر المکفول عنہ ہو۔ اجنبی کے کہنے پر ایک شریک کفیل بنا ہے، اور اگر اجنبی کے کہے بغیر ہی شریک جو ہے وہ کفیل بن گیا ہے تو یاد رکھو اس کے اندر صاحب ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ امام صاحب اور صاحبین کا کوئی اختلاف نہیں۔ کیونکہ وہ کفالت جو بغیر امر الاجنبی ہو وہ ابتداءً بھی تبرع ہے اور انتہاءً بھی تبرع ہے، کیونکہ وہاں پر اگر کفیل وہ مال ادا بھی کر دے تو پھر وہ اس اجنبی پر یعنی اس مکفول عنہ پر رجوع نہیں کر سکتا۔ تو وہ کفالت جو بامر الاجنبی ہو وہ تو انتہاءً معاوضہ ہے وہاں تو عوض وصول کیا جا سکتا ہے لیکن وہ کفالت جو بغیر امر الاجنبی ہو اس کے اندر آخر میں اجنبی سے معاوضہ وصول نہیں کیا جا سکتا تو لہٰذا یہ کفالت بغیر امر الاجنبی یہ انتہاءً بھی تبرع ہے، تو یہاں معاوضے والا معنی ہی نہیں، جب معاوضے والا معنی ہی نہیں تو عقد مفاوضہ جو ہے، عقد مفاوضہ اس کو متضمن نہیں، لہٰذا اس میں جو شخص کفیل بنا ہے اسی سے مطالبہ ہو سکتا ہے اس کے شریک سے مطالبہ نہیں ہو سکتا۔
تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ كَانَتْ بِغَيْرِ أَمْرِهِ“ اور اگر وہ کفالت جو ہے وہ مکفول عنہ کے حکم کے بغیر ہی ہو، ”لَمْ تَلْزَمْ صَاحِبَهُ فِي الصَّحِيحِ“ تو صحیح قول کے مطابق یہ کفالت اس کے ساتھی پر لازم نہیں ہے، ”لِانْعِدَامِ مَعْنَى الْمُفَاوَضَةِ“ اس وجہ سے کہ مفاوضہ کا معنی معدوم ہے، یہاں پر مفاوضہ والا یعنی معاوضہ والا معنی نہیں پایا جا رہا نہ ابتداءً اور نہ انتہاءً بھئی۔
”وَمُطْلَقُ الْجَوَابِ فِي الْكِتَابِ مَحْمُولٌ عَلَى الْمُقَيَّدِ“ بھئی پیچھے متن پر ذرا آئیے جہاں سے ہم نے سبق شروع کیا تھا، قال امام محمد رحمہ اللہ جامع صغیر میں فرماتے ہیں: ”وَلَوْ كَفَلَ أَحَدُهُمَا بِمَالٍ عَنْ أَجْنَبِيٍّ“ اگر دو شریکوں میں سے ایک جو ہے وہ مال کا کفیل بن گیا عن اجنبی کسی اجنبی کی طرف سے، ”لَزِمَ صَاحِبَهُ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ وَقَالَا لَا يَلْزَمُهُ“ تو امام صاحب کے نزدیک اس کے شریک پر بھی یہ مال لازم ہے اور صاحبین کے نزدیک اس کے شریک پر یہ مال لازم نہیں ہے۔ توجہ ہے؟ تو متن کے اندر مطلقاً کفالت کا ذکر ہے: ”وَلَوْ كَفَلَ أَحَدُهُمَا بِمَالٍ عَنْ أَجْنَبِيٍّ“ اگر ایک شریک اجنبی کی طرف سے مال کا کفیل بن گیا۔ یہاں یہ ذکر نہیں ہے کہ بامر الاجنبی کفیل بنا ہے یا بغیر امر الاجنبی کفیل بنا ہے، تو متن کے اندر مطلق کفالت بالمال ذکر ہے۔ توجہ ہے؟ مطلق کفالت بالمال ذکر ہے لیکن صاحب ہدایہ نے آپ کو بتلا دیا کہ یہ جو صاحبین اور امام صاحب کا اختلاف ہے یہ مطلق کفالت بالمال میں نہیں ہے بلکہ کفالت بالمال بامر الاجنبی کے اندر یہ اختلاف ہے، تو اب اسی کو صاحب ہدایہ آگے بیان فرما رہے ہیں کہ متن کے اندر تو مطلق مسئلہ ذکر ہے لیکن وہ مقید پر محمول ہے، یعنی وہاں بھی امر الاجنبی کی قید ملحوظ ہے، وہاں بھی امر الاجنبی کی قید ملحوظ ہے یعنی وہ کفالت وہاں مراد ہے جو بامر الاجنبی ہو بھئی، یعنی بامر المکفول عنہ ہو بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
اب آئیے سبق پر، کہتے ہیں: ”وَمُطْلَقُ الْجَوَابِ فِي الْكِتَابِ“ اور کہتے ہیں جامع صغیر کے اندر جو مطلق جواب ذکر ہے یعنی جہاں کوئی قید نہیں ہے، ”مَحْمُولٌ عَلَى الْمُقَيَّدِ“ یہ مطلق جواب مقید پر محمول ہے، یعنی ذکر تو مطلق کفالت ہے لیکن مراد کفالت بامر الاجنبی ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَمُطْلَقُ الْجَوَابِ فِي الْكِتَابِ مَحْمُولٌ عَلَى الْمُقَيَّدِ“ اور کتاب یعنی جامع صغیر کے اندر یعنی وہ جو متن پیچھے گزرا ہے اس کے اندر جو مطلق جواب ذکر ہے وہ مقید پر محمول ہے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی۔
بھئی صاحب ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ متن کے اندر ذکر تو مطلق کفالت ہے لیکن مراد مقید کفالت ہے یعنی کفالت بامر الاجنبی۔ اور اگر کفالت بغیر امر الاجنبی ہو تو اس میں اختلاف نہیں ہے، اسی کو پیچھے ذکر بھی کیا تھا: ”وَلَوْ كَانَتْ بِغَيْرِ أَمْرِهِ لَمْ تَلْزَمْ صَاحِبَهُ فِي الصَّحِيحِ“ صحیح قول کے مطابق اگر بغیر امر الاجنبی کفیل بنے گا تو اس کے شریک پر یہ مال لازم نہیں، اور بتلایا ”فِي الصَّحِيحِ“ صحیح قول کے مطابق۔ تو یہ صحیح قول کے ذریعے دراصل احتراز کیا ہے صاحب ہدایہ نے دوسرے قول سے۔ بہت سے فقہاء اس بات کی طرف گئے ہیں کہ متن کے اندر جیسے مطلق کفالت کو ذکر کیا گیا ہے اسی طرح امام صاحب اور صاحبین کا اختلاف مطلق کفالت بالمال میں ہی ہے، متن کے اندر مطلق کفالت بالمال کے اندر اختلاف کو ذکر کیا گیا ہے اور امام صاحب اور صاحبین کا اختلاف مقید کفالت میں نہیں ہے بلکہ مطلق کفالت میں ہی اختلاف ہے۔ اور اسی وجہ سے صاحب ہدایہ نے پیچھے کیا کہا تھا؟ ”فِي الصَّحِيحِ“ صحیح قول کے مطابق، دراصل یہ دوسرے فقہاء کے قول سے احتراز کیا بھئی۔
آگے دیکھیے بھئی: ”وَضَمَانُ الْغَصْبِ وَالِاسْتِهْلَاكِ بِمَنْزِلَةِ الْكَفَالَةِ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى لِأَنَّهُ مُعَاوَضَةٌ انْتِهَاءً“ بھئی دو آدمیوں نے آپس میں عقد مفاوضہ کیا ہوا ہے تو دونوں میں سے ہر ایک دوسرے کا وکیل بھی ہے اور کفیل بھی ہے۔ اب صورت یہ ہے کہ ان دو شریکوں میں سے ایک شریک کسی کا کوئی مال غصب کر لیتا ہے اور آپ جانتے ہیں کہ غصب کی وجہ سے اس پر ضمان آئے گا، یا اسی طرح دو شریکوں میں سے ایک شریک نے کسی کا مال ہلاک کر دیا تو اس استہلاک کی وجہ سے بھی اس پر ضمان آئے گا، تو کیا یہ ضمان جو غصب کی وجہ سے آیا یا یہ ضمان جو استہلاک کی وجہ سے آیا، کیا اس کا مطالبہ دوسرے شریک سے کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟ تو آپ کو صاحب ہدایہ بتلائیں گے کہ یہ جو ضمان آیا ہے یہ بطور عوض کے آیا ہے، بطور معاوضہ کے آیا ہے، ایک شخص نے کسی کی چیز غصب کی تو عوض کے طور پر اس پر ضمان آ گیا، یا ایک نے دوسرے کا مال ہلاک کیا تو عوض کے طور پر اس پر ضمان آ گیا، تو یہاں معاوضے والا معنی ہے انتہاء کے اعتبار سے، ابتداءً تو غصب اور استہلاک ہے لیکن انتہاءً ضمان آ رہا ہے تو انتہاءً معاوضہ ہے، تو یہ بھی کس کی طرح ہوئے؟ کفالت کی طرح ہوئے، اور کفالت کی وجہ سے ایک شریک پر جو مال لازم ہوتا ہے اس کا مطالبہ دوسرے شریک سے بھی کیا جا سکتا ہے، تو یہ جو غصب اور استہلاک کی وجہ سے جو ضمان لازم ہو گا اس کا مطالبہ بھی دوسرے شریک سے کیا جا سکتا ہے امام صاحب کے نزدیک بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَضَمَانُ الْغَصْبِ وَالِاسْتِهْلَاكِ“ اور غصب اور استہلاک کا جو ضمان ہے ”بِمَنْزِلَةِ الْكَفَالَةِ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ یہ بھی کفالت کے درجے میں ہے امام صاحب کے نزدیک، یعنی یہ اس کے شریک پر بھی یہ ضمان لازم ہو گا اس سے بھی مطالبہ ہو سکتا ہے، ”لِأَنَّهُ مُعَاوَضَةٌ انْتِهَاءً“ اس لیے کیونکہ یہ ضمان جو ہے یہ بھی معاوضہ ہے انتہاء کے اعتبار سے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یہاں شارحین نے اعتراض کیا ہے کہ صاحب ہدایہ نے صرف امام صاحب کو ذکر فرمایا حالانکہ امام محمد رحمہ اللہ کا بھی یہی مذہب ہے، امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک بھی غصب اور استہلاک کی وجہ سے جو ضمان لازم ہو گا اس کا مطالبہ اس کے شریک سے بھی کیا جا سکتا ہے۔ تو صاحب ہدایہ نے صرف امام صاحب کو ذکر فرمایا لیکن محشی حضرات فرماتے ہیں کہ امام محمد رحمہ اللہ کا بھی یہی مذہب ہے لہٰذا صاحب ہدایہ کو امام محمد رحمہ اللہ کو بھی ذکر کرنا چاہیے تھا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
آگے دیکھیے: ”قَالَ فَإِنْ وَرِثَ أَحَدُهُمَا مَالًا يَصِحُّ فِيهِ الشَّرِكَةُ“ بھئی میں نے آپ کو بتلایا کہ یہ جو عقد مفاوضہ ہے، یا یوں کہو یہ جو عقد شرکت ہے یہ درہم، دینار اور فلوس نافقہ میں جائز ہے، سامان، مکیلات، موزونات وغیرہ میں جائز نہیں، اسی طرح زمین کے اندر بھی یعنی غیر منقولی جائداد میں بھی یہ عقد شرکت جائز نہیں ہے بھئی۔ تو اب صاحب ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ ہم نے آپ کو بتلایا تھا کہ عقد مفاوضہ کے اندر دونوں شریکوں کا مال برابر ہونا چاہیے، ہر مال نہیں، وہ مال جس میں شرکت ہو سکتی ہے، یعنی درہم، دینار اور فلوس نافقہ۔ ایک کے پاس اگر بیس درہم ہیں تو دوسرے کے پاس بھی بیس درہم ہی ہونے چاہییں، اگر دونوں کا مال برابر نہیں ہے تو پھر یہ عقد مفاوضہ نہیں ہے بلکہ یہ عقد عنان ہو گا۔ اب اسی کو صاحب ہدایہ بیان فرما رہے ہیں کہ دو آدمیوں نے آپس میں عقد مفاوضہ کر لیا لیکن پھر بعد میں ایک شریک کو کچھ زائد مال کہیں سے مل گیا، اور ایسا مال ملا جس میں شرکت ہو سکتی ہے یعنی درہم ملے یا دینار ملے یا فلوس نافقہ مل گئے بھئی، چاہے مثلاً وراثت کے طور پر اس کو مل گئے یا چاہے اس کو کسی نے ہبہ کر دیے یعنی تحفے کے طور پر دے دیے، تو دونوں کا مال برابر نہ رہا، جب دونوں کا مال برابر نہ رہا تو مفاوضہ باطل ہو جائے گا کیونکہ مفاوضہ کے اندر جیسے ابتداءً مساوات ضروری ہے مال میں اسی طرح بقاءً بھی مال کے اندر مساوات اور برابری ضروری ہے بھئی۔ تو دو افراد نے عقد مفاوضہ کیا ہوا ہے ان میں سے ایک کو وراثت کے اندر یا تحفے کے طور پر ایسا مال مل گیا جس میں شرکت ہو سکتی تھی تو عقد مفاوضہ باطل ہو جائے گا۔
تو کہتے ہیں: ”قَالَ“ امام محمد رحمہ اللہ جامع صغیر میں فرماتے ہیں: ”فَإِنْ وَرِثَ أَحَدُهُمَا مَالًا“ اگر ان دونوں شریکوں میں سے ایک وارث ہو گیا ایسے مال کا، دیکھو ”مَالًا“ نکرہ ہے اور ”يَصِحُّ“ آگے فعل آ رہا ہے تو یہ اس کے لیے صفت بنے گا، اور موصوف صفت کا ترجمہ کیسے کرتے ہیں؟ موصوف سے پہلے ایسا یا ایسی کا لفظ لاتے ہیں، پھر ترجمہ دیکھ لیجیے، ”قَالَ“ امام محمد رحمہ اللہ جامع صغیر میں فرماتے ہیں: ”فَإِنْ وَرِثَ أَحَدُهُمَا مَالًا يَصِحُّ فِيهِ الشَّرِكَةُ“ اگر ان دونوں میں سے کوئی ایک شریک جو ہے وہ وارث بن گیا ایسے مال کا کہ جس کے اندر شرکت صحیح ہے، ”أَوْ وُهِبَ لَهُ وَوَصَلَ إِلَى يَدِهِ“ یا اس کو ایسا مال ہبہ کیا گیا اور یہ مال اس کے ہاتھ تک پہنچ گیا یعنی اس کے قبضے میں آ گیا، بھئی میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ ہبہ کے اندر قبضہ بھی ضروری ہے پھر ہی ہبہ تام ہو گا، مثلاً آپ کو کسی شخص نے تحفے کے طور پر کوئی کتاب دی تو جب تک وہ کتاب آپ کے قبضے میں نہیں پہنچے گی آپ اس کتاب کے مالک نہیں ہیں، صرف زبان سے کہنے سے کوئی شخص کسی چیز کا مالک نہیں بنتا جب تک وہ چیز اس کے قبضے میں نہ آ جائے۔ تو یہاں پر بھی اسی لیے کہا کہ ”أَوْ وُهِبَ لَهُ“ یا ایک شریک کو وہ مال ہبہ کیا گیا ”وَوَصَلَ إِلَى يَدِهِ“ اور وہ مال اس کے قبضے کو پہنچ گیا یعنی اس کے ہاتھ میں آ گیا تو یہ اس کا مالک بن گیا، جب مالک بن گیا اب ایک کا مال زائد ہے اور دوسرے کا مال کم ہے تو عقد مفاوضہ باطل ہو جائے گا۔
تو کہتے ہیں اس صورت کے اندر: ”بَطَلَتِ الْمُفَاوَضَةُ“ تو عقد مفاوضہ باطل ہو جائے گا، ”وَصَارَتْ عِنَانًا“ اور یہ شرکت جو ہے یہ شرکت عنان ہو جائے گی، ”لِفَوَاتِ الْمُسَاوَاةِ فِيمَا يَصْلُحُ رَأْسَ الْمَالِ“ اس لیے کیونکہ برابری ختم ہو گئی اس چیز کے اندر جو راس المال ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے، بھئی ایک شریک کو درہم، دینار یا فلوس نافقہ ملے ہیں اور ان پر تو شرکت ہو سکتی ہے، تو ایک شریک ایسے مال کا مالک بن گیا جس میں شرکت ہو سکتی ہے لیکن شرکت ہے نہیں تو مال میں برابری نہ رہی۔ تو کہتے ہیں: ”لِفَوَاتِ الْمُسَاوَاةِ فِيمَا يَصْلُحُ رَأْسَ الْمَالِ“ اس وجہ سے کہ برابری فوت ہو گئی اس مال کے اندر جو راس المال ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے، ”إِذْ هِيَ شَرْطٌ فِيهِ ابْتِدَاءً وَبَقَاءً“ اس لیے کیونکہ یہ برابری تو شرط ہے عقد مفاوضہ میں ابتداء کے اعتبار سے بھی اور بقاء کے اعتبار سے بھی، ”وَهَذَا“ اور یہ اس وجہ سے، یہ عقد مفاوضہ اس لیے باطل ہوا ”لِأَنَّ الْآخَرَ لَا يُشَارِكُهُ فِيمَا أَصَابَهُ“ اس لیے کیونکہ دوسرا شریک جو ہے وہ تو شریک نہیں ہے اس مال کے اندر جو ایک کو ملا ہے، ”لِانْعِدَامِ السَّبَبِ فِي حَقِّهِ“ اس لیے کیونکہ اس کے اندر شرکت کا سبب معدوم ہے، ایک کو وراثت کے طور پر کچھ مال ملا ہے یا کسی نے تحفے کے طور پر ایک کو مال دیا ہے تو دوسرے شریک کے لیے تو ملکیت والا سبب نہیں پایا گیا، وہ اس مال کا مالک نہیں، جب وہ اس مال کا مالک نہیں تو دونوں کے مال میں برابری نہ رہی۔
تو کہتے ہیں: ”وَهَذَا“ اور یہ عقد مفاوضہ اس لیے باطل ہو جاتا ہے ”لِأَنَّ الْآخَرَ لَا يُشَارِكُهُ فِيمَا أَصَابَهُ لِانْعِدَامِ السَّبَبِ فِي حَقِّهِ“ اس لیے کیونکہ دوسرا شریک جو ہے وہ شریک نہیں ہے اس مال کے اندر جو ایک کو ملا ہے اس لیے کیونکہ اس کے حق میں تو شرکت کا سبب معدوم ہے، ”إِلَّا أَنَّهَا تَنْقَلِبُ عِنَانًا لِلْإِمْكَانِ“ مگر یہ کہ یہ عقد مفاوضہ پلٹ کر عنان ہو جائے گا ممکن ہونے کی وجہ سے۔ یہ دونوں نے عقد تو مفاوضہ کا کیا تھا لیکن مال میں برابری نہ رہی تو مفاوضہ باطل ہو گیا، لیکن یہ عقد عنان بن سکتا ہے تو یہ عقد عنان بن جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”إِلَّا أَنَّهَا تَنْقَلِبُ عِنَانًا لِلْإِمْكَانِ“ مگر یہ کہ یہ مفاوضہ جو ہے یہ پلٹ کر عنان ہو جائے گا ممکن ہونے کی وجہ سے، ”فَإِنَّ الْمُسَاوَاةَ لَيْسَ بِشَرْطٍ فِيهِ“ اس لیے کیونکہ عنان کے اندر مساوات شرط نہیں ہے، شرکت عنان کے اندر دونوں شریکوں کا مال برابر ہونا شرط نہیں ہے۔ کہتے ہیں: ”فَإِنَّ الْمُسَاوَاةَ لَيْسَ بِشَرْطٍ فِيهِ“ اس لیے کیونکہ عنان کے اندر مساوات شرط نہیں ہے، ”وَلِدَوَامِهِ حُكْمُ الِابْتِدَاءِ لِكَوْنِهِ غَيْرَ لَازِمٍ“ اور نیز یہ شرکت عنان کا جو دوام ہے اس کا بھی ابتداء والا ہی حکم ہے اس وجہ سے کہ یہ لازم نہیں ہے۔
بھئی ایک اعتراض کا جواب دے رہے ہیں، اعتراض یہ ہوتا ہے، اعتراض یہ ہوتا ہے کہ پہلے عقد مفاوضہ تھا اور اب آپ اس کو کہہ رہے ہیں کہ یہ عقد عنان بن گیا، یہ کیا بن گیا؟ عقد عنان بن گیا، تو یہ تو بقاء کی حالت میں عنان بن رہا ہے، ابتداء تو کس سے کی تھی؟ شرکت مفاوضہ سے، اور بقاء میں یہ کون سی شرکت بن گئی؟ شرکت عنان بن گئی، تو یہ تو جائز نہیں ہونی چاہیے؟ تو جواب دے رہے ہیں کہ نہیں، شرکت کے اندر بقاء کا بھی وہی حکم ہوتا ہے جو ابتداء کا ہوتا ہے، یعنی جیسے ابتداء کے اندر شرکت کسی پر لازم نہیں، آپ ایک آدمی کے ساتھ عقد مفاوضہ کرتے ہیں آپ پر لازم نہیں ہے، آپ کی مرضی ہے عقد مفاوضہ کریں یا نہ کریں، یا ایک آدمی کے ساتھ آپ شرکت عنان کرتے ہیں آپ پر لازم نہیں ہے کہ آپ شرکت عنان کریں یا نہ کریں، بات سمجھ میں آ گئی؟ معلوم ہوا یہ جو شرکت والا عقد کیا جاتا ہے جیسے ابتداء کے اندر یہ کسی پر لازم نہیں ہے اسی طرح انتہاء کے اعتبار سے اور بقاء کے اعتبار سے بھی یہ کسی پر لازم نہیں ہے۔ آپ نے ایک آدمی کے ساتھ عقد شرکت کر لیا لیکن کچھ عرصے کے بعد آپ کہتے ہیں بس بھئی آج کے بعد میرا اور آپ کا عقد شرکت ختم ہے، تو دیکھا اب وہ آپ کو قاضی کے پاس لے جا کر بھی آپ پر اس شرکت کو لازم نہیں کر سکتا، معلوم ہوا یہ جو شرکت کا عقد ہوتا ہے یہ کسی پر بھی لازم نہیں ہوتا، جس وقت یہ دونوں چاہیں اس کو ختم کر سکتے ہیں۔ تو یہ شرکت کا جو عقد ہے جیسے ابتداءً غیر لازم ہے اسی طرح انتہاءً اور بقاءً بھی غیر لازم ہے، معلوم ہوا یہاں بقاء کا بھی وہی حکم ہے جو ابتداء کا تھا، لہٰذا یہاں پر یہ جو عقد مفاوضہ تھا یہ بقاءً کیا بن گیا؟ عنان بن گیا، لیکن بقاء کا بھی وہی حکم ہے جو ابتداء والا ہے، یوں سمجھو ابتدائے عنان ہو رہی ہے۔ ابتدائے عنان ہو رہی ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَلِدَوَامِهِ حُكْمُ الِابْتِدَاءِ لِكَوْنِهِ غَيْرَ لَازِمٍ“ اور عنان کے دوام کا وہی حکم ہے جو اس کی ابتداء کا حکم ہے اس وجہ سے کہ یہ عنان لازم نہیں ہے۔
”فَإِنْ وَرِثَ أَحَدُهُمَا عَرْضًا فَهُوَ لَهُ وَلَا تَفْسُدُ الْمُفَاوَضَةُ“ یہاں سے آپ کو یہ بتلائیں گے کہ اگر دونوں شریکوں میں سے ایک ایسے مال کا مالک بن گیا جس میں شرکت جائز ہی نہیں ہے تو اس سے مفاوضہ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ انہوں نے آپ کو بتلایا بھئی دو آدمیوں نے عقد مفاوضہ کیا ہوا ہے تو دونوں کا مال برابر ہونا ضروری ہے، اگر ایک شریک کو بھی زائد مال مل گیا تو مفاوضہ باطل ہو جائے گا۔ لیکن اگر دونوں میں سے ایک کو ایسا مال ملا ہے جس میں شرکت جائز ہی نہیں ہے، مثلاً سامان مل گیا یا مکیلات اور موزونات مل گئے یا زمین مل گئی تو اس سے مفاوضہ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا کیونکہ مفاوضہ کے اندر درہم اور دینار اور فلوس نافقہ کا برابر ہونا ضروری ہے، سامان اور مکیلات اور موزونات اور زمین وغیرہ کا برابر ہونا ضروری نہیں ہے۔
تو کہتے ہیں: ”فَإِنْ وَرِثَ أَحَدُهُمَا عَرْضًا“ تو اگر ان دو شریکوں میں سے ایک جو ہے وہ سامان کا وارث ہو گیا، ”فَهُوَ لَهُ“ تو یہ سامان اسی کا ہو گا، ”وَلَا تَفْسُدُ الْمُفَاوَضَةُ“ اور عقد مفاوضہ بھی فاسد نہیں ہو گا، ”وَكَذَا الْعَقَارُ“ اور اسی طرح ہے غیر منقولی جائداد بھی، عقار کسے کہتے ہیں؟ غیر منقولی جائداد جو ہے یعنی زمین ہے، دکان ہے، گھر وغیرہ۔ تو کہتے ہیں: ”وَكَذَا الْعَقَارُ“ اور اسی طرح غیر منقولی جائداد بھی ہے، یعنی وہ بھی کسی ایک کو مل جائے تو اس سے عقد مفاوضہ باطل نہیں ہو گا، ”لِأَنَّهُ لَا يَصِحُّ فِيهِ الشَّرِكَةُ“ اس لیے کیونکہ یہ جو سامان اور غیر منقولی جائداد ہے ان کے اندر شرکت صحیح نہیں ہے، ”فَلَا يُشْتَرَطُ الْمُسَاوَاةُ فِيهِ“ تو ان کے اندر برابری بھی شرط نہیں ہو گی، ان کے اندر برابری کی شرط بھی نہیں لگائی جائے گی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔