Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء ثاني · dars-146

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 16 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 115
📂 Choose Format:
⭐ ★★★★★ Excellent TEXT
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
آگے سبق دیکھیے بھئی۔ بَابُ الْبُغَاةِ "وَإِذَا تَغَلَّبَ قَوْمٌ مِّنَ الْمُسْلِمِينَ عَلَىٰ بَلَدٍ وَخَرَجُوا مِنْ طَاعَةِ الْإِمَامِ دَعَاهُمْ إِلَى الْعَوْدِ إِلَى الْجَمَاعَةِ، وَكَشَفَ عَنْ شُبْهَتِهِمْ؛ لِأَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ فَعَلَ كَذٰلِكَ بِأَهْلِ حَرُورَاءَ قَبْلَ قِتَالِهِمْ، وَلِأَنَّهُ أَهْوَنُ الْأَمْرَيْنِ"۔ بھئی گزشتہ سبق کے اندر صاحبِ ہدایہ مرتدوں کے احکام بیان فرما رہے تھے۔ صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ اگر کوئی مکاتب مرتد ہو جائے اور دار الحرب چلا گیا اور قاضی نے اس کے دار الحرب جانے کا فیصلہ کر دیا، اور پھر وہاں اس مکاتبِ مرتد نے مال کمایا، اور پھر اس علاقے پر مسلمانوں نے غلبہ حاصل کر لیا، اس علاقے کو فتح کر لیا، اور اس مرتد نے مسلمان ہونے سے انکار کر دیا تو اسے تو قتل کر دیا جائے گا، البتہ اس مرتد کا مال مالِ فے نہیں ہے، بلکہ اسی مال کے ذریعے اس کا بدلِ کتابت اس کے آقا کو ادا کیا جائے گا اور جو مال باقی بچے گا وہ اس مکاتب کے وارثوں کے لیے ہو گا۔ صاحبین کے ضابطے کے مطابق تو یہ بات ظاہر ہے، ان پر کوئی اعتراض نہیں ہوتا، کیونکہ صاحبین کے نزدیک ارتداد کی وجہ سے مرتد کی ملکیت اپنے مال پر سے ختم نہیں ہوتی۔ لیکن امام صاحب پر اشکال ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک تو مرتد کی ملکیت اپنے مال پر سے ختم ہو جاتی ہے، تو معلوم ہوا امام صاحب نے وہ آزاد آدمی جو مرتد ہو گیا ہے اور وہ مکاتب جو مرتد ہے دونوں میں فرق کیا ہے۔ تو صاحبِ ہدایہ نے امام صاحب کی دلیل ذکر فرمائی تھی کہ یہ جو مکاتب ہے یہ عقدِ کتابت کی وجہ سے اپنی کمائیوں کا مالک بنتا ہے، اور ارتداد کی وجہ سے جب عقدِ کتابت موقوف نہیں ہوا تو اس مکاتبِ مرتد کی کمائی بھی موقوف نہیں ہو گی، یہ ابھی بھی اس کا مالک ہے بھئی۔ لہٰذا اسی سے بدلِ کتابت ادا کیا جائے گا اور باقی بچنے والا مال اس کے وارثوں کا حق ہے بھئی۔ پھر اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے مسئلہ ذکر فرمایا کہ العیاذ باللہ ایک مرد اور عورت جو ہیں وہ مرتد ہو گئے اور وہ دار الحرب چلے گئے اور وہاں پر اس عورت نے اولاد کو جنم دیا اور پھر آگے ان کی اولاد سے اولاد ہوئی، اور پھر وہاں پر مسلمانوں نے غلبہ پا لیا تو ان سب کو پکڑ لیا گیا۔ تو وہ مرتد اور اس کی بیوی کا حکم تو آپ پڑھ چکے ہیں کہ مرتد کو قتل کیا جائے گا اگر وہ اسلام نہیں لاتا، اور عورت کو قتل نہیں کیا جاتا۔ تو صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ اولاد جو ہے وہ ماں کے تابع ہوتی ہے آزادی اور غلامی میں، لہٰذا مرتد کی مرتدہ بیوی کو باندی بنانا جائز ہے، تو اس کی اولاد اور اولاد کی اولاد بھی، وہ بھی مالِ غنیمت ہوں گے، ان کو بھی غلام بنایا جائے گا۔ اور پھر کیا ان کی اولاد اور اولاد کی اولاد کو اسلام پر مجبور کیا جائے گا یا نہیں؟ تو صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ اولاد جو ہے وہ تو والدین کے تابع ہے، لہٰذا جیسے ان کے والدین کو اسلام پر مجبور کیا جائے گا تو ان کی جو پہلی اولاد ہے ان کو بھی اسلام پر مجبور کیا جائے گا۔ البتہ فرق یہ ہے کہ مرتد اگر اسلام نہیں لاتا اس کو تو قتل کر دیا جائے گا، لیکن اس کی اولاد اگر اسلام نہیں لاتی تو ان کو قتل نہیں کیا جائے گا کیونکہ حقیقت میں وہ مرتد نہیں ہوئے، ان کے والدین مرتد ہوئے تھے۔ تو بہرحال ان کو اسلام پر مجبور کیا جائے گا۔ اور باقی اولاد کی جو اولاد ہے تو کیا ان کو بھی اسلام پر مجبور کیا جائے گا یا نہیں؟ تو صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ اس سلسلے میں دو روایتیں ہیں۔ ایک ہے ظاہرِ روایت، ظاہرِ روایت کے مطابق یہ اولاد کی جو اولاد ہے یہ کافرِ اصلی شمار ہوں گے، یہ مرتد شمار نہیں ہوں گے۔ پہلی اولاد تو مرتد شمار ہوتی تھی اپنے والدین کے تابع ہو کر، لیکن دوسری اولاد وہ والدین کے تابع ہو کر مرتد شمار نہیں ہوں گے، وہ کافرِ اصلی شمار ہوں گے، لہٰذا ان کو اسلام پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن حسن ابن زیاد رحمہ اللہ امام صاحب سے روایت نقل کرتے ہیں کہ اولاد کی اولاد جو ہے وہ بھی دادا کے تابع ہیں، ان کو بھی اسلام پر مجبور کیا جائے گا۔ اور صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ اس اختلاف کی اصل وہ جو اسلام کے اندر تابع ہونے کے اندر اختلاف ہے۔ ظاہرِ روایت کے مطابق اگر دادا مسلمان ہو جائے تو اس کی اولاد کی جو اولاد ہے وہ دادا کے تابع ہو کر مسلمان شمار نہیں ہوں گے، جبکہ حسن ابن زیاد رحمہ اللہ جو امام صاحب سے روایت نقل کرتے ہیں اس کے مطابق جو اولاد کی اولاد ہے وہ دادا کے تابع ہو کر ان کو بھی مسلمان شمار کیا جائے گا۔ اور صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ یہ چار مسائل ہیں جن کے بارے میں دو دو روایتیں ہیں بھئی۔ ایک ظاہرِ روایت ہے اور ایک حسن ابن زیاد رحمہ اللہ کی روایت ہے۔ ظاہرِ روایت کے مطابق ان چار مسئلوں کے اندر جو پوتے پوتیاں ہیں وہ دادا کے تابع نہیں ہوں گے، دادا کا باپ والا حکم نہیں ہو گا، جبکہ حسن ابن زیاد رحمہ اللہ کی روایت کے مطابق پوتے پوتیاں وغیرہ یہ دادا کے تابع ہوں گے اور ان مسئلوں کے اندر دادا کا بھی وہی حکم ہو گا جیسے باپ کا ہے بھئی۔ تو ان چار مسئلوں میں سے پہلا مسئلہ تو اسلام کے اندر تابع ہونے کا مسئلہ ہے۔ ظاہرِ روایت کے مطابق پوتے پوتیاں وغیرہ جو ہیں اسلام کے اندر دادا کے تابع نہیں، یعنی دادا کا حکم باپ والا نہیں ہے۔ باپ مسلمان ہو پھر تو اولاد مسلمان شمار ہوتی ہے، لیکن دادا مسلمان ہو جائے تو اس کے پوتے پوتیاں وغیرہ مسلمان شمار نہیں ہوں گے، دادا کا باپ والا حکم نہیں ہے اس مسئلے میں۔ جبکہ حسن ابن زیاد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس مسئلے میں دادا بھی باپ کے حکم میں ہے، لہٰذا دادا کے اسلام کی وجہ سے بھی پوتے پوتیاں جو ہیں وہ مسلمان شمار ہوں گے۔ اور دوسرا مسئلہ جو ہے صدقۂ فطر کا ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ مالدار آدمی پر اپنا اور اپنی نابالغ اولاد کا صدقۂ فطر واجب ہوتا ہے، لیکن اگر نابالغ اولاد کا باپ تو فقیر ہے لیکن ان کا دادا مالدار ہے، تو کیا یہاں دادا باپ کے حکم میں ہے یا نہیں؟ کیا دادا پر اس نابالغ پوتے پوتیوں کا صدقۂ فطر آئے گا یا نہیں؟ تو ظاہرِ روایت کے مطابق یہاں دادا باپ کے حکم میں نہیں، لہٰذا دادا پر صدقۂ فطر نہیں آئے گا۔ جبکہ حسن ابن زیاد رحمہ اللہ کی روایت کے مطابق دادا پر صدقۂ فطر واجب ہو گا بھئی۔ تیسرا مسئلہ جو تھا وہ جرِّ ولاء کا تھا۔ جرٌّ کا معنی ہے کھینچنا۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا جرِّ ولاء اسے کہتے ہیں کہ ایک باندی جس کو آزاد کیا گیا ہے، اس کا نکاح ایک غلام سے ہوا ہے تو ان کی اولاد آزاد شمار ہو گی۔ کیونکہ ماں آزاد ہے تو اولاد بھی آزاد شمار ہو گی اگرچہ باپ غلام ہے۔ تو یہ جو باندی جو ہے اس کی ولاء کا مستحق تو باندی کو آزاد کرنے والا یعنی باندی کا آقا ہے، اور اسی طرح باندی کی جو آزاد اولاد ہے ان کی ولاء کا مستحق بھی اس باندی کا آقا ہے۔ لیکن اگر یہ غلام جو ہے، یہ جو بچوں کا باپ ہے، اگر اس کو اس کے آقا نے آزاد کر دیا تو یہ غلام اپنے بچوں کی ولاء ماں کے آقا سے کھینچ کر باپ کے آقا کی طرف منتقل کر دے گا۔ یعنی اب بچوں کی ولاء ان کے ماں کے معتِق کو نہیں ملے گی بلکہ باپ کے معتِق کو ملے گی۔ تو اس کو کہتے ہیں جرِّ ولاء، کہ باپ نے بچوں کی ولاء ماں کے معتِق سے کھینچ کر اپنے معتِق کی طرف منتقل کر دی۔ تو باپ تو جرِّ ولاء کرتا ہے، لیکن کیا اگر دادا آزاد ہو جائے؟ باپ تو آزاد نہیں ہوا لیکن بچوں کا دادا، اس کو آزاد کر دیا گیا، تو کیا دادا بھی یہاں جرِّ ولاء کرے گا یا نہیں؟ کیا وہ ان بچوں کے ولاء کو کھینچ کر اپنے آقا کی طرف پھیرے گا یا نہیں؟ تو ظاہرِ روایت کے مطابق دادا کا حکم یہاں باپ والا نہیں، لہٰذا وہ دادا جرِّ ولاء نہیں کرے گا۔ جبکہ حسن ابن زیاد رحمہ اللہ کی روایت کے مطابق یہاں دادا بھی باپ کے حکم میں ہے، لہٰذا وہ بھی جرِّ ولاء کرے گا۔ اور چوتھا مسئلہ تھا رشتہ داروں کے لیے وصیت کرنا۔ ایک شخص اپنے رشتہ داروں کے لیے وصیت کر کے مر گیا کہ میرے مال میں سے بیس لاکھ روپے میرے رشتہ داروں کو دے دینا، تو آپ جانتے ہیں کہ جو وارث ہے اس کے لیے وصیت جائز نہیں۔ ہاں البتہ وہ ورثہ جو محروم ہو رہے ہیں کسی وجہ سے تو وہ اس کے اندر داخل ہوں گے۔ توجہ ہے؟ تو اس کے وہ رشتہ دار جن کو وراثت نہیں مل رہی، مثلاً اس میت کے ماں باپ اور دادا وغیرہ وہ کافر ہیں۔ یہ میت تو مسلمان ہو گئی تھی لیکن باپ دادا وہ کافر ہیں، تو اس نے اپنے رشتہ داروں کے لیے وصیت کی ہے۔ تو علماء فرماتے ہیں کہ میت کے والدین تو اس وصیت کے اندر داخل نہیں، کیونکہ والدین جو ہیں وہ رشتہ داروں سے بھی بڑھ کر زیادہ قریب ہیں انسان کے۔ چنانچہ علماء فرماتے ہیں اگر کوئی شخص اپنے باپ کے بارے میں کہے کہ یہ میرا رشتہ دار ہے، تو یہ شخص والدین کا نافرمان ہے۔ یہ شخص کیا ہے؟ والدین کا نافرمان ہے، معنی یہ ہے کہ اس نے اپنے باپ کی سخت بے ادبی کی ہے بھئی، کیونکہ باپ تو رشتہ داروں سے بھی بڑھ کر اس کے قریب ہے بھئی۔ تو لہٰذا ایک شخص نے اپنے رشتہ داروں کے لیے وصیت کی تو اس کے والدین تو وصیت کے اندر داخل نہیں، وہ چاہے کافر ہی کیوں نہیں ہیں پھر بھی ان کو مال نہیں ملے گا۔ لیکن کیا دادا کا بھی یہی حکم ہے یا نہیں؟ کیا دادا اس وصیت میں شامل ہو گا یا نہیں؟ تو ظاہرِ روایت کے مطابق دادا اس وصیت کے اندر داخل ہو گا کیونکہ یہاں دادا کا حکم باپ والا نہیں ہے، جبکہ حسن ابن زیاد رحمہ اللہ کی روایت کے مطابق یہاں دادا کا حکم بھی باپ والا ہے، لہٰذا دادا بھی اس وصیت کے اندر داخل نہیں ہو گا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ اور اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے مسئلہ ذکر فرمایا تھا کہ اگر کوئی بچہ مرتد ہو جائے یا مسلمان ہو جائے تو کیا اس کے ارتداد اور اسلام کا اعتبار ہے یا نہیں؟ تو طرفین رحمہما اللہ، یعنی امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بچے کا ارتداد بھی معتبر اور بچے کا اسلام بھی معتبر ہے۔ اگر بچہ اسلام لے آتا ہے تو وہ مسلمان شمار ہو گا اور وہ پھر اپنے والدین کا وارث نہیں بنے گا اگر اس کے والدین کافر ہیں، اور اگر بچہ مرتد ہوتا ہے تو اس کا ارتداد بھی معتبر ہے۔ جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں بچے کا ارتداد تو معتبر نہیں ہے، البتہ بچے کا اسلام معتبر ہے۔ جبکہ امام زفر اور امام شافعی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ نہ بچے کا ارتداد معتبر ہے اور نہ اسلام معتبر ہے۔ وہ فرماتے ہیں اسلام تو اس لیے نہیں معتبر کہ اس اسلام کی وجہ سے بچے کو نقصان پہنچ رہا ہے، کیونکہ اگر اس کے والدین کافر ہیں تو یہ وراثت سے محروم ہو رہا ہے، لہٰذا اس کا اسلام معتبر نہیں۔ اور نیز اس وجہ سے کہ بچہ اسلام کے اندر والدین کے تابع ہوتا ہے، اگر آپ بچے کے اسلام کا اعتبار کریں گے تو گویا آپ نے بچے کو اصل قرار دے دیا، حالانکہ بچہ تو تابع ہے اسلام کے اندر، تو لہٰذا اس کو اصل قرار نہیں دیا جا سکتا۔ تو اس کا جواب دیا صاحبِ ہدایہ نے کہ ہمارے نزدیک بچے کا اسلام معتبر ہے، اور دلیل جو ہے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا اسلام ہے۔ آپ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بچپن میں ہی مسلمان ہو گئے تھے اور آپ اس پر فخر فرمایا کرتے تھے۔ چنانچہ بعض روایات میں ہے کہ سات سال کی عمر میں مسلمان ہوئے تھے، بعض روایات میں آٹھ، نو اور دس وغیرہ کا ذکر آتا ہے، یعنی بلوغت سے پہلے ہی یہ مسلمان ہو گئے تھے، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اسلام کو صحیح قرار دیا تھا بھئی۔ اور نیز دوسری عقلی دلیل صاحبِ ہدایہ نے دی تھی کہ حقیقت کا انکار نہیں کیا جا سکتا، حقیقت کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ بچہ حقیقۃً ایمان لے آیا ہے کیونکہ یہ اپنی خوشی سے، اپنی زبان کے ذریعے ایمان کا اقرار کر رہا ہے، اور زبان جو ہے وہ دل کی حالت کی خبر دیتی ہے۔ معلوم ہوا اقرار باللسان بھی ہے اور تصدیق بالقلب بھی ہے، لہٰذا یہ حقیقۃً جب ایک چیز پائی جا رہی ہے اس کو رد نہیں کیا جا سکتا، اس کو تسلیم کرنا پڑے گا۔ تسلیم کرنا پڑے گا۔ اور باقی امام زفر اور امام شافعی رحمہما اللہ نے ذکر کیا تھا کہ اس کے اندر بچے کا نقصان ہے، تو اس کا بھی جواب دیا کہ اس اسلام اور ایمان کی وجہ سے بچے کو ہمیشہ کی نیک بختی حاصل ہو رہی ہے، آخرت کی نجات حاصل ہو رہی ہے، اور یہی سب سے بڑے منافع میں سے ہے اسلام کے اور ایمان کے، اور یہی اصل مقصود ہے۔ یہی اصل مقصود ہے اسلام اور ایمان کے ذریعے، تو جب وہ اصل مقصود حاصل ہو رہا ہے تو اگر کوئی ساتھ نقصان وغیرہ ہو رہا ہے تو اس کی طرف نظر نہیں کی جائے گی بھئی۔ تو کہتے ہیں: "وَهُوَ الْحُكْمُ الْأَصْلِيُّ" اور یہی اصلی حکم ہے، یعنی ایمان کا یہی اصلی حکم ہے کہ اس کی وجہ سے ہمیشہ کی نیک بختی اور آخرت کی نجات حاصل ہو جائے گی۔ تو یہی ایمان اور اسلام کا اصلی حکم ہے، یعنی یہی اسلام اور ایمان کے ذریعے مقصود ہے۔ ایمان اور اسلام کے ذریعے مقصود کیا ہے؟ کہ ہمیشہ کی نیک بختی مل جائے اور آخرت کے عذاب سے نجات مل جائے۔ تو یہ مقصود جب حاصل ہو رہا ہے تو اب دوسری چیزوں کی طرف نظر نہیں کی جائے گی۔ جب یہ مقصود حاصل ہو رہا ہے تو اسی کا اعتبار ہو گا بھئی۔ جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ بچے کے اسلام کا تو اعتبار کرتے تھے، البتہ بچے کے ارتداد کا اعتبار نہیں کرتے تھے کہ اس میں بچے کا محض نقصان ہے، اور جس چیز میں بچے کا محض نقصان ہو اس کا اعتبار نہیں کیا جاتا۔ جیسے بچے کا اگر نکاح کروایا گیا ہے وہ اپنی بیوی کو طلاق دینا چاہتا ہے تو اس میں بچے کا نقصان ہے، لہٰذا بچے کی طلاق کا کوئی اعتبار نہیں۔ یا بچے کو کس نے غلام دے دیا ہے اور بچہ اپنے غلام کو آزاد کرتا ہے تو اس کے اندر بچے کا صرف نقصان ہے، تو لہٰذا اس بچے کے وہ تصرفات جس میں نقصانِ محض ہو ان کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔ تو اسی طرح یہاں ارتداد کے اندر بھی بچے کا صرف نقصان ہی ہے، لہٰذا بچے کے ارتداد کا کوئی اعتبار نہیں۔ جبکہ طرفین رحمہما اللہ فرماتے ہیں بچے کا ارتداد بھی معتبر ہے، اس لیے کیونکہ بچہ حقیقۃً مرتد ہوا ہے اور زبان سے اس کا اقرار کر رہا ہے، اور ایک چیز جب حقیقۃً پائی جائے تو اس کو رد نہیں کیا جا سکتا، اسے ماننا پڑے گا۔ ہاں البتہ اس بچے کو اسلام پر مجبور کیا جائے گا کیونکہ اسلام کے اندر اس کا نفع ہے بھئی۔ اور نیز اس بچے کو قتل نہیں کیا جائے گا، کیونکہ قتل کرنا تو سزا ہے اور بچہ جو ہے اس سے تو شریعت نے سزائیں معاف کر دی ہیں، سزاؤں کو بچے سے اٹھا دیا گیا ہے، اس پر شفقت کرتے ہوئے۔ اس پر میں نے ذکر کیا کہ بعض علماء نے اعتراض کیا کہ صاحبِ ہدایہ کو یہ دلیل ذکر نہیں کرنی چاہیے تھی، بلکہ یہاں دوسری دلیل ذکر کرنی چاہیے تھی۔ وجہ یہ کہ اس سے تو ظاہر ہوتا ہے آپ تو بچے پر رحم کھاتے ہوئے اس کو سزا نہیں دے رہے، لیکن وہ ذات جو ارحم الراحمین ہے وہ اس کو ہمیشہ کی سزا دے رہی ہے۔ لہٰذا یہاں دوسری دلیل ذکر کرنی چاہیے تھی کہ بچے کو ارتداد کی وجہ سے اس لیے قتل نہیں کیا جائے گا کہ اس میں علماء کا اختلاف ہے، کیونکہ بعض علماء فرماتے ہیں کہ بچے کا ارتداد معتبر ہی نہیں ہے بھئی۔ اور صاحبِ ہدایہ نے آپ کو یہ بھی بتلایا کہ یہ اس بچے کا حکم ہے جو کچھ سمجھدار ہے، جو چیزوں کو سمجھتا ہے، اور اگر بچہ چھوٹا ہے، سمجھدار نہیں ہے تو پھر اس کے ارتداد کا کوئی اعتبار نہیں، اور یہ اسی طرح ہے جیسے مجنون اور وہ شخص نشے کی وجہ سے جس کی عقل زائل ہو جائے تو ان کے بھی ارتداد کا کوئی اعتبار نہیں، کیونکہ ارتداد کا تعلق عقیدے سے ہے، اور مجنون اور نشے کے اندر جس شخص کی عقل زائل ہو جائے اس کا تو کوئی عقیدہ نہیں ہوتا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ اب آئیے آج کے سبق پر: بَابُ الْبُغَاةِ بغاۃ بھئی، آخر میں گول تا ہے بھئی، بغاۃ۔ اور یہ جمع ہے باغی کی، باغی۔ جیسے قاضی کی جمع ہے قضاۃ، اسی طرح باغی کی جمع بغاۃ۔ یاد رکھو باغی وہ لوگ ہیں کہ جب تمام مسلمان ایک امام کے تحت جمع ہو گئے اور اس کی انہوں نے بیعت کر لی اور پھر اس کے بعد مسلمانوں میں سے ایک گروہ جدا ہو جاتا ہے امام سے۔ اگر یہ مسلمانوں کا گروہ اس وجہ سے جدا ہوا ہے کہ امام نے ان پر ظلم کیا ہے تو پھر یاد رکھو یہ باغی نہیں ہیں بھئی۔ توجہ ہے؟ آگے باغی کے احکام بیان ہوں گے کہ باغیوں سے جنگ کی جائے گی اگرچہ وہ بھی مسلمان ہیں لیکن ان کا قتل جائز ہے۔ لیکن اگر مسلمانوں پر ظلم کیا گیا ہے اور ظلم کی وجہ سے جماعت امام سے جدا ہو گئی ہے تو یہ باغی نہیں ہیں، ان کا کسی صورت میں ان کا قتل جائز نہیں ہے۔ ہاں البتہ اگر یہ مسلمانوں کی جماعت امام سے جدا ہو گئی ہے اور امام ان کو بلا رہا ہے حق کی طرف کہ آ جاؤ حق کی طرف آ جاؤ، اور وہ جواب میں کہتے ہیں نہیں، ہم حق پر ہیں، تم نا حق ہو، تو پھر اس صورت میں معلوم ہوا یہ باغی ہیں، ان کے ساتھ لڑنا بھی جائز اور ان کو قتل کرنا بھی جائز ہے۔ اور یہ بھی یاد رکھنا کہ ان باغیوں کے مسئلوں کے اندر ہمارے مقتدا حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں بھئی۔ وجہ یہ کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے تک جتنی جنگیں ہوئیں وہ ساری کفار کے ساتھ جنگیں تھیں۔ اس سے قبل کبھی مسلمانوں کی آپس میں جنگ ہی نہیں ہوئی تھی۔ تو لہٰذا فقہاء فرماتے ہیں کہ یہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وجہ سے ہی ہے کہ ہمیں باغیوں کے احکام معلوم ہو گئے، ورنہ ہمیں باغیوں کے احکام کا پتہ نہ چلتا بھئی، کیونکہ اس بغاوت کے اندر دوسرے مسلمانوں کو، باغیوں کو قتل کیا جائے گا بھئی۔ تو یہ کس سے پتہ چلا؟ ہمیں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عمل سے پتہ چلا۔ چنانچہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خوارج سے بھی جنگ کی، اور اسی طرح حضرت طلحہ اور حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہما، وہ بھی حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے مقابلے میں آئے تھے، ان سے بھی حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جنگ کی بھئی۔ تو ان لڑائیوں سے باغیوں کے احکام معلوم ہوتے ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: "بَابُ الْبُغَاةِ" یہ باب ہے باغیوں کے بیان میں۔ "وَإِذَا تَغَلَّبَ قَوْمٌ مِّنَ الْمُسْلِمِينَ عَلَىٰ بَلَدٍ" تغلب کا معنی ہے زبردستی قبضہ کرنا، قوت اور زور کے ذریعے قبضہ کرنا۔ کہتے ہیں: "وَإِذَا تَغَلَّبَ قَوْمٌ مِّنَ الْمُسْلِمِينَ عَلَىٰ بَلَدٍ" اور جب زبردستی قبضہ کر لیا مسلمانوں میں سے کچھ لوگوں نے علیٰ بلدٍ کسی شہر پر۔ قومٌ، عموماً طلباء قوم کا ترجمہ قوم کے ساتھ ہی کرتے ہیں: ایک قوم نے قبضہ کر لیا۔ قوم کا معنی ہے لوگ بھئی لوگ۔ اصل میں تو یہ تین سے دس تک مردوں کی جماعت کو کہتے ہیں لیکن زیادہ پر بھی اطلاق ہوتا ہے، تو اردو میں اس کا ترجمہ کیا کریں گے؟ لوگ بھئی لوگ۔ کہتے ہیں: "وَإِذَا تَغَلَّبَ قَوْمٌ مِّنَ الْمُسْلِمِينَ" اور جب زبردستی قبضہ کر لیا مسلمانوں میں سے کچھ لوگوں نے "عَلَىٰ بَلَدٍ" کسی شہر پر، "وَخَرَجُوا مِنْ طَاعَةِ الْإِمَامِ" اور وہ امام کی اطاعت سے نکل گئے، انہوں نے امام کی اطاعت سے انکار کر دیا، "دَعَاهُمْ إِلَى الْعَوْدِ إِلَى الْجَمَاعَةِ" تو امام ان کو بلائے گا مسلمانوں کی جماعت کی طرف لوٹنے کی طرف، تو امام ان کو بلائے گا مسلمانوں کی جماعت کی طرف لوٹنے کی طرف کہ واپس آ جاؤ، سب کے ساتھ مل جاؤ۔ "وَكَشَفَ عَنْ شُبْهَتِهِمْ" اور امام ان کے شبہے کو دور کرے گا، یعنی اگر ان کے کوئی اعتراضات وغیرہ ہیں تو امام ان کو دور کرے گا۔ تو کہتے ہیں امام ان کو جماعت کی طرف پھر بلائے گا "وَكَشَفَ عَنْ شُبْهَتِهِمْ" اور ان کے شبہے کو دور کرے گا، "لِأَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ فَعَلَ كَذٰلِكَ بِأَهْلِ حَرُورَاءَ قَبْلَ قِتَالِهِمْ" کہتے ہیں اس لیے کیونکہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فَعَلَ كَذٰلِكَ اسی طرح کیا تھا بِأَهْلِ حَرُورَاءَ اہل حروراء کے ساتھ قَبْلَ قِتَالِهِمْ ان کے ساتھ لڑائی سے پہلے۔ اہل حروراء بھئی، یہ حروراء یہ کوفہ کے بالکل قریب ہی ایک بستی تھی کوئی دو میل کے فاصلے پر بھئی۔ تو خوارج کے کچھ لوگ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مخالف ہو کر یہ حروراء بستی کے اندر جمع ہو گئے تھے اور کہتے ہیں ان کی تعداد کوئی چھ ہزار تھی۔ اور پھر حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما جو ہیں وہ ان کے ساتھ بات چیت کے لیے تشریف لے گئے اور ان کے اعتراضات کے جوابات دیے۔ تو ان میں سے کافی لوگ مطمئن ہو گئے اور کہتے ہیں چھ ہزار میں سے تقریباً دو ہزار واپس آ گئے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف، جبکہ چار ہزار اسی طرح اپنی ضد پر رہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے بہترین جوابات ان کو دیے کہ جو حق کا متلاشی ہو اس کے لیے وہ جوابات کافی تھے، لیکن وہ لوگ اپنی ضد پر اڑے رہے تو اس کے بعد پھر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کے بعد ان سے جنگ کی اور ان کو قتل کر دیا گیا بھئی۔ تو معلوم ہوا کہ امام جو ہے اگر باغیوں کی کوئی جماعت ہے تو امام اولاً جو ہے بات چیت کے ذریعے مسئلہ حل کرے، ان کو دعوت دے، ان کے شبہے کو دور کرے، اور اگر اس سے مسئلہ حل نہ ہو پھر اس کے بعد لڑائی کی طرف جائیں گے بھئی۔ تو کہتے ہیں: "لِأَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ فَعَلَ كَذٰلِكَ" اس لیے کیونکہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایسا ہی کیا "بِأَهْلِ حَرُورَاءَ قَبْلَ قِتَالِهِمْ" اہل حروراء کے ساتھ ان کی لڑائی سے پہلے۔ میں نے بتلایا حروراء یہ بستی ہے بھئی۔ "وَلِأَنَّهُ أَهْوَنُ الْأَمْرَيْنِ" کہتے ہیں اس لیے کیونکہ یہ دو چیزوں میں سے زیادہ آسان ہے۔ ایک ہے لڑائی اور ایک ہے بات چیت اور دعوت بھئی، تو بات چیت اور دعوت آسان ہے، اگر اسی کے ذریعے ان کا شر ختم ہو جاتا ہے تو لہٰذا پہلے اسی کی کوشش کی جائے گی۔ کہتے ہیں: "وَلِأَنَّهُ أَهْوَنُ الْأَمْرَيْنِ" اور اس لیے کیونکہ یہ دو چیزوں میں سے زیادہ آسان ہے، "وَلَعَلَّ الشَّرَّ يَنْدَفِعُ بِهِ" اور شاید کہ شر اسی کے ذریعے دور ہو جائے، "فَيُبْدَأُ بِهِ" لہٰذا اسی یعنی دعوت سے ہی ابتدا کی جائے گی، "وَلَا يَبْدَأُ بِقِتَالٍ حَتَّىٰ يَبْدَءُوهُ" بھئی یہ قدوری کا متن چل رہا ہے۔ صاحبِ قدوری فرما رہے ہیں کہ امام لڑائی کی ابتدا نہیں کرے گا کیونکہ وہ دوسرے بھی مسلمان ہیں اور مسلمانوں کا تو قتل جائز نہیں، لہٰذا امام لڑائی کی ابتدا نہ کرے، ہاں جب وہ لڑائی کی ابتدا کر دیں تو پھر اس کے بعد امام بھی لڑائی شروع کر دے۔ لیکن صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ عند الاحناف لڑائی جائز ہے۔ لڑائی جائز ہے، اس لیے کیونکہ اگر ہم ان کی لڑائی کے انتظار میں رہیں گے تو بسا اوقات وہ اور زیادہ قوت پکڑ جائیں گے اور پھر امام کے لیے مقابلہ کرنا مشکل ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں: "وَلَا يَبْدَأُ بِقِتَالٍ" اور امام آغاز نہ کرے لڑائی کا "حَتَّىٰ يَبْدَءُوهُ" یہاں تک کہ باغی لڑائی کا آغاز کر دیں، "فَإِنْ بَدَءُوهُ" اگر وہ اس لڑائی کا آغاز کریں "قَاتَلَهُمْ" تو امام ان سے لڑائی کرے گا "حَتَّىٰ يُفَرِّقَ جَمْعَهُمْ" یہاں تک کہ ان کی جمعیت جو ہے وہ منتشر کر دے، ان کی، ان کی جمعیت منتشر کر دے، اسے بکھیر دے یعنی ان کی قوت ختم کر دے۔ "قَالَ الْعَبْدُ الضَّعِيفُ" اس سے مراد صاحبِ ہدایہ ہیں۔ "قَالَ الْعَبْدُ الضَّعِيفُ" اللہ کا کمزور بندہ کہتا ہے: "هٰكَذَا ذَكَرَهُ الْقُدُورِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى فِي مُخْتَصَرِهِ" کہ اسی طرح ذکر فرمایا ہے امام قدوری نے اپنی مختصر میں کہ امام لڑائی کی ابتدا نہ کرے یہاں تک کہ وہ لڑائی کا آغاز کریں۔ کہتے ہیں اسی طرح یہ صاحبِ قدوری نے ذکر فرمایا ہے۔ "وَذَكَرَ الْإِمَامُ الْمَعْرُوفُ بِخَاهَرْ زَادَهْ أَنَّ عِنْدَنَا يَجُوزُ أَنْ يَبْدَأَ بِقِتَالِهِمْ إِذَا تَعَسْكَرُوا وَاجْتَمَعُوا"۔ تو صاحبِ قدوری نے کہتے ہیں اسی طرح ذکر فرمایا ہے، لیکن امام خواہر زادہ نے ذکر کیا ہے کہ امام کے لیے جائز ہے کہ وہ لڑائی کا آغاز کرے بھئی۔ امام خواہر زادہ بھئی، امام خواہر زادہ یہ بہت بڑے فقیہ گزرے ہیں احناف کے اور ان کی تاریخِ وفات ہے 483 ہجری۔ 483 ہجری، اور یہ بہت بڑے احناف کے امام گزرے ہیں فقہ کے اندر بھئی۔ اور ان کو خواہر زادہ کہتے تھے۔ خواہر زادہ کا معنی ہے بھانجا، یعنی بہن کا بیٹا، وجہ یہ کہ یہ سمرقند کا جو قاضی تھا یہ ان کے بھانجے تھے، تو اسی نام سے یہ مشہور ہو گئے۔ تو امام خواہر زادہ بھئی، تو یہ فارسی میں خواہر بہن کو کہتے ہیں۔ خواہر بہن کو کہتے ہیں، خواہر زادہ بہن کا بیٹا یعنی بھانجا، اور اس میں یاد رکھو یہ جو خواہر لفظ ہے اس میں واؤ کو بڑا خفیف سا پڑھتے ہیں، خواہر زادہ۔ توجہ ہے؟ خواہر زادہ۔ تو کہتے ہیں: "وَذَكَرَ الْإِمَامُ الْمَعْرُوفُ بِخَاهَرْ زَادَهْ" اور ذکر کیا ہے وہ امام جو مشہور ہیں خواہر زادہ کے نام سے انہوں نے ذکر کیا ہے کہ "أَنَّ عِنْدَنَا يَجُوزُ أَنْ يَبْدَأَ بِقِتَالِهِمْ إِذَا تَعَسْكَرُوا وَاجْتَمَعُوا" کہ ہمارے نزدیک جائز ہے کہ امام ان کے ساتھ لڑائی کا آغاز کرے جب باغی جمع ہو جائیں، جب باغی جمع ہو جائیں۔ یاد رکھو یہاں آیا "إِذَا تَعَسْكَرُوا وَاجْتَمَعُوا"، یاد رکھو یہ عطفِ تفسیری ہے، تعسکر کا معنی بھی ہے جمع ہونا، اور اجتماع کا معنی بھی جمع ہونا، تو یہ اسی کا معنی بیان فرما رہے ہیں صاحبِ ہدایہ۔ ویسے تو عسکر لشکر کو کہتے ہیں لیکن تعسکر کا معنی ہے جمع ہونا۔ کہتے ہیں کہ امام کے لیے جائز ہے کہ ان سے لڑائی کی ابتدا کرے "إِذَا تَعَسْكَرُوا وَاجْتَمَعُوا" جب وہ اکٹھے ہو جائیں۔ جب باغی سارے ایک جگہ پر اکٹھے ہو گئے ہیں تو اب معلوم ہوا ان کا ارادہ بھی لڑائی ہی کا ہے، لہٰذا امام لڑائی کا آغاز کر سکتا ہے بھئی۔ "وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى: لَا يَجُوزُ حَتَّىٰ يَبْدَءُوا بِالْقِتَالِ حَقِيقَةً" اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جائز نہیں ہے کہ امام لڑائی کی ابتدا کرے یہ جائز نہیں ہے "حَتَّىٰ يَبْدَءُوا بِالْقِتَالِ حَقِيقَةً" یہاں تک کہ وہ باغی حقیقۃً لڑائی کا آغاز کر دیں، جب وہ لڑائی شروع کر دیں پھر امام بھی لڑائی کر سکتا ہے۔ تو کہتے ہیں: "وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ" اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "لَا يَجُوزُ" کہ امام کے لیے لڑائی کی ابتدا جائز نہیں ہے "حَتَّىٰ يَبْدَءُوا بِالْقِتَالِ حَقِيقَةً" یہاں تک کہ وہ باغی حقیقۃً لڑائی کا آغاز کر دیں، "لِأَنَّهُ لَا يَجُوزُ قَتْلُ الْمُسْلِمِ" کیونکہ مسلمان کا قتل جائز نہیں ہے "إِلَّا دَفْعًا" مگر دفع کے لیے، مگر دفع کے لیے، یعنی ان کی لڑائی اور ان کے شر کو دور، مسلمان کی لڑائی اور شر کو دور کرنے کے لیے اسے قتل کرنا جائز ہے، ویسے مسلمان کو قتل کرنا جائز نہیں ہے۔ کہتے ہیں: "لِأَنَّهُ لَا يَجُوزُ قَتْلُ الْمُسْلِمِ إِلَّا دَفْعًا" اس لیے کیونکہ مسلمان کا قتل جائز نہیں ہے مگر اس کی لڑائی کو یا اس کے شر کو دفع کرنے کے لیے، "وَهُمْ مُسْلِمُونَ" اور حال یہ ہے کہ یہ باغی بھی مسلمان ہیں، تو لہٰذا ان سے لڑائی کا آغاز نہیں کیا جائے گا، ان کو قتل نہیں کیا جائے گا جب تک کہ یہ خود لڑائی شروع نہ کر دیں۔ "بِخِلَافِ الْكَافِرِ؛ لِأَنَّ نَفْسَ الْكُفْرِ مُبِيحٌ عِنْدَهُ" بخلاف کافر کے، اس لیے کیونکہ نفسِ کفر جو ہے مبیحٌ وہ مباح کرنے والا ہے یعنی کافر کے قتل کو۔ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک کافر کا کفر جو ہے یہ اس کے قتل کو جائز کر دیتا ہے۔ مسلمان کا قتل جائز نہیں، صرف اس کے لڑائی کو اور اس کے شر کو دور کرنے کے لیے مسلمان کا قتل جائز ہے، جبکہ کافر کا قتل جو ہے اس کے کفر کی وجہ سے جائز ہے۔ یہ امام شافعی رحمہ اللہ کا مذہب ہے، ان کے نزدیک کافر کا قتل مباح ہے کس وجہ سے؟ اس کے کفر کی وجہ سے، جبکہ عند الاحناف کافر کا قتل جائز ہے جنگ کی وجہ سے، کفر کی وجہ سے نہیں۔ توجہ ہے؟ اس لیے کیونکہ دار الاسلام کے اندر کتنے ہی کافر رہتے ہیں لیکن وہ مسلمانوں سے جنگ کرنے والے نہیں، وہ تو ہمارے احکام مان کر ہماری مملکت میں رہ رہے ہیں تو یہاں ان کی طرف سے جنگ نہیں تو ان کو قتل نہیں کیا جا سکتا، جبکہ حربی جو ہے دار الحرب کا رہنے والا وہ ہم سے حالتِ جنگ میں ہے تو وہاں جو ان کا قتل مباح ہے وہ حرب کی وجہ سے ہے، جنگ کی وجہ سے ہے، کفر کی وجہ سے نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: "لِأَنَّ نَفْسَ الْكُفْرِ مُبِيحٌ عِنْدَهُ" اس لیے کیونکہ نفسِ کفر ہی قتل کو جائز کرنے والا ہے عندہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک۔ "وَلَنَا" اور ہماری دلیل یہ ہے، امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل ذکر ہو گئی کہ مسلمان کا قتل جائز نہیں مگر صرف اس کے لڑائی کے شر کو دور کرنے کے لیے، اور جب تک انہوں نے لڑائی کا آغاز نہیں کیا تو امام کے لیے بھی ان سے لڑائی کرنا اور انہیں قتل کرنا جائز نہیں۔ لیکن ہماری دلیل یہ ہے کہ یہاں پر حکم کا مدار علت پر نہیں ہو گا بلکہ دلیلِ علت پر ہو گا۔ جیسے دیکھو سفر کے اندر شریعت نے نماز قصر کرنے کا حکم دیا کہ چار رکعت فرض کے بجائے دو رکعت انسان ادا کرے گا، اور اس کی اصل علت جو ہے وہ ہے مشقت، کہ سفر میں مشقت ہوتی ہے، تکلیف ہوتی ہے تو شریعت نے نرمی کر دی احکام کے اندر، لیکن یہ مشقت اس کا تو پتہ نہیں چل سکتا کیونکہ بعض لوگوں کو تھوڑے سفر سے مشقت ہو جاتی ہے اور بعض کو زیادہ سفر سے بھی مشقت نہیں ہوتی۔ تو چونکہ مشقت ایک امرِ باطنی ہے لہٰذا حکم کا مدار دلیلِ مشقت یعنی سفر پر ہی کر دیا گیا۔ جو چیز مشقت کی دلیل ہے یعنی سفر اسی پر حکم کا مدار کر دیا گیا کہ جو شخص بھی تین دن کی مسافت یا اس سے زیادہ کا ارادہ کرتا ہے تو سفر موجود ہے اور جب سفر موجود ہے تو گویا مشقت بھی موجود ہے، لہٰذا نماز قصر کرنا پڑے گی۔ تو معلوم ہوا قصر کا مدار، قصر کا مدار دلیلِ مشقت پر ہو گیا۔ اسی طرح یہاں پر بھی اس حکم کا مدار لڑائی پر نہیں ہو گا بلکہ دلیلِ لڑائی پر ہو گا، دلیلِ قتال پر ہو گا، اور دلیلِ قتال یہاں موجود ہے کہ وہ سارے اکٹھے ہو گئے ہیں۔ وہ سارے جب وہ سارے اکٹھے ہو گئے ہیں معلوم ہوا ان کا مقصد ہی مسلمانوں سے لڑائی کرنا ہے۔ خود ان کی طرف سے اگرچہ ابھی تک لڑائی کا آغاز نہیں ہوا، قتال تو نہیں موجود، لیکن دلیلِ قتال تو موجود ہے کہ وہ لڑائی کے لیے تیار ہو چکے ہیں، اسی لیے ایک جگہ پر اکٹھے ہوئے ہیں۔ تو معلوم ہوا امام کی طرف سے لڑائی کا آغاز باغیوں کے قتال پر اس کا مدار نہیں ہو گا بلکہ دلیلِ قتال پر یعنی کے جمع ہونے پر ہوگا اور جب باغی ایک جگہ جمع ہیں تو دلیل قتال موجود ہے۔ جب دلیل قتال موجود ہے تو گویا ان کی طرف سے قتال موجود ہے، لڑائی موجود ہے اور جب ان کی طرف سے لڑائی موجود ہے تو امام اب لڑائی کر سکتا ہے، امام لڑائی کا آغاز کر سکتا ہے۔ دلیل سمجھ میں آگئی۔ ”وَلَنَا أَنَّ الْحُكْمَ يُدَارُ عَلَى الدَّلِيلِ“ اور ہماری دلیل یہ ہے کہ اس حکم کا مدار جو ہے دلیل پر ہوگا یعنی دلیل قتال پر ہوگا ”وَهُوَ الِاجْتِمَاعُ وَالِامْتِنَاعُ“ اور وہ ان کا اکٹھا ہونا ہے اور رکنا ہے۔ امتناع کا کیا معنی؟ رکنا، باز آجانا، یعنی یہ امام کی اطاعت سے رک گئے ہیں تو لہٰذا ان کا اکٹھے ہونا اور امام کی اطاعت سے رک جانا یہ دلیل قتال موجود ہے۔ تو ہم کہتے ہیں کہ اس حکم کا مدار دلیل قتال پر ہے ”وَهُوَ الِاجْتِمَاعُ وَالِامْتِنَاعُ“ اور وہ ان باغیوں کا اکٹھا ہونا اور امام کی اطاعت سے رکنا ہے ”وَهَذَا لِأَنَّهُ لَوِ انْتَظَرَ الْإِمَامُ“ اور یہ اس لیے کیونکہ اگر امام انتظار کرے ”حَقِيقَةَ قِتَالِهِمْ“ ان کی حقیقتاً لڑائی کا ”فَرُبَّمَا لَا يُمْكِنُهُ الدَّفْعُ“ تو بسا اوقات امام کے لیے ممکن نہیں رہے گا ان کی لڑائی کو دور کرنا یعنی امام مقابلہ ہی نہ کر سکے گا وہ اتنی قوت پکڑ جائیں گے۔ ”فَيُدَارُ عَلَى الدَّلِيلِ“ تو اس حکم کا مدار دلیل پر ہوگا ”ضَرُورَةَ دَفْعِ شَرِّهِمْ“ ان کے شر کو دفع کرنے کی ضرورت کی وجہ سے۔ ان کے شر کو دفع کرنے کی ضرورت کی وجہ سے بھئی باغیوں کے شر کو دور کرنا ضروری ہے، لہٰذا اس لیے ان کے ساتھ امام لڑائی شروع کرے، اس حکم کا مدار ان کی لڑائی یعنی ان کے قتال پر نہیں ہوگا بلکہ دلیل قتال پر ہوگا کیونکہ ان کا شر دور کرنا ضروری ہے اور ”الضَّرُورَاتُ تُبِيحُ الْمَحْظُورَاتِ“ ضرورت کی وجہ سے ممنوع چیز بھی مباح ہو جاتی ہے۔ تو کہتے ہیں ”فَيُدَارُ عَلَى الدَّلِيلِ ضَرُورَةَ دَفْعِ شَرِّهِمْ“ لہٰذا اس حکم کا مدار جو ہے دلیل پر ہوگا ان کے شر کو دفع کرنے کے ضروری ہونے کی وجہ سے۔ ”وَإِذَا بَلَغَهُ أَنَّهُمْ يَشْتَرُونَ السِّلَاحَ“ بھئی اگر امام کو لڑائی سے پہلے ہی پتا چل گیا، ان کے جمع ہونے سے پہلے پتا چلا کہ یہ اسلحہ وغیرہ جمع کر رہے ہیں تو امام ان کو پکڑ لے، ان کو قید میں ڈال دے اور ان سے ان کا اسلحہ چھین لے، ہاں، امام کے لیے ابھی قتل کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ وہ ابھی اکٹھے نہیں ہوئے۔ تو امام ان کو پکڑ لے اور قید میں ڈال دے یہاں تک کہ وہ توبہ کر لیں تو پھر ان کو چھوڑ دے اور ان کی چیزیں ان کو واپس کر دے بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَإِذَا بَلَغَهُ أَنَّهُمْ يَشْتَرُونَ السِّلَاحَ“ اور جب امام کو یہ بات پہنچے کہ وہ باغی جو ہیں وہ اسلحہ خرید رہے ہیں ”وَيَتَأَهَّبُونَ الْقِتَالَ“ اور وہ لڑائی کی تیاری کر رہے ہیں، تأهب کا معنی ہے تیاری کرنا، ”وَيَتَأَهَّبُونَ الْقِتَالَ“ اور وہ باغی لڑائی کی تیاری کر رہے ہیں ”يَنْبَغِي أَنْ يَأْخُذَهُمْ“ تو امام کے لیے مناسب ہے کہ ان کو پکڑ لے ”وَيَحْبِسَهُمْ“ اور ان کو قید کر لے ”حَتَّى يُقْلِعُوا عَنْ ذَلِكَ“ أَقْلَعَ يُقْلِعُ کے معنی ہے کسی چیز سے ہٹ جانا، کسی چیز سے رک جانا، ”حَتَّى يُقْلِعُوا عَنْ ذَلِكَ“ یہاں تک کہ وہ اس سے رک جائیں، اپنے اس ارادے سے رک جائیں ”وَيُحْدِثُوا تَوْبَةً“ اور یہاں تک کہ وہ توبہ کر لیں ”دَفْعًا لِلشَّرِّ بِقَدْرِ الْإِمْكَانِ“ یہ علت ذکر کر رہے ہیں کہ امام ان کو پکڑ لے اور قید کر دے، کیوں؟ ”دَفْعًا لِلشَّرِّ بِقَدْرِ الْإِمْكَانِ“ تاکہ جس قدر ممکن ہو سکے اس حد تک ان کے شر کو دور کر دیا جائے تو یہاں پر ان کو قید میں ڈال دے گا تو ان کا شر دور ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں ”دَفْعًا لِلشَّرِّ بِقَدْرِ الْإِمْكَانِ“ ان کے شر کو دور کرتے ہوئے بقدرِ امکان یعنی جس قدر ممکن ہو سکے۔ ”وَالْمَرْوِيُّ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ یہاں سے صاحبِ ہدایہ ایک اعتراض کا جواب دے رہے ہیں۔ اعتراض یہ ہوتا ہے کہ معلوم ہوا باغیوں سے لڑائی کرنا اور ان کے ساتھ جنگ کرنا اور انہیں قتل کرنا جائز ہے حالانکہ امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب مسلمانوں کے درمیان فتنہ واقع ہو جائے، مسلمانوں کے درمیان فتنہ واقع ہو جائے مسلمان آپس میں لڑیں تو اس وقت ہر مسلمان پر واجب ہے کہ وہ اپنے گھر میں ہی رہے یعنی اسے اس فتنے میں حصہ نہیں لینا چاہیے بھئی۔ توجہ ہے؟ اس کو اس فتنے میں حصہ نہیں لینا چاہیے۔ تو اس کا جواب دے رہے ہیں کہ امام صاحب کا یہ قول کہ اس موقع پر مسلمان اپنے گھروں میں ہی رہیں یہ اس صورت میں ہے جب مسلمانوں کا امام نہ ہو، جب مسلمانوں کا امام موجود ہے تو اس کی مدد کرنا یہ واجب ہے تو پھر اس میں لڑائی میں حصہ لینا پڑے گا امام کی طرف سے اس فتنے کو ختم کرنے کے لیے۔ کہتے ہیں ”وَالْمَرْوِيُّ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى“ اور وہ جو روایت کیا گیا ہے امام صاحب سے ”مِنْ لُزُومِ الْبَيْتِ“ یعنی اپنے گھر کو اپنے کمرے کو لازم پکڑنے کو ”مَحْمُولٌ عَلَى حَالِ عَدَمِ الْإِمَامِ“ تو یہ روایت محمول ہے امام کے نہ ہونے کی حالت پر ”أَمَّا إِعَانَةُ الْإِمَامِ الْحَقِّ“ باقی امامِ حق کی مدد کرنا ”فَمِنَ الْوَاجِبِ“ تو یہ بھی واجبات میں سے ہے ”عِنْدَ الْغَنَاءِ وَالْقُدْرَةِ“ مالداری اور قدرت کے ہوتے ہوئے۔ جب ایک انسان کو مالداری ہے یعنی گھر کی کفایت ہے بقدرِ ضرورت مال اس کے پاس گھر والوں کے لیے موجود ہے اور قدرت بھی ہے اس میں امام کی مدد کر سکتا ہے اپنی جان اور مال کے ذریعے تو اس کو مدد کرنا اس پر واجب ہے بھئی۔ تو یہ معنی ہے کہ باقی امامِ حق کی مدد کرنا ”فَمِنَ الْوَاجِبِ“ تو یہ واجب میں سے ہے ”عِنْدَ الْغَنَاءِ وَالْقُدْرَةِ“ جب مالداری اور قدرت ہو۔ ”فَإِنْ كَانَتْ لَهُمْ فِئَةٌ أُجْهِزَ عَلَى جَرِيحِهِمْ وَاتُّبِعَ مُوَلِّيهِمْ“ بھئی صورتِ مسئلہ یہ کہ امام کے ساتھ باغیوں کی لڑائی شروع ہو گئی اور پھر یہ امام کو فتح حاصل ہوئی اور باغیوں کے بہت سے لوگ زخمی ہیں اور بعض بھاگ رہے ہیں تو کیا ان زخمیوں کو قتل کیا جائے گا؟ اور کیا یہ جو بھاگ رہے ہیں ان کو پکڑا جائے گا تاکہ ان کو قیدی بنایا جائے یا قتل کیا جائے؟ کہتے ہیں اگر ان کی کوئی اور جماعت موجود ہے، یہ ایک جماعت تو امام سے لڑ رہی ہے اور دوسری جگہ ان کی ایک اور جماعت موجود ہے تو اس صورت میں پھر جو زخمی ہیں ان کو قتل کر دیا جائے گا اور جو بھاگ رہے ہیں ان کا پیچھا کیا جائے گا اور ان کو پکڑا جائے گا اور پھر امام چاہے ان کو قتل کر دے اور چاہے ان کو قید میں رکھے، امام کی مرضی ہے۔ وجہ یہ کہ اگر آپ ان کو قتل نہیں کریں گے یہ پھر وہ جا کر اس گروہ کے ساتھ مل جائیں گے اور پھر مسلمانوں کو نقصان پہنچائیں گے۔ لیکن! لیکن باغیوں کے ساتھ امام کی لڑائی ہو رہی ہے اور کوئی دوسری جگہ ان کا کوئی گروہ وغیرہ موجود نہیں ہے پھر ان کے زخمیوں کو قتل نہیں کیا جائے گا اور نہ ان کے بھاگنے والوں کا پیچھا کیا جائے گا بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ کیونکہ ان کا شر ختم ہو چکا ہے بھئی۔ کہتے ہیں ”فَإِنْ كَانَتْ لَهُمْ فِئَةٌ“ فئۃ بھئی فئہ کہتے ہیں جماعت کو، جماعت۔ کہتے ہیں ”فَإِنْ كَانَتْ لَهُمْ فِئَةٌ“ اور اگر باغیوں کی کوئی اور جماعت ہے ”أُجْهِزَ عَلَى جَرِيحِهِمْ“، أَجْهَزَ عَلَى الْجَرِيحِ بھئی، عربی میں کہتے ہیں ”أَجْهَزَ عَلَى الْجَرِيحِ“ جلدی سے زخمی کا کام تمام کر دینا یعنی اس کو قتل کر دینا۔ زخمی کو جلدی سے قتل کر دینا، اس کا کام تمام کر دینا اس کو کہتے ہیں ”أَجْهَزَ عَلَى الْجَرِيحِ“ اس نے جلدی سے زخمی کا کام تمام کر دیا، اس کو قتل کر دیا۔ تو کہتے ہیں ”فَإِنْ كَانَتْ لَهُمْ فِئَةٌ“ اگر ان باغیوں کی کوئی اور جماعت ہے ”أُجْهِزَ عَلَى جَرِيحِهِمْ“ تو ان کے زخمیوں کو قتل کر دیا جائے گا ”وَاتُّبِعَ مُوَلِّيهِمْ“ اور پیچھا کیا جائے گا ”مُوَلِّيهِمْ“ ان کے پشت پھیرنے والوں کا۔ وَلَّى يُوَلِّي تَوْلِيَةً کا کیا معنی ہے؟ پشت پھیرنا۔ ”وَاتُّبِعَ مُوَلِّيهِمْ“ اور ان کے پشت پھیرنے والوں کا پیچھا کیا جائے گا ”دَفْعًا لِشَرِّهِمْ“ ان کے شر کو دور کرنے کے لیے ”كَيْ لَا يَلْتَحِقُوا بِهِمْ“ تاکہ کہیں وہ اس جماعت کے ساتھ جا کر نہ مل جائیں ”وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُمْ فِئَةٌ“ اور اگر ان باغیوں کی کوئی اور جماعت نہیں ہے ”لَمْ يُجْهَزْ عَلَى جَرِيحِهِمْ“ تو ان کے زخمیوں کو قتل نہیں کیا جائے گا ”وَلَمْ يُتْبَعْ مُوَلِّيهِمْ“ اور ان کے پشت پھیرنے والوں کا پیچھا نہیں کیا جائے گا ”لِانْدِفَاعِ الشَّرِّ دُونَهُ“ کیونکہ اس کے بغیر ہی شر دور ہو گیا ہے۔ ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: لَا يَجُوزُ ذَلِكَ فِي الْحَالَيْنِ“ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دونوں حالتوں میں یہ جائز نہیں ہے یعنی ان کے زخمیوں کو قتل کرنا یا ان کے بھاگنے والوں کا پیچھا کرنا یہ دونوں حالتوں میں جائز نہیں ہے یعنی چاہے ان کی جماعت ہو یا چاہے جماعت نہ ہو۔ تو کہتے ہیں دونوں حالتوں میں یہ جائز نہیں ہے ”لِأَنَّ الْقِتَالَ إِذَا تَرَكُوهُ“ اس لیے کیونکہ جب لڑائی کو انہوں نے چھوڑ دیا، لڑائی کو چھوڑ دیا بھاگ گئے ہیں ”لَمْ يَبْقَ قَتْلُهُمْ دَفْعًا“ تو ان کا قتل جو ہے وہ دفعِ شر ہو کر باقی نہ رہا۔ اب ان کا قتل دفعِ شر کے لیے نہیں کیونکہ لڑائی انہوں نے چھوڑ دی ہے اور مسلمان کا قتل صرف کس صورت میں جائز ہے؟ اس کے شر کو دفع کرنے کے لیے، تو جب یہ بھاگ رہے ہیں تو ان کا شر تو دفع ہو گیا ہے لہٰذا ان کو قتل نہیں کیا جا سکتا۔ کہتے ہیں ”لِأَنَّ الْقِتَالَ إِذَا تَرَكُوهُ لَمْ يَبْقَ قَتْلُهُمْ دَفْعًا“ اس لیے کیونکہ جب انہوں نے لڑائی چھوڑ دی ہے تو ان کا قتل دفعِ شر ہو کر باقی نہ رہا ”وَجَوَابُهُ مَا ذَكَرْنَاهُ“ یہاں سے صاحبِ ہدایہ امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل کا جواب دے رہے ہیں۔ کہتے ہیں ”وَجَوَابُهُ مَا ذَكَرْنَاهُ“ اور اس کا جواب وہ ہے جو ہم نے ذکر کر دیا ”أَنَّ الْمُعْتَبَرَ دَلِيلُهُ لَا حَقِيقَتُهُ“ کہ وہ چیز جس کا اعتبار کیا جائے گا وہ دلیلِ قتال ہے نہ کہ حقیقتِ قتال۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ لڑائی چھوڑ گئے ہیں، یہ بھاگ رہے ہیں تو قتال نہیں، جب قتال نہیں تو ان کا قتل بھی جائز نہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ یہاں قتال کو نہیں دیکھا جائے گا دلیلِ قتال کو دیکھا جائے گا اور دلیلِ قتال کیا تھی؟ کہ وہ ایک جگہ جمع ہیں، اکٹھے ہیں تو دوسری جگہ ان کی جماعت جمع ہے، اکٹھی ہے تو دلیلِ قتال موجود ہے لہٰذا ان کو قتل کیا جائے گا۔ تو کہتے ہیں ”وَجَوَابُهُ مَا ذَكَرْنَاهُ“ اور جواب اس کا وہ ہے جو ہم نے ذکر کر دیا ”أَنَّ الْمُعْتَبَرَ دَلِيلُهُ لَا حَقِيقَتُهُ“ کہ وہ چیز جس کا اعتبار کیا جائے گا وہ دلیلِ قتال ہے ”لَا حَقِيقَتُهُ“ نہ کہ حقیقتِ قتال۔ آگے دیکھیے: ”وَلَا يُسْبَى لَهُمْ ذُرِّيَّةٌ وَلَا يُقْسَمُ لَهُمْ مَالٌ“ یہاں سے باغیوں کے مال اور اولاد کا حکم بیان کر رہے ہیں کہ کفار اور حربیوں کے ساتھ ہماری جنگ ہوتی ہے تو ان کا مال مالِ غنیمت ہوتا ہے اور ان کی اولاد اور بیوی بچے جو ہیں ان کو قید کر لیا جاتا ہے، ان کو غلام اور باندیاں بنا لیا جاتا ہے تو کیا باغیوں کا بھی یہی حکم ہے؟ کہتے ہیں نہیں، باغی مسلمان ہیں ان کا یہ حکم نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَلَا يُسْبَى لَهُمْ ذُرِّيَّةٌ“ ذریت میں نے آپ کو بتلایا تھا اولاد کو کہتے ہیں، کہتے ہیں ”وَلَا يُسْبَى لَهُمْ ذُرِّيَّةٌ“ اور قیدی نہیں بنایا جائے گا ان کی اولاد کو ”وَلَا يُقْسَمُ لَهُمْ مَالٌ“ اور تقسیم نہیں کیا جائے گا ان کے مال کو ”لِقَوْلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ يَوْمَ الْجَمَلِ“ بوجہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قول کے کہ آپ نے یوم الجمل کے دن فرمایا، یوم الجمل بھئی، جنگ جمل بھئی، بھئی جنگ جمل یہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جب شہید کیا گیا تو تمام صحابہ اور تمام مدینے والوں نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیعت کر لی بھئی اور انہی بیعت کرنے والوں میں حضرت طلحہ اور حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہما بھی شامل تھے لیکن پھر وہ یہاں سے نکل گئے اور کہنے لگے کہ ہم نے خوشی سے ہم نے ان کی بیعت نہیں کی تو چنانچہ یہاں سے نکل کر مکہ چلے گئے اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قصاص کا مطالبہ کیا کہ جن لوگوں نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو شہید کیا ہے ان سے قصاص لیا جائے جبکہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی رائے یہ تھی کہ اس وقت حالات ایسے نہیں کہ قصاص لیا جائے کیونکہ وہ لوگ ابھی قوت میں تھے تو اگر قصاص لیں گے تو اور فتنہ پھیلے گا تو ذرا جب حالات قابو میں آ جائیں گے تو پھر اس کے بعد ہم قصاص لیں گے لیکن وہ فوری قصاص کا مطالبہ کر رہے تھے چنانچہ حضرت طلحہ اور حضرت زبیر انہوں نے اور لوگوں کو بھی اپنے ساتھ ملایا اور اسی طرح حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا وہ بھی ان کے ساتھ ہو گئیں اور پھر یہ لڑنے کے لیے آگئے بھئی۔ تو چنانچہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کے مقابلے کے لیے نکلے اور پھر کہتے ہیں بہت عظیم جنگ ہوئی اور جس میں تقریباً تیرہ ہزار لوگ قتل ہو گئے بھئی۔ اسی میں حضرت طلحہ اور حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہما یہ دونوں بھی قتل ہو گئے اور ان کو شکست ہو گئی تو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فوراً اعلان فرما دیا کسی قیدی کو قتل نہ کیا جائے اور کسی عورت کی بے عزتی اور پردہ دری نہ کی جائے اور کسی کا مال نہ چھینا جائے بھئی، کسی کا مال نہ چھینا جائے۔ اور اس جنگ کو جنگ جمل اس لیے کہتے ہیں کہ اس میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا جو ہیں وہ ایک اونٹ پر سوار تھیں اور اونٹ کو جمل کہتے ہیں عربی زبان میں تو اس لیے یہ جنگ جمل کے نام سے مشہور ہے بھئی۔ چنانچہ جب حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ اعلان فرمایا تو بعض نے اعتراض کیا کہ اگر یہ مسلمان تھے پھر تو ہمارے لیے قتل ہی جائز نہیں تھا اور اگر یہ مسلمان نہیں ہیں تو پھر تو ہمارے لیے یہ ان کی عورتیں اور بچے اور ان کا مال سب جائز ہوگا تو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ جلال میں آگئے اور فرمایا کہ ان کے اندر تمہاری امی عائشہ بھی موجود ہیں تو کیا اور عورتوں کی طرح تم ان کو بھی اپنے لیے حلال سمجھو گے؟ تو لوگ جو ہیں چونک اٹھے اور معافی طلب کرنے لگے کہ واقعی جو ہے ہم نے غلط بات کی ہے۔ تو کہتے ہیں ”لِقَوْلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ يَوْمَ الْجَمَلِ“ بوجہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے جو یوم الجمل کے دن آپ نے ارشاد فرمایا کہ ”وَلَا يُقْتَلُ أَسِيرٌ“ اور نہ کسی قیدی کو قتل کیا جائے ”وَلَا يُكْشَفُ سِتْرٌ“ اور نہ کوئی پردہ کھولا جائے یعنی کسی عورت کی پردہ دری نہ کی جائے، بے عزتی نہ کی جائے ”وَلَا يُؤْخَذُ مَالٌ“ اور نہ کوئی مال لیا جائے ”وَهُوَ الْقُدْوَةُ فِي هَذَا الْبَابِ“ اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو ہیں وہی پیشوا ہیں اس باب میں۔ باغیوں کے ساتھ لڑائی میں وہی پیشوا ہیں اور تمام احکام ہمیں انہی سے معلوم ہوتے ہیں۔ ”وَقَوْلُهُ فِي الْأَسِيرِ“ اچھا بھئی حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تو ذکر کیا ”وَلَا يُقْتَلُ أَسِيرٌ“ کہ قیدی کو قتل نہ کیا جائے اور اوپر صاحب ہدایہ نے آپ کو بتلایا تھا کہ جو پشت پھیرنے والے ہیں ان کا پیچھا کیا جائے گا اور ان کو قید کرنا بھی جائز اور قتل کرنا بھی جائز ہے بھئی۔ تو جواب دے رہے ہیں کہ بھئی ہم نے اوپر بتلایا تھا کہ اگر ان کی کوئی الگ جماعت ہے پھر ان کا قتل یا ان کو قیدی بنانا جائز ہے، اگر ان کی کوئی اور جماعت نہیں ہے تو پھر ان کو قتل کرنا جائز نہیں ہے بھئی۔ کہتے ہیں ”وَقَوْلُهُ فِي الْأَسِيرِ“ اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول قیدی کے بارے میں ”تَأْوِيلُهُ: إِذَا لَمْ يَكُنْ لَهُمْ فِئَةٌ“ تو ان کے کلام کی تاویل یہ ہے کہ جب ان کی کوئی اور جماعت نہ ہو ”فَإِنْ كَانَتْ“ اور اگر ان کی کوئی اور جماعت ہے ”يَقْتُلُ الْإِمَامُ الْأَسِيرَ“ تو امام قیدی کو قتل کر سکتا ہے ”وَإِنْ شَاءَ حَبَسَهُ“ اور اگر چاہے تو اس کو قید کر سکتا ہے ”لِمَا ذَكَرْنَا“ اس وجہ سے جو ہم نے ذکر کر دیا کہ ان کے شر کو دفع کرنے کے لیے کیونکہ ان کی اور جماعت موجود ہے تو یہ ان کے ساتھ جا کر مل جائیں گے لہٰذا ان کے شر کو دفع کرنے کے لیے امام کے لیے جائز ہے کہ قیدیوں کو قتل کر دے یا قید میں ڈال دے۔ تو کہتے ہیں ”فَإِنْ كَانَتْ“ اگر ان باغیوں کی کوئی الگ جماعت موجود ہے ”يَقْتُلُ الْإِمَامُ الْأَسِيرَ“ تو امام قیدی کو قتل کر سکتا ہے ”وَإِنْ شَاءَ حَبَسَهُ“ اور اگر چاہے تو اس کو قید میں ڈال دے ”لِمَا ذَكَرْنَا“ اس وجہ سے جو ہم نے ذکر کر دیا یعنی ان کے شر کو دور کرنے کے لیے۔ ”وَلِأَنَّهُمْ مُسْلِمُونَ“ یہاں سے دوسری دلیل ذکر کر رہے ہیں کہ ان کی اولاد کو قید نہیں کریں گے اور ان کے مال کو لڑنے والوں میں تقسیم نہیں کریں گے۔ توجہ ہے؟ پہلی دلیل تو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول ہے اب عقلی دلیل دے رہے ہیں۔ کہتے ہیں ”وَلِأَنَّهُمْ مُسْلِمُونَ“ اور اس لیے کیونکہ یہ جو باغی ہیں یہ بھی مسلمان ہیں ”وَالْإِسْلَامُ يَعْصِمُ النَّفْسَ وَالْمَالَ“ اور اسلام جو ہے وہ تو جان اور مال کو محفوظ کرتا ہے۔ اسلام کی وجہ سے مسلمان کی جان بھی معصوم اور اس کا مال بھی معصوم ہو جاتا ہے۔ کہتے ہیں ”وَالْإِسْلَامُ يَعْصِمُ النَّفْسَ وَالْمَالَ“ اور اسلام جو ہے جان اور مال کی حفاظت کرتا ہے۔ ”وَلَا بَأْسَ بِأَنْ يُقَاتَلُوا بِسِلَاحِهِمْ إِنِ احْتَاجَ الْمُسْلِمُونَ إِلَيْهِ“ یہاں سے یہ بتلا رہے ہیں، کیا باغیوں سے چھینا ہوا اسلحہ اس کے ذریعے بھی باغیوں سے لڑا جا سکتا ہے؟ کیا امام باغیوں سے چھینے ہوئے اسلحے کو مسلمانوں میں تقسیم کر سکتا ہے تاکہ وہ ان سے لڑائی کریں؟ تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں نہیں، باغیوں کے اسلحے سے نفع اٹھانا جائز نہیں کیونکہ وہ مسلمانوں کا مال ہے اور مسلمانوں کے مال سے ان کی رضامندی کے بغیر نفع اٹھانا جائز نہیں۔ لیکن ہم کہتے ہیں نہیں، اگر مسلمانوں کو حاجت ہے، مسلمانوں کے پاس اسلحہ وغیرہ کم ہے تو پھر مسلمان ان کے اسلحے سے بھی لڑ سکتے ہیں بھئی۔ کہتے ہیں ”وَلَا بَأْسَ بِأَنْ يُقَاتَلُوا بِسِلَاحِهِمْ“ اور کوئی حرج نہیں ہے کہ مسلمان لڑائی کریں باغیوں کے اسلحے کے ساتھ ”إِنِ احْتَاجَ الْمُسْلِمُونَ إِلَيْهِ“ اگر مسلمان اس کے محتاج ہوں۔ ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى: لَا يَجُوزُ“ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ جائز نہیں ہے ”وَالْكُرَاعُ عَلَى هَذَا الْخِلَافِ“ کراع بھئی یہ لفظ پہلے بھی گزر چکا ہے، میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ کراع جو ہے یہ اسلحے اور گھوڑے وغیرہ جو سواری ہے ان کے مجموعے کو کہتے ہیں لیکن یہاں اس سے مراد بس وہ سواری ہے، گھوڑے یا اونٹ وغیرہ اور وجہ یہ کہ اسلحے کا ذکر پیچھے آ گیا بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَالْكُرَاعُ عَلَى هَذَا الْخِلَافِ“ اور اونٹ اور گھوڑے وغیرہ جو سواریاں ہیں وہ بھی اسی اختلاف پر ہیں یعنی ہمارے نزدیک باغیوں کے اونٹ اور گھوڑے مسلمانوں کے لیے استعمال کرنا ان باغیوں کے ساتھ لڑائی کرتے ہوئے جائز ہے اور جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک جائز نہیں۔ یہ معنی ہے ”وَالْكُرَاعُ عَلَى هَذَا الْخِلَافِ“ اور کراع جو ہے وہ بھی اسی اختلاف پر ہے ”لَهُ“ امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل یہ ہے ”أَنَّهُ مَالُ مُسْلِمٍ“ کہ یہ مسلمان کا مال ہے ”فَلَا يَجُوزُ الِانْتِفَاعُ بِهِ إِلَّا بِرِضَاهُ“ لہٰذا اس سے فائدہ اٹھانا جائز نہیں ہے مگر اس مسلمان کی رضامندی سے۔ ”وَلَنَا“ اور ہماری دلیل یہ ہے ”أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ قَسَمَ السِّلَاحَ فِيمَا بَيْنَ أَصْحَابِهِ بِالْبَصْرَةِ“ کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسلحہ تقسیم فرمایا ”فِيمَا بَيْنَ أَصْحَابِهِ“ اپنے ساتھیوں کے اندر ”بِالْبَصْرَةِ“ بصرہ میں ”وَكَانَتْ قِسْمَتُهُ لِلْحَاجَةِ لَا لِلتَّمْلِيكِ“ اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی یہ تقسیم جو تھی حاجت اور ضرورت کی وجہ سے تھی مالک بنانے کے لیے نہیں تھی۔ حاجت کی وجہ سے استعمال کرنا جائز ہے چنانچہ اسی لیے کہتے ہیں لڑائی کے بعد وہ اسلحہ وغیرہ ان سب نے واپس جمع کروا دیا۔ تو کہتے ہیں ”وَكَانَتْ قِسْمَتُهُ لِلْحَاجَةِ لَا لِلتَّمْلِيكِ“ اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی یہ تقسیم جو ہے حاجت کی وجہ سے تھی مالک بنانے کے لیے نہیں تھی ”وَلِأَنَّ لِلْإِمَامِ أَنْ يَفْعَلَ ذَلِكَ فِي مَالِ الْعَادِلِ عِنْدَ الْحَاجَةِ“ اور اس لیے کیونکہ امام کے لیے جائز ہے کہ وہ ایسا کرے غیر باغی کے مال میں، یہاں عادل کا معنی کریں غیر باغی۔ عادل جو قابلِ اعتماد عام مسلمان ہے، یہ کس کے مقابلے میں آیا؟ باغی کے مقابلے میں۔ جب عام مسلمانوں کا مال خلیفہ ضرورت کے وقت لڑنے والوں کو دے سکتا ہے تو باغیوں کا مال بطریقِ اولیٰ دے سکتا ہے۔ کہتے ہیں ”وَلِأَنَّ لِلْإِمَامِ“ اور اس لیے کیونکہ امام کے لیے جائز ہے ”أَنْ يَفْعَلَ ذَلِكَ فِي مَالِ الْعَادِلِ“ کہ وہ ایسا کرے غیر باغی کے مال میں ”عِنْدَ الْحَاجَةِ“ ضرورت کے وقت ”فَفِي مَالِ الْبَاغِي أَوْلَى“ تو باغی کے مال میں بطریقِ اولیٰ ایسا کرنا اس کے لیے جائز ہوگا بھئی۔ ”وَالْمَعْنَى فِيهِ إِلْحَاقُ الضَّرَرِ الْأَدْنَى لِدَفْعِ الْأَعْلَى“ اور علت اس کے اندر وہ یہ ہے کہ اس کے اندر ”إِلْحَاقُ الضَّرَرِ الْأَدْنَى“ تھوڑا ضرر ملانا ”لِدَفْعِ الْأَعْلَى“ اعلیٰ ضرر کو دور کرنے کے لیے، زیادہ ضرر کو دور کرنے کے لیے۔ بھئی باغی کا مال استعمال کیا جائے گا اگرچہ باغی بھی مسلمان ہے لیکن اس کے اندر صرف اس باغی کا نقصان ہے جبکہ دوسری طرف اس لڑائی کی وجہ سے تمام مسلمانوں کا فائدہ ہوگا کہ باغیوں کا شر دور ہو جائے گا تو بڑے نقصان کو دور کرنے کے لیے تھوڑا نقصان برداشت کر لیا جائے گا۔ یہ معنی ہے، کہتے ہیں ”وَالْمَعْنَى فِيهِ“ اور علت اس کے اندر وہ یہ ہے ”إِلْحَاقُ الضَّرَرِ الْأَدْنَى“ کہ اس میں معمولی نقصان کا ملانا ہے ”لِدَفْعِ الْأَعْلَى“ اعلیٰ نقصان کو دور کرنے کے لیے اور یہ جائز ہے۔ ”وَيَحْبِسُ الْإِمَامُ أَمْوَالَهُمْ وَلَا يَرُدُّهَا عَلَيْهِمْ وَلَا يَقْسِمُهَا حَتَّى يَتُوبُوا فَيَرُدُّهَا عَلَيْهِمْ“ تو امام ان باغیوں کے مال کو روک لے گا اور ان کو واپس نہیں دے گا یہاں تک کہ وہ توبہ کر لیں، جب وہ توبہ کر لیں گے پھر امام وہ مال ان کو ان کے مال انہیں دے دے گا۔ تو کہتے ہیں ”وَيَحْبِسُ الْإِمَامُ أَمْوَالَهُمْ“ اور امام ان کے مالوں کو روک لے گا ”وَلَا يَرُدُّهَا عَلَيْهِمْ“ اور وہ مال ان کو واپس نہیں کرے گا ”وَلَا يَقْسِمُهَا“ اور اس کو لڑنے والوں میں تقسیم بھی نہیں کرے گا ”حَتَّى يَتُوبُوا“ یہاں تک کہ وہ باغی توبہ کر لیں ”فَيَرُدُّهَا عَلَيْهِمْ“ تو پھر امام وہ مال ان کو واپس کر دے گا۔ اب بھئی یہاں انہوں نے دو باتیں ذکر کیں: ایک تو یہ کہ امام تقسیم نہیں کرے گا اس مال کو، تو اس کی وجہ بتلائیں گے کہ بھئی ہم نے بتلایا تھا کہ یہ مسلمانوں کا مال ہے اور یہ کوئی مالِ غنیمت نہیں ہے، اور باقی امام ان کے مال کو روک لے گا، کیوں روکے گا؟ کہتے ہیں ان کی قوت اور طاقت ختم کرنے کے لیے۔ ان کی قوت اور طاقت ختم کرنے کے لیے۔ تو کہتے ہیں ”أَمَّا عَدَمُ الْقِسْمَةِ فَلِمَا بَيَّنَّاهُ“ تو امام کا اس مال کو تقسیم نہ کرنا وہ اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دیا، ایک تو یہ مسلمانوں کا مال ہے اور دوسرا حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول آ گیا اس بارے میں۔ ”وَأَمَّا الْحَبْسُ“ اور باقی امام کا اس مال کو روکنا ”فَلِدَفْعِ شَرِّهِمْ بِكَسْرِ شَوْكَتِهِمْ“ ان کے شر کو دور کرنے کے لیے ان کی قوت کو توڑ کر۔ کسر کا معنی توڑنا، شوکت کہتے ہیں قوت کو۔ کہتے ہیں ”وَأَمَّا الْحَبْسُ فَلِدَفْعِ شَرِّهِمْ بِكَسْرِ شَوْكَتِهِمْ“ اور باقی ان کے مال کو روکنا تو ان کے شر کو دفع کرنے کے لیے ان کی قوت کو توڑتے ہوئے ”وَلِهَذَا يَحْبِسُهَا عَنْهُمْ“ اور اسی لیے امام اس مال کو ان سے روک لے گا تاکہ ان کی قوت ٹوٹ جائے، جب ان کی قوت ٹوٹ جائے گی تو ان کا شر دفع ہو جائے گا۔ ”وَإِنْ كَانَ لَا يَحْتَاجُ إِلَيْهَا“ اگرچہ امام کو اس کی حاجت نہ ہو۔ بھئی امام نے باغیوں کا مال روک لیا اگرچہ امام کو حاجت اور ضرورت نہیں ہے لیکن پھر بھی روک لے گا تاکہ ان کی طاقت ٹوٹ جائے اور پھر جب وہ توبہ کر لیں تو پھر ان کا مال ان کو واپس کر دے۔ تو کہتے ہیں ”وَلِهَذَا يَحْبِسُهَا عَنْهُمْ وَإِنْ كَانَ لَا يَحْتَاجُ إِلَيْهَا“ اور اسی لیے امام ان کے مال کو ان سے روک لے گا اگرچہ امام کو اس کی حاجت نہ ہو۔ ”إِلَّا أَنَّهُ يَبِيعُ الْكُرَاعَ“ مگر یہ کہ امام گھوڑے اور اونٹ وغیرہ بیچ دے گا ”لِأَنَّ حَبْسَ الثَّمَنِ أَنْظَرُ وَأَيْسَرُ“ اس لیے کیونکہ ثمن کو روکنا ”أَنْظَرُ“ اس میں زیادہ رعایت ہے ”وَأَيْسَرُ“ اور یہ زیادہ آسان ہے۔ بھئی اگر ان کے جانور امام رکھے گا پھر تو ان جانوروں کی خدمت کے لیے آدمی بھی مقرر کرنے پڑیں گے اور ان پر خرچہ بھی کرنا پڑے گا، چارہ وغیرہ ان کو لا کر دینا پڑے گا لیکن اس کے بجائے اگر ان جانوروں کو بیچ دیا جائے اور ان کے ثمن امام ان کے لیے سنبھال کر رکھ لے تو اس کے اندر آسانی بھی ہے اور نیز مالکوں پر بھی شفقت ہے، وہ باغیوں پر بھی شفقت ہے۔ وجہ یہ کیونکہ اگر جانور کو رکھیں گے تو جانور تو ہلاک بھی ہو سکتا ہے کسی وقت لیکن جب پیسے محفوظ کر لیے اب ہلاکت کا خطرہ بھی ختم ہو گیا۔ تو کہتے ہیں ”لِأَنَّ حَبْسَ الثَّمَنِ“ اس لیے کیونکہ ثمن کو روکنا ”أَنْظَرُ“ اس میں مالک پر زیادہ شفقت ہے کہ وہ جانور کی ہلاکت کا خطرہ اب نہ رہا ”وَأَيْسَرُ“ اور یہ زیادہ آسان ہے یعنی اس میں خدمت وغیرہ کی حاجت نہیں۔ تو کہتے ہیں ”لِأَنَّ حَبْسَ الثَّمَنِ أَنْظَرُ وَأَيْسَرُ“ اور اس لیے کیونکہ ثمن کو روکنا اس کے اندر زیادہ شفقت ہے اور زیادہ آسانی ہے۔ ”وَأَمَّا الرَّدُّ بَعْدَ التَّوْبَةِ“ اور باقی بھئی ان کی توبہ کے بعد امام ان کو واپس دے دے گا اس کی کیا وجہ ہے؟ کہتے ہیں ”وَأَمَّا الرَّدُّ بَعْدَ التَّوْبَةِ فَلِانْدِفَاعِ الضَّرُورَةِ“ اور ان کی توبہ کے بعد واپس کرنا ضرورت کے دور ہو جانے کی وجہ سے کہ اب اس کو روکنے کی ضرورت دور ہو گئی ”وَلَا اسْتِغْنَامَ فِيهَا“ اور اس مال کے اندر غنیمت بنانا بھی نہیں ہے۔ تو اس کو غنیمت تو نہیں بنایا جا سکتا تو یہ ان کو واپس کر دیا جائے گا کیونکہ شر دور ہو گیا۔ ”قَالَ: وَمَا جَبَاهُ أَهْلُ الْبَغْيِ مِنَ الْبِلَادِ الَّتِي غَلَبُوا عَلَيْهَا مِنَ الْخَرَاجِ وَالْعُشْرِ لَمْ يَأْخُذْهُ الْإِمَامُ ثَانِيًا“ بھئی باغیوں نے کسی علاقے پر قبضہ کر لیا تھا اور وہاں انہوں نے ان لوگوں سے عشر اور خراج بھی وصول کر لیا اور پھر امام نے باغیوں سے جنگ کی، ان کو شکست دی اور امام نے دوبارہ اس علاقے کو فتح کر لیا تو کیا اب ان لوگوں سے عشر اور خراج دوبارہ لیا جائے گا؟ کہتے ہیں نہیں، امام ان سے دوبارہ عشر اور خراج نہیں لے سکتا کیونکہ امام جو ان سے عشر اور خراج لیتا تھا وہ ان کی حفاظت کی وجہ سے لیتا تھا اور امام جب ان کی حفاظت نہ کر سکا تو عشر اور خراج نہیں لے سکتا، ہاں، اگلے آنے والے سال میں اب وہ امام کی حفاظت میں ہیں تو اس میں پھر امام عشر اور خراج لے گا بھئی۔ کہتے ہیں ”قَالَ“ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں ”وَمَا جَبَاهُ أَهْلُ الْبَغْيِ مِنَ الْبِلَادِ الَّتِي غَلَبُوا عَلَيْهَا مِنَ الْخَرَاجِ وَالْعُشْرِ“، جَبَى يَجْبُو جَبْوًا اور جَبَى يَجْبِي جَبْيًا یہ واوی بھی ہے اور یائی بھی ہے، اس کا معنی ہے جمع کرنا اور وصول کرنا۔ کہتے ہیں ”وَمَا جَبَاهُ أَهْلُ الْبَغْيِ“ اور وہ مال جو باغیوں نے وصول کیا ”مِنَ الْبِلَادِ الَّتِي غَلَبُوا عَلَيْهَا“ ان شہروں سے جن پر وہ غالب ہو گئے تھے ”مِنَ الْخَرَاجِ وَالْعُشْرِ“ یعنی کہ خراج اور عشر ”لَمْ يَأْخُذْهُ الْإِمَامُ ثَانِيًا“ تو امام اس کو دوبارہ نہیں لے گا، جب امام قبضہ کر لے تو دوبارہ نہیں لے گا ”لِأَنَّ وِلَايَةَ الْأَخْذِ لَهُ بِاعْتِبَارِ الْحِمَايَةِ“ اس لیے کیونکہ امام کو یہ چیزیں لینے کی جو ولایت ہے وہ حفاظت کرنے کے اعتبار سے ہے ”وَلَمْ يَحْمِهِمْ“ اور حال یہ ہے کہ امام نے تو ان کی حفاظت نہیں کی۔ ”فَإِنْ كَانُوا صَرَفُوهُ فِي حَقِّهِ أَجْزَأَ عَمَّنْ أُخِذَ مِنْهُ لِوُصُولِ الْحَقِّ إِلَى مُسْتَحِقِّهِ“ بھئی یہاں سے یہ بتلا رہے ہیں کہ باغیوں نے جس علاقے پر قبضہ کر لیا تھا اور وہاں لوگوں سے انہوں نے خراج اور عشر وصول کر لیا تھا، امام تو دوبارہ وہ عشر اور خراج وصول نہیں کر سکتا لیکن کیا یہ عشر اور خراج ادا ہوا یا نہیں ادا ہوا؟ تو آپ کو بتلائیں گے کہ اگر باغیوں نے اس عشر اور خراج کو اپنے مصرف پر خرچ کیا ہے یعنی جہاں شریعت نے لگانے کا حکم دیا ہے وہیں پر انہوں نے لگایا ہے پھر تو ادا ہو گیا لیکن اگر باغیوں نے اس عشر اور خراج کو اس کے مصرف پر نہیں لگایا تو پھر ان لوگوں سے خلیفہ تو دوبارہ وصول نہیں کر سکتا لیکن دیانتاً ان لوگوں پر لازم ہے کہ وہ اس عشر اور خراج کو دوبارہ ادا کریں یعنی یہ ان کا اور اللہ کا معاملہ ہے، ان کو فتویٰ یہ دیا جائے گا کہ تمہیں یہ خراج اور عشر دوبارہ ادا کرنا چاہیے بھئی۔ کہتے ہیں ”فَإِنْ كَانُوا صَرَفُوهُ فِي حَقِّهِ“ اگر ان باغیوں نے اس مال کو خرچ کر لیا اس کے حق میں ہی یعنی جہاں شریعت نے لگانے کا حکم دیا ہے وہیں پر انہوں نے مال لگایا ”أَجْزَأَ عَمَّنْ أُخِذَ مِنْهُ“ تو یہ کافی ہے اس شخص کے لیے جس سے یہ مال لیا گیا تھا ”لِوُصُولِ الْحَقِّ إِلَى مُسْتَحِقِّهِ“ اس وجہ سے کہ حق اس کے مستحق کو پہنچ گیا ”وَإِنْ لَمْ يَكُونُوا صَرَفُوهُ فِي حَقِّهِ“ اور اگر ان باغیوں نے اس مال کو اس کے حق میں خرچ نہیں کیا ”فَعَلَى أَهْلِهِ فِيمَا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ اللَّهِ تَعَالَى أَنْ يُعِيدُوا ذَلِكَ“ تو اس مال کو ادا کرنے والوں پر واجب ہے یہ ان کا اور اللہ کے درمیان کا معاملہ ہے کہ وہ اس کا اعادہ کریں، وہ اس کو پھر لوٹا لیں یعنی پھر دوبارہ ادا کریں۔ البتہ یہ ان کا اور اللہ کا معاملہ ہے، قضاءً تو ان کو یہ حکم نہیں دیا جائے گا البتہ دیانتاً ان کو یہ فتویٰ دیا جائے گا۔ تو کہتے ہیں ان پر لازم ہے کہ اس کو دوبارہ لوٹا دیں ”لِأَنَّهُ لَمْ يَصِلْ إِلَى مُسْتَحِقِّهِ“ اس لیے کیونکہ وہ مال اس کے مستحق کو نہیں پہنچا۔ خراج کے بارے میں آپ پڑھ چکے ہیں کہ اسے مسلمانوں کی مصلحت کے کاموں میں خرچ کیا جائے گا جیسے سرحدوں کو مضبوط کیا جائے گا یا اسی طرح مملکت کے جو انتظامی امور سرانجام دینے والے ہیں ان کو تنخواہیں وغیرہ اس میں سے ادا کی جائیں گی۔ توجہ ہے؟ اور عشر آپ جانتے ہیں کہ عشر جو ہے اس کے مستحق جو ہیں وہ فقراء ہیں، یہ فقراء اور غریبوں پر خرچ کیا جائے گا۔ تو کہتے ہیں دیانتاً لوگوں کو وہ عشر اور خراج دوبارہ دینا چاہیے ”لِأَنَّهُ لَمْ يَصِلْ إِلَى مُسْتَحِقِّهِ“ اس لیے کیونکہ وہ مال اس کے مستحق کو نہیں پہنچا۔ آگے دیکھیے: ”قَالَ الْعَبْدُ الضَّعِيفُ“ اس عبد ضعیف سے مراد صاحبِ ہدایہ ہیں۔ ”قَالَ الْعَبْدُ الضَّعِيفُ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى: قَالُوا: لَا إِعَادَةَ عَلَيْهِمْ فِي الْخَرَاجِ“ اللہ کا کمزور بندہ کہتا ہے کہ فقہاء فرماتے ہیں اوپر متن میں تو آیا اگر عشر اور خراج ان باغیوں نے اپنے مصرف پر نہیں لگایا تو پھر ان لوگوں پر لازم ہے کہ دوبارہ ادا کریں۔ اب یہاں سے صاحبِ ہدایہ بتلا رہے ہیں کہ ہمارے فقہاء فرماتے ہیں کہ یہ جو خراج ہے اگر باغیوں نے اس خراج کو اپنے اوپر خرچ کر لیا تو پھر اس میں اعادہ نہیں کیا جائے گا۔ وجہ یہ کہ خراج کے مصرفوں میں سے ایک مصرف یہ ہے کہ اس کے ذریعے سرحدوں کو مضبوط کیا جاتا ہے، سرحدوں کو بند کیا جاتا ہے اور سرحدوں کو بند کرنے کا کیا معنی ہے؟ کہ وہاں پر جو لشکر مسلمانوں کے موجود ہیں، جو لڑنے والے لوگ موجود ہیں ان کے اوپر اس کو خرچ کیا جائے گا اور یہ باغی جو ہیں یہ بھی مسلمان ہی ہیں اور یہ لڑنے والے ہیں لہٰذا یہ بھی اس خراج کا مصرف ہیں۔ جب یہ خراج کا مصرف ہیں اور انہوں نے خراج کو اپنے اوپر خرچ کر لیا ہے تو خراج ادا ہو گیا، خراج اپنے مستحق کو پہنچ گیا بھئی۔ اگرچہ اس وقت باغی مسلمانوں کے خلاف لڑ رہے ہیں لیکن ہیں تو مسلمان اور ہیں تو لڑنے والوں میں سے، لہٰذا خراج اس کے مستحق کو پہنچ گیا۔ مستحق کو پہنچ گیا بھئی! اور اسی طرح عشر جو ہے، اگر وہ باغیوں نے اپنے اوپر خرچ کر لیا، تو عشر کے مستحقین تو فقراء ہیں، تو اگر باغی بھی فقراء ہیں تو عشر بھی ادا ہو گیا، دوبارہ ادا کرنے کی ضرورت نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”قَالُوا“ فقہاء فرماتے ہیں: ”لَا إِعَادَةَ عَلَيْهِمْ فِي الْخَرَاجِ“ کہ ان لوگوں پر خراج کے اندر اعادہ نہیں ہے، خراج دوبارہ ادا کرنے کی ضرورت نہیں ہے ”لِأَنَّهُمْ مُقَاتِلَةٌ“ اس لیے کیونکہ یہ باغی جو ہیں یہ بھی لڑنے والے ہیں ”فَكَانُوا مَصَارِفَ“ تو لہٰذا یہ بھی خراج کا مصرف ہیں ”وَإِنْ كَانُوا أَغْنِيَاءَ“ اگرچہ یہ مالدار ہوں، کیونکہ خراج کا مصرف لڑنے والے ہیں، اس میں یہ نہیں دیکھا جاتا کہ وہ مالدار ہے یا مالدار نہیں ہے، تو خراج تو ادا ہو گیا۔ ”وَفِي الْعُشْرِ“ اور عشر کے بارے میں وہ فقہاء فرماتے ہیں ”إِنْ كَانُوا فُقَرَاءَ فَكَذَلِكَ“ اگر یہ لڑنے والے باغی جو ہیں یہ فقیر ہیں تو بھی حکم اسی طرح ہے، یعنی ان لوگوں کو عشر لوٹانے کی ضرورت نہیں ہے بھئی، کیونکہ عشر اس کے مستحق کو یعنی فقیر کو پہنچ چکا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَفِي الْعُشْرِ إِنْ كَانُوا فُقَرَاءَ فَكَذَلِكَ“ کہ اور عشر میں فقہاء فرماتے ہیں کہ اگر یہ باغی فقراء ہیں تب بھی حکم اسی طرح ہے، یعنی اعادے کی ضرورت نہیں ”لِأَنَّهُ حَقُّ الْفُقَرَاءِ“ اس لیے کیونکہ عشر جو ہے وہ فقراء کا حق ہے ”وَقَدْ بَيَّنَّاهُ فِي الزَّكَاةِ“ اور تحقیق یہ بات ہم کتاب الزکوٰۃ میں بیان کر چکے ہیں کہ جس طرح زکوٰۃ فقراء کا حق ہے اسی طرح عشر بھی فقراء کا حق ہے۔ ”وَفِي الْمُسْتَقْبَلِ يَأْخُذُهُ الْإِمَامُ“ اور مستقبل میں یہ عشر اور خراج امام لے گا ”لِأَنَّهُ يَحْمِيهِمْ فِيهِ“ اس لیے کیونکہ وہ ان کی حفاظت کرے گا اس میں، یعنی مستقبل میں ”لِظُهُورِ وِلَايَتِهِ“ اس کی ولایت کے ظاہر ہو جانے کی وجہ سے، کہ امام نے باغیوں کو شکست دے دی ہے اور اس علاقے کو فتح کر لیا ہے تو اب حفاظت کی ذمہ داری امام کی بن گئی، تو وہ حفاظت کرے گا اور حفاظت کی وجہ سے ہی اس کو ولایت ہوتی ہے عشر اور خراج وصول کرنے کی بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَفِي الْمُسْتَقْبَلِ يَأْخُذُهُ الْإِمَامُ لِأَنَّهُ يَحْمِيهِمْ فِيهِ لِظُهُورِ وِلَايَتِهِ“ اور مستقبل میں یعنی آنے والے سال میں یہ عشر اور خراج امام لے گا، اس لیے کیونکہ اس میں امام ان کی حفاظت کرے گا امام کی ولایت کے ظاہر ہو جانے کی وجہ سے۔ آگے دیکھیے: ”وَمَنْ قَتَلَ رَجُلًا وَهُمَا مِنْ عَسْكَرِ أَهْلِ الْبَغْيِ“ بھئی! یہاں سے اب جنایت بیان کر رہے ہیں۔ اگر ایک باغی دوسرے باغی کو قتل کر دیتا ہے اور بعد میں ان باغیوں کو شکست ہو گئی اور امام نے اس سارے علاقے کو فتح کر لیا، تو ایک باغی نے دوسرے باغی کو قتل کیا تھا، تو کیا اس کی وجہ سے قصاص یا دیت آئے گی؟ کہتے ہیں: نہیں۔ امام کو ان پر ولایت حاصل نہیں تھی، لہٰذا قصاص یا دیت نہیں آئے گی۔ قصاص یا دیت نہیں آئے گی، ہاں قتل کا عظیم گناہ ضرور ہوگا کیونکہ اس نے ایک مسلمان کو قتل کیا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَمَنْ قَتَلَ رَجُلًا وَهُمَا مِنْ عَسْكَرِ أَهْلِ الْبَغْيِ“ اور جس شخص نے کسی آدمی کو قتل کر دیا اس حال میں کہ دونوں جو ہیں باغیوں کے لشکر میں سے ہیں، یعنی قاتل بھی اور مقتول بھی ”ثُمَّ ظُهِرَ عَلَيْهِمْ“ پھر ان پر غلبہ پا لیا گیا ”فَلَيْسَ عَلَيْهِمْ شَيْءٌ“ تو ان پر کوئی چیز نہیں ہے، یعنی نہ قصاص ہے اور نہ دیت ہے ”لِأَنَّهُ لَا وِلَايَةَ لِلْإِمَامِ الْعَدْلِ حِينَ الْقَتْلِ“ اس لیے کیونکہ قتل کے وقت امامِ عدل کو جو ہے ولایت حاصل نہیں تھی، قتل کے وقت عادل امام کو ولایت حاصل نہیں تھی ”فَلَمْ يَنْعَقِدْ مُوجِبًا“ تو یہ قتل منعقد نہیں ہوا موجباً کہ یہ واجب کرنے والا ہو یعنی ضمان کو، تو یہ قتل ضمان کو واجب کرنے والا ہو کر منعقد نہیں ہوا، اس کی وجہ سے ضمان نہیں آئے گا۔ تو کہتے ہیں: ”فَلَمْ يَنْعَقِدْ مُوجِبًا“ تو یہ قتل جو ہے ضمان کو واجب کرنے والا ہو کر منعقد نہیں ہوا ”كَالْقَتْلِ فِي دَارِ الْحَرْبِ“ جیسے کہ دار الحرب میں قتل ہے۔ آپ پڑھ چکے ہیں دار الحرب میں کوئی شخص مسلمان ہو جائے اور کوئی دوسرا مسلمان اس کو قتل کر دے تو نہ وہاں قصاص آئے گا اور نہ دیت آئے گی، کیونکہ امام کو ولایت حاصل نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”كَالْقَتْلِ فِي دَارِ الْحَرْبِ“ جیسے کہ دار الحرب میں قتل ہے۔ ”وَإِنْ غَلَبُوا عَلَى مِصْرٍ“ اور اگر باغی کسی شہر پر غالب ہو گئے۔ بھئی! ادھر دیکھیے، باغیوں نے ایک شہر پر قبضہ کر لیا اور پھر اس شہر والوں میں سے ایک عام مسلمان نے دوسرے عام مسلمان کو قتل کر دیا، یعنی وہ باغیوں کے ساتھ نہیں ہے لیکن اسی شہر والوں میں سے ایک مسلمان نے دوسرے مسلمان کو قتل کر دیا اور بعد میں ان باغیوں کو شکست ہو گئی اور امام نے اس سارے علاقے کو فتح کر لیا، تو کہتے ہیں اس صورت میں اگر باغیوں نے وہاں پورا قبضہ کر کے اپنے احکام بھی جاری کر دیے تھے، پھر تو اس صورت کے اندر یہاں امام کو ولایت حاصل نہیں، لہٰذا اس قتل کی وجہ سے بھی نہ قصاص آئے گا اور نہ دیت آئے گی۔ ہاں قتل کا عظیم گناہ ضرور ہوگا بھئی۔ لیکن اگر باغی ابھی پوری طرح وہاں مضبوط نہیں ہوئے، یعنی قبضہ تو کر لیا ہے لیکن ابھی اپنے احکام انہوں نے جاری نہیں کیے اور اس سے پہلے ہی امام نے ان پر حملہ کر دیا، تو اس صورت میں جب باغیوں نے اپنے احکام وہاں جاری نہیں کیے تو گویا امام کی ولایت ابھی بھی وہاں موجود تھی، جب ولایت موجود تھی تو اب اس قتل کی وجہ سے قصاص یا دیت آئے گی بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ غَلَبُوا عَلَى مِصْرٍ فَقَتَلَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْمِصْرِ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْمِصْرِ“ اور اگر باغی کسی شہر پر غالب آگئے تو شہر والوں میں سے ایک آدمی نے قتل کر دیا شہر والوں میں سے ہی ایک آدمی کو، شہر والوں میں سے ایک آدمی نے دوسرے آدمی کو قتل کر دیا ”عَمْدًا“ جان بوجھ کر ”ثُمَّ ظُهِرَ عَلَى الْمِصْرِ“ پھر اس شہر پر غلبہ پا لیا گیا ”فَإِنَّهُ يُقْتَصُّ مِنْهُ“ تو یہاں اس قاتل سے قصاص لیا جائے گا ”وَتَأْوِيلُهُ“ تاویل اس کی یہ ہے، تاویل بیان کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں بھئی! آپ نے تو ہمیں بتایا کہ باغیوں میں سے کوئی ایک دوسرے کو قتل کر دے تو وہاں امام کو ولایت نہیں ہوتی تو وہاں قصاص اور دیت نہیں آتے، تو یہاں پر بھی تو باغیوں کا قبضہ تھا جس میں ایک آدمی نے دوسرے آدمی کو قتل کیا ہے، تو یہاں بھی دیت یا قصاص نہیں آنا چاہیے، لیکن آپ کہہ رہے ہیں کہ یہاں قصاص لیا جائے گا، تو کہتے ہیں یہ تاویل اس مسئلے کی یہ ہے کہ یہ اس صورت میں ہے جب باغیوں نے ابھی اپنے احکام جاری نہ کیے ہوں۔ جب باغیوں نے ابھی تک اپنے احکام جاری نہیں کیے تو گویا ابھی بھی امام ہی کو ولایت حاصل ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَتَأْوِيلُهُ إِذَا لَمْ يَجْرِ عَلَى أَهْلِهِ أَحْكَامُهُمْ“ اور تاویل اس کی یہ ہے کہ جب جاری نہیں ہوئے تھے ان شہر والوں پر باغیوں کے احکام، جب ابھی جاری نہیں ہوئے تھے ”وَأُزْعِجُوا قَبْلَ ذَلِكَ“ أزعج يزعج إزعاج کا معنی ہے پریشان کرنا، بے آرام کرنا، یعنی باغیوں نے ابھی اپنے احکام جاری نہیں کیے تھے اس سے پہلے ہی امام نے ان کو پریشان کر دیا، یعنی ان سے لڑائی شروع کر دی۔ تو کہتے ہیں: ”وَأُزْعِجُوا قَبْلَ ذَلِكَ“ اور اس سے پہلے ہی ان باغیوں کو پریشان کر دیا گیا ”وَفِي ذَلِكَ لَمْ تَنْقَطِعْ وِلَايَةُ الْإِمَامِ“ اور اس صورت کے اندر امام کی ولایت منقطع نہیں ہوئی ”فَيَجِبُ الْقِصَاصُ“ تو قصاص واجب ہوگا۔ ”وَإِذَا قَتَلَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْعَدْلِ بَاغِيًا“ بھئی! صورت یہ ہے کہ مسلمانوں اور باغیوں کے درمیان لڑائی ہوئی تو یاد رکھو، یہ جو امام کی طرف سے لڑ رہے ہیں یہ باغیوں کو قتل کرتے ہیں یا ان کے مال کو تلف کرتے ہیں تو ان پر کوئی ضمان نہیں آئے گا۔ نہ قتل کا ضمان آئے گا کیونکہ وہ ناحق قتل نہیں کر رہا اور نیز مال کا ضمان بھی نہیں آئے گا۔ اسی طرح باغیوں کی طرف سے اگر کوئی مسلمانوں کو قتل کرتا ہے یا ان کے مال کو نقصان پہنچاتا ہے اور بعد میں پھر وہ توبہ کر لیتے ہیں، مثلاً ایک آدمی ہے باغیوں کی طرف سے لڑتے ہوئے اس نے بعض مسلمانوں کو قتل کیا ہے یا ان کے مال کو نقصان پہنچایا ہے، تو کیا اس سے جان یا مال کا ضمان لیا جائے گا؟ تو آپ کو بتلائیں گے کہ نہیں، ہمارے نزدیک باغی پر بھی نہ جان کا ضمان آئے گا اور نہ مال کا ضمان آئے گا۔ تو یہ دنیاوی حکم ہے، ہاں آخرت کے اعتبار سے وہ گنہگار ہے، اس نے قتل کا عظیم جرم کیا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِذَا قَتَلَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْعَدْلِ بَاغِيًا“ اور جب کوئی آدمی جو اہل عدل میں سے ہے وہ کسی باغی کو قتل کر دے ”فَإِنَّهُ يَرِثُهُ“ تو یہ شخص اس کا وارث بنے گا۔ بھئی! آپ جانتے ہیں وارث اپنے مورث کو قتل کر دے تو وہ وراثت سے محروم ہو جاتا ہے، بیٹے نے اگر اپنے باپ کو قتل کر دیا تو بیٹا وراثت سے محروم ہوگا، اسے کوئی مال نہیں ملے گا۔ وجہ یہ کہ دلوں میں بدگمانی آتی ہے کہ شاید اس نے اسی لیے باپ کو قتل کیا تاکہ جلدی سے مجھے مالِ وراثت مل جائے، لہٰذا شریعت نے اس کو پورے طور پر ہی محروم کر دیا بھئی۔ اب صورت یہ کہ مثلاً باپ جو ہے وہ باغیوں کی طرف سے ہے اور بیٹا امام کی طرف سے لڑ رہا ہے، تو بیٹا اپنے باپ کو قتل کر دے، یا باپ جو باغی ہے وہ امام کی طرف سے لڑنے والے اپنے بیٹے کو قتل کر دے، تو کیا یہ ایک دوسرے کے وارث بنیں گے یا نہیں؟ بعد میں توبہ کر لیتے ہیں تو کیا یہ ایک دوسرے کے وارث بنیں گے یا نہیں؟ تو آپ کو بتلائیں گے کہ اگر امام کی طرف سے لڑنے والے نے اپنے مورث کو قتل کر دیا تو یہ وارث بنے گا، کیونکہ یہ ناحق قتل نہیں کر رہا، یہ عین حق کے مطابق قتل کر رہا ہے اس کو، کیونکہ وہ باغی تھا، وہ مورث جو مورث تھا وہ باغی تھا، لہٰذا اس کو قتل کر رہا ہے تو یہ حق کے ساتھ قتل ہے، لہٰذا اس کی وجہ سے وہ وراثت سے محروم نہیں ہوگا، یہ وارث بنے گا۔ جبکہ اگر باغیوں کی طرف سے ایک آدمی نے اپنے مورث کو قتل کر دیا جو امام کی طرف تھا، مورث کس کی طرف تھا؟ امام کی طرف۔ بھئی! آپ نے پڑھا ہے کہ جیسے بیٹا باپ کا وارث بنتا ہے، اسی طرح اگر بیٹا مر جائے تو باپ بھی اس کا وارث بنتا ہے بھئی۔ تو اگر باغیوں کی طرف سے لڑنے والے باپ نے امام کی طرف سے لڑنے والے اپنے بیٹے کو قتل کر دیا، تو کیا یہ باپ وارث بنے گا یا نہیں جس نے اپنے مورث کو قتل کیا ہے؟ تو آپ کو بتلائیں گے کہ اگر بعد میں باپ توبہ کر لیتا ہے، تو اگر اس کا وہی مذہب اور عقیدہ ہے جو پہلے تھا، وہی مذہب ہے، میں نے آپ کو بتلایا باغی کسے کہتے ہیں؟ باغی اسے کہتے ہیں کہ جو کہتے ہیں ہم حق پر ہیں، قرآن اور حدیث میں وہ تاویل کرتے ہیں کہ ہم حق پر ہیں تم ناحق ہو، جیسے خوارج کرتے تھے بھئی۔ تو میں نے آپ کو بتلایا کہ اگر وہ باغی یہ کہتا ہے کہ میں پہلے بھی حق پر تھا میں آج بھی حق پر ہوں، میری بات صحیح تھی، تو اس صورت میں اس باغی کے خیال میں اس نے بھی قتل جو کیا وہ حق کے مطابق ہی کیا ہے، اس کے خیال میں میں نے کوئی ناحق قتل نہیں کیا، لہٰذا یہ وارث بنے گا۔ اور اگر باغی جو ہے اس نے توبہ کر لی ہے اور بعد میں اعتراف کرتا ہے کہ واقعی میں حق پر نہیں تھا، میں نے ناحق ہی اپنے مورث کو قتل کیا، تو پھر اس صورت میں یاد رکھو یہ وارث نہیں بنے گا۔ بات سمجھ میں آگئی؟ دیکھیے صاحبِ ہدایہ اور واضح الفاظ میں بیان فرمائیں گے۔ کہتے ہیں: ”وَإِذَا قَتَلَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْعَدْلِ بَاغِيًا فَإِنَّهُ يَرِثُهُ“ اور جب اہل عدل میں سے ایک آدمی نے کسی باغی کو قتل کر دیا تو یہ اہل عدل میں سے جو آدمی ہے یہ اس مقتول باغی کا وارث بنے گا ”فَإِنْ قَتَلَهُ الْبَاغِي“ اور اگر باغی نے اس کو قتل کیا، برعکس صورت بھئی، باغی نے اپنے مورث کو قتل کر دیا جو کس کی طرف سے لڑنے آیا تھا؟ امام کی طرف سے۔ کہتے ہیں: ”فَإِنْ قَتَلَهُ الْبَاغِي“ اور اگر باغی نے اہل عدل میں سے اس آدمی اپنے مورث کو قتل کر دیا ”وَقَالَ“ اور وہ کہتا ہے، بعد میں توبہ کے بعد کہتا ہے: ”قَدْ كُنْتُ عَلَى حَقٍّ“ کہ میں اس وقت بھی حق پر تھا ”وَأَنَا الْآنَ عَلَى حَقٍّ“ اور اب بھی میں حق پر ہوں ”وَرِثَهُ“ تو اس صورت میں یہ وارث بنے گا، وارث بنے گا۔ ”وَإِنْ قَالَ“ اور اگر وہ باغی جس نے توبہ کر لی ہے وہ کہتا ہے: ”قَتَلْتُهُ وَأَنَا أَعْلَمُ أَنِّي عَلَى الْبَاطِلِ“ میں نے اس کو قتل کیا اور میں جانتا ہوں کہ میں باطل پر تھا، میں باطل پر تھا اب مجھے حق کا پتہ چلا ہے ”لَمْ يَرِثْهُ“ تو اس صورت میں یہ وارث نہیں بنے گا۔ ”وَهَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللَّهُ“ اور یہ طرفین رحمہما اللہ کے نزدیک ہے۔ ”وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى: لَا يَرِثُ الْبَاغِي فِي الْوَجْهَيْنِ“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ باغی دونوں صورتوں میں وارث نہیں بنے گا، چاہے وہ کہے کہ میں حق پر تھا، چاہے وہ کہے میں باطل پر تھا، دونوں صورتوں میں وہ وارث نہیں بنے گا۔ ”وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور یہی قول ہے امام شافعی رحمہ اللہ کا بھی۔ ”وَأَصْلُهُ“ اور اس اختلاف کی اصل یہ ہے ”أَنَّ الْعَادِلَ إِذَا أَتْلَفَ نَفْسَ الْبَاغِي أَوْ مَالَهُ“ کہ عادل جب باغی کی جان یا مال کو تلف کر دے، اس کو ہلاک کر دے ”لَا يَضْمَنُ“ تو وہ ضامن نہیں ہوگا، نہ تو باغی کی جان کا ضمان آئے گا اور نہ باغی کے مال کا ضمان آئے گا ”وَلَا يَأْثَمُ“ اور گنہگار بھی نہیں ہوگا کیونکہ یہ اس نے حق کے ساتھ قتل کیا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا يَأْثَمُ“ اور گنہگار بھی نہیں ہوگا ”لِأَنَّهُ مَأْمُورٌ بِقِتَالِهِمْ“ اس لیے کیونکہ یہ تو مامور تھا ان کے قتال پر، یعنی اس کو تو حکم دیا گیا ہے ان کے قتال کا کہ فتنے کو ختم کیا جائے، تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ مَأْمُورٌ بِقِتَالِهِمْ دَفْعًا لِشَرِّهِمْ“ اس لیے کیونکہ عادل جو ہے اس کو تو ان کے قتال کا حکم دیا گیا ہے ان کے شر کو دور کرنے کے لیے ”وَالْبَاغِي إِذَا قَتَلَ الْعَادِلَ لَا يَجِبُ الضَّمَانُ عِنْدَنَا“ اور باغی جب عادل آدمی کو قتل کر دے تو ضمان نہیں آئے گا ہمارے نزدیک ”وَيَأْثَمُ“ اور گنہگار ہوگا، گناہ ہوگا بھئی۔ ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى فِي الْقَدِيمِ: إِنَّهُ يَجِبُ“ اور امام شافعی رحمہ اللہ اپنے پرانے قول میں فرماتے ہیں کہ ضمان واجب ہوگا، باغی نے اگر مسلمان کو قتل کیا ہے تو ضمان آئے گا۔ تو وہ فرماتے ہیں کہ ضمان واجب ہوگا اس باغی پر ”وَعَلَى هَذَا الْخِلَافِ إِذَا تَابَ الْمُرْتَدُّ وَقَدْ أَتْلَفَ نَفْسًا أَوْ مَالًا“ اور اسی اختلاف پر ہے جب مرتد توبہ کر لے اور تحقیق اس نے نفس یا مال کو تلف کیا ہے۔ صورت یہ ہے: ایک مسلمان یہاں سے مرتد ہو کر دار الحرب چلا گیا اور پھر دار الحرب والوں کی طرف سے مسلمانوں سے اس نے لڑائی بھی کی اور اس لڑائی کے اندر اس مرتد نے مسلمانوں کو جانی نقصان بھی پہنچایا اور مالی بھی، کچھ مسلمانوں کو بھی قتل کیا اور ان کا مال بھی ہلاک کیا اور پھر بعد میں اس مرتد نے توبہ کر لی، تو کیا اس مرتد پر ضمان آئے گا؟ ہم کہتے ہیں: نہیں، اس مرتد پر کوئی ضمان نہیں آئے گا۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نہیں، اس مرتد پر بھی ضمان آئے گا، جیسے باغی پر ضمان آتا ہے اس مرتد پر بھی ضمان آئے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَعَلَى هَذَا الْخِلَافِ إِذَا تَابَ الْمُرْتَدُّ وَقَدْ أَتْلَفَ نَفْسًا أَوْ مَالًا“ اور اسی اختلاف پر ہے جب ایک مرتد توبہ کر لے اس حال میں کہ اس نے جان یا مال کو ہلاک کیا ہے۔ ”لَهُ“ امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل یہ ہے ”أَنَّهُ أَتْلَفَ مَالًا مَعْصُومًا أَوْ قَتَلَ نَفْسًا مَعْصُومَةً“ بھئی! بات چل رہی ہے کہ باغی پر ضمان آئے گا یا نہیں۔ درمیان میں صرف بتلایا کہ مرتد کے مسئلے میں بھی اسی طرح اختلاف ہے، تو اس باغی کے مسئلے میں امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل ذکر کر رہے ہیں کہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: باغی پر جان اور مال کا ضمان آئے گا، باغی نے امام کی طرف سے لڑنے والے کسی مسلمان کو قتل کیا ہے یا اس کے مال کو ہلاک کیا ہے تو باغی پر ضمان آئے گا۔ وجہ یہ کہ مسلمان کی جان اور مال محفوظ ہے، تو اس شخص نے، اس باغی نے ایک معصوم اور محفوظ جان کو قتل کیا ہے یا ایک معصوم اور محفوظ مال کو ہلاک کیا ہے تو اس پر ضمان آئے گا۔ ”لَهُ أَنَّهُ أَتْلَفَ مَالًا مَعْصُومًا أَوْ قَتَلَ نَفْسًا مَعْصُومَةً فَيَجِبُ الضَّمَانُ“ امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل یہ ہے کہ اس باغی نے محفوظ مال کو ہلاک کیا ہے یا اس نے ایک معصوم جان کو قتل کیا ہے تو ضمان واجب ہوگا ”اعْتِبَارًا بِمَا قَبْلَ الْمَنَعَةِ“ قیاس کرتے ہوئے قوت سے پہلے پر۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا منعہ کا معنی قوت بھی اور منعہ کے معنی لشکر بھی۔ بھئی دیکھیے، باغیوں کے لیے قوت چاہیے لڑنے کے لیے، دو چار آدمی تو لڑائی نہیں کر سکتے امام کے ساتھ بھئی، تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جیسے باغیوں کے قوت پکڑنے سے پہلے اگر یہ باغی کسی عام مسلمان کو قتل کرتا یعنی جانی نقصان پہنچاتا یا مالی نقصان پہنچاتا تو اس شخص پر ضمان آنا تھا، تو جیسے قوت پکڑنے سے پہلے اس پر ضمان آنا تھا تو قوت پکڑنے کے بعد بھی اس پر ضمان آئے گا۔ تو یہ معنی ہے: ”اعْتِبَارًا بِمَا قَبْلَ الْمَنَعَةِ“ قیاس کرتے ہوئے قوت سے پہلے پر۔ ”وَلَنَا“ اب ہماری دلیل آگئی ”وَلَنَا إِجْمَاعُ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمْ رَوَاهُ الزُّهْرِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ“ امام زہری بھئی، امام ابن شہاب زہری رحمہ اللہ بھئی، یہ جلیل القدر تابعی گزرے ہیں اور بہت عظیم محدث ہیں بھئی، اور ان کی وفات ہوئی ہے 123 یا 124 ہجری میں بھئی، تو یہ جلیل القدر تابعی ہیں بھئی۔ وہ صحابہ کے اجماع کو نقل فرماتے ہیں، چنانچہ کہتے ہیں: خلیفہ نے ان کی طرف ایک مسئلہ لکھ کر بھیجا، ان سے پوچھا کہ ایک عورت تھی شادی شدہ تھی اور پھر وہ اپنے خاوند اور قبیلے کو چھوڑ کر خوارج سے جا ملی اور کہتی تھی میرے خاوند اور قبیلے والے سب مشرک ہو گئے ہیں اور پھر وہاں اس نے خوارج میں سے کسی سے نکاح کر لیا، اور پھر اس کے بعد کچھ عرصے کے بعد پھر وہ توبہ کر کے واپس آگئی، تو خلیفہ نے امام زہری کو خط لکھا کہ اب آپ ہمیں بتائیے اس مسئلے میں کیا کیا جائے؟ تو امام زہری فرمانے لگے کہ حضور علیہ السلام کے صحابہ جن میں سے بہت سے بدر کے اندر بھی حاضر تھے، ان صحابہ کی رائے اس بات پر جمع ہوئی تھی کہ اگر کوئی شخص قرآن میں تاویل کے ذریعے کسی عورت کو حلال سمجھتا ہے تو اس پر حد جاری نہیں کی جا سکتی، اور اسی طرح اگر کوئی قرآن میں تاویل کے ذریعے کسی مسلمان کے قتل کو جائز سمجھتا ہے تو اس سے بھی قصاص نہیں لیا جا سکتا۔ اور میری رائے یہ ہے، میری رائے اس مسئلے کے اندر یہ ہے کہ اس عورت کو اس کے پہلے خاوند ہی کو دے دیا جائے، اور اگر اس عورت پر کوئی زنا کا الزام لگاتا ہے تو اس پر حد جاری کی جائے۔ یعنی یہ جو دوسرے آدمی سے جا کر اس نے نکاح کر لیا تھا اور کوئی اس عورت کو کہتا ہے کہ تم تو زنا کر کے آئی ہو، تو اس صورت میں اس آدمی پر حد جاری کی جائے گی تہمت لگانے والے پر۔ وجہ یہ کہ اس عورت نے قرآن سے دلیل پکڑی تھی بھئی، قرآن میں تاویل کی تھی، اگرچہ تاویل فاسد تھی لیکن اس کی تاویل کے مطابق اس کا خاوند اور قبیلے والے مشرک ہو گئے تھے اور اس کے اعتقاد کے مطابق اس کا ان سے نکاح ٹوٹ گیا تھا، لہٰذا اس کے نزدیک آگے نکاح جائز تھا بھئی۔ تو معلوم ہوا امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جو شخص قرآن میں فاسد تاویل کر کے کسی مسلمان کے خون کو مباح سمجھتا ہے تو وہاں قصاص نہیں آئے گا، بات سمجھ میں آگئی؟ ”وَلَنَا إِجْمَاعُ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمْ رَوَاهُ الزُّهْرِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى“ ہماری دلیل جو ہے وہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کا اجماع ہے جس کو امام زہری رحمہ اللہ نے روایت فرمایا ہے۔ ”وَلِأَنَّهُ أَتْلَفَ عَنْ تَأْوِيلٍ فَاسِدٍ“ اور اس لیے کیونکہ باغی نے اس جان یا مال کو تلف کیا ہے فاسد تاویل کے ذریعے، فاسد تاویل کے ذریعے، بھئی یاد رکھو! یہ جو خوارج تھے یہ مسلمانوں کے خون کو مباح سمجھتے تھے۔ وجہ یہ کہ یہ قرآن ہی سے دلیل پکڑتے تھے، اگرچہ ان کی تاویل فاسد تھی لیکن وہ کہتے تھے قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ﴿وَمَنْ يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَإِنَّ لَهُ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا﴾، جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے تو اس کے لیے جہنم کی آگ ہے اور وہ ہمیشہ اس کے اندر رہے گا۔ وہ کہتے تھے معلوم ہوا جو بھی اللہ کی نافرمانی کرے گا وہ کافر ہو گیا، وہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا، چاہے صغیرہ گناہ کرے چاہے کبیرہ کرے، ہر گناہ کرنے والا کافر ہے۔ ہر گناہ کرنے والا کافر ہے، تو اگرچہ ان کی یہ تاویل فاسد ہے لیکن بہرحال وہ قرآن سے تاویل تو کرتے تھے، اور یاد رکھنا آپ کو بتلائیں گے صاحبِ ہدایہ کہ قرآن میں تاویلِ فاسد کی جائے اور ان لوگوں کو قوت بھی حاصل ہو، تو تاویلِ فاسد کے ساتھ جب قوت مل جائے گی تو یہ دفع کی دلیل تو بن سکتی ہے اس بات کی دلیل نہیں۔ تاویلِ فاسد کے ساتھ کیا مل جائے؟ قوت مل جائے۔ یہ باغیوں کو بھی دیکھو قوت ان کو مل گئی تھی لشکر تھا ان کا، یہ باقاعدہ مسلمانوں سے لڑائی کر رہے تھے۔ تو جب بھی تاویلِ فاسد کے ساتھ قوت مل جائے طاقت مل جائے تو یہ دفع کی دلیل تو بن سکتی ہے اثبات کی دلیل نہیں، یعنی اثبات کی دلیل نہیں بن سکتی اس کے ذریعے کسی چیز کو ثابت نہیں کیا جا سکتا، ہاں اس کے ذریعے کسی چیز کو دفع کیا جا سکتا ہے۔ جیسے یہاں پر ان باغیوں کو قوت بھی ہے اور نیز یہ قرآن میں تاویل بھی کرتے ہیں تو تاویلِ فاسد قوت کے ساتھ مل گئی، لہٰذا یہ دفع کی دلیل بنے گی اور ان پر ضمان نہیں آئے گا۔ ضمان ان سے دور ہو جائے گا۔ تو دیکھو معلوم ہوا تاویلِ فاسد کے ساتھ جب قوت مل جائے تو یہ دفع کی دلیل بن سکتی ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّهُ أَتْلَفَ عَنْ تَأْوِيلٍ فَاسِدٍ“ اور اس لیے کیونکہ باغی نے جو ہے وہ تاویلِ فاسد سے تلف کیا ہے، بھئی ہمارا اور امام شافعی رحمہ اللہ کا اختلاف چل رہا ہے، امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک باغی پر ضمان آئے گا جان کا بھی اور مال کا بھی جب اس نے عام مسلمانوں کے مال اور جان کو نقصان پہنچایا ہے، جبکہ ہمارے نزدیک باغی پر کوئی ضمان نہیں آئے گا۔ تو ہمارے نزدیک: ”وَلِأَنَّهُ أَتْلَفَ عَنْ تَأْوِيلٍ فَاسِدٍ“ اس لیے کیونکہ باغی نے اس جان اور مال کو تلف کیا ہے فاسد تاویل کے ذریعے ”وَالْفَاسِدُ مِنْهُ مُلْحَقٌ بِالصَّحِيحِ“ اور فاسد تاویل جو ہے اس کو بھی ملایا گیا ہے صحیح کے ساتھ، جیسے صحیح تاویل کے ذریعے حکم ثابت ہو جاتا ہے یہاں فاسد تاویل کے ذریعے بھی دفع ثابت ہو جائے گی۔ کہتے ہیں: ”وَالْفَاسِدُ مِنْهُ مُلْحَقٌ بِالصَّحِيحِ إِذَا ضُمَّتْ إِلَيْهِ الْمَنَعَةُ“ اور فاسد تاویل جو ہے اس کو بھی صحیح تاویل کے ساتھ ملایا گیا ہے جب اس کے ساتھ قوت مل جائے، جب اس فاسد تاویل کے ساتھ قوت مل جائے ”فِي حَقِّ الدَّفْعِ“ بھئی فاسد کو صحیح کے ساتھ ملایا گیا ہے کس چیز میں؟ کہتے ہیں: ”فِي حَقِّ الدَّفْعِ“ کسی چیز کو کسی حکم کو دفع کرنے میں، دور کرنے میں، جیسے یہاں ضمان کو دور کرنے میں یہ مؤثر ہوگی بھئی۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے، کہتے ہیں: ”وَالْفَاسِدُ مِنْهُ مُلْحَقٌ بِالصَّحِيحِ إِذَا ضُمَّتْ إِلَيْهِ الْمَنَعَةُ فِي حَقِّ الدَّفْعِ“ اور فاسد تاویل جو ہے اس کو بھی صحیح تاویل کے ساتھ ملایا گیا ہے جب اس کے ساتھ قوت مل جائے، اور کس چیز میں فاسد تاویل کو صحیح کے ساتھ ملایا گیا ہے؟ ”فِي حَقِّ الدَّفْعِ“ دفع کے حق میں، یعنی دفعِ ضمان کے حق میں ”كَمَا فِي مَنَعَةِ أَهْلِ الْحَرْبِ وَتَأْوِيلِهِمْ“ جیسے کہ اہل حرب کی قوت اور ان کی تاویل میں ہے۔ حربیو ں میں سے بعض لوگ مسلمان ہو گئے لیکن یہی حربی مسلمانوں کے ساتھ جنگ کر چکے ہیں اور انہوں نے مسلمانوں کو جانی اور مالی نقصان پہنچایا ہے تو ان پر ضمان نہیں آئے گا۔ ان حربیو ں پر ضمان نہیں آئے گا کیونکہ ان کو قوت بھی حاصل تھی، یہ ہمارے ساتھ لڑ رہے تھے ان کو قوت بھی حاصل تھی اور یہ تاویل بھی کرتے تھے، یہ تو مسلمانوں کے خون کو مباح سمجھتے تھے اس وقت بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”كَمَا فِي مَنَعَةِ أَهْلِ الْحَرْبِ وَتَأْوِيلِهِمْ“ جیسے اہل حرب کی قوت اور ان کی تاویل کے اندر ہے کہ اس میں تو بالاتفاق کسی کے نزدیک بھی اس مسلمان ہونے والے حربی پر ضمان نہیں آئے گا تو یہاں بھی باغی پر ضمان نہیں آئے گا۔ ”وَهَذَا لِأَنَّ الْأَحْكَامَ لَا بُدَّ فِيهَا مِنَ الْإِلْزَامِ أَوِ الِالْتِزَامِ“ بھئی وجہ یہ دو شرطیں لگا دیں، ایک تو یہ کہ تاویل بھی ہو اور دوسرا قوت بھی ہو۔ تاویل کا ہونا بھی ضروری، قرآن اور حدیث سے باقاعدہ وہ دلیل ذکر کرتے ہوں، اور نیز ان کو قوت بھی حاصل ہو۔ وجہ یہ کہ احکام کے لیے ضروری ہے الزام یا التزام۔ ألزم يلزم إلزام کا معنی ہے دوسرے پر حکم کو لازم کرنا، اور التزم يلتزم کا معنی ہے اپنے اوپر حکم کو لازم کرنا۔ تو جب ان لوگوں کے پاس قوت ہے، باغیوں کے پاس قوت ہے تو الزام نہیں یعنی ہم ان پر احکام کو لازم نہیں کر سکتے، اور نیز جب وہ قرآن میں تاویل کر رہے ہیں تو معلوم ہوا انہوں نے اس حکم کا اپنے اوپر التزام بھی نہیں کیا۔ توجہ ہے؟ تو نہ الزام ہے اور نہ التزام ہے، تو لہٰذا ان پر ضمان نہیں آئے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَهَذَا لِأَنَّ الْأَحْكَامَ لَا بُدَّ فِيهَا مِنَ الْإِلْزَامِ أَوِ الِالْتِزَامِ“ اور اس لیے کیونکہ احکام کے اندر ضروری ہے الزام یا التزام کا ہونا ”وَلَا الْتِزَامَ“ اور یہاں التزام نہیں ہے، باغیوں نے اپنے اوپر التزام نہیں کیا، کیوں؟ کہتے ہیں: ”لِاعْتِقَادِ الْإِبَاحَةِ عَنْ تَأْوِيلٍ“ اس لیے کیونکہ وہ اباحت کا اعتقاد رکھتے ہیں تاویل سے، وہ مسلمانوں کے خون کو مباح سمجھتے ہیں تاویل سے۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا الْتِزَامَ لِاعْتِقَادِ الْإِبَاحَةِ عَنْ تَأْوِيلٍ“ اور یہاں التزام نہیں ہے اس لیے کیونکہ یہ تاویل کے ذریعے اباحت کا اعتقاد رکھتے ہیں ”وَلَا إِلْزَامَ“ اور یہاں الزام بھی نہیں ہے ”لِعَدَمِ الْوِلَايَةِ لِوُجُودِ الْمَنَعَةِ“ ولایت نہ ہونے کی وجہ سے قوت کے پائے جانے کی وجہ سے، ان کی قوت اور ان کے لشکر کے پائے جانے کی وجہ سے امام کو بھی ان پر ولایت نہیں ہے کہ ان پر حکم کو لازم کر سکے۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا إِلْزَامَ لِعَدَمِ الْوِلَايَةِ لِوُجُودِ الْمَنَعَةِ“ اور الزام بھی نہیں ہے باغی پر احکام کا لازم کرنا بھی نہیں ہے امام کی ولایت نہ ہونے کی وجہ سے بوجہ ان کے لشکر کے پائے جانے کے ”وَالْوِلَايَةُ بَاقِيَةٌ قَبْلَ الْمَنَعَةِ“ اور ولایت جو ہے وہ تو باقی ہوتی ہے لشکر اور قوت سے پہلے۔ یہ جواب دے رہے ہیں امام شافعی رحمہ اللہ کا، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے تھے جیسے باغیوں کے قوت اور لشکر سے پہلے اگر ان میں سے کوئی کسی مسلمان کو جانی یا مالی نقصان پہنچاتا تھا تو اس پر ضمان آتا تھا، تو لشکر اور قوت ملنے کے بعد بھی ان پر ضمان آئے گا، تو اس کا جواب دے رہے ہیں کہ ان کی قوت اور ان کے لشکر سے پہلے تو خلیفہ کو ان پر ولایت حاصل تھی اس لیے اس صورت میں تو ضمان آئے گا، لیکن جب ان کو قوت حاصل ہو گئی اور تاویل بھی موجود ہے تو اب امام کو ان پر ولایت بھی نہیں اور انہوں نے التزام بھی نہیں کیا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْوِلَايَةُ بَاقِيَةٌ قَبْلَ الْمَنَعَةِ“ اور باغیوں کی قوت اور لشکر سے پہلے تو امام کی ولایت باقی ہے ”وَعِنْدَ عَدَمِ التَّأْوِيلِ“ اور جب یہ تاویل نہیں کرتے، بھئی میں نے بتایا دو چیزیں ملیں گی تو پھر ہی یہ دفع کی دلیل بنے گی: ایک تاویل بھی کرتے ہوں قرآن اور حدیث سے دلیل بھی پکڑتے ہوں، اور ان کو قوت اور لشکر بھی حاصل ہو۔ کہتے ہیں: ”وَعِنْدَ عَدَمِ التَّأْوِيلِ ثَبَتَ الِالْتِزَامُ اعْتِقَادًا“ اور تاویل نہ ہوتے وقت التزام ثابت ہے باعتبار اعتقاد کے۔ اگر صرف قوت ہے ان کے پاس لیکن یہ قرآن اور حدیث میں کوئی تاویل نہیں کرتے، جب تاویل نہیں کر رہے معلوم ہوا احکام کو یہ اپنے اوپر لازم کر رہے ہیں، ان احکام کو اپنے اوپر لازم کر رہے ہیں، تو صرف لشکر ہو اور تاویل نہ ہو تو بھی ان پر ضمان آئے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَعِنْدَ عَدَمِ التَّأْوِيلِ ثَبَتَ الِالْتِزَامُ اعْتِقَادًا“ اور تاویل نہ ہوتے وقت اعتقاد کے اعتبار سے التزام میں حکم ثابت ہو جائے گا ”بِخِلَافِ الْإِثْمِ“ بخلاف گناہ کے بھئی، گناہ ہر حال میں ہوگا چاہے ان کو قوت ہو چاہے قوت نہ ہو بھئی، یعنی مسلمان کو جانی یا مالی نقصان دیا ہے ان باغیوں نے تو گناہ ہر حال میں ہوگا۔ توجہ ہے؟ یعنی دنیاوی سزا تو نہیں ضمان تو نہیں آئے گا نہ قصاص اور دیت بھی نہیں اور مال تلف کیا ہے اس کا ضمان بھی نہیں، لیکن گناہ ہوگا۔ کہتے ہیں: ”بِخِلَافِ الْإِثْمِ لِأَنَّهُ لَا مَنَعَةَ فِي حَقِّ الشَّارِعِ“ بخلاف گناہ کے اس لیے کیونکہ کوئی قوت نہیں ہے شارع کے حق میں، شارع کے حق میں ان کی قوت کا کوئی اعتبار نہیں ہے تو گناہ ہوگا ان کو ہر حال میں۔ ”إِذَا ثَبَتَ هَذَا فَنَقُولُ“ جب یہ بات ثابت ہو گئی تو ہم کہتے ہیں ”قَتْلُ الْعَادِلِ الْبَاغِيَ قَتْلٌ بِحَقٍّ“ کہ عادل آدمی کا باغی کو قتل کرنا قتلِ باحق ہے، یہ حق کے ساتھ قتل ہے ”فَلَا يَمْنَعُ الْإِرْثَ“ لہٰذا یہ وارث ہونے سے مانع نہیں۔ لہٰذا عادل باغی کو قتل کرے پھر بھی وارث بنے گا۔ اور باقی اگر باغی اپنے مورث کو قتل کرے تو ہم نے بتایا کہ اگر وہ بعد میں بھی کہتا ہے کہ میں پہلے بھی حق پر تھا آج بھی حق پر ہوں تو پھر تو وارث بنے گا، اور اگر کہتا ہے کہ میں پہلے باطل پر تھا جب میں نے قتل کیا تھا تو اب وارث نہیں بنے گا۔ لیکن امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں دونوں صورتوں میں باغی جو ہے وارث نہیں بنے گا، چاہے وہ یہ کہے میں پہلے بھی حق پر تھا اور اب بھی حق پر ہوں، اور چاہے وہ کہے میں پہلے باطل پر تھا، دونوں صورتوں میں امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں حرمانِ میراث ہوگا، یہ اپنے اس مورث کا وارث نہیں بنے گا جسے اس نے قتل کیا تھا۔ تو کہتے ہیں: ”وَلِأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى فِي قَتْلِ الْبَاغِي الْعَادِلَ“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی دلیل باغی کے عادل کو قتل کرنے کی صورت میں امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی دلیل یہ ہے ”أَنَّ التَّأْوِيلَ الْفَاسِدَ إِنَّمَا يُعْتَبَرُ فِي حَقِّ الدَّفْعِ“ اچھا، بھئی میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ تاویلِ فاسد دفع کی دلیل تو بن سکتی ہے اثبات کی دلیل نہیں بن سکتی۔ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ باغی اس نے مسلمان کو قتل کیا ہے اپنے مورث کو قتل کیا ہے اور یہ تاویلِ فاسد کرتا ہے، لیکن تاویلِ فاسد دفع کی دلیل تو بن سکتی ہے اثبات کی نہیں، اور یہاں اثباتِ ارث کا مسئلہ ہے کہ وراثت ثابت کرنی ہے بھئی، تو تاویلِ باطل وہ دفع کی دلیل تو بن سکتی ہے اثبات کی دلیل نہیں یعنی اثباتِ وراثت کی دلیل نہیں بن سکتی، لہٰذا یہ وارث نہیں بنے گا۔ تو کہتے ہیں امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی دلیل یہ ہے: ”أَنَّ التَّأْوِيلَ الْفَاسِدَ إِنَّمَا يُعْتَبَرُ فِي حَقِّ الدَّفْعِ“ کہ تاویلِ فاسد جو ہے وہ دفع کے حق میں تو معتبر ہے ”وَالْحَاجَةُ هَاهُنَا إِلَى الْإِثْبَاتِ“ اور ضرورت یہاں اثبات کی طرف ہے۔ اور یہاں پر جو حاجت ہے، وہ وارث ہونے کا استحقاق ہے کہ وراثت کا مستحق ہے، یعنی ایک چیز کہ اس بات کی ضرورت ہے، اور یہ اس بات کی دلیل نہیں بن سکتا۔ ”فَلَا يَكُونُ التَّأْوِيلُ مُعْتَبَرًا فِي حَقِّ الْإِرْثِ“ لہٰذا تاویل جو ہے وہ معتبر نہیں ہوگی وارث ہونے کے حق میں۔ ”وَلَهُمَا فِيهِ“ اب طرفین کی دلیل آ گئی۔ طرفین فرماتے ہیں کہ تاویلِ فاسد دفع کی دلیل بن سکتی ہے، اور یہاں جو یہ شخص وارث بن رہا ہے، یہاں ہم اثبات نہیں کر رہے، دفع ہی کر رہے ہیں۔ اثباتِ وراثت جو ہے، وہ تو قرابت کی وجہ سے وارث ہونا ثابت ہو رہا ہے۔ وہ باغی جس نے اپنے مورث کو قتل کیا ہے، تو وہ جب قریبی رشتہ دار ہے تو قرابت وہ استحقاقِ وراثت کی دلیل ہے کہ یہ بھی وراثت کا مستحق ہے۔ لیکن اس قتل کی وجہ سے کیا حرمانِ میراث آئے گا یا نہیں؟ تو تاویلِ فاسد حرمانِ میراث کو دفع کر دے گی۔ تاویلِ فاسد حرمانِ میراث کو دفع کر دے گی۔ اثباتِ میراث اس کے لیے ہم دلیل نہیں بنا رہے۔ اثباتِ میراث تو کس کے ذریعے ہوا؟ قریبی رشتہ دار ہونے کی وجہ سے۔ یہ وارث بن رہا ہے، کیوں وارث بن رہا ہے؟ قریبی رشتہ دار ہونے کی وجہ سے۔ تو استحقاقِ ارث کی دلیل تو پہلے سے موجود ہے۔ صرف یہاں حرمانِ میراث کا حکم آ رہا تھا اور اس کے دفع کے لیے یہ تاویلِ فاسد دلیل بن سکتی ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَهُمَا فِيهِ“ اور طرفین کی دلیل اس میں وہ یہ ہے ”أَنَّ الْحَاجَةَ إِلَى دَفْعِ الْحِرْمَانِ أَيْضًا“ کہ یہاں پر بھی دفعِ حرمان کی حاجت ہے ”إِذِ الْقَرَابَةُ سَبَبُ الْإِرْثِ“ اس لیے کیونکہ قرابت جو ہے وہ وارث ہونے کا سبب ہے ”فَيُعْتَبَرُ الْفَاسِدُ فِيهِ“ تو اس دفعِ حرمان کے اندر تاویلِ فاسد معتبر ہوگی، اور حرمانِ میراث کو وہ دفع کر دے گی۔ تو کہتے ہیں: ”فَيُعْتَبَرُ الْفَاسِدُ فِيهِ“ تو اس دفعِ حرمان کے اندر تاویلِ فاسد معتبر ہوگی ”إِلَّا أَنَّ مِنْ شَرْطِهِ بَقَاءَهُ عَلَى دِيَانَتِهِ“۔ ”إِلَّا أَنَّ مِنْ شَرْطِهِ“ مگر یہ کہ وارث ہونے کی شرط ہے ”بَقَاءَهُ“ کہ وہ باغی باقی رہے ”عَلَى دِيَانَتِهِ“ اپنے مذہب پر۔ دیانت کا ایک معنی کیا ہے؟ مذہب۔ کہ وہ باغی اپنے مذہب پر باقی رہے، جب وہ اپنے مذہب پر باقی ہے تو یہ تاویلِ فاسد دفع کی دلیل بن جائے گی، لیکن اگر وہ اپنے مذہب سے توبہ کر چکا ہے تو اب دفع کی دلیل بھی موجود نہیں، لہٰذا اس صورت میں یہ وراثت سے محروم ہوگا۔ تو کہتے ہیں: ”إِلَّا أَنَّ مِنْ شَرْطِهِ“ مگر یہ کہ وارث ہونے کی شرط جو ہے ”بَقَاءَهُ“ وہ اس باغی کا باقی رہنا ہے ”عَلَى دِيَانَتِهِ“ اپنے مذہب پر ”فَإِذَا قَالَ كُنْتُ عَلَى الْبَاطِلِ“ اور جب اس نے کہا کہ میں تو باطل پر تھا ”لَمْ يُوجَدِ الدَّافِعُ“ تو اب دافع دلیل نہ پائی گئی یعنی وہ تاویلِ فاسد نہیں ہے ”فَوَجَبَ الضَّمَانُ“ تو ضمان واجب ہوگا۔ ”قَالَ: وَيُكْرَهُ بَيْعُ السِّلَاحِ مِنْ أَهْلِ الْفِتْنَةِ وَفِي عَسَاكِرِهِمْ“ یہاں سے بتلا رہے ہیں کہ باغیوں کو اسلحہ بیچنا مکروہ ہے، یعنی مکروہِ تحریمی ہے بھئی۔ قال، صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”وَيُكْرَهُ بَيْعُ السِّلَاحِ مِنْ أَهْلِ الْفِتْنَةِ“ اور مکروہ ہے اسلحے کا بیچنا اہلِ فتنہ کے ہاتھ پر ”وَفِي عَسَاكِرِهِمْ“ اور ان کے لشکروں میں ”لِأَنَّهُ إِعَانَةٌ عَلَى الْمَعْصِيَةِ“ اس لیے کیونکہ یہ تو گناہ پر مدد کرنا ہے ”وَلَيْسَ بِبَيْعِهِ بِالْكُوفَةِ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ“ بھئی صورت یہ، ایک شخص جو ہے کوفہ کے اندر اسلحہ فروخت کرتا ہے اور یہاں اس سے باغی اسلحہ خرید کر لے کر جاتے ہیں، تو کیا اس کا ان باغیوں کو اسلحہ بیچنا جائز ہے یا نہیں؟ توجہ ہے؟ تو یاد رکھو، بھئی اگر اس کو علم ہی نہیں ہے کہ یہ باغی ہے، پھر تو اس کو بیچنے میں کوئی گناہ نہیں ہے، لیکن اگر علم ہے کہ یہ باغی ہے پھر اس صورت میں بیچنا مکروہِ تحریمی ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَيْسَ بِبَيْعِهِ“ اور نہیں ہے اس آدمی کا بیچنا ”بِالْكُوفَةِ“ کوفہ میں ”مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ“ یہ ”مِنْ“، ”مِنْ“ صلہ ہے ”بَيْع“ کا۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا ”بَاعَ يَبِيعُ“ کا صلہ ”مِنْ“ آتا ہے۔ جس آدمی کے ساتھ بیع کی جائے اس پر ”مِنْ“ داخل کرتے ہیں۔ مثلاً میں نے اپنی کتاب زید کے ہاتھ بیچی ہے تو یوں کہیں گے: ”بِعْتُ الْكِتَابَ مِنْ زَيْدٍ“ یعنی میں نے اپنی کتاب زید کے ہاتھ بیچ دی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَيْسَ بِبَيْعِهِ بِالْكُوفَةِ“ اور کوفہ کے اندر اس کا بیچنا ”مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ“ کس کے ہاتھ؟ کوفہ والوں کے ہاتھ ”وَمَنْ لَمْ يَعْرِفْهُمْ مِنْ أَهْلِ الْفِتْنَةِ“ اور ان لوگوں کے ہاتھ کہ جن کو یہ نہیں جانتا، یعنی کہ اہلِ فتنہ۔ وہ اہلِ فتنہ جن کو یہ نہیں جانتا، ان کے ہاتھ بیچنا ”بَأْسٌ“ یہ ”لَيْسَ“ کا اسم آ گیا۔ دیکھو پھر جوڑیں: ”وَلَيْسَ بِبَيْعِهِ بِالْكُوفَةِ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ بَأْسٌ“ اور کوفہ کے اندر کوفہ والوں کے ہاتھ اسلحہ بیچنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ کوفہ میں کوفہ والوں کے ہاتھ اسلحہ بیچنے میں کوئی حرج نہیں ہے، کیونکہ ظاہر یہی ہے کہ زیادہ تر لوگ یہاں نیک ہیں، یہ باغی نہیں ہیں۔ ہاں اگر پتہ ہے ایک آدمی کے بارے میں کہ یہ باغی ہے تو ان کے ہاتھ اسلحہ بیچنا مکروہِ تحریمی ہے یعنی حرام کے قریب ہے بھئی۔ اور یہاں پر صاحبِ ہدایہ نے کوفہ کو ذکر فرمایا بالخصوص، تو یہ حکم کوفہ کے ساتھ ہی خاص نہیں ہے کہ کوفہ کے اندر کوفہ والوں پر اسلحہ بیچا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں، بلکہ یہ اس لیے ذکر فرمایا کہ باغی سب سے پہلے کوفہ کے اندر ظاہر ہوئے تھے، تو اس لیے کوفہ کو ذکر فرمایا، ورنہ باقی شہروں کا بھی یہی حکم ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَيْسَ بِبَيْعِهِ بِالْكُوفَةِ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ“ اور نہیں ہے اس کا اسلحے کا بیچنا کوفہ میں کوفہ والوں کے ہاتھ ”وَمَنْ لَمْ يَعْرِفْهُمْ مِنْ أَهْلِ الْفِتْنَةِ“ اور ان اہلِ فتنہ کے ہاتھ جن کو وہ نہیں جانتا، نہیں ہے اس بیچنے میں ”بَأْسٌ“ کوئی حرج۔ اس بیچنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ ”لِأَنَّ الْغَلَبَةَ فِي الْأَمْصَارِ لِأَهْلِ الصَّلَاحِ“ اس لیے کیونکہ شہروں کے اندر جو غلبہ ہوتا ہے ”لِأَهْلِ الصَّلَاحِ“ وہ نیک لوگوں کا ہوتا ہے۔ شہر میں زیادہ تر نیک لوگ ہی ہوتے ہیں، باغی کم ہی ہوں گے۔ ”وَإِنَّمَا يُكْرَهُ بَيْعُ نَفْسِ السِّلَاحِ لَا بَيْعُ مَا لَا يُقَاتَلُ بِهِ إِلَّا بِصَنْعَةٍ“ بھئی نفسِ اسلحہ باغیوں کو بیچنا مکروہ ہے، ہاں وہ چیزیں جن سے اسلحہ بنایا جائے گا، یعنی لوہا بیچنا، تو اس میں کوئی کراہت نہیں ہے بھئی۔ کہتے ہیں: ”وَإِنَّمَا يُكْرَهُ بَيْعُ نَفْسِ السِّلَاحِ“ اور نفسِ اسلحہ بیچنا مکروہ ہے ”لَا بَيْعُ مَا لَا يُقَاتَلُ بِهِ“ نہ کہ اس چیز کا بیچنا کہ جس سے لڑائی نہیں کی جا سکتی ”إِلَّا بِصَنْعَةٍ“ مگر کاریگری سے۔ وہ چیزیں جن کے ساتھ لڑائی نہیں کی جا سکتی مگر اس میں کاریگری استعمال کرنا پڑے گی پھر ہی، تو ان کے بیچنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ ”أَلَا تَرَى“ کیا آپ دیکھتے نہیں ”أَنَّهُ يُكْرَهُ بَيْعُ الْمَعَازِفِ“ معازف بھئی زاء کے ساتھ ہے۔ معازف جمع ہے معزف کی، اور معزف کہتے ہیں آلۂ موسیقی کو۔ موسیقی کا باجا وغیرہ بھئی۔ کہتے ہیں: دیکھو بھئی، موسیقی کا باجا وغیرہ، یہ لکڑی سے بنایا جاتا ہے اور لکڑی کے بیچنے میں کوئی کراہت نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”أَلَا تَرَى أَنَّهُ يُكْرَهُ بَيْعُ الْمَعَازِفِ“ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ گانے بجانے کے آلات بیچنا مکروہ ہے ”وَلَا يُكْرَهُ بَيْعُ الْخَشَبِ“ اور لکڑی کا بیچنا مکروہ نہیں ”وَعَلَى هَذَا الْخَمْرُ مَعَ الْعِنَبِ“ اور اسی پر ہے شراب انگور کے ساتھ، یعنی شراب کا بیچنا وہ تو حرام ہے لیکن انگور جس سے شراب بنائی جاتی ہے اس کا بیچنا حرام نہیں ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ آگے دیکھیے بھئی: ”كِتَابُ اللَّقِيطِ“، ”اللَّقِيطُ سُمِّيَ بِهِ بِاعْتِبَارِ مَآلِهِ لِمَا أَنَّهُ يُلْقَطُ، وَالِالْتِقَاطُ مَنْدُوبٌ إِلَيْهِ“ لقیط بھئی، یہ آخر میں طاء ہے، لقیط۔ یاد رکھو، لقیط وہ بچہ ہے جسے کوئی راستے میں ڈال دیتا ہے فقر و فاقے کے خوف سے، کوئی بہت غریب آدمی ہے تو فقر و فاقے کے خوف سے اس چھوٹے سے بچے کو اس نے راستے میں ڈال دیا، یا زنا کی تہمت کے خوف سے کسی نے بچے کو راستے میں ڈال دیا۔ تو اس بچے کو لقیط کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ لقیط۔ اور یاد رکھو ”لَقَطَ يَلْقُطُ“ کا معنی ہے کہ زمین سے کسی چیز کو اٹھانا، تو چونکہ اس بچے کو بھی اٹھا لیا جائے گا، اس لیے اس کو لقیط کہتے ہیں۔ یعنی باعتبار مآل اور نتیجے کے، وہ بچہ جو راستے میں ڈال دیا گیا ہے اس کو کیا کہتے ہیں؟ لقیط۔ اور لقیط کا کیا معنی؟ میں نے بتلایا ”لَقَطَ يَلْقُطُ“ کا معنی ہے زمین سے کوئی چیز اٹھانا، تو لقیط بمعنی ملقوط کے ہے، یعنی جس کو اٹھا لیا گیا یا جس کو اٹھا لیا جائے گا۔ تو اس بچے کو لقیط کہتے ہیں باعتبار مآل اور نتیجے کے کہ اس کو اٹھا لیا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”كِتَابُ اللَّقِيطِ“ تو یہ کتاب ہے لقیط کے بیان میں۔ ”اللَّقِيطُ سُمِّيَ بِهِ بِاعْتِبَارِ مَآلِهِ“ لقیط جو ہے اس کو اس نام کے ساتھ موسوم کیا گیا ہے باعتبار مآلہ، مآل کے اعتبار سے۔ لقیط کو لقیط کیوں کہتے ہیں؟ کہ اس کو بھی مآل اور نتیجے کے اعتبار سے اٹھا لیا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”اللَّقِيطُ سُمِّيَ بِهِ بِاعْتِبَارِ مَآلِهِ“ اور لقیط جو ہے اس کو اس کے مآل اور نتیجے کے اعتبار سے لقیط کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے ”لِمَا أَنَّهُ يُلْقَطُ“ اس وجہ سے کہ اس کو اٹھا لیا جائے گا ”وَالِالْتِقَاطُ مَنْدُوبٌ إِلَيْهِ“ اور اس کو اٹھانا جو ہے مندوب ہے یعنی مستحب ہے ”لِمَا فِيهِ مِنْ إِحْيَائِهِ“ اس لیے کیونکہ اس کے اندر اس کو زندگی دینا ہے۔ یہ چھوٹا بچہ ہے، راستے میں پڑا رہے تو ہلاک ہو جائے گا، لہٰذا اس کا اٹھانا مستحب ہے اور یاد رکھو، اگر ہلاکت کا غالب گمان ہو تو پھر اس کا اٹھانا واجب ہے۔ اس کا اٹھانا واجب ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَالِالْتِقَاطُ مَنْدُوبٌ إِلَيْهِ لِمَا فِيهِ مِنْ إِحْيَائِهِ“ اور اس کو اٹھانا مستحب ہے اس وجہ سے کہ اس کے اندر اس کو زندگی دینا ہے ”وَإِنْ غَلَبَ عَلَى ظَنِّهِ ضَيَاعُهُ فَوَاجِبٌ“ اور اگر اس شخص کے گمان پر غالب ہو ضیاعہ، اس کا ضائع ہو جانا، تو پھر اٹھانا واجب ہے۔ ”قَالَ: اللَّقِيطُ حُرٌّ“ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”اللَّقِيطُ حُرٌّ“ کہ لقیط آزاد ہے۔ یاد رکھو، یہ جو لقیط ہے، یہ جو بچہ راستے میں پڑا ہوا ملا ہے، یہ آزاد شمار ہوگا۔ اس پر آزاد لوگوں کے احکام جاری ہوں گے۔ تو کہتے ہیں: ”اللَّقِيطُ حُرٌّ“ کہ لقیط جو ہے وہ آزاد ہے ”لِأَنَّ الْأَصْلَ فِي بَنِي آدَمَ إِنَّمَا هُوَ الْحُرِّيَّةُ“ اس لیے کیونکہ بنی آدم یعنی انسانوں کے اندر اصل جو ہے وہ آزادی ہے۔ انسانوں کے اندر اصل آزادی ہے، کیونکہ انسان حضرت آدم اور حضرت حوا علیہما السلام کی اولاد ہیں اور وہ آزاد تھے، تو ان کی اولاد بھی آزاد ہی شمار ہوگی، اور جو غلامی پیش آتی ہے وہ کسی عارض کی وجہ سے پیش آتی ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْأَصْلَ فِي بَنِي آدَمَ إِنَّمَا هُوَ الْحُرِّيَّةُ“ اس لیے کیونکہ اولادِ آدم کے اندر اصل جو ہے وہ آزادی ہے ”وَكَذَا الدَّارُ دَارُ الْأَحْرَارِ“ اور اسی طرح یہ دار الاسلام جو ہے یہ بھی آزاد لوگوں کا دار ہے۔ یہ دار الاسلام بھی کیا ہے؟ آزاد لوگوں کا وطن ہے، آزاد لوگوں کا ملک ہے۔ بھئی آپ کہیں گے کہ دار الاسلام کے اندر تو غلام بھی ہوتے ہیں، تو آپ کو صاحبِ ہدایہ بتلائیں گے کہ اعتبار غالب کا ہوتا ہے، حکم غالب کے اعتبار سے لگایا جاتا ہے۔ توجہ ہے؟ تو دار الاسلام میں ظاہر سی بات ہے آزاد لوگ زیادہ ہوں گے، اگر غلام ہیں بھی تو تھوڑے سے ہوں گے، تو اعتبار غالب کا ہوتا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَكَذَا الدَّارُ دَارُ الْأَحْرَارِ“ اور اسی طرح یہ دار الاسلام جو ہے یہ بھی آزاد لوگوں کا ملک ہے ”وَلِأَنَّ الْحُكْمَ لِلْغَالِبِ“ اور اس لیے کیونکہ حکم جو ہے وہ غالب کا ہوتا ہے، یعنی غالب کے اعتبار سے حکم لگایا جاتا ہے، یعنی غالب کا اعتبار ہوتا ہے۔ ”وَنَفَقَتُهُ فِي بَيْتِ الْمَالِ“ بھئی یہ جو لقیط ملا ہے، اس کا نفقہ وغیرہ بیت المال سے ادا کیا جائے گا۔ اس لقیط کا نفقہ اور خرچہ بیت المال سے ادا کیا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَنَفَقَتُهُ فِي بَيْتِ الْمَالِ“ اور اس لقیط کا نفقہ بیت المال میں ہوگا ”هُوَ الْمَرْوِيُّ عَنْ عُمَرَ وَعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا“ اور یہی روایت کیا گیا ہے حضرت عمر اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے، کیونکہ بیت المال کا مال مسلمانوں کا مال ہے اور یہ لقیط یہ بھی ایک مسلمان ہے جو اپنی کمائی سے عاجز ہے، تو اس پر بیت المال سے خرچ کیا جائے گا۔ ”وَلِأَنَّهُ مُسْلِمٌ عَاجِزٌ عَنِ التَّكَسُّبِ“ یہاں سے دوسری دلیل ذکر کر رہے ہیں۔ ایک تو دلیل ذکر کر دی کہ یہی روایت کیا گیا ہے حضرت عمر اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے، اور اب عقلی دلیل بھی ذکر کر رہے ہیں کہ یہ جو لقیط ہے، یہ ایک مسلمان ہے جو کمائی سے عاجز ہے، تو بیت المال کا مال وہ مسلمانوں کے لیے ہی ہے تو وہی اس پر خرچ کیا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّهُ مُسْلِمٌ عَاجِزٌ عَنِ التَّكَسُّبِ“ اور اس لیے کیونکہ یہ لقیط ایسا مسلمان ہے جو کمائی سے عاجز ہے ”وَلَا مَالَ لَهُ وَلَا قَرَابَةَ“ اور نہ اس کا کوئی مال ہے اور نہ کوئی اس کی رشتہ داری ”فَأَشْبَهَ الْمُقْعَدَ الَّذِي لَا مَالَ لَهُ“ مقعد کہتے ہیں اپاہج کو بھئی، جو معذور ہے اپاہج ہے، چل پھر نہیں سکتا۔ یاد رکھو، اگر کوئی اپاہج ہے اور اس کا کوئی مال وغیرہ نہیں تو اس پر بھی بیت المال سے خرچ کیا جائے گا بھئی۔ کہتے ہیں: ”فَأَشْبَهَ الْمُقْعَدَ الَّذِي لَا مَالَ لَهُ“ تو یہ مشابہ ہو گیا اس اپاہج کے کہ جس کا کوئی مال نہ ہو، اور جیسے اس کا خرچہ بیت المال پر ہوتا ہے تو اس لقیط کا خرچہ بھی بیت المال سے ہوگا۔ ”وَلِأَنَّ مِيرَاثَهُ لِبَيْتِ الْمَالِ“ اور اس لیے کیونکہ اس لقیط کی میراث بیت المال کے لیے ہوگی۔ یہ لقیط جب مر جائے گا تو اس کا سارا مالِ میراث بیت المال میں جمع ہوگا، کیونکہ اس کا تو کوئی وارث وغیرہ ہے ہی نہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّ مِيرَاثَهُ لِبَيْتِ الْمَالِ“ اور اس لیے کیونکہ اس کی میراث بیت المال کے لیے ہے ”وَالْخَرَاجُ بِالضَّمَانِ“ اور نفع جو ہے وہ ضمان کے بدلے ہوتا ہے۔ یاد رکھو، خراج کہتے ہیں پیداوار کو، مراد ہے نفع۔ نفع ضمان کے بدلے ہوتا ہے، ایک چیز کا ضمان آپ دے رہے ہیں تو نفع بھی آپ لیں گے۔ لقیط کا خرچہ بیت المال اٹھا رہا ہے تو اس کا نفع یعنی میراث بھی بیت المال لے گا۔ یہ ضابطہ آپ پہلے بھی پڑھ چکے ہیں کہ حدیث میں آیا ہے: ”الْغُرْمُ بِالْغُنْمِ“، ”الْغُرْمُ بِالْغُنْمِ“ کہ نقصان جو ہے وہ نفع کے بدلے ہے۔ ایک چیز کا نقصان آپ اٹھا رہے ہیں تو نفع بھی آپ ہی اٹھائیں گے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْخَرَاجُ بِالضَّمَانِ“ اور نفع جو ہے وہ ضمان کے بدلے ہوتا ہے ”وَلِهَذَا كَانَتْ جِنَايَتُهُ فِيهِ“ اور اسی وجہ سے لقیط کی جنایت بھی بیت المال میں ہوگی۔ لقیط اگر کوئی جنایت کر دیتا ہے، کوئی غلطی سے اس سے کوئی قتل ہو گیا، تو قتلِ خطا میں دیت آتی ہے، اور یہ دیت سارے قبیلے والے مل کر ادا کرتے ہیں، لیکن لقیط کا تو کوئی رشتہ دار ہی نہیں ہے تو پھر وہ جنایت بھی بیت المال سے ادا کی جائے گی، کیونکہ ”الْغُرْمُ بِالْغُنْمِ“ بھئی۔ جب لقیط کی میراث جو ہے بیت المال کو مل رہی ہے تو اس کے خرچے اور جرم بھی بیت المال ہی کو اٹھانے پڑیں گے۔ ”وَلِهَذَا كَانَتْ جِنَايَتُهُ فِيهِ“ اور اسی وجہ سے لقیط کی جنایت جو ہے وہ بھی بیت المال میں ہوگی۔ ”وَالْمُلْتَقِطُ مُتَبَرِّعٌ فِي الْإِنْفَاقِ عَلَيْهِ“ اور یاد رکھو، یہ بچہ جس آدمی کو ملا ہے، اگر یہ آدمی اس بچے پر خرچ کرتا ہے تو یہ متبرع ہے خرچ کرنے میں۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا تبرع کہتے ہیں کہ اپنی طرف سے کوئی ایسی چیز دینا جو آپ پر لازم نہیں تھی بھئی۔ تو یہ شخص بھی متبرع ہے، اس بچے پر خرچ کرنا اس پر لازم نہیں، اور یہ بیت المال سے لینے کے بجائے خود ہی اپنی طرف سے خرچ کرتا ہے، تو یہ متبرع ہے۔ لہٰذا یہ بچہ جب بڑا ہو جائے تو یہ اس کو کہے: میں نے تمہارے اوپر اتنا اتنا مال خرچ کیا تھا، وہ تمہارے اوپر دین ہے، وہ تمہیں ادا کرنا پڑے گا۔ کہتے ہیں: نہیں بھئی، یہ متبرع تھا۔ یہ متبرع تھا، لہٰذا یہ بچے پر دین لازم نہیں کر سکتا، اس کو ولایت ہی نہیں حاصل کہ بچے پر دین کو لازم کرے۔ ہاں، اگر قاضی نے اس کو کہا کہ تم اس بچے پر خرچ کرو اور وہ اس بچے پر دین ہو جائے گا، جب یہ بالغ ہو جائے گا تو وہ تمہیں ادا کر دے گا۔ تو اب جو کچھ یہ بچے پر خرچ کرے گا وہ بچے پر دین ہوتا جائے گا، کیونکہ قاضی نے کہا ہے کہ وہ بچے پر دین ہوتا جائے گا۔ اور اگر قاضی نے دین کی بات نہ کی، قاضی نے صرف اتنا کہا کہ تم اس بچے پر خرچ کرو، تو بچے پر پھر بھی دین نہیں ہوگا بھئی۔ تو بچے پر دین صرف اسی صورت میں ہوگا جب قاضی نے یہ کہا ہو کہ جو کچھ تم خرچ کرو گے وہ بچے پر دین ہوتا چلا جائے گا۔ تو چونکہ قاضی کو تو ولایتِ عامہ حاصل ہے تو لہٰذا اس کو بچے پر بھی ولایت ہے تو وہ بچے پر دین کو لازم کر سکتا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْمُلْتَقِطُ مُتَبَرِّعٌ فِي الْإِنْفَاقِ عَلَيْهِ“ اور اس بچے کو اٹھانے والا اس پر خرچ کرنے میں متبرع ہے ”لِعَدَمِ الْوِلَايَةِ“ کیونکہ اس کو اس بچے پر ولایت نہیں ہے، وہ بچے پر دین کو لازم نہیں کر سکتا ”إِلَّا أَنْ يَأْمُرَهُ الْقَاضِي بِهِ“ مگر یہ کہ قاضی اس کو اس کا حکم دے دے ”لِيَكُونَ دَيْنًا عَلَيْهِ“ تاکہ اس بچے پر دین ہو جائے۔ دیکھا؟ قاضی یہ ضرور ذکر کرے کہ تم جو خرچ کرو گے وہ بچے پر دین ہو جائے گا۔ اگر قاضی نے یہ ذکر نہ کیا پھر بھی بچے پر دین نہیں ہوگا۔ تو کہتے ہیں: ”إِلَّا أَنْ يَأْمُرَهُ الْقَاضِي بِهِ“ مگر یہ کہ قاضی اس کو اس خرچ کرنے کا حکم دے دے ”لِيَكُونَ دَيْنًا عَلَيْهِ“ تاکہ یہ بچے پر دین ہو جائے، تو پھر دین ہو جائے گا ”لِعُمُومِ الْوِلَايَةِ“ بوجہ ولایت کے عام ہونے کے، کہ قاضی کو عام ولایت حاصل ہے سب پر۔ ”قَالَ: فَإِنِ الْتَقَطَهُ رَجُلٌ لَمْ يَكُنْ لِغَيْرِهِ أَنْ يَأْخُذَهُ مِنْهُ“ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: بھئی ایک شخص کو ایک بچہ ملا ہے تو کوئی دوسرا شخص اس بچے کو اس سے لینا چاہتا ہے کہ میں اس کی پرورش کروں گا، میں اس کی حفاظت کروں گا، کہتے ہیں: نہیں، کوئی جبراً اس سے نہیں لے سکتا۔ اگر یہ خود دینا چاہتا ہے پھر تو اچھی بات ہے، لیکن جبراً کوئی لینا چاہے، نہیں لے سکتا۔ وجہ یہ کہ بچے پر قبضہ اس آدمی کا پہلے ہوا ہے، لہٰذا یہ اس کی حفاظت کا زیادہ حق دار ہے بھئی۔ قال، صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”فَإِنِ الْتَقَطَهُ رَجُلٌ“ اگر اس بچے کو کسی آدمی نے اٹھا لیا ”لَمْ يَكُنْ لِغَيْرِهِ أَنْ يَأْخُذَهُ مِنْهُ“ تو کسی دوسرے کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ اس سے لے لے، یعنی زبردستی نہیں لے سکتا ”لِأَنَّهُ ثَبَتَ حَقُّ الْحِفْظِ لَهُ“ اس لیے کیونکہ حفاظت کا حق ثابت ہو گیا اسی آدمی کے لیے ”لِسَبْقِ يَدِهِ“ اس کا قبضہ مقدم ہونے کی وجہ سے۔ ”فَإِنِ ادَّعَى مُدَّعٍ أَنَّهُ ابْنُهُ فَالْقَوْلُ قَوْلُهُ“ صورت یہ، ایک شخص نے دعویٰ کر دیا کہ یہ لقیط میرا بچہ ہے، میرا بیٹا ہے، تو کیا اس کا دعویٰ ثابت ہو جائے گا؟ کہتے ہیں: ہاں، اس کا دعویٰ قسم کے ساتھ ثابت ہو جائے گا۔ لیکن یہ اس صورت میں ہے جب بچے کو اٹھانے والے نے اس کے نسب کا دعویٰ نہ کیا ہو۔ جس کو بچہ ملا تھا اس نے بچے کے نسب کا دعویٰ نہیں کیا، تو پھر کوئی دوسرا آدمی نسب کا دعویٰ کرتا ہے تو اس کا یہ دعویٰ قسم کے ساتھ معتبر ہوگا۔ کیونکہ بچے کو نسب کی شدید حاجت ہے، کیونکہ اگر اس کا نسب کا پتہ نہ چلا اور یہ اسی طرح بڑا ہوا تو کل تو یہ بات اس کے لیے طعنہ بن جائے گی، لوگ اس کو طعنہ دیں گے کہ تمہارے تو باپ کا بھی پتہ نہیں ہے بھئی، تو لہٰذا نسب ثابت ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”فَإِنِ ادَّعَى مُدَّعٍ“ اور اگر کسی دعویٰ کرنے والے نے یہ دعویٰ کر دیا ”أَنَّهُ ابْنُهُ“ کہ لقیط اس کا بیٹا ہے ”فَالْقَوْلُ قَوْلُهُ“ تو اس آدمی کا قول معتبر ہے ”مَعْنَاهُ إِذَا لَمْ يَدَّعِ الْمُلْتَقِطُ نَسَبَهُ“ معنی اس کا یہ ہے کہ جب ملتقط نے اس کے نسب کا دعویٰ نہ کیا ہو۔ اگر ملتقط نے نسب کا دعویٰ کر دیا ہے پھر اس سے نسب ثابت ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”مَعْنَاهُ إِذَا لَمْ يَدَّعِ الْمُلْتَقِطُ نَسَبَهُ“ معنی اس قول کا یہ ہے کہ جب ملتقط یعنی اس بچے کو اٹھانے والے نے اس بچے کے نسب کا دعویٰ نہ کیا ہو ”وَهَذَا اسْتِحْسَانٌ“ اور یہ استحسان ہے۔ یہ جو کوئی دوسرا آدمی اس بچے کے نسب کا دعویٰ کر دیتا ہے، تو استحساناً اس کے دعوے کو قبول کر لیا جائے گا۔ قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے اس کے دعوے کو قبول ہی نہیں کرنا چاہیے۔ وجہ یہ، بچے کی حفاظت کا حق وہ کس کا ہے؟ وہ ملتقط کا ہے جس کو وہ بچہ ملا ہے۔ تو ایک اور آدمی بچے کے نسب کا دعویٰ کر کے گویا بچے کی حفاظت کا حق دار ہونا چاہتا ہے۔ بچے کی حفاظت کا حق دار ہونا چاہتا ہے، لہٰذا قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ اس دوسرے آدمی کا دعویٰ معتبر ہی نہیں ہونا چاہیے، لیکن استحساناً اس کا یہ دعویٰ معتبر ہے۔ بھئی کیوں؟ استحساناً کیوں معتبر ہے؟ کہتے ہیں: وجہ یہ کہ بچے کو نسب کی شدید حاجت ہے۔ ورنہ تو یہ آئندہ اس کی ساری زندگی کے لیے اس کے لیے طعنے کا باعث بنے گا، لہٰذا استحساناً بچے کا نسب ثابت ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَهَذَا اسْتِحْسَانٌ“ اور یہ استحسان ہے ”وَالْقِيَاسُ أَنْ لَا يُقْبَلَ قَوْلُهُ“ اور قیاس تو یہ ہے کہ اس آدمی کا قول قبول نہ کیا جائے ”لِأَنَّهُ يَتَضَمَّنُ إِبْطَالَ حَقِّ الْمُلْتَقِطِ“ اس لیے کیونکہ اس کا یہ دعویٰ متضمن ہے ملتقط کے حق کو باطل کرنے پر۔ یعنی وہ دوسرا آدمی دعویٰ تو نسب کا کر رہا ہے لیکن اسی نسب کے دعوے کے ضمن میں گویا وہ ملتقط کے حق کو باطل کرنا چاہتا ہے، بچے کو اپنے قبضے میں لینا چاہتا ہے۔ توجہ ہے؟ تو یہ معنی ہے: ”لِأَنَّهُ يَتَضَمَّنُ“ اس لیے کیونکہ اس آدمی کا یہ دعویٰ جو ہے وہ متضمن ہے ”إِبْطَالَ حَقِّ الْمُلْتَقِطِ“ ملتقط کے حق کو باطل کرنے پر۔ ”وَوَجْهُ الِاسْتِحْسَانِ أَنَّهُ إِقْرَارٌ لِلصَّبِيِّ بِمَا يَنْفَعُهُ“ اور استحسان کی وجہ یہ ہے کہ یہ اقرار ہے بچے کے لیے ایسی چیز کا جس میں اس بچے کا نفع ہے ”لِأَنَّهُ يَتَشَرَّفُ بِالنَّسَبِ“ اس لیے کیونکہ وہ بچہ جو ہے وہ نسب کی عزت پا لے گا۔ تشرف کا معنی ہے عزت حاصل کر لینا۔ ”لِأَنَّهُ يَتَشَرَّفُ بِالنَّسَبِ“ اس لیے کیونکہ وہ بچہ جو ہے نسب کا اعزاز حاصل کر لے گا ”وَيُعَيَّرُ بِعَدَمِهِ“ اور اس کو طعنہ دیا جائے گا نسب نہ ہونے کی وجہ سے۔ تو لہٰذا اس میں بچے کا نفع ہے۔ ”ثُمَّ قِيلَ“ پھر اس کے بعد کہتے ہیں فقہاء کا اختلاف ہے کہ نسب تو ثابت ہو گیا، تو کیا اب یہ شخص لقیط کو اس ملتقط سے لے سکتا ہے؟ تو بعض فقہاء کہتے ہیں: نہیں۔ اس کا دعویٰ نسب کے سلسلے میں تو معتبر ہے لیکن ملتقط کا قبضہ ہی ختم نہیں کروا سکتا، بچہ ملتقط ہی کے پاس رہے گا۔ لیکن دیگر فقہاء فرماتے ہیں کہ نہیں، جب نسب ثابت ہو گیا تو ملتقط کا قبضہ بھی باطل ہو جائے گا، اب وہ بچے کو اس دوسرے آدمی کے حوالے کرنا پڑے گا۔ تو کہتے ہیں: ”ثُمَّ قِيلَ يَصِحُّ فِي حَقِّهِ دُونَ إِبْطَالِ يَدِ الْمُلْتَقِطِ“ پھر کہا گیا ہے کہ اس آدمی کا دعویٰ نسب کے حق میں تو صحیح ہے، ملتقط کا قبضہ باطل کرنے میں نہیں۔ اس ملتقط کا قبضہ وہ باطل نہیں کر سکتا، اس سے زبردستی نہیں لے سکتا۔ ”وَقِيلَ يَبْتَنِي عَلَيْهِ بُطْلَانُ يَدِهِ“ اور کہا گیا ہے کہ ثبوتِ نسب پر بنیاد ہے ملتقط کے قبضے کے باطل ہونے کی، کہ نسب کی وجہ سے ملتقط کا قبضہ بھی باطل ہو جائے گا، اب وہ شخص اس بچے کو زبردستی لے سکتا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَقِيلَ يَبْتَنِي عَلَيْهِ بُطْلَانُ يَدِهِ“ اور کہا گیا ہے کہ ثبوتِ نسب پر بنیاد ہے ملتقط کے قبضے کے باطل ہونے کی۔ آگے دیکھیے: ”وَلَوِ ادَّعَاهُ الْمُلْتَقِطُ قِيلَ يَصِحُّ“ بھئی یاد رکھو، اگر ملتقط خود ہی بچے کے نسب کا دعویٰ کر دے کہ یہ میرا بچہ ہے تو اس صورت میں بھی نسب ثابت ہو جائے گا، نسب ثابت ہو جائے گا۔ لیکن اگر وہ پہلے دعویٰ کرتا ہے، اگر پہلے کسی اور نے دعویٰ کر دیا تو پھر اس سے بچے کا نسب ثابت ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَوِ ادَّعَاهُ الْمُلْتَقِطُ“ اور اگر اس نسب کا دعویٰ ملتقط نے کر دیا ”قِيلَ يَصِحُّ قِيَاسًا وَاسْتِحْسَانًا“ تو کہا گیا ہے کہ ملتقط کا یہ دعویٰ صحیح ہے قیاساً بھی اور استحساناً بھی۔ ملتقط کا یہ دعویٰ صحیح ہے قیاساً بھی اور استحساناً بھی۔ بتلانا یہ چاہتے ہیں یہاں کوئی قیاسِ مخالف نہیں۔ کیونکہ آپ پڑھ چکے ہیں استحسان استحسان کے مقابلے میں قیاس ہوتا ہے ہمیشہ، اور یہاں کہہ رہے ہیں یہ قیاساً بھی صحیح ہے اور استحساناً بھی صحیح، کہنا یہ چاہتے ہیں کہ یہ نسب ثابت ہو جائے گا اور یہاں کوئی قیاسِ مخالف نہیں ہے، یعنی یہ حکم قیاساً بھی ہے اور استحساناً بھی ہے، دونوں اعتبار سے ہے، یعنی یہاں کوئی قیاسِ مخالف نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”قِيلَ يَصِحُّ“ کہا گیا ہے کہ اس کا دعویٰ صحیح ہے ”قِيَاسًا وَاسْتِحْسَانًا“ قیاس اور استحسان کے اعتبار سے، یعنی یہاں کوئی قیاسِ مخالف نہیں ہے ”وَالْأَصَحُّ أَنَّهُ عَلَى الْقِيَاسِ وَالِاسْتِحْسَانِ“ اور زیادہ صحیح یہ ہے کہ اس کا یہ دعویٰ بھی قیاس اور استحسان پر ہے، یعنی یہاں قیاسِ مخالف موجود ہے۔ وجہ کیا؟ بھئی قیاس یہ تقاضا کرتا ہے کہ ملتقط کا دعویٰ صحیح نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ اس نے پہلے کہا تھا: یہ لقیط ہے، یہ مجھے راستے میں ملا ہے۔ اور اب کہہ رہا ہے کہ یہ میرا بیٹا ہے، اور اپنا بیٹا وہ تو لقیط نہیں ہو سکتا، تو اس کا دعویٰ ہی اپنے کلام کے مناقض ہے، اس کے دونوں دعووں میں تضاد آ رہا ہے۔ پہلے اس نے کہا لقیط ہے اور اب کہہ رہا ہے بیٹا ہے، حالانکہ جو بیٹا ہو وہ تو لقیط نہیں ہو سکتا بھئی۔ لیکن استحساناً اس کا نسب ثابت ہو جائے گا، کیونکہ اس کی وجہ سے بچے کو نسب کی عزت مل جائے گی اور نیز اب اس شخص پر بچے کی حفاظت اور اس کا نفقہ لازم ہو جائے گا بھئی۔ نفقہ لازم ہو جائے گا، اور ایک شخص کی دو باتوں میں تناقض آئے پھر بھی نسب ثابت ہو سکتا ہے۔ ایک آدمی کے دو دعووں میں تناقض آئے پھر بھی نسب ثابت ہو سکتا ہے، اس لیے کیونکہ بچے کو نسب کی شدید حاجت ہے۔ جیسے ایک شخص کی اولاد ہوئی اور اس نے کہا کہ یہ میری اولاد نہیں ہے اور بیوی نے لعان کر دیا ہو کہ یہ شخص اس نے مجھ پر زنا کا الزام لگایا ہے، توجہ ہے؟ اور بعد میں یہ آدمی کہتا ہے کہ نہیں، یہ میرا ہی بچہ ہے۔ تو دیکھو اس صورت میں بھی اگرچہ اس کی دونوں باتوں میں تناقض ہے، پہلے اس نے کہا تھا یہ میرا بچہ نہیں ہے اور اب کہتا ہے میرا بچہ ہے، لیکن اس کی باتوں میں تناقض کے باوجود بچے کا نسب ثابت ہو جائے گا۔ تو یہاں بھی اگرچہ اس نے پہلے کہا تھا یہ لقیط ہے اور اب کہہ رہا ہے میرا بیٹا ہے اور دونوں باتوں میں تناقض ہے، پھر بھی نسب ثابت ہو جائے گا، کیونکہ بچے کو نسب کی شدید حاجت ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْأَصَحُّ أَنَّهُ عَلَى الْقِيَاسِ وَالِاسْتِحْسَانِ“ اور زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ یہ ملتقط کا دعویٰ جو ہے یہ بھی قیاس اور استحسان پر ہے، یعنی یہاں قیاسِ مخالف موجود ہے ”وَقَدْ عُرِفَ فِي الْأَصْلِ“ اور تحقیق اس بات کو مبسوط کے اندر جانا گیا ہے کہ یہاں قیاسِ مخالف موجود ہے۔ آگے دیکھیے: ”وَإِنِ ادَّعَاهُ اثْنَانِ وَوَصَفَ أَحَدُهُمَا عَلَامَةً فِي جَسَدِهِ فَهُوَ أَوْلَى بِهِ“ بھئی یاد رکھو، اگر لقیط کے بارے میں دو آدمیوں نے دعویٰ کر دیا، ایک کہتا ہے یہ میرا بچہ ہے، دوسرا کہتا ہے یہ میرا بچہ ہے، تو جس کا دعویٰ مقدم ہوگا نسب اس سے ثابت ہو جائے گا، اور اگر دونوں نے ایک ہی وقت میں دعویٰ کیا ہے اور ترجیح کی کوئی صورت نہ ہو تو دونوں سے بچے کا نسب ثابت ہو جائے گا، یہ بچہ دونوں کا وارث بنے گا بھئی۔ توجہ ہے؟ دونوں سے نسب ثابت ہوتا ہے کہ دونوں ایک ہی وقت میں کہتے ہیں یہ میرا بچہ ہے۔ یا مثلاً ایک نے کسی اور مجلس میں کہا ہے، دوسرے نے کسی اور مجلس میں کہا ہے لیکن تقدیم و تاخیر کا پتہ نہیں چل سکتا تو اس کو بھی اکٹھا ہی شمار کیا جائے گا، تو اس صورت میں بھی دونوں سے نسب ثابت ہو جائے گا۔ لیکن اگر دونوں میں سے ایک نے بچے کے جسم میں کوئی نشانی اور کوئی علامت بیان کر دی اور وہ نشانی صحیح نکلی تو پھر اسی سے نسب ثابت ہو جائے گا، کیونکہ وہاں ترجیح موجود ہے۔ یا دونوں میں سے ایک نے بینہ قائم کر دی تو بینہ کے ذریعے بھی دعویٰ ثابت ہو جاتا ہے، لہٰذا اس سے نسب ثابت ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنِ ادَّعَاهُ اثْنَانِ“ اور اگر دو آدمیوں نے بچے کے نسب کا دعویٰ کر دیا ”وَوَصَفَ أَحَدُهُمَا عَلَامَةً فِي جَسَدِهِ“ اور دونوں میں سے ایک نے اس لقیط کے جسم میں کوئی علامت بیان کر دی ”فَهُوَ أَوْلَى بِهِ“ تو وہ اس کے زیادہ لائق ہے، یعنی اس سے نسب ثابت ہو جائے گا ”لِأَنَّ الظَّاهِرَ شَاهِدٌ لَهُ“ کیونکہ ظاہر اسی کا گواہ ہے، ظاہر اسی کی گواہی دے رہا ہے ”لِمُوَافَقَةِ الْعَلَامَةِ كَلَامَهُ“ اس وجہ سے کہ یہ علامت اس کے کلام کے موافق ہے ”وَإِنْ لَمْ يَصِفْ أَحَدُهُمَا عَلَامَةً“ اور اگر دونوں میں سے کسی نے بھی کوئی علامت بیان نہیں کی ”فَهُوَ ابْنُهُمَا“ تو یہ دونوں کا بیٹا ہے ”لِاسْتِوَائِهِمَا فِي السَّبَبِ“ اس وجہ سے کہ سبب کے اندر دونوں برابر ہیں، کسی کو ترجیح نہیں دی جا سکتی، تو سبب یعنی دعوے میں دونوں برابر ہیں۔ ”وَلَوْ سَبَقَتْ دَعْوَةُ أَحَدِهِمَا“ یہ میں نے آپ کو بتلایا تھا بھئی کہ دعویٰ کا لفظ عام ہے، ہر دعوے کو شامل ہے، لیکن بالخصوص نسب کا دعویٰ جو ہے اس کے لیے دعوۃ کا لفظ بھی استعمال ہوتا ہے، تو یہاں عبارت میں آپ ”دَعْوَى“ بھی پڑھ سکتے ہیں اور ”دَعْوَةُ“ بھی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ سَبَقَتْ دَعْوَةُ أَحَدِهِمَا“ اور اگر ان دونوں میں سے ایک کا دعویٰ مقدم ہو گیا ”فَهُوَ ابْنُهُ“ تو یہ اسی کا بیٹا ہے ”لِأَنَّهُ ثَبَتَ حَقُّهُ فِي زَمَانٍ لَا مُنَازِعَ لَهُ فِيهِ“ اس لیے کیونکہ اس کا حق ثابت ہو گیا ایسے زمانے میں جس میں کوئی اس سے جھگڑنے والا نہیں ہے۔ بھئی ایک آدمی نے پہلے دعویٰ کر دیا تو اس زمانے کے اندر تو اور کوئی دعویٰ کرنے والا نہیں، کوئی اس کے ساتھ جھگڑنے والا نہیں تھا، لہٰذا اس سے نسب ثابت ہو جائے گا۔ لہٰذا اس کا دعویٰ ثابت ہو جائے گا۔ یہ معنیٰ ہے: لِأَنَّهُ ثَبَتَ حَقُّهُ فِي زَمَانٍ، اس لیے کیونکہ اس کا حق ثابت ہو گیا ایسے زمانے میں، لَا مُنَازِعَ لَهُ فِيهِ، جس میں اس کے ساتھ کوئی جھگڑنے والا نہیں ہے، إِلَّا إِذَا أَقَامَ الْآخَرُ الْبَيِّنَةَ، مگر یہ کہ جب وہ دوسرا آدمی بینہ قائم کر دے، پھر اس کا دعویٰ ثابت ہو جائے گا، لِأَنَّ الْبَيِّنَةَ أَقْوَى، اس لیے کیونکہ بینہ جو ہے وہ زیادہ قوی ہے علامت کے مقابلے میں۔ آگے دیکھیے: وَإِذَا وُجِدَ فِي مِصْرٍ مِنْ أَمْصَارِ الْمُسْلِمِينَ، صورت یہ ہے کہ ایک لقیط ملا ہے، ایک بچہ ملا ہے راستے میں، مسلمانوں کے علاقے میں سے اور اس کو پانے والا بھی مسلمان ہے۔ تو اس صورت میں یاد رکھو اس بچے کو مسلمان شمار کیا جائے گا۔ اور اگر کوئی بچہ ذمیوں کے علاقے کے اندر ملا ہے اور کسی ذمی کو ملا ہے تو یہ بچہ بھی ذمی شمار ہوگا۔ تو کہتے ہیں: وَإِذَا وُجِدَ فِي مِصْرٍ مِنْ أَمْصَارِ الْمُسْلِمِينَ، جب مسلمانوں کے شہروں میں سے کسی شہر میں پایا جائے، أَوْ فِي قَرْيَةٍ مِنْ قُرَاهُمْ، یا مسلمانوں کی بستیوں میں سے کسی بستی میں وہ لقیط پایا جائے، فَادَّعَى ذِمِّيٌّ أَنَّهُ ابْنُهُ، پھر ایک ذمی نے دعویٰ کر دیا کہ یہ اس کا بیٹا ہے۔ صورت کیا ہے؟ کہ بچہ مسلمانوں کے علاقے میں ملا ہے اور پانے والا بھی مسلمان ہے، لیکن بچے کے نسب کا دعویٰ ایک ذمی نے کر دیا۔ تو کیا اب نسب ثابت ہوگا یا نہیں؟ کہتے ہیں ہاں نسب ثابت ہو جائے گا۔ یہاں بھی بتلائیں گے کہ قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ نسب ثابت نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اس میں بچے کا نقصان ہے کہ ذمی کے تابع اس کو بھی ذمی قرار دینا پڑے گا۔ لیکن آپ کو بتلائیں گے استحساناً نسب ثابت ہو جائے گا۔ وجہ یہ کہ یہاں دو چیزیں ہیں۔ نسب کے اعتبار سے دیکھیں تو بچے کا فائدہ ہے۔ لیکن بچے کو بھی ذمی قرار دینے کے اعتبار سے دیکھیں تو بچے کا نقصان ہے۔ تو جس چیز میں بچے کا فائدہ ہے اس کے اندر تو دعویٰ ثابت ہو جائے گا یعنی نسب ثابت ہو جائے گا، لیکن جس چیز میں بچے کا نقصان ہے اس میں دعویٰ ثابت نہیں ہوگا یعنی بچہ اسی ذمی کا ہوگا لیکن مسلمان شمار ہوگا۔ تو کہتے ہیں: فَادَّعَى ذِمِّيٌّ أَنَّهُ ابْنُهُ، تو ایک ذمی نے دعویٰ کر دیا کہ یہ اس کا بیٹا ہے، ثَبَتَ نَسَبُهُ مِنْهُ، تو اس ذمی سے اس بچے کا نسب ثابت ہو جائے گا، وَكَانَ مُسْلِمًا، اور وہ مسلمان ہوگا، وَهَذَا اسْتِحْسَانٌ، اور یہ استحسان ہے، لِأَنَّ دَعْوَاهُ تَضَمَّنَ النَّسَبَ، اس لیے کیونکہ ذمی کا دعویٰ جو ہے متضمن ہے نسب کو، وَهُوَ نَافِعٌ لِلصَّغِيرِ، اور وہ تو بچے کے لیے نافع ہے، وَإِبْطَالَ الْإِسْلَامِ، اور نیز اس کا دعویٰ متضمن ہے اس کے بچے کے اسلام کو باطل کرنے پر، ذمی کا دعویٰ بچے کے اسلام کو باطل کرنے کو متضمن ہے، الثَّابِتِ بِالدَّارِ، وہ اسلام جو ثابت ہو رہا ہے دار الاسلام کی وجہ سے کہ یہ بچہ کہاں ملا ہے؟ دار الاسلام میں ملا ہے، مسلمانوں کے علاقے میں ملا ہے تو یہ تقاضا کر رہا ہے کہ اس کو مسلمان شمار کرنا چاہیے، تو ذمی کا دعویٰ متضمن ہوا نسب کو بھی اور ابطالِ اسلام کو بھی۔ نسب کے اندر بچے کا فائدہ اور ابطالِ اسلام کے اندر بچے کا نقصان ہے۔ تو جس چیز میں نفع ہے بچے کا اس کو مان لیا جائے گا اور جس میں نقصان ہے اس کا اعتبار نہیں کیا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: وَإِبْطَالَ الْإِسْلَامِ الثَّابِتِ بِالدَّارِ، اور نیز یہ دعویٰ متضمن ہے بچے کے اس اسلام کو باطل کرنے کا جو دار الاسلام کی وجہ سے ثابت ہے، وَهُوَ يَضُرُّهُ، اور یہ تو بچے کو نقصان دے رہا ہے، فَصَحَّتْ دَعْوَاهُ فِيمَا يَنْفَعُهُ، لہٰذا اس ذمی کا دعویٰ صحیح ہے اس چیز میں جو بچے کو نفع دے رہا ہے، دُونَ مَا يَضُرُّهُ، نہ کہ اس چیز میں جو اس کو نقصان دے رہا ہے۔ وَإِنْ وُجِدَ فِي قَرْيَةٍ مِنْ قُرَى أَهْلِ الذِّمَّةِ، دوسری صورت بھئی ذمیوں کے علاقے کے اندر کوئی بچہ ملا اور کسی ذمی کو ملا ہے تو پھر اس صورت میں وہ ذمی شمار ہوگا۔ کہتے ہیں: وَإِنْ وُجِدَ فِي قَرْيَةٍ مِنْ قُرَى أَهْلِ الذِّمَّةِ، اور اگر ذمیوں کی بستی میں سے کسی بستی کے اندر کوئی بچہ ملا، أَوْ فِي بِيعَةٍ أَوْ كَنِيسَةٍ، یا عیسائیوں کی عبادت گاہ میں یا یہودیوں کی عبادت گاہ میں کوئی بچہ ملا، كَانَ ذِمِّيًّا، تو یہ ذمی ہوگا۔ یعنی علاقہ بھی کس کا؟ ذمیوں کا یا عبادت گاہ بھی ذمیوں کی اور پانے والا بھی ذمی ہی ہے بھئی۔ توجہ ہے؟ ہاں، مسلمان کو اگر ملتا ہے اس کی بات آگے بیان کریں گے۔ کہتے ہیں ذمیوں کے علاقے میں یا ان کی عبادت گاہ میں ملا اور پانے والا بھی ذمی ہے: كَانَ ذِمِّيًّا، تو یہ بچہ بھی ذمی ہوگا، وَهَذَا الْجَوَابُ فِيمَا إِذَا كَانَ الْوَاجِدُ ذِمِّيًّا، اور یہ جواب ہے اس صورت میں جب پانے والا ذمی ہو، یعنی یہ مسئلہ اس صورت میں ہے یعنی اس بچے کو ذمی تب شمار کریں گے جب پانے والا بھی ذمی ہو، رِوَايَةً وَاحِدَةً، ایک ہی روایت ہے یعنی اس میں اختلاف نہیں ہے۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے، کہتے ہیں: وَهَذَا الْجَوَابُ فِيمَا إِذَا كَانَ الْوَاجِدُ ذِمِّيًّا رِوَايَةً وَاحِدَةً، اور یہ جواب اس صورت میں ہے جب پانے والا ذمی ہو، اس حال میں کہ ایک ہی روایت ہے یعنی یہ ایک ہی روایت ہے اس سلسلے میں، اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ وَإِنْ كَانَ الْوَاجِدُ مُسْلِمًا فِي هَذَا الْمَكَانِ أَوْ ذِمِّيًّا فِي مَكَانِ الْمُسْلِمِينَ، اب وہ صورت بیان کر رہے ہیں بھئی کہ مسلمانوں کے علاقے میں کسی ذمی کو کوئی بچہ ملا ہے یا ذمیوں کے علاقے یا ان کی عبادت گاہ میں مسلمانوں کو کوئی بچہ ملا ہے، تو اس سلسلے میں روایات مختلف ہیں بھئی، تو وہ صاحبِ ہدایہ آگے بیان فرمائیں گے۔ کہتے ہیں: وَإِنْ كَانَ الْوَاجِدُ مُسْلِمًا فِي هَذَا الْمَكَانِ، اور اگر اس لقیط کو پانے والا مسلمان ہے اس جگہ میں، یعنی ذمیوں کے علاقے میں یا ان کی عبادت گاہ میں کسی مسلمان کو وہ بچہ ملا ہے، أَوْ ذِمِّيًّا فِي مَكَانِ الْمُسْلِمِينَ، یا اس بچے کو پانے والا ذمی ہے مسلمانوں کی جگہ کے اندر، اخْتَلَفَتِ الرِّوَايَةُ فِيهِ، تو اس بارے میں روایت مختلف ہے، فَفِي رِوَايَةِ كِتَابِ اللَّقِيطِ، کتاب اللقیط بھئی، مبسوط کی کتاب اللقیط سے پتہ چلتا ہے کہ وہاں اس جگہ کا اعتبار ہے، مسلمانوں کے علاقے میں ملا ہے تو مسلمان شمار ہوگا اور ذمیوں کے علاقے یا ان کی عبادت گاہ میں ملا ہے تو وہ ذمی شمار ہوگا۔ تو کہتے ہیں: فَفِي رِوَايَةِ كِتَابِ اللَّقِيطِ، تو کتاب اللقیط کی روایت میں، اعْتُبِرَ الْمَكَانُ لِسَبْقِهِ، وہ جگہ معتبر ہوگی اس کے مقدم ہونے کی وجہ سے۔ توجہ ہے؟ یاد رکھو اس کو آپ اعْتُبِرَ بھی پڑھ سکتے ہیں کہ کتاب اللقیط کی روایت میں: اعْتُبِرَ الْمَكَانُ، مکان کا اعتبار کیا گیا ہے، لِسَبْقِهِ، مکان کے مقدم ہونے کی وجہ سے کہ بچہ جہاں ملا ہے تو وہ جگہ مقدم ہے اور پانے والا بعد میں آیا ہے تو جگہ کا اعتبار ہوگا۔ اور تو آپ چاہیں تو اس کو مجہول پڑھ لیں اور آپ چاہیں تو اعْتَبَرَ اس کو فعلِ معروف بھی پڑھ سکتے ہیں: اعْتَبَرَ الْمَكَانَ، کہ مبسوط کی کتاب اللقیط کے اندر امام محمد رحمہ اللہ نے جگہ کا اعتبار کیا ہے لِسَبْقِهِ جگہ کے مقدم ہونے کی وجہ سے۔ توجہ ہے؟ تو یہ آگے بھی اسی طرح دو تین اعْتَبَرَ اسی طرح آئے گا، وہاں آپ معروف بھی پڑھ سکتے ہیں اور مجہول بھی۔ تو کہتے ہیں: فَفِي رِوَايَةِ كِتَابِ اللَّقِيطِ اعْتُبِرَ الْمَكَانُ لِسَبْقِهِ، تو مبسوط کی کتاب اللقیط کی روایت میں جگہ کا اعتبار کیا گیا ہے لِسَبْقِهِ اس کے مقدم ہونے کی وجہ سے، وَفِي كِتَابِ الدَّعْوَى فِي بَعْضِ النُّسَخِ، اور اسی طرح مبسوط کے بعض نسخوں کی کتاب الدعویٰ میں، مبسوط کے بعض نسخوں کی کتاب الدعویٰ میں کہتے ہیں: وَفِي كِتَابِ الدَّعْوَى فِي بَعْضِ النُّسَخِ، اور مبسوط کے بعض نسخوں کی کتاب الدعویٰ میں، اعْتُبِرَ الْوَاجِدُ، پانے والے کا اعتبار کیا گیا ہے، یا یوں بھی آپ معروف بھی پڑھ سکتے ہیں: اعْتَبَرَ الْوَاجِدَ، پانے والے کا اعتبار کیا ہے امام محمد رحمہ اللہ نے۔ تو مبسوط کے بعض نسخوں کی کتاب الدعویٰ کے اندر اعْتُبِرَ الْوَاجِدُ پانے والے کا اعتبار کیا گیا ہے، وَهُوَ رِوَايَةُ ابْنِ سَمَاعَةَ عَنْ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى، اور یہ روایت ہے ابن سماعہ کی امام محمد رحمہ اللہ سے۔ ابن سماعہ یاد رکھو یہ بھی بہت بڑے احناف کے فقیہ اور بہت بڑے امام گزرے ہیں اور یہ شاگرد ہیں صاحبین کے، یہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے بھی روایت کرتے ہیں اور امام محمد رحمہ اللہ سے بھی روایت کرتے ہیں۔ تو کہتے ہیں: وَهُوَ رِوَايَةُ ابْنِ سَمَاعَةَ عَنْ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى، اور یہ امام ابن سماعہ رحمہ اللہ کی روایت ہے امام محمد رحمہ اللہ سے، لِقُوَّةِ الْيَدِ، قبضے کے قوی ہونے کی وجہ سے۔ اس روایت کے مطابق جس کو بچہ ملا ہے اس کا اعتبار ہے کیونکہ قبضہ قوی ہے، جگہ کے مقابلے میں قبضہ قوی ہے بھئی، لِقُوَّةِ الْيَدِ قبضے کے قوی ہونے کی وجہ سے، أَلَا تَرَى، کیا آپ دیکھتے نہیں، أَنَّ تَبَعِيَّةَ الْأَبَوَيْنِ فَوْقَ تَبَعِيَّةِ الدَّارِ، وضاحت کر رہے ہیں کہ قبضہ قوی کیسے ہے جگہ کے مقابلے میں؟ بچہ ملا ہے مسلمانوں کے علاقے میں، قبضہ قوی کیسے ہے؟ تو بتلا رہے ہیں کہ دیکھیے دار الاسلام کے اندر کسی ذمی کے ہاں جب اولاد پیدا ہوتی ہے، تو اب دار الاسلام کے اعتبار سے دیکھیں تو اس بچے کو مسلمان شمار کرنا چاہیے کیونکہ دار الاسلام میں ہے، لیکن وہ والدین کے قبضے میں ہے تو قبضہ تقاضا کر رہا ہے اس کو ذمی قرار دینا چاہیے، اور آپ جانتے ہیں اس بچے کو ذمی قرار دیا جاتا ہے، معلوم ہوا قبضہ جو ہے وہ دار سے زیادہ قوی ہے بھئی۔ قبضہ جو ہے دار سے زیادہ قوی ہے۔ یہ معنیٰ ہے: أَلَا تَرَى، کیا آپ دیکھتے نہیں، أَنَّ تَبَعِيَّةَ الْأَبَوَيْنِ فَوْقَ تَبَعِيَّةِ الدَّارِ، کہ والدین کا تابع ہونا دار کے تابع ہونے سے بڑھ کر ہے۔ والدین کا تابع ہونا دار کے تابع ہونے سے بڑھ کر ہے اس لیے کیونکہ بچہ والدین کا جز ہے، والدین اور بچوں میں جزئیت والا تعلق ہے لیکن دار اور بچے میں تو جزئیت والا تعلق نہیں ہے۔ یہ معنیٰ ہے: أَلَا تَرَى أَنَّ تَبَعِيَّةَ الْأَبَوَيْنِ فَوْقَ تَبَعِيَّةِ الدَّارِ، کہ والدین کے تابع ہونا یہ دار کے تابع ہونے سے بڑھ کر ہے، حَتَّى إِذَا سُبِيَ مَعَ الصَّغِيرِ أَحَدُهُمَا يُعْتَبَرُ كَافِرًا، یہاں تک کہ بچے کو نابالغ کو اگر والدین میں سے کسی ایک کے ساتھ قیدی بنایا گیا تو اس کو کافر ہی شمار کیا جاتا ہے۔ بھئی دار الحرب میں کسی نابالغ کو والدین میں سے کسی ایک کے ساتھ قیدی بنایا گیا ہے تو اس بچے کو بھی والدین کے تابع کافر ہی قرار دیا جاتا ہے، معلوم ہوا قبضہ جو ہے وہ زیادہ قوی ہے دار کے مقابلے میں۔ تو کہتے ہیں: حَتَّى إِذَا سُبِيَ مَعَ الصَّغِيرِ أَحَدُهُمَا، یہاں تک کہ نابالغ کے ساتھ والدین میں سے کسی ایک کو قید کر لیا جائے، يُعْتَبَرُ كَافِرًا، تو اس نابالغ کو بھی کافر ہی اعتبار کیا جاتا ہے یعنی اسے کافر ہی شمار کیا جاتا ہے، وَفِي بَعْضِ نُسَخِهِ، اور اسی طرح کتاب الدعویٰ کے بعض نسخوں کے اندر ہے، اعْتُبِرَ الْإِسْلَامُ، کہ اسلام کا اعتبار ہے۔ یا یہاں بھی آپ معروف پڑھ سکتے ہیں: اعْتَبَرَ الْإِسْلَامَ، کہ کتاب الدعویٰ کے بعض نسخوں میں ہے کہ امام محمد رحمہ اللہ نے اسلام کا اعتبار کیا ہے۔ تو کہتے ہیں: وَفِي بَعْضِ نُسَخِهِ اعْتُبِرَ الْإِسْلَامُ، اور اس کے بعض نسخوں میں ہے کہ اسلام جو ہے وہ معتبر ہے، نَظَرًا لِلصَّغِيرِ، اس نابالغ پر شفقت کرتے ہوئے، کہ اسلام کے اندر اس کا نفع ہے لہٰذا اس کو مسلمان شمار کیا جائے گا۔ آگے دیکھیے بھئی: وَمَنِ ادَّعَى أَنَّ اللَّقِيطَ عَبْدُهُ لَمْ يُقْبَلْ مِنْهُ، صورتِ مسئلہ یہ کہ ایک شخص نے دعویٰ کر دیا کہ یہ جو بچہ ملا ہے یہ میرا غلام ہے، کہتے ہیں اس صورت میں اس کا دعویٰ قبول نہیں کیا جائے گا کیونکہ ہم آپ کو پہلے بتا چکے ہیں کہ یہ بچہ جو ہے یہ آزاد شمار ہوگا، اس پر آزاد لوگوں کے احکام جاری ہوں گے۔ ہاں اگر وہ دعویٰ کرنے والا وہ بینہ پیش کر دیتا ہے، گواہ پیش کر دیتا ہے پھر اس صورت کے اندر اس کے بینہ کو قبول کیا جائے گا۔ کہتے ہیں: وَمَنِ ادَّعَى أَنَّ اللَّقِيطَ عَبْدُهُ، اور جس شخص نے دعویٰ کر دیا کہ یہ لقیط جو ہے یہ اس کا غلام ہے، لَمْ يُقْبَلْ مِنْهُ، تو اس کے قول کو قبول نہیں کیا جائے گا، لِأَنَّهُ حُرٌّ ظَاهِرًا، اس لیے کیونکہ یہ لقیط آزاد ہے ظاہر کے اعتبار سے، إِلَّا أَنْ يُقِيمَ الْبَيِّنَةَ، مگر یہ کہ وہ شخص بینہ قائم کر دے، أَنَّهُ عَبْدُهُ، کہ یہ اس کا غلام ہے۔ فَإِنِ ادَّعَى عَبْدٌ أَنَّهُ ابْنُهُ، بھئی صورت یہ، ایک غلام نے دعویٰ کر دیا کہ یہ لقیط میرا بیٹا ہے، تو کیا اب بھی نسب ثابت ہوگا؟ کہتے ہیں ہاں نسب کی لقیط کو شدید حاجت ہے لہٰذا نسب ثابت ہو جائے گا، البتہ پھر بھی اس کو آزاد ہی شمار کیا جائے گا۔ پھر بھی آزاد، تو اس پر اشکال ہوتا ہے کہ باپ غلام ہو اور بچہ آزاد ہو یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ کہتے ہیں بھئی غلام اگر ایک آزاد عورت سے نکاح کر لیتا ہے تو بچے آزادی اور غلامی میں ماں کے تابع ہوتے ہیں، تو اس غلام کے بچے بھی آزاد شمار ہوں گے جب ماں آزاد ہے۔ اور اگر غلام باندی سے نکاح کر لیتا ہے تو اس غلام کے بچے جو ہیں ماں کے تابع ہو کر غلام اور باندیاں شمار ہوں گے، تو اس لقیط میں دونوں احتمال آ گئے، ہو سکتا ہے کسی آزاد ماں نے اس کو جنم دیا ہو تو یہ آزاد ہو اور ہو سکتا ہے اس کو باندی نے جنم دیا ہو تو یہ یہ بھی غلام ہو۔ تو اس کی آزادی اور غلامی میں شک آ گیا اور شک کی وجہ سے غلامی ثابت نہیں ہو سکتی کیونکہ انسان کے اندر اصل آزادی ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: فَإِنِ ادَّعَى عَبْدٌ أَنَّهُ ابْنُهُ، اگر ایک غلام نے دعویٰ کر دیا کہ یہ لقیط اس کا بیٹا ہے، ثَبَتَ نَسَبُهُ مِنْهُ، تو اس لقیط کا نسب اس غلام سے ثابت ہو جائے گا، لِأَنَّهُ يَنْفَعُهُ، اس لیے کیونکہ نسب اس کو فائدہ دے رہا ہے، وَكَانَ حُرًّا، اور وہ بچہ جو ہے وہ آزاد ہوگا، لِأَنَّ الْمَمْلُوكَ قَدْ تَلِدُ لَهُ الْحُرَّةُ، اس لیے کیونکہ مملوک کے لیے کبھی آزاد عورت بچے کو جنم دیتی ہے، فَلَا تَبْطُلُ الْحُرِّيَّةُ الظَّاهِرَةُ بِالشَّكِّ، لہٰذا اس کی وہ آزادی جو ظاہر ہے وہ شک کی وجہ سے باطل نہیں ہوگی۔ وَالْحُرُّ فِي دَعْوَتِهِ اللَّقِيطَ أَوْلَى مِنَ الْعَبْدِ، بھئی انہوں نے آپ کو بتلایا تھا کہ اگر دو آدمی لقیط کے بارے میں دعویٰ کر دیں تو جو پہلے دعویٰ کرے تو اس سے لقیط کا نسب ثابت ہو جائے گا، لیکن اگر دونوں اکٹھے دعویٰ کریں اور ترجیح کی کوئی صورت نہ ہو تو پھر وہ لقیط دونوں کا بیٹا شمار ہوگا۔ لیکن اگر وہاں ترجیح کی وجہ ہے، مثلاً جن دو آدمیوں نے دعویٰ کیا ہے ایک آزاد ہے اور دوسرا غلام ہے، تو آزاد آدمی کو ترجیح ہوگی، اس سے لقیط کا نسب ثابت ہو جائے گا، غلام سے اس کا نسب ثابت نہیں ہوگا۔ یا اسی طرح دو آدمیوں نے اکٹھا دعویٰ کیا ہے یا الگ الگ مجلسوں میں دعویٰ کیا ہے لیکن تقدیم و تاخیر کا پتہ نہیں چل سکتا تو اس کو بھی اکٹھا ہی شمار کیا جاتا ہے، لیکن ان میں سے ایک مسلمان ہے اور ایک ذمی ہے، تو یہاں بھی مسلمان کو ترجیح ہوگی لہٰذا اس کو مسلمان کا بچہ شمار کریں گے، ذمی کا بچہ شمار نہیں کریں گے۔ تو کہتے ہیں: وَالْحُرُّ فِي دَعْوَتِهِ اللَّقِيطَ، اور آزاد آدمی لقیط کے بارے میں اپنے دعوے کے اندر، أَوْلَى مِنَ الْعَبْدِ، وہ بہتر ہے غلام کے مقابلے میں، وَالْمُسْلِمُ أَوْلَى مِنَ الذِّمِّيِّ، اور مسلمان بہتر ہے ذمی کے مقابلے میں، تَرْجِيحًا لِمَا هُوَ الْأَنْظَرُ فِي حَقِّهِ، ترجیح دیتے ہوئے اس چیز کو جس میں زیادہ شفقت ہے اس لقیط کے حق میں، جس میں لقیط کے حق میں زیادہ شفقت ہے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی۔ بھئی اب صورت یہ ہے کہ لقیط کے ساتھ کچھ مال بھی بندھا ہوا ملا، تو آپ کو بتلائیں گے کہ یہ مال لقیط ہی کا شمار ہوگا۔ یا اسی طرح لقیط کسی سواری پر ملا ہے اور اس پر سواری کے ساتھ کچھ مال بھی بندھا ہوا تھا، تو اس صورت میں بھی یہ مال لقیط ہی کا شمار ہوگا، لیکن اگر بچہ الگ ملا اور مال اس کے ساتھ الگ پڑا ہے تو اس صورت میں یہ مال بچے کا شمار نہیں ہوگا بھئی۔ کہتے ہیں: وَإِنْ وُجِدَ مَعَ اللَّقِيطِ مَالٌ مَشْدُودٌ عَلَيْهِ، اور اگر لقیط کے ساتھ پایا گیا ایسا مال جس کو اس پر باندھا گیا ہے، فَهُوَ لَهُ، تو یہ مال اس لقیط ہی کا ہے، اعْتِبَارًا لِلظَّاهِرِ، ظاہر کا اعتبار کرتے ہوئے، کہ یہ مال اسی کا ہے کیونکہ اسی کے قبضے میں ہے، اس کے ساتھ بندھا ہوا ہے، وَكَذَا إِذَا كَانَ مَشْدُودًا عَلَى دَابَّةٍ وَهُوَ عَلَيْهَا، اور اسی طرح ہے حکم جب وہ مال باندھا گیا ہو سواری پر اس حال میں کہ لقیط اسی سواری پر ہے، لِمَا ذَكَرْنَا، اس وجہ سے جو ہم نے ذکر کر دیا کہ ظاہر یہی ہے کہ یہ مال اس کے ساتھ ہے تو یہ اسی کا مملوک ہے بھئی۔ ثُمَّ يَصْرِفُهُ الْوَاجِدُ إِلَيْهِ بِأَمْرِ الْقَاضِي، بھئی اب کیا یہ شخص جس کو یہ لقیط اور اس کا مال ملا ہے کیا یہ اس مال میں سے اس لقیط پر خود خرچ کر سکتا ہے یا قاضی کی اجازت کی ضرورت ہوگی؟ تو آپ کو بتلائیں گے کہ وہ اس مال کو قاضی کی اجازت سے خرچ کر سکتا ہے، جبکہ بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ ظاہر یہی ہے یہ اس لقیط کا مال ہے لہٰذا قاضی کی اجازت کے بغیر بھی اس پر خرچ کر سکتا ہے۔ کہتے ہیں: ثُمَّ يَصْرِفُهُ الْوَاجِدُ إِلَيْهِ بِأَمْرِ الْقَاضِي، پھر اس مال کو پانے والا اس لقیط پر خرچ کرے گا قاضی کے حکم سے، لِأَنَّهُ مَالٌ ضَائِعٌ، اس لیے کیونکہ یہ گم شدہ مال ہے، یہ گم شدہ مال ہے اور قاضی کو ولایت ہوتی ہے کہ اس طرح کا گم شدہ مال وہ لقیط پر خرچ کرنے کا حکم دے سکتا ہے۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّهُ مَالٌ ضَائِعٌ، اس لیے کیونکہ یہ ضائع مال ہے یعنی گم شدہ مال ہے، وَلِلْقَاضِي وِلَايَةُ الصَّرْفِ مِثْلِهِ إِلَيْهِ، اور قاضی کو ولایت ہوتی ہے اس طرح کا ضائع مال لقیط پر خرچ کرنے کی، وَقِيلَ: يَصْرِفُهُ بِغَيْرِ أَمْرِ الْقَاضِي، اور کہا گیا ہے کہ وہ پانے والا قاضی کے حکم کے بغیر بھی اس مال کو اس لقیط پر خرچ کر سکتا ہے، لِأَنَّهُ لِلَّقِيطِ ظَاهِرًا، اس لیے کیونکہ یہ مال لقیط ہی کا ہے ظاہر کے اعتبار سے۔ آگے دیکھیے: وَلَهُ وِلَايَةُ الْإِنْفَاقِ وَشِرَاءِ مَا لَا بُدَّ لَهُ مِنْهُ، یہاں سے بتلا رہے ہیں کہ ملتقط کو لقیط پر کس کس چیز کی ولایت حاصل ہے اور کس چیز کی ولایت حاصل نہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَلَهُ وِلَايَةُ الْإِنْفَاقِ، اس ملتقط کو ولایت ہے اس پر خرچ کرنے کی، وَشِرَاءِ مَا لَا بُدَّ لَهُ مِنْهُ، اور اس چیز کے خریدنے کی جو اس لقیط کے لیے ضروری ہے، كَالطَّعَامِ وَالْكِسْوَةِ، جیسے کہ کھانا ہے اور کپڑے ہیں، لِأَنَّهُ مِنَ الْإِنْفَاقِ لَهُ، اس لیے کیونکہ یہ بھی اسی پر خرچ کرنے میں سے ہے یعنی لقیط کے لیے ایسی چیز خریدنا جس کی اس کو ضرورت ہے تو یہ بھی گویا اسی پر خرچ کیا جا رہا ہے۔ وَلَا يَجُوزُ تَزْوِيجُ الْمُلْتَقِطِ، اور ملتقط کا نکاح کروانا جائز نہیں، ملتقط کو یہ ولایت نہیں ہے کہ اس لقیط کا نکاح کروا دے۔ کہتے ہیں: وَلَا يَجُوزُ تَزْوِيجُ الْمُلْتَقِطِ، اور ملتقط کا اس لقیط کا نکاح کروانا جائز نہیں ہے، لِانْعِدَامِ سَبَبِ الْوِلَايَةِ، اس وجہ سے کہ ولایت کا سبب معدوم ہے، ملتقط جو ہے اس کو اس بات کی ولایت نہیں ہے کہ وہ اس لقیط کا نکاح کروا دے، اس کا نکاح کروانے کی ولایت حاصل نہیں اس لیے کیونکہ نکاح کی ولایت یا تو رشتہ داری کی وجہ سے حاصل ہوتی ہے یا مالک کو حاصل ہوتی ہے کہ وہ جس کا نکاح کروا رہا ہے وہ اس کا مملوک ہے، یا بادشاہ کو حاصل ہوتی ہے کہ وہ نابالغ جو ہے اس کا کوئی رشتہ دار وغیرہ نہیں ہے تو بادشاہ کو ولایت حاصل ہوتی ہے، لیکن یہاں ملتقط کے اندر کوئی ایک سبب بھی نہیں پایا جا رہا ولایتِ نکاح کا، نہ تو وہ اس لقیط کا قریبی رشتہ دار ہے، نہ وہ اس کا مالک ہے اور نہ وہ بادشاہ ہے، نہ بادشاہ اور حاکم ہے بھئی۔ کہتے ہیں: وَلَا يَجُوزُ تَزْوِيجُ الْمُلْتَقِطِ لِانْعِدَامِ سَبَبِ الْوِلَايَةِ، اور ملتقط کا اس لقیط کا نکاح کروانا جائز نہیں ہے اس وجہ سے کہ ولایت کا سبب معدوم ہے، یہاں ولایت کا سبب معدوم ہے، اسے ولایت حاصل نہیں ہے، بتلا رہے ہیں وہ سببِ ولایت کیا کیا ہو سکتا ہے؟ کہتے ہیں: مِنَ الْقَرَابَةِ وَالْمِلْكِ وَالسَّلْطَنَةِ، یعنی رشتہ داری اور ملکیت اور بادشاہی یعنی حکومت۔ یا تو قریبی رشتہ دار ہو اس کو بھی ولایت ہوتی ہے وہ اس کا نکاح کروا سکتا ہے نابالغ کا، یا مالک ہو، مالک کو بھی اپنے مملوک کا نکاح کرنے کی ولایت ہوتی ہے، یا وہ حاکم ہو، حاکم کو بھی نکاح کی ولایت ہوتی ہے، تو ملتقط میں ان میں سے کوئی ایک چیز بھی نہیں پائی جا رہی، نہ وہ قریبی رشتہ دار ہے اس لقیط کا، نہ وہ اس کا مالک ہے اور نہ وہ اس پر حاکم ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: لِانْعِدَامِ سَبَبِ الْوِلَايَةِ مِنَ الْقَرَابَةِ وَالْمِلْكِ وَالسَّلْطَنَةِ، ولایت کا سبب معدوم ہونے کی وجہ سے یعنی رشتہ داری اور ملکیت اور حکومت۔ قَالَ، صاحب قدوری فرماتے ہیں: وَلَا تَصَرُّفُهُ فِي مَالِ الْمُلْتَقَطِ، اس کا عطف بھی تزویج پر ہے، پیچھے آیا تھا: وَلَا يَجُوزُ تَزْوِيجُ الْمُلْتَقِطِ، وَلَا يَجُوزُ تَصَرُّفُهُ فِي مَالِ الْمُلْتَقَطِ، بھئی بچے کو پانے والا وہ ہے ملتقِط اور بچہ ہے لقیط اور اسی طرح ملتقَط بھی بھئی، اسم مفعول جس کو پایا گیا ہے، جس کو اٹھایا گیا ہے۔ تو یہاں یہ ملتقَط لفظ ہے بھئی یاد رکھنا۔ وَلَا تَصَرُّفُهُ فِي مَالِ الْمُلْتَقَطِ، اور ملتقط کے لیے ملتقط یعنی وہ جو لقیط ہے اس کے مال میں تصرف کرنا بھی جائز نہیں ہے۔ توجہ ہے؟ تو یہ وَلَا تَصَرُّفُهُ اس کا عطف ہے پیچھے جو آیا تھا تَزْوِيجُ الْمُلْتَقِطِ یہ اس پر عطف ہے۔ وَلَا تَصَرُّفُهُ فِي مَالِ الْمُلْتَقَطِ، اور ملتقط کے مال میں اس کا تصرف بھی جائز نہیں ہے، اعْتِبَارًا بِالْأُمِّ، ماں پر قیاس کرتے ہوئے، کس پر؟ ماں پر۔ آپ پڑھ چکے ہیں کہ باپ کو نابالغ اولاد کے مال میں تصرف کا حق ہوتا ہے لیکن ماں کو نابالغ اولاد کے مال میں تصرف کا حق نہیں، وجہ یہ کہ نابالغ اولاد کے مال میں جو تصرف کا حق دیا ہے شریعت نے وہ مال کو بڑھانے کے لیے ہے، نفع کے لیے ہے اور اس کے لیے دو چیزیں چاہئیں: ایک عقل کامل ہونی چاہیے اور ایک شفقت کامل ہونی چاہیے۔ باپ کی عقل بھی کامل ہے اور شفقت بھی کامل ہے لہٰذا اس کو صغیر کے مال پر ولایت حاصل ہے۔ ماں جو ہے ماں کے اندر شفقت تو کامل ہے لیکن عقل کامل نہیں کیونکہ عورتوں کو ناقصات العقل کہا گیا ہے حدیث کے اندر بھئی، لہٰذا ماں کو نابالغ کے مال میں تصرف کا حق نہیں۔ اسی طرح یہ جو ملتقط ہے یہ مرد ہے، اس کی عقل تو کامل ہے لیکن یہ تو اجنبی ہے، یہاں شفقت کامل نہیں ہے لہٰذا اس کو بھی صغیر کے مال میں تصرف کی ولایت نہیں ہوگی بھئی۔ یہ معنیٰ ہے: وَلَا تَصَرُّفُهُ فِي مَالِ الْمُلْتَقَطِ اعْتِبَارًا بِالْأُمِّ، اور ملتقط کا تصرف بھی جائز نہیں ہے اس لقیط کے مال میں ماں پر قیاس کرتے ہوئے، وَهَذَا، اور یہ اس وجہ سے، لِأَنَّ وِلَايَةَ التَّصَرُّفِ لِتَثْمِيرِ الْمَالِ، اس لیے کیونکہ مال کے اندر تصرف کی جو ولایت ہوتی ہے لِتَثْمِيرِ الْمَالِ، تثمیر بھئی ثَمَّرَ يُثَمِّرُ تَثْمِير ث کے ساتھ، اس کے معنیٰ ہیں مال کو بڑھانا، لِأَنَّ وِلَايَةَ التَّصَرُّفِ لِتَثْمِيرِ الْمَالِ، اس لیے کیونکہ مال کے اندر جو تصرف کی ولایت ہوتی ہے وہ مال کو بڑھانے کے لیے ہوتی ہے، وَذَلِكَ يَتَحَقَّقُ بِالرَّأْيِ الْكَامِلِ وَالشَّفَقَةِ الْوَافِرَةِ، اور یہ پائی جاتی ہے کامل رائے یعنی کامل عقل کے ذریعے اور کثیر شفقت کے ذریعے، مال میں تصرف کی ولایت کس لیے دی گئی ہے؟ مال کو بڑھانے کے لیے، اور اس کے لیے عقل کا کامل ہونا اور شفقت کا وافر ہونا ضروری ہے اور یہ تو اس ملتقط کے اندر نہیں پائی جاتی۔ تو کہتے ہیں: وَذَلِكَ يَتَحَقَّقُ بِالرَّأْيِ الْكَامِلِ وَالشَّفَقَةِ الْوَافِرَةِ، اور یہ ولایت پائی جاتی ہے کامل عقل اور وافر شفقت کے ذریعے، وَالْمَوْجُودُ فِي كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا أَحَدُهُمَا، اور ان دونوں میں سے ہر ایک کے اندر تو ان میں سے ایک چیز پائی جا رہی ہے، ماں کے اندر شفقت تو کامل ہے لیکن عقل کامل نہیں، اور ملتقط کے اندر عقل تو کامل ہے لیکن شفقت کامل نہیں، یہ معنیٰ ہے: وَالْمَوْجُودُ فِي كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا أَحَدُهُمَا، اور ان دونوں کے اندر ان دو چیزوں میں سے ایک چیز پائی جا رہی ہے۔ قَالَ، صاحب قدوری فرماتے ہیں: وَيَجُوزُ أَنْ يَقْبِضَ لَهُ الْهِبَةَ، ہاں ملتقط کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ لقیط کے لیے تحفے پر قبضہ کر سکتا ہے۔ کوئی تحفہ بھیجتا ہے اس لقیط کے لیے تو ملتقط کو ولایت ہے کہ وہ تحفے پر اس لقیط کے لیے قبضہ کر سکتا ہے، وجہ یہ کہ اس کے اندر لقیط کا کوئی نقصان نہیں ہے، صرف فائدہ ہی فائدہ ہے لہٰذا اس کی اجازت ہے اس کو۔ کہتے ہیں: وَيَجُوزُ أَنْ يَقْبِضَ لَهُ الْهِبَةَ، اور ملتقط کے لیے جائز ہے کہ وہ اس لقیط کے لیے ہبہ پر قبضہ کر لے، لِأَنَّهُ نَفْعٌ مَحْضٌ، اس لیے کیونکہ وہ صرف نفع ہے، وَلِهَذَا يَمْلِكُهُ الصَّغِيرُ بِنَفْسِهِ إِذَا كَانَ عَاقِلًا، اور اسی لیے صغیر خود بھی اس کا مالک ہوتا ہے جب وہ عقل والا ہو یعنی سمجھدار ہو۔ اس میں چونکہ صرف بچے کا نفع ہے لہٰذا بچہ خود بھی اپنے ہبہ پر قبضہ کر سکتا ہے جب وہ سمجھدار ہے۔ وَتَمْلِكُهُ الْأُمُّ وَوَصِيُّهَا، اور نیز اس کی مالک تو اس کی ماں بھی ہے اور اس کا وصی بھی ہے۔ نابالغ کو کوئی تحفہ دے، ماں کو اگرچہ نابالغ کے مال پر ولایت حاصل نہیں لیکن صغیر کے لیے تحفے پر ماں بھی قبضہ کر سکتی ہے۔ اسی طرح وصی بھئی، وصی وہ شخص ہے کہ جسے مرنے والا اپنے مال کا نگران بنا دے کہ میری اولاد پر خرچ کرنا اور ان میں وراثت صحیح طرح تقسیم کر دینا، تو اس کو وصی کہتے ہیں، تو وصی کو بھی یہ ولایت حاصل ہوتی ہے کہ میت کے نابالغ اولاد کے لیے کوئی تحفہ بھیجے تو وصی اس کے لیے اس پر قبضہ کر سکتا ہے کیونکہ اس میں صرف بچے کا نفع ہی نفع ہے، نقصان نہیں۔ تو کہتے ہیں: وَتَمْلِكُهُ الْأُمُّ وَوَصِيُّهَا، اور اس کا مالک تو ماں اور وصی بھی ہوتے ہیں۔ قَالَ: وَيُسْلِمَهُ فِي صِنَاعَةٍ، قَالَ صاحب قدوری فرماتے ہیں: وَيُسْلِمَهُ، یہ يُسْلِمَ کا عطف ہے پیچھے آیا تھا أَنْ يَقْبِضَ، تو يَقْبِضَ منصوب ہے أَنْ کی وجہ سے تو اسی پر يُسْلِمَ کا عطف ہے یہ بھی منصوب ہوگا۔ قَالَ صاحب قدوری فرماتے ہیں: وَيُسْلِمَهُ فِي صِنَاعَةٍ، صناعت کہتے ہیں کاریگری اور پیشہ۔ کیا یہ ملتقط اس بچے کو کسی کاریگری یا پیشے میں دے سکتا ہے آگے کہ یہ پیشہ سیکھ لے، کاریگری سیکھ لے؟ تو کہتے ہیں پیشے میں دے سکتا ہے۔ کہتے ہیں قَالَ صاحب قدوری فرماتے ہیں: وَيُسْلِمَهُ فِي صِنَاعَةٍ، یہ ملتقط جو ہے اس لقیط کو کاریگری کے اندر سپرد کر سکتا ہے، لِأَنَّهُ مِنْ بَابِ تَثْقِيفِهِ وَحِفْظِ حَالِهِ، تثقیف بھئی ثَقَّفَ يُثَقِّفُ تَثْقِيف کا معنیٰ ہے مہذب بنانا، مہذب بنانا اور اصلاح کرنا۔ کہتے ہیں: لِأَنَّهُ مِنْ بَابِ تَثْقِيفِهِ، اس لیے کیونکہ یہ بچے کو مہذب بنانے کے باب سے ہے، وَحِفْظِ حَالِهِ، اور اس کی حالت کی حفاظت کے لیے ہے لہٰذا اس کی اجازت ہوگی اس کو۔ قَالَ، صاحب قدوری فرماتے ہیں: وَيُؤَاجِرَهُ، کہ یہ جو ملتقط ہے یہ اس لقیط کو اجارے پر بھی دے سکتا ہے یعنی اجرت پر مزدوری اس سے کروا سکتا ہے۔ تو کہتے ہیں قَالَ صاحب قدوری فرماتے ہیں: وَيُؤَاجِرَهُ، اور اس لقیط کو وہ اجرت پر بھی دے سکتا ہے۔ قَالَ الْعَبْدُ الضَّعِيفُ، یہاں سے صاحب ہدایہ ذکر فرما رہے ہیں کہ صاحب قدوری نے تو ذکر فرمایا کہ ملتقط اس بچے کو اجرت پر دے سکتا ہے یعنی اس پر اجرت سے کام کروا سکتا ہے، لیکن لیکن جامع صغیر کے اندر ہے کہ ملتقط جو ہے وہ لقیط کو اجرت پر نہیں دے سکتا۔ تو کہتے ہیں: قَالَ الْعَبْدُ الضَّعِيفُ، اللہ کا کمزور بندہ کہتا ہے: وَهَذَا رِوَايَةُ الْقُدُورِيِّ فِي مُخْتَصَرِهِ، کہ یہ قدوری کی روایت ہے ان کی مختصر میں، وَفِي الْجَامِعِ الصَّغِيرِ: لَا يَجُوزُ أَنْ يُؤَاجِرَهُ، اور جامع صغیر کے اندر ہے کہ ملتقط کے لیے جائز نہیں ہے کہ اس لقیط کو اجارے پر دے، ذَكَرَهُ فِي الْكَرَاهِيَةِ، اس کو امام محمد رحمہ اللہ نے کتاب الکراهية کے اندر ذکر کیا ہے، وَهُوَ الْأَصَحُّ، اور یہ قول زیادہ صحیح ہے۔ وَجْهُ الْأَوَّلِ، پہلے قول کی وجہ، وہ جو امام قدوری نے قول ذکر کیا کہ اجارے پر دے سکتا ہے، کہتے ہیں: وَجْهُ الْأَوَّلِ، پہلے قول یعنی امام قدوری کے قول کی وجہ یہ ہے، أَنَّهُ يَرْجِعُ إِلَى تَثْقِيفِهِ، کہ یہ جو اجارے پر دینا ہے یہ لوٹتا ہے اسی بچے کی تہذیب کی طرف، اس سے بچہ مہذب بنے گا، تہذیب سیکھے گا، کام کاج سیکھے گا۔ وَوَجْهُ الثَّانِي، اور دوسرے قول کی وجہ جو جامع صغیر میں آیا کہ ملتقط لقیط کو اجارے پر نہیں دے سکتا، تو کہتے ہیں: وَوَجْهُ الثَّانِي، اور دوسرے قول کی وجہ یہ ہے، أَنَّهُ لَا يَمْلِكُ إِتْلَافَ مَنَافِعِهِ، کہ یہ ملتقط مالک نہیں ہے کہ یہ بچے کے منافع کو تلف کرے، بھئی یاد رکھو ماں بچے سے خدمت لے سکتی ہے لیکن کوئی اجنبی بچے سے خدمت لے یہ اس کے لیے جائز نہیں، یا اسی طرح چچا بچے سے خدمت لیتا ہے یہ جائز نہیں، تو معلوم ہوا جب ماں بچے سے خود خدمت لے رہی ہے تو معلوم ہوا وہ بچے کے منافع کو تلف کر رہی ہے، پیسے نہیں کما رہی، حالانکہ اس کام کے ذریعے پیسے بھی کمائے جا سکتے تھے کہ وہ کسی اور کی خدمت کے لیے اس کو مقرر کر دیتی، تو معلوم ہوا ماں خود خدمت لے کر بچے کے منافع تلف کر سکتی ہے، ماں اس چیز کی مالک ہے، تو ماں جب بچے کے منافع تلف کرنے کی مالک ہے بغیر عوض کے یعنی اپنی خدمت لے کر، تو ماں اس بچے کو اجارے پر بھی دے سکتی ہے، اور ملتقط جیسے ملتقط جو ہے وہ خود اس بچے سے خدمت نہیں لے سکتا تو دوسروں کو بھی یہ بچہ اجارے پر نہیں دے سکتا، یہ اسی طرح ہے جیسے چچا، چچا جو ہے وہ نابالغ سے خود خدمت نہیں لے سکتا تو دوسرے کو بھی اجارے پر نہیں دے سکتا۔ تو کہتے ہیں: وَوَجْهُ الثَّانِي أَنَّهُ لَا يَمْلِكُ إِتْلَافَ مَنَافِعِهِ، اور دوسرے قول کی وجہ یہ ہے کہ یہ ملتقط جو ہے یہ بچے کے منافع تلف کرنے کا مالک نہیں، تلف کرے یعنی اس سے خود خدمت لے لے، یہ اس بات کا مالک نہیں ہے، فَأَشْبَهَ الْعَمَّ، تو یہ چچا کے مشابہ ہو گیا، تو لہٰذا جب یہ خود منافع تلف نہیں کر سکتا تو دوسروں کو بھی اجارے پر نہیں دے سکتا، بِخِلَافِ الْأُمِّ، بخلاف ماں کے، لِأَنَّهَا تَمْلِكُهُ، کیونکہ وہ اس بات کی مالک ہے، وہ بچے کے منافع تلف کر سکتی ہے یعنی خود اس سے خدمت لے اس سے، لِأَنَّهَا تَمْلِكُهُ عَلَى مَا نَذْكُرُهُ فِي الْكَرَاهِيَةِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى، کیونکہ ماں اس کی مالک ہے اس وجہ سے جو ہم کتاب الکراهية میں ان شاء اللہ تعالیٰ ذکر کریں گے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
160 approved lectures · 146 of 160