Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء ثاني · dars-144

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 16 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 123
📂 Choose Format:
⭐ ★★★★★ Excellent TEXT
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
آگے سبق دیکھیے بھئی: ”فَإِنْ عَادَ الْمُرْتَدُّ بَعْدَ الْحُكْمِ بِلِحَاقِهِ بِدَارِ الْحَرْبِ إِلَى دَارِ الْإِسْلَامِ مُسْلِمًا، فَمَا وَجَدَهُ فِي يَدِ وَرَثَتِهِ مِنْ مَالِهِ بِعَيْنِهِ أَخَذَهُ، لِأَنَّ الْوَارِثَ إِنَّمَا يَخْلُفُهُ فِيهِ لِاسْتِغْنَائِهِ، وَإِذَا عَادَ مُسْلِمًا احْتَاجَ إِلَيْهِ فَيُقَدَّمُ عَلَيْهِ“. بھئی! گزشتہ سبق میں صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ اگر مرتد کا ارتداد کی حالت میں انتقال ہو جائے یا اس کو قتل کر دیا جائے، تو اس نے اسلام کی حالت میں جو کمایا تھا وہ اس کے وارثوں کی طرف منتقل ہو جائے گا، اور جو اس نے ارتداد کی حالت میں کمایا تھا وہ مالِ فے ہے۔ اور یہ امام صاحب کے نزدیک ہے؛ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ اس کا سارا مال جو ہے وہ اس کے وارثوں کی طرف منتقل ہوگا، چاہے اس نے اسلام کی حالت میں کمایا ہے اور چاہے ارتداد کی حالت میں کمایا ہے۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مرتد کا سارا مال جو ہے وہ مالِ فے ہے، چاہے اس نے ارتداد کی حالت میں کمایا ہے اور چاہے اسلام کی حالت میں۔ اس لیے کیونکہ مرتد جو ہے وہ کافر حربی کے درجے میں ہے، اور کافر حربی کا سارا مال جو ہے مالِ فے ہوتا ہے، مسلمان جو ہے وہ کافر کا وارث نہیں بن سکتا، تو مرتد جب کافر حربی ہے تو اس کا سارا مال مالِ فے ہوگا۔ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ مرتد کا سارا مال جو ہے اس کی ملکیت ہے، لہٰذا وہ وارثوں کی طرف منتقل ہوگا۔ وجہ یہ کہ وہ فرماتے ہیں کہ یہ مرتد ہے، یہ مکلف ہے اور محتاج ہے، اور جو بھی مکلف اور محتاج ہوتا ہے وہ اپنے مال کا مالک ہوتا ہے، تو لہٰذا اس کا سارا مال اس کا مملوک ہے۔ اور امام شافعی رحمہ اللہ نے جو ذکر فرمایا تھا کہ مسلمان کافر کا وارث نہیں ہو سکتا، تو اس کا جواب دیتے ہیں صاحبین کہ یہ جو وراثت ہے اس کی نسبت کی جائے گی ارتداد سے پہلے کی طرف، کہ عین جس وقت یہ مرتد ہو رہا تھا تو اسلام کے اندر جو اس کی زندگی کا آخری جز تھا اس کو یوں سمجھا جائے گا کہ یہ اس کی زندگی کا ہی آخری جز ہے اور اس کے اندر مال اس کے مسلمان وارثوں کی طرف منتقل ہوگا، تو مسلمان جو ہے وہ مسلمان ہی کا وارث بنا، کافر کا وارث نہیں بنا۔ جبکہ امام صاحب فرماتے ہیں کہ مرتد کا وہ مال جو اس نے اسلام کی حالت میں کمایا تھا اس کی نسبت تو ہو سکتی ہے ارتداد سے پہلے کی طرف کیونکہ اس وقت وہ مال موجود ہے، لیکن جو مال اس نے ارتداد کے بعد کمایا ہے وہ مال تو ارتداد کے وقت موجود ہی نہیں ہے، لہٰذا ارتداد سے ماقبل کی طرف اس کی نسبت بھی نہیں ہو سکتی۔ جب اس مال کی نسبت ارتداد سے ماقبل کی طرف نہیں ہو سکتی تو پھر وہ مالِ فے ہوگا۔ اور جو اسلام میں کمایا ہے اس مال کی نسبت ارتداد سے پہلے کی طرف ہو سکتی ہے لہٰذا وہ مالِ وراثت ہوگا بھئی۔ اور پھر اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے مسئلہ ذکر فرمایا تھا کہ مرتد کا وارث کون کون ہوگا؟ تو بتلایا کہ اس سلسلے میں امام صاحب سے تین روایتیں ہیں: ایک روایت حسن بن زیاد رحمہ اللہ کی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ امام صاحب کے نزدیک مرتد کا وارث وہ مسلمان ہوگا جو ارتداد کے وقت بھی وارث بن رہا ہو اور موت کے وقت بھی وہ زندہ ہے اور وارث بن رہا ہے، تو وہ وارث بنے گا بھئی۔ وجہ یہ کہ موت کے وقت اس نے وارث بننا ہے تو لہٰذا موت کے وقت اس وارث کا ہونا ضروری، اور نیز اس وراثت کی نسبت جو ہے ارتداد سے پہلے کی طرف کی جائے گی تو عین ارتداد کے وقت بھی اس وارث کا موجود ہونا ضروری ہے۔ جبکہ دوسری روایت امام صاحب سے وہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ نقل فرماتے ہیں کہ امام صاحب کے نزدیک صرف ارتداد کی حالت کا اعتبار ہے، جس وقت یہ شخص مرتد ہوا تھا اس وقت وارث کا وارث ہونا معتبر ہے، کیونکہ ارتداد موت کے درجے میں ہے، تو اس وقت جو وارث موجود ہے وہی وارث بنے گا۔ اور تیسری روایت جو ہے وہ امام محمد رحمہ اللہ نقل فرماتے ہیں امام صاحب سے، اس روایت کے مطابق مرتد کی موت کا اعتبار ہے ارتداد کا اعتبار نہیں۔ تو موت کے وقت جو شخص وارث بن رہا ہے وہ وارث بنے گا، ارتداد کے وقت کا اعتبار نہیں کیا جائے گا۔ وجہ یہ ہے کہ ارتداد موت کا سبب ہے، اور جو چیز سبب کے منعقد ہونے کے بعد سبب کے تام ہونے سے پہلے پائی جائے اس کو اسی طرح شمار کیا جاتا ہے جیسے وہ سبب سے پہلے ہی موجود تھی۔ جیسے ایک شخص کسی سے کوئی باندی وغیرہ خریدے لیکن قبضے سے پہلے ہی اس باندی نے ایک بچے کو جنم دے دیا، تو یہ جو بچہ پیدا ہوا ہے یہ بیع کے بعد اور قبضے سے پہلے پیدا ہوا ہے، یعنی مشتری کی ملکیت کا سبب منعقد تو ہو چکا ہے بیع کی وجہ سے لیکن ابھی تام نہیں ہوا کیونکہ مشتری نے قبضہ نہیں کیا، اور جو چیز سبب کے بعد پائی جائے لیکن سبب کے تام ہونے سے پہلے پائی جائے اس کو اسی طرح شمار کیا جاتا ہے جیسے وہ سبب سے پہلے ہی موجود تھی، تو یوں سمجھا جائے گا یہ بچہ بیع سے پہلے ہی موجود تھا، اور اس باندی اور بچے دونوں کی بیع ہوئی ہے لہٰذا اس بچے کے مقابلے میں بھی ثمن آئیں گے۔ اگر بائع بچہ حوالے نہیں کرتا تو اسی کے بقدر ثمن میں کمی ہو جائے گی۔ البتہ یہ بچہ مضمون نہیں ہے، یعنی اگر بائع کے پاس یہ بچہ ویسے ہی ہلاک ہو گیا تو پھر اس صورت کے اندر بائع پر اس کا ضمان نہیں آئے گا بھئی۔ تو یہاں پر بھی ارتداد کی وجہ سے موت کا سبب تو پایا گیا لیکن ابھی موت آئی نہیں، یہ سبب ابھی تام نہیں ہوا، تو اس سبب کے تام ہونے سے پہلے جو بھی وارث بن رہا ہو اس کو یوں ہی سمجھا جائے گا جیسے وہ ارتداد سے پہلے ہی وارث بن رہا تھا بھئی۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے یہ مسئلہ بھی ذکر فرمایا کہ یہ ارتداد مرض الموت کے درجے میں ہے، لہٰذا ارتداد کی وجہ سے نکاح ٹوٹ جائے گا لیکن اس مرتد کی بیوی جو ہے وہ وارثہ بنے گی اگر عدت کے اندر اندر مرتد مر گیا یا اس کو قتل کر دیا گیا۔ کیونکہ یہ مرتد رجلِ فار کے درجے میں ہوا، اور رجلِ فار کی بیوی جو ہے وہ عدت کے اندر وارثہ بنتی ہے تو اس مرتد کی بیوی بھی عدت کے اندر وارثہ بنے گی۔ اور اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی بتلایا کہ اگر مرتد ہونے والی عورت ہے تو پھر اس صورت میں اگر یہ عورت مرض الموت میں مرتد ہوئی ہے تو پھر اس کا خاوند وارث بنے گا اور یہ حکم استحساناً ہے، وجہ یہ کہ مرض الموت میں ارتداد سے معلوم ہو رہا ہے کہ یہ عورت خاوند کے حق کو باطل کرنا چاہتی ہے لہٰذا خاوند کے حق کو باطل نہیں کیا جائے گا بھئی۔ ہاں، اگر وہ عورت جو مرتَدّہ ہوئی ہے وہ صحیح اور تندرست تھی پھر ارتداد کے بعد اس کا خاوند اس کا وارث نہیں بنے گا بھئی۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے یہ مسئلہ بھی ذکر فرمایا کہ اگر مرتد دار الحرب بھاگ گیا اور قاضی نے اس کے دار الحرب چلے جانے کا فیصلہ کر دیا تو یہ بھی مرتد کے لیے موتِ حکمی ہے بھئی، لہٰذا اس کی وجہ سے بھی اس مرتد کے جو مدبر اور امہات اولاد ہیں وہ آزاد ہو جائیں گی، اس پر جو قرضے ہیں وہ فوری طور پر واجب الادا ہو جائیں گے، اور جو اس نے اسلام کی حالت میں کمایا تھا وہ وارثوں کی طرف منتقل ہو جائے گا بھئی۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جیسے ارتداد کے بعد مرتد کا مال موقوف ہو گیا تھا تو دار الحرب جانے کے بعد بھی اس کا مال موقوف رہے گا، وارثوں کی طرف منتقل نہیں ہوگا بھئی۔ جبکہ ہم کہتے ہیں کہ مرتد جب دار الحرب چلا گیا تو دار الحرب والے مردوں کے حکم میں ہیں، جس طرح مردوں پر اسلامی احکام لازم نہیں کیے جا سکتے اسی طرح دار الحرب والوں پر بھی ہمیں ولایت حاصل نہیں ہے، ان پر بھی اسلامی احکام لازم نہیں کیے جا سکتے، تو دار الحرب والے مردوں کے حکم میں ہیں۔ اور جب یہ مرتد دار الحرب والوں سے جا ملا تو یہ بھی مردوں کے حکم میں ہو گیا، لہٰذا مردوں والے احکام جاری ہوں گے اور اس کا مال اس کے وارثوں کی طرف منتقل ہو جائے گا بھئی۔ اور صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی بتلایا کہ مرتد پر جو قرضے واجب ہوئے ہیں، امام صاحب کے نزدیک اس پر اسلام کی حالت میں جو قرضے لازم ہوئے تھے وہ اسی مال سے ادا کیے جائیں گے جو اس نے اسلام کی حالت میں کمایا ہے، اور جو قرضے اس پر ارتداد کی حالت میں لازم ہوئے ہیں وہ اسی مال سے ادا کیے جائیں گے جو اس نے ارتداد کی حالت میں کمایا ہے۔ اور صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ امام صاحب کی یہ روایت جو ہے امام زفر رحمہ اللہ نقل فرماتے ہیں، اور امام صاحب سے ہی اس سلسلے میں دوسری روایت جو ہے وہ حسن بن زیاد رحمہ اللہ نقل فرماتے ہیں کہ امام صاحب فرماتے ہیں کہ مرتد پر جو قرضے ہیں ان کی ادائیگی کی ابتدا اس مال سے کی جائے گی جو اس نے اسلام کی حالت میں کمایا تھا، اگر اس کے ذریعے ادائیگی پوری نہ ہو سکی پھر ارتداد کے مال کو بھی ساتھ ملایا جائے گا بھئی۔ اور تیسری روایت امام ابو یوسف رحمہ اللہ امام صاحب سے نقل فرماتے ہیں کہ مرتد کے قرضوں کی ادائیگی کی ابتدا اس مال سے کی جائے گی جو اس نے ارتداد کی حالت میں کمایا ہے، اور اگر اس کے ذریعے ادائیگی پوری نہ ہو سکی تو پھر وہ مال جو اس نے اسلام کی حالت میں کمایا ہے اس کے ذریعے بھی ادائیگی کی جائے گی۔ اور صاحبِ ہدایہ نے امام صاحب کے ہر قول کی وجہ بھی ذکر فرمائی تھی۔ پہلا قول امام صاحب کا جو امام زفر رحمہ اللہ نقل فرماتے ہیں وہ یہ ہے کہ اسلام کے قرضے اسلام کی کمائی سے ادا ہوں گے اور ارتداد کے قرضے ارتداد کی کمائی سے ادا ہوں گے، تو اس کی وجہ ذکر فرمائی تھی کہ ظاہر یہی ہے کہ اسلام کے اندر جو اس نے کمائی کی ہے اس کا سبب وہی قرضے ہیں جو اسلام کی حالت میں اس پر آئے تھے، تو جب یہ کمائی ان قرضوں کی وجہ سے ہے تو اس کمائی ہی کے ذریعے وہ قرضے بھی ادا کیے جائیں گے۔ اسی طرح ارتداد کے اندر جو اس نے کمائی کی ہے ظاہر یہی ہے کہ اس کا سبب وہی قرضے ہیں جو اس پر ارتداد کی حالت میں آئے ہیں تو ارتداد کی حالت کی کمائی کے ذریعے ہی وہ قرضے ادا کیے جائیں گے جو اس پر ارتداد کی حالت میں لازم ہوئے تھے۔ اور دوسرے قول کی وجہ ذکر فرمائی کہ ابتدا اسلام کی کمائی سے کی جائے گی، وجہ یہ کہ اسلام کی کمائی کا یہ مالک ہے یہاں تک کہ اسی کے اندر اس کی وراثت بھی جاری ہوتی ہے، اور اس وراثت کے جاری ہونے میں شرط یہ ہے کہ مرنے والا خود جو ہے اس کو اس مال کی حاجت نہ ہو، یعنی اس کا کفن دفن بھی کر دیا گیا ہو، اس کے قرضے بھی ادا کر دیے گئے ہوں، ثلث کے اندر اس کی وصیت بھی نافذ کر دی گئی ہو، اس کے بعد وارثوں کا حق آتا ہے، تو لہٰذا یہاں پر بھی اس مرتد کے حق کو مقدم کیا جائے گا اور پہلے اس کا دین وغیرہ ادا کیا جائے گا اور پھر باقی مال بچا تو وہ وارثوں کی طرف منتقل ہوگا، اور اگر اسلام کی کمائی کے ذریعے قرضوں کی پوری ادائیگی نہیں ہو سکتی تو پھر ارتداد کے مال کے ذریعے اس کی ادائیگی کی جائے گی۔ اس پر اشکال ہوتا ہے کہ ارتداد کا مال تو آپ نے ہمیں بتایا تھا وہ مالِ فے ہے، وہ تمام مسلمانوں کا حق ہے، تو پھر تمام مسلمانوں کے مال کے ذریعے اس مرتد کے قرضوں کی ادائیگی کیسے کی جا سکتی ہے؟ تو اس کا بھی جواب صاحبِ ہدایہ نے ذکر فرمایا تھا کہ جس طرح جب کوئی ذمی مر جائے اور اس کا کوئی وارث نہیں ہے تو اس کا سارا مال بیت المال میں جمع ہوتا ہے، یہ مال مسلمانوں کا ہے اور ان کی مصلحت کے کاموں پر خرچ کیا جائے گا لیکن اگر اس ذمی پر کوئی قرضے وغیرہ تھے تو اسی مال کے ذریعے ادا کیے جائیں گے، تو دیکھو ذمی کا یہ مال تمام مسلمانوں کا حق ہے لیکن پھر بھی اس کے ذریعے اس کے قرضوں کو ادا کیا جا رہا ہے، اسی طرح یہاں پر بھی مرتد کی جو ارتداد کے اندر کمائی ہے وہ تمام مسلمانوں کا حق ہے لیکن مرتد پر اگر قرضے ہیں تو ان کی ادائیگی اس مال کے ذریعے کی جائے گی بھئی۔ اور پھر تیسرے قول کی وجہ ذکر فرمائی تھی، تیسرا قول امام صاحب کا یہ تھا کہ مرتد کے قرضوں کی ادائیگی کی ابتدا جو ہے ارتداد کی کمائی سے کی جائے گی اور اگر اس کے ذریعے ادائیگی نہ ہو سکی پھر اسلام کے مال کو بھی ساتھ ملایا جائے گا بھئی، تو اس کی وجہ ذکر کی تھی کہ یہ جو اسلام کے اندر مال کمایا ہے اس میں وارثوں کا بھی حق ہے اور جو ارتداد کے اندر مال کمایا ہے اس میں وارثوں کا حق نہیں ہے، معلوم ہوا وہ خالص مرتد کا حق ہے، تو لہٰذا اس مرتد کے قرضوں کی ادائیگی بہتر یہ ہے اسی مال سے کی جائے جو خالص اس کا حق ہے، ہاں اگر اس کے ذریعے ادائیگی پوری نہ ہو سکے پھر اس مال کے ذریعے ادائیگی کی جائے گی جس میں وارثوں کا بھی حق ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ جبکہ صاحبین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ مرتد کے قرضے جو ہیں اس کی تمام کمائیوں سے ادا کیے جائیں گے چاہے اس نے اسلام کی حالت میں وہ مال کمایا ہے یا چاہے ارتداد کی حالت میں، وجہ یہ کہ صاحبین کے نزدیک مرتد کی ملکیت اپنے مال پر سے موقوف نہیں ہوتی، وہ اب بھی اپنے تمام مال کا مالک ہے لہٰذا اسی کے ذریعے ادائیگی کی جائے گی بھئی۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے بتلایا تھا کہ مرتد کے تصرفات جو ہیں وہ چار قسم پر ہیں: مرتد کے کچھ تصرفات بالاتفاق نافذ ہیں ہمارے تینوں ائمہ کے نزدیک، جیسے ام ولد بنانا اور طلاق۔ مرتد کی باندی بچے کو جنم دے اور مرتد کہے کہ یہ میرا بچہ ہے تو اس صورت میں نسب ثابت ہو جائے گا اور یہ باندی اس کی ام ولد بن جائے گی۔ اس پر امام صاحب کے مذہب پر اشکال ہوتا ہے، صاحبین پر تو کوئی اشکال نہیں کیونکہ صاحبین کے نزدیک ارتداد کے باوجود یہ باندی ابھی تک اس کی ملکیت میں ہے اور اپنی باندی سے جو اولاد پیدا ہو تو اس کا دعویٰ صحیح ہے بھئی۔ لیکن امام صاحب پر اشکال ہوتا ہے کہ آپ کے نزدیک تو مرتد کی ملکیت اپنے مال سے موقوف طور پر ختم ہو چکی ہے تو پھر یہ یہاں اس بچے کا نسب کیسے ثابت ہو سکتا ہے اور یہ باندی ام ولد کیسے ہو سکتی ہے؟ حالانکہ کسی باندی کو ام ولد بنانے کے لیے اس کا مالک ہونا ضروری ہے۔ تو اس کا جواب دیا تھا امام صاحب کی طرف سے کہ باندی کے ام ولد بنانے کے لیے حقیقتِ ملکیت کی حاجت نہیں ہے، یعنی حقیقتاً انسان باندی کا مالک ہو یہ ضروری نہیں ہے، جیسے دیکھو باپ اپنے بیٹے کی باندی سے صحبت کرے اور اس سے اولاد پیدا ہو اور باپ کہہ دے یہ میری اولاد ہے تو آپ پڑھ چکے ہیں نسب ثابت ہو جائے گا اور یہ باندی باپ کی ام ولد بن جائے گی، معلوم ہوا باندی کے ام ولد بنانے کے لیے حقیقی ملکیت کی حاجت نہیں، تو لہٰذا یہاں پر بھی ام ولد جو ہے اس کی ملکیت اگرچہ موقوف ہو چکی ہے لیکن پھر بھی اس کی جو باندی تھی مرتد کا اسے ام ولد بنانا صحیح ہوگا۔ اور نیز اسی طرح مرتد کی طلاق بھی بالاتفاق ہمارے تینوں ائمہ کے نزدیک نافذ ہو جائے گی۔ آپ پڑھ چکے ہیں کہ خاوند اپنی بیوی کو طلاق بائن دے دے تو نکاح ٹوٹ گیا لیکن پھر بھی عدت کے اندر نکاح کے کچھ اثرات باقی ہیں، لہٰذا اگر خاوند مزید طلاقیں دے گا عدت کے دوران تو وہ بھی واقع ہو جائیں گی بھئی۔ تو یہاں پر بھی جب وہ شخص مرتد ہوا تو نکاح ٹوٹ گیا اور وہ عورت عدت گزار رہی ہے تو عدت کے اندر اگر یہ مرتد طلاق دے گا تو بالاتفاق ہمارے تینوں ائمہ کے نزدیک یہ طلاق واقع ہو جائے گی۔ معلوم ہوا مرتد کے کچھ تصرفات ہمارے تینوں ائمہ کے نزدیک نافذ ہیں بھئی۔ اسی طرح مرتد کے کچھ تصرفات ہمارے تینوں ائمہ کے نزدیک باطل ہیں، جیسے اس کا نکاح کرنا۔ مرتد نیا نکاح کرتا ہے ارتداد کی حالت میں تو ہمارے تینوں ائمہ فرماتے ہیں کہ اس کا یہ نکاح باطل ہے کیونکہ نکاح کی بنیاد دین پر ہے، کیونکہ مسلمان کا ہی مسلمان سے نکاح ہو سکتا ہے لہٰذا اس کا نکاح باطل ہے۔ یا اسی طرح مرتد جو ہے کسی جانور کو ذبح کرتا ہے تو ذبیحہ جو ہے اس کی بنیاد بھی اسلام پر ہے لہٰذا اس کا ذبیحہ بھی حرام ہے، جائز نہیں ہے بھئی۔ جبکہ مرتد کے کچھ تصرفات وہ بالاتفاق موقوف ہیں جیسے عقدِ مفاوضہ۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا عقدِ مفاوضہ جو ہے وہ یہ ہے کہ دو آدمی آپس میں شرکت کا عقد کر لیتے ہیں کہ دونوں کا مال برابر ہے، مثلاً ایک کے پاس بھی بیس درہم ہیں اور دوسرے کے پاس بھی بیس درہم ہیں، اور یہ آپس میں عقدِ مفاوضہ کر لیتے ہیں کہ میں جو بھی بیع و شراء کروں گا اس میں جتنا نفع حاصل ہوگا وہ آدھا تمہارا ہوگا اور آدھا میرا ہوگا، اور دوسرا شخص بھی یہی کہتا ہے کہ جو بھی میں جو بھی کام کروں اور جو نفع کماؤں گا وہ ہم دونوں کے درمیان آدھا آدھا تقسیم ہوگا اور ہم دونوں ایک دوسرے کے ضامن بھی ہوں گے اور ایک دوسرے کے وکیل بھی ہوں گے۔ تو یہ جو عقدِ مفاوضہ ہے اس میں دونوں اپنی اپنی بیع و شراء وغیرہ میں مصروف ہو جاتے ہیں لیکن دونوں میں سے ہر ایک دوسرے کا وکیل بھی ہے اور دوسرے کا ضامن بھی ہے۔ مثلاً ایک شخص جو بھی بیع و شراء کرتا ہے تو وہ بیع وہ اپنے لیے بھی کر رہا ہے اور اپنے ساتھی کے لیے بھی، تو اپنے لیے ہوا یہ اصیل اور دوسرے کے لیے ہوا وکیل، اور نیز وہ جو دوسرا شخص ہے وہ ضامن ہوتا ہے اس بیع کے اندر، لہٰذا جیسے اس عقد کرنے والے سے ثمن کا مطالبہ ہو سکتا ہے اسی طرح ثمن کا مطالبہ ضمانت دینے والے سے یعنی دوسرے شخص سے بھی ہو سکتا ہے، تو دونوں سے مال کا مطالبہ بھی ہو سکتا ہے اور دونوں ہر بیع و شراء میں ایک دوسرے کے وکیل بھی ہوتے ہیں۔ تو عقدِ مفاوضہ جو ہے اس کی بنیاد برابری پر ہے لہٰذا اس میں ضروری ہے کہ دونوں جو ہیں مال، دین اور تصرفات کے اعتبار سے برابر ہوں، لہٰذا مسلمان اور کافر میں عقدِ مفاوضہ نہیں ہو سکتا کیونکہ دین ایک نہیں ہے اور نیز اس لیے کیونکہ تصرف میں برابری نہیں، کافر جو ہے وہ تو خمر اور خنزیر کے اندر بیع و شراء کر سکتا ہے لیکن مسلمان تو خمر اور خنزیر میں بیع و شراء نہیں کر سکتا، تو لہٰذا یہ مرتد جو ہے اس نے بھی اسلام کو چھوڑ دیا ہے لہٰذا یہ بھی کسی مسلمان کے ساتھ عقدِ مفاوضہ کرے گا تو وہ مفاوضہ موقوف رہے گا یہاں تک کہ وہ مرتد مسلمان ہو جائے، تو اگر وہ مسلمان ہو گیا تو وہ عقدِ مفاوضہ جو موقوف تھا اب وہ نافذ ہو جائے گا، صحیح ہو جائے گا، بات سمجھ میں آ گئی؟ اور مرتد کے چوتھی قسم کے وہ تصرفات ہیں جن میں ہمارے ائمہ کا آپس میں اختلاف ہے۔ امام صاحب کے نزدیک اس کے وہ تصرفات موقوف ہیں اور صاحبین کے نزدیک وہ نافذ ہیں، اور یاد رکھو یہ وہ تصرفات ہیں جن کے اندر ملکیت کا دخل ہوتا ہے۔ صاحبین کے نزدیک مرتد جو ہے وہ اپنی چیزوں کا مالک ہے لہٰذا وہ اپنی چیزوں کی بیع و شراء کر سکتا ہے، اپنے غلام اور باندی کو آزاد کر سکتا ہے، اپنی چیزوں کو رہن رکھوا سکتا ہے اور اپنی چیز کسی کو تحفے میں دے سکتا ہے کیونکہ ان تمام عقدوں کی بنیاد جو ہے وہ ملکیت پر ہے۔ جبکہ امام صاحب کے نزدیک مرتد کی ملکیت موقوف ہو چکی ہے لہٰذا اس کے یہ تصرفات موقوف رہیں گے، نافذ نہیں ہوں گے کیونکہ اس کی بنیاد ملکیت پر ہے بھئی۔ چنانچہ صاحبِ ہدایہ نے پھر صاحبین کی دلیل ذکر فرمائی تھی کہ کوئی شخص جو عقد کرتا ہے اس کی بنیاد دو چیزوں پر ہوتی ہے: ایک تو یہ کہ اس شخص میں عقد کی اہلیت ہونی چاہیے، وہ عاقل بالغ ہونا چاہیے، اور دوسرا وہ اس چیز کا مالک ہونا چاہیے، پھر ہی وہ تصرف کر سکتا ہے، لہٰذا اس مرتد یہ اس میں اہلیت بھی ہے، یہ عاقل بالغ ہے، اور نیز یہ اپنے مال کا مالک بھی ہے تو لہٰذا اس کے سارے تصرفات نافذ ہیں بھئی۔ جبکہ امام صاحب فرماتے ہیں کہ یہ مرتد جو ہے اس حربی کے درجے میں ہے جو ہمارے قبضے میں مغلوب ہو، اور ایسا حربی جو ہمارے قبضے میں مغلوب ہو اس کی ملکیت اپنے مال پر سے موقوف طریقے پر ختم ہو جاتی ہے کیونکہ امام کی مرضی ہے چاہے اس حربی کو قتل کر دے، چاہے اسے غلام بنا لے اور چاہے اس پر احسان کرتے ہوئے اسے ویسے ہی چھوڑ دے، تو لہٰذا اس حربی کی ملکیت موقوف ہے تو اس کے تصرفات بھی موقوف رہیں گے۔ تو یہ مرتد بھی اسی حربی کی طرح ہے لہٰذا اس کی ملکیت موقوف ہو گئی، اور جب ملکیت موقوف ہو گئی تو اس کے تصرفات بھی موقوف ہو گئے۔ اور نیز صاحبین فرماتے تھے کہ مرتد کے اندر اہلیت ہے کیونکہ یہ عاقل اور بالغ ہے، تو اس کا بھی جواب دیا کہ یہ جو مرتد اور حربی ہیں ان کی عصمت ساقط ہو چکی ہے، یہ مباح الدم بن چکے ہیں، اور جب عصمت ساقط ہو گئی تو ان کی اہلیت میں بھی خلل آ گیا، جب اہلیت میں خلل آ گیا تو ان کے بیع و شراء وغیرہ کے عقد نافذ نہیں ہوں گے بلکہ وہ موقوف رہیں گے۔ جبکہ اس کے مقابلے میں اگر کوئی شخص قتل کا مستحق ہو گیا ہے کسی جرم کی وجہ سے، جیسے کسی زانی کو رجم کیا جائے گا یا کسی قاتل کو قصاص میں قتل کیا جائے گا، تو وہ بھی قتل کے مستحق ہو چکے ہیں لیکن وہ عصمت کے ساقط ہونے کی وجہ سے قتل کے مستحق نہیں ہوئے بلکہ وہ جرم کی وجہ سے قتل کے مستحق ہوئے ہیں، لہٰذا مرتد میں اور وہ شخص جس کو رجم کیا جائے گا یا اس سے قصاص لیا جائے گا دونوں میں فرق آ گیا، کیونکہ مرتد جو ہے اس کی عصمت ساقط ہو چکی ہے اور اس کی وجہ سے اس کی اہلیت میں خلل آ گیا، جبکہ وہ شخص جس کو رجم کیا جائے گا یا قصاص میں قتل کیا جائے گا اس کی عصمت ساقط نہیں ہوئی لہٰذا اس کی اہلیت میں کوئی خلل نہیں آیا، تو وہ موت تک اپنے مال کا مالک ہے اور اس میں وہ تصرف کر سکتا ہے، جبکہ مرتد ایسا نہیں ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔ اب آئیے آج کے سبق پر: کہتے ہیں: ”فَإِنْ عَادَ الْمُرْتَدُّ بَعْدَ الْحُكْمِ بِلِحَاقِهِ بِدَارِ الْحَرْبِ إِلَى دَارِ الْإِسْلَامِ مُسْلِمًا، فَمَا وَجَدَهُ فِي يَدِ وَرَثَتِهِ مِنْ مَالِهِ بِعَيْنِهِ أَخَذَهُ“. بھئی! صورتِ مسئلہ یہ کہ ایک شخص مرتد ہو کر دار الحرب چلا گیا اور قاضی نے اس کے دار الحرب جانے کا فیصلہ کر دیا، اور آپ جانتے ہیں کہ قاضی کا یہ فیصلہ اس مرتد کے لیے موت کے حکم میں ہے یعنی یہ اس کے لیے موتِ حکمی ہے، تو اس کا مال اس کے وارثوں کی طرف منتقل ہو گیا۔ بعد میں اس شخص کو اللہ نے دوبارہ ایمان کی توفیق دی، وہ دوبارہ مسلمان ہوا اور واپس دار الاسلام آ گیا، تو اس کا مال تو وارثوں کی طرف منتقل ہو چکا ہے تو کیا یہ اپنا مال واپس لے سکتا ہے ان سے؟ تو صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ مرتد کا وہ مال جو بعینہ موجود ہے ابھی تک وارثوں کے قبضے میں تو مرتد وہ واپس لے لے گا، لیکن مرتد کا وہ مال جس پر سے وارث اپنی ملکیت ختم کر چکے ہیں، مثلاً وارثوں نے اس چیز کو بیچ دیا ہے آگے یا وارثوں نے کسی کو تحفے کے طور پر دے دیا ہے یا وارثوں نے کوئی غلام یا باندی تھے ان کو آزاد کر دیا ہے، تو پھر اس صورت کے اندر وہ مال مرتد واپس نہیں لے سکتا، اس لیے کیونکہ وارثوں کا تصرف صحیح تھا کیونکہ وارثوں کے تصرف کی بنیاد قاضی کے فیصلے پر تھی، قاضی نے اس کے دار الحرب جانے کا فیصلہ کیا تھا اور قاضی کا یہ فیصلہ موت کے درجے میں ہے، تو لہٰذا قاضی کے فیصلے کے بعد مرتد کے وارثوں کو ولایت حاصل ہو گئی تھی اس مالِ وراثت میں تصرف کی، تو انہوں نے جب مال کو آپس میں تقسیم کیا اور پھر اس میں تصرف کیا تو انہوں نے یہ جو تصرف کیا ہے تو ان کو اس تصرف کی ولایت تھی تو ان کے یہ تصرف صحیح ہو گئے، لہٰذا وہ مال جن کو اس کے وارث آگے بیچ چکے ہیں یا اس پر سے اپنی ملکیت ختم کر چکے ہیں ان کو مرتد واپس نہیں لے سکتا۔ البتہ جو مال ابھی بھی وارثوں کے پاس موجود ہے وہ مرتد واپس لے سکتا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”فَإِنْ عَادَ الْمُرْتَدُّ“ اور اگر مرتد واپس لوٹ آیا ”بَعْدَ الْحُكْمِ بِلِحَاقِهِ بِدَارِ الْحَرْبِ“ دار الحرب چلے جانے کے حکم کے بعد کہ قاضی نے یہ حکم لگا دیا اس کے دار الحرب جانے کا، تو اگر وہ مرتد واپس لوٹ آیا ”إِلَى دَارِ الْإِسْلَامِ“ دار الاسلام میں ”مُسْلِمًا“ مسلمان ہو کر ”فَمَا وَجَدَهُ فِي يَدِ وَرَثَتِهِ“ تو وہ جو پا لے اپنے وارثوں کے قبضے میں ”مِنْ مَالِهِ بِعَيْنِهِ“ بعینہ اپنے مال کو اپنے معین مال کو، مثلاً اس کی گاڑی تھی وہ ایک وارث کے حصے میں آئی ہے اور اسی کے قبضے میں ہے، یا اس کے گائے بیل وغیرہ تھے وہ اس کے ایک وارث کے حصے میں آئے ہیں اور اس کے پاس ابھی بھی موجود ہیں، یا اس کا ایک مکان وغیرہ ہے اور وہ ایک وارث کے حصے میں آیا ہے اور ابھی بھی موجود ہے، تو اگر اس کا معین مال ابھی بھی وارثوں کے قبضے میں ہے تو وہ اس کو واپس لے سکتا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”فَمَا وَجَدَهُ فِي يَدِ وَرَثَتِهِ“ تو وہ چیز جس کو یہ اپنے وارثوں کے قبضے میں پا لے ”مِنْ مَالِهِ بِعَيْنِهِ“ یعنی اپنے معین مال کو ”أَخَذَهُ“ تو یہ اس کو لے لے گا۔ ”لِأَنَّ الْوَارِثَ إِنَّمَا يَخْلُفُهُ فِيهِ لِاسْتِغْنَائِهِ“ بھئی! وجہ یہ کہ یہ مال وارثوں کی طرف اس لیے منتقل ہو گیا تھا کیونکہ قاضی نے اس پر موت کا حکم لگا دیا تھا، جب اس پر موت کا حکم لگا دیا تو معلوم ہوا یہ مردہ ہے اور مردہ کو تو مال کی حاجت نہیں ہوتی، لہٰذا اس لیے اس کے وارثوں کی طرف یہ مال منتقل ہو گیا، لیکن اب جب یہ پھر واپس آ گیا ہے تو معلوم ہوا اس کو اس مال کی حاجت ہے، اس کو معلوم ہوا مال کی حاجت ہے لہٰذا یہ اپنے وارثوں پر مقدم ہوگا اور اس مال کو واپس لے لے گا۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْوَارِثَ إِنَّمَا يَخْلُفُهُ فِيهِ“ اس لیے کیونکہ اس کا وارث جو ہے اس مال کے اندر اس کا خلیفہ بنا تھا ”لِاسْتِغْنَائِهِ“ اس مرتد کے بے نیاز ہو جانے کی وجہ سے کہ اسے مال کی حاجت نہ رہی تھی کیونکہ یہ دار الحرب چلا گیا تھا اور اس پر موت کا حکم لگا دیا گیا تھا۔ ”وَإِذَا عَادَ مُسْلِمًا“ اور جب یہ مسلمان ہو کر واپس آ گیا ”احْتَاجَ إِلَيْهِ“ تو یہ اب پھر اس مال کا محتاج ہو گیا ”فَيُقَدَّمُ عَلَيْهِ“ لہٰذا اس مرتد کو وارث پر مقدم کیا جائے گا اور یہ اس مال کو لے لے گا۔ ”بِخِلَافِ مَا إِذَا أَزَالَهُ الْوَارِثُ عَنْ مِلْكِهِ“ بخلاف اس کے کہ وارث نے اپنی ملکیت سے اس کو ختم کر دیا یعنی اپنی ملکیت اس پر سے ختم کر دی، تو پھر اس صورت میں یہ اس مال کو واپس نہیں لے سکتا۔ اور یاد رکھنا، چاہے وارث نے ایسا تصرف کیا ہے جو فسخ ہو سکتا ہے جیسے بیع و شراء، آپ جانتے ہیں بیع و شراء کو فسخ کیا جا سکتا ہے، یا کسی کو تحفہ دیا ہے اور ہبہ کو بھی فسخ کیا جا سکتا ہے، اور بعض تصرفات وہ ہیں کہ جن کو فسخ نہیں کیا جا سکتا مثلاً وارث کے حصے میں باندی یا غلام آیا تھا اور اس نے غلام یا باندی کو آزاد کر دیا اور آپ جانتے ہیں اعتاق کو فسخ نہیں کیا جا سکتا، تو وارث نے اس مال پر سے اپنی ملکیت کو ختم کر دیا ہے چاہے ایسے سبب کے ذریعے ملکیت کو ختم کیا ہو جو فسخ کو قبول کرتا ہے چاہے وہ فسخ کو قبول نہیں کرتا، دونوں صورتوں میں وہ مال مرتد واپس نہیں لے سکتا۔ تو کہتے ہیں: ”بِخِلَافِ مَا إِذَا أَزَالَهُ الْوَارِثُ“ بخلاف اس کے کہ اس مال کو وارث نے ختم کر دیا ہو ”عَنْ مِلْكِهِ“ اپنی ملکیت سے یعنی اس پر سے اپنی ملکیت ختم کر دی ہے۔ ”وَبِخِلَافِ أُمَّهَاتِ أَوْلَادِهِ وَمُدَبَّرِيهِ“ اور بخلاف اس مرتد کی امہات اولاد اور اس کے جو مدبر ہیں، مرتد کی امہات اولاد اور مرتد کے جو مدبر ہیں جب قاضی نے اس کے دار الحرب جانے کا فیصلہ کر دیا تو وہ آزاد ہو گئے تو وہ بھی واپس نہیں ہو سکتے۔ تو کہتے ہیں: ”وَبِخِلَافِ أُمَّهَاتِ أَوْلَادِهِ وَمُدَبَّرِيهِ“ اور بخلاف اس مرتد کی امہات اولاد اور اس کے جو مدبر ہیں۔ ”لِأَنَّ الْقَضَاءَ قَدْ صَحَّ“ اس لیے کیونکہ قاضی کا یہ فیصلہ تحقیق صحیح ہے، قاضی کا یہ فیصلہ صحیح ہے۔ بھئی! اگر کوئی شخص مرتد ہو جائے تو جیسے قاضی حقیقتاً اس کو موت دے سکتا ہے یعنی اسے قتل کروا دے، اسی طرح قاضی حکماً بھی موت دے سکتا ہے جب یہ دار الحرب چلا جائے۔ معلوم ہوا قاضی جو ہے مرتد کو حقیقتاً بھی موت دے سکتا ہے یعنی قتل کروا سکتا ہے اور حکماً بھی موت دے سکتا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْقَضَاءَ قَدْ صَحَّ“ اس لیے کیونکہ قاضی کا فیصلہ تحقیق وہ صحیح ہے ”بِدَلِيلٍ مُصَحِّحٍ“ ایک ایسی دلیل کی وجہ سے جو اس فیصلے کو صحیح کر رہی ہے، ایک ایسی دلیل جو قاضی کے فیصلے کو صحیح قرار دے رہی ہے اور وہ دلیل کیا ہے؟ اس مرتد کا دار الحرب چلے جانا۔ مرتد کا دار الحرب چلے جانا یہ دلیل جو ہے قاضی کے فیصلے کو صحیح قرار دے رہی ہے کہ قاضی کا اس پر یہ فیصلہ صحیح ہے یعنی اس پر موتِ حکمی صحیح ہے۔ توجہ ہے؟ اور یاد رکھو، یہ جو آیا نا کیونکہ یہ فیصلہ صحیح ہے ایک دلیل کی وجہ سے کہ وہ دلیل اس فیصلے کو صحیح قرار دے رہی ہے، اس کا تعلق ماقبل میں دونوں باتوں سے ہے: ایک بات یہ ذکر کی ”بِخِلَافِ مَا إِذَا أَزَالَهُ الْوَارِثُ عَنْ مِلْكِهِ“ اور دوسری بات یہ ذکر کی ”وَبِخِلَافِ أُمَّهَاتِ أَوْلَادِهِ وَمُدَبَّرِيهِ“ کہ مرتد واپس آیا تو جو اس کا معین مال وارثوں کے پاس موجود ہے وہ واپس لے لے گا، بخلاف اس مال کے جس سے وارث اپنی ملکیت ختم کر چکے ہیں اور بخلاف اس کے مدبر اور امہات اولاد کے کہ یہ جو ہے وہ واپس نہیں لے سکتا، کیونکہ ان کی بنیاد قضائے قاضی پر ہے اور قضائے قاضی کی بنیاد ایک دلیل پر ہے جو اس قضائے قاضی کو صحیح قرار دے رہی ہے، یہ معنی ہے ”لِأَنَّ الْقَضَاءَ قَدْ صَحَّ“ اس لیے کیونکہ قاضی کا یہ فیصلہ تحقیق صحیح ہے ”بِدَلِيلٍ مُصَحِّحٍ“ ایک ایسی دلیل کی وجہ سے جو اس فیصلے کو صحیح قرار دے رہی ہے ”فَلَا يُنْقَضُ“ لہٰذا قاضی کے فیصلے کو نہیں توڑا جا سکتا۔ ”وَلَوْ جَاءَ مُسْلِمًا قَبْلَ أَنْ يَقْضِيَ الْقَاضِي بِذَلِكَ“ بھئی! دوسری صورت ہے: ایک شخص مرتد ہو کر دار الحرب چلا گیا لیکن قاضی کے فیصلے سے پہلے ہی یہ مسلمان ہو کر واپس آ گیا، تو یوں سمجھیں گے گویا یہ مرتد ہوا ہی نہیں تھا، یہ ہمیشہ سے مسلمان ہی تھا، لہٰذا یہ ابھی بھی اپنے سارے مال کا مالک ہے اور اس کے مدبر اور امہات اولاد بھی ابھی آزاد نہیں ہیں کیونکہ انہوں نے تو قاضی کے فیصلے سے آزاد ہونا تھا اور ابھی تک تو قاضی کا فیصلہ آیا ہی نہیں تھا کہ یہ واپس آ گیا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ جَاءَ مُسْلِمًا قَبْلَ أَنْ يَقْضِيَ الْقَاضِي بِذَلِكَ“ اور اگر یہ مسلمان ہو کر واپس آ گیا قبل اس کے کہ قاضی اس کا فیصلہ کرتا ”فَكَأَنَّهُ لَمْ يَزَلْ مُسْلِمًا“ تو گویا کہ یہ ہمیشہ سے مسلمان ہی ہے ”لِمَا ذَكَرْنَا“ اس وجہ سے جو ہم نے ذکر کر دیا، پیچھے ذکر کیا تھا، امام صاحب کے نزدیک مرتد کی ملکیت اپنے مال پر موقوف طریقے پر ختم ہوتی ہے، اگر یہ پھر مسلمان ہو گیا تو ملکیت باقی رہے گی اور یوں شمار کریں گے کہ گویا یہ مرتد ہوا ہی نہیں تھا، ہمیشہ سے مسلمان تھا، لیکن اگر یہ دار الحرب چلا گیا ہے تو پھر بھی ملکیت موقوف ہے، ہاں جب قاضی اس کے دار الحرب چلے جانے کا فیصلہ کر دے گا تو اب اس کا کفر اور ارتداد ثابت ہو جائے گا، ابھی تک اس کا کفر اور ارتداد ثابت نہیں تھا لیکن جب قاضی فیصلہ کر دیتا ہے پھر مرتد کا کفر اور ارتداد ثابت ہو جاتا ہے، تو یہاں پر بھی قاضی کے فیصلے سے پہلے اگر وہ واپس آ گیا مسلمان ہو کر تو گویا ہمیشہ سے ہی مسلمان تھا کیونکہ ابھی تک قاضی کا فیصلہ ہی نہیں آیا، قاضی کا فیصلہ آتا تو اس کا ارتداد بھی ثابت ہوتا بھئی، تو یہ معنی ہے ”فَكَأَنَّهُ لَمْ يَزَلْ مُسْلِمًا“ تو گویا کہ یہ ہمیشہ سے مسلمان ہی تھا ”لِمَا ذَكَرْنَا“ اس وجہ سے جو ہم نے ذکر کر دیا کہ مرتد کا ارتداد قاضی کے فیصلے سے ثابت ہوتا ہے بھئی۔ آگے دیکھیے: ”وَإِذَا وَطِئَ الْمُرْتَدُّ جَارِيَةً نَصْرَانِيَّةً كَانَتْ لَهُ فِي حَالَةِ الْإِسْلَامِ...“ بھئی! صورتِ مسئلہ یہ کہ ایک شخص مرتد ہو گیا ہے اور اس کے ارتداد کے چھ ماہ یا چھ ماہ سے زیادہ کے بعد اس کی باندی نے بچے کو جنم دیا ہے، اور مرتد جو ہے اس بچے کے نسب کا دعویٰ کرتا ہے کہ یہ میرا بچہ ہے، تو یاد رکھو اس صورت میں نسب ثابت ہو جائے گا، یہ بچہ جو ہے مرتد کا بچہ شمار ہوگا اور نیز یہ بچہ آزاد شمار ہوگا کیونکہ مرتد آزاد ہے تو بچہ بھی آزاد ہوگا، بات سمجھ میں آ گئی؟ البتہ یہ بچہ اس مرتد کا وارث بنے گا یا نہیں؟ اس کے اندر اس کی اس ماں کو یعنی اس باندی کو دیکھا جائے گا، اگر وہ باندی عیسائی ہے تو یہ بچہ مرتد کا وارث نہیں بنے گا۔ اگر ماں عیسائی ہے یعنی ذمیہ ہے اور اس نے بچے کو جنم دیا ہے تو اس صورت میں ماں جو ہے وہ ذمیہ ہے اور باپ مرتد ہے، اور آپ پڑھ چکے ہیں... کہ بچہ جو ہے وہ اپنے والدین میں سے جس کا دین بہتر ہو اس کے تابع ہوتا ہے، اور یہاں پر یاد رکھو مرتد کا دین بہتر ہے۔ اس ذمیہ کے مقابلے میں مرتد کا دین بہتر ہے، بھئی کس اعتبار سے مرتد کا دین بہتر ہے؟ کہتے ہیں بایں اعتبار مرتد کا دین بہتر ہے کہ مرتد اسلام کے زیادہ قریب ہے۔ مرتد کو مجبور کیا جائے گا کہ ہم تمہیں قتل کر دیں گے اگر تم مسلمان نہ ہوئے، تو مرتد کو مجبور کیا جائے گا اسلام کے لیے تو وہ اسلام کے قریب ہے، جبکہ ذمیہ جو ہے اس کو تو ہم مجبور نہیں کر سکتے، ذمیوں کے تو مذہبی معاملات میں ہم دخل نہیں دے سکتے۔ تو معلوم ہوا یہ بچہ جس کی ماں ذمیہ ہے اور باپ مرتد ہے یہ بھی مرتد ہی شمار ہوگا اپنے باپ کے تابع ہو کر۔ کیونکہ باپ کا مذہب ماں کے مذہب کے مقابلے میں اسلام کے زیادہ قریب ہے۔ باپ کو ہم اسلام کے لیے مجبور کر سکتے ہیں، اس کی ماں کو اسلام کے لیے مجبور نہیں کر سکتے۔ تو معلوم ہوا ان میں سے باپ کا دین بہتر ہے، اور باپ مرتد ہے تو یہ بچہ بھی مرتد شمار ہوگا، اور یاد رکھو مرتد کا وارث مسلمان تو ہو سکتا ہے، مرتد جو ہے وہ مرتد کا وارث نہیں ہو سکتا، لہٰذا یہ بچہ مرتد کا وارث نہیں بنے گا کیونکہ اس کی ماں جو ہے وہ ذمیہ باندی ہے۔ البتہ یہ بچہ آزاد ہی شمار ہوگا کیونکہ مرتد نے اس بچے کے نسب کا دعویٰ کیا ہے۔ لیکن اس کے برعکس اگر یہ مرتد کی جو باندی ہے یہ مسلمان ہے اور اس نے اس ارتداد کے چھ ماہ یا اس سے زیادہ کے بعد بچے کو جنم دیا ہے، یعنی اتنی مدت ہے کہ جس کے اندر ارتداد کے بعد بھی حمل ٹھہر کر صحیح سلامت بچے کی پیدائش ہو سکتی ہے، پھر بھی مرتد اگر اس بچے کے نسب کا دعویٰ کرے گا تو نسب ثابت ہو جائے گا۔ توجہ ہے؟ آپ کے ذہن میں ایک اشکال آئے گا کہ جب ارتداد کو چھ مہینے گزر چکے ہیں یا چھ مہینے سے بھی زیادہ گزر چکے ہیں، تو اس کا تو مطلب ہے کہ یہ حمل ارتداد کے بعد ٹھہرا ہے۔ ارتداد کے بعد ٹھہرا ہے اور ارتداد کے وقت تو مرتد کی ملکیت اپنے مال پر سے ختم ہو گئی تھی، تو یہ باندی پر سے بھی اس کی ملکیت ختم، چاہے یہ باندی ذمیہ ہے چاہے مسلمان ہے، تو پھر یہ اس کی ام ولد کیسے بن سکتی ہے؟ توجہ ہے؟ باندی تو وہی ام ولد بنتی ہے جس کے اندر انسان کی ملکیت ہو اور اس کے اندر تو مرتد کی ملکیت ختم ہو چکی ہے۔ تو اس کا جواب جو ہے گزشتہ سبق میں گزرا تھا کہ ام ولد بنانا یہ حقیقتِ ملکیت کا محتاج نہیں ہے، جیسے باپ اپنے بیٹے کی باندی سے صحبت کر لے اور وہ بچے کو جنم دے اور باپ کہے یہ میرا بچہ ہے تو یہ باپ کی ام ولد بن جائے گی۔ معلوم ہوا ام ولد بنانے کے لیے حقیقتاً ملکیت کا ہونا ضروری نہیں ہے بھئی۔ تو بات چل رہی تھی کہ مرتد کی مسلمان باندی ہے اور اس نے اس مرتد کے ارتداد کے چھ ماہ یا اس سے زیادہ کے بعد ایک بچے کو جنم دیا، اور مرتد نے اس کا دعویٰ کر دیا کہ یہ میرا بچہ ہے، تو اس صورت میں یہ باندی اس کی ام ولد ہو جائے گی، اس بچے کا نسب بھی ثابت ہو جائے گا جیسے عیسائی باندی کے اندر تھا، اور یہ بچہ مرتد کا وارث بنے گا۔ عیسائی باندی سے ہونے والا بچہ تو مرتد کا وارث نہیں بنے گا کیونکہ وہ بچہ بھی مرتد شمار ہوگا اور مرتد جو ہے وہ مرتد کا وارث نہیں ہو سکتا، لیکن یہاں پر باندی مسلمان ہے اور باپ جو ہے وہ مرتد ہے، اور آپ پڑھ چکے ہیں کہ بچے کے والدین میں سے جس کا دین بہتر ہو بچہ اس کے تابع ہوتا ہے، تو مسلمان باندی کا دین بہتر ہے تو بچہ بھی مسلمان شمار ہوگا، اور مسلمان بچہ جو ہے وہ تو مرتد کا وارث ہو سکتا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ دیکھیے بھئی: کہتے ہیں: ﴿وَإِذَا وَطِئَ الْمُرْتَدُّ جَارِيَتَهُ النَّصْرَانِيَّةَ﴾ اور جب وطی کر لی مرتد نے اپنی ایسی عیسائی باندی سے ﴿كَانَتْ لَهُ فِي حَالِ الْإِسْلَامِ﴾ جو اس کی تھی اسلام کی حالت میں، مرتد نے اپنی ایسی عیسائی باندی سے صحبت کر لی جو اسلام کی حالت میں اس کی مملوکہ تھی، ﴿فَجَاءَتْ بِوَلَدٍ لِأَكْثَرَ مِنْ سِتَّةِ أَشْهُرٍ﴾ تو وہ باندی ایک بچہ لے آئی، یعنی اس نے بچے کو جنم دیا، ﴿لِأَكْثَرَ مِنْ سِتَّةِ أَشْهُرٍ مُنْذُ ارْتَدَّ﴾ چھ ماہ سے زیادہ کے اندر جب سے یہ مرتد ہوا ہے، اس مرتد کے ارتداد کے کم از کم چھ ماہ بعد اس نے بچے کو جنم دیا یعنی اتنا وقت ہے جس میں حمل ٹھہر کر ایک صحیح سلامت بچے کی پیدائش ہو سکتی ہے، تو کہتے ہیں: ﴿فَجَاءَتْ بِوَلَدٍ لِأَكْثَرَ مِنْ سِتَّةِ أَشْهُرٍ مُنْذُ ارْتَدَّ﴾ تو یہ باندی ایک بچے کو لے آئی جب سے یہ مرتد ہوا ہے اس کے چھ ماہ سے زیادہ کے بعد، ﴿فَادَّعَاهُ﴾ مرتد نے اس بچے کا دعویٰ کر دیا، ﴿فَهِيَ أُمُّ وَلَدٍ لَهُ﴾ تو یہ باندی جو ہے اس مرتد کی ام ولد ہو گی، ﴿وَالْوَلَدُ حُرٌّ﴾ اور بچہ آزاد ہوگا، ﴿وَهُوَ ابْنُهُ﴾ اور یہ بچہ اس مرتد کا بیٹا شمار ہوگا، کیونکہ نسب ثابت ہو چکا ہے۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَهُوَ ابْنُهُ﴾ اور یہ بچہ جو ہے مرتد کا بیٹا ہوگا، ﴿وَلَا يَرِثُهُ﴾ اور یہ بچہ اس مرتد کا وارث نہیں بنے گا، کیونکہ یہ بچہ بھی مرتد ہی شمار ہوگا بھئی۔ ﴿وَإِنْ كَانَتْ الْجَارِيَةُ مُسْلِمَةً﴾ اور اگر مرتد کی باندی مسلمان تھی، ﴿وَرِثَهُ الِابْنُ﴾ مرتد کا یہ بیٹا جو ہے اس مرتد کا وارث بنے گا، ﴿إِنْ مَاتَ عَلَى الرِّدَّةِ أَوْ لَحِقَ بِدَارِ الْحَرْبِ﴾ اگر مرتد جو ہے ارتداد پر ہی مر گیا یا دار الحرب سے جا ملا، یعنی چاہے مرتد پر حقیقی موت آئی چاہے حکمی موت آئی دونوں صورتوں میں اس کا یہ مسلمان بیٹا اس کا وارث بنے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ بھئی یہاں تک سارا متن تھا۔ اور اس میں دیکھو بچے کی پیدائش ہوئی ہے ارتداد کے چھ ماہ یا اس سے بھی زیادہ مدت کے بعد، اور پھر بھی بچہ وارث بن رہا ہے۔ گزشتہ سبق میں میں نے آپ کو بتلایا تھا امام صاحب کی تین روایتیں ہیں بھئی کہ مرتد کا وارث کون بنے گا؟ ایک روایت حسن ابن زیاد رحمہ اللہ نقل کرتے ہیں امام صاحب سے کہ وہ وارث بنے گا جو ارتداد کے وقت بھی وارث ہو اور مرتد کی موت کے وقت بھی وارث ہو۔ دوسری روایت امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے نقل کی کہ مرتد کا وارث وہ بنے گا جو ارتداد کے وقت موجود ہو، اور تیسری روایت امام محمد رحمہ اللہ نے نقل کی کہ مرتد کا وارث وہ بنے گا جو مرتد کی موت کے وقت موجود ہو، اور یہاں پر بھی یہ جو بچہ پیدا ہوا ہے اس کا تو حمل ہی ارتداد کے بعد ٹھہرا ہے، تو معلوم ہوا ارتداد کے وقت تو یہ موجود ہی نہیں تھا، پھر بھی متن میں آیا کہ یہ اس کا وارث بنے گا۔ معلوم ہوا امام محمد رحمہ اللہ کی جو روایت ہے کہ وارث بننے میں مرتد کی موت معتبر ہے، تو معلوم ہوا وہ روایت صحیح ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَرِثَهُ الِابْنُ إِنْ مَاتَ عَلَى الرِّدَّةِ أَوْ لَحِقَ بِدَارِ الْحَرْبِ﴾ تو مرتد کا یہ بیٹا اس کا وارث بنے گا اگر وہ مرتد ارتداد پر مر گیا یا وہ دار الحرب سے جا ملا۔ دار الحرب سے جا ملا یعنی قاضی نے اس کا فیصلہ بھی کر دیا۔ تو کہتے ہیں: ﴿أَمَّا صِحَّةُ الِاسْتِيلَادِ﴾ تو ام ولد بنانے کا صحیح ہونا ﴿فَلِمَا قُلْنَا﴾ وہ اس وجہ سے ہے جو ہم نے کہہ دیا۔ توجہ ہے؟ ابھی میں نے جو اعتراض ہی ذکر کیا کہ امام صاحب کے نزدیک تو مرتد کی ملکیت ہی باندیوں سے ختم ہو چکی ہے تو یہ اس کی ام ولد کیسے بنے گی؟ کیونکہ ام ولد تو وہ باندی بنتی ہے جس کے اندر انسان کی ملکیت ہو، تو جواب گزر گیا کہ گزشتہ سبق میں آپ نے پڑھا تھا کہ ام ولد بنانا یہ حقیقتِ ملکیت کا محتاج نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ﴿أَمَّا صِحَّةُ الِاسْتِيلَادِ فَلِمَا قُلْنَا﴾ تو ام ولد بنانے کا صحیح ہونا تو اس وجہ سے جو ہم نے کہہ دیا کہ یہ حقیقی ملکیت کا محتاج نہیں ہے، ﴿وَأَمَّا الْإِرْثُ﴾ اور باقی وارث ہونا، کہ ذمیہ باندی کا بیٹا وارث نہیں بنے گا اور مسلمان باندی کا بیٹا وارث بنے گا اب اس کی وجہ ذکر کر رہے ہیں، کہتے ہیں: ﴿وَأَمَّا الْإِرْثُ فَلِأَنَّ الْأُمَّ إِذَا كَانَتْ نَصْرَانِيَّةً﴾ اور باقی وارث ہونا اس لیے کیونکہ ماں جب وہ عیسائی ہے ﴿وَالْوَلَدُ تَبَعٌ لَهُ﴾ اور بچہ جو ہے وہ مرتد کے تابع ہے، باندی عیسائی اور باپ مرتد تو بچہ کس کے تابع شمار ہوگا؟ مرتد کے۔ تو کہتے ہیں جب ماں عیسائی ہے ﴿وَالْوَلَدُ تَبَعٌ لَهُ لِقُرْبِهِ إِلَى الْإِسْلَامِ لِلْجَبْرِ عَلَيْهِ﴾ اور بچہ جو ہے وہ اس مرتد کے تابع ہے بوجہ اس کے کہ مرتد اسلام کے قریب ہے بوجہ اس پر جبر کرنے کے کہ مرتد پر جبر کیا جائے گا، ﴿فَصَارَ فِي حُكْمِ الْمُرْتَدِّ﴾ تو یہ بچہ بھی مرتد کے حکم میں ہو گیا، ﴿وَالْمُرْتَدُّ لَا يَرِثُ الْمُرْتَدَّ﴾ اور مرتد جو ہے وہ مرتد کا وارث نہیں ہو سکتا، ﴿أَمَّا إِذَا كَانَتْ مُسْلِمَةً﴾ باقی اگر ماں جو ہے وہ مسلمان ہے، ﴿فَالْوَلَدُ مُسْلِمٌ تَبَعًا لَهَا﴾ تو بچہ بھی مسلمان ہوگا ماں کے تابع ہو کر، ﴿لِأَنَّهَا خَيْرُهُمَا دِينًا﴾ اس لیے کیونکہ ماں جو ہے وہ بہتر ہے دین کے اعتبار سے۔ بچے کا باپ اور ماں، باپ مرتد ہے اور ماں مسلمان ہے تو ماں بہتر ہے ان والدین میں سے دین کے اعتبار سے۔ تو کہتے ہیں: ﴿لِأَنَّهَا خَيْرُهُمَا دِينًا﴾ اس لیے کیونکہ ماں جو ہے وہ ان والدین میں سے بہتر ہے دین کے اعتبار سے، ﴿وَالْمُسْلِمُ يَرِثُ الْمُرْتَدَّ﴾ اور مسلمان جو ہے وہ مرتد کا وارث ہوتا ہے، لہٰذا یہ بچہ بھی وارث ہوگا۔ آگے دیکھیے بھئی: ﴿وَإِذَا لَحِقَ الْمُرْتَدُّ بِمَالِهِ بِدَارِ الْحَرْبِ ثُمَّ ظُهِرَ عَلَى ذَلِكَ الْمَالِ فَهُوَ فَيْءٌ﴾ بھئی آپ پڑھ چکے ہیں کہ یہ مرتد حربی کے درجے میں ہے، تو جب یہ دار الحرب چلا گیا ہے اور اپنا مال بھی ساتھ لے گیا ہے یا وہاں اس نے کوئی مال کمایا ہے اور پھر دار الحرب پر قبضہ کر لیا گیا تو جس طرح حربی جو ہے اس کا مال مالِ فئی ہوتا ہے یعنی مالِ غنیمت ہوتا ہے اسی طرح مرتد کا مال بھی مالِ غنیمت ہوگا بھئی۔ کہتے ہیں: ﴿وَإِذَا لَحِقَ الْمُرْتَدُّ بِمَالِهِ بِدَارِ الْحَرْبِ﴾ اور جب مرتد جو ہے اپنے مال کے ساتھ دار الحرب سے جا ملا یعنی اپنے ساتھ ہی مال لے گیا، ﴿ثُمَّ ظُهِرَ عَلَى ذَلِكَ الْمَالِ﴾ پھر اس مال پر غلبہ پا لیا گیا مسلمانوں نے اس علاقے کو فتح کر لیا، ﴿فَهُوَ فَيْءٌ﴾ تو مرتد کا وہ مال جو ہے وہ مالِ فئی ہے کیونکہ مرتد حربی کے درجے میں اور حربی کا مال مالِ فئی ہوتا ہے، تو ﴿فَهُوَ فَيْءٌ﴾ تو مرتد کا وہ مال جو ہے وہ مالِ فئی ہے یعنی مالِ غنیمت ہے۔ ﴿فَإِنْ لَحِقَ ثُمَّ رَجَعَ﴾ دوسری صورت بھئی: مرتد بھاگ کر دار الحرب چلا گیا ہے اور پھر اس کے بعد وہ درمیان میں چھپ کر آیا اور اپنا مزید مال یہاں سے لے کر چلا گیا، جبکہ قاضی اس کے دار الحرب جانے کا فیصلہ کر چکا تھا۔ مرتد بھاگ کر دار الحرب چلا گیا اور قاضی نے اس کے دار الحرب جانے کا فیصلہ کر دیا اور یہ فیصلہ موتِ حکمی کے درجے میں ہے تو اس کا مال وارثوں کی طرف منتقل ہو گیا، اور پھر قاضی کے اس فیصلے کے بعد کسی وقت مرتد دوبارہ چھپ کر آیا اور پھر یہاں سے اپنا مال لے کر دار الحرب چلا گیا اور پھر مسلمانوں نے وہاں پر غلبہ پا لیا، تو یاد رکھو یہ جو مرتد دوبارہ مال لے کر گیا ہے یہ وارثوں سے لے کر گیا ہے، یہ مال تو وارثوں کی طرف منتقل ہو گیا تھا، وارث اس مال کے مالک بن گئے تھے، تو وارث جو ہیں وہ اس مال کے مالکِ قدیم ہیں۔ لہٰذا مسلمانوں نے غلبہ پا لیا اور پھر وہ مالِ غنیمت ساتھ لے کر آئے تو آپ پڑھ چکے ہیں کہ اگر مالکِ قدیم جو ہے تقسیم سے پہلے اس کو اپنا مال مالِ غنیمت کے اندر مل جائے تو وہ مفت میں اس کو لے لے گا، کیونکہ وہ اسی سے چھین کر لے جایا گیا تھا۔ تو یہاں پر بھی مسلمان جب اس مال کو لے آئے اور پھر تقسیم سے پہلے ہی وارثوں کو پتہ چلا اور وہ گئے اور ان کو اپنا وہ مال مل گیا تو یہ اس مال کو مفت میں لے لیں گے کیونکہ یہ اس مال کے مالکِ قدیم ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: ﴿فَإِنْ لَحِقَ ثُمَّ رَجَعَ﴾ اگر مرتد دار الحرب سے جا ملا، ﴿ثُمَّ رَجَعَ﴾ پھر لوٹ آیا، ﴿وَأَخَذَ مَالًا﴾ اور مال لے لیا، ﴿وَأَلْحَقَهُ بِدَارِ الْحَرْبِ﴾ اور پھر اس مال کو بھی اس نے دار الحرب سے ملا دیا یعنی اس مال کو لے کر وہ دار الحرب چلا گیا، ﴿فَظُهِرَ عَلَى ذَلِكَ الْمَالِ﴾ تو اس مال پر غلبہ پا لیا گیا، ﴿فَوَجَدَتْهُ الْوَرَثَةُ قَبْلَ الْقِسْمَةِ﴾ تو وارثوں نے اس مال کو تقسیم سے پہلے پا لیا، ﴿رُدَّ عَلَيْهِمْ﴾ تو یہ مال ان کو واپس لوٹایا جائے گا بھئی۔ ﴿لِأَنَّ الْأَوَّلَ مَالٌ لَمْ يَجْرِ فِيهِ الْإِرْثُ﴾ بھئی دیکھیے، ایک صورت یہ تھی کہ مرتد یہاں سے مال لے کر دار الحرب گیا ہے، وہ مال مالِ فئی تھا کیونکہ وہ قاضی کے فیصلے سے پہلے ہی مال لے جا چکا ہے، اور یہ جو دوسری مرتبہ لے کر گیا ہے یہ قاضی کے فیصلے کے بعد لے کر گیا ہے تو وارث اس کے مالک بن چکے ہیں، تو اس لیے یہ وارث ہی اس کے مالکِ قدیم ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: ﴿لِأَنَّ الْأَوَّلَ مَالٌ لَمْ يَجْرِ فِيهِ الْإِرْثُ﴾ اس لیے کیونکہ پہلا جو ہے وہ ایسا مال تھا کہ اس کے اندر وراثت جاری نہیں ہوئی تھی وہ حربی کا مال تھا تو وہ مالِ فئی بنے گا، ﴿وَالثَّانِي انْتَقَلَ إِلَى الْوَرَثَةِ بِقَضَاءِ الْقَاضِي بِلِحَاقِهِ﴾ اور دوسرا مال جو ہے وہ اس کے وارثوں کی طرف منتقل ہو گیا تھا اس وجہ سے کہ قاضی نے اس کے دار الحرب سے لحاق کا فیصلہ کر دیا تھا، پھر ترجمہ دیکھ لیجیے: ﴿وَالثَّانِي انْتَقَلَ إِلَى الْوَرَثَةِ بِقَضَاءِ الْقَاضِي بِلِحَاقِهِ﴾ اور دوسرا مال جو ہے وہ وارثوں کی طرف منتقل ہو چکا ہے قاضی کا اس کے دار الحرب چلے جانے کا فیصلہ کرنے کی وجہ سے، ﴿وَكَانَ الْوَارِثُ مَالِكًا قَدِيمًا﴾ اور وارث جو ہے وہ مالکِ قدیم ہے اس مال کا۔ تو تقسیم سے پہلے وارثوں کو ملے گا تو وہ اس کو مفت میں لے لیں گے۔ آگے دیکھیے: ﴿وَإِذَا لَحِقَ الْمُرْتَدُّ بِدَارِ الْحَرْبِ وَلَهُ عَبْدٌ﴾ صورتِ مسئلہ یہ کہ مرتد جو ہے وہ بھاگ کر دار الحرب چلا گیا ہے اور یہاں اس کا ایک غلام تھا اور وہ غلام اس کے بیٹے کے حصے میں آ گیا، بیٹے نے اس غلام کو مکاتَب بنا دیا، بیٹے نے اس غلام کو مکاتَب بنا دیا، پھر بعد میں مرتد مسلمان ہو کر واپس آ گیا۔ تو کہتے ہیں اس صورت میں بیٹے نے جو عقدِ کتابت کیا تھا وہ صحیح ہے۔ بھئی کیوں؟ عقدِ کتابت کیوں صحیح ہے، مرتد واپس آ گیا ہے؟ کہتے ہیں بھئی بیٹے نے جب اس کو مکاتَب بنایا تھا تب بیٹے کو ولایت حاصل تھی مکاتَب بنانے کی، کیونکہ قاضی کے فیصلے کے مطابق مال بیٹے کی طرف منتقل ہو چکا تھا تو بیٹے کو ولایت تھی مکاتَب بنانے کی لہٰذا اس کا مکاتَب بنانا صحیح ہے، اب اس کتابت کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ تو یہ مرتد جب مسلمان ہو کر واپس آ گیا ہے تو آپ نے پیچھے پڑھا کہ جو بھی معین مال اس کے وارثوں کے پاس ہو وہ اس کو واپس لے لے گا، تو یہاں پر بھی یہ غلام جو ہے یہ غلام کو دوبارہ لے لے گا لیکن عقدِ کتابت فسخ نہیں ہوگا، بلکہ غلام اسی طرح عقدِ کتابت پر چلتے ہوئے مال کما کر لائے گا اور وہ بدلِ کتابت اب اس مرتد کو ملے گا جو مسلمان ہو چکا ہے، اور اگر غلام نے بدلِ کتابت ادا کر دیا اور وہ آزاد ہو گیا تو آپ جانتے ہیں کہ آزاد ہونے والے غلام کی ولاء کا مستحق وہی آقا ہوتا ہے جس نے اس کو آزاد کیا ہوتا ہے، تو اس غلام کے بدلِ کتابت کا مستحق جب یہ پرانا آقا ہے تو لہٰذا غلام کی آزادی بھی کس کی طرف سے ہوئی؟ اس پرانے آقا کی طرف سے، لہٰذا ولاء بھی اسی کو ملے گی۔ آپ پڑھ چکے ہیں کہ کسی شخص کا انتقال ہو تو سب سے پہلے اس کے کفن دفن کا انتظام کیا جاتا ہے، اور اس کے بعد اس کے قرضے ادا کیے جاتے ہیں، پھر اس کے بعد جو مال باقی بچے اس کے تیسرے حصے میں وصیت جو ہے اس کو نافذ کرتے ہیں، اور پھر باقی کا مال جو ہے وارثوں میں تقسیم کرتے ہیں، اور وارث کئی قسم پر ہیں۔ سب سے پہلے جو ہیں کچھ وارث ذوی الفروض کہلاتے ہیں جن کے حصے باقاعدہ قران اور حدیث میں مقرر ہیں، تو ان کو مال دیا جاتا ہے، اور پھر اگر مال بچ جاتا ہے تو پھر دوسرے درجے پہ جو ہیں وہ عصبات آتے ہیں، تو وہ باقی مال سارا عصبات لے جاتے ہیں، اور اگر کسی شخص کے عصبۂ نسبی نہیں ہیں تو پھر تیسرے درجے پر یہ مال جو ہے معتقِ میت کی طرف منتقل ہوتا ہے۔ اگر وہ میت کسی زمانے میں غلام تھی اور اس کو کسی نے آزاد کیا تھا تو تیسرے نمبر پر اس معتق کا نمبر آتا ہے، اب یہ مال اس معتق کو مل جائے گا، اور اس معتق کو بطورِ میراث کے جو مال ملا ہے اس کو ولاء کہتے ہیں۔ تو ولاء کا مستحق کون ہوتا ہے؟ معتق بھئی، اور وارثوں میں اس کا تیسرا درجہ ہے بھئی۔ تو اگر پہلے دو درجے والوں سے مال بچا تو پھر ہی اس کو مال ملے گا، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَإِذَا لَحِقَ الْمُرْتَدُّ بِدَارِ الْحَرْبِ وَلَهُ عَبْدٌ فَقُضِيَ بِهِ لِابْنِهِ﴾ اور جب مرتد جو ہے وہ دار الحرب سے جا ملا اور اس مرتد کا کوئی غلام ہے تو اس غلام کا فیصلہ کر دیا گیا اس کے بیٹے کے لیے، یعنی اس وراثت میں بیٹے کے حصے میں غلام آیا، ﴿وَكَاتَبَهُ الِابْنُ﴾ اور اس غلام کو اس بیٹے نے مکاتَب بنا دیا، ﴿ثُمَّ جَاءَ الْمُرْتَدُّ مُسْلِمًا﴾ اور پھر وہ مرتد مسلمان ہو کر آ گیا، ﴿فَالْمُكَاتَبَةُ جَائِزَةٌ﴾ تو وہ عقدِ کتابت جائز ہے، یعنی وہ فسخ نہیں ہوگا۔ ﴿وَالْكِتَابَةُ وَالْوَلَاءُ لِلْمُرْتَدِّ الَّذِي أَسْلَمَ﴾ بھئی میری کتاب میں ہے: ﴿وَالْكِتَابَةُ وَالْوَلَاءُ لِلْمُرْتَدِّ﴾ اور ہدایہ کے بعض نسخوں میں یہاں بدل کا لفظ بھی موجود ہے: ﴿وَبَدَلُ الْكِتَابَةِ وَالْوَلَاءُ لِلْمُرْتَدِّ﴾ کہ بدلِ کتابت اور ولاء جو ہے وہ اس مرتد کے لیے ہے جو مسلمان ہو کر واپس آیا ہے بھئی، تو ہدایہ کے بعض نسخوں میں یہاں بدل کا لفظ موجود ہے۔ تو اگر بدل کا لفظ نہ بھی ہو تو بھی یہ جو آیا: ﴿وَالْكِتَابَةُ وَالْوَلَاءُ لِلْمُرْتَدِّ﴾ تو اس کتابت سے مراد بدلِ کتابت ہی ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَالْكِتَابَةُ وَالْوَلَاءُ لِلْمُرْتَدِّ الَّذِي أَسْلَمَ﴾ اور بدلِ کتابت اور ولاء جو ہے اس مرتد کے لیے ہے جو مسلمان ہو گیا ہے، ﴿لِأَنَّهُ لَا وَجْهَ إِلَى بُطْلَانِ الْكِتَابَةِ لِنُفُوذِهَا بِدَلِيلٍ مُنَفِّذٍ﴾ اس لیے کیونکہ کوئی وجہ نہیں ہے کہ وہ عقدِ کتابت باطل ہو جائے اس وجہ سے کہ وہ عقدِ کتابت نافذ ہو چکا ہے ایک ایسی دلیل کی وجہ سے جو اس کو نافذ کر رہی ہے۔ ایسی دلیل ہے جو اس عقدِ کتابت کو نافذ کر رہی ہے اور وہ کیا؟ وہ قضائے قاضی ہے۔ قاضی نے اس کے دار الحرب جانے کا فیصلہ کیا تھا یعنی اس پر موتِ حکمی کا فیصلہ کیا تھا اور اس کی وجہ سے بیٹے کو ولایت مل گئی تھی اور اس ولایت کے تحت اس نے غلام کو مکاتَب بنایا ہے تو وہ عقدِ کتابت جائز ہے بھئی۔ یہ معنی ہے۔ کہتے ہیں: ﴿لِأَنَّهُ لَا وَجْهَ إِلَى بُطْلَانِ الْكِتَابَةِ لِنُفُوذِهَا بِدَلِيلٍ مُنَفِّذٍ﴾ اور کوئی سبب نہیں ہے اس کتابت کے باطل ہونے کا اس لیے کیونکہ وہ عقدِ کتابت نافذ ہو چکا ہے ایک ایسی دلیل کی وجہ سے جو اس کو نافذ کرنے والی ہے، ﴿فَجَعَلْنَا الْوَارِثَ الَّذِي هُوَ يَكُونُ خَلَفَهُ كَالْوَكِيلِ مِنْ جِهَتِهِ﴾ پس ہم نے قرار دے دیا اس وارث کو جو اس کا خلیفہ ہوگا، وہ بیٹا جو اس کے مرنے کے بعد اس کے مال کا خلیفہ ہوگا، ﴿فَجَعَلْنَا الْوَارِثَ الَّذِي هُوَ يَكُونُ خَلَفَهُ كَالْوَكِيلِ مِنْ جِهَتِهِ﴾ تو ہم نے قرار دے دیا اس وارث کو وہ وارث جو اس کا خلیفہ ہوگا اس کو ہم نے اس کی طرف سے وکیل قرار دے دیا کہ یوں سمجھو یہ جو بیٹے نے عقدِ کتابت کیا تھا یہ اپنے باپ کی طرف سے وکیل ہو کر کیا تھا۔ تو کہتے ہیں پھر ترجمہ دیکھ لیجیے: ﴿فَجَعَلْنَا الْوَارِثَ الَّذِي هُوَ يَكُونُ خَلَفَهُ كَالْوَكِيلِ مِنْ جِهَتِهِ﴾ تو ہم نے قرار دے دیا اس وارث کو جو اس مرتد کا خلیفہ ہوگا اس کو ہم نے قرار دے دیا وکیل کی طرح اس مرتد کی جانب سے، ﴿وَحُقُوقُ الْعَقْدِ فِيهِ يَرْجِعُ إِلَى الْمُوَكِّلِ﴾ اور حقوقِ عقد جو ہیں اس عقدِ کتابت کے اندر موکل کی طرف لوٹتے ہیں۔ بھئی آپ پڑھ چکے ہیں کہ بعض اوقات حقوقِ عقد کا تعلق وکیل سے ہوتا ہے اور بعض اوقات موکل سے ہوتا ہے۔ مثلاً آپ نے ایک آدمی کو بھیجا کہ میرے لیے گاڑی خرید کر لاؤ، اس نے گاڑی خریدی تو یہ بیع والا معاملہ وکیل نے کیا ہے لہٰذا حقوقِ بیع بھی اسی سے متعلق ہوں گے، یعنی گاڑی کے ثمن کا مطالبہ وکیل سے ہی کیا جائے گا اور نیز گاڑی یعنی مبیع کا مطالبہ یہ وکیل ہی کرے گا، موکل سے ان حقوق کا تعلق نہیں ہے۔ جبکہ کچھ عقود ایسے ہوتے ہیں کہ وہاں حقوقِ عقد کا تعلق موکل سے ہوتا ہے، جیسے کسی نے وکیل بنایا کہ جا کر فلاں جگہ میرا نکاح کروا دو، تو وکیل نے جا کر وہاں نکاح کروا دیا تو یہاں حقوقِ عقد کا تعلق کس سے ہے؟ موکل سے ہے، یعنی موکل کا نکاح ہوا ہے وکیل کا نکاح نہیں ہوا ہے۔ تو یہاں پر بھی اسی طرح ہے، یہ جو عقدِ کتابت ہے اس کے اندر حقوقِ عقد کا تعلق موکل سے ہوتا ہے وکیل سے نہیں، وکیل نے اگر عقدِ کتابت کیا ہے تو بدلِ کتابت کا مستحق وکیل نہیں ہوگا بلکہ موکل ہوگا، تو اس لیے متن میں بھی یہی آیا کہ بدلِ کتابت جو ہے اس کا مستحق وہ مرتد ہی ہوگا جو مسلمان ہو گیا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَحُقُوقُ الْعَقْدِ فِيهِ يَرْجِعُ إِلَى الْمُوَكِّلِ﴾ اور حقوقِ عقد جو ہیں وہ عقدِ کتابت کے اندر موکل کی طرف لوٹتے ہیں تو بدلِ کتابت جو ہے وہ موکل کے لیے ہوں گے، ﴿وَالْوَلَاءُ لِمَنْ يَقَعُ الْعِتْقُ عَنْهُ﴾ اور ولاء اس شخص کے لیے ہوتی ہے جس کی طرف سے آزادی واقع ہو، اور آزادی تو اس مرتد کی طرف سے ہوئی ہے لہٰذا ولاء کا مستحق بھی یہی ہوگا بھئی۔ آگے دیکھیے بھئی: ﴿وَإِذَا قَتَلَ الْمُرْتَدُّ رَجُلًا خَطَأً ثُمَّ لَحِقَ بِدَارِ الْحَرْبِ أَوْ قُتِلَ عَلَى رِدَّتِهِ فَالْدِّيَةُ فِي مَالٍ اكْتَسَبَهُ فِي حَالِ الْإِسْلَامِ خَاصَّةً عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ﴾ صورتِ مسئلہ یہ کہ مرتد نے جنایت کر دی، کسی شخص کو غلطی سے قتل کر دیا۔ مرتد نے ارتداد کے بعد کسی شخص کو غلطی سے قتل کر دیا، اور آپ جانتے ہیں کہ قتلِ خطا کے اندر قصاص نہیں آتا دیت آتی ہے، اور دیت کے اندر پھر سارے قبیلے والے مل کر وہ دیت ادا کرتے ہیں تین سال کے عرصے میں یعنی تین قسطوں کے اندر، تین قسطوں کے اندر وہ ادا کرتے ہیں تین سال میں، تو یہاں پر مرتد نے غلطی سے قتل کیا ہے تو کیا اس کے قبیلے والے اس کی قوم والے وہ دیت ادا کریں گے اس کے ساتھ مل کر؟ کہتے ہیں نہیں، یہ جو قبیلے والے اپنے کسی آدمی کی طرف سے دیت ادا کرتے ہیں اس کی بنیاد نصرت پر ہے کہ قبیلے کا ہر آدمی وہ قبیلے کا مددگار ہے۔ قبیلے کا ہر آدمی قبیلے کا مددگار ہے تو قبیلہ بھی اس کا مددگار ہے، وہ بھی دیت کی ادائیگی میں اس کا مددگار بن جاتا ہے اور ادا کرتا ہے، لیکن یہاں یہ شخص مرتد ہو گیا ہے، جب مرتد ہو گیا تو اب یہ قبیلے کا مددگار نہیں اور نہ قبیلہ اس کا مددگار ہے، کیونکہ اب تو یہ قتل کا مستحق ہو چکا ہے بھئی، تو جب نصرت نہیں تو اب قبیلہ بھی اس کی طرف سے دیت ادا نہیں کرے گا، اسی قاتل ہی کے مال میں سے دیت ادا کی جائے گی۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَإِذَا قَتَلَ الْمُرْتَدُّ رَجُلًا خَطَأً﴾ اور جب مرتد نے کسی آدمی کو غلطی سے قتل کر دیا، ﴿ثُمَّ لَحِقَ بِدَارِ الْحَرْبِ﴾ پھر وہ دار الحرب سے جا ملا یعنی قاضی نے اس کا فیصلہ کر دیا، ﴿أَوْ قُتِلَ عَلَى رِدَّتِهِ﴾ یا اس کو ارتداد پر ہی قتل کر دیا گیا، ﴿فَالْدِّيَةُ فِي مَالٍ اكْتَسَبَهُ فِي حَالِ الْإِسْلَامِ خَاصَّةً عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ﴾ تو امام صاحب فرماتے ہیں کہ دیت اس مرتد کے اس مال میں سے ادا کی جائے گی جو اس نے اسلام کی حالت میں کمایا ہے، کیونکہ ارتداد کی حالت میں جو مال کمایا ہے وہ تو مالِ فئی ہے وہ تو تمام مسلمانوں کا حق ہے، لہٰذا اس میں سے دیت ادا نہیں کریں گے بلکہ اس کے اس مال میں سے دیت ادا کریں گے جو اس نے اسلام کی حالت میں کمایا تھا۔ تو کہتے ہیں: ﴿فَالْدِّيَةُ فِي مَالٍ اكْتَسَبَهُ فِي حَالِ الْإِسْلَامِ خَاصَّةً عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ﴾ تو دیت جو ہے اس مال میں ہوگی جو اس نے خاص طور پر اسلام کی حالت میں کمایا ہے امام صاحب کے نزدیک، ﴿وَقَالَا: الدِّيَةُ فِيمَا كَتَسَبَهُ فِي الْإِسْلَامِ وَالرِّدَّةِ جَمِيعًا﴾ اور صاحبین فرماتے ہیں: صاحبین فرماتے ہیں اسلام اور ارتداد دونوں کمائیوں کا مالک یہ مرتد ہی ہے لہٰذا دونوں مالوں میں سے یہ دیت ادا کی جائے گی۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَقَالَا: الدِّيَةُ فِيمَا كَتَسَبَهُ فِي الْإِسْلَامِ وَالرِّدَّةِ جَمِيعًا﴾ اور صاحبین فرماتے ہیں کہ دیت جو ہے اس مال کے اندر ہوگی جو اس نے اسلام اور ارتداد دونوں میں کمایا ہے، ﴿لِأَنَّ الْعَوَاقِلَ لَا تَعْقِلُ الْمُرْتَدَّ﴾ یہاں سے دلیل ذکر کر رہے ہیں کہ کیا وجہ ہے عاقلہ کیوں نہیں دیت کی ادائیگی میں شریک ہوگی؟ تو بتلائیں گے کہ عاقلہ مرتد کی دیت ادا نہیں کرتے کیونکہ وہاں نصرت نہیں ہے ایک دوسرے کی مدد نہیں ہے، وہ اب قبیلے کا مددگار نہ رہا اور قبیلہ بھی اس کا مددگار نہ رہا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ﴿لِأَنَّ الْعَوَاقِلَ لَا تَعْقِلُ الْمُرْتَدَّ﴾ عقل یعقل کے معنی ہوتے ہیں دیت ادا کرنا اور عواقل دیت ادا کرنے والے، تو کہتے ہیں: ﴿لِأَنَّ الْعَوَاقِلَ لَا تَعْقِلُ الْمُرْتَدَّ﴾ اس لیے کیونکہ دیت ادا کرنے والے مرتد کی دیت ادا نہیں کرتے ﴿لِانْعِدَامِ النُّصْرَةِ﴾ نصرت نہ ہونے کی وجہ سے یعنی مدد نہیں ہے، مرتد کی طرف سے ان کی مدد نہیں کیونکہ وہ مرتد ہو گیا ہے وہ تو واجب القتل ہو گیا ہے، اگر یہاں رہے گا تو قتل کریں گے ہم ورنہ دار الحرب چلا جائے گا تو وہ حربیوں کے حکم میں ہو جائے گا۔ تو جب اس کی طرف سے مدد ختم تو قبیلے کی طرف سے بھی مدد ختم ہو جائے گی۔ کہتے ہیں: ﴿لِانْعِدَامِ النُّصْرَةِ فَيَكُونُ فِي مَالِهِ﴾ نصرت کے معدوم ہونے کی وجہ سے لہٰذا یہ دیت اسی قاتل ہی کے مال میں سے ہوگی، ﴿وَعِنْدَهُمَا الْكَسْبَانِ جَمِيعًا مَالُهُ لِنُفُوذِ تَصَرُّفَاتِهِ فِي الْحَالَيْنِ﴾ اور صاحبین کے نزدیک دونوں کمائیاں جو ہیں وہ ساری اس کا مال ہیں اس وجہ سے کہ اس کے تصرفات نافذ ہیں دونوں حالتوں میں، اسلام کی حالت میں بھی اور ارتداد کی حالت میں بھی کیونکہ ابھی بھی یہ اپنے مال کا مالک ہے، ﴿وَلِهَذَا يَجْرِي الْإِرْثُ فِيهِمَا عِنْدَهُمَا﴾ اور اسی وجہ سے ان دونوں مالوں کے اندر وراثت جاری ہوتی ہے صاحبین کے نزدیک، ﴿وَعِنْدَهُ مَالُهُ الْمُكْتَسَبُ فِي الْإِسْلَامِ﴾ اور امام صاحب کے نزدیک، یاد رکھو یہ ﴿مَالُهُ﴾ یہ ہے مبتدا اور ﴿الْمُكْتَسَبُ فِي الْإِسْلَامِ﴾ یہ ہے خبر، اور صاحبِ ہدایہ خبر کو بھی معرفہ لائے: ﴿الْمُكْتَسَبُ﴾، اور آپ پڑھ چکے ہیں کہ اگر مبتدا کے ساتھ ساتھ خبر بھی معرفہ آئے تو وہ حصر کا فائدہ دیتی ہے، حصر یعنی تخصیص کا فائدہ دیتی ہے تو کیا ترجمہ ہوگا؟ ﴿مَالُهُ الْمُكْتَسَبُ فِي الْإِسْلَامِ﴾ کہ اس مرتد کا جو مال ہے وہ وہی ہے جو اس نے اسلام کے اندر کمایا ہے، اس مرتد کا مال وہی ہے جو اس نے اسلام کے اندر کمایا ہے، جو ارتداد میں کمایا ہے وہ اس کا مال نہیں اسی لیے وہ اس کے وارثوں کی طرف بھی منتقل نہیں ہوتا۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَعِنْدَهُ مَالُهُ الْمُكْتَسَبُ فِي الْإِسْلَامِ﴾ اور امام صاحب کے نزدیک اس مرتد کا جو مال ہے وہ وہی ہے جو اس نے اسلام کی حالت میں کمایا ہے، یا یوں ترجمہ کر لیں: ﴿مَالُهُ الْمُكْتَسَبُ فِي الْإِسْلَامِ﴾ کہ مرتد کا مال اسلام کی حالت میں کمایا ہوا ہی ہے ﴿لِنَفَاذِ تَصَرُّفِهِ فِيهِ دُونَ الْمَكْسُوبِ فِي الرِّدَّةِ﴾ اس وجہ سے کہ اس مرتد کا تصرف اس مال کے اندر نافذ ہے جو اس نے اسلام میں کمایا ہے نہ کہ وہ جو اس نے ارتداد کی حالت میں کمایا ہے ﴿لِتَوَقُّفِ تَصَرُّفِهِ﴾ اس کے تصرف کے موقوف ہونے کی وجہ سے، کہ وہ مال جو اس نے ارتداد کی حالت میں کمایا ہے اس میں تصرف موقوف ہے اس کا۔ تو کہتے ہیں: ﴿لِتَوَقُّفِ تَصَرُّفِهِ﴾ اس کے تصرف کے موقوف ہونے کی وجہ سے، ﴿وَلِهَذَا كَانَ الْأَوَّلُ مِيرَاثًا عِنْدَهُ وَالثَّانِي فَيْئًا عِنْدَهُ﴾ اور اسی لیے اول مال جو ہے وہ میراث ہوتا ہے امام صاحب کے نزدیک اور دوسرا جو ہے وہ مالِ فئی ہوتا ہے امام صاحب کے نزدیک۔ پہلا مال یعنی جو اسلام میں کمایا ہے وہ امام صاحب کے نزدیک وہ مالِ میراث ہوتا ہے اور جو ارتداد میں کمایا ہے وہ مالِ فئی ہوتا ہے۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے: ﴿وَلِهَذَا كَانَ الْأَوَّلُ مِيرَاثًا عِنْدَهُ وَالثَّانِي فَيْئًا عِنْدَهُ﴾ اور اسی وجہ سے پہلا مال جو ہے وہ میراث ہوتا ہے امام صاحب کے نزدیک اور دوسرا مال وہ مالِ فئی ہوتا ہے امام صاحب کے نزدیک۔ آگے دیکھیے: ﴿وَإِذَا قُطِعَتْ يَدُ الْمُسْلِمِ عَمْدًا فَارْتَدَّ وَالْعِيَاذُ بِاللَّهِ ثُمَّ مَاتَ عَلَى رِدَّتِهِ مِنْ ذَلِكَ﴾ بھئی صورتِ مسئلہ یہ: ایک مسلمان ہے اور اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا، کسی نے جان بوجھ کر اس کا ہاتھ کاٹا ہے، اور آپ جانتے ہیں کہ جان بوجھ کر ہاتھ کوئی کاٹے گا تو وہاں اگر قصاص لیا جا سکتا ہے تو قصاص لیا جائے گا۔ توجہ ہے؟ قصاص کی بنیاد ہوتی ہے برابری پر، جہاں برابری ہو سکے وہاں قصاص لیتے ہیں، جہاں برابری نہ ہو سکے وہاں قصاص نہیں لیتے پھر ہاتھ کی دیت آ جاتی ہے۔ تو اگر ایک شخص نے دوسرے کا ہاتھ جان بوجھ کر جوڑ سے کاٹا ہے تو مجرم کا ہاتھ بھی جوڑ سے کاٹا جا سکتا ہے، برابری ممکن ہے تو یہاں قصاص آئے گا اور مجرم کا ہاتھ بھی اسی جوڑ سے کاٹ دیا جائے گا۔ اور دوسری صورت یہ ہے کہ مجرم نے ہاتھ ایسی جگہ سے کاٹا ہے کہ وہاں برابری نہیں ہو سکتی مثلاً کلائی کے درمیان سے، اور کلائی کے درمیان تو ہڈی ہے اور ہڈی کے اندر برابری نہیں ہو سکتی کیونکہ ہڈی سخت ہے، تو جب ہڈی کو توڑیں گے تو بعینہٖ اسی طرح توڑ دیا جائے جس طرح مجرم نے توڑی تھی یہ ممکن نہیں ہے، تو جہاں پر برابری نہ ہو سکے وہاں پھر دیت آتی ہے اور ہاتھ کا جو ضمان ہے وہ نصفِ دیت ہے۔ ایک انسان کی قیمت 100 اونٹ ہے تو ہاتھ کی قیمت 50 اونٹ ہیں بھئی، تو نصفِ دیت آئے گی۔ توجہ ہے؟ اور یہاں نیز ایک اور بات بھی یاد رکھنا، مثلاً ایک شخص نے دوسرے کا ہاتھ کاٹ دیا ہے وہاں اولاً قصاص آئے گا، اگر برابری نہیں ہو سکتی تو پھر نصفِ دیت آئے گی، نصفِ دیت، لیکن وہ زخم پھیل گیا اور اسی زخم سے اس آدمی کی موت واقع ہو گئی تو معلوم ہوا اسی زخم نے موت تک پہنچایا ہے، لہٰذا مجرم پر اب نصفِ دیت نہیں آئے گی بلکہ پوری جان کی دیت آ جائے گی اس پر۔ توجہ ہے؟ معلوم ہوا ہاتھ کاٹا ہو تو نصفِ دیت آئے گی، لیکن اگر وہی ہاتھ کا کاٹنا موت تک پہنچا دے تو مجرم کو پوری دیت دینا پڑے گی۔ ضابطہ سمجھ میں آ گیا؟ تو اب یہاں پر صورت یہ ہے کہ ایک مسلمان کا ہاتھ کاٹا گیا جان بوجھ کر اور العیاذ باللہ وہ مسلمان مرتد ہو گیا اور پھر وہی زخم پھیل گیا اور اس سے اس شخص کی موت واقع ہو گئی، تو اب اس کے اندر چار صورتیں بنیں گی بھئی، چار صورتیں بنیں گی وہ صاحبِ ہدایہ بیان فرمائیں گے۔ ایک صورت یہ کہ ہاتھ کاٹا گیا اسلام کی حالت میں اور پھر یہ شخص جو ہے، یہ شخص جس کا ہاتھ کاٹا گیا ہے یہ مرتد ہو گیا اور پھر یہی زخم پھیل کر جان لیوا بن گیا اور اس مرتد کی موت واقع ہو گئی، تو پھر اس صورت میں یاد رکھو جب ہاتھ کاٹا گیا تھا تو اس شخص کی جان معصوم تھی تو اس کا ہاتھ بھی معصوم اور محفوظ تھا، تو لہٰذا یہاں ہاتھ کے اندر ضمان آئے گا یعنی نصفِ دیت آئے گی، اور پھر اس کے بعد یہ شخص مرتد ہوا اور اس کے بعد یہی زخم پھیلا اور یہ شخص مر گیا اور آپ جانتے ہیں کہ ارتداد کی وجہ سے عصمت ختم ہو جاتی ہے اب اس شخص کی جان معصوم نہ رہی وہ مباح الدم ہو چکا ہے۔ تو ایک مسلمان کا ہاتھ کاٹا گیا اور پھر العیاذ باللہ وہ مرتد ہو گیا اور پھر وہی زخم پھیلا اور ارتداد کی حالت میں ہی وہ شخص مر گیا، تو اس صورت میں یاد رکھو ہمارے فقہاء فرماتے ہیں کہ مجرم پر نصفِ دیت آئے گی۔ اس مجرم پر نصفِ دیت آئے گی۔ سوال پیدا ہوتا ہے نصفِ دیت کیسے؟ اسی ہاتھ کے کاٹنے نے اس کو موت تک پہنچا دیا ہے لہٰذا پوری دیت آنی چاہیے، تو جواب یہ کہ جب اس نے ہاتھ کاٹا تھا تو وہ ہاتھ معصوم تھا اس کا کاٹنا مباح نہیں تھا۔ نہیں تھا لیکن جب یہ شخص مرتد ہوا تو ارتداد کی وجہ سے اب اس کی جان کی عصمت باقی نہ رہی۔ تو لہٰذا یہ جو سرایت پائی گئی ہے وہ محل غیر معصوم میں سرایت ہوئی ہے لہٰذا اس سرایت کی وجہ سے اب پوری جان کی دیت نہیں آئے گی بھئی۔ جب ہاتھ کاٹا تھا ہاتھ معصوم تھا لیکن جب جان گئی ہے وہ معصوم اور محفوظ نہیں لہٰذا وہ ہاتھ ہی کا ضمان آئے گا، جان کا ضمان نہیں آئے گا۔ بات سمجھ میں آگئی؟ یہ ایک صورت تھی کہ ارتداد کی حالت میں ہی وہ مر گیا ہے۔ یعنی سرایت ارتداد کی حالت میں پائی گئی۔ توجہ ہے؟ دوسری صورت یہ ہے کہ ایک مسلمان کا ہاتھ کاٹ دیا گیا پھر والعیاذ باللہ یہ مرتد ہو گیا اور پھر یہ دار الحرب چلا گیا اور قاضی نے اس کے دار الحرب جانے کا فیصلہ کر دیا اور قاضی کا فیصلہ اس کے لیے موت کے حکم میں ہے لہٰذا گویا اس شخص پر موت حکمی آگئی اور پھر یہ شخص جو دار الحرب گیا ہے اور جس کا ہاتھ کاٹا ہوا ہے اور یہ مرتد ہے یہ پھر وہاں سے مسلمان ہوا اور واپس دار الاسلام آگیا اور دار الاسلام کے اندر وہ زخم پھر پھیل گیا اور اس سے اس مسلمان کی موت ہو گئی۔ تو کہتے ہیں اس صورت میں بھی نصف دیت ہی آئے گی، پوری دیت نہیں۔ بھئی کیا وجہ ہے اب تو اسلام کی حالت میں یہ زخم پھیلا ہے؟ کہتے ہیں بھئی جس وقت یہ مرتد ہوا اور دار الحرب چلا گیا اور قاضی نے اس کی موت کا فیصلہ کر دیا تو موت کے بعد زخم نہیں پھیل سکتا۔ زخم تو زندگی میں پھیلتا ہے موت کے بعد تو نہیں پھیل سکتا تو قاضی نے جب اس کی موت حکمی کا فیصلہ کر دیا ہے تو اب گویا اس شخص پر موت آگئی اب سرایت ممکن ہی نہ رہی اور پھر اس کے بعد دوبارہ یہ مسلمان ہو کر آیا ہے تو یہ گویا اس کو نئی زندگی ملی ہے اور اس زندگی کے اندر گزشتہ زندگی کے جرم کی وجہ سے سزا نہیں دی جا سکتی بھئی۔ توجہ ہے؟ وہ جو جنایت تھی موت حکمی کی وجہ سے اس جنایت کا اثر ختم ہو گیا۔ ختم ہو گیا لہٰذا وہ پہلی جنایت اس نئی زندگی میں واپس نہیں آئے گی بھئی۔ توجہ ہے؟ لہٰذا اس صورت میں بھی نصف دیت ہی آئے گی، ہاتھ کا ضمان نصف دیت آئے گا پوری جان کا ضمان نہیں آئے گا۔ اور تیسری اور چوتھی صورت یہ ہے کہ ایک مسلمان کا ہاتھ کاٹا گیا اور والعیاذ باللہ یہ مرتد ہو گیا اور پھر یہ ایک صورت یہ ہے دار الحرب گیا اور قاضی کے فیصلے سے پہلے ہی مسلمان ہو کر آگیا، یا دوسری صورت یہ ہے کہ دار الحرب گیا ہی نہیں اور یہیں پر یہ دوبارہ مسلمان ہو گیا قاضی کے فیصلے سے پہلے ہی، تو قاضی کے فیصلے سے پہلے یوں سمجھیں گے یہ مرتد ہوا ہی نہیں۔ اس کا ارتداد بھی لا ارتداد کی طرح ہے کیونکہ آپ پڑھ چکے ہیں قاضی کے فیصلے کی وجہ سے ارتداد ثابت ہوگا اور موت حکمی ثابت ہوگی تو جب قاضی کا فیصلہ نہیں آیا تو یوں سمجھیں گے ارتداد آیا ہی نہیں۔ جب ارتداد آیا ہی نہیں اور پھر اسلام کی حالت میں موت ہوئی ہے اسی زخم کی وجہ سے تو اب پوری جان کی دیت دینا پڑے گی اس مجرم کو بھئی۔ توجہ ہے؟ تو یہ دو صورتیں بن گئیں اکٹھی، ایک صورت کیا؟ کہ مرتد ہوا دار الحرب چلا گیا اور قاضی کے فیصلے سے پہلے مسلمان ہو کر واپس آگیا تو یوں سمجھیں گے یہ مرتد ہوا ہی نہیں تھا، یا یہ مرتد ہوا اور دار الحرب نہیں گیا یہیں پر ہے مرتد ہوا اور پھر واپس یہیں پر مسلمان ہو گیا تو چاہے دار الحرب جائے یا نہ جائے قاضی کے فیصلے سے پہلے جب یہ مسلمان ہو گیا ہے تو یوں سمجھیں گے ارتداد ہے ہی نہیں، جب ارتداد نہیں ہے تو یہی زخم جب پھیل گیا اور اس نے موت تک پہنچا دیا تو اب اس کی وجہ سے پوری جان کا ضمان دینا پڑے گا۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو چار صورتیں سمجھ میں آگئیں، پہلی صورت کیا؟ ہاتھ کاٹا گیا پھر یہ شخص مرتد ہوا اور یہی زخم پھیلا ارتداد کی حالت میں اور یہ مر گیا۔ دوسری صورت ہاتھ کاٹا گیا اور پھر یہ شخص مرتد ہوا، دار الحرب چلا گیا اور قاضی نے اس کے دار الحرب جانے کا فیصلہ کر دیا اور پھر یہ وہاں سے مسلمان ہو کر واپس آیا اور یہ زخم پھیلا اور اس شخص کا انتقال ہو گیا، تو دونوں صورتوں کے اندر یاد رکھو یہاں صرف ہاتھ کی دیت آئے گی، ہاتھ کی دیت آئے گی کیونکہ ایک صورت کے اندر جان جو گئی ہے وہ ارتداد کی حالت میں گئی ہے لہٰذا اس جان کی کوئی قیمت نہیں، اور دوسری صورت میں درمیان میں قاضی نے اس کی موت کا فیصلہ کر دیا تھا تو اب اگرچہ اس فیصلے کے بعد زخم پھیلا ہے اسلام کی حالت میں لیکن ایک دفعہ جب قاضی کا فیصلہ بیچ میں آگیا یعنی موت بیچ میں ایک دفعہ آگئی تو اب سرایت نہیں ہو سکتی لہٰذا اب اس صورت کے اندر بھی صرف ہاتھ ہی کا ضمان دینا پڑے گا بھئی۔ اور تیسری اور چوتھی صورت میں وہ جس میں قاضی کے فیصلے سے پہلے ہی وہ مسلمان ہو جاتا ہے چاہے دار الحرب جائے چاہے نہ جائے دونوں صورتوں کے اندر یہ زخم پھیل گیا ہے تو یوں سمجھیں گے ارتداد تھا ہی نہیں اور یہ اسلام کی حالت میں ہی ہاتھ کاٹا گیا اور اسلام کی حالت میں ہی اس نے موت تک پہنچا دیا تو اس زخم کی وجہ سے اب پوری جان کی دیت آئے گی۔ ایک بات یاد رکھنا بھئی، یہاں انہوں نے ذکر کیا تھا کہ مجرم نے جان بوجھ کر ہاتھ کاٹا ہے۔ مجرم نے جان بوجھ کر ہاتھ کاٹا ہے، جب جان بوجھ کر ہاتھ کاٹا جائے تو وہاں تو قصاص آتا ہے لیکن یہاں قصاص نہیں آئے گا، چاروں صورتوں میں سے کسی ایک صورت کے اندر بھی قصاص نہیں آئے گا، وجہ یہ ہے کہ درمیان میں ارتداد آگیا اور ارتداد کی وجہ سے شبہ آگیا کیونکہ آپ جانتے ہیں قصاص جو ہے وہ ادنیٰ شبہے سے بھی ساقط ہو جاتا ہے تو بہرحال بے شک آخری دو صورتوں میں بے شک قاضی نے اس کے کفر کا فیصلہ نہیں کیا تھا لیکن پھر بھی ارتداد تو درمیان میں آیا تھا اور اس کی وجہ سے شبہ آگیا اور شبہے کی وجہ سے قصاص ساقط ہو جاتا ہے۔ بات سمجھ میں آگئی؟ دیکھیے بھئی کہتے ہیں: وَإِذَا قُطِعَتْ يَدُ الْمُسْلِمِ عَمْدًا اور جب ایک مسلمان کا ہاتھ جان بوجھ کر کاٹا گیا فَارْتَدَّ تو وہ مرتد ہو گیا وَالْعِيَاذُ بِاللَّهِ اور ہم اللہ کی پناہ مانگتے ہیں اس سے ثُمَّ مَاتَ عَلَى رِدَّتِهِ مِنْ ذَلِكَ پھر مسلمان جو ہے اپنے ارتداد پر ہی اس ہاتھ کاٹنے کی وجہ سے مر گیا ثُمَّ مَاتَ عَلَى رِدَّتِهِ مِنْ ذَلِكَ پھر وہ مرتد جو ہے اس ہاتھ کاٹنے کی وجہ سے اسی ارتداد کی حالت میں مر گیا أَوْ لَحِقَ بِدَارِ الْحَرْبِ یا وہ دار الحرب چلا گیا یعنی قاضی نے اس کے دار الحرب جانے کا فیصلہ کر دیا ثُمَّ جَاءَ مُسْلِمًا فَمَاتَ مِنْ ذَلِكَ پھر وہ مسلمان ہو کر واپس آیا پھر وہ اس ہاتھ کاٹنے کی وجہ سے مر گیا فَعَلَى الْقَاطِعِ نِصْفُ الدِّيَةِ تو دونوں صورتوں میں ہاتھ کاٹنے والے پر نصف دیت ہے فِي مَالِهِ اسی قاطع کے مال میں، ہاتھ کاٹنے والے کے ہی مال میں سے۔ بھئی عاقلہ نہیں ادا کریں گے، بھئی کیوں عاقلہ کیوں نہیں ادا کریں گے؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ ہم نے بتا دیا کہ ہاتھ جان بوجھ کر کاٹا ہے مجرم نے اور جو جرم جان بوجھ کر کیا جائے اس کے اندر عاقلہ دیت ادا نہیں کرتے بھئی۔ ہاں البتہ اگر غلطی سے ہاتھ کاٹا ہے پھر اس کے اندر عاقلہ بھی دیت کے ادا کرنے میں شریک ہوں گے کیونکہ مجرم نہیں مرتد ہو رہا بلکہ جس کا ہاتھ کاٹا گیا ہے وہ مرتد ہوا تھا بھئی۔ تو کہتے ہیں: فَعَلَى الْقَاطِعِ نِصْفُ الدِّيَةِ فِي مَالِهِ تو ہاتھ کاٹنے والے پر نصف دیت آئے گی اس کے مال میں لِلْوَرَثَةِ اس مرتد کے وارثوں کے لیے، ان کو دینی پڑے گی نصف دیت، دونوں صورتوں میں۔ توجہ ہے؟ اب دونوں صورتیں الگ الگ بیان کریں گے۔ أَمَّا الْأَوَّلُ تو پہلی صورت جو ہے، پہلی صورت کون سی تھی؟ ہاتھ کاٹا گیا، یہ مرتد ہوا اور پھر ارتداد کی حالت میں ہی اس زخم نے سرایت کی، یہ زخم پھیل گیا اور اس کی ارتداد کی حالت میں موت ہو گئی۔ تو کہتے ہیں: أَمَّا الْأَوَّلُ فَلِأَنَّ السِّرَايَةَ تو پہلی صورت میں جب وہ ارتداد پر ہی مرا ہے اس لیے کیونکہ سرایت جو ہے، سرایت کا معنی ہے پھیل جانا بھئی۔ کہتے ہیں: فَلِأَنَّ السِّرَايَةَ حَلَّتْ مَحَلًّا غَيْرَ مَعْصُومٍ اس لیے کیونکہ اس قطع کا پھیل جانا یہ نازل ہوا ہے ایسے محل میں جو معصوم نہیں ہے۔ یہ زخم پھیل گیا، بھئی یہ جب مرتد ہو گیا تو اب یہ معصوم نہ رہا، محفوظ نہ رہا۔ تو قطع، قطع تو ید معصوم میں تھا لیکن سرایت تو غیر معصوم جان کے اندر ہے لہٰذا سرایت کا اعتبار نہیں کیا جائے گا صرف قطع کا اعتبار کیا جائے گا اور نصف دیت آئے گی۔ تو کہتے ہیں: فَلِأَنَّ السِّرَايَةَ حَلَّتْ مَحَلًّا غَيْرَ مَعْصُومٍ فَأُهْدِرَتْ اس لیے کیونکہ سرایت جو ہے ایک غیر معصوم جگہ کے اندر نازل ہوئی ہے لہٰذا اس کو ساقط کر دیا جائے گا۔ بِخِلَافِ مَا إِذَا قُطِعَتْ يَدُ الْمُرْتَدِّ دوسری صورت بھئی ادھر دیکھیے، یہ ایک الگ بیچ میں صورت ذکر کر رہے ہیں۔ ایک مرتد کا ہاتھ کاٹا گیا اور پھر وہ مرتد مسلمان ہو گیا اور پھر وہ زخم پھیل گیا اور اسلام کی حالت میں ہی اس کا انتقال ہو گیا۔ کہتے ہیں اس صورت میں کوئی ضمان نہیں آئے گا کیونکہ جب ہاتھ کاٹا گیا تھا اس وقت یہ مرتد تھا تو معلوم ہوا اس کی جان اور ہاتھ کی کوئی عصمت نہیں۔ جب عصمت نہیں ہے جان اور ہاتھ کی تو اس کی وجہ سے کوئی ضمان نہیں آئے گا بھئی، اس لیے کیونکہ اگرچہ سرایت جو ہے وہ اسلام کی حالت میں ہوئی ہے، یہ مرا اسلام کی حالت میں ہے لیکن کس جرم کی وجہ سے؟ وہ جرم جو ارتداد کی حالت میں کیا گیا تھا اور ارتداد کی حالت میں جو جرم کیا جائے اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے وہ رائیگاں ہے بھئی، وہ ضائع ہے تو جو جرم ایک دفعہ جب اس کو رائیگاں قرار دیا جا چکا ہے یعنی ضائع قرار دیا جا چکا ہے اس کو دوبارہ معتبر قرار نہیں دیا جا سکتا۔ کہتے ہیں: بِخِلَافِ مَا إِذَا قُطِعَتْ يَدُ الْمُرْتَدِّ ثُمَّ أَسْلَمَ فَمَاتَ مِنْ ذَلِكَ بخلاف اس کے کہ جب مرتد کا ہاتھ کاٹ دیا گیا ثم اسلم پھر وہ مسلمان ہو گیا فمات من ذلک پھر وہ اسی ہاتھ کاٹنے کی وجہ سے مر گیا تو اس صورت میں کوئی ضمان نہیں آئے گا لِأَنَّ الْإِهْدَارَ لَا يَلْحَقُهُ الِاعْتِبَارُ اہدار کا معنی ہے رائیگاں کرنا، ضائع یعنی باطل کرنا۔ بعض اوقات ایک آدمی کو قتل کر دیا جاتا ہے تو کہتے ہیں اس کا خون رائیگاں ہے یعنی ضائع ہے، معنی یہ ہوتا ہے کہ اس کی وجہ سے نہ قصاص آئے گا اور نہ دیت آئے گی۔ جیسے کوئی شخص مرتد ہو گیا اور قاضی کے فیصلے سے پہلے ہی کسی نے اس کو قتل کر دیا تو اس کا خون رائیگاں ہے یعنی ضائع ہے، اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے، اس قتل کی وجہ سے نہ قصاص آئے گا اور نہ دیت آئے گی بھئی۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّ الْإِهْدَارَ لَا يَلْحَقُهُ الِاعْتِبَارُ اس لیے کیونکہ رائیگاں کرنا یعنی باطل کرنا اس کو اعتبار لاحق نہیں ہو سکتا۔ ایک چیز جب ابتداءً رائیگاں ہے اور اس کا کوئی اعتبار نہیں تو بعد میں اس کا اعتبار کیا جائے ایسا نہیں ہو سکتا، جو چیز رائیگاں ہے وہ بعد میں معتبر ہو جائے ایسا نہیں ہو سکتا۔ کہتے ہیں: لِأَنَّ الْإِهْدَارَ لَا يَلْحَقُهُ الِاعْتِبَارُ اس لیے کیونکہ باطل کرنا اس کو معتبر ہونا لاحق نہیں ہو سکتا أَمَّا الْمُعْتَبَرُ فَقَدْ يُهْدَرُ بِالْإِبْرَاءِ ہاں، ایک چیز معتبر ہے بعد میں وہ رائیگاں قرار دے دی جائے ایسا ہو سکتا ہے۔ ایک چیز معتبر ہے اور اس کو رائیگاں قرار دے دیا جائے ایسا ہو سکتا ہے مثلاً جیسے آپ دیکھتے ہیں ایک مسلمان نے دوسرے مسلمان کو قتل کر دیا تو یہ قتل معتبر ہے اس کی وجہ سے اگر جان بوجھ کر قتل کیا ہے تو قصاص آئے گا غلطی سے قتل کیا ہے تو دیت آئے گی لیکن اگر مقتول کے اولیاء نے معاف کر دیا تو وہی قتل جو پہلے معتبر تھا اب رائیگاں چلا گیا۔ توجہ ہے؟ معلوم ہوا جو جرم ابتداء کے اندر رائیگاں ہے وہ بعد میں معتبر ہو جائے ایسا نہیں ہو سکتا لیکن اس کا برعکس ہو سکتا ہے ایک جرم جو پہلے تو معتبر ہے اور بعد میں اس کو رائیگاں قرار دے دیا جائے ایسا ہو سکتا ہے۔ بات سمجھ میں آگئی؟ یہ معنی ہے: أَمَّا الْمُعْتَبَرُ فَقَدْ يُهْدَرُ بِالْإِبْرَاءِ اور وہ چیز جو معتبر ہو تو تحقیق اس کو کبھی جو ہے باطل کر دیا جاتا ہے ساقط کر دیا جاتا ہے بالابراء معاف کر دینے کی وجہ سے فَكَذَا بِالرِّدَّةِ تو اسی طرح ارتداد کی وجہ سے بھی ہوگا۔ تو اسی طرح ارتداد کی وجہ سے بھی ہوگا، مسلمان کا ہاتھ کاٹا گیا ہے تو یہ معتبر ہے اور بعد میں وہ سرایت کر گیا لیکن بیچ میں کیا آگیا؟ ارتداد آگیا تو وہ جو معتبر تھا وہ رائیگاں اب قرار دے دیا گیا۔ یہ معنی ہے: فَكَذَا بِالرِّدَّةِ تو اسی طرح ارتداد کی وجہ سے جو ہوگا یعنی جو معتبر ہے وہ رائیگاں ہو جائے گا۔ وَأَمَّا الثَّانِي اور دوسری صورت جو ہے، دوسری صورت کیا تھی؟ کہ مسلمان کا ہاتھ کاٹا گیا اور پھر والعیاذ باللہ وہ مرتد ہو گیا اور دار الحرب چلا گیا اور قاضی نے اس کے دار الحرب جانے کا فیصلہ کر دیا پھر وہاں سے مسلمان ہو کر یہ واپس آیا ہے اور پھر اسی زخم سے یہ مر گیا ہے تو اب بھی اس صورت میں بھی صرف ہاتھ کا ضمان آئے گا کیونکہ درمیان میں قاضی کا فیصلہ یعنی اس شخص کی موت آچکی ہے اور موت کی وجہ سے سرایت ختم ہو گئی، موت کے بعد کوئی زخم نہیں پھیل سکتا لہٰذا بیچ میں ایک دفعہ موت آگئی تو اب یہ سرایت معتبر نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں: وَأَمَّا الثَّانِي وَهُوَ مَا إِذَا لَحِقَ اور دوسری صورت جو ہے اور یہ وہ صورت ہے جب وہ دار الحرب جا ملے وَمَعْنَاهُ إِذَا قُضِيَ بِلِحَاقِهِ بھئی متن میں تو آیا تھا او لحق بدار الحرب یہ دار الحرب جا ملا ہے، میں نے بتلایا تھا کہ معنی یہ ہے کہ قاضی اس کا فیصلہ کر دے۔ صرف دار الحرب جانے سے یہ مردے کے حکم میں نہیں ہے جب تک قاضی فیصلہ نہ کر دے، یہی بیان کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: وَأَمَّا الثَّانِي وَهُوَ مَا إِذَا لَحِقَ وَمَعْنَاهُ إِذَا قُضِيَ بِلِحَاقِهِ اور دوسری صورت جب وہ دار الحرب چلا جائے اور معنی اس قول کا یہ ہے کہ جب اس کے دار الحرب جانے کا فیصلہ کر دیا جائے تو اب بھی صرف ہاتھ کا ضمان آئے گا۔ کہتے ہیں: لِأَنَّهُ صَارَ مَيْتًا تَقْدِيرًا اس لیے کیونکہ یہ شخص جو ہے مردہ ہو گیا تقدیراً۔ تقدیراً یعنی فرض کر لیا گیا کہ یہ شخص مر چکا ہے یعنی موت کا حکم ہو گیا اس پر۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّهُ صَارَ مَيْتًا تَقْدِيرًا وَالْمَوْتُ يَقْطَعُ السِّرَايَةَ اس لیے کیونکہ یہ شخص جو ہے تقدیراً مردہ ہو چکا ہے یعنی حکماً یہ مردہ ہو چکا ہے اور موت جو ہے پھیل جانے کو کاٹ دیتی ہے، موت کے بعد زخم نہیں پھیل سکتا۔ تو کہتے ہیں: وَالْمَوْتُ يَقْطَعُ السِّرَايَةَ وَإِسْلَامُهُ حَيَاةٌ حَادِثَةٌ فِي التَّقْدِيرِ اور موت جو ہے وہ سرایت کو قطع کر دیتی ہے کاٹ دیتی ہے اور اس کا مسلمان ہونا یہ نئی زندگی ہے تقدیر کے یعنی حکم کے اعتبار سے۔ یہ حکم کے اعتبار سے نئی زندگی ہے، جب نئی زندگی ہے تو اس کے اندر پرانی زندگی کے جرم کی وجہ سے سزا نہیں دی جا سکتی۔ تو کہتے ہیں: وَإِسْلَامُهُ حَيَاةٌ حَادِثَةٌ فِي التَّقْدِيرِ فَلَا يَعُودُ حُكْمُ الْجِنَايَةِ الْأُولَى اور تقدیر کے اعتبار سے اس کا مسلمان ہونا نئی زندگی ہے تو پہلی جنایت کا حکم واپس نہیں آسکتا۔ فَإِذَا لَمْ يَقْضِ یہاں سے تیسری صورت بیان کر رہے ہیں کہ یہ دار الحرب تو چلا گیا ہے لیکن قاضی نے ابھی فیصلہ نہیں کیا تھا کہ یہ مسلمان ہو کر واپس آگیا۔ تو جب قاضی کا فیصلہ نہیں آیا درمیان میں تو یوں سمجھیں گے یہ مرتد ہوا ہی نہیں تھا چاہے دار الحرب سے ہو کر واپس آیا ہے چاہے یہیں پر ہے، یہیں پر ہے مرتد ہوا اور پھر قاضی کے فیصلے سے پہلے مسلمان ہو گیا تو دونوں صورتوں کے اندر اب زخم کے پھیلنے کا اعتبار کیا جائے گا کیونکہ جب تک قاضی کا فیصلہ نہیں تو گویا ارتداد پایا ہی نہیں گیا۔ اسلام میں ہی ہاتھ کاٹا اور اسلام کے اندر ہی وہ موت کا سبب بن گیا تو لہٰذا اب پوری دیت دینا پڑے گی۔ تو کہتے ہیں: فَإِذَا لَمْ يَقْضِ الْقَاضِي بِلِحَاقِهِ پس اگر قاضی نے اس کے دار الحرب جانے کا فیصلہ نہیں کیا فَهُوَ عَلَى الْخِلَافِ الَّذِي نُبَيِّنُهُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى تو اس صورت میں یہ اس اختلاف پر ہے جس کو ہم ان شاء اللہ تعالیٰ بیان کریں گے۔ تو یہ اس اختلاف پر ہے جس کو ہم ان شاء اللہ بیان کریں گے اسی کو آگے بیان کر رہے ہیں صاحبِ ہدایہ۔ کہتے ہیں: قَالَ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: فَإِنْ لَمْ يَلْحَقْ وَأَسْلَمَ ثُمَّ مَاتَ فان لم يلحق اگر یہ دار الحرب نہیں گیا، دار الحرب نہیں گیا کیا معنی؟ یعنی قاضی نے فیصلہ نہیں کیا چاہے گیا ہو چاہے نہ گیا ہو دونوں کا ایک ہی حکم ہے، مرتد ہوا ہے لیکن قاضی کے فیصلے سے پہلے ہی پھر واپس مسلمان ہو گیا چاہے دار الحرب گیا ہو چاہے دار الحرب نہ گیا ہو دونوں صورتوں میں ایک ہی حکم ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں قال صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: فَإِنْ لَمْ يَلْحَقْ اگر وہ دار الحرب نہیں گیا یعنی قاضی نے اس کا فیصلہ نہیں کیا وَأَسْلَمَ ثُمَّ مَاتَ اور مسلمان ہو گیا پھر مر گیا یعنی اسی زخم کی وجہ سے فَعَلَيْهِ الدِّيَةُ كَامِلَةً تو پھر اس مجرم پر دیت ہے کاملۃً پوری ہو کر، یعنی اس مجرم پر پوری دیت آجائے گی۔ وَهَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى اور یہ شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک ہے۔ وَقَالَ مُحَمَّدٌ وَزُفَرُ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى فِي جَمِيعِ ذَلِكَ نِصْفُ الدِّيَةِ اور امام محمد اور امام زفر رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ سارے کے اندر نصف دیت آئے گی، تمام صورتوں میں۔ بھئی شیخین رحمہما اللہ تو فرماتے ہیں پہلی دو صورتوں میں نصف دیت آئے گی اور آخری دو صورتوں میں پوری دیت آئے گی۔ پہلی دو صورتیں کون سی تھیں؟ کہ ہاتھ اسلام میں کٹا ہے اور موت ارتداد میں ہوئی ہے یا درمیان میں موتِ حکمی آگئی ہے اور پھر اس کے بعد اسلام میں موت ہوئی ہے، تو بہرحال جب ارتداد بیچ میں آگیا یا موت آگئی بیچ میں تو اب سرایت کا اعتبار نہیں، نصف دیت دینا پڑے گی۔ توجہ ہے؟ جبکہ اگلے دو مسئلے جن میں قاضی نے اس کے دار الحرب جانے کا فیصلہ نہیں کیا چاہے یہ گیا لیکن پھر قاضی کے فیصلے سے پہلے مسلمان ہو کر آگیا یا یہیں پر یہ واپس دوبارہ مسلمان ہو گیا تو ان دونوں صورتوں میں اس کا ارتداد بھی لا ارتداد کی طرح ہے تو لہٰذا اس صورت میں اسی زخم سے موت ہوئی ہے تو پوری دیت آئے گی۔ زخم لگاتے وقت بھی یہ شخص مسلمان تھا اور مرتے وقت بھی یہ مسلمان تھا تو زخم اور سرایت دونوں صورتوں میں اسلام موجود ہے، پوری دیت آئے گی شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک۔ توجہ ہے؟ پھر سنو، شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک پہلی دو صورتوں میں نصف دیت اور آخری دو صورتوں میں پوری دیت آئے گی جبکہ امام زفر اور امام محمد رحمہما اللہ فرماتے ہیں چاروں صورتوں میں نصف دیت ہی آئے گی۔ چاروں صورتوں میں نصف دیت آئے گی۔ پہلی دو صورتوں میں تو شیخین رحمہما اللہ بھی فرماتے تھے نصف دیت آئے گی امام محمد اور امام زفر رحمہما اللہ بھی فرماتے ہیں وہاں نصف دیت آئے گی۔ آخری دو صورتوں میں جب یہ مرتد تو ہوا لیکن قاضی کے فیصلے سے پہلے ہی دوبارہ مسلمان ہو گیا تو شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں اس کے ارتداد کا کوئی اعتبار نہیں لیکن امام محمد اور امام زفر رحمہما اللہ فرماتے ہیں نہیں ارتداد کا اعتبار ہے چاہے قاضی نے فیصلہ نہیں کیا لیکن ارتداد تو آگیا بیچ میں، جب ارتداد آگیا تو سرایت اب نہیں ہو سکتی لہٰذا صرف قطع کا جرم ہے اور وہ نصف دیت دینی پڑے گی۔ تو کہتے ہیں: وَقَالَ مُحَمَّدٌ وَزُفَرُ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى فِي جَمِيعِ ذَلِكَ نِصْفُ الدِّيَةِ اور امام محمد اور امام زفر رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ ان تمام صورتوں میں یعنی چاروں صورتوں میں نصف دیت آئے گی لِأَنَّ اعْتِرَاضَ الرِّدَّةِ أَهْدَرَ السِّرَايَةَ اس لیے کیونکہ ارتداد کا پیش آنا اس نے سرایت کو باطل کر دیا فَلَا يَنْقَلِبُ بِالْإِسْلَامِ إِلَى الضَّمَانِ لہٰذا یہ اسلام کی وجہ سے دوبارہ ضمان کی طرف نہیں پلٹے گا بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو وہ جنایت منقطع ہو چکی ہے ارتداد کی وجہ سے، دوبارہ اس کا اعتبار اب نہیں کیا جا سکتا۔ یہ معنی ہے: فَلَا يَنْقَلِبُ بِالْإِسْلَامِ إِلَى الضَّمَانِ تو لہٰذا اسلام کی وجہ سے یہ ضمان کی طرف نہیں پلٹے گا كَمَا إِذَا قُطِعَ يَدُ مُرْتَدٍّ فَأَسْلَمَ جیسے کسی مرتد کا ہاتھ کاٹ دیا جائے پھر وہ مسلمان ہو جائے، مرتد کا ہاتھ کاٹا گیا تو یہ جنایت، یہ جنایت رائیگاں ہے اس کا کوئی اعتبار نہیں۔ پھر بعد میں وہ مسلمان ہو گیا اور اس زخم کی وجہ سے موت ہو گئی پھر بھی جب ایک دفعہ ایک جنایت کا اعتبار نہیں تھا تو دوبارہ اسلام کی وجہ سے وہ معتبر ہو جائے ایسا نہیں ہو سکتا۔ تو یہ معنی ہے: كَمَا إِذَا قُطِعَ يَدُ مُرْتَدٍّ فَأَسْلَمَ جیسے کہ ایک مرتد کا ہاتھ کاٹ دیا جائے پھر وہ مسلمان ہو جائے تو جیسے وہاں پر قاتل پر کوئی ضمان نہیں آتا تو یہاں پر بھی جب ارتداد بیچ میں آگیا تو اب سرایت کی وجہ سے کوئی ضمان نہیں آئے گا بلکہ نصف دیت ہی آئے گی بھئی۔ وَلَهُمَا اب شیخین رحمہما اللہ کی دلیل آگئی۔ وَلَهُمَا اور شیخین رحمہما اللہ کی دلیل یہ ہے أَنَّ الْجِنَايَةَ وَرَدَتْ عَلَى مَحَلٍّ مَعْصُومٍ وَتَمَّتْ فِيهِ شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں جب جنایت کی گئی تھی اس وقت یہ شخص مسلمان تھا اور اسی ہاتھ کی وجہ سے جب موت آئی ہے تو اس وقت بھی یہ مسلمان ہے لہٰذا یہاں سرایت معتبر ہے اور پوری دیت دینا پڑے گی۔ تو کہتے ہیں: وَلَهُمَا اور شیخین رحمہما اللہ کی دلیل یہ ہے أَنَّ الْجِنَايَةَ وَرَدَتْ عَلَى مَحَلٍّ مَعْصُومٍ کہ یہ ہاتھ کاٹنے کی جو جنایت ہے یہ ایک معصوم محل پر وارد ہوئی یعنی اس مسلمان پر یہ جرم کیا گیا ہے وَتَمَّتْ فِيهِ اور نیز یہ جنایت جو ہے اس محل معصوم میں ہی پوری ہوئی ہے یعنی محل معصوم کے اندر ہی یہ زخم پھیل گیا ہے اور اس کی موت آئی ہے۔ درمیان میں اگرچہ ارتداد تھا لیکن اس کا کوئی اعتبار نہیں کیونکہ قاضی نے فیصلہ نہیں کیا۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے: وَلَهُمَا أَنَّ الْجِنَايَةَ وَرَدَتْ عَلَى مَحَلٍّ مَعْصُومٍ اور شیخین رحمہما اللہ کی دلیل یہ ہے اس لیے کیونکہ جنایت جو ہے یہ ایک معصوم محل پر وارد ہوئی ہے یعنی وہ شخص مسلمان تھا جب اس کا ہاتھ کاٹا گیا وَتَمَّتْ فِيهِ اور اسی کے اندر یہ جنایت پوری ہوئی ہے یعنی محل معصوم کے اندر ہی کیونکہ یہ مسلمان تھا جب اس زخم کی وجہ سے اس کی موت ہوئی ہے۔ فَيَجِبُ ضَمَانُ النَّفْسِ تو لہٰذا نفس کا ضمان واجب ہوگا یعنی پوری دیت آئے گی كَمَا إِذَا لَمْ يَتَخَلَّلِ الرِّدَّةُ جیسے کہ ارتداد کا خلل نہ آنے کی صورت میں ہوتا ہے۔ اگر ایک مسلمان کا ہاتھ کاٹا جائے اور اسلام ہی میں پھر اس کی موت آجائے اس زخم کی وجہ سے تو جیسے وہاں پر پورے نفس کی دیت آتی ہے تو یہاں پر بھی پورے نفس کی دیت آئے گی۔ تو کہتے ہیں: كَمَا إِذَا لَمْ يَتَخَلَّلِ الرِّدَّةُ جیسے کہ جب ارتداد کا خلل بیچ میں نہ آئے وَهَذَا لِأَنَّهُ لَا مُعْتَبَرَ بِقِيَامِ الْعِصْمَةِ فِي حَالِ بَقَاءِ الْجِنَايَةِ اور یہ اس لیے کیونکہ ضمان کے اندر: لَا مُعْتَبَرَ بِقِيَامِ الْعِصْمَةِ فِي حَالِ بَقَاءِ الْجِنَايَةِ کوئی اعتبار نہیں ہے عصمت کے قائم ہونے کا عصمت کے موجود ہونے کا بقائے جنایت کی حالت میں۔ بھئی ایک ہے ابتدائے جنایت اور ایک ہے جنایت کا تام ہونا، اس وقت جو ہے عصمت ہونی چاہیے درمیان کا جو وقت ہے وہ بقائے جنایت کا وقت ہے اور بقائے جنایت کے لیے عصمت کا موجود ہونا ضروری نہیں۔ توجہ ہے؟ اس شخص کا ہاتھ کاٹا گیا ہے تو جس وقت ہاتھ کاٹا گیا اس وقت بھی عصمت ہونی چاہیے اور جس وقت موت آئی ہے اس وقت بھی عصمت ہونی چاہیے اور درمیان میں جو زمانہ ہے یہ بقائے جنایت کا زمانہ ہے یعنی جس میں وہ جرم ابھی بھی باقی ہے اور بقائے جنایت کے لیے عصمت کا موجود ہونا ضروری نہیں۔ ابتدائے جنایت کے وقت بھی عصمت چاہیے، جب اس جنایت کا حکم ثابت ہوگا یعنی پوری جان کی دیت آئے گی اس وقت بھی عصمت ہونی چاہیے، درمیان میں بقائے جنایت کا زمانہ ہے اور بقائے جنایت کے اندر عصمت کا موجود ہونا ضروری نہیں چاہے عصمت رہے چاہے عصمت نہ رہے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ تو درمیان میں اگر یہ مرتد بھی ہوا ہے لیکن یہ تو بقائے جنایت کا زمانہ ہے اس کے اندر عصمت کا باقی ہونا ضروری نہیں ہے۔ توجہ ہے؟ پھر سمجھیں، ایک وہ وقت جب اس آدمی کا ہاتھ کاٹا گیا تھا تو وہ تھا ابتدائے جنایت اور ابتدائے جنایت کے وقت یہ شخص مسلمان تھا اس کی جان معصوم تھی اور درمیان میں یہ مرتد ہوا ہے اور پھر اس کے بعد دوبارہ مسلمان ہو گیا ہے چاہے دار الحرب گیا ہے یا نہیں گیا دونوں صورتوں میں اور اس کے بعد پھر وہ زخم پھیل گیا اور موت آگئی تو جس وقت ابتدائے جنایت تھی یعنی جس وقت یہ سبب موت کا پایا جا رہا تھا اس وقت عصمت ہونی چاہیے اور جب اس جنایت کا حکم ثابت ہوگا یعنی ضمان آئے گا اس وقت بھی عصمت ثابت ہونی چاہیے اور درمیان میں تو بقائے جنایت کا زمانہ ہے، بقائے جنایت کے اندر عصمت کا موجود ہونا ضروری نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آگئی؟ یہ معنی ہے: وَهَذَا لِأَنَّهُ لَا مُعْتَبَرَ بِقِيَامِ الْعِصْمَةِ فِي حَالِ بَقَاءِ الْجِنَايَةِ اور یہ اس وجہ سے اس لیے کیونکہ کوئی اعتبار نہیں ہے عصمت کے موجود ہونے کا جنایت باقی رہنے کی حالت میں وَإِنَّمَا الْمُعْتَبَرُ قِيَامُهَا فِي حَالِ انْعِقَادِ السَّبَبِ وَفِي حَالِ ثُبُوتِ الْحُكْمِ اور وہ چیز جو معتبر ہے وہ عصمت کا موجود ہونا ہے سبب منعقد ہونے کی حالت میں۔ کیا چیز معتبر ہے؟ کہ جب سبب یہ جو سبب بنا موت کا، یہ سبب پائے جاتے وقت عصمت ہونی چاہیے اور جب موت آرہی ہے اس وقت عصمت ہونی چاہیے۔ تو کہتے ہیں: وَإِنَّمَا الْمُعْتَبَرُ قِيَامُهَا فِي حَالِ انْعِقَادِ السَّبَبِ اور وہ چیز جس کا اعتبار ہے وہ عصمت کا پایا جانا ہے سبب کے منعقد ہونے کی حالت میں یعنی جب اس موت کا سبب منعقد ہوا تھا یعنی ہاتھ کاٹا گیا تھا اس وقت عصمت کا موجود ہونا معتبر ہے وَفِي حَالِ ثُبُوتِ الْحُكْمِ اور نیز اسی طرح حکم کے ثابت ہونے کی حالت میں، جس وقت اس جنایت کا حکم ثابت ہوگا، جس وقت اس جنایت کا حکم ثابت ہوگا یعنی سرایت ہوگی اور موت آئے گی اس وقت عصمت کا ہونا معتبر ہے۔ تو کہتے ہیں: وَفِي حَالِ ثُبُوتِ الْحُكْمِ اور حکم کے ثابت ہونے کی حالت میں عصمت کا ہونا معتبر ہے۔ توجہ ہے؟ پھر ذرا ترجمہ دیکھ لیجیے: وَإِنَّمَا الْمُعْتَبَرُ قِيَامُهَا فِي حَالِ انْعِقَادِ السَّبَبِ وَفِي حَالِ ثُبُوتِ الْحُكْمِ اور وہ چیز جو معتبر ہے وہ عصمت کا پایا جانا ہے سبب منعقد ہونے کی حالت میں اور حکم ثابت ہونے کی حالت میں، اس وقت عصمت کا پایا جانا معتبر ہے۔ وَحَالَةُ الْبَقَاءِ بِمَعْزِلٍ مِنْ ذَلِكَ كُلِّهِ اور بقا کی جو حالت ہے یعنی بقائے جنایت کی جو حالت ہے بمعزل وہ جدا ہے وہ الگ ہے من ذلک کلہ اس سب سے۔ وہ اس سب سے جدا ہے، بھئی ادھر دیکھیے، ایک ہے ابتدائے جنایت اور ایک ہے حکمِ جنایت، تو ابتدائے جنایت کے وقت بھی عصمت ہونی چاہیے اور ثبوتِ حکم کے وقت بھی عصمت ہونی چاہیے، درمیان میں بقائے جنایت کا زمانہ ہے اور بقائے جنایت کے زمانے کا کوئی اعتبار نہیں ہے کیونکہ بقائے جنایت جو ہے اس کے اندر نہ تو سبب پایا جا رہا ہے اور نہ حکم پایا جا رہا ہے۔ نہ سبب ہے اور نہ حکم ہے لہٰذا بقائے جنایت میں اگر عصمت نہ بھی رہے تو کوئی حرج نہیں۔ یہ معنی ہے: وَحَالَةُ الْبَقَاءِ بِمَعْزِلٍ مِنْ ذَلِكَ كُلِّهِ اور جنایت کے باقی رہنے کی جو حالت ہے وہ اس سب سے جدا ہے یعنی بقائے جنایت کے اندر نہ سبب ہے اور نہ حکم ہے بھئی۔ وَصَارَ كَقِيَامِ الْمِلْكِ فِي حَالِ بَقَاءِ الْيَمِينِ اور یہ اسی طرح ہو گیا جیسے یمین باقی رہنے کی حالت میں ملکیت کا پایا جانا۔ بھئی ادھر دیکھیے، خاوند نے اپنی بیوی سے کہا اگر تو اس گھر میں گئی تو تجھے طلاق ہے تو خاوند کا یہ طلاق کو معلق کرنا صحیح ہے کیونکہ اس وقت یہ طلاق کا مالک ہے۔ خاوند بیوی کی طلاق کا مالک ہے تو یہ تعلیق کر سکتا ہے لہٰذا یہ طلاق معلق ہو گئی، عورت جب بھی اس گھر میں جائے گی اس کو طلاق ہو جائے گی لیکن اس گھر میں اس عورت کے جانے سے پہلے ہی خاوند نے اس کو طلاقِ بائن دے دی۔ وہ والی طلاق معلق ہے اور اس کے بعد خاوند نے ایک طلاقِ بائن دے دی اور اس عورت نے عدت گزاری اور اس نے پھر کسی اور آدمی سے نکاح کر لیا۔ بے شک اس عورت پر سے خاوند کی ملکیت ختم ہو گئی ہے اور یہ اب کسی اور کی بیوی بن گئی ہے لیکن خاوند کی وہ طلاق ابھی بھی معلق ہے۔ لہٰذا اب دوسرے خاوند کے پاس ہوتے ہوئے وہ عورت اگر اس گھر میں چلی گئی تو وہ طلاق نازل ہوگی لیکن اب تو یہ پہلے خاوند کی بیوی ہی نہیں ہے تو وہ طلاق ضائع چلی جائے گی۔ لیکن اگر عورت اس گھر میں ابھی تک نہیں گئی اور پھر دوسرے خاوند نے بھی اس عورت کو طلاق دے دی یا اس خاوند کا انتقال ہوا اور عورت نے عدت گزاری اور اس نے پھر پہلے خاوند سے نکاح کر لیا تو یاد رکھو وہ طلاق ابھی بھی معلق ہے لہٰذا یہ عورت اگر اب اس گھر میں گئی تو طلاق واقع ہو جائے گی۔ تو دیکھو جس وقت خاوند نے طلاق معلق کی تھی اس وقت بھی وہ طلاق کا مالک تھا اور جس وقت عورت گھر میں گئی ہے اس وقت بھی خاوند طلاق کا مالک ہے درمیان کے اندر اگرچہ خاوند کی ملکیت نہیں لیکن بقائے یمین کے لیے ملکیت کا ہونا ضروری نہیں۔ ابتدائے یمین کے وقت ملکیت ہونی چاہیے اور جس وقت حکم پایا جائے اس وقت ملکیت ہونی چاہیے، بات سمجھ میں آگئی؟ تو یہ معنی ہے: وَصَارَ كَقِيَامِ الْمِلْكِ فِي حَالِ بَقَاءِ الْيَمِينِ اور یہ اسی طرح ہو گیا جیسے کہ ملکیت کا پایا جانا یمین کے باقی رہنے کی حالت میں۔ تو جیسے یمین کے باقی رہنے کی حالت میں ملکیت کا پایا جانا ضروری نہیں۔ ابتدائے یمین میں ملکیت ہونی چاہیے اور حکم کے وقت ملکیت ہونی چاہیے، بقائے یمین کے اندر اس خاوند کی ملکیت بیوی پر ضروری نہیں۔ اسی طرح ابتدائے جنایت اور حکمِ جنایت کے وقت وہ شخص جو ہے معصوم ہونا چاہیے اور بقائے جنایت کی حالت میں اگر وہ معصوم نہ رہا یعنی درمیان میں مرتد بھی ہوا ہے تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ یہ معنی ہے: وَصَارَ كَقِيَامِ الْمِلْكِ فِي حَالِ بَقَاءِ الْيَمِينِ اور یہ اسی طرح ہو گیا جیسے کہ ملکیت موجود ہو بقائے یمین کی حالت میں۔ بات سمجھ میں آگئی؟ حل ہو گیا؟ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔
160 approved lectures · 144 of 160