Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء ثاني · dars-145

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 16 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 134
📂 Choose Format:
⭐ ★★★★★ Excellent TEXT
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
دیکھیے بھئی آگے سبق: ”وَإِذَا ارْتَدَّ الْمُكَاتَبُ وَلَحِقَ بِدَارِ الْحَرْبِ وَاكْتَسَبَ مَالًا فَأُخِذَ بِمَالِهِ وَأَبَى أَنْ يُسْلِمَ فَقُتِلَ، فَإِنَّهُ يُوَفَّى مَوْلَاهُ مُكَاتَبَتَهُ وَمَا بَقِيَ فَلِوَرَثَتِهِ“ بھئی گزشتہ سبق کے اندر صاحبِ ہدایہ مرتدوں سے متعلق احکام بیان فرما رہے تھے۔ صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ اگر کوئی شخص مرتد ہو کر دار الحرب چلا گیا اور پھر قاضی نے اس کے دار الحرب چلے جانے کا فیصلہ کر دیا تو اس کی ساری جائیداد جو ہے اس کے وارثوں کی طرف منتقل ہو جائے گی، اور پھر اس کے بعد وہ شخص دوبارہ مسلمان ہو کر واپس دار الاسلام آ گیا تو اس کی وہ چیزیں جو وارثوں کے پاس موجود ہیں ان کو وہ واپس لے لے گا۔ وجہ یہ ہے کہ وارث جو ہے وہ مال کے اندر میت کا خلیفہ بنتا ہے، اس وجہ سے کہ میت کو مال کی حاجت نہیں ہوتی، لیکن یہاں پر تو وہ مرتد جس پر موت کا حکم لگایا تھا وہ واپس آ گیا ہے اور اس کو مال کی حاجت ہے، لہٰذا اس کو مقدم کیا جائے گا اور وہ اس مال کو واپس لے لے گا۔ البتہ وہ مال جس کے اندر وارثوں نے تصرف کر دیا اور اس سے اپنی ملکیت ختم کر دی ہے، مثلاً کوئی چیز تھی اس کو آگے بیچ دیا ہے یا کسی کو تحفے کے طور پر دے دیا ہے، یا اس کے کسی غلام یا باندی وغیرہ کو آزاد کر دیا ہے، تو ان چیزوں کو وہ مرتد جو اب مسلمان ہو گیا ہے، وہ ان چیزوں کو اب واپس نہیں لے سکتا۔ وجہ یہ کہ وارثوں کا یہ تصرف صحیح ہے، کیونکہ قاضی کے فیصلے کی وجہ سے ان کو ولایت حاصل ہو گئی تھی تصرفات کی، لہٰذا ان تصرفات کو باطل قرار نہیں دیا جا سکتا، چاہے یہ ایسا تصرف ہو جو فسخ کو قبول کر لیتا ہو، جیسے بیع اور ہبہ وغیرہ ہے، یا چاہے ایسا تصرف ہو جو فسخ کو قبول ہی نہیں کرتا، جیسے اعتاق وغیرہ ہے بھئی۔ اور اسی طرح قاضی کے فیصلے کی وجہ سے اس مرتد کے جو مدبر اور امہاتِ اولاد آزاد ہو گئے تھے، تو ان کو بھی مرتد واپس نہیں لے سکتا، کیونکہ آزادی ایک مرتبہ آ جائے تو وہ فسخ کو قبول نہیں کرتی۔ البتہ اگر قاضی کے فیصلے سے پہلے ہی وہ مرتد مسلمان ہو کر واپس آ گیا، تو پھر اس صورت میں یوں سمجھا جائے گا کہ گویا ارتداد آیا ہی نہیں۔ یہ ہمیشہ سے مسلمان ہی تھا تو یہ اپنی تمام چیزوں کا اسی طرح مالک ہے بھئی، اور نیز اس کے مدبر اور ام ولد بھی آزاد نہیں ہوں گے بھئی۔ اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے مسئلہ ذکر فرمایا کہ اگر مرتد نے ارتداد کے بعد اپنی باندی سے صحبت کی اور اس سے اولاد پیدا ہوئی اور پھر مرتد دعویٰ کر دیتا ہے کہ یہ میری اولاد ہے تو اس بچے کا نسب ثابت ہو جائے گا اور یہ آزاد شمار ہوگا، کیونکہ مرتد بھی آزاد تھا، اور نیز یہ باندی اس کی ام ولد بن جائے گی۔ البتہ یہ بچہ اس کا وارث بنے گا یا نہیں، اس میں اس بچے کی ماں جو باندی ہے اس کو دیکھا جائے گا۔ اگر وہ باندی ذمیہ ہے یعنی غیر مسلمہ ہے تو پھر یہ بچہ مرتد کے تابع ہوا دین کے اندر، کیونکہ مرتد کا دین اس باندی کے دین سے بہتر ہے۔ وجہ یہ کہ مرتد جو ہے اس کو اسلام پر مجبور کیا جائے گا تو وہ اسلام کے قریب ہے، جبکہ ذمیہ جو ہے اس کو تو اسلام پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ تو اس بچے کو بھی مرتد شمار کیا جائے گا اور مرتد جو ہے وہ مرتد کا وارث نہیں ہو سکتا۔ لیکن اگر یہ بچے کی ماں جو باندی ہے اگر وہ مسلمان ہے تو اس کے تابع ہو کر بچہ بھی مسلمان شمار ہوگا اور مسلمان جو ہے وہ مرتد کا وارث ہو سکتا ہے، تو اس صورت میں یہ بچہ وارث بنے گا بھئی۔ اور پھر اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی بتلایا کہ اگر مرتد اپنا مال لے کر دار الحرب چلا گیا ہے اور پھر بعد میں دار الحرب پر مسلمانوں نے غلبہ حاصل کر لیا تو مرتد کا یہ مال جو مسلمانوں کے قبضے میں آئے گا یہ مالِ فئی ہے یعنی مالِ غنیمت ہوگا۔ بھئی البتہ اگر مرتد دار الحرب چلا گیا اور پھر قاضی نے اس کے دار الحرب جانے کا فیصلہ کر دیا اور مال وارثوں کی طرف منتقل ہو گیا، اور اس کے بعد مرتد چھپ کر آیا اور یہاں سے اس نے اپنا مال لیا اور پھر لے کر دار الحرب چلا گیا، تو یہ مال جو ہے وہ وارثوں سے لے کر گیا ہے اور وارث اس کے مالک بن چکے ہیں، تو اگر مسلمانوں نے اس دار الحرب پر قبضہ کر لیا تو مرتد کے جو وارث ہیں وہ اس مال کے مالکِ قدیم ہیں۔ لہٰذا اگر تقسیم سے پہلے ان کو یہ مال مالِ غنیمت کے اندر ملا تو وہ اس کو مفت میں لے لیں گے بھئی۔ اور اس کے بعد ایک مسئلہ آپ نے پڑھا کہ ایک شخص مرتد ہو گیا اور وہ دار الحرب چلا گیا اور قاضی نے اس کے دار الحرب جانے کا فیصلہ کر دیا اور اس کا مال اس کے وارثوں کی طرف منتقل ہو گیا، اور اس کا ایک غلام تھا جو اس کے بیٹے کے حصے میں آیا اور اس کے بیٹے نے اس غلام کو مکاتب بنا دیا، اور پھر اس کے بعد وہ مرتد مسلمان ہو کر واپس آ گیا دار الاسلام، تو آپ پڑھ چکے کہ اس کا جو معین مال وارثوں کے پاس موجود ہے اس کو وہ واپس لے لے گا۔ تو یہ غلام جس کو اس کے بیٹے نے مکاتب بنا دیا ہے، تو کیا اس کا عقدِ کتابت فسخ ہو جائے گا؟ کہتے ہیں: نہیں۔ جو مرتد کے بیٹے نے تصرف کیا اور اس غلام کو مکاتب بنایا، اس وقت اس کو ولایت حاصل تھی، کیونکہ قاضی کے فیصلے کی وجہ سے وہ اس مال کا مالک بنا تھا، تو لہٰذا اس عقدِ کتابت کو فسخ نہیں کیا جا سکتا۔ البتہ اب یوں سمجھا جائے گا کہ گویا اس بیٹے نے وکیل بن کر مرتد کی طرف سے اس غلام کو مکاتب بنایا ہے۔ لہٰذا بدلِ کتابت جو ہے اس کا حقدار بھی وہ مرتد ہوگا جو مسلمان ہو چکا ہے، اور اسی طرح ولاء کا حقدار بھی یہ مرتد ہوگا بھئی۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ ولاء وہ مالِ میراث ہے جو معتق کو ملتا ہے، آزاد کرنے والے کو ملتا ہے۔ کسی شخص کا انتقال ہو جائے تو سب سے پہلے اس کا کفن دفن کیا جاتا ہے اس کے مال میں سے، پھر اس کے قرضے ادا کیے جاتے ہیں، پھر اگر اس نے کوئی وصیت کی ہے تو ثلثِ مال کے اندر وہ وصیت نافذ کی جاتی ہے، اور پھر باقی بچنے والا مال وارثوں میں تقسیم ہوتا ہے، لیکن وارث بھی کئی قسم پر ہیں۔ پہلے درجے پر ذوی الفروض ہیں جن کے باقاعدہ حصے قرآن اور حدیث میں مقرر ہیں بھئی۔ کسی کے لیے نصف ہے، کسی کے لیے ثلث ہے، کسی کے لیے ربع ہے، کسی کے لیے سدس ہے۔ تو یہ جو حصے والے ہیں، ذوی الفروض، سب سے پہلے ان کو مال دیں گے، اور پھر جو مال باقی بچے گا وہ عصبہ نسبی کو مل جائے گا۔ عصبہ نسبی میت کے وہ رشتہ دار مرد ہیں کہ میت کے ساتھ ان کا رشتہ جوڑنے میں درمیان میں کسی عورت کا واسطہ نہ آتا ہو۔ تو ذوی الفروض سے باقی بچنے والا مال وہ عصبہ نسبی لے جائیں گے۔ اور اگر میت کے ذوی الفروض نہیں ہیں، یا ذوی الفروض تو ہیں لیکن کچھ مال بچ گیا ہے اور عصبہ نسبی نہیں ہیں، تو پھر تیسرے نمبر پر عصبہ سببی کا درجہ ہے یعنی وہ جو معتقِ میت ہے۔ اگر یہ میت کسی زمانے کے اندر غلام تھی اور اس کو کسی نے آزاد کیا تھا، تو تیسرا درجہ اس کا ہے، اب جو باقی مال بچا ہے وہ اس معتق کو مل جائے گا۔ تو یہ مالِ میراث جو معتق کو ملا ہے اس کو ولاء کہتے ہیں۔ جی۔ اس کو ولاء کہتے ہیں۔ تو جب بدلِ کتابت کا حقدار یہ مرتد ہے، تو معلوم ہوا غلام اسی کی طرف سے آزاد ہوا، تو یہ معتق ہے۔ جب یہ معتق ہے تو ولاء کا حقدار بھی یہی ہوگا۔ پھر صاحبِ ہدایہ نے مسئلہ ذکر فرمایا کہ اگر مرتد نے غلطی سے کسی آدمی کو قتل کر دیا اور پھر بھاگ کر دار الحرب چلا گیا یا اسے قتل کر دیا گیا، تو دیت جو ہے خاص طور پر وہ مال جو اس نے اسلام کی حالت میں کمایا تھا اس سے ادا کی جائے گی، امام صاحب کے نزدیک۔ جبکہ صاحبین کے نزدیک مرتد کے دونوں مال یعنی چاہے وہ مال اس نے اسلام کی حالت میں کمایا ہو یا چاہے ارتداد کی حالت میں کمایا ہو، مرتد ان سب کا مالک تھا، لہٰذا ان سب سے دیت ادا کی جائے گی۔ البتہ عاقلہ جو ہیں وہ دیت ادا کرنے میں شریک نہیں ہوں گے۔ وجہ یہ کہ یہ جو عاقلہ دیت کے ادا کرنے میں شریک ہوتے ہیں اس کی بنیاد نصرت پر ہوتی ہے۔ نصرت یعنی مدد، کہ قبیلے کا ہر شخص قبیلے کا مددگار ہوتا ہے۔ تو قبیلہ بھی اگر اس شخص سے کوئی غلطی ہو گئی ہے تو اس جرم کے اندر قبیلہ بھی اس کی مدد کرتا ہے، لیکن یہاں پر جب یہ شخص مرتد ہو گیا تو اس کی مدد ختم ہو گئی، کیونکہ یا تو اس کو اب قتل کر دیا جائے گا یا یہ بھاگ کر دار الحرب جا چکا ہے، تو اس کی مدد ختم ہو گئی۔ جب اس کی طرف سے مدد ختم ہوئی تو قبیلہ بھی اس کا مددگار نہ رہا۔ تو جب نصرت ہی یہاں نہیں ہے تو قبیلہ بھی دیت کے ادا کرنے میں اس کے ساتھ شریک نہیں ہوگا بھئی۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے مسئلہ ذکر فرمایا کہ اگر کسی مسلمان کا ہاتھ جان بوجھ کر کاٹ دیا گیا اور پھر العیاذ باللہ وہ مسلمان جو ہے مرتد ہو گیا اور پھر وہ زخم پھیل گیا اور اس سے اس کا انتقال ہو گیا، تو اس صورت میں جب ہاتھ کاٹا گیا تھا اس وقت یہ مرتد مسلمان تھا، یعنی مجرم نے اس کے معصوم اور محفوظ ہاتھ کو کاٹا تھا، لہٰذا اس ہاتھ کا تو ضمان آئے گا یعنی نصف دیت دینا پڑے گی۔ لیکن جب وہ زخم پھیلا اور اس نے موت تک پہنچایا تو اس وقت وہ شخص مرتد ہو چکا تھا، تو سرایت ایسے محل میں، سرایت، سرایت کا معنی ہے پھیل جانا، زخم کا پھیل جانا۔ تو زخم کی سرایت ایسے محل میں یعنی ایسی جان میں ہوئی جو اب معصوم نہیں تھی، محفوظ نہیں تھی، اس کی عصمت ختم ہو چکی تھی ارتداد کی وجہ سے۔ لہٰذا یہاں پوری جان کا ضمان یعنی پوری دیت نہیں آئے گی بلکہ صرف ہاتھ کا ضمان آئے گا۔ یا اسی طرح دوسری صورت یہ ہے کہ ایک شخص نے مسلمان کا ہاتھ کاٹا اور پھر وہ مرتد ہو گیا اور دار الحرب چلا گیا اور قاضی نے اس کے دار الحرب جانے کا فیصلہ کر دیا، اور پھر وہ مسلمان ہو کر واپس آیا اور یہاں پھر وہ زخم پھیل گیا اور اس سے اس شخص کی موت ہو گئی، تو اس صورت کے اندر بھی صرف ہاتھ کی دیت آئے گی، کیونکہ ہاتھ کاٹنے کے وقت ہاتھ معصوم اور محفوظ تھا تو لہٰذا اس کا ضمان اور اس کی دیت آئے گی، لیکن جان کی دیت نہیں آئے گی کیونکہ درمیان میں موتِ حکمی آ چکی ہے، اور یہ جو دوبارہ مسلمان ہوا ہے یہ گویا اس کو ایک نئی زندگی ملی ہے، تو وہ پرانے جرم کی وجہ سے اس جان کا ضمان واجب نہیں کیا جا سکتا کیونکہ درمیان میں موت آ چکی ہے، وہ جو قاضی نے فیصلہ کیا تھا، اور موت کے بعد سرایت نہیں ہو سکتی۔ تو یہ دو صورتیں تھیں۔ تو ان دو صورتوں میں تو بالاتفاق ہمارے تینوں ائمہ اور اسی طرح امامِ زفر رحمہ اللہ سب یہی فرماتے ہیں کہ ان دونوں صورتوں میں نصف دیت آئے گی، جان کا ضمان نہیں آئے گا کیونکہ جان جو گئی ہے وہ ارتداد کی حالت میں گئی ہے، یا درمیان میں موتِ حکمی آ گئی تھی اس کے بعد اس کی جان گئی ہے، لہٰذا اس کا ضمان نہیں آئے گا۔ لیکن باقی دو صورتیں کہ جن میں مسلمان کا ہاتھ کاٹا گیا اور پھر وہ مرتد ہو کر دار الحرب چلا گیا لیکن قاضی کے فیصلے سے پہلے ہی مسلمان ہو کر آ گیا، تو یوں سمجھیں گے گویا ارتداد پایا ہی نہیں گیا، یا یہیں پر وہ مسلمان مرتد ہوا اور پھر دوبارہ مسلمان ہو گیا، تو بہرحال درمیان میں ارتداد تو آیا لیکن قاضی کا فیصلہ نہیں آیا، اور قاضی کے فیصلے کے بغیر تو مرتد کا کفر ثابت نہیں ہے، لہٰذا یوں سمجھیں گے ارتداد آیا ہی نہیں۔ یوں سمجھا جائے گا یہ ہمیشہ سے مسلمان ہی تھا۔ جب ہاتھ کاٹا گیا تب بھی مسلمان، اور جب زخم پھیل گیا اور موت آئی تب بھی مسلمان تھا، تو لہٰذا اب پوری جان کی دیت ادا کرنا پڑے گی۔ جی۔ پوری جان کی دیت ادا کرنا پڑے گی۔ البتہ ایک بات یاد رکھنا بھئی، یہاں انہوں نے ذکر کیا تھا کہ مجرم نے جان بوجھ کر ہاتھ کاٹا ہے۔ جی۔ مجرم نے جان بوجھ کر ہاتھ کاٹا ہے۔ جب جان بوجھ کر ہاتھ کاٹا جائے تو وہاں تو قصاص آتا ہے، لیکن یہاں قصاص نہیں آئے گا۔ چاروں صورتوں میں سے کسی ایک صورت کے اندر بھی قصاص نہیں آئے گا۔ وجہ یہ ہے کہ درمیان میں ارتداد آ گیا، اور ارتداد کی وجہ سے شبہ آ گیا، کیونکہ آپ جانتے ہیں قصاص جو ہے وہ ادنیٰ شبہے سے بھی ساقط ہو جاتا ہے۔ تو بہرحال بے شک آخری دو صورتوں میں بے شک قاضی نے اس کے کفر کا فیصلہ نہیں کیا تھا لیکن پھر بھی ارتداد تو درمیان میں آیا تھا اور اس کی وجہ سے شبہ آ گیا، اور شبہے کی وجہ سے قصاص ساقط ہو جاتا ہے۔ تو شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک پہلی دو صورتوں کے اندر صرف ہاتھ کا ضمان آئے گا یعنی نصف دیت، اور آخری دو صورتوں کے اندر پوری جان کا ضمان آئے گا یعنی پوری دیت ادا کرنا پڑے گی۔ جبکہ امام محمد اور امام زفر رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ چاروں صورتوں کے اندر صرف ہاتھ کا ضمان ہی آئے گا۔ آخری دو صورتوں میں اگرچہ قاضی نے اس کے کفر کا فیصلہ ابھی نہیں کیا تھا، اس سے پہلے ہی وہ دوبارہ مسلمان ہو گیا، لیکن بہرحال درمیان میں ارتداد تو آ گیا، جب ارتداد آ گیا تو اب وہ جو سرایت ہے، وہ جو زخم کا پھیل جانا ہے، اس کا اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔ لہٰذا صرف ہاتھ کا ہی ضمان آئے گا۔ جبکہ شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ جنایت جس وقت ہوئی تھی اس وقت بھی ہاتھ معصوم تھا اور جس وقت جان گئی ہے اس وقت وہ جان معصوم ہے، لہٰذا جان کا ضمان آئے گا۔ جان کا ضمان آئے گا۔ اس لیے کیونکہ جب ضمان کا سبب پایا گیا یعنی وہ جب جرم پایا گیا، اس وقت عصمت کا ہونا ضروری ہے، اور جب اس جنایت کا حکم ثابت ہوگا یعنی جب یہ شخص موت تک پہنچے گا، تو اس وقت عصمت کا ہونا ضروری ہے۔ توجہ ہے؟ اور درمیان میں بقائے جنایت کا زمانہ ہے، اور بقائے جنایت کے لیے عصمت کا ہونا ضروری نہیں۔ جی۔ جنایت ہوتے وقت بھی عصمت کا ہونا ضروری، اور جب جنایت کا حکم آئے گا تب بھی عصمت کا ہونا ضروری، اور درمیان کا جو زمانہ ہے وہ تو بقائے جنایت کا زمانہ ہے، اور بقائے جنایت کے اندر نہ جنایت پائی جا رہی ہے نہ جنایت کا حکم پایا جا رہا ہے، لہٰذا بقائے جنایت کے اندر عصمت کا اعتبار نہیں ہوگا، اگر بقائے جنایت کے اندر وہ مرتد بھی ہوا ہے اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ جی۔ یہ اسی طرح ہے جیسے یمین کا باقی رہنا۔ جی۔ یمین کا باقی رہنا۔ خاوند اپنی بیوی سے کہتا ہے: اگر تو اس گھر میں گئی تو تجھے طلاق ہے۔ تو یہ طلاق معلق ہو گئی، اور عورت ابھی اس گھر میں نہیں گئی کہ خاوند نے اس کو طلاقِ بائن دے دی۔ تو اب جس وقت خاوند نے طلاق معلق کی تھی وہ طلاق کا مالک تھا لہٰذا وہ طلاق ابھی بھی معلق ہے۔ بیوی اس سے جدا ہو گئی اور پھر عدت اس نے گزاری اور پھر دوسرے خاوند سے اس نے نکاح کر لیا، اور پھر اس خاوند کا بھی انتقال ہوا یا اس نے بھی طلاق دے دی، اس نے پھر پہلے خاوند سے نکاح کر لیا، تو ابھی بھی وہ تعلیق موجود ہے۔ جی۔ ابھی بھی وہ تعلیق موجود ہے، لہٰذا یہ عورت اس گھر میں جائے گی تو طلاق واقع ہو جائے گی۔ وجہ یہ کہ جس وقت خاوند نے تعلیق کی تھی اس وقت بھی وہ طلاق کا مالک تھا، اور جس وقت اس کا حکم ثابت ہوگا یعنی عورت اس گھر میں جائے گی تو اس وقت بھی خاوند طلاق کا مالک ہے، اور درمیان میں بقائے یمین کا زمانہ تھا اور بقائے یمین کے اندر طلاق کا مالک ہونا ضروری نہیں ہے۔ اسی طرح یہاں پر بھی بقائے جنایت کے دوران عصمت کا ہونا ضروری نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ اب آئیے آج کے سبق پر: ”وَإِذَا ارْتَدَّ الْمُكَاتَبُ وَلَحِقَ بِدَارِ الْحَرْبِ وَاكْتَسَبَ مَالًا فَأُخِذَ بِمَالِهِ وَأَبَى أَنْ يُسْلِمَ فَقُتِلَ، فَإِنَّهُ يُوَفَّى مَوْلَاهُ مُكَاتَبَتَهُ وَمَا بَقِيَ فَلِوَرَثَتِهِ“ بھئی صورتِ مسئلہ یہ ہے کہ ایک مکاتب غلام ہے، اور العیاذ باللہ وہ مرتد ہو گیا اور بھاگ کر دار الحرب چلا گیا، اور قاضی نے اس کے دار الحرب چلے جانے کا فیصلہ کر دیا یعنی اس مکاتبِ مرتد پر موت کا حکم لگا دیا گیا۔ ادھر اس مکاتب نے دار الحرب میں کام وغیرہ کیا اور کچھ مال کما لیا، پھر بعد میں مسلمانوں نے اس علاقے کو فتح کر لیا، تو وہ مرتد اور اس کا مال مسلمانوں کے ہاتھ آ گئے۔ پھر وہ جو مرتد مکاتب ہے اس پر اسلام کو پیش کیا گیا، اس نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا تو اس کو قتل کر دیا گیا۔ تو اب اس کا جو مال ہے اس کا کیا حکم ہے؟ جی۔ جب کوئی ایسا مرتد جو آزاد آدمی ہوتا تھا، تو اس کا مال تو مالِ فئی شمار ہوتا تھا، تو کیا یہ جو مکاتبِ مرتد ہے، کیا اس کا مال بھی مالِ فئی شمار ہوگا؟ تو صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ نہیں، یہ جو مکاتبِ مرتد ہے، اس کا مال مالِ فئی شمار نہیں ہوگا بلکہ یہ مال اس کا مملوک تھا۔ ارتداد کی وجہ سے اس کی ملکیت اس پر سے ختم نہیں ہوئی، لہٰذا اسی مال کے ذریعے اس کا بدلِ کتابت ادا کیا جائے گا۔ اس مکاتب کو تو قتل کر دیا گیا لیکن اس کا مال جو باقی ہے وہ مالِ فئی نہیں ہے، وہ اسی کا مال تھا، لہٰذا اسی مال کے ذریعے بدلِ کتابت ادا کیا جائے گا اس مکاتب کے آقا کو، اور اگر کچھ مال بچ گیا تو پھر وہ مال اس مکاتب کے وارثوں کی طرف منتقل ہو جائے گا۔ جی۔ صورت سمجھ میں آ گئی کہ مکاتبِ مرتد کا مال وہ مالِ فئی نہیں ہے، وہ اسی کا مملوک تھا، لہٰذا اسی میں سے بدلِ کتابت بھی اس کا ادا کر دیا جائے گا اور جو باقی مال بچے گا وہ بھی مالِ فئی نہیں ہے، وہ اس کے وارثوں کو دے دیا جائے گا۔ دیکھیے بھئی: کہتے ہیں: ”وَإِذَا ارْتَدَّ الْمُكَاتَبُ“ اور جب کوئی مکاتب مرتد ہو گیا ”وَلَحِقَ بِدَارِ الْحَرْبِ“ اور وہ دار الحرب سے جا ملا، یعنی قاضی نے اس کے دار الحرب جانے کا فیصلہ کر دیا ”وَاكْتَسَبَ مَالًا“ اور اس نے وہاں پر کچھ مال کما لیا ”فَأُخِذَ بِمَالِهِ“ تو اس کو اس کے مال کے ساتھ پکڑ لیا گیا ”وَأَبَى أَنْ يُسْلِمَ“ اور اس نے انکار کر دیا مسلمان ہونے سے ”فَقُتِلَ“ تو اس کو قتل کر دیا گیا ”فَإِنَّهُ يُوَفَّى مَوْلَاهُ مُكَاتَبَتَهُ“ تو ادا کیا جائے گا اس مکاتب کے آقا کو اس کی مکاتبت۔ جی۔ اس مکاتب کے آقا کو اس کی مکاتبت یعنی بدلِ کتابت اس کو ادا کر دیا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”فَإِنَّهُ يُوَفَّى مَوْلَاهُ مُكَاتَبَتَهُ“ تو وہ مکاتب کا جو آقا ہے اس کو وہ بدلِ کتابت ادا کر دیا جائے گا ”وَمَا بَقِيَ فَلِوَرَثَتِهِ“ اور وہ مال جو باقی بچ جائے گا تو وہ مکاتب کے وارثوں کے لیے ہے۔ ”وَهَذَا ظَاهِرٌ عَلَى أَصْلِهِمَا“ صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں کہ یہ مسئلہ جو ہے صاحبین کے ضابطے کے مطابق تو صحیح ہے، صاحبین پر تو کوئی اعتراض نہیں ہوتا، کیونکہ صاحبین کا مذہب یہ ہے کہ کوئی شخص مرتد ہو جائے تو اس کی اپنے مال پر سے ملکیت ختم نہیں ہوتی۔ یہاں پر یہ مکاتب بھی مرتد ہوا ہے تو بھی اس کی ملکیت اپنے مال پر سے ختم نہیں ہوئی، لہٰذا اسی سے بدلِ کتابت بھی ادا کریں گے اور باقی کا مال اس کے وارثوں کو دے دیں گے۔ تو صاحبین کے مذہب پر تو کوئی اشکال نہیں ہوتا، لیکن امام صاحب کے مذہب پر اشکال ہوتا ہے۔ امام صاحب کے نزدیک تو جب کوئی شخص مرتد ہو جائے اور قاضی اس کے دار الحرب جانے کا فیصلہ کر دے تو اس کا مال تو وارثوں کی طرف منتقل ہو جاتا ہے، اس کی ملکیت اپنے مال پر سے ختم ہو جاتی ہے۔ جی۔ توجہ ہے؟ تو امام صاحب پر اشکال ہوتا ہے، تو اس کا جواب آگے صاحبِ ہدایہ دیں گے۔ دیکھیے بھئی: کہتے ہیں: ”وَهَذَا ظَاهِرٌ عَلَى أَصْلِهِمَا“ اور یہ بات ظاہر ہے صاحبین کی اصل پر یعنی ان کے ضابطے پر ”لِأَنَّ كَسْبَ الرِّدَّةِ مِلْكُهُ“ اس لیے کیونکہ ارتداد کی کمائی جو ہے اسی مرتد کی ملکیت ہوتی ہے ”إِذَا كَانَ حُرًّا“ جب وہ آزاد ہو۔ جی۔ جب وہ آزاد ہو۔ صاحبین کے نزدیک ارتداد کی کمائی بھی اسی مرتد کی ہوتی ہے جب وہ آزاد ہو، تو اسی طرح مکاتب بھی ہوگا، جی، مکاتب بھی ارتداد کی وجہ سے اس کی ملکیت ختم نہیں ہوگی، وہ اپنے مال کا مالک ہوگا، یہ صاحبین کے مذہب پر ہے۔ پھر دیکھ لیجیے: کہتے ہیں: ”وَهَذَا ظَاهِرٌ عَلَى أَصْلِهِمَا“ اور یہ بات صاحبین کے ضابطے پر تو ظاہر ہے ”لِأَنَّ كَسْبَ الرِّدَّةِ مِلْكُهُ“ اس لیے کیونکہ ارتداد کی کمائی مرتد کی ملکیت ہوتی ہے ”إِذَا كَانَ حُرًّا“ جب وہ آزاد ہو ”فَكَذَا إِذَا كَانَ مُكَاتَبًا“ تو اسی طرح حکم ہوگا جب وہ مرتد مکاتب ہو، یعنی اس کی بھی ملکیت باقی رہے گی۔ ”وَأَمَّا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ بھئی اب امام صاحب کا مذہب آ گیا اور امام صاحب نے آزاد آدمی میں اور مکاتب میں فرق کیا ہے کہ آزاد آدمی کی ملکیت ارتداد کی صورت میں اس کے مال سے ختم ہو جاتی ہے، لیکن مکاتب کی ملکیت ارتداد کی صورت میں اپنے مال سے ختم نہیں ہوتی۔ معلوم ہوا امام صاحب نے آزاد آدمی کے ارتداد اور مکاتب کے ارتداد میں فرق کیا ہے، اس کی وجہ کیا ہے اب وہ بیان فرمائیں گے۔ تو وہ آپ کو بتلائیں گے کہ یہ جو مکاتب اپنی کمائیوں کا مالک بنا ہے، یہ عقدِ کتابت کی وجہ سے مالک بنا ہے۔ جی۔ یہ مکاتب، یہ تو غلام ہے بھئی، اور غلام تو کسی چیز کا مالک نہیں ہوتا، تو یہ مکاتب جو اپنی کمائیوں کا مالک بنا ہے وہ عقدِ کتابت کی وجہ سے بنا ہے، اور ارتداد کی وجہ سے یاد رکھو عقدِ کتابت ختم نہیں ہوتا۔ تو جب عقدِ کتابت ارتداد کی وجہ سے ختم نہیں ہوا تو کتابت کی وجہ سے جو ملکیت تھی وہ بھی ختم نہیں ہوگی بھئی۔ توجہ ہے؟ امام صاحب فرماتے ہیں یہ مکاتب اپنے مال کا جو مالک بنا ہے یہ عقدِ کتابت کی وجہ سے مالک بنا ہے، کیونکہ یہ تو غلام تھا اور غلام تو کسی چیز کا مالک نہیں ہوتا، لیکن عقدِ کتابت کی وجہ سے یہ مال کا مالک بن گیا ہے، اور یاد رکھو ارتداد کی وجہ سے بالاتفاق عقدِ کتابت فسخ نہیں ہوتا بھئی، تو جب عقدِ کتابت ارتداد کی وجہ سے ختم نہیں ہوا تو اسی کتابت پر بنیاد تھی ملکیت کی بھی، وہ بھی ختم نہیں ہوگی ارتداد کی وجہ سے۔ تو کہتے ہیں: ”وَأَمَّا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور باقی امام صاحب کے نزدیک ”فَلِأَنَّ الْمُكَاتَبَ إِنَّمَا يَمْلِكُ أَكْسَابَهُ بِالْكِتَابَةِ“ کہ اس لیے کیونکہ مکاتب جو ہے وہ اپنی کمائیوں کا مالک ہوتا ہے بالکتابۃ عقدِ کتابت کی وجہ سے ”وَالْكِتَابَةُ لَا تَتَوَقَّفُ بِالرِّدَّةِ“ اور عقدِ کتابت جو ہے وہ ارتداد کی وجہ سے موقوف نہیں ہوتا ”فَكَذَا أَكْسَابُهُ“ تو اسی طرح اس کی کمائیاں بھی ارتداد کی وجہ سے موقوف نہیں ہوں گی، اس کی ملکیت ان پر سے ختم نہیں ہوگی۔ ”أَلَا تَرَى أَنَّهُ لَا يَتَوَقَّفُ تَصَرُّفُهُ بِالْأَقْوَى وَهُوَ الرِّقُّ فَكَذَا بِالْأَدْنَى بِطَرِيقِ الْأَوْلَى“ ”أَلَا تَرَى“ صاحبِ ہدایہ امام صاحب کے منصب کی وضاحت فرما رہے ہیں کہ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ غلام ہونے کے باوجود مکاتب کے تصرفات موقوف نہیں ہوتے تو ارتداد کی وجہ سے بھی اس کے تصرفات بالاتفاق موقوف نہیں ہوں گے۔ جی۔ بھئی دیکھیے، ایک ہے غلامی اور ایک ہے ارتداد۔ جی۔ غلام کو تصرفات کا حق ہی نہیں ہوتا، اور ارتداد کے اندر آپ پڑھ چکے ہیں بالاتفاق بعض تصرفات اس مرتد کے نافذ ہوتے ہیں، بعض موقوف ہوتے ہیں، اور بعضوں کے اندر صاحبین اور امام صاحب کا اختلاف ہے۔ تو غلام کو تو کسی تصرف کا حق نہیں ہوتا، لیکن مرتد کو تو بعض تصرفات کا حق ہوتا ہے۔ معلوم ہوا غلامی، غلامی تصرفات کے ختم کرنے میں یہ ارتداد سے بھی زیادہ قوی ہے۔ غلامی سے بھی تصرفات ختم ہوتے ہیں، ارتداد سے بھی تصرفات ختم ہوتے ہیں، لیکن مرتد کے کچھ تصرفات تو بالاتفاق جو ہیں وہ جائز ہیں اور صحیح ہیں۔ معلوم ہوا غلامی جو ہے وہ زیادہ قوی ہے تصرفات کے ختم کرنے میں بمقابلہ ارتداد کے۔ جی۔ توجہ ہے؟ غلامی کی وجہ سے بھی تصرفات ختم ہوتے ہیں، ارتداد کی وجہ سے بھی تصرفات ختم ہوتے ہیں، لیکن تصرفات کے ختم کرنے میں غلامی زیادہ قوی ہے، کیونکہ غلام کو تو کسی تصرف کا حق نہیں ہوتا، جبکہ مرتد کو تو بالاتفاق بعض تصرفات کا حق ہوتا ہے اور بعض کے اندر اختلاف ہے اور بعض موقوف رہتے ہیں۔ معلوم ہوا تصرفات کے ختم کرنے میں غلامی زیادہ قوی ہے ارتداد کے مقابلے میں۔ جی۔ اور یہ جو مکاتب جو مرتد ہوا ہے یہ مکاتب ہے، معلوم ہوا یہ غلام ہے، تو جب غلامی کی وجہ سے اس مکاتب کے تصرفات ختم نہیں ہوئے، یہ بیع و شراء وغیرہ کر سکتا ہے، چیزوں کا مالک بن سکتا ہے، تو جب غلامی کی وجہ سے اس کے تصرفات ختم نہیں ہوئے تو ارتداد تو اس سے کم درجے کا ہے، تو اس سے بطریقِ اولیٰ اس کے تصرفات ختم نہیں ہوں گے۔ دلیل سمجھ میں آ گئی۔ کہتے ہیں: ”أَلَا تَرَى“ کیا آپ دیکھتے نہیں ”أَنَّهُ لَا يَتَوَقَّفُ تَصَرُّفُهُ“ کہ اس مکاتب کا تصرف موقوف نہیں ہوتا، یعنی اس کے بیع و شراء موقوف نہیں ہوتے ”بِالْأَقْوَى“ اس چیز کی وجہ سے جو زیادہ قوی ہے، جی، جو چیز تصرفات کو ختم کرنے میں زیادہ قوی ہے، اس کی وجہ سے اس مکاتب کے تصرفات موقوف نہیں ہوئے۔ توجہ ہے؟ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے: ”أَلَا تَرَى أَنَّهُ لَا يَتَوَقَّفُ تَصَرُّفُهُ بِالْأَقْوَى“ کہ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ اس مکاتب کا تصرف موقوف نہیں ہوا اس چیز کی وجہ سے جو زیادہ قوی ہے ”وَهُوَ الرِّقُّ“ اور وہ غلامی ہے، کہ وہ تصرفات کے ختم کرنے میں زیادہ قوی ہے، اس کی وجہ سے اس کے تصرفات موقوف نہیں ہوئے ”فَكَذَا بِالْأَدْنَى“ تو اسی طرح جو ہے وہ ادنیٰ چیز کے ذریعے بھی ہوگا یعنی ارتداد کے ذریعے بھی ہوگا ”بِطَرِيقِ الْأَوْلَى“ بطریقِ اولیٰ بھئی۔ جب غلامی کے ذریعے اس کے تصرفات موقوف نہیں ہوئے تو ارتداد کی وجہ سے بطریقِ اولیٰ اس کے تصرفات موقوف نہیں ہوں گے، کیونکہ ارتداد تو غلامی سے کم ہے تصرفات کے ختم کرنے میں۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ جی۔ آگے دیکھیے: ”وَإِذَا ارْتَدَّ الرَّجُلُ وَامْرَأَتُهُ وَالْعِيَاذُ بِاللَّهِ وَلَحِقَا بِدَارِ الْحَرْبِ فَحَبِلَتِ الْمَرْأَةُ فِي دَارِ الْحَرْبِ وَوَلَدَتْ وَلَدًا وَوُلِدَ لِوَلَدِهِمَا وَلَدٌ فَظُهِرَ عَلَيْهِمْ جَمِيعًا فَالْوَلَدَانِ فَيْءٌ“ صورتِ مسئلہ یہ بھئی کہ ایک آدمی اور اس کی بیوی العیاذ باللہ دونوں مرتد ہو گئے اور بھاگ کر دار الحرب چلے گئے، اور وہاں ان کی اولاد ہوئی اور پھر آگے اولاد کی اولاد ہو گئی، اور اس کے بعد مسلمانوں نے دار الحرب کو فتح کر لیا، اور یہ سارے بھی مسلمانوں کے ہاتھ آ گئے۔ تو مرتد اور مرتَدّہ کا حکم تو آپ پیچھے تفصیل سے پڑھ چکے ہیں بھئی، کہ مرتد مرد اور عورت کا کیا حکم ہے؟ مرد کو قتل کر دیا جاتا ہے اور عورت جو ہے اس کو قتل نہیں کیا جاتا، البتہ اس کو اسلام پر مجبور کیا جاتا ہے۔ تو ان کی اولاد کا کیا حکم ہے؟ اور آگے ان کی اولاد کی اولاد کا کیا حکم ہے؟ تو آپ کو بتلائیں گے کہ مرتد کی چاہے اولاد ہے یا اولاد کی اولاد ہے، وہ سب مالِ فئی ہیں۔ جی۔ وہ سب مالِ غنیمت ہیں بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ اور پھر جیسے مرتد اور مرتَدّہ کو اسلام پر مجبور کیا جائے گا، تو کیا ان کی اولاد اور اولاد کی اولاد کو بھی اسلام لانے پر مجبور کیا جائے گا یا نہیں؟ تو آپ کو بتلائیں گے کہ مرتد کی جو اولاد ہے ان کو بھی اسلام لانے پر مجبور کیا جائے گا۔ ان کو بھی اسلام لانے پر مجبور کیا جائے گا۔ وہ بھی مرتد کے تابع ہو کر مرتد ہی شمار ہوں گے، لیکن البتہ فرق اتنا ہے کہ مرتد اگر اسلام نہیں لاتا تو اس کو قتل کر دیا جاتا ہے، لیکن مرتد کی اولاد جس کو والدین کے تابع کر کے مرتد شمار کیا گیا ہے اس کو اسلام پر مجبور تو کیا جائے گا، اس پر سختی تو کی جائے گی، لیکن اسے قتل نہیں کیا جائے گا۔ تو یہ تو تھی اولاد، کہ جس طرح مرتد اور مرتَدّہ کو اسلام پر مجبور کریں گے اسی طرح ان کی اولاد کو بھی اسلام پر مجبور کیا جائے گا۔ لیکن ان کی اولاد کی اولاد، کیا ان کو بھی اسلام پر مجبور کیا جائے گا یا نہیں؟ تو یاد رکھیے ظاہرِ روایت کے مطابق ان کی اولاد کی اولاد جو ہے وہ کافرِ اصلی کے درجے میں ہیں، لہٰذا ان کو اسلام پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔ البتہ امام صاحب سے ان کے شاگرد حسن ابن زیاد رحمہ اللہ وہ روایت کرتے ہیں کہ مرتد کی جو اولاد کی اولاد ہے ان کو بھی اسلام پر مجبور کیا جائے گا۔ جی۔ دیکھیے بھئی: کہتے ہیں: ”وَإِذَا ارْتَدَّ الرَّجُلُ وَامْرَأَتُهُ“ اور جب مرتد ہو جائے کوئی آدمی بھی اور اس کی بیوی بھی ”وَالْعِيَاذُ بِاللَّهِ“ اور ہم اللہ سے اس کی پناہ مانگتے ہیں ”وَلَحِقَا بِدَارِ الْحَرْبِ“ اور یہ دونوں دار الحرب سے جا ملے ”فَحَبِلَتِ الْمَرْأَةُ فِي دَارِ الْحَرْبِ“ تو اس مرتد کی بیوی حاملہ ہو گئی دار الحرب میں۔ اس مرتد کی بیوی حاملہ ہو گئی دار الحرب میں۔ یاد رکھنا یہ قیدِ اتفاقی ہے۔ دار الحرب میں حاملہ ہونا ضروری نہیں، چاہے یہیں پر حاملہ ہو، دونوں کا حکم ایک ہی ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”فَحَبِلَتِ الْمَرْأَةُ فِي دَارِ الْحَرْبِ“ تو اس کی بیوی حاملہ ہو گئی دار الحرب میں ”وَوَلَدَتْ وَلَدًا“ اور اس نے جنم دیا اولاد کو ”وَوُلِدَ لِوَلَدِهِمَا وَلَدٌ“ اور ان کی اولاد کے لیے بھی اولاد کو جنم دیا گیا، میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ ولد کا اطلاق مذکر اور مؤنث دونوں پر ہوتا ہے اور یہ واحد، تثنیہ، جمع سب کے لیے یہ لفظ بولا جاتا ہے اور اردو میں اس کا بہترین ترجمہ جو ہے وہ اولاد کے ہے۔ جی۔ تو دیکھیے: ”وَوَلَدَتْ وَلَدًا“ اور اس کی بیوی نے اولاد کو جنم دیا ”وَوُلِدَ لِوَلَدِهِمَا وَلَدٌ“ اور ان کی اولاد کے لیے اولاد کو جنم دیا گیا ”فَظُهِرَ عَلَيْهِمْ جَمِيعًا“ تو ان سب پر غلبہ پا لیا گیا ”فَالْوَلَدَانِ فَيْءٌ“ تو دونوں اولادیں فئی ہیں۔ ولدان تثنیہ ہے، تو دونوں اولادیں فئی ہیں یعنی مرتد کی اولاد بھی مالِ فئی اور اولاد کی جو اولاد ہے وہ بھی مالِ فئی ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”فَالْوَلَدَانِ فَيْءٌ“ تو دونوں، مرتد کی دونوں اولادیں جو ہیں وہ فئی ہیں ”لِأَنَّ الْمُرْتَدَّةَ تُسْتَرَقُّ“ بھئی کیا وجہ ہے؟ یہ مالِ فئی کیوں ہیں؟ جیسے مرتد کو قتل کیا جاتا ہے اس کی اولاد کو بھی قتل کرنا چاہیے، کہتے ہیں بھئی کہ ضابطہ آپ جانتے ہیں کہ اولاد آزادی اور غلامی میں ماں کے تابع ہوتی ہے، ماں آزاد ہو تو بچہ بھی آزاد شمار ہوتا ہے، اور ماں باندی ہو تو بچہ بھی غلام یا باندی شمار ہوگا۔ تو یہاں، یہاں مرتَدّہ جو ہے اس کو غلام بنانا جائز ہے، مرتَدّہ کو تو قتل نہیں کیا جاتا، تو مرتَدّہ کو جب غلام بنانا جائز ہے تو اس کی اولاد بھی اس کے تابع ہے لہٰذا ان کو بھی غلام بنانا جائز ہے بھئی۔ کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْمُرْتَدَّةَ تُسْتَرَقُّ“ اس لیے کیونکہ مرتَدّہ جو ہے اس کو غلام بنایا جا سکتا ہے ”فَيَتْبَعُهَا وَلَدُهَا“ تو اس کی اولاد بھی اس کے تابع ہوگی ”وَيُجْبَرُ الْوَلَدُ الْأَوَّلُ عَلَى الْإِسْلَامِ“ اور پہلی اولاد جو ہے اس کو مجبور کیا جائے گا اسلام پر، جی، جیسے مرتد اور مرتَدّہ کو اسلام پر مجبور کیا جائے گا اسی طرح ان کی جو پہلی اولاد ہے اس کو بھی مجبور کیا جائے گا، البتہ جو اولاد کی اولاد ہے ان کو مجبور نہیں کیا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَيُجْبَرُ الْوَلَدُ الْأَوَّلُ عَلَى الْإِسْلَامِ“ اور ان کی پہلی اولاد جو ہے اس کو اسلام پر مجبور کیا جائے گا ”وَلَا يُجْبَرُ وَلَدُ الْوَلَدِ“ اور اولاد کی اولاد کو مجبور نہیں کیا جائے گا، یعنی وہ کافرِ اصلی کے حکم میں ہیں یعنی وہ کافر جو شروع سے ہی کافر ہے اس کو زبردستی اسلام پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ جی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا يُجْبَرُ وَلَدُ الْوَلَدِ“ اور ان کی اولاد کی اولاد کو مجبور نہیں کیا جا سکتا ”وَرَوَى الْحَسَنُ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى“ اور حسن ابن زیاد رحمہ اللہ امام صاحب سے روایت کرتے ہیں ”أَنَّهُ يُجْبَرُ تَبَعًا لِلْجَدِّ“ کہ اولاد کی اولاد کو بھی مجبور کیا جائے گا دادا کے تابع کرتے ہوئے۔ جی۔ جیسے وہ جو مرتد تھا وہ جو اب دادا ہے، جیسے دادا کو اسلام پر مجبور کیا جائے گا اسی طرح اس کی اولاد کی اولاد یعنی جو اس کے پوتے پوتیاں ہیں ان کو بھی اسلام پر مجبور کیا جائے گا۔ جی۔ تو کہتے ہیں: حسن ابن زیاد رحمہ اللہ امام صاحب سے روایت فرماتے ہیں: ”أَنَّهُ يُجْبَرُ تَبَعًا لِلْجَدِّ“ کہ اولاد کی اولاد جو ہے ان کو بھی دادا کے تابع کرتے ہوئے اسلام پر مجبور کیا جائے گا ”وَأَصْلُهُ التَّبَعِيَّةُ فِي الْإِسْلَامِ“ اور اصل اس اختلاف کی جو ہے وہ اسلام کے اندر تابع ہونا ہے۔ جی۔ اصل اس اختلاف کی اسلام کے اندر تابع ہونا ہے۔ بھئی دیکھیے، ظاہرِ روایت میں آیا کہ اولاد کی اولاد کو مجبور نہیں کر سکتے، لیکن حسن ابن زیاد رحمہ اللہ امام صاحب سے نقل فرماتے ہیں کہ اولاد کی اولاد کو مجبور کر سکتے ہیں۔ جی۔ معلوم ہوا امام صاحب سے دو روایتیں ہیں، ایک وہ جو ظاہرِ روایت ہے اور اس کے مطابق اولاد کی اولاد وہ دادا کے تابع نہیں ہے لہٰذا ان کو مجبور نہیں کر سکتے، ہاں ان کا باپ مرتد ہوتا تو پھر مجبور کیا جا سکتا تھا جیسے ان کی پہلی اولاد باپ کے تابع ہے ان کو مجبور کیا جائے گا، لیکن اولاد کی اولاد جو ہے وہ تو دادا کے تابع نہیں ہے بھئی۔ تو دیکھو اس مسئلے کے اندر اختلاف آیا، ایک ہے ظاہرِ روایت اور ایک روایت وہ ہے جو حسن ابن زیاد رحمہ اللہ امام صاحب سے نقل کرتے ہیں۔ جی۔ ظاہرِ روایت کے مطابق جو پوتے پوتیاں ہیں وہ دادا کے تابع نہیں ان کو مجبور نہیں کیا جا سکتا، اور حسن ابن زیاد رحمہ اللہ کے مطابق پوتے پوتیاں دادا کے تابع ہیں ان کو بھی مجبور کیا جائے گا۔ کہتے ہیں اصل میں اس اختلاف کی بنیاد جو ہے وہ اسلام کے اندر تابع ہونے کے اندر ہے۔ جی۔ اسلام کے اندر تابع ہونے میں ہے، آپ پڑھ چکے ہیں کہ باپ مسلمان ہو جائے تو اولاد بھی اس کے تابع ہو کر مسلمان شمار ہوتی ہے، جی، لیکن اگر دادا مسلمان ہو جائے تو کیا پوتے جو ہیں وہ دادا کے تابع ہو کر ان کو بھی مسلمان شمار کیا جائے گا یا نہیں؟ تو ظاہرِ روایت کے مطابق پوتے جو ہیں وہ دادا کے تابع نہیں ہوں گے لہٰذا ان کو دادا کے تابع کرتے ہوئے مسلمان شمار نہیں کیا جائے گا، جبکہ حسن ابن زیاد رحمہ اللہ کی روایت کے مطابق پوتے جو ہیں ان کو بھی دادا کے تابع قرار دیتے ہوئے ان کو بھی مسلمان شمار کیا جائے گا۔ جی۔ توجہ ہے؟ تو اصل اختلاف کس میں ہے؟ اسلام کے اندر، کہ دادا کے اسلام میں پوتے پوتیاں اس کے تابع ہوں گے یا تابع نہیں ہوں گے؟ ظاہرِ روایت کے مطابق پوتے پوتیاں دادا کے تابع نہیں ہوں گے اسلام کے اندر، اور حسن ابن زیاد رحمہ اللہ کی روایت کے مطابق پوتے پوتیاں دادا کے اسلام کے اندر اس کے تابع ہوں گے۔ جی۔ تو کہتے ہیں: ”وَأَصْلُهُ التَّبَعِيَّةُ فِي الْإِسْلَامِ“ اور اصل اس اختلاف کی جو ہے وہ اسلام کے اندر تابع ہونا ہے ”وَهِيَ رَابِعَةُ أَرْبَعَةِ مَسَائِلَ كُلُّهَا عَلَى الرِّوَايَتَيْنِ“ اور کہتے ہیں یہ ان چار مسئلوں میں سے ایک مسئلہ ہے کہ جن میں سے ہر ایک کے اندر دو روایتیں ہیں امام صاحب سے، ایک ظاہرِ روایت ہے ایک حسن ابن زیاد رحمہ اللہ کی روایت ہے، جیسے دادا مسلمان ہو جائے تو پوتے پوتیاں بھی دادا کے تابع ہو کر مسلمان شمار ہوں گے یا نہیں، یہ ایک مسئلہ ہے، پہلا مسئلہ کہ پوتے پوتیاں اسلام کے اندر دادا کے تابع ہوں گے یا تابع نہیں ہوں گے، یہ ایک مسئلہ ہے، اور آگے دیکھیے وہ بیان کریں گے ایک صدقۂ فطر کا مسئلہ ہے، ایک جر الولاء کا مسئلہ ہے، اور ایک وصیت للقرابت کا مسئلہ ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَهِيَ رَابِعَةُ أَرْبَعَةِ مَسَائِلَ كُلُّهَا عَلَى الرِّوَايَتَيْنِ“ کہتے ہیں یہ بھی ان چار مسئلوں میں سے ایک مسئلہ ہے کہ ان میں سے ہر مسئلے کے اندر دو دو روایتیں ہیں، ایک ظاہرِ روایت ہے امام صاحب سے اور ایک حسن ابن زیاد رحمہ اللہ کی روایت ہے امام صاحب سے۔ تو یہ ان چار مسئلوں میں سے ایک مسئلہ ہے جس کے اندر دو دو روایتیں ہیں۔ جی۔ کون سا مسئلہ؟ کہ پوتے پوتیاں اسلام کے اندر اپنے دادا کے تابع شمار ہوں گے یا شمار نہیں ہوں گے؟ ظاہرِ روایت کے مطابق وہ دادا کے تابع ہو کر مسلمان شمار نہیں ہوں گے، اور حسن ابن زیاد رحمہ اللہ کی روایت کے مطابق دادا جو ہے وہ بھی باپ کے درجے میں ہی ہے ان مسئلوں کے اندر، لہٰذا جیسے اولاد جو ہے... باپ کے تابع ہو کر مسلمان شمار ہوتی ہے، اسی طرح دادا کے تابع ہو کر بھی مسلمان شمار ہوں گے۔ دیکھیے بھئی! ﴿وَهِيَ رَابِعَةُ أَرْبَعَةِ مَسَائِلَ﴾ اور یہ ان چار میں سے ایک مسئلہ ہے کہ ﴿كُلُّهَا عَلَى الرِّوَايَتَيْنِ﴾ کہ وہ سب دو روایتوں پر ہیں۔ بھئی دیکھیے، عبارت پہ نظر رکھیے بھئی۔ عبارت آئی: ﴿وَهِيَ رَابِعَةُ أَرْبَعَةٍ﴾، بظاہر ترجمہ بنتا ہے: چار میں سے چوتھا۔ لیکن یاد رکھو، یہ عربی میں اسی طرح استعمال ہوتا ہے اور اس کا معنی ہوتا ہے: چار میں سے ایک۔ رابعة أربعة کا کیا معنی؟ چار میں سے ایک، یعنی چار افراد ہیں تو ان میں سے ہر ایک رابع أربعة ہے۔ ان میں سے ہر ایک رابع أربعة ہے۔ اسی طرح عربی میں کہتے ہیں: ثالث ثلاثة، تو اس کا یہ معنی نہیں کہ تین میں سے تیسرا، بلکہ معنی ہوتا ہے: تین میں سے ایک۔ تو تین میں سے ہر فرد جو ہے وہ ثالث ثلاثة ہے، تین میں سے ایک ہے۔ اسی طرح خامس خمسة، اس کا کیا معنی ہے؟ پانچ میں سے ایک بھئی۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَهِيَ رَابِعَةُ أَرْبَعَةِ مَسَائِلَ﴾ اور یہ ان چار مسائل میں سے ایک مسئلہ ہے کہ ﴿كُلُّهَا عَلَى الرِّوَايَتَيْنِ﴾ کہ وہ سب کے سب دو روایتوں پر ہیں، یعنی ایک ظاہر روایت ہے اور ایک حسن بن زیاد رحمہ اللہ کی روایت ہے۔ ایک مسئلہ گزر گیا اسلام کے اندر، پوتے پوتیاں دادا کے تابع ہوں گے یا نہیں ہوں گے۔ ﴿وَالثَّانِيَةُ صَدَقَةُ الْفِطْرِ﴾ اور دوسرا مسئلہ جو ہے وہ صدقہ فطر کا مسئلہ ہے۔ یاد رکھو، آپ جانتے ہیں کہ باپ مالدار ہو تو اس پر صدقہ فطر واجب ہو گا، اپنا بھی اور اپنی نابالغ اولاد کا بھی۔ لیکن اگر دادا مالدار ہے اور باپ فقیر ہے یا باپ غلام ہے، تو کیا دادا پر پوتے پوتیوں کا صدقہ فطر واجب ہو گا یا نہیں؟ تو ظاہر روایت کے مطابق یہاں دادا باپ کے درجے میں نہیں ہے، لہٰذا دادا پر ان کا صدقہ فطر واجب نہیں ہو گا۔ جبکہ حسن بن زیاد رحمہ اللہ کی روایت کے مطابق اس صدقہ فطر کے مسئلے میں بھی دادا جو ہے وہ باپ کے درجے میں ہے، اور جس طرح باپ پر صدقہ فطر واجب ہوتا ہے تو دادا پر بھی ان پوتے پوتیوں کا صدقہ فطر واجب ہو گا بھئی۔ یہ معنی ہے ﴿وَالثَّانِيَةُ صَدَقَةُ الْفِطْرِ﴾ اور دوسرا مسئلہ صدقہ فطر والا ہے۔ ﴿وَالثَّالِثَةُ جَرُّ الْوَلَاءِ﴾ اور تیسرا مسئلہ جو ہے وہ جر ولاء والا ہے۔ بھئی، ولاء میں آپ کو بتلا چکا کہ ولاء وہ مال میراث ہے جو معتق کو ملتا ہے، اور معتق کا درجہ وارثوں میں تیسرا ہے۔ پہلا درجہ ذوی الفروض کا، پھر عصبہ نسبی کا اور اس کے بعد یہ عصبہ سببی آیا یعنی معتق بھئی۔ عصبہ سببی کس کو کہتے ہیں؟ معتق کو، اور عصبہ نسبی وہ مرد کہ جن کا نسب کے اعتبار سے میت سے رشتہ ہو اور درمیان میں کسی عورت کا واسطہ نہ آتا ہو۔ تو جر کا معنی ہے کھینچنا۔ جر ولاء یعنی ولاء کو کھینچ لینا۔ جر ولاء اسے کہتے ہیں، صورت یہ ہے کہ ایک غلام ہے اور اس نے ایک باندی سے نکاح کر لیا، اور آپ جانتے ہیں کہ اس باندی سے جو اولاد ہو گی وہ بھی غلام اور باندیاں شمار ہوں گے کیونکہ اولاد آزادی اور غلامی میں ماں کے تابع ہوتی ہے۔ تو اس باندی سے جو بھی اولاد ہو گی وہ غلام اور باندیاں شمار ہوں گے۔ لیکن اس باندی کو اس کے آقا نے آزاد کر دیا، اور پھر اس سے آگے جو اولاد ہوئی وہ بھی اب ظاہر سی بات ہے جب ماں آزاد ہے تو اولاد بھی آزاد۔ توجہ ہے؟ تو لہٰذا یاد رکھنا جیسے اس باندی کی ولاء کا مستحق اس باندی کو آزاد کرنے والا ہے، اسی طرح باندی کے جو بچے ہیں ان کی ولاء کا مستحق بھی وہی معتق ہے جس نے ان کی ماں کو آزاد کیا تھا۔ تو باندی کی ولاء کا مستحق بھی اس باندی کا معتق ہے، اور باندی کے بچے جو آزاد ہیں ان کی ولاء کا مستحق بھی یہ معتق ہے۔ توجہ ہے؟ پھر سنو، کیا صورت ہوئی؟ ایک غلام نے ایک باندی سے نکاح کیا اور پھر باندی کو اس کے آقا نے آزاد کر دیا۔ تو اس باندی سے جو اولاد ہو گی اب وہ بھی آزاد شمار ہو گی، اور یہ باندی چونکہ اس کے آقا نے آزاد کیا ہے لہٰذا اس باندی کی ولاء اس کے آقا کو ملے گی، اور اسی طرح اس باندی کی جو اولاد ہے ان کی ولاء کا مستحق بھی اس باندی کا آقا ہو گا۔ اور یہ بھی یاد رکھنا کہ چاہے نکاح کے بعد اس باندی کو آقا آزاد کرے یا پہلے ہی اس نے آزاد کر دیا تھا، ایک باندی تھی آقا نے اس کو آزاد کر دیا تھا اور یہ باندی جسے آزاد کر دیا گیا ہے اس نے پھر ایک غلام سے نکاح کر لیا۔ توجہ ہے؟ تو بہرحال حاصل کلام یہ ہے کہ یہ ماں جو ہے وہ آزاد شدہ ہے، چاہے نکاح سے پہلے آزاد کیا گیا ہے اس کو چاہے نکاح کے بعد آزاد کیا گیا ہے، اور باپ جو ہے وہ غلام ہے تو اولاد ماں کے تابع ہو کر وہ بھی آزاد شمار ہو گی، اور ماں کی ولاء کا مستحق تو اس ماں کو آزاد کرنے والا ہے تو اولاد کی ولاء کا مستحق بھی وہ ماں کو آزاد کرنے والا ہی ہو گا۔ توجہ ہے؟ اور پھر اس کے بعد صورت یہ پیش آئی کہ اس غلام، یہ جو بچوں کا باپ ہے اس کو بھی اس کے آقا نے آزاد کر دیا۔ تو یاد رکھو، یہ جو باپ ہے یہ اپنے بچوں کی ولاء کھینچ کر اپنے آقا کی طرف منتقل کر دے گا۔ پہلے ان بچوں کی ولاء کا مستحق کون تھا؟ باندی یعنی ماں کو آزاد کرنے والا، لیکن جب باپ کو بھی آقا نے آزاد کر دیا تو اس باپ کی ولاء جیسے اس کے آقا کو ملے گی، تو اس باپ کے جو بچے ہیں ان کی ولاء بھی اب کس کو ملے گی؟ باپ کے آقا کو، باپ کے معتق کو۔ تو اس کو کہتے ہیں جر ولاء یعنی ولاء کو کھینچ لینا۔ یہ بچوں کی ولاء کا مستحق تو ماں کا آقا تھا، لیکن باپ نے بچوں کی ولاء کھینچ کر اپنے آقا کی طرف منتقل کر دی۔ ان کے بچوں کی ولاء کا مستحق کون تھا؟ ماں کا آقا، لیکن باپ جب آزاد ہوا تو یہ بچوں کی ولاء کو کھینچ کر اپنے آقا کی طرف کر دے گا۔ اب بچوں کی ولاء باپ کے معتق کو ملے گی۔ اس کو کہتے ہیں جر ولاء۔ توجہ ہے؟ تو کیا اگر باپ کو تو آزاد نہیں کیا کسی نے، ان بچوں کے دادا کو آقا نے آزاد کر دیا تو کیا دادا کا بھی وہی حکم ہے؟ کیا وہ بھی ان بچوں کی ولاء کو ماں کے آقا سے کھینچ کر اپنے آقا کی طرف منتقل کرے گا یا نہیں کرے گا؟ دادا بچوں کی ولاء ماں کے معتق سے کھینچ کر اپنے معتق کی طرف منتقل کرے گا یا نہیں؟ تو ظاہر روایت کے مطابق یہاں دادا کا حکم باپ والا نہیں ہے، لہٰذا یہاں دادا جر ولاء نہیں کر سکتا، جبکہ حسن بن زیاد رحمہ اللہ کی روایت کے مطابق یہاں پر بھی یہ جو دادا ہے یہ باپ کے درجے میں ہے، تو یہ بھی جر ولاء کرے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے ﴿وَالثَّالِثَةُ جَرُّ الْوَلَاءِ﴾ اور تیسرا مسئلہ جو ہے وہ جر ولاء کا ہے۔ ﴿وَالأُخْرَى الْوَصِيَّةُ لِلْقَرَابَةِ﴾ اور آخری مسئلہ جو ہے وہ رشتہ داروں کے لیے وصیت ہے۔ ایک شخص نے اپنے رشتہ داروں کے لیے وصیت کی۔ آپ پڑھ چکے ہیں کہ وارث کے لیے وصیت جائز نہیں۔ وارث کے لیے وصیت جائز نہیں، لیکن صورت بنا لیں مثلاً اس کے جو والدین ہیں ایک شخص ہے اس کے والدین کافر ہیں اور یہ مسلمان ہو چکا ہے، تو اب یہ اپنے رشتہ داروں کے لیے وصیت کرتا ہے۔ وصیت تو مسلمان کے لیے بھی کی جا سکتی ہے، کافر کے لیے بھی کی جا سکتی ہے۔ توجہ ہے؟ تو لہٰذا بیٹا جو مسلمان تھا اس نے اپنے رشتہ داروں کے لیے وصیت کی۔ تو یاد رکھو، اس وصیت کے اندر والدین داخل نہیں ہوں گے۔ کیونکہ اس نے وصیت کی ہے کس کے لیے؟ رشتہ داروں کے لیے، اس نے کہا ہے: میرے مرنے کے بعد میرے مال میں سے دس لاکھ روپے میرے رشتہ داروں کو دے دینا، ذکر نہیں کیا کہ کس کس کو دینا ہے، مطلقاً رشتہ دار اس نے ذکر کیے۔ تو اس کے قریبی رشتہ دار جو وارث نہیں بن رہے، کوئی رکاوٹ آ گئی یا کوئی مانع آ گیا ہے، ان کو یہ مال ملے گا۔ جیسے میں نے ذکر کر دیا مثلاً اس کے ماں باپ کافر ہیں، جب کافر ہیں تو وہ تو مسلمان کے وارث نہیں ہو سکتے تو ان کو تو کوئی مال نہیں مل رہا۔ تو ایسے رشتہ دار جو وارث نہیں بن رہے ان کو یہ مال دیا جائے گا۔ اور یاد رکھو، علماء فرماتے ہیں کہ اس صورت میں اس کے والدین جو ہیں وہ اس وصیت کے اندر داخل نہیں ہیں۔ والدین وصیت میں داخل نہیں ہیں، وجہ یہ کیونکہ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ﴿الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ﴾ کہ وصیت ہے کس کے لیے؟ والدین اور اقربین یعنی رشتہ داروں کے لیے ہے، تو یہاں دیکھو والدین کو رشتہ داروں سے الگ ذکر کیا گیا، کہ یہ تو رشتہ داروں سے بھی بڑھ کر زیادہ تعلق ہے ان کا انسان کے ساتھ۔ لہٰذا مطلقاً رشتہ داروں کے بارے میں وصیت کی جائے تو اس کے اندر والدین داخل نہیں ہوتے۔ تو معلوم ہوا باپ داخل نہیں اس وصیت کے اندر۔ تو کیا دادا اس وصیت میں داخل ہو گا یا داخل نہیں ہو گا؟ تو ظاہر روایت کے مطابق دادا یہاں باپ کے حکم میں نہیں ہے، لہٰذا دادا اگر وراثت سے محروم ہو رہا ہے یعنی کافر ہے تو وہ اس وصیت میں داخل ہو گا، اس کو مال میراث ملے گا۔ ظاہر روایت کے مطابق دادا یہاں باپ کے حکم میں نہیں، باپ تو محروم ہو رہا ہے لیکن دادا کو مال ملے گا۔ جبکہ حسن بن زیاد رحمہ اللہ امام صاحب سے روایت نقل کرتے ہیں کہ یہاں دادا بھی باپ کے حکم میں ہے، لہٰذا جیسے باپ محروم ہو گا اسی طرح دادا بھی محروم ہو گا، وہ یہ رشتہ داروں کے لیے جو وصیت ہے اس کے اندر دادا داخل نہیں ہو گا۔ اور یہاں ایک اور بات بھی یاد رکھنا، یہ حاشیے میں انہوں نے دیا ہے کہ اس صورت میں باپ کو بھی مال ملے گا، باپ وصیت میں داخل ہے۔ حاشیے میں کیا لکھا ہے؟ کہ باپ وصیت میں داخل ہے، باپ کو بھی مال ملے گا اگر باپ وارث نہیں بن رہا، اور بنایہ کا حوالہ دیا گیا ہے۔ لیکن یاد رکھو، بنایہ میں تو یہ درج ہے کہ باپ کو مال نہیں ملے گا، وہ اس وصیت میں داخل نہیں کیونکہ باپ تو رشتہ داروں سے بھی بڑھ کر قریبی ہے، لہٰذا وہ رشتہ داروں کے اندر داخل نہیں بلکہ وہ رشتہ داروں سے بڑھ کر قریبی ہے بھئی۔ تو صرف رشتہ دار کہنے سے باپ اس میں داخل نہیں ہو گا۔ اور علماء یہ بھی لکھتے ہیں کہ کوئی شخص اگر اپنے باپ کے بارے میں کہے کہ یہ میرا رشتہ دار ہے تو یہ نافرمان بیٹا ہے بھئی۔ یہ شخص کیا ہے؟ والدین کا نافرمان ہے، معنی یہ ہے کہ اس نے اپنے باپ کی سخت بے ادبی کی ہے بھئی، کہ باپ کو رشتہ دار کہہ رہا ہے بھئی، حالانکہ باپ تو رشتہ داروں سے بھی بڑھ کر اس کے قریب ہے بھئی۔ مسئلہ سمجھ میں آ گیا؟ تو یہ چار مسائل ہیں۔ ایک کہ پوتے جو ہیں اسلام کے اندر دادا کے تابع ہوں گے یا دادا کے تابع نہیں ہوں گے۔ صدقہ فطر جو ہے وہ دادا پر پوتوں کا آئے گا یا نہیں آئے گا۔ یا اسی طرح جر ولاء دادا کرے گا یا دادا نہیں کرے گا۔ یا اسی طرح رشتہ داروں کے لیے جب وصیت کی ہے تو دادا اس میں داخل ہو گا یا داخل نہیں ہو گا، ان سب میں دو دو روایتیں ہیں۔ ظاہر روایت کے مطابق دادا یہاں باپ کے حکم میں نہیں ہے، اور حسن بن زیاد رحمہ اللہ کی روایت کے مطابق دادا بھی باپ کے حکم میں ہے۔ مسائل سمجھ میں آ گئے؟ جی، پھر دیکھ لیجیے ترجمہ۔ کہتے ہیں: ﴿وَهِيَ رَابِعَةُ أَرْبَعَةِ مَسَائِلَ﴾ اور یہ ان چار مسائل میں سے ایک مسئلہ ہے کہ ﴿كُلُّهَا عَلَى الرِّوَايَتَيْنِ﴾ کہ وہ سب دو دو روایتوں پر ہیں۔ تو یہ چار میں سے ایک مسئلہ ہے، کون سا مسئلہ؟ اسلام کے اندر تابع ہونا کہ پوتا دادا کے تابع ہے یا تابع نہیں ہے۔ ﴿وَالثَّانِيَةُ صَدَقَةُ الْفِطْرِ﴾ اور دوسرا مسئلہ صدقہ فطر والا ہے۔ ﴿وَالثَّالِثَةُ جَرُّ الْوَلَاءِ﴾ اور تیسرا مسئلہ ولاء کو کھینچنے والا ہے۔ ﴿وَالأُخْرَى الْوَصِيَّةُ لِلْقَرَابَةِ﴾ اور آخری مسئلہ جو ہے وہ رشتہ داروں کے لیے وصیت کرنا ہے۔ آگے دیکھیے بھئی: ﴿قَالَ: وَارْتِدَادُ الصَّبِيِّ الَّذِي يَعْقِلُ ارْتِدَادٌ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللَّهُ﴾ بھئی، یہاں سے بچے کے ارتداد اور اسلام کا مسئلہ ذکر کریں گے۔ اگر کوئی سمجھدار بچہ ہے، یعنی ہے تو نابالغ ہی لیکن چیزوں کو سمجھتا ہے مثلاً آٹھ دس سال کا ہے، اب یہ بچہ اگر مرتد ہوتا ہے تو کیا اس کا ارتداد معتبر ہے؟ یا کافر والدین کا ایک سمجھدار بچہ ہے اور وہ پھر مسلمان ہو جاتا ہے، تو کیا اس بچے کا اسلام معتبر ہے یا نہیں؟ تو آپ کو بتلائیں گے کہ یہاں پر تین مذاہب ہیں بھئی۔ ایک مذہب ہے طرفین کا، یعنی امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور امام محمد رحمہ اللہ، وہ فرماتے ہیں: بچے کا ارتداد بھی معتبر اور بچے کا اسلام بھی معتبر۔ بچہ مسلمان ہو جاتا ہے تو اسلام معتبر ہے، اس کو مسلمان شمار کیا جائے گا اور یہ اب اپنے والدین کا وارث نہیں بنے گا کیونکہ والدین کافر ہیں اور بچہ مسلمان ہے، اور مسلمان کافر کا وارث نہیں ہو سکتا۔ اور اسی طرح بچہ اگر مرتد ہوتا ہے تو طرفین فرماتے ہیں: اس کا ارتداد بھی معتبر ہے، لہٰذا اس بچے کو اسلام پر مجبور کیا جائے گا البتہ اس کو قتل نہیں کیا جائے گا۔ ویسے تو مرتد واجب القتل ہوتا ہے، لیکن یہ بچہ ہے اس کو قتل تو نہیں کریں گے البتہ اسلام پر مجبور کریں گے۔ تو طرفین رحمہما اللہ کے نزدیک بچے کا اسلام بھی معتبر اور بچے کا ارتداد بھی معتبر ہے۔ دوسرا مذہب ہے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا، وہ فرماتے ہیں کہ بچے کا اسلام تو معتبر ہے، وہ مسلمان ہوتا ہے تو اسے مسلمان ہی سمجھا جائے گا لیکن بچے کا ارتداد معتبر نہیں ہے۔ اور تیسرا مذہب ہے امام زفر اور امام شافعی رحمہما اللہ کا، وہ فرماتے ہیں: بچے کا نہ ارتداد معتبر ہے اور نہ اسلام معتبر ہے۔ تو طرفین کے نزدیک اسلام اور ارتداد دونوں معتبر، امام زفر اور امام شافعی رحمہما اللہ کے نزدیک دونوں میں سے ایک کا بھی اعتبار نہیں ہے، اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک بچے کا اسلام تو معتبر ہے لیکن اس کا ارتداد معتبر نہیں ہے۔ دیکھیے بھئی، اب آگے دلائل بھی ذکر کریں گے۔ تو کہتے ہیں: ﴿قَالَ﴾ صاحب قدوری فرماتے ہیں: ﴿وَارْتِدَادُ الصَّبِيِّ الَّذِي يَعْقِلُ﴾ اور مرتد ہونا اس بچے کا جو عقل رکھتا ہے یعنی جو سمجھدار ہے اس کا مرتد ہونا ﴿ارْتِدَادٌ﴾ یہ مرتد ہونا ہے، یعنی یہ مرتد ہونا صحیح ہے، اس کی وجہ سے وہ مرتد ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَارْتِدَادُ الصَّبِيِّ الَّذِي يَعْقِلُ ارْتِدَادٌ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللَّهُ﴾ اور سمجھدار بچے کا مرتد ہونا یہ ارتداد ہے طرفین رحمہما اللہ کے نزدیک، ﴿وَيُجْبَرُ عَلَى الْإِسْلَامِ وَلَا يُقْتَلُ﴾ اور اس بچے کو اسلام پر مجبور کیا جائے گا اور اس کو قتل نہیں کیا جائے گا، چاہے بعد میں اسی طرح بالغ بھی کیوں نہ ہو جائے پھر بھی قتل نہیں کیا جائے گا۔ ﴿وَإِسْلَامُهُ إِسْلَامٌ﴾ اور بچے کا اسلام جو ہے وہ اسلام ہے یعنی وہ صحیح ہے، اس کو مسلمان شمار کیا جائے گا، ﴿لَا يَرِثُ أَبَوَيْهِ إِنْ كَانَا كَافِرَيْنِ﴾ یہ بچہ اپنے والدین کا وارث نہیں ہو گا اگر وہ دونوں کافر ہیں۔ ﴿وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى: ارْتِدَادُهُ لَيْسَ بِارْتِدَادٍ﴾ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بچے کا ارتداد جو ہے وہ ارتداد نہیں ہے یعنی اس کا کوئی اعتبار نہیں، ﴿وَإِسْلَامُهُ إِسْلَامٌ﴾ اور بچے کا اسلام جو ہے وہ اسلام ہے یعنی اس کا اعتبار ہے۔ ﴿وَقَالَ زُفَرُ وَالشَّافِعِيُّ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى: إِسْلَامُهُ لَيْسَ بِإِسْلَامٍ﴾ اور امام زفر اور امام شافعی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ بچے کا اسلام وہ اسلام نہیں ہے یعنی اس کا کوئی اعتبار نہیں، ﴿وَارْتِدَادُهُ لَيْسَ بِارْتِدَادٍ﴾ اور بچے کا ارتداد وہ ارتداد نہیں ہے۔ ﴿لَهُمَا فِي الْإِسْلَامِ﴾ بھئی، اب دیکھیے صاحبِ ہداية دلائل ذکر فرمائیں گے۔ سب سے پہلے امام زفر اور امام شافعی رحمہما اللہ کی دلیل ذکر فرمائیں گے کہ بچے کا اسلام کیوں نہیں معتبر؟ کیونکہ اسلام کے اندر صرف انہوں نے اختلاف کیا ہے، امام زفر اور امام شافعی رحمہما اللہ نے۔ طرفین بھی بچے کا اسلام مانتے ہیں اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ بھی بچے کا اسلام مانتے ہیں۔ تو صرف امام زفر اور امام شافعی رحمہما اللہ وہ بچے کے اسلام کا اعتبار نہیں کرتے، تو اس مسئلے میں پہلے ان کی دلیل ذکر کریں گے اور پھر اس کا ہماری طرف سے جواب دیں گے۔ اور پھر اس کے بعد وہ ائمہ جو بچے کے ارتداد کا اعتبار نہیں کرتے ان ساروں کی دلیل اکٹھی ذکر کریں گے، اور جو بچے کے ارتداد کا اعتبار کرتے ہیں یعنی طرفین، ان کی دلیل اور جواب پھر آخر میں ذکر کریں گے۔ تو کہتے ہیں: ﴿لَهُمَا فِي الْإِسْلَامِ﴾ امام زفر اور امام شافعی رحمہما اللہ کی دلیل اس بچے کے اسلام کے بارے میں وہ یہ ہے ﴿أَنَّهُ تَبَعٌ لِأَبَوَيْهِ فِيهِ﴾ کہ نابالغ جو ہوتا ہے وہ اسلام کے اندر اپنے والدین کے تابع ہوتا ہے۔ آپ پڑھ چکے ہیں کہ اگر ماں باپ میں سے کوئی مسلمان ہو جائے تو بچے کو بھی مسلمان شمار کیا جاتا ہے۔ معلوم ہوا نابالغ اولاد اسلام کے اندر اپنے ماں باپ کے تابع ہے۔ تو جب یہ ماں باپ کے تابع ہیں تو یہ تابع ہی رہیں گے، ان کو اصل نہیں بنائیں گے۔ اگر آپ نے بچوں کے اسلام کا اعتبار کر لیا تو گویا آپ نے خود ان کو ہی اصل بنا دیا۔ یہ تابع ہیں تو تابع ہی رہیں گے، ان کو اصل نہیں بنائیں گے۔ کہتے ہیں کہ امام زفر اور امام شافعی رحمہما اللہ کی دلیل بچوں کے اسلام کے بارے میں وہ یہ ہے کہ نابالغ جو ہے یہ اپنے والدین کے تابع ہے اسلام کے اندر، ﴿فَلَا يُجْعَلُ أَصْلًا﴾ تو ان کو اصل قرار نہیں دیا جائے گا۔ ﴿وَلِأَنَّهُ يُلْزِمُهُ أَحْكَامًا﴾ دوسری وجہ کہ بچے کا اسلام معتبر نہیں، وجہ یہ کہ اسلام جو ہے بچے پر کچھ ایسے احکام لازم کر دے گا جس میں بچے کا نقصان ہے، اور وہ کیا؟ کہ یہ بچہ اپنے والدین کی وراثت سے محروم ہو جائے گا اگر وہ والدین کافر ہیں بھئی۔ تو بچہ وراثت سے محروم ہو رہا ہے، اس کو نقصان پہنچ رہا ہے اسلام کی وجہ سے، اس لیے اس کا اسلام معتبر نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَلِأَنَّهُ يُلْزِمُهُ﴾ اور اس لیے کیونکہ اسلام جو ہے وہ اس بچے پر لازم کرتا ہے ﴿أَحْكَامًا يَشُوبُهَا الْمَضَرَّةُ﴾ ایسے احکام کو شاب يشوب کے معنی ہوتے ہیں ملنا بھئی، ایک چیز کا دوسری چیز کے ساتھ مل جانا، اور اس لیے کیونکہ اسلام جو ہے اس بچے پر ایسے احکام کو لازم کر دے گا کہ جس کے ساتھ نقصان ملا ہوا ہے، جس کے ساتھ نقصان ملا ہوا ہے، بچہ جو ہے وراثت سے محروم ہو جائے گا بھئی، ﴿فَلَا يُؤَهَّلُ لَهُ﴾ لہٰذا بچے کو اسلام کا اہل نہیں قرار دیا جائے گا۔ یہ کس کی دلیل چل رہی ہے؟ امام زفر اور امام شافعی رحمہما اللہ کی، کہتے ہیں: ﴿فَلَا يُؤَهَّلُ لَهُ﴾ لہٰذا بچے کو اسلام کا اہل قرار نہیں دیا جائے گا، کیونکہ اگر آپ اس کے اسلام کا اعتبار کرتے ہیں تو اس کو تو آپ نے اصل بنا دیا اور نیز اس کی وجہ سے اس بچے کا نقصان ہو گا، لہٰذا بچے کو اسلام کا اہل قرار نہیں دیا جائے گا۔ ﴿وَلَنَا فِيهِ﴾ اب ہماری دلیل آ گئی، ہم دلیل بھی دیں گے اور جواب بھی دیں گے۔ ﴿وَلَنَا فِيهِ﴾ اور ہماری دلیل اس بچے کے اسلام کے بارے میں وہ یہ ہے ﴿أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ أَسْلَمَ فِي صِبَاهُ﴾ کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسلمان ہوئے اپنے بچپن میں صبا ص کے ساتھ ہے بھئی، صبا بچپن کو کہتے ہیں ہماری دلیل یہ ہے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسلمان ہوئے اپنے بچپن میں، ﴿وَصَحَّحَ النَّبِيُّ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ إِسْلَامَهُ﴾ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اسلام کو صحیح قرار دیا، ﴿وَافْتِخَارُهُ بِذَلِكَ مَشْهُورٌ﴾ اور حضرت علی کا اس پر فخر کرنا مشہور ہے۔ حضرت علی اس بات پر فخر کیا کرتے تھے کہ میں بچپن میں مسلمان ہوا بھئی، چنانچہ وہ فرماتے ہیں: سَبَقْتُكُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ طُرًّا ... صَغِيرًا مَا بَلَغْتُ أَوَانَ حُلْمِي طراً کا معنی سب کے سب، کہ میں نے تم سب پر اسلام کی طرف سبقت کی ہے اس حال میں کہ میں نابالغ تھا، میں اپنی بلوغت کے وقت کو بھی نہیں پہنچا تھا۔ تو حضرت علی اس پر فخر فرمایا کرتے تھے، تو حضور علیہ السلام کا ایک بچے کے اسلام کو صحیح قرار دینا یہ دلیل ہے اس بات کی کہ بچے کا اسلام معتبر ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اسلام کو صحیح قرار دیا اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا اس پر فخر کرنا مشہور ہے۔ ﴿وَلِأَنَّهُ أَتَى بِحَقِيقَةِ الْإِسْلَامِ وَهِيَ التَّصْدِيقُ وَالْإِقْرَارُ مَعَهُ﴾ یہاں سے عقلی دلیل ذکر کر رہے ہیں بھئی۔ سب سے پہلے یہ سمجھ لیجیے کہ علماء کا اس بات میں اختلاف ہے کہ ایمان کس چیز کا نام ہے؟ کیا ایمان صرف تصدیق قلبی کا نام ہے، یعنی دل سے توحید کا اقرار کر لیا جائے، حضور علیہ السلام کی رسالت کو مان لیا جائے، تو کیا اسے ایمان کہتے ہیں یا زبان سے اقرار بھی ضروری ہے؟ تو علماء کا اس بارے میں اختلاف ہے کہ ایمان صرف تصدیق قلبی کا نام ہے یا تصدیق قلبی کے ساتھ ساتھ زبان سے اقرار بھی ضروری ہے بھئی؟ تو یاد رکھو، جمہور کے نزدیک ایمان صرف تصدیق قلبی کا نام ہے اور اقرار جو ہے وہ شرط ہے اجرائے احکام کے لیے، یعنی جب کوئی زبان سے بھی اقرار کر لے گا تو اس پر پھر اسلامی احکام بھی جاری کر دیے جائیں گے، البتہ ایمان صرف تصدیق کا نام ہے بھئی۔ جبکہ بعض کبار علماء وہ فرماتے ہیں کہ ایمان نام ہے تصدیق اور اقرار کے مجموعے کا، تصدیق قلبی بھی ہونی چاہیے اور اقرار باللسان بھی ہونا چاہیے، تصدیق قلبی بھی ایمان کا رکن ہے باقاعدہ اور اسی طرح اقرار باللسان بھی ایمان کا رکن ہے، البتہ یہ رکن زائد ہے، حتیٰ کہ اکراہ کی صورت میں یہ رکن جو ہے یہ ساقط ہو جاتا ہے۔ اگر ایک کافر نے ایک مسلمان پر تلوار نکالی کہ تم جو ہے کلمہ کفر کہو نہیں تو میں تمہیں قتل کرتا ہوں، تو مسلمان جو ہے اگر اس کا دل مطمئن ہے تو زبان سے کلمہ کفر کہہ بھی دے اس سے اس کا ایمان ختم نہیں ہوتا بھئی۔ تو جمہور کے نزدیک ایمان صرف تصدیق قلبی کا نام ہے اور اقرار شرط ہے اسلامی احکام کے جاری کرنے کے لیے کہ اس شخص پر پھر اسلامی احکام بھی جاری کر دیے جائیں گے، اور جبکہ بعض کبار علماء فرماتے ہیں کہ ایمان جو ہے وہ تصدیق قلبی اور اقرار لسانی دونوں کے مجموعے کا نام ہے، یہ دونوں رکن ہیں ایمان کے۔ تو دیکھیے صاحبِ ہداية بچے کے مسلمان ہونے کی عقلی دلیل ذکر فرما رہے ہیں کہ بچے کا اسلام معتبر ہے، کہتے ہیں: ﴿وَلِأَنَّهُ أَتَى بِحَقِيقَةِ الْإِسْلَامِ﴾ اور اس لیے کیونکہ بچہ جو ہے وہ حقیقت اسلام کو لایا ہے یعنی حقیقتاً وہ مسلمان ہوا ہے، اسے تصدیق قلبی بھی حاصل ہے اور زبان سے بھی وہ اقرار کر رہا ہے کہ میں مسلمان ہوں بھئی۔ تو کہتے ہیں: اور اس لیے کیونکہ بچہ جو ہے وہ حقیقت اسلام کو لے آیا ہے ﴿وَهِيَ التَّصْدِيقُ وَالْإِقْرَارُ مَعَهُ﴾ اور حقیقت اسلام جو ہے وہ تصدیق اور اس کے ساتھ اقرار ہے تصدیق اور اس کے ساتھ اقرار بھی ہے، معلوم ہوا صاحبِ ہداية نے بھی اقرار کو ایمان کے اندر ہی داخل کیا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: اور حقیقت اسلام جو ہے وہ تصدیق اور اس کے ساتھ اقرار ہے، ﴿لِأَنَّ الْإِقْرَارَ عَنْ طَوْعٍ دَلِيلٌ عَلَى اعْتِقَادِهِ عَلَى مَا عُرِفَ﴾ اس لیے کیونکہ اس بچے کا اقرار کرنا خوشی سے، اپنی رضامندی سے، یہ اس کے اعتقاد پر دلیل ہے اس وجہ سے جو جانا گیا ہے، کہ بھئی جب ایک شخص خوشی سے اقرار کر رہا ہے تو یہ دلیل ہے اس کے اعتقاد پر، معلوم ہوا اس کا اعتقاد بھی یہی ہے۔ ایک شخص خوشی سے ایک چیز کا اقرار کر رہا ہے معلوم ہوا اس کا اعتقاد بھی یہی ہے۔ کہتے ہیں: اس لیے کیونکہ خوشی سے اقرار کرنا یہ اس کے اعتقاد کی دلیل ہے بوجہ اس کے جس کو جانا گیا ہے، ﴿وَالْحَقَائِقُ لَا تُرَدُّ﴾ اور حقیقتوں کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ صاحبِ ہداية فرماتے ہیں: حقیقت اسلام کیا ہے؟ کہ تصدیق قلبی بھی ہو اور اس کے ساتھ اقرار بھی ہو، اور زبان سے خوشی سے جب کوئی شخص اقرار کر رہا ہے تو یہ اپنے دل کی خبر دے رہا ہے، اپنے اعتقاد کی خبر دے رہا ہے۔ معلوم ہوا حقیقت ایمان کی وہ خبر دے رہا ہے اور حقیقتوں کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ ایک چیز جب حقیقت ہو اس کو رد نہیں کیا جا سکتا، مثلاً آپ کے سامنے ایک درخت ہے تو آپ کو تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ یہ درخت ہی ہے کیونکہ درخت کا ہونا ایک حقیقت ہے اس کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ تو یہاں پر بھی بچے نے جب اپنی خوشی سے ایک چیز کا اقرار کیا ہے معلوم ہوا اس کا اعتقاد بھی یہی ہے، تو اس حقیقت کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ کہتے ہیں: ﴿وَالْحَقَائِقُ لَا تُرَدُّ﴾ اور حقیقتوں کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ ﴿وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ سَعَادَةٌ أَبَدِيَّةٌ وَنَجَاةٌ عُقْبَاوِيَّةٌ﴾ یہاں سے اب وہ جواب دے رہے ہیں کہ امام زفر اور امام شافعی رحمہما اللہ فرماتے تھے کہ اس اسلام کے اندر بچے کا نقصان ہے کہ وہ وراثت سے محروم ہو جائے گا، تو اس کا جواب دے رہے ہیں کہ اس ایمان کی وجہ سے ہمیشہ کی نیک بختی اور آخرت کی نجات حاصل ہو جائے گی، اور یہ سب سے بڑا نفع ہے ایمان کا، لہٰذا اس نفع کے سامنے اگر کچھ دنیاوی نقصان بھی ہوتا ہے تو اس کی پروا نہیں کی جائے گی۔ کہتے ہیں: ﴿وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ سَعَادَةٌ أَبَدِيَّةٌ وَنَجَاةٌ عُقْبَاوِيَّةٌ﴾ سعادة أبدية ہمیشہ کی سعادت بھئی، یعنی ہمیشہ کی نیک بختی، اور نجاة عقباوية عقبیٰ آخرت کو کہتے ہیں اور اخروی نجات جو ہے، تو کہتے ہیں: اور وہ چیز جس کا اس ایمان اور اسلام کے ساتھ تعلق ہے وہ ابدی نیک بختی ہے اور اخروی نجات ہے، ﴿وَهِيَ مِنْ أَجَلِّ الْمَنَافِعِ﴾ اور یہ سب سے بڑے نفعوں میں سے ہے۔ اب ہمیشہ کی نیک بختی حاصل ہو جائے اور آخرت کی نجات حاصل ہو جائے تو کہتے ہیں: تو یہ سب سے بڑے نفعوں میں سے ہے، ﴿وَهُوَ الْحُكْمُ الْأَصْلِيُّ﴾ اور یہی اصلی حکم ہے، اسلام کا اصلی حکم یہی نفع ہے یعنی یہی اسلام اور ایمان کے ذریعے مقصود ہے۔ ایمان اور اسلام کے ذریعے مقصود کیا ہے؟ کہ ہمیشہ کی نیک بختی مل جائے اور آخرت کے عذاب سے نجات مل جائے، تو یہ مقصود جب حاصل ہو رہا ہے تو اب دوسری چیزوں کی طرف نظر نہیں کی جائے گی۔ ﴿ثُمَّ يَبْتَنِي عَلَيْهِ غَيْرُهَا﴾ پھر اس پر بنیاد ہوتی ہے اس کے علاوہ چیزوں کی بھی، یعنی کوئی نقصان وغیرہ بھی آ جاتا ہے جیسے یہ بچہ وراثت سے محروم ہو جائے گا، ﴿فَلَا يُبَالَى بِشَوْبِهِ﴾ تو اس نقصان کے ملنے کی پروا نہیں کی جائے گی۔ شوب کا کیا معنی؟ ملنا۔ تو پروا نہیں کی جائے گی اس نقصان کے مل جانے کی بھئی۔ ترجمہ پھر دیکھ لیجیے: اور یہ ابدی سعادت اور اخروی نجات جو ہے یہ سب سے بڑے نفعوں میں سے ہے، اور یہی حکم اصلی ہے، یہ عظیم فائدہ ہی حکم اصلی ہے اسلام کا، پھر اس پر بنیاد ہے اور چیزوں کی یعنی کوئی ضرر وغیرہ بھی لاحق ہو سکتا ہے، تو اس کے ملنے کی پروا نہیں کی جائے گی، اس نقصان وغیرہ کے ملنے کی پروا نہیں کی جائے گی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ آگے دیکھیے: ﴿وَلَهُمْ فِي الرِّدَّةِ﴾ اب دلیل آ گئی ارتداد کے بارے میں۔ امام زفر اور امام شافعی رحمہما اللہ اور اسی طرح امام ابو یوسف رحمہ اللہ، ان تینوں کے نزدیک بچے کے ارتداد کا اعتبار نہیں، کہ اس میں بچے کا محض نقصان ہے اور جس چیز میں بچے کا محض نقصان ہو اس کا اعتبار نہیں کیا جاتا۔ جیسے بچے کا اگر نکاح کروایا گیا ہے وہ اپنی بیوی کو طلاق دینا چاہتا ہے تو اس میں بچے کا نقصان ہے لہٰذا بچے کی طلاق کا کوئی اعتبار نہیں، یا بچے کو کسی نے غلام دے دیا ہے اور بچہ اپنے غلام کو آزاد کرتا ہے تو اس کے اندر بچے کا صرف نقصان ہے، تو لہٰذا اس بچے کے وہ تصرفات جس میں نقصان محض ہو ان کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔ تو اسی طرح یہاں ارتداد کے اندر بھی بچے کا صرف نقصان ہی ہے، لہٰذا بچے کے ارتداد کا کوئی اعتبار نہیں۔ تو اب ان کی دلیل ذکر کریں گے۔ کہتے ہیں: ﴿وَلَهُمْ فِي الرِّدَّةِ﴾ اور امام ابو یوسف اور امام زفر اور امام شافعی رحمہم اللہ کی دلیل جو ہے مرتد ہونے کے بارے میں ﴿أَنَّهَا مَضَرَّةٌ مَحْضَةٌ﴾ کہ یہ ارتداد جو ہے وہ محض نقصان ہے، ﴿بِخِلَافِ الْإِسْلَامِ عَلَى أَصْلِ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ﴾ بخلاف اسلام کے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے ضابطے پر۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ تو اسلام کا اعتبار کرتے ہیں البتہ ارتداد کا وہ بھی اعتبار نہیں کرتے، تو کہتے ہیں: یہ جو ارتداد ہے یہ نقصان محض ہے بخلاف اسلام کے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے ضابطے پر، ﴿لِأَنَّهُ تَعَلَّقَ بِهِ أَعْلَى الْمَنَافِعِ عَلَى مَا مَرَّ﴾ اس لیے کیونکہ اسلام کے ساتھ تعلق ہے تمام نفعوں میں سے بڑے نفع کا اس لیے کیونکہ تمام نفعوں سے جو بڑا نفع ہے اس کا تعلق ہے اسلام کے ساتھ، اس لیے کیونکہ تمام نفعوں میں سے جو اعلیٰ نفع ہے اس کا تعلق ہے اسلام کے ساتھ بوجہ اس کے جو بات اوپر گزر گئی کہ اس کی وجہ سے ابدی سعادت اور اخروی نجات ملتی ہے بھئی۔ ﴿وَلِأَبِي حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى فِيهَا﴾ اب طرفین کی دلیل آ گئی، وہ فرماتے ہیں کہ بچے کا ارتداد بھی معتبر ہے۔ تو کہتے ہیں: اور طرفین کی دلیل بچے کے ارتداد کے بارے میں وہ یہ ہے ﴿أَنَّهَا مَوْجُودَةٌ حَقِيقَةً﴾ کہ بچے کا ارتداد حقیقتاً پایا جا رہا ہے، ﴿وَلَا مَرَدَّ لِلْحَقِيقَةِ﴾ اور حقیقت کو رد نہیں کیا جا سکتا لہٰذا اس کو ماننا پڑے گا۔ تو کہتے ہیں: اور حقیقت کو رد نہیں کیا جا سکتا ﴿كَمَا قُلْنَا فِي الْإِسْلَامِ﴾ جیسے ہم نے اسلام کے بارے میں کہا کہ بچہ حقیقتاً مسلمان ہوا ہے تو اس کو رد نہیں کیا جا سکتا، اس کا اعتبار کرنا پڑے گا۔ کہتے ہیں: جیسے ہم نے اسلام کے بارے میں کہا، ﴿إِلَّا أَنَّهُ يُجْبَرُ عَلَى الْإِسْلَامِ﴾ مگر یہ کہ وہ بچہ جو مرتد ہو گیا ہے اس کو اسلام پر مجبور کیا جائے گا، اس کو اسلام پر مجبور کیا جائے گا ﴿لِمَا فِيهِ مِنَ النَّفْعِ لَهُ﴾ اس وجہ سے کہ اس میں بچے کا نفع ہے، فائدہ ہے، ﴿وَلَا يُقْتَلُ﴾ لیکن اس بچے کو قتل نہیں کیا جائے گا۔ بچے کو ارتداد کی وجہ سے قتل نہیں کیا جائے گا، بھئی کیوں؟ بچے کو کیوں نہیں قتل کیا جائے گا؟ کہتے ہیں: ﴿لِأَنَّهُ عُقُوبَةٌ﴾ اس لیے کیونکہ قتل جو ہے یہ تو سزا ہے ﴿وَالْعُقُوبَاتُ مَوْضُوعَةٌ عَنِ الصِّبْيَانِ﴾ اور سزائیں جو ہیں وہ اٹھا دی گئی ہیں بچوں سے، سزائیں بچوں سے اٹھا دی گئی ہیں، بچوں کو سزا نہیں دی جا سکتی۔ کہتے ہیں: اس لیے کیونکہ قتل جو ہے یہ تو سزا ہے اور سزائیں جو ہیں وہ بچوں سے اٹھا دی گئی ہیں یعنی سزائیں بچوں کو معاف ہیں، ﴿مَرْحَمَةً عَلَيْهِمْ﴾ ان پر رحم کرتے ہوئے۔ بچوں سے سزائیں اٹھا دی گئی ہیں ان پر رحم کرتے ہوئے۔ یہ صاحبِ ہداية نے دلیل ذکر کی کہ بچے کو قتل کیوں نہیں کیا جائے گا؟ تو بتلایا کہ بچے کو قتل نہیں کیا جائے گا اس پر شفقت کرتے ہوئے، کیونکہ بچوں سے شریعت نے سزاؤں کو معاف کر دیا ہے۔ لیکن بعض علماء اعتراض کرتے ہیں کہ صاحبِ ہداية کو یہ علت یہاں ذکر نہیں کرنی چاہیے تھی۔ کس چیز کی علت؟ کہ بچے کو قتل نہیں کیا جائے گا، کیوں نہیں قتل کیا جائے گا؟ کیونکہ وہ بچہ ہے اور بچہ شفقت کا محل ہے، اس پر شفقت کرنی چاہیے۔ تو بعض علماء فرماتے ہیں: صاحبِ ہداية کو بچے کو قتل نہ کرنے کے طور پر اس دلیل کو ذکر نہیں کرنا چاہیے تھا، کیونکہ آپ کہہ رہے ہیں کہ بچے کا ارتداد معتبر ہے البتہ اس کو قتل نہیں کیا جائے گا کیونکہ یہ شفقت کا محل ہے، اور جب اس کا ارتداد معتبر ہے تو معلوم ہوا آخرت میں یہ ابد الآباد کے لیے جہنم میں رہے گا، تو آپ تو اس پر بطور شفقت کے اس کو قتل نہیں کر رہے اور اللہ تعالیٰ جو ارحم الراحمین ہیں وہ اس کو ہمیشہ کے لیے جہنم میں ڈال رہے ہیں، تو لہٰذا یہاں پر یہ علت ذکر کرنا مناسب نہیں ہے، بلکہ یہاں وہ علت ذکر کرنا چاہیے جو اور علماء نے ذکر کی ہے کہ بچے کا ارتداد تو معتبر ہے لیکن اس کو قتل نہیں کیا جائے گا کیونکہ اس ارتداد کے اندر علماء کا اختلاف ہے، بعض کہتے ہیں یہ ارتداد معتبر ہے، بعض کہتے ہیں یہ ارتداد معتبر نہیں، تو لہٰذا شبہ آ گیا اور شبہے کی وجہ سے بچے کو قتل نہیں کیا جا سکتا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ آگے دیکھیے، کہتے ہیں: ﴿وَهَذَا فِي الصَّبِيِّ الَّذِي يَعْقِلُ﴾ اور یہ اختلاف تو اس بچے کے بارے میں ہے جو سمجھدار ہے۔ ﴿وَمَنْ لَا يَعْقِلُ مِنَ الصِّبْيَانِ﴾ اور وہ بچہ جو عقل نہیں رکھتا یعنی سمجھدار نہیں ہے ﴿لَا يَصِحُّ ارْتِدَادُهُ﴾ اس کا مرتد ہونا صحیح نہیں ہے ﴿لِأَنَّ إِقْرَارَهُ لَا يَدُلُّ عَلَى تَغْيِيرِ الْعَقِيدَةِ﴾ کیونکہ اس بچے کا اقرار اس کے عقیدے کے بدلنے پر دلالت نہیں کرتا۔ جب وہ بچہ سمجھدار ہی نہیں ہے تو اس کا اقرار کر لینا بھی اس کے عقیدے کے بدلنے پر دلالت نہیں کرتا کیونکہ وہ تو ناسمجھ ہے، اسے کسی بات کی ابھی سمجھ ہی نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں: اس لیے کیونکہ اس ناسمجھ بچے کا اقرار کر لینا یہ دلالت نہیں کرتا اس کے عقیدے کے بدلنے پر، ﴿وَكَذَا الْمَجْنُونُ وَالسَّكْرَانُ الَّذِي لَا يَعْقِلُ﴾ اور اسی طرح مجنون اور وہ مدہوش جو عقل نہیں رکھتا، یعنی کوئی آدمی اتنا نشے میں مدہوش ہو گیا کہ اس کی عقل ہی زائل ہو چکی ہے تو اس کا ارتداد بھی معتبر نہیں ہے، اس لیے کیونکہ ارتداد تو تب معتبر ہے جب عقیدہ بدلا ہو اور جیسے مجنون کا کوئی عقیدہ نہیں ہے اسی طرح وہ مدہوش جس کی عقل ہی اس وقت نشے کی وجہ سے زائل ہو گئی ہے اس کا بھی کوئی عقیدہ نہیں ہوتا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: اور اسی طرح ہے مجنون بھی اور وہ مدہوش بھی کہ جو عقل نہیں رکھتا یعنی جس کی عقل پوری طرح زائل ہو گئی ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔
160 approved lectures · 145 of 160