Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء ثاني · dars-129

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 16 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 119
📂 Choose Format:
⭐ ★★★★★ Excellent TEXT
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
آگے سبق دیکھیے بھئی۔ کِتَابُ السِّيَرِ السِّيَرُ جَمْعُ سِيرَةٍ وَهِيَ الطَّرِيقَةُ فِي الْأُمُورِ، وَفِي الشَّرْعِ تَخْتَصُّ بِسِيَرِ النَّبِيِّ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ فِي مَغَازِيهِ، قَالَ: الْجِهَادُ فَرْضٌ عَلَى الْكِفَايَةِ، إِذَا قَامَ بِهِ فَرِيقٌ مِنَ النَّاسِ سَقَطَ عَنِ الْبَاقِينَ، أَمَّا الْفَرْضِيَّةُ فَلِقَوْلِهِ تَعَالَى: {وَقَاتِلُوا الْمُشْرِكِينَ كَافَّةً كَمَا يُقَاتِلُونَكُمْ كَافَّةً}، وَلِقَوْلِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: ”الْجِهَادُ مَاضٍ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ“. بھئی گزشتہ سبق میں ہم نے باب قطع الطریق پڑھا تھا، یعنی ڈاکے سے متعلقہ احکام ذکر کیے تھے صاحبِ ہدایہ نے، اور میں نے بتلایا تھا کہ قطعِ طریق کو سرقہ کبریٰ کہتے ہیں۔ عام چوری جو ہے اس کو سرقہ صغریٰ کہتے ہیں اور قطعِ طریق کو سرقہ کبریٰ کہتے ہیں اور اس کو سرقہ کبریٰ کہنے کی وجہ یہ ہے کہ اس کا ضرر عام ہے۔ اس کا نقصان عام لوگوں کو پہنچتا ہے، جبکہ وہ سرقہ صغریٰ کے اندر تو جس شخص کا مال چوری ہوا ہے صرف اسی کا نقصان ہے، لیکن اس کے اندر جب راستے پر ڈاکہ ڈالا جائے گا تو لوگ اس راستے پر سفر کرنے سے خوف کھائیں گے اور جس کی وجہ سے تجارت وغیرہ پر اثر پڑے گا اور اس کا نقصان تمام لوگوں کو پہنچے گا۔ تو اس قطعِ طریق کو سرقہ کبریٰ کہتے ہیں اور نیز اس وجہ سے بھی اسے سرقہ کبریٰ کہتے ہیں کہ اس کے اندر سزا بڑی سخت ہے۔ سرقہ صغریٰ کے اندر تو صرف ہاتھ کاٹا جاتا ہے، جبکہ اس کے اندر ہاتھ بھی کاٹا جاتا ہے اور پاؤں بھی کاٹا جاتا ہے اور بعض صورتوں میں قتل کیا جاتا ہے یا سولی دی جاتی ہے بھئی۔ قطعِ طریق کی وجہ سے ڈاکوؤں پر حد جاری کی جائے گی اور اس حد کے لیے کئی شرائط علماء نے ذکر فرمائی ہیں بھئی۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ قطعِ طریق کے اندر حد جاری کرنے کے لیے چھ شرطیں ہیں: پہلی شرط یہ ہے کہ ڈاکوؤں کو قوت حاصل ہو، وہ طاقتور ہوں کہ قطعِ طریق کر سکیں، کوئی عام لوگ ان کا مقابلہ نہ کر سکیں۔ اور قطعِ طریق کی حد جاری کرنے کے لیے دوسری شرط یہ تھی کہ وہ قطعِ طریق شہر سے باہر ہونا چاہیے اور دور ہونا چاہیے۔ اور تیسری شرط یہ تھی کہ وہ قطعِ طریق دار الاسلام میں ہونا چاہیے۔ اور چوتھی شرط یہ تھی کہ وہ مال جو ڈاکوؤں نے لوٹا ہے وہ اتنی مقدار ہو اس کی کہ اس کو جب تقسیم کیا جائے تمام ڈاکوؤں پر تو ہر ڈاکو کے حصے میں نصاب کے بقدر مال ضرور آئے، یعنی کم از کم دس درہم ہر ڈاکو کے حصے میں ضرور آئیں، پھر ہی ان پر حد جاری کی جائے گی بھئی۔ اور پانچویں شرط یہ تھی کہ وہ جو ڈاکو ہیں ان میں کوئی بچہ یا مجنون یا وہ لوگ جن پر ڈاکہ ڈالا گیا ہے ان کا کوئی قریبی محرم رشتہ دار نہ ہو۔ اگر ڈاکوؤں کے اندر کوئی بچہ ہوا یا مجنون ہوا یا جن لوگوں پر ڈاکہ ڈالا گیا ہے ان کا کوئی قریبی محرم رشتہ دار ہوا تو پھر حد جاری نہیں کی جا سکتی بھئی۔ اور چھٹی شرط یہ تھی کہ ان ڈاکوؤں پر حد اس وقت جاری کی جائے گی جب یہ توبہ سے پہلے پکڑے جائیں، اگر توبہ کے بعد یہ پکڑے گئے ہیں تو پھر حد ان سے ساقط ہو جائے گی بھئی۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ یہاں چار صورتیں بنتی ہیں: ڈاکوؤں نے ڈاکہ ڈالا لیکن مال لوٹنے یا قتل کرنے سے پہلے ہی وہ پکڑے گئے۔ دوسری صورت ہے کہ انہوں نے صرف مال لوٹا ہے، اور تیسری صورت یہ ہے کہ انہوں نے صرف قتل کیا ہو، اور چوتھی صورت یہ ہے کہ انہوں نے مال بھی لوٹا ہے اور قتل بھی کیا ہے۔ اور قرآن کے اندر بھی ان کی چار سزائیں ذکر ہیں۔ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: {إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا} کہ وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کرتے ہیں اور زمین میں فساد مچاتے ہیں، ان کی جزا یہی ہے کہ {أَنْ يُقَتَّلُوا} کہ ان کو قتل کیا جائے {أَوْ يُصَلَّبُوا} یا ان کو سولی دی جائے {أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُمْ مِنْ خِلَافٍ} یا ان کے ہاتھ اور پاؤں مخالف جانب سے کٹوا دیے جائیں {أَوْ يُنْفَوْا مِنَ الْأَرْضِ} یا ان کو زمین سے دور کر دیا جائے یعنی قید میں ڈال دیا جائے۔ تو چار سزائیں ذکر ہیں ڈاکوؤں کی قرآن کے اندر۔ اور ائمہ فرماتے ہیں کہ یہاں پر اختیار ہے امام کو کہ ان سزاؤں میں سے جو سزا بھی دینا چاہے وہ دے سکتا ہے، کیونکہ ان کے درمیان ”أَوْ“ آیا ہے اور ”أَوْ“ جو ہے وہ تخییر کے لیے آتا ہے۔ جبکہ فقہائے احناف فرماتے ہیں کہ نہیں، یہاں پر یہ ”أَوْ“ تخییر کے لیے نہیں آیا بلکہ یہ تقسیم کے لیے آیا ہے کہ ڈاکوؤں کے احوال مختلف ہیں، ان کے جرم کی نوعیت مختلف ہے، تو اس اعتبار سے سزا بھی مختلف ہوگی۔ لہٰذا اگر صرف ڈاکوؤں نے قافلے والوں کو ڈرایا دھمکایا ہے اور مال لوٹنے یا قتل کرنے سے پہلے ہی وہ پکڑے گئے ہیں تو اس صورت میں صرف ان کو جیل میں ڈالا جائے گا اور کچھ سزا بھی حاکم دے دے ان کو کوڑے وغیرہ لگائے۔ اور اگر ڈاکوؤں نے مال لوٹا ہے تو پھر اس صورت میں ان کے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دیے جائیں گے۔ اور اگر ڈاکوؤں نے صرف قتل کیا ہے تو ان ڈاکوؤں کو بھی بطورِ حد کے قتل کر دیا جائے گا، اور یہ قتل کرنا حد کے طور پر ہے لہٰذا مقتول کے اولیاء بھی معاف نہیں کر سکتے۔ اور اگر ڈاکوؤں نے مال بھی لوٹا ہے اور قتل بھی کیا ہے تو عند الاحناف امام کو اختیار ہے چار سزاؤں کا: وہ چاہے تو ان کو صرف قتل کروا دے، یا صرف ان کو سولی دے دے، یا ان کے ساتھ ہاتھ پاؤں کٹوانے کو بھی جمع کر دے کہ ہاتھ اور پاؤں بھی کاٹے اور قتل بھی کر دے، یا ہاتھ اور پاؤں بھی کاٹے اور سولی بھی دے دے، تو امام کو اختیار ہے۔ تو ہمارے نزدیک یہ جو قرآن کے اندر چار سزائیں ذکر ہیں، یہ اختیار دینے کے لیے نہیں ہیں بلکہ یہ تقسیم کے لیے ہیں کہ جرم کی نوعیت جس قسم کی ہوگی اسی کے مطابق سزا دی جائے گی۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے آپ کو یہ بھی بتلایا کہ امام محمد رحمہ اللہ اختلاف کرتے ہیں چوتھی صورت کے اندر کہ جس کے اندر امام کو اختیار ہے کہ وہ ہاتھ اور پاؤں بھی کٹوا سکتا ہے اور اس کے ساتھ پھر قتل کروا دے یا سولی دے دے۔ تو امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ ایک ہی جرم کیا ہے لہٰذا ایک ہی حد نافذ کی جائے گی۔ ہاتھ اور پاؤں کا کاٹنا الگ حد ہے اور قتل کرنا یا سولی دینا الگ حد ہے، لہٰذا جرم جب ایک ہے تو ایک حد ان پر نافذ کی جائے گی۔ اور نیز اس لیے کیونکہ حدود کے مسئلے کے اندر جب دو ایسی حدیں جمع ہو جائیں کہ ایک کے اندر عضو یعنی ہاتھ کاٹنا ہے اور دوسرے کے اندر جان جائے گی یعنی رجم کیا جائے گا، تو اگر اس طرح کی دو حدیں جمع ہو جائیں تو صرف وہ جان لینے پر ہی اکتفا کر لیا جائے گا اور عضو کو نہیں کاٹا جائے گا۔ جیسے ایک شخص نے چوری بھی کی ہے اور اس نے زنا بھی کیا ہے اور وہ شادی شدہ ہے، تو اب چوری کے حد کے طور پر اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا اور زنا کے حد کے طور پر اسے رجم کیا جائے گا، تو یہاں پر صرف رجم کرنے پر ہی اکتفا کیا جائے گا اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، کیونکہ عضو کا تلف کرنا وہ جان کے تلف کرنے کے اندر ہی داخل ہو گیا بھئی۔ جبکہ شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ یہ ہاتھ اور پاؤں کاٹنا اور پھر سولی دینا یا قتل کرنا یہ دو الگ الگ سزائیں نہیں ہیں، یہ ایک ہی سزا ہے اور یہ سزا اس لیے سخت ہو گئی کیونکہ اس کا جرم بہت سخت ہے۔ اس نے انتہا درجے تک امن کو ختم کیا ہے کہ اس نے مال بھی لوٹا ہے اور قتل بھی کیا ہے، تو لہٰذا اس لیے اس کو یہ سزا دی جائے گی۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ قدوری کے اندر تو صاحبِ قدوری نے اختیار ذکر کیا ہے کہ امام ان کو قتل کروا سکتا ہے یا سولی دے سکتا ہے، معلوم ہوا سولی دینا ضروری نہیں، لیکن امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ امام سولی ضرور دے گا، امام سولی کو نہیں چھوڑ سکتا کیونکہ وہ منصوص علیہ ہے، نص کے اندر اس کا ذکر آیا ہے تاکہ خوب شہرت ہو جائے اور لوگوں کو خوب عبرت حاصل ہو جائے بھئی۔ اور پھر سولی کا طریقہ بھی بتلایا تھا۔ میں نے بتلایا سولی کس طرح دی جائے گی اس میں علماء دونوں طرف گئے ہیں: صاحبِ قدوری اور امام کرخی رحمہ اللہ نے ذکر فرمایا ہے کہ اس ڈاکو کو زندہ سولی دی جائے گی۔ ایک سیدھی لکڑی زمین میں گاڑ دیں گے اور اوپر ایک لکڑی اس کے لگائیں گے اور اس کے ساتھ ڈاکو کے ہاتھ باندھ دیں گے اور پھر کچھ نیچے ایک اور لکڑی باندھیں گے اور اس پر ڈاکو کے پاؤں باندھ دیں گے۔ تو لہٰذا اس ڈاکو کو زندہ ہی اس لکڑی پر باندھ دیا جائے گا اور پھر نیزے کے ذریعے اس کے سینے اور پیٹ کو پھاڑ دیا جائے گا اس کو قتل کر دیا جائے گا۔ جبکہ امام طحاوی رحمہ اللہ اس بات کی طرف گئے ہیں کہ پہلے قتل کیا جائے گا پھر سولی دی جائے گی۔ قتل کیا جائے گا اور پھر سولی دی جائے گی ورنہ تو یہ مثلہ بن جائے گا۔ میں نے بتلایا تھا مثلہ اسے کہتے ہیں کہ مرنے والے کے کان کاٹ دیے جائیں، ناک کاٹ دی جائے، ہونٹ کاٹ دیے جائیں، آنکھیں پھوڑ دی جائیں، تو یہ ہے مثلہ بھئی کہ شکل بگاڑ دی! تو امام طحاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر اس کو زندہ سولی دی جائے گی اور اس کے پیٹ میں نیزے مارے جائیں گے یہ تو مثلہ ہے اور مثلہ سے تو منع کیا گیا ہے۔ تو علماء اور فقہاء اس کا جواب دیتے ہیں کہ نہیں، کہ یہ مثلہ نہیں ہے۔ عرب کے ہاں نیزے کے ذریعے بھی قتل کا طریقہ تھا اور اس کو وہ مثلہ نہیں کہتے تھے، اور اگر مان بھی لیا جائے کہ یہ مثلہ ہے تو فقہاء فرماتے ہیں کہ اور مثلوں سے تو منع کیا گیا ہے لیکن اس مثلہ کا استثناء موجود ہے لہٰذا اس کو اسی طرح قتل کیا جا سکتا ہے۔ اور پھر بتلایا تھا کہ اس کو قتل کرنے کے بعد یا سولی دینے کے بعد تین دن تک اسی طرح اس کو لٹکا رہنے دیں گے تاکہ لوگوں کو خوب عبرت ہو جائے اور تین دن کے بعد اس کو ہٹا دیں گے ورنہ اس کے بدن سے بدبو شروع ہو جائے گی اور جس کی وجہ سے لوگوں کو تکلیف ہوگی۔ جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں نہیں، اس کو اسی طرح اس لکڑی پر اس کو لٹکا رہنے دیں گے یہاں تک کہ اس کا بدن ٹکڑے ٹکڑے ہو کر گر جائے تاکہ خوب عبرت ہو جائے لوگوں کو بھئی۔ اور پھر یہ بھی بتلایا تھا کہ ڈاکو کو جب قصاص میں قتل کیا جائے گا تو پھر اس پر جو مال اس نے لوٹا ہے اس کا ضمان نہیں آئے گا، اس لیے کیونکہ چوری کے مسئلے میں ہم آپ کو بتلا چکے ہیں کہ قطع اور ضمان اکٹھے نہیں ہو سکتے۔ قطع ہے تو ضمان نہیں اور ضمان ہے تو قطع نہیں۔ تو یہاں جب قتل کر دیا گیا تو ضمان نہیں آ سکتا بھئی۔ اور یہ بھی بتلایا تھا اگر ڈاکوؤں میں سے صرف ایک آدمی قتل کر دے پھر بھی ساروں کو حد کے اندر قتل کیا جائے گا بھئی۔ اور یہ قتل چاہے وہ لاٹھی کے ذریعے کریں یا تلوار کے ذریعے کریں یا پتھر کے ذریعے کریں، جس طریقے سے بھی یہ قتل کریں ان سب کو قتل کیا جائے گا حالانکہ عام احوال میں آپ جانتے ہیں کہ کوئی کسی کو اسلحے کے ذریعے قتل کرے پھر اسے قصاص میں قتل کرتے ہیں، کسی اور طریقے سے قتل کرے تو پھر اسے قتل نہیں کیا جاتا لیکن یہاں پر ان کو قتل کیا جائے گا ہر حال میں بھئی۔ اور اگر ڈاکوؤں نے قتل بھی نہیں کیا اور مال بھی نہیں لوٹا اور صرف زخمی کیا ہے تو پھر اس صورت میں کہتے ہیں حد نہیں آئے گی، البتہ اس سے زخم کا قصاص لیا جائے گا اگر قصاص ممکن ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ بعض زخموں کے اندر قصاص آتا ہے لیکن قصاص وہیں آئے گا جہاں برابری ہو سکے، مثلاً ایک آدمی نے دوسرے کا ہاتھ کلائی کے جوڑ سے کاٹا ہے اور یہاں پر تو برابری ہو سکتی ہے کہ مجرم کا ہاتھ بھی کلائی کے جوڑ سے کاٹ دیا جائے، لیکن اگر مجرم نے دوسرے شخص کا ہاتھ کلائی کے درمیان سے کاٹا ہے تو کلائی کے درمیان تو ہڈی ہے اور ہڈی تو سخت چیز ہے اور اس کے توڑنے میں تو برابری نہیں ہو سکتی، تو مجرم کا ہاتھ بھی بعینہٖ اسی طرح توڑ دیا جائے اور کاٹ دیا جائے جس طرح اس دوسرے آدمی کا ہاتھ اس نے کاٹا تھا یہ ممکن ہی نہیں ہے کیونکہ ہڈی سخت چیز ہے، بعینہٖ اسی طرح توڑنا ممکن نہیں ہے۔ لہٰذا اس صورت میں پھر ضمان آئے گا قصاص نہیں آ سکتا۔ تو یہاں پر بھی جب ڈاکو نے مال بھی نہیں لوٹا قتل بھی نہیں کیا البتہ زخمی کیا ہے تو پھر اگر ان زخموں کا قصاص ہو سکتا ہے تو قصاص لے لیا جائے گا اور اگر ان زخموں کا ضمان آ سکتا ہے تو ضمان لے لیا جائے گا، اور یہ جو قصاص لینا اور ضمان لینا ہے یہ جن کو زخمی کیا گیا ہے ان کے سپرد ہے، وہ قصاص یا ضمان لینا چاہیں تو قصاص یا ضمان لے لیں اور وہ معاف کرنا چاہیں تو معاف بھی کر سکتے ہیں بھئی۔ اور اگر ڈاکو نے مال بھی لوٹا ہے اور زخمی بھی کیا ہے تو پھر اس صورت کے اندر اس نے مال لوٹا ہے تو اس کے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دیے جائیں گے اور زخموں کا ضمان یا قصاص نہیں لیا جائے گا، اس لیے کیونکہ نفس سے کم جو ہے یعنی اعضاء وغیرہ ان کے ساتھ مال والا برتاؤ کیا جاتا ہے، تو جب ڈاکو پر حد واجب ہو گئی تو اب اس سے ضمان نہیں لیا جا سکتا۔ اور پھر اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے وہ صورتیں ذکر فرمائیں جن کے اندر حد ڈاکو سے ساقط ہو جاتی ہے اور وہ چار صورتیں ہیں: ایک صورت یہ ہے کہ وہ ڈاکو توبہ کر لے پکڑے جانے سے پہلے ہی، اور دوسری صورت یہ ہے کہ ان ڈاکوؤں کے درمیان کوئی بچہ ہو یا مجنون ہو یا جن پر ڈاکہ ڈالا گیا ہے ان کا کوئی قریبی محرم رشتہ دار ہو، یا اسی طرح اگر وہ جو ڈاکو ہیں وہ قافلے کے اندر ہی شامل تھے پہلے سے تو یہاں پر حرز کے اندر خلل آ گیا حفاظت کے اندر خلل آ گیا لہٰذا ان ڈاکوؤں پر بھی حد جاری نہیں کی جا سکتی، اور اسی طرح یہ بھی بتلایا کہ اگر ڈاکوؤں نے شہر کے اندر ڈاکہ ڈالا ہے یا شہر کے قریب ڈاکہ ڈالا ہے تو پھر اس صورت میں یہ قطعِ طریق نہیں ہے اس صورت میں حد واجب نہیں ہوگی، لیکن میں نے بتلایا کہ فتویٰ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے قول پر ہے۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں شہر کے اندر بھی کوئی ڈاکہ ڈالے یا شہر کے قریب بھی ڈاکہ ڈالے تو یہ بھی قطعِ طریق ہے، اس پر بھی ڈاکے کی حد جاری کی جائے گی اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے قول پر ہی فتویٰ ہے بھئی۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی بتلایا کہ اگر کوئی شخص کسی کو گلا دبا کر قتل کر دے تو اس صورت کے اندر قصاص نہیں آئے گا بلکہ دیت آئے گی، اور اگر ایک ہی شخص نے ایک سے زیادہ مرتبہ گلا دبا کر لوگوں کو قتل کیا ہے تو گلا دبانے میں ویسے تو قصاص نہیں آتا لیکن اس طرح اگر وہ ایک سے زیادہ مرتبہ لوگوں کو قتل کرے تو پھر اس کو بھی قتل کیا جائے گا معلوم ہوا یہ زمین میں فساد پھیلا رہا ہے بھئی۔ اور پھر میں نے ایک اعتراض اور اس کا جواب بھی ذکر کیا تھا، ہدایہ کی عبارت پر دراصل یہاں اعتراض ہوتا ہے جہاں انہوں نے توبہ کو ذکر کیا۔ اعتراض یہ ہوتا ہے کہ صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ توبہ کی وجہ سے حد ساقط ہو جائے گی اس لیے کیونکہ نص کے اندر اس کا استثناء ہے، توبہ کرنے والے کا استثناء ہے نص کے اندر قرآن کے اندر۔ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: {إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا مِنْ قَبْلِ أَنْ تَقْدِرُوا عَلَيْهِمْ} مگر وہ ڈاکو جو توبہ کر لیں قبل اس کے کہ تم ان پر قادر ہو یعنی ان کو قابو میں لے آؤ، تو تمہارے قابو میں آنے سے پہلے اگر وہ توبہ کر لیں تو {فَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ} تو جان لو کہ اللہ بہت بخشنے والا ہے بہت رحم کرنے والا ہے۔ معلوم ہوا توبہ کرنے کے بعد ان پر ڈاکے کی حد جاری نہیں کی جائے گی۔ تو ایک تو یہ دلیل ذکر کی صاحبِ ہدایہ نے کہ توبہ کرنے والے پر حد جاری نہیں کی جائے گی، اور پھر آگے عقلی دلیل بھی ذکر فرمائی کہتے ہیں اس لیے کیونکہ توبہ کا دار و مدار مال کے واپس لوٹانے پر ہے اور جب یہ مال واپس لوٹا رہے ہیں تو پھر مال کے ساتھ تو حد جمع نہیں ہو سکتی کیونکہ جب مال لوٹا دیں گے واپس تو خصومت ختم ہو گئی اور جب خصومت ختم ہو گئی تو اب حد جاری نہیں کی جا سکتی کیونکہ ڈاکے اور چوری میں حد جاری کرنے کے لیے خصومت ضروری ہے بھئی۔ یہاں پر صاحبِ ہدایہ پر اعتراض ہوتا ہے کہ ہمیں یہ بتائیے کہ یہ توبہ جو ہے مال کے واپس کرنے پر موقوف ہے یا موقوف نہیں ہے؟ مال کا واپس کرنا یعنی ڈاکوؤں نے جو مال لوٹا ہے وہ ان اصل مالکوں کو واپس کر دیں پھر ہی توبہ ہوگی، تو اے صاحبِ ہدایہ ہمیں یہ بتائیے کہ یہ توبہ جو ہے مال کے واپس کرنے پر موقوف ہے یا نہیں؟ اگر آپ کہتے ہیں کہ یہ مال کے واپس کرنے پر موقوف نہیں ہے تو پھر آپ کی علت ذکر کرنا، آپ تو کہہ رہے ہیں کہ یہ توبہ مال کے واپس کرنے پر موقوف ہے تو پھر تو آپ کی یہ دلیل دینا ہی صحیح نہیں ہے، اگر مال کے بغیر ہی توبہ ہو جاتی ہے تو آپ کا یہ کہنا کہ توبہ موقوف ہے مال کے واپس کرنے پر یہ علت ہی صحیح نہیں۔ اور اگر آپ یہ کہتے ہیں کہ یہ توبہ مال کے واپس کرنے پر ہی موقوف ہے تو پھر تو اسی کا ذکر تو پیچھے جو توبہ ذکر ہوئی معلوم ہوا اس سے بھی یہی توبہ مراد ہے کہ جس میں وہ مال واپس کر دیں، جب پیچھے بھی یہی توبہ ذکر ہے تو اس کو ایک الگ دلیل کے طور پر ذکر کرنے کا کیا مطلب ہے؟ یہ تو کوئی الگ دلیل بنتی ہی نہیں۔ پیچھے نقلی دلیل میں آ گیا تھا کہ وہ توبہ کر لیں اور توبہ سے کون سی توبہ مراد ہے؟ جس میں وہ مال واپس کریں، تو لہٰذا ایک الگ دلیل اس کو بنانا یہ تو درست ہی نہیں ہے۔ تو پھر میں نے بتلایا تھا کہ علماء فرماتے ہیں کہ دراصل اس سلسلے میں علماء کے دو قول ہیں۔ صاحبِ ہدایہ کی فصیح و بلیغ عبارات چل رہی ہیں، صاحبِ ہدایہ نے دونوں کے اقوال کو جمع کر دیا۔ بعض علماء فرماتے ہیں کہ توبہ کا دار و مدار مال واپس کرنے پر ہے، بعض کہتے ہیں توبہ کا دار و مدار مال واپس کرنے پر نہیں، توبہ ویسے بھی ہو جائے گی ہاں البتہ مال اس کو بعد میں بطورِ ضمان کے واپس کرنا پڑے گا۔ تو اس سلسلے میں معلوم ہوا فقہاء کے دو قول ہیں تو صاحبِ ہدایہ نے دونوں کو جمع کر دیا۔ وہ جو نص سے ثابت ہے اس سے وہ توبہ مراد لے لی جس میں مال واپس کرنا ضروری نہیں اور یہاں پر آگے ان کی دلیل ذکر کر دی جن کے نزدیک مال کا واپس کرنا ضروری ہے، تو گویا یہ ایک الگ علت ایک الگ دلیل ہو گئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ اور بتلایا تھا کہ جب اس کے اندر حد نہیں آئے گی تو پھر بندے کا حق ظاہر ہو جائے گا۔ جب بندے کا حق ظاہر ہو گیا، ڈاکو نے توبہ کر لی ہے اور اس نے مال واپس لوٹا دیا ہے مثلاً، تو اب بندے کا حق ظاہر ہو گیا، اگر کسی کو اس نے قتل کیا تھا یا زخمی کیا تھا تو وہاں پر مقتول کے اولیاء جو ہیں وہ قصاص وغیرہ لے سکتے ہیں، اور اگر اس نے مال لوٹا تھا دوسروں کا تو اس پر ضمان بھی آئے گا۔ اس پر اشکال ہوتا ہے کہ ابھی آپ نے ہمیں بتایا کہ مال واپس کرے گا تو توبہ ہوگی، جب مال واپس کر دیا تو پھر ضمان کا کیا معنی ہے؟ تو جواب دیا کہ یہ ضمان والی صورت جو ہے ان فقہاء کے قول پر محمول ہے جن کے نزدیک توبہ کا دار و مدار مال کے واپس کرنے پر نہیں ہے۔ جب توبہ کا دار و مدار مال کے واپس کرنے پر نہیں ہے تو توبہ ویسے بھی ہو جائے گی لیکن وہ مال اگر ڈاکو کے پاس ہلاک ہو گیا ہے تو ڈاکو کو اس کا ضمان دینا پڑے گا، بات سمجھ میں آ گئی۔ اب آئیے آج کے سبق پر: كِتَابُ السِّيَرِ السِّيَرُ جَمْعُ سِيرَةٍ وَهِيَ الطَّرِيقَةُ فِي الْأُمُورِ کتاب السیر بھئی، صاحبِ ہدایہ بھی آپ کو بتلائیں گے کہ سیر جمع ہے سیرت کی اور سیرت کہتے ہیں معاملات کے اندر جو کسی کا طور طریقہ ہوتا ہے اس کو سیرت کہتے ہیں۔ معاملات کے اندر کسی کا جو طور طریقہ ہو اس کو سیرت کہتے ہیں، لیکن اصطلاحِ شریعت کے اندر سیر خاص ہے حضور علیہ السلام کا جو جہاد اور غزوات کے اندر جو طریقہ تھا اس کو سیر کہتے ہیں بھئی۔ دیکھیے بھئی: كِتَابُ السِّيَرِ، یہ کتاب ہے حضور علیہ السلام کے جہاد کے طریقوں کے بیان میں۔ السِّيَرُ جَمْعُ سِيرَةٍ، سیر جمع ہے سیرت کی، وَهِيَ الطَّرِيقَةُ فِي الْأُمُورِ، اور یہ معاملات کے اندر طریقے کو کہتے ہیں، معاملات کے اندر جو طور طریقہ ہو اس کو سیرت کہتے ہیں۔ آپ پڑھتے رہتے ہیں سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم، تو اس کے اندر بھی سیرت النبی کے اندر بھی حضور علیہ السلام کی زندگی کے جو واقعات ہیں احوال ہیں اور ان کے جو طور طریقے تھے یہ ذکر کیے جاتے ہیں سیرت النبی کے اندر بھئی۔ تو کہتے ہیں: السِّيَرُ جَمْعُ سِيرَةٍ، سیر جمع ہے سیرت کی، وَهِيَ الطَّرِيقَةُ فِي الْأُمُورِ، اور یہ امور کے اندر جو طریقہ ہوتا ہے اسے کہتے ہیں، وَفِي الشَّرْعِ تَخْتَصُّ بِسِيَرِ النَّبِيِّ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ فِي مَغَازِيهِ، اور شریعت کے اندر یہ سیر خاص ہے بِسِيَرِ النَّبِيِّ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ حضور علیہ السلام کے جو طور طریقے تھے فِي مَغَازِيهِ لڑائیوں میں، جو حضور علیہ السلام کے طور طریقے تھے لڑائیوں کے اندر یعنی جہاد میں، غزوات میں۔ قَالَ، صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: الْجِهَادُ فَرْضٌ عَلَى الْكِفَايَةِ، کہ جہاد جو ہے وہ فرضِ کفایہ ہے، إِذَا قَامَ بِهِ فَرِيقٌ مِنَ النَّاسِ سَقَطَ عَنِ الْبَاقِينَ، یہ فرضِ کفایہ کی تعریف کر رہے ہیں۔ فرضِ کفایہ کسے کہتے ہیں؟ کہ جسے کچھ لوگ بھی ادا کر دیں تو سب کی طرف سے ادا ہو جاتا ہے، جیسے نمازِ جنازہ ہے۔ اگر ایک شخص کی نمازِ جنازہ کچھ لوگ بھی ادا کر دیں تو سب کی طرف سے ادا ہو جاتا ہے، لیکن اگر کوئی بھی ادا نہیں کرتا تو سارے لوگ جو ہیں وہ گناہگار ہوں گے بھئی۔ تو کہتے ہیں: إِذَا قَامَ بِهِ فَرِيقٌ مِنَ النَّاسِ، جب لوگوں میں سے ایک فریق یا یوں کہیں لوگوں میں سے ایک گروہ اس کو قائم کر دے، سَقَطَ عَنِ الْبَاقِينَ، تو باقیوں سے یہ فرضِ کفایہ ساقط ہو جاتا ہے۔ أَمَّا الْفَرْضِيَّةُ فَلِقَوْلِهِ تَعَالَى، تو فرض ہونا وہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے ہے کہ اللہ قرآن میں فرماتے ہیں: {وَقَاتِلُوا الْمُشْرِكِينَ كَافَّةً}، اور تم لڑائی کرو تمام مشرکین سے، {كَمَا يُقَاتِلُونَكُمْ كَافَّةً}، جیسے وہ تم سب سے لڑائی کرتے ہیں۔ بھئی صاحبِ قدوری نے بتلایا کہ جہاد فرض ہے اور فرض بھی کس طریقے پر ہے؟ کفایت کے طریقے پر ہے، تو اب فرض ہونے کی دلیل ذکر کر رہے ہیں صاحبِ ہدایہ بھئی۔ کیونکہ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: {وَقَاتِلُوا الْمُشْرِكِينَ كَافَّةً} کہ تم تمام مشرکین سے لڑائی کرو {كَمَا يُقَاتِلُونَكُمْ كَافَّةً} جیسے وہ تم سب سے لڑائی کرتے ہیں۔ كَافَّةً یاد رکھو یہ حال ہے، یہ مشرکین سے حال ہے اور كَافَّةً کا معنی ہے سب بھئی، یعنی سارے کے سارے۔ کہتے ہیں: {وَقَاتِلُوا الْمُشْرِكِينَ كَافَّةً} اور تم تمام مشرکین سے لڑائی کرو {كَمَا يُقَاتِلُونَكُمْ كَافَّةً} جیسے وہ تم سب سے لڑائی کرتے ہیں، یعنی جیسے وہ تم سب سے لڑائی کرتے ہیں تم بھی ان سب سے لڑائی کرو، قتال کرو اور ان سے جہاد کرو۔ تو دیکھو یہاں امر آیا اور امر کس لیے آتا ہے؟ وجوب کے لیے آتا ہے، معلوم ہوا جہاد فرض ہے۔ بھئی یاد رکھو یہاں پر محشی بڑی قیمتی بات ذکر فرماتے ہیں وہ بھی سن لیجیے بھئی۔ فرماتے ہیں کہ ابتدائے اسلام کے اندر جب حضور علیہ السلام کو اللہ نے پیغمبر بنا کر بھیجا تو ابتداء کے اندر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان مشرکین سے اعراض کرنے اور ان سے درگزر کرنے کا حکم دیا گیا تھا کہ ان سے بحث مباحثہ کرنے کی ضرورت نہیں، ان سے لڑنے کی ضرورت نہیں، یہ جو کچھ بھی کریں آپ درگزر سے کام لیجیے اور ان سے اعراض کیجیے۔ چنانچہ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: {فَاصْفَحِ الصَّفْحَ الْجَمِيلَ}۔ صَفَحَ يَصْفَحُ کے معنی ہوتے ہیں درگزر کرنا، معاف کرنا۔ ابتداء میں حضور علیہ السلام کو حکم تھا: {فَاصْفَحِ الصَّفْحَ الْجَمِيلَ} کہ آپ ان سے اچھے طریقے سے درگزر کیجیے۔ یہ آپ کو تکلیف دیتے ہیں آپ اچھے طریقے سے درگزر کیجیے، اور نیز اسی طرح دوسری جگہ اللہ فرماتے ہیں: {وَأَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِينَ} اور مشرکین سے اعراض کیجیے۔ مشرکین سے اعراض کیجیے، رخ پھیر لیجیے، یعنی اگر یہ آپ کو تکلیف دیتے ہیں تو آپ ان کا مقابلہ نہ کریں۔ تو یہ پہلا حکم تھا کہ حضور علیہ السلام کو حکم تھا کہ مشرکین سے درگزر کریں اور اعراض کریں۔ اور پھر کچھ عرصے کے بعد دوسرا حکم آیا کہ ان مشرکین سے آپ بحث مباحثہ کر سکتے ہیں لیکن اچھے طریقے سے بحث اور مباحثہ کرو ان کے ساتھ۔ چنانچہ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: {وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ} اور ان کے ساتھ مباحثہ کرو اچھے طریقے سے۔ {وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ} یعنی اچھے طریقے سے ان سے بحث کرو، ان کو وعظ اور نصیحت کرو بھئی۔ اور پھر اس کے بعد ان کے ساتھ لڑائی کا حکم آ گیا۔ اللہ قرآن میں فرماتے ہیں: {فَإِنْ قَاتَلُوكُمْ فَاقْتُلُوهُمْ} اگر یہ تمہارے ساتھ لڑائی کریں تو تم بھی ان کے ساتھ لڑائی کرو۔ اگر یہ تمہارے ساتھ لڑائی کریں یعنی اگر ان کی طرف سے لڑائی کی ابتداء ہو پھر تم بھی لڑائی کر سکتے ہو۔ تو یہ تیسرا حکم آ گیا، معلوم ہوا تم لڑائی کی ابتداء نہیں کر سکتے، ہاں اگر وہ لڑائی کی ابتداء کریں تو تمہیں ان کا مقابلہ کرنے کی اجازت ہے بھئی۔ تو یہ تیسرا مرحلہ آ گیا۔ اور پھر اس کے بعد جو ہے ابتدائے جہاد اور ابتدائے لڑائی کی بھی اجازت دے دی گئی۔ چنانچہ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: {فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِينَ حَيْثُ وَجَدْتُمُوهُمْ} کہ پس تم مشرکین کو قتل کرو جہاں بھی تم ان کو پاؤ۔ تو یہاں معلوم ہوا اب لڑائی کی ابتداء مسلمان بھی کر سکتے ہیں۔ اور اسی طرح دوسری جگہ اللہ فرماتے ہیں: {وَقَاتِلُوا الْمُشْرِكِينَ كَافَّةً كَمَا يُقَاتِلُونَكُمْ كَافَّةً وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ مَعَ الْمُتَّقِينَ} کہ تم تمام مشرکین سے لڑائی کرو جیسے وہ تم سب سے لڑائی کرتے ہیں اور جان لو کہ اللہ متقیوں کے ساتھ ہے۔ اللہ متقیوں کے ساتھ ہے بھئی۔ تو معلوم ہوا یہ چوتھا درجہ آ گیا۔ پہلا درجہ کیا تھا؟ کہ ان سے اعراض کریں، درگزر کریں۔ دوسرا حکم پھر یہ آیا کہ ان کو اچھے طریقے سے نصیحت کریں، ان کے ساتھ اچھے طریقے سے بحث آپ کر سکتے ہیں۔ اور پھر تیسرا حکم آیا کہ ابتداء تو لڑائی کی آپ نہیں کر سکتے، ہاں اگر یہ لڑائی کریں تو آپ پھر ان کا جواب دے سکتے ہیں۔ اور پھر چوتھا حکم آ گیا کہ اب مسلمانوں کو ابتدائے جہاد کی بھی اجازت دے دی گئی بھئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ اب آئیے پھر متن کے اندر دیکھیے بھئی: تو کہتے ہیں: أَمَّا الْفَرْضِيَّةُ فَلِقَوْلِهِ تَعَالَى، تو جہاد کا فرض ہونا وہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے ہے: {وَقَاتِلُوا الْمُشْرِكِينَ كَافَّةً}، کہ تم تمام مشرکین سے لڑائی کرو، {كَمَا يُقَاتِلُونَكُمْ كَافَّةً}، جیسے وہ تم سب سے لڑائی کرتے ہیں۔ وَلِقَوْلِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ، اور نیز فرض ہونے کی جو دلیل ہے وہ حضور علیہ السلام کا یہ قول ہے کہ آپ نے فرمایا: ”الْجِهَادُ مَاضٍ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ“، کہ جہاد جاری رہے گا قیامت کے دن تک۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یہاں تک حدیث تھی: ”الْجِهَادُ مَاضٍ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ“ جہاد جو ہے قیامت کے دن تک جاری رہے گا۔ وَأَرَادَ بِهِ فَرْضًا بَاقِيًا، یہاں سے صاحبِ ہدایہ تفسیر کر رہے ہیں حدیث کی، کہتے ہیں: وَأَرَادَ بِهِ، اور اس کے ذریعے ارادہ فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے، فَرْضًا بَاقِيًا، ایسے فرض کا جو باقی رہنے والا ہو۔ یہ جو حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ جہاد قیامت تک باقی رہے گا معنی یہ تھا کہ قیامت تک فرض ہو کر باقی رہے گا۔ اور یاد رکھنا یہ فقہائے احناف کا مذہب ہے کہ جہاد جو ہے وہ فرضِ کفایہ ہے، جبکہ اور بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ جہاد فرضِ کفایہ نہیں بلکہ تطوع ہے یعنی نفل ہے، یہ نفل ہے۔ تو کہتے ہیں: وَأَرَادَ بِهِ فَرْضًا بَاقِيًا، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ذریعے ارادہ فرمایا ایسے فرض کا جو باقی رہنے والا ہو، وَهُوَ فَرْضٌ عَلَى الْكِفَايَةِ، اور وہ فرضِ کفایہ ہے، یعنی جہاد بطورِ فرضِ کفایہ کے قیامت تک باقی رہے گا۔ تو کہتے ہیں: وَهُوَ فَرْضٌ عَلَى الْكِفَايَةِ، اور وہ فرضِ کفایہ ہے، لِأَنَّهُ مَا فُرِضَ لِعَيْنِهِ إِذْ هُوَ إِفْسَادٌ فِي نَفْسِهِ، یہاں سے صاحبِ ہدایہ عقلی دلیل بھی ذکر فرما رہے ہیں کہ جہاد فرضِ عین نہیں ہے بلکہ فرضِ کفایہ ہے۔ فرضِ عین وہ چیز جو اپنی ذات کے اعتبار سے ہی فرض ہے جیسے نماز، روزہ وغیرہ اور یہ ہر ایک پر فرض ہے، جبکہ فرضِ کفایہ آپ کو میں نے بتلایا کہ وہ کچھ مسلمان بھی ادا کر دیں تو وہ سب کی طرف سے ادا ہو جاتا ہے۔ تو یہاں پر اب صاحبِ ہدایہ عقلی دلیل ذکر فرما رہے ہیں کہ یہ جو جہاد کو اللہ نے فرض قرار دیا ہے یہ اپنی ذات کے اعتبار سے فرض قرار نہیں دیا کیونکہ جہاد کی اپنی ذات کو دیکھا جائے تو یہ اپنی ذات کے اعتبار سے افساد ہے، یعنی فساد مچانا ہے۔ اس کی وجہ سے دیکھو قتل و غارت ہوگی، شہر اجڑ جائیں گے، عورتیں، بچے، مرد وغیرہ اس کے اندر قتل ہوں گے، تو اپنی ذات کے اعتبار سے دیکھا جائے تو جہاد جو ہے وہ افساد ہے، فساد مچانا ہے، فساد پھیلانا ہے، لیکن اس کو شریعت نے فرض قرار دیا ہے کہ اس کی وجہ سے اعلائے کلمۃ اللہ ہوگا، اللہ کا کلمہ بلند ہوگا، دینِ اسلام کو قوت حاصل ہوگی اور مشرکین کا شر دفع ہوگا۔ تو معلوم ہوا یہ جو جہاد کو فرض قرار دیا ہے شریعت نے وہ جہاد کی ذات کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ اس کی وجہ سے دینِ اسلام طاقتور ہوگا اور مشرکین کا شر دفع ہوگا، اس وجہ سے فرض قرار دیا گیا ہے۔ معلوم ہوا یہ فرض ل عینہٖ نہیں بلکہ یہ فرض ل غیرہٖ ہے۔ فرض ل عینہٖ نہیں یعنی اپنی ذات کے اعتبار سے فرض نہیں ہے، اپنی ذات کے اعتبار سے تو یہ افساد کا نام ہے بلکہ یہ فرض ل غیرہٖ ہے، غیر کی وجہ سے فرض ہے کہ اس کی وجہ سے اللہ کا دین مضبوط ہوگا اور مشرکین کا شر دفع ہوگا۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّهُ مَا فُرِضَ لِعَيْنِهِ، اس لیے کیونکہ جہاد جو ہے اس کو اپنی ذات کی وجہ سے فرض نہیں کیا گیا، إِذْ هُوَ إِفْسَادٌ فِي نَفْسِهِ، اس لیے کیونکہ یہ اپنی ذات کے اعتبار سے فساد مچانا ہے یا یوں کہیں کہ یہ جہاد جو ہے اپنی ذات کے اعتبار سے فساد پھیلانا ہے، وَإِنَّمَا فُرِضَ لِإِعْزَازِ دِينِ اللَّهِ وَدَفْعِ الشَّرِّ عَنِ الْعِبَادِ، أَعَزَّ يُعِزُّ إِعْزَاز کا معنی ہے مضبوط اور طاقتور بنانا، کہتے ہیں: وَإِنَّمَا فُرِضَ، اور جہاد کو تو اسی لیے فرض کیا گیا ہے، لِإِعْزَازِ دِينِ اللَّهِ، تاکہ اللہ کا دین طاقتور ہو، وَدَفْعِ الشَّرِّ عَنِ الْعِبَادِ، اور تاکہ اللہ کے بندوں سے مشرکین کا شر دور ہو جائے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے: کہتے ہیں: وَإِنَّمَا فُرِضَ لِإِعْزَازِ دِينِ اللَّهِ وَدَفْعِ الشَّرِّ عَنِ الْعِبَادِ، اور جہاد کو فرض کیا گیا ہے اللہ کے دین کو طاقتور بنانے اور بندوں سے شر کو دفع کرنے کی وجہ سے اس کو فرض کیا گیا ہے۔ فَإِذَا حَصَلَ الْمَقْصُودُ بِالْبَعْضِ سَقَطَ عَنِ الْبَاقِينَ، تو جب یہ مقصد بعض مسلمانوں کے ذریعے حاصل ہو جائے تو باقی مسلمانوں سے یہ فرض ساقط ہو جائے گا۔ یہ معنی ہے: فَإِذَا حَصَلَ الْمَقْصُودُ بِالْبَعْضِ، جب یہ مقصد بعض مسلمانوں کے ذریعے حاصل ہو جائے، سَقَطَ عَنِ الْبَاقِينَ، تو باقیوں سے یہ فرض ساقط ہو جائے گا، كَصَلَاةِ الْجَنَازَةِ وَرَدِّ السَّلَامِ، جیسے کہ نمازِ جنازہ ہے اور سلام کا جواب دینا ہے۔ بھئی نمازِ جنازہ آپ جانتے ہیں فرضِ کفایہ ہے، اگر کچھ مسلمان بھی نمازِ جنازہ کسی کی ادا کر دیں تو یہ سب کی طرف سے فرض ادا ہو جاتا ہے اور اگر کوئی بھی نمازِ جنازہ ادا نہیں کرتا تو تمام مسلمان گناہگار ہوں گے۔ اسی طرح یاد رکھو اگر ایک مجلس کے اندر کچھ لوگ بیٹھے ہیں اور ایک آنے والا یا پاس سے گزرنے والا سلام کرتا ہے تو آپ جانتے ہیں سلام کا جواب دینا واجب ہے بھئی، تو جب مجلس پر کسی نے سلام کیا ہے تو یہ واجب علی الکفایہ ہے۔ مجلس میں سے کچھ لوگ بھی سلام کا جواب دے دیں گے تو سب کی طرف سے جواب ہو گیا، لیکن اگر کوئی ایک بھی سلام کا جواب نہیں دیتا تو ساری مجلس والے گناہگار ہوں گے۔ تو یہ معنی ہے: كَصَلَاةِ الْجَنَازَةِ، جیسے کہ نمازِ جنازہ ہے، وَرَدِّ السَّلَامِ، اور جیسے کہ سلام کا جواب دینا ہے۔ فَإِنْ لَمْ يَقُمْ بِهِ أَحَدٌ، اگر کسی ایک نے بھی جہاد کو قائم نہیں کیا، أَثِمَ جَمِيعُ النَّاسِ، أَثِمَ يَأْثَمُ کے معنی گناہگار ہونا، أَثِمَ، تو گناہگار ہوں گے، جَمِيعُ النَّاسِ، سارے لوگ، بِتَرْكِهِ، اس جہاد کو چھوڑنے کی وجہ سے، لِأَنَّ الْوُجُوبَ عَلَى الْكُلِّ، اس لیے کیونکہ اس کا وجوب سب پر ہے، اس کا وجوب سب پر ہے لہٰذا کوئی ایک جماعت ضرور ہونی چاہیے جو اس فرضِ کفایہ کو سب کی طرف سے ادا کرے۔ آگے اب دوسری دلیل ذکر کر رہے ہیں: وَلِأَنَّ فِي اشْتِغَالِ الْكُلِّ بِهِ قَطْعَ مَادَّةِ الْجِهَادِ مِنَ الْكُرَاعِ وَالسِّلَاحِ دوسری دلیل صاحبِ ہدایہ یہ ذکر کریں گے اگر سارے لوگ ہی جہاد کے اندر مشغول ہو جائیں، سارے لوگ ہی جہاد کے اندر مشغول ہو جائیں تو اس کی وجہ سے خود جہاد ہی ختم ہو جائے گا۔ اس کی وجہ سے خود جہاد ہی ختم ہو جائے گا، وجہ یہ کہ جہاد کے لیے اسباب چاہیے، اسلحہ چاہیے، گھوڑے چاہیے اور ہر قسم کی ضرورت کی چیزیں چاہیے، تو اگر تمام لوگ جہاد میں مصروف ہو جائیں گے تو جہاد کے اسباب پیچھے کون تیار کرے گا؟ کیونکہ سارے لوگ تو لڑائی میں مشغول ہیں، تو جب اسباب نہیں ہوں گے تو یہ تو خود کہاں تک پہنچا دے گا؟ جہاد کے ختم ہونے تک پہنچا دے گا۔ لہٰذا اسی لیے جہاد تمام مسلمانوں پر فرض نہیں ہے بلکہ یہ فرضِ کفایہ ہے، ایک جماعت بھی اگر یہ فرض ادا کرے تو سب کی طرف سے ادا ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں: وَلِأَنَّ فِي اشْتِغَالِ الْكُلِّ بِهِ، اور اس وجہ سے کہ سارے لوگوں کا اس جہاد کے اندر مشغول ہو جانا، قَطْعَ مَادَّةِ الْجِهَادِ مِنَ الْكُرَاعِ وَالسِّلَاحِ، كُرَاع کہتے ہیں یاد رکھو كُرَاع بھئی، كُرَاع یہ گھوڑوں اور اسلحے کے مجموعے کو کہتے ہیں یعنی وہ جو اسبابِ جہاد ہوتے ہیں ان کو کیا کہتے ہیں؟ كُرَاع۔ اور آگے سِلَاح کا لفظ آ رہا ہے، سِلَاح اسلحے کو کہتے ہیں۔ تو كُرَاع کا معنی بھی گھوڑے اور اسلحہ اور آگے سِلَاح کا خود ذکر بھی آ رہا ہے لہٰذا كُرَاع کا معنی ہم یہاں صرف گھوڑوں کے کر لیں گے، كُرَاع کا معنی گھوڑے اور خود آگے اسلحے کا ذکر آگے آ رہا ہے۔ تو کہتے ہیں: وَلِأَنَّ فِي اشْتِغَالِ الْكُلِّ بِهِ، اور نیز اس لیے کیونکہ اگر سارے لوگ جہاد کے اندر مشغول ہو جائیں گے، قَطْعَ مَادَّةِ الْجِهَادِ، تو اس کے اندر جہاد کے مادے کو کاٹنا ہے کہ جہاد کا مادہ یعنی جہاد کے اسباب ہی ختم ہو جائیں گے۔ آگے مِنْ کے ذریعے بیان کر رہے ہیں کہ جہاد کا مادہ کیا چیز ہے؟ کہتے ہیں: مِنَ الْكُرَاعِ وَالسِّلَاحِ، یعنی کہ گھوڑے اور اسلحہ وغیرہ، یعنی کہ گھوڑے اور اسلحہ یہ جو جہاد کا مادہ ہے یہ ہی ختم ہو جائے گا اگر سارے جہاد میں مشغول ہو گئے۔ فَيَجِبُ عَلَى الْكِفَايَةِ، تو یہ جہاد واجب ہوگا کفایت کے طریقے پر، کیونکہ اگر ساروں پر فرضِ عین قرار دے دیا جائے پھر تو مادۂ جہاد یعنی اسبابِ جہاد ہی ختم ہو جائیں گے۔ إِلَّا أَنْ يَكُونَ النَّفِيرُ عَامًّا، مگر یہ کہ نفیرِ عام ہو بھئی۔ نفیرِ عام کہتے ہیں عام لوگوں کا جہاد کے لیے نکلنا، نفیرِ عام کسے کہتے ہیں؟ عام لوگوں کا یعنی سب لوگوں کا جہاد کے لیے نکلنا۔ بھئی یاد رکھو جہاد ویسے تو فرضِ کفایہ ہے لیکن بعض اوقات جہاد فرضِ عین بھی ہو جاتا ہے۔ وہ اس طرح مثلاً ایک مقام پر دشمن نے حملہ کر دیا، اب اس علاقے والے مسلمان ان کا مقابلہ کر رہے ہیں لیکن وہ مسلمان کمزور ہیں وہ ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے تو پھر آس پاس والے علاقوں کے جو مسلمان ہیں ان پر بھی جہاد فرضِ عین ہو جائے گا، ان کو ان کی مدد کے لیے آنا پڑے گا نہیں تو گناہگار ہوں گے اور آخرت میں سخت مؤاخذہ ہوگا۔ پھر اگر ساتھ والے مسلمان بھی ان کی مدد کے لیے کافی نہیں ہوتے تو ان سے آگے اور جو مسلمان رہنے والے ہیں ان پر بھی فرضِ عین ہو جائے گا، اگر وہ بھی ان کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں رکھتے تو اس سے آگے اور جو مسلمان رہنے والے ہیں ان پر بھی یہ جہاد فرضِ عین ہو جائے گا، یہاں تک کہ ہوتے ہوتے ساری دنیا کے مسلمانوں پر فرضِ عین ہو جائے گا اگر وہ مسلمان ان کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں رکھتے، تو پھر سارے جہان والے مسلمانوں پر ان کے مقابلے کے لیے نکلنا فرض ہو جائے گا بھئی۔ تو نفیرِ عام کہتے ہیں عام لوگوں کا دشمن کی لڑائی کے لیے نکلنا۔ تو کہتے ہیں: إِلَّا أَنْ يَكُونَ النَّفِيرُ عَامًّا، مگر یہ کہ نفیرِ عام ہو، نفیرِ عام ہو بھئی۔ پہلے بتلایا جہاد فرضِ کفایہ ہے لیکن اگر نفیرِ عام ہو جائے پھر فرضِ عین ہو جائے گا، یہ معنی ہے: إِلَّا أَنْ يَكُونَ النَّفِيرُ عَامًّا، مگر یہ کہ نفیرِ عام ہو، یعنی سب لوگوں کا نکلنا ضروری ہو جائے۔ ”نَفِيرًا عَامًّا“، مگر یہ کہ نفیرِ عام ہو، ”فَحِينَئِذٍ يَصِيرُ مِنْ فُرُوضِ الْأَعْيَانِ“ تو اس وقت یہ جہاد جو ہے فروضِ اعیان میں سے بن جائے گا، یعنی یہ بھی فرضِ عین ہو جائے گا، ”لِقَوْلِهِ تَعَالَى: {انْفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا}“ اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے: {انْفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا}۔ اللہ فرماتے ہیں کہ دشمن سے جہاد، لڑائی کے لیے نکلو، {انْفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا}۔ ”خِفَاف“ جمع ہے ”خَفِيف“ کی، خَفِيف کا معنی ہے ہلکا، ہلکا۔ اور ”ثِقَال“ جمع ہے ”ثَقِيل“ کی، ثَقِيل کا معنی ہے بوجھل بھئی، وزنی، بھاری، اس کو کیا کہتے ہیں؟ ثقیل بھئی۔ تو کہتے ہیں کہ پھر فرضِ عین ہو جائے گا ”لِقَوْلِهِ تَعَالَى: {انْفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا}“ کہ نکلو تم لوگ ہلکے ہو یا بوجھل۔ ہلکے ہو یا بوجھل ہو، ہر صورت میں جہاد کے لیے نکلو۔ اور اس کے اندر سب لوگوں کو نکلنے کا حکم دیا جا رہا ہے، اور فقہاء فرماتے ہیں کہ اس سے مراد نفیرِ عام ہے بھئی۔ نفیرِ عام کے اندر سب پر جہاد کے لیے نکلنا فرض ہو گا۔ اس پر اشکال ہوتا ہے کہ یہاں تو کوئی نفیرِ عام کی قید نہیں ہے قرآن کے اندر، یہاں تو کوئی نفیرِ عام کی بات نہیں، اللہ فرما رہے ہیں {انْفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا} کہ تم جہاد کے لیے نکلو ہلکے ہو یا بوجھل ہو۔ تو اس سے معلوم ہوا سب پر جہاد فرض ہے، لیکن آپ اس کو خاص کر رہے ہیں نفیرِ عام کے ساتھ، تو اس کی کیا دلیل ہے؟ تو فقہاء فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جہاد پر نکلے، صحابہ کو جہاد پر بھیجا، لیکن کچھ لوگ پھر پیچھے مدینہ میں بھی باقی رہتے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ جہاد سب پر فرض نہیں، اگر سب پر فرض ہوتا تو سب نکلتے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ معلوم ہوا یہ جو اللہ فرما رہے ہیں کہ ہر صورت میں نکلو چاہے ہلکے ہو یا بوجھل، یہ نفیرِ عام کا حکم ہے۔ اور پھر یہ ہلکے ہو یا بوجھل اس سے کیا مراد ہے؟ تو مفسرین نے مختلف معانی ذکر کیے ہیں، کہ جب تم ہلکے ہو یعنی سوار ہو، یا بوجھل ہو یعنی پیدل ہو۔ بھئی سوار جو ہے اس کے لیے جانا بڑا آسان ہے، اور جو پیدل ہے اس کے لیے تو مسافت طے کرنا بڑا مشکل کام ہے، تو اللہ فرما رہے ہیں چاہے تم ہلکے ہو یعنی سواری پر ہو، یا بوجھل ہو یعنی پیدل ہو، ہر حال میں جہاد کے لیے نکلو۔ اسی طرح خفاف کا معنی ذکر کیا کہ جب تم جوان ہو، جب جوان ہوتا ہے تو انسان چاق و چوبند ہوتا ہے، قوتیں عروج پر ہوتی ہیں، یعنی وہ بڑا ہلکا پھلکا ہے آرام سے جا سکتا ہے۔ اور جب انسان بوڑھا ہو جاتا ہے اب اس کے لیے جانا اور سفر کرنا بڑی مشقت کا باعث ہے، تو اللہ فرما رہے ہیں کہ تم لوگ جہاد کے لیے نکلو {خِفَافًا وَثِقَالًا} چاہے تم جوان ہو یا بوڑھے ہو بھئی۔ اور اسی طرح خفافاً وثقالاً کا معنی جو ہے تندرست اور مریض کے بھی کیے گئے، کہ تم جہاد کے لیے نکلو چاہے تم ہلکے ہو یعنی تندرست ہو، اور ثقالاً یا تم بوجھل ہو یعنی بیمار ہو۔ یا اسی طرح خفافاً وثقالاً کا معنی مالدار اور فقیر کے بھی کیے گئے، کہ تم جہاد کے لیے نکلو جب تم ہلکے ہو یعنی جب تم مالدار ہو، اور ثقالاً اور جب تم بوجھل ہو یعنی فقیر ہو بھئی۔ مالدار ہے وہ تو ہلکا پھلکا ہے، اس کے ذہن پر معاش کی فکر نہیں، اور فقیر جو ہے وہ تو بوجھل ہے کہ اس کے سر پر معاش کی فکر بھی سوار ہے، کہ خود بھی کھانا ہے، اپنے گھر والوں کو بھی کھلانا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں ”لِقَوْلِهِ تَعَالَى“ اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے کہ اللہ نے قرآن میں فرمایا ہے: ”{انْفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا}“ کہ تم لوگ نکلو چاہے ہلکے ہو یا بوجھل ہو، ”الْآيَةَ“ أَيِ: الْآيَةُ مَعْرُوفَةٌ، کہ آیت معروف ہے، ہم نے کچھ حصہ پڑھ دیا، یا اقْرَأِ الْآيَةَ، کہ یہ آیت آپ پڑھ لیجیے، ہم نے کچھ حصہ ذکر کر دیا۔ اور پھر یہ بھی یاد رکھنا، جب نفیرِ عام ہو جائے، جب جہاد سب پر فرض ہو جائے، تو اس صورت کے اندر بھی علماء فرماتے ہیں یہ نہیں کہ سارے ہی لوگ جہاد کے لیے نکل جائیں گے، نہیں، گروہ در گروہ جہاد کے لیے نکلیں گے، کچھ لوگ پیچھے رہیں گے، کچھ جہاد کے لیے چلے جائیں گے، پھر وہ آئیں گے تو دوسرے چلے جائیں گے، جس طرح حج کے اندر، حج کے اندر کچھ لوگ حج کے لیے جاتے ہیں کچھ پیچھے ہوتے ہیں، پھر اگلے سال اور حج کے لیے جاتے ہیں، تو اس طرح یہاں پر بھی گروہ در گروہ لوگ جہاد کے لیے نکلیں گے، لیکن سارے لوگ ہی نکل کر چلے جائیں ایسا نہیں، ورنہ تو پھر جہاد کا مادہ ہی ختم ہو جائے گا، اسباب ہی نہیں رہیں گے پیچھے جہاد کے بھئی۔ تو کچھ لوگ تو تجارت وغیرہ میں مصروف رہیں گے لیکن ہے سب پر فرض، باری باری جائیں اور شرکت کرتے چلے جائیں اس جہاد کے اندر بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ آگے دیکھیے: ”وَقَالَ فِي الْجَامِعِ الصَّغِيرِ:“ اور امام محمد رحمہ اللہ جامع صغیر میں فرماتے ہیں: ”الْجِهَادُ وَاجِبٌ“ کہ جہاد جو ہے واجب ہے، فرض ہے، ”إِلَّا أَنَّ الْمُسْلِمِينَ فِي سَعَةٍ“ مگر مسلمان اس کے اندر گنجائش میں ہیں، مسلمان جہاد کے اندر وسعت میں ہیں، ”حَتَّى يُحْتَاجَ إِلَيْهِمْ“ یہاں تک کہ ان کی احتیاج ہو جائے، ان کی ضرورت پیش آ جائے۔ بھئی دیکھیے، پیچھے جو عبارت ذکر تھی وہ قدوری کی ذکر تھی، اور صاحبِ قدوری نے بھی بتلایا کہ جہاد جو ہے وہ فرضِ کفایہ ہے بھئی، اور اگر نفیرِ عام ہو جائے پھر سب پر جہاد فرض ہو جائے گا۔ اب صاحبِ ہدایہ جامع صغیر کی عبارت سے بھی بتلانا چاہتے ہیں کہ جامع صغیر میں بھی یہی بات ذکر کی ہے امام محمد رحمہ اللہ نے۔ تو کہتے ہیں کہ جامع صغیر کے اندر امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”الْجِهَادُ وَاجِبٌ“ کہ جہاد واجب ہے، ”إِلَّا أَنَّ الْمُسْلِمِينَ فِي سَعَةٍ“ مگر یہ کہ مسلمان اس کے سلسلے میں گنجائش میں ہیں، وسعت میں ہیں۔ اس سے کیا معلوم ہوا؟ کہ یہ فرضِ کفایہ ہے، فرضِ عین نہیں، مسلمانوں کے لیے اس کے اندر گنجائش ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟ اور آگے فرمایا: ”حَتَّى يُحْتَاجَ إِلَيْهِمْ“ یہاں تک کہ عام مسلمانوں کی ضرورت پیش آ جائے، اس سے کیا پتہ چلا؟ فرضِ عین ہونے کا، یعنی نفیرِ عام کے اندر بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”فَأَوَّلُ هَذَا الْكَلَامِ إِشَارَةٌ إِلَى الْوُجُوبِ عَلَى الْكِفَايَةِ“ تو امام محمد رحمہ اللہ کا یہ جو کلام ہے، اس کا ابتدائی حصہ جو ہے وہ اشارہ کر رہا ہے اس بات کی طرف کہ اس جہاد کا وجوب کفایت کے طریقے پر ہے، ”وَآخِرُهُ إِلَى النَّفِيرِ الْعَامِّ“ اور اس کلام کا آخر جو ہے وہ نفیرِ عام کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ ”وَهَذَا لِأَنَّ الْمَقْصُودَ عِنْدَ ذَلِكَ لَا يَتَحَصَّلُ إِلَّا بِإِقَامَةِ الْكُلِّ“ کہتے ہیں ”وَهَذَا“ اور یہ اس لیے، بھئی نفیرِ عام کے وقت سب پر جہاد فرض ہو جاتا ہے، اس کی وجہ کیا ہے؟ کہتے ہیں ”وَهَذَا“ اور یہ اس وجہ سے ”لِأَنَّ الْمَقْصُودَ عِنْدَ ذَلِكَ“ اس لیے کیونکہ نفیرِ عام کے وقت جو مقصود ہوتا ہے ”لَا يَتَحَصَّلُ“ وہ حاصل نہیں ہوتا ”إِلَّا بِإِقَامَةِ الْكُلِّ“ مگر سب کے ادا کرنے سے۔ جب سارے ہی جہاد کریں گے پھر ہی دشمن کا شر دفع ہو گا، ورنہ تو ان کی طاقت زیادہ ہے بھئی۔ تو یہ معنی ہے: ”وَهَذَا“ اور یہ جو نفیرِ عام میں سب پر جہاد فرض ہو جاتا ہے وہ اس لیے ہے ”لِأَنَّ الْمَقْصُودَ عِنْدَ ذَلِكَ لَا يَتَحَصَّلُ إِلَّا بِإِقَامَةِ الْكُلِّ“ کیونکہ نفیرِ عام کے وقت مقصد جو ہے وہ حاصل نہیں ہوتا مگر سب کے جہاد قائم کرنے سے ہی، ”فَيُفْتَرَضُ عَلَى الْكُلِّ“ تو سب پر فرض ہو گا۔ اِفْتَرَضَ يَفْتَرِضُ کے معنی ہیں فرض کرنا، ”فَيُفْتَرَضُ عَلَى الْكُلِّ“ تو جہاد فرض ہو گا سب پر۔ ”وَقِتَالُ الْكُفَّارِ وَاجِبٌ وَإِنْ لَمْ يَبْدَءُوا لِلْعُمُومَاتِ“ اور کفار سے لڑائی جو ہے مسلمانوں پر واجب ہے، ”وَإِنْ لَمْ يَبْدَءُوا“ اگرچہ وہ ابتدا نہ کریں، ”لِلْعُمُومَاتِ“ عمومات کی وجہ سے، کہ قرآن و حدیث جو ہیں سب کے اندر مطلقاً جہاد کا حکم دیا گیا ہے، ان میں یہ ذکر نہیں ہے کہ وہ حملہ کریں تو پھر تم نے مقابلہ کرنا ہے، بلکہ مطلقاً ہر جگہ جہاد کا حکم دیا گیا ہے، معلوم ہوا کفار کے ساتھ لڑائی واجب ہے اگرچہ وہ ابتدا نہ کریں۔ یہ معنی ہے: ”وَقِتَالُ الْكُفَّارِ وَاجِبٌ وَإِنْ لَمْ يَبْدَءُوا“ معلوم ہوا کفار کے ساتھ لڑائی واجب ہے اگرچہ وہ ابتدا نہ کریں، ”لِلْعُمُومَاتِ“ عمومات کی وجہ سے، یعنی نصوص کے اندر عام حکم ہے بھئی۔ ”وَلَا يَجِبُ الْجِهَادُ عَلَى صَبِيٍّ“ اور جہاد واجب نہیں ہے بچے پر، ”لِأَنَّ الصِّبَا مَظِنَّةُ الْمَرْحَمَةِ“ لِأَنَّ الصِّبَا صاد کے ساتھ ہے صبا، بچپنے کو کہتے ہیں۔ مَظِنَّة ظا کے کسرہ کے ساتھ ہے، مظنہ جائے گمان، یعنی جہاں کسی چیز کے ہونے کا گمان ہو اس کو کیا کہتے ہیں؟ مظنہ۔ مرحمہ کہتے ہیں شفقت کرنا، ترس کھانا، مہربانی کرنا۔ کہتے ہیں بچے پر جہاد فرض نہیں ”لِأَنَّ الصِّبَا مَظِنَّةُ الْمَرْحَمَةِ“ اس لیے کیونکہ بچپنا جو ہے وہ تو شفقت کی جائے گمان ہے۔ شفقت کی جائے گمان ہے یعنی شفقت کا محل ہے۔ شفقت کا محل ہے، بچپنا جو ہے وہ شفقت کا محل ہے، یعنی بچے شفقت کا محل ہیں، اگر ان کو جہاد میں شریک کریں گے تو جہاد کے اندر تو قتل و قتال ہوتا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں ”لِأَنَّ الصِّبَا مَظِنَّةُ الْمَرْحَمَةِ“ اس لیے کیونکہ بچپنا جو ہے وہ شفقت کا محل ہے۔ ”وَلَا عَبْدٍ وَلَا امْرَأَةٍ“ اور اسی طرح جہاد واجب نہیں ہے نہ غلام پر اور نہ عورت پر، ”لِتَقَدُّمِ حَقِّ الْمَوْلَى وَالزَّوْجِ“ بوجہ مقدم ہونے آقا اور خاوند کے حق کے۔ آقا اور خاوند کا حق شرعی حق پر مقدم ہے بھئی، اور ویسے ہی نہیں مقدم، خود شریعت نے ان کے حق کو مقدم قرار دیا ہے، اللہ ہی نے ان کے حق کو مقدم قرار دیا ہے۔ تو کہتے ہیں غلام اور عورت پر جہاد واجب نہیں ہے ”لِتَقَدُّمِ حَقِّ الْمَوْلَى وَالزَّوْجِ“ بوجہ آقا اور خاوند کے حق کے مقدم ہونے کے۔ ”وَلَا أَعْمَى“ اور اندھے پر بھی جہاد واجب نہیں، ”وَلَا مُقْعَدٍ“ مقعد کہتے ہیں اپاہج بھئی، یعنی وہ شخص جو ٹانگوں سے معذور ہے، چل پھر نہیں سکتا، کہتے ہیں ”وَلَا مُقْعَدٍ“ اور جہاد جو ہے اپاہج پر بھی فرض نہیں ہے، ”وَلَا أَقْطَعَ“ اَقْطَع کہتے ہیں جس کے ہاتھ کٹے ہوئے ہوں، ”وَلَا أَقْطَعَ“ اور وہ شخص جس کے ہاتھ کٹے ہوئے ہوں اس پر بھی جہاد فرض نہیں ہے، ”وَلَا أَقْطَعَ“ یہ غیر منصرف ہے بھئی، یہ بھی مجرور ہے لیکن اس کا جر آتا ہی فتحہ کی صورت میں ہے، توجہ ہے؟ پیچھے سب مجرور گزر رہے ہیں نا، کہ: ”وَلَا يَجِبُ الْجِهَادُ عَلَى صَبِيٍّ وَلَا عَبْدٍ وَلَا امْرَأَةٍ وَلَا أَعْمَى وَلَا مُقْعَدٍ وَلَا أَقْطَعَ“ تو جس کے ہاتھ کٹے ہوں اس پر بھی جہاد فرض نہیں ہے، ”لِعَجْزِهِمْ“ ان کے عاجز ہونے کی وجہ سے، کہ یہ سب جہاد سے عاجز ہیں۔ ”فَإِنْ هَجَمَ الْعَدُوُّ عَلَى بَلَدٍ“ هَجَمَ يَهْجُمُ کے معنی ہیں حملہ کرنا، ”فَإِنْ هَجَمَ الْعَدُوُّ عَلَى بَلَدٍ“ اگر دشمن نے حملہ کر دیا کسی شہر پر، ”وَجَبَ عَلَى جَمِيعِ النَّاسِ الدَّفْعُ“ تو واجب ہے تمام لوگوں پر ان کو دفع کرنا، ان کو دور کرنا تمام لوگوں پر واجب ہے، ”تَخْرُجُ الْمَرْأَةُ بِغَيْرِ إِذْنِ زَوْجِهَا“ عورت نکلے گی اپنے خاوند کی اجازت کے بغیر، ”وَالْعَبْدُ بِغَيْرِ إِذْنِ الْمَوْلَى“ اور غلام اپنے آقا کی اجازت کے بغیر نکلے گا، ”لِأَنَّهُ صَارَ فَرْضَ عَيْنٍ“ اس لیے کیونکہ جہاد فرضِ عین ہو گیا ہے، دشمن نے حملہ کیا ہے، تو اس شہر والے سب لوگوں پر فرضِ عین ہو گیا۔ تو یہ معنی ہے: ”لِأَنَّهُ صَارَ فَرْضَ عَيْنٍ“ اس لیے کیونکہ جہاد فرضِ عین ہو گیا ہے۔ ”وَمِلْكُ الْيَمِينِ وَرِقُّ النِّكَاحِ“ اور ملکِ یمین جو ہے، غلام کے اندر آقا کو ملکِ یمین ہوتی ہے، اور بیوی کے اندر ملکِ نکاح ہوتی ہے، تو کہتے ہیں ”وَمِلْكُ الْيَمِينِ“ اور ملکِ یمین جو ہے غلام کے اندر، ”وَرِقُّ النِّكَاحِ“ رِقّ کہتے ہیں غلامی کو، ”وَرِقُّ النِّكَاحِ“ اور نکاح کی جو غلامی ہے، بھئی دیکھیے بیوی جو ہے اس کے ساتھ خاوند کا نکاح ہوا ہے، وہ کوئی خاوند کی غلام نہیں، لیکن بہرحال نکاح کی وجہ سے عورت پر کچھ پابندیاں آ جاتی ہیں تو یہ نکاح بھی بعض اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ غلامی کے مثل ہے۔ تو کہتے ہیں ”وَمِلْكُ الْيَمِينِ وَرِقُّ النِّكَاحِ“ اور ملکِ یمین جو ہے یعنی غلام میں، اور نکاح کی جو غلامی ہے یعنی بیوی میں، ”لَا يَظْهَرُ فِي حَقِّ فُرُوزِ الْأَعْيَانِ“ یہ ظاہر نہیں ہوتی فروضِ اعیان کے حق میں۔ فرضِ عین کے سلسلے میں یہ غلام کی غلامی اور بیوی کے ملکِ نکاح وہ ظاہر نہیں ہوتی، ان پر وہ فرضِ عین ضروری ہوتا ہے جیسے نماز اور روزہ۔ غلام بے شک غلام ہے لیکن نماز روزہ اس پر فرض ہے، عورت کا بے شک نکاح ہوا ہے لیکن نماز اور روزہ اس پر فرض ہے، تو فرضِ عین کے سلسلے میں نہ یہ ملکِ یمین رکاوٹ بن سکتی ہے اور نہ ملکِ نکاح بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَمِلْكُ الْيَمِينِ وَرِقُّ النِّكَاحِ لَا يَظْهَرُ فِي حَقِّ فُرُوضِ الْأَعْيَانِ كَمَا فِي الصَّلَاةِ وَالصَّوْمِ“ اور ملکِ یمین جو ہے اور نکاح کی غلامی جو ہے وہ فرضِ عین کے حق میں ظاہر نہیں ہوتے جیسے کہ نماز اور روزے میں ہے، ”بِخِلَافِ مَا قَبْلَ النَّفِيرِ“ ہاں، بخلاف نفیر سے پہلے، کہ اس سے پہلے جہاد کیا ہے؟ فرضِ کفایہ ہے، تو عورت اور غلام پر تو فرض ہی نہیں ہے، لہٰذا اس صورت میں پھر وہ جہاد پر نہیں جائیں گے بھئی۔ تو کہتے ہیں ”بِخِلَافِ مَا قَبْلَ النَّفِيرِ“ بخلاف نفیرِ عام سے پہلے، ”لِأَنَّ بِغَيْرِهِمَا مَقْنَعًا“ اس لیے کیونکہ ان کے بغیر بھی مقنعاً کفایت ہو گی، مقنع کا کیا معنی؟ کفایت۔ جب جہاد فرضِ کفایہ ہے، معلوم ہوا تمام لوگوں کے جانے کی ضرورت نہیں، تو لہٰذا تو غلام اور عورت جو ہیں ان پر تو جہاد واجب ہی نہیں تو پھر یہ بھی نہیں جائیں گے۔ تو یہ معنی ہے: ”لِأَنَّ بِغَيْرِهِمَا مَقْنَعًا“ اس لیے کیونکہ ان کے بغیر بھی کفایت ہو گی، ”فَلَا ضَرُورَةَ إِلَى إِبْطَالِ حَقِّ الْمَوْلَى وَالزَّوْجِ“ لہٰذا کوئی ضرورت نہیں ہے کہ آقا اور خاوند کے حق کو باطل کیا جائے۔ آگے دیکھیے: ”وَيُكْرَهُ الْجُعْلُ مَا دَامَ لِلْمُسْلِمِينَ فَيْءٌ“ جُعْل کہتے ہیں اجرت اور مزدوری کو۔ ایک آدمی آپ کے پاس کام کرتا ہے اور پھر آپ اس کو جو پیسے دیتے ہیں یہ کیا ہے؟ اجرت اور مزدوری ہے، اس کو عربی میں جُعْل کہتے ہیں۔ اور یہاں ایک لفظ آ رہا ہے فَيْءٌ، یاد رکھو مالِ فئی بھئی وہ مال ہے جو مسلمانوں کو لڑائی کے بغیر حاصل ہو، اس کو مالِ فئی کہتے ہیں، مثلاً ذمی جو ہیں دار الاسلام میں رہتے ہیں وہ سالانہ ٹیکس دیتے ہیں جسے جزیہ کہتے ہیں، یہ جو جزیہ مسلمانوں کو حاصل ہوتا ہے یہ بغیر لڑائی کے حاصل ہو رہا ہے تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ مالِ فئی بھئی۔ یا اسی طرح ذمیوں کی جو زمینیں ہیں ان سے خراج وصول کیا جاتا ہے، ان کی زمینوں سے خراج وصول کیا جاتا ہے تو یہ بھی دیکھو ایسا مال ہے جو بغیر لڑائی کے مسلمانوں کو حاصل ہو رہا ہے، اس کو مالِ فئی کہتے ہیں، فا، یا اور ہمزہ، فَيْءٌ بھئی۔ اور اگر لڑائی سے جو مال حاصل ہو اس کو مالِ غنیمت کہتے ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَيُكْرَهُ الْجُعْلُ مَا دَامَ لِلْمُسْلِمِينَ فَيْءٌ“ اور مکروہ ہے اجرت جب تک مسلمانوں کے لیے مالِ فئی ہے۔ بھئی یہاں سے آپ کو بتلائیں گے کہ جہاد کے لیے حاکم عام مسلمانوں پر ٹیکس لگا دے یہ مکروہ ہے۔ جہاد کی ضرورت پیش آ گئی، کچھ مسلمان لڑنے کے لیے جا رہے ہیں اور جو پیچھے باقی ہیں حاکم ان پر ٹیکس لگا دیتا ہے کہ اتنے اتنے پیسے ادا کرو تاکہ لشکر کی مدد ہو جائے، تو کہتے ہیں یہ مکروہ ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَيُكْرَهُ الْجُعْلُ“ اور مکروہ ہے ٹیکس لگانا ”مَا دَامَ لِلْمُسْلِمِينَ فَيْءٌ“ جب تک مسلمانوں کے لیے مالِ فئی موجود ہے، ”لِأَنَّهُ يُشْبِهُ الْأَجْرَ“ اس لیے کیونکہ یہ اجرت کے مشابہ ہے۔ یہ تو کس کے مشابہ ہو گیا؟ اجرت کے مشابہ ہو گیا، گویا جہاد پر نہیں جا رہے تو ان سے اجرت لے رہا ہے، یا یوں کہو جیسے اجرت کی طرح ہو گیا کہ ان سے لے گا اور وہ لشکر والوں کو دے گا، یہ تو ان کو جہاد جو عبادت تھی اس کی اجرت دے رہا ہے اور اطاعت کی تو اجرت دینا جائز نہیں ہے بھئی۔ تو یہ معنی ہے ”لِأَنَّهُ يُشْبِهُ الْأَجْرَ“ اس لیے کیونکہ یہ اجرت کے مشابہ ہے، ”وَلَا ضَرُورَةَ إِلَيْهِ“ اور نیز اس کی ضرورت بھی نہیں ہے، ”لِأَنَّ مَالَ بَيْتِ الْمَالِ مُعَدٌّ لِنَوَائِبِ الْمُسْلِمِينَ“ اس لیے کیونکہ بیت المال کا جو مال ہے ”مُعَدٌّ“ اس کو تیار کیا گیا ہے ”لِنَوَائِبِ الْمُسْلِمِينَ“ مسلمانوں کی مصیبتوں اور حادثات کے لیے۔ نوائب جمع ہے نائبۃ کی، اور نائبہ کہتے ہیں حادثے کو اور مصیبت کو بھئی۔ کہتے ہیں ”لِأَنَّ مَالَ بَيْتِ الْمَالِ مُعَدٌّ لِنَوَائِبِ الْمُسْلِمِينَ“ اس لیے کیونکہ بیت المال کا جو مال ہے وہ مسلمانوں کے حوادثات اور مصیبتوں کے لیے تیار کیا گیا ہے، ”فَإِذَا لَمْ يَكُنْ“ ہاں، جب مالِ فئی نہ ہو، ”فَإِذَا لَمْ يَكُنْ“ جب مالِ فئی نہ ہو، ”فَلَا بَأْسَ“ پھر کوئی حرج نہیں ہے، پھر تو ضرورت ہے، پھر حاکم لوگوں سے ٹیکس وصول کر سکتا ہے بھئی۔ اور نیز اس لیے بھی کیونکہ اس صورت میں یہ جہاد بالمال بن جائے گا۔ کیا بن جائے گا؟ جہاد بالمال بن جائے گا، کہ بھئی اللہ نے جانوں اور مالوں کے ساتھ جہاد کرنے کا حکم دیا ہے، تو جو لوگ پیچھے بیٹھے ہیں وہ اپنی جانوں کے ساتھ تو جہاد نہیں کر رہے تو وہ مال کے ساتھ جہاد کر رہے ہیں بھئی۔ یہ معنی ہے: ”فَإِذَا لَمْ يَكُنْ“ جب کوئی چیز بیت المال میں نہ ہو، ”فَلَا بَأْسَ“ تو پھر کوئی حرج نہیں ہے، ”بِأَنْ يُقَوِّيَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا“ بایں صورت کہ بعض بعض کو طاقتور بنائیں، قَوَّى يُقَوِّي تقویۃ کا معنی ہے دوسرے کو طاقتور بنانا، مضبوط کرنا، تو پھر کوئی حرج نہیں ہے ”بِأَنْ يُقَوِّيَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا“ کہ وہ بعض بعض کو طاقتور کریں، یا یوں با محاورہ ترجمہ یوں کریں ”بِأَنْ يُقَوِّيَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا“ کہ وہ ایک دوسرے کو طاقتور کریں، پھر کوئی حرج نہیں ہے کہ ایک دوسرے کو طاقتور بنائیں، ”لِأَنَّ فِيهِ دَفْعَ الضَّرَرِ الْأَعْلَى بِإِلْحَاقِ الْأَدْنَى“ اس لیے کیونکہ اس کے اندر اعلیٰ یعنی بڑے ضرر کو دور کرنا ہے ادنیٰ ضرر ملاتے ہوئے۔ یعنی مسلمانوں سے مال لیا جا رہا ہے تو نقصان تو ان کا ہو رہا ہے لیکن یہ کم درجے کا نقصان ہے، اور اس کی وجہ سے بڑا ضرر اور شر جو ہے دشمن کا وہ دور ہو جائے گا، تو بڑی تکلیف کو دور کرنے کے لیے تھوڑی تکلیف کو برداشت کیا جا سکتا ہے۔ تو کہتے ہیں ”لِأَنَّ فِيهِ دَفْعَ الضَّرَرِ الْأَعْلَى بِإِلْحَاقِ الْأَدْنَى“ اس لیے کیونکہ اس کے اندر جو اونچا ضرر ہے اس کو دور کرنا ہے ادنیٰ ضرر ملاتے ہوئے۔ ”يُؤَيِّدُهُ أَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ أَخَذَ دُرُوعًا مِنْ صَفْوَانَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ“ دُرُوعًا بھئی، دروع جمع ہے دِرْع کی، اور دِرْع کہتے ہیں وہ جنگی لباس بھئی وہ جو لوہے کی قمیص بنی ہوتی ہے جسے جنگ کے اندر، جہاد کے اندر پہنا جاتا ہے تاکہ اپنے آپ کو تیروں سے اور تلوار کے وار سے محفوظ کیا جا سکے۔ تو صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں کہ اگر ضرورت ہو تو پھر ایک دوسرے کی مدد کی جا سکتی ہے جہاد کے اندر، اس کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفوان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کئی زرہیں لیں اور عام صحابہ کو دے دیں۔ حضرت صفوان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ذکر پیچھے بھی آیا تھا بھئی باب السرقة کے اندر، کہ حضرت صفوان رضی اللہ تعالیٰ عنہ تاخیر سے اسلام لائے تھے اور یہ مسجدِ نبوی میں سوئے ہوئے تھے اور ان کے سر کے نیچے ان کی چادر تھی، ایک چور نے وہ چادر چرانے کی کوشش کی اور وہ چادر اٹھا لی کہ حضرت صفوان رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیدار ہو گئے اور ان کو پکڑ لیا، اور حضور علیہ السلام نے پھر اس چور کا ہاتھ کٹوا دیا تھا۔ تو یہ حضرت صفوان رضی اللہ تعالیٰ عنہ، ان سے یومِ حنین کے موقع پر حضور علیہ السلام نے کئی زرہیں لیں اور صحابہ کو دے دیں، تو حضرت صفوان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہنے لگے: یا رسول اللہ! کیا یہ زرہیں آپ نے مجھ سے چھین لی ہیں؟ تو حضور علیہ السلام فرمانے لگے کہ نہیں، یہ زرہیں استعمال کے لیے لی گئی ہیں اور ان کا ضمان تمہیں ملے گا اگر یہ ضائع ہو گئیں۔ تو صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں حضور علیہ السلام نے حضرت صفوان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زرہیں لے کر اور صحابہ کو دیں، معلوم ہوا جہاد میں ضرورت ہو تو پھر ایک دوسرے کی مدد کی جا سکتی ہے مال کے ذریعے۔ تو کہتے ہیں ”يُؤَيِّدُهُ“ اس کی تائید ہوتی ہے اس بات سے ”أَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ أَخَذَ دُرُوعًا مِنْ صَفْوَانَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ“ کہ حضور علیہ السلام نے زرہیں لے لیں حضرت صفوان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے۔ ”وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ كَانَ يُغْزِي الْأَعْزَبَ عَنْ ذِي الْحَلِيلَةِ“ أَغْزَى يُغْزِي کا معنی ہے کسی کو جہاد کے لیے بھیجنا۔ اَعْزَب، اعزب اسے کہتے ہیں جس کی بیوی نہ ہو بھئی، یعنی یوں کہیں غیر شادی شدہ بھئی۔ غیر شادی شدہ۔ عَنْ ذِي الْحَلِيلَةِ، حلیلہ بیوی کو کہتے ہیں بھئی کیونکہ وہ انسان کے لیے حلال ہوتی ہے، تو بیوی کو کیا کہتے ہیں؟ حلیلہ۔ اور ذو الحلیلہ کا معنی ہے بیوی والا، جیسے ذو مال کا معنی ہے مال والا، تو ذو الحلیلہ سے مراد ہے شادی شدہ آدمی بھئی، جس کی بیوی موجود ہے یعنی شادی شدہ ہے۔ تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جہاد کے اندر غیر شادی شدہ کو ترجیح دیتے تھے شادی شدہ پر بھئی۔ تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ غیر شادی شدہ کو ترجیح دیتے تھے، اور پھر جہاد پر جانے والوں کے پاس اگر گھوڑا وغیرہ نہ ہوتا تھا تو جو لوگ جہاد پر نہیں جا رہے ان کے پاس اگر گھوڑے وغیرہ ہوتے تو حضرت عمر وہ لے کر ان مجاہدین کو دے دیتے تھے، معلوم ہوا ضرورت ہو تو جہاد کے موقع پر مجاہدین کی مدد کی جائے گی بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ كَانَ يُغْزِي الْأَعْزَبَ“ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جہاد پر بھیجتے تھے الاعزب غیر شادی شدہ کو ”عَنْ ذِي الْحَلِيلَةِ“ شادی شدہ کے مقابلے میں۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ غیر شادی شدہ کو بیوی والے کی طرف سے بھیجتے تھے یعنی اس کے مقابلے میں، اسے ترجیح دیتے تھے۔ ”وَيُعْطِي الشَّاخِصَ فَرَسَ الْقَاعِدِ“ شَخَصَ يَشْخُصُ کا معنی ہے روانہ ہونا، ”وَيُعْطِي الشَّاخِصَ“ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ عطا کر دیتے تھے الشاخص وہ جو جہاد پر روانہ ہوتا تھا اس کو ”فَرَسَ الْقَاعِدِ“ جہاد سے بیٹھنے والے کا گھوڑا، جو جہاد سے بیٹھا ہے یعنی جہاد پر نہیں جا رہا اس کا گھوڑا جہاد پر روانہ ہونے والے کو دے دیتے تھے۔ یہ معنی ہے: ”وَيُعْطِي الشَّاخِصَ فَرَسَ الْقَاعِدِ“ اور روانہ ہونے والے کو بیٹھنے والے کا گھوڑا دے دیتے تھے۔ آگے دیکھیے: ”بَابُ كَيْفِيَّةِ الْقِتَالِ“ یہ باب ہے لڑائی کی کیفیت کے بیان میں۔ بھئی یہاں تک صاحبِ ہدایہ نے بیان فرما دیا کہ جہاد فرضِ کفایہ ہے، اور کن کن لوگوں پر جہاد فرض ہے اور کن پر جہاد فرض نہیں ہے۔ اب اس لڑائی کا طریقہ بتلائیں گے کہ کس طرح جہاد پر جب نکلیں تو لڑائی کیسے کی جائے گی۔ صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ جہاد کے اندر جب نکلیں تو فوراً لڑائی شروع نہیں کی جائے گی بلکہ پہلے دشمن کو پیغام بھیجا جائے گا کہ وہ اسلام قبول کر لیں، اگر وہ اسلام قبول نہیں کرتے تو پھر انہیں کہا جائے گا کہ تم جزیہ ادا کرو، اگر وہ جزیہ بھی ادا نہیں کرتے پھر ان کے ساتھ لڑائی کی جائے گی، اور اگر وہ مسلمان ہو جاتے ہیں یا جزیہ دینے پر راضی ہو جاتے ہیں پھر ان سے لڑائی نہیں کی جائے گی۔ تو کہتے ہیں ”بَابُ كَيْفِيَّةِ الْقِتَالِ“ یہ باب ہے لڑائی کی کیفیت کے بیان میں۔ ”وَإِذَا دَخَلَ الْمُسْلِمُونَ دَارَ الْحَرْبِ فَحَاصَرُوا مَدِينَةً أَوْ حِصْنًا“ حَاصَرَ يُحَاصِرُ محاصرہ کے معنی ہیں محاصرہ کرنا، گھیرے میں لے لینا۔ اور حصن صاد کے ساتھ ہے، حصن قلعے کو کہتے ہیں۔ تو کہتے ہیں جب مسلمان دار الحرب میں داخل ہو گئے ”فَحَاصَرُوا مَدِينَةً أَوْ حِصْنًا“ پھر انہوں نے گھیرے میں لے لیا کسی شہر کو یا کسی قلعے کو، ”دَعَوْهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ“ تو مسلمان ان کو دعوت دیں گے اسلام کی طرف، ”لِمَا رَوَى ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا“ اس حدیث کی وجہ سے جس کو حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے روایت فرمایا ہے ”أَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ مَا قَاتَلَ قَوْمًا حَتَّى دَعَاهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ“ حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں ”أَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ مَا قَاتَلَ قَوْمًا“ کہ حضور علیہ السلام نے کسی قوم سے لڑائی نہیں کی ”حَتَّى دَعَاهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ“ یہاں تک کہ ان کو دعوت دی اسلام کی طرف۔ پہلے اسلام کی دعوت دیتے تھے پھر اگر وہ قبول نہ کرتے تو اس کے بعد لڑائی ہوتی۔ ”فَإِنْ أَجَابُوا“ یاد رکھو اَجَابَ يُجِيبُ اِجَابَةً کا معنی ہے قبول کرنا، ”فَإِنْ أَجَابُوا“ اگر ان دشمنوں نے اسلام قبول کر لیا، ”كَفُّوا عَنْ قِتَالِهِمْ“ تو مسلمان رک جائیں گے ان کے ساتھ لڑائی سے، ”لِحُصُولِ الْمَقْصُودِ“ مقصد حاصل ہو جانے کی وجہ سے، کہ مقصد بھی کیا تھا؟ اعلائے کلمۃ اللہ تھا اور وہ مقصد حاصل ہو گیا ہے، یہ لوگ مسلمان ہو گئے ہیں۔ تو کہتے ہیں ”لِحُصُولِ الْمَقْصُودِ“ مقصد حاصل ہونے کی وجہ سے۔ ”وَقَدْ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ“ اور تحقیق حضور علیہ السلام نے فرمایا ہے: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے لڑائی کروں یہاں تک کہ وہ لا الہ الا اللہ کہہ دیں، یہاں تک کہ وہ لا الہ الا اللہ کہہ دیں۔ دیکھو اس حدیث سے بھی معلوم ہوا کہ لا الہ الا اللہ کہنے کے بعد لڑائی نہیں کی جائے گی بھئی۔ تو کہتے ہیں ”أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ“ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے لڑائی کروں ”حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ“ یہاں تک کہ وہ لا الہ الا اللہ کہہ دیں، ”الْحَدِيثَ“ اس کو مرفوع پڑھ لیں، اس کو مبتدا بنا لیں اور خبر محذوف نکال لیں، الْحَدِيثُ مَعْرُوفٌ، حدیث معروف ہے، مشہور ہے۔ آگے دیکھیے: ”وَإِنِ امْتَنَعُوا دَعَوْهُمْ إِلَى أَدَاءِ الْجِزْيَةِ“ اور اگر وہ رکے رہے یعنی انہوں نے اسلام قبول نہیں کیا، ”دَعَوْهُمْ إِلَى أَدَاءِ الْجِزْيَةِ“ تو مسلمان ان کو دعوت دیں گے جزیہ ادا کرنے کی طرف، کہ ہمیں جزیہ ادا کر دو ہم تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچائیں گے، ہم تم سے جنگ نہیں کریں گے۔ تو کہتے ہیں ”وَإِنِ امْتَنَعُوا“ اور اگر وہ کفار رک گئے اسلام قبول کرنے سے، ”دَعَوْهُمْ إِلَى أَدَاءِ الْجِزْيَةِ“ تو مسلمان ان کو دعوت دیں گے جزیہ ادا کرنے کی طرف، ”بِهِ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ أُمَرَاءَ الْجُيُوشِ“ اسی کا حکم دیا تھا حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے امراء الجیوش لشکروں کے امیروں کو۔ جب حضور علیہ السلام کوئی لشکر روانہ فرماتے جہاد کے لیے تو لشکر کے جو امیر ہوتے تھے ان کو حضور علیہ السلام اسی بات کا حکم دیتے تھے، کہ اسلام کی دعوت دو اور اگر وہ اسلام قبول نہیں کرتے تو پھر ان کو جزیے کی دعوت دو، بات سمجھ میں آ گئی۔ ”وَلِأَنَّهُ أَحَدُ مَا يَنْتَهِي بِهِ الْقِتَالُ عَلَى مَا نَطَقَ بِهِ النَّصُّ“ اور اس لیے کیونکہ یہ بھی ان چیزوں میں سے ایک ہے جس کی وجہ سے لڑائی ختم ہو جاتی ہے، اس وجہ سے کہ جس پر نص نے تکلم کیا ہے۔ نص کے اندر آیا ہے بھئی، قرآن میں اللہ جہاد کا حکم دیتے ہوئے فرماتے ہیں: {قَاتِلُوا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ} کہ جو لوگ اللہ پر ایمان نہیں لاتے ان سے لڑائی کرو، اور آگے آخر میں اللہ فرماتے ہیں: {حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ} یہاں تک کہ یہ جزیہ دے دیں، معلوم ہوا کہ جب جزیہ دے دیں گے تو اس کے بعد ان سے لڑائی نہیں کی جائے گی، یہ بات قرآن سے معلوم ہو رہی ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَلِأَنَّهُ أَحَدُ مَا يَنْتَهِي بِهِ الْقِتَالُ“ اس لیے کیونکہ جزیہ دینا یہ بھی انہی چیزوں میں سے ایک چیز ہے جس کے ذریعے لڑائی ختم ہو جاتی ہے ”عَلَى مَا نَطَقَ بِهِ النَّصُّ“ اس وجہ سے جس پر نص نے تکلم کیا ہے۔ ”وَهَذَا فِي حَقِّ مَنْ يُقْبَلُ مِنْهُ الْجِزْيَةُ“ اور یہ ان کے حق میں ہے کہ جن سے جزیہ قبول کیا جا سکتا ہے۔ یاد رکھو جزیہ تمام کفار سے قبول نہیں کیا جا سکتا۔ اگر کوئی لوگ مرتد ہو گئے ہیں، پہلے مسلمان تھے اور اب مرتد ہو گئے تو ان سے جزیہ قبول نہیں کیا جا سکتا بھئی، وہ یا تو اسلام لے آئیں یا ان سے جنگ کی جائے گی اور ان کو قتل کیا جائے گا، ان کی طرف سے جزیہ قبول کرنا جائز نہیں ہے۔ یا اسی طرح جو عرب مشرکین ہیں، عرب مشرکین ہیں ان کا حکم بھی اور مشرکین سے الگ ہے، عرب کے مشرکین جو ہیں ان کا حکم بھی بڑا سخت ہے، وہ بھی یا تو اسلام لائیں گے یا ان سے جنگ کی جائے گی اور ان کو قتل کیا جائے گا، ان سے جزیہ قبول کرنا جائز نہیں ہے۔ ان سے لڑائی صرف اسلام لانے کی صورت پہ ختم ہو گی، اگر وہ اسلام لے آتے ہیں تو اچھی بات ہے، اگر وہ اسلام نہیں لاتے تو پھر ان سے لڑائی کی جائے گی اور ان کو قتل کر دیا جائے گا۔ وجہ یہ کہ قرآن ان کی زبان کے اندر نازل ہوا بھئی، تو یہ قرآن کے اعجاز کو سب سے زیادہ جاننے والے ہیں، قرآن سنتے ہی پتہ چل جاتا ہے کہ یہ انسانی کلام نہیں ہے، کسی انسان کے بس میں نہیں ہے کہ وہ اس قدر فصیح و بلیغ کلام کر سکے، تو قرآن کی فصاحت و بلاغت کے باوجود یہ اسلام نہیں لاتے تو ان سے جزیہ نہیں لیا جائے گا بلکہ ان سے لڑائی کی جائے گی بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَهَذَا فِي حَقِّ مَنْ يُقْبَلُ مِنْهُ الْجِزْيَةُ“ اور یہ ان کے حق میں ہے جن سے جزیہ قبول کیا جائے گا، ”وَمَنْ لَا تُقْبَلُ مِنْهُ كَالْمُرْتَدِّينَ وَعَبَدَةِ الْأَوْثَانِ مِنَ الْعَرَبِ“ اور جن سے جزیہ قبول نہیں کیا جائے گا جیسے کہ مرتد ہیں اور وہ جو بت پرست ہیں عربوں میں سے، اوثان وثن کی جمع ہے، بت کو کہتے ہیں، ”وَعَبَدَةِ الْأَوْثَانِ مِنَ الْعَرَبِ“ اور جو عرب کے بت پرست ہیں، تو ان سے جزیہ قبول نہیں کیا جا سکتا، ”فَلَا فَائِدَةَ فِي دُعَائِهِمْ إِلَى قَبُولِ الْجِزْيَةِ“ تو کوئی فائدہ نہیں ہے ان کو جزیہ قبول کرنے کی طرف دعوت دینے کا، ”لِأَنَّهُمْ لَا يُقْبَلُ مِنْهُمْ إِلَّا الْإِسْلَامُ“ اس لیے کیونکہ ان سے قبول نہیں کیا جا سکتا سوائے اسلام کے، یعنی اسلام کے علاوہ کوئی اور چیز ان سے قبول نہیں کی جا سکتی۔ ”قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: {تُقَاتِلُونَهُمْ أَوْ يُسْلِمُونَ}“ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں: {تُقَاتِلُونَهُمْ أَوْ يُسْلِمُونَ}۔ {تُقَاتِلُونَهُمْ} یعنی کہ تم ان سے، یہ جو مشرکینِ عرب ہیں، ان سے تم لڑائی کرو، {أَوْ يُسْلِمُونَ} أَيْ: إِلَى أَنْ يُسْلِمُوا، یہاں تک کہ یہ اسلام لے آئیں بھئی۔ معلوم ہوا مشرکینِ عرب جو ہیں ان کا حکم الگ ہے، ان سے صرف اسلام کو قبول کیا جائے گا، اگر وہ اسلام لے آتے ہیں تو اچھی بات ہے، ورنہ ان سے لڑائی کی جائے گی اور ان سب کو قتل کر دیا جائے گا بھئی۔ یہ معنی ہے: ”قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: {تُقَاتِلُونَهُمْ أَوْ يُسْلِمُونَ}“ اللہ قرآن میں فرماتے ہیں: {تُقَاتِلُونَهُمْ أَوْ يُسْلِمُونَ} کہ تم ان سے لڑائی کرو، یعنی ان مشرکینِ عرب سے تم قتال کرو، {أَوْ يُسْلِمُونَ} یا یہ کہ وہ مسلمان ہو جائیں، اور میں نے بتایا یہ {أَوْ} کس معنی میں ہے؟ {إِلَى أَنْ} کے معنی میں ہے، کہ تم ان سے لڑائی کرو یہاں تک کہ یہ مسلمان ہو جائیں۔ اگر مسلمان نہیں ہوتے تو لڑائی کی جائے گی اور انہیں قتل کر دیا جائے گا۔ آگے دیکھیے: ”فَإِنْ بَذَلُوهَا فَلَهُمْ مَا لِلْمُسْلِمِينَ وَعَلَيْهِمْ مَا عَلَى الْمُسْلِمِينَ“ بھئی پہلی صورت کیا تھی کہ مشرکین کو دعوتِ اسلام دی جائے گی، اگر اسلام قبول نہیں کرتے تو پھر ان کو جزیہ قبول کرنے کی دعوت دی جائے گی، اگر وہ جزیہ قبول کر لیتے ہیں پھر بھی ان سے جنگ نہیں کی جائے گی، یہی بیان فرما رہے ہیں: ”فَإِنْ بَذَلُوهَا“ اگر انہوں نے وہ جزیہ قبول کر لیا، بَذَلَ يَبْذُلُ کا معنی ہوتا ہے خرچ کرنا اور ادا کرنا، لیکن یہاں مراد ہے قبول کرنا، صاحبِ ہدایہ بھی آپ کو بتلائیں گے کہ یہاں بذل سے کیا مراد ہے؟ قبول کرنا۔ کہتے ہیں ”فَإِنْ بَذَلُوهَا“ اگر ان مشرکین نے جزیہ قبول کر لیا ”فَلَهُمْ مَا لِلْمُسْلِمِينَ“ تو ان کے بھی وہی حقوق ہوں گے جو مسلمانوں کے ہیں ”وَعَلَيْهِمْ مَا عَلَى الْمُسْلِمِينَ“ اور ان پر بھی وہی ذمہ داریاں ہوں گی جو مسلمانوں پر ہیں، یعنی جیسے مسلمانوں کا جان اور مال محفوظ ہے ان کا بھی جان اور مال محفوظ ہے۔ ”لِقَوْلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ: إِنَّمَا بَذَلُوا الْجِزْيَةَ لِيَكُونَ دِمَاؤُهُمْ كَدِمَائِنَا وَأَمْوَالُهُمْ كَأَمْوَالِنَا“ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قول کی وجہ سے: إِنَّمَا بَذَلُوا الْجِزْيَةَ کہ انہوں نے جزیہ قبول کیا ہے لِيَكُونَ دِمَاؤُهُمْ كَدِمَائِنَا تاکہ ان کے خون ہمارے خونوں کی طرح ہو جائیں وَأَمْوَالُهُمْ كَأَمْوَالِنَا اور ان کے مال ہمارے مالوں کی طرح ہو جائیں۔ بعض قبیلوں نے جزیہ دینا قبول کر لیا تھا تو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمانے لگے کہ انہوں نے جزیہ قبول کیا ہے تاکہ ان کے خون بھی ہمارے خونوں کی طرح ہو جائیں، یعنی جیسے ہمارے خون معصوم اور محفوظ ہیں ان کے بھی خون محفوظ ہو جائیں، اور جیسے ہمارے مال محفوظ ہیں اسی طرح ان کے مال بھی محفوظ ہو جائیں، اس لیے انہوں نے جزیہ دینا قبول کیا ہے۔ پھر دیکھ لیجیے: ”لِقَوْلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ“ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قول کی وجہ سے کہ آپ نے فرمایا: ”إِنَّمَا بَذَلُوا الْجِزْيَةَ لِيَكُونَ دِمَاؤُهُمْ كَدِمَائِنَا وَأَمْوَالُهُمْ كَأَمْوَالِنَا“ کہ ان مشرکین نے جزیہ قبول کیا ہے تاکہ ان کے خون بھی ہمارے خونوں کی طرح ہو جائیں اور ان کے مال بھی ہمارے مالوں کی طرح ہو جائیں یعنی محفوظ ہو جائیں۔ ”وَالْمُرَادُ بِالْبَذْلِ الْقَبُولُ“ اوپر متن میں جو آیا تھا ”فَإِنْ بَذَلُوهَا“ میں نے بتایا تھا اس کا کیا معنی ہے؟ قبول کرنا، وہی بیان فرما رہے ہیں، کہتے ہیں ”وَالْمُرَادُ بِالْبَذْلِ الْقَبُولُ“ اور بذل سے مراد جو ہے قبول کرنا ہے۔ ویسے میں نے بتلایا بذل کا کیا معنی ہے؟ خرچ کرنا، خرچ کرنا اور ادا کرنا، اور مراد کیا ہے؟ قبول کرنا، کیونکہ قبول کرنا ہی سبب ہے خرچ کرنے کا، تو یہاں مسبَّب بول کر سبب کا ارادہ کیا گیا ہے، کیونکہ قبول کریں گے تو پھر ادا بھی کریں گے، تو قبول کرنا ہے سبب اور خرچ کرنا اور ادا کرنا یہ ہے مسبَّب، تو مسبَّب بول کر سبب کا ارادہ کیا گیا ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو قبول کریں گے پھر ہی ادا بھی کریں گے یعنی خرچ بھی کریں گے، تو مسبَّب بول کر کیا مراد ہے؟ سبب مراد ہے۔ تو کہتے ہیں ”وَالْمُرَادُ بِالْبَذْلِ الْقَبُولُ“ تو بذل سے مراد قبول کرنا ہے، ”وَكَذَا الْمُرَادُ بِالْإِعْطَاءِ الْمَذْكُورِ فِيهِ فِي الْقُرْآنِ“ اور اسی طرح وہ اعطاء جو قرآن کے اندر جزیہ کے بارے میں مذکور ہے اس سے بھی یہی مراد ہے۔ قرآن کے اندر اللہ فرماتے ہیں: {حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ} یہاں تک کہ وہ جزیہ دے دیں، یہاں بھی کیا معنی ہے؟ یہاں تک کہ وہ جزیہ قبول کر لیں، توجہ ہے؟ تو یہ معنی ہے: ”وَكَذَا الْمُرَادُ بِالْإِعْطَاءِ الْمَذْكُورِ“ اور یہی مراد ہے اس اعطاء سے بھی جو مذکور ہے ”فِيهِ“ اس جزیہ کے بارے میں ”فِي الْقُرْآنِ“ قرآن کے اندر، ”وَاللَّهُ أَعْلَمُ“ اور اللہ خوب جاننے والے ہیں، ہم نے تو یہ معنی بیان کر دیا، کہ قرآن کے اندر بھی اعطاء سے مراد قبول کرنا ہے باقی حقیقت تو اللہ ہی جانتے ہیں، ہمیں یہی معنی اس سے سمجھ میں آیا۔ بھئی سوال پیدا ہوتا ہے کہ متن کے اندر آیا تھا ”فَإِنْ بَذَلُوهَا“ اگر انہوں نے جزیہ خرچ کیا، صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں اس کا معنی یہ ہے اگر انہوں نے جزیہ قبول کر لیا، اور قرآن کے اندر بھی آیا ہے {حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ} یہاں تک کہ یہ جزیہ دے دیں، اور صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں کہ قرآن کے اندر بھی اعطاء سے مراد قبول کرنا ہے، اس کی وجہ کیا ہے؟ بھئی وجہ یہ ہے کہ جب یہ جزیہ قبول کر لیں گے تو جنگ ختم ہو جائے گی، اور اگر بذل کا اپنا معنی کریں تو اس کا مطلب ہے جب تک وہ جزیہ دیں گے نہیں اس وقت تک جنگ ختم نہیں، {حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ} یہاں تک کہ وہ جزیہ دے دیں تو اس میں بھی دینے کا ذکر ہے، حالانکہ جزیہ جب قبول کر لیا تو اسی وقت ادا کرنا ضروری نہیں ہے، اس میں باقاعدہ وقت مقرر کیا جائے گا بھئی کہ سال کے اندر فلاں مہینے کے اندر تم ہمیں اتنا جزیہ ادا کیا کرو گے، تو اگر بذل کا اور اعطاء کا اپنا معنی کریں تو مطلب یہ ہے کہ جب تک جزیہ دیا نہیں تب تک جنگ بھی ختم نہیں، اور اگر ان کا معنی قبول کرنے کے کر لیں تو مطلب یہ ہے جیسے ہی انہوں نے جزیہ قبول کر لیا تو اب ان سے جنگ نہیں کی جا سکتی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ چلیے بس بھئی هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔ کے حق میں فرضِ عین کے سلسلے میں یہ غلام کی غلامی اور بیوی کے مِلکِ نکاح وہ ظاہر نہیں ہوتی، ان پر وہ فرضِ عین ضروری ہوتا ہے جیسے نماز اور روزہ۔ غلام بے شک غلام ہے لیکن نماز، روزہ اس پر فرض ہے۔ عورت کا بے شک نکاح ہوا ہے لیکن نماز اور روزہ اس پر فرض ہے۔ تو فرضِ عین کے سلسلے میں نہ یہ مِلکِ یمین رکاوٹ بن سکتی ہے اور نہ مِلکِ نکاح بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَمِلْكُ الْيَمِينِ وَرِقُّ النِّكَاحِ لَا يَظْهَرُ فِي حَقِّ فُرُوضِ الْأَعْيَانِ كَمَا فِي الصَّلَاةِ وَالصَّوْمِ“ اور مِلکِ یمین جو ہے اور نکاح کی غلامی جو ہے وہ فرضِ عین کے حق میں ظاہر نہیں ہوتے، جیسا کہ نماز اور روزے میں ہے۔ ”بِخِلَافِ مَا قَبْلَ النَّفِيرِ“ ہاں، بخلاف نفیر سے پہلے، کہ اس سے پہلے جہاد کیا ہے؟ فرضِ کفایہ ہے، تو عورت اور غلام پر تو فرض ہی نہیں ہے، لہٰذا اس صورت میں پھر وہ جہاد پر نہیں جائیں گے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”بِخِلَافِ مَا قَبْلَ النَّفِيرِ“ بخلاف نفیرِ عام سے پہلے، ”لِأَنَّ بِغَيْرِهِمَا مَقْنَعًا“ اس لیے کیونکہ ان کے بغیر بھی مقنعاً، کفایت ہوگی۔ مقنع کا کیا معنی؟ کفایت۔ جب جہاد فرضِ کفایہ ہے، معلوم ہوا تمام لوگوں کے جانے کی ضرورت نہیں، تو لہٰذا تو غلام اور عورت جو ہیں ان پر تو جہاد واجب ہی نہیں، تو پھر یہ بھی نہیں جائیں گے۔ تو یہ معنی ہے: ”لِأَنَّ بِغَيْرِهِمَا مَقْنَعًا فَلَا ضَرُورَةَ إِلَى إِبْطَالِ حَقِّ الْمَوْلَى وَالزَّوْجِ“ لہٰذا کوئی ضرورت نہیں ہے کہ آقا اور خاوند کے حق کو باطل کیا جائے۔ آگے دیکھیے: ”وَيُكْرَهُ الْجُعْلُ مَا دَامَ لِلْمُسْلِمِينَ فَيْءٌ“ جُعل کہتے ہیں اجرت اور مزدوری کو۔ ایک آدمی آپ کے پاس کام کرتا ہے اور پھر آپ اس کو جو پیسے دیتے ہیں، یہ کیا ہے؟ اجرت اور مزدوری ہے، اس کو عربی میں جُعل کہتے ہیں۔ اور یہاں ایک لفظ آ رہا ہے ”فَيْءٌ“۔ یاد رکھو مالِ فئی بھئی، وہ مال ہے جو مسلمانوں کو لڑائی کے بغیر حاصل ہو، اس کو مالِ فئی کہتے ہیں۔ مثلاً ذمی جو ہیں دار الاسلام میں رہتے ہیں، وہ سالانہ ٹیکس دیتے ہیں جسے جزیہ کہتے ہیں۔ یہ جو جزیہ مسلمانوں کو حاصل ہوتا ہے یہ بغیر لڑائی کے حاصل ہو رہا ہے، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ مالِ فئی بھئی۔ یا اسی طرح ذمیوں کی جو زمینیں ہیں ان سے خراج وصول کیا جاتا ہے۔ ان کی زمینوں سے خراج وصول کیا جاتا ہے، تو یہ بھی دیکھو ایسا مال ہے جو بغیر لڑائی کے مسلمانوں کو حاصل ہو رہا ہے، اس کو مالِ فئی کہتے ہیں، فا، یا اور ہمزہ، فَيْءٌ بھئی۔ اور اگر لڑائی سے جو مال حاصل ہو اس کو مالِ غنیمت کہتے ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَيُكْرَهُ الْجُعْلُ مَا دَامَ لِلْمُسْلِمِينَ فَيْءٌ“ اور مکروہ ہے اجرت جب تک مسلمانوں کے لیے مالِ فئی ہے۔ بھئی یہاں سے آپ کو بتلائیں گے کہ جہاد کے لیے حاکم عام مسلمانوں پر ٹیکس لگا دے، یہ مکروہ ہے۔ جہاد کی ضرورت پیش آگئی، کچھ مسلمان لڑنے کے لیے جا رہے ہیں اور جو پیچھے باقی ہیں، حاکم ان پر ٹیکس لگا دیتا ہے کہ اتنے اتنے پیسے ادا کرو تاکہ لشکر کی مدد ہو جائے، تو کہتے ہیں یہ مکروہ ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَيُكْرَهُ الْجُعْلُ“ اور مکروہ ہے ٹیکس لگانا، ”مَا دَامَ لِلْمُسْلِمِينَ فَيْءٌ“ جب تک مسلمانوں کے لیے مالِ فئی موجود ہے، ”لِأَنَّهُ يُشْبِهُ الْأَجْرَ“ اس لیے کیونکہ یہ اجرت کے مشابہ ہے۔ یہ تو کس کے مشابہ ہو گیا؟ اجرت کے مشابہ ہو گیا، گویا جہاد پر نہیں جا رہے تو ان سے اجرت لے رہا ہے، یا یوں کہو جیسے اجرت کی طرح ہو گیا کہ ان سے لے گا اور وہ لشکر والوں کو دے گا، یہ تو ان کو جہاد جو عبادت تھی اس کی اجرت دے رہا ہے اور اطاعت کی تو اجرت دینا جائز نہیں ہے بھئی۔ تو یہ معنی ہے: ”لِأَنَّهُ يُشْبِهُ الْأَجْرَ وَلَا ضَرُورَةَ إِلَيْهِ“ اس لیے کیونکہ یہ اجرت کے مشابہ ہے اور نیز اس کی ضرورت بھی نہیں ہے، ”لِأَنَّ مَالَ بَيْتِ الْمَالِ مُعَدٌّ لِنَوَائِبِ الْمُسْلِمِينَ“ اس لیے کیونکہ بیت المال کا جو مال ہے، ”مُعَدٌّ“ اس کو تیار کیا گیا ہے ”لِنَوَائِبِ الْمُسْلِمِينَ“ مسلمانوں کی مصیبتوں اور حادثات کے لیے۔ نوائب جمع ہے نائبۃ کی، اور نائبہ کہتے ہیں حادثے کو اور مصیبت کو بھئی۔ کہتے ہیں: ”لِأَنَّ مَالَ بَيْتِ الْمَالِ مُعَدٌّ لِنَوَائِبِ الْمُسْلِمِينَ“ اس لیے کیونکہ بیت المال کا جو مال ہے وہ مسلمانوں کے حوادثات اور مصیبتوں کے لیے تیار کیا گیا ہے، ”فَإِذَا لَمْ يَكُنْ“ ہاں، جب مالِ فئی نہ ہو، ”فَإِذَا لَمْ يَكُنْ“ جب مالِ فئی نہ ہو، ”فَلَا بَأْسَ“ پھر کوئی حرج نہیں ہے، پھر تو ضرورت ہے، پھر حاکم لوگوں سے ٹیکس وصول کر سکتا ہے بھئی۔ اور نیز اس لیے بھی کیونکہ اس صورت میں یہ جہاد بالمال بن جائے گا۔ کیا بن جائے گا؟ جہاد بالمال بن جائے گا، کہ بھئی اللہ نے جانوں اور مالوں کے ساتھ جہاد کرنے کا حکم دیا ہے، تو جو لوگ پیچھے بیٹھے ہیں وہ اپنی جانوں کے ساتھ تم جہاد نہیں کر رہے تو وہ مال کے ساتھ جہاد کر رہے ہیں بھئی۔ یہ معنی ہے: ”فَإِذَا لَمْ يَكُنْ“ جب کوئی چیز بیت المال میں نہ ہو، ”فَلَا بَأْسَ بِأَنْ يُقَوِّيَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا“ تو پھر کوئی حرج نہیں ہے بایں صورت کہ بعض بعض کو طاقتور بنائیں، قوّٰی یقوّی تقویۃ کا معنی ہے دوسرے کو طاقتور بنانا، مضبوط کرنا، تو پھر کوئی حرج نہیں ہے ”بِأَنْ يُقَوِّيَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا“ کہ وہ بعض بعض کو طاقتور کریں، یا یوں بامحاورہ ترجمہ یوں کریں ”بِأَنْ يُقَوِّيَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا“ کہ وہ ایک دوسرے کو طاقتور کریں، پھر کوئی حرج نہیں ہے کہ ایک دوسرے کو طاقتور بنائیں، ”لِأَنَّ فِيهِ دَفْعَ الضَّرَرِ الْأَعْلَى بِإِلْحَاقِ الْأَدْنَى“ اس لیے کیونکہ اس کے اندر اعلٰی یعنی بڑے ضرر کو دور کرنا ہے ادنٰی ضرر ملاتے ہوئے، یعنی مسلمانوں سے مال لیا جا رہا ہے تو نقصان تو ان کا ہو رہا ہے لیکن یہ کم درجے کا نقصان ہے اور اس کی وجہ سے بڑا ضرر اور شر جو ہے دشمن کا وہ دور ہو جائے گا۔ تو بڑی تکلیف کو دور کرنے کے لیے تھوڑی تکلیف کو برداشت کیا جا سکتا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ فِيهِ دَفْعَ الضَّرَرِ الْأَعْلَى بِإِلْحَاقِ الْأَدْنَى“ اس لیے کیونکہ اس کے اندر جو اونچا ضرر ہے اس کو دور کرنا ہے ادنٰی ضرر ملاتے ہوئے، ”يُؤَيِّدُهُ أَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ أَخَذَ دُرُوعًا مِنْ صَفْوَانَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ“ دُرُوعًا بھئی، دروع جمع ہے درع کی اور درع کہتے ہیں وہ جنگی لباس بھئی، وہ جو لوہے کی لوہے کی قمیص بنی ہوتی ہے جسے جنگ کے اندر، جہاد کے اندر پہنا جاتا ہے تاکہ اپنے آپ کو تیروں سے اور تلوار کے وار سے محفوظ کیا جا سکے۔ تو صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں کہ اگر ضرورت ہو تو پھر ایک دوسرے کی مدد کی جا سکتی ہے جہاد کے اندر، اس کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفوان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کئی زرہیں لیں اور عام صحابہ کو دے دیں۔ حضرت صفوان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ذکر پیچھے بھی آیا تھا بھئی باب السرقة کے اندر، کہ حضرت صفوان رضی اللہ تعالیٰ عنہ تاخیر سے اسلام لائے تھے اور یہ مسجد نبوی میں سوئے ہوئے تھے اور ان کے سر کے نیچے ان کی چادر تھی، ایک چور نے وہ چادر چرانے کی کوشش کی اور وہ چادر اٹھا لی کہ حضرت صفوان رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیدار ہو گئے اور ان کو پکڑ لیا، اور حضور علیہ السلام نے پھر اس چور کا ہاتھ کٹوا دیا تھا۔ تو یہ حضرت صفوان رضی اللہ تعالیٰ عنہ، ان سے یومِ حنین کے موقع پر حضور علیہ السلام نے کئی زرہیں لیں اور صحابہ کو دے دیں۔ تو حضرت صفوان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہنے لگے: یا رسول اللہ! کیا یہ زرہیں آپ نے مجھ سے چھین لی ہیں؟ تو حضور علیہ السلام فرمانے لگے کہ نہیں، یہ زرہیں استعمال کے لیے لی گئی ہیں اور ان کا ضمان تمہیں ملے گا اگر یہ ضائع ہو گئیں۔ تو صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں: حضور علیہ السلام نے حضرت صفوان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زرہیں لے کر اور صحابہ کو دیں، معلوم ہوا جہاد میں ضرورت ہو تو پھر ایک دوسرے کی مدد کی جا سکتی ہے مال کے ذریعے۔ تو کہتے ہیں: ”يُؤَيِّدُهُ“ اس کی تائید ہوتی ہے اس بات سے، ”أَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ أَخَذَ دُرُوعًا مِنْ صَفْوَانَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ“ کہ حضور علیہ السلام نے زرہیں لے لیں حضرت صفوان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے، ”وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ كَانَ يُغْزِي الْأَعْزَبَ عَنْ ذِي الْحَلِيلَةِ“ اغزٰی یغزی کا معنی ہے کسی کو جہاد کے لیے بھیجنا، اعزب، اعزب اسے کہتے ہیں جس کی بیوی نہ ہو بھئی، یعنی یوں کہیں غیر شادی شدہ بھئی۔ غیر شادی شدہ۔ ”عَنْ ذِي الْحَلِيلَةِ“ حلیلہ بیوی کو کہتے ہیں بھئی، کیونکہ وہ انسان کے لیے حلال ہوتی ہے، تو بیوی کو کیا کہتے ہیں؟ حلیلہ۔ اور ذو الحلیلہ کا معنی ہے بیوی والا، جیسے ذو مال کا معنی ہے مال والا، تو ذو الحلیلہ سے مراد ہے شادی شدہ آدمی بھئی جس کی بیوی موجود ہے یعنی شادی شدہ ہے۔ تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جہاد کے اندر غیر شادی شدہ کو ترجیح دیتے تھے شادی شدہ پر بھئی۔ تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ غیر شادی شدہ کو ترجیح دیتے تھے اور پھر جہاد پر جانے والوں کے پاس اگر گھوڑا وغیرہ نہ ہوتا تھا تو جو لوگ جہاد پر نہیں جا رہے ان کے پاس اگر گھوڑے وغیرہ ہوتے تو حضرت عمر وہ لے کر ان مجاہدین کو دے دیتے تھے، معلوم ہوا ضرورت ہو تو جہاد کے موقع پر مجاہدین کی مدد کی جائے گی بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ كَانَ يُغْزِي الْأَعْزَبَ“ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جہاد پر بھیجتے تھے اعزب، غیر شادی شدہ کو، ”عَنْ ذِي الْحَلِيلَةِ“ شادی شدہ کے مقابلے میں۔ ہاں، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ غیر شادی شدہ کو بیوی والے کی طرف سے بھیجتے تھے یعنی اس کے مقابلے میں اسے ترجیح دیتے تھے، ”وَيُعْطِي الشَّاخِصَ فَرَسَ الْقَاعِدِ“ شَخَصَ يَشْخَصُ کا معنی ہے روانہ ہونا، ”وَيُعْطِي الشَّاخِصَ“ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ عطا کر دیتے تھے شاخص، وہ جو جہاد پر روانہ ہوتا تھا اس کو، ”فَرَسَ الْقَاعِدِ“ جہاد سے بیٹھنے والے کا گھوڑا، جو جہاد سے بیٹھا ہے یعنی جہاد پر نہیں جا رہا اس کا گھوڑا جہاد پر روانہ ہونے والے کو دے دیتے تھے، یہ معنی ہے: ”وَيُعْطِي الشَّاخِصَ فَرَسَ الْقَاعِدِ“ اور روانہ ہونے والے کو بیٹھنے والے کا گھوڑا دے دیتے تھے۔ آگے دیکھیے: ”بَابُ كَيْفِيَّةِ الْقِتَالِ“ یہ باب ہے لڑائی کی کیفیت کے بیان میں۔ بھئی یہاں تک صاحبِ ہدایہ نے بیان فرما دیا کہ جہاد فرضِ کفایہ ہے اور کن کن لوگوں پر جہاد فرض ہے اور کن پر جہاد فرض نہیں ہے۔ اب اس لڑائی کا طریقہ بتلائیں گے کہ کس طرح جہاد پر جب نکلیں تو لڑائی کیسے کی جائے گی۔ صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ جہاد کے اندر جب نکلیں تو فوراً لڑائی شروع نہیں کی جائے گی، بلکہ پہلے دشمن کو پیغام بھیجا جائے گا کہ وہ اسلام قبول کر لیں۔ اگر وہ اسلام قبول نہیں کرتے تو پھر انہیں کہا جائے گا کہ تم جزیہ ادا کرو، اگر وہ جزیہ بھی ادا نہیں کرتے پھر ان کے ساتھ لڑائی کی جائے گی، اور اگر وہ مسلمان ہو جاتے ہیں یا جزیہ دینے پر راضی ہو جاتے ہیں پھر ان سے لڑائی نہیں کی جائے گی۔ تو کہتے ہیں: ”بَابُ كَيْفِيَّةِ الْقِتَالِ“ یہ باب ہے لڑائی کی کیفیت کے بیان میں، ”وَإِذَا دَخَلَ الْمُسْلِمُونَ دَارَ الْحَرْبِ“ اور جب مسلمان دار الحرب میں داخل ہو جائیں، ”فَحَاصَرُوا مَدِينَةً أَوْ حِصْنًا“ حاصر یحاصر محاصرہ کے معنی ہیں محاصرہ کرنا، گھیرے میں لے لینا، اور حصن بھئی ص کے ساتھ ہے، حصن قلعے کو کہتے ہیں، تو کہتے ہیں جب مسلمان دار الحرب میں داخل ہو گئے، ”فَحَاصَرُوا مَدِينَةً أَوْ حِصْنًا“ پھر انہوں نے گھیرے میں لے لیا کسی شہر کو یا کسی قلعے کو، ”دَعَوْهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ“ تو مسلمان ان کو دعوت دیں گے اسلام کی طرف، ”لِمَا رَوَى ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا“ اس حدیث کی وجہ سے جس کو حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے روایت فرمایا ہے، ”أَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ مَا قَاتَلَ قَوْمًا حَتَّى دَعَاهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ“ حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور علیہ السلام نے کسی قوم سے لڑائی نہیں کی یہاں تک کہ ان کو دعوت دی اسلام کی طرف۔ پہلے اسلام کی دعوت دیتے تھے، پھر اگر وہ قبول نہ کرتے تو اس کے بعد لڑائی ہوتی۔ ”فَإِنْ أَجَابُوا“ یاد رکھو اجاب یجیب اجابۃً کا معنی ہے قبول کرنا، ”فَإِنْ أَجَابُوا“ اگر ان دشمنوں نے اسلام قبول کر لیا، ”كَفُّوا عَنْ قِتَالِهِمْ“ تو مسلمان رک جائیں گے ان کے ساتھ لڑائی سے، ”لِحُصُولِ الْمَقْصُودِ“ مقصد حاصل ہو جانے کی وجہ سے، کہ مقصد بھی کیا تھا؟ اعلائے کلمۃ اللہ تھا اور وہ مقصد حاصل ہو گیا ہے، یہ لوگ مسلمان ہو گئے ہیں۔ تو کہتے ہیں ”لِحُصُولِ الْمَقْصُودِ“ مقصد حاصل ہونے کی وجہ سے، ”وَقَدْ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ“ اور تحقیق حضور علیہ السلام نے فرمایا ہے: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے لڑائی کروں یہاں تک کہ وہ لا الٰہ الا اللہ کہہ دیں، یہاں تک کہ وہ لا الٰہ الا اللہ کہہ دیں، دیکھو اس حدیث سے بھی معلوم ہوا کہ لا الٰہ الا اللہ کہنے کے بعد لڑائی نہیں کی جائے گی بھئی۔ تو کہتے ہیں ”أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ“ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے لڑائی کروں یہاں تک کہ وہ لا الٰہ الا اللہ کہہ دیں، ”الْحَدِيثَ“ اس کو مرفوع پڑھ لیں، اس کو مبتدا بنا لیں اور خبر محذوف نکال لیں: ”الْحَدِيثُ مَعْرُوفٌ“ حدیث معروف ہے، مشہور ہے۔ آگے دیکھیے: ”وَإِنِ امْتَنَعُوا دَعَوْهُمْ إِلَى أَدَاءِ الْجِزْيَةِ“ اور اگر وہ رکے رہے یعنی انہوں نے اسلام قبول نہیں کیا، ”دَعَوْهُمْ إِلَى أَدَاءِ الْجِزْيَةِ“ تو مسلمان ان کو دعوت دیں گے جزیہ ادا کرنے کی طرف کہ ہمیں جزیہ ادا کر دو، ہم تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچائیں گے، ہم تم سے جنگ نہیں کریں گے۔ تو کہتے ہیں ”وَإِنِ امْتَنَعُوا“ اور اگر وہ کفار رک گئے اسلام قبول کرنے سے، ”دَعَوْهُمْ إِلَى أَدَاءِ الْجِزْيَةِ“ تو مسلمان ان کو دعوت دیں گے جزیہ ادا کرنے کی طرف، ”بِهِ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ أُمَرَاءَ الْجُيُوشِ“ اسی کا حکم دیا تھا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے لشکروں کے امیروں کو، جب حضور علیہ السلام کوئی لشکر روانہ فرماتے جہاد کے لیے تو لشکر کے جو امیر ہوتے تھے ان کو حضور علیہ السلام اسی بات کا حکم دیتے تھے کہ اسلام کی دعوت دو اور اگر وہ اسلام قبول نہیں کرتے تو پھر ان کو جزیے کی دعوت دو، بات سمجھ میں آگئی۔ ”وَلِأَنَّهُ أَحَدُ مَا يَنْتَهِي بِهِ الْقِتَالُ“ اور اس لیے کیونکہ یہ بھی ان چیزوں میں سے ایک ہے جس کی وجہ سے لڑائی ختم ہو جاتی ہے، ”عَلَى مَا نَطَقَ بِهِ النَّصُّ“ اس وجہ سے کہ جس پر نص نے تکلم کیا ہے، نص کے اندر آیا ہے بھئی۔ قرآن میں اللہ جہاد کا حکم دیتے ہوئے فرماتے ہیں: ﴿قَاتِلُوا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ﴾ کہ جو لوگ اللہ پر ایمان نہیں لاتے ان سے لڑائی کرو، اور آگے آخر میں اللہ فرماتے ہیں: ﴿حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ﴾ یہاں تک کہ یہ جزیہ دے دیں۔ معلوم ہوا کہ جب جزیہ دے دیں گے تو اس کے بعد ان سے لڑائی نہیں کی جائے گی، یہ بات قرآن سے معلوم ہو رہی ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّهُ أَحَدُ مَا يَنْتَهِي بِهِ الْقِتَالُ“ اس لیے کیونکہ جزیہ دینا یہ بھی انہی چیزوں میں سے ایک چیز ہے جس کے ذریعے لڑائی ختم ہو جاتی ہے، ”عَلَى مَا نَطَقَ بِهِ النَّصُّ“ اس وجہ سے جس پر نص نے تکلم کیا ہے۔ ”وَهَذَا فِي حَقِّ مَنْ يُقْبَلُ مِنْهُ الْجِزْيَةُ“ اور یہ ان کے حق میں ہے کہ جن سے جزیہ قبول کیا جا سکتا ہے۔ یاد رکھو جزیہ تمام کفار سے قبول نہیں کیا جا سکتا، اگر کوئی لوگ مرتد ہو گئے ہیں، پہلے مسلمان تھے اور اب مرتد ہو گئے تو ان سے جزیہ قبول نہیں کیا جا سکتا بھئی، وہ یا تو اسلام لے آئیں یا ان سے جنگ کی جائے گی اور ان کو قتل کیا جائے گا، ان کی طرف سے جزیہ قبول کرنا جائز نہیں ہے۔ یا اسی طرح جو عرب مشرکین ہیں، عرب مشرکین ہیں ان کا حکم بھی اور مشرکین سے الگ ہے۔ عرب کے مشرکین جو ہیں ان کا حکم بھی بڑا سخت ہے، وہ بھی یا تو اسلام لائیں گے یا ان سے جنگ کی جائے گی اور ان کو قتل کیا جائے گا، ان سے جزیہ قبول کرنا جائز نہیں ہے۔ ان سے لڑائی صرف اسلام لانے کی صورت پر ختم ہوگی، اگر وہ اسلام لے آتے ہیں تو اچھی بات ہے، اگر وہ اسلام نہیں لاتے تو پھر ان سے لڑائی کی جائے گی اور ان کو قتل کر دیا جائے گا۔ وجہ یہ کہ قرآن ان کی زبان کے اندر نازل ہوا بھئی، تو یہ قرآن کے اعجاز کو سب سے زیادہ جاننے والے ہیں، قرآن سنتے ہی پتہ چل جاتا ہے کہ یہ انسانی کلام نہیں ہے، کسی انسان کے بس میں نہیں ہے کہ وہ اس قدر فصیح و بلیغ کلام کر سکے۔ تو قرآن کی فصاحت و بلاغت کے باوجود یہ اسلام نہیں لاتے تو ان سے جزیہ نہیں لیا جائے گا بلکہ ان سے لڑائی کی جائے گی بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَهَذَا فِي حَقِّ مَنْ يُقْبَلُ مِنْهُ الْجِزْيَةُ“ اور یہ ان کے حق میں ہے جن سے جزیہ قبول کیا جائے گا، ”وَمَنْ لَا تُقْبَلُ مِنْهُ كَالْمُرْتَدِّينَ وَعَبَدَةِ الْأَوْثَانِ مِنَ الْعَرَبِ“ اور جن سے جزیہ قبول نہیں کیا جائے گا جیسے کہ مرتد ہیں اور وہ جو بت پرست ہیں عربوں میں سے، اوثان وثن کی جمع ہے، بت کو کہتے ہیں، ”وَعَبَدَةِ الْأَوْثَانِ مِنَ الْعَرَبِ“ اور جو عرب کے بت پرست ہیں تو ان سے جزیہ قبول نہیں کیا جا سکتا، ”فَلَا فَائِدَةَ فِي دُعَائِهِمْ إِلَى قَبُولِ الْجِزْيَةِ“ تو کوئی فائدہ نہیں ہے ان کو جزیہ قبول کرنے کی طرف دعوت دینے کا، ”لِأَنَّهُمْ لَا يُقْبَلُ مِنْهُمْ إِلَّا الْإِسْلَامُ“ اس لیے کیونکہ ان سے قبول نہیں کیا جا سکتا سوائے اسلام کے، یعنی اسلام کے علاوہ کوئی اور چیز ان سے قبول نہیں کی جا سکتی۔ ”قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: تُقَاتِلُونَهُمْ أَوْ يُسْلِمُونَ“ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں: ﴿تُقَاتِلُونَهُمْ أَوْ يُسْلِمُونَ﴾، ”تُقَاتِلُونَهُمْ“ یعنی کہ تم ان سے یہ جو مشرکینِ عرب ہیں ان سے تم لڑائی کرو، ”أَوْ يُسْلِمُونَ“ أَيْ إِلَى أَنْ يُسْلِمُوا یہاں تک کہ یہ اسلام لے آئیں بھئی۔ معلوم ہوا مشرکینِ عرب جو ہیں ان کا حکم الگ ہے، ان سے صرف اسلام کو قبول کیا جائے گا، اگر وہ اسلام لے آتے ہیں تو اچھی بات ہے، ورنہ ان سے لڑائی کی جائے گی اور ان سب کو قتل کر دیا جائے گا بھئی۔ یہ معنی ہے: ”قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: تُقَاتِلُونَهُمْ أَوْ يُسْلِمُونَ“ اللہ قرآن میں فرماتے ہیں کہ تم ان سے لڑائی کرو یعنی ان مشرکینِ عرب سے تم قتال کرو، ”أَوْ يُسْلِمُونَ“ یا یہ کہ وہ مسلمان ہو جائیں، اور میں نے بتایا یہ ”أَوْ“ کس معنی میں ہے؟ ”إِلَى أَنْ“ کے معنی میں ہے کہ تم ان سے لڑائی کرو یہاں تک کہ یہ مسلمان ہو جائیں، اگر مسلمان نہیں ہوتے تو لڑائی کی جائے گی اور انہیں قتل کر دیا جائے گا۔ آگے دیکھیے: ”فَإِنْ بَذَلُوهَا فَلَهُمْ مَا لِلْمُسْلِمِينَ وَعَلَيْهِمْ مَا عَلَى الْمُسْلِمِينَ“ بھئی پہلی صورت کیا تھی کہ مشرکین کو دعوتِ اسلام دی جائے گی، اگر اسلام قبول نہیں کرتے تو پھر ان کو جزیہ قبول کرنے کی دعوت دی جائے گی، اگر وہ جزیہ قبول کر لیتے ہیں پھر بھی ان سے جنگ نہیں کی جائے گی، یہی بیان فرما رہے ہیں۔ ”فَإِنْ بَذَلُوهَا“ اگر انہوں نے وہ جزیہ قبول کر لیا، بَذَلَ يَبْذُلُ کا معنی ہوتا ہے خرچ کرنا اور ادا کرنا، لیکن یہاں مراد ہے قبول کرنا، صاحبِ ہدایہ بھی آپ کو بتلائیں گے کہ یہاں بذل سے کیا مراد ہے؟ قبول کرنا۔ کہتے ہیں: ”فَإِنْ بَذَلُوهَا“ اگر ان مشرکین نے جزیہ قبول کر لیا، ”فَلَهُمْ مَا لِلْمُسْلِمِينَ“ تو ان کے بھی وہی حقوق ہوں گے جو مسلمانوں کے ہیں، ”وَعَلَيْهِمْ مَا عَلَى الْمُسْلِمِينَ“ اور ان پر بھی وہی ذمہ داریاں ہوں گی جو مسلمانوں پر ہیں، یعنی جیسے مسلمانوں کا جان اور مال محفوظ ہے ان کا بھی جان اور مال محفوظ ہے۔ ”لِقَوْلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ“ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قول کی وجہ سے: ”إِنَّمَا بَذَلُوا الْجِزْيَةَ لِيَكُونَ دِمَاؤُهُمْ كَدِمَائِنَا وَأَمْوَالُهُمْ كَأَمْوَالِنَا“ کہ انہوں نے جزیہ قبول کیا ہے تاکہ ان کے خون ہمارے خونوں کی طرح ہو جائیں اور ان کے مال ہمارے مالوں کی طرح ہو جائیں۔ بعض قبیلوں نے جزیہ دینا قبول کر لیا تھا تو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمانے لگے کہ انہوں نے جزیہ قبول کیا ہے تاکہ ان کے خون بھی ہمارے خونوں کی طرح ہو جائیں یعنی جیسے ہمارے خون معصوم اور محفوظ ہیں ان کے بھی خون محفوظ ہو جائیں، اور جیسے ہمارے مال محفوظ ہیں اسی طرح ان کے مال بھی محفوظ ہو جائیں، اس لیے انہوں نے جزیہ دینا قبول کیا ہے۔ پھر دیکھ لیجیے: ”لِقَوْلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ: إِنَّمَا بَذَلُوا الْجِزْيَةَ لِيَكُونَ دِمَاؤُهُمْ كَدِمَائِنَا وَأَمْوَالُهُمْ كَأَمْوَالِنَا“ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قول کی وجہ سے کہ آپ نے فرمایا: ان مشرکین نے جزیہ قبول کیا ہے تاکہ ان کے خون بھی ہمارے خونوں کی طرح ہو جائیں اور ان کے مال بھی ہمارے مالوں کی طرح ہو جائیں یعنی محفوظ ہو جائیں۔ ”وَالْمُرَادُ بِالْبَذْلِ الْقَبُولُ“ اوپر متن میں جو آیا تھا ”فَإِنْ بَذَلُوهَا“ میں نے بتایا تھا اس کا کیا معنی ہے؟ قبول کرنا، وہی بیان فرما رہے ہیں، کہتے ہیں ”وَالْمُرَادُ بِالْبَذْلِ الْقَبُولُ“ اور بذل سے مراد جو ہے قبول کرنا ہے۔ ویسے میں نے بتلایا بذل کا کیا معنی ہے؟ خرچ کرنا، خرچ کرنا اور ادا کرنا، اور مراد کیا ہے؟ قبول کرنا، کیونکہ قبول کرنا ہی سبب ہے خرچ کرنے کا۔ تو یہاں مسبب بول کر سبب کا ارادہ کیا گیا ہے، کیونکہ قبول کریں گے تو پھر ادا بھی کریں گے، تو قبول کرنا ہے سبب اور خرچ کرنا اور ادا کرنا یہ ہے مسبب، تو مسبب بول کر سبب کا ارادہ کیا گیا ہے، بات سمجھ میں آگئی۔ تو قبول کریں گے پھر ہی ادا بھی کریں گے یعنی خرچ بھی کریں گے، تو مسبب بول کر کیا مراد ہے؟ سبب مراد ہے۔ تو کہتے ہیں ”وَالْمُرَادُ بِالْبَذْلِ الْقَبُولُ“ تو بذل سے مراد قبول کرنا ہے، ”وَكَذَا الْمُرَادُ بِالْإِعْطَاءِ الْمَذْكُورِ فِيهِ فِي الْقُرْآنِ“ اور اسی طرح وہ اعطاء جو قرآن کے اندر جزیہ کے بارے میں مذکور ہے اس سے بھی یہی مراد ہے۔ قرآن کے اندر اللہ فرماتے ہیں: ﴿حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ﴾ یہاں تک کہ وہ جزیہ دے دیں، یہاں بھی کیا معنی ہے؟ یہاں تک کہ وہ جزیہ قبول کر لیں، توجہ ہے؟ تو یہ معنی ہے: ”وَكَذَا الْمُرَادُ بِالْإِعْطَاءِ الْمَذْكُورِ فِيهِ فِي الْقُرْآنِ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ“ اور یہی مراد ہے اس اعطاء سے بھی جو مذکور ہے فیہ اس جزیہ کے بارے میں فی القرآن قرآن کے اندر، اور اللہ خوب جاننے والے ہیں، ہم نے تو یہ معنی بیان کر دیا کہ قرآن کے اندر بھی اعطاء سے مراد قبول کرنا ہے، باقی حقیقت تو اللہ ہی جانتے ہیں، ہمیں یہی معنی اس سے سمجھ میں آیا۔ بھئی سوال پیدا ہوتا ہے کہ متن کے اندر آیا تھا ”فَإِنْ بَذَلُوهَا“ اگر انہوں نے جزیہ خرچ کیا، صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں اس کا معنی یہ ہے اگر انہوں نے جزیہ قبول کر لیا، اور قرآن کے اندر بھی آیا ہے ﴿حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ﴾ یہاں تک کہ یہ جزیہ دے دیں، اور صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں کہ قرآن کے اندر بھی اعطاء سے مراد قبول کرنا ہے، اس کی وجہ کیا ہے؟ بھئی وجہ یہ ہے کہ جب یہ جزیہ قبول کر لیں گے تو جنگ ختم ہو جائے گی، اور اگر بذل کا اپنا معنی کریں تو اس کا مطلب ہے جب تک وہ جزیہ دیں گے نہیں اس وقت تک جنگ ختم نہیں، ﴿حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ﴾ یہاں تک کہ وہ جزیہ دے دیں تو اس میں بھی دینے کا ذکر ہے حالانکہ جزیہ جب قبول کر لیا تو اسی وقت ادا کرنا ضروری نہیں ہے، اس میں باقاعدہ وقت مقرر کیا جائے گا بھئی کہ سال کے اندر فلاں مہینے کے اندر تم ہمیں اتنا جزیہ ادا کیا کرو گے، تو اگر بذل کا اور اعطاء کا اپنا معنی کریں تو مطلب یہ ہے کہ جب تک جزیہ دیا نہیں تب تک جنگ بھی ختم نہیں، اور اگر ان کا معنی قبول کرنے کے کر لیں تو مطلب یہ ہے جیسے ہی انہوں نے جزیہ قبول کر لیا تو اب ان سے جنگ نہیں کی جا سکتی، بات سمجھ میں آگئی بھئی؟ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔
160 approved lectures · 129 of 160