فَصْلٌ فِي الْحِرْزِ وَالْأَخْذِ مِنْهُ، وَمَنْ سَرَقَ مِنْ أَبَوَيْهِ أَوْ وَلَدِهِ أَوْ ذِي رَحِمٍ مَحْرَمٍ مِنْهُ لَمْ يُقْطَعْ، فَالْأَوَّلُ وَهُوَ الْوِلَادُ لِلْبُسُوطَةِ فِي الْمَالِ وَفِي الدُّخُولِ فِي الْحِرْزِ، وَالثَّانِي لِلْمَعْنَى الثَّانِي، وَلِهَذَا أَبَاحَ الشَّرْعُ النَّظَرَ إِلَى مَوَاضِعِ الزِّينَةِ الظَّاهِرَةِ مِنْهَا۔
بھئی گزشتہ سبق میں صاحبِ ہدایہ نے آپ کو وہ چیزیں بتلائی تھیں جن کے اندر ہاتھ کاٹا جائے گا اور اسی طرح وہ چیزیں جن کے اندر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ سب سے پہلے صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ وہ چیزیں جو دار الاسلام میں مباح ہو کر پائی جاتی ہیں، یعنی جو بھی ان کو حاصل کر لے وہ ان کا مالک بن جاتا ہے، جیسے گھاس ہے، لکڑیاں ہیں، شکار وغیرہ، تو وہ چیزیں جو دار الاسلام میں مباح ہو کر پائی جاتی ہیں اور جنہیں معمولی سمجھا جاتا ہے، ان کے اندر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا اور بتلایا تھا کہ اس کے اندر اصل جو ہے وہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی حدیث ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور علیہ السلام کے زمانے میں معمولی چیزوں کے اندر ہاتھ نہیں کاٹا جاتا تھا اور نیز وجہ یہ ہے کہ ان چیزوں کے اندر حفاظت ناقص ہوتی ہے۔ یہ جو لکڑیاں ہیں، گھاس ہیں، شکار وغیرہ، ان کے اندر حفاظت ناقص ہوتی ہے، یہاں تک کہ ان لکڑیوں وغیرہ کو گھر کے دروازے پر ہی عموماً لوگ ڈال دیا کرتے ہیں اور نیز جو پرندہ اور شکار وغیرہ ہے، ان کے اندر بھی حفاظت ناقص ہے، اس لیے کیونکہ وہ تو جیسے ہی ہاتھ سے نکلے گا، وہ پھر بھاگ جائے گا یا اڑ جائے گا بھئی، تو ان کے اندر حفاظت ناقص ہے اور نیز اسی وجہ سے کہ شکار جو ہے اس کے اندر شرکتِ عامہ ہے بھئی، حدیث میں آتا ہے کہ جو شکار کر لے وہ شکار اسی کا ہے بھئی۔ معلوم ہوا یہ شکار وغیرہ جو ہے ان کے اندر شرکتِ عامہ ہے، تمام مسلمان اس کے اندر شریک ہیں اور جو ان کو پکڑ لے گا وہ ان کا مالک بن جائے گا، تو ان چیزوں کی وجہ سے شبہ پیدا ہو جاتا ہے اور حد جو ہے وہ تو شبہے سے ساقط ہو جاتی ہے۔
اور پھر صاحبِ ہدایہ نے آپ کو یہ بھی بتلایا کہ وہ چیزیں جو جلدی خراب ہو جاتی ہیں جیسے دودھ، گوشت اور تازہ پھل وغیرہ، ان کے اندر بھی ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”لَا قَطْعَ فِي ثَمَرٍ وَلَا كَثَرٍ“ کہ پھل کے اندر بھی قطع نہیں ہے اور اسی طرح کثر کے اندر بھی قطع نہیں ہے۔ اب کثر سے کیا مراد ہے؟ صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا تھا کہ کثر یا تو یہ جمار کا نام ہے جبکہ بعضوں نے کہا یہ ودی کا نام ہے۔ جمار میں نے بتلایا کہ یہ کھجور کا جو تنا ہے اس کے اوپر والے حصے کے اندر تنے کو کاٹا جائے تو اس کے اندر ایک سفید رنگ کی چربی نما نرم چیز ہوتی ہے اور جب کھجور کا درخت گرا دیا جائے تو لوگ عموماً اسے نکال کر کھاتے ہیں بھئی، تو اسے جمار کہتے ہیں بھئی، جبکہ بعض علماء فرماتے ہیں کہ کثر سے مراد ودی ہے بھئی اور ودی جو ہے وہ کھجور کے چھوٹے پودوں کو کہتے ہیں۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ کھجور کے چھوٹے پودے جو ہیں ان کو بھی بڑی محنت سے تیار کیا جاتا ہے اور پھر جب وہ کچھ تھوڑے سے بڑے ہو جائیں تو ان کو نکال کر دوسری جگہ پر منتقل کیا جاتا ہے، تو حدیث کے اندر آیا ”لَا قَطْعَ فِي ثَمَرٍ وَلَا كَثَرٍ“ کہ پھلوں اور کثر کے اندر قطع نہیں ہوگا، تو کثر سے مراد یہ کھجور کی چربی ہے یا یہ کھجور کے چھوٹے پودے ہیں بھئی۔
اور اسی طرح نیز حدیث میں آتا ہے: ”لَا قَطْعَ فِي الطَّعَامِ“ طعام کے اندر قطع نہیں ہے۔ اب طعام کا لفظ میں نے آپ کو بتلایا تھا، جو کھانا تیار کیا جاتا ہے کھانے کے لیے اس کو بھی عربی میں طعام کہتے ہیں اور اسی طرح جو غلہ ہے یعنی گندم جو ہے اس کو بھی، اس کو بھی طعام کہتے ہیں عربی زبان میں۔ اب گندم کے اندر تو بالاجماع جو ہے چوری کرنے والے کا ہاتھ کاٹا جائے گا، تو صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں اس سے معلوم ہوا کہ یہ جو حدیث میں آیا ”لَا قَطْعَ فِي الطَّعَامِ“ اس سے گندم مراد نہیں ہے کیونکہ گندم کے اندر تو بالاجماع ہاتھ کاٹا جاتا ہے۔ معلوم ہوا اس سے وہ کھانا مراد ہے جسے کھانے کے لیے تیار کیا جاتا ہے اور جو جلدی خراب ہو جاتا ہے، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جو چیز جلدی خراب ہوتی ہے اس کے اندر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا بھئی۔
اور پھر صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی بتلایا کہ اگر درخت پر پھل لگے ہوئے ہوں ان کو کوئی چوری کر لے یا کھیتی کے اندر فصل لگی ہوئی تھی اور کوئی اس کو کاٹ کر لے جائے، تو اس صورت میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا کیونکہ یہاں حفاظت موجود نہیں ہے اور حالانکہ ہاتھ اسی چوری میں کاٹا جائے گا جس میں چور مالِ محفوظ کو لے کر جائے بھئی۔
اور پھر اسی طرح صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی بتلایا کہ گانے بجانے کے جو آلات ہیں ان کے اندر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا کیونکہ چوری کرنے والا تاویل کرے گا کہ میں تو ان چیزوں کو اس لیے لے کر گیا تھا تاکہ میں ان کو توڑ دوں کیونکہ شریعت نے ان سے منع کیا ہے۔
اور اسی طرح صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی بتلایا کہ قرآن کی چوری کے اندر بھی ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، اس لیے کیونکہ قرآن کے اندر جو مقصود ہوتا ہے وہ کاغذ اور گتا وغیرہ مقصود نہیں ہوتا بلکہ وہاں وہ جو مکتوب ہے، وہ جو نقوش اور حروف وغیرہ ہیں وہ مقصود ہوتے ہیں اور ان کی تو کوئی قیمت نہیں ہے، وہ تو مال نہیں ہے، تو قرآن کے اندر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا اور وہ نقوش اور حروف وغیرہ اصل ہیں، تو جب اصل کے اندر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا تو کاغذ اور جلد وغیرہ یہ تو اس کے تابع ہیں، تو تابع کے اندر بطریقِ اولیٰ ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، حتیٰ کہ اگر اس قرآن پر کسی نے سونا یا چاندی زیور وغیرہ چڑھا دیا تو اس کی چوری میں بھی ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا کیونکہ یہ چیزیں بھی قرآن کے تابع ہو گئیں بھئی اور جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، قرآن کے اندر ہاتھ کاٹا جائے گا۔
اور صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی بتلایا کہ یہ جو دروازے جو دیواروں میں لگا دیے جاتے ہیں جیسے مسجد کا دروازہ ہے یا گھر کا دروازہ وغیرہ، ان کی چوری میں بھی ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا کیونکہ یہاں پر حفاظت نہیں ہے بھئی۔
اسی طرح اگر کوئی شخص سونے کی صلیب چوری کر لیتا ہے یا شطرنج یا نرد کا جو کھیل ہے وہ چوری کر لیتا ہے تو اس صورت کے اندر بھی چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، اس لیے کیونکہ شریعت نے ان چیزوں سے بچنے اور ان کو توڑنے کا حکم دیا ہے، تو چور تاویل کرے گا کہ میں ان چیزوں کو توڑنا چاہتا تھا اور اسی طرح اگر کوئی آزاد بچے کو چوری کر لے، آزاد بچہ جو ابھی چل پھر نہیں سکتا، جو باتیں نہیں کر سکتا، اس کو اگر چوری کر لے کوئی تو اس میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا چاہے بچے پر زیور وغیرہ ہی کیوں نہ ہو، وجہ یہ کہ آزاد بچہ جو ہے وہ مال نہیں ہے اور ہاتھ کاٹنے کے لیے ضروری ہے کہ جس چیز کو چوری کیا ہے وہ مال ہونا چاہیے بھئی، تو لہٰذا آزاد بچے کے اندر چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔
اور اسی طرح بالغ غلام جو ہے اس کے اندر بھی ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا کیونکہ بالغ غلام کو لے جانے کو دھوکا یا غصب تو کہا جاتا ہے اس کو چوری نہیں کہا جاتا۔ البتہ اگر چھوٹا غلام ہے جو بول نہیں سکتا، باتیں نہیں کر سکتا، چل پھر نہیں سکتا تو اس کی چوری کے اندر طرفین فرماتے ہیں ہاتھ کاٹا جائے گا، اس لیے کیونکہ یہ مطلقاً مال ہے ہر اعتبار سے، جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ اس میں بھی اختلاف کرتے ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ یہ بعض اعتبار سے دیکھیں یہ چھوٹا غلام جو ہے بعض اعتبار سے دیکھیں تو یہ مال ہے اور بعض اعتبار سے دیکھیں تو یہ آدمی ہے، یعنی غیرِ مال ہے، لہٰذا اس کے مال ہونے میں شبہ آ گیا اور شبہے کی وجہ سے حد ساقط ہو جاتی ہے بھئی۔
اور اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ یہ جو رجسٹر اور کاپیاں جن کے اندر لکھا جاتا ہے، ان کی چوری میں بھی ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا جب ان کے اندر لکھا ہوا ہو، وجہ یہ کہ اس صورت کے اندر جو مقصود ہوتا ہے وہ ان کے اندر لکھی ہوئی چیز جو ہے وہ مقصود ہوتی ہے یعنی مکتوب مقصود ہوتا ہے اور مکتوب تو ہم پہلے بیان کر چکے کہ وہ مال نہیں ہے، وہ تو نقوش اور حروف کا نام ہے، تو جب وہ مال نہیں ہے تو اس کے اندر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ البتہ حساب کتاب کے جو رجسٹر ہیں جن کے اندر کوئی شخص اپنا حساب کتاب وغیرہ لکھتا ہے ان کے اندر ہاتھ کاٹا جائے گا، وجہ یہ کہ وہ حساب کتاب تو ہر ایک کے کام کا نہیں ہے، تو معلوم ہوا وہاں پر مقصود جو ہے وہ مکتوب نہیں ہے بلکہ کاغذ اور جلد وغیرہ ہے اور وہ تو مالِ متقوم ہیں تو ان میں ہاتھ کاٹا جائے گا۔
اور پھر اسی طرح صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی بتلایا کہ اگر کسی نے کوئی قیمتی لکڑی چوری کی جیسے ساگوان کی لکڑی ہے یا نیزے کی لکڑی ہے یا آبنوس اور صندل وغیرہ کی لکڑی ہے تو اس میں ہاتھ کاٹا جائے گا کیونکہ یہ قیمتی مال شمار ہوتا ہے اور اسی طرح اگر کسی نے قیمتی پتھر چرا لیے تو یہ بھی، یہ بھی قیمتی مال شمار ہوتا ہے اس کے اندر بھی ہاتھ کاٹا جائے گا اور صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا تھا کہ لکڑیوں کے اندر ہاتھ نہیں کاٹا جاتا لیکن اگر کسی نے لکڑیوں میں کاریگری دکھائی اور ان لکڑیوں سے برتن بنا لیے یا دروازے بنا لیے تو ان کے اندر بھی ہاتھ کاٹا جائے گا کیونکہ کاریگری کی وجہ سے اب یہ مالِ متقوم بن گیا بھئی۔
اور نیز خیانت کرنے والا مرد یا عورت ہے یا اسی طرح جو لٹیرا ہے یعنی منتہب ہے یا اسی طرح مختلس جو ہے، اچکا جو چیز اچانک اٹھا کر غائب ہو جاتا ہے اور اسی طرح جو نباش ہے، ان کے اندر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا عِنْدَ الْأَحْنَافِ، وجہ یہ کہ یہ سارق نہیں ہیں۔ وجہ یہ کہ سارق نہیں ہیں اور سارق کا ہاتھ کاٹنے کا قرآن نے حکم دیا ہے اور یہ جو خائن ہے یا مختلس ہے یا منتہب ہے یا نباش ہے، ان کے لیے تو عربی میں باقاعدہ الگ لفظ موجود ہیں، الگ نام موجود ہیں، معلوم ہوا یہ سارق نہیں ہیں، تو ان کے اندر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ جبکہ نباش کے سلسلے میں امام ابو یوسف اور امام شافعی رحمہما اللہ اختلاف فرماتے ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ کفن چور جو ہے اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حدیث میں فرماتے ہیں: ”مَنْ نَبَشَ قَطَعْنَاهُ“ جس نے کفن چوری کیا ہم اس کا ہاتھ کاٹیں گے اور نیز اس لیے بھی کیونکہ یہ جو کفن ہے یہ مالِ محفوظ ہے، وجہ یہ کہ ہر چیز کے لیے حرز جو ہے اسی کے مثل ہوا کرتا ہے، جیسے سونا چاندی ہے اس کے لیے حرز صندوق ہے، گھر کا سامان ہے اس کے لیے حرز جو ہے وہ گھر کی عمارت ہے بھئی اور اسی طرح جانور وغیرہ ہیں تو ان کے لیے حرز اصطبل ہے بھئی، تو ہر چیز کا حرز اسی کے موافق، اس کے مطابق ہوا کرتا ہے، تو یہ جو کفن ہے اس کے لیے یہ قبر حرز ہے، حفاظت کی جگہ ہے، تو اس سے اگر کوئی یہ کفن چرائے گا تو اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا بھئی۔ جبکہ ہم کہتے ہیں نہیں، حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: ”لَا قَطْعَ عَلَى الْمُخْتَفِي“ مختفی پر قطع نہیں ہے اور اہلِ مدینہ کی زبان میں مختفی کفن چور کو کہتے ہیں اور نیز اس لیے بھی کفن چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا کیونکہ یہاں مال کی ملکیت کے اندر شبہ آ گیا۔ وارث تو مالک نہیں ہے اس کفن کا، وارث تو کفن کا مالک نہیں کیونکہ کفن دفن تو وارث کو مال دینے پر مقدم ہے، میت کو اس کی حاجت ہے کفن دفن کی، تو لہٰذا وارث بھی نہیں اس کفن کا مالک اور میت بھی مالک نہیں ہے کیونکہ میت وہ تو مردہ ہے بھئی، اس میں تو مالک بننے کی صلاحیت ہی نہیں ہے، لہٰذا اس کفن کی ملکیت کے اندر بھی شبہ آ گیا، لہٰذا اس کی وجہ سے ہاتھ نہیں کاٹا جا سکتا۔
اور پھر صاحبِ ہدایہ نے آپ کو یہ بھی بتلایا کہ اگر کوئی شخص بیت المال سے چوری کر لے تو اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، اس لیے کیونکہ بیت المال کے اندر جو مال ہے اس کے اندر تمام مملکت کے لوگوں کا حق ہے اور یہ چور بھی مملکت کے لوگوں میں سے ایک آدمی ہے، تو لہٰذا اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا یا اسی طرح اگر چور نے ایسا مال چوری کر لیا کہ چور کی اس کے اندر شرکت تھی، چور کا اس کے اندر حصہ تھا تو اس صورت میں بھی چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا بھئی۔
اور پھر صاحبِ ہدایہ نے مسئلہ ذکر فرمایا کہ اگر کوئی شخص جو ہے اس کے کسی کے ذمے درہم ہیں، وہ مقروض ادائیگی نہیں کر رہا تو صاحبِ حق جو ہے مقروض سے درہم چوری کر لے تو اس صورت میں اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا چاہے درہموں کی مقدار اس کے قرض سے زیادہ ہی کیوں نہ ہو کیونکہ قرض کے بقدر تو اس کی شرکت آ گئی، صاحبِ حق کی اس کے اندر شرکت آ گئی اور اگر، اگر ایک آدمی کے دوسرے پر درہم ہیں اور وہ اس کا سامان چوری کر لیتا ہے تو کیا پھر ہاتھ کاٹا جائے گا یا نہیں؟ تو ظاہرِ روایت کے مطابق اس کا بھی ہاتھ کاٹا جائے گا کیونکہ اس آدمی کا حق درہم ہیں، سامان کے اندر اس کا کوئی حق نہیں ہے تو اس نے غیرِ حق کو چوری کیا ہے، لہٰذا اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، اس کا ہاتھ بھی نہیں کاٹا جائے گا، اس لیے کیونکہ بعض کبارِ فقہاء فرماتے ہیں کہ صاحبِ حق کو اجازت ہے کہ وہ مقروض جب وہ ادائیگی نہیں کر رہا تو یہ مقروض کا کوئی بھی سامان اٹھا لے تاکہ اس کے ذریعے اپنے حق کو وصول کر سکے، لیکن صاحبِ ہدایہ نے ظاہرِ روایت کو ترجیح دی اور بتلایا کہ یہ جو فقہاء فرماتے ہیں کہ کوئی اور سامان بھی صاحبِ حق لے سکتا ہے اس کی بنیاد کسی دلیل پر نہیں ہے، لہٰذا اس، فقہاء کے اس قول کا کوئی اعتبار نہیں ہے جب تک اس کے ساتھ چور کا دعویٰ نہ مل جائے۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ اگر چور دعویٰ کر دے کہ یہ جو مال میں نے چوری کیا تھا یہ تو میرا اپنا مال ہے، تو اس صورت میں فوراً حد ساقط ہو جائے گی، چاہے چور کے پاس کوئی دلیل وغیرہ نہیں ہے لیکن پھر بھی شبہ تو آ گیا کہ ہو سکتا ہے یہ سچ بول رہا ہو اور شبہے کی وجہ سے حد ساقط ہو جاتی ہے، تو لہٰذا یہ جو فقہاء فرماتے ہیں کہ ایک کا حق تو درہم ہیں اور اس نے دوسرے کا سامان چوری کر لیا ہے، ان کے قول کا کوئی اعتبار نہیں ہے، الا یہ کہ چور کا دعویٰ بھی ساتھ مل جائے، چور جس نے یہ سامان چوری کیا ہے وہ کہہ دے کہ یہ تو میرا اپنا ہی مال ہے، تو پھر اس صورت کے اندر شبہ آنے کی وجہ سے حد ساقط ہو جائے گی بھئی۔
اس کے بعد آخر میں صاحبِ ہدایہ نے مسئلہ ذکر فرمایا کہ اگر ایک چوری کے اندر ایک شخص کا ہاتھ کاٹ دیا گیا اور پھر اس نے وہ چیز مالک کو واپس کر دی اور پھر وہی بعینہٖ اسی چیز کو دوبارہ چوری کر لیا تو اس صورت کے اندر اس چور کا ہاتھ دوبارہ نہیں کاٹا جائے گا۔ امام ابو یوسف اور امام شافعی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، اسی چیز کو دوبارہ چوری کیا ہے پھر بھی ہاتھ کاٹا جائے گا، اس لیے کیونکہ یہ دوسری چوری بھی پہلی چوری کی طرح کامل درجے کی چوری ہے، بلکہ یہ دوسری چوری تو پہلی چوری سے بھی بڑھ کر بری ہے کہ ایک دفعہ اس آدمی کو سزا مل چکی ہے، اس کا ہاتھ کاٹا جا چکا ہے اور یہ پھر دوبارہ اسی چیز کو چوری کر رہا ہے، لہٰذا اس کے اندر بطریقِ اولیٰ اس کے ہاتھ کو کاٹا جائے گا، لیکن ہمارے نزدیک جب چور کا ایک دفعہ چوری کی وجہ سے ہاتھ کاٹ دیا گیا تو اس مال کی عصمت ساقط ہو گئی۔ اس مال کی عصمت ساقط ہو گئی یعنی اب وہ مالِ محفوظ نہ رہا، عصمت کا معنیٰ ہے حفاظت، حفاظت۔
میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ صاحبِ ہدایہ آگے چل کر ضابطہ ذکر فرمائیں گے کہ جب ایک چوری کے اندر چور کا ہاتھ کاٹ دیا جائے تو اگر اس کے پاس وہ مال موجود ہے جو اس نے چوری کیا تھا پھر تو وہ واپس کرنا پڑے گا کیونکہ اس مال کا مالک وہی شخص ہے ابھی بھی بھئی، تو یہ مال واپس کرنا پڑے گا، لیکن اگر چور کے پاس وہ مال ہلاک ہو چکا ہے یا چور نے خود اس مال کو ہلاک کیا یا خرچ کر دیا ہے تو پھر چور پر ضمان نہیں آئے گا۔ ہاتھ کا کاٹنا یہ اس کے سارے جرم کی سزا بن گئی، جو اس نے چوری کی وہ جرم بھی اور جو اس نے مال ضائع کیا وہ بھی، تو دونوں کی سزا یہ ہاتھ کاٹنا ہے۔ معلوم ہوا جب چور کا ہاتھ کاٹ دیا جائے تو اس مال کی عصمت ساقط ہو جاتی ہے، اب وہ مالِ محفوظ نہ رہا بھئی، اگر وہ چور کے پاس ہلاک بھی ہو تو چور پر اس کا ضمان نہیں آتا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو لہٰذا یہاں پر دیکھا جائے، اس شخص نے دوبارہ وہی چیز چرائی ہے تو مالک بھی وہی ہے، چیز بھی وہی ہے اور اسی چیز کے اندر اس کا ایک دفعہ ہاتھ بھی کاٹا جا چکا ہے، تو اس کی وجہ سے شبہ پیدا ہو جاتا ہے اور شبہے کی وجہ سے حد ساقط ہو جائے گی۔ شبہ پیدا ہو جاتا ہے کہ اس چور کے حق میں اب یہ مالِ محفوظ نہیں ہے بھئی۔ اگرچہ مالِ محفوظ بن چکا ہے، دوبارہ مالک کی حفاظت میں آ چکا ہے، لیکن پھر بھی چیز تو وہی ہے، مالک تو وہی ہے اور نیز اسی چیز کی چوری میں ایک دفعہ ہاتھ بھی کٹ چکا ہے، تو اس مال کی عصمت کے ساقط ہونے کا کم از کم شبہ رہ جاتا ہے اور شبہے کی وجہ سے بھی حد ساقط ہو جاتی ہے بھئی۔
اور البتہ اگر اس چیز کی حالت بدل گئی، مثلاً پہلی مرتبہ جب چوری کیا تھا تو وہ دھاگہ تھا اور دوسری مرتبہ جب چوری کیا ہے تو مالک نے اس کو بن کر اس سے کپڑا بنا لیا ہے، تو اب اس صورت کے اندر اب وہ چیز ایک نہ رہی، اس کی جنس بدل گئی اور نیز یہ جو کپڑا ہے اس کے اندر تو ہاتھ نہیں کٹا، وہ تو پہلی چیز جو دھاگہ تھا اس کے اندر ہاتھ کٹا تھا، تو لہٰذا جب چیز کی جنس بدل گئی تو اب محل کے یعنی اس مال کے ایک ہونے یا اس کے اندر ہاتھ کے کٹنے کی وجہ سے اب کوئی شبہ پیدا نہیں ہوگا اور دوبارہ قطع ہوگا، یعنی اب اس چور کا بایاں پاؤں کاٹا جائے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
اب آئیے آج کے سبق پر:
”فَصْلٌ فِي الْحِرْزِ وَالْأَخْذِ مِنْهُ، وَمَنْ سَرَقَ مِنْ أَبَوَيْهِ أَوْ وَلَدِهِ أَوْ ذِي رَحِمٍ مَحْرَمٍ مِنْهُ لَمْ يُقْطَعْ“
اچھا بھئی:
”فَصْلٌ فِي الْحِرْزِ وَالْأَخْذِ مِنْهُ“
حرز: حرز کا معنیٰ حفاظت کے بھی ہے اور حرز کے معنیٰ محفوظ جگہ کے بھی ہے۔ حرز کا معنیٰ حفاظت بھی اور حفاظت کی جگہ بھی، یعنی وہ جگہ جس کو دوسری چیزوں کی حفاظت کے لیے تیار کیا گیا ہو اس کو حرز کہتے ہیں۔ آپ پڑھ چکے ہیں کہ چوری کے اندر ہاتھ تبھی کاٹا جائے گا جب چور مالِ محفوظ کو لے کر جائے اور مالِ محفوظ تبھی ہوگا جب وہ حرز کے اندر ہو، کسی محفوظ جگہ کے اندر ہو اور وہاں سے چور اٹھا کر لے جائے۔ اگر مالِ محفوظ نہیں ہے تو اس کے اندر ہاتھ بھی نہیں کاٹا جاتا اور مالِ محفوظ کسے کہیں گے؟ جہاں پر حرز موجود ہو، حفاظت موجود ہو، جب حفاظت موجود ہے اس کے بعد کوئی شخص ایک مال اٹھا کر لے گیا تو اس صورت میں اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا بھئی۔ تو یہاں اس فصل میں اس کی تفصیل بیان ہوگی بھئی۔ تو حرز کا معنیٰ حفاظت بھی اور حرز کا معنیٰ محفوظ جگہ بھی۔ تو کہتے ہیں:
”فَصْلٌ فِي الْحِرْزِ وَالْأَخْذِ مِنْهُ“
یہ فصل ہے حرز کے بیان میں اور حرز سے اٹھانے کے بیان میں، کہ کس صورت میں چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا جب وہ حرز سے سامان اٹھا لے بھئی۔
”وَمَنْ سَرَقَ مِنْ أَبَوَيْهِ أَوْ وَلَدِهِ“
”وَمَنْ سَرَقَ مِنْ أَبَوَيْهِ أَوْ وَلَدِهِ“ اور جس شخص نے چوری کی ”مِنْ أَبَوَيْهِ“ اپنے والدین سے ”أَوْ وَلَدِهِ“ یا اپنی اولاد سے ”أَوْ ذِي رَحِمٍ مَحْرَمٍ مِنْهُ“ یا اپنے قریبی محرم رشتہ دار سے ”لَمْ يُقْطَعْ“ تو اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ بھئی کوئی شخص اپنے والدین سے کوئی چیز چوری کر لے یا والدین جو ہیں اپنی اولاد سے کوئی چیز چوری کر لیں یا کوئی قریبی محرم رشتہ دار جو ہے وہ کسی سے کوئی چیز چوری کر لے، تو ان تمام صورتوں کے اندر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ وجہ یہ، وجہ یہ کہ ابھی میں نے آپ کو بتلایا کہ چور کا ہاتھ تب کاٹا جائے گا جب وہ مالِ محفوظ چوری کر لے اور یہ اولاد اور والدین، یہ تو ایک دوسرے کے پاس آتے جاتے ہیں، اسی طرح قریبی محرم رشتہ دار بھی گھر کے اندر آتا جاتا ہے، تو ان کے حق میں حرز نہ رہا۔ بھئی گھر کے اندر آپ چیزیں رکھتے ہیں چیزوں کی حفاظت کے لیے کہ کوئی اٹھا کر نہ لے جائے، تو یہ جو گھر کی عمارت ہے، یہ جو گھر کی چاردیواری ہے، یہ حرز ہے۔ یہ کیا ہے؟ حرز ہے، حفاظت کی جگہ ہے، لیکن والدین اور اولاد ایک دوسرے کے پاس آتے جاتے ہیں، قریبی محرم رشتہ دار بھی ایک دوسرے کے پاس آتے جاتے ہیں، تو ان کے حق میں یہ حرز نہ رہا۔ جب ان کے حق میں حرز نہ رہا تو چوری میں ان کا ہاتھ بھی نہیں کاٹا جائے گا کیونکہ یہ مال محفوظ نہیں تھا جس کو یہ لے کر گئے بھئی۔ تو کہتے ہیں:
”وَمَنْ سَرَقَ مِنْ أَبَوَيْهِ أَوْ وَلَدِهِ“ اور جس شخص نے چوری کی اپنے والدین سے یا اپنی اولاد سے ”أَوْ ذِي رَحِمٍ مَحْرَمٍ مِنْهُ“ یا اپنے قریبی محرم رشتہ دار سے ”لَمْ يُقْطَعْ“ تو اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔
بھئی یاد رکھنا اس فصل کے اندر جو مسائل ذکر ہوں گے، علماء نے اس کے باقاعدہ ضابطے ذکر فرمائے ہیں بین السطور بھئی۔ میری کتاب میں یہ جو ہم نے مسئلہ شروع کیا ”وَمَنْ سَرَقَ مِنْ أَبَوَيْهِ أَوْ وَلَدِهِ“، یہاں پر بین السطور ضابطہ دیا ہوا ہے: ”الْأَصْلُ الْأَوَّلُ: لَا قَطْعَ عَلَى مَنْ يُبْسَطُ لَهُ فِي الدُّخُولِ وَالْخُرُوجِ“ پہلا ضابطہ یہ ہے کہ جو شخص بے تکلفی سے کسی کے پاس آتا جاتا ہو، اس پر قطع نہیں ہے، چوری کے اندر اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جا سکتا، کیونکہ جب وہ بے تکلفی سے آتا ہے تو یہاں پر حفاظت نہ رہی، حرز نہ رہا اور جب حرز نہیں تو ہاتھ بھی نہیں کاٹا جا سکتا۔ تو پہلا ضابطہ کیا؟ کہ چوری کے اندر چور کا ہاتھ تب کاٹا جائے گا جب حرز کامل ہو بھئی اور اگر بے تکلفی سے آنا جانا ہو تو حرز نہیں، جب حرز نہیں تو ہاتھ بھی نہیں کاٹا جائے گا۔ یہ معنیٰ ہے، پھر دیکھ لیجیے، کہتے ہیں:
”وَمَنْ سَرَقَ مِنْ أَبَوَيْهِ أَوْ وَلَدِهِ“ اور جس نے چوری کی اپنے والدین سے یا اپنی اولاد سے ”أَوْ ذِي رَحِمٍ مَحْرَمٍ مِنْهُ“ یا اپنے قریبی محرم رشتہ دار سے ”لَمْ يُقْطَعْ“ تو اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔
”فَالْأَوَّلُ“ تو اول جو ہیں، بھئی دیکھیے یہاں دو قسم کے رشتہ دار ذکر ہوئے: والدین اور اولاد، اور اس کے ساتھ ساتھ قریبی محرم رشتہ دار۔ تو یہ جو والدین اور اولاد ہیں ان کے اندر تو ولادت والا رشتہ ہے۔ ان میں ولادت والا اور پیدائش والا رشتہ ہے، جبکہ قریبی محرم رشتہ دار ہے مثلاً بھئی ہے یا بہن ہے یا ماموں ہے یا چچا ہے، ان کے ساتھ تو پیدائش والا رشتہ نہیں، تو دو قسم کے رشتہ دار یہاں بیان ہو گئے متن میں: کچھ وہ رشتہ دار جن کے ساتھ پیدائش والا رشتہ ہے جیسے والدین اور اولاد، اور کچھ وہ رشتہ دار جو قریبی محرم رشتہ دار تو ہیں لیکن ان میں پیدائش والا رشتہ نہیں ہے۔ تو صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں:
”فَالْأَوَّلُ“ تو اول جو ہیں، یعنی پہلی قسم کے جو رشتہ دار ہیں، اور پہلی قسم کے کون سے رشتہ دار متن میں ذکر ہوئے جن میں پیدائش والا رشتہ ہے۔ تو کہتے ہیں: ”فَالْأَوَّلُ“ تو اول قسم جو ہے ”وَهُوَ الْوِلَادُ“ اور وہ ولاد ہے یعنی پیدائش والا رشتہ ہے جن کے ساتھ، ان میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، کیوں؟ ”لِلْبُسُوطَةِ فِي الْمَالِ“، بسوطة کا معنیٰ ہے کشادگی یعنی بے تکلفی، مراد کیا ہے؟ بے تکلفی۔ تو کہتے ہیں پہلی قسم جو ہے ”وَهُوَ الْوِلَادُ“ اور وہ جن کے ساتھ ولادت والی رشتہ داری ہے، تو ان کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا ”لِلْبُسُوطَةِ فِي الْمَالِ“ مال کے اندر بے تکلفی کی وجہ سے۔ کن کے اندر مال میں بے تکلفی ہوتی ہے؟ اولاد جو ہے وہ والدین کا مال استعمال کرتے ہیں اور والدین اولاد کا مال استعمال کرتے ہیں، تو مال کے اندر بے تکلفی ہوتی ہے۔ ”وَفِي الدُّخُولِ فِي الْحِرْزِ“ اور نیز حرز کے اندر داخل ہونے میں، اولاد جو ہے والدین کے حرز میں داخل ہوتے ہیں، ان کے گھر آتے جاتے ہیں اور والدین اولاد کے گھر آتے جاتے ہیں، تو معلوم ہوا وہ رشتہ دار جن کے ساتھ پیدائش والا رشتہ ہے، وہاں چوری کے اندر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا دو وجہ سے: ایک وجہ کیا؟ کہ مال کے اندر بے تکلفی ہوتی ہے، ایک دوسرے کی چیزیں استعمال کرتے ہیں، اور دوسری وجہ یہ کہ وہاں پر ایک دوسرے کے حرز میں داخل ہوتے ہیں، بغیر اجازت کے آتے جاتے ہیں بھئی۔ تو یہ معنیٰ ہے ”لِلْبُسُوطَةِ فِي الْمَالِ“ مال کے اندر بے تکلفی کی وجہ سے ”وَفِي الدُّخُولِ فِي الْحِرْزِ“ اور حرز کے اندر داخل ہونے میں، یعنی بغیر اجازت کے ایک دوسرے کے حرز میں داخل ہوتے ہیں۔
”وَالثَّانِي لِلْمَعْنَى الثَّانِي“ اور جو دوسرا ہے وہ معنیٰ ثانی کی وجہ سے ہے۔ بھئی دوسرا کون سا رشتہ دار ذکر ہوا متن میں؟ ذی رحم محرم، بھئی قریبی محرم رشتہ دار۔ اس کے ساتھ پیدائش والا رشتہ تو نہیں، لیکن یہ قریبی محرم رشتہ دار ہے۔ اس کے ساتھ مال کے اندر تو بے تکلفی نہیں ہوتی، لیکن ایک دوسرے کے حرز میں آنے جانے میں بے تکلفی ہوتی ہے۔ یہ معنیٰ ہے ”وَالثَّانِي“ اور جو دوسری قسم کے رشتہ دار ہیں یعنی قریبی محرم رشتہ دار ”لِلْمَعْنَى الثَّانِي“ اس کے اندر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا ”لِلْمَعْنَى الثَّانِي“ دوسرے سبب کی وجہ سے، کہ حرز کے اندر بے تکلفی سے داخل ہوتے ہیں بھئی۔
”وَلِهَذَا أَبَاحَ الشَّرْعُ النَّظَرَ إِلَى مَوَاضِعِ الزِّينَةِ الظَّاهِرَةِ مِنْهَا“ اور اسی وجہ سے، بھئی یہ جو قریبی محرم رشتہ دار ہیں چونکہ یہ بے تکلفی سے ایک دوسرے کے گھر آتے جاتے ہیں، اسی لیے شریعت نے مباح قرار دیا ہے زینت کی ظاہری جگہوں کی طرف دیکھنے کو۔ ان قریبی محرم رشتہ داروں کے لیے عورت کی ظاہری زینت کی جگہوں کی طرف دیکھنے کو شریعت نے جائز قرار دیا ہے۔ دیکھو قریبی محرم رشتہ دار آتے ہیں آپ کے پاس، مثلاً آپ کے بھئی آتے ہیں، آپ کی بہن آتی ہے اور اسی طرح آپ کے چچا آتے ہیں، آپ کے ماموں وغیرہ آتے ہیں، ان کے لیے اس قریبی محرم عورت کی ظاہری زینت کی جگہوں کی طرف دیکھنا جائز ہے، یعنی چہرے کی طرف دیکھنا، بالوں کی طرف دیکھنا، بازوؤں کی طرف دیکھنا، پنڈلیوں اور پاؤں کی طرف دیکھنا وغیرہ، یہ جو ظاہری زینت کی جگہیں ہیں ان کے لیے ان کی طرف دیکھنا جائز ہے، اسی وجہ سے کہ یہ بے تکلفی سے ایک دوسرے کے پاس آتے جاتے ہیں، تو لہٰذا شریعت نے بھی ظاہری زینت کی جگہوں کی طرف دیکھنے کو مباح قرار دے دیا۔ اگر شریعت اس میں بھی پابندی لگا دیتی تو لوگ تو حرج اور مشکل میں پڑ جاتے بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَلِهَذَا“ اور اسی وجہ سے، یعنی بے تکلفی سے ایک دوسرے کے پاس آنے جانے کی وجہ سے ”أَبَاحَ الشَّرْعُ“ شریعت نے مباح کر دیا ”النَّظَرَ“ دیکھنے کو ”إِلَى مَوَاضِعِ الزِّينَةِ الظَّاهِرَةِ مِنْهَا“ ان کی جو ظاہری زینت کی جگہیں ہیں ان کو۔
آگے دیکھیے:
”بِخِلَافِ الصَّدِيقَيْنِ“ بخلاف دو دوستوں کے۔ یہ دراصل ایک اعتراض کا جواب دے رہے ہیں صاحبِ ہدایہ۔ اعتراض یہ ہوتا ہے کہ جس طرح قریبی محرم رشتہ دار جو ہیں ان میں ایک دوسرے کے پاس آنے جانے میں بے تکلفی ہوتی ہے، ایک دوسرے کے حرز میں داخل ہوتے ہیں، تو بعض اوقات دوستوں کے اندر بھی بے تکلفی ہوتی ہے، وہ بھی ایک دوسرے کے حرز میں بغیر اجازت کے آتے جاتے ہیں، لیکن بالاتفاق تمام علماء فرماتے ہیں کہ اگر کوئی دوست چوری کر لے تو اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ حالانکہ دوست کو بھی تو حرز کے اندر آنے کی اجازت تھی، جب حرز کے اندر آنے کی اجازت تھی تو اس کے حق میں حرز باقی نہ رہا بھئی۔ اعتراض سمجھ میں آیا؟ تو اس کا جواب دیں گے صاحبِ ہدایہ کہ دو دوستوں میں سے جب ایک نے دوسرے سے چوری کرنے کا ارادہ کر لیا تو اب وہ دوست رہا ہی نہیں، وہ دشمن بن گیا۔ اب جب وہ حرز کے اندر آیا ہے تو وہ بطورِ دشمن کے آیا ہے، بطورِ دوست کے نہیں آیا بھئی، لہٰذا اس لیے اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ کہتے ہیں ”بِخِلَافِ الصَّدِيقَيْنِ“ بخلاف دو دوستوں کے ”لِأَنَّهُ عَادَاهُ بِالسَّرِقَةِ“ اس لیے کیونکہ دو دوستوں میں سے ایک جو ہے عاداہ اس نے دشمنی کی ہے بالسرقة چوری کی وجہ سے، یعنی جب اس نے چوری کا ارادہ کر لیا تو گویا وہ دوست رہا ہی نہیں بلکہ دشمن بن گیا۔
”وَفِي الثَّانِي خِلَافُ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور دوسرے کے اندر امام شافعی رحمہ اللہ کا اختلاف ہے۔ بھئی ہم نے تو کہا کہ چاہے پیدائش والا رشتہ ہو، چاہے قریبی محرم رشتہ دار ہو، دونوں صورتوں کے اندر چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ یہ قریبی محرم رشتہ دار کے معاملے میں اختلاف فرماتے ہیں، وہ اس قریبی محرم رشتہ دار کو دور والے رشتہ داروں کے ساتھ ملاتے ہیں اور دور والے رشتہ داروں کے اندر تو بالاتفاق سب کے نزدیک ہاتھ کاٹا جائے گا اگر وہ چوری کر لیں، تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اصل قرابت تو پیدائش والی ہی قرابت ہے بھئی، اور باقی قرابتیں ان کے واسطے سے ہیں۔ مثلاً دیکھو بھئی ہے، بھئی آپ کا...
آپ کا قریبی محرم رشتہ دار تو ہے، لیکن اس کے ساتھ آپ کا پیدائش والا رشتہ نہیں ہے۔ پیدائش کا رشتہ یا تو باپ دادا کے ساتھ ہے یا نیچے اپنی اولاد کے ساتھ ہے۔ بھائیوں کے ساتھ پیدائش والا رشتہ نہیں۔ بھائیوں کے ساتھ جو رشتہ ہے وہ باپ کے واسطے سے ہے۔ کس کے واسطے سے ہے؟ باپ کے واسطے سے۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اور جو قریبی محرم رشتہ دار ہیں، ان کے ساتھ جو رشتہ ہے وہ کسی کے واسطے سے ہوتا ہے۔ لہٰذا یہ دور والے رشتہ داروں کی طرح ہوئے اور دور والے رشتہ داروں میں تو ہاتھ کاٹا جاتا ہے چوری کے اندر، تو ان کا بھی ہاتھ کاٹا جائے گا بھئی۔
تو کہتے ہیں: ﴿وَفِي الثَّانِي خِلَافُ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللهُ﴾ اور دوسروں کے اندر یعنی قریبی محرم رشتہ دار کی چوری کے اندر امام شافعی رحمہ اللہ کا اختلاف ہے، ﴿لِأَنَّهُ أَلْحَقَهَا بِالْقَرَابَةِ الْبَعِيدَةِ﴾ اس لیے کیونکہ امام شافعی رحمہ اللہ نے ان کو ملایا ہے، ﴿بِالْقَرَابَةِ الْبَعِيدَةِ﴾ دور کی رشتہ داری کے ساتھ، کہ یہ دور کے رشتہ داروں کے درجے میں ہیں۔ ﴿وَقَدْ بَيَّنَّاهُ فِي الْعَتَاقِ﴾ اور تحقیق اس اختلاف کو ہم نے بیان کیا تھا عتاق میں۔ کتاب العتاق کے اندر جہاں یہ بحث آئی تھی کہ ”مَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ مَحْرَمٍ مِنْهُ عَتَقَ عَلَيْهِ“۔ حدیث میں آتا ہے کہ جو شخص اپنے قریبی محرم رشتہ دار کا مالک بنا تو وہ آزاد ہو جائے گا۔ تو وہیں پر صاحبِ ہدایہ نے اختلاف ذکر کیا تھا کہ ہمارے نزدیک چاہے پیدائش والا رشتہ ہو، چاہے قریبی محرم رشتہ دار ہو، جب انسان اس کا مالک بنے گا تو وہ آزاد ہو جائے گا۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں نہیں، اگر پیدائش والا رشتہ ہے پھر تو وہ شخص آزاد ہو گا ورنہ اگر پیدائش والا رشتہ نہیں صرف قریبی محرم رشتہ دار ہے تو اس کو خریدا جائے تو وہ آزاد نہیں ہو گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَقَدْ بَيَّنَّاهُ فِي الْعَتَاقِ﴾ اور تحقیق ہم نے اس کو کتاب العتاق میں بیان کیا تھا۔
آگے دیکھیے بھئی: ﴿وَلَوْ سَرَقَ مِنْ بَيْتِ ذِي رَحِمٍ مَحْرَمٍ مَتَاعَ غَيْرِهِ يَنْبَغِي أَنْ لَا يُقْطَعَ، وَلَوْ سَرَقَ مَالَهُ مِنْ بَيْتِ غَيْرِهِ يُقْطَعُ اعْتِبَارًا لِلْحِرْزِ وَعَدَمِهِ﴾ بھئی صورتِ مسئلہ یہ ہے: ایک آدمی نے اپنے قریبی محرم رشتہ دار کے گھر سے چوری کی۔ لیکن جو مال اس نے چوری کیا وہ اس کے قریبی محرم رشتہ دار کا نہیں تھا بلکہ وہ کسی اجنبی آدمی کا مال تھا جو اس نے اس کے پاس بطورِ امانت رکھوایا تھا۔ تو کیا ہاتھ کاٹا جائے گا یا نہیں؟ تو آپ کو بتلائیں گے کہ بھئی یہاں سارا دارومدار حرز پر ہے۔ اپنے قریبی محرم رشتہ دار کے گھر سے چوری کی ہے تو وہاں حرز نہیں ہے۔ چاہے مال اس کا ہو چاہے کسی اور کا ہو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اصل آپ نے کس کو دیکھنا ہے؟ حرز کو۔ تو جب قریبی محرم رشتہ دار کے گھر سے چوری کی ہے تو حرز نہیں۔ چاہے اسی کا مال ہو چاہے کسی اور کا مال ہو، کسی صورت میں بھی چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ لیکن اس کا برعکس کر لیں۔ ایک آدمی نے ایک اجنبی کے گھر سے چوری کی۔ اب اجنبی کے گھر تو حرز موجود ہے۔ اس آدمی کو تو اس گھر کے اندر جانے کی اجازت نہیں تھی۔ تو اب چاہے اس اجنبی کے گھر سے اس نے اپنے قریبی محرم رشتہ دار کا مال ہی کیوں نہ چرا لیا ہو، پھر بھی اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ چور نے ایک اجنبی کے گھر سے اپنے قریبی محرم رشتہ دار کا مال چوری کر لیا، تو یہاں پر گھر کس کا ہے؟ اجنبی کا ہے۔ تو حرز موجود ہے اور حرز سے جب مالِ محفوظ کو چوری کیا جائے تو ہاتھ کاٹا جاتا ہے۔ لہٰذا یہاں ہاتھ کاٹا جائے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو لہٰذا مال کو نہیں دیکھیں گے کہ مال اس کے قریبی محرم رشتہ دار کا ہے یا نہیں۔ بلکہ صرف یہ دیکھا جائے گا کہ اس نے حرز کو توڑا ہے یا حرز کو نہیں توڑا۔ اگر حرز کو توڑا ہے تو پھر ہاتھ کاٹا جائے گا اور اگر حرز کو نہیں توڑا تو پھر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔
تو کہتے ہیں: ﴿وَلَوْ سَرَقَ مِنْ بَيْتِ ذِي رَحِمٍ مَحْرَمٍ مَتَاعَ غَيْرِهِ﴾ اور اگر کسی شخص نے چوری کیا اپنے قریبی محرم رشتہ دار کے گھر سے، ﴿مَتَاعَ غَيْرِهِ﴾ کسی دوسرے کے سامان کو۔ چوری کہاں سے کیا ہے؟ اپنے قریبی محرم رشتہ دار کے گھر سے اور اس کے کمرے سے کسی دوسرے کے سامان کو چوری کیا ہے۔ ﴿يَنْبَغِي أَنْ لَا يُقْطَعَ﴾ تو مناسب یہ ہے کہ اس کا ہاتھ نہ کاٹا جائے بھئی، کیونکہ یہاں پر حرز موجود نہیں، یہ بے تکلفی سے وہاں آتا جاتا تھا بھئی۔ ﴿وَلَوْ سَرَقَ مَالَهُ مِنْ بَيْتِ غَيْرِهِ﴾ اور اگر اپنے قریبی محرم رشتہ دار کا مال چوری کر لیا، کس کا مال چوری کیا؟ قریبی محرم رشتہ دار کا مال چوری کیا، ﴿مِنْ بَيْتِ غَيْرِهِ﴾ لیکن کسی دوسرے کے گھر سے، تو کہتے ہیں: ﴿يُقْطَعُ﴾ یہاں پر ہاتھ کاٹا جائے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں ﴿يُقْطَعُ﴾ ہاتھ کاٹا جائے گا، ﴿اعْتِبَارًا لِلْحِرْزِ وَعَدَمِهِ﴾ حرز کے ہونے اور نہ ہونے کا اعتبار کرتے ہوئے، حرز ہے تو ہاتھ کاٹا جائے گا، حرز نہیں تو ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ تو یہاں تک ضابطہ سمجھ میں آ گیا۔ ضابطہ کیا ہوا؟ کہ حرز سے چوری کی جائے گی تو ہاتھ کٹے گا اور اگر ایک آدمی کو ایک جگہ کے اندر آنے جانے کی اجازت ہے تو اس کے حق میں وہ حرز نہیں۔ جب حرز نہیں تو وہاں سے چوری کرنے میں اس کا ہاتھ بھی نہیں کاٹا جائے گا۔
آگے دیکھیے: ﴿وَإِنْ سَرَقَ مِنْ أُمِّهِ مِنَ الرَّضَاعَةِ قُطِعَ﴾ بھئی صورتِ مسئلہ یہ ہے: ایک شخص جو ہے اس نے اپنی رضاعی ماں سے چوری کر لی، تو کیا اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا یا نہیں؟ تو صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ وجہ یہ کہ رضاعی ماں کے پاس آنے جانے میں بے تکلفی نہیں ہوتی لہٰذا وہاں حرز موجود ہے۔ وہاں حرز موجود ہے، آدمی بے تکلفی سے گھر کے اندر نہیں جا سکتا اور جب حرز موجود ہے تو حرز سے چوری کرنے کی صورت میں ہاتھ کاٹا جاتا ہے، لہٰذا اس آدمی کا بھی ہاتھ کاٹا جائے گا۔
تو کہتے ہیں: ﴿وَإِنْ سَرَقَ مِنْ أُمِّهِ مِنَ الرَّضَاعَةِ قُطِعَ﴾ اور اگر چور نے اپنی رضاعی ماں سے چوری کر لی، ﴿قُطِعَ﴾ تو اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ ﴿وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى أَنَّهُ لَا يُقْطَعُ﴾ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، ﴿لِأَنَّهُ يَدْخُلُ عَلَيْهَا مِنْ غَيْرِ اسْتِئْذَانٍ وَحِشْمَةٍ﴾ استئذان کا معنی ہے اجازت، حشمت کہتے ہیں شرم کو اور حیا کو۔ حشمت کا کیا معنی؟ شرم اور حیا۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، ﴿لِأَنَّهُ يَدْخُلُ عَلَيْهَا﴾ اس لیے کیونکہ یہ چور اپنی رضاعی ماں پر داخل ہوتا ہے، ﴿مِنْ غَيْرِ اسْتِئْذَانٍ وَحِشْمَةٍ﴾ بغیر کسی اجازت کے اور بغیر کسی شرم اور حیا کے۔ یعنی بلا جھجھک اس کے پاس آتا جاتا ہے بھئی، تو جب بلا جھجھک اس کے پاس آتا جاتا ہے تو حرز نہیں ہے۔ جب حرز نہیں ہے تو اس صورت میں چوری کے اندر ہاتھ بھی نہیں کاٹا جائے گا۔ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، ﴿لِأَنَّهُ يَدْخُلُ عَلَيْهَا مِنْ غَيْرِ اسْتِئْذَانٍ وَحِشْمَةٍ﴾ اس لیے کیونکہ یہ شخص اپنی رضاعی ماں پر داخل ہوتا ہے بغیر اجازت کے اور بغیر شرم کے۔ ﴿بِخِلَافِ الْأُخْتِ مِنَ الرَّضَاعَةِ﴾ بھئی یاد رکھو، رضاعی بہن سے اگر کوئی شخص چوری کر لیتا ہے تو پھر بالاتفاق اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ رضاعی بہن سے چوری کر لیتا ہے تو بالاتفاق اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا بھئی۔ البتہ رضاعی ماں کے اندر امام ابو یوسف رحمہ اللہ اختلاف فرماتے ہیں، جیسے ابھی مسئلہ گزرا کہ رضاعی ماں سے چوری کر لی کسی نے تو اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا اور اس کی وجہ بھی ذکر کر دی کیونکہ رضاعی ماں کے پاس آدمی بلا جھجھک آتا جاتا ہے تو وہاں حرز نہیں ہے۔ جبکہ رضاعی بہن کے پاس آدمی بے تکلفی سے نہیں آتا، جب وہاں بے تکلفی سے نہیں آتا تو وہاں حرز موجود ہے۔ جب حرز موجود ہے تو چوری کی صورت میں ہاتھ کاٹا جائے گا۔
تو کہتے ہیں: ﴿بِخِلَافِ الْأُخْتِ مِنَ الرَّضَاعَةِ﴾ بخلاف رضاعی بہن کے، ﴿لِانْعِدَامِ هَذَا الْمَعْنَى فِيهَا عَادَةً﴾ ﴿لِانْعِدَامِ هَذَا الْمَعْنَى﴾ اس علت کے، اس سبب کے معدوم ہونے کی وجہ سے، ﴿فِيهَا﴾ اس رضاعی بہن میں، ﴿عَادَةً﴾ عادت کے اعتبار سے۔ یعنی رضاعی بہن کے اندر یہ والا معنی معدوم ہے، اس کے پاس کوئی بغیر اجازت کے اور بے تکلفی سے آتا جاتا نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ﴿بِخِلَافِ الْأُخْتِ مِنَ الرَّضَاعَةِ لِانْعِدَامِ هَذَا الْمَعْنَى فِيهَا عَادَةً﴾ بخلاف رضاعی بہن کے، اس لیے کیونکہ عادتاً یہ والا سبب جو ہے اس رضاعی بہن کے اندر نہیں ہے۔
﴿وَجْهُ الظَّاهِرِ﴾ اب ظاہرِ روایت کی وجہ بیان کر رہے ہیں۔ اوپر متن میں ظاہرِ روایت کے مطابق آپ کو بتلایا تھا کہ اگر کوئی اپنی رضاعی ماں سے چوری کر لے گا تو اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ اب اس کی وجہ بیان کرنے لگے ہیں۔ کہتے ہیں: ﴿وَجْهُ الظَّاهِرِ أَنَّهُ لَا قَرَابَةَ﴾ ظاہرِ روایت کی وجہ یہ ہے کہ اس کے ساتھ کوئی رشتہ داری نہیں ہے۔ رضاعی ماں کے ساتھ رضاعت کا تو رشتہ ہے لیکن کوئی اور رشتہ داری نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں ظاہرِ روایت کی وجہ یہ ہے: ﴿أَنَّهُ لَا قَرَابَةَ﴾ کہ کوئی قرابت یعنی کوئی رشتہ داری نہیں ہے یہاں پر، ﴿وَالْمَحْرَمِيَّةُ بِدُونِهَا لَا تُحْتَرَمُ﴾ اور محرم ہونا بغیر رشتہ داری کے، ﴿لَا تُحْتَرَمُ﴾ اس کا احترام نہیں کیا جاتا۔ بھئی قریبی رشتہ دار بھی ہو اور محرم بھی ہو، اس کا تو احترام کیا جاتا ہے، لیکن صرف رضاعت والا رشتہ ہو، محرمیت ہو لیکن قریبی رشتہ نہ ہو تو پھر اس کا کوئی احترام نہیں کیا جاتا۔ تو یہ معنی ہے: ﴿وَالْمَحْرَمِيَّةُ بِدُونِهَا لَا تُحْتَرَمُ﴾ اور محرم ہونا بغیر رشتہ داری کے اس کا احترام نہیں کیا جاتا، ﴿كَمَا إِذَا ثَبَتَتْ بِالزِّنَا وَالتَّقْبِيلِ عَنْ شَهْوَةٍ﴾ جیسے کہ وہ حرمت جو ثابت ہوتی ہے زنا کی وجہ سے، ﴿وَالتَّقْبِيلِ عَنْ شَهْوَةٍ﴾ اور شہوت سے بوسہ دینے سے۔ بھئی دیکھیے! آپ پڑھ چکے ہیں حرمتِ مصاہرت کا مسئلہ، کہ کوئی شخص اگر کسی عورت سے زنا بھی کر لے تو زانی اور مزنیہ کے اصول اور فروع ایک دوسرے پر حرام ہو جاتے ہیں۔ تو اب دیکھو، زنا کی وجہ سے بھی حرمت آ رہی ہے، محرمیت آ رہی ہے۔ محرمیت آ رہی ہے زانی کے لیے مزنیہ کے اصول اور فروع سے نکاح ہمیشہ کے لیے حرام ہو گیا، اور مزنیہ کے لیے زانی کے اصول اور فروع سے نکاح ہمیشہ کے لیے حرام ہو گیا۔ تو دیکھو زنا کی وجہ سے یا اسی طرح دواعیِ زنا ہیں، یعنی شہوت سے بوسہ دینا، اس کی وجہ سے بھی حرمتِ مصاہرت آ جاتی ہے۔ محرمیت آ گئی لیکن اس کا کوئی احترام نہیں کرتا، اس محرمیت کا کوئی احترام نہیں کرتا۔ تو کہتے ہیں: ﴿كَمَا إِذَا ثَبَتَتْ بِالزِّنَا وَالتَّقْبِيلِ عَنْ شَهْوَةٍ﴾ جیسے کہ وہ محرمیت جو زنا کی وجہ سے اور شہوت سے بوسہ لینے کی وجہ سے ثابت ہوتی ہے، یعنی جیسے اس کا احترام نہیں ہوتا، ﴿وَأَقْرَبُ مِنْ ذَلِكَ الْأُخْتُ مِنَ الرَّضَاعَةِ﴾ اور اس سے زیادہ قریب تو رضاعی بہن ہے۔ بھئی بات چل رہی ہے رضاعی ماں کی اور رضاعی ماں کے اندر رشتہ تو نہیں البتہ محرمیت ہے۔ صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں صرف محرمیت ہو اور رشتہ نہ ہو تو اس کا زیادہ احترام نہیں کیا جاتا، جیسے کہ زنا کی وجہ سے جب حرمتِ مصاہرت آ جاتی ہے تو وہاں پر بھی محرمیت تو آ جاتی ہے لیکن اس کا احترام نہیں کیا جاتا۔ بلکہ اس رضاعی ماں کے زیادہ قریب جو ہے حرمتِ مصاہرت کے مقابلے میں رضاعی بہن زیادہ قریب ہے۔ رضاعی ماں میں بھی کیا آ گئی؟ محرمیت۔ زنا میں بھی کیا آتی ہے؟ محرمیت۔ اور رضاعی بہن میں بھی کیا ہے؟ محرمیت۔ تو رضاعی ماں جو ہے اس کے اندر محرمیت تو ہے لیکن رشتہ داری نہیں ہے اور رشتہ داری نہ ہو صرف محرمیت ہو تو اس کا احترام نہیں کیا جا سکتا جیسے کہ زنا کے اندر ہوتا ہے، بلکہ اس رضاعی ماں کے زیادہ قریب تو رضاعی بہن ہے کیونکہ رضاعی ماں کے ساتھ جیسے رضاعی رشتہ ہے، رضاعی بہن کے ساتھ بھی رضاعی رشتہ ہے اور رضاعی بہن کے اندر تو بالاتفاق کوئی چوری کر لے تو اس کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے تو رضاعی ماں کے اندر بھی کوئی چوری کر لے تو اس کا بھی ہاتھ کاٹا جائے گا، کیونکہ وہاں پر بے تکلفی نہیں ہوتی، ایک دوسرے کے پاس بغیر اجازت کے آنا جانا نہیں ہوتا بھئی۔
تو کہتے ہیں: ﴿وَأَقْرَبُ مِنْ ذَلِكَ الْأُخْتُ مِنَ الرَّضَاعَةِ﴾ اور زنا سے ثابت ہونے والی محرمیت کے مقابلے میں رضاعی بہن زیادہ قریب ہے رضاعی ماں کے اور جب رضاعی بہن کے اندر تو ہاتھ کاٹا جاتا ہے تو رضاعی ماں کے اندر بھی چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ ﴿وَهَذَا لِأَنَّ الرَّضَاعَ قَلَّمَا يَشْتَهِرُ﴾ اور یہ اس وجہ سے، ﴿لِأَنَّ الرَّضَاعَ قَلَّمَا يَشْتَهِرُ﴾ اس لیے کیونکہ رضاعت بہت کم مشہور ہوتی ہے۔ رضاعت کا عام لوگوں کو پتہ نہیں ہوتا، تو چند ایک لوگوں کو تو رضاعت کا پتہ ہو گا لیکن عام لوگوں کو تو رضاعت کا پتہ نہیں ہو گا۔ لہٰذا اگر کوئی شخص اپنی رضاعی ماں یا رضاعی بہن کے پاس بے تکلفی کے ساتھ آئے گا جائے گا تو لوگ تو اس کے بارے میں بدگمانی کریں گے کہ اس عورت کے ساتھ تو اس آدمی کا کوئی نسبی رشتہ نہیں ہے، پھر یہ کس طرح اس کے پاس بے تکلفی سے آتا جاتا ہے؟ تو کہتے ہیں: ﴿وَهَذَا لِأَنَّ الرَّضَاعَ قَلَّمَا يَشْتَهِرُ﴾ اور یہ اس وجہ سے اس لیے کیونکہ رضاعت بہت کم مشہور ہوتی ہے، ﴿فَلَا بُسُوطَةَ﴾ تو وہاں پر بے تکلفی نہیں ہوتی۔ جہاں رضاعی رشتہ ہوتا ہے چاہے رضاعی ماں ہے چاہے رضاعی بہن ہے وہاں بے تکلفی نہیں ہوتی، زیادہ بے تکلفی سے ایک دوسرے کے پاس آتے جاتے نہیں ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ اگر بے تکلفی سے ایک دوسرے کے پاس آئیں گے جائیں گے تو اس کے اندر تو تمام لوگوں کو تو رضاعی رشتے کا پتہ نہیں ہو گا تو لہٰذا لوگ جو ہیں بدگمانی کریں گے بھئی۔ لوگ کیا کریں گے؟ بدگمانی کریں گے۔ تو کہتے ہیں اس لیے کیونکہ رضاعت بہت کم مشہور ہوتی ہے، ﴿فَلَا بُسُوطَةَ﴾ تو لہٰذا اس کے اندر بے تکلفی نہیں ہوتی، ﴿تَحَرُّزًا عَنْ مَوْقِفِ التُّهْمَةِ﴾ تہمت کے مقام سے بچنے کے لیے۔ یہاں بے تکلفی نہیں ہوتی تہمت کے مقام سے بچنے کے لیے کیونکہ اگر بے تکلفی سے آئیں گے جائیں گے تو سب لوگوں کو تو رضاعت کا نہیں پتہ تو لوگ تو بدگمانی کریں گے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو یہ معنی ہے: ﴿فَلَا بُسُوطَةَ تَحَرُّزًا عَنْ مَوْقِفِ التُّهْمَةِ﴾ تو یہاں بے تکلفی نہیں ہوتی تہمت کے مقام سے بچنے کے لیے، ﴿بِخِلَافِ النَّسَبِ﴾ بخلاف نسب کے، کہ نسبی رشتہ جو ہوتا ہے وہ سب کو پتہ ہوتا ہے، وہاں بے تکلفی سے آنے جانے میں کسی قسم کی تہمت کا اندیشہ نہیں ہوتا بھئی۔
آگے دیکھیے: ﴿وَإِذَا سَرَقَ أَحَدُ الزَّوْجَيْنِ مِنَ الْآخَرِ أَوِ الْعَبْدُ مِنْ سَيِّدِهِ أَوْ مِنِ امْرَأَةِ سَيِّدِهِ أَوْ مِنْ زَوْجِ سَيِّدَتِهِ لَمْ يُقْطَعْ﴾ صورتِ مسئلہ یہ ہے بھئی: خاوند نے بیوی کی کوئی چیز چوری کر لی یا بیوی نے خاوند کی کوئی چیز چوری کر لی تو یاد رکھو اس صورت کے اندر کسی کا بھی ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ وجہ یہ ہے کہ خاوند اور بیوی کے درمیان بے تکلفی ہوتی ہے بھئی اور دونوں ایک ہی گھر میں رہتے ہیں تو وہاں حرز ہی نہیں ہے۔ جب حرز نہیں ہے، حفاظت نہیں ہے تو پھر چوری کے اندر ہاتھ بھی نہیں کاٹا جائے گا اور اگر حرز ہو بھی، مثلاً خاوند الگ گھر میں رہتا ہے، بیوی الگ گھر میں رہتی ہے، پھر بھی دونوں کے درمیان بے تکلفی ہوتی ہے، خاوند اور بیوی بے تکلفی سے بغیر اجازت کے ایک دوسرے کے پاس آتے جاتے ہیں تو جب بے تکلفی سے بغیر اجازت کے ایک دوسرے کے پاس آتے جاتے ہیں تو وہاں حرز موجود نہیں۔ وہاں حفاظت موجود نہیں، جب حرز موجود نہیں ہے تو پھر چوری کے اندر کسی کا ہاتھ بھی نہیں کاٹا جائے گا۔ اسی طرح غلام جو ہے، غلام اگر اپنے آقا سے چوری کر لے یا غلام اپنے آقا کی بیوی سے چوری کر لے تو اس صورت میں بھی غلام کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا کیونکہ غلام کے حق میں یہاں پر حرز نہیں ہے، غلام بے تکلفی سے اپنے آقا کے گھر کے اندر آتا جاتا ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔
تو کہتے ہیں: ﴿وَإِذَا سَرَقَ أَحَدُ الزَّوْجَيْنِ مِنَ الْآخَرِ﴾ اور جب میاں بیوی میں سے ایک نے چوری کر لی دوسرے سے، ﴿أَوِ الْعَبْدُ مِنْ سَيِّدِهِ﴾ یا غلام نے اپنے آقا سے چوری کر لی، ﴿أَوْ مِنِ امْرَأَةِ سَيِّدِهِ﴾ یا غلام نے اپنے آقا کی بیوی سے چوری کر لی، ﴿أَوْ مِنْ زَوْجِ سَيِّدَتِهِ﴾ یا اپنے مالکن کے خاوند سے چوری کر لی، برعکس صورت ہے۔ یعنی غلام ہے بیوی کا اور اس نے اس بیوی کے غلام نے خاوند سے چوری کر لی، تو اس صورت کے اندر بھی ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا کیونکہ ان میں بے تکلفی ہوتی ہے، بغیر اجازت کے گھر میں داخل ہوتے ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: ﴿أَوْ مِنْ زَوْجِ سَيِّدَتِهِ﴾ یا غلام نے اپنی مالکن کے خاوند سے چوری کر لی، ﴿لَمْ يُقْطَعْ﴾ تو ان تمام صورتوں کے اندر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، ﴿لِوُجُودِ الْإِذْنِ بِالدُّخُولِ عَادَةً﴾ اس لیے کیونکہ عادتاً داخل ہونے کی اجازت ہوتی ہے۔ اس لیے کیونکہ خاوند اور بیوی میں اور اسی طرح غلام، ان سب میں گھر کے اندر داخل ہونے کی عادتاً اجازت ہوتی ہے اور جب اجازت ہے تو حرز نہیں ہے اور جب حرز نہیں ہے تو مالِ محفوظ نہیں ہے، جب مالِ محفوظ نہیں ہے تو پھر اس کے اندر ہاتھ بھی نہیں کاٹا جائے گا۔
﴿وَإِنْ سَرَقَ أَحَدُ الزَّوْجَيْنِ مِنْ حِرْزٍ لِآخَرَ خَاصَّةً لَا يَسْكُنَانِ فِيهِ﴾ اچھا بھئی، اب صورت یہ ہے کہ خاوند یا بیوی کا کوئی خاص حرز ہے، مثلاً بیوی کا ایک الگ کمرہ ہے یا ایک الگ گھر ہے جس کے اندر خاوند کو جانے کی اجازت نہیں ہے تو اب یہاں تو حرز موجود ہے، تو یہاں سے اگر خاوند چوری کر لے تو کیا اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا یا نہیں؟ یا اس کا برعکس کر لیں، خاوند کا کوئی خاص کمرہ ہے یا خاوند کا کوئی الگ مکان ہے اور وہاں پر بیوی کو جانے کی اجازت نہیں تو اگر بیوی اس خاوند کے خاص حرز سے چوری کر لے تو کیا اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا یا نہیں؟ تو یاد رکھنا ہمارے نزدیک خاوند اور بیوی کا کوئی الگ حرز ہو، اس سے بھی دوسرا چوری کر لے تو اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ اس لیے کیونکہ خاوند اور بیوی کے درمیان مال کے اندر کشادگی ہوتی ہے، بے تکلفی سے ایک دوسرے کا مال، ایک دوسرے کی چیزیں استعمال کرتے ہیں اور عموماً میں نے بتلایا ایک ہی گھر میں رہتے ہیں، اگر گھر الگ الگ ہو پھر بھی ان میں بے تکلفی ہوتی ہے، بغیر اجازت کے ایک دوسرے کے پاس آتے جاتے ہیں تو ان کے حق میں حرز ہی موجود نہیں۔ جب حرز موجود نہیں تو ہاتھ بھی نہیں کاٹا جائے گا۔
تو کہتے ہیں: ﴿وَإِنْ سَرَقَ أَحَدُ الزَّوْجَيْنِ مِنْ حِرْزٍ لِآخَرَ خَاصَّةً لَا يَسْكُنَانِ فِيهِ﴾ اور اگر میاں بیوی دونوں میں سے ایک نے چوری کر لی دوسرے کے حرز سے، خاصۃً جو اسی دوسرے کے ساتھ خاص ہے، اور ﴿لَا يَسْكُنَانِ فِيهِ﴾ اور اس کے اندر یہ دونوں نہیں رہتے، یعنی ان دونوں کی رہائش اس کے اندر نہیں ہے۔ بیوی کا ایک الگ مکان ہے یا بیوی کا ایک الگ کمرہ ہے، اس کے اندر یہ دونوں رہتے بھی نہیں ہیں، وہ بیوی کا خاص حرز ہے پھر بھی خاوند وہاں سے چوری کر لے تو اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَإِنْ سَرَقَ أَحَدُ الزَّوْجَيْنِ﴾ اور اگر میاں بیوی دونوں میں سے ایک نے چوری کر لی، ﴿مِنْ حِرْزٍ لِآخَرَ خَاصَّةً﴾ دوسرے کے حرز سے جو خاص طور پر دوسرے کا حرز ہے، ﴿لَا يَسْكُنَانِ فِيهِ﴾ اور اس کے اندر وہ دونوں نہیں رہتے، یعنی اس کے اندر ان دونوں کی رہائش نہیں ہے، تو اس خاص حرز سے اگر دوسرے نے چوری کر لی، ﴿فَكَذَلِكَ الْجَوَابُ عِنْدَنَا﴾ تو اس صورت میں بھی ہمارا جواب یہی ہے، یعنی ہمارے نزدیک ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، ﴿خِلَافًا لِلشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللهُ﴾ بخلاف امام شافعی رحمہ اللہ کے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میاں بیوی جو ہیں ایک دوسرے سے چوری کر لیں تو ان کا ہاتھ نہیں کاٹیں گے لیکن اگر کسی نے دوسرے کے خاص حرز سے چوری کر لی جس کے اندر اس کو داخل ہونے کی اجازت نہیں تھی تو پھر اس سلسلے میں وہ اختلاف کرتے ہیں اور اس سلسلے میں ان کے تین قول ہیں۔ ایک قول کے مطابق اس میں ہاتھ کاٹا جائے گا اور دوسرے قول کے مطابق اس میں بھی ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا اور تیسرے قول کے مطابق اگر چوری کرنے والی بیوی ہے تو اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا اور اگر چوری کرنے والا مرد ہے تو پھر خاوند کا ہاتھ کاٹا جائے گا بھئی۔
تو کہتے ہیں: ﴿فَكَذَلِكَ الْجَوَابُ عِنْدَنَا﴾ تو اس صورت میں بھی ہمارا جواب یہی ہے، یعنی ہمارے نزدیک مسئلہ اسی طرح ہے کہ ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، ﴿خِلَافًا لِلشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللهُ﴾ بخلاف امام شافعی رحمہ اللہ کے، ﴿لِبُسُوطَةٍ بَيْنَهُمَا فِي الْأَمْوَالِ عَادَةً وَدَلَالَةً﴾ بھئی امام شافعی رحمہ اللہ کا صرف اختلاف ذکر کیا کہ وہ اس مسئلے میں اختلاف کرتے ہیں، آگے ﴿لِبُسُوطَةٍ بَيْنَهُمَا فِي الْأَمْوَالِ عَادَةً وَدَلَالَةً﴾ یہ ہماری دلیل ہے۔ ہم نے کیا کہا؟ کہ میاں بیوی اگر دوسرے کے خاص حرز سے چوری کر لیں پھر بھی ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ اس کی وجہ کیا ہے وہ دلیل ذکر کر رہے ہیں: ﴿لِبُسُوطَةٍ بَيْنَهُمَا فِي الْأَمْوَالِ﴾ اس وجہ سے کہ میاں بیوی کے درمیان مالوں کے اندر بے تکلفی ہوتی ہے۔ میاں بیوی کے درمیان مال کے اندر بے تکلفی ہوتی ہے، وسعت ہوتی ہے، ایک دوسرے کا مال عام استعمال کرتے ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: ﴿لِبُسُوطَةٍ بَيْنَهُمَا فِي الْأَمْوَالِ عَادَةً وَدَلَالَةً﴾ اس وجہ سے کہ بے تکلفی پائی جاتی ہے میاں بیوی کے درمیان مالوں میں، ﴿عَادَةً﴾ عادت کے اعتبار سے بھی، ﴿وَدَلَالَةً﴾ اور دلالت کے اعتبار سے بھی۔ عادت کے اعتبار سے بھی میاں اور بیوی کے درمیان مالوں کے اندر بے تکلفی ہوتی ہے، ایک دوسرے کا مال ایک دوسرے کی چیزیں استعمال کرتے ہیں، اور دلالۃً بھی ان دونوں کے درمیان بے تکلفی ہوتی ہے۔ بھئی دلالۃً کیا معنی؟ کہتے ہیں معنی یہ ہے کہ ان دونوں کے درمیان عقدِ نکاح ہوا ہے۔ اس خاوند اور بیوی نے تمام زندگی مل کر رہنے کا فیصلہ کیا ہے، انہوں نے آپس میں نکاح کر لیا ہے، تو یہ نکاح دلالت کر رہا ہے کہ ان کے درمیان مالوں کے اندر بے تکلفی ہے بھئی۔ عادتاً بھی ان میں بے تکلفی ہوتی ہے اور نکاح بھی اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ ان دونوں میں بے تکلفی ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے: کہتے ہیں ﴿لِبُسُوطَةٍ بَيْنَهُمَا فِي الْأَمْوَالِ عَادَةً وَدَلَالَةً﴾ اس وجہ سے کہ بے تکلفی پائی جاتی ہے میاں بیوی کے درمیان مالوں میں عادتاً عادت کے اعتبار سے بھی اور دلالۃً دلالت کے اعتبار سے بھی۔
﴿وَهُوَ نَظِيرُ الْخِلَافِ فِي الشَّهَادَةِ﴾ اور یہ شہادت کے اندر اختلاف کی نظیر ہے۔ اس مسئلے کے اندر ہمارا امام شافعی رحمہ اللہ سے جو اختلاف ہے وہ شہادت کے مسئلے میں اختلاف کی نظیر ہے، یعنی جیسے شہادت کے مسئلے میں ہم سے وہ اختلاف کرتے ہیں۔ یاد رکھو شہادت یعنی گواہی دینا، خاوند اور بیوی جو ہیں ان کے منافع مشترک ہیں۔ ایک کا فائدہ وہ دوسرے کا بھی فائدہ ہے، لہٰذا خاوند اور بیوی ایک دوسرے کے حق میں گواہی دینا چاہیں تو ان کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی۔ کسی مسئلے کے اندر خاوند کو بیوی کی گواہی کی ضرورت پیش آ گئی اور بیوی گواہی دے گی تو خاوند کو فائدہ ہو گا تو یاد رکھو اس صورت میں خاوند کے حق میں بیوی کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی۔ ہاں اگر خاوند یا بیوی ایک دوسرے کے خلاف گواہی دینے آئے پھر گواہی قبول کی جائے گی۔ تو خاوند اور بیوی ایک دوسرے کے حق میں گواہی دیں تو قبول نہیں کی جائے گی، وجہ یہ ہے کہ دلوں میں بدگمانی آتی ہے، مثلاً بیوی گواہی دے رہی ہے خاوند کے حق میں تو دلوں میں بدگمانی آتی ہے کہ یہ بیوی اس لیے خاوند کے حق میں گواہی دے رہی ہے کیونکہ خاوند کا فائدہ دراصل بیوی ہی کا فائدہ ہے۔ تو یہاں ایک دوسرے کے حق میں گواہی قبول نہیں کی جائے گی کیونکہ دلوں میں بدگمانی آتی ہے بھئی۔ تو یہ ہمارے نزدیک ہے جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میاں اور بیوی کی گواہی جیسے ایک دوسرے کے خلاف قبول کی جاتی ہے اسی طرح ایک دوسرے کے حق میں بھی قبول کی جائے گی بھئی۔ تو اسی کی طرف اشارہ فرما رہے ہیں صاحبِ ہدایہ، کہتے ہیں: ﴿وَهُوَ نَظِيرُ الْخِلَافِ فِي الشَّهَادَةِ﴾ اور یہ شہادت کے اندر اختلاف کی نظیر ہے۔ کس مسئلے میں؟ جو ہمارا امام شافعی رحمہ اللہ سے اختلاف ہے یہ نظیر ہے، یہ یعنی یہ مثل ہے اس اختلاف کے جو شہادت کے اندر ہے بھئی۔
آگے دیکھیے: ﴿وَلَوْ سَرَقَ الْمَوْلَى مِنْ مُكَاتَبِهِ لَمْ يُقْطَعْ لِأَنَّ لَهُ فِي أكسابه حَقًّا﴾ بھئی صورت یہ ہے: آقا نے اپنے مکاتب سے کوئی چیز چوری کر لی، مکاتب وہ غلام ہے جسے آقا نے عقدِ کتابت کر لیا کہ مثلاً دو سال تک ہر مہینے ایک ایک لاکھ روپیہ لے کر آؤ اور چوبیس لاکھ روپے یہ ادا کر دو تو تم آزاد ہو۔ اور یہ مکاتب جو ہے یہ اب آزاد آدمی کے درجے میں ہے، آقا اس سے زبردستی خدمت نہیں لے سکتا۔ تو یہ مکاتب چلا گیا اور یہ اب پیسے کما کر لا رہا ہے اور قسط وار ادائیگی کر رہا ہے۔ تو آقا نے مکاتب کے مال میں سے کوئی چیز چوری کر لی تو کیا آقا کا ہاتھ کاٹا جائے گا؟ کہتے ہیں نہیں۔ اس مکاتب کے مال میں آقا کا حق ہے، مکاتب ہر مہینے پیسے لا کر ادائیگی کر رہا ہے تو مکاتب کے مال میں آقا کا حق ہے۔ جب اس مال کے اندر خود آقا کا حق موجود ہے تو اس مال کی چوری میں آقا کا ہاتھ نہیں کاٹا جا سکتا۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَلَوْ سَرَقَ الْمَوْلَى مِنْ مُكَاتَبِهِ لَمْ يُقْطَعْ﴾ اور اگر آقا نے اپنے مکاتب سے چوری کر لی، ﴿لَمْ يُقْطَعْ﴾ تو پھر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، ﴿لِأَنَّ لَهُ فِي أَكْسَابِهِ حَقًّا﴾ اس لیے کیونکہ آقا کا اس مکاتب کی کمائیوں کے اندر حق ہے۔
﴿وَكَذَلِكَ السَّارِقُ مِنَ الْمَغْنَمِ﴾ اور اسی طرح ہے وہ جو چوری کرنے والا ہے مالِ غنیمت سے۔ بھئی یاد رکھو مالِ غنیمت سے اگر کوئی شخص چوری کر لیتا ہے تو اس کے اندر اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، اس لیے کیونکہ مالِ غنیمت کے اندر اس کا اپنا بھی حق ہے۔ مالِ غنیمت کیا ہے؟ مالِ غنیمت میں اس چوری کرنے والے کا بھی حق ہے، تو اس کی وجہ سے شبہ آ گیا اور شبہے کی وجہ سے حد ساقط ہو جاتی ہے۔ لیکن یہ یاد رکھنا مالِ غنیمت سے چوری کے اندر ہاتھ تب نہیں کاٹا جائے گا جب چور بھی وہ لڑنے والوں میں یا لشکر کے اندر شامل تھا بھئی، توجہ ہے؟ اور اگر اس کا حصہ نہیں تھا مالِ غنیمت کے اندر، وہ تو لشکر میں شامل ہی نہیں تھا تو پھر ہاتھ کاٹا جائے گا کیونکہ اب اس مال کے اندر اس کا کوئی حصہ نہیں ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: ﴿وَكَذَلِكَ السَّارِقُ مِنَ الْمَغْنَمِ﴾ اور اسی طرح وہ شخص جو چوری کرنے والا ہے مالِ غنیمت میں سے، یعنی اس کا بھی ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، ﴿لِأَنَّ لَهُ فِيهِ نَصِيبًا﴾ اس لیے کیونکہ اس کا اس کے اندر حصہ ہے۔ ﴿وَهُوَ مَأْثُورٌ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ دَرْءًا وَتَعْلِيلًا﴾ اور یہی منقول ہے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے، ﴿دَرْءًا وَتَعْلِيلًا﴾۔ درءاً کا معنی ہے ٹالنا، ختم کرنا اور تعلیلاً کا معنی ہے علت بیان کرنا۔ بھئی حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس ایک شخص کو لایا گیا کہ اس نے مالِ غنیمت سے چوری کی ہے تو آپ فرمانے لگے: ”لَهُ فِيهِ نَصِيبٌ“ کہ اس کا بھی اس کے اندر حصہ ہے، ”وَهُوَ خَائِنٌ“ اور یہ خائن ہے، یہ خیانت کرنے والا ہے، یعنی یہ چور نہیں یہ خیانت کرنے والا ہے، اس کے اندر اس کا بھی حصہ ہے، ”فَلَمْ يَقْطَعْهُ“ تو چنانچہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کا ہاتھ نہیں کاٹا۔ تو صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں: ﴿وَهُوَ مَأْثُورٌ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ دَرْءًا﴾ اور یہی منقول ہے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے درءاً، باعتبار ٹالنے کے، باعتبار ٹالنے کے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی حد کو ٹال دیا تھا، اس کا ہاتھ نہیں کاٹا تھا، ﴿وَتَعْلِيلًا﴾ اور علت بیان کرنے کے اعتبار سے، حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی یہی علت بیان کی تھی کہ اس کا اس مال میں حصہ ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو مسئلہ کیا ذکر ہوا؟ کہ مالِ غنیمت سے اگر کوئی شخص چوری کر لیتا ہے اور اس کا بھی حصہ تھا مالِ غنیمت میں تو اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، کیونکہ یہ چور ہے ہی نہیں، یہ تو خائن ہے، خیانت کرنے والا ہے اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہی منقول ہے، آپ نے حد کو بھی ٹال دیا تھا اور آپ نے علت بھی یہی ذکر کی تھی کہ اس کا اس مال کے اندر حصہ ہے بھئی۔ تو یہ معنی ہے: ﴿وَهُوَ مَأْثُورٌ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ دَرْءًا﴾ اور یہی منقول ہے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ٹالنے کے اعتبار سے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی غنیمت سے چوری کے سلسلے میں حد کو ٹال دیا تھا بھئی، ﴿وَتَعْلِيلًا﴾ اور تعلیل کے اعتبار سے، یعنی یہی منقول ہے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے تعلیل کے اعتبار سے، یعنی حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی یہی علت بیان فرمائی تھی کہ اس چوری کرنے والے کا بھی غنیمت کے اندر حصہ ہے تو اس لیے آپ نے اس کا ہاتھ نہیں کاٹا۔
آگے دیکھیے: ﴿قَالَ: وَالْحِرْزُ عَلَى نَوْعَيْنِ﴾
عَيْنَيْ: حِرْزٌ لِمَعْنًى فِيهِ كَالْبُيُوتِ وَالدُّورِ، وَحِرْزٌ بِالْحَافِظِ۔
یہاں پر بین السطور وہ دوسرا ضابطہ ذکر ہے بھئی۔ پہلا ضابطہ کیا ذکر ہوا تھا؟ کہ اس چوری کے اندر ہاتھ کاٹا جائے گا جہاں حرز موجود ہو، اور اگر آنے جانے میں کشادگی ہے، بے تکلفی ہے، تو وہاں حرز نہیں۔ جب حرز نہیں، تو وہاں پر ہاتھ بھی نہیں کاٹا جائے گا۔ اب آپ کو بتلانے لگے ہیں کہ حرز دو قسم پر ہے بھئی، ایک حرز بالمکان ہے اور ایک حرز بالحافظ ہے۔
حرز بالمکان یعنی ایسی چیز ہے کہ اس کی ذات میں ہی حفاظت والا معنی پایا جا رہا ہے؛ جیسے مثلاً گھر، گھر بنایا ہی کس لیے جاتا ہے؟ تاکہ یہاں پر انسان اپنی چیزیں حفاظت سے رکھ سکے۔ یا اسی طرح دکان جو ہے، دکان کی ذات میں ہی حفاظت والا معنی ہے، دکان کے اندر تاجر اپنی چیزیں رکھتا ہے حفاظت کی نیت سے۔ اور اسی طرح صندوق ہے، صندوق کی ذات میں ہی حفاظت والا معنی ہے، صندوق کے اندر چیزوں کو محفوظ کر کے رکھا جاتا ہے۔ تو یہ سب کیا ہیں؟ حرز بالمکان ہیں، یعنی یہ جگہ ہی حفاظت والی ہے؛ مکان ہے، یا دکان ہے، یا کمرہ ہے، یا صندوق وغیرہ، یہ سب حفاظت کی جگہیں ہیں بھئی، تو یہ حرز بالمکان ہے۔ اور دوسرا حرز بالحافظ ہے، یعنی کوئی حفاظت کرنے والا ہو۔
مثلاً دیکھو ایک شخص مسجد میں بیٹھا ہوا ہے اور مسجد کے اندر اس کا سامان اس کے پاس موجود ہے۔ یاد رکھو مسجد حرز نہیں ہے، مسجد حفاظت کی جگہ نہیں ہے، مسجد کو عبادت کے لیے بنایا گیا ہے اور یہاں ہر ایک کو آنے کی اجازت ہوتی ہے۔ جب ہر ایک کو یہاں آنے کی اجازت ہے تو یہاں تو کسی بھی اعتبار سے حرز نہیں ہے، کسی بھی اعتبار سے حفاظت نہیں ہے۔ تو معلوم ہوا مسجد جو ہے وہ حفاظت کی جگہ نہیں، لیکن ایک شخص مسجد میں بیٹھا ہے اور اس کا سامان اس کے پاس ہے اور وہ خود سامان کی حفاظت کر رہا ہے، تو یہ حرز بالحافظ ہے۔ تو مسجد کے اندر اگر سامان موجود ہے تو یہاں حرز بالمکان تو نہیں لیکن اگر مالک اس کے پاس موجود ہے تو حرز بالحافظ ہے بھئی۔ حافظ یعنی حفاظت کرنے والا۔
اور یاد رکھو، کسی چوری کرنے والے کا ہاتھ تب کاٹا جائے گا جب وہ حرز سے مال کو چوری کرے، چاہے حرز بالمکان ہو، چاہے حرز بالحافظ ہو۔ لہٰذا ایک آدمی نے گلی کے اندر کوئی سامان رکھا ہوا تھا اور کوئی شخص آیا اور وہ سامان اٹھا کر چلا گیا، تو یاد رکھو یہ چور اگر پکڑا بھی جائے اور گواہ بھی آ جائیں، پھر بھی اس چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا؛ کیونکہ جو سامان اس نے چوری کیا وہ محرز نہیں تھا، وہاں حرز نہیں تھا۔ نہ تو حرز بالمکان تھا کیونکہ وہ گلی میں سامان تھا کمرے یا مکان کے اندر نہیں تھا، اور نیز کوئی محافظ بھی وہاں پر نہیں تھا، تو نہ حرز بالمکان تھا اور نہ حرز بالحافظ۔ تو ہاتھ اسی وقت کاٹا جائے گا جب حرز بالمکان یا حرز بالحافظ سے مال کو چوری کر لیا جائے۔
تو دیکھیے بھئی، کہتے ہیں: ”قَالَ“ قال سے مراد صاحب قدوری ہیں، صاحب قدوری فرماتے ہیں: ”وَالْحِرْزُ عَلَى نَوْعَيْنِ“ کہ حرز دو قسم پر ہے: ”حِرْزٌ لِمَعْنًى فِيهِ“ ایک وہ حرز ہے جو حرز ہے ایسے معنی کی وجہ سے جو اس کی ذات میں ہے، بھئی مکان، دکان، صندوق وغیرہ، ان کی ذات میں ہی حرز والا معنی ہے، تو یہ حرز ہیں اور ان کی ذات میں ہی حرز والا معنی ہے۔ یہ معنی ہے کہ حرز دو قسم پر ہے: ”حِرْزٌ لِمَعْنًى فِيهِ“ ایک وہ حرز ہے کہ اس کی ذات میں ہی حرز والا معنی ہے، ”كَالْبُيُوتِ“ جیسے کہ کمرے ہیں، ”وَالدُّورِ“ اور جیسے کہ گھر ہیں۔ دور جمع ہے دار کی۔ ”وَحِرْزٌ بِالْحَافِظِ“ اور دوسری قسم جو ہے وہ حرز بالحافظ ہے۔ تو حرز کتنی قسم پر ہوا؟ دو؛ ایک حرز بالمکان اور ایک حرز بالحافظ۔ اور حرز بالمکان کسے کہتے ہیں؟ کہ اس چیز کی ذات میں ہی حرز والا اور حفاظت والا معنی ہو بھئی۔ اور یاد رکھنا کہ حرز بالمکان وہ قوی ہے، اور حرز بالحافظ وہ ضعیف ہے۔
آگے دیکھیے: ”قَالَ الْعَبْدُ الضَّعِيفُ“ عبد ضعیف سے مراد صاحب ہدایہ ہیں بھئی۔ ”قَالَ الْعَبْدُ الضَّعِيفُ“ اللہ کا کمزور بندہ کہتا ہے: ”الْحِرْزُ لَا بُدَّ مِنْهُ“ کہ حرز کا ہونا ضروری ہے۔ صاحب ہدایہ فرما رہے ہیں کہ چوری کے اندر ہاتھ کاٹنے کا معاملہ ہے لہٰذا یہاں حرز کا ہونا ضروری ہے، حرز ہے اور پھر چوری کی ہے تو ہاتھ کاٹا جائے گا، اگر حرز نہیں ہے اور چوری کی ہے تو پھر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ تو صاحب ہدایہ فرماتے ہیں: ”الْحِرْزُ لَا بُدَّ مِنْهُ“ کہ حرز کا ہونا ضروری ہے، ”لِأَنَّ الِاسْتِسْرَارَ لَا يَتَحَقَّقُ دُونَهُ“ استسرار بھئی، اِسْتَسَرَّ يَسْتَسِرُّ اِسْتِسْرَار کا معنی ہے پوشیدہ ہونا، چھپنا۔ بھئی آپ نے پڑھا تھا چوری کی تعریف کے اندر کہ چوری مالک کی نگاہوں سے چھپا کر ہوگی تو اس کے اندر چھپانا ضروری ہے، اور چھپنا اور رازداری سے ہونا تب ہی ہوگا جب وہاں حرز موجود ہو۔ اگر حرز ہی نہیں ہے، مکان کے باہر آپ نے ایک چیز رکھی ہوئی ہے اور کوئی اٹھا کر لے گیا، تو یہاں پر چھپا کر اٹھانے کا معنی نہیں ہے بھئی کیونکہ حرز موجود نہیں ہے بھئی۔ کہتے ہیں: ”الْحِرْزُ لَا بُدَّ مِنْهُ“ حرز کا ہونا ضروری ہے، ”لِأَنَّ الِاسْتِسْرَارَ“ اس لیے کیونکہ رازداری سے ہونا ”لَا يَتَحَقَّقُ دُونَهُ“ یہ حرز کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ چوری کے اندر رازداری ضروری ہے اور بغیر حرز کے تو رازداری نہیں ہو سکتی بھئی۔
”ثُمَّ هُوَ قَدْ يَكُونُ بِالْمَكَانِ“ اور پھر یہ حرز کبھی کبھار مکان یعنی جگہ کے ذریعے ہوگا، ”وَهُوَ الْمَكَانُ الْمُعَدُّ لِإِحْرَازِ الْأَمْتِعَةِ“ اور وہ وہ مکان ہے، وہ جگہ ہے ”الْمُعَدُّ“ جس کو تیار کیا گیا ہے ”لِإِحْرَازِ الْأَمْتِعَةِ“ سامان کی حفاظت کرنے کے لیے۔ امتِعَہ جمع ہے متاع کی، سامان کو کہتے ہیں۔ تو پھر ترجمہ دیکھ لیجیے، کہتے ہیں: ”ثُمَّ هُوَ قَدْ يَكُونُ بِالْمَكَانِ“ پھر یہ حرز کبھی تو مکان یعنی جگہ کے ذریعے ہوگا، ”وَهُوَ الْمَكَانُ الْمُعَدُّ لِإِحْرَازِ الْأَمْتِعَةِ“ اور حرز بالمکان وہ جگہ ہے جس کو تیار کیا گیا ہے سامان کی حفاظت کے لیے، ”كَالدُّورِ وَالْبُيُوتِ وَالصُّنْدُوقِ وَالْحَانُوتِ“ کالدور جیسے کہ گھر ہیں، والبیوت اور جیسے کہ کمرے ہیں، والصندوق جیسے کہ صندوق ہے، والحانوت بھئی، حانوت یاد رکھو دکان کو کہتے ہیں۔ تو یہ گھر، کمرے، صندوق اور دکانیں، یہ سب جو ہیں یہ حرز ہیں بھئی، ان کے اندر چیزوں کو حفاظت کی نیت سے رکھا جاتا ہے۔
آگے دیکھیے: ”وَقَدْ يَكُونُ بِالْحَافِظِ“ اور کبھی کبھار حرز جو ہے وہ حافظ کے ذریعے ہوتا ہے، ”كَمَنْ جَلَسَ فِي الطَّرِيقِ أَوْ فِي الْمَسْجِدِ“ جیسے وہ شخص جو بیٹھا راستے میں، ”أَوْ فِي الْمَسْجِدِ“ یا مسجد میں، ”وَعِنْدَهُ مَتَاعُهُ“ اور اس کے پاس اس کا سامان ہے۔ ایک آدمی مسجد میں بیٹھا ہے اور میں نے آپ کو بتلایا مسجد تو حرز نہیں، لیکن یہ خود اپنے سامان کے پاس بیٹھا ہوا ہے تو یہاں کون سا حرز ہے؟ حرز بالحافظ ہے بھئی۔ یا کوئی شخص گلی میں بیٹھا ہوا ہے اور گلی تو حرز نہیں ہے، راستے میں کوئی شخص بیٹھا ہے اور راستہ تو حرز نہیں ہے، لیکن خود وہ سامان کے پاس موجود ہے تو وہاں حرز بالحافظ موجود ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَقَدْ يَكُونُ بِالْحَافِظِ“ اور کبھی کبھار حرز جو ہے حفاظت کرنے والے کے ذریعے ہوتا ہے، ”كَمَنْ جَلَسَ فِي الطَّرِيقِ“ جیسے وہ شخص جو راستے میں بیٹھا، ”أَوْ فِي الْمَسْجِدِ“ یا مسجد میں بیٹھا، ”وَعِنْدَهُ مَتَاعُهُ“ اور اس کے پاس اس کا سامان ہے، ”فَهُوَ مُحْرَزٌ بِهِ“ تو یہ سامان جو ہے اس بیٹھنے والے کے ذریعے محفوظ ہے۔
”وَقَدْ قَطَعَ رَسُولُ اللَّهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ مَنْ سَرَقَ رِدَاءَ صَفْوَانَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ مِنْ تَحْتِ رَأْسِهِ وَهُوَ نَائِمٌ فِي الْمَسْجِدِ“ بھئی حضرت صفوان رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ مسلمان ہوئے، مدینہ منورہ تشریف لائے اور یہاں اب ہجرت کر کے آئے ہیں، کوئی جگہ وغیرہ تو ہے نہیں، مسجد نبوی میں لیٹے ہوئے ہیں، تو سر کے نیچے چادر تھی اور یہ سوئے ہوئے تھے۔ تو ایک شخص آیا اور اس نے وہ چادر نکال لی اور حضرت صفوان رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیدار ہو گئے اور اس کو پکڑ لیا۔ چنانچہ حضور علیہ السلام نے پھر اس چور کا ہاتھ کٹوا دیا بھئی۔ اب دیکھو، حالانکہ حضرت صفوان رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسجد میں موجود ہیں اور مسجد تو حرز نہیں، حفاظت کی جگہ نہیں، لیکن حضرت صفوان رضی اللہ تعالیٰ عنہ خود موجود ہیں حفاظت کے لیے تو یہاں حرز بالحافظ تھا، اس لیے حضور علیہ السلام نے اس چور کا ہاتھ کٹوا دیا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَقَدْ قَطَعَ رَسُولُ اللَّهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ“ اور تحقیق قطع فرمایا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ”مَنْ سَرَقَ رِدَاءَ صَفْوَانَ“ اس شخص کو جس نے چوری کی تھی حضرت صفوان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی چادر، ”مِنْ تَحْتِ رَأْسِهِ“ ان کے سر کے نیچے سے، ”وَهُوَ نَائِمٌ فِي الْمَسْجِدِ“ اس حال میں کہ وہ مسجد میں سوئے ہوئے تھے۔ تو یہاں حرز بالمکان تو نہیں تھا لیکن حرز بالحافظ تھا بھئی۔ اگر حرز بالحافظ بھی نہ ہوتا، پھر یاد رکھو، پھر ہاتھ نہیں کاٹا جا سکتا۔
آگے دیکھیے بھئی: ”وَفِي الْمُحْرَزِ بِالْمَكَانِ لَا يُعْتَبَرُ الْإِحْرَازُ بِالْحَافِظِ“ یہاں دیکھیے بین السطور تیسرا ضابطہ ذکر فرمایا ہے علماء نے بھئی۔ پہلا ضابطہ یہ تھا کہ حرز سے چوری کے اندر ہاتھ کاٹا جائے گا، لیکن اگر اس حرز کے اندر کوئی شخص بے تکلفی سے داخل ہوتا ہے تو اس کے حق میں وہ حرز ہی نہ رہا لہٰذا اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جا سکتا۔ اور دوسرا ضابطہ یہ بتلایا آپ کو کہ حرز جس نوع کا بھی ہو، چاہے حرز بالمکان ہو، چاہے حرز بالحافظ ہو، جس سے بھی کوئی شخص چوری کر لے گا اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ اب تیسرا ضابطہ بیان فرما رہے ہیں یہاں پر۔ یاد رکھو، تیسرا ضابطہ یہ ہے کہ حرز بالمکان وہ ہے اصل اور حرز بالحافظ یہ ہے فرع۔ حرز بالمکان اصل ہے اور حرز بالحافظ فرع ہے، لہٰذا جہاں پر حرز بالمکان ہوگا وہاں حرز بالحافظ کا کوئی اعتبار نہیں۔ جہاں پر بھی حرز بالمکان ہوگا وہاں حرز بالحافظ کا کوئی اعتبار نہیں، دیکھو مثال سے وضاحت ہوگی۔
ایک آدمی نے کمرے کے اندر سامان رکھا ہوا ہے، ایک چور آیا اور اس نے وہ سامان چوری کر لیا، تو دیکھو اس نے حرز بالمکان سے چوری کی ہے لہٰذا اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ دوسری صورت، ایک آدمی ہے وہ مسجد کے اندر بیٹھا ہے اور اس نے اپنا سامان پاس ہی رکھا ہوا ہے، وہ اس کی حفاظت کر رہا ہے، ایک چور آیا اور اس کا یہ سامان اٹھا کر لے گیا، تو اس چور کا بھی ہاتھ کاٹا جائے گا کیونکہ اس نے حرز بالحافظ سے چوری کی ہے۔ توجہ ہے؟ تیسری صورت یہ ہے کہ ایک آدمی جو ہے اس نے دوسرے آدمی کو اپنے کمرے کے اندر آنے کی اجازت دے دی اور وہ شخص اندر آیا، اور پھر تھوڑی دیر کے بعد جب وہ گیا تو پتہ چلا اس نے ایک چیز چوری کر لی ہے۔ تو یاد رکھو اب اس صورت کے اندر اس چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ ایک آدمی اپنے کمرے کے اندر خود ایک دوسرے آدمی کو لے آتا ہے، جب اس آدمی کو وہ اندر لے آیا تو اب حرز نہ رہا اس کے حق میں۔ یہ کمرہ تو کیا تھا؟ حرز تھا، حفاظت کی جگہ تھا، لیکن جب اس نے خود ہی اس چور کو اندر داخل کیا اس کے، خود ہی اس کو لے آیا مثلاً مہمان بنایا یا کوئی بھی صورت تھی، تو اب اس چور کے حق میں یہ حرز نہ رہا، اور پھر چور یہاں سے ایک چیز چوری کر کے لے گیا۔ تو اب آپ اس کا ہاتھ نہیں کاٹ سکتے کیونکہ حرز بالمکان نہیں، آپ نے خود حرز کو کیا کر دیا اس کے لیے؟ ختم۔ آپ کہیں گے بھئی میں خود وہاں پر موجود تھا، میں بیٹھا ہوا تھا، میری ذرا ادھر ادھر توجہ ہوئی اور وہ چوری کر کے چلا گیا، تو حرز بالمکان تو نہیں تھا یہاں پر لیکن حرز بالحافظ تو تھا، حرز بالمکان تو نہیں تھا میں خود اس کو اندر لے آیا کمرے کے، لیکن حرز بالحافظ تو ہے، میں تو یہاں موجود ہوں اپنی چیزوں کی حفاظت کر رہا ہوں۔ کہتے ہیں نہیں بھئی، جہاں حرز بالمکان موجود ہو وہاں حرز بالحافظ کا کوئی اعتبار نہیں، تو یہ جو کمرہ ہے یہ کیا تھا؟ حرز بالمکان، جب حرز بالمکان موجود ہے تو حرز بالحافظ کا کوئی اعتبار نہیں، آپ یہاں ہوں یا نہ ہوں، جب آپ نے ایک آدمی کو اندر آنے کی اجازت دے دی تو اب یہ اس کے لیے حرز نہ رہا۔ جب حرز نہ رہا اور چوری کر کے لے گیا تو یہ چوری اس نے کس سے کی ہے؟ غیر حرز سے کی ہے، کس سے؟ غیر حرز سے، اور حرز بالحافظ اگرچہ ہے لیکن اس کا اعتبار نہیں کیونکہ حرز بالمکان اصل ہے اور جہاں حرز بالمکان موجود ہو وہاں حرز بالحافظ کا کوئی اعتبار نہیں۔ بات سمجھ میں آگئی؟
لہٰذا ایک آدمی دکان کے اندر بیٹھا ہوا ہے سامان بیچ رہا ہے، چور آیا اور اس نے اس سے باتیں کیں اور چند منٹوں کے بعد چور اٹھ کر چلا گیا، بعد میں دیکھا گیا تو چور اس کی قیمتی چیزیں اٹھا کر لے جا چکا تھا، یاد رکھو اس چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جا سکتا۔ اس چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جا سکتا، کیوں؟ کیونکہ دکان کے اندر عام لوگوں کو آنے کی اجازت ہوتی ہے دن کے دوران، دن کے وقت عام لوگوں کو دکان میں آنے کی اجازت ہوتی ہے، معلوم ہوا یہ جگہ تو حرز تھی، یہ کمرہ، یہ دکان تو حرز تھی لیکن آپ نے لوگوں کو اجازت دی ہوئی ہے آنے کی تو اب یہ حرز نہ رہا۔ اب آپ بے شک خود موجود ہیں، آپ نے کیمرے بھی لگائے ہوئے ہیں، گن مین بھی آپ کے کھڑے ہیں، لیکن یہاں حرز بالحافظ کا کوئی اعتبار نہیں۔ جب لوگ اندر آ گئے، جب لوگوں کو اندر آنے کی اجازت ہے تو حرز بالمکان نہ رہا، جب حرز بالمکان نہ رہا اب یہاں سے کوئی شخص چوری کر کے لے جائے گا تو اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جا سکتا؛ کیونکہ ہاتھ تب ہی کاٹا جائے گا جب حرز بالمکان سے چوری کرے یا حرز بالحافظ سے، اور یہاں حرز نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آگئی؟
تو کہتے ہیں: ”وَفِي الْمُحْرَزِ بِالْمَكَانِ لَا يُعْتَبَرُ الْإِحْرَازُ بِالْحَافِظِ“ وفی المحرز بالمکان اور وہ چیز جو محفوظ ہے بالمکان مکان کے ذریعے یعنی جگہ کے ذریعے، ”لَا يُعْتَبَرُ الْإِحْرَازُ بِالْحَافِظِ“ تو وہاں احراز بالحافظ کا اعتبار نہیں۔ وہ چیز جو مکان کے ذریعے محفوظ ہے، یعنی حرز بالمکان ہے اس میں، تو وہاں پر حرز بالحافظ کا کوئی اعتبار نہیں ہے بھئی۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے، کہتے ہیں: ”وَفِي الْمُحْرَزِ بِالْمَكَانِ لَا يُعْتَبَرُ الْإِحْرَازُ بِالْحَافِظِ“ اور محرز بالمکان کے اندر احراز بالحافظ کا کوئی اعتبار نہیں ہے، ”وَهُوَ الصَّحِيحُ“ اور یہی قول صحیح ہے بھئی، ”لِأَنَّهُ مُحْرَزٌ بِدُونِهِ“ اس لیے کیونکہ یہ چیز حافظ کے بغیر ہی محفوظ ہے۔ بھئی آپ نے جب کمرے کے اندر چیزیں رکھی ہوئی ہیں تو یہ کمرہ کس لیے ہے؟ حفاظت کے لیے، تو محافظ کے بغیر ہی یہ چیزیں محفوظ ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ مُحْرَزٌ بِدُونِهِ“ اس لیے کیونکہ یہ چیز جو ہے وہ محافظ کے بغیر ہی محفوظ ہے، ”وَهُوَ الْبَيْتُ“ اور وہ کمرہ ہے مثلاً، کمرے کے اندر اب سامان ہے تو کہتے ہیں وہو البیت اور وہ کمرہ ہے مثال کے طور پر، ”وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ بَابٌ“ اگرچہ اس کمرے کا کوئی دروازہ نہ ہو، بھئی ایک کمرہ ہے اس کا دروازہ نہیں ہے، یا دروازہ تو ہے لیکن دروازہ کھلا ہوا ہے، اب ایک آدمی اندر گیا اور چوری کر کے چلا گیا، تو یاد رکھو ہاتھ کاٹا جائے گا۔ آپ یہ نہ کہیں کہ دروازہ کھلا ہوا تھا، یا دروازہ ٹوٹا ہوا تھا، نہیں بھئی، جو عمارت بنائی جاتی ہے اس کا دروازہ ہو یا نہ ہو وہاں مقصد حفاظت ہی ہوتی ہے بھئی کہ وہاں پر چیزوں کی حفاظت کی جائے۔
پھر ترجمہ دیکھ لیجیے، کہتے ہیں: ”وَهُوَ الصَّحِيحُ“ یہی قول صحیح ہے، یعنی حرز بالمکان کے ہوتے ہوئے حرز بالحافظ کا کوئی اعتبار نہیں، ”لِأَنَّهُ مُحْرَزٌ بِدُونِهِ“ اس لیے کیونکہ وہ چیز بغیر محافظ کے ہی محفوظ ہے، وہ چیز بغیر محافظ کے ہی محفوظ ہے، ”وَهُوَ الْبَيْتُ“ اور وہ کمرہ ہے مثلاً، یعنی کمرے کے ذریعے وہ چیز کیا ہے؟ وہ کمرے کے ذریعے وہ چیز محفوظ ہے، ”وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ بَابٌ“ اگرچہ اس کمرے کا دروازہ نہ ہو، ”أَوْ كَانَ“ یا دروازہ تو ہو ”وَهُوَ مَفْتُوحٌ“ لیکن اس حال میں کہ وہ دروازہ کھلا ہوا ہو، ”حَتَّى يُقْطَعُ السَّارِقُ مِنْهُ“ یہاں تک کہ اس سے چوری کرنے والے کو قطع کیا جائے گا۔ چاہے دروازہ نہ بھی ہو یا دروازہ کھلا ہوا ہو، پھر بھی یہ مکان اور جگہ کس لیے ہے؟ یہ حفاظت کے لیے ہے بھئی۔ یاد رکھو یہاں پر بھی حتیٰ نصب نہیں دے گا بھئی، کیونکہ حتیٰ کے نصب کے لیے دو شرطیں میں نے بتلایا بھئی؛ ایک تو یہ کہ حتیٰ کا مابعد مستقبل ہونا چاہیے ماقبل کی طرف نسبت کرتے ہوئے، اور نیز وہاں حتیٰ سببيت یا غایت کا فائدہ دے بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”حَتَّى يُقْطَعُ السَّارِقُ مِنْهُ“ یہاں تک کہ اس سے چوری کرنے والے کو قطع کیا جائے گا، یعنی اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا، ”لِأَنَّ الْبِنَاءَ لِقَصْدِ الْإِحْرَازِ“ بِنَاء کہتے ہیں عمارت کو، ”لِأَنَّ الْبِنَاءَ“ اس لیے کیونکہ عمارت جو ہوتی ہے ”لِقَصْدِ الْإِحْرَازِ“ وہ حفاظت کے ارادے سے ہوتی ہے، عمارت کو بنایا ہی کس لیے جاتا ہے؟ حفاظت کے ارادے سے۔
”إِلَّا أَنَّهُ لَا يَجِبُ الْقَطْعُ إِلَّا بِالْإِخْرَاجِ مِنْهُ“ ہاں، قیمتی ضابطہ یاد رکھنا۔ مثلاً کمرے کے اندر داخل ہو گیا چور اور اس نے سامان اٹھا لیا، ابھی وہ سامان لے کر اس کمرے سے نہیں نکلا تھا کہ اس سے پہلے ہی مالک بھی پہنچ گیا۔ چور نے وہ سارا سامان سر پر اٹھایا ہوا ہے، لیکن یاد رکھو چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ کیوں؟ وجہ یہ کیونکہ چور نے ابھی تک حرز کو نہیں توڑا، چور نے ابھی تک حرز کو نہیں توڑا۔ چور جب حرز کو توڑ دے گا پھر اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا، اور حرز کا توڑنا تب ہے جب وہ سامان لے کر اس جگہ سے نکل آئے، جب وہ اس کمرے سے اور اس جگہ سے سامان لے کر نکل آئے تو اب ہم کہیں گے کہ چور نے حرز کو توڑ دیا، چور نے حرز کی بے حرمتی کر دی بھئی، لہٰذا اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ لیکن اگر چور ابھی اندر ہی ہے اور اس نے سارا سامان سر پر اٹھا لیا، ابھی باہر نہیں نکلا تھا کہ مالک پہنچ گیا تو اس صورت میں چور کو اور سزا تو دی جا سکتی ہے لیکن اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جا سکتا؛ کیونکہ حرز بالمکان تب ٹوٹتا ہے جب وہ چیز اس حرز سے باہر نکال لی جائے بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”إِلَّا أَنَّهُ لَا يَجِبُ الْقَطْعُ“ مگر یہ کہ اس میں ہاتھ کاٹنا واجب نہیں ہوتا ”إِلَّا بِالْإِخْرَاجِ مِنْهُ“ مگر اس سے چیز کے نکال دینے سے، ”لِقِيَامِ يَدِهِ قَبْلَهُ“ اس وجہ سے کہ مالک کا قبضہ قائم ہے اس سے پہلے۔ بھئی جب تک چور اس چیز کو اس گھر سے باہر لے کر نہیں نکلے گا تب بھی یوں ہی سمجھا جائے گا ابھی بھی یہ چیز مالک ہی کے قبضے میں ہے بھئی۔ مکان کے اندر ہے تو گویا مالک کے قبضے میں ہے۔ تو کہتے ہیں: ”لِقِيَامِ يَدِهِ قَبْلَهُ“ اس وجہ سے کہ وہ صاحب مکان کا قبضہ موجود ہے اس سے پہلے، یعنی باہر نکالنے سے پہلے۔
”بِخِلَافِ الْمُحْرَزِ بِالْحَافِظِ“ ہاں، محرز بالحافظ، بھئی ایک ہے محرز بالمکان، ایک ہے محرز بالحافظ۔ محرز بالمکان اس میں حرز کب ٹوٹے گا؟ جب چور وہ سامان اٹھا کر اس جگہ سے باہر نکل آئے۔ جبکہ محرز بالحافظ جو ہے اس میں چور جیسے ہی اس چیز کو اٹھائے گا ساتھ ہی حرز کو اس نے توڑ دیا، تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے گا۔ جیسے حضرت صفوان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی چادر ایک چور نے چرائی بھئی، اور چور ابھی وہیں پر تھا، اسی وقت حضرت صفوان رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیدار ہوئے اور اس کو پکڑ لیا، تو چور نے صرف اس چادر کو اٹھایا تھا، ابھی وہ مسجد سے بھی نہیں نکلا، لیکن یہاں حرز کون سا تھا؟ حرز بالحافظ تھا، اور حرز بالحافظ کے اندر حرز کب ٹوٹے گا؟ جب چور اس چیز کو اٹھا لے۔ جبکہ حرز بالمکان میں حرز کب ٹوٹے گا؟ جب چور اس چیز کو لے کر باہر نکل جائے۔ تو کہتے ہیں: ”بِخِلَافِ الْمُحْرَزِ بِالْحَافِظِ“ بخلاف اس چیز کے جس کی حفاظت کی گئی ہے حفاظت کرنے والے کے ذریعے، ”حَيْثُ يَجِبُ الْقَطْعُ فِيهِ كَمَا أَخَذَ“ کیونکہ اس کے اندر ہاتھ کا کاٹنا واجب ہو جائے گا كما اخذ جیسے ہی چور اس کو لے لے، ”لِزَوَالِ يَدِ الْمَالِكِ“ اس وجہ سے کہ مالک کا قبضہ ختم ہو گیا ”بِمُجَرَّدِ الْأَخْذِ“ صرف اٹھانے سے ہی۔ مکان کے اندر چور نے سامان اٹھایا تھا تو جب تک وہ مکان سے باہر لے کر نہیں نکلا ابھی بھی مالک کا قبضہ ختم نہیں، لیکن جب حرز بالحافظ ہو تو وہاں جیسے ہی چور نے اس چیز کو اٹھایا تو مالک کی حفاظت اور مالک کا قبضہ ختم ہو گیا۔ تو کہتے ہیں: ”بِخِلَافِ الْمُحْرَزِ بِالْحَافِظِ“ بخلاف وہ چیز جس کی حفاظت کی گئی ہے حفاظت کرنے والے کے ذریعے، ”حَيْثُ يَجِبُ الْقَطْعُ فِيهِ كَمَا أَخَذَ“ کیونکہ اس کے اندر قطع واجب ہو جاتی ہے جیسے ہی چور اس چیز کو اٹھا لے، ”لِزَوَالِ يَدِ الْمَالِكِ بِمُجَرَّدِ الْأَخْذِ“ بوجہ مالک کے قبضے کے ختم ہو جانے کے بمجرد الاخذ صرف اٹھا لینے سے ہی، ”فَيَتِمُّ السَّرِقَةُ“ تو چوری پوری ہو گئی۔ چور نے جیسے ہی وہ چیز اٹھائی تو چوری پوری ہو گئی۔
”وَلَا فَرْقَ بَيْنَ أَنْ يَكُونَ الْحَافِظُ مُسْتَيْقِظًا أَوْ نَائِمًا“ بھئی صورت یہ ہے، ایک جگہ پر حرز بالحافظ ہے، ایک آدمی اپنے سامان کی حفاظت کر رہا ہے، مسجد میں ہے یا راستے میں ہے اور یہی شخص اپنے سامان کے ساتھ ہی سو گیا، یہ شخص اپنے سامان کے ساتھ ہی سو گیا اور پھر کوئی چور آیا اور یہ سامان اٹھا کر لے گیا، تو کیا اب یہاں حرز بالحافظ ہے یا نہیں؟ کہتے ہیں بھئی جب حفاظت کرنے والا سامان کے ساتھ سویا ہوا ہے تو عرف کے اندر اس کو حفاظت کرنے والا ہی شمار کیا جاتا ہے کہ یہ کیا کر رہا ہے؟ اپنے سامان کی حفاظت کر رہا ہے۔ لہٰذا معلوم ہوا چور یہ جو سامان اٹھا کر لے کر گیا اور مالک سویا ہوا تھا، یہ اس نے حرز سے مال چوری کیا ہے لہٰذا اس کا بھی ہاتھ کاٹا جائے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا فَرْقَ بَيْنَ أَنْ يَكُونَ الْحَافِظُ مُسْتَيْقِظًا أَوْ نَائِمًا“ اور اس بات میں کوئی فرق نہیں ہے کہ حفاظت کرنے والا بیدار ہو یا سویا ہوا ہو، ”وَالْمَتَاعُ تَحْتَهُ أَوْ عِنْدَهُ“ اور وہ سامان اس کے نیچے ہو یا اس کے پاس ہو۔ ایک آدمی سویا ہوا ہے چاہے سامان اس کے نیچے ہے چاہے اس کے پاس ہے، تمام صورتوں میں اس کو حفاظت کرنے والا ہی شمار کیا جاتا ہے۔
تو کہتے ہیں اور اس بات میں کوئی فرق نہیں ہے کہ حفاظت کرنے والا بیدار ہو یا سویا ہوا ہو، ”وَالْمَتَاعُ تَحْتَهُ أَوْ عِنْدَهُ“ اور وہ سامان اس کے نیچے ہو یا اس کے پاس ہو اس میں کوئی فرق نہیں، ”هُوَ الصَّحِيحُ“ یہی قول صحیح ہے، ”لِأَنَّهُ يُعَدُّ النَّائِمُ عِنْدَ مَتَاعِهِ“ اس لیے کیونکہ وہ شخص جو اپنے سامان کے پاس سویا ہوا ہوتا ہے اس کو شمار کیا جاتا ہے ”حَافِظًا لَهُ“ کہ وہ اس سامان کی حفاظت کر رہا ہے ”فِي الْعَادَةِ“ عادت میں۔ عام لوگوں کی عادت میں اور عرف میں اس کو حفاظت کرنے والا ہی شمار کرتے ہیں بھئی۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے: ”لِأَنَّهُ يُعَدُّ النَّائِمُ عِنْدَ مَتَاعِهِ“ اس لیے کیونکہ وہ شخص جو اپنے سامان کے پاس سویا ہوا ہے اس کو شمار کیا جاتا ہے، کیا شمار کیا جاتا ہے؟ ”حَافِظًا لَهُ“ کہ وہ اس سامان کی حفاظت کر رہا ہے ”فِي الْعَادَةِ“ عادت میں یعنی عرف کے اعتبار سے۔ عام لوگوں کے عرف میں اس کو حفاظت کرنے والا ہی شمار کیا جاتا ہے۔
”وَعَلَى هَذَا لَا يَضْمَنُ الْمُودَعُ وَالْمُسْتَعِيرُ بِمِثْلِهِ“ اور اسی وجہ سے ضامن نہیں ہوگا مودَع اور مستعیر اس جیسی صورت کے اندر۔ بھئی دیکھو یہاں لفظ آیا مُودَع بھئی۔ مودَع بھئی، أَوْدَعَ يُودِعُ إِيْدَاعًا کا معنی ہے کسی کے پاس امانت رکھوانا، تو جو امانت رکھوانے والا ہے وہ ہے مُودِع اسم فاعل، اور جس کے پاس امانت رکھوائی وہ ہے مُودَع بھئی، اسم مفعول ہے۔ تو صورت یہ: ایک شخص جو ہے اس نے دوسرے کے پاس اپنی امانت رکھوائی اور وہ جو مودَع ہے اس نے وہ امانت اپنے پاس رکھی اور وہ اس کے ساتھ سو گیا غیر حرز میں، یعنی راستے میں یا مسجد وغیرہ کے اندر، تو یہ اپنے پاس رکھ کر سو گیا اور کوئی چور آیا اور وہ سامان چرا کر چلا گیا، تو کیا اس مودَع کو کوتاہی کرنے والا شمار کیا جائے گا کہ اس نے صحیح حفاظت نہیں کی لہٰذا اس کو ضمان دینا پڑے گا؟ یا اس کو کوتاہی کرنے والا شمار نہیں کریں گے؟ تو صاحب ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ ہم نے آپ کو بتلا دیا کہ عرف کے اندر جب کوئی شخص اپنے سامان کے پاس سویا ہوا ہو تو اس کو حفاظت کرنے والا ہی شمار کیا جاتا ہے، لہٰذا یہ جو مودَع امانت کے ساتھ سویا ہوا تھا اس پر ضمان نہیں آئے گا کیونکہ جب یہ سامان کے ساتھ سویا ہوا ہے تو عادتاً اس کو حفاظت کرنے والا ہی شمار کیا جاتا ہے۔
اسی طرح مستعیر بھئی، مستعیر وہ ہے جو عاریۃً کسی سے کوئی چیز مانگے، مثلاً آپ سے کوئی ساتھی سائیکل مانگ کر لے گیا استعمال کے لیے یا جیسے گھروں کے اندر استعمال کے لیے برتن مانگ لیے جاتے ہیں، اس کو عاریت کہتے ہیں۔ اب صورت یہ، ایک آدمی نے دوسرے سے کوئی چیز عاریۃً مانگی استعمال کے لیے اور پھر یہ مستعیر جو ہے اس چیز کے پاس ہی سو گیا غیر حرز میں، یعنی راستے میں یا مسجد وغیرہ کے اندر، اور کوئی چور آیا اور اس نے سامان چوری کر لیا، تو کیا اس مستعیر پر ضمان آئے گا؟ کیا اس نے کوئی کوتاہی کی ہے؟ کہتے ہیں نہیں، اس نے کوئی کوتاہی نہیں کی، اپنے سامان کے پاس سونے والے کو حفاظت کرنے والا ہی شمار کیا جاتا ہے بھئی۔
تو یہ معنی ہے: ”وَعَلَى هَذَا لَا يَضْمَنُ الْمُودَعُ وَالْمُسْتَعِيرُ بِمِثْلِهِ“ اور اسی وجہ سے ضامن نہیں ہوگا مودَع بھی اور مستعیر بھی بِمِثْلِهِ اس جیسے نیند کی صورت میں ان پر ضمان نہیں آئے گا۔ ”لِأَنَّهُ لَيْسَ بِتَضْيِيعٍ“ اس لیے کیونکہ یہ ضائع کرنا نہیں ہے۔ مستعیر اس عاریت چیز کے پاس سویا ہوا ہے یا مودَع اس امانت کے ساتھ سویا ہوا ہے تو ہم یہ نہیں کہیں گے کہ اس نے دوسرے کی امانت ضائع کر دی، بلکہ ہم کہیں گے یہ اس کی حفاظت کر رہا تھا بھئی۔ تو یہ معنی ہے: ”لِأَنَّهُ لَيْسَ بِتَضْيِيعٍ“ اس لیے کیونکہ یہ ضائع کرنا نہیں ہے، مودَع یا مستعیر اس طرح چیز کے ساتھ سو جائیں تو اس کو ضائع کرنا نہیں کہتے۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ لَيْسَ بِتَضْيِيعٍ“ اس لیے کیونکہ یہ ضائع کرنا نہیں ہے۔
”بِخِلَافِ مَا اخْتَارَهُ فِي الْفَتَاوَى“ بخلاف اس کے جس کو فتاویٰ میں اختیار کیا ہے۔ بخلاف اس کے جس کو فتاویٰ میں اختیار کیا ہے۔ صاحب ہدایہ نے صراحت نہیں کی کہ اس سے کون سے فتاویٰ مراد ہیں، کون سے فتاویٰ مراد ہیں؟ لیکن علماء لکھتے ہیں، محشی حضرات فرماتے ہیں کہ صاحب ہدایہ کا اشارہ فتاویٰ ظہیریہ کی طرف ہے۔ صاحب ہدایہ کا اشارہ فتاویٰ ظہیریہ کی طرف ہے، یہ قدیم فتاویٰ ہیں بھئی اور ان فتاویٰ کے اندر یہ مسئلہ لکھا ہوا ہے کہ اگر مودَع جو ہے اس نے اس طرح امانت اپنے پاس رکھی اور یہ سو گیا غیر حرز میں یعنی راستے میں یا مسجد وغیرہ کے اندر، تو اس پر ضمان آئے گا کیونکہ اس نے اس چیز کی حفاظت نہیں کی۔ تو صاحب ہدایہ بتلا رہے ہیں کہ ہم نے آپ کو بتلا دیا کہ اگر مودَع جو ہے وہ امانت کے ساتھ سو جائے غیر حرز کے اندر، تو بھی اس نے کسی قسم کی کوتاہی نہیں کی، اس کو حفاظت کرنے والا ہی شمار کریں گے اور اس پر ضمان نہیں آئے گا، لیکن فتاویٰ میں اس کے برعکس لکھا ہے، صاحب فتاویٰ نے لکھا ہے کہ اس مودَع پر ضمان آئے گا۔ بات سمجھ میں آگئی؟
یہ معنی ہے کہتے ہیں: ”بِخِلَافِ مَا اخْتَارَهُ فِي الْفَتَاوَى“ بخلاف اس کے جس کو صاحب فتاویٰ نے فتاویٰ میں اختیار کیا ہے، یعنی ہم نے تو آپ کو راجح قول بتلا دیا بھئی کہ مودَع پر اس صورت میں ضمان نہیں آئے گا، لیکن صاحب فتاویٰ نے فتاویٰ کے اندر اس کے برعکس قول کو اختیار کیا ہے کہ مودَع پر اس صورت میں ضمان آئے گا بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ حل ہو گیا؟ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔