Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء ثاني · dars-121

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 16 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 123
📂 Choose Format:
⭐ ★★★★★ Excellent TEXT
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
بَابُ مَا يُقْطَعُ فِيهِ وَمَا لَا يُقْطَعُ وَلَا يُقْطَعُ فِي مَا يُوجَدُ تَافِهًا مُبَاحًا فِي دَارِ الْإِسْلَامِ كَالْخَشَبِ وَالْحَشِيشِ وَالْقَصَبِ وَالسَّمَكِ وَالطَّيْرِ وَالصَّيْدِ وَالزِّرْنِيخِ وَالْمَغَرَةِ وَالنُّورَةِ، وَالْأَصْلُ فِيهِ حَدِيثُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا قَالَتْ: ”كَانَتِ الْيَدُ لَا تُقْطَعُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ فِي الشَّيْءِ التَّافِهِ“. گزشتہ سبق میں ہم نے کتاب السرقة شروع کی تھی اور صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ عربی زبان میں سرقہ کا معنی ہے کسی کی چیز خفیہ طور پر، پوشیدہ طور پر لے لینا، اور اسی سے استراق السمع بھی ہے۔ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ﴿إِلَّا مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ﴾، مگر وہ جو چپکے سے کوئی بات سن لے۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ کوئی شخص کسی کی بات چپکے سے سن لے تو عربی میں کہتے ہیں ”اسْتَرَقَ السَّمْعَ“، یا اسی طرح کوئی چپکے سے کسی کو دیکھے تو اس کے لیے عربی میں کہتے ہیں ”اسْتَرَقَ النَّظَرَ“، تو اسی سے استراق السمع بھی ہے۔ اور پھر اس پر شریعت نے کچھ اوصاف کو زیادہ کر دیا ہے اور شریعت کے اندر چوری اسے کہیں گے جس میں نصاب کے بقدر مال چوری کیا جائے اور وہ ہمارے نزدیک کم سے کم دس درہم ہیں، اور نیز وہ مالِ محفوظ ہونا چاہیے، اور نیز وہ چیز ایسی نہ ہو کہ جلدی خراب ہو جاتی ہو، اور نیز اس میں کسی قسم کی تاویل بھی نہ ہو سکے؛ مثلاً کوئی شخص جو ہے کوئی گانے بجانے کا آلہ چوری کر لیتا ہے تو یہاں وہ تاویل کر سکتا ہے اور کہہ سکتا ہے کہ میں نے تو اس لیے چرایا تھا کہ میں اس کو توڑنا چاہتا تھا، شریعت نے اسے منع کیا ہے تو میں اس کو توڑنا چاہتا تھا، تو لہٰذا اس قسم کی تاویل بھی نہ ہو سکے اس مال کے اندر، اور نیز وہاں کسی قسم کا شبہ بھی نہ ہو، شبہ کبھی کبھار وہ محفوظ جگہ میں شبہ ہوتا ہے؛ مثلاً محرم جو ہے وہ کسی دوسرے محرم کی چیز چوری کر لے اس کے گھر سے تو یہاں پر حرز یعنی حفاظت جو ہے اس حفاظت کے اندر شبہ آ گیا، کیونکہ محرم تو بے تکلفی سے ایک دوسرے کے گھروں میں آتے جاتے ہیں، یا اسی طرح بعض اوقات مال کے اندر شبہ آ جاتا ہے کہ چوری کرنے والے کا بھی اس مال کے اندر حصہ ہوتا ہے، جیسے میں نے مثال ذکر کی تھی کہ کوئی شخص مالِ غنیمت میں سے چوری کر لیتا ہے، اب یہ مالِ غنیمت تو تمام مسلمانوں کا حق ہے تو اس کے اندر یہ چوری کرنے والے کا بھی حق ہے، تو لہٰذا شبہ آ گیا اور شبہے کی وجہ سے حد ساقط ہو جاتی ہے۔ تو صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ عربی زبان میں چوری کہتے ہیں کسی کی کوئی چیز خفیہ طور پر لے لینا، جبکہ شریعت نے اس میں کئی اوصاف کو بڑھا دیا کہ وہ مال جو ہے نصاب کے بقدر ہو، مالِ محفوظ ہو، جلدی خراب نہ ہوتا ہو، اور اس میں کوئی تاویل نہ ہو، اور اس میں کسی قسم کا کوئی شبہ وغیرہ نہ ہو۔ اور پھر آپ کو یہ بھی بتلایا تھا صاحبِ ہدایہ نے کہ سرقہ جو ہے دو قسم پر ہے: ایک سرقۂ صغریٰ ہے اور ایک سرقۂ کبریٰ ہے۔ سرقۂ صغریٰ یہ چوری کو کہتے ہیں، اور سرقۂ کبریٰ جو ہے وہ قطعِ طریق کو کہتے ہیں۔ قطعِ طریق یعنی راستہ کاٹنا، اور میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ اردو میں اس کے لیے کوئی الگ لفظ نہیں ہے۔ ہمارے ہاں تو شہر میں بھی کوئی اسلحے کے زور پر مال چھین لے اس کو بھی ڈاکہ کہتے ہیں اور جنگل کے اندر کوئی اسلحے کے زور پر مال چھین لے اس کو بھی ڈاکہ کہتے ہیں، لیکن عربی زبان کے اندر جو شہر کے اندر اسلحے کے زور پر مال چھینا جائے اس کو قطعِ طریق نہیں کہتے، کیونکہ آپ لفظوں پر ذرا غور کر لیں: قطعِ طریق، قطع کا معنی کاٹنا اور طریق کا معنی راستہ، یعنی کہیں جنگل میں راستے کے اندر ڈاکو آ جائے اور راستہ کاٹ دیں ان لوگوں کا، یعنی ان کو لوٹ لیں، تو لہٰذا یہ صرف جنگل میں ہی ہوگا، راستے میں ہی ہو سکتا ہے۔ اور نیز اس کے اندر کسی مدد کے پہنچنے کا امکان بھی نہیں ہوتا، لہٰذا وہ خوب تسلی سے لوٹ مار کرتے ہیں اور اگر قتل کرنا چاہیں تو قتل بھی کرتے ہیں اور پھر سارا کچھ لوٹ کر نکل جاتے ہیں، جبکہ شہر کے اندر تو جب ڈاکو آئے گا، اگر اس کے پاس اسلحہ ہو بھی وہ جلد سے جلد وہاں سے نکلنے کی کوشش کرتا ہے کیونکہ اسے پتہ ہے کہ لوگ یا حفاظت والے مدد کے لیے پہنچ سکتے ہیں۔ تو صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا تھا کہ سرقہ دو قسم پر ہے: ایک سرقۂ صغریٰ اور ایک سرقۂ کبریٰ، اور ان دونوں کے اندر لغوی معنی کی بھی رعایت ہے۔ جو اصطلاحی معنی ہوتے ہیں ان میں لغوی معنی کی رعایت رکھی جاتی ہے، اور لغوی معنی تو تھا خفیہ طور پر لینا، پوشیدہ طور پر لینا۔ تو یہ سرقۂ صغریٰ کے اندر تو یہ بات واضح ہے۔ سرقۂ صغریٰ میں کبھی ابتداء اور انتہاء دونوں کے اعتبار سے خفیہ طور پر ہوتی ہے وہ چوری، اور کبھی صرف ابتداء کے اعتبار سے خفیہ طور پر ہوتی ہے، اگرچہ انتہاء کے اندر وہ پھر مالک سے زبردستی چھین کر مال لے جاتا ہے۔ تو لیکن اشکال ہو رہا ہے کہ سرقۂ کبریٰ اس میں تو دن دہاڑے جو ہیں ڈاکو آتے ہیں اور راستہ کاٹتے ہیں اور مال چھین کر لے جاتے ہیں تو وہاں تو خفیہ ہونے کا معنی نہیں ہے، تو صاحبِ ہدایہ نے بتلایا نہیں، وہاں بھی خفیہ ہونے کا معنی ہے، یعنی وہ وہاں پر امام کی نگاہ سے خفیہ طور پر مال چھین کر لے جاتے ہیں، کیونکہ راستوں کی حفاظت جو ہے یہ خلیفہ کا کام ہوتا ہے، وہ اپنے مددگاروں کے ذریعے، اپنے لشکر کے ذریعے، اپنے پولیس اور فوج کے ذریعے راستوں کی حفاظت کرتا ہے، تو یہاں پر بھی جو ڈاکوؤں نے راستہ کاٹا ہے وہ خلیفہ کی نگاہوں سے پوشیدہ ہو کر، چھپ کر راستہ کاٹا ہے۔ اور اسی طرح سرقۂ صغریٰ کے اندر بھی مالک یا جو مالک کا قائم مقام ہوتا ہے اس کی نگاہوں سے چوری چھپے جو ہے مال چرا لیا جاتا ہے۔ میں نے بتلایا تھا کہ بعض اوقات مالک کی نگاہوں سے چھپا کر چوری کی جاتی ہے اور بعض اوقات غیرِ مالک کی نگاہوں سے چھپ کر چوری کی جاتی ہے؛ مثلاً ایک شخص نے دوسرے کا مال غصب کر لیا، اب یہ جو غاصب ہے اس کے پاس وہ مال موجود ہے اور اس سے کسی نے چوری کر لیا، تو اب دیکھو یہ غاصب تو مالک نہیں ہے لیکن اس وقت یہ مالک کے قائم مقام ہے۔ یا کوئی شخص کسی سے استعمال کے لیے کوئی چیز لے لیتا ہے تو اس کو عاریت کہتے ہیں اور یہ استعمال کے لیے چیز مانگنے والے کو مستعیر کہتے ہیں، تو مستعیر جو ہے اس نے کسی سے کوئی چیز مانگی اور اپنے پاس محفوظ رکھی ہوئی تھی کہ کوئی چوری کر کے لے گیا، اب یہ مستعیر تو مالک نہیں لیکن یہ مالک کے قائم مقام ہے۔ یا اسی طرح کسی نے کسی کے پاس امانت رکھوائی تھی اور اس سے کسی نے مال چوری کر لیا، تو اب وہ جو مودَع ہے جس کے پاس امانت رکھوائی گئی وہ تو مالک نہیں ہے لیکن وہ مالک کے قائم مقام ہے۔ تو لہٰذا سرقۂ صغریٰ میں بھی مالک کی نگاہوں سے چوری کی جاتی ہے یا جو مالک کے قائم مقام ہوتا ہے اس کی نگاہوں سے چھپ کر چوری کی جاتی ہے۔ اور صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا تھا کہ ہمارے نزدیک چوری کا نصاب جو ہے وہ دس درہم ہے یا اس چیز کی قیمت دس درہم تک پہنچتی ہو، اور وہ درہم بھی ڈھلے ہوئے ہوں، ڈھلے ہوئے دس درہم جو ہیں ان تک اس چیز کی قیمت پہنچتی ہو اور محفوظ جگہ سے چوری کی جائے اور اس میں کسی قسم کا شبہ نہ ہو تو اس قسم کی چوری کرنے والے کا ہاتھ کاٹا جائے گا، اور دلیل ذکر کی تھی کہ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ﴿وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا﴾، کہ چوری کرنے والا مرد اور عورت جو ہیں ان کے ہاتھ کاٹ دو۔ اور پھر بتلایا تھا کہ اس میں عاقل بالغ ہونا ضروری ہے، کیونکہ یہ ہاتھ جو کاٹا جا رہا ہے جرم کی وجہ سے کاٹا جا رہا ہے اور جرم تبھی ہوگا جب وہ چوری کرنے والا عاقل بالغ ہو، اگر وہ عاقل بالغ ہی نہیں ہے تو یہ جرم ہی نہیں، جب جرم نہیں ہے تو پھر ہاتھ بھی نہیں کاٹا جا سکتا۔ اور پھر بتلایا تھا کہ مالِ کثیر ہونا چاہیے، اس لیے کیونکہ مالِ کثیر کے اندر لوگوں کی رغبت ہوتی ہے اور اگر مالِ کثیر نہیں ہے پھر تو اس میں لوگوں کی رغبت کم ہوتی ہے، بلکہ اگر معمولی چیز ہو تو لوگ مالک سے چھپا کر نہیں لیتے، مالک کے سامنے ہی لے لیتے ہیں اور مالک بھی عموماً اس پر کوئی روک ٹوک نہیں کرتا، تو لہٰذا یہاں پر اگر معمولی چیز پر ہاتھ کاٹا جائے پھر تو چوری کا رکن ہی نہیں پایا گیا، چوری کا رکن تو یہ تھا کہ خفیہ طور پر لے اور معمولی چیز تو مالک کی نگاہوں کے سامنے ہی لی جاتی ہے۔ اور نیز اس صورت میں اگر معمولی چیز پر ہی ہاتھ کاٹا جائے اس میں تو چوری کی حد کی جو حکمت ہے وہ حکمت بھی نہیں ہے، اس لیے کیونکہ سزا شریعت وہاں مشروع کرتی ہے جو جرم لوگوں کے اندر زیادہ ہو، جو جرم لوگ کثرت سے کرتے ہوں اس سے روکنے کے لیے شریعت جو ہے وہ سزا دیتی ہے، تو معمولی چیز میں تو لوگ رغبت کرتے ہی نہیں تو یہ اس قسم کا جرم تو زیادہ نہیں ہوگا، جب زیادہ نہیں ہے تو پھر اس کے اندر سزا کی حکمت بھی باقی نہ رہے گی۔ اور پھر بتلایا تھا کہ ہمارے نزدیک جو ہے مالِ کثیر کا اندازہ دس درہم کے ساتھ لگایا گیا ہے، دس درہم ہوں تو مالِ کثیر ہے اس میں ہاتھ کاٹا جائے گا، اور دس درہم سے کم چوری کی ہے تو یہ مالِ قلیل ہے اس کے اندر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ جبکہ امام مالک رحمہ اللہ نے اس کا اندازہ تین درہموں کے ساتھ لگایا ہے اور امام شافعی رحمہ اللہ نے اس کا اندازہ ربعِ دینار یعنی دینار کے چوتھے حصے کے ساتھ لگایا ہے، اور ربعِ دینار جو ہے وہ بھی تین درہم کے بقدر ہے، اس لیے کیونکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضور علیہ السلام کے زمانے میں ایک دینار جو ہے وہ بارہ درہم کے برابر ہوتا تھا تو دینار کا چوتھا حصہ جو ہے وہ تین درہم کے برابر ہی ہوا، اور میں نے یہ بھی بتلایا کہ بعض احادیث میں بھی ربعِ دینار کا ذکر آتا ہے۔ تو گویا امام مالک اور امام شافعی رحمہما اللہ کا قول ایک ہی ہے یا قریب قریب ہے ایک دوسرے کے، اور انہوں نے تین درہم کے قول کو اس لیے اختیار کیا کیونکہ روایات میں آتا ہے کہ حضور علیہ السلام کے زمانے میں ڈھال کی قیمت کے بقدر میں ہاتھ کاٹا جاتا تھا، اور اس ڈھال کی قیمتیں مختلف روایات میں مختلف ذکر کی ہیں راویوں نے، بعض صحابہ فرماتے ہیں وہ ڈھال تین درہم کی ہوتی تھی، بعض فرماتے ہیں اس کی قیمت چار درہم تک ہوتی تھی، بعض فرماتے ہیں وہ پانچ درہم تک ہوتی تھی، بعض فرماتے ہیں چھ درہم تک ہوتی تھی، بعض روایات میں دس درہم کا ذکر آیا ہے کہ اس کی قیمت دس درہم تک ہوتی تھی۔ تو وہ کہتے ہیں کہ ہم نے تین کے قول کو، تین درہم والے قول کو اختیار کیا کیونکہ تین درہم تو یقینی ہیں؛ دس درہم والا قول لیں اس دس کے اندر بھی دیکھو تین آ گئے، اور چھ درہم والا قول لیں اس کے اندر دیکھو چھ کے اندر بھی تین ہوتے ہیں، پانچ درہم والا قول لیں پانچ کے اندر بھی دیکھو تین تو موجود ہیں، چار درہم والا قول لیں تو دیکھو اس کے اندر بھی تین درہم موجود ہیں، تو معلوم ہوا تین درہم تو یقینی ہے سب کے قولوں کے مطابق، لہٰذا ہم نے یقینی قول کو اختیار کیا کیونکہ یہ حد کا معاملہ ہے، لہٰذا یہاں شک و شبہے سے ہاتھ نہیں کاٹنا چاہیے بلکہ جب ایک بات یقینی ہو پھر ہی ہاتھ کاٹا جائے، تو وہ کہتے ہیں کہ اس لیے ہم نے تین درہم والے قول کو اختیار کیا۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے ہماری دلیل ذکر کی، ہم کہتے ہیں کہ یہ حد کا معاملہ ہے، اس کے اندر ہاتھ کاٹا جائے گا، انتہا درجے کی سزا ہے، لہٰذا یہاں احتیاط اس میں ہے کہ زیادہ والے قول کو اختیار کیا جائے۔ احتیاط اس میں ہے کہ زیادہ والے قول کو اختیار کیا جائے، کیونکہ کم قیمت والے قول کو آپ اختیار کریں گے تو اس کے اندر تو شبہ ہے پتہ نہیں یہ چوری والا جرم ہے یا نہیں، اگر چوری والا جرم ہے شریعت کی نظر میں تو ہاتھ کاٹا جائے گا، اگر چوری والا جرم نہیں پھر تو ہاتھ نہیں کٹنا چاہیے۔ تو لہٰذا احتیاط ہمارے قول میں ہے، اس لیے کیونکہ ہمارے نزدیک دس درہم کی چوری کرے گا تب ہاتھ کاٹا جائے گا، اس سے کم کے اندر نہیں کاٹا جائے گا۔ تو ہمارے قول میں احتیاط زیادہ ہے۔ آپ کے ذہن میں سوال پیدا ہوگا کہ ہمارے قول میں کس طرح احتیاط زیادہ ہے؟ بھئی دیکھو، ہم نے کہا دس درہم میں ہاتھ کاٹیں گے، تو اگر تین درہم والوں کا بھی قول لے لیں کہ جن کے نزدیک تین درہم میں ہاتھ کاٹا جائے گا تو ان کے نزدیک جب ان کے نزدیک تین درہم میں ہاتھ کاٹا جا رہا ہے تو دس میں تو یقینی طور پر ہاتھ کاٹا جائے گا، جنہوں نے چار درہم والا قول کیا ہے جب ان کے نزدیک چار درہم میں ہاتھ کاٹا جاتا تھا تو دس کے اندر تو بطریقِ اولیٰ ہاتھ کاٹا جائے گا، جن کے نزدیک پانچ درہم کے اندر ہاتھ کاٹا جاتا تھا تو ان کے نزدیک بھی دس درہم کے اندر تو یقینی طور پر ہاتھ کاٹا جائے گا، تو ہم نے وہ قول اختیار کیا کہ جس میں بالاتفاق سب کے نزدیک ہاتھ کاٹا جائے گا، اس لیے کیونکہ یہ حد کا معاملہ ہے، احتیاط اسی میں ہے کہ زیادہ قیمت والے قول کو اختیار کیا جائے تاکہ حد کو ٹالا جا سکے، کیونکہ یہ حد کا معاملہ ہے۔ اور نیز ہم کہتے ہیں اس کی تائید جو ہے حدیث سے بھی ہوتی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ایک دینار یا دس درہم سے کم میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا: ”لَا قَطْعَ إِلَّا فِي دِينَارٍ أَوْ عَشَرَةِ دَرَاهِمَ“، کہ ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا ایک دینار میں یا دس درہموں کے اندر۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے آپ کو یہ بھی بتلایا کہ متن کے اندر مضروبة کی قید تھی کہ وہ درہم ڈھلے ہوئے ہوں یعنی ان پر مہر لگی ہوئی ہو، وجہ یہ کہ عرف کے اندر درہم انہی کو کہتے ہیں جن پر مہر لگی ہوتی ہے اور جو ڈھلے ہوئے ہوتے ہیں، اسی لیے صاحبِ قدوری نے بھی متن کے اندر مضروبہ کی قید لگائی کہ وہ درہم ڈھلے ہوئے ہوں، جبکہ بعض روایات میں آیا ہے چاہے ڈھلے ہوئے ہوں چاہے غیرِ ڈھلے ہوئے ہوں، لیکن بتلایا کہ زیادہ صحیح قول یہی ہے کہ وہ درہم ڈھلے ہوئے ہوں تاکہ جنایت کامل درجے کی ہو جائے؛ جب ڈھلے ہوئے درہم ہوں گے تو جرم کامل درجے کا ہوگا، اور غیرِ ڈھلے ہوئے جو ہیں ان کی قیمت تو بعض اوقات دس درہم سے کم ہوتی ہے تو لہٰذا وہاں جرم کامل درجے کا نہ ہوگا، اور پھر صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی بتلایا کہ یہاں پر جو درہم ذکر کیے گئے ہیں ان سے مراد وہ درہم ہیں جن کا وزن سبعة مثاقیل والا ہو، میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ دینار اور مثقال یہ ایک ہی وزن کا نام ہے، آپ چاہے دینار کہہ دیں، آپ چاہے مثقال کہہ دیں، یہ دونوں ایک ہی وزن کے نام ہیں، اور سبعة مثاقیل والا درہم جو ہے وہ درہم ہوتے تھے کہ دس درہم سات دیناروں کے برابر ہوتے تھے، یا یوں کہو دس درہم سات مثقالوں کے برابر ہوتے تھے، دس درہم سات مثقال کے برابر ہوتے تھے یہ والا درہم مراد ہے، کیونکہ درہم اس زمانے کے اندر اعلیٰ بھی تھے بعض ان کا وزن زیادہ تھا اور بعض درہم ادنیٰ تھے ان کا وزن کم تھا، تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے صحابہ کے مشورے سے یہ متوسط قیمت والا درہم مقرر کیا کہ جو دس درہم کا وزن برابر ہوتا تھا سات دیناروں کے۔ اور میں نے آپ سے ان اوزان کی تفصیل بھی ذکر کی تھی، میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ آٹھ چاول کے دانے ہوں تو یہ ایک رتی بنتی ہے، اور آٹھ رتیاں ہوں تو یہ ایک ماشہ بنتا ہے، اور بارہ ماشے ہوں تو یہ ایک تولہ بنتا ہے۔ تو لہٰذا ان ماشوں کے اعتبار سے درہم کا وزن ہے تین ماشے، ایک رتی، اور خمسِ رتی یعنی رتی کا پانچواں حصہ؛ تین پورے ماشے اور ایک رتی اور رتی کا پانچواں حصہ، یہ ایک درہم کا وزن تھا۔ جبکہ دینار کا وزن ساڑھے چار ماشے ہوتا تھا، ساڑھے چار ماشے۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ دس درہم سات دینار کے برابر ہیں یا نہیں؟ تو لہٰذا دس درہم کا ذرا وزن نکالیے: دس درہم، ہر درہم کتنے وزن کا ہے؟ تین ماشے، ایک رتی اور خمسِ رتی، رتی کا پانچواں حصہ۔ تو دس درہموں کے اندر ہر درہم میں تین تین ماشے مل گئے تو یہ تیس ماشے ہو گئے، یہ الگ رکھ لیں۔ پھر ہر درہم کے اندر ایک ایک رتی پوری ہے، ایک رتی اور خمسِ رتی ہے نا، تو ایک ایک رتی پوری ہے تو دس رتیاں بھی مل گئیں، یہ بھی الگ رکھ لیں، تیس ماشے ہو گئے اور دس رتیاں ہو گئیں۔ اور پھر ہر درہم کے اندر رتی کا پانچواں حصہ ہے یعنی پانچ درہموں میں یہ مل کر ایک رتی بن جائے گی، پانچ درہموں میں مل کر ایک رتی، تو دس درہموں کے اندر دو رتیاں ہمیں مزید مل گئیں، تو یہ دس رتیاں پہلے تھیں اور دو رتی اور مل گئیں یہ بارہ رتی ہو گئے۔ تیس ماشے اور بارہ رتی، اور آٹھ رتی ہو تو ایک ماشہ بنتا ہے تو بارہ رتی سے ڈیڑھ ماشہ بن گیا، تو یہ بن گیا تیس ماشے پہلے تھے اور ڈیڑھ ماشہ یہ یعنی ساڑھے اکتیس ماشے بن گئے، اکتیس ماشے پورے ہیں اور آدھا ماشہ زائد ہے۔ اب ذرا دینار ہم دیکھتے ہیں، سات دینار جو ہیں ان کا وزن بھی ساڑھے اکتیس ماشے ہونا چاہیے، ہر دینار جو ہے ساڑھے چار ماشے کا ہے، تو اس میں سے ذرا آدھے ماشے کو الگ کر دیں اور چار ماشے ہر دینار میں ہیں تو سات چوکے اٹھائیس، تو اٹھائیس ماشے یہ ہو گئے سات دیناروں میں، اور ہر دینار کے اندر آدھا آدھا ماشہ بھی ہمیں مزید مل رہا ہے تو سات آدھے آدھے ماشے ملائیں تو یہ ساڑھے تین ماشے ہو گئے، ساڑھے تین، ساڑھے تین ماشے اور اس کو جمع کریں وہ اٹھائیس ماشوں کے ساتھ تو یہ بھی ساڑھے اکتیس ماشے ہو گئے، معلوم ہوئے دس درہموں کا وزن سات دینار کے برابر ہے تو یہ والے درہم مراد ہیں جو تین ماشے ایک رتی اور خمسِ رتی وزن کے بقدر ہوں۔ اور میں نے ایک اور پیمانہ بھی ذکر کیا تھا کہ پانچ جَو کے دانے ہوں تو یہ ایک قيراط بنتا ہے، پانچ جَو کے دانے ہوں تو ایک قيراط بنتا ہے، قيراط قاف ہے دو نقطوں والا اور آخر میں طا ہے، تو پانچ جَو کے دانے یہ ہوا ایک قيراط، اور درہم کا وزن ہے چودہ قيراط، اور دینار کا وزن ہے بیس قيراط، دینار کا وزن زیادہ ہے، تو درہم کا وزن چودہ قيراط اور دینار کا وزن بیس قيراط۔ تو اب سات دینار کا وزن نکالیں: سات کو بیس سے ضرب دے دیں: ایک سو چالیس قيراط، تو سات دیناروں کا وزن کتنا ہوا؟ ایک سو چالیس قيراط، یا یوں کہو سات مثقال کا وزن کتنا ہوا؟ ایک سو چالیس قيراط، اور درہم جو ہے وہ چودہ قيراط کا ہے تو دس درہموں کا وزن ایک سو چالیس قيراط ہوا، تو دیکھو سات دینار جو ہیں ان کا وزن بھی ایک سو چالیس قيراط اور دس درہم جو ہیں ان کا وزن بھی ایک سو چالیس قيراط ہو گیا، تو معلوم ہوا یہ درہم جو چودہ قيراط والا ہے یہ مراد ہے۔ تو صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا تھا کہ وہ درہم معتبر ہیں کہ دس درہم کا وزن برابر ہو سات مثقال کے، کیونکہ کہتے ہیں عام شہروں میں یہی رائج ہیں۔ اور درہموں کے علاوہ کوئی اور چیز ہے جس کو چور نے چوری کیا ہے تو اس کی قیمت لگائی جائے گی، چاہے وہ سونا ہی کیوں نہ ہو ان کی قیمت لگائی جائے گی، اگر ان کی قیمت دس درہم تک پہنچی تو پھر اس صورت میں اس چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی بتلایا کہ اس قطعِ ید کے معاملے میں غلام اور آزاد دونوں برابر ہیں، چاہے غلام چوری کرے چاہے آزاد آدمی چوری کرے ہاتھ کاٹا جائے گا، کیونکہ قرآن کے اندر غلام اور آزاد میں کوئی فرق نہیں کیا گیا، قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ﴿وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا﴾، یہاں کسی غلام یا آزاد کی تفصیل ذکر نہیں ہے، معلوم ہوا دونوں کی ایک ہی سزا ہے۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی بتلایا تھا کہ چوری کا جرم دو گواہوں کی گواہی سے بھی ثابت ہو جائے گا اور چور کے اپنے اقرار سے بھی چوری کا جرم ثابت ہو جائے گا، البتہ ایک ہی اقرار کافی ہے طرفین رحمہما اللہ کے نزدیک، جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، زنا کے اندر چار گواہ تھے تو وہاں چار دفعہ اقرار ضروری تھا، تو لہٰذا چوری کے اندر اور شربِ خمر کے اندر دو گواہ ضروری ہیں تو یہاں اقرار بھی دو مرتبہ ہونا چاہیے، لیکن طرفین جواب دیتے ہیں کہ نہیں، اقرار کے اندر کوئی دلوں میں بدگمانی نہیں آتی کہ یہ شخص اپنے آپ سے دشمنی کر رہا ہے، ہاں البتہ گواہی کے اندر جو ہے گواہی کے اندر دلوں میں بدگمانی آ سکتی ہے، لیکن اقرار تو ایک دفعہ بھی کر لے وہ معتبر ہے، البتہ گواہی جتنی زیادہ ہوتی جائے اتنا ہی جھوٹ کا الزام ختم ہوتا چلا جاتا ہے، لہٰذا ایک ہی دفعہ کا اقرار کافی ہے۔ اور نیز بتلایا تھا کہ یہاں دو چیزیں ہیں: ایک تو یہ کہ اس چور کے اقرار کی وجہ سے ایک تو حد آئے گی اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا، اور نیز اس پر مال بھی لازم ہے وہ جو مال اس نے چوری کیا ہے اگر وہ اس کے پاس موجود ہے تو وہ اس کو واپس کرنا پڑے گا اور اگر ہلاک ہو چکا ہے تو پھر اس پر ضمان نہیں آئے گا۔ تو وہ مال جو ہے اس کے پاس اگر موجود ہے تو وہ مال بھی واپس دینا پڑے گا۔ تو یہاں پر اگر وہ چور اقرار کے بعد رجوع کرے تو رجوع کی وجہ سے حد تو ساقط ہو جائے گی لیکن مال ساقط نہیں ہوگا کیونکہ مالک اس کو جھٹلائے گا، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو لہٰذا چاہے وہ دس دفعہ بھی اقرار کر لے پھر بھی رجوع کا دروازہ تو بند نہیں ہوتا، وہ رجوع کر سکتا ہے اور اس کی وجہ سے حد ساقط ہو جائے گی۔ تو معلوم ہوا حد کے معاملے میں رجوع کا دروازہ بند نہیں ہو سکتا جتنی دفعہ بھی اقرار کر لے، اور مال کے معاملے میں ایک ہی دفعہ اقرار کر لے تو وہ اقرار کافی ہے اور اس کے بعد پھر وہ رجوع نہیں کر سکتا، تو اس لیے زیادہ اقرار کا یہاں کوئی فائدہ ہی نہیں۔ اور وہ جو زنا کے اندر ثابت ہوا تھا چار دفعہ کا اقرار وہ خلافِ قیاس تھا، وہ بات ہماری عقل میں تو نہیں آتی، کیونکہ عقل تو یہی کہتی ہے کہ ایک دفعہ کا اقرار کافی ہے، تو وہ جو زنا کے معاملے میں چار دفعہ کا اقرار تھا وہ خلافِ قیاس تھا، اور جو چیز خلافِ قیاس ہوتی ہے وہ اپنے مورد پر بند رہتی ہے، اس پر اور چیزوں کو قیاس نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ جب ایک بات ہماری عقل میں ہی نہیں آ رہی، جب ایک بات ہماری سمجھ میں ہی نہیں آ رہی تو اس پر اور چیزوں کو آپ کیسے قیاس کر سکتے ہیں؟ تو جو حکم بھی شریعت کے اندر خلافِ قیاس ہو وہ اپنے مورد پر بند رہتا ہے، یعنی جس مسئلے کے سلسلے میں وہ حکم آیا ہے وہیں پر وہ بند رہے گا، اس پر اور چیزوں کو اور مسئلوں کو قیاس نہیں کر سکتے۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی بتلایا تھا کہ چوری جو ہے دو گواہوں کے ذریعے بھی ثابت ہو جاتی ہے، اور ان گواہوں سے جو ہے امام پوچھے گا چوری کی کیفیت کے بارے میں، ماہیت کے بارے میں، زمان کے بارے میں اور چوری کے مکان کے بارے میں۔ وجہ یہ ہے کہ امام پوچھے گا کہ چوری کیسے کی، اس لیے کیونکہ چوری کی بعض صورتیں ایسی ہیں کہ جن کے اندر قطعِ ید واجب نہیں ہوتا، جس میں ہاتھ نہیں کاٹا جاتا؛ مثلاً دو چور آئے، ایک مکان سے باہر رہا اور ایک مکان کے اندر چلا گیا اور اس نے اندر سے سامان اٹھایا اور کھڑکی کے ذریعے یا کسی دیوار میں کیے ہوئے سوراخ کے ذریعے باہر والے چور کو پکڑا دیا، تو اس صورت میں نہ باہر والے چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا کیونکہ وہ اندر گیا ہی نہیں، اور نہ اندر والے چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا کیونکہ وہ خود سامان لے کر باہر نہیں نکلا، تو لہٰذا امام جو ہے گواہوں سے پوچھے گا کہ کیسے چوری کی تھی، اور پھر ان سے پوچھے گا کہ چوری کسے کہتے ہیں، کیونکہ ہو سکتا ہے گواہوں کے خیال میں چوری کا خفیہ ہونا ضروری نہ ہو، حالانکہ چوری کا تو خفیہ ہونا ضروری ہے، اگر ایک چیز ظاہری طور پر اٹھا کر لے جائیں اس کو تو چوری نہیں کہا جاتا عربی زبان میں۔ اور نیز زمانے کے بارے میں بھی پوچھے گا کہ کب چوری کی تھی، کیونکہ کہیں ایسا نہ ہو زمانہ زیادہ گزر چکا ہو، اور آپ نے پڑھا ہے کہ چوری اور زنا وغیرہ کے معاملے میں اگر بات پرانی ہو جائے، ایک مہینہ گزر جائے تو پھر حد ساقط ہو جاتی ہے۔ اور نیز امام ان سے جگہ کے بارے میں بھی پوچھے گا کہ کس جگہ سے چوری کی، اس لیے کیونکہ ہو سکتا ہے وہاں حرز نہ ہو، محفوظ جگہ نہ ہو، گھر کے باہر پڑی ہوئی ایک چیز کو کوئی اٹھا کر لے گیا تھا تو اس کے اندر تو حفاظت نہیں ہے تو اس میں ہاتھ نہیں کاٹا جاتا، یا ہو سکتا ہے اس نے دار الحرب کے اندر چوری نہ کی ہو اور دار الحرب میں بھی چوری کی ہو تو اس کے اندر ہاتھ نہیں کاٹا جا سکتا۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی بتلایا کہ گواہی کے بعد اب قاضی نے ان گواہوں کی تعدیل کروانی ہے کہ یہ قابلِ اعتماد بھی ہیں یا نہیں، کیونکہ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ حدود کا مسئلہ بڑا نازک ہے، اس کے اندر قاضی پر ضروری ہے کہ وہ گواہوں کی تعدیل کروائے، خفیہ طور پر پتہ کروائے کہ یہ گواہ عادل ہیں یا عادل نہیں ہیں۔ تو اس دوران جو ہے اس چور کو قاضی جیل میں ڈال دے گا کہ کہیں یہ بھاگ نہ جائے، اور جیل میں اس لیے ڈالے گا کیونکہ اس پر چوری کا الزام لگا ہوا ہے، دو آدمیوں نے گواہی دی ہے آ کر اس کے خلاف۔ اور پھر یہ بھی بتلایا تھا صاحبِ ہدایہ نے کہ اگر ایک پوری جماعت چوری کرے تو پھر دیکھا جائے گا کہ وہ مال جو انہوں نے چرایا ہے وہ ہر ایک کے حصے میں نصاب کے بقدر آ رہا ہے یا نہیں، اگر ہر ایک کے حصے میں دس درہم یا اس سے زیادہ مال آ رہا ہے تو پھر سب کے ہاتھ کاٹے جائیں گے، اور اگر دس درہم پورے نہیں آ رہے ہر ایک کے حصے میں تو پھر کسی کا بھی ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ اور میں نے یہ بھی بتلایا تھا کہ یہ بھی ضروری ہے کہ اس جماعت کے اندر کوئی بچہ نہ ہو، کوئی مجنون نہ ہو، یا جس سے چوری کی ہے اس کا کوئی محرم نہ ہو، اگر اس جماعت کے اندر کوئی بچہ ہوا یا مجنون ہوا یا اس مالک کا کوئی محرم ہوا تو پھر اس صورت میں ان کا تو ہاتھ نہیں کاٹا جا سکتا، جب ان کا ہاتھ نہیں کاٹا جا سکتا تو پھر ان چوروں کی جماعت میں سے کسی اور کا بھی ہاتھ نہیں کاٹا جا سکتا، بات سمجھ میں آ گئی۔ اب آئیے آج کے سبق پر: بَابُ مَا يُقْطَعُ فِيهِ وَمَا لَا يُقْطَعُ وَلَا يُقْطَعُ فِي مَا يُوجَدُ تَافِهًا مُبَاحًا فِي دَارِ الْإِسْلَامِ كَالْخَشَبِ وَالْحَشِيشِ وَالْقَصَبِ وَالسَّمَكِ وَالطَّيْرِ وَالصَّيْدِ وَالزِّرْنِيخِ وَالْمَغَرَةِ وَالنُّورَةِ ”بَابُ مَا يُقْطَعُ فِيهِ وَمَا لَا يُقْطَعُ“، یہ باب ہے ان چیزوں کے بیان میں کہ جن کے اندر ہاتھ کاٹا جائے گا ”وَمَا لَا يُقْطَعُ“ اور جن میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ اس باب کے اندر صاحبِ ہدایہ تفصیل بیان فرمائیں گے کہ کن چیزوں کے اندر چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا اور کن چیزوں کے اندر چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”بَابُ مَا يُقْطَعُ فِيهِ“، یہ باب ہے ان چیزوں کے بیان میں کہ جن کے اندر چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا ”وَمَا لَا يُقْطَعُ“ اور ان چیزوں کے بیان میں جن میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ ”وَلَا يُقْطَعُ فِي مَا يُوجَدُ تَافِهًا مُبَاحًا فِي دَارِ الْإِسْلَامِ“، تافہ، تافہ کا معنی ہے معمولی، حقیر، اور ادنیٰ، اس کو تافہ کہتے ہیں۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا يُقْطَعُ فِي مَا يُوجَدُ“، اور ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا ان چیزوں کے اندر جو پائی جاتی ہیں ”تَافِهًا مُبَاحًا فِي دَارِ الْإِسْلَامِ“، اس حال میں کہ وہ حقیر ہوں، مباح ہوں دار الاسلام میں۔ وہ چیزیں جو دار الاسلام میں پائی جاتی ہیں اور ان کو حقیر اور معمولی سمجھا جاتا ہے، اور مباح سمجھا جاتا ہے ہر ایک اس کو لے سکتا ہے، تو اس قسم کی چیزوں میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ جیسے آگے صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ لکڑیاں ہیں یا گھاس وغیرہ ہے۔ دیکھو جنگل ہے، عام جنگل ہے، کسی کا مملوک نہیں ہے، اس میں سے جو شخص بھی لکڑیاں اکٹھی کر کے لانا چاہے وہ لا سکتا ہے، اس کے لیے مباح ہے، اور ان لکڑیوں کو معمولی سمجھا جاتا ہے۔ اسی طرح گھاس ہے، جو شخص بھی جنگل سے گھاس لانا چاہتا ہے وہ اس کے لیے لانا مباح ہے اور یہ معمولی چیز ہے، تو اس طرح کی اگر کوئی معمولی چیز چوری کر لے چاہے اس کی قیمت دس درہم تک ہی کیوں نہ پہنچ رہی ہو پھر بھی ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، کیونکہ یہ چیزیں معمولی سمجھی جاتی ہیں اور دار الاسلام میں مباح ہو کر عام پائی جاتی ہیں۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا يُقْطَعُ فِي مَا يُوجَدُ“، اور ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا ان چیزوں کے اندر جو پائی جاتی ہیں ”تَافِهًا“، اس حال میں کہ وہ معمولی ہیں ”مُبَاحًا“، اور اس حال میں کہ وہ مباح ہیں ”فِي دَارِ الْإِسْلَامِ“، دار الاسلام میں، ”كَالْخَشَبِ“، جیسے کہ لکڑی ہے ”وَالْحَشِيشِ“، اور گھاس ہے، حشیش گھاس کو کہتے ہیں، تو کہتے ہیں: ”كَالْخَشَبِ وَالْحَشِيشِ“، جیسے کہ لکڑی ہے اور گھاس ہے، ”وَالْقَصَبِ“، اور جیسے کانا ہے، کانا اس کو نرکل کہتے ہیں نرکل، جس کے ذریعے یہ کاتب اپنے قلم بھی بناتے ہیں لکھنے کے لیے، یا اسی طرح ان کو ملا کر یہ کھڑکیوں یا دروازوں کے آگے پردے کی صورت میں بنائے جاتے ہیں، بات سمجھ میں آ گئی؟ نرکل، اور یہ بانس کے نسل کا پودا ہے البتہ باریک باریک ہوتے ہیں۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْقَصَبِ“، اور جیسے کہ کانا ہے، ”وَالسَّمَكِ“، اور جیسے مچھلی ہے، ”وَالطَّيْرِ“، اور پرندے ہیں، ”وَالصَّيْدِ“، اور شکار ہے۔ دیکھو مچھلی جو ہے دریا کے اندر ہے، جو شکار کرنا چاہے وہ شکار کر سکتا ہے، اسی طرح پرندے جو ہیں جو شکار کرنا چاہے کر سکتا ہے، اسی طرح اور شکار ہے جنگل کے اندر تو جو شکار کرنا چاہے وہ کر سکتا ہے، وہ اس کا مالک بن جاتا ہے، تو اس قسم کی چیزوں میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، چاہے کسی نے دریا سے مچھلی پکڑی اور دوسرا شخص چرا کر لے گیا اور اس مچھلی کی قیمت دس درہم سے زیادہ تھی پھر بھی، پھر بھی اس کے اندر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ ”وَالسَّمَكِ وَالطَّيْرِ وَالصَّيْدِ“، ”وَالسَّمَكِ“، اور جیسے مچھلی ہے ”وَالطَّيْرِ“، اور جیسے کہ پرندے ہیں ”وَالصَّيْدِ“، اور جیسے کہ شکار ہے۔ دیکھو مچھلی، پرندے، اور شکار جو بھی ان کو شکار کر لے وہ ان کا مالک بن جاتا ہے تو دیکھو یہ دار الاسلام میں مباح پائی جاتی ہیں، یہ چیزیں دار الاسلام میں مباح پائی جاتی ہیں تو یہ معمولی چیزیں ہیں، دار الاسلام میں عام پائی جاتی ہیں جو ان کو پکڑنا چاہے پکڑ سکتا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَالسَّمَكِ“، اور جیسے کہ مچھلی ہے ”وَالطَّيْرِ“، اور پرندے ہیں ”وَالصَّيْدِ“، اور شکار ہے، ”وَالزِّرْنِيخِ“، زرنیخ، اسے اردو میں ہڑتال کہتے ہیں، ہڑتال۔ یہ زمین کی جنس کے کوئی خاص پتھر وغیرہ ہیں اور شفاف ہوتی ہے، یعنی جیسے شیشہ شفاف ہوتا ہے، تو یہ شیشے کی طرح پوری شفاف تو نہیں ہوتی لیکن بہرحال کچھ نہ کچھ شفاف سی ہوتی ہے، تو یہ زرنیخ جو ہے یہ تو دار الاسلام کے اندر عام پہاڑوں کے اندر پائی جاتی ہے تو لہٰذا اس میں بھی اگر کوئی چوری کر لیتا ہے اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَالزِّرْنِيخِ“، اور جیسے کہ ہڑتال ہے، ”وَالْمَغَرَةِ“، مَغَرہ اور مَغْرَہ، غین پر فتحہ بھی صحیح ہے اور سکون بھی، مَغَرہ اور مَغْرَہ یہ انہوں نے لکھا ہے کہ یہ کوئی سرخ رنگ کی مٹی ہے، سرخ رنگ کی مٹی ہے یعنی زمین کی جنس کی کوئی چیز ہے، تو لہٰذا یہ بھی دار الاسلام کے اندر عام پائی جاتی ہے، اس کی چوری میں بھی ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْمَغَرَةِ“، اور جیسے کہ مغرہ ہے، ”وَالنُّورَةِ“، نورہ یاد رکھو چونا، چونا۔ یاد رکھو یہ جو چونا ہے جس کے ذریعے دیواروں پر سفیدی وغیرہ کی جاتی ہے یہ بھی زمین کی جنس کی ایک خاص قسم کی مٹی ہے۔ اب چونا بھی مملکتِ اسلامیہ کے اندر عام پایا جاتا ہے اور مملکتِ اسلامیہ کے اندر مباح ہو کر ملتا ہے اور اس کو معمولی سمجھا جاتا ہے، تو ان سب چیزوں کے اندر اگر چور چوری کر لیتا ہے چاہے اس چیز کی قیمت دس درہم تک ہی کیوں نہ پہنچ رہی ہو ان کے اندر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا کیونکہ یہ معمولی چیزیں ہیں۔ آگے دیکھیے، کہتے ہیں: وَالْأَصْلُ فِيهِ حَدِيثُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا قَالَتْ: ”كَانَتِ الْيَدُ لَا تُقْطَعُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ فِي الشَّيْءِ التَّافِهِ“ اور اصل جو ہے اس کے اندر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی حدیث ہے، ”قَالَتْ“، وہ فرماتی ہیں: ”كَانَتِ الْيَدُ لَا تُقْطَعُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ فِي الشَّيْءِ التَّافِهِ“، کہ ہاتھ جو ہے حضور علیہ السلام کے زمانے میں معمولی چیز پر نہیں کاٹا جاتا تھا۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟ تو ”كَانَتِ الْيَدُ لَا تُقْطَعُ“، ہاتھ نہیں کاٹا جاتا تھا ”عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ“، حضور علیہ السلام کے زمانے میں ”فِي الشَّيْءِ التَّافِهِ“، حقیر اور معمولی چیز میں۔ حدیث یہیں تک ہے، آگے صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں: ”أَيِ الْحَقِيرِ“، ”أَيِ الْحَقِيرِ“، یہ التافہ کا معنی بیان کر رہے ہیں کہ تافہ کا کیا معنی ہے: ”أَيِ الْحَقِيرِ“، یعنی کہ حقیر، حقیر چیزوں میں حضور کے زمانے میں ہاتھ نہیں کاٹے جاتے تھے۔ ”وَمَا يُوجَدُ جِنْسُهُ مُبَاحًا فِي الْأَصْلِ بِصُورَتِهِ غَيْرَ مَرْغُوبٍ فِيهِ حَقِيرٌ“، اور وہ چیز کہ اس کی جنس پائی جاتی ہے مباحاً، مباح ہو کر، وہ چیز کہ اس کی جنس مباح ہو کر پائی جاتی ہے ”فِي الْأَصْلِ بِصُورَتِهِ“، اصل کے اندر اس کی اپنی صورت پر ”غَيْرَ مَرْغُوبٍ فِيهِ“، اس حال میں کہ وہ غیرِ مرغوب ہو ”حَقِيرٌ“، وہ چیز حقیر ہے۔ بتلانا چاہتے ہیں حقیر چیز کسے کہتے ہیں؟ کچھ مثالیں تو ذکر کر دیں لیکن اب بتلانا چاہتے ہیں صاحبِ ہدایہ کہ وہ چیز جو اپنی شکل پر مباح ہو کر دار الاسلام میں پائی جاتی ہے اور لوگ اس میں زیادہ رغبت نہیں کرتے تو وہ حقیر ہے۔ دیکھو کسی کو کہیں پر چونا مل جائے، اب چونے کے اندر تو کوئی رغبت نہیں کرے گا، کوئی ایک آدھ آدمی ہوگا جس کو رغبت ہوگی وہ اس کو لے کر جائے گا، عام لوگ پروا بھی نہیں کریں گے اس کی، اسی طرح اور کوئی زرنیخ مل جاتی ہے پہاڑ کے اندر عام لوگ پروا بھی نہیں کرتے، اب جیسے شکار جو بھی جنگل میں جائے گا وہ شکار کر سکتا ہے لیکن ہر ایک اس میں رغبت نہیں کرتا، تو یہ چیزیں جو ہیں ان کو لوگ معمولی سمجھتے ہیں، اگر کوئی قیمتی چیز ہوتی پھر تو سارے لوگ اس میں رغبت کرتے، توجہ ہے؟ تو یہ چیزیں معمولی ہیں۔ تو کہتے ہیں: ”وَمَا يُوجَدُ جِنْسُهُ مُبَاحًا فِي الْأَصْلِ بِصُورَتِهِ“، اور وہ چیز کہ اس کی جنس مباح ہو کر پائی جائے ”فِي الْأَصْلِ بِصُورَتِهِ“، اصل کے اندر اپنی صورت پر، وہ چیز جو اصل میں اپنی ہی صورت پر مباح ہو کر پائی جا رہی ہے ”غَيْرَ مَرْغُوبٍ فِيهِ“، اس حال میں کہ وہ مرغوب بھی نہیں ہے ”حَقِيرٌ“، یہ حقیر ہے، یہ حقیر کا لفظ کیا ہے؟ یہ خبر ہے ”مَا يُوجَدُ“ کے لیے، تو اس قسم کی چیز حقیر ہے۔ ”تَقِلُّ الرَّغَبَاتُ فِيهِ“، رغبتیں اس کے اندر کم ہوتی ہیں ”وَالطِّبَاعُ لَا تَضَنُّ بِهِ“، ضَنَّ يَضَنُّ... کے معنی ہیں بخل کرنا، کنجوسی کرنا۔ ﴿وَالطِّبَاعُ لَا تَضَنُّ بِهِ﴾ اور طبیعتیں اس کے اندر بخل نہیں کرتیں، ﴿فَقَلَّمَا يُوجَدُ أَخْذُهُ عَلَى كُرْهٍ مِنَ الْمَالِكِ﴾، پس بہت کم پایا جاتا ہے اس کو لے لینا زبردستی مالک سے۔ یعنی یہ چیزیں مباح ہو کر دار الاسلام میں پائی جاتی ہیں، عموماً مالک سے لوگ ویسے ہی لے لیتے ہیں، کوئی مالک سے زبردستی یا ناپسندیدگی کے طور پر لے لے ایسا کم ہی ہوتا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ﴿فَقَلَّمَا يُوجَدُ أَخْذُهُ عَلَى كُرْهٍ﴾ پس بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ اس کو لے لیا جائے علیٰ کُرْہٍ، کُرْہٌ اور کَرْہٌ کا معنی ہے ناپسندیدگی بھئی، کہ اس کو لے لیا جائے علیٰ کُرْہٍ ناپسندیدگی پر من المالک مالک سے، ﴿فَلَا حَاجَةَ إِلَى شَرْعِ الزَّاجِرِ﴾ لہٰذا کوئی ضرورت نہیں ہے کسی زاجر کے مشروع کرنے کی، بھئی زاجر وہ چیز جو ڈانٹنے والی ہے، دھمکانے والی ہے یعنی سزا۔ سزا کی ضرورت وہاں پیش آتی ہے جب ایک چیز میں لوگ رغبت کرتے ہیں اور وہ جرم زیادہ پایا جاتا ہو تو پھر وہاں شریعت لوگوں کو روکنے کے لیے سزا مقرر کرتی ہے، لیکن یہ چیزیں جو ہیں ان میں تو لوگوں کی رغبتیں بھی کم ہیں اور عموماً مالک کی رضامندی سے ہی مالک سے لے لیا جاتا ہے، لہٰذا اس کے اندر زاجر یعنی کسی سزا کو مشروع کرنے کی کوئی حاجت اور ضرورت نہیں ہے بھئی۔ کہتے ہیں: ﴿فَلَا حَاجَةَ إِلَى شَرْعِ الزَّاجِرِ﴾ لہٰذا کسی دھمکانے والی چیز کے مشروع کرنے کی کوئی حاجت نہیں ہے، ﴿وَلِهَذَا لَمْ يَجِبِ الْقَطْعُ فِي سَرِقَةِ مَا دُونَ النِّصَابِ﴾ اور اسی وجہ سے ہاتھ کا کاٹنا واجب نہیں ہے نصاب سے کم چوری کے اندر۔ کہتے ہیں اسی وجہ سے نصاب سے کم چوری کے اندر ہاتھ نہیں کاٹا جاتا کیونکہ نصاب سے کم جو چیز ہو گی وہ معمولی ہے، اور یہاں بھی یہ چیزیں بھی کیا ہیں؟ معمولی ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَلِهَذَا لَمْ يَجِبِ الْقَطْعُ﴾ اور اسی وجہ سے ہاتھ کا کاٹنا واجب نہیں ہوتا ﴿فِي سَرِقَةِ مَا دُونَ النِّصَابِ﴾ نصاب سے کم کی چوری میں، ﴿وَلِأَنَّ الْحِرْزَ فِيهَا نَاقِصٌ﴾ اور نیز اس لیے کیونکہ ان کے اندر حفاظت ناقص ہے۔ حرز کا کیا معنی؟ حفاظت یا اسی طرح محفوظ جگہ، دونوں معنی آتے ہیں اس کے۔ ﴿وَلِأَنَّ الْحِرْزَ فِيهَا نَاقِصٌ﴾ اور اس لیے کیونکہ ان چیزوں کے اندر حفاظت ناقص ہے، حفاظت ناقص ہے۔ اب کس طرح حفاظت ناقص ہے ان میں؟ وہ بھی صاحبِ ہدایہ آگے بیان فرما رہے ہیں، کہتے ہیں: ﴿أَلَا يُرَى﴾ کیا یہ بات معلوم نہیں ہے ﴿أَنَّ الْخَشَبَ تُلْقَى عَلَى الْأَبْوَابِ﴾ کہ لکڑیاں جو ہیں وہ گھر کے دروازے پر ڈال دی جاتی ہیں۔ جو لوگ جنگل سے لکڑیاں اکٹھی کر کے لاتے ہیں وہ گھر کے اندر چھپا کر سنبھال کر نہیں رکھتے بلکہ گھر کے دروازے پر بھی رکھ دی جاتی ہیں وہ لکڑیاں، معلوم ہوا ان کے اندر حفاظت ناقص ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ﴿أَلَا يُرَى﴾ کیا یہ بات معلوم نہیں ہے ﴿أَنَّ الْخَشَبَ تُلْقَى عَلَى الْأَبْوَابِ﴾ کہ لکڑیاں جو ہیں ان کو دروازوں پر ڈال دیا جاتا ہے، ﴿وَإِنَّمَا يُدْخَلُ فِي الدَّارِ لِلْعِمَارَةِ﴾ اور ان کو داخل کیا جاتا ہے گھر کے اندر لِلْعِمَارَةِ تعمیر کے لیے ﴿لَا لِلْإِحْرَازِ﴾ نہ کہ محفوظ کرنے کے لیے، بھئی گھر کے اندر جو لکڑیاں لے کر جاتے ہیں وہ حفاظت کے لیے نہیں لے کر جاتے بلکہ اگر کوئی تعمیر وغیرہ کرنی ہو تو پھر اس وقت لکڑیاں لے کر جاتے ہیں، کوئی چھت وغیرہ بنانی ہے یا کوئی اور چیز بنانی ہے تو پھر تعمیر کے لیے لکڑی گھر کے اندر لے کر جاتے ہیں ورنہ عموماً یہ لکڑیاں عام جو جلانے والی ہوتی ہیں یہ دروازے پر ہی ڈال دی جاتی ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَإِنَّمَا يُدْخَلُ فِي الدَّارِ لِلْعِمَارَةِ لَا لِلْإِحْرَازِ﴾ اور گھر کے اندر تو لکڑیاں تعمیر کے لیے ہی داخل کی جاتی ہیں نہ کہ جمع کرنے اور محفوظ کرنے کے لیے۔ احراز کا معنی ہے جمع کرنا، محفوظ کرنا، ﴿لَا لِلْإِحْرَازِ﴾ نہ کہ جمع کرنے اور محفوظ کرنے کے لیے، ﴿وَالطَّيْرَ يَطِيرُ﴾ طیر پر نصب پڑھیں بھئی۔ یہ اس کا عطف کریں یہ جو پیچھے آیا: ﴿أَلَا يُرَى أَنَّ الْخَشَبَ﴾، تو انَّ کا جو اسم ہے اسی پر طیر کا بھی عطف کر دیں۔ یہ سب کے اندر حرز ناقص ہے، صاحبِ ہدایہ بیان فرما رہے ہیں کہ لکڑیوں میں دیکھ لو حرز ناقص ہے، ان کو دروازوں پر ہی لوگ ڈال دیتے ہیں، چاہے ہر ایک نہیں ڈالتا لیکن بہت سے لوگ دروازوں پر بھی ڈال دیتے ہیں، اور اسی طرح پرندہ جو ہے، پرندہ وہ تو اڑ جاتا ہے، پرندہ جو ہے اڑ جاتا ہے، پرندہ کو شکار کر کے لے بھی آیا، ذرا ہاتھ سے نکلا وہ تو فوراً اڑ جائے گا، معلوم ہوا اس کے اندر بھی حرز ناقص ہے۔ اسی طرح شکار جو ہے، شکار کو آپ پکڑ کے تو لے آئے لیکن ذرا ہاتھ سے چھوٹا وہ تو فوراً بھاگ جائے گا، تو معلوم ہوا اس کے اندر بھی حرز ناقص ہے۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَالطَّيْرَ يَطِيرُ﴾ اور کیا یہ بات معلوم نہیں ہے کہ پرندہ جو ہے وہ اڑ جاتا ہے، ﴿وَالصَّيْدَ يَفِرُّ﴾، صید یہاں پر بھی نصب پڑھیں، ﴿وَالصَّيْدَ يَفِرُّ﴾ اور شکار جو ہے وہ بھاگ جاتا ہے، ﴿وَكَذَا الشِّرْكَةُ الْعَامَّةُ الَّتِي كَانَتْ فِيهِ وَهُوَ عَلَى تِلْكَ الصِّفَةِ تُورِثُ الشُّبْهَةَ﴾، یہ ذرا ترجمہ مشکل ہے، جملہ ذرا لمبا ہے اس لیے بھئی۔ بھئی دیکھیے یہ جو شکار ہے اس میں شرکتِ عامہ ہے، اس میں شرکتِ عامہ ہے یعنی جو شکار کر لے وہ شکار اسی کا ہو گیا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ حدیث میں آتا ہے: شکار اس کا ہے جس نے اس کو پکڑ لیا، تو معلوم ہوا شکار کے اندر تمام مسلمانوں کی شرکت ہے بھئی، جو بھی پکڑ لے گا وہ اس کا مالک بن جائے گا، تو لہٰذا جب شکار کے اندر تمام مسلمانوں کی شرکت ہے تو اگر کوئی پکڑ کر لے بھی آیا، لے بھی آیا اور پھر کوئی اس سے چوری کر لیتا ہے تو اس صورت کے اندر بھی شبہ تو موجود ہے، یہ تو وہ چیز تھی جس میں سب کا حق تھا اور ان سب میں سے یہ چور بھی تھا بھئی، تو لہٰذا یہاں اس مال کے اندر کیا آ گیا؟ شبہ آ گیا، اور شبہے سے حد ساقط ہو جاتی ہے۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَكَذَا الشِّرْكَةُ الْعَامَّةُ الَّتِي كَانَتْ فِيهِ﴾ اور اسی طرح وہ عام شرکت جو اس شکار کے اندر تھی، جو اسی طرح وہ عام شرکت جو اس شکار کے اندر تھی، دو تین لفظوں کے بعد آگے آ رہا ہے: ﴿تُورِثُ الشُّبْهَةَ﴾ یہ شبہ پیدا کرتا ہے۔ اسی طرح وہ عام شرکت جو شکار کے اندر پائی جا رہی تھی، ﴿تُورِثُ الشُّبْهَةَ﴾ یہ شبہ پیدا کرتا ہے، اور درمیان میں بتلایا: ﴿وَهُوَ عَلَى تِلْكَ الصِّفَةِ﴾ اس حال میں کہ وہ شکار اسی صفت پر تھا۔ بھئی جس نے شکار کو پکڑا ہے، شکار تو اسی صفت پر تھا کہ اس میں مملکتِ اسلامیہ کے تمام لوگوں کی شرکت تھی بھئی، تو اسی صفت پر اس نے شکار کو پکڑا ہے، تو اس شرکتِ عامہ نے اس میں شبہ پیدا کر دیا، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو یہ ﴿وَهُوَ عَلَى تِلْكَ الصِّفَةِ﴾ یہ درمیان میں جملہ حال ہے، تو اس کی وجہ سے کلام طویل ہو جاتا ہے، معنی سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے، کہتے ہیں: ﴿وَكَذَا الشِّرْكَةُ الْعَامَّةُ الَّتِي كَانَتْ فِيهِ﴾ اور اسی طرح وہ عام شرکت جو شکار کے اندر تھی ﴿وَهُوَ عَلَى تِلْكَ الصِّفَةِ﴾ اس حال میں کہ یہ شکار جو ہے اسی شرکتِ عامہ والی صفت پر تھا، تو یہ شرکتِ عامہ ﴿تُورِثُ الشُّبْهَةَ﴾ وہ اس شکار کے اندر شبہ پیدا کر دیتا ہے ﴿وَالْحَدُّ يَنْدَرِئُ بِهَا﴾ اور حد جو ہے وہ تو شبہے کی وجہ سے ساقط ہو جاتی ہے۔ آگے دیکھیے: ﴿وَيَدْخُلُ فِي السَّمَكِ الْمَالِحُ وَالطَّرِيُّ﴾ اور مچھلی کے اندر داخل ہے المالح نمکین، والطری اور تازہ۔ مالح بھئی، مالح کا معنی ہے نمکین، مراد ہے نمکین پانی کی مچھلی، میں نے آپ کو بتلایا تھا سمندر کا پانی بے انتہا نمکین ہوتا ہے، یہاں تک کہ اس کا ایک گھونٹ پینا جو ہے وہ بڑا مشکل ہے، اتنا زیادہ نمک ہوتا ہے اس میں، اور جبکہ یہ عام دریا اور ندی نالوں کا پانی یہ تو میٹھا پانی ہے، اس کو تو آرام سے آدمی پی سکتا ہے، تو مالح سے مراد وہ نمکین پانی کی مچھلی ہے جسے سمندر سے پکڑا جائے، اور طَرِيٌّ کہتے ہیں تازہ اور خوشگوار کو، مراد ہے تازہ اور خوشگوار پانی والی مچھلی یعنی جسے دریاؤں وغیرہ سے پکڑا گیا ہو، تو کہتے ہیں: ﴿وَيَدْخُلُ فِي السَّمَكِ الْمَالِحُ وَالطَّرِيُّ﴾ اور مچھلی کے اندر داخل ہے المالح نمکین پانی والی مچھلی بھی، والطری اور تازہ پانی یعنی خوشگوار پانی والی مچھلی بھی، یعنی دونوں کا ایک ہی حکم ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ کسی نے مچھلی پکڑی ہے یا کوئی شکار کر کے لے آیا اور وہ دوسرا آدمی چوری کر کے لے گیا، اب وہ دس درہم سے زیادہ کی مچھلی تھی، پھر بھی ہاتھ نہیں کاٹیں گے، کیونکہ یہ مچھلی اس میں تو شرکتِ عامہ تھی اور اس کی وجہ سے شبہ آ گیا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَيَدْخُلُ فِي السَّمَكِ الْمَالِحُ وَالطَّرِيُّ﴾ اور مچھلی کے اندر داخل ہے نمکین پانی والی مچھلی اور تازہ پانی والی مچھلی، ﴿وَفِي الطَّيْرِ﴾ اور پرندوں میں، بھئی پرندوں کا ذکر آیا تھا متن میں کہ پرندے جو ہیں یہ بھی عام اور معمولی پائے جاتے ہیں مملکتِ اسلامیہ میں، جو ان کو شکار کر لے وہ اس کا مالک بن جاتا ہے، تو پرندوں کے اندر یہ مرغی بھی داخل ہے، بطخ بھی داخل ہے، اور اسی طرح کبوتر بھی داخل ہیں، لہٰذا کوئی کسی کے کبوتر چرا کر لے جائے یا کوئی کسی کی مرغی چرا کر لے جائے چاہے دس درہم سے زیادہ ہی قیمت کیوں نہ ہو، ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا بھئی، کیونکہ یہ بھی مملکت میں پائی جانے والی عام چیزوں کی جنس میں سے ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَفِي الطَّيْرِ﴾ اور داخل ہے پرندوں کے اندر ﴿الدَّجَاجُ وَالْبَطُّ وَالْحَمَامُ لِمَا ذَكَرْنَا﴾ الدجاج مرغی، والبط اور بطخ، والحمام اور کبوتر لما ذکرنا اس وجہ سے جو ہم نے ذکر کر دی بھئی، کہ ان کے اندر حرز ناقص ہے بھئی۔ آگے دیکھیے: ﴿وَلِإِطْلَاقِ قَوْلِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: لَا قَطْعَ فِي الطَّيْرِ﴾ اور حضور علیہ السلام کا قول مطلق ہونے کی وجہ سے کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا ہے: ﴿لَا قَطْعَ فِي الطَّيْرِ﴾ پرندے کے اندر قطع نہیں ہے، یعنی پرندے کی چوری میں قطعِ ید نہیں ہے اور یہ مطلقاً ہے، اس کے اندر کوئی قید نہیں ہے کہ گھر کے پالتو پرندے ہوں یعنی مرغی، بطخ اور کبوتر وغیرہ تو ان میں ہاتھ کاٹا جائے گا، یہاں کوئی تفصیل ذکر نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَلِإِطْلَاقِ قَوْلِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ﴾ اور حضور علیہ السلام کے قول کے مطلق ہونے کی وجہ سے کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا: ﴿لَا قَطْعَ فِي الطَّيْرِ﴾ کہ پرندے کے اندر ہاتھ کا کاٹنا نہیں ہے، ﴿وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ أَنَّهُ يَجِبُ الْقَطْعُ فِي كُلِّ شَيْءٍ إِلَّا الطِّينَ وَالتُّرَابَ وَالسِّرْقِينَ﴾ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے ایک روایت ہے، وہ فرماتے ہیں ہر چیز میں ہاتھ کاٹا جائے گا، چاہے کوئی کسی کی مچھلی چوری کرے، چاہے مرغی چوری کرے، کوئی بھی چیز ہو جب اس کی قیمت دس درہم تک پہنچتی ہو، سوائے چند چیزوں کے، وہ فرماتے ہیں کوئی مٹی چوری کر لے کسی کی، یا کسی نے گارا بنایا، مٹی میں پانی ملا کر گارا بنایا جاتا ہے دیواریں بنانے کے لیے یا چھت بنانے کے لیے، تو اگر کسی نے کسی کی مٹی چوری کی یا گارا چوری کیا یا سرقین بھئی، سرقین کہتے ہیں گوبر کو، گوبر بھئی یہ گائے، بھینس وغیرہ کا جو فضلہ ہے جس کو جلانے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے اور جس کو کھاد کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے، تو یہ تین چیزیں جو ہیں مٹی، گارا اور گوبر، ان کے علاوہ باقی ہر چیز کے اندر ہاتھ کاٹا جائے گا، یہ ایک روایت ہے امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے، اور یہی قول ہے امام شافعی رحمہ اللہ کا بھی۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ أَنَّهُ يَجِبُ الْقَطْعُ فِي كُلِّ شَيْءٍ﴾ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ہاتھ کا کاٹنا واجب ہے ہر چیز میں ﴿إِلَّا الطِّينَ﴾، طین کہتے ہیں گارے کو بھئی، وہ مٹی جس میں پانی ملایا گیا ہو تعمیر وغیرہ کے لیے، الا الطین مگر گارے کے اندر ﴿وَالتُّرَابَ﴾ اور مٹی کے اندر ﴿وَالسِّرْقِينَ﴾ اور گوبر میں، ﴿وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ﴾ اور یہی قول ہے امام شافعی رحمہ اللہ کا بھی، ﴿وَالْحُجَّةُ عَلَيْهِمَا مَا ذَكَرْنَا﴾ اور ان کے خلاف دلیل وہ ہے جو ہم نے ذکر کر دی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں معمولی چیزوں کے اندر ہاتھ نہیں کاٹا جاتا تھا۔ آگے دیکھیے: ﴿قَالَ: وَلَا قَطْعَ فِيمَا يَتَسَارَعُ إِلَيْهِ الْفَسَادُ﴾، اب ان چیزوں کا بیان آ گیا بھئی کہ جو جلدی خراب ہوتی ہیں۔ جو چیز جلدی خراب ہو اس کی چوری میں بھی ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا چاہے وہ دس درہم سے زیادہ ہی کی کیوں نہ ہو بھئی۔ تو قال صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ﴿وَلَا قَطْعَ فِيمَا يَتَسَارَعُ إِلَيْهِ الْفَسَادُ﴾ اور ہاتھ کا کاٹنا نہیں ہے ان چیزوں کے اندر کہ جو جلدی خراب ہو جاتی ہیں، ﴿كَاللَّبَنِ وَاللَّحْمِ﴾ جیسے کہ دودھ ہے اور جیسے کہ گوشت ہے، بھئی دودھ ہے، دودھ کو آپ رکھیں گے وہ تو ایک دن کے اندر خراب ہو جائے گا، گوشت ہے گوشت بھی ایک دن کے اندر ہی خراب ہو جائے گا، تو کہتے ہیں: ﴿كَاللَّبَنِ وَاللَّحْمِ﴾ جیسے کہ دودھ ہے اور گوشت ہے، ﴿وَالْفَوَاكِهِ الرَّطْبَةِ﴾ اور اسی طرح تازہ پھل جو ہیں۔ بھئی کچھ تو خشک پھل ہیں، بادام، اخروٹ وغیرہ، وہ تو کافی مدت تک محفوظ رکھے جا سکتے ہیں لیکن یہ جو تازہ پھل ہیں بھئی، سیب ہے، انار ہے، ناشپاتی ہے، ناشپاتی وغیرہ، یہ تو بڑی جلدی خراب ہو جاتے ہیں۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَالْفَوَاكِهِ الرَّطْبَةِ﴾ اور تازہ پھل جو ہیں، ﴿لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: لَا قَطْعَ فِي ثَمَرٍ وَلَا كَثَرٍ﴾، حضور علیہ السلام کے فرمانِ مبارک کی وجہ سے کہ آپ نے فرمایا: ﴿لَا قَطْعَ فِي ثَمَرٍ وَلَا كَثَرٍ﴾ کہ ہاتھ کا کاٹنا نہیں ہے پھلوں میں اور کثر کے اندر۔ اب اس کثر سے کیا مراد ہے؟ صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ کثر سے یا تو مراد ہے جمار بھئی، اور بعضوں نے کہا اس سے مراد ودی ہے بھئی۔ جمار بھئی یاد رکھو، یہ جو کھجور کا پودا ہوتا ہے اس کے سب سے اوپر والے حصے میں شاخیں نکلتی ہیں، تو یہ جو تنے کا سب سے اوپر والا حصہ ہے اس کو اگر کاٹا جائے تو اس کے اندر ایک سفید رنگ کے سفید رنگ کی چیز ہوتی ہے بھئی نرم سی، تو یہ کھجور کے تنے کے اوپر والے حصے میں اس کو کاٹا جائے تو اس کے اندر ایک نرم سی چیز ہوتی ہے سفید رنگ کی، چربی کی طرح بالکل سفید ہوتی ہے، تو کھجور کے درخت کو جب لوگ گرائیں تو یہ نکال کر کھاتے ہیں بھئی۔ تو جیسے انسانی بدن کے اندر سب سے اوپر والے حصے میں سر کے اندر دماغ ہے بھئی، تو اسی طرح یہ کھجور کے سب سے اوپر والے حصے میں سفید چیز ہوتی ہے اور اس کو قلب النخلہ کہتے ہیں، کھجور کا دل ہے بھئی، یہ اگر آپ نکال دیں تو کھجور کا درخت خشک ہو جاتا ہے، ختم ہو جاتا ہے۔ کھجور کا پورا درخت صحیح ہے لیکن اس کے اوپر والے حصے سے آپ یہ چیز نکال دیں تو کھجور کا درخت خشک ہو گیا، جیسے انسان کا دل یا دماغ نکالا جائے وہ مر جائے گا بھئی، اسی طرح یہ کھجور کا درخت بھی پھر خشک ہو جاتا ہے، ختم ہو جاتا ہے۔ تو اس کو شحم النخل بھی کہتے ہیں، شحم النخل یعنی کھجور کی چربی، یا اسی طرح قلب النخل بھی کہتے ہیں کہ کھجور کا دل ہے بھئی۔ یہ تو تھا جمار۔ حدیث میں کیا آیا کہ ثمر کے اندر یعنی پھل میں بھی ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا اور کثر میں بھی۔ صاحبِ ہدایہ معنی بیان فرمائیں گے کہ کثر سے مراد جمار ہے یعنی وہ کھجور کے اندر وہ جو سفید چیز ہوتی ہے، اور بعضوں نے کہا کہ کثر سے مراد ودی ہے ودی۔ ودی یاد رکھو، ودی جو ہے کھجور کے چھوٹے پودے کو کہتے ہیں، یہ بھی بڑی محنت سے تیار کرنے پڑتے ہیں پھر اس کے بعد جب یہ تیار ہو جاتے ہیں ان کو نکالتے ہیں بڑی احتیاط سے اور دوسری جگہ منتقل کرتے ہیں جہاں لگانا مقصود ہوتا ہے، تو حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: ﴿لَا قَطْعَ فِي ثَمَرٍ وَلَا كَثَرٍ﴾ کہ ہاتھ کا کاٹنا نہیں ہے پھل کے اندر اور نہ کثر کے اندر، ﴿وَالْكَثَرُ الْجُمَّارُ﴾ اور کثر جو ہے وہ جمار کو کہتے ہیں یعنی وہ جو کھجور کے تنے کے اوپر والے حصے میں وہ جو سفید چربی جیسی چیز پائی جاتی ہے۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَالْكَثَرُ الْجُمَّارُ﴾ اور کثر جو ہے وہ جمار ہے، ﴿وَقِيلَ الْوَدِيُّ﴾ اور کہا گیا ہے کہ وہ ودی ہے، ودی سے مراد کھجور کے چھوٹے پودے ہیں بھئی، تو بعضوں نے کہا وہ چھوٹے پودے مراد ہیں۔ معلوم ہوا کھجور کے چھوٹے پودے کوئی چرا لے یا وہ جمار کوئی چرا لے تو اس پر قطعِ ید نہیں ہے چاہے ان کی قیمت دس درہم سے زیادہ ہی کیوں نہ ہو بھئی۔ ﴿وَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: لَا قَطْعَ فِي الطَّعَامِ﴾ اور نیز حضور علیہ السلام فرماتے ہیں کہ طعام کے اندر ہاتھ کا کاٹنا نہیں ہے۔ طعام بھئی، یاد رکھو عربی زبان میں یہ جو گندم ہے، یہ جو غلہ ہے اس کو بھی طعام کہتے ہیں، یہ جو غلہ ہے اس کو بھی طعام کہتے ہیں۔ اب حدیث میں آیا: ﴿لَا قَطْعَ فِي الطَّعَامِ﴾، اس سے کیا مراد ہے؟ ایک تو طعام وہ جو کھانا تیار کیا جاتا ہے کھانے کے لیے، اس کو بھی کیا کہتے ہیں؟ طعام، اور غلے کو بھی کیا کہتے ہیں؟ طعام۔ تو صاحبِ ہدایہ اب آپ کو بتلائیں گے کہ یہاں طعام سے مراد وہ عام کھانا ہے جسے کھانے کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔ آپ کھانا تیار کرتے ہیں بھئی، یہ بھی دیکھو جلدی خراب ہو جاتا ہے، ایک ہی دن میں کھانا خراب ہو جائے گا، جبکہ گندم، گندم کو تو عرصے تک محفوظ رکھا جا سکتا ہے، تو یہاں طعام سے مراد جو ہے وہ کھانا ہے جس کو کھانے کے لیے تیار کیا گیا ہو بھئی۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: لَا قَطْعَ فِي الطَّعَامِ﴾ اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ طعام کے اندر ہاتھ کا کاٹنا نہیں ہے، ﴿وَالْمُرَادُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ مَا يَتَسَارَعُ إِلَيْهِ الْفَسَادُ﴾، دیکھو اس سے مراد کیا ہے؟ میں نے بتلایا طعام گندم کو بھی کہتے ہیں اور طعام وہ کھانا جو تیار کیا گیا ہے کھانے کے لیے، تو اب اس حدیث میں طعام سے کیا مراد ہے؟ تو صاحبِ ہدایہ بتلائیں گے کہ حقیقت تو اللہ ہی جانتے ہیں کہ اس سے کیا مراد ہے، لیکن فقہاء فرماتے ہیں کہ اس سے مراد وہ چیز ہے جو جلدی خراب ہوتی ہے یعنی وہ کھانا، وہ کھانا جس کو کھانے کے لیے تیار کیا گیا ہے، فقہاء فرماتے ہیں اس سے یہ مراد ہے۔ حقیقی معنی تو اللہ ہی جانتے ہیں لیکن فقہاء فرماتے ہیں اس سے یہ کھانا مراد ہے۔ تو یہ معنی ہے: ﴿وَالْمُرَادُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ﴾، دیکھو واللہ اعلم کو ذرا نکال دیں، ﴿وَالْمُرَادُ مَا يَتَسَارَعُ إِلَيْهِ الْفَسَادُ﴾ اور اس حدیث کے اندر طعام سے مراد وہ چیز ہے جس کی طرف فساد جلدی آتا ہے، ﴿كَالْمُهَيَّإِ لِلْأَكْلِ﴾ جیسے وہ جس کو تیار کیا گیا ہو کھانے کے لیے، ﴿كَالْمُهَيَّإِ لِلْأَكْلِ مِنْهُ﴾ جیسے وہ جس کو کھانے کے لیے تیار کیا گیا ہو بھئی۔ تو والمراد کے بعد صاحبِ ہدایہ نے فرمایا: ﴿وَاللَّهُ أَعْلَمُ﴾ کہ مراد اس سے وہ چیز ہے جو جلدی خراب ہو جائے، اور درمیان میں بتلا دیا واللہ اعلم کہ اللہ خوب جانتے ہیں، ہماری سمجھ میں تو یہی بات آئی ہے، فقہاء کی سمجھ میں تو یہی آیا ہے، باقی حقیقتِ حال اللہ ہی جانتے ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَالْمُرَادُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ مَا يَتَسَارَعُ إِلَيْهِ الْفَسَادُ﴾ اور اس سے مراد جو ہے، اور اللہ خوب جاننے والے ہیں، اس سے مراد وہ چیز ہے کہ جس کی طرف خرابی جلدی آتی ہے یعنی جو چیز جلدی خراب ہو جاتی ہے، ﴿كَالْمُهَيَّإِ لِلْأَكْلِ مِنْهُ﴾ جیسے کہ وہ چیز جس کو تیار کیا گیا ہے اس میں سے کھانے کے لیے، ﴿وَمَا فِي مَعْنَاهُ كَاللَّحْمِ وَالثَّمَرِ﴾ یا جو اس کے معنی میں ہو جیسے کہ گوشت ہے اور پھل ہے، ﴿لِأَنَّهُ يُقْطَعُ فِي الْحِنْطَةِ وَالسُّكَّرِ إِجْمَاعًا﴾، بھئی کیا وجہ ہے؟ کیا وجہ ہے کہ آپ نے طعام سے وہ چیز مراد لی جو جلدی خراب ہو جاتی ہے، جس کو کھانے کے لیے تیار کیا گیا ہے؟ کہتے ہیں وجہ یہ ہے کہ گندم کی چوری یا اسی طرح کھجور کی جو چوری ہے اس میں بالاتفاق اور بالاجماع چور کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے۔ تو معلوم ہوا گندم کی چوری میں تو بالاتفاق ہاتھ کاٹا جاتا ہے، تو معلوم ہوا اس حدیث میں جو طعام کا لفظ آیا اس سے گندم مراد نہیں ہے۔ تو یہ معنی ہے: ﴿لِأَنَّهُ يُقْطَعُ فِي الْحِنْطَةِ وَالسُّكَّرِ إِجْمَاعًا﴾، حنطہ کہتے ہیں گندم کو، سکر بھئی یہ کوئی خاص قسم کی عمدہ کھجور ہے اس کو سکر کہتے ہیں، ویسے تو آج کل جدید عربی میں سکر چینی کو کہتے ہیں لیکن کھجور کی ایک خاص نوع ہے اعلیٰ قسم کی اس کو بھی سکر کہا جاتا ہے۔ تو کہتے ہیں: ﴿لِأَنَّهُ يُقْطَعُ فِي الْحِنْطَةِ وَالسُّكَّرِ إِجْمَاعًا﴾ اس لیے کیونکہ گندم اور عمدہ کھجور کے اندر تو بالاجماع ہاتھ کاٹا جاتا ہے۔ آگے دیکھیے: ﴿وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: يُقْطَعُ فِيهَا﴾ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان چیزوں کے اندر بھی ہاتھ کاٹا جائے گا، گوشت، دودھ، تازہ پھل، ان سب میں ہاتھ کاٹا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ يُقْطَعُ فِيهَا﴾ کہ ان سب چیزوں کے اندر ہاتھ کاٹا جائے گا، ﴿لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: لَا قَطْعَ فِي ثَمَرٍ وَلَا كَثَرٍ، فَإِذَا آوَاهُ الْجَرِينُ أَوِ الْجِرَانُ قُطِعَ﴾، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضور علیہ السلام کے اس قول کی وجہ سے کہ آپ نے فرمایا: ﴿لَا قَطْعَ فِي ثَمَرٍ وَلَا كَثَرٍ﴾ کہ ثمر اور کثر کے اندر ہاتھ کا کاٹنا نہیں ہے، ثمر اور کثر کے اندر ہاتھ کا کاٹنا نہیں ہے، ﴿فَإِذَا آوَاهُ الْجَرِينُ﴾، آویٰ یووی کا معنی ہے ٹھکانہ دینا، ﴿فَإِذَا آوَاهُ الْجَرِينُ﴾ جب جرین اس کو ٹھکانہ دے دے، ﴿أَوِ الْجِرَانُ﴾ یہ راوی کو شک آیا کہ حدیث کے اندر جرین کا لفظ ہے یا جران کا لفظ ہے، کہ جب اس کو جرین یا جران ٹھکانہ دے دے ﴿قُطِعَ﴾ پھر ہاتھ کاٹا جائے گا۔ حدیث میں آیا کہ ثمر اور کثر میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا مگر اس وقت جب جرین اس پھل کو یا اس کثر کو ٹھکانہ دے دے۔ اور یاد رکھو، جرین جو ہے وہ اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں پر پھل کو خشک کرنے کے لیے اس کو دھوپ میں رکھا جاتا ہے اور اس کو پھر محفوظ کیا جاتا ہے، تو یوں کہو اسٹور کہہ لیں، بات سمجھ میں آ گئی؟ جہاں پھل کو خشک بھی کیا جاتا ہے اور اسٹور بھی اس کو کیا جاتا ہے، تو جرین کے اندر جب پھل پہنچ گیا اس کے اندر ہاتھ کاٹا جائے گا، یہ حدیث کے اندر آیا۔ پھر ترجمہ دیکھ لیں، حدیث میں کیا آیا؟ ﴿لَا قَطْعَ فِي ثَمَرٍ وَلَا كَثَرٍ﴾ کہ پھل اور کثر کے اندر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، ﴿فَإِذَا آوَاهُ الْجَرِينُ أَوِ الْجِرَانُ قُطِعَ﴾ لیکن جب اس پھل کو یا اس کثر کو جرین ٹھکانہ دے دے تو پھر ہاتھ کاٹا جائے گا۔ معلوم ہوا جب محفوظ کر لیا اب ہاتھ کاٹا جائے گا۔ جب کیا کر لیا؟ محفوظ کر لیا تو اب دس درہم کے بقدر چوری کی ہے تو ہاتھ کاٹا جائے گا۔ یہ کس کی دلیل ہے؟ امام شافعی رحمہ اللہ کی بھئی۔ تو اب جواب دیں گے صاحبِ ہدایہ ہماری طرف سے: ﴿قُلْنَا: أَخْرَجَهُ عَلَى وِفَاقِ الْعَادَةِ﴾، اخْرَجَہُ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کلام کو ادا فرمایا ہے، ترجمے پہ نظر ہے؟ اخْرَجَہُ، حضور علیہ السلام نے یہ جو قول ذکر فرمایا ہے اخْرَجَہُ اس کو ادا فرمایا ہے ﴿عَلَى وِفَاقِ الْعَادَةِ﴾ عادت کے موافق۔ عربوں کی عادت کے موافق حضور علیہ السلام نے اس کلام کو ادا فرمایا ہے۔ وجہ یہ ہے، وجہ یہ ہے کیونکہ عادتاً عام طور پر جرین کے اندر جو ہے عرب خشک پھل کو محفوظ کرتے تھے، جرین کے اندر خشک پھل کو محفوظ کرتے تھے، ہر چیز کو نہیں، کھجور کو بھی دھوپ لگوا کر خشک کر لیتے تھے کہ وہ جلدی خراب نہ ہو، تو خشک پھل کو محفوظ کرتے تھے اور خشک پھل میں تو ہم بھی کہتے ہیں کہ اس کے اندر ہاتھ کاٹا جائے گا، ہم تو تازہ پھل کی بات کر رہے ہیں۔ تو یہ معنی ہے: ﴿قُلْنَا: أَخْرَجَهُ عَلَى وِفَاقِ الْعَادَةِ﴾ ہم کہتے ہیں کہ حضور علیہ السلام نے یہ کلام جو ادا فرمایا ہے یہ عربوں کی عادت کے موافق آپ نے یہ کلام فرمایا ہے، ﴿وَالَّذِي يُؤْوِيهِ الْجَرِينُ فِي عَادَتِهِمْ هُوَ الْيَابِسُ مِنَ الثَّمَرِ﴾ اور وہ چیز جس کو ٹھکانہ دیتا ہے جرین ان کی عادت میں وہ پھل میں سے جو خشک ہو وہ ہوتا ہے، ﴿وَفِيهِ الْقَطْعُ﴾ اور اس کے اندر تو ہمارے نزدیک بھی قطع ہے، ہاتھ کاٹا جائے گا۔ آگے دیکھیے: ﴿قَالَ: وَلَا قَطْعَ فِي الْفَاكِهَةِ عَلَى الشَّجَرِ وَالزَّرْعِ الَّذِي لَمْ يُحْصَدْ﴾، صورتِ مسئلہ یہ کہ باغ کے اندر درخت پر پھل لگے ہوئے ہیں، کوئی چوری کر کے لے گیا، تو کہتے ہیں اس صورت میں چاہے دس درہم سے زیادہ ہی قیمت کیوں نہ ہو پھر بھی ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا اس لیے کیونکہ یہاں پر حفاظت نہیں ہے، باغ کے اندر لگا ہوا ہے۔ یا اسی طرح کھیتی ہے، کوئی کسی کی کھیتی کاٹ کر لے گیا تو چاہے دس درہم سے زیادہ ہی کیوں نہ ہو پھر بھی ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا کیونکہ حفاظت نہیں ہے، اور ہم نے آپ کو بتلایا تھا کہ ہاتھ تب کاٹا جاتا ہے جب محفوظ جگہ سے چوری کی جائے بھئی۔ تو کہتے ہیں: قال صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ﴿وَلَا قَطْعَ فِي الْفَاكِهَةِ عَلَى الشَّجَرِ﴾ اور ہاتھ کا کاٹنا نہیں ہے ان پھلوں کے اندر جو درخت پر ہوں ﴿وَالزَّرْعِ الَّذِي لَمْ يُحْصَدْ﴾ اور اس کھیتی کے اندر جس کو ابھی کاٹا نہیں گیا، ان میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا ﴿لِعَدَمِ الْإِحْرَازِ﴾ کیونکہ ان کے اندر حفاظت نہیں ہے بھئی۔ ﴿وَلَا يُقْطَعُ فِي الْأَشْرِبَةِ الْمُطْرِبَةِ﴾، مُطْرِب بھئی، مطرب طا ہے بھئی طا ظا۔ مطرب کا معنی ہے مستی آور، وہ مشروبات جو مستی آور ہیں یعنی نشہ آور ہیں، جو نشہ آور ہیں۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَلَا يُقْطَعُ فِي الْأَشْرِبَةِ الْمُطْرِبَةِ﴾ اور ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا نشہ آور مشروبات کے اندر، یعنی کوئی نشہ آور مشروب چوری کر لے، کسی کی شراب چوری کر لی یا کوئی اور نشہ آور مشروب چوری کر لیا، چاہے دس درہم سے زیادہ ہی قیمت کیوں نہ ہو پھر بھی ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، اس لیے کیونکہ یہاں وہ تاویل کرے گا چور، وہ کہے گا یہ چیزیں تو حرام ہیں میں ان کو اس لیے چوری کر کے لے گیا تھا تاکہ میں ان کو گرا دوں، بہا دوں بھئی۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَلَا يُقْطَعُ فِي الْأَشْرِبَةِ الْمُطْرِبَةِ﴾ اور نشہ آور مشروبات کے اندر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا ﴿لِأَنَّ السَّارِقَ يَتَأَوَّلُ فِي تَنَاوُلِهَا الْإِرَاقَةَ﴾ اس لیے کیونکہ چور جو ہے وہ تاویل کرے گا اس کے لینے میں بہا دینے کا کہ وہ اس کو زمین پر بہانا چاہتا ہے، ﴿وَلِأَنَّ بَعْضَهَا لَيْسَ بِمَالٍ﴾ اور دوسری وجہ ذکر کر رہے ہیں، ایک تو اس میں تاویل ہے اور نیز ان میں سے بعض جو ہیں وہ تو مال ہی نہیں ہیں، مثلاً شراب جو ہے وہ تو ہمارے نزدیک مال ہی نہیں، جب مال نہیں ہے تو دس درہم قیمت کہاں سے ہو گی، اور نیز بعض نشہ آور مشروبات کے اندر ہمارے ائمہ میں آپس میں اختلاف ہے، بعض فرماتے ہیں کہ یہ مال ہیں اور بعض فرماتے ہیں کہ یہ مال نہیں ہیں، تو لہٰذا اس وجہ سے ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَلِأَنَّ بَعْضَهَا لَيْسَ بِمَالٍ﴾ اور اس لیے کیونکہ نشہ آور مشروبات میں سے بعض جو ہیں وہ تو مال ہی نہیں ہیں ﴿وَفِي مَالِيَّةِ بَعْضِهَا اخْتِلَافٌ﴾ اور بعض کے مال ہونے کے اندر اختلاف ہے، ﴿فَيَتَحَقَّقُ شُبْهَةُ عَدَمِ الْمَالِيَّةِ﴾ تو ان کے اندر مال نہ ہونے کا شبہ آ گیا، لہٰذا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ قال صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ﴿وَلَا فِي الطُّنْبُورِ لِأَنَّهُ مِنَ الْمَعَازِفِ﴾، طَنبُور اور طُنبُور بھئی، طا ہے طا کے اوپر فتحہ بھی صحیح اور ضمہ بھی صحیح۔ طنبور یا طنبور جو ہے یہ کوئی گانے بجانے کا آلہ ہے، موسیقی کا کوئی آلہ ہے بھئی۔ یہاں چوری کرنے والا تاویل کرے گا کہ یہ تو گانے بجانے کے آلات تھے، میں نے اس لیے چوری کیا تاکہ ان کو توڑ دوں بھئی۔ کہتے ہیں: ﴿وَلَا فِي الطُّنْبُورِ﴾ اور طنبور کے اندر بھی ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا ﴿لِأَنَّهُ مِنَ الْمَعَازِفِ﴾ اس لیے کیونکہ یہ موسیقی کے آلات میں سے ہے۔ معازف جمع ہے مِعْزَف کی، اور معزف کہتے ہیں موسیقی کا آلہ، گانے بجانے کا آلہ۔ تو کہتے ہیں: ﴿لِأَنَّهُ مِنَ الْمَعَازِفِ﴾ اس لیے کیونکہ یہ موسیقی کے آلات میں سے ہے، ﴿وَلَا فِي سَرِقَةِ الْمُصْحَفِ﴾ اور قرآن کی چوری کے اندر بھی ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ قرآن کی چوری میں بھی ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ یاد رکھو قرآن کے اوپر تفصیل بیان فرمائیں گے صاحبِ ہدایہ، قرآن کے اوپر بعض اوقات لوگ جو ہے وہ زیور وغیرہ بھی چڑھا کر رکھتے ہیں، بطورِ ادب اور محبت کے اس پر سونے چاندی کی کچھ چیزیں بھی لگا دیتے ہیں، تو کیا ایسا قرآن کوئی چوری کر لے جس پر دس درہم یا اس سے زیادہ کا سونا یا چاندی لگا ہوا ہے تو کیا اس میں ہاتھ کاٹیں گے یا نہیں؟ کہتے ہیں نہیں، یہاں اصل قرآن ہے اور سونا چاندی اس کے تابع ہے، جب قرآن کے اندر ہاتھ نہیں کاٹا جاتا تو اس کے تابع کے اندر بھی ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَلَا فِي سَرِقَةِ الْمُصْحَفِ﴾ اور قرآن کی چوری میں بھی ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا ﴿وَإِنْ كَانَ عَلَيْهِ حِلْيَةٌ﴾ اگرچہ اس کے اوپر زیور ہو، ﴿وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: يُقْطَعُ﴾ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہاتھ کاٹا جائے گا، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں مصحف کی چوری پر ہاتھ کاٹا جائے گا کیونکہ مصحف کیا ہے؟ مالِ متقوم ہے، قرآن جو ہے مالِ متقوم ہے، اس کو خریدا جاتا ہے بھئی بازار سے۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ يُقْطَعُ﴾ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مصحف کی چوری میں بھی ہاتھ کاٹا جائے گا ﴿لِأَنَّهُ مَالٌ مُتَقَوَّمٌ﴾ اس لیے کیونکہ قرآن جو ہے یہ بھی مالِ متقوم ہے ﴿حَتَّى يَجُوزُ بَيْعُهُ﴾ یہاں تک کہ اس کا بیچنا بھی جائز ہے، معلوم ہوا یہ مالِ متقوم ہے اسی لیے تو بیچنا جائز ہے بھئی۔ اور یہاں بھی یاد رکھنا یہ حتٰی نصب نہیں دے گا: ﴿حَتَّى يَجُوزُ﴾ یہاں یجوز پر رفع پڑھیں گے، اس لیے کیونکہ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ حتٰی کے نصب دینے کے لیے دو شرطیں ہیں، ایک تو یہ کہ حتٰی کا مابعد وہ مستقبل ہونا چاہیے حتٰی کے ماقبل کی طرف نسبت کرتے ہوئے، اور نیز وہ حتٰی سببيت یا غایت کا فائدہ دے رہا ہو، تو یہاں یہ شرطیں پوری نہیں اس لیے حتٰی نصب نہیں دے گا۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قرآن کی چوری میں ہاتھ کاٹا جائے گا ﴿لِأَنَّهُ مَالٌ مُتَقَوَّمٌ حَتَّى يَجُوزُ بَيْعُهُ﴾ کیونکہ وہ مالِ متقوم ہے یہاں تک کہ اس کو بیچنا بھی جائز ہے، ﴿وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ مِثْلُهُ﴾ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے بھی امام شافعی رحمہ اللہ کے مثل ایک روایت ہے، ﴿وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّهُ يُقْطَعُ إِذَا بَلَغَتِ الْحِلْيَةُ نِصَابًا﴾ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے ایک روایت یہ ہے کہ قرآن کی چوری میں ہاتھ کاٹا جائے گا جب وہ زیور کی قیمت پہنچ جائے نصاب تک۔ بھئی امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے ایک روایت تو امام شافعی رحمہ اللہ جیسی ہے کہ قرآن مالِ متقوم ہے، اور دوسری روایت کے مطابق قرآن تو مالِ متقوم نہیں لیکن اس کے ساتھ اگر زیور دس درہم کے بقدر لگا ہوا ہے تو پھر ہاتھ کاٹا جائے گا۔ تو یہ معنی ہے: ﴿وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّهُ يُقْطَعُ إِذَا بَلَغَتِ الْحِلْيَةُ نِصَابًا﴾ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے یہ روایت بھی ہے کہ اس کے اندر ہاتھ کاٹا جائے گا جب وہ زیور پہنچ جائے نصاب تک ﴿لِأَنَّهَا لَيْسَتْ مِنَ الْمُصْحَفِ﴾ اس لیے کیونکہ یہ زیور جو ہے یہ تو قرآن میں سے نہیں ہے، کیونکہ یہ قرآن کا حصہ نہیں ہے، تو کہتے ہیں: ﴿لِأَنَّهَا لَيْسَتْ مِنَ الْمُصْحَفِ﴾ اس لیے کیونکہ یہ زیور جو ہے یہ قرآن میں سے نہیں ہے ﴿فَيُعْتَبَرُ بِانْفِرَادِهَا﴾ تو اس کے اکیلے ہونے کا اعتبار کیا جائے گا، جیسے اکیلے ہونے کی صورت میں دس درہم کا زیور کوئی چوری کرتا ہے تو ہاتھ کاٹتے ہیں تو یہاں بھی اس کے اکیلے ہونے کا اعتبار کیا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ﴿لِأَنَّهَا لَيْسَتْ مِنَ الْمُصْحَفِ فَيُعْتَبَرُ بِانْفِرَادِهَا﴾ اس لیے کیونکہ یہ زیور قرآن میں سے نہیں ہے یہ قرآن کا حصہ نہیں ہے تو یہ اکیلے ہونے کے ساتھ معتبر ہو گا یعنی اس کو اکیلا ہی اعتبار کیا جائے گا۔ ﴿وَوَجْهُ الظَّاهِرِ﴾ اور ظاہرِ روایت کی وجہ، متن میں تو آیا تھا اوپر کہ قرآن کی چوری میں ہاتھ نہیں کاٹیں گے، اب اس ظاہرِ روایت کی وجہ بیان فرما رہے ہیں، کہتے ہیں: ﴿وَوَجْهُ الظَّاهِرِ أَنَّ الْآخِذَ يَتَأَوَّلُ فِي أَخْذِهِ الْقِرَاءَةَ وَالنَّظَرَ فِيهِ﴾ تو ظاہرِ روایت کی وجہ یہ ہے کہ لینے والا اس کے اندر تاویل کرے گا، وہ کہے گا یہ تو قرآن میں نے پڑھنے کے لیے اٹھایا تھا۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَوَجْهُ الظَّاهِرِ﴾ ظاہرِ روایت کی وجہ یہ ہے ﴿أَنَّ الْآخِذَ يَتَأَوَّلُ فِي أَخْذِهِ الْقِرَاءَةَ وَالنَّظَرَ فِيهِ﴾ کہ اس قرآن کو اٹھانے والا تاویل کرے گا اس کے اٹھانے میں اس کے پڑھنے کی اور اس کو دیکھنے کی، کہ یہ قرآن میں پڑھنا چاہتا تھا، اس کو دیکھنا چاہتا تھا۔ ﴿وَلِأَنَّهُ لَا مَالِيَّةَ لَهُ عَلَى اعْتِبَارِ الْمَكْتُوبِ﴾، دوسری دلیل ذکر کر رہے ہیں، ایک تو یہ کہ اس کے اندر تاویل ہو سکتی ہے، چوری کرنے والا تاویل کر سکتا ہے یہ میں نے پڑھنے کے لیے اٹھایا تھا، اور نیز اس وجہ سے کہ اس کی کوئی مالیت نہیں ہے، یہ مالِ متقوم ہی نہیں ہے کیونکہ قرآن جب کوئی چوری کر رہا ہے تو وہاں وہ کاغذ اور جلد جو ہے، کاغذ اور جلد جو ہے وہ مقصود نہیں ہے بلکہ قرآن کے حروف اور نقوش جو ہیں یعنی وہ جو مکتوب ہے، جو لکھا ہوا ہے، وہ جو مکتوب ہے وہ مقصود ہے، اور مکتوب جو ہے وہ تو مالِ متقوم نہیں ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَلِأَنَّهُ لَا مَالِيَّةَ لَهُ عَلَى اعْتِبَارِ الْمَكْتُوبِ﴾ اور نیز اس لیے کیونکہ مصحف کی کوئی مالیت نہیں ہے مکتوب کے اعتبار سے، ﴿وَإِحْرَازُهُ لِأَجْلِهِ لَا لِلْجِلْدِ وَالْأَوْرَاقِ وَالْحِلْيَةِ﴾ اور یہ جو قرآن کو محفوظ کیا جاتا ہے یہ اس مکتوب کی وجہ سے محفوظ کیا جاتا ہے، اس کی جلد یا کاغذ یا زیور کی وجہ سے محفوظ نہیں کیا جاتا، تو معلوم ہوا وہ مکتوب ہے اصل، جب اصل کی کوئی قیمت نہیں، اس کے اندر ہاتھ نہیں کاٹا جا سکتا تو جو اس کے تابع ہیں، جلد، کاغذ اور زیور، ان میں بھی ہاتھ نہیں کاٹا جا سکتا۔ تو کہتے ہیں، پھر ترجمہ دیکھ لیجیے: ﴿وَلِأَنَّهُ لَا مَالِيَّةَ لَهُ عَلَى اعْتِبَارِ الْمَكْتُوبِ﴾ اور اس لیے کیونکہ مصحف کی کوئی مالیت نہیں ہے مکتوب کے اعتبار سے، ﴿وَإِحْرَازُهُ لِأَجْلِهِ لَا لِلْجِلْدِ وَالْأَوْرَاقِ وَالْحِلْيَةِ﴾ اور اس مصحف کی جو حفاظت ہوتی ہے وہ اس مکتوب کی وجہ سے ہوتی ہے نہ کہ جلد کی وجہ سے، اور نہ اوراق کی وجہ سے، اور نہ زیور کی وجہ سے ہوتی ہے اس کی حفاظت، ﴿وَإِنَّمَا هِيَ تَوَابِعُ﴾ اور یہ چیزیں تو تابع ہیں، ﴿وَلَا مُعْتَبَرَ بِالتَّبَعِ﴾ اور تابع کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا، ﴿كَمَنْ سَرَقَ آنِيَةً فِيهَا خَمْرٌ﴾ جیسے کوئی شخص ایسا برتن چوری کر لے کہ اس میں شراب ہو۔ میں شراب تھی۔ آنِیہ کہتے ہیں برتن کو۔ بھئی دیکھیے، کوئی شخص اگر شراب کا برتن چوری کر لے تو وہاں پر مقصود شراب ہے اور شراب تو ہمارے نزدیک مالِ متقوم نہیں ہے، لہٰذا اس کے اندر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، چاہے برتن کی اپنی قیمت جو ہے دس درہم سے زائد ہی کیوں نہ ہو۔ تو کہتے ہیں: ”كَمَنْ سَرَقَ آنِيَةً فِيهَا خَمْرٌ“ جیسے کہ وہ شخص جس نے ایسا برتن چوری کیا جس کے اندر شراب تھی، ”وَقِيمَةُ الْآنِيَةِ تَرْبُو عَلَى النِّصَابِ“ اور برتن کی جو قیمت ہے ”تَرْبُو“ وہ بڑھ رہی ہے ”عَلَى النِّصَابِ“ نصاب پر، برتن کی قیمت نصاب سے زیادہ ہے پھر بھی ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا بالاتفاق بھئی۔ ”وَلَا يُقْطَعُ فِي أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ“ اور مسجد کے دروازوں میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ چور آئے بھئی مسجد کا دروازہ ہی اتار کر لے گئے یا گھر کا دروازہ اتار کر لے گئے، تو یاد رکھو ان دروازوں کے اندر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ وجہ یہ کہ یہ محفوظ نہیں۔ دروازہ کہاں ہوتا ہے؟ باہر کی طرف، گلی کی طرف بھئی۔ تو دروازہ تو محفوظ نہیں ہے، تو لہٰذا ان میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا يُقْطَعُ فِي أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ“ اور مسجد کے دروازوں کے اندر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا ”لِعَدَمِ الْإِحْرَازِ“ حفاظت نہ ہونے کی وجہ سے ”فَصَارَ كَبَابِ الدَّارِ“ تو یہ مسجد کا دروازہ بھی گھر کے دروازے کی طرح ہو گیا اور جیسے گھر کے دروازے میں ہاتھ نہیں کاٹا جاتا تو مسجد کے دروازے میں بھی ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”فَصَارَ كَبَابِ الدَّارِ“ تو یہ گھر کے دروازے کی طرح ہو گیا ”بَلْ أَوْلَى“ بلکہ یہ تو اس سے بڑھ کر ہے، یعنی جب گھر کے دروازے میں ہاتھ نہیں کاٹا جاتا تو مسجد کے دروازے میں تو بطریقِ اولیٰ ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، کیونکہ گھر کے دروازے کے ذریعے کم از کم گھر کے اندر کی چیزوں کی حفاظت مقصود ہوتی ہے جبکہ مسجد کے دروازے کے ذریعے تو اندر کے سامان کی حفاظت مقصود نہیں ہوتی، مسجد کا دروازہ تو صرف اس لیے ہوتا ہے تاکہ کوئی جانور، حیوانات وغیرہ اندر نہ آئیں بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: ”فَصَارَ كَبَابِ الدَّارِ“ تو مسجد کا دروازہ بھی گھر کے دروازے کی طرح ہو گیا ”بَلْ أَوْلَى“ بلکہ یہ زیادہ لائق ہے کہ اس میں ہاتھ نہ کاٹا جائے ”لِأَنَّهُ يُحْرَزُ بِبَابِ الدَّارِ مَا فِيهَا“ اس لیے کیونکہ گھر کے دروازے کے ذریعے تو حفاظت کی جاتی ہے اس چیز کی جو گھر کے اندر ہے ”وَلَا يُحْرَزُ بِبَابِ الْمَسْجِدِ مَا فِيهِ“ اور مسجد کے دروازے کے ذریعے تو حفاظت نہیں کی جاتی اس چیز کی جو مسجد کے اندر ہے ”حَتَّى لَا يَجِبُ الْقَطْعُ بِسَرِقَةِ مَتَاعِهِ“ یہاں تک کہ ہاتھ کا کاٹنا واجب نہیں ہوتا مسجد کے سامان کو چوری کرنے سے۔ کوئی مسجد کا سامان چوری کر لے وہاں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ کیوں نہیں کاٹا جائے گا؟ وجہ یہ کہ وہ محفوظ نہیں ہے، مسجد میں تو ہر آدمی آتا جاتا ہے، تو وہ مالِ محفوظ نہیں۔ جب وہ مال محفوظ نہیں تو دروازہ بطریقِ اولیٰ جو ہے اس کے اندر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ تو یہ معنی ہے: ”حَتَّى لَا يَجِبُ الْقَطْعُ بِسَرِقَةِ مَتَاعِهِ“ یہاں تک کہ مسجد کے سامان کی چوری میں ہاتھ نہیں کاٹا جاتا۔ ”حَتَّى لَا يَجِبُ“ یہاں پر بھی یاد رکھیں ”حَتَّى“ نصب نہیں دے گا۔ تو ”حَتَّى لَا يَجِبُ الْقَطْعُ بِسَرِقَةِ مَتَاعِهِ“ یہاں تک کہ مسجد کے سامان کی چوری میں بھی ہاتھ کا کاٹنا واجب نہیں ہوتا۔ ”قَالَ: وَلَا الصَّلِيبِ مِنَ الذَّهَبِ وَلَا الشِّطْرَنْجِ وَلَا النَّرْدِ“ جی، صلیب بھئی، صلیب وہ عیسائیوں کی صلیب بھئی جس کے سامنے وہ سجدہ کرتے ہیں، وہ کراس جو بنا ہوتا ہے، وہ صلیب ہے۔ تو اگر کسی شخص نے صلیب چوری کر لی اور وہ صلیب سونے کی بنی ہوئی تھی پھر بھی ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ بھئی کیوں، اس میں ہاتھ کیوں نہیں کاٹا جائے گا؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ چوری کرنے والا تاویل کرے گا کہ میں تو اس کو اس لیے لے کر گیا تھا تاکہ میں اس کو توڑ دوں۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا الصَّلِيبِ مِنَ الذَّهَبِ“ اور نہ ہی سونے کی صلیب کے اندر ہاتھ کاٹا جائے گا ”وَلَا الشِّطْرَنْجِ“ بھئی اردو میں تو شطرنج ہے لفظ، شین پر فتحہ ہے، لیکن عربی میں شِطرَنج ہے، شین کے نیچے زیر ہے بھئی۔ تو شطرنج جو ہے وہ اس کو کوئی چوری کر لیتا ہے یا اسی طرح ”وَلَا النَّرْدِ“، نَرد بھئی، یہ بھی کوئی کھیل تھا بھئی جیسے شطرنج دو آدمی بیٹھ کر کھیلتے ہیں، اسی طرح کوئی کھیل تھا جو بیٹھ کر کھیلا جاتا تھا، تو نرد کھیل جو ہے اس کی چیزیں اگر کوئی چوری کر لیتا ہے تو اس میں بھی ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، اس لیے کیونکہ چوری کرنے والا تاویل کرے گا کہ میں تو ان کو توڑنا چاہتا تھا۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا الشِّطْرَنْجِ وَلَا النَّرْدِ“ اور نہ ہی شطرنج اور نرد کی چوری میں ہاتھ کاٹا جائے گا ”لِأَنَّهُ يَتَأَوَّلُ مِنْ أَخْذِهَا الْكَسْرَ“ اس لیے کیونکہ وہ شخص تاویل کرے گا ان کے لینے میں ان کو توڑنے کا ”نَهْيًا عَنِ الْمُنْكَرِ“ منکر سے نہی کی وجہ سے، کہ یہ ناپسندیدہ چیزیں ہیں، شریعت نے ان کو توڑنے کا حکم دیا ہے تو میں اس لیے ان کو توڑ رہا تھا۔ تو کہتے ہیں: ”نَهْيًا عَنِ الْمُنْكَرِ“ ناپسندیدہ چیز سے روکنے کی وجہ سے ”بِخِلَافِ الدِّرْهَمِ الَّذِي عَلَيْهِ التِّمْثَالُ“ بھئی، بعض اوقات درہموں پر بھی صورت بنی ہوتی ہے، شکل بنی ہوتی ہے۔ اب ایک شخص نے درہم چوری کر لیے اور کہنے لگا کہ بھئی ان پر شکلیں بنی ہوئی تھیں، صورتیں بنی ہوئی تھیں اور شریعت نے صورتیں بنانے سے منع کیا ہے تو میں ان کو توڑنا چاہتا تھا۔ کہتے ہیں نہیں، یہاں یہ تاویل جاری نہیں ہو سکتی، اس لیے کیونکہ یہ جو درہم پر صورتیں ہیں ان کی عبادت نہیں کی جاتی۔ ان کی عبادت نہیں کی جاتی، لہٰذا یہاں تاویل نہیں کی جا سکتی۔ تو کہتے ہیں: ”بِخِلَافِ الدِّرْهَمِ الَّذِي عَلَيْهِ التِّمْثَالُ“ یاد رکھو تمثال کہتے ہیں تصویر کو، اسی طرح مجسمے کو بھی تمثال کہتے ہیں۔ تو کہتے ہیں: ”بِخِلَافِ الدِّرْهَمِ الَّذِي عَلَيْهِ التِّمْثَالُ“ بخلاف اس درہم کے کہ جس کے اوپر تصویر ہو ”لِأَنَّهُ مَا أُعِدَّ لِلْعِبَادَةِ“ اس لیے کیونکہ اس صورت کو تو عبادت کے لیے تیار نہیں کیا گیا ”فَلَا يَثْبُتُ شُبْهَةُ إِبَاحَةِ الْكَسْرِ“ لہٰذا اس کو توڑنے کے مباح ہونے کا شبہ ثابت نہیں ہوتا کہ اس کا توڑنا مباح ہو جائے مسلمان کے لیے، یہ شبہ ثابت نہیں ہوتا۔ جبکہ صلیب وغیرہ یا شطرنج وغیرہ جو ہے اس میں تو توڑنے کا شبہ پیدا ہوتا ہے کیونکہ شریعت نے ان چیزوں سے منع کیا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”فَلَا يَثْبُتُ شُبْهَةُ إِبَاحَةِ الْكَسْرِ“ تو ثابت نہیں ہوتا اس بات کا شبہ کہ ان کا توڑنا مباح ہو ”وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے روایت ہے ”أَنَّهُ إِنْ كَانَ الصَّلِيبُ فِي الْمُصَلَّى لَا يُقْطَعُ“ امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے ایک روایت ہے۔ وہ فرماتے ہیں یہ جو عیسائیوں کی صلیب ہے اگر یہ سونے یا چاندی وغیرہ کی بنی ہے یا اس پر زیور لگا ہے اور یہ زیور دس درہم کا بنتا ہے، تو پھر اس صورت کے اندر اگر یہ صلیب اس نے عیسائیوں کی عبادت گاہ سے چوری کی ہے تو پھر ہاتھ نہیں کاٹیں گے کیونکہ عبادت گاہ کے اندر حفاظت نہیں ہے، وہاں تو سب لوگ آتے جاتے ہیں۔ لیکن اگر کسی اور الگ کمرے سے چوری کی ہے یہ صلیب، تو پھر اس صورت میں ہاتھ کاٹا جائے گا، اس لیے کیونکہ وہاں پر حفاظت کامل ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے روایت ہے ”أَنَّهُ إِنْ كَانَ الصَّلِيبُ فِي الْمُصَلَّى“ کہ اگر وہ صلیب جو ہے مصلیٰ میں ہوئی، یعنی نماز کی جگہ، مراد ہے ان کی عبادت کی جگہ، اگر یہ صلیب جو ہے مصلیٰ میں یعنی ان کی عبادت کی جگہ میں ہوئی ”لَا يُقْطَعُ“ تو پھر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا ”لِعَدَمِ الْحِرْزِ“ حفاظت نہ ہونے کی وجہ سے ”وَإِنْ كَانَ فِي بَيْتٍ آخَرَ“ اور اگر یہ صلیب کسی اور کمرے میں ہوئی ”يُقْطَعُ“ پھر ہاتھ کاٹا جائے گا ”لِكَمَالِ الْمَالِيَّةِ وَالْحِرْزِ“ مالیت اور حرز کے کامل ہونے کی وجہ سے، کہ دس درہم کی بھی ہے اور حفاظت بھی کامل ہے بھئی۔ آگے دیکھیے: ”وَلَا قَطْعَ عَلَى سَارِقِ الصَّبِيِّ الْحُرِّ وَإِنْ كَانَ عَلَيْهِ حَلْيٌ“ یہ حَلْيٌ لفظ ہے بھئی، حَلْيٌ۔ حَلْيٌ اور حِلْيَةٌ یہ مفرد کے لیے آتا ہے۔ حَلْيٌ اور حِلْيَةٌ، اور جمع اس کی آتی ہے حُلِيٌّ، حُلِيٌّ۔ اب صورتِ مسئلہ یہ ہے کہ کسی شخص نے بچے کو چوری کر لیا، تو کیا اس صورت میں اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا؟ کہتے ہیں کہ بچہ مال نہیں ہے، آزاد بچہ تو مال نہیں، لہٰذا اس پہ ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ اور اگر بچے پر زیور بھی ہوا پھر بھی ہاتھ نہیں کاٹیں گے کیونکہ بچہ ہے اصل اور زیور ہے اس کے تابع بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا قَطْعَ عَلَى سَارِقِ الصَّبِيِّ الْحُرِّ“ اور قطع نہیں ہے اس چور پر جس نے آزاد بچے کو چوری کیا ”وَإِنْ كَانَ عَلَيْهِ حَلْيٌ“ اگرچہ بچے کے اوپر زیور ہو ”لِأَنَّ الْحُرَّ لَيْسَ بِمَالٍ“ اس لیے کیونکہ آزاد شخص مال نہیں ہے ”وَمَا عَلَيْهِ مِنَ الْحَلْيِ تَبَعٌ لَهُ“ اور وہ جو بچے کے اوپر زیور ہے وہ اس بچے کے تابع ہے۔ ایک دلیل یہ۔ دوسری دلیل یہ کہ ”وَلِأَنَّهُ يَتَأَوَّلُ فِي أَخْذِهِ الصَّبِيَّ إِسْكَاتَهُ“ بھئی بچے کو چوری کرنے والا تاویل کرے گا کہ یہ بچے کو تو میں نے اس لیے اٹھایا تھا کہ یہ رو رہا تھا، میں اس کو خاموش کروانا چاہتا تھا، یا میں نے اس بچے کو اس لیے اٹھایا تھا کہ تاکہ کسی دودھ پلانے والی عورت تک پہنچا دوں اس کو، تاکہ کہیں ایسا نہ ہو یہ ہلاک ہی نہ ہو جائے۔ تو یہاں وہ تاویل کر سکتا ہے۔ اور یاد رکھو یہ بات چل رہی ہے صرف قطع کی کہ اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، باقی اس کو سزا دی جائے گی بھئی اور اگر اس طرح کا جرم ہوتا ہے تو پھر قتل بھی کیا جا سکتا ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو بہرحال بات یہاں صرف یہ چل رہی ہے کہ اس کا ہاتھ کاٹیں گے یا ہاتھ نہیں کاٹیں گے، بتایا ہاتھ نہیں کاٹیں گے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّهُ يَتَأَوَّلُ فِي أَخْذِهِ الصَّبِيَّ“ اس لیے کیونکہ وہ چور تاویل کرے گا بچے کو اٹھانے میں ”إِسْكَاتَهُ“ اس کو خاموش کروانے کا ”أَوْ حَمْلَهُ إِلَى مُرْضِعَتِهِ“ یا اس کو اٹھانے کا مرضعہ تک، کہ میں اس بچے کو اٹھا کر پہنچانا چاہتا تھا اس کی مرضعہ تک بھئی۔ ”أَوْ حَمْلَهُ إِلَى مُرْضِعَتِهِ“ یا اس کو اٹھا کر لے جانے کا اس کے دودھ پلانے والی تک۔ ”وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ: يُقْطَعُ إِذَا كَانَ عَلَيْهِ حَلْيٌ هُوَ نِصَابٌ“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا جب اس بچے پر اتنا زیور ہوا کہ ”هُوَ نِصَابٌ“ کہ وہ نصاب ہے، یعنی دس درہم یا اس سے زیادہ ہے ”لِأَنَّهُ يَجِبُ الْقَطْعُ بِسَرِقَتِهِ وَحْدَهُ“ اس لیے کیونکہ ہاتھ کا کاٹنا واجب ہوتا ہے اکیلے کی چوری سے، یعنی اکیلے زیور کی چوری سے ہاتھ کاٹنا واجب ہوتا ہے، تو بچے کے ساتھ بھی زیور کو لے کر گیا ہے تو اس میں بھی ہاتھ کاٹا جائے گا، جیسے وہ مصحف کے مسئلے میں فرماتے ہیں۔ کہتے ہیں: ”يُقْطَعُ إِذَا كَانَ عَلَيْهِ حَلْيٌ هُوَ نِصَابٌ“ کہ چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا جب اس بچے پر ایسا زیور ہے کہ جو نصاب ہے ”لِأَنَّهُ يَجِبُ الْقَطْعُ بِسَرِقَتِهِ وَحْدَهُ“ اس لیے کیونکہ ہاتھ کاٹنا واجب ہوتا ہے اکیلے زیور کی چوری سے ”فَكَذَا مَعَ غَيْرِهِ“ تو اسی طرح غیر کے ساتھ ہونے کی صورت میں بھی ہو گا، یعنی جب زیور کسی اور کے ساتھ ہو پھر بھی اسی طرح حکم ہو گا۔ یہ معنی ہے: ”فَكَذَا“ تو اسی طرح ہو گا یعنی ہاتھ کاٹا جائے گا ”مَعَ غَيْرِهِ“ جب وہ زیور کسی اور چیز کے ساتھ ہو۔ ”وَعَلَى هَذَا إِذَا سَرَقَ إِنَاءَ فِضَّةٍ فِيهِ نَبِيذٌ أَوْ ثَرِيدٌ“ اور اسی اختلاف پر ہے۔ بھئی صورت یہ: ایک آدمی نے چاندی کا برتن چوری کیا اور اس میں نبیز تھی یا اس کے اندر ثرید تھی۔ نبیز تو میں نے آپ کو بتلایا کہ عرب جو لوگ جو ہیں کھجور وغیرہ یہ چیزیں پانی میں ڈال کر رکھتے اور طاقت کے لیے بھی استعمال کرتے تھے اور اس کو خاص طریقے سے بناتے تو اس میں نشہ بھی آ جاتا تھا، تو نشے کے لیے بھی بعض لوگ استعمال کرتے تھے۔ اور ثرید بھئی، ثرید یہ روٹی کے ٹکڑے شوربے کے اندر ڈالے جاتے ہیں اور اس کو ثرید کہتے ہیں بھئی اور یہ حضور علیہ السلام کا پسندیدہ کھانا تھا بھئی۔ تو ایک آدمی نے چاندی کا برتن چوری کیا اور اس میں نبیز یا ثرید تھا۔ تو کیا اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا یا نہیں؟ تو طرفین فرماتے ہیں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، اس لیے کیونکہ یہاں جو چیز برتن کے اندر ہے وہ ہے اصل اور برتن ہے تابع، اور برتن کے اندر یا تو نشہ آور مشروب ہے اور اس کی مالیت میں تو اختلاف ہے یا اس کے اندر ثرید ہے یعنی کھانا ہے اور وہ تو جلدی خراب ہو جاتا ہے، تو ان دونوں میں ہاتھ نہیں کاٹا جاتا۔ جب یہ نبیز اور ثرید میں ہاتھ نہیں کاٹا جاتا تو ان کے جو تابع برتن ہے اس میں بھی ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر اکیلا یہ برتن چوری کرتا تو اس کا ہاتھ کاٹا جاتا، تو کسی اور چیز کے ساتھ بھی اگر چوری کیا ہے اور یہ نصاب کے بقدر ہے تو اس صورت میں بھی ہاتھ کاٹا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَعَلَى هَذَا“ اور اسی اختلاف پر ہے ”إِذَا سَرَقَ إِنَاءَ فِضَّةٍ“ جب کسی نے ایسا چاندی کا برتن چوری کر لیا ”فِيهِ نَبِيذٌ أَوْ ثَرِيدٌ“ جس کے اندر نبیز یا ثرید تھا۔ ”وَالْخِلَافُ فِي صَبِيٍّ لَا يَمْشِي وَلَا يَتَكَلَّمُ“ بھئی پیچھے اختلاف ذکر ہوا تھا کہ کوئی شخص بچے کو چوری کرتا ہے اور اس پر زیور بھی ہے، تو طرفین کے نزدیک اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہاتھ کاٹا جائے گا۔ تو صاحبِ ہدایہ بتلا رہے ہیں یہ اختلاف اس بچے کے بارے میں ہے جو بول نہیں سکتا، جو چل نہیں سکتا، جس کو اپنی ذات پر ابھی قدرت حاصل نہیں ہے۔ اور اگر بچہ بول سکتا ہے، باتیں کر سکتا ہے تو پھر اس صورت میں یہ بالغ کے حکم میں ہے۔ کس کے حکم میں ہے؟ بالغ کے حکم میں ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْخِلَافُ فِي صَبِيٍّ لَا يَمْشِي وَلَا يَتَكَلَّمُ“ اور اختلاف جو ہے اس بچے کے بارے میں ہے ”لَا يَمْشِي“ جو چل نہیں سکتا ”وَلَا يَتَكَلَّمُ“ اور جو بات نہیں کر سکتا ”كَيْ لَا يَكُونَ فِي يَدِ نَفْسِهِ“ تاکہ کہیں وہ اپنی ذات کے قبضے میں نہ ہو۔ بھئی بچہ جب چھوٹا ہے، چل نہیں سکتا، بول نہیں سکتا تو اس کو اپنی جان پر، اپنی ذات پر قدرت حاصل نہیں۔ وہ کوئی کام اپنی مرضی سے نہیں کر سکتا۔ لیکن اگر بچہ چل پھر سکتا ہے اور بول سکتا ہے تو اس کو تو اپنی ذات پر پوری قدرت حاصل ہے بھئی، تو وہ بالغ مرد کے حکم میں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”كَيْ لَا يَكُونَ فِي يَدِ نَفْسِهِ“ تاکہ کہیں یہ اپنی ذات کے قبضے میں نہ ہو یعنی اس کو اپنی ذات پر پوری قدرت نہ ہو، مراد یہ ہے۔ ”وَلَا قَطْعَ فِي سَرِقَةِ الْعَبْدِ الْكَبِيرِ“ بھئی صورت یہ: ایک آدمی نے کسی کے بڑے غلام کو چوری کر لیا، بالغ غلام کو۔ تو کیا اس چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا؟ کہتے ہیں نہیں، بالغ غلام کو کوئی چوری نہیں کر سکتا۔ بالغ غلام کو کوئی لے کر جائے گا تو اس کو اغوا کہتے ہیں یا اس کو دھوکہ دینا کہتے ہیں، کوئی دھوکہ دے کر لے گیا کہ میرے پاس آ جاؤ وہاں تمہارے لیے بہت آسانی ہو گی۔ تو بالغ غلام کے لے جانے کو چوری کہتے ہی نہیں ہیں بھئی، اور بات چل رہی ہے چوری کی، چوری کے اندر ہاتھ کاٹا جاتا ہے اغوا یا دھوکے کے اندر ہاتھ نہیں کاٹا جاتا۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا قَطْعَ فِي سَرِقَةِ الْعَبْدِ الْكَبِيرِ“ اور بڑے یعنی بالغ غلام کی چوری میں ہاتھ کا کاٹنا نہیں ہے ”لِأَنَّهُ غَصْبٌ أَوْ خِدَاعٌ“ اس لیے کیونکہ یہ غصب ہے ”أَوْ خِدَاعٌ“ یا دھوکہ ہے۔ بڑے غلام کو لے کر جاتا ہے یہ، اس کو غصب کہتے ہیں، چھین کر لے جانا، زبردستی کسی کو لے جانا، اس کو غصب کہتے ہیں ”أَوْ خِدَاعٌ“ یا دھوکہ کہتے ہیں اگر کوئی دھوکہ دے کر لے جائے۔ ”وَيُقْطَعُ فِي سَرِقَةِ الْعَبْدِ الصَّغِيرِ“ ہاں چھوٹے غلام، نابالغ غلام کی چوری میں ہاتھ کاٹا جائے گا کیونکہ نابالغ غلام مال ہے۔ آزاد بچہ تو مال نہیں تھا لیکن نابالغ غلام یہ تو مال ہے، اس میں ہاتھ کاٹا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَيُقْطَعُ فِي سَرِقَةِ الْعَبْدِ الصَّغِيرِ“ اور نابالغ غلام کی چوری کے اندر ہاتھ کاٹا جائے گا ”لِتَحَقُّقِهَا بِحَدِّهَا“ اس لیے کیونکہ چوری پائی گئی اپنی حد کے ساتھ۔ چوری پائی گئی اپنی حد کے ساتھ، چوری پائی گئی ہے تو اب حد بھی آ جائے گی۔ ”لِتَحَقُّقِهَا بِحَدِّهَا“ اس لیے کیونکہ چوری اپنی حد کے ساتھ پائی گئی ہے ”إِلَّا إِذَا كَانَ يُعَبِّرُ عَنْ نَفْسِهِ“ مگر یہ کہ وہ نابالغ غلام جو ہے وہ تعبیر کر سکتا ہے اپنی ذات سے، یعنی وہ باتیں کر سکتا ہے، تو پھر اس صورت کے اندر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا کیونکہ یہ بالغ غلام کے حکم میں ہے، اور بالغ غلام میں ہم نے آپ کو بتایا کہ اس کو کوئی لے جائے تو اس کو غصب یا دھوکہ کہتے ہیں، چوری نہیں کہتے۔ تو نابالغ غلام بھی جب باتیں کرنے پر قادر ہے تو اس کو لے جانا جو ہے اس کو بھی غصب یا دھوکہ کہیں گے، اس کو سرقہ نہیں کہیں گے، لہٰذا اس میں ہاتھ نہیں کاٹیں گے۔ تو کہتے ہیں: ”إِلَّا إِذَا كَانَ يُعَبِّرُ عَنْ نَفْسِهِ“ مگر جس وقت کہ غلام جو ہے اپنی ذات سے تعبیر کر سکے یعنی باتیں کر سکے ”لِأَنَّهُ هُوَ وَالْبَالِغُ سَوَاءٌ فِي اعْتِبَارِ يَدِهِ“ اس لیے کیونکہ یہ غلام جو تعبیر کر سکتا ہے ”وَالْبَالِغُ“ اور بالغ غلام جو ہے ”سَوَاءٌ“ یہ دونوں برابر ہیں ”فِي اعْتِبَارِ يَدِهِ“ اپنے قبضے کے اعتبار سے، کہ ان میں سے ہر ایک کو اپنی ذات پر قدرت ہوتی ہے بھئی، میں سے ہر ایک کو اپنی ذات پر قدرت اور قبضہ ہوتا ہے بھئی۔ یہ معنی ہے: ”لِأَنَّهُ هُوَ وَالْبَالِغُ سَوَاءٌ فِي اعْتِبَارِ يَدِهِ“ اس لیے کیونکہ یہ نابالغ غلام اور بالغ جو ہیں وہ دونوں برابر ہیں اپنے قبضے کے اعتبار سے۔ ”وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ: لَا يُقْطَعُ وَإِنْ كَانَ صَغِيرًا لَا يَعْقِلُ وَلَا يَتَكَلَّمُ اسْتِحْسَانًا“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”لَا يُقْطَعُ“ نابالغ غلام جو ہے، یہ نابالغ غلام جو باتیں ابھی نہیں کر سکتا، اس کو چوری کرنے والے کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا بھئی۔ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی نابالغ غلام کو چوری کر لے اور وہ نابالغ غلام ابھی باتیں بھی نہیں کر سکتا پھر بھی ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا اور یہ حکم بطورِ استحسان کے ہے۔ وجہ یہ کہ یہ نابالغ غلام دیکھا جائے تو یہ آدمی ہے، انسان ہے اور انسان کے اندر حریت اصل ہے، تو بعض اعتبار سے دیکھیں تو یہ نابالغ غلام مال ہے اور بعض اعتبار سے دیکھیں تو یہ آدمی ہے اور انسان ہے اور انسان کے اندر اصل آزادی ہے، اس اعتبار سے یہ مال نہیں۔ تو اس کے مال ہونے میں شبہ آ گیا اور شبہے کی وجہ سے حد ساقط ہو جاتی ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”لَا يُقْطَعُ“ کہ اس نابالغ غلام کو چوری کرنے والے کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا ”وَإِنْ كَانَ صَغِيرًا لَا يَعْقِلُ وَلَا يَتَكَلَّمُ“ اگرچہ وہ اتنا چھوٹا ہے کہ نہ وہ سمجھتا ہے اور نہ بات کر سکتا ہے ”اسْتِحْسَانًا“ اور یہ جو ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا یہ استحساناً ہے ”لِأَنَّهُ آدَمِيٌّ مِنْ وَجْهٍ“ اس لیے کیونکہ یہ نابالغ غلام جو ہے بعض اعتبار سے دیکھیں تو آدمی ہے ”مَالٌ مِنْ وَجْهٍ“ اور بعض اعتبار سے دیکھیں تو یہ مال ہے، تو اس کے مال ہونے میں شبہ آ گیا۔ ”وَلَهُمَا“ اب طرفین کی دلیل آ گئی۔ طرفین فرماتے ہیں یہ نابالغ غلام کو چوری کرنے والے کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَهُمَا“ طرفین کی دلیل یہ ہے ”أَنَّهُ مَالٌ مُطْلَقٌ“ کہ یہ نابالغ غلام جو ہے یہ مالِ مطلق ہے ”لِكَوْنِهِ مُنْتَفَعًا بِهِ أَوْ بِعَرَضِ أَنْ يَصِيرَ مُنْتَفَعًا بِهِ“ طرفین فرماتے ہیں کہ یہ نابالغ غلام یہ بھی مال ہے، مال ہے مطلقاً یعنی ہر اعتبار سے یہ مال ہے۔ یا تو اس وجہ سے کہ فی الحال ہی اس سے نفع اٹھایا جا سکتا ہے، فی الحال ہی اس سے نفع اٹھایا جا سکتا ہے، بول تو نہیں سکتا لیکن کچھ نہ کچھ چل پھر تو سکتا ہے تو کوئی چھوٹے موٹے کام اس سے کروائے جا سکتے ہیں، یا اگر فی الحال کام نہیں بھی کر سکتا تو مستقبل کے اندر اس کے اندر صلاحیت ہے، یہ آگے چل کر نافع بن جائے گا، بڑا ہو جائے گا تو ہر طرح کا کام کرنے کے قابل ہو جائے گا۔ تو یہ مال ہے، منتفع بہٖ ہے، اس سے نفع اٹھایا جا سکتا ہے یا تو فی الحال یا مستقبل کے اعتبار سے۔ ”وَلَهُمَا“ تو طرفین فرماتے ہیں ”أَنَّهُ مَالٌ مُطْلَقٌ“ یہ مطلق مال ہے یعنی کامل طور پر مال ہے ”لِكَوْنِهِ مُنْتَفَعًا بِهِ“ اس وجہ سے کہ یہ منتفع بہٖ ہے یعنی فی الحال ہی اس سے نفع اٹھایا جا رہا ہے ”أَوْ بِعَرَضِ أَنْ يَصِيرَ مُنْتَفَعًا بِهِ“ یا اس صفت پر ہے۔ عرض کا کیا معنی؟ صفت۔ آپ نے پڑھا ہے: ایک جوہر ہے اور ایک عرض ہے۔ جوہر ذات کو کہتے ہیں اور عرض صفت کو۔ تو کہتے ہیں: ”أَوْ بِعَرَضِ أَنْ يَصِيرَ مُنْتَفَعًا بِهِ“ یا وہ اس صفت پر ہے کہ وہ منتفع بہٖ بن جائے یعنی بڑا ہو کر فائدے کے قابل ہو جائے ”إِلَّا أَنَّهُ انْضَمَّ إِلَيْهِ مَعْنَى الْآدَمِيَّةِ“ مگر ایک بات ہے کہ اس کے ساتھ آدمی ہونے کا معنی ملا ہوا ہے، اس کے ساتھ آدمی ہونے کا معنی ملا ہوا ہے یعنی یہ آدمی تو ہے لیکن اس سے کوئی خرابی لازم نہیں آتی، یہ مال ہے۔ آدمی ہونے کا معنی ساتھ مل گیا تو اس کی وجہ سے کوئی حرج نہیں آیا۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ تو فرماتے تھے آدمی ہونے کی وجہ سے اب اس کے مال ہونے میں ہی شبہ آ گیا، لیکن طرفین فرماتے ہیں نہیں، یہ مال ہے ہر اعتبار سے۔ تو یہ معنی ہے: ”إِلَّا أَنَّهُ انْضَمَّ إِلَيْهِ مَعْنَى الْآدَمِيَّةِ“ مگر یہ کہ اس کے ساتھ آدمی ہونے کا معنی ملا ہوا ہے۔ آگے دیکھیے: ”وَلَا قَطْعَ فِي الدَّفَاتِرِ كُلِّهَا“ دفاتر بھئی، جمع ہے دفتر کی، اور دفتر کہتے ہیں رجسٹر کو۔ رجسٹر بھئی، رجسٹر اور کاپی جس کے اندر آپ لکھتے ہیں، تو قدیم زمانے کے اندر بھی اسی طرح طلبہ جو ہیں وہ اساتذہ کی تقریر لکھا کرتے تھے اور اسی طرح اور بھی تمام کاموں کے اندر رجسٹر استعمال ہوتے ہیں، چیزوں کو لکھا جاتا ہے۔ تو اگر کوئی شخص رجسٹر چوری کر لے تو کیا اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا یا نہیں؟ تو آپ کو بتلائیں گے کہ نہیں، رجسٹر جو چوری کیا جاتا ہے وہ دو صورت پر ہو سکتا ہے: یا تو وہ نیا رجسٹر ہو گا یا اس کے اندر لکھا ہوا ہو گا بھئی۔ تو اگر لکھا ہوا رجسٹر چوری کرے تو معلوم ہوا اس کے اندر کاغذ مقصود نہیں ہے کیونکہ اس کے اوپر تو لکھا جا چکا ہے، معلوم ہوا وہاں پر وہ تحریر اور وہ مکتوب جو ہے وہ مقصود ہے، اور تحریر اور مکتوب کی تو کوئی قیمت نہیں ہوتی۔ تو جب مکتوب جو اصل ہے اس کی کوئی قیمت نہیں، اس کی وجہ سے ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، تو اس کے تابع یہ کاغذ اور جلد بھی ہو گئے، لہٰذا ان میں بھی ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ اور اگر رجسٹر نیا ہے، تو نیا رجسٹر جو ہے اس کے اندر تو کاغذ مقصود ہوتا ہے لکھنے کے لیے، تو اس کے اندر پھر ہاتھ کاٹا جائے گا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا قَطْعَ فِي الدَّفَاتِرِ كُلِّهَا“ اور ہاتھ کا کاٹنا نہیں ہے تمام رجسٹروں میں، یعنی جن کے اندر لکھا ہوا ہو ان میں ہاتھ کا کاٹنا نہیں ہے، چاہے کوئی بھی رجسٹر ہو۔ چاہے کسی نے اس کے اندر اپنی فقہ کی کتاب لکھی ہے، چاہے کسی نے اس کے اندر استاد کے سبق لکھا ہے یا کسی نے اس کے اندر اپنے اشعار لکھے ہوئے ہیں یا اس طرح کی کوئی اور چیزیں جو ہیں اس نے لکھی ہوئی ہیں اور اس کے اندر جمع کی ہوئی ہیں، تو رجسٹروں کے اندر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ کہتے ہیں: ”وَلَا قَطْعَ فِي الدَّفَاتِرِ كُلِّهَا“ اور تمام رجسٹروں کے اندر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، یعنی کسی بھی رجسٹر میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا ”لِأَنَّ الْمَقْصُودَ مَا فِيهَا“ اس لیے کیونکہ مقصود جو ہے وہ چیز ہوتی ہے جو ان رجسٹروں کے اندر ہوتی ہے، یعنی وہ جو مکتوب ہے ”وَذَلِكَ لَيْسَ بِمَالٍ“ اور وہ مکتوب جو ہے وہ تو مال نہیں ہے ”إِلَّا فِي دَفَاتِرِ الْحِسَابِ“ مگر حساب کے رجسٹروں میں، مگر حساب کے رجسٹروں کے اندر ہاتھ کاٹا جائے گا۔ بھئی حساب کتاب کے رجسٹر جس کے اندر کوئی شخص اپنے کاروبار وغیرہ کے حساب وغیرہ کو لکھتا ہے یا اپنی دکان کے حساب کو لکھتا ہے یا اپنی تجارت وغیرہ کے حساب کو لکھتا ہے، تو یہ جو رجسٹر ہیں کہتے ہیں ان کی چوری میں ہاتھ کاٹا جائے گا۔ بھئی کیا وجہ ہے؟ یہاں پر بھی تو رجسٹر جو ہیں ان کے اندر لکھا ہوا ہے اور آپ نے ہمیں بتایا کہ مکتوب مال نہیں ہوتا، تو لہٰذا پھر یہاں کیسے ہاتھ کاٹا جائے گا؟ تو صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ یہ جو حساب کتاب کے رجسٹر ہیں یہ عام لوگوں کے کام کی چیز نہیں۔ جس کا کاروبار ہے یہ اس کے کام کی تو چیز ہے لیکن یہ رجسٹر کسی اور کے کام آنے والا نہیں ہے۔ معلوم ہوا جب چور نے اس طرح کا رجسٹر چوری کیا ہے تو اس کا مقصد وہ مکتوب نہیں ہے بلکہ اس رجسٹر کی جلد اور کاغذ وغیرہ ہیں بھئی، اور جلد اور کاغذ وغیرہ یہ تو مالِ متقوم ہے لہٰذا ان کے اندر ہاتھ کاٹا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”إِلَّا فِي دَفَاتِرِ الْحِسَابِ“ مگر حساب کے رجسٹروں میں۔ تو آپ اس کو حِسَاب بھی لفظ پڑھ سکتے ہیں اور حُسَّاب۔ حُسَّاب جمع ہے حاسِب کی، حساب کرنے والا، حساب کرنے والا۔ تو یوں بھی آپ پڑھ سکتے ہیں: ”إِلَّا فِي دَفَاتِرِ الْحُسَّابِ“ حساب کرنے والوں کے رجسٹروں میں کہ اس میں ہاتھ کاٹا جائے گا۔ ”لِأَنَّ مَا فِيهَا لَا يُقْصَدُ بِالأَخْذِ“ اس لیے کیونکہ ان کے اندر جو ہوتا ہے وہ مقصود نہیں ہوتا لینے کے ذریعے ”فَكَانَ الْمَقْصُودُ هُوَ الْكَوَاغِذَ“ تو وہ چیز جو مقصود ہے وہ کاغذ ہیں، اور کاغذ تو متقوم ہے لہٰذا اس میں ہاتھ کاٹا جائے گا۔ لہٰذا کوئی شخص کوئی رجسٹر چوری کرتا ہے، اگر حساب کتاب کے علاوہ کوئی ایسی چیز اس میں مکتوب ہے جو مقصود ہو سکتی ہے تو پھر اس صورت میں تو ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، اور اگر وہ مکتوب جو ہے وہ مقصود نہیں بن سکتا دوسرے کا، تو پھر اس صورت میں ہاتھ کاٹا جائے گا۔ اور اسی طرح یاد رکھو جب کوئی کسی کا نیا رجسٹر چراتا ہے، نئی کاپی چرا لیتا ہے جس کے اندر تحریر وغیرہ کم ہے یا نہیں ہے، تو معلوم ہوا وہاں پر وہ کاغذ مقصود ہیں، لہٰذا اس میں بھی ہاتھ کاٹا جائے گا۔ آگے دیکھیے: ”قَالَ: وَلَا فِي سَرِقَةِ كَلْبٍ وَلَا فَهْدٍ“ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: کَلب کتے کو کہتے ہیں۔ فھد، فھد یاد رکھو یہ تیندوا، یہ چیتے کی نسل کا ایک جانور ہے۔ البتہ فرق ہے: چیتا جو ہے چیتے کا جسم جو ہے وہ شکاری کتے کی طرح ہوتا ہے۔ اگر آپ نے دیکھا ہو شکاری کتے کا سینہ بڑا ہوتا ہے اور پیٹ بالکل اس کا کمر کے ساتھ لگا ہوا ہوتا ہے، بہت چھوٹا سا پیٹ ہوتا ہے، تو یہ شکاری کتا ہے، اور چیتا بالکل اسی کی شکل کا ہوتا ہے، اس کا سینہ بڑا ہوتا ہے اور پیٹ بالکل کمر کے ساتھ لگا ہوتا ہے، تو اس کو چیتا کہتے ہیں۔ جبکہ تیندوا جو ہے یہ چیتے سے ذرا قد بھی تھوڑا سا چھوٹا ہوتا ہے اور اس کا جسم ذرا بھاری ہوتا ہے۔ اس کا پیٹ برابر ہوتا ہے، وہ کمر کے ساتھ لگا ہوا نہیں ہوتا بھئی۔ تو بہرحال ہیں دونوں ایک ہی نسل کے بھئی۔ تو صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”وَلَا فِي سَرِقَةِ كَلْبٍ وَلَا فَهْدٍ“ اور کتے اور چیتے کی چوری میں بھی ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا ”لِأَنَّ مِنْ جِنْسِهِمَا يُوجَدُ مُبَاحُ الْأَصْلِ غَيْرَ مَرْغُوبٍ فِيهِ“ اس لیے کیونکہ ان دونوں کی جنس میں سے مباح الاصل پائے جاتے ہیں اس حال میں کہ وہ مرغوب نہیں ہوتے۔ بھئی دیکھو آوارہ کتے عام پھر رہے ہوتے ہیں، اسی طرح جنگل کے اندر اور چیتے اور چیتے اور تیندوے وغیرہ بھی موجود ہیں لیکن لوگ ان کے اندر رغبت نہیں کرتے، تو انہی کی جنس کے اور چیزیں موجود ہیں اور لوگ ان میں رغبت نہیں کر رہے اور وہ مباح الاصل ہیں۔ جو ان کو پکڑ لے وہ ان کا مالک ہو جائے گا۔ اور اس قسم کی چیز میں تو آپ پڑھ چکے ہیں ہاتھ نہیں کاٹا جاتا، لہٰذا یہاں بھی ان میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ مِنْ جِنْسِهِمَا“ اس لیے کیونکہ کتے اور چیتے کی جنس میں سے ”يُوجَدُ مُبَاحُ الْأَصْلِ“ مباح الاصل پائے جاتے ہیں ”غَيْرَ مَرْغُوبٍ فِيهِ“ اس حال میں کہ ان میں رغبت نہیں کی جاتی ”وَلِأَنَّ الِاخْتِلَافَ بَيْنَ الْعُلَمَاءِ ظَاهِرٌ فِي مَالِيَّةِ الْكَلْبِ“ اور نیز دوسری دلیل ذکر فرما رہے ہیں، کہتے ہیں اس لیے کیونکہ کتے کے مال ہونے میں علماء کا اختلاف ہے۔ ہمارے نزدیک تو کتا مال ہے، اس کی بیع و شراء ہو سکتی ہے، لیکن امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک کتا نجس العین ہے۔ اسی طرح اور ائمہ، بعض ائمہ کے نزدیک بھی کتا نجس العین ہے، وہ خنزیر کی طرح ہے، تو وہ مال ہی نہیں ہے۔ وہ مال ہی نہیں، اس کا بیچنا خریدنا جائز ہی نہیں۔ تو کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّ الِاخْتِلَافَ بَيْنَ الْعُلَمَاءِ ظَاهِرٌ“ اور اس لیے کیونکہ علماء کے درمیان اختلاف ظاہر ہے ”فِي مَالِيَّةِ الْكَلْبِ“ کتے کے مال ہونے کے بارے میں ”فَأَوْرَثَ شُبْهَةً“ تو اس نے شبہ پیدا کر دیا، اور شبہے کی وجہ سے حد ساقط ہو جاتی ہے۔ اس لیے کتے اور چیتے اور تیندوے کی چوری میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ ”وَلَا قَطْعَ فِي دُفٍّ وَلَا طَبْلٍ وَلَا بَرْبَطٍ وَلَا مِزْمَارٍ“ دُفّ بھئی، جس کو ہم اردو میں دَف کہتے ہیں، عربی میں اس کو دَف بھی کہتے ہیں اور دُفّ بھی بھئی، فا مشدد ہے، دُفٌّ۔ جس میں ایک طرف چمڑا لگا ہوتا ہے، دوسری طرف چمڑا نہیں ہوتا۔ ڈھول جو ہے ڈھول کے اندر تو دونوں طرف چمڑا لگا ہوتا ہے لیکن دف کے اندر ایک طرف چمڑا لگا ہوتا ہے۔ تو اگر کسی نے کسی کا دف چوری کر لیا یا طَبل، طَبل یاد رکھو ڈھول کو کہتے ہیں۔ بَربَط بھئی، بربط یاد رکھو یہ گانے بجانے کا کوئی آلہ ہے، اس کو ستار کہتے ہیں۔ بربط کو ستار کہتے ہیں جس پر کچھ تاریں لگی ہوتی ہیں بھئی۔ تو اردو میں اس کو ستار کہتے ہیں۔ اسی طرح مِزمار بھئی، مزمار بھی کوئی گانے بجانے کا آلہ ہے بھئی۔ بعضوں نے لکھا ہے کہ یہ بانسری ہے بھئی بانسری۔ تو یہ سب گانے بجانے کے آلات ہیں۔ یہ دف، طبل، بربط اور مزمار۔ تو طبل میں نے بتلایا ڈھول کو کہتے ہیں، بربط ستار کو کہتے ہیں اور مزمار جو ہے یہ کوئی باجا ہے، بعضوں نے لکھا ہے یہ بانسری ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا قَطْعَ فِي دُفٍّ وَلَا طَبْلٍ“ اور ہاتھ کا کاٹنا نہیں ہے دف کی چوری میں ”وَلَا طَبْلٍ“ اور نہ ڈھول کی چوری میں ”وَلَا بَرْبَطٍ“ اور نہ ستار کی چوری میں ”وَلَا مِزْمَارٍ“ اور نہ بانسری کی چوری میں ”لِأَنَّ عِنْدَهُمَا لَا قِيمَةَ لَهَا“ اس لیے کیونکہ صاحبین کے نزدیک ان کی کوئی قیمت نہیں۔ یہ گانے بجانے کے آلات ہیں، صاحبین کے نزدیک ان کی کوئی قیمت نہیں، لیکن جبکہ امام صاحب کے نزدیک ان کی قیمت ہے بھئی۔ تو صاحبین کے نزدیک اس کی کوئی قیمت نہیں، جب قیمت نہیں ہے تو جب یہ مال نہیں ہے تو ان کی چوری میں ہاتھ نہیں کاٹا جا سکتا، اور امام صاحب کے نزدیک ان کی قیمت ہے لیکن یہاں چوری کرنے والا تاویل کرے گا کہ یہ تو گانے بجانے کے آلات ہیں، میں نے اس لیے چوری کیا تاکہ ان کو توڑ دوں بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ عِنْدَهُمَا لَا قِيمَةَ لَهَا“ اس لیے کیونکہ صاحبین کے نزدیک اس کی کوئی قیمت نہیں ہے اس لیے اس میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا ”وَعِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور امام صاحب کے نزدیک اس لیے ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا ”أَنَّ آخِذَهَا يَتَأَوَّلُ الْكَسْرَ فِيهَا“ کہ ان کو لینے والا ان کو توڑنے کی تاویل کرے گا کہ میں ان کو توڑنا چاہتا تھا بھئی۔ ”وَيُقْطَعُ فِي السَّاجِ وَالْقَنَا وَالْآبَنُوسِ وَالصَّنْدَلِ“ یہ کچھ قیمتی قسم کی لکڑیاں ہیں ان کا ذکر کر رہے ہیں صاحبِ ہدایہ بھئی۔ یاد رکھو ساج بھئی، ساج، ساج جو ہے یہ انتہائی قیمتی لکڑی ہے جسے اردو میں ساگوان کہتے ہیں، ساگوان کی لکڑی۔ قَنا بھئی، قَنا وہ لکڑی جس سے نیزے بنائے جاتے ہیں۔ یہ نہایت عمدہ لکڑی ہوتی ہے اور اس سے بالکل سیدھے نیزے تیار کیے جاتے ہیں بھئی۔ اسی طرح آبنوس، آبنوس جو ہے یہ بھی ایک قیمتی لکڑی ہے۔ ”وَالصَّنْدَلِ“ اور صندل بھی ایک قیمتی خوشبودار لکڑی ہے بھئی۔ تو اگر اس قسم کی لکڑی کوئی چوری کر لے گا اور اس کی قیمت دس درہم تک پہنچے تو اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَيُقْطَعُ فِي السَّاجِ“ اور ہاتھ کاٹا جائے گا ساگوان کی لکڑی میں ”وَالْقَنَا“ اور نیزوں کی لکڑی میں ”وَالْآبَنُوسِ وَالصَّنْدَلِ“ اور آبنوس اور صندل کی لکڑی میں ”لِأَنَّهَا أَمْوَالٌ مُحْرَزَةٌ“ اس لیے کیونکہ یہ محفوظ مال ہیں یعنی ان کو محفوظ کیا جاتا ہے ”لِكَوْنِهَا عَزِيزَةً عِنْدَ النَّاسِ“ اس وجہ سے کہ یہ لوگوں کے نزدیک معزز ہیں۔ عزیز کا معنی ہے معزز اور محبوب بھئی، مراد ہے قیمتی۔ مراد ہے قیمتی۔ ”لِكَوْنِهَا عَزِيزَةً عِنْدَ النَّاسِ“ اس وجہ سے کہ یہ جو لکڑیاں ہیں یہ قیمتی ہیں لوگوں کے نزدیک ”وَلَا تُوجَدُ بِصُورَتِهَا مُبَاحَةً فِي دَارِ الْإِسْلَامِ“ اور یہ اپنی صورت پر مباح ہو کر دار الاسلام میں نہیں پائی جاتیں، یعنی دار الاسلام میں یہ ویسے نہیں ملتیں کہ کوئی تلاش کرے اور اس کو مل جائے بھئی، نہیں۔ ہاں دار الحرب کے اندر ہو سکتا ہے۔ آپ جانتے ہیں دار الحرب والوں کے ساتھ ہم حالتِ جنگ میں ہیں تو اگر کوئی مسلمان وہاں جاتے ہیں اور وہاں سے یہ چیزیں چھین کر لے آتے ہیں تو بایں اعتبار دیکھو دار الحرب کے اندر تو یہ چیزیں مباح ہیں، مسلمان وہاں سے چھین کر لا سکتے ہیں لیکن خود دار الاسلام کے اندر یہ مباح ہو کر ملتی ہوں ایسا نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا تُوجَدُ بِصُورَتِهَا مُبَاحَةً فِي دَارِ الْإِسْلَامِ“ اور یہ جو لکڑیاں ہیں یہ دار الاسلام کے اندر مباح ہو کر اپنی صورت پر نہیں پائی جاتیں۔ ”قَالَ: وَيُقْطَعُ فِي الْفُصُوصِ الْخُضْرِ وَالْيَاقُوتِ وَالزَّبَرْجَدِ“ اس ”قَالَ“ سے مراد امام محمد رحمہ اللہ ہیں، امام محمد رحمہ اللہ جامع صغیر میں فرماتے ہیں: ”وَيُقْطَعُ فِي الْفُصُوصِ الْخُضْرِ“، فصوص میں دونوں جگہ صاد ہے بھئی، یہ جمع ہے فصّ کی، اور فصّ کہتے ہیں انگوٹھی کے نگینے کو۔ انگوٹھی کے اندر جو نگینہ لگا ہوتا ہے اسے عربی میں فصّ کہتے ہیں بھئی۔ اور خُضر، خُضر جمع ہے اخضر کی۔ تو امام محمد رحمہ اللہ جامع صغیر میں فرماتے ہیں: ”وَيُقْطَعُ فِي الْفُصُوصِ الْخُضْرِ“ اور سبز نگینوں میں ہاتھ کاٹا جائے گا ”وَالْيَاقُوتِ“، یاقوت یہ بھی قیمتی قسم کے پتھر ہیں بھئی، ان میں جو سرخ رنگ کا ہوتا ہے کہتے ہیں وہ سب سے اعلیٰ ہوتا ہے بھئی۔ ”وَالزَّبَرْجَدِ“ اور زبرجد، یہ بھی قیمتی پتھر ہے۔ تو امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سبز نگینوں میں ”وَالْيَاقُوتِ وَالزَّبَرْجَدِ“ اور یاقوت اور زبرجد کے اندر ہاتھ کاٹا جائے گا ”لِأَنَّهَا مِنْ أَعَزِّ الْأَمْوَالِ وَأَنْفَسِهَا“ اس لیے کیونکہ یہ سب سے قیمتی اور سب سے عمدہ مالوں میں سے ہے۔ اعزّ وہی عزیز کی جمع ہے بھئی۔ ”لِأَنَّهَا مِنْ أَعَزِّ الْأَمْوَالِ وَأَنْفَسِهَا“ اس لیے کیونکہ یہ سب سے قیمتی اور سب سے عمدہ مالوں میں سے ہیں ”لَا تُوجَدُ مُبَاحَ الْأَصْلِ بِصُورَتِهَا فِي دَارِ الْإِسْلَامِ غَيْرَ مَرْغُوبٍ فِيهَا“ اور یہ نہیں پائے جاتے اس حال میں کہ یہ مباح الاصل ہوں اپنی صورت پر دار الاسلام میں اور اس حال میں کہ یہ غیر مرغوب ہوں۔ یعنی دار الاسلام میں اپنی صورت پر اس طرح نہیں پائے جاتے کہ مباح بھی ہوں اور غیر مرغوب بھی ہوں بھئی۔ یعنی کہنا یہ چاہتے ہیں کہ دار الاسلام کے اندر بھی بعض جگہ پہاڑوں سے قیمتی پتھر ملتے ہیں، لیکن یہ غیر مرغوب نہیں ہوتے، مرغوب ہوتے ہیں، لوگ ان کو رغبت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، ان کو حاصل کرنا چاہتے ہیں، تو یہ مباح الاصل بھی نہیں ہیں، اس لیے ان کے اندر ہاتھ کاٹا جائے گا۔ بھئی بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ دار الاسلام کے اندر ایسے نہیں پائے جاتے کہ جو غیر مرغوب بھی ہوں اور مباح الاصل بھی ہوں، بلکہ یہ تو انتہائی قیمتی ہیں اور لوگ ان میں رغبت کرتے ہیں۔ لہٰذا ان کے اندر بھی ہاتھ کاٹا جائے گا۔ چلیں بھئی، سبق یہیں تک رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فہمِ سلیم عطا فرمائے اور عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ وصلی اللہ علیٰ نبینا محمد والحمد للہ رب العالمین۔ ہوتے ہیں بھئی۔ تو یہ معنی ہے۔ کہتے ہیں: ”لَا تُوجَدُ مُبَاحَ الْأَصْلِ بِصُورَتِهَا فِي دَارِ الْإِسْلَامِ“ کہ یہ مباح الاصل ہو کر اپنی صورت پر دار الاسلام میں نہیں پائے جاتے۔ ”غَيْرَ مَرْغُوبٍ فِيهَا“ اس حال میں کہ وہ مرغوب نہ ہوں۔ ”فَصَارَتْ كَالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ“ تو یہ قیمتی پتھر بھی سونے اور چاندی کی طرح ہو گئے اور ان میں ہاتھ کاٹا جاتا ہے تو ان میں بھی ہاتھ کاٹا جائے گا۔ آگے دیکھیے: ”وَإِذَا اتُّخِذَ مِنَ الْخَشَبِ أَوَانٍ وَأَبْوَابٌ قُطِعَ فِيهَا“ اور جب ان لکڑیوں سے برتن اور دروازے بنا لیے جائیں ”قُطِعَ فِيهَا“ تو ان میں ہاتھ کاٹا جائے گا۔ بھئی، سب سے پہلے یہ عبارت دیکھ لیجیے بھئی۔ یاد رکھو، میری کتاب میں ہے: ”أَوَانِيَ وَأَبْوَابًا“، ”وَإِذَا اتَّخَذَ مِنَ الْخَشَبِ أَوَانِيَ وَأَبْوَابًا“، یعنی ”أَوَانِيَ“ اور ”أَبْوَابًا“ کو منصوب ذکر کیا گیا ہے اور یہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب پیچھے ”اتَّخَذَ“ فعل معروف پڑھا جائے، لیکن یاد رکھو یہاں فعل معروف پڑھنا صحیح نہیں بنتا بھئی۔ اس لیے کیونکہ اگر آپ اس کو فعل معروف پڑھیں گے ”اتَّخَذَ“، اس نے بنا لیا، تو اس کے اندر ضمیر نکالنی پڑے گی، پیچھے مرجع چاہیے کس نے بنایا لکڑی، یعنی لکڑی سے دروازے بنا لیے یا برتن بنا لیے؟ تو کس نے بنائے؟ اس ضمیر کا مرجع چاہیے اور پیچھے یہاں کوئی مرجع ذکر نہیں۔ لہٰذا یہاں اس کو فعل مجہول پڑھیں بھئی: ”وَإِذَا اتُّخِذَ“ اور آگے جو ”أَوَانِي“ اور ”أَبْوَابٌ“ آ رہا ہے اس کو نائب الفاعل بنا دیں۔ اور اس میں یاد رکھنا، ”أَوَانِي“ جمع ہے ”آنِيَة“ کی۔ جیسے ”جَوَارِي“ جمع ہے ”جَارِيَة“ کی اور ”جَوَارِي“ کے اندر آپ پڑھ چکے ہیں نحو کی کتابوں کے اندر کہ ”جَوَارِي“ کے اندر آخر میں یہ جو یا ہے یہ صرف حالتِ نصبی میں برقرار رہے گی۔ حالتِ نصبی میں برقرار رہے گی یعنی جب بغیر الف لام کے ہو، جب بغیر الف لام کے ہو تو صرف حالتِ نصبی میں یہ یا برقرار رہے گی اور اس کو ”جَوَارِيَ“ پڑھیں گے یعنی یہ غیر منصرف ہے۔ اس پر کسرہ بھی نہیں آ سکتا اور تنوین بھی نہیں آ سکتی۔ لیکن اگر حالتِ رفعی یا جری ہو تو پھر یہ یا گر جائے گی اور ماقبل والے حرف پر تنوین آ جائے گی۔ تو حالتِ رفعی میں پڑھیں گے ”جَوَارٍ“، یا گر چکی ہے۔ حالتِ جری میں بھی پڑھیں گے ”جَوَارٍ“، یا گر چکی ہے۔ جیسے قاضی بھئی، قاضی جو ہے اس کے آخر میں یا ہے اور یہاں پر ضمہ بھی ثقیل ہے اور کسرہ بھی ثقیل ہے البتہ فتحہ آ سکتا ہے تو یہاں پر بھی ”جَوَارِي“ جو ہے اس کے اندر حالتِ نصبی کے اندر یا برقرار رہے گی اور حالتِ رفعی اور جری کے اندر یا گر جائے گی اور ماقبل والے حرف پر تنوین آ جائے گی۔ یہاں پر بھی اسی طرح ہے، یہاں ”أَوَانِي“، ”أَوَانِي“ یہ نائب الفاعل بنے گا اور جب نائب الفاعل بنے گا تو یہ مرفوع ہوا اور حالتِ رفعی کے اندر یا گر جائے گی تو نون کے نیچے تنوین آ جائے گی: ”وَإِذَا اتُّخِذَ مِنَ الْخَشَبِ أَوَانٍ“ اور اسی پر عطف آگے ہو جائے گا ”أَبْوَابٌ“ کا بھی: ”أَوَانٍ وَأَبْوَابٌ“۔ تو لہٰذا یہاں پر ”أَوَانٍ“ اور ”أَبْوَابٌ“ ان کو مرفوع پڑھیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِذَا اتُّخِذَ مِنَ الْخَشَبِ أَوَانٍ وَأَبْوَابٌ قُطِعَ فِيهَا“ اور جب لکڑی سے برتن اور دروازے بنا لیے گئے تو ”قُطِعَ فِيهَا“ تو اس میں ہاتھ کاٹا جائے گا۔ بھئی، صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ عام لکڑی جو ملتی ہے اس کے اندر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا لیکن اگر اسی لکڑی سے کوئی دروازے بنا لے یا برتن بنا لے تو پھر دس درہم تک ان کی قیمت ہوئی تو پھر ہاتھ کاٹا جائے گا۔ اس لیے کیونکہ لکڑی کے ساتھ کاریگری مل گئی، کاریگر کی کاریگری لکڑی کے ساتھ مل گئی اور اب وہ قیمتی مال بن گیا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِذَا اتُّخِذَ مِنَ الْخَشَبِ أَوَانٍ وَأَبْوَابٌ“ اور جب لکڑی سے جو ہیں برتن اور دروازے بنا لیے جائیں ”قُطِعَ فِيهَا“ تو اس میں ہاتھ کاٹا جائے گا، ”لِأَنَّهُ بِالصَّنْعَةِ الْتَحَقَ بِالْأَمْوَالِ النَّفِيسَةِ“، ”لِأَنَّهُ“ اس لیے کیونکہ یہ جو لکڑی ہے ”بِالصَّنْعَةِ“ کاریگری کی وجہ سے ”الْتَحَقَ بِالْأَمْوَالِ النَّفِيسَةِ“ یہ عمدہ مالوں کے ساتھ مل گیا، یہ عمدہ مالوں میں سے ہو گیا۔ ”أَلَا تَرَى“ کیا آپ دیکھتے نہیں ”أَنَّهَا تُحْرَزُ“ کہ ان کی حفاظت کی جاتی ہے۔ جب ان سے دروازے بنا لیے اب ان کی حفاظت کی جاتی ہے یا ان سے برتن بنا لیے تو ان برتنوں کی حفاظت کی جاتی ہے۔ کہتے ہیں: ”أَلَا تَرَى أَنَّهَا تُحْرَزُ“ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ ان برتنوں اور دروازوں کی حفاظت کی جاتی ہے ”بِخِلَافِ الْحَصِيرِ“ بخلاف چٹائی کے۔ بھئی، یہ چٹائی، یہ بھی مختلف قسم کے گھاس یا پتوں وغیرہ سے چٹائیاں بنائی جاتی ہیں۔ تو ان میں بھی دیکھو کاریگر کی کاریگری آ گئی لیکن پھر بھی یہ عمدہ مال شمار نہیں ہوتے، حتیٰ کہ لوگ ان کو غیر محفوظ جگہ پر بھی ڈال دیتے ہیں مثلاً دکان کے باہر ڈال دیا اور رات کو بھی وہیں پڑی ہے دن کو بھی وہیں پڑی ہوئی ہے، تو دیکھو معلوم ہوا یہاں چٹائی کے ساتھ کاریگری مل گئی لیکن پھر بھی اس نے اس کو قیمتی نہیں بنایا۔ تو لہٰذا چٹائیوں کی چوری میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”بِخِلَافِ الْحَصِيرِ“ بخلاف چٹائی کے ”لِأَنَّ الصَّنْعَةَ فِيهِ لَمْ تَغْلِبْ عَلَى الْجِنْسِ“ اس لیے کیونکہ اس کے اندر جو کاریگری ہے ”لَمْ تَغْلِبْ عَلَى الْجِنْسِ“ وہ غالب نہیں آئی اس کی جنس پر۔ بھئی دیکھو، گھاس یا پتے وغیرہ تھے، گھاس یا پتے تھے ان سے چٹائی بنائی جاتی ہے تو یہ گھاس اور پتے جو ہیں یہ تو حقیر چیزیں ہیں، یہ تو عام مل جاتی ہیں لیکن کاریگری ان کے ساتھ مل گئی پھر بھی اس کاریگری نے ان کو ان کی جنس سے نہیں نکالا یعنی جیسے پہلے یہ حقیر تھے اب بھی حقیر ہیں۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الصَّنْعَةَ فِيهِ لَمْ تَغْلِبْ عَلَى الْجِنْسِ“ اس لیے کیونکہ کاریگری جو ہے وہ ان کے اندر ان کی جنس پر غالب نہیں آئی ”حَتَّى يُبْسَطُ فِي غَيْرِ الْحِرْزِ“ یہاں تک کہ ان کو غیر حرز میں بچھایا جاتا ہے۔ یہاں پر بھی حتیٰ نَصب نہیں دے گا۔ ”حَتَّى يُبْسَطُ فِي غَيْرِ الْحِرْزِ“ یہاں تک کہ ان کو غیر حرز میں بچھایا جاتا ہے ”وَفِي الْحُصُرِ الْبَغْدَادِيَّةِ“ بھئی، ”حُصُر“ صاد کے ساتھ ہے، یہ اسی ”حَصِير“ کی جمع ہے۔ تو بغدادی حصیر جو ہے، بغداد کی چٹائیاں، یہ معلوم ہوتا ہے کوئی خاص چٹائیاں تھیں جن میں زیادہ محنت ہوتی تھی، یہ قیمتی مال ہے۔ اس کے اندر ہاتھ کاٹے جائیں گے، اس لیے کیونکہ ان کو لوگ اس طرح غیر حرز میں نہیں بچھاتے بھئی۔ کہتے ہیں: ”وَفِي الْحُصُرِ الْبَغْدَادِيَّةِ قَالُوا يَجِبُ الْقَطْعُ فِي سَرِقَتِهَا“ اور بغدادی چٹائیاں جو ہیں فقہاء فرماتے ہیں کہ ان کی چوری میں ہاتھ کاٹنا واجب ہوگا ”لِغَلَبَةِ الصَّنْعَةِ عَلَى الْأَصْلِ“ اس وجہ سے کہ کاریگری غالب آ گئی اصل پر یعنی ان پتوں اور گھاس پر کاریگری غالب آ گئی ”وَإِنَّمَا يَجِبُ الْقَطْعُ فِي غَيْرِ الْمُرَكَّبِ“۔ صاحبِ ہدایہ بتلا رہے ہیں کہ اوپر متن میں آیا تھا کہ اگر لکڑی سے دروازے بنا لیے جائیں تو ان دروازوں کی چوری میں ہاتھ کاٹا جائے گا تو بتلا رہے ہیں اس سے مراد وہ دروازے ہیں جو لگائے نہیں گئے۔ اگر دروازے لگا دیے دیوار میں، اب جب یہ دیوار میں لگا دیے تو اب حرز کامل نہ رہا بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو معلوم ہوا وہ دروازے جن میں ہاتھ کو کاٹا جائے گا وہ دروازے ہیں جو غیر مرکب ہوں یعنی جن کو دیوار وغیرہ میں لگایا نہ گیا ہو۔ کہتے ہیں: ”وَإِنَّمَا يَجِبُ الْقَطْعُ فِي غَيْرِ الْمُرَكَّبِ“ کہ ہاتھ کا کاٹنا واجب ہوگا غیر مرکب کے اندر یعنی وہ دروازے جو جوڑے نہیں گئے۔ ”وَإِنَّمَا يَجِبُ إِذَا كَانَ خَفِيفًا لَا يَثْقُلُ عَلَى وَاحِدٍ حَمْلُهُ“ کہتے ہیں ہاتھ کاٹنا اس وقت واجب ہوگا ”إِذَا كَانَ خَفِيفًا“ جب یہ ہلکا ہو ”لَا يَثْقُلُ عَلَى الْوَاحِدِ حَمْلُهُ“ وزنی نہ ہو کسی ایک پر اس کا اٹھانا، کسی ایک کے لیے اس کا اٹھانا بوجھ نہ ہو۔ اور اگر وزنی ہے جسے کئی آدمی مل کر اٹھا سکتے ہیں پھر اس میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا کیونکہ اس میں لوگ رغبت نہیں کرتے۔ جو ان میں وزنی ہوں گے ان میں لوگوں کی رغبت نہیں ہوگی، اس کو اٹھانا مشکل ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنَّمَا يَجِبُ إِذَا كَانَ خَفِيفًا“ ہاتھ کا کاٹنا واجب ہے جس وقت وہ دروازہ ہلکا ہو ”لَا يَثْقُلُ عَلَى الْوَاحِدِ حَمْلُهُ“ وزنی نہ ہو کسی ایک پر اس کا اٹھانا ”لِأَنَّ الثَّقِيلَ مِنْهُ لَا يُرْغَبُ فِي سَرِقَتِهِ“ اس لیے کیونکہ ان میں سے جو وزنی ہوتا ہے ”لَا يُرْغَبُ فِي سَرِقَتِهِ“ اس کے چرانے میں رغبت نہیں کی جاتی۔ ”وَلَا قَطْعَ عَلَى خَائِنٍ وَلَا خَائِنَةٍ“ خائن بھئی، خائن کہتے ہیں خیانت کرنے والا۔ آپ نے کسی کے پاس کوئی امانت رکھوائی تھی یا کوئی کام کسی کے ذمے لگایا اور اس میں وہ خیانت کرتا ہے تو کیا خائن کا بھی ہاتھ کاٹا جائے گا؟ کہتے ہیں نہیں بھئی، خائن کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا اس لیے کیونکہ ہاتھ جو ہے سارق کا کاٹا جاتا ہے جو چوری کرتا ہے اور یہ جو خیانت کرنے والا ہے اس کو چور نہیں کہا جاتا، اس کو خائن کہا جاتا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا قَطْعَ عَلَى خَائِنٍ وَلَا خَائِنَةٍ“ اور خیانت کرنے والے مرد اور خیانت کرنے والی عورت پر ہاتھ کا کاٹنا واجب نہیں ”لِقُصُورٍ فِي الْحِرْزِ“ حفاظت میں کمی کی وجہ سے۔ بھئی خیانت وہی شخص کرے گا نا جس کے حوالے آپ نے مال کیا ہے، تو جب مال اس کے حوالے کیا ہے تو وہاں حفاظت نہ رہی بھئی، حفاظت ناقص ہو گئی تو لہٰذا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ یہ معنی ہے ”لِقُصُورٍ فِي الْحِرْزِ“ حفاظت میں کمی کی وجہ سے۔ ”وَلَا مُنْتَهِبٍ وَلَا مُخْتَلِسٍ“ اور اسی طرح منتہب اور مختلس جو ہیں ان کے بھی ہاتھ نہیں کاٹے جائیں گے۔ منتہب بھئی، منتہب کہتے ہیں لٹیرا بھئی، لٹیرا جسے ہم اردو میں عام ڈاکو جو ہے جو آتا ہے اسلحے کے زور پر زبردستی مال چھین کر لے جاتا ہے اس کو لٹیرا کہتے ہیں، عربی میں اس کو منتہب کہتے ہیں۔ اور اسی طرح مختلس بھئی، مختلس کہتے ہیں اچکا، اچکا وہ ہے جو اچانک چیز اٹھا کر نکل جاتا ہے اور آدمی کو پتہ بھی نہیں چلتا۔ مثلاً آپ بازار میں ہیں اور آپ نے سائیکل کھڑی کی اور آپ کی توجہ دوسری طرف ہوئی پھر آپ نے مڑ کر دیکھا تو ایک آدمی دور سائیکل کو بھگا کر لے جا رہا ہے، تو دیکھو یہ اچانک کوئی چیز ایک دم اٹھا کر بھاگ جانا اس کو کہتے ہیں اچکا۔ تو کیا لٹیرے اور اچکے کا ہاتھ کاٹا جائے گا؟ کہتے ہیں نہیں، ان کو عربی میں سارق نہیں کہتے، ان کے لیے الگ نام ہیں۔ ان کو منتہب اور مختلس کہتے ہیں، معلوم ہوا ان کا فعل چوری نہیں ہے۔ جب چوری نہیں ہے تو اس میں ہاتھ بھی نہیں کاٹا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا مُنْتَهِبٍ وَلَا مُخْتَلِسٍ“ اور نہ ہی لٹیرے کا ہاتھ کاٹا جائے گا اور نہ ہی اچکے کا ”لِأَنَّهُ يُجَاهِرُ بِفِعْلِهِ“ اس لیے کیونکہ ان میں سے ہر ایک جو ہے وہ کھلے طور پر اپنا فعل کرتا ہے۔ چوری کے اندر تو پوشیدہ ہونا ضروری ہے لیکن یہ دونوں اچکا اور لٹیرا تو کھلے بندوں اپنا فعل اپنا جرم کرتے ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ يُجَاهِرُ بِفِعْلِهِ“ اس لیے کیونکہ ان میں سے ہر ایک جو ہے اپنے فعل کو جہراً کرتا ہے یعنی علی الاعلان یعنی کھلے طور پر۔ ”كَيْفَ وَقَدْ قَالَ النَّبِيُّ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ“، ”كَيْفَ“ اور کیسے ان کا ہاتھ کاٹا جا سکتا ہے ”وَقَدْ قَالَ النَّبِيُّ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ“ اور تحقیق حضور علیہ السلام نے فرمایا ہے: ”لَا قَطْعَ فِي مُخْتَلِسٍ وَلَا مُنْتَهِبٍ وَلَا خَائِنٍ“ کہ مختلس یعنی اچکا اور منتہب یعنی لٹیرا اور خائن یعنی خیانت کرنے والوں میں قطع نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں: ”كَيْفَ وَقَدْ قَالَ النَّبِيُّ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ“ اور ان کا ہاتھ کیسے کاٹا جا سکتا ہے اور تحقیق حضور نے فرمایا ہے کہ ”لَا قَطْعَ فِي مُخْتَلِسٍ وَلَا مُنْتَهِبٍ وَلَا خَائِنٍ“ کہ اچکے اور لٹیرے اور خیانت کرنے والے میں قطع نہیں ہوگا یعنی ان میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ ”وَلَا قَطْعَ عَلَى النَّبَّاشِ“ نباش کہتے ہیں کفن چور کو بھئی، جو قبر میں سے میت کا کفن چرا کر لے جاتا ہے۔ بھئی، یہ جو کپڑا ہے قدیم زمانے میں کپڑا ہاتھ سے بُنا جاتا تھا اور بڑی مشکل سے کسی کو کپڑا ملتا تھا بھئی۔ آج کل تو اللہ کی نعمتیں اتنی زیادہ ہو گئیں، ہر آدمی کے پاس کئی کئی جوڑے کپڑے ہوتے ہیں لیکن قدیم زمانے میں نیا جوڑا تو سالہا سال میں ہی کسی کو نصیب ہوتا تھا بھئی۔ تو کپڑا قیمتی ہوتا تھا تو بعض لوگ جو ہیں قبریں کھود کر میت کا کفن چوری کیا کرتے تھے۔ تو کیا اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا یا نہیں؟ کہتے ہیں نہیں، کفن چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا اس لیے کیونکہ کفن چور کو سارق نہیں کہتے بلکہ اس کو نباش کہتے ہیں، اور ہاتھ کا کاٹنا یہ تو سارق کی سزا ہے۔ قران میں اللہ کیا فرماتے ہیں؟ ﴿وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا﴾ تو یہاں سارق کی سزا ہاتھ کاٹنا ذکر ہوئی ہے، نباش کی سزا ذکر نہیں ہے یہاں۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا قَطْعَ عَلَى النَّبَّاشِ“ اور نباش پر بھی قطع نہیں ہے ”وَهَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللَّهُ“ یہ طرفین رحمہما اللہ کے نزدیک ہے ”وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ وَالشَّافِعِيُّ رَحِمَهُمَا اللَّهُ“ اور امام ابو یوسف اور امام شافعی رحمہما اللہ فرماتے ہیں: ”عَلَيْهِ الْقَطْعُ“ اس پر بھی قطع ہے، اس کا بھی نباش کا بھی ہاتھ کاٹا جائے گا ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ“ حضور علیہ السلام کے اس فرمان کی وجہ سے کہ آپ نے فرمایا: ”مَنْ نَبَشَ قَطَعْنَاهُ“ جس نے کفن چوری کیا ”قَطَعْنَاهُ“ تو ہم اس کا ہاتھ کاٹیں گے۔ تو یہ نقلی دلیل ذکر کر دی امام ابو یوسف اور امام شافعی رحمہما اللہ نے۔ اب عقلی دلیل ذکر کر رہے ہیں: کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّهُ مَالٌ مُتَقَوَّمٌ مُحْرَزٌ بِحِرْزِ مِثْلِهِ“، ”وَلِأَنَّهُ مَالٌ مُتَقَوَّمٌ“ اور اس لیے کیونکہ یہ کفن ایسا مالِ متقوم ہے ”مُحْرَزٌ“ جس کو محفوظ کیا گیا ہے ”بِحِرْزِ مِثْلِهِ“ اس کے مثل کے حرز کے ساتھ۔ بھئی دیکھیے، ہر چیز کا حرز الگ قسم کا ہوتا ہے۔ مثلاً سونا چاندی ہے اس کو صندوق میں رکھا جاتا ہے، یہ صندوق ان کے لیے حفاظت کی جگہ ہے۔ اور اگر آپ کے جانور ہیں، گھوڑے یا خچر وغیرہ ہیں تو ان کو اصطبل میں رکھا جاتا ہے وہ ان کی حفاظت کی جگہ ہے۔ اسی طرح اگر آپ کا اور سامان ہے تو آپ اس کو گھر کے اندر رکھتے ہیں یا دکان کے اندر رکھتے ہیں تو ہر چیز کا حرز جو ہے اسی کے مثل ہوتا ہے۔ مختلف چیزوں کا حرز مختلف ہوتا ہے۔ تو یہاں پر بھی جو اس نے کفن چوری کیا ہے یہ حرز سے چوری کیا ہے یعنی محفوظ جگہ سے۔ تو سوال پیدا ہوتا ہے محفوظ جگہ کیسے ہے؟ میت تو مردہ ہے وہ تو حفاظت نہیں کر سکتی۔ کہتے ہیں ہر چیز کی حفاظت اس کے مثل کے ساتھ ہوتی ہے تو یہاں پر بھی قبر کے اندر جو ہے اس کو محفوظ سمجھا جاتا ہے تو قبر اس کی حفاظت کی جگہ ہے، قبر اس کی حفاظت کی جگہ ہے۔ تو لہٰذا یہ چوری ہوئی حرز سے یعنی محفوظ جگہ سے، لہٰذا اس میں کفن چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّهُ مَالٌ مُتَقَوَّمٌ مُحْرَزٌ بِحِرْزِ مِثْلِهِ“ اور اس لیے کیونکہ یہ ایسا مالِ متقوم ہے ”مُحْرَزٌ“ کہ جس کی حفاظت کی گئی ہے ”بِحِرْزِ مِثْلِهِ“ اس کے مثل کے حرز کے ساتھ، اس جیسی چیزوں کا جو حرز ہوتا ہے اس کے ساتھ اس کی حفاظت کی گئی ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ ”بِحِرْزِ مِثْلِهِ“ یہ آپس میں مضاف مضاف الیہ ہیں۔ آگے دیکھیے: ”فَيُقْطَعُ فِيهِ“ تو اس میں ہاتھ کاٹا جائے گا۔ ”وَلَهُمَا“ اور طرفین رحمہما اللہ کی دلیل جو ہے ”قَوْلُهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ“ وہ حضور علیہ السلام کا یہ قول ہے کہ آپ نے فرمایا: ”لَا قَطْعَ عَلَى الْمُخْتَفِي“ مختفی پر قطع نہیں، مختفی کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا ”وَهُوَ النَّبَّاشُ بِلُغَةِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ“ اور مختفی جو ہے وہ نباش ہی ہے اہل مدینہ کی لغت میں۔ مدینہ والوں کے عرف میں نباش کو کفن چور کو مختفی کہا جاتا تھا تو حضور فرما رہے ہیں مختفی پر قطع نہیں ہے۔ تو حضور فرماتے ہیں ”لَا قَطْعَ عَلَى الْمُخْتَفِي“ مختفی پر قطع نہیں ہے ”وَهُوَ النَّبَّاشُ“ اور مختفی نباش ہی ہے ”بِلُغَةِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ“ اہل مدینہ والوں کی زبان میں۔ ”وَلِأَنَّ الشُّبْهَةَ تَمَكَّنَتْ فِي الْمِلْكِ“ دوسری دلیل ذکر کر رہے ہیں طرفین کہ کفن کی چوری میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ یہاں ملکیت میں شبہ آ گیا۔ یہاں ملکیت میں شبہ آ گیا، میت تو مردہ ہے وہ بھی حقیقتاً کفن کی مالک نہیں اور وارث بھی کفن کا مالک نہیں ہے کیونکہ یہ کفن تو وراثت پر مقدم ہے بھئی۔ سب سے پہلے میت کو کفن دفن دیا جاتا ہے پھر قرضے ادا کیے جاتے ہیں پھر کوئی اگر وصیت کی ہے تو وہ مال کے تیسرے حصے میں نافذ کی جاتی ہے اور آخر میں مال وارثوں کو دیا جاتا ہے، تو معلوم ہوا وراثت سے مقدم ہے میت کا کفن دفن۔ معلوم ہوا اس کفن کے مالک وارث نہیں اور میت خود بھی مالک نہیں۔ جب ملکیت میں ہی شبہ آ گیا تو پھر اب حد واجب نہیں ہو سکتی بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّ الشُّبْهَةَ تَمَكَّنَتْ فِي الْمِلْكِ“ اور اس لیے کیونکہ شبہ جو ہے اس نے قرار پکڑ لیا اس کفن کی ملکیت میں ”لِأَنَّهُ لَا مِلْكَ لِلْمَيِّتِ حَقِيقَةً“ اس لیے کیونکہ میت کی بھی کوئی ملکیت نہیں ہے حقیقت کے اعتبار سے ”وَلَا لِلْوَارِثِ“ اور وارث کی بھی ملکیت نہیں ہے ”لِتَقَدُّمِ حَاجَةِ الْمَيِّتِ“ میت کی حاجت کے مقدم ہونے کی وجہ سے۔ ”وَقَدْ تَمَكَّنَ الْخَلَلُ فِي الْمَقْصُودِ“ اب تیسری دلیل ذکر کر رہے ہیں، تیسری دلیل۔ ایک دلیل تو حدیث ذکر کر دی ”لَا قَطْعَ عَلَى الْمُخْتَفِي“ اور پھر دوسری عقلی دلیل ذکر کر دی، تو اب یہ تیسری دلیل آ گئی، یہ بھی عقلی دلیل ہے۔ کہتے ہیں: ”وَقَدْ تَمَكَّنَ الْخَلَلُ فِي الْمَقْصُودِ وَهُوَ الِانْزِجَارُ“ کہتے ہیں بھئی دیکھیے، یہاں پر یہ جو شریعت سزائیں مقرر کرتی ہے اس کا مقصد یہ ہوتا ہے تاکہ لوگ اس جرم سے باز آ جائیں۔ جرم ایسا ہو کہ جو کثرت سے ہونے والا ہو، وہاں پر شریعت سزا دیتی ہے تاکہ لوگ اس جرم کے کرنے سے باز آ جائیں۔ اور ایک جرم جو نہایت کم ہوتا ہے، نادر ہے، اور نادر کا تو کوئی اعتبار نہیں ہے کیونکہ لوگ خود ہی یہ جرم نہیں کرتے، طبیعت ہی پسند نہیں کرتی کہ میت کا کفن اتار کر لے جایا جائے۔ تو جب یہ جرم ہی نادر ہے تو اس کے اندر زاجر کو یعنی سزا کو نافذ کرنے کی حکمت باقی نہ رہی بھئی۔ لوگوں کی طبیعت ہی اس جرم پر آمادہ نہیں ہوتی بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَقَدْ تَمَكَّنَ الْخَلَلُ فِي الْمَقْصُودِ“ اور نیز یہاں پر اس حد کے مقصد کے اندر بھی خلل آ گیا ”وَهُوَ الِانْزِجَارُ“ اور مقصد کیا تھا؟ انزجار، باز آ جانا، رک جانا تاکہ لوگ اس جرم سے باز آ جائیں اور رک جائیں۔ تو کہتے ہیں مقصد میں ہی خلل آ گیا اور وہ مقصد جو ہے انزجار ہے یعنی باز آ جانا اور رک جانا ہے ”لِأَنَّ الْجِنَايَةَ فِي نَفْسِهَا نَادِرَةُ الْوُجُودِ“ اس لیے کیونکہ یہ کفن چوری کا جو جرم ہے ”فِي نَفْسِهَا“ اپنی ذات کے اعتبار سے ”نَادِرَةُ الْوُجُودِ“ یہ نادر الوجود ہے، بہت کم ہوتا ہے، طبیعت ہی اس کے کرنے پر آمادہ نہیں ہوتی۔ ”وَمَا رَوَاهُ غَيْرُ مَرْفُوعٍ“ یہاں سے اب جواب دے رہے ہیں، امام شافعی رحمہ اللہ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے حدیث ذکر کی تھی ”مَنْ نَبَشَ قَطَعْنَاهُ“ جس نے کفن چوری کیا ہم اس کا ہاتھ کاٹیں گے، تو اس کا جواب دے رہے ہیں: ”وَمَا رَوَاهُ غَيْرُ مَرْفُوعٍ“ اور وہ حدیث جس کو امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے روایت کیا ”غَيْرُ مَرْفُوعٍ“ وہ غیر مرفوع ہے، غیر مرفوع ہے۔ یاد رکھو، حدیث جو ہے حضور علیہ السلام کے قول کو بھی حدیث کہتے ہیں، صحابی کے قول کو بھی حدیث کہتے ہیں، تابعی کے قول کو بھی حدیث کہتے ہیں لیکن پھر فرق کیا جاتا ہے: حضور علیہ السلام کا قول ہو تو اس کو کہتے ہیں حدیثِ مرفوع، صحابی کا قول ہو تو اس کو کہتے ہیں حدیثِ موقوف، اور اگر تابعی کا قول ہو تو اس کو کہتے ہیں حدیثِ مقطوع بھئی۔ حدیثِ مرفوع: حضور علیہ السلام کا قول، حدیثِ موقوف: صحابی کا قول، اور حدیثِ مقطوع: تابعی کا قول۔ تو جواب دے رہے ہیں، کہتے ہیں: ”وَمَا رَوَاهُ غَيْرُ مَرْفُوعٍ“ اور وہ حدیث جس کو امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے روایت کیا ”غَيْرُ مَرْفُوعٍ“ وہ غیر مرفوع ہے یعنی وہ مرفوع حدیث نہیں ہے، وہ صحابی کا قول ہے۔ ”أَوْ هُوَ مَحْمُولٌ عَلَى السِّيَاسَةِ“ یا وہ سیاست پر محمول ہے۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ ملکی نظام چلانے کی جو حکمتِ عملی ہے اس کو سیاست کہتے ہیں، تو ہم کہتے ہیں وہ جو حدیث کے اندر حضور نے فرمایا ”مَنْ نَبَشَ قَطَعْنَاهُ“ کہ جس نے کفن چوری کیا ہم اس کا ہاتھ کاٹیں گے، یہ حدیث سیاست پر محمول ہے۔ تو یہ سیاسۃً فرمایا حضور علیہ السلام نے ان لوگوں کے بارے میں جو کفن چوری کو عادت بنا لیتے ہیں، تو سیاسۃً ان کا ہاتھ کاٹا جائے گا تاکہ وہ جرم سے باز آ جائیں۔ تو کہتے ہیں: ”أَوْ هُوَ مَحْمُولٌ عَلَى السِّيَاسَةِ“ یا یہ حدیث محمول ہے سیاست پر۔ ”وَإِنْ كَانَ الْقَبْرُ فِي بَيْتٍ مُقْفَلٍ فَهُوَ عَلَى الْخِلَافِ فِي الصَّحِيحِ لِمَا قُلْنَا“ بھئی، اگر قبر کسی بند کمرے میں ہوئی، اب تو کفن محفوظ ہے، تو کیا اس قبر سے اگر کوئی کفن چوری کر لے اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا یا نہیں؟ کہتے ہیں اس کے اندر بھی وہی اختلاف ہے اور وجہ وہی ہے کہ حرز نہیں ہے، حفاظت نہیں ہے کیونکہ میت خود تو حفاظت نہیں کر سکتی اپنی۔ کہتے ہیں: ”وَإِنْ كَانَ الْقَبْرُ فِي بَيْتٍ مُقْفَلٍ“ یاد رکھو قفل، قفل کہتے ہیں تالے کو، تالا۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ كَانَ الْقَبْرُ فِي بَيْتٍ مُقْفَلٍ“ اور اگر قبر کسی ایسے کمرے میں ہوئی جو مقفل تھا یعنی جس کو تالا لگایا گیا تھا ”فَهُوَ عَلَى الْخِلَافِ“ تو یہ بھی اسی اختلاف پر ہے ”فِي الصَّحِيحِ“ صحیح قول کے مطابق ”لِمَا قُلْنَا“ اس وجہ سے جو ہم نے کہا بھئی یعنی وہ جو ہم نے حدیث ذکر کر دی، حدیث ذکر کر دی کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا ”لَا قَطْعَ عَلَى الْمُخْتَفِي“ اور نیز ہم نے کیا کہا کہ مالک کے بارے میں بھی شبہ آ گیا کہ اس کفن کا مالک کون ہے بھئی، اور نیز اس وجہ سے کہ یہاں پر وہ جو سزا نافذ کرنے کا جو مقصد ہے اس مقصد کے اندر بھی خلل آ رہا ہے بھئی۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے، کہتے ہیں: ”وَإِنْ كَانَ الْقَبْرُ فِي بَيْتٍ مُقْفَلٍ“ اور اگر قبر جو ہے کسی بند کمرے میں ہوئی ”فَهُوَ عَلَى الْخِلَافِ“ تو یہ بھی اسی اختلاف پر ہے ”فِي الصَّحِيحِ“ صحیح قول کے مطابق ”لِمَا قُلْنَا“ اس وجہ سے جو ہم نے کہی۔ ”وَكَذَا إِذَا سَرَقَ مِنْ تَابُوتٍ فِي الْقَافِلَةِ“ تابوت بھئی، وہ جو لکڑی کا صندوق ہوتا ہے جس میں میت کو رکھتے ہیں، تو اگر ایک قافلہ چل رہا ہے اور اس کے اندر ایک تابوت ہے اس کے اندر میت ہے، وہ قافلہ تابوت کو لے جا رہا ہے کسی جگہ دفن کرنے کے لیے، تو اب اس تابوت میں سے اگر کوئی کفن چوری کر لے، تو اب تو حفاظت موجود ہے قافلے والے بھی موجود ہیں، تو کیا اب اس کفن چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا؟ کہتے ہیں اس کے اندر بھی وہی اختلاف ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَكَذَا إِذَا سَرَقَ مِنْ تَابُوتٍ فِي الْقَافِلَةِ“ اور اسی طرح قافلے میں کسی تابوت سے اگر کسی نے کفن چوری کیا ”وَفِيهِ الْمَيِّتُ“ اس حال میں کہ اس تابوت کے اندر میت بھی ہے تو پھر اس میں بھی اختلاف ہے ”لِمَا بَيَّنَّا“ اسی وجہ سے جو ہم نے بیان کر دیا بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔ ”وَلَا يُقْطَعُ السَّارِقُ مِنْ بَيْتِ الْمَالِ“ بھئی، ایک چور جو ہے بیت المال سے چوری کر لیتا ہے تو کیا ہاتھ کاٹا جائے گا؟ کہتے ہیں نہیں بھئی، اس مال کے اندر تمام مسلمانوں کا حصہ تھا اور یہ بھی ان مسلمانوں میں سے ایک فرد ہے تو اس کا بھی حصہ تھا تو لہٰذا شبہ آ گیا اور شبہے کی وجہ سے حد ساقط ہو جاتی ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا يُقْطَعُ السَّارِقُ مِنْ بَيْتِ الْمَالِ“ اور بیت المال سے چوری کرنے والے کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا ”لِأَنَّهُ مَالُ الْعَامَّةِ“ اس لیے کیونکہ وہ عام لوگوں کا مال ہے ”وَهُوَ مِنْهُمْ“ اور یہ چور بھی عام لوگوں میں سے ہے ”وَلَا مِنْ مَالٍ لِلسَّارِقِ فِيهِ شِرْكَةٌ“ اور نہ ہی ایسے مال سے چوری کرنے میں ہاتھ کاٹا جائے گا کہ جس میں چور کی شرکت ہو۔ جس میں چور کی شرکت ہو مثلاً کئی افراد نے پیسے ملائے ہیں اور ان میں سے ایک چوری کر لیتا ہے تو اس کا اپنا بھی مال تھا اس کے اندر، لہٰذا اس میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا مِنْ مَالٍ لِلسَّارِقِ فِيهِ شِرْكَةٌ“ اور ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا ایسے مال میں ”لِلسَّارِقِ فِيهِ شِرْكَةٌ“ جس میں چور کی شرکت تھی ”لِمَا قُلْنَا“ اس وجہ سے جو ہم نے کہی کہ اس میں اس کی شرکت ہے تو شبہ آ گیا۔ ”وَمَنْ لَهُ عَلَى آخَرَ دَرَاهِمُ“ اور جس شخص کے دوسرے پر درہم ہیں، ایک شخص کے دوسرے کے ذمے درہم ہیں اور یہ اس سے درہم پھر چوری کر لیتا ہے، کہتا ہے بھئی میرا حق اس کے ذمے باقی تھا میں نے اپنا حق وصول کیا ہے، تو کیا اس میں ہاتھ کاٹیں گے؟ کہتے ہیں نہیں، اس میں اس کا ہاتھ نہیں کاٹیں گے۔ تو کہتے ہیں: ”وَمَنْ لَهُ عَلَى آخَرَ دَرَاهِمُ“ اور جس شخص کے کسی دوسرے آدمی پر درہم ہوئے ”فَسَرَقَ مِنْهُ مِثْلَهَا“ تو اس شخص نے چوری کر لیے اسی کے مثل اسی کے برابر درہم اس سے ”لَمْ يُقْطَعْ“ تو اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا ”لِأَنَّهُ اسْتِيفَاءٌ لِحَقِّهِ“ اس لیے کیونکہ یہ اپنے حق کو وصول کرنا ہے ”وَالْحَالُّ وَالْمُؤَجَّلُ فِيهِ سَوَاءٌ اسْتِحْسَانًا“ اور حال اور مؤجل اس میں برابر ہیں۔ ایک ہے قرضِ حالی، دینِ حالی جو فی الحال ادا کرنا ہے، اور ایک ہوتا ہے مؤجل جس میں مدت مقرر کی جاتی ہے کہ مثلاً میں چھ مہینے بعد پیسے ادا کروں گا۔ تو چاہے دینِ حالی ہو چاہے دینِ مؤجل ہو دونوں کے اندر یہی حکم ہے۔ اگرچہ قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ دینِ مؤجل میں چور کا ہاتھ کاٹا جائے، بھئی ایک آدمی نے دوسرے کو گاڑی بیچ دی اب اس نے مثلاً اس کے ایک ہزار درہم ادا کرنے ہیں اور مدت طے ہوئی تھی کہ چھ مہینے بعد ادا کرے گا، تو اس نے اس کے مال میں سے ایک ہزار درہم چوری کر لیے، کہتا ہے یہ تو میرا حق تھا، بھئی آپ نے ہی تو اس کو مدت دی تھی چھ مہینے کی، آپ نے ہی اس کو مدت دی تھی چھ مہینے کی تو لہٰذا قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ اس چور کا ہاتھ کاٹا جائے بھئی کیونکہ اس نے خود مدت دی ہوئی تھی اس کو، لہٰذا اس کا حق نہیں بنتا تھا کہ اس کے مال میں سے ایک ہزار درہم لے لے، لیکن استحساناً جو ہے اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا بھئی۔ وجہ یہ کہ یہ جو مدت مقرر کی ہے یہ صرف مطالبے کے لیے ہے یعنی مدت سے پہلے یہ مطالبہ نہیں کر سکتا، باقی اس کا حق تو فی الحال بھی اس کے ذمے موجود ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْحَالُّ وَالْمُؤَجَّلُ فِيهِ سَوَاءٌ“ اور اس ہاتھ کے نہ کاٹنے میں دینِ حال اور مؤجل دونوں برابر ہیں چاہے وہ درہم کیا ہوں؟ فی الحال ادائیگی والے ہوں چاہے مؤجل ہوں، یہ دونوں برابر ہیں ”اسْتِحْسَانًا“ اور یہ حکم استحساناً ہے۔ بھئی، استحساناً یہ حکم کیوں ہے؟ کہتے ہیں: ”لِأَنَّ التَّأْجِيلَ لِتَأَخُّرِ الْمُطَالَبَةِ“ اس لیے کیونکہ جو مدت مقرر کی گئی تھی ”لِتَأَخُّرِ الْمُطَالَبَةِ“ وہ مطالبے کے مؤخر ہونے کے لیے تھی کہ اس سے پہلے مطالبہ نہیں کر سکتا، باقی حق، حق تو اس کا فی الحال بھی دوسرے آدمی پر ہے لہٰذا اس وجہ سے اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ التَّأْجِيلَ لِتَأَخُّرِ الْمُطَالَبَةِ“ اس لیے کیونکہ مدت کا مقرر کرنا یہ مطالبے کے مؤخر ہونے کے لیے ہے ”وَكَذَا إِذَا سَرَقَ زِيَادَةً عَلَى حَقِّهِ“ اور اسی طرح ہے یعنی ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا جب چوری کی اپنے حق سے زائد، جب چوری کیا اپنے حق سے زائد مال، مثلاً دوسرے نے اس کے بیس درہم دینے تھے اور اس نے پچاس درہم چوری کر لیے پھر بھی ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا کیونکہ یہ جو پچاس درہم اس نے اٹھائے ہیں ان کے اندر اس کا بھی حصہ ہے، چور کی بھی شرکت ہے اس کا حق ہے، تو لہٰذا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَكَذَا“ اور اسی طرح ہے مسئلہ یعنی ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا ”إِذَا سَرَقَ زِيَادَةً عَلَى حَقِّهِ“ جب اس نے اپنے حق پر زائد چوری کر لیا ”لِأَنَّهُ بِمِقْدَارِ حَقِّهِ“ اس لیے کیونکہ یہ اپنے حق کی مقدار کے بقدر جو ہے ”يَصِيرُ شَرِيكًا فِيهِ“ اس میں شریک ہو گیا ہے، یہ اپنے حق کی مقدار اس کے اندر شریک ہے بھئی۔ ”وَإِنْ سَرَقَ مِنْهُ عُرُوضًا قُطِعَ“ صورت یہ بھئی، ایک شخص کے درہم دوسرے کے ذمے میں ہیں۔ انہوں نے آپ کو بتلا دیا اگر اس صاحبِ حق نے اس کے درہم ہی چرا لیے تو اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا کیونکہ اس کا حق بھی کیا تھا؟ درہم، اس نے وصول بھی کیا کرنے تھے؟ درہم، اور اس نے چوری بھی کیا کیے ہیں؟ درہم، تو جو اس کا حق تھا اسی کی جنس کی چوری کی ہے اس نے۔ لیکن اگر اس نے دوسری چیز چوری کر لی، مثلاً اس نے درہم دینے تھے اس نے اس کا سامان چوری کر لیا، تو کیا اب ہاتھ کاٹیں گے یا نہیں؟ تو آپ کو بتلائیں گے کہ ظاہر روایت یہ ہے کہ اس آدمی کا ہاتھ کاٹا جائے گا، اس لیے کیونکہ اس نے دوسرے کا سامان چوری کیا ہے اور سامان کے ذریعے تو اس کا حق وصول نہیں ہو سکتا، اس کا حق تو درہم ہیں تو سامان کو بیچنا پڑے گا اور مالک کی اجازت کے بغیر تو اس کے لیے بیچنا جائز نہیں ہے، تو معلوم ہوا اس نے جو چیز چوری کی ہے اس میں اس کا حق نہیں تھا، جب اس کا حق نہیں تھا تو اب ہاتھ کاٹا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ سَرَقَ مِنْهُ عُرُوضًا“ اور اگر اس نے اس سے سامان چوری کیا یعنی درہم اور دینار کے علاوہ ”قُطِعَ“ تو اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا ”لِأَنَّهُ لَيْسَ لَهُ وِلَايَةُ الِاسْتِيفَاءِ مِنْهُ“ اس لیے کیونکہ اس آدمی کو اس سامان سے اپنا حق وصول کرنے کی ولایت نہیں ہے ”إِلَّا بَيْعًا بِالتَّرَاضِي“ مگر یہ کہ وہ اس کو باہمی رضامندی سے بیچے، مالک کی رضامندی سے اس سامان کو بیچے پھر ہی یہ اپنا حق وصول کر سکتا ہے، ویسے اپنا حق وصول نہیں کر سکتا۔ ”وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے روایت ہے ”أَنَّهُ لَا يُقْطَعُ“ کہ اس صورت میں بھی اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا ”لِأَنَّ لَهُ أَنْ يَأْخُذَهُ عِنْدَ بَعْضِ الْعُلَمَاءِ“ اس لیے کیونکہ اس کے لیے جائز ہے کہ یہ دوسرے کا سامان لے لے ”عِنْدَ بَعْضِ الْعُلَمَاءِ“ بعض علماء کے نزدیک۔ بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ یہ دوسرے کا سامان بھی لے سکتا ہے، کیوں؟ ”قَضَاءً مِنْ حَقِّهِ“ اپنے حق کی ادائیگی کے لیے ”أَوْ رَهْنًا مِنْ حَقِّهِ“ یا اپنے حق کے لیے رہن رکھنے کے لیے۔ دوسرے کا سامان چوری کر لے، کس لیے؟ اپنا حق وصول کرنے کے لیے، اپنا حق وصول کرنے کے لیے یا بطورِ رہن کے اپنے پاس رکھ لے کہ مجھے میرا حق دو گے تو میں تمہیں یہ چیز واپس دوں گا بھئی، تو بعض علماء کے نزدیک یہ جائز ہے۔ جب بعض علماء کے نزدیک یہ جائز ہے تو اب شبہ آ گیا، اب شبہے کی وجہ سے حد ساقط ہو جائے گی بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے روایت ہے ”أَنَّهُ لَا يُقْطَعُ“ کہ سامان چرانے کی صورت میں بھی ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا ”لِأَنَّ لَهُ أَنْ يَأْخُذَهُ عِنْدَ بَعْضِ الْعُلَمَاءِ“ اس لیے کیونکہ اس آدمی کے لیے جائز ہے کہ وہ سامان کو لے لے بعض علماء کے نزدیک ”قَضَاءً مِنْ حَقِّهِ“ اپنے حق کی ادائیگی کے لیے ”أَوْ رَهْنًا مِنْ حَقِّهِ“ یا اپنے حق میں بطورِ رہن کے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اور یاد رکھو آج کل فتویٰ اسی پر ہے۔ علماء و فقہاء فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص کا کسی کے ذمے حق ہے اور وہ ادا نہیں کر رہا، ٹال مٹول کر رہا ہے تو صاحبِ حق اس دوسرے آدمی کی جو بھی چیز اس کے ہاتھ لگے اس کو لے جا سکتا ہے اور اس کے ذریعے اپنا حق وصول کر سکتا ہے، اس لیے کیونکہ قدیم زمانے میں تو لوگ دیون وغیرہ ادا کر دیتے تھے، آج کل لوگ دیون ادا ہی نہیں کرتے تو مجبوری کی وجہ سے اب فتویٰ اسی پر ہے کہ اگر کوئی شخص کسی کا دین ادا نہیں کر رہا تو یہ اس کی کوئی بھی چیز اٹھا سکتا ہے تاکہ اس کے ذریعے اپنا دین وصول کر لے، لیکن یہ یاد رکھنا کوئی اور چیز لے کر گیا ہے تو صرف اپنے حق کے بقدر اس میں سے روک لے اور باقی جو زائد ہے وہ واپس کرنا پڑے گا، باقی مال جو ہے وہ واپس کرنا پڑے گا۔ اگر وہ واپس نہیں کرے گا تو پھر یقیناً یہ عند اللہ مجرم ہے بھئی، آخرت میں اس کا مواخذہ ہوگا بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔ آگے دیکھیے: ”قُلْنَا“ ہم کہتے ہیں، بھئی اوپر متن میں آیا کہ سامان چوری کیا تو ہاتھ کاٹا جائے گا، امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، تو اب جواب دے رہے ہیں: ”قُلْنَا“ ہم کہتے ہیں ”هَذَا قَوْلٌ لَا يَسْتَنِدُ إِلَى دَلِيلٍ ظَاهِرٍ“ کہ یہ ایسا قول ہے کہ جس کا استناد کسی ظاہری دلیل کی طرف نہیں ہے یعنی اس کا اعتماد کسی دلیل پر نہیں ہے۔ یہ جو بعض علماء نے کہا کہ دوسرا اس کے سامان کو اٹھا سکتا ہے تو اس کی بنیاد کسی دلیل پر نہیں ہے۔ یہ معنی ہے ”قُلْنَا“ ہم کہتے ہیں ”هَذَا قَوْلٌ لَا يَسْتَنِدُ إِلَى دَلِيلٍ ظَاهِرٍ“ کہ فقہاء کا یہ جو قول ہے اس کی بنیاد کسی ظاہری دلیل پر نہیں ہے۔ فقہاء کا یہ قول جو ہے اس کی بنیاد کسی ظاہری دلیل پر نہیں ہے ”فَلَا يُعْتَبَرُ بِدُونِ اتِّصَالِ الدَّعْوَى بِهِ“ لہٰذا فقہاء کے اس قول کا کوئی اعتبار نہیں ہے جب تک اس کے ساتھ دعویٰ نہیں ملے گا۔ یاد رکھو، آگے چل کر صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ اگر ایک چور چوری کے اندر پکڑا گیا اور قاضی نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دے دیا لیکن ابھی چور کا ہاتھ نہیں کاٹا گیا تھا کہ چور نے دعویٰ کر دیا کہ یہ جو مال میں نے چوری کیا ہے یہ تو میرا اپنا مال ہے۔ یاد رکھو، چور کے یہ کہتے ہی حد ساقط ہو جائے گی۔ چور نے جیسے ہی دعویٰ کیا کہ یہ جو مال میں نے چرایا تھا یہ تو میرا اپنا مال ہے، چور کے یہ کہتے ہی اب حد ساقط ہو گئی، اب چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جا سکتا۔ وجہ یہ کہ شبہ آ گیا، وجہ یہ کہ شبہ آ گیا کہ ہو سکتا ہے یہ چور سچ بول رہا ہو واقعی اسی کا مال ہو بھئی، اور آپ جانتے ہیں شبہے کی وجہ سے حد ساقط ہو جاتی ہے۔ تو صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں کہ ظاہر روایت کے مطابق اگر ایک شخص کے ذمے دوسرے کے درہم ہیں اور یہ اس کا سامان چوری کر کے لے جاتا ہے تو اس چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ البتہ بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ نہیں، یہ اپنا حق وصول کرنے کے لیے دوسرے کی کوئی بھی چیز لے جا سکتا ہے۔ تو جواب دیا کہ نہیں، فقہاء کے اس قول کی طرف نظر نہیں کی جائے گی کیونکہ ان کے اس قول کی بنیاد کسی ظاہری دلیل پر نہیں ہے، لہٰذا فقہاء کا یہ قول جو ہے اس کا کوئی اعتبار نہیں ہوگا جب تک اس کے ساتھ دعویٰ متصل نہ ہو۔ اس کا اعتبار نہیں کیا جائے گا، الّا یہ کہ اس کے ساتھ دعویٰ مل جائے۔ یعنی چور دعویٰ کر دے: یہ جو مال میں لے کر گیا، یہ جو مال میں نے چوری کیا، یہ تو میرا اپنا مال ہے۔ اب جب چور کا دعویٰ ساتھ مل گیا تو اب اس صورت میں حد کیا ہو جائے گی؟ ساقط ہو جائے گی بھئی۔ تو یہ معنی ہے: ”فَلَا يُعْتَبَرُ بِدُونِ اتِّصَالِ الدَّعْوَى بِهِ“ لہٰذا فقہاء کے اس قول کا کوئی اعتبار نہیں ہے جب تک کہ اس کے ساتھ دعویٰ نہیں ملے گا۔ ”حَتَّى لَوِ ادَّعَى ذٰلِكَ دُرِئَ عَنْهُ الْحَدُّ“ یہاں تک کہ اگر چور نے اس کا دعویٰ کر دیا کہ یہ میرا سامان ہے، ”دُرِئَ عَنْهُ الْحَدُّ“ تو حد اس سے ساقط ہو جائے گی، ”لِأَنَّهُ ظَنٌّ فِي مَوْضِعِ الْخِلَافِ“ اس لیے کیونکہ یہ گمان ہے اختلاف کے مقام میں، تو یہ شبہ پیدا کرتا ہے۔ بھئی دیکھیے! آپ نے پڑھا تھا کہ شبہے کی وجہ سے حد ساقط ہو جاتی ہے۔ اور یہ شبہ دو قسم پر ہے: ایک شبہ فی الفعل کہلاتا ہے اور ایک شبہ فی المحل کہلاتا ہے۔ شبہ فی الفعل وہ ہے جو آدمی کے اپنے گمان کی وجہ سے پیدا ہو، وہاں اور کوئی دلیل نہیں۔ مثلاً بیٹے نے اپنے باپ کی باندی سے صحبت کر لی، اور بیٹے سے پوچھا گیا کہ آپ نے اپنے باپ کی باندی سے کیوں صحبت کی؟ اس نے کہا بھئی میں تو باپ کی تمام چیزیں استعمال کرتا ہوں تو میرا تو خیال تھا باپ کی باندی میرے لیے حلال ہے۔ تو لہٰذا یاد رکھو اس صورت میں بیٹے پر حد واجب نہیں ہوگی، کیونکہ بیٹے کے اپنے گمان میں یہ باندی اس کے لیے حلال تھی، اور نیز یہ محل بھی تھا گمان کا، یعنی باپ بیٹے کے مال میں بے تکلفی ہوتی ہے، ایک دوسرے کی چیزیں استعمال کر سکتے ہیں، تو یہاں بیٹے کو حقیقۃً شبہ پڑ سکتا تھا بھئی۔ جبکہ دوسرا جو شبہ ہوتا ہے وہ شبہ فی المحل کہلاتا ہے، اور شبہ فی المحل وہ ہے جو کسی شرعی دلیل کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ تو صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں کہ یہاں پر ایک شخص نے دوسرے کے درہم دینے ہیں اور یہ اس کا کوئی سامان چوری کر کے لے گیا اور پھر کہتا ہے: یہ جو مال میں نے چوری کیا یہ تو میرا اپنا مال تھا، کیونکہ اس آدمی کے مال میں میرا بھی حق بنتا تھا تو یہ میرا اپنا ہی مال ہے یہ جو چیز میں اٹھا کر لایا ہوں۔ تو اس صورت کے اندر یہ شبہ فی الفعل ہے۔ یہ کیا ہے؟ شبہ فی الفعل ہے، یعنی اس آدمی کے گمان میں یہ مال اس کے لیے لینا جائز ہے کیونکہ اس کا اپنا حق بنتا ہے اس کے اندر، تو لہٰذا یہ شبہ جو آیا یہ اس آدمی کے اپنے فعل اور اپنے گمان کی وجہ سے آیا ہے، یہاں اور کوئی دلیل موجود نہیں۔ اور نیز یہ شبہے کا محل بھی ہے، اس لیے کیونکہ بعض فقہاء بھی اس بات کی طرف گئے ہیں کہ یہ جو صاحبِ حق ہے کہ یہ دوسرے آدمی کی کوئی بھی چیز اٹھا کر اپنا حق وصول کر سکتا ہے، تو لہٰذا یہ شبہے کا محل بھی ہے تو یہ شبہ معتبر ہے۔ تو یہ شبہ معتبر ہے اور شبہے کی وجہ سے حد ساقط ہو جاتی ہے بھئی۔ تو یہ معنی ہے: ”فَلَا يُعْتَبَرُ بِدُونِ اتِّصَالِ الدَّعْوَى بِهِ“ لہٰذا اس قول کا کوئی اعتبار نہیں ہے بغیر اس کے ساتھ دعوے کے ملے ہوئے، ”حَتَّى لَوِ ادَّعَى ذٰلِكَ“ یہاں تک کہ اگر چور نے اس کا دعویٰ کر دیا کہ یہ میرا مال تھا، ”دُرِئَ عَنْهُ الْحَدُّ“ تو حد اس سے ساقط ہو جائے گی، ”لِأَنَّهُ ظَنٌّ فِي مَوْضِعِ الْخِلَافِ“ اس لیے کیونکہ یہ اختلاف کے مقام میں ظن ہے۔ ”وَلَوْ كَانَ حَقُّهُ دَرَاهِمَ فَسَرَقَ مِنْهُ دَنَانِيرَ“ صورت یہ: ایک آدمی نے دوسرے کے درہم دینے ہیں اور اس نے اس کے دینار چوری کر لیے، تو کیا ہاتھ کاٹیں گے؟ تو بعض فقہاء فرماتے ہیں: ہاں اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا، اس لیے کیونکہ اس کا حق درہم تھے، دینار نہیں تھے؛ جبکہ بعض فقہاء فرماتے ہیں: نہیں، اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، اس لیے کیونکہ درہم اور دینار دونوں ثمن کے قبیل سے ہیں، دونوں نقدیاں ہیں، اور نقدیوں کو ایک ہی جنس شمار کیا جاتا ہے، تو یوں سمجھیں گے گویا اس نے اپنے حق ہی کی جنس چوری کی ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ كَانَ حَقُّهُ دَرَاهِمَ“ اور اگر اس آدمی کا حق جو ہے وہ درہم تھے، ”فَسَرَقَ مِنْهُ دَنَانِيرَ“ تو اس نے اس سے دینار چوری کر لیے، ”قِيلَ يُقْطَعُ“ تو کہا گیا ہے کہ اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا، ”لِأَنَّهُ لَيْسَ لَهُ حَقُّ الْأَخْذِ“ اس لیے کیونکہ اس کو لینے کا حق نہیں تھا، ”وَقِيلَ لَا يُقْطَعُ“ اور کہا گیا ہے کہ اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، ”لِأَنَّ النُّقُودَ جِنْسٌ وَاحِدٌ“ اس لیے کیونکہ نقدیاں جو ہیں وہ ایک ہی جنس ہیں، ان کو ایک ہی جنس شمار کیا جاتا ہے؛ اور یاد رکھو علماء فقہاء نے اس قول کو ترجیح دی ہے کہ اس صورت میں بھی ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا کیونکہ نقدیاں ایک ہی جنس شمار ہوتی ہیں بھئی۔ آگے دیکھیے: ”وَمَنْ سَرَقَ عَيْنًا فَقُطِعَ فِيهَا فَرَدَّهَا ثُمَّ عَادَ فَسَرَقَهَا وَهِيَ بِحَالِهَا لَمْ يُقْطَعْ“ بھئی یہ مسئلہ ذرا مشکل ہے، توجہ سے سنیے۔ صورتِ مسئلہ یہ: ایک آدمی نے دوسرے کی چوری کی، اور یہ چور پکڑا گیا اور گواہ بھی پیش ہو گئے اور چور کا ہاتھ کاٹ دیا گیا، اور وہ سامان واپس مالک کو دے دیا گیا۔ پھر اس کے بعد چور دوبارہ گیا، اور اس ہاتھ کٹ چکا ہے، اس کے بعد پھر چور گیا اور اس نے بعینہٖ اسی چیز کو دوبارہ چوری کر لیا، تو کیا اب اس کا دوبارہ ہاتھ کاٹا جائے گا یا نہیں؟ کیونکہ اس نے چوری کی ہے۔ کہتے ہیں: نہیں، اب اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا جب اس نے وہی چیز دوبارہ چوری کی ہے بھئی۔ تو یہاں پر اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ دیکھیے بھئی! کہتے ہیں: ”وَمَنْ سَرَقَ عَيْنًا“ اور جس نے کوئی چیز چوری کی، عین بھئی، کوئی چیز یعنی کوئی معین چیز، عین کو بھی عین اس لیے کہتے ہیں کہ وہ تعیین سے معین ہو جاتی ہے۔ تو درہم، دینار، یہ جو ثمن ہیں یہ تو تعیین سے متعین نہیں ہوتے اور چیزیں تعیین سے متعین ہو جاتی ہیں۔ تو کہتے ہیں: ”وَمَنْ سَرَقَ عَيْنًا“ اور جس شخص نے کوئی چیز چوری کی، ”فَقُطِعَ فِيهَا“ تو اس کے اندر اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا، ”فَرَدَّهَا“ تو پھر اس نے وہ چیز واپس لوٹا دی، وہ چیز اس چور کے پاس موجود تھی تو وہ واپس لوٹا دی، ”ثُمَّ عَادَ“ پھر وہ چور دوبارہ لوٹا، ”فَسَرَقَهَا“ اس نے پھر اس چیز کو چوری کر لیا، ”وَهِيَ بِحَالِهَا“ اس حال میں کہ وہ چیز اپنی اسی حالت پر ہے، ”لَمْ يُقْطَعْ“ پھر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ بھئی اگر اس چیز کی حالت بدل گئی، مثلاً پہلے وہ دھاگہ تھا اب اس کو آدمی نے بن کر اسے کپڑا بنا لیا تو اب جو ہے جنس بدل چکی ہے، تو اب اس کو چوری کرے گا تو پھر دوبارہ اب اس کا پاؤں کاٹا جائے گا بھئی؛ لیکن اگر وہ چیز اپنی حالت پر ہی ہے تو پھر دوبارہ قطع نہیں ہوگا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”ثُمَّ عَادَ“ پھر وہ چور لوٹا، ”فَسَرَقَهَا“ اس نے اس کو پھر چوری کر لیا، ”وَهِيَ بِحَالِهَا“ اس حال میں کہ وہ چیز اپنی اسی حالت پر ہے، ”لَمْ يُقْطَعْ“ تو اب دوبارہ قطع نہیں ہوگا۔ ”وَالْقِيَاسُ“ اور قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے ”أَنْ يُقْطَعَ“ کہ اب بھی قطع کیا جائے یعنی اب اس کے پاؤں کو کاٹا جائے، ”وَهُوَ رِوَايَةٌ عَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللّٰهُ“ اور یہی ایک روایت ہے امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے کہ اب بھی قطع ہوگا، پاؤں کاٹا جائے گا، ”وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللّٰهُ“ اور یہی قول ہے امام شافعی رحمہ اللہ کا بھی، ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ“ حضور علیہ السلام کے قول کی وجہ سے کہ آپ نے فرمایا: ”فَإِنْ عَادَ فَاقْطَعُوهُ“ حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: ”فَإِنْ عَادَ“ اگر وہ چور پھر لوٹا ”فَاقْطَعُوهُ“ تو پھر قطع کرو۔ حضور علیہ السلام کے اس قول کی وجہ سے: ”فَإِنْ عَادَ فَاقْطَعُوهُ“ کہ اگر وہ چور پھر لوٹے تو دوبارہ کاٹ دو، ”مِنْ غَيْرِ فَصْلٍ“ اس میں کوئی فرق نہیں کیا گیا کہ وہی چیز ہو تو نہ کاٹو اور کوئی اور چیز ہو تو پھر کاٹ دو، تو حدیث میں کوئی فرق نہیں کیا گیا، حدیث میں کہا گیا کہ اگر وہ چور دوبارہ چوری کرے تو پھر کاٹ دو یعنی اب اس کا پاؤں کاٹ دیں گے۔ تو یہ ایک روایت ہے امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے اور یہی قول ہے امام شافعی رحمہ اللہ کا ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ“ حضور علیہ السلام کے اس قول کی وجہ سے کہ آپ نے فرمایا: ”فَإِنْ عَادَ فَاقْطَعُوهُ“ کہ اگر چور پھر لوٹے یعنی دوبارہ چوری کرے ”فَاقْطَعُوهُ“ تو پھر قطع کر دو، ”مِنْ غَيْرِ فَصْلٍ“ بغیر کسی فرق کے، یعنی یہ حدیث میں کوئی فرق نہیں کیا گیا۔ ”وَلِأَنَّ الثَّانِيَةَ مُتَكَامِلَةٌ كَالْأُولَى“ اور اس لیے کیونکہ دوسری چوری بھی جو ہے ”مُتَكَامِلَةٌ“ وہ بھی کامل چوری ہے ”كَالْأُولَى“ پہلی چوری کی طرح۔ امام ابو یوسف اور امام شافعی رحمہما اللہ کی دلیل چل رہی ہے کہ دوسری چوری بھی پہلی چوری کی طرح کامل چوری ہے۔ کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّ الثَّانِيَةَ مُتَكَامِلَةٌ كَالْأُولَى“ اس لیے کیونکہ دوسری چوری بھی پہلی چوری کی طرح کامل درجے کی ہے، ”بَلْ أَقْبَحُ“ بلکہ دوسری چوری تو زیادہ بری ہے ”لِتَقَدُّمِ الزَّاجِرِ“ سزا کے مقدم ہونے کی وجہ سے۔ زاجر جو ہے یعنی ہاتھ کا کاٹنا مقدم ہو چکا ہے، ایک دفعہ اس کا ہاتھ کٹ چکا ہے پھر دوبارہ چوری کر رہا ہے، یہ تو پہلے سے بھی بڑھ کر برا کام کیا اس نے۔ تو یہ معنی ہے: ”بَلْ أَقْبَحُ“ بلکہ یہ دوسری چوری تو اور زیادہ بری ہے ”لِتَقَدُّمِ الزَّاجِرِ“ زاجر کے مقدم ہونے کی وجہ سے۔ ”وَصَارَ“ اور یہ اسی طرح ہو گیا، وہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی دلیل چل رہی ہے، وہ فرماتے ہیں: یہ ایسے ہی ہو گیا جیسے کہ مالک نے یہ چیز چور کو بیچ دی تھی۔ بھئی چور لے گیا تھا نا اور پھر اس نے واپس کی ہے، تو یوں سمجھو مالک نے وہ چیز چور کو بیچ دی تھی اور پھر چور نے واپس مالک کو بیچ دی تو دو دفعہ ملکیت بدل گئی، اور یاد رکھو ملکیت بدل جائے تو چیز بدل جاتی ہے۔ ملکیت بدل جائے تو چیز بدل جاتی ہے یعنی تبدلِ ملک کی وجہ سے تبدلِ عین کا حکم لگایا جاتا ہے، چاہے وہی چیز ہو لیکن حکم لگا دیتے ہیں چیز بدل گئی۔ میں نے آپ کو کتاب بیچی اور پھر آپ نے مجھے کتاب واپس بیچ دی تو تبدلِ ملک پایا گیا، ملکیت بدل گئی تو اب یوں کہیں گے گویا یہ وہ پہلی کتاب نہیں ہے یہ اور کتاب ہے۔ تو تبدلِ ملک جو ہے اس کی وجہ سے تبدلِ عین ہوتا ہے وہ چیز ہی بدل جاتی ہے۔ اور دلیل اس کی حدیث میں آتا ہے: حضور علیہ السلام کی خدمت میں حضرت بریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے گوشت ہدیہ کیا۔ حضرت بریرہ یہ باندی تھیں، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ان کو خرید کر پھر آزاد فرمایا۔ حضرت بریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو لوگ صدقات وغیرہ میں چیزیں بھیجتے، تو کسی نے ان کی طرف گوشت بھیجا حضرت بریرہ کی طرف، تو حضرت بریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے وہ گوشت حضور علیہ السلام کو ہدیہ کیا۔ تو حضور علیہ السلام نے پوچھا اس کے بارے میں تو بتلایا گیا کہ یہ تو حضرت بریرہ کو دیا گیا تھا یہ تو صدقے کا گوشت ہے۔ تو حضور نے جواب میں فرمایا: ”هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ“ ”هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ“ کہ یہ بریرہ کے لیے تو صدقہ تھا ”وَلَنَا هَدِيَّةٌ“ اور ہمارے لیے ہدیہ ہے۔ یعنی جب بریرہ کو دیا گیا یہ گوشت تو صدقے کے طور پر دیا گیا لیکن جب بریرہ مالک بن گئیں تو چیز ہی بدل گئی، اب جو وہ ہمیں دے رہی ہیں تو اب یہ صدقہ نہیں ہے بلکہ ہدیہ ہے۔ معلوم ہوا تبدلِ ملک سے تبدلِ عین ہوتا ہے یعنی ملکیت بدل جائے تو چیز ہی بدل جاتی ہے۔ تو دلیل چل رہی تھی امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی، وہ فرماتے ہیں: یہ اسی طرح ہے جیسے مالک نے چور کو وہ چیز بیچی تھی اور پھر چور نے واپس مالک کو بیچ دی تو تبدلِ ملکیت پائی گئی اور وہ چیز ہی بدل گئی، لہٰذا اب وہی چیز چور دوبارہ چوری کرے پھر قطع کیا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَصَارَ كَمَا إِذَا بَاعَهُ الْمَالِكُ مِنَ السَّارِقِ“ اور یہ ایسے ہی ہو گیا جیسے کہ اس چیز کے مالک نے اس چیز کو بیچ دیا ہو چور کے ہاتھ، ”ثُمَّ اشْتَرَاهُ مِنْهُ“ پھر مالک نے چور سے اس چیز کو خرید لیا، ”ثُمَّ كَانَتِ السَّرِقَةُ“ پھر اس کے بعد چوری ہوئی، پھر اس کے بعد چوری ہوئی۔ ”وَلَنَا“ اب ہماری دلیل آ گئی۔ ”وَلَنَا“ اور ہماری دلیل یہ ہے ”أَنَّ الْقَطْعَ أَوْجَبَ سُقُوطَ عِصْمَةِ الْمَحَلِّ“ ہماری دلیل یہ ہے کہ ہاتھ کا کاٹنا ”أَوْجَبَ“ اس نے ثابت کر دیا، اوجب بمعنی اثبت کے، اس نے ثابت کر دیا ”سُقُوطَ عِصْمَةِ الْمَحَلِّ“ اس محل کی عصمت کے ساقط ہونے کو۔ محل سے مراد ہے وہ چیز جس کو چوری کیا اس چور نے، وہ عین جس کو چور نے چرایا تھا وہ جو مسروق ہے چوری شدہ مال ہے وہ ہے محل بھئی، وہ ہے چوری کا محل بھئی؛ اور عصمت سے مراد ہے اس کی حفاظت۔ یاد رکھو آگے چل کر صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ اگر کوئی شخص کسی دوسرے کی چیز چوری کر لے تو اس چور کا ہاتھ بھی کاٹا جائے گا اور اگر وہی چیز چور کے پاس موجود ہے تو وہ بھی مالک کو واپس کی جائے گی کیونکہ وہی شخص ابھی بھی اس چیز کا مالک ہے۔ وہی شخص ابھی بھی اس چیز کا مالک ہے تو چور کے پاس اگر چوری کیا ہوا مال موجود ہے تو وہ مالک کو واپس کرنا پڑے گا کیونکہ وہ اسی کا مملوک مال ہے بھئی؛ لیکن اگر چور کے پاس وہ مال ہلاک ہو گیا یا چور نے خود اس کو ہلاک کر دیا اس کو خرچ کر دیا تو پھر اس صورت میں یہ جو ہاتھ کا کاٹنا ہے یہ کامل سزا ہے، اب اس مال کا ضمان چور سے نہیں لیا جائے گا۔ مثلاً ایک آدمی نے دوسرے کا ایک لاکھ روپیہ چوری کیا تھا اور پھر اس چور کا ہاتھ کاٹ دیا گیا، تو اگر چور کے پاس وہ ایک لاکھ روپیہ موجود ہے تو چور کو یہ مال واپس کرنا پڑے گا، لیکن اگر چور یہ ایک لاکھ روپیہ خود خرچ کر چکا ہے یا چور کے پاس یہ مال ضائع ہو گیا کسی طرح تو یاد رکھو چاہے چور نے خود خرچ کیا ہے یا اس کے پاس ضائع ہوا ہے چور پر ضمان نہیں آئے گا اس ایک لاکھ روپے کا۔ یہ ہاتھ کا کاٹنا یہ سزا ہے اس کے سارے جرم کی، اس نے جو چوری کی اور جو اس نے مال ضائع کیا دونوں کی ایک ہی سزا ہے، اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔ معلوم ہوا حاصلِ کلام یہ کہ جب چوری کے اندر چور کا ہاتھ کاٹ دیا جائے تو اس مال کی عصمت ختم ہو جاتی ہے جو چور نے چرایا تھا۔ جب چوری کے اندر کسی شخص کا ہاتھ کاٹ دیا جائے تو وہ جو مال اس نے چرایا تھا اس کی عصمت ختم ہو جاتی ہے، عصمت سے کیا مراد ہے؟ حفاظت، یعنی اب وہ مالِ محفوظ نہ رہا، اب چور پر اس کا ضمان نہیں آئے گا اگر چور اسے خرچ کر چکا ہے یا ضائع کر چکا ہے۔ اگر تو وہ چیز موجود ہے وہ سامان موجود ہے پھر تو واپس کرنا پڑے گا لیکن اگر وہ چور کے پاس ہلاک ہو چکا ہے یا ختم ہو چکا ہے تو چور پر ضمان نہیں آئے گا۔ تو حاصلِ کلام کیا؟ کہ جب چوری کے اندر چور کا ہاتھ کاٹ دیا جائے تو وہ جو چوری کیا ہوا مال تھا اب اس کی عصمت ساقط ہو گئی، وہ مالِ محفوظ نہ رہا۔ جب وہ مالِ محفوظ نہیں رہا تو چور پر اس کا ضمان بھی نہیں آ سکتا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ آگے چل کر صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے بھئی۔ تو یہاں پر کہتے ہیں: ”وَلَنَا“ ہماری دلیل یہ ہے ”أَنَّ الْقَطْعَ أَوْجَبَ سُقُوطَ عِصْمَةِ الْمَحَلِّ“ کہ ہاتھ کا جو کاٹنا ہے اس نے ثابت کر دیا کہ اس چوری شدہ مال کی عصمت ساقط ہو گئی ہے، اس چوری شدہ مال کی عصمت ساقط ہو گئی ہے۔ چور کے حق میں وہ مالِ محفوظ رہا ہی نہیں۔ جب چور کے حق میں وہ مالِ محفوظ ہی نہیں رہا تو اب چور دوبارہ اسی مال کو چوری کر کے لے گیا، تو یہ تو مالِ محفوظ ہی نہیں تھا، جب مالِ محفوظ نہیں تھا چور کے حق میں تو دوبارہ اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جا سکتا کیونکہ ہاتھ تو اس مال کی چوری پہ کاٹا جاتا ہے جو مالِ محفوظ ہوتا ہے۔ آپ نے پڑھا ہے بھئی مالِ محفوظ کی چوری پر ہاتھ کاٹا جائے گا، اگر مالِ محفوظ نہیں تو اس کے اندر ہاتھ بھی نہیں کاٹا جا سکتا بھئی۔ تو یہ معنی ہے: ”وَلَنَا“ ہماری دلیل یہ ہے ”أَنَّ الْقَطْعَ أَوْجَبَ سُقُوطَ عِصْمَةِ الْمَحَلِّ“ کہ ہاتھ کا کاٹنا اس نے ثابت کر دیا اس چوری شدہ مال کی عصمت کے ساقط ہونے کو کہ وہ چوری شدہ مال اب مالِ محفوظ نہیں رہا، ”عَلَى مَا يُعْرَفُ مِنْ بَعْدُ إِنْ شَاءَ اللّٰهُ تَعَالَى“ اس وجہ سے جس کو بعد میں ان شاء اللہ تعالیٰ جانا جائے گا۔ اگلے باب میں صاحبِ ہدایہ تفصیل بیان فرمائیں گے کہ جب مال ایک دفعہ چوری کر لیا جائے تو چور کے حق میں اس کی عصمت اور حفاظت ختم ہو جاتی ہے۔ تو کہتے ہیں: ”عَلَى مَا يُعْرَفُ مِنْ بَعْدُ إِنْ شَاءَ اللّٰهُ تَعَالَى“ اس وجہ سے کہ جس کو بعد میں ان شاء اللہ تعالیٰ جانا جائے گا۔ ”وَبِالرَّدِّ إِلَى الْمَالِكِ“ اور پھر وہ چوری شدہ مال مالک کو واپس کر دینے سے، دیکھو بھئی مسئلہ چل رہا ہے کہ چور نے ایک دفعہ چوری کی، ہاتھ کاٹ دیا گیا اور پھر اس نے وہ مال واپس مالک کو دے دیا اور پھر دوبارہ وہی مال چوری کیا ہے، تو اب اگرچہ اس نے مالک کو مال واپس دے دیا ہے اور وہ مال دوبارہ مالِ محفوظ بن چکا ہے لیکن چور کے حق میں اس مال کی عصمت ساقط ہونے کا شبہ تو ابھی بھی موجود ہے۔ توجہ ہے؟ چور نے دوبارہ وہی مال چوری کیا ہے، اب اگرچہ اس مال کی حفاظت، اس مال کی عصمت لوٹ آئی ہے، یہ دوبارہ مالِ محفوظ بن گیا ہے لیکن بہرحال چور کے حق میں ایک دفعہ تو عصمت ساقط ہو چکی ہے، جب ایک دفعہ عصمت ساقط ہو چکی ہے تو اس مال کے عصمت ساقط ہونے کا شبہ تو ابھی بھی موجود ہے کہ چور کے حق میں یہ اب بھی مالِ محفوظ نہیں، شبہ ہوتا ہے، کیا ہوتا ہے؟ شبہ، اور شبہے کی وجہ سے حد ساقط ہو جائے گی کیونکہ مالِ محفوظ کی چوری میں ہاتھ کاٹا جاتا ہے، غیر محفوظ مال کی چوری میں تو ہاتھ نہیں کاٹا جاتا اور چور کے حق میں اب یہ مالِ محفوظ نہیں رہا، اس مال کی عصمت اور حفاظت ساقط ہو چکی ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَبِالرَّدِّ إِلَى الْمَالِكِ“ اور مالک کو واپس لوٹانے کی وجہ سے ”وَإِنْ عَادَتْ حَقِيقَةُ الْعِصْمَةِ“ اگرچہ حقیقۃً عصمت واپس لوٹ آئی ہے، اگرچہ اس مال کی حفاظت دوبارہ لوٹ آئی ہے وہ دوبارہ مالِ محفوظ بن گیا ہے، ”بَقِيَتْ شُبْهَةُ السُّقُوطِ“ لیکن اس عصمت کے ساقط ہونے کا شبہ تو موجود ہے، اس چور کے حق میں اس چوری شدہ مال کی عصمت کے ساقط ہونے کا شبہ تو موجود ہے، ”نَظَرًا إِلَى اتِّحَادِ الْمِلْكِ وَالْمَحَلِّ وَقِيَامِ الْمُوجَبِ وَهُوَ الْقَطْعُ فِيهِ“ نظراً اس بات کی طرف نظر کرتے ہوئے، ”إِلَى اتِّحَادِ الْمِلْكِ“ اتحاد کا معنی ہے ایک ہونا، ”نَظَرًا إِلَى اتِّحَادِ الْمِلْكِ“ اس بات کی طرف نظر کرتے ہوئے کہ ملکیت ایک ہی ہے، ”وَالْمَحَلِّ“ اور محل بھی ایک ہی ہے، ”وَقِيَامِ الْمُوجَبِ“ اور نیز اس چوری کا حکم بھی موجود ہے۔ بھئی دیکھیے! چور نے ایک دفعہ یہ چیز چوری کر لی تھی اور پھر اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا، چور کا ہاتھ کاٹ دیا گیا، پھر وہی چیز واپس اس نے کر دی۔ اب مالک بھی وہی ہے، مالک بھی نہیں بدلا، چیز بھی وہی ہے، چیز کی حالت بھی نہیں بدلی، پہلے بھی دھاگہ تھا اب بھی کیا ہے؟ دھاگہ ہے مثلاً۔ اور نیز اس چوری کی وجہ سے چوری کا حکم بھی آ چکا ہے، ایک دفعہ چور کا ہاتھ کاٹا جا چکا ہے۔ تو مالک بھی وہی، چیز بھی وہی اور اس چوری کا حکم بھی ایک دفعہ آ چکا ہے، تو ان سب چیزوں کی وجہ سے شبہ پیدا ہو جاتا ہے کہ چور کے حق میں یہ مال اب مالِ محفوظ نہیں رہا۔ یہ شبہ پیدا ہو جاتا ہے، کیوں؟ کیونکہ مالک بھی وہی ہے، چیز بھی وہی ہے اور اسی چوری کے اندر چور کا ایک دفعہ ہاتھ بھی کاٹا جا چکا ہے بھئی۔ تو ان سب چیزوں کی طرف نظر کی جائے تو شبہ ہوتا ہے کہ چور کے حق میں یہ والی چیز جس کو یہ دوبارہ چرا رہا ہے یہ اب مالِ محفوظ ہی نہیں ہے۔ ان سب چیزوں کی طرف نظر کرتے ہوئے چور کے حق میں یہ مالِ محفوظ نہیں، جب یہ چور کے حق میں مالِ محفوظ نہیں ہے تو دوبارہ چور کا ہاتھ اس چوری پہ نہیں کاٹا جا سکتا کیونکہ ہاتھ تو مالِ محفوظ کی چوری میں کاٹا جاتا ہے، ہر چیز کی چوری میں ہاتھ نہیں کاٹا جاتا۔ تو کہتے ہیں، پھر ترجمہ دیکھ لیجیے، کہتے ہیں: ”وَبِالرَّدِّ إِلَى الْمَالِكِ“ اور مالک کو وہ چیز واپس کر دینے کی وجہ سے ”وَإِنْ عَادَتْ حَقِيقَةُ الْعِصْمَةِ“ اگرچہ حقیقۃً حفاظت واپس لوٹ آئی ہے، ”بَقِيَتْ شُبْهَةُ السُّقُوطِ“ لیکن اس حفاظت کے ساقط ہونے کا شبہ تو باقی ہے، ”نَظَرًا إِلَى اتِّحَادِ الْمِلْكِ وَالْمَحَلِّ وَقِيَامِ الْمُوجَبِ“ اس بات کی طرف نظر کرتے ہوئے کہ ملکیت بھی ایک ہی ہے یعنی مالک وہی ہے، ”وَالْمَحَلِّ“ اور محل یعنی وہ چیز بھی وہی ہے، ”وَقِيَامِ الْمُوجَبِ“ اور نیز اس چوری کا حکم بھی موجود ہے، پہلی چوری جو اس نے کی تھی اس کا حکم بھی موجود ہے، ”وَهُوَ الْقَطْعُ فِيهِ“ اور وہ اس کے اندر ہاتھ کاٹنا ہے بھئی، یعنی چوری کی ایک دفعہ سزا بھی مل چکی ہے۔ ”بِخِلَافِ مَا ذَكَرَ“ بخلاف اس کے جو امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے دلیل ذکر فرمائی۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ یہ اسی طرح ہے جیسے مالک نے وہ چیز چور کو بیچ دی تھی اور پھر دوبارہ خرید لی ہے، ہم کہتے ہیں: نہیں، بیع کے اندر، بیع کے اندر وہاں پر باقاعدہ ملکیت بدل جاتی ہے۔ بیع کے اندر وہاں پر پہلے بائع مالک تھا پھر مشتری مالک بنتا ہے تو ملکیت بدل جاتی ہے لیکن یہاں پر ملکیت بدلی نہیں ہے، لہٰذا آپ اس چوری کو بیع پر قیاس نہیں کر سکتے۔ تو کہتے ہیں: ”بِخِلَافِ مَا ذَكَرَ“ بخلاف اس کے جس کو امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے ذکر فرمایا، ”لِأَنَّ الْمِلْكَ قَدِ اخْتَلَفَ بِاخْتِلَافِ سَبَبِهِ“ اس لیے کیونکہ وہاں پر ملکیت جو ہے وہ بدل چکی ہے سببِ ملکیت کے بدلنے کی وجہ سے۔ بھئی دیکھو وہ چور وہ چیز چرا کر لے گیا اور پھر اس چور کا ہاتھ کاٹا گیا اور اس نے وہ چیز واپس کر دی، لیکن امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ اسی طرح ہے یوں سمجھو گویا چور مالک سے خرید کر لے گیا تھا اور پھر مالک نے دوبارہ چور سے خرید لی، تو معلوم ہوا ملکیت بدل گئی، اور جب ملکیت بدل جائے تو اس چیز کے بدلنے کا حکم لگایا جاتا ہے، لہٰذا اب دوبارہ جب چور یہ وہ چیز چوری کر رہا ہے تو یہ وہ چیز ہے ہی نہیں، اس پر حکم لگا دیا جائے گا یہ کوئی اور ہی چیز ہے جس کو چور چوری کر رہا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: ”بِخِلَافِ مَا ذَكَرَ“ بخلاف اس کے جس کو امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے ذکر کیا، یعنی وہ جو بیع کی صورت امام ابو یوسف نے ذکر کی اس کے برخلاف، ”لِأَنَّ الْمِلْكَ قَدِ اخْتَلَفَ بِاخْتِلَافِ سَبَبِهِ“ اس لیے کیونکہ بیع کی صورت میں جو ملکیت تھی وہ بدل چکی ہے اس ملکیت کے سبب کے بدلنے کی وجہ سے۔ بیع کے اندر تو حقیقۃً ملکیت بدل رہی ہے اور چوری کے معاملے میں تو حقیقۃً ملکیت نہیں بدل رہی، لہٰذا آپ یہ نہیں کہہ سکتے چیز بدل گئی ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْمِلْكَ قَدِ اخْتَلَفَ بِاخْتِلَافِ سَبَبِهِ“ اس لیے کیونکہ بیع کی صورت میں جو ملکیت تھی وہ بدل چکی ہے اس ملکیت کے سبب کے بدلنے کی وجہ سے۔ ”وَلِأَنَّ تَكْرَارَ الْجِنَايَةِ مِنْهُ نَادِرٌ“ نیز یہ دوسری دلیل ہے، کہتے ہیں: دوبارہ وہی چیز چوری کرنے کی صورت میں اب اگر پاؤں کاٹا جائے گا تو یہاں سزا دینا یہ حکمت سے خالی ہے، یہ اپنے مقصود سے خالی ہے۔ سزا دینے کا کیا مقصد ہوتا ہے؟ کہ جرم لوگوں میں زیادہ پایا جاتا ہو تو ان کو روکا جاتا ہے سزا کے ذریعے۔ اور یہ تو بہت ہی نادر ہوگا کہ ایک چیز چرانے کی وجہ سے ایک آدمی کا ہاتھ کاٹ دیا جائے اور وہ دوبارہ وہی چیز چرائے، تو لہٰذا یہاں پر سزا دینے کا مقصد بھی موجود نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّ تَكْرَارَ الْجِنَايَةِ مِنْهُ نَادِرٌ“ اور اس لیے کیونکہ چور کی طرف سے یہ اس طرح کی جنایت جو ہے وہ نہایت نادر ہے، ”لِتَحَمُّلِهِ مَشَقَّةَ الزَّاجِرِ“ اس وجہ سے کہ وہ برداشت کر چکا ہے زاجر کی مشقت، ایک مرتبہ اس کا ہاتھ کٹ چکا ہے تو ایک دفعہ وہ زاجر یعنی دھمکانے والی چیز کی مشقت برداشت کر چکا ہے، ”فَيَعْرَى الْإِقَامَةُ عَنِ الْمَقْصُودِ“ تو یہ حد کا قائم کرنا خالی ہوگا اپنے مقصود سے، تو یہاں حد قائم کرنے کا کوئی مقصد ہی نہیں ہے۔ بھئی کیا مقصد ہوتا ہے حد قائم کرنے کا؟ کہتے ہیں: ”وَهُوَ تَقْلِيلُ الْجِنَايَةِ“ وہ جرم کو کم کرنا ہوتا ہے، تو یہ جرم جب خود ہی کم ہوتا ہے تو یہاں وہی سزا دینے کا کوئی مقصد بھی نہیں ہے۔ تو یہ معنی ہے: ”وَهُوَ تَقْلِيلُ الْجِنَايَةِ“ اور مقصود جو ہے وہ جرم کو کم کرنا ہے، ”وَصَارَ كَمَا إِذَا قَذَفَ الْمَحْدُودُ“ اور یہ اسی طرح ہو گیا۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ تو فرماتے تھے دوبارہ اسی چیز کو چوری کرنا اسی طرح ہے کہ مالک نے وہ چیز چور کو بیچ دی تھی اور پھر دوبارہ خرید لی اور پھر اس کے بعد چور نے چوری کی ہے، ہم کہتے ہیں: نہیں، آپ اس بیع پر اس کو قیاس نہ کریں، بلکہ یہ اس کی مثال اس قذف کی طرح ہے: ایک آدمی دوسرے پر زنا کا الزام لگاتا ہے اور پھر اس کی وجہ سے اس قاذف کو حدِ قذف لگائی جاتی ہے، اور پھر جب اس کو اسی کوڑے لگ گئے یہ واپس گیا، اس نے پھر اس آدمی پر وہی زنا کا الزام دوبارہ لگا دیا، تو اب دوبارہ اسی الزام کی وجہ سے اس کو حدِ قذف نہیں لگائی جائے گی کیونکہ ایک دفعہ اس کو سزا مل چکی ہے اسی جرم کی، تو جب چور نے دوبارہ وہی چوری کی ہے تو ایک دفعہ اسی چیز کو چوری کرنے کی وجہ سے اس کو سزا مل چکی ہے تو دوبارہ اس کو اس کی سزا نہیں دی جائے گی۔ تو کہتے ہیں: ”وَصَارَ كَمَا إِذَا قَذَفَ الْمَحْدُودُ فِي الْقَذْفِ الْمَقْذُوفَ الْأَوَّلَ“ تو یہ اسی طرح ہو گیا جیسے زنا کا الزام لگایا محدود فی القذف نے۔ محدود فی القذف یعنی وہ جس کو حدِ قذف لگائی گئی تھی، تو محدود فی القذف نے الزام لگایا ”الْمَقْذُوفَ الْأَوَّلَ“ اسی پہلے مقذوف پر، اسی پہلے مقذوف پر اس نے زنا کا الزام لگایا تو دوبارہ اس کو حد نہیں لگائی جائے گی۔ لیکن یاد رکھنا یہ اس صورت میں ہے جب اسی زنا کا الزام دوبارہ لگائے، اگر کسی نئے زنا کا الزام لگایا کہ تم نے فلاں عورت سے بھی زنا کیا ہے، پہلے کسی اور عورت کا الزام تھا اب کسی اور عورت کا الزام لگا رہا ہے، پھر دوبارہ حد لگائی جائے گی بھئی۔ تو یہ معنی، کہتے ہیں: ”وَصَارَ كَمَا إِذَا قَذَفَ الْمَحْدُودُ فِي الْقَذْفِ الْمَقْذُوفَ الْأَوَّلَ“ تو یہ اسی طرح ہو گیا جیسے محدود فی القذف نے دوبارہ زنا کا الزام لگایا اس پہلے مقذوف پر۔ آگے دیکھیے: ”قَالَ: فَإِنْ تَغَيَّرَتْ عَنْ حَالِهَا“ بھئی یاد رکھو، یہ تو وہ صورت تھی کہ اگر وہ چیز اپنی اسی حالت پر تھی۔ پہلے جب چوری کیا تھا اس وقت بھی دھاگہ تھا اور دوبارہ چوری کیا ہے اب بھی دھاگہ ہے؛ اور اگر اس چیز کی صورت بدل گئی یعنی پہلے دھاگہ تھا اور اب اس نے بن کر کپڑا بنا لیا ہے اور چور نے دوسری دفعہ میں کپڑا چوری کیا ہے تو کپڑا تو الگ جنس شمار ہوتا ہے، تو اب دوبارہ قطع ہوگا، اب اس کا پاؤں کاٹا جائے گا اس چور کا۔ ”قَالَ“ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”فَإِنْ تَغَيَّرَتْ عَنْ حَالِهَا“ اگر وہ چیز اپنی حالت سے بدل گئی، ”مِثْلُ أَنْ يَكُونَ غَزْلًا“ مثال کے طور پر وہ سوت تھا، یعنی دھاگہ تھا۔ غزل کسے کہتے ہیں؟ سوت یعنی دھاگے کو۔ کہتے ہیں: ”مِثْلُ أَنْ يَكُونَ غَزْلًا“ جیسے کہ وہ دھاگہ تھا، ”فَسَرَقَهُ“ تو اس نے اس کو چوری کیا یعنی پہلی مرتبہ، ”وَقُطِعَ“ اور اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا، ”فَرَدَّهُ“ تو اس نے وہ واپس لوٹا دیا، ”ثُمَّ نُسِجَ“ پھر اس دھاگے کو بن لیا گیا یعنی اسے کپڑا بنا لیا گیا، ”فَعَادَ“ تو چور پھر لوٹا، ”فَسَرَقَهُ“ اس نے دوبارہ اس کو چوری کیا، ”قُطِعَ“ تو اب کاٹا جائے گا، ”لِأَنَّ الْعَيْنَ قَدْ تَبَدَّلَتْ“ اس لیے کیونکہ وہ چیز جو ہے وہ بدل چکی ہے، ”وَلِهٰذَا يَمْلِكُهُ الْغَاصِبُ بِهِ“ اور اسی کی وجہ سے غاصب اس کا مالک بن جاتا ہے۔ بھئی یاد رکھو کوئی شخص کسی کی چیز زبردستی چھین کر لے جائے تو جب تک وہ چیز اس کے پاس موجود ہے اس پر لازم ہے کہ وہ چیز واپس کرے مالک کو، لیکن اگر غاصب نے اس کے اندر کوئی کاریگری دکھائی یعنی غاصب نے دھاگہ چرایا تھا اور محنت کر کے اس کو کپڑا بنا لیا تو اب ہم یہ نہیں کہیں گے کہ اب یہ کپڑا ہی واپس کرو، کیونکہ اس میں تو بیچارے غاصب کی محنت بھی لگی ہے، لہٰذا اس صورت میں غاصب ہی کو اس کا مالک قرار دے دیا جائے گا اور غاصب کو کہا جائے گا کہ وہ جو دھاگے کی قیمت بنتی تھی وہ مالک کو ادا کر دو، تو اب دونوں کی رعایت ہو گئی، غاصب کی محنت بھی بچ گئی اور مالک کو اس کی قیمت بھی مل گئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلِهٰذَا يَمْلِكُهُ الْغَاصِبُ بِهِ“ اور اس بننے کی وجہ سے غاصب جو ہے اس دھاگے کا مالک بن جاتا ہے، ”وَهٰذَا هُوَ عَلَامَةُ التَّبَدُّلِ فِي كُلِّ مَحَلٍّ“ اور یہ جو ہے بدلنے کی علامت ہے ہر محل میں۔ یہ بدلنے کی علامت ہے ہر محل میں، یعنی ادھر دیکھیے، جب کاریگری غالب آ جائے اصل پر، اصل تو تھا دھاگہ لیکن اب کاریگری غالب آ گئی اب وہ کپڑا بن گیا اور اس کی قیمت بڑھ گئی، تو جب بھی کاریگری اصل چیز پر غالب آ جائے اس کی قیمت بڑھ جائے اس کی وجہ سے تو پھر اس صورت کے اندر گویا وہ چیز ہی بدل گئی۔ وہ چیز ہی بدل گئی۔ یہ معنی ہے: ”وَهٰذَا هُوَ عَلَامَةُ التَّبَدُّلِ فِي كُلِّ مَحَلٍّ“ اور یہ کاریگری کا غالب آنا اصل پر یہ بدلنے کی علامت ہے ہر محل کے اندر۔ ”وَإِذَا تَبَدَّلَ“ اور جب چیز بدل گئی، ”انْتَفَتِ الشُّبْهَةُ النَّاشِئَةُ مِنِ اتِّحَادِ الْمَحَلِّ وَالْقَطْعِ فِيهِ“۔ بھئی دیکھیے! انہوں نے آپ کو بتلایا کہ پہلے جب چوری کیا تھا تب بھی دھاگہ ہے، دوسری دفعہ جب چوری کیا پھر بھی دھاگہ ہے، تو ہاتھ نہیں کاٹیں گے کیونکہ مالک بھی وہی ہے، چیز بھی وہی ہے اور اس چوری کی وجہ سے ایک دفعہ ہاتھ بھی کٹ چکا ہے، تو لہٰذا اب دوبارہ قطع کا حکم نہیں ہوگا، اب اس دوسری چوری کی وجہ سے چور کا پاؤں نہیں کاٹا جائے گا۔ لیکن اگر اس چیز کی جنس ہی بدل گئی، اس پر کاریگری غالب آ گئی، مثلاً پہلے وہ دھاگہ تھا اب اس مالک نے اسے بن لیا اور وہ کپڑا بن گیا تو اب گویا جنس ہی بدل گئی، تو اب کوئی شبہ نہیں، پہلے کیا شبہ تھا؟ اتحادِ محل کا، کہ وہی چیز ہے، لیکن اب وہ محل نہیں، محل وہ نہیں ہے محل یعنی وہ سامان بدل چکا ہے؛ اور نیز پہلے شبہ آتا تھا کہ اس چیز کو چرانے کی وجہ سے ایک دفعہ ہاتھ کاٹا جا چکا ہے لیکن اب تو چیز ہی بدل گئی ہے، تو لہٰذا اب اس محل کے ایک ہونے یا ہاتھ کے کاٹنے کی وجہ سے یہاں کوئی شبہ بھی نہیں آتا، لہٰذا اب دوبارہ قطع کیا جائے گا بھئی۔ پہلے دھاگہ تھا وہ اور چیز تھی، اب کپڑا ہے یہ اور چیز ہے اور جنس ہے، تو لہٰذا وہ جو اس محل کی عصمت کے ساقط ہونے کا شبہ پیدا ہو رہا تھا، بھئی دیکھو نا چور نے دوبارہ وہی چیز چرائی ہے، ہم نے کیا کہا تھا؟ کہ مالک بھی وہی ہے، چیز بھی وہی ہے اور ایک دفعہ اسی چیز کے چوری کرنے میں اس آدمی کا ہاتھ بھی کاٹا جا چکا ہے تو لہٰذا ان سب کی وجہ سے شبہ پیدا ہو گیا کہ یہ تو وہ چیز ہے کہ چور کے حق میں اس کی عصمت ساقط ہو چکی ہے، چور کے حق میں یہ مالِ محفوظ رہا ہی نہیں۔ لیکن یہاں پر جب وہ چیز بدل گئی، پہلے دھاگہ تھا اب بن کر کپڑا بنا لیا تو اب وہ چیز ایک نہ رہی، تو اتحادِ محل اور ہاتھ کے کاٹنے کی وجہ سے جو شبہ پیدا ہو رہا تھا، بھئی اسی چیز میں چور کا ہاتھ کاٹا گیا تھا تو چیز بھی یہی تھی اور حکم بھی یہی تھا مالک بھی یہی تھا، لیکن اب وہ چیز بدل چکی ہے، تو لہٰذا اتحادِ محل اور ہاتھ کاٹنے کی وجہ سے جو شبہ یہاں پیدا ہو رہا تھا وہ شبہ بھی اب موجود نہیں کیونکہ چیز بدل چکی ہے۔ اتحادِ محل نہیں ہے، وہ چیز نہیں ہے، چیز بدل چکی ہے، اور وہ جو ہاتھ بھی کٹا تھا وہ تو اس چیز میں نہیں ہاتھ کٹا تھا وہ تو دوسری چیز میں ہاتھ کٹا تھا، یہ تو کپڑا ہے اور وہ تو دھاگہ تھا جس کے اندر ہاتھ کٹا تھا۔ معلوم ہوا اب اتحادِ محل بھی نہیں، اور نیز وہ جو ہاتھ کٹا تھا وہ بھی اس کپڑے کے اندر ہاتھ نہیں کٹا تھا وہ تو دھاگے کے اندر ہاتھ کٹا تھا بھئی۔ تو لہٰذا اب محل بھی ایک نہ رہا اور قطع بھی اسی چیز کے اندر نہیں رہی جو اس وقت چرا رہا ہے، جو ہاتھ کاٹا تھا وہ اور چیز میں کٹا تھا، تو لہٰذا اتحادِ محل اور ہاتھ کاٹنے کی وجہ سے جو شبہ پیدا ہو رہا تھا اب وہ شبہ یہاں پیدا نہیں ہو رہا کیونکہ چیز کی جنس بدل چکی ہے بھئی۔ چیز کی جنس بدل چکی ہے، یہ معنی ہے: ”وَإِذَا تَبَدَّلَ“ اور جب وہ چیز بدل گئی یعنی پہلے دھاگہ تھا اب کپڑا بن گیا، ”انْتَفَتِ الشُّبْهَةُ النَّاشِئَةُ“ تو منتفی ہو گیا یعنی ختم ہو گیا وہ شبہ جو پیدا ہو رہا تھا ”مِنِ اتِّحَادِ الْمَحَلِّ“ محل کے ایک ہونے سے۔ محل کے ایک ہونے کی وجہ سے شبہ پیدا ہو رہا تھا لیکن اب تو محل ایک نہیں، پہلے دھاگہ تھا اور اب تو کیا ہے؟ کپڑا ہے، تو محل الگ ہے۔ تو وہ شبہ جو پیدا ہو رہا تھا محل کے ایک ہونے کی وجہ سے ”وَالْقَطْعِ فِيهِ“ اور اس کے اندر ہاتھ کاٹنے کی وجہ سے۔ اس دھاگے کے اندر تو ایک دفعہ ہاتھ کٹ گیا تھا لیکن اب جب چوری کر رہا ہے اب تو یہ کپڑا ہے اب تو یہ وہ چیز ہی نہیں، اس کپڑے کے اندر تو ابھی تک اس کا ہاتھ نہیں کٹا۔ توجہ ہے؟ تو اگر وہی دھاگہ چراتا پھر تو شبہ پڑتا تھا کہ بھئی یہ تو وہی چیز ہے اور اس کی تو عصمت ساقط ہو چکی ہے لہٰذا دوبارہ ہاتھ نہیں کاٹنا چاہیے، لیکن اب محل بھی بدل گیا یعنی اب کپڑا بن گیا ہے اور اس کپڑے کے اندر تو اس کا ہاتھ نہیں کاٹا گیا، تو لہٰذا اب اتحادِ محل اور قطع کی وجہ سے یہاں کوئی شبہ پیدا نہیں ہوتا۔ یہ معنی ہے، کہتے ہیں: ”وَإِذَا تَبَدَّلَ“ اور جب وہ چیز بدل گئی یعنی پہلے دھاگہ تھا اب کپڑا بن گیا، ”انْتَفَتِ الشُّبْهَةُ النَّاشِئَةُ“ تو منتفی ہو گیا یعنی ختم ہو گیا وہ شبہ جو پیدا ہو رہا تھا ”مِنِ اتِّحَادِ الْمَحَلِّ“ اس محل کے ایک ہونے کی وجہ سے یعنی اس چوری کیے ہوئے مال کے ایک ہونے کی وجہ سے جو شبہ پیدا ہو رہا تھا وہ بھی ختم ہوا، ”وَالْقَطْعِ فِيهِ“ اور اسی محل کے اندر ہاتھ کے کاٹنے کی وجہ سے جو شبہ پیدا ہو رہا تھا۔ اب تو یہ جو چیز چوری کر رہا ہے کپڑا ہے اور اس کے اندر تو پہلے اس کا ہاتھ نہیں کٹا، تو اس محل کے اندر ہاتھ کاٹنے کے اندر جو شبہ پیدا ہو رہا تھا وہ شبہ بھی منتفی ہو گیا ختم ہو گیا، ”فَوَجَبَ الْقَطْعُ ثَانِيًا“ لہٰذا دوسری مرتبہ کاٹنا واجب ہوگا۔ لہٰذا دوسری مرتبہ کاٹنا واجب ہوگا یعنی اب اس چور کا بایاں پاؤں کاٹا جائے گا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ حل ہو گیا۔ چلیے بس بھئی، هٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
160 approved lectures · 121 of 160