بَابُ الْيَمِينِ فِي الْأَكْلِ وَالشُّرْبِ۔ قَالَ: وَلَوْ حَلَفَ لَا يَأْتَدِمُ فَكُلُّ شَيْءٍ اصْطُبِغَ بِهِ إِدَامٌ، وَالشِّوَاءُ لَيْسَ بِإِدَامٍ، وَالْمِلْحُ إِدَامٌ، وَهَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى، وَقَالَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى: كُلُّ مَا يُؤْكَلُ مَعَ الْخُبْزِ غَالِبًا فَهُوَ إِدَامٌ، وَهُوَ رِوَايَةٌ عَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ۔
بھئی گزشتہ سبق میں ہم نے باب الیمین فی الاکل والشرب شروع کیا تھا۔ اس باب کے اندر صاحبِ ہدایہ اس یمین کو بیان فرما رہے ہیں جس کے اندر کھانے اور پینے کا ذکر ہو۔ تو اگر کوئی شخص قسم اٹھا کر کہتا ہے کہ واللہ میں اس کھجور کے درخت میں سے نہیں کھاؤں گا، اب اس کلام کا ایک حقیقی معنی ہے اور ایک مجازی معنی ہے۔ حقیقی معنی یہ ہے کہ میں اس کھجور کے درخت کو نہیں کھاؤں گا یعنی اس کے تنے یا پتوں وغیرہ کو نہیں کھاؤں گا، اور ایک اس کلام کا مجازی معنی ہے کہ میں اس درخت کے پھل کو نہیں کھاؤں گا۔ تو اس صورت میں یہاں پر یہ جو درخت کا تنا کھانا یا پتے کھانا یہ تو متعذر ہے، ممکن نہیں ہے یا مشکل ہے بھئی، تو اس صورت میں اب حقیقی معنی مراد نہیں لیا جائے گا بلکہ مجازی معنی مراد لیا جائے گا، کیونکہ آپ اصولِ فقہ کے اندر پڑھ چکے ہیں کہ جب حقیقی معنی پر عمل ممکن نہ ہو تو پھر مجازی معنی کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ لہٰذا یہ شخص اب اس درخت کے پھل کھائے گا تو حانث ہو جائے گا، لیکن اگر اس نے تکلف کر کے کسی طرح اس درخت کے پتے یا تنے کے کچھ حصے کو چبا کر کھا لیا تو اس سے حانث نہیں ہو گا کیونکہ یہاں پر مجازی معنی متعین ہو چکا ہے بھئی۔ لیکن اس کے اندر یہ ضروری ہے کہ کھجور کے اس پھل کو کسی کاریگری کے ذریعے بدلا نہ جائے، لہٰذا اگر اس کھجور کے پھل سے نبیز تیار کر لی یا سرکہ تیار کر لیا یا اس کے شیرہ کو پکا لیا تو یہ تو اس کی صورت اور ماہیت ہی بدل دی کاریگری کے ذریعے، لہٰذا یہ چیزیں استعمال کرنے سے وہ حانث نہیں ہو گا بھئی۔
اور اگر اسی طرح کسی شخص نے یہ قسم اٹھائی کہ واللہ میں یہ والی بسر نہیں کھاؤں گا، میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ کھجور جو ہے اس کی تین حالتیں ہیں بھئی: ابتداء میں درخت پر کچا پھل لگتا ہے اور پھر ایک وقت آتا ہے کہ پھل پکنے لگتا ہے، تو سب سے پہلے اس پھل کا رنگ بدلتا ہے اور وہ زرد رنگ کا یا سرخ رنگ کا ہو جاتا ہے، ابھی بھی وہ سخت ہی ہے لیکن اس میں کافی حد تک مٹھاس آ گئی ہے اور اس کو بسر کہتے ہیں اور اس کو بھی کھایا جاتا ہے، اور پھر اس کے بعد اس بسر پر چند دن گزرتے ہیں تو اس کے بعد اس کا نچلا کنارہ جو ہے وہ نرم ہونا شروع ہو جاتا ہے اور پھر آہستہ آہستہ پوری کھجور نرم ہو جاتی ہے تو اس کو رطب کہتے ہیں یعنی تازہ کھجور۔ لیکن یہ جو رطب ہے اس کے اندر رس زیادہ ہوتا ہے لہٰذا اسے درخت سے اتار کر فوراً ہی بیچنے کے لیے بازار نہیں لایا جاتا کیونکہ رس زیادہ ہونے کی وجہ سے ایک دو دن میں ہی یہ خراب ہو جائے گی، لہٰذا پھر اس کو تھوڑی دھوپ لگوائی جاتی ہے، کچھ دیر کچھ مدت اس کو دھوپ میں رکھتے ہیں تاکہ جو زائد رس ہے، جو زائد شیرہ ہے وہ خشک ہو جائے۔ اب جب زائد شیرہ خشک ہو گیا اب اس کو تمر کہتے ہیں یعنی کھجور۔ تو یہ جو بازار میں ہم کھجور خریدتے ہیں یہ تمر ہے بھئی، تمر ہے۔ میں نے بتایا بعض علماء تمر کا معنی چھوہارے کے کرتے ہیں لیکن تمر جو ہے بالخصوص چھوہارے کو نہیں کہتے بھئی، ہو سکتا ہے چھوہارے کو بھی تمر کہا جاتا ہو لیکن یہ عام کھجور جو ہے اس کو تمر کہا جاتا ہے بھئی۔ اب ایک شخص نے قسم اٹھائی کہ واللہ یہ والی بسر میں نہیں کھاؤں گا اور پھر وہ بسر رطب بن گئی اور اس نے اس کو کھا لیا تو کیا حانث ہو گا یا نہیں؟ تو فقہاء فرماتے ہیں نہیں، اس کی صورت ہی بدل گئی، نام ہی بدل گیا، لہٰذا اس کے کھانے سے اب حانث نہیں ہو گا۔ اور میں نے آپ کو ضابطہ بتلایا تھا کہ اگر صفت جو ہے وہ ایسی ہو کہ جو یمین کی طرف داعی بن سکے، یمین کی طرف لے جانے والی بن سکتی ہے تو پھر یمین اس صفت کے ساتھ مقید ہو گی ورنہ مقید نہیں ہو گی، اور یہاں پر بسر ہونا یہ ایسی صفت ہے کہ جو یمین کا باعث بن سکتی ہے، ہو سکتا ہے ایک درخت کی بسر لذیذ نہ ہو، اچھی نہ ہو تو ایک آدمی کہہ دے کہ میں اس کی بسر نہیں کھاؤں گا بھئی، تو لہٰذا یہ قسم بسر کے ساتھ مقید ہو گی۔ اور اگر ایک شخص نے قسم کھائی کہ واللہ میں رطب نہیں کھاؤں گا اور پھر اس نے اس کو جب وہ دھوپ میں خشک ہو گئی تمر بن گئی پھر کھایا، تو اس صورت میں بھی حانث نہیں ہو گا کیونکہ اب نام بدل چکا ہے بھئی، اور رطب ہونے کی صفت جو ہے یہ داعی الی الیمین بن سکتی ہے، ہو سکتا ہے اس درخت کی رطب اتنی اچھی نہ ہو، ہو سکتا ہے اس درخت کی رطب ایسی ہو کہ لوگ اس کے کھانے کو پسند نہ کرتے ہوں بھئی۔
اور اسی طرح اگر ایک شخص نے قسم اٹھائی کہ واللہ یہ دودھ میں نہیں پیوں گا اور پھر اس دودھ کا دہی بن گیا اور اس نے کھا لیا تو پھر وہ حانث نہیں ہو گا کیونکہ دودھ ہونے کی صفت یہ داعی الی الیمین بن سکتی ہے، ہو سکتا ہے اس دودھ کا ایسا ذائقہ ہے کہ قسم کھانے والے کو وہ پسند نہیں ہے بھئی۔ بخلاف اس کے کہ اگر کسی شخص نے قسم اٹھا لی کہ واللہ میں اس بچے سے یا جوان سے بات نہیں کروں گا اور پھر اس کے بعد جب وہ بوڑھا ہو گیا تو اس نے اس کے ساتھ بات کی، تو اس صورت میں فقہاء فرماتے ہیں یہ حانث ہو جائے گا، وجہ یہ کہ بچہ ہونا یا جوان ہونا یہ صفت ایسی ہے جو قسم کے لیے داعی بن سکتی ہے لیکن شریعت کے اندر کسی مسلمان سے تعلق توڑنے کو اور بات چیت نہ کرنے کو منع کیا گیا ہے یعنی شرعاً یہ صفت داعی نہیں ہے اور جب شرعاً داعی اس کو شمار نہیں کیا جاتا تو عادتاً بھی اس کو داعی شمار نہیں کیا جائے گا، حقیقت میں یہ داعی ہے لیکن عادتاً اس کو داعی شمار نہیں کیا جائے گا، اور یہ بھی یاد رکھنا یہ اس صورت میں ہے جب اس شخص نے کوئی نیت نہیں کی تھی، اس نے کہا تھا میں اس بچے سے بات نہیں کروں گا یا اس جوان سے بات نہیں کروں گا اور نیت نہیں کی اور پھر بوڑھا ہونے کے بعد بات کی تو حانث ہو جائے گا کیونکہ یہاں یہ صفت معتبر نہیں ہے بلکہ اس کی ذات مراد ہے اور ذات تو وہی ہے چاہے بوڑھا بھی ہو جائے بھئی۔ لیکن علماء اور فقہاء فرماتے ہیں یہ اس صورت میں ہے جب اس نے کوئی نیت نہیں کی تھی، اگر اس کی نیت اسی بچپنے کی حالت کی ہے کیونکہ بچہ جو ہے وہ کم عقل ہوتا ہے، یا اس کی نیت جو ہے اسی جوانی کی صفت کی ہے کیونکہ جوان جو ہے وہ بھی بعض اوقات ایسے افعال کرتا ہے جو کوئی زیادہ پسندیدہ نہیں ہوتے تو پھر اس صورت میں اس کی نیت معتبر ہو گی بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ وہ صورت ہے جب اس کی نیت نہ ہو بھئی۔
اور اسی طرح اگر کسی شخص نے قسم اٹھائی کہ واللہ اس بھیڑ کے بچے کا گوشت میں نہیں کھاؤں گا اور پھر وہ بھیڑ کا بچہ بڑا ہو گیا دنبہ بن گیا اب اس نے گوشت کھایا تو اس صورت میں بھی حانث ہو جائے گا، وجہ یہ کہ یہ جو صفت ہے یہ قسم کے لیے داعی نہیں بن سکتی، بھیڑ کا بچہ ہونا یہ تو زیادہ داعی ہے اس کے گوشت کے کھانے کا، اور یہ جب بھیڑ کے بچے کے گوشت کے کھانے سے رک رہا ہے تو معلوم ہوا یہ اس کے بڑے ہونے کے بعد اس کے گوشت کھانے سے بطریقِ اولیٰ رکے گا بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو لہٰذا یہاں بھی اس حیوان کی ذات ہی مراد ہو گی اور وہ جب بھی اس کا گوشت کھائے گا وہ حانث ہو جائے گا بھئی۔ اسی طرح ایک شخص نے کہ ایک شخص نے قسم کھائی کہ واللہ میں رطب یا بسر نہیں کھاؤں گا اور پھر اس نے بسرِ مزنب یا رطبِ مزنب کھا لی تو امام صاحب کے نزدیک یہ حانث ہو گیا کیونکہ بسرِ مزنب بسر بھی ہے اور رطب بھی ہے، اسی طرح رطبِ مزنب رطب بھی ہے اور بسر بھی ہے، جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ یہاں اکثر کا اعتبار ہے، اگر اس نے رطب کی قسم کھائی ہے اور بسرِ مزنب کھایا تو اس کا تو زیادہ حصہ بسر ہے لہٰذا یہ حانث نہیں ہو گا، اور اگر اس نے بسر کی قسم کھائی ہے اور رطبِ مزنب کھا لیا تو رطبِ مزنب کا زیادہ حصہ تو رطب ہے لہٰذا اس کے کھانے سے وہ حانث نہیں ہو گا۔ وہ فرماتے ہیں یہ اسی طرح ہے جیسے خریدنے کی قسم ہے، ایک آدمی کہتا ہے واللہ میں بسر نہیں خریدوں گا اور پھر اس نے رطب کا گچھا خریدا لیکن رطب کے گچھے میں کچھ بسر بھی تھیں لیکن رطب غالب ہیں اور بسر مغلوب ہیں تو اس کے اندر کچھ بسر بھی تھیں تو بھی یہ اس گچھے کو خریدنے سے بالاتفاق حانث نہیں ہو گا، تو اسی طرح کھانے کے اندر بھی غالب ہی کا اعتبار کیا جائے گا، جبکہ امام صاحب فرماتے ہیں کہ جب ایک شخص نے بسرِ مزنب کھائی تو اس نے بسر بھی کھا لی اور رطب بھی کھا لی اور یہ دونوں کھانے کے اعتبار سے مقصود ہوتی ہیں لہٰذا یہ حانث ہو جائے گا بھئی۔ لیکن اگر یہی مسئلہ خریدنے میں پیش آیا تو پھر وہ حانث نہیں ہو گا، وجہ یہ کہ خریدنے کا فعل سارے مجموعے پر اکٹھا ہی واقع ہوتا ہے، جس وقت آپ نے عقد کیا تو سارے ہی گچھے کا عقد کیا ہے تو اس میں غالب کا اعتبار کریں گے، لیکن کھاتے ہوئے تو آپ ایک ایک کھجور کھاتے ہیں تو وہاں پر ہر کھجور گویا الگ مقصود ہے، اس کا ہر جز الگ مقصود ہے بھئی۔
اور اسی طرح صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ کسی شخص نے قسم اٹھائی کہ واللہ وہ گوشت نہیں کھائے گا اور پھر اس نے مچھلی کا گوشت کھا لیا تو حانث نہیں ہو گا کیونکہ عرف کے اندر مچھلی پر گوشت کا اطلاق نہیں ہوتا اور نیز حقیقت کے اعتبار سے بھی وہ گوشت نہیں ہے کیونکہ گوشت تو خون سے بنتا ہے اور مچھلی کے اندر تو خون نہیں ہوتا کیونکہ وہ پانی میں رہتی ہے، پانی کے حیوانات میں خون نہیں ہوتا بھئی۔ لیکن اگر کسی عرف کے اندر مچھلی کے گوشت پر گوشت کا لفظ بولا جاتا ہے تو پھر اس عرف میں وہ مچھلی کھانے سے بھی حانث ہو جائے گا۔ اور اسی طرح اگر اس شخص نے قسم کھائی ہے کہ واللہ میں گوشت نہیں کھاؤں گا تو خنزیر یا انسان کا گوشت کھائے گا تو پھر حانث ہو جائے گا، متن میں یہ آیا، اس لیے کیونکہ خنزیر کا گوشت اور انسان کا گوشت بھی گوشت ہی ہے اگرچہ وہ حرام ہے، خنزیر کا گوشت نجس ہونے کی وجہ سے حرام ہے اور انسان کا گوشت معزز ہونے کی وجہ سے حرام ہے، لیکن بہرحال حرام یا حلال ہونے سے قسم کا تعلق نہیں ہے، قسم تو اس چیز کو جب کھائے گا اس فعل کو کرے گا تو حانث ہو جائے گا۔ لیکن میں نے آپ کو بتلایا کہ علماء فرماتے ہیں کہ صحیح قول یہ ہے کہ خنزیر یا انسان کا گوشت کھانے سے یہ حانث نہیں ہو گا کیونکہ قسم کا دارومدار عرف پر ہوتا ہے اور عرف کے اندر تو یہ کھائے نہیں جاتے لہٰذا یہ مراد بھی نہیں ہوں گے، یہ اسی طرح ہے جیسے یہ قسم کھائی کہ واللہ میں گوشت نہیں کھاؤں گا اور پھر اس نے کچا گوشت تھوڑا سا کھا لیا تو حانث نہیں ہو گا کیونکہ عرف کے اندر گوشت کو کچا نہیں کھایا جاتا۔
اور اسی طرح اگر اس شخص نے گوشت کے نہ کھانے کی قسم کھائی اور پھر اس نے کلیجی یا اوجھڑی کھا لی، تو کلیجی اور اوجھڑی جو ہے ان کو بھی بعض جگہ گوشت ہی شمار کیا جاتا ہے تو اس عرف کے مطابق وہ حانث ہو جائے گا، اور بعض عرفوں میں مثلاً جیسے برصغیر وغیرہ میں ہے یہ کلیجی اور اوجھڑی کو گوشت شمار نہیں کیا جاتا تو اس عرف میں پھر یہ حانث نہیں ہو گا اگر کلیجی یا اوجھڑی کو کھا لے۔ اور پھر اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے شحم کے بارے میں ذکر کیا، شحم چربی کو کہتے ہیں اور صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ چربی کی تین قسمیں ہیں: ایک چربی وہ ہے جو حیوان کے پیٹ پر ہوتی ہے وہ ساری چربی ہوتی ہے، اور ایک چربی وہ ہے جو کمر پر ہوتی ہے پشت پر ہوتی ہے اور وہ تھوڑی سی ہوتی ہے اس کے ساتھ زیادہ تر گوشت ہوتا ہے، اور تیسری چربی وہ ہے وہ جو دنبے کی بڑی سی دم ہوتی ہے چربی والی تو وہ تیسری قسم ہے چربی کی، لہٰذا ایک شخص نے قسم اٹھائی کہ واللہ میں چربی نہیں خریدوں گا یا میں چربی نہیں کھاؤں گا اور پھر اس صورت میں اس نے پیٹ کی چربی کھائی یا خریدی تو وہ حانث ہو جائے گا، اور اگر کمر کی چربی کھائی یا خریدی تو حانث نہیں ہو گا، یہ امام صاحب کے نزدیک ہے، جبکہ صاحبین کے نزدیک پیٹ کی چربی خریدے چاہے کمر کی چربی خریدے دونوں صورتوں میں حانث ہو جائے گا بھئی۔
اور اسی طرح اگر کسی شخص نے قسم اٹھائی کہ واللہ وہ اس گندم میں سے نہیں کھائے گا تو اس کا ایک حقیقی معنی ہے کہ میں یہ عینِ گندم نہیں کھاؤں گا اور ایک اس کا مجازی معنی ہے کہ میں اس گندم سے بنی ہوئی روٹی نہیں کھاؤں گا، تو امام صاحب فرماتے ہیں کہ جب حقیقی معنی استعمال ہوتا ہو تو پھر مجازی معنی کی طرف نہیں جائیں گے چاہے مجازی معنی مشہور ہی کیوں نہ ہو، متعارف ہی کیوں نہ ہو، مثلاً دیکھو عرف کے اندر دیکھو گندم کو ابال کر بھی کھایا جاتا ہے اور بھون کر بھی کھایا جاتا ہے اور اسی طرح گندم کو پیس کر اس سے روٹی بنا کر بھی اس کو استعمال کیا جاتا ہے لیکن زیادہ تر اس کو روٹی بنا کر کھایا جاتا ہے، تو اس قسم کا مجازی معنی کیا ہوا؟ اس نے کیا کہا ہے کہ واللہ میں یہ گندم نہیں کھاؤں گا تو اس کا مجازِ متعارف یہ ہے کہ میں اس گندم کی روٹی نہیں کھاؤں گا، لیکن حقیقی معنی بھی استعمال ہوتا ہے اگرچہ وہ قلیل ہے۔ تو امام صاحب کا ضابطہ یہ ہے کہ جب حقیقی معنی بھی مستعمل ہو اور اس کے ساتھ ایک مشہور مجازی معنی بھی ہو جس میں وہ چیز زیادہ استعمال ہوتی ہے تو اس صورت میں بھی حقیقی معنی اولیٰ ہے مجازی معنی کے مقابلے میں لہٰذا حقیقی معنی ہی مراد لیا جائے گا، تو یہ شخص عینِ اسی گندم کو بھون کر یا ابال کر اور پھر چبا کر کھائے گا تو حانث ہو گا، اگر اس گندم کی روٹی کھائے گا تو پھر حانث نہیں ہو گا کیونکہ وہ اس کا مجازی معنی ہے بھئی، اور ہم نے حقیقی معنی مراد لے لیا۔ جبکہ صاحبین کے نزدیک جب حقیقت بھی استعمال ہو رہی ہے اور مجاز بھی ہے اور مجاز زیادہ مشہور ہے حقیقت کے مقابلے میں تو پھر اس صورت کے اندر عمومِ مجاز پر عمل کیا جاتا ہے یعنی ایسا مجازی معنی مراد لے لیا جاتا ہے کہ حقیقت بھی اسی کے اندر داخل ہو جائے، تو اس شخص کے قسم کھانے کا مطلب یہ ہے کہ یہ گندم میں کسی صورت بھی نہیں کھاؤں گا چاہے اسی طرح دانوں کی صورت میں ہو چاہے روٹی کی صورت میں ہو، میں کسی طرح بھی اس گندم کو نہیں کھاؤں گا، تو اب وہ اس گندم کو چبا کر کھائے پھر بھی حانث ہو جائے گا اور اس کی روٹی کھائے تو پھر بھی حانث ہو جائے گا، تو صاحبین نے اس کو عمومِ مجاز پر محمول کیا بھئی۔
اور یہ اسی طرح ہے جیسے کوئی شخص قسم اٹھاتا ہے کہ واللہ میں فلاں کے گھر میں قدم نہیں رکھوں گا، اب قدم رکھنے کا ایک حقیقی معنی ہے اور ایک مجازی معنی ہے، حقیقی معنی یہ ہے کہ یہ ننگے پاؤں اس کے گھر کے اندر جا کر قدم رکھے، تو دیکھو یہ اس نے گھر کے اندر قدم رکھا ہے، اور مجازی معنی یہ ہے کہ جوتے پہن کر یا سواری کے ساتھ اس کے گھر میں وہ قدم رکھے بھئی۔ تو اب حقیقی معنی کیا؟ ننگے پاؤں قدم رکھنا، اور مجازی معنی کیا؟ جوتے پہن کر یا سواری کے ساتھ قدم رکھنا، تو یہاں پر اس صورت میں بالاتفاق عمومِ مجاز مراد ہو گا یعنی ایسا مجازی معنی مراد لیں گے کہ حقیقت بھی اسی کے اندر داخل ہو جائے اور وہ اس طرح کہ اس قدم رکھنے سے داخل ہونا مراد لیا جائے گا، تو اس شخص نے کہا واللہ میں فلاں کے گھر میں قدم نہیں رکھوں گا مطلب یہ ہے میں اس کے گھر میں داخل نہیں ہوں گا، اب داخل ہونا یہ تو مجازی معنی ہے لیکن یہ مجازی معنی عام ہے، اتنا عام ہے کہ حقیقی معنی بھی اس کے اندر داخل ہو گیا، اب یہ جس طریقے سے بھی اس کے گھر میں قدم رکھے چاہے ننگے پاؤں قدم رکھے چاہے جوتے کے ساتھ قدم رکھے چاہے سواری کے ساتھ قدم رکھے تمام صورتوں میں یہ حانث ہو جائے گا، اس کو کہتے ہیں عمومِ مجاز یعنی ایسا عام مجازی معنی مراد لے لینا کہ حقیقت بھی اسی کے اندر داخل ہو جائے۔ اور اسی طرح اگر کسی شخص نے قسم اٹھائی کہ واللہ میں یہ آٹا نہیں کھاؤں گا، اب یہ آٹا جو ہے اس کو تو روٹی بنا کر ہی استعمال کیا جاتا ہے اس کو ویسے نہیں کھایا جاتا تو لہٰذا یہاں پر بھی مجازی معنی ہی متعین ہو گیا تو اب یہ اس آٹے کی روٹی کھائے گا تو یہ شخص حانث ہو گا، اگر اسی آٹے کو اس نے سفوف کی طرح پھانک لیا تو حانث نہیں ہو گا کیونکہ مجازی معنی متعین ہو چکا ہے بھئی۔
اور پھر اسی طرح اگر کسی شخص نے قسم اٹھائی کہ واللہ میں روٹی نہیں کھاؤں گا تو اس شہر کے اس علاقے کے اندر جو معتاد روٹی ہے جو عادتاً لوگ کھاتے ہیں وہ مراد ہو گی اور اگر اس نے کوئی خاص قسم کی روٹی کھا لی جس کی لوگوں میں عام عادت نہیں ہے تو پھر حانث نہیں ہو گا، لیکن اگر اس کی نیت کرے تو نیت ٹھیک ہے کیونکہ وہ خاص روٹی بھی ہے تو روٹی ہی بھئی۔ پھر اسی طرح اگر کسی شخص نے قسم اٹھائی کہ واللہ وہ کوئی بھنی ہوئی چیز نہیں کھائے گا تو اس کو مطلق ذکر کیا ہے تو یہ محمول ہو گی گوشت پر، یہ بھنا ہوا گوشت کھائے گا تو حانث ہو جائے گا کوئی اور چیز بھنی ہوئی کھائے گا تو حانث نہیں ہو گا۔ اور اسی طرح اگر کسی شخص نے قسم اٹھائی کہ واللہ میں طبیخ نہیں کھاؤں گا تو طبیخ جو ہے وہ پکائی ہوئی چیز کو کہتے ہیں، جس چیز کو پکایا گیا ہو اس کو طبیخ کہتے ہیں، تو اس صورت کے اندر بھی اس کو استحساناً لحم پر محمول کیا جائے گا، قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ جو بھی پکی ہوئی چیز یہ کھائے اس کو حانث ہونا چاہیے لیکن تمام چیزوں کو تو قسم میں داخل کرنا ممکن نہیں ہے کیونکہ اس کا یہ ارادہ نہیں ہو سکتا بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ اس سے عرف میں پکا ہوا گوشت مراد لیا جاتا ہے تو پھر استحساناً قسم بھی اسی پر محمول ہو گی یعنی وہ گوشت جسے پانی کے ساتھ پکایا گیا ہو، تو اس گوشت کو یہ کھائے گا تو حانث ہو جائے گا، اور اگر یہ اس گوشت کے شوربے کو بھی استعمال کرے گا تو بھی حانث ہو جائے گا کیونکہ اس شوربے کے اندر اس سالن کے اندر بھی گوشت کے اجزاء ہوتے ہیں، گوشت کے اجزاء اس میں ملے ہوتے ہیں، گوشت کا ذائقہ اس کے اندر ملا ہوتا ہے۔ اور اگر اس نے اس طبیخ سے کوئی خاص چیز کی نیت کی تو پھر اس صورت میں گوشت کے ساتھ ساتھ وہ چیز بھی داخل ہو جائے گی کیونکہ وہ اپنے اوپر مزید سختی کر رہا ہے کہ اور چیزوں کو بھی ساتھ ملا رہا ہے بھئی۔
اسی طرح اگر کسی شخص نے قسم اٹھائی کہ واللہ میں سری نہیں کھاؤں گا تو اس صورت میں وہ سری مراد ہو گی جس کو اس شہر میں پکا کر بیچا جاتا ہے، جس کو اس شہر میں پکا کر عام کھایا جاتا ہے وہ مراد ہو گی، لہٰذا اگر یہ مرغی کی سری پکا کر کھا لیتا ہے تو پھر یہ حانث نہیں ہو گا بھئی۔ اور اسی طرح اگر کسی شخص نے قسم اٹھائی کہ واللہ میں فاکہہ نہیں کھاؤں گا تو فاکہہ وہ چیز جس کو بطورِ لذت کے کھانے سے پہلے یا کھانے کے بعد کھایا جاتا ہے، تو امام صاحب کے نزدیک یہ سیب یا خوبانی یا ناشپاتی وغیرہ یہ چیزیں کھانے سے تو حانث ہو جائے گا لیکن اگر اس نے انگور، انار یا تازہ کھجوریں کھائیں تو پھر حانث نہیں ہو گا، اس لیے کیونکہ ان کے اندر تفکہ کے معنی کی کمی ہے کیونکہ ان کو صرف بطورِ لذت کے ہی نہیں کھایا جاتا بلکہ بطورِ غذا کے یا بطورِ دوا کے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ کھجور جو ہے اس کو بھی بطورِ غذا کے کھایا جاتا ہے بعض اوقات صرف اسی کو کھا کر آدمی گزارا کر لیتا ہے روٹی کھاتا ہی نہیں، اسی طرح انگور جو ہے اس کو بھی خشک کر کے کشمش بنا لیتے ہیں بعض اوقات انسان اسی پر گزارا کر لیتا ہے روٹی کھاتا ہی نہیں ہے، اور نیز انار جو ہے اس کو کبھی کبھار خشک کر کے بطورِ دوا کے استعمال کیا جاتا ہے، تو لہٰذا امام صاحب فرماتے ہیں یہ چیزیں صرف فاکہہ کے طور پر استعمال نہیں ہوتیں بلکہ غذا یا دوا کے طور پر بھی استعمال ہوتی ہیں لہٰذا ان میں فاکہہ کے معنی کی کمی آ گئی، جب کمی آ گئی تو یہ اب اس قسم میں داخل نہیں تو ان کے کھانے سے یہ حانث نہیں ہو گا، جبکہ صاحبین فرماتے ہیں ان کے کھانے سے بھی یہ حانث ہو جائے گا کیونکہ یہ سب سے اعلیٰ پھل ہیں، ان میں اوروں سے زیادہ لذت ہے تو ان کے کھانے سے بھی حانث ہو جائے گا، بات سمجھ میں آ گئی۔
اب آئیے آج کے سبق پر۔ قَالَ: وَلَوْ حَلَفَ لَا يَأْتَدِمُ فَكُلُّ شَيْءٍ اصْطُبِغَ بِهِ إِدَامٌ، وَالشِّوَاءُ لَيْسَ بِإِدَامٍ، وَالْمِلْحُ إِدَامٌ، وَهَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُمَا اللَّهُ۔ بھئی صورتِ مسئلہ یہ: ایک شخص نے قسم اٹھائی کہ واللہ میں إدام نہیں کھاؤں گا۔ إدام إدام عربی زبان میں سالن کو کہتے ہیں، سالن اور شوربہ۔ تو ایک شخص نے قسم اٹھائی کہ واللہ میں إدام نہیں کھاؤں گا تو اب کیا چیز کھانے سے وہ حانث ہو گا اور کیا چیز کھانے سے وہ حانث نہیں ہو گا؟ تو آپ کو بتلائیں گے کہ بھئی إدام وہ چیز ہے کہ جس کے ساتھ روٹی لگا کر کھائی جاتی ہے، روٹی پر اس کا رنگ چڑھ جاتا ہے، دیکھو آپ سالن میں روٹی ڈبوتے ہیں تو اس کا رنگ روٹی پر لگ جاتا ہے، تو إدام وہ چیز ہے جس میں روٹی کو ڈبو کر کھایا جاتا ہے اور روٹی کو اس کا رنگ لگ جاتا ہے اور نیز اس سے کھانے کی لذت بڑھ جاتی ہے، اگر ویسے روٹی کھائے گا اس میں وہ لذت نہیں لیکن سالن کے ساتھ کھائے گا تو روٹی کی لذت بڑھ جائے گی۔ تو إدام عربی زبان میں اس چیز کو کہتے ہیں جسے روٹی کے ساتھ کھایا جاتا ہے، روٹی پر اس کا رنگ لگتا ہے اور اس کی وجہ سے کھانے کی لذت بڑھ جاتی ہے۔
اب ایک شخص ہے وہ گوشت کے ساتھ روٹی کھاتا ہے، گوشت ہے شوربہ سالن وغیرہ نہیں ہے صرف گوشت ہے، تو کیا یہ حانث ہو گا یا نہیں؟ یا اسی طرح ایک شخص انڈے کے ساتھ روٹی کھاتا ہے تو کیا یہ حانث ہو گا یا نہیں؟ تو امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ حانث ہو جائے گا کیونکہ یہ چیزیں روٹی کے تابع ہو گئیں اور ان کی وجہ سے کھانے کی لذت ہو گئی، لہٰذا جب یہ روٹی کے تابع ہو گئیں تو یہ إدام ہوا، جب یہ إدام ہوا تو اس کے کھانے سے وہ حانث ہو جائے گا۔ جبکہ جبکہ شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، یہ گوشت یا انڈا روٹی کے ساتھ کھانے سے حانث نہیں ہو گا۔ تو کہتے ہیں: قَالَ، امام محمد رحمہ اللہ جامع صغیر میں فرماتے ہیں: وَلَوْ حَلَفَ لَا يَأْتَدِمُ اگر ایک شخص نے قسم اٹھائی کہ وہ واللہ إدام نہیں کھائے گا فَكُلُّ شَيْءٍ اصْطُبِغَ بِهِ إِدَامٌ تو ہر ایسی چیز اصْطُبِغَ بِهِ کہ جس کے ساتھ روٹی کو رنگا جاتا ہے إِدَامٌ وہ إدام ہے، ہر وہ چیز جس کے ساتھ روٹی کو رنگا جاتا ہے یعنی روٹی پر اس کا رنگ لگ جاتا ہے فَكُلُّ شَيْءٍ اصْطُبِغَ بِهِ إِدَامٌ تو ہر ایسی چیز جس کے ساتھ روٹی کو رنگا جاتا ہے وہ إدام ہے، وَالشِّوَاءُ لَيْسَ بِإِدَامٍ اور بھنا ہوا گوشت جو ہے وہ إدام نہیں ہے۔ بھئی گزشتہ سبق میں آیا تھا شواء کا معنی ہے بھنی ہوئی چیز، لیکن اب اس کا اطلاق زیادہ تر بھنے ہوئے گوشت پر ہوتا ہے، تو یہاں بھی شواء سے کیا مراد ہے؟ بھنا ہوا گوشت۔ تو وہ کہتے ہیں: وَالشِّوَاءُ لَيْسَ بِإِدَامٍ اور بھنا ہوا گوشت إدام نہیں ہے، إدام نہیں ہے، وَالْمِلْحُ إِدَامٌ اور نمک جو ہے وہ إدام ہے۔ نمک جو ہے وہ إدام ہے۔
دیکھو ایک ہے بغیر نمک کے روٹی اور ایک ہے نمک کے ساتھ روٹی، بھئی آج کل تو اللہ کی اتنی نعمتیں ہو گئیں کہ طرح طرح کے کھانے آ گئے لیکن قدیم زمانے میں تو غربت کا زمانہ تھا حتیٰ کہ لوگ حتیٰ کہ لوگ نمک کے ساتھ بعض اوقات روٹی کھاتے تھے بھئی، آج بھی ہو سکتا ہے بعض جگہ ہو لیکن بہت ہی قلیل ہو گا لیکن قدیم زمانے میں تو یہ عام تھا بھئی، یہ سالن وغیرہ یا کوئی اور چیز ملنا یہ تو کسی کسی کو یہ چیزیں نصیب ہوتی تھیں، تو روٹی کو نمک کے ساتھ کھا لیتے تھے اور یاد رکھو یہ نمک بھی إدام ہے۔ آپ کو آگے چل کر بتائیں گے کہ إدام اس کو کہیں گے کہ جس کے ساتھ روٹی رنگی جائے اور جس کو اکیلا نہ کھایا جاتا ہو۔ اگر ایک چیز کو اکیلا کھایا جاتا ہے معلوم ہوا وہ روٹی کے تابع نہیں، کیونکہ سالن میں جب روٹی رنگی گئی، سالن میں روٹی کو ڈبویا تو روٹی کو سالن کا رنگ لگ گیا تو دیکھو سالن جو ہے وہ روٹی کے تابع ہو گیا۔ تو تابع ہونا دو طرح ہے: ایک ہے حقیقتاً تابع ہونا اور ایک ہے حکماً تابع ہونا۔ حقیقتاً تابع یہ ہے کہ وہ چیز روٹی کے ساتھ مل جائے، اس کا رنگ وغیرہ روٹی کو لگ جائے، تو یہ حقیقتاً روٹی کے تابع ہو گئی۔ اور حکماً تابع یہ ہے کہ اس چیز کو اکیلا نہ کھایا جاتا ہو، اگر اکیلا کھایا جاتا ہے معلوم ہوا حکم یہ لگایا جائے گا کہ یہ روٹی کے تابع نہیں ہے۔ تو حقیقتاً تابع کیا؟ کہ روٹی کے ساتھ مل جائے، روٹی کو اس کا رنگ لگ جائے، اور حکماً تابع کیا؟ کہ اکیلا نہ کھایا جاتا ہو، اگر اکیلا کھایا جاتا ہے پھر تو حکم لگایا جائے گا یہ روٹی کے تابع نہیں ہے۔ تو بھنا ہوا گوشت جو ہے وہ تو اکیلا بھی کھایا جاتا ہے، تو لہٰذا بھنے ہوئے گوشت کے ساتھ روٹی کھائے گا تو وہ روٹی کے حقیقت میں بھی تابع نہ بنا کیونکہ روٹی پر اس کا رنگ نہیں چڑھا، اور نیز وہ حکماً بھی روٹی کے تابع نہیں ہے کیونکہ اس کو اکیلا بھی کھایا جاتا ہے، تو لہٰذا امام صاحب کے نزدیک بھنے ہوئے گوشت کے ساتھ روٹی کھائے گا تو حانث نہیں ہو گا۔ لیکن نمک جو ہے یہ إدام ہے، آپ کہیں گے بھئی اس کا تو رنگ روٹی پر نہیں چڑھتا، تو جواب یہ کہ جب روٹی کے ساتھ نمک کو لگا کر آپ منہ میں چبائیں گے تو وہ لعاب کے ساتھ مل کر روٹی کو لگ جائے گا، روٹی کے وہ ساتھ مل گیا، روٹی کے ساتھ مل گیا دیکھو روٹی کے تابع ہو گیا، تو حقیقتاً یہ روٹی کے تابع ہوا، اور نیز یہ حکماً بھی روٹی کے تابع ہے کیونکہ خالی نمک کو نہیں کھایا جاتا بھئی، خالی نمک کو نہیں کھایا جاتا بھئی۔
تو کہتے ہیں: وَالشِّوَاءُ لَيْسَ بِإِدَامٍ وَالْمِلْحُ إِدَامٌ اور بھنا ہوا گوشت وہ إدام نہیں ہے اور نمک جو ہے وہ إدام ہے، وَهَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُمَا اللَّهُ اور یہ شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک ہے، وَقَالَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللَّهُ: كُلُّ مَا يُؤْكَلُ مَعَ الْخُبْزِ غَالِبًا فَهُوَ إِدَامٌ، امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہر ایسی چیز جس کو زیادہ تر روٹی کے ساتھ کھایا جاتا ہے فہو إدام تو وہ إدام ہے، وَهُوَ رِوَايَةٌ عَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ اور یہی ایک روایت امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے بھی ہے کہ جس چیز کو روٹی کے ساتھ زیادہ تر کھایا جاتا ہے وہ إدام ہے۔
لِأَنَّ الْإِدَامَ مِنَ الْمُؤَادَمَةِ وَهِيَ الْمُوَافَقَةُ، امام محمد رحمہ اللہ کی دلیل چل رہی ہے، کہتے ہیں: لِأَنَّ الْإِدَامَ مِنَ الْمُؤَادَمَةِ اس لیے کیونکہ إدام کا لفظ مؤادمہ سے ماخوذ ہے، إدام کا لفظ مؤادمہ سے مشتق ہے، وَهِيَ الْمُوَافَقَةُ اور مؤادمہ جو ہے موافقت کو کہتے ہیں کہ ایک چیز دوسری چیز کے موافق ہو جائے، ایک چیز دوسری چیز کے موافق ہو جائے۔ وَكُلُّ مَا يُؤْكَلُ مَعَ الْخُبْزِ مُوَافِقٌ لَهُ اور جو چیز بھی روٹی کے ساتھ کھائی جاتی ہے وہ روٹی کے ساتھ موافق ہے تو وہ إدام ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَكُلُّ مَا يُؤْكَلُ مَعَ الْخُبْزِ مُوَافِقٌ لَهُ اور جو چیز بھی روٹی کے ساتھ کھائی جاتی ہے وہ روٹی کے موافق ہے كَاللَّحْمِ وَالْبَيْضِ وَنَحْوِهِ جیسے کہ گوشت ہے اور انڈا ہے ونحوہ اور اس جیسی چیزیں ہیں، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں إدام مؤادمہ سے ہے یعنی إدام مؤادمہ سے مشتق ہے۔ اس پر آپ کے ذہن میں اشکال آئے گا کہ مؤادمہ یہ تو بابِ مفاعلہ ہے اور یہ تو ثلاثی مزید فیہ ہے، ثلاثی مزید فیہ ہے اور مجرد جو ہے وہ تو ثلاثی مزید فیہ سے مشتق نہیں ہوتا بھئی بلکہ ثلاثی مزید فیہ مجرد سے مشتق ہوتا ہے، ثلاثی مجرد سے کیا بنتا ہے؟ ثلاثی مزید فیہ، توجہ ہے؟ تو لہٰذا یہ کہنا کہ إدام مؤادمہ سے مشتق ہے یہ تو بات صحیح نہیں، تو جواب یہ کہ نہیں، بعض اوقات ثلاثی مزید فیہ جو ہے وہ مجرد کے مقابلے میں زیادہ مشہور ہوتا ہے تو اس موقع پر اسی طرح کہا جاتا ہے کہ یہ اس باب سے مشتق ہے، یہ ثلاثی مزید فیہ سے مشتق ہے بھئی۔
آگے دیکھیے: وَلَهُمَا اور شیخین رحمہما اللہ کی دلیل یہ ہے: أَنَّ الْإِدَامَ مَا يُؤْكَلُ تَبَعًا وَالتَّبَعِيَّةُ فِي الِاخْتِلَاطِ حَقِيقَةً، شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں: أَنَّ الْإِدَامَ مَا يُؤْكَلُ تَبَعًا، تَبَعًا میں تا پر بھی زبر پڑھیں اور با پر بھی: تَبَعًا۔ تبع بمعنیٰ تابع کے ہے بھئی، اور یہ مفرد کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے اور جمع کے لیے بھی۔ شیخین رحمہما اللہ کی دلیل یہ ہے کہ إدام وہ ہے جس کو تابع کر کے کھایا جائے، وَالتَّبَعِيَّةُ فِي الِاخْتِلَاطِ حَقِيقَةً اور تابع ہونا یہ مل جانے میں ہے حقیقت کے اعتبار سے۔ تابع ہونا حقیقت میں کسے کہتے ہیں؟ جو ایک چیز کے ساتھ مل جائے، جیسے آپ نے روٹی کو سالن میں ڈبویا تو سالن کا رنگ روٹی پر لگ گیا تو سالن روٹی کے ساتھ مل گیا، اس کو کہتے ہیں حقیقتاً تابع ہونا، یہ سالن حقیقتاً روٹی کے تابع ہو گیا ہے اس کے ساتھ مل گیا ہے۔ تو اختلاط کا کیا معنی؟ مل جانا۔ تو یہ معنی ہے: وَالتَّبَعِيَّةُ فِي الِاخْتِلَاطِ حَقِيقَةً اور تابع ہونا مل جانے میں ہوتا ہے حقیقت کے اعتبار سے، لِيَكُونَ قَائِمًا بِهِ تاکہ یہ اس کے ساتھ قائم ہو جائے یعنی اس کی صفت بن جائے، روٹی جب اس کے ساتھ رنگی گئی تو سالن روٹی کی صفت بن گیا۔ تو کہتے ہیں: لِيَكُونَ قَائِمًا بِهِ تاکہ یہ إدام اس روٹی کے ساتھ قائم ہو جائے، وَفِي أَنْ لَا يُؤْكَلَ عَلَى الِانْفِرَادِ حُكْمًا اور تابع ہونا ایک تو تابع ہونا حقیقتاً ہے وہ کس چیز میں ہے؟ اختلاط میں ہے، مل جانے میں ہے، اور ایک حکماً تابع ہونا ہے اور وہ وہ اس میں ہے کہ اس کو اکیلا نہ کھایا جاتا ہو۔ وَفِي أَنْ لَا يُؤْكَلَ عَلَى الِانْفِرَادِ حُكْمًا اور تابع ہونا اس بات میں ہے کہ ان لا یوکل علی الانفراد کہ اس چیز کو الگ یعنی علیحدہ نہ کھایا جاتا ہو۔
اور فی ان لا یوکل علی الانفراد حکما، حکم کے اعتبار سے۔ یہ ہے تابع ہونا حکم کے اعتبار سے، ایک تابع ہونا ہے حقیقت کے اعتبار سے اور وہ کس میں ہے؟ مل جانے میں، اور ایک تابع ہونا ہے حکم کے اعتبار سے اور وہ اس میں ہے کہ اس چیز کو اکیلا، علیحدہ نہ کھایا جاتا ہو۔ تو کہتے ہیں: وَفِي أَنْ لَا يُؤْكَلَ عَلَى الِانْفِرَادِ حُكْمًا اور تابع ہونا جو ہے حکم کے اعتبار سے اس چیز میں ہے کہ اس چیز کو علیحدہ نہ کھایا جاتا ہو یعنی یہ حکم کے اعتبار سے تابع ہونا ہے۔
وَتَمَامُ الْمُوَافَقَةِ فِي الِامْتِزَاجِ أَيْضًا، امام محمد رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ ادام موادمت سے ہے اور موادمت کا معنی موافقت ہے تو جو چیز بھی روٹی کے ساتھ کھائی جائے گی وہ روٹی کے موافق ہو گئی تو وہ ادام ہے۔ اس کا جواب دے رہے ہیں: وَتَمَامُ الْمُوَافَقَةِ فِي الِامْتِزَاجِ أَيْضًا، اور جب سالن روٹی کے ساتھ لگ جاتا ہے تو وہ اس کی روٹی کے ساتھ پوری موافقت آ جاتی ہے۔ آپ نے بھی کہا کہ ادام کس سے ہے؟ موادمت سے ہے اور وہ ہے موافق ہونا، اور گوشت کو روٹی کے ساتھ کھایا جاتا ہے تو روٹی کے موافق ہے، ہم کہتے ہیں کامل طور پر موافقت مل جانے میں ہے۔ کامل موافقت روٹی کے ساتھ کھانے میں نہیں ہے بلکہ روٹی کے ساتھ مل جانا ہے، سالن روٹی کے ساتھ مل جائے تو اس میں کامل موافقت آ گئی۔ تو کہتے ہیں: وَتَمَامُ الْمُوَافَقَةِ فِي الِامْتِزَاجِ أَيْضًا اور پوری موافقت جو ہے مل جانے میں بھی ہے۔
وَالْخَلُّ وَغَيْرُهُ مِنَ الْمَائِعَاتِ لَا يُؤْكَلُ وَحْدَهَا، اور سرکہ جو ہے اور اس کے علاوہ اور جو بہنے والی چیزیں ہیں، مائع کہتے ہیں بہنے والی چیز کو، کہتے ہیں سرکہ اور اس کے علاوہ اور جو بہنے والی چیزیں ہیں یعنی شوربہ وغیرہ لَا يُؤْكَلُ وَحْدَهَا ان کو اکیلا نہیں کھایا جاتا، علیحدہ نہیں کھایا جاتا، بَلْ يُشْرَبُ بلکہ ان کو پیا جاتا ہے، وَالْمِلْحُ لَا يُؤْكَلُ بِانْفِرَادِهِ عَادَةً اور نمک جو ہے اس کو عادۃً اکیلا نہیں کھایا جاتا، وَلِأَنَّهُ يَذُوبُ اور اس لیے کیونکہ نمک جو ہے وہ پگھل جاتا ہے فَيَكُونُ تَبَعًا تو یہ تابع ہو گا بھئی۔ بِخِلَافِ اللَّحْمِ وَمَا يُضَاهِيهِ بخلاف گوشت کے اور جو اس کے مشابہ اور چیزیں ہیں یعنی انڈا، پنیر وغیرہ، لِأَنَّهُ يُؤْكَلُ وَحْدَهُ اس لیے کیونکہ ان کو اکیلا بھی کھایا جاتا ہے، إِلَّا أَنْ يَنْوِيَهُ مگر یہ کہ ان کی وہ نیت کر لے۔ اس آدمی نے کہا واللہ میں ادام نہیں کھاؤں گا تو شیخین رحمہما اللہ کے مذہب کے مطابق گوشت اور انڈا اس میں داخل نہیں، لیکن اگر وہ گوشت اور انڈے کی نیت بھی کر لیتا ہے یا دونوں میں سے ایک کی نیت کر لیتا ہے تو وہ اپنے اوپر سختی کو بڑھا رہا ہے، پہلے اس کو صرف شوربے، سرکے وغیرہ سے بچنا ضروری تھا اب اس کو گوشت اور انڈے سے بھی بچنا پڑے گا ورنہ حانث ہو جائے گا، تو یہ اپنے اوپر سختی کر رہا ہے تو اس صورت میں اس کی تصدیق کی جائے گی۔
تو کہتے ہیں: بِخِلَافِ اللَّحْمِ وَمَا يُضَاهِيهِ لِأَنَّهُ يُؤْكَلُ وَحْدَهُ بخلاف گوشت اور اس کے مشابہ چیزیں کیونکہ ان کو اکیلا کھایا جاتا ہے، إِلَّا أَنْ يَنْوِيَهُ مگر یہ کہ یہ اس کی نیت کر لے، لِمَا فِيهِ مِنَ التَّشْدِيدِ اس لیے کیونکہ اس کے اندر سختی کرنا ہے یعنی اپنے اوپر قسم کے معاملے میں سختی کر رہا ہے، اب ان سب چیزوں سے پھر بچنا پڑے گا کیونکہ اس نے ان کی نیت کی ہے۔
وَالْعِنَبُ وَالْبِطِّيخُ لَيْسَا بِإِدَامٍ، اور انگور اور بطیخ جو ہیں، میں نے بتایا تھا بطیخ تربوز اور خربوزے دونوں کو کہتے ہیں عربی زبان میں، تو کہتے ہیں: وَالْعِنَبُ وَالْبِطِّيخُ لَيْسَا بِإِدَامٍ اور انگور اور تربوز اور خربوزہ جو ہیں لَيْسَا بِإِدَامٍ یہ دونوں ادام نہیں ہیں کیونکہ ان کو اکیلا کھایا جاتا ہے، هُوَ الصَّحِيحُ یہی قول صحیح ہے بھئی۔
آگے دیکھیے: وَإِذَا حَلَفَ لَا يَتَغَدَّى فَالْغَدَاءُ الْأَكْلُ مِنْ طُلُوعِ الْفَجْرِ إِلَى الظُّهْرِ وَالْعَشَاءُ مِنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ۔ صورتِ مسئلہ یہ: ایک شخص نے قسم کھا لی کہ واللہ میں غداء نہیں کھاؤں گا یا واللہ میں عشاء نہیں کھاؤں گا یا واللہ میں سحور نہیں کھاؤں گا، تو پھر کس صورت میں یہ حانث ہو گا؟ تو صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ غداء جو ہے وہ کھانا ہے جو طلوعِ فجر سے لے کر ظہر کے بیچ میں کسی وقت کھایا جائے۔ ویسے تو عرب کی عادت یہ تھی کہ دوپہر سے پہلے پہلے وہ کھانا کھا لیتے تھے آٹھ نو بجے تک دس بجے تک بھئی، لیکن غداء عربی زبان میں اس کھانے کو کہتے ہیں جو طلوعِ فجر سے لے کر ظہر تک کے وقت کے بیچ میں کھایا جائے، اس کو غداء کہتے ہیں، تو اس وقت میں اگر یہ کوئی کھانا کھا لے گا تو یہ حانث ہو جائے گا۔ اور اگر ایک شخص نے قسم کھائی کہ واللہ میں عشاء نہیں کھاؤں گا، عشاء عین کے فتحہ کے ساتھ، ایک ہے عِشاء عین کے کسرہ کے ساتھ وہ وقت کو کہتے ہیں، اور عشاء عین کے فتحہ کے ساتھ یہ کھانے کو کہتے ہیں، تو عشاء وہ کھانا ہے جو ظہر سے لے کر نصف اللیل تک کھایا جائے، ظہر کے وقت سے لے کر آدھی رات تک جو کھانا کھایا جائے اس وقت کے دوران میں کسی بھی وقت اس کو عشاء کہتے ہیں، تو یہ اس وقت کوئی کھانا کھا لے گا تو حانث ہو جائے گا۔ اور اسی طرح اگر ایک شخص نے کہا واللہ میں سحور نہیں کھاؤں گا، سحور بھئی یہ وہی ہے یہ جس کو اردو میں ہم سحری کہتے ہیں کہ میں سحری نہیں کھاؤں گا، روزہ رکھنے کے لیے سحری کھائی جاتی ہے۔ تو ایک شخص کہتا ہے واللہ میں سحور نہیں کھاؤں گا تو کہتے ہیں سحور وہ ہے جو نصف اللیل سے لے کر طلوعِ فجر تک کھایا جائے، یعنی طلوعِ فجر سے پہلے پہلے نصف اللیل سے لے کر طلوعِ فجر تک جو کھانا کھایا جائے اس کو سحور کہتے ہیں، تو اس وقت میں اگر اس نے کوئی کھانا کھا لیا تو یہ حانث ہو جائے گا، بات سمجھ میں آ گئی۔
کہتے ہیں: وَإِذَا حَلَفَ لَا يَتَغَدَّى اور اگر ایک شخص نے قسم اٹھا لی کہ وہ غداء نہیں کرے گا، فَالْغَدَاءُ الْأَكْلُ مِنْ طُلُوعِ الْفَجْرِ إِلَى الظُّهْرِ تو غداء جو ہے وہ کھانا ہے طلوعِ فجر سے لے کر ظہر تک، وَالْعَشَاءُ مِنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ اور عشاء جو ہے صلاۃِ ظہر سے لے کر نصف اللیل تک ہے، یہ کھانا عشاء کہلاتا ہے، لِأَنَّ مَا بَعْدَ الزَّوَالِ يُسَمَّى عِشَاءً، وجہ ذکر کر رہے ہیں کہ آپ نے کہا عشاء وہ کھانا ہے جو ظہر سے لے کر نصف اللیل تک کھایا جاتا ہے اس کی کیا دلیل ہے؟ اب اس کی دلیل ذکر کر رہے ہیں: کہتے ہیں لِأَنَّ مَا بَعْدَ الزَّوَالِ يُسَمَّى عِشَاءً اس لیے کیونکہ زوال کے بعد کا جو وقت ہے يُسَمَّى عِشَاءً اس کو عربی زبان میں عشاء کہتے ہیں، وَلِهَذَا يُسَمَّى الظُّهْرُ إِحْدَى صَلَاتَيِ الْعِشَاءِ فِي الْحَدِيثِ اور اسی وجہ سے ظہر کو جو ہے عشاء کی دو نمازوں میں سے ایک نماز قرار دیا گیا ہے فِي الْحَدِيثِ حدیث میں۔ بھئی حدیث میں آتا ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور علیہ السلام نے ہمیں عشاء کی دو نمازوں میں سے ایک پڑھائی، عشاء کی دو نمازوں میں سے ایک نماز پڑھائی یعنی ظہر یا عشاء کی، ظہر کی بھی چار رکعت ہے عشاء کی بھی چار رکعت، تو حضور علیہ السلام نے عشاء کی دو نمازوں میں سے ایک نماز ہمیں پڑھائی یعنی یا تو ظہر پڑھائی یا عشاء پڑھائی اور حضور علیہ السلام نے بھول کر دو رکعتوں پر ہی سلام پھیر دیا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ حدیث میں مشہور واقعہ ذکر ہوتا ہے کہ پھر صحابہ نے بعض نے کہا یا رسول اللہ کیا نماز مختصر کر دی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ تو حضور نے فرمایا ان میں سے کوئی بات نہیں ہے، پھر دوسرے صحابہ نے بتلایا کہ آپ نے دو رکعت پر سلام پھیرا ہے تو حضور کھڑے ہوئے اور نماز مکمل کروائی بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔ اور یہ وہ زمانہ تھا جب ابھی نماز کے اندر کلام کی ممانعت کا حکم نہیں آیا تھا، اب اگر نماز میں کوئی کلام کرے گا تو اب اس کی نماز ہی ٹوٹ جائے گی بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَلِهَذَا يُسَمَّى الظُّهْرُ إِحْدَى صَلَاتَيِ الْعِشَاءِ فِي الْحَدِيثِ اور اسی وجہ سے ظہر کو کہا گیا ہے عشاء کی دو نمازوں میں سے ایک نماز حدیث کے اندر، وَالسَّحُورُ مِنْ نِصْفِ اللَّيْلِ إِلَى طُلُوعِ الْفَجْرِ اور سحور جو ہے وہ نصف اللیل سے لے کر طلوعِ فجر تک ہوتا ہے، لِأَنَّهُ مَأْخُوذٌ مِنَ السَّحَرِ اس لیے کیونکہ سحور جو ہے سحر سے ماخوذ ہے، وَيُطْلَقُ عَلَى مَا يَقْرُبُ مِنْهُ اور سحور کا اطلاق ہوتا ہے جو اس سحر کے قریب ہو، سحر بھی یہی وقت ہے نصف اللیل کے بعد سے لے کر طلوعِ فجر کا جو وقت ہے یہ سحر ہے، تو اس میں یا اس کے قریب جو کھانا کھایا جائے وہ سحور ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَيُطْلَقُ عَلَى مَا يَقْرُبُ مِنْهُ اور سحور کا اطلاق ہوتا ہے اس چیز پر جو اس سحر کے قریب ہو، ثُمَّ الْغَدَاءُ وَالْعَشَاءُ مَا يُقْصَدُ بِهِ الشِّبَعُ عَادَةً، شِبَعٌ بھئی، شَبِعَ يَشْبَعُ شِبَعًا، شِبَعٌ کا معنی ہے سیر ہو جانا، پیٹ کا بھر جانا۔
بھئی یاد رکھو غداء اور عشاء وہ کھانا ہے جس سے انسان پیٹ بھر لیتا ہے، خوب سیر ہو جاتا ہے، تو غداء اور عشاء اس کھانے میں سیر ہوا جاتا ہے، لہذا اگر کسی نے ایک دو لقمے کھا لیے یا تین لقمے کھا لیے تو اس صورت میں یہ حانث نہیں ہو گا کیونکہ دو تین لقمے کھانے کو غداء یا عشاء نہیں کہتے، حتیٰ کہ اگر کوئی دو تین لقمے کھا بھی لے پھر بھی کسی دوسرے کو کہتا ہے میں نے اج غداء نہیں کیا یا اج میں نے عشاء نہیں کیا بھئی۔ کہتے ہیں: ثُمَّ الْغَدَاءُ وَالْعَشَاءُ مَا يُقْصَدُ بِهِ الشِّبَعُ عَادَةً کہ پھر غداء اور عشاء وہ کھانا ہے جس کے ذریعے پیٹ بھرنے کا ارادہ کیا جائے عادۃً عام طور پر، وَيُعْتَبَرُ عَادَةُ أَهْلِ كُلِّ بَلْدَةٍ فِي حَقِّهِمْ اور اعتبار کیا جائے گا ہر شہر والوں کی عادت کا ان کے حق میں۔ اعتبار کیا جائے گا ہر شہر والوں کی عادت کا ان کے حق میں، مثلاً ایک آدمی نے کہا واللہ میں عشاء نہیں کھاؤں گا، اور اس شہر میں اور اس علاقے میں رواج ہے کہ عشاء کے اندر گوشت کھایا جاتا ہے تو اب یہ گوشت کھانے سے ہی حانث ہو گا، اگر اس نے روٹی کھا لی تو حانث نہیں، یا ایک شہر میں رواج ہے کہ غداء میں دودھ پیا جاتا ہے تو پھر دودھ پینے سے ہی یہ حانث ہو گا اگر کوئی اور چیز کھائے گا تو حانث نہیں ہو گا بھئی، تو اس میں عرف کو بھی دیکھا جائے گا۔ تو یہ معنی ہے: وَيُعْتَبَرُ عَادَةُ أَهْلِ كُلِّ بَلْدَةٍ فِي حَقِّهِمْ اور معتبر ہے ہر شہر والوں کی عادت ان کے حق میں، وَيُشْتَرَطُ أَنْ يَكُونَ أَكْثَرَ مِنْ نِصْفِ الشِّبَعِ اور شرط یہ ہے کہ غداء اور عشاء نصف شبع سے بڑھ کر ہوں، نصف پیٹ بھرنے سے بڑھ کر ہوں کیونکہ اس سے کم کھائے گا تو اس کو غداء یا عشاء نہیں کہتے بھئی، دو چار لقمے کوئی کھا بھی لے تو کہتا ہے میں نے غداء نہیں کھایا بھئی۔ تو یہ معنی ہے: وَيُشْتَرَطُ أَنْ يَكُونَ أَكْثَرَ مِنْ نِصْفِ الشِّبَعِ اور غداء اور عشاء کے اندر شرط ہے کہ وہ نصف پیٹ بھرنے سے زیادہ ہو، نصف سیر ہونے سے زیادہ ہو۔
وَمَنْ قَالَ: إِنْ لَبِسْتُ أَوْ أَكَلْتُ أَوْ شَرِبْتُ فَعَبْدِي حُرٌّ، وَقَالَ: عَنَيْتُ شَيْئًا دُونَ شَيْءٍ لَمْ يُدَيَّنْ فِي الْقَضَاءِ وَغَيْرِهِ۔ صورتِ مسئلہ یہ: ایک آدمی نے قسم اٹھائی کہ إِنْ لَبِسْتُ اگر میں نے پہنا تو میرا غلام آزاد ہے، مفعول کو ذکر ہی نہیں کیا سرے سے، إِنْ لَبِسْتُ اگر میں نے پہنا تو میرا غلام آزاد ہے، کہنا تو کیا چاہیے تھا؟ إِنْ لَبِسْتُ ثَوْبًا اگر میں نے کوئی کپڑا پہنا تو میرا غلام آزاد ہے، لیکن اس نے مفعول کو حذف کر دیا ذکر ہی نہیں کیا۔ یا اسی طرح کہا: إِنْ أَكَلْتُ فَعَبْدِي حُرٌّ اگر میں نے کھایا تو میرا غلام آزاد ہے، مفعول کو ذکر ہی نہیں کیا، کہنا تو یہ چاہیے تھا: إِنْ أَكَلْتُ طَعَامًا فَعَبْدِي حُرٌّ یا اسی طرح کوئی اور مفعول ذکر کرتا لیکن اس نے کوئی مفعول ذکر نہیں کیا، یا اسی طرح کہتا ہے: إِنْ شَرِبْتُ، إِنْ شَرِبْتُ فَعَبْدِي حُرٌّ اگر میں نے کوئی چیز پی تو میرا غلام آزاد ہے، تو دیکھو مفعول کو ذکر نہیں کیا۔ اور پھر قسم کھانے کے بعد کہتا ہے کہ بھئی میں نے تو فلاں کپڑے کی نیت کی تھی یا میں نے فلاں کھانے کی نیت کی تھی یا میں نے فلاں مشروب کی نیت کی تھی، تو کہتے ہیں نہ اس کی قضاءً تصدیق کی جائے گی نہ دیانۃً۔ یعنی اس کا اور اللہ کا معاملہ ہے اگر وہ یہ بیان کرے بھی تو تصدیق نہیں کریں گے اور اگر قاضی کے پاس بھی یہ چلا جائے تو قاضی بھی اس کی تصدیق نہیں کرے گا۔ وجہ کیا؟ کہتے ہیں وجہ یہ کہ اس نے مفعول ذکر ہی نہیں کیا، اگر مفعول ذکر کرتا تو پھر تخصیص ہو سکتی تھی، اگر وہ ثوب ذکر کرتا اور ثوب تو دنیا کے ہر کپڑے کو کہتے ہیں لیکن ذکر تو کر دیا اس نے، تو کوئی خاص کپڑے کی نیت کرنا بھی صحیح تھا کیونکہ وہ بھی تو ثوب ہی ہے بھئی، تو عام کے اندر خاص کی نیت کی جا سکتی ہے، ثوب کا لفظ کیا ہے؟ عام، ہر کپڑے پر بولا جاتا ہے لیکن اس سے وہ ایک خاص کپڑے کی نیت کر لیتا ہے تو یہ نیت صحیح ہے کیونکہ وہ خاص بھی تو کپڑا ہی ہے بھئی، تو عام کے اندر خاص کی نیت صحیح ہے۔ لیکن اس نے تو مفعول ذکر ہی نہیں کیا تو مفعول جو یہاں ثابت ہو رہا ہے وہ مقتضاء کے طور پر، کلام اس کا تقاضا کر رہا ہے اور مقتضیٰ جو ثابت ہوتا ہے یاد رکھو وہ ضرورت کے بقدر ثابت ہوتا ہے اس میں عموم نہیں ہوتا، مقتضیٰ جو ثابت ہوتا ہے وہ ضرورت کے بقدر ثابت ہوتا ہے۔ تو یہاں إِنْ لَبِسْتُ اگر میں نے پہنا اس نے تو مفعول ذکر نہیں کیا تو مفعول ماننا تو پڑے گا لیکن یہ مفعول ہم نے اقتضاءً مانا ہے، اس کے بغیر تو اس کا کلام صحیح ہی نہیں ہوتا تھا، تو جو مقتضیٰ ہوتا ہے اس میں عموم نہیں ہوتا اور وہ ضرورت کی وجہ سے ہم نے ثابت کیا ہے اور آپ نے پڑھا ہے: اَلضَّرُورِيُّ يُتَقَدَّرُ بِقَدْرِ الضَّرُورَةِ کہ جو چیز ضرورۃً ثابت ہو وہ ضرورت کے بقدر ہی ثابت ہوتی ہے، لہذا اس کی تخصیص کی نیت صحیح نہیں۔ لہذا اس کی تخصیص کی نیت صحیح نہیں، یہ اس صورت میں جب اس نے مفعول کو سرے سے ذکر ہی نہیں کیا۔ اور اگر وہ مفعول ذکر کر دیتا ہے: إِنْ لَبِسْتُ ثَوْبًا یا إِنْ أَكَلْتُ طَعَامًا یا إِنْ شَرِبْتُ شَرَابًا، تو پھر اب اس میں وہ کسی خاص کی نیت کرنا چاہے تو پھر اس کی نیت صحیح ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: وَمَنْ قَالَ إِنْ لَبِسْتُ أَوْ أَكَلْتُ أَوْ شَرِبْتُ فَعَبْدِي حُرٌّ اور جس شخص نے کہا اگر میں نے پہنا یا میں نے کھایا یا میں نے پیا تو میرا غلام آزاد ہے، وَقَالَ عَنَيْتُ شَيْئًا دُونَ شَيْءٍ اور وہ کہتا ہے کہ میں نے ایک چیز کا ارادہ کیا ہے نہ کہ دوسری چیز کا، لَمْ يُدَيَّنْ فِي الْقَضَاءِ وَغَيْرِهِ تو اس کی تصدیق نہیں کی جائے گی نہ تو قضاء کے اندر اور نہ غیرِ قضاء میں یعنی دیانۃً بھی اس کی تصدیق نہیں کی جائے گی، لِأَنَّ النِّيَّةَ إِنَّمَا تَصِحُّ فِي الْمَلْفُوظِ اس لیے کیونکہ نیت جو ہے وہ ملفوظ میں صحیح ہوتی ہے اور یہاں تو مفعول ملفوظ ہی نہیں ہے۔ کہتے ہیں: لِأَنَّ النِّيَّةَ إِنَّمَا تَصِحُّ فِي الْمَلْفُوظِ اس لیے کیونکہ نیت جو ہے ملفوظ میں صحیح ہوتی ہے، وَالثَّوْبُ وَمَا يُضَاهِيهِ غَيْرُ مَذْكُورٍ تَنْصِيصًا اور کپڑا اور جو اس کے مشابہ چیزیں ہیں غیر مذکور وہ مذکور نہیں ہیں تنصیصاً صراحت کرتے ہوئے، تنصیص بھئی ص کے ساتھ ہے، نَصَّ يَنُصُّ تَنْصِيصًا کا معنی ہے کسی چیز کی تصریح کرنا، صراحت کرنا، اور کپڑا وغیرہ تو یہاں بطورِ صراحت کے مذکور نہیں ہیں، تو یہ چیزیں مذکور نہیں ہیں البتہ اقتضاءً یہ چیزیں ثابت ہوں گی، وَالْمُقْتَضَى لَا عُمُومَ لَهُ اور مقتضیٰ جو ہوتا ہے اس میں عموم نہیں ہوتا فَلَغَتْ نِيَّةُ التَّخْصِيصِ فِيهِ لہذا اس کے اندر اس کی تخصیص کی نیت لغو ہو گی اس کا اعتبار نہیں ہو گا، جو بھی یہ کپڑا پہن لے، جو بھی مشروب یہ پی لے یا جو بھی کھانا یہ کھا لے یہ حانث ہو جائے گا بھئی۔ تو یہ معنی ہے: فَلَغَتْ نِيَّةُ التَّخْصِيصِ فِيهِ تو اس کے اندر تخصیص کی نیت لغو ہے یعنی اس کا کوئی اعتبار نہیں، وَإِنْ قَالَ إِنْ لَبِسْتُ ثَوْبًا أَوْ أَكَلْتُ طَعَامًا أَوْ شَرِبْتُ شَرَابًا لَمْ يُدَيَّنْ فِي الْقَضَاءِ خَاصَّةً، ہاں اس کے بجائے اگر اس نے مفعول ذکر کر دیا: إِنْ لَبِسْتُ ثَوْبًا یا إِنْ أَكَلْتُ طَعَامًا یا إِنْ شَرِبْتُ شَرَابًا، تو پھر اس صورت میں وہ کہتا ہے میں نے تو فلاں چیز کی نیت کی تھی تو پھر اس کی تصدیق کی جائے گی لیکن دیانۃً، قضاءً نہیں، قضاءً نہیں، دیانۃً تصدیق کریں گے لیکن قضاءً نہیں۔ وجہ یہ کہ دلوں میں بدگمانی اتی ہے یہ اپنے لیے آسانی طلب کر رہا ہے، اس نے تو کہا ہے: إِنْ لَبِسْتُ ثَوْبًا کہ میں نے جو بھی کپڑا پہنا تو میرا غلام آزاد ہے، تو اب یہ اپنے لیے آسانی چاہتا ہے کہ صرف فلاں کپڑا پہنوں گا تو حانث ہوں گا کوئی اور پہنوں گا تو حانث نہیں ہوں گا، یہ اپنے لیے نرمی چاہتا ہے لہذا قضاءً اس کی تصدیق نہیں کی جائے گی۔
وَإِنْ قَالَ إِنْ لَبِسْتُ ثَوْبًا أَوْ أَكَلْتُ طَعَامًا أَوْ شَرِبْتُ شَرَابًا اور اگر اس نے کہا کہ اگر میں نے کوئی کپڑا پہنا یا اگر میں نے کوئی کھانا کھایا یا میں نے کوئی مشروب پیا، لَمْ يُدَيَّنْ فِي الْقَضَاءِ خَاصَّةً تو خاص طور پر قضاءً اس کی تصدیق نہیں کی جائے گی یعنی دیانۃً تصدیق کی جائے گی۔ بھئی کیوں قضاءً کیوں نہیں تصدیق کریں گے؟ کہتے ہیں: لِأَنَّهُ نَكِرَةٌ فِي مَحَلِّ الشَّرْطِ فَتَعُمُّ اس لیے کیونکہ یہ نکرہ ہے جو شرط کے محل میں آیا ہے فَتَعُمُّ تو یہ عام ہو گا۔ بھئی آپ پڑھ چکے ہیں: نکرہ سیاقِ نفی میں آئے تو عموم کا فائدہ دیتا ہے اور نکرہ سیاقِ اثبات میں آئے تو خصوص کا فائدہ دیتا ہے۔ پھر سنیں: نکرہ سیاقِ نفی میں آئے تو عموم کا فائدہ دیتا ہے، مثلاً ایک آدمی کہتا ہے: مَا جَاءَنِي طَالِبٌ، میرے پاس کوئی طالب علم نہیں آیا، تو اب دیکھو طالب نکرہ ہے لیکن یہ نفی کے تحت آ رہا ہے: مَا جَاءَنِي طَالِبٌ، تو اس نے عموم کا فائدہ دیا کہ کوئی ایک بھی طالب علم میرے پاس نہیں آیا: مَا جَاءَنِي طَالِبٌ، تو یہ نکرہ تحت النفی جو ہے وہ عموم کا فائدہ دے رہا ہے، ہر ہر طالب کے آنے کی نفی ہو گئی۔ اور نکرہ سیاقِ اثبات میں آئے تو یہ خصوص کا فائدہ دیتا ہے، مثلاً ایک آدمی کہتا ہے: جَاءَنِي طَالِبٌ، میرے پاس ایک طالب علم آیا، تو طالب یہ اثبات کے مقام میں آ رہا ہے یہاں نفی ہے ہی نہیں جملے میں، جَاءَنِي طَالِبٌ میرے پاس طالب آیا تو معنی ہے ایک طالب آیا، اس نے خصوص کا فائدہ دیا، عموم کا فائدہ نہیں دیا۔ تو معلوم ہوا نکرہ سیاقِ اثبات میں آئے تو وہ خصوص کا فائدہ دیتا ہے اور نکرہ سیاقِ نفی میں آئے تو وہ عموم کا فائدہ دیتا ہے، تو یہاں پر بھی اسی طرح ہے نکرہ جو ہے سیاقِ نفی میں ہے لہذا عموم کا فائدہ دے گا۔ نکرہ کیوں فائدہ دے گا کیوں؟ کیونکہ یہ سیاقِ نفی میں ہے، دیکھو کیا کہا ہے اس نے کہ: إِنْ لَبِسْتُ ثَوْبًا اگر میں نے کوئی کپڑا پہنا تو میرا غلام آزاد ہے، نکرہ ثَوْبًا نکرہ آ رہا ہے اور تحت النفی ہے، اس پر اشکال ہوتا ہے نفی کدھر ہے نفی کا تو حرف ہی یہاں نہیں ہے؟ إِنْ لَبِسْتُ ثَوْبًا اگر میں نے کپڑا پہنا، تو جواب یہ کہ مراد نفی ہی ہے یعنی میں کوئی کپڑا نہیں پہنوں گا، مراد نفی ہی ہے وہ کپڑا پہننے سے اپنے آپ کو روک رہا ہے، تو یہ ثَوْبًا گویا سیاقِ نفی میں آ رہا ہے تو یہ عموم کا فائدہ دے گا لہذا کوئی بھی یہ کپڑا پہنے گا تو حانث ہو جائے گا۔ یہ معنی ہے: لِأَنَّهُ نَكِرَةٌ فِي مَحَلِّ الشَّرْطِ فَتَعُمُّ اس لیے کیونکہ یہ نکرہ ہے شرط کے محل میں، شرط کے مقام میں یعنی شرط کے اندر وہ نکرہ ذکر کر رہا ہے فَتَعُمُّ تو یہ عام ہو گا، فَعَمِلَتْ نِيَّةُ التَّخْصِيصِ فِيهِ تو تخصیص کی نیت اس کے اندر عمل کرے گی، إِلَّا أَنَّهُ خِلَافُ الظَّاهِرِ مگر یہ کہ یہ ظاہر کے خلاف ہے، ظاہر تو یہی ہے ہر کپڑا پہننے سے حانث ہو بھئی، تو جب اگر یہ کہہ رہا ہے میں نے خاص کپڑے کا ارادہ کیا تھا تو اس کا یہ دعویٰ ظاہر کے خلاف ہے لہذا قضاءً اس کی تصدیق نہیں کی جائے گی۔ تو کہتے ہیں: إِلَّا أَنَّهُ خِلَافُ الظَّاهِرِ مگر یہ کہ جو اس نے تخصیص کی نیت کی ہے یہ ظاہر کے خلاف ہے، فَلَا يُدَيَّنُ فِي الْقَضَاءِ تو قضاء کے اندر اس کی تصدیق نہیں کی جائے گی۔
آگے دیکھیے: قَالَ: وَمَنْ حَلَفَ لَا يَشْرَبُ مِنْ دِجْلَةَ فَشَرِبَ مِنْهَا بِإِنَاءٍ لَمْ يَحْنَثْ حَتَّى يَكْرَعَ مِنْهَا كَرْعًا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ۔ صورتِ مسئلہ یہ: ایک شخص نے قسم اٹھائی کہ واللہ میں دجلہ سے نہیں پیوں گا، دجلہ یہ عراق کا کوئی دریا ہے بھئی، عراق کا کوئی دریا ہے، ویسے بطورِ مثال کے اس دریا کو ذکر کر دیا، کوئی بھی دریا ہو ایک شخص کہتا ہے واللہ میں اس دریا سے نہیں پیوں گا۔ توجہ سے سننا بھئی، ایک آگے صورت ذکر کریں گے کہ وہ پانی کا لفظ بھی ذکر کرتا ہے: واللہ میں اس دریا کے پانی میں سے نہیں پیوں گا، اور ایک کہتا ہے واللہ میں اس دریا سے نہیں پیوں گا، دونوں میں فرق ہے بھئی۔ چنانچہ دریا سے پینا، ایک اس کا حقیقی معنی ہے اور ایک مجازی معنی ہے۔ حقیقی معنی کہ وہ دریا کے پانی کو منہ لگا کر پیے براہِ راست، بھئی یہ دریا سے پی رہا ہے تو یہ ہے اس کا حقیقی معنی دریا سے پینا۔ اور ایک اس کا مجازی معنی ہے کہ کسی برتن وغیرہ میں دریا کا پانی لے کر پیا جائے، برتن میں یا چلو میں لے لیا اور پانی پی لیا، تو یہ بھی دریا کے پانی سے پی رہا ہے لیکن حقیقتاً نہیں مجازاً بھئی، کیونکہ حقیقتاً تو یہ چلو سے پی رہا ہے یا برتن سے پی رہا ہے۔ تو تو دریا سے پینا اس کا ایک حقیقی معنی ہے کہ براہِ راست دریا کے پانی کو منہ لگا کر پیے بغیر کسی برتن میں اٹھائے، دریا کو ہی منہ لگایا اور پانی پی رہا ہے، یہ ہے دریا سے پینا حقیقتاً۔ اور ایک اس کا مجازی معنی ہے کہ چلو کے ذریعے دریا کا پانی پیے یا کسی برتن میں لے کر دریا کا پانی پیے تو یہ بھی دریا سے پی رہا ہے لیکن حقیقتاً نہیں مجازاً بھئی۔ حقیقتاً تو اس وقت یہ چلو سے پی رہا ہے یا برتن سے پی رہا ہے دریا سے تو نہیں پی رہا، تو برتن میں وہ دریا کا پانی پیے یا چلو سے دریا کا پانی پیے تو یہ مجازاً دریا سے پی رہا ہے حقیقتاً دریا سے نہیں پی رہا بلکہ۔ اب مجھے آپ بتائیے کہ دریا سے پینا زیادہ تر لوگوں میں کیا رائج ہے؟ دریا سے منہ لگا کر پیتے ہیں یا برتن وغیرہ میں دریا کا پانی لے کر پیتے ہیں؟ برتن وغیرہ میں۔ تو معلوم ہوا دریا سے پینا یہ حقیقی معنی بھی مستعمل ہے کیونکہ بعض لوگ جو دریا کے پاس رہنے والے ہوتے ہیں وہ عموماً دریا سے ہی منہ لگا کر پی لیتے ہیں، معلوم ہوا یہ حقیقتِ مستعملہ ہے۔ لیکن یہاں مجازی معنی جو ہے وہ زیادہ متعارف ہے کہ لوگ زیادہ تر برتن وغیرہ میں دریا کا پانی پیتے ہیں، تو ایک طرف ہے حقیقتِ مستعملہ اگرچہ وہ قلیل ہے اور دوسری طرف ہے مجازِ متعارف جو لوگوں میں رائج ہے مشہور ہے۔ اور آپ پڑھ چکے ہیں کہ امام صاحب کے نزدیک حقیقتِ مستعملہ جو ہے وہ غالب ہے مجازِ متعارف پر، لہذا حقیقی معنی ہی مراد لیں گے مجازی معنی مراد نہیں لیں گے، لہذا دریا سے براہِ راست منہ لگا کر پیے گا تو یہ شخص حانث ہو جائے گا، برتن وغیرہ میں پانی لے کر پیے گا یا چلو میں پانی لے کر پیے گا تو پھر حانث نہیں ہو گا۔ جبکہ صاحبین کا ضابطہ میں نے آپ کو بتلایا کہ صاحبین کے نزدیک جب حقیقتِ مستعملہ کے لیے مجازِ متعارف ہو تو پھر عمومِ مجاز پر عمل کیا جاتا ہے، یعنی ایسا عام مجازی معنی لے لیا کہ جو حقیقت کو بھی شامل ہے، لہذا صاحبین کے نزدیک یہ چاہے منہ لگا کر پیے پھر بھی حانث ہو جائے گا اور چاہے کسی برتن وغیرہ میں پیے پھر بھی حانث ہو جائے گا، کس طریقے پر؟ عمومِ مجاز کے طریقے پر، بات سمجھ میں آ گئی۔
تو کہتے ہیں: قَالَ، صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: وَمَنْ حَلَفَ لَا يَشْرَبُ مِنْ دِجْلَةَ اور جس شخص نے قسم اٹھائی کہ واللہ وہ دریائے دجلہ سے نہیں پیے گا، دیکھا: لَا يَشْرَبُ مِنْ دِجْلَةَ، اور ایک صورت آگے آئے گی: مِنْ مَاءِ دِجْلَةَ۔ تو کہتے ہیں اس نے قسم اٹھائی لَا يَشْرَبُ مِنْ دِجْلَةَ کہ وہ دریائے دجلہ سے نہیں پیے گا، فَشَرِبَ مِنْهَا بِإِنَاءٍ پھر اس نے برتن کے ذریعے اس سے پی لیا، لَمْ يَحْنَثْ تو یہ حانث نہیں ہو گا حَتَّى يَكْرَعَ مِنْهَا كَرْعًا، كَرَعَ يَكْرَعُ کے معنی ہیں منہ لگا کر پینا، كَرَعَ يَكْرَعُ کے معنی منہ لگا کر پینا۔ تو دیکھو یہاں حَتَّى يَكْرَعَ مِنْهَا كَرْعًا، آگے مفعولِ مطلق بھی ذکر ہے، اور آپ نے پڑھا ہے مفعولِ مطلق کو ذکر کرنے کے تین فائدے ہیں: کبھی کبھار اس کے ذریعے مجاز کے احتمال کو ختم کیا جاتا ہے، کبھی کبھار اس کے ذریعے عدد کا بیان مقصود ہوتا ہے اور کبھی اس کے ذریعے نوع بتلائی جاتی ہے، تو یہاں پر یہ جو كَرْعًا مفعولِ مطلق ذکر کیا یہ مجاز کے احتمال کو ختم کرنے کے لیے کہ منہ لگا کر پینے سے منہ لگا کر پینا ہی مراد ہے کوئی اور مجازی معنی مراد نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں: لَمْ يَحْنَثْ یہ شخص حانث نہیں ہو گا حَتَّى يَكْرَعَ مِنْهَا كَرْعًا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ یہاں تک کہ یہ شخص واقعی اس سے منہ لگا کر پی لے امام صاحب کے نزدیک، وَقَالَا اور صاحبین فرماتے ہیں: إِذَا شَرِبَ مِنْهَا بِإِنَاءٍ يَحْنَثُ کہ اس نے اگر اس دریا سے کسی برتن کے ذریعے پیا تو حانث ہو جائے گا، لِأَنَّهُ الْمُتَعَارَفُ الْمَفْهُومُ اس لیے کیونکہ یہی متعارف مفہوم ہے، یہی اس کا معنی متعارف ہے اور مشہور ہے، برتن میں بھی کوئی پانی پیے تو کہتے ہیں میں نے دریا سے پیا ہے، مثلاً لوگ کہتے ہیں کہ فلاں لوگ دریائے دجلہ سے پانی پیتے ہیں، کوئی بستی ہے دریا کے قریب ہے وہ کس چیز کا پانی استعمال کرتے ہیں؟ اسی دریا کا، تو لوگ کیا کہتے ہیں کہ فلاں دجلہ سے پیتے ہیں، اور مراد کیا ہوتا ہے؟ برتن وغیرہ میں لے کر پیتے ہیں۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّهُ الْمُتَعَارَفُ الْمَفْهُومُ اس لیے کیونکہ دریا سے پینے کا یہی مفہوم متعارف ہے اور مشہور ہے۔
وَلَهُ اب امام صاحب کی دلیل آ گئی، وَلَهُ امام صاحب کی دلیل یہ ہے: أَنَّ كَلِمَةَ مِنْ لِلتَّبْعِيضِ کہ کلمہ من تبعیض کے لیے آتا ہے، وَحَقِيقَتُهُ فِي الْكَرْعِ اور حقیقت اس کی جو ہے منہ لگا کر پینے میں ہے، وَهِيَ مُسْتَعْمَلَةٌ اور یہ حقیقت مستعمل ہے یعنی استعمال ہوتی ہے اس طرح عمل کیا جاتا ہے۔ بھئی دیکھیے اس شخص نے کیا کہا ہے؟ واللہ لا اشرب من دجلۃ، مِنْ دِجْلَةَ، یہ مِنْ آیا اور مِنْ کس لیے آتا ہے؟ تبعیض کے لیے کہ دجلہ سے یعنی بعض بعض حصہ تھوڑا سا پانی اس میں سے پیوں گا، تو مِنْ کس لیے آتا ہے؟ تبعیض کے لیے آتا ہے، وَحَقِيقَتُهُ فِي الْكَرْعِ اور اس کی حقیقت جو ہے منہ لگا کر پینے میں ہے، منہ لگا کر پی رہا ہے تو یہ حقیقتاً اس دریا کا بعض پی رہا ہے، اس دریا کا بعض۔ تو یہ معنی ہے: وَلَهُ أَنَّ كَلِمَةَ مِنْ لِلتَّبْعِيضِ وَحَقِيقَتُهُ فِي الْكَرْعِ وَهِيَ مُسْتَعْمَلَةٌ، امام صاحب کی دلیل یہ ہے کہ کلمہ من تبعیض کے لیے ہے اور اس کی حقیقت جو ہے منہ لگا کر پینے میں ہے اور یہ حقیقت مستعمل بھی ہے، وَلِهَذَا يَحْنَثُ بِالْكَرْعِ إِجْمَاعًا اور اسی لیے منہ لگا کر پینے سے یہ بالاتفاق حانث ہو جائے گا۔ میں نے آپ کو بتلایا صاحبین کا کیا مذہب ہے؟ منہ لگا کر پیے پھر بھی حانث اور برتن وغیرہ میں پیے پھر بھی حانث، کس وجہ سے؟ عمومِ مجاز کی وجہ سے۔ معلوم ہوا منہ لگا کر پینے میں تو بالاتفاق حانث ہو جاتا ہے، تو امام صاحب کی دلیل چل رہی ہے کہتے ہیں یہ حقیقت مستعمل بھی ہے: وَلِهَذَا يَحْنَثُ بِالْكَرْعِ إِجْمَاعًا اور اسی وجہ سے منہ لگا کر پینے سے یہ بالاتفاق حانث ہو جائے گا یعنی صاحبین بھی مانتے ہیں کہ یہ منہ لگا کر پیے گا تو حانث ہو جائے گا، تو یہ حقیقتِ مستعملہ ہے بھئی، جب حقیقت موجود ہے تو اب ہم مجاز کی طرف نہیں جائیں گے۔ تو کہتے ہیں: وَلِهَذَا يَحْنَثُ بِالْكَرْعِ إِجْمَاعًا فَمَنَعَتِ الْمَصِيرَ إِلَى الْمَجَازِ، تو منع کر دیا حقیقت نے، مَنَعَتْ کے اندر ضمیر حقیقت کو راجع ہے: فَمَنَعَتِ الْمَصِيرَ إِلَى الْمَجَازِ تو حقیقت نے روک دیا مجاز کی طرف جانے سے، وَإِنْ كَانَ مُتَعَارَفًا اگرچہ مجاز متعارف ہے مشہور ہے۔
آگے دیکھیے: وَإِنْ حَلَفَ لَا يَشْرَبُ مِنْ مَاءِ دِجْلَةَ، اب مَاءٌ کا لفظ بھی آ گیا، ایک آدمی نے قسم اٹھائی کہ واللہ میں دجلہ کے پانی سے نہیں پیوں گا، کہتے ہیں اب چاہے برتن میں پیے پھر بھی حانث اور دجلہ سے نکلنے والی کسی اور چھوٹی نہر سے پیے تو بھی حانث کیونکہ یہ سب دجلہ کا پانی ہے اور اس نے تو کہا تھا میں دجلہ کے پانی سے نہیں پیوں گا۔ کہتے ہیں: وَإِنْ حَلَفَ لَا يَشْرَبُ مِنْ مَاءِ دِجْلَةَ اور اگر کسی شخص نے قسم اٹھائی کہ وہ دجلہ کے پانی سے نہیں پیے گا، فَشَرِبَ مِنْهَا بِإِنَاءٍ حَنِثَ پھر اس نے برتن کے ذریعے اس دجلہ سے پی لیا حَنِثَ تو یہ حانث ہو گیا، لِأَنَّهُ بَعْدَ الِاغْتِرَافِ بَقِيَ مَنْسُوبًا إِلَيْهِ، اِغْتَرَفَ يَغْتَرِفُ اِغْتِرَافٌ کا معنی ہے چلو بھرنا، ہاتھ میں پانی لینا یعنی چلو بھر کر پانی لینا تو اس کو اغتراف کہتے ہیں، چلو میں پانی لینا۔ یہاں مراد عام ہے بھئی چاہے ہاتھ کے ذریعے لے یا برتن کے ذریعے لے اس سب کو اغتراف کہہ دیا گیا۔ کہتے ہیں: لِأَنَّهُ بَعْدَ الِاغْتِرَافِ بَقِيَ مَنْسُوبًا إِلَيْهِ اس لیے کیونکہ یہ پانی جب اس کو دریا سے لے لیا گیا، دریا سے لے لیا گیا بَقِيَ مَنْسُوبًا إِلَيْهِ پھر بھی یہ دریا کی طرف ہی منسوب ہو کر باقی ہے، اس کو دجلہ کا پانی ہی کہتے ہیں، وَهُوَ الشَّرْطُ اور وہی تو شرط ہے کہ دجلہ کا پانی پیے، پی لیا تو حانث ہو جائے گا۔
ہو گا تو کہتے ہیں: وَهُوَ شَرْطٌ، اور یہی تو شرط ہے کہ ایسا پانی پئے جو دجلہ کی طرف منسوب ہے تو یہ حانث ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں: وَهُوَ شَرْطٌ اور یہی دجلہ کی طرف منسوب ہونا ہی تو شرط ہے، فَصَارَ كَمَا إِذَا شَرِبَ مِنْ مَاءِ نَهْرٍ يُؤْخَذُ مِنْ دِجْلَةَ تو یہ ایسے ہی ہو گیا جیسے اس شخص نے پانی پیا ہے مِنْ مَاءِ نَهْرٍ ایک ایسی نہر کے پانی میں سے يُؤْخَذُ مِنْ دِجْلَةَ جس کو دجلہ سے لیا گیا ہے، دجلہ سے نکالی ہوئی کسی نہر سے پانی لیا تب بھی یہ کیا ہو جائے گا؟ حانث۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے: فَصَارَ كَمَا إِذَا شَرِبَ مِنْ مَاءِ نَهْرٍ يُؤْخَذُ مِنْ دِجْلَةَ، تو یہ ایسے ہی ہو گیا جیسے اس شخص نے پانی پیا ہے ایک ایسی نہر کے پانی میں سے جس کو لیا گیا ہے دجلہ سے۔
آگے دیکھیے: وَمَنْ قَالَ: إِنْ لَمْ أَشْرَبِ الْمَاءَ الَّذِي فِي هَذَا الْكُوزِ الْيَوْمَ فَامْرَأَتُهُ طَالِقٌ۔ صورتِ مسئلہ یہ: ایک شخص نے قسم کھائی کہ واللہ اس کوزے کے اندر جو پانی ہے اگر وہ میں نے اج نہ پیا تو میری بیوی کو طلاق ہے۔ یہاں هَذَا الْكُوزِ، کوز کا لفظ ذکر ائے گا، کوز یاد رکھو یہ بھی لوٹے کی طرح کا ایک برتن ہوتا تھا، البتہ لوٹے کا منہ تو بڑا ہوتا ہے اور اس کا منہ اوپر پتلا ہوتا تھا صراحی کی طرح، اور اس کے ذریعے بھی وضو وغیرہ بھی کیا جاتا تھا اور اس سے پانی وغیرہ بھی پیا جاتا تھا۔ تو ایک ادمی نے اس کوزے کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ واللہ اگر میں نے اج یہ پانی جو اس کوزے کے اندر ہے اس کو نہ پیا تو میری بیوی کو طلاق ہے، اور حال یہ ہے کہ کوزے میں پانی ہے ہی نہیں۔ کوزہ خالی پڑا ہوا ہے اور وہ کیا کہتا ہے کہ واللہ وہ پانی جو اس کوزے میں موجود ہے، وہ پانی جو اس کوزے میں موجود ہے اگر میں نے اس کو اج نہ پیا تو میری بیوی کو طلاق ہے۔
تو یاد رکھو طرفین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ قسم جو ہے وہ اس لیے کھائی جاتی ہے تاکہ اس کو پورا کیا جا سکے، لہذا یمین کے منعقد ہونے کے لیے ضروری ہے کہ قسم کھانے کے بعد اس کو پورا کرنا ممکن ہو، اگر اس کو پورا کرنا ممکن ہی نہیں ہے تو پھر وہ قسم منعقد ہی نہیں ہوئی۔ قسم کھانے کا مقصد اس قسم کو پورا کرنا ہوتا ہے، لہذا قسم کھانے کے بعد اس کا پورا کرنا ممکن ہونا چاہیے، اگر قسم ایسی چیز کی کھائی ہے کہ جس کو پورا کرنا ممکن ہی نہیں ہے تو وہ قسم ہی منعقد نہیں ہوئی۔ لہذا طرفین فرماتے ہیں اس صورت میں چونکہ کوزے کے اندر پانی ہے ہی نہیں لہذا اس پانی کا پینا ممکن ہی نہیں ہے، جب ممکن ہی نہیں ہے تو یہ قسم منعقد ہی نہیں ہوئی، یہ شخص حانث بھی نہیں ہو گا اور اس کی بیوی کو طلاق بھی نہیں ہو گی۔
تو کہتے ہیں: وَمَنْ قَالَ إِنْ لَمْ أَشْرَبِ الْمَاءَ الَّذِي فِي هَذَا الْكُوزِ الْيَوْمَ فَامْرَأَتُهُ طَالِقٌ وَلَيْسَ فِي الْكُوزِ مَاءٌ، اور جس شخص نے کہا کہ اگر میں نے نہ پیا وہ پانی جو اس کوزے کے اندر ہے اج کے دن تو اس کی بیوی کو طلاق ہے، اور حال یہ ہے کہ کوزے کے اندر پانی نہیں ہے، یعنی قسم جب کھا رہا ہے اسی وقت ہی اس کو پورا کرنا ناممکن ہے۔ اور آگے صورت ائے گی کہ اس وقت تو ممکن تھا بعد میں اس پر عمل کرنا ممکن نہ رہا، تو یہاں پر وہ صورت ہے جب قسم کھا رہا ہے اس وقت ہی اس کو پورا کرنا ممکن نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں: وَلَيْسَ فِي الْكُوزِ مَاءٌ لَمْ يَحْنَثْ اور حال یہ ہے کہ کوزے کے اندر پانی نہیں ہے تو یہ شخص حانث نہیں ہو گا کیونکہ قسم منعقد ہی نہیں ہوئی۔
فَإِنْ كَانَ فِيهِ مَاءٌ فَأُرِيقَ قَبْلَ اللَّيْلِ لَمْ يَحْنَثْ، اور اگر اس کوزے کے اندر پانی تھا یعنی قسم جس وقت کھائی اس وقت پانی موجود ہے فَأُرِيقَ قَبْلَ اللَّيْلِ پھر اس کو رات سے پہلے بہا دیا گیا۔ أَرَاقَ يُرِيقُ إِرَاقَةً کا معنی ہے پانی وغیرہ کو زمین پر بہا دینا، تو کہتے ہیں: فَإِنْ كَانَ فِيهِ مَاءٌ فَأُرِيقَ قَبْلَ اللَّيْلِ تو اگر اس کوزے کے اندر پانی تھا یعنی قسم جس وقت کھائی اس وقت پانی موجود ہے پھر اس کو رات سے پہلے بہا دیا گیا لَمْ يَحْنَثْ تو پھر بھی وہ حانث نہیں ہو گا، وَهَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللَّهُ اور یہ طرفین رحمہما اللہ کے نزدیک ہے بھئی۔ بھئی پھر رات انے سے پہلے وہ پانی بہا دیا گیا تو پھر بھی یہ حانث نہیں ہو گا، وجہ یہ کہ قسم کھانے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اس کو پورا کیا جائے، تو جب اس کے ساتھ وقت کو ذکر کر دیا تو پھر یہ فعل کرنا اس پر واجب ہی نہیں ہے یہ جو اس نے قسم جس کی کھائی ہے الا اخری وقت میں اس پر یہ فعل کرنا واجب ہو جائے گا، کیونکہ اب وقت گزرنے والا ہے اب اس کے لیے یہ فعل کرنا واجب ہے، نہیں کرے گا تو حانث ہو جائے گا، اور اخری وقت کے اندر تو برتن پھر خالی ہو چکا ہے اس کا پانی بہا دیا گیا تھا تو لہذا اس صورت میں بھی یہ قسم باطل ہو جائے گی۔ تو یہاں دیکھو منعقد ہوتے وقت اس کو پورا کیا جا سکتا تھا لیکن جو وقت مقرر کیا تھا اس سے پہلے ہی اس کو پورا کرنا محال ہو گیا، تو لہذا اس صورت میں بھی یہ قسم باطل ہو جائے گی اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔ تو یہ معنی ہے: فَأُرِيقَ قَبْلَ اللَّيْلِ لَمْ يَحْنَثْ کہ رات سے پہلے اس پانی کو بہا دیا گیا تو یہ حانث نہیں ہو گا، وَهَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللَّهُ اور یہ طرفین رحمہما اللہ کے نزدیک ہے۔
وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى: يَحْنَثُ فِي ذَلِكَ كُلِّهِ، اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس سب میں وہ حانث ہو جائے گا، چاہے قسم کھاتے وقت ہی پانی موجود نہیں تھا چاہے شام انے سے پہلے پانی گرا دیا گیا، دونوں صورتوں میں یہ حانث ہو گا۔ لیکن کب حانث ہو گا؟ جب شام ہو جائے گی، جب رات ا جائے گی، کیونکہ رات تک کی تو اس نے قسم کھائی ہے اس سے پہلے تو یہ حانث ہی نہیں ہے، ہاں جب رات ا گئی اب یہ حانث ہو جائے گا امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک۔ تو کہتے ہیں: وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ يَحْنَثُ فِي ذَلِكَ كُلِّهِ کہ وہ شخص حانث ہو جائے گا اس سب میں يَعْنِي إِذَا مَضَى الْيَوْمُ یعنی جب وہ دن گزر جائے، وہ حانث ہو گا جب وہ دن گزر جائے، وَعَلَى هَذَا الْخِلَافِ إِذَا كَانَ الْيَمِينُ بِاللَّهِ تَعَالَى اور اسی اختلاف پر ہے جب یہ قسم اللہ کے لیے ہو۔ بھئی اس قسم کے اندر تو اس نے بیوی کی طلاق کو معلق کیا ہے، لیکن اگر اللہ کی قسم کھاتا ہے تو اس میں بھی یہی اختلاف ہے۔ طرفین کے نزدیک وہ حانث نہیں جب حانث نہیں تو اس پر کفارہ بھی نہیں، اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک وہ حانث ہوا تو اب اس پر قسم کا کفارہ واجب ہو گا دونوں صورتوں میں۔ تو کہتے ہیں: وَعَلَى هَذَا الْخِلَافِ إِذَا كَانَ الْيَمِينُ بِاللَّهِ تَعَالَى اور اسی اختلاف پر ہے جب قسم اللہ کے لیے ہو، وَأَصْلُهُ اور اس اختلاف کی اصل یہ ہے یعنی اس کا ضابطہ یہ ہے: أَنَّ مِنْ شَرْطِ انْعِقَادِ الْيَمِينِ وَبَقَائِهِ التَّصَوُّرَ عِنْدَهُمَا خِلَافًا لِأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ، کہ یمین کے منعقد ہونے اور اس کے باقی رہنے کے لیے اس کی شرط میں سے ہے التَّصَوُّرَ کہ اس کا تصور ہو سکے، یعنی اس قسم کے پورا ہونے کا تصور ہو سکے۔ اس قسم کے منعقد ہونے کے لیے ضروری ہے کہ جس وقت قسم کھائی جائے اس وقت شرط کو پورا کرنے کا تصور کیا جا سکے، یا اسی طرح یمین کے باقی رہنے کے لیے یہ شرط ہے کہ اس قسم کے پورا کرنے کا تصور کیا جا سکے۔ تو کہتے ہیں: وَأَصْلُهُ أَنَّ مِنْ شَرْطِ انْعِقَادِ الْيَمِينِ وَبَقَائِهِ التَّصَوُّرَ عِنْدَهُمَا خِلَافًا لِأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ، اور اس اختلاف کا ضابطہ یہ ہے کہ قسم کے منعقد ہونے اور اس کی بقاء کی شرط میں سے ہے اس کا تصور یعنی اس کے پورا کرنے کا تصور عِنْدَهُمَا طرفین رحمہما اللہ کے نزدیک، خِلَافًا لِأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ بخلاف امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک قسم جب کھائی ہے تو اس کے پورا ہونے کا امکان ضروری نہیں ہے، تو ان کے نزدیک قسمیں منعقد ہو گئیں دونوں صورتوں میں، اگرچہ اس کے پورا کرنے کا امکان نہیں تھا: ایک میں ابتداءً ہی امکان نہیں تھا کیونکہ برتن خالی تھا اور دوسرے میں بقاءً امکان باقی نہ رہا بھئی، تو لہذا دونوں صورتوں میں قسم تو منعقد ہو گئی لہذا وہ کفارہ دے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: خِلَافًا لِأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ بخلاف امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے، لِأَنَّ الْيَمِينَ إِنَّمَا تُعْقَدُ لِلْبِرِّ یہ طرفین کی دلیل چل رہی ہے بھئی، درمیان میں صرف اتنا بتایا بخلاف امام ابو یوسف کے، ان کے نزدیک یمین کے انعقاد اور بقاء کے لیے اس کا تصور شرط نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّ الْيَمِينَ إِنَّمَا تُعْقَدُ لِلْبِرِّ اس لیے کیونکہ جو قسم ہے وہ اس لیے کھائی جاتی ہے کہ اس کو پورا کیا جا سکے فَلَا بُدَّ مِنْ تَصَوُّرِ الْبِرِّ لہذا ضروری ہے پورا کرنے کا تصور کہ پورا ہونے کا تصور ہو سکے لِيُمْكِنَ إِيجَابُهُ تاکہ پورا کرنے کو واجب کرنا ممکن ہو سکے۔ بھئی ایک ادمی نے ایک قسم کھائی ہے اگر اس کا پورا کرنا ممکن ہی نہیں ہے تو پورا کرنے کو آپ واجب کیسے قرار دے سکتے ہو؟ پورا کرنا اس پر واجب تبھی ہو گا جب پورا کرنا ممکن بھی ہو، اگر پورا کرنا ممکن ہی نہیں ہے تو اپ اس کو واجب کیسے قرار دے سکتے ہو اس پر کہ اسے آپ کو کرنا پڑے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: فَلَا بُدَّ مِنْ تَصَوُّرِ الْبِرِّ لِيُمْكِنَ إِيجَابُهُ لہذا اس قسم کے پورا ہونے کا تصور ضروری ہے تاکہ ممکن ہو اس پورا کرنے کو واجب کرنا۔
وَلَهُ اب امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی دلیل آ گئی: وَلَهُ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی دلیل یہ ہے: أَنَّهُ أَمْكَنَ الْقَوْلُ بِانْعِقَادِهِ مُوجِبًا لِلْبِرِّ عَلَى وَجْهٍ يَظْهَرُ فِي حَقِّ الْخَلَفِ وَهُوَ الْكَفَّارَةُ، یہ عبارت ذرا مشکل ہے اس کو سمجھ لیجیے۔ تو کہتے ہیں: وَلَهُ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی دلیل یہ ہے أَنَّهُ أَمْكَنَ الْقَوْلُ بِانْعِقَادِهِ کہ اس قسم کے منعقد ہونے کا قول ممکن ہے مُوجِبًا لِلْبِرِّ اس حال میں کہ یہ قسم پورا کرنے کو واجب کر رہی ہے عَلَى وَجْهٍ يَظْهَرُ فِي حَقِّ الْخَلَفِ ایسے طریقے پر کہ وہ خلیفہ کے حق میں ظاہر ہو گا، کہ وہ وجوب جو ہے خلیفہ کے حق میں ظاہر ہو گا۔ بھئی دیکھیے امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ قسم منعقد ہو گئی ہے، اس کو پورا کرنا واجب ہے اور پورا تو نہیں کیا جا سکتا تو اس پورا کرنے کا خلیفہ کیا ہے؟ کفارہ، کفارہ اس کی جگہ پر ا جائے گا۔ تو اصل نہ ا سکے تو اس کی جگہ اس کا نائب ا جاتا ہے، تو یہاں پر بھی پورا کرنا تو نہیں ہو سکتا لیکن اس کا خلیفہ یعنی کفارہ تو ا سکتا ہے لہذا اس ادمی پر کفارہ واجب قرار دے دیں گے۔ اس ادمی نے ایک ایسے کام کی قسم کھائی ہے جسے وہ پورا کر ہی نہیں سکتا لیکن پھر بھی ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس ادمی پر اس قسم کو پورا کرنا واجب ہے، بھئی آپ کیسے واجب قرار دیتے ہیں وہ تو پورا کر ہی نہیں سکتا؟ کہتے ہیں پورا نہ بھی کر سکے یعنی اصل پر عمل نہیں بھی کر سکتا تو اس کا خلیفہ تو ا سکتا ہے یعنی پورا کرنے کی جگہ کیا ا جائے گا؟ کفارہ ا جائے گا، اور یہ کفارہ اس پورا کرنے کا نائب ہے اور خلیفہ ہے، تو اصل نہ بھی ا سکے لیکن کم از کم نائب تو ا سکتا ہے لہذا یوں کہا جائے گا کہ یہ قسم منعقد ہو گئی ہے اور اس نے کفارے کو واجب کر دیا ہے۔ تو کہتے ہیں: وَلَهُ أَنَّهُ أَمْكَنَ الْقَوْلُ بِانْعِقَادِهِ مُوجِبًا لِلْبِرِّ عَلَى وَجْهٍ يَظْهَرُ فِي حَقِّ الْخَلَفِ وَهُوَ الْكَفَّارَةُ، امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی دلیل یہ ہے کہ یہ ممکن ہے کہ یہ کہا جائے کہ یہ قسم منعقد ہو گئی ہے، یہ پورا کرنے کو واجب کرنے والی ہے، یہ قسم کو پورا کرنے کو واجب کرنے والی ہے ایسے طریقے پر کہ وہ خلیفہ کے حق میں ظاہر ہو گا، وہ واجب کرنا خلیفہ کے حق میں ظاہر ہو گا، اور وہ خلیفہ جو ہے وہ کفارہ ہے بھئی، وہ نائب جو ہے وہ کفارہ ہے، تو خلف کا معنی خلیفہ اور نائب بھئی۔
قُلْنَا ہم کہتے ہیں: لَا بُدَّ مِنْ تَصَوُّرِ الْأَصْلِ لِيَنْعَقِدَ فِي حَقِّ الْخَلَفِ، ہم کہتے ہیں بھئی اصل کا تصور ضروری ہے، قسم کھانے کے بعد اس کا پورا کرنا ممکن ہونا چاہیے، پورا کرنا یہ ہے اصل اور کفارہ اس کا نائب ہے، تو پورا کرنا ممکن ہو تو پھر ہی اس کی جگہ اس کا نائب ا سکتا ہے۔ اگر اصل کا تصور ہی نہ ہو سکے تو پھر وہاں نائب بھی نہیں ا سکتا کیونکہ نائب کس کی جگہ پر اتا ہے؟ اصل کی جگہ پر، جب اصل کی جگہ ہی نہیں ہے، اصل نہیں ا سکتا تو اس کی جگہ نائب کہاں سے ا گیا؟ جیسے بادشاہ اور اس کا نائب، بادشاہ جب کسی سفر وغیرہ پر جائے گا تو اپنا نائب مقرر کرے گا تو یہ نائب بادشاہ کی جگہ پر ایا، اگر ایک مقام پر بادشاہ کی جگہ ہی نہیں ہے بادشاہ خود نہیں ا سکتا تو اس کا نائب بھی وہاں پر نہیں ا سکتا کیونکہ نائب نے بادشاہ کی جگہ پر انا ہے اور یہاں تو بادشاہ کی جگہ ہی نہیں ہے بھئی۔ تو یہاں پر بھی یہ کفارہ نائب ہے کس کا؟ بر کا، بر کا یعنی قسم پورا کرنے کا، تو پورا کرنے کا تصور ہو سکے لیکن پھر پورا کیا نہیں تو اس کی جگہ نائب یعنی کفارہ ا جائے گا، لیکن اگر پورا کرنے کا تصور ہی نہیں ہو سکتا تو وہاں اس کی جگہ پر نائب بھی نہیں ا سکتا، بات سمجھ میں ا گئی۔ کہتے ہیں: قُلْنَا لَا بُدَّ مِنْ تَصَوُّرِ الْأَصْلِ لِيَنْعَقِدَ فِي حَقِّ الْخَلَفِ ہم کہتے ہیں کہ اصل یعنی پورا کرنے کا تصور ضروری ہے تاکہ یہ قسم جو ہے خلیفہ کے حق میں منعقد ہو جائے، اصل کا تصور ضروری ہے پھر ہی یہ خلیفہ کے حق میں منعقد ہو گی ویسے منعقد ہی نہیں ہو گی یعنی پھر ہی خلیفہ ا سکتا ہے ویسے خلیفہ نہیں ا سکتا۔ قُلْنَا لَا بُدَّ مِنْ تَصَوُّرِ الْأَصْلِ لِيَنْعَقِدَ فِي حَقِّ الْخَلَفِ تو ہم کہتے ہیں کہ اصل کا تصور ضروری ہے تاکہ نائب کے حق میں یہ قسم منعقد ہو سکے، وَلِهَذَا لَا يَنْعَقِدُ الْغَمُوسُ مُوجِبًا لِلْكَفَّارَةِ اور اسی لیے تو یمینِ غموس منعقد نہیں ہوتی اس حال میں کہ وہ کفارے کو واجب کرنے والی ہو۔ بھئی یمینِ غموس ماضی کے کسی فعل پر جھوٹی قسم کھا لینا اس کو یمینِ غموس کہتے ہیں، تو یمینِ غموس تو ماضی کے فعل پر کھائی ہے اور جھوٹ بولا ہے، وہ کام تو یہ کر نہیں سکتا اس کا تو پورا کرنا ممکن نہیں، بھئی مستقبل کے بارے میں کوئی قسم کھاتا ہے واللہ میں یہ کام ضرور کروں گا پھر تو اس کے پاس امکان ہے اس کو پورا کر سکتا ہے اور پھر بھی نہ کرے تو پھر کفارہ دینا پڑتا ہے، تو جب اصل کا تصور ہو سکے پھر ہی کفارہ اتا ہے لیکن ماضی کا ایک کام تو گزر چکا ہے لہذا اس میں تو اس کے کرنے کی گنجائش ہی نہیں ہے، جب گنجائش نہیں ہے جب وہاں اصل کی گنجائش نہیں ہے تو اصل کی نائب یعنی کفارہ بھی نہیں اتا، اسی لیے یمینِ غموس میں کفارہ نہیں اتا کیونکہ وہاں اصل کی گنجائش نہیں ہے اصل ممکن نہیں ہے کیونکہ زمانہ گزر چکا ہے۔ تو کہتے ہیں: وَلِهَذَا لَا يَنْعَقِدُ الْغَمُوسُ مُوجِبًا لِلْكَفَّارَةِ اور اسی وجہ سے یمینِ غموس منعقد نہیں ہوتی کفارے کو واجب کرتے ہوئے۔
وَلَوْ كَانَتِ الْيَمِينُ مُطْلَقَةً فَفِي الْوَجْهِ الْأَوَّلِ لَا يَحْنَثُ عِنْدَهُمَا، اب تیسری اور چوتھی صورت ا گئی، وہی پہلی دو صورتیں ساتھ جوڑنی ہیں اپ نے۔ پہلی صورت کیا تھی؟ اس شخص نے قسم کھائی کہ واللہ اس کوزے کے اندر جو پانی ہے اگر میں نے اج اس کو نہ پیا تو میری بیوی کو طلاق ہے اور حال یہ ہے کہ کوزے میں پانی ہے ہی نہیں۔ دوسری صورت: کوزے میں پانی موجود ہے اور اب کہتا ہے کہ واللہ اگر میں نے اس کوزے کا پانی اج نہ پیا تو میری بیوی کو طلاق ہے اور شام سے پہلے پہلے کسی نے وہ پانی بہا دیا، تو جب اخری وقت ایا اس وقت کوزے میں پانی موجود ہی نہیں، اس وقت قسم کو پورا کرنا ممکن ہی نہیں ہے لہذا یہ قسم منعقد ہی نہیں ہوئی، جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں دونوں صورتوں میں وہ حانث ہو گیا کیونکہ اگرچہ قسم کو پورا کرنا تو ممکن نہ رہا لیکن اس کا نائب تو ا سکتا ہے کفارہ ا جائے گا۔ تو اب دوسری صورت ہے کہ اب اس نے مطلق قسم کھائی ہے، پہلے اس نے وقت کے ساتھ مقید کی تھی: اج اگر میں نے اس کوزے کا پانی نہ پیا، اب ذرا اج کے لفظ کو ہٹا دیں زمانے کو وہ ذکر نہیں کرتا ویسے ہی کہتا ہے کہ اگر اس کوزے کا پانی میں نے نہ پیا تو میری بیوی کو طلاق ہے، وقت کو نہیں ذکر کیا، وقت کو ذکر کرتا تھا تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے تھے اخری وقت میں حانث ہو گا، جب وہ وقت گزر جائے گا تب وہ حانث ہو گا، اور اب تو یہاں وقت ہی ذکر نہیں ہے تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہاں وہ فوراً حانث ہو جائے گا۔ وہاں رات جب اتی تھی تب حانث ہوتا تھا اور اگر قسم مطلق ہے وقت ذکر نہیں ہے تو اسی وقت حانث ہو جائے گا جب اس میں پانی نہیں ہے، اور اگر اس میں پانی موجود ہے تو پھر اس صورت کے اندر جب اس پانی کو گرا دیا جائے گا تب یہ حانث ہو جائے گا کیونکہ اب قسم کا پورا کرنا ممکن نہ رہا بھئی۔
جبکہ طرفین رحمہما اللہ ان کا مذہب آگے ائے گا پہلے یہاں تک ذرا دیکھ لیجیے: کہتے ہیں: وَلَوْ كَانَتِ الْيَمِينُ مُطْلَقَةً اور اگر یہ قسم مطلق تھی یعنی اس میں وقت کی قید نہیں تھی، فَفِي الْوَجْهِ الْأَوَّلِ لَا يَحْنَثُ عِنْدَهُمَا تو پہلی صورت کے اندر یعنی جس وقت برتن میں پانی تھا ہی نہیں تو پہلی صورت میں طرفین کے نزدیک یہ حانث نہیں ہو گا، کیوں نہیں حانث ہو گا؟ کیونکہ پورا کرنا ممکن ہی نہیں ہے، قسم منعقد ہی تب ہوتی ہے جب اس کا پورا کرنا ممکن ہو تو ان کے نزدیک قسم منعقد ہی نہیں ہوئی۔ تو کہتے ہیں: لَا يَحْنَثُ عِنْدَهُمَا تو طرفین کے نزدیک یہ حانث نہیں ہو گا، وَعِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ يَحْنَثُ فِي الْحَالِ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک یہ فی الحال ہی حانث ہو جائے گا، کیونکہ پورا کرنا ممکن نہیں لیکن بہرحال کفارہ تو واجب کیا جا سکتا ہے تو کفارہ واجب ہو جائے گا، ان کے نزدیک یہ حانث ہو گیا اور اب کفارہ دینا پڑے گا۔ وَفِي الْوَجْهِ الثَّانِي يَحْنَثُ فِي قَوْلِهِمْ جَمِيعًا اور دوسری صورت میں یہ شخص حانث ہو جائے گا سب کے قول کے مطابق۔ دوسری صورت کیا کہ اس نے کہا واللہ اس کوزے کا پانی اگر میں نے نہ پیا تو میری بیوی کو طلاق ہے اور حال یہ ہے کہ اس کوزے میں پانی موجود ہے، تو جب تک پانی موجود ہے اس کے پاس مہلت ہے یہ اس کو پی کر اپنی قسم پوری کر سکتا ہے، لیکن جب اس کوزے کا پانی گرا دیا گیا تو اب اس صورت میں طرفین بھی فرماتے ہیں کہ یہ قسم پوری کر سکتا تھا، قسم کا پورا کرنا ممکن تھا لیکن اس نے قسم کو پورا نہ کیا اور اب تو قسم کا پورا کرنا ممکن ہی نہ رہا لہذا یہ حانث ہو گیا۔ تو لہذا یہ شخص حانث ہو گیا، اس کے پاس وقت تھا یہ ارام سے اپنی قسم پوری کر سکتا تھا تو قسم کا پورا کرنا ممکن تھا لیکن اس نے اس کو پورا کیا نہیں لہذا اب جب پانی گرا دیا گیا تو اب یہ حانث ہو گیا، اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں کہ یہ حانث ہو گیا بھئی۔
تو کہتے ہیں: وَفِي الْوَجْهِ الثَّانِي يَحْنَثُ فِي قَوْلِهِمْ جَمِيعًا اور دوسری صورت میں یہ حانث ہو جائے گا ان سب کے قول میں، فَأَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ فَرَّقَ بَيْنَ الْمُطْلَقِ وَالْمُوَقَّتِ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے فرق فرمایا ہے مطلق اور موقت کے درمیان۔ تو پہلی صورت کے اندر الیوم کا لفظ ذکر تھا تو وہ قسم اس وقت کے ساتھ مقید تھی یعنی موقت تھی، اور یہ دوسری صورت میں الیوم کا لفظ اس نے ذکر نہیں کیا تو یہ مطلق ہے بھئی۔ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ اس میں فرماتے تھے وہ جو موقت تھی کہ شام کا وقت جب گزر جائے گا رات ائے گی پھر یہ حانث ہو گا، اور یہاں پر جیسے ہی قسم کھائی ہے ساتھ ہی حانث ہو گیا، کون سی صورت؟ قسم کھائی ہے اور برتن میں پانی نہیں ہے، تو پہلی صورت میں اس نے الیوم کا لفظ ذکر کیا تھا لہذا شام جب ا ہو جائے گی دن گزر جائے گا پھر حانث ہو گا اور یہاں پر فوراً ہی حانث ہو جائے گا، تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے مطلق اور موقت میں فرق کیا۔ اب اس کی وجہ کیا ہے وہ آگے بیان کریں گے۔
تو کہتے ہیں: فَأَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ فَرَّقَ بَيْنَ الْمُطْلَقِ وَالْمُوَقَّتِ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے فرق کیا مطلق اور موقت کے درمیان، وَوَجْهُ الْفَرْقِ اور فرق کی وجہ یہ ہے أَنَّ التَّوْقِيتَ لِلتَّوْسِعَةِ کہ جو وقت مقرر کیا جاتا ہے یہ وسعت کے لیے ہوتا ہے تاکہ ادمی ارام سے اس قسم پر عمل کر سکے، تو کہتے ہیں فرق کی وجہ یہ ہے أَنَّ التَّوْقِيتَ لِلتَّوْسِعَةِ کہ یہ جو وقت مقرر کیا جاتا ہے یہ وسعت کے لیے ہوتا ہے فَلَا يَجِبُ الْفِعْلُ إِلَّا فِي آخِرِ الْوَقْتِ تو وہ فعل جو ہے واجب نہیں ہوتا مگر اخری وقت کے اندر فَلَا يَحْنَثُ قَبْلَهُ تو لہذا اس سے پہلے یہ شخص حانث نہیں ہوتا، وَفِي الْمُطْلَقِ يَجِبُ الْبِرُّ كَمَا فَرَغَ اور مطلق قسم کے اندر اس کو پورا کرنا واجب ہو جاتا ہے جیسے ہی یہ شخص قسم سے فارغ ہوا، جیسے ہی اس نے قسم کھائی اور قسم سے فارغ ہوا ساتھ ہی اس پر اس قسم کو پورا کرنا واجب ہو گیا، اور پورا تو یہ کر نہیں سکتا کیونکہ برتن میں تو پانی ہے ہی نہیں تو اسی وقت حانث ہو گیا۔ تو کہتے ہیں: وَفِي الْمُطْلَقِ يَجِبُ الْبِرُّ كَمَا فَرَغَ اور مطلق قسم کے اندر پورا کرنا واجب ہوتا ہے جیسے ہی وہ قسم سے فارغ ہوتا ہے وَقَدْ عَجَزَ اور حال یہ ہے کہ یہ تو عاجز ہے کیونکہ پانی موجود ہی نہیں برتن میں فَيَحْنَثُ فِي الْحَالِ تو یہ فی الحال ہی حانث ہو جائے گا۔
وَهُمَا فَرَّقَا بَيْنَهُمَا اور طرفین نے بھی ان دونوں میں فرق کیا ہے یعنی مطلق اور موقت میں فرق کیا ہے، وَوَجْهُ الْفَرْقِ اور فرق کی وجہ یہ ہے أَنَّ فِي الْمُطْلَقِ يَجِبُ الْبِرُّ كَمَا فَرَغَ کہ مطلق کے اندر پورا کرنا واجب ہوتا ہے جیسے ہی فارغ ہوتا ہے، وہی اصول ضابطے جو امام ابو یوسف نے ذکر کیے وہی یہ بھی ذکر فرماتے ہیں کہ مطلق کے اندر جیسے ہی قسم سے فارغ ہوتا ہے اس کو پورا کرنا واجب ہوتا ہے۔ تو کہتے ہیں: أَنَّ فِي الْمُطْلَقِ يَجِبُ الْبِرُّ كَمَا فَرَغَ کہ مطلق قسم کے اندر پورا کرنا واجب ہوتا ہے جیسے ہی وہ قسم سے فارغ ہوتا ہے فَإِذَا فَاتَ الْبِرُّ پھر جب پورا کرنا فوت ہو گیا بِفَوَاتِ مَا عَقَدَ عَلَيْهِ الْيَمِينُ اس چیز کے فوت ہو جانے کی وجہ سے جس پر قسم اس نے کھائی تھی یعنی وہ پانی گرا دیا گیا، یہ دوسری صورت ہے پانی بھئی پہلی صورت میں جب برتن میں پانی نہیں تھا پھر چاہے الیوم کا لفظ ذکر کرے یا نہ کرے طرفین کے نزدیک قسم منعقد ہی نہیں ہوئی کیونکہ اس کو تو پورا کرنا ممکن ہی نہیں ہے، برتن میں پانی ہے ہی نہیں تو پئے گا کیسے بھئی؟ تو وہ صورت تو ذکر کی ہی نہیں کیونکہ اس میں مطلق ہو یا مقید ہو طرفین کے نزدیک کوئی فرق نہیں۔ لیکن اگر شروع میں قسم کو پورا کرنا ممکن تھا برتن میں پانی تھا پھر اس کو بعد میں بہا دیا گیا اب قسم کو پورا کرنا ممکن نہیں ہے تو اس میں بھی دو صورتیں تھیں: ایک مطلق اور ایک موقت جس میں الیوم ذکر تھا، تو وہاں طرفین نے فرق کیا ہے وہ فرماتے ہیں کہ جب اس نے مطلق قسم کھائی ہے تو جیسے ہی قسم کھائی اب اس قسم کو پورا کرنا واجب ہوا اور برتن میں پانی بھی موجود ہے یہ اس کو پورا کر بھی سکتا ہے، لیکن جب پانی بہا دیا گیا تو اب جس چیز کی قسم کھائی تھی وہ فوت ہو گیا اب یہ اس کو کر ہی نہیں سکتا، جب کر ہی نہیں سکتا تو اب حانث ہو جائے گا، اب حانث ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں کہ مطلق کے اندر پورا کرنا واجب ہوتا ہے جیسے ہی قسم سے فارغ ہو، فَإِذَا فَاتَ الْبِرُّ تو جب یہاں پورا کرنا فوت ہو گیا بِفَوَاتِ مَا عَقَدَ عَلَيْهِ الْيَمِينُ اس چیز کے فوت ہو جانے کی وجہ سے جس پر قسم اس نے باندھی تھی یعنی اس کے پاس اتنا وقت تھا وہ پانی پی سکتا تھا لیکن اب وہ پانی بہا دیا گیا تو اب یہ حانث ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں: فَإِذَا فَاتَ الْبِرُّ بِفَوَاتِ مَا عَقَدَ عَلَيْهِ الْيَمِينُ يَحْنَثُ فِي يَمِينِهِ تو یہ شخص اپنی قسم میں حانث ہو جائے گا كَمَا إِذَا مَاتَ الْحَالِفُ وَالْمَاءُ بَاقٍ جیسے کہ قسم کھانے والا مر جائے اور پانی باقی ہو۔ پانی باقی ہے اور قسم کھانے والا مر گیا تو اب بھی قسم کا پورا کرنا ممکن نہیں، جب پورا کرنا ممکن نہیں تو حانث ہو گیا اور اس پر کفارہ ا گیا، وہ اب اس کے ورثاء کو اس کی طرف سے کفارہ دینا چاہیے اگر ان کو علم ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: كَمَا إِذَا مَاتَ الْحَالِفُ وَالْمَاءُ بَاقٍ جیسے کہ قسم کھانے والا مر جائے اور پانی باقی ہو تو جیسے اس صورت کے اندر وہ حانث ہو گیا اسی طرح پانی جب باقی نہ رہا، دیکھو ایک ہے وہ پانی جس کے پینے کی اس نے قسم کھائی ہے اور ایک ہے یہ قسم کھانے والا، تو قسم کے پورا کرنے کے لیے ضروری ہے یہ قسم کھانے والا بھی باقی رہے اور وہ محل یعنی پانی بھی باقی رہے، تو اگر پانی گرا دیا گیا تو محل ختم اگرچہ قسم کھانے والا باقی ہے لیکن پانی تو باقی نہیں لہذا یہ حانث، یا اس کا برعکس کر لو پانی تو باقی ہے لیکن قسم کھانے والا مر گیا ہے تو اس صورت میں بھی یہ حانث بھئی۔ تو یہ معنی ہے: كَمَا إِذَا مَاتَ الْحَالِفُ وَالْمَاءُ بَاقٍ جیسے قسم کھانے والا مر جائے اور حال یہ ہے کہ پانی باقی ہے۔
أَمَّا فِي الْمُوَقَّتِ يَجِبُ الْبِرُّ فِي الْجُزْءِ الْأَخِيرِ مِنَ الْوَقْتِ، اور باقی وہ قسم جو موقت ہوتی ہے تو اس کے اندر پورا کرنا واجب ہوتا ہے اس وقت کے اخری جز میں، وَعِنْدَ ذَلِكَ لَمْ تَبْقَ مَحَلِّيَّةُ الْبِرِّ اور اس وقت تو پورا کرنے کا محل ہی باقی نہ رہا، جب اس نے کہا تھا اج میں نے یہ پانی نہ پیا اور پھر پانی بہا دیا گیا تو اخری جز کے اندر تو پانی موجود ہی نہیں ہے تو لہذا قسم پورا کرنا ممکن ہی نہیں ہے، جب ممکن ہی نہیں ہے تو قسم باطل ہو گئی۔ تو کہتے ہیں: وَعِنْدَ ذَلِكَ لَمْ تَبْقَ مَحَلِّيَّةُ الْبِرِّ لِعَدَمِ التَّصَوُّرِ اور اس وقت تو پورا کرنے کا محل ہونا ہی باقی نہ رہا اس وجہ سے کہ پورا کرنے کا تصور ہی نہیں کیا جا سکتا کیونکہ پانی کو تو گرا دیا گیا ہے، فَلَا يَجِبُ الْبِرُّ فِيهِ تو اس کے اندر پورا کرنا واجب نہیں ہو گا، وَتَبْطُلُ الْيَمِينُ اور یمین باطل ہو جائے گی۔ توجہ ہے کیا بات کر رہے ہیں کہ جب ایک قسم موقت ہے تو اس میں فعل اخری جز میں واجب ہو گا اور اخری جز میں یعنی شام کے قریب تو اب پانی ہی گر چکا ہے تو لہذا یہ قسم پورا کرنا ممکن ہی نہیں ہے، تو اس وقت فعل واجب ہوا جب اس کا پورا کرنا ممکن ہی نہیں ہے تو اس صورت میں قسم ہی باطل ہو جائے گی بھئی۔ تو یہ معنی ہے: وَتَبْطُلُ الْيَمِينُ اور قسم ہی باطل ہو جائے گی كَمَا إِذَا عَقَدَهُ ابْتِدَاءً فِي هَذِهِ الْحَالَةِ جیسے کہ اس نے قسم باندھی تھی ابتداء کے اندر اس حالت میں، یعنی جیسے ابتداء کے اندر ایسی حالت میں قسم کھائی ہے جب پانی ہے ہی نہیں تو جیسے وہاں قسم منعقد ہی نہیں ہوتی تھی تو یہاں پر بھی جب اخری وقت میں وہ قسم پورا کرنے پر قادر نہیں ہے تو قسم باطل ہو گئی قسم گویا ہے ہی نہیں بھئی، یہ معنی ہے: كَمَا إِذَا عَقَدَهُ ابْتِدَاءً فِي هَذِهِ الْحَالَةِ جیسے کہ اس نے اسی حالت کے اندر ابتداء میں قسم کھائی ہو۔
قَالَ، اس قال سے مراد صاحب قدوری ہیں: قَالَ: وَمَنْ حَلَفَ لَيَصْعَدَنَّ السَّمَاءَ أَوْ لَيَقْلِبَنَّ هَذَا الْحَجَرَ ذَهَبًا، اور جس شخص نے قسم اٹھائی لَيَصْعَدَنَّ السَّمَاءَ کہ وہ ضرور بالضرور اسمان پر چڑھے گا، صعود کا معنی ہے اوپر چڑھنا، لَيَصْعَدَنَّ السَّمَاءَ کہ وہ ضرور بالضرور اسمان پر چڑھے گا أَوْ لَيَقْلِبَنَّ هَذَا الْحَجَرَ ذَهَبًا یا وہ ضرور بالضرور اس پتھر کو بدلے گا سونے سے، اس پتھر کو سونا بنا دے گا، تو کہتے ہیں: انْعَقَدَتْ يَمِينُهُ تو اس کی قسم منعقد ہو گئی وَحَنِثَ عَقِيبَهَا اور قسم کے بعد فوراً وہ حانث ہو گیا۔ ایک ادمی نے کہا واللہ میں اسمان پر ضرور چڑھوں گا یا میں اس پتھر کو ضرور سونا بناؤں گا تو کہتے ہیں اس صورت میں قسم منعقد ہو گئی اور ساتھ ہی وہ اس کے پورا کرنے سے عاجز بھی ا گیا تو حانث بھی ہو گیا لہذا فوراً ہی اس پر کفارہ واجب ہو گیا۔ اس پر اشکال ہوتا ہے کہ اپ نے ابھی ہمیں بتایا کہ قسم کے منعقد ہونے کے لیے ضروری ہے کہ اس کو پورا کرنا ممکن ہو اور اسمان پر چڑھنا تو ممکن ہی نہیں ہے اور پتھر کو سونے سے بدلنا تو ممکن ہی نہیں، کہتے ہیں نہیں کیوں نہیں ممکن؟ اسمان پر چڑھنا بھی ممکن ہے اور پتھر کو سونے سے بدلنا بھی ممکن ہے، اسمان پر فرشتے دن رات چڑھتے رہتے ہیں بھئی تو معلوم ہوا اسمان پر چڑھنا ممکن ہے بھئی، تو بطورِ کرامت کے اس کا بھی جانا ممکن ہے اور اسی طرح پتھر کو سونے سے بدلنا تو ہو سکتا ہے بطورِ کرامت کے اللہ تعالیٰ اس کے لیے پتھر کو سونے سے بدل دیں، تو یہ ایسی چیز ہے جس کا ہونا ممکن ہے لیکن عادۃً انسان ایسا کر نہیں سکتا تو قسم کھاتے ہی منعقد تو ہو گئی کیونکہ ایسا کرنا ایسا ہونا ممکن تو ہے لیکن عادۃً یہ عاجز ا گیا تو فوراً ہی اس کے حانث ہونے کا بھی حکم لگا دیا جائے گا۔ بات سمجھ میں ا گئی؟ تو بعض چیزیں ہیں وہ عادۃً ممکن نہیں ہیں بعض چیزیں حقیقتاً ہی ممکن نہیں ہوتیں، ایک برتن پانی سے خالی ہے تو اس کا پانی اپ پی ہی نہیں سکتے ممکن ہی نہیں ہے، وہ حقیقتاً ہی ممکن نہیں ہے اور اسمان وغیرہ پر چڑھنا یہ عادۃً تو ممکن نہیں ہے لیکن حقیقتاً تو ممکن ہے تو دونوں میں فرق ہے بھئی، بات سمجھ میں ا گئی۔
تو کہتے ہیں: قَالَ: وَمَنْ حَلَفَ لَيَصْعَدَنَّ السَّمَاءَ أَوْ لَيَقْلِبَنَّ هَذَا الْحَجَرَ ذَهَبًا انْعَقَدَتْ يَمِينُهُ وَحَنِثَ عَقِيبَهَا، صاحب قدوری فرماتے ہیں اور جس شخص نے قسم اٹھائی کہ وہ ضرور بالضرور اسمان پر چڑھے گا یا وہ ضرور بالضرور اس پتھر کو پلٹ دے گا سونے سے تو اس کی قسم منعقد ہو جائے گی اور وہ قسم کے بعد حانث ہو جائے گا، وَقَالَ زُفَرُ رَحِمَهُ اللَّهُ: لَا تَنْعَقِدُ، اور امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کی قسم منعقد ہی نہیں ہو گی کیونکہ یہ ممکن نہیں ہے تو ان کے نزدیک یہ حقیقتاً ہی ممکن نہیں ہے، لِأَنَّ الْبِرَّ فِيهِ غَيْرُ مُتَصَوَّرٍ اس لیے کیونکہ قسم کا پورا ہونا اس میں غیر متصور ہے، اس میں قسم کے پورا ہونے کا تصور ہی نہیں کیا جا سکتا، فَيَصِيرُ كَمَا إِذَا حَلَفَ عَلَى أَمْرٍ مَاضٍ كَاذِبًا تو یہ ایسے ہی ہو جائے گا جیسے اس نے قسم کھائی ہو کسی امرِ ماضی پر جھوٹ بولتے ہوئے یعنی یمینِ غموس، تو جیسے یمینِ غموس میں پورا کرنے کا امکان نہیں ہوتا تو یہاں پر بھی پورا کرنے کا امکان نہیں ہے لہذا یہ قسم منعقد ہی نہیں ہونی چاہیے، وَلَنَا اور ہماری دلیل یہ ہے أَنَّ الصُّعُودَ إِلَى السَّمَاءِ وَقَلْبَ الْحَجَرِ ذَهَبًا مَقْدُورٌ فِي نَفْسِهِ، کہ اسمان پر چڑھنا اور پتھر کو سونے سے پلٹنا یہ مقدور فی نفسہ ہے یعنی اللہ کی قدرت میں ہے، یہ بذاتِ خود مقدور ہے، یعنی یہ ناممکنات میں سے نہیں ہے کہ جس کا ہونا ممکن ہی نہ ہو، یہ ممکنات میں سے ہے، فَيَكُونُ الْبِرُّ مُتَصَوَّرًا تو لہذا قسم کا پورا ہونا متصور ہے فَتَنْعَقِدُ تو قسم منعقد ہو جائے گی، ثُمَّ يَعْجِزُ عَنْهُ فَيَحْنَثُ پھر یہ شخص اس سے عاجز ا جائے گا تو حانث ہو جائے گا، لِأَنَّ عَجْزَهُ عَنْهُ مَعْلُومٌ اس لیے کیونکہ اس کا عاجز ہونا اس سے معلوم ہے، بِخِلَافِ مَا إِذَا حَلَفَ لَا يَقْتُلُ الْمَيِّتَ، بخلاف اس کے جب کسی شخص نے قسم اٹھائی کہ وہ مردے کو قتل نہیں کرے گا تو اس صورت میں حانث نہیں ہو گا، کیونکہ قتل روح کو جدا کرنے کا نام ہے اور مردے کے اندر تو روح ہے ہی نہیں لہذا یہ حقیقتاً ہی ناممکن ہے، لِأَنَّ الْقَتْلَ إِزْهَاقُ الرُّوحِ اس لیے کیونکہ قتل روح کو نکالنے کا نام ہے وَلَا رُوحَ فِي الْمَيِّتِ اور مردے کے اندر روح نہیں ہے فَلَا يَتَصَوَّرُ الْقَتْلُ تو قتل کا تصور ہی نہیں ہو سکتا۔ بات سمجھ میں ا گئی؟ چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
قسم منعقد ہی نہیں ہو گی لِأَنَّهُ مُسْتَحِيلٌ عَادَةً، اس لیے کیونکہ یہ عادتاً محال ہے، فَأَشْبَهَ الْمُسْتَحِيلَ حَقِيقَةً تو یہ حقیقتاً محال کے مشابہ ہو گئی، فَلَا يَنْعَقِدُ تو قسم منعقد نہیں ہو گی۔ وَلَنَا اور ہماری دلیل یہ ہے: أَنَّ الْبِرَّ مُتَصَوَّرٌ حَقِيقَةً کہ یہاں پورا کرنا جو ہے اس کا تصور کیا جا سکتا ہے حقیقت کے اعتبار سے، لِأَنَّ الصُّعُودَ إِلَى السَّمَاءِ مُمْكِنٌ حَقِيقَةً اس لیے کیونکہ آسمان کی طرف چڑھنا حقیقت کے اعتبار سے ممکن ہے، أَلَا تَرَى أَنَّ الْمَلَائِكَةَ يَصْعَدُونَ السَّمَاءَ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ فرشتے آسمان کی طرف چڑھتے ہیں، وَكَذَا تَحَوُّلُ الْحَجَرِ ذَهَبًا بِتَحْوِيلِ اللَّهِ تَعَالَى اور اسی طرح پتھر کا سونے سے بدل جانا اللہ کے بدل دینے سے، اس کا بھی تصور کیا جا سکتا ہے، وَإِذَا كَانَ مُتَصَوَّرًا اور جب یہاں پورا کرنے کا تصور کیا جا سکتا ہے، يَنْعَقِدُ الْيَمِينُ مُوجِبًا لِخَلَفِهِ تو قسم منعقد ہو جائے گی اپنے نائب کو واجب کرتے ہوئے، یعنی پورا کرنا تو واجب نہیں ہو گا کیونکہ اس سے وہ عاجز آ گیا ہے تو اس کا نائب یعنی کفارہ واجب ہو جائے گا۔
تو کہتے ہیں: وَإِذَا كَانَ مُتَصَوَّرًا اور جب اس یہاں پورا کرنے کا تصور کیا جا سکتا ہے تو يَنْعَقِدُ الْيَمِينُ مُوجِبًا لِخَلَفِهِ تو قسم منعقد ہو جائے گی خلیفہ کو یعنی کفارے کو واجب کرتے ہوئے، ثُمَّ يَحْنَثُ بِحُكْمِ الْعَجْزِ الثَّابِتِ عَادَةً پھر یہ شخص حانث ہو جائے گا بِحُكْمِ الْعَجْزِ الثَّابِتِ عَادَةً عادتاً عجز کے ثابت ہونے کے حکم سے، کہ عادتاً یہ اس کو پورا کرنے سے عاجز ہے تو حکم لگا دیا جائے گا کہ یہ حانث ہو گیا۔ یہ معنی ہے: ثُمَّ يَحْنَثُ بِحُكْمِ الْعَجْزِ الثَّابِتِ عَادَةً پھر یہ شخص حانث ہو جائے گا عادتاً وہ عجز جو ثابت ہے اس کے حکم سے، كَمَا إِذَا مَاتَ الْحَالِفُ جیسے کہ قسم کھانے والا مر جائے، فَإِنَّهُ يَحْنَثُ تو وہ حانث ہو جاتا ہے مَعَ احْتِمَالِ إِعَادَةِ الْحَيَاةِ باوجود اس کے کہ اس میں زندگی کے واپس لوٹانے کا احتمال ہے کہ اللہ اس کو دوبارہ زندہ کر دیں، لیکن پھر بھی اس کو حانث قرار دے دیا جاتا ہے۔ تو کہتے ہیں: فَإِنَّهُ يَحْنَثُ مَعَ احْتِمَالِ إِعَادَةِ الْحَيَاةِ تو کوئی شخص جب مر جاتا ہے تو وہ حانث ہو جاتا ہے باوجود اس کے کہ زندگی کے لوٹانے کا احتمال ہے، بِخِلَافِ مَسْأَلَةِ الْكُوزِ بخلاف کوزے کے مسئلے کے، لِأَنَّ شُرْبَ الْمَاءِ الَّذِي فِي الْكُوزِ وَقْتَ الْحَلِفِ وَلَا مَاءَ فِيهِ اس لیے کیونکہ وہ پانی پینا جو قسم کے وقت کوزے میں ہے اور حال یہ ہے کہ پانی اس میں نہیں ہے، حال یہ ہے کہ کوزے میں پانی نہیں ہے اور پھر اس کوزے کے پانی کو پی لینا لَا يُتَصَوَّرُ اس کا تصور نہیں کیا جا سکتا فَلَمْ يَنْعَقِدْ تو وہ قسم منعقد ہی نہیں ہوئی، کیونکہ وہ حقیقتاً محال تھی اور یہ جو قسمیں ہیں یہ عادتاً محال ہیں حقیقتاً محال نہیں، تو دونوں میں فرق ہے بھئی۔
پھر ترجمہ دیکھ لیجیے: کہتے ہیں بِخِلَافِ مَسْأَلَةِ الْكُوزِ بخلاف کوزے کے مسئلے کے لِأَنَّ شُرْبَ الْمَاءِ الَّذِي فِي الْكُوزِ وَقْتَ الْحَلِفِ وَلَا مَاءَ فِيهِ اس لیے کیونکہ وہ پانی پینا جو کوزے میں ہے قسم کھاتے وقت اور حال یہ ہے کہ اس میں تو پانی نہیں، اس میں پانی نہیں ہے اور پھر اس پانی کو پینا لَا يُتَصَوَّرُ اس کا تصور نہیں کیا جا سکتا فَلَمْ يَنْعَقِدْ تو وہ قسم منعقد نہیں ہوئی بھئی۔
آگے دیکھیے: بَابُ الْيَمِينِ فِي الْكَلَامِ، یہ باب ہے اس یمین کے بارے میں جو کلام کے بارے میں ہو، یعنی بات کرنے یا نہ کرنے کی کوئی قسم کھا لے تو اس کا کیا حکم ہے وہ اب صاحبِ ہدایہ بیان فرمائیں گے۔ کہتے ہیں: بَابُ الْيَمِينِ فِي الْكَلَامِ، یہ باب ہے اس یمین کے بیان میں جو کلام کے بارے میں ہو۔ قَالَ، صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: وَمَنْ حَلَفَ لَا يُكَلِّمُ فُلَانًا، ایک شخص نے قسم کھائی کہ واللہ میں فلاں سے بات نہیں کروں گا۔ بھئی صورت یہ: ایک آدمی نے قسم کھائی کہ واللہ میں فلاں سے بات نہیں کروں گا، پھر وہ سویا ہوا تھا اور یہ اس کے پاس گیا اور اس سے بات کی، اور اتنی آواز میں بات کر رہا ہے اگر وہ جاگ رہا ہوتا تو سن لیتا، تو کیا اس طرح بات کرنے سے یہ حانث ہو جائے گا یا نہیں؟ تو کہتے ہیں اس صورت میں یہ حانث ہو جائے گا کیونکہ اس نے تو اپنی طرف سے بات کر دی ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: وَمَنْ حَلَفَ لَا يُكَلِّمُ فُلَانًا اور جس شخص نے قسم اٹھائی کہ وہ فلاں سے بات نہیں کرے گا، فَكَلَّمَهُ وَهُوَ بِحَيْثُ يَسْمَعُ تو اس نے اس سے بات کی وَهُوَ بِحَيْثُ يَسْمَعُ اور وہ دوسرا اس طور پر ہے کہ وہ سن رہا ہے إِلَّا أَنَّهُ نَائِمٌ مگر یہ کہ وہ سویا ہوا ہے، وہ سن رہا ہے یعنی اس کے کانوں تک آواز پہنچ رہی ہے إِلَّا أَنَّهُ نَائِمٌ مگر یہ کہ وہ سو رہا ہے، حَنِثَ تو یہ شخص حانث ہو جائے گا لِأَنَّهُ قَدْ كَلَّمَهُ اس لیے کیونکہ تحقیق اس نے اس سے بات کر لی وَوَصَلَ إِلَى سَمْعِهِ اور اس کا کلام اس کے کانوں تک پہنچ گیا، لَكِنَّهُ لَمْ يَفْهَمْ لِنَوْمِهِ لیکن وہ شخص سمجھا نہیں اپنی نیند کی وجہ سے، فَصَارَ كَمَا إِذَا نَادَاهُ تو یہ اسی طرح ہو گیا جیسے اس نے اس کو ندا دی ہو، آواز دی ہو، وَهُوَ بِحَيْثُ يَسْمَعُ اور وہ اس طرح ہو کہ وہ سن رہا ہے، لَكِنَّهُ لَمْ يَفْهَمْ لِتَغَافُلِهِ لیکن اس کو سمجھا نہیں اپنی غفلت کی وجہ سے۔ کہتے ہیں بھئی بات اس نے کی ہے، اس کے کانوں تک پہنچ رہی ہے اگرچہ نیند کی وجہ سے وہ غافل ہے بھئی۔ تو یہ اسی طرح ہے جیسے یہ شخص کسی آدمی کو دور سے آواز دے، اب وہ اس کی آواز سن تو رہا ہے لیکن اس کو سمجھ میں نہیں آ رہی تو اس صورت میں بھی یہ حانث ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں: كَمَا إِذَا نَادَاهُ جیسے کہ یہ قسم کھانے والا اس آدمی کو آواز دے وَهُوَ بِحَيْثُ يَسْمَعُ اور یہ آدمی اس طور پر ہے کہ یہ اس کی آواز سن رہا ہے لَكِنَّهُ لَمْ يَفْهَمْ لِتَغَافُلِهِ لیکن یہ اس کو سمجھا نہیں اپنی غفلت کی وجہ سے تو بھی یہ حانث ہو جائے گا۔
وَفِي بَعْضِ رِوَايَاتِ الْمَبْسُوطِ اور امام محمد رحمہ اللہ کی کتاب مبسوط جو ہے اس کی بعض روایات میں ہے: شُرِطَ أَنْ يُوقِظَهُ کہ یہ شرط ہے أَنْ يُوقِظَهُ کہ یہ کلام اس کو جگا دے۔ وہ سویا ہوا ہے یہ جا کر اس سے بات کرتا ہے تو یہ شرط ہے کہ یہ کلام دوسرے کو جگا دے، تو اگر وہ کلام سے جاگ گیا تو پھر یہ حانث ہو گا ورنہ حانث نہیں ہو گا۔ تو کہتے ہیں: وَفِي بَعْضِ رِوَايَاتِ الْمَبْسُوطِ شُرِطَ أَنْ يُوقِظَهُ اور مبسوط کی بعض روایات میں ہے کہ یہ شرط ہے کہ یہ کلام اس سونے والے کو جگا دے، وَعَلَيْهِ مَشَايِخُنَا اور اسی پر ہمارے فقہاء ہیں۔ صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں ہمارے فقہاء اس پر ہیں کہ صرف بات کرنے سے حانث نہیں ہو گا بلکہ اگر وہ سونے والا اس کی بات سے جاگ جائے تو پھر اس کو حانث قرار دیا جائے گا۔ کہتے ہیں: لِأَنَّهُ إِذَا لَمْ يَتَنَبَّهْ اس لیے کیونکہ جب یہ سونے والا متنبہ نہیں ہوا، اس نے بات کی اور وہ متنبہ نہیں ہوا، جاگا نہیں، كَانَ كَمَا إِذَا نَادَاهُ مِنْ بَعِيدٍ تو یہ اسی طرح ہے جیسے اس نے دور سے اس کو آواز دی ہے وَهُوَ بِحَيْثُ لَا يَسْمَعُ صَوْتَهُ اور وہ اس طور پر ہے کہ وہ اس کی آواز نہیں سن رہا، تو اس صورت میں بالاتفاق حانث نہیں ہو گا بھئی، تو یہ بھی اسی طرح ہے، یہ بات کر رہا ہے جب تک وہ جاگے گا نہیں یہ حانث بھی نہیں ہو گا۔
وَلَوْ حَلَفَ لَا يُكَلِّمُهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ، اور اگر کسی شخص نے قسم کھائی کہ وہ فلاں سے بات نہیں کرے گا مگر اس کی اجازت سے۔ بھئی صورت یہ: ایک شخص نے قسم کھا لی کہ واللہ میں فلاں آدمی سے بات نہیں کروں گا مگر اس کی اجازت سے، پھر اس شخص دوسرے شخص نے اجازت دے دی لیکن اس کو بتلایا نہیں، کسی اور کے سامنے کہہ دیا میں نے اس کو اجازت دے دی ہے، تو پھر اس نے جا کر اس سے بات کر لی، کہتے ہیں حانث ہو جائے گا۔ حانث ہو جائے گا اس کو کفارہ دینا پڑے گا۔ بھئی کفارہ کیوں دینا پڑے گا اس نے تو اجازت دے دی تھی، اس کے بعد اس نے بات کی ہے؟ کہتے ہیں بھئی اجازت میں اطلاع دینا ضروری ہے، جب اس قسم کھانے والے کو اطلاع نہیں ملی اجازت کی تو گویا اجازت نہیں ہوئی، جب اجازت نہیں ہوئی اور اس نے بات کر لی ہے تو حانث ہو گیا اب کفارہ دے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَلَوْ حَلَفَ لَا يُكَلِّمُهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ اور اگر کسی شخص نے قسم اٹھائی کہ وہ فلاں سے بات نہیں کرے گا مگر اس کی اجازت سے، فَأَذِنَ لَهُ تو اس دوسرے آدمی نے اس کو اجازت دے دی وَلَمْ يَعْلَمْ بِالْإِذْنِ اور حال یہ ہے کہ قسم کھانے والے کو اجازت کا علم نہیں ہے حَتَّى كَلَّمَهُ یہاں تک کہ اس نے اس کے ساتھ بات کر لی، حَنِثَ تو یہ حانث ہو گیا۔
کہتے ہیں: لِأَنَّ الْإِذْنَ مُشْتَقٌّ مِنَ الْأَذَانِ الَّذِي هُوَ الْإِعْلَامُ، کہتے ہیں اس لیے کیونکہ اذن مشتق ہے اذان سے، اذن مشتق ہے اذان سے، یہ جو نماز کے لیے اذان دی جاتی ہے اذان کو اذان کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ اس میں دوسروں کو اطلاع دی جاتی ہے، تو اذان کا معنی ہے اطلاع دینا۔ تو کہتے ہیں یہ جو اذن ہے، اجازت جو ہے یہ بھی اذان سے مشتق ہے اور اذان کا معنی تو ہے اطلاع دینا، تو اذن کے اندر بھی اطلاع دینا ضروری ہے پھر ہی اذن ہو گی بھئی۔ کہتے ہیں: لِأَنَّ الْإِذْنَ مُشْتَقٌّ مِنَ الْأَذَانِ اس لیے کیونکہ اذن کا لفظ یہ مشتق ہے اس اذان سے الَّذِي هُوَ الْإِعْلَامُ جو کہ اطلاع دینا ہے، وہ اذان کہ جو اعلام ہے یعنی اطلاع دینا، أَوْ مِنَ الْوُقُوعِ فِي الْأُذُنِ یا یہ جو اذن کا لفظ ہے یہ وقوع فی الاذن سے ماخوذ ہے یعنی کان میں کوئی چیز واقع ہو تو اس کو اذن کہتے ہیں، تو معلوم ہوا اجازت کے اندر بھی کان کے اندر بات کا پہنچنا اور اجازت کا پہنچنا ضروری ہے پھر ہی اس کو اذن کہا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: أَوْ مِنَ الْوُقُوعِ فِي الْأُذُنِ یا یہ اذن جو ہے یہ اذن میں واقع ہونے سے مشتق ہے، وَكُلُّ ذَلِكَ لَا يَتَحَقَّقُ إِلَّا بِالسَّمَاعِ اور ان میں سے کوئی بھی چیز نہیں پائی جا سکتی مگر سننے سے۔ اذن کا لفظ یا تو اذان سے مشتق ہے اور اذان کا معنی بھی اطلاع دینا، اطلاع کے اندر بھی بات کان تک پہنچنا ضروری ہے، یا اذن یہ ماخوذ ہے کان کے اندر واقع ہونے سے اور اس کے اندر بھی کان کے اندر بات کا پہنچنا ضروری ہے، تو یہ معنی ہے: وَكُلُّ ذَلِكَ لَا يَتَحَقَّقُ إِلَّا بِالسَّمَاعِ اور یہ اطلاع دینا اور کان میں واقع ہونا یہ پایا نہیں جا سکتا مگر سننے سے ہی۔
وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ: لَا يَحْنَثُ، اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ شخص حانث نہیں ہو گا، لِأَنَّ الْإِذْنَ هُوَ الْإِطْلَاقُ اس لیے کیونکہ اذن جو ہے وہ اطلاق ہے یعنی اجازت دینا ہے، وَأَنَّهُ يَتِمُّ بِالْآذِنِ اور یہ اجازت دینے والے سے ہی تام ہو جاتا ہے، كَالرِّضَا جیسے رضامندی ہے۔ بھئی رضامندی ایک آدمی کہتا ہے میں فلاں سے بات نہیں کروں گا مگر اس کی رضامندی سے، اب وہ راضی ہو گیا اگرچہ اس کو نہیں بتلایا لیکن وہ راضی ہو گیا اور پھر اس نے جا کر بات کی تو حانث نہیں ہو گا۔ تو جیسے رضامندی کے اندر دوسرے کو اطلاع دینا ضروری نہیں، رضامندی کے اندر صرف رضامند ہونے والے کا راضی ہونا کافی ہے دوسرے کو اطلاع دینا ضروری نہیں، تو اسی طرح اذن کے اندر بھی، اذن بھی اس کا تعلق اجازت دینے والے سے ہی ہے اس میں دوسرے کو اطلاع دینا ضروری نہیں ہے بھئی، تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک یہ حانث نہیں ہو گا۔ تو کہتے ہیں: وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ لَا يَحْنَثُ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ حانث نہیں ہو گا لِأَنَّ الْإِذْنَ هُوَ الْإِطْلَاقُ اس لیے کیونکہ اذن جو ہے وہ اطلاق کا نام ہے، اطلق یطلق اطلاق کا معنی آزاد کر دینا یعنی اجازت دے دینا، کہ اذن جو ہے وہ اطلاق کا نام ہے یعنی اجازت دینے کا نام ہے، وَأَنَّهُ يَتِمُّ بِالْآذِنِ اور یہ اجازت اجازت دینے والے سے ہی پوری ہو جاتی ہے كَالرِّضَا جیسے رضامندی جو ہے رضامندی کرنے والے سے ہی پوری ہو جاتی ہے۔
قُلْنَا ہم کہتے ہیں: الرِّضَا مِنْ أَعْمَالِ الْقَلْبِ، ہم کہتے ہیں آپ نے اذن کو رضامندی پر قیاس کیا حالانکہ دونوں چیزیں مختلف ہیں، ایک جیسی چیزوں کو ایک دوسرے پر قیاس کرتے ہیں دو مختلف چیزوں کو ایک دوسرے پر قیاس نہیں کرتے، وجہ یہ ہے کہ رضامندی یہ دل کا فعل ہے اور اذن اس کے اندر تو سننا ضروری ہے بھئی، تو لہذا دونوں مختلف ہیں بات سمجھ میں آ گئی۔ تو قُلْنَا ہم کہتے ہیں: الرِّضَا مِنْ أَعْمَالِ الْقَلْبِ کہ رضامندی یہ دل کے اعمال میں سے ہے، وَلَا كَذَلِكَ الْإِذْنُ عَلَى مَا مَرَّ اور اجازت ایسی نہیں ہے اس وجہ سے جو بات گزر گئی کہ اس کے اندر سننا ضروری ہے۔
آگے دیکھیے: قَالَ: وَإِنْ حَلَفَ لَا يُكَلِّمُهُ شَهْرًا فَهُوَ مِنْ حِينِ حَلَفَ۔ صورتِ مسئلہ یہ: ایک شخص نے قسم کھا لی کہ واللہ میں فلاں سے ایک ماہ بات نہیں کروں گا، تو اس نے شہر کا لفظ ذکر کیا اور نکرہ ذکر کیا اور کیا کہتا ہے: لَا يُكَلِّمُهُ شَهْرًا، تو اس صورت میں اس مہینے کی ابتداء کب سے شمار کریں گے؟ کہتے ہیں جس وقت اس نے قسم کھائی ہے تو جیسے ہی قسم سے فارغ ہوا ہے اب اس ایک مہینے کے وقت کی ابتداء ہو گئی۔ تو کہتے ہیں: قَالَ، امام محمد رحمہ اللہ جامع صغیر میں فرماتے ہیں: وَإِنْ حَلَفَ لَا يُكَلِّمُهُ شَهْرًا اور اگر کسی شخص نے قسم اٹھائی کہ وہ فلاں سے ایک مہینہ کلام نہیں کرے گا، فَهُوَ مِنْ حِينِ حَلَفَ تو یہ قسم جو ہے اس وقت سے ہو گی جس وقت اس نے قسم کھائی ہے، لِأَنَّهُ لَوْ لَمْ يَذْكُرِ الشَّهْرَ اس لیے کیونکہ اگر یہ شخص شہر کا لفظ ذکر نہ کرتا، تَتَأَبَّدُ الْيَمِينُ تو یہ قسم مؤبد ہوتی۔ بھئی دیکھیے جب کوئی شخص قسم اٹھائے اور اس کے ساتھ وقت ذکر نہ کرے تو پھر اس کو مؤبد شمار کیا جاتا ہے، مثلاً ایک آدمی کہتا ہے کہ واللہ میں زید سے بات نہیں کروں گا تو اس کا کیا معنی ہے؟ یعنی ہمیشہ کے لیے بات نہیں کروں گا، یہ معنی نہیں ہے کہ صرف ایک یا دو مہینے، تو وہ قسم جس کے اندر وقت کو ذکر نہ کیا جائے وہ مؤبد شمار ہوتی ہے۔ تو یہاں بھی دلیل ذکر فرما رہے ہیں کہ اگر یہ وقت ذکر نہ کرتا تو یہ قسم مؤبد شمار ہوتی لیکن جب اس نے وقت ذکر کر دیا تو معلوم ہوا اس وقت کے بعد والا جو وقت ہے وہ اس کو قسم سے نکال رہا ہے، تو لہذا قسم کھاتے ہی وقت شروع ہو گیا اور جب ایک مہینہ پورا ہو جائے گا تو اس کے بعد بات کرے گا تو حانث نہیں ہو گا۔
تو کہتے ہیں: لِأَنَّهُ لَوْ لَمْ يَذْكُرِ الشَّهْرَ تَتَأَبَّدُ الْيَمِينُ اس لیے کیونکہ یہ شخص اگر شہر کو ذکر نہ کرتا تو یہ یمین مؤبد ہوتی یعنی ہمیشہ کے لیے ہوتی، وَذِكْرُ الشَّهْرِ لِإِخْرَاجِ مَا وَرَاءَهُ اور مہینے کا ذکر جو ہے وہ مہینے کے مابعد کو نکالنے کے لیے ہے، فَبَقِيَ الَّذِي يَلِي يَمِينَهُ دَاخِلًا عَمَلًا بِدَلَالَةِ حَالِهِ، فَبَقِيَ الَّذِي يَلِي يَمِينَهُ تو باقی رہے گا وہ وقت جو اس کی قسم کے ساتھ ملا ہوا ہے، وہ وقت باقی رہے گا دَاخِلًا قسم میں داخل ہو کر، تو وہ وقت جو قسم کے ساتھ ملا ہوا ہے وہ قسم کے اندر داخل ہو کر باقی رہے گا عَمَلًا بِدَلَالَةِ حَالِهِ دلالتِ حال پر عمل کرتے ہوئے۔ دلالتِ حال کیا ہے کہ یہ سخت غصے کے عالم میں قسم کھا رہا ہے کہ واللہ میں اس سے ایک مہینے تک بات نہیں کروں گا، ایک مہینے تک بات نہیں کروں گا تو معلوم ہوا یہ جو ایک مہینہ ہے اس کو وہ قسم کے اندر داخل کر رہا ہے بھئی، یہ معنی ہے: فَبَقِيَ الَّذِي يَلِي يَمِينَهُ دَاخِلًا تو وہ وقت جو اس کی قسم کے ساتھ ملا ہوا ہے وہ قسم میں داخل ہو کر باقی رہے گا عَمَلًا بِدَلَالَةِ حَالِهِ دلالتِ حال پر عمل کرتے ہوئے۔
بِخِلَافِ مَا إِذَا قَالَ: وَاللَّهِ لَأَصُومَنَّ شَهْرًا، بخلاف اس کے کہ جب کسی شخص نے کہا واللہ میں ایک مہینہ ضرور روزے رکھوں گا، تو یہاں پر اس صورت میں یاد رکھو اس نے شَهْرًا نکرہ ذکر کیا ہے تو لہذا قسم کھاتے ہی فوراً مہینہ شروع نہیں ہو گیا بلکہ جس مہینے میں بھی یہ روزے رکھنا چاہے رکھ سکتا ہے، اس لیے کیونکہ یہ قسم پہلی قسم سے مختلف ہے، وہاں پر وقت ذکر نہیں کرتا تھا تو وہ مؤبد شمار ہوتی تھی، یہاں پر اگر یہ وقت ذکر نہ کرتا تو اس نے مؤبد شمار نہیں ہونا تھا، اگر یہ شخص صرف یوں کہتا کہ واللہ میں ضرور بضرور روزہ رکھوں گا تو صرف ایک روزہ رکھنے سے قسم پوری ہو جاتی، ہمیشہ کے لیے روزے رکھنا اس کے لیے ضروری نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: بِخِلَافِ مَا إِذَا قَالَ وَاللَّهِ لَأَصُومَنَّ شَهْرًا بخلاف اس کے کہ جب ایک شخص نے کہا واللہ میں ضرور روزہ رکھوں گا ایک مہینہ، لِأَنَّهُ لَوْ لَمْ يَذْكُرِ الشَّهْرَ لَا يَتَأَبَّدُ الْيَمِينُ اس لیے کیونکہ اگر یہ شہر کو ذکر نہ کرتا تو یہ قسم جو ہے مؤبد نہ ہوتی، فَكَانَ ذِكْرُهُ لِتَقْدِيرِ الصَّوْمِ بِهِ تو یہ شہر کو ذکر کرنا اس کے ساتھ روزے کا اندازہ لگانے کے لیے ہے کہ وہ اس وقت کے ساتھ روزے کا اندازہ لگانا چاہتا ہے کہ اتنے روزے میں رکھوں گا، وَأَنَّهُ مُنَكَّرٌ اور حال یہ ہے کہ یہ شہر کا لفظ تو نکرہ ہے، فَالـتَّعْيِينُ إِلَيْهِ تو اس کو متعین کرنا اسی کے سپرد ہے، اسی کے حوالے ہے، یہ جس مہینے میں بھی چاہے روزے رکھ سکتا ہے بھئی۔
وَإِنْ حَلَفَ لَا يَتَكَلَّمُ، صورتِ مسئلہ یہ: ایک شخص نے قسم کھائی واللہ میں کلام نہیں کروں گا اور پھر اس نے قرآن پڑھا، یا اس نے سبحان اللہ پڑھا، یا الحمد للہ کہا یا لا الہ الا اللہ کہا، تو کیا یہ حانث ہو گا یا نہیں؟ کہتے ہیں بھئی اگر یہ چیزیں اس نے نماز میں کہیں تو پھر حانث نہیں ہو گا، اور اگر نماز سے باہر کہیں تو پھر حانث ہو جائے گا بھئی۔ کہتے ہیں: وَإِنْ حَلَفَ لَا يَتَكَلَّمُ اور اگر کسی شخص نے قسم اٹھائی کہ وہ کلام نہیں کرے گا، فَقَرَأَ الْقُرْآنَ فِي صَلَاتِهِ لَا يَحْنَثُ پھر اس نے نماز کے اندر قرآن پڑھا تو یہ حانث نہیں ہو گا، وَإِنْ قَرَأَ فِي غَيْرِ صَلَاتِهِ حَنِثَ اور اگر اس نے نماز کے علاوہ میں قرآن پڑھا تو یہ حانث ہو جائے گا، وَعَلَى هَذَا التَّسْبِيحُ وَالتَّهْلِيلُ وَالتَّكْبِيرُ اور اسی پر تسبیح، تہلیل اور تکبیر بھی ہے۔ تسبیح کا معنی ہے سبحان اللہ کہنا، تہلیل کا معنی ہے لا الہ الا اللہ کہنا، تکبیر کا معنی ہے اللہ اکبر کہنا۔ تو کہتے ہیں اسی پر ہے تسبیح، تہلیل اور تکبیر بھی، یعنی نماز کے اندر یہ تسبیح یعنی سبحان اللہ کہے یا تہلیل یعنی لا الہ الا اللہ کہے یا تکبیر یعنی اللہ اکبر کہے تو پھر حانث نہیں، اور نماز سے باہر کہے گا تو حانث ہو جائے گا۔
وَفِي الْقِيَاسِ يَحْنَثُ فِيهِمَا، اور قیاس کے اندر یہ دونوں میں حانث ہو گا، قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ چاہے نماز کے اندر قرآن پڑھے چاہے نماز سے باہر پڑھے، چاہے نماز کے اندر یہ تسبیح وغیرہ پڑھے چاہے نماز سے خارج، تو قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ اس کو حانث ہونا چاہیے کیونکہ یہ کلام ہے، یہ کیا ہے؟ کلام ہے۔ تو کہتے ہیں: وَفِي الْقِيَاسِ يَحْنَثُ فِيهِمَا اور قیاس کے اندر تو یہ دونوں میں حانث ہو جائے گا، وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ اور یہی قول ہے امام شافعی رحمہ اللہ کا، لِأَنَّهُ كَلَامٌ حَقِيقَةً اس لیے کیونکہ یہ حقیقتاً کلام ہے، قرآن بھی کیا ہے؟ کلام اللہ ہے تو ہے وہ کلام۔ جبکہ ہمارے نزدیک نماز میں حانث نہیں، نماز سے باہر حانث ہو جائے گا، اب ہماری دلیل آ گئی۔ وَلَنَا اور ہماری دلیل یہ ہے: أَنَّهُ فِي الصَّلَاةِ لَيْسَ بِكَلَامٍ عُرْفًا وَلَا شَرْعًا کہ یہ نماز کے اندر کلام نہیں ہے عُرْفًا وَلَا شَرْعًا، نہ عرف کے اعتبار سے اور نہ شریعت کے اعتبار سے۔ نماز کے اندر قرات وغیرہ اور اللہ اکبر پڑھا کہا جاتا ہے تو اس کو کوئی بھی کلام نہیں کہتا، اور نیز شرعاً بھی یہ کلام نہیں ہے، چنانچہ حدیث میں آتا ہے حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: ہماری اس نماز میں کلام کی گنجائش نہیں ہے، معلوم ہوا یہ جو نماز میں چیزیں ہیں یہ کلام نہیں ہیں بھئی۔ ہماری دلیل یہ ہے کہ أَنَّهُ فِي الصَّلَاةِ لَيْسَ بِكَلَامٍ عُرْفًا وَلَا شَرْعًا کہ یہ چیزیں جو ہیں نماز کے اندر کلام نہیں ہیں نہ عرف کے اعتبار سے اور نہ شریعت کے اعتبار سے، قَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”إِنَّ صَلَاتَنَا هَذِهِ لَا يَصْلُحُ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ كَلَامِ النَّاسِ“، إِنَّ صَلَاتَنَا هَذِهِ کہ ہماری یہ جو نماز ہے لَا يَصْلُحُ فِيهَا اس کے اندر صلاحیت نہیں ہے شَيْءٌ مِنْ كَلَامِ النَّاسِ لوگوں کے کلام میں سے کسی چیز کی، اس کی ہماری نماز میں صلاحیت نہیں ہے بھئی، یعنی نماز میں کوئی بھی کلام وغیرہ کرے گا تو نماز ٹوٹ جائے گی۔
وَقِيلَ اور کہا گیا ہے: فِي عُرْفِنَا لَا يَحْنَثُ فِي غَيْرِ الصَّلَاةِ أَيْضًا کہ ہمارے عرف میں وہ غیرِ نماز کے اندر بھی وہ حانث نہیں ہو گا، یعنی نماز سے باہر بھی یہ قرآن پڑھے گا یا تسبیح و تہلیل کہے گا تو حانث نہیں ہو گا، لِأَنَّهُ لَا يُسَمَّى مُتَكَلِّمًا اس لیے کیونکہ اس شخص کو متکلم نہیں کہا جاتا، بَلْ قَارِئًا وَمُسَبِّحًا بلکہ اس کو قاری یا مسبح کہا جاتا ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔
وَلَوْ قَالَ: يَوْمَ أُكَلِّمُ فُلَانًا فَامْرَأَتُهُ طَالِقٌ فَهُوَ عَلَى اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ۔ بھئی یہ بات پہلے بھی گزر چکی ہے کہ یوم کا لفظ کبھی مطلقِ وقت کے معنی میں آتا ہے اور کبھی یوم کا لفظ نہار کے معنی میں آتا ہے یعنی صبح سے شام تک کا جو وقت ہے اس کو بھی یوم کہتے ہیں۔ تو عربی زبان میں یہ دونوں طرح استعمال ہوتا ہے، اور باب ایقاع الطلاق کے اندر صاحبِ ہدایہ نے تفصیل ذکر فرمائی تھی کہ یوم کی نسبت جب ایسے فعل کی طرف کی جائے جس میں امتداد ہے، جو لمبا ہو سکتا ہے، تو پھر یہ اس کے لیے معیار بنے گا یعنی یہ اس کی مدت بیان کرے گا، اور جب اس یوم کی نسبت ایسے فعل کی طرف کی جائے جس کے اندر امتداد نہ ہو، طول نہ ہو، وہ ایک لمحے میں ہو جاتا ہے تو پھر اس صورت میں یہ مطلقِ وقت کے معنی میں ہو گا۔ تو کہتے ہیں: وَلَوْ قَالَ يَوْمَ أُكَلِّمُ فُلَانًا فَامْرَأَتُهُ طَالِقٌ اور اگر کسی شخص نے کہا کہ اگر اس نے فلاں سے بات کی تو اس کی بیوی کو طلاق ہے، فَهُوَ عَلَى اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ تو یہ قسم جو ہے رات اور دن پر محمول ہو گی یعنی دن یا رات میں جب بھی بات کر لے گا حانث ہو جائے گا۔ وجہ کیا کہ اس نے یوم کا لفظ ذکر کیا ہے اور یوم کا لفظ جب فعلِ غیر ممتد کے ساتھ ذکر ہو تو یہ مطلقِ وقت کے معنی میں ہوتا ہے، اور یہاں پر بھی کلام کرنا اس میں بھی امتداد نہیں اور اسی طرح آگے طلاق جو ہے طلاق دینے میں بھی امتداد نہیں ہے، خاوند بیوی کو طلاق دیتا ہے اسی وقت طلاق ہو جاتی ہے، ایسا نہیں ہو سکتا کہ صبح سے شام تک آہستہ آہستہ طلاق واقع ہوتی چلی جائے۔ اسی طرح کلام کے اندر بھی امتداد اور دوام نہیں ہے، دیکھو میں بولتا جا رہا ہوں میرے الفاظ جوں جوں میری زبان سے ادا ہو رہے ہیں وہ معدوم ہوتے چلے جا رہے ہیں، تو جب ہم کلام کرتے ہیں تو جو لفظ ابھی آیا نہیں اس کا وجود نہیں ہے اور اگلے لمحے میں جب وہ میری زبان پر ہے اس کا وجود ہوا اور پھر ساتھ ہی وہ گزر گیا اگلا لفظ آ گیا، تو کلام کے اندر بھی حروف اور الفاظ جو ہیں وہ معدوم ہوتے چلے جاتے ہیں ہم جوں جوں کلام کرتے ہیں، معلوم ہوا کلام کے اندر بھی امتداد نہیں ہے تو یہاں جو یوم کا لفظ آیا: يَوْمَ أُكَلِّمُ فُلَانًا، ایک آدمی کیا کہتا ہے؟ يَوْمَ أُكَلِّمُ فُلَانًا فَامْرَأَتُهُ طَالِقٌ کہ جس وقت وہ فلاں سے بات کرے تو اس کی بیوی کو طلاق ہے، تو یہاں یہ یوم وقت کے معنی میں ہے تو چاہے دن کو بات کرے پھر بھی بیوی کو طلاق ہو جائے گی چاہے رات کو بات کرے پھر بھی طلاق ہو جائے گی۔
تو کہتے ہیں: وَلَوْ قَالَ يَوْمَ أُكَلِّمُ فُلَانًا فَامْرَأَتُهُ طَالِقٌ فَهُوَ عَلَى اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ، اور اگر کسی شخص نے کہا کہ اگر اس نے فلاں سے بات کی تو اس کی بیوی کو طلاق ہے تو یہ قسم محمول ہو گی رات اور دن پر، لِأَنَّ اسْمَ الْيَوْمِ إِذَا قُرِنَ بِفِعْلٍ لَا يَمْتَدُّ اس لیے کیونکہ یوم کا اسم جب اس کو ملایا جائے ایسے فعل کے ساتھ جس میں امتداد نہیں ہوتا، يُرَادُ بِهِ مُطْلَقُ الْوَقْتِ تو اس کے ذریعے مطلقِ وقت مراد ہوتا ہے۔ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں: ﴿وَمَنْ يُوَلِّهِمْ يَوْمَئِذٍ دُبُرَهُ﴾، بھئی یہ بات جہاں یہ یوم کی تفصیل ذکر فرمائی تھی صاحبِ ہدایہ نے باب ایقاع الطلاق، وہاں پر بھی یہ آیت کا یہ حصہ صاحبِ ہدایہ نے ذکر کیا تھا، یہ آیت قرآن میں اللہ کیا فرماتے ہیں: ﴿وَمَنْ يُوَلِّهِمْ يَوْمَئِذٍ دُبُرَهُ﴾ اور جو کوئی پھیرے گا اس دن دبرہ اپنی پشت کو، جو کوئی اس دن اپنے پشت پھیرے گا، اور یہ پشت پھیرنا، پشت پھیرنا اس فعل میں تو امتداد نہیں، تو یہاں یوم کا لفظ وقت کے معنی میں ہے، تو جو کوئی جس وقت بھی پشت پھیرے گا چاہے دن ہو یا رات ہو وہ اس کے اندر داخل ہے۔ بھئی یہ آیت میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ غزوہ بدر کے موقع پر نازل ہوئی بھئی، اور غزوہ بدر جو کفار اور مسلمانوں کے درمیان پہلا معرکہ تھا، مسلمان بے سروسامانی کی حالت میں تھے اور ان کی تعداد بھی بڑی تھوڑی تھی جبکہ کفار جو ہیں اس سے کئی گنا زیادہ تھے اور اسلحے سے لیس تھے سر سے پاؤں تک اسلحے میں چھپے ہوئے تھے، اور اس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ حکم آیا کہ مسلمانوں میں سے جو کوئی اپنے پشت پھیرے گا تو اس پر اللہ کا غضب بھی ہو گا اور اس کے لیے جہنم ہے بھئی۔ تو اس وقت یہ سخت حکم اللہ کی طرف سے نازل ہوا کیونکہ یہ پہلا معرکہ تھا مسلمانوں اور کفار میں تاکہ مسلمان خوب جم کر لڑیں اور کسی کے دل میں بھی واپس پلٹنے کا خیال نہ آئے بھئی، اور پھر بعد میں اس حکم میں نرمی کر دی گئی۔ تو اس وقت اللہ فرماتے ہیں: ﴿وَمَنْ يُوَلِّهِمْ يَوْمَئِذٍ دُبُرَهُ﴾ اور جو کوئی پھیرے گا اس وقت دبرہ اپنی پشت کو، تو اس کے لیے اللہ کا غضب بھی ہے اور جہنم بھی ہے۔ تو کہتے ہیں: قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿وَمَنْ يُوَلِّهِمْ يَوْمَئِذٍ دُبُرَهُ﴾، وَالْكَلَامُ لَا يَمْتَدُّ اور یہ جو کلام ہے اس میں بھی امتداد نہیں ہوتا، یہ جو کلام ہے اس میں بھی امتداد نہیں ہوتا میں جوں جوں بولتا جا رہا ہوں الفاظ معدوم ہوتے چلے جا رہے ہیں بھئی۔
یہاں پر بعض شارحین نے صاحبِ ہدایہ پر اعتراض کیا ہے، صاحبِ ہدایہ پر اعتراض کیا ہے: بھئی دیکھو یوم کا لفظ جب عبارت کے اندر استعمال ہو، ایک وہ فعل ہے جس کے لیے یوم ظرف بن رہا ہے، یہ یوم دیکھو يَوْمَ یہ یوم پر نصب آ رہا ہے کیونکہ یہ ظرف بن رہا ہے ظرف منصوب ہوتا ہے، تو جس فعل کے لیے یہ ظرف بن رہا ہے جو فعل اس کو نصب دے رہا ہے اس کا اعتبار کیا جائے گا یا جس کی طرف یوم کا لفظ مضاف ہو رہا ہے: يَوْمَ أُكَلِّمُ، یہ أُكَلِّمُ مضاف الیہ ہے۔ تو کس کا اعتبار کیا جائے گا؟ جس کے لیے یوم کا لفظ ظرف بن رہا ہے یا جس کی طرف یوم کا لفظ مضاف ہو رہا ہے؟ تو یاد رکھو علماء فرماتے ہیں کہ جس کے لیے یوم کا لفظ ظرف بن رہا ہے اس کا اعتبار ہو گا، اور وہ تو یہاں پر طلاق ہے: میری بیوی کو طلاق ہے يَوْمَ أُكَلِّمُ اس دن جس دن میں اس فلاں سے بات کروں، تو یہ یوم ظرف ہے کس کے لیے؟ طلاق کے لیے، اور أُكَلِّمُ تو اس کا مضاف الیہ ہے۔ تو علماء محققین فرماتے ہیں جس فعل کے لیے یوم کا لفظ ظرف بن رہا ہو اس کا اعتبار ہے مضاف الیہ کا اعتبار نہیں ہے۔ تو یہاں بعض شارحین اعتراض کرتے ہیں، اعتراض یہ کہ یہاں تو یہ یوم کا لفظ طلاق کے لیے ظرف بن رہا ہے اور صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں وَالْكَلَامُ لَا يَمْتَدُّ کہ کلام میں امتداد نہیں ہوتا، حالانکہ صاحبِ ہدایہ کو کہنا چاہیے تھا کہ طلاق میں امتداد نہیں ہوتا۔ اعتراض سمجھ میں آ رہا ہے؟ کیونکہ یوم کا لفظ ظرف ہے طلاق کے لیے نہ کہ کلام کے لیے۔ تو جواب یاد رکھنا کہ بھئی صاحبِ ہدایہ یہ ضابطہ پہلے ذکر فرما چکے ہیں اور یہاں طلاق ہی کا اعتبار ہے، لیکن صاحبِ ہدایہ نے کلام کو ذکر کیا یہ بتلانے کے لیے کہ جو علماء مضاف الیہ کا اعتبار کرتے ہیں یا دونوں کا اعتبار کرتے ہیں، وہ فعل جو عامل ہے اس کا بھی اعتبار کرتے ہیں اور مضاف الیہ کا بھی، اور بعض صرف مضاف الیہ کا اعتبار کرتے ہیں، تو ان کے بھی قول کو اگر لے لیا جائے تو بھی یہاں پر امتداد نہیں ہے کیونکہ جیسے طلاق میں امتداد نہیں ہے مضاف الیہ کلام کے اندر بھی امتداد نہیں ہے، جواب سمجھ میں آیا؟ تو یہ معنی ہے: وَالْكَلَامُ لَا يَمْتَدُّ کلام جو ہے اس میں امتداد نہیں ہے۔
وَإِنْ عَنَى النَّهَارَ خَاصَّةً دُيِّنَ فِي الْقَضَاءِ، صورت یہ: اس آدمی نے یہی قسم کھائی کہ جس دن وہ اس آدمی سے کلام کرے تو اس کی بیوی کو طلاق، اور بعد میں کہتا ہے یوم کے ذریعے میرا ارادہ دن کا تھا، نہار کا تھا، رات کا ارادہ نہیں تھا، تو کہتے ہیں اس صورت میں قضاءً بھی اس کی تصدیق کی جائے گی کیونکہ یوم کا لفظ دن کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ تو کہتے ہیں: وَإِنْ عَنَى النَّهَارَ خَاصَّةً اور اگر اس نے نہار کا ارادہ کیا خاص طور پر، دُيِّنَ فِي الْقَضَاءِ تو اس کی تصدیق کی جائے گی قضاء کے اندر بھی، لِأَنَّهُ مُسْتَعْمَلٌ فِيهِ أَيْضًا اس لیے کیونکہ یوم کا لفظ جو ہے دن کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے، وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ أَنَّهُ لَا يُدَيَّنُ فِي الْقَضَاءِ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ قضاء کے اندر اس کی تصدیق نہیں کی جائے گی، لِأَنَّهُ خِلَافُ الْمُتَعَارَفِ کیونکہ یہ متعارف کے خلاف ہے، متعارف تو یہ ہے کہ یوم کا لفظ جب ظرف بنے ایسے فعل کے لیے جس میں امتداد نہیں تو یہ مطلقِ وقت کے معنی میں ہوتا ہے۔
وَلَوْ قَالَ: لَيْلَةَ أُكَلِّمُ فُلَانًا، بھئی اگر یوم کے بجائے رات کا لفظ ذکر کرتا ہے: لَيْلَةَ أُكَلِّمُ فُلَانًا، تو پھر اس صورت میں صرف رات کو بات کرے گا تو حانث ہو گا ویسے حانث نہیں ہو گا۔ کہتے ہیں: وَلَوْ قَالَ لَيْلَةَ أُكَلِّمُ فُلَانًا اور اگر قسم کھانے والے نے رات کو ذکر کیا، فَهُوَ عَلَى اللَّيْلِ خَاصَّةً تو یہ قسم رات پر ہی ہو گی خاص طور پر، لِأَنَّهُ حَقِيقَةٌ فِي سَوَادِ اللَّيْلِ اس لیے کیونکہ یہ لیل جو ہے یہ رات کی تاریکی میں حقیقت ہے یہ رات کی تاریکی کو کہتے ہیں، كَالنَّهَارِ لِلْبَيَاضِ خَاصَّةً جیسے نہار کا لفظ جو ہے وہ خاص طور پر سفیدی اور روشنی کے لیے ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟ وَمَا جَاءَ اسْتِعْمَالُهُ اور لیل کے لفظ کا استعمال نہیں آیا فِي مُطْلَقِ الْوَقْتِ مطلقِ وقت کے معنی میں۔ لیل کا لفظ صرف رات ہی کے لیے عربی میں استعمال ہوتا ہے یوم کی طرح مطلقِ وقت کے معنی میں استعمال نہیں ہوتا، بات سمجھ میں آ گئی، حل ہو گیا؟ چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔