Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء ثاني · dars-101

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 16 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 104
📂 Choose Format:
⭐ ★★★★★ Excellent TEXT
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
آگے سبق دیکھیے بھئی۔ فَصْلٌ فِي الْكَفَّارَةِ۔ قَالَ: كَفَّارَةُ الْيَمِينِ عِتْقُ رَقَبَةٍ يُجْزِئُ فِيهَا مَا يُجْزِئُ فِي الظِّهَارِ، وَإِنْ شَاءَ كَسَا عَشَرَةَ مَسَاكِينَ كُلَّ وَاحِدٍ ثَوْبًا فَمَا زَادَ، وَأَدْنَاهُ مَا يَجُوزُ فِيهِ الصَّلَاةُ، وَإِنْ شَاءَ أَطْعَمَ عَشَرَةَ مَسَاكِينَ كَالْإِطْعَامِ فِي كَفَّارَةِ الظِّهَارِ، وَالْأَصْلُ فِيهِ قَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿فَكَفَّارَتُهُ إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسَاكِينَ﴾ الْآيَةَ۔ بھئی گزشتہ سبق میں ہم نے کتاب الایمان شروع کی تھی۔ میں نے آپ کو بتلایا کہ أَيْمَانٌ جمع ہے يَمِينٌ کی بھئی، اور عربی زبان میں یمین کا معنی ہے قوت اور طاقت، اور شریعت میں یمین جو ہے اس عقد کا نام ہے جس کے ذریعے بات کرنے والا اپنی بات کو مضبوط کرتا ہے، اس کو قوت دیتا ہے، مثلاً اللہ کا نام ساتھ ملا دیتا ہے یا اسی طرح تعلیق کر دیتا ہے۔ آپ کو میں نے بتلایا تھا کہ تعلیق کو بھی فقہ کے اندر یمین کہتے ہیں، اس لیے کیونکہ جس طرح قسم جو ہے کھانے سے لازم ہو جاتی ہے اس سے رجوع نہیں ہو سکتا اسی طرح تعلیق بھی ایک دفعہ کر دی جائے تو وہ لازم ہو جاتی ہے اس سے رجوع نہیں کیا جا سکتا، اور نیز جیسے قسم جو ہے کسی کام پر ابھارنے کے لیے یا کسی کام سے روکنے کے لیے کھائی جاتی ہے اسی طرح تعلیق بھی کسی کام پر ابھارنے کے لیے اور کسی کام سے روکنے کے لیے کی جاتی ہے۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ قسمیں جو ہیں وہ تین قسم پر ہیں: ایک یمینِ غموس ہے، ایک یمینِ منعقدہ ہے اور ایک یمینِ لغو ہے۔ یمینِ غموس اسے کہتے ہیں کہ ماضی کی کسی بات پر انسان جھوٹی قسم کھا لے، اور میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ یہ گناہِ کبیرہ ہے بھئی اور یہ کفارہ دینے سے بھی اب یہ گناہ معاف نہیں ہو گا بلکہ اس میں صرف توبہ اور استغفار کرے اور اللہ سے معافی طلب کرے۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یمینِ غموس کے اندر بھی کفارہ دیا جا سکتا ہے، اس لیے کیونکہ کفارے کا مقصد جو ہے وہ جو اللہ کے نام کی بے حرمتی ہوئی ہے اس گناہ کو ختم کرنا ہے، اور یمینِ غموس کے اندر بھی اللہ کے نام کی بے حرمتی پائی گئی ہے تو اس میں بھی کفارہ جائز ہے بھئی۔ جبکہ ہم کہتے ہیں کہ یمینِ غموس تو کبیرۂ محض ہے بھئی، یعنی یہ صرف اور صرف گناہ ہی ہے، وہ کبیرہ گناہ ہے، جبکہ یہ جو کفارہ جو ہے وہ اس میں سزا کا بھی پہلو ہے، بعض اعتبار سے دیکھیں تو یہ سزا ہے کہ ایک کسی فعل کی وجہ سے شریعت نے آپ پر اس کو واجب کر دیا ہے جرمانے کے طور پر، سزا کے طور پر، اور بعض اعتبار سے دیکھیں تو یہ جو کفارہ ہے یہ عبادت ہے کیونکہ اس کے لیے باقاعدہ نیت کرنا پڑتی ہے اور اسی طرح روزے وغیرہ سے یہ ادا ہوتی ہے۔ تو جب کفارے کے اندر سزا کا بھی پہلو ہے اور عبادت کا بھی پہلو ہے تو اس کا تعلق صرف ان چیزوں سے ہو سکتا ہے جن میں اباحت کا پہلو بھی ہو اور ممنوع ہونے کا بھی پہلو ہو، بعض اعتبار سے دیکھیں تو وہ مباح ہو اور بعض اعتبار سے دیکھیں تو وہ ممنوع ہو، تو اس قسم کا جو فعل ہو گا اس کے ساتھ کفارے کا تعلق ہو سکتا ہے۔ جبکہ یہ جو یمینِ غموس ہے یہ تو کبیرۂ محض ہے، اس میں تو اباحت کا کوئی پہلو نہیں ہے بھئی، اس میں اباحت کا کوئی پہلو نہیں ہے لہذا اس یمینِ غموس کو یمینِ منعقدہ کے ساتھ نہیں ملایا جا سکتا۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ یمین کی دوسری قسم جو ہے وہ یمینِ منعقدہ ہے، اور وہ یہ کہ آدمی مستقبل کے کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کی قسم کھا لے، تو اس صورت میں یہ قسم منعقد ہو گئی اور اگر اس نے اس قسم کو توڑ دیا تو اس پر کفارہ لازم ہو گا بھئی۔ اور تیسری قسم جو ہے وہ یمینِ لغو ہے۔ یمینِ لغو میں نے بتلایا کہ اس کی تفسیر میں علماء کا اختلاف ہے، تو بعض علماء فرماتے ہیں یمینِ لغو اس قسم کو کہتے ہیں جو کسی شخص کا مثلاً تکیہ کلام ہے قسمیں کھانا، وہ ہر ہر بات پر قسم اٹھاتا ہے اس کی ایسی عادت بن چکی ہے، تو اس کو یمینِ لغو کہتے ہیں۔ اور اسی طرح بعض نے کہا یمینِ لغو یہ ہے کہ ایک شخص ایک چیز کے بارے میں قسم اٹھاتا ہے اور اس کا گمان ہے کہ یہ چیز ایسی ہی ہے یعنی وہ اپنے گمان میں سچی قسم کھا رہا ہے لیکن حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے تو یہ بھی یمینِ لغو ہے۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ قسم کے اندر چاہے ارادے سے قسم کھائی جائے، چاہے زبردستی قسم کھلائی جائے، چاہے بھولے سے قسم کھا لے، تمام صورتوں کے اندر یہ قسم منعقد ہو جائے گی۔ اور اسی طرح اگر وہ جو محلوف علیہ فعل ہے یعنی جس کی قسم اٹھائی تھی اگر وہ اپنے ارادے سے کر لے یا وہ زبردستی کروایا جائے یا بھولے سے کر لے، تو تمام صورتوں میں وہ فعل تو پایا گیا جو حانث ہونے کی شرط تھی تو لہذا وہ حانث ہو جائے گا بھئی۔ اور چاہے یہ فعل کرنے والا بے ہوش یا مجنون ہی کیوں نہ ہو پھر بھی اس پر کفارہ واجب ہو جائے گا، حالانکہ مجنون اور بے ہوش کا تو کوئی گناہ نہیں ہوتا اور کفارے کے اندر جو حکمت ہے وہ گناہ کو ختم کرنا ہے، گناہ کو اٹھا دینا ہے، تو صاحبِ ہدایہ نے بتایا کہ اگرچہ کفارے کی حکمت جو ہے گناہ کو ختم کر دینا ہے لیکن اب اس حکم کا مدار دلیل پر ہو گیا ہے، تو جب بھی دلیل پائی جائے گی کفارہ واجب ہو جائے گا اور دلیل کیا ہے؟ وہ حانث ہونا ہے، تو جب بھی حانث ہو گا کفارہ واجب ہو جائے گا چاہے وہاں گناہ ہو چاہے نہ ہو بھئی۔ اور پھر اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے وہ الفاظ ذکر فرمائے تھے کہ جن کے ساتھ قسم منعقد ہو جاتی ہے، اور بتلایا تھا کہ اللہ کے نام کی قسم کھائی جائے تو قسم منعقد ہو جائے گی چاہے اللہ کے اسمِ ذاتی کو ذکر کیا جائے جیسے لفظِ اللہ کو، کہ واللہ میں یہ کام ضرور کروں گا، تو دیکھو یہ یہاں پر اس قسم کھانے والے نے اللہ کے اسمِ ذاتی کو ذکر کیا تو اس صورت میں بھی قسم منعقد ہو جائے گی۔ اور اگر اللہ کے صفاتی اسم کو ذکر کرے پھر بھی قسم منعقد ہو جائے گی مثلاً الرَّحْمَنُ یا الرَّحِيمُ یا الْعَزِيزُ یا الْغَفَّارُ وغیرہ، تو اللہ کے نام چاہے ذاتی ہو چاہے صفاتی ان کے ساتھ قسم منعقد ہو جائے گی۔ اور اگر اللہ کی صفات کی قسم کھائی مثلاً اللہ کی عزت کی قسم یا اللہ کی عظمت کی قسم یا اللہ کی کبریائی اور بڑائی کی قسم یا اللہ کے جلال کی قسم، میں نے بتلایا تھا جلال کا معنی بھی عظمت ہے اور بلندیٔ مرتبہ ہے، تو اگر اللہ کی صفات کی قسم کھائی تو پھر اس میں عرف کو دیکھا جائے گا کہ عرف کے اندر اس قسم کی قسم رائج ہے یا نہیں یعنی عام لوگوں میں اس کا رواج ہے کہ نہیں، اگر عام لوگوں میں اس قسم کی قسم کھانے کا رواج ہو تو پھر یہ قسم منعقد ہو جائے گی اور اگر اس کا رواج نہ ہو پھر قسم منعقد نہیں ہو گی۔ اور میں نے آپ کو یہ بھی بتلایا تھا کہ مخلوق کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ خالق کے علاوہ کسی اور کی قسم کھائے بھئی، تو مخلوق صرف خالق کی قسم کھا سکتی ہے جبکہ خالق جو ہے اس کی مرضی ہے وہ اپنی مخلوق میں سے جس کی چاہے وہ قسم کھا سکتا ہے، اس لیے کیونکہ وہ خالق ہے بھئی اس سے کوئی پوچھ نہیں سکتا، تو خالق اپنی مخلوق میں سے جس کی چاہے قسم کھا سکتا ہے لیکن مخلوق جو ہے خالق کے علاوہ کسی اور کی قسم نہیں کھا سکتی۔ اور پھر اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے ذکر کیا کہ کوئی مثلاً اللہ کے علم کی قسم کھاتا ہے، اب یہ علم اللہ کی صفت ہے لیکن اس قسم کی قسم کا رواج نہیں ہے تو لہذا یہ قسم منعقد نہیں ہو گی، اور نیز اس لیے بھی کیونکہ علم بول کر معلوم کا ارادہ کیا جاتا ہے عام طور پر اور معلوم تو اللہ کی ذات کے علاوہ چیز ہے تو لہذا اس صورت میں غیر اللہ کی قسم ہو جائے گی اور یہ جائز نہیں۔ اسی طرح نبی یا کعبہ کی قسم کھائی تو یہ بھی منعقد نہیں ہو گی کیونکہ یہ غیر اللہ کی قسم ہے بھئی، اور اسی طرح اگر قرآن کی قسم کھائی تو متن کے اندر انہوں نے ذکر کیا کہ یہ قسم بھی منعقد نہیں ہو گی، یہ قسم بھی منعقد نہیں ہو گی لیکن میں نے بتایا کہ ہمارے عرف میں یعنی برصغیر میں قرآن کی قسم رائج ہے تو یہ قسم منعقد ہو جائے گی اور نیز اس لیے کیونکہ یہ بھی اللہ کی صفت ہی کی قسم ہے کیونکہ قرآن اللہ کا کلام ہے اور کلام جو ہے اللہ کی صفت ہے، تو قرآن کی قسم درحقیقت اللہ کی صفت کی قسم ہے اور پھر اس کا رواج بھی ہے تو یہ منعقد ہو جائے گی۔ اور اگر کسی نے قرآن یا پیغمبر سے براءت کی قسم کھائی تو یہ تو کفر ہے لہذا اس صورت میں یہ یمین منعقد ہو جائے گی۔ مثلاً قسم کھاتا ہے کہ اگر میں فلاں کام کروں تو میں پیغمبر سے بری ہوں یا میں فلاں کام کروں تو میں قرآن سے بری ہوں، تو ان سے براءت تو کفر ہے بھئی تو لہذا اس صورت میں یہ قسم ہو جائے گی بھئی۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے حروفِ قسم بھی بتلائے کہ قسم کے لیے عربی زبان میں واؤ بھی استعمال ہوتا ہے، با بھی استعمال ہوتی ہے، تا بھی استعمال ہوتی ہے اور اسی طرح کبھی با کی جگہ لام بھی استعمال ہو جاتا ہے، تو ان سب صورتوں میں قسم منعقد ہو جائے گی۔ اور اگر حرفِ قسم کو حذف کر دیا تو پھر بھی قسم منعقد ہو جائے گی کیونکہ کلامِ عرب میں حرفِ قسم کو بھی حذف کر لیا جاتا ہے اختصار کے لیے۔ اور پھر اس کے بعد وہ جو مقسم بہ ہے مثلاً وَاللَّهِ لَا أَفْعَلُ كَذَا، وَاللَّهِ لَا أَفْعَلُ كَذَا اس میں سے واؤ کو حذف کر لیا تو پھر اس مقسم بہ پر یعنی لفظِ اللہ پر کیا پڑھیں گے؟ تو بعضوں نے کہا اس صورت میں اس پر نصب پڑھیں گے کیونکہ یہ منصوب ہو جائے گا جر دینے والے حرف کو ہٹا دینے سے، اس کو مَنْصُوبٌ بِنَزْعِ الْخَافِضِ کہتے ہیں، خافض کا معنی جر دینے والا، خفض جر کو کہتے ہیں، تو جر دینے والے کو کھینچ لیا، اس کو ختم کر دیا تو اب نصب پڑھا جائے گا: اَللَّهَ لَا أَفْعَلُ كَذَا۔ جبکہ بعضوں نے کہا کہ اس صورت میں بھی کسرہ ہی پڑھا جائے گا تاکہ وہ حرفِ محذوف پر دلالت کرے جو اس کو کسرہ دے رہا تھا، تو اَللَّهِ لَا أَفْعَلُ كَذَا۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے ذکر فرمایا کہ امام صاحب کے نزدیک کوئی اللہ کے حق کی قسم کھائے: وَحَقِّ اللَّهِ میں اللہ کے حق کی قسم کھاتا ہوں، تو طرفین رحمہما اللہ کے نزدیک یہ قسم نہیں ہے بھئی، جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے دو روایتیں ہیں: ایک روایت کے مطابق یہ قسم ہے اور دوسری روایت کے مطابق یہ قسم نہیں ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ یہ جو حق ہے یہ اللہ کی صفت ہے یعنی برحق ہونا اور اللہ کی ذات بھی برحق ہے تو لہذا یہ گویا اسی طرح ہے کوئی شخص یہ قسم اٹھا رہا ہے: وَاللَّهِ الْحَقِّ میں اس اللہ کی قسم کھاتا ہوں جو برحق ہے، تو یہ قسم ہو جائے گی۔ جبکہ طرفین فرماتے ہیں کہ حق کے ذریعے اللہ کی اطاعت کا ارادہ کیا جاتا ہے کیونکہ اللہ کی اطاعتیں جو ہیں وہ اللہ کے حقوق ہیں اور وہ اللہ سے غیر ہیں تو یہ غیر اللہ کی قسم ہو جائے گی لہذا اس سے قسم کھائی تو منعقد نہیں ہو گی بھئی۔ اور پھر یہ بھی بتایا کہ اگر کسی نے قسم اٹھائی: وَالْحَقِّ کہ میں الحق کی قسم کھاتا ہوں تو اس صورت میں قسم ہو جائے گی کیونکہ الْحَقُّ یہ اللہ کا نام ہے، اللہ کا اسم ہے۔ اور اگر صرف حَقًّا کہا تو پھر قسم منعقد نہیں ہو گی، حَقًّا یعنی نکرہ کہا منصوب کہا اس لیے کیونکہ یہ قطعی کے معنی میں ہے، اپنی کسی بات کو پکا کرنے کے لیے حَقًّا کہا جاتا ہے کہ بات ایسی ہی ہے حَقًّا یعنی قطعی طور پر، تو یہ قسم نہیں ہے بھئی۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی بتلایا کہ قسم چاہے ماضی کے صیغے کے ساتھ ہو چاہے مضارع کے صیغے کے ساتھ، اور چاہے اللہ کے نام کو ساتھ ذکر کیا جائے یا ساتھ ذکر نہ کیا جائے تمام صورتوں میں قسم منعقد ہو جائے گی۔ اگرچہ فعلِ مضارع میں مستقبل والا معنی بھی ہوتا ہے لیکن وہ مجازی معنی ہے اور مجاز کے لیے قرینہ چاہیے، اور جب قرینہ نہ ہو تو اس کو حال پر محمول کرتے ہیں، لہذا کوئی شخص قسم اٹھاتا ہے: أُقْسِمُ یا أُقْسِمُ بِاللَّهِ یا أَحْلِفُ یا أَحْلِفُ بِاللَّهِ یا أَشْهَدُ میں گواہی دیتا ہوں یا أَشْهَدُ بِاللَّهِ، تو یہ سب قسمیں ہیں بھئی، تو یہ اس کو حال پر محمول کیا جائے گا۔ اور نیز جن صورتوں میں اللہ کا نام ساتھ ذکر نہ ہو تو بھی ہم اس کو اسی کی طرف پھیر دیں گے کہ یہاں اللہ ہی کے نام کی قسم کھائی جا رہی ہے، اس لیے کیونکہ غیر اللہ کی قسم تو شرعاً ممنوع ہے اور شریعت نے صرف اللہ کے نام اور اللہ کی صفات کے ساتھ قسم کھانے کی اجازت دی ہے تو لہذا اس کو بھی اس مشروع قسم کی طرف پھیر دیں گے۔ اس نے تو صرف أُقْسِمُ کہا ہے کہ میں قسم کھاتا ہوں لیکن یوں سمجھا جائے گا کہ گویا کہ اس نے أُقْسِمُ بِاللَّهِ کہا ہے بھئی۔ اور اس کے بعد پھر صاحبِ ہدایہ نے کچھ فارسی الفاظ ذکر فرمائے کہ کوئی شخص کہتا ہے: سوگند می خورم بخدائے کہ میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں، تو اس سے بھی قسم منعقد ہو جائے گی۔ اور اگر صرف سوگند خورم کہے تو پھر منعقد نہیں ہو گی کیونکہ یہ مستقبل کے لیے استعمال ہوتا ہے تو اس کا تو معنی یہ ہو گیا میں قسم کھاؤں گا، گویا صرف وعدہ کر رہا ہے قسم کھا نہیں رہا۔ اور اسی طرح اگر کسی نے کہا: سوگند خورم بطلاقِ زنم، میں نے بتایا تھا زن جو ہے فارسی میں عورت کو کہتے ہیں بیوی کو کہتے ہیں اور زنم میری بیوی، تو سوگند خورم بطلاقِ زنم کہ میں اپنی بیوی کی طلاق کی قسم کھاتا ہوں، تو یہ بھی قسم منعقد نہیں ہو گی اس لیے کیونکہ یہ متعارف نہیں ہے بھئی۔ اور اسی طرح کوئی شخص لَعَمْرُ اللَّهِ قسم کھاتا ہے تو قسم منعقد ہو جائے گی کیونکہ اللہ کی عمر سے مراد اللہ کی بقا ہے اور باقی رہنا یہ تو اللہ کی صفت ہے، اللہ کی ذات ہمیشہ باقی رہنے والی ہے۔ اسی طرح وَايْمُ اللَّهِ یہ قسم کسی نے کھائی تو یہ بھی قسم ہے البتہ پھر اس میں اختلاف ہے کہ وَايْمُ اللَّهِ کا کیا معنی ہے؟ تو علمائے کوفہ فرماتے ہیں کہ اَيْمُ اللَّهِ کا معنی ہے أَيْمُنُ اللَّهِ، تو یہ اَيْمٌ یہ اصل میں أَيْمُنٌ ہے اور أَيْمُنٌ جمع ہے يَمِينٌ کی، جبکہ علمائے بصرہ فرماتے ہیں کہ یہ جو اَيْمٌ ہے یہ بھی واؤ، با اور تا کی طرح قسم کے لیے ایک الگ کلمہ استعمال ہوتا ہے عربی زبان میں، تو یہاں پر یہ زائد ہے کیونکہ واؤ بھی موجود ہے اور اَيْمٌ بھی موجود ہے تو ایک کو زائد قرار دینا پڑے گا۔ اور اسی طرح اگر کسی نے کہا: عَلَيَّ نَذْرٌ کہ میرے اوپر منت ہے یا عَلَيَّ نَذْرُ اللَّهِ میرے اوپر اللہ کی منت ہے تو اس صورت میں حدیث میں آتا ہے اس کو ایک قسم کا کفارہ دینا چاہیے، یعنی منت کو تو ذکر کیا کہ عَلَيَّ نَذْرٌ میرے اوپر منت ہے لیکن کیا منت ہے اس کو آگے ذکر نہیں کیا یعنی منذور کو ذکر نہیں کیا جس چیز کی منت مانی ہے، تو پھر اس صورت میں اس پر ایک قسم کا کفارہ آئے گا بھئی۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ اگر کوئی شخص کفر کو ذکر کرے کہ اگر میں فلاں کام کروں تو میں کافر ہوں یا میں عیسائی ہوں یا میں یہودی ہوں، تو اس صورت میں یہ قسم ہے بھئی، اس لیے کیونکہ اس نے اس کام کو علامت بنا دیا کفر کی، تو معلوم ہوا اس کے اعتقاد میں اب اس کام سے رکنا واجب ہو گیا تو گویا یہ اس فعل کو اپنے اوپر حرام قرار دے رہا ہے، تو یہ تَحْرِيمُ الْحَلَالِ ہوا، حلال چیز کو حرام قرار دینا اور اس کو قرآن کے اندر یمین قرار دیا گیا ہے، چنانچہ روایات میں آتا ہے کہ حضور علیہ السلام نے اپنے اوپر شہد کو حرام فرما لیا تھا تو قرآن میں اس کو یمین قرار دیا گیا ہے، معلوم ہوا تَحْرِيمُ الْحَلَالِ یہ یمین ہے بھئی۔ اور پھر اس چیز کو حرام لغیرہ پر محمول کیا جائے گا۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا ایک ہے واجب لعینہ، ایک ہے واجب لغیرہ۔ واجب لعینہ وہ ہے جو اپنی ذات کے اعتبار سے ہی واجب ہے جس کا شریعت نے حکم دیا ہے، اور واجب لغیرہ وہ ہے جو اپنی ذات کے اعتبار سے واجب نہیں ہے کسی اور چیز کی وجہ سے واجب ہے۔ اسی طرح حرام بھی دو قسم پر ہے: ایک حرام لعینہ اور ایک حرام لغیرہ۔ حرام لعینہ وہ ہے جو اپنی ذات کے اعتبار سے ہی حرام ہے یعنی شریعت نے اس کو حرام قرار دیا ہے، اور حرام لغیرہ وہ ہے کہ وہ جو کسی دوسری چیز کی وجہ سے اس کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ تو یہاں پر بھی جب ایک شخص نے ایک فعل کو کفر کی علامت قرار دیا ہے، معلوم ہوا اس نے اس کام کو اپنے اوپر حرام قرار دے دیا ہے تو اس کو حرام لغیرہ قرار دیا جا سکتا ہے اور اس کو حرام لغیرہ قرار دے دیا جائے گا یعنی یمین قرار دے دیا جائے گا۔ اور اگر یہی قسم اس نے کسی ماضی کے فعل پر کھائی مثلاً اس نے کسی کی چیز خراب کر دی ہے، ضائع کر دی ہے، توڑ دی ہے اور پھر قسم کھا کر کہتا ہے کہ میں کافر ہوں اگر میں نے آپ کی یہ چیز توڑی ہو، تو یہ تو ماضی کی بات پر جھوٹی قسم کھا رہا ہے تو لہذا یہ یمینِ غموس ہے بھئی، یہ یمینِ غموس ہے۔ اور پھر یہ یمینِ غموس جب اس نے کھا لی ہے تو کیا اس سے یہ کافر ہو گیا یا کافر نہیں ہوا؟ کیونکہ اس نے کیا کہا ہے اگر میں نے توڑا ہو تو میں کافر ہوں! تو بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ یہ کافر نہیں ہو گا، وہ اس کو قیاس کرتے ہیں مستقبل والی قسم پر کہ اگر کوئی شخص یہ کہے اگر میں یہ کام کروں تو میں کافر ہوں، تو اس کے اندر تو بالاتفاق علماء فرماتے ہیں یہ کافر نہیں ہو گا اگرچہ اس نے بڑی ناپسندیدہ بات کہی ہے لیکن وہ کام کر بھی لے گا تو کافر نہیں ہو گا بھئی۔ تو جب مستقبل والی قسم میں اس حانث کو کافر قرار نہیں دیا جاتا تو یہ ماضی کی خبر کے اندر بھی اس کو کافر قرار نہیں دیا جائے گا۔ جبکہ بعض علماء فرماتے ہیں کہ اس کو کافر قرار دیا جائے گا اس لیے کیونکہ ماضی کی کسی چیز پر قسم کھانا وہ تنجیز ہے، گویا وہ فی الحال ہی اپنے آپ کو کافر بنا رہا ہے تو لہذا اس کو کافر قرار دیا جائے گا، یہ اسی طرح ہے جیسے کوئی شخص کہے کہ میں یہودی ہوں، میں یہودی ہوں، تو گویا وہ خود اپنے یہودی ہونے کا اعلان کر رہا ہے تو وہ کافر ہو جائے گا بھئی۔ تو یہاں پر بھی جب ماضی کے ایک فعل پر قسم کھا رہا ہے تو گویا وہ تنجیز کر رہا ہے اس کفر کو اپنے اوپر واقع کر رہا ہے، لیکن صاحبِ ہدایہ نے پھر آخر میں بتلایا کہ صحیح بات اس میں یہ ہے کہ ان دونوں صورتوں میں وہ کافر نہیں ہو گا چاہے مستقبل کے اعتبار سے اس نے یہ کفر کی بات کی ہے چاہے ماضی کے اعتبار سے اس نے کفر کی بات کی ہے، وہ کافر نہیں ہو گا جب اس کو معلوم ہو کہ یہ قسم ہی ہے میں اس سے کوئی کافر نہیں ہوں گا۔ اور اگر اس کا یہ اعتقاد ہے کہ میں اس سے کافر ہو جاؤں گا تو پھر وہ کافر ہو جائے گا یعنی ماضی والی قسم پر کافر ہو جائے گا کیونکہ اس کا اپنا یہ گمان ہے کہ میں کافر ہو جاؤں گا اور پھر بھی وہ قسم کھا رہا ہے تو معلوم ہوا وہ اپنے کفر پر راضی ہے اور کفر پر راضی ہونا بھی کفر ہے بھئی۔ اور پھر اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ اگر کوئی شخص قسم اٹھاتا ہے کہ اگر میں ایسا کروں تو میرے اوپر اللہ کا غضب ہو یا میرے اوپر اللہ کی ناراضگی ہو تو یہ قسم نہیں ہے، یہ قسم نہیں ہے، ایک تو اس وجہ سے کیونکہ یہ متعارف نہیں ہے لوگ اس قسم کی قسم نہیں کھاتے اور نیز اس لیے کیونکہ یہ اپنے اوپر بد دعا کر رہا ہے اور قسم تو اس لیے کھائی جاتی ہے کہ انسان اس فعل سے اپنے آپ کو روکتا ہے کہ اگر میں ایسا کروں گا تو میں نے یہ قسم کھائی تھی یہ واقع ہو جائے گی، لیکن یہاں پر تو یہ اس فعل کو کر بھی لے پھر بھی اللہ کی ناراضگی اور غضب یقینی نہیں ہے تو لہذا یہ قسم اس کو روکنے والی نہیں ہو گی اس چیز سے، یہ الفاظ اس کو روکنے والے نہیں ہیں، جب روکنے والے نہیں ہیں تو یہ یمین بھی نہیں ہیں کیونکہ یمین تو روکنے کے لیے ہوتی ہے بھئی۔ اور اگر کسی نے کہا کہ اگر میں ایسا کروں تو میں زنا کار ہوں یا چور ہوں یا شرابی ہوں یا سود خور ہوں تو اس صورت میں بھی یہ قسم نہیں ہو گی، اس لیے کیونکہ ان اشیاء کی حرمت نسخ اور تبدیل کا احتمال رکھتی ہے، ویسے تو یہ چیزیں حرام ہیں لیکن بعض صورتوں میں ان کی حرمت کا حکم بدل جاتا ہے تو لہذا ان چیزوں کی جو حرمت ہے وہ اللہ کے نام کی حرمت کی طرح نہیں ہے، اللہ کا نام تو ہر حال کے اندر اس کی حرمت ہے جبکہ ان چیزوں کی حرمت تو بدل جاتی ہے لہذا یہ قسم کے درجے میں نہیں ہیں بھئی، اور نیز اس لیے کیونکہ یہ متعارف بھی نہیں ہیں لوگوں میں ان کا رواج نہیں ہے بھئی۔ اب آئیے آج کے سبق پر۔ فَصْلٌ فِي الْكَفَّارَةِ، یہ فصل ہے کفارے کے بیان میں یعنی اس کے اندر اب صاحبِ ہدایہ قسم کا کفارہ بیان فرمائیں گے۔ آپ جانتے ہیں کہ قسم کا کفارہ یہ ہے کہ ایک شخص دس مسکینوں کو دو وقت کا کھانا کھلا دے یا دس مسکینوں کو کپڑے پہنا دے یا ایک رقبہ کو آزاد کر دے یعنی غلام یا باندی کو بھئی۔ چنانچہ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ﴿فَكَفَّارَتُهُ إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسَاكِينَ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَهْلِيكُمْ﴾ کہ اس قسم کا کفارہ جو ہے وہ دس مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے وہ متوسط درجے والا جو تم اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو، یعنی بہت اعلیٰ کھانے کی بھی حاجت نہیں ہے اور بالکل ہی ادنیٰ کھانا بھی نہیں ہو بلکہ متوسط درجے کا کھانا ہو بھئی۔ تو اللہ قرآن میں فرماتے ہیں: ﴿فَكَفَّارَتُهُ إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسَاكِينَ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَهْلِيكُمْ﴾ کہ اس قسم کا جو کفارہ ہے وہ دس مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے وہ متوسط درجے کا جو تم اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو، ﴿أَوْ كِسْوَتُهُمْ﴾ یا ان کو کپڑے دینا ہے، ان دس مسکینوں کو کپڑے دینا ہے، ﴿أَوْ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ﴾ یا ایک رقبہ کا آزاد کرنا ہے یعنی غلام یا باندی کا آزاد کرنا ہے بھئی۔ اور پھر آگے اللہ فرماتے ہیں: ﴿فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ﴾ جس کو یہ میسر نہ ہو جس کو یہ چیز نہ ملے یعنی اتنا مال نہیں ہے کہ ان تین میں سے کوئی چیز کر لے تو پھر وہ تین روزے رکھے، اور عِنْدَ الْأَحْنَافِ یہ تینوں روزے مسلسل ہونے چاہئیں، تین مسلسل روزے رکھے گا تو پھر کفارہ ادا ہو گا۔ اور روزے تب رکھ سکتا ہے جب یہ باقی تین چیزوں میں سے کسی کی استطاعت نہ ہو۔ ایک شخص اپنی قسم کا کفارہ ادا کرنا چاہتا ہے اور اس کے پاس اتنا مال نہیں ہے کہ دس مسکینوں کو کھانا کھلا دے دو وقت کا یا ان کو کپڑے پہنا دے یا تحریرِ رقبہ کر دے کیونکہ تحریرِ رقبہ تو آج کل تو ہو ہی نہیں سکتی البتہ باقی دو چیزیں ہو سکتی ہیں، تو اس کے پاس اتنا مال ہی نہیں ہے کہ دس مسکینوں کو کھانا کھلا دے دو وقت کا یا ان کو کپڑے پہنا دے تو پھر اس کے بعد اس کے لیے اب روزے رکھنا جائز ہے۔ اگر اس کے پاس فقیروں کو کھانا کھلانے یا کپڑے پہنانے کی استطاعت ہے تو پھر تین روزوں سے کفارہ ادا نہیں ہو گا بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔ اب دیکھیے کتاب پر۔ قَالَ، اس قال سے مراد صاحبِ قدوری ہیں، قَالَ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: كَفَّارَةُ الْيَمِينِ عِتْقُ رَقَبَةٍ کہ قسم کا کفارہ جو ہے وہ ایک رقبہ کی آزادی ہے يُجْزِئُ فِيهَا مَا يُجْزِئُ فِي الظِّهَارِ، کافی ہے اس کے اندر وہ رقبہ جو ظہار میں کافی ہے۔ پیچھے بھئی باب الظہار گزرا تھا وہاں آپ کو صاحبِ ہدایہ نے بتلایا تھا کہ ظہار کے اندر کوئی بھی غلام آزاد کر دیا جائے تو کفارہ ادا ہو جائے گا۔ ظہار کسے کہتے ہیں؟ کہ اپنی بیوی کو کسی محرم عورت کے ساتھ تشبیہ دے دینا، تو اس کو ظہار کہتے ہیں اور اس کے اندر صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا تھا کہ کوئی بھی غلام یا باندی آزاد کیا جا سکتا ہے چاہے وہ غلام یا باندی مسلمان ہو چاہے غیر مسلم ہو، چاہے وہ مذکر ہو چاہے مؤنث ہو، چاہے وہ صغیر ہو یعنی نابالغ ہو یا چاہے وہ بالغ ہو، ہر طرح کا غلام اس میں آزاد کیا جا سکتا ہے۔ البتہ وہ غلام یا باندی مدبر نہ ہو کیونکہ مدبر تو پہلے ہی آزادی کا مستحق ہو چکا ہے لہذا اس کو آزاد کرے گا تو یہ کامل آزادی نہ ہوئی بھئی، اور اسی طرح امِ ولد کو بھی آزاد نہیں کر سکتا کیونکہ امِ ولد بھی آزادی کی مستحق ہو چکی ہے تو اس کو آزاد کرے گا تو یہ تو کامل درجے کی آزادی نہ ہوئی بھئی لہذا اس سے کفارہ ادا نہیں ہو گا۔ ہاں البتہ اگر مکاتب کو آزاد کرنا چاہتا ہے تو وہ مکاتب ایسا ہونا چاہیے کہ ابھی اس نے کچھ بھی بدل ادا نہ کیا ہو، اس لیے کیونکہ اگر وہ کچھ بدل ادا کر چکا ہے اور پھر اس کو آزاد کرتا ہے تو یہ تو پورے طور پر ویسے آزاد نہیں کیا بلکہ کچھ کا عوض لے چکا ہے بھئی۔ اور نیز وہ غلام یا باندی ایسا نہ ہو کہ جن کا کوئی جنسِ نفع ہی ختم ہو چکا ہو، مثلاً اس کے غلام یا باندی کے دونوں ہاتھ کٹے ہوئے ہیں تو چیزوں کو پکڑنے کا جنسِ نفع ہی ختم ہے یہ کوئی چیز پکڑ ہی نہیں سکتا، اس قسم کا غلام یا باندی کفارے میں آزاد کرے گا تو کفارہ ادا نہیں ہو گا۔ یا غلام یا باندی کے دونوں پاؤں کٹے ہوئے ہیں تو اس کے چلنے کا جنسِ نفع ہی ختم ہے وہ چل ہی نہیں سکتا لہذا اس کو بھی کفارے میں آزاد کرے گا تو کفارہ ادا نہیں ہو گا۔ ہاں اگر ایک ہاتھ کٹا ہوا ہے اور اس کے مخالف طرف کا پاؤں کٹا ہوا ہے اس قسم کا غلام اس کو آزاد کر سکتا ہے کیونکہ اس کا ایک ہاتھ بھی سلامت ہے چیزوں کو پکڑ سکتا ہے اور اس کا ایک پاؤں بھی سلامت ہے دوسری جانب کا پاؤں کٹا ہوا ہے لیکن اس جانب کا ہاتھ صحیح ہے تو اس طرف یہ لاٹھی پکڑ کر چل لے گا۔ لیکن اگر کسی غلام کے ایک ہی طرف کے ہاتھ اور پاؤں کٹے ہوں تو یہ بھی کفارے میں آزاد کرے گا تو کفارہ ادا نہیں ہو گا کیونکہ اس کے چلنے کا جنسِ نفع ہی ختم ہو چکا ہے، بھئی جب اسی طرف کا پاؤں بھی کٹا ہے اور اسی طرف کا ہاتھ بھی کٹا ہوا ہے تو اب اس طرف لاٹھی بھی نہیں پکڑ سکتا تو اس کا چلنے کا نفع بالکل ہی ختم ہو گیا لہذا اس قسم کا غلام آزاد کرے گا تو کفارہ ادا نہیں ہو گا۔ یا اسی طرح ایک نابینا غلام یا باندی ہے تو اس کو بھی آزاد کرے گا تو کفارہ ادا نہیں ہو گا کیونکہ اس کے دیکھنے کا جنسِ نفع ہی ختم ہو چکا ہے، ہاں اگر ایک آنکھ سے نظر نہیں آتا لیکن دوسری آنکھ سے نظر آتا ہے پھر اس کو آزاد کرے گا تو کفارہ ادا ہو جائے گا، بات سمجھ میں آ گئی۔ یہ معنی ہے کہ يُجْزِئُ فِيهَا مَا يُجْزِئُ فِي الظِّهَارِ کہ اس قسم کے کفارے میں وہ رقبہ کافی ہے جو ظہار میں کافی ہوتا ہے۔ وَإِنْ شَاءَ كَسَا عَشَرَةَ مَسَاكِينَ اور اگر چاہے تو دس مسکینوں کو کپڑے پہنا دے كُلَّ وَاحِدٍ ثَوْبًا فَمَا زَادَ ہر ایک کو ایک کپڑا یا زیادہ، ہر ایک کو ایک کپڑا یا زیادہ دے دے، وَأَدْنَاهُ مَا يَجُوزُ فِيهِ الصَّلَاةُ اور کم سے کم وہ کپڑا اتنا ہو کہ جس میں نماز جائز ہو، کم سے کم اتنا ہو کہ جس میں نماز جائز ہو بھئی۔ یاد رکھیے آگے اس پر صاحبِ ہدایہ اور بھی کلام فرمائیں گے شرح کے اندر۔ کفارۂ قسم کے اندر دس مسکینوں کو کپڑا بھی دیا جا سکتا ہے لیکن وہ کپڑا ایسا ہونا چاہیے جو اکثرِ جسم کو ڈھانپ لے۔ متن میں تو آیا کہ اتنا کپڑا ہو جس سے نماز ادا ہو جائے لیکن فقہاء فرماتے ہیں کہ اتنا کپڑا دے کہ جس سے بدن کے اکثر حصے کو وہ ڈھانپ لے، یعنی دس مسکینوں میں سے ہر ایک کو بڑی چادر دے دے یا ہر ایک کو لمبا کرتا دے دے تو اس صورت میں کفارہ ادا ہو جائے گا۔ تو متن میں تو کیا آیا؟ اتنا کپڑا جس میں نماز جائز ہو، اس کے مطابق تو اگر صرف تہبند دے دیا یا صرف شلوار دے دی تو اس کے اندر بھی مرد کی نماز تو جائز ہوتی ہے تو لہذا اس متن کے قول کے مطابق تو صرف تہبند دے دیا یا صرف شلوار دے دی ہر فقیر کو تو بھی کفارہ ادا ہو جائے گا، لیکن آگے آپ کو بتلائیں گے کہ اتنا کپڑا دینا کافی نہیں ہے بلکہ اتنا کپڑا دے جو اس کے اکثرِ جسم کو ڈھانپ لے۔ یہ تو تھا مرد کے اندر اگر مردوں کو کپڑے دے رہا ہے، اگر عورت کو کپڑے دے رہا ہے تو پھر اس کو ایسے کپڑے دے جس میں وہ نماز ادا کر سکے یعنی اس کے سارے بدن کو جو ڈھانپ لے، یعنی اس کے سارے بدن کو ڈھانپ لے جس میں وہ نماز ادا کر سکے تو پھر کفارہ ادا ہو گا۔ تو کہتے ہیں: وَإِنْ شَاءَ كَسَا عَشَرَةَ مَسَاكِينَ كُلَّ وَاحِدٍ ثَوْبًا فَمَا زَادَ اور اگر چاہے تو دس مسکینوں کو کپڑے پہنا دے ہر ایک کو ایک کپڑا یا زیادہ، وَأَدْنَاهُ مَا يَجُوزُ فِيهِ الصَّلَاةُ اور اس کپڑے کی کم سے کم مقدار جو ہے جس کے اندر نماز جائز ہو، وَإِنْ شَاءَ أَطْعَمَ عَشَرَةَ مَسَاكِينَ اور اگر چاہے تو دس مسکینوں کو کھانا کھلا دے كَالْإِطْعَامِ فِي كَفَّارَةِ الظِّهَارِ جیسے کہ کفارۂ ظہار کے اندر کھانا کھلانا ہے۔ جیسے کفارۂ ظہار میں پیچھے تفصیل ذکر ہوئی تھی کہ اگر باقاعدہ کھانا بنا کر کھلانا چاہتا ہے تو دس مسکینوں کو دو وقت کا کھانا کھلا دے، لیکن وہ سب کھانا کھانے والے ہوں پوری طرح سیر ہو کر، ان میں اگر کوئی دودھ پیتا بچہ ہے تو پھر کفارہ ادا نہیں ہوا بھئی۔ اور نیز اگر غلہ وغیرہ دینا چاہتا ہے تو پھر ہر مسکین کو نصف صاع گندم یا آٹا دے دے، اور اگر کھجور یا جو دینا چاہتا ہے تو پھر پورا صاع دینا پڑے گا۔ گندم یا آٹا یا ستو دیتا ہے تو نصف صاع دے، اور نصف صاع یاد رکھو یہ آج کل تو کلو رائج ہیں اس سے پہلے سیر رائج تھا یہاں پر بھئی، تو پونے دو سیر سے دو چھٹانک زیادہ ہو بھئی، پونے دو سیر سے دو چھٹانک زیادہ ہو بھئی، ایک پاؤ کے اندر چار چھٹانک ہوتے ہیں یعنی آدھ پاؤ، پونے دو سیر سے آدھ پاؤ زیادہ ہو بھئی، اور بہتر یہ ہے کہ پورے دو سیر ہی دے دے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو آج کل کلو رائج ہے اور جو سیر ہوتا تھا وہ کلو سے تھوڑا سا کم ہوتا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَإِنْ شَاءَ أَطْعَمَ عَشَرَةَ مَسَاكِينَ كَالْإِطْعَامِ فِي كَفَّارَةِ الظِّهَارِ اور اگر چاہے تو دس مسکینوں کو کھانا کھلا دے جیسے کہ کفارۂ ظہار میں کھانا کھلایا جاتا ہے، وَالْأَصْلُ فِيهِ قَوْلُهُ تَعَالَى اور اصل جو ہے اس کے اندر اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے، کفارۂ یمین میں اصل اللہ کا یہ قول ہے: ﴿فَكَفَّارَتُهُ إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسَاكِينَ﴾ الْآيَةَ، کہ قسم کا جو کفارہ ہے وہ دس مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے، الْآيَةَ أَيِ الْآيَةُ مَعْلُومَةٌ کہ آیت معلوم ہے معروف ہے ہم نے کچھ حصہ تلاوت کر دیا باقی آپ خود پڑھ لیجیے۔ تو دیکھو پوری آیت کس طرح ہے میں نے پہلے بھی ذکر کر دی: ﴿فَكَفَّارَتُهُ إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسَاكِينَ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَهْلِيكُمْ﴾ تو قسم کا جو کفارہ ہے وہ دس مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے وہ متوسط درجے کا جو تم اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو، ﴿أَوْ كِسْوَتُهُمْ﴾ یا ان کو کپڑے دینا ہے، ﴿أَوْ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ﴾ یا ایک رقبہ کا آزاد کرنا ہے ایک غلام یا باندی کا آزاد کرنا ہے، اور ان سب کے درمیان أَوْ آ رہا ہے کہ یہ کر لو یا یہ یا یہ، تو یہ أَوْ کا لفظ بتلا رہا ہے کہ ان تینوں چیزوں میں اختیار ہے، کفارہ دینے والا ان تینوں میں سے جس پر بھی عمل کر لے گا کفارہ ادا ہو جائے گا۔ ہاں اگر ان میں سے کسی کی بھی استطاعت نہ ہوئی تو پھر ﴿فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ﴾ کہ جس کو یہ میسر نہ ہو جس کو یہ چیزیں نہ ملیں تو پھر وہ تین روزے رکھ لے، وہ روزے رکھ لے، اور یہاں پر آیت کے اندر تو مطلقاً تین روزے ہیں ان کے مسلسل ہونے کا ذکر نہیں لیکن عِنْدَ الْأَحْنَافِ یہ روزے مسلسل ہونے چاہئیں بھئی، اس کی دلیل آگے صاحبِ ہدایہ ذکر کریں گے۔ تو کہتے ہیں: وَكَلِمَةُ أَوْ لِلتَّخْيِيرِ اور آیت کے اندر جو أَوْ کلمہ آیا یہ اختیار دینے کے لیے ہے، فَكَانَ الْوَاجِبُ أَحَدَ الْأَشْيَاءِ الثَّلَاثَةِ تو وہ جو واجب ہے وہ ان تین چیزوں میں سے ایک چیز ہے، قَالَ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: فَإِنْ لَمْ يَقْدِرْ عَلَى أَحَدِ الْأَشْيَاءِ الثَّلَاثَةِ کہ اگر کفارہ دینے والا وہ ان تین چیزوں میں سے کسی ایک پر بھی قادر نہیں ہے صَامَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مُتَتَابِعَاتٍ تو یہ تین مسلسل... مسلسل روزے رکھے: صَامَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مُتَتَابِعَاتٍ، مُتَتَابِعَاتٍ کا معنی ہے مسلسل، پے در پے، صَامَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مُتَتَابِعَاتٍ تو یہ تین مسلسل روزے رکھے، وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى: يُخَيَّرُ، اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کو اختیار ہو گا چاہے مسلسل روزے رکھے چاہے الگ الگ کر کے رکھے اس کی مرضی ہے، لیکن ہمارے نزدیک مسلسل ہونے چاہئیں۔ تو کہتے ہیں: وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى: يُخَيَّرُ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کو اختیار ہو گا چاہے مسلسل رکھے چاہے الگ الگ کر کے لِإِطْلَاقِ النَّصِّ نَصٌّ کے مطلق ہونے کی وجہ سے۔ قرآن کے اندر صرف تین روزوں کا ذکر ہے: ﴿فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ﴾ تین روزوں کا ذکر ہے، مسلسل ہونے کا ذکر نہیں تو یہ مطلق ہے، تو جس طریقے سے بھی رکھ لے گا کفارہ ادا ہو جائے گا۔ وَلَنَا اور ہماری دلیل جو ہے: قِرَاءَةُ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ، وہ حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قرات ہے اور اس میں آتا ہے: ”فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مُتَتَابِعَاتٍ“ تو پھر تین دن کے مسلسل روزے ہیں، جس کو یہ چیزیں میسر نہ ہوں تو پھر تین دن کے مسلسل روزے ہیں۔ تو حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قرات میں ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ کے بعد مُتَتَابِعَاتٍ کا لفظ بھی موجود ہے بھئی۔ اور آگے صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں: وَهِيَ كَالْخَبَرِ الْمَشْهُورِ اور یہ قرات بھی خبرِ مشہور کی طرح ہے، یہ حدیثِ مشہور کے درجے میں ہے اور حدیثِ مشہور کے ذریعے تو آپ جانتے ہیں کتاب اللہ پر زیادتی جائز ہے، تو لہذا ہمارے نزدیک وہ تین روزے مسلسل ہونے چاہئیں، اگر ایک روزہ بھی درمیان میں چھوٹ گیا پھر نئے سرے سے مسلسل تین رکھنے پڑیں گے۔ ثُمَّ الْمَذْكُورُ فِي الْكِتَابِ فِي بَيَانِ أَدْنَى الْكِسْوَةِ، پھر وہ جو ذکر کیا ہے کتاب کے اندر یعنی قدوری کے اندر جو ذکر کیا گیا ہے فِي بَيَانِ أَدْنَى الْكِسْوَةِ کم سے کم کپڑوں کے بیان میں، بھئی متن میں آیا تھا کم سے کم اتنا کپڑا ہو جس میں نماز جائز ہو جائے۔ اس قول کو لیا جائے تو اگر وہ فقیر مرد ہے تو صرف اس کو شلوار یا تہبند دینا بھی کافی ہے بھئی، تو آپ کو صاحبِ ہدایہ بتلائیں گے کہ یہ امام محمد رحمہ اللہ کا قول ہے۔ تو کہتے ہیں: ثُمَّ الْمَذْكُورُ فِي الْكِتَابِ فِي بَيَانِ أَدْنَى الْكِسْوَةِ مَرْوِيٌّ عَنْ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ، پھر وہ جو کتاب کے اندر یعنی قدوری کے اندر جو ذکر کیا گیا ہے کم سے کم کپڑوں کے بیان میں اس کو روایت کیا گیا ہے امام محمد رحمہ اللہ سے، وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ وَأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى أَنَّ أَدْنَاهُ مَا يَسْتُرُ عَامَّةَ بَدَنِهِ، اور شیخین رحمہما اللہ سے روایت ہے کہ اس کپڑے کی کم سے کم مقدار اتنی ہے جو اس کے اکثرِ بدن کو ڈھانپ لے، عَامَّةٌ کا کیا معنی؟ اکثر، کہ وہ ڈھانپ لے عَامَّةَ بَدَنِهِ اس کے اکثرِ بدن کو۔ جی پھر ترجمہ دیکھ لیجیے، جبکہ شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں: أَنَّ أَدْنَاهُ مَا يَسْتُرُ عَامَّةَ بَدَنِهِ کہ اس کپڑے کی کم سے کم مقدار اتنی ہے کہ جو اس کے اکثرِ بدن کو ڈھانپ لے، حَتَّى لَا يَجُوزُ السَّرَاوِيلُ یہاں تک کہ شلوار جائز نہیں ہے یعنی مرد کو صرف شلوار دے دی۔ اگر امام محمد رحمہ اللہ کے قول کو لیا جائے تو مرد کے لیے تو شلوار میں نماز جائز ہے لیکن شیخین رحمہما اللہ کے قول کے مطابق اس سے کفارہ ادا نہیں ہو گا۔ حَتَّى لَا يَجُوزُ السَّرَاوِيلُ یہاں پر يَجُوزُ پر رفع پڑھیں بھئی یہ حَتَّى نصب نہیں دے گا، کیونکہ حَتَّى کے نصب کے لیے ضروری ہے کہ حَتَّى کا مابعد ماقبل کی طرف نسبت کرتے ہوئے مستقبل ہو۔ حَتَّى لَا يَجُوزُ السَّرَاوِيلُ یہاں تک کہ شلوار جائز نہیں ہے، وَهُوَ الصَّحِيحُ اور یہی قول صحیح ہے، صاحبِ ہدایہ شیخین کے قول کو ترجیح دے رہے ہیں، لِأَنَّ لَابِسَهُ يُسَمَّى عُرْيَانًا فِي الْعُرْفِ اس لیے کیونکہ شلوار پہننے والا لَابِسَهُ شلوار پہننے والے کو يُسَمَّى عُرْيَانًا اس کو ننگا کہتے ہیں فِي الْعُرْفِ عرف میں عام لوگوں کی عادت میں۔ کسی آدمی نے صرف شلوار پہنی ہو تو کیا کہتے ہیں؟ یہ ننگا ہے۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّ لَابِسَهُ يُسَمَّى عُرْيَانًا فِي الْعُرْفِ اس لیے کیونکہ شلوار پہننے والے کو عرف میں ننگا کہتے ہیں، لَكِنْ مَا لَا يُجْزِئُهُ عَنِ الْكِسْوَةِ يُجْزِئُهُ عَنِ الطَّعَامِ بِاعْتِبَارِ الْقِيمَةِ۔ بھئی ایک شخص نے ایک شخص نے دس مسکینوں کو کپڑا دیا اور یہ کپڑا اتنا نہیں ہے کہ جس سے ان کے جسم کا اکثر حصہ ڈھانپ لیا جائے۔ تو کپڑا دینے کی صورت میں تو کفارہ ادا نہیں ہو رہا لیکن ان کپڑوں کی قیمت لگائی جائے تو یہ قیمت اتنی بنتی ہے کہ دس مسکینوں کو نصف صاع گندم کے برابر ہے۔ دس مسکینوں میں سے ہر ایک کو نصف صاع گندم دی جائے تو جو قیمت بنتی ہے اس سارے کی، یہ جو کپڑے کی قیمت ہے اس گندم کی مقدار کے برابر ہے یا اس سے زیادہ ہے۔ تو کپڑے دینے کے اعتبار سے دیکھیں تو کفارہ ادا نہیں ہو رہا لیکن کھانے کی قیمت کے اعتبار سے دیکھیں تو کفارہ ادا ہو رہا ہے، تو فقہاء فرماتے ہیں کہ اگر کھانے کی قیمت لگانے کے اعتبار سے کفارہ ادا ہو رہا ہے تو یہ کفارہ ادا ہو گیا، دوبارہ اس کو لوٹانے کی ضرورت نہیں، دوبارہ کفارہ دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ تو اب کیا اس کے اندر نیت بھی ضروری ہے یا نہیں؟ کپڑا تو اس نے تھوڑا دیا ہے تو کیا اس میں طعام کی نیت کرے پھر ہی کفارہ ادا ہو گا یا بغیر نیت کے بھی ادا ہو جائے گا؟ تو پھر اس میں بعض روایات میں ہے کہ بغیر نیت کے بھی ادا ہو جائے گا اور بعض روایات میں ہے کہ باقاعدہ نیت کرنا پڑے گی پھر ہی ادا ہو گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: لَكِنْ مَا لَا يُجْزِئُهُ عَنِ الْكِسْوَةِ يُجْزِئُهُ عَنِ الطَّعَامِ بِاعْتِبَارِ الْقِيمَةِ لیکن وہ مقدار جو کپڑے میں سے کافی نہیں ہے وہ کافی ہو گی طعام سے قیمت کے اعتبار سے۔ آگے دیکھیے: وَإِنْ قَدَّمَ الْكَفَّارَةَ عَلَى الْحِنْثِ لَمْ يُجْزِئْهُ، اگر ایک شخص نے قسم کھا لی ہے اب وہ حانث ہونے سے پہلے ہی کفارہ دینا چاہتا ہے تو کیا کفارہ ادا ہو جائے گا؟ تو یاد رکھو عِنْدَ الْأَحْنَافِ یہ کفارہ ادا نہیں ہو گا۔ مثلاً ایک شخص نے قسم کھائی کہ واللہ میں فلاں کام نہیں کروں گا، تو وہ کام کر لے گا تو قسم ٹوٹ جائے گی پھر کفارہ دے گا تو کفارہ ادا ہو جائے گا، لیکن اگر اس نے حانث ہونے سے پہلے ہی کفارہ دیا اور پھر بعد میں وہ کام کیا تو عِنْدَ الْأَحْنَافِ یہ جو حانث ہونے سے پہلے کفارہ ادا کیا وہ کفارہ ادا نہیں ہوا، وہ صدقہ ہو گیا ویسے ہی اس کا ثواب اس کو مل جائے گا لیکن حانث ہونے کے بعد دوبارہ نئے سرے سے کفارہ دینا پڑے گا، اس لیے کیونکہ کفارے کا سبب وہ حانث ہونا ہے، ابھی حانث ہی نہیں ہوا، سبب ہی نہیں پایا گیا تو کفارہ بھی ادا نہیں ہو گا۔ تو کہتے ہیں: وَإِنْ قَدَّمَ الْكَفَّارَةَ عَلَى الْحِنْثِ لَمْ يُجْزِئْهُ اور اگر کفارہ دینے والے نے کفارے کو مقدم کر دیا حانث ہونے پر تو یہ اس کے لیے کافی نہیں ہے، وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى: يُجْزِئُهُ بِالْمَالِ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مال کے ساتھ کافی ہو جائے گا، یعنی اگر اس نے مال کے ساتھ کفارہ دیا حانث ہونے سے پہلے، مال کے ساتھ کفارہ دیا یعنی مسکینوں کو کھانا کھلا دیا یا ان کو کپڑے پہنا دیے تو یہ مال کے ساتھ گویا کفارہ ادا کر رہا ہے، تو مال کے ساتھ اگر حانث ہونے سے پہلے کفارہ ادا کرے گا تو کفارہ ادا ہو جائے گا، لیکن اگر بدنی عبادت کے ساتھ کفارہ ادا کر رہا ہے یعنی روزے رکھنا چاہتا ہے اور روزہ تو بدنی عبادت ہے بھئی، تو اس صورت کے اندر وہ حانث ہونے سے پہلے ادا نہیں ہو سکتا۔ اگر مال کے ساتھ حانث ہونے سے پہلے کفارہ ادا کرنا چاہتا ہے تو امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک اگر مال کے ساتھ ادا کرے گا حانث ہونے سے پہلے تو کفارہ ادا ہو جائے گا اور اگر روزوں کے ساتھ پہلے ادا کرے گا کفارہ تو وہ ادا نہیں ہو گا۔ تو کہتے ہیں: وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى يُجْزِئُهُ بِالْمَالِ لِأَنَّهُ أَدَّاهَا بَعْدَ السَّبَبِ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مال کے ساتھ یہ کفارہ حانث ہونے سے پہلے جائز ہو گا اس لیے کیونکہ اس شخص نے کفارہ ادا کیا ہے بعد السبب سبب کے بعد۔ کفارے کا سبب آ چکا ہے، آپ کہیں گے کفارے کا سبب تو حانث ہونا ہے، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں نہیں، کفارے کا سبب حانث ہونا نہیں ہے کفارے کا سبب یمین ہے، یہ قسم نہ کھاتا تو کفارہ بھی نہ آتا، تو کفارے کا سبب یمین ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایک ہے نفسِ وجوب ایک ہے وجوبِ ادا، ایک ہے نفسِ وجوب، تو جب اس نے قسم کھا لی تو نفسِ وجوب آ گیا اور پھر جب حانث ہو جائے گا تو تب وجوبِ ادا بھی آ جائے گا اب کفارہ ادا کرنا واجب ہو گیا۔ تو قسم کی وجہ سے نفسِ وجوب آ چکا تھا تو لہذا اب حانث بے شک نہیں ہوا لیکن وہ کفارہ مال کے ساتھ ادا کر سکتا ہے۔ یہ اسی طرح ہے جیسے بیع بھئی، بیع کے اندر بیع کرتے ہی نفسِ وجوب آ گیا۔ مثلاً میں نے آپ کو اپنی کتاب پانچ سو روپے میں بیچ دی، آپ نے خرید لی، خریدتے ہی آپ پر اس کی قیمت یعنی پانچ سو روپے واجب ہو گئے لیکن ابھی ادائیگی آپ پر واجب نہیں ہے، نفسِ وجوب آپ پر آ گیا ہے، ہاں جب میں مطالبہ کروں گا لاؤ بھئی اب میرے پیسے مجھے دے دو تو اب آپ پر ادا کرنا بھی واجب اور لازم ہو گیا۔ تو نفسِ وجوب اور چیز ہے وجوبِ ادا اور چیز ہے، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب قسم کھا لی تو کفارے کا نفسِ وجوب آ گیا لیکن ابھی ادائیگی واجب نہیں، ہاں جب یہ حانث ہو جائے گا تب وجوبِ ادا بھی آ جائے گا اب اس کو ادائیگی کرنا پڑے گی ہر حال میں۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّهُ أَدَّاهَا بَعْدَ السَّبَبِ وَهُوَ الْيَمِينُ اس لیے کیونکہ اس نے کفارہ ادا کیا ہے کفارے کے سبب کے بعد اور وہ کفارے کا سبب یمین ہے، فَأَشْبَهَ التَّكْفِيرَ بَعْدَ الْجَرْحِ تو یہ مشابہ ہو گیا کفارہ دینے کے بعد الجرح زخمی کرنے کے بعد۔ جَرَحَ يَجْرَحُ جَرْحًا کا معنی ہے زخمی کرنا، اور اگر جیم پر ضمہ ہو: جُرْحٌ، تو جُرْحٌ زخم کو کہتے ہیں لیکن یہاں یہ مصدر ہے بھئی: جَرَحَ يَجْرَحُ جَرْحًا کا معنی ہے زخمی کرنا۔ تو کہتے ہیں: فَأَشْبَهَ التَّكْفِيرَ بَعْدَ الْجَرْحِ تو یہ مشابہ ہے کفارہ دینے کے بعد الجرح زخمی کرنے کے بعد۔ بھئی آپ جانتے ہیں کہ اگر کوئی شخص کسی مسلمان کو غلطی سے قتل کر دے تو اس پر کفارہ بھی آتا ہے اور قتلِ خطا کا کفارہ جو ہے وہ ایک مومن غلام یا باندی کو آزاد کرنا ہے: ﴿فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ﴾ ایک مومن غلام یا باندی کو آزاد کرنا ہے، اور یہ کفارہ کب دے گا؟ اس آدمی کے مرنے کے بعد۔ لیکن ایک شخص نے دوسرے کو شدید زخمی کر دیا تو اس کے مرنے سے پہلے ہی یہ کفارہ دیتا ہے تو یاد رکھو بالاتفاق یہ کفارہ ادا ہو جائے گا، یہ کفارہ ادا ہو جائے گا اگرچہ ابھی وہ مرا نہیں ہے لیکن چونکہ یہ زخم اس کو موت تک پہنچانے والا ہے اب اس کا بچنا بڑا مشکل ہے تو سبب تو پایا جا چکا ہے، جو چیز اس کو موت تک لے جانے والی ہے اس کا سبب پایا جا چکا ہے تو لہذا یہ پہلے کفارہ دے گا تو کفارہ ادا ہو جائے گا۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ جو قسم کھانے والا حانث ہونے سے پہلے کفارہ ادا کرتا ہے یہ بھی اس کفارے کے مشابہ ہے جیسے زخمی کرنے کے بعد مرنے سے پہلے کوئی کفارہ دے تو اے احناف! آپ بھی مانتے ہیں کہ وہ کفارہ ادا ہو جائے گا، تو یہاں پر بھی یمین پائی گئی ہے سبب پایا گیا ہے لہذا چاہے حانث ابھی نہیں ہوا لیکن سبب تو پایا گیا ہے تو مالی کفارہ ادا کرے گا تو کفارہ ادا ہو جائے گا۔ نیز وہ فرماتے ہیں یہ اسی طرح ہے جیسے زکوٰۃ ہے بھئی، زکوٰۃ کا نصاب جو ہے مثلاً ایک شخص کے پاس پورا ہو گیا اور ابھی سال پورا نہیں ہوا سال کے درمیان میں وہ پہلے سے ہی کچھ زکوٰۃ کی ادائیگی کرنا چاہتا ہے تو زکوٰۃ ادا کرے گا تو بالاتفاق زکوٰۃ ادا ہو جائے گی، اس لیے کیونکہ زکوٰۃ کے وجوب کا سبب آ چکا ہے اور وہ نصاب ہے، ابھی اگرچہ وجوبِ ادا تو نہیں آیا وجوبِ ادا تو تب آئے گی جب سال گزر جائے گا اس نصاب پر لیکن نفسِ وجوب آ چکا ہے نصاب پورا ہو چکا ہے تو اس کے بعد یہ شخص زکوٰۃ ادا کرتا ہے تو اے احناف! آپ کے نزدیک بھی زکوٰۃ ادا ہو جائے گی۔ تو وہ فرماتے ہیں کہ یہاں پر بھی یہ جو یمین ہے یہ کفارے کا سبب ہے اور سبب تو آ چکا ہے لہذا حانث ہونے سے پہلے بھی یہ کفارہ ادا کرے گا مال کے ساتھ تو کفارہ ادا ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں: فَأَشْبَهَ التَّكْفِيرَ بَعْدَ الْجَرْحِ تو یہ جو کفارہ ہے یہ مشابہ ہو گیا وہ جو زخمی کرنے کے بعد کفارہ دینا ہے یہ اس کے ساتھ مشابہ ہو گیا۔ اب ہماری دلیل آ گئی۔ وَلَنَا اور ہماری دلیل یہ ہے: أَنَّ الْكَفَّارَةَ لِسَتْرِ الْجِنَايَةِ کہ یہ جو کفارہ ہوتا ہے یہ جنایت کو چھپانے کے لیے ہوتا ہے، جرم کو چھپانے کے لیے یعنی جرم کو معاف کروانے کے لیے، کہ اس شخص نے جرم کیا ہے اللہ کے نام کی بے حرمتی کی ہے، وَلَنَا اور ہماری دلیل یہ ہے کہ کفارہ جو ہوتا ہے یہ جرم کو ڈھانپنے کے لیے اس کو چھپانے کے لیے ہوتا ہے، وَلَا جِنَايَةَ هَاهُنَا اور حانث ہونے سے پہلے تو یہاں کوئی جنایت ہی نہیں کوئی جرم ہی نہیں ہے، وَالْيَمِينُ لَيْسَتْ بِسَبَبٍ، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ یمین جو ہے یہ سبب ہے کفارے کا اور یمین تو پائی جا چکی ہے تو سبب پایا گیا تو مال کے ساتھ کفارہ ادا کرے گا تو ادا ہو جائے گا، تو ہم کہتے ہیں: وَالْيَمِينُ لَيْسَتْ بِسَبَبٍ کہ قسم جو ہے وہ کفارے کا سبب نہیں ہے، اس لیے کیونکہ سبب وہ ہوتا ہے جو ایک چیز تک پہنچائے اور یہ یمین جو ہے کفارے تک پہنچانے والی نہیں ہے بلکہ یہ یمین تو روکنے والی ہے اس سے، وہ جس کام سے حانث ہو گا یمین تو اس کام سے روکنے والی ہے تو یہ کفارے تک پہنچانے والی نہیں ہے بلکہ یہ تو اس سے مانع ہے، جب یہ مانع ہے تو اس کو کفارے کا سبب قرار نہیں دیا جا سکتا۔ تو کہتے ہیں: وَالْيَمِينُ لَيْسَتْ بِسَبَبٍ لِأَنَّهُ مَانِعٌ غَيْرُ مُفْضٍ اور قسم جو ہے وہ سبب نہیں ہے اس لیے کیونکہ یہ قسم جو ہے یہ تو مانع ہے غَيْرُ مُفْضٍ یہ اس حانث ہونے تک پہنچانے والی نہیں ہے، بِخِلَافِ الْجَرْحِ لِأَنَّهُ مُفْضٍ بخلاف زخمی کرنے کے کیونکہ وہ تو موت تک پہنچانے والا ہے، تو آپ اس کفارۂ یمین کو اس زخمی کرنے پر قیاس نہیں کر سکتے کیونکہ یہاں پر جو یمین ہے وہ کفارے تک پہنچانے والی نہیں جبکہ وہاں پر وہ جو زخمی کرنا ہے وہ موت تک پہنچانے والا ہے۔ تو کہتے ہیں: بِخِلَافِ الْجَرْحِ لِأَنَّهُ مُفْضٍ بخلاف زخمی کرنے کے کیونکہ وہ تو پہنچانے والا ہے، ثُمَّ لَا يُسْتَرَدُّ مِنَ الْمِسْكِينِ، اب بھئی صورت یہ ہے: ایک آدمی نے حانث ہونے سے پہلے ہی کفارہ دے دیا پھر اس نے جا کر مسئلہ پوچھا تو پتہ چلا کہ حانث ہونے سے پہلے تو کفارہ ادا نہیں ہو سکتا، تو کیا اب یہ فقیر سے وہ مال واپس لے سکتا ہے؟ کہتے ہیں نہیں مال واپس نہیں لے سکتا کیونکہ وہ صدقہ ہو گیا اور صدقے کے اندر رجوع نہیں ہو سکتا۔ بھئی کیوں؟ صدقے میں کیوں رجوع نہیں ہو سکتا؟ وجہ یہ کہ جس لمحے میں فقیر کو صدقہ دیا اسی لمحے میں اس کا عوض یعنی اجر و ثواب اس کو مل گیا، تو یہ اس کا عوض وصول کر چکا ہے اور جب ایک چیز کا عوض وصول کر لیا جائے تو وہاں رجوع نہیں ہو سکتا۔ تو کہتے ہیں: ثُمَّ لَا يُسْتَرَدُّ مِنَ الْمِسْكِينِ لِوُقُوعِهِ صَدَقَةً پھر یہ جو کفارے کا مال ہے یہ مسکین سے واپس نہیں لیا جا سکتا اس وجہ سے کہ یہ صدقہ ہو کر واقع ہو گیا۔ قَالَ: وَمَنْ حَلَفَ عَلَى مَعْصِيَةٍ، صورتِ مسئلہ یہ: ایک شخص جو ہے وہ گناہ کی قسم اٹھا لیتا ہے کہ واللہ میں نماز نہیں پڑھوں گا، یا واللہ میں اپنے ابا جان سے بات نہیں کروں گا، یا واللہ میں فلاں آدمی کو ضرور قتل کروں گا، بطورِ مثال کے کوئی گناہ کی قسم وہ اٹھا لیتا ہے تو یاد رکھو فقہاء فرماتے ہیں کہ اس شخص پر واجب ہے کہ اپنے آپ کو حانث کرے اور اس قسم کا کفارہ دے دے، اس گناہ پر پیش قدمی نہ کرے، اس گناہ کو نہ کرے، وجہ یہ کہ قسم توڑے گا تب بھی گناہ ہے اور جو گناہ اس نے ذکر کیا تب بھی گناہ ہے لیکن قسم کے توڑنے کا جو گناہ ہے اس کی تلافی ہو جائے گی کہ یہ کفارہ ادا کر دے گا لیکن اگر وہ گناہ کر لے گا تو وہاں تلافی کی صورت نہیں ہے تو وہ گناہ اس کے سر رہے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: قَالَ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: وَمَنْ حَلَفَ عَلَى مَعْصِيَةٍ اور جس شخص نے گناہ پر قسم اٹھا لی مِثْلُ أَنْ لَا يُصَلِّيَ جیسے کہ وہ نماز نہیں پڑھے گا أَوْ لَا يُكَلِّمَ أَبَاهُ یا یہ کہ وہ اپنے باپ سے بات نہیں کرے گا أَوْ لَيَقْتُلَنَّ فُلَانًا یا یہ کہ وہ فلاں کو ضرور قتل کرے گا، فَيَنْبَغِي أَنْ يُحَنِّثَ نَفْسَهُ تو مناسب یہ ہے کہ اپنے آپ کو حانث کرے، بھئی متن میں تو آیا مناسب یہ ہے، شارحین فرماتے ہیں یہاں اس کا معنی یہ ہے کہ اس پر واجب ہے اپنے آپ کو حانث کرنا۔ مناسب کے لفظ سے تو بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ شاید صرف بہتر ہے نہیں بھی کرے گا تو کوئی حرج نہیں، کہتے ہیں نہیں اس پر واجب ہے اس گناہ پر پیش قدمی نہ کرے اس کو انجام نہ دے، تو کہتے ہیں: فَيَنْبَغِي أَنْ يُحَنِّثَ نَفْسَهُ تو اس شخص کے لیے مناسب ہے یعنی اس پر واجب ہے کہ وہ اپنے آپ کو حانث کرے وَيُكَفِّرَ عَنْ يَمِينِهِ اور کفارہ دے دے اپنی قسم سے، اپنے آپ کو حانث کرے۔ مثلاً اس نے کیا کہا تھا کہ واللہ میں نماز نہیں پڑھوں گا تو یہ نماز پڑھ لے، اپنے آپ کو حانث کر لے اور پھر کفارہ دے دے۔ اس نے کہا تھا میں اپنے باپ سے بات نہیں کروں گا تو یہ اپنے باپ سے بات کر لے تو حانث ہو گیا اب کفارہ دے دے۔ لیکن اگر اس نے کہا تھا میں واللہ میں فلاں کو ضرور قتل کروں گا، یہاں کیسے اپنے آپ کو حانث کرے بھئی؟ تو یہاں وہ کیسے اپنے آپ کو حانث کرے؟ تو فقہاء فرماتے ہیں کہ یہاں اس طرح اپنے آپ کو حانث کرے کہ پکا ارادہ کر لے اس کے ترکِ قتل کا، اس قتل کو چھوڑنے کا پکا ارادہ کر لے کہ میں قطعی اس کو قتل نہیں کروں گا تو بس حانث ہو گیا لہذا کفارہ دے دے بھئی۔ آگے دیکھیے، جی اب آگے دلیل ذکر کر رہے ہیں صاحبِ ہدایہ یہ جو متن میں مسئلہ ذکر ہوا اس کی، کہتے ہیں: لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ بوجہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کے کہ آپ نے فرمایا: ”مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا فَلْيَأْتِ بِالَّذِي هُوَ خَيْرٌ ثُمَّ لِيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ“، کہ جس شخص نے کسی یمین پر قسم اٹھائی اور اس قسم کے علاوہ کو اس نے بہتر دیکھا، اس کو بہتر جانا، تو چاہیے کہ وہ وہ کام کر لے جو بہتر ہے پھر اس کو چاہیے کہ اپنی قسم سے کفارہ دے دے۔ یہ حدیث کے الفاظ ہیں: حضور علیہ السلام فرماتے ہیں اگر کسی شخص نے کسی بات پر قسم اٹھا لی اور پھر بعد میں دیکھا کہ اس کے علاوہ صورت جو ہے وہ بہتر ہے تو اس کو چاہیے کہ وہ بہتر صورت پر عمل کر لے اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کر دے، بات سمجھ میں آ گئی۔ یہ پھر حدیث دیکھ لیجیے، حضور فرماتے ہیں: مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ جس نے کسی یمین پر قسم اٹھائی، بھئی حلف کا معنی بھی قسم، یمین کا معنی بھی قسم، مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ جس نے قسم پر قسم اٹھائی تو بظاہر یہ معنی لگتا ہے، نہیں بھئی یاد رکھو یہاں یمین سے مراد ہے مقسم علیہ بھئی۔ یاد رکھو یمین دونوں چیزوں کا مجموعہ کہلاتی ہے: ایک آدمی کہتا ہے واللہ میں یہ کام ضرور کروں گا تو یہ جو شروع میں کہا واللہ یہ مقسم بہ ہے یعنی جس کی اس نے قسم اٹھائی ہے، اور آگے جس بات پر قسم اٹھائی ہے یعنی جوابِ قسم جو ہے وہ مقسم علیہ ہے، تو یہ مقسم بہ اور مقسم علیہ دونوں کا مجموعہ یمین کہلاتا ہے۔ یہ جو اس نے کہا واللہ میں فلاں کام ضرور کروں گا تو یہ سارا جو ہے کلام جس میں مقسم بہ بھی آ گیا اور مقسم علیہ بھی آ گیا اس کو یمین کہتے ہیں۔ تو یہاں پر جو حدیث کے اندر یمین کا لفظ آیا شارحین فرماتے ہیں یہاں یمین سے مراد صرف مقسم علیہ ہے، مقسم بہ نہیں، یعنی کل بول کر جز مراد ہے۔ یمین تو دونوں کو کہتے تھے لیکن دونوں مراد نہیں ہے ایک یعنی جز مراد ہے یعنی مقسم علیہ مراد ہے جس بات پر قسم اٹھائی جائے۔ تو یہ معنی ہے: مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ جس شخص نے کسی بات پر قسم اٹھا لی فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا اور اس کے علاوہ کو اس قسم سے بہتر جانا فَلْيَأْتِ بِالَّذِي هُوَ خَيْرٌ تو اس کو چاہیے کہ لے آئے اس کو جو بہتر ہے یعنی اس فعل کو کر لے جو بہتر ہے ثُمَّ لِيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ پھر اس کو چاہیے کہ کفارہ دے دے اپنی قسم سے۔ وَلِأَنَّ فِي مَا قُلْنَاهُ تَفْوِيتَ الْبِرِّ إِلَى جَابِرٍ، میری کتاب میں ہے تَفْوِيتُ الْبِرِّ، تا پر پیش ہے، نہیں بھئی تا پر زبر ہونی چاہیے یہ أَنَّ کا اسمِ مؤخر ہے، کیونکہ أَنَّ یا إِنَّ کے بعد جار مجرور آئے تو وہ خبرِ مقدم ہوتے ہیں اور اسم مؤخر ہو جاتا ہے، تو یہاں پر بھی لِأَنَّ فِي مَا قُلْنَاهُ، أَنَّ کے بعد فِي مَا آ رہا ہے جار مجرور آ رہا ہے تو یہ خبرِ مقدم اس کو بنائیں گے اور تَفْوِيتَ الْبِرِّ یہ اس کو اسمِ مؤخر بنائیں گے أَنَّ کے لیے۔ تو کہتے ہیں: وَلِأَنَّ فِي مَا قُلْنَاهُ تَفْوِيتَ الْبِرِّ إِلَى جَابِرٍ، بِرٌّ کا معنی ہے قسم کا پورا کرنا، قسم کا پورا کرنا یا قسم کا پورا ہونا، یہ لازمی بھی استعمال ہوتا ہے اور متعدی بھی: قسم کا پورا ہونا دیکھو یہ لازمی ترجمہ ہے، اور قسم کا پورا کرنا یہ متعدی ہے بھئی، یہ بابِ ضرب سے ہے بھئی: بَرَّ يَبِرُّ بِرًّا۔ اور جابر بھئی، جابر یاد رکھو جَبَرَ يَجْبُرُ جَبْرًا کا معنی ہے تلافی کرنا، تلافی کرنا، کوئی خطا وغیرہ ہوئی ہے اس کی تلافی کرنا۔ اچھا ایک تو حدیث ذکر کر دی صاحبِ ہدایہ نے کہ اگر کوئی گناہ کی قسم اٹھا لے تو اپنے آپ کو حانث کر کے اس کا کفارہ دے دے کیونکہ حدیث میں آتا ہے، اور نیز اب عقلی دلیل بھی ذکر کر رہے ہیں، عقلی دلیل وہی ہے جو میں نے پہلے ذکر کر دی کیونکہ اگر یہ اس قسم کو توڑ دے گا تو بھی گناہ لیکن اس کی تلافی ہو جائے گی کہ کفارہ دے دے گا، لیکن اگر اس گناہ کو کر لے گا تو پھر اس کی تو کوئی تلافی کی صورت نہیں وہ گناہ تو اس کے سر رہے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَلِأَنَّ فِي مَا قُلْنَاهُ تَفْوِيتَ الْبِرِّ إِلَى جَابِرٍ وَهُوَ الْكَفَّارَةُ، اس لیے کیونکہ اس میں جو ہم نے کہا ہے اس کے اندر قسم کے پورا ہونے کو فوت کرنا ہے اس کی تلافی کرنے والی چیز کی طرف اور وہ کفارہ ہے اس سے تلافی ہو جائے گی، وَلَا جَابِرَ لِلْمَعْصِيَةِ فِي ضِدِّهِ اور کوئی چیز تلافی کرنے والی نہیں ہے اس گناہ کی فِي ضِدِّهِ اس کی ضد صورت میں یعنی قسم کو پورا کرنے کی صورت میں۔ وَإِذَا حَلَفَ الْكَافِرُ، صورت یہ بھئی: ایک کافر ہے اس نے کسی بات پر قسم اٹھا لی اور پھر اس نے اس قسم کو توڑ دیا اور پھر بعد میں مسلمان ہو گیا، تو کفر کی حالت میں ہی اس نے قسم توڑ دی یا مسلمان ہوا اس کے بعد اس نے وہ قسم توڑ دی تو کیا اس پر کفارہ آئے گا؟ تو کہتے ہیں نہیں اس پر کفارہ نہیں آئے گا بھئی، کیونکہ قسم جو کھائی جاتی ہے وہ اللہ کی تعظیم کے لیے کھائی جاتی ہے اور کافر جو ہے وہ تو اللہ کی تعظیم کرنے والا نہیں ہے، اور نیز کفارہ بھی اس پر نہیں آئے گا کیونکہ کفارہ بھی عبادت ہے اور کافر اس کا اہل نہیں ہے بھئی، تو اس کی قسم منعقد ہی نہیں ہوئی۔ تو کہتے ہیں: وَإِذَا حَلَفَ الْكَافِرُ ثُمَّ حَنِثَ فِي حَالِ كُفْرِهِ أَوْ بَعْدَ إِسْلَامِهِ فَلَا حِنْثَ عَلَيْهِ، اور جب کافر نے قسم اٹھا لی پھر وہ حانث ہوا اپنے کفر کی حالت میں ہی یا اپنے اسلام لانے کے بعد فَلَا حِنْثَ عَلَيْهِ تو اس پر حانث ہونا نہیں یعنی اس پر کفارہ نہیں آئے گا لِأَنَّهُ لَيْسَ بِأَهْلٍ لِلْيَمِينِ اس لیے کیونکہ وہ قسم کا اہل نہیں ہے لِأَنَّهَا تُعْقَدُ لِتَعْظِيمِ اللَّهِ تَعَالَى اس لیے کیونکہ یہ جو قسم ہے یہ اللہ کی تعظیم کے لیے اس کا عقد کیا جاتا ہے، وَمَعَ الْكُفْرِ لَا يَكُونُ مُعَظِّمًا اور کفر کے ساتھ تو وہ اللہ کی تعظیم کرنے والا نہیں ہے، مُعَظِّمٌ اسمِ فاعل پڑھیں اس کو۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے: لِأَنَّهَا تُعْقَدُ لِتَعْظِيمِ اللَّهِ تَعَالَى وَمَعَ الْكُفْرِ لَا يَكُونُ مُعَظِّمًا، اس لیے کیونکہ قسم جو ہے وہ تو اللہ کی تعظیم کے لیے کھائی جاتی ہے اور کفر کے ساتھ تو یہ کافر جو ہے اللہ کی تعظیم کرنے والا نہیں ہے، تو اگرچہ وہ کفر کے اندر بھی اللہ کی تعظیم کرتا ہو لیکن یہ تعظیم اللہ کی رضا کا باعث نہیں ہے تو یہ بھی غیرِ تعظیم ہی کی طرح ہے بھئی۔ تو یہ معنی ہے: وَمَعَ الْكُفْرِ لَا يَكُونُ مُعَظِّمًا اور کفر کے ساتھ تو یہ اللہ کی تعظیم کرنے والا نہیں ہے تو اس کی قسم منعقد ہی نہیں ہوئی، وَلَا هُوَ أَهْلٌ لِلْكَفَّارَةِ لِأَنَّهَا عِبَادَةٌ اور یہ کافر کفارے کا اہل بھی نہیں ہے کیونکہ کفارہ عبادت ہے۔ آگے دیکھیے: وَمَنْ حَرَّمَ عَلَى نَفْسِهِ شَيْئًا مِمَّا يَمْلِكُهُ لَمْ يَصِرْ مُحَرَّمًا وَعَلَيْهِ إِنِ اسْتَبَاحَهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ، بھئی یہ پھر وہی صورت آ گئی: ایک شخص اپنے اوپر حلال چیز کو حرام کر لیتا ہے تو یہ تحریمِ حلال ہے اور تحریمِ حلال کو قرآن میں یمین کہا گیا ہے، تو اس صورت میں یہ یمین منعقد ہو گئی بھئی، اور پھر اگر یہ اس فعل کو کر لے گا تو حانث ہو جائے گا تو اس کو کفارہ دینا پڑے گا۔ تو کہتے ہیں: وَمَنْ حَرَّمَ عَلَى نَفْسِهِ شَيْئًا مِمَّا يَمْلِكُهُ لَمْ يَصِرْ مُحَرَّمًا وَعَلَيْهِ إِنِ اسْتَبَاحَهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ، اور جس شخص نے اپنے اوپر حرام کر لیا کسی چیز کو ان چیزوں میں سے جس کا یہ مالک ہے، مثلاً اپنے کوئی کپڑوں کے بارے میں کہہ دیا کہ یہ کپڑے پہننا میرے لیے حرام ہے، یا گھر میں گندم وغیرہ پڑی تھی اس نے کہا میرے لیے یہ گندم کھانا حرام ہے، تو کہتے ہیں: وَمَنْ حَرَّمَ عَلَى نَفْسِهِ شَيْئًا مِمَّا يَمْلِكُهُ کہ کسی شخص نے اگر اپنے اوپر حرام کر لیا ایسی چیز کو جس کا وہ مالک ہے لَمْ يَصِرْ مُحَرَّمًا تو وہ چیز حرام نہیں ہو گی یعنی حرام لعینہ نہیں ہو گی، حرام لغیرہ ہو جائے گی یعنی اس کی قسم کی وجہ سے۔ حرام لعینہ نہیں کیونکہ شریعت نے تو حرام نہیں کیا تو وہ چیز ابھی بھی حلال ہے، البتہ قسم کی وجہ سے اب اس کے لیے حرام کے درجے میں ہو گئی، یہ اس کو کھائے گا یا اس چیز کو پہنے گا تو حانث ہو جائے گا، تو یعنی یہ حرام لعینہ نہ ہوئی بلکہ حرام لغیرہ ہو جائے گی۔ تو کہتے ہیں: لَمْ يَصِرْ مُحَرَّمًا تو یہ چیز جو ہے حرام نہیں ہو گی یعنی حرام لعینہ نہیں ہو گی، وَعَلَيْهِ إِنِ اسْتَبَاحَهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ اور اس شخص پر واجب ہے اگر یہ اس کو مباح سمجھے قسم کا کفارہ۔ اس شخص پر قسم کا کفارہ واجب ہے اگر اس کو وہ مباح سمجھے۔ بھئی ایک آدمی نے قسم اٹھائی کہ واللہ میں یہ گندم نہیں کھاؤں گا تو یہ گندم حرام لعینہ نہیں ہوئی، ہاں قسم کی وجہ سے اب اس کے لیے ممنوع ہو گئی، اور اگر اس کو یہ مباح سمجھے تو کفارہ دے دے، تو صرف مباح سمجھنے کی وجہ سے تو کفارہ نہیں آئے گا بلکہ مباح سمجھنے والا معاملہ بھی کر لے یعنی اس کو کھا لے، اس کو استعمال کر لے تو پھر حانث ہو جائے گا اور پھر اس کو کفارۂ یمین دینا پڑے گا۔ تو یہ جو متن میں آیا نا کہ إِنِ اسْتَبَاحَهُ اس کو جائز سمجھے، اس کو مباح سمجھے، اس سے مراد یہ ہے کہ یہ اس کو استعمال کر لے۔ تو کہتے ہیں: وَعَلَيْهِ إِنِ اسْتَبَاحَهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ اور اس شخص پر واجب ہے قسم کا کفارہ اگر یہ اس کو جائز سمجھے۔ اور نیز متن میں آیا تھا: شَيْئًا مِمَّا يَمْلِكُهُ اگر اپنے اوپر حرام کرے ایسی چیز کو جس کا یہ مالک ہے، تو بھئی یہ مالک ہونا ضروری نہیں ہے یہ قیدِ اتفاقی ہے بھئی، بلکہ مطلقاً کسی بھی چیز کو اپنے اوپر حرام کرے گا تو یہ یمین ہو جائے گی۔ آگے دیکھیے: وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى: لَا كَفَّارَةَ عَلَيْهِ لِأَنَّ تَحْرِيمَ الْحَلَالِ قَلْبُ الْمَشْرُوعِ، اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس پر کوئی کفارہ نہیں ہے اس لیے کیونکہ حلال چیز کو حرام قرار دینا قَلْبُ الْمَشْرُوعِ یہ تو ایک مشروع چیز کو الٹنا ہے۔ قلب کا کیا معنی؟ الٹنا، پلٹنا۔ اس لیے کیونکہ حلال چیز کو حرام قرار دینا قَلْبُ الْمَشْرُوعِ یہ تو مشروع چیز کو پلٹنا ہے فَلَا يَنْعَقِدُ بِهِ تَصَرُّفٌ مَشْرُوعٌ تو اس قلبِ مشروع کے ذریعے وہ تصرف منعقد نہیں ہو گا جو مشروع ہے یعنی یمین بھئی۔ بھئی یمین ایک تصرفِ مشروع ہے، شریعت نے اجازت دی ہے آپ قسم کھانا چاہتے ہیں کسی چیز کے بارے میں تو آپ قسم کھا سکتے ہیں کہ میں یہ کام کروں گا یا یہ کام نہیں کروں گا، تو یمین ایک تصرفِ مشروع ہے اور اس کے ذریعے آپ قلبِ مشروع کرنا چاہتے ہیں یعنی حلال کو حرام بنانا چاہتے ہیں، یہ تو آپ شریعت کے حکم کو الٹ رہے ہیں پلٹ رہے ہیں، لہذا شریعت کے اختیار کو استعمال کرتے ہوئے آپ ایک مشروع چیز کو پلٹ نہیں سکتے، اس کے حکم کو بدل نہیں سکتے، لہذا یہاں کوئی یمین منعقد ہی نہیں ہوئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے: امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس پر کفارہ نہیں ہے لِأَنَّ تَحْرِيمَ الْحَلَالِ قَلْبُ الْمَشْرُوعِ اس لیے کیونکہ حلال چیز کو حرام قرار دینا یہ تو ایک مشروع اور جائز چیز کو پلٹنا ہے فَلَا يَنْعَقِدُ بِهِ تَصَرُّفٌ مَشْرُوعٌ وَهُوَ الْيَمِينُ تو اس قلبِ مشروع کے ذریعے مشروع تصرف منعقد نہیں ہو گا اور وہ مشروع تصرف یمین ہے وہ منعقد نہیں ہو گی، وَلَنَا اور ہماری دلیل یہ ہے: أَنَّ اللَّفْظَ يُنْبِئُ عَنْ إِثْبَاتِ الْحُرْمَةِ کہ یہ لفظ جو ہے وہ خبر دے رہا ہے حرمت کے ثابت کرنے کی، اس شخص نے کیا کہا ہے؟ میرے اوپر یہ گندم حرام ہے، تو اس کے الفاظ بتلا رہے ہیں کہ وہ اپنے اوپر اس چیز کو حرام کر رہا ہے، اور اس چیز کو حرام قرار دیا بھی جا سکتا ہے، وہ کس طرح؟ کہ اس کو حرام لعینہ قرار نہ دیا جائے بلکہ حرام لغیرہ قرار دیا جائے یعنی اس کے ان الفاظ کی وجہ سے اب اس پر حرام ہوا ہے شریعت کی طرف سے حرام نہیں ہے بھئی۔ وَلَنَا ہماری دلیل یہ ہے: أَنَّ اللَّفْظَ يُنْبِئُ عَنْ إِثْبَاتِ الْحُرْمَةِ کہ اس کا یہ لفظ جو ہے وہ خبر دے رہا ہے حرمت کے ثابت کرنے کی، وَقَدْ أَمْكَنَ إِعْمَالُهُ بِثُبُوتِ الْحُرْمَةِ لِغَيْرِهِ اور تحقیق اس لفظ کو عمل دینا ممکن بھی ہے حرمت لغیرہ کو ثابت کرتے ہوئے بِإِثْبَاتِ مُوجَبِ الْيَمِينِ، موجب کا معنی ہے مقتضیٰ اور حکم، بِإِثْبَاتِ مُوجَبِ الْيَمِينِ قسم کے حکم کو ثابت کرتے ہوئے، جب آپ قسم کا حکم ثابت کر دیں گے تو اگر یہ اس کو نہیں کرتا تو یہ قسم پوری ہو گی اور اگر کرے گا تو حانث ہو جائے گا، تو یہ اس کے لیے حرام ہوا لیکن حرام لغیرہ اس قسم کی وجہ سے حرام ہوا ہے۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے، کہتے ہیں: وَلَنَا ہماری دلیل یہ ہے کہ اس کا یہ لفظ جو ہے خبر دے رہا ہے حرمت کے ثابت کرنے کی اور تحقیق اس لفظ کو عمل دینا ممکن بھی ہے حرمت لغیرہ کو ثابت کرتے ہوئے قسم کے حکم کو ثابت کر کے، فَيُصَارُ إِلَيْهِ تو اسی کی طرف رجوع کیا جائے گا یعنی اسے حرام لغیرہ قرار دیا جائے گا۔ ثُمَّ إِذَا فَعَلَ مِمَّا حَرَّمَهُ قَلِيلًا أَوْ كَثِيرًا حَنِثَ، پھر یہ شخص جب اس فعل کو کر لے گا جس کو اس نے حرام کیا تھا تھوڑا کرے یا زیادہ حانث ہو جائے گا۔ چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔ اس نے حرام قرار دیا تھا قَلِيلًا أَوْ كَثِيرًا چاہے تھوڑا کرے یا زیادہ کرے، حَنِثَ تو یہ حانث ہو جائے گا، وَوَجَبَتِ الْكَفَّارَةُ اور کفارہ واجب ہو جائے گا، وَهُوَ الْمَعْنِيُّ مِنَ الِاسْتِبَاحَةِ الْمَذْكُورَةِ، یہ لفظ ہے مَعْنِيٌّ، یاد رکھو بعض جگہ کبھی کبھار عبارتوں میں یہ لفظ آتا ہے مَعْنِيٌّ، مَرْمِيٌّ کے وزن پر یہ اسمِ مفعول ہے بھئی، اور معنی ہے اس کا مقصود۔ وَهُوَ الْمَعْنِيُّ اور یہی مقصود ہے مِنَ الِاسْتِبَاحَةِ الْمَذْكُورَةِ وہ جو استباحت ذکر کی گئی تھی۔ وہ جو متن میں آیا تھا نا: ﴿وَعَلَيْهِ إِنِ اسْتَبَاحَهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ﴾ اگر وہ اس کو جائز سمجھے تو اس پر یمین کا کفارہ ہے۔ جائز سمجھنے سے کیا مراد تھا؟ اس فعل کو کر لے، اس فعل کو کر لے اور کر لے چاہے تھوڑا کرے چاہے زیادہ کرے ہر صورت میں حانث ہو جائے گا۔ تو یہ معنی ہے: وَهُوَ الْمَعْنِيُّ مِنَ الِاسْتِبَاحَةِ الْمَذْكُورَةِ اور یہی مقصود ہے اس استباحت سے جو ذکر کی گئی، لِأَنَّ التَّحْرِيمَ إِذَا ثَبَتَ تَنَاوَلَ كُلَّ جُزْءٍ مِنْهُ، اس لیے کیونکہ تحریم جب ثابت ہو گئی، حرام کرنا ثابت ہو گیا اس نے خود اپنے اوپر حرام کیا ہے، لِأَنَّ التَّحْرِيمَ إِذَا ثَبَتَ اس لیے کیونکہ تحریم جب وہ ثابت ہو گئی تَنَاوَلَ كُلَّ جُزْءٍ مِنْهُ تو یہ اس چیز کے ہر جز کو شامل ہے، جب اس نے ایک چیز کو اپنے اوپر حرام کر لیا تو اس کا ہر جز اس پر حرام ہو گیا، لہذا تھوڑا سا بھی کر لے گا تو حانث ہو جائے گا بھئی۔ یہ معنی ہے: لِأَنَّ التَّحْرِيمَ إِذَا ثَبَتَ تَنَاوَلَ كُلَّ جُزْءٍ مِنْهُ، اس لیے کیونکہ تحریم جب ثابت ہو گئی تو وہ اس چیز کے ہر جز کو یہ شامل ہے، وہ چیز جس کو اس نے حرام قرار دیا تھا اس کے ہر جز کو شامل ہے تو تھوڑا سا بھی کر لے گا تو یہ حانث ہو جائے گا۔ آگے دیکھیے: وَلَوْ قَالَ: كُلُّ حِلٍّ عَلَيَّ حَرَامٌ فَهُوَ عَلَى الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ إِلَّا أَنْ يَنْوِيَ غَيْرَ ذَلِكَ۔ بھئی صورتِ مسئلہ یہ: ایک آدمی کہتا ہے میرے اوپر ہر حلال چیز حرام ہے: كُلُّ حِلٍّ عَلَيَّ حَرَامٌ، ہر حلال چیز میرے اوپر حرام ہے، تو ظاہرِ الفاظ کو دیکھیں تو اس پر ہر حلال چیز حرام ہو گئی، لہذا کوئی بھی حلال فعل یہ کرے گا تو یہ حانث ہو جائے گا، اور قیاس کا تقاضا یہ ہے جیسے ہی قسم کھائے گا فوراً یہ حانث بھی ہو گیا، کیونکہ اس کا سانس لینا بھی حلال ہے، اس کا آنکھیں جھپکنا بھی حلال ہے، اس کو ایک چیز یا دوسری چیز کی طرف دیکھنا بھی حلال ہے، تو جیسے ہی قسم پوری ہو گی ان میں سے کوئی نہ کوئی فعل پایا گیا، سانس لینا بھی پایا گیا، آنکھوں کا جھپکنا بھی پایا گیا، چیزوں کی طرف دیکھنا بھی پایا گیا، تو لہذا قیاس یہ تقاضا کرتا ہے جیسے ہی یہ قسم کھائے گا ساتھ ہی حانث ہو گیا، اور امام زفر بھی یہی فرماتے ہیں کہ جس نے بھی ایسی قسم کھائی کہ میرے اوپر ہر حلال چیز حرام ہے فوراً حانث ہو گیا اب اس کو کفارہ دینا پڑے گا۔ جبکہ ہمارے ائمہ فرماتے ہیں کہ قسم کے ذریعے مقصود یہ ہوتا ہے کہ انسان اس کو پورا کرے، قسم کھانے کا مقصد مقصد یہ ہوتا ہے کہ انسان اس قسم کو پورا کرے، لہذا اگر اس قسم کو اپنے عموم پر باقی رکھا جائے جیسے امام زفر فرماتے ہیں کہ ہر حلال فعل اس پر حرام ہو گیا پھر تو اس پر عمل ہی نہیں ہو سکتا۔ قسم کھاتے ہی اس نے سانس بھی لے لیا، اس نے آنکھوں کو بھی جھپک لیا، ساتھ ہی حانث ہو گیا، تو اس صورت میں تو اس کو پورا کرنا ہی ممکن نہ رہے گا، لہذا اس قسم کو اپنے عموم پر باقی نہیں رکھا جائے گا بلکہ دلالۃً اس سے صرف کھانا اور پینا مراد ہے، وہ کھانے اور پینے والی چیزوں کو اپنے اوپر حرام کر رہا ہے۔ دلالۃً عموم ساقط ہو گیا، بھئی کیسے دلالۃً عموم ساقط ہوا؟ بھئی میں نے بتلایا تو قسم کس لیے کھائی جاتی ہے؟ قسم اس لیے کھائی جاتی ہے کہ انسان اس کو پورا کر سکے، تو یہ چیز دلالت کر رہی ہے کہ اس کے اندر عموم کا اعتبار نہیں کیا جائے گا ورنہ تو وہ پورا ہی نہیں کر سکے گا، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو قسم کھائی جاتی ہے پورا کرنے کے لیے تو اس نے دلالت کر دی کہ یہاں عموم معتبر نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَلَوْ قَالَ كُلُّ حِلٍّ عَلَيَّ حَرَامٌ فَهُوَ عَلَى الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ اور اگر کسی شخص نے کہا کہ ہر حلال چیز وہ میرے اوپر حرام ہے تو یہ قسم جو ہے کھانے اور پینے پر ہے، إِلَّا أَنْ يَنْوِيَ غَيْرَ ذَلِكَ مگر یہ کہ اس کے علاوہ کی یہ نیت کر لے، ہاں اگر یہ نیت کرتا ہے ہر چیز کی پھر تو عموم پر اسی طرح باقی رہے گی اور فوراً حانث بھی ہو جائے گا، یا کسی خاص چیز کی وہ نیت کرتا ہے تو وہ بھی اس کے اندر داخل ہو جائے گی۔ کھانا پینا بھی داخل رہے گا کیونکہ عرف میں عرف میں اس قسم کے کلام کو کس پر محمول کرتے ہیں؟ کھانے اور پینے پر، اور باقی اگر کسی اور چیز کی اس نے نیت کی ہے وہ بھی داخل ہو جائے گی۔ تو کہتے ہیں: إِلَّا أَنْ يَنْوِيَ غَيْرَ ذَلِكَ مگر یہ کہ اس کے علاوہ کی نیت کرے، وَالْقِيَاسُ أَنْ يَحْنَثَ كَمَا فَرَغَ اور قیاس تو یہ ہے کہ یہ شخص حانث ہو جائے کما فرغ جیسے ہی یہ قسم سے فارغ ہو، لِأَنَّهُ بَاشَرَ فِعْلًا مُبَاحًا اس لیے کیونکہ اس نے سرانجام دیا ہے ایک مباح فعل کو، وَهُوَ التَّنَفُّسُ وَنَحْوُهُ اور وہ سانس لینا ہے اور اس جیسے اور افعال بھئی، وَهَذَا قَوْلُ زُفَرَ رَحِمَهُ اللَّهُ اور یہ قول ہے امام زفر رحمہ اللہ کا۔ تو قیاس یہ تقاضا کرتا ہے کہ یہ فوراً حانث ہو جائے لیکن استحساناً ہمارے ائمہ فرماتے ہیں یہ حانث نہیں ہو گا۔ وَوَجْهُ الِاسْتِحْسَانِ: أَنَّ الْمَقْصُودَ هُوَ الْبِرُّ، اور استحسان کی وجہ یہ ہے کہ قسم کے ذریعے جو مقصود ہوتا ہے وہ اس کو پورا کرنا ہوتا ہے، لَا يَتَحَصَّلُ مَعَ اعْتِبَارِ الْعُمُومِ تو وہ پورا کرنا حاصل نہیں ہو سکتا عموم کے اعتبار سے، وَإِذَا سَقَطَ اعْتِبَارُهُ اور جب عموم کا اعتبار ساقط ہو گیا یَنْصَرِفُ إِلَى الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ لِلْعُرْفِ تو یہ قسم پلٹ جائے گی کھانے اور پینے کی طرف عرف کی وجہ سے کہ عام لوگ اس سے کھانا اور پینا ہی مراد لیتے ہیں کہ یہ شخص کھانے پینے کو اپنے اوپر حرام کر رہا ہے، فَإِنَّهُ يُسْتَعْمَلُ فِيمَا يُتَنَاوَلُ عَادَةً اس لیے کیونکہ یہ الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں ان چیزوں میں جن کو عادتاً کھایا جاتا ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہاں تناول کا معنی کھانا کھانے کے ہے۔ فَإِنَّهُ يُسْتَعْمَلُ فِيمَا يُتَنَاوَلُ عَادَةً اس لیے کیونکہ یہ الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں ان چیزوں میں جن کو عادتاً کھایا جاتا ہے، وَلَا يَتَنَاوَلُ الْمَرْأَةَ اور یہ عورت کو شامل نہیں، اب یہاں یتناول کا معنی ہے شامل ہونا۔ تو کہتے ہیں: وَلَا يَتَنَاوَلُ الْمَرْأَةَ إِلَّا بِالنِّيَّةِ اور یہ اس شخص کی بیوی کو شامل نہیں ہے مگر نیت کے ذریعے، اس نے کہا ہے میرے اوپر ہر حلال چیز حرام ہے تو اس کی بیوی بھی تو اس پر حلال تھی، تو کیا وہ حرام ہو گی یا نہیں؟ کہتے ہیں نہیں ہم نے آپ کو بتلا دیا کہ استحساناً عموم کا اعتبار یہاں ساقط ہو جائے گا اور صرف کھانا پینا مراد ہو گا، اور بیوی بیوی بھی اس کے اندر داخل نہیں الا یہ کہ یہ بیوی کی نیت کرے، تو بیوی کی نیت کرے گا پھر بیوی بھی داخل ہو جائے گی، بیوی بھی اس پر حرام ہو جائے گی اور یہ ایلاء بن جائے گا۔ یہ ایلاء بن جائے گا، ایلاء آپ جانتے ہیں کوئی شخص اپنی بیوی سے چار ماہ یا اس سے زیادہ تک صحبت نہ کرنے کی قسم کھا لے کہ واللہ میں تمہارے قریب نہیں آؤں گا چار ماہ تک یا ایک سال تک، تو چار ماہ یا اس سے زیادہ کی قسم کھا لے بیوی سے صحبت نہ کرنے کی تو یہ ایلاء ہے، اور چار ماہ گزر گئے اور اس نے صحبت نہ کی تو عورت جدا ہو جائے گی ایک طلاقِ بائن کے ساتھ، اور اگر اس نے صحبت کر لی پہلے تو پھر بیوی بیوی ہی رہے گی البتہ قسم کا کفارہ دینا پڑے گا۔ چنانچہ علماء فرماتے ہیں ایلاء کرنے والا دو ناپسندیدہ چیزوں میں سے ایک میں ضرور واقع ہو گیا: یا تو اب اسے قسم توڑ کر قسم کا کفارہ دینا پڑے گا یا بیوی ہاتھ سے نکل جائے گی۔ تو کہتے ہیں: وَلَا يَتَنَاوَلُ الْمَرْأَةَ إِلَّا بِالنِّيَّةِ لِإِسْقَاطِ اعْتِبَارِ الْعُمُومِ، اور یہ اس کی بیوی کو شامل نہیں ہے مگر نیت کے ذریعے اس وجہ سے کہ عموم کا اعتبار ساقط ہو چکا ہے، وَإِذَا نَوَاهَا كَانَ إِيلَاءً اور جب یہ اپنی بیوی کی نیت کرے گا تو یہ ایلاء ہو جائے گا تو چار مہینے تک اگر صحبت نہیں کرے گا تو بیوی ہاتھ سے نکل جائے گی یا اگر صحبت کر لیتا ہے تو قسم کا کفارہ دینا پڑے گا۔ تو کہتے ہیں: وَإِذَا نَوَاهَا كَانَ إِيلَاءً اور جب یہ اپنی بیوی کی نیت کر لے گا تو یہ ایلاء ہو جائے گا، وَلَا تُصْرَفُ الْيَمِينُ عَنِ الْمَأْكُولِ وَالْمَشْرُوبِ اور اس قسم کو پھیرا نہیں جائے گا ان چیزوں سے جن کو کھایا جاتا ہے اور جن کو پیا جاتا ہے۔ بھئی اگر اس نے بیوی کی نیت کی ہے تو بیوی بھی داخل ہو گئی لیکن اس کا یہ معنی نہیں کہ اب وہ کھانے پینے کی چیزیں شامل نہیں، وہ کھانے پینے کی چیزیں اب بھی شامل ہیں، کوئی چیز کھائے گا یا پیئے گا تو اس صورت میں بھی حانث ہو جائے گا۔ تو یہ معنی ہے: وَلَا تُصْرَفُ الْيَمِينُ عَنِ الْمَأْكُولِ وَالْمَشْرُوبِ اور اس قسم کو پھیرا نہیں جائے گا ان چیزوں سے جن کو کھایا جاتا ہے اور جن کو پیا جاتا ہے یعنی ان کو بھی یہ شامل ہے۔ وَهَذَا كُلُّهُ جَوَابُ ظَاهِرِ الرِّوَايَةِ اور یہ سارا جو ہے یہ ظاہرِ روایت کا جواب ہے یعنی ظاہرِ روایت میں مسئلہ اسی طرح ہے۔ وَمَشَايِخُنَا رَحِمَهُمُ اللَّهُ تَعَالَى قَالُوا اور ہمارے فقہاء فرماتے ہیں، مراد فقہائے بلخ ہیں بھئی، فقہائے بلخ، بلخ یہ افغانستان کے دوسری طرف کا علاقہ جو ہے دوسری جانب کا کنارہ یہ بلخ کہلاتا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَمَشَايِخُنَا رَحِمَهُمُ اللَّهُ تَعَالَى قَالُوا: يَقَعُ بِهِ الطَّلَاقُ عَنْ غَيْرِ نِيَّةٍ، اور ہمارے فقہاء فرماتے ہیں کہ اس سے طلاق واقع ہو جائے گی بغیر نیت کے۔ ایک شخص کہتا ہے: كُلُّ حِلٍّ عَلَيَّ حَرَامٌ تو اس سے خود بخود طلاق واقع ہو جائے گی۔ بھئی کیوں؟ کیا وجہ ہے؟ کہتے ہیں: لِغَلَبَةِ الِاسْتِعْمَالِ غلبۂ استعمال کی وجہ سے کہ یہ الفاظ طلاق میں کثرت سے استعمال کیے جاتے ہیں، تو کہتے ہیں ہمارے فقہاء فرماتے ہیں: يَقَعُ بِهِ الطَّلَاقُ عَنْ غَيْرِ نِيَّةٍ لِغَلَبَةِ الِاسْتِعْمَالِ کہ اس کے ذریعے بغیر نیت کے ہی طلاق واقع ہو جائے گی غلبۂ استعمال کی وجہ سے، یعنی یہ الفاظ طلاق ہی میں غالب الاستعمال ہیں اکثر اسی میں استعمال ہوتے ہیں تو یہ اس کے اندر صریح کے درجے میں ہو گئے ہیں لہذا ان سے خود بخود طلاق واقع ہو جائے گی چاہے طلاق کی نیت نہ بھی کرے۔ یہ معنی ہے: لِغَلَبَةِ الِاسْتِعْمَالِ طلاق کے اندر غلبۂ استعمال کی وجہ سے، وَعَلَيْهِ الْفَتْوَى اور اسی پر فتویٰ ہے بھئی۔ وَكَذَا يَنْبَغِي فِي قَوْلِهِ اور اسی طرح مناسب ہے یعنی طلاق واقع ہو جائے گی کسی کہنے والے کے اس قول میں: حَلَالْ بَرْ وے حَرَامْ، حلال بر وے حرام بھئی، فارسی الفاظ ہیں۔ ایک شخص کہتا ہے حلال بر وے حرام کہ حلال چیز جو ہے وہ بر وے اس پر حرام، حرام ہے۔ حلال چیز اس پر حرام ہے تو اس کے اندر بھی صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں مناسب یہی ہے کہ اس کا بھی یہی حکم ہو بھئی کہ طلاق بغیر نیت کے ہی واقع ہو جائے۔ تو کہتے ہیں: وَكَذَا يَنْبَغِي فِي قَوْلِهِ: حَلَالْ بَرْ وے حَرَامْ لِلْعُرْفِ، اور اسی طرح مناسب کسی کہنے والے کے اس قول میں کہ حلال بر وے حرام کہ حلال اس پر حرام ہے عرف کی وجہ سے، کہ عرف کے اندر فارسی کے ان الفاظ کو عرف میں ان الفاظ کو طلاق کے لیے استعمال کیا جاتا ہے بھئی۔ وَاخْتَلَفُوا فِي قَوْلِهِ: هَرْ چِہ بَرْ دَسْتِ رَاسْتْ گِيرَمْ بَرْ وے حَرَامْ، اور فقہاء نے اختلاف کیا ہے کسی کہنے والے کے اس قول میں: ہر چہ بر دستِ راست گیرم بر وے حرام، یہ فارسی الفاظ آ گئے۔ ہر چہ بر دستِ راست، دست کہتے ہیں ہاتھ کو، راست کہتے ہیں سیدھا یعنی دایاں ہاتھ، دستِ راست سیدھا ہاتھ، دایاں ہاتھ۔ گیرم میں پکڑتا ہوں۔ ہر چہ بر دستِ راست گیرم کہ جو چیز بھی میں دائیں ہاتھ سے پکڑتا ہوں یعنی جو بھی چیز میرے دائیں ہاتھ میں ہے یعنی جس کا میں مالک ہوں بر وے حرام وہ اس پر حرام ہے۔ ایک آدمی کہتا ہے جو بھی چیز میرے دائیں ہاتھ میں ہے یعنی جس چیز کا بھی میں مالک ہوں وہ مجھ پر حرام ہے تو اس میں فقہاء نے اختلاف کیا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَاخْتَلَفُوا فِي قَوْلِهِ: هَرْ چِہ بَرْ دَسْتِ رَاسْتْ گِيرَمْ بَرْ وے حَرَامْ أَنَّهُ هَلْ تُشْتَرَطُ النِّيَّةُ؟ اور فقہاء نے اختلاف کیا ہے کہنے والے کے اس قول کے اندر ہر چہ بر دستِ راست گیرم بر وے حرام کہ ہر وہ چیز جس کو میں نے دائیں ہاتھ سے پکڑا ہے بر وے حرام وہ اس پر حرام ہے کہ کیا اس میں بھی نیت کی شرط ہو گی پھر طلاق واقع ہو گی یا بغیر نیت کے بھی طلاق واقع ہو جائے گی؟ تو کہتے ہیں اس میں اختلاف کیا ہے: وَالْأَظْهَرُ أَنَّهُ يُجْعَلُ طَلَاقًا مِنْ غَيْرِ نِيَّةٍ لِلْعُرْفِ اور زیادہ ظاہر قول یہی ہے کہ اس کو بھی طلاق قرار دیا جائے گا بغیر نیت کے ہی عرف کی وجہ سے، کیونکہ عام لوگوں میں یہ لفظ طلاق کے لیے استعمال ہوتے ہیں تو بغیر نیت کے ہی اس کو طلاق قرار دیا جائے گا۔ آگے دیکھیے: وَمَنْ نَذَرَ نَذْرًا مُطْلَقًا فَعَلَيْهِ الْوَفَاءُ۔ یہاں پر دو تین چیزیں سمجھ لیں بھئی: ایک ہے منت، جسے نذر کہتے ہیں عربی میں: ن، ذ اور ر: نَذْرٌ۔ اور ایک ہے منذور بھئی، اسی ذال کے ساتھ: مَنْذُورٌ، جس چیز کی منت مانی گئی ہے، اور ایک ہے شرط بھئی۔ یاد رکھو منذور وہ چیز ہے جس کی انسان نے منت مانی ہے، مثلاً ایک شخص کہتا ہے کہ اگر میرے اس مریض کو شفا مل گئی تو میں اللہ کے لیے پانچ روزے رکھوں گا، تو یہ منت مان رہا ہے یہ ہے نذر، اور یہ جو پانچ روزے اس نے ذکر کیے جس چیز کی منت مانی ہے کہ میں یہ چیز کروں گا اس کو کہتے ہیں منذور بھئی، ذال کے ساتھ: مَنْذُورٌ بھئی، اور جو شرط ساتھ ذکر کی ہے کہ اگر میرے مریض کو شفا مل گئی تو یہ ہے شرط بھئی۔ تو شرط اور چیز ہے اور منذور اور چیز ہے، منذور وہ چیز ہے جس کی اس نے منت مانی ہے بھئی۔ اور یہاں ایک اور قیمتی بات ذہن میں آئی بھئی وہ بھی یاد رکھنا، یاد رکھنا فقہاء فرماتے ہیں کہ منت کا عبادت ہونا ضروری ہے۔ نہایت قیمتی نکتہ ہے بھئی: منت کا عبادت ہونا ضروری ہے، لہذا اگر کوئی گناہ کی منت مانتا ہے تو وہ منت ہی منعقد نہیں ہوئی، مثلاً ایک آدمی منت مانتا ہے کہ اگر میرا یہ کام ہو گیا تو میں ناچ گانے کا پروگرام کرواؤں گا، بھئی یہ تو گناہ کی منت مان رہا ہے لہذا یہ منت منعقد ہی نہیں ہوئی بھئی۔ تو فقہاء فرماتے ہیں منت کا عبادت ہونا ضروری ہے اور عبادت بھی ایسی ہو جو زندگی میں کسی وقت فرض یا واجب ہو۔ کسی زندگی میں کسی وقت فرض یا واجب ہو، مثلاً ایک شخص نفلوں کی منت مانتا ہے یعنی نماز کی، اور نماز دیکھو نماز تو فرض بھی ہوتی ہے بھئی، یہ پانچ نمازیں ہر مسلمان پر فرض ہیں تو نماز فرض بھی ہوتی ہے لہذا معلوم ہوا نفل یعنی نماز جو ہے وہ عبادت کے قبیل سے ہے لہذا ان کی منت ماننا ٹھیک ہے۔ اور اسی طرح مثلاً روزے کی منت مانتا ہے کہ اگر میرا یہ کام ہو گیا تو میں اتنے روزے رکھوں گا تو یہ بھی منت صحیح ہے اس لیے کیونکہ روزے جو ہیں وہ بھی کبھی فرض ہو جاتے ہیں جیسے رمضان کا روزہ ہے بھئی۔ اسی طرح اگر ایک شخص نے قرآن کی تلاوت کی جو ہے منت مانی کہ اگر میرا یہ کام ہو گیا تو میں دس سپاروں کی تلاوت کروں گا تو یاد رکھو یہ منت بھی منعقد ہو گئی اس لیے کیونکہ نماز کے اندر تلاوت فرض ہے بھئی۔ اسی طرح اگر ایک شخص مثلاً درود شریف پڑھنے کی منت مانتا ہے کہ اگر میرا یہ کام ہو گیا تو میں اتنے ہزار مرتبہ درود شریف پڑھوں گا تو یہ منت بھی صحیح ہے، وجہ یہ کہ علماء فرماتے ہیں کہ ہر مومن پر زندگی میں کم از کم ایک مرتبہ درود پڑھنا واجب اور لازم ہے بھئی، درود پڑھنا واجب اور لازم ہے بھئی، تو لہذا اس درود کی منت بھی صحیح ہے۔ اور اگر کوئی شخص منت مانتا ہے سبحان اللہ کی بھئی کہ اگر میرا یہ کام ہو گیا تو اتنے ہزار مرتبہ سبحان اللہ کا ذکر کروں گا تو یاد رکھو یہ منت یہ منت منعقد نہیں، اس لیے کیونکہ سبحان اللہ کہنا کسی بھی موقع پر فرض یا واجب نہیں ہے، حتیٰ کہ نماز میں بھی آپ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى اور سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ پڑھتے ہیں تو یہ واجب نہیں ہے یہ سنت ہے بھئی، اگر نہیں بھی پڑھیں گے نماز ہو جائے گی اگرچہ کامل نماز نہ ہوئی لیکن نماز ادا ہو گئی بھئی۔ تو منذور وہ چیز جس کی منت مانی جائے اور شرط وہ فعل جس کے ساتھ اس کو معلق کیا جائے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَمَنْ نَذَرَ نَذْرًا مُطْلَقًا فَعَلَيْهِ الْوَفَاءُ، بھئی یاد رکھو ایک ہے نذرِ مطلق اور ایک ہے نذرِ معلق بھئی۔ نذرِ معلق وہ ہے جس میں آپ اس نذر کو معلق کر دیتے ہیں کسی فعل کے ساتھ کہ اے اللہ میں پانچ روزے رکھوں گا اگر میرا یہ مریض ٹھیک ہو گیا، میرا یہ مریض ٹھیک ہو گیا۔ تو دیکھو یہ جو پانچ روزے ہیں یہ جس یہ جو منذور ہے جس کی آپ منت مان رہے ہیں اس کو آپ نے ایک چیز کے ساتھ معلق کر دیا ہے تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ نذرِ معلق بھئی۔ تو معلوم ہوا کہ منت کو کسی شرط کے ساتھ معلق کر دیا جائے تو یہ نذرِ معلق ہے، اور دوسری جو ہے وہ نذرِ مطلق ہے۔ نذرِ مطلق میں کسی شرط وغیرہ کو ساتھ ذکر نہیں کرتا بس ویسے ہی منت مان لیتا ہے کہ مجھ پر اللہ کے لیے پانچ روزے لازم ہیں یا میں اللہ کے لیے منت مانتا ہوں پانچ روزوں کی، تو یاد رکھو یہ نذرِ مطلق ہے اور جو شخص اس طرح کہہ دے گا تو یہ منت ہو گئی اب اس کو ادا کرنا پڑے گا کہ مجھ پر لازم ہے اللہ کے لیے پانچ روزے تو اب اس کو پانچ روزے رکھنا پڑیں گے۔ تو کہتے ہیں: وَمَنْ نَذَرَ نَذْرًا مُطْلَقًا فَعَلَيْهِ الْوَفَاءُ اور جس شخص نے مطلق نذر مانی یعنی اس کو معلق نہیں کیا کسی شرط کے ساتھ فَعَلَيْهِ الْوَفَاءُ تو اس پر واجب ہے اس کو پورا کرنا، لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ حضور علیہ السلام کے اس قول کی وجہ سے کہ آپ نے فرمایا: ”مَنْ نَذَرَ وَسَمَّى فَعَلَيْهِ الْوَفَاءُ بِمَا سَمَّى“ جس نے منت مانی وَسَمَّى اور بیان کیا یعنی جس چیز کی منت مان رہا ہے اس کو بیان کیا، وہ جو منذور ہے کہ مثلاً میں پانچ روزے رکھوں گا یہ کیا ہے؟ منذور، یا میں دس رکعت نفل ادا کروں گا یہ کیا ہے؟ یہ منذور ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی، اور اگر ساتھ فعل بھی کوئی ذکر کرتا ہے اس کو شرط کہیں گے۔ مثلاً ایک آدمی کہتا ہے کہ میں منت مانتا ہوں پانچ روزوں کی اگر میرے اس مریض اس مریض کو اللہ نے شفا دے دی تو یہ جو آگے فعل ذکر کیا وہ شرط ہے بھئی۔ تو حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: مَنْ نَذَرَ وَسَمَّى جس نے منت مانی اور بیان کیا یعنی جس چیز کی منت مانی ہے اس کو بیان کیا، فَعَلَيْهِ الْوَفَاءُ بِمَا سَمَّى تو اس پر واجب ہے پورا کرنا اس چیز کو جس کو اس نے بیان کیا ہے جس کو اس نے ذکر کیا ہے۔ آگے دیکھیے: وَإِنْ عَلَّقَ النَّذْرَ بِشَرْطٍ فَوُجِدَ الشَّرْطُ فَعَلَيْهِ الْوَفَاءُ بِنَفْسِ النَّذْرِ۔ بھئی یہاں ایک بات سمجھ لیجیے پہلے: یاد رکھو یاد رکھو کہ اگر کوئی شخص منت کو معلق کر دیتا ہے کسی شرط کے ساتھ تو شرطیں دو قسم کی ہو سکتی ہیں: بعض شرطیں ایسی ہوں گی جس کے ہونے کی تمنا ہے کہ یہ چیز ہو جائے، جیسے ایک آدمی نے کیا کہا کہ اگر میرے اس مریض کو شفا مل گئی تو میں اللہ کے لیے پانچ روزے رکھوں گا، تو دیکھو اس مریض کی شفا اس کے ہونے کی اس شفا کے ہونے کی تمنا ہے، اور بعض اوقات ایسی شرط ذکر کی جاتی ہے کہ جس کے نہ ہونے کی تمنا ہوتی ہے، مثلاً ایک آدمی کہتا ہے کہ اگر میں نے آئندہ کوئی جھوٹ بولا تو مجھ پر اللہ کے لیے پانچ روزے لازم ہیں، تو اب دیکھو اس کی تمنا جھوٹ نہ بولنا ہے۔ تو بعض اوقات اس شرط کے ہونے کی تمنا ہوتی ہے اور بعض اوقات وہ شرط ایسا فعل ہوتا ہے کہ اس کے نہ ہونے کی تمنا ہوتی ہے، اس کے نہ ہونے کو یہ چاہتا ہے، تو دونوں میں فرق ہے۔ اگر اس نے ایسا کام ذکر کیا جس کے ہونے کی تمنا ہے، جس کے ہونے کو یہ چاہتا ہے تو پھر یاد رکھو اگر وہ کام ہو گیا تو پھر جو منت مانی ہے وہی پورا کرنا پڑے گی۔ ایک آدمی نے کہا اے اللہ اگر میرے اس مریض کو شفا مل گئی تو میں آپ کے لیے پانچ روزے رکھوں گا، تو اگر مریض کو شفا مل گئی تو یہی پانچ روزے ہی اس کو رکھنا پڑیں گے، یہاں کفارۂ قسم نہیں دے سکتا، یہاں کفارۂ قسم نہیں دے سکتا، حانث تو یہ ہوا ہے لیکن جس چیز کی منت مانی ہے وہی پورا کرنا پڑے گی، یہاں قسم کا کفارہ ادا نہیں کر سکتا۔ لیکن اس کے مقابلے میں اگر ایسی شرط کو ذکر کیا تھا جس کے نہ ہونے کو یہ چاہتا ہے، جس کے نہ ہونے کی تمنا ہے تو پھر اس صورت میں تو پھر اس صورت میں چاہے تو وہی منت پوری کر لے اور چاہے تو قسم کا کفارہ دے دے۔ مثلاً ایک آدمی کہتا ہے اگر میں نے پھر جھوٹ بولا تو مجھ پر اللہ کے لیے پانچ روزے لازم ہیں، تو پھر اس نے جھوٹ بول دیا تو اس صورت کے اندر یہ چاہے تو یہی پانچ روزے رکھ لے اور چاہے تو قسم کا کفارہ دے دے یعنی دس مسکینوں کو دو وقت کا کھانا کھلا دے یا ان کو کپڑے پہنا دے۔ صورت سمجھ میں آ گئی۔ پھر دہرا لیں: اگر شرط ایسی ہے کہ اس کے ہونے کی تمنا ہے تو اگر وہ شرط پوری ہو گئی تو جو منت مانی ہے وہی کرنا پڑے گا، اسی کو پورا کرنا پڑے گا، کفارۂ قسم نہیں دے سکتا، لیکن اگر شرط ایسی ذکر کی ہے جس کے نہ ہونے کی تمنا ہے اور پھر اس کو کر لیا تو اس صورت کے اندر جس چیز کی منت مانی تھی وہ بھی ادا کر سکتا ہے اور کفارۂ قسم دینا چاہے تو وہ بھی دے سکتا ہے، اسے اختیار ہے دونوں میں سے جس کو بھی اختیار کر لے۔ تو کہتے ہیں: وَإِنْ عَلَّقَ النَّذْرَ بِشَرْطٍ اور اگر کسی شخص نے منت کو معلق کر دیا کسی شرط کے ساتھ فَوُجِدَ الشَّرْطُ تو پھر شرط پائی گئی فَعَلَيْهِ الْوَفَاءُ بِنَفْسِ النَّذْرِ تو اس شخص پر واجب ہے پورا کرنا نفسِ منت کو، جس چیز کے منت مانی ہے وہی کرنا پڑے گا قسم کا کفارہ نہیں دے سکتا، کیوں؟ کہتے ہیں: لِإِطْلَاقِ الْحَدِيثِ حدیث کے مطلق ہونے کی وجہ سے۔ حدیث میں آیا تھا پیچھے بھئی: ”مَنْ نَذَرَ وَسَمَّى فَعَلَيْهِ الْوَفَاءُ بِمَا سَمَّى“ جس نے منت مانی اور ذکر کر دیا یعنی جس چیز کی منت مانی ہے اس کو ذکر کیا تو اس پر واجب ہے پورا کرنا اس چیز کو جسے اس نے ذکر کیا تھا، معلوم ہوا جو چیز ذکر کی ہے اسی کو پورا کرنا پڑے گا، کفارے کی گنجائش یہاں نہیں ہے بھئی، تو یہ معنی ہے: لِإِطْلَاقِ الْحَدِيثِ حدیث کے مطلق ہونے کی وجہ سے، وَلِأَنَّ الْمُعَلَّقَ بِشَرْطٍ كَالْمُنَجَّزِ عِنْدَهُ، اور اس لیے کیونکہ وہ منت جو شرط کے ساتھ معلق ہوتی ہے كَالْمُنَجَّزِ وہ بھی منجز منت کی طرح ہے عِنْدَهُ أَيْ عِنْدَ الشَّرْطِ، یہ عِنْدَهُ کی ہا ضمیر شرط کو لوٹائیں: عِنْدَهُ أَيْ عِنْدَ الشَّرْطِ أَيْ عِنْدَ وُجُودِ الشَّرْطِ جب شرط پائی جائے۔ بھئی ایک ہے منجز اور ایک ہے معلق۔ خاوند اپنی بیوی سے کہتا ہے تجھے طلاق ہے تو یہ اسی وقت اس نے طلاق واقع کر دی اس کو کہتے ہیں منجز: نَجَّزَ يُنَجِّزُ تَنْجِيزًا کا معنی ہے پورا کرنا، تو یہاں اس نے طلاق پوری کر دی اسی وقت واقع کر دی اس کو کیا کہتے ہیں؟ منجز، اور اگر طلاق کو وہ کسی شرط کے ساتھ معلق کرتا ہے تو اس کو کہیں گے معلق بھئی، جیسے خاوند بیوی سے کہتا ہے اگر تو اس گھر میں گئی تو تجھے طلاق ہے۔ تو منجز کا کیا معنی؟ وہ چیز جس کو پورا کر دیا جائے یعنی معلق نہ کیا جائے۔ تو منت کے اندر بھی اسی طرح معاملہ ہے: ایک وہ منت ہے جس کو شرط کے ساتھ معلق کیا ہے کہ اے اللہ اگر میرے مریض کو شفا مل گئی تو میں آپ کے لیے پانچ روزے رکھوں گا تو یہ نذرِ معلق ہے، اور ایک منت جو ہے وہ منجز ہے، مثلاً نذرِ مطلق کو ایک آدمی ذکر کرتا ہے یعنی کوئی شرط ساتھ نہیں لگاتا بس اتنا کہتا ہے میں منت مانتا ہوں میرے اوپر اللہ کے لیے پانچ روزے لازم ہیں، تو یہ اس نے مطلق منت مانی اور یہ کہتے ہی اس پر فوراً منت لازم ہو گئی اب اس کو پانچ روزے رکھنا ہوں گے، تو یہ نذرِ مطلق ہے یا اسی کو نذرِ منجز بھی کہیں گے کہ منت کو اس نے معلق نہیں کیا بلکہ فوراً ہی واقع کر دیا، تو اس پر اب یہ پانچ روزے لازم ہو گئے۔ تو بات یہ چل رہی ہے کہ ایک صورت یہ ہے کہ منت کو معلق کیا جائے اور ایک صورت یہ ہے کہ منت کو منجز کیا جائے، اور منت جب منجز ہو تو جو چیز ذکر کی ہے وہی کرنا پڑے گا، پانچ روزے ذکر کیے ہیں تو وہ پانچ روزے ہی رکھنا پڑیں گے، تو معلق بھی اسی منجز کی طرح ہی ہے، جب معلق والی شرط پائی جائے گی تو یہ معلق بھی کس کی طرح ہو گئی؟ منجز کی طرح، اور منجز میں تو وہی کرنا پڑتا تھا جس کی منت مانی ہے تو اس معلق میں بھی وہی چیز کرنا پڑے گی یہاں کفارۂ قسم کافی نہیں ہے، یہاں کفارۂ قسم کافی نہیں ہے، تو جیسے منجز منت ہوتی ہے اس میں جو منذور ہے یعنی جس چیز کی منت مانی گئی ہے وہی کرنا پڑتا ہے وہاں کفارۂ قسم نہیں دے سکتا تو معلق کے اندر بھی جب شرط پائی جائے گی تو یہ بھی کس کی طرح ہو گئی؟ منجز کی طرح، اور منجز میں تو کفارہ کافی نہیں تھا تو اس معلق میں بھی کفارہ کافی نہیں اس میں وہی چیز کرنا پڑے گی جو اس نے ذکر کی ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے: وَلِأَنَّ الْمُعَلَّقَ بِشَرْطٍ كَالْمُنَجَّزِ عِنْدَهُ، وَلِأَنَّ الْمُعَلَّقَ بِشَرْطٍ اور اس لیے کیونکہ وہ منت جو شرط کے ساتھ معلق ہوتی ہے اب ذرا كَالْمُنَجَّزِ کو آخر میں لے جائیں: وَلِأَنَّ الْمُعَلَّقَ بِشَرْطٍ عِنْدَهُ كَالْمُنَجَّزِ، منجز کو ہم آخر میں لے گئے۔ وَلِأَنَّ الْمُعَلَّقَ بِشَرْطٍ اس لیے کیونکہ وہ منت جو کسی شرط کے ساتھ معلق ہوتی ہے عِنْدَهُ أَيْ عِنْدَ وُجُودِ الشَّرْطِ جب شرط پائی جائے گی تو یہ معلق بھی كَالْمُنَجَّزِ کس کی طرح ہو گئی؟ منجز کی طرح ہو گئی اور منجز میں تو وہی کرنا پڑے گا جس کی منت مانی ہے تو معلق میں بھی وہی کرنا پڑے گا جس کی منت مانی ہے یعنی کفارے کی گنجائش نہیں ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو وہ منت جو منجز ہے اس میں جس چیز کو ذکر کیا ہے وہی کرنا پڑے گا کفارہ نہیں دے سکتا، تو معلق بھی اس منجز کی طرح ہے تو معلق میں بھی جب شرط پائی جائے گی تو وہی چیز کرنا پڑے گی کفارۂ قسم یہاں کافی نہیں ہے۔ وَعَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى أَنَّهُ رَجَعَ عَنْهُ، اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اس سے رجوع فرما لیا تھا۔ بھئی اوپر تو متن میں بھی آ گیا اور آگے صاحبِ ہدایہ نے دلیل بھی ذکر کر دی کہ منت کو جب کسی شرط کے ساتھ معلق کر دیا جائے تو جب وہ شرط پائی جائے گی تو اسی منت کو پورا کرنا پڑے گا کیونکہ حدیث میں آ گیا، حدیث میں کیا آیا: فَعَلَيْهِ الْوَفَاءُ بِمَا سَمَّى جو اس نے ذکر کیا ہے وہی واجب ہو گا، معلوم ہوا کفارۂ یمین یہاں ادا نہیں کر سکتا بھئی۔ تو امام صاحب کا بھی یہی مذہب تھا کہ جب بھی منت مانی جائے تو جب وہ منت پوری ہو جائے گی تو پھر وہی چیز کرنا پڑے گی جس کی اس نے منت مانی ہے کفارۂ قسم نہیں دے سکتا، لیکن بعد میں امام صاحب نے رجوع فرما لیا، بعد میں امام صاحب نے رجوع فرما لیا اور فرمایا کہ کفارۂ قسم بھی دے سکتا ہے، اس آدمی کو اختیار ہے چاہے تو جس چیز کی منت مانی ہے چاہے اسی کو کر لے اور چاہے تو قسم کا کفارہ دے دے۔ فرق سمجھ میں آیا ان دونوں مسئلوں کا؟ امام صاحب پہلے کیا فرماتے تھے: جب منت کو کسی شرط کے ساتھ معلق کیا ہے تو جب شرط پائی جائے گی تو وہی چیز جس کی منت مانی ہے وہی کرنا پڑے گی کفارۂ قسم کافی نہیں ہے، لیکن بعد میں امام صاحب نے رجوع فرما لیا کہ نہیں وہی چیز کرنا چاہے تو وہ بھی کر سکتا ہے اور کفارۂ قسم دینا چاہے تو کفارۂ قسم بھی دے سکتا ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔ یہ معنی ہے: وَعَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى أَنَّهُ رَجَعَ عَنْهُ، اور امام صاحب سے روایت ہے کہ انہوں نے اس سے رجوع فرما لیا تھا۔ کس چیز سے رجوع فرمایا؟ پہلے وہ فرماتے تھے کہ جس کو ذکر کیا ہے وہی متعین ہے اسی کو کرنا پڑے گا، اور بعد میں رجوع فرمایا کہ نہیں اس کو اختیار ہے وہ وہی چیز بھی کر سکتا ہے اور کفارہ بھی دے سکتا ہے۔ تو امام صاحب نے اس سے رجوع فرمایا تھا: وَقَالَ اور امام صاحب نے فرمایا: إِذَا قَالَ: إِنْ فَعَلْتُ كَذَا فَعَلَيَّ حَجَّةٌ أَوْ صَوْمُ سَنَةٍ أَوْ صَدَقَةُ مَالٍ أَمْلِكُهُ، کہ جب منت ماننے والے نے کہا: اگر میں ایسا کروں تو میرے اوپر حج واجب ہے، یا میرے اوپر ایک سال کے روزے واجب ہیں، یا مجھ پر اس مال کا صدقہ واجب ہے جس کا میں مالک ہوں، تو امام صاحب فرماتے ہیں اگر کسی نے ایسا کہا: اگر میں ایسا کروں تو مجھ پر حج ہے یا سال بھر کے روزے ہیں یا میرا مال صدقہ ہے اگر میں ایسا کروں، أَجْزَأَهُ مِنْ ذَلِكَ كَفَّارَةُ يَمِينٍ تو اس شخص کے لیے کافی ہو گا اس سے قسم کا کفارہ بھی، وَهُوَ قَوْلُ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ اور یہی قول امام محمد رحمہ اللہ کا بھی ہے، وَيَخْرُجُ عَنِ الْعُهْدَةِ بِالْوَفَاءِ بِمَا سَمَّى أَيْضًا اور یہ شخص ذمہ داری سے نکل جائے گا یعنی قسم کی ذمہ داری سے نکل جائے گا بالوفاء بما سمى أيضاً وہ چیز جو اس نے ذکر کی ہے اس کو ادا کرنے سے بھی۔ کفارۂ قسم بھی دے سکتا ہے اور جو چیز ذکر کی ہے اس کے ادا کرنے سے بھی قسم کی ذمہ داری سے نکل جائے گا۔ تو کہتے ہیں: وَيَخْرُجُ عَنِ الْعُهْدَةِ بِالْوَفَاءِ بِمَا سَمَّى أَيْضًا اور یہ شخص قسم کی ذمہ داری سے نکل جائے گا وہ چیز جو اس نے ذکر کی تھی اس کو ادا کرنے سے بھی، وَهَذَا إِذَا كَانَ شَرْطًا۔ اچھا بھئی! امام صاحب کا پہلا قول کیا تھا کہ اگر شرط کے ساتھ منت کو معلق کیا ہے تو وہ شرط جب پائی جائے گی تو وہی چیز ادا کرنا پڑے گی جس کی منت مانی ہے، اور بعد میں انہوں نے رجوع کر لیا کہ نہیں اس آدمی کو اختیار ہے یہ چاہے تو کفارۂ قسم دے دے اور چاہے تو وہی چیز ادا کر دے جس کو اس نے ذکر کیا تھا۔ اب صاحبِ ہدایہ دونوں قولوں کے درمیان تطبیق دے رہے ہیں: ایک امام صاحب کا پہلا قول ہے اور ایک امام صاحب کا بعد والا قول ہے۔ صاحبِ ہدایہ وہی تفصیل بیان فرمائیں گے جو میں نے پہلے بیان کر دیا کہ یہاں شرط کو دیکھا جائے گا: اگر کسی کام کے ہونے کی شرط ہے یعنی اس کی تمنا ہے کہ وہ ہو جائے تو پھر اس میں وہ پہلے قول پر عمل کیا جائے گا کہ وہی کرنا پڑے گا جس کو اس نے ذکر کیا ہے، اور اگر اس نے ایسے فعل کو ذکر کیا ہے جس کے نہ ہونے کی تمنا ہے تو پھر اس صورت کے اندر اس آدمی کو اختیار ہے وہ چاہے تو وہی منت والی چیز ادا کرے اور چاہے تو کفارۂ قسم ادا کرے۔ تفصیل سمجھ میں آ گئی؟ اس کی وجہ کیا ہے؟ وجہ بھی یہاں سمجھ لو: وجہ یہ کہ جب اس نے شرط ایسی چیز ذکر کی ہے جس کو یہ نہیں چاہتا، یہ چاہتا ہے وہ نہ ہو، تو یہ منت مان رہا ہے لیکن یہ قسم کے معنی میں بھی ہے کیونکہ یہ اس چیز سے اپنے آپ کو روکنا چاہتا ہے۔ اس آدمی نے کہا اگر میں جھوٹ بولوں تو مجھ پر اللہ کے لیے پانچ روزے لازم ہیں، تو معلوم ہوا یہ جھوٹ سے اپنے آپ کو روکنا چاہتا ہے، اور قسم بھی روکنے کے لیے ہوتی ہے، تو یہ لفظوں میں دیکھیں تو یہ منت ہے اور معنی کے اعتبار سے غور کریں تو یہ یمین بھی ہے بھئی، کیونکہ یہ روکنے کے لیے وہ منت مان رہا ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو ایسے فعل کو ذکر کیا جس کو یہ نہیں چاہتا، جس سے اپنے آپ کو روکنا چاہتا ہے، تو یہ بعض اعتبار سے دیکھیں تو یہ منت ہے یعنی الفاظ کو دیکھیں تو منت ہی ہے لیکن اگر معنی کے اعتبار سے دیکھیں کہ یہ منت تو اپنے آپ کو روکنے کے لیے ہے منع کے لیے ہے تو یہ تو یمین ہے کیونکہ یمین روکنے کے لیے ہوتی ہے، تو لہذا یہاں دونوں چیزیں ہیں تو وہ جس جہت پر بھی عمل کرنا چاہے کر سکتا ہے۔ لیکن اگر وہ ایسی شرط ذکر کرتا ہے جس کے ہونے کی تمنا ہے کہ یہ ہو جائے، کہ یہ ہو جائے، تو وہاں تو منع والا معنی نہیں ہے تو وہاں یمین بھی نہیں ہے کیونکہ یمین میں تو منع ہوتا ہے، روکنا ہوتا ہے، یمین کس لیے کھائی جاتی ہے؟ ایک کام سے اپنے آپ کو روکنے کے لیے کھائی جاتی ہے، تو لہذا جب ایک ایسی شرط کو ذکر کیا جس کے ہونے کی تمنا ہے یہ اس کے ہونے کو چاہتا ہے تو یہاں منع کرنے والا معنی نہیں، جب منع کرنے والا معنی نہیں تو یہاں یمین نہیں ہے، جب یمین نہیں تو یہ صرف منت ہے، تو جو منت میں ذکر کیا ہے اسی کو پورا کرنا پڑے گا، بات سمجھ میں آ گئی۔ چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔ وَهَذَا إِذَا كَانَ شَرْطًا لَا يُرِيدُ كَوْنَهُ، اور یہ اس وقت ہے جب شرط ایسی ہو کہ لَا يُرِيدُ كَوْنَهُ کہ یہ نہیں چاہتا اس کے ہونے کو، لِأَنَّ فِيهِ مَعْنَى الْيَمِينِ اس لیے کیونکہ اس کے اندر یمین والا معنی ہے، وَهُوَ الْمَنْعُ اور وہ منع کرنا ہے، وَهُوَ بِظَاهِرِهِ نَذْرٌ اور ظاہر کے اعتبار سے تو یہ منت ہے، فَيَتَخَيَّرُ تو اس آدمی کو اختیار ہو گا، وَيَمِيلُ إِلَى أَيِّ الْجِهَتَيْنِ شَاءَ اور یہ مائل ہو سکتا ہے جس جانب کو بھی یہ چاہے، یعنی منت والی جانب کو بھی مائل ہو سکتا ہے کہ وہی چیز کر دے جس کی منت مانی ہے، اور یمین والی جانب کو بھی یہ مائل ہو سکتا ہے کہ یمین کا کفارہ ادا کر دے، تو یہ معنی ہے: وَيَمِيلُ إِلَى أَيِّ الْجِهَتَيْنِ شَاءَ اور یہ مائل ہو سکتا ہے جس جانب کو بھی یہ چاہے، بِخِلَافِ مَا إِذَا كَانَ شَرْطًا يُرِيدُ كَوْنَهُ بخلاف اس کے کہ جب شرط ایسی چیز ہو کہ يُرِيدُ كَوْنَهُ کہ یہ اس کے ہونے کو چاہتا ہے، كَقَوْلِهِ: إِنْ شَفَى اللَّهُ مَرِيضِي، جیسے کسی کہنے والے کا یہ قول: اگر اللہ نے میرے مریض کو شفا دے دی، تو یہ اس کے برعکس ہے یعنی اس میں اختیار نہیں ہو گا، لِانْعِدَامِ مَعْنَى الْيَمِينِ فِيهِ اس لیے کیونکہ اس کے اندر یمین والا معنی معدوم ہے، وَهُوَ الْمَنْعُ اور وہ منع کرنا ہے روکنا ہے، وَهَذَا التَّفْصِيلُ هُوَ الصَّحِيحُ اور یہ تفصیل جو ہے یہی صحیح ہے۔ قَالَ: وَمَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ وَقَالَ: إِنْ شَاءَ اللَّهُ مُتَّصِلًا بِيَمِينِهِ فَلَا حِنْثَ عَلَيْهِ، صاحبِ قدوری فرماتے ہیں جس شخص نے کسی بات پر قسم اٹھا لی اور اس نے انشاء اللہ بھی کہا مُتَّصِلًا بِيَمِينِهِ اپنی قسم کے ساتھ ملا کر فَلَا حِنْثَ عَلَيْهِ تو اس پر حانث ہونا نہیں ہے۔ یاد رکھو قسم کے ساتھ اگر کوئی شخص انشاء اللہ کا لفظ ملا لے گا تو پھر یہ قسم منعقد ہی نہیں ہوئی، تو جب منعقد ہی نہیں ہوئی تو یہاں حانث ہونے کا بھی کوئی امکان نہیں ہے، کیونکہ اس نے کیا کہا ہے؟ انشاء اللہ، اگر اللہ نے چاہا، اور اللہ کی مشیت کا تو علم نہیں ہو سکتا۔ تو کہتے ہیں: وَمَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ وَقَالَ: إِنْ شَاءَ اللَّهُ مُتَّصِلًا بِيَمِينِهِ فَلَا حِنْثَ عَلَيْهِ، اور جس شخص نے کسی بات پر قسم اٹھائی اور اس نے اپنی قسم کے ساتھ ملا کر انشاء اللہ کہا تو اس پر حانث ہونا نہیں ہے، لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: ”مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ وَقَالَ: إِنْ شَاءَ اللَّهُ فَقَدْ بَرَّ فِي يَمِينِهِ“ حضور علیہ السلام کے اس فرمان کی وجہ سے کہ آپ نے فرمایا: جس نے کسی بات پر قسم اٹھائی اور اس نے انشاء اللہ کہا تو تحقیق وہ سچا ہوا اپنی قسم میں، وہ اپنی قسم میں سچا ہو گیا یعنی اس نے اپنی قسم پوری کر لی۔ بھئی میں نے تو آپ کو بتلایا وہ قسم منعقد ہی نہیں ہوئی اور حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کیا فرما رہے ہیں: فَقَدْ بَرَّ فِي يَمِينِهِ تحقیق یہ شخص اپنی قسم میں سچا ہو گیا۔ تو جواب یہ کہ بھئی یہاں قسم میں سچا ہونے سے مراد یہ ہے کہ قسم منعقد ہی نہیں ہوئی، لیکن اسی کو حضور علیہ السلام نے کن لفظوں سے ذکر فرما دیا کہ یہ اپنی قسم میں سچا ہو گیا، کیوں؟ کیونکہ جب قسم منعقد ہی نہیں ہوئی تو حانث ہونے کا امکان ہی نہیں ہے، جب حانث ہونے کا امکان ہی نہیں ہے تو معلوم ہوا قسم سچی ہو گئی پوری کر دی اس نے، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو یہ معنی ہے کہ حضور فرماتے ہیں فَقَدْ بَرَّ فِي يَمِينِهِ کہ وہ اپنی قسم میں سچا ہو گیا یعنی اب اس پر حانث ہونے کا کوئی امکان نہیں کیونکہ قسم منعقد ہی نہیں ہوئی۔ إِلَّا أَنَّهُ لَا بُدَّ مِنَ الِاتِّصَالِ، صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں کہ ایک بات ضروری ہے کہ یہ انشاء اللہ قسم کے الفاظ کے ساتھ ملا کر کہے۔ اگر درمیان میں یہ خاموش ہوا چند لمحوں کے لیے اور پھر اس نے انشاء اللہ کہا تو پھر اس صورت میں یہ اس کی قسم منعقد ہو چکی ہے اور پھر اس کے بعد کچھ دیر بعد یہ دوبارہ انشاء اللہ کہہ کر گویا اس قسم سے رجوع کرنا چاہتا ہے، اور ایک دفعہ جب قسم منعقد ہو جائے وہ لازم ہو جاتی ہے اس سے رجوع نہیں ہو سکتا، تو لہذا ضروری ہے کہ انشاء اللہ کا لفظ قسم کے لفظوں کے ساتھ ملا کر کہے درمیان میں خاموشی نہ ہو، اگر تھوڑی سی بھی خاموشی درمیان میں آ گئی تو پھر اب وہ قسم منعقد ہو گئی بھئی۔ تو کہتے ہیں: إِلَّا أَنَّهُ لَا بُدَّ مِنَ الِاتِّصَالِ لِأَنَّهُ بَعْدَ الْفَرَاغِ رُجُوعٌ، مگر یہ کہ انشاء اللہ کا اتصال قسم کے ساتھ ضروری ہے اس لیے کیونکہ قسم سے فارغ ہونے کے بعد یہ تو رجوع ہے، فارغ ہونے کے بعد اور خاموش ہونے کے بعد پھر انشاء اللہ کہتا ہے تو یہ تو رجوع ہے، تو کہتے ہیں: لِأَنَّهُ بَعْدَ الْفَرَاغِ رُجُوعٌ وَلَا رُجُوعَ فِي الْيَمِينِ اس لیے کیونکہ قسم سے فارغ ہونے کے بعد تو یہ رجوع ہے اور قسم کے اندر تو رجوع نہیں ہو سکتا۔ بَابُ الْيَمِينِ فِي الدُّخُولِ وَالسُّكْنَى، یہ باب ہے داخل ہونے اور رہائش کی قسم کے بیان میں، کہ کوئی شخص کسی جگہ داخل ہونے یا رہنے کی قسم کھاتا ہے یا نہ رہنے کی قسم کھاتا ہے تو اس کا کیا حکم ہے۔ وَمَنْ حَلَفَ لَا يَدْخُلُ بَيْتًا فَدَخَلَ الْكَعْبَةَ أَوِ الْمَسْجِدَ أَوِ الْبِيعَةَ أَوِ الْكَنِيسَةَ لَمْ يَحْنَثْ۔ یاد رکھو بَيْتٌ، بَيْتٌ عربی زبان میں کمرے کو کہتے ہیں لیکن یہ بَاتَ يَبِيتُ بَيْتًا سے ہے یعنی ایسی جگہ جہاں رات گزاری جائے، تو بَيْتٌ اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں رات گزاری جائے۔ تو کہتے ہیں: وَمَنْ حَلَفَ لَا يَدْخُلُ بَيْتًا فَدَخَلَ الْكَعْبَةَ أَوِ الْمَسْجِدَ أَوِ الْبِيعَةَ أَوِ الْكَنِيسَةَ لَمْ يَحْنَثْ، اور جس شخص نے قسم اٹھائی کہ وہ کسی بیت میں داخل نہیں ہو گا پھر یہ شخص کعبہ میں یعنی بیت اللہ میں داخل ہوا یا مسجد میں داخل ہوا أَوِ الْبِيعَةَ، بیعہ کہتے ہیں عیسائیوں کی عبادت گاہ کو، اور کنیسہ یہ کہتے ہیں یہودیوں کی عبادت گاہ کو، جبکہ بعض علماء نے اس کا برعکس بھی لکھا ہے کہ کنیسہ جو ہے وہ عیسائیوں کی عبادت گاہ ہے اور بیعہ جو ہے یہودیوں کی عبادت گاہ ہے، تو بہرحال یہ یہودیوں اور عیسائیوں کی عبادت گاہوں کے نام ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں پھر وہ شخص داخل ہو گیا بیت اللہ میں یا مسجد میں یا عیسائیوں کی عبادت گاہ میں یا یہودیوں کی عبادت گاہ میں لم یحنث تو یہ حانث نہیں ہو گا۔ بھئی کیوں؟ ان میں سب میں بھی تو کمرہ تو بنا ہوا ہے، بیت اللہ بھی کمرے کی صورت میں ہے، مسجد میں بھی ہال ہو گا وہ بھی کمرے کی صورت ہے، تو جواب میں نے ذکر کر دیا کہ عربی میں بیت بَاتَ يَبِيتُ بَيْتًا سے ہے اور یہ اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں رات گزاری جائے، اور خانہ کعبہ یا مسجد یا یہودیوں اور عیسائیوں کی عبادت گاہ یہ جگہیں عبادت کے لیے ہوتی ہیں یہ رات گزارنے کے لیے نہیں ہیں لہذا یہ بیت نہیں ہیں، جب بیت نہیں ہیں تو ان میں داخل ہونے سے وہ حانث بھی نہیں ہو گا۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّ الْبَيْتَ مَا أُعِدَّ لِلْبَيْتُوتَةِ اس لیے کیونکہ بیت وہ ہے جس کو تیار کیا گیا ہو رات گزارنے کے لیے، وَهَذِهِ الْبِقَاعُ مَا بُنِيَتْ لَهَا، بِقَاعٌ یہ جمع ہے بُقْعَةٌ کی اور بقعہ کہتے ہیں زمین کے ٹکڑے اور حصے کو اور بقاع اس کی جمع ہے۔ تو کہتے ہیں: وَهَذِهِ الْبِقَاعُ مَا بُنِيَتْ لَهَا اور یہ والے زمین کے ٹکڑے جو ہیں وہ رات گزارنے کے لیے نہیں بنائے گئے۔ وَكَذَا إِذَا دَخَلَ دِهْلِيزًا أَوْ ظُلَّةَ بَابِ الدَّارِ لِمَا ذَكَرْنَا۔ دہلیز بھئی، دہلیز کہتے ہیں گھر کے دروازے اور گھر کے درمیان کا راستہ، گھر کے دروازے اور گھر کے درمیان کا راستہ بھئی۔ اور اسی طرح ظلہ بھئی، ظُلَّةٌ ظ سے ہے، ظلہ کہتے ہیں سائبان کو، کوئی سایہ دار چیز ہو جیسے چھتری ہے یا دروازے کے اوپر کوئی چھجا سا بنا دیا جس سے سایہ ہوتا ہے تو اس سائبان کو ظلہ کہتے ہیں۔ کہتے ہیں: وَكَذَا إِذَا دَخَلَ دِهْلِيزًا أَوْ ظُلَّةَ بَابِ الدَّارِ اور اسی طرح ہو گا یعنی حانث نہیں ہو گا جب کوئی شخص دہلیز کے اندر داخل ہو جائے یعنی گھر اور دروازے میں جو راستہ ہے اس میں داخل ہو جائے أَوْ ظُلَّةَ بَابِ الدَّارِ یا کسی گھر کے دروازے کا جو چھجا ہے اس میں داخل ہو جائے تو بھی یہی حکم ہے وہ حانث نہیں ہو گا۔ اس نے کیا قسم کھائی تھی کہ واللہ میں کسی بیت میں داخل نہیں ہوں گا، تو اگر کسی گھر کی دہلیز میں داخل ہو جائے یا دروازے کے گھر کے دروازے کے چھجے میں داخل ہو جائے تو بھی یہ حانث نہیں کیونکہ ان کو بیت نہیں کہتے یہاں رات نہیں گزاری جاتی۔ تو کہتے ہیں: وَكَذَا إِذَا دَخَلَ دِهْلِيزًا أَوْ ظُلَّةَ بَابِ الدَّارِ لِمَا ذَكَرْنَا اور اسی طرح ہے یعنی حانث نہیں ہو گا جب وہ کسی گھر کی دہلیز میں داخل ہو یا گھر کے دروازے کے چھجے میں داخل ہو اس وجہ سے جو ہم نے ذکر کر دیا کہ بیت اسے کہتے ہیں جہاں رات گزاری جائے۔ وَالظُّلَّةُ مَا تَكُونُ عَلَى السِّكَّةِ، سِكَّةٌ کہتے ہیں گلی کو، سکہ کسے کہتے ہیں؟ گلی کو، یعنی مکانوں کے درمیان جو تنگ راستہ ہوتا ہے اس کو سکہ کہتے ہیں۔ تو کہتے ہیں: وَالظُّلَّةُ مَا تَكُونُ عَلَى السِّكَّةِ اور سائبان وہ ہے جو گلی پر ہوتا ہے، سائبان وہ ہے جو گلی پر ہوتا ہے، بھئی گھر کے دروازے کے باہر کچھ سائبان بنا دیا تو یہ گلی کے اندر ہی آ گیا بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَالظُّلَّةُ مَا تَكُونُ عَلَى السِّكَّةِ اور سائبان جو ہے وہ ہوتا ہے جو گلی پر ہوتا ہے، وَقِيلَ: إِذَا كَانَتِ الدِّهْلِيزُ بِحَيْثُ لَوْ أُغْلِقَ الْبَابُ يَبْقَى دَاخِلًا وَهُوَ مُسَقَّفٌ يَحْنَثُ لِأَنَّهُ يُبَاتُ فِيهِ عَادَةً، بعض فقہاء فرماتے ہیں اگر دروازے کی جو دہلیز ہے، میں نے بتایا دہلیز کسے کہتے ہیں؟ گھر کے دروازے اور گھر کے درمیان کا راستہ۔ بھئی بعض اوقات گھر کے دروازے کے سامنے کوئی دیوار وغیرہ ہوتی ہے اندر کی طرف اور پھر اس دیوار کے پیچھے گھر ہوتا ہے، توجہ ہے؟ تو وہ تھوڑا سا راستہ بن جاتا ہے دروازے اور گھر کے درمیان تاکہ دروازہ کھلا بھی ہو تو اندر گھر نظر نہ آئے سارا بھئی، توجہ ہے؟ تو یہ جو گھر کے دروازے اور گھر کے درمیان یہ جو راستہ ہے اس کے بارے میں بعض فقہاء فرماتے ہیں اگر یہ راستہ ایسا ہے کہ دروازہ بند کریں تو یہ اندر رہتا ہے، یہ اندر رہتا ہے اور اس پر چھت بھی ڈالی گئی ہے تو اس میں داخل ہو گا تو حانث ہو جائے گا۔ بھئی بعض اوقات ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ دروازہ اس راستے کے باہر کی طرف لگایا جائے اور بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے دروازہ ذرا اندر جا کر لگایا جاتا ہے، توجہ ہے؟ تو بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ اگر یہ جو راستہ ہے دہلیز جو ہے وہ ایسی ہے کہ گھر کا دروازہ بند کریں تو یہ دہلیز گھر کے اندر آ جاتی ہے اور اس کے اوپر چھت بھی بنائی گئی ہے تو پھر یہ شخص حانث ہو جائے گا کیونکہ اس قسم کی جگہ میں رات گزاری جاتی ہے۔ بعض لوگ ایسی جگہ پر بھی لیٹ جاتے ہیں گھر کے دروازے کے پاس وہ جگہ ہے سائبان بنا ہوا ہے تو وہاں حفاظت وغیرہ کی نیت سے وہاں بھی سو جاتے ہیں۔ تو کہتے ہیں: وَقِيلَ: إِذَا كَانَتِ الدِّهْلِيزُ بِحَيْثُ لَوْ أُغْلِقَ الْبَابُ يَبْقَى دَاخِلًا وَهُوَ مُسَقَّفٌ يَحْنَثُ لِأَنَّهُ يُبَاتُ فِيهِ عَادَةً اور کہا گیا ہے کہ اگر دہلیز جو ہے اس طور پر ہے کہ اگر گھر کا دروازہ بند کیا جائے تو یہ گھر کے اندر داخل ہو کر باقی رہتی ہے اور اس حال میں کہ وہ مسقف بھی ہے یعنی اس پر چھت بھی بنائی گئی ہے تو پھر یہ حانث ہو جائے گا کیونکہ اس قسم کی دہلیز میں عادتاً رات گزاری جاتی ہے۔ وَإِنْ دَخَلَ صُفَّةً حَنِثَ، اور اگر کوئی شخص جو ہے چھپر کے اندر داخل ہوا تو وہ حانث ہو جائے گا۔ بھئی میری کتاب میں صفہ کے نیچے لکھا ہے چبوترا، چبوترا، لیکن صفہ چبوترے کو نہیں کہتے صفہ سائبان کو کہتے ہیں، سائبان بھئی چھپر کو کہتے ہیں یعنی گھاس اور تنکوں وغیرہ کی جو چھت بنائی جاتی ہے تو یہ کیا کہلاتا ہے؟ یہ جگہ صفہ کہلاتی ہے۔ تو کہتے ہیں: وَإِنْ دَخَلَ صُفَّةً حَنِثَ اور اگر یہ آدمی چھپر میں داخل ہوا تو وہ حانث ہو جائے گا کیونکہ چھپر رات گزارنے کے لیے بنایا جاتا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّهَا تُبْنَى لِلْبَيْتُوتَةِ فِيهِ فِي بَعْضِ الْأَوْقَاتِ اس لیے کیونکہ یہ چھپر بنایا جاتا ہے کہ اس کے اندر رات گزاری جائے بعض اوقات میں، فَصَارَ كَالشَّتَوِيِّ وَالصَّيْفِيِّ تو یہ ایسے ہی ہو گیا جیسے سردیوں والا اور گرمیوں والا۔ بھئی چھپر مختلف قسم کے ہوتے ہیں: بعض چھپر ایسے ہوتے ہیں کہ چھت تو گھاس اور تنکوں وغیرہ کی ہے لیکن چاروں طرف دیواریں ہیں اور دروازہ بھی ہے تو یہ چھپر عموماً سردیوں کے لیے بنایا جاتا ہے جس میں چاروں طرف سے دیوار بھی ہوتی ہے تاکہ ہوا وغیرہ اندر نہ آئے بھئی اور دروازہ بھی ہوتا ہے، اور ایک چھپر جو ہے وہ گرمیوں کے لیے بنایا جاتا ہے اور اس کے اندر عموماً تین دیواریں ہوتی ہیں اور ایک طرف سے دیوار نہیں ہوتی تاکہ کھلی ہوا آتی رہے بھئی، اور اس کے اوپر بھی تنکوں وغیرہ کی چھت ہوتی ہے جبکہ بعض اوقات اس کے اوپر چھت بھی نہیں ہوتی کیونکہ یہ گرمیوں کے لیے بنایا گیا ہے بھئی، تو ان میں رات گزاری جاتی ہے۔ تو معلوم ہوا بعض چھپر جو ہیں وہ ہیں جن میں چاروں طرف دیواریں ہوتی ہیں اور یہ سردیوں کے لیے ہوتا ہے، اور بعض چھپر وہ ہوتے ہیں کہ جن میں تین طرف دیواریں ہوتی ہیں اور کبھی چھت ہوتی ہے اور کبھی چھت نہیں ہوتی یہ گرمیوں کے لیے بنایا جاتا ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو بہرحال ان میں رات گزاری جاتی ہے، اگر ان میں سے کسی میں بھی وہ داخل ہوا تو وہ حانث ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں: فَصَارَ كَالشَّتَوِيِّ وَالصَّيْفِيِّ تو یہ ایسے ہی ہو گیا جیسے سردیوں والا یعنی سردیوں والا چھپر اور گرمیوں والا چھپر۔ وَقِيلَ: هَذَا إِذَا كَانَتِ الصُّفَّةُ ذَاتَ حَوَائِطَ أَرْبَعَةٍ، اور کہا گیا ہے کہ یہ اس وقت ہے کہ جب چھپر جو ہے وہ چار دیواروں والا ہو، ذَاتَ حَوَائِطَ أَرْبَعَةٍ، حَوَائِطُ جمع ہے حَائِطٌ کی بھئی دیوار کو کہتے ہیں۔ تو کہتے ہیں: وَقِيلَ: هَذَا إِذَا كَانَتِ الصُّفَّةُ ذَاتَ حَوَائِطَ أَرْبَعَةٍ اور کہا گیا ہے کہ یہ اس وقت ہے جب چھپر جو ہے وہ چار دیواروں والا ہو یعنی اس وقت حانث ہو گا۔ وَهَكَذَا كَانَتْ صِفَافُهُمْ اور اسی طرح کوفہ والوں کے چھپر ہوا کرتے تھے۔ میری کتاب میں ہے صُفَّافُهُمْ بھئی، نہیں بھئی یہ درست نہیں ہے، صُفَّةٌ کی جمع صِفَافٌ آتی ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَهَكَذَا كَانَتْ صِفَافُهُمْ اور اس طرح کے چھپر ہوتے تھے کوفہ والوں کے۔ تو بعض فقہاء نے یہ ذکر کیا کہ تین دیواروں والا ہو، اس آدمی نے کیا کہا ہے کہ میں کمرے میں داخل نہیں ہوں گا، تو تین دیواروں والے چھپر میں داخل ہوا تو حانث نہیں ہو گا اور چار دیواروں والے چھپر میں داخل ہوا تو حانث ہو جائے گا۔ آگے دیکھیے: وَقِيلَ: الْجَوَابُ مَجْرِيٌّ عَلَى إِطْلَاقِهِ، اور کہا گیا ہے کہ یہ جواب جو ہے جاری ہے اپنے اطلاق پر یعنی یہ حانث ہونا جاری ہے اپنے اطلاق پر، چاہے تین دیواروں والے چھپر میں داخل ہو چاہے چار دیواروں والے چھپر میں داخل ہو یہ دونوں کس لیے بنائے جاتے ہیں؟ رات گزارنے کے لیے، لہذا حانث ہو جائے گا۔ تو یہ معنی ہے: وَقِيلَ: الْجَوَابُ مَجْرِيٌّ عَلَى إِطْلَاقِهِ اور کہا گیا ہے کہ کتاب کا جو جواب ہے وہ جاری ہے اپنے اطلاق پر، کتاب متن میں کیا آیا تھا: وَإِنْ دَخَلَ صُفَّةً حَنِثَ اگر یہ چھپر میں داخل ہوا تو حانث ہو جائے گا، تو یہ جو جواب ہے یہ جاری ہے اپنے اطلاق پر، وَهُوَ الصَّحِيحُ اور یہی صحیح ہے، صاحبِ ہدایہ اس کو صحیح فرما رہے ہیں بھئی، معلوم ہوا دوسرا قول غیر صحیح ہے بھئی۔ آگے دیکھیے: وَمَنْ حَلَفَ لَا يَدْخُلُ دَارًا فَدَخَلَ دَارًا خَرِبَةً لَمْ يَحْنَثْ۔ بھئی دار کا لفظ آیا، دَارٌ کا معنی ہے گھر بھئی، دار کا معنی ہے گھر، لیکن عربی زبان میں ایک جگہ جب گھر بنا دیا گیا تو اب اس کو دار کہیں گے چاہے یہ آباد گھر ہے چاہے بعد میں یہ اجڑ گیا اور اس کی دیواریں وغیرہ گر گئیں یہ کھنڈر بن گیا پھر بھی اس کو دار کہتے ہیں، حتیٰ کہ یہاں تک کہ اگر اس کی دیواروں کے نشان بھی مٹ گئے بالکل کھلا میدان رہ گیا پھر بھی اس کو دار کہتے ہیں، پھر بھی اس کو دار کہتے ہیں۔ تو صورت یہ ہے: ایک شخص نے قسم اٹھائی کہ واللہ وہ دار میں داخل نہیں ہو گا، کوئی معین دار ذکر نہیں کیا مطلقاً نکرہ ذکر کیا کہ واللہ وہ کسی دار میں داخل نہیں ہو گا، پھر اس کے بعد وہ ایک کھنڈر گھر کے اندر داخل ہوا جس کی عمارت وغیرہ گر چکی ہے تو کہتے ہیں حانث نہیں ہو گا۔ اس نے کیا کہا تھا کہ واللہ میں کسی گھر میں داخل نہیں ہوں گا پھر وہ کھنڈر گھر کے اندر داخل ہو گیا تو بھی حانث نہیں ہو گا۔ اس پر اشکال ہوتا ہے کہ آپ نے ابھی ہمیں بتایا کہ گھر کھنڈر بھی بن جائے پھر بھی اس کو دار کہتے ہیں، تو جواب یہ کہ بھئی یہاں اس نے دار کا لفظ نکرہ ذکر کیا ہے اور نکرہ کے اندر صفت کا اعتبار کیا جائے گا تو اس دار کے لفظ کو عام لوگوں میں دیکھا جائے گا کہ وہ زیادہ تر کس کے لیے استعمال کرتے ہیں: دار کا لفظ آباد گھر کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے، دار کا لفظ کھنڈر اور سیدھے صاف میدان کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے جہاں پہلے دار تھا، لیکن عام استعمال اور زیادہ استعمال اس کا آباد گھر کے بارے میں ہے، زیادہ استعمال عام لوگ اس کو کس لیے استعمال کرتے ہیں زیادہ تر؟ آباد گھر کے لیے، لہذا یہاں پر آباد گھر ہی مراد لیا جائے گا غیر آباد اور کھنڈر مراد نہیں ہو گا۔ آگے اور مثالیں بھی آئیں گی وہاں بتائیں گے وہاں وہاں کھنڈر کا بھی اعتبار، کھنڈر میں جائے گا تب بھی حانث ہو جائے گا، اور اگر وہ دیواروں کے نشانات بالکل مٹ چکے ہیں پھر بھی وہاں جائے گا تو حانث ہو جائے گا، وہ صورتیں بھی ذکر فرمائیں گے، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: وَمَنْ حَلَفَ لَا يَدْخُلُ دَارًا فَدَخَلَ دَارًا خَرِبَةً لَمْ يَحْنَثْ اور جس شخص نے قسم اٹھا لی کہ وہ کسی دار میں داخل نہیں ہو گا فَدَخَلَ دَارًا خَرِبَةً، خَرِبَةٌ کہتے ہیں کھنڈر کو، وہ گھر جس کی دیواریں وغیرہ اور عمارت گر چکی ہے، تو کہتے ہیں: فَدَخَلَ دَارًا خَرِبَةً لَمْ يَحْنَثْ تو یہ کھنڈر گھر کے اندر داخل ہوا تو یہ حانث نہیں ہو گا، کیوں نہیں حانث ہو گا؟ عرف کی وجہ سے، کیونکہ عرف میں دار کا لفظ عموماً کس پر بولا جاتا ہے؟ آباد گھر پر۔ وَلَوْ حَلَفَ لَا يَدْخُلُ هَذِهِ الدَّارَ اور اگر کسی شخص نے اشارہ کر دیا کسی گھر کی طرف کہ واللہ میں اس گھر میں داخل نہیں ہوں گا، تو اب چاہے وہ آباد گھر ہے اس میں داخل ہو جائے پھر بھی حانث ہو جائے گا اور اگر یہ گھر بعد میں غیر آباد ہو گیا، کھنڈر بن گئے، دیواریں گری ہوئی ہیں تب داخل ہو گا پھر بھی حانث ہو جائے گا، اور اگر دیواریں بالکل ختم ہو گئیں صرف کھلا میدان رہ گیا اس میں جائے گا تو پھر بھی حانث ہو جائے گا، کیونکہ اس نے اشارے کے ذریعے اس دار کو متعین کر دیا تھا اور دیواریں گرنے کے بعد بھی اور کھلا میدان بننے کے بعد بھی یہ وہی دار ہے۔ تو کہتے ہیں: وَلَوْ حَلَفَ لَا يَدْخُلُ هَذِهِ الدَّارَ فَدَخَلَهَا بَعْدَمَا انْهَدَمَتْ وَصَارَتْ صَحْرَاءَ حَنِثَ، اور اگر کسی شخص نے قسم اٹھا لی کہ وہ اس گھر میں داخل نہیں ہو گا تو یہ اس گھر میں داخل ہوا بعد اس کے کہ جب وہ گھر گر چکا تھا اور وہ صحرا بن گیا تھا یعنی کھلا میدان بن گیا تھا تو پھر بھی حانث ہو جائے گا، لِأَنَّ الدَّارَ اسْمٌ لِلْعَرْصَةِ، عَرْصَةٌ کہتے ہیں کھلے میدان کو بھئی، تو کہتے ہیں: لِأَنَّ الدَّارَ اسْمٌ لِلْعَرْصَةِ عِنْدَ الْعَرَبِ وَالْعَجَمِ اس لیے کیونکہ دار جو ہے وہ کھلے میدان کا نام ہے عربوں کے نزدیک بھی اور عجم یعنی غیر عرب کے نزدیک بھی، يُقَالُ: دَارٌ عَامِرَةٌ وَدَارٌ غَامِرَةٌ، عامر کا معنی ہے آباد اور غین کے ساتھ ہو: غامر، تو اس کا معنی ہے غیر آباد۔ تو کہتے ہیں: يُقَالُ دَارٌ عَامِرَةٌ آباد گھر وَدَارٌ غَامِرَةٌ غیر آباد گھر، معلوم ہوا غیر آباد کو بھی کیا کہتے ہیں؟ گھر ہی کہتے ہیں بھئی۔ وَقَدْ شَهِدَتْ أَشْعَارُ الْعَرَبِ بِذَلِكَ اور تحقیق گواہی دیتے ہیں عربوں کے اشعار اس بات کی، عربوں کے اشعار سے بھی پتہ چلتا ہے کہ گھر گر جائے پھر بھی اس جگہ کو دار ہی کہا جاتا ہے۔ فَالْبِنَاءُ وَصْفٌ فِيهَا تو لہذا عمارت جو ہے وہ اس کے اندر وصف ہے۔ دار جو ہے کھلے میدان کو کہتے ہیں اور جو عمارت ہوتی ہے وہ اس کا ایک وصف ہے اور وصف کا یہاں اعتبار نہیں ہے جب اس نے اشارہ کر کے گھر کو متعین کر دیا۔ تو کہتے ہیں: فَالْبِنَاءُ وَصْفٌ فِيهَا غَيْرَ أَنَّ الْوَصْفَ فِي الْحَاضِرِ لَغْوٌ، تو عمارت جو ہے وہ اس کے اندر وصف ہے علاوہ اس کے کہ حاضر چیز کے اندر وصف لغو ہوتا ہے، حاضر چیز یعنی جس کی طرف اشارہ کر کے متعین کر دیا اس میں وصف کا اعتبار نہیں کیا جائے گا بلکہ اس چیز کی ذات مراد ہے، معلوم ہوا جب اس نے اشارہ کر کے کہا میں اس گھر میں نہیں جاؤں گا تو اس گھر کی ذات مراد ہے یہاں عمارت وغیرہ کے وصف کو نہیں دیکھا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: غَيْرَ أَنَّ الْوَصْفَ فِي الْحَاضِرِ لَغْوٌ وَفِي الْغَائِبِ مُعْتَبَرٌ مگر یہ کہ وصف جو ہے حاضر کے اندر یعنی متعین کے اندر لغو ہوتا ہے اس کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا اور غائب کے اندر وصف معتبر ہوتا ہے، لہذا اس نے دَارًا نکرہ کہا تھا تو وہاں پر وہ کوئی متعین گھر اس نے ذکر نہیں کیا تھا، وہاں وصف معتبر ہے تو کسی آباد گھر میں داخل ہو گا تو پھر حانث ہو گا ویسے حانث نہیں ہو گا۔ آگے دیکھیے: وَلَوْ حَلَفَ لَا يَدْخُلُ هَذِهِ الدَّارَ فَخَرِبَتْ ثُمَّ بُنِيَتْ أُخْرَى فَدَخَلَهَا حَنِثَ، اور اگر ایک شخص نے قسم اٹھائی کہ وہ اس گھر میں داخل نہیں ہو گا اشارے سے متعین کر دیا پھر وہ گھر کھنڈر بن گیا یعنی گر گیا پھر دوسرا گھر بنا لیا گیا تو یہ اس کے اندر داخل ہوا تو اس صورت میں بھی حانث ہو جائے گا کیونکہ جگہ تو وہی ہے بھئی۔ لِمَا ذَكَرْنَا أَنَّ الِاسْمَ بَاقٍ بَعْدَ الِانْهِدَامِ اس وجہ سے جو ہم نے ذکر کر دیا کہ دار کا اسم اس کے گرنے کے بعد بھی باقی ہے۔ وَإِنْ جُعِلَتْ مَسْجِدًا أَوْ حَمَّامًا أَوْ بُسْتَانًا أَوْ بَيْتًا فَدَخَلَهُ لَمْ يَحْنَثْ، ہاں اگر وہ گھر گر گیا اور پھر اس کی جگہ مسجد بنا دی گئی یا حمام یعنی غسل خانہ بنا دیا گیا یا بستان یعنی باغ بنا دیا گیا یا بیت یعنی کمرہ بنا دیا گیا پھر یہ اس کے اندر داخل ہوا کہتے ہیں اب حانث نہیں، بھئی کیوں نہیں حانث؟ اس نے تو اشارہ کر کے کہا تھا کہ واللہ میں اس گھر میں داخل نہیں ہوں گا، تو کہتے ہیں بھئی جب یہاں مسجد بن گئی تو اب نام ہی بدل گیا اب یہ دار نہ رہا مسجد بن گئی، یا یہ حمام بن گیا یا یہ بستان یعنی باغ بن گیا تو نام ہی بدل چکا ہے، اگر یہ چیز نئی چیزیں نہ بنتیں تو پھر اس نے حانث ہونا تھا لیکن اب وہ دار والا اسم باقی نہ رہا بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَإِنْ جُعِلَتْ مَسْجِدًا أَوْ حَمَّامًا أَوْ بُسْتَانًا أَوْ بَيْتًا فَدَخَلَهُ لَمْ يَحْنَثْ لِأَنَّهُ لَمْ يَبْقَ دَارًا لِاعْتِرَاضِ اسْمٍ آخَرَ عَلَيْهِ، اور اگر اس گھر کو پھر مسجد یا غسل خانہ یا باغ یا کمرہ بنا دیا گیا پھر یہ اس کے اندر داخل ہوا تو یہ حانث نہیں ہو گا اس لیے کیونکہ اب یہ دار ہو کر باقی نہیں ہے اس لیے کیونکہ اس پر ایک اور نام پیش آ گیا ہے اس کا ایک نیا نام بن گیا ہے۔ وَكَذَا إِذَا دَخَلَهُ بَعْدَ انْهِدَامِ الْحَمَّامِ وَأَشْبَاهِهِ لِأَنَّهُ لَا يَعُودُ اسْمُ الدَّارِيَّةِ، بھئی اگر اگر اس کے بعد اگر یہ حمام یا باغ یا کمرہ وغیرہ گر گئے، پہلے گھر تھا پھر حمام وغیرہ بنا لیے پھر یہ حمام وغیرہ گر گئے اب اس جگہ کے اندر یہ گیا تو یہ کیا حانث ہو گا؟ کہتے ہیں نہیں، اس جگہ کا نام بدل چکا تھا تو حمام وغیرہ کے گرنے سے وہ پچھلا دار والا نام دوبارہ واپس نہیں آ سکتا بھئی، تو یہ معنی ہے: وَكَذَا إِذَا دَخَلَهُ بَعْدَ انْهِدَامِ الْحَمَّامِ وَأَشْبَاهِهِ لِأَنَّهُ لَا يَعُودُ اسْمُ الدَّارِيَّةِ اور اسی طرح جب یہ اس میں داخل ہوا بعد اس کے کہ جب وہ حمام اور اس کے مشابہ چیزیں جو ہیں وہ گر چکی تھیں اس لیے کیونکہ دار ہونے کا اسم نہیں لوٹے گا۔ اِسْمُ الدَّارِيَّةِ، یا مشدد اور گول تا ساتھ ملا دی گئی اب مصدری ترجمہ کریں گے: داریت کا کیا معنی؟ دار ہونا۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّهُ لَا يَعُودُ اسْمُ الدَّارِيَّةِ اس لیے کیونکہ دار ہونے کا اسم پھر نہیں لوٹے گا، جب ایک دفعہ وہ نام چلا گیا ہے اب وہ دوبارہ نام خود بخود واپس نہیں آئے گا۔ وَإِنْ حَلَفَ: لَا يَدْخُلُ هَذَا الْبَيْتَ فَدَخَلَهُ بَعْدَمَا انْهَدَمَ وَصَارَ صَحْرَاءَ لَمْ يَحْنَثْ، اور اگر کسی شخص نے قسم اٹھائی کہ وہ اس کمرے میں داخل نہیں ہو گا پھر یہ اس کے اندر داخل ہوا بعد اس کے کہ وہ کمرہ گر گیا تھا اور وہ کھلا میدان بن گیا تھا تو یہ حانث نہیں ہو گا کیونکہ اس نے کیا کہا تھا؟ میں اس بیت میں داخل نہیں ہوں گا، اور جب یہ گر گیا یا کھلا میدان بن گیا اب تو یہ بیت نہ رہا کیونکہ بیت کسے کہتے ہیں؟ جہاں رات گزاری جائے اب یہ رات گزارنے کی جگہ نہ رہی۔ تو یہ معنی ہے: لَمْ يَحْنَثْ لِزَوَالِ اسْمِ الْبَيْتِ لِأَنَّهُ لَا يُبَاتُ فِيهِ یہ حانث نہیں ہو گا بوجہ بیت کے اسم کے زائل ہو جانے کے اس لیے کیونکہ اس کے اندر اب رات نہیں گزاری جاتی، حَتَّى لَوْ بَقِيَتِ الْحِيطَانُ وَسَقَطَ السَّقْفُ يَحْنَثُ، ہاں ایک آدمی نے کہا واللہ میں اس کمرے کے اندر داخل نہیں ہوں گا اس بیت کے اندر، اور بعد میں پھر اس کی چھت گر گئی، دیواریں باقی ہیں لیکن چھت گر گئی تو کہتے ہیں اس صورت میں اگر داخل ہو گا تو حانث ہو جائے گا، کیونکہ اگرچہ چھت گر گئی ہے لیکن بیت کے لیے چھت کا ہونا ضروری نہیں ہے، بیت تو بس اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں رات گزاری جائے، جب دیواریں موجود ہیں تو یہ بھی رات گزارنے کی جگہ ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: حَتَّى لَوْ بَقِيَتِ الْحِيطَانُ وَسَقَطَ السَّقْفُ يَحْنَثُ لِأَنَّهُ يُبَاتُ فِيهِ وَالسَّقْفُ وَصْفٌ فِيهِ، یہاں تک کہ اگر دیواریں باقی ہیں اور چھت گر گئی ہے تو یہ شخص حانث ہو گا اس میں داخل ہونے سے اس لیے کیونکہ اس کے اندر رات گزاری جاتی ہے اور چھت جو ہے وہ اس کے اندر وصف ہے، اور جب ایک چیز اشارے سے متعین ہو تو وہاں وصف کا اعتبار نہیں ہوتا۔ وَكَذَا إِذَا بَنَى بَيْتًا آخَرَ فَدَخَلَهُ لَمْ يَحْنَثْ، صورت یہ: ایک آدمی نے کہا یہ جو کمرہ ہے واللہ میں اس میں داخل نہیں ہوں گا، پھر یہ کمرہ گر گیا پھر اس کی جگہ ایک نیا کمرہ بنا دیا گیا اب یہ اس کے اندر داخل ہوا تو کیا حانث ہو گا؟ کہتے ہیں نہیں حانث نہیں ہو گا کیونکہ یہ وہ کمرہ نہیں ہے جس کی طرف اس نے اشارہ کیا تھا یہ تو نیا کمرہ بنا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَكَذَا إِذَا بَنَى بَيْتًا آخَرَ فَدَخَلَهُ لَمْ يَحْنَثْ لِأَنَّ الِاسْمَ لَمْ يَبْقَ بَعْدَ الِانْهِدَامِ اور اسی طرح ہے حکم جب ایک اور کمرہ بنا لیا اس جگہ پر تو پھر وہ اس میں داخل ہوا تو یہ حانث نہیں ہو گا اس لیے کیونکہ بیت کا اسم باقی نہ رہا اس کے گرنے کے بعد، جب وہ گر گیا تھا تو بیت کا اسم ختم ہو گیا اب یہ نیا بیت بنا ہے بھئی۔ آگے دیکھیے: قَالَ: وَمَنْ حَلَفَ لَا يَدْخُلُ هَذِهِ الدَّارَ فَوَقَفَ عَلَى سَطْحِهَا حَنِثَ۔ بھئی صورت یہ: ایک آدمی نے قسم اٹھائی کہ واللہ میں اس گھر کے اندر داخل نہیں ہوں گا پھر وہ باہر باہر سے اس گھر کی چھت پر چڑھ گیا تو کیا حانث ہو گا یا نہیں؟ کہتے ہیں حانث ہو جائے گا، حانث ہو جائے گا۔ کہتے ہیں: قَالَ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: وَمَنْ حَلَفَ لَا يَدْخُلُ هَذِهِ الدَّارَ فَوَقَفَ عَلَى سَطْحِهَا حَنِثَ لِأَنَّ السَّطْحَ مِنَ الدَّارِ، جس شخص نے قسم اٹھا لی کہ وہ اس گھر میں داخل نہیں ہو گا تو یہ پھر کھڑا ہوا اس گھر کی چھت پر تو یہ حانث ہو جائے گا اس لیے کیونکہ چھت جو ہے وہ بھی گھر میں سے ہے، أَلَا تَرَى أَنَّ الْمُعْتَكِفَ لَا يَفْسُدُ اعْتِكَافُهُ بِالْخُرُوجِ إِلَى سَطْحِ الْمَسْجِدِ، بھئی دیکھیے جیسے مسجد ہے تو معتکف اگر مسجد کی چھت پر بھی چڑھ جائے تو اس کا اعتکاف فاسد نہیں ہوتا، معلوم ہوا چھت بھی مسجد کے حکم میں ہے، تو اسی طرح یہاں پر بھی جو چھت ہے وہ گھر کے حکم میں ہے۔ تو کہتے ہیں: أَلَا تَرَى کیا آپ دیکھتے نہیں أَنَّ الْمُعْتَكِفَ لَا يَفْسُدُ اعْتِكَافُهُ بِالْخُرُوجِ إِلَى سَطْحِ الْمَسْجِدِ کہ معتکف جو ہے اس کا اعتکاف فاسد نہیں ہوتا مسجد کی چھت کی طرف نکلنے سے، وَقِيلَ: فِي عُرْفِنَا لَا يَحْنَثُ اور کہا گیا ہے ہمارے عرف میں حانث نہیں ہو گا، بعض فقہاء فرماتے ہیں ہمارے عرف میں حانث نہیں ہو گا کیونکہ چھت کو گھر میں سے شمار نہیں کیا جاتا، یہ بعض فقہاء فرماتے ہیں۔ تو کہتے ہیں: وَقِيلَ فِي عُرْفِنَا لَا يَحْنَثُ اور کہا گیا ہے کہ ہمارے عرف میں وہ حانث نہیں ہو گا۔ قَالَ: وَإِذَا دَخَلَ دِهْلِيزَهَا يَحْنَثُ، صاحبِ قدوری فرماتے ہیں اور اگر یہ شخص اس گھر کی دہلیز میں داخل ہوا تو حانث ہو جائے گا۔ میں نے بتایا دہلیز وہ جو دروازے اور گھر کے درمیان کی جگہ ہے، تو کہتے ہیں: وَإِذَا دَخَلَ دِهْلِيزَهَا يَحْنَثُ اور وہ شخص جب اس گھر کی دہلیز میں داخل ہو گا تو حانث ہو جائے گا۔ آگے صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں: وَيَجِبُ أَنْ يَكُونَ عَلَى التَّفْصِيلِ الَّذِي تَقَدَّمَ، اور واجب ہے کہ یہ بھی اسی تفصیل پر ہو جو گزر گئی، پیچھے ہم نے بتایا تھا کہ اگر وہ دہلیز ایسی ہے کہ دروازہ بند کریں تو گھر کے اندر ا جاتی ہے تو پھر تو حانث ہونا چاہیے، اور اگر دروازہ بند کریں تو وہ دہلیز دروازے سے باہر رہتی ہے تو پھر اس صورت میں حانث نہیں ہونی چاہیے، یہ معنی ہے: وَيَجِبُ أَنْ يَكُونَ عَلَى التَّفْصِيلِ الَّذِي تَقَدَّمَ اور واجب ہے کہ یہ اسی تفصیل پر ہونا چاہیے جو ماقبل میں گزر گئی۔ وَإِنْ وَقَفَ فِي طَاقِ الْبَابِ، اور اگر یہ شخص دروازے کی محراب میں کھڑا ہوا، طَاقٌ کہتے ہیں محراب کو، طَاقٌ کہتے ہیں محراب کو۔ بھئی دیکھیے گھر کا دروازہ بنایا جاتا ہے تو بعض اوقات دروازہ تھوڑا سا اندر کی طرف کر دیا اور دروازے کے اوپر چھجا وغیرہ بنا دیا، بات سمجھ میں آ گئی؟ باہر کی جانب تھوڑا سا محراب نما شکل کے اندر، محراب نما شکل یعنی سائبان جیسی صورت بن گئی البتہ محراب کی طرح ہے، تو کیا اس محراب کے اندر کوئی کھڑا ہو گا تو حانث ہو جائے گا؟ تو کہتے ہیں یہاں پر بھی وہی تفصیل ہے: اگر وہ محراب ایسی ہے کہ دروازہ بند کریں تو وہ باہر ہی رہتی ہے تو پھر تو حانث نہیں، لیکن اگر دروازہ بند کریں تو وہ محراب اندر گھر کے اندر ہو جاتی ہے تو اس صورت میں حانث ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں: وَإِنْ وَقَفَ فِي طَاقِ الْبَابِ بِحَيْثُ إِذَا أُغْلِقَ الْبَابُ كَانَ خَارِجًا لَمْ يَحْنَثْ، اور اگر وہ شخص دروازے کی محراب میں کھڑا ہوا اس طور پر کہ جب دروازے کو بند کیا جائے تو یہ آدمی باہر ہے تو پھر حانث نہیں ہو گا، لِأَنَّ الْبَابَ لِإِحْرَازِ الدَّارِ وَمَا فِيهَا فَلَمْ يَكُنِ الْخَارِجُ مِنَ الدَّارِ، اس لیے کیونکہ دروازہ جو ہے وہ گھر اور جو کچھ گھر کے اندر ہے اس کی حفاظت کے لیے ہوتا ہے تو اس سے خارج جو ہے وہ گھر میں داخل نہیں ہے، تو کہتے ہیں: لِأَنَّ الْبَابَ لِإِحْرَازِ الدَّارِ وَمَا فِيهَا فَلَمْ يَكُنِ الْخَارِجُ مِنَ الدَّارِ اس لیے کیونکہ باب جو ہے وہ گھر اور جو کچھ گھر کے اندر ہے اس کی حفاظت کے لیے ہوتا ہے تو وہ جو محراب سے باہر ہے وہ دار میں سے نہیں ہے۔ قَالَ: وَمَنْ حَلَفَ لَا يَدْخُلُ هَذِهِ الدَّارَ وَهُوَ فِيهَا، صاحبِ قدوری فرماتے ہیں اور جس شخص نے قسم اٹھائی کہ وہ اس گھر میں داخل نہیں ہو گا وَهُوَ فِيهَا، اچھا بھئی صورت یہ: ایک آدمی ایک گھر کے اندر بیٹھا ہوا ہے اور اندر بیٹھے بیٹھے وہ قسم اٹھاتا ہے کہ واللہ میں اس گھر کے اندر داخل نہیں ہوں گا یا واللہ میں اس گھر کے اندر کبھی نہیں آؤں گا، اور پھر وہیں بیٹھا وہیں ہوا ہے تو کیا حانث ہو گیا؟ تو کہتے ہیں نہیں حانث نہیں ہوا، بھئی اس کے الفاظ پر غور کریں اس نے کہا میں اس گھر میں کبھی داخل نہیں ہوں گا اور داخل ہونا کسے کہتے ہیں؟ باہر سے اندر آنا، باہر سے اندر آنے کو داخل ہونا کہتے ہیں تو یہ تو پہلے سے اندر بیٹھا ہوا ہے تو یہ حانث نہیں ہوا، ہاں اب اگر یہ باہر نکل گیا اور باہر نکل کر پھر دوبارہ اس گھر میں داخل ہوا تو اب حانث ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں: قَالَ: وَمَنْ حَلَفَ لَا يَدْخُلُ هَذِهِ الدَّارَ وَهُوَ فِيهَا فَلَمْ يَخْرُجْ حَتَّى قَعَدَ لَمْ يَحْنَثْ حَتَّى يَخْرُجَ ثُمَّ يَدْخُلَ، صاحبِ قدوری فرماتے ہیں کہ جس شخص نے قسم اٹھائی کہ وہ اس گھر میں داخل نہیں ہو گا اس حال میں کہ وہ اس گھر میں موجود تھا، فَلَمْ يَخْرُجْ حَتَّى قَعَدَ اور وہ اس گھر سے نکلا نہیں یہاں تک کہ وہ وہیں بیٹھا رہا تو یہ حانث نہیں ہو گا یہاں تک کہ یہ باہر نکلے اور پھر داخل ہو۔ چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔ کہ باہر سے اندر آئے اور ابھی تک یہ باہر سے اندر نہیں آیا بھئی، قسم کھانے کے بعد یہ باہر سے اندر نہیں آیا، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: وَمَنْ حَلَفَ لَا يَدْخُلُ هَذِهِ الدَّارَ وَهُوَ فِيهَا لَمْ يَحْنَثْ بِالْقُعُودِ، اور جس شخص نے قسم اٹھا لی کہ وہ اس گھر میں داخل نہیں ہو گا اور حال یہ ہے کہ یہ اسی گھر کے اندر ہے تو یہ وہاں بیٹھنے سے حانث نہیں ہو گا، چاہے سارا دن وہاں بیٹھا رہے، کئی دن تک وہیں بیٹھا رہے اس گھر کے اندر پھر بھی حانث نہیں، حانث تب ہو گا جب باہر ایک دفعہ نکلے اور پھر اندر داخل ہو جائے۔ تو کہتے ہیں: لَمْ يَحْنَثْ بِالْقُعُودِ حَتَّى يَخْرُجَ ثُمَّ يَدْخُلَ اسْتِحْسَانًا، تو یہ بیٹھنے سے حانث نہیں ہو گا یہاں تک کہ یہ باہر نکلے پھر داخل ہو، اور یہ حکم استحساناً ہے، وَالْقِيَاسُ أَنْ يَحْنَثَ اور قیاس تو یہ ہے کہ یہ حانث ہو جائے، بے شک وہاں بیٹھا ہوا ہے لیکن قیاس تقاضا کرتا ہے یہ حانث ہو جائے لِأَنَّ الدَّوَامَ لَهُ حُكْمُ الِابْتِدَاءِ اس لیے کیونکہ افعال کے اندر جو دوام ہوتا ہے اس کا حکم ابتداء والا ہوتا ہے۔ افعال کے اندر دوام ہو، مثلاً ایک آدمی نے سارا دن ایک قسم کے کپڑے پہنے ہوئے ہیں تو یہ کپڑے پہننے میں دیکھو دوام ہے، کپڑے پہننے میں دوام ہے، اور یاد رکھو دوام کا حکم بھی ابتداء والا ہے، دوام کا حکم بھی ابتداء والا ہے۔ مثلاً ایک آدمی نے کپڑے پہنے ہوئے ہیں اور کہتا ہے واللہ میں یہ کپڑے نہیں پہنوں گا، واللہ یہ کپڑے میں نہیں پہنوں گا، تو اگر اس نے فوراً وہ کپڑے اتارنا شروع کر دیے پھر تو حانث نہیں، لیکن اگر تھوڑی دیر بھی یہ رکا رہا تو حانث ہو جائے گا۔ کیوں؟ کیونکہ دوام بھی ابتداء کے حکم میں ہے یعنی اس نے پھر ابتداء سے گویا کپڑے پہن لیے ہیں، توجہ ہے؟ تو افعال کے اندر جو دوام ہوتا ہے وہ بھی کس کے حکم میں ہے؟ ابتداء کے حکم میں ہے، تو کہتے ہیں: لِأَنَّ الدَّوَامَ لَهُ حُكْمُ الِابْتِدَاءِ اس لیے کیونکہ افعال کا دوام جو ہے اس کا ابتداء والا حکم ہے۔ ایک آدمی نے کیا قسم کھائی کہ واللہ یہ کپڑے میں نہیں پہنوں گا اور حال یہ ہے کہ اس نے کپڑے پہنے ہوئے ہیں، تو اگر فوراً اتارنا شروع کرتا ہے پھر حانث نہیں، لیکن اگر تھوڑی دیر بھی ٹھہرا رہا تو دوام آ گیا اور دوام کس کے حکم میں ہے؟ ابتداء، گویا اس نے کپڑے پہن لیے، جب پہن لیے تو حانث ہو گیا تو اس کو کفارہ دینا پڑے گا۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّ الدَّوَامَ لَهُ حُكْمُ الِابْتِدَاءِ اس لیے کیونکہ افعال کا دوام جو ہے اس کا ابتداء والا حکم ہے، تو یہ قیاس تقاضا کرتا ہے کہ اس کو حانث ہونا چاہیے۔ اس آدمی نے کیا کہا ہے کہ واللہ میں اس گھر میں داخل نہیں ہوں گا اور حال یہ ہے کہ یہ اندر ہی بیٹھا ہوا ہے، تو دوام آیا اور دوام کا حکم ابتداء والا ہے گویا یہ نیا داخل ہوا ہے، تو قیاس تقاضا کرتا ہے کہ اس کو حانث ہونا چاہیے، لیکن استحساناً یہ حانث نہیں ہو گا۔ وَوَجْهُ الِاسْتِحْسَانِ: أَنَّ الدُّخُولَ لَا دَوَامَ لَهُ، اور استحسان کی وجہ یہ ہے کہ دخول جو ہے اس میں دوام نہیں ہے، لِأَنَّهُ انْفِصَالٌ مِنَ الْخَارِجِ إِلَى الدَّاخِلِ، انفصال کا معنی ہے جدا ہونا، لِأَنَّهُ انْفِصَالٌ مِنَ الْخَارِجِ اس لیے کیونکہ یہ خارج سے جدا ہونا ہے إِلَى الدَّاخِلِ داخل کی طرف۔ دخول کسے کہتے ہیں؟ ایک آدمی گھر سے باہر ہے اور پھر وہ اندر آ جائے، پہلے کیا تھا؟ خارج، اب اس سے یہ جدا ہوا اور کہاں آ گیا؟ داخل، خارج سے جدا ہو کر اندر آنا اس کو کہتے ہیں داخل بھئی، توجہ ہے؟ اور دخول فعل جو ہے اس میں امتداد نہیں، قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ اس کو حانث ہونا چاہیے، کیوں حانث ہونا چاہیے؟ کیونکہ دوامِ فعل کا حکم ابتدائے فعل والا ہے گویا نئے سرے سے وہ کام کر رہا ہے، لیکن استحساناً یہ حانث نہیں ہو گا، وجہ یہ کہ دخول ایسا فعل ہے جس میں امتداد نہیں، دخول ایسا فعل ہے جس میں امتداد نہیں، دخول ایک لمحے میں ہو گا، آپ باہر سے اندر آ گئے تو دخول پایا گیا، ایسا نہیں ہو سکتا کہ سارا دن دخول والا فعل پایا جاتا رہے، آپ نے کپڑے پہنے ہیں، یہ کپڑے پہننے کا فعل تو سارا دن اس میں امتداد ہو سکتا ہے، اس میں دوام ہو سکتا ہے کہ آپ سارا دن وہ کپڑے پہنے رہیں، یا آپ سواری کرتے ہیں اس سواری کے اندر تو دوام ہو سکتا ہے، امتداد ہو سکتا ہے آپ سارا دن سواری کی حالت میں رہیں، تو بعض افعال وہ ہیں جن میں امتداد ہوتا ہے جن میں لمبائی ہوتی ہے، لیکن دخول جو ہے اس کے اندر تو لمبائی اور امتداد نہیں، تو وہ جو آپ نے ضابطہ ذکر کیا کہ افعال کے دوام کا وہی حکم ہے جو ابتداء والا ہے وہ ان افعال میں ہے جن میں امتداد ہو سکے، اور دخول کے اندر تو امتداد اور طول نہیں ہو سکتا یہ لمبا نہیں ہو سکتا بھئی، یہ تو ایک لمحے میں ہو جائے گا، تو لہذا دخول کا وہ حکم نہیں ہو گا جو افعالِ ممتدہ کا حکم ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔ پھر دیکھ لیجیے: وَوَجْهُ الِاسْتِحْسَانِ أَنَّ الدُّخُولَ لَا دَوَامَ لَهُ استحسان کی وجہ یہ ہے کہ دخول جو ہے اس میں دوام نہیں ہے لِأَنَّهُ انْفِصَالٌ مِنَ الْخَارِجِ إِلَى الدَّاخِلِ اس لیے کیونکہ یہ خارج سے جدا ہونا ہے داخل کی طرف اور اس میں امتداد نہیں ہے۔ وَلَوْ حَلَفَ لَا يَلْبَسُ هَذَا الثَّوْبَ، اب وہ مثالیں ذکر کریں گے جن میں امتداد ہے۔ اب ایک آدمی کہتا ہے، اس نے کپڑے پہنے ہوئے ہیں اور کہتا ہے واللہ یہ کپڑے میں نہیں پہنوں گا، تو اگر تھوڑی دیر ٹھہرا رہا تو دوام آ گیا اور دوام کا حکم ابتداء والا ہے گویا اس نے پھر کپڑے پہنے ہیں تو لہذا حانث ہو جائے گا، اور اگر اس نے فوراً ہی کپڑے اتارنا شروع کر دیے تو پھر اس صورت میں حانث نہیں ہو گا۔ اسی طرح ایک آدمی کہتا ہے کہ واللہ میں اس گھر کے اندر نہیں رہوں گا اور پھر ساتھ ہی اس نے اپنا سامان اٹھانا شروع کر دیا گھر سے نکلنے کے لیے، ہے ابھی بھی اندر ہی لیکن سامان اٹھا رہا ہے، تیار کر رہا ہے، باہر نکال رہا ہے، تو پھر اس صورت میں یہ حانث نہیں ہے، لیکن اگر یہ تھوڑی دیر بھی ٹھہرا رہا تو حانث ہو جائے گا کیونکہ گھر کے اندر رہنا اس میں امتداد ہے۔ تو اس میں اگر دوام آئے گا یعنی تھوڑی دیر بھی ایسے ہی بیٹھا رہے گا تو حانث ہو جائے گا کیونکہ دوام کے لیے ابتداء والا حکم ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَلَوْ حَلَفَ لَا يَلْبَسُ هَذَا الثَّوْبَ وَهُوَ لَابِسُهُ فَنَزَعَهُ فِي الْحَالِ لَمْ يَحْنَثْ، اور اگر کسی شخص نے قسم اٹھائی کہ واللہ وہ یہ کپڑے نہیں پہنے گا اور حال یہ ہے کہ اس نے وہ کپڑے پہنے ہوئے ہیں فَنَزَعَهُ فِي الْحَالِ تو اس نے فی الحال ہی ان کو اتار دیا لَمْ يَحْنَثْ تو حانث نہیں ہو گا۔ اگرچہ کچھ لمحے پھر بھی گزر گئے، اس نے کہا واللہ میں یہ کپڑے نہیں پہنوں گا اور پھر ساتھ ہی اتارنا شروع کیے لیکن کچھ لمحے تو گزر گئے، لیکن پھر بھی یہ حانث نہیں۔ تو اس کی وجہ آگے صاحبِ ہدایہ ذکر فرمائیں گے، تو کہتے ہیں: فَنَزَعَهُ فِي الْحَالِ لَمْ يَحْنَثْ تو اس نے فی الحال ہی ان کپڑوں کو اتار دیا تو یہ حانث نہیں ہو گا۔ وَكَذَا إِذَا حَلَفَ لَا يَرْكَبُ هَذِهِ الدَّابَّةَ وَهُوَ رَاكِبُهَا فَنَزَلَ مِنْ سَاعَتِهِ لَمْ يَحْنَثْ، اور اسی طرح جب ایک آدمی نے قسم اٹھائی کہ واللہ وہ اس سواری پر سوار نہیں ہو گا اور حال یہ ہے کہ یہ اس پر سوار ہے فَنَزَلَ مِنْ سَاعَتِهِ تو وہ اسی گھڑی کے اندر اتر آیا تو حانث نہیں ہو گا، اگرچہ قسم کھانے کے بعد پھر بھی کچھ لمحے تو لگے اترنے میں لیکن پھر بھی یہ حانث نہیں ہو گا۔ وَكَذَا لَوْ حَلَفَ لَا يَسْكُنُ هَذِهِ الدَّارَ وَهُوَ سَاكِنُهَا فَأَخَذَ فِي النُّقْلَةِ مِنْ سَاعَتِهِ، اور اسی طرح اگر کسی شخص نے قسم اٹھائی کہ وہ اس گھر کے اندر رہائش نہیں رکھے گا اور حال یہ ہے کہ اسی گھر کے اندر اس کی رہائش ہے، نقلہ کہتے ہیں منتقل کرنا، ایک جگہ سے دوسری جگہ، فَأَخَذَ فِي النُّقْلَةِ مِنْ سَاعَتِهِ تو وہ اسی گھڑی کے اندر اس نے منتقل کرنا شروع کر دیا، اخذ کا معنی شروع کرنا، فَأَخَذَ فِي النُّقْلَةِ تو وہ نقل کرنے میں شروع ہو گیا مِنْ سَاعَتِهِ اسی گھڑی میں، تو اس صورت میں بھی یہ حانث نہیں ہو گا، ہاں اگر کچھ دیر ٹھہرا رہا تو حانث ہو جائے گا۔ وَقَالَ زُفَرُ رَحِمَهُ اللَّهُ: يَحْنَثُ، اور امام زفر فرماتے ہیں کہ حانث ہو جائے گا ان تمام صورتوں میں، کپڑے پہنے ہوئے ہیں اور کہتا ہے واللہ میں یہ کپڑے نہیں پہنوں گا اور پھر اس نے فوراً اتارنا شروع کیے، لیکن امام زفر فرماتے ہیں جتنی بھی جلدی کرے کچھ لمحے تو کپڑے جسم پر رہے لہذا یہ حانث ہو گیا۔ ایک آدمی ایک سواری پر سوار ہے اور کہتا ہے واللہ میں اس سواری پر سوار نہیں ہوں گا اور پھر فوراً ہی اترنا شروع کر دیا، امام زفر فرماتے ہیں یہ پھر بھی حانث ہو گیا کیونکہ کچھ لمحے تو اوپر ہی رہا بھئی، اور اسی طرح ایک آدمی نے کہا واللہ میں اس گھر میں رہائش نہیں رکھوں گا اور پھر فوراً سامان اٹھانا شروع کر دیا لیکن ہے تو پھر بھی کچھ لمحے اسی گھر کے اندر تو امام زفر فرماتے ہیں یہ حانث ہو گیا۔ تو کہتے ہیں: وَقَالَ زُفَرُ رَحِمَهُ اللَّهُ يَحْنَثُ لِوُجُودِ الشَّرْطِ وَإِنْ قَلَّ، امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ شخص حانث ہو جائے گا یعنی ان تمام صورتوں میں شرط پائے جانے کی وجہ سے وَإِنْ قَلَّ اگرچہ قلیل ہی ہے، شرط پائی گئی اگرچہ قلیل ہے تھوڑی دیر کے لیے ہی ہے، وَلَنَا: أَنَّ الْيَمِينَ تُعْقَدُ لِلْبِرِّ، اور ہماری دلیل یہ ہے کہ قسم جو ہے اس کا عقد کیا جاتا ہے اس کو پورا کرنے کے لیے، قسم کھانے کا مقصد اس کو پورا کرنا ہوتا ہے اس کو توڑنا مقصد نہیں ہوتا، لہذا جب کوئی قسم کھائے تو معلوم ہوا اس کا مقصد ہے قسم کو پورا کرنا، تو کم از کم اتنی گنجائش ہو کہ وہ اس کو پورا کر سکے۔ لہذا یہ جب قسم کھاتے ہی اس نے کپڑے اتارنا شروع کر دیے تو اتنا زمانہ مستثنیٰ ہو گا قسم سے تاکہ یہ قسم پوری کر سکے، یہ جو کپڑے اتارنے کا زمانہ ہے یہ اس قسم سے مستثنیٰ ہو گا ورنہ تو قسم کے پورے ہونے کی صورت ہی نہیں رہے گی بھئی، اور قسم تو پورا کرنے کے لیے کھائی جاتی ہے، تو اتنا زمانہ جس کے اندر وہ قسم کو پورا کر سکے وہ مستثنیٰ ہو گا۔ لہذا ان تمام صورتوں میں وہ شخص حانث نہیں ہو گا اگر اس نے اسی وقت کپڑے اتارنا شروع کر دیے یا اسی وقت اس نے سواری سے اترنا شروع کر دیا یا اسی وقت اس نے گھر سے سامان کو منتقل کرنا شروع کر دیا۔ تو کہتے ہیں: وَلَنَا أَنَّ الْيَمِينَ تُعْقَدُ لِلْبِرِّ فَيُسْتَثْنَى مِنْهُ زَمَانُ تَحَقُّقِهِ، اور ہماری دلیل یہ ہے کہ قسم جو ہے وہ پورا کرنے کے لیے کھائی جاتی ہے تو اس قسم سے مستثنیٰ ہو گا اس کے پائے جانے کا زمانہ، فَإِنْ لَبِثَ عَلَى حَالِهِ سَاعَةً حَنِثَ، تو یہ شخص اگر ٹھہرا رہا اپنی حالت پر کچھ دیر تو حانث ہو جائے گا، لِأَنَّ هَذِهِ الْأَفَاعِيلَ لَهَا دَوَامٌ اس لیے کیونکہ یہ جو افعال ہیں ان کے لیے دوام ہے یعنی یہ افعالِ ممتدہ ہیں، کپڑے پہننا یہ بھی اس میں امتداد ہو سکتا ہے کہ سارا دن کپڑے پہنے رہے، اور اسی طرح سواری کرنا اس میں بھی امتداد ہے کہ سارا دن سواری کی حالت میں رہے، اور گھر کے اندر رہنا اس کے اندر بھی امتداد ہے۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّ هَذِهِ الْأَفَاعِيلَ لَهَا دَوَامٌ بِحُدُوثِ أَمْثَالِهَا اس لیے کیونکہ ان افعال کے اندر دوام ہے ان کے مثلوں کے پیش آنے سے، بھئی یاد رکھو ادھر دیکھیے، یہ گہری بات کی صاحبِ ہدایہ نے، ہمارے علماء فرماتے ہیں کہ یہ جو کسی چیز کی صفت ہوتی ہے اس صفت کے اندر تجدد ہوتا رہتا ہے ہر لمحے کے اندر۔ مثلاً ایک چیز کا سفید رنگ ہے تو یہ سفید رنگ یہ اس کی صفت ہے یہ اس کی ذات نہیں ہے بلکہ یہ اس کی صفت ہے، اور صفات کے اندر تجدد ہوتا ہے ہر ہر لمحے نئی صفت آ رہی ہے۔ مثلاً ان کپڑوں کا رنگ سفید ہے تو اس لمحے کے اندر جو سفید رنگ ہے وہ ختم ہوا اگلے لمحے میں نیا سفید ہے رنگ، پھر اس سے اگلے لمحے میں نیا سفید رنگ ہے، پھر وہ رنگ بھی ختم ہوا پھر اس سے اگلے لمحے میں نیا سفید رنگ ہے، پھر وہ رنگ بھی ختم ہوا پھر اگلے لمحے میں نیا سفید رنگ ہے، تو اس طرح صفات کے اندر تجدد ہوتا ہے یعنی ہر ہر لمحے میں نئی نئی صفت آتی جا رہی ہے، ہر ہر لمحے میں نئی نئی صفت آتی جا رہی ہے۔ تو لہذا یہ جو کپڑے پہنے ہوئے ہے تو یہ کپڑے پہنے ہوئے ہونا یہ بھی ایک صفت ہے، اس کے اندر بھی تجدد ہو رہا ہے، اس صفت میں بھی تجدد ہو رہا ہے یعنی ہر ہر لمحے میں گویا وہ پھر کپڑے پہن رہا ہے پھر وہی کپڑے پہن رہا ہے پھر وہی کپڑے پہن رہا ہے، یا ہر ہر لمحے میں وہ پھر سواری کر رہا ہے پھر وہ ختم پھر وہ نئی سواری کر رہا ہے پھر وہ بھی ختم پھر وہ نئی سواری کر رہا ہے اور پھر وہ بھی ختم، تو ہر ہر لمحے میں وہاں تجدد ہو رہا ہے اور اسی جیسی صفت کا، اسی جیسے فعل کا تجدد ہو رہا ہے یعنی بار بار نیا آ رہا ہے، اس کو کہتے ہیں تجددِ امثال، اسی جیسے کا تجدد ہو رہا ہے۔ تو یہ جو افعال جن میں دوام ہوتا ہے یہ دوام کس طریقے پر ہوتا ہے؟ تجددِ امثال کے طریقے پر، تجددِ امثال کے طریقے پر کہ انہی کا مثل بار بار آتا جا رہا ہے، اور جن افعال کے اندر دوام نہیں وہاں تجددِ امثال بھی نہیں جیسے داخل ہونا، جیسے مالک ہونا کسی چیز کا، مالک بنیں گے آپ تو ایک لمحے میں مالک بن جائیں گے، ایسا نہیں ہو سکتا کہ صبح سے شام تک آپ آہستہ آہستہ آہستہ آہستہ مالک بنتے چلے جا رہے ہیں، تو لہذا یہ جو افعال ہیں ان کے اندر دوام ہے، تجددِ امثال ہے، بار بار یہی فعل نیا آ رہا ہے، لہذا اگر کچھ لمحے بھی ٹھہرے گا تو تجددِ امثال پایا گیا، گویا دوبارہ وہ پہننے والا فعل ہو گیا تو یہ حانث ہو جائے گا، لہذا فوراً کپڑے اتارنا شروع کرے گا تو پھر یہ حانث نہیں ہو گا، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّ هَذِهِ الْأَفَاعِيلَ لَهَا دَوَامٌ بِحُدُوثِ أَمْثَالِهَا اس لیے کیونکہ یہ والے جو افعال ہیں ان میں دوام ہوتا ہے ان جیسی صفات کے بار بار پیش آنے سے۔ أَلَا يُرَى أَنَّهُ يُضْرَبُ لَهَا مُدَّةٌ کیا یہ بات معلوم نہیں ہے کہ ان کے لیے مدت بیان کی جاتی ہے، يُقَالُ: رَكِبْتُ يَوْمًا، کہا جاتا ہے میں سارا دن سوار رہا، وَلَبِسْتُ يَوْمًا میں سارا دن کپڑے پہنے رہا، یعنی سارا دن میں یہ کپڑے پہننے کی حالت میں رہا، بِخِلَافِ الدُّخُولِ بخلاف دخول کے کہ اس میں دوام نہیں ہے لِأَنَّهُ لَا يُقَالُ دَخَلْتُ يَوْمًا بِمَعْنَى الْمُدَّةِ وَالتَّوْقِيتِ اس لیے کیونکہ عربی زبان میں دَخَلْتُ يَوْمًا مدت اور توقیت کے معنی میں نہیں کہتے۔ بھئی دیکھو میں نے بتایا کچھ افعال میں دوام ہے جبکہ دخول میں اور خروج میں دوام نہیں ہے، تو ان کے ساتھ بھی ظرف ذکر ہوتا ہے، مثلاً ایک آدمی کہتا ہے: رَكِبْتُ يَوْمًا، تو اس کا معنی یہ ہے کہ میں سارا دن سواری کرتا رہا، اور لَبِسْتُ يَوْمًا میں سارا دن وہ کپڑے پہنے رہا، لیکن دَخَلْتُ يَوْمًا کا معنی یہ نہیں ہے کہ سارا دن میں یہ دخول والا داخل ہونے والا فعل سرانجام دیتا رہا، بلکہ دخول کے ساتھ جب ظرف ذکر کیا جائے مثلاً دَخَلْتُ يَوْمًا تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس دن کے ایک جز میں میں داخل ہوا تھا، یہ جو یوم کا لفظ دخلت کے ساتھ ذکر ہوا یہ اس دخول کے فعل کی مدت نہیں بیان کر رہا کہ سارا دن میں دخول والا فعل کرتا رہا بلکہ یہ یہ بتلا رہا ہے کہ اس دن کے ایک جز کے اندر دخول واقع ہوا تھا۔ تو داخل ہونے کے ساتھ بھی یوم کا لفظ ذکر کرتے ہیں اور سوار ہونے اور کپڑے پہننے کے ساتھ بھی دن کا لفظ ذکر کرتے ہیں، لیکن سوار ہونا اور کپڑے پہننا اس میں دوام ہوتا ہے تو وہاں یوم کا لفظ دوام بیان کرتا ہے یعنی اس چیز کی مدت بیان کرتا ہے، اس کی توقیت کرتا ہے، وقت کی تحدید کرتا ہے کہ سارا دن میں سوار رہا یا سارا دن میں وہ کپڑے پہنے رہا، جبکہ دخول کے ساتھ جب یوم کا لفظ ذکر کیا جائے تو یہ یوم کا لفظ اس دخول کی مدت نہیں بیان کر رہا کہ سارا دن میں دخول والا فعل کرتا رہا بلکہ معنی یہ ہے کہ اس دن کے ایک جز میں میں نے دخول کیا کیونکہ دخول کے اندر امتداد نہیں ہے، دخول کا فعل تو ایک لمحے میں واقع ہو جاتا ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو لہذا دخول کے ساتھ یوم کا لفظ آئے تو وہ مدت بیان نہیں کرتا کیونکہ داخل ہونے کے فعل میں امتداد ہے ہی نہیں بھئی۔ لَبِسْتُ يَوْمًا کا کیا معنی؟ کہ میں سارا دن کپڑے پہنے رہا، دیکھو وہاں مدت کے طور پر وقت کو یوم کو ذکر کیا جا رہا ہے۔ رَكِبْتُ يَوْمًا میں سارا دن سواری کرتا رہا یعنی سواری کی حالت میں رہا، تو وہاں تو یوم کا لفظ جو ذکر کیا جا رہا ہے وہ مدت کے لیے ہے وہ توقیت کے لیے ہے، توقیت کا کیا معنی؟ وقت مقرر کرنا، کسی چیز کے لیے وقت بیان کرنا۔ تو سواری کرنا اور اسی طرح کپڑے پہننا ان افعال میں تو امتداد ہے تو ان کے ساتھ جب وقت ذکر کیا جائے گا تو وہ وقت اس فعل کی مدت بیان کر رہا ہے لیکن دخول کے ساتھ جب یوم وغیرہ کا لفظ ذکر کیا جائے تو وہ اس کی مدت اور توقیت بیان کرنے کے لیے نہیں ہوتا بھئی کیونکہ دخول کے اندر امتداد ہے ہی نہیں بھئی۔ پھر دیکھ لیجیے، کہتے ہیں: أَلَا يُرَى أَنَّهُ يُضْرَبُ لَهَا مُدَّةٌ يُقَالُ رَكِبْتُ يَوْمًا وَلَبِسْتُ يَوْمًا بِخِلَافِ الدُّخُولِ لِأَنَّهُ لَا يُقَالُ دَخَلْتُ يَوْمًا بِمَعْنَى الْمُدَّةِ وَالتَّوْقِيتِ۔ توقیت کا معنی ہے کسی چیز کا وقت مقرر کرنا، اس کا اس کی حد بندی کرنا۔ وَلَوْ نَوَى الِابْتِدَاءَ الْخَالِصَ يُصَدَّقُ، اور اگر یہ قسم کھانے والے نے ابتدائے خالص کی نیت کی ہے تو پھر اس کی تصدیق کی جائے گی۔ بھئی صورت یہ: ایک آدمی نے کپڑے پہنے ہوئے ہیں اور کہتا ہے واللہ یہ کپڑے میں نہیں پہنوں گا اور پھر اس نے کپڑے نہیں اتارے اسی وقت، اور کہتا ہے کہ بھئی میرے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ ان کو اتارنے کے بعد میں دوبارہ نہیں پہنوں گا، تو کہتے ہیں اس صورت میں اس کی تصدیق کی جائے گی کیونکہ اس کا کلام اس معنی کا احتمال رکھتا ہے، اس نے بھی کیا کہا ہے کہ واللہ میں یہ کپڑے نہیں پہنوں گا تو اس کا یہ معنی بھی ہو سکتا ہے کہ جب ایک دفعہ اتار دوں گا تو دوبارہ نہیں پہنوں گا۔ تو کہتے ہیں: وَلَوْ نَوَى الِابْتِدَاءَ الْخَالِصَ يُصَدَّقُ لِأَنَّهُ مُحْتَمَلُ كَلَامِهِ، اور اگر اس شخص نے اس فعل کے خالص کی ابتداء کی نیت کی کہ نئے سرے سے ایسا نہیں کروں گا تو اس کی تصدیق کی جائے گی اس لیے کیونکہ یہ بھی اس کے کلام کا محتمل ہے، اس کے کلام میں اس کا احتمال ہے اور کلام میں جس چیز کا احتمال ہو اس کی نیت کرنا صحیح ہے۔ قَالَ: وَمَنْ حَلَفَ لَا يَسْكُنُ هَذِهِ الدَّارَ، قال سے مراد صاحبِ قدوری ہیں، صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: وَمَنْ حَلَفَ لَا يَسْكُنُ هَذِهِ الدَّارَ فَرَخَجَ بِنَفْسِهِ، جس شخص نے قسم اٹھائی کہ وہ اس گھر کے اندر رہائش نہیں رکھے گا فَرَخَجَ بِنَفْسِهِ، بھئی صورتِ مسئلہ یہ: ایک آدمی نے کہا کہ واللہ میں اس گھر کے اندر رہائش نہیں رکھوں گا اور پھر اس گھر سے نکل گیا حالانکہ اس کا سامان بھی وہیں پر ہے اور اس کے بیوی بچے بھی وہیں پر ہیں، تو کہتے ہیں اس صورت میں یہ حانث ہو گیا۔ کیونکہ جب تک گھر کا سامان اور بیوی بچے وہیں پر ہیں تو کہا جاتا ہے کہ یہ آدمی یہاں رہتا ہے، ہاں جب بیوی بچوں اور سامان کو منتقل کر دے گا پھر کہا جاتا ہے یہ آدمی یہاں سے منتقل ہو گیا ہے۔ تو صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: وَمَنْ حَلَفَ لَا يَسْكُنُ هَذِهِ الدَّارَ فَرَخَجَ بِنَفْسِهِ وَمَتَاعُهُ وَأَهْلُهُ فِيهَا وَلَمْ يُرِدِ الرُّجُوعَ إِلَيْهَا حَنِثَ، جس شخص نے قسم اٹھائی کہ وہ اس گھر میں رہائش نہیں رکھے گا تو وہ خود اس گھر سے نکل گیا اور حال یہ ہے کہ اس کا سامان اور اس کے گھر والے اسی گھر میں ہیں اور اس آدمی نے اس گھر میں واپس لوٹنے کا ارادہ نہیں کیا، اس کا ارادہ اب میں دوبارہ یہاں نہیں آؤں گا، تو بھی تو بھی حَنِثَ یہ شخص حانث ہو جائے گا، لِأَنَّهُ يُعَدُّ سَاكِنًا بِبَقَاءِ أَهْلِهِ وَمَتَاعِهِ فِيهَا عُرْفًا، اس لیے کیونکہ اس آدمی کو وہیں پر رہنے والا شمار کیا جائے گا اس گھر کے اندر اس کے گھر والوں کے اور سامان کے باقی رہنے سے عرف کے اعتبار سے۔ عرف کے اعتبار سے اس آدمی کو وہیں پر رہنے والا شمار کیا جائے گا اس کے گھر والوں اور اس کے سامان کے باقی رہنے کی وجہ سے۔ یہ معنی ہے: لِأَنَّهُ يُعَدُّ سَاكِنًا بِبَقَاءِ أَهْلِهِ وَمَتَاعِهِ فِيهَا عُرْفًا، فَإِنَّ السُّوقِيَّ عَامَّةَ نَهَارِهِ فِي السُّوقِ، سُوقٌ بازار کو کہتے ہیں، سُوقِيٌّ بازار والا، مراد ہے دکاندار اور تاجر بھئی۔ دکاندار اور تاجر سارا دن دکان پر رہتا ہے تو گھر سے باہر ہے لیکن پھر بھی کہتا ہے میں فلاں گلی میں رہتا ہوں کیونکہ اس گھر میں اس کا سارا سامان بھی ہے اور اس کے گھر والے بھی ہیں۔ تو کہتے ہیں: فَإِنَّ السُّوقِيَّ عَامَّةَ نَهَارِهِ فِي السُّوقِ وَيَقُولُ أَسْكُنُ سِكَّةَ كَذَا، اس لیے کیونکہ بازار والا شخص دن کا اکثر حصہ بازار میں ہوتا ہے اور وہ کہتا ہے کہ میں فلاں گلی میں رہتا ہوں۔ وَالْبَيْتُ وَالْمَحَلَّةُ بِمَنْزِلَةِ الدَّارِ، اور بیت اور محلہ جو ہیں یہ بھی دار کے درجے میں ہیں۔ بیت اور محلہ بھی دار کے درجے میں ہیں، ایک کمرہ ہے اس کے اندر ایک آدمی رہتا ہے اور اس کے بیوی بچے بھی ہیں اور یا اسی طرح ایک محلہ ہے اس کے اندر ایک آدمی رہتا ہے اور پھر وہ قسم اٹھاتا ہے واللہ میں اس بیت میں نہیں رہوں گا یا واللہ میں اس محلے میں نہیں رہوں گا اور پھر بیوی بچے بھی وہیں پر ہیں اور سامان بھی وہیں پر ہے لیکن خود وہاں سے نکل گیا اور اس کا ارادہ ہے میں واپس نہیں آؤں گا، پھر بھی یہ حانث ہو جائے گا کیونکہ اس کے بیوی بچے اور اس گھر کا سامان وہیں پر ہے بھئی۔ تو یہ معنی ہے: وَالْبَيْتُ وَالْمَحَلَّةُ بِمَنْزِلَةِ الدَّارِ اور بیت اور محلہ جو ہے وہ بھی دار کے درجے میں ہے۔ وَلَوْ كَانَ الْيَمِينُ عَلَى الْمِصْرِ، اور اگر یہ قسم شہر پر تھی، یعنی شہر کے بارے میں ایک آدمی نے قسم کھائی کہ واللہ میں اس شہر میں نہیں رہوں گا اور پھر وہ اس شہر سے چلا گیا، البتہ اس کے بیوی بچے اور گھر کا سامان وغیرہ سارا وہیں پر ہے تو کہتے ہیں اس صورت میں حانث نہیں ہو گا۔ تو کہتے ہیں: وَلَوْ كَانَ الْيَمِينُ عَلَى الْمِصْرِ لَا يَتَوَقَّفُ الْبِرُّ عَلَى نَقْلِ الْمَتَاعِ وَالْأَهْلِ فِيمَا رُوِيَ عَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ، اور اگر یہ قسم شہر پر ہوئی تو موقوف نہیں ہے قسم کا پورا کرنا اس سامان اور گھر والوں کے منتقل کرنے پر اس روایت میں جس کو روایت کیا گیا ہے امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے، لِأَنَّهُ لَا يُعَدُّ سَاكِنًا فِي الَّذِي انْتَقَلَ عَنْهُ عُرْفًا اس لیے کیونکہ آدمی جس شہر سے منتقل ہو جائے تو وہاں اس کو رہنے والا شمار نہیں کیا جاتا عرف کے اندر بھئی، لِأَنَّهُ لَا يُعَدُّ سَاكِنًا فِي الَّذِي انْتَقَلَ عَنْهُ عُرْفًا بِخِلَافِ الْأَوَّلِ، بخلاف پہلی صورت کے یعنی گھر، بیت اور محلے کا یہ حکم نہیں ہے۔ وَالْقَرْيَةُ بِمَنْزِلَةِ الْمِصْرِ فِي الصَّحِيحِ مِنَ الْجَوَابِ، اور گاؤں جو ہے وہ بھی شہر کے درجے میں ہی ہے صحیح جواب کے مطابق، گاؤں کا بھی وہی حکم ہے جو شہر والا ہے۔ ثُمَّ قَالَ أَبُو حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ: لَا بُدَّ مِنْ نَقْلِ كُلِّ الْمَتَاعِ، اچھا بھئی ایک شخص نے کہا کہ واللہ میں اس گھر میں نہیں رہوں گا، پھر وہاں سے اس نے سامان منتقل کرنا شروع کر دیا، تو کتنا سامان نقل کر لے کہ پھر ہم حکم لگا دیں کہ یہ یہاں سے منتقل ہو گیا ہے؟ تو امام صاحب فرماتے ہیں کہ اس کو اپنا سارا سامان منتقل کرنا پڑے گا، حَتَّى لَوْ بَقِيَ وَتَدٌ يَحْنَثُ، وَتَدٌ اور وِتْدٌ یہ میخ کو کہتے ہیں، کیل بھئی جو دیوار میں لگائی جائے بھئی۔ حَتَّى لَوْ بَقِيَ وَتَدٌ يَحْنَثُ یہاں تک کہ اگر ایک میخ بھی باقی رہ گئی تو یہ حانث ہو جائے گا، لِأَنَّ السُّكْنَى قَدْ ثَبَتَتْ بِالْكُلِّ اس لیے کیونکہ رہائش اس سارے سامان کے ذریعے ثابت تھی، فَيَبْقَى مَا بَقِيَ شَيْءٌ مِنْهُ تو جب تک ان میں سے کوئی بھی چیز باقی ہے تو رہائش باقی ہے۔ وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ: يُعْتَبَرُ نَقْلُ الْأَكْثَرِ، اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اکثر سامان کا نقل کرنا معتبر ہے، لِلْأَكْثَرِ حُكْمُ الْكُلِّ تو لہذا جب یہ گھر کا اکثر یعنی زیادہ تر سامان منتقل کر دے گا تو ہم کہیں گے کہ اس نے اپنی قسم پوری کر دی ہے یہ حانث نہیں ہے بھئی، لِأَنَّ نَقْلَ الْكُلِّ قَدْ يَتَعَذَّرُ اس لیے کیونکہ سارے سامان کو منتقل کرنا وہ متعذر ہوتا ہے ممکن نہیں ہوتا یا مشکل ہوتا ہے۔ وَقَالَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللَّهُ: يُعْتَبَرُ نَقْلُ مَا يَقُومُ بِهِ كَدْخُدَائِيَّتُهُ، کَدْخُدَائِیَّہ بھئی، یاد رکھو یہ فارسی لفظ ہے یہ کَدْخُدَا سے ہے، کَدْخُدَا فارسی لغات کے اندر کدخدا کا معنی لکھا ہے شادی شدہ آدمی، شادی شدہ آدمی اس کو کدخدا کہتے ہیں۔ تو کدخدائیہ یعنی شادی شدہ آدمی کی طرف جو چیز منسوب ہے، مراد اس کے گھر کا سامان ہے۔ شادی شدہ آدمی یقیناً اس کے بیوی بچے ہوں گے اس کے گھر کا الگ سامان ہو گا بھئی، تو کدخدائیہ سے مراد اس کے گھر کا سامان مراد ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَقَالَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللَّهُ يُعْتَبَرُ نَقْلُ مَا يَقُومُ بِهِ كَدْخُدَائِيَّتُهُ، اور امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ معتبر ہے نقل کرنا اس چیز کا کہ جس کے ساتھ گھر کا کدخدائیہ قائم ہے یعنی جس کے ساتھ امورِ خانہ داری جو ہیں گھر کے جو کام ہیں وہ قائم ہوتے ہیں جو گھر میں جو ضروری چیزیں ہوتی ہیں، لِأَنَّ مَا وَرَاءَ ذَلِكَ لَيْسَ مِنَ السُّكْنَى اس لیے کیونکہ اس کے علاوہ جو ہیں وہ چیزیں تو رہائش میں سے نہیں ہیں وہ تو زائد چیزیں ہیں۔ قَالُوا: هَذَا أَحْسَنُ وَأَرْفَقُ بِالنَّاسِ، فقہاء فرماتے ہیں یہ قول زیادہ اچھا ہے اور لوگوں کے لیے اس میں زیادہ نرمی ہے، وَيَنْبَغِي أَنْ يَنْتَقِلَ إِلَى مَنْزِلٍ آخَرَ بِلَا تَأْخِيرٍ حَتَّى يَبَرَّ، اور مناسب یہ ہے کہ یہ شخص دوسرے گھر منتقل ہو جائے بغیر تاخیر کیے تاکہ قسم پوری کر لے، فَإِنِ انْتَقَلَ إِلَى السِّكَّةِ أَوْ إِلَى الْمَسْجِدِ قَالُوا لَا يَبَرُّ، بھئی صورت یہ کہ اس آدمی نے گھر سے سامان منتقل کیا اور گلی میں رکھ دیا یا مسجد میں رکھ دیا تو کیا قسم پوری ہو گئی؟ وہ منتقل ہو گیا؟ کہتے ہیں نہیں یہ منتقل ہونا نہیں ہے، اس لیے کیونکہ جب تک نئی جگہ پر منتقل نہیں ہو گا لوگ یہ نہیں کہیں گے کہ یہ یہاں سے منتقل ہوا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: فَإِنِ انْتَقَلَ إِلَى السِّكَّةِ أَوْ إِلَى الْمَسْجِدِ قَالُوا لَا يَبَرُّ، اور اگر یہ شخص منتقل ہو گیا گلی کی طرف یا مسجد کی طرف تو فقہاء فرماتے ہیں کہ یہ قسم پوری کرنے والا نہیں ہے۔ دَلِيلُهُ فِي الزِّيَادَاتِ أَنَّ مَنْ خَرَجَ بِعِيَالِهِ مِنْ مِصْرِهِ فَمَا لَمْ يَتَّخِذْ وَطَنًا آخَرَ يَبْقَى وَطَنُهُ الْأَوَّلُ فِي حَقِّ الصَّلَاةِ، اس کی دلیل زیادات میں وہ یہ ہے کہ جو شخص اپنے اہلِ و عیال کے ساتھ اپنے شہر سے نکل گیا تو جب تک یہ کوئی دوسرا وطن نہیں بنا لیتا تو پہلا وطن ہی اس نماز کے حق میں رہے گا، جب تک اس نے دوسری جگہ کو اس نے اپنا وطن نہیں بنا لیا تو تب تک اس شہر کے اندر نماز کا وہی حکم ہو گا جو وطن میں ہوتا ہے یعنی پوری نماز پڑھنا پڑے گی قصر نہیں کر سکتا۔ ہاں جب دوسری جگہ کو وطن بنا لے گا اب ہم کہیں گے یہ یہاں سے منتقل ہو گیا ہے اب وہ اس کا وطن بن گیا اور یہ شہر اب اس کا وطن نہ رہا تو یہاں اگر آئے گا تو پھر اب مسافر ہو گا اور قصر نماز کرے گا یعنی چار رکعت کے بجائے دو رکعت ادا کرے گا۔ تو کہتے ہیں: فَمَا لَمْ يَتَّخِذْ وَطَنًا آخَرَ يَبْقَى وَطَنُهُ الْأَوَّلُ فِي حَقِّ الصَّلَاةِ كَذَا هَذَا، تو جب تک یہ دوسرا وطن نہیں بنا لیتا تو اس کا پہلا وطن ہی نماز کے حق میں باقی رہے گا، اسی طرح یہ بھی ہے یعنی یہاں بھی جب تک دوسرے گھر کو اپنا مسکن نہیں بنا لیتا تب تک اس کو منتقل ہونے والا نہیں کہیں گے۔ بات سمجھ میں آ گئی، حل ہو گیا؟ چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
160 approved lectures · 101 of 160