آگے سبق دیکھیے بھئی:
”وَمَنِ اسْتَوْلَدَ أَمَةَ غَيْرِهِ بِنِكَاحٍ ثُمَّ مَلَكَهَا صَارَتْ أُمَّ وَلَدٍ لَهُ، وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالَى: لَا تَصِيرُ أُمَّ وَلَدٍ لَهُ، وَلَوِ اسْتَوْلَدَهَا بِمِلْكِ يَمِينٍ ثُمَّ اسْتُحِقَّتْ ثُمَّ مَلَكَهَا تَصِيرُ أُمَّ وَلَدٍ لَهُ عِنْدَنَا، وَلَهُ فِيهِ قَوْلَانِ، وَهُوَ وَلَدُ الْمَغْرُورِ“۔
بھئی گزشتہ سبق میں ہم نے باب الاستیلاد شروع کیا تھا۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ استیلاد جو ہے اس کا مادہ واؤ، لام، دال ہے۔ تو استیلاد اصل میں تھا ”اِسْتِوْلَاد“ یاء کی جگہ واؤ تھا اور پھر اس واؤ کو یاء سے بدل دیا گیا ماقبل کسرہ کی وجہ سے، تو استیلاد ہوا اور استیلاد یہ باب استفعال ہے اور باب استفعال میں سین طلب کے لیے آتا ہے، تو استیلاد کا معنی ہے اولاد کو طلب کرنا اور اولاد بیوی سے بھی طلب کی جاتی ہے اور اپنی مملوکہ باندی سے بھی، لیکن یہ لفظ خاص طور پر باندی کے لیے ہی استعمال ہوتا ہے بھئی۔
اور آپ نے پڑھا تھا کہ جب کسی شخص کی کوئی باندی بچے کو جنم دے اور آقا اقرار کر لے کہ یہ میرا بچہ ہے تو اس بچے کا نسب ثابت ہو جائے گا اور نیز یہ باندی اب اس آدمی کی ام ولد بن گئی اور اس آدمی کے انتقال کے بعد، اس آقا کے انتقال کے بعد اس نے آزاد ہونا ہے بھئی۔
اور اس باندی کو بیچنا بھی جائز نہیں ہے اور کسی اور کو اس کا مالک بنانا بھی جائز نہیں ہے بھئی اور دلیل ذکر کی تھی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”أَعْتَقَهَا وَلَدُهَا“۔ حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی باندی تھیں، ان سے حضور علیہ السلام کے بیٹے حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ پیدا ہوئے اور پھر ڈیڑھ سال کی عمر میں وفات پا گئے، تو حضور علیہ السلام سے کسی نے کہا: کیا آپ ان کو آزاد نہیں کریں گے؟ تو حضور علیہ السلام نے جواب میں فرمایا: ”أَعْتَقَهَا وَلَدُهَا“ کہ ان کے بچے نے ان کو آزاد کر دیا ہے۔
تو عند الاحناف اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ ان کے بچے نے ان کو آزادی کا مستحق بنا دیا ہے، وجہ یہ کہ دیگر احادیث کے اندر ذکر آتا ہے کہ ام ولد جو ہے آقا کے مرنے کے بعد آزاد ہوتی ہے۔ تو ہم نے دونوں حدیثوں میں تطبیق دی، دونوں میں مطابقت پیدا کی کہ ام ولد جو ہے وہ آقا کے مرنے کے بعد آزاد ہوگی اور نیز اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ ام ولد آزادی کی مستحق ہو گئی ہے اور اس میں آزاد لوگوں والے احکام آ گئے ہیں یعنی اب اس کو بیچنا بھی جائز نہیں اور کسی دوسرے کو اس کا مالک بنانا بھی جائز نہیں، تو اس طرح ہم نے دونوں حدیثوں پر عمل کر لیا۔
اور نیز عقلی دلیل بھی صاحب ہدایہ نے ذکر کی تھی، وجہ یہ کہ یہاں پر آقا نے باندی سے وطی کی ہے اور وطی کی وجہ سے آقا اور باندی کے درمیان جزئیت آ گئی، تو باندی آقا کا جز بن گئی اور آزاد آدمی کے جز کی بیع اور تملیک تو جائز نہیں ہے لہٰذا اس باندی کی بھی بیع اور تملیک جائز نہیں ہے۔ اور صاحب ہدایہ نے بتلایا کہ جزئیت کس طرح آ گئی، کہ آقا اور باندی کے نطفے آپس میں مل گئے اس طور پر کہ اب وہ ایک دوسرے سے جدا نہیں ہو سکتے، تو یہ دونوں ایک دوسرے کا جز بن گئے اور اسی نطفے سے آگے حمل قرار پایا، اسی سے آگے بچہ بنا، تو وہ بچہ بھی دونوں کا جز ہے، تو بچے کے اندر دونوں کے جز اکٹھے ہو گئے، دونوں ایک دوسرے کا جز بن گئے، دونوں شخص واحد کے حکم میں ہو گئے۔ تو دونوں میں معلوم ہوا آقا اور باندی میں یہاں جزئیت آ چکی ہے بھئی۔
اس پر پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر باندی آقا کا جز بن گئی ہے تو اپنا جز تو انسان کا مملوک نہیں ہو سکتا، جیسے ہی کوئی شخص اپنے جز کا مالک بنتا ہے مثلاً اپنے بیٹے کو خرید لیا تو جیسے ہی مالک بنے گا ساتھ ہی وہ بیٹا آزاد ہو جائے گا، تو اپنا جز انسان کا مملوک نہیں ہو سکتا وہ اس پر آزاد ہو جاتا ہے۔ تو یہ تو تقاضا کرتا ہے کہ یہ باندی جب آقا کا جز بن گئی ہے تو اس کو بھی فوراً آزاد ہو جانا چاہیے۔ تو صاحب ہدایہ نے اس اعتراض کا جواب دیا:
کہ آپ کی بات ٹھیک ہے، باندی جو ہے آقا کا جز بن گئی ہے لیکن جب بچے کی پیدائش ہو گئی تو یہ دونوں میں جو جزئیت آئی تھی وہ بچے کے اعتبار سے آئی تھی، تو جب بچے کی پیدائش ہو گئی تو بچہ باندی سے جدا ہو گیا، ماں سے جدا ہو گیا، تو لہٰذا اب حقیقۃً آقا اور باندی ایک دوسرے کا جز نہ رہے صرف حکماً جز ہیں، یعنی جز لگانے کا حکم لگایا جائے گا، حقیقت میں اب ایک دوسرے کا جز نہیں کیونکہ جہاں پر دونوں کے جز اکٹھے ہوئے تھے یعنی بچہ، وہ تو ماں سے جدا ہو چکا ہے، اس کی پیدائش ہو چکی ہے، تو اب صرف حکماً جزئیت باقی ہے۔ جب صرف حکماً جزئیت باقی ہے تو آزادی کا سبب ضعیف ہو گیا۔ حقیقۃً جز ہوتا تو آزاد ہوتی باندی لیکن یہاں تو حکماً جزئیت ہے، لہٰذا آزادی کا سبب ضعیف ہو گیا تو آزادی تو نہیں آئی البتہ آزادی کے بعض احکام آ گئے کہ اب اس باندی کو بیچنا بھی جائز نہیں اور کسی دوسرے کو اس کا مالک بنانا بھی جائز نہیں ہے بھئی۔
پھر صاحب ہدایہ نے ایک اور اعتراض کا بھی جواب ذکر کیا۔ یہاں پر پھر ایک اور اعتراض ہوتا ہے کہ یہ باندی آقا کے مرنے کے بعد اس لیے آزاد ہوگی کیونکہ یہ باندی آقا کا جز ہے، تو پھر تو اگر، پھر تو اگر عورت اپنے خاوند کی مالک بن جائے، مثلاً ایک عورت ہے اور اس نے کسی غلام سے نکاح کیا ہوا تھا اور اس سے دونوں کی اولاد بھی ہوئی، تو دونوں کے درمیان جزئیت والا تعلق آ گیا۔ پھر اس عورت نے اپنے خاوند کو خرید لیا، تو خریدتے ہی نکاح تو ختم ہو گیا اور یہ خاوند اب اس عورت کا مملوک بن گیا، تو دونوں کی اولاد ہو چکی ہے دونوں میں جزئیت موجود ہے۔ تو یہ جزئیت تقاضا کر رہی ہے کہ جب اس مالکن کا انتقال ہو تو اس کا یہ جو مملوک جو اس کا حکماً جز ہے اس کو بھی آزاد ہونا چاہیے، لیکن کیا وجہ ہے کہ احناف یہ جو خاوند جو اپنی بیوی کا مملوک ہو چکا ہے اس کی آزادی کا حکم نہیں دیتے؟ اس کی آزادی کا حکم نہیں دیتے کہ یہ اپنی مالکن کے مرنے پر یہ آزاد نہیں ہوگا حالانکہ اس کو بھی آزاد ہونا چاہیے کیونکہ یہ بھی اپنی مالکن کا جز ہے۔ تو اس کا جواب دیا صاحب ہدایہ نے کہ یہ جزئیت جو ہے نسب کے اعتبار سے ہوتی ہے اور نسب تو صرف مردوں کی طرف سے چلتا ہے، تو اسی طرح حریت بھی جو ہے صرف مردوں کے حق میں ثابت ہوگی، عورتوں کے حق میں نہیں۔ آقا مرد ہے اور نسب کس کی طرف سے چلتا ہے؟ مردوں کی طرف سے، تو آقا پر اس کی یہ باندی آزاد ہوگی جب آقا مر جائے گا۔ لیکن عورتوں کی طرف سے تو نسب نہیں چلتا لہٰذا مالکن کے مرنے پر اس کا مملوک غلام جو اس کا جز ہے وہ اس پر آزاد نہیں ہوگا بھئی۔
اور پھر صاحب ہدایہ نے یہ بھی بتلایا کہ ام ولد کو بیچنا یا دوسرے کو مالک بنانا تو جائز نہیں لیکن آقا کے لیے اس کے ساتھ صحبت بھی جائز ہے، آقا اس سے خدمت بھی لے سکتا ہے، آقا اس سے اجرت پر کسی دوسرے کی خدمت بھی کروا سکتا ہے اور آقا کسی دوسرے سے اس باندی کا، اس ام ولد کا نکاح بھی کروا سکتا ہے۔ اور یہ بھی بتلایا صاحب ہدایہ نے کہ باندی سے جو اولاد ہوتی ہے اس کا نسب خود بخود آقا سے ثابت نہیں ہوتا بلکہ آقا کا اقرار بھی ضروری ہے بھئی۔ اس لیے کیونکہ باندی کے ساتھ جو صحبت کی جاتی ہے اس کا مقصد اولاد نہیں ہوتا بلکہ وہاں مقصد صرف قضائے شہوت ہوتی ہے، صرف شہوت کو پورا کرنا مقصد ہوتا ہے، لہٰذا باندی سے جو اولاد ہو وہ خود بخود آقا کی شمار نہیں ہوگی بھئی۔
ہاں البتہ اگر یہ باندی جو آقا کی ام ولد بن چکی ہے، اس نے ایک بچے کو جنم دیا تھا اور آقا نے اعتراف کر لیا کہ یہ میرا بچہ ہے تو یہ باندی ام ولد بن گئی، اب یہ فراش متوسط بن گئی۔ اب آگے مستقبل میں اگر یہ کسی بچے کو جنم دے گی تو وہ خود بخود آقا کا شمار ہوگا۔ البتہ آقا اس کی نفی کرنا چاہے تو نفی بھی کر سکتا ہے۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ فراش تین قسم پر ہیں: ایک فراش قوی ہے، ایک فراش متوسط ہے، ایک فراش ضعیف ہے۔ فراش قوی جو ہے وہ اپنی منکوحہ بیوی ہے، یہ فراش قوی ہے، مضبوط فراش ہے، اس بیوی سے جو بھی اولاد ہوگی وہ خود بخود خاوند کی شمار ہوگی اور اگر خاوند اس اولاد کی نفی کرنا چاہتا ہے تو باقاعدہ لعان کرنا پڑے گا ویسے اولاد کی نفی اس سے نہیں ہوگی۔ اور نیز اگر نسب کی نفی کرنا چاہتا ہے تو یہ بچے کی پیدائش کے ابتدائی دنوں میں ہی کرنا پڑے گی، اگر بعد میں نسب کی نفی کرے گا تو پھر نفی نہیں ہوگی۔ تو یہ بیوی جو ہے یہ فراش قوی ہے۔
اور فراش ضعیف عام باندی ہے۔ عام باندی سے کوئی بچہ پیدا ہو جائے تو وہ خود بخود آقا کا شمار نہیں ہوگا جب تک آقا اعتراف نہ کر لے، اقرار نہ کر لے۔ جب آقا اقرار کر لے گا تو اب اس بچے کا نسب آقا سے ثابت ہو جائے گا اور یہ باندی اس کی ام ولد بن جائے گی، اب یہ فراش متوسط بن گئی۔ لہٰذا اب اس باندی سے، یہ جو ام ولد ہے جو پہلے ہی ایک بچے کو آقا کے لیے جنم دے چکی ہے، اس سے آگے جب بھی کوئی اولاد پیدا ہوگی وہ خود بخود آقا ہی کی شمار ہوگی لیکن یہ ہے فراش متوسط لہٰذا اگر آقا بعد والے بچوں کے نسب کی نفی کرنا چاہتا ہے تو وہاں لعان کی کوئی ضرورت نہیں، صرف آقا کے نفی کرنے سے ہی بچوں کے نسب کی نفی ہو جائے گی۔ البتہ اس کے اندر بھی ضروری ہے کہ بچے کی پیدائش کے ابتدائی دنوں میں نسب کی نفی کرے، بعد میں نفی کرے گا تو نفی نہیں ہوگی بھئی۔
اور پھر صاحب ہدایہ نے یہ بھی بتلایا کہ یہ جو ہم نے بیان کیا یہ حکم ہے، اس شرعی مسئلے کا حکم بیان کیا یعنی جو قاضی فیصلہ کرے گا۔ باقی دیانۃً اس شخص پر لازم ہے اگر یہ اس باندی سے وطی کرتا تھا اور عزل نہیں کرتا تھا اور اس کی بیبیوں کی طرح حفاظت کرتا تھا تو دیانۃً اس پر لازم ہے کہ یہ اس بچے کے نسب کا اقرار کرے۔ اور اگر یہ آقا باندی سے وطی تو کرتا ہے لیکن عزل کرتا ہے اور یا اسی طرح اس کی بیبیوں کی طرح حفاظت نہیں کرتا تو پھر دیانۃً اس کے لیے اس اولاد کی نفی جائز ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
اس کے بعد صاحب ہدایہ نے مسئلہ ذکر فرمایا کہ یہ جو آقا ہے یہ اپنی اس ام ولد کا کسی دوسرے سے نکاح بھی کروا سکتا ہے اور جب آقا اس ام ولد کا کسی دوسرے سے نکاح کروا دے گا تو اب آقا پر یہ باندی حرام ہو گئی، اب یہ غیر کی منکوحہ بن گئی اور پھر اس خاوند سے اس باندی نے بچے کو جنم دیا تو یہ باندی تو اس خاوند کے لیے فراش قوی ہے، تو اس سے جو بچہ پیدا ہوا وہ خود بخود اس خاوند کا شمار ہوگا تو یہ بچہ ثابت النسب ہے۔ البتہ یہ باندی کا بچہ ہے تو یہ اسی باندی کے آقا کا مملوک ہوگا اور اس بچے کا وہی حکم ہوگا جو باندی کا ہے، یعنی جیسے آقا کے مرنے کے بعد باندی آزاد ہو جاتی ہے اسی طرح یہ بچہ بھی آقا کے مرنے کے بعد آزاد ہو جائے گا اور نیز جس طرح یہ ام ولد سارے مال میں سے آزاد ہوتی ہے اس سے سعی نہیں کروائی جاتی، اسی طرح یہ جو بچہ ہے یہ بھی آقا کے سارے مال میں سے آزاد ہو جائے گا اور اس سے سعی نہیں کروائی جا سکتی۔ اور اگر آقا نے اس بچے کے نسب کا دعویٰ کر دیا تو اس صورت میں یاد رکھو یہ بچہ آزاد ہو جائے گا، البتہ نسب ثابت نہیں ہو سکتا آقا سے کیونکہ یہ بچہ پہلے سے ہی ثابت النسب ہے اس باندی کے خاوند سے۔ اور اگر یہ عام باندی تھی، مثلاً آقا کی ام ولد نہیں تھی، آقا کی عام باندی تھی اور آقا نے اس کا نکاح کسی سے کروا دیا اور اس نکاح سے اس نے بچے کو جنم دیا تو یہ اس خاوند کا بچہ شمار ہوگا اور اب آقا نے کہہ دیا کہ یہ میرا بچہ ہے تو اس بچے کا نسب تو ثابت نہیں ہوگا کیونکہ یہ ثابت النسب ہے، البتہ یہ بچہ آزاد ہو جائے گا اور یہ باندی آقا کی ام ولد بن جائے گی بھئی۔
اور پھر صاحب ہدایہ نے یہ بھی بتلایا کہ جب آقا کا انتقال ہوتا ہے تو ام ولد سارے مال میں سے آزاد ہو جاتی ہے اور وجہ اس کی جو ہے وہ حضرت سعید ابن المسیب رحمہ اللہ کی جو حدیث ہے، وہ فرماتے ہیں کہ حضور علیہ السلام نے امہات الاولاد کی آزادی کا فیصلہ فرمایا اور یہ فیصلہ فرمایا کہ ان کو بیچا نہیں جا سکتا اور نیز کہ ان کو ثلث میں سے قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اور پھر عقلی دلیل بھی ذکر کی کہ یہ ام ولد سارے مال میں سے آزاد ہوگی اس لیے کیونکہ یہ جو ابقاء نسل ہے یہ انسان کی حاجات اصلیہ میں سے ہے، جیسے انسان اپنی ذات کو باقی رکھنے کے لیے کھانے پینے کا محتاج ہے تو معلوم ہوا یہ کھانا پینا انسان کی حاجات اصلیہ میں سے ہے یعنی یوں کہیں انسان کی بنیادی ضروریات میں سے ہے، اسی طرح اپنی نسل کو باقی رکھنا یہ بھی انسان کی بنیادی ضروریات میں سے ہے اور بنیادی ضرورت باقی ضرورتوں پر مقدم ہوتی ہے۔ اسی لیے تو جب کسی شخص کا انتقال ہوتا ہے تو کفن دفن کا انتظام وہ اس کی بنیادی ضرورت ہوتی ہے اس لیے وہ باقی تمام ضرورتوں پر مقدم ہوگا۔ چنانچہ قرضے کی ادائیگی بھی کفن دفن کے بعد ہی ہوگی اور وصیت بھی کفن دفن کے بعد ہی نافذ ہوگی اور اسی طرح وارثوں کو مال جو ملے گا وہ بھی کفن دفن کے بعد ملے گا کیونکہ کفن دفن میت کی بنیادی ضرورت ہے۔ اسی طرح یہاں اس مسئلے کے اندر یہ جو باندی ہے اس کے ذریعے آقا کو اولاد حاصل ہوئی ہے اور ابقاء نسل انسان کی حاجت اصلی ہے اس کی بنیادی ضرورت ہے اور بنیادی ضرورت باقی ضرورتوں پر مقدم ہوتی ہے، تو لہٰذا یہ دین پر بھی مقدم ہوگی اور وصیت اور وراثت پر بھی یہ ام ولد مقدم ہوگی، لہٰذا اس سے دین کے لیے بھی سعی نہیں کروائی جائے گی اور وارثوں کے لیے بھی سعی نہیں کروائی جائے گی، یہ سارے مال میں سے آزاد ہو جائے گی۔
اور پھر صاحب ہدایہ نے بتلایا کہ یہ جو ام ولد ہے یہ آقا کے قرض کے لیے سعی بھی نہیں کرے گی، قرض کے لیے سعی بھی نہیں کرے گی، ایک تو اسی حدیث کی وجہ سے وہ جو حضرت سعید ابن المسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے اور دوسرا اس وجہ سے کہ یہ جو ام ولد ہے یہ امام صاحب کے نزدیک مال متقوم نہیں ہے۔ جب یہ مال متقوم ہی نہیں ہے تو قرض خواہوں کا اس سے حق بھی متعلق نہیں ہوگا۔ اگر کوئی قیمت والی چیز ہوتی تو اس سے قرض خواہوں کا حق متعلق ہوتا کہ اس کے ذریعے قرض خواہوں کا قرض ادا کیا جائے، لیکن یہ تو مال متقوم ہی نہیں ہے۔ چنانچہ اسی لیے اگر اس ام ولد کو کوئی غصب کر لے اور غاصب کے پاس ام ولد ہلاک ہو جائے تو اس پر ضمان نہیں آتا، حالانکہ ضابطہ کیا ہے؟ غاصب کے پاس کسی کی غصب شدہ چیز ہلاک ہو جائے تو غاصب کو ضمان دینا پڑتا ہے لیکن اس ام ولد کا غاصب پر ضمان نہیں ہوتا بھئی۔ ضمان نہیں ہوتا لہٰذا اس کے ساتھ قرض خواہوں کا حق متعلق نہیں ہوگا۔ یہ اسی طرح ہے جیسے قصاص بھئی، قصاص جو ہے وہ بھی ایک حق ہے، وہ کوئی مال متقوم نہیں ہے، لہٰذا قصاص کے ساتھ بھی قرض خواہوں کا حق متعلق نہیں ہوگا، مثلاً ایک آدمی پر بہت سارے قرضے تھے اور اس نے کسی سے قصاص بھی لینا ہے، پھر یہ جو مقروض ہے اس کا انتقال ہو گیا تو اس کے جو قرض خواہ ہیں وہ قاتل کے پاس چلے گئے کہ ہمارے مقروض کا تو انتقال ہوا لیکن اس کا آپ کے ذمے حق تھا اس نے آپ سے قصاص لینا تھا تو اب اس قصاص کے بدلے میں ہمیں مال دیں، تو کہتے ہیں نہیں، قصاص جو ہے وہ تو ایک حق کا نام ہے، وہ تو کوئی مال متقوم نہیں ہے لہٰذا اس کے ساتھ قرض خواہوں کا کوئی حق متعلق نہیں ہوگا بھئی۔
اور پھر صاحب ہدایہ نے مسئلہ ذکر فرمایا کہ اگر کسی عیسائی کی ام ولد مسلمان ہو جائے تو پھر اس صورت میں یہ باندی اب اس عیسائی کے تحت نہیں رہ سکتی، تو یہ مکاتبہ کے درجے میں ہو جائے گی، یہ جا کر سعی کرے گی اور پیسے کما کر لا کر دے گی اور جب اپنی ساری قیمت ادا کر دے تو یہ آزاد ہو جائے گی۔ تو امام صاحب کے نزدیک تو یہ غیر متقوم ہے لیکن صاحبین کے نزدیک جو ام ولد ہوتی ہے وہ متقوم ہے، البتہ اس کی قیمت عام باندی کے مقابلے میں صرف تیسرا حصہ ہوتی ہے، یعنی تین میں سے صرف ایک حصہ۔ اگر پہلے اس کی قیمت 300 درہم تھی تو ام ولد ہونے کے بعد اب اس کی قیمت صرف 100 درہم رہ گئی ہے، تو لہٰذا یہ اپنی قیمت میں سعی کرے گی اور وہ کما کر لا کر اس عیسائی آقا کو دے گی اور آزاد ہو جائے گی۔ جبکہ امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، یہ ام ولد، یہ فوراً ہی آزاد ہو جائے گی، یعنی آقا پر اسلام کو پیش کیا جائے گا اگر وہ مسلمان ہوتا ہے تو یہ اس کی ام ولد ہی رہے گی اور اگر وہ مسلمان ہونے سے انکار کر دیتا ہے تو پھر اس صورت کے اندر یہ ام ولد فوراً آزاد ہو جائے گی، البتہ اس کے ذمے اپنی قیمت دین ہے، وہ جا کر کمائے گی اور لا کر اس آقا کو ادا کرے گی۔ لیکن صاحبین اور امام صاحب فرماتے ہیں کہ اگر ابھی سے اس باندی پر آزاد ہونے کا حکم لگا دیا جائے پھر تو یہ کمائی کے اندر سستی کرے گی کہ میں تو آزاد ہو ہی چکی ہوں مجھے کیا ضرورت ہے محنت و مشقت کرنے کی اور پیسے ادا کرنے کی۔ تو لہٰذا فی الحال اس کے آزاد ہونے کا فیصلہ نہیں کیا جائے گا بلکہ جب یہ ادائیگی کر دے گی تو پھر آزاد ہوگی اور جب اس کو پتہ ہے کہ ادائیگی سے میں آزاد ہو جاؤں گی تو وہ کوشش کرے گی کہ جلد سے جلد ادائیگی کر دے بھئی۔ تو لہٰذا ہمارے مسئلے کے اندر دونوں کی رعایت ہو گئی، باندی کی بھی رعایت ہو گئی اس کو عیسائی مالک سے نجات مل گئی، آزادی مل گئی، اور آقا کی بھی رعایت ہو گئی کہ اس کو اپنی ام ولد کی قیمت مل گئی، جبکہ امام زفر کے مذہب میں تو صرف باندی کی رعایت ہے، باندی کے آقا کی کوئی رعایت نہیں ہے اور جس صورت میں دونوں کی رعایت ہو وہ صورت بہتر ہوتی ہے۔
اور پھر اشکال ہوتا تھا امام صاحب پر کہ آپ کے نزدیک تو ام ولد مال متقوم ہی نہیں ہے پھر یہ کیسے سعی کرے گی اپنے اس عیسائی آقا کے لیے؟ تو اس کے دو جواب دیے صاحب ہدایہ نے: ایک جواب تو یہ کہ اگرچہ ہمارے نزدیک یہ باندی مال متقوم نہیں ہے لیکن عیسائی کے گمان میں تو یہ مال متقوم ہے، تو لہٰذا اس کو اس کے اعتقاد پر ہی چھوڑ دیا جائے گا یعنی اس کے ساتھ اس کے اعتقاد والا ہی معاملہ کیا جائے گا اور یہ باندی اس کے لیے سعی کرے گی اپنی قیمت میں۔ اور دوسرا جواب یہ دیا تھا کہ اگرچہ یہ باندی مال متقوم نہیں ہے لیکن مال محترم تو ہے، اس کی حرمت اور عزت تو ہے۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ آپ جتنی بھی چیزوں کے مالک ہیں ان سب کی عزت اور حرمت ہے، کوئی اگر وہ آپ کی چیز ضائع کرتا ہے تو اس صورت میں اس نے آپ کے مال محترم کو ضائع کیا تو اس کو ضمان دینا پڑتا ہے، تو معلوم ہوا مملکت اسلامیہ کے اندر ہر شخص کی جان بھی محترم ہے اور اس کا مال بھی محترم ہے، تو لہٰذا یہ باندی بھی اس عیسائی آقا کا مال محترم ہے، تو اگرچہ قیمت نہیں ہے لیکن مال محترم تو ہے اور یہی کافی ہے ضمان کے لیے۔ یہ اسی طرح ہے جیسے قصاص، قصاص جو ہے وہ کوئی مال متقوم نہیں ہے لیکن یہ حق محترم ہے، لہٰذا اگر مقتول کے اولیاء میں سے کوئی ایک قصاص کو معاف کر دے تو پھر باقیوں کا حق مال میں آ جاتا ہے اور جس نے معاف کیا ہے اس کا حصہ ساقط ہو جائے گا اور باقیوں کو ان کا حصہ ملے گا، وجہ یہ کہ قصاص اگرچہ مال متقوم نہیں ہے لیکن حق محترم تو ہے، اس کی وجہ سے ضمان آ سکتا ہے بھئی۔
اور یہ بھی بتلایا صاحب ہدایہ نے کہ اگر آقا کا انتقال ہو گیا، اسی عیسائی آقا کا، تو پھر یہ اس کی مسلمان ام ولد بغیر سعی کے ہی آزاد ہو جائے گی اور اگر یہ آقا کی زندگی میں کمائی سے عاجز آ گئی تو اس کو دوبارہ عام باندی نہیں بنایا جا سکتا، اس لیے کیونکہ اس کو مکاتبہ بنانے کا سبب ابھی بھی موجود ہے، اگر آپ اس کو پھر عام باندی بنائیں گے تو مکاتبہ بنانے کا سبب تو ابھی بھی موجود ہے کہ یہ مسلمان ہے اور اس کا آقا عیسائی ہے تو یہ تو اس کے تحت نہیں رہ سکتی، تو لہٰذا پھر اس کو دوبارہ مکاتبہ ہی بنانا پڑے گا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
اب آئیے آج کے سبق پر:
”وَمَنِ اسْتَوْلَدَ أَمَةَ غَيْرِهِ بِنِكَاحٍ ثُمَّ مَلَكَهَا صَارَتْ أُمَّ وَلَدٍ لَهُ، وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالَى رَحْمَةً وَاسِعَةً: لَا تَصِيرُ أُمَّ وَلَدٍ لَهُ“۔
بھئی صورت مسئلہ یہ کہ ایک شخص نے غیر کی باندی سے نکاح کر لیا، تو آپ نے پڑھا ہے کہ اس صورت میں جو اولاد ہوگی اس کا نسب تو خاوند سے ثابت ہے، البتہ یہ اولاد جو ہے باندی کے مالک کی مملوک ہوگی۔ اس باندی سے جو بھی بچے پیدا ہوں گے وہ غلام اور باندیاں ہوں گے اسی باندی کے آقا کے، البتہ ان کا نسب اس خاوند سے ثابت ہوگا کیونکہ یہ باندی فراش ہے اس خاوند کا بھئی۔
تو اب صورت یہ ہے ایک شخص نے ایک باندی سے نکاح کیا اور اس سے اس کی اولاد پیدا ہوئی اور پھر بعد میں اسی خاوند نے اس باندی کو خرید لیا، یہ جو اس کی بیوی تھی اس کو اس نے آقا سے خرید لیا یہ اس کا مالک بن گیا، تو خریدتے ہی نکاح ختم ہوا اور یہ باندی اب اس کی مملوکہ ہے اور عند الاحناف یاد رکھو اب یہ اس کی ام ولد بن گئی کیونکہ آقا کی اس باندی سے اولاد ہے بھئی، تو یہ اس کی ام ولد بن جائے گی۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، یہ اس کی ام ولد نہیں بنے گی، یہ اس کی ام ولد نہیں بنے گی۔
دلیل بھی یہیں پر سمجھ لیجیے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ام ولد باندی اس وقت بنتی ہے جب اس میں، اس میں آزاد حمل قرار پائے یعنی جب باندی آزاد بچے کے ساتھ حاملہ ہو پھر وہ ام ولد بنتی ہے، اگر وہ آزاد بچے کے ساتھ حاملہ نہیں ہوگی تو وہ ام ولد بھی نہیں ہو سکتی۔ چنانچہ اسی لیے مثلاً ایک شخص کی اپنی باندی ہے اور اس باندی نے ایک بچے کو جنم دیا اور آقا نے کہہ دیا یہ میرا بچہ ہے تو یہ باندی اس آقا کی ام ولد بن جائے گی اور یہ بچہ اس وقت سے آقا کا نہیں شمار ہوگا کہ اب سے یہ آقا کا ہے بلکہ جس وقت حمل ٹھہرا تھا، حمل نے قرار پکڑا تھا، جس وقت باندی حاملہ ہوئی تھی اسی وقت سے اس بچے کا نسب اس آقا سے ثابت ہے اور جب یہ اس آقا کا بچہ ہے، اس آقا کا حمل ہے تو یہ آزاد حمل ہے، یہ آزاد حمل ہے۔ معلوم ہوا ام ولد وہ باندی بن سکتی ہے جس کے اندر آزاد حمل قرار پائے، تو آقا کا اپنا حمل تو اس کا مملوک نہیں ہو سکتا وہ تو آزاد ہی ہے، تو ام ولد وہ باندی بنتی ہے جس کے اندر آزاد حمل قرار پائے۔
جبکہ یہ جو باندی ہے، یہ جو خاوند نے خرید لی ہے بعد میں، اس سے خاوند کے جو بچے ہوئے تھے وہ تو پہلے آقا کے مملوک ہیں بھئی، تو اس باندی کے اندر آزاد حمل نے قرار نہیں پکڑا بلکہ یہ مملوک کے ساتھ حاملہ ہوئی تھی، اس کا حمل مملوک تھا لہٰذا یہ ام ولد نہیں بن سکتی۔
امام شافعی رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں؟ کہ یہ خاوند اپنی اس منکوحہ باندی کو اگر خرید بھی لے جس سے اس خاوند کی اولاد ہو چکی ہے، خاوند اس منکوحہ باندی کو خرید بھی لے پھر بھی یہ اس کی ام ولد نہیں بنے گی کیونکہ ام ولد بننے کے لیے کیا ضروری ہے؟ کہ وہ باندی آزاد حمل کے ساتھ حاملہ ہو اور یہ باندی تو آزاد حمل کے ساتھ حاملہ نہیں ہوئی تھی، اگرچہ بچے خاوند کے تھے لیکن باندی کے آقا کے مملوک تھے تو یہ مملوک حمل کے ساتھ حاملہ ہوئی تھی۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کوئی باندی ام ولد اس وقت بنے گی جب وہ آزاد حمل کے ساتھ حاملہ ہو، وجہ یہ کہ جب حمل آزاد ہوگا تو حمل تو جز ہے باندی کا اور جز جو ہے کل کے مخالف نہیں ہوتا، تو یہ آزاد جز تقاضا کر رہا ہے کہ یہ باندی بھی آزاد ہونی چاہیے، جب جز آزاد ہے تو باندی کو بھی کیا ہونا چاہیے؟ آزاد، تو یہ آزاد تو نہیں ہوئی لیکن آزادی کی مستحق ہو جائے گی۔ تو جز جب آزاد ہے تو باندی یعنی کل بھی آزادی کا مستحق ہو جائے گا، تو اس طرح وہ ام ولد بنے گی بھئی کیونکہ ام ولد آزادی کی مستحق ہوتی ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
جبکہ ہمارے نزدیک یہ جو ام ولد آزادی کی مستحق ہوتی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ آقا اور باندی کے درمیان جزئیت آ گئی، آقا اور باندی ایک دوسرے کا جز بن گئے کیونکہ جو بچہ پیدا ہوا وہ دونوں کا جز ہے بھئی، تو آقا اور باندی ایک دوسرے کا جز بن گئے اور یہ جزئیت دونوں میں بچے کے واسطے سے آئی ہے کیونکہ اس بچے کا نسب آقا سے ثابت ہے آقا نے اعتراف کر لیا، تو دونوں کے درمیان، آقا اور باندی کے درمیان جزئیت آ گئی بچے کے واسطے سے کیونکہ بچے کا نسب آقا سے ثابت ہے۔ تو اس بچے کی نسبت دونوں کی طرف کی جاتی ہے یہ دونوں کا جز ہے، تو آقا اور باندی میں جزئیت آ گئی۔ لیکن جب بچے کی پیدائش ہو گئی اور وہ ماں سے جدا ہو گیا تو حقیقۃً تو جزئیت نہ رہی البتہ حکماً ابھی بھی جزئیت ہے، یہ آزادی کا سبب بنے گی لیکن یہ سبب کمزور ہو چکا ہے تو لہٰذا اب باندی موت کے بعد آزاد ہوگی، البتہ فی الحال آزادی کے کچھ احکام ثابت ہو جائیں گے یعنی اب اس باندی کو بیچنا بھی جائز نہیں اور کسی دوسرے کو اس کا مالک بنانا بھی جائز نہیں ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
حاصل کلام کیا؟ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک ام ولد ہونے کا سبب وہ یہ ہے کہ باندی آزاد حمل کے ساتھ حاملہ ہو، آزاد حمل کے ساتھ، جبکہ ہمارے نزدیک ام ولد ہونے کا سبب وہ آقا اور باندی کے درمیان جزئیت ہے کہ دونوں ایک دوسرے کا جز بن گئے بچے کے واسطے سے بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَمَنِ اسْتَوْلَدَ أَمَةَ غَيْرِهِ بِنِكَاحٍ“ ”اِسْتَوْلَدَ“ بھئی، ”اِسْتَوْلَدَ“ کا معنی ہے ام ولد بنانا، لیکن یہاں ام ولد بنانا یہ ترجمہ نہ کریں، وہی ترجمہ کریں جو میں نے شروع باب کے اندر ذکر کیا تھا کہ استیلاد کا کیا معنی ہے؟ اولاد طلب کرنا، تو یہاں پر بھی جب ایک شخص نے ایک باندی سے نکاح کیا ہے تو یہ اس کو ام ولد نہیں بنا رہا اس سے اولاد طلب کر رہا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَمَنِ اسْتَوْلَدَ أَمَةَ غَيْرِهِ بِنِكَاحٍ“ اور جس نے اولاد طلب کی غیر کی باندی سے نکاح کے ذریعے ”ثُمَّ مَلَكَهَا“ پھر یہ خاوند جو ہے یہ اس باندی کا مالک بن گیا ”صَارَتْ أُمَّ وَلَدٍ لَهُ“ تو یہ باندی اس خاوند کی ام ولد بن گئی ہمارے نزدیک ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللّٰهُ“ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”لَا تَصِيرُ أُمَّ وَلَدٍ لَهُ“ کہ یہ باندی جو ہے خاوند کی ام ولد نہیں بنے گی۔
”وَلَوِ اسْتَوْلَدَهَا بِمِلْكِ يَمِينٍ ثُمَّ اسْتُحِقَّتْ ثُمَّ مَلَكَهَا تَصِيرُ أُمَّ وَلَدٍ لَهُ عِنْدَنَا، وَلَهُ فِيهِ قَوْلَانِ“
دوسری صورت بھئی: ایک شخص نے ایک باندی خریدی اور اس باندی سے اس کی اولاد بھی ہو گئی، تو یہ شخص سمجھ رہا ہے کہ یہ میری ام ولد ہو گئی ہے لیکن اس باندی کا کوئی اور مستحق نکل آیا، مثلاً زید نے اس باندی کو دیکھ لیا تو وہ آ گیا اور قاضی کے پاس مقدمہ کر دیا کہ یہ تو میری باندی ہے۔ چنانچہ قاضی نے زید کے حق میں فیصلہ کر دیا اور زید اس باندی کو لے کر چلا گیا، تو اب دیکھو معلوم ہوا یہ جو دوسرا آقا تھا یہ اس کی ام ولد نہیں ہے بھئی کیونکہ یہ تو باندی کا مالک ہی نہیں تھا، ام ولد ہونے کے لیے کیا ضروری؟ کہ باندی کا مالک ہو بھئی، تو یہ باندی کا مالک ہی نہیں ہے۔ پھر بعد میں اس دوسرے آقا نے اس پہلے آقا سے یعنی وہ جو اصلی آقا تھا اس سے اس باندی کو خرید لیا، تو یہ دوسرا آقا اب دوبارہ باندی کا مالک بن گیا، تو یہ باندی اس کی ام ولد ہو جائے گی عند الاحناف۔ ہمارے نزدیک اب یہ کیا بن گئی اس کی؟ ام ولد بن گئی کیونکہ اس باندی سے اس کی اولاد ہو چکی ہے اور اس باندی کے درمیان اور اس آقا کے درمیان جزئیت آ چکی ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَلَوِ اسْتَوْلَدَهَا بِمِلْكِ يَمِينٍ“ اور اگر اولاد طلب کی باندی سے بملک یمین، ملک یمین کے ذریعے یعنی اس کا مالک بنا اس کو خریدا ”ثُمَّ اسْتُحِقَّتْ“ پھر اس باندی کا استحقاق نکل آیا یعنی کوئی اور حقدار نکل آیا ”ثُمَّ مَلَكَهَا“ پھر یہ دوسرا آقا جو ہے، پھر یہ والا آقا جو ہے پھر دوبارہ اس کا مالک بن گیا، تو کہتے ہیں ”ثُمَّ مَلَكَهَا“ پھر یہ آقا دوبارہ اس باندی کا مالک بن گیا ”تَصِيرُ أُمَّ وَلَدٍ لَهُ عِنْدَنَا“ تو یہ باندی اس کی ام ولد ہو جائے گی ہمارے نزدیک ”وَلَهُ فِيهِ قَوْلَانِ“ اور امام شافعی رحمہ اللہ کے اس بارے میں دو قول ہیں، ایک قول کے مطابق یہ اس کی ام ولد بنے گی اور دوسرے قول میں ہے کہ یہ اس کی ام ولد نہیں بنے گی۔
”وَهُوَ وَلَدُ الْمَغْرُورِ“ اور یہ جو بچہ ہے وہ ولد المغرور ہے۔ مغرور بھئی، مغرور کا معنی ہے وہ شخص جس کو دھوکہ دیا گیا ہو۔ غرور کا کیا معنی؟ دھوکہ دینا، تو مغرور وہ شخص جس کو دھوکہ دیا گیا ہو۔ بھئی دیکھیے ایک شخص ایک باندی سے نکاح کرتا ہے تو آپ جانتے ہیں کہ باندی سے جو بھی اولاد ہوتی ہے وہ اس باندی کے آقا کی مملوک ہوتی ہے، تو جب یہ شخص ایک باندی سے نکاح کر رہا ہے معلوم ہوا یہ اپنے بچوں کے مملوک ہونے پر راضی ہے۔ تو جب بھی کوئی شخص کسی باندی سے نکاح...
کرتا ہے۔ معلوم ہوا وہ اپنے بچوں کے مملوک ہونے پر راضی ہے۔ جبکہ اس کے مقابلے میں اگر ایک شخص نے ایک عورت سے نکاح کیا، عورت نے کہا: میں آزاد ہوں۔ جی۔ لیکن بعد میں پتہ چلا یہ باندی ہے۔ جی۔ اور اس عورت سے اس باندی سے اس شخص کی اولاد بھی ہوئی تھی۔ جی۔ اور آپ جانتے ہیں کہ باندی جس کی مملوک ہوتی ہے اولاد بھی اس کی مملوک ہوتی ہے۔ تو یاد رکھو یہ جو شخص ہے اس کو کہیں گے مغرور، یعنی اس کو دھوکا دیا گیا، اس عورت نے تو کہا تھا میں آزاد ہوں اور یہ تو باندی نکلی۔ یا دوسری صورت ہے آقا نے خود ہی اپنی باندی کا کسی سے نکاح کروا دیا، جی۔ آقا نے خود ہی کسی سے اپنی باندی کا نکاح کروایا اور کہا یہ آزاد عورت ہے۔ جی۔ یا جیسے اس مسئلے کے اندر ہے کہ ایک شخص نے باندی کو خریدا اور اس سے اولاد ہو گئی، جی۔ اور بعد میں اس باندی کا کوئی اور مستحق نکل آیا، جی۔ تو یاد رکھو اس قسم کی باندی جس کے خاوند کو پتہ ہی نہ ہو یہ باندی ہے، اس سے جو اولاد ہوتی ہے اس کو ولد المغرور کہتے ہیں، دھوکا دیے ہوئے شخص کی اولاد۔ جی۔ دھوکا دیے ہوئے شخص کی اولاد، اور یہ تو اپنی اولاد کے مملوک ہونے پر راضی نہیں۔ اس کو تو پتہ ہی نہیں تھا یہ میری بیوی باندی ہے۔ تو یہ اپنی اولاد کے مملوک ہونے پر راضی نہیں۔ تو اس صورت میں یاد رکھو فقہاء فرماتے ہیں کہ یہ اس کی اولاد آزاد ہو گی۔ جی۔ لیکن اس اولاد میں اس مالک کا حق تھا، یہ اس کی مملوک تھی، جی۔ لیکن اس کی آزادی کا فیصلہ کیا جائے گا کہ یہ اولاد آزاد ہے۔ البتہ اب اس باپ کو اولاد کی قیمت دینا پڑے گی اس باندی کے آقا کو۔ جی۔ تو ولد المغرور جو ہے وہ آزاد ہوتا ہے قیمت کے عوض۔ جی۔ ولد المغرور آزاد ہوتا ہے قیمت کے عوض کیونکہ کیونکہ اس شخص کو دھوکا دیا گیا تھا، یہ اپنی اولاد کے مملوک ہونے پر راضی نہیں۔ تو ہم نے دونوں کی رعایت رکھی۔ اس کو اس کا بچہ آزاد مل گیا اور وہ جو باندی کا مالک تھا اس کو اس کا حق مل گیا یعنی قیمت مل گئی تو دونوں کی رعایت ہو گئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو ضابطہ کیا ہے کہ ولد المغرور قیمت کے عوض آزاد ہوتا ہے۔ جی۔
تو یہاں پر بھی کہتے ہیں: وَهُوَ وَلَدُ الْمَغْرُورِ، کہ اس کی جو اولاد ہے وہ مغرور کی اولاد ہے۔ جی۔ یہ جو دوسرے مسئلے میں باندی کا کوئی اور مستحق نکل آیا تھا۔ جی۔ جب کوئی اور مستحق نکل آیا تو یہ جو آقا ہے، یہ جو موجودہ آقا ہے، یہ اولاد کی قیمت اس کو دینا پڑے گی اس پہلے آقا کو، بھئی، جی۔ اور اس کے بچے آزاد ہوں گے اس قیمت کے عوض میں۔ یہ معنی ہے: وَهُوَ وَلَدُ الْمَغْرُورِ، اور اس کی جو اولاد ہے وہ مغرور کی اولاد ہے یعنی وہ قیمت کے عوض آزاد ہو گی۔
لَهُ، اب امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل آ گئی۔ میں نے دلیل ذکر کر دی تھی کہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک کیا ضروری ہے؟ ام ولد تب ہی بن سکتی ہے جب وہ آزاد حمل کے ساتھ حاملہ ہو، بھئی۔ تو کہتے ہیں: لَهُ، امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل یہ ہے: أَنَّهَا عَلِقَتْ بِرَقِيقٍ، کہ یہ باندی تو غلام کے ساتھ حاملہ ہوئی ہے۔ عَلِقَ يَعْلَقُ عُلُوقًا کا معنی ہے حاملہ ہونا، حمل کا قرار پکڑنا۔ لَهُ، امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل یہ ہے: أَنَّهَا عَلِقَتْ بِرَقِيقٍ، کہ یہ باندی تو غلام کے ساتھ حاملہ ہوئی ہے۔ دو صورتیں ہیں: ایک صورت جس میں ایک شخص نے باندی سے نکاح کیا تھا، جی۔ تو اس باندی کا جو حمل ٹھہرا وہ مملوک تھا۔ اور دوسری صورت کے اندر باندی کا کوئی ایک اور شخص مستحق نکل آیا تھا، تو وہاں پر بھی باندی کے اندر جو حمل قرار پایا تھا وہ مملوک تھا۔ وہ ولد المغرور کیا تھا؟ وہ تو مملوک تھا، وہ قیمت کے عوض آزاد ہوتا ہے۔ تو ان دونوں مسئلوں کے اندر یہ جو حمل ٹھہرا ہے وہ غلام ہے، جی۔ اور حالانکہ ام ولد وہ ہوتی ہے کہ جس میں آزاد حمل قرار پائے، بھئی۔
تو: لَهُ، امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل یہ ہے: أَنَّهَا عَلِقَتْ بِرَقِيقٍ فَلَا تَكُونُ أُمَّ وَلَدٍ لَهُ، کہ یہ باندی جو ہے حاملہ ہوئی ہے غلام کے ساتھ، تو لہٰذا یہ اس کی ام ولد نہیں ہو سکتی، كَمَا إِذَا عَلِقَتْ مِنَ الزِّنَا، جیسے کہ کسی غیر کی باندی زنا سے حاملہ ہو جائے، ثُمَّ مَلَكَهَا الزَّانِي، پھر زانی جو ہے اس کا مالک بن جائے۔ جی۔
بھئی صورت یہ ہے، ایک شخص نے کسی غیر کی باندی سے زنا کیا اور زنا سے وہ باندی حاملہ ہو گئی اور اس نے بچے کو جنم دیا۔ بعد میں اس زانی نے اس باندی کو خرید لیا، تو یاد رکھو یہ باندی اس کی ام ولد نہیں بنے گی۔ اگرچہ اس باندی سے اس کی اولاد ہو چکی ہے لیکن پھر بھی یہ ام ولد نہیں بنے گی، بھئی۔ کیوں؟ ام ولد کیوں نہیں بنے گی؟ امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل چل رہی ہے۔ وہ فرماتے ہیں وجہ یہ ہے کہ یہ باندی غیر کی تھی تو جب یہ حاملہ ہوئی تو اس کا حمل مملوک ہے اس کے آقا کا۔ تو یہ باندی آزاد حمل کے ساتھ حاملہ نہیں ہوئی بلکہ یہ جو مزنیہ باندی ہے، یہ آزاد حمل کے ساتھ حاملہ نہیں ہوئی بلکہ مملوک حمل کے ساتھ حاملہ ہوئی ہے۔ اس لیے اگر زانی اس کو خرید بھی لے گا، یہ پھر بھی اس کی ام ولد نہیں بنے گی، بھئی۔ تو یہ معنی ہے۔ کہتے ہیں: كَمَا إِذَا عَلِقَتْ مِنَ الزِّنَا ثُمَّ مَلَكَهَا الزَّانِي، جیسے کہ باندی حاملہ ہو جائے زنا سے پھر زانی جو ہے اس کا مالک بن جائے تو جیسے یہ زانی کے لیے یہ ام ولد نہیں بنتی یہ مزنیہ باندی، اسی طرح پچھلے مسئلے کے اندر وہ خاوند اپنی بیوی کو خرید بھی لے تو بھی اس کی وہ ام ولد نہیں بنے گی۔ جی۔
کہتے ہیں: وَهَذَا لِأَنَّ أُمُومِيَّةَ الْوَلَدِ بِاعْتِبَارِ عُلُوقِ الْوَلَدِ حُرًّا، کہتے ہیں: وَهَذَا، اور یہ اس وجہ سے، لِأَنَّ أُمُومِيَّةَ الْوَلَدِ، اس لیے کیونکہ ام ولد ہونا، بِاعْتِبَارِ عُلُوقِ الْوَلَدِ، وہ اس اعتبار سے ہوتا ہے کہ بچے کا حمل قرار پائے، حُرًّا، اس حال میں کہ وہ بچہ آزاد، بچے کے آزاد ہونے کی حالت میں حمل قرار پائے تو پھر ہی ام ولد بنتی ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: وَهَذَا لِأَنَّ أُمُومِيَّةَ الْوَلَدِ بِاعْتِبَارِ عُلُوقِ الْوَلَدِ حُرًّا، اور یہ اس وجہ سے کہ ام ولد ہونا وہ اس بچے کے آزاد ہونے کی حالت میں حمل کا ٹھہرنا ہوتا ہے، جی۔ لِأَنَّهُ جُزْءُ الْأُمِّ فِي تِلْكَ الْحَالَةِ، اس لیے کیونکہ یہ جو بچہ ہوتا ہے یہ ماں کا جز ہوتا ہے اس حالت میں، یعنی جب حمل ٹھہرتا ہے، تو یہ اس حالت میں ماں کا جز ہوتا ہے، وَالْجُزْءُ لَا يُخَالِفُ الْكُلَّ، اور جز جو ہے وہ کل کے مخالف نہیں ہوتا، تو جب جز آزاد ہے تو یہ جز تقاضا کرتا ہے کہ یہ باندی آزادی کی مستحق ہو جائے یعنی ام ولد ہو جائے۔ یہ معنی ہے: لِأَنَّهُ جُزْءُ الْأُمِّ فِي تِلْكَ الْحَالَةِ، اس لیے کیونکہ بچہ جو ہے حمل ٹھہرنے کی حالت میں ماں کا جز ہوتا ہے، وَالْجُزْءُ لَا يُخَالِفُ الْكُلَّ، اور جز جو ہے وہ کل کے مخالف نہیں ہوتا، تو یہ جز جو آزاد ہے یہ تقاضا کرتا ہے کہ کل بھی یعنی ماں بھی آزادی کی مستحق ہو جائے۔ جی۔
وَلَنَا، اب ہماری دلیل آ گئی۔ ہمارے نزدیک ام ولد کا سبب جزئیت ہے، بھئی۔ وَلَنَا، ہماری دلیل یہ ہے: أَنَّ السَّبَبَ هُوَ الْجُزْئِيَّةُ، کہ ام ولد ہونے کا سبب جو ہے وہ جز ہونا ہے، عَلَى مَا ذَكَرْنَا مِنْ قَبْلُ، اس وجہ سے جو ہم نے پہلے ذکر کر دیا، وَالْجُزْئِيَّةُ إِنَّمَا تَثْبُتُ بَيْنَهُمَا بِنِسْبَةِ الْوَلَدِ الْوَاحِدِ إِلَى كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا كَمَلًا، اور بھئی جزئیت آقا اور باندی میں یا واطی اور موطوءۃ میں جزئیت کس طرح آتی ہے؟ کہ وہ جو اولاد ہے اس کی نسبت دونوں کی طرف کی جاتی ہے۔ ایک ہی بچے کی نسبت کبھی کبھی خاوند کی طرف کر دیتے ہیں، باپ کی طرف کر دیتے ہیں کہ یہ فلاں آدمی کا بچہ ہے، اور کبھی اسی بچے کی نسبت ماں کی طرف کر دیتے ہیں کہ یہ فلانی کا بچہ ہے، تو معلوم ہوا یہ بچہ دونوں کا جز ہے۔ جب دونوں کا جز ہے تو یہاں دونوں کے جزوں میں اتحاد آ گیا۔ جی۔
تو کہتے ہیں: وَالْجُزْئِيَّةُ إِنَّمَا تَثْبُتُ بَيْنَهُمَا، اور جزئیت جو ہے وہ ان دونوں کے درمیان یعنی آقا اور باندی کے درمیان ثابت ہوتی ہے، بِنِسْبَةِ الْوَلَدِ الْوَاحِدِ إِلَى كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا كَمَلًا، اس وجہ سے کہ نسبت ہوتی ہے ایک ہی بچے کی ان دونوں میں سے ہر ایک کی طرف، كَمَلًا، پورے طور پر۔ جی۔ ایک ہی بچے کی پورے طور پر ہر ایک کی طرف نسبت کی جاتی ہے، پورے بچے کے بارے میں ہی کہہ دیتے ہیں یہ فلاں کا بچہ ہے، باپ کی طرف نسبت کی، یا پورے بچے کی ہی نسبت کر دی جاتی ہے ماں کی طرف۔ دوبارہ ترجمہ دیکھ لیجیے، کہتے ہیں: وَالْجُزْئِيَّةُ إِنَّمَا تَثْبُتُ بَيْنَهُمَا، کہ جزئیت ان دونوں کے درمیان یعنی واطی اور موطوءۃ کے درمیان ثابت ہو جاتی ہے، بِنِسْبَةِ الْوَلَدِ الْوَاحِدِ إِلَى كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا كَمَلًا، اس وجہ سے کہ نسبت کی جاتی ہے ایک ہی بچے کی ان دونوں میں سے ہر ایک کی طرف، كَمَلًا، پورے طور پر، وَقَدْ ثَبَتَ النَّسَبُ، اور تحقیق یہاں پر نسب ثابت ہے۔ ہمارے اس مسئلے میں نسب ثابت ہے کیونکہ جو بچہ ہوا تھا وہ نکاح کی وجہ سے ہوا ہے، جی، تو نسب ثابت ہے۔ تو کہتے ہیں: وَقَدْ ثَبَتَ النَّسَبُ، اور یہاں پر نسب بچے کا ثابت ہے، فَيَثْبُتُ الْجُزْئِيَّةُ بِهَذِهِ الْوَاسِطَةِ، تو جزئیت بھی ثابت ہو جائے گی اس واسطے کے ذریعے، جی، اس واسطے سے جزئیت بھی ثابت ہو جائے گی۔ جب نسب ثابت ہے تو تو یہاں جزئیت بھی ثابت ہو گئی کیونکہ بچے کا نسب ثابت ہے۔ جب جزئیت ثابت ہو گئی ہے تو اب اس باندی کو جب خاوند خریدے گا تو یہ اس کی ام ولد بن جائے گی کیونکہ جزئیت ثابت ہے، بھئی۔ یہ معنی ہے کہ: وَقَدْ ثَبَتَ النَّسَبُ، کہ یہاں نسب تو ثابت ہے، فَيَثْبُتُ الْجُزْئِيَّةُ بِهَذِهِ الْوَاسِطَةِ، تو جزئیت بھی ثابت ہو جائے گی اس واسطے کے ذریعے، بِخِلَافِ الزِّنَا، بخلاف زنا کے۔
یہاں سے جواب دے رہے ہیں امام شافعی رحمہ اللہ کے قیاس کا۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے اس نکاح والے مسئلے کو قیاس کیا تھا زنا والے مسئلے پر کہ جیسے زانی جو ہے اگر وہ اس باندی کو خرید بھی لے جس باندی نے زنا سے اس کے بچے کو جنم دیا تھا تو بھی یہ باندی زانی کی ام ولد نہیں بنتی چاہے زانی خرید بھی لے، جی، تو ہم اس کا جواب دیتے ہیں کہ وہ وجہ یہ ہے کہ یہ دونوں کے درمیان جو جزئیت آتی ہے واطی اور موطوءۃ کے درمیان، وہ بچے کے واسطے سے آتی ہے، اور یہ جو زنا سے بچہ پیدا ہوا ہے اس کا تو نسب ثابت نہیں ہے۔ جب اس کا نسب ثابت نہیں ہے تو واطی کی طرف اس کی نسبت نہیں ہے۔ جب واطی کی طرف اس کی نسبت نہیں ہے تو واطی اور موطوءۃ میں جزئیت بھی نہ آئی۔ جی۔ جزئیت تو تب آئے گی جب اس بچے کی نسبت دونوں کی طرف کی جائے اور یہاں تو بچے کی نسبت دونوں کی طرف نہیں کی جا رہی، صرف اس باندی کی طرف تو بچے کی نسبت کی جا رہی ہے کہ اس کا بچہ ہے لیکن اس زانی کی طرف تو اس کی نسبت نہیں ہے کیونکہ نسب نہیں ثابت، بھئی۔ تو جب بچے کی نسبت دونوں کی طرف نہیں تو جزئیت بھی ثابت نہیں، جب جزئیت ثابت نہیں ہے تو تو یہ اس کی ام ولد بھی نہیں بنے گی۔
تو کہتے ہیں: بِخِلَافِ الزِّنَا لِأَنَّهُ لَا نَسَبَ فِيهِ لِلْوَلَدِ إِلَى الزَّانِي، بخلاف زنا کے اس لیے کیونکہ اس کے اندر بچے کا نسب نہیں ہوتا زانی کی طرف، بچے کا نسب زانی کی طرف ثابت نہیں ہوتا، وَإِنَّمَا يَعْتِقُ عَلَى الزَّانِي إِذَا مَلَكَهُ، یہاں سے ایک اعتراض کا جواب دے رہے ہیں۔ اعتراض یہ، اعتراض یہ کہ اے احناف! آپ نے کہا زانی اگر اسی باندی کو خرید لے تو یہ اس کی ام ولد نہیں بنتی کیونکہ بچے کا نسب باپ سے ثابت نہیں ہے، بھئی، تو پھر تو اس بچے کو اگر یہ زانی خرید لے تو پھر اس کو آزاد بھی نہیں ہونا چاہیے۔ جی۔ اس بچے کو جو زانی کا اپنا بچہ ہے لیکن زنا سے پیدا ہوا ہے، اس کو اگر زانی خرید لے تو اس بچے کو بھی آزاد نہیں ہونا چاہیے کیونکہ نسب ثابت نہیں ہے، تو اس کا جواب دے رہے ہیں کہ بھئی یہاں بچہ آزاد ہو گا اس وجہ سے کہ یہ جو بچہ ہے یہ حقیقتاً اس آدمی کا جز ہے بغیر کسی واسطے کے، درمیان میں کوئی واسطہ نہیں ہے، تو بغیر واسطے کے چونکہ اسی زانی کا بچہ ہے اس لیے یہ بچہ آزاد ہو جائے گا۔ جی۔
تو کہتے ہیں: وَإِنَّمَا يَعْتِقُ عَلَى الزَّانِي إِذَا مَلَكَهُ لِأَنَّهُ جُزْؤُهُ حَقِيقَةً بِغَيْرِ وَاسِطَةٍ، اور یہ بچہ جو ہے زانی پر آزاد ہو جائے گا جب وہ اس بچے کا مالک بن جائے، اس لیے کیونکہ یہ بچہ اس زانی کا جز ہے حقیقتاً، حقیقت کے اعتبار سے بغیر کسی واسطے کے۔ یہ بچہ بغیر کسی واسطے کے اس زانی کا جز ہے، جی، جبکہ ام ولد ہونے کے اندر بچے کا واسطہ موجود ہوتا ہے واطی اور موطوءۃ کے درمیان۔ لیکن یہاں پر یہ جو بچہ ہے یہ زانی کا جز ہے بغیر کسی واسطے کے اس لیے زانی اس کا مالک بنے گا تو یہ آزاد ہو جائے گا۔ جبکہ واطی اور موطوءۃ کے درمیان جو جزئیت آتی ہے وہ بغیر واسطے کے نہیں ہوتی بلکہ وہ بچے کے واسطے سے ہوتی ہے لہٰذا بچے کی دونوں طرف نسبت ضروری ہوتی ہے۔ اور زنا کے اندر تو باپ کی طرف نسبت نہیں ہوتی بچے کی، لیکن یہاں پر تو یہ جو بچہ ہے یہ زانی کا بغیر واسطے کے جز ہے لہٰذا اس کو زانی خریدے گا تو یہ فوراً آزاد ہو جائے گا۔
تو یہ معنی ہے: وَإِنَّمَا يَعْتِقُ عَلَى الزَّانِي إِذَا مَلَكَهُ لِأَنَّهُ جُزْؤُهُ حَقِيقَةً بِغَيْرِ وَاسِطَةٍ، اور یہ بچہ جو ہے زانی پر آزاد ہو جائے گا جب زانی اس کا مالک بنے، اس لیے کیونکہ یہ بچہ جو ہے حقیقت کے اعتبار سے اسی زانی کا جز ہے بغیر کسی واسطے کے۔ نَظِيرُهُ، اس کی نظیر جو ہے: مَنِ اشْتَرَى أَخَاهُ مِنَ الزِّنَا لَا يَعْتِقُ عَلَيْهِ، کہ جس نے خریدا اپنے بھئی کو جو زنا سے ہے، وہ اس پر آزاد نہیں ہو گا۔
بھئی اس کی نظیر، یہ جو زنا سے ام ولد ہونا ہے، جی، زنا سے ام ولد ہونا ہے، زنا کی وجہ سے ام ولد نہیں بنے گی کیونکہ وہ جو واسطہ ہے اس کی نسبت دونوں کی طرف نہیں ہو رہی۔ تو اس کی نظیر جو ہے، اس کی نظیر یہ ہے کہ ایک شخص اپنے زنا سے ہونے والے بھئی کو خریدے، کہ اس کے باپ نے زنا کیا اور اس سے بھئی پیدا ہوا، تو یہ شخص جب اپنے زنا سے پیدا ہونے والے بھئی کو خریدے گا تو یہ آزاد نہیں ہو گا اس پر۔ وہ زانی اپنے بچے کو خریدے گا تو وہ آزاد ہو جائے گا کیونکہ وہ بچہ براہ راست زانی کا جز ہے بغیر کسی واسطے کے، لیکن یہاں اگر بھئی اپنے زنا سے ہونے والے بھئی کو خریدے گا تو یہ بھئی اس پر آزاد نہیں ہو گا۔ وجہ یہ کہ یہاں پر واسطہ ہے، ایک بھئی کی نسبت دوسرے بھئی کی طرف باپ کے واسطے سے ہوتی ہے کہ یہ دونوں ایک ہی باپ کی اولاد ہیں، بھئی۔ باپ کی نسبت سے ہوتی ہے یا ماں کی نسبت سے ہوتی ہے جب دونوں ایک ہی ماں کی اولاد ہوں۔ تو لہٰذا ایک بھئی کی نسبت دوسرے بھئی کی طرف باپ کے واسطے سے ہو رہی ہے اور ایک بھئی کا نسب تو ثابت ہے اور دوسرا تو زنا سے پیدا ہوا ہے اس کا نسب تو ثابت نہیں، تو لہٰذا یہاں پر یہ زنا سے ہونے والا بھئی دوسرے بھئی پر آزاد نہیں ہو گا کیونکہ درمیان میں واسطہ ہے باپ، اور اس واسطے کی طرف دونوں کی نسبت نہیں ہو رہی۔ ایک کی نسبت تو ہو رہی ہے اس کا نسب تو ثابت ہے، دوسرے کی نسبت نہیں ہو رہی۔
تو کہتے ہیں: نَظِيرُهُ، اس زنا سے ام ولد ہونے کی جو نظیر ہے: مَنِ اشْتَرَى أَخَاهُ مِنَ الزِّنَا لَا يَعْتِقُ عَلَيْهِ، جس نے خریدا اپنے ایسے بھئی کو جو زنا سے ہے، یہ اس پر آزاد نہیں ہو گا۔ اور یاد رکھنا یہ علاتی بھئی کی بات ہو رہی ہے، جی، یعنی باپ شریک ہے، یعنی ایک بھئی اس کا نسب ثابت ہے اور دوسرا زنا سے ہوا ہے، یعنی ایک ہی باپ کی دونوں اولاد ہیں، بھئی۔ جی۔ اگر ماں شریک بھئی ہوئے، جی، تو پھر اس صورت میں بھئی آزاد ہو جائے گا۔ وجہ یہ کہ وہاں ماں کی طرف تو نسبت ہوتی ہے، بھئی، کہ یہ فلانی کا بچہ ہے۔ زنا سے جو بچہ پیدا ہوا ہے اس زانی کی طرف تو نسبت نہیں ہوتی لیکن مزنیہ کی طرف تو نسبت ہوتی ہے کیونکہ اسی نے تو بچے کو جنم دیا ہے تو کہتے ہیں یہ اس کا بچہ ہے۔ جی۔ تو لہٰذا اگر ماں شریک بھئی کو خریدا جو زنا سے ہے تو وہاں تو نسبت ثابت ہے، دونوں بھائیوں کی نسبت اسی ماں کی طرف ہو رہی ہے تو پھر تو وہ بھئی آزاد ہو جائے گا۔ لیکن اگر باپ شریک بھئی کو خریدا جو زنا سے ہوا ہے تو پھر اس میں اس زنا سے ہونے والے بچے کی نسبت تو باپ کی طرف ثابت نہیں، تو جب نسبت ثابت نہیں ہے تو پھر اب وہ بھئی بھی آزاد نہیں ہو گا۔
یہ معنی ہے: نَظِيرُهُ، اور اس زنا سے ام ولد ہونے کی جو نظیر ہے: مَنِ اشْتَرَى أَخَاهُ مِنَ الزِّنَا لَا يَعْتِقُ عَلَيْهِ، جس نے خریدا اپنے ایسے بھئی کو جو زنا سے ہے، وہ اس پر آزاد نہیں ہو گا، لِأَنَّهُ يُنْسَبُ إِلَيْهِ بِوَاسِطَةِ نِسْبَتِهِ إِلَى الْوَالِدِ، اس لیے کیونکہ ایک بھئی جو ہے اس کی نسبت کی جاتی ہے دوسرے بھئی کی طرف، اس کے والد کی طرف نسبت کے واسطے سے۔ ایک بھئی کی نسبت دوسرے بھئی کی طرف کی جاتی ہے اس کے والد کی طرف نسبت کے اعتبار سے، کہ دونوں کی نسبت والد کی طرف ہو رہی ہے، اور وہ تو یہاں پر ثابت نہیں ہے۔ ایک بھئی کی تو نسبت والد کی طرف ثابت ہے لیکن دوسرے کی جو زنا سے ہوا ہے اس کی نسبت تو والد کی طرف ثابت نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّهُ يُنْسَبُ إِلَيْهِ بِوَاسِطَةِ نِسْبَتِهِ إِلَى الْوَالِدِ، اس لیے کیونکہ ایک بھئی جو ہے اس کی نسبت کی جاتی ہے دوسرے بھئی کی طرف، والد کی طرف اس کی نسبت کے واسطے سے، وَهِيَ غَيْرُ ثَابِتَةٍ، اور یہ والد کی طرف جو نسبت ہے یہ تو ثابت نہیں ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
تو یہ مسئلہ نظیر ہے نظیر ہے زنا سے ام ولد کی، جیسے زنا سے ام ولد ہونا ثابت نہیں ہوتا اسی طرح بھئی بھی اگر اپنے دوسرے بھئی کو خریدے گا جو زنا سے ہوا ہے تو یہ اس پر آزاد نہیں ہو گا کیونکہ نسبت نہیں ثابت۔ جیسے زنا سے ام ولد نہیں ہو سکتی کیونکہ بچے کی نسبت باپ کی طرف ثابت نہیں ہے تو یہ دونوں ایک دوسرے کی نظیر ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
آگے دیکھیے:
وَإِذَا وَطِئَ جَارِيَةَ ابْنِهِ فَجَاءَتْ بِوَلَدٍ فَادَّعَاهُ ثَبَتَ نَسَبُهُ مِنْهُ وَصَارَتْ أُمَّ وَلَدٍ لَهُ وَعَلَيْهِ قِيمَتُهَا وَلَيْسَ عَلَيْهِ عُقْرُهَا وَلَا قِيمَةُ وَلَدِهَا، بھئی یہ مسئلہ پہلے گزر چکا ہے کہ اگر باپ بیٹے کی باندی سے وطی کر لے اور پھر اس باندی نے ایک بچے کو جنم دیا اور باپ نے دعویٰ کر دیا کہ یہ میری اولاد ہے تو یہ باندی باپ کی ام ولد بن جائے گی۔ وجہ یہ، وجہ یہ کہ باپ جو ہے اس کا بیٹے کے مال میں حق تملک ہے۔ تملک کا معنی ہے مالک بننا، یعنی باپ یہ حق رکھتا ہے کہ وہ بیٹے کے مال کا مالک بن جائے جب حاجت اور ضرورت پیش آئے۔ جی۔ کیونکہ حدیث میں آتا ہے حضور علیہ السلام نے ایک صحابی سے فرمایا: ”أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِيكَ“ کہ تم اور تمہارا مال دونوں تمہارے باپ کے ہیں۔ دیگر احادیث سے تو پتہ چلتا ہے کہ باپ کا مال الگ ہوتا ہے اور بیٹے کا مال الگ ہوتا ہے لیکن اس حدیث کے اندر حضور فرما رہے ہیں: ”أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِيكَ“ تو اور تیرا مال تیرے باپ کے ہیں، تو اس کی وجہ سے شبہ آ گیا۔ تو لہٰذا ہم نے دونوں حدیثوں پر عمل کیا۔ بعض حدیثوں سے پتہ چل رہا ہے کہ باپ اور بیٹے کا مال الگ ہے تو ہم نے بھی یہی فیصلہ کیا کہ باپ اور بیٹے کا مال الگ الگ ہے، اور اس حدیث سے پتہ چل رہا ہے کہ بیٹا اور بیٹے کا مال باپ کا ہے تو ہم نے کہا کہ اس کا معنی یہ ہے کہ باپ بیٹے کے مال کا مالک بننے کا حق رکھتا ہے۔ جب بھی باپ کو حاجت اور ضرورت پیش آئے گی تو وہ بیٹے کے مال کا مالک بن جائے گا۔ جی۔ چنانچہ اگر باپ کے پاس نفقہ وغیرہ نہیں ہے تو اس صورت میں وہ بیٹے کا مال استعمال کر سکتا ہے اور باپ پر ضمان بھی نہیں آئے گا کیونکہ باپ کو اپنی جان بچانے کی حاجت ہے، بھئی۔ تو جیسے بقائے نفس جو ہے وہ انسان کی حاجت اصلیہ ہے، اسی طرح بقائے نسل بھی جو ہے وہ انسان کی حاجت اصلیہ ہے، بھئی۔ لہٰذا بقائے نفس کے اندر وہ بیٹے کے مال میں سے نفقہ لے لیتا ہے تو وہ باپ اس کا مالک بن گیا، اب وہ بیٹے کو قیمت نہیں ادا کرے گا۔ اسی طرح بقائے نسل کا بھی انسان محتاج ہے تو باپ نے جب بیٹے کی باندی سے وطی کی اور اس سے اولاد ہوئی اور باپ نے کہا کہ یہ میری اولاد ہے تو یہ باپ کی ام ولد بن جائے گی کیونکہ انسان بقائے نسل کا محتاج ہے۔ لیکن بقائے نسل بقائے نفس کے مقابلے میں کم درجے کی ہے، بقائے نفس وہ تو زیادہ ضروری ہے بقائے نسل کے مقابلے میں۔ تو بقائے نفس کے معاملے میں جب وہ باپ نفقہ لیتا تھا، نفقہ کھاتا تھا بیٹے کے مال میں سے تو باپ پر ضمان نہیں آتا تھا، جبکہ بقائے نسل اس سے کم درجے کی ہے لہٰذا یہاں پر باپ بیٹے کی باندی کا مالک بن جائے گا لیکن اس کو قیمت دینا پڑے گی کیونکہ بقائے نسل کم درجے کی ہے بقائے نفس کے مقابلے میں۔ باپ مالک تو بن جائے گا لیکن قیمت دینا پڑے گی کیونکہ اب یہ باندی باپ کی مملوکہ ہو گئی، اس کی ام ولد بن گئی۔ جی۔
تو دیکھیے کتاب پر، کہتے ہیں: وَإِذَا وَطِئَ جَارِيَةَ ابْنِهِ، اور جب ایک شخص نے اپنے بیٹے کی باندی سے صحبت کر لی، فَجَاءَتْ بِوَلَدٍ، تو وہ ایک بچے کو لے آئی یعنی اس نے بچے کو جنم دیا، فَادَّعَاهُ، تو پھر اس باپ نے دعویٰ کر دیا اس بچے کا، ثَبَتَ نَسَبُهُ مِنْهُ، تو اس بچے کا نسب باپ سے ثابت ہو جائے گا، وَصَارَتْ أُمَّ وَلَدٍ لَهُ، اور یہ باندی باپ کی ام ولد ہو جائے گی، وَعَلَيْهِ قِيمَتُهَا، اور باپ پر اس باندی کی قیمت واجب ہو گی وہ قیمت اب اسے دینا پڑے گی، وَلَيْسَ عَلَيْهِ عُقْرُهَا وَلَا قِيمَةُ وَلَدِهَا، اور باپ پر عقر بھی نہیں ہو گا اس باندی کا اور نہ اس بچے کی قیمت ہو گی۔ عقر میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ عقر مہر کو کہتے ہیں، لیکن مہر تو نکاح کے اندر آتا ہے، جی، مہر نکاح کے اندر آتا ہے اور یہاں تو نکاح نہیں ہوا، باپ نے بیٹے کی باندی سے صحبت کی ہے۔ تو یاد رکھو مملکت اسلامیہ کے اندر جب بھی صحبت ہو گی تو وہ دو چیزوں سے خالی نہیں۔ یا تو وہاں حد آئے گی، جی، کیا آئے گی؟ حد آئے گی، حد زنا، اور یا وہاں پر عقر دینا پڑے گا۔ تو یہاں پر جو ہے یہاں پر باپ پر عقر یعنی مہر بھی نہیں آئے گا۔ وجہ یہ کہ وہاں مسئلے کی تفصیل گزری تھی کتاب النکاح میں اور وہاں صاحب ہدایہ نے آپ کو بتلایا تھا کہ یہ باندی باپ کی ام ولد بن گئی اور ام ولد اپنی مملوکہ باندی بنتی ہے، غیر کی باندی کسی کی ام ولد نہیں بن سکتی، لہٰذا ام ولد ہونے کے لیے ضروری ہے کہ باپ کی ملکیت پہلے سے ثابت کر دی جائے، جی، حمل ٹھہرنے سے بھی پہلے باپ کی ملکیت ثابت کر دی جائے۔ تو لہٰذا باپ کی ملکیت مقدم شمار کی جائے گی وطی پر کہ عین وطی سے پہلے باپ اس باندی کا مالک ہی بن گیا کیونکہ پھر ہی یہ اس کی ام ولد ہو سکتی ہے، اگر مالک نہیں بنے گا تو پھر ام ولد بھی نہیں، بھئی۔ تو لہٰذا عین وطی سے پہلے یہ باپ اس باندی کا مالک بن گیا۔ جب مالک بن گیا تو اب جو یہ وطی کر رہا ہے اپنی باندی کے ساتھ وطی کر رہا ہے، بیٹے کی باندی اب یہ رہی ہی نہیں، جب باپ اپنی باندی سے وطی کر رہا ہے تو اپنی باندی کے ساتھ صحبت کی جائے پھر تو مہر نہیں آتا، بھئی، لہٰذا یہاں مہر بھی باپ پر واجب نہیں یعنی عقر واجب نہیں ہو گا۔ اور جب اپنی باندی سے وطی کی ہے تو جو بچہ پیدا ہوا وہ اپنی باندی سے بچہ پیدا ہوا ہے، بیٹے کی باندی سے بچہ نہیں پیدا ہوا لہٰذا بچے کی قیمت بھی اب بیٹے کو نہیں دینا پڑے گی۔ جی۔ باپ کے ذمے اب بچے کی قیمت بھی نہیں ہے کیونکہ اس کی اپنی باندی سے بچہ ہوا ہے، بیٹے کی باندی سے بچہ نہیں ہوا۔ یہ معنی ہے: وَلَيْسَ عَلَيْهِ عُقْرُهَا، اور باپ پر اس باندی کا عقر یعنی مہر بھی نہیں ہو گا، وَلَا قِيمَةُ وَلَدِهَا، اور باپ پر اس بچے کی قیمت بھی نہیں ہو گی۔
وَقَدْ ذَكَرْنَا الْمَسْأَلَةَ بِدَلَائِلِهَا فِي كِتَابِ النِّكَاحِ مِنْ هَذَا الْكِتَابِ، اور تحقیق ہم نے یہ مسئلہ دلیلوں کے ساتھ ذکر کیا تھا اسی کتاب کے اندر کتاب النکاح میں۔
وَإِنَّمَا لَا يَضْمَنُ قِيمَةَ الْوَلَدِ، بھئی یہ بچے کی قیمت کیوں نہیں دے گا باپ؟ میں نے بتلا دیا کہ یہ بچہ کس سے ہوا ہے؟ اپنی باندی سے ہوا ہے لہٰذا اس کی قیمت بھی بیٹے کو نہیں دے گا۔ تو کہتے ہیں: وَإِنَّمَا لَا يَضْمَنُ قِيمَةَ الْوَلَدِ، اور باپ جو ہے وہ بچے کی قیمت کا ضامن نہیں ہو گا، لِأَنَّهُ انْعَلَقَ حُرَّ الْأَصْلِ، اس لیے کیونکہ یہ جو بچہ ہے: انْعَلَقَ، اس کا حمل ٹھہرا ہے، حُرَّ الْأَصْلِ، حر الاصل ہو کر، جی، اصلاً ہی آزاد ہو کر یہ حمل قرار پایا ہے۔ بھئی یہ باپ صحبت سے پہلے اس باندی کا مالک بن گیا، جب مالک بن گیا تو اس بچے کا جب حمل ٹھہرا تو آزاد بچے کا حمل ٹھہرا ہے، کسی کے مملوک بچے کا حمل نہیں ٹھہرا۔ یہ معنی ہے: لِأَنَّهُ انْعَلَقَ حُرَّ الْأَصْلِ، اس لیے کیونکہ یہ بچہ جو ہے یہ اصلاً آزاد ہو کر اس کا حمل ٹھہرا ہے، لِاسْتِنَادِ الْمِلْكِ إِلَى مَا قَبْلَ الِاسْتِيلَادِ، اس لیے کیونکہ اس کی ملکیت کی نسبت کی گئی ہے، إِلَى مَا قَبْلَ الِاسْتِيلَادِ، ام ولد بنانے سے پہلے کی طرف۔ جی۔ اس کی ملکیت کی نسبت کی گئی ہے ام ولد بنانے سے پہلے کی طرف۔ باپ کب مالک بنا ہے اس باندی کا؟ عین صحبت سے پہلے۔ جی۔ تو دیکھا ام ولد بنانے سے پہلے کی طرف ہی ملکیت کی نسبت کر دی گئی ہے کہ اس سے پہلے ہی باپ مالک بن گیا تھا، جب مالک بن گیا ہے تو یہ اس کی اپنی باندی ہے اور اس باندی سے جو اس کا اپنا حمل قرار پایا تو وہ بھی آزاد حمل ہے، بھئی۔ یہ معنی ہے: لِاسْتِنَادِ الْمِلْكِ إِلَى مَا قَبْلَ الِاسْتِيلَادِ، اس وجہ سے کہ ملکیت کی نسبت کی گئی ہے ام ولد بنانے سے پہلے کی طرف۔
آگے دیکھیے:
وَإِنْ وَطِئَ أَبُو الْأَبِ مَعَ بَقَاءِ الْأَبِ لَمْ يَثْبُتِ النَّسَبُ، اور اگر باپ کے باپ نے وطی کر لی، مَعَ بَقَاءِ الْأَبِ، باپ کے ہوتے ہوئے، لَمْ يَثْبُتِ النَّسَبُ، تو پھر نسب ثابت نہیں ہو گا۔ بھئی آپ پڑھ چکے ہیں کہ اگر باپ کا انتقال ہو جائے تو پھر دادا باپ کے مقام پر ہوتا ہے، وہی احکام جو باپ کے لیے ثابت تھے وہ دادا کے لیے بھی ثابت ہو جائیں گے۔ لہٰذا اگر باپ کا انتقال ہو چکا ہے اور دادا نے اپنے پوتے کی باندی سے صحبت کر لی تو وہی حکم لگائیں گے جو باپ کے لیے تھا کہ عین صحبت سے پہلے دادا اس باندی کا مالک بن گیا تو یہ اس کی اپنی باندی ہے اور بعد میں جب اس باندی نے بچے کو جنم دیا اور دادا نے دعویٰ کر دیا کہ یہ میرا بچہ ہے تو یہ دادا کی ام ولد بن جائے گی کیونکہ دادا کا وہی حکم ہے جو باپ کا ہے جب باپ نہ ہو۔ لیکن اگر باپ موجود ہے پھر دادا کا یہ حکم نہیں، لہٰذا اگر باپ موجود ہے اور پھر دادا نے پوتے کی باندی سے صحبت کر لی اور دعویٰ کر دیا کہ اس سے جو اولاد ہوئی ہے وہ میری اولاد ہے تو تو اس صورت میں نسب ثابت نہیں ہو گا اور یہ دادا کی ام ولد نہیں بنے گی، بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَإِنْ وَطِئَ أَبُو الْأَبِ، اور اگر باپ کے باپ یعنی دادا نے وطی کر لی، مَعَ بَقَاءِ الْأَبِ، باپ کے باقی رہتے ہوئے، لَمْ يَثْبُتِ النَّسَبُ، تو نسب ثابت نہیں ہو گا، لِأَنَّهُ لَا وِلَايَةَ لِلْجَدِّ حَالَ بَقَاءِ الْأَبِ، اس لیے کیونکہ دادا کو کوئی ولایت حاصل نہیں ہوتی باپ کے باقی رہنے کی حالت میں۔
وَلَوْ كَانَ الْأَبُ مَيِّتًا، اور اگر باپ مر چکا ہے، تو کہتے ہیں: وَلَوْ كَانَ الْأَبُ مَيِّتًا يَثْبُتُ مِنَ الْجَدِّ كَمَا يَثْبُتُ نَسَبُهُ مِنَ الْأَبِ، اور اگر باپ مر چکا ہے تو اب اس بچے کا نسب دادا سے ثابت ہو جائے گا جیسے کہ باپ سے نسب ثابت ہوتا ہے، لِظُهُورِ وِلَايَتِهِ عِنْدَ فَقْدِ الْأَبِ، بوجہ دادا کی ولایت کے ظاہر ہونے کے، عِنْدَ فَقْدِ الْأَبِ، باپ کے نہ ہونے کی صورت میں۔ جی۔ باپ کے نہ ہونے کی صورت میں دادا کی ولایت ظاہر ہوتی ہے لہٰذا اس وقت پھر اس بچے کا نسب دادا سے ثابت ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں: لِظُهُورِ وِلَايَتِهِ عِنْدَ فَقْدِ الْأَبِ، فقد کا معنی ہے نہ ہونا، لِظُهُورِ وِلَايَتِهِ عِنْدَ فَقْدِ الْأَبِ، اس وجہ سے کہ دادا کی ولایت ظاہر ہوتی ہے باپ کے نہ ہوتے ہوئے۔
وَكُفْرُ الْأَبِ وَرِقُّهُ بِمَنْزِلَةِ مَوْتِهِ، اور اگر باپ کافر ہے یا باپ غلام ہے، تو کافر کو بھی مسلمان اولاد پر ولایت حاصل نہیں ہوتی اور غلام کو بھی اپنی اولاد پر ولایت حاصل نہیں ہوتی تو اس صورت کے اندر چاہے باپ زندہ ہی کیوں نہ ہو لیکن ہے کافر یا غلام، تو بھی ولایت دادا کو حاصل ہے۔ تو دادا کے لیے یہ سارے احکام اس صورت میں بھی ثابت ہوں گے، بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَكُفْرُ الْأَبِ وَرِقُّهُ بِمَنْزِلَةِ مَوْتِهِ، اور باپ کا کفر اور اس کا غلام ہونا یہ باپ کی موت کے درجے میں ہے، لِأَنَّهُ قَاطِعٌ لِلْوِلَايَةِ، اس لیے کیونکہ ان میں سے ہر ایک چیز جو ہے ولایت کو کاٹنے والی ہے، جی، باپ کافر ہو یا غلام ہو تو باپ کو ولایت حاصل نہیں ہوتی مسلمان اولاد پر۔
آگے دیکھیے:
وَإِذَا كَانَتِ الْجَارِيَةُ بَيْنَ شَرِيكَيْنِ فَجَاءَتْ بِوَلَدٍ فَادَّعَاهُ أَحَدُهُمَا ثَبَتَ نَسَبُهُ مِنْهُ، صورت مسئلہ یہ، ایک باندی ہے دو آدمی اس میں شریک ہیں، تو ایک مشترکہ باندی ہے دو آدمیوں کے درمیان، اور آپ جانتے ہیں جب باندی کے مالک ایک سے زیادہ افراد ہوں تو کسی ایک کے لیے بھی اس کے ساتھ صحبت جائز نہیں، لیکن ان میں سے ایک نے باندی کے ساتھ صحبت کر لی اور پھر اس سے اولاد ہوئی اور اس نے پھر دعویٰ کر دیا کہ یہ میری اولاد ہے تو یہ باندی اس کی ام ولد بن جائے گی، جی، یہ باندی اس کی ام ولد بن جائے گی۔ تو اس کے لیے باندی سے صحبت تو جائز نہیں تھی لہٰذا یہ تقاضا کر رہا ہے کہ اس پر حد زنا آنی چاہیے، جی، لیکن حد زنا نہیں آئے گی، وجہ یہ کہ شبہ آ گیا کیونکہ آدھی باندی کا تو یہ مالک ہے۔ چاہے ساری کا مالک نہیں ہے لیکن آدھی کا تو مالک ہے اور آپ جانتے ہیں کہ ادنیٰ شبہے کی وجہ سے بھی حد ساقط ہو جاتی ہے کیونکہ حد بڑی سخت سزا ہے، بھئی، تو معمولی شبہ بھی آ جائے تو حد ساقط ہو جایا کرتی ہے۔ تو یہاں بھی شبہے کی وجہ سے کہ یہ آدھی باندی کا تو بہرحال مالک تھا تو حد ساقط ہو جائے گی اور بچے کا نسب بھی ثابت ہو جائے گا کیونکہ آدھی باندی تو اس کی مملوک تھی، بھئی، تو بچے کا نسب بھی ثابت ہو جائے گا۔ میں نے بتلایا تھا کہ نسب کے ثابت ہونے کے لیے کیا ضروری ہے؟ کہ باندی اس کی مملوک ہو، بھئی۔
تو کہتے ہیں: وَإِذَا كَانَتِ الْجَارِيَةُ بَيْنَ شَرِيكَيْنِ، اور جب باندی جو ہے وہ دو شریکوں کے درمیان مشترکہ ہو، فَجَاءَتْ بِوَلَدٍ، پھر وہ ایک بچے کو لے آئی، فَادَّعَاهُ أَحَدُهُمَا ثَبَتَ نَسَبُهُ مِنْهُ،
عَاهُ أَحَدُهُمَا تو ان دونوں میں سے ایک نے اس بچے کا دعویٰ کر دیا، ثَبَتَ نَسَبُهُ مِنْهُ تو اس بچے کا نسب اس دعویٰ کرنے والے سے ثابت ہو جائے گا، لِأَنَّهُ لَمَّا ثَبَتَ النَّسَبُ فِي نِصْفِهِ اس لیے کیونکہ جب نصف بچے کے اندر نسب ثابت ہو گیا، جب باندی دونوں کی مشترکہ ہے، تو وہ جو اولاد ہوتی وہ بھی دونوں کی مشترکہ ہوتی، تو نصف کے اندر اس دعویٰ کرنے والے کی ملکیت ہے۔ تو جب اس نے دعویٰ کر دیا، تو نصف کے اندر نسب ثابت ہوا اور جب نصف میں نسب ثابت ہوا تو سارے میں ہی نسب ثابت ہو گیا، کیونکہ نسب کی تقسیم نہیں ہو سکتی۔ نسب کی تقسیم نہیں ہو سکتی۔
تو کہتے ہیں: لِأَنَّهُ لَمَّا ثَبَتَ النَّسَبُ فِي نِصْفِهِ اس لیے کیونکہ جب اس نصف بچے کے اندر نسب ثابت ہو گیا، لِمُصَادَفَتِهِ مِلْكَهُ، مصادفت کہتے ہیں ملاقات کرنا۔ لِمُصَادَفَتِهِ مِلْكَهُ اس لیے کیونکہ اس نسب نے ملاقات کی ہے اسی آدمی کی ملکیت سے یہ جو دعویٰ کرنے والا ہے۔ ثَبَتَ فِي الْبَاقِي تو باقی بچے کے اندر بھی نسب ثابت ہو جائے گا، ضَرُورَةَ أَنَّهُ لَا يَتَجَزَّأُ اس بات کے ضروری ہونے کی وجہ سے کہ نسب تقسیم نہیں ہوتا، لِمَا أَنَّ سَبَبَهُ لَا يَتَجَزَّأُ اس وجہ سے کہ نسب کا جو سبب ہے اس میں تقسیم نہیں ہوتی، وَهُوَ الْعُلُوقُ اور وہ حمل کا ٹھہرنا ہے۔
حمل کے ٹھہرنے میں تقسیم نہیں ہو سکتی۔ حمل جب بھی ٹھہرے گا ایک ہی مرد کے نطفے سے حمل ٹھہرے گا۔ جب حمل کے ٹھہرنے کے اندر تقسیم نہیں ہو سکتی، تو اس حمل ٹھہرنے سے جو نسب ثابت ہوگا اس نسب کے اندر بھی تقسیم نہیں ہو سکتی، وہ ایک ہی شخص سے ثابت ہوگا بھئی۔
پھر ترجمہ دیکھ لیجیے، کہتے ہیں: لِأَنَّهُ لَمَّا ثَبَتَ النَّسَبُ فِي نِصْفِهِ اس لیے کیونکہ جب نصف بچے کے اندر نسب ثابت ہو گیا، لِمُصَادَفَتِهِ مِلْكَهُ اس لیے کیونکہ نسب نے ملاقات کی ہے اسی آدمی کی ملکیت سے، ثَبَتَ فِي الْبَاقِي تو باقی بچے کے اندر بھی نسب ثابت ہو جائے گا، ضَرُورَةَ أَنَّهُ لَا يَتَجَزَّأُ اس بات کے ضروری ہونے کی وجہ سے کہ نسب تقسیم نہیں ہو سکتا، لِمَا أَنَّ سَبَبَهُ لَا يَتَجَزَّأُ اس وجہ سے کہ نسب کا جو سبب ہے وہ تقسیم نہیں ہو سکتا، وَهُوَ الْعُلُوقُ اور وہ حمل کا ٹھہرنا ہے، إِذِ الْوَلَدُ الْوَاحِدُ لَا يَنْعَلِقُ مِنْ مَاءَيْنِ اس لیے کیونکہ ایک بچہ جو ہے اس کا حمل قرار نہیں پا سکتا مِنْ مَاءَيْنِ دو مردوں کے نطفوں سے۔ ایک حمل دو مردوں کے نطفوں سے قرار نہیں پا سکتا۔ تو کہتے ہیں: إِذِ الْوَلَدُ الْوَاحِدُ لَا يَنْعَلِقُ مِنْ مَاءَيْنِ اس لیے کیونکہ ایک بچہ جو ہے اس کا حمل نہیں ہو سکتا دو مردوں کے نطفوں سے۔
وَصَارَتْ أُمَّ وَلَدٍ لَهُ اور یہ باندی جو ہے اس دعویٰ کرنے والے کی ام ولد ہو جائے گی، لِأَنَّ الِاسْتِيلَادَ لَا يَتَجَزَّأُ عِنْدَهُمَا۔ اچھا بھئی، تو یہ باندی اس ایک شریک کی ام ولد بن جائے گی، اور کس طرح ام ولد بنے گی؟ کیونکہ صاحبین کے نزدیک استیلاد میں تقسیم نہیں ہو سکتی۔ تو لہٰذا جب یہ اس ایک کی ام ولد بنی تو ساری ہی اسی ایک کی ام ولد بن گئی، تو اب اس کو ضمان دینا پڑے گا دوسرے آدمی کو، کیونکہ یہ دوسرے کے حصے کا بھی مالک بن گیا۔ اور یہ ضمان کون سا ہے؟ ضمانِ معاوضہ، عوض دے گا کیونکہ یہ اس کے حصے کا مالک بنا ہے تو اس کو بھی اب عوض دینا پڑے گا۔ اور آپ جانتے ہیں ضمانِ معاوضہ وہ یسار اور اعسار سے بدلتا نہیں۔ تو یہ آدمی چاہے غریب ہو چاہے مالدار ہو، ہر حال میں اس کو یہ ضمان دینا پڑے گا۔
تو صاحبین کے نزدیک استیلاد کی تقسیم نہیں ہو سکتی، جبکہ امام صاحب کے نزدیک تو استیلاد کی تقسیم ہو سکتی ہے۔ وجہ یہ کہ تدبیر اور استیلاد یہ فرع ہیں اعتاق کی، اور اعتاق میں تقسیم ہو سکتی ہے تو استیلاد اور تدبیر میں بھی تقسیم ہو سکتی ہے امام صاحب کے نزدیک۔ تو صاحبین کے نزدیک جب ایک ہی ام ولد بنی تو ساری ہی اس کی ام ولد بن گئی، جبکہ امام صاحب کے نزدیک بھی مسئلہ اسی طرح ہے البتہ صورت تھوڑی سی مختلف ہے۔ امام صاحب کے نزدیک پہلے صرف اس کا اپنا حصہ ام ولد بنا، اس آدمی اس شریک کا یہ جو دعویٰ کرنے والا ہے اس کا صرف اپنا حصہ ام ولد بنا اور دوسرے شریک کا حصہ وہ ابھی بھی عام باندی ہے، اور عام باندی تبدلِ ملک کو قبول کر لیتی ہے، اس میں انتقالِ ملک ہو سکتا ہے۔ تو لہٰذا پہلے صرف اس کا اپنا حصہ ام ولد بنا اور پھر یہ دوسرے کے حصے کا بھی مالک بن گیا۔ تو استیلاد میں تقسیم آئی لیکن پھر بہرحال یہ ساری باندی کا مالک بھی بن گیا، ساری باندی ام ولد بھی بن گئی اور اس کو اس کا ضمان دینا پڑے گا۔
توجہ ہے؟ صاحبین کے نزدیک ساری ہی باندی اکٹھی ام ولد بن گئی اس کی۔ جبکہ امام صاحب کے نزدیک صرف اس کا حصہ پہلے ام ولد بنا اور دوسرا حصہ وہ عام باندی ہے اور وہ انتقالِ ملک کو قبول کرتا ہے، لہٰذا پھر یہ وہاں بھی انتقالِ ملک ہوا اور یہ اس حصے کا بھی مالک بن گیا اور اب اس کو ضمان دینا پڑے گا۔ اور اگر دوسرا حصہ انتقالِ ملک کو قبول نہ کرتا تو پھر اس نے اسی طرح رہنا تھا، مثلاً اگر یہ باندی مدبرہ ہوتی۔ دونوں شریکوں نے اس کو کیا بنایا ہے؟ مدبرہ بنایا ہے، دونوں نے مدبرہ بنایا کہ ہمارے مرنے کے بعد تو آزاد ہے۔ اور پھر اس کے بعد دونوں میں سے ایک نے اس کو ام ولد بنایا، تو دوسرے کا حصہ اسی طرح مدبرہ رہے گا اور یہ والا شریک اس حصے کا مالک نہیں بن سکتا کیونکہ مدبرہ انتقالِ ملک کو قبول نہیں کرتی بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
تو کہتے ہیں: وَصَارَتْ أُمَّ وَلَدٍ لَهُ اور یہ باندی جو ہے اس دعویٰ کرنے والے کی ام ولد ہو جائے گی، لِأَنَّ الِاسْتِيلَادَ لَا يَتَجَزَّأُ عِنْدَهُمَا اس لیے کیونکہ استیلاد جو ہے وہ تقسیم نہیں ہو سکتا صاحبین کے نزدیک، وَعِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ يَصِيرُ نَصِيبُهُ أُمَّ وَلَدٍ لَهُ اور امام صاحب کے نزدیک اس مدعی کا جو حصہ ہے وہ اس کا ام ولد ہو گیا، ثُمَّ يَتَمَلَّكُ نَصِيبَ صَاحِبِهِ پھر یہ اپنے ساتھی کے حصے کا بھی مالک بن گیا، إِذْ هُوَ قَابِلٌ لِلْمِلْكِ اس لیے کیونکہ وہ حصہ بھی ملکیت کے قابل ہے، وہ انتقالِ ملک کو قبول کر لیتا ہے۔
وَيَضْمَنُ نِصْفَ عُقْرِهَا اور یہ دعویٰ کرنے والا اس باندی کے نصف عقر کا ضامن ہوگا۔ یہ دعویٰ کرنے والا اس باندی کے نصف عقر کا ضامن ہوگا، وجہ یہ کہ نصف کا تو یہ خود ہی مالک ہے، اس نصف کا تو مہر نہیں آئے گا، لیکن باقی نصف تو دوسرے آدمی کا تھا، لہٰذا اس کو نصف عقر نصف مہر اب اس کو دینا پڑے گا بھئی۔ تو نصف مہر بھی دے گا اور پھر باندی کی نصف قیمت بھی دے گا بھئی۔
توجہ ہے؟ کیونکہ جب اس نے صحبت کی تھی تو جب صحبت کی تھی تو باندی مشترکہ تھی۔ جب مشترکہ تھی تو نصف باندی تو اپنی ہے اس کا تو مہر نہیں، لیکن نصف کا تو مہر آئے گا وہ دینا پڑے گا۔ تو یاد رکھو، یہاں پر یہاں پر جب اس شخص نے اس باندی سے صحبت کی تو صحبت کرتے وقت یہ باندی مشترکہ تھی۔ صحبت کرتے وقت یہ باندی مشترکہ تھی۔ ہاں، جب حمل ٹھہرنے لگا تو عین حمل کے ٹھہرتے وقت یہ ساری باندی کا مالک بن گیا، کیونکہ اس باندی نے اس کی ام ولد بننا ہے اور ام ولد ہونے کا اعتبار جس وقت حمل ٹھہرا ہے تب سے کرنا پڑتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو لہٰذا عین جب حمل ٹھہرنے لگا تو پھر یہ ساری باندی کا مالک بن گیا۔ تو لہٰذا صحبت کے وقت تو یہ مالک نہیں تھا لیکن حمل ٹھہرتے وقت مالک بن گیا، تو جب صحبت کی تھی اس وقت مالک نہیں تھا لہٰذا نصف مہر دینا پڑے گا اور جب حمل ٹھہرا تو پھر ساری باندی کا وہ مالک بن چکا تھا اس وقت تک، لہٰذا اس بچے کی نصف قیمت اب نہیں دینا پڑے گی۔ اس بچے کی نصف قیمت نہیں، کیونکہ اس عین حمل ٹھہرنے سے پہلے یہ ساری باندی کا مالک بن گیا، جب ساری باندی کا مالک بن گیا تو اس سے پیدا ہونے والا بچہ بھی اسی کا ہوگا کسی اور کا نہیں ہو سکتا، لہٰذا بچے کی نصف قیمت نہیں دینا پڑے گی۔ تو لہٰذا اس مدعی کو باندی کا نصف مہر بھی دینا پڑے گا اور اس کی نصف قیمت بھی دینی پڑے گی دوسرے شریک کو۔
تو کہتے ہیں: وَيَضْمَنُ نِصْفَ عُقْرِهَا اور یہ دعویٰ کرنے والا باندی کے نصف مہر کا بھی ضامن ہوگا، لِأَنَّهُ وَطِئَ جَارِيَةً مُشْتَرَكَةً اس لیے کیونکہ اس نے مشترکہ باندی سے صحبت کی ہے، إِذِ الْمِلْكُ يَثْبُتُ حُكْمًا لِلِاسْتِيلَادِ اس لیے کیونکہ ملکیت ثابت ہوئی ہے استیلاد کا حکم ہو کر۔
بھئی دیکھیے! ایک مسئلہ تھا باپ نے اپنے بیٹے کی باندی سے صحبت کی اور ایک یہ مسئلہ ہے کہ شریک نے مشترکہ باندی سے صحبت کی، تو دونوں کے اندر فرق ہے۔ باپ تو بیٹے کی باندی کا مالک ہی نہیں تھا، تو وہاں ہمیں ملکیت ثابت کرنا پڑے گی۔ اور ایک صورت یہ ہے ملکیت کو ہم عین جب حمل ٹھہرا اس حمل ٹھہرنے سے پہلے ہم کہیں باپ باندی کا مالک بن گیا، لیکن اس صورت میں پھر زنا بھی لازم آئے گا، کیونکہ جس وقت باپ صحبت کرنے لگا تو وہ بیٹے کی باندی ہے، جب بیٹے کی باندی ہے اس کے یعنی غیر کی باندی ہے تو یہ تو زنا ہو جائے گا۔ لہٰذا جب ہم نے ملکیت کو ثابت کرنا ہی ہے، تو حمل ٹھہرنے سے پہلے نہیں ثابت کریں گے بلکہ صحبت سے پہلے ہی ملکیت ثابت کر دیں گے۔ تو صحبت سے پہلے ہی باپ مالک بن گیا تو اب جو صحبت کر رہا ہے یہ زنا ہے ہی نہیں، یہ اپنی باندی کے ساتھ صحبت کر رہا ہے۔ جبکہ یہاں پر یہ جو دو شریکوں میں سے ایک نے صحبت کی ہے باندی سے، یہاں پہلے ملکیت کو مقدم کرنے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ نصف باندی کا تو یہ پہلے سے ہی مالک ہے اور یہ ملکیت کافی ہے ام ولد ہونے کے لیے، لہٰذا یہاں پہلے سے ملکیت ثابت کرنے کی ضرورت نہیں۔ جب ملکیت پہلے ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہے تو اس نے جو صحبت کی وہ مشترکہ باندی سے صحبت کی ہے۔ ہاں، اب آگے اس باندی نے ام ولد بننا ہے اور ام ولد بننے کے لیے ضروری ہے کہ جو حمل ٹھہرے، حمل کے وقت سے ہی نسب ثابت ہو بھئی، اور حمل کے وقت سے ہی نسب ثابت ہونے کے لیے ضروری ہے کہ اسی وقت سے اس کو پوری باندی کا مالک قرار دے دیا جائے۔
فرق سمجھ میں آیا؟ تو باپ کے مسئلے میں باپ کے لیے ملکیت ثابت تھی شرط ہو کر، استیلاد کے لیے شرط ہے مالک ہونا۔ ام ولد بنانے کے لیے مالک ہونا شرط ہے بھئی۔ تو لہٰذا وہاں باپ کے لیے ملکیت شرط ہو کر ثابت ہوئی اور شرط مشروط پر مقدم ہوتا ہے، لہٰذا وہاں ملکیت ام ولد بنانے پر مقدم ہے یعنی وطی سے بھی مقدم ہم نے قرار دے دی، اور یہاں پر تو یہ پہلے سے ہی مالک ہے نصف باندی کا، لہٰذا یہاں پر باقی حصے کا جو مالک بنے گا وہ شرط ہو کر مالک نہیں بن رہا، استیلاد کا حکم ہوگا!
شرط شے شے پر مقدم ہوتی ہے اور حکم شے شے سے مؤخر ہوتا ہے۔ تو باپ جب مالک بنا تھا وہاں مالک ہونا شرط تھا استیلاد کے لیے، لہٰذا پہلے سے مالک قرار دینا پڑے گا وطی سے بھی پہلے وہ مالک ہو گیا۔ اور یہ جو دوسرا شریک ہے یہ تو پہلے سے مالک ہے، استیلاد کی تو شرط پوری ہے، لیکن اس نے دوسرے حصے کا بھی مالک بننا ہے تو دوسرے حصے کا جو مالک بنے گا وہ استیلاد کا حکم ہوگا تو وہ استیلاد کے بعد ثابت ہوگا یعنی جب حمل ٹھہر رہا ہے عین اس وقت یہ مالک بن جائے گا، تو یہ استیلاد کے حکم کے طور پر ثابت ہوگا بھئی۔ فرق سمجھ میں آ رہا ہے؟
تو کہتے ہیں: وَيَضْمَنُ نِصْفَ عُقْرِهَا تو یہ مدعی جو ہے اس باندی کے نصف عقر کا ضامن ہوگا، لِأَنَّهُ وَطِئَ جَارِيَةً مُشْتَرَكَةً اس لیے کیونکہ اس نے مشترکہ باندی سے صحبت کی ہے، إِذِ الْمِلْكُ يَثْبُتُ حُكْمًا لِلِاسْتِيلَادِ اس لیے کیونکہ اس کی ملکیت ثابت ہے استیلاد کا حکم ہو کر۔ یعنی نصف کا تو یہ مالک ہے لیکن دوسرے نصف میں جو اس کی ملکیت ثابت ہے وہ استیلاد کا حکم ہو کر، تو وہ استیلاد کے بعد ثابت ہوگی پہلے نہیں، کیونکہ نصف میں مالک تو یہ پہلے سے ہی ہے اور وہ استیلاد کے لیے کافی ہے۔ تو کہتے ہیں: إِذِ الْمِلْكُ يَثْبُتُ حُكْمًا لِلِاسْتِيلَادِ اس لیے کیونکہ اس کی ملکیت جو ہے وہ استیلاد کا حکم ہو کر ثابت ہوگی، فَيَتَعَقَّبُهُ الْمِلْكُ فِي نَصِيبِ صَاحِبِهِ، فَيَتَعَقَّبُهُ یہ ھا ضمیر لوٹائیں وطی کو۔ فَيَتَعَقَّبُهُ الْمِلْكُ تو اس وطی کے پیچھے آئے گی ملکیت فِي نَصِيبِ صَاحِبِهِ اپنے ساتھی کے حصے میں۔ وطی کے بعد یہ شریک جو ہے اپنے ساتھی کے حصے کا مالک بنے گا، تو وطی کی تو وہ مشترکہ باندی تھی اور جب حمل ٹھہرنے لگا تو وہ اس پوری باندی کا مالک بن گیا۔ تو ساتھی کے حصے کا مالک بننا وہ وطی کے بعد ہے وطی سے پہلے نہیں۔ تو یہ معنی ہے: فَيَتَعَقَّبُهُ الْمِلْكُ فِي نَصِيبِ صَاحِبِهِ تو اس وطی کے پیچھے ہوگا اپنے ساتھی کے حصے کا مالک بننا، بِخِلَافِ الْأَبِ إِذَا اسْتَوْلَدَ جَارِيَةَ ابْنِهِ بخلاف باپ کے جب اس نے اپنے بیٹے کی باندی کو ام ولد بنایا، لِأَنَّ الْمِلْكَ هُنَالِكَ يَثْبُتُ شَرْطًا لِلِاسْتِيلَادِ اس لیے کیونکہ وہاں پر جو ملکیت تھی وہ استیلاد کے لیے شرط ہو کر ثابت ہوئی تھی تو وہ استیلاد پر مقدم ہوگی بھئی۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّ الْمِلْكَ هُنَالِكَ يَثْبُتُ شَرْطًا لِلِاسْتِيلَادِ اس لیے کیونکہ وہاں پر ملکیت استیلاد کے لیے شرط ہو کر ثابت ہوتی ہے، فَيَتَقَدَّمُهُ تو وہ وطی پر مقدم ہوتی ہے، فَصَارَ وَاطِئًا فِي مِلْكِ نَفْسِهِ تو باپ جو ہے اپنی ذاتی ملکیت کے اندر وطی کرنے والا ہو گیا، یعنی اپنی باندی سے وطی کر رہا ہے۔
وَلَا يَغْرَمُ قِيمَةَ وَلَدِهَا، وَلَا يَغْرَمُ قِيمَةَ وَلَدِهَا اور یہ جو مدعی ہے یہ جو شریک ہے یہ اپنے دوسرے ساتھی کے لیے بچے کی قیمت کا ضامن نہیں ہوگا۔ بچے کی قیمت کا ضامن نہیں ہوگا، وجہ یہ کہ عین علوق سے پہلے یہ ساری باندی کا مالک بن گیا۔ تو اب یہ جو بچے کا حمل ٹھہرا ہے یہ یہ سارا اسی مدعی ہی کا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَلَا يَغْرَمُ قِيمَةَ وَلَدِهَا اور یہ مدعی جو ہے اس بچے کی قیمت کا ضامن نہیں ہوگا، لِأَنَّ النَّسَبَ يَثْبُتُ مُسْتَنِدًا إِلَى وَقْتِ الْعُلُوقِ اس لیے کیونکہ یہ نسب ثابت ہوتا ہے مُسْتَنِدًا إِلَى وَقْتِ الْعُلُوقِ حمل ٹھہرنے کے وقت کی طرف منسوب ہو کر۔ حمل ٹھہرنے کے وقت کی طرف منسوب ہو کر نسب ثابت ہے یعنی حمل ٹھہرنے کے وقت سے ہی نسب ثابت ہے۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّ النَّسَبَ يَثْبُتُ مُسْتَنِدًا إِلَى وَقْتِ الْعُلُوقِ اس لیے کیونکہ نسب ثابت ہوتا ہے حمل ٹھہرنے کے وقت کی طرف منسوب ہو کر، فَلَمْ يَنْعَلِقْ شَيْءٌ مِنْهُ عَلَى مِلْكِ الشَّرِيكِ، فَلَمْ يَنْعَلِقْ شَيْءٌ مِنْهُ لہٰذا اس بچے میں سے کسی چیز کا علوق نہیں ہوا عَلَى مِلْكِ الشَّرِيكِ اس شریک کی ملکیت پر۔ بچے کا حمل جب ٹھہرا تو عین حمل سے پہلے یہ ساری باندی کا مالک بن گیا، تو بچے کے علوق میں سے کوئی حصہ شریک کی ملکیت میں نہیں تھا بھئی۔ تو کہتے ہیں: فَلَمْ يَنْعَلِقْ شَيْءٌ مِنْهُ تو اس بچے میں سے کوئی چیز جو ہے اس کے حمل نے قرار نہیں پکڑا عَلَى مِلْكِ الشَّرِيكِ اس شریک کی ملکیت پر۔
آگے دیکھیے بھئی: وَإِنِ ادَّعَيَاهُ مَعًا ثَبَتَ نَسَبُهُ مِنْهُمَا بھئی اب صورت یہ ہے کہ ایک مشترکہ باندی نے بچے کو جنم دیا اور دونوں شریکوں نے دعویٰ کر دیا کہ یہ ہمارا بچہ ہے۔ دونوں شریکوں نے اکٹھا دعویٰ کر دیا کہ یہ ہمارا بچہ ہے۔ اگر دونوں میں سے پہلے ایک دعویٰ کر دیتا تو نسب اس سے ثابت ہو جانا تھا، لیکن دونوں نے اکٹھا دعویٰ کیا تو اب یہاں ترجیح کی کوئی صورت نہیں ہے۔ لہٰذا اس بچے کا نسب دونوں سے ثابت ہو جائے گا۔ یہ دونوں کا بچہ شمار کیا جائے گا۔ بھئی حقیقت میں تو دونوں میں سے ایک کا بچہ ہے، لیکن پتہ ہی نہیں چل رہا ترجیح کی کوئی صورت ہی نہیں ہے، تو لہٰذا بچے کا نسب دونوں سے ثابت ہو جائے گا۔
یہ تو ایک صورت تھی کہ دونوں نے اکٹھا دعویٰ کیا۔ دوسری صورت یہ ہے کہ دونوں نے اکٹھا تو دعویٰ نہیں کیا، لیکن الگ الگ مجلسوں میں دعویٰ کیا ہے۔ ایک کو ایک مجلس میں خبر ملی کہ اس کی باندی نے بچے کو جنم دیا ہے، تو اس نے سنتے ہی کہا کہ یہ میرا بچہ ہے، اور دوسرے کو کسی دوسری مجلس میں اطلاع ملی تو اس نے کہا یہ میرا بچہ ہے۔ اب دونوں نے اکٹھا تو دعویٰ نہیں کیا، لیکن تقدیم و تاخیر کا یہاں پتہ نہیں چل رہا کہ کس نے پہلے دعویٰ کیا ہے اور کس نے بعد میں، تو اس کو بھی اکٹھا ہی سمجھا جائے گا تو اس صورت میں بھی بچے کا نسب دونوں سے ثابت ہو جائے گا بھئی۔ تو یہ بچہ دونوں کا بچہ شمار ہوگا، بچے کو دونوں سے وراثت ملے گی۔ بچے کو دونوں سے وراثت ملے گی، مثلاً وہ بیٹا ہے تو ان دونوں میں سے ایک کا انتقال ہوگا تو اس بچے کو پورے بیٹے کا حصہ ملے گا، دوسرے کا انتقال ہوگا تو بھی اس بچے کو پورے بیٹے کا حصہ ملے گا۔ دونوں سے بچے کا نسب ثابت ہے تو یہ دونوں بچے کے باپ ہوئے، تو یہ دونوں بھی بچے کے وارث بنیں گے، مثلاً اگر بچے کا کوئی مال ہوا کسی نے بچے کو مال دے دیا اور پھر بچے کا انتقال ہوا تو پھر یہ دونوں وارث بنیں گے، لیکن یہاں پر دونوں کو الگ الگ باپ کا حصہ نہیں ملے گا کیونکہ باپ تو ایک ہی ہے دونوں میں سے لیکن اس کا پتہ نہیں چل رہا، تو ایک ہی باپ کا حصہ وہ ان دونوں میں تقسیم کر دیا جائے گا۔ ایک ہی باپ کا حصہ دونوں میں تقسیم کر دیا جائے گا، اور اگر ایک کا پہلے انتقال ہو چکا ہے اور ایک ابھی زندہ ہے جس وقت بچے کا انتقال ہوا، تو پھر اس صورت میں صرف جو زندہ ہے وہی اس بچے کا وارث بنے گا اور اس کو پورے باپ کا حصہ مل جائے گا۔
تو کہتے ہیں: وَإِنِ ادَّعَيَاهُ مَعًا اور اگر دونوں شریکوں نے اکٹھا دعویٰ کر دیا، ثَبَتَ نَسَبُهُ مِنْهُمَا تو اس بچے کا نسب دونوں سے ثابت ہو جائے گا، مَعْنَاهُ یہاں سے صاحبِ ہدایہ اس قول کا معنیٰ ذکر کر رہے ہیں۔ قدوری کے لفظ کیا تھے؟ کہ اگر دونوں نے اکٹھا دعویٰ کیا تو دونوں سے نسب ثابت ہو جائے گا۔ صاحبِ ہدایہ آگے بتلائیں گے کہ یہ اس صورت میں ہے جب یہ دونوں اس باندی کے مالک ہوں اور ان کی ملکیت میں باندی حاملہ ہوئی ہو۔ اگر باندی کے حاملہ ہوتے وقت صرف دونوں میں سے ایک مالک تھا تو پھر اسی کی ام ولد بنے گی، اسی سے بچے کا نسب ثابت ہوگا دوسرے سے بچے کا نسب ثابت نہیں ہوگا۔ تو یہ ضروری ہے کہ جس وقت باندی حاملہ ہوئی اس وقت ہی دونوں کی اس کے اندر ملکیت تھی بھئی۔
تو کہتے ہیں: مَعْنَاهُ صاحبِ قدوری کے قول کا معنیٰ یہ ہے: إِذَا حَمَلَتْ عَلَى مِلْكِهِمَا کہ جب باندی حاملہ ہوئی ہو ان دونوں کی ملکیت پر، وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: يُرْجَعُ إِلَى قَوْلِ الْقَافَةِ کہ قیافہ شناسوں کے قول کی طرف رجوع کیا جائے گا۔ قَافَةٌ بھئی، قَافَةٌ جمع ہے قَائِفٌ کی، جیسے بَاعَةٌ جمع ہے بَائِعٌ کی، تو قَافَةٌ جمع ہے قَائِفٌ کی، اور قائف کہتے ہیں قیافہ شناس کو۔ قیافہ شناس بھئی عرب کے اندر یہ کچھ لوگ تھے جو بچے کے اندر علامتوں سے پہچان لیتے تھے کہ یہ کس کا بچہ ہے۔ یعنی اتنی مہارت ان کو اللہ نے نصیب فرمائی تھی، چھوٹا سا بچہ ہے بھئی لیکن اس کے اندر وہ اس کے جسم سے، اس کے اعضاء سے، اس کے چہرے وغیرہ سے وہ پہچان لیتے تھے کہ یہ کس شخص کی اولاد ہے۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دونوں سے نسب ثابت نہیں ہوگا، بلکہ پھر قیافہ شناسوں کو بلایا جائے گا اور وہ پھر علامتوں کے ذریعے بیان کریں گے کہ یہ کس کا بچہ ہے۔
تو یہ معنی ہے: وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: يُرْجَعُ إِلَى قَوْلِ الْقَافَةِ کہ رجوع کیا جائے گا قیافہ شناسوں کے قول کی طرف، لِأَنَّ إِثْبَاتَ النَّسَبِ مِنْ شَخْصَيْنِ اس لیے کیونکہ دو آدمیوں سے نسب کو ثابت کرنا، مَعَ عِلْمِنَا أَنَّ الْوَلَدَ لَا يَنْخَلِقُ مِنْ مَاءَيْنِ باوجود اس کے کہ ہم جانتے ہیں کہ ایک بچہ جو ہے وہ دو نطفوں سے پیدا نہیں ہو سکتا، اس کے باوجود دو شخصوں سے ایک نسب کو ثابت کرنا مُتَعَذِّرٌ یہ متعذر ہے ممکن نہیں ہے بھئی۔ تو یہ مُتَعَذِّرٌ اس کو ذرا یہ یہ جو درمیان میں آیا: مَعَ عِلْمِنَا أَنَّ الْوَلَدَ لَا يَنْخَلِقُ مِنْ مَاءَيْنِ باوجود اس کے کہ ہمیں علم ہے کہ ایک بچہ دو نطفوں سے پیدا نہیں ہو سکتا، ذرا اس کو نکال دیں یہاں سے اور یہ مُتَعَذِّرٌ کو ماقبل شَخْصَيْنِ کے ساتھ جوڑ دیں۔ دیکھیے ترجمہ یوں ہے: لِأَنَّ إِثْبَاتَ النَّسَبِ مِنْ شَخْصَيْنِ مُتَعَذِّرٌ اس لیے کیونکہ دو شخصوں سے اس کے نسب کو ثابت کرنا متعذر ممکن نہیں ہے، کیونکہ ہمیں علم ہے کہ ایک بچہ دو نطفوں سے وہ پیدا نہیں ہو سکتا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے، کہتے ہیں: لِأَنَّ إِثْبَاتَ النَّسَبِ مِنْ شَخْصَيْنِ اس لیے کیونکہ دو شخصوں سے اس نسب کا ثابت ہونا، مَعَ عِلْمِنَا أَنَّ الْوَلَدَ لَا يَنْخَلِقُ مِنْ مَاءَيْنِ باوجود اس کے کہ ہم جانتے ہیں کہ بچہ جو ہے وہ دو نطفوں سے پیدا نہیں ہوتا، تو یہ ایک شخص سے نسب کا ثابت کرنا مُتَعَذِّرٌ یہ متعذر ہے ممکن نہیں ہے، فَعَمِلْنَا بِالشَّبَهِ تو ہم نے مشابہت پر عمل کیا۔ قیافہ شناس مشابہتیں دیکھتا ہے نا کہ بچے کی کس کے ساتھ مشابہت ہے بھئی، تو یہ عجیب اللہ نے علم نصیب فرمایا تھا عرب کے بعض لوگوں کو بھئی، اور کہتے ہیں یہ بنو مدلج ایک قبیلہ تھا، اس کے لوگ اس قیافہ شناسی کے ماہر تھے بھئی، قیافہ شناسی کے۔
تو کہتے ہیں: فَعَمِلْنَا بِالشَّبَهِ تو ہم نے مشابہت پر عمل کیا، یہ امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل چل رہی ہے، تو کہتے ہیں ہم نے مشابہت پر عمل کیا، وَقَدْ سُرَّ رَسُولُ اللَّهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ بِقَوْلِ الْقَائِفِ فِي أُسَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ، وَقَدْ سُرَّ رَسُولُ اللَّهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ اور تحقیق حضور صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہوئے تھے بِقَوْلِ الْقَائِفِ فِي أُسَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں قیافہ شناس کے قول سے۔ حضور علیہ السلام اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں قیافہ شناس کے قول سے خوش ہوئے تھے، اور حضور علیہ السلام حق بات پر ہی خوش ہو سکتے ہیں، ناحق پر کبھی بھی خوش نہیں ہو سکتے، تو یہ دلیل ہے کہ قیافہ شناسی حق ہے۔ جب قیافہ شناسی حق ہے تو اس کی مدد لی جائے گی۔ یہ امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل چل رہی ہے بھئی۔
بھئی حضور علیہ السلام خوش ہوئے تھے حضرت اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں قیافہ شناس کے قول پر۔ حضرت اسامہ یہ بیٹے ہیں حضرت زید ابن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بھئی، اور حضرت زید ابن حارثہ یہ ان کا رنگ بہت سفید تھا اور حضرت اسامہ جو ان کے بیٹے تھے ان کا رنگ بہت کالا تھا، تو اس کی وجہ سے عرب جو ہے وہ وہ ان کے نسب میں شک کرتے تھے کہ اتنے سفید باپ کا اتنا کالا بیٹا کیسے ہو سکتا ہے، معلوم ہوا یہ ان کا بچہ نہیں ہے۔ جبکہ ان سے حضور علیہ السلام کو بڑی محبت تھی، تو عرب ان کے نسب پر طعن کرتے تھے۔ چنانچہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم گھر تشریف لائے اور آپ بہت خوش تھے، پھر کہنے لگے کہ اے عائشہ! کیا تمہیں علم ہے؟ آج مجزز مدلجی میرے پاس آئے تھے۔ یہ حضرت مجزز مدلجی جو ہیں یہ بنو مدلج قبیلے سے تھے، اور یہ صحابی ہیں حضور علیہ السلام کے اور یہ قیافہ شناس تھے بھئی، بڑے ماہر تھے اس چیز کے۔ تو حضور فرمانے لگے حضرت عائشہ سے کہ میرے پاس آج مجزز مدلجی آئے تھے اور اس وقت مسجد کے اندر اسامہ بھی سوئے ہوئے تھے اور ان کے والد زید ابن حارثہ بھی سوئے ہوئے تھے، اور دونوں نے اپنے اوپر ایک چادر لی ہوئی تھی، دونوں کے چہرے اور اوپر کا حصہ چھپا ہوا تھا ہاں ان کے قدم جو تھے، پاؤں جو تھے وہ چادر سے باہر تھے۔ تو وہ مجزز مدلجی جب میرے پاس آئے تو ان کی نظر ان دونوں کے قدموں پر پڑی تو خود ہی مجھ سے کہنے لگے کہ یہ دونوں قدم ایک دوسرے سے ہیں یعنی یہ دونوں آپس میں باپ بیٹا ہیں۔ یہ دونوں آپس میں باپ بیٹا ہیں، تو اس پر حضور علیہ السلام بڑے خوش ہوئے کیونکہ اس سے عربوں کے طعنے کی نفی ہو گئی تھی بھئی، ان کے طعنے کا رد ہو گیا تھا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
تو کہتے ہیں: وَقَدْ سُرَّ رَسُولُ اللَّهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ بِقَوْلِ الْقَائِفِ فِي أُسَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ اور تحقیق حضور علیہ السلام خوش ہوئے تھے حضرت اسامہ کے بارے میں قیافہ شناس کے قول سے، وَلَنَا اب ہماری دلیل آ گئی۔ وَلَنَا اور ہماری دلیل جو ہے: كِتَابُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ إِلَى شُرَيْحٍ فِي هَذِهِ الْحَادِثَةِ۔ ہماری دلیل جو ہے کتابِ عمر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا خط ہے، کتاب سے یہاں مراد خط ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں قاضی شریح گزرے ہیں بھئی، کتابوں کے اندر ان کے واقعات آتے ہیں، یہ بہت ماہر تھے بھئی، یعنی ایسے فیصلے کرتے تھے انسان حیران رہ جاتا تھا، اللہ نے ان کو خاص ذہانت نصیب فرمائی تھی فیصلوں کے معاملے میں بھئی۔
تو حضرت عمر کے زمانے میں ایسا ہی مسئلہ پیش آیا کہ ایک باندی کے بچے کے بارے میں دو شریکوں نے دعویٰ کر دیا کہ یہ ہمارا بچہ ہے۔ اب پتہ نہیں چل رہا کہ یہ کس کا بچہ ہے، تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ خود بھی بڑے قیافہ شناس تھے، اور حضرت عمر نے تین اور قیافہ شناسوں کو بلوایا، سب کی رائے یہی تھی کہ بچے کے اندر دونوں کی مشابہت ہے۔ بچے کے اندر دونوں مالکوں کی مشابہت ہے۔ تو حضرت عمر بڑے حیران ہوئے کہ ایسا ہم نے حیوانوں میں تو دیکھا ہے کہ کئی حیوان جب مادہ سے جفتی کرتے ہیں تو اس حیوان کے بچوں میں سب کے اثرات نظر آتے ہیں، لیکن انسانوں میں ہم نے یہ پہلی دفعہ دیکھا ہے۔ تو چنانچہ پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قاضی شریح کو خط لکھا اور بتلایا کہ اس بچے کا نسب دونوں سے ثابت ہے بھئی، دونوں کا بچہ اس کو قرار دیا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ دیکھیے آگے صاحبِ ہدایہ ذکر فرما رہے ہیں۔
تو کہتے ہیں: وَلَنَا اور ہماری دلیل جو ہے: كِتَابُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ إِلَى شُرَيْحٍ فِي هَذِهِ الْحَادِثَةِ وہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا خط ہے قاضی شریح کو فِي هَذِهِ الْحَادِثَةِ اس معاملے میں۔ حادثے سے کیا مراد ہے؟ معاملہ۔ اسی قسم کا معاملہ تھا نا اس میں حضرت عمر نے قاضی شریح کو خط لکھا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس خط کے اندر لکھتے ہیں: لَبَّسَا فَلُبِّسَ عَلَيْهِمَا، لَبَّسَ يُلَبِّسُ تلبیس کا معنیٰ ہے حقیقت چھپانا۔ حضرت عمر لکھتے ہیں: لَبَّسَا کہ ان دونوں نے ان دونوں شریکوں نے حقیقت کو چھپایا ہے فَلُبِّسَ عَلَيْهِمَا تو ان پر حقیقت چھپا دی گئی۔ انہوں نے معاملے کو چھپایا تو ان پر بھی حقیقت چھپا دی گئی، وَلَوْ بَيَّنَا اگر یہ دونوں حقیقت بیان کر دیتے لَبُيِّنَ لَهُمَا تو ان کے لیے حقیقت بیان کر دی جاتی۔ یہ یوں کہیں لَبَّسَا کہ دونوں نے نسب کو چھپایا ہے فَلُبِّسَ عَلَيْهِمَا تو اس نسب کو ان پر چھپا دیا گیا، وَلَوْ بَيَّنَا لَبُيِّنَ لَهُمَا اگر یہ دونوں بیان کر دیتے تو ان کے لیے بیان کر دیا جاتا، وَهُوَ ابْنُهُمَا یہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے الفاظ ذکر کر رہے ہیں، وَهُوَ ابْنُهُمَا اور یہ لڑکا جو ہے دونوں کا بیٹا ہے، يَرِثُهُمَا یہ دونوں کا وارث ہوگا، وَيَرِثَانِهِ اور یہ دونوں بھی اس لڑکے کے وارث ہوں گے، وَهُوَ لِلْبَاقِي مِنْهُمَا اور یہ لڑکا ان دونوں میں سے جو باقی ہوا اس کے لیے ہے، یعنی پھر اس صورت میں وہ جو ایک باپ باقی ہے اسی کو ساری وراثت ملے گی۔ تو کہتے ہیں: وَهُوَ لِلْبَاقِي مِنْهُمَا اور یہ لڑکا جو ہے ان دونوں میں سے جو باقی ہوا یعنی جو زندہ ہوا اس کے لیے ہے، وَكَانَ ذَلِكَ بِمَحْضَرٍ مِنَ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمْ اور یہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ واقعہ جو ہے صحابہ کی موجودگی میں ہوا، معلوم ہوا اس پر صحابہ کا بھی اجماع ہو گیا کہ اس طرح واقعہ ہو تو دونوں سے نسب ثابت ہو جائے گا جب ترجیح کی کوئی صورت نہ ہو بھئی۔
وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ مِثْلُ ذَلِكَ اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی اسی کے مثل روایت کیا گیا ہے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو ہیں وہ جب یمن کے اندر یمن کے اندر جب قاضی تھے تو اسی طرح کا واقعہ پیش آیا تو حضرت علی نے اس بچے کا نسب دونوں سے قرار دیا اور دونوں پر اس بچے کا نفقہ واجب کیا اور کہتے ہیں پھر حضور علیہ السلام کو یہ خبر ملی، حضور کی زندگی میں یہ واقعہ ہوا تھا، حضور علیہ السلام کو یہ خبر ملی تو حضور مسکرانے لگ پڑے۔
تو کہتے ہیں: وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ مِثْلُ ذَلِكَ اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی اسی کے مثل روایت ہے، وَلِأَنَّهُمَا اسْتَوَيَا فِي سَبَبِ الِاسْتِحْقَاقِ اب عقلی دلیل ذکر کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں دونوں سے نسب کیوں ثابت ہوگا؟ اب عقلی دلیل ذکر کر رہے ہیں بھئی، تو کہتے ہیں: وَلِأَنَّهُمَا اسْتَوَيَا فِي سَبَبِ الِاسْتِحْقَاقِ اور اس لیے کیونکہ یہ دونوں شریک جو ہیں برابر ہیں سببِ استحقاق میں، یعنی دونوں کی ملکیت تھی اس باندی کے اندر، تو سببِ استحقاق میں دونوں برابر ہیں، فَيَسْتَوِيَانِ فِيهِ تو اس بچے کے اندر دونوں برابر ہوں گے، وَالنَّسَبُ وَإِنْ كَانَ لَا يَتَجَزَّأُ اور نسب جو ہے اگرچہ اس کی تقسیم نہیں ہو سکتی، وَلَكِنْ تَتَعَلَّقُ بِهِ أَحْكَامٌ مُتَجَزِّئَةٌ لیکن اس کے ساتھ تقسیم ہونے والے احکام کا تعلق ہوتا ہے۔
یاد رکھو، یاد رکھو یہاں نسب کے سلسلے میں بعض احکام وہ ہیں جن میں تقسیم ہو سکتی ہے، مثلاً میراث۔ میراث جو ہے وارثوں کے اندر تقسیم ہوتی ہے۔ اسی طرح نفقہ جو ہے، نفقہ بھی تقسیم ہوتا ہے، آپ نے پڑھا ہے کہ اگر ایک شخص کے دو بیٹے ہیں اور یہ شخص ضعیف ہے بوڑھا ہے تو دونوں بچوں پر اس کا نفقہ آئے گا۔ تو میراث کے اندر بھی تقسیم ہوتی ہے، اسی طرح نفقے کے اندر بھی تقسیم ہوتی ہے۔ تو نسب کے ساتھ بعض ایسے احکام جڑے ہوئے ہیں جن میں تقسیم ہوتی ہے۔ تقسیم ہوتی ہے، اور بعض احکام اس نسب کے ساتھ ایسے جڑے ہوئے ہیں
جن میں تقسیم نہیں۔ تو جن احکام میں تقسیم ہوتی ہے، وہ دونوں کے لیے تقسیم ہو کر ثابت ہو جائیں گے۔ دونوں کے لیے تقسیم ہو کر ثابت ہو جائیں گے اور جن احکام میں تقسیم نہیں ہوتی، تو وہ پورے پورے دونوں کے لیے ثابت ہو جائیں گے۔ مثلاً بچے کا نفقہ ہے، نفقے میں تقسیم ہوتی ہے، لہٰذا دونوں پر بچے کا نفقہ واجب ہو جائے گا، نصف ایک پر اور نصف دوسرے پر۔ اور اسی طرح میراث کے اندر بھی تقسیم ہوتی ہے، تو دونوں کے اندر بچے کی میراث تقسیم ہو گی۔ دونوں کو ایک باپ کا حصہ ملے گا اور اس کو آپس میں تقسیم کر لیں گے اگر بچے کا انتقال ہوا اور اس نے کچھ مال چھوڑا۔ اور نسب کے ساتھ جڑے ہوئے کچھ احکام ایسے ہیں جن میں تقسیم نہیں ہوتی، جیسے بچے پر باپ کو ولایت حاصل ہوتی ہے باپ کو، اور اس ولایت کے اندر تقسیم نہیں ہو سکتی۔ جب اس ولایت کے اندر تقسیم نہیں ہو سکتی، تو یہ دونوں جو باپ ہیں دونوں کے لیے پوری پوری ولایت ثابت ہو جائے گی۔ دونوں بچے کا نکاح کروا سکتے ہیں، دونوں کو پوری پوری ولایت حاصل ہو جائے گی بھئی۔ اور اسی طرح نسب خود بھی تقسیم نہیں ہوتا، تو دونوں سے پورا پورا نسب ثابت ہو جائے گا بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَالنَّسَبُ وَإِنْ كَانَ لَا يَتَجَزَّأُ“، اور نسب جو ہے اگرچہ وہ خود تقسیم نہیں ہوتا، ”وَلَكِنْ تَتَعَلَّقُ بِهِ أَحْكَامٌ مُتَجَزِّئَةٌ“، لیکن اس کے ساتھ ایسے احکام کا تعلق ہوتا ہے جو تقسیم ہو جاتے ہیں، ”فَمَا يَقْبَلُ التَّجْزِئَةَ“، پس وہ احکام جو تقسیم کو قبول کر لیتے ہیں، ”يَثْبُتُ فِي حَقِّهِمَا عَلَى التَّجْزِئَةِ“، تو وہ احکام ثابت ہو جائیں گے دونوں شریکوں کے حق میں تقسیم کے طریقے پر، ”وَمَا لَا يَقْبَلُهَا“، اور وہ احکام جو تقسیم کو قبول نہیں کرتے، ”يَثْبُتُ فِي حَقِّ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا كَامِلًا“، وہ ان دونوں میں سے ہر ایک کے حق میں پورا پورا ہو کر ثابت ہوگا، ”كَأَنْ لَيْسَ مَعَهُ غَيْرُهُ“، گویا کہ اس کے ساتھ کوئی اور ہے ہی نہیں۔ جو حکم تقسیم کو قبول نہیں کرتا، وہ ہر ایک کے حق میں پورا پورا ثابت ہو جائے گا جیسے اس کے ساتھ کوئی اور ہے ہی نہیں، یہی اکیلا ہے۔ تو ایک کے حق میں بھی پورا ثابت ہوگا اور دوسرے کے حق میں بھی پورا ثابت ہوگا بھئی۔
”إِلَّا إِذَا كَانَ أَحَدُ الشَّرِيكَيْنِ أَبًا لِلْآخَرِ“، ہاں، بعض صورتوں میں ترجیح ممکن ہوتی ہے، تو وہاں پھر ترجیح پر ہم عمل کریں گے۔ یہاں تو دونوں آدمی شریک تھے باندی کے اندر اور دونوں نے اکٹھا دعویٰ کیا ہے، لہٰذا یہاں تو ترجیح کی کوئی صورت نہیں، لیکن بعض اوقات ترجیح کی صورت ہوگی تو پھر جس کو ترجیح ہوگی اسی سے نسب ثابت ہوگا، دوسرے سے نسب ثابت نہیں ہوگا۔ مثلاً ایک باندی ہے، وہ ایک مسلمان اور ذمی کے درمیان مشترکہ ہے، یعنی ایک مسلمان ہے دوسرا کافر ہے، تو مسلمان کو ترجیح ہوگی اسلام کی وجہ سے۔ مسلمان اور ذمی دونوں نے دعویٰ کر دیا کہ یہ میرا بچہ ہے، تو مسلمان کو ترجیح ہوگی، مسلمان سے اس بچے کا نسب ثابت ہوگا، اس ذمی سے بچے کا نسب ثابت نہیں ہوگا۔ اسی طرح ایک باندی کے اندر باپ اور بیٹا دونوں شریک ہیں اور پھر باندی نے بچے کو جنم دیا، تو باپ نے بھی دعویٰ کر دیا اور بیٹے نے بھی دعویٰ کر دیا، دونوں نے اکٹھا دعویٰ کیا، تو یہاں پر باپ کو ترجیح دی جائے گی۔ وجہ یہ کہ باپ اپنے حصے کا بھی مالک ہے باندی کے اندر اور بیٹے کے حصے کے اندر بھی اس کو حق تملک ہے، مالک بننے کا حق ہے، تو باپ کو ترجیح دی جائے گی، اس بچے کا نسب باپ سے ثابت ہوگا۔ بات سمجھ میں آگئی؟
تو کہتے ہیں: ”إِلَّا إِذَا كَانَ أَحَدُ الشَّرِيكَيْنِ أَبًا لِلْآخَرِ“، مگر یہ کہ ان دو شریکوں میں سے ایک جو ہے وہ دوسرے کا باپ ہو، ”أَوْ كَانَ أَحَدُهُمَا مُسْلِمًا وَالْآخَرُ ذِمِّيًّا“، یا ان دونوں میں سے ایک مسلمان ہو اور دوسرا ذمی ہو، ”لِوُجُودِ الْمُرَجِّحِ فِي حَقِّ الْمُسْلِمِ“، بوجہ مرجح کے پائے جانے کے مسلمان کے حق میں، مرجح یعنی ترجیح دینے والی چیز پائی جا رہی ہے مسلمان کے حق میں، ”وَهُوَ الْإِسْلَامُ“، اور وہ اسلام ہے بھئی، ”وَفِي حَقِّ الْأَبِ“، اور باپ کے حق میں بھی مرجح پایا جا رہا ہے، ”وَهُوَ مَا لَهُ مِنَ الْحَقِّ فِي نَصِيبِ الِابْنِ“، یہ ترجمہ سمجھ لیں بھئی، ”وَهُوَ مَا لَهُ“، اور وہ جو ہے ”مَا لَهُ“، وہ جو باپ کے لیے ثابت ہے، اور وہ وہ چیز ہے جو باپ کے لیے ثابت ہے، بھئی وہ کیا چیز ہے؟ ”مِنَ الْحَقِّ“، یعنی کہ حق بھئی، تو یہ ”مِنَ الْحَقِّ“ بیان ہے ”مَا لَهُ“ کا۔ وہ کیا چیز ہے جو باپ کے لیے ثابت ہے؟ وہ باپ کا حق ہے ”فِي نَصِيبِ الِابْنِ“، بیٹے کے حصے میں۔ تو یہاں یوں کریں، اب یہ جو ”مَا“ آیا ہے، اس کی جگہ یہ حق کو اٹھا کر لے آئیں پھر ترجمہ کریں۔ اب سنیے ترجمہ۔ تو کہتے ہیں: ”وَفِي حَقِّ الْأَبِ“، اور باپ کے حق میں بھی مرجح پایا جا رہا ہے، ”وَهُوَ مَا لَهُ مِنَ الْحَقِّ فِي نَصِيبِ الِابْنِ“، اور وہ جو باپ کا حق ہے بیٹے کے حصے میں وہ مرجح ہے۔ وہ مرجح جو ہے وہ جو باپ کا حق ہے بیٹے کے حصے میں۔
”وَسُرُورُ النَّبِيِّ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ فِيمَا رُوِيَ“، اب یہاں سے جواب دے رہے ہیں امام شافعی رحمہ اللہ کو۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ حضور علیہ السلام خوش ہوئے تھے تو معلوم ہوا قیافہ شناسی حق ہے، جب قیافہ شناسی حق ہے تو اسی کی مدد لی جائے گی اور اس کے ذریعے نسب کا پتہ چلائیں گے۔ ہم کہتے ہیں کہ حضور علیہ السلام اس لیے خوش ہوئے تھے کہ حضور علیہ السلام کو ان دونوں سے بڑی محبت تھی اور کفار ان کے نسب میں طعنہ دیتے تھے کہ یہ اس کا بچہ نہیں ہے، تو قیافہ شناس کے قول سے ان کفار کے طعنے کا رد ہو گیا، تو اس لیے حضور علیہ السلام خوش ہوئے تھے۔ تو کہتے ہیں: ”وَسُرُورُ النَّبِيِّ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ فِيمَا رُوِيَ“، اور حضور علیہ السلام کا خوش ہونا اس واقعے میں جو روایت کیا گیا، ”لِأَنَّ الْكُفَّارَ كَانُوا يَطْعَنُونَ فِي نَسَبِ أُسَامَةَ“، اس لیے کیونکہ کفار جو ہیں وہ طعنہ لگاتے تھے یعنی وہ اعتراض کرتے تھے ”فِي نَسَبِ أُسَامَةَ“، اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نسب میں، ”وَكَانَ قَوْلُ الْقَائِفِ مُقْطِعًا لِطَعْنِهِمْ“، اور وہ قیافہ شناس کا جو قول تھا ”مُقْطِعًا لِطَعْنِهِمْ“، وہ کفار کے طعنے کو کاٹنے والا تھا، کفار کے طعنے کو اس نے کاٹ دیا تھا، اس کو رد کر دیا تھا، ”فَسُرَّ بِهِ“، تو اس وجہ سے حضور علیہ السلام خوش ہوئے بھئی۔
آگے دیکھیے: ”وَكَانَتِ الْأَمَةُ أُمَّ وَلَدٍ لَهُمَا“، اور یہ جو باندی ہے دونوں کی ام ولد ہو گی، جب بچے کا نسب دونوں سے ثابت ہو گیا تو باندی بھی دونوں کی ام ولد ہو گئی بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَكَانَتِ الْأَمَةُ أُمَّ وَلَدٍ لَهُمَا“، اور یہ باندی جو ہے دونوں شریکوں کی ام ولد ہو جائے گی، ”لِصِحَّةِ دَعْوَةِ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا فِي نَصِيبِهِ فِي الْوَلَدِ“، یہاں بھی چاہے دعوۃ پڑھ لیں یا دعویٰ پڑھ لیں کیونکہ بعض علماء نے لکھا ہے کہ نسب کے اندر دعویٰ کا لفظ بولا جاتا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”لِصِحَّةِ دَعْوَةِ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا فِي نَصِيبِهِ فِي الْوَلَدِ“، اس لیے کیونکہ ان دونوں میں سے ہر ایک کا دعویٰ صحیح ہے ”فِي نَصِيبِهِ فِي الْوَلَدِ“، اس کا جو حصہ ہے بچے میں، اس کا جو حصہ ہے بچے میں تو دونوں کا دعویٰ صحیح ہے، ”فَيَصِيرُ نَصِيبُهُ مِنْهَا أُمَّ وَلَدٍ تَبَعًا لِوَلَدِهَا“، تو لہٰذا اس کا حصہ بھی اس کا ام ولد ہو جائے گا بچے کے تابع ہو کر۔ بھئی بچے کا نسب دونوں سے ثابت ہے کیونکہ دونوں کا بچے میں حصہ ہے، اور بچے کے تابع ہو کر یہ باندی بھی دونوں کی ام ولد ہو جائے گی۔ یہ معنی ہے: ”فَيَصِيرُ نَصِيبُهُ مِنْهَا أُمَّ وَلَدٍ تَبَعًا لِوَلَدِهَا“، اور اس باندی میں سے جو ہر ایک کا جو حصہ ہے، وہ اس کا ام ولد ہو جائے گا ”تَبَعًا لِوَلَدِهَا“، اس باندی کے بچے کے تابع ہو کر۔
”وَعَلَى كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا نِصْفُ الْعُقْرِ قِصَاصًا بِمَا لَهُ عَلَى الْآخَرِ“، اچھا بھئی! دونوں پر نصف عقر بھی واجب ہو گا۔ جب بچے کا نسب دونوں سے ثابت ہوا ہے، معلوم ہوا دونوں نے وطی کی ہے۔ تو جب دونوں نے وطی کی ہے، تو باندی کے اندر تو دوسرے کا بھی حصہ تھا، لہٰذا ہر ایک پر نصف عقر واجب ہو جائے گا دوسرے شریک کے لیے اور پھر وہاں مقاصہ ہو جائے گا۔ مقاصہ کہتے ہیں ایک دین کو دوسرے دین کا بدل قرار دے کر حساب پورا کر دینا۔ مثلاً دیکھو، آپ نے میرے بیس ہزار روپے ادا کرنے ہیں اور پھر میں نے آپ سے کچھ کتابیں خرید لیں، ان کتابوں کی قیمت بھی بیس ہزار تھی، تو اب آپ نے بھی میرے بیس ہزار دینے ہیں اور میں نے بھی آپ کے بیس ہزار دینے ہیں، تو میں کہتا ہوں کہ بھئی یہ بیس ہزار ان بیس ہزار کے بدلے میں پورے ہو گئے، اس کو کہتے ہیں مقاصہ۔ ایک دین کو دوسرے دین کا بدل قرار دے کر حساب چکا دینا، حساب پورا کر دینا، اس کو کیا کہتے ہیں؟ مقاصہ۔ تو دونوں شریکوں میں سے ہر ایک پر نصف نصف عقر آ رہا ہے، تو یہاں پر بھی مقاصہ ہو جائے گا۔ ایک پر جو نصف عقر ہے، اس کا مقاصہ ہو جائے گا دوسرے کے نصف عقر کے ساتھ بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَعَلَى كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا نِصْفُ الْعُقْرِ“، اور ان دونوں میں سے ہر ایک پر نصف عقر ہو گا، ”قِصَاصًا“، بطور بدلے کے، ”بِمَا لَهُ عَلَى الْآخَرِ“، اس کے عوض میں جو دوسرے پر واجب ہے۔ ہر ایک پر نصف عقر واجب ہو گا اس کے بدلے میں جو دوسرے پر واجب ہو رہا ہے یعنی نصف عقر۔ تو یہ معنی ہے: ”وَعَلَى كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا نِصْفُ الْعُقْرِ“، اور ان دونوں میں سے ہر ایک پر نصف عقر واجب ہو گا، ”قِصَاصًا بِمَا لَهُ عَلَى الْآخَرِ“، بدلے کے طور پر وہ جو دوسرے پر نصف عقر واجب ہو رہا ہے۔
”وَيَرِثُ الِابْنُ مِنْ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِيرَاثَ ابْنٍ كَامِلٍ“، اور یہ بچہ وارث ہو گا ان دونوں میں سے ہر ایک سے ”مِيرَاثَ ابْنٍ كَامِلٍ“، ایک پورے بیٹے کی میراث کا۔ یہ بچہ پورے بیٹے کی میراث کا وارث ہو گا، ”لِأَنَّهُ أَقَرَّ لَهُ بِمِيرَاثِهِ كُلِّهِ“، اس لیے کیونکہ دونوں میں سے ہر ایک نے اقرار کیا ہے اس کے لیے ساری میراث کا۔ یعنی دونوں نے کہا ہے یہ میرا بیٹا ہے، تو دونوں نے اس کے لیے گویا میراث کا اقرار کر لیا ہے۔ تو ”لِأَنَّهُ أَقَرَّ لَهُ بِمِيرَاثِهِ كُلِّهِ“، اس لیے کیونکہ ان دونوں میں سے ہر ایک نے اس کے لیے اس کی پوری میراث کا اقرار کیا ہے، ”وَهُوَ حُجَّةٌ فِي حَقِّهِ“، اور یہ اقرار ان کے حق میں حجت ہے۔ یہ اقرار ان دونوں کے حق میں حجت ہے تو دونوں کو اب یہ حصہ دینا پڑے گا۔ ”وَيَرِثَانِ مِنْهُ مِيرَاثَ أَبٍ وَاحِدٍ“، اور یہ دونوں اس بچے سے وارث ہوں گے ”مِيرَاثَ أَبٍ وَاحِدٍ“، ایک ہی باپ کی میراث کے۔ یعنی دونوں کو ایک ہی باپ کی میراث ملے گی کیونکہ دونوں میں سے حقیقت میں ایک باپ ہے البتہ وہ معلوم نہیں ہے، تو ایک ہی باپ کی میراث، ایک ہی باپ کا حصہ دونوں میں آدھا آدھا تقسیم کر دیا جائے گا۔ یہ معنی ہے: ”وَيَرِثَانِ مِنْهُ مِيرَاثَ أَبٍ وَاحِدٍ“، اور یہ دونوں وارث ہوں گے اس بچے سے ایک ہی باپ کی میراث کے، ”لِاسْتِوَائِهِمَا فِي السَّبَبِ“، اس وجہ سے کہ سبب میراث میں دونوں برابر ہیں، ”كَمَا إِذَا أَقَامَا الْبَيِّنَةَ“، جیسے یہ دونوں قائم کر دیں البینۃ گواہی کو۔ بھئی دیکھو، جیسے ایک ہی چیز کے بارے میں زید کے پاس ایک چیز ہے، دو آدمی آ گئے دونوں نے دعویٰ کر دیا کہ یہ چیز ہماری ہے، اور زید کہتا ہے نہیں یہ چیز ان کی نہیں ہے، اور دونوں نے گواہ پیش کر دیے، تو یہ چیز دونوں کے درمیان مشترکہ ہو جائے گی، اس کو دونوں میں تقسیم کر دیا جائے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہاں پر بھی سبب دونوں کے لیے پایا جا رہا ہے، دونوں نے اقرار کیا ہے، دونوں سے نسب ثابت ہوا ہے، لہٰذا دونوں برابر ہوں گے میراث کے اندر۔ ایک ہی باپ کی میراث دونوں کو مل جائے گی۔ یہ معنی ہے: ”لِاسْتِوَائِهِمَا فِي السَّبَبِ“، بوجہ برابر ہونے کے دونوں کے سبب کے اندر، ”كَمَا إِذَا أَقَامَا الْبَيِّنَةَ“، جیسے کہ دونوں بینہ قائم کر دیں۔
”وَإِذَا وَطِئَ الْمَوْلَى جَارِيَةَ مُكَاتَبِهِ فَجَاءَتْ بِوَلَدٍ فَادَّعَاهُ فَإِنْ صَدَّقَهُ الْمُكَاتَبُ ثَبَتَ نَسَبُ الْوَلَدِ مِنْهُ“. صورت مسئلہ یہ کہ ایک شخص نے اپنے غلام کو مکاتب بنا دیا اور یہ مکاتب جو ہے اب وہ پیسے ادا کر رہا ہے ہر مہینے اور اس نے آزاد ہونا ہے۔ تو یہ مکاتب تجارت کر رہا ہے اور اس نے اس کے پاس مال اکٹھا ہوتا جا رہا ہے، اس نے غلاموں اور باندیوں کی تجارت بھی شروع کر دی۔ پھر اسی مکاتب کی ایک باندی کے ساتھ اس کے آقا نے صحبت کر لی، اس کے آقا نے صحبت کر لی۔ اب یاد رکھو، یہ جو باندی ہے یہ مکاتب کی ہے، آقا کی باندی نہیں ہے۔ آقا کی باندی نہیں ہے، تو لہٰذا یہاں پر حد آنی چاہیے، حد آنی چاہیے، لیکن چونکہ آقا کا یہ خیال تھا کہ یہ تو میرے اپنے غلام کی کمائی ہے یہ باندی، تو اس لیے میرے لیے اس کے ساتھ صحبت جائز ہے، اس لیے یہاں حد زنا آقا پر جاری نہیں ہو گی۔ تو پھر اس باندی نے ایک بچے کو جنم دیا اور آقا نے دعویٰ کر دیا کہ یہ میرا بچہ ہے، تو کیا اس بچے کا نسب آقا سے ثابت ہو جائے گا؟ اور کیا یہ باندی اس کی ام ولد بن جائے گی؟ تو فقہاء فرماتے ہیں کہ اگر مکاتب نے تصدیق کر دی تو پھر تو بچے کا نسب آقا سے ثابت ہو جائے گا، اگر مکاتب نے تصدیق نہ کی تو پھر بچے کا نسب آقا سے ثابت بھی نہیں ہو گا۔ اور نیز بچے کا نسب ثابت ہو بھی جائے، پھر بھی یہ باندی اس آقا کی ام ولد نہیں بنے گی۔ یہ باندی اس آقا کی ام ولد نہیں بنے گی کیونکہ اس باندی کے اندر آقا کی ملکیت نہیں ہے بھئی، اور ام ولد ہونے کے لیے کیا ضروری ہے؟ کہ اس باندی میں ملکیت ہو۔ مسئلہ سمجھ میں آ گیا؟
تو کہتے ہیں: ”وَإِذَا وَطِئَ الْمَوْلَى جَارِيَةَ مُكَاتَبِهِ“، اور جب آقا نے صحبت کر لی اپنے مکاتب کی باندی سے، ”فَجَاءَتْ بِوَلَدٍ“، تو وہ ایک بچے کو لے آئی یعنی اس نے ایک بچے کو جنم دیا، ”فَادَّعَاهُ“، تو آقا نے اس کا دعویٰ کر دیا، ”فَإِنْ صَدَّقَهُ الْمُكَاتَبُ“، تو اگر مکاتب نے آقا کی تصدیق کر دی، ”ثَبَتَ نَسَبُ الْوَلَدِ مِنْهُ“، تو پھر اس بچے کا نسب آقا سے ثابت ہو جائے گا۔ اور اگر مکاتب نے تصدیق نہ کی تو نسب ثابت نہیں ہو گا۔ تو کہتے ہیں: ”ثَبَتَ نَسَبُ الْوَلَدِ مِنْهُ“، اگر مکاتب نے تصدیق کر دی تو اس بچے کا نسب آقا سے ثابت ہو جائے گا۔
”وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ أَنَّهُ لَا يُعْتَبَرُ تَصْدِيقُهُ“، اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے روایت ہے، امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہاں مکاتب کی تصدیق کا کوئی اعتبار نہیں، بس جب آقا نے کہہ دیا کہ یہ میرا بچہ ہے تو خود بخود نسب ثابت ہو جائے گا۔ مکاتب کی تصدیق یا تکذیب کو نہیں دیکھا جائے گا۔ وہ اس کو قیاس کرتے ہیں وہ جو باپ نے بیٹے کی باندی سے صحبت کی اس پر۔ جیسے باپ بیٹے کی باندی سے صحبت کر لے اور باندی بچے کو جنم دے اور باپ دعویٰ کر دے یہ میرا بچہ ہے، تو وہ نسب ثابت ہو جاتا ہے، وہاں بیٹے کی تصدیق یا تکذیب کو نہیں دیکھا جاتا۔ توجہ ہے؟ تو جیسے باپ کے مسئلے کے اندر بیٹے کی تصدیق یا تکذیب کو نہیں دیکھا جاتا، تو یہاں مکاتب کے مسئلے میں بھی آقا کے دعوے سے نسب ثابت ہو جائے گا، مکاتب کی تصدیق یا تکذیب کو نہیں دیکھا جائے گا۔
تو کہتے ہیں: ”وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ“، اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے روایت ہے، ”أَنَّهُ لَا يُعْتَبَرُ تَصْدِيقُهُ“، کہ مکاتب کی تصدیق کا کوئی اعتبار نہیں ہے، ”اعْتِبَارًا بِالْأَبِ يَدَّعِي وَلَدَ جَارِيَةِ ابْنِهِ“، قیاس کرتے ہوئے باپ پر جو دعویٰ کرتا ہے اپنے بیٹے کی باندی کے بچے کا، اس باپ پر قیاس کرتے ہوئے۔ ”وَوَجْهُ الظَّاهِرِ“، اور ظاہر روایت کی وجہ، بھئی اوپر متن میں تو آیا کہ مکاتب کی تصدیق معتبر ہے، وہ تصدیق کرے گا تو نسب ثابت ہو گا۔ تو معلوم ہوا ظاہر روایت میں باپ کے دعوے میں اور آقا کے اس دعوے میں فرق کیا گیا ہے۔ اب اس فرق کی وجہ کیا ہے؟ باپ کے مسئلے میں بیٹے کی تصدیق معتبر نہیں اور مکاتب کے مسئلے میں مکاتب کی تصدیق معتبر ہے، یہ فرق کیوں ہے؟ اب اس کی وجہ بیان کریں گے۔
کہتے ہیں: ”وَوَجْهُ الظَّاهِرِ“، اور ظاہر روایت کی وجہ جو ہے، ”وَهُوَ الْفَرْقُ“، اور وہی فرق بھی ہے۔ ظاہر روایت کی وجہ یہ ہے اور یہی فرق بھی ہے۔ کیا وجہ ہے؟ وہ آگے ذکر کر رہے ہیں۔ بھئی ادھر دیکھیے، بھئی وجہ یہ کہ باپ کا بیٹے کے مال میں حق تملک ہوتا ہے، باپ حاجت کی وجہ سے بیٹے کے مال کا مالک بن سکتا ہے، جبکہ مکاتب کا جو مال ہے آقا کا اس کے اندر حق تملک نہیں ہے، حق ملکیت ہے، کیونکہ مکاتب نے یہ لا کر آقا ہی کو دینا ہے اور اگر یہ مکاتب عاجز آ گیا پیسے کمانے سے، تو پھر اس صورت میں یہ سارا کچھ آقا کا ہو جائے گا۔ تو آقا کا حق ملکیت ہے مکاتب کے مال میں، لیکن حق تملک نہیں ہے کہ مالک ہی بن جائے ایسا نہیں ہے۔ بھئی باپ کا تو بیٹے کے مال میں حق تملک ہے، حاجت کے وقت وہ اس کا مالک بن سکتا ہے، لیکن آقا حاجت کی وجہ سے مکاتب کے مال کا مالک نہیں بن سکتا۔ حق ملکیت ہے، حق تملک نہیں ہے۔ ہاں اگر مکاتب عاجز آ گیا پھر یہ سارا کچھ آقا کا ہو جائے گا، لیکن حاجت کی وجہ سے آقا اس کا مالک بن جائے ایسا نہیں ہے۔ تو دونوں میں فرق ہے۔ دونوں معاملوں میں باپ کو حق تملک حاصل ہے بیٹے کے مال میں، لیکن آقا کو مکاتب کے مال میں حق تملک حاصل نہیں، وہ حاجت کے وقت اس کے مال کا مالک نہیں بن سکتا۔
تو کہتے ہیں: ”وَوَجْهُ الظَّاهِرِ وَهُوَ الْفَرْقُ أَنَّ الْمَوْلَى لَا يَمْلِكُ التَّصَرُّفَ فِي أَكْسَابِ مُكَاتَبِهِ“، اور ظاہر روایت کی وجہ جو ہے اور وہی فرق بھی ہے، ظاہر روایت کی وجہ یہ ہے کہ آقا جو ہے وہ مالک نہیں ہے تصرف کرنے کا اپنے مکاتب کی کمائیوں میں، ”حَتَّى لَا يَتَمَلَّكُهُ“، یہاں تک کہ آقا جو ہے وہ مکاتب کی کمائیوں کا مالک بھی نہیں بن سکتا حاجت کے وقت بھئی۔ ”حَتَّى لَا يَتَمَلَّكُهُ“، یہاں پر ”حَتَّى“ ناصبہ نہیں دے گا بھئی، تو یہاں ”يَتَمَلَّكُهُ“ پر رفع پڑھیں گے۔ ”حَتَّى لَا يَتَمَلَّكُهُ“، یہاں تک کہ آقا جو ہے وہ حاجت کے وقت مکاتب کی کمائی کا مالک نہیں بن سکتا، ”وَالْأَبُ يَمْلِكُ تَمَلُّكَهُ“، اور باپ جو ہے وہ مالک ہے بیٹے کے مال کا مالک بننے کا۔ بیٹے کے مال کا مالک بننا، باپ اس چیز کا مالک ہے کہ وہ بیٹے کے مال کا مالک بن سکتا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْأَبُ يَمْلِكُ تَمَلُّكَهُ“، اور باپ جو ہے وہ مالک ہے بیٹے کے مال کے تملک کا، ”فَلَا مُعْتَبَرَ بِتَصْدِيقِ الِابْنِ“، لہٰذا اس لیے بیٹے کی تصدیق کا کوئی اعتبار نہیں، جبکہ مکاتب کی تصدیق کا اعتبار ہے بھئی۔
”وَعَلَيْهِ عُقْرُهَا“، اور آقا پر اس باندی کا عقر بھی واجب ہو گا، کیونکہ آقا نے مکاتب کی باندی سے صحبت کی ہے، تو اس صورت میں یا حد آتی ہے یا عقر آتا ہے، اور یہاں حد تو نہیں آئی البتہ عقر آ جائے گا، تو وہ اب آقا کو دینا پڑے گا۔ ”وَعَلَيْهِ عُقْرُهَا“، اور آقا پر اس باندی کا عقر واجب ہو گا یعنی اس کا مہر اب اسے دینا پڑے گا، ”لِأَنَّهُ لَا يَتَقَدَّمُهُ الْمِلْكُ“، اس لیے کیونکہ آقا کی ملکیت باندی پر مقدم نہیں ہے۔ باپ کے مسئلے میں تو باپ کی ملکیت بیٹے کی باندی پر مقدم ہو گئی تھی وطی کرنے سے پہلے، کیونکہ باپ کے لیے حق تملک ہے۔ جبکہ آقا کے لیے تو مکاتب کے مال میں حق تملک نہیں، لہٰذا آقا جو ہے مکاتب کی باندی کا مالک نہیں بنا، جب مالک نہیں بنا تو اس نے غیر کی باندی سے صحبت کی ہے، تو اب عقر دینا پڑے گا یعنی مہر دینا پڑے گا۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ لَا يَتَقَدَّمُهُ الْمِلْكُ“، اس لیے کیونکہ یہ آقا کی ملکیت آقا کی وطی پر مقدم نہیں ہے، ”لِأَنَّ مَا لَهُ مِنَ الْحَقِّ“، اس لیے کیونکہ آقا کے لیے وہ چیز جو ثابت ہے ”مِنَ الْحَقِّ“، یہ بیان ہے ”مَا لَهُ“ کا، تو یہ ”مَا“ کی جگہ اب حق کو لے آئیں: ”لِأَنَّ مَا لَهُ مِنَ الْحَقِّ“، اس لیے کیونکہ آقا کا جو حق ثابت ہے، یعنی آقا کا کیا حق ہے مکاتب کے مال میں؟ حق ملکیت ہے۔ حق تملک نہیں، حاجت کے وقت مالک بن جائے ایسا نہیں ہے۔ ہاں حق ملکیت ہے اگر مکاتب کمائی سے عاجز آ گیا تو آقا ان سب چیزوں کا مالک بن جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ مَا لَهُ مِنَ الْحَقِّ كَافٍ لِصِحَّةِ الِاسْتِيلَادِ لِمَا نَذْكُرُهُ“، اس لیے کیونکہ آقا کا جو حق ہے مکاتب کے مال میں ”كَافٍ“، وہ کافی ہے ”لِصِحَّةِ الِاسْتِيلَادِ“، یہاں پھر استیلاد کا ترجمہ طلب اولاد کے کریں گے، ام ولد بنانا نہیں اس کا ترجمہ کریں گے کیونکہ میں نے آپ کو بتلا دیا کہ آقا کے دعوے سے نسب تو ثابت ہو گا لیکن یہ باندی اس کی ام ولد نہیں بنے گی کیونکہ آقا اس کا مالک نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ مَا لَهُ مِنَ الْحَقِّ“، اس لیے کیونکہ آقا کا جو حق ثابت ہے، ”كَافٍ“، وہ کافی ہے ”لِصِحَّةِ الِاسْتِيلَادِ“، طلب اولاد کے صحیح ہونے کے لیے۔ استیلاد کا کیا ترجمہ کریں؟ طلب اولاد۔ طلب اولاد کے صحیح ہونے کے لیے یہ آقا کا حق کافی ہے، اس سے نسب تو ثابت ہو جائے گا لیکن ام ولد ہونا ثابت نہیں ہو گا۔ تو یہ حق جو ہے ”كَافٍ“، کافی ہے ”لِصِحَّةِ الِاسْتِيلَادِ“، طلب اولاد کے صحیح ہونے کے لیے، ”لِمَا نَذْكُرُهُ“، اس وجہ سے جو ہم ذکر کریں گے، آگے آپ کو بتلائیں گے۔
”وَقِيمَةُ وَلَدِهَا“، یہ متن ہے، متن کو متن سے جوڑیں، پیچھے آیا تھا: ”وَعَلَيْهِ عُقْرُهَا وَقِيمَةُ وَلَدِهَا“، اور آقا پر اس باندی کا عقر یعنی مہر بھی لازم ہو گا ”وَقِيمَةُ وَلَدِهَا“، اور اس باندی کے بچے کی قیمت بھی واجب ہو گی، وہ قیمت بھی اب آقا کو دینا پڑے گی، مکاتب کے حوالے کرنا پڑے گی۔ تو کہتے ہیں: ”وَقِيمَةُ وَلَدِهَا“، اور آقا پر اس بچے کی قیمت بھی ہے، ”لِأَنَّهُ فِي مَعْنَى الْمَغْرُورِ“، اس لیے کیونکہ یہ بھی مغرور کے معنی میں ہے۔ اس لیے کیونکہ یہ آقا بھی مغرور کے معنی میں ہے، مغرور کا کیا معنی تھا؟ جس کو دھوکہ دیا گیا ہو۔ یہاں آقا کو تو دھوکہ نہیں دیا گیا لیکن آقا خود ہی دھوکہ کھا گیا، وہ سمجھا تھا یہ میرے مکاتب کی باندی ہے تو یہ میرے لیے حلال ہو گی، حالانکہ وہ تو اس کے لیے حلال نہیں تھی بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ فِي مَعْنَى الْمَغْرُورِ“، اس لیے کیونکہ یہ آقا جو ہے یہ مغرور کے معنی میں ہے، ”حَيْثُ اعْتَمَدَ دَلِيلًا“، کیونکہ اس نے ایک دلیل پر اعتماد کیا، ”وَهُوَ أَنَّهُ كَسْبُ كَسْبِهِ“، اور وہ یہ کہ یہ اس کی کمائی کی کمائی ہے، یہ باندی اس کے مکاتب کی کمائی ہے۔ یہ مکاتب بھی کیا ہے؟ آقا کی کمائی ہے، اور مکاتب کی باندی وہ مکاتب کی کمائی ہے۔ توجہ ہے؟ تو آقا نے خیال کیا کہ جیسے یہ مکاتب میرا مملوک ہے تو اس کی باندی بھی میرے لیے حلال ہے کیونکہ وہ میرے غلام کی باندی ہے یعنی میری کمائی کی کمائی ہے۔ تو کہتے ہیں: ”حَيْثُ اعْتَمَدَ دَلِيلًا“، کیونکہ آقا نے ایک دلیل پر اعتماد کیا، ”وَهُوَ أَنَّهُ كَسْبُ كَسْبِهِ“، اور وہ یہ کہ یہ اس کی کمائی کی کمائی ہے، کہ یہ باندی، ”أَنَّهُ“ کی ہا ضمیر باندی کو لوٹائیں۔ ”وَهُوَ أَنَّهُ كَسْبُ كَسْبِهِ“، کہ یہ جو باندی ہے یہ اس کی کمائی کی کمائی ہے۔ آقا کی کمائی کون؟ مکاتب، اور مکاتب کی کمائی کیا؟ باندی، تو یہ جو باندی ہے یہ آقا کی کمائی کی کمائی ہے۔ اس پر اشکال ہوتا ہے کہ ”أَنَّهُ“ کی ہا ضمیر تو مذكر کی ہے اور باندی یہ تو مؤنث ہے؟ تو جواب یہ کہ یہ ضمیر راجع ہے باندی کو ”شَخْصٌ“ کی تاویل میں۔ یاد رکھو شخص کا اطلاق مذكر اور مؤنث دونوں پر ہوتا ہے، تو شخص کا لفظ تو مذكر ہے کیونکہ اس کے ساتھ کوئی تانیث کی علامت نہیں جڑی ہوئی، نہ گول تا ہے نہ الف مقصورہ ہے، تو تانیث کی کوئی علامت تو اس کے ساتھ جڑی ہوئی نہیں ہے لیکن یہ مذكر اور مؤنث دونوں پر بولا جاتا ہے، تو ”أَنَّهُ“ کی ہا ضمیر باندی کو راجع ہے ”شَخْصٌ“ کی تاویل میں کیونکہ باندی بھی ایک شخص ہے۔ یا دوسرا جواب یہ کہ ”أَنَّهُ“ کی ہا ضمیر یہ لوٹ رہی ہے باندی کی طرف اور باندی ہے مؤنث، تو مرجع ہے مؤنث اور آگے جو خبر آ رہی ہے ”كَسْبُ كَسْبِهِ“، تو یہ کسب کا لفظ تو مذكر ہے۔ اور جب ضمیر دائر ہو جائے بین المرجع والخبر، تو دونوں میں سے جس کی بھی آپ رعایت رکھنا چاہیں رکھ سکتے ہیں۔ آپ چاہیں تو مرجع کی رعایت رکھیں تو اس کے مطابق ضمیر لے آئیں، اور آپ چاہیں تو خبر کی رعایت رکھیں اور اس کے مطابق ضمیر لے آئیں، تو یہاں پر آگے کسب کا لفظ آ رہا ہے جو خبر ہے وہ مذكر تھی اس لیے ضمیر بھی مذكر کی لائے بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَهُوَ أَنَّهُ كَسْبُ كَسْبِهِ“، اور وہ یہ کہ یہ جو باندی ہے یہ آقا کی کمائی کی کمائی ہے، ”فَلَمْ يَرْضَ بِرِقِّهِ“، تو لہٰذا آقا راضی نہیں ہے اس بچے کے غلام ہونے پر، ”فَيَكُونُ حُرًّا بِالْقِيمَةِ“، تو یہ بچہ آزاد ہو گا قیمت کے عوض میں، ”ثَابِتًا النَّسَبِ مِنْهُ“، اور آقا سے ثابت النسب ہو گا۔ تو یہ ولد المغرور کے درجے میں ہوا اور ولد المغرور وہ قیمت کے عوض آزاد ہوتا ہے، تو یہ بچہ بھی قیمت کے عوض آزاد ہو گا اور آقا کو اس کی قیمت دینا پڑے گی۔ ”وَلَا تَصِيرُ الْجَارِيَةُ أُمَّ وَلَدٍ لَهُ“، اور یہ باندی جو ہے آقا کی ام ولد نہیں بنے گی، ”لِأَنَّهُ لَا مِلْكَ لَهُ فِيهَا حَقِيقَةً“، اس لیے کیونکہ آقا کی اس باندی میں کوئی ملکیت نہیں ہے حقیقۃً، حقیقت کے اعتبار سے۔ حقیقت کے اعتبار سے آقا کی اس میں کوئی ملکیت نہیں لہٰذا اس کی ام ولد نہیں ہو سکتی، ”كَمَا فِي وَلَدِ الْمَغْرُورِ“، جیسے کہ ولد مغرور میں ہے۔ جیسے ولد مغرور میں ہے، یاد رکھو یہاں ولد المغرور سے پہلے ”أُمّ“ کا لفظ مضاف محذوف نکال لیں: ”كَمَا فِي أُمِّ وَلَدِ الْمَغْرُورِ“، جیسے کہ ولد المغرور کی ماں کے مسئلے میں ہے۔ ولد المغرور کی ماں کے مسئلے میں ہے۔ مثلاً ایک آدمی ایک باندی کو خرید کر لے آیا اور اس باندی نے ایک بچے کو جنم دیا اور آقا نے کہا یہ میرا بچہ ہے، اب آقا کا یہ خیال ہے کہ یہ میری ام ولد ہو چکی ہے لیکن بعد میں اس باندی کا کوئی اور مستحق نکل آیا اور وہ باندی کو لے گیا، معلوم ہوا یہ باندی اس کی ام ولد نہیں بنی۔ تو جیسے ولد المغرور کی ماں جو باندی ہے وہ ام ولد نہیں بنتی اس کی، اس بچے کے باپ کی، اس آقا کی، تو اسی طرح یہاں پر بھی یہ جو مکاتب کی باندی ہے یہ آقا کی ام ولد نہیں بنے گی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
تو کہتے ہیں، دوبارہ ترجمہ دیکھیے: ”وَلَا تَصِيرُ الْجَارِيَةُ أُمَّ وَلَدٍ لَهُ“، اور یہ باندی جو ہے اس آقا کی ام ولد نہیں بنے گی، ”لِأَنَّهُ لَا مِلْكَ لَهُ فِيهَا حَقِيقَةً“، اس لیے کیونکہ آقا کی اس کے اندر حقیقۃً کوئی ملکیت نہیں ہے، ”كَمَا فِي وَلَدِ الْمَغْرُورِ“، جیسے کہ ولد المغرور کے مسئلے میں ہے، جیسے ولد المغرور کی جو ماں ہے اس کے اندر یہ جو دوسرا آقا تھا اس کی کوئی ملکیت نہیں تھی تو وہ اس کی ام ولد نہیں بنی تھی۔
آگے دیکھیے: ”وَإِنْ كَذَّبَهُ الْمُكَاتَبُ فِي النَّسَبِ لَمْ يَثْبُتْ“، اور اگر مکاتب نے جو ہے آقا کی تکذیب کر دی نسب میں، ”لَمْ يَثْبُتْ“، تو نسب ثابت نہیں ہو گا۔ آقا نے کہا یہ میرا بچہ ہے، مکاتب نے کہا نہیں یہ جھوٹ بول رہا ہے، تو اب نسب ثابت نہیں ہو گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ كَذَّبَهُ الْمُكَاتَبُ فِي النَّسَبِ لَمْ يَثْبُتْ“، اور اگر نسب کے اندر مکاتب نے آقا کی تکذیب کر دی تو نسب ثابت نہیں ہو گا، ”لِمَا بَيَّنَّا أَنَّهُ لَا بُدَّ مِنْ تَصْدِيقِهِ“، اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دیا کہ مکاتب کی تصدیق ضروری ہے، ”فَلَوْ مَلَكَهُ يَوْمًا“، تو اگر آقا جو ہے وہ اس بچے کا مالک بن گیا کسی دن، آقا اگر کسی دن اس بچے کا مالک بن گیا، ”ثَبَتَ نَسَبُهُ مِنْهُ“، تو اس بچے کا نسب آقا سے ثابت ہو جائے گا۔ پہلے مکاتب نے تکذیب کی تھی تو نسب ثابت نہیں ہوا تھا لیکن جب آقا کسی دن اس بچے کا مالک بن گیا تو اب وہ جو مانع تھا، مانع کیا تھا؟ کہ یہ بچہ مکاتب کا حق تھا، تو مکاتب کا حق مانع بن رہا تھا لیکن اب تو وہ مانع چلا گیا، آقا خود مالک بن گیا ہے اس بچے کا، تو تب نسب ثابت ہو جائے گا اور یہ بچہ آزاد ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”فَلَوْ مَلَكَهُ يَوْمًا“، اچھا یہاں ”يَوْمًا“ آیا، آپ کو صاحبِ ہدایہ نے بتلایا تھا کہ یوم کا لفظ جو ہے جب اس کی نسبت ہو ایسے فعل کی طرف جس میں جس میں امتداد نہ ہو تو پھر یہ وقت کے معنی میں ہوتا ہے، اور یہاں پر بھی آیا ”فَلَوْ مَلَكَهُ“، مالک بننا، اور مالک بننا اس میں امتداد نہیں ہوتا، ایک لمحے میں آپ مالک بن جاتے ہیں ایک چیز کے۔ کسی نے آپ کو کوئی کتاب دی تو آپ لیتے ہی مالک بن گئے، آپ جیسے ہی بیع کرتے ہیں بیع کرتے ہی چیز کے مالک بن جاتے ہیں، تو مالک بننے میں امتداد نہیں، اور یوم کا لفظ جب ایسے فعل کے ساتھ استعمال ہو جس میں امتداد نہ ہو تو پھر یہ وقت کے معنی میں ہوتا ہے، تو یہاں بھی یوم کا معنی وقت کے ساتھ کر لیں۔ تو کہتے ہیں: ”فَلَوْ مَلَكَهُ يَوْمًا“، اور اگر کسی وقت آقا اس بچے کا مالک بن گیا، ”ثَبَتَ نَسَبُهُ مِنْهُ“، تو اس بچے کا نسب آقا سے ثابت ہو جائے گا، ”لِقِيَامِ الْمُوجِبِ“، اس لیے کیونکہ موجب پایا جا رہا ہے۔ موجب یعنی وہ چیز جو ثابت کرنے والی ہے نسب کو، اور وہ کیا تھی؟ وہ آقا کا اقرار تھا۔ تو کہتے ہیں: ”لِقِيَامِ الْمُوجِبِ“، مثبت کے پائے جانے کی وجہ سے، ”وَزَوَالِ حَقِّ الْمُكَاتَبِ“، اور مکاتب کا حق زائل ہو جانے کی وجہ سے، ”إِذْ هُوَ الْمَانِعُ“، کیونکہ وہی مانع ہے بھئی۔ مکاتب کا حق ہی مانع ہے، جب وہ حق ختم ہو گیا تو اب آقا کا اقرار جو ہے اس کی وجہ سے وہ نسب ثابت ہو جائے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ حل ہو گیا۔ چلیے بس بھئی، ”هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ“.