Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء ثاني · dars-094

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 16 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 119
📂 Choose Format:
⭐ ★★★★★ Excellent TEXT
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
आगे سبق دیکھیے بھئی: "وَإِذَا كَانَتْ جَارِيَةٌ بَيْنَ رَجُلَيْنِ زَعَمَ أَحَدُهُمَا أَنَّهَا أُمُّ وَلَدٍ لِصَاحِبِهِ، وَأَنْكَرَ ذٰلِكَ الْآخَرُ فَهِيَ مَوْقُوفَةٌ يَوْمًا، وَيَوْمًا تَخْدُمُ الْمُنْكِرَ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللّٰهُ. وَقَالَا: إِنْ شَاءَ الْمُنْكِرُ اسْتَسْعَى الْجَارِيَةَ فِي نِصْفِ قِيمَتِهَا ثُمَّ تَكُونُ حُرَّةً لَا سَبِيلَ عَلَيْهَا۔" بھئی گزشتہ سبق میں آپ نے مسئلہ پڑھا تھا کہ دو افراد نے مل کر ایک غلام کو خریدا اور ان دونوں خریدنے والوں میں سے ایک اس غلام کا باپ ہے، تو جیسے ہی غلام کو خریدیں گے تو یہ جو باپ کا حصہ ہے وہ فوراً آزاد ہو جائے گا۔ تو دیکھو اس باپ نے دوسرے شریک کے حصے کو فاسد کر دیا، تو کیا وہ دوسرا شریک باپ سے ضمان لے سکتا ہے یا نہیں لے سکتا؟ تو امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ شریکِ آخر باپ سے ضمان نہیں لے سکتا، اس لیے کیونکہ وہ باپ کے ساتھ اس اعتاق کی علت میں شریک تھا اور اعتاق کی علت کیا تھی؟ دونوں کا اس غلام کو خریدنا اور جب خریدیں گے تو مالک بنیں گے اور جب باپ اپنے بیٹے کا مالک بنے گا تو وہ آزاد ہو جائے گا۔ تو دوسرا شریک باپ کے ساتھ اعتاق کی علت میں شریک ہے تو معلوم ہوا وہ باپ کے اعتاق پر راضی ہے چاہے اسے علم ہو یا علم نہ ہو کیونکہ حکم کا مدار جو ہے وہ علت اور سبب پر ہوتا ہے اور سبب کے اندر وہ شریکِ آخر باپ کے ساتھ شریک ہے، معلوم ہوا وہ اس بات پر راضی ہے کہ وہ غلام کا باپ اس کے حصے کو فاسد کر دے۔ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ اگر باپ مالدار ہے تو شریکِ آخر اس سے ضمان لے گا اور اگر باپ تنگ دست ہے تو پھر وہ غلام سے سعی کروا سکتا ہے، جبکہ امام صاحب کے نزدیک وہ شریکِ آخر باپ سے ضمان نہیں لے سکتا البتہ اپنے حصے کو چاہے تو ویسے ہی آزاد کر دے اور چاہے تو غلام سے سعی کروا لے۔ اور پھر آپ نے یہ بھی پڑھا کہ یہ جو دو شریکوں میں سے ایک شریک اپنے حصے کو آزاد کر دے اور دوسرا شریک اس سے ضمان لے لے کیونکہ معتق مالدار ہے، تو یہ جو ضمان ہے یہ ضمانِ افساد ہے۔ اور اسی کا نام ضمانِ اتلاف بھی ہے اور اسی کا نام ضمانِ جنایت بھی ہے اور ضمانِ افساد جو ہے یہ تنگ دستی اور مالداری سے بدلتا ہے۔ اگر وہ معتق مالدار ہے تو اس سے ضمانِ افساد لیا جاتا ہے اور اگر معتق تنگ دست ہے تو اس سے ضمانِ افساد نہیں لیا جا سکتا۔ جبکہ اس کے مقابلے میں دوسرا جو ضمان ہے وہ ضمانِ تملک ہے۔ میں نے بتایا تملک کا معنی ہے مالک بننا، تو اس کے اندر ایک شخص دوسرے شخص کے حصے کا مالک بن جاتا ہے تو لہٰذا وہاں پھر اس کو ضمان دینا پڑے گا اور یہ ضمان تنگ دستی اور مالداری سے بدلتا نہیں کیونکہ وہ مالک بن رہا ہے دوسرے کے حصے کا، جب مالک بن رہا ہے تو اسے اس کی قیمت ادا کرنا پڑے گی، تو یہ ہے ضمانِ تملک اور اسی کا نام ضمانِ معاوضہ بھی ہے بھئی۔ تو صاحبین اور امام صاحب دونوں کے نزدیک یہ جو اعتاق کے اندر ضمان لیا جاتا ہے یہ ضمانِ افساد ہے۔ اور پھر اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ یہ تو وہ صورت تھی کہ جب دونوں نے مل کر غلام کو خریدا ہو تو پھر صاحبین اور امام صاحب کا اختلاف ہے، صاحبین فرماتے ہیں ضمان لے سکتا ہے اور امام صاحب فرماتے ہیں ضمان نہیں لے سکتا۔ نیز اسی میں میں نے تفصیل بیان کی تھی کہ انسان کسی چیز کا مالک بنتا ہے تو دو صورتیں ہیں: یا تو وہ غیر اختیاری طور پر مالک بنے گا یا اپنے اختیار سے مالک بنے گا۔ تو یہ جو صاحبین اور امام صاحب کا اختلاف ہے یہ اس صورت میں ہے جب اختیاری طور پر ایک شخص ایک چیز کا مالک بن رہا ہو، تو بیع کے ذریعے بھی انسان اپنے اختیار سے چیز کا مالک بنتا ہے۔ ہبہ کے اندر بھی قبضہ ضروری ہے ورنہ ہبہ تام نہیں ہوتا، تو وہاں پر بھی اپنے اختیار سے انسان قبضہ کرتا ہے تو مالک بنتا ہے۔ صدقے کے اندر بھی فقیر جب صدقے پر قبضہ کرے گا تب مالک بنے گا، معلوم ہوا صدقے کے اندر بھی فقیر اپنے اختیار سے اس صدقے کا مالک بنتا ہے۔ اسی طرح وصیت کے اندر بھی موصیٰ لہٗ جب اس چیز پر قبضہ کرے گا تب مالک بنے گا۔ تو معلوم ہوا بیع، ہبہ، صدقہ اور وصیت، ان سب کے اندر امام صاحب اور صاحبین کا اختلاف ہے۔ امام صاحب کے نزدیک یہاں پر چونکہ علت کے اندر ایک شخص ساتھ شریک ہے لہٰذا معلوم ہوا اپنے حصے کے افساد پر راضی ہے، وہ ضمان نہیں لے سکتا۔ اور صاحبین فرماتے ہیں کہ ضمان لے سکتا ہے، اگر یہ معتق مالدار ہے تو صاحبین فرماتے ہیں اس سے ضمان لیا جا سکتا ہے اور اگر یہ مالدار نہیں ہے تو پھر غلام سے سعی کروائی جائے گی بھئی۔ تو یہ اختلاف ہے ان صورتوں میں جب اپنے اختیار سے مالک بنے اور اگر وراثت کے ذریعے باپ جو ہے اپنے بیٹے کا مالک بنتا ہے تو یہ تو غیر اختیاری طور پر مالک بننا ہے لہٰذا اس صورت کے اندر باپ سے ضمان نہیں لیا جا سکتا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ میں نے اس کی صورت ذکر کی تھی کہ مثلاً ایک عورت ہے اس کا ایک غلام ہے اور بعد میں اسی عورت نے اسی غلام کے باپ سے نکاح کر لیا، تو یہ غلام ابھی بھی اس عورت کا غلام ہے کیونکہ یہ باپ کا مملوک نہیں ہے بلکہ یہ اس عورت کا مملوک ہے، اس کی منکوحہ کا مملوک ہے۔ پھر بعد میں اس عورت کا انتقال ہوتا ہے اور اس نے اپنے پیچھے اس خاوند کو چھوڑا ہے جو اس کے غلام کا باپ ہے اور نیز اپنے بھئی کو چھوڑا ہے اس عورت نے، تو یہ عورت کا بھئی اور یہ غلام کا باپ یہ دونوں وارث ہو گئے اس غلام کے، تو یہاں غیر اختیاری طور پر باپ وارث ہوا ہے اور مالک بنا ہے لہٰذا اس صورت میں بالاتفاق یہ جو اس عورت کا بھئی ہے یہ باپ سے ضمان نہیں لے سکتا کیونکہ اس عورت کے بھئی کا حصہ جو فاسد ہوا اس کے اندر باپ کا کوئی عمل دخل نہیں ہے بھئی۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی بتلایا کہ اگر دونوں نے باپ اور شریکِ آخر نے الگ الگ بیع کی، پہلے اجنبی نے غلام کا کچھ حصہ خریدا اور پھر باپ نے اسی غلام کا کچھ حصہ خرید لیا جو اس کا بیٹا ہے، تو پھر اس صورت کے اندر اب دونوں نے چونکہ اکٹھا بیع والا عمل نہیں کیا تو شریکِ آخر باپ کے ساتھ علت کے اندر شریک نہیں ہے، جب علت میں شریک نہیں تو معلوم ہوا وہ اپنے حصے کے افساد پر بھی راضی نہیں، جب راضی نہیں ہے تو وہ باپ سے ضمان لے سکتا ہے بھئی۔ اور اس کے بعد پھر صاحبِ ہدایہ نے مسئلہ ذکر فرمایا کہ اگر یہ جو غلام ہے یہ سارا ایک ہی آدمی کا ہے اور پھر اس آدمی سے باپ نے نصف حصہ خرید لیا اپنے بیٹے کا، تو خریدتے ہی نصف حصہ آزاد ہو گیا، لیکن اس صورت کے اندر بھی امام صاحب کے نزدیک وہ جو غلام کا مالک ہے وہ باپ سے ضمان نہیں لے سکتا کیونکہ باپ نے یہ بیع اسی بائع کے ساتھ ہی تو کی ہے، تو بائع جو ہے اس اعتاق کی علت میں باپ کے ساتھ شریک ہے اور یہ اس کی رضامندی کی علامت ہے، معلوم ہوا وہ اپنے حصے کے افساد پر راضی ہے لہٰذا وہ باپ سے ضمان نہیں لے سکتا، جبکہ صاحبین کے نزدیک وہ ضمان لے سکتا ہے اگر باپ مالدار ہے بھئی۔ اور اس کے بعد پھر صاحبِ ہدایہ نے مسئلہ ذکر فرمایا تھا کہ ایک غلام ہے تین آدمیوں کے درمیان مشترک ہے بھئی، تو تین آدمی اس میں شریک ہیں، ان میں سے ایک شریک نے اپنے حصے کو مدبر بنا دیا اور امام صاحب کے نزدیک تدبیر کے اندر بھی تقسیم ہو سکتی ہے تو صرف اس کا حصہ مدبر بن گیا اور باقی دو جو ہیں ان کو اختیار ہے: وہ اپنے حصے کو چاہیں تو وہ بھی کیا بنا دیں؟ مدبر بنا دیں، وہ چاہیں تو اپنے حصے کو مکاتب بنا دیں، وہ چاہیں تو اپنے حصے کو ویسے ہی آزاد کر دیں، وہ چاہیں تو غلام سے سعی کروا لیں، وہ چاہیں تو اس مدبر سے ضمان لے لیں اور وہ چاہیں تو مسئلے کو اسی طرح چلنے دیں کہ غلام کا کچھ حصہ مدبر ہے اور دو حصے غیر مدبر ہیں بھئی۔ تو ان دونوں کو چھ چیزوں کا اختیار ہے۔ تو پھر ان میں سے جو دوسرا تھا، اس نے اپنے حصے کو آزاد کر دیا۔ جب اپنے حصے کو اس نے آزاد کر دیا تو چھ چیزوں میں سے ایک کو اس نے اختیار کر لیا تو اب باقی چیزوں کا اسے اختیار نہ رہا لہٰذا وہ مدبر سے ضمان نہیں لے سکتا، وہ مدبر سے ضمان نہیں لے سکتا۔ تو دوسرا شریک جو ہے اس نے اپنے حصے کو آزاد کر دیا اور حال یہ ہے کہ یہ مدبر بھی مالدار ہے اور یہ معتق بھی مالدار ہے، تو جو تیسرا شریک ہے یعنی ساکت، اس کے حق میں ضمان کے دو سبب جمع ہو گئے: ایک مدبر کی تدبیر اور ایک معتق کا اعتاق بھئی۔ لیکن علماء فرماتے ہیں، فقہاء فرماتے ہیں کہ یہ جو ساکت ہے یہ صرف مدبر سے ضمان لے سکتا ہے، معتق سے ضمان نہیں لے سکتا۔ اس لیے کیونکہ مدبر سے جو ضمان لے گا وہ ضمانِ معاوضہ ہے، مدبر اس کے حصے کا مالک بن جائے گا اور معتق سے جو ضمان لے گا وہ ضمانِ افساد ہے اور ضمانِ معاوضہ اور ضمانِ افساد میں سے ضمانِ معاوضہ جو ہے یہ اصل ہے اور ضمانِ افساد جو ہے خلافُ الاصل ہے۔ تو جب تک اصل پر عمل ممکن ہو سکے ہم اسی پر عمل کریں گے یعنی ضمانِ معاوضہ پر ہی عمل کیا جائے گا اور جب ضمانِ معاوضہ پر عمل ممکن نہ رہے تو پھر اس کے بعد ضمانِ افساد کی طرف رجوع کیا جاتا ہے اور یہاں ضمانِ معاوضہ ممکن ہے کہ وہ ساکت جو ہے مدبر سے ضمان لے لے لہٰذا وہ معتق سے ضمان نہیں لے سکتا۔ پھر اس کے بعد مدبر جو ہے وہ معتق سے ضمان لے لے گا اپنے حصے کا، کیونکہ معتق نے کیا کیا؟ اس مدبر کے حصے کو خراب کر دیا، کیونکہ مدبر غلام جو ہے وہ تو اپنے آقا کی موت تک غلام ہی رہتا ہے، اس سے خدمت وغیرہ لی جا سکتی ہے لیکن جب دوسرے نے اپنے حصے کو آزاد کر دیا اب اس غلام سے خدمت بھی نہیں لی جا سکتی، اب اس نے ہر حال میں آزاد ہونا ہے۔ تو لہٰذا اس معتق نے مدبر کے حصے کو فاسد کر دیا لہٰذا مدبر جو ہے اس سے غلام کا ضمان لے گا لیکن اپنے مدبر حصے کا ضمان لے گا، عام غلام کا ضمان نہیں لے گا۔ آپ کو صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ مدبر جو ہے اس کی قیمت عام غلام کے مقابلے میں دو تہائی ہوتی ہے، یعنی اگر عام غلام کی قیمت تین سو درہم ہے اور اس کو پھر مدبر بنا دیا جائے تو تین میں سے ایک حصہ ختم اور دو حصے قیمت باقی رہ گئی یعنی اب اس کی قیمت دو سو درہم رہ گئی، تین سو درہم میں سے سو درہم ساقط اور قیمت صرف کتنی رہ گئی؟ دو سو درہم۔ تو یہ جو مدبر ہے یہ معتق سے اس مدبر کے ثلث کا ضمان لے گا کیونکہ معتق نے اس کے مدبر حصے کو فاسد کیا ہے اور مدبر ہے دو سو درہم کا تو اس کا تیسرا حصہ یعنی چھیاسٹھ، سڑسٹھ درہم کے لگ بھگ جو ہے وہ اس معتق سے ضمان لے لے گا۔ جبکہ ساکت جو ہے وہ اس مدبر سے پورے غلام کا جو ثلث بنتا ہے وہ ضمان لے گا اور وہ مثلاً پورا غلام تین سو درہم کا ہے تو ایک ثلث سو درہم کا بنتا ہے، تو ساکت مدبر سے سو درہم لے لے گا اور وہ معتق سے ضمان نہیں لے سکتا کیونکہ وہ ضمانِ افساد ہے اور جو مدبر ہے وہ معتق سے چھیاسٹھ، سڑسٹھ درہم جو ہے وہ ضمان کے طور پر لے لے گا۔ البتہ یہاں اشکال ہوتا ہے کہ مدبر نے جب ضمان ادا کر دیا ساکت کو، مدبر نے جب ضمان ادا کر دیا ساکت کو تو یہ ساکت کے حصے کا بھی مالک بن گیا اور اس ملکیت کی نسبت کی جائے گی تدبیر کے وقت کی طرف، یعنی جس وقت اس نے مدبر بنایا تھا اپنے حصے کو اسی وقت یہ دوسرے ثلث کا بھی مالک بن گیا تھا۔ ضمان تو یہ آج ادا کر رہا ہے لیکن مالک اسی وقت بن گیا تھا، تو معلوم ہوا جب معتق نے اعتاق کیا تو مدبر دو ثلث کا مالک ہے، مدبر دو ثلث کا مالک ہے لہٰذا مدبر کے لیے جائز ہونا چاہیے کہ وہ معتق سے دو ثلث کا ضمان لے، لیکن امام صاحب فرماتے ہیں کہ نہیں، یہ معتق سے صرف ایک حصے کا ضمان لے سکتا ہے دوسرے حصے کا ضمان نہیں لے سکتا۔ تو اعتراض سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اس کا جواب یہ کہ مدبر نے جب ساکت کو ضمان دیا اور وہ ساکت کے حصے کا بھی مالک بن گیا تو اس حصے کی نسبت ہو رہی ہے تدبیر کے وقت کی طرف، تو بایں اعتبار اعتاق کے وقت مدبر دو ثلث کا مالک ہے۔ لیکن بایں لحاظ دیکھا جائے کہ اس کا مالک تو وہ ضمان دینے کے بعد بن رہا ہے اور ضمان تو وہ اعتاق کے بعد ادا کر رہا ہے، تو معلوم ہوا اعتاق کے وقت یہ مدبر صرف ایک ثلث کا مالک تھا۔ تو بعض اعتبار سے، توجہ ہے؟ بھئی دیکھو نا، یہ مدبر ضمان ادا کرے گا تو اس حصے کا مالک بن جائے گا، معلوم ہوا ضمان سے پہلے یعنی اعتاق کے وقت وہ دوسرے ثلث کا مالک نہیں ہے، لیکن اسی ملکیت کی نسبت کی جائے گی تدبیر کے وقت کی طرف، بایں لحاظ دیکھیں تو اعتاق کے وقت یہ دو ثلث کا مالک ہے۔ تو ادائے ضمان کو دیکھیں، ادائے ضمان کو دیکھیں تو اعتاق کے وقت مدبر ایک ثلث کا مالک اور ماقبل کی طرف وہ ملکیت منسوب ہے تو اس اعتبار سے دیکھیں تو مدبر اعتاق کے وقت دو ثلث کا مالک ہے، تو معلوم ہوا بعض اعتبار سے اعتاق کے وقت یہ دوسرے ثلث کا مالک ہے اور بعض اعتبار سے یہ دوسرے ثلث کا مالک نہیں ہے یعنی اعتاق کے وقت۔ تو معلوم ہوا یہ جو دوسرے ثلث کے اندر مدبر کی ملکیت ہے وہ پورے طور پر ثابت نہیں ہے اعتاق کے وقت۔ بعض اعتبار سے اعتاق کے وقت وہ مالک ہے اور بعض اعتبار سے اعتاق کے وقت وہ مالک نہیں کیونکہ وہ تو بعد میں ضمان ادا کر رہا ہے، تو اس لیے اس کی وجہ سے اس حصے کا ضمان نہیں لیا جا سکتا۔ اگر یہ اعتاق سے پہلے قطعی طور پر اس دوسرے ثلث کا مالک ہوتا پھر تو وہ اس حصے کا بھی ضمان لے سکتا تھا، لیکن یہاں پر چونکہ یہ جو دوسرے ثلث کی ملکیت ہے یہ اعتاق کے وقت بعض اعتبار سے ثابت ہے اور بعض اعتبار سے ثابت نہیں لہٰذا یہ اس حصے کا ضمان معتق سے نہیں لے سکتا۔ اور بعض علماء نے ایک اور بڑا پیارا جواب دیا، وہ فرماتے ہیں کہ یہ جو ساکت ہے یہ مدبر سے ضمان لے سکتا ہے لیکن معتق سے ضمان نہیں لے سکتا، کیونکہ مدبر سے ضمان لے گا تو وہ ضمانِ معاوضہ ہے اور معتق سے ضمان لے گا تو وہ ضمانِ افساد ہے، تو لہٰذا یہ جو ساکت ہے یہ مدبر سے ضمان لے سکتا ہے معتق سے نہیں۔ اور جب مدبر نے ضمان دے دیا ساکت کو تو مدبر اب اس ساکت کے قائم مقام ہو گیا اور ساکت جیسے اس حصے کا ضمان معتق سے نہیں لے سکتا تھا اسی طرح یہ مدبر بھی اب اس حصے کا ضمان معتق سے نہیں لے سکتا کیونکہ یہ اس ساکت کے قائم مقام ہو گیا ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔ اور پھر امام صاحب نے یہ بھی بتلایا کہ مدبر چونکہ دو حصوں کا مالک بن گیا ہے تو دو حصوں کی ولاء مدبر کو ملے گی اور ایک حصہ کا اعتاق معتق نے کیا ہے تو ایک حصے کی ولاء معتق کو ملے گی۔ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ تدبیر کے اندر تجزی اور تقسیم نہیں ہو سکتی لہٰذا جب مدبر نے اپنے حصے کو مدبر بنایا تو سارا غلام ہی مدبر بن گیا، تو یہ دوسرے دونوں کے حصوں کا بھی مالک بن گیا اور جب دوسرے دونوں کے حصے اس نے فاسد کر دیے تو لہٰذا اب یہ ان دونوں کو ضمان ادا کرے گا اور یہ ضمان ضمانِ تملک ہے، یہ دوسرے دونوں کے حصوں کا مالک بن رہا ہے لہٰذا یہ تنگ دستی اور مالداری سے بدلتا نہیں، ہر حال میں یہ ضمان اس کو دینا پڑے گا۔ اور جب یہ سارے غلام کا مالک بن گیا ہے اور اس غلام نے اس کے مرنے کے بعد آزاد ہونا ہے تو ساری ولاء اسی مدبر ہی کو ملے گی، بات سمجھ میں آ گئی۔ اور پھر یہاں پر درمیان میں امام صاحب کی جو دلیل ذکر کی تھی صاحبِ ہدایہ نے اس پر بعض علماء نے اعتراض کیا تھا۔ اس پر بعض علماء نے اعتراض کیا تھا، صاحبِ ہدایہ نے امام صاحب کی دلیل ذکر فرمائی تھی کہ جو تدبیر کے اندر ضمان ہے یہ ضمانِ معاوضہ ہے کیونکہ مدبر جو ہے وہ انتقالِ ملک کو قبول کر لیتا ہے اور اعتاق کے بعد غلام جو ہے وہ یا مکاتب ہوتا ہے امام صاحب کے نزدیک یا آزاد ہوتا ہے صاحبین کے نزدیک تو وہ انتقالِ ملک کو قبول نہیں کرتا۔ تو اس پر بعض شارحین نے اعتراض کیا کہ یہاں صاحبِ ہدایہ سے غلطی ہوئی ہے اس لیے کیونکہ تدبیر کے اندر جب بات کی تو تدبیر سے پہلے کی بات کی کہ تدبیر سے پہلے غلام عام غلام ہے تو وہ انتقالِ ملک کو قبول کر لیتا ہے، جبکہ اعتاق کی بات کی تو اعتاق کے بعد والی بات کی حالانکہ اعتاق سے پہلے کی بات کرنی چاہیے تھی اور اعتاق سے پہلے تو غلام پہلے کا مدبر ہو چکا ہے تو وہ انتقالِ ملک کو قبول نہیں کرے گا، بات سمجھ میں آ گئی؟ لیکن صاحبِ ہدایہ نے اعتاق سے پہلے کی بات ذکر نہیں کی بلکہ اعتاق کے بعد کی بات ذکر کی کہ اعتاق کے بعد یہ غلام جو ہے اب مکاتب ہے یا آزاد ہے بھئی۔ تو میں نے بتلایا کہ نہیں، صاحبِ ہدایہ پر یہ اعتراض درست نہیں ہے بھئی۔ یہ اتنی چھوٹی سی بات ہے کہ عام طالب علم بھی اس بات کو سمجھتا ہے کہ جب تدبیر سے پہلے کی بات کی جا رہی ہے تو اعتاق سے بھی پہلے ہی کی بات ہونی چاہیے، اعتاق کے بعد کی بات نہیں ہونی چاہیے۔ لیکن میں نے بتایا کہ نہیں، دراصل صاحبِ ہدایہ یہاں امام صاحب کی طرف سے دلیل ذکر کر رہے ہیں کہ جو تدبیر کے اندر جو ضمان ہوتا ہے وہ ضمانِ معاوضہ بنانا اس کو ممکن ہے۔ وجہ یہ کہ مدبر جو ہے وہ پھر بھی غلام ہی ہے، موت تک اس نے غلام ہی رہنا ہے تو وہاں پر انتقالِ ملک ہو سکتا ہے کیونکہ ابھی بھی وہ مملوک ہے بھئی، ابھی بھی مملوک ہے، تو لہٰذا ایک آدمی نے اپنے غلام کو مدبر بنا دیا اب وہ دوسرے شریک کو ضمان دے گا تو دوسرے شریک کے حصے کا بھی مالک بن جائے گا۔ تو میں نے بتایا تھا کہ مدبر جو ہے صرف مدبر کی طرف انتقالِ ملک کو قبول کرتا ہے کسی اور کی طرف نہیں، تو لہٰذا جو مدبر ہے وہ اپنے شریک کو ضمان دے گا اور شریک کے حصے کا بھی مالک بن جائے گا۔ تو مدبر نے انتقالِ ملک کو قبول کر لیا کس کی طرف؟ مدبر کی طرف، لیکن اس انتقالِ ملک کی نسبت بھی تدبیر کے وقت کی طرف کی جائے گی کہ جس وقت یہ اس غلام کو مدبر بنا رہا تھا یعنی ابھی بنایا نہیں تھا اس وقت ہی یہ دوسرے ساتھی کے حصے کا بھی مالک بن گیا تھا۔ تو مدبر چونکہ عام غلام ہے اور تدبیر کے بعد بھی اس نے عام غلام کی طرح رہنا ہے صرف اس کو بیچا نہیں جا سکتا، البتہ یہ مملوک ہی ہے تو یہاں پر انتقالِ ملک کی گنجائش ہے کہ تدبیر سے پہلے انتقالِ ملک کی نسبت کر دی جائے، جبکہ اعتاق کے اندر یہ گنجائش نہیں ہے۔ وجہ یہ کہ جب ایک شریک نے اپنے حصے کو آزاد کر دیا تو دوسرے کا حصہ صاحبین کے نزدیک وہ بھی آزاد ہو گیا تو اب جب یہ آزاد ہے تو ماضی کی طرف نسبت کر کے بھی اس کے اندر انتقالِ ملک آپ ثابت نہیں کر سکتے کیونکہ آزاد کے اندر تو کسی کی ملکیت نہیں ہوتی۔ اور امام صاحب کے نزدیک یہ غلام جس کا کچھ حصہ آزاد ہو گیا اب یہ غلام مکاتب کے درجے میں ہو گیا اور یہ مکاتب بھی عام مکاتب کی طرح نہیں ہے جہاں عقدِ کتابت کو فسخ کیا جا سکتا ہے، یہاں پر عقدِ کتابت کے فسخ کی کوئی صورت ہی نہیں ہے، اس غلام کا آدھا آزاد ہو چکا ہے اور آدھے نے ابھی آزاد ہونا ہے تو یہاں پر بھی انتقالِ ملک کی کوئی صورت نہیں کیونکہ اس نے مملوک ہو کر رہنا ہی نہیں ہے، اس نے آزاد ہونا ہے۔ تو اعتاق سے ماقبل کی طرف بھی نسبت کر دیں پھر بھی اس کے اندر انتقالِ ملک آپ نہیں کر سکتے کیونکہ اس نے مملوک رہنا ہی نہیں ہے، اس نے کیا ہونا ہے؟ آزاد ہونا ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو لہٰذا معلوم ہوا صاحبِ ہدایہ یہاں پر جس اعتاق کی بات کر رہے ہیں وہ اس اعتاق کی بات نہیں کر رہے جو اس مسئلے میں ذکر ہو رہا ہے بلکہ مطلق اعتاق کی بات کر رہے ہیں کہ مطلق اعتاق کے اندر جو ضمان لیا جاتا ہے اس کو ضمانِ معاوضہ قرار نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ ضمانِ معاوضہ میں ضروری ہے کہ دوسرا اس حصے کا مالک بنے، مالک بنے گا تو پھر وہ ضمان اس کا معاوضہ ہو جائے گا، لیکن اعتاق کی صورت میں تو اعتاق سے ماقبل کی طرف نسبت کر کے بھی انتقالِ ملک نہیں ہو سکتا، جبکہ تدبیر کے اندر ماقبل کی طرف نسبت کر کے انتقالِ ملک ہو سکتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو لہٰذا بعض شارحین کا صاحبِ ہدایہ پر اعتراض کرنا درست نہیں ہے بھئی۔ اب آئیے آج کے سبق پر: "وَإِذَا كَانَتْ جَارِيَةٌ بَيْنَ رَجُلَيْنِ زَعَمَ أَحَدُهُمَا أَنَّهَا أُمُّ وَلَدٍ لِصَاحِبِهِ، وَأَنْكَرَ ذٰلِكَ الْآخَرُ فَهِيَ مَوْقُوفَةٌ يَوْمًا، وَيَوْمًا تَخْدُمُ الْمُنْكِرَ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللّٰهُ۔" صورتِ مسئلہ یہ: ایک باندی ہے وہ دو آدمیوں کے درمیان مشترکہ ہے۔ تو ان دو آدمیوں میں سے ایک کا گمان ہے کہ یہ جو باندی ہے اس کو میرے شریک نے اپنی ام ولد بنا دیا ہے۔ ان دو شریکوں میں سے ایک کا کیا گمان ہے؟ کہ یہ شریکِ آخر نے اس باندی کو اپنی ام ولد بنا دیا ہے یعنی وہ اس کا اقرار کرتا ہے، اس کا اعتراف کرتا ہے اور حال یہ ہے کہ وہ شریکِ آخر اس کا انکار کر رہا ہے۔ تو ایک باندی دو آدمیوں کے درمیان مشترکہ ہے، ان میں سے ایک کا گمان ہے کہ دوسرے نے اس کو اپنی ام ولد بنا دیا ہے اور دوسرا اس بات کا انکار کر رہا ہے۔ تو امام صاحب فرماتے ہیں کہ یہ جو اقرار اور اعتراف کرنے والا ہے یہ اب اس باندی سے خدمت نہیں لے سکتا کیونکہ اس نے خود اعتراف کر لیا کہ دوسرے نے اس کو اپنی ام ولد بنا دیا ہے اور ام ولد جو ہے وہ تو صرف اپنے آقا کی خدمت کرتی ہے، کسی دوسرے کا اس کی خدمت میں حق نہیں ہوتا تو لہٰذا یہ مقر جو ہے یہ اس باندی سے اب خدمت نہیں لے سکتا۔ اور نیز یہ مقر جو ہے اس منکر سے ضمان بھی نہیں لے سکتا کیونکہ وہ منکر تو انکار کر رہا ہے، وہ تو کہتا ہے میں نے اس کو اپنی ام ولد نہیں بنایا۔ تو یہ مقر باندی سے خدمت بھی نہیں لے سکتا اور اس شریکِ آخر سے ضمان بھی نہیں لے سکتا۔ البتہ یہ جو مقر ہے یہ باندی سے سعی کروا سکتا ہے، یہ باندی سے سعی کروا سکتا ہے کیونکہ اس کے حصے کی مالیت باندی کے اندر بند ہو گئی ہے تو یہ سعی کے ذریعے اپنے حصے کی قیمت وصول کر سکتا ہے۔ جبکہ یہ جو باندی ہے یہ ایک دن موقوف رہے گی یعنی کسی کی خدمت نہیں کرے گی اور ایک دن جو ہے یہ اس منکر کی خدمت کرے گی، ایک دن یہ اس منکر کی خدمت کرے گی، وجہ یہ کہ اس منکر کا اس باندی میں اتنا ہی حق تھا۔ بھئی جب دو آدمیوں کے درمیان باندی مشترکہ ہے تو ظاہر سی بات ہے ایک دن ایک کی خدمت کرے گی، دوسرے دن دوسرے کی خدمت کرے گی، تو دو دنوں کے اندر منکر کا ایک دن کی خدمت کا حق تھا تو وہ خدمت اسی طرح رہے گی۔ ہر دو دنوں میں سے ایک دن باندی اس منکر کی خدمت کرے گی اور ایک دن موقوف رہے گی، کسی کی خدمت نہیں کرے گی۔ اس مقر کی خدمت کیوں نہیں کرے گی؟ کیونکہ اس کا خیال ہے یہ دوسرے کی ام ولد ہو چکی ہے، میرا حق ہی نہیں ہے اس سے خدمت لینے کا، تو یہ اس نے خود اقرار کیا ہے اور آپ جانتے ہیں کہ اپنے اقرار پر آدمی کا مواخذہ کیا جا سکتا ہے تو لہٰذا اس کے ساتھ اس کے گمان کے مطابق سلوک کیا جائے گا اور یہ اس باندی سے خدمت نہیں لے سکتا۔ اور نیز اس منکر سے ضمان بھی نہیں لے سکتا کیونکہ وہ تو ام ولد بنانے کا انکار کر رہا ہے بھئی۔ تو مقر جو ہے وہ اس باندی سے صرف سعی کروا سکتا ہے، تو باندی ایک دن منکر کی خدمت کرے گی اور ایک دن سعی کرے گی، پیسے کمائے گی اور لا کر مقر کے حوالے کرے گی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ مذہب ہے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا۔ دیکھیے بھئی کتاب پر، کہتے ہیں: "وَإِذَا كَانَتْ جَارِيَةٌ بَيْنَ رَجُلَيْنِ" جب ایک باندی دو آدمیوں کے درمیان مشترکہ تھی، "زَعَمَ أَحَدُهُمَا أَنَّهَا أُمُّ وَلَدٍ لِصَاحِبِهِ" تو گمان کیا ان دونوں میں سے ایک نے کہ یہ اس کے ساتھی کی ام ولد ہے، "وَأَنْكَرَ ذٰلِكَ الْآخَرُ" اور وہ دوسرا شریک جو ہے وہ اس کا انکار کر رہا ہے، "فَهِيَ مَوْقُوفَةٌ يَوْمًا، وَيَوْمًا تَخْدُمُ الْمُنْكِرَ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللّٰهُ" تو ایک دن یہ باندی موقوف رہے گی یعنی کسی کی بھی خدمت نہیں کرے گی اور ایک دن یہ منکر کی خدمت کرے گی امام صاحب کے نزدیک۔ "وَقَالَا: إِنْ شَاءَ الْمُنْكِرُ اسْتَسْعَى الْجَارِيَةَ فِي نِصْفِ قِيمَتِهَا ثُمَّ تَكُونُ حُرَّةً لَا سَبِيلَ عَلَيْهَا۔" اور صاحبین فرماتے ہیں: صاحبین فرماتے ہیں کہ یہ جو شخص اعتراف کر رہا ہے کہ میرے شریک نے اس باندی کو ام ولد بنا دیا ہے، تو یہ باندی اسی مقر کی ام ولد بن جائے گی، یہ باندی اسی مقر کی ام ولد بن جائے گی۔ صاحبین فرماتے ہیں یہ اسی طرح ہے جیسے ایک آدمی نے دوسرے آدمی سے غلام خریدا اور غلام خریدنے کے بعد مشتری کہتا ہے کہ بائع نے اس غلام کو بیع سے پہلے ہی آزاد کر دیا تھا اور بائع اس کا انکار کر رہا ہے۔ توجہ ہے؟ صورت کیا؟ ایک آدمی نے دوسرے سے غلام خریدا اور غلام خریدنے کے بعد مشتری کہتا ہے کہ بائع نے تو اس غلام کو بیچنے سے پہلے ہی آزاد کر دیا تھا اور بائع اس بات کا انکار کر رہا ہے، تو یاد رکھو ہمارے ائمہ فرماتے ہیں کہ اس صورت میں یہ اعتاق اس مقر کی طرف سے ہی پھر شمار کیا جائے گا، یہ اعتاق پلٹ کر اسی کی طرف آ جائے گا گویا یہ خود اس غلام کو آزاد کر رہا ہے۔ اس نے دعویٰ تو کیا کیا ہے کہ بائع نے آزاد کیا تھا لیکن بائع تو انکار کر رہا ہے، تو یہ اقرار کس کی طرف پلٹ آئے گا؟ اسی مقر کی طرف اور یوں سمجھا جائے گا کہ اس مقر نے ہی غلام کو آزاد کر دیا ہے بھئی۔ تو صاحبین فرماتے ہیں یہاں پر بھی اسی طرح ہے۔ ایک شریک نے کہا دوسرے نے اس باندی کو اپنی ام ولد بنا دیا ہے اور دوسرا اس کا انکار کر رہا ہے، تو یہ مقر کا اقرار اسی کے اوپر پلٹ کر آ جائے گا اور یہ باندی اسی کی ام ولد بن جائے گی اور یہ باندی اسی کی ام ولد بن جائے گی۔ جب یہ اسی مقر کی ام ولد بن گئی تو منکر اس سے خدمت نہیں لے سکتا، منکر اس سے خدمت نہیں لے سکتا کیونکہ یہ مقر کی ام ولد بن گئی ہے۔ اور مقر خود بھی اس سے خدمت نہیں لے سکتا اگرچہ اس کی ام ولد بن گئی ہے، کیونکہ مقر کا تو یہ اقرار ہے کہ میرا اس کی خدمت میں کوئی حق ہی نہیں ہے کیونکہ دوسرے نے اس کو اپنی ام ولد بنا لیا ہے۔ توجہ ہے؟ تو باندی منکر کی بھی خدمت نہیں کرے گی کیونکہ باندی اس مقر کی ام ولد بن گئی اور اس مقر کی بھی خدمت نہیں کرے گی کیونکہ مقر کا تو یہ خیال ہے کہ میرا اس کی خدمت میں کوئی حق ہی نہیں ہے۔ تو منکر اس سے اب خدمت نہیں لے سکتا۔ جب منکر خدمت نہیں لے سکتا تو کیا وہ اس مقر سے ضمان لے سکتا ہے؟ کیونکہ اس مقر کے اقرار کی وجہ سے یہ باندی اس کی ام ولد بن گئی ہے، منکر کی مالیت باندی میں بند ہے نا اور یہ باندی کس کی ام ولد بن گئی؟ مقر کی۔ تو منکر کی مالیت تو اس کے اندر بند ہو گئی، تو منکر کیا اب مقر سے ضمان لے سکتا ہے؟ کہتے ہیں نہیں، منکر اس مقر سے ضمان بھی نہیں لے سکتا کیونکہ مقر نے یہ تو نہیں کہا تھا کہ یہ میری ام ولد ہے، اگر وہ یہ کہتا کہ یہ میری ام ولد ہے پھر تو اس سے ضمان لیا جا سکتا تھا لیکن اس نے تو کیا کہا ہے کہ یہ اس میرے شریک کی ام ولد ہے، تو لہٰذا منکر اس سے ضمان بھی نہیں لے سکتا کیونکہ اس نے کوئی دعویٰ نہیں کیا اس باندی کے اپنا ام ولد ہونے کا بھئی۔ اگر وہ یہ دعویٰ کرتا پھر ضمان لیا جا سکتا تھا۔ تو منکر باندی سے خدمت بھی نہیں لے سکتا، کیوں نہیں لے سکتا؟ کیونکہ یہ مقر کی ام ولد بن گئی اور منکر اس مقر سے ضمان بھی نہیں لے سکتا کیونکہ مقر نے یہ تو نہیں کہا کہ یہ میری ام ولد ہے، اس نے تو کہا تھا یہ تمہاری ام ولد ہے۔ اگرچہ وہ اقرار پلٹ کر پھر اسی مقر پر چلا گیا، وہ اسی کی ام ولد بن گئی لیکن بہرحال اس نے یہ تو زبان سے نہیں کہا کہ یہ میری ام ولد ہے۔ تو منکر اس باندی سے خدمت بھی نہیں لے سکتا اور اس مقر سے ضمان بھی نہیں لے سکتا۔ ہاں، اس باندی سے سعی کروا سکتا ہے کیونکہ اس کے حصے کی مالیت اس باندی میں بند ہو گئی ہے، تو باندی سعی کرے گی، کام کاج کرے گی اور اس منکر کے حصے کے پیسے ادا کرے گی اور صرف اس کے حصے کے پیسے ادا کر کے ساری باندی ہی آزاد ہو جائے گی، ساری باندی ہی آزاد ہو جائے گی۔ توجہ ہے؟ مقر اس سے سعی نہیں کروا سکتا کیونکہ مقر کی تو یہ ام ولد بن گئی اور ام ولد سے سعی نہیں کروائی جا سکتی، ام ولد ویسے آزاد ہوتی ہے بھئی۔ تو یہ باندی مقر کی ام ولد بن گئی لیکن مقر اس سے خدمت نہیں لے سکتا کیونکہ مقر کا تو کیا خیال ہے کہ یہ میرے ساتھی کی ام ولد بن گئی ہے، میرا اس کی خدمت میں کوئی حق نہیں ہے، تو لہٰذا مقر اس سے خدمت نہیں لے سکتا اور مقر اس کو بیچ بھی نہیں سکتا کیونکہ یہ اس کی ام ولد ہو گئی ہے اور نیز مقر جو ہے منکر سے ضمان بھی نہیں لے سکتا کیونکہ وہ منکر تو اس بات کا انکار کر رہا ہے کہ یہ میری ام ولد ہے بھئی۔ صورت بھی سمجھ میں آئی یا نہیں؟ پیچیدہ سا مسئلہ ہے۔ پھر سنو مسئلہ دوبارہ: صورت یہ ہے ایک باندی دو آدمیوں میں مشترکہ ہے، ان میں سے ایک کا گمان ہے کہ میرے ساتھی نے اس کو اپنی ام ولد بنا دیا ہے اور وہ دوسرا شریک اس بات کا ان... انکار کر رہا ہے، تو امام صاحب فرماتے ہیں کہ یہ باندی ایک دن موقوف رہے گی، کسی کی خدمت نہیں کرے گی اور ایک دن منکر کی خدمت کرے گی۔ اور یہ جو مقر ہے، یہ اس باندی سے خدمت نہیں لے سکتا، کیونکہ وہ خود اعتراف کر رہا ہے کہ میرے ساتھی نے اس کو اپنی ام ولد بنایا ہے۔ معلوم ہوا میرا اس کی خدمت میں کوئی حق نہیں ہے۔ تو لہٰذا مقر اس سے خدمت نہیں لے سکتا۔ اور نیز مقر جو ہے وہ اس شریک سے ضمان بھی نہیں لے سکتا، اس منکر سے، کیونکہ وہ تو انکار کر رہا ہے ام ولد بنانے کا۔ اور البتہ مقر جو ہے وہ اس باندی سے سعی کروا سکتا ہے۔ اور جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ یہاں جب مقر نے اعتراف کر لیا کہ میرے ساتھی نے اسے ام ولد بنایا ہے اور وہ دوسرا ساتھی اس کا انکار کر رہا ہے، تو مقر کا اقرار اسی پر پلٹ کر آ جائے گا اور یہ باندی اسی کی ام ولد بن جائے گی۔ کہتے ہیں یہ مسئلہ بالکل اسی طرح ہے جیسے ایک آدمی نے دوسرے سے غلام خریدا اور خریدنے کے بعد مشتری کہتا ہے کہ بائع نے بیچنے سے پہلے ہی اس غلام کو آزاد کر دیا تھا اور بائع تو اس بات کا انکار کر رہا ہے، تو فقہاء فرماتے ہیں کہ اس صورت میں یہ جو مقر دعویٰ کر رہا ہے بائع کے اعتاق کا، تو اس کو اسی کا اعتاق قرار دے دیا جائے گا، گویا یہ خود اعتاق کر رہا ہے، اس نے غلام کو آزاد کر دیا ہے۔ تو یہاں پر بھی صاحبین فرماتے ہیں جب ایک شریک نے دوسرے شریک پر دعویٰ کیا کہ اس نے باندی کو ام ولد بنایا ہے اور وہ اس کا انکار کر رہا ہے، تو یہ دعویٰ اسی مقر پر پلٹ کر آ جائے گا اور یہ باندی اس کی ام ولد بن جائے گی۔ جب یہ اس کی ام ولد بن گئی تو اب منکر اس سے خدمت نہیں لے سکتا۔ اور نیز منکر اس مقر سے ضمان بھی نہیں لے سکتا، کیونکہ مقر نے یہ تو نہیں کہا کہ یہ میری ام ولد ہے، اس نے تو کہا تھا یہ تمہاری ام ولد ہے، تو یہ اس کا اقرار البتہ اسی پر پلٹ کر آ گیا تھا۔ تو منکر باندی سے خدمت بھی نہیں لے سکتا اور اس مقر سے ضمان بھی نہیں لے سکتا، ہاں باندی سے سعی کروا سکتا ہے۔ باندی سعی کرے گی، صرف اس منکر کے پیسے ادا کرے گی اور پھر آزاد ہو جائے گی۔ جبکہ مقر جو ہے وہ بھی باندی سے خدمت نہیں لے سکتا، کیونکہ اس نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ تو شریک کی ام ولد ہو گئی ہے، تو گویا اس نے خود اعتراف کر لیا کہ میرا کوئی حق نہیں ہے اس باندی کی خدمت میں۔ اور نیز وہ منکر سے ضمان بھی نہیں لے سکتا مقر، کیونکہ منکر تو انکار کر رہا ہے ام ولد بنانے کا۔ اور نیز مقر باندی سے سعی بھی نہیں کروا سکتا اب، کیونکہ یہ اب اس کی ام ولد بن گئی ہے اور اپنی ام ولد سے تو سعی نہیں کروائی جا سکتی۔ تو باندی صرف منکر کے لیے سعی کرے گی، اگر وہ ویسے آزاد نہیں کرنا چاہتا، وہ سعی کروانا چاہتا ہے، تو صرف اس کے حصے کے اندر سعی کرے گی اور پھر آزاد ہو جائے گی۔ بات سمجھ میں آ گئی اچھی طرح؟ دیکھیے بھئی! پھر یہ سارا ترجمہ دوبارہ دیکھ لیجیے۔ فرماتے ہیں: ”وَإِذَا كَانَتْ جَارِيَةٌ بَيْنَ رَجُلَيْنِ“ جب ایک باندی دو آدمیوں کے درمیان مشترکہ تھی، ”زَعَمَ أَحَدُهُمَا أَنَّهَا أُمُّ وَلَدٍ لِصَاحِبِهِ“ تو گمان کیا ان دونوں میں سے ایک نے کہ یہ اس کے ساتھی کی ام ولد ہے، ”وَأَنْكَرَ ذَلِكَ الْآخَرُ“ اور وہ دوسرا شریک اس کا انکار کر رہا ہے، ”فَهِيَ مَوْقُوفَةٌ يَوْمًا وَيَوْمًا تَخْدُمُ الْمُنْكِرَ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ تو ایک دن یہ باندی موقوف رہے گی اور ایک دن منکر کی خدمت کرے گی امام صاحب کے نزدیک۔ ”وَقَالَا: إِنْ شَاءَ الْمُنْكِرُ اسْتَسْعَى الْجَارِيَةَ فِي نِصْفِ قِيمَتِهَا“ اور صاحبین فرماتے ہیں کہ اگر منکر چاہے تو وہ باندی سے سعی کروا سکتا ہے اس کی نصف قیمت کے اندر، ”ثُمَّ تَكُونُ حُرَّةً“ پھر یہ آزاد ہو جائے گی، ”لَا سَبِيلَ عَلَيْهَا“ مقر کا اس باندی پر کوئی راستہ نہیں۔ مقر کا اس باندی پر کوئی راستہ نہیں، وہ اس باندی سے خدمت بھی نہیں لے سکتا اور وہ اس باندی سے سعی بھی نہیں کروا سکتا، کیونکہ یہ اسی کی ام ولد بن گئی ہے، اور اپنی ام ولد سے سعی نہیں کروائی جاتی، وہ ویسے ہی آزاد ہوتی ہے بھئی۔ ”لَهُمَا: أَنَّهُ لَمَّا لَمْ يُصَدِّقْهُ صَاحِبُهُ“ صاحبین کی دلیل یہ ہے کہ جب اس مقر کے ساتھی نے اس کی تصدیق نہیں کی، ”انْقَلَبَ إِقْرَارُ الْمُقِرِّ عَلَيْهِ“ تو پلٹ آیا مقر کا اقرار اسی پر، یعنی یہ اسی کی ام ولد بن گئی، ”فَصَارَ كَمَا إِذَا أَقَرَّ الْمُشْتَرِي عَلَى الْبَائِعِ أَنَّهُ أَعْتَقَ الْمَبِيعَ قَبْلَ الْبَيْعِ“ تو یہ اسی طرح ہو گیا جیسے کہ مشتری بائع کے خلاف اقرار کرے کہ بائع نے اس مبیع کو بیچنے سے پہلے ہی آزاد کر دیا تھا، اور وہ بائع کیا کر رہا ہے اس کا؟ انکار کر رہا ہے، ”فَيُجْعَلُ كَأَنَّهُ أَعْتَقَ، كَذَا هَذَا“ تو یہ اسی طرح قرار دیا جائے گا جیسے کہ مشتری نے ہی اس کو آزاد کیا ہے، تو یہاں پر بھی اسی طرح ہے، جیسے بیع کے مسئلے میں مشتری کا اقرار اسی پر پلٹ کر آ گیا تو یہاں پر بھی مقر کا اقرار اسی پر پلٹ کر آ جائے گا۔ فرماتے ہیں: ”فَيَمْتَنِعُ الْخِدْمَةُ“ تو خدمت ممتنع ہو جائے گی، خدمت ممتنع ہو جائے گی۔ یاد رکھو! بعض شارحین نے لکھا ہے کہ اس سے مراد منکر کی خدمت ہے، کہ باندی منکر کی خدمت نہیں کرے گی، کیونکہ یہ مقر کی ام ولد بن گئی ہے، اور کسی کی ام ولد میں دوسرے کی خدمت کا کوئی حق نہیں ہوتا، تو منکر کی یہ باندی خدمت نہیں کرے گی۔ جبکہ بعض شارحین نے لکھا کہ اس سے خدمت سے مراد مقر کی خدمت ہے، کیونکہ یہ مقر کی خدمت نہیں کرے گی، کیونکہ مقر کا کیا خیال ہے کہ یہ تو میرے شریک کی ام ولد ہے، میرا اس کی خدمت میں کوئی حق نہیں ہے بھئی۔ لیکن زیادہ بہتر یہ ہے کہ اس کو مطلق رکھا جائے جیسے صاحبِ ہدایہ نے ذکر کیا، کہ کوئی بھی اس سے خدمت نہیں لے سکتا، نہ مقر، نہ منکر۔ منکر نہیں لے سکتا خدمت، کیونکہ یہ مقر کی ام ولد بن گئی ہے، اور مقر نہیں لے سکتا خدمت، کیونکہ اس کا خیال ہے کہ یہ منکر کی ام ولد ہے بھئی۔ تو فرماتے ہیں: ”فَيَمْتَنِعُ الْخِدْمَةُ“ تو اس باندی کی خدمت جو ہے وہ ممتنع ہو گی، یعنی اس سے خدمت نہیں لی جا سکتی۔ ”وَنَصِيبُ الْمُنْكِرِ عَلَى مِلْكِهِ فِي الْحُكْمِ“ اور منکر کا حصہ اسی کی ملکیت پر ہے فی الحکم، یعنی حکم کے اعتبار سے ابھی بھی منکر اپنے حصے کا مالک ہے اس باندی کے اندر۔ تو منکر خدمت بھی نہیں لے سکتا تو اس کی مالیت اس باندی کے اندر بند ہو گئی، تو وہ سعی کروا سکتا ہے اور سعی کے بعد یہ باندی آزاد ہو جائے گی، صرف منکر کا حصہ ادا کرے گی اور آزاد ہو جائے گی۔ تو یہ معنی ہے: ”وَنَصِيبُ الْمُنْكِرِ عَلَى مِلْكِهِ فِي الْحُكْمِ فَيُخْرَجُ إِلَى الْإِعْتَاقِ بِالسِّعَايَةِ“ اور حکم کے اندر منکر کا حصہ جو ہے وہ اسی کی ملکیت پر ہے، تو اس باندی کو اعتاق کی طرف نکالا جائے گا سعی کے ذریعے، سعی کے ذریعے اعتاق کی طرف نکالا جائے گا، یعنی سعی کرے گی، منکر کا حصہ ادا کرے گی اور آزاد ہو جائے گی۔ مقر اس سے سعی نہیں کروا سکتا، کیونکہ مقر کی تو یہ ام ولد ہے اور ام ولد سے سعی نہیں کروائی جا سکتی۔ آگے دیکھیے بھئی: ”كَأُمِّ وَلَدِ النَّصْرَانِيِّ إِذَا أَسْلَمَتْ“ جیسے کہ عیسائی کی ام ولد جب وہ مسلمان ہو جائے، نصرانی عیسائی کو کہتے ہیں بھئی۔ تو صاحبین کی دلیل چل رہی ہے، صاحبین فرماتے ہیں کہ اگرچہ یہ باندی مقر کی ام ولد بن گئی ہے، لیکن منکر کی مالیت اس کے اندر بند ہو گئی ہے تو یہ سعی کرے گی، حالانکہ ام ولد سے سعی نہیں کروائی جاتی لیکن یہاں پر سعی کرے گی اور منکر کا حصہ ادا کر کے آزاد ہو جائے گی۔ وہ فرماتے ہیں یہ اسی طرح ہے جیسے کسی عیسائی کی ام ولد ہے اور وہ ام ولد مسلمان ہو گئی۔ جب وہ ام ولد مسلمان ہو گئی تو اب اسے عیسائی کے تحت نہیں رکھا جا سکتا بھئی، عیسائی کے تحت اب وہ نہیں رہ سکتی بھئی، تو وہ بھی بالاتفاق ہمارے تینوں ائمہ کے نزدیک یہ جو عیسائی کی ام ولد ہے جو مسلمان ہو گئی ہے، یہ سعی کرے گی اور اپنی قیمت لا کر نصرانی مالک کو ادا کرے گی، اس عیسائی مالک کو ادا کرے گی اور آزاد ہو جائے گی۔ تو صاحبین فرماتے ہیں ام ولد سے سعی نہیں کروائی جاتی لیکن جیسے عیسائی کی ام ولد مسلمان ہو جائے تو وہ سعی کر کے اپنی قیمت ادا کرتی ہے اور آزاد ہو جاتی ہے، تو اس مسئلے کے اندر بھی یہ باندی جو ہے مقر کی ام ولد بن گئی ہے لیکن پھر بھی یہ سعی کرے گی اور منکر کا حصہ ادا کر کے آزاد ہو جائے گی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے: ”كَأُمِّ وَلَدِ النَّصْرَانِيِّ إِذَا أَسْلَمَتْ“ جیسے کہ عیسائی کی ام ولد جب وہ مسلمان ہو جائے۔ ”وَلِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى“ اب امام صاحب کی دلیل آئی۔ ادھر دیکھیے بھئی! امام صاحب فرماتے ہیں کہ مقر نے کہا ہے کہ یہ باندی میرے ساتھی کی ام ولد ہے، تو یا تو مقر نے سچ کہا ہے یا جھوٹ کہا ہے۔ اگر اس نے سچ کہا ہے تو پھر تو اس باندی کی ساری خدمت کا حقدار منکر ہے، کیونکہ باندی اس کی ام ولد ہے۔ اور اگر مقر نے جھوٹ کہا ہے تو پھر منکر کے لیے باندی کی آدھی خدمت ہے، کیونکہ آدھا حصہ تو مقر کا ہے۔ توجہ ہے؟ تو امام صاحب فرماتے ہیں مقر نے جو اقرار کیا ہے جو اعتراف کیا ہے یا تو اس نے سچ کہا ہے یا جھوٹ کہا ہے۔ اگر اس نے سچ کہا ہے تو باندی کی ساری خدمت کا حقدار منکر ہے، اور اگر اس نے جھوٹ کہا ہے تو باندی کی آدھی خدمت کا حقدار منکر ہے۔ معلوم ہوا کہ منکر کے لیے باندی کی آدھی خدمت تو یقینی طور پر ہے۔ اگر مقر نے سچ کہا ہے تو باندی کی ساری خدمت کا حقدار منکر ہے، اور ساری خدمت کے اندر نصف خدمت بھی آ گئی۔ اور اگر مقر نے جھوٹ کہا ہے تو پھر منکر کے لیے باندی کی آدھی خدمت ہے۔ تو معلوم ہوا چاہے مقر نے سچ کہا ہے یا جھوٹ کہا ہے، آدھی خدمت تو کم از کم یقینی طور پر منکر کے لیے ثابت ہے۔ تو جو یقینی طور پر خدمت ثابت تھی ہم نے اس کو لے لیا، کہ منکر کے لیے باندی کی آدھی خدمت ہو گی، یعنی ایک دن اس کی خدمت کرے گی اور ایک دن باندی موقوف رہے گی بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى: أَنَّ الْمُقِرَّ لَوْ صَدَقَ كَانَتِ الْخِدْمَةُ كُلُّهَا لِلْمُنْكِرِ، وَلَوْ كَذَبَ كَانَ لَهُ نِصْفُ الْخِدْمَةِ“ اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے کہ مقر جو ہے اس نے اگر سچ کہا ہے تو اس باندی کی ساری خدمت جو ہے وہ منکر کے لیے ہے، اور اگر مقر نے جھوٹ کہا ہے تو منکر کے لیے باندی کی نصف خدمت ہو گی۔ تو معلوم ہوا نصف خدمت تو یقینی طور پر منکر کے لیے ہے، اور باقی نصف میں شک ہے، باقی نصف میں شک ہے کہ معلوم نہیں سچ ہے یا جھوٹ۔ اگر سچ ہے تو باقی نصف بھی اسی کے لیے ہے، اور اگر سچ نہیں ہے تو باقی نصف اس کے لیے نہیں ہے بھئی۔ تو فرماتے ہیں: ”فَيَثْبُتُ مَا هُوَ الْمُتَيَقَّنُ بِهِ وَهُوَ النِّصْفُ“ تو ثابت ہو جائے گی وہ خدمت جو یقینی ہے اور وہ نصف خدمت ہے بھئی۔ ”وَلَا خِدْمَةَ لِلشَّرِيكِ الشَّاهِدِ وَلَا اسْتِسْعَاءَ“ ہاں البتہ یہ مقر اس باندی سے خدمت نہیں لے سکتا، اور یہ مقر جو ہے یہ اس باندی سے سعی بھی نہیں کروا سکتا۔ وجہ یہ کہ مقر نے خود اقرار کر لیا ہے کہ یہ میرے شریک کی ام ولد ہے، تو خود اس نے اقرار کر لیا کہ اس باندی کی خدمت میں میرا کوئی حق نہیں ہے۔ تو لہٰذا یہ اس باندی سے خدمت نہیں لے سکتا یہ مقر۔ اور نیز باندی سے سعی بھی نہیں کروا سکتا، کیوں نہیں سعی کروا سکتا؟ کیونکہ مقر نے کیا اعتراف کیا ہے کہ یہ میرے شریک کی ام ولد ہے، جب شریک کی ام ولد ہو گئی تو شریک ساری باندی کا مالک بن گیا، اور جب ساری باندی کا مالک ہوا تو تملک پایا گیا، تو پھر اس کو کیا کرنا پڑے گا شریک کو؟ ضمان دینا پڑے گا۔ اور یہ ضمانِ تملک ہے، یہ تنگدستی اور مالداری سے بدلتا نہیں، یہ ہر حال میں اس منکر کو دینا پڑے گا، لیکن منکر تو اس کا انکار کر رہا ہے، لہٰذا اس سے ضمان بھی نہیں لیا جا سکتا۔ توجہ ہے؟ مقر نے اقرار کیا ہے کہ یہ باندی منکر کی ام ولد ہے، اس کا مطلب ہے مقر خود اقرار کر رہا ہے میں اس باندی سے سعی نہیں کروا سکتا، میں صرف منکر سے ضمان لے سکتا ہوں کیونکہ وہ میرے حصے کا بھی مالک بن گیا ہے۔ وہ میرے حصے کا بھی مالک بن گیا ہے، تو یہ صرف ضمان کا دعویٰ کر رہا ہے اور وہ دعویٰ بھی ثابت نہیں ہو گا کیونکہ دوسرا آدمی تو اس کا انکار کر رہا ہے۔ تو معلوم ہوا مقر خود اعتراف کر رہا ہے کہ میں باندی سے خدمت بھی نہیں لے سکتا اور میں باندی سے سعی بھی نہیں کروا سکتا۔ تو فرماتے ہیں: ”وَلَا خِدْمَةَ لِلشَّرِيكِ الشَّاهِدِ وَلَا اسْتِسْعَاءَ“ اور کوئی خدمت نہیں ہے اس شریک کے لیے الشاہد جو گواہی دینے والا ہے، یعنی وہ جو اقرار کرنے والا ہے، تو کہتے ہیں اور وہ شریک جو گواہی دینے والا ہے اس کے لیے نہ تو اس باندی کی خدمت ہے اور نہ اس کے لیے اس باندی کی سعی ہے۔ ”لِأَنَّهُ يَتَبَرَّأُ عَنْ جَمِيعِ ذَلِكَ بِدَعْوَى الِاسْتِيلَادِ وَالضَّمَانِ“ اس لیے کیونکہ وہ باندی کو بری کر رہا ہے اس سب سے ام ولد اور ضمان کے دعوے کے ذریعے سے۔ مقر نے کیا اقرار کیا کہ میرے ساتھی کی یہ ام ولد ہے، تو ام ولد ہے معلوم ہوا یہ اس سے خدمت بھی نہیں لے سکتا اور اس پر ضمان کا دعویٰ کر رہا ہے بھئی، تو یہ باندی سے خدمت بھی نہیں لے سکتا اب اور سعی بھی نہیں کروا سکتا۔ تو فرماتے ہیں: ”لِأَنَّهُ يَتَبَرَّأُ عَنْ جَمِيعِ ذَلِكَ بِدَعْوَى الِاسْتِيلَادِ وَالضَّمَانِ“ اس لیے کیونکہ وہ باندی کو اس سب سے بری کر رہا ہے ام ولد بنانے اور ضمان کے دعوے کے ذریعے سے۔ ”وَالْإِقْرَارُ بِأُمُومِيَّةِ الْوَلَدِ يَتَضَمَّنُ الْإِقْرَارَ بِالنَّسَبِ“ یہاں سے جواب دے رہے ہیں صاحبین کے قیاس کا۔ صاحبین نے اس مسئلے کو قیاس کیا تھا وہ بائع اور مشتری کے مسئلے پر، کہ وہاں پر مشتری اعتراف کر رہا ہے کہ بائع نے بیع سے پہلے ہی اس غلام کو آزاد کر دیا تھا اور بائع اس کا انکار کرتا ہے تو مشتری پر اس کا اعتراف پلٹ کر آ جائے گا اور یوں سمجھا جائے گا مشتری اس غلام کو آزاد کر رہا ہے تو وہ مشتری کی طرف سے آزاد ہو جائے گا۔ تو یہاں پر بھی صاحبین فرماتے ہیں کہ یہاں ایک شریک دعویٰ کر رہا ہے کہ دوسرے نے اس باندی کو ام ولد بنا دیا ہے اور دوسرا شریک انکار کر رہا ہے، تو اس مقر کا اقرار اسی پر پلٹ کر آ جائے گا اور یہ اس کی ام ولد بن جائے گی۔ امام صاحب فرماتے ہیں نہیں، آپ اس ام ولد کے مسئلے کو بیع کے مسئلے پر قیاس نہیں کر سکتے کیونکہ دونوں میں فرق ہے۔ وجہ یہ ہے کہ ام ولد جو ہے اس کے ساتھ نسب بھی ثابت ہو جاتا ہے۔ جب ایک باندی ایک آدمی کی ام ولد ہے معلوم ہوا اس باندی کے بچے کا نسب اس مالک سے ثابت ہے۔ تو لہٰذا جب مقر نے اقرار کر لیا کہ یہ باندی میرے شریک کی ام ولد ہے، تو گویا مقر نے یہ بھی اعتراف کر لیا کہ اس باندی کا جو بچہ ہے اس کا نسب میرے شریک سے ثابت ہے، یعنی وہ میرا بچہ نہیں ہے وہ میرے شریک کا بچہ ہے۔ تو جب ایک دفعہ اس نے خود اعتراف کر لیا کہ یہ اس شریک کا بچہ ہے، تو بعد میں یہ اعتراف اسی مقر کی طرف پلٹ جائے اور یہ بچہ مقر کا ثابت ہو جائے ایسا نہیں ہو سکتا، نسب لازم ہوتا ہے، نسب رد کرنے سے بھی رد نہیں ہوتا۔ جب مقر نے خود کہہ دیا کہ یہ میرے شریک کی ام ولد ہے، تو گویا مقر نے اعتراف کر لیا کہ اس باندی کا جو بچہ ہے اس کا نسب کس سے ثابت ہے؟ میرے شریک سے۔ جب اس نے اس بچے کو غیر کا بچہ قرار دے دیا تو بعد میں اب اس بچے کو اس مقر کے لیے ثابت نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ نسب جو ہے وہ رد کرنے سے بھی رد نہیں ہوتا۔ تو یہاں پر مقر پر اس کا اقرار پلٹ نہیں سکتا کیونکہ ام ولد کا معاملہ ہے، اور ام ولد ہونے کے ساتھ نسب لازم ہے اور وہ نسب بدل نہیں سکتا۔ جب مقر نے ایک دفعہ کہہ دیا یہ میرا بچہ نہیں ہے تو اب بعد میں یہ بچہ اب اس کے لیے ثابت نہیں ہو سکتا، کیونکہ اقرار بالناسب لازم ہوتا ہے اور وہ رد کرنے سے بھی رد نہیں ہوتا۔ تو لہٰذا ایک آدمی جب ایک بچے کے نسب کا اقرار کر لے کسی دوسرے کے لیے تو گویا اس نے کہہ دیا یہ میرا بچہ نہیں ہے، لہٰذا وہ اس کا بچہ ثابت بھی نہیں ہو سکتا۔ تو ام ولد بنانے کے ساتھ بچے کا نسب لازم ہے اور بچے کا نسب تو رد نہیں ہو سکتا، تو ام ولد بھی اس مقر کی طرف پلٹ نہیں سکتی، وہ اس کی ام ولد نہیں ہو سکتی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو فرماتے ہیں: ”وَالْإِقْرَارُ بِأُمُومِيَّةِ الْوَلَدِ يَتَضَمَّنُ الْإِقْرَارَ بِالنَّسَبِ“ اور ام ولد ہونے کا اقرار یہ متضمن ہے اقرار بالنسب کو، یعنی ام ولد ہونے کے اقرار کے ضمن میں اقرار بالنسب بھی ہوتا ہے۔ جب مقر نے یہ کہا یہ باندی میرے شریک کی ام ولد ہے معلوم ہوا اس نے یہ بھی اقرار کر لیا کہ اس کے بچے کا نسب میرے شریک سے ثابت ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْإِقْرَارُ بِأُمُومِيَّةِ الْوَلَدِ يَتَضَمَّنُ الْإِقْرَارَ بِالنَّسَبِ“ اور ام ولد ہونے کا جو اقرار ہے وہ اقرار بالنسب کو متضمن ہے یعنی اس کے ضمن میں نسب کا اقرار بھی آ جاتا ہے، ”وَهَذَا أَمْرٌ لَازِمٌ لَا يَرْتَدُّ بِالرَّدِّ“ اور یہ جو اقرار بالنسب ہے یہ ایک امرِ لازم ہے، یعنی یہ چیز لازم ہو جاتی ہے اور یہ رد نہیں ہوتی رد کرنے سے، رد کرنے سے بھی یہ رد نہیں ہوتی، ”فَلَا يُمْكِنُ أَنْ يُجْعَلَ الْمُقِرُّ كَالْمُسْتَوْلِدِ“ لہٰذا یہ ممکن نہیں ہے کہ مقر کو قرار دے دیا جائے کالِمستولد ام ولد بنانے والے کی طرح۔ اس مقر کو ام ولد بنانے والا قرار دے دیا جائے یہ یہاں ممکن نہیں ہے بھئی، کیونکہ اس نے بچے کے نسب کا انکار کر دیا ہے، تو اب اس بچے کا نسب اس مقر کے لیے ثابت نہیں ہو سکتا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ آگے دیکھیے بھئی: ”وَإِنْ كَانَتْ أُمَّ وَلَدٍ بَيْنَهُمَا فَأَعْتَقَهَا أَحَدُهُمَا وَهُوَ مُوسِرٌ فَلَا ضَمَانَ عَلَيْهِ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ، وَقَالَا: يَضْمَنُ نِصْفَ قِيمَتِهَا“ بھئی صورتِ مسئلہ یہ کہ ایک باندی ہے اور وہ دو آدمیوں کی مشترکہ ام ولد ہے۔ ایک باندی ہے اور وہ دو آدمیوں کی مشترکہ ام ولد ہے۔ آپ حیران ہوں گے کہ ایک ہی باندی دو آدمیوں کی ام ولد کیسے ہو سکتی ہے؟ تو صورت اس کی یہ ہے کہ ایک باندی دو آدمیوں کے درمیان مشترکہ تھی اور پھر اس باندی نے ایک بچے کو جنم دیا، تو دونوں شریکوں نے اکٹھا دعویٰ کر دیا کہ یہ میرا بچہ ہے۔ تو اب یہاں ترجیح کی کوئی صورت نہیں ہے۔ اگر ایک کا دعویٰ پہلے ہوتا تو یہ باندی اس کی ام ولد ہو جاتی، لیکن یہاں دونوں نے بالکل اکٹھے دعویٰ کیا ہے تو ترجیح کی کوئی صورت نہیں ہے، تو یہ باندی دونوں کی ام ولد شمار ہو گی اور یہ بچہ دونوں کا بچہ شمار ہو گا بھئی۔ بھئی حقیقت میں تو ایک کا بچہ ہے لیکن یہاں ترجیح کی کوئی صورت نہیں، لہٰذا دونوں سے اس بچے کا نسب ثابت ہو جائے گا۔ تو یہ دونوں کی مشترکہ ام ولد ہو گئی۔ یا دونوں نے اکٹھا دعویٰ نہیں کیا لیکن دونوں نے الگ الگ مجلسوں میں دعویٰ کیا، ایک نے ایک مجلس میں دعویٰ کیا یہ میرا بچہ ہے اور دوسرے نے کسی دوسری مجلس میں اس کو خبر ملی تو اس نے کہا یہ میرا بچہ ہے، اب یہاں پتہ نہیں چل سکتا کہ کس نے پہلے دعویٰ کیا ہے، تو لہٰذا دونوں کو اکٹھا ہی قرار دیا جائے گا اور یہ دونوں کی ام ولد ہو جائے گی۔ تو یہ باندی جو دو آدمیوں کی ام ولد ہے، ان دونوں آدمیوں میں سے ایک نے اپنے حصے کو آزاد کر دیا، تو یاد رکھو پوری باندی آزاد ہو جائے گی، اور امام صاحب کے نزدیک وہ جو دوسرا شریک ہے وہ معتق سے ضمان نہیں لے سکتا، جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ دوسرا شریک معتق سے ضمان لے سکتا ہے اگر وہ مالدار ہے بھئی۔ اگر وہ مالدار ہے تو اس سے ضمان لے سکتا ہے۔ وجہ یہ کہ صاحبین اور امام صاحب کا اختلاف ہے۔ امام صاحب کے نزدیک ام ولد جو ہے اس کی کوئی قیمت نہیں، وہ متقوم نہیں ہے، متقوم نہیں ہے یعنی قیمت والی نہیں ہے، جبکہ صاحبین کے نزدیک ام ولد متقوم ہے یعنی قیمت والی ہے، تو لہٰذا دوسرا شریک جو ہے معتق سے ضمان لے سکتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ دیکھیے بھئی! کہتے ہیں: ”وَإِنْ كَانَتْ أُمَّ وَلَدٍ بَيْنَهُمَا“ اور اگر ایک ام ولد دو آدمیوں کے درمیان مشترکہ تھی، ”فَأَعْتَقَهَا أَحَدُهُمَا وَهُوَ مُوسِرٌ“ تو ان دونوں میں سے ایک نے اس کو آزاد کر دیا اس حال میں کہ وہ مالدار ہے، ”فَلَا ضَمَانَ عَلَيْهِ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ تو اس معتق پر کوئی ضمان نہیں ہے امام صاحب کے نزدیک، کیونکہ ام ولد کی کوئی قیمت نہیں ہے۔ ”وَقَالَا: يَضْمَنُ نِصْفَ قِيمَتِهَا“ اور صاحبین فرماتے ہیں کہ یہ جو معتق ہے یہ ضامن ہو گا اس ام ولد کی نصف قیمت کا۔ ”لِأَنَّ مَالِيَّةَ أُمِّ الْوَلَدِ غَيْرُ مُتَقَوَّمَةٍ عِنْدَهُ“ اس لیے کیونکہ ام ولد کی مالیت جو ہے وہ غیر متقوم ہے امام صاحب کے نزدیک، ام ولد کی مالیت غیر متقوم ہے یعنی اس کی کوئی قیمت نہیں ہے عندہ امام صاحب کے نزدیک، ”وَمُتَقَوَّمَةٌ عِنْدَهُمَا“ جبکہ صاحبین کے نزدیک ام ولد کی مالیت متقوم ہے، ام ولد قیمت والی ہے، اس کی قیمت ہے بھئی۔ ”وَعَلَى هَذَا الْأَصْلِ تَبْتَنِي عِدَّةٌ مِنَ الْمَسَائِلِ“ اور اس ضابطے پر کئی مسائل کی بنیاد ہے، اس ضابطے پر کئی مسائل کی بنیاد ہے، ”أَوْرَدْنَاهَا فِي كِفَايَةِ الْمُنْتَهِي“ جن کو ہم لے کر آئے ہیں کفایۃ المنتہی میں۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا بھئی کہ صاحبِ ہدایہ نے اس متن کی جو پہلی شرح لکھی اس کا نام کفایۃ المنتہی تھا اور وہ اسی (80) جلدوں پر مشتمل تھی، لیکن چونکہ وہ بہت طویل ہو گئی تھی تو پھر صاحبِ ہدایہ نے اس کو مختصر کیا اور ان اسی جلدوں کا خلاصہ چار جلدوں کی صورت میں لکھا اور اس کا نام ہدایہ رکھا۔ تو کفایۃ المنتہی وہ جو صاحبِ ہدایہ کی طویل شرح تھی اسی متن کی بھئی۔ اور علماء فرماتے ہیں کہ کفایۃ المنتہی آج دنیا میں موجود نہیں ہے، جو تاریخ کے اندر بڑے بڑے فتنے آئے اور حوادثاتِ زمانہ کی وجہ سے وہ کفایۃ المنتہی ختم ہو گئی ہے، آج دنیا میں وہ موجود نہیں ہے، البتہ وہ مسائل جن کی طرف صاحبِ ہدایہ اشارہ فرما رہے ہیں وہ اور کتابوں کے اندر علماء نے درج فرمائے ہیں۔ تو صاحبِ ہدایہ کیا فرماتے ہیں؟ کہتے ہیں: ”وَعَلَى هَذَا الْأَصْلِ تَبْتَنِي عِدَّةٌ مِنَ الْمَسَائِلِ أَوْرَدْنَاهَا فِي كِفَايَةِ الْمُنْتَهِي“ کہ اس ضابطے پر کئی مسائل کی بنیاد ہے جن کو ہم نے کفایۃ المنتہی میں ذکر کیا ہے۔ ان میں سے بعض مسائل حاشیے کے اندر بھی دیے ہوئے ہیں، حاشیے کے اندر بھئی۔ کہتے ہیں ان میں سے ایک مسئلہ یہ ہے کہ یہ باندی دونوں شریکوں کی ام ولد ہے تو اگر دونوں میں سے ایک کا انتقال ہو گا تو یہ آزاد ہو جائے گی، تو کیا دوسرے شریک کے لیے یہ سعی کرے گی یا سعی نہیں کرے گی؟ تو امام صاحب فرماتے ہیں نہیں، یہ دوسرے شریک کے لیے بھی سعی نہیں کرے گی، ویسے ہی آزاد ہو جائے گی، کیونکہ ام ولد متقوم نہیں ہے۔ جبکہ صاحبین کے نزدیک ام ولد متقوم ہے، لہٰذا ان کے نزدیک یہ ام ولد دوسرے شریک کے لیے سعی کرے گی اور اس کے حصے کی قیمت لا کر اسے ادا کرے گی۔ اسی ضابطے پر ایک یہ مسئلہ بھی متفرع ہوتا ہے کہ اگر اسی ام ولد نے بعد میں ایک اور بچے کو جنم دیا اور پھر ان دونوں میں سے ایک نے دعویٰ کر دیا کہ یہ میرا بچہ ہے، تو اس بچے کا نسب اسی سے ثابت ہو جائے گا اور یہ بچہ آزاد ہو گا، لیکن یہ جو مدعی تھا یہ اپنے شریک کے لیے اس بچے کی نصف قیمت کا ضامن نہیں بنے گا بھئی۔ بھئی دیکھیے نا ام ولد مشترکہ ہے، دونوں کی ملکیت ہے اس کے اندر، تو جو بچہ ہوتا ہے وہ بھی ماں کے حکم میں ہوتا ہے، تو معلوم ہوا اس بچے کے اندر بھی دونوں کی ملکیت ہونی چاہیے۔ جب دونوں کی ملکیت ہونی چاہیے لیکن ایک نے جب دعویٰ کر دیا کہ یہ میرا بچہ ہے تو یہ بچہ آزاد ہو جائے گا تو دوسرے کی آدھی ملکیت اس میں ضائع ہو گئی بھئی۔ تو کیا وہ دوسرا شریک اس مدعی سے ضمان لے سکتا ہے یا ضمان نہیں لے سکتا؟ تو امام صاحب فرماتے ہیں کہ نہیں، بچے کا وہی حکم ہے جو ماں کا حکم ہے، اور ماں جو ہے وہ ام ولد ہے غیر متقوم ہے، تو بچہ بھی غیر متقوم ہے، لہٰذا اس کی کوئی قیمت نہیں کہ جس کا ضمان ادا کیا جائے۔ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ ام ولد متقوم ہے تو اس کا بچہ بھی اسی کے حکم میں متقوم ہے، لہٰذا یہ مدعی جو ہے وہ اس بچے کی نصف قیمت جو ہے دوسرے شریک کے حوالے کرے گا بھئی، اس کو ادا کرے گا بھئی۔ اسی طرح اسی ضابطے پر یہ مسئلہ بھی متفرع ہوتا ہے کہ اگر ام ولد کو کسی نے غصب کر لیا اور پھر یہ ام ولد اس کے پاس ہلاک ہو گئی، تو امام صاحب فرماتے ہیں کہ غاصب پر کوئی ضمان نہیں، کیونکہ ام ولد متقوم نہیں ہے، جبکہ صاحبین کے نزدیک غاصب سے ضمان لیا جائے گا کیونکہ ام ولد صاحبین کے نزدیک متقوم ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ وہ چند مسائل ہیں جن کی طرف صاحبِ ہدایہ نے اشارہ فرمایا۔ تو کہتے ہیں: ”وَعَلَى هَذَا الْأَصْلِ تَبْتَنِي عِدَّةٌ مِنَ الْمَسَائِلِ أَوْرَدْنَاهَا فِي كِفَايَةِ الْمُنْتَهِي“ اور اس ضابطے پر کئی مسائل کی بنیاد ہے جن کو ہم کفایۃ المنتہی میں لائے ہیں، یعنی ان مسائل کو ہم نے کفایۃ المنتہی میں ذکر کیا ہے۔ آگے دیکھیے: ”وَجْهُ قَوْلِهِمَا“ اب صاحبین کے قول کی وجہ آ گئی۔ صاحبین کیا فرماتے ہیں کہ ام ولد متقوم ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَجْهُ قَوْلِهِمَا: أَنَّهَا مُنْتَفَعٌ بِهَا وَطْئًا وَإِجَارَةً وَاسْتِخْدَامًا“ بھئی صاحبین فرماتے ہیں کہ یہ جو ام ولد ہے یہ متقوم ہے اس لیے کیونکہ ام ولد سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔ آقا جو ہے ام ولد سے صحبت بھی کر سکتا ہے اور اس سے خدمت بھی لے سکتا ہے اور کسی دوسرے کو بھی اجرت کے اندر خدمت کے لیے دے سکتا ہے، اور یہ چیزیں علامت ہیں اس کے متقوم ہونے کی۔ ام ولد سے آقا وطی بھی کر سکتا ہے، صحبت بھی کر سکتا ہے، اس سے خدمت بھی لے سکتا ہے اور اسے اجارے پر بھی دے سکتا ہے یعنی اجرت پر کہ کسی دوسرے کی خدمت کرے اور آقا اس کی اجرت وصول کرے بھئی۔ اور یاد رکھنا یہاں وطی کا ذکر آیا، میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ جب ایک باندی دو آدمیوں کے درمیان مشترکہ ہو تو کسی ایک کے لیے بھی اس سے صحبت جائز نہیں ہے بھئی۔ تو یہاں پر دلیل کے اندر آیا کہ صاحبین کے قول کی وجہ یہ ہے کہ ام ولد سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے وطی کے اعتبار سے بھی، تو یہ اس ام ولد کی بات نہیں ہو رہی، مطلقاً عام ام ولد جو کسی ایک آدمی کی ہوتی ہے تو اس سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے وطی کا بھی، خدمت کا بھی اور اجارے کا بھی، اور یہ دلیل ہے اس کے متقوم ہونے کی۔ تو کہتے ہیں: ”وَجْهُ قَوْلِهِمَا: أَنَّهَا مُنْتَفَعٌ بِهَا وَطْئًا وَإِجَارَةً وَاسْتِخْدَامًا، وَهَذَا هُوَ دَلَالَةُ التَّقَوُّمِ“ اور یہ اس کے متقوم ہونے کی دلیل ہے، ”وَبِامْتِنَاعِ بَيْعِهَا لَا يَسْقُطُ تَقَوُّمُهَا“ اور اس کی بیع کے ممتنع ہونے سے اس کا تقوم ساقط نہیں ہوتا۔ بھئی میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ مدبر، ام ولد اور مکاتب ان کو بیچا نہیں جا سکتا، کیونکہ ان کا حقِ آزادی ضائع ہو گا بھئی۔ تو صاحبین کی دلیل چل رہی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ام ولد جو ہے وہ متقوم ہے، صرف اس کا بیچنا جائز نہیں ہے، لیکن بیچنا ممتنع ہو اس سے اس کا تقوم ساقط نہیں ہوتا، اس کا متقوم ہونا ختم نہیں ہوتا۔ کہتے ہیں یہ اسی طرح ہے جیسے مدبر ہے۔ اور مدبر تو بالاتفاق ہمارے تینوں ائمہ کے نزدیک مدبر متقوم ہے۔ تو صاحبین فرماتے ہیں کہ مدبر جو ہے اس کو بھی بیچنا منع ہے لیکن اس کے باوجود امام صاحب کے نزدیک وہ متقوم ہے، تو جیسے مدبر میں بیچنا منع ہے پھر بھی وہ متقوم ہے، اسی طرح اگر ام ولد کا بیچنا منع ہے تو اس سے کوئی خرابی لازم نہیں آتی، یہ ام ولد بھی متقوم ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَبِامْتِنَاعِ بَيْعِهَا لَا يَسْقُطُ تَقَوُّمُهَا كَمَا فِي الْمُدَبَّرِ“ اور اس ام ولد کی بیع کے ممتنع ہونے سے اس کا قیمت والا ہونا ساقط نہیں ہوتا جیسے کہ مدبر میں ہے۔ ”أَلَا تَرَى أَنَّ أُمَّ وَلَدِ النَّصْرَانِيِّ إِذَا أَسْلَمَتْ عَلَيْهَا السِّعَايَةُ“ تو صاحبین نے اس ام ولد کو قیاس کیا مدبر پر، اور اب اس ام ولد کو قیاس کر رہے ہیں نصرانی یعنی عیسائی کی ام ولد پر جو مسلمان ہو جائے۔ ایک عیسائی ہے اس کی ام ولد ہے اور وہ ام ولد مسلمان ہو گئی۔ تو ابھی آپ نے مسئلہ پڑھا کہ یہ ام ولد اب عیسائی کے تحت نہیں رہ سکتی، لہٰذا یہ جائے گی، سعی کرے گی اور اپنی قیمت ادا کر کے آزاد ہو جائے گی۔ تو صاحبین فرماتے ہیں دیکھا اس مسئلے کے اندر یہ جو عیسائی کی ام ولد ہے یہ ویسے ہی آزاد نہیں ہو رہی بلکہ سعی کر کر اپنی قیمت ادا کر رہی ہے، معلوم ہوا ام ولد متقوم ہے اسی لیے تو اس پر سعی کو واجب قرار دیا گیا، اگر یہ متقوم نہ ہوتی تو اس کے ذمے سعی بھی نہ ہوتی بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”أَلَا تَرَى أَنَّ أُمَّ وَلَدِ النَّصْرَانِيِّ إِذَا أَسْلَمَتْ عَلَيْهَا السِّعَايَةُ، وَهَذَا آيَةُ التَّقَوُّمِ“ کیا آپ دیکھتے نہیں ہیں کہ عیسائی کی ام ولد جب وہ مسلمان ہو جائے تو اس ام ولد پر سعی واجب ہوتی ہے اور یہ اس کے قیمت والا ہونے کی علامت ہے، ”غَيْرَ أَنَّ قِيمَتَهَا ثُلُثُ قِيمَتِهَا“۔ ”...تِهَا قِنَّةً عَلَىٰ مَا قَالُوهُ“ بھئی یاد رکھو، یہ جو ام ولد ہے، اس کی قیمت عام باندی سے کم ہوتی ہے۔ ام ولد کی قیمت عام باندی کا صرف ایک تہائی ہوتی ہے۔ ام ولد کی قیمت عام باندی کا صرف ایک تہائی ہوتی ہے، یعنی تین میں سے صرف ایک حصہ۔ اگر یہی عام باندی ہوتی اور اس کی قیمت تین سو درہم تھی، تو اب جب یہ ام ولد بن گئی ہے تو اب صرف اس کی قیمت سو درہم ہے بھئی۔ یعنی تین حصوں میں سے صرف ایک حصہ اس کی قیمت ہے، ایک تہائی اس کی قیمت ہے۔ تو ام ولد کی قیمت عام باندی کے مقابلے میں ایک تہائی ہوتی ہے، جبکہ آپ پڑھ چکے ہیں گزشتہ سبق میں کہ مدبر جو ہے، اس کی قیمت بھی عام غلام کے مقابلے میں کم ہوتی ہے لیکن مدبر کی قیمت عام غلام کے مقابلے میں دو تہائی ہوتی ہے، یعنی تین میں سے دو حصے، اگر عام غلام تین سو درہم کا ہے تو وہی غلام جب مدبر بن گیا تو اب دو سو درہم کا ہے بھئی۔ اور عام باندی اگر تین سو درہم کی ہے تو اگر وہی باندی ام ولد بن گئی تو اب وہ صرف سو درہم کی ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو اب اسی کو صاحبِ ہدایہ ذکر فرمائیں گے۔ کہتے ہیں: ”غَيْرَ أَنَّ قِيمَتَهَا ثُلُثُ قِيمَتِهَا قِنَّةً“ مگر یہ کہ ام ولد کی جو قیمت ہے، وہ اس کی قیمت کا تہائی ہے ”قِنَّةً“ باعتبار عام باندی ہونے کے۔ عام باندی ہونے کے اعتبار سے جو اس کی قیمت تھی، اس کا صرف ثلث ہے اس ام ولد کی قیمت۔ تو کہتے ہیں: ”غَيْرَ أَنَّ قِيمَتَهَا ثُلُثُ قِيمَتِهَا قِنَّةً“ علاوہ اس کے کہ اس ام ولد کی جو قیمت ہے، وہ عام باندی ہونے کے اعتبار سے اس کی قیمت کا تہائی ہے۔ عام باندی ہونے کے اعتبار سے جو اس کی قیمت تھی، اس کا تیسرا حصہ ہے یہ ام ولد کی قیمت بھئی، ”عَلَىٰ مَا قَالُوهُ“ اس وجہ سے جو فقہاء نے فرمایا ہے بھئی، ”لِفَوَاتِ مَنْفَعَةِ الْبَيْعِ وَالسِّعَايَةِ بَعْدَ الْمَوْتِ“ اب وجہ ذکر کر رہے ہیں صاحبِ ہدایہ۔ توجہ سے بھئی۔ ام ولد کی قیمت عام باندی کی قیمت کا تیسرا حصہ ہے، اس کی وجہ کیا ہے؟ تو اس کی وجہ ذکر فرما رہے ہیں کہ عام باندی کے تین فائدے ہیں: کہ اس سے خدمت بھی لی جا سکتی ہے، اس کو بیچا بھی جا سکتا ہے اور موت کے بعد اس سے سعایت بھی کروائی جا سکتی ہے۔ اس سے موت کے بعد سعایت بھی کروائی جا سکتی ہے۔ مثلاً ایک آدمی نے وصیت کر دی کہ میرے مرنے کے بعد یہ باندی آزاد ہے۔ مرنے کے بعد باندی آزاد ہے تو یہ باندی مدبرہ ہو گئی اور آقا کے مرنے پر یہ آزاد ہو گی لیکن آقا کا مال صرف یہی باندی تھی اور کچھ بھی نہیں ہے۔ تو اس باندی کا حکم وصیت والا ہے۔ تو اس باندی کا صرف تیسرا حصہ آزاد ہو گا اور باقی دو حصوں میں یہ سعایت کرے گی اور پیسے کما کر لائے گی اور وارثوں کو دے گی بھئی۔ تو عام باندی سے موت کے بعد سعایت کروائی جا سکتی ہے، لیکن یاد رکھو ام ولد جو ہے، وہ ویسے ہی آزاد ہوتی ہے، اس سے سعایت نہیں کروائی جا سکتی۔ ایک آدمی کی ام ولد ہے اور اس آدمی کا انتقال ہوا، اب اس ام ولد نے آزاد ہونا ہے، اس آدمی کا اور کوئی مال ہے ہی نہیں، صرف یہ ام ولد ہے۔ تو کیا صرف اس کا ثلث آزاد ہو گا اور دو ثلث میں یہ وارثوں کے لیے سعایت کرے گی؟ کہتے ہیں: نہیں نہیں، یہ جو ام ولد ہوتی ہے، یہ موت کے بعد سعایت نہیں کرتی، یہ ویسے ہی آزاد ہو جاتی ہے۔ تو عام باندی کے کتنے فائدے؟ تین۔ اس سے خدمت بھی لی جا سکتی ہے، اسے بیچا بھی جا سکتا ہے اور موت کے بعد اس سے سعایت بھی کروائی جا سکتی ہے۔ لیکن جب ام ولد بن گئی اب صرف خدمت لی جا سکتی ہے اور دو فائدے ختم ہو گئے۔ اس کو بیچا بھی نہیں جا سکتا اور موت کے بعد سعایت بھی نہیں کروائی جا سکتی۔ تو ام ولد کے تین میں سے دو فائدے ختم ہو گئے، صرف ایک فائدہ باقی ہے۔ لہٰذا اس کی قیمت میں تین میں سے دو حصے ختم ہو گئے اور صرف ایک حصہ قیمت رہ گئی بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”لِفَوَاتِ مَنْفَعَةِ الْبَيْعِ وَالسِّعَايَةِ بَعْدَ الْمَوْتِ“ اس وجہ سے کہ یہ جو ام ولد ہے، اس کی بیع کا نفع اور اسی طرح موت کے بعد اس کی جو سعایت ہے، یہ دونوں چیزیں فوت ہو گئیں، تو تین فائدوں میں سے دو فائدے فوت ہو گئے، صرف خدمت باقی رہ گئی، تو اس کی قیمت بھی تین میں سے دو حصے ساقط ہو جائے گی۔ ”بِخِلَافِ الْمُدَبَّرِ“ بھئی مدبر کے بارے میں آپ نے پڑھا تھا، مدبر کی قیمت دو تہائی رہ جاتی ہے۔ مدبر کی قیمت دو تہائی رہ جاتی ہے، اب اس کی وجہ ذکر کریں گے صاحبِ ہدایہ، کہتے ہیں: کیونکہ مدبر کے بھی تین فائدے تھے: ایک تو یہ کہ اس سے خدمت لی جا سکتی ہے، دوسرا اس کو بیچا جا سکتا ہے اور نیز موت کے بعد اس سے سعایت بھی کروائی جا سکتی ہے۔ تو جب اس غلام کو مدبر بنا دیا تو اب اس کو بیچا نہیں جا سکتا، ایک نفع ختم ہو گیا لیکن خدمت بھی لی جا سکتی ہے اور موت کے بعد سعایت بھی کروائی جا سکتی ہے، تو دو نفعے ابھی بھی باقی ہیں، تو اس لیے اس کے تین میں سے دو حصے قیمت باقی ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: ”بِخِلَافِ الْمُدَبَّرِ“ بخلاف مدبر کے، ”لِأَنَّ الْفَائِتَ مَنْفَعَةُ الْبَيْعِ“ اس لیے کیونکہ مدبر کے اندر صرف بیع کا نفع فوت ہوا ہے، ”أَمَّا السِّعَايَةُ وَالِاسْتِخْدَامُ فَبَاقِيَانِ“ اور باقی موت کے بعد سعایت جو ہے اور خدمت لینا جو ہے ”فَبَاقِيَانِ“ یہ دونوں نفعے باقی ہیں، لہٰذا اس لیے مدبر کی قیمت تین میں سے دو تہائی رہ جاتی ہے عام غلام کے مقابلے میں۔ اب امام صاحب کی دلیل آ گئی: ”وَلِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ أَنَّ التَّقَوُّمَ بِالْإِحْرَازِ، وَهِيَ مُحْرَزَةٌ لِلنَّسَبِ لَا لِلتَّقَوُّمِ، وَالْإِحْرَازُ لِلتَّقَوُّمِ تَابِعٌ“ امام صاحب کی دلیل آ گئی۔ امام صاحب فرماتے ہیں کہ کسی چیز کا متقوم ہونا احراز کے ذریعے ہوتا ہے۔ ”أَحْرَزَ يُحْرِزُ إِحْرَازًا“ کا معنی ہے جمع کرنا اور سمیٹنا۔ جمع کرنا اور سمیٹنا۔ تو کوئی چیز احراز کے ذریعے قیمت والی بنتی ہے۔ بھئی دیکھو، یہ جو مال ہے نا، مال، مال کو مال اس لیے کہتے ہیں کیونکہ طبیعت اس کی طرف مائل ہوتی ہے، اور جو چیز قیمت والی ہوتی ہے لوگ اس کو سمیٹتے ہیں، اپنے پاس محفوظ رکھتے ہیں۔ دیکھو مال کو لوگ کیا کرتے ہیں؟ اپنے پاس حفاظت سے رکھتے ہیں۔ ہر چیز جو بھی آپ چیز قیمت، پیسے دے کر لاتے ہیں، آپ اس کا خیال رکھتے ہیں۔ تو یاد رکھو، یہ جو قیمت آتی ہے، یہ احراز کے ذریعے آتی ہے۔ مثلاً ایک عام جنگل ہے، کسی کا مملوک نہیں ہے، تو اس کے اندر جو لکڑیاں وغیرہ ہیں، وہ متقوم نہیں ہیں۔ جو بھی جائے وہاں سے لکڑیاں اکٹھی کر سکتا ہے۔ جنگل میں لکڑیاں، ایک ساتھی آیا، آپ نے کہا: بھئی! یہ جنگل میں لکڑیاں میں نے آپ کو ایک لاکھ روپے میں بیچ دیں، بھئی! یہ تو عام لوگوں کا جنگل ہے، آپ کیسے بیچ رہے ہیں؟ ہاں، وہی لکڑیاں آپ سمیٹ کر لے آئے اور گٹھا بنایا، اب آپ بازار میں بیچتے ہیں۔ اب دیکھو، آپ نے ان کو کیا کر لیا؟ اپنے پاس محفوظ کر لیا، جمع کر لیا، اب یہ قیمت والی ہو گئیں۔ آپ بیچنا چاہیں تو بیچ سکتے ہیں۔ تو معلوم ہوا قیمت کس کے ذریعے ہوتی ہے؟ احراز کے ذریعے ہوتی ہے، سمیٹنے اور جمع کرنے سے۔ اسی طرح غلام ہے، غلام کیسے بنایا جاتا ہے؟ غلام تو جنگ ہوئی تھی، جنگ کے اندر مخالفوں کا آدمی ہم نے پکڑ لیا تھا، تو وہاں اس کو ہم نے پکڑنے کے بعد اپنے پاس محفوظ کر لیا کہ یہ اب ہماری کیا کرے گا؟ خدمت کرے گا، تو مال بن گیا۔ دیکھا، احراز کے ذریعے قیمت ہوتی ہے، ورنہ پہلے تو وہ آزاد تھا، اس کی کوئی قیمت نہیں تھی بھئی۔ تو معلوم ہوا قیمت کس کے ذریعے ہوتی ہے؟ احراز کے ذریعے ہوتی ہے۔ اسی طرح دریا کے اندر مچھلیاں ہیں، تو وہ آپ کسی ساتھی سے کہتے ہیں: یہ مچھلیاں میں نے آپ کو بیچ دیں اتنے پیسوں میں، بھئی! آپ تو اس کے مالک ہی نہیں ہیں بھئی! یہ تو متقوم ہی نہیں ہے، کیونکہ ان میں احراز نہیں ہے۔ تو ہاں، البتہ جب آپ ان مچھلیوں کو پکڑ لیتے ہیں تو اب ان کا جمع کرنا اور محفوظ کرنا پایا گیا، اب یہ متقوم ہو گئیں، اب آپ بیچنا چاہیں تو بیچ سکتے ہیں۔ معلوم ہوا قیمت والا ہونا یہ احراز کے ذریعے ہوتا ہے۔ اور پھر یہ احراز یاد رکھنا دو قسم پر ہے: ایک احراز ہوتا ہے تقوم کے لیے، اور ایک احراز ہوتا ہے نسب کے لیے۔ ایک چیز کو محفوظ کیا جاتا ہے قیمت والا ہونے کی وجہ سے، اور ایک چیز کو محفوظ کیا جاتا ہے نسب کی وجہ سے۔ مثلاً منکوحہ جو ہے، اپنی بیوی جو ہے، انسان اس کی بھی حفاظت کرتا ہے، لیکن یہاں احراز جو ہے وہ قیمت والا ہونے کی وجہ سے نہیں ہے کیونکہ یہ تو آزاد عورت ہے، آزاد عورت تو مالِ متقوم نہیں ہے بھئی۔ تو لہٰذا یہاں احراز جو ہے وہ نسب کی وجہ سے ہے۔ تو اس منکوحہ بیوی کے اندر احراز للنسب ہے۔ احراز للنسب کا کیا معنی؟ احراز للنسب کا معنی یہ ہے کہ اس عورت کی اس لیے حفاظت کی جا رہی ہے کہ حفاظت کرنے والا شخص، یعنی اس کا خاوند یہ سوچتا ہے کہ اس عورت سے مجھے اولاد حاصل ہو گی، اس کے ذریعے میرے نسب کا سلسلہ چلے گا، تو یہ جو حفاظت کی جا رہی ہے یہ کس لیے ہے؟ نسب کے لیے ہے بھئی۔ تو یہ ہے احراز للنسب۔ اور جبکہ دوسرا احراز للتقوم ہے کہ اس کے اندر انسان کسی چیز کو محفوظ کرتا ہے اس کی قیمت ہونے کی وجہ سے، مالداری کے لیے۔ دیکھیں، آپ اپنی تمام چیزوں کی حفاظت کرتے ہیں، کس لیے؟ کیونکہ وہ قیمت والی ہیں، تو مالدار ہونے کے لیے انسان اپنی چیزوں کی حفاظت کرتا ہے۔ جتنی زیادہ قیمت والی چیزیں آپ کے پاس ہوں گی آپ اتنے ہی زیادہ مالدار شمار ہوں گے بھئی۔ تو بعض چیزوں میں احراز نسب کے لیے ہوتا ہے اور بعض میں احراز تقوم کے لیے۔ اور احراز للنسب یا تو بیوی کے اندر ہے اور اسی طرح ام ولد کے اندر جو احراز ہے وہ بھی نسب کے لیے ہے کہ اس سے، تو اس آقا کی ایک اولاد ہو چکی ہے، تو اب آقا جو اس کی حفاظت کرتا ہے وہ نسب کے لیے کرتا ہے۔ معلوم ہوا احراز دو قسم پر ہے: ایک احراز للنسب اور ایک احراز للتقوم۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو انسان یہ جو قیمتی چیزیں جمع کرتا ہے، اکٹھی کرتا ہے، وہ کس لیے؟ مالداری کے لیے بھئی، کیونکہ ان کی قیمت ہوتی ہے بھئی۔ تو معلوم ہوا احراز دو قسم پر ہے: ایک احراز جو ہے نسب کے لیے ہوتا ہے، جیسے منکوحہ بیوی کے اندر ہے، اور ایک احراز جو ہے تقوم کی وجہ سے ہوتا ہے یعنی مالداری کے لیے ہوتا ہے، اور وہ جو باقی چیزیں ہیں جن کی خرید و فروخت کی جاتی ہے بھئی۔ تو امام صاحب کی دلیل چل رہی ہے۔ امام صاحب فرماتے ہیں کہ کسی چیز کا قیمت والا ہونا یہ احراز کے ذریعے ہو گا، اور ام ولد کے اندر جو احراز ہوتا ہے وہ نسب کے لیے ہوتا ہے، وہ تقوم کے لیے نہیں ہوتا۔ تو ام ولد کے اندر جو احراز ہے وہ اسی طرح کا احراز ہے جیسے اپنی منکوحہ بیوی کے اندر احراز ہوتا ہے، اور منکوحہ بیوی کے اندر جو احراز ہوتا ہے وہ تو تقوم کی وجہ سے نہیں ہوتا، قیمت والا ہونے کی وجہ سے نہیں ہوتا بلکہ نسب کے لیے ہوتا ہے، اسی طرح اس ام ولد کے اندر بھی جو احراز ہے وہ نسب کی وجہ سے ہے۔ اور یاد رکھو، یہ احراز للنسب اصل ہے اور احراز للتقوم یہ اس کے تابع ہے۔ تو جب احراز للنسب پایا جائے تو احراز للتقوم کا کوئی اعتبار نہیں ہے، کیونکہ جب اصل موجود ہے تو تابع کی طرف نظر نہیں کی جائے گی، کیونکہ احراز للنسب اصل ہے وہ مقصود ہے، اور احراز تقوم وہ غیر مقصود ہو گیا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو امام صاحب فرماتے ہیں کہ یہ باندی جب تک ام ولد نہیں بنی تھی، یہ عام باندی تھی، اس وقت اس کے اندر احراز جو تھا وہ تقوم کے لیے تھا، کیونکہ غلام اور باندی کی قیمت ہوتی ہے، لیکن جب اس کو ام ولد بنا دیا اب یہ احراز کون سا بن گیا؟ احراز للنسب بن گیا اور احراز للتقوم وہ اس کے تابع ہو گیا، تو احراز نسب اصل ہے تو اب احراز تقوم کا کوئی اعتبار نہیں ہے، تو یہاں اس ام ولد کی کوئی قیمت نہیں، کیونکہ اس کے اندر احراز نسب کے لیے ہے، تقوم کے لیے ہے ہی نہیں۔ احراز للتقوم ہوتا پھر قیمت والی ہوتی، احراز للتقوم نہیں تو قیمت والی بھی نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے ”أَنَّ التَّقَوُّمَ بِالْإِحْرَازِ“ کہ قیمت والا ہونا احراز کے ذریعے ہوتا ہے ”وَهِيَ مُحْرَزَةٌ لِلنَّسَبِ لَا لِلتَّقَوُّمِ“ اور یہ جو ام ولد ہوتی ہے اس کو محفوظ کیا جاتا ہے نسب کے لیے ”لَا لِلتَّقَوُّمِ“ قیمت والا ہونے کی وجہ سے نہیں ”وَالْإِحْرَازُ لِلتَّقَوُّمِ تَابِعٌ“ اور احراز تقوم جو ہے وہ تابع ہوتا ہے، یعنی احراز للنسب کے تابع ہوتا ہے بھئی۔ تو وہ تابع ہے یعنی وہ غیر مقصود ہوتا ہے، ”وَلِهَذَا لَا تَسْعَى لِغَرِيمٍ وَلَا لِوَارِثٍ“ اور اسی وجہ سے یہ ام ولد نہ تو قرض خواہ کے لیے سعایت کرتی ہے اور نہ وارث کے لیے۔ ابھی میں نے آپ کو بتلایا کہ ایک آدمی مر گیا اور اس کے صرف ایک ام ولد ہے اور کوئی مال ہے ہی نہیں، تو بھی یہ ام ولد ویسے ہی آزاد ہو جائے گی، یہ وارثوں کے لیے سعایت نہیں کرے گی، اور یہ علامت ہے کہ یہ غیر متقوم ہے بھئی۔ اور نیز اگر اس مرنے والے پر دین ہو، تو آپ نے پڑھا ہے کہ پھر اس صورت کے اندر دین جو ہے وصیت پر مقدم ہوتا ہے۔ لہٰذا اگر ایک آدمی مر گیا اور اس نے ایک مدبر چھوڑا اور اس کا مال صرف یہ مدبر ہے تو مدبر کے صرف ثلث نے آزاد ہونا تھا، دو ثلث میں اس نے سعایت کرنی تھی۔ لیکن اس مرنے والے پر بہت سا دین بھی ہے، تو یہ مدبر کی جو آزادی یہ تو وصیت کے درجے میں تھی، اور دین کیا ہوتا ہے؟ وصیت پر مقدم۔ لہٰذا اب مدبر اپنی ساری قیمت میں سعایت کرے گا قرض خواہوں کے لیے۔ تو مدبر متقوم ہے۔ لہٰذا اگر آقا کے ذمے دین تھا تو مدبر سارے دین کے اندر سعایت کرے گا، اور اگر دین نہیں تھا اور صرف یہی مال ہے تو پھر مدبر کا صرف ثلث آزاد ہو گا اور دو ثلث میں وہ وارثوں کے لیے سعایت کرے گا۔ جبکہ یہ جو ام ولد ہے، نہ تو یہ قرض خواہوں کے لیے سعایت کرتی ہے اور نہ وارثوں کے لیے، بلکہ ویسے ہی آزاد ہو جائے گی۔ اگر یہ مال ہوتی تو یہ کیا کرتی ان کے لیے؟ سعایت کرتی۔ یہ دلیل ہے اس بات کی کہ یہ متقوم نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَلِهَذَا لَا تَسْعَى لِغَرِيمٍ وَلَا لِوَارِثٍ“ اور اسی وجہ سے یہ جو ام ولد ہے نہ تو کسی قرض خواہ کے لیے سعایت کرتی ہے اور نہ کسی وارث کے لیے۔ یہ دلیل ہے اس بات کی کہ اس کی کوئی قیمت نہیں ہے۔ ”بِخِلَافِ الْمُدَبَّرِ“ بخلاف مدبر کے، صاحبین نے ام ولد کو قیاس کیا تھا مدبر پر کہ مدبر کو بیچا نہیں جا سکتا لیکن پھر بھی وہ متقوم ہے، اسی طرح ام ولد کو اگر بیچا نہیں جا سکتا تو کوئی حرج نہیں، وہ پھر بھی متقوم ہے بھئی۔ تو اس کا جواب دے رہے ہیں کہ بخلاف مدبر کے کہ اس کے اندر جو احراز ہے وہ نسب کے لیے نہیں ہے بھئی۔ بھئی مدبر غلام بھی ہو سکتا ہے اور باندی بھی ہو سکتی ہے، تو مدبر چاہے غلام ہو چاہے باندی ہو، وہاں پر جو احراز ہے وہ نسب کے لیے نہیں ہے بلکہ وہاں پر احراز تقوم کے لیے ہے۔ وہاں پر احراز تقوم کے لیے ہے اس لیے ان کی قیمت ہے، جبکہ ام ولد میں احراز نسب کے لیے ہے اس لیے اس کی کوئی قیمت نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں: ”بِخِلَافِ الْمُدَبَّرِ“ بخلاف مدبر کے کہ اس میں احراز نسب کے لیے نہیں ہو سکتا۔ ”وَهَذَا“ اور یہ اس لیے، اب فرق بیان کر رہے ہیں مدبر اور ام ولد کے اندر بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَهَذَا“ اور یہ اس لیے یعنی یہ مدبر اور ام ولد میں جو فرق ہے وہ اس وجہ سے ہے کہ ام ولد کے اندر آزادی کا سبب فی الحال ہی ثابت ہے، اور مدبر میں آزادی کا سبب مرنے کے بعد ثابت ہو گا۔ بھئی مدبر کو آقا نے کیا کہا؟ کہ میرے مرنے کے بعد تم آزاد ہو۔ ”أَنْتَ حُرٌّ بَعْدَ مَوْتِي“ یا ”إِنْ مُتُّ فَأَنْتَ حُرٌّ“ اگر میں مر گیا تو تو آزاد ہے۔ اور آپ نے پڑھا ہے کہ جو معلق ہوتا ہے شرط کے ساتھ، عند الاحناف وہ سبب بنتا ہے عند وجود الشرط، جب شرط پائی جائے گی اس وقت یہ ”أَنْتَ حُرٌّ“ آئے گا، ابھی یہ ”أَنْتَ حُرٌّ“ گویا موجود ہی نہیں ہے۔ تو مدبر کو آقا نے کہا ہے ”أَنْتَ حُرٌّ بَعْدَ مَوْتِي“ تو یہ آزادی کو آقا نے معلق کر دیا اپنی موت کے ساتھ، تو گویا ابھی ”أَنْتَ حُرٌّ“ ہے ہی نہیں۔ جب آقا مرے گا اس وقت یہ ”أَنْتَ حُرٌّ“ آئے گا اور یہ مدبر آزاد ہو جائے گا۔ تو مدبر کی آزادی کا سبب یہ ”أَنْتَ حُرٌّ“ ہے، اس کی وجہ سے یہ آزاد ہو رہا ہے، لیکن یہ آزادی کا سبب فی الحال موجود ہی نہیں ہے، یہ فی الحال کالعدم ہے۔ جب آقا مرے گا تب یہ ”أَنْتَ حُرٌّ“ آئے گا اور یہ مدبر آزاد ہو جائے گا۔ تو مدبر کے اندر حریت کا سبب فی الحال موجود نہیں، موت کے بعد ”أَنْتَ حُرٌّ“ آئے گا اور وہ آزاد ہو جائے گا۔ جبکہ ام ولد کے اندر حریت کا سبب فی الحال ہی موجود ہے۔ ام ولد میں حریت کا سبب فی الحال ہی موجود ہے، وہ اس طرح کہ آپ نے پڑھا تھا حرمتِ مصاہرت کا مسئلہ۔ حرمتِ مصاہرت کے اندر آپ نے پڑھا تھا کہ خاوند پر بیوی کے اصول و فروع حرام ہو جاتے ہیں، اور بیوی پر خاوند کے اصول اور فروع حرام ہو جاتے ہیں۔ بلکہ حلال وطی تو چھوڑیے، حرام وطی کی یعنی زنا اگر کوئی شخص کرے تو بھی زانی اور مزنیہ کے اصول اور فروع ایک دوسرے پر حرام ہو جاتے ہیں۔ وجہ یہ کہ یہ وطی پہنچانے والی ہے اولاد تک، اور اولاد جو ہے وہ تو دونوں کا جز ہے، واطی کا بھی اور موطوءہ کا بھی، تو دونوں کے جز اولاد میں اکٹھے ہو گئے۔ تو یہ دونوں گویا ایک دوسرے کا جز بن گئے۔ جب ایک دوسرے کا جز بن گئے تو واطی کے اصول و فروع موطوءہ کے اصول و فروع بن گئے اور موطوءہ کے اصول اور فروع جو ہیں وہ واطی کے اصول و فروع بن گئے، کیونکہ دونوں ایک دوسرے کا جز بن گئے۔ تو ایک دوسرے کے جو اصول اور فروع ہیں وہ اپنے اصول اور فروع بن گئے بھئی۔ اور اپنے اصول اور فروع تو انسان پر حرام ہوتے ہیں، تو اس لیے واطی پر موطوءہ کے اصول اور فروع حرام ہو گئے اور موطوءہ پر واطی کے اصول اور فروع حرام ہو گئے، کس وجہ سے؟ جزئیت کی وجہ سے کہ یہ دونوں آپس میں ایک دوسرے کا جز بن گئے اولاد کے اندر۔ اور اولاد کا ہونا ضروری نہیں ہے، صرف اولاد تک پہنچانے کا جو سبب ہے وطی، بلکہ دواعیِ وطی سے بھی یہ حرمتِ مصاہرت ثابت ہو جائے گی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ جو ام ولد ہے، اس سے آقا کی اولاد ہوئی ہے۔ تو جب آقا کی اولاد ہو گئی تو آقا اور یہ ام ولد، یہ واطی اور موطوءہ ایک دوسرے کے جز بن گئے کیونکہ اولاد میں دونوں کے جز اکٹھے ہو گئے، دونوں ایک دوسرے کے جز ہو گئے، تو لہٰذا یہاں پر آقا اور ام ولد کے درمیان جزئیت والا تعلق آ گیا، دونوں ایک دوسرے کا جز بن گئے۔ اور جب دونوں ایک دوسرے کا جز بن گئے تو انسان اپنے جز کا تو مالک نہیں بن سکتا۔ کوئی شخص اپنے بیٹے کو خریدے تو خریدتے ہی بیٹا آزاد ہو جاتا ہے کیونکہ بیٹا اس کا جز ہے۔ توجہ ہے؟ تو لہٰذا یہاں پر جب آقا اور ام ولد کے درمیان جزئیت والا تعلق آ گیا، تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ اس باندی کو فی الحال ہی فوراً آزاد ہو جانا چاہیے، کیونکہ یہ آقا کا جز بن گئی، اور اپنا جز انسان کا مملوک نہیں ہو سکتا۔ یہ اسی طرح ہے جیسے حرمتِ مصاہرت کے مسئلے میں۔ حرمتِ مصاہرت کے مسئلے میں میاں بیوی ایک دوسرے کا جز بن گئے، اور اپنا جز تو انسان پر حرام ہوتا ہے۔ کوئی آدمی اپنی بیٹی سے نکاح نہیں کر سکتا کیونکہ بیٹی اس کا اپنا جز ہے، تو اپنا جز انسان پر کیا ہوتا ہے؟ حرام ہوتا ہے۔ تو جب میاں بیوی ایک دوسرے کا جز بن گئے تو یہ تقاضا کر رہا ہے کہ یہ بھی آپس میں ایک دوسرے پر حرام ہو جائیں۔ ایک ہی دفعہ وطی کرنے کے بعد میاں بیوی کو ایک دوسرے پر حرام ہونا چاہیے، قیاس یہ تقاضا کرتا ہے۔ لیکن شریعت نے تو ایک دوسرے پر حرام قرار نہیں دیا۔ معلوم ہوا یہاں شریعت نے ضرورت کی وجہ سے ایک دوسرے پر حرام قرار نہیں دیا، کیونکہ اگر ایک ہی وطی سے عورت حرام ہو گی تو انسان، انسان تو بقائے نسل کا محتاج ہے، تو وہ انسان مشکل میں پڑ جائے گا کہ اپنی نسل کو کیسے باقی رکھے؟ جس عورت سے بھی نکاح کرے گا، ایک ہی وطی سے وہ حرام ہو جائے گی، اب آگے پتا نہیں اولاد ہوتی ہے یا نہیں، دوسری عورت سے نکاح کرے گا وہ بھی ایک ہی وطی سے دونوں ایک دوسرے کا جز بن گئے وہ بھی حرام ہو جائے گی، تو لہٰذا چونکہ میاں بیوی میں حاجت اور ضرورت تھی بقائے نسل کی، اس لیے وہاں شریعت نے ان دونوں کو ایک دوسرے پر حرام قرار نہیں دیا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہاں پر بھی جب آقا اور اس کی ام ولد جو ہے، ان کے درمیان جزئیت والا تعلق آ گیا، تو یہ جو باندی ہے یہ آقا کا جز بن گئی۔ تو دونوں کو بھی ایک دوسرے پر حرام ہونا چاہیے، لیکن یہاں بھی شریعت نے ضرورت اور حاجت کی وجہ سے اس ام ولد کو آقا پر حرام قرار نہیں دیا۔ تو امام صاحب کی دلیل چل رہی ہے۔ امام صاحب فرماتے ہیں: ام ولد اور مدبر کے درمیان فرق ہے۔ مدبر کے اندر جو آزادی کا سبب ہے وہ ”أَنْتَ حُرٌّ بَعْدَ مَوْتِي“ ہے، اور یہ ”أَنْتَ حُرٌّ“ ابھی موجود ہی نہیں ہے، یہ جب آقا مرے گا تب یہ ”أَنْتَ حُرٌّ“ پایا جائے گا اور غلام آزاد ہو جائے گا۔ جبکہ ام ولد کے اندر جو آزادی کا سبب ہے وہ یہ ہے کہ وہ آقا کا جز بن گئی ہے، اور یہ سبب تو فی الحال ہی موجود ہے ام ولد میں۔ تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ فی الحال ہی ام ولد کو آزاد ہونا چاہیے، آقا کی ملکیت بھی اس پر سے ساقط ہو جائے اور اس کی قیمت بھی ختم ہو جائے، کیونکہ جب یہ آزاد ہو جائے گی، آزاد تو کسی کا مملوک نہیں ہوتا، تو ملکیت بھی ختم ہونی چاہیے اس باندی پر سے، اور جب آزاد ہو گیا، آزاد تو مالِ متقوم نہیں ہوتا، تو اس کی قیمت بھی ساقط ہو جانی چاہیے۔ تو باندی فی الحال ہی آقا کا جز ہے، جب فی الحال ہی آقا کا جز ہے تو اس کو آزاد ہونا چاہیے، اور جب آزاد ہو گی تو آقا کی اس پر ملکیت بھی باقی نہیں رہے گی اور نیز اس کی قیمت بھی ساقط ہو جائے گی۔ لیکن آقا کی ملکیت اس پر سے ختم نہیں کی شریعت نے۔ کیوں نہیں ختم کی؟ ضرورت اور حاجت کی وجہ سے کہ آقا اس سے نفع اٹھا سکے، اس کے ذریعے اپنی نسل کو باقی رکھ سکے، اور اولاد چاہتا ہے تو وہ بھی اس سے پیدا کر سکے بھئی۔ تو شریعت نے ضرورت اور حاجت کی وجہ سے اس ام ولد کے آزاد ہونے کا فیصلہ نہیں کیا تاکہ آقا موت تک اس سے نفع اٹھا سکے بھئی۔ تو لہٰذا ملکیت تو ساقط نہیں ہو گی آقا کی ضرورت اور حاجت کی وجہ سے، لیکن قیمت جو ہے اس ام ولد کی ساقط ہو جائے گی، کیونکہ وہاں کوئی حاجت اور ضرورت نہیں ہے قیمت کو باقی رکھنے کی۔ پھر سنیں، یہ ام ولد میں فی الحال ہی آزادی کا سبب موجود ہے، اور وہ کیا؟ کہ یہ آقا کا جز بن گئی ہے، اور یہ جزئیت دو چیزوں کا تقاضا کر رہی ہے: کہ آقا کی ملکیت بھی اس پر سے ختم ہو جائے، یہ آزاد ہو جائے، اور اس کی قیمت بھی ختم ہو جائے کیونکہ جب آزاد ہو گی تو آزاد کی کوئی قیمت نہیں ہوتی۔ تو ام ولد آقا کا جز ہے، یہ جزئیت تقاضا کر رہی ہے دو چیزوں کا کہ اس باندی پر سے ملکیت بھی ساقط ہو جائے اور اس کی قیمت بھی ساقط ہو جائے۔ لیکن آقا کی ملکیت شریعت نے ختم نہیں کی ضرورت اور حاجت کی وجہ سے کہ وہ موت تک اس باندی سے نفع اٹھا سکے، تو آقا کی ملکیت تو ساقط نہیں ہوئی ضرورت اور حاجت کی وجہ سے، لیکن دوسری چیز جو تھی وہ قیمت تو ساقط ہو جائے گی کیونکہ وہاں پر کوئی حاجت اور ضرورت نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: ”وَهَذَا لِأَنَّ السَّبَبَ فِيهَا مُتَحَقِّقٌ فِي الْحَالِ“ اور یہ اس لیے کیونکہ اس باندی کے اندر آزادی کا جو سبب ہے، اس ام ولد کے اندر جو آزادی کا سبب ہے وہ فی الحال ہی پایا جا رہا ہے۔ تو ”السَّبَبَ“ سے کیا مراد ہے؟ سببِ حریت مراد ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَهَذَا لِأَنَّ السَّبَبَ فِيهَا مُتَحَقِّقٌ فِي الْحَالِ“ اور یہ اس لیے کیونکہ ام ولد کے اندر آزادی کا سبب فی الحال ہی پایا جا رہا ہے ”وَهُوَ الْجُزْئِيَّةُ الثَّابِتَةُ بِوَاسِطَةِ الْوَلَدِ“ اور یہ وہ جزئیت ہے جو وہ اولاد کے واسطے سے ثابت ہے کہ آقا اور ام ولد ایک دوسرے کا جز بن گئے ہیں اولاد کے واسطے سے ”عَلَىٰ مَا عُرِفَ فِي حُرْمَةِ الْمُصَاهَرَةِ“ اس وجہ سے جس کو حرمتِ مصاہرت کے مسئلے میں جان لیا گیا ”إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَظْهَرْ عَمَلُهُ فِي حَقِّ الْمِلْكِ“ میں نے آپ کو کیا بتایا کہ باندی کے اندر آزادی کا سبب فی الحال ہی موجود ہے، یہ کیا تقاضا کر رہا ہے؟ یہ دو چیزوں کا تقاضا کر رہا ہے: آقا کی ملکیت بھی ساقط ہو جائے اور باندی کی قیمت بھی ساقط ہو جائے، لیکن آقا کی ملکیت ساقط نہیں ہوئی ضرورت کی وجہ سے، لیکن قیمت ساقط ہو جائے گی کیونکہ قیمت کو باقی رکھنے کی کوئی ضرورت اور حاجت نہیں ہے، تو اس لیے ہم نے کہا کہ ام ولد کی کوئی قیمت نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں: ”إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَظْهَرْ عَمَلُهُ فِي حَقِّ الْمِلْكِ“ مگر آزادی کا یہ جو سبب ہے، اس کا عمل ظاہر نہیں ہو گا آقا کی ملکیت ہونے کے حق میں ”ضَرُورَةَ الِانْتِفَاعِ“ نفع اٹھانے کی ضرورت کی وجہ سے کہ آقا اس باندی سے نفع اٹھا سکے موت تک بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ آزادی کا جو سبب ہے، اس کا عمل ظاہر نہیں ہوا آقا کی ملکیت کے ساقط ہونے میں، لیکن اس کی قیمت کے ساقط ہونے میں اس کا عمل ظاہر ہو گا اور قیمت ساقط ہو جائے گی۔ تو کہتے ہیں: ”إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَظْهَرْ عَمَلُهُ“ مگر یہ کہ اس سببِ حریت کا عمل ظاہر نہیں ہوا ”فِي حَقِّ الْمِلْكِ“ آقا کی ملکیت ہونے کے حق میں ”ضَرُورَةَ الِانْتِفَاعِ“ آقا کا فائدہ اٹھانے کی ضرورت کی وجہ سے ”فَعَمِلَ السَّبَبُ فِي إِسْقَاطِ التَّقَوُّمِ“ تو اس سببِ حریت نے عمل کیا تقوم کے ساقط ہونے میں، کہ اس کا تقوم ساقط ہو گیا۔ ”وَفِي الْمُدَبَّرِ يَنْعَقِدُ السَّبَبُ بَعْدَ الْمَوْتِ“ اور مدبر جو ہے، اس کے اندر آزادی والا سبب جو ہے وہ منعقد ہو گا آقا کی موت کے بعد، ”وَامْتِنَاعُ الْبَيْعِ فِيهِ لِتَحَقُّقِ مَقْصُودِهِ“ یہاں سے صاحبین کو جواب دے رہے ہیں۔ صاحبین کیا فرماتے تھے؟ کہ مدبر کو بیچا نہیں جا سکتا پھر بھی وہ متقوم ہے، اسی طرح ام ولد کو بیچا نہیں جا سکتا لیکن پھر بھی وہ متقوم ہے۔ تو اس کا جواب دے رہے ہیں کہ مدبر جو ہے، قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ مدبر کی بیع ممنوع نہیں ہونی چاہیے۔ مدبر کی بیع ممنوع نہیں ہونی چاہیے، اس کی بیع جائز ہونی چاہیے، لیکن مدبر کی بیع کو اس لیے ممنوع قرار دیا گیا تاکہ آقا کا مقصد پورا ہو سکے۔ آقا کا کیا مقصد تھا؟ وہ مدبر کو کہہ رہا ہے: میرے مرنے کے بعد تو آزاد ہے۔ آقا کا کیا مقصد ہے؟ آقا چاہتا ہے میرے مرنے کے بعد یہ آزاد ہو، اگر وہ مدبر کو بیچ دے گا تو آقا کا مقصد پورا نہیں ہو گا، پھر تو کوئی اور مالک بن گیا، وہ تو آقا کے مرنے کے بعد آزاد نہیں ہو گا۔ اور آقا کا کیا مقصد ہے؟ کہ میرے مرنے کے بعد یہ آزاد ہو جائے، تو آقا کے مقصد کے پورا کرنے کے لیے ہم نے مدبر کی بیع کو ممنوع قرار دے دیا کہ اس کو بیچا نہیں جا سکتا تاکہ آقا کا مقصد پورا ہو جائے، آقا کے مرنے کے بعد یہ آزاد ہو جائے۔ تو کہتے ہیں: ”وَامْتِنَاعُ الْبَيْعِ فِيهِ“ اور مدبر کے اندر بیع کا ممتنع ہونا ”لِتَحَقُّقِ مَقْصُودِهِ“ وہ آقا کے مقصد کے پائے جانے کے لیے ہے کہ آقا کا مقصد پایا جائے، وہ پورا ہو جائے، ”فَافْتَرَقَا“ تو دونوں جدا ہو گئے، یعنی مدبر اور ام ولد ایک دوسرے سے جدا ہو گئے، دونوں میں فرق ہے بھئی، ایک میں احراز للنسب ہے اور ایک میں احراز للتقوم ہے بھئی، تو آپ ایک کو دوسرے پر قیاس نہیں کر سکتے۔ ”وَفِي أُمِّ وَلَدِ النَّصْرَانِيِّ قَضَيْنَا بِمُكَاتَبَتِهَا عَلَيْهِ“ اب صاحبین نے اس کو قیاس کیا تھا عیسائی کی ام ولد پر، کہ عیسائی کی ام ولد جب مسلمان ہو جائے تو اس سے سعایت کروائی جاتی ہے، یہ اس بات کی علامت ہے کہ یہ متقوم ہے۔ تو اس کا جواب دے رہے ہیں کہ ام ولد کی کوئی قیمت نہیں ہے، لیکن وہاں پر اس عیسائی کی جو ام ولد مسلمان ہوئی ہے، ہم نے اس کو مکاتبہ کا درجہ دے دیا تاکہ دونوں کی رعایت ہو جائے۔ تاکہ اس عیسائی آقا کی بھی رعایت ہو جائے اور ام ولد کی بھی رعایت ہو جائے۔ ام ولد کی رعایت یہ ہو گی کہ اسے عیسائی کے تحت رہنے سے نجات مل جائے گی، اور آقا کی رعایت یہ ہو گی کہ اس کو اس کی قیمت مل جائے گی بھئی، تو دونوں کی رعایت ہو گئی۔ ویسے تو ام ولد پر سعایت نہیں ہے، لیکن ہم نے وہاں پر دونوں کی رعایت رکھنے کے لیے اس ام ولد کو مکاتبہ والا درجہ دے دیا، اور مکاتبہ تو بدلِ کتابت ادا کر کے آزاد ہوتی ہے، تو لہٰذا یہ بھی سعایت کر کے اپنی قیمت ادا کرے گی اور آزاد ہو جائے گی۔ تو کہتے ہیں: ”وَفِي أُمِّ وَلَدِ النَّصْرَانِيِّ“ اور عیسائی کی ام ولد کے مسئلے میں ”قَضَيْنَا بِمُكَاتَبَتِهَا عَلَيْهِ“ ہم نے فیصلہ کیا اس ام ولد کے مکاتبہ ہونے کا ”عَلَيْهِ“ اس عیسائی کے خلاف ”دَفْعًا لِلضَّرَرِ مِنَ الْجَانِبَيْنِ“ دونوں جانب سے نقصان کو دور کرنے کے لیے، ”وَبَدَلُ الْكِتَابَةِ لَا يَفْتَقِرُ وُجُوبُهُ إِلَى التَّقَوُّمِ“ اور جو بدلِ کتابت ہوتا ہے، اس کا وجوب وہ محتاج نہیں ہے قیمت والا ہونے کا۔ یہ جو عیسائی کی ام ولد تھی جو مسلمان ہو گئی، یہ مکاتبہ کے درجے میں ہو گئی، اور اب جو یہ پیسے ادا کرے گی وہ بدلِ کتابت کے درجے میں ہوا، اور بدلِ کتابت کے واجب ہونے کے لیے غلام یا باندی کا متقوم ہونا ضروری نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: ”وَبَدَلُ الْكِتَابَةِ لَا يَفْتَقِرُ وُجُوبُهُ إِلَى التَّقَوُّمِ“ اور بدلِ کتابت جو ہے محتاج نہیں ہے اس کا واجب ہونا ”إِلَى التَّقَوُّمِ“ متقوم ہونے کا۔ بدلِ کتابت کے وجوب کے لیے اس غلام یا باندی کا متقوم ہونا ضروری نہیں ہے، تو یہ معنی ہے: ”وَبَدَلُ الْكِتَابَةِ لَا يَفْتَقِرُ وُجُوبُهُ إِلَى التَّقَوُّمِ“ اور بدلِ کتابت جو ہے، اس کا وجوب جو ہے وہ تقوم کا محتاج نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
160 approved lectures · 94 of 160