Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء ثاني · dars-086

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 16 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 110
📂 Choose Format:
⭐ ★★★★★ Excellent TEXT
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
آگے سبق دیکھیے بھئی۔ "وَلَوْ قَالَ يَا ابْنُ لَا يَعْتِقُ لِأَنَّ الْأَمْرَ كَمَا أَخْبَرَ فَإِنَّهُ ابْنُ أَبِيهِ، وَكَذَا إِذَا قَالَ يَا بُنَيُّ أَوْ يَا بُنَيَّةُ لِأَنَّهُ تَصْغِيرٌ لِلِابْنِ وَالْبِنْتِ مِنْ غَيْرِ إِضَافَةٍ وَالْأَمْرُ كَمَا أَخْبَرَ، وَإِنْ قَالَ لِغُلَامٍ لَا يُولَدُ مِثْلُهُ لِمِثْلِهِ هَذَا ابْنِي عَتَقَ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ، وَقَالَا لَا يَعْتِقُ وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُمُ اللَّهُ تَعَالَى." بھئی گزشتہ سبق میں آپ نے مسئلہ پڑھا تھا کہ اگر آقا اپنے غلام کے بارے میں کہے: "هَذَا ابْنِي" (یہ میرا بیٹا ہے) اور پھر آقا اسی بات پر جما رہا، یعنی آقا نے یہ نہیں کہا کہ یہ تو میں نے بطور عزت کے کہا تھا یا یہ میں نے غلطی سے کہہ دیا تھا، بلکہ اسی بات پر آقا جما رہا کہ یہ میرا بیٹا ہی ہے، تو اس صورت میں یہ غلام آزاد ہو جائے گا۔ صاحب ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ یہ مسئلہ اس صورت میں ہے کہ جب اس جیسے آقا کا اس جیسا غلام بیٹا ممکن ہو سکے، یعنی آقا اور غلام کی عمر میں اتنا فرق ہے کہ جتنا باپ اور بیٹے کی عمر میں فرق ہوتا ہے، کہ آقا باپ ہو سکے تو یہ غلام اس کا بیٹا ہو سکے، مثلاً اگر آقا پچاس سال عمر کا ہے تو یہ غلام بیس پچیس سال عمر کا ہو، تو اس عمر کے آدمی کا اتنی عمر کا بیٹا تو ہو سکتا ہے۔ تو اس صورت کے اندر آقا نے "هَذَا ابْنِي" کہا اور اس پر جما رہا تو یہ غلام آزاد ہو جائے گا۔ البتہ نسب ثابت ہوگا یا نہیں، تو اس میں تفصیل بیان فرمائی تھی صاحب ہدایہ نے کہ اگر اس غلام کا نسب معروف نہیں ہے، لوگوں کو اس کے نسب کا پتہ نہیں کہ یہ کس کی اولاد ہے، تو اس صورت کے اندر پھر اس کا نسب بھی ثابت ہو جائے گا اور یہ اس شخص کے حقیقی بیٹے کی طرح ہو جائے گا اور اس کا وارث بھی بنے گا۔ آزاد بھی ہو جائے گا اور حقیقی بیٹے کی طرح ہو جائے گا، وارث بھی بنے گا۔ اور اگر یہ غلام ایسا ہے کہ اس کا نسب جو ہے وہ معروف ہے، مثلاً آقا نے اپنی باندی کا نکاح کروایا تھا کسی آدمی سے اور اس سے یہ اولاد پیدا ہوئی، اور آپ جانتے ہیں کہ باندی کی جو اولاد ہوتی ہے وہ بھی آقا کے مملوک ہوتے ہیں۔ تو اب یہ غلام جو اس باندی سے پیدا ہوا نکاح کی وجہ سے یہ اس آقا کا مملوک ہے اور اس کا نسب بھی معلوم ہے کہ اس باندی کا تو فلاں آدمی سے نکاح ہوا تھا، یہ اس آدمی کی اولاد ہے۔ تو اس قسم کے غلام کو آقا نے "هَذَا ابْنِي" کہا اور آقا اور غلام کی عمر میں بھی اتنا فرق ہے کہ اس جیسا غلام اس جیسے آدمی کا بیٹا ہو سکتا ہے، تو غلام کا نسب تو ثابت نہیں ہوگا کیونکہ اس کا نسب تو پہلے سے ہی معلوم ہے، تو پھر اس صورت میں کلام کا مجازی معنی مراد ہوگا اور غلام آزاد ہو جائے گا۔ آقا نے کیا کہا ہے؟ "هَذَا ابْنِي"، اور اس کا حقیقی معنی کیا؟ کہ یہ میرا بیٹا ہے۔ اور اس کا مجازی معنی کیا؟ کہ یہ آزاد ہے۔ تو جب غلام کا نسب معلوم ہے تو پھر حقیقی معنی تو نہیں ہو سکتا، یہ آقا کا بیٹا تو نہیں ہو سکتا، تو پھر مجازی معنی ہی متعین ہو جائے گا اور وہ ثابت ہو جائے گا، یعنی یہ غلام آزاد ہو جائے گا بھئی۔ اور پھر اس کے بعد صاحب ہدایہ نے مسئلہ ذکر فرمایا کہ ایک شخص نے اپنے غلام سے کہا: "هَذَا مَوْلَايَ" (یہ میرا مولیٰ ہے)۔ صاحب ہدایہ نے بتلایا کہ اس صورت میں بھی یہ غلام آزاد ہو جائے گا۔ وجہ یہ کہ یہ مولیٰ کے کئی معانی آتے ہیں عربی زبان میں۔ مولیٰ کا معنی مددگار بھی ہے، مولیٰ کا معنی چچا کا بیٹا بھی ہے، مولیٰ کا معنی وہ شخص بھی ہے جس نے عقد موالات کیا ہے، اسی طرح مولیٰ کا معنی مُعْتِق بھی ہے یعنی مولیٰ اعلیٰ، اور نیز اسی طرح مولیٰ کا معنی مُعْتَق یعنی جس کو آزاد کیا گیا ہے، یہ بھی اس کا معنی ہے یعنی مولیٰ اسفل۔ تو مولیٰ کے کئی معانی صاحب ہدایہ نے ذکر فرمائے: مددگار بھی، چچا کا بیٹا بھی، مولیٰ موالات بھی، مولیٰ اعلیٰ بھی اور مولیٰ اسفل بھی۔ اور پھر صاحب ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ یہاں پر یہ جو آقا نے اپنے غلام سے کہا ہے: "هَذَا مَوْلَايَ"، اس جملے کے اندر یہ جو مولیٰ کا لفظ آیا یہاں اور کوئی بھی معنی مناسب نہیں بنتا۔ یہاں مولیٰ کا معنی مُعْتَق کے کرنا پڑیں گے، یعنی مولیٰ اسفل مراد لینا پڑے گا، باقی معانی یہاں مناسب نہیں بنتے۔ تو جب یہاں پر اس مولیٰ کے لفظ کا معنی مُعْتَق ہی کرنا پڑے گا تو یوں سمجھو گویا آقا نے ایک ایسا لفظ استعمال کیا جس کا معنی مُعْتَق ہی ہے اور کوئی معنی ہے ہی نہیں۔ جب وہ معنی یہاں مناسب نہیں بنتے تو یوں سمجھو وہ اس لفظ کے معنی ہے ہی نہیں یہاں پر۔ تو یہ آقا نے ایسا لفظ ذکر کر دیا جو مُعْتَق کے ساتھ خاص ہے، یعنی وہ غلام جس کو آزاد کیا گیا ہو، آقا گویا یوں کہہ رہا ہے: "هَذَا مَوْلَايَ"، یہ میرا آزاد شدہ غلام ہے۔ تو اس صورت میں یہ غلام آزاد ہو جائے گا۔ اور باقی معانی یہاں مناسب کیوں نہیں؟ تو اس کی وجہ صاحب ہدایہ نے بتلائی تھی کہ یہاں پر مولیٰ کا معنی مددگار کے نہیں کر سکتے، کیونکہ آقا عموماً اور عادتاً اپنے غلام سے مدد طلب نہیں کرتا۔ غلام خدمت وغیرہ، چھوٹے موٹے کام تو کرتا ہے لیکن بڑے کاموں کے اندر غلام اپنے آقا کا مددگار بن جائے ایسا عادتاً نہیں ہوتا۔ بڑے کاموں کے اندر عموماً آدمی اپنے عزیز و اقارب اور اولاد وغیرہ سے مدد طلب کرتا ہے، اپنے غلام سے مدد طلب نہیں کرتا۔ لہٰذا یہاں مولیٰ کا معنی مددگار کے نہیں کر سکتے۔ اور نیز یہاں مولیٰ کا معنی چچا کے بیٹے کے بھی نہیں کر سکتے کیونکہ اس غلام کا نسب معروف ہے، سب کو پتہ ہے یہ فلاں کی اولاد ہے، یہ اس آقا کا چچا کا بیٹا نہیں ہے۔ اور نیز یہاں پر مولیٰ کا معنی مولیٰ موالات کے بھی نہیں کر سکتے، اس لیے کیونکہ وہ اس کا مجازی معنی ہے۔ مولیٰ موالات وہ اس مولیٰ کا مجازی معنی ہے، اس لیے کیونکہ وہ موالات فی الدین ہے، دین کے اندر عقد موالات کیا گیا ہے، اور یہ مولیٰ کا لفظ اس کا مادہ و، ل، ی ہے، یعنی یہ وَلْيٌ سے مشتق ہے بھئی۔ اور وَلْيٌ کا معنی ہے قریب ہونا، اور حقیقت کے اعتبار سے کوئی شخص دوسرے کے قریب تب ہوتا ہے جب نسب میں اس کے قریب ہو، یا وطن کے اعتبار سے اس کے قریب ہو، لیکن اس غلام کو تو دوسری جگہ سے غلام بنا کر لایا گیا ہے، مثلاً کہیں مسلمانوں کی جنگ ہوئی تھی دار الحرب والوں سے اور مسلمان اس کو بھی قیدی بنا کر، غلام بنا کر لے آئے بھئی۔ تو اس آقا کا وطن اور ہے اور غلام کا وطن اور، تو نسب کے اعتبار سے بھی غلام اس کا قریبی نہیں اور وطن کے اعتبار سے بھی غلام اس کا قریبی نہیں، تو اب اس کو دین کے اندر قریبی ہونے پر محمول کیا جائے گا۔ کہ اس سے کیا مراد ہے؟ کہ یہ دین کے اندر اس کے قریب ہے اور یہ تو اس کا مجازی معنی ہے۔ تو یہاں نہ نسب کے اعتبار سے قرب ہے اور نہ وطن اور علاقے کے اعتبار سے قرب ہے، تو لہٰذا معلوم ہوا یہاں دین کے اندر قرب مراد ہے۔ دین کے اندر قرب مراد ہے کہ دونوں کا دین ایک ہے، اور یہ تو اس کا مجازی معنی ہے بھئی۔ تو دین کے اندر جو قرب ہے یہ مجازی معنی ہے، اس لیے کیونکہ حقیقی قرب تو یہ ہے کہ انسان کسی دوسرے کے قریب ہو نسب میں، یا کوئی انسان دوسرے انسان کے قریب ہو وطن اور جگہ کے اعتبار سے، تو یہ ہے حقیقی قرب۔ لیکن یہاں تو نہ جگہ کے اعتبار سے قرب ہے اور نہ نسب کے اعتبار سے قرب ہے، تو یہاں پر پھر اس کو دین کے اعتبار سے قریبی ماننا پڑے گا۔ تو دین کے اعتبار سے قریب ہے معلوم ہوا حقیقی قرب مراد نہیں ہے، معنوی قرب مراد ہے۔ جب معنوی قرب مراد ہے یہ تو مجازی معنی ہوا بھئی۔ حقیقی معنی تو کیا ہے کہ حقیقت میں قرب ہو، لیکن یہاں حقیقت میں قرب نہیں ہے بلکہ معنوی اعتبار سے یعنی دین کے اعتبار سے قرب ہے، تو یہ مجازی معنی ہوا بھئی۔ اور یہاں پر حالانکہ کلام تو مولیٰ کے حقیقی معنی کے بارے میں ہو رہا ہے، تو لہٰذا یہ مولیٰ کا مجازی معنی لینا بھی یہاں درست نہیں۔ مجازی معنی اس وقت کیا جاتا ہے جب حقیقی معنی پر عمل نہ ہو سکے، اور یہاں تو حقیقی معنی پر عمل ہو سکتا ہے، ہم نے بتلا دیا کہ یہاں مولیٰ کا معنی مُعْتَق کے ہی ہوگا۔ اور نیز صاحب ہدایہ نے یہ بھی بتلایا کہ یہاں مولیٰ کا معنی مُعْتِق یعنی وہ جو آزاد کرنے والا ہے، یہ معنی بھی مولیٰ کا نہیں کر سکتے، اس لیے کیونکہ اس کلام کی نسبت غلام کی طرف ہو رہی ہے، آقا اپنے غلام کو کہہ رہا ہے: "هَذَا مَوْلَايَ"۔ تو جب یہاں مولیٰ کا اور کوئی معنی مناسب نہیں تو اس کا معنی مُعْتَق یہاں متعین ہو گیا اور یہ صریح کے درجے میں ہو گیا، اور جب یہ صریح کے درجے میں ہو گیا تو آزادی کے اندر صریح لفظ جب آقا اپنے غلام کے لیے استعمال کرے تو اس میں غلام فوراً آزاد ہو جاتا ہے۔ اور پھر صاحب ہدایہ نے دوسرے لفظ کے بارے میں بھی بتلایا، مثلاً آقا نے اپنے غلام کو ندا دی: "يَا مَوْلَايَ" (اے میرے مولیٰ!)، تو اس صورت میں بھی غلام آزاد ہو جائے گا۔ وجہ یہ کہ ابھی ہم نے آپ کو بتلا دیا کہ یہ مولیٰ کا لفظ مُعْتَق کے اندر یہاں پر صریح کے درجے میں ہے۔ جب آقا اپنے غلام سے کہے تو یہ مولیٰ کا لفظ مُعْتَق کے اندر صریح کے درجے میں ہے، اور جب آقا اپنے غلام کو ایسے لفظ کے ساتھ ندا دے جو آزادی میں صریح ہو تو اس صورت میں غلام آزاد ہو جاتا ہے، لہٰذا "يَا مَوْلَايَ" کہنے سے بھی غلام آزاد ہو جائے گا۔ جیسے "يَا حُرُّ" اور "يَا عَتِيقُ"، جیسے یہ کہنے سے غلام آزاد ہو جاتا ہے اسی طرح "يَا مَوْلَايَ" کہنے سے بھی غلام آزاد ہو جائے گا۔ اور اس کے بعد صاحب ہدایہ نے مسئلہ ذکر فرمایا کہ اگر کوئی شخص اپنے غلام کو ندا دیتا ہے اور کہتا ہے: "يَا ابْنِي" (اے میرے بیٹے!) یا "يَا أَخِي" (اے میرے بھئی!) تو اس صورت میں غلام آزاد نہیں ہوگا۔ وجہ یہ کہ یہ جو ندا دی جاتی ہے کسی کو یہ اس کو اطلاع دینے کے لیے ہوتی ہے کہ میں تمہیں طلب کر رہا ہوں۔ اور جب ندا وصف کے ساتھ دی جائے گی تو وہاں دراصل مقصود یہ ہوتا ہے کہ ندا دینے والا چاہتا ہے کہ وہ جو منادیٰ ہے وہ اس وصف کے ساتھ اس کے سامنے حاضر ہو جائے۔ اگر ندا ایسے وصف کے ساتھ دی جائے کہ آقا اس کو ثابت کرنے پر قادر بھی ہے، مثلاً آقا کا غلام ہے اور آقا اس کو ندا دے رہا ہے: "يَا حُرُّ" (اے آزاد!)، بھئی یہ تو غلام ہے، یہ تو آزاد نہیں ہے اور آپ اس کو ندا کیا دے رہے ہیں؟ "يَا حُرُّ"۔ تو ایسا وصف آقا ذکر کر رہا ہے جو اس غلام میں موجود نہیں۔ لیکن یہ وصف آقا کے اختیار میں ہے، آقا یہ وصف اس کے اندر ثابت کر سکتا ہے۔ تو جب غلام کے اندر ایک وصف نہیں ہے اور آقا اس وصف کے ساتھ اس کو ندا دے رہا ہے تو مطلب یہ ہے آقا اس غلام کو یہ خبر دے رہا ہے کہ یہ وصف میں نے تمہارے اندر ثابت کر دیا ہے، اب اس وصف کے ساتھ میرے سامنے حاضر ہو جاؤ۔ تو معلوم ہوا جب بھی ندا وصف کے ساتھ دی جائے گی تو وہاں دراصل مقصود یہ ہوتا ہے کہ ندا دینے والا چاہتا ہے کہ وہ جو منادیٰ ہے وہ اس وصف کے ساتھ اس کے سامنے حاضر ہو جائے۔ تو جب آقا نے بھی "يَا حُرُّ" کہا ہے، وہ چاہتا ہے کہ غلام جو ہے وہ اس وصفِ حریت کے ساتھ اس کے سامنے حاضر ہو جائے، لہٰذا غلام آزاد ہو جائے گا۔ لیکن اگر اس کے بجائے آقا ایسا وصف ذکر کرتا ہے کہ آقا اس کے ثابت کرنے پر قادر نہیں ہے، مثلاً آقا نے اپنے غلام سے کہا: "يَا ابْنِي" (اے میرے بیٹے!)، اب آقا کے ندا دینے سے تو کوئی غلام اس کا بیٹا نہیں بن سکتا بھئی، یا آقا اس کو ندا دیتا ہے: "يَا أَخِي" (اے میرے بھئی!)، تو آقا کے ندا دینے سے یہ غلام کوئی آقا کا بھئی نہیں بن جائے گا بھئی۔ تو یہاں آقا ایسا وصف ذکر کر رہا ہے کہ آقا اس ندا کے ذریعے اس وصف کو اس آدمی میں ثابت نہیں کر سکتا، تو اس صورت میں اس کو صرف اعلام ہی قرار دیا جائے گا۔ ندا کس چیز کا نام تھا؟ کہ منادیٰ کو اعلام کیا جا رہا ہے، اس کو خبر دی جا رہی ہے کہ اس وصف کے ساتھ حاضر ہو جاؤ، وصف کے ساتھ حاضر ہو جاؤ۔ تو یہاں پر "يَا ابْنِي" اور "يَا أَخِي" ایسا وصف ہے کہ یہ وصف آقا ثابت نہیں کر سکتا، تو لہٰذا اس کو یہ نہیں قرار دیا جائے گا کہ آقا اس کے اندر یہ وصف ثابت کرنا چاہتا ہے، کیونکہ آقا تو یہ وصف ثابت کر ہی نہیں سکتا، تو یہاں صرف اس کو اعلام قرار دیا جائے گا کہ آقا اس کو اطلاع دے رہا ہے کہ میں تمہیں طلب کر رہا ہوں۔ تو اس کو یہ نہیں قرار دیا جائے گا کہ آقا یہ وصف اس میں ثابت کرنا چاہتا ہے، کیونکہ آقا تو یہ وصف ثابت کر ہی نہیں سکتا اس کے اندر بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو معلوم ہوا "يَا حُرُّ"، "يَا عَتِيقُ" یہ کہنے سے تو غلام آزاد ہو جائے گا کیونکہ آقا یہ وصف اس میں ثابت کر سکتا ہے، لیکن "يَا ابْنِي" اور "يَا أَخِي" کہنے سے غلام آزاد نہیں ہوگا، کیونکہ آقا یہ بیٹا ہونے یا بھئی ہونے والا وصف اپنی ندا کے ذریعے اپنے غلام میں ثابت نہیں کر سکتا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ اب آئیے آج کے سبق پر: "وَلَوْ قَالَ يَا ابْنُ لَا يَعْتِقُ لِأَنَّ الْأَمْرَ كَمَا أَخْبَرَ فَإِنَّهُ ابْنُ أَبِيهِ" بھئی صورتِ مسئلہ یہ ہے، آقا نے اپنے غلام کو ندا دی۔ پچھلے مسئلے میں تھا کہ آقا نے ندا دی ہے: "يَا ابْنِي" (اے میرے بیٹے!)، ابن کی اضافت ہو رہی تھی یائے متکلم کی طرف، "ابْنِي" میرے بیٹے، "يَا ابْنِي" اے میرے بیٹے! اب صورت یہ ہے کہ آقا اپنے غلام کو ندا دیتا ہے لیکن صرف ابن کا لفظ استعمال کرتا ہے بغیر اضافت کے: "يَا ابْنُ" (اے بیٹے!)، تو یاد رکھو اس صورت میں غلام آزاد نہیں ہوگا بھئی۔ تو کہتے ہیں: "وَلَوْ قَالَ يَا ابْنُ لَا يَعْتِقُ" اور اگر آقا نے اپنے غلام سے کہا: "يَا ابْنُ" (اے بیٹے!) "لَا يَعْتِقُ" تو غلام آزاد نہیں ہوگا، "لِأَنَّ الْأَمْرَ كَمَا أَخْبَرَ" اس لیے کیونکہ معاملہ ایسا ہی ہے جیسے آقا نے خبر دی ہے، آقا نے غلام کو کیا کہا ہے؟ ابن کہا ہے، اور غلام بھی تو کسی نہ کسی کا ابن ہے بھئی۔ تو غلام اپنے باپ کا ابن ہے، اپنے باپ کا بیٹا ہے، تو آقا نے "يَا ابْنُ" کہہ کر اس غلام کے بیٹا ہونے کی صفت کی خبر دی ہے۔ یہ نہیں کہا میرا بیٹا ہے، صرف یہ خبر دی ہے کہ یہ بیٹا ہے، اور یہ غلام بھی اپنے باپ کا بیٹا ہے۔ تو یہ معنی ہے کہ "لَا يَعْتِقُ" یہ غلام آزاد نہیں ہوگا "لِأَنَّ الْأَمْرَ كَمَا أَخْبَرَ" اس لیے کیونکہ معاملہ ایسا ہی ہے جیسے آقا نے خبر دی ہے "فَإِنَّهُ ابْنُ أَبِيهِ" اس لیے کیونکہ یہ غلام اپنے باپ کا بیٹا ہے۔ "وَكَذَا إِذَا قَالَ يَا بُنَيُّ أَوْ يَا بُنَيَّةُ" اور اسی طرح ہے جب آقا نے کہا: "يَا بُنَيُّ" یا آقا نے کہا: "يَا بُنَيَّةُ"۔ بُنَیٌّ یاد رکھو بُنَیٌّ یہ تصغیر ہے ابن کی، ابن کی، اور بُنَیَّۃٌ یہ تصغیر ہے اِبْنَةٌ کی، ابنۃ کا معنی ہے بیٹی۔ یہ جو اِبْنٌ کا لفظ ہے اس کا مادہ ب، ن، و ہے۔ اور پھر آخر سے واؤ کو حذف کر لیا گیا اور شروع میں ہمزہ وصل ملا دیا گیا تو اِبْنٌ ہوا۔ تو اِبْنٌ کا مادہ کیا؟ ب، ن، و۔ اور پھر اس کی تصغیر ذرا بنائیں، اور تصغیر آپ جانتے ہیں کہ تصغیر عموماً فُعَیْلٌ وزن پر لے جاتے ہیں۔ تو یہاں اس اِبْنٌ کو فُعَیْلٌ وزن پر لے گئے۔ ہمزہ کو ختم کریں، اور فُعَیْلٌ: ب، ن، و یہ مادہ ہے اس کو ترتیب دیں: فُعَیْلٌ بُنَیْوٌ، بُنَیْوٌ یہ تصغیر ہے ابن کی، لیکن پھر اس کے اندر یا اور واؤ جمع ہو گئے، اور آپ نے پڑھا ہے کہ اسم کے آخر میں یا اور واؤ جمع ہو جائیں اور ان میں سے پہلا حرف ساکن ہو تو واؤ کو بھی یا کر کے یا میں ادغام کرتے ہیں۔ تو بُنَیْوٌ کے اندر بھی یا اور واؤ جمع ہو گئے اور پہلا حرف یعنی یا جو ہے وہ ساکن ہے، تو واؤ کو بھی یا کر کے یا میں ادغام کر دیا گیا تو بُنَیٌّ ہوا۔ بُنَیٌّ، یہ ہے اِبْنٌ کی تصغیر بھئی۔ اب اس کو آپ ندا دینا چاہتے ہیں، تو منادیٰ مفرد معرفہ جو ہے وہ مبنی علی الضم ہوتا ہے، تو کہیں گے: "يَا بُنَيُّ"۔ اور یہ تصغیر جو ہے عموماً شفقت کے لیے استعمال ہوتی ہے، تو "يَا بُنَيُّ" کا معنی کریں گے: اے پیارے بیٹے! یعنی بطور شفقت کے تصغیر استعمال کی جا رہی ہے۔ تو "يَا بُنَيُّ" یہ مبنی علی الضم ہے، اور معنی اس کا کیا کریں گے؟ اے پیارے بیٹے! اسی طرح "يَا بُنَيَّةُ" اس کا معنی کریں گے: اے پیاری بیٹی! آقا نے اپنے غلام کو ندا دی: "يَا بُنَيُّ" اے پیارے بیٹے! یا آقا نے اپنی باندی کو آواز دی: "يَا بُنَيَّةُ" اے پیاری بیٹی! تو اس صورت میں بھی یہ غلام اور باندی آزاد نہیں ہوں گے۔ اس لیے کیونکہ معاملہ ایسا ہی ہے جیسے آقا نے ذکر کیا۔ آقا نے یہ نہیں کہا میرے پیارے بیٹے یا میری پیاری بیٹی، بلکہ صرف کیا کہا؟ پیارے بیٹے اور پیاری بیٹی، اور یہ غلام اور باندی بھی اپنے باپ کے بیٹے اور بیٹی ہیں بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: "وَكَذَا إِذَا قَالَ يَا بُنَيُّ" تو یہ "يَا بُنَيُّ" اس کو مبنی علی الضم پڑھنا ہے آپ نے بھئی، کیونکہ منادیٰ مفرد معرفہ ہو تو مبنی علی الضم ہوتا ہے بھئی۔ قرآن میں البتہ ہے: "يَا بُنَيَّ"، "يَا بُنَيَّ"، یاد رکھنا وہاں پر یائے متکلم کی بھی ساتھ جوڑی گئی ہے۔ یہی بُنَیٌّ یہ تصغیر ہے ابن کی، بُنَیٌّ، اسی کے ساتھ یائے متکلم جوڑ دیں گے، تو تین یا جمع ہو گئیں، اور تین یا کا جمع ہونا تو ثقیل ہے لہٰذا ایک یا کو گرا دیا گیا، اور اس یا کی جگہ پھر یائے متکلم کو ساتھ جوڑ دیا گیا، تو یہ مضاف اور مضاف الیہ ہو گئے۔ اور یائے متکلم جو ہے اس کو ساکن بھی پڑھتے ہیں اور اس پر فتحہ بھی پڑھتے ہیں، تو لہٰذا وہاں "يَا بُنَيَّ" اس کا ترجمہ کریں گے: اے میرے پیارے بیٹے! "يَا بُنَيَّ" اے میرے پیارے بیٹے! لیکن یہاں پر یائے متکلم کی موجود نہیں تو اس کو مبنی علی الضم پڑھیں گے۔ تو کہتے ہیں: "وَكَذَا إِذَا قَالَ" اور اسی طرح ہے جب آقا نے کہا: "يَا بُنَيُّ" اے پیارے بیٹے! "أَوْ يَا بُنَيَّةُ" اے پیاری بیٹی! "لِأَنَّهُ تَصْغِيرٌ لِلِابْنِ وَالْبِنْتِ مِنْ غَيْرِ إِضَافَةٍ" اس لیے کیونکہ یہ ابن اور بنت کی تصغیر ہے "مِنْ غَيْرِ إِضَافَةٍ" بغیر اضافت کے، اس کے اندر یائے متکلم کی طرف اضافت نہیں ہے۔ "وَالْأَمْرُ كَمَا أَخْبَرَ" اور معاملہ ایسا ہی ہے جیسے آقا نے خبر دی ہے، اس نے بھی ان کو کیا کہا ہے؟ بیٹا اور بیٹی کہا ہے، اور یہ بھی اپنے باپ کے بیٹا اور بیٹی ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: "وَالْأَمْرُ كَمَا أَخْبَرَ" اور معاملہ ایسا ہی ہے جیسے آقا نے خبر دی ہے۔ "وَإِنْ قَالَ لِغُلَامٍ لَا يُولَدُ مِثْلُهُ لِمِثْلِهِ هَذَا ابْنِي عَتَقَ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ، وَقَالَا لَا يَعْتِقُ وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُمُ اللَّهُ تَعَالَى." صورت یہ: آقا نے اپنے غلام کے بارے میں کہا: "هَذَا ابْنِي" (یہ میرا بیٹا ہے)۔ لیکن یہ وہ صورت ہے کہ جب اس جیسا غلام اس جیسے آقا کا بیٹا نہیں ہو سکتا، یعنی دونوں کی عمر میں اتنا فرق نہیں ہے، مثلاً غلام آقا سے صرف پانچ دس سال چھوٹا ہے بھئی، حالانکہ باپ اور بیٹے کی عمر میں تو کم از کم پندرہ بیس سال کا فرق ضروری ہے بھئی۔ تو معلوم ہوا اس جیسا غلام اس جیسے آقا کا بیٹا نہیں ہو سکتا۔ یا غلام کی عمر بھی آقا کے برابر ہے، یا غلام کی عمر آقا سے زیادہ ہے، تو یہ تمام صورتیں اس کے اندر آ گئیں۔ یعنی وہ صورت جس میں غلام کی عمر اتنی ہے کہ وہ اس جیسے آقا کا بیٹا نہیں ہو سکتا، چاہے غلام عمر میں کم تو ہے لیکن بہت تھوڑا فرق ہے، یا اس کے برابر ہے، یا اس آقا سے بھی عمر میں زیادہ ہے، تو اس جیسا غلام تو اس جیسے آقا کا بیٹا نہیں ہو سکتا۔ اب اس غلام کو آقا کہتا ہے: "هَذَا ابْنِي" (یہ میرا بیٹا ہے)، تو یاد رکھو امام صاحب فرماتے ہیں اس صورت میں یہ غلام آزاد ہو جائے گا۔ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ غلام آزاد نہیں ہوگا، اور یہی قول ہے امام شافعی رحمہ اللہ کا بھی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو پیچھے جو مسئلہ ذکر ہوا تھا، وہاں بھی آقا نے اپنے غلام سے کہا تھا: "هَذَا ابْنِي"، لیکن وہ ایسا غلام تھا کہ اس جیسا غلام اس جیسے آقا کا بیٹا ہو سکتا ہے، اور جبکہ یہاں پر ایسا غلام ہے کہ اس جیسا غلام اس جیسے آقا کا بیٹا نہیں ہو سکتا۔ تو اس صورت میں بھی امام صاحب فرماتے ہیں یہ غلام آزاد ہو جائے گا، اس لیے کیونکہ "هَذَا ابْنِي" اس کا حقیقی معنی یہ ہے یہ میرا بیٹا ہے، لیکن یہ غلام تو اس جیسے آقا کا بیٹا نہیں ہو سکتا، تو پھر اس کا مجازی معنی کرنا پڑے گا اور "هَذَا ابْنِي" کا مجازی معنی ہے: یہ آزاد ہے۔ تو یہ غلام آزاد ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں: "وَإِنْ قَالَ لِغُلَامٍ لَا يُولَدُ مِثْلُهُ لِمِثْلِهِ هَذَا ابْنِي" اور اگر آقا نے "هَذَا ابْنِي" ایسے غلام سے کہا کہ اس جیسے غلام کو اس جیسے آقا کے لیے جنم نہیں دیا جا سکتا، تو اس کو آقا نے کیا کہا: "هَذَا ابْنِي"، "عَتَقَ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ" تو امام صاحب کے نزدیک یہ غلام آزاد ہو جائے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یہاں چاہے آقا نیت کرے یا نہ کرے ہر حال میں غلام آزاد ہو جائے گا۔ ہر حال میں غلام آزاد ہو جائے گا اس لیے کیونکہ یہاں حقیقی معنی ممکن ہی نہیں ہے تو مجازی معنی ہی کرنا پڑے گا، اور مجازی معنی تو کیا ہے؟ یہ آزاد ہے، تو غلام آزاد ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں: "عَتَقَ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ" امام صاحب کے نزدیک یہ غلام آزاد ہو جائے گا، "وَقَالَا" اور صاحبین فرماتے ہیں: "لَا يَعْتِقُ" کہ یہ غلام آزاد نہیں ہوگا، "وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُمُ اللَّهُ" اور یہی قول ہے امام شافعی رحمہ اللہ کا۔ "لَهُمْ أَنَّهُ كَلَامٌ مُحَالٌ بِحَقِيقَتِهِ" یہاں سے صاحب ہدایہ صاحبین اور امام شافعی رحمہم اللہ کی دلیل ذکر فرما رہے ہیں بھئی۔ بھئی دیکھیے! ایک ہے حقیقت اور ایک ہے مجاز۔ حقیقت کہتے ہیں کہ لفظ کو اسی معنی میں استعمال کیا جائے جس کے لیے اس کو وضع کیا گیا ہے، جس کے لیے اس کو مقرر کیا گیا ہے۔ تو معنی موضوع لہ میں لفظ کو استعمال کرنا یہ ہے حقیقت، اور لفظ کو اگر کسی دوسرے معنی میں استعمال کیا جائے تو اس کو کہتے ہیں مجاز۔ مثلاً اردو میں "شیر" کا لفظ جو ہے وہ ایک جنگلی درندے کے لیے وضع ہے، تو یہ شیر کا لفظ ذکر کیا جائے اور اس سے جنگلی درندہ مراد لیا جائے، یعنی وہ معنی جس کے لیے اس کو مقرر کیا گیا ہے، تو اس کو کہیں گے حقیقت۔ مثلاً آپ کہتے ہیں: کل میں نے جنگل میں ایک شیر دیکھا، تو یہ لفظ اپنے حقیقی معنی میں استعمال ہو رہا ہے تو اس لفظ کو کہیں گے کہ یہ حقیقت ہے۔ اور اگر شیر کا لفظ ذکر کیا جائے اور اس سے بہادر آدمی کا معنی کیا جائے، بہادر آدمی مراد لیا جائے تو یہ اس کا مجازی معنی ہے۔ تو لفظ کو جس معنی کے لیے وضع کیا گیا ہے اسی میں اس کو استعمال کیا جائے تو اسے کہتے ہیں حقیقت، اور اس لفظ کو کسی دوسرے معنی میں استعمال کیا جائے تو اسے کہتے ہیں مجاز۔ اب یاد رکھنا، آپ نے اصول فقہ کی کتابوں میں بھی پڑھا ہوگا کہ یہ جو مجاز ہے یہ حقیقت کا خلیفہ ہے، یہ حقیقت کا نائب ہے۔ جب تک لفظ کے حقیقی معنی پر عمل ممکن ہو مجاز کی طرف نہیں جائیں گے۔ ہاں البتہ جب حقیقی معنی پر عمل نہ ہو سکے تو پھر مجازی معنی کی طرف جائیں گے۔ حقیقت اصل ہے اور مجاز اس کا خلیفہ، تو جب تک اصل پر عمل ممکن ہے ہم مجاز کی طرف نہیں جائیں گے۔ اگر اصل معنی یعنی اگر حقیقت ممکن نہ ہو یا وہاں کوئی مانع آ جائے کہ حقیقی معنی نہیں کیا جا سکتا تو پھر ہم مجازی معنی پر عمل کریں گے۔ تو صاحبین اور امام صاحب کا اس بات میں تو اتفاق ہے کہ یہ جو مجاز ہے یہ حقیقت کا خلیفہ ہے اور نائب ہے، لیکن اس بات میں اختلاف ہے کہ یہ مجاز کس اعتبار سے حقیقت کا خلیفہ ہے؟ کس اعتبار سے یہ حقیقت کا نائب ہے؟ تو صاحبین فرماتے ہیں کہ یہ جو مجاز ہے یہ حقیقت کا خلیفہ ہے حکم میں۔ یہ مجاز حکم میں حقیقت کا خلیفہ ہے، جبکہ امام صاحب فرماتے ہیں کہ یہ مجاز تکلم کے اندر حقیقت کا خلیفہ ہے اور اس کا نائب ہے۔ اب اس کا کیا معنی؟ صاحبین کیا فرماتے ہیں کہ یہ مجاز حکم میں خلیفہ ہے حقیقت کا، اور امام صاحب فرماتے ہیں کہ یہ مجاز تکلم میں حقیقت کا خلیفہ ہے اور اس کا نائب ہے۔ اب اس کا معنی کیا ہے وہ اچھی طرح سمجھ لیں۔ یاد رکھیے! صاحبین نے کیا کہا کہ مجاز حکم میں حقیقت کا خلیفہ ہے۔ حکم کا معنی ہے بات بھئی۔ حکم کا معنی ہے بات۔ علمی انداز میں کہیں گے حکم، اور سادہ لفظوں میں کہیں گے بات بھئی۔ مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں: "زَيْدٌ قَائِمٌ"، تو علمی انداز میں کہیں گے کہ زید پر قیام کا حکم لگایا گیا۔ زید پر قیام کا حکم لگایا گیا، یہ علمی انداز میں یوں بیان کیا جائے گا، اور سادہ لفظوں میں یوں کہیں گے کہ زید کے قیام کی بات کی گئی، اس جملے میں زید کے قیام کی، زید کے کھڑے ہونے کی بات کی گئی ہے۔ اور علمی انداز میں کیا کہیں گے؟ کہ اس میں زید پر کھڑے ہونے کا حکم لگایا گیا ہے۔ توجہ ہے؟ تو حکم کو سادہ لفظوں میں بات کہتے ہیں۔ تو صاحبین کی بات چل رہی ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ یہ جو مجاز ہے یہ حکم میں حقیقت کا خلیفہ ہے، یعنی لفظ کا حقیقی معنی کیا جائے گا اور اس حقیقی معنی کے اندر جو بات بیان کی جا رہی ہے، جو حکم لگایا جا رہا ہے اگر وہ ممکن ہے لیکن کوئی مانع آ گیا، کوئی رکاوٹ آ گئی کہ ہم وہ معنی نہیں کر سکتے تو پھر مجازی معنی کی طرف جائیں گے۔ صاحبین کیا فرماتے ہیں کہ مجاز حکم میں حقیقت کا خلیفہ ہے۔ لفظ جو ہے اس کا حقیقی معنی یہ ہے اصل، اور مجاز ہے اس کا نائب۔ تو جہاں اصل ممکن ہوگا وہیں پر نائب بھی آ سکتا ہے۔ مثلاً اصل ممکن تو ہے لیکن کوئی مانع آ گیا، کوئی رکاوٹ آ گئی، آپ حقیقی معنی نہیں کر سکتے تو پھر ہم مجازی معنی کی طرف چلے جائیں گے، اور اگر حقیقی معنی ممکن ہی نہیں ہے تو پھر وہاں مجازی معنی بھی نہیں کیا جا سکتا۔ تو حکم کا کیا معنی ہے؟ بات۔ بلکہ اور زیادہ آسان لفظوں میں یوں کیجیے: حکم کا یہاں ترجمہ کر لیں معنی۔ حکم کا کیا ترجمہ کر لیں؟ معنی۔ تو صاحبین کے نزدیک مجاز خلیفہ ہے حقیقت کا معنی میں۔ معنی کے اندر۔ یعنی اگر جو کلام کیا گیا اس کا حقیقی معنی ممکن ہے لیکن کوئی رکاوٹ آ رہی ہے تو پھر ہم مجازی معنی کی طرف جائیں گے، اور اگر حقیقی معنی ممکن ہی نہیں ہے تو پھر وہاں مجازی معنی بھی نہیں کیا جا سکتا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ مثلاً یہاں پر آقا نے اپنے ہم عمر یا اپنے سے بڑے غلام کے بارے میں کیا کہا: "هَذَا ابْنِي"، کہ یہ میرا بیٹا ہے، یہ اس کا حقیقی معنی ہے، اور مجازی معنی "هَذَا ابْنِي" کا ہے: "هَذَا حُرٌّ" یہ آزاد ہے۔ لیکن یہاں حقیقی معنی ممکن ہی نہیں ہے، اس عمر کا غلام تو اس آقا کا بیٹا ہو ہی نہیں سکتا، تو جب حقیقی معنی ممکن ہی نہیں ہے تو مجازی معنی بھی یہاں نہیں کیا جائے گا اور آقا کا یہ کلام لغو چلا جائے گا، بیکار چلا جائے گا، اس کو باطل قرار دیا جائے گا۔ آقا کے اس کلام کو باطل قرار دیا جائے گا کہ اس نے ویسے ہی بیکار بات کی، اس کا کوئی فائدہ نہیں، اس کی وجہ سے نہ یہ غلام اس کا بیٹا بنا اور نہ یہ آزاد ہوا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو صاحبین کے نزدیک مجاز حقیقت کا خلیفہ ہے حکم میں، یعنی معنی کے اعتبار سے۔ اگر کلام کا حقیقی معنی ممکن ہے، البتہ کوئی رکاوٹ آ رہی ہے تو پھر ہم مجازی معنی کی طرف چلے جائیں گے، لیکن اگر کلام کا حقیقی معنی ہی ممکن نہیں ہے جیسے "هَذَا ابْنِي" یہ میرا بیٹا ہے، یہ معنی تو یہاں ممکن ہی نہیں ہے، اس عمر کا غلام تو اس آقا کا بیٹا ہو ہی نہیں سکتا، تو جب حقیقی معنی ممکن ہی نہیں ہے تو پھر مجازی معنی کی طرف بھی نہیں جائیں گے، مجازی معنی بھی اس کا نہیں کیا جا سکتا۔ بات سمجھ بھی آئی کہ نہیں؟ پھر سمجھیں، پھر سمجھیں۔ صاحبین فرماتے ہیں کہ دراصل جب کوئی شخص کلام کرتا ہے تو پہلے ذہن میں حقیقی معنی آتا ہے اور پھر حقیقی معنی سے ذہن منتقل ہوتا ہے مجازی معنی کی طرف۔ تو جب ایک مقام پر حقیقی معنی کا تصور ہی نہ کیا جا سکے تو وہاں مجازی معنی کا بھی تصور نہیں کیا جا سکتا۔ آقا نے اپنے ہم عمر کو یا اپنے سے بڑی عمر کے غلام کو کہا: "هَذَا ابْنِي" یہ میرا بیٹا ہے، یہاں حقیقی معنی کا تصور ہی نہیں کیا جا سکتا کہ یہ آقا کا بیٹا ہو جائے بھئی۔ تو جب حقیقی معنی کا تصور نہیں ہو سکتا تو یہاں مجازی معنی کا بھی تصور نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ مجازی معنی نائب ہے اصل کا، اور جب اصل ممکن نہیں تو پھر مجازی معنی بھی ممکن نہیں۔ لگتا ہے بات ابھی تک پوری واضح نہیں ہوئی۔ بھئی دیکھیے نا! یہ مجاز نائب ہے حقیقت کا۔ حقیقت ہے اصل اور مجاز ہے نائب۔ نائب کہاں آتا ہے؟ جہاں اصل ہوتا ہے۔ جب ایک جگہ اصل کی ہی نہیں ہے تو وہاں نائب کہاں سے آئے گا بھئی؟ جب ایک مقام اصل کا نہیں ہے، وہاں اصل نہیں آ سکتا تو نائب کہاں سے؟ نائب نے تو اصل کی جگہ پر آنا تھا، جب اصل ہی نہیں ممکن تو نائب کہاں سے ممکن ہے؟ توجہ ہے؟ مثلاً دیکھو ایک بادشاہ ہے ایک علاقے کا، وہ بادشاہ اگر حج پر جاتا ہے تو اپنے پیچھے اپنا نائب بنا کر جائے گا۔ یہ نائب کس کی جگہ آیا؟ بادشاہ کی یعنی اصل کی جگہ پر آیا۔ اور ایک مقام ایسا ہے کہ وہاں بادشاہ کا تصور ہی نہیں ہو سکتا تو وہاں نائب کا کیسے تصور کیا جا سکتا ہے؟ نائب نے تو اصل کی جگہ پر آنا ہے۔ جب اصل ہی نہیں ہے، اصل کی جگہ ہی نہیں ہے تو نائب اس کا کہاں سے آ گیا بھئی! بات سمجھ میں آ گئی؟ اس کو اور بہتر انداز میں یوں سمجھو کہ مثلاً اصل ایک کرسی پر بیٹھا ہوا ہے۔ معلوم ہوا یہ اصل کا مقام ہے۔ اصل یہاں سے اٹھ کر چلا جائے گا تو اس کرسی پر نائب آ کر بیٹھ جائے گا۔ اگر ایک مقام پر اصل کی کرسی ہی نہیں ہے، اصل ہی نہیں آ سکتا تو وہاں نائب کہاں سے اس کی جگہ پر آئے گا؟ وہاں تو جگہ ہی نہیں ہے بھئی! بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہاں پر بھی اسی طرح ہے، صاحبین فرماتے ہیں کہ یہ جو مجاز ہے یہ حقیقت کا خلیفہ ہے، اس کا نائب ہے معنیٰ کے اعتبار سے۔ تو یہ اس حقیقت کی جگہ پر آئے گا۔ جب حقیقی معنیٰ میں کوئی مانع آ جائے تو اس کی جگہ پر مجازی معنیٰ کی طرف ہم جائیں گے۔ لیکن اگر حقیقی معنیٰ ممکن ہی نہیں ہے تو پھر اس کی جگہ نائب بھی نہیں آ سکتا کیونکہ نائب نے اصل کی جگہ آنا ہے۔ جب اصل نہیں ممکن تو نائب کیسے ممکن ہو سکتا ہے؟ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو صاحبین کے نزدیک مجاز جو ہے وہ نائب ہے اور خلیفہ ہے حقیقت کا حکم میں، یعنی معنیٰ کے اعتبار سے۔ اور ذہن میں پہلے حقیقی معنیٰ کا تصور آتا ہے اور اس کے بعد پھر ذہن منتقل ہوتا ہے مجازی معنیٰ کی طرف۔ اور جہاں حقیقی معنیٰ کا تصور محال ہو وہاں مجازی معنیٰ کا تصور بھی محال ہو گا۔ جبکہ امام صاحب فرماتے ہیں کہ یہ جو مجاز ہے یہ حقیقت کا خلیفہ ہے تکلم میں۔ تکلم کا معنیٰ ہے گفتگو اور بات چیت بھئی۔ تو امام صاحب فرماتے ہیں یہ مجاز خلیفہ ہے حقیقت کا تکلم میں، بات چیت میں، یعنی الفاظ میں۔ یعنی الفاظ کے اعتبار سے مجاز اس کا خلیفہ ہے۔ وہ الفاظ جو کہنے والے نے کہے ہیں اگر وہ عربی اعتبار سے ٹھیک ہیں لیکن حقیقی معنیٰ نہیں کیا جا سکتا تو پھر ہم مجازی معنیٰ کی طرف چلے جائیں گے۔ جیسے ”هٰذَا ابْنِيْ“، ”هٰذَا ابْنِيْ“ کے الفاظ آپ دیکھیں، اس میں ”هٰذَا“ ہے مبتدا اور ”ابْنِيْ“ یہ ہے اس کی خبر اور مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔ تو آقا کا یہ کلام عربی الفاظ کے اعتبار سے بالکل صحیح ہے۔ الفاظ کے اعتبار سے اس کلام میں کوئی خرابی اور کوئی غلطی نہیں۔ تو لفظوں کے اعتبار سے جب یہ کلام ٹھیک ہے اور حقیقی معنیٰ یہاں نہیں کیا جا سکتا کیونکہ غلام آقا کی عمر کا ہے یا آقا سے بھی بڑا ہے تو پھر مجازی معنیٰ کی طرف چلے جائیں گے۔ تو امام صاحب کے نزدیک مجاز حقیقت کا خلیفہ ہے تکلم میں، یعنی الفاظ کے اعتبار سے۔ مثلاً جب کوئی شخص کلام کرتا ہے، تکلم کرتا ہے تو اس نے جو الفاظ کہے اگر وہ عربی اعتبار سے ٹھیک ہیں تو ان کا مفہوم ذہن میں آئے گا اور اس مفہوم سے ذہن پھر مجازی معنیٰ کی طرف منتقل ہو جائے گا۔ اس مفہوم سے ذہن مجازی معنیٰ کی طرف منتقل ہو جائے گا۔ اس میں یہ نہیں دیکھا جائے گا کہ یہ حقیقی معنیٰ ممکن ہے یا ممکن نہیں ہے بھئی۔ الفاظ ٹھیک ہونے چاہئیں اور ”هٰذَا ابْنِيْ“ یہ جملہ بھی عربی اعتبار سے بالکل ٹھیک ہے تو جب حقیقی معنیٰ یہاں نہیں کیا جا سکتا تو اب مجازی معنیٰ یعنی ”هٰذَا حُرٌّ“ کرنا پڑیں گے کہ یہ غلام آزاد ہے۔ تو حاصلِ کلام یہ: صاحبین کے نزدیک کلام کا حقیقی معنیٰ ممکن نہ ہو تو مجازی معنیٰ بھی نہیں کیا جا سکتا، جبکہ امام صاحب کے نزدیک حقیقی معنیٰ کو نہیں دیکھیں گے بلکہ الفاظ کو دیکھیں گے۔ اگر الفاظ عربی اعتبار سے صحیح ہیں لیکن حقیقی معنیٰ نہیں کیا جا سکتا تو پھر مجازی معنیٰ کیا جائے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو دیکھیے اب کتاب پر: ”لَهُمْ“ ان کی دلیل یہ ہے، یہ ”لَهُمْ“ میں ”هُمْ“ ضمیر راجع ہے صاحبین اور امامِ شافعی رحمہما اللہ کی، ”لَهُمْ“ صاحبین اور امامِ شافعی رحمہما اللہ کی دلیل یہ ہے، ”أَنَّهُ كَلَامٌ مُحَالٌ بِحَقِيقَتِهِ“، ”مُحَالٌ“ بھئی یاد رکھو یہ میم کے ضمہ کے ساتھ ہے عربی زبان میں۔ اور اردو زبان میں اب یہ میم کے فتحہ کے ساتھ رائج ہو گیا ہے، ”مَحال“ بولتے ہیں اردو میں بھئی۔ تو اردو میں مَحال استعمال کریں گے اور عربی میں ”مُحَالٌ“ ہے میم کے ضمہ کے ساتھ۔ تو ”لَهُمْ أَنَّهُ كَلَامٌ مُحَالٌ بِحَقِيقَتِهِ“ ان کی دلیل یہ ہے کہ یہ ایسا کلام ہے جو اپنی حقیقت کے اعتبار سے محال ہے، یعنی ممکن نہیں ہے۔ کون سا کلام؟ آقا نے اپنے ہم عمر یا اپنے سے بڑے غلام کو ”هٰذَا ابْنِيْ“ کہا تو یہ اپنے حقیقی معنیٰ کے اعتبار سے نا ممکن ہے، یہ غلام اس آقا کا بیٹا نہیں ہو سکتا۔ تو کہتے ہیں: ”أَنَّهُ كَلَامٌ مُحَالٌ بِحَقِيقَتِهِ“ یہ ایسا کلام ہے جو اپنی حقیقت کے اعتبار سے محال ہے، ”فَيُرَدُّ وَيَلْغُو“ تو اس کو رد کیا جائے گا اور یہ باطل ہو گا۔ یہ کلام باطل ہو گا، بیکار ہو گا، اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ ”كَقَوْلِهِ“ یہ اسی طرح ہے جیسے کہ آقا کا یہ قول ہے: ”أَعْتَقْتُكَ قَبْلَ أَنْ أُخْلَقَ“، آقا اپنے غلام سے کہتا ہے: ”أَعْتَقْتُكَ“ میں نے تجھے آزاد کر دیا، ”قَبْلَ أَنْ أُخْلَقَ“ اپنے پیدا ہونے سے پہلے۔ میں نے اپنے پیدا ہونے سے پہلے ہی تمہیں آزاد کر دیا۔ یا یوں کہتا ہے: ”أَعْتَقْتُكَ قَبْلَ أَنْ تُخْلَقَ“، میں نے تجھے آزاد کر دیا تیرے پیدا ہونے سے پہلے۔ تو اس صورت میں امام صاحب بھی فرماتے ہیں کہ یہ کلام لغو ہے، بیکار ہے، اس سے غلام آزاد نہیں ہو گا۔ چاہے آقا نے غلام کو یہ کہا کہ میں نے تجھے اپنے پیدا ہونے سے پہلے آزاد کر دیا، یا آقا نے یوں کہا کہ میں نے تیرے پیدا ہونے سے پہلے تجھے آزاد کر دیا، تو دونوں صورتوں میں امام صاحب بھی فرماتے ہیں کہ یہ کلام لغو ہے، بیکار ہے، اس سے غلام آزاد نہیں ہو گا، اور صاحبین بھی فرماتے ہیں کہ اس صورت میں یہ غلام آزاد نہیں ہو گا۔ صاحبین فرماتے ہیں کہ دیکھو عربی اعتبار سے یہ کلام بالکل صحیح ہے: ”أَعْتَقْتُكَ قَبْلَ أَنْ أُخْلَقَ“ یا ”أَعْتَقْتُكَ قَبْلَ أَنْ تُخْلَقَ“ عربی اعتبار سے اس کلام میں کوئی غلطی نہیں ہے۔ کون سا کلام؟ ”أَعْتَقْتُكَ قَبْلَ أَنْ أُخْلَقَ“ یا ”أَعْتَقْتُكَ قَبْلَ أَنْ تُخْلَقَ“، تو عربی اعتبار سے یہ کلام بالکل صحیح ہے، یہ الفاظ بالکل صحیح ہیں۔ تو امام صاحب کے ضابطے کے مطابق جب الفاظ صحیح ہیں اور حقیقی معنیٰ نہیں لے سکتے تو مجازی معنیٰ مراد لینا چاہیے اور غلام کو آزاد ہونا چاہیے۔ لیکن امام صاحب بھی ان الفاظ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ آقا کا یہ کلام لغو ہے، بیکار ہے۔ معلوم ہوا بات وہی ہے جو ہم نے کہی کہ حقیقی معنیٰ ٹھیک ہو لیکن کوئی مانع آ جائے تو پھر مجازی معنیٰ کی طرف جائیں گے۔ اور اگر حقیقی معنیٰ ممکن ہی نہیں ہے، جیسے یہاں پر: ”أَعْتَقْتُكَ قَبْلَ أَنْ أُخْلَقَ“ میں نے تجھے آزاد کر دیا اپنے پیدا ہونے سے پہلے یا تیرے پیدا ہونے سے پہلے، تو یہ تو ممکن ہی نہیں ہے کوئی شخص دوسرے کو پیدا ہونے سے پہلے ہی آزاد کر دے۔ تو جب یہاں حقیقی معنیٰ ممکن نہیں تو مجازی معنیٰ بھی ممکن نہیں ہے، لہٰذا مجازی معنیٰ نہیں کیا جائے گا اس کا۔ اور امام صاحب بھی ان الفاظ میں یہی فرماتے ہیں کہ یہاں مجازی معنیٰ نہیں کیا جائے گا۔ تو صاحبین فرماتے ہیں کہ اس سے ہمارے مذہب کی تائید ہوتی ہے کہ حقیقی معنیٰ اگر ممکن نہ ہو تو پھر مجازی معنیٰ بھی نہیں کیا جائے گا اور یہاں امام صاحب بھی یہی فرماتے ہیں۔ تو جواب اس کا یاد رکھنا امام صاحب کی طرف سے۔ جواب یہ ہے، امام صاحب کیا فرماتے تھے؟ کہ مجاز خلیفہ ہے حقیقت کا تکلم میں، یعنی لفظوں کے اعتبار سے، یعنی لفظوں کو صحیح ہونا چاہیے عربی اعتبار سے۔ اور ”هٰذَا ابْنِيْ“ یہ کلام عربی اعتبار سے بالکل صحیح ہے۔ لیکن پھر کوئی مانع آ گیا، ہم حقیقی معنیٰ نہیں کر سکتے تو پھر مجازی معنیٰ کی طرف چلے جائیں گے۔ تو امام صاحب کی طرف سے جواب یہ ہے کہ یہ جو کلام ہے ”أَعْتَقْتُكَ قَبْلَ أَنْ أُخْلَقَ“ یا ”قَبْلَ أَنْ تُخْلَقَ“ کہ کلام کا صرف عربی اعتبار سے صحیح ہونا کافی نہیں بلکہ عقلاً وہ ممکن بھی ہو سکے۔ عقلاً ممکن بھی ہو سکے، تو یہ کلام عربی اعتبار سے تو صحیح ہے لیکن عقلاً یہ ممکن ہی نہیں ہے، پیدائش سے پہلے کوئی کسی کو آزاد نہیں کر سکتا۔ پیدائش سے پہلے کوئی کسی کو آزاد نہیں کر سکتا تو لہٰذا یہ عقلاً ممکن ہی نہیں ہے۔ اور ”هٰذَا ابْنِيْ“ یہ عقلاً ممکن ہے۔ یہ والا کلام عقلاً ممکن ہے، مثلاً ایک آدمی اپنے حقیقی بیٹے کو کہتا ہے: ”هٰذَا ابْنِيْ“ یہ میرا بیٹا ہے، دیکھو کلام کا معنیٰ صحیح ہے یا نہیں۔ اور یہاں پر یہ جو مثال چل رہی ہے، آقا نے اپنے ایسے غلام کی طرف اشارہ کیا جو عمر میں اس کے برابر ہے یا عمر میں اس سے بڑا ہے کہ ”هٰذَا ابْنِيْ“ تو کہتے ہیں یہاں پر یہ حقیقی معنیٰ ممکن نہیں وہ اس وجہ سے نہیں کہ عقلاً ہی یہ معنیٰ ممکن نہیں ہے۔ یہاں پر یہ جو ممکن نہ رہا وہ صرف اس خاص مشار الیہ کی وجہ سے کہ یہ جو غلام تھا جس کی طرف آقا نے اشارہ کر کے کہا تھا ”هٰذَا ابْنِيْ“ یہ میرا بیٹا ہے، یہ اس مشار الیہ غلام کی وجہ سے یہ ”هٰذَا ابْنِيْ“ ممکن نہ رہا کیونکہ یہ آقا کا ہم عمر ہے یا عمر میں اس سے بڑا ہے۔ اگر یہ غلام کم عمر ہوتا تو پھر ”هٰذَا ابْنِيْ“ کا لفظ صحیح ہوتا۔ تو معلوم ہوا ”هٰذَا ابْنِيْ“ کا جو معنیٰ ہے وہ عقلاً ممکن ہے۔ یہاں صرف ایک مانع آیا کہ یہ غلام آقا کا ہم عمر ہے یا آقا سے عمر میں بڑا ہے اس لیے یہاں حقیقی معنیٰ پر عمل نہ ہو سکا۔ اگر کوئی کم عمر غلام ہوتا تو اس کے حقیقی معنیٰ پر عمل ممکن تھا بھئی۔ جبکہ یہ جو کلام آپ ذکر کر رہے ہیں یہاں تو حقیقی معنیٰ ممکن ہی نہیں ہے بھئی، عقلاً، عقلاً ممکن ہی نہیں ہے کہ کوئی شخص پیدائش سے پہلے دوسرے کو آزاد کر دے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو حاصلِ کلام کیا؟ صاحبین کے نزدیک مجاز حقیقت کا خلیفہ ہے معنیٰ کے اندر۔ اگر حقیقی معنیٰ ممکن ہے لیکن کوئی رکاوٹ آ گئی، کوئی مانع آ گیا تو پھر مجازی معنیٰ کی طرف چلے جائیں گے، اور اگر حقیقی معنیٰ ممکن ہی نہیں ہے تو پھر مجازی معنیٰ کی طرف بھی رجوع نہیں کیا جائے گا کیونکہ جب حقیقت محال ہے تو نائب یعنی مجاز بھی محال ہو گا بھئی۔ جبکہ امام صاحب فرماتے ہیں کہ یہ جو مجاز جو ہے یہ خلیفہ ہے حقیقت کا تکلم میں یعنی لفظوں کے اندر، یعنی وہ لفظ صحیح ہوں عربی اعتبار سے اور نیز عقلاً ممکن بھی ہوں۔ اس خاص مقام پر جس مقام پر ان لفظوں کو ادا کیا گیا ہے اس کو نہ دیکھیں، اور مقامات پر یہی لفظ کہے جائیں تو ان کا معنیٰ صحیح ہے یا نہیں۔ اگر ان کا معنیٰ عقلاً ممکن ہے اور مقامات پر تو پھر معلوم ہوا یہ کلام لفظوں کے اعتبار سے صحیح ہے۔ جب لفظوں کے اعتبار سے صحیح ہے اور حقیقی معنیٰ یہاں مراد نہیں لیا جا سکتا تو پھر مجازی معنیٰ کی طرف چلے جائیں گے۔ دوبارہ ترجمہ دیکھیے: ”لَهُمْ“ صاحبین اور امامِ شافعی رحمہما اللہ کی دلیل یہ ہے، ”أَنَّهُ كَلَامٌ مُحَالٌ بِحَقِيقَتِهِ“ کہ یہ جو ”هٰذَا ابْنِيْ“ یہ جو کلام کیا آقا نے اپنے برابر کے یا اپنے سے بڑی عمر کے غلام کی طرف متوجہ ہو کر، یہ ایسا کلام ہے ”مُحَالٌ بِحَقِيقَتِهِ“ جو اپنی حقیقت کے اعتبار سے محال ہے یعنی اس کا حقیقی معنیٰ ممکن نہیں ہے، ”فَيُرَدُّ وَيَلْغُو“ تو لہٰذا اس کو رد کیا جائے گا اور یہ باطل ہو گا، ”كَقَوْلِهِ“ جیسے کہ آقا کا یہ قول ہے: ”أَعْتَقْتُكَ قَبْلَ أَنْ أُخْلَقَ“ کہ میں نے تجھے آزاد کیا اپنی پیدائش سے پہلے، ”أَوْ قَبْلَ أَنْ تُخْلَقَ“ یا میں نے تجھے آزاد کیا تیری پیدائش سے پہلے۔ تو جیسے یہ کلام جو ہے ”أَعْتَقْتُكَ قَبْلَ أَنْ أُخْلَقَ“ یا ”قَبْلَ أَنْ تُخْلَقَ“ یہ بیکار ہے اور لغو ہے، اسی طرح ”هٰذَا ابْنِيْ“ بھی اپنے برابر کے یا اپنے سے بڑی عمر کے غلام کو کہا تو یہ کلام بھی باطل ہے اور بیکار ہے بھئی۔ ”وَلِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے، ”أَنَّهُ كَلَامٌ مُحَالٌ بِحَقِيقَتِهِ“ کہ یہ کلام اپنی حقیقت کے اعتبار سے محال ہے، ”لَكِنَّهُ صَحِيحٌ بِمَجَازِهِ“ لیکن یہ کلام اپنے مجاز کے اعتبار سے صحیح ہے، مجازی معنیٰ یہاں صحیح ہے، ”لِأَنَّهُ إِخْبَارٌ عَنْ حُرِّيَّتِهِ مِنْ حِينِ مِلْكِهِ“ اس لیے کیونکہ یہ خبر دی جا رہی ہے اس غلام کے آزاد ہونے کی اس کے مالک ہونے کے وقت سے۔ یعنی غلام اس آقا کے برابر ہے عمر میں یا آقا سے بڑا ہے اور آقا اس کو کہتا ہے ”هٰذَا ابْنِيْ“، اب یہاں حقیقی معنیٰ تو ممکن نہیں لیکن مجازی معنیٰ ممکن ہے، یعنی آقا اس کو یہ خبر دے رہا ہے کہ جس وقت سے میں تیرا مالک ہوا ہوں تو اس وقت سے آزاد ہے۔ کیونکہ آقا نے کیا کہا: ”هٰذَا ابْنِيْ“ یہ میرا بیٹا ہے، اور بیٹا جو ہوتا ہے وہ مالک پر آزاد ہوتا ہے۔ معلوم ہوا آقا کہہ رہا ہے جب سے میں تمہارا مالک بنا ہوں تم آزاد ہو۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ إِخْبَارٌ عَنْ حُرِّيَّتِهِ مِنْ حِينِ مِلْكِهِ“ اس لیے کیونکہ یہ خبر دینا ہے اس غلام کی آزادی کی اپنی ملکیت کے وقت سے۔ ”وَهَذَا“ اور یہ اس لیے، یعنی یہ جو آقا نے اپنے غلام سے کہا ”هٰذَا ابْنِيْ“ اس کو ہم نے خبر قرار دیا حریت سے، بھئی کیوں حریت سے خبر کیوں قرار دیا؟ اب اس کی وجہ ذکر کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں یہ اس کا مجازی معنیٰ ہے اور مجازی معنیٰ یہاں دو صورتیں ذکر کریں گے کہ بعض اوقات عربی زبان میں سبب کو ذکر کیا جاتا ہے اور ارادہ مسبب کا ہوتا ہے۔ جیسے عربی میں کہتے ہیں کوئی آدمی بہت زیادہ سخی ہو، بہت زیادہ عطایا کرنے والا ہو تو عربی میں کہتے ہیں: ”عَظُمَتْ يَدُ فُلَانٍ“ فلاں کا ہاتھ بہت بڑا ہے، یا فلاں کا ہاتھ بہت بڑا ہو گیا۔ اور مراد کیا ہے؟ اس کے احسانات بہت زیادہ ہو گئے، اس کی سخاوت بہت زیادہ ہو گئی، اس لیے کیونکہ ہاتھ سبب ہے سخاوت کا۔ تو ہاتھ ہوا سبب، اور عطایا اور سخاوت یہ اس کا مسبب ہے، تو سبب بول کر کس کا ارادہ کیا گیا؟ مسبب کا۔ تو عربی زبان میں یہ شایع ہے اور رائج ہے کہ لفظ سبب والا ذکر کیا جاتا ہے اور ارادہ مسبب والا۔ اور یہاں پر بھی اسی طرح ہے کہ جب بھی مملوک کے اندر بیٹا ہونا ثابت ہو گا وہ فوراً آزاد ہو جائے گا۔ تو بیٹا ہونا مملوک کے اندر یہ سبب ہے اور آزاد ہونا اس کا مسبب ہے۔ مثلاً آقا ہے، اس کی باندی نے ایک بچے کو جنم دیا، آقا نے کہا: یہ میرا بیٹا ہے۔ تو جیسے ہی بیٹا ہونا ثابت ہو گا ساتھ ہی وہ آزاد بھی ہو جائے گا کیونکہ اپنا بیٹا انسان کا مملوک نہیں ہو سکتا، اس بات پر اجماع ہے بھئی کہ انسان جیسے ہی اپنے بیٹے کا مالک بنے گا وہ بیٹا اس پر فوراً آزاد ہو جائے گا، اس پر سب کا اجماع ہے۔ تو جب باندی کے بیٹے کے بارے میں آقا نے کہہ دیا یہ میرا بیٹا ہے تو یہ بیٹا فوراً آزاد ہو جائے گا کیونکہ بیٹا ہونا سبب ہے آزادی کا۔ جب بیٹا ہونا ثابت ہو گا ساتھ ہی آزادی بھی ثابت ہو جائے گی۔ تو کہتے ہیں: ”وَهَذَا لِأَنَّ الْبُنُوَّةَ فِي الْمَمْلُوكِ سَبَبٌ لِحُرِّيَّتِهِ“ اور یہ اس لیے کیونکہ بیٹا ہونا، بنوت کا کیا معنیٰ ہے؟ بیٹا ہونا، یہ مصدر ہے۔ ”وَهَذَا“ اور یہ اس وجہ سے، یعنی یہ جو ہم نے یہ ”هٰذَا ابْنِيْ“ کو آزادی سے خبر قرار دیا، آزادی سے مجاز قرار دیا، اس کی وجہ ذکر کر رہے ہیں: ”وَهَذَا لِأَنَّ الْبُنُوَّةَ فِي الْمَمْلُوكِ“ اور یہ اس وجہ سے اس لیے کیونکہ مملوک یعنی غلام کے اندر بیٹا ہونا ”سَبَبٌ لِحُرِّيَّتِهِ“ یہ اس کی آزادی کا سبب ہے، ”إِمَّا إِجْمَاعًا أَوْ صِلَةً لِلْقَرَابَةِ“ مملوک کے اندر بیٹا ہونا، مملوک کے اندر بیٹا ہونے کا وصف ثابت ہو گا تو ساتھ ہی حریت بھی ثابت ہو جائے گی، تو بیٹا ہونا سبب ہے آزاد ہونے کا۔ ”إِمَّا إِجْمَاعًا“ یا تو یہ اجماعاً ہے، یہ نقلی دلیل ذکر کر دی یعنی اس پر اجماع ہے سب کا کہ انسان جب بھی اپنے بیٹے کا مالک بنے گا وہ اس پر آزاد ہو جائے گا۔ جیسے میں نے مثال ذکر کر دی، باندی نے بچے کو جنم دیا آقا نے کیا کہا: یہ میرا بیٹا ہے، تو اجماع ہے اس بات پر کہ یہ آزاد ہو گا۔ تو اس لیے کیونکہ بیٹا ہونا مملوک میں یہ آزادی کا سبب ہے ”إِمَّا إِجْمَاعًا“ یا تو اجماعاً، ”أَوْ صِلَةً لِلْقَرَابَةِ“ صلہ کا معنیٰ ہے انعام اور احسان بھئی، قرابت کہتے ہیں رشتہ داری کو، ”أَوْ صِلَةً لِلْقَرَابَةِ“ یا بطورِ احسان کے رشتہ داری کی وجہ سے۔ یہ عقلی دلیل ذکر کر دی، عقل بھی یہی تقاضا کرتی ہے کہ اپنے قریبی رشتہ دار کے مالک بنے ہو تو بطورِ احسان کے، بطورِ انعام کے اس کو آزاد ہونا چاہیے۔ بطورِ انعام اور احسان کے اس کو آزاد ہونا چاہیے۔ تو دیکھو صاحبِ ہدایہ نے دونوں دلیلیں ذکر کر دیں کہ انسان جب اپنے بیٹے کا مالک بنتا ہے تو بیٹا آزاد ہو جاتا ہے، یا تو نقلی دلیل کی وجہ سے کہ اس پر سب کا اجماع ہے، اور اگر آپ عقلی دلیل چاہتے ہیں تو عقلی دلیل کے اعتبار سے بھی یہ آزاد ہو جائے گا کیونکہ یہ اپنا قریبی رشتہ دار ہے اور قریبی رشتہ دار کے ساتھ شریعت نے ہمیں احسان کرنے کا حکم دیا ہے۔ تو کہتے ہیں مملوک کے اندر بیٹا ہونا یہ اس کی آزادی کا سبب ہے ”إِمَّا إِجْمَاعًا“ یا تو باعتبار اجماع کے، ”أَوْ صِلَةً لِلْقَرَابَةِ“ یا باعتبار احسان کے رشتہ داری کی وجہ سے۔ ”وَإِطْلَاقُ السَّبَبِ وَإِرَادَةُ الْمُسَبَّبِ مُسْتَجَازٌ فِي اللُّغَةِ تَجَوُّزًا“ یہ ترجمہ سمجھ لیجیے بھئی: ”وَإِطْلَاقُ السَّبَبِ“ اور سبب کا اطلاق کرنا، یعنی سبب کو بولنا، ”وَإِرَادَةُ الْمُسَبَّبِ“ اور مسبب کا ارادہ کرنا، ”مُسْتَجَازٌ فِي اللُّغَةِ“، اِسْتَجَازَ يَسْتَجِيْزُ اِسْتِجَازًا کا معنیٰ ہے اجازت طلب کرنا۔ اِسْتَجَازَ يَسْتَجِيْزُ اِسْتِجَازًا اس کا معنیٰ ہے اجازت طلب کرنا، تو مستجاز وہ جس کے بارے میں اجازت طلب کی جائے، یعنی آسان لفظوں میں کہو مستجاز کا معنیٰ جس کی اجازت ہو۔ مستجاز جس کی، جس کے بارے میں اجازت طلب کی گئی یعنی جس کی اجازت ہے بھئی۔ اور ”تَجَوُّزًا“، تجوز یہ مصدر ہے بھئی بمعنیٰ مجاز کے۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِطْلَاقُ السَّبَبِ وَإِرَادَةُ الْمُسَبَّبِ مُسْتَجَازٌ فِي اللُّغَةِ“ اور سبب کا اطلاق کرنا اور مسبب کا ارادہ کرنا اس کی عربی زبان میں اجازت ہے، ”تَجَوُّزًا“ باعتبار مجاز کے، یعنی مجاز ہونے کے اعتبار سے اس کی اجازت ہے کہ سبب کا لفظ ذکر کیا جائے اور ارادہ مسبب کا کیا جائے۔ ”وَلِأَنَّ الْحُرِّيَّةَ لَازِمَةٌ لِلْبُنُوَّةِ فِي الْمَمْلُوكِ“ یہاں سے دوسرا علاقہ ذکر کر رہے ہیں۔ بھئی یاد رکھو حقیقی اور مجازی معنیٰ کے اندر مناسبت ضروری ہے۔ حقیقی اور مجازی معنیٰ میں مناسبت ضروری ہے۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ آپ بکری کا لفظ ذکر کریں کہ میں نے بکری کو دیکھا اور ارادہ ہاتھی کا کر لیں، کیونکہ بکری اور ہاتھی کے درمیان کوئی مناسبت نہیں ہے۔ تو حقیقی اور مجازی معنیٰ میں مناسبت کا ہونا ضروری ہے، یا یوں کہیں علاقہ، علاقہ کا معنیٰ ہے تعلق۔ حقیقی اور مجازی معنیٰ میں مناسبت کا ہونا ضروری ہے، تعلق کا ہونا ضروری ہے، علاقہ کا ہونا ضروری ہے، یا یوں کہیں ربط کا ہونا ضروری ہے بھئی۔ تو ایک علاقہ یا ایک مناسبت صاحبِ ہدایہ نے ذکر فرما دی کہ لفظ کیا ذکر کیا: ”هٰذَا ابْنِيْ“ اور ارادہ کس کا کیا؟ آزادی کا۔ اور بیٹا ہونے اور آزادی کے اندر مناسبت موجود ہے کہ جب بھی بیٹا ہونے کا وصف مملوک میں ثابت ہو گا تو اس کے ساتھ حریت بھی ثابت ہو جائے گی کیونکہ بیٹا ہونا سبب ہے آزادی کا، تو دونوں میں سببیت والا تعلق ہے۔ دونوں میں سببیت والا تعلق ہے بھئی۔ اور اب دوسرا علاقہ بیان کر رہے ہیں صاحبِ ہدایہ کہ دونوں میں لزوم والا تعلق ہے۔ اپنے مملوک کے اندر بیٹا ہونے کا وصف ثابت ہو جائے تو اس کے ساتھ آزادی لازم ہے۔ بیٹا ہو اور مملوک ہو ایسا نہیں ہو سکتا، بیٹے کے ساتھ آزادی لازم ہے۔ تو اپنے مملوک میں جب بیٹا ہونے کا وصف ثابت ہو گا تو اس کے ساتھ لازم ہے کہ آزادی بھی ثابت ہو گی۔ ”هٰذَا ابْنِيْ“ حقیقی معنیٰ کیا؟ یہ میرا بیٹا ہے، اور مجازی معنیٰ کیا؟ یہ آزاد ہے۔ تو دو علاقے بیان کر دیے صاحبِ ہدایہ نے، ایک یہ کہ یہ سببیت والا علاقہ ہے، ذکر سبب کو کیا اور ارادہ مسبب کا کیا اور کلامِ عرب میں ایسا ہوتا رہتا ہے۔ اور دوسرا علاقہ بیان کریں گے کہ ذکر ملزوم کو کیا اور ارادہ لازم کا کیا اور ملزوم بول کر لازم کا ارادہ کیا جاتا ہے کلامِ عرب کے اندر بھئی۔ جیسے دیکھو بھئی، جیسے دیکھو، مثلاً زید بہادر ہے اور شیر بھی بہادر ہے، اور شیر کے ساتھ عادتاً بہادری کو لازم سمجھا جاتا ہے کہ یہ بہادری شیر سے جدا نہیں ہو سکتی۔ عادتاً بہادری کو شیر کے ساتھ لازم سمجھا جاتا ہے تو اب زید کی مشابہت آ گئی شیر کے ساتھ بہادری میں، یعنی اس شیر کے وصفِ لازم میں۔ زید کی مشابہت ہے کس کے ساتھ؟ شیر کے ساتھ، اس شیر کے وصفِ لازم میں۔ تو لہٰذا زید میرے پاس آیا تو میں کہہ سکتا ہوں شیر آ گیا۔ دیکھو بہادر آدمی آتا ہے تو لوگ کہتے ہیں شیر آ گیا، وہ دراصل اس کو تشبیہ دے رہے ہیں شیر کے ساتھ اس کے وصفِ لازم میں۔ معلوم ہوا یہاں پر شیر سے مراد بہادر آدمی ہے۔ جس طرح شیر کے ساتھ بہادری لازم ہے اسی طرح اس آدمی کے ساتھ بھی بہادری لازم ہے بھئی۔ تو معلوم ہوا حقیقی معنیٰ اور مجازی معنیٰ میں مناسبت کا ہونا ضروری ہے، تعلق کا ہونا ضروری ہے اور یہاں پر آقا نے ”هٰذَا ابْنِيْ“ کہا اور ارادہ ”هٰذَا حُرٌّ“ کا کیا اور دونوں میں مناسبت موجود ہے، سببیت والا تعلق بھی ہے اور لزوم والا تعلق بھی ہے بھئی۔ اب دوسرا علاقہ بیان کر رہے ہیں، کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّ الْحُرِّيَّةَ لَازِمَةٌ لِلْبُنُوَّةِ فِي الْمَمْلُوكِ“ اس لیے کیونکہ آزادی جو ہے وہ لازم ہے ”لِلْبُنُوَّةِ“ بیٹا ہونے کے ساتھ ”فِي الْمَمْلُوكِ“ مملوک میں۔ مملوک میں جب بھی بیٹا ہونے کا وصف ثابت ہو گا تو ساتھ ہی آزادی بھی ثابت ہو جائے گی۔ یہ معنیٰ ہے ”وَلِأَنَّ الْحُرِّيَّةَ لَازِمَةٌ لِلْبُنُوَّةِ فِي الْمَمْلُوكِ“ اس لیے کیونکہ مملوک کے اندر بیٹا ہونے کے وصف کے ساتھ آزادی لازم ہے۔ ”وَالْمُشَابَهَةُ فِي وَصْفٍ لَازِمٍ مِنْ طُرُقِ الْمَجَازِ عَلَى مَا عُرِفَ“، ”وَالْمُشَابَهَةُ فِي وَصْفٍ لَازِمٍ“ اور مشابہ ہونا وصفِ لازم میں، مشابہ ہونا ایسے وصف میں جو ایک چیز کے ساتھ لازم ہے، ”مِنْ طُرُقِ الْمَجَازِ“ یہ مجاز کے طریقوں میں سے ہے، ”عَلَى مَا عُرِفَ“ اس وجہ سے جو جانا گیا ہے، جو جانا گیا ہے یعنی اصول کی کتابوں میں جیسے کہ جانا گیا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْمُشَابَهَةُ فِي وَصْفٍ لَازِمٍ مِنْ طُرُقِ الْمَجَازِ عَلَى مَا عُرِفَ“ اور وصفِ لازم کے اندر مشابہ ہونا یہ مجاز کے طریقوں میں سے ہے اس وجہ سے جو جانا گیا ہے یعنی جو اصولِ فقہ کی کتابوں میں جانا گیا ہے، ”فَيُحْمَلُ عَلَيْهِ“ لہٰذا اسی پر اس کو محمول کیا جائے گا۔ آقا کے اس قول کو اسی پر محمول کیا جائے گا، آقا نے کیا کہا: ”هٰذَا ابْنِيْ“، اس قول کو اسی پر یعنی حریت پر ہی محمول کیا جائے گا کیونکہ بیٹے کے ساتھ حریت لازم ہے یا بیٹا ہونا یہ سبب ہے حریت کا۔ تو کہتے ہیں: ”فَيُحْمَلُ عَلَيْهِ“ تو لہٰذا آقا کے اس قول کو اسی معنیٰ پر یعنی مجاز پر محمول کیا جائے گا، ”تَحَرُّزًا عَنِ الْإِلْغَاءِ“، أَلْغَى يُلْغِيْ إfieldsِلْغَاءً کا معنیٰ ہے باطل قرار دینا، بیکار قرار دینا۔ ”تَحَرُّزًا عَنِ الْإِلْغَاءِ“، تحرز کا معنیٰ ہے بچنا، ”تَحَرُّزًا عَنِ الْإِلْغَاءِ“ اس کو باطل قرار دینے سے بچنے کے لیے۔ بھئی یاد رکھو فقہاء کی کوشش ہوتی ہے کہ عاقل بالغ آدمی کے کلام کو بیکار ہونے سے بچایا جائے، اس کو باطل ہونے سے بچایا جائے، کیونکہ ایک عقل والا بالغ آدمی ایک بات کر رہا ہے لہٰذا مناسب یہ ہے اس کا کوئی معنیٰ ہونا چاہیے، اس کو بیکار نہیں ہونا چاہیے۔ تو اس آقا نے اپنے برابر کے یا اپنے سے بڑے غلام کو کہا ہے ”هٰذَا ابْنِيْ“، تو صاحبین کے نزدیک تو یہ کلام لغو ہوا، بیکار ہوا، اس کا کوئی معنیٰ نہیں۔ لیکن امام صاحب فرماتے ہیں کہ عاقل بالغ آدمی کے کلام کو لغو ہونے سے بچانا چاہیے، لہٰذا جب حقیقی معنیٰ یہاں ممکن نہیں ہے تو اس کو مجازی معنیٰ پر محمول کر دیا جائے گا تاکہ اس کلام کو باطل نہ قرار دینا پڑے بھئی۔ تو یہ معنیٰ ہے: ”فَيُحْمَلُ عَلَيْهِ“ لہٰذا آقا کے اس قول کو مجاز پر محمول کیا جائے گا، ”تَحَرُّزًا عَنِ الْإِلْغَاءِ“ اس کو باطل قرار دینے سے بچنے کے لیے، ”بِخِلَافِ مَا اسْتُشْهِدَ بِهِ“، استشہاد کا معنیٰ ہے استدلال کرنا، دلیل بنانا۔ بھئی صاحبین نے بطورِ دلیل کے ذکر کیا تھا کہ اگر آقا اپنے غلام سے کہے: ”أَعْتَقْتُكَ قَبْلَ أَنْ أُخْلَقَ“ یا ”قَبْلَ أَنْ تُخْلَقَ“ کہ میں نے تجھے آزاد کیا اپنے پیدا ہونے سے پہلے، یا میں نے تجھے آزاد کیا تیرے پیدا ہونے سے پہلے، تو جیسے اس کلام کا حقیقی معنیٰ ممکن نہیں تو اس کا مجازی معنیٰ بھی نہیں کیا جائے گا۔ مجازی معنیٰ بھی نہیں کیا جائے گا تو اس کا اب جواب دے رہے ہیں صاحبِ ہدایہ امام صاحب کی طرف سے کہ ہم نے بیان کر دیا کہ حقیقی اور مجازی معنیٰ میں کوئی مناسبت ضروری ہے، کوئی تعلق اور کوئی ربط ہونا ضروری ہے۔ جبکہ ”أَعْتَقْتُكَ قَبْلَ أَنْ أُخْلَقَ“ یا ”قَبْلَ أَنْ تُخْلَقَ“ اس کا معنیٰ آپ یہ کرنا چاہتے ہیں کہ یہ اس کی آزادی کی خبر دے رہا ہے اپنے مالک ہونے کے وقت سے کہ میں جب سے تیرا مالک بنا ہوں اس وقت سے تو آزاد ہے۔ میں جب سے تیرا مالک بنا ہوں اس وقت سے تو آزاد ہے۔ اپنے مالک ہونے کے وقت سے اس کو آزادی کی خبر دے رہا ہے یعنی اس کو آزاد کر رہا ہے، یہ اس کا مجازی معنیٰ آپ کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن کہتے ہیں یہ مجازی معنیٰ آپ نہیں کر سکتے، اس لیے کیونکہ حقیقی اور مجازی معنیٰ میں ربط ضروری ہے اور یہاں حقیقی معنیٰ اور مجازی معنیٰ میں کوئی ربط نہیں ہے۔ یہاں حقیقی معنیٰ اور مجازی معنیٰ میں کوئی ربط اور کوئی تعلق اور کوئی مناسبت نہیں ہے، لہٰذا آپ اس کا یہ والا مجازی معنیٰ نہیں کر سکتے۔ بھئی دیکھیے نا حقیقی اور مجازی معنیٰ میں مناسبت ضروری ہے، یا سببیت والا علاقہ ہو یا لزوم والا علاقہ ہو یا کوئی اور علاقہ ہونا چاہیے، تعلق ہونا چاہیے، لیکن یہاں حقیقی اور مجازی معنیٰ میں کوئی تعلق نہیں ہے۔ تو صاحبِ ہدایہ جواب دے رہے ہیں امام صاحب کی طرف سے کہ ہم نے آپ کو بتلا دیا کہ حقیقی اور مجازی معنیٰ کے درمیان کوئی نہ کوئی مناسبت، تعلق اور ربط کا ہونا ضروری ہے، جیسے ہم نے ذکر کر دیا کہ بیٹا ہونا اور آزادی ان دونوں کے درمیان سببیت والا تعلق ہے، بیٹا ہونا سبب ہے آزادی کا، یا ان دونوں کے درمیان لزوم والا تعلق ہے کہ مملوک میں بیٹا ہونے کا وصف ثابت ہو گا تو اس کے ساتھ لازم ہے آزادی کا وصف بھی ثابت ہو جائے گا۔ تو حقیقی اور مجازی معنیٰ میں کوئی ربط، تعلق اور مناسبت ضروری ہے، لیکن یہاں جو آپ دلیل ذکر کر رہے ہیں یہاں حقیقی اور مجازی معنیٰ میں کوئی مناسبت نہیں۔ حقیقی معنیٰ کیا؟ کہ میں نے تجھے اپنی پیدائش سے پہلے آزاد کیا، اور مجازی معنیٰ کیا؟ کہ میں جب سے تیرا مالک بنا ہوں تب سے تو آزاد ہے۔ کہتے ہیں دونوں کے اندر کوئی مناسبت نہیں ہے۔ بھئی کس طرح مناسبت نہیں ہے؟ کہتے ہیں دیکھو حقیقی معنیٰ کیا ہے؟ کہ میں نے تجھے آزاد کیا اپنی پیدائش سے پہلے یا تیری پیدائش سے پہلے، بھئی پیدائش سے پہلے تو کوئی کسی کو آزاد نہیں کر سکتا کیونکہ پیدائش سے پہلے مالک ہی نہیں ہے، مالک ہو گا تو پھر اس کے بعد آزادی ہو سکتی ہے۔ تو پیدائش سے پہلے تو کوئی کسی کا مالک نہیں ہو سکتا۔ اور مجازی معنیٰ کیا تھا؟ کہ جب سے میں تیرا مالک بنا ہوں تب سے تو آزاد ہے، تو اس کے اندر تو مالک ہونے کا ذکر ہے اور حقیقی معنیٰ میں وہ حالت بیان ہو رہی ہے جس میں انسان مالک ہو ہی نہیں سکتا۔ پیدائش سے پہلے کوئی کسی کا مالک ہی نہیں ہو سکتا۔ تو حقیقی معنیٰ عدمِ ملکیت کا تقاضا کر رہا ہے اور مجازی معنیٰ ملکیت کا تقاضا کر رہا ہے کہ مالک جب سے مالک ہوں تو اس وقت سے تم آزاد، تو معلوم ہوا مالک ہونا ضروری ہے بھئی۔ توجہ ہے؟ تو لہٰذا دونوں معانی یعنی حقیقی معنیٰ اور مجازی معنیٰ میں یہاں کوئی مناسبت موجود نہیں بلکہ دونوں معانی میں منافات ہے۔ حقیقی معنیٰ تقاضا کر رہا ہے عدمِ ملکیت کا کہ وہ مالک ہو ہی نہیں سکتا، جب مالک نہیں تو آزادی کہاں سے؟ اور مجازی معنیٰ کیا تقاضا کر رہا ہے؟ ملکیت کا کہ جب سے میں مالک بنا ہوں تم آزاد ہو، تو یہاں ملکیت ضروری ہے۔ تو حقیقی معنیٰ تقاضا کر رہا ہے عدمِ ملکیت کا اور مجازی معنیٰ تقاضا کر رہا ہے ملکیت کا، تو دونوں میں کوئی مناسبت ہی نہیں ہے بلکہ دونوں معانی میں منافات ہے۔ لہٰذا یہاں پر جب دونوں کے اندر منافات ہے، کوئی مناسبت موجود نہیں ہے تو مجازی معنیٰ بھی مراد نہیں لیا جا سکتا۔ تو کہتے ہیں: ”بِخِلَافِ مَا اسْتُشْهِدَ بِهِ“ بخلاف اس قول کے جسے دلیل بنایا گیا، جس سے استدلال کیا گیا، ”لِأَنَّهُ لَا وَجْهَ لَهُ فِي الْمَجَازِ“ اس لیے کیونکہ اس کی مجاز میں کوئی وجہ نہیں ہے، وہاں مجازی معنیٰ لینے کی کوئی وجہ نہیں کیونکہ حقیقی اور مجازی معنیٰ میں مناسبت ہونی چاہیے اور وہاں وہ مناسبت نہیں ہے بھئی۔ ”فَتَعَيَّنَ الْإِلْغَاءُ“ تو لہٰذا اس کو باطل قرار دینا ہی متعین ہو گیا، ”أَعْتَقْتُكَ قَبْلَ أَنْ أُخْلَقَ“ یا ”قَبْلَ أَنْ تُخْلَقَ“ اس کو باطل قرار دینا ہی متعین ہو گیا کیونکہ حقیقی معنیٰ بھی ممکن نہیں اور مجازی معنیٰ بھی ہم مراد نہیں لے سکتے تو اب اس کو باطل قرار دینا ہی متعین ہوا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ چلیے بس بھئی، هٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
160 approved lectures · 86 of 160