Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء ثاني · dars-067

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 16 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 121
📂 Choose Format:
⭐ ★★★★★ Excellent TEXT
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
آگے سبق دیکھیے بھئی: وَلَوْ قَالَ: ”أَنْتِ طَالِقٌ عَلَى أَلْفٍ عَلَى أَنِّي بِالْخِيَارِ أَوْ عَلَى أَنَّكِ بِالْخِيَارِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ“، فَقَبِلَتْ، فَالْخِيَارُ بَاطِلٌ إِذَا كَانَ لِلزَّوْجِ، وَهُوَ جَائِزٌ إِذَا كَانَ لِلْمَرْأَةِ، فَإِنْ رَدَّتِ الْخِيَارَ فِي الثَّلَاثِ بَطَلَ، وَإِنْ لَمْ تَرُدَّ طُلِّقَتْ وَلَزِمَهَا الْأَلْفُ، وَهَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ، وَقَالَا: الْخِيَارُ بَاطِلٌ فِي الْوَجْهَيْنِ وَالطَّلَاقُ وَاقِعٌ وَعَلَيْهَا أَلْفُ دِرْهَمٍ۔ گزشتہ سبق میں خلع کے بارے میں ہم پڑھ رہے تھے بھئی۔ صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ خلع کے اندر عورت عوض دے کر خاوند سے اپنی جان چھڑاتی ہے، تو اگر یہ نفرت جو ہے وہ خاوند کی جانب سے تھی تو اس کے لیے طلاق کا عوض لینا مکروہ ہے بھئی، اور اگر عورت کی طرف سے نفرت اور نافرمانی ہے تو پھر اس صورت میں بھی مہر کے بقدر خاوند واپس لے سکتا ہے اور اس سے زائد لینا مکروہ ہے بھئی۔ اور اس کے بعد پھر صاحبِ ہدایہ نے طَلَاق عَلَى عِوَض کو بھی ذکر فرمایا۔ میں نے بتلایا تھا کہ خلع اور چیز ہے، طلاق علی عوض اور چیز ہے۔ خلع میں طلاق کا لفظ نہیں ہوگا، جبکہ طلاق علی عوض میں طلاق کا لفظ ہوگا۔ اور البتہ دونوں اس اعتبار سے مشترک ہیں کہ دونوں کا حکم طَلَاقِ بَائِن ہے۔ جب عورت جدائی کے عوض مال دے گی تو وہاں طلاقِ بائن آئے گی، اس لیے کیونکہ طلاقِ بائن کے ذریعے عورت کی جان اس خاوند سے چھوٹ رہی ہے۔ لیکن اگر طلاقِ بائن کے بجائے طَلَاقِ رَجْعِی قرار دیا جائے تو اس کے اندر تو عورت کی جان خاوند سے نہیں چھوٹتی، خاوند اس میں رجوع کر سکتا ہے۔ اور اگر خاوند نے بیوی کو مال کی شرط پر طلاق دی اور عورت نے قبول کر لیا تو طلاق واقع ہو جائے گی اور عورت پر مال لازم ہو جائے گا، اور طلاق بھی طلاقِ بائن ہوگی۔ تو دیکھو یہاں پر عورت کا قبول کرنا ضروری ہے۔ وجہ یہ ہے کہ خاوند مال کے عوض طلاق دے رہا ہے، تو عورت پر مال لازم ہوگا اور کسی پر اس کی رضامندی کے بغیر مال لازم نہیں کیا جا سکتا، تو عورت قبول کرے گی تو شرط پوری ہو گئی۔ جب شرط پوری ہو گئی یعنی اس کے عوض مال آ گیا، اور جب مال آ گیا تو اب طلاق بھی واقع ہو جائے گی، اور طلاقِ بائن ہوگی کیونکہ عورت نے عوض دیا ہے بھئی۔ اور اگر خلع کے اندر عوض باطل ہو گیا، مثلاً شراب یا خنزیر پر یا مردار پر خلع کیا ہے تو اس صورت میں خاوند کو کچھ نہیں ملے گا، البتہ طلاق واقع ہو جائے گی اور طلاق بھی طلاقِ بائن ہوگی کیونکہ خلع کا لفظ کنایہ ہے، اور تین کنایات کے علاوہ باقی تمام مشہور کنایات سے طلاقِ بائن ہوتی ہے۔ اور اگر طلاق علی عوض کے اندر عوض جو ہے وہ باطل ہو جائے تو پھر وہاں طلاقِ رجعی ہوگی کیونکہ وہاں طلاق کا لفظ موجود ہے، اور جب عوض باطل ہو گیا اور طلاق کا لفظ باقی رہ گیا تو وہ تو صریح ہے، اور لفظِ صریح کے ذریعے طلاقِ رجعی ہوتی ہے۔ لیکن اگر اس کے مقابلے میں آقا نے غلام کو مکاتَب بنایا اور عوض شراب یا خنزیر یا مردار ذکر کیا، یا اسی طرح شراب یا خنزیر یا مردار کے عوض پر غلام کو آزاد کیا تو ان تمام صورتوں کے اندر غلام ویسے نہیں آزاد ہوگا یا ویسے نہیں مکاتَب بنے گا بلکہ اس کو اپنی قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ تو خلع اور طلاق علی عوض، وہاں پر خاوند پر کچھ نہیں آتا تھا لیکن مکاتَب بنانے میں یا إِعْتَاق عَلَى عِوَض کی صورت میں غلام پر اس کی قیمت آئے گی۔ وجہ یہ کہ خلع کے اندر جو ہے بُضْع ملکیت سے نکل رہا ہے اور بضع ملکیت سے نکلتے ہوئے متقوم نہیں ہے، اس کی کوئی قیمت نہیں ہے۔ لہٰذا جب قیمت نہیں ہے تو عوض باطل ہو گیا، تو لہٰذا وہاں کوئی مال بھی نہیں آئے گا۔ جبکہ غلام جو ہے، غلام جس کو آقا مکاتَب بنا رہا ہے یا اس کو مال کی شرط پر آزاد کر رہا ہے، تو وہ تو مالِ متقوم ہے بھئی اور آقا اس کے مفت ہاتھ سے نکلنے پر راضی نہیں ہے بھئی، تو وہاں اس غلام کو اپنی قیمت دینا پڑے گی۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ یہ جو بضع ہے، یہ ملکیت سے نکلتے ہوئے غیر متقوم ہے یعنی قیمت والی چیز نہیں ہے، لیکن یہی بضع جب ملکیت کے اندر داخل ہو تو پھر یہ متقوم ہے کیونکہ اللہ قرآن میں فرماتے ہیں: ﴿أَنْ تَبْتَغُوا بِأَمْوَالِكُمْ﴾ کہ تم بیویوں کو تلاش کرو اپنے مالوں کے ذریعے، تو معلوم ہوا مال یعنی مہر ضرور دینا پڑے گا بھئی۔ اور پھر اس کی عقلی وجہ بھی صاحبِ ہدایہ نے ذکر فرمائی کہ یہ بضع ملکیت میں داخل ہوتے وقت متقوم کیوں ہے؟ تو وجہ ذکر کی کہ وجہ یہ ہے کہ انسان اشرف المخلوقات ہے، انسان معزز ہے اور جب انسان معزز ہے تو تمام انسانی اعضا بھی معزز ہوئے، تو بضع بھی ایک انسانی عضو ہے وہ بھی معزز ہے۔ تو شریعت نے وہاں مال واجب کیا ہے کہ یہ معزز چیز ہے، یہ تمہارے لیے ویسے حلال نہیں ہوگی بلکہ تمہیں مال خرچ کرنا پڑے گا۔ اور جبکہ بضع ملکیت سے نکلتے وقت وہ متقوم نہیں قیمت والا نہیں، وجہ یہ کہ وہاں إِسْقَاطِ مِلْکِیَّت ہے اور اسقاطِ ملکیت یہ خود ایک معزز عمل ہے۔ یہاں کسی مال کو واجب کر کے اس عمل کے معزز ہونے کا اظہار کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اسقاطِ ملکیت خود ہی ایک معزز عمل ہے کیونکہ اس کی وجہ سے بضع سے مملوکیت ختم ہو جائے گی، تو لہٰذا جب یہ خود معزز عمل ہے تو یہاں مال کے ذریعے اس کے معزز ہونے کو ظاہر کرنے کی کوئی حاجت اور ضرورت نہیں ہے بھئی۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی بتلایا کہ جو چیز مہر بن سکتی ہے وہ خلع کے اندر بدل بھی بن سکتی ہے، لیکن جو بھی خلع کے اندر بدل بنے اس کا مہر بننا ضروری نہیں، اس لیے کیونکہ خلع کا بدل تو پانچ درہم بھی ہو سکتے ہیں لیکن مہر تو دس درہم سے کم نہیں ہو سکتا۔ اور وجہ بھی ذکر کی صاحبِ ہدایہ نے کہ مہر جو ہے وہ بضع کے ملکیت میں داخل ہوتے وقت دینا پڑتا ہے اور ملکیت میں داخل ہوتے وقت تو بضع متقوم ہے، تو مہر عوض ہے ایک متقوم چیز کا۔ تو جب مہر متقوم چیز کا عوض ہے تو غیر متقوم کا یہ بطریقِ اولیٰ جو ہے عوض ہو سکتا ہے بھئی، کیونکہ بضع خروج کے وقت غیر متقوم ہے تو یہ اس کا عوض بطریقِ اولیٰ ہو سکتا ہے۔ پھر اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ اگر عورت نے خاوند سے کہا کہ مجھ سے خلع کر لو اس چیز پر جو میرے ہاتھ میں ہے اور مٹھی آگے کر دی، مٹھی بند ہے۔ تو خاوند نے قبول کر لیا اور عورت نے مٹھی کھولی تو اس میں کچھ بھی نہیں تھا، تو اس صورت میں خلع ہو گیا، عورت کو طلاقِ بائن ہو گئی اور خاوند کے لیے کچھ بھی نہیں ہے کیونکہ عورت نے خاوند کو کوئی دھوکا نہیں دیا۔ کیونکہ بچہ بھی جانتا ہے کہ ہو سکتا ہے مٹھی میں کوئی چیز ہو، ہو سکتا ہے کوئی چیز نہ ہو بھئی۔ لیکن اس کے بجائے اگر عورت نے مال کے لفظ کو ذکر کیا کہ تم مجھ سے خلع کر لو اس مال کے عوض میں جو میری مٹھی میں ہے، اور خاوند راضی ہوا اور پھر دیکھا گیا تو مٹھی میں کچھ بھی نہیں تھا، تو اب مال کا لفظ ذکر کر کے اس نے خاوند کو دھوکا دیا ہے، لہٰذا مال تو ضرور آئے گا۔ اب کیا مال واجب کریں؟ کہتے ہیں جو ذکر کیا وہ تو آ نہیں سکتا کیونکہ مٹھی میں کچھ تھا ہی نہیں، تو پھر یہی فیصلہ کیا جائے گا کہ خاوند نے جو اس کو مہر دیا تھا وہ مہر اس کو لوٹانا پڑے گا بھئی۔ اور اگر عورت نے خاوند سے کہا کہ میری مٹھی میں جو درہم ہیں ان کے عوض میرے ساتھ خلع کر لو، اور مٹھی میں کچھ بھی نہیں تھا، تو اس نے جمع کا لفظ ذکر کیا ہے چاہے معرَّف باللام ہو چاہے غیر معرَّف باللام ہو، دونوں کا ایک ہی حکم ہے کہ عورت پر تین درہم واجب ہوں گے کیونکہ جمع کا اطلاق کم سے کم تین افراد پر ہوتا ہے۔ اور اگر عورت نے خاوند سے خلع کیا، اس کا ایک غلام ہے جو بھاگا ہوا ہے، کہ اس غلام کے عوض میرے ساتھ خلع کر لو، اگر یہ آ گیا تو میں تمہارے حوالے کر دوں گی، یہ تمہارا ہو جائے گا لیکن اگر وہ مجھے نہ ملا تو پھر میں تمہیں کچھ نہیں دوں گی، میرے اوپر کوئی ضمان نہیں آئے گا، اور خاوند راضی ہو گیا۔ تو کہتے ہیں عورت ضمان سے بری نہیں ہوگی، اگر غلام آیا تو وہی دینا پڑے گا اور اگر غلام نہ مل سکا تو پھر اس کی قیمت دینا پڑے گی۔ وجہ یہ کہ یہ عقدِ معاوضہ ہے بھئی، اور عقدِ معاوضہ کے اندر معاوضے کا سلامت رہنا ضروری ہے بھئی، اس میں ضمان سے کوئی شخص بری نہیں ہو سکتا۔ ہاں البتہ یہ شرطِ فاسد لگائی تھی کہ میں ضمان سے بری ہوں گی، لیکن شرطِ فاسد سے خلع اور نکاح فاسد نہیں ہوتے، شرط فاسد ہو جاتی ہے اور خلع اور نکاح صحیح ہو جاتے ہیں، جبکہ بیع اور اجارہ جو ہیں وہ شرطِ فاسد سے فاسد ہو جاتے ہیں۔ اور اگر بیوی نے خاوند سے کہا کہ مجھے تین طلاقیں دے دو ایک ہزار کے بدلے، اور خاوند نے ایک طلاق دے دی تو اس صورت میں عورت پر ثلثِ الف آ جائے گا یعنی ہزار کا تیسرا حصہ، اور عورت جو ہے جدا ہو جائے گی، اس لیے کیونکہ عورت جدائی کے لیے ہزار دینے پر راضی ہے تو ہزار کا تیسرا حصہ دینے پر بطریقِ اولیٰ راضی ہوگی بھئی۔ اور پھر یہاں ضابطہ بھی بتلایا تھا صاحبِ ہدایہ نے کہ معوَّض میں تقسیم آئے تو عوض میں بھی تقسیم آئے گی۔ تین طلاقوں کا عوض جو ہے وہ ہزار درہم تھے تو ایک طلاق کا عوض ہزار کا تیسرا حصہ ہوگا۔ تو اس مسئلے کے اندر عورت نے با کا لفظ ذکر کیا تھا: ”طَلِّقْنِي ثَلَاثًا بِأَلْفٍ“، اور اگر عورت علیٰ ذکر کرے تو علیٰ شرط کے لیے آتا ہے، اور پھر اس صورت میں اگر خاوند ایک طلاق دے گا تو پھر اس صورت میں عورت پر کوئی مال نہیں آئے گا اور طلاق بھی رجعی ہوگی امام صاحب کے نزدیک، اس لیے کیونکہ علیٰ شرط کے لیے آتا ہے اور شرط میں تقسیم آئے تو مشروط تقسیم نہیں ہوگا۔ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ یہاں پر بھی جو علیٰ آیا ہے وہ با کے معنی میں ہے، اس لیے کیونکہ عرب جب کسی سے کہتے ہیں: ”اِحْمِلْ هَذَا الطَّعَامَ بِدِرْهَمٍ“ یا ”اِحْمِلْ هَذَا الطَّعَامَ عَلَى دِرْهَمٍ“ تو دونوں کا ایک ہی معنی ہوتا ہے، چاہے بدرہم کہیں چاہے علیٰ درہم کہیں، اور یہ علیٰ جو ہے یہ اسی با کے معنی میں ہوتا ہے۔ جبکہ امام صاحب فرماتے ہیں کہ نہیں، یہ علیٰ شرط کے لیے ہے، اس لیے کیونکہ علیٰ اصل میں لزوم کے لیے آتا ہے اور اس کو مجازاً شرط کے لیے استعمال کیا جاتا ہے کیونکہ شرط کے ساتھ بھی جزا لازم ہوتی ہے بھئی۔ اور جب یہ شرط ہے تو شرط میں تقسیم سے مشروط میں تقسیم لازم نہیں آئے گی بھئی۔ اور باقی اس کا بھی جواب دیا کہ وہاں ”اِحْمِلْ هَذَا الطَّعَامَ عَلَى دِرْهَمٍ“ یہاں پر علیٰ کو با کے معنی میں لینا پڑا، اس لیے کیونکہ یہ اجارے کی بات ہو رہی ہے اور اجارہ اور بیع جو ہیں وہ تو تعلیق کو قبول نہیں کرتے، جبکہ یہ جو مسئلہ چل رہا ہے یہ طلاق کا ہے اور طلاق تو تعلیق کو قبول کر لیتی ہے بھئی۔ اور اگر خاوند نے بیوی سے کہا کہ تو اپنے آپ کو تین طلاقیں دے دے ”بِأَلْفٍ“ ہزار کے بدلے میں، ”أَوْ عَلَى أَلْفٍ“ یا ایک ہزار کی شرط پر، چاہے با ذکر کرے چاہے علیٰ ذکر کرے، تو اس صورت میں اگر عورت اپنے آپ کو ایک طلاق دے گی تو وہ واقع ہی نہیں ہوگی۔ تو یہاں ہم یہ نہیں کہیں گے کہ طلاقوں میں تقسیم آئی ہے تو عوض میں بھی تقسیم آ جائے گی۔ وجہ یہ کہ یہاں یہ بات کرنے والا خاوند ہے اور خاوند جو ہے وہ بائع کے درجے میں ہے، اور بائع ثمن سے کم کے اندر مبیع حوالے کرنے پر راضی نہیں ہوتا بھئی۔ یا اسی طرح خاوند نے بیوی سے کہا: ”أَنْتِ طَالِقٌ عَلَى أَلْفٍ“ یا ”أَنْتِ طَالِقٌ بِأَلْفٍ“، تو یہاں عورت قبول کرے گی تو طلاق ہو جائے گی۔ وجہ یہ کہ اس کے اندر چاہے با کو وہ ذکر کرے چاہے علیٰ کو ذکر کرے، یہاں عورت کا اسے قبول کرنا ضروری ہے کیونکہ خاوند عورت کی مرضی کے بغیر اس پر مال کو لازم نہیں کر سکتا۔ جب وہ قبول کر لے گی تو مال اس پر لازم ہو گیا اور ساتھ ہی طلاق واقع ہو جائے گی بھئی۔ اور پھر اگر خاوند نے بیوی سے یہ کہا: ”أَنْتِ طَالِقٌ وَعَلَيْكِ أَلْفٌ“ یا غلام سے کہا: ”أَنْتَ حُرٌّ وَعَلَيْكَ أَلْفٌ“، تو عوض کو الگ جملے میں ذکر کیا، تو اس صورت میں امام صاحب فرماتے ہیں: ”أَنْتِ طَالِقٌ“ سے طلاق ہو جائے گی اور ”وَعَلَيْكِ أَلْفٌ“ اس کو کہ خاوند اس پر ہزار لازم کر رہا ہے لیکن کسی کے لازم کرنے سے تو دوسرے پر مال لازم نہیں ہوتا، تو عورت قبول کرے یا نہ کرے طلاق ہو جائے گی کیونکہ خاوند نے ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کہا ہے۔ اور غلام آزاد ہو جائے گا اس لیے کیونکہ آقا نے ”أَنْتَ حُرٌّ“ کہا ہے بھئی، اور مال لازم نہیں ہوگا، اگر یہ قبول بھی کر لیں تو زیادہ سے زیادہ مال کا وعدہ ہے اور وعدہ کرنے سے کسی پر شرعاً کوئی مال لازم نہیں ہوتا بھئی۔ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ ان دونوں صورتوں میں اگر غلام یا عورت قبول کریں گے تو طلاق اور آزادی واقع ہوگی اور ان پر مال لازم ہوگا۔ اور اگر وہ قبول نہیں کریں گے تو طلاق یا آزادی بھی واقع نہیں ہوگی اور ان پر مال بھی لازم نہیں ہوگا۔ وجہ یہ کہ وہ فرماتے ہیں کہ اس طرح کا کلام معاوضات میں ذکر کیا جاتا ہے جیسے عربی میں کہتے ہیں: ”اِحْمِلْ هَذَا الْمَتَاعَ وَلَكَ دِرْهَمٌ“ تو یہ سامان اٹھا لے اس حال میں کہ تمہارے لیے ایک درہم ہے، تو یہ دوسرا جملہ حال بنتا ہے اور حال بھی شرط کے درجے میں ہوتا ہے۔ تو یہاں پر بھی گویا خاوند آزادی یا طلاق کو ہزار کے عوض پر معلق کر رہا ہے بھئی، اور اس میں بیوی یا غلام کا قبول کرنا ضروری ہے بھئی۔ جبکہ امام صاحب فرماتے ہیں نہیں، یہ ”وَعَلَيْكِ أَلْفٌ“ یا ”وَعَلَيْكَ أَلْفٌ“ یہ الگ جملہ ہے، یہ ماقبل سے جڑنے کا محتاج نہیں کیونکہ یہ جملہ ہے اور جملہ مستقل ہوتا ہے، وہ کسی سے جڑنے کا محتاج نہیں الّا یہ کہ وہاں کوئی دلیل پائی جائے بھئی۔ وہاں پر کوئی دلیل پائی جائے، اور آزادی اور طلاق یہ تو مال سے جدا بھی ہو جاتے ہیں۔ یہ تو مال سے جدا بھی ہو جاتے ہیں، طلاق بھی بغیر مال کے ہو جاتی ہے اور آزادی بھی بغیر مال کے ہو سکتی ہے۔ لیکن جبکہ اس کے مقابلے میں آپ نے جو مثال ذکر کی، آپ نے جو مثال ذکر کی ”اِحْمِلْ هَذَا الْمَتَاعَ وَلَكَ دِرْهَمٌ“، اس کے اندر یہ اجارہ ذکر ہو رہا ہے اور اجارہ اور بیع یہ تو مال سے جدا نہیں ہو سکتے۔ تو یہ جو عقدِ اجارہ یا عقدِ بیع ہے یہ دلیل ہے کہ یہ جو آگے ذکر کیا جا رہا ہے یہ اس کا ماقبل سے ربط ہے، جبکہ آزادی اور طلاق جو ہے وہ تو ان کے ساتھ تو مال ضروری نہیں، تو وہاں کوئی دلیل نہیں ہے کہ مابعد والے جملے کو ماقبل سے حال بنایا جائے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ اب آئیے آج کے سبق پر: وَلَوْ قَالَ: ”أَنْتِ طَالِقٌ عَلَى أَلْفٍ عَلَى أَنِّي بِالْخِيَارِ أَوْ عَلَى أَنَّكِ بِالْخِيَارِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ“۔ بھئی، آپ کو میں نے بتلایا تھا کہ بیع کے اندر بعض اوقات بائع یا مشتری اپنے لیے بیع کو فسخ کرنے کا اختیار رکھ لیتا ہے، اس کو خِیَارِ شَرْط کہتے ہیں۔ مثلاً ایک شخص آپ کے پاس آیا اور آپ کو مجبور کیا کہ مجھ سے یہ گاڑی خرید لیں، میں آپ کو کم قیمت پر دے دوں گا۔ تو آپ کہتے ہیں کہ بھئی مجھے تو گاڑیوں کی کوئی خاص پہچان نہیں ہے، میں آپ سے گاڑی خرید لیتا ہوں لیکن شرط یہ ہے کہ مجھے تین دن کا اختیار ہوگا۔ میں اپنے ساتھیوں سے مشورہ کروں گا، اگر یہ بیع میرے فائدے کی ہوئی تو میں بیع کو برقرار رکھوں گا، اور اگر میرے فائدے کی نہ ہوئی تو پھر میں اس بیع کو فسخ کر دوں گا۔ تو دیکھو یہاں پر مشتری اپنے لیے خیار رکھ رہا ہے بیع کو فسخ کرنے کا۔ اسی طرح کبھی یہ خیار بائع رکھ لیتا ہے تو اس کو خیارِ شرط کہتے ہیں، اور یہ کس لیے ہوتا ہے؟ اس عقد کو فسخ کرنے کے لیے، کس کو؟ اس عقد کو فسخ کرنے کے لیے ہوتا ہے، اور یہ زیادہ سے زیادہ تین دن تک ہو سکتا ہے اس سے زیادہ نہیں۔ تو اس مدت کے اندر اگر خیار استعمال کرتے ہوئے بیع کو فسخ کر دیا تو بیع فسخ ہو جائے گی، اور اگر بیع فسخ نہ کی تو مدت گزرنے کے بعد بیع لازم ہو جائے گی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ پھر اس کو فسخ نہیں کیا جا سکتا۔ اب صورتِ مسئلہ یہ ہے: خاوند نے بیوی سے کہا: ”أَنْتِ طَالِقٌ عَلَى أَلْفٍ عَلَى أَنِّي بِالْخِيَارِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ“ کہ تجھے طلاق ہے ایک ہزار کی شرط پر اور ساتھ یہ شرط ہے کہ مجھے تین دن کا اختیار ہوگا، میں چاہوں تو اس طلاق کو فسخ کر سکتا ہوں۔ اور یا دوسری صورت یہ ہے کہ بیوی کے خیار کو ذکر کرتا ہے، خاوند یوں کہتا ہے کہ تجھے طلاق ہے ایک ہزار کی شرط پر اور ساتھ یہ شرط ہے کہ تجھے اختیار ہوگا تین دن کا، تو دیکھو عورت کے خیار کو ذکر کر رہا ہے، اور پھر عورت نے اس کو قبول کر لیا۔ تو اس صورت میں صاحبین فرماتے ہیں کہ دونوں صورتوں کے اندر خیار جو ہے وہ باطل ہو جائے گا، اور عورت نے قبول کیا ہے تو طلاق واقع ہو جائے گی اور اس پر ہزار درہم بھی لازم ہو جائیں گے کیونکہ خاوند نے ہزار درہم کی شرط پر طلاق دی تھی اور عورت نے اس کو قبول کر لیا، اور باقی خیار باطل ہو جائے گا۔ بھئی، خیار کیوں باطل ہوگا؟ کہتے ہیں وجہ یہ کہ خاوند نے طلاق کو معلق کیا ہے ایک ہزار کی شرط پر، ایک ہزار درہم کی شرط پر۔ تو جب عورت قبول کر لے گی، تو جب عورت قبول کر لے گی تو اس پر یہ ہزار درہم لازم ہو جائیں گے اور طلاق واقع ہوگی۔ تو یہاں خاوند کی طرف سے جو فعل ہے وہ تعلیق ہے۔ خاوند کی طرف سے کیا فعل ہو رہا ہے؟ وہ ایک ہزار درہم کے عوض طلاق کو معلق کر رہا ہے عورت کی قبولیت سے۔ عورت قبول کرے گی تو طلاق بھی واقع ہو جائے گی اور ہزار درہم بھی اس عورت پر لازم ہو جائیں گے، تو خاوند کی طرف سے کیا فعل ہو رہا ہے؟ تعلیق والا، یعنی یمین ہے۔ تو خاوند کا فعل جو ہے وہ یمین ہوا، اور عورت اس کو قبول کر رہی ہے یعنی عورت شرط کو وجود دے رہی ہے۔ اور یمین جو ہے وہ بھی جب ایک دفعہ کر دی جائے تو وہ لازم ہو جاتی ہے، اسے فسخ نہیں کیا جا سکتا، خاوند اس سے رجوع نہیں کر سکتا۔ اور اسی طرح شرط ایک دفعہ پائی جائے تو وہاں بھی رجوع نہیں ہو سکتا۔ مثلاً دیکھو، خاوند نے بیوی سے کہا: اگر تو اس گھر میں گئی تو تجھے طلاق ہے۔ بعد میں خاوند کہتا ہے: نہیں نہیں، میں رجوع کرتا ہوں اپنے اس قول سے۔ مجھے بتائیے، کیا خاوند رجوع کر سکتا ہے؟ نہیں، خاوند رجوع نہیں کر سکتا۔ یمین یعنی تعلیق بھی لازم ہو جاتی ہے اور قسم بھی لازم ہو جاتی ہے۔ ایک شخص قسم کھاتا ہے: واللہ میں یہ کام نہیں کروں گا۔ پھر بعد میں کہتا ہے: نہیں نہیں، میں رجوع کرتا ہوں اپنی اس قسم سے۔ آپ کیا فتویٰ دیں گے کہ کیا رجوع صحیح ہے یا یہ یمین اب لازم ہو گئی؟ یہ یمین لازم ہو گئی، اب یہ رجوع نہیں ہو سکتا۔ یہ شخص جس نے قسم کھائی ہے کہ میں یہ کام نہیں کروں گا، یہ شخص یہ والا کام کرے گا تو حانث ہو جائے گا کیونکہ قسم میں رجوع نہیں۔ اسی طرح تعلیق جو ہے اس کو بھی یمین کہتے ہیں، وہاں بھی رجوع نہیں۔ خاوند نے بیوی سے کہا: اگر تو اس گھر میں گئی تو تجھے طلاق ہے۔ اب بعد میں رجوع کرنا چاہتا ہے؟ نہیں بھئی، اب یہ تعلیق ہو گئی، اور اب جب بھی اس گھر کے اندر جائے گی اسے طلاق ہو جائے گی۔ معلوم ہوا یمین کے اندر رجوع نہیں ہو سکتا، اسی طرح شرط کے اندر بھی رجوع نہیں ہو سکتا یعنی شرط کے وجود میں۔ خاوند نے کیا کہا تھا؟ اگر تو اس گھر میں گئی تو تجھے طلاق ہے۔ عورت اس گھر میں چلی گئی، اس نے شرط کو وجود دے دیا، شرط کو وجود دے دیا اور جب شرط پائی گئی تو طلاق بھی واقع ہو گئی۔ لیکن عورت بعد میں کہتی ہے: نہیں نہیں، میں اس گھر میں گئی تھی، میں اپنے جانے سے رجوع کرتی ہوں۔ آپ کہیں گے نہیں، شرط کو جب ایک دفعہ وجود دے دیا اب وہاں رجوع کی کوئی گنجائش اور کوئی صورت نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یہاں تو چلو باقاعدہ ایک فعل تھا نا، باقاعدہ ایک فعل تھا، فعل تو پایا گیا اس میں تو رجوع نہیں ہو سکتا۔ لیکن اگر خاوند نے طلاق کو معلق کیا ہے عورت کے قبول کرنے پر، تو عورت جب قبول کرے گی تو شرط پائی گئی، اور کس طرح پائی گئی شرط؟ زبان سے عورت نے کہا: مجھے قبول ہے۔ تو یہاں دیکھو، صرف زبان سے اس نے کہا ہے اور بعد میں کہتی ہے: نہیں نہیں، میں رجوع کرتی ہوں، مجھے یہ قبول نہیں ہے۔ نہیں بھئی، ایک دفعہ آپ نے شرط کو وجود دے دیا اب رجوع کی کوئی صورت نہیں۔ تو حاصلِ کلام کیا؟ کہ یمین سے بھی رجوع نہیں ہو سکتا، یمین وہی قسم کو بھی شامل ہے اور تعلیق کو بھی شامل ہے۔ یمین سے بھی رجوع نہیں ہو سکتا اور شرط کو وجود دے دیا جائے تو اس سے بھی رجوع نہیں ہو سکتا۔ یا یوں کہو کہ یمین کو ایک دفعہ وجود دے دیا جائے تو اسے فسخ نہیں کیا جا سکتا، اسی طرح شرط کو ایک دفعہ وجود دے دیا جائے تو اسے فسخ نہیں کیا جا سکتا۔ تو بات چل رہی تھی: خاوند نے طلاق کو معلق کیا ہے ایک ہزار درہم کی شرط پر اور ساتھ اپنے لیے خیار رکھا ہے یا بیوی کے لیے خیار رکھا ہے، تو صاحبین فرماتے ہیں کہ خیار باطل ہے، یہاں خیار ہو ہی نہیں سکتا۔ ہاں عورت قبول کر لے گی تو طلاق بھی ہو جائے گی اور اس پر عوض بھی لازم ہو جائے گا۔ خیار کیوں نہیں ہو سکتا؟ کہتے ہیں وجہ یہ کہ خاوند کا فعل ہے یمین، اور عورت کا فعل ہے شرط کو وجود دینا۔ تو نہ یمین کے اندر فسخ ہو سکتا ہے اور نہ وجودِ شرط کے اندر فسخ ہو سکتا ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ یہ خیارِ شرط کس لیے ہوتا ہے؟ عقد کو فسخ کرنے کے لیے، اور یہاں نہ خاوند کا فعل فسخ کو قبول کرتا ہے اور نہ بیوی کا فعل فسخ کو قبول کرتا ہے، تو خیار تو دونوں صورتوں میں باطل ہے۔ ہاں البتہ اگر عورت قبول کر لیتی ہے تو پھر طلاق بھی ہو جائے گی اور اس پر مال بھی لازم ہوگا، اور اگر وہ قبول نہیں کرتی تو پھر طلاق بھی نہیں اور مال بھی اس پر لازم نہیں۔ جبکہ امام صاحب فرماتے ہیں کہ عورت جب قبول کر لے تو طلاق واقع ہو جائے گی، البتہ خاوند نے خیار اپنے لیے رکھا ہو تو وہ خیار باطل ہے، خاوند خیار نہیں رکھ سکتا کیونکہ خاوند یمین کر رہا ہے اور خیار کس لیے ہوتا ہے؟ فسخ کے لیے، اور یمین تو فسخ کا احتمال نہیں رکھتی۔ لیکن اگر خیار بیوی کے لیے ہے، خیار بیوی کے لیے ہے تو وہ تین دن کے اندر اس کو فسخ کر سکتی ہے۔ وجہ یہ کہ یہاں پر بیوی مشتری کے درجے میں ہے، وہ عوض دے کر خاوند سے اپنے آپ کو چھڑا رہی ہے، اور مشتری کو خیار ہو سکتا ہے تو یہاں بیوی کو بھی خیار ہو سکتا ہے۔ دیکھیے، صاحبِ ہدایہ اور تفصیل سے بیان فرمائیں گے: وَلَوْ قَالَ: ”أَنْتِ طَالِقٌ عَلَى أَلْفٍ عَلَى أَنِّي بِالْخِيَارِ أَوْ عَلَى أَنَّكِ بِالْخِيَارِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ“، صاحبِ ہدایہ نے یہ ”ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ“ کو صرف ایک دفعہ ذکر فرمایا آخر میں، اور تعلق اس کا دونوں سے بنتا ہے کہ اگر خاوند نے کہا: ”أَنْتِ طَالِقٌ عَلَى أَلْفٍ“ تجھے طلاق ہے ایک ہزار درہم کی شرط پر، ”عَلَى أَنِّي بِالْخِيَارِ“ اس شرط کے ساتھ کہ مجھے اختیار ہے، ”ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ“ کتنے دن کا؟ تین دن کا، ”أَوْ عَلَى أَنَّكِ بِالْخِيَارِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ“ یا اس شرط پر کہ تجھے اختیار ہے تین دن تک، ”فَقَبِلَتْ“ تو عورت نے قبول کر لیا۔ تو دیکھو عورت قبول کرتی ہے کیونکہ معلق کیا ہے نا، عورت پر عوض ویسے تو نہیں آ سکتا، تو قبول کرنا تو ضروری ہے ویسے طلاق نہیں ہوگی۔ ”فَقَبِلَتْ“ تو عورت نے قبول کر لیا، ”فَالْخِيَارُ بَاطِلٌ إِذَا كَانَ لِلزَّوْجِ“ تو خیار باطل ہوگا اگر وہ خاوند کے لیے تھا، یہ امام صاحب کے نزدیک ہے۔ طلاق واقع ہو گئی، البتہ خیار باطل ہے۔ ”وَهُوَ جَائِزٌ إِذَا كَانَ لِلْمَرْأَةِ“ اور یہ خیار جائز ہے جب یہ عورت کے لیے ہو، ”فَإِنْ رَدَّتِ الْخِيَارَ فِي الثَّلَاثِ بَطَلَ“ اگر عورت نے خیار کو رد کر دیا تین دن میں ”بَطَلَ“ تو وہ طلاق باطل ہو جائے گی، ”وَإِنْ لَمْ تَرُدَّ طُلِّقَتْ“ اور اگر عورت نے رد نہیں کیا تو عورت کو طلاق ہو گئی، ”وَلَزِمَهَا الْأَلْفُ“ اور اس پر ایک ہزار درہم لازم ہو گئے، ”وَهَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور یہ امام صاحب کے نزدیک ہے، ”وَقَالَا: الْخِيَارُ بَاطِلٌ فِي الْوَجْهَيْنِ“ اور صاحبین فرماتے ہیں کہ خیار باطل ہے دونوں صورتوں میں، یعنی چاہے خاوند کے لیے خیار ہو چاہے عورت کے لیے خیار ہو، ”وَالطَّلَاقُ وَاقِعٌ“ اور عورت نے قبول کیا ہے تو کہتے ہیں طلاق واقع ہو جائے گی، ”وَعَلَيْهَا أَلْفُ دِرْهَمٍ“ اور عورت پر ایک ہزار درہم لازم ہوں گے، یہ جب قبول کر لے۔ اگر قبول نہ کرے تو پھر اس پر کچھ نہیں اور طلاق بھی نہیں ہوگی۔ اب وجہ کیا ہے دونوں صورتوں میں خیار کیوں باطل ہوتا ہے؟ وہ وجہ ذکر کر رہے ہیں، صاحبین کی دلیل چل رہی ہے: ”لِأَنَّ الْخِيَارَ لِلْفَسْخِ بَعْدَ الِانْعِقَادِ لَا لِلْمَنْعِ مِنَ الِانْعِقَادِ“ بھئی، میں نے آپ کو بتلایا یہ خیارِ شرط کس لیے ہوتا ہے؟ فسخ کے لیے ہوتا ہے یعنی عقد ہو جاتا ہے تو بیع ہو گئی، اب بائع مشتری میں سے جس نے خیار رکھا ہے وہ اس بیع کو فسخ کر سکتا ہے۔ تو بیع ہو تو گئی، البتہ لازم نہیں ہوئی، جس نے خیار رکھا ہے وہ اسے فسخ کر سکتا ہے۔ تو معلوم ہوا یہ خیار فسخ کے لیے ہوتا ہے اور عقد کے منعقد ہونے کے بعد اس کو فسخ کیا جاتا ہے، تو یہ خیار منعقد ہونے کو نہیں روکتا، منعقد ہو جائے گا وہ۔ توجہ ہے؟ خیار جب دونوں میں سے ایک مشتری یا بائع نے خیار رکھا ہے تو بیع تو منعقد ہو جائے گی، تو یہ جو خیارِ شرط ہے یہ انعقادِ عقد سے مانع نہیں ہوتا بلکہ یہ انعقادِ عقد کے بعد اس کو فسخ کرتا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْخِيَارَ لِلْفَسْخِ بَعْدَ الِانْعِقَادِ“ اس لیے کیونکہ یہ خیارِ شرط جو ہوتا ہے یہ فسخ کے لیے ہوتا ہے ”بَعْدَ الِانْعِقَادِ“ اس عقد کے منعقد ہونے کے بعد، ”لَا لِلْمَنْعِ مِنَ الِانْعِقَادِ“ اور یہ انعقاد سے روکنے کے لیے نہیں ہوتا۔ ”وَالتَّصَرُّفَانِ لَا يَحْتَمِلَانِ الْفَسْخَ مِنَ الْجَانِبَيْنِ“ اور یہ دونوں تصرف جو ہیں، کون سے دو تصرف؟ ایک خاوند کا، خاوند نے کیا کیا تھا؟ خاوند نے تعلیق کی تھی یعنی خاوند کا فعل یمین ہے۔ تعلیق کو بھی کیا کہتے ہیں؟ یمین۔ تو خاوند کا فعل یمین ہے، اور بیوی نے کیا کیا تھا؟ قبول کیا تھا یعنی شرط کو وجود دیا تھا، تو یمین بھی فسخ کا احتمال نہیں رکھتی اور وجودِ شرط بھی فسخ کا احتمال نہیں رکھتا۔ تو کہتے ہیں: ”وَالتَّصَرُّفَانِ لَا يَحْتَمِلَانِ الْفَسْخَ مِنَ الْجَانِبَيْنِ“ اور یہ دونوں تصرف جو ہیں یہ فسخ کا احتمال نہیں رکھتے ”مِنَ الْجَانِبَيْنِ“ دونوں جانب سے، تو جب یہ فسخ کا احتمال نہیں رکھتے تو یہ خیار باطل، کیونکہ خیار تو ہوتا ہی کس لیے ہے؟ فسخ کے لیے۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ فِي جَانِبِهِ يَمِينٌ“ اس لیے کیونکہ یہ خلع جو ہے خاوند کی جانب سے یمین ہے کہ وہ طلاق کو معلق کر رہا ہے عوض پر کہ عورت قبول کرے، ”وَمِنْ جَانِبِهَا شَرْطُهَا“ اور عورت کی جانب سے یہ یمین کی شرط ہے۔ عبارت سمجھ میں آ رہی ہے؟ ”لِأَنَّهُ فِي جَانِبِهِ يَمِينٌ“ کیونکہ خلع خاوند کی جانب سے یمین ہے اور یمین بھی فسخ کو قبول نہیں کرتی، ”وَمِنْ جَانِبِهَا شَرْطُهَا“ اور عورت کی جانب سے یہ شرطِ یمین ہے، اور شرطِ یمین بھی جب ایک دفعہ پائی جائے تو پھر وہ فسخ کو قبول نہیں کرتی۔ ”وَلِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ أَنَّ الْخُلْعَ فِي جَانِبِهَا بِمَنْزِلَةِ الْبَيْعِ“ اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے کہ خلع جو ہے وہ عورت کی جانب سے بیع کے درجے میں ہے یعنی عقدِ معاوضہ ہے۔ ”حَتَّى يَصِحَّ رُجُوعُهَا“ [حَتَّى يَصِحُّ رُجُوعُهَا] بھئی یاد رکھنا، یہاں پر یہ ”حَتَّى“ نَصب نہیں دے گا، یہ ”يَصِحُّ“ کو ہم مرفوع پڑھیں گے کیونکہ میں نے آپ کو بتلایا کہ حتیٰ کے نصب دینے کے لیے دو شرطیں ہیں بھئی: ایک تو یہ کہ حتیٰ کا مابعد وہ مستقبل ہونا چاہیے حتیٰ کے ماقبل کی طرف نسبت کرتے ہوئے، اور دوسری شرط یہ ہے کہ وہ حتیٰ سببیّت کا یا غایت کا فائدہ دے۔ حتیٰ سببیّت کا فائدہ دے یعنی حتیٰ کا ماقبل سبب بن رہا ہو حتیٰ کے مابعد کے لیے، یا وہ حتیٰ غایت کا فائدہ دے یعنی حتیٰ کا مابعد غایت بن رہا ہے حتیٰ کے ماقبل کے لیے، یعنی حتیٰ کے مابعد پر حتیٰ کے ماقبل کی انتہا ہو رہی ہو۔ تو حتیٰ کے نصب دینے کے لیے یہ دو شرطیں ہیں اور یہ شرطیں یہاں پوری نہیں ہیں، اس لیے یہاں پر یہ حتیٰ نصب نہیں دے گا تو یہاں ”يَصِحُّ“ کو مرفوع پڑھیں گے۔ کہتے ہیں: ”حَتَّى يَصِحُّ رُجُوعُهَا وَلَا يَتَوَقَّفُ عَلَى مَا وَرَاءَ الْمَجْلِسِ“۔ بھئی، عورت کی جانب سے یہ بیع کے درجے میں ہے، ”حَتَّى يَصِحُّ رُجُوعُهَا“ یہاں تک کہ عورت کی طرف سے رجوع بھی صحیح ہے، ”وَلَا يَتَوَقَّفُ عَلَى مَا وَرَاءَ الْمَجْلِسِ“ اور یہ موقوف نہیں ہے مجلس کے مابعد تک۔ بھئی دیکھیے، یہ تو صورت تھی خاوند خلع کو ذکر کر رہا ہے، اور خاوند خلع کو ذکر کرے تو یہ یمین ہے اور یمین سے رجوع نہیں ہو سکتا۔ لیکن اگر عورت خلع کو ذکر کرے، وہ خاوند کے پاس آئی اور آ کر کہتی ہے: مجھ سے خلع کر لو ایک ہزار درہم کے عوض پر، تو یہ بیوی کی طرف سے خلع آیا ہے، تو یاد رکھو یہ بیوی جو ہے مشتری کے درجے میں ہے یعنی یہ بیوی کی طرف سے دیکھا جائے تو یہ عقدِ معاوضہ ہے یہ خلع، اور جب یہ عقدِ معاوضہ ہے تو عقدِ معاوضہ جیسے بیع ہے، بیع کے اندر آپ نے ایک شخص سے کہا کہ یہ کتاب میں نے آپ کو سو روپے میں دی، اب اس نے قبول نہیں کیا ابھی مجلس چل رہی ہے، اسی مجلس کے اندر آپ نے کہہ دیا: نہیں نہیں، میں رجوع کرتا ہوں، میں نے کتاب نہیں بیچی۔ تو آپ کا رجوع کرنا صحیح ہو جائے گا کیونکہ یہ عقدِ معاوضہ ہے۔ تو اسی طرح یہاں بھی عورت اگر کہتی ہے خاوند سے کہ مجھ سے خلع کر لو ہزار درہم پر، اور خاوند نے ابھی قبول نہیں کیا اور اسی مجلس کے اندر عورت کہتی ہے: نہیں نہیں، میں رجوع کرتی ہوں، مجھے خلع نہیں کرنا تو عورت کا رجوع کرنا صحیح ہو جائے گا۔ اور اگر عورت مجلس سے اٹھ کر چلی گئی تو اب بعد میں خاوند قبول کرے تو قبول نہیں ہوگا کیونکہ عقدِ معاوضہ مجلس کے بعد موقوف نہیں رہتا۔ تو یہ امام صاحب کی دلیل کا ایک حصہ ہے، اس کو آگے صاحبِ ہدایہ مکمل فرمائیں گے۔ واللہ اعلم بالصواب۔ بیچ دی۔ تو اس کے قبول کرنے سے پہلے پہلے آپ رجوع کر سکتے ہیں۔ کیونکہ یہ عقدِ معاوضہ ہے، یہ جب تک دوسرا قبول نہیں کرے گا یہ لازم نہیں۔ تو آپ نے ابھی صرف ایجاب کیا کہ یہ کتاب میں نے آپ کو سو روپے میں بیچ دی۔ اب وہ دوسرا سوچ رہا ہے کہ میں لوں یا نہ لوں، میں خریدوں یا نہ خریدوں۔ اسی دوران آپ کا ارادہ بدل گیا، آپ نے کہا نہیں بھئی میں اب کتاب نہیں بیچ رہا۔ اب وہ کہہ بھی دے میں نے قبول کیا، اب بیع نہیں ہوئی کیونکہ آپ نے اس کے قبول سے پہلے ہی رجوع کر لیا۔ تو خلع بھی عورت کی طرف سے بیع کے درجے میں ہے یعنی عقدِ معاوضہ ہے۔ تو لہٰذا اگر عورت نے آ کر کہا مجھے ایک ہزار درہم کے عوض طلاق دے دو، تو خاوند کے قبول کرنے سے پہلے ہی عورت نے کہہ دیا کہ نہیں میں رجوع کرتی ہوں، تو یاد رکھو عورت رجوع کر سکتی ہے۔ خاوند کہتا تھا تو خاوند کی طرف سے خلع یمین ہے وہ رجوع نہیں کر سکتا۔ جبکہ بیوی اگر آ کر بات کرتی ہے تو بیوی کی طرف سے یہ کیا ہے؟ یہ خلع بیع کے درجے میں ہے، اور بیع کے اندر جب کوئی ایجاب کرتا ہے تو وہ دوسرے کے قبول سے پہلے رجوع کر سکتا ہے۔ تو عورت بھی رجوع کر سکتی ہے۔ جب اس نے عورت نے رجوع کر لیا اب خاوند کہتا ہے مجھے قبول ہے، نہیں نہیں اب آپ کے قبول سے بات نہیں بنے گی کیونکہ عورت رجوع کر چکی ہے بھئی۔ اور نیز ایجاب میں ضروری ہے کہ قبول اسی مجلس میں پایا جائے۔ لہٰذا عورت نے آ کر ایجاب کیا ہے تو عورت رجوع بھی کر سکتی ہے اور اگر خاوند نے قبول کرنا ہے تو اسی مجلس میں قبول کرنا پڑے گا۔ خاوند یہاں سے اٹھ کر چلا گیا اور بعد میں کہتا ہے مجھے قبول ہے، نہیں بھئی آپ نے قبول کرنا تھا تو اسی مجلس میں قبول کرتے، ایجاب کے لیے قبول اسی مجلس میں چاہیے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلِأَبِيْ حَنِيْفَةَ رَحِمَهُ اللّٰهُ“ امام صاحب کی دلیل یہ ہے ”أَنَّ الْخُلْعَ فِيْ جَانِبِهَا“ کہ خلع جو ہے عورت کی جانب میں ”بِمَنْزِلَةِ الْبَيْعِ“ یہ بیع کے درجے میں ہے ”حَتَّى يَصِحَّ رُجُوْعُهَا“ یہاں تک کہ عورت کا رجوع بھی صحیح ہے ”وَلَا يَتَوَقَّفُ عَلَى مَا وَرَاءَ الْمَجْلِسِ“ اور یہاں تک کہ یہ مجلس کے مابعد پر موقوف نہیں ہے، یعنی مجلس گزرے گی تو یہ ایجاب بھی ختم ہو جائے گا جو عورت نے کیا تھا۔ ”فَيَصِحُّ اشْتِرَاطُ الْخِيَارِ فِيْهِ“ تو لہٰذا اس کے اندر خیار کی شرط بھی صحیح ہے، جب یہ خلع عورت کے لیے بیع کے درجے میں ہے تو عورت کے لیے خیارِ شرط بھی صحیح ہے بھئی۔ یہ معنی ہے ”فَيَصِحُّ اشْتِرَاطُ الْخِيَارِ فِيْهِ“ تو اس کے اندر خیارِ شرط بھی صحیح ہے یعنی اس عورت کے لیے۔ ”أَمَّا فِيْ جَانِبِهٖ يَمِيْنٌ“ جبکہ خلع خاوند کی جانب میں یمین ہے ”حَتَّى لَا يَصِحَّ رُجُوْعُهٗ وَيَتَوَقَّفُ عَلَى مَا وَرَاءَ الْمَجْلِسِ“ یہاں تک کہ خاوند کا رجوع صحیح نہیں۔ خاوند نے آ کر کہا بیوی سے کہ میں تم سے خلع کرتا ہوں ایک ہزار درہم کے عوض پر، پھر کہتا ہے نہیں نہیں میں رجوع کرتا ہوں، نہیں بھئی اب یہ یمین ہو گئی، تعلیق ہو گئی، اب آپ رجوع نہیں کر سکتے۔ اور نیز عورت کا اسی مجلس میں قبول کرنا بھی ضروری نہیں ہے، عورت بعد میں بھی قبول کر سکتی ہے، کیونکہ یہ کیا ہے؟ یمین ہے۔ تو کہتے ہیں: ”أَمَّا فِيْ جَانِبِهٖ يَمِيْنٌ“ اور خاوند کی جانب سے خلع جو ہے وہ یمین ہے ”حَتَّى لَا يَصِحَّ رُجُوْعُهٗ“ یہاں تک کہ خاوند کا اس سے رجوع بھی صحیح نہیں ہے ”وَيَتَوَقَّفُ عَلَى مَا وَرَاءَ الْمَجْلِسِ“ اور یہاں تک کہ یہ خلع موقوف ہے مجلس کے مابعد پر، مجلس کے بعد بھی عورت قبول کر سکتی ہے۔ فرق سمجھ میں آ رہا ہے؟ خلع کی بات اگر عورت کرے تو یہ بیع کے درجے میں ہے، وہ اسی مجلس میں رجوع بھی کر سکتی ہے اور خاوند نے قبول بھی کرنا ہے تو اسی مجلس میں کرنا ہو گا۔ اور اگر خاوند کی طرف سے خلع کی بات آتی ہے تو یہ یمین ہے، خاوند اس سے رجوع بھی نہیں کر سکتا اور یہ مجلس پر بھی بند نہیں ہے، مجلس کے بعد بھی عورت قبول کر سکتی ہے۔ آگے دیکھیے: ”وَلَا خِيَارَ فِي الْأَيْمَانِ“ اور خیار نہیں ہوتا قسموں میں، ایمان جمع ہے یمین کی، خاوند کی جانب سے خلع کیا ہے؟ یمین، اور یمین کے اندر خیار نہیں ہوتا، تعلیق ایک دفعہ کر لی جائے یا قسم ایک دفعہ کھا لی جائے تو وہ لازم ہو جاتی ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا خِيَارَ فِي الْأَيْمَانِ“ اور قسموں کے اندر خیار نہیں ہوتا ”وَجَانِبُ الْعَبْدِ فِي الْعَتَاقِ مِثْلُ جَانِبِهَا فِي الطَّلَاقِ“ اور غلام کی جانب آزادی میں یہ اسی عورت کی مثل ہے طلاق میں۔ جیسے عورت طلاق لے رہی ہے مال کے بدلے، تو خاوند کی طرف سے اگر بات ہو تو وہ یمین، عورت کی طرف سے بات ہو تو یہ بیع کے درجے میں ہے، توجہ ہے؟ اسی طرح غلام کی آزادی بھی اسی طرح ہے۔ اگر آقا نے غلام کی آزادی کی بات کی ہے کہ میں تمہیں آزاد کرتا ہوں ایک ہزار کی شرط پر اور مجھے اختیار ہو گا یا تمہیں اختیار ہو گا، اپنا یا غلام کے خیار کو ذکر کرتا ہے، تو یہ جو آزادی کو جو عوض پر معلق کیا ہے تو یہ آقا کی طرف سے یمین ہے۔ لہٰذا آقا اس سے رجوع بھی نہیں کر سکتا اور نیز یہ مجلس پر بھی موقوف نہیں ہے، بعد میں بھی غلام اس کو قبول کر سکتا ہے اور نیز یہ یمین ہے اور یمین تو فسخ کو قبول نہیں کرتی لہٰذا آقا کا اپنے لیے خیارِ شرط رکھنا باطل ہے۔ جبکہ اعتاق علی عوض یہ غلام کے لیے بیع کے درجے میں ہے، جب بیع کے درجے میں ہے تو غلام آ کر اگر یہ بات کرتا ہے کہ آپ مجھے آزاد کر دیں ایک ہزار درہم کی شرط پر، تو غلام اس سے رجوع بھی کر سکتا ہے آقا کے قبول کرنے سے پہلے پہلے اور نیز اگر آقا قبول کرنا چاہتا ہے تو اسی مجلس میں قبول کرنا ہو گا، اور جب یہ غلام کے لیے بیع کے درجے میں ہے تو غلام کے لیے خیارِ شرط بھی جائز ہے، لہٰذا وہ مدت کے اندر غلام کو اختیار ہو گا۔ اس وقت اس نے قبول کر لیا ہے لیکن مدت کے اندر وہ رد کر سکتا ہے اور اس صورت میں پھر وہ جو اعتاق ہے وہ بھی باطل ہو جائے گا اور غلام پر مال بھی نہیں آئے گا، اور اگر اس نے خیار استعمال نہ کیا اور مدت گزر گئی، پہلے اس نے قبول تو کر لیا تھا، تو لہٰذا اعتاق بھی لازم ہوا اور غلام پر مال بھی لازم ہو گا۔ یہ معنی ہے: ”وَجَانِبُ الْعَبْدِ فِي الْعَتَاقِ“ اور غلام کی جانب آزادی میں ”مِثْلُ جَانِبِهَا فِي الطَّلَاقِ“ یہ اسی طرح ہے جیسے عورت کی جانب ہوتی ہے طلاق میں۔ آگے دیکھیے: ”وَمَنْ قَالَ لِامْرَأَتِهٖ: طَلَّقْتُكِ أَمْسِ عَلَى أَلْفِ دِرْهَمٍ فَلَمْ تَقْبَلِيْ، فَقَالَتْ: قَبِلْتُ، فَالْقَوْلُ قَوْلُ الزَّوْجِ“. صورتِ مسئلہ یہ ہے: خاوند نے بیوی سے کہا: ”طَلَّقْتُكِ أَمْسِ عَلَى أَلْفِ دِرْهَمٍ فَلَمْ تَقْبَلِيْ“، ”فَلَمْ تَقْبَلِيْ“ اصل میں کیا تھا؟ ”تَقْبَلِيْنَ“، نون تھا آخر میں، یہ ”لَمْ“ کی وجہ سے وہ نونِ اعرابی گر گیا۔ تو خاوند نے بیوی سے کہا کہ گزشتہ کل میں نے تمہیں طلاق دی تھی ایک ہزار درہم کی شرط پر تو تو نے قبول نہیں کیا تھا۔ عورت جواب میں کہتی ہے نہیں میں نے قبول کر لیا تھا۔ تو کہتے ہیں اس صورت میں خاوند کا قول معتبر ہے۔ عورت اگر ثابت کرنا چاہتی ہے کہ میں نے قبول کر لیا تھا تو پھر اس صورت میں اس کو گواہ پیش کرنا پڑیں گے، کیونکہ ”اَلْبَيِّنَةُ عَلَى الْمُدَّعِيْ وَالْيَمِيْنُ عَلَى مَنْ أَنْكَرَ“، خاوند منکر ہے قبول کرنے کا اور بیوی مدعیہ ہے قبول کرنے کی، تو بیوی کے ذمے گواہ اور خاوند کے ذمے قسم آئے گی، اور قسم آپ نے پڑھا ہمیشہ انکار پر کھائی جاتی ہے۔ بات کیا ہوئی؟ خاوند نے کہا میں نے کل ہزار درہم کی شرط پر تجھے طلاق دی تھی تو تو نے قبول نہیں کیا تھا، عورت کہتی ہے میں نے قبول کر لیا تھا، تو خاوند کا قول معتبر ہے قسم کے ساتھ۔ جبکہ اس کے مقابلے میں ایک شخص دوسرے آدمی کو آ کر کہتا ہے کہ تجھے میں نے یہ غلام کل ہزار درہم کے عوض بیچ دیا تھا تو تو نے قبول نہیں کیا تھا، تو وہ کہتا ہے نہیں میں نے قبول کر لیا تھا، تو کہتے ہیں اس صورت میں مشتری کا قول معتبر ہے۔ اس صورت میں مشتری کا قول معتبر ہے۔ پچھلی صورت میں بات کس نے کی؟ خاوند نے، اور خاوند کا قول معتبر۔ اور یہاں پر بات کی ہے جس شخص نے اس کا قول نہیں معتبر بلکہ دوسرے شخص کا قول معتبر ہے، وہ جو مشتری ہے بھئی۔ تو کیا وجہ یہ دونوں میں فرق کیوں ہے؟ تو وہ فرق آپ کو بتلائیں گے صاحبِ ہدایہ۔ پہلے دیکھیے بھئی مسئلہ پڑھ لیں۔ کہتے ہیں: ”وَمَنْ قَالَ لِامْرَأَتِهٖ“ اور جس شخص نے اپنی بیوی سے کہا ”طَلَّقْتُكِ أَمْسِ عَلَى أَلْفِ دِرْهَمٍ فَلَمْ تَقْبَلِيْ“ کہ گزشتہ کل میں نے تجھے طلاق دی تھی ایک ہزار درہم کی شرط پر تو تو نے قبول نہیں کیا تھا ”فَقَالَتْ: قَبِلْتُ“ عورت کہتی ہے میں نے قبول کر لیا تھا ”فَالْقَوْلُ قَوْلُ الزَّوْجِ“ تو خاوند کا قول معتبر ہے ”وَمَنْ قَالَ لِغَيْرِهٖ“ اور جس شخص نے کسی دوسرے سے کہا ”بِعْتُ مِنْكَ هٰذَا الْعَبْدَ بِأَلْفِ دِرْهَمٍ أَمْسِ“ کہ میں نے تیرے ہاتھ بیچ دیا تھا اس غلام کو ایک ہزار درہم کے بدلے میں گزشتہ کل ”فَلَمْ تَقْبَلْ“ تو تو نے قبول نہیں کیا تھا ”فَقَالَ: قَبِلْتُ“ تو وہ شخص کہتا ہے نہیں میں نے قبول کر لیا تھا ”فَالْقَوْلُ قَوْلُ الْمُشْتَرِيْ“ تو وہ قول جو معتبر ہے وہ مشتری کا قول ہے ”وَوَجْهُ الْفَرْقِ“ اور فرق کی وجہ، یعنی دونوں مسئلوں میں فرق کی وجہ کیا ہے؟ بھئی دیکھیے! پہلے مسئلے میں خاوند نے کیا کہا؟ میں نے کل تمہیں ایک ہزار درہم کی شرط پر طلاق دی تھی تو تو نے قبول نہیں کیا تھا۔ معلوم ہوا خاوند کہنا چاہتا ہے کل میں نے طلاق معلق کی تھی، کل میں نے طلاق معلق کی تھی اور تو نے قبول نہیں کیا تھا۔ تو خاوند نے اپنا فعل یمین ذکر کیا یعنی تعلیق ذکر کیا، اور تعلیق بغیر قبول کے ہو سکتی ہے۔ تعلیق پائی گئی ہے اور قبول نہیں پایا گیا۔ تو خاوند نے اپنا کیا فعل ذکر کیا؟ تعلیق۔ اور تعلیق میں قبول ضروری ہے یا بغیر قبول کے بھی تعلیق ہو سکتی ہے؟ بغیر قبول کے بھی تعلیق ہو سکتی ہے نا، ہو سکتا ہے عورت نے قبول نہ کیا ہو۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو خاوند نے اپنا فعل تعلیق ذکر کیا ہے یعنی یمین ذکر کیا ہے اور یمین بغیر قبول کے بھی ہو سکتی ہے، وہ تو دوسرے کی مرضی ہے وہ قبول کرے یا نہ کرے لیکن خاوند کی طرف سے تعلیق ہو گئی۔ تو خاوند یمین کا اقرار کر رہا ہے، میں نے تعلیق کی تھی کل، تو یہ اقرارِ یمین یہ دلالت نہیں کرتا وجودِ شرط پر کہ شرط بھی پائی گئی تھی، تو نے قبول بھی کر لیا تھا، نہیں، یمین بغیر قبول کے ہو سکتی ہے بھئی۔ نہیں توجہ میرا خیال بات کی طرف، دیکھو خاوند یمین ذکر کر رہا ہے تعلیق، اور خاوند کا کام ہے تعلیق اور اس کو قبول کرنا کس کا کام ہے؟ بیوی۔ تو دیکھو تعلیق کے اندر قبول ضروری نہیں ہے، ہو سکتا ہے عورت کی مرضی ہے وہ قبول کرے یا نہ کرے، تو تعلیق بغیر قبول کے یا یوں کہو تعلیق ہو اور شرط نہ پائی جائے آگے۔ خاوند نے بیوی سے کہا اگر تو اس گھر میں گئی تو تجھے طلاق ہے تو تعلیق تو ہو گئی لیکن ہو سکتا ہے وہ عورت ساری عمر اس گھر میں نہ جائے، تو تعلیق کے ساتھ شرط کا پایا جانا ضروری نہیں۔ تو خاوند نے اقرار کر لیا کہ کل میں نے تعلیق کی تھی، کل میری طرف سے یمین ہوئی تھی، لیکن اس سے وجودِ شرط کا اقرار لازم نہیں، لہٰذا خاوند کا قول معتبر ہو گا۔ جبکہ وہ جو دوسرا مسئلہ ہے اس میں وہ شخص کیا کہتا ہے؟ کل میں نے یہ غلام تمہیں ہزار درہم کے عوض بیچا تھا اور تم نے قبول نہیں کیا تھا۔ بھئی وجہ یہ کہ یہاں پر یہ شخص کہہ رہا ہے یہ غلام میں نے کل تمہیں ہزار درہم میں بیچا تھا، بیع کا ذکر کر رہا ہے، اور بیع کس چیز کا نام ہے؟ ایجاب اور قبول کا، تو جب بیع کو ذکر کر دیا معلوم ہوا ایجاب کے ساتھ ساتھ قبول بھی آ گیا، بغیر قبول کے تو بیع نہیں ہو سکتی۔ تو گویا جب اس نے کہا میں نے تمہیں کل یہ غلام ہزار درہم کے عوض بیچا تھا تو گویا اس نے دوسرے کے قبول کا بھی اقرار کر لیا، اور پھر آگے کہتا ہے تو نے قبول نہیں کیا تھا، اب یہ اس قبول سے رجوع کرنا چاہتا ہے، پہلے قبول کا اقرار کر لیا جب ”بِعْتُ“ کہا، میں نے بیچا تھا، تو ”بِعْتُ“ کسے کہتے ہیں؟ بیچنا کیسے ہو گا؟ جس میں مشتری کا قبول ضروری ہے، اس کے قبول کے بغیر تو بیع ہی نہیں ہو سکتی، تو جب پہلے بیع کا اقرار کر لیا تو اس کے ضمن میں قبول کا بھی اقرار کر لیا، اور اب بعد میں کہتا ہے تو نے قبول نہیں کیا تھا تو اب اس سے رجوع کرنا چاہتا ہے اور ایک دفعہ جب اس نے قبول کا اقرار کر لیا ہے تو اب اس سے رجوع نہیں کر سکتا بھئی۔ تو لہٰذا اس صورت میں مشتری کا قول معتبر ہے، معلوم ہوا بیع ہو چکی ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَوَجْهُ الْفَرْقِ“ اور فرق کی وجہ دونوں مسئلوں میں یہ ہے ”أَنَّ الطَّلَاقَ بِالْمَالِ يَمِيْنٌ مِنْ جَانِبِهٖ“ کہ مال کے بدلے طلاق جو ہے یہ یمین ہوتی ہے خاوند کی جانب سے، تو وہ طلاق جو مال کے بدلے ہو وہ خاوند کی طرف سے یمین ہے یعنی تعلیق ہے، کیونکہ عورت پر مال آئے گا اور عورت پر اس کی مرضی کے بغیر تو مال نہیں آ سکتا، اس کا قبول کرنا بھی شرط ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو لہٰذا مال کے عوض جب بھی خاوند طلاق دیتا ہے وہ دراصل کیا ہوتی ہے؟ یمین ہوتی ہے جو عورت کے قبول پر منحصر ہے بھئی۔ تو لہٰذا کہتے ہیں: ”أَنَّ الطَّلَاقَ بِالْمَالِ يَمِيْنٌ مِنْ جَانِبِهٖ“ کہ مال کے بدلے طلاق دینا یہ خاوند کی طرف سے یمین ہوتی ہے یعنی جو عورت کے قبول پر منحصر ہے ”فَالْإِقْرَارُ بِهٖ لَا يَكُوْنُ إِقْرَارًا بِالشَّرْطِ“ تو یمین کا اقرار کرنا یہ شرط کا اقرار نہیں ہے۔ کوئی شخص اگر یمین کا اقرار کرتا ہے کہ کل میں نے یہ والی تعلیق کی تھی، تو تعلیق کے ساتھ شرط کا وجود ضروری نہیں ہے، تو تعلیق کے اقرار سے شرط کا اقرار لازم نہیں آیا۔ تو کہتے ہیں: ”فَالْإِقْرَارُ بِهٖ“ تو یمین کا اقرار جو ہے ”لَا يَكُوْنُ إِقْرَارًا بِالشَّرْطِ“ وہ شرط کے وجود کا اقرار نہیں ہے ”لِصِحَّتِهٖ بِدُوْنِهٖ“ اس لیے کیونکہ یمین جو ہے بغیر وجودِ شرط کے بھی ہو سکتی ہے، یمین ہے اور شرط ابھی نہیں پائی گئی۔ ”أَمَّا الْبَيْعُ فَلَا يَتِمُّ إِلَّا بِالْقَبُوْلِ“ باقی بیع جو ہے تو وہ بغیر قبول کے پوری نہیں ہوتی ”وَالْإِقْرَارُ بِهٖ إِقْرَارٌ بِمَا لَا يَتِمُّ إِلَّا بِهٖ“ اور ایک چیز کا اقرار کرنا یہ اس چیز کا بھی اقرار ہے کہ جس کے بغیر وہ پوری نہیں ہوتی۔ بیع کا اقرار دراصل دوسرے کے قبول کا بھی اقرار ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْإِقْرَارُ بِهٖ“ اور بیع کا اقرار کرنا ”إِقْرَارٌ بِمَا لَا يَتِمُّ إِلَّا بِهٖ“ یہ اقرار ہے اس چیز کا کہ یہ بیع پوری نہیں ہوتی مگر اس چیز کے ساتھ یعنی قبول کے ساتھ۔ ”فَإِنْكَارُهُ الْقَبُوْلَ رُجُوْعٌ مِنْهُ“، ”فَإِنْكَارُهُ الْقَبُوْلَ رُجُوْعٌ مِنْهُ“، ”اَلْقَبُوْلَ“ میں نے اس کو منصوب پڑھا، کیوں بھئی؟ بھئی دیکھیے ”اَلْقَبُوْلَ“ میں نے اس پر نصب پڑھا، وجہ یہ ہے کہ دراصل یہ مفعول بہ ہے انکار مصدر کے لیے۔ ”فَإِنْكَارُهٗ“ اس کا انکار کرنا، کس چیز کا انکار کرنا؟ ”اَلْقَبُوْلَ“ قبول کرنے کا، تو یہ مفعول ہے۔ یاد رکھنا یہ جو مصدر ہوتے ہیں یہ بھی اپنے فعل جیسا عمل کرتے ہیں، اپنے فاعل کو رفع دیتے ہیں اور اپنے مفعول کو نصب دیتے ہیں، تو یہاں یہ فاعل کی طرف اس کی اضافت ہو رہی ہے۔ ”فَإِنْكَارُهٗ“ اس کا انکار کرنا، کس چیز کا اس نے انکار کیا ہے؟ ”اَلْقَبُوْلَ“ قبول کرنے کا۔ ”فَإِنْكَارُهُ الْقَبُوْلَ“ تو اس کہنے والے کے قبول کا انکار کرنا جو ہے ”رُجُوْعٌ مِنْهُ“ یہ اس قبول سے رجوع کر رہا ہے بھئی، اور ایک دفعہ اقرار کر لے تو پھر رجوع نہیں ہو سکتا بھئی۔ آگے دیکھیے: ”قَالَ: وَالْمُبَارَأَةُ كَالْخُلْعِ كِلَاهُمَا يُسْقِطَانِ كُلَّ حَقٍّ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنَ الزَّوْجَيْنِ عَلَى الْآخَرِ مِمَّا يَتَعَلَّقُ بِالنِّكَاحِ عِنْدَ أَبِيْ حَنِيْفَةَ رَحِمَهُ اللّٰهُ“. بھئی یاد رکھو، ایک ہے خلع، خلع کے اندر آپ جانتے ہیں کہ عورت پر مال لازم ہوتا ہے اور اس میں طلاق کا لفظ ذکر نہیں کیا جاتا، اور اسی طرح ایک مبارات ہے۔ بارأ یبارئ مباراۃ کا معنی ہے یہ بابِ مفاعلہ ہے، جانبین سے براءت بھئی۔ دونوں طرف سے براءت، یعنی میاں بیوی آپس میں جدائی اختیار کرتے ہیں ایک دوسرے کو بری کرنے کی شرط پر، کہ نہ میرا تمہارے ذمے کوئی حق ہے اور نہ تمہارا میرے ذمے کوئی حق ہے، تو اس کو مبارات کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ مبارات کہتے ہیں۔ مثلاً ایک صورت یہ ہے نا کہ خلع کا لفظ ذکر کریں کہ تم مجھ سے خلع کر لو ایک ہزار کی شرط پر، ایک صورت یہ ہے کہ طلاق کا لفظ ذکر کرتے ہیں کہ تم مجھے طلاق دے دے ایک ہزار کی شرط پر، اور ایک صورت یہ ہے کہ مبارات ذکر کرتے ہیں کہ مبارات کر لو میرے ساتھ ایک ہزار کی شرط پر، تو عوض سب میں آئے گا: خلع میں بھی، طلاق علی العوض میں بھی، اور مبارات میں بھی۔ مبارات بھئی یہ براءت سے ہے، کس سے ہے؟ براءت سے، بابِ مفاعلہ ہے، براءت کا معنی ہے بری کرنا، معاف کرنا۔ تو مبارات یعنی دونوں جانب سے براءت آئے بھئی، دونوں ایک دوسرے کے حقوق معاف کر دیں، اس کو کیا کہتے ہیں؟ مبارات۔ خاوند بیوی کے تمام حقوق معاف کر دیتا ہے اور بیوی خاوند کے تمام حقوق معاف کر دیتی ہے یعنی وہ جو نکاح سے متعلق ہیں، اس کے اندر مثلاً خاوند کے ذمے مہر ہے یا کوئی نفقہ وغیرہ ہے جو قاضی نے مقرر کیا تھا اور اس نے ابھی تک ادا نہیں کیا، تو یہ سارے حقوق مبارات کے اندر معاف۔ تو مبارات کے اندر میاں بیوی آپس میں مال کے بدلے جدائی اختیار کرتے ہیں اور دونوں ایک دوسرے کے بری ہونے کی شرط ذکر کرتے ہیں، نہ تمہارے ذمے میرا کوئی حق ہے یعنی جو کچھ تمہارے ذمے میرا ہے وہ معاف اور جو کچھ میرے ذمے ہے تمہارا وہ بھی معاف، تو اس صورت میں دونوں کے ایک دوسرے پر جو حقوق ہوتے ہیں وہ ساقط ہو جاتے ہیں۔ مثلاً خاوند نے بیوی کا مہر ادا کرنا ہے تو یہ بھی نکاح کے حقوق میں سے ہے، تو جب مبارات کریں گے تو خاوند کے ذمے سے مہر ساقط ہو گیا۔ یا اسی طرح خاوند کے جو حقوق ہیں بیوی کے ذمے وہ سارے بھی کیا ہو جائیں گے؟ ساقط ہو جائیں گے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اس کو مبارات کہتے ہیں۔ اسی طرح یاد رکھو امام صاحب فرماتے ہیں خلع کے اندر بھی میاں بیوی کے ایک دوسرے پر جتنے حقوق ہیں سارے ساقط ہو جائیں گے۔ لیکن صرف وہ حقوق ساقط ہوں گے جن کا تعلق نکاح سے ہے، مبارات میں بھی اور خلع میں بھی۔ اور جن حقوق کا تعلق نکاح سے نہیں ہے، مثلاً کسی زمانے میں اس عورت نے خاوند کو دس لاکھ روپے قرض دیے تھے، تو وہ ساقط نہیں ہوں گے، یا خاوند نے کوئی چیز بیوی کو بیچی تھی، بیوی کوئی چیز مانگ رہی تھی خاوند نے نہیں دی تو عورت نے کہا چلو میں پیسے دے دوں گی مجھے بیچ دو، تو اب اس کے ثمن بیوی کے ذمے ہیں، توجہ ہے؟ لیکن اس کا تعلق نکاح سے نہیں ہے، یہ نہیں ساقط ہوں گے بھئی۔ اگر ایک دوسرے کو کوئی قرض دیا تھا یا ایک دوسرے کو کوئی چیز فروخت کی تھی تو وہ پیسے ساقط نہیں ہوں گے بھئی۔ تو امام صاحب کے نزدیک خلع اور مبارات اس میں دونوں کے نکاح سے متعلق جتنے حقوق ہوتے ہیں ایک دوسرے پر وہ سب ساقط ہو گئے اور نکاح کے علاوہ جو حقوق ہیں وہ ساقط نہیں، یعنی قرض یا بیع وغیرہ۔ جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، خلع اور مبارات میں کوئی حق کسی کا ساقط نہیں ہو گا سوائے وہ چیزیں جو خود ذکر کریں۔ جو خود ذکر کریں تو صرف وہ حق ساقط ہو گا، اور اگر کچھ بھی ذکر نہیں کیا تو کوئی حق ساقط نہیں ہے۔ مہر اگر خاوند نے دینا ہے وہ اس کو ادا کرنا پڑے گا بھئی۔ جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ خلع کے مسئلے میں تو امام محمد رحمہ اللہ کے ساتھ ہیں اور مبارات کے مسئلے میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے ساتھ ہیں۔ تو دیکھیے بھئی، ”قَالَ“ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”وَالْمُبَارَأَةُ كَالْخُلْعِ“ کہ مبارات جو ہے یہ خلع کی طرح ہے، معلوم ہوا دونوں کا ایک ہی حکم ہے، کہ مبارات خلع کی طرح ہے ”كِلَاهُمَا يُسْقِطَانِ كُلَّ حَقٍّ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنَ الزَّوْجَيْنِ عَلَى الْآخَرِ“ یہ دونوں ساقط کر دیتے ہیں ہر ایسا حق جو میاں بیوی میں سے ہر ایک کا دوسرے پر ہوتا ہے ”مِمَّا يَتَعَلَّقُ بِالنِّكَاحِ“ جن کا تعلق نکاح سے ہوتا ہے، وہ حقوق جن کا تعلق نکاح سے ہوتا ہے ”عِنْدَ أَبِيْ حَنِيْفَةَ رَحِمَهُ اللّٰهُ“ امام صاحب کے نزدیک۔ بھئی خاوند کے ذمے مثلاً مہر تھا وہ بھی ساقط ہو جائے گا، اور سابقہ اگر کچھ نفقہ خاوند کے ذمے باقی ہے مثلاً قاضی نے فیصلہ کیا تھا اب خاوند اس کے مطابق نفقہ ادا کر رہا ہے لیکن کچھ عرصہ اس نے ادا نہیں کیا تو وہ یہ نفقہ وغیرہ یہ سب چیزیں جو نکاح سے متعلق ہیں ساقط ہو جائیں گی۔ لیکن یاد رکھو مبارات اور خلع کی صورت میں طلاقِ بائن آ جائے گی، طلاقِ بائن، اور طلاقِ بائن کے بعد عدت آتی ہے اور عدت کا نفقہ بھی خاوند کے ذمے ہوتا ہے اور سکنیٰ بھی خاوند کے ذمے ہوتا ہے تو وہ نہیں ساقط ہوں گے بھئی، کیونکہ وہ تو مستقبل کی چیز ہے، وہ تو ابھی آیا ہی نہیں، ماضی کے جتنے حقوق ہیں ایک دوسرے پر وہ سارے ساقط ہو جائیں گے خلع میں بھی اور مبارات میں بھی، لیکن جو آگے عدت کا نفقہ اور سکنیٰ ہے وہ ساقط نہیں، الّا یہ کہ اس کو باقاعدہ ذکر کر دیا جائے۔ الّا یہ کہ اس کو باقاعدہ ذکر کر دیا جائے، مثلاً عورت کہتی ہے عدت کا نفقہ بھی میں تم سے نہیں لوں گی اور عدت کا سکنیٰ مثلاً سکنیٰ خاوند کا کرائے کا گھر ہے بھئی، کیا ہے؟ کرائے کا گھر ہے اور وہ سکنیٰ اس کا خرچہ بھی میں تم سے نہیں لوں گی میں خود ادا کر دوں گی وہ خرچہ، تو پھر اس صورت میں وہ خاوند کو بری کر سکتی ہے۔ ہاں اس گھر میں ہی عدت گزارنا پڑے گی، گھر سے نکلنا اس کے لیے جائز نہیں ہے لیکن اس کے خرچے سے وہ خاوند کو بری کر سکتی ہے بھئی۔ تو کیا بات ہوئی؟ کہ مبارات اور خلع کے اندر میاں بیوی کے جتنے سابقہ حقوق ہیں نکاح سے متعلق وہ ساقط ہو جائیں گے، لیکن مستقبل جو عدت کا نفقہ اور سکنیٰ ہے وہ ساقط نہیں ہو گا، اور البتہ اگر اس کو باقاعدہ صراحۃً ذکر کر دیا جائے پھر وہ بھی ساقط ہو جائے گا۔ اور نیز یہاں ایک اور قیمتی بات بھی یاد رکھنا، یہ خلع اور مبارات کے اندر امام صاحب فرماتے ہیں سارے حقوق ساقط ہو جائیں گے، طلاق علی العوض نہیں۔ اگر طلاق ذکر کی کہ میں تجھے طلاق دیتا ہوں ایک ہزار کی شرط پر تو پھر اس صورت میں کوئی حق کسی سے ساقط نہیں ہے، جو حقوق ہیں کسی کے ذمے وہ اس کو ادا کرنے پڑیں گے بھئی۔ خاوند نے مہر دینا ہے تو وہ مہر اس کو دینا پڑے گا بھئی۔ تو یہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک ہے کہ مبارات اور خلع سے تمام حقوق ساقط ہو جاتے ہیں نکاح کے۔ ”وَقَالَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالَى: لَا يَسْقُطُ فِيْهِمَا إِلَّا مَا سَمَّيَاهُ“ اور امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان دونوں میں کوئی چیز ساقط نہیں ہوتی، یعنی مبارات اور خلع میں کوئی چیز ساقط نہیں ہوتی ”إِلَّا مَا سَمَّيَاهُ“ مگر وہ چیز جس کو یہ دونوں ذکر کریں، صرف وہ ساقط ہو گی۔ ”وَأَبُوْ يُوْسُفَ رَحِمَهُ اللّٰهُ مَعَهٗ فِي الْخُلْعِ“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ خلع کے اندر امام محمد رحمہ اللہ کے ساتھ ہیں ”وَمَعَ أَبِيْ حَنِيْفَةَ رَحِمَهُ اللّٰهُ فِي الْمُبَارَأَةِ“ اور وہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے ساتھ ہیں مبارات میں۔ ”لِمُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللّٰهُ“ امام محمد رحمہ اللہ کی دلیل یہ ہے ”أَنَّ هٰذِهٖ مُعَاوَضَةٌ“ کہ یہ عقدِ معاوضہ ہے، یہ مبارات اور خلع یہ معاوضہ ہیں ”وَفِي الْمُعَاوَضَاتِ يُعْتَبَرُ الْمَشْرُوْطُ لَا غَيْرُهٗ“ اور معاوضات کے اندر مشروط ہی معتبر ہوتا ہے اس کے علاوہ نہیں، وہ چیزیں جن کی شرط لگائی گئی ہے وہی معتبر ہیں اور نہیں۔ تو لہٰذا اگر شرط لگائیں گے جن جن حقوق کے ساقط کرنے کی وہ ساقط ہوں گے باقی ساقط نہیں۔ تو کہتے ہیں: ”وَفِي الْمُعَاوَضَاتِ يُعْتَبَرُ الْمَشْرُوْطُ لَا غَيْرُهٗ“ اور معاوضات کے اندر جس چیز کی شرط لگائی جائے وہ معتبر ہوتا ہے نہ کہ اس کے علاوہ۔ ”وَلِأَبِيْ يُوْسُفَ رَحِمَهُ اللّٰهُ أَنَّ الْمُبَارَأَةَ مُفَاعَلَةٌ مِنَ الْبَرَاءَةِ“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی دلیل یہ ہے کہ مبارات یہ بابِ مفاعلہ ہے براءت سے، کس سے؟ براءت سے، ”فَتَقْتَضِيْهَا مِنَ الْجَانِبَيْنِ“ تو یہ براءت کا تقاضا کرتا ہے دونوں جانب سے، کہ خاوند بیوی کے حقوق سے بری اور بیوی خاوند کے حقوق سے بری۔ ”وَأَنَّهٗ مُطْلَقٌ“ اور یہ مبارات تو مطلق ہے، مطلق ہے، یہ تو تقاضا کرتا ہے ہر طرح کے حقوق ساقط ہو جائیں چاہے نکاح والے ہیں چاہے غیرِ نکاح والے ہیں، دونوں نے ایک دوسرے سے کوئی قرض لیا تھا یا کوئی بیع و شراء آپس میں ہوئی تھی تو یہ تو مبارات تو تقاضا کرتا ہے ہر حق ساقط ہونا چاہیے ”لٰكِنْ قَيَّدْنَاهُ بِحُقُوْقِ النِّكَاحِ“ لیکن ہم نے اس کو خاص کر دیا صرف کس کے ساتھ؟ نکاح کے ساتھ کہ نکاح کے حقوق ساقط ہوں گے باقی حقوق ساقط نہیں۔ اس کی کیا وجہ؟ وجہ یہ کہ یہاں پر جھگڑا صرف نکاح کے مسئلے میں چل رہا ہے میاں بیوی میں۔ میاں بیوی میں یہاں جھگڑا صرف نکاح کے مسئلے میں چل رہا ہے، خوشگوار زندگی گزارنا اب مشکل ہو گیا ہے تو لہٰذا صرف نکاح کے حقوق ساقط ہوں گے، نکاح کے علاوہ باقی حقوق ساقط نہیں ہوں گے۔ ”وَأَنَّهٗ مُطْلَقٌ“ اور یہ براءت یہ تو مطلق ہے ”قَيَّدْنَاهُ بِحُقُوْقِ النِّكَاحِ“ ہم نے اس کو مقید کر دیا حقوقِ نکاح کے ساتھ ”لِدَلَالَةِ الْغَرَضِ“ غرض کے دلالت کرنے کی وجہ سے، کہ یہاں غرض جو ہے وہ نکاح کے جھگڑے کو ختم کرنا ہے۔ یہاں کیا مقصد ہے مبارات کا؟ نکاح کے جھگڑے کو ختم کرنا ہے۔ مبارات کس لیے کی جا رہی ہے؟ نکاح کے جھگڑے کو ختم کرنے کے لیے، لہٰذا صرف نکاح کے حقوق ساقط ہوں گے۔ تو کہتے ہیں: ”وَأَنَّهٗ مُطْلَقٌ قَيَّدْنَاهُ بِحُقُوْقِ النِّكَاحِ لِدَلَالَةِ الْغَرَضِ، أَمَّا الْخُلْعُ فَمُقْتَضَاهُ الِانْخِلَاعُ“ باقی خلع جو ہے تو اس کا مقتضا انخلاع ہے۔ انخلاع، خلع کا معنی ہوتا ہے الگ ہونا، الگ ہونا۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی دلیل چل رہی ہے، وہ فرماتے ہیں خلع کے اندر حقوق ساقط نہیں ہوں گے، مبارات میں حقوق ساقط ہوں گے نکاح والے اور جبکہ خلع میں حقوق ساقط نہیں، وہ فرماتے ہیں خلع کا معنی ہے جدا ہونا، جدا ہونا، اور یہاں پر جب نکاح ٹوٹ گیا تو بس جدائی آ گئی، اب یہ جدائی کافی ہے، باقی احکام میں جدا نہیں کیا جائے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”أَمَّا الْخُلْعُ فَمُقْتَضَاهُ الِانْخِلَاعُ“ باقی خلع جو ہے تو اس کا تقاضا انخلاع ہے یعنی جدا ہونا ہے ”وَقَدْ حَصَلَ فِيْ نَقْضِ النِّكَاحِ“ اور تحقیق یہ حاصل ہو گیا، یہ جدا ہونا حاصل ہو گیا نکاح کے توڑنے میں، نکاح کو توڑ کر جدائی کو حاصل کر لیا گیا ”وَلَا ضَرُوْرَةَ إِلَى انْقِطَاعِ الْأَحْكَامِ“ اور کوئی ضرورت نہیں ہے احکام کے کاٹنے کی، ایک دوسرے کے حقوق کو ایک دوسرے سے ساقط کرنے کی کوئی ضرورت نہیں، کیونکہ خلع کا تقاضا یہ ہے کہ دونوں میں جدائی آ جائے اور جدائی آ گئی تو اب باقی احکام کو منقطع کرنے کی کوئی حاجت نہیں ہے۔ ”وَلِأَبِيْ حَنِيْفَةَ رَحِمَهُ اللّٰهُ“ اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے ”أَنَّ الْخُلْعَ يُنْبِئُ عَنِ الْفَصْلِ“ کہ خلع کا لفظ خبر دیتا ہے جدائی کی۔ خلع کا لفظ خبر دیتا ہے جدائی کی، عربی میں کہتے ہیں: ”خَلَعْتُ نَعْلَيَّ“ میں نے اپنے جوتے اتار دیے، یا ”خَلَعْتُ ثَوْبِيْ“ میں نے اپنا کپڑا اتار دیا۔ تو جب جوتے اتار دیے معلوم ہوا آپ اس سے الگ ہو گئے، جب کپڑے اتار دیے معلوم ہوا وہ اس سے الگ ہو گیا، تو خلع کے اندر جدائی والا معنی ہے۔ تو خلع جدائی پر دلالت کرتا ہے اور خلع مطلق ہے، جس طرح مبارات مطلق ہے اسی طرح خلع بھی مطلق ہے، اور خلع کا معنی ہے جدا ہونا، تو یہاں پر بھی کامل جدائی تب آئے گی جب طلاق کے ساتھ ساتھ نکاح کے حقوق بھی ایک دوسرے سے ساقط ہو جائیں، پھر کامل طور پر جدائی آ گئی۔ تو لہٰذا چاہے مبارات ہو چاہے خلع، یہ جب مطلق ہے تو دونوں کے ایک دوسرے پر تمام حقوق ساقط ہو جائیں گے بھئی۔ کہتے ہیں: ”وَلِأَبِيْ حَنِيْفَةَ رَحِمَهُ اللّٰهُ أَنَّ الْخُلْعَ يُنْبِئُ عَنِ الْفَصْلِ“ اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے کہ خلع جو ہے وہ خبر دیتا ہے جدائی کی ”وَمِنْهُ خَلْعُ النَّعْلِ وَخَلْعُ الْعَمَلِ“ اور اسی سے خلع النعل جوتے کا اتارنا اور خلع العمل اور عمل سے الگ ہونا۔ ”خَلَعْتُ الْعَمَلَ“ میں نے وہ والا عمل چھوڑ دیا یعنی میں اس سے جدا ہو گیا۔ تو کہتے ہیں: ”وَمِنْهُ خَلْعُ النَّعْلِ وَخَلْعُ الْعَمَلِ“ اور اسی خلع سے ہے جوتے سے الگ ہونا اور عمل سے الگ ہونا ”وَهُوَ مُطْلَقٌ كَالْمُبَارَأَةِ“ اور خلع کا لفظ مطلق ہے جیسے کہ مبارات کا لفظ مطلق تھا ”فَيُعْمَلُ بِإِطْلَاقِهِمَا فِي النِّكَاحِ وَأَحْكَامِهٖ وَحُقُوْقِهٖ“ تو ان دونوں کو اپنے اطلاق کے ساتھ عمل دیا جائے گا نکاح میں بھی ”وَأَحْكَامِهٖ“ اور نکاح کے احکام میں بھی ”وَحُقُوْقِهٖ“ اور نکاح کے حقوق میں بھی۔ تو لہٰذا مبارات میں بھی براءت مطلق تھی اور خلع کے اندر بھی جدائی مطلق ہے، تو لہٰذا یہاں پورے طور پر جدائی آئے گی یعنی حقوق اور احکام بھی منقطع ہو جائیں گے۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ چلیے بس بھئی، ”هٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيْقَةِ الْكَلَامِ“.
160 approved lectures · 67 of 160