Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء ثاني · dars-053

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 15 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 114
📂 Choose Format:
⭐ ★★★★★ Excellent TEXT
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
آگے سبق دیکھیے بھئی۔ "وَلَوْ قَالَ أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً أَوْ لَا فَلَيْسَ بِشَيْءٍ، قَالَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ: هَكَذَا ذُكِرَ فِي الْجَامِعِ الصَّغِيرِ مِنْ غَيْرِ خِلَافٍ، وَهَذَا قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُمَا اللهُ تَعَالَى آخِرًا، وَعَلَى قَوْلِ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى وَهُوَ قَوْلُ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى أَوَّلًا تُطَلَّقُ وَاحِدَةً رَجْعِيَّةً۔" بھئی گزشتہ سبق میں آپ نے مسئلہ پڑھا تھا کہ کوئی شخص اگر اپنی بیوی سے کہتا ہے: "أَنْتِ طَالِقٌ مَا لَمْ أُطَلِّقْكِ، أَنْتِ طَالِقٌ" یعنی پہلے شرط ذکر کی اور اس کے بعد پھر فوراً طلاق بھی دے دی۔ کیا کہا: "أَنْتِ طَالِقٌ مَا لَمْ أُطَلِّقْكِ" کہ تجھے طلاق ہے جس وقت میں تجھے طلاق نہ دوں، اور اس کے بعد خاموش ہونے کے بجائے ساتھ ہی اس نے طلاق بھی دے دی۔ تو جب اس نے طلاق دے دی تو وہ طلاق جو پہلے اس نے معلق کی تھی، وہ واقع نہیں ہوگی۔ تو ہمارے ائمہ کے نزدیک صرف دوسری طلاق واقع ہو جائے گی، اور معلق واقع نہیں ہوگی کیونکہ اس کی شرط پوری نہیں ہوئی۔ شرط کیا تھی؟ اگر میں تجھے طلاق نہ دوں تو پھر تجھے طلاق ہے۔ اور اس نے تو طلاق دے دی، لہٰذا اس کی شرط پوری نہیں ہوئی۔ جب شرط نہیں تو مشروط بھی نہیں ہوگا بھئی۔ جبکہ امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس صورت میں دو طلاقیں ہو جائیں گی۔ وجہ یہ کہ وہ فرماتے ہیں کہ تعلیق کے بعد خاوند نے جب آگے "أَنْتِ طَالِقٌ" کہنا شروع کیا، تو "أَنْتِ طَالِقٌ" کے پورا کرتے کرتے کچھ وقت تو گزر گیا، تو تھوڑا سا وقت پایا گیا جس کے اندر اس نے ابھی طلاق نہیں دی، تو لہٰذا وہ پہلی والی کی شرط بھی پوری ہو گئی، وہ بھی واقع ہو جائے گی اور پھر یہ والی پوری ہو جائے گی تو یہ بھی واقع ہو جائے گی، تو دو طلاقیں ہو جائیں گی۔ تو اس کا جواب بھی صاحبِ ہدایہ نے ذکر فرمایا تھا کہ کوئی شخص جب قسم کھاتا ہے تو اس کا مقصد قسم کو پورا کرنا ہوتا ہے۔ لہٰذا کم از کم قسم کھانے والے کو اتنا وقت ملنا چاہیے جس کے اندر وہ اپنی قسم پوری کر سکے۔ تو اتنا وقت جو ہے وہ دلالتِ حال سے مستثنیٰ ہو گیا، کیوں دلالتِ حال کیا؟ ایک شخص جب ایک چیز پر قسم کھا رہا ہے تو یہ قسم بتلا رہی ہے کہ اس کا ارادہ کیا ہے؟ اس قسم کو پورا کرنے کا ہے۔ تو یہ دلالتِ حال کی وجہ سے اس کے لیے اتنا وقت مستثنیٰ ہو جائے گا۔ تو دلالتِ حال کی وجہ سے کچھ وقت مستثنیٰ ہو گا جس میں وہ اپنی قسم پوری کر سکے۔ یہ اسی طرح ہے جیسے کوئی شخص قسم اٹھاتا ہے کہ واللہ میں اس گھر کے اندر نہیں رہوں گا، اور پھر ساتھ ہی اس نے اپنا سامان اٹھانا شروع کر دیا۔ تو اب دیکھو کچھ وقت تو وہ رہا گھر کے اندر، سامان اٹھا رہا ہے اور سامان لے کر نکل رہا ہے، لیکن اتنا وقت مستثنیٰ ہے جس میں وہ اپنی قسم پوری کر سکے۔ یا اسی طرح ایک شخص سوار ہے اور کہتا ہے: واللہ میں اس سواری پر سوار نہیں ہوں گا، اور یہ کہتے ہی اس نے اترنا شروع کر دیا، پھر بھی چند لمحے تو گزر گئے اس کے سواری پر، لیکن اتنا وقت مستثنیٰ ہے۔ یا ایک شخص نے کپڑے پہنے ہوئے ہیں اور کہتا ہے: واللہ میں یہ کپڑے نہیں پہنوں گا، اور ساتھ ہی اس نے وہ کپڑے اتارنا شروع کر دیے، تو دیکھو اس صورت میں یہ حانث نہیں ہوں گے یہ تینوں افراد، کیونکہ اتنا وقت تو ملنا چاہیے جس میں وہ اپنی قسم پوری کر سکے۔ پھر یہاں پر میں نے اشکال ذکر کیا کہ بھئی یہاں تو قسم کی بات کر رہے ہیں شرح کے اندر صاحبِ ہدایہ، اور متن کے اندر تو کوئی قسم کی بات نہیں آئی۔ متن میں تو "أَنْتِ طَالِقٌ مَا لَمْ أُطَلِّقْكِ" وہاں تو تعلیق ہو رہی تھی اور شرح کے اندر صاحبِ ہدایہ یمین ذکر فرما رہے ہیں۔ تو میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ تعلیق کو بھی شرعاً یمین کہتے ہیں۔ تعلیق کو بھی شرعاً یمین کہتے ہیں، اس لیے کیونکہ جب کسی کام کے کرنے کی قسم اٹھاتا ہے معلوم ہوا وہ اپنی ذات کو ابھار رہا ہے کہ یہ کام ضرور کرنا پڑے گا۔ مثلاً ایک شخص کہتا ہے: واللہ میں لاہور ضرور جاؤں گا، تو دیکھو یہ قسم کھا کر گویا وہ اپنے نفس کو ابھار رہا ہے کہ اب تو میں نے قسم کھا لی ہے، اب تو یہ کام کرنا ہی پڑے گا۔ تو قسم کے ذریعے کسی کام کے کرنے پر ابھارا جاتا ہے، اور بعض اوقات قسم کے ذریعے کسی کام سے روکنا مقصود ہوتا ہے، مثلاً کوئی شخص کہتا ہے: واللہ میں یہ کام نہیں کروں گا، تو یہ قسم کے ساتھ نفی کر رہا ہے مقصد یہ ہے اپنے نفس کو روک رہا ہے کہ یہ کام نہیں کرنا، اب تو میں قسم کھا چکا ہوں اب یہ قسم پوری کرنا پڑے گی۔ تو قسم کے ذریعے کسی کام کے کرنے پر ابھارا جاتا ہے یا کسی کام سے روکنے پر ابھارا جاتا ہے، اور تعلیق کے اندر بھی یہی مقصود ہوتا ہے۔ مثلاً ایک شخص اپنی بیوی سے کہتا ہے: "إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ فَأَنْتِ طَالِقٌ" اگر تو اس گھر میں گئی تو تجھے طلاق ہے، تو دیکھو معلوم ہوا یہ اس کو اس گھر میں جانے سے روکنا چاہتا ہے۔ تو یہ تو تھا ایک کام سے روکنے کے لیے تعلیق کی، اور کبھی کسی کام کے کرنے کے لیے تعلیق کی جاتی ہے۔ خاوند بیوی سے کہتا ہے: اگر تو اس گھر میں نہ گئی تو تجھے طلاق ہے، تو دیکھو معلوم ہوا اس کے گھر میں جانے پر وہ اس کو ابھار رہا ہے بھئی۔ تو جیسے قسم کسی کام پر ابھارنے کے لیے یا کسی کام سے روکنے کے لیے کھائی جاتی ہے، اسی طرح تعلیق بھی کسی کام پر ابھارنے کے لیے یا کسی کام سے روکنے کے لیے کی جاتی ہے۔ تو اس لیے فقہ کے اندر تعلیق کو بھی یمین کہتے ہیں۔ اور میں نے آپ کو یہ بھی بتلایا تھا اگر مطلق تعلیق ہے جس کے اندر کسی کام کے کرنے پر ابھارنا نہ ہو یا روکنا نہ ہو تو اس کو یمین نہیں کہتے۔ مثلاً ایک شخص اپنی بیوی سے کہتا ہے: "أَنْتِ طَالِقٌ إِذَا جَاءَ الْغَدُ" جب کل کا دن آ جائے تو تمہیں طلاق ہے۔ اب دیکھو یہاں کسی کام سے روکنا نہیں۔ اب ہر حال میں اگلے دن طلاق ہو گی۔ تو نہ کسی کام پر ابھارنا یہاں مقصود ہے اور نہ کسی کام سے روکنا مقصود ہے، تو اس قسم کی تعلیق اس کو یمین نہیں کہتے بھئی۔ تو لہٰذا اس لیے متن میں جو تعلیق تھی اس کو بھی یمین ہی کہیں گے، تو صاحبِ ہدایہ نے بھی یمین کو ذکر کیا شرح کے اندر بھئی۔ اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے دوسرا مسئلہ ذکر فرمایا کہ کسی شخص نے اپنی بیوی سے کہا: "يَوْمَ أَتَزَوَّجُكِ فَأَنْتِ طَالِقٌ" جس دن میں تجھ سے نکاح کروں تو تجھے طلاق ہے۔ تو اس صورت میں یہ یوم کا لفظ مطلق وقت کے معنی میں ہو گیا یعنی جس وقت بھی میں تم سے نکاح کروں تمہیں طلاق ہے، تو وہ رات کو بھی نکاح کرے گا تو طلاق ہو جائے گی۔ وجہ یہ کہ یہ جو یوم کا لفظ ہے یہ نہار کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے یعنی صبح سے شام تک کے وقت کے لیے، اور یوم کا لفظ مطلق وقت کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ اور میں نے ضابطہ بتلایا تھا کہ اگر یوم جو ہے وہ مفعول فیہ بن رہا ہو یعنی ظرف بن رہا ہو فعل کے لیے، تو اس فعل کو دیکھا جائے گا کہ وہ فعل ممتد ہے یا غیر ممتد۔ بعض فعل ممتد ہوتے ہیں ان میں امتداد ہوتا ہے جہاں مدت بیان کی جا سکتی ہے، جیسے چلنا: "سِرْتُ يَوْمًا" میں ایک دن چلتا رہا، یا "صُمْتُ يَوْمًا" میں نے ایک دن روزہ رکھا۔ تو دیکھو یہاں پر چلنا اور روزہ رکھنا اس میں امتداد ہے، روزہ صبح سے شام تک ہوتا ہے، اسی طرح چلنا ایک گھنٹہ بھی چلنا ہو سکتا ہے دو گھنٹے بھی اور تین گھنٹے بھی، تو ان میں امتداد ہے۔ اور کچھ افعال ایسے ہوتے ہیں جن میں امتداد نہیں ہوتا جیسے طلاق دینا۔ طلاق جیسے ہی کوئی شخص بیوی کو دے گا اسی لمحے طلاق ہو جائے گی، اس میں امتداد اور طول اور لمبائی نہیں ہے۔ یا اسی طرح نکاح کرنا، نکاح کرنے میں بھی امتداد اور طول نہیں ہے، جیسے ہی ایجاب و قبول کریں گے ساتھ ہی نکاح منعقد ہو جائے گا۔ یا اسی طرح بیع کرنا، بیع کرنا یہ بھی ایجاب و قبول کا نام ہے، جیسے ہی ایجاب و قبول کریں گے بیع ہو جائے گی اس کے اندر بھی امتداد نہیں ہے۔ یا جیسے آنا اور جانا، آنے کے اندر بھی امتداد نہیں ہے، جیسے ہی کوئی شخص سامنے آتا ہے ہم کہتے ہیں وہ آ گیا، اور جیسے ہی شخص نظروں سے ہٹتا ہے ہم کہتے ہیں وہ شخص چلا گیا، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو آنا اور جانا ان کے اندر بھی امتداد نہیں ہے۔ تو لہٰذا اگر یوم جو ہے اس کے اندر جو فعل عمل کر رہا ہے جس کے لیے وہ ظرف بن رہا ہے، اگر وہ فعل ممتد ہوا تو پھر یوم جو ہے اس سے نہار مراد لیں گے۔ اور اگر وہ فعل غیر ممتد ہوا تو پھر اس صورت میں یوم مطلق وقت کے معنی میں ہو گا، مطلق وقت میں۔ اور یہاں پر کیا کہا ہے: "يَوْمَ أَتَزَوَّجُكِ فَأَنْتِ طَالِقٌ"۔ میں نے بتایا تھا یوم کا لفظ جس فعل کی طرف مضاف ہو اس کو نہیں دیکھنا آپ نے، "يَوْمَ أَتَزَوَّجُكِ" یوم کی اضافت تزوج فعل کی طرف ہو رہی ہے لیکن اس کو نہیں دیکھنا، بلکہ جس کے لیے یہ مفعول فیہ بن رہا ہے ظرف بن رہا ہے اس کو دیکھیں گے، اور وہ "أَنْتِ طَالِقٌ" ہے۔ وہ کیا ہے؟ "أَنْتِ طَالِقٌ"، اور طلاق تو غیر ممتد ہے، لہٰذا یہاں یوم مطلق وقت کے معنی میں ہو گا۔ لہٰذا جس وقت بھی وہ نکاح کرے گا، چاہے دن کو نکاح کرے چاہے رات کو نکاح کرے، طلاق واقع ہو جائے گی۔ اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے آخر میں بتلایا تھا کہ اگر طلاق یا جدائی یا حرمت کی نسبت خاوند اپنی طرف کرے تو پھر کیا حکم ہے؟ مثلاً ویسے تو خاوند بیوی سے کہتا ہے تجھے طلاق ہے، اور اگر خاوند یہ کہے کہ مجھے تیری طرف سے طلاق ہے تو کیا اس صورت میں طلاق ہو گی یا نہیں؟ تو صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ اس صورت میں طلاق واقع نہیں ہو گی بھئی۔ طلاق واقع نہیں ہو گی، کیونکہ اس لیے کیونکہ طلاق جو ہے وہ عند الاحناف ازالۂ قید کا نام ہے، اور قید عورت کے اندر ہوتی ہے، عورت منع کی گئی ہے کہ کسی اور خاوند سے وہ نکاح کرے یا وہ گھر سے نکلے خاوند کی اجازت کے بغیر۔ تو قید کس کے اندر ہے؟ عورت کے اندر ہے، اور طلاق کس چیز کا نام ہے؟ ازالۂ قید، قید کو ختم کرنے کا نام ہے۔ تو یہ قید جب عورت میں ہے تو اس قید کے ختم کرنے کی نسبت بھی عورت کی طرف کی جائے گی کہ اس سے قید ختم کی جا رہی ہے، مرد میں تو کوئی قید نہیں لہٰذا مرد کی طرف نسبت نہیں ہو سکتی۔ اور جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ طلاق جو ہے یہ ازالۂ ملکِ نکاح اور ازالۂ حلت کے لیے ہوتی ہے، اور ملکِ نکاح خاوند کی بیوی میں ہے تو بیوی کی خاوند میں ہے، کیونکہ دونوں قاضی کے پاس جا کر مطالبہ کر سکتے ہیں بھئی۔ عورت وطی کا مطالبہ کر سکتی ہے اور خاوند تمکین کا مطالبہ کر سکتا ہے، تو دونوں کو ملکِ نکاح حاصل ہے۔ اور اسی طرح دونوں ایک دوسرے کے لیے حلال ہیں، تو لہٰذا ملکِ نکاح بھی دونوں کے درمیان مشترک، حلت بھی دونوں کے درمیان مشترک، تو طلاق ان دونوں کے ازالے کے لیے آتی ہے تو دونوں کی طرف نسبت صحیح ہے۔ تو لہٰذا دونوں صورتوں میں طلاق واقع ہو جائے گی، چاہے خاوند اپنی طرف نسبت کرے چاہے بیوی کی طرف۔ جبکہ ہمارے نزدیک طلاق ازالۂ قید کا نام ہے اور قید صرف کس میں ہے؟ عورت میں ہے۔ اور نیز اگر طلاق کو ازالۂ ملک کے لیے بھی مان لیں تو ملکیت بھی خاوند کی بیوی کے اندر ہوتی ہے، چنانچہ اسی لیے خاوند کو ناکح کہتے ہیں نکاح کرنے والا، اور بیوی کے لیے اسم مفعول کا صیغہ استعمال کیا جاتا ہے منکوحہ بھئی، منکوحہ۔ جیسے مالک اور مملوک، دیکھو مالک جو ہے اس کے لیے اسم فاعل استعمال ہو رہا ہے اور مملوکہ کے لیے اسم مفعول استعمال ہوتا ہے، تو یہاں بھی ناکح اور منکوحہ، تو یہ عورت کیا ہے؟ منکوحہ ہے، معلوم ہوا یہ مملوکہ ہے۔ تو اگر طلاق کا ازالۂ ملکیت بھی معنی کیا جائے تو نسبت عورت ہی کی طرف کرنا پڑے گی۔ جبکہ اس کے مقابلے میں جدائی اور حرمت کی نسبت دونوں کی طرف صحیح ہے، دونوں صورتوں میں جدائی آ جائے گی، وجہ یہ اس لیے کیونکہ جدائی جو ہے وہ جوڑ کو ختم کرنے کا نام ہے، نکاح کو ختم کرنے کا نام ہے اور نکاح تو دونوں کے درمیان ہے، اس میں تو دونوں شریک ہیں۔ لہٰذا خاوند بیوی سے کہے کہ تو مجھ سے جدا ہے، یا خاوند کہے اپنی طرف نسبت کرے کہ میں تجھ سے جدا ہوں، دونوں صورتوں میں طلاق ہو جائے گی۔ اور یا اسی طرح خاوند بیوی کی طرف حرمت کی نسبت کرے کہ تو مجھ پر حرام ہے، یا اپنی طرف نسبت کرے کہ میں تم پر حرام ہوں، تو دونوں صورتوں میں طلاق واقع ہو جائے گی کیونکہ دونوں ایک دوسرے کے لیے حلال تھے۔ تو اس حلت میں بھی دونوں شریک اور نکاح میں بھی دونوں شریک، لہٰذا اس لیے جدائی اور حرمت کی نسبت دونوں کی طرف کرنا صحیح ہے بھئی۔ اب آئیے آج کے سبق پر: "وَلَوْ قَالَ أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً أَوْ لَا فَلَيْسَ بِشَيْءٍ" صورتِ مسئلہ یہ: خاوند نے اپنی بیوی سے کہا: "أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً أَوْ لَا"۔ بلکہ پہلے دوسری صورت لے آؤ، خاوند نے بیوی سے کہا: "أَنْتِ طَالِقٌ أَوْ لَا" تجھے طلاق ہے یا نہیں، تجھے طلاق ہے یا نہیں، تو پھر اس صورت میں یاد رکھو طلاق واقع نہیں ہو گی کیونکہ وہ درمیان میں "أَوْ" لے آیا بھئی، اور "أَوْ" کس لیے لایا جاتا ہے؟ شک کے لیے جب دو چیزوں میں سے ایک میں شک ہو بھئی۔ تو لہٰذا جب یہاں ایک طرف کہہ رہا ہے تجھے طلاق ہے اور آگے کہہ رہا ہے یا نہیں، تو شک آ گیا طلاق کے ہونے اور نہ ہونے میں، اور شک کی وجہ سے طلاق واقع نہیں ہو گی۔ دوسری صورت بھئی، "أَنْتِ طَالِقٌ" کے بعد "وَاحِدَةً" لاتا ہے اور یوں کہتا ہے: "أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً أَوْ لَا"۔ تو اس صورت میں بھی ظاہرِ روایت یہی ہے کہ اس صورت میں طلاق واقع نہیں ہو گی بھئی، طلاق واقع نہیں ہو گی۔ تو کہتے ہیں: "وَلَوْ قَالَ أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً أَوْ لَا" خاوند بیوی سے کہتا ہے تجھے ایک طلاق ہے "أَوْ لَا" یا نہیں ہے، "فَلَيْسَ بِشَيْءٍ" تو یہ کچھ نہیں ہے یعنی اس سے طلاق نہیں ہو گی۔ "قَالَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ" صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں: "هَكَذَا ذُكِرَ فِي الْجَامِعِ الصَّغِيرِ مِنْ غَيْرِ خِلَافٍ" اسی طرح ذکر کیا گیا ہے جامع صغیر میں بغیر اختلاف کے۔ یہاں صاحبِ ہدایہ کہنا یہ چاہتے ہیں کہ دیکھو متن کے اندر آیا: "وَلَوْ قَالَ أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً أَوْ لَا فَلَيْسَ بِشَيْءٍ" یہ عبارت ہے جامع صغیر کی، اور جامع صغیر کے اندر یہاں پر کوئی اختلاف ذکر نہیں۔ کہ امام محمد یا امام ابو یوسف رحمہ اللہ اس بارے میں کیا فرماتے ہیں، کوئی اختلاف یہاں ذکر نہیں۔ تو ظاہر یہی لگتا ہے شاید یہ ہمارے تینوں ائمہ کا قول ہے، ظاہر یہی ہے۔ لیکن آپ کو بتائیں گے صاحبِ ہدایہ کہ نہیں، اس کے اندر بھی ہمارے ائمہ کا اختلاف ہے۔ امام محمد رحمہ اللہ اور اسی طرح امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا پہلا قول یہ تھا کہ اس سے طلاقِ رجعی ہو گی۔ امام محمد رحمہ اللہ کا قول ہے اس سے طلاقِ رجعی ہو گی اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا پہلا قول تھا کہ اس سے طلاقِ رجعی ہو جائے گی۔ اور جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا آخری قول امام صاحب کے ساتھ ہے، امام صاحب کے نزدیک اس سے طلاق نہیں ہو گی۔ کیا کہا خاوند نے؟ "أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً أَوْ لَا"۔ یہ "أَوْ" کس کے درمیان لایا ہے؟ "وَاحِدَةً" اور "لَا" کے درمیان "أَوْ" آیا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو جامع صغیر میں تو اختلاف ذکر نہیں لیکن دراصل یہاں اختلاف ہے۔ تو کہتے ہیں: "هَكَذَا ذُكِرَ فِي الْجَامِعِ الصَّغِيرِ مِنْ غَيْرِ خِلَافٍ" اسی طرح ذکر کیا گیا ہے جامع صغیر میں بغیر کسی اختلاف کے، "وَهَذَا قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُمَا اللهُ تَعَالَى آخِرًا" اور یہ امام صاحب کا قول ہے اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا قول ہے "آخِرًا" آخری۔ امام ابو یوسف کا آخری قول ہے یہ، پہلا قول ان کا امام محمد رحمہ اللہ کے ساتھ ہے۔ "وَعَلَى قَوْلِ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللهُ وَهُوَ قَوْلُ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللهُ أَوَّلًا" اور امام محمد رحمہ اللہ کے قول پر اور وہی پہلا قول ہے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا بھی، اس کے مطابق: "تُطَلَّقُ وَاحِدَةً رَجْعِيَّةً" اس صورت میں عورت کو ایک طلاقِ رجعی ہو جائے گی۔ خاوند نے کیا کہا ہے؟ "أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً أَوْ لَا"۔ اگر "وَاحِدَةً" ہٹا دیں پھر تو بالاتفاق کوئی طلاق واقع نہیں۔ لیکن یہاں "وَاحِدَةً" کے بعد وہ "أَوْ" لایا ہے۔ تو کہتے ہیں: اب صاحبِ ہدایہ بتلانے لگے ہیں کہ امام محمد رحمہ اللہ کا قول مبسوط کے اندر کتاب الطلاق میں ذکر ہے۔ کہاں پر؟ متن میں جامع صغیر کے متن میں تو کوئی اختلاف ذکر نہیں کیا گیا لیکن صاحبِ ہدایہ نے بتلایا اختلاف ہے، اور کہاں سے اخذ کیا، دلیل کیا؟ وہ فرماتے ہیں کہ مبسوط کی کتاب الطلاق میں ایک مسئلہ ذکر ہے، اس سے پتہ چلتا ہے امام محمد رحمہ اللہ کے قول کا۔ دیکھو وہ آگے ذکر کریں گے، تو کہتے ہیں: امام محمد رحمہ اللہ کا قول ذکر کیا گیا ہے کتاب الطلاق میں یعنی مبسوط کی کتاب الطلاق میں، اس صورت میں جب خاوند نے اپنی بیوی سے کہا: "أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً أَوْ لَا شَيْءَ"۔ متن میں کیا آیا؟ "أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً أَوْ لَا"، "أَوْ" کے بعد صرف "لَا" ہے۔ لیکن مبسوط کے اندر کتاب الطلاق میں یہی مسئلہ ذکر ہے وہاں ہے: "أَوْ لَا شَيْءَ"۔ تو وہاں شے کا لفظ بھی ذکر ہے "لَا" کے بعد، "أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً أَوْ لَا شَيْءَ" تجھے ایک طلاق ہے یا کچھ بھی نہیں۔ تو صاحبِ ہدایہ بتلائیں گے کہ بھئی شے کو ذکر کریں یا نہ کریں مسئلہ ایک ہی طرح ہے۔ تو جب مبسوط کے اندر "لَا شَيْءَ" کے اندر امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک طلاقِ رجعی ہو جائے گی، کیا فرماتے ہیں؟ جب ایک طلاقِ رجعی ہو جائے گی "لَا شَيْءَ" کے اندر، تو "لَا" کے اندر بھی وہی مسئلہ ہو گا، لہٰذا یہاں بھی ان کے نزدیک معلوم ہوا ایک طلاق ہو جائے گی، کیونکہ دونوں مسئلے بالکل ایک جیسے ہیں۔ تو کہتے ہیں: جب کسی شخص نے اپنی بیوی سے کہا: "أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً أَوْ لَا شَيْءَ" کہ تجھے ایک طلاق ہے یا کچھ بھی نہیں ہے، تو اس سے امام محمد رحمہ اللہ کے قول کا پتہ چل گیا، اور دونوں مسئلوں میں کوئی فرق نہیں ہے، چاہے "أَوْ لَا" کہیں چاہے "أَوْ لَا شَيْءَ" کہیں بھئی۔ تو دیکھو جامع صغیر کے اندر تو اختلاف کو ذکر نہیں کیا، لیکن مبسوط سے امام محمد رحمہ اللہ کے قول کا پتہ چل گیا کہ ان کا یہ قول نہیں ہے بھئی۔ تو لہٰذا معلوم ہوا جو متن کے اندر ذکر کیا گیا ہے یہ حضرت شیخین رحمہما اللہ کا قول ہے۔ لیکن اگر یہ مان لیا جائے کہ یہ سب کا قول ہے، اگر مان لیا جائے کہ یہ جو متن میں قول آیا تھا یہ سب کا قول ہے، کیونکہ یہاں تو امام محمد رحمہ اللہ نے اختلاف ذکر ہی نہیں کیا جامع صغیر میں۔ جامع صغیر بھی تو ان کی کتاب ہے نا، تو انہوں نے متن میں کوئی اختلاف نہیں ذکر کیا، تو یا تو یہ کہنا پڑے گا مسئلے میں اختلاف ہے لیکن امام محمد رحمہ اللہ نے یہاں ذکر نہیں فرمایا، اور اگر آپ یہ مانتے ہیں کہ نہیں، یہ جو متن میں آیا ہے یہ سب کا قول ہے، ہمارے تینوں ائمہ کا قول ہے، تو پھر ماننا پڑے گا کہ امام محمد رحمہ اللہ سے اس سلسلے میں دو روایتیں ہیں۔ کیونکہ یہ یہاں کہا کہ اس سے طلاق نہیں ہو گی اور یہ سب کا قول ہے اور سب میں امام محمد بھی آ گئے، اور دوسری جگہ مبسوط میں وہ فرما رہے ہیں "أَوْ لَا شَيْءَ" اس کے اندر ایک طلاقِ رجعی ہو جائے گی حالانکہ وہ بھی بالکل اسی کی طرح ہے، تو معلوم ہوا اس سلسلے میں امام محمد رحمہ اللہ کی پھر دو روایتوں کو ماننا پڑے گا۔ تو کہتے ہیں: اور اگر یہاں پر جو ذکر کیا گیا ہے یعنی جامع صغیر کے اندر وہ سب کا قول ہے تو معلوم ہوا پھر امام محمد رحمہ اللہ سے دو روایتیں ہیں۔ امام محمد رحمہ اللہ کی دلیل یہ ہے، امام محمد رحمہ اللہ کیا فرماتے تھے؟ ایک طلاقِ رجعی ہو جائے گی۔ اب اس کی دلیل دے رہے ہیں، امام محمد رحمہ اللہ کی دلیل یہ ہے کہ خاوند نے شک داخل کر دیا "فِي الْوَاحِدَةِ" کس میں؟ ایک طلاق میں، بوجہ کلمۂ "أَوْ" کے داخل ہونے کے اس "وَاحِدَةً" اور نفی کے بیچ۔ "أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً أَوْ لَا" تو یہ "أَوْ" کہاں لے آیا خاوند؟ "وَاحِدَةً" اور "لَا" کے بیچ میں آیا، تو لہٰذا اس "وَاحِدَةً" میں تو شک آ گیا، کس کی وجہ سے؟ آگے آنے والے "أَوْ لَا" کی وجہ سے۔ تو لہٰذا اس "وَاحِدَةً" کا اعتبار تو ساقط ہو گیا، "وَاحِدَةً" کا اعتبار تو ساقط ہو گیا لیکن پیچھے "أَنْتِ طَالِقٌ" تو رہ گیا۔ کہنا یہ چاہتے ہیں یہ جو "أَوْ" آیا ہے اس کا تعلق صرف "وَاحِدَةً" سے ہے، پیچھے جو "أَنْتِ طَالِقٌ" آیا تھا اس سے اس کا تعلق نہیں ہے۔ تو "وَاحِدَةً أَوْ لَا" کے اندر شک آ گیا، تو یہ "وَاحِدَةً" تو ساقط ہو گیا لیکن پیچھے "أَنْتِ طَالِقٌ" تو رہ گیا اس سے ایک طلاقِ رجعی ہو جائے گی کیونکہ وہ صریح ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں امام محمد رحمہ اللہ کی دلیل یہ ہے کہ خاوند نے "وَاحِدَةً" کے اندر شک داخل کر دیا بوجہ کلمۂ "أَوْ" کے داخل ہونے کے اس "وَاحِدَةً" اور نفی کے درمیان، تو "وَاحِدَةً" کا اعتبار تو ساقط ہو گیا اور خاوند کا قول "أَنْتِ طَالِقٌ" باقی رہ گیا، بخلاف خاوند کے اس قول کے "أَنْتِ طَالِقٌ أَوْ لَا"۔ جی اس میں کیا مسئلہ ہو گا؟ "أَنْتِ طَالِقٌ أَوْ لَا" یہاں تو اصلِ طلاق کے اندر ہی شک آ گیا، یہاں "وَاحِدَةً" کا لفظ نہیں ہے۔ تجھے طلاق ہے "أَوْ لَا" یا نہیں، تو اصلِ طلاق کے واقع کرنے میں ہی شک آ گیا اس لیے یہاں تو بالاتفاق طلاق واقع نہیں ہو گی۔ لیکن اگر "وَاحِدَةً" کو ذکر کر دیا تو یہ "وَاحِدَةً" تو "أَوْ" کی وجہ سے ساقط ہو جائے گا لیکن "أَنْتِ طَالِقٌ" ساقط نہیں ہو گا۔ تو کہتے ہیں بخلاف خاوند کے اس قول کے "أَنْتِ طَالِقٌ أَوْ لَا" اس لیے کیونکہ یہاں خاوند نے شک داخل کر دیا ہے اصلِ ایقاع میں، اصل طلاق واقع کرنے میں ہی، لہٰذا اس صورت میں طلاق واقع نہیں ہو گی۔ بات بھی سمجھ میں آ رہی ہے کہ نہیں؟ اور شیخین رحمہما اللہ کی دلیل یہ ہے، شیخین رحمہما اللہ کی دلیل سمجھ لو بھئی۔ وہ فرماتے ہیں کہ جب طلاق کے ساتھ عدد ذکر کیا جائے تو طلاق عدد کے ذریعے واقع ہوتی ہے۔ کس کے ذریعے؟ عدد کے۔ مثلاً خاوند بیوی سے اگر صرف یہ کہے "أَنْتِ طَالِقٌ" پھر تو "أَنْتِ طَالِقٌ" سے طلاق ہو رہی ہے، لیکن اگر خاوند بیوی سے کہتا ہے "أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً" تو یہ طلاق "وَاحِدَةً" سے ہو رہی ہے، کس سے ہو رہی ہے؟ "وَاحِدَةً" سے۔ اور مثلاً تثنیہ لے آؤ: "أَنْتِ طَالِقٌ اثْنَتَيْنِ"، تو اس سے بیوی کو "أَنْتِ طَالِقٌ" سے طلاق نہیں ہو رہی "اثْنَتَيْنِ" سے ہو رہی ہے۔ کیونکہ "أَنْتِ طَالِقٌ" تو صریح ہے وہ تو تقاضا کر رہا ہے ایک طلاق ہونی چاہیے، لیکن "اثْنَتَيْنِ" نے تقاضا کیا دو ہونی چاہییں اور دو طلاقیں ہو گئیں۔ اسی طرح خاوند بیوی سے کہتا ہے: "أَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا"، تو اس صورت میں "أَنْتِ طَالِقٌ" سے طلاق نہیں ہو رہی بلکہ "ثَلَاثًا" سے ہو رہی ہے، کیونکہ "أَنْتِ طَالِقٌ" تو صریح ہے اور صریح سے تو ایک رجعی طلاق ہوتی ہے، لیکن یہاں فقہاء فرماتے ہیں "أَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا" میں تین طلاقیں ہو رہی ہیں۔ معلوم ہوا جب "أَنْتِ طَالِقٌ" کے ساتھ عدد آ جائے تو طلاق عدد کے ذریعے واقع ہوتی ہے، اور یہ بات پیچھے گزر چکی ہے۔ "أَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا" پیچھے اختلاف ذکر ہوا تھا، ہمارے نزدیک "أَنْتِ طَالِقٌ" اس کے ذریعے ایک طلاق ہوتی ہے اور وہ بھی رجعی ہو گی، اور اس میں نیت کی بھی کوئی حاجت نہیں کیونکہ یہ صریح ہے، اس کا اور کوئی معنی ہی نہیں ہے۔ اور نیز اس کے اندر اگر خاوند دو یا تین کی نیت کرتا ہے تو وہ لغو ہے کیونکہ "أَنْتِ طَالِقٌ" میں دو یا تین کا احتمال نہیں، جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "أَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا"، پیچھے یہ مسئلہ ذکر ہوا تھا، وہ فرماتے ہیں "أَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا" یہ "ثَلَاثًا" تمیز ہے اور تمیز ابہام کو دور کرتی ہے یعنی ماقبل کلام کے اندر کئی احتمال ہوتے ہیں ان میں سے ایک احتمال کو یہ تمیز آ کر پکا کر دیتی ہے۔ تو یہ "ثَلَاثًا" تمیز ہے معلوم ہوا ماقبل "أَنْتِ طَالِقٌ" میں ایک، دو اور تین تینوں کا احتمال ہے اور اسی میں سے ایک احتمال "ثَلَاثًا" بھی ہے تو اس کو اس "ثَلَاثًا" نے آ کر پکا کر دیا۔ یا اسی طرح خاوند بیوی سے کہتا ہے: "أَنْتِ طَالِقٌ اثْنَتَيْنِ"، "أَنْتِ طَالِقٌ اثْنَتَيْنِ" کہ تجھے دو طلاقیں ہیں، تو اس کے اندر بھی امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ جو "اثْنَتَيْنِ" آیا یہ تمیز ہے، اور تمیز کس لیے آتی ہے؟ ماقبل سے ابہام کو دور کرتی ہے، معلوم ہوا "أَنْتِ طَالِقٌ" کے اندر ابہام تھا کہ ایک ہے یا دو ہیں یا تین ہیں۔ اور پھر تمیز انہی احتمالات میں سے ایک احتمال کو پکا کر دیتی ہے، تو "اثْنَتَيْنِ" نے آ کر بتلا دیا کہ دو طلاقیں ہیں، معلوم ہوا "أَنْتِ طَالِقٌ" میں "اثْنَتَيْنِ" کا احتمال تھا جب ہی تو آگے "اثْنَتَيْنِ" تمیز آ سکتی ہے۔ ایک لفظ میں ایک معنی کا احتمال ہی نہ ہو تو وہ وہاں تمیز بھی نہیں بن سکتی۔ جیسے مثلاً میں نے مثال ذکر کی تھی: "طَابَ زَيْدٌ"، زید اچھا ہے۔ بھئی کس اعتبار سے اچھا ہے؟ اس میں احتمال ہے، ہو سکتا ہے اپنی ذات کے اعتبار سے اچھا ہو، ہو سکتا ہے اپنے علم کے اعتبار سے اچھا ہو، ہو سکتا ہے اپنے باپ کے اعتبار سے اچھا ہو۔ تو تینوں احتمال ہیں تو آگے تینوں کو آپ تمیز لا سکتے ہیں، مثلاً آپ "نَفْسًا" کو لے آتے ہیں: "طَابَ زَيْدٌ نَفْسًا"، کیا معنی؟ زید اچھا ہے اپنی ذات کے اعتبار سے۔ تو دیکھو "نَفْسًا" جو تمیز ہے وہ ماقبل کے ایک احتمال کو پکا کر دیتی ہے۔ تو لہٰذا یہاں پر بھی امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل میں ذکر کر رہا ہوں، جہاں باب ایقاع الطلاق شروع کیا تھا وہاں پہلے دوسرے صفحے پر یہ دلیل آئی تھی ان کی، وہ فرماتے ہیں "أَنْتِ طَالِقٌ" جو ہے اس کی تمیز "اثْنَتَيْنِ" بھی آ سکتی ہے اور "ثَلَاثًا" بھی آ سکتی ہے، معلوم ہوا "أَنْتِ طَالِقٌ" میں "اثْنَتَيْنِ" کا بھی احتمال ہے اور "ثَلَاثًا" کا بھی احتمال ہے۔ ہم نے جواب دیا تھا کہ نہیں، "أَنْتِ طَالِقٌ" میں نہ "اثْنَتَيْنِ" کا احتمال نہ "ثَلَاثًا" کا احتمال ہے، بلکہ یہاں پر یہ جو "ثَلَاثًا" آتا ہے یا "اثْنَتَيْنِ" آتا ہے یہ تمیز نہیں ہے بلکہ یہ صفت ہے مصدرِ محذوف کی: "أَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا" أي "أَنْتِ طَالِقٌ طَلَاقًا ثَلَاثًا"، تو یہ "طَلَاقًا" موصوف محذوف ہے بھئی، تو یہ "ثَلَاثًا" اس طلاق کی صفت ہے، "أَنْتِ طَالِقٌ" سے تمیز نہیں ہے۔ تو اب یہاں کیا مسئلہ ذکر ہوا؟ "أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً أَوْ لَا"۔ تو یہاں پر امام محمد رحمہ اللہ کا مذہب ذکر ہو گیا وہ فرماتے ہیں کہ اس صورت میں ایک رجعی طلاق واقع ہو جائے گی، کیونکہ یہ جو "أَوْ" آیا ہے اس کا تعلق صرف "وَاحِدَةً" سے ہے، اور اس کی وجہ سے "وَاحِدَةً" تو ساقط ہو گیا کیونکہ اس میں شک آ گیا: "وَاحِدَةً أَوْ لَا"، تو لہٰذا باقی "أَنْتِ طَالِقٌ" رہ گیا تو اس سے ایک طلاقِ رجعی ہو جائے گی۔ جبکہ اب شیخین رحمہما اللہ کی دلیل ذکر فرما رہے ہیں، شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ جب طلاق کے ساتھ عدد ملا دیا جائے، "أَنْتِ طَالِقٌ اثْنَتَيْنِ" یا "أَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا"، تو طلاق اس عدد کے ذریعے واقع ہوتی ہے، اور عدد سے پہلے موصوف محذوف ہوتا ہے: "طَلَاقًا ثَلَاثًا"۔ اگر مذکر کا لفظ ہو تو طلاق لفظ لے آئیں موصوف طلاق لے آئیں، اور اگر مؤنث کا ہو تو تطلیقۃ لے آئیں۔ اگر خاوند نے کیا کہا ہے: "أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً" تو معنی ہو گا "أَنْتِ طَالِقٌ تَطْلِيقَةً وَاحِدَةً"، توجہ ہے؟ اور کہا ہے "أَنْتِ طَالِقٌ اثْنَتَيْنِ" تو "أَنْتِ طَالِقٌ تَطْلِيقَتَيْنِ اثْنَتَيْنِ"۔ تو شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں جب طلاق کے ساتھ عدد ذکر کیا جائے تو یہ طلاق عدد کے ذریعے واقع ہوتی ہے اور وہاں اس کا موصوف طلاق یا تطلیقہ محذوف ہوتا ہے، تو اس مصدر اور عدد کے ذریعے دراصل طلاق واقع ہوتی ہے۔ ہوتی ہے۔ جی۔ چنانچہ دلیل دیتے ہیں دلیل دیتے ہیں کہتے ہیں دیکھو، غیر مدخول بہا عورت، آپ پڑھ چکے ہیں غیر مدخول بہا عورت کو ایک بھی طلاق دے دی جائے چاہے طلاق رجعی ہی کیوں نہ ہو، ایک رجعی سے ہی وہ فوراً بائنہ ہو جاتی ہے اور نکاح ٹوٹ جاتا ہے اور اس پر عدت بھی نہیں ہے وہ فوراً ہی آگے نکاح کر سکتی ہے۔ جی۔ ایک عورت ہے اس کی ابھی رخصتی نہیں ہوئی خاوند نے اس کو کہا: ”أَنْتِ طَالِقٌ“، جیسے ہی یہ کہا ساتھ ہی نکاح ٹوٹ گیا اور اسی گھڑی میں وہ عورت آگے جہاں مرضی نکاح کر سکتی ہے اس پر کوئی عدت نہیں ہے بھئی۔ تو معلوم ہوا غیر مدخول بہا کو رجعی طلاق بھی دیں تو وہ فوراً بائن بن جاتی ہے بھئی۔ جی۔ اسی طرح یاد رکھو، اسی طرح یاد رکھو اگر غیر مدخول بہا کو خاوند زیادہ طلاقیں دیتا ہے، ایک سے زیادہ۔ وہ اگر الگ الگ لفظوں سے طلاق دے گا مثلاً غیر مدخول بہا ہے خاوند نے اس سے کہا: ”أَنْتِ طَالِقٌ“، ”أَنْتِ طَالِقٌ“، ”أَنْتِ طَالِقٌ“ اور نیت تین کی کر رہا ہے۔ ہر ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کے ذریعے وہ ایک طلاق کی نیت کر رہا ہے۔ جی۔ اور کتنی دفعہ کہا؟ تین دفعہ۔ تو یاد رکھو فقہاء فرماتے ہیں پہلا ”أَنْتِ طَالِقٌ“ جیسے ہی آیا غیر مدخول بہا کو طلاق ہو گئی اور ساتھ ہی وہ بائنہ ہو گئی نکاح بھی ٹوٹ گیا بالکل ختم ہو گیا۔ اگلا ”أَنْتِ طَالِقٌ“ جب اس نے کہا تو اب تو وہ اس کی منکوحہ ہی نہ رہی، نکاح ٹوٹ چکا ہے۔ لہٰذا وہ اگلی طلاق لغو چلی گئی اور تیسری طلاق بھی اسی طرح لغو چلی گئی۔ جی۔ لیکن، لیکن اگر غیر مدخول بہا کو خاوند یوں کہتا ہے: ”أَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا“، تینوں طلاقیں اکٹھی دے رہا ہے تو پھر تینوں اکٹھی بھی واقع ہو جائیں گی۔ جی۔ اگر الگ الگ دیتا پھر تو پہلی سے ہی اس نے بائنہ ہو جانا تھا لیکن جب تینوں اکٹھی دے رہا ہے تو تینوں اکٹھی آ رہی ہیں، جب اکٹھی آ رہی ہیں تو تینوں واقع ہو جائیں گی۔ جی۔ اگر ان میں ترتیب ہوتی پہلے ایک آ رہی ہوتی پھر دوسری پھر تیسری، پھر تو پہلی سے ہی اس نے بائنہ ہو جانا تھا لیکن جب تینوں طلاقیں اکٹھی آ رہی ہیں تو وہ اکٹھی واقع ہو جائیں گی اور یہ تین طلاقوں کے ساتھ بائنہ ہو جائے گی اور اب دوبارہ نکاح کی بھی کوئی صورت نہیں ہے الا یہ کہ یہ عورت کسی اور شخص سے نکاح کرے اور وہ پھر کبھی زندگی میں طلاق دے دے یا اس کا انتقال ہو جائے تو پھر ہی اس پہلے خاوند سے نکاح ہو سکتا ہے۔ جی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ تو شیخین رحمہما اللہ کی دلیل چل رہی ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ جب ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کے ساتھ عدد مل جائے تو طلاق عدد کے ذریعے ہوتی ہے، ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کے ذریعے نہیں اور دلیل اس کی کہتے ہیں دیکھو ایک شخص کی غیر مدخول بہا بیوی ہے، ابھی رخصتی نہیں ہوئی، وہ اس کو کہتا ہے: ”أَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا“ اور اس صورت میں بالاتفاق اس عورت کو تین طلاقیں ہو جاتی ہیں۔ جی۔ اگر ”أَنْتِ طَالِقٌ“ سے طلاق ہو رہی ہوتی، کس سے؟ اگر ”أَنْتِ طَالِقٌ“ سے طلاق ہو رہی ہوتی تو پھر تو یہ ایک سے بائنہ ہو جاتی اور ”ثَلَاثًا“ لغو چلا جاتا۔ جی۔ لیکن یہاں بالاتفاق اس عورت کو تینوں اکٹھی طلاقیں ہو رہی ہیں اور یہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب یہ کہا جائے کہ ”أَنْتِ طَالِقٌ“ سے طلاق نہیں ہو رہی بلکہ ”ثَلَاثًا“ یعنی ”طَلَاقًا ثَلَاثًا“ سے طلاق ہو رہی ہے۔ ”ثَلَاثًا“ سے پہلے موصوف محذوف نکال لو۔ جی۔ ”طَلَاقًا ثَلَاثًا“، تو ”طَلَاقًا ثَلَاثًا“ سے تین طلاقیں ہو رہی ہیں اور اکٹھی ہو رہی ہیں۔ دلیل سمجھ میں آئی؟ جی۔ کہ اگر ”أَنْتِ طَالِقٌ“ سے طلاق ہوتی پھر تو ایک طلاق سے یہ بائنہ ہو جاتی اور ”ثَلَاثًا“ کیا ہو جاتا؟ لغو ہو جاتا لیکن یہاں تینوں اکٹھی ہو رہی ہیں معلوم ہوا ”أَنْتِ طَالِقٌ“ سے طلاق نہیں ہوئی بلکہ کس سے ہوئی ہے؟ ”ثَلَاثًا“ سے ہوئی ہے بھئی۔ جی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَهُمَا أَنَّ الْوَصْفَ مَتَى قُرِنَ بِالْعَدَدِ“ کہ شیخین رحمہما اللہ کی دلیل یہ ہے کہ وصف یعنی ”طَالِقٌ“ کو جب ملا دیا جائے عدد کے ساتھ ”كَانَ الْوُقُوعُ بِذِكْرِ الْعَدَدِ“ تو طلاق کا واقع ہونا عدد کے ذکر سے ہوتا ہے، ”أَلَا تَرَى أَنَّهُ لَوْ قَالَ لِغَيْرِ الْمَدْخُولِ بِهَا“ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ اگر خاوند نے غیر مدخول بہا بیوی سے کہا: ”أَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا“، ”تُطَلَّقُ ثَلَاثًا“ تو اس عورت کو تین طلاقیں ہو جائیں گی ”وَلَوْ كَانَ الْوُقُوعُ بِالْوَصْفِ“ اگر طلاق کا وقوع وصف یعنی ”أَنْتِ طَالِقٌ“ سے ہوتا ”لَلَغَا ذِكْرُ الثَّلَاثِ“ پھر تو لغو ہو جاتا ثلاثہ کا ذکر۔ جی۔ ”وَهَذَا لِأَنَّ الْوَاقِعَ فِي الْحَقِيقَةِ“، بھئی یہ کس طرح عدد سے کس طرح ہو رہی ہے؟ میں نے بتلا دیا کہ عدد سے پہلے اس کا موصوف ”طَلَاقٌ“ یا ”تَطْلِيقَةٌ“ محذوف ہے۔ کہتے ہیں: ”وَهَذَا لِأَنَّ الْوَاقِعَ فِي الْحَقِيقَةِ إِنَّمَا هُوَ الْمَنْعُوتُ الْمَحْذُوفُ“ کہ وہ جو طلاق واقع ہوتی ہے وہ حقیقت کے اندر وہ منعوت ہے، وہ موصوف ہے المحذوف جو محذوف ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَهَذَا لِأَنَّ الْوَاقِعَ فِي الْحَقِيقَةِ إِنَّمَا هُوَ الْمَنْعُوتُ الْمَحْذُوفُ“ کہ وہ جو واقع ہوتا ہے وہ حقیقت میں وہ موصوف محذوف ہے یعنی مصدر ہے، ”مَعْنَاهُ“ اور خاوند کے قول کا معنی یہ ہوگا ”أَنْتِ طَالِقٌ تَطْلِيقَةً وَاحِدَةً“۔ جی۔ تو ”أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً“، اس کا کیا معنی ہے؟ ”أَنْتِ طَالِقٌ تَطْلِيقَةً وَاحِدَةً“، تو معنی اس کا جو ہے ”أَنْتِ طَالِقٌ تَطْلِيقَةً وَاحِدَةً“ ہوگا ”عَلَى مَا مَرَّ“ اس وجہ سے جو گزر گئی، جو پیچھے میں نے بتلایا باب الایقاع کے اندر امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ ”ثَلَاثًا“ کیا ہے؟ تمیز ہے۔ ہم کہتے ہیں نہیں، یہ مصدر محذوف کی صفت ہے بھئی۔ ”وَإِذَا كَانَ الْوَاقِعُ مَا كَانَ الْعَدَدُ نَعْتًا لَهُ“، اب دلیل چل رہی ہے، خاوند نے بیوی سے کیا کہا؟ ”أَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَةً أَوْ لَا“، تو ہمارے نزدیک جب ”وَاحِدَةً“ عدد آ گیا تو طلاق اسی ”وَاحِدَةً“ سے ہو رہی ہے اور اسی ”وَاحِدَةً“ کے ساتھ اس نے ”أَوْ لَا“ اس کو بھی ذکر کر دیا تو لہٰذا اس طلاق کے واقع ہونے میں کیا آ گیا؟ شک، لہٰذا طلاق واقع نہیں ہوگی۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِذَا كَانَ الْوَاقِعُ مَا كَانَ الْعَدَدُ نَعْتًا لَهُ“ اور جب واقع جو ہے وہ طلاق ہے جس کے لیے عدد صفت ہے ”كَانَ الشَّكُّ دَاخِلًا فِي أَصْلِ الْإِيقَاعِ“ تو اصل ایقاع کے اندر ہی شک داخل ہو گیا، طلاق کے واقع کرنے میں ہی شک آ گیا ”فَلَا يَقَعُ شَيْءٌ“ تو کوئی شئے واقع نہیں ہوگی۔ مسئلہ بھی سمجھ میں آیا کہ نہیں؟ آگے دیکھیے: ”وَلَوْ قَالَ أَنْتِ طَالِقٌ مَعَ مَوْتِي أَوْ مَعَ مَوْتِكِ فَلَيْسَ بِشَيْءٍ“، صورت مسئلہ یہ خاوند نے بیوی سے کہا: ”أَنْتِ طَالِقٌ مَعَ مَوْتِي“ تجھے طلاق ہے میری موت کے ساتھ یا ”أَنْتِ طَالِقٌ مَعَ مَوْتِكِ“ تجھے طلاق ہے تیری موت کے ساتھ، تو اپنی موت کو ذکر کیا یا بیوی کی موت کو ذکر کیا، تو یاد رکھو اس صورت میں طلاق واقع نہیں ہوگی بھئی۔ جی۔ طلاق واقع نہیں ہوگی۔ بھئی وجہ، کیا وجہ ہے؟ کہتے ہیں اس لیے، اس لیے ایک ضابطہ یاد رکھیں، آگے صاحبِ ہدایہ بھی ذکر فرمائیں گے لیکن وہ اگلے مسئلوں میں ذکر فرمائیں گے، ضابطہ یاد رکھو جب ایک چیز کو ایک شرط کے ساتھ معلق کر دیا جائے تو یہ جو معلق ہے یہ یہ سبب بنتا ہے جب شرط پائی جائے۔ جی۔ جب شرط پائی جائے، مثلاً خاوند نے بیوی سے کہا: ”أَنْتِ طَالِقٌ إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ“، تجھے طلاق ہے اگر تو اس گھر میں گئی۔ تو دیکھو جب وہ عورت اس گھر میں جائے گی تو اس وقت طلاق واقع ہوگی۔ جی۔ ہمارے نزدیک بھی اس وقت طلاق ہوگی اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک بھی اسی وقت طلاق ہوگی لیکن دونوں فرق کرتے ہیں۔ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک جب خاوند نے کہا: ”أَنْتِ طَالِقٌ إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ“ تو ”أَنْتِ طَالِقٌ“ آ گیا، کیا آ گیا؟ اور یہ طلاق کا سبب بن رہا ہے، یہ چاہتا ہے اس کی وجہ سے طلاق واقع ہو جائے لیکن شرط نے حکم کو روک دیا۔ شرط کیا ذکر کی اس نے؟ ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کے ساتھ ہی اس نے کہا ”إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ“، صرف ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کہتا تو طلاق واقع ہو جاتی لیکن ساتھ ہی اس نے ”إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ“ اگر تو اس گھر میں گئی، تو یہ جو شرط ساتھ ذکر کر دی اس شرط نے حکم کو آنے سے روک دیا۔ ”أَنْتِ طَالِقٌ“ موجود ہے وہ طلاق کا سبب بن رہا ہے لیکن شرط حکم کو نہیں آنے دے رہی یعنی طلاق واقع نہیں ہو رہی اور عورت جب اس گھر میں جائے گی تو طلاق واقع ہو جائے گی یعنی حکم آ جائے گا۔ جی۔ تو ان کے نزدیک ”أَنْتِ طَالِقٌ“ طلاق کا سبب بنتا ہے عند التکلم، یعنی جس وقت خاوند نے ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کہا وہ اسی وقت طلاق کا سبب بنا لیکن حکم نہیں آ رہا، ایک مانع آ گیا، ایک رکاوٹ آ گئی اور حکم کب آئے گا؟ جب شرط پائی جائے گی۔ جی۔ توجہ ہے؟ جیسے ہی خاوند نے کہا ”أَنْتِ طَالِقٌ“ تو یہ فوراً طلاق کا سبب بنا اور اب یہ چاہتا ہے فوراً طلاق آ جائے لیکن ”إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ“ نے کیا کر دیا؟ اس طلاق کے آنے کو روک دیا۔ تو ”أَنْتِ طَالِقٌ“ طلاق کا سبب بن رہا ہے لیکن یہ آگے جو شرط ہے یہ چونکہ ابھی نہیں پائی گئی یہ حکم کو نہیں آنے دے رہا اور جب شرط پائی جائے گی تو یہ حکم آ جائے گا، طلاق آ جائے گی۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک معلق جو ہے، یہ ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کو کیا کیا ہے؟ معلق کیا ہے، تو یہ جو معلق ہے یہ سبب بنتا ہے عند التکلم۔ جی۔ یہ عند التکلم ہی یہ سبب بن جاتا ہے البتہ حکم مؤخر ہو جاتا ہے، حکم اس وقت نہیں آتا جب شرط پوری ہوگی تو پھر حکم آ جائے گا طلاق واقع ہو جائے گی۔ جی۔ جبکہ عند الاحناف، جب خاوند نے کہا ”أَنْتِ طَالِقٌ إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ“ تو ”إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ“ نے ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کو سبب بننے سے ہی روک دیا، یہ اب طلاق کا سبب بن ہی نہیں رہا۔ عورت جس وقت اس گھر میں جائے گی اسی وقت گویا ”أَنْتِ طَالِقٌ“ آئے گا، وہ سبب بنے گا اور ساتھ ہی طلاق بھی واقع ہو جائے گی۔ جی۔ تو عند الاحناف یہ ”أَنْتِ طَالِقٌ“ گویا اس وقت موجود ہی نہیں ہے یوں سمجھو۔ یہ ”أَنْتِ طَالِقٌ“ یہ جو اس وقت خاوند نے کہا ہے ”أَنْتِ طَالِقٌ إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ“ یہ والا ”أَنْتِ طَالِقٌ“ یہ تو معلق ہے، یہ ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کیا ہے؟ معلق ہے شرط کے ساتھ اور معلق عند الاحناف وہ سبب بنتا ہے عند وجود الشرط، جب شرط پائی جائے گی۔ جی۔ تب یہ ”أَنْتِ طَالِقٌ“ طلاق کا سبب بنے گا ابھی یہ طلاق کا سبب ہی نہیں بن رہا۔ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک یہ اس وقت بھی سبب بن رہا ہے لیکن صرف اس کا حکم نہیں آ رہا، طلاق نہیں آ رہی، وہ ”إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ“ نے روک دی۔ تو ان کے نزدیک ”أَنْتِ طَالِقٌ“ یہ کیا ہے؟ یہ جو معلق ہے یہ طلاق، یہ زبان سے دہرائیں بھئی، امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک معلق جو ہے وہ سبب بنتا ہے، سبب بنتا ہے عند التکلم۔ جی۔ دہرائیں بھئی، امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک معلق سبب بنتا ہے عند التکلم اور صرف حکم رک جاتا ہے، حکم بعد میں آتا ہے۔ جی۔ ہم کہتے ہیں نہیں، لیکن ہمارے نزدیک جو معلق ہوتا ہے وہ عند التکلم سبب ہی نہیں بنتا۔ جی۔ بلکہ وہ سبب کب بنے گا؟ عند وجود الشرط، جب شرط پائی جائے گی، جب عورت اس گھر میں جائے گی تو اس وقت گویا ”أَنْتِ طَالِقٌ“ پایا جائے گا اور وہ سبب بنے گا اور پھر طلاق بھی واقع ہو جائے گی۔ ضابطہ سمجھ میں آ گیا؟ تو ہمارے نزدیک معلق جو ہے وہ سبب بنتا ہے عند الشرط اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک معلق جو ہے وہ سبب بنتا ہے عند التکلم۔ تو اب دیکھو بات چل رہی تھی، خاوند نے بیوی سے کہا: ”أَنْتِ طَالِقٌ مَعَ مَوْتِي“، تجھے طلاق ہے ”مَعَ مَوْتِي“ میری موت کے ساتھ۔ جی۔ تو معلوم ہوا جس لمحے خاوند مر رہا ہے اس لمحے کے اندر یہ ”أَنْتِ طَالِقٌ“ آ رہا ہے۔ جی۔ اور ”أَنْتِ طَالِقٌ“ آئے گا تو اس کے بعد ہی طلاق آئے گی۔ جی۔ یاد رکھو ایک ہے، ابھی صاحبِ ہدایہ بھی بتلائیں گے، ایک ہے تطلیق ایک ہے طلاق۔ جی۔ تطلیق جو ہے، تطلیق مصدر ہے اس کا معنی ہے طلاق دینا اور طلاق اس کا حکم ہے، خاوند طلاق دیتا ہے تو طلاق آ جاتی ہے۔ جی۔ تو تطلیق کیا ہے؟ علت اور طلاق کیا ہے؟ اس کا حکم۔ تو لہٰذا یہ جو خاوند نے کہا ”أَنْتِ طَالِقٌ مَعَ مَوْتِي“ یہ ”أَنْتِ طَالِقٌ“ یہ معلق ہے۔ یہ کیا ہے؟ معلق ہے اور یہ کب آئے گا؟ خاوند کی موت کے وقت اور جب خاوند مر رہا ہے عین اس لمحے کے اندر ”أَنْتِ طَالِقٌ“ آ رہا ہے اور جب ”أَنْتِ طَالِقٌ“ آئے گا تو ”أَنْتِ طَالِقٌ“ جیسے ہی پورا ہوگا ساتھ ہی طلاق آ جائے گی۔ جی۔ کیونکہ ”أَنْتِ طَالِقٌ“ تو تطلیق ہے، تطلیق ہوگی تو اس کے بعد طلاق بھی آئے گی۔ تو معلوم ہوا خاوند یا بیوی کی موت کے ساتھ تطلیق آئے گی یعنی ایقاعِ طلاق آئے گا۔ جی۔ کیا آئے گا؟ ایقاع۔ طلاق کو واقع کرنا اس وقت ہے اور ایقاعِ طلاق کے بعد پھر طلاق آیا کرتی ہے، خاوند طلاق دے، طلاق کو واقع کرے تو پھر طلاق آتی ہے۔ تو لہٰذا عین موت کے وقت کیا آ رہا ہے؟ ایقاعِ طلاق اور اس کے بعد کیا آئے گی؟ طلاق۔ تو عین موت کے وقت جب ایقاعِ طلاق آ رہا ہے تو اس کے بعد کیا آئے گی؟ طلاق اور اس وقت تک تو موت ہو چکی۔ جی۔ اور جب موت ہو گئی وہ تو محل ہی نہ رہا طلاق کا۔ جی۔ جب موت ہو گئی وہ تو خاوند میں اہلیت ہی نہ رہی طلاق دینے کی اور اگر بیوی مر رہی ہے تو بیوی طلاق کا محل نہ رہی۔ جی۔ تو لہٰذا اس صورت میں یہ طلاق لغو ہو جائے گی۔ جی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ قَالَ أَنْتِ طَالِقٌ مَعَ مَوْتِي أَوْ مَعَ مَوْتِكِ“ اور اگر خاوند نے بیوی سے کہا تجھے طلاق ہے میری موت کے ساتھ ”أَوْ مَعَ مَوْتِكِ“ یا تیری موت کے ساتھ ”فَلَيْسَ بِشَيْءٍ“ تو یہ کچھ بھی نہیں ہے، اس سے طلاق واقع نہیں ہوگی۔ جی، وجہ سمجھ میں آ گئی؟ کیونکہ ایقاع، ایقاعِ طلاق موت کے ساتھ ہوگا اور وقوعِ طلاق موت کے بعد ہوگا۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ أَضَافَ الطَّلَاقَ إِلَى حَالَةٍ مُنَافِيَةٍ لَهُ“ اس لیے کیونکہ خاوند نے طلاق کی نسبت کی ہے ایک ایسی حالت کی طرف ”مُنَافِيَةٍ لَهُ“ جو طلاق کے منافی ہے ”لِأَنَّ مَوْتَهُ يُنَافِي الْأَهْلِيَّةَ“ اس لیے کیونکہ خاوند کی موت اہلیت کے منافی ہے، جب خاوند مر جائے گا اس میں تو طلاق دینے کی اہلیت ہی نہ رہی ”وَمَوْتُهَا يُنَافِي الْمَحَلِّيَّةَ“ اور عورت کی جو موت ہے وہ طلاق کے محل ہونے کے منافی ہے، عورت جب مر گئی تو وہ تو طلاق کا محل ہی نہ رہی ”وَلَا بُدَّ مِنْهُمَا“ اور ضروری ہے ان دونوں کا ہونا، خاوند میں اہلیت کا ہونا ضروری ہے اور بیوی کا محلِ طلاق ہونا ضروری ہے، تو خاوند مرے گا تو اہلیت نہ رہے گی اور بیوی مرے گی تو محل نہ رہے گا اس لیے طلاق واقع نہیں ہوگی بھئی۔ کہتے ہیں: ”وَإِذَا مَلَكَ الزَّوْجُ امْرَأَتَهُ أَوْ شِقْصًا مِنْهَا أَوْ مَلَكَتِ الْمَرْأَةُ زَوْجَهَا أَوْ شِقْصًا مِنْهُ وَقَعَتِ الْفُرْقَةُ“، یہ بات پہلے بھی بیان ہو چکی کہ خاوند یا بیوی ایک دوسرے کے مالک بنیں تو ساتھ ہی نکاح جو ہے وہ ختم ہو جائے گا۔ جی۔ ساتھ ہی نکاح کیا ہے؟ فسخ ہو جائے گا، ختم ہو جائے گا اور یاد رکھو پورا مالک بنے چاہے جز کا مالک بنے۔ چاہے جز کا۔ مثلاً ایک عورت ہے اس کا خاوند غلام ہے اور وہ عورت اس خاوند کو خریدتی ہے آقا سے، تو جیسے ہی خریدے گی مالک بنے گی ساتھ ہی نکاح ٹوٹ جائے گا۔ اور اسی طرح اگر پورے خاوند کی مالک نہیں بنی بلکہ اس کے کچھ حصے کی مالک بنی مثلاً نصف کو خریدا یا ثلث کو خریدا تو اس صورت میں بھی فوراً نکاح ٹوٹ جائے گا۔ جی۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِذَا مَلَكَ الزَّوْجُ امْرَأَتَهُ أَوْ شِقْصًا مِنْهَا“ اور اگر خاوند مالک بن گیا اپنی بیوی کا ”أَوْ شِقْصًا مِنْهَا“، شقص ص کے ساتھ بھئی، شقص حصے کو کہتے ہیں، ”أَوْ شِقْصًا مِنْهَا“ یا اس کے ایک حصے کا یعنی جز کا، جز کا وہ ایک مالک بن گیا ”أَوْ مَلَكَتِ الْمَرْأَةُ زَوْجَهَا“ یا عورت اپنے خاوند کی مالکن بن گئی ”أَوْ شِقْصًا مِنْهُ“ یا خاوند کے ایک حصے کی مالک بن گئی ”وَقَعَتِ الْفُرْقَةُ“ تو جدائی واقع ہو جائے گی ”لِمُنَافَاةٍ بَيْنَ الْمِلْكَيْنِ“ اس لیے کیونکہ دونوں ملکیتوں کے درمیان منافات ہے، ملکِ نکاح کے ساتھ ملکِ یمین جمع نہیں ہو سکتی۔ ”أَمَّا مِلْكُهَا إِيَّاهُ“ تو عورت کا مالک بننا ”إِيَّاهُ“ خاوند کا۔ عورت جب مالک بنے گی پھر کیا خرابی لازم آئے گی اور خاوند مالک بنے گا تو پھر کیا خرابی لازم آئے گی؟ دونوں کو الگ الگ بیان کر رہے ہیں صاحبِ ہدایہ۔ کہتے ہیں: ”أَمَّا مِلْكُهَا إِيَّاهُ“ تو عورت کا مالک بننا ”إِيَّاهُ“ اپنے خاوند کا ”فَلِلِاجْتِمَاعِ بَيْنَ الْمَالِكِيَّةِ وَالْمَمْلُوكِيَّةِ“ بوجہ جمع ہو جانے کے مالکیت اور مملوکیت کے۔ عورت اگر اپنے خاوند کی مالک بن گئی چاہے پورے کی مالک بنی چاہے جز کی مالک بنی، بھئی ابھی پچھلے سبق میں گزرا کہ خاوند کو بیوی پر ملکِ نکاح حاصل ہوتی ہے۔ جی۔ اسی لیے خاوند کو ناکح کہتے ہیں اور بیوی کو منکوحہ اور مملوکہ کہتے ہیں۔ تو لہٰذا معلوم ہوا بیوی مملوکہ ہے اور خاوند مالک ہے لیکن اب جب بیوی نے خاوند کو خرید لیا تو بیوی مالکن بن گئی۔ جی۔ تو مملوکہ بھی ہے اور مالکن بھی ہے، ایسا نہیں ہو سکتا۔ ایک ہی شخص مالک بھی ہو اور مملوک بھی ہو ایسا نہیں ہو سکتا بھئی۔ لہٰذا اس لیے نکاح کیا ہو جائے گا؟ نکاح ٹوٹ جائے گا اب عورت اس غلام کی مالکن ہے لیکن نکاح ٹوٹ چکا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”أَمَّا مِلْكُهَا إِيَّاهُ فَلِلِاجْتِمَاعِ بَيْنَ الْمَالِكِيَّةِ وَالْمَمْلُوكِيَّةِ“ تو عورت کا اپنے خاوند کا مالک بننا تو اس وجہ سے کہ مالکیت اور مملوکیت میں اجتماع لازم آتا ہے، تو مالکیت اور مملوکیت میں اجتماع لازم آتا ہے اور مالکیت اور مملوکیت تو جمع نہیں ہو سکتی لہٰذا نکاح ختم ہو جائے گا، نکاح ختم ہو جائے گا تو اب عورت صرف مالکن ہے اب مملوکہ نہیں ہے وہ۔ ”وَأَمَّا مِلْكُهُ إِيَّاهَا“ دوسری صورت خاوند بیوی کا مالک بنا، خاوند بیوی کا مالک۔ کہتے ہیں اس صورت میں بھی نکاح فوراً ختم ہو جائے گا، وجہ یہ کہ یہ جو ملکِ نکاح شریعت خاوند کو دیتی ہے، یہ جو خاوند کو شریعت ملکِ نکاح دیتی ہے یہ ضرورت کی وجہ سے دیتی ہے ورنہ تو آزاد عورت پر کسی لحاظ سے بھی کسی کو ملکیت نہیں ہونی چاہیے۔ جی۔ وہ آزاد عورت ہے تو کسی کو بھی اس عورت پر ملکیت نہیں ہونی چاہیے لیکن شریعت خاوند کو ضرورت کی وجہ سے عورت پر ملکیت دے دیتی ہے، ضرورت اور حاجت کی وجہ سے اور وہ ضرورت اور حاجت جو ہے وہ بقائے نسل ہے جی۔ کہ ان کی نسل باقی رہے۔ تو شریعت خاوند کو ملکِ نکاح دیتی ہے بقائے نسل کی وجہ سے کہ نسل باقی رہ سکے بھئی۔ اگر ملکیت خاوند کو نہیں ملے گی، عورت اس کے لیے حلال نہیں اور وہ خود عورت کے لیے حلال نہیں تو پھر تو بقائے نسل نہیں ہو سکتی، نسل باقی نہیں رہ سکتی تو بقائے انسان چونکہ بقائے نسل کا محتاج ہے تو اس حاجت کی وجہ سے شریعت نے خاوند کو بیوی پر ملکِ نکاح دے دی، بیوی کو خاوند کے لیے حلال کر دیا تو یہ جو ملکِ نکاح خاوند کو ملتی ہے یہ کس وجہ سے ہے؟ ضرورت کی وجہ سے ہے۔ اور جب خاوند بیوی کو خرید لیتا ہے، پورا مالک بنتا ہے یا جز کا مالک بنتا ہے تو ملکِ یمین وہ تو قوی ہے اور ملکِ نکاح وہ تو ضرورت کی وجہ سے ثابت ہے، جب ملکِ یمین یعنی ملکِ رقبی خاوند کو حاصل ہو رہی ہے تو اب وہ ملکیت جو ضرورت کی وجہ سے آئی تھی اب اس کی کوئی حاجت نہیں لہٰذا وہ ختم ہو جائے گی۔ جی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو ملکِ یمین جو ہے وہ اصل ہے وہ جب آ گئی تو اب ملکِ نکاح جو ضرورت کی وجہ سے تھی وہ باقی نہیں رہے گی اور وہ نکاح ختم ہو جائے گا بھئی۔ جی۔ تو کہتے ہیں: ”وَأَمَّا مِلْكُهُ إِيَّاهَا فَلِأَنَّ مِلْكَ النِّكَاحِ ضَرُورِيٌّ“ اور خاوند کا اپنی بیوی کا مالک بننا اس لیے کیونکہ ملکِ نکاح جو ہے وہ ضروری ہے یعنی ضرورت کی وجہ سے ہے بقائے نسل کے لیے ورنہ تو آزاد عورت پر کسی کو ملکیت نہیں ہونی چاہیے، تو کہتے ہیں: ”فَلِأَنَّ مِلْكَ النِّكَاحِ ضَرُورِيٌّ“ اس لیے کیونکہ ملکیتِ نکاح جو ہے وہ ضرورت کی وجہ سے ہے ”وَلَا ضَرُورَةَ مَعَ قِيَامِ مِلْكِ الْيَمِينِ“ اور کوئی ضرورت نہیں ہے ملکِ یمین کے قائم ہوتے ہوئے، ملکِ یمین کے موجود ہوتے ہوئے ”فَيَنْتَفِي“ لہٰذا ملکِ نکاح منتفی ہو جائے گی ختم ہو جائے گی۔ ”وَلَوِ اشْتَرَاهَا ثُمَّ طَلَّقَهَا لَمْ يَقَعْ شَيْءٌ“، صورت مسئلہ یہ، خاوند نے بیوی کو خریدا، خاوند آزاد تھا اور بیوی باندی تھی۔ خاوند نے بیوی کو خریدا اور خریدنے کے بعد اس کو طلاق دے دی، کہتے ہیں نہیں بھئی طلاق لغو چلی گئی۔ کیوں؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ خریدتے ہی نکاح ٹوٹ گیا، جب ملکِ نکاح ہی نہیں ہے تو طلاق کس کو دے رہا ہے؟ جی۔ اب یہ اس کی باندی ہے، یہ اس کی بیوی نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَوِ اشْتَرَاهَا ثُمَّ طَلَّقَهَا لَمْ يَقَعْ شَيْءٌ“ اور اگر خاوند نے بیوی کو خریدا پھر اس کو طلاق دے دی تو کچھ نہیں واقع ہوگا ”لِأَنَّ الطَّلَاقَ يَسْتَدْعِي قِيَامَ النِّكَاحِ“ اس لیے کیونکہ طلاق وہ تقاضا کرتی ہے قیامِ نکاح کا، طلاق تقاضا کرتی ہے قیامِ نکاح کا، نکاح ہوگا تو طلاق ہوگی، نکاح نہیں تو طلاق بھی نہیں۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الطَّلَاقَ يَسْتَدْعِي قِيَامَ النِّكَاحِ“ اس لیے کیونکہ طلاق جو ہے وہ تقاضا کرتی ہے نکاح کے قائم ہونے کا ”وَلَا بَقَاءَ لَهُ مَعَ الْمُنَافِي“ اور نکاح کی بقاء نہیں ہے مع المنافی ایک منافی چیز کے ساتھ، ملکِ یمین کے ساتھ ملکِ نکاح کی بقاء نہیں ہو سکتی، ”لَا مِنْ وَجْهٍ وَلَا مِنْ كُلِّ وَجْهٍ“، ”لَا مِنْ وَجْهٍ“ نہ تو بعض اعتبار سے ”وَلَا مِنْ كُلِّ وَجْهٍ“ اور نہ ہر اعتبار سے۔ بھئی ادھر دیکھیے، طلاق تقاضا کرتی ہے کہ ملکِ نکاح ہونی چاہیے۔ جی۔ ملکِ نکاح ہوگی تو پھر ہی طلاق بھی واقع ہوگی۔ اور پھر یہ ملکِ نکاح پورے طور پر موجود ہو تب بھی طلاق ہو جاتی ہے اور اگر بعض اعتبار سے موجود ہے تب بھی طلاق ہو جاتی ہے۔ پورے طور پر ملکِ نکاح ہو مثلاً ایک شخص نے ایک عورت سے نکاح کیا ہے تو اب پورے طور پر ملکِ نکاح موجود ہے، خاوند طلاق دے گا تو طلاق واقع ہو جائے گی۔ لیکن اگر خاوند بیوی کو ایک طلاق دے دے تو اب عورت عدت گزارتی ہے۔ جی۔ عورت عدت گزارتی ہے، عدت کے بعد نکاح ٹوٹے گا ابھی نکاح نہیں ٹوٹا، تو اب عدت کے دوران بعض اعتبار سے نکاح باقی ہے بعض اعتبار سے نکاح ختم ہو چکا۔ جی۔ توجہ ہے؟ تو اب اس عدت کے دوران بھی اگر خاوند مزید طلاق دے گا تو وہ طلاق بھی واقع ہو جائے گی۔ اس لیے کیونکہ طلاق کس چیز کا تقاضا کرتی ہے؟ ملکِ نکاح کا اور عورت جب عدت گزار رہی ہے تو ملکِ نکاح پورے طور پر تو نہیں لیکن بعض اعتبار سے تو ملکِ نکاح ابھی بھی ہے، نکاح کے اثرات ابھی بھی ہیں۔ یہ عورت آگے نکاح کیوں نہیں کر سکتی؟ اسی خاوند کی وجہ سے تو آگے نکاح نہیں کر سکتی کہ کہیں یہ اس سے حاملہ نہ ہو۔ تو معلوم ہوا خاوند جب طلاق دے دیتا ہے تو عدت کے اندر بعض اعتبار سے ملکِ نکاح ابھی بھی ہے۔ جی۔ بعض اعتبار سے ملکِ نکاح ابھی بھی ہے لہٰذا اس وقت بھی طلاق دے گا تو طلاق واقع ہو جائے گی۔ تو طلاق کیا تقاضا کرتی ہے کہ ملکِ نکاح یا تو کامل طور پر ہونی چاہیے یا بعض اعتبار سے ہونی چاہیے پھر ہی طلاق واقع ہوتی ہے ورنہ طلاق واقع نہیں ہوتی۔ لیکن یہاں پر جب خاوند نے اپنی بیوی کو خریدا تو نکاح مکمل ختم ہو گیا، نہ تو یہ پورے طور پر نکاح باقی ہے اور نہ بعض اعتبار سے نکاح باقی ہے لہٰذا اس لیے یہ طلاق لغو چلی جائے گی۔ جی۔ خاوند نے بیوی کو خریدا اور پھر طلاق دی تو یہ طلاق لغو چلی جائے گی کیونکہ نہ خاوند کو پوری ملکِ نکاح حاصل ہے اور نہ بعض اعتبار سے ملکِ نکاح حاصل ہے اور طلاق کے لیے تو ضروری تھا یا کہ پوری ملکِ نکاح ہو یا بعض اعتبار سے ملکِ نکاح ہو۔ جی۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الطَّلَاقَ يَسْتَدْعِي قِيَامَ النِّكَاحِ“ اس لیے کیونکہ طلاق تقاضا کرتی ہے نکاح کے قائم ہونے کا ”وَلَا بَقَاءَ لَهُ مَعَ الْمُنَافِي“ اور نکاح کے لیے بقاء نہیں ہے ایک منافی چیز یعنی ملکِ یمین کے ساتھ ”لَا مِنْ وَجْهٍ وَلَا مِنْ كُلِّ وَجْهٍ“ نہ تو بعض اعتبار سے نکاح ہے اور نہ ہر اعتبار سے نکاح ہے یعنی کسی بھی اعتبار سے نکاح نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ ”وَكَذَا إِذَا مَلَكَتْهُ أَوْ شِقْصًا مِنْهُ“، اسی طرح یاد رکھو اگر بیوی نے خاوند کو خریدا تو جیسے ہی بیوی خاوند کو خریدے گی ساتھ ہی نکاح ختم ہو گیا، جب نکاح ختم ہو گیا تو اب خاوند طلاق بھی دے وہ طلاق واقع نہیں ہوگی وہ لغو چلی جائے گی۔ تو کہتے ہیں: ”وَكَذَا إِذَا مَلَكَتْهُ أَوْ شِقْصًا مِنْهُ“ اور اسی طرح اگر بیوی مالک بن گئی اپنے خاوند کی یا اس کے ایک حصے کی ”لَا يَقَعُ الطَّلَاقُ“ تو پھر اس صورت میں بھی طلاق واقع نہیں ہوگی ”لِمَا قُلْنَا مِنَ الْمُنَافَاةِ“ اس وجہ سے جو ہم نے کہا منافات کے کہ ملکِ نکاح اور ملکِ یمین میں منافات ہے بھئی۔ ”وَعَنْ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ أَنَّهُ يَقَعُ لِأَنَّ الْعِدَّةَ وَاجِبَةٌ“، جبکہ امام محمد رحمہ اللہ سے ایک روایت یہ ہے کہ طلاق واقع ہو جائے گی۔ جی۔ اگر بیوی نے خاوند کو خریدا ہے، اگر بیوی نے خاوند کو خریدا ہے اور پھر خاوند نے طلاق دے دی خریدنے کے بعد، تو امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک یہ طلاق واقع ہو جائے گی۔ اگر خاوند نے بیوی کو خریدا اور پھر خاوند طلاق دیتا ہے تو اس صورت میں وہ بھی فرماتے ہیں کہ طلاق واقع نہیں ہوگی کیونکہ نکاح ختم ہو گیا۔ جی۔ تو بھئی یہاں کیوں واقع ہوگی جب بیوی نے خاوند کو خریدا ہے؟ اس وقت بھی تو نکاح ٹوٹ گیا۔ کہتے ہیں یہ جو عورت ہے اس پر عدت واجب ہے۔ جی۔ یہ جو عورت ہے، دیکھو ادھر دیکھو یہ اچھی طرح سمجھ لو یہ ذرا مشکل جگہ ہے۔ خاوند جب بیوی کو خریدے گا تو نکاح ٹوٹ گیا، نکاح ٹوٹ گیا اور یہ خاوند کی باندی بن گئی، تو یہ آقا بن گیا اور یہ عورت اس کی مملوکہ بن گئی اور اپنی باندی سے تو آقا کے لیے صحبت جائز ہوتی ہے لہٰذا یہاں پر بھی یہ آقا اس عورت سے اب صحبت کر سکتا ہے معلوم ہوا اس عورت پر عدت نہیں ہے۔ جی۔ معلوم ہوا اس عورت پر عدت نہیں، ابھی اس کا نکاح ٹوٹا ہے لیکن پھر بھی آقا کے لیے اس کے ساتھ صحبت جائز ہے وہی آقا جو پہلے اس کا خاوند تھا۔ جی۔ تو اس کے لیے صحبت جائز ہے تو معلوم ہوا اس عورت پر عدت نہیں ہے جبکہ اگر عورت نے خاوند کو خریدا، عورت نے خاوند کو خریدا ہے تو ساتھ ہی نکاح ٹوٹ گیا۔ نکاح ٹوٹ گیا اور یہ اس کا کیا بن گیا؟ غلام بن گیا، توجہ ہے؟ تو اب یہ عورت اس خاوند کو آزاد کر کے اس کے ساتھ نکاح کرنا چاہتی ہے تو یاد رکھو اس کو عدت گزارنا پڑے گی فوراً نکاح نہیں کر سکتی۔ جی۔ توجہ ہے؟ عورت نے اپنے خاوند کو خریدا، خریدتے ہی نکاح ٹوٹ گیا اور یہ خاوند اب اس کا غلام بن گیا ہے۔ غلام بن گیا، عورت اب اس سے کیا کرنا چاہتی ہے؟ نکاح۔ اپنے غلام سے تو نکاح نہیں ہو سکتا، اس کو آزاد کرے گی پھر نکاح کرے گی اور یاد رکھو اس عورت پر عدت واجب ہے، اب اس کو عدت تین حیض گزارنے پڑیں گے پھر اس کے بعد ہی یہ اس کے ساتھ نکاح کر سکے گی اگر اس کو وہ آزاد کر دے۔ ہے، پھر بھی عدت گزارنا پڑے گی۔ توجہ ہے؟ تو امام محمد رحمہ اللہ کی دلیل چل رہی ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ جب خاوند بیوی کو خریدتا ہے، تو اس وقت بھی نکاح ٹوٹ جاتا ہے، لیکن خاوند ہے، اس کے لیے فورا اب اس کے ساتھ وطی جائز، کیونکہ وہ اب اس کی مملوکہ ہے بھئی۔ تو معلوم ہوا یہاں عدت نہیں۔ لیکن عورت اپنے خاوند کو خریدتی ہے، تو وہاں اس کو آزاد کر کے فورا نکاح نہیں کر سکتی، تو معلوم ہوا وہاں عدت واجب ہے۔ عدت واجب، اور جب عدت واجب ہے، عورت نے کس کو خریدا؟ اپنے خاوند کو۔ خریدتے ہی نکاح ٹوٹ گیا اور نکاح ٹوٹتے ہی عورت پر کیا آ گئی؟ عدت آ گئی۔ اور عدت کے دوران خاوند طلاق دے تو طلاق واقع ہو جاتی ہے۔ لہٰذا امام محمد فرماتے ہیں یہ خاوند جو جس کو عورت نے خریدا ہے، یہ اگر اس کو طلاق دے گا اپنی بیوی کو تو طلاق واقع ہو جائے گی، کیونکہ عدت کے اندر طلاق واقع ہو جاتی ہے۔ دلیل سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو کہتے ہیں: ”وَعَنْ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللّٰهُ“ اور امام محمد رحمہ اللہ سے روایت ہے ”أَنَّهُ يَقَعُ“ کہ اس صورت میں طلاق واقع ہو جائے گی جب بیوی نے خاوند کو خریدا ہے، ”لِأَنَّ الْعِدَّةَ وَاجِبَةٌ“ اس لیے کیونکہ یہ عدت اس عورت پر واجب ہے، ”بِخِلَافِ الْفَصْلِ الْأَوَّلِ“ بخلاف پہلی فصل کے یعنی پہلی صورت کے جب خاوند نے بیوی کو خریدا تھا، وہاں عدت واجب نہیں ہے ”لِأَنَّهُ لَا عِدَّةَ هُنَالِكَ“ اس لیے کیونکہ وہاں پر کوئی عدت نہیں ہے ”حَتَّى حَلَّ وَطْؤُهَا لَهُ“ یہاں تک کہ خاوند کے لیے اس سے صحبت جائز ہوتی ہے، اب وہ آقا بن چکا ہے اور اس کے لیے صحبت جائز ہے، معلوم ہوا وہاں عدت نہیں بھئی۔ تو یہ امام محمد رحمہ اللہ کی ایک روایت اور ان کی دلیل ذکر کر دی صاحبِ ہدایہ نے۔ توجہ ہے؟ ظاہرِ روایت میں تو کیا آیا؟ کہ چاہے خاوند خریدے، چاہے بیوی خریدے۔ ساتھ ہی نکاح ٹوٹ جائے گا اور پھر خاوند طلاق دے گا تو طلاق واقع نہیں، چاہے بیوی نے خریدا ہے، چاہے خاوند نے اسے خریدا ہے۔ طلاق واقع نہیں، لیکن امام محمد رحمہ اللہ سے ایک روایت کیا ہے کہ اگر بیوی نے خاوند کو خریدا ہے اور نکاح ٹوٹ گیا ہے اور خاوند پھر طلاق دیتا ہے عدت کے اندر تو طلاق واقع ہو جائے گی۔ کیونکہ اس پر عدت ہے اور عدت کے اندر طلاق واقع ہو جاتی ہے۔ تو یہ امام محمد رحمہ اللہ کی دلیل ذکر کی، صاحبِ ہدایہ نے اس کا جواب ذکر نہیں فرمایا بھئی، جواب ذکر نہیں فرمایا، تو اور شارحین جواب دیتے ہیں۔ شارحین جواب یہ دیتے ہیں کہ اس عورت پر، یہ جو بیوی نے اپنے خاوند کو خریدا ہے، اس پر عدت واجب ہوئی ہے، لیکن یہ عدت جدائی والی عدت ہے، یہ طلاق والی عدت نہیں ہے۔ ایک ہوتی ہے معتدۃ الطلاق، وہ عورت جو عدت گزار رہی ہے طلاق والی، اور ایک ہوتی ہے معتدۃ الفرقۃ، جو جدائی والی عدت گزار رہی ہے۔ طلاق اس عورت پر واقع ہوتی ہے جو معتدۃ الطلاق ہوتی ہے، جو معتدۃ الفرقۃ ہوتی ہے اس پر طلاق واقع نہیں۔ جیسے آپ نے مسئلہ پڑھا، ایک عورت نے خاوند کے دوسری بیوی کے بیٹے سے غلط تعلق قائم کر لیا، تو اس کو مطاوعت کہتے ہیں۔ مطاوعت کا معنی ساتھ دینا۔ ایک شخص نے ایک عورت سے نکاح کیا اور اس نے اس شخص کی دوسری بیوی سے جو بیٹا تھا، اس کے ساتھ غلط تعلق قائم کر لیا، تو اس مطاوعت کی وجہ سے یہ عورت خاوند پر حرام ہو گئی۔ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے حرمتِ مصاہرت کی وجہ سے۔ توجہ ہے؟ تو اس عورت کے ساتھ اگر خاوند صحبت کر چکا ہے، خاوند صحبت کر چکا ہے پھر تو اس پر بھی عدت آئے گی بھئی، لیکن یہ کون سی عدت ہے؟ یہ جدائی والی عدت ہے، یہ کوئی طلاق والی عدت نہیں ہے، لہٰذا اس کو خاوند طلاق دے گا تو وہ طلاق واقع نہیں ہو گی بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو امام محمد رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ بیوی اپنے خاوند کو خریدے اور پھر بعد میں خاوند عدت کے اندر طلاق دے تو طلاق واقع ہو جائے گی، کیونکہ عورت پر عدت واجب ہے اور عدت کے اندر طلاق واقع ہو جاتی ہے۔ اس کا جواب دے رہے ہیں کہ بھئی یہ جو عورت عدت گزار رہی ہے، یہ جدائی والی عدت ہے، طلاق والی عدت نہیں۔ طلاق والی عدت ہو، اس کے اندر طلاق واقع ہو جاتی ہے، جو جدائی والی عدت ہو اس کے اندر طلاق واقع نہیں ہوتی، لہٰذا یہاں بھی طلاق واقع نہیں ہو گی بھئی۔ اور نیز، نیز امام محمد رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ وہ عورت جس کو خاوند نے خریدا، تو خریدتے ہی نکاح ٹوٹ گیا، لیکن خاوند کے لیے صحبت جائز، معلوم ہوا اس عورت پر عدت نہیں، لیکن کہتے ہیں نہیں، یہ اس خاوند کے حق میں عدت نہیں ہے، کیونکہ اسی سے تو اس کا نکاح تھا جو اب مالک بن گیا ہے، اس کے حق میں عدت نہیں ہے۔ اگر یہ عورت اس کا کسی اور سے نکاح کرواتا ہے آقا، تو پھر عدت اس کے لیے بھی ضروری ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ معلوم ہوا اس پر بھی جس کو خاوند نے خریدا ہے، اس پر بھی عدت آتی ہے لیکن خود اپنے خاوند کے حق میں وہ عدت ظاہر نہیں ہوتی، باقیوں کے حق میں وہ عدت ظاہر ہو گی، وہاں بغیر عدت کے نکاح جائز نہیں بھئی۔ ”وَإِنْ قَالَ لَهَا وَهِيَ أَمَةٌ لِغَيْرِهِ: أَنْتِ طَالِقٌ ثِنْتَيْنِ مَعَ عِتْقِ مَوْلَاكِ إِيَّاكِ فَأَعْتَقَهَا مَلَكَ الزَّوْجُ الرَّجْعَةَ“ صورتِ مسئلہ یہ ہے: ایک شخص نے غیر کی باندی سے نکاح کیا ہوا ہے، وہ خاوند جو ہے اپنی بیوی سے کہتا ہے: ”أَنْتِ طَالِقٌ ثِنْتَيْنِ مَعَ عِتْقِ مَوْلَاكِ إِيَّاكِ“ کہ جب تیرا آقا تجھے آزاد کرے تو اس کے ساتھ تجھے دو طلاقیں ہیں۔ تو طلاق کو معلق کر دیا آقا کے آزاد کرنے کے ساتھ، کہ جب تیرا آقا تجھے آزاد کرے تو اس کے ساتھ تجھے دو طلاقیں ہیں بھئی۔ اب آقا نے اس کو آزاد کر دیا۔ تو یہ تو باندی تھی اور باندی کی تو دو طلاقیں ہوتی ہیں، اور جب آزاد کیا تو اب اس کی طلاقیں کتنی ہو گئیں؟ تین ہو گئیں۔ تو اب جیسے ہی آقا آزاد کرے گا، ساتھ ہی دو طلاقیں اس پر پڑ جائیں گی، تو کیا یہ اب بھی خاوند کے لیے حلال ہے؟ کیا اب اس کی طلاقیں تین بن گئی ہیں؟ تو کیا اب بھی خاوند رجوع کر سکتا ہے یا نہیں؟ تو آپ کو بتلائیں گے کہ ہاں، خاوند ابھی بھی رجوع کر سکتا ہے۔ اس لیے کیونکہ یہ طلاقیں آزادی کے بعد واقع ہوئی ہیں، اور آزاد ہوتے ہی عورت کی طلاقیں تین ہو گئیں۔ جیسے ہی عورت آزاد ہوئی، اسی لمحے کے اندر طلاق بھی آ گئی، لیکن آزاد ہو چکی ہے، تو طلاق کس پر واقع ہوئی؟ آزاد عورت پر، اور آزاد عورت کی تو کتنی طلاقیں ہیں؟ تین۔ اور خاوند نے تو کتنی دی تھیں؟ دو، لہٰذا دو واقع ہو گئیں، ابھی بھی ایک طلاق باقی ہے، لہٰذا خاوند رجوع کر سکتا ہے۔ خاوند رجوع کر سکتا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ قَالَ لَهَا وَهِيَ أَمَةٌ لِغَيْرِهِ“ اور اگر خاوند نے اپنی بیوی سے کہا اس حال میں کہ یہ کسی دوسرے کی باندی ہے، ”أَنْتِ طَالِقٌ ثِنْتَيْنِ مَعَ عِتْقِ مَوْلَاكِ إِيَّاكِ“ کہ تجھے دو طلاقیں ہیں ”مَعَ عِتْقِ مَوْلَاكِ إِيَّاكِ“ تیرے آقا کے تجھے آزاد کرنے کے ساتھ، ”فَأَعْتَقَهَا“ تو آقا نے اس کو آزاد کر دیا، ”مَلَكَ الزَّوْجُ الرَّجْعَةَ“ تو خاوند جو ہے رجوع کا مالک ہے۔ اچھا بھئی، یہاں پر ایک دو باتیں، ایک دو چیزیں سمجھ لیں۔ یاد رکھو ایک ہے اعتاق اور ایک ہے عتق۔ أَعْتَقَ يُعْتِقُ إِعْتَاق کا معنی ہے آزاد کرنا، اور یہ مالک کا فعل ہوتا ہے۔ اور پھر جب وہ مالک آزاد کرے گا تو آزادی آ جائے گی، اور آزادی کو کہتے ہیں عتق بھئی۔ تو اعتاق وہ مالک کا فعل ہے اور عتق اس کا اثر ہے، یعنی یوں کہو اعتاق علت ہے اور عتق اس کا اثر اور حکم یعنی معلول ہے۔ اعتاق علت ہے اور عتق جو ہے وہ اس کا معلول ہے، اس کا اثر ہے، اس کا حکم ہے۔ مالک جب آزاد کرے گا تو وہ باندی آزاد ہو جائے گی بھئی۔ اسی طرح یاد رکھنا، ایک ہے تطلیق، ایک ہے طلاق بھئی۔ یہ بات میں نے پہلے بھی ذکر کی، تطلیق بھئی، طَلَّقَ يُطَلِّقُ تَطْلِيقًا کا معنی ہے طلاق دینا، اور یہ خاوند کا فعل ہے۔ یہ خاوند کا فعل ہے، طلاق وہ دیتا ہے۔ پھر جب وہ تطلیق کرے گا تو طلاق آ جائے گی، وہ عورت طلاق والی ہو گئی۔ تو تطلیق جو ہے وہ خاوند کا فعل ہے اور طلاق اس کا اثر ہے بھئی۔ جیسے اعتاق مالک کا فعل ہے اور عتق اس کا اثر ہے۔ توجہ ہے؟ تو یہاں پر دیکھو متن کے اندر آیا، متن کے اندر ذرا خاوند کے الفاظ پہ غور کریں۔ خاوند نے کہا: ”أَنْتِ طَالِقٌ ثِنْتَيْنِ“ تجھے دو طلاقیں ہیں ”مَعَ عِتْقِ مَوْلَاكِ إِيَّاكِ“، یہاں عتق کے بجائے اعتاق ہونا چاہیے تھا: ”مَعَ إِعْتَاقِ مَوْلَاكِ إِيَّاكِ“ تیرے آقا کے تجھے آزاد کرنے کے ساتھ۔ لیکن متن کے اندر تو کیا آیا ہے؟ عتق کا لفظ آیا ہے۔ عتق کا کیا معنی؟ آزاد ہونا، اور اعتاق کا کیا معنی؟ آزاد کرنا۔ تو پھر آگے آپ کو صاحبِ ہدایہ بتلائیں گے کہ یہ عتق بمعنی اعتاق کے کر لیں۔ یہ عتق کس معنی میں کر لیں؟ بمعنی اعتاق کے بھئی۔ لفظ ایک دوسرے کی جگہ پر استعمال ہو جاتے ہیں، تو عتق یہاں کس معنی میں؟ اعتاق یعنی مجازی معنی میں ہے۔ عتق یہاں مجازی معنی میں ہے کیونکہ اس کا اپنا معنی تو اعتاق نہیں ہے بھئی۔ یا اس عتق کے ساتھ اعتاق کو محذوف نکال لیں۔ کیونکہ اعتاق کے بغیر عتق ہو نہیں سکتا۔ تو یا تو اسی عتق کے لفظ کو اعتاق کے معنی میں لینا پڑے گا یا اس عتق کے ساتھ اعتاق کا لفظ مقدر نکالنا پڑے گا۔ گویا خاوند نے یوں کہا: ”أَنْتِ طَالِقٌ ثِنْتَيْنِ مَعَ عِتْقٍ بِإِعْتَاقِ مَوْلَاكِ إِيَّاكِ“ ”مَعَ عِتْقٍ بِإِعْتَاقِ مَوْلَاكِ إِيَّاكِ“ تجھے دو طلاقیں ہیں ”مَعَ عِتْقٍ“ اس آزادی کے ساتھ ”بِإِعْتَاقِ مَوْلَاكِ إِيَّاكِ“ جو تیرے آقا کے تجھے آزاد کرنے کی وجہ سے آئے۔ تو یہاں پر یا تو عتق کو اپنے ہی معنی میں رکھیں اور ”بِإِعْتَاقٍ“ آگے مقدر الگ نکال لیں، یا اس عتق کو ہی کس معنی میں لے لیں؟ اعتاق کے معنی میں لے لیں یعنی مجازی معنی میں لے لیں۔ اب دیکھیے بھئی: ”لِأَنَّهُ عَلَّقَ التَّطْلِيقَ بِالْإِعْتَاقِ أَوِ الْعِتْقِ“ ”لِأَنَّهُ عَلَّقَ التَّطْلِيقَ“ اس لیے کیونکہ خاوند نے معلق کر دیا ہے ”التَّطْلِيقَ“ کس کو؟ طلاق دینے کو۔ ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کیا ہے؟ تطلیق ہے۔ ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کے ذریعے خاوند کیا کر رہا ہے؟ طلاق دے رہا ہے۔ تو ”لِأَنَّهُ عَلَّقَ التَّطْلِيقَ“ اس لیے کیونکہ خاوند نے معلق کر دیا ہے اپنے طلاق دینے کو ”بِالْإِعْتَاقِ“ آزاد کرنے کے ساتھ ”أَوِ الْعِتْقِ“ یا آزادی کے ساتھ، یہ وہی دونوں معنی بیان کر رہے ہیں۔ خاوند نے لفظ تو کیا ذکر کیا ہے؟ ”مَعَ عِتْقِ“، لیکن یا تو اس سے مراد اعتاق ہے یا عتق اپنے ہی معنی میں ہے اور اعتاق یہاں البتہ محذوف نکال لیں گے۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ عَلَّقَ التَّطْلِيقَ بِالْإِعْتَاقِ أَوِ الْعِتْقِ“ اس لیے کیونکہ خاوند نے تطلیق کو معلق کر دیا ہے اعتاق یا عتق کے ساتھ، ”لِأَنَّ اللَّفْظَ يَنْتَظِمُهُمَا“ اس لیے کیونکہ یہ لفظ دونوں کو شامل ہے، یعنی یہ جو عتق کا لفظ آیا اس کو اپنے حقیقی معنی میں بھی آپ رکھ سکتے ہیں اور آپ اس کو مجازی معنی اعتاق میں بھی لے سکتے ہیں بھئی۔ ”لِأَنَّ اللَّفْظَ يَنْتَظِمُهُمَا“ اس لیے کیونکہ یہ لفظ جو ہے یہ دونوں کو شامل ہے، یہ عتق کا لفظ دونوں کو شامل ہے، آپ چاہیں اس کو اس کے حقیقی معنی میں رکھیں یعنی عتق کر لیں اس کا معنی اور ”بِإِعْتَاقٍ“ الگ محذوف نکال لیں، یا آپ اس عتق کو مجازی معنی میں کر لیں اور اعتاق اسی کا معنی کر لیں۔ تو یہ لفظ ”لِأَنَّ اللَّفْظَ يَنْتَظِمُهُمَا“ اس لیے کیونکہ لفظ دونوں کو شامل ہے یعنی عتق اور اعتاق کو۔ جی آگے دیکھیے: ”وَالشَّرْطُ مَا يَكُونُ مَعْدُومًا عَلَى خَطَرِ الْوُجُودِ“ بھئی دیکھیے، متن میں کیا آیا ذرا پھر دیکھیں، یہ عبارت خاوند نے جو کہا بیوی سے: ”أَنْتِ طَالِقٌ ثِنْتَيْنِ مَعَ عِتْقِ مَوْلَاكِ إِيَّاكِ“، یہاں تو کوئی شرط جزا نہیں ہے۔ یہاں تو کوئی شرط جزا نہیں ہے، خاوند ”مَعَ“ کا لفظ ذکر کر رہا ہے، تجھے دو طلاقیں ہیں تیرے آقا کے آزاد کرنے کے ساتھ۔ تو یہاں تو شرط اور جزا ہے ہی نہیں، تعلیق ہے ہی نہیں، لیکن صاحبِ ہدایہ نے پیچھے کیا کہا: ”لِأَنَّهُ عَلَّقَ التَّطْلِيقَ بِالْإِعْتَاقِ أَوِ الْعِتْقِ“ کہ خاوند نے تطلیق کو معلق کیا ہے اعتاق یا عتق کے ساتھ۔ تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ تعلیق یہاں کہاں پر ہے؟ یہاں پر تو ”مَعَ“ کا لفظ ہے بھئی، یہاں تو تعلیق نہیں ہے، تو صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے بھئی کہ یہاں پر تعلیق ہے، اس لیے کیونکہ شرط جو ہوتی ہے، شرط اس کو کہتے ہیں جو فی الحال تو موجود نہیں لیکن اس کے ہونے کا امکان ہو اور اس کے ساتھ حکم کا تعلق ہو، اس کو شرط کہتے ہیں۔ تو جس وقت خاوند نے بیوی سے کہا، تو اس وقت ابھی اعتاق نہیں ہوا، وہ آزاد نہیں ہوئی، اور نیز اس اعتاق کے ساتھ اس کی طلاق کا تعلق ہے، طلاق کا جو حکم ہے اس کا، تو لہٰذا اس کو شرط کہیں گے۔ کیا کہیں گے؟ شرط کسے کہتے ہیں؟ جو تکلم کے وقت تو موجود نہیں البتہ اس کے ہونے کا امکان ہے اور نیز اس کے ساتھ اس حکم کا تعلق بھی ہے۔ تو یہاں پر اعتاق بھی ایسا ہی ہے، یہ جس وقت خاوند نے یہ بات کی ہے اعتاق ابھی نہیں ہے، معدوم ہے، لیکن اس کے ہونے کا امکان ہے کہ شاید آقا کسی وقت آزاد کر دے، اور نیز اعتاق کے ساتھ حکم کا تعلق بھی ہے، جب وہ اعتاق کرے گا تو ساتھ یہ دو طلاقیں بھی واقع ہو جائیں گی، تو اس چیز کو شرط کہتے ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ دیکھیے بھئی، تو کہتے ہیں: ”وَالشَّرْطُ مَا يَكُونُ مَعْدُومًا عَلَى خَطَرِ الْوُجُودِ“ کہ شرط جو ہے وہ چیز ہوتی ہے ”مَا يَكُونُ مَعْدُومًا“ جو معدوم ہوتی ہے ”عَلَى خَطَرِ الْوُجُودِ“ لیکن اس کے وجود کا امکان ہوتا ہے۔ شرط وہ چیز ہے جو تکلم کے وقت معدوم ہوتی ہے لیکن اس کے وجود کا امکان ہے، مثلاً خاوند نے بیوی سے کہا: ”أَنْتِ طَالِقٌ إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ“ تجھے طلاق ہے اگر تو اس گھر میں گئی۔ تو دیکھو اس وقت اس گھر میں جانا موجود نہیں لیکن امکان ہے اور نیز اس کے ساتھ حکم کا بھی تعلق ہے، جب اس گھر میں جائے گی تو طلاق ہو جائے گی۔ تو کہتے ہیں: ”وَالشَّرْطُ مَا يَكُونُ مَعْدُومًا عَلَى خَطَرِ الْوُجُودِ“ شرط وہ چیز ہوتی ہے جو معدوم ہوتی ہے لیکن اس کے وجود کا امکان ہوتا ہے ”وَلِلْحُكْمِ تَعَلُّقٌ بِهِ“ اور حکم کا بھی اس سے تعلق ہوتا ہے، ”وَالْمَذْكُورُ بِهَذِهِ الصِّفَةِ“ اور جو آزادی جو ذکر کی گئی وہ بھی اسی صفت پر ہے، خاوند نے جب طلاق دی اس وقت آزادی موجود نہیں اور اس کے ہونے کا امکان ہے، اور نیز اس کے ساتھ طلاق کے حکم کا تعلق بھی ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْمَذْكُورُ بِهَذِهِ الصِّفَةِ“ اور وہ عتق جس کو ذکر کیا گیا وہ بھی اسی صفت پر ہے، ”وَالْمُعَلَّقُ بِهِ التَّطْلِيقُ“ اور وہ چیز جس کو اس آزادی کے ساتھ معلق کیا گیا ہے وہ تطلیق ہے یعنی خاوند کا طلاق دینا ہے۔ بھئی تطلیق کو معلق کیا ہے، طلاق کو نہ کہیں معلق کیا ہے، کس کو؟ تطلیق، کیونکہ خاوند کا فعل تطلیق ہے، خاوند طلاق دے سکتا ہے، اور طلاق دینے کے بعد جو طلاق آتی ہے وہ کوئی خاوند کے اختیار سے نہیں آتی، وہ شرعاً اس تطلیق کے بعد خود بخود طلاق آ جاتی ہے۔ تو طلاق خاوند کے اختیار میں نہیں ہے بلکہ تطلیق خاوند کے اختیار میں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْمُعَلَّقُ بِهِ التَّطْلِيقُ“ اور وہ چیز جس کو معلق کیا گیا ہے وہ تطلیق ہے، ”لِأَنَّ فِي التَّعْلِيقَاتِ يَصِيرُ التَّصَرُّفُ تَطْلِيقًا عِنْدَ الشَّرْطِ عِنْدَنَا“ ادھر دیکھیے بھئی، میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ ہمارے نزدیک معلق معلق وہ سبب بنتا ہے جب شرط پائی جائے۔ معلق جو ہوتا ہے وہ سبب بنتا ہے جب شرط پائی جائے، اس سے پہلے وہ سبب ہی نہیں، جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک معلق سبب بنتا ہے عند التکلم، حکم اس کا مؤخر ہو جاتا ہے اور وہ کب پایا جائے گا؟ جب شرط پائی جائے گی۔ اب وہی بیان کر رہے ہیں: ”لِأَنَّ فِي التَّعْلِيقَاتِ“ اس لیے کیونکہ تعلیقات کے اندر ”يَصِيرُ التَّصَرُّفُ تَطْلِيقًا عِنْدَ الشَّرْطِ عِنْدَنَا“ کہ یہ جو طلاق والا تصرف ہے یہ تطلیق بنے گا عند الشرط جب شرط پائی جائے گی ہمارے نزدیک۔ یہ جو خاوند نے کہا ”أَنْتِ طَالِقٌ ثِنْتَيْنِ“ یہ طلاق کا سبب بنے گا، یہ معلق ہے اور معلق جو ہے وہ سبب بنتا ہے کب؟ جب شرط پائی جائے، جب شرط پائی جائے تو پھر معلق سبب بنتا ہے، اس سے پہلے وہ سبب نہیں، یہی بیان کر رہے ہیں: ”لِأَنَّ فِي التَّعْلِيقَاتِ يَصِيرُ التَّصَرُّفُ تَطْلِيقًا“ اس لیے کیونکہ تعلیقات کے اندر یہ جو تصرف ہے تطلیق والا، یہ تطلیق بنتا ہے عند الشرط شرط کے وقت ہمارے نزدیک۔ ”وَإِذَا كَانَ التَّطْلِيقُ مُعَلَّقًا بِالْإِعْتَاقِ أَوِ الْعِتْقِ يُوجَدُ بَعْدَهُ“ اب دیکھیے، یہ تطلیق معلق ہے کس کے ساتھ؟ عتق یا اعتاق کے ساتھ۔ تطلیق معلق ہے؟ عتق یا اعتاق کے ساتھ۔ بھئی پیچھے عتق کا لفظ ذکر تھا، چاہے عتق لے لیں، چاہے اعتاق اس سے معنی لے لیں، دونوں بھئی، جب مالک اعتاق کرے گا تو ساتھ ہی عتق بھی آ جائے گا۔ تو چاہے آپ اس کو اعتاق کے ساتھ معلق قرار دے دیں، چاہے عتق کے ساتھ معلق قرار دے دیں، تو جس وقت عتق یا اعتاق پایا جائے گا، اس وقت تطلیق پائی جائے گی، اور تطلیق کے بعد پھر آگے طلاق آئے گی۔ تو معلوم ہوا جو طلاق ہے وہ عتق کے بعد آئے گی، اور عتق کے بعد تو طلاقیں کتنی ہو چکیں؟ تین، تو آزادی کے بعد یہ دو طلاقیں آ رہی ہیں، تو ابھی بھی ایک طلاق باقی ہے، لہٰذا خاوند رجوع کر سکتا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِذَا كَانَ التَّطْلِيقُ مُعَلَّقًا بِالْإِعْتَاقِ أَوِ الْعِتْقِ“ اور جب تطلیق جو ہے وہ معلق ہے اعتاق یا عتق کے ساتھ ”يُوجَدُ بَعْدَهُ“ تو یہ تطلیق ان کے بعد پائی جائے گی، ”ثُمَّ الطَّلَاقُ يُوجَدُ بَعْدَ التَّطْلِيقِ“ پھر تطلیق کے بعد طلاق پائی جائے گی، کیونکہ طلاق کیا ہے؟ تطلیق کا اثر ہے، تو وہ اس کے بعد پائی جائے گی ”فَيَكُونُ الطَّلَاقُ مُتَأَخِّرًا عَنِ الْعِتْقِ“ تو طلاق جو ہے وہ مؤخر ہو جائے گی آزادی سے، ”فَيُصَادِفُهَا“ تو یہ طلاق ملاقات کرے گی اس عورت سے ”وَهِيَ حُرَّةٌ“ اس حال میں کہ یہ آزاد ہو گی۔ یعنی طلاق اس سے ملاقات کرے گی یعنی اس پر واقع ہو گی ”وَهِيَ حُرَّةٌ“ اس حال میں کہ یہ عورت آزاد ہو چکی ہے، ”فَلَا تَحْرُمُ حُرْمَةً غَلِيظَةً بِالثِّنْتَيْنِ“ تو اب یہ آزاد عورت دو طلاقوں سے حرمتِ غلیظہ کے ساتھ حرام نہیں ہو گی۔ حرمتِ غلیظہ کے ساتھ یہ حرام نہیں ہو گی، اگر یہ باندی ہوتی تو باندی کی تو تھیں ہی دو طلاقیں، پھر تو حرمتِ غلیظہ آ جاتی، پھر تو خاوند کے لیے رجوع کی کوئی صورت نہ رہتی، لیکن طلاق تو اس پر اس وقت واقع ہوئی ہے جب یہ آزاد ہو چکی ہے، تو اب اس کی طلاقیں تین ہو گئی تھیں، اور ساتھ ہی دو واقع ہو گئیں، تو اب بھی ایک طلاق باقی ہے، خاوند رجوع کر سکتا ہے۔ یہ معنی ہے ”فَلَا تَحْرُمُ حُرْمَةً غَلِيظَةً بِالثِّنْتَيْنِ“ تو یہ عورت حرمتِ غلیظہ کے ساتھ حرام نہیں ہو گی دو طلاقوں سے۔ ”يَبْقَى شَيْءٌ: وَهُوَ أَنَّ“ جی، صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں، اوپر ”مَعَ“ لفظ آیا تھا خاوند کے کلام میں ”مَعَ“ آیا تھا: ”أَنْتِ طَالِقٌ ثِنْتَيْنِ مَعَ عِتْقِ مَوْلَاكِ إِيَّاكِ“، تو خاوند نے تو ”مَعَ“ ذکر کیا ہے، اور ”مَعَ“ کا معنی تو ہے ساتھ ساتھ، اور یہ تو تقاضا کیا کرتا ہے کہ عتق کے ساتھ ہی، اعتاق کے ساتھ ہی کیا ہونی چاہیے؟ تطلیق ہونی چاہیے، توجہ ہے؟ تو اس کا بھی جواب دے رہے ہیں کہ کبھی ”مَعَ“ کا لفظ بعد کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ کبھی ”مَعَ“ کا لفظ بعد کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے اور یہاں بھی ایسا ہی ہے۔ ”يَبْقَى شَيْءٌ“ ایک چیز باقی رہ گئی ”وَهُوَ“ اور وہ یہ ”أَنَّ كَلِمَةَ مَعَ لِلْقِرَانِ“ کہ کلمۂ مع جو ہے قران کا معنی ملانا، ”أَنَّ كَلِمَةَ مَعَ لِلْقِرَانِ“ کہ کلمۂ مع جو ہے وہ تو قران کے لیے آتا ہے، قران کا معنی بھی ساتھ ملانا، تو مع کا معنی بھی ساتھ ہے۔ تو ”وَهُوَ أَنَّ كَلِمَةَ مَعَ لِلْقِرَانِ“ کہ کلمۂ مع جو ہے وہ تو قران کے لیے ہے ساتھ ملانے کے لیے ہے، ”قُلْنَا“ ہم کہتے ہیں ”قَدْ يُذْكَرُ لِلتَّأَخُّرِ“ کہ کبھی کبھار کلمۂ مع کو تاخر کے لیے بھی ذکر کیا جاتا ہے، مؤخر ہونے کے لیے بھی ذکر کیا جاتا ہے یعنی بعد کے معنی میں، ”كَمَا فِي قَوْلِهِ تَعَالَى“ جیسے کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول میں ہے: ﴿فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا ۙ إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا﴾، ﴿فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا﴾ عسر کہتے ہیں تنگدستی کو، تنگی کو، اور یسر کہتے ہیں آسانی اور سہولت کو اور خوشحالی کو۔ تو قرآن میں اللہ کیا فرما رہے ہیں؟ ﴿فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا﴾ یقیناً عسر کے ساتھ یسر ہے۔ اب حالانکہ ایک وقت میں ایک حالت ہو سکتی ہے، اگر عسر ہے تو یسر نہیں ہے، اور اگر یسر ہے تو عسر نہیں ہے، یہ دونوں تو ایک دوسرے کے مخالف ہیں۔ عسر کا کیا معنی؟ تنگی، اور یسر کا کیا معنی؟ آسانی۔ تو ایک وقت میں ایک چیز ہو سکتی ہے، تو مفسرین فرماتے ہیں کہ یہاں ”مَعَ“ بمعنی بعد کے ہے، کہ عسر کے بعد یسر ہے بھئی، ہر عسر کے بعد یسر ہے، کیونکہ دونوں ایک زمانے میں تو اکٹھے نہیں ہو سکتے، تو لیکن ہر تنگی کے بعد آسانی ہے، تو یہاں ”مَعَ“ کس معنی میں ہے؟ بعد کے معنی میں۔ سوال: بھئی جب بعد کے معنی میں ہے تو پھر اس ”مَعَ“ کے ذکر کرنے کا کیا فائدہ کہ ”مَعَ“ کو ذکر کیا گیا؟ تو جواب یہ تو جواب یہ: چونکہ عسر کے بعد یسر کا ہونا یقینی ہے اور یسر جو ہے عسر سے جدا نہیں ہو سکتا، اس کے ساتھ ہی رہے گا، اس لیے یہاں ”مَعَ“ کے ساتھ ذکر کیا گیا اس کو بھئی۔ تو کہتے ہیں ”كَمَا فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا ۙ إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا، فَيُحْمَلُ عَلَيْهِ“ لہٰذا اس کو اسی معنی پر یعنی تاخر والے معنی پر محمول کیا جائے گا ”بِدَلِيلِ مَا ذَكَرْنَا“ اس دلیل کی وجہ سے جو ہم نے ذکر کر دی ”مِنْ مَعْنَى الشَّرْطِ“ یعنی شرط کے معنی کی وجہ سے۔ شرط کیا ہوتی ہے؟ شرط مقدم ہوتی ہے اور مشروط مؤخر ہوتا ہے، اور ہم نے بھی بتا دیا کہ یہاں شرط والا معنی ہے، اس لیے کیونکہ شرط اس کو کہتے ہیں تکلم کے وقت جس کا وجود نہیں لیکن اس کے ہونے کا امکان ہے اور نیز اس کے ساتھ حکم کا تعلق ہو بھئی، اور یہاں پر بھی آزادی اسی طرح ہے، خاوند کے تکلم کے وقت تو آزادی نہیں لیکن اس کے ہونے کا امکان ہے، اور نیز اس کے ساتھ حکم کا بھی تعلق ہے کہ وہ آزادی ہو گی تو پھر ہی طلاق بھی واقع ہو گی بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ یہ معنی ہے ”فَيُحْمَلُ عَلَيْهِ“ لہٰذا اس ”مَعَ“ کو تاخر کے معنی پر محمول کیا جائے گا ”بِدَلِيلِ مَا ذَكَرْنَا“ اس دلیل کی وجہ سے جو ہم نے ذکر کر دی ”مِنْ مَعْنَى الشَّرْطِ“ یعنی شرط کا معنی، یعنی وہ جو شرط کا معنی تھا اس کی وجہ سے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ یہاں عتق کا لفظ ذکر ہے متن میں، لیکن یہ عتق اپنے حقیقی معنی میں بھی ہو سکتا ہے اور یہ اعتاق کے معنی میں بھی ہو سکتا ہے۔ تو اگر عتق بمعنی اعتاق کے ہوا تو یہ اس کا مجازی معنی ہے۔ اور اگر عتق کو اپنے ہی معنی میں رکھتے ہیں تو پھر اعتاق یہاں مقدر نکال لیں گے: ”أَنْتِ طَالِقٌ ثِنْتَيْنِ مَعَ عِتْقٍ بِإِعْتَاقِ مَوْلَاكِ إِيَّاكِ“، تو یہاں اعتاق ہونا ضروری ہے میں نے بتایا تھا، اس لیے کیونکہ اعتاق یہ ہے آقا کا فعل، آقا آزاد کرے گا تو عورت آزاد ہو گی، تو اعتاق ہے علت اور عتق اس کا معلول ہے، اس کا اثر ہے، اس کا حکم ہے۔ تو جب مالک اعتاق کرے گا تو عتق آ جائے گا، تو لہٰذا یا تو اس عتق کو ہی اعتاق کے معنی میں لینا پڑے گا یا یہاں پر اعتاق کو مقدر نکالنا پڑے گا کیونکہ اعتاق کے بغیر عتق نہیں ہو سکتا۔ تو لہٰذا چاہے آپ عتق کو اپنے معنی میں رکھیں، چاہے اس کو آپ اعتاق کے معنی میں لے لیں، دونوں صورتوں میں یہ جو ہے یہ شرط بنے گی، یہ شرط بنے گی ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کے لیے۔ یہ کیا بنے گی؟ شرط بنے گی ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کے لیے یعنی وہ جو تطلیق ہے۔ ”أَنْتِ طَالِقٌ“ میں خاوند کیا کر رہا ہے؟ طلاق دے رہا ہے تو یہ تطلیق ہے۔ تو معلوم ہوا تطلیق کے لیے اعتاق جو ہے وہ شرط ہے بھئی۔ اور شرط کیسے ہے؟ تو صاحبِ ہدایہ نے بتلایا تھا کہ شرط اسے کہتے ہیں جو تکلم کے وقت معدوم ہو اور اس کے ہونے کا امکان ہو، اس کے ہونے کا امکان ہو، ہو سکتا ہے ہو جائے، ہو سکتا ہے نہ ہو، تو شرط اسے کہتے ہیں جو تکلم کے وقت معدوم ہے اور اس کے ہونے کا امکان ہے اور نیز حکم کا اس کے ساتھ تعلق ہے، جیسے یہاں پر بھی جب خاوند نے ”أَنْتِ طَالِقٌ ثِنْتَيْنِ مَعَ عِتْقِ مَوْلَاكِ إِيَّاكِ“ کہا، تو ابھی عورت آزاد نہیں، تو ابھی اعتاق نہیں، لیکن اس اعتاق کے ہونے کا امکان ہے اور نیز اس کے ساتھ حکم کا بھی تعلق ہے بھئی کہ اعتاق ہو گا تو طلاق واقع ہو جائے گی بھئی۔ معلوم ہوا یہ شرط ہے، اور جب یہ شرط ہے تو پھر جب یہ شرط پائی جائے گی تو پھر وہ تطلیق بھی ہو جائے گی بھئی۔ البتہ یہاں پر پھر اشکال ہوتا ہے کہ یہاں تو ”مَعَ“ کا لفظ ذکر ہے، کس کا کیا لفظ ذکر ہے؟ ”مَعَ“ کا لفظ ذکر ہے اور ”مَعَ“ کا معنی ہوتا ہے ساتھ بھئی، ”مَعَ“ کا کیا معنی ہے؟ ساتھ۔ معلوم ہوا آزادی کے ساتھ ”أَنْتِ طَالِقٌ“ آنا چاہیے، آزادی کے ساتھ ”أَنْتِ طَالِقٌ“ آنا چاہیے حالانکہ شرط تو مقدم ہوتی ہے اور مشروط مؤخر ہوتا ہے۔ خاوند نے بیوی سے کہا: ”أَنْتِ طَالِقٌ إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ“ تجھے طلاق ہے اگر تو اس گھر میں گئی۔ تو جب گھر میں جائے گی پھر طلاق ہو گی، معلوم ہوا شرط پہلے ہوتی ہے اور مشروط بعد میں، لیکن یہاں تو ”مَعَ“ کا لفظ آ رہا ہے، تو اس کا بھی جواب دیا صاحبِ ہدایہ نے کہ ”مَعَ“ کبھی کبھار تاخر کے لیے بھی عربی زبان میں استعمال ہو جاتا ہے یعنی بعد کے معنی میں بھی استعمال ہو جاتا ہے، اور یہاں پر بھی جب جب آگے اعتاق جو ہے وہ شرط ہے تو لہٰذا یہاں پر ”مَعَ“ کو بعد کے معنی میں لے لیں گے کیونکہ شرط مقدم ہوتی ہے اور مشروط مؤخر ہوتا ہے، اس لیے ”مَعَ“ کو بعد کے معنی میں لے لیں گے۔ تو لہٰذا اعتاق کے بعد جو ہے وہ تطلیق واقع ہو گی بھئی، اور جب اعتاق ہو چکا ہے اس کے بعد تطلیق واقع ہو رہی ہے تو آزاد عورت پر طلاق واقع ہو رہی ہے، اور اس کی طلاقیں پہلے دو تھیں لیکن اب کیا ہو چکیں؟ تین، اور اب وہ دو طلاقیں واقع ہوئیں تو ابھی بھی ایک طلاق باقی ہے، خاوند رجوع کر سکتا ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ چلئے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔
160 approved lectures · 53 of 160