Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء ثاني · dars-045

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 15 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 125
📂 Choose Format:
⭐ ★★★★★ Excellent TEXT
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
آگے سبق دیکھیے بھئی۔ قَالَ: ”وَإِذَا مَضَتْ مُدَّةُ الرَّضَاعِ لَمْ يَتَعَلَّقْ بِالرَّضَاعِ تَحْرِيمٌ“ لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: ”لَا رَضَاعَ بَعْدَ الْفِصَالِ“، ”وَلِأَنَّ الْحُرْمَةَ بِاعْتِبَارِ النُّشُوءِ وَذَلِكَ فِي الْمُدَّةِ، إِذِ الْكَبِيرُ لَا يَتَرَبَّى بِهِ“، ”وَلَا يُعْتَبَرُ الْفِطَامُ قَبْلَ الْمُدَّةِ إِلَّا فِي رِوَايَةٍ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى إِذَا اسْتُغْنِيَ عَنْهُ“۔ گزشتہ سبق میں ہم نے باب القسم پڑھا تھا بھئی۔ قَسَم قاف کے فتحہ کے ساتھ میں نے بتلایا یہ مصدر ہے بمعنی تقسیم کے بھئی۔ اور یہاں اس سے مراد عورتوں کے درمیان راتوں کی تقسیم ہے، کہ کسی شخص کی ایک سے زیادہ بیویاں ہوں تو اس پر واجب ہے کہ وہ ان کے درمیان راتوں کی تقسیم کے سلسلے میں عدل کرے۔ یعنی ایک بیوی کے پاس جتنی راتیں گزارتا ہے اتنی ہی راتیں دوسری بیوی کا بھی حق ہے، اور میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ راتوں کے اندر برابری ضروری ہے دن کے اندر برابری ضروری نہیں۔ دن میں اگر ایک بیوی کے ساتھ زیادہ وقت گزارتا ہے اور دوسری کے ساتھ کم وقت گزارتا ہے تو یہ خاوند کے لیے جائز ہے بھئی۔ اور نیز میں نے یہ بھی بتلایا تھا کہ راتوں میں برابری ضروری ہے صحبت کے اندر برابری ضروری نہیں۔ اس لیے کیونکہ صحبت کا دار و مدار جو ہے وہ نشاط پر ہوتا ہے۔ میں نے بتلایا کہ نشاط کا معنی ہے انسان کا ہشاش بشاش اور مستعد ہونا، اور طبیعت کا ٹھیک ہونا اور یہ تو انسان کے اختیار میں نہیں ہے۔ لہٰذا چونکہ یہ نشاط جو ہے یہ ایک غیر اختیاری چیز ہے تو اس میں خاوند کو مکلف نہیں کیا جا سکتا کہ وہ اس میں برابری کرے بھئی۔ اور پھر آپ نے یہ بھی پڑھا کہ باندی کا حق جو ہے وہ آزاد عورت کے مقابلے میں نصف ہے، تو باندی کا حق ایک ثلث ہوگا اور آزاد عورت کا حق اس سے دگنا یعنی دو ثلث ہوگا بھئی۔ اور صاحبِ ہدایہ نے آپ کو یہ بھی بتلایا کہ سفر کے اندر عورتوں کا کوئی حق نہیں ہے، تو خاوند بیویوں کے بغیر بھی سفر کر سکتا ہے اور ان میں سے کسی ایک کو اپنی مرضی سے لے جانا چاہے تو اس کا بھی اس کو اختیار ہے۔ البتہ بہتر یہ ہے کہ وہ ان کے درمیان قرعہ اندازی کروا لے اور جس کا نام نکلے اس کو اپنے ساتھ لے جائے جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ قرعہ اندازی جو ہے واجب ہے۔ قرعہ اندازی خاوند پر واجب ہے، جبکہ ہمارے نزدیک یہ مستحب ہے بھئی۔ اور یہ بھی آپ کو بتلایا صاحبِ ہدایہ نے کہ اگر بیویوں میں سے ایک بیوی اپنی باری کسی دوسری بیوی کے لیے چھوڑ دے تو ایسا کرنا بھی جائز ہے، اور پھر بعد میں اگر وہ رجوع کرنا چاہے تو رجوع بھی کر سکتی ہے اپنی باری میں۔ اس کے بعد رضاعت کے بارے میں ہم نے پڑھنا شروع کیا تھا۔ میں نے آپ کو بتلایا کہ مدتِ رضاعت کے اندر اگر بچہ کسی عورت کا دودھ پی لیتا ہے تو اس سے حرمت ثابت ہو جاتی ہے۔ وہ بچہ جو ہے وہ اس عورت کا رضاعی بیٹا بن گیا اور وہ عورت جو ہے وہ اس کی رضاعی ماں بن گئی تو یہ ایک دوسرے پر حرام ہو گئے۔ اور فقہاء نے جو تفصیل بیان کی ایک شعر کے اندر میں نے وہ ضابطہ ذکر کر دیا کہ: از جانبِ شِیرہ دہ ہمہ خویش شوند و از جانبِ شِیر خوار زوجان و فروع کہ دودھ پلانے والی کی طرف سے تو سارے رشتہ دار بن جاتے ہیں۔ وہ عورت جس نے دودھ پلایا بچے کی ماں بن گئی، اور اس کا خاوند بچے کا رضاعی باپ بن گیا، اور یہ رضاعی ماں باپ کے جو اصول ہیں وہ بچے کے بھی اصول بن گئے، اور یہ جو رضاعی ماں باپ کی جو اولاد ہے وہ اس بچے کے رضاعی بھئی بہن بن گئے بھئی۔ تو دودھ پلانے والی کی طرف سے سب رشتہ دار بن جاتے ہیں۔ جبکہ دودھ پینے والے کی طرف سے صرف زوجان اور فروع جو ہیں وہ رشتہ دار بنتے ہیں۔ زوجان یعنی میاں بیوی اور فروع اور ان کی اولاد بھئی۔ دودھ پینے والے میں صرف میاں بیوی اور ان کی اولاد جو ہے وہ رشتہ دار بنیں گے۔ مثلاً دودھ پینے والا اگر لڑکا تھا تو یہ بڑا ہوا اس نے شادی کی تو یہ دودھ پلانے والی کا رضاعی بیٹا ہے اور اس کی جو بیوی ہے وہ رضاعی ماں باپ کے لیے بہو کے درجے میں ہے بھئی، کیونکہ جیسے حقیقی بیٹے کی بیوی بہو ہوتی ہے اسی طرح رضاعی بیٹے کی بیوی بھی بہو ہے تو یہ بہو بھی اپنے سسر پر حرام ہے بھئی۔ اپنے سسر پر حرام ہے، بیٹا اگر چھوڑ بھی دے اس کو اور بعد میں اس کا جو رضاعی سسر ہے وہ اس کے ساتھ نکاح کرنا چاہتا ہے؟ نہیں، اب اس کی کوئی صورت نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو دیکھو دودھ پینے والا رضاعی بیٹا بنا تھا اور اس کی بیوی کیا بن گئی؟ بہو بن گئی، دیکھو میاں بیوی دونوں حرام۔ یا اسی طرح اگر دودھ پینے والی لڑکی تھی تو یہ بڑی ہوئی اس نے نکاح کر لیا تو وہ جس آدمی سے نکاح کیا وہ اس لڑکی کے رضاعی ماں باپ کے لیے داماد کے درجے میں ہوا، اور جیسے حقیقی داماد جو ہے وہ اپنی ساس پر حرام ہوتا ہے اسی طرح رضاعی بیٹی کا جو داماد ہے وہ بھی ساس پر حرام ہے۔ تو دیکھا میاں بیوی دونوں حرام ہوتے ہیں اور نیز ان کی جو اولاد ہے وہ ان کے لیے رضاعی پوتے پوتیاں اور رضاعی نواسے نواسیاں ہیں لہٰذا وہ بھی ان پر، یہ جو رضاعی ماں باپ پر حرام ہیں بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ عِنْدَ الْأَحْنَافِ رضاعت قلیل ہو یا کثیر اس سے حرمت ثابت ہو جائے گی۔ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک پانچ مرتبہ بچہ ایک عورت کا دودھ پیئے گا تو پھر اس سے جو ہے رضاعت ثابت ہوگی اور میں نے یہ بھی بتلایا کہ ان کے نزدیک ایک مجلس کے اندر بچہ جتنی دفعہ بھی دودھ پی لے اس کو ایک ہی شمار کیا جائے گا۔ تو معلوم ہوا پانچ الگ الگ مجلسوں کے اندر بچہ کسی عورت کا دودھ پیئے گا تو پھر حرمت ثابت ہوگی، وہ عورت اس کی رضاعی ماں بن جائے گی اور یہ بچہ اس کا رضاعی بچہ بن جائے گا، اس سے پہلے حرمت ثابت نہیں بھئی۔ جبکہ عِنْدَ الْأَحْنَافِ قلیل اور کثیر رضاعت سب برابر ہیں۔ بچے کے پیٹ میں ایک قطرہ دودھ بھی پہنچ گیا تو یہ عورت اس کی رضاعی ماں بن گئی اور یہ بچہ اس کا رضاعی بیٹا بن گیا۔ اور پھر امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل ذکر فرمائی صاحبِ ہدایہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”لَا تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ وَلَا الْمَصَّتَانِ وَلَا الْإِمْلَاجَةُ وَلَا الْإِمْلَاجَتَانِ“۔ مَصَّةٌ بچے کا فعل ہے یعنی ایک مرتبہ دودھ کا چوسنا، اور إِمْلَاجَةٌ یہ عورت کا فعل ہے یعنی ایک مرتبہ دودھ پلانا۔ یہ مَصَّةٌ اور إِمْلَاجَةٌ میں یہ جو تا ہے یہ وحدت کی ہے بھئی۔ تو حدیث میں آ گیا کہ ”لَا تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ وَلَا الْمَصَّتَانِ وَلَا الْإِمْلَاجَةُ وَلَا الْإِمْلَاجَتَانِ“ کہ بچے کا ایک مرتبہ دودھ چوسنا یا دو مرتبہ دودھ چوسنا اور اسی طرح عورت کا ایک مرتبہ دودھ پلانا اور عورت کا دو مرتبہ دودھ پلانا یہ محرم نہیں ہے، اس سے حرمت ثابت نہیں ہوگی۔ تو اس پر اشکال ہوا کہ اس حدیث کے اندر تو پانچ مرتبہ دودھ پلانے کا ذکر نہیں ہے تو پھر یہ کیسے امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل کے طور پر صاحبِ ہدایہ نے یہ حدیث ذکر کی بھئی؟ تو میں نے جواب دیا تھا کہ یہاں دراصل مقصود کیا ہے؟ احناف کے مذہب کا رد ہے۔ عِنْدَ الْأَحْنَافِ قلیل اور کثیر رضاعت جو ہے وہ محرم ہے جبکہ عِنْدَ الشَّافِعِيِّ رحمہ اللہ پانچ مرتبہ دودھ پلائے تو پھر، پھر اس کے بعد رضاعت ثابت ہوگی۔ تو لہٰذا جب حدیث میں آ گیا کہ ایک یا دو مرتبہ دودھ پلانے سے حرمت ثابت نہیں ہوتی تو اس سے احناف کا رد ہو گیا اور جب احناف کا رد ہوا تو خود بخود شوافع کا مذہب ثابت ہو گیا کیونکہ یہاں کوئی تیسرا قول ذکر نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اور میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل جو ہے وہ حدیثِ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ یہ جو قرآن کی آیت ہے: ﴿وَأُمَّهَاتُكُمُ اللَّاتِي أَرْضَعْنَكُمْ﴾ اور تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا ہے، اس آیت کے اندر دس رضاعتوں کا ذکر تھا۔ تو پہلے دس رضاعتیں جو تھیں وہ اس کو حرمت کا سبب قرار دیا گیا تھا۔ تو اس آیت میں عَشْرُ رَضَعَاتٍ مَعْلُومَاتٍ کا ذکر تھا کہ دس معلوم رضاعتیں جو ہیں وہ حرمت کا سبب ہیں۔ پھر اس کے بعد یہ حکم منسوخ ہوا اور پانچ رضاعتوں والا حکم آ گیا کہ پانچ معلوم رضاعتیں جو ہیں وہ حرام کرنے والی ہیں۔ اور اس حدیث میں آتا ہے کہ حضور علیہ السلام کی وفات تک معاملہ اسی طرح تھا۔ حضور علیہ السلام کی وفات تک معاملہ اسی طرح تھا، معلوم ہوا کم از کم پانچ رضعات جو ہیں ان سے حرمت ثابت ہوگی۔ ہم جواب دیتے ہیں کہ قرآن کے اندر ﴿وَأُمَّهَاتُكُمُ اللَّاتِي أَرْضَعْنَكُمْ﴾ یہ مطلق ہے بھئی اور آپ کی حدیث جو ہے وہ خبرِ واحد ہے اور خبرِ واحد جو ہے اس کے ذریعے کتاب اللہ پر زیادتی جائز نہیں اور نیز یہ زیادتی بھی نسخ کے درجے میں ہے، گویا آپ اس حدیث کے ذریعے کتاب اللہ کے اطلاق کو منسوخ قرار دے رہے ہیں۔ کتاب اللہ میں تو مطلق آیا، اس میں تو پانچ رضاعتوں کا ذکر نہیں ہے، اس سے تو اتنا پتہ چلا جو بھی دودھ پلا دے معلوم ہوا وہ رضاعی ماں بن گئی بھئی۔ تو گویا آپ خبرِ واحد کے ذریعے کتاب اللہ کے اطلاق کو منسوخ قرار دے رہے ہیں حالانکہ خبرِ واحد کے ذریعے کتاب اللہ پر زیادتی اور کتاب اللہ کا نسخ جائز نہیں ہے بھئی۔ اور نیز علماء جواب دیتے ہیں کہ یہ حدیث قابلِ استدلال نہیں ہے۔ وجہ یہ، وجہ یہ کہ اس حدیث کی بعض روایتوں کے اندر تو یہ بھی ذکر ہے کہ حضور علیہ السلام کی وفات تک اس آیت کو لوگ اسی طرح تلاوت کرتے تھے، یعنی اس میں پانچ رضاعتوں کا لفظ باقاعدہ ذکر تھا، حالانکہ شوافع بھی یہاں پر یہ آیت ﴿وَأُمَّهَاتُكُمُ اللَّاتِي أَرْضَعْنَكُمْ﴾ اسی طرح پڑھتے ہیں، وہ یہاں خَمْسُ رَضَعَاتٍ مَعْلُومَاتٍ کا لفظ وہ یہاں پر نہیں پڑھتے۔ معلوم ہوا ان کے نزدیک بھی یہ حدیث قابلِ عمل نہیں ہے، اگر ان کے نزدیک یہ حدیث قابلِ عمل ہوتی پھر تو خَمْسُ رَضَعَاتٍ مَعْلُومَاتٍ کا لفظ ہونا چاہیے تھا یہاں پر، لیکن وہ بھی اس لفظ کو قرآن میں نہیں پڑھتے۔ تو اس کی تو بعض روایتوں میں کیا ذکر ہے کہ حضور علیہ السلام کی وفات تک اسی طرح لوگ تلاوت کرتے تھے، پھر تو ان کو بھی کیا کرنا چاہیے تھا؟ خَمْسُ رَضَعَاتٍ مَعْلُومَاتٍ کی تلاوت کرنی چاہیے تھی لیکن وہ بھی اس کی تلاوت نہیں کرتے، معلوم ہوا ان کے نزدیک بھی یہ حدیث حجت نہیں ہے، وہ اس پر عمل نہیں کرتے۔ شوافع پھر جواب دیتے ہیں کہ خَمْسُ رَضَعَاتٍ مَعْلُومَاتٍ کی تلاوت منسوخ ہو چکی ہے لیکن اس کا حکم باقی ہے۔ وہ کیا کہتے ہیں؟ تلاوت منسوخ ہو چکی ہے لیکن حکم باقی ہے۔ ہم کہتے ہیں نہیں، یہاں کوئی قرینہ موجود نہیں ہے کہ تلاوت منسوخ ہو چکی ہے بلکہ میں نے آپ کو جیسے بتلایا کہ بعض، اسی حدیث کی بعض روایتوں میں تو یہ لفظ بھی ہے کہ حضور علیہ السلام کی وفات تک لوگ اسی طرح تلاوت کرتے تھے، اور حضور علیہ السلام کی وفات کے بعد تو نسخ نہیں ہو سکتا بھئی۔ شوافع کیا کہتے ہیں؟ تلاوت منسوخ ہے اور حکم باقی ہے۔ تو اسی حدیث کی بعض روایتوں میں کیا آ رہا ہے کہ حضور علیہ السلام کی وفات تک لوگ اسی طرح تلاوت کرتے تھے، تو حضور علیہ السلام کی وفات کے بعد تو پھر نسخ نہیں ہو سکتا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ معلوم ہوا یہ حدیث قابلِ استدلال نہیں ہے بھئی۔ تو کتاب اللہ پر ہی عمل کیا جائے گا اور کتاب اللہ میں اللہ فرماتے ہیں: ﴿وَأُمَّهَاتُكُمُ اللَّاتِي أَرْضَعْنَكُمْ﴾ تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا۔ اس میں مطلقاً دودھ پلانے کا ذکر ہے، پانچ مرتبہ کا یہاں پر ذکر نہیں ہے لہٰذا مطلقاً کوئی عورت کسی بچے کو مدتِ رضاعت میں دودھ پلائے گی تو حرمت ثابت ہو جائے گی۔ تو ہماری دلیل ایک تو یہ آیت ہے کہ اس آیت کے اندر مطلق اِرضاع کا ذکر ہے اور نیز ہماری دلیل جو ہے یہ حدیث بھی ہے، حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: ”يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ“ کہ رضاعت کی وجہ سے بھی وہ رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں۔ دیکھو اس کے اندر بھی قلیل اور کثیر رضاعت میں کوئی فرق نہیں کیا گیا۔ معلوم ہوا قلیل رضاعت بھی محرم ہے وہ بھی حرمت پیدا کر دے گی۔ اعتراض یہاں شوافع کی طرف سے ہوتا ہے کہ یہ جو رضاعت حرمت کا سبب بنتی ہے اس کی وجہ یہ ہے کیونکہ یہ دودھ کی وجہ سے بچے کے گوشت اور ہڈیاں بنتی ہیں، تو یہ دودھ بچے کا جز بن گیا، یہ دودھ بچے کا جز بن گیا اور یہ دودھ تو جز تھا اس عورت کا، تو بچہ بھی اس کے لیے جز ہوا، اور جز تو انسان پر حرام ہوتا ہے اس لیے یہاں پر حرمت آ جاتی ہے۔ چنانچہ بعض احادیث میں بھی اس طرح کا مضمون آتا ہے بھئی کہ دودھ جو ہے گوشت اور ہڈیوں کی نشو و نما کرتا ہے۔ تو شوافع اعتراض کرتے ہیں کہ یہ رضاعت اس لیے محرم ہے کیونکہ رضاعت کی وجہ سے بچہ جب دودھ پیتا ہے تو اس دودھ سے اس کی ہڈیاں اور گوشت بنتے ہیں، گویا یہ بچے کا جز بن گیا۔ یہ دودھ بچے کا جز بن گیا اور یہ دودھ تو جز تھا اس عورت کا، تو بچہ بھی اس کے لیے جز ہوا، اور جز جو ہے انسان پر حرام ہوتا ہے اس لیے یہاں پر حرمت آ جاتی ہے۔ تو جب یہ جزئیت جو ہے یہ اس حرمت کا سبب ہے تو لہٰذا قلیل رضاعت سے یہ حرمت ثابت نہیں ہونی چاہیے۔ قلیل، کچھ نہ کچھ تو رضاعت ہو جس سے میں کہا جا سکے، اتنا دودھ تو بچہ کم از کم پیئے کہ ہم کہہ سکیں اس سے اس کی گوشت اور ہڈیاں بنی ہوں گی، لہٰذا قلیل دودھ پینے سے رضاعت ثابت نہیں ہونی چاہیے۔ ہم جواب دیتے ہیں، صاحبِ ہدایہ جواب دیتے ہیں کہ ہاں آپ کی بات ٹھیک ہے، یہ جو حرمت آتی ہے رضاعت میں اس کا سبب جزئیت ہے کہ بچہ کیا ہے ماں کا جز بن جاتا ہے، لیکن یہ دودھ کا بچے کا جز بننا یہ تو ایک امرِ باطنی ہے، یہ تو ایک چھپی ہوئی چیز ہے جو ہمیں نظر نہیں آتی، لہٰذا اس پر حرمت کا مدار نہیں ہوگا بلکہ حرمت کا مدار جو ہے ظاہری فعل پر رکھا جائے گا، اور ظاہری فعل اِرضاع ہے، ماں کا بچے کو دودھ پلانا۔ تو اِرضاع یعنی امرِ ظاہری پر اس حرمت کی بنیاد ہوگی، امرِ باطنی یعنی جزئیت پر اس کی بنیاد نہیں ہوگی۔ تو بس جب بچے کو ایک عورت نے دودھ پلایا ہے تو اسی پر حرمت کا حکم لگایا جائے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ پھر اس کے بعد مدتِ رضاعت کو ذکر فرمایا صاحبِ ہدایہ نے۔ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک رضاعت کی مدت تیس مہینے ہیں یعنی ڈھائی سال۔ ڈھائی سال کی مدت کے اندر کوئی بچہ کسی عورت کا دودھ پی لے گا تو حرمت ثابت ہو جائے گی، جبکہ صاحبین کے نزدیک اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک مدتِ رضاعت جو ہے وہ دو سال ہے، دو سال ہے۔ اور جبکہ امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مدتِ رضاعت تین سال ہے۔ امام زفر رحمہ اللہ کی دلیل یہ ہے کہ امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ﴾ کہ مائیں جو ہیں اپنے بچوں کو پورے دو سال دودھ پلائیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ کم از کم دو سال دودھ پلانا یہ بچے کا حق ہے۔ بچے کا حق کیا ہے کہ ماں اس کو دو سال تک کم از کم دودھ پلائے۔ تو یہ دو سال ہوئے، یہ تو بچے کا حق ہے، یہ تو دودھ پلایا ہی جائے گا، اس کے بعد کچھ مزید مدت بھی چاہیے جس کے اندر بچے کو دودھ سے چھڑا کر دوسری غذا پر یعنی روٹی وغیرہ کھانے پر اس کو لگایا جائے بھئی۔ تو دو سال پر مزید بھی کچھ مدت چاہیے جس کے اندر بچے کی غذا کو تبدیل کیا جا سکے، اور اس کا اندازہ امام زفر رحمہ اللہ نے ایک سال کے ساتھ لگایا ہے کہ ایک سال ایسی مدت ہے جس میں انسان ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف بدل سکتا ہے، لہٰذا ایک سال مزید جو ہے شمار کیا جائے گا تو یہ کل تین سال ہو گئے مدتِ رضاعت کے بھئی۔ تو تین سال کے اندر کوئی بچہ کسی عورت کا دودھ پی لے گا تو رضاعت ثابت ہو جائے گی بھئی۔ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلَاثُونَ شَهْرًا﴾ کہ بچے کا حمل اور اس کا دودھ چھڑانا اس کی مدت تیس مہینے ہیں۔ معلوم ہوا دو چیزوں کی مدت تیس مہینے ذکر کی جا رہی ہے تو اس مدت کو ان دونوں کے درمیان تقسیم کیا جائے گا۔ معلوم ہوا کچھ مدت حمل کی ہے اور کچھ مدت فصال کی ہے یعنی دودھ چھڑانے کی ہے، اور حمل کی تو کم سے کم مدت چھ مہینے ہے۔ چھ ماہ کے اندر ایک عورت ایک صحیح سلامت بچے کو جنم دے سکتی ہے اس سے پہلے نہیں۔ تو حمل کی کم سے کم مدت چھ مہینے ہے تو اس تیس مہینے میں سے چھ مہینے حمل کے ہو گئے اور باقی چوبیس مہینے یعنی دو سال وہ فصال کے ہو گئے یعنی دودھ چھڑانے کے۔ تو معلوم ہوا مدتِ رضاعت کتنی ہے؟ دو سال ہے۔ اور نیز وہ فرماتے ہیں حضور علیہ السلام نے فرمایا ہے: ”لَا رَضَاعَ بَعْدَ حَوْلَيْنِ“ کہ دو سال کے بعد رضاعت نہیں ہے۔ اور نیز اسی طرح وہ فرماتے ہیں کہ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ﴿وَفِصَالُهُ فِي عَامَيْنِ﴾ کہ بچے کا دودھ چھڑانا دو سال کے عرصے میں ہے یعنی دو سال میں بچے کا دودھ چھڑایا جائے گا، تو دیکھو یہاں پر بھی دو سال کا ذکر ہے۔ اور دوسری جگہ اللہ فرماتے ہیں: ﴿وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ﴾ کہ مائیں اپنے بچوں کو پورے دو سال دودھ پلائیں، یہاں پر بھی دو سال کا ذکر ہے، تو ان سارے دلائل سے ثابت ہو گیا کہ مدتِ رضاعت دو سال ہے بھئی۔ اور اس کے بعد پھر امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی دلیل آئی۔ امام صاحب کی دلیل بھی یہی آیت ہے: ﴿وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلَاثُونَ شَهْرًا﴾۔ امام صاحب فرماتے ہیں کہ یہاں پر حمل اور فصال دونوں کی مدت جو ہے تیس مہینے ذکر کی گئی ہے، تو جب دو چیزوں کے لیے ایک مدت ذکر کی جائے تو وہ ہر ایک کے لیے مدت شمار ہوتی ہے، یہ اسی طرح ہے جیسے دو دینوں کے لیے ایک مدت ذکر کی جائے تو ہر دَین کے لیے وہ پوری پوری مدت شمار کی جاتی ہے۔ مثلاً ایک آدمی نے میرے ایک ہزار درہم بھی ادا کرنے ہیں اور سو قفیز گندم بھی ادا کرنی ہے، تو اس آدمی پر میرے دو دَین ہو گئے، ایک ہزار درہم بھی اور سو قفیز گندم بھی۔ اب میں اس آدمی سے کہتا ہوں کہ آپ کے لیے یہ دونوں دیون جو ہیں ان کی مدت چھ ماہ ہے، آپ کے پاس ان دونوں دیون کی کتنی مدت ہے؟ چھ ماہ ہے، چھ ماہ ہے، اس کے بعد آپ کو دیون ادا کرنے ہوں گے۔ تو اب دیکھو دو دیون کی مدت چھ ماہ بیان کی گئی، اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ یہ مدت دونوں دیون میں تقسیم کی جائے گی کہ ایک دَین کے بھی تین مہینے ہوں اور دوسرے دَین کے بھی تین مہینے ہوں، ایسا نہیں ہے بلکہ عرف میں دو دینوں کی ایک مدت ذکر کی جائے تو ہر دَین کے لیے وہ پوری پوری مدت ہوتی ہے۔ تو یہاں پر بھی حمل اور فصال دونوں میں سے ہر ایک کے تیس تیس مہینے ہوں گے۔ لیکن حمل جو ہے وہ تو پیٹ میں دو سال سے زیادہ نہیں رہ سکتا بھئی، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا قول ہے وہ فرماتی ہیں کہ بچہ دو سال سے معمولی مقدار زیادہ بھی ماں کے پیٹ میں نہیں رہ سکتا۔ اور یہ ایسی بات ذکر کی جس کا پتہ عقل سے نہیں چل سکتا، عقل یہ نہیں ہمیں بتلاتی کہ بچہ کتنے عرصے تک ماں کے پیٹ میں رہ سکتا ہے اور کتنے عرصے تک نہیں رہ سکتا، معلوم ہوا انہوں نے حضور علیہ السلام سے یہ بات سنی ہوگی۔ تو صحابہ کا وہ قول جو عقل سے معلوم نہ ہو سکے وہ بھی حدیثِ مرفوع کے درجے میں ہوتا ہے، تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا یہ قول بھی حدیثِ مرفوع کے درجے میں ہے۔ چنانچہ اس حدیث سے پتہ چلا کہ حمل کی زیادہ سے زیادہ مدت دو سال ہے۔ آیت سے ہم نے کیا اندازہ لگایا؟ کہ حمل کی مدت ڈھائی سال ہے، لیکن دوسری دلیل آ گئی تو اس دلیل کی وجہ سے اب اس مدت میں کمی ہو جائے گی اور حمل کی مدت دو سال ہی ثابت ہوگی۔ تو آپ کے ذہن میں یہ اشکال نہ آئے بھئی کہ آیت سے تو پتہ چل رہا ہے حمل کی مدت تیس مہینے ہے، کتنی؟ تیس مہینے ہے، اور آپ حدیث کو ترجیح دے رہے ہیں کتاب اللہ پر بھئی، حدیث کے اندر تو دو سال کی مدت ہے اور آپ بھی کیا کہہ رہے ہیں؟ دو سال۔ تو جواب یہ کہ بھئی یہاں کوئی آیت سے قطعی طور پر یہ پتہ نہیں چل رہا کہ حمل اور فصال دونوں کی تیس تیس مہینے مدت ہے، اگر قطعی طور پر یہ پتہ چلتا کہ دونوں کی مدت تیس تیس مہینے ہے تو صاحبین بھی اسی طرف جاتے، حالانکہ صاحبین تو کس طرف گئے ہیں؟ کہ دونوں کی ملا کر مدت تیس مہینے ہے۔ توجہ ہے؟ معلوم ہوا یہاں پر جو امام صاحب نے آیت کا معنی نکالا ہے وہ کوئی قطعی نہیں ہے لہٰذا دوسری دلیل کے ذریعے اس میں کمی ہو سکتی ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو لہٰذا حمل کی مدت تو زیادہ سے زیادہ دو سال ہوئی لیکن دودھ چھڑانے کی مدت کے لیے تو کوئی کمی والی دلیل موجود نہیں ہے لہٰذا وہ ڈھائی سال ہی شمار کی جائے گی۔ نیز امام صاحب کی دوسری دلیل، وہ فرماتے ہیں کہ قرآن میں دوسری جگہ، قرآن میں دوسری جگہ اللہ فرماتے ہیں: ﴿وَفِصَالُهُ فِي عَامَيْنِ﴾ اس کا دودھ چھڑانا ہے دو سال میں، اور اسی طرح قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ﴿وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ﴾ تو اس سے بھی پتہ چلا کہ دودھ پلانے کی مدت دو سال ہے لیکن دو سال کے بعد بھی کچھ وقت چاہیے، کچھ، کچھ وقت چاہیے جس میں بچے کو ایک غذا سے دوسری غذا کی طرف آہستہ آہستہ منتقل کیا جائے، اور اس کا اندازہ انہوں نے چھ ماہ کے ساتھ لگایا ہے یعنی ادنیٰ مدتِ حمل۔ اور جیسے چھ ماہ کے اندر جب حمل کی پیدائش ہوتی ہے دیکھو اس کی غذا بدل گئی، پہلے اس کی غذا وہی تھی جو ماں کی غذا تھی، اور اس کے بعد جب پیدائش ہوئی اب اس کی غذا دودھ بن گیا، تو معلوم ہوا چھ ماہ کی مدت کافی ہے جس میں ایک غذا سے دوسری غذا کی طرف بچہ منتقل ہو سکتا ہے، لہٰذا دو سال پر مزید چھ ماہ کا اضافہ کیا جائے گا تاکہ بچے کو ایک غذا سے دوسری غذا کی طرف منتقل کیا جا سکے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو امام صاحب کی نقلی دلیل بھی آ گئی اور عقلی دلیل بھی آ گئی بھئی۔ اور باقی وہ جو حدیث ذکر کی تھی اس کا جواب دیا، حدیث میں آیا تھا: ”لَا رَضَاعَ بَعْدَ حَوْلَيْنِ“ دو سال کے بعد رضاعت نہیں ہے، تو اس کا بھی جواب دیا صاحبِ ہدایہ نے کہ اس سے مراد استحقاق ہے یعنی دو سال سے زیادہ بچہ رضاعت کا مستحق نہیں ہے۔ یا بعضوں نے یہاں استحقاق کا معنی کیا کہ ماں اجرت کی مستحق نہیں ہے دو سال کے بعد۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ اگر میاں بیوی کے درمیان طلاق ہو گئی ہے اور ان کا ایک چھوٹا بچہ ہے اور ماں اب بچے کو دودھ پلانے کی اجرت خاوند سے طلب کرتی ہے کہ تم نے مجھے طلاق دے دی ہے اب میں بچے کو دودھ پلاؤں گی تو تمہیں اجرت دینا پڑے گی، تو ماں اجرت کا مطالبہ کر سکتی ہے بھئی، اور اس میں پھر یہ ماں جو ہے دو سال کی مدت تک اجرت کی مستحق ہوگی۔ جب دو سال پورے ہو جائیں رضاعت کے تو پھر اس کے بعد ماں اجرت کی مستحق نہیں ہے۔ اور نیز کہتے ہیں جو آیت کے اندر بھی آیا تھا کہ ﴿وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ﴾ کہ مائیں پورے دو سال تک بچوں کو دودھ پلائیں، یہ آیت بھی اسی استحقاق پر محمول ہے، کہ یہ بچے کا حق ہے کہ ماں اس کو دو سال تک دودھ پلائے یا یہ معنی ہے کہ ماں دو سال تک دودھ پلانے پر اجرت کی مستحق ہے بھئی، تو یہ آیت بھی استحقاق پر محمول ہے۔ اور دلیل اسی آیت میں آگے اللہ فرماتے ہیں: ﴿فَإِنْ أَرَادَا فِصَالًا عَنْ تَرَاضٍ﴾ پھر اگر وہ دونوں باہمی رضامندی سے دودھ چھڑانا چاہیں، تو دیکھو دو سال کے بعد آگے فَا آ رہی ہے اور فا کس لیے آتی ہے؟ تعقیب مع الوصل کے لیے آتی ہے یعنی دو سال کے بعد کا حکم اللہ بیان فرما رہے ہیں کہ دو سال کے بعد اب اگر میاں بیوی باہمی رضامندی سے دودھ چھڑانا چاہیں، معلوم ہوا دو سال کے بعد بھی دودھ پلانا جائز ہے، اگر دو سال کے بعد دودھ پلانا جائز نہ ہوتا تو قرآن میں کبھی بھی یوں نہ ہوتا: ﴿فَإِنْ أَرَادَا فِصَالًا عَنْ تَرَاضٍ﴾۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اور پھر میں نے آپ کو یہ بھی بتلایا تھا کہ فتویٰ صاحبین کے قول پر ہے، مدتِ رضاعت دو سال ہے۔ مدتِ رضاعت دو سال ہے اور دو سال کے بعد ماں کا بچے کو دودھ پلانا حرام ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اس کے بعد دودھ پلانا جائز نہیں۔ تو بعض علماء نے پھر تطبیق دی دونوں قولوں میں، ایک صاحبین کا قول ہے کہ مدتِ رضاعت دو سال ہے، ایک امام صاحب کا قول ہے کہ مدتِ رضاعت ڈھائی سال ہے۔ تو رضاعت کے سلسلے میں فتویٰ صاحبین کے قول پر دیا جائے گا کہ دو سال سے زائد ماں دودھ نہیں پلا سکتی، اور حرمت کے سلسلے میں جو ہے امام صاحب کے قول کو ترجیح دی جائے گی کہ اگر ڈھائی سال کے اندر بھی کوئی عورت کسی بچے کو دودھ پلائے گی تو حرمت ثابت ہو جائے گی بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اب آئیے آج کے سبق پر: قَالَ: ”وَإِذَا مَضَتْ مُدَّةُ الرَّضَاعِ لَمْ يَتَعَلَّقْ بِالرَّضَاعِ تَحْرِيمٌ“ لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: ”لَا رَضَاعَ بَعْدَ الْفِصَالِ“۔ بھئی اب مسئلہ بیان فرما رہے ہیں کہ مدتِ رضاعت کے بعد اگر کوئی عورت کسی بچے کو دودھ پلاتی ہے تو کیا اس سے حرمت ثابت ہوگی؟ تو صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلا رہے ہیں کہ نہیں، مدتِ رضاعت کے بعد اگر کوئی عورت دودھ بچے کو پلائے تو اس سے رضاعت ثابت نہیں ہوگی۔ تو کہتے ہیں: قَالَ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”وَإِذَا مَضَتْ مُدَّةُ الرَّضَاعِ“ اور جب رضاعت کی مدت گزر جائے ”لَمْ يَتَعَلَّقْ بِالرَّضَاعِ تَحْرِيمٌ“ تو پھر رضاعت کے ساتھ تحریم کا تعلق نہیں ہوگا ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ“ بوجہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قولِ مبارک کے، آپ نے فرمایا: ”لَا رَضَاعَ بَعْدَ الْفِصَالِ“ کہ دودھ چھڑانے کے بعد رضاعت نہیں ہے۔ دودھ چھڑانے کے بعد رضاعت نہیں یعنی اس کے بعد رضاعت نہیں ہو سکتی۔ آگے دوسری اب عقلی دلیل بھی ذکر فرما رہے ہیں: ”وَلِأَنَّ الْحُرْمَةَ بِاعْتِبَارِ النُّشُوءِ“ نُشُوء بھئی، آخر میں ہمزہ ہے نُشُوءٌ، تو نُشُوء یاد رکھو اس کا معنی ہے بڑھوتری اور نشو و نما، افزائش بھئی، بڑھنا، ایک چیز کا بڑھنا۔ دیکھو بچہ دودھ پیئے گا تو اس سے اس کی گوشت اور ہڈیاں بنیں گی اور بچے کی اس سے نشو و نما ہوگی۔ تو اب عقلی دلیل ذکر کر رہے ہیں، کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّ الْحُرْمَةَ بِاعْتِبَارِ النُّشُوءِ“ کہ یہ جو رضاعت کی وجہ سے حرمت آتی ہے یہ نشو و نما کے اعتبار سے ہے، رضاعت کی وجہ سے حرمت کیوں آتی ہے؟ کہ اس کی وجہ سے بچے کی نشو و نما ہوتی ہے اور یہ دودھ بچے کا جز بن گیا اور یہ دودھ تو عورت کا جز تھا تو معلوم ہوا بچہ بھی کیا بن گیا؟ عورت کا جز بن گیا۔ تو کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّ الْحُرْمَةَ بِاعْتِبَارِ النُّشُوءِ“ اور اس لیے کیونکہ رضاعت کی یہ جو حرمت ہے یہ نشو و نما کے اعتبار سے ہے ”وَذَلِكَ فِي الْمُدَّةِ“ اور یہ نشو و نما تو مدتِ رضاعت کے اندر ہوگی، یہ نشو و نما تو ”وَذَلِكَ فِي الْمُدَّةِ“ اور یہ جو نشو و نما ہے ”فِي الْمُدَّةِ“ یہ مدتِ رضاعت ہی کے اندر ہوگی ”إِذِ الْكَبِيرُ لَا يَتَرَبَّى بِهِ“ اس لیے کیونکہ جو بڑا بچہ ہوگا ”لَا يَتَرَبَّى بِهِ“ وہ اس کے ذریعے پرورش نہیں پاتا۔ دو سال سے کم بچہ ہے وہ تو دودھ پر اس کی پرورش ہو رہی ہے، دودھ کے ذریعے اس کی نشو و نما ہو رہی ہے، لیکن دو سال سے بڑا بچہ جو ہے وہ اس کو جب روٹی وغیرہ پر لگا دیا ہے تو اب دودھ پر اس کی پرورش نہیں ہے بھئی۔ ”إِذِ الْكَبِيرُ لَا يَتَرَبَّى بِهِ“ اس لیے کیونکہ جو بڑا بچہ ہوگا وہ اس دودھ پر پرورش نہیں پاتا۔ ”وَلَا يُعْتَبَرُ الْفِطَامُ قَبْلَ الْمُدَّةِ إِلَّا فِي رِوَايَةٍ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى إِذَا اسْتُغْنِيَ عَنْهُ“۔ یہاں سے آپ کو یہ بتلا رہے ہیں اگر دو سال سے پہلے ہی کوئی عورت بچے کا دودھ چھڑا دیتی ہے، اس کو دوسری غذا پر لگا دیتی ہے، پھر اس کے بعد دودھ اس کا چھوٹ چکا ہے، پھر اس کے بعد اسی دو سال کے پورا ہونے سے پہلے پہلے کوئی عورت اس کو دودھ پلائے گی تو کیا اب حرمت ثابت ہوگی؟ کیا اب حرمت ثابت ہوگی؟ ابھی تک اگرچہ مدتِ رضاعت ہے لیکن یہ بچہ دودھ چھوڑ چکا ہے، اب یہ دوسری غذا کھاتا ہے، تو کیا اب بھی مدت کے اندر کوئی عورت دودھ پلائے گی تو رضاعت ثابت ہو جائے گی اور حرمت آ جائے گی؟ تو صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ نہیں، مدت سے پہلے اگر دودھ چھڑا بھی دیا جائے اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے بلکہ اس مدت کے اندر غذا کے بدل جانے کے باوجود بھی اگر کوئی عورت اس بچے کو اس مدت میں دودھ پلائے گی تو حرمت ثابت ہو جائے گی، وہ عورت اس کی رضاعی ماں بن جائے گی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا يُعْتَبَرُ الْفِطَامُ قَبْلَ الْمُدَّةِ“ فِطَام کا معنی ہے دودھ چھڑانا، ”وَلَا يُعْتَبَرُ الْفِطَامُ“ اور کوئی اعتبار نہیں ہے دودھ چھڑانے کا ”قَبْلَ الْمُدَّةِ“ مدت سے پہلے ”إِلَّا فِي رِوَايَةٍ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ مگر ایک روایت میں امام صاحب سے، یعنی امام صاحب کی ایک روایت کے مطابق اس کا اعتبار ہے ”إِذَا اسْتُغْنِيَ عَنْهُ“ جب بچہ دودھ سے بے نیاز ہو جائے، بچے کو دودھ کی حاجت نہ رہے تو پھر اب چونکہ بچہ دودھ سے بے نیاز ہو چکا ہے، دوسری غذا کی طرف منتقل ہو چکا ہے لہٰذا اب مدت کے اندر کوئی عورت دودھ پلائے بھی تو بھی حرمت ثابت نہیں ہوگی کیونکہ بچے کی غذا بدل چکی ہے بھئی۔ یہ ایک روایت ہے امام صاحب کی، لیکن بتلا دیا انہوں نے کہ راجح روایت پہلی ہی ہے کہ مدت کے اندر دودھ چھڑانے کا کوئی اعتبار نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”إِلَّا فِي رِوَايَةٍ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى“ مگر ایک روایت میں امام صاحب سے ”إِذَا اسْتُغْنِيَ عَنْهُ“ جب بچہ دودھ سے بے نیاز ہو جائے، جب بچہ دودھ سے بے پرواہ ہو جائے۔ ”وَوَجْهُهُ“ اب اس کی بھی وجہ ذکر فرما رہے ہیں کہ امام صاحب کی ایک روایت یہ آئی ہے، اس کی کیا وجہ ہے کہ دودھ اگر چھڑا دیا مدت کے اندر تو پھر رضاعت کا اعتبار نہیں ہے؟ تو کہتے ہیں: ”وَوَجْهُهُ“ اور اس قول کی وجہ یہ ہے ”انْقِطَاعُ النُّشُوءِ بِتَغَيُّرِ الْغِذَاءِ“ اس لیے کیونکہ نشو و نما منقطع ہو چکی ہے غذا کے بدلنے کی وجہ سے۔ اب دودھ کے ذریعے جو نشو و نما تھی وہ منقطع ہو گئی ہے غذا کے بدلنے کی وجہ سے، اب دوسری غذا کے ذریعے بدن کی نشو و نما ہو رہی ہے۔ ”وَهَلْ يُبَاحُ الْإِرْضَاعُ بَعْدَ الْمُدَّةِ؟“ میں نے آپ کو بتلایا کہ مدتِ رضاعت کے بعد ماں کا بچے کو دودھ پلانا حرام ہے۔ اب وہی بیان فرما رہے ہیں، کہتے ہیں: ”وَهَلْ يُبَاحُ الْإِرْضَاعُ بَعْدَ الْمُدَّةِ؟“ اور کیا مباح ہے دودھ پلانا ”بَعْدَ الْمُدَّةِ“ مدت کے بعد؟ کیا مدت کے بعد دودھ پلانا مباح ہے، جائز ہے؟ ”قَدْ قِيلَ“ تو تحقیق کہا گیا ہے ”لَا يُبَاحُ“ جائز نہیں ہے ”لِأَنَّ إِبَاحَتَهُ ضَرُورِيَّةٌ“ اس لیے کیونکہ اس دودھ کا مباح ہونا یہ ضرورت کی وجہ سے تھا ”لِكَوْنِهِ جُزْءَ الْآدَمِيِّ“ بوجہ آدمی کا جز ہونے کے۔ بھئی دیکھیے، یاد رکھو انسان معزز اور محترم ہے لہٰذا انسانی جز سے انتفاع جائز نہیں۔ انسانی جز سے فائدہ اٹھانا، اس کو اپنے استعمال میں لانا جائز نہیں اور یہ دودھ بھی کیا ہے؟ یہ انسانی جز ہے، عورت کا جز ہے لہٰذا اس سے بھی فائدہ اٹھانا جائز نہیں۔ ہاں، ضرورت اور حاجت کی وجہ سے جائز ہے جیسے چھوٹے بچے میں ضرورت ہے تو اس کے لیے جائز ہے، اور جب ضرورت پوری ہو گئی پھر اس کے بعد جائز نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ إِبَاحَتَهُ ضَرُورِيَّةٌ“ اس لیے کیونکہ اس دودھ کا جو مباح ہونا تھا ”ضَرُورِيَّةٌ“ وہ ضرورت کی وجہ سے تھا، بچے کو اس کی ضرورت اور حاجت تھی، تو ویسے جائز نہیں ہے ”لِكَوْنِهِ جُزْءَ الْآدَمِيِّ“ بوجہ آدمی کا جز ہونے کے۔ آگے دیکھیے: قَالَ: ”وَيَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ“۔ قَالَ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”وَيَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ“ کہ رضاعت کی وجہ سے وہ رشتے حرام ہو جاتے ہیں ”مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ“ جو نسب کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں ”لِلْحَدِيثِ الَّذِي رَوَيْنَا“ اس حدیث کی وجہ سے جو ہم نے روایت کر دی۔ پیچھے بھئی حدیث آئی تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کیا فرماتے ہیں: ”يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ“، رضاعت کی وجہ سے بھی وہ رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب کی وجہ سے حرام ہیں۔ آگے دیکھیے: ”إِلَّا أُمَّ أُخْتِهِ مِنَ الرَّضَاعِ فَإِنَّهُ يَجُوزُ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا، وَلَا يَجُوزُ أَنْ يَتَزَوَّجَ أُمَّ أُخْتِهِ مِنَ النَّسَبِ“۔ بھئی دیکھیے، اب استثناء کر رہے ہیں، کچھ فرق ہے۔ کچھ فرق ہے، حدیث میں تو آ گیا کہ رضاعت کی وجہ سے بھی وہ رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب کی وجہ سے حرام ہیں، البتہ کچھ جگہ فرق ہے، وہ اب فرق بیان کرنے لگے ہیں۔ تو کہتے ہیں: ”إِلَّا أُمَّ أُخْتِهِ مِنَ الرَّضَاعِ“، ”إِلَّا أُمَّ أُخْتِهِ مِنَ الرَّضَاعِ“ یہ ”مِنَ الرَّضَاعِ“ کو جوڑیں ”أُخْتِهِ“ کے ساتھ، ”مِنَ الرَّضَاعِ“ کو کس سے جوڑیں؟ ”أُخْتِهِ“ سے، ”أُخْتِهِ مِنَ الرَّضَاعِ“ اس کی جو رضاعی بہن ہے۔ ”إِلَّا أُمَّ أُخْتِهِ مِنَ الرَّضَاعِ“ مگر اس کی رضاعی بہن کی ماں۔ رضاعی بہن کی ماں جو ہے وہ حرام نہیں ہوتی، رضاعی بہن کی ماں حرام... نہیں! جیسے دیکھو، ایک لڑکا اور ایک لڑکی ہیں، انہوں نے دونوں نے بچپن میں ایک عورت کا دودھ پیا، تو یہ دونوں آپس میں بھئی بہن بن گئے، رضاعی بھئی بہن۔ اب دیکھو، یہ انہوں نے کس کا دودھ پیا ہے؟ ایک تیسری عورت کا دودھ پیا ہے، نہ یہ لڑکے کی ماں ہے اور نہ لڑکی کی ماں ہے۔ توجہ ہے؟ تو یہ جس عورت کا دودھ پیا یہ ان دونوں کی رضاعی ماں بن گئی۔ اور یہ دونوں لڑکا اور لڑکی آپس میں رضاعی بھئی بہن بن گئے۔ تو یہ لڑکی تو اس لڑکے کی رضاعی بہن بنی ہے لیکن اس لڑکی کی ماں کے ساتھ تو لڑکے کا کوئی رشتہ نہیں، وہ نہ تو اس کی حقیقی ماں ہے اور نہ اس نے اس کا دودھ پیا ہے، لہٰذا وہ اس لڑکے کے لیے ابھی بھی اجنبیہ ہے۔ یہ لڑکا اپنی اس رضاعی بہن کی اس حقیقی ماں کے ساتھ نکاح کر سکتا ہے۔ جی! بات سمجھ میں آگئی۔ یہ معنی ہے: ﴿إِلَّا أُمَّ أُخْتِهِ مِنَ الرَّضَاعِ﴾، مگر اپنی رضاعی بہن کی ماں، ﴿فَإِنَّهُ يَجُوزُ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا﴾، اس لیے کیونکہ جائز ہے کہ وہ اس کے ساتھ نکاح کر لے، ﴿وَلَا يَجُوزُ أَنْ يَتَزَوَّجَ أُمَّ أُخْتِهِ مِنَ النَّسَبِ﴾، لیکن اپنی نسبی بہن کی ماں کے ساتھ نکاح جائز نہیں۔ توجہ سے یہ عبارت دیکھیں: ﴿وَلَا يَجُوزُ أَنْ يَتَزَوَّجَ أُمَّ أُخْتِهِ مِنَ النَّسَبِ﴾، یہ ”مِنَ النَّسَبِ“ کو ”أُخْتِهِ“ سے جوڑیں۔ اپنی نسبی بہن، ”أُخْتِهِ مِنَ النَّسَبِ“ کا کیا ترجمہ ہوگا؟ اپنی نسبی بہن۔ تو ﴿وَلَا يَجُوزُ أَنْ يَتَزَوَّجَ أُمَّ أُخْتِهِ مِنَ النَّسَبِ﴾، اور جائز نہیں ہے کہ نکاح کرے وہ شخص اپنی نسبی بہن کی ماں کے ساتھ۔ نسبی بہن کی ماں، یاد رکھو! بہن یا تو حقیقی ہوتی ہے، یا علاتی ہوتی ہے، یا اخیافی ہوتی ہے۔ نسبی بہنیں تین طرح کی ہو سکتی ہیں جن سے نسب والا تعلق ہے رضاعت والا تعلق نہیں۔ تو یہ جو نسبی بہنیں ہیں یہ تین طرح ہو سکتی ہیں: یا تو یہ حقیقی بہن ہوگی، یا علاتی بہن ہوگی، یا اخیافی بہن۔ حقیقی بہن کسے کہیں گے؟ کہ یہ لڑکا اور لڑکی دونوں کے ماں باپ ایک ہی ہیں یعنی سگی بہن، حقیقی بہن، لڑکی کے جو ماں باپ ہیں وہی اس لڑکے کے بھی ماں باپ ہیں تو یہ حقیقی بھئی بہن ہوئے۔ اور ایک صورت یہ ہے کہ یہ جو لڑکا اور لڑکی ہیں ان کا باپ تو ایک ہے لیکن مائیں الگ الگ ہیں۔ اس باپ کی دو بیویاں ہیں، ایک بیوی سے یہ لڑکا ہے اور دوسری بیوی سے لڑکی ہے، تو یہ جو بھئی بہن ہیں یہ آپس میں علاتی بھئی بہن کہلاتے ہیں یعنی باپ تو ایک ہے لیکن مائیں الگ الگ ہیں۔ تیسری صورت ہے اخیافی بہن بھئی۔ اخیافی بہن بھئی اسے کہتے ہیں کہ لڑکے اور لڑکی کی ماں تو ایک ہو لیکن باپ الگ الگ ہوں۔ مثلاً ایک عورت نے ایک شخص سے نکاح کیا تھا اس سے ایک بیٹی پیدا ہوئی، پھر بعد میں اس شخص کا انتقال ہوا یا اس نے طلاق دے دی اور بعد میں اس عورت نے کسی اور شخص سے نکاح کیا اور اس شخص سے پھر اس عورت کا ایک بیٹا ہوا، تو اب یہ جو بیٹا اور بیٹی ہیں ان دونوں کی ماں تو یہی عورت ہے لیکن دونوں کے باپ الگ الگ ہیں، اس کو کہتے ہیں اخیافی بھئی بہن۔ توجہ ہے؟ معلوم ہوا بہنیں کتنی قسم کی ہو گئیں؟ تین: یا حقیقی بہن، یا علاتی بہن، یا اخیافی بہن۔ اب ذرا غور کیجیے، بات کیا ذکر ہو رہی ہے؟ کہ رضاعی بہن کی ماں سے نکاح جائز ہے۔ توجہ ہے؟ رضاعی بہن کی ماں کے ساتھ نکاح جائز ہے۔ میں نے مثال دے دی کہ ایک لڑکا اور لڑکی ہیں انہوں نے بچپن میں ایک تیسری عورت کا دودھ پیا، تو یہ آپس میں بھئی بہن بنے ہیں لیکن اس لڑکی کی ماں جو ہے وہ تو اس لڑکے کی ماں نہیں بنی، لڑکے نے اس کا دودھ تو نہیں پیا بھئی! تو اس رضاعی بہن کی جو ماں ہے وہ اس کے لیے اجنبیہ ہے، یہ اس سے نکاح کر سکتا ہے۔ توجہ ہے؟ لیکن نسبی بہن کی ماں کے ساتھ نکاح جائز نہیں۔ رضاعی بہن کی ماں کے ساتھ نکاح جائز ہے لیکن نسبی بہن کی ماں کے ساتھ نکاح جائز نہیں۔ اس لیے کیونکہ نسبی بہن جو ہے یا تو وہ حقیقی بہن ہوگی، یا علاتی بہن ہوگی، یا اخیافی بہن ہوگی۔ تینوں نسبی بہنیں ہیں نا! تو اگر یہ نسبی بہن حقیقی بہن ہوئی تو پھر اس کی ماں کے ساتھ بھی نکاح جائز نہیں کیونکہ اس کی ماں تو اسی لڑکے کی بھی ماں ہے۔ جب حقیقی بہن ہے تو دونوں کے ماں باپ ایک ہی ہیں بھئی! تو یہ دیکھو، یہ جو نسبی حقیقی بہن ہے اس کی ماں کے ساتھ نکاح جائز نہیں کیونکہ وہ تو اس لڑکے کی بھی حقیقی ماں ہے۔ توجہ ہے؟ دوسری صورت: کہ یہ دونوں اخیافی بھئی بہن ہیں۔ تو اس صورت میں یہ جو اخیافی بہن ہے اس کی ماں کے ساتھ اس لڑکے کا نکاح جائز نہیں کیونکہ وہ اس لڑکے کی وہ بھی حقیقی ماں ہے۔ دونوں کی ماں ایک ہی ہے، توجہ ہے؟ معلوم ہوا حقیقی بھئی بہن ہوں ان کی بھی ماں وہی ایک ہی عورت ہے اور اخیافی بھئی بہن ہوں ان کی ماں بھی وہی عورت ہے۔ تو دیکھا! نسبی بہن کی ماں، چاہے وہ نسبی بہن حقیقی ہو یا اخیافی ہو، اس نسبی بہن کی ماں اس لڑکے کی بھی ماں ہے، اس کی حقیقی ماں ہے لہٰذا اس کے ساتھ نکاح جائز نہیں۔ اب رہ گئی علاتی والی صورت۔ اگر یہ لڑکا اور لڑکی آپس میں کیا ہیں؟ علاتی بھئی بہن ہیں۔ تو یہ جو نسبی علاتی بہن ہے اس کی ماں کے ساتھ بھی اس لڑکے کا نکاح جائز نہیں کیونکہ یہ ان دونوں کا باپ ایک ہی ہے۔ یہ دونوں علاتی بھئی بہن ہیں نا، معلوم ہوا باپ ایک ہے اور دونوں کی مائیں الگ الگ ہیں۔ تو یہ جو لڑکا ہے اس کا اپنی اس نسبی علاتی بہن کی ماں کے ساتھ بھی نکاح جائز نہیں، اگرچہ وہ اس لڑکے کی ماں نہیں ہے لیکن پھر بھی اس لڑکے کا اس سے نکاح جائز نہیں کیونکہ وہ اس کے باپ کی موطوءۃ ہے۔ وہ باپ کی دوسری بیوی ہے نا! تو وہ دوسری بیوی ہے تو وہ باپ کی موطوءۃ ہے جس کے ساتھ باپ صحبت کر چکا ہے، اور قرآن میں اللہ کیا فرماتے ہیں: ﴿وَلَا تَنكِحُوا مَا نَكَحَ آبَاؤُكُم﴾، کہ تم لوگ نکاح نہ کرو اپنے آباء کی بیویوں سے، جن کے ساتھ تمہارے آباء نے نکاح کیا ہے ان سے تم نکاح نہ کرو۔ تو دیکھا! معلوم ہوا اپنی نسبی علاتی بہن کی جو ماں ہے اس کے ساتھ بھی اس لڑکے کا نکاح جائز نہیں کیونکہ وہ اس کے باپ کی موطوءۃ ہے۔ وہ اس کی ماں تو نہیں لیکن اس کے باپ کی موطوءۃ اور منکوحہ ہے بھئی! اور قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ﴿وَلَا تَنكِحُوا مَا نَكَحَ آبَاؤُكُم﴾، ان عورتوں سے نکاح نہ کرو جن سے تمہارے آباء نے نکاح کیا ہے۔ بات سمجھ میں آگئی۔ معلوم ہوا نسبی بہن چاہے حقیقی ہو، چاہے علاتی ہو، چاہے اخیافی ہو، اس کی ماں کے ساتھ نکاح جائز نہیں کیونکہ یا تو وہ اس لڑکے کی حقیقی ماں ہی ہوگی یا وہ اس کے باپ کی موطوءۃ ہوگی۔ تو نسبی بہن کی ماں کے ساتھ نکاح جائز نہیں لیکن رضاعی بہن کی ماں کے ساتھ نکاح جائز ہے۔ تو یہ معنی ہے کہ ﴿إِلَّا أُمَّ أُخْتِهِ مِنَ الرَّضَاعِ﴾، مگر رضاعی بہن کی ماں کے ساتھ، ﴿فَإِنَّهُ يَجُوزُ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا﴾، اس کیونکہ جائز ہے کہ اس کے ساتھ وہ نکاح کر لے، ﴿وَلَا يَجُوزُ أَنْ يَتَزَوَّجَ أُمَّ أُخْتِهِ مِنَ النَّسَبِ﴾، اور جائز نہیں ہے کہ یہ اپنی نسبی بہن کی ماں کے ساتھ نکاح کرے، ﴿لِأَنَّهَا تَكُونُ أُمَّهُ أَوْ مَوْطُوءَةَ أَبِيهِ﴾، اس لیے کیونکہ یہ جو نسبی بہن کی ماں ہے، ﴿تَكُونُ أُمَّهُ﴾، یا تو وہ اس لڑکے کی ماں ہوگی، ﴿أَوْ مَوْطُوءَةَ أَبِيهِ﴾، یا اس کے باپ کی موطوءۃ ہوگی یعنی منکوحہ ہوگی، ﴿بِخِلَافِ الرَّضَاعِ﴾، بخلاف رضاعت کے کہ وہاں پر جو ہے وہ جو رضاعی بہن کی ماں ہے وہ نہ تو اس لڑکے کی حقیقی ماں ہے اور نہ اس کے باپ کی موطوءۃ ہے تو وہاں نکاح جائز ہے بھئی! آگے دیکھیے: ﴿وَيَجُوزُ تَزَوُّجُ أُخْتِ ابْنِهِ مِنَ الرَّضَاعِ﴾، یہ ”ابْنِهِ“ کے ساتھ ”مِنَ الرَّضَاعِ“ کو جوڑیں، ”ابْنِهِ مِنَ الرَّضَاعِ“، کیا معنی؟ اپنا رضاعی بیٹا، ”ابْنِهِ“ کے ساتھ ہاء ضمیر بھی تو ہے، اسی شخص کا رضاعی بیٹا۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَيَجُوزُ تَزَوُّجُ أُخْتِ ابْنِهِ مِنَ الرَّضَاعِ﴾، ”ابْنُهُ مِنَ الرَّضَاعِ“ کیا ہوا؟ رضاعی بیٹا۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَيَجُوزُ تَزَوُّجُ أُخْتِ ابْنِهِ مِنَ الرَّضَاعِ﴾، اور اپنے رضاعی بیٹے کی بہن سے نکاح جائز ہے۔ اپنے رضاعی بیٹے کی بہن سے نکاح جائز ہے، ﴿وَلَا يَجُوزُ ذَلِكَ مِنَ النَّسَبِ﴾، لیکن نسب میں ایسا جائز نہیں یعنی نسبی بیٹے کی بہن سے نکاح جائز نہیں، رضاعی بیٹے کی بہن سے نکاح جائز ہے۔ میں نے بتلایا تھا کہ دودھ پلانے والی کی طرف سے سب رشتہ دار بن جاتے ہیں لیکن دودھ پینے والے میں صرف زوجان اور فروع، میاں بیوی اور ان کی اولاد۔ زید نے بچپن میں ایک عورت کا دودھ پیا تو یہ عورت اس کی رضاعی ماں بن گئی اور اس عورت کا خاوند اس کا رضاعی باپ بن گیا۔ توجہ ہے؟ تو زید ان کا رضاعی بیٹا بن گیا، تو یہ حرمت صرف زید کے لیے ہے یا زید کی بیوی کے لیے ہے۔ زید اور زید کی بیوی اپنے رضاعی ماں باپ پر حرام ہیں، زید کے اور جو بھئی بہن ہیں ان کے ساتھ تو کوئی حرمت نہیں۔ تو دیکھا! اپنے رضاعی بیٹے کی بہن، رضاعی بیٹا ہے اس کی بہن کے ساتھ تو کوئی حرمت نہیں ہے لہٰذا اس کے ساتھ سسر نکاح کرنا چاہتا ہے وہ کر سکتا ہے، وہ اس کے لیے اجنبیہ ہی ہے۔ یہ دودھ پینے والا تو اس کا رضاعی بیٹا بنا ہے لیکن اس کی بہن تو اس کی رضاعی بیٹی نہیں بنی، وہ ابھی بھی اس کے لیے اجنبیہ ہے، تو یہ سسر، یہ جو رضاعی باپ ہے یہ اپنے اس رضاعی بیٹے کی بہن کے ساتھ نکاح کر سکتا ہے۔ لیکن نسبی بیٹے کی بہن اس کے ساتھ نکاح جائز نہیں۔ نسبی بیٹے کی بہن، نسبی بیٹے کی بہن کون سی ہو سکتی ہے؟ تین ہو سکتی ہیں: یا حقیقی ہوگی، یا علاتی ہوگی، یا اخیافی۔ یہ زید کا بیٹا ہے، زید کے بیٹے کی ایک بہن ہے وہ اس کی یا تو حقیقی بہن ہوگی، یا علاتی یا اخیافی۔ تو نسبی بیٹے کی بہن سے نکاح جائز نہیں۔ اس لیے کیونکہ نسبی بیٹے کی جو بہن ہے یا تو وہ اس کی حقیقی بہن ہوگی، یا علاتی بہن ہوگی، یا اخیافی۔ اگر نسبی بیٹے کی حقیقی بہن ہے تو وہ تو اسی آدمی کی بیٹی ہے۔ وہ تو اسی آدمی کی بیٹی ہے لہٰذا اس حقیقی بیٹے کی اس حقیقی بہن کے ساتھ نکاح جائز نہیں۔ یا وہ اس کی علاتی بہن ہوگی، وہ حقیقی بیٹے کی علاتی بہن ہوگی تو وہ بھی اسی آدمی کی بیٹی ہے کیونکہ دونوں کا باپ ایک ہی ہے بھئی، مائیں الگ ہیں لیکن باپ تو ایک، تو یہ جو حقیقی بیٹے کی علاتی بہن ہے یہ اسی آدمی کی بیٹی ہے تو یہ بھی حقیقی بیٹی ہے، اس کے ساتھ نکاح جائز نہیں۔ اور تیسری صورت یہ ہے کہ اس حقیقی بیٹے کی اخیافی بہن ہو، کیا ہو؟ اخیافی بہن ہو، اس کے ساتھ بھی اس آدمی کے لیے نکاح جائز نہیں کیونکہ وہ شخص اس کی ماں کے ساتھ صحبت کر چکا ہے۔ دیکھو کیسے! ایک عورت ہے اس نے پہلے کسی اور آدمی سے نکاح کیا تھا اس سے اس کی ایک بیٹی ہوئی، پھر اس عورت نے زید سے نکاح کر لیا، اب اس عورت کا ایک بیٹا پیدا ہوا، تو یہ جو اس آدمی کا بیٹا ہے زید یہ اس کا حقیقی بیٹا ہے، اور یہ جو بہن ہے اس کی یہ اس کی اخیافی بہن ہے کیونکہ ماں دونوں کی ایک ہے لیکن باپ الگ الگ ہیں۔ توجہ ہے؟ تو یہ جو حقیقی بیٹے کی اخیافی بہن ہے یہ اس آدمی کی ربیبہ کہلاتی ہے۔ یعنی ایک شخص ایک عورت سے نکاح کرتا ہے اور پچھلے خاوند سے عورت کی ایک بیٹی ہے تو وہ اس کی کیا کہلاتی ہے؟ ربیبہ۔ اور میں نے آپ کو ضابطہ بتلایا تھا محرمات کا جہاں ذکر ہوا تھا وہاں آپ نے پڑھا تھا کہ جب کوئی شخص کسی عورت سے نکاح کرتا ہے تو نکاح کرتے ہی اس عورت کی ماں اس آدمی پر حرام ہو جاتی ہے۔ توجہ ہے؟ ایک آدمی ایک عورت سے نکاح کرتا ہے، نکاح کرتے ہی اس عورت کی جو ماں ہے وہ اس آدمی کی ساس بن گئی، وہ اس کی محرم بن گئی، وہ ماں کے درجے میں ہو گئی، لہٰذا اب اس عورت کو وہ چھوڑ بھی دے اب اس عورت کی ماں کے ساتھ زندگی بھر نکاح کی کوئی صورت نہیں کیونکہ وہ اس کی ساس بن چکی ہے بھئی! توجہ ہے؟ تو معلوم ہوا کسی عورت سے نکاح کرتے ہی ساس حرام ہو جاتی ہے، لیکن ایک آدمی ایک عورت سے نکاح کرتا ہے اور اس کی پچھلے خاوند سے ایک بیٹی موجود ہے یہ اس کی ربیبہ کہلاتی ہے، ربیبہ۔ تو ایک آدمی نے ایک عورت سے نکاح کیا اور اس کے پچھلے خاوند سے ایک بیٹی موجود ہے تو صرف نکاح کرنے سے یہ بیٹی حرام نہیں، صرف نکاح کرنے سے یہ بیٹی حرام نہیں، یہ آدمی اس عورت کو طلاق دے دے، ابھی صحبت نہیں کی، اس عورت کو طلاق دے دے اور اس کی بیٹی سے نکاح کرنا چاہتا ہے تو کر سکتا ہے۔ ہاں! اگر اس آدمی نے اس عورت سے صحبت کر لی ہے تو اب اس کی بیٹی بھی حرام ہو گئی۔ تو ربیبہ کب حرام ہوتی ہے کسی انسان پر؟ جب وہ اپنی اس بیوی سے صحبت کر لے گا۔ بات سمجھ میں آگئی۔ حاصلِ کلام کیا؟ جب ایک شخص کسی عورت سے نکاح کرتا ہے تو نکاح کرتے ہی اس عورت کی ماں حرام، لیکن نکاح کرتے ہی عورت کی بیٹی ابھی حرام نہیں ہوئی، وہ کب حرام ہوگی؟ جب صحبت کر لے گا اپنی اس بیوی سے۔ صحبت کرے گا تو اب بیٹی بھی کیا ہو جائے گی؟ حرام۔ اب وہاں بھی نکاح کی کوئی صورت نہیں زندگی بھر کے لیے۔ وہ اس عورت کو طلاق دے کر اب اس کی بیٹی سے نکاح کرنا چاہتا ہے؟ نہیں بھئی! آپ اس لڑکی کی ماں کے ساتھ آپ صحبت کر چکے ہیں، اب یہ لڑکی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے آپ پر حرام ہو چکی ہے، یہ آپ کے لیے بیٹی کے درجے میں ہو گئی، سوتیلی بیٹی۔ توجہ ہے؟ پھر سمجھیں، حاصلِ کلام کیا؟ کسی عورت سے جیسے ہی کوئی آدمی نکاح کرے گا نکاح کرتے ہی اس عورت کی ماں ساس بن گئی، حرام ہو گئی۔ لیکن اس عورت کی بیٹی نکاح کرتے ہی حرام نہیں ہوئی بلکہ وہ جب صحبت کر لے گا اپنی بیوی سے وہ آدمی تو پھر اس کی بیٹی حرام ہو جائے گی، وہ ربیبہ حرام ہو جائے گی، بات سمجھ میں آگئی۔ تو اب بات یہ چل رہی تھی کہ رضاعی بیٹے کی بہن کے ساتھ تو نکاح ہو سکتا ہے، رضاعی بیٹے کی بہن، کیونکہ رضاعی بیٹا اس نے دودھ پیا ہے وہ رضاعی بیٹا بنا ہے، اس کی بہن نے تو دودھ نہیں پیا، اس سے تو نکاح ہو سکتا ہے۔ لیکن حقیقی بیٹے کی جو بہن ہے اگر وہ حقیقی بہن ہے یا علاتی بہن ہے وہ تو پھر اسی آدمی کی بیٹی ہے۔ نہیں توجہ میرا خیال ہے! نسبی بیٹے کی جو بہن ہے، نسبی بیٹے کی بہن میں میں نے آپ کو بتلایا تین صورتیں ہو سکتی ہیں: نسبی بیٹے کی جو بہن ہے یا وہ حقیقی بہن ہوگی، یا علاتی بہن ہوگی، یا اخیافی بہن ہوگی۔ اگر وہ حقیقی بہن ہے تو اس کے ساتھ اس بچے کے باپ کا نکاح جائز نہیں کیونکہ یہ تو اسی کی بیٹی ہے۔ حقیقی بہن ہے نا تو یہ اسی آدمی کی بیٹی ہے۔ تو نسبی بیٹے کی حقیقی بہن سے نکاح جائز نہیں۔ اسی طرح نسبی بیٹے کی علاتی بہن سے بھی نکاح جائز نہیں کیونکہ وہ بھی اسی آدمی کی بیٹی ہے کیونکہ باپ تو دونوں کا ایک ہے اگرچہ مائیں الگ الگ ہیں۔ تو نسبی بیٹے کی علاتی بہن سے بھی نکاح جائز نہیں۔ تیسری صورت یہ ہے کہ نسبی بیٹے کی اخیافی بہن ہے۔ نسبی بیٹے کی اخیافی بہن کا مطلب یہ ہے کہ دونوں کی ماں ایک ہے باپ الگ الگ ہے۔ تو جب اس عورت سے اس آدمی کا یہ بیٹا ہو چکا ہے جس کی یہ اخیافی بہن ہے تو معلوم ہوا اس عورت کے ساتھ یہ آدمی صحبت کر چکا ہے جبھی تو یہ بیٹا پیدا ہوا بھئی! تو لہٰذا اس کی اخیافی بہن جو ہے وہ اس آدمی کی ربیبہ ہوئی، اور ربیبہ انسان پر کب حرام ہوتی ہے؟ جب اپنی اس بیوی کے ساتھ انسان صحبت کر لے، اور یہاں یہ آدمی اس عورت سے صحبت کر چکا ہے جبھی تو یہ بچہ پیدا ہوا ہے اس کا، یہ جو بیٹا ہے۔ تو یہ جو نسبی بیٹا ہے اس کی اخیافی بہن جو ہے وہ اس آدمی کی ربیبہ ہے لیکن یہ اس آدمی پر حرام ہو چکی ہے کیونکہ وہ ربیبہ کی ماں کے ساتھ صحبت کر چکا ہے۔ بات سمجھ میں آگئی۔ معلوم ہوا نسبی بیٹے کی بہن انسان پر حرام ہوتی ہے، چاہے حقیقی بہن ہو، چاہے علاتی بہن ہو، چاہے اخیافی بہن ہو۔ بات سمجھ میں آگئی۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَيَجُوزُ تَزَوُّجُ أُخْتِ ابْنِهِ مِنَ الرَّضَاعِ﴾، اور اپنے رضاعی بیٹے کی بہن سے نکاح جائز ہے، ﴿وَلَا يَجُوزُ ذَلِكَ مِنَ النَّسَبِ﴾، اور نسب میں ایسا جائز نہیں، ﴿لِأَنَّهُ لَمَّا وَطِئَ أُمَّهَا﴾، اس لیے کیونکہ جب اس آدمی نے اس لڑکی کی ماں سے صحبت کر لی ہے، صحبت کر لی ہے جبھی تو یہ بیٹا پیدا ہوا ہے اس سے، ﴿لِأَنَّهُ لَمَّا وَطِئَ أُمَّهَا حَرُمَتْ عَلَيْهِ﴾، اس لیے کیونکہ اس آدمی نے جب اس لڑکی کی ماں سے صحبت کر لی ہے تو اس پر یہ بیٹی حرام ہو گئی، یہ ربیبہ اس پر حرام ہو گئی ہے، ﴿وَلَمْ يُوجَدْ هَذَا الْمَعْنَى فِي الرَّضَاعِ﴾، اور رضاعت کے اندر تو یہ علت نہیں پائی گئی۔ رضاعی بیٹے کی بہن کے ساتھ تو نکاح جائز ہے کیونکہ رضاعی بیٹے کی بہن، رضاعی بیٹے کی بہن، یہ رضاعی بیٹا بنا ہے اس کی بہن نے تو دودھ نہیں پیا لہٰذا وہ انسان پر حرام نہیں۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَلَمْ يُوجَدْ هَذَا الْمَعْنَى فِي الرَّضَاعِ﴾، اور یہ والا معنی یعنی یہ والی علت اور یہ والا سبب جو ہے رضاعت میں تو نہیں پایا گیا کیونکہ رضاعی بیٹے کی ماں تو اس آدمی کی موطوءۃ نہیں۔ نسبی بیٹے کی بہن، نسبی بیٹے کی بہن تو وہ اس آدمی کی موطوءۃ ہے لیکن رضاعی بیٹے کی جو بہن ہے اس کی ماں تو اس آدمی کی موطوءۃ نہیں ہے لہٰذا وہ حرام نہیں ہے بھئی! آگے دیکھیے: ﴿وَامْرَأَةُ أَبِيهِ أَوِ امْرَأَةُ ابْنِهِ مِنَ الرَّضَاعِ لَا يَجُوزُ أَنْ يَتَزَوَّجَهُمَا﴾، ﴿وَامْرَأَةُ أَبِيهِ أَوِ امْرَأَةُ ابْنِهِ مِنَ الرَّضَاعِ﴾، یہ ”مِنَ الرَّضَاعِ“ کو دونوں سے جوڑیں۔ پہلے کیا آیا؟ ”وَامْرَأَةُ أَبِيهِ مِنَ الرَّضَاعِ“، یہاں بھی ”مِنَ الرَّضَاعِ“ جوڑ دیں، ”أَوِ امْرَأَةُ ابْنِهِ مِنَ الرَّضَاعِ“ بھئی، توجہ ہے؟ تو پہلے کیا ہے: ”وَامْرَأَةُ أَبِيهِ“، یہ ”أَبِيهِ“ کے ساتھ ”مِنَ الرَّضَاعِ“ کو جوڑیں، ”وَامْرَأَةُ أَبِيهِ مِنَ الرَّضَاعِ“، اپنے رضاعی باپ کی بیوی، اپنے رضاعی باپ کی بیوی، ”أَوِ امْرَأَةُ ابْنِهِ مِنَ الرَّضَاعِ“، یہاں ”مِنَ الرَّضَاعِ“ کو ”ابْنِهِ“ سے جوڑیں، اور اپنے رضاعی بیٹے کی بیوی۔ توجہ ہے؟ یہ جو دونوں ہیں: ﴿لَا يَجُوزُ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا﴾، جائز نہیں ہے کہ ان سے نکاح کرے، کون کون؟ رضاعی باپ کی بیوی، رضاعی باپ کی بیوی۔ بھئی رضاعی باپ کی بیوی کیوں حرام؟ رضاعی باپ کی بیوی، بھئی دیکھو نا ایک بچے نے ایک عورت کا دودھ پیا، یہ عورت اس کی رضاعی ماں بن گئی، توجہ ہے؟ اور اس کا خاوند اس کا رضاعی باپ بن گیا۔ اس رضاعی باپ کی ایک اور بیوی ہے اس کا تو دودھ بچے نے نہیں پیا، تو کیا اس سے نکاح کر سکتا ہے یہ بچہ؟ کہتے ہیں نہیں، اس سے بھی نکاح نہیں کر سکتا، اس لیے کیونکہ وہ اس کے باپ کی موطوءۃ ہے۔ وہ کیا ہے؟ اور قرآن میں اللہ کیا فرماتے ہیں: ﴿وَلَا تَنكِحُوا مَا نَكَحَ آبَاؤُكُم﴾، کہ تم نکاح نہ کرو جن سے تمہارے آباء نے نکاح کیا ہے۔ معلوم ہوا اپنے رضاعی باپ کی دوسری بیوی کے ساتھ بھی نکاح کی کوئی صورت نہیں ہے۔ اور نیز ﴿وَامْرَأَةُ ابْنِهِ مِنَ الرَّضَاعِ﴾، اپنے رضاعی بیٹے کی بیوی، رضاعی بیٹے کی بیوی۔ ایک آدمی ہے اس کا رضاعی بیٹا ہے اس نے اس کی بیوی کا دودھ پیا، اس بیٹے کی جو بیوی ہے یہ جو رضاعی بیٹے کی بیوی ہے اس کے ساتھ بھی یہ آدمی نکاح نہیں کر سکتا کیونکہ یہ اس کے بہو کے درجے میں ہو گئی۔ آپ نے پڑھا بھئی! کہ دودھ پلانے والی کی طرف سے تو سب رشتہ دار بن جاتے ہیں اور دودھ پینے والے کی طرف سے زوجان اور فروع، میاں بیوی اور اولاد۔ تو یہ لڑکا بھی حرام ہوا اپنے رضاعی ماں باپ پر اور اس کی جو بیوی ہوگی وہ بھی حرام ہے، جیسے نسبی بیٹے کی بیوی جو ہے وہ سسر پر حرام ہوتی ہے، اسی طرح رضاعی بیٹے کی بیوی بھی سسر پر حرام ہے، بات سمجھ میں آگئی۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَامْرَأَةُ أَبِيهِ أَوِ امْرَأَةُ ابْنِهِ مِنَ الرَّضَاعِ﴾، اور اسی طرح جو ہے اپنے رضاعی باپ کی بیوی اور اپنے رضاعی بیٹے کی جو بیوی ہے، ﴿لَا يَجُوزُ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا﴾، جائز نہیں ہے کہ ان سے کوئی نکاح کرے، ﴿كَمَا لَا يَجُوزُ ذَلِكَ مِنَ النَّسَبِ﴾، جیسے کہ یہ نسب کی وجہ سے بھی جائز نہیں ہے، جیسے نسبی باپ کی دوسری بیوی کے ساتھ نکاح جائز نہیں اور جیسے نسبی بیٹے کی بیوی کے ساتھ سسر کے لیے نکاح جائز نہیں۔ تو کہتے ہیں: ﴿كَمَا لَا يَجُوزُ ذَلِكَ مِنَ النَّسَبِ لِمَا رَوَيْنَا﴾، جیسے کہ یہ نسب کی وجہ سے جائز نہیں ہے بوجہ اس حدیث کے جو ہم نے روایت کر دی، وہ جو حدیث پیچھے آئی تھی: ”يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ“، کہ رضاعت کی وجہ سے بھی وہ رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں۔ آگے دیکھیے: ﴿وَذِكْرُ الْأَصْلَابِ فِي النَّصِّ لِإِسْقَاطِ اعْتِبَارِ التَّبَنِّي عَلَى مَا بَيَّنَّاهُ﴾، بھئی قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ﴿وَحَلَائِلُ أَبْنَائِكُمُ الَّذِينَ مِنْ أَصْلَابِكُمْ﴾، اور تمہارے ان بیٹوں کی بیویاں جو تمہاری پشتوں سے ہیں یعنی جو تمہارے حقیقی بیٹے ہیں۔ حلائل جمع ہے حلیلہ کی، بیوی کو کہتے ہیں، یعنی وہ عورت جو بیٹے کے لیے حلال ہے یعنی اس کی بیوی مراد ہے۔ تو اللہ فرماتے ہیں: ﴿وَحَلَائِلُ أَبْنَائِكُمُ الَّذِينَ مِنْ أَصْلَابِكُمْ﴾، اور تمہارے جو حقیقی بیٹے ہیں ان کی بیویاں، یعنی وہ بھی تم پر حرام ہیں۔ ان عورتوں کا ذکر ہو رہا ہے قرآن میں جو انسان پر حرام ہیں تو ان میں ذکر فرمایا اللہ نے تمہارے حقیقی بیٹوں کی بیویاں کیونکہ وہ تمہاری بہو ہے بھئی! بات سمجھ میں آرہی ہے۔ تو یہاں اشکال ہوتا ہے، یہ پہلے بھی یہ بات گزر چکی ہے، یہاں تو آیت کے اندر ﴿مِنْ أَصْلَابِكُمْ﴾ کی قید ہے یعنی وہ بیٹے جو تمہاری پشت سے ہیں یعنی جو تمہارے حقیقی بیٹے ہیں، تو اس آیت سے تو صرف اتنا پتہ چلا کہ حقیقی بیٹوں کی بیویاں حرام ہیں انسان پر کیونکہ اس میں ﴿مِنْ أَصْلَابِكُمْ﴾ کی قید آئی، اس سے تو رضاعی بیٹے کی بیوی کی حرمت ثابت نہیں ہوتی۔ حقیقی بیٹے کی بیوی تو حرام ہے لیکن رضاعی بیٹے کی بیوی تو اس آیت سے معلوم ہوتا ہے حرام نہیں ہے، تو اس کا جواب پہلے گزر چکا کہ یہ جو ﴿مِنْ أَصْلَابِكُمْ﴾ کی قید آئی تھی آیت کے اندر یہ متبنٰی کو نکالنے کے لیے ہے، بعض اوقات ایک انسان کسی دوسرے انسان کو اپنا منہ بولا بیٹا بنا لیتا ہے اس کو متبنٰی کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ متبنٰی یعنی منہ بولا بیٹا۔ تو یہ جو ﴿مِنْ أَصْلَابِكُمْ﴾ کی قید آئی ہے یہ متبنٰی کو نکالنے کے لیے ہے کہ تمہارے حقیقی بیٹوں کی بیویاں تم پر حرام ہیں، متبنٰی جو ہیں جن کو تم نے اپنا منہ بولا بیٹا بنایا ہے ان کی بیویاں تم پر حرام نہیں کیونکہ تم نے ان کو بیٹا بنایا ہے تو تمہارے بیٹا بنانے سے وہ تمہارے کوئی حقیقی بیٹے نہیں بن گئے بھئی! تو ان کی بیویاں تم پر حرام نہیں۔ تو یہ ﴿مِنْ أَصْلَابِكُمْ﴾ کی قید کس لیے آئی ہے آیت میں؟ متبنٰی کو نکالنے کے لیے۔ بات سمجھ میں آگئی۔ اور باقی رضاعی بیٹے کی بیوی تو وہ تو حدیث میں آگیا کہ رضاعت سے وہ رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں، اور نسبی بیٹے کی بیوی حرام ہے ابھی آیت میں آپ نے پڑھ لیا، نسبی بیٹے کی بیوی حرام، جب نسبی بیٹے کی بیوی حرام ہے تو حدیث میں کیا آیا؟ جو رشتے نسب کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں وہ رضاعت کی وجہ سے بھی حرام ہوتے ہیں تو لہٰذا رضاعی بیٹے کی بیوی بھی حرام ہوگی کیونکہ رضاعت سے بھی وہ رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب سے حرام ہوتے ہیں، دلیل سمجھ میں آگئی۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَذِكْرُ الْأَصْلَابِ فِي النَّصِّ﴾، اور نص کے اندر یعنی آیت کے اندر جو اصلاب یعنی پشتوں کا ذکر آیا ہے، اصلاب کا جو ذکر آیا ہے نص کے اندر، ﴿لِإِسْقَاطِ اعْتِبَارِ التَّبَنِّي عَلَى مَا بَيَّنَّاهُ﴾، یہ متبنٰی ہونے کے اعتبار کو ساقط کرنے کے لیے ہے اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دی۔ دلیل سمجھ میں آگئی؟ آیت سے صرف کیا پتہ چلا؟ حقیقی بیٹے کی بیوی حرام ہے اور یہ حقیقی کی قید کیوں لگائی؟ متبنٰی کو نکالنے کے لیے۔ متبنٰی کی بیوی حرام نہیں، باقی رضاعی بیٹا، رضاعی بیٹا اس کی بیوی بھی حرام ہے کیونکہ حدیث میں کیا آیا کہ رضاعت سے بھی وہ رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب سے حرام ہوتے ہیں، اور نسبی بیٹے کی بیوی تو حرام ہے قرآن سے ثابت ہے تو رضاعی بیٹے کی بیوی بھی حرام ہوگی کیونکہ رضاعت سے بھی وہ رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب سے حرام ہوتے ہیں، دلیل سمجھ میں آگئی۔ آگے دیکھیے: ﴿وَلَبَنُ الْفَحْلِ يَتَعَلَّقُ بِهِ التَّحْرِيمُ﴾، بھئی یاد رکھو! یہ جو عورت کی چھاتی میں دودھ اتر آتا ہے وجہ اس کی یہ ہے کہ خاوند اس کے ساتھ صحبت کرتا ہے اور اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اولاد نصیب فرماتے ہیں اور عورت کی چھاتی میں دودھ اتر آتا ہے۔ معلوم ہوا وہ مرد جو ہے وہ اس دودھ کے اترنے کا سبب بنا ہے، وہ صحبت نہ کرتا تو اولاد بھی نہ ہوتی اور دودھ بھی نہ آتا۔ تو یہ مرد سبب بنا ہے اس دودھ کے اترنے کا۔ لہٰذا جب یہ عورت کسی اور بچے کو دودھ پلائے گی تو یہ عورت اس کی رضاعی ماں بن گئی اور جب یہ عورت اس کی رضاعی ماں بنی ہے تو یہ خاوند جس کی وجہ سے دودھ اترا تھا یہ اس بچے کا رضاعی باپ بن جائے گا۔ یہ اس بچے کا رضاعی باپ بن جائے گا کیونکہ اس دودھ کا سبب یہ خاوند بنا ہے لہٰذا یہ حرمت صرف عورت تک نہیں رہے گی بلکہ خاوند بھی اس بچے کا رضاعی باپ بن جائے گا وہاں بھی حرمت آ جائے گی۔ تو یہ معنی ہے: ﴿وَلَبَنُ الْفَحْلِ يَتَعَلَّقُ بِهِ التَّحْرِيمُ﴾، فحل، فحل کہتے ہیں بھئی نر کو، نر یعنی مذکر جو ہے، اور یہاں فحل سے مراد مرد ہے۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَلَبَنُ الْفَحْلِ﴾، اور مرد کا دودھ، مرد کا دودھ یعنی وہ دودھ جس کا سبب مرد بنا ہے۔ توجہ ہے؟ تو کہتے ہیں: ﴿وَلَبَنُ الْفَحْلِ يَتَعَلَّقُ بِهِ التَّحْرِيمُ﴾، اور وہ دودھ جس کا سبب مرد بنا ہے اس کے ساتھ بھی تحریم کا تعلق ہوگا، ﴿وَهُوَ أَنْ تُرْضِعَ الْمَرْأَةُ صَبِيَّةً﴾، اور وہ یہ کہ عورت دودھ پلائے صَبِيَّةً ایک بچی کو، ﴿فَتَحْرُمُ هَذِهِ الصَّبِيَّةُ عَلَى زَوْجِهَا وَعَلَى آبَائِهِ وَأَبْنَائِهِ﴾، تو حرام ہو جائے گی یہ بچی ﴿عَلَى زَوْجِهَا﴾ اس عورت کے خاوند پر بھی۔ اس عورت کے خاوند پر بھی وہ بچی کیا ہو گئی؟ حرام، کیونکہ وہ رضاعی باپ بن گیا۔ اور نیز صرف خاوند پر حرام نہیں ہوئی بلکہ خاوند کے اصول و فروع جو ہیں یعنی خاوند کے آباء وہ اس بچی کے دادا دادی بن گئے، وہ بچی کے دادا دادی بن گئے وہ بھی اس پر حرام، اور اس خاوند کی جو اولاد ہے وہ اس بچی کے رضاعی بھئی بہن بن گئے وہ بھی اس پر حرام۔ تو صرف دودھ پلانے والی پہ حرمت نہیں آئی بلکہ اس کا خاوند بھی اس دودھ پینے والی پر حرام ہو گیا اور اس کے اصول و فروع بھی اس دودھ پینے والی پر حرام ہو گئے۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَهُوَ أَنْ تُرْضِعَ الْمَرْأَةُ صَبِيَّةً فَتَحْرُمُ هَذِهِ الصَّبِيَّةُ عَلَى زَوْجِهَا وَعَلَى آبَائِهِ وَأَبْنَائِهِ﴾، اور وہ یہ کہ کوئی عورت کسی بچی کو دودھ پلائے تو یہ بچی اس کے خاوند پر بھی حرام ہو جاتی ہے اور خاوند کے آباء اور خاوند کے بیٹے جو ہیں ان پر بھی یہ بچی حرام ہو جاتی ہے، ﴿وَيَصِيرُ الزَّوْجُ الَّذِي نَزَلَ لَهَا مِنْهُ اللَّبَنُ أَبًا لِلْمُرْضَعَةِ﴾، اور ہو جاتا ہے وہ خاوند کہ اترا ہے اس عورت کا اس کی وجہ سے دودھ، وہ خاوند جس کی وجہ سے اس عورت کا دودھ اترا ہے، ﴿أَبًا لِلْمُرْضَعَةِ﴾، وہ باپ ہو جاتا ہے دودھ پینے والی کے لیے۔ اس کو مُرْضَعَة پڑھیں بھئی ضاد کے فتحہ کے ساتھ، مُرْضِعَة ضاد کے کسرہ کے ساتھ: دودھ پلانے والی، اور مُرْضَعَة: دودھ پینے والی۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَيَصِيرُ الزَّوْجُ الَّذِي نَزَلَ لَهَا مِنْهُ اللَّبَنُ أَبًا لِلْمُرْضَعَةِ﴾، اور وہ خاوند جس کی وجہ سے اس عورت کا دودھ اترا ہے وہ اس مرضعہ کا باپ ہو جاتا ہے، ﴿وَفِي أَحَدِ قَوْلَيِ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى لَبَنُ الْفَحْلِ لَا يُحَرِّمُ﴾، اور امام شافعی رحمہ اللہ کے دو قولوں میں سے ایک قول یہ ہے کہ ﴿لَبَنُ الْفَحْلِ لَا يُحَرِّمُ﴾، کہ مرد کا دودھ وہ حرام نہیں کرتا۔ مرد کا دودھ حرام نہیں کرتا یعنی وہ دودھ جس کا سبب مرد بنا ہے تو یہ دودھ اس مرد کو حرام نہیں کرے گا، اس مرد کی طرف حرمت نہیں آئے گی کیونکہ بچے نے عورت کا دودھ پیا، توجہ ہے؟ اس دودھ کا سبب بے شک خاوند بنا ہے لیکن یہ دودھ جزء ہے عورت کا۔ تو جب بچے نے دودھ پیا تو بچے کے گوشت اور ہڈیاں اس سے بنی تو وہ دودھ بچے کا جزء بن گیا، بچے نے عورت کا دودھ پیا اور اس دودھ سے اس بچے کی ہڈیاں اور گوشت بنا تو وہ دودھ بچے کا جزء بن گیا اور وہ دودھ تو عورت کا جزء تھا، تو معلوم ہوا یہ بچہ بھی عورت کا جزء بن گیا۔ تو جب عورت کا جزء بنا ہے تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں صرف عورت کے ساتھ اس کی حرمت آئے گی، خاوند کا تو یہ جزء نہیں بنا، یہ ان کا ایک قول ہے۔ دوسرے قول کے مطابق خاوند سے بھی حرمت آ جائے گی کیونکہ خاوند اس دودھ کے اترنے کا سبب بنا ہے۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَفِي أَحَدِ قَوْلَيِ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى لَبَنُ الْفَحْلِ لَا يُحَرِّمُ﴾، اور امام شافعی رحمہ اللہ کے دو قولوں میں سے ایک کے اندر مرد کا دودھ جو ہے وہ حرام نہیں کرتا، ﴿لِأَنَّ الْحُرْمَةَ لِشُبْهَةِ الْبَعْضِيَّةِ﴾، اس لیے کیونکہ یہ جو حرمت آتی ہے یہ جزئیت کے شبہے کی وجہ سے آتی ہے کہ بچہ کیا ہے عورت کا جزء بن جاتا ہے، ﴿وَاللَّبَنُ بَعْضُهَا لَا بَعْضُهُ﴾، اور یہ جو دودھ ہے یہ تو اس عورت کا جزء ہے، بعضھا، بعض کا ترجمہ یہاں جزء کے کریں، ﴿وَاللَّبَنُ بَعْضُهَا لَا بَعْضُهُ﴾، اور یہ جو دودھ ہے یہ تو عورت کا جزء ہے، آدمی کا جزء نہیں، تو بچہ جو ہے وہ اس عورت کا جزء بنا ہے آدمی کا جزء نہیں بنا تو لہٰذا صرف عورت پر حرام ہوگا بھئی۔ آگے دیکھیے: ﴿وَلَنَا مَا رَوَيْنَا﴾، اور ہماری دلیل جو ہے وہ حدیث ہے جو ہم نے روایت کر دی۔ میں نے بتلایا تھا صاحبِ ہدایہ بار بار اس حدیث کا حوالہ دیں گے وہ جو رضاعت کے باب کے شروع میں آئی تھی، حضور کیا فرماتے ہیں: ”يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ“، رضاعت کی وجہ سے بھی وہ رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں۔ اور مجھے آپ بتائیے ایک شخص کی ایک عورت سے شادی ہوئی اور پھر اس عورت نے ایک بچے کو جنم دیا تو یہ عورت بچے کی ماں اور وہ خاوند بچے کا باپ، تو نسب کی وجہ سے یہ بچہ صرف اس ماں پر حرام ہے یا اس باپ پر بھی حرام ہے؟ باپ پر بھی حرام ہے، تو دیکھو نسب کی وجہ سے میاں بیوی دونوں میں حرمت آتی ہے تو رضاعت میں بھی میاں بیوی دونوں میں حرمت آئے گی، دونوں رضاعی ماں باپ بن جائیں گے۔ ﴿وَلَنَا مَا رَوَيْنَا وَالْحُرْمَةُ بِالنَّسَبِ مِنَ الْجَانِبَيْنِ﴾، اور ہماری دلیل جو ہے وہ حدیث ہے جو ہم نے روایت کر دی اور وہ حرمت جو نسب کی وجہ سے ہوتی ہے وہ تو دونوں جانب سے ہوتی ہے یعنی ماں کی طرف سے بھی اور باپ کی طرف سے بھی، لہٰذا رضاعت کی وجہ سے بھی جو حرمت آئے وہ بھی دونوں جانب سے ہوگی، ﴿فَكَذَا بِالرَّضَاعِ﴾، تو اسی طرح رضاعت کی وجہ سے بھی حرمت دونوں جانب سے ہوگی، ﴿وَقَوْلُهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا: لِيَلِجْ عَلَيْكِ أَفْلَحُ فَإِنَّهُ عَمُّكِ مِنَ الرَّضَاعَةِ﴾، اور ہماری دلیل حضور علیہ السلام کا قول ہے جو آپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے فرمایا: ”لِيَلِجْ عَلَيْكِ أَفْلَحُ فَإِنَّهُ عَمُّكِ مِنَ الرَّضَاعَةِ“، ﴿لِيَلِجْ عَلَيْكِ﴾ چاہیے کہ داخل ہو تجھ پر، ولج یلج کے معنی ہیں داخل ہونا، ﴿لِيَلِجْ عَلَيْكِ أَفْلَحُ﴾ افلح کو آپ کے پاس آنا چاہیے۔ ﴿لِيَلِجْ عَلَيْكِ أَفْلَحُ﴾ چاہیے کہ داخل ہو آپ پر افلح یعنی افلح، یہ نام ہے افلح، افلح کو آپ کے پاس آنا چاہیے، ﴿فَإِنَّهُ عَمُّكِ مِنَ الرَّضَاعَةِ﴾ اس لیے کیونکہ وہ آپ کے رضاعی چچا ہیں۔ وہ آپ کے رضاعی چچا ہیں، بھئی دیکھو! رضاعی چچا، چچا کسے کہتے ہیں؟ باپ کے بھئی کو، اور رضاعی چچا تبھی ہو سکتا ہے جب اس چچا کا بھئی رضاعی باپ ہو۔ چچا کسے کہتے ہیں؟ باپ کے بھئی کو، توجہ ہے؟ تو کوئی شخص رضاعی چچا تبھی ہو سکتا ہے جب اس چچا کا جو بھئی ہے وہ اس کا رضاعی باپ ہو۔ توجہ ہے؟ اگر حرمت صرف عورت سے آئی ہے، عورت کا خاوند رضاعی باپ نہیں، جب وہ رضاعی باپ نہیں تو اس کا بھئی رضاعی چچا بھی نہیں۔ بچے نے جس عورت کا دودھ پیا ہے جب اس عورت کا خاوند اس کا رضاعی باپ بنے گا تو تب ہی اس رضاعی باپ کا بھئی اس کا رضاعی چچا بنے گا بھئی! بات سمجھ میں آگئی، تو حدیث سے کیا معلوم ہوا کہ افلح ان کے رضاعی چچا تھے، معلوم ہوا حرمت صرف دودھ پلانے والی میں نہیں ہے بلکہ اس کے خاوند کی طرف بھی آگئی، وہ اس کا رضاعی باپ ہے، بات سمجھ میں آگئی۔ کہتے ہیں: ﴿وَقَوْلُهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا: لِيَلِجْ عَلَيْكِ أَفْلَحُ فَإِنَّهُ عَمُّكِ مِنَ الرَّضَاعَةِ﴾، اور ہماری دلیل حضور علیہ السلام کا قول ہے جو آپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے فرمایا: ”لِيَلِجْ عَلَيْكِ أَفْلَحُ“، چاہیے کہ افلح آپ کے پاس آئیں، ”فَإِنَّهُ عَمُّكِ مِنَ الرَّضَاعَةِ“، اس لیے کیونکہ وہ آپ کے رضاعی چچا ہیں۔ یہ حدیث میرے حاشیے میں دی ہوئی ہے یہ ساری... دیکھ لیجیے بھئی! کہتے ہیں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے: قَالَتْ: ”دَخَلَ عَلَيَّ أَفْلَحُ بْنُ أَبِي الْقُعَيْسِ“۔ حاشیہ مل گیا بھئی؟ جی۔ تو حضرت عائشہ فرماتی ہیں: ”دَخَلَ عَلَيَّ“ کہ میرے پاس تشریف لائے ”أَفْلَحُ بْنُ أَبِي الْقُعَيْسِ“۔ یہاں ہے افلح ابن ابی القعیس، ابن کا لفظ ہے درمیان میں۔ جی۔ لیکن لیکن علماء فرماتے ہیں کہ یہ افلح جو ہے ابی القعیس کے بیٹے نہیں تھے، بلکہ یہ ان کے بھئی تھے۔ یہ کیا تھے؟ بھئی۔ ان کے بھئی تھے، اور یہی ابوالقعیس ہیں جن کی بیوی کا دودھ پیا تھا حضرت عائشہ صدیقہ نے بچپن میں۔ تو ابوالقعیس کی بیوی کا دودھ پیا، تو ابوالقعیس کیا بن گئے ان کے؟ رضاعی باپ، اور ان کے بھئی جو ہیں افلح وہ کیا بن گئے؟ رضاعی چچا۔ تو لہٰذا یہاں ابن کی جگہ اخ ہونا چاہیے۔ تو حضرت عائشہ فرماتی ہیں: ”دَخَلَ عَلَيَّ أَفْلَحُ، أَفْلَحُ أَخُو أَبِي الْقُعَيْسِ“ کہ میرے پاس افلح جو ابوالقعیس کے بھئی ہیں وہ داخل ہوئے یعنی وہ تشریف لائے، ”فَاسْتَتَرْتُ مِنْهُ“ تو میں نے ان سے پردہ کر لیا۔ وہ تشریف لائے تو میں نے ان سے پردہ کر لیا۔ ”فَقَالَ“ تو وہ فرمانے لگے: ”تَسْتُرِينَ مِنِّي وَأَنَا عَمُّكِ؟“ کہ تم مجھ سے پردہ کر رہی ہو ”وَأَنَا عَمُّكِ“ اور میں تو آپ کا چچا ہوں؟ جی۔ ”تَسْتُرِينَ مِنِّي وَأَنَا عَمُّكِ؟“ کہ تم مجھ سے پردہ کر رہی ہو اس حال میں کہ میں تمہارا چچا ہوں۔ تو ”قَالَتْ“ تو حضرت عائشہ فرماتی ہیں: ”قُلْتُ“ میں نے کہا: ”مِنْ أَيْنَ؟“ کہاں سے؟ آپ کہاں سے میرے چچا ہو گئے؟ ”قَالَ“ تو وہ فرمانے لگے: ”أَرْضَعَتْكِ امْرَأَةُ أَخِي“ کہ دودھ پلایا تھا تمہیں میرے بھئی کی بیوی نے۔ ”قَالَتْ“ تو حضرت عائشہ فرمانے لگیں، دیکھو بھئی، حضرت عائشہ، فقاہت کا اندازہ تو لگاؤ۔ ”قَالَتْ“ وہ فرمانے لگیں: ”إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي الْمَرْأَةُ وَلَمْ يَرْضَعْنِي الرَّجُلُ“ کہ مجھے تو عورت نے دودھ پلایا ہے، مرد نے تو دودھ نہیں پلایا۔ یعنی وہ تو میری رضاعی ماں بن گئی، ان کا خاوند کہاں سے میرا رضاعی باپ بن گیا؟ حضرت عائشہ فرماتی ہیں: ”فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَدَّثْتُهُ“ کہ میرے پاس حضور علیہ السلام تشریف لائے تو میں نے ان سے ذکر کیا، ”فَقَالَ“ تو حضور فرمانے لگے: ”إِنَّهُ عَمُّكِ فَلْيَلِجْ عَلَيْكِ“ کہ وہ آپ کے چچا ہیں، ان کو آپ کے پاس آنا چاہیے، یعنی وہ آپ کے پاس آ سکتے ہیں۔ جی۔ تو یہ تو حدیث تھی۔ اب آئیے سبق پر۔ کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّهُ سَبَبٌ لِنُزُولِ اللَّبَنِ مِنْهَا فَيُضَافُ إِلَيْهِ فِي مَوْضِعِ الْحُرْمَةِ احْتِيَاطًا“ یہ عقلی دلیل ذکر کر رہے ہیں۔ نقلی دلیل تو ذکر کر دی، ایک وہ حدیث ہے کہ رضاعت سے وہ رشتے حرام ہوتے ہیں جو نسب کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں، اور نسب کے اندر تو ماں باپ دونوں حرام ہوتے ہیں تو رضاعت میں بھی ماں باپ دونوں حرام ہوں گے، اور نیز پھر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی حدیث بھی ذکر کر دی، افلح جب آپ کے پاس تشریف لائے تھے۔ اور اب عقلی دلیل ذکر کر رہے ہیں۔ عقلی دلیل کس چیز کی؟ کہ یہ جو خاوند ہے، اس کے ساتھ بھی حرمت آئے گی۔ خاوند بھی رضاعی باپ بنے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّهُ سَبَبٌ لِنُزُولِ اللَّبَنِ مِنْهَا“ اور اس لیے کیونکہ خاوند جو ہے وہ سبب ہے اس عورت سے دودھ کے اترنے کا، ”فَيُضَافُ إِلَيْهِ“ لہٰذا اس دودھ کی نسبت اس خاوند کی طرف بھی کی جائے گی ”فِي مَوْضِعِ الْحُرْمَةِ“ حرمت کے مقام میں ”احْتِيَاطًا“ بطورِ احتیاط کے۔ یہ حرمت کا مقام ہے بھئی! جی۔ یہ کیا ہے؟ حرمت کا مقام ہے، لہٰذا احتیاط اسی میں ہے کہ حرمت صرف بیوی سے نہ ثابت کی جائے بلکہ خاوند جو اس دودھ کا سبب بنا ہے، اس میں بھی حرمت آنی چاہیے بھئی، احتیاط کا تقاضا یہی ہے بھئی۔ آگے دیکھیے: ”وَيَجُوزُ أَنْ يَتَزَوَّجَ الرَّجُلُ بِأُخْتِ أَخِيهِ مِنَ الرَّضَاعِ“ اور جائز ہے کہ کوئی شخص نکاح کرے ”بِأُخْتِ أَخِيهِ مِنَ الرَّضَاعِ“، ”مِنَ الرَّضَاعِ“ کو جوڑیں ”أَخِيهِ“ سے، کہ کوئی شخص نکاح کرے ”بِأُخْتِ أَخِيهِ مِنَ الرَّضَاعِ“ اپنے رضاعی بھئی کی بہن کے ساتھ۔ جی۔ جائز ہے اپنے رضاعی بھئی کی بہن کے ساتھ نکاح جائز ہے۔ مثلاً دیکھو، مثلاً دیکھو: زید اور عمر دونوں نے بچپن میں ایک عورت کا دودھ پیا ہے۔ جی۔ تو زید اور عمر آپس میں بھئی بن گئے، رضاعی بھئی ہیں۔ جی۔ تو یہ دونوں تو رضاعی بھئی ہیں لیکن زید کی بہن کے ساتھ تو عمر کا کوئی رشتہ نہیں، لہٰذا عمر زید کی بہن سے نکاح کر سکتا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَيَجُوزُ أَنْ يَتَزَوَّجَ الرَّجُلُ بِأُخْتِ أَخِيهِ مِنَ الرَّضَاعِ“ اور جائز ہے کہ کوئی آدمی نکاح کرے اپنے رضاعی بھئی کی بہن کے ساتھ ”لِأَنَّهُ يَجُوزُ أَنْ يَتَزَوَّجَ بِأُخْتِ أَخِيهِ مِنَ النَّسَبِ“ اس لیے کیونکہ جائز ہے کہ وہ نکاح کرے ”بِأُخْتِ أَخِيهِ مِنَ النَّسَبِ“ اپنے نسبی بھئی کی بہن سے۔ اپنے نسبی بھئی کی بہن سے نکاح جائز ہے، تو رضاعی بھئی کی بہن سے بھی نکاح جائز ہے۔ توجہ ہے؟ رضاعی بھئی کی بہن تو میں نے ذکر کر دیا، زید اور عمر نے ایک عورت کا دودھ پیا ہے تو زید اور عمر تو رضاعی بھئی ہو گئے لیکن زید کی بہن تو اس کی کوئی رضاعی یا حقیقی بہن نہیں، لہٰذا وہ زید کی بہن سے نکاح کر سکتا ہے۔ رضاعی بھئی کی بہن سے نکاح جائز ہے۔ اسی طرح نسبی بھئی کی بہن سے بھی نکاح جائز ہے۔ بھئی وہ کیسے جائز ہوگا نسبی بھئی کی بہن؟ یاد رکھو، نسبی بھئی کی بہن، نسبی بھئی کی بہن، کس طرح؟ نسبی بھئی تین طرح کا ہو سکتا ہے: ہو سکتا ہے یہ حقیقی بھئی ہو، ہو سکتا ہے یہ علاتی بھئی ہو، اور ہو سکتا ہے یہ اخیافی بھئی ہو۔ جی۔ تو یہ جو نسبی بھئی ہے اس میں تین صورتیں ہیں۔ پھر اس نسبی بھئی کی جو بہن ہے، اس بہن میں بھی تین صورتیں ہیں: ہو سکتا ہے وہ اس نسبی بھئی کی حقیقی بہن ہو، ہو سکتا ہے علاتی بہن ہو، ہو سکتا ہے اخیافی بہن ہو۔ توجہ ہے؟ تو ایک شخص کا جو نسبی بھئی ہے، وہ حقیقی بھی ہو سکتا ہے، علاتی بھی ہو سکتا ہے اور اخیافی بھی۔ اب مثلاً فرض کرو، ایک شخص کا علاتی بھئی ہے۔ کیا ہے؟ علاتی بھئی۔ علاتی بھئی کا کیا معنی؟ کہ دونوں کا باپ ایک ہے لیکن مائیں الگ الگ ہیں۔ یہ جو علاتی بھئی ہے، اس کی ایک اخیافی بہن ہے۔ جی۔ یہ جو علاتی بھئی ہے، اس کی ماں الگ ہے۔ جی۔ توجہ ہے، توجہ سے سمجھو۔ ایک آدمی کا ایک علاتی بھئی ہے۔ جب علاتی بھئی ہے تو معلوم ہوا اس بھئی کی ماں الگ ہے۔ جی۔ اس آدمی کی ماں الگ اور علاتی بھئی کی ماں الگ ہے۔ پھر اس علاتی بھئی کی ایک اخیافی بہن ہے، جی، یعنی دونوں کی ماں ایک ہے اور باپ الگ ہے۔ جی۔ تو یہ جو علاتی بھئی کی اخیافی بہن ہے، اس کی ماں بھی الگ اس آدمی سے اور اس کا باپ بھی الگ۔ نہیں توجہ، پھر سمجھو۔ مثلاً: زید کا علاتی بھئی ہے عمر۔ جی۔ معلوم ہوا زید کی ماں الگ ہے اور عمر کی ماں الگ۔ پھر اس عمر جو ہے، اس کی ایک اخیافی بہن ہے۔ معلوم ہوا عمر اور اس بہن دونوں کی ماں ایک ہے۔ ماں ایک ہے، لیکن اس بہن کا باپ الگ ہے، وہ تو پہلے خاوند سے ہے وہ۔ تو اب یہ جو زید کے علاتی بھئی کی اخیافی بہن ہے، اس کی ماں زید سے الگ ہے جی، اور نیز اس زید کے علاتی بھئی کی جو اخیافی بہن ہے، اس کا باپ بھی زید سے الگ ہے۔ جی۔ توجہ ہے؟ تو معلوم ہوا وہ لڑکی زید کے لیے اجنبیہ ہے، زید اس سے نکاح کر سکتا ہے۔ جی۔ اس لڑکی کی ماں بھی الگ ہے اور باپ بھی الگ ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ يَجُوزُ أَنْ يَتَزَوَّجَ بِأُخْتِ أَخِيهِ مِنَ النَّسَبِ“ اس لیے کیونکہ جائز ہے کہ وہ نکاح کرے اپنے نسبی بھئی کی بہن کے ساتھ ”وَذَلِكَ مِثْلُ الْأَخِ مِنَ الْأَبِ“ ”أَخٍ مِنَ الْأَبِ“ کا کیا معنی؟ باپ شریک بھئی یعنی علاتی بھئی۔ ”أَخٍ مِنَ الْأَبِ“ باپ شریک بھئی یعنی علاتی بھئی۔ ”إِذَا كَانَتْ لَهُ أُخْتٌ مِنْ أُمِّهِ“ ”أُخْتٌ مِنْ أُمِّهِ“ کا کیا معنی؟ ماں شریک بہن، ”أُخْتٌ مِنْ أُمِّهِ“ جو ماں شریک بہن ہے یعنی اخیافی بہن ہے۔ توجہ ہے؟ اب ترجمہ سنیں: ”وَذَلِكَ مِثْلُ الْأَخِ مِنَ الْأَبِ“ اور یہ جیسے کہ ایک علاتی بھئی ہے ”إِذَا كَانَتْ لَهُ أُخْتٌ مِنْ أُمِّهِ“ جب اس کی کوئی اخیافی بہن ہو ”جَازَ لِأَخِيهِ مِنْ أَبِيهِ“ تو اس آدمی کے علاتی بھئی کے لیے جائز ہے ”أَنْ يَتَزَوَّجَهَا“ کہ وہ اس علاتی بھئی کی اخیافی بہن کے ساتھ نکاح کر سکتا ہے۔ آگے دیکھیے: ”وَكُلُّ صَبِيَّيْنِ اجْتَمَعَا عَلَى ثَدْيِ امْرَأَةٍ وَاحِدَةٍ لَمْ يَجُزْ لِأَحَدِهِمَا أَنْ يَتَزَوَّجَ بِالْأُخْرَى“ ”وَكُلُّ صَبِيَّيْنِ“ ہر وہ دو بچے ”اجْتَمَعَا“ جو دونوں جمع ہو جائیں ”عَلَى ثَدْيِ امْرَأَةٍ وَاحِدَةٍ“، ثدی کہتے ہیں عورت کی چھاتی بھئی۔ تو کہتے ہیں جب وہ دو بچے جو جمع ہو جائیں ”عَلَى ثَدْيِ امْرَأَةٍ وَاحِدَةٍ“ ایک ہی عورت کی چھاتی پر، یعنی ایک ہی عورت کی چھاتی سے دودھ پیئیں ”لَمْ يَجُزْ لِأَحَدِهِمَا أَنْ يَتَزَوَّجَ بِالْأُخْرَى“ تو ان میں سے ایک کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ دوسرے کے ساتھ نکاح کرے ”هَذَا هُوَ الْأَصْلُ“ یہی ضابطہ ہے۔ جی۔ جو دو بچے بھی ایک عورت کا دودھ پی لیں، ان کا آپس میں نکاح جائز نہیں، ”هَذَا هُوَ الْأَصْلُ“ یہی ضابطہ ہے ”لِأَنَّ أُمَّهُمَا وَاحِدَةٌ“ اس لیے کیونکہ ان دونوں کی ماں ایک ہے ”فَهُمَا أَخٌ وَأُخْتٌ“ تو یہ بھئی اور بہن ہیں بھئی۔ ”وَلَا يَتَزَوَّجُ الْمُرْضَعَةُ أَحَدًا مِنْ وَلَدِ الَّتِي أَرْضَعَتْ“ یاد رکھو، ایک ہے ابن اور ایک ہے بنت۔ ابن بیٹے کو کہتے ہیں اور بنت بیٹی، اور ولد کا لفظ، ولد کا لفظ بیٹے اور بیٹی دونوں کو شامل ہے، اور نیز یہ مفرد پر بھی بولا جاتا ہے، تثنیہ پر بھی اور جمع پر بھی، مذکر پر بھی، مؤنث پر بھی۔ تو سب کے لیے یہ لفظ استعمال ہوتا ہے۔ ایک بیٹا یا بیٹی ہو تب بھی ولد کہہ سکتے ہیں آپ، دو ہوں تو بھی ولد کہہ سکتے ہیں، تین یا زیادہ ہوں تو بھی آپ ولد کہہ سکتے ہیں۔ تو اردو میں اس کا بہترین ترجمہ جو ہے وہ اولاد ہے۔ ولد کا کیا ترجمہ ہے؟ اولاد بھئی۔ صورتِ مسئلہ یہ: ایک لڑکی نے بچپن میں ایک عورت کا دودھ پیا، تو یہ عورت اس کی رضاعی ماں بن گئی۔ تو اس عورت کی جو اولاد ہے اس سے بھی یہ لڑکی نکاح نہیں کر سکتی، یعنی اس عورت کا کوئی بیٹا ہے کیونکہ وہ اس کا رضاعی بھئی بن چکا ہے۔ جی۔ توجہ ہے؟ اور اس عورت کی جو اولاد کی اولاد ہے جی، ان میں سے بھی کسی کے ساتھ یہ نکاح نہیں کر سکتی کیونکہ وہ اس کے رضاعی بھئی بہنوں کی اولاد ہیں، وہ اس لڑکی کے رضاعی بھئی بہنوں کی اولاد ہیں یعنی وہ اس کے رضاعی بھانجے اور بھتیجے ہیں بھئی۔ تو یہ معنی ہے: ”وَلَا يَتَزَوَّجُ الْمُرْضَعَةُ“ اور مرضَعہ نکاح نہیں کر سکتی، مرضَعہ؟ وہ جس نے دودھ پیا ہے بھئی، تو مرضَعہ جو ہے وہ نکاح نہیں کر سکتی ”أَحَدًا“ کسی ایک سے بھی ”مِنْ وَلَدِ الَّتِي أَرْضَعَتْ“ اس عورت کی اولاد میں سے جس نے اس کو دودھ پلایا تھا ”لِأَنَّهُ أَخُوهَا“ کیونکہ وہ اس کا بھئی ہے ”وَلَا وَلَدِ وَلَدِهَا“ اور نہ اس عورت کی اولاد کی اولاد کے ساتھ ”لِأَنَّهُ وَلَدُ أَخِيهَا“ کیونکہ وہ اس کے بھئی کی اولاد ہے، وہ اس کے بھئی کی اولاد یعنی بھتیجے ہیں۔ اسی طرح بھانجوں کا بھی یہی حکم ہے۔ تو رضاعی بھانجے اور رضاعی بھتیجے سے بھی اس لڑکی کا نکاح جائز نہیں ہے بھئی۔ ”وَلَا يَتَزَوَّجُ الصَّبِيُّ الْمُرْضَعُ أُخْتَ زَوْجِ الْمُرْضِعَةِ لِأَنَّهَا عَمَّتُهُ مِنَ الرَّضَاعِ“ صورتِ مسئلہ یہ: ایک بچے نے ایک عورت کا دودھ پیا ہے، تو یہ عورت اس کی رضاعی ماں بن گئی اور اس عورت کا خاوند اس کا رضاعی باپ بن گیا۔ تو یہ جو بچہ ہے، یہ اپنے رضاعی باپ کی بہن سے بھی نکاح نہیں کر سکتا۔ کس سے؟ رضاعی باپ کی بہن، کیونکہ وہ اس کی رضاعی پھوپھی بن گئی بھئی۔ جیسے نسبی پھوپھی سے نکاح حرام ہے، رضاعی پھوپھی سے بھی نکاح حرام ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا يَتَزَوَّجُ الصَّبِيُّ الْمُرْضَعُ“ اور وہ بچہ جس نے دودھ پیا ہے وہ نکاح نہیں کر سکتا ”أُخْتَ زَوْجِ الْمُرْضِعَةِ“ دودھ پلانے والی کے خاوند کی بہن سے ”لِأَنَّهَا عَمَّتُهُ مِنَ الرَّضَاعِ“ اس لیے کیونکہ وہ اس کی رضاعی پھوپھی ہے۔ ”وَإِذَا اخْتَلَطَ اللَّبَنُ بِالْمَاءِ“ اب صورتِ مسئلہ یہ: ایک تو تھا دودھ عورت براہِ راست بچے کو پلائے، اور ایک صورت یہ ہے کہ عورت کی چھاتی سے دودھ نکالا جائے اور بچے کو پلایا جائے، تو کیا اس سے بھی حرمت ثابت ہوگی یا نہیں؟ تو آپ کو بتلائیں گے کہ ہاں، اگر دودھ نکال کر بھی کسی بچے کو پلا دیا تو وہ عورت اس کی رضاعی ماں بن جائے گی، حرمت ثابت ہو جائے گی۔ اور اگر اس دودھ کے ساتھ کچھ اور چیز ملا دی تو پھر کیا پھر بھی حرمت ثابت ہوگی یا نہیں؟ تو آپ کو بتلائیں گے کہ اس صورت میں، مثلاً دودھ کے ساتھ پانی ملایا ہے، تو اس صورت میں اگر دودھ پانی سے زیادہ ہے یا دودھ پانی کے برابر ہے پھر تو حرمت ثابت ہو جائے گی۔ جب دودھ پانی سے زیادہ ہے یا پانی کے برابر ہے پھر تو حرمت ثابت ہو جائے گی، لیکن اگر پانی زیادہ ہے، دودھ کم ہے پھر حرمت ثابت نہیں ہوگی۔ وجہ یہ ہے کہ جب پانی زیادہ ہو گیا تو پانی ہوا غالب اور دودھ کیا ہوا؟ مغلوب، اور مغلوب کو ایسے ہی شمار کیا جاتا ہے جیسے وہ ہے ہی نہیں۔ جو غالب چیز ہے اس کو شمار کیا جاتا ہے۔ تو لہٰذا یہاں پر جب پانی غالب آ گیا تو گویا دودھ ہے ہی نہیں، پانی ہی بچہ پی رہا ہے، اور اس سے تو حرمت ثابت نہیں۔ لیکن اگر دودھ پانی کے برابر ہے یا دودھ غالب ہے تو پھر اس صورت میں حرمت ثابت ہو جائے گی کیونکہ غالب کا اعتبار ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِذَا اخْتَلَطَ اللَّبَنُ بِالْمَاءِ“ جب دودھ پانی کے ساتھ مل گیا ”وَاللَّبَنُ هُوَ الْغَالِبُ“ اس حال میں کہ دودھ جو ہے وہ غالب ہے ”تَعَلَّقَ بِهِ التَّحْرِيمُ“ تو اس سے بھی تحریم کا تعلق ہو جائے گا، اس کی وجہ سے بھی حرمت آ جائے گی، اور میں نے بتایا اگر دودھ پانی کے برابر ہو پھر بھی حرمت آ جائے گی۔ ہاں، جب پانی غالب ہو جائے گا اب دودھ کا اعتبار نہیں۔ جب تک پانی غالب نہیں، دودھ کا اعتبار رہے گا۔ کہتے ہیں: ”وَإِنْ غَلَبَ الْمَاءُ“ اور اگر پانی غالب ہوا ”لَمْ يَتَعَلَّقْ بِهِ التَّحْرِيمُ“ تو اس کے ساتھ تحریم کا تعلق نہیں ہوگا ”خِلَافًا لِلشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ“ بخلاف امام شافعی رحمہ اللہ کے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دودھ کو پانی کے ساتھ ملا کر بچے کو پلایا، تو پانی غالب ہی کیوں نہ ہو پھر بھی رضاعت ثابت ہو جائے گی۔ پھر بھی؟ رضاعت ثابت ہو جائے گی۔ پھر بھی رضاعت ثابت ہو جائے گی۔ بھئی حرمت تو ثابت نہیں ہوگی، حرمت کے لیے تو کم از کم کتنی دفعہ پلانا ضروری ہے؟ پانچ الگ الگ مجلسوں میں۔ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک پانچ مرتبہ بچہ ایک عورت کا دودھ پیئے گا تو پھر حرمت ثابت ہوگی۔ توجہ ہے؟ لیکن اگر دودھ کے ساتھ پانی ملایا اور پانی غالب ہے اور یہ بچے کو پلایا تو کیا اس کو بھی دودھ پلانا شمار کریں گے یا نہیں؟ یہ بھی ان پانچ میں سے ایک بنے گا یا نہیں؟ جی۔ پانچ مرتبہ دودھ پلانے سے حرمت ثابت ہوتی ہے تو یہ بھی پانچ میں سے اس کو ایک شمار کریں گے یا نہیں؟ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کو بھی شمار کریں گے۔ جی۔ اس لیے کیونکہ اگرچہ پانی غالب ہے لیکن دودھ موجود تو ہے، حقیقتاً دودھ موجود ہے اور بچے کے پیٹ میں جا رہا ہے، جی، لہٰذا اس کا اعتبار کریں گے۔ جی۔ جبکہ ہمارے نزدیک دودھ اگر غالب ہو یا پانی کے برابر ہو پھر معتبر ہے، مغلوب ہو اگر دودھ تو مغلوب کا اعتبار نہیں کیا جاتا، اس کو کالعدم شمار کرتے ہیں۔ تو کہتے ہیں: ”خِلَافًا لِلشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ“ بخلاف امام شافعی رحمہ اللہ کے، ”هُوَ يَقُولُ“ وہ فرماتے ہیں: ”إِنَّهُ مَوْجُودٌ فِيهِ حَقِيقَةً“ کہ وہ جو دودھ ہے وہ اس پانی کے اندر حقیقتاً موجود ہے، تو لہٰذا اس کا اعتبار کریں گے۔ ”وَنَحْنُ نَقُولُ: الْمَغْلُوبُ غَيْرُ مَوْجُودٍ حُكْمًا“ اور ہم کہتے ہیں کہ مغلوب جو ہوتا ہے وہ حکماً غیر موجود ہوتا ہے حکم کے اعتبار سے۔ یعنی مغلوب پر غیر موجود ہونے کا حکم لگایا جاتا ہے، گویا وہ ہے ہی نہیں۔ جب پانی غالب ہے تو یوں سمجھو دودھ ہے ہی نہیں، بچہ خالص پانی ہی پی رہا ہے بھئی۔ تو ہم، ”وَنَحْنُ نَقُولُ: الْمَغْلُوبُ غَيْرُ مَوْجُودٍ حُكْمًا“ ہم کہتے ہیں کہ مغلوب جو ہے وہ حکماً غیر موجود ہے ”حَتَّى لَا يَظْهَرَ فِي مُقَابَلَةِ الْغَالِبِ“ یہاں تک کہ جو مغلوب ہوتا ہے وہ غالب کے مقابلے میں ظاہر نہیں ہوتا، اس کو شمار نہیں کرتے، ”كَمَا فِي الْيَمِينِ“ جیسے کہ قسم کے مسئلے میں ہے، جیسے کس میں ہے؟ قسم کے مسئلے میں ہے۔ یاد رکھو اگر ایک شخص قسم اٹھا لیتا ہے کہ واللہ میں اس گائے کا دودھ نہیں پیوں گا، اور پھر اس گائے کے دودھ میں پانی ملا کر اس کو دیا گیا اور اس نے اس کو پی لیا تو کیا اس سے حانث ہوگا یا حانث نہیں؟ تو فقہاء فرماتے ہیں: اگر دودھ غالب ہوا تو پھر اس کا اعتبار ہے لہٰذا یہ شخص حانث ہو جائے گا، اور اگر پانی غالب ہوا تو اب دودھ کا کوئی اعتبار نہیں لہٰذا یہ شخص حانث نہیں ہوگا۔ تو ہم کہتے ہیں کہ ”حَتَّى لَا يَظْهَرَ فِي مُقَابَلَةِ الْغَالِبِ“ یہاں تک کہ جو مغلوب ہوتا ہے وہ غالب کے مقابلے میں ظاہر ہی نہیں ہوتا ”كَمَا فِي الْيَمِينِ“ جیسے کہ قسم کے اندر ہے۔ ”وَإِنِ اخْتَلَطَ بِالطَّعَامِ لَمْ يَتَعَلَّقْ بِهِ التَّحْرِيمُ وَإِنْ كَانَ اللَّبَنُ غَالِبًا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ فقہائے کرام پر اللہ تعالیٰ کروڑہا رحمتیں نازل فرمائے بھئی، ایک ایک مسئلہ انہوں نے قرآن و حدیث سے اخذ کر کے ہمارے سامنے پیش کر دیا۔ یہ نہیں کہ یہ مسائل ان کے سامنے پیش آ رہے تھے اور وہ ایک ایک کو درج کر رہے تھے، نہیں، جو پیش آئے وہ تو انہوں نے لکھے، جس صورت کا احتمال بھی بنتا تھا وہ بھی انہوں نے قرآن و حدیث سے اخذ کر کے درج کر دی۔ تو اب صورت ذکر کر رہے ہیں کہ اگر عورت کا دودھ نکال کر کھانے میں ملا دیا اور پھر وہ کھانا بچے کو کھلایا، تو کیا اب بھی حرمت ثابت ہوگی یا نہیں؟ تو یاد رکھو امام صاحب فرماتے ہیں کہ اس صورت میں حرمت ثابت نہیں ہوگی۔ اس لیے کیونکہ کھانے کے ساتھ جب دودھ کو ملایا گیا ہے تو اس میں اصل کھانے کو شمار کرتے ہیں۔ کس کو؟ کھانے کو اصل شمار کیا جاتا ہے، یہ کھانا اس کو اصل غذا شمار کیا جاتا ہے کہ اصل میں تو یہ غذا ہے، اس سے بچے کو قوت وغیرہ مل رہی ہے، دودھ کو ویسے ساتھ ملا دیا ہے، تو لہٰذا اس لیے اصل جو ہے کھانا اسی کا اعتبار ہے، دودھ اس کا تابع بن گیا اور تابع کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنِ اخْتَلَطَ بِالطَّعَامِ لَمْ يَتَعَلَّقْ بِهِ التَّحْرِيمُ“ اور اگر یہ دودھ طعام کے ساتھ مل گیا تو اس کے ساتھ تحریم کا تعلق واقع نہیں ہوگا ”وَإِنْ كَانَ اللَّبَنُ غَالِبًا“ اگرچہ دودھ غالب ہی کیوں نہ ہو، طعام کم ہے اور دودھ اس پر غالب آ رہا ہے پھر بھی اس سے حرمت ثابت نہیں ہوگی۔ وجہ یہ کہ بے شک دودھ غالب بھی ہے، بچے کو اگر یہ طعام کھلایا جائے گا اس کو کوئی بھی ارضاع نہیں کہتا، اس کو کوئی بھی ارضاع نہیں کہتا، اس کو تو طعام کھلانا ہی ہر ایک کہتا ہے، ارضاع نہیں کہتا، اور حرمت ارضاع کی وجہ سے آتی ہے، طعام کھلانے سے حرمت نہیں آتی۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنِ اخْتَلَطَ بِالطَّعَامِ لَمْ يَتَعَلَّقْ بِهِ التَّحْرِيمُ“ اور اگر دودھ طعام کے ساتھ مل گیا تو اس سے تحریم کا تعلق نہیں ہوگا ”وَإِنْ كَانَ اللَّبَنُ غَالِبًا“ اگرچہ دودھ غالب ہی ہو ”عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ امام صاحب کے نزدیک۔ ”وَقَالَا: إِذَا كَانَ اللَّبَنُ غَالِبًا يَتَعَلَّقُ بِهِ التَّحْرِيمُ“ اور صاحبین فرماتے ہیں کہ جب دودھ غالب ہو تو اس سے تحریم کا تعلق ہوگا۔ صاحبین فرماتے ہیں اگر طعام پر دودھ غالب ہے اور یہ طعام بچے کو کھلایا گیا ہے تو حرمت ثابت ہو جائے گی، کیونکہ دودھ غالب ہے اور غالب کا اعتبار کیا جاتا ہے۔ آگے دیکھیے: ”قَالَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَوْلُهُمَا فِيمَا إِذَا لَمْ تَمَسَّهُ النَّارُ“ یہ جو ”قَالَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ“ آیا اس سے صاحبِ ہدایہ مراد ہیں۔ یہ صاحبِ ہدایہ اپنا قول ذکر فرماتے ہیں قال کے ساتھ۔ تو قدیم زمانے میں یہ کتابیں ہاتھ سے لکھی جاتی تھیں، اساتذہ درس دیتے تھے اور اس میں طلبہ لکھتے تھے وہ کتابیں بھئی، توجہ ہے؟ تو یہ صاحبِ ہدایہ کے شاگرد، صاحبِ ہدایہ کی جب بات آتی تو قال کے ساتھ ان کے لیے دعا بھی ساتھ لکھ دیتے تھے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ شاگرد ساتھ ملاتے تھے۔ تو ”قَالَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ“ صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں: ”قَوْلُهُمَا فِيمَا إِذَا لَمْ تَمَسَّهُ النَّارُ“ کہ صاحبین کا قول اس صورت میں ہے ”إِذَا لَمْ تَمَسَّهُ“ جب اس دودھ کو نہ چھوا ہو ”النَّارُ“ آگ نے۔ صورت کیا چل رہی ہے؟ طعام ہے اور اس طعام میں دودھ ملا دیا۔ صاحبین فرماتے ہیں اگر یہ دودھ غالب ہوا تو پھر حرمت ثابت ہو جائے گی۔ تو صاحبِ ہدایہ بتلا رہے ہیں کہ صاحبین کا یہ قول اس صورت میں ہے جب اس کو آگ پر نہ پکایا گیا ہو۔ اگر کھانے میں دودھ کو ملایا اور دودھ غالب ہے اور پھر اس کو آگ پر بھی کچھ پکا لیا گیا، تو اب صاحبین بھی فرماتے ہیں کہ اس سے حرمت ثابت نہیں ہوگی، وجہ یہ کہ آگ پر پکانے کی وجہ سے اس کی حالت بدل گئی ہے۔ اس دودھ کی حالت بدل گئی ہے۔ تو صاحبِ ہدایہ آپ کو یہ بتلا رہے ہیں، یہ جو صاحبین نے کہا کہ دودھ جب غالب ہو تو اس کا اعتبار کیا جائے گا، یہ وہ صورت ہے جب اس کو ابھی آگ پر پکایا نہ گیا ہو بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”قَالَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ“ صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں: ”قَوْلُهُمَا فِيمَا“ کہ صاحبین کا قول اس صورت میں ہے ”إِذَا لَمْ تَمَسَّهُ النَّارُ“ جب اس دودھ کو آگ نے نہ چھوا ہو ”حَتَّى لَوْ طُبِخَ بِهَا لَا يَتَعَلَّقُ بِهِ التَّحْرِيمُ فِي قَوْلِهِمْ جَمِيعًا“ یہاں تک کہ اگر دودھ کو آگ پر پکا لیا گیا تو پھر اس کے ساتھ تحریم کا تعلق نہیں ہوگا ان سب کے قول میں۔ امام صاحب تو فرماتے ہیں دودھ غالب ہی کیوں نہ ہو پھر بھی اس کا اعتبار نہیں ہے، صاحبین فرماتے تھے کہ دودھ غالب ہو تو اس کا اعتبار ہے، لیکن آگ پر پکانے کی صورت میں تو وہ بھی کہتے ہیں اس کا اعتبار نہیں، تو جب آگ پر پکا ہو تو پھر سب کے قول کے مطابق اس کے ساتھ حرمت کا تعلق نہیں ہوگا۔ تو کہتے ہیں: ”حَتَّى لَوْ طُبِخَ بِهَا“ یہاں تک کہ دودھ کو اگر آگ پر پکا لیا گیا، ”بِهَا“ ہا ضمیر النار کو راجع ہے، ”طُبِخَ بِهَا أَيْ بِالنَّارِ“، اور نار مؤنث سماعی ہے اس لیے اس کی طرف مؤنث کی ضمیر راجع کی صاحبِ ہدایہ نے، ”حَتَّى لَوْ طُبِخَ بِهَا لَا يَتَعَلَّقُ بِهِ التَّحْرِيمُ فِي قَوْلِهِمْ جَمِيعًا“ تو اس کے ساتھ تحریم کا تعلق نہیں ہوگا ان سب کے قول میں، یعنی ہمارے تینوں ائمہ کے قول کے مطابق۔ ”لَهُمَا“ اب صاحبین کی دلیل آ گئی۔ ”لَهُمَا“ صاحبین فرماتے ہیں ”أَنَّ الْعِبْرَةَ لِلْغَالِبِ“ کہ اعتبار جو ہے وہ غالب کا ہوتا ہے ”كَمَا فِي الْمَاءِ“ جیسے کہ پانی میں ہے، پانی بھی جب اس میں دودھ غالب ہوتا تھا تو اس کا اعتبار ہوتا تھا، تو طعام میں بھی جب دودھ غالب ہوگا تو اس کا اعتبار ہوگا۔ تو صاحبین فرماتے ہیں: ”أَنَّ الْعِبْرَةَ لِلْغَالِبِ كَمَا فِي الْمَاءِ إِذَا لَمْ يُغَيِّرْهُ شَيْءٌ عَنْ حَالِهِ“ جب اس دودھ کو کسی اور چیز نے اس کی حالت سے بدلا نہ ہو، یعنی آگ وغیرہ نے جب دودھ کو نہ بدلا ہو تو پھر غالب کا اعتبار کیا جائے گا اور حرمت آ جائے گی۔ ”وَلِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے ”أَنَّ الطَّعَامَ أَصْلٌ“ کہ طعام اصل ہے، امام صاحب فرماتے ہیں جب طعام کے اندر دودھ ملایا ہے تو طعام تغذی کے اندر اصل ہے، یعنی غذا دینے میں اصل طعام ہے اور دودھ اس کے تابع بن گیا، اور اصل کا اعتبار ہوتا ہے، تابع کا اعتبار نہیں ہوتا۔ اور یاد رکھو آپ کو بتلائیں گے کہ یہاں پر دارومدار تغذی پر ہے۔ کس پر ہے؟ تغذی، یعنی وہ چیز جس سے بچے کو غذا ملتی ہے، اور جب بچے کو طعام کھلایا جا رہا ہے معلوم ہوا یہ جو طعام ہے یہ ہے اصل، اس کے ذریعے تغذی ہو رہی ہے، اس کے ذریعے بچے کو غذا مل رہی ہے۔ جی۔ تو اعتبار کس کا؟ تغذی کا اعتبار ہے، اور اس میں دودھ کو طعام کے ساتھ ملایا تو تغذی میں اصل کیا ہے یہاں؟ طعام ہے، تو طعام کا اعتبار ہوگا، دودھ کا اعتبار نہیں۔ تو حکم کا دارومدار کس پر ہے؟ تغذی پر، کس پر؟ یعنی جس سے بچے کو غذا مل رہی ہے۔ جی۔ تو طعام کے ساتھ دودھ ملایا، تو تغذی میں ان دونوں میں سے اصل کیا ہے؟ طعام اصل ہے اور دودھ اس کے تابع ہے بھئی۔ تو ”وَلِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے ”أَنَّ الطَّعَامَ أَصْلٌ“ کہ طعام جو ہے وہ اصل ہے ”وَاللَّبَنُ تَابِعٌ لَهُ فِي حَقِّ الْمَقْصُودِ“ اور دودھ اس کا تابع ہے فی حق المقصود مقصد کے حق میں۔ مقصد کیا تھا اس کے ذریعے؟ تغذی، تو اس تغذی کے اندر اصل طعام کو شمار کیا جاتا ہے، وہ جو اس کے ساتھ مائع یا بہنے والی چیز ملائی جائے اس کو اصل شمار نہیں کیا جاتا۔ تو امام صاحب فرماتے ہیں: ”أَنَّ الطَّعَامَ أَصْلٌ وَاللَّبَنُ تَابِعٌ لَهُ فِي حَقِّ الْمَقْصُودِ فَصَارَ كَالْمَغْلُوبِ“ تو دودھ بھی مغلوب کی طرح ہی ہو گیا، اگرچہ دودھ غالب ہے لیکن وہ طعام کے تابع بن گیا تو وہ کس کے درجے میں ہوا؟ مغلوب کے درجے میں، کس کے؟ ہے تو غالب لیکن کس کے درجے میں ہو گیا؟ مغلوب کے درجے میں ہو گیا۔ تو کہتے ہیں: ”فَصَارَ كَالْمَغْلُوبِ“ تو یہ دودھ بھی مغلوب کی طرح ہو گیا، اور آپ جانتے ہیں مغلوب کا اعتبار نہیں، اس کو شمار نہیں کیا جاتا۔ ”وَلَا مُعْتَبَرَ بِتَقَاطُرِ اللَّبَنِ مِنَ الطَّعَامِ عِنْدَهُ هُوَ الصَّحِيحُ“ صورتِ مسئلہ یہ: توجہ ہے؟ بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ امام صاحب کے نزدیک جب طعام میں دودھ شامل کیا جائے، تو اگر یہ دودھ اتنا ہے کہ اس طعام سے ٹپک رہا ہے تو پھر اس صورت کے اندر حرمت آئے گی بھئی۔ جی۔ یہ بعض فقہاء فرما رہے ہیں کہ امام صاحب کے نزدیک اگر اس طعام سے دودھ ٹپک رہا ہے تو پھر اس صورت میں حرمت آئے گی کیونکہ دودھ ٹپک رہا ہے تو ایک قطرہ بھی دودھ بچے کے پیٹ میں پہنچے گا تو حرمت آ جائے گی۔ لیکن صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ نہیں، صحیح قول یہی ہے کہ دودھ چاہے ٹپک ہی کیوں نہ رہا ہو پھر بھی اصل طعام ہے، کس چیز میں؟ تغذی میں اصل طعام ہی ہے، دودھ اس کے تابع ہے، جب دودھ تابع ہے تو مغلوب کی طرح ہوا اور مغلوب کا تو کوئی اعتبار نہیں کیا جاتا، تو دودھ چاہے ٹپک ہی کیوں نہ رہا ہو، صحیح قول کے مطابق اس سے حرمت پھر بھی نہیں آئے گی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا مُعْتَبَرَ بِتَقَاطُرِ اللَّبَنِ مِنَ الطَّعَامِ“، تقاطر کا معنی ہے قطرے ٹپکنا، ”وَلَا مُعْتَبَرَ بِتَقَاطُرِ اللَّبَنِ“ اور کوئی اعتبار نہیں ہے دودھ کے قطروں کے ٹپکنے کا ”مِنَ الطَّعَامِ“ طعام سے ”عِنْدَهُ“ امام صاحب کے نزدیک ”هُوَ الصَّحِيحُ“ یہی قول صحیح ہے ”لِأَنَّ التَّغَذِّيَ بِالطَّعَامِ“ اس لیے کیونکہ تغذی جو ہے وہ طعام کے ذریعے ہوتی ہے، غذا کس سے حاصل کی جاتی ہے؟ طعام کے ذریعے حاصل کی جاتی ہے، ”إِذْ هُوَ الْأَصْلُ“ کیونکہ تغذی ہی اصل ہے، ہوا ضمیر کس کو لوٹائیں؟ تغذی، تغذی ہی اصل ہے، میں نے آپ کو بتایا حکم کا دارومدار تغذی پر ہے جس سے بچہ غذا حاصل کرتا ہے، اور جب طعام موجود ہے تو بچہ طعام سے غذا حاصل کرتا ہے، دودھ اس کے تابع ہو جاتا ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ التَّغَذِّيَ بِالطَّعَامِ“ اس لیے کیونکہ غذا حاصل کرنا طعام کے ذریعے ہوتا ہے ”إِذْ هُوَ الْأَصْلُ“ اس لیے کیونکہ تغذی ہی اصل ہے یعنی اسی پر تحریم کا دارومدار ہے۔ آگے دیکھیے: ”وَإِنِ اخْتَلَطَ بِالدَّوَاءِ وَاللَّبَنُ غَالِبٌ تَعَلَّقَ بِهِ التَّحْرِيمُ“ دوسری صورت: دودھ کے ساتھ دوا کوئی ملا دی اور یہ بچے کو کھلائی۔ پہلی صورت کیا تھی؟ دودھ کے ساتھ پانی ملائیں تو کیا حکم ہے؟ بتلا دیا، پھر دودھ کو طعام کے ساتھ ملائیں تو کیا حکم ہے وہ بھی بیان کر دیا، اب اگر دودھ کے ساتھ دوا ملائی ہے اور یہ بچے کو کھلا رہے ہیں، تو کہتے ہیں اس صورت میں اگر دودھ غالب ہوا تو پھر اس سے بھی حرمت آ جائے گی۔ اگر دودھ غالب ہوا پھر بھی حرمت آ جائے گی۔ وجہ یہ کہ جب دودھ غالب ہے اور اس میں دوا ملا کر بچے کو دی جا رہی ہے، معلوم ہوا اصل مقصود یہ ہے کہ یہ دوا کی وجہ سے دودھ بچے کو ہضم ہو جائے۔ کیا مقصود ہے؟ کہ اس دوا کی وجہ سے یہ دودھ بچے کو ہضم ہو جائے، تو یہاں اصل میں دودھ ہی کا پہنچانا مقصود ہے، دوا کو صرف اس میں تقویت دینے کے لیے، قوت دینے کے لیے شامل کیا گیا ہے، اصل مقصود دوا نہیں ہے بلکہ دودھ ہے کیونکہ دودھ غالب ہے یہاں پر۔ توجہ ہے؟ لیکن اگر دوا غالب ہوئی، دودھ مغلوب ہے، پھر معلوم ہوا وہاں دودھ پہنچانا مقصود نہیں ہے بلکہ دوا پہنچانا مقصود ہے۔ فرق سمجھ میں آ گیا؟ تو کہتے ہیں: ”وَإِنِ اخْتَلَطَ بِالدَّوَاءِ“ اور اگر دودھ دوا کے ساتھ مل گیا ”وَاللَّبَنُ غَالِبٌ“ اور حال یہ ہے کہ دودھ غالب ہے ”تَعَلَّقَ بِهِ التَّحْرِيمُ“ تو اس سے بھی تحریم کا تعلق ہو جائے گا ”لِأَنَّ اللَّبَنَ يَبْقَى مَقْصُودًا فِيهِ“ اس لیے کیونکہ دودھ جو ہے وہ اس میں مقصود ہو کر باقی رہے گا، غالب دودھ ہے تو وہی مقصود رہے گا ”إِذِ الدَّوَاءُ لِتَقْوِيَتِهِ“ اس لیے کیونکہ یہ جو دوا ہے وہ اس دودھ کو قوت دینے کے لیے ہے ”عَلَى الْوُصُولِ“ پہنچنے میں، کہ اس دودھ کے معدے میں پہنچنے میں اور ہضم ہونے میں دوا تقویت دے رہی ہے کہ اچھی طرح ہضم ہو جائے۔ تو کہتے ہیں: ”إِذِ الدَّوَاءُ لِتَقْوِيَتِهِ عَلَى الْوُصُولِ“ اس لیے کیونکہ یہ جو دوا ہے یہ اس دودھ کو قوت دینے کے لیے ہے ”عَلَى الْوُصُولِ“ اس دودھ کے پہنچنے میں۔ ”وَإِذَا اخْتَلَطَ اللَّبَنُ بِلَبَنِ الشَّاةِ“ دوسری صورت: عورت کے دودھ کے ساتھ بکری کا کچھ دودھ ملا دیا، تو کیا اب حرمت ثابت ہوگی یا نہیں؟ تو کہتے ہیں ضابطہ ہم آپ کو بتلا چکے: اگر عورت کا دودھ غالب ہوا تو حرمت آ جائے گی، یا عورت کا دودھ بکری کے دودھ کے برابر ہوا تب بھی حرمت آ جائے گی، لیکن اگر بکری کا دودھ غالب ہوا تو پھر عورت کے دودھ کا کوئی اعتبار نہیں، پھر حرمت نہیں آئے گی۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِذَا اخْتَلَطَ اللَّبَنُ بِلَبَنِ الشَّاةِ“ اور جب وہ دودھ مل گیا ”بِلَبَنِ الشَّاةِ“ بھیڑ بکری کے دودھ کے ساتھ، شاة کا لفظ میں نے بتلایا ہے بھئی، بھیڑ بکری دونوں جنسوں کو شامل ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِذَا اخْتَلَطَ اللَّبَنُ بِلَبَنِ الشَّاةِ“ اور اگر وہ دودھ مل گیا بھیڑ بکری کے دودھ کے ساتھ ”وَهُوَ الْغَالِبُ“ اس حال میں کہ یہ جو عورت کا دودھ ہے یہ غالب ہے ”تَعَلَّقَ بِهِ التَّحْرِيمُ“ تو اس سے تحریم کا تعلق ہوگا ”وَإِنْ غَلَبَ لَبَنُ الشَّاةِ“ اور اگر بھیڑ بکری کا دودھ غالب ہے ”لَمْ يَتَعَلَّقْ بِهِ التَّحْرِيمُ“ تو اس سے تحریم کا تعلق نہیں ہوگا ”اعْتِبَارًا لِلْغَالِبِ كَمَا فِي الْمَاءِ“ غالب کا اعتبار کرتے ہوئے جیسے کہ پانی میں تھا، جیسے پانی کے مسئلے میں تھا۔ ”وَإِذَا اخْتَلَطَ لَبَنُ امْرَأَتَيْنِ تَعَلَّقَ التَّحْرِيمُ بِأَغْلَبِهِمَا“ صورتِ مسئلہ یہ: ایک بچے کو دو عورتوں کا دودھ ملا کر پلایا، تو کیا اس صورت میں دونوں سے تحریم ثابت ہوگی یا ایک سے؟ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس صورت میں جو دودھ غالب ہے اس کا اعتبار کیا جائے گا، اس عورت سے حرمت ثابت ہو جائے گی۔ جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس صورت میں غالب اور مغلوب کو نہیں دیکھا جائے گا بلکہ دونوں سے حرمت ثابت ہوگی۔ تو امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک دونوں سے تحریم کا تعلق ہوگا۔ دیکھیے بھئی، صاحبِ ہدایہ تفصیل بیان فرما رہے ہیں، کہتے ہیں: ”وَإِذَا اخْتَلَطَ لَبَنُ امْرَأَتَيْنِ“ اور جب دو عورتوں کا دودھ مل گیا ”تَعَلَّقَ التَّحْرِيمُ بِأَغْلَبِهِمَا عِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ تو تحریم کا تعلق ان دو میں سے جو غالب ہے اس کے ساتھ ہوگا امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک ”لِأَنَّ الْكُلَّ صَارَ شَيْئًا وَاحِدًا“ اس لیے کیونکہ یہ سارا دودھ ایک ہی چیز بن گیا، سارا دودھ ایک ہی چیز بن گیا ”فَيُجْعَلُ الْأَقَلُّ تَابِعًا لِلْأَكْثَرِ“ لہٰذا جو اقل ہے، جو کم مقدار والا ہے اس کو تابع کر دیا جائے گا ”لِلْأَكْثَرِ“ اس کے جو زیادہ ہے ”فِي بِنَاءِ الْحُكْمِ عَلَيْهِ“ اس پر حکم کی بنیاد رکھنے کے لیے۔ یہ حرمت کی بنیاد ہم رکھنا چاہتے ہیں اس دودھ پر بھئی، تو جو اقل ہوگا وہ اکثر کے تابع ہو جائے گا، تو جو اکثر ہے، جو غالب ہے وہاں تحریم آ جائے گی اور جو اقل ہے وہاں تحریم نہیں آئے گی۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْكُلَّ صَارَ شَيْئًا وَاحِدًا فَيُجْعَلُ الْأَقَلُّ تَابِعًا لِلْأَكْثَرِ فِي بِنَاءِ الْحُكْمِ عَلَيْهِ“ اس لیے کیونکہ یہ سارا دودھ ایک ہی چیز بن گیا تو اقل جو ہے اس کو اکثر کے تابع قرار دیا جائے گا اس پر اس حرمت کے حکم کی بنیاد رکھنے کے لیے۔ ”وَقَالَ مُحَمَّدٌ وَزُفَرُ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى: يَتَعَلَّقُ التَّحْرِيمُ بِهِمَا“ امام محمد اور امام زفر رحمہما اللہ فرماتے ہیں: ”يَتَعَلَّقُ التَّحْرِيمُ بِهِمَا“ کہ دونوں کے ساتھ تحریم کا تعلق ہوگا، یہاں غالب مغلوب کو نہیں دیکھا جائے گا، لہٰذا دونوں عورتوں سے حرمت آ جائے گی، وہ دونوں عورتیں اس بچے کی رضاعی مائیں بن جائیں گی بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَقَالَ مُحَمَّدٌ وَزُفَرُ رَحِمَهُمَا اللَّهُ: يَتَعَلَّقُ التَّحْرِيمُ بِهِمَا“ تو امام محمد اور امام زفر رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ ان دونوں کے ساتھ تحریم کا تعلق ہوگا ”لِأَنَّ الْجِنْسَ لَا يَغْلِبُ الْجِنْسَ“ اس لیے کیونکہ ایک جنس اسی جنس پر غالب نہیں ہوتی۔ ایک بھی عورت کا دودھ ہے اور دوسرا بھی عورت کا دودھ ہے تو دونوں ایک ہی جنس میں سے ہیں۔ پانی دودھ کے ساتھ ملایا تھا، پانی کی الگ جنس ہے، دودھ کی الگ جنس ہے، تو جو غالب ہوتا تھا ہم اس کا اعتبار کرتے تھے اور جو مغلوب تھا گویا وہ موجود ہی نہیں، لیکن یہاں پر دونوں جو ہیں یہ عورت کے دودھ ہیں، تو لہٰذا ایک جنس اپنی ہی جنس میں ملی ہے، اپنی ہی جنس میں ملی ہے اور کوئی چیز جب اپنی جنس میں ملے تو وہ ختم نہیں ہوتی بلکہ وہ بڑھ جاتی ہے۔ جی۔ دوسری اس کے ساتھ کوئی چیز ملے اور دوسری جنس غالب ہو تو پھر وہ چیز کیا ہوتی ہے؟ ختم ہو جاتی ہے، کم ہو جاتی ہے۔ لیکن اپنی ہی جنس میں ملے تو کم نہیں ہوتی بلکہ زیادہ ہو جاتی ہے، اس لیے دونوں کا اعتبار ہوگا۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْجِنْسَ لَا يَغْلِبُ الْجِنْسَ“ اس لیے کیونکہ جنس جو ہے وہ اپنی ہی جنس پر غالب نہیں ہوتی ”فَإِنَّ الشَّيْءَ لَا يَصِيرُ مُسْتَهْلَكًا فِي جِنْسِهِ“ اس لیے کیونکہ کوئی چیز ہلاک نہیں ہوتی اپنی ہی جنس میں۔ کوئی چیز اپنی ہی جنس میں ہلاک نہیں ہوتی بلکہ زیادہ ہو جاتی ہے۔ ”لِاتِّحَادِ الْمَقْصُودِ“ بوجہ مقصود کے متحد ہونے کے، کیونکہ دونوں کا مقصود ایک ہی ہے۔ دونوں کا مقصود اور منافع ایک ہی ہیں۔ ایک عورت کا دودھ اس سے بھی تغذی ہوگی، دوسری عورت کا دودھ اس سے بھی کیا ہوگی؟ تغذی، تو دونوں کا مقصود ایک ہی ہوا۔ تو لہٰذا یہاں پر دونوں کا اعتبار کریں گے بھئی۔ یہ معنی ہے ”لِاتِّحَادِ الْمَقْصُودِ“ بوجہ مقصود کے ایک ہونے کے۔ ”وَعَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللهُ فِي هَذَا رِوَايَتَانِ“ اور امام صاحب سے اس بارے میں دو روایتیں ہیں ”وَأَصْلُ الْمَسْأَلَةِ فِي الْأَيْمَانِ“ اور اصل مسئلہ کتاب الایمان میں ہے۔ بھئی یاد رکھو، امام صاحب سے اس بارے میں دو روایتیں ہیں۔ ایک روایت کے مطابق وہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے ساتھ ہیں۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ غالب کا اعتبار کرتے ہیں، مغلوب کا اعتبار نہیں کرتے، تو صرف غالب کے اندر حرمت آئے گی۔ جبکہ امام محمد اور امام زفر فرماتے ہیں کہ دونوں سے حرمت آ جائے گی۔ تو امام صاحب سے اس بارے میں دو روایتیں ہیں، ایک روایت کے مطابق وہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے ساتھ ہیں اور دوسری روایت کے مطابق وہ امام محمد رحمہ اللہ کے ساتھ ہیں بھئی۔ تو یہ معنی ہے ”وَعَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللهُ فِي هَذَا رِوَايَتَانِ“ امام صاحب سے اس بارے میں دو روایتیں ہیں۔ ”وَأَصْلُ الْمَسْأَلَةِ فِي الْأَيْمَانِ“ اور اصل مسئلہ جو ہے وہ کتاب الایمان میں ہے۔ ایمان جمع ہے یمین کی، قسم کو کہتے ہیں قسم۔ کتاب الایمان کے اندر کہتے ہیں یہ اصل مسئلہ ذکر ہے، وہاں ذکر ہے کتاب الایمان کے اندر۔ مثلاً ایک شخص قسم اٹھا لیتا ہے کہ واللہ میں اس گائے کا دودھ نہیں پیوں گا۔ تو اس گائے کے دودھ کو ایک دوسری گائے کے دودھ کے ساتھ ملا کر اس آدمی کو دیا گیا اور اس آدمی نے اس کو پی لیا۔ تو پھر اس صورت کے اندر امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں غالب کا اعتبار ہے۔ اگر وہ گائے جس کے دودھ کے نہ پینے کی اس نے قسم اٹھائی تھی، اگر اس کا دودھ اس گائے کے دودھ پر غالب ہے یا اس کے برابر ہے تو پھر تو یہ شخص حانث ہو جائے گا، ورنہ حانث نہیں۔ جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دونوں طرف گائے کا دودھ ہے اور اس میں اگر وہ گائے جس کا دودھ نہ پینے کی اس نے قسم کھائی تھی، اگر اس کا دودھ مغلوب ہی کیوں نہ ہوا پھر بھی یہ حانث ہو جائے گا۔ کیونکہ کوئی چیز اپنی ہی جنس میں مل کر ہلاک نہیں ہوتی بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ لہٰذا جو چاہے مغلوب ہے لیکن اس کو شمار کریں گے اور یہ شخص حانث ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں ”وَأَصْلُ الْمَسْأَلَةِ فِي الْأَيْمَانِ“ اور یہ اصل مسئلہ کتاب الایمان میں ہے، یعنی وہاں پر یہ صاحبین کا آپس میں اختلاف ذکر ہے بھئی۔ آگے دیکھیے: ”وَإِذَا نَزَلَ لِلْبِكْرِ لَبَنٌ فَأَرْضَعَتْ صَبِيًّا تَعَلَّقَ بِهِ التَّحْرِيمُ“ صورت مسئلہ یہ ہے: ایک باکرہ لڑکی ہے اس کی چھاتی میں دودھ اتر آیا اور اس نے وہ کسی بچے کو پلا دیا، تو کیا اس سے حرمت ثابت ہوگی یا نہیں؟ کہتے ہیں ہاں، اس سے بھی حرمت ثابت ہو جائے گی اور یہ اس بچے کی رضاعی ماں بن جائے گی۔ تو کہتے ہیں ”وَإِذَا نَزَلَ لِلْبِكْرِ لَبَنٌ“ اور جب کسی باکرہ کے دودھ اتر آیا ”فَأَرْضَعَتْ صَبِيًّا“ تو اس نے کسی بچے کو وہ دودھ پلایا ”تَعَلَّقَ بِهِ التَّحْرِيمُ“ تو اس سے بھی تحریم کا تعلق ہوگا ”لِإِطْلَاقِ النَّصِّ“ نص کے مطلق ہونے کی وجہ سے۔ نص کے مطلق ہونے کی وجہ سے، قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ﴿وَأُمَّهَاتُكُمُ اللَّاتِي أَرْضَعْنَكُمْ﴾ ”تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا ہے“۔ یہ نص مطلق ہے، اس میں کوئی ذکر نہیں کہ وہ ثیبہ ہو یا باکرہ ہو، ان دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ تو جو بھی دودھ پلائے وہ اس کی ماں بن گئی اور وہ اس پر حرام ہو گئی۔ تو کہتے ہیں ”لِإِطْلَاقِ النَّصِّ“ نص کے مطلق ہونے کی وجہ سے ”وَلِأَنَّهُ سَبَبُ النُّشُوءِ“ اور نیز اس لیے کیونکہ یہ جو دودھ ہے یہ نشو و نما کا سبب ہے ”فَيَثْبُتُ بِهِ شُبْهَةُ الْبَعْضِيَّةِ“ تو اس سے بھی جزئیت کا شبہ ثابت ہو جائے گا۔ یہ باکرہ نے دودھ پلایا ہے، باکرہ نے بچے کو دودھ پلایا ہے، تو یہاں حرمت کیوں آتی ہے؟ کیونکہ وہ دودھ بچے کا جز بن گیا اور یہ دودھ تو کس کا جز تھا؟ عورت کا، تو یہ بچہ اس کا جز بن گیا۔ تو یہاں پر بھی باکرہ نے بھی جب دودھ پلایا ہے تو اس دودھ سے بچے کی نشو و نما ہوئی، یہ بچہ کیا بن گیا؟ باکرہ کا جز بن گیا، لہٰذا حرمت آئے گی بھئی۔ دلیل سمجھ میں آ رہی ہے؟ کہتے ہیں ”وَلِأَنَّهُ سَبَبُ النُّشُوءِ“ اس لیے کیونکہ یہ جو دودھ ہے یہ نشو و نما کا سبب ہے ”فَيَثْبُتُ بِهِ شُبْهَةُ الْبَعْضِيَّةِ“ تو یہ جو باکرہ نے دودھ پلایا ہے اس کے ذریعے بھی جزئیت کا شبہ ثابت ہو جائے گا اور حرمت آ جائے گی۔ ”وَإِذَا حُلِبَ لَبَنُ الْمَرْأَةِ بَعْدَ مَوْتِهَا فَأُوجِرَ الصَّبِيُّ تَعَلَّقَ بِهِ التَّحْرِيمُ“ صورت مسئلہ یہ ہے: ایک عورت کا انتقال ہو گیا۔ انتقال کے بعد اس کا دودھ نکالا گیا اور ایک بچے کو پلایا گیا، تو کیا اس سے حرمت ثابت ہوگی یا نہیں؟ تو ہمارے ائمہ فرماتے ہیں حرمت ثابت ہو جائے گی۔ حرمت ثابت ہو جائے گی، کیونکہ یہ حرمت کیوں ثابت ہوتی ہے؟ شبہ جزئیت آ جاتا ہے، وہ دودھ کیا ہے بچے کے اندر گوشت اور ہڈیاں بناتا ہے تو وہ دودھ جو ہے بچے کا جز بن گیا اور بچہ اس عورت کا جز بن گیا۔ تو کہتے ہیں ”وَإِذَا حُلِبَ لَبَنُ الْمَرْأَةِ“ اور جب دودھ نکالا گیا کسی عورت کا ”بَعْدَ مَوْتِهَا“ اس کے مرنے کے بعد ”فَأُوجِرَ الصَّبِيُّ“ اوجر یوجر ایجار کا معنی ہے بیمار کے منہ میں دوا ڈالنا۔ بیمار کے منہ میں دوا ڈالنے کے لیے عربی میں کیا لفظ استعمال کرتے ہیں؟ ”أَوْجَرَ يُوجِرُ“۔ تو یہاں پر بھی ہے کہ دودھ نکالا گیا ”فَأُوجِرَ الصَّبِيُّ“ تو بچے کے منہ میں وہ دودھ ٹپکایا گیا ”تَعَلَّقَ بِهِ التَّحْرِيمُ“ تو اس سے بھی تحریم کا تعلق ہو جائے گا ”خِلَافًا لِلشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللهُ“ بخلاف امام شافعی رحمہ اللہ کے۔ وہ فرماتے ہیں نہیں، یہ جو مردہ عورت کا دودھ نکالا گیا ہے اس سے حرمت ثابت نہیں ہوگی۔ ان کی دلیل سنیں بھئی، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ثبوت حرمت کے اندر اصل میں وہ عورت ہے۔ دیکھو جب بچہ کسی عورت کا دودھ پیتا ہے تو وہ عورت بھی بچے پر حرام اور اس عورت کے اصول و فروع بھی بچے پر حرام، لیکن یہ حرمت کے اندر اصل یہ عورت ہے۔ اصل کیا ہے؟ یہ عورت۔ اولاً یہ حرمت عورت میں آئی اور پھر عورت کے واسطے سے اس کے اور رشتہ دار بھی بچے پر حرام ہو گئے۔ تو اصل میں حرمت کس میں آئی؟ عورت میں آئی، یہ عورت بچے کی رضاعی ماں بنی اور پھر اس عورت کے واسطے سے باقی عورت کے رشتہ دار بھی بچے پر حرام ہو گئے۔ توجہ ہے؟ جب کوئی عورت کسی بچے کو دودھ پلاتی ہے تو ثبوت حرمت اصل کس میں ہوتا ہے؟ عورت میں، اور پھر باقی رشتہ دار جو عورت کے بچے پر حرام ہو جاتے ہیں وہ اس عورت کے واسطے سے حرام ہوتے ہیں۔ یہ دودھ نہ پلاتی تو وہ باقی بھی اس بچے پر حرام نہ ہوتے۔ تو معلوم ہوا حرمت کے اندر اصل کون ہے؟ یہ عورت ہے۔ توجہ ہے؟ تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ حرمت کے اندر اصل عورت ہے بھئی، اور یہاں پر عورت مر چکی ہے، اس مردہ عورت کا دودھ نکال کر بچے کو پلایا گیا ہے۔ تو یہاں حرمت نہیں آئے گی کیونکہ وہ عورت اب حرمت کا محل ہی نہیں رہی، وہ تو مر چکی ہے بھئی۔ یہاں حرمت کا کوئی فائدہ ہی نہیں ہے، عورت تو مر چکی ہے، تو جو اصل ہے وہاں حرمت نہیں آئی تو باقی رشتہ داروں میں بھی کوئی حرمت نہیں آئی۔ دلیل ان کی سمجھ میں آ رہی ہے؟ وہ فرماتے ہیں یہ حرمت کے اندر اصل کیا ہے؟ وہ دودھ پلانے والی عورت ہے۔ لیکن یہاں پر اس عورت کے اندر بھی حرمت نہیں آئے گی، کیوں؟ کیونکہ وہ عورت اب حرمت کا محل ہی نہیں رہی، وہ تو مر چکی ہے بھئی۔ وہ تو مر چکی ہے، اس کو حرام قرار دینے کا کوئی فائدہ ہی نہیں ہے، تو جب وہ حرمت کا محل نہیں تو اب باقیوں میں بھی حرمت نہیں آئے گی۔ ہم نے کہا تھا مردہ عورت کا دودھ بھی بچے کو پلائیں گے تو حرمت آ جائے گی، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں پھر حرمت نہیں آئے گی۔ تو کہتے ہیں ”خِلَافًا لِلشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللهُ“ بخلاف امام شافعی رحمہ اللہ کے ”هُوَ يَقُولُ“ وہ فرماتے ہیں ”الْأَصْلُ فِي ثُبُوتِ الْحُرْمَةِ إِنَّمَا هُوَ الْمَرْأَةُ“ کہ اصل جو ہے حرمت کے ثابت ہونے میں وہ عورت ہی ہے ”ثُمَّ تَتَعَدَّى إِلَى غَيْرِهَا“ پھر یہ حرمت متعدی ہوتی ہے الی غیرھا اس عورت کے علاوہ کی طرف بھی ”بِوَاسِطَتِهَا“ اسی عورت کے واسطے سے۔ یہ حرمت میں اصل عورت ہے، پھر اس عورت کے واسطے سے یہ حرمت متعدی ہوتی ہے اوروں کی طرف بھی۔ ”وَبِالْمَوْتِ لَمْ تَبْقَ مَحَلًّا لَهَا“ اور موت کی وجہ سے یہ عورت جو ہے حرمت کا محل ہو کر باقی نہ رہی۔ اب یہ حرمت کا محل ہی نہیں، اب یہاں حرمت ثابت کرنے کا کوئی فائدہ ہی نہیں، یہ تو مر چکی ہے۔ تو کہتے ہیں ”وَبِالْمَوْتِ لَمْ تَبْقَ مَحَلًّا لَهُ“ اور موت کی وجہ سے یہ عورت جو ہے حرمت کا محل نہ رہی ”وَلِهَذَا لَا يُوجِبُ وَطْؤُهَا حُرْمَةَ الْمُصَاهَرَةِ“ اور اسی وجہ سے اس مردہ عورت سے اگر کوئی صحبت کر لے تو اس سے حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوگی۔ بھئی آپ حرمت مصاہرت کا مسئلہ بھی پڑھ چکے ہیں۔ مصاہرت کا معنی ہے سسرالی رشتہ اور حرمت کا معنی حرمت کے کر لیں یا احترام کے کر لیں بھئی۔ حرمت مصاہرت: سسرالی رشتوں کی حرمت، سسرالی رشتوں کا حرام ہونا یا یوں کہہ لیں سسرالی رشتوں کا احترام بھئی۔ آپ نے پڑھا ہے کہ کسی شخص پر اس کی بیوی کے اصول و فروع حرام ہوتے ہیں، اپنی بیوی کے اصول و فروع حرام ہوتے ہیں کیونکہ ان سب سے اس کا سسرالی رشتہ آ گیا۔ اور آپ نے مسئلہ پڑھا تھا کہ یہ حرمت مصاہرت یہ بڑا نازک مسئلہ ہے عند الاحناف کہ حرمت مصاہرت یہ ہے کہ کوئی شخص اگر کسی عورت سے زنا کر لے تو بھی اس عورت کے اصول و فروع اس آدمی پر حرام ہو گئے۔ وجہ یہ کہ اس شخص نے جب اس عورت سے زنا کیا اور وطی کی تو اس عورت کی ماں جو ہے وہ اس آدمی کے لیے ساس کے درجے میں ہو گئی اور اس عورت کی جو اولاد ہے وہ اس آدمی کے لیے سوتیلی اولاد کے درجے میں ہو گئی، تو لہٰذا ان سب سے رشتہ حرام ہو گیا۔ جب بھی کوئی شخص کسی عورت سے زنا کرتا ہے تو وہاں کیا آ جاتی ہے؟ حرمت مصاہرت، یعنی اس عورت کے، یعنی اس مزنیہ کے اصول اور فروع اس زانی پر حرام ہو جاتے ہیں۔ بلکہ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ صرف زنا ہی نہیں بلکہ اگر کوئی شخص بغیر حائل کے کسی عورت کو چھو لے، یعنی عورت کے ہاتھ پر آدمی نے ہاتھ رکھ دیا درمیان میں کوئی کپڑا وغیرہ نہیں اور اس آدمی کو شہوت آ گئی تو اب اس عورت کے اصول اور فروع اس آدمی پر حرام ہو گئے۔ توجہ ہے؟ تو یہ عند الاحناف بڑا ہی نازک مسئلہ ہے حرمت مصاہرت کا۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اے احناف! آپ کے نزدیک تو حرمت مصاہرت ثابت ہوتی ہے، آپ کے نزدیک کوئی شخص کسی عورت سے زنا کر لے تو اس عورت کے اصول اور فروع اس آدمی پر حرام ہو جاتے ہیں لیکن اگر یہ عورت جو مر گئی ہے، اس مردہ عورت کے ساتھ اگر کوئی صحبت کر لے گا تو آپ کے نزدیک حرمت مصاہرت نہیں آتی۔ آپ کے نزدیک حرمت مصاہرت نہیں آتی، تو امام شافعی رحمہ اللہ دودھ پلانے کے اس مسئلے کو قیاس کرتے ہیں حرمت مصاہرت کے مسئلے پر۔ وہ فرماتے ہیں کہ مردہ عورت کا دودھ نکال کر بچے کو پلایا جائے تو اس سے حرمت ثابت نہیں ہوگی، اسی طرح جیسے اس مردہ عورت سے کوئی وطی کر لے تو وہاں حرمت ثابت نہیں ہوتی، وہاں حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوتی۔ لہٰذا اس عورت کا دودھ پلایا گیا بچے کو تو اس سے بھی حرمت ثابت نہیں ہوگی۔ یہ معنی ہے کہتے ہیں ”وَلِهَذَا“ اور اسی وجہ سے ”لَا يُوجِبُ وَطْؤُهَا“ لا یوجب ای لا یثبت، لا یثبت وطؤہا اس عورت کے ساتھ صحبت کرنا جو ہے وہ ثابت نہیں کرتا ”حُرْمَةَ الْمُصَاهَرَةِ“ حرمت مصاہرت کو۔ ”وَلَنَا“ اب ہماری دلیل آ گئی۔ ہماری دلیل یہ ہے ”أَنَّ السَّبَبَ هُوَ شُبْهَةُ الْجُزْئِيَّةِ“ کہ یہ جو حرمت کا سبب ہے وہ شبہ جزئیت ہے کہ بچہ جب اس دودھ کو پیئے گا تو اس دودھ سے بچے کے گوشت اور ہڈیاں بنیں گی، تو وہ دودھ بچے کا جز بن گیا اور یہ دودھ تو کس کا جز تھا؟ عورت کا، تو عورت کا جز بچے کا جز بن گیا، معلوم ہوا بچہ عورت کا جز بن گیا۔ تو بے شک آپ مردہ عورت کا دودھ بھی نکال لیں پھر بھی جزئیت آئے گی یا نہیں آئے گی؟ وہ دودھ بچے کا جز بنے گا تو بچہ کیا بن جائے گا؟ اس عورت کا جز بنے گا، لہٰذا حرمت آئے گی بھئی۔ حرمت آئے گی ہمارے نزدیک۔ تو ”وَلَنَا“ ہماری دلیل یہ ہے ”أَنَّ السَّبَبَ هُوَ شُبْهَةُ الْجُزْئِيَّةِ“ کہ اس حرمت کا سبب جو ہے وہ شبہ جزئیت ہے ”وَذَلِكَ فِي اللَّبَنِ لِمَعْنَى الْإِنْشَاءِ وَالْإِنْبَاتِ“ اور یہ جو سبب ہے یہ دودھ کے اندر موجود ہے ”لِمَعْنَى الْإِنْشَاءِ وَالْإِنْبَاتِ“۔ انشاء کا معنی نشو و نما، افزائش بھئی، اور انبات کا معنی بھی اگانا یعنی نشو و نما ہے۔ تو انشاء انبات کا ایک ہی معنی ہے۔ ”وَذَلِكَ فِي اللَّبَنِ“ اور یہ سبب جو ہے یعنی شبہ جزئیت دودھ میں ہے ”لِمَعْنَى الْإِنْشَاءِ وَالْإِنْبَاتِ“ معنی کا ترجمہ کر لیں علت اور سبب کے۔ ”وَذَلِكَ فِي اللَّبَنِ“ اور یہ سبب دودھ میں موجود ہے ”لِمَعْنَى الْإِنْشَاءِ وَالْإِنْبَاتِ“ نشو و نما کی علت کی وجہ سے۔ نشو و نما کی علت جو ہے، نشو و نما جو ہے دودھ ابھی بھی نشو و نما کرنے والا ہے چاہے مردہ عورت کا دودھ نکالا ہے لیکن اس میں نشو و نما والی علت موجود ہے اور یہ جو رضاعت سے حرمت آتی ہے وہ بھی کس وجہ سے آتی ہے؟ شبہ جزئیت ہی کی وجہ سے تو آتی ہے، تو جب یہ دودھ نشو و نما کرے گا تو یہ بچہ عورت کا جز بن جائے گا، لہٰذا حرمت آ جائے گی۔ تو کہتے ہیں ”وَذَلِكَ فِي اللَّبَنِ لِمَعْنَى الْإِنْشَاءِ وَالْإِنْبَاتِ“ اور یہ سبب جو ہے دودھ کے اندر نشو و نما کی علت کی وجہ سے ہے ”وَهُوَ قَائِمٌ بِاللَّبَنِ“ اور یہ نشو و نما یہ والا جو سبب ہے قائم باللبن وہ اس دودھ میں بھی موجود ہے۔ یہ جو مردہ عورت کا دودھ ہے اس میں بھی یہ نشو و نما والا معنی اور سبب موجود ہے بھئی۔ ”وَهَذِهِ الْحُرْمَةُ تَظْهَرُ“ جی، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ اس حرمت کا کوئی فائدہ نہیں ہے، عورت محل حرمت نہ رہی اور نیز اس حرمت کا کوئی فائدہ بھی نہیں، اب اس کو بیان کر رہے ہیں کہ نہیں، اس حرمت کا فائدہ ہے۔ مثلاً یہ حرمت کا فائدہ یہ ہے کہ یہ عورت اس کا انتقال ہوا ہے، اس کا انتقال ہوا ہے تو یہاں پر کوئی اور عورت بھی نہیں ہے جو اس مردہ عورت کو غسل دے اور اس عورت کے کوئی محرم مرد بھی نہیں ہیں جو اس کو پھر لے جا کر دفن کریں۔ توجہ ہے؟ یہ عورت مر چکی ہے، کوئی یہاں اور عورت بھی نہیں ہے اور کوئی اس عورت کا محرم مرد بھی نہیں ہے، لیکن اس عورت کا دودھ ایک صغیرہ کو پلایا گیا دو سال کی مدت کے اندر اندر، اور اس صغیرہ کا اس کے ولی نے نکاح کروا دیا تھا ایک آدمی سے اور وہ بھی یہاں پر موجود ہے۔ تو اس عورت کا دودھ نکال کر اگر اس صغیرہ کو پلا دیا گیا تو یہ صغیرہ اس عورت کی رضاعی بیٹی بن جائے گی اور اس صغیرہ کا خاوند اس مردہ عورت کا داماد بن جائے گا اور یہ مردہ عورت اس کی ساس بن جائے گی اور ساس داماد کے لیے محرم ہے بھئی۔ تو لہٰذا اب یہ مرد جو ہے، یہ جو صغیرہ کا خاوند ہے وہ اس مردہ عورت کا محرم بن گیا۔ اب وہ اس کو دفنا سکتا ہے اور نیز وہ اس کو غسل تو نہیں کروا سکتا کیونکہ کوئی عورت ہوتی تو وہ غسل کرواتی، یہ تو مرد ہے تو یہ غسل تو نہیں کروا سکتا ہاں تیمم کروا سکتا ہے، کیونکہ یہ محرم ہے کم از کم تیمم تو کروا سکتا ہے۔ تو دیکھو اس حرمت کا بھی فائدہ ہوا، اس صغیرہ کا خاوند اب اس عورت کو تیمم بھی کروا سکتا ہے اور اس کو دفن بھی کر سکتا ہے کیونکہ وہ اس کا محرم بن چکا ہے۔ تو کہتے ہیں ”وَهَذِهِ الْحُرْمَةُ تَظْهَرُ فِي حَقِّ الْمَيْتَةِ“ اور یہ حرمت ظاہر ہوگی اس مردہ عورت کے حق میں ”دَفْنًا وَتَيَمُّمًا“ دفن کرنے اور تیمم کرانے کے اعتبار سے۔ یہ حرمت ظاہر ہوگی اس مردہ عورت کے حق میں دفن کرنے اور تیمم کروانے کے حق میں کہ وہ شخص اب اس کو تیمم بھی کروا سکتا ہے اور اس کو دفن بھی کر سکتا ہے کیونکہ وہ اس کا محرم ہو چکا ہے۔ ”أَمَّا الْجُزْئِيَّةُ فِي الْوَطْءِ“ اب جواب دے رہے ہیں امام شافعی رحمہ اللہ کے قیاس کا۔ انہوں نے اس مردہ عورت کے دودھ پلانے کو کس پر قیاس کیا تھا؟ مردہ عورت کے ساتھ وطی پر۔ اور جیسے مردہ عورت کے ساتھ وطی میں حرمت نہیں آتی وہ فرماتے ہیں اس مردہ عورت کا دودھ پلانے سے بھی حرمت نہیں آئے گی تو اس کا بھی جواب دے رہے ہیں۔ کہتے ہیں بھئی مردہ عورت کے ساتھ کوئی وطی کرے تو وہاں حرمت نہیں آئے گی کیونکہ وہاں حرمت کی وجہ نہیں پائی جا رہی۔ کسی عورت سے جب وطی کی جاتی ہے تو اس کی وجہ سے حرمت آ جاتی ہے، توجہ ہے؟ وجہ یہ کہ یہ جو وطی ہے یہ پہنچانے والی ہے اولاد تک، یہ وطی اولاد تک پہنچاتی ہے اور اولاد وہ خاوند کا بھی جز ہے اور بیوی کا بھی جز ہے۔ تو دونوں کے جز اکٹھے ہو گئے اولاد میں تو میاں بیوی دونوں ایک دوسرے کا جز بن گئے۔ اولاد میں خاوند کا بھی جز، بیوی کا بھی جز، دونوں کے جز اکٹھے ہو گئے، دونوں ایک فرد کے درجے میں ہو گئے، گویا خاوند کا جز بیوی کا جز بن گیا اور بیوی کا جز خاوند کا جز بن گیا، یہ ایک دوسرے کے جز بن گئے بھئی۔ اور جب یہ ایک دوسرے کے جز بن گئے تو اس کی وجہ سے پھر حرمت آئے گی بھئی، کیونکہ جز انسان پر کیا ہوتا ہے؟ حرام ہوتا ہے۔ توجہ ہے؟ تو ہم کہتے ہیں کہ حرمت مصاہرت والے مسئلے کے اندر جب کوئی شخص مردہ عورت سے وطی کرے گا تو پھر حرمت مصاہرت نہیں آئے گی۔ وجہ یہ کہ حرمت مصاہرت کیوں آتی تھی؟ کیونکہ وطی پہنچانے والی تھی اولاد تک اور اولاد میں دونوں کے جز اکٹھے ہوتے تھے اور دونوں ایک دوسرے کا جز بن جاتے تھے۔ لیکن مردہ عورت یہ تو محل اولاد ہی نہیں ہے، اس سے تو اولاد ہو ہی نہیں سکتی، معلوم ہوا مردہ عورت سے جب وطی کی ہے تو یہ اولاد تک پہنچانے والی نہیں، جب یہ اولاد تک پہنچانے والی نہیں تو میاں بیوی ایک دوسرے کا جز بھی نہیں بن سکتے، جب نہیں بن سکتے تو پھر لہٰذا اس کی وجہ سے حرمت بھی نہیں آئے گی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں ”أَمَّا الْجُزْئِيَّةُ فِي الْوَطْءِ“ اور باقی جز ہونا جو وطی میں ہوتا ہے ”لِكَوْنِهِ مُلَاقِيًا لِمَحَلِّ الْحَرْثِ“ حرث کہتے ہیں کھیتی کو، حرث کسے کہتے ہیں؟ کھیتی کو۔ بیوی کو بھی قرآن میں خاوند کے لیے کھیتی قرار دیا گیا۔ تو یہاں صاحب ہدایہ فرما رہے ہیں کہ ”أَمَّا الْجُزْئِيَّةُ فِي الْوَطْءِ“ کہ جز ہونا وطی میں ”لِكَوْنِهِ مُلَاقِيًا“ اس وجہ سے کہ وطی نے ملاقات کی ہے ”لِمَحَلِّ الْحَرْثِ“ محل حرث سے یعنی کھیتی سے۔ وطی کی وجہ سے حرمت کیوں آتی ہے؟ کیونکہ وطی کہاں پائی جاتی ہے؟ محل حرث یعنی کھیتی میں جس سے آگے اولاد ہو سکتی ہے اور وہ اولاد خاوند کا بھی جز، بیوی کا بھی جز تو دونوں ایک دوسرے کا جز بن گئے تو دونوں میں اتحاد آ گیا، لہٰذا حرمت آ جاتی ہے۔ توجہ ہے؟ وہ وطی ملاقات کرتی ہے کس سے؟ محل حرث یعنی کھیتی سے، اس لیے حرمت آتی ہے۔ لیکن یہ عورت تو مر چکی ہے یہ تو محل حرث ہی نہیں، لہٰذا یہاں اولاد ہونے کا بھی کوئی شبہ نہیں اور خاوند اور بیوی کا ایک دوسرے کا جز بننے کا بھی کوئی احتمال نہیں ہے، اس لیے یہاں حرمت نہیں آئے گی۔ تو کہتے ہیں ”أَمَّا الْجُزْئِيَّةُ فِي الْوَطْءِ“ اور باقی جز ہونا وطی میں ”لِكَوْنِهِ مُلَاقِيًا لِمَحَلِّ الْحَرْثِ“ اس لیے کیونکہ اس وطی نے ملاقات کی ہے کھیتی سے، تو محل حرث یعنی محل کاشت بھئی، محل حرث کا کیا ترجمہ کر لیں؟ محل کاشت بھئی۔ ”لِكَوْنِهِ مُلَاقِيًا لِمَحَلِّ الْحَرْثِ“ اس لیے کیونکہ اس وطی نے ملاقات کی ہے کاشت کے محل سے ”وَقَدْ زَالَ بِالْمَوْتِ“ اور وہ محل حرث یعنی کاشت کا محل تو ختم ہو چکا ہے موت کی وجہ سے۔ اب اس محل سے تو اولاد کا حصول نہیں ہو سکتا تو وہ اب محل حرث نہ رہا موت کی وجہ سے، عورت مر گئی ہے اب یہ محل حرث نہیں ہے ”فَافْتَرَقَا“ تو دونوں جدا ہو گئے۔ دونوں جدا ہو گئے۔ مردہ عورت کا دودھ پلایا جائے کسی بچے کو تو وہاں حرمت آتی ہے جزئیت کی وجہ سے، کیونکہ دودھ کی وجہ سے ہڈیوں اور گوشت کی نشو و نما ہوگی۔ تو عورت بے شک مر چکی ہے لیکن اس کے دودھ میں یہ نشو و نما والا معنی تو ابھی بھی موجود ہے، لہٰذا اس سے حرمت آئے گی۔ اور جبکہ اس کے مقابلے میں حرمت مصاہرت جو آتی ہے وہ چونکہ وہ وطی اولاد تک پہنچاتی ہے اور اولاد میں بیوی اور خاوند دونوں کے جز مل جاتے ہیں تو دونوں ایک دوسرے کا جز بن جاتے ہیں۔ تو لہٰذا مردہ عورت کا دودھ نکالا جائے اور کسی بچے کو پلایا جائے تو وہاں پھر بھی جزئیت والا شبہ آئے گا، لیکن اگر مردہ عورت کے ساتھ صحبت کی جائے تو وہاں جزئیت والا شبہ نہیں آتا تو دونوں ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ لہٰذا آپ ایک کو دوسرے پر قیاس نہیں کر سکتے۔ مسئلہ سمجھ میں آ گیا؟ آگے دیکھیے، کہتے ہیں: ”وَإِذَا احْتُقِنَ الصَّبِيُّ بِاللَّبَنِ لَمْ يَتَعَلَّقْ بِهِ التَّحْرِيمُ“ ”وَإِذَا احْتُقِنَ“ احتقن کا معنی ہے حقنہ کرنا۔ حقنہ کرنا اسے کہتے ہیں کہ بعض اوقات کوئی شخص بیمار ہوتا ہے تو اس کے جسم میں پاخانے کے راستے سے دوا داخل کی جاتی ہے، اس کو حقنہ کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ حقنہ۔ اب مسئلہ ذکر فرما رہے ہیں صاحب ہدایہ کہ اگر ایک بچے کو حقنہ کروایا گیا، یعنی پاخانے کے راستے سے اس کے بدن میں دوا داخل کی گئی اور حقنہ کسی عورت کے دودھ کے ساتھ کروایا گیا تو کیا اس سے حرمت ثابت ہوگی یا نہیں؟ تو آپ کو بتائیں گے نہیں، اس سے حرمت ثابت نہیں ہوگی۔ اس لیے کیونکہ یہ جو دودھ بچے کے جسم میں پہنچتا ہے وہاں حرمت کس لیے آتی ہے؟ شبہ جزئیت کی وجہ سے، اور بدن کو غذا دینے والی چیز وہ ہوتی ہے جو بدن میں اوپر کی طرف سے پہنچے۔ لہٰذا اس لیے اس دودھ کے ساتھ حقنہ کروانے سے حرمت کا تعلق نہیں ہوگا۔ کہتے ہیں ”وَإِذَا احْتُقِنَ الصَّبِيُّ بِاللَّبَنِ“ اور جب حقنہ کروایا گیا کسی بچے کا دودھ کے ساتھ ”لَمْ يَتَعَلَّقْ بِهِ التَّحْرِيمُ“ تو اس کے ساتھ تحریم کا تعلق نہیں ہوگا ”وَعَنْ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللهُ أَنَّهُ يَثْبُتُ بِهِ الْحُرْمَةُ كَمَا يَفْسُدُ بِهِ الصَّوْمُ“ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس سے بھی حرمت ثابت ہو جائے گی ”كَمَا يَفْسُدُ بِهِ الصَّوْمُ“ جیسے اس سے روزہ فاسد ہو جاتا ہے۔ جیسے اس سے روزہ فاسد ہو جاتا ہے۔ تو امام محمد رحمہ اللہ اس حرمت کو قیاس کرتے ہیں روزے پر۔ یاد رکھو روزے کے اندر اگر کسی کا حقنہ کروایا جائے تو روزہ فاسد ہو جاتا ہے، روزہ فاسد ہو جاتا ہے۔ تو جیسے جیسے حقنہ کروانے سے روزہ فاسد ہو جاتا ہے، اسی طرح یہاں حقنے کے ساتھ دودھ داخل کیا جائے گا تو حرمت بھی ثابت ہو جائے گی۔ تو امام محمد اس روزے اور تحریم میں کوئی فرق نہیں کرتے۔ اس روزے اور تحریم میں کوئی فرق نہیں کرتے، حقنہ کروایا جائے تو تحریم بھی آتی ہے اور حقنہ کروایا جائے تو روزہ بھی فاسد ہوگا بھئی، دونوں کا ایک ہی حکم ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَعَنْ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللهُ“ اور امام محمد رحمہ اللہ سے روایت ہے ”أَنَّهُ يَثْبُتُ بِهِ الْحُرْمَةُ“ کہ اس حقنے سے بھی حرمت ثابت ہو جائے گی ”كَمَا يَفْسُدُ بِهِ الصَّوْمُ“ جیسے اس حقنے کی وجہ سے روزہ فاسد ہو جاتا ہے ”وَوَجْهُ الْفَرْقِ“ اور فرق کی وجہ جو ہے ”عَلَى الظَّاهِرِ“ ظاہر روایت کے مطابق۔ بھئی یہ جو متن میں آیا نا یہ ظاہر روایت ہے: ”وَإِذَا احْتُقِنَ الصَّبِيُّ بِاللَّبَنِ لَمْ يَتَعَلَّقْ بِهِ التَّحْرِيمُ“ یہ ظاہر روایت ہے۔ امام محمد رحمہ اللہ تو کیا فرماتے ہیں؟ دودھ سے حقنہ کروائیں گے تب بھی حرمت ثابت ہو جائے گی، انہوں نے روزے اور تحریم میں کوئی فرق نہیں کیا۔ لیکن ظاہر روایت کے مطابق روزے اور تحریم میں فرق کیا گیا ہے۔ روزے میں حقنہ کروائیں گے روزہ تو ٹوٹے گا لیکن صغیر کا دودھ سے حقنہ کروائیں گے تو تحریم ثابت نہیں ہوگی۔ تو دونوں میں فرق کیا گیا ہے ظاہر روایت میں، اس کی کیا وجہ ہے؟ اب وہ بیان کرنے لگے ہیں۔ تو کہتے ہیں ”وَوَجْهُ الْفَرْقِ“ اور فرق کی وجہ یہ ہے ”عَلَى الظَّاهِرِ“ ظاہر روایت پر ”أَنَّ الْمُفْسِدَ فِي الصَّوْمِ إِصْلَاحُ الْبَدَنِ“ کہ وہ چیز جو روزے کو فاسد کرنے والی ہے وہ اصلاح البدن بدن کی اصلاح ہے۔ روزے کی حالت میں حقنہ کیا جائے گا مریض کا تو اس سے اس کے بدن کی اصلاح ہوئی، اس کو فائدہ ہوا اور اس کی وجہ سے روزہ فاسد ہو جائے گا۔ بدن میں کوئی ایسی چیز داخل ہوئی جس سے بدن کو فائدہ ہوا تو روزہ ٹوٹنے کا حکم لگایا جائے گا۔ تو کہتے ہیں ”أَنَّ الْمُفْسِدَ فِي الصَّوْمِ إِصْلَاحُ الْبَدَنِ“ کہ روزے کے اندر وہ چیز جو فاسد کرنے والی ہے وہ بدن کی اصلاح ہے ”وَيُوجَدُ ذَلِكَ فِي الدَّوَاءِ“ اور یہ چیز پائی گئی ہے دوا کے اندر ”فَأَمَّا الْمُحَرِّمُ فِي الرَّضَاعِ“ باقی وہ چیز جو رضاعت کے اندر حرام کرنے والی ہے ”مَعْنَى النُّشُوءِ“ وہ نشو و نما کی علت ہے، نشو و نما کا سبب ہے ”وَلَا يُوجَدُ ذَلِكَ فِي الِاحْتِقَانِ“ اور یہ نشو و نما کا سبب تو نہیں پایا گیا احتقان میں یعنی حقنہ کرنے میں ”لِأَنَّ الْمُغَذِّيَ وُصُولُهُ مِنَ الْأَعْلَى“ اس لیے کیونکہ وہ چیز جو غذا دینے والی ہے ”وُصُولُهُ مِنَ الْأَعْلَى“ اس کا پہنچنا اوپر سے ہوتا ہے۔ وہ چیز جو بدن کو غذا دیتی ہے وہ جو اوپر سے پہنچے وہ غذا دیتی ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو لہٰذا اس لیے حقنے کی صورت میں غذا چونکہ بدن تک نہیں پہنچی تو اس سے حرمت بھی ثابت نہیں۔ ”وَإِذَا نَزَلَ لِلرَّجُلِ لَبَنٌ فَأَرْضَعَ صَبِيًّا“ صورت مسئلہ یہ: ایک مرد کی چھاتی میں دودھ اتر آیا اور یہ کسی بچے کو پلاتا ہے، تو کیا اس سے حرمت ثابت ہوگی یا نہیں؟ کہتے ہیں نہیں، اس سے حرمت ثابت نہیں ہوگی۔ اس لیے کیونکہ مرد کی چھاتی میں جو اترا ہے اس کی صورت دودھ جیسی ہے وہ حقیقت میں دودھ نہیں۔ کیونکہ دودھ اسی چیز کا آ سکتا ہے جو بچوں کو جنم دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ جس چیز سے بچوں کی ولادت کا تصور ہو سکے اسی سے دودھ کا بھی تصور کیا جا سکتا ہے اور مرد تو ایسا نہیں، لہٰذا معلوم ہوا یہ جو مرد کی چھاتی میں اترا ہے یہ دودھ جیسی صورت تو ہے لیکن دودھ نہیں ہے تو اس سے حرمت ثابت نہیں ہوگی۔ مسئلہ سمجھ میں آ گیا؟ تو کہتے ہیں ”وَإِذَا نَزَلَ لِلرَّجُلِ لَبَنٌ“ اور جب کسی آدمی کا دودھ اتر آیا ”فَأَرْضَعَ صَبِيًّا“ تو اس نے کسی بچے کو وہ دودھ پلا دیا ”لَمْ يَتَعَلَّقْ بِهِ التَّحْرِيمُ“ تو اس سے بھی تحریم کا تعلق نہیں ہوگا ”لِأَنَّهُ لَيْسَ بِلَبَنٍ عَلَى التَّحْقِيقِ“ اس لیے کیونکہ یہ دودھ نہیں ہے بنا بر تحقیق کے، یعنی حقیقتاً دودھ نہیں ہے ”فَلَمْ يَتَعَلَّقْ بِهِ النُّشُوءُ وَالنُّمُوُّ“۔ نشوء کا معنی بھی نشو و نما اور نمو اس کا معنی بھی نشو و نما۔ ”فَلَمْ يَتَعَلَّقْ بِهِ النُّشُوءُ وَالنُّمُوُّ“ لہٰذا اس کے ساتھ اس بچے کی نشو و نما کا تعلق نہیں ہوگا۔ جب یہ دودھ نہیں ہے تو اس سے بچے کی نشو و نما بھی نہیں ہوگی۔ ”وَهَذَا لِأَنَّ اللَّبَنَ إِنَّمَا يُتَصَوَّرُ“ اور یہ اس لیے کیونکہ دودھ جو ہے اس کا تصور کیا جا سکتا ہے ”مِمَّا يُتَصَوَّرُ مِنْهُ الْوِلَادَةُ“ جس سے ولادت کا تصور ہو سکے، جس سے ولادت یعنی اولاد کو جنم دینے کا تصور ہو سکے اور وہ عورت ہے، مرد نہیں ہے بھئی۔ ”وَإِذَا شَرِبَ صَبِيَّانِ مِنْ لَبَنِ شَاةٍ لَمْ يَتَعَلَّقْ بِهِ التَّحْرِيمُ“ بھئی صورت مسئلہ یہ: اگر دو بچوں نے ایک ہی گائے، بھینس یا بکری کا دودھ پی لیا تو کیا اس سے رضاعت ثابت ہوگی یا نہیں؟ کہتے ہیں نہیں، اس سے رضاعت ثابت نہیں ہوگی۔ کہتے ہیں ”وَإِذَا شَرِبَ صَبِيَّانِ مِنْ لَبَنِ شَاةٍ“ اور جب دو بچوں نے پی لیا ایک ہی بھیڑ بکری کے دودھ میں سے ”لَمْ يَتَعَلَّقْ بِهِ التَّحْرِيمُ“ تو اس سے تحریم کا تعلق نہیں ہوگا ”لِأَنَّهُ لَا جُزْئِيَّةَ بَيْنَ الْآدَمِيِّ وَالْبَهَائِمِ“ اس لیے کیونکہ کوئی جزئیت نہیں ہے آدمی اور چوپائے میں۔ آدمی اور چوپایوں میں کوئی جزئیت نہیں ہوتی۔ دونوں بچے اگر بکری کا دودھ پیئیں گے تو وہ بکری کے جز نہیں بنیں گے بھئی، جزئیت تو انسانوں میں ہوتی ہے، انسانوں اور حیوانوں میں نہیں ہوتی۔ کہتے ہیں ”لِأَنَّهُ لَا جُزْئِيَّةَ بَيْنَ الْآدَمِيِّ وَالْبَهَائِمِ“ اس لیے کیونکہ کوئی جزئیت نہیں ہے آدمی اور چوپایوں کے درمیان ”وَالْحُرْمَةُ بِاعْتِبَارِهَا“ اور حرمت تو اسی جزئیت کے اعتبار سے آتی ہے اور وہ تو یہاں موجود نہیں ہے۔ معلوم ہوا ایک ہی بھیڑ بکری یا گائے کا دودھ کوئی دو بچے پی لیں تو اس سے کوئی حرمت ثابت نہیں ہوتی۔ یاد رکھو اس سلسلے میں علماء ذکر فرماتے ہیں کہ امام بخاری رحمہ اللہ تعالی رحمۃ واسعۃ جو عظیم محدث تھے وہ آخر عمر میں بخارا تشریف لائے۔ وہ تو بخارا کے رہنے والے تھے لیکن تحصیل علم کے اندر سفر میں کبھی ایک جگہ ہوتے، کبھی دوسری جگہ ہوتے تو آخر عمر میں بخارا تشریف لائے اور آپ کی شہرت ہو چکی تھی پوری دنیا کے اندر عظیم محدث کے طور پر۔ اور یہاں انہوں نے فتویٰ دینے کا بھی سلسلہ شروع کیا، فتویٰ دینے کا سلسلہ شروع کیا۔ اس زمانے میں وہاں پر سب سے بڑے شیخ جو تھے وہ ابو حفص کبیر تھے بھئی، یہ حنفی تھے۔ تو انہوں نے امام بخاری رحمہ اللہ سے ذکر فرمایا کہ آپ فتویٰ نہ دیں۔ یاد رکھو یہ فتویٰ دینا یہ ایک الگ صلاحیت ہے۔ بعض لوگوں کو اللہ تعالی نے بعض لوگوں کا حافظہ بڑا قوی بنایا ہوتا ہے جیسے محدثین ہیں، محدثین کو اللہ نے بے انتہا قوی حافظے نصیب فرمائے تھے۔ جبکہ جو فقیہ ہوتا ہے، فقیہ جو ہے اس کا حافظہ اس درجے کا نہ ہو لیکن اس کو ذہن اللہ ایسا دیتے ہیں کہ وہ قرآن و حدیث میں غور کر کے مسائل نکال لیتے ہیں۔ وہ بات کی گہرائی تک پہنچ جاتے ہیں کہ کہنے والا یہاں کیا کہنا چاہتا ہے بھئی۔ چنانچہ اسی لیے قرآن و حدیث میں معمولی اشارے سے بھی وہ مسئلہ نکالتے ہیں بھئی۔ تو فقیہ ہونا یہ الگ خصوصیت ہے جو اللہ کی طرف سے بعض لوگوں کو عطا ہوتی ہے اور محدث ہونا یہ الگ خصوصیت ہے جو بعض لوگوں کو اللہ کی طرف سے عطا ہوتی ہے۔ تو امام بخاری فتویٰ دینے لگے تو شیخ ابو حفص کبیر رحمہ اللہ نے منع فرمایا کہ حضرت یہ فتویٰ آپ کے بس کی چیز نہیں، آپ فتویٰ نہ دیں۔ لیکن امام بخاری رحمہ اللہ بھئی آخر ان کا ایک مقام تھا بھئی، پوری دنیا کے اندر شہرت تھی، بڑے بڑے جبال العلوم ان کے پاس تشریف لاتے تھے، تو امام بخاری رحمہ اللہ فتویٰ بھی دینے لگے۔ انہیں دنوں کسی نے امام بخاری سے پوچھا کہ اگر کوئی دو بچے ایک ہی بھیڑ بکری کا دودھ پی لیں تو کیا دونوں میں حرمت ثابت ہو جائے گی؟ تو امام بخاری رحمہ اللہ فرمانے لگے: ہاں، حرمت ثابت ہو جائے گی۔ ایک ہی بھیڑ بکری یا گائے کا دودھ دو بچے پی لیں تو حرمت ہی ثابت ہو جائے گی۔ کہتے ہیں اس پر بڑا ہنگامہ برپا ہو گیا، کیونکہ بھئی ایک بھیڑ بکری کا دودھ تو پورے خاندان کے بچے پیتے ہیں بھئی، پورے محلے والے ایک گائے وغیرہ کا دودھ استعمال کرتے ہیں۔ تو چنانچہ بڑا فتنہ پھیل گیا اور بالآخر امام بخاری رحمہ اللہ کو وہاں سے نکلنا پڑا۔ تو چنانچہ کہتے ہیں شاید اسی وجہ سے امام بخاری احناف سے ناراض ہیں۔ وہ اپنے بخاری میں اور ائمہ کا ذکر کرتے ہیں لیکن امام صاحب کا نام ذکر نہیں کرتے، جہاں امام صاحب کا نام آتا ہے ان کا ذکر کرنا ہو تو کہتے ہیں ”قَالَ بَعْضُ النَّاسِ“ بعض لوگوں نے کہا ہے، بطور تحقیر کے بھئی۔ تو والد صاحب رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ امام بخاری آپ کی اتنی ناراضگی اچھی نہیں ہے امام صاحب سے، امام صاحب سے۔ قصور اس زمانے کے لوگوں کا تو ہو سکتا ہے، امام صاحب امام صاحب کی تو وفات اس زمانے میں ہوئی ہے جس زمانے میں امام بخاری کی پیدائش ہوئی ہے بھئی۔ تو والد صاحب رحمہ اللہ فرماتے کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے جو اتنی ناراضگی کا اظہار کیا ہے اتنی ناراضگی ان کو نہیں کرنی چاہیے تھی۔ قصور جو ہے وہ اس بخارا کے بعض لوگوں کا تو ہو سکتا تھا لیکن امام صاحب وہ تو پہلے ہی گزر چکے ہیں، ان کا تو زمانہ ہوا انتقال ہو چکا، تو ان سے ناراضگی نہیں ہونی چاہیے تھی بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو بہرحال یہ سب جبال العلوم تھے بھئی، اللہ نے ان لوگوں کو وہ مقامات نصیب فرمائے ہیں کہ انسان اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ دیکھو تقریباً بارہ سو سال گزر گئے، امام بخاری کی کتاب پوری دنیا میں مسلمان پڑھتے بھی ہیں اور پڑھاتے ہیں، تو ثواب کے کتنے عظیم سمندر ان کے لیے چل رہے ہوں گے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ جی تو یہ واقعہ بھی محشی حضرات نے یہاں حاشیے میں ذکر کیا ہے تو میں نے بیان کر دیا۔ تو یہ بڑا مشہور واقعہ ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ کتابوں میں علماء نے ذکر کیا ہے بھئی۔ اور امام بخاری کوئی معمولی انسان نہیں ہیں بھئی، عظیم ترین حدیث کی کتاب انہوں نے لکھی بھئی ”أَصَحُّ الْكُتُبِ بَعْدَ كِتَابِ اللهِ“ بھئی۔ اور پھر بخاری کے اندر امام بخاری رحمہ اللہ اتنی گہری باتیں کرتے ہیں کہ انسان حیران رہ جاتا ہے، خصوصاً جو مختلف ابواب کے وہ عنوانات دیتے ہیں، تو علماء وہ جو ابواب کے نام امام بخاری نے رکھے ہیں ان کی تشریح کرتے ہوئے علماء حیران رہتے ہیں اور وہ وہ نکات ختم ہی نہیں ہوتے، ایسے ایسے نقطے علماء بیان فرماتے ہیں۔ تو بخاری کے اندر امام بخاری کے ذہن کا اندازہ ہوتا ہے کہ کیسا عظیم ذہن اللہ نے ان کو دیا تھا، لیکن بہرحال فقاہت ایک الگ چیز ہے۔ امام بخاری کا نام تمام علماء محدثین میں تو ذکر کرتے ہیں فقہاء میں ذکر نہیں کرتے، کیونکہ فقاہت الگ چیز ہے اور محدث ہونا ایک الگ چیز ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔
160 approved lectures · 45 of 160