Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء ثاني · dars-034

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 15 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 110
📂 Choose Format:
⭐ ★★★★★ Excellent TEXT
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
آگے سبق دیکھیے: ”وَإِذَا أَوْفَاهَا مَهْرَهَا نَقَلَهَا إِلَى حَيْثُ شَاءَ لِقَوْلِهِ تَعَالَىٰ: {أَسْكِنُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ سَكَنتُم}، وَقِيلَ: لَا يُخْرِجُهَا إِلَىٰ بَلَدٍ غَيْرِ بَلَدِهَا؛ لِأَنَّ الْغَرِيبَةَ تُؤْذَىٰ، وَفِي قُرَى الْمِصْرِ الْقَرِيبَةِ لَا تَتَحَقَّقُ الْغُرْبَةُ“. بھئی گزشتہ سبق کے اندر صاحبِ ہدایہ نے کفالت کا مسئلہ ذکر فرمایا تھا، کفالت جس کو ہم اردو میں ضمانت کہتے ہیں، کہ ایک شخص دوسرے کی ضمانت دیتا ہے اور یہ ضمانت جو ہے کبھی ذات کی ہوتی ہے اور کبھی مال کی ہوتی ہے۔ ذات کی ضمانت دی جاتی ہے کہ مثلاً ایک شخص کا دوسرے شخص پر کوئی حق ہے اور وہ اس کو چھوڑ نہیں رہا تو ایک شخص ضمانت دیتا ہے کہ میں ضامن ہوں، یہ بھاگے گا نہیں، فلاں تاریخ کو اس کو حاضر کرنا میرا کام ہے۔ تو دیکھو یہاں اس نے مال کی ضمانت نہیں دی بلکہ اس شخص کو حاضر کرنے کی ضمانت دی ہے، تو یہ ہے ذات کی ضمانت۔ اور بعض اوقات مال جو ہے اس کی ضمانت دی جاتی ہے، کہ ایک شخص دوسرے شخص سے کوئی قرض لینے گیا کہ مجھے کچھ پیسوں کی ضرورت ہے، وہ دوسرا اس پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں کہ معلوم نہیں تم میرا مال بعد میں واپس کرو گے یا نہیں کرو گے، تو پھر ایک تیسرا شخص جو ہے وہ ضامن بن جاتا ہے کہ میں ضمانت دیتا ہوں، یہ شخص آپ کا مال واپس کرے گا اور اگر اس نے واپس نہ کیا تو میں ادائیگی کر دوں گا۔ تو اس کو اردو میں ضمانت کہتے ہیں اور فقہ کے اندر اس کو کفالت کہتے ہیں، ضمان کا لفظ بھی استعمال ہوتا ہے اور کفالت کا لفظ بھی استعمال ہوتا ہے بھئی۔ اور نیز میں نے آپ کو یہ بھی بتلایا تھا کہ ایک ہے بیع اور ایک ہے نکاح۔ نکاح کے اندر حقوقِ عقد کا تعلق جو ہے وہ وکیل سے نہیں ہوتا، وکیل صرف پیغام رساں ہے اور نکاح کروانے والا ہے، جبکہ نکاح کے جو حقوق ہیں یعنی عورت کی طرف سے مہر کا مطالبہ ہوتا ہے اور خاوند کی طرف سے اپنی بیوی کا مطالبہ ہوتا ہے کہ میرا نکاح ہو گیا ہے، اب میری بیوی میرے حوالے کی جائے، تو یہ جو حقوق ہیں نکاح کے اندر ان کا تعلق وکیل سے نہیں ہوتا، وکیل صرف پیغام پہنچانے والا ہے، وہ صرف الفاظ بول رہا ہے، دونوں کا نکاح کروا رہا ہے لیکن حقوقِ عقد کا تعلق اس وکیل سے یا اس ولی سے نہیں ہوتا۔ حقوق کا تعلق اس اصیل سے ہو گا جس کا عقد کروایا جا رہا ہے۔ جبکہ بیع کے اندر حقوقِ عقد کا تعلق وہ عقد کرنے والے سے ہے، وہ عقد کرنے والے چاہے اصیل ہیں چاہے وہ وکیل ہیں، جو بھی عقدِ بیع کرے گا حقوقِ عقد کا تعلق اسی سے ہو گا۔ یعنی جن دو آدمیوں نے آپس میں بیع کی ہے ان میں سے ایک بائع ہے اور ایک مشتری ہے۔ مشتری کا حق ہے کہ وہ مبیعہ وصول کرے اور بائع کا حق ہے کہ وہ ثمن کا مطالبہ کرے، وہ ثمن وصول کرے، تو یہ جو حقوق ہیں بیع کے اندر یہ جو عقد کرنے والے ہیں انہی سے متعلق ہوتے ہیں۔ اگر عقد کرنے والے وکیل ہیں تو مبیع کی ادائیگی اور ثمن کی وصولی کرنا انہی کا کام ہے، مؤکّل جا کر ثمن کا مطالبہ یا مبیع کا مطالبہ نہیں کر سکتا بھئی۔ لہٰذا اب ایک ولی جو ہے اس نے صغیر یا صغیرہ کے مال میں سے کوئی چیز بیچ دی۔ جب بیچی تو یہ ولی جو ہے، ثمن وصول کرنا بھی اب اسی کا کام ہے، یہ حقوقِ عقد کا تعلق اسی سے ہے۔ لہٰذا یہ اب مشتری کی طرف سے ثمن کا ضامن بننا چاہتا ہے تو یہ جائز نہیں ہے بھئی۔ وجہ یہ کہ یہ ثمن ولی نے ہی تو وصول کرنے ہیں، اور یہ ضامن بھی بن جائے ثمن کا، تو پھر تو یہ اپنے لیے ہی ضامن بن گیا، ضامن لنفسہٖ بن جائے گا یہ، اور ضامن لنفسہٖ تو باطل ہے بھئی۔ ضامن جو ہے انسان غیر کے لیے بنتا ہے، اپنی ذات کے لیے کسی چیز کا ضامن نہیں بنتا۔ جبکہ اس کے مقابلے میں اگر ولی نے نکاح کروایا ہے اپنی بالغہ بیٹی کا یا صغیرہ کا اور پھر وہ مہر کا کفیل بننا چاہتا ہے، مہر کا ضامن بننا چاہتا ہے ان کے لیے تو یاد رکھیں یہ ضامن بن سکتا ہے۔ وجہ یہ کہ یہ عقدِ نکاح ہوا ہے اور اس میں حقوقِ عقد کا تعلق اس ولی سے نہیں ہے بلکہ وہ اصیل جو ہے اس کے ساتھ حقوقِ عقد کا تعلق ہے، لہٰذا یہ ضامن بن سکتا ہے اور پھر وہ عورت بعد میں خاوند سے بھی مطالبہ کر سکتی ہے اور اپنے ولی سے بھی مہر کا مطالبہ کر سکتی ہے۔ اور میں نے پھر یہ بھی بتایا تھا کہ یہ جو ایک شخص دوسرے شخص کی ضمانت دیتا ہے، یہ دوسرے کے کہنے پر بھی ضمانت دی جا سکتی ہے اور دوسرے کے کہے بغیر بھی ضمانت دی جا سکتی ہے، لیکن پھر فرق یہ ہے اگر دوسرے کے کہے بغیر خود ہی ضمانت دی تھی تو پھر اگر اس کفیل نے مال کی ادائیگی کر دی تو پھر یہ اس اصیل پر رجوع نہیں کر سکتا، کیونکہ اصیل کہے گا بھئی میں نے آپ سے کب کہا تھا کہ آپ میری طرف سے ضمانت دیں، آپ نے خود ہی ضمانت دی ہے، خود ہی ادائیگی کی ہے، لہٰذا مجھ سے ادائیگی کا مطالبہ آپ نہیں کر سکتے۔ جبکہ اگر کفیل نے اصیل کے کہنے پر ضمان دیا تھا تو پھر اس صورت کے اندر کفیل نے اگر ادائیگی کر دی تو وہ اصیل پر رجوع کر سکتا ہے۔ یہاں پر بھی اگر ولی نے مہر ادا کر دیا تو اگر خاوند کے کہنے پر اس نے ضمان دیا تھا تو یہ ولی خاوند پر رجوع کرے گا اور اگر اس کے کہے بغیر اس نے ضمانت دی تھی تو پھر یہ خاوند پر رجوع نہیں کر سکتا بھئی۔ اور اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا تھا کہ نکاح کے اندر عورت کا حق ہے کہ مہر وصول کرے، تو وہ مہر کی وصولی تک خاوند کو صحبت سے روک سکتی ہے کہ وہ خاوند کو صحبت پر قدرت نہ دے۔ جیسے بیع کے اندر ہوتا ہے، یاد رکھو جیسے ہی ایجاب و قبول ہوتا ہے، مشتری جو ہے وہ مبیع کا مالک بن جاتا ہے۔ اب مشتری اس سے کہتا ہے کہ یہ مبیع میرے حوالے کرو کیونکہ میں اس کا مالک بن چکا ہوں، تو بائع اس مبیع کو روک سکتا ہے کہ تم پہلے ثمن میرے حوالے کرو پھر تمہیں میں مبیع دوں گا۔ اس لیے کیونکہ مبیع میں تو تمہارا حق متعین ہو گیا، تم اس کے مالک بن گئے، لیکن ثمن جو ہیں ان میں تو ابھی بھی میرا حق متعین نہیں، وہ جب مجھے مل جائیں گے تو پھر میرا حق بھی متعین ہو جائے گا۔ تو یہاں پر بھی اسی طرح ہے، میاں بیوی کا جب نکاح ہو گیا تو خاوند کا حق تو متعین ہو گیا، وہ منافعِ بضع کا مالک بن گیا۔ ابھی وصول تو نہیں کیے، صحبت تو نہیں کی، لیکن اس کا حق تو متعین ہو گیا، وہ منافع کا مالک بن گیا لیکن عورت کا حق ابھی بھی متعین نہیں کیونکہ مہر اس کے حوالے نہیں کیا گیا۔ تو عورت مطالبہ کر سکتی ہے کہ پہلے بدل یعنی مہر میرے حوالے کرو پھر اس کے بعد میں مبدل تمہارے حوالے کروں گی۔ اور نیز اس دوران عورت پر پابندیاں بھی نہیں آئیں گی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ اور اگر مہر جو ہے وہ سارا کا سارا مؤجّل تھا، یعنی نکاح کے اندر اس کی مدت مقرر کر لی گئی کہ خاوند چھ ماہ کے بعد مہر ادا کرے گا اور عورت اس پر راضی ہو گئی تو طرفین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ اس صورت میں عورت کو منع کا حق نہیں ہو گا، اب وہ خاوند کو صحبت سے نہیں روک سکتی۔ وجہ یہ کہ اس نے جب خود مدت دے دی ہے تو اس نے اپنا حقِ منع خود ہی ساقط کر دیا۔ لیکن میں نے بتایا امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اب بھی عورت کو حقِ منع ہے بھئی، اور یاد رکھو فتویٰ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے قول پر ہی ہے استحساناً۔ قیاس تو یہی تقاضا کرتا ہے جو طرفین نے ذکر فرمایا کہ عورت نے اپنا حقِ منع ساقط کر دیا ہے مدت دے کر، تو جب حقِ منع ساقط کر دیا اب اس کو روکنے کا حق نہیں ہے، قیاس یہی تقاضا کرتا ہے۔ لیکن امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابھی بھی عورت کو حقِ منع ہے، وجہ یہ ہے کہ خاوند کو معلوم ہے کہ یہ نکاح جو ہے اس کے اندر مہر دینا پڑتا ہے، اس کے باوجود جو ہے خاوند نے جب مدت ان کے ساتھ مل کر مقرر کر لی کہ میں چھ ماہ کے بعد تمہارا حق ادا کروں گا تو گویا دوسرے لفظوں میں خاوند نے اپنا حق بھی اتنی ہی مدت کے لیے مؤخر کر دیا، لہٰذا ابھی بھی عورت کو حقِ منع ہے بھئی۔ اور نیز طرفین نے اس کو قیاس کیا تھا بیع پر، کہ جس طرح بیع کے اندر جب مدت مقرر کر لی جائے تو پھر بائع کو مبیع روکنے کا حق نہیں ہوتا۔ مثلاً ایک شخص نے دوسرے شخص سے بیع کی اور یہ طے کیا کہ ثمن میں چھ ماہ کے بعد دوں گا، تو اب اس بائع کو یہ مبیع روکنے کا حق نہیں ہے کیونکہ اس نے اپنا حق خود چھ ماہ کے لیے مؤخر کر دیا وہ جو ثمن وصول کرنے تھے، تو اس نے اپنا حقِ منع بھی، اپنا حقِ حبس بھی ساقط کر دیا، تو اب وہ مبیع نہیں روک سکتا۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہر بیع کے اندر یہ ضروری نہیں کہ ثمن پہلے حوالے کرنا ضروری ہو بھئی، بلکہ بعض بیوع ایسی بھی ہیں جہاں پر مبیع اور ثمن ایک ساتھ ایک دوسرے کے حوالے کیے جاتے ہیں، جیسے بیعِ مقایضہ ہے۔ بیعِ مقایضہ میں نے بتلایا تھا سامان کے بدلے سامان کی بیع ہو، یعنی دونوں طرف میں سے کسی طرف بھی سونا چاندی یا درہم و دینار نہ ہوں تو پھر یہ کیا ہے؟ بیعِ مقایضہ ہے، دونوں طرف سامان ہوں، تو اس صورت میں مبیع اور ثمن اکٹھا ایک دوسرے کے حوالے کیا جاتا ہے۔ معلوم ہوا ہر بیع کے اندر ثمن پہلے دینا ضروری نہیں ہے بھئی۔ اس کے بعد پھر یہ مسئلہ ذکر کیا تھا صاحبِ ہدایہ نے کہ اگر عورت اپنی مرضی سے خاوند کو صحبت کرنے دے یا اس کے ساتھ خلوتِ صحیحہ کر لے، صحبت بے شک نہیں ہوئی لیکن خلوتِ صحیحہ پائی گئی، تو کیا اس ایک دفعہ کی صحبت سے یا ایک دفعہ کی خلوت سے عورت کا حقِ منع ساقط ہوا یا ساقط نہیں ہوا؟ تو امام صاحب فرماتے ہیں اس عورت کا حقِ منع ابھی بھی ساقط نہیں ہے، لہٰذا یہ اب بھی خاوند کو صحبت سے روک سکتی ہے اپنا مہر وصول کرنے کے لیے۔ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں نہیں، کہ جب اس عورت نے ایک دفعہ خاوند کو صحبت کرنے دی یا ایک دفعہ اس کے ساتھ خلوتِ صحیحہ کر دی، تو خلوتِ صحیحہ بھی کس کے قائم مقام ہے؟ وطی کے قائم مقام، تو لہٰذا گویا اس نے معقود علیہ خاوند کے سپرد کر دیا سارا کا سارا ایک ہی صحبت کی وجہ سے۔ اور جب سارا معقود علیہ دوسرے کے حوالے کر دیا جائے تو پھر وہاں روکنے کا حق نہیں رہتا، جیسے کہ آپ بیع کے اندر دیکھتے ہیں بائع جب مبیع ایک مرتبہ مشتری کے حوالے کر دے تو پھر اب اس سے واپس لے کر وہ مبیع کو روک نہیں سکتا۔ شریعت نے بائع کو حق دیا تھا وہ مبیع روک سکتا تھا ثمن وصول کرنے کے لیے لیکن اس نے خود ہی مبیع مشتری کے حوالے کر دیا، جب مبیع مشتری کے حوالے کر دیا تو اب اس کو روکنے کا حق نہ رہا، اس نے اپنا حق خود ہی ساقط کر دیا۔ تو یہاں پر بھی صاحبین فرماتے ہیں عورت نے جب خاوند کو ایک دفعہ صحبت کرنے دی یا اس کے ساتھ ایک دفعہ خلوت کر دی تو پھر پورا معقود علیہ اس کے حوالے کر دیا، لہٰذا اب اس کو روکنے کا حق نہیں رہے گا۔ وہ فرماتے ہیں دیکھو اگر کوئی شخص کسی عورت سے نکاح کرتا ہے تو اگر صحبت سے پہلے طلاق دے گا تو نصفِ مہر آئے گا لیکن اگر خاوند نے ایک دفعہ بھی صحبت کر لی تو پورا مہر پکا ہو جاتا ہے۔ معلوم ہوا ایک دفعہ کی صحبت سے بھی گویا بیوی نے پورا معقود علیہ خاوند کے حوالے کر دیا تو اب خاوند پر بھی لازم ہو گیا کہ وہ سارا کا سارا مہر دے۔ لہٰذا اب عورت نے جب پورا معقود علیہ حوالے کر دیا ہے اب اسے روکنے کا حق نہیں۔ جبکہ امام صاحب فرماتے ہیں کہ اب بھی عورت خاوند کو صحبت سے روک سکتی ہے۔ وجہ یہ کہ ہر وطی جو ہے وہ بضعِ محترم کے اندر تصرف ہے اور بضعہ جو ہے وہ معزز و محترم ہے، اس کے اندر کوئی بھی تصرف جو ہے عوض سے خالی نہیں ہونا چاہیے۔ تو اگر خاوند نے ایک دفعہ صحبت کی ہے تو اب بھی عورت کو روکنے کا حق ہے کیونکہ دوسرا جو تصرف ہو گا یعنی دوسری صحبت جو ہو گی وہ بھی دراصل تصرف ہے بضعِ محترم کے اندر، لہٰذا اس کے مقابلے میں بھی عوض ہونا چاہیے، تو بیوی جو ہے روک سکتی ہے خاوند کو صحبت سے اپنا عوض وصول کرنے کے لیے۔ اور باقی جو صاحبین نے دلیل ذکر فرمائی تھی کہ ایک ہی صحبت کی وجہ سے خاوند پر پورا مہر لازم ہو جاتا ہے تو اس کا بھی جواب دیا تھا صاحبِ ہدایہ نے امام صاحب کی طرف سے کہ وہاں چونکہ ایک ہی وطی معلوم ہے باقی وطی جو ہیں وہ مجہول ہیں، ان کا پتہ ہی نہیں وہ ہوتی بھی ہیں یا نہیں، تو ایک وطی ہوئی معلوم اور باقی وطیاں جو ہیں وہ مجہول ہیں، اور مجہول معلوم کا مقابل نہیں بن سکتا۔ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ جو خاوند مہر دے رہا ہے کچھ معلوم وطی کا عوض ہے اور کچھ مجہول وطی کا عوض ہے، نہیں، عوض سارا معلوم ہی کا ہو گا، مجہول مقابل نہیں بن سکتا، وہ معلوم کے مقابلے میں عوض کا حق دار نہیں ہو سکتا، تو اس لیے وہاں چونکہ ایک ہی وطی معلوم ہے تو وہ سارا مہر اس معلوم وطی کا عوض قرار دیا جائے گا۔ لیکن اگر خاوند نے ایک اور وطی کر لی اور پھر اس کے بعد طلاق دیتا ہے تو بالاتفاق یہ جو خاوند مہر دے رہا ہے یہ دونوں وطیوں کا عوض ہے، ایسا نہیں ہے کہ یہ پہلی وطی کا تو عوض ہے اور دوسری وطی عوض سے خالی ہے۔ تو معلوم ہوا کہ جب وطی معلوم ہو گی تو وہ عوض سے خالی نہیں ہو گی، اور مجہول ہو تو پھر وہ معلوم کا مقابل نہیں بن سکتی بھئی۔ کہتے ہیں یہ اسی طرح ہے جیسے کوئی غلام جنایت کرے، اگر اس نے ایک ہی جنایت کی ہے تو اس ایک جنایت کے بدلے میں ہی غلام سپرد کر دیا جائے گا، یہ سارا غلام اسی ایک جنایت کا عوض ہو جائے گا۔ اور اگر ایک غلام نے پے در پے کئی جنایتیں کر دیں اور پھر اس کے بعد وہ لوگ جو ہیں مطالبہ لے کر آ گئے کہ اس غلام نے ہمارا نقصان کیا ہے، ہمارے مال کی ادائیگی کی جائے، تو پھر اس صورت میں اس ایک غلام کو ان ساری جنایتوں کے عوض میں دے دیا جائے گا۔ تو جیسے غلام ایک جنایت کرتا تھا اس کے عوض میں غلام دے دیتے تھے اور زیادہ جنایتیں کرتا تھا تو ان ساروں کا عوض وہ غلام بن جاتا تھا، یہاں پر بھی اگر خاوند نے ایک صحبت کی ہے اور پھر طلاق دیتا ہے تو سارا مہر اس ایک صحبت کا عوض قرار دیں گے اور اگر خاوند نے زیادہ صحبتیں کی ہیں تو یہ مہر ان سب کا عوض قرار دیا جائے گا۔ ایسا نہیں کہ یہ مہر پہلی صحبت کا عوض ہے اور باقیوں کا عوض نہیں ہے، ایسا نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ اب آئیے آج کے سبق پر: ”وَإِذَا أَوْفَاهَا مَهْرَهَا نَقَلَهَا إِلَى حَيْثُ شَاءَ لِقَوْلِهِ تَعَالَىٰ: {أَسْكِنُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ سَكَنتُم}، وَقِيلَ: لَا يُخْرِجُهَا إِلَىٰ بَلَدٍ غَيْرِ بَلَدِهَا؛ لِأَنَّ الْغَرِيبَةَ تُؤْذَىٰ، وَفِي قُرَى الْمِصْرِ الْقَرِيبَةِ لَا تَتَحَقَّقُ الْغُرْبَةُ“. بھئی یاد رکھو خاوند جب بیوی کو مہر ادا کر دے تو خاوند نے بیوی کا حق ادا کر دیا۔ اب خاوند اس شہر سے منتقل ہوتا ہے کسی دوسرے شہر جا کر رہتا ہے تو وہ اپنی بیوی کو بھی اپنے ساتھ منتقل کر سکتا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِذَا أَوْفَاهَا مَهْرَهَا“، اور جب خاوند نے اس عورت کا مہر ادا کر دیا، ”نَقَلَهَا إِلَى حَيْثُ شَاءَ“، تو اس کو منتقل کر سکتا ہے وہ جہاں چاہے، ”لِقَوْلِهِ تَعَالَىٰ“، اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے، دلیل ذکر کر رہے ہیں کہ کیسے منتقل کر سکتا ہے اس کی دلیل کیا ہے؟ کہتے ہیں اللہ قرآن میں فرماتے ہیں: {أَسْكِنُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ سَكَنتُم} کہ ان عورتوں کو بھی رہائش دو، ان عورتوں کو بھی ٹھہراؤ، {مِنْ حَيْثُ سَكَنتُم} جہاں تم رہائش رکھو، یعنی جہاں تم رہو وہیں ان عورتوں کو بھی رکھو۔ اس سے معلوم ہوا جہاں خاوند رہے وہ عورت کو وہاں منتقل کر سکتا ہے بھئی۔ ”وَقِيلَ“، اور کہا گیا ہے، یہ بعض فقہاء فرماتے ہیں ان کا قول نقل فرما رہے ہیں صاحبِ ہدایہ، ”وَقِيلَ: لَا يُخْرِجُهَا إِلَىٰ بَلَدٍ غَيْرِ بَلَدِهَا“، اور کہا گیا ہے کہ خاوند اس کو منتقل نہیں کر سکتا کسی دوسرے ایسے شہر میں جو اس عورت کے شہر کے علاوہ ہو۔ خاوند اس کو، اس بیوی کو اس کے اپنے شہر کے علاوہ کسی دوسرے شہر منتقل نہیں کر سکتا۔ کیوں؟ کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْغَرِيبَةَ تُؤْذَىٰ“، غریب کہتے ہیں اجنبی کو اور مسافر کو، یا اس طرح پردیسی جو ہے جو اپنے وطن سے دور ہے اس کو غریب کہتے ہیں۔ ”لِأَنَّ الْغَرِيبَةَ“، اس لیے کیونکہ وہ عورت جو پردیسی ہے، ”تُؤْذَىٰ“، وہ اذیت پاتی ہے، اس کو اذیت ہوتی ہے بے وطنی کی وجہ سے، اپنے وطن سے دور ہونے کی وجہ سے۔ تو کہتے ہیں اس کو منتقل نہیں کر سکتا، ”لِأَنَّ الْغَرِيبَةَ تُؤْذَىٰ“، کیونکہ پردیسی عورت جو ہے وہ اذیت پاتی ہے، اس کو اذیت ہوتی ہے۔ ”وَفِي قُرَى الْمِصْرِ الْقَرِيبَةِ“، اور شہر کے قریبی بستیوں میں، ”لَا تَتَحَقَّقُ الْغُرْبَةُ“، پردیس نہیں پایا جاتا۔ یعنی جس شہر میں عورت رہتی ہے کسی دوسرے شہر منتقل کرنا یعنی دور منتقل کرنا تو جائز نہیں، یہ بعض فقہاء فرما رہے ہیں، لیکن قریب کی بستیوں میں منتقل کر سکتا ہے یعنی جو مدتِ سفر سے کم ہیں، تین دن کی مسافت سے کم کم ہیں وہ ان بستیوں میں منتقل کر سکتا ہے کیونکہ اس کو پردیس نہیں کہا جاتا۔ تو شہر کی قریبی جو بستیاں ہیں ان کو پردیس نہیں کہا جاتا، وہاں بے وطنی ثابت نہیں ہوتی۔ تو غربت کا معنی ہے پردیس اور بے وطن ہونا۔ تو کہتے ہیں: ”وَفِي قُرَى الْمِصْرِ الْقَرِيبَةِ“، اور شہر کے قریبی بستیوں میں، ”لَا تَتَحَقَّقُ الْغُرْبَةُ“، پردیس متحقق نہیں ہوتا، پردیس ثابت نہیں ہوتا، وہاں منتقل کر سکتا ہے۔ بھئی یہاں پر جو عبارت ہے ”لِأَنَّ الْغَرِيبَةَ تُؤْذَىٰ“، اس عبارت پر اطمینان نہیں ہوتا بھئی۔ اس لیے کیونکہ ”آذَى يُؤْذِي إِيذَاءً“، بابِ افعال ہو اس کا معنی ہوتا ہے دوسرے کو تکلیف دینا، دوسرے کو تکلیف دینا۔ تو اگر تو یوں ہوتی عبارت: ”لِأَنَّ الْغُرْبَةَ تُؤْذِي“، ”لِأَنَّ الْغُرْبَةَ تُؤْذِي“، تو اس صورت میں عبارت بہترین ہو جاتی۔ معنی کیا بن جاتا؟ ”لِأَنَّ الْغُرْبَةَ تُؤْذِي“، اس لیے کیونکہ پردیس جو ہے، پردیسی ہونا ”تُؤْذِي“، یہ اذیت دیتا ہے۔ سفر میں انسان تکلیف میں ہوتا ہے بھئی، چاہتا ہے جلد سے جلد اپنے وطن پہنچ جاؤں۔ لیکن ہدایہ کے تمام نسخوں میں یہ عبارت اسی طرح ہے: ”لِأَنَّ الْغَرِيبَةَ تُؤْذَىٰ“ بھئی۔ یا یوں ہوتا اگر غریبہ کو اسی طرح رکھیں: ”لِأَنَّ الْغَرِيبَةَ تَأَذَّىٰ“، ”تَأَذَّىٰ“، ”آذَى يُؤْذِي“ کا معنی ہے دوسرے کو تکلیف دینا، اور ”تَأَذَّىٰ“ کا معنی ہے خود تکلیف محسوس کرنا۔ تو ”لِأَنَّ الْغَرِيبَةَ تَأَذَّىٰ“، اس لیے کیونکہ پردیس والی عورت جو ہے ”تَأَذَّىٰ“، وہ تکلیف محسوس کرتی ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ لیکن بہرحال ہدایہ کے تمام نسخوں میں عبارت اسی طرح ہے: ”لِأَنَّ الْغَرِيبَةَ تُؤْذَىٰ“، تو لفظی ترجمہ بنے گا: ”لِأَنَّ الْغَرِيبَةَ تُؤْذَىٰ“، پردیس والی عورت جو ہے ”تُؤْذَىٰ“، اس کو اذیت دی جاتی ہے، یعنی وہ اذیت پاتی ہے، اس کو اذیت ہوتی ہے، یہ پھر ترجمہ کر لیں بھئی۔ آگے دیکھیے بھئی: ”قَالَ: وَمَنْ تَزَوَّجَ امْرَأَةً ثُمَّ اخْتَلَفَا فِي الْمَهْرِ فَالْقَوْلُ قَوْلُ الْمَرْأَةِ إِلَى تَمَامِ مَهْرِ مِثْلِهَا، وَالْقَوْلُ قَوْلُ الزَّوْجِ فِيمَا زَادَ عَلَى مَهْرِ الْمِثْلِ، وَإِنْ طَلَّقَهَا قَبْلَ الدُّخُولِ بِهَا فَالْقَوْلُ قَوْلُهُ فِي نِصْفِ الْمَهْرِ، وَهَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللَّهُ“. بھئی یہ بڑا مشکل مسئلہ آ گیا، اس کو توجہ سے سمجھ لیں۔ بھئی صورت یہ ہے میاں بیوی کے اندر مہر کے اندر اختلاف آ گیا۔ تو کبھی کبھار یہ اختلاف یا تو مہر کی مقدار میں ہو گا، خاوند کہے گا مہر ایک ہزار درہم ہم نے مقرر کیا تھا اور بیوی کہتی ہے کہ نہیں مہر ہم نے دو ہزار درہم مقرر کیا تھا، تو دیکھو مقدار کے اندر اختلاف آیا۔ اور کبھی کبھار اصلِ مسمیٰ میں ہی اختلاف آ جائے گا، مثلاً بیوی کہتی ہے کہ مہر مقرر کیا تھا ہم نے، خاوند کہتا ہے نہیں ہم نے سرے سے نکاح میں کوئی مہر مقرر ہی نہیں کیا تھا، اور بیوی کیا کہہ رہی ہے؟ ہم نے مہر مقرر کیا تھا، پھر چاہے وہ مقدار ذکر کرے یا نہ کرے دونوں صورتوں میں مسئلہ ایک ہی رہتا ہے۔ تو یہ پہلی صورت کیا اختلاف کی؟ کہ مقدار میں اختلاف ہوتا ہے، اس پر تو دونوں میں اتفاق ہے کہ مہر مقرر کیا تھا لیکن مقدار میں اختلاف ہے۔ دوسری صورت کہ ایک کہتا ہے مہر مقرر کیا تھا اور دوسرا کہتا ہے مہر سرے سے ہم نے مقرر ہی نہیں کیا تھا، یہ دوسری صورت ہو گئی۔ پھر یہ اختلاف یا تو دونوں کی زندگی میں ہو گا یا دونوں میں سے ایک کی موت کے بعد اس کے وارث اختلاف کرتے ہیں، یا دونوں کی موت کے بعد دونوں کے وارث آپس میں اختلاف کریں گے۔ توجہ ہے؟ پھر سمجھو۔ مہر کے اندر اختلاف آیا، یا تو اختلاف مہر کی مقدار میں ہو گا یا اصلِ مہر میں ہی اختلاف ہو گا کہ مہر مقرر بھی کیا تھا یا مقرر نہیں کیا تھا، پھر یہ اختلاف یا تو دونوں کی زندگی میں ہو گا یا دونوں میں سے ایک کا انتقال ہو چکا ہے اور وارثوں کے ساتھ یہ اختلاف ہو رہا ہے، یا دونوں کا انتقال ہو چکا ہے اور دونوں کے وارثوں میں یہ اختلاف ہو رہا ہے۔ یا پھر یہ اختلاف جو آپس میں کر رہے ہیں یہ صحبت سے پہلے اختلاف ہو گا یا صحبت کے بعد اختلاف ہو گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ اختلاف یا تو دونوں کی زندگی میں ہو گا، یا دونوں میں سے ایک مر چکا ہے اس کے وارث اختلاف کر رہے ہیں، یا دونوں ہی مر چکے ہیں اور دونوں کے وارث آپس میں اختلاف کر رہے ہیں، اور پھر یہ اختلاف جو ہے صحبت سے پہلے اختلاف ہو گا یا خاوند کے صحبت کرنے کے بعد اختلاف ہوا ہو گا، تو کئی صورتیں بن جاتی ہیں اس مسئلے کے اندر، صاحبِ ہدایہ ان سب کو تفصیل سے بیان فرمائیں گے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَمَنْ تَزَوَّجَ امْرَأَةً“، اور جس شخص نے نکاح کیا کسی عورت سے، ”ثُمَّ اخْتَلَفَا فِي الْمَهْرِ“، پھر ان دونوں کا اختلاف ہو گیا مہر میں، دونوں کا مہر میں اختلاف ہو گیا۔ تو کہتے ہیں: ”فَالْقَوْلُ قَوْلُ الْمَرْأَةِ إِلَى تَمَامِ مَهْرِ مِثْلِهَا“، تو وہ قول جو معتبر ہے وہ عورت کا قول ہے اس کے مہرِ مثل کے پورا ہونے تک، ”وَالْقَوْلُ قَوْلُ الزَّوْجِ فِيمَا زَادَ عَلَى مَهْرِ الْمِثْلِ“، اور وہ قول جو معتبر ہے وہ خاوند کا قول ہے اس مقدار میں جو مہرِ مثل پر زائد ہے، جو مہرِ مثل پر زائد ہے بھئی۔ پہلے یہاں ایک دو باتیں سمجھ لیجیے: طریقہ دعویٰ، دعویٰ کیسے کیا جائے گا؟ مثلاً زید کے پاس ایک گاڑی ہے، ایک اور شخص آیا اور آ کر اس نے دعویٰ کر دیا کہ یہ گاڑی میری ہے۔ تو اب یہ قاضی کے پاس جب مقدمہ پیش ہو گا تو اس کا طریقہ یہ ہے، ہمیشہ یاد رکھنا کہ جو دعویٰ کرنے والا ہے یعنی مدعی جو ہے اس کے ذمے بینہ ہوتی ہے۔ قاضی اس شخص سے کہے گا کہ تم نے دعویٰ کیا ہے یہ گاڑی میری ہے تو تم دو گواہ پیش کرو، دو مرد گواہ پیش کرو یا ایک مرد اور دو عورتیں بطورِ گواہ کے پیش کرو۔ تو مدعی کے ذمے ہمیشہ بینہ ہوتی ہے۔ یاد رکھو حدیث میں آتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اَلْبَيِّنَةُ عَلَى الْمُدَّعِي وَالْيَمِينُ عَلَىٰ مَنْ أَنْكَرَ“، کہ بینہ جو ہے وہ مدعی کے ذمے ہے یعنی گواہ پیش کرنا مدعی کے ذمے ہے، ”وَالْيَمِينُ عَلَىٰ مَنْ أَنْكَرَ“، اور قسم اس شخص پر آئے گی جو انکار کر رہا ہے۔ اس شخص نے کیا دعویٰ کیا؟ زید کے پاس گاڑی تھی، اس شخص نے آ کر دعویٰ کیا کہ یہ گاڑی میری ہے اور زید انکار کر رہا ہے، تو وہ شخص ہوا مدعی اور زید ہوا منکر۔ اور یاد رکھو بینہ پیش کرنا یہ مدعی کے ذمے ہوتا ہے اور اگر وہ بینہ پیش نہ کر سکے تو پھر اس صورت میں جو منکر ہوتا ہے وہ قسم کھاتا ہے، اور یہ بھی یاد رکھنا ہمیشہ کہ قسم ہمیشہ انکار پر کھائی جاتی ہے۔ قسم ہمیشہ انکار پر کھائی جاتی ہے یعنی مدعی کے دعوے کا انکار اس میں کیا جاتا ہے۔ اب یہاں پر کس طرح ہو گا؟ اس شخص نے دعویٰ کیا ہے یہ گاڑی میری ہے، وہ گاڑی جو کس کے قبضے میں تھی؟ زید کے قبضے میں تھی، ایک اور شخص آیا اور اس نے دعویٰ کر دیا یہ گاڑی میری ہے، تو وہ مدعی ہوا تو قاضی اس سے کہے گا کہ تم گواہ پیش کرو۔ وہ کہتا ہے قاضی صاحب! میرے پاس گواہ تو کوئی نہیں، البتہ میں قسم کھانے کو تیار ہوں یہ میری گاڑی ہے۔ قاضی کہے گا: نہیں، تم مدعی ہو، مدعی کی قسم کا کوئی اعتبار نہیں، مدعی کے ذمے صرف گواہ پیش کرنا ہے، قسم جو معتبر ہے اور قول جو معتبر ہے وہ منکر کا ہے بھئی۔ تو مدعی کے پاس کوئی گواہ نہیں ہے تو پھر قاضی منکر کی طرف یعنی زید کی طرف متوجہ ہو کر کہے گا کہ تم قسم کھاؤ۔ اور قسم میں نے آپ کو بتلایا وہ ہمیشہ نفی پر ہوتی ہے، انکار پر ہوتی ہے۔ تو زید یہ قسم نہیں کھائے گا کہ واللہ قاضی صاحب یہ گاڑی میری ہے، یہ تو اس کے اندر اثبات کر رہا ہے، ایک چیز کو ثابت کر رہا ہے، قسم اثبات کے لیے نہیں ہوتی، اثبات کے لیے بینہ چاہیے، جیسے وہ آدمی کہہ رہا ہے یہ گاڑی میری ہے تو اس کے لیے کیا چاہیے تھا؟ بینہ چاہیے تھی، تو لہٰذا زید اس بات پر قسم نہیں کھائے گا، نفی پر قسم کھائے گا۔ اس شخص نے کیا کہا تھا؟ یہ گاڑی میری ہے، تو زید قسم اٹھائے گا کہ واللہ قاضی صاحب یہ گاڑی اس آدمی کی نہیں ہے۔ تو دیکھا قسم کس پر ہوئی؟ نفی پر ہوئی، تو یہ ہمیشہ ضابطہ یاد رکھنا کہ بینہ اثبات پر ہوتی ہے، ایک چیز کو ثابت کرنے کے لیے بینہ ہوتی ہے اور انکار پر ہمیشہ قسم ہوتی ہے بھئی، قسم ہوتی ہے۔ تو اب زید اگر قسم کھا لیتا ہے تو پھر یاد رکھو قاضی اس کے حق میں فیصلہ کر دے گا اور اگر زید نے قسم کھانے سے انکار کر دیا تو پھر اس صورت میں مدعی کے حق میں قاضی فیصلہ کر دے گا اور گاڑی مدعی کے حوالے کر دی جائے گی۔ مدعی بینہ پیش کر دے تب بھی اس کا دعویٰ ثابت ہو گیا، گاڑی اس کے حوالے کر دیں گے۔ اور اگر مدعی علیہ یعنی منکر نے قسم کھا لی تو پھر قاضی اس کے حق میں فیصلہ کر دے گا، اور اگر اس نے قسم سے انکار کر دیا تو اس صورت میں بھی قاضی مدعی کے حق میں فیصلہ کر دے گا۔ معلوم ہوا کہ قسم کس کی معتبر ہے؟ منکر کی، اور مدعی جو ہے وہ صرف بینہ پیش کر سکتا ہے، اس کے قول اور اس کی قسم کا کوئی اعتبار نہیں۔ تو یہ عبارتیں جگہ جگہ اس طرح کی آپ فقہ کی کتابوں میں پڑھتے ہیں: ”اَلْقَوْلُ قَوْلُهُ“، کہ قول اسی کا معتبر ہے، یہ جگہ جگہ آئے گا، معنی اس کا سمجھ لیں: ”اَلْقَوْلُ“، دیکھو الف لام آیا، وہ والا قول، کون سا قول؟ جو معتبر ہے، جس کا اعتبار کیا جائے گا، ”قَوْلُهُ“، وہ اس آدمی کا قول ہے۔ اور یاد رکھو جب بھی فقہ کی کتابوں میں آ جائے کہ ”اَلْقَوْلُ قَوْلُهُ“، کہ قولِ معتبر جو ہے وہ اس آدمی کا قول ہے، تو ساتھ ہی آپ سمجھ جائیں معلوم ہوا یہ منکر ہے بھئی۔ کیونکہ مدعی کے ذمے تو بینہ ہوتی ہے، اس کے قول اور قسم کا کوئی اعتبار نہیں، منکر کے قول اور قسم کا اعتبار ہے، تو جب بھی کتاب کے اندر یہ آ جائے ”اَلْقَوْلُ قَوْلُهُ“ آپ سمجھ جائیں یہ شخص منکر ہے جس کی بات کی جا رہی ہے، کیونکہ منکر کا قول معتبر ہوتا ہے لیکن ساتھ قسم بھی ضروری ہے بھئی۔ اور پھر یہ بھی یاد رکھنا، جیسے میں نے آپ کو بتلایا کہ دعویٰ ہمیشہ اثبات کے لیے ہو گا اور قسم ہمیشہ نفی پر ہو گی، اسی طرح دعویٰ ہمیشہ خلافِ ظاہر پر ہو گا اور قسم اس شخص پر آئے گی کہ ظاہر جس کی تائید کر رہا ہو۔ ظاہرِ حال جس کا مؤید ہو اس کا قول معتبر ہے اور جو دعویٰ ہے وہ ہمیشہ خلافِ ظاہر ہوتا ہے۔ مثلاً دیکھو، یہ گاڑی زید کے قبضے میں تھی تو ظاہرِ حال یہی بتلا رہا ہے کہ جب یہ گاڑی زید کے قبضے میں ہے تو زید ہی کی ہے بھئی، زید ہی اس کا مالک ہے، تو ظاہرِ حال کس کی تائید کر رہا ہے؟ زید کی، اور وہ جو اس شخص نے آ کر دعویٰ کیا کہ یہ گاڑی میری ہے وہ خلافِ ظاہر ہے۔ تو جو بھی چیز خلافِ ظاہر ہو گی وہاں بینہ آئے گی اور ظاہرِ حال جس آدمی کی تائید کر رہا ہو اس کا قول معتبر ہو گا، معلوم ہوا وہ منکر ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو اب دیکھیے بھئی، کہتے ہیں: ”وَمَنْ تَزَوَّجَ امْرَأَةً ثُمَّ اخْتَلَفَا فِي الْمَهْرِ“، اور جس نے کسی عورت سے نکاح کیا پھر دونوں کا اختلاف ہو گیا مہر میں، میں نے بتایا یہاں کئی صورتیں ہیں بھئی اختلاف کی، یا تو اختلاف ہو گا مہر کی مقدار میں، خاوند الگ مقدار ذکر کر رہا ہے، بیوی الگ مقدار، یا اختلاف ہو گا اصلِ مہر کے اندر ہی، خاوند کہتا ہے مہر مقرر ہی نہیں کیا تھا، بیوی کہتی ہے نہیں مہر مقرر کیا تھا، چاہے وہ مقدار ساتھ ذکر کرے یا نہ کرے کہ اتنا مقرر کیا تھا، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ تو بہرحال اختلاف اصلِ مہر میں ہی ہو گیا، خاوند کہتا ہے مہر مقرر ہی نہیں کیا تھا۔ اور پھر اس کے بعد یہ اختلاف یا تو دونوں کی زندگی میں ہی ہو گا، یا دونوں میں سے ایک کا انتقال ہو چکا ہے اور اس کے وارث آ کر اختلاف کر رہے ہیں، اور یا دونوں کا انتقال ہو چکا ہے میاں اور بیوی کا اور دونوں کے وارث آپس میں اختلاف کر رہے ہیں۔ پھر اسی طرح یہ اختلاف جو ہے خاوند کے صحبت کرنے سے پہلے اختلاف ہو گا یا خاوند کے بیوی سے صحبت کرنے کے بعد اختلاف ہو گا، تو کئی صورتیں یہاں بنتی ہیں، صاحبِ ہدایہ دیکھو ہر ایک کو تفصیل سے بیان کریں گے۔ یہ جو پہلی صورت ہے یہ جب زندگی میں ہی نکاح کی حالت میں ہی آپس میں اختلاف ہو بھئی، دونوں زندہ ہیں اور نکاح کی حالت میں ہی آپس میں اختلاف کرتے ہیں، یہ وہ صورت ذکر ہو رہی ہے۔ لیکن یاد رکھنا اگر خاوند طلاق دے چکا ہے صحبت کے بعد، یا دونوں میں سے ایک کا انتقال ہو گیا ہے اور اس کے وارث آ کر اختلاف کر رہے ہیں، تو بھی صورتِ مسئلہ اسی طرح ہو گی۔ گویا یہاں چار صورتوں کا یہی حکم ہے، یہ جو بیان کرنے لگے ہیں پہلی صورت یہ چار صورتوں میں یہی حکم ہو گا۔ پہلی صورت کیا؟ کہ نکاح کی حالت میں آپس میں اختلاف ہو گیا، دونوں زندہ ہیں، نکاح کی حالت میں ہیں اور مہر کے اندر اختلاف ہو گیا۔ دوسری صورت کہ خاوند طلاق دے چکا ہے لیکن صحبت کے بعد طلاق دی اور اب مہر کے اندر اختلاف ہو گیا۔ تیسری صورت کہ خاوند کا انتقال ہو گیا، عورت زندہ ہے اور مہر میں اختلاف ہو گیا خاوند کے وارثوں کے ساتھ۔ چوتھی صورت کہ عورت کا انتقال ہو گیا، خاوند زندہ ہے اور عورت کے وارثوں کے ساتھ اختلاف ہو گیا۔ تو ان چاروں صورتوں کے اندر یہی حکم ہے جو صاحبِ ہدایہ بیان فرمانے لگے ہیں۔ ہوگیا۔ طلاق بھی نہیں دی، ویسے ہی آپس میں اختلاف ہوگیا اور مہر کی مقدار میں اختلاف ہوا ہے۔ توجہ ہے؟ یہ جو پہلی صورت ذکر کر رہے ہیں اس میں مہر کی مقدار میں اختلاف ہے۔ بیوی مثلاً کہہ رہی ہے کہ مہر دو ہزار مقرر کیا تھا، دو ہزار درہم اور خاوند کہہ رہا ہے نہیں مہر ایک ہزار درہم مقرر کیا تھا۔ تو کس میں اختلاف ہے؟ مہر کی مقدار میں۔ اور کس وقت اختلاف ہے؟ دونوں کی زندگی میں، چاہے ابھی نکاح ہو تب بھی یہی حکم، نکاح میں اختلاف ہو رہا ہے۔ چاہے خاوند طلاق دے چکا ہے صحبت کرنے کے بعد، اب اختلاف ہو رہا ہے، اس کا بھی یہی حکم۔ اور اگر خاوند یا بیوی میں سے ایک کا انتقال ہو چکا ہے اور اس کے وارث آکر اختلاف کر رہے ہیں، تو اس کا بھی یہی حکم ہے۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو کہتے ہیں: وَمَنْ تَزَوَّجَ امْرَأَةً، ثُمَّ اخْتَلَفَا فِي الْمَهْرِ؛ فَالْقَوْلُ قَوْلُ الْمَرْأَةِ إِلَى تَمَامِ مَهْرِ مِثْلِهَا، وَالْقَوْلُ قَوْلُ الزَّوْجِ فِيمَا زَادَ عَلَى مَهْرِ الْمِثْلِ. اور جس شخص نے کسی عورت سے نکاح کیا، پھر ان دونوں نے آپس میں مہر کے اندر اختلاف کر لیا؛ تو وہ قول جو معتبر ہے، قول المرأة، وہ عورت کا قول ہے الی تمام مہر مثلہا، اس عورت کے مہر مثل کے پورا ہونے تک، والقول قول الزوج، اور وہ قول جو معتبر ہے وہ خاوند کا قول ہے فیما زاد علی مہر المثل، وہ جو زائد ہے مہر مثل پر۔ وہ جو زائد ہے مہر مثل پر، یہ ہمارے ائمہ سے یہ مسئلہ ذکر ہے بھئی۔ یہ طرفین کے نزدیک ہے۔ امام صاحب کے نزدیک بھی مسئلہ اس طرح، امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک بھی یہ مسئلہ اس طرح ہے بھئی۔ جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا آگے بتلائیں گے ان کے نزدیک خاوند کا قول معتبر ہے۔ خاوند کا قول معتبر ہے۔ اب اس کے اندر آپ دیکھیں، ذرا غور کریں عبارت پر۔ کہتے ہیں: فَالْقَوْلُ قَوْلُ الْمَرْأَةِ إِلَى تَمَامِ مَهْرِ مِثْلِهَا کہ وہ قول جو معتبر ہے وہ عورت کا قول ہے اس کے مہر مثل کے پورا ہونے تک۔ اور میں نے بتایا قول کس کا معتبر ہوتا ہے؟ منکر کا۔ کس کا؟ منکر کا۔ معلوم ہوا عورت منکر بن رہی ہے۔ اور آگے کہا: وَالْقَوْلُ قَوْلُ الزَّوْجِ فِيمَا زَادَ عَلَى مَهْرِ الْمِثْلِ اور وہ قول جو معتبر ہے وہ خاوند کا قول ہے وہ جو مہر مثل پر زائد ہو۔ معلوم ہوا مہر مثل پر زائد ہو تو خاوند منکر بن رہا ہے، اسی لیے اس کا قول معتبر۔ تو گویا اس مسئلے کے اندر بعض اعتبار سے دیکھا جائے تو بیوی منکر ہے، بعض اعتبار سے دیکھا جائے تو خاوند منکر ہے۔ جب بیوی منکر ہے معلوم ہوا خاوند مدعی ہوگا۔ اور جب خاوند منکر ہے معلوم ہوا بیوی مدعیہ ہوگی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ گویا اس مسئلے کے اندر بعض اعتبار سے دیکھیں تو عورت مدعیہ ہے اور خاوند منکر ہے۔ دوسرے اعتبار سے دیکھیں تو خاوند مدعی ہے اور عورت منکرہ ہے بھئی۔ اب ہمارے ائمہ سے یہ مسئلہ تو ذکر ہے لیکن انہوں نے اس مسئلے کی مزید تشریح اور وضاحت نہیں کی بھئی۔ یعنی ان کے اس قول میں اجمال ہے، علماء حیران ہیں کہ اس کا کیا معنی ہے؟ تو فقہاء ہی اس کی تشریح کرتے ہیں۔ ہمارے جو کبار فقہاء ہیں وہ انہی ائمہ کے جو اصول ہوتے ہیں انہی اصولوں کی روشنی میں اس طرح کا کوئی مجمل قول یا مجمل مذہب ہو تو پھر ہمارے کبار فقہاء انہی ائمہ کے اصولوں کی روشنی میں اس مسئلے کی تشریح کرتے ہیں، اس کو کہتے ہیں تخریج بھئی۔ کیا کہتے ہیں؟ تخریج۔ آپ جگہ جگہ پڑھتے ہوں گے تخریج بھئی، تو تخریج اسے کہتے ہیں کہ ائمہ سے کوئی قول یا کوئی مسئلہ ذکر ہے اور اس کے اندر اجمال ہے، وہ مجمل ہے، اس کے اندر کوئی تفصیل وغیرہ نہیں ہے، تو پھر علماء انہی ائمہ کے اصولوں کی روشنی میں اس مسئلے کو بیان فرماتے ہیں، اس کی تشریح کرتے ہیں، اس کو تخریج کہتے ہیں۔ تو یہ مسئلہ بھی ائمہ سے منقول تو ہے لیکن ائمہ نے اس کی کوئی تشریح وغیرہ نہیں کی، تو ہمارے فقہاء نے اس میں غور کیا اور صورت مسئلہ بیان فرمائی کہ یہ کس طرح ہوگا۔ یہ آگے صاحبِ ہدایہ بھی آگے بیان فرمائیں گے۔ وہ آپ کو بتائیں گے کہ مثلاً، میں نے بتایا کہ یہ کون سا اختلاف ذکر ہو رہا ہے؟ مقدار کے اندر، اور دونوں کی زندگی میں یہ اختلاف ہو رہا ہے۔ تو اس کی صورت یہ ہے، اصحابِ تخریج فرماتے ہیں، وہ فرماتے ہیں اس مسئلے کی صورت یہ ہے کہ مثلاً خاوند نے دعویٰ کیا ہے کہ مہر ایک ہزار درہم تھا، اور بیوی کہتی ہے مہر دو ہزار درہم تھا۔ تو اب مہر مثل کو فیصل بنایا جائے گا، اس کے ذریعے فیصلہ کیا جائے گا۔ خاوند نے کتنا کہا ہے؟ ایک ہزار درہم، تو اگر مہر مثل وہ خاوند کی تائید کر رہا ہے، یعنی اس عورت کا مہر مثل ہزار یا ہزار سے بھی کم ہے تو پھر اس صورت میں خاوند کا قول معتبر۔ اور اگر، عورت نے کتنے کا دعویٰ کیا ہے؟ دو ہزار، تو اگر مہر مثل دو ہزار یا دو ہزار سے زیادہ ہے تو پھر اس صورت میں مہر مثل عورت کی تائید کر رہا ہے لہٰذا اس کا قول معتبر ہوگا۔ توجہ ہے؟ وہی ضابطے لگاؤ جو میں نے بتلائے تھے بھئی۔ میں نے بتلایا بھئی کہ قول اس آدمی کا معتبر ہوتا ہے ظاہرِ حال جس کی تائید کرتا ہے۔ خاوند نے کتنا کہا ہے مثلاً؟ ایک ہزار درہم، اور عورت کا مہر مثل بھی ایک ہزار یا ایک ہزار سے کم ہے تو اس صورت میں ظاہرِ حال کس کی تائید کر رہا ہے؟ خاوند کی تائید کر رہا ہے، خاوند بھی ایک ہزار کہہ رہا ہے اور مہر مثل بھی کیا ہے؟ ایک ہزار یا ایک ہزار سے کم ہے، تو اس صورت میں خاوند کا قول معتبر ہوگا۔ خاوند اگر قسم کھا لے گا تو اس کے حق میں فیصلہ ہو جائے گا۔ خاوند کیا قسم کھائے گا؟ خاوند یہ قسم نہیں کھائے گا کہ قاضی صاحب! واللہ مہر ایک ہزار ہے، نہیں نہیں، یہ تو اثبات کر رہا ہے اور قسم نفی پر ہوتی ہے، اثبات کے لیے بینہ چاہیے، خاوند یہاں بیوی کے دعوے کی نفی پر قسم کھائے گا۔ خاوند نے مہر کتنا ذکر کیا ہے؟ ایک ہزار، بیوی نے کتنا ذکر کیا ہے؟ دو ہزار، اور مہر مثل کتنا ہے؟ اس عورت کا ہزار یا ہزار سے بھی کم ہے، تو ظاہرِ حال کس کی تائید کر رہا ہے؟ خاوند کی، لہٰذا خاوند کا قول معتبر ہوگا۔ اب خاوند قسم کھا کر کہے گا کہ قاضی صاحب! واللہ اس عورت کا مہر دو ہزار درہم نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو خاوند کا قول معتبر۔ اور اگر عورت نے دعویٰ کیا دو ہزار کا اور مہر مثل بھی دو ہزار یا اس سے زیادہ ہے تو اس صورت میں دیکھو مہر مثل کس کی تائید کر رہا ہے؟ عورت کی تائید کر رہا ہے تو لہٰذا اب ظاہرِ حال عورت کے موافق ہے لہٰذا عورت کا قول معتبر ہے۔ اب عورت اگر قسم کھا لے گی تو اس کا دعویٰ ثابت ہو جائے گا۔ کیا قسم کھائے گی؟ وہ خاوند کے دعوے کی نفی پر کھائے گی، اپنے دعوے کے اثبات پہ قسم نہیں کھائے گی، اس کے لیے تو بینہ چاہیے، تو عورت کہے گی کہ واللہ قاضی صاحب! میرا مہر ایک ہزار درہم نہیں ہے۔ تو اس عورت کے حق میں فیصلہ ہو جائے گا۔ اور اگر ان دونوں میں سے، میاں بیوی میں سے کوئی ایک گواہ پیش کر دیتا ہے تو جو بھی گواہ پیش کر دے دونوں میں سے اس کے گواہ قبول کر لیے جائیں گے۔ چاہے مہر مثل خاوند کی تائید کر رہا ہو، چاہے مہر مثل عورت کی تائید کر رہا ہو، دونوں صورتوں میں اگر خاوند نے گواہ پیش کر دیے تو خاوند کے حق میں فیصلہ ہو جائے گا، اور اگر عورت نے گواہ پیش کر دیے تو عورت کے حق میں فیصلہ ہو جائے گا۔ میں نے بتایا اس مسئلے کے اندر خاوند اور بیوی دونوں بعض اعتبار سے مدعی ہیں اور بعض اعتبار سے منکر ہیں، اور مدعی کے ذمے کیا ہوتا ہے؟ بینہ، لہٰذا دونوں میں سے جو بھی بینہ لے آئے گا اس کا بینہ قبول کر لیا جائے گا۔ چاہے مہر مثل ایک کی تائید کر رہا ہو چاہے دوسرے کی، اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا، جب وہ بینہ لے آیا تو بینہ کے ذریعے اس کے حق میں فیصلہ ہو جائے گا۔ اور اگر دونوں نے بینہ پیش کر دیے، خاوند بھی دو گواہ لے آیا، بیوی بھی دو گواہ لے آئی، تو پھر اس صورت میں یاد رکھو اس کا بینہ قبول کیا جائے گا جس کا دعویٰ خلافِ ظاہر ہوگا۔ جس کا دعویٰ خلافِ ظاہر ہوگا۔ میں نے بتایا تھا مثلاً عورت نے کتنے کا دعویٰ کیا ہے؟ دو ہزار کا، اور مہر مثل بھی کتنا ہے اس عورت کا؟ دو ہزار یا دو ہزار سے زیادہ، تو ظاہرِ حال کس کی تائید کر رہا ہے؟ عورت کی تائید کر رہا ہے، لہٰذا بینہ خاوند کا قبول کیا جائے گا۔ کیونکہ ظاہرِ حال جب عورت کی تائید کر رہا ہے تو معلوم ہوا خاوند کا دعویٰ خلافِ ظاہر ہے۔ اور بینہ کس کی قبول کی جاتی ہے؟ جس کا دعویٰ خلافِ ظاہر ہو۔ جس کا دعویٰ ظاہر کے مطابق ہو اس کا قول معتبر ہوتا ہے اور دوسرے کا بینہ۔ مثلاً زید کے قبضے میں گاڑی تھی، دوسرے آدمی نے آکر دعویٰ کیا ہے، تو ظاہر کیا ہے؟ گاڑی کس کی ہے؟ زید کی ہے کیونکہ اس کے قبضے میں ہے، اور دوسرے شخص نے آکر جو دعویٰ کیا وہ خلافِ ظاہر ہے تو اس لیے اس سے بینہ مانگا جائے گا۔ یہاں پر بھی مہر مثل عورت کی تائید کر رہا ہے تو خاوند کا دعویٰ خلافِ ظاہر ہوا۔ لہٰذا اگر بینہ دونوں لائے ہیں تو پھر جس کا بینہ خلافِ ظاہر ہوگا وہ قبول کیا جائے گا، تو خاوند کا بینہ اس صورت میں خلافِ ظاہر ہے، وہ قبول کر لیا جائے گا۔ بات سمجھ میں آگئی؟ اور اگر دونوں بینہ لائے ہیں لیکن ظاہرِ حال خاوند کا مؤید ہے، خاوند نے ایک ہزار درہم مہر کہا ہے اور عورت کا مہر مثل بھی ہزار یا ہزار سے کم ہے، تو اس صورت میں عورت کا دعویٰ خلافِ ظاہر ہے، وہ تو دو ہزار کا دعویٰ کر رہی ہے۔ لہٰذا اس صورت میں عورت کا بینہ قبول کیا جائے گا۔ تو حاصلِ کلام کیا؟ مقدار کے اندر اختلاف ہوا ہے، خاوند ایک ہزار کا دعویٰ کر رہا ہے اور عورت دو ہزار کا دعویٰ کر رہی ہے، تو پھر مہر مثل کو فیصل بنائیں گے، اس کے ذریعے فیصلہ کریں گے۔ اگر مہر مثل خاوند کی تائید کر رہا ہے، خاوند کا دعویٰ ایک ہزار اور مہر مثل بھی ایک ہزار یا ایک ہزار سے کم، تو پھر خاوند کا قول قسم کے ساتھ معتبر ہوگا، وہ کہے گا واللہ قاضی صاحب! اس عورت کا مہر دو ہزار نہیں ہے۔ اور اگر وہ مہر مثل عورت کی تائید کر رہا ہے، عورت نے دو ہزار کا دعویٰ کیا ہے اور مہر مثل بھی دو ہزار یا دو ہزار سے زیادہ ہے تو پھر اس صورت میں عورت کا قول جو ہے اس کا اعتبار کیا جائے گا، وہ قسم کھا کر کہے گی کہ واللہ قاضی صاحب! میرا مہر ایک ہزار نہیں ہے، اور اس صورت میں اس کے حق میں فیصلہ کر دیا جائے گا۔ اور دونوں میں سے اگر کوئی ایک بھی بینہ لے آتا ہے اس کے بینہ کو قبول کر لیں گے، کیونکہ دونوں میں سے ہر ایک من وجہ مدعی ہے بھئی۔ اور اگر دونوں ہی بینہ لے آتے ہیں تو پھر اس صورت میں جس کا بینہ خلافِ ظاہر ہوگا اس کا بینہ قبول کیا جائے گا۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو کہتے ہیں: وَمَنْ تَزَوَّجَ امْرَأَةً، ثُمَّ اخْتَلَفَا فِي الْمَهْرِ؛ فَالْقَوْلُ قَوْلُ الْمَرْأَةِ إِلَى تَمَامِ مَهْرِ مِثْلِهَا، وَالْقَوْلُ قَوْلُ الزَّوْجِ فِيمَا زَادَ عَلَى مَهْرِ الْمِثْلِ. اور جس شخص نے کسی عورت سے نکاح کیا، پھر ان دونوں نے آپس میں اختلاف کر لیا مہر میں؛ تو وہ قول جو معتبر ہے وہ عورت کا قول ہے اس کے مہر مثل کے پورا ہونے تک، اور وہ قول جو معتبر ہے وہ خاوند کا قول ہے وہ جو مہر مثل پر زائد ہے۔ دیکھو کتنا مشکل مسئلہ تھا، اصحابِ تخریج نے اس کی صورت بیان فرما دی۔ متن میں تو صرف اتنا آیا: عورت کا قول معتبر ہے مہر مثل کے پورا ہونے تک، اور خاوند کا قول معتبر ہے مہر مثل سے زائد کے اندر۔ اب اس سے تو کچھ مسئلے کا پتہ نہیں چل رہا، کیا معنی ہے اس قول کا؟ اصحابِ تخریج نے صورت بیان کر دی۔ دیکھو کیا کہا: عورت کا قول معتبر ہے مہر مثل کے پورا ہونے تک، یعنی عورت نے دو ہزار کا دعویٰ کیا ہے اور مہر مثل بھی دو ہزار یا دو ہزار سے زیادہ ہے تو دیکھو مہر مثل کے پورا ہونے تک عورت کا قول معتبر ہے۔ اور مہر مثل سے زائد میں کس کا قول معتبر؟ خاوند کا۔ مثلاً خاوند نے کتنے کا دعویٰ کیا ہے؟ ایک ہزار، اور مہر مثل ہزار یا ہزار سے کم ہے، تو معلوم ہوا خاوند تو برابر یا زائد کا دعویٰ کر رہا ہے، تو اس صورت میں خاوند کا قول معتبر ہے۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو کہتے ہیں: فَالْقَوْلُ قَوْلُ الْمَرْأَةِ إِلَى تَمَامِ مَهْرِ مِثْلِهَا، وَالْقَوْلُ قَوْلُ الزَّوْجِ فِيمَا زَادَ عَلَى مَهْرِ الْمِثْلِ. تو وہ قول جو معتبر ہے وہ عورت کا قول ہے اس کے مہر مثل کے پورا ہونے تک، اور وہ قول جو معتبر ہے وہ خاوند کا قول ہے وہ جو مہر مثل پر زائد ہے۔ بھئی یہاں یہ بھی سمجھ لو، دونوں میں سے ہر ایک مدعی کیسے بنتا ہے اور منکر کیسے بنتا ہے؟ جب عورت نے دعویٰ کیا دو ہزار کا اور خاوند دعویٰ کر رہا ہے ایک ہزار کا، تو گویا عورت نے جو دو ہزار کا دعویٰ کیا ان میں سے ایک ہزار تو خاوند بھی تسلیم کر رہا ہے۔ ہاں یہ جو ایک ہزار زائد کا عورت دعویٰ کر رہی ہے، تو عورت اس زائد کی مدعیہ ہوئی اور خاوند اس زائد کا انکار کر رہا ہے کہ ایک ہزار ہی ہے، اس سے زیادہ مہر نہیں، تو عورت اس زیادتی کی مدعیہ ہوئی اور خاوند اس زیادتی کا منکر ہوا، تو اس اعتبار سے عورت مدعیہ اور خاوند منکر ہے۔ اب خاوند کس طرح مدعی ہے اور عورت کس طرح منکر ہے بھئی؟ کیونکہ دونوں من وجہ مدعی بھی ہیں اور منکر بھی ہیں۔ اب خاوند کیسے مدعی ہے؟ کہتے ہیں دیکھو، جب خاوند نے ایک ہزار کہا، تو خاوند نے مثلاً ایک ہزار کا دعویٰ کیا ہے اور عورت کا مہر مثل دو ہزار یا اس سے بھی زیادہ ہے تو گویا خاوند دعویٰ کر رہا ہے کہ مہر مثل تو زیادہ ہی ہے لیکن اس عورت نے میرے لیے کمی کر دی تھی، ایک ہزار میں ہی مان گئی تھی۔ تو گویا خاوند مدعی ہے کمی کرنے کا کہ عورت نے کیا کر دیا ہے؟ کمی کر دی ہے میرے لیے، اور عورت انکار کر رہی ہے میں نے کوئی کمی نہیں کی۔ تو دیکھو خاوند مدعی ہوا کمی کا اور عورت کمی کی منکرہ ہوئی بھئی، تو دونوں بعض اعتبار سے مدعی ہیں اور بعض اعتبار سے منکر ہیں بھئی۔ آگے دیکھیے: وَإِنْ طَلَّقَهَا قَبْلَ الدُّخُولِ بِهَا؛ فَالْقَوْلُ قَوْلُهُ فِي نِصْفِ الْمَهْرِ. اور اگر خاوند نے اس عورت کو طلاق دے دی اس کے ساتھ صحبت کرنے سے پہلے ہی، تو پھر وہ قول جو معتبر ہے وہ خاوند کا قول ہے نصف مہر میں۔ اگر صحبت سے پہلے طلاق دیتا ہے تو یاد رکھو، طرفین کے نزدیک خاوند کا قول معتبر ہے۔ وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ: الْقَوْلُ قَوْلُهُ بَعْدَ الطَّلَاقِ وَقَبْلَهُ. اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قول جو معتبر ہے وہ خاوند ہی کا قول ہے طلاق کے بعد اور طلاق سے پہلے، یعنی ہر صورت میں۔ وہ فرماتے ہیں طلاق سے پہلے اختلاف ہو جائے زندگی کے اندر، یا طلاق کے بعد اختلاف ہو جائے، اور چاہے صحبت سے پہلے اختلاف ہو جائے یا صحبت کے بعد اختلاف ہو جائے، تمام صورتوں میں وہ فرماتے ہیں خاوند کا قول معتبر ہے۔ وجہ یہ ہے کہ خاوند کم کا دعویٰ کر رہا ہے اور عورت زیادہ کا دعویٰ کر رہی ہے۔ خاوند نے ایک ہزار کا دعویٰ کیا، عورت نے دو ہزار، تو اس دو ہزار کے اندر بھی ایک ہزار تو آ گئے۔ تو جو کم ہے وہ تو یقینی ہے، اتنا تو ہے ہی ہے، زیادہ کے اندر شک ہے پتہ نہیں وہ زائد ہے یا نہیں۔ تو جو یقینی ہے وہ ثابت ہوگا یعنی خاوند کا قول معتبر ہوگا۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو کہتے ہیں: وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ: الْقَوْلُ قَوْلُهُ بَعْدَ الطَّلَاقِ وَقَبْلَهُ، إِلَّا أَنْ يَأْتِيَ بِشَيْءٍ قَلِيلٍ. اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ قول جو معتبر ہے وہ خاوند کا قول ہے طلاق کے بعد بھی اور طلاق سے پہلے بھی، الا ان یاتی بشیء قلیل، مگر یہ کہ خاوند تھوڑی سی چیز لے آئے۔ لے آئے یعنی ذکر کر دے، لانے سے مراد کیا ہے؟ ذکر کرنا۔ تو خاوند کا قول معتبر ہے الا ان یاتی بشیء قلیل مگر یہ کہ خاوند کوئی تھوڑی سی چیز ذکر کر دے، تو پھر خاوند کا قول معتبر نہیں۔ اب اس تھوڑی سی چیز سے کیا مراد ہے؟ بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ مراد یہ ہے کہ خاوند نے دس درہم سے بھی کم مہر ذکر کر دیا۔ خاوند نے دس درہم سے بھی کم مہر ذکر کر دیا، تو کہتے ہیں اب خاوند کا قول معتبر نہیں کیونکہ دس درہم سے کم تو شرعاً مہر ہو ہی نہیں سکتا بھئی۔ لیکن صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے نہیں، صحیح یہ ہے کہ شئی قلیل سے مراد یہ ہے خاوند ایسی چیز ذکر کرے کہ اس جیسی عورت عموماً اور عادتاً اتنے مہر میں راضی نہیں ہوتی۔ شئی قلیل سے کیا مراد ہے؟ کہ اس جیسی عورت اتنے تھوڑے مہر میں نکاح کے لیے راضی نہیں ہوتی، تو ایسی چیز اگر خاوند نے بیان کر دی تو پھر خاوند کے قول کا اعتبار نہیں ہے بھئی۔ تو یہ معنی ہے، کہتے ہیں: الا ان یاتی بشیء قلیل، مگر یہ کہ خاوند کوئی معمولی سی چیز ذکر کرے۔ وَمَعْنَاهُ: مَا لَا يُتَعَارَفُ مَهْرًا لَهَا؛ هُوَ الصَّحِيحُ. اور معنی اس کا یہ ہے، صاحبِ ہدایہ بیان کر رہے ہیں: ما لا یتعارف مہرا لہا، کہ ایسی چیز جو متعارف نہیں ہے یعنی رائج نہیں ہے مہرا لہا اس عورت کے لیے بطورِ مہر کے، عادتاً ایسی عورت اتنے مہر پر راضی نہیں ہوتی، تو اس سے مراد وہ چیز ہے کہ اس جیسی عورت کے لیے بطورِ مہر کے متعارف نہیں ہے، ھو الصحیح، یہی قول صحیح ہے۔ بعضوں نے تو کیا کہا تھا؟ کہ شئی قلیل سے مراد یہ ہے کہ خاوند دس درہم سے کم ذکر کرے، صاحبِ ہدایہ بتلا رہے ہیں نہیں، ھو الصحیح، یہ قول صحیح ہے کہ ایسی چیز خاوند بیان کرے جو بے شک دس سے زیادہ ہے لیکن اس جیسی عورت عادتاً اتنے مہر پر راضی نہیں ہوتی تو یہ شئی قلیل ہے بھئی۔ لِأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ، امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی دلیل یہ ہے، امام ابو یوسف رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں؟ کہ ہر حال میں خاوند ہی کا قول معتبر ہے الا یہ کہ وہ کیا کرے؟ شئی قلیل بیان کرے پھر خاوند کا قول معتبر نہیں۔ تو اب ان کی دلیل آگئی: لِأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ: أَنَّ الْمَرْأَةَ تَدَّعِي الزِّيَادَةَ، وَالزَّوْجُ يُنْكِرُ، وَالْقَوْلُ قَوْلُ الْمُنْكِرِ مَعَ يَمِينِهِ. امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی دلیل یہ ہے کہ عورت جو ہے زیادہ کا دعویٰ کر رہی ہے، والزوج ینکر، اور خاوند اس زیادتی کا انکار کر رہا ہے، والقول قول المنکر مع یمینہ، اور وہ قول جو معتبر ہوتا ہے وہ منکر کا قول ہوتا ہے ساتھ اس کی قسم کے۔ عورت زیادتی کا دعویٰ کر رہی ہے اور خاوند انکار کر رہا ہے تو خاوند منکر ہوا اور منکر کا قول معتبر ہوتا ہے، لہٰذا یہاں ہر حال میں خاوند ہی کا قول معتبر ہے، عورت کا قول معتبر نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: والقول قول المنکر مع یمینہ، اور وہ قول جو معتبر ہوتا ہے وہ منکر کا قول ہوتا ہے ساتھ اس کی قسم کے، إِلَّا أَنْ يَأْتِيَ بِشَيْءٍ يُكَذِّبُهُ الظَّاهِرُ فِيهِ. مگر یہ کہ وہ کوئی ایسی چیز لے آئے، یعنی کوئی ایسی چیز ذکر کر دے، یکذبہ الظاہر فیہ، کہ ظاہر اس کو اس میں جھٹلا رہا ہو۔ مثلاً خاوند نے پچاس درہم ذکر کر دیا، بھئی اس جیسی عورت تو پچاس درہم کے اندر کبھی بھی اتنے مہر کے اندر نکاح پر راضی نہیں ہوگی، تو ظاہرِ حال خاوند کو جھٹلا رہا ہے۔ ظاہرِ حال کیا کر رہا ہے؟ خاوند کو جھٹلا رہا ہے کہ تم اتنا تھوڑا مہر ذکر کر رہے ہو بھئی، اس جیسی عورت تو اتنے مہر میں کبھی بھی نکاح کے لیے آمادہ نہیں ہوتی۔ تو کہتے ہیں منکر کا قول جو ہے وہ معتبر ہوگا اس کی قسم کے ساتھ، الا ان یاتی بشیء، مگر یہ کہ وہ کوئی ایسی چیز لے آئے یعنی کوئی ایسی چیز ذکر کر دے، یکذبہ الظاہر فیہ، کہ اس کے اندر ظاہر اس کو جھٹلا رہا ہو۔ وَهَذَا؛ اور یہ اس وجہ سے، اور یہ اس وجہ سے، یعنی ہم نے خاوند کے قول کا اعتبار کیا اور مہر مثل کو حَکَم نہیں بنایا۔ بھئی طرفین نے تو مہر مثل کے ذریعے فیصلہ کیا تھا، توجہ ہے؟ میں نے پوری تفصیل بیان کر دی کہ مہر مثل دیکھیں گے، ہزار کے برابر یا اس سے کم ہو تو خاوند کا قول معتبر، اور مہر مثل اگر دو ہزار کے برابر یا اس سے زیادہ ہو تو عورت کا قول معتبر ہے۔ تو طرفین نے کس کو فیصل بنایا تھا؟ کس کے ذریعے فیصلہ کیا تھا؟ مہر مثل کے ذریعے، تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم نے مہر مثل کے ذریعے فیصلہ نہیں کیا بلکہ خاوند کے قول کا اعتبار کیا ہے، اب اس کی وجہ بتلانے لگے ہیں، وجہ سمجھ لو، آپ کو وجہ بتلائیں گے، کہتے ہیں مہر مثل نکاح میں تب آتا ہے جب مسمّٰی نہ ہو۔ جب مقررہ مہر نہ ہو یا مقررہ مہر میں کوئی خرابی آ جائے تو پھر مقررہ مہر نہیں آتا، پھر ہم مہر مثل کی طرف چلے جاتے ہیں، یعنی مہر مثل کی طرف ہمیں ضرورت کی وجہ سے جانا پڑتا ہے۔ وجہ یہ کہ نکاح مہر کے بغیر نہیں ہو سکتا، اور یہاں مسمّٰی مثلاً مسمّٰی موجود ہی نہیں ہے۔ مسمّٰی، ایک صورت یہ ہے نا، نکاح کیا ہے لیکن مہر سرے سے ذکر ہی نہیں کیا، تب بھی کیا آ جاتا ہے؟ مہر مثل، کیونکہ نکاح بغیر مہر کے نہیں ہو سکتا۔ نکاح کے اندر مہر ذکر نہ کیا جائے، مہر نے آنا ضرور ہے تو پھر مہر مثل آ جاتا ہے ضرورت کی وجہ سے، کیونکہ نکاح بغیر مہر کے نہیں ہو سکتا۔ لیکن اگر نکاح کے اندر مسمّٰی ذکر ہے تو پھر مسمّٰی ہی آتا ہے، تو یہاں پر جب مسمّٰی ذکر ہے، خاوند ایک ہزار ذکر کر رہا ہے، عورت دو ہزار ذکر کر رہی ہے، لیکن عورت جو دو ہزار ذکر کر رہی ہے اس میں بھی ایک ہزار تو خاوند والا آ رہا ہے، تو عورت زائد کا دعویٰ کر رہی ہے تو خاوند منکر بن رہا ہے اور منکر کا قول معتبر ہوتا ہے اس لیے خاوند کا قول معتبر ہوگا۔ بات سمجھ میں آگئی؟ مہر مثل کی طرف ہمیں جانے کی ضرورت نہیں کیونکہ اس کی طرف ضرورت کی وجہ سے جایا جاتا ہے جب مہر مسمّٰی نہ ہو یا مہر مسمّٰی میں فساد آ جائے، کوئی خرابی آ جائے، لیکن یہاں کوئی فساد اور خرابی نہیں ہے۔ تو وہ فرماتے ہیں: وَهَذَا؛ لِأَنَّ تَقَوُّمَ مَنَافِعِ الْبُضْعِ ضَرُورِيٌّ. اور یہ اس وجہ سے ہے، یعنی یہ جو ہم نے خاوند کے قول کا اعتبار کیا اور مہر مثل کو حَکَم اور فیصل نہیں بنایا وہ اس وجہ سے ہے، لان تقوم منافع البضع ضروری، اس لیے کیونکہ منافعِ بضع کا قیمت والا ہونا یہ ضرورت کی وجہ سے ہوتا ہے۔ بھئی منافعِ بضع کا قیمت والا ہونا، یعنی مراد ہے مہر مثل کے ساتھ۔ منافعِ بضع کی قیمت تو ضرور آئے گی بھئی، جب بھی نکاح کرو گے مہر ضرور آئے گا، لیکن مہر مثل کب آئے گا؟ ضرورت کی وجہ سے۔ نہیں توجہ، نہیں توجہ۔ بھئی جب بھی ایک شخص ایک عورت سے نکاح کرے گا تو مہر نے تو ضرور آنا ہے، تو اگر یہ مسمّٰی ذکر کر دیں گے تو وہ مقررہ مسمّٰی مہر ہی آ جائے گا، لیکن اگر انہوں نے مسمّٰی ذکر نہ کیا تو پھر نکاح کے اندر مہر نے تو ضرور آنا ہے تو پھر اس مجبوری کی وجہ سے کیا آ جائے گا؟ مہر مثل، تو مہر مثل کب آتا ہے؟ مجبوری کی حالت میں، ضرورت کی حالت میں، ویسے مہر مثل نہیں آتا، تو یہی بیان کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: لان تقوم منافع البضع، اس لیے کیونکہ منافعِ بضع کا مہر مثل کے ساتھ قیمت والا ہونا، ضروری، یہ ضرورت کی بنا پر ہوتا ہے، فَمَتَى أَمْكَنَ إِيجَابُ شَيْءٍ مِنَ الْمُسَمَّى؛ لَا يُصَارُ إِلَيْهِ. تو جب تک ممکن ہو مسمّٰی میں سے کوئی چیز واجب کرنا، لا یصار الیہ، تو مہر مثل کی طرف رجوع نہیں کیا جاتا۔ بات سمجھ میں آگئی؟ جب مسمّٰی موجود ہے یہاں، اس کو آپ واجب کر سکتے ہیں تو مہر مثل کی طرف جانے کی حاجت نہیں، اس کی طرف ہم کب جاتے ہیں؟ ضرورت کی وجہ سے اور یہاں کوئی ضرورت نہیں ہے بھئی۔ وَلَهُمَا: أَنَّ الْقَوْلَ فِي الدَّعَاوَى قَوْلُ مَنْ يَشْهَدُ لَهُ الظَّاهِرُ. اور طرفین کی دلیل یہ ہے کہ دعووں کے اندر وہ قول جو معتبر ہوتا ہے قول من یشہد لہ الظاہر، وہی ضابطہ جو میں نے بتلا دیا کہ دعووں کے اندر کس کا قول معتبر ہوتا ہے؟ ظاہرِ حال جس کی گواہی دے رہا ہو، ظاہرِ حال جس کی گواہی دے رہا ہو اس کا قول معتبر ہوتا ہے، اور بینہ جس کا دعویٰ خلافِ ظاہر ہوتا ہے۔ تو یہی بیان کر رہے ہیں: ولہما، طرفین کی دلیل یہ ہے، ان القول فی الدعاوی، کہ دعووں کے اندر وہ قول جو معتبر ہوتا ہے، قول من یشہد لہ الظاہر، وہ اس شخص کا قول ہوتا ہے کہ ظاہر جس کی گواہی دے رہا ہو، وَالظَّاهِرُ شَاهِدٌ لِمَنْ يَشْهَدُ لَهُ مَهْرُ الْمِثْلِ. اور ظاہر تو گواہی دے رہا ہے لمن یشہد لہ مہر المثل، جس کے لیے مہر مثل گواہی دے رہا ہے۔ مہر مثل جس کی تائید کر رہا ہے ظاہرِ حال بھی اسی کی تائید کر رہا ہے۔ تو کہتے ہیں: والظاہر شاہد، اور ظاہرِ حال جو ہے وہ گواہی دے رہا ہے لمن یشہد لہ مہر المثل جس کے لیے مہر مثل گواہی دے رہا ہے، لِأَنَّهُ هُوَ الْمُوجَبُ الْأَصْلِيُّ فِي بَابِ النِّكَاحِ. اس لیے کیونکہ مہر مثل جو ہے یہ موجبِ اصلی ہے نکاح میں۔ یہ کیا ہے؟ موجبِ اصلی ہے نکاح میں۔ بھئی موجب یعنی مقتضیٰ جس کا نکاح تقاضا کرتا ہے، موجبِ اصلی یعنی نکاح اصل میں جس کا تقاضا کرتا ہے۔ بھئی یہاں پر دیکھو، یہاں دلیل چل رہی ہے طرفین کی، اور کیا دلیل ذکر کی صاحبِ ہدایہ نے؟ کہ: لِأَنَّهُ هُوَ الْمُوجَبُ الْأَصْلِيُّ فِي بَابِ النِّكَاحِ. اس لیے کیونکہ مہر مثل یہی موجبِ اصلی ہے باب النکاح میں، یعنی اصل میں مہر مثل آیا کرتا ہے نکاح میں۔ نکاح میں اصل کیا آتا ہے؟ مہر مثل آتا ہے، لہٰذا جب کوئی شخص کسی عورت سے نکاح کر رہا ہے تو وہاں مہر مثل نے آنا ہے لیکن یہ میاں بیوی آپس میں کوئی اور مسمّٰی ذکر کر دیتے ہیں، تو چونکہ یہ آپس میں راضی ہو گئے مسمّٰی پر، اس مجبوری کی وجہ سے مسمّٰی آ گیا ورنہ اصل میں یہاں کس نے آنا تھا؟ مہر مثل نے۔ تو طرفین فرماتے ہیں نکاح میں موجبِ اصلی مہر مثل ہے، اسی نے آنا ہوتا ہے، لیکن جب مسمّٰی ذکر کر دیا جائے تو پھر مجبوری کی وجہ سے مسمّٰی آ جاتا ہے کیونکہ میاں بیوی دونوں اس پر خود راضی ہیں بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ لیکن یہاں اشکال ہوتا ہے، اشکال یہ کہ دو چار صفحات قبل ایک مسئلہ گزرا تھا، ذرا آپ نکالیں بھئی وہ جگہ کہ متن تھا دو چار صفحات قبل: ”وَلَوْ تَزَوَّجَهَا عَلَى هَذَا الْعَبْدِ أَوْ عَلَى هَذَا الْعَبْدِ، فَإِذَا أَحَدُهُمَا أَوْكَسُ وَالْآخَرُ أَرْفَعُ“ مل گئی بھئی عبارت؟ یہ متن ہے بھئی متن: ”وَلَوْ تَزَوَّجَهَا عَلَى هَذَا الْعَبْدِ أَوْ عَلَى هَذَا الْعَبْدِ، فَإِذَا أَحَدُهُمَا أَوْكَسُ وَالْآخَرُ أَرْفَعُ“ اس متن کے اندر تفصیل بیان ہوئی تھی کہ صاحبین کے نزدیک نکاح میں مسمّٰی اصل ہے اور امام صاحب کے نزدیک مہر مثل جو ہے وہ اصل ہے۔ تو معلوم ہوا صاحبین کے نزدیک اصل کیا ہے؟ مسمّٰی، اور صاحبین میں امام محمد بھی آ گئے، معلوم ہوا امام محمد کے نزدیک بھی اصل کیا ہے؟ مسمّٰی اصل ہے، مہر مثل اصل نہیں، لیکن یہاں دلیل ذکر کر رہے ہیں، دلیل کس کی ہے؟ طرفین کی، امام صاحب کی بھی اور امام محمد رحمہ اللہ کی بھی، اور دلیل صاحبِ ہدایہ کیا ذکر کر رہے ہیں؟ لِأَنَّهُ هُوَ الْمُوجَبُ الْأَصْلِيُّ فِي بَابِ النِّكَاحِ. اس لیے کیونکہ مہر مثل جو ہے یہ موجبِ اصلی ہے بابِ نکاح میں۔ تو یہاں اشکال ہوتا ہے، پیچھے آپ نے ہمیں بتایا تھا کہ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک مسمّٰی اصل ہے اور یہاں آپ فرما رہے ہیں کہ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک مہر مثل اصل ہے۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو بعض محشی حضرات نے یہاں ذکر کیا کہ یہ صاحبِ ہدایہ سے یہاں سہو ہوا ہے بھئی، سہو ہوا ہے۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ صاحبِ عنایہ وغیرہ جو ہیں جو ہدایہ کی عظیم شرح ہے بنایہ اور شارحین، انہوں نے اس اعتراض کو ذکر نہیں کیا، تو صاحبِ بنایہ وغیرہ نے اس اعتراض کو اور اس اشکال کو ذکر نہیں کیا بھئی۔ تو بہرحال یہاں ظاہری طور پر یہ اعتراض ہوتا ہے بھئی۔ دیکھیے بھئی کہتے ہیں: لِأَنَّهُ هُوَ الْمُوجَبُ الْأَصْلِيُّ فِي بَابِ النِّكَاحِ. بھئی دلیل چل رہی ہے طرفین کی، وہ فرماتے ہیں کہ دعووں کے اندر اس شخص کا قول معتبر ہوتا ہے ظاہرِ حال جس کی تائید کر رہا ہو، اور یہاں ظاہرِ حال جو ہے اس کی تائید کرے گا جس کی مہر مثل تائید کرے گا۔ لِأَنَّهُ هُوَ الْمُوجَبُ الْأَصْلِيُّ فِي بَابِ النِّكَاحِ، وَصَارَ كَالصَّبَّاغِ مَعَ رَبِّ الثَّوْبِ إِذَا اخْتَلَفَا فِي مِقْدَارِ الْأَجْرِ. اس لیے کیونکہ مہر مثل یہی موجبِ اصلی ہے نکاح میں، کہتے ہیں یہ اسی طرح ہو گیا جیسے کہ رنگریز جو ہے وہ کپڑے کے مالک کے ساتھ جب دونوں کا اختلاف ہو جائے فی مقدار الاجر، اجرت کی مقدار میں۔ بھئی ایک ہوتا ہے رنگ ساز اور ایک ہے رنگریز، رنگ ساز وہ ہے جو رنگ بناتا ہے، اور رنگریز وہ ہے جو کپڑے وغیرہ پر رنگ چڑھاتا ہے، کپڑے کو رنگ دیتا ہے، تو اس کو صباغ کہتے ہیں، رنگریز کہتے ہیں، تو اس کی بات چل رہی ہے۔ صورتِ مسئلہ یہ کہ ایک شخص جو ہے اس کا ایک رنگریز سے عقد ہوا کہ ایک کپڑے کو رنگ دینا ہے، بعد میں دونوں کا اختلاف ہو گیا، وہ کپڑے کا مالک کہتا ہے کہ اجرت دو درہم طے ہوئی تھی اور رنگریز کہتا ہے نہیں اجرت چار درہم طے ہوئی تھی۔ تو طرفین فرماتے ہیں دیکھو جب کپڑے کے مالک کا اختلاف آ جائے رنگریز کے ساتھ تو اس صورت میں جو رنگ کی قیمت ہوتی ہے اس کے ذریعے فیصلہ کیا جاتا ہے، اس کو فیصل بنایا جاتا ہے۔ رنگ کی قیمت کیسے نکالیں گے؟ کہتے ہیں اس کپڑے کی قیمت پہلے بغیر رنگ کے لگائی جائے گی اور پھر رنگ کے ساتھ اس کی قیمت لگائی جائے گی۔ مثلاً بغیر رنگ کے اس کپڑے کی قیمت دس درہم تھی اور رنگ کے ساتھ اس کپڑے کی قیمت پندرہ درہم ہو گئی ہے، تو اب معلوم ہوا دس درہم تو کپڑے کی قیمت تھی، معلوم ہوا یہ جو پانچ درہم زائد قیمت بڑھ گئی یہ رنگ کی قیمت ہے۔ تو اس کے ذریعے فیصلہ کریں گے اور یہ رنگ کی جو قیمت ہے یہ تو رنگریز کی تائید کر رہی ہے، رنگریز چار درہم کا مطالبہ کر رہا ہے اور رنگ کی قیمت بھی کتنی ہے؟ چار سے بھی زیادہ ہے بھئی۔ تو لہٰذا اس صورت میں دیکھو، اس رنگ کی قیمت کے ذریعے فیصلہ کیا جاتا۔ اور اگر یہ رنگ کی قیمت کم ہوئی، یعنی کپڑے کا مالک جو دو درہم اجرت بیان کر رہا ہے تو اس رنگ کی قیمت بھی دو درہم یا اس سے کم بنتی ہے۔ مثلاً ویسے کپڑا دس درہم کا ہے لیکن رنگ کے ساتھ اس کی قیمت گیارہ یا بارہ درہم بن رہی ہے تو اس صورت میں یہ رنگ کی قیمت کس کی تائید کر رہی ہے؟ کپڑے کے مالک کی۔ لہٰذا اس کا قول معتبر ہوگا۔ تو دیکھا یہاں رنگ کی جو قیمت ہے اس کے ذریعے فیصلہ کیا گیا، تو یہاں پر بھی خاوند اور بیوی کے درمیان مہر کی مقدار میں اختلاف آیا ہے تو مہر مثل کے ذریعے فیصلہ کیا جائے گا۔ تو کہتے ہیں ”وَصَارَ كَالصَّبَّاغِ“ دیکھیے پھر ترجمہ ذرا دوبارہ سارا دیکھ لیں۔ ”وَلَهُمَا“ طرفین کی دلیل یہ ہے ”أَنَّ الْقَوْلَ فِي الدَّعَاوَى قَوْلُ مَنْ يَشْهَدُ لَهُ الظَّاهِرُ“ کہ دعووں کے اندر وہ قول جو معتبر ہوتا ہے وہ اس شخص کا قول ہوتا ہے جس کے لیے ظاہر گواہی دے رہا ہو ”وَالظَّاهِرُ شَاهِدٌ لِمَنْ يَشْهَدُ لَهُ مَهْرُ الْمِثْلِ“ اور ظاہر تو اسی کے لیے گواہی دے رہا ہے جس کے لیے مہر مثل گواہی دے رہا ہے ”لِأَنَّهُ هُوَ الْمُوجَبُ الْأَصْلِيُّ فِي بَابِ النِّكَاحِ“ اس لیے کیونکہ مہر مثل یہی موجب اصلی ہے نکاح کے باب میں ”وَصَارَ كَالصَّبَّاغِ مَعَ رَبِّ الثَّوْبِ“ اور یہ اسی طرح ہو گیا جیسے کہ رنگریز ہو کپڑے کے مالک کے ساتھ ”إذَا اخْتَلَفَا فِي مِقْدَارِ الْأَجْرِ“ جب ان دونوں کا اختلاف آ جائے اجرت کی مقدار میں ”يُحَكَّمُ فِيهِ قِيمَةُ الصِّبْغِ“ تو فیصل بنایا جائے گا اس کے اندر رنگ کی قیمت کو۔ اس کے اندر حکم اور ثالث کس کو بنایا جائے گا؟ فیصلہ کرنے والا کس کو بنایا جائے گا؟ رنگ کی قیمت کو فیصل بنایا جائے گا بھئی۔ تو وہ رنگ کی قیمت جس کی تائید کر رہی ہو اس کے قول کا اعتبار کیا جائے گا قسم کے ساتھ بھئی۔ ”ثُمَّ ذَكَرَ هَاهُنَا“ دیکھیے بھئی، اوپر ذرا متن میں آئیے۔ ”وَإِنْ طَلَّقَهَا قَبْلَ الدُّخُولِ بِهَا فَالْقَوْلُ قَوْلُهُ فِي نِصْفِ الْمَهْرِ“ اور اگر خاوند نے اس عورت کو صحبت کرنے سے پہلے طلاق دے دی تو پھر خاوند کا قول معتبر ہے نصف مہر میں۔ تو صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ یہ جو اوپر متن میں آیا کہ اگر صحبت سے پہلے طلاق دی تو خاوند کا قول معتبر ہے، یہ مسئلہ ذکر ہے جامع صغیر میں اور اصل یعنی مبسوط میں۔ یہ دونوں امام محمد رحمہ اللہ کی کتابیں ہیں۔ جامع صغیر اور اصل میں یہ مسئلہ اسی طرح ذکر ہے کہ اگر صحبت سے پہلے طلاق دی تو خاوند کا قول معتبر ہے۔ جبکہ جامع کبیر کے اندر امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ متعہ کے ذریعے فیصلہ کیا جائے گا۔ بھئی، آپ نے پڑھا تھا، اگر ایک شخص ایک عورت سے نکاح کرتا ہے اور مہر مقرر کرتا ہے باقاعدہ، تو اگر صحبت سے پہلے طلاق دے دی تو نصف مہر دینا پڑے گا، اور اگر صحبت کے بعد طلاق دی تو پورا مہر دینا پڑے گا۔ اور اگر ایک شخص ایک عورت سے نکاح کرتا ہے اور مہر مقرر ہی نہیں کیا تو وہاں مہر مثل آ جاتا ہے، لیکن یہ مہر مثل صحبت سے پکا ہوگا۔ اگر صحبت سے پہلے خاوند نے طلاق دی تو پھر وہاں متعہ دینا پڑے گا، یعنی تین کپڑے دینے پڑیں گے۔ توجہ ہے؟ تو یہاں پر بھی کہتے ہیں امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں، جامع صغیر اور مبسوط کے اندر تو انہوں نے ذکر کیا ہے کہ اگر صحبت سے پہلے خاوند نے طلاق دے دی تو خاوند کا قول معتبر ہے، اور جبکہ جامع کبیر کے اندر امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ متعہ کو فیصل بنایا جائے گا، اس کے ذریعے فیصلہ کیا جائے گا۔ تو دونوں قولوں میں بظاہر ٹکراؤ معلوم ہو رہا ہے۔ جامع صغیر اور مبسوط سے پتہ چلا خاوند کا قول معتبر ہے، اور جامع کبیر سے کیا پتہ چلا؟ کہ متعہ کے ذریعے فیصلہ کیا جائے گا۔ تو دونوں قولوں میں کیا آیا؟ تعارض آیا۔ متعہ کے ذریعے فیصلہ کریں گے، معلوم ہوا متعہ جس کی تائید کر رہا ہے اس کا قول معتبر ہوگا۔ تو دونوں قولوں میں بظاہر تعارض معلوم ہو رہا ہے، تو صاحبِ ہدایہ اس تعارض کو بھی ذکر کریں گے اور پھر آگے اس کا جواب بھی دیں گے بھئی۔ کہتے ہیں ”ثُمَّ ذَكَرَ هَاهُنَا“ پھر امام محمد رحمہ اللہ نے یہاں پر ذکر کیا ہے ”أَنَّ بَعْدَ الطَّلَاقِ قَبْلَ الدُّخُولِ“ کہ صحبت سے پہلے طلاق کے بعد ”الْقَوْلُ قَوْلُهُ فِي نِصْفِ الْمَهْرِ“ وہ قول جو معتبر ہے وہ اس خاوند کا قول ہے نصف مہر میں۔ خاوند نے صحبت سے پہلے طلاق دی ہے تو نصف مہر دینا پڑے گا نا، تو خاوند کا قول معتبر ہے کہ خاوند کا قول معتبر ہے نصف مہر میں۔ ”وَهَذَا رِوَايَةُ الْجَامِعِ الصَّغِيرِ وَالْأَصْلِ“ اور یہ روایت ہے جامع صغیر کی اور اصل یعنی مبسوط کی ”وَذَكَرَ فِي الْجَامِعِ الْكَبِيرِ“ اور امام محمد رحمہ اللہ نے جامع کبیر میں ذکر فرمایا ہے ”أَنَّهُ يُحَكَّمُ مُتْعَةُ مِثْلِهَا“ کہ اس جیسی عورت کا جو متعہ ہوتا ہے اس کو فیصل بنایا جائے گا، اس کو حکم بنایا جائے گا۔ اس جیسی عورتوں کو جو متعہ دیا جاتا ہے اس کے ذریعے فیصلہ کریں گے۔ ”وَهُوَ قِيَاسُ قَوْلِهِمَا“ اور یہی قیاس ہے طرفین کے قول کا بھی۔ بھئی ادھر دیکھیے، طرفین نے کیا فرمایا تھا؟ اوپر مسئلہ کیا بتلایا؟ طرفین کے نزدیک مہر مثل کے ذریعے فیصلہ کریں گے، مہر مثل جس کی تائید کر رہا ہوگا اس کا قول معتبر ہوگا۔ طرفین کا قول یہی تقاضا کرتا ہے کہ طلاق سے پہلے مہر مثل کو آپ نے فیصل بنایا ہے تو طلاق کے بعد متعہ کو فیصل بنانا چاہیے۔ توجہ ہے؟ طلاق سے پہلے مہر مثل کو آپ نے فیصل بنایا، بھئی دیکھیے، بھئی دیکھیے، ایک شخص اور ایک عورت نے نکاح کیا اور مہر کو ذکر نہیں کیا تو وہاں کیا آ جائے گا؟ مہر مثل آ جائے گا، مہر مثل۔ تو دیکھو ابھی صرف نکاح ہوا ہے لیکن مہر مثل آ گیا، ہاں البتہ ابھی مہر مثل پکا نہیں ہوا۔ خاوند صحبت کر لے گا تو مہر مثل پکا ہو جائے گا، اور اگر خاوند نے صحبت سے پہلے طلاق دے دی تو پھر متعہ دینا پڑے گا۔ توجہ ہے، توجہ سے سمجھ لو۔ ایک شخص ایک عورت سے نکاح کرتا ہے اور دونوں نے کوئی مہر مقرر نہیں کیا، مہر کو ذکر ہی نہیں کیا تو وہاں کیا آ جائے گا؟ مہر مثل۔ لیکن یہ مہر مثل ابھی پکا نہیں، خاوند نے اگر صحبت سے پہلے طلاق دے دی تو پھر متعہ دینا پڑے گا۔ تو معلوم ہوا نکاح کے بعد مہر مثل آ چکا ہے لیکن ابھی وہ پکا نہیں، صحبت خاوند کر لے گا تو یہ مہر مثل پکا ہو جائے گا، اور اگر صحبت سے پہلے خاوند نے طلاق دے دی تو متعہ دینا پڑے گا یعنی وہ تین کپڑے دینے پڑیں گے۔ آپ پڑھ چکے ہیں بھئی، تو وہ متعۃ الطلاق وہ جو تین کپڑے تھے کہ ایک بڑی چادر ہو اور ایک قمیص ہو اور دوپٹہ ہو جیسے عربوں کا لباس ہوتا تھا وہ دینا پڑے گا، اور ہمارے ہاں جو ہیں ایک پورا سوٹ دینا پڑے گا اور ایک بڑی چادر یعنی چار کپڑے: شلوار، قمیص، دوپٹہ اور ایک بڑی چادر دینی پڑے گی۔ یہ متعہ ہے بھئی۔ توجہ ہے؟ تو کیا صورت ہوئی؟ نکاح کیا ہے، مہر مقرر نہیں کیا تو نکاح کے بعد کیا آ گیا؟ مہر مثل۔ اگرچہ پکا نہیں لیکن مہر مثل آ تو چکا ہے۔ تو دیکھو نکاح ہو چکا ہے اور مہر مثل آ گیا، ابھی صحبت نہیں کی، صحبت سے پہلے ہی مہر مثل آ چکا ہے لیکن ابھی پکا نہیں ہے، صحبت کر لے گا تو یہ مہر مثل پکا ہو جائے گا۔ معلوم ہوا صحبت نہ بھی کی ہو پھر بھی مہر مثل آ چکا ہے البتہ ابھی پکا نہیں ہے۔ اور اسی عورت کو اگر یہ صحبت سے پہلے پھر طلاق دے دیتا ہے تو دیکھو اب طلاق کے بعد متعہ دینا پڑے گا اس عورت کو، مہر مثل کی تنصیف نہیں ہوتی، اس کو آدھا نہیں کیا جاتا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ معلوم ہوا طلاق سے پہلے مہر مثل ہے تو طلاق کے بعد کیا ہے؟ متعہ ہے بھئی۔ یہی عورت جس سے ابھی صحبت نہیں کی، طلاق سے پہلے کیا؟ صحبت بے شک نہیں کی لیکن مہر مثل تو آ چکا ہے، بے شک ابھی پکا نہیں ہے لیکن ہے تو مہر مثل۔ تو طلاق سے پہلے مہر مثل ہے اور طلاق کے بعد متعہ ہے۔ تو طرفین کے قول کا تقاضا یہ ہے کہ طلاق سے پہلے اگر آپ نے مہر مثل کو حکم بنایا تھا تو طلاق کے بعد اب متعہ کو حکم بنانا چاہیے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے ”وَذَكَرَ فِي الْجَامِعِ الْكَبِيرِ أَنَّهُ يُحَكَّمُ مُتْعَةُ مِثْلِهَا وَهُوَ قِيَاسُ قَوْلِهِمَا“ اور جامع کبیر کے اندر امام محمد رحمہ اللہ نے ذکر فرمایا ہے کہ اس جیسی عورت کا متعہ جو ہے وہ اس کے ذریعے فیصلہ کیا جائے گا، اس کو حکم بنایا جائے گا، اور یہی طرفین کے قول کا قیاس بھی ہے ”لِأَنَّ الْمُتْعَةَ مُوجَبَةٌ بَعْدَ الطَّلَاقِ“ اس لیے کیونکہ متعہ جو ہے وہ نکاح کا مقتضا ہوتا ہے بعد الطلاق، کس کے بعد؟ طلاق کے بعد یعنی صحبت سے پہلے طلاق کے بعد متعہ نکاح کا مقتضا ہوتا ہے ”كَمَهْرِ الْمِثْلِ قَبْلَهُ“ جیسے کہ مہر مثل طلاق سے پہلے۔ بھئی دیکھو، خاوند نے نکاح کر لیا، مہر ذکر نہیں کیا تو کیا آئے گا؟ مہر مثل۔ توجہ ہے؟ لیکن یہ مہر مثل ابھی پکا نہیں ہے، خاوند صحبت کرے گا تو پکا ہو جائے گا لیکن بہرحال چاہے پکا ہے یا پکا نہیں، صرف ابھی نکاح ہوا ہے طلاق نہیں ہوئی تو اس نکاح کا مقتضا کیا ہے؟ کیا آئے گا؟ مہر مثل آئے گا، ابھی طلاق نہیں ہوئی، توجہ ہے؟ پھر سنو، ایک شخص ایک عورت میں نکاح ہو گیا، مہر انہوں نے آپس میں ذکر نہیں کیا، جب ذکر نہیں کیا تو کیا آئے گا؟ مہر مثل۔ تو دیکھو صحبت سے پہلے ہی مہر مثل آ چکا ہے، لیکن ابھی پکا نہیں ہوا، صحبت کر لے گا تو مہر مثل پکا ہو جائے گا، اور صحبت سے پہلے طلاق دے دے گا تو متعہ دینا پڑے گا۔ تو یہی بیان کر رہے ہیں: تو آپ نے طلاق سے پہلے جب مہر مثل کو فیصل بنایا ہے تو طلاق کے بعد اب آپ کو متعہ کو فیصل بنانا چاہیے، یہی طرفین کا قول تقاضا کرتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے، کہتے ہیں ”لِأَنَّ الْمُتْعَةَ مُوجَبَةٌ بَعْدَ الطَّلَاقِ“ اس لیے کیونکہ متعہ جو ہے وہ نکاح کا مقتضا ہے بعد الطلاق، طلاق کے بعد جب صحبت سے پہلے طلاق دے دی ”كَمَهْرِ الْمِثْلِ قَبْلَهُ“ جیسے کہ اس نکاح کا مقتضا مہر مثل ہے قبلہ طلاق سے پہلے، یعنی چاہے صحبت نہ بھی کی ہو طلاق سے پہلے پھر بھی کیا آ رہا ہے؟ مہر مثل۔ متعہ تو طلاق کے بعد آئے گا، طلاق سے پہلے تو مہر مثل ہی ہے، بات سمجھ میں آ رہی ہے۔ تو کہتے ہیں ”فَتُحَكَّمُ“ تو لہٰذا اس متعہ ہی کو حکم بنایا جائے گا ”كَمَا هُوَ“ جیسے کہ مہر مثل جو تھا اس کو حکم بنایا گیا تھا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ پھر سن لو، پھر سن لو، صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ امام محمد رحمہ اللہ کی دو عبارتوں میں تعارض آ رہا ہے۔ ایک عبارت انہوں نے جامع صغیر اور مبسوط میں ذکر کی، اس سے پتہ چلا کہ صحبت سے پہلے اگر خاوند طلاق دے دے تو پھر خاوند کا قول معتبر ہے، اور جامع کبیر کے اندر وہ فرماتے ہیں کہ اگر صحبت سے پہلے خاوند طلاق دے دے تو متعہ کو حکم بنایا جائے گا، متعہ کے ذریعے فیصلہ کیا جائے گا۔ تو ایک جگہ کہہ رہے ہیں خاوند کا قول معتبر ہے، دوسری جگہ کہہ رہے ہیں متعہ کو فیصل بنایا جائے گا، تو دونوں قولوں میں کیا آ رہا ہے؟ تعارض بھئی۔ اس کا اب جواب دے رہے ہیں: ”وَوَجْهُ التَّوْفِيقِ“ بھئی، توفیق بھئی، وفّق یوفّق توفیق کا معنی ہے ایک قول کو دوسرے قول کے موافق بنانا۔ بعض اوقات علماء کے اقوال میں، علماء کے اقوال میں بظاہر تعارض اور ٹکراؤ معلوم ہوتا ہے تو پھر علماء ایسی صورت ذکر کرتے ہیں کہ جس سے وہ تعارض ختم ہو جائے، اس کو کہتے ہیں توفیق بھئی۔ توفیق بھئی یعنی دونوں قولوں کو ایک دوسرے کے موافق بنا دینا، ایسی تقریر کرنا کہ دونوں قول ایک دوسرے کے موافق ہو جائیں، اسی کو تطبیق بھی کہتے ہیں۔ طبّق، ط ہے، ب ہے اور ق دو نقطوں والا، طبّق یطبّق تطبیقاً، یا وفّق یوفّق توفیقاً، دونوں کا ایک ہی معنی ہے، ایک قول کو دوسرے کے مطابق بنانا یا ایک قول کو دوسرے کے موافق بنانا۔ اب صاحبِ ہدایہ ایسی تقریر کریں گے کہ دونوں قول ایک دوسرے کے موافق ہو جائیں گے۔ ادھر دیکھیے بھئی، پہلے ہی اس کو سمجھ لیجیے بھئی، دیکھو صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ اصل یعنی جو مبسوط ہے وہاں پر یہ جو مسئلہ ذکر کیا ہے امام محمد رحمہ اللہ نے وہاں ہزار اور دو ہزار کا ذکر کیا ہے، ہزار اور دو ہزار۔ یعنی خاوند اور بیوی کا اختلاف ہوا، خاوند کہہ رہا ہے مہر ایک ہزار درہم تھا اور بیوی کہہ رہی ہے دو ہزار درہم تھا، جبکہ جامع کبیر کے اندر جو انہوں نے مسئلہ ذکر کیا ہے وہ سو اور دس کے ساتھ ذکر کیا ہے کہ مثلاً خاوند کہہ رہا ہے مہر دس درہم تھا اور بیوی کہہ رہی ہے مہر سو درہم تھا۔ تو اس وجہ سے چونکہ وہاں مقدار الگ الگ ذکر کی گئی ہے اس وجہ سے بظاہر قولوں میں تعارض معلوم ہوتا ہے۔ کس طرح؟ کہتے ہیں دیکھو، مبسوط کے اندر اختلاف ہزار اور دو ہزار میں ذکر کیا، تو خاوند کا قول ایک ہزار والا ہے، تو صحبت سے پہلے طلاق دے گا تو کتنا آئے گا؟ پانچ سو، نصف مہر یعنی پانچ سو دینا پڑے گا، اور متعہ تو پانچ سو درہم کا عموماً نہیں ہوتا بھئی، متعہ تو سستا سا ہوگا، پندرہ بیس درہم کا ہوگا زیادہ سے زیادہ۔ تو جب خاوند خود ہزار کا اقرار کر رہا ہے معلوم ہوا صحبت سے پہلے کتنا دینا پڑے گا؟ پانچ سو، یہ تو خود خاوند اقرار کر رہا ہے۔ تو اس لیے وہاں پر متعہ کو فیصل اور حکم اور ثالث بنانے کا کوئی فائدہ نہیں، وہاں بس خاوند کے قول ہی پر پانچ سو دے دو۔ کیونکہ متعہ بے شک بیس درہم بن رہا ہے لیکن خود خاوند پانچ سو دینے پر راضی ہے یا نہیں؟ اعتراف کر چکا ہے یا نہیں؟ تو اس لیے وہاں کہا خاوند کا قول معتبر ہے، متعہ کو حکم بنانے کا کوئی فائدہ نہیں، کیونکہ پھر بھی اس صورت میں وہی پانچ سو ہی دینے پڑیں گے۔ اور جبکہ جامع کبیر کے اندر سو اور دس میں مسئلہ ذکر کیا، اور خاوند کا قول لیا جائے تو پھر پانچ درہم دینے پڑیں گے حالانکہ اس جیسی عورت کا متعہ بیس درہم کا ہوتا ہے۔ اس کو جو تین کپڑے دینے ہیں وہ کتنے کے بنتے ہیں؟ بیس درہم کے۔ تو خاوند دس درہم مہر ذکر کر رہا ہے اور صحبت سے قبل نصف مہر آتا ہے تو گویا پانچ درہم وہ دینا چاہتا ہے، اور عورت نے سو کا دعویٰ کیا ہے اور سو کا نصف پچاس ہے تو گویا عورت پچاس کا دعویٰ کر رہی ہے۔ تو لہٰذا یہاں پر تو متعہ کو حکم بنانے کا فائدہ ہے کہ اب عورت کو بیس ہی درہم دیے جائیں گے پانچ درہم نہیں دیے جائیں گے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہاں پر تو اختلاف سو اور دس میں ہے، یہاں تو متعہ کو حکم بنانے کا فائدہ ہے، لیکن مبسوط کے اندر تو اختلاف ہزار اور دو ہزار کا ہے، وہاں تو متعہ کو حکم بنانے کا کوئی فائدہ نہیں، اس لیے وہاں پر خاوند ہی کے قول کا اعتبار کیا اور یہاں پر متعہ کو حکم بنانے کا کہا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ معلوم ہوا دونوں قولوں میں تعارض نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں ”وَوَجْهُ التَّوْفِيقِ“ اور دونوں اقوال میں توفیق اور تطبیق کی صورت یہ ہے ”أَنَّهُ وَضَعَ الْمَسْأَلَةَ فِي الْأَصْلِ فِي الْأَلْفِ وَالْأَلْفَيْنِ“ کہ امام محمد رحمہ اللہ نے مسئلے کو وضع فرمایا یعنی مسئلے کی صورت بنائی اصل یعنی مبسوط کے اندر ہزار اور دو ہزار میں ”وَالْمُتْعَةُ لَا تَبْلُغُ هَذَا الْمَبْلَغَ فِي الْعَادَةِ“ اور متعہ جو ہے وہ اس مقدار کو نہیں پہنچتا عادۃً بھئی ”فَلَا يُفِيدُ تَحْكِيمُهَا“ لہٰذا متعہ کو حکم بنانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے ”وَوَضَعَهَا فِي الْجَامِعِ الْكَبِيرِ فِي الْمِائَةِ وَالْعَشَرَةِ“ اور امام محمد رحمہ اللہ نے مسئلہ بنایا جامع کبیر کے اندر سو اور دس میں ”وَمُتْعَةُ مِثْلِهَا عِشْرُونَ“ اور اس جیسی عورت کا متعہ جو ہے وہ بیس درہم ہوتا ہے ”فَيُفِيدُ تَحْكِيمُهَا“ تو یہاں پر متعہ کو حکم بنانا فائدہ دے گا، اس لیے یہاں پر متعہ کو حکم بنایا۔ ”وَالْمَذْكُورُ فِي الْجَامِعِ الصَّغِيرِ سَاكِتٌ عَنْ ذِكْرِ الْمِقْدَارِ“ اور وہ جو ذکر کیا گیا ہے جامع صغیر میں ”سَاكِتٌ عَنْ ذِكْرِ الْمِقْدَارِ“ وہ خاموش ہے مقدار کے ذکر سے۔ یعنی امام محمد رحمہ اللہ نے مبسوط میں تو ہزار اور دو ہزار مقدار ذکر کی، جامع کبیر کے اندر جو ہے سو اور دس مقدار ذکر کی، لیکن جامع صغیر اس میں کوئی مقدار ذکر نہیں کی، مسئلہ تو ذکر کیا لیکن مقدار ذکر نہیں کی، لہٰذا جامع صغیر کو وہ جو مبسوط کے اندر ذکر ہے اسی پر محمول کیا جائے گا، کیونکہ مبسوط امام محمد رحمہ اللہ کی کتابوں میں اصل ہے بھئی۔ تو چونکہ امام محمد رحمہ اللہ مبسوط کے اندر ایک مسئلہ ذکر فرما چکے تھے، وہ مسئلہ ذکر ہو گیا متعین ہو گیا، تو دوبارہ جب مسئلہ ذکر کیا جامع صغیر کے اندر تو اب وہ ساری تفصیل بیان کرنا انہوں نے ضروری نہیں سمجھا، انہوں نے اس کو بیان نہیں کیا، مقدار کو ذکر ہی نہیں کیا۔ تو لہٰذا یہ جو جامع صغیر کے اندر عبارت ہے اس کو مبسوط پر ہی محمول کریں گے، اور مبسوط کے اندر تو ہزار اور دو ہزار کا اختلاف تھا اور اس کے اندر تو خاوند کا قول معتبر تھا اس لیے یہاں پر بھی ذکر فرما دیا کہ خاوند کا قول معتبر ہے صحبت سے پہلے طلاق دینے کی صورت میں۔ تو کہتے ہیں ”وَالْمَذْكُورُ فِي الْجَامِعِ الصَّغِيرِ سَاكِتٌ عَنْ ذِكْرِ الْمِقْدَارِ“ اور وہ جو ذکر کیا گیا ہے جامع صغیر کے اندر وہ خاموش ہے مقدار ذکر کرنے سے ”فَيُحْمَلُ“ تو لہٰذا اس جامع صغیر میں جو ذکر ہے اس کو محمول کیا جائے گا ”عَلَى مَا هُوَ الْمَذْكُورُ فِي الْأَصْلِ“ وہ جو اصل یعنی مبسوط میں ذکر کیا گیا ہے اسی پر اس کو محمول کریں گے بھئی۔ ”وَشَرْحُ قَوْلِهِمَا“ اور طرفین کے قول کی شرح یہ ہے، بھئی میں نے آپ کو بتلایا تھا جب مسئلہ ہم نے شروع کیا تھا، میں نے کہا تھا یہ بڑا مشکل مسئلہ ہے، ائمہ نے یہ مسئلہ ذکر فرمایا ہے لیکن اس کی پوری تشریح نہیں کی، تو اصحابِ تخریج نے اس کی تشریح کی، پھر میں نے تفصیل بیان کی تھی کہ مہر مثل کو فیصل بنائیں گے، اگر اس نے عورت کی تائید کی تو عورت کا قول معتبر اور اگر مہر مثل نے خاوند کی تائید کی تو خاوند کا قول معتبر، اور دونوں میں سے ہر ایک مدعی بھی ہے اور ہر ایک منکر بھی ہے، لہٰذا اگر دونوں میں سے جو بھی بینہ لے آئے گا تو اس کا بینہ قبول کیا جائے گا، اور اگر دونوں بینہ لے آئے تو پھر اس کا بینہ قبول کیا جائے گا جو ظاہر حال کے خلاف ہوگا۔ میں نے یہ ساری تفصیل بیان کی تھی، وہی تفصیل اب یہ صاحبِ ہدایہ بیان فرما رہے ہیں، یہ اصحابِ تخریج اس مسئلے کی تخریج کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں ”وَشَرْحُ قَوْلِهِمَا“ اور طرفین کے قول کی شرح یہ ہے ”فِيمَا إذَا اخْتَلَفَا فِي حَالِ قِيَامِ النِّكَاحِ“ اس صورت میں جب میاں بیوی نے اختلاف کیا ہے نکاح موجود ہونے کی حالت میں۔ نکاح موجود، وہی جب مسئلہ شروع ہوا تھا میں نے بتایا تھا یہ نکاح کی موجودگی میں اختلاف کر رہے ہیں، لیکن صحبت کے بعد اگر طلاق دے گا تب بھی یہی حکم ہے، دونوں میں سے کسی ایک کا انتقال ہو جائے اور اس کے وارث آ کر اختلاف کریں تب بھی مسئلہ اسی طرح ہے، تو اسی لیے وہ ایک صورت ذکر کر رہے ہیں باقی تین کا بھی وہی حکم ہے میں نے بتلا دیا بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَشَرْحُ قَوْلِهِمَا فِيمَا إذَا اخْتَلَفَا فِي حَالِ قِيَامِ النِّكَاحِ“ اور طرفین کے قول کی شرح اس صورت میں جب میاں بیوی آپس میں اختلاف کریں نکاح قائم ہونے کی حالت میں ”أَنَّ الزَّوْجَ إذَا ادَّعَى الْأَلْفَ“ کہ جب خاوند ایک ہزار کا دعویٰ کرے ”وَالْمَرْأَةُ الْأَلْفَيْنِ“ اور عورت دو ہزار کا دعویٰ کرے ”فَإِنْ كَانَ مَهْرُ مِثْلِهَا أَلْفًا أَوْ أَقَلَّ“ اگر اس عورت کا مہر مثل ہزار یا ہزار سے کم ہے، دیکھو مہر مثل کو فیصل بنا رہے ہیں، اس کے ذریعے فیصلہ کر رہے ہیں، تو کہتے ہیں ”فَإِنْ كَانَ مَهْرُ مِثْلِهَا أَلْفًا أَوْ أَقَلَّ“ اگر اس عورت کا مہر مثل ہزار یا اس ہزار سے کم ہے ”فَالْقَوْلُ قَوْلُهُ“ تو اس صورت میں وہ قول جو معتبر ہے وہ خاوند کا قول ہے ”وَإِنْ كَانَ أَلْفَيْنِ أَوْ أَكْثَرَ“ اور اگر عورت کا مہر مثل دو ہزار یا زیادہ ہے ”فَالْقَوْلُ قَوْلُهَا“ تو عورت کا قول معتبر ہے ”وَأَيُّهُمَا أَقَامَ الْبَيِّنَةَ فِي الْوَجْهَيْنِ تُقْبَلُ“ اور ان دونوں میں سے جس نے بھی بینہ قائم کر دی دونوں صورتوں میں، یعنی چاہے مہر مثل مرد کی تائید کر رہا ہو چاہے مہر مثل عورت کی تائید کر رہا ہو، دونوں صورتوں میں جو بھی بینہ پیش کر دے اس کا بینہ قبول کر لیا جائے گا۔ تو کہتے ہیں ”وَأَيُّهُمَا أَقَامَ الْبَيِّنَةَ فِي الْوَجْهَيْنِ تُقْبَلُ“ اور ان دونوں میں سے جس نے بھی بینہ قائم کر دیا دونوں صورتوں میں، چاہے مہر مثل خاوند کی تائید کر رہا ہو یا بیوی کی، تقبل جو بھی بینہ پیش کرتا ہے وہ بینہ قبول کر لیا جائے گا۔ ”وَإِنْ أَقَامَا“ اور اگر دونوں نے قائم کر دیا ”الْبَيِّنَةَ“ بینہ کو ”وَإِنْ أَقَامَا الْبَيِّنَةَ“ اور اگر دونوں نے بینہ قائم کر دیا ”فِي الْوَجْهِ الْأَوَّلِ“ پہلی صورت میں۔ پہلی صورت کون سی؟ جب مہر مثل خاوند کی تائید کر رہا ہے۔ بھئی دیکھیے نا، یہ پچھلی سطر میں ہی ذکر ہوا ہے: ”فَإِنْ كَانَ مَهْرُ مِثْلِهَا أَلْفًا أَوْ أَقَلَّ فَالْقَوْلُ قَوْلُهُ“، یہ پہلی صورت ہے مہر مثل کس کی تائید کر رہا ہے؟ خاوند کے قول کی، خاوند نے بھی ہزار کہا ہے اور مہر مثل بھی کتنا ہے؟ ہزار یا ہزار سے کم ہے، تو مہر مثل خاوند کی تائید کر رہا ہے۔ اور اگر ”وَإِنْ كَانَ أَلْفَيْنِ أَوْ أَكْثَرَ فَالْقَوْلُ قَوْلُهَا“ اور اگر مہر مثل دو ہزار یا زیادہ ہے تو عورت کا قول معتبر ہے، یہ دوسری صورت آ گئی۔ تو وجہ اول سے پہلی صورت مراد ہے جب مہر مثل خاوند کے قول کی تائید کر رہا ہو، اور آگے وجہ ثانی ذکر کریں گے، وجہ ثانی سے کیا مراد ہے؟ جب مہر مثل عورت کے قول کی تائید کر رہا ہو، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ جو دونوں وجہیں ہیں یہ پچھلی سطر میں ہی ذکر ہیں۔ بھئی دو صورتیں ہیں نا، پہلی صورت یہ ہے کہ مہر مثل خاوند کی تائید کر رہا ہے اور دوسری صورت کیا ہے؟ مہر مثل بیوی کی تائید کر رہا ہے۔ توجہ ہے؟ اور جس کی تائید مہر مثل کر رہا ہو اس کا قول معتبر ہے کیونکہ ظاہر حال اس کی تائید کر رہا ہے۔ توجہ ہے؟ اور بینہ کس کا قبول کیا جاتا ہے؟ جس کا قول خلافِ ظاہر ہو۔ تو پہلی صورت میں، پہلی صورت بھئی، خاوند ایک ہزار کا مدعی ہے اور عورت کا مہر مثل بھی ایک ہزار یا ایک ہزار سے کم ہے تو ظاہر حال کس کی تائید کر رہا ہے؟ خاوند کی، خاوند کی، لہٰذا اس صورت میں عورت کے بینہ قبول کریں گے۔ گواہ دونوں لے آئے، عورت بھی گواہ لے آئی، مرد بھی گواہ لے آیا، اب کس کے گواہ قبول کریں؟ تو آپ کو بتلا رہے ہیں جس کے گواہ ظاہر حال کے خلاف ہوں گے اس کے گواہوں کو قبول کریں گے، یا یوں کہیں یوں کہیں، جس کے گواہ اثبات کر رہے ہوں گے اس کے گواہ قبول کیے جائیں گے کیونکہ ایک ہے اثبات اور ایک ہے نفی۔ اثبات کے لیے گواہ چاہیے اور نفی کے لیے قسم چاہیے۔ تو جس کے گواہ سے اثبات ہو رہا ہو اس کے گواہ قبول کیے جائیں گے۔ لہٰذا لہٰذا اب خاوند نے کتنے کا دعویٰ کیا ہے؟ ایک ہزار، اور مہر مثل بھی خاوند کی تائید کر رہا ہے، اور عورت تو دو ہزار کا دعویٰ کر رہی ہے تو عورت کا قول خلافِ ظاہر ہے۔ یعنی عورت کا قول زیادتی کو ثابت کر رہا ہے، لہٰذا عورت کی بینہ کو قبول کیا جائے گا، عورت مثبتِ زیادت ہے اور خاوند منکرِ زیادت ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَإِنْ أَقَامَا الْبَيِّنَةَ فِي الْوَجْهِ الْأَوَّلِ“ اور اگر دونوں نے بینہ قائم کر دی پہلی صورت میں جب ظاہر حال خاوند کی تائید کر رہا ہے ”تُقْبَلُ بَيِّنَتُهَا“ تو عورت کی بینہ قبول کی جائے گی کیونکہ وہ خلافِ ظاہر ہے ”لِأَنَّهَا تُثْبِتُ الزِّيَادَةَ“ اس لیے کیونکہ عورت کی بینہ زیادتی کو ثابت کر رہی ہے اور اثبات کے لیے بھی کیا چاہیے؟ بینہ چاہیے ہوتی ہے۔ ”وَفِي الْوَجْهِ الثَّانِي“ اور دوسری صورت کے اندر جب، جب مہر مثل عورت کی تائید کر رہا ہے، تو کہتے ہیں ”وَفِي الْوَجْهِ الثَّانِي“ دوسری صورت میں ”بَيِّنَتُهُ“ خاوند کی بینہ قبول کی جائے گی ”لِأَنَّهَا تُثْبِتُ الْحَطَّ“ حط کا معنی ہے کمی، حطٌّ کا کیا معنی ہے؟ کمی۔ ”لِأَنَّهَا تُثْبِتُ الْحَطَّ“ اس لیے کیونکہ خاوند کی جو بینہ ہے وہ کمی کو ثابت کر رہی ہے۔ بھئی مہر مثل تو عورت کی تائید کر رہا ہے، عورت نے دو ہزار کا دعویٰ کیا ہے اور مہر مثل بھی دو ہزار یا دو ہزار سے زیادہ ہے تو ظاہر حال عورت کی تائید کر رہا ہے اور خاوند کیا کہتا ہے؟ نہیں، ہزار ہے، تو خاوند کا دعویٰ خلافِ ظاہر ہوا۔ اور جب یہ خلافِ ظاہر ہے تو خاوند کا بینہ قبول کیا جائے گا، اور نیز خاوند کا بینہ اثبات کر رہا ہے کہ عورت نے میرے لیے مہر میں کمی کر دی ہے اور عورت اس کا انکار کر رہی ہے، توجہ ہے؟ تو یہ معنی ہے۔ تو کہتے ہیں ”وَفِي الْوَجْهِ الثَّانِي بَيِّنَتُهُ“ اور دوسری صورت کے اندر یعنی جب مہر مثل عورت کی تائید کر رہا ہے تو بینتہ خاوند کی بینہ قبول کی جائے گی ”لِأَنَّهَا تُثْبِتُ الْحَطَّ“ اس لیے کیونکہ خاوند کی جو بینہ ہے وہ کمی کو ثابت کر رہی ہے۔ ”وَإِنْ كَانَ مَهْرُ مِثْلِهَا أَلْفًا وَخَمْسَمِائَةٍ“ اچھا بھئی، اگر مہر مثل دونوں کے درمیان ہوا، نہ مہر مثل ہزار ہے نہ دو ہزار بلکہ پندرہ سو ہے دونوں کے درمیان ہے، دونوں کے بیچ میں ہے، پھر کیا کریں؟ پندرہ سو سے پندرہ سو ہی نہیں مراد، بس دونوں کے بیچ میں ہے، بات سمجھ میں آ گئی، تو مہر مثل دونوں کے بیچ میں ہے پھر کیا کریں گے؟ تو پھر یاد رکھو، ہمارے اصحابِ تخریج آپس میں اختلاف کرتے ہیں۔ باقی صورت میں تو اتفاق، لیکن یہاں آ کر اختلاف کرتے ہیں۔ ابوبکر جصاص رازی جو ہیں بہت بڑے فقیہ گزرے ہیں بھئی، ان کی پیدائش ہوئی ہے 305 ہجری میں اور وفات ہوئی ہے 370 ہجری میں۔ پیدائش کب؟ 305 ہجری میں اور وفات ہوئی ہے 370 ہجری میں۔ یہ بہت بڑے فقیہ گزرے ہیں احناف کے، یہ فرماتے ہیں کہ اس صورت میں دونوں کو قسم دی جائے گی، خاوند کو بھی اور بیوی کو بھی۔ دونوں قسم اٹھائیں گے تاکہ ہو سکتا ہے دونوں میں سے کوئی ایک قسم سے انکار کر دے تو وہیں پر مسمیٰ کا پتہ چل جائے گا۔ خاوند انکار کرے گا معلوم ہوا بیوی نے جو ذکر کیا ہے وہ ثابت ہو گیا، یا بیوی انکار کرے گی تو جو خاوند نے ذکر کیا معلوم ہوا وہ ثابت ہو گیا۔ تو دونوں کو قسم کھلائی جائے گی، اور پھر اگر دونوں نے قسم کھا لی تو پھر اس صورت کے اندر وہ پندرہ سو ہی واجب کر دیے جائیں گے۔ اسی پر فیصلہ کر دیا جائے گا۔ وہ جو مہر مثل ہے وہ جو دونوں کے بیچ میں ہے اسی پر کیا کر دیں گے؟ فیصلہ۔ یہ کون فرماتے ہیں؟ ابوبکر جصاص رازی رحمہ اللہ۔ جبکہ ابوبکر جصاص رازی رحمہ اللہ کے استاد ہیں امام کرخی بھئی، امام ابوالحسن کرخی رحمہ اللہ، یہ بھی بہت بڑے فقیہ گزرے ہیں، ان کی پیدائش ہوئی ہے 260 ہجری میں اور وفات ہوئی ہے 340 ہجری میں۔ 340، ابوبکر جصاص رازی کی وفات ہوئی ہے 370 میں اور ان کی وفات ہوئی ہے 340 میں بھئی، 260 ہجری ان کی پیدائش ہے۔ تو امام کرخی رحمہ اللہ جو استاد ہیں ابوبکر جصاص رازی کے، وہ فرماتے ہیں تینوں صورتوں میں دونوں کو قسم دیں گے۔ ابوبکر جصاص رازی تو فرماتے ہیں صرف ایک صورت میں دونوں کو قسم دیں گے، بتلایا تھا کہ اگر مہر مثل خاوند کی تائید کر رہا ہے تو خاوند کا قول معتبر ہے اس کو قسم دے دیں گے، اگر مہر مثل عورت کی تائید کر رہا ہے تو عورت کو قسم دے دیں گے بس، اور اگر دونوں کے بیچ میں ہے تو پھر دونوں کو قسم دے دیں گے۔ تو اس صورت میں ابوبکر جصاص رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں دونوں کو قسم دیں گے جب مہر مثل دونوں مقداروں کے بیچ میں ہو۔ جبکہ ان کے استاد ابوالحسن کرخی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تینوں صورتوں میں دونوں کو قسم دیں گے، یعنی چاہے مہر مثل خاوند کی تائید کرے، چاہے مہر مثل عورت کی تائید کرے، چاہے مہر مثل دونوں کے بیچ میں ہو، ہر صورت میں دونوں قسمیں کھائیں گے۔ وہ فرماتے ہیں تاکہ جو بھی صورت ہو جب دونوں کو قسم دی جائے گی تو ہو سکتا ہے دونوں میں سے کوئی ایک انکار کر دے، جب انکار کر دے گا تو مسمیٰ کا پتہ چل جائے گا اور جب مسمیٰ کا پتہ چل جائے گا تو اسی پر فیصلہ ہو جائے گا۔ تو وہ تینوں صورتوں میں تحالف کی بات کرتے ہیں کہ دونوں کو قسم دی جائے گی، اور پھر اگر یہ دونوں پھر قسم کھا لیتے ہیں پھر مہر مثل کے ذریعے فیصلہ کر دیا جائے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو معلوم ہوا اصحابِ تخریج میں یہاں اختلاف ہے۔ ابوبکر جصاص رازی کے مطابق تحالف صرف ایک صورت میں ہے جب مہر مثل دونوں مقداروں کے درمیان ہو، اور امام کرخی کے نزدیک تینوں صورتوں میں تحالف ہوگا چاہے مہر مثل عورت کی تائید کرے، چاہے مرد کی تائید کرے یا دونوں کی مقداروں کے درمیان ہو بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَإِنْ كَانَ مَهْرُ مِثْلِهَا أَلْفًا وَخَمْسَمِائَةٍ“ اور اگر اس عورت کا مہر مثل جو ہے پندرہ سو ہے ”تَحَالَفَا“ تو پھر دونوں قسم کھائیں گے ”وَإِذَا حَلَفَا“ اور جب یہ دونوں قسم اٹھا لیں گے ”يَجِبُ أَلْفٌ وَخَمْسُمِائَةٍ“ تو پندرہ سو جو ہے درہم واجب ہو جائیں گے ”هَذَا تَخْرِيجُ الرَّازِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ“ یہ ابوبکر رازی رحمہ اللہ کی تخریج ہے ”وَقَالَ الْكَرْخِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ يَتَحَالَفَانِ فِي الْفُصُولِ الثَّلَاثَةِ“ کہ دونوں قسم اٹھائیں گے تینوں فصلوں میں، تینوں صورتوں میں، یعنی چاہے مہر مثل عورت کی تائید کرے، چاہے مرد کی تائید کرے، چاہے دونوں کے درمیان ہو، تینوں فصلوں میں دونوں قسم اٹھائیں گے ”ثُمَّ يُحَكَّمُ مَهْرُ الْمِثْلِ بَعْدَ ذَلِكَ“ پھر اس کے بعد مہر مثل کو حکم اور فیصل بنایا جائے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں ”ثُمَّ يُحَكَّمُ مَهْرُ الْمِثْلِ بَعْدَ ذَلِكَ“ تو پھر اس تحالف کے بعد مہر مثل کو حکم بنایا جائے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ حل ہو گیا۔ چلیے بس، بِهَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
160 approved lectures · 34 of 160