Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

المعلقات السبع · dars-006

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Muhammad Adil
📍 Location Manchester, UK
📅 Approved Date 11 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 19
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
آگے دیکھیے بھئی کتاب پر وإن شفائي عبرة مهراقة فهل عند رسم دارس من معول كَدَأبِكَ مِنْ أُمِّ الْحُوَيْرِثِ قَبْلَهَا وَجَارَتِهَا أُمِّ الرَّبَابِ بِمَأْسَلِ إذا قامتا تزوعا المِسكَ منهما نَسِيمُ الصَّبَا جاءَتْ برَيَّا القَرَنْفُلِ امرؤ القيس کا معلقہ چل رہا ہے بھئی۔ امرؤ القيس اس مقام پر سے گزرا جہاں کسی زمانے میں اس کی عشیقہ رہتی تھی اس کا گھر تھا تو اسے وہ زمانہ یاد آیا تو ‏وہ خود بھی رو رہا ہے اور اپنے ساتھیوں کو بھی روک کر انہیں بھی رلا رہا ہے۔ اور اپنے ساتھیوں سے کہتا ہے کہ یہ جگہ اجاڑ و بیابان ہو چکی اور اتنی اجاڑ ہو چکی کہ یہاں پر اب تم ہرنوں کی مینگنیاں ان کے کھلے میدانوں میں ‏اور ان کی خالی جگہوں میں دیکھ رہے ہو جیسے کہ کالی مرچ کے دانے ہوں۔ اور جدائی کی صبح کو جس دن وہ لوگ سفر پر نکلے جب وہ یہاں سے روانہ ہوئے گویا کہ میں قبیلے کے کیکر کے ‏درختوں کے پاس حنظل چھیل رہا تھا۔ اور میرے ساتھی میرے پاس اپنی سواریاں روکے ہوئے کہہ رہے تھے کہ لا تہلِکا سم و تجملی کہ تو غم کی زیادتی سے ‏اور زیادہ رنجیدہ ہو کر اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈال اور صبر کی زینت اختیار کر۔ اگر تو زیادہ روئے گا زیادہ غم کا اظہار کرے گا زیادہ تکلیف کا اظہار کرے گا تو تیرے دشمن تجھے دیکھ کر خوش ہوں ‏گے اور اس سے کوئی فائدہ بھی حاصل ہونے والا نہیں۔ لذا صبر کی زینت اختیار کر کیونکہ صبر بڑی عمدہ چیز ہے۔ معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ جی آگے دیکھیے بھئی وإن شفائي عبرة مهراقة فهل عند رسم دارس من معول عبرة عبرة آنسو کو کہتے ہیں آنسو اور جمع اس کی ہے عبر عبر مهراقة یہ اصل میں ہے مراقة اس میں مفعول ہے اس میں مفعول مراقة اور باب ہے أرَّق يَرِيقُ إراقَةً بابِ إفعال ہے۔ أرَّق يَرِيقُ إراقَةً أرَّق يَرِيقُ إرا- أرَّق يَرِيقُ إراقَةً کے معنی ہیں پانی کا گرانا پانی کا زمین پر بہا دینا اس کو کیا کہتے ہیں؟ ‏أرَّق يَرِيقُ إراقَةً اور عربی میں کہتے ہیں أَرَقْتُ الماءَ میں نے پانی کو زمین پر بہا دیا میں نے پانی کو زمین پر گرا دیا۔ أَرَقْتُ الماءَ توجہ ہے؟ تو حمزہ کے بعد کیا ہے را أَرَقْتُ الماءَ اور کبھی کبھار اسی باب کے اندر حمزہ کی جگہ حا بھی لے ‏آتے ہیں حمزہ کو ہٹا کر اس کے عوض حا لے آتے ہیں اور کہتے ہیں حَرَقْتُ الماءَ حَرَقْتُ الماءَ سمجھ میں آیا؟ یا اس شخص نے پانی بہایا أَرَاَقَ الماءَ اور حمزہ کی جگہ کبھی حا لے آتے ہیں تو کیسے کہیں گے؟ حَرَقَ ‏الماءَ صورت سمجھ میں آرہی ہے؟ حمزہ کو گرا کر کیا لے آتے ہیں؟ حا لے آتے ہیں أَرَقْتُ الماءَ سے کیا بن جائے گا؟ حَرَقْتُ ‏الماءَ اور کبھی کبھار حمزہ کو گراں تے نہیں بلکہ حمزہ کے ساتھ ساتھ اس کے بعد حا لے آتے ہیں حمزہ کو بھی باقی رکھتے ‏ہیں اور سا حا کو بھی لے آتے ہیں اور یوں کہیں گے أَهْرَقْتُ الماءَ معنی پانی بہا دیا میں نے پانی گرا دیا۔ یا فلاں آدمی نے پانی بہا دیا أَهْرَاقَ الماءَ تو یہاں بھی اسی طرح ہے کہ حا لائی گئی بھئی تو مهراقة اصل میں کیا ہے؟ مراقة تو یہاں بڑھ دیتے ہیں کبھی کبھی حمزہ کے عوض لے آتے ہیں ‏اور کبھی حمزہ کے ہوتے ہوئے اس کے ساتھ ہی لے آتے ہیں حمزہ بھی رہتا ہے اور حا بھی آ جاتی ہے۔ تو اس کے معنی بہا دینے کے فهل عند رسم دارس رسم کہتے ہیں نشان کو باقی رہ جانے والی علامت باقی رہ جانے والا نشان دارس دارس يدرس درسا ودروسا اس کا معنی ہے مٹ جانا ختم ہو جانا رسم دارس مٹا ہوا نشان مٹا ہوا نشان من معول معول أول يعول تعويل اس کا ایک معنی آتا ہے رونے کے آہ و زاری کرنا چیخ و پکار کرنا رونا اور اسی طرح أول يعول تعويل کا ایک معنی ہے کسی دوسرے پر اعتماد کرنا بھروسہ کرنا تو اگر اس کا معنی ہم یہاں کریں رونے کے گریا و زاری کرنا تو پھر یاد رکھیے اس صورت میں یہ معول ظرف کا صیغہ ہے۔ معول رونے کی جگہ آہ و فغاں کرنے کی جگہ گریا و زاری کی جگہ اور اگر اس معول کا معنی ہم بھروسہ کرنے کے کریں تو پھر اس صورت میں یہ اسم مفعول ہے۔ معول وہ شخص جس پر بھروسہ کیا جائے بھروسہ کرنے والا کون معول اور جس پر بھروسہ کیا جائے وہ کیا ہوگا معول ‏تو اس صورت میں یہ اسم مفعول کا صیغہ ہوگا اور آپ جانتے ہیں مزید سے اسم مفعول اور ظرف کا ایک ہی صیغہ آتا ہے بھئی تو یہ معول اس میں ظرف ہونے کا بھی احتمال اور اس میں مفعول ہونے کا بھی احتمال اس میں ظرف کب ہوگا جب اس کا معنی کیا کریں؟ رونے کے اور اس میں مفعول کب جب اس کا معنی کیا کریں؟ بھروسہ ‏کرنے کے اب دیکھیے ترجمہ بھئی وإن شفائي عبرة مهراقة اور بے شک بلکہ یوں ترجمہ کریں اور یقینا میری شفا جو ہے عبرة مهراقة بہائے ہوئے آنسوؤں میں ہے۔ میری شفا کس میں ہے؟ بہائے ہوئے آنسوؤں میں ہے عبرة مهراقة وہ آنسو جو بہائے گئے ہوں یعنی امرؤ القيس یہ کہہ رہا ہے کہ میرے ساتھی میرے پاس کھڑے ہوئے مجھے نصیحت کر رہے ہیں اور مجھے کہہ ‏رہے ہیں کہ تو غم کرتے ہوئے زیادہ غم کر کے اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈال اور صبر اختیار کر لیکن ان کو معلوم نہیں مجھے جو بیماری لگی ہے مجھے جو مرض لگا ہے مجھے جو روگ لگا ہے اس کی شفا کس کے ‏اندر ہے؟ رونے ہی کے اندر ہے بھئی اس کا اور کوئی علاج نہیں یہاں غم عشق میں غم اور تکلیفیں آتی ہیں اور انسان کو آنسو بہانے پڑتے ہیں تو یہاں میری شفا کس چیز کے اندر ہے؟ یہ آنسوؤں کے بہانے ہی کے اندر میری شفا ‏ہے اور پھر آگے کہتا ہے فهل عند رسم دارس من معول پس کیا ان مٹے ہوئے نشانات کے پاس کوئی رونے کی جگہ ہے رسم دارس مٹے ہوئے نشانات فهل عند رسم دارس من معول کیا ان مٹے ہوئے نشان کے پا مٹے ہوئے نشانات کے پاس ‏کوئی رونے کی جگہ ہے سوال کر رہا ہے یعنی رونے کی جگہ سے مراد یہ ہے کہ ایسی رونے کی جگہ جہاں پر رونا کچھ فائدہ بھی دے ویسے تو ہر جگہ انسان رو لیتا ہے لیکن مراد کیا ہے ایسی رونے کی جگہ جہاں رونا کچھ فائدہ بھی دے اور میرے اس غم کا مداوا ہو جائے اس کی تلافی ہو جائے اور کسی طرح وہ زمانہ واپس آ جائے اور حالانکہ وہ زمانہ تو ‏واپس نہیں آ سکتا تو کہتا ہے فهل عند رسم دارس من معول سوال کر رہا ہے تو کیا اس مٹے ہوئے نشان کے پاس کوئی ‏رونے کی جگہ ہے یعنی ایسی رونے کی جگہ جس سے مجھے قرار آ جائے میری تکلیف دور ہو جائے اور یہ استفہام انکاری ہے۔ استفہام انکاری جس کا جواب انکار کی صورت میں ہوتا ہے یعنی کہ کیونکہ یہ بات واضح ہے کہ ایسی جگہ نہیں ہے بھئی یہ یا معول کا معنی کر لیں بھروسہ کرنے کے فهل عند رسم دارس من معول کیا ان مٹے ہوئے نشانات کے پاس کوئی قابل ‏بھروسہ شخص ہے کوئی ایسا آدمی ہے جس پر اعتماد کیا جا سکے یعنی جو میرے اس غم کو کیا کر دے دور کر دے اور یقینا ایسا نہیں ہے یہ بھی کیا ہے استفہام انکاری ہے بھئی تو کہتا ہے وإن شفائي عبرة مهراقة فهل عند رسم دارس من معول اور یقینا میری شفا تو آنسو بہانے کے اندر ہی ہے پس کیا ‏ان مٹے ہوئے نشانات کے پاس کوئی رونے کی جگہ ہے جہاں رونا کچھ نفع دے دے اور یا دوسرا کیا ان مٹے ہوئے نشانات کے پاس کوئی قابل اعتماد قابل بھروسہ شخص ہے کہ جس پر بھروسہ کرنا کیا ‏کرے فائدہ دے دے نفع دے دے اور استفہام انکاری ہے یقینا ایسا نہیں ہے نہ کوئی ایسی جگہ ہے جہاں رونا کچھ فائدہ دے ‏دے اور نہ کوئی ایسا شخص ہے جس کے جس پر بھروسہ کرنا فائدہ دے دے اور میرا غم دور ہو جائے۔ معنی سمجھ میں آگیا بھئی؟ جی آگے دیکھیے بھئی کَدَأبِكَ مِنْ أُمِّ الْحُوَيْرِثِ قَبْلَهَا وَجَارَتِهَا أُمِّ الرَّبَابِ بِمَأْسَلِ كدأبك دأب کہتے ہیں عادت کو بھئی عادت طریقہ بھئی أم الحويرث یہ امرؤ القيس کی کوئی اور عشیقہ ہے بھئی میں نے بتلایا کہ یہ عورتوں کے پیچھے ہی گھومتا پھرتا تھا اور شراب نوشی میں مشغول رہتا اور اسی وجہ سے یہ ملِکُ ‏الضلّیل کے نام سے بھی کہ لقب سے بھی مشہور ہے بھئی تو یہ اس کی ام الحويرث جو ہے اس کی کوئی اور عشیقہ وجارتها جار کہتے ہیں پڑوسی کو بھئی جار اور جارا پڑوسن بھئی پڑوسن أم الرباب أم الرباب یہ بھی امرؤ القيس کی کوئی اور عشیقہ ہے بھئی یہ اس کا ذکر کر رہا ہے ومأصل یہ پہاڑ کا نام ہے بھئی ماصل کیا ہے پہاڑ کا نام ہے كدأبك من أم الحويرث قبلها جیسے کہ تیری عادت تھی من أم الحويرث کس کی وجہ سے؟ ام الحويرث کی وجہ سے قبلها اس عشیقہ سے پہلے جس کا بھی ذکر کر رہا جس کا ماقبل میں ذکر کیا یاد رکھیے امرؤ القيس تو اس کا سب سے مشہور معاشقہ جو تھا اس کے چچا کی بیٹی کے ساتھ تھا جس کا نام عُنَيْزَة تھا بھئی عُنَيْزَة تو اس کا سب سے مشہور و معروف معشیقہ اپنی چچا کی بیٹی عُنَيْزَة کے ساتھ تھا بھئی اور اس کے بارے میں یہ اور ‏دیگر بہت سے اشعار وغیرہ کہتا ہے اور اس کی اس عاشق کی بڑی شہرت تھی سب کو پتہ تھا تو ماقبل میں جس عشیقہ کا ‏ذکر کر رہا ہے اس کے اس کے اجڑے ہوئے گھر کا ذکر کر رہا ہے اس محبوب کا ذکر کر رہا ہے وہ اس عُنَيْزَة کا ذکر ‏کر رہا تھا اب آگے اس کے بعد کس کا ذکر کر رہا ہے ام الحويرث کا تو میں ذکر یہ کر رہا تھا کہ كَدَأبِكَ مِنْ أُمِّ الْحُوَيْرِثِ قَبْلَهَا جیسے کہ تیری عادت تھی من أم الحويرث کس کی وجہ سے؟ ام الحويرث کی وجہ سے قبلہا ‏جو اس عشیقہ سے پہلے تھی عُنَيْزَة سے پہلے جو تیری عشیقہ تھی ام الحويرث اس میں جیسے اس کے معاملے میں بھی تجھ پر بڑا غم آیا تھا اور ‏تکلیفیں آئی تھیں وجارتها یہ جارتہا کا عطف ہے ام الحويرث پر جیسے تیری عادت تھی ام الحويرث کے بارے میں وجارتها اور ام الحويرث کی جو ‏پڑوسن تھی ام الرباب اس کے یعنی اس کے عشق میں جیسے تجھے غم اور تکلیفیں تجھ پر آئی تھیں امرؤ القيس اپنے آپ کو تسلی دے رہا ہے کہ امرؤ القيس یہ غم کوئی پہلا غم تجھ پر نہیں ہے اس راستے میں تجھ پر پہلے بھی بہت ‏سے غم آ چکے ہیں جیسے ام الحويرث کے معاملے میں تجھ پر بڑا غم آیا بڑی تکلیف ائی وصال کا موقع ملتا ہی نہیں تھا ‏اور جیسے ام الرباب کے مسئلے کے اندر تجھ پر بڑا غم دکھ اور تکلیف ائی تو لہذا جب انسان پر غم بار بار آئیں تو اس ‏کے لیے غم کو سہنا اور برداشت کرنا ذرا آسان ہو جاتا ہے تو اے امرؤ القيس زیادہ تجھے رونا نہیں چاہیے زیادہ غمگین ‏نہیں ہونا چاہیے اپنے آپ کو تسلی دے رہا ہے اس سے پہلے بھی تجھ پر اس قسم کے غم آ چکے ہیں یہ کوئی پہلا غم نہیں ‏ہے كدأبك یاد رکھیے یہ خبر ہے اور مبتدا محذوف ہے مبتدا کیا ہے؟ محذوف اور وہ ہے دأبك في عشق عنيزة دابكا اے امرؤ القيس تیری عادت في عشق عنيزة کس کے عشق میں؟ عنيزة کے عشق میں کَدَأبِكَ مِنْ أُمِّ الْحُوَيْرِثِ اسی طرح ‏ہے جیسے کہ تیری عادت اور طریقہ کس کے اندر تھا؟ ام الحويرث کے بارے میں قبلہا اس عنيزة سے پہلے وجارتها أم ‏الربباب بمأصل اور اور جیسے کہ تیری عادت تھی ام الحويرث کی پڑوسن أم الرباب کے بارے میں بمأصل جو کہاں پر رہتی تھی؟ ماصل پہاڑ ‏کے اندر بھئی تو یہ ان کا علاقہ جہاں وہ رہتے تھے ان کی بھئی تو معنی سمجھ میں آگیا بھئی؟ جی اب پھر سنیے ترجمہ كَدَأبِكَ مِنْ أُمِّ الْحُوَيْرِثِ قَبْلَهَا وَجَارَتِهَا أُمِّ الرَّبَابِ بِمَأْسَلِ اے امرؤ القيس عنيزة کے عشق میں تیری عادت ایسی ہی ہے جیسے کہ تیری عادت تھی ام الحويرث کے بارے میں اس ‏سے پہلے اور ام الحويرث کی پڑوسن ام الرباب کے بارے میں ماصل پہاڑ میں مختصر المعانی پڑھ رہے ہیں بھئی آپ لوگ؟ جی ہاں مختصر المعانی میں ذکر آئے گا بھئی یہاں یہ التفات ہے بھئی التفات علم بلاغت کی اصطلاح ہے یاد رکھو بھئی کلام کرنے کے تین طریقے ہیں یا تو تکلم ہوگا یا خطاب ہوگی یا غیبت ہوگی تکلم جس میں انسان اپنے بارے میں بات کرتا ہے میں آج بازار گیا تھا میں نے آج یہ کام کیا میری آج دو ساتھیوں سے ملاقات ہوئی میں نے سبق پڑھایا وغیرہ تو دیکھو کس ‏کے بارے میں بات کر رہا ہے اپنے بارے میں یہ ہے تکلم اور کبھی کبھار انسان مخاطب کے بارے میں بات کرتا ہے کہ آپ کا کیا نام ہے آپ کہاں سے آئے ہیں آپ کہاں رہتے ہیں آپ کو یہ کام کرنا چاہیے آپ کو یہ کام نہیں کرنا چاہیے یہ کیا ہے خطاب ہے خطاب اور تیسرا ہے غیبت مثلا کسی تیسرے غائب کے بارے میں بات کی جائے کہ زید جو ہے زید آج بازار گیا تھا زید نے آج ‏فلاں کام کیا زید نے آج فلاں کام کیا تو یہ متکلم انا اپنی بات کر رہا ہے نہ مخاطب کی بات کر رہا ہے بلکہ ایک تیسرے ‏شخص کی بات کر رہا ہے اور اس کو کیا کہتے ہیں غیبت تو کلام کے تین طریقے ہیں بھئی تکلم خطاب اور غیبت زبان سے دہرائو وہی کون سے تکلم خطاب اور غیبت تو کلام عرب میں یوں کیا جاتا ہے بعض ‏اوقات ایک طریقہ کلام چل رہا ہوتا ہے اس کو چھوڑ کر دوسرے کو اختیار کر لیا جاتا ہے اس کو کہتے ہیں التفات بھئی کیا کہتے ہیں؟ التفات التفات کہتے ہیں التفات مثلا تکلم کے انداز کو چھوڑ کر اچانک خطاب والا انداز شروع کر دیا جائے یا خطاب کو اچانک چھوڑ کر غیبت والا انداز ذکر کر دیا جائے تو اس کو کیا کہتے ہیں التفات ایک انداز کلام کو چھوڑ کر دوسرے انداز کو اختیار کرنا یہ التفات کہلاتا ہے اور اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ کلام کے اندر ملاحت اور شیرینی بڑھ جاتی ہے بھئی اگر ایک ہی انداز کا کلام چلتا رہے تو کلام کا لطف باقی نہیں رہتا لیکن جب ایک انداز کا کلام کرنے کے بعد پھر جب ‏دوسرے انداز کا کلام آئے گا تو نئے انداز کا کلام آیا نئی چیز آئی وكل جديد لذیذ اور ہر نئی چیز میں کیا ہے لذت ہے تو ‏لہذا کلام کا لطف دوبالا ہو جاتا ہے سننے والوں کی توجہ برقرار رہتی ہے اور ہاں یہ یاد رکھو تکلم خطاب اور غیبت ایک انداز کو چھوڑ کر دوسرے انداز کو اختیار کر لینا یہ کیا کہلاتا ہے التفات لیکن لیکن یہ نہیں کہ الگ الگ چیزوں کا ذکر ہو نہیں ایک ہی چیز کے بارے میں ایک ہی چیز کے بارے میں تکلم کا انداز چل رہا تھا اور اسی کے بارے میں آپ خطاب والا انداز لے آئیں تو یہ ہے التفات صورت سمجھ میں آرہی ہے؟ میں اپنی بات کر رہا تھا پھر میں نے آپ کی بات شروع کر دی یہ التفات نہیں ہے میں اپنے ‏بارے میں ہی بات کر رہا تھا اور پھر میں نے اپنے آپ ہی کو خطاب کرنا شروع کر دیا دیکھا پہلے میں نے اپنے آپ کو تکلم والا انداز میں اپنے لیے بات کر رہا تھا پھر اپنے ہی بارے میں بات کر رہا ہوں لیکن ‏کون سا انداز اپنا لیا خطاب والا تو پھر یہ ہے التفات یہ نہیں کہ میں نے آپ کے بارے میں بات شروع کر دی تو آپ کہیں یہ بھی التفات ہے نہیں نہیں ایک ہی ذات ایک ہی چیز ‏کے بارے میں ایک انداز کلام چل رہا تھا اور اس کو بدل کر دوسرا انداز اپنا لیا جائے صورت سمجھ میں آرہی ہے؟ جیسے یہاں دیکھو ابھی تک وہ اپنے آپ کو متکلم کے صیغوں کے ساتھ ذکر کر رہا تھا نبکی ہم کیا کر لیتے ہیں رو لیتے ہیں کأنّي غداة البين گویا کہ میں جدائی کی صبح کو وإن شفائي میری شفا کس کے اندر ‏ہے آنسوئوں کے بہانے میں ہے اور آگے اب اپنے آپ کو خطاب کر رہا ہے كدأبك من أم الحویرث کہ اے امرؤ القيس تیری عادت عنيزة کے عشق میں اسی طرح ہے جیسے کس کے معاملے میں تھی؟ ‏أم الحويرث کے معاملے میں تھی دیکھو اب اب بات اپنی ہی کر رہا ہے لیکن پہلے کس انداز میں کر رہا تھا تکلم اب کیا کہہ رہا ہے خطاب والے انداز میں کہ اے امرؤ القيس تیری عادت جیسے ‏پہلے تھی وہی عادت اب بھی ہے بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو یہ ہے التفات بھئی التفات گویا یوں سمجھو امرؤ القيس اپنے بارے میں بات کر رہا تھا پھر اپنے آپ کو خطاب کرنے لگا تو گویا یوں سمجھو اس نے اپنے آپ سے ‏اپنے جیسا ایک امرؤ القيس نکالا اس کو سامنے بٹھایا اور اب اس کو بعض و نصیحت کر رہا ہے یا صبر کی تلقین کر رہا ‏ہے کہ اے امرؤ القيس اس طرح کے حالات تجھ پر پہلے بھی آ چکے ہیں بھئی تو دیکھو بات وہی اپنی ہی کر رہا ہے لیکن انداز بدل گیا اور اس سے کلام کا لطف بڑھ گیا۔ جیسے قرآن کے اندر بھئی قرآن جو فصاحت و بلاغت کے اعلی ترین درجے پر ہے بھئی یاد رکھو جو انسان اپنے بارے میں جب کوئی بات کرتا ہے تو ضمیر استعمال کرتا ہے نام نہیں ذکر کرتا مثلا زید اپنے ‏بارے میں کوئی بات کرے گا تو کہے گا میں نے یہ کیا میں آج ادھر گیا تھا میں فلاں میں کے ساتھ ذکر کرے گا میں یہ ہم لیکن یوں نہیں کہے گا زید نے آج یہ کیا زید ادھر گیا تھا کوئی شخص اپنا نام نہیں لیتا متکلم اپنے لیے کیا استعمال کرتا ‏ہے ضمیر ضمیر مخاطب کے لیے بھی ضمیر استعمال کی جاتی ہے آپ کا کیا حال ہے آپ کہاں سے آئے ہیں آپ کیا ‏کرتے ہیں دیکھا آپ آپ یہ ضمیر استعمال ہو رہی ہے نام نہیں لیتے کہ زید کا کیا حال ہے زید کیا کرتا ہے تو متکلم اپنے لیے بھی ضمیر استعمال کرتا ہے اور مخاطب کے لیے بھی ضمیر استعمال کرتا ہے ہاں غائب کا نام لیا جاتا ‏ہے اولا نام پھر ضمیریں استعمال ہوتی ہیں زید میرے پاس کل آیا تھا وہ بڑا اچھا آدمی ہے دیکھو پہلی دفعہ کیا ذکر ہے نام تو ‏یاد رکھو یہ جو نام ہوتا ہے یہ غائب کے درجے میں ہے کیا ہے؟ نام جب بھی ذکر ہوگا معلوم ہوا کون سا انداز چل رہا ہے غیبت والا کون سا انداز چل رہا ہے؟ غیبت والا تو میں ذکر کر رہا تھا قرآن میں قرآن کے اندر دیکھیے بھئی الحمد للہ رب ‏العالمين تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے جو رب العالمین ہیں اس اللہ کے لیے نام ذکر ہو رہا ہے نام ذکر ہو رہا ہے اور نام کس درجے میں ہے؟ غیبت کے درجے میں تو اللہ کی حمد و ثناء بیان ہو رہی ہے لیکن غیبت کے انداز کے اندر تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے جو رب العالمين ہے ‏الرحمن الرحیم جو بڑا رحم کرنے والا ہے نہایت مہربان ہے دنیا میں بھی رحم کرنے والا ہے آخرت میں بھی رحم کرنے ‏والا ہے مالک يوم الدين جو قیامت کے دن کا مالک ہے صفات ذکر ہوتی چلی جارہی ہیں اور صفات ذکر ہوتی چلی جارہی ہیں اور پھر آگے آتا ہے إياك نعبد اے اللہ ہم تیری عبادت کرتے ہیں دیکھو پہلے غیبت کا انداز تھا اور اب إياك نعبد اب کون سا انداز شروع ہو گیا خطاب والا ‏اسی ایک ذات کے بارے میں تو یہ التفات ہے یہ کیا ہے؟ التفات ہے تو اس سے کلام کا لطف بڑھ جاتا ہے تو اولاً غیبت کے انداز میں اللہ کی صفات ذکر ہوئیں جو رب العالمین ہے جو ساری ‏کائنات کا نظام چلا رہا ہے ساری کائنات کی ہر ہر مخلوق کا وہ رب ہے ان کے ان کا پروردگار ہے ان کو اسباب زندگی ‏مہیا کرنے والا ہے اور ان کو ساری نعمتیں دینے والا ہے آگے آیا الرحمن الرحیم دنیا میں بھی ان پر ان کو نعمتیں دینے ‏والا ہے آخرت کے اندر بھی ان کو نعمتیں دینے والا ہے مالک يوم الدين وہ اتنی عظیم ذات ہے جو قیامت کے دن کی مالک ‏ہے جس کی جس دن اس کے سامنے کسی کو بولنے کی جرات نہیں ہوگی جب تک اس کی طرف سے اجازت نہیں ملے گی ‏اور جب اتنی صفات ذکر ہوئیں تو پڑھنے والا کہتا ہے اتنی عظیم ذات ہے اتنی اتنی زیادہ عظیم جس کی خوبیاں ہیں تو ‏تعارف بڑھتا جوں جوں صفا ذکر ہو رہی ہیں اللہ کا تعارف بڑھتا چلا جا رہا ہے یہاں تک کہ جب الرحمن الرحیم مالک يوم ‏الدين تک انسان پہنچتا ہے تو سوچتا ہے کہ وہ ذات جو اتنی عظیم ذات ہے اس کے ساتھ تو براہ راست خطاب کرنا چاہیے ‏لہذا براہ راست خطاب کرتا ہے اور کہتا ہے إياك نعبد وإياك نستعين اے اللہ ہم تیری عبادت کرتے ہیں اور تجھی سے مدد ‏مانگتے ہیں تو یہ ہے التفات بھئی معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہاں پر بھی شعر کے اندر دیکھیے بھئی كَدَأبِكَ مِنْ أُمِّ الْحُوَيْرِثِ قَبْلَهَا وَجَارَتِهَا أُمِّ الرَّبَابِ بِمَأْسَلِ اے امرؤ القيس عنيزة کے ‏عشق میں تیری عادت ایسی ہی ہے جیسے تیری عادت تھی ام الحويرث کے معاملے میں اس سے پہلے اور ام الحويرث کی ‏پڑوسن ام الرباب کے معاملے میں کوه ماصل میں إذا قامتا تزوعا المِسْكُ منهما نَسِيمُ الصَّبَا جاءَتْ بْرَيّ القَرَنْفُلِ قام يقوم کے معنی ہیں کھڑے ہونا تزوعا تزوع کے معنی ہیں خوشبو کا پھیل جانا خوشبو کا منتشر ہونا مسك وہ خوشبو ہے جو ہرن کے نافے سے خوشبو حاصل ہوتی ہے نہایت قیمتی خوشبو جسے آپ مشک کہتے ہیں بھئی ‏مشک نسيم الصبا نسیم کہتے ہیں وہ ہوا بہت ہی آہستہ چلنے والی خوشگوار ہوا بہت ہی دھیمے انداز میں آہستہ چلنے والی خوشگوار ہوا جو ہو اس کو بادہ نسیم کہتے ہیں۔ تو یہ نسیم یہاں یہ مصدر ہے بھئی مصدر ہے نَسَم يَنْسِمُ نَسْماً ونسيماً تو یہ مصدر ہے وصبا صبا کہتے ہیں مشرق سے آنے والی ہوا وہ ہوا جو مشرق کی طرف سے آئے مشرق کی طرف سے چلے اسے صبا کہتے ہیں اور اس کے ضد اور اس کے مخالف ہے دبور بھئی دبور وہ ہوا جو مغرب کی جانب سے آئے مغرب کی جانب سے چلے جاءت بري القرنفل ريا کہتے ہیں خوشبو کو بھئی خوشبو قرنفل قرنفل کہتے ہیں لونگ کو بھئی لونگ وہ جو مصالحہ خوشبو وغیرہ کے لیے سالن میں ڈالتے ہیں بھئی تو وہ لونگ ‏کو عربی میں کیا کہتے ہیں قرنفل اور یہ جمع ہے مفرد اس کا ہے قرنفلۃ قرنفلۃ اس کا مفرد اور یہ جمع ہے الفاظ کے معنی پتہ چل گیا بھئی؟ إذا قامتا تزوعا المِسْكُ منهما نَسِيمُ الصَّبَا جاءت بري القرنفل إذا قامتا وہ ام الحويرث اور ام الرباب جب وہ کھڑی ہوتی تھیں ‏جب وہ اٹھتی تھیں تزوعا المِسْكُ منهما تو مشک کی خوشبو ان دونوں سے پھیل جایا کرتی تھی وہ ایسی پاکیزہ اور ایسی ‏نعمتوں میں رہنے والی عورتیں تھیں کہ جب وہ اٹھتی تھیں کھڑی ہوتی تھیں چلتی تھیں تو ان سے ہر طرف مشک کی خوشبو پھیل جایا کرتی تھی نسيم الصباح جیسے کہ مشرق سے آنے والی بادہ نسیم جاءت برى القرنفل لونگ کی خوشبو لے کر جیسے مشرق سے آنے والی ہوا لونگ کی خوشبو لے کر آئے جاء کا معنی ہے آنا آنا اور آگے با ہے اور با کے ذریعے کسی فعل کو متعدی بھی بنایا جاتا ہے تو یہ فعل کو یہاں متعدی ‏بنا دیا تو اب جاء کا معنی آنا نہیں بلکہ لانا نَسِيمُ الصَّبَا جاءت برى القرنفل جیسے کہ مشرق سے چلنے والی بادہ نسیم لونگ ‏کی خوشبو لے کر آئے وہ جب اٹھتی تھیں تو ان سے مشک کی خوشبو پھیل جاتی تھی جیسے مشرق سے چلنے والی بادہ نسیم لونگ کی خوشبو ‏لے کر آئے معنی سمجھ میں آگیا؟ نسيم الصبا یہ نسيم الصباہ یہ منصوب ہے مضاف مضاف الیہ ہیں اور نسیم منصوب ہے یہ منصوب ہے مفعول مطلق ہونے کی بنا پر تو نسيم الصبا یہ مفعول مطلق ہے بھئی نَسَمَ نَسِيمَ الصَّبا فعل محذوف ہے اور یہ مفعول مطلق تشبیہ کے لیے ہے ضربته ضرب القاری میں نے اس کی پٹائی کی ای كضرب القاری ‏کس کی طرح کی پٹائی القاری جیسی تو مفعول مطلق کبھی تشبیہ کے لیے آتا ہے یہاں بھی تشبیہ کے لیے ہے جیسے کہ ‏مشرق سے چلنے والی باد نسیم لونگ کی خوشبو لے کر آئے تشبیہ سمجھ میں آئی جب وہ دونوں کھڑی ہوتی تھیں تو ان سے مشک کی خوشبو پھیل جاتی تھی جیسے کہ مشرق سے ‏چلنے والے باد نسیم لونگ کی خوشبو لے کر آئے معنی سمجھ میں آگیا بھئی؟ اور خصوصاً خوشبوؤں میں مشک اور لونگ کو ذکر کیا کیونکہ یہ دو خوشبوئیں عرب کے ہاں بڑی ہی اعلی اور عمدہ ‏شمار ہوتی تھیں ففاضت دموع العين مني صبابَةً على النحر حتى بل دمعي محملي فاض يفيض فيضاً وفُيُوضاً کا معنی ہے بہنا آنسو وغیرہ کا بہنا دموع جمع ہے دمع کی اور دمع بھی آنسو کو کہتے ہیں عبرة بھی کسے کہتے ہیں آنسو کو اور دمع بھی آنسو عين بھئی آنکھ صبابَة صبابہ کہتے ہیں عشق کو بھئی عشق و محبت یہ مصدر ہے على النحر نحر کہتے ہیں سینے کا اوپر والا حصہ یہ گردن کے ساتھ بالکل بھئی سینے کا اوپر والا حصہ یہ کیا کہلاتا ‏ہے؟ نحر اور اسی میں آپ دیکھتے ہیں یہ اخری کنارہ جو گردن کا ہے ایک نرم سا گڑھا پڑا ہوا ہے بھئی اور یہیں پر وہ اونٹ کو ‏نیزہ مارتے ہیں قربانی وغیرہ ذبح کرتے ہوئے اور اس کو کیا کہتے ہیں نحر کہتے ہیں تو نحر دراصل یہ سینے کے اوپر ‏والے حصے کو کہتے ہیں جو بالکل گردن کے ساتھ ہے حتى بلّ بَلَّ يَبُلُّ بَلّاً گیلا کرنا بھئی تر کرنا بَلَّ يَبُلُّ بَلّاً تر کر دینا گيلا کر دینا دمعی دموع آنسو کو کہتے ہیں محمل محمل کہتے ہیں پرتلے کو بھئی پرتله پرتله کہتے ہیں وہ پیٹی جس کے ساتھ تلوار کو کندھے سے لٹکایا جائے بھئی جیسے آج کل بندوق وغیرہ ہے اس کو پیٹی ‏کے ساتھ کندھے سے لٹکاتے ہیں اسی طرح تلوار کو جس پیٹی کے ساتھ کندھے سے لٹکایا جاتا تھا اسے پرتله کہتے ہیں ‏اور عربی میں اسے محمل کہتے ہیں محمل میم کے کسرہ کے ساتھ بھئی تو اردو میں اس کا کیا نام ہے؟ پرتله پرتله ففاضت دموع العين مني صبابَةً على النحر حتى بل دمعي محملي ففاضت بس بہ پڑے دموع العين مني میری آنکھ سے آنسو میری آنکھ سے آنسو میری آنکھ سے آنسو بہنے لگ پڑے صبابَةً یہ مفعول لہ ہے مفعول لہ جو ماقبل فعل کی علت بیان ‏کرتا ہے ضَرَبْتُهُ تَأْدِيباً میں نے اس کی پٹائی کی ادب سکھانے کے لیے یا قَعَدْتُ عن الحرب جُبْناً میں جنگ سے بیٹھ گیا کس ‏کی وجہ سے؟ بزدلی کی وجہ سے تو یہاں پر بھی صبابَةً میری آنکھ سے آنسو بہنے لگ پڑے صبابَةً عشق و محبت کی ‏وجہ سے مجھے جب أم الحويرث اور أم الرباب کی یاد آئی تو ان سے فرط محبت کی وجہ سے میری آنکھوں سے آنسو ‏بہنے لگ پڑے ففاضت دموع العين مني صبابَةً على النحر تو میری آنکھ سے عشق و محبت کی وجہ سے آنسو بہنے لگ پڑے عَلى النَحْرِ ‏میرے سینے پر (یعنی بہتے بہتے وہ آنسو کہاں تک پہنچ گئے میرے؟ اتنے زیادہ آنسو میں اتنا رویا کہ وہ سینے تک پہنچ ‏گئے حتى بل دمعي محملي یہاں تک کہ تر کر دیا میرے آنسوئوں نے میرے تلوار کے پرتلے کو گیلا کر دیا میرے آنسوئوں نے میری تلوار کے (یعنی اتنے زیادہ آنسو بہے ان کے غم کی وجہ سے میں اتنا رویا کہ ان ‏آنوئوں نے میرے سینے پر جو پرتلہ تھا جو پیٹی تھی تلوار کی وہ بھی اس سے گیلی ہو گئی معنی سمجھ میں آیا؟ پھر جلدی دیکھ لیجئے سارے اشعار بھئی وإن شفائي عبرة مهراقة فهل عند رسم دارس من معول اور یقینا میری شفا تو ‏بہائے ہوئے آنسوئوں کے اندر ہے بس کیا اس مٹے ہوئے نشان کے پاس کوئی رونے کی جگہ ہے جہاں رونا فائدہ دے ‏دے یا کیا اس مٹے ہوئے نشان کے پاس کوئی قابل اعتماد شخص ہے کہ جس پر اعتماد فائدہ دے دے اور استفہام انکاری ‏ہے کہ یقینا ایسا نہیں ہے كدأبك من أم الحويرث قبلها وجارتها أم الرباب بمأصل اے امرؤ القيس عنيزة کے عشق میں تیری عادت ایسی ہی ہے جیسے ‏تیری عادت تھی اس سے پہلے أم الحويرث کے معاملے میں اور اس کی پڑوسن أم الرباب کے معاملے میں کوه ماصل میں إذا قامتا تزوعا المِسكُ منهما نسيم الصبا جاءت بري القرنفل جب وہ دونوں کھڑی ہوتی تھیں تو ان سے مشک کی خوشبو پھیل ‏جایا کرتی تھی جیسے کہ باد نسیم جو ہے وہ لونگ کی خوشبو لے کر آئے ففاضت دموع العين مني صبابَةً على النحر حتى بل دمعي محملي ‏ پس میری آنکھ سے آنسو بہنے لگ پڑے عشق و محبت کی وجہ سے میرے سینے پر یہاں تک کہ انہوں نے میری تلوار ‏کے پرتلے کو گیلا کر دیا۔ چلیے بس بھئی هذا هو المراد والله أعلم بحقيقة الكلام بات اچھی طرح سمجھ میں آگئی جی کوئی ایسی بات تو نہیں جو سمجھ میں نہ آئی ہو چلیں اچھا
11 approved lectures · 6 of 11