Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

المعلقات السبع · dars-003

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Muhammad Adil
📍 Location Manchester, UK
📅 Approved Date 11 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 18
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
اچھا بھئی دیکھیے بھئی کتاب پر پہلا معلقہ قفا نبک ‏من ذکرى حبیب ومنزل بسقط اللواء بین الدخول فحومل ‏ فتوضح فالمقراۃ لم یعف رسمہا لما نسجتہا من جنوب وشمأل ‏ ترى بعر الآرام ‏فی عرصاتها وقیعانها كانہ حب فلفل ‏ كأني غداة البین یوم تحملوا لدى سمراۃ الحی ناقف حنظل یہ پہلا معلقہ ہے بھئی امرؤالقيس کا اور اکثر علماء کے نزدیک امرؤالقيس عرب کا سب سے بڑا شاعر گزرا ہے۔ اور میں ‏نے بتلایا کہ اس کا اصل نام حندج ہے، امرؤالقيس اس کا لقب ہے، لقب۔ اور یہ امرؤالقيس بھئی، یہ امرئ عربي کا عجیب لفظ ہے، بھئی۔ اعراب عموماً آخری حرف پر ہی آتا ہے وہیں ظاہر ہوتا ‏ہے، بھئی۔ لیکن یہ امرئ عربي کا عجیب عجیب لفظ ہے، اس میں آخری حرف پر جو اعراب ہوتا ہے ما قبل والے حرف پر اسی کے ‏مطابق، اسی کے موافق حرکت آئے گی، مثلاً امرئ حمزہ پر اگر پیش آیا، رفع آیا، تو را پر بھی پیش آئے گا۔ اگر حمزہ پر ‏فتحہ آیا، تو را پر بھی اس کے مطابق حرکت یعنی فتحہ آئے گا، بھئی۔ اور اگر حمزہ پر کسرہ آیا تو را پر بھی کسرہ آئے گا، اس کے موافق، مثلاً جآءنی امرُؤُ القيس دیکھو را پر بھی پیش ہے، ‏امرئ القيس رأيت امرَأَ القيس اور مررت بامرئ القيس، بھئی۔ تو پورے کلام عرب میں ایک یہ اور ایک اور لفظ ہے غالباً جن میں اس طرح ہے کہ آخری حرف سے ما قبل پر بھی وہی ‏حرکت آتی ہے۔ تو یہ شہزادہ تھا، البتہ یہ بری صحبت میں پڑ گیا اور خوب شراب نوشی کرتا، عورتوں کے پیچھے گھومتا پھرتا، ان کی ‏محبت میں اشعار کہتا وغیرہ۔ دیکھیے بھئی اب! قفا نبکی من ذكرى حبيبي ومنزل بسقط اللواء بین الدخول فحومل قفا امر کا صیغہ ہے، بھئی، تثنیہ۔ وقف یقف وقوفاً سے ٹھہرنا، رکنا، قف تو ٹھہر جا، قفا تم دونوں ٹھہر جاؤ، تو تثنیہ کا ‏صیغہ ہے۔ نبکی۔ بکا یبکی کے معنی ہیں رونا۔ اور اسی سے جمع متکلم کا صیغہ ہے نبکی، اصل میں آخر میں یا تھی، لیکن یہ مجزوم ‏ہے اور حالت جزمی میں آپ جانتے ہیں کہ ناقص کے آخر سے حرف علت گر جاتا ہے، تو نبکی کاف کے نیچے زیر ‏دیکھ کر دھوکے میں نہ پڑیں کہ یہ شاید متحرک ہے، بلکہ یہ اس وقت مجزوم ہے، بھئی، مجزوم ہے، اور ناقص میں جزم ‏کی علامت کیا ہے؟ آخر سے حرف علت گر جاتا ہے، تو یہاں یا گر چکی ہے، بھئی۔ اور یہ مجزوم ہے جواب امر ہونے ‏کی وجہ سے۔ تو یہ جواب امر ہونے کی وجہ سے مجزوم ہے، مثلاً بھئی آپ کسی سے کہتے ہیں اکرِم زیداً۔ زید کا اکرام کرو۔ اکرِم کا! ‏اگر آپ زید کا اکرام کریں گے اکرِم کا، تو میں بھی آپ کا اکرام کروں گا۔ تو یہ اکرِم کا یہ کیا ہے؟ مجزوم کیونکہ یہ کیا ‏ہے جوابِ امر، یہ تو امر نہیں ہے نا اکرِم یہ تو متکلم کا صیغہ ہے لیکن یہ جوابِ امر ہے، بھئی، جوابِ امر۔ اکرِم دیکھا ‏امر آیا! اکرِم زیداً تو زید کا اکرام کر اکرِم کا تو میں تیرا اکرام کروں گا۔ جوابِ امر بھی مجزوم ہوتا ہے، بھئی، مجزوم ہوتا ‏ہے۔ اور مجزوم کیوں ہوتا ہے؟ اس کی کیا وجہ ہے؟ بھئی دراصل وہاں شرط محذوف ہے۔ شرط محذوف ہے۔ اور موقع کے ‏مطابق شرط نکال لیں گے۔ اکرِم زیداً ان تُکرِم زیداً، فاکرِم کا یا اکرِم کا۔ ان تُکرِم زیداً اگر تو کیا کرے گا؟ زید کا اکرام ‏کرے گا اکرِم کا تو میں تیرا اکرام کروں گا۔ تو یہاں شرط محذوف ہے اور شرط کے لیے کیا آتا ہے؟ ان اور ان کیا کرتا ‏ہے؟ جزم دیتا ہے تو یہاں پر ان مع شرط کے محذوف ہے اور اس ان کی وجہ سے یہ جوابِ امر مجزوم ہوتا ہے۔ قفا اے میرے دو دوستو ٹھہر جاؤ نبکی تاکہ ہم رو لیں۔ تو اصل عبارت یوں ہو گئی قفا اے میرے دو دوستو! تم ٹھہر جاؤ ان ‏تقفا نبکی اگر تم ٹھہر جاؤ گے تو ہم رو لیں گے۔ یہ امرؤالقيس اپنے ساتھی کے ہمراہ یا ساتھیوں کے ہمراہ کسی مقام سے گزر رہا ہے اور اس مقام پر کسی زمانے میں اس ‏کی عاشقہ کا گھر تھا اور عاشقہ رہتی تھی تو اس کو اپنا وہ زمانہ یاد آ گیا اور اس کا دل غم سے بھر آیا، وہاں کھڑا ہوا، ‏اپنے ساتھیوں کو بھی کھڑا کیا اور پھر خود بھی رو رہا ہے اور انہیں بھی رونے کی دعوت دے رہا ہے، بھئی۔ تو کہتا ‏ہے قفا نبکی اے میرے دو ساتھیو! ٹھہر جاؤ تاکہ ہم رو لیں من ذكرى حبيبي ومنزل۔ ذكرى کا معنی ہے یاد، بھئی، یاد کرنا۔ یاد کرنا۔ حبیب یہ محبوب کو کہتے ہیں۔ تو یہ حبیب فعیل بمعنی مفعول کے ہے اور ‏مذکر اور مؤنث دونوں کے لیے اسی طرح استعمال ہوتا ہے۔ منزل گھر کو کہتے ہیں، بھئی۔ بسقط اللواء سقط کہتے ہیں ‏کنارے کو، بھئی۔ کنارے۔ اور یہ مثلث الف ہے یعنی اس کے فا حرف پر تینوں طرح کی حرکتیں عربوں سے سنی گئی ہیں سقط، سقط اور سُقط۔ سین ‏پر تینوں حرکتیں عربوں سے سنی گئی ہیں۔ اور یہ کس کو کہتے ہیں؟ کنارے کو۔ لوا لوا کہتے ہیں ریت کا بل کھاتا ہوا ‏ٹیلا۔ ریت کا بل کھاتا ہوا ٹیلا۔ تو سقط جو ہے وہ ریت کے ٹیلے کے کنارے کو بھی کہتے ہیں اور ویسے بھی ہر چیز کے کنارے کو کیا کہتے ہیں؟ ‏سقط کسے کہتے ہیں؟ ریت کے ٹیلے کے کنارے کو بھی اور ویسے بھی ہر چیز کے کنارے کو۔ اور لوا کسے کہتے ہیں؟ ‏ریت کا بل کھاتا ہوا ٹیلا۔ بھئی آپ نے اگر دیکھا ہو ریگستانی علاقے میں اکثر تیز ہوا چلتی رہتی ہے اور وہ ریت اڑاتی ‏رہتی ہے اور وہ ریت ایک طرف کو وہ آہستہ آہستہ ٹیلا سا بن جاتا ہے اور وہ اس کا اوپر والا حصہ جیسے بل کھا رہا ہو ‏اس طرح کی صورت اس کی ہوتی ہے تو وہ کیا ہے ریت کا بل کھاتا ہوا ٹیلا۔ تو سقط اللواء کا کیا معنی ہوا؟ ریت کے بل کھاتے ہوئے ٹیلے کا کنارہ۔ تو سقط کا سقط کا اپنا معنی بھی یہ ہے ریت کے ‏ٹیلے کا کنارہ۔ لیکن یہاں صرف کنارے کے معنی میں ہے کیوں؟ کیونکہ ریت کے ٹیلے کا ذکر تو خود آگے آ رہا ہے۔ تو ‏سقط کا کیا معنی ہوا یہاں؟ کنارہ۔ بسقط اللواء ریت کے بل کھاتے ہوئے ٹیلے کے کنارے پر۔ اور بسقط اللواء یہ با بمعنی فی کے ہے ای فی سقط اللواء، فی سقط اللواء۔ بين الدخول فحومل۔ دخول اور یہ حومل یہ جگہوں ‏کے نام ہیں، بھئی۔ جگہوں کے نام ہیں۔ تو امرؤالقيس کہتا ہے قفا نبک من ذكرى حبيبي ومنزل اے میرے دو ساتھیو! ٹھہر جاؤ نبکی تاکہ ہم رو لیں من ذكرى ‏حبيبي ومنزل۔ یہ من جو ہے یہ کئی معانی کے لیے آتا ہے جیسے ابتدا کے لیے ہے، بھئی۔ اسی طرح یہ تعلیل کے لیے بھی آتا ہے علت ‏اور وجہ بیان کرنے کے لیے۔ ای لأجل ذكرى حبيبي ومنزل کس وجہ سے؟ محبوب کو اور اس کے گھر کو یاد کرنے کی ‏وجہ سے۔ اے میرے دو ساتھیو! ٹھہر جاؤ تاکہ محبوب کو اور اس کے گھر کو یاد کر کے ہم رو لیں، اس کی وجہ سے ہم ‏رو لیں۔ بسقط اللواء کہاں پر؟ ریت کے بل کھاتے ہوئے ٹیلے کے کنارے پر۔ اور یہ ریت کا اچھا اور یہ کہاں پر ہے؟ ریت کا بل کھاتا ہوا بل کھاتے ہوئے ٹیلا کہاں پر ہے؟ دخول اور پھر حومل مقام ‏کے درمیان میں، بھئی۔ جی! قفا نبک من ذكرى حبيبي ومنزل اے میرے دو دوستو! ٹھہر جاؤ تاکہ ریت کے، تاکہ دخول اور حومل کے درمیان ‏ریت کے بل کھاتے ہوئے ٹیلے کے کنارے پر ہم اپنے محبوب کو اور اس کے گھر کو یاد کر کے رو لیں۔ ترجمہ سمجھ ‏میں آرہا ہے بھئی؟ جی! تاکہ اس کو یاد کر کے ہم رو لیں۔ اچھا انہوں نے کہا کہ وہ گھر کہاں پر ہے ؟ ریت کے بل کھاتے ہوئے ٹیلے کے کنارے پر ۔ ‏ بھئی عرب جو تھے یہ اکثر خانہ بدوشوں جیسی زندگی گزارتے تھے۔ عرب کے ہاں پانی اور سبزہ بڑا کم تھا، تو لہٰذا یہ ‏جہاں کہیں ان کو پانی وغیرہ مل جاتا، وہاں خیمے لگا لیتے اور کچھ وقت گزارتے، جب پانی اور سبزہ ختم ہوتا، وہاں سے ‏خیمے اکھاڑتے اور کسی دوسری جگہ جہاں پانی وغیرہ ہوتا، وہاں جا کر رہنا شروع کر دیتے تو عموماً یہ خیموں کے ‏اندر زندگی گزارتے تھے اور کہا بسقط اللواء وہ اس کا گھر، یعنی اس کے خیمے کہاں پر ہیں، کہاں پر تھا؟ ریت کے بل ‏کھاتے ہوئے ٹیلے کے کنارے پر۔ بھئی کنارے پر ، کیا معنی ؟ وجہ یہ کہ جب خیمہ لگائیں گے، تو ظاہر سی بات ہے خیمہ وہ صرف ریت پر اتنا صحیح ‏مضبوط نہیں لگے گا، بلکہ اس کے لیے کچھ سخت جگہ چاہیے۔ کیا چاہیے؟ سخت جگہ۔ تو جہاں ریت کا ٹیلا ختم ہوگا، ‏وہاں کیا شروع ہو رہی ہے؟ کچھ سخت زمین شروع ہو رہی ہے، تو وہاں پر وہ خیمہ وغیرہ لگاتے، تاکہ مضبوطی سے ‏اچھی طرح خیمہ لگ جائے، بھئی۔ اسی لیے کہا کہ وہ کہاں پر تھا وہ گھر؟ ریت کے بل کھاتے ہوئے ٹیلے کے کنارے ‏پر اور دخول اور حومل کے درمیان۔ فتوضح فالمقرات لم يعفر اسمها لما نسجتها من جنوب وشمال توضح یہ بھی جگہ کا نام ہے۔ مقرات یہ بھی جگہ کا نام ہے۔ ‏اور توضح کا عطف ہے ما قبل حومل یا دخول پر اور وہ مجرور ہیں، بھئی۔ بین الدخول فحومل یہ سارے کیا ہیں؟ مجرور ‏کیونکہ بین کے لیے یہ کیا بن رہے ہیں مضافٌ الیہ اور مضافٌ الیہ مجرور ہوتا ہے۔ تو پھر فوضح پر یہ فتحہ کیوں آ رہا ہے؟ تو جواب یہ کہ دراصل یہ غیر منصرِف ہے اور غیر منصرِف پر جر آتا ہی کس ‏صورت میں ہے؟ فتحہ کی صورت میں آتا ہے، بھئی۔ تو اس میں دو سبب کیا ہیں؟ ایک عالمیت ہے، نام ہے جگہ کا اور دوسرا وزنِ فعل ہے، بھئی۔ وزنِ فعل ہے۔ اور وزنِ فعل جو ہے وہ سبب بنے گا غیر انصراف کا۔ آپ نے پڑھا ہے کہ اس کے لیے دو شرطیں ہیں، یا تو وہ وزن ‏خاص ہونا چاہیے کس کے ساتھ؟ فعل کے ساتھ۔ اسم میں پایا ہی نہ جائے اسم میں پایا بھی جائے تو کہاں سے نقل ہو کر ‏آئے؟ فعل سے۔ تو ایک وزن ہے مثلاً ضُرِب فُعِل، یہ فُعِل وزن اسم میں نہیں پایا جاتا ہو۔ لذا آپ کسی کا نام کیا رکھ دیں؟ ضُرِبَ رکھ دیں، تو یہ ضُرِبَ کہاں سے نقل کر کے لائے؟ فعل سے نقل کر کے آئے، تو ‏پھر اس صورت میں یہ سبب بنے گا کس کا؟ غیر انصراف کا۔ اور اگر ایسا وزن نہیں ہے جو فعل کے ساتھ خاص ہو، ‏بلکہ ایسا وزن ہے جو فعل میں بھی پایا جاتا ہے اور اسم میں، تو پھر اس کی دو شرطیں اور ہیں، ایک تو یہ کہ اس کے ‏شروع میں اتین میں سے کوئی حرف ہونا چاہیے۔ نیز وہ حا کو بھی قبول نہ کرتا ہو یعنی اس کے ساتھ مؤنث کے لیے فتوزِحَت یہ تا گول تا اس کے ساتھ نہیں جڑنی چاہیے، ‏بھئی۔ بات سمجھ میں آرہی ہے؟ جی! اور یہاں دونوں شرطیں پوری ہیں، یہ تا کو بھی قبول نہیں کرتا یہ تو جگہ کا نام ہے، ‏بھئی، اس میں مذکر مؤنث والی بات ہی نہیں ہے کہ کوئی نر ہو اس میں اور کوئی مادہ ہو، اور نیز اس کے شروع میں یہ ‏تا بھی آ رہی ہے حروفِ اتین میں سے، یہ تا زائد ہے، زائد ہے۔ سمجھ میں آرہی ہے بات، بھئی؟ یہ و ض ح یہ ہے اس کا ‏مادہ۔ تو لہٰذا وہ شرط پوری ہوئی لہٰذا دو اسباب کیا ہوئے اس میں؟ ایک عالمیت اور دوسرا وزنِ فعل فتوزِحَ۔ فالمقرات۔ مقرات ‏بھی کیا ہے؟ جگہ کا نام۔ یہ بھی غیر منصرِف ہے۔ دو سبب کیا ہیں؟ عالمیت اور تانیث تانیث گول تا نظر آ رہی ہے آپ کو، ‏دو سبب ہیں، لیکن اس پر کسرہ پڑھ رہے ہیں آپ، کیونکہ اس پر الف لام داخل ہے اور غیر منصرِف پر الف لام آ جائے ‏تو اس پر کسرہ آ جاتا ہے، بھئی۔ تو یہ وہ ریت کا بل کھاتا ہوا کنارہ جو ہے دخول اور حومل کے درمیان ہے، پھر توضح اور مقرات کے درمیان ہے، لم ‏يعفر اسمها عفا یعفو کے معنی ہیں مٹ جانا، بھئی، مٹنا۔ ختم ہو جانا۔ رسمہا رسم کہتے ہیں نشان کو۔ نشان بھئی، کسی چیز کا باقی رہ جانے والا نشان۔ لیما نسجتها نسجہ کے معنی ہیں بننا۔ جیسے کپڑے وغیرہ کو بُنا جاتا ہے، بھئی۔ سویٹر وغیرہ کو بُنا جاتا ہے، لیکن یہاں ‏بُننا مراد نہیں ہے، بلکہ ہواؤں کا اختلاف مراد ہے۔ ہواؤں کا اختلاف۔ من جنوب وشمال یہ من بیان ہے، بھئی۔ ما ما نسجتها ‏کا۔ جنوب کہتے ہیں جنوب کی طرف سے آنے والی ہوا وہ سمت کیا ہوگی؟ جنوب۔ اور وہاں سے آنے والی ہوا کیا ہوگی؟ ‏جنوب۔ بات سمجھ میں آگئی؟ اور اسی طرح شمال کی طرف سے جو ہوا آئے، شمال کی طرف سے ہوا چلے، اسے شمال کہتے ‏ہیں، بھئی۔ اس میں اور بھی بہت سے لغات ہیں، پانچ چھ لغات انہوں نے لکھی ہوئی ہیں، شمال، شمأ ل، شأمل، شمول، شمل ‏اور شمل وغیرہ، بھئی۔ فتوضح فالمقرات لم يعفر اسمها لما نسجتها من جنوب وشمال وہ گھر کہاں پر ہے؟ توضح اور مقرات جگہ کے درمیان میں ‏ہے۔ لم يعفر اسمها نہیں مٹے رسمہا اس گھر کے نشان۔ اس گھر کا نشان نہیں مٹا، نہیں مٹا۔ بھئی میں نے ذکر کیا تھا اس کو آپ سب نے زبانی یاد کرنا ہے، بھئی۔ ہم آہستہ آہستہ چلیں گے اور ہفتے میں اگر تین دن ‏سبق ہوتا ہے، آپ دس بارہ اشعار زیادہ سے زیادہ ہو جائیں گے، وہ پھر اگلے ہفتے آپ نے مجھے سنانے ہوں گے، بھئی۔ ‏اور اشعار بھی یاد ہوں، ان کا ترجمہ بھی یاد ہو، اور جو مفرد آئے اس کی جمع یاد کر لیں اور جو جمع آئے اس کی مفرد ‏تاکہ پورا فائدہ ہو جائے، بھئی۔ چند دنوں میں ہی آپ اس کا فائدہ محسوس کرنے لگیں گے، بھئی۔ تو لم يعفر اسمها رسم کسے کہتے ہیں؟ نشان کو، بھئی، اور اس کی جمع ارسوم اور رسوم آتی ہے۔ تو وہ لم يعفر اسمها اس گھر کے نشا کا نشان نہیں مٹا۔ رسمہا یہ ھا ضمیر راجع ہے منزل کو۔ آپ کہیں گے منزل تو مذکر ہے اور ہا ضمیر کونسی راجع کر دی؟ مؤنث۔ جواب یہ کہ منزل کو من مؤنث ضمیر راجع کی ‏دار کی تاویل میں۔ دار کا بھی کیا معنی؟ گھر۔ جو منزل ہے وہ کیا ہے؟ دار ہے۔ تو بسا اوقات ایک ہی چیز کے مذکر مؤنث ‏دونوں نام ہوں تو پھر دونوں ضمیریں اس کی طرف لوٹا دی جاتی ہیں، کبھی مذکر اور کبھی مؤنث۔ تو منزل کیا ہے؟ دار ‏اور دار تو کیا ہے؟ مؤنث، لہٰذا کون سی ضمیر راجع کر دی؟ مؤنث۔ لم يعفر اسمها اس گھر کا نشان نہیں مٹا۔ اس گھر کے نشان کیا ہوں گے، بھئی؟ تو کہا لم يعفر اسمها اس گھر کا نشان نہیں مٹا، بھئی اس کے نشانات کیا ہیں؟ نشانات یہ ہیں کہ ان کے جانور وغیرہ ہوتے ‏تھے تو وہاں آس پاس وہ جانوروں کی مینگنیاں وغیرہ پڑی ہیں، بھئی۔ تو جانوروں کی وہ مینگنیاں وغیرہ، یا اسی طرح ‏کچھ راکھ وغیرہ پڑی ہے یہ جو چیزیں کھانا وغیرہ بناتے تھے یا وہ پتھر، بھئی، جس سے چولہے کا کام لیتے تھے، دو ‏تین چار پتھر جن کے نیچے آگ جلایا کرتی تھی تو وہ سیاہ رنگ کے نشان پڑ جاتے ہیں، بھئی آگ جلائی جائے آہستہ ‏آہستہ تو وہ جو پتھر وغیرہ پڑے ہیں، یا خیمے کے گرد و گرد، بھئی خیمے کے گرد و گرد وہ منڈیر سی بنا لیتے ہیں، ‏تاکہ خیمے کے اندر بارش کا پانی وغیرہ نہ آئے، بھئی۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو وہ وہ تو خیمے وغیرہ تو اکھاڑ کر لے جا چکے ہیں، لیکن وہ نشانات یعنی وہ جانوروں کی ‏مینگنیاں وغیرہ جو جہاں جانوروں کو باندھتے تھے وہاں کثرت سے کچھ نہ کچھ پڑے نشانات ان کے باقی ہیں، بھئی۔ ‏اسی طرح وہ خیمے کے گرد و گرد کے پتھروں کے نشانات پڑے ہوئے ہیں، اسی طرح وہ جو راکھ وغیرہ اور چولہے ‏کی صورت میں جو پتھر رکھے ہوتے تھے، وہ سیاہ رنگ کے پتھروں کے نشانات، یہ سارے آثار بتلا رہے ہیں کہ ان ‏کے ان کے خیمے کہاں پر ہوا کرتے تھے؟ اس مقام پر ان کے خیمے تھے۔ صورت ذہن میں آگئی اچھی طرح؟ جی!‏ تو کہتے ہیں لم يعفر اسمها اس کے نشانات نہیں مٹے ليما نسجتها ما سے مراد ہے ہوا، بھئی۔ ہوا ریحٌ اور نسجت یہ اس کا ‏صلہ ہے، ما موصولہ ہے اور اس سے مراد کیا ہے؟ ہوا اور نسجت اس کا صلہ ہے۔ اور یہ ہا ضمیر پھر اسی منزل کو راجع ہے، بھئی، منزل کو راجع ہے۔ تو یہ نسجت صلہ ہوا ما کا، اور آپ جانتے ہیں صلے کے اندر صلے کے لیے موصول کے ساتھ کوئی ربط چاہیے، کوئی ‏جوڑ چاہیے، بھئی۔ الذی ضربک یہ ضربک کیا ہے؟ الذی کا اس میں موصول کے بعد یاد رکھیے ہمیشہ ایک جملہ آتا ہے ‏جو اس کا صلہ کہلاتا ہے۔ صلہ اور اس صلے کو موصول کے ساتھ جوڑنے کے لیے ربط چاہیے اور یہ ربط عموماً ضمیر وغیرہ کے ذریعے دیا ‏جاتا ہے، ربط کس کے ذریعے ہوتا ہے عموماً؟ ضمیر کے ذریعے۔ تو لھا اور اس میں موصول مذکر ہوگا تو ضمیر بھی ‏مذکر کی چاہیے۔ اگر اس میں موصول مؤنث ہے التی التی ضربت کا تو پھر ضمیر بھی کونسی چاہیے؟ مؤنث کی چاہیے ‏تاکہ ربط آ جائے، بھئی۔ اب یہاں ما موصولہ ہے اور ما موصولہ کیا ہے؟ مذکر ہے اور نسجت اس کے اندر ہیا ضمیر یہ ربط دے رہی ہے، یہ ‏ضمیر راجع ہے ما موصولہ کو۔ لیما ما سے کیا مراد ہے؟ ہوا، لِما اس ہوا کی وجہ سے نسجت جو بدلتی ہے ہا کہاں پر؟ اس گھر پر یا ان جگہوں پر وہ جو ‏پیچھے چار جگہیں ذکر کر دیں دخول، حومل، توضح اور مقرات ان جگہوں پر جو ہوا بدلتی ہے یا اس گھر پر جو ہوا بدلتی ‏ہے۔ تو ما کیا ہے؟ مذکر اور نسجت کیا ہے اس کا صلہ اور اس میں کون سی ضمیر راجع کی گئی ہے؟ مؤنث کی تو اشکال ‏ہوتا ہے کہ یہ تو یہاں تو مذکر کی ضمیر چاہیے تھی، مؤنث کی ضمیر کیوں راجع کی؟ تو جواب یہ ہے معنی کا لحاظ ‏رکھتے ہوئے۔ کس کا لحاظ رکھا؟ معنی کا لحاظ رکھا۔ یاد رکھیے ضمیر لوٹاتے ہوئے بسا اوقات معنی کا لحاظ کر لیا جاتا ہے۔ معنی کا ‏لحاظ جیسے ابھی منزل تھا وہ کس تاویل میں کر لیا؟ دار۔ جو منزل ہے وہ کیا ہے؟ دار ہے۔ تو یہاں معنی کا لحاظ کیا کیونکہ ما سے مراد ہے ہوا ریحٌ اور ریح کا لفظ عربی میں مؤنث استعمال ہوتا ہے تو اس لیے ‏کون سی ضمیر راجع کر دی؟ مؤنث کی ضمیر راجع کر دی۔ اور یہ من آگے اسی کا بیان ہے۔ ليما نسجتھا اس وجہ سے کہ اس جگہ پر ہواؤں کا اختلاف ہے، ہوا کا بھئی کون سی ہوا کا اختلاف ہے؟ من بیان آ گیا من ‏جنوبی وشمالی یعنی جنوبی اور شمالی ہوا کو یعنی یہ من بیانیہ ہے اس کا ترجمہ یعنی کے ساتھ کرتے ہیں یا دوسرا بہترین ‏طریقہ یہ ہے یہ من کس کا بیان ہے؟ ما کا کس کا بیان ہے؟ ما وہ ہوا کون سی ہوا ہے؟ بتا دیا کون سی ہوا ہے؟ ہاں تو یہ یہ جنوبی اور شمالی ہوا یہ بیان ہے کس کا؟ ما کا لہٰذا اس ما کو ہٹائیں اس کی جگہ وہ بیان کو رکھ دیں۔ بموجب ‏شمالی اور جنوبی ہوا کے اختلاف کی وجہ شمالی اور جنوبی ہوا کے اختلاف کی وجہ سے۔ ترجمہ سمجھ میں آرہا ہے ‏بھئی؟ یہ عام کتابوں میں یہ عام عبارت اسی طرح استعمال ہوگی آپ غور کرنا کہ ما موصولہ وغیرہ آتا ہے اور ما ‏موصولہ تو پتہ نہیں چلتا اس سے کیا مراد ہے تو آگے کیا کیا جاتا ہے من کے ساتھ اس کا بیان کیا جاتا ہے تو آپ ترجمہ ‏ایک طریقہ یہ ہے کہ من کا ترجمہ کس کے ساتھ کریں؟ یعنی کے ساتھ۔ ليما نسجتھا اس وجہ سے کہ ہوا کا اختلاف ہے ‏یعنی کون سی ہوا یعنی کہ شمالی اور جنوبی ہوا دوسرا طریقہ کیا ہے اس ما کو ہٹائیں ترجمے میں ما کو ذکر ہی نہ کریں ‏اور ما کی جگہ کس کو ذکر کر دیں؟ اس بیان کو اٹھا کر لے آئیں اس وجہ سے کہ شمالی اور جنوبی ہوا کا اس جگہ پر اختلاف ہے ترجمہ سمجھ میں آرہا ہے بھئی؟ جی!‏ بھئی شمالی اور جنوبی ہوا کا اس پر اختلاف ہے۔ اس وجہ سے اس کے نشانات نہیں مٹے کیا معنی نہیں مٹے شمالی اور ‏جنوبی ہوا کے اختلاف بھئی معنی یہ ہے کہنا یہ چاہتا ہے کہ بھئی وہ کچھ پتھر پڑے ہیں کچھ مینگنیاں پڑی ہیں کچھ راکھ ‏لکڑی کے جلے ہوئے ٹکڑے لکڑیوں کے پڑے ہیں، بھئی اور صحرا میں ہوا چلتی ہے وہ ریت کو اٹھا کر چیزوں پر ‏ڈالتی رہتی ہے، بھئی تو شمالی ہوا جب چلتی ہے وہ ریت لاتی ہے لاتی ہے آہستہ آہستہ ریت کے اندر یہ چیزیں چھپ ‏جاتی ہیں، لیکن پھر دوسرے وقت جنوبی ہوا جب چلنے لگتی ہے وہ ان زرا ریت کے ذرات کو پھر اڑا دیتی ہے اور آہستہ ‏آہستہ وہ چیزیں پھر نکل آتی ہیں۔ پھر بعض اوقات جنوبی ہوا جو ہے وہ کیا کرتی ہے اس پر ریت کو لے آتی ہے ریت کے ‏اندر یہ اچھی خاصی حد تک چھپ جاتے ہیں، لیکن پھر دوسرے وقت میں جب شمالی ہوا چلتی ہے وہ کیا کرتی ہے اس ‏ریت کو پھر اڑا کر ان چیزوں کو واضح کر دیتی ہے یہ معنی ہے شمالی اور جنوبی ہواؤں کے اختلاف کی وجہ سے اس ‏کے نشانات ابھی تک مٹے نہیں ہیں، بھئی۔ اور یہ ہواؤں کے اختلاف کو نسجت کے ساتھ ذکر کیا اور نسجہ کا کیا معنی ہوتا ہے؟ بننا، بننا جیسے کپڑے کا بننا کپڑے ‏کو بنتے کیسے ہیں؟ ایک دھاگا لمبائی میں ہوتا ہے ایک چوڑائی میں تانا اور بانا تو ایک کبھی چوڑائی والا دھاگا آئے گا ‏پھر اس کے اوپر لمبائی والا دھاگا آئے گا پھر چوڑائی والا آئے گا پھر لمبائی والا ترتیب ایک کے بعد دوسرا دھاگا آتا چلا ‏جاتا ہے تو یہاں بھی اسی طرح ایک ہوا کے بعد ایک طرف کی ہوا آتی ہے اور پھر کبھی دوسری طرف کی ہوا آتی ہے تو ‏وہی بننے جیسی صورت بن گئی۔ معنی سمجھ میں آگیا۔ قفا نبکی من ذكرى حبيبي ومنزل بسقط اللواء بين الدخول فحومل فوضح فالمقرات لم يعفر اسمها لما نسجتها من جنوب وشمال ‏اے میرے دو ساتھیو! ٹھہر جاؤ تاکہ ریت کے، تاکہ دخول اور حومل کے درمیان ریت کے بل کھاتے ہوئے ٹیلے کے ‏کنارے پر اور توضح اور مقرات جگہوں کے درمیان میں تھا لم يعفر اسمها اس گھر کے نشان نہیں مٹے اس وجہ سے کہ ‏اس پر شمالی اور جنوبی ہواؤں کا اختلاف ہے اس وجہ سے کہ اس پر شمالی اور جنوبی ہوائیں بدلتی رہتی ہیں۔ معنی سمجھ میں آگیا؟ جی!‏ اب آئیے ذرا تفصیل میں، بھئی۔ قفا نبکی من ذكرى حبيبي ومنزل بسقط اللواء بين الدخول فحومل یہ قفا تثنیہ کا صیغہ آیا، اس پر علماء نے بحث کی ہے۔ تو بعض علماء فرماتے ہیں یہ تثنیہ کا صیغہ ہے اور امرؤالقيس اپنے دو ساتھیوں کو کہہ رہا ہے قفا کہ تم دونوں ٹھہر ‏جاؤ۔ جب ساتھی دو ہیں تو صیغہ بھی کونسا چاہیے؟ تثنیہ والا چاہیے، لہٰذا قفا اپنے اصل معنی میں استعمال ہو رہا ہے، ‏بھئی۔ اور مخاطب یہاں دو ساتھی ہی ہیں۔ مگر جمہور علماء اس بات کی طرف گئے ہیں کہ نہیں، یہ اپنے ایک ہی ساتھی کو خطاب کر رہا ہے، البتہ صیغہ قفا ‏استعمال کیا۔ ساتھی ایک ہی ہے، بھئی۔ ساتھی ایک ہی ہے، چنانچہ اگلا دوسرا تیسرے شعر میں آپ دیکھیں ترا باعرالارامی تو دیکھ رہا ہے، دیکھو مخاطب مفرد ‏کا صیغہ آیا۔ تو بہرحال علماء فرماتے ہیں کہ یہ قفا کیا ہے؟ صیغہ الف کے ساتھ ہے، لیکن مخاطب ایک ہی ساتھی ہے۔ تو پھر ایک ساتھی کے لیے تثنیہ کا صیغہ کیوں استعمال کیا؟ تو علماء نے کئی جوابات دیے۔ بعض علماء فرماتے ہیں کہ عرب کا یہ طریقہ ہے، وہ تثنیہ کے صیغے کو مفرد کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں، تثنیہ ‏کے لیے بھی کرتے ہیں، جمع کے لیے بھی کرتے ہیں، تو مخاطب چاہے ایک ہو، دو ہوں یا زیادہ، سب کے لیے عرب ‏کونسا صیغہ استعمال کر لیتے ہیں؟ تثنیہ کا صیغہ استعمال کر لیتے ہیں۔ تو یہاں بھی ساتھی ایک ہے لیکن مفرد کے لیے بھی کیا استعمال کر لیتے ہیں عرب؟ تثنیہ کا صیغہ استعمال کر لیتے ہیں ‏اور اس کی مثال وہ فرماتے ہیں قرآن میں بھی موجود ہے قرآن میں بھی عربوں عربی پر مشتمل ہے تو عربوں کے انداز ‏میں کلام ہوتا ہے وہاں پر اور وہاں پر قرآن میں اللہ فرماتے ہیں القیا في جہنم القيا في جہنم یہ خطاب ہے داروغہ جہنم مالک کو، بھئی۔ جہنم کے جو داروغہ ہیں کیا معنی داروغہ؟ نگران ہیں جو ذمہ ‏دار ہیں جہنم کے جو ذمہ دار اور نگران ہیں مالک ان کو خطاب کیا جا رہا ہے اور کیا کہا گیا القيا في جہنم کہ جہنم میں ڈال دو۔ تو ہونا تو کیا چاہیے؟ القِ لیکن کونسا صیغہ ذکر کیا گیا تثنیہ کیونکہ عرب کا طریقہ ہے تثنیہ کا ‏صیغہ مفرد کیلئے بھی اور جمع کیلئے بھی استعمال کرتے ہیں ‏ جبکہ بعض علماء فرماتے ہیں کہ یہ جو الف ہے یہ جو الف ہے یہ تکرارِ فعل پر دلالت کے لیے لایا گیا۔ مخاطب تو ایک ہی ہے، امرؤالقيس کس سے ذکر کس سے بات کر رہا ہے؟ اپنے ایک ہی ساتھی سے بات کر رہا ہے، ‏لیکن یہ جو الف ساتھ ذکر کیا گیا، یہ تکرارِ فعل پر دلالت کر رہا ہے۔ اصل میں ہے قف قف دو مرتبہ۔ ٹھہر جا، ٹھہر جا۔ اور پھر ایک قف کو حذف کر دیا گیا اور اس پر دلالت کرنے کے لیے کہ یہ والا قف دو دفعہ ہے، اس کے لیے کس کو ‏بڑھا دیا گیا؟ الف۔ تو یہ الف یہ تثنیہ مخاطب پر نہیں دلالت کر رہا۔ یوں کہیں یہ الف مخاطب کے دو ہونے پر دلالت نہیں کر رہا بلکہ اس فعل کے دو ‏مرتبہ ہونے پر یعنی یوں کہیں تکرارِ فعل پر دلالت کر رہا ہے۔ کس پر؟ تکرارِ فعل پر دلالت کر رہا ہے۔ اور اصل میں کیا تھا؟ قف قف۔ بھئی دو دفعہ فعل کو کیوں لایا گیا؟ کلام میں تاکید پیدا کرنے کے لیے۔ آپ بھی دیکھیں آپ کی بھی جب کسی بات میں زور ‏پیدا کرنا ہو اس کو دو دفعہ تین دفعہ ذکر کر دیتے ہیں، مثلاً آپ کا ایک ساتھی ہے کچھ کرنے لگا آپ نے کہا بس کرو۔ اور ایک صورت یہ آپ اس کو کہتے ہیں بس کرو، بس کرو۔ کس میں زور زیادہ؟ ظاہر سی بات ہے دو دفعہ جب آپ اس کو کہیں گے۔ صورت سمجھ میں آگئی تو کلام میں تاکید اور زور پیدا کرنے کے لیے اس کو زیادہ دفعہ ذکر کیا جاتا ہے اور اس کی ‏مثال بھی کہتے ہیں قرآن میں موجود ہے قرآن میں موجود ہے۔ ابو عثمان مازنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قرآن میں اللہ کا قول ذکر ہے قال ربِرجعون یہ حاشیے میں آپ کو مل جائے گا، ‏بھئی۔ قال ربِرجعون ربی اصلی میں کیا تھا ربی یہ با کا کسرہ کس پر دلالت کر رہا ہے کہ یہاں یا متکلم حذف کی گئی ہے۔ ربی اے میرے ‏پروردگار!‏ ارجعون یہ نون کے نیچے کسرہ ہے، بھئی۔ یہ بھی کس پر دلالت کر رہا ہے؟ یا محذوفہ پر۔ ارجعونی مجھے واپس لوٹا دیجیے۔ وہ کیا کہیں گے کہ اللہ ہمیں دنیا میں واپس لوٹا دیجیے تو کفار مجرم کہیں گے اللہ ہمیں دنیا میں ‏واپس لوٹا دیجیے تاکہ ہم اچھے ہم اچھے عمل کریں گے۔ تو یہاں دیکھیے خطاب کس کو ہو رہا ہے؟ پروردگار کو ربی اے میرے اور پروردگار ایک ہیں یا زیادہ ہیں؟ ایک۔ ایک ‏ہے تو کیا ہونا چاہیے؟ ارجعنی آپ مجھے واپس لوٹا دیجیے اور ارجع ارجعا ارجعوا دیکھو جمع کا صیغہ ہے آپ سب مجھے کیا کریں؟ واپس لوٹا دیں جمع کا صیغہ آ گیا حالانکہ ‏صیغہ کونسا ہونا چاہیے تھا؟ ارجعنی تو چنانچہ وہ فرماتے ہیں یہ اصل میں یہ جو وؤ ہے یہ مخاطب (یعنی رب) کے جمع ‏ہونے پر دلالت نہیں کر رہا بلکہ یہ تکرارِ فعل پر دلالت کر رہا ہے یہ کہ یہ جو ارجع ہے کم از کم تین یا زیادہ دفعہ ہو ‏مثلاً یا یوں کہ کم از کم تین دفعہ ہو ارجع اصل میں کیا تھا ربی ارجعنی ارجعنی ارجعنی پھر کیا کیا گیا؟ ان دو کو حذف کر دیا گیا اور ان پر دلالت کرنے کے لیے کس کا اضافہ کر دیا گیا؟ وؤ تو یہ وؤ جب ‏مخاطب کے جمع ہونے پر دلالت نہیں کر رہا بلکہ اس فعل کے جمع ہونے یعنی اس کے تکرار پر دلالت کر رہا ہے، بات ‏صورت سمجھ میں آگئی؟ اور بعض علماء فرماتے ہیں کہ قفا میں جو الف ہے یہ تثنیہ والا الف نہیں ہے یہ دراصل نونِ تاکید تھا۔ نونِ تاکید نون خفیفہ اور ثقیلہ آپ نے پڑھا ہوگا، بھئی کلام میں تاکید کے لیے لایا جاتا ہے جیسے اِضرب کا کیا معنی؟ ‏پٹائی کر اسی کے ساتھ نونِ خفیفہ کو ملا دیں کیا بن جائے گا؟ اِضربن اِضربن تو یہ نون کس لیے لایا گیا تاکید کے لیے کہ تو ضرور پٹائی کر۔ اور یہی نون نونِ خفیفہ حالتِ وقف میں الف سے بدل جاتا ہے تو جب آپ اس پر وقف کریں تو کہیں گے اِضربا یہ نون کس سے حالتِ وقف میں کس سے بدل جاتا ہے؟ الف سے بدل جاتا ہے، بھئی الف سے بدل جاتا ہے۔ گویا یہ اصل میں کیا تھا؟ قفن نون تھا نونِ تاکید پھر وہ نون کس سے بدل گیا؟ الف سے تو کیا بن گیا؟ قفا اس پر اشکال ہوتا ہے کہ وہ نون ٹھیک ہے آپ کی بات وہ نون حالتِ وقف میں کس سے بدلتا ہے؟ الف سے بدلتا ہے۔ نونِ تاکید حالتِ وقف میں الف سے بدلتا ہے لیکن یہ تو حالتِ وقف نہیں ہے یہ تو حالتِ وصل ہے جوڑ کر ابھی ختم ہو رہا ‏ہے کلام یہاں پر؟ نہیں یہاں تو ختم نہیں ہو رہا کلام آگے اور بھی لفظ ہیں قفا نبکی۔ تو پھر حالتِ وصل میں یہ کیسے الف سے بدل گیا؟ تو جواب یہ کہ بعض اوقات، بھئی کلام عرب کے اندر وصل کو بھی کس پر محمول کر لیتے ہیں؟ وقف پر محمول کر لیا جاتا ہے تو یہاں پر بھی ہے تو وصل ہی لیکن کونسی ‏حالت پر محمول کر لیا؟ وقف پر محمول کرتے ہوئے اس نون کو الف سے بدل دیا گیا۔ تو قفا نبکی اے میرے دو ساتھیوں ٹھہر جاؤ یا میرے ایک ساتھی ٹھہر جا تاکہ ہم رو لیں۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو ایک قول تو یہ ذکر ہوا کہ یہ قفا تثنیہ ہی کا صیغہ ہے اور خطاب بھی کس کو ہے اپنے دو ساتھیوں ہی کو ہے لیکن ‏جمہور علماء کیا فرماتے ہیں؟ خطاب ایک کو ہے اور پھر اس کے وہ تین جوابات ذکر کرتے ہیں ایک تو یہ کہ یہ تثنیہ کا ‏صیغہ مفرد جمع سب کے لیے استعمال ہو جاتا ہے جیسے القيا في جہنم۔ دوسرا جواب یہ کہ یہ جو الف ہے یہ تکرارِ فعل پر دلالت کر رہا ہے مخاطب کے تثنیہ ہونے پر دلالت کے لیے یہاں پر ‏نہیں ہے اور اس کی بھی مثال قرآن میں موجود ہے ربی ارجعون۔ اور جبکہ بعض کیا فرماتے ہیں؟ یہ الف کس سے بدل کر آیا ہے؟ نونِ تاکید سے بدلا ہے کہ وہ حالتِ وقف میں الف سے ‏اس کو بدل دیا جاتا ہے تو یہاں بھی الف سے بدل دیا گیا۔ وقفا اے میرے دو ساتھیوں ضرور ٹھہر جاؤ نبکی تاکہ ہم رو لیں۔ من ذكرى حبيبي ومنزل کس کو یاد کرکے؟ محبوب کو ‏اور اس کے گھر کو یاد کر۔ چلیے بس کریں باقی پھر اگلے ابھی کچھ اور تفصیل بھی باقی ہے وہ انشاءاللہ اگلے سبق میں کر لیں گے چلیے بس بھئی ‏ہذا ہو المرام واللہ اعلم بحقیقت الکلام
11 approved lectures · 3 of 11