Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء ثاني · dars-024

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Muhammad Ghayyas
📍 Location Lahore, Pakistan
📅 Approved Date 10 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 16
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
آگے سبق دیکھیے بھئی۔ قال وإذا تزوجت المرأة ونقصت عن مهر مثلها فللأولياء الاعتراض عليها عند أبي حنيفة رحمه الله ‏حتى يتم لها مهر مثلها أو يفارقها، وقال ليس لهم ذلك وهذا الوضع إنما يصح على قول محمد رحمه الله تعالى على اعتبار قوله ‏المرجوع إليه في النكاح بغير الولي.‏ گذشتہ سبق میں کفائیت کا بیان چل رہا تھا۔ صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ نکاح کے اندر کفائیت معتبر ہے۔ شریعت نے ‏کفائیت کا یعنی برابری کا اعتبار کیا ہے اور میں نے بتلایا تھا کہ یہ کفائیت مرد کی طرف سے ہونی چاہیے عورت کے ‏اندر کفائیت معتبر نہیں بھئی۔ وجہ یہ کہ ایک تو حدیث کے اندر آیا ہے کہ عورتوں کا نکاح اکفاء سے کروایا جائے بھئی ‏اور دوسرا اس لیے کیونکہ نکاح کی مصلحتیں تب ہی حاصل ہوں گی جب خاوند اور بیوی ہم پلہ ہوں گے اور برابر کے ‏ہوں گے۔ کیونکہ شریف اور معزز عورت جو ہے وہ پسند نہیں کرتی کہ وہ مستفرشہ بنے ادنی اور گھٹیا آدمی کے لیے ‏یعنی معزز عورت یہ پسند نہیں کرتی کہ وہ ادنی آدمی کی حاکمیت کے تحت ساری زندگی گزارے۔ تو لہٰذا عورت کا نکاح کروایا جائے تو کفائیت کا خیال رکھنا چاہیے۔ اور نیز عورت کو بھی شریعت نے نکاح کی اجازت ‏دی ہے عند الأحناف عاقلہ بالغہ خود اپنا نکاح کر سکتی ہے لیکن ضروری ہے کہ وہ بھی کفائیت کا خیال رکھے۔ وجہ یہ ‏کہ وہ ادنی خاندان کے اندر اگر نکاح کرے گی تو یہ اس کے عصبات کے لیے یعنی اس کے خاندان والوں کے لیے عار ‏اور طعنے کا باعث بنے گا اس سے اس کے اولیاء کو بے انتہا تکلیف ہوگی۔ لہٰذا اگر وہ عورت اپنے ہم پلہ لوگوں میں ‏نکاح کرے گی اپنی مرضی سے تو وہ نکاح منعقد ہو جائے گا اولیاء چاہے راضی ہوں یا راضی نہ ہوں خوش ہوں یا ‏ناراض ہوں لیکن جب اس نے کف کے اندر اپنا نکاح کیا ہے وہ نکاح منعقد ہو جائے گا۔ لیکن اگر اس نے کسی غیر کف ‏کے اندر عورت نے نکاح کر لیا تو پھر اس کے اندر آپ نے پڑھا کہ دو روایتیں ہیں۔ ظاہر روایت تو یہ ہے کہ یہ نکاح ہو ‏جائے گا البتہ اولیاء کو اعتراض کا حق ہے وہ قاضی کے پاس جا کر جدائی کروا سکتے ہیں لیکن میں نے بتلایا کہ فتویٰ ‏امام صاحب کے دوسرے قول پر ہے۔ امام صاحب کے نزدیک اگر عورت غیر کف میں اپنا نکاح کرے گی تو وہ نکاح ‏منعقد ہی نہیں ہوگا بھئی۔ اور پھر کفائیت کن کن چیزوں میں معتبر ہے صاحبِ ہدایہ نے بیان فرمایا بتلایا کہ ایک تو نسب کے اندر کفائیت ہونی ‏چاہیے یعنی عورت جہاں نکاح کر رہی ہے یا جہاں اس کا نکاح کروایا جا رہا ہے وہ اس کے ہم پلہ اور برابر کے خاندان ‏کا ہونا چاہیے وہ مرد بھئی۔ اور صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ قریش سب ایک دوسرے کے کف ہیں اور اسی طرح عرب جو ‏ہیں وہ ایک دوسرے کے کف ہیں بھئی اور اسی طرح عجمی جو ہیں وہ ایک دوسرے کے کف ہیں یہ سب حدیث میں آتا ‏ہے۔ پھر صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی بتلایا کہ قریش کے اندر بہت سے قبیلے ہیں اور وہ آپس میں ایک دوسرے پر برتری کا ‏دعویٰ کرتے ہیں۔ ہر قریشی قبیلے والا کہتا ہے ہمارا خاندان زیادہ اعلیٰ ہے ہمارا قبیلہ زیادہ اعلیٰ ہے کیونکہ قریش بہت ‏بڑا قبیلہ ہے اور اس کے اندر چھوٹے چھوٹے بہت سے قبیلے شامل ہیں بھئی۔ تو قریشی آپس میں ایک دوسرے پر برتری ‏کا دعویٰ کرتے ہیں کہتے ہیں نہیں یہ برتری کا دعویٰ معتبر نہیں وجہ یہ کہ حدیث سے پتہ چل گیا کہ قریش سب ایک ‏دوسرے کے کف ہیں۔ البتہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر قریش کے اندر کوئی نسب زیادہ مشہور ہو جائے جیسے ‏خلیفہ کی اولاد وغیرہ ہے تو وہاں تفاضل معتبر ہے۔ وہاں تفاضل معتبر ہے جب زیادہ شہرت ہو جائے کسی نسب کی جیسے کہ خلیفہ کی اولاد ہے۔ اس پر اشکال ہوتا ہے کہ ‏حدیث میں تو آیا سب قریشی ایک دوسرے کے کف ہیں تو امام محمد رحمہ اللہ کیسے حدیث کی مخالفت کر سکتے ہیں؟ تو ‏صاحبِ ہدایہ نے جواب دیا کہ امام محمد رحمہ اللہ حدیث کی مخالفت نہیں فرما رہے تو ان کے کہنے کا یہ مطلب نہیں ہے ‏کہ وہاں اصل کفائیت ہی نہیں ہے۔ کیونکہ کفائیت تو موجود ہے وہ تو حدیث سے ثابت ہو چکی ہے حدیث میں اس کا ذکر آ ‏چکا ہے وہ جو امام محمد رحمہ اللہ نے ذکر فرمایا وہ صرف خلافت کی تعظیم کے طور پر اور فتنے کے دروازے کو بند ‏کرنے کے لیے فرمایا۔ وجہ یہ کہ خلیفہ کی جو اولاد ہے وہ قریشی ہیں مثلاً اور دوسرے بھی قریشی ہیں تو خلیفہ کی اولاد ‏یقیناً اپنے آپ کو اعلیٰ و برتر جو ہے وہ خیال کریں گے اور اس کا دعویٰ کریں گے۔ اب اگر ان کے خلیفہ کی اولاد میں ‏سے کوئی عورت وہ کسی اور قریشی نوجوان سے نکاح کر لے اب اگرچہ یہ اس کا کف ہے حدیث کی رو سے لیکن اگر ‏کسی مفتی سے پوچھا جائے اور وہ مفتی جواب دے کہ نہیں اولیاء کچھ بھی نہیں کر سکتے اس نے اپنے کف کے اندر ‏نکاح کیا ہے تو وہ مفتی کے لیے بھی مصیبت بن جائے گی کیونکہ خلیفہ کی اولاد یقیناً وہ طاقتور لوگ ہیں وہ کوئی نہ ‏کوئی فتنہ کھڑا کریں گے بھئی۔ یا وہ جو نوجوان ہے جس نے نکاح کیا ہے اس عورت سے اس کے لیے فتنہ بن جائے گا ‏بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی تو امام محمد رحمہ اللہ نے اس وجہ سے فرمایا کہ اگر نسب مشہور ہو تو وہاں تفاضل معتبر ہے ‏تاکہ فتنے کا دروازہ بند ہو جائے۔ اور پھر اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے بتلایا عربوں کے اندر تو نسب میں کفائیت ہوگی لیکن عجمیوں کے اندر کہتے ہیں ‏اسلام کے اندر کفائیت معتبر ہے تو لہٰذا عجمیوں کے ہاں اسلام جو ہے اس میں کفائیت دیکھی جائے گی اور اسلام میں ‏کفائیت جو ہے صرف دادا تک معتبر ہے یعنی ایک آدمی ہے اس کا باپ اور دادا دونوں مسلمان گزرے ہیں تو دو اب اس ‏کے اسلام کے اندر گزرے اور دادا تک ہی کفائیت معتبر ہے لہٰذا یہ اب اگر ایک ایسی عورت سے نکاح کرتا ہے جس کے ‏اوپر کئی آبا اسلام کے اندر گزرے ہیں تو ہم کہیں گے کہ یہ مرد اس عورت کا کف ہے بھئی۔ اسی طرح حریت یعنی آزادی کے اندر بھی کفائیت معتبر ہے اور جیسے اسلام کے اندر کفائیت صرف دادا تک معتبر تھی ‏اسی طرح حریت اور آزادی میں بھی کفائیت صرف دادا تک معتبر ہے بھئی اور پھر صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی بتلایا کہ ‏دینداری کے اندر بھی کفائیت معتبر ہے جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دینداری میں کفائیت معتبر نہیں کیونکہ ‏دینداری جو ہے یہ امور آخرت میں سے ہے اس کا تعلق آخرت کے ساتھ ہے لہٰذا دنیاوی معاملات میں اس کا اعتبار نہیں ‏کیا جائے گا ہاں اگر کوئی شخص فسق و فجور میں اور گناہوں میں اس حد تک پہنچ جائے کہ تمام لوگ اس سے مذاق ‏کرتے ہیں جہاں جاتا ہے بچے اس کے ساتھ مذاق کرتے ہیں کوئی اس کو تھپڑ وغیرہ لگاتا ہے کوئی ہنستا ہے کوئی تالیاں ‏بجاتا ہے اس کے لیے تو پھر اس صورت میں یہاں دینداری میں کفائیت کا اعتبار کیا جائے گا یہ شخص جو ہے دیندار ‏عورت کا کف نہیں ہو سکتا۔ بات سمجھ میں آگئی اور پھر یہ بھی بتلایا کہ مال کے اندر بھی کفائیت معتبر ہے اور مال کتنا ‏ہونا چاہیے کہ کہ وہ شخص نفقہ ادا کر سکے بیوی کا اور مہر ادا کر سکے اور مہر سے بھی سارا مہر نہیں مراد بلکہ وہ ‏مقدار مراد ہے جو پہلی رات عموماً بیوی کو تحفے کے طور پر دی جاتی ہے بھئی۔ اور پھر اس کے بعد بتلایا کہ پیشوں کے اندر کفائیت معتبر ہے یا نہیں اس سلسلے میں دو قول ہیں بھئی امام صاحب کے۔ ‏ایک قول کے مطابق پیشوں کے اندر کفائیت معتبر ہے بھئی اس لیے کیونکہ لوگ جو ہیں پیشوں پر فخر کرتے ہیں اور ‏دوسرے قول کے مطابق پیشوں کے اندر کفائیت معتبر نہیں ہے وجہ یہ کہ کیونکہ پیشہ انسان کے ساتھ لازم نہیں ہوتا کسی ‏بھی وقت وہ ایک پیشہ چھوڑ کر دوسرا پیشہ شروع کر سکتا ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی۔ اب آئیے آج کے سبق پر۔ قال وإذا تزوجت المرأة ونقصت عن مهر مثلها فللأولياء الاعتراض عليها عند أبي حنيفة رحمه الله ‏حتى يتم لها مهر مثلها أو يفارقها.‏ صورتِ مسئلہ یہ کہ ایک عورت نے نکاح کیا اپنی مرضی سے اولیاء کی اجازت کے بغیر اور اس نے اپنا مہر مہرِ مثل ‏سے بہت کم رکھا۔ مہرِ مثل یعنی اس جیسی عورتوں کا جو مہر ہونا چاہیے اس کے خاندان میں اس جیسی عورتوں کا جو ‏مہر ہوتا ہے اس سے بہت کم مہر مقرر کیا تو اس صورت میں یہ آزاد عاقلہ بالغہ ہے یہ اپنی مرضی سے نکاح تو کر ‏سکتی ہے اور نکاح بھی کہاں کرے گی کف میں کرے گی اور نیز مہر بھی کتنا ہونا چاہیے مہرِ مثل ہونا چاہیے اس سے ‏کم نہیں۔ تو اس نے بہت کم مہر کے اندر ایک برابر والے ہم پلہ شخص کے ساتھ نکاح کر لیا تو کہتے ہیں اولیاء کو ‏اعتراض کا حق حاصل ہے وہ قاضی کے پاس جا کر مقدمہ کر سکتے ہیں تو پھر قاضی خاوند سے کہے گا یا تو اس ‏عورت کا مہر بڑھا کر کم از کم مہرِ مثل جتنا کرو یا اس عورت کو چھوڑ دے اس سے جدائی کروا دے گا قاضی۔ بات ‏سمجھ میں آگئی۔ تو کہتے ہیں قال وإذا تزوجت المرأة ونقصت عن مهر مثلها اور جب نکاح کر لیا کسی عورت نے ونقصت عن مهر مثلها اور ‏اپنے مہرِ مثل سے کمی کر دی مہرِ مثل سے کمی بھئی دیکھو مہرِ مثل کوئی مقرر نہیں ہوتا کہ بعینہ مثلاً دو لاکھ اس کا ‏مہر ہوگا نہیں یعنی اس کے قریب قریب کیا ہے قریب قریب یعنی اس جیسی عورتوں کا مہر تقریباً دو لاکھ کے قریب قریب ‏ہوتا ہے اور یہ عورت مثلاً ایک لاکھ مہر کے اندر نکاح کر رہی ہے بھئی تھوڑا بہت فرق ہو تو آ ہی جاتا ہے لیکن اتنا ‏فرق نہیں ہونا چاہیے تو اس نے بہت زیادہ کم مہر رکھا ہے تو اب اولیاء کو اعتراض کا حق حاصل ہے۔ تو یہ معنی ہے وإذا تزوجت المرأة ونقصت عن مهر مثلها اور جب نکاح کر لیا کسی عورت نے اور مہرِ مثل سے کمی کر ‏دی اپنے مہر میں فللأولياء الاعتراض عليها عند أبي حنيفة رحمه الله تو اولیاء کو اس پر اعتراض کا حق حاصل ہے امام ‏صاحب کے نزدیک حتى يتم لها مهر مثلها أو يفارقها یہاں تک کہ خاوند اس کے لیے مہرِ مثل کو پورا کر دے خاوند مہر ‏کو بڑھا کر کتنا کر دے مہرِ مثل کے برابر کر دے أو يفارقها یا اس سے جدا ہو جائے بھئی۔ وقال صاحبین کہتے ہیں ليس لهم ذلك کہ اولیاء کو یہ حق نہیں ہے۔ بھئی عورت نے اپنی مرضی سے نکاح کیا ہے اور ‏اگر اس نے اپنا مہر کم مقرر کیا ہے صاحبین کہتے ہیں اولیاء اعتراض نہیں کر سکتے۔ بات سمجھ میں آگئی تو کہتے ہیں ‏وقال اور صاحبین فرماتے ہیں ليس لهم ذلك کہ اولیاء کو اس بات کا حق نہیں ہے وهذا الوضع إنما يصح على قول محمد ‏رحمه الله تعالى على اعتبار قوله المرجوع إليه في النكاح بغير الولي.‏ بھئی دیکھو صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ امام صاحب کے نزدیک اگر عورت مہرِ مثل سے بہت کم مہر اپنا مقرر ‏کرے گی تو اولیاء اعتراض کر سکتے ہیں اور صاحبین کیا فرماتے ہیں کہ اولیاء اعتراض نہیں کر سکتے۔ اب دیکھو ‏صاحبین دونوں ایک طرف ہیں معلوم ہوا صاحبین کے نزدیک تو نکاح منعقد ہو گیا ہے اور اولیاء اعتراض نہیں کر ‏سکتے۔ جبکہ پیچھے جہاں یہ کفائیت کا باب شروع ہوا تھا وہاں پر صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا تھا کہ آزاد عاقلہ بالغہ ‏عورت جب اپنا نکاح کرے گی تو شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک وہ نکاح منعقد ہو جائے گا جبکہ امام محمد رحمہ اللہ کا ‏قول وہاں یہ ذکر ہوا تھا کہ ان کے نزدیک یہ نکاح موقوف رہے گا ولی کی اجازت پر۔ عورت اگر عاقلہ بالغہ ہے اور اپنی ‏مرضی سے خود نکاح کرتی ہے تو یہ نکاح موقوف ہو کر منعقد ہوگا یعنی ولی اجازت دے گا تو نکاح منعقد ہو جائے گا ‏ولی اجازت نہیں دے گا تو نکاح منعقد نہیں تو معلوم ہوا امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک آزاد عاقلہ بالغہ جب نکاح کرے گی ‏تو ولی کی اجازت پر موقوف رہے گا۔ اور پھر وہیں پر یہ بات آئی تھی کہ امام محمد رحمہ اللہ نے شیخین رحمہما اللہ کے ‏قول کی طرف رجوع کر لیا تھا۔ پہلا قول کیا تھا ان کا؟ کہ نکاح موقوف رہے گا۔ دوسرا قول شیخین رحمہما اللہ کے قول ‏کی طرف رجوع کیا کہ یہ نکاح منعقد ہو جائے گا۔ ولی کی اجازت پر موقوف نہیں ہے لیکن کف میں ہونا چاہیے بس۔ اور یہاں کیا بتا رہے ہیں عورت نے اگر اپنا مہر بہت کم مقرر کیا خود نکاح کیا ہے اور بہت کم مقرر کیا ہے تو امام ‏صاحب کیا فرماتے ہیں اولیاء اعتراض کر سکتے ہیں صاحبین کیا فرماتے ہیں اولیاء اعتراض نہیں کر سکتے۔ صاحبین ‏میں امام محمد بھی آ گئے معلوم ہوا امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک بھی نکاح منعقد ہو چکا ہے اور اولیاء اعتراض نہیں کر ‏سکتے۔ اس سے پتہ چلا کہ یہ جو مسئلہ ذکر کیا صاحبِ قدوری نے یہ مبنی ہے امام محمد رحمہ اللہ کے دوسرے قول پر۔ پہلے ‏قول کے مطابق تو نکاح منعقد ہی نہیں ہوا تھا ولی کی اجازت کے بغیر دوسرے قول کے مطابق منعقد ہو گیا ہے اور اب ‏اولیاء اس پر اعتراض بھی نہیں کر سکتے۔ بات سمجھ میں آگئی تو صاحبِ ہدایہ آپ کو بتائیں گے کہ یہ جو مسئلہ صاحبِ ‏قدوری نے ذکر فرمایا اس سے پتہ چلتا ہے کہ امام محمد رحمہ اللہ نے واقعی رجوع کر لیا تھا شیخین رحمہما اللہ کے قول ‏کی طرف۔ تو کہتے ہیں وهذا الوضع إنما يصح على قول محمد رحمه الله وضع وضع کا معنی بنانا دیکھو یہ جتنے مسئلے ہیں صورتِ ‏مسئلہ بنائی جاتی ہے کہ اگر اس طرح ہوا تو یہ حکم ہے شریعت کا اگر مسئلہ اس طرح ہوا تو اس طرح حکم ہوگا دیکھو یہ ‏تمام مسائل یہ نہیں کہ سارے اسی وقت پیش آئے تھے بلکہ فقہاء پر اللہ کی کروڑوں رحمتیں ہوں انہوں نے ہر ہر صورت ‏ذکر فرما دی اگر اس طرح پیش آیا تو اس کا حکم یہ ہے اگر اس طرح مسئلہ پیش آیا تو اس کا حکم یہ ہے تو وضع کا ‏معنی ہے مسئلہ بنانا یعنی صورت بنانا تو کہتے ہیں وهذا الوضع اور یہ جو صورتِ مسئلہ بنائی گئی یعنی جو صاحبِ ‏قدوری نے بنائی صاحبِ قدوری نے یہ جو صورتِ مسئلہ بنائی إنما يصح على قول محمد رحمه الله یہ امام محمد رحمہ اللہ ‏کے قول پر صحیح ہو سکتی ہے على اعتبار قوله المرجوع إليه وہ جو ان کا مرجوع إليه قول تھا اس کے اعتبار سے في ‏النكاح بغير الولي وہ جو بغیر ولی کے نکاح ہو اس کے بارے میں۔ بھئی دیکھو یہ عبارت سمجھ لو ترجمہ سمجھ لو۔ امام محمد رحمہ اللہ نے نکاح بغیر الولی میں اختلاف کیا تھا بغیر ولی کے ‏نکاح میں اختلاف کیا تھا شروع میں کیا کہا تھا؟ بغیر ولی کے نکاح منعقد تو ہوگا لیکن موقوف رہے گا ولی کی اجازت ‏میں اور بعد میں انہوں نے رجوع کر لیا کہ شیخین کے قول کی طرف کہ نکاح منعقد ہو جائے گا۔ تو یہ جو قول جس کی ‏طرف رجوع کیا امام محمد رحمہ اللہ نے یہ ہوا مرجوع إليه وہ قول جس کی طرف رجوع کیا گیا تو امام محمد رحمہ اللہ کا ‏مرجوع إليه قول لے لیں کس مسئلے میں؟ نکاح بغیر ولی کے مسئلے میں نکاح بغیر ولی کے نکاح کے مسئلے میں امام ‏محمد رحمہ اللہ کا مرجوع إليه قول لیں گے تو پھر ہی یہ مسئلہ صحیح ہو سکتا ہے پھر ہی یہ امام محمد رحمہ اللہ کے قول ‏کے مطابق ہوگا ورنہ اگر ان کا پہلا قول لیا جائے پھر تو نکاح ہی منعقد نہیں ہے اعتراض تو تب کیا جاتا ہے جب نکاح ‏کیا ہو جائے؟ منعقد ہو جائے جبکہ پہلے قول کے مطابق تو نکاح ہی منعقد نہیں ہوگا بات سمجھ میں آگئی۔ پھر دیکھیے ترجمہ کہتے ہیں وهذا الوضع إنما يصح على قول محمد رحمه الله تعالى على اعتبار قوله المرجوع إليه کہ یہ جو ‏مسئلہ بنایا گیا ہے یہ صحیح ہو سکتا ہے امام محمد رحمہ اللہ کے قول پر اعتبار کرتے ہوئے ان کے مرجوع إليه قول کا ‏اسی کے اعتبار پر یہ مسئلہ صحیح ہو سکتا ہے في النكاح بغير الولي وہ جو بغیر ولی کے نکاح ہوتا ہے اس کے اندر۔ وہ ‏جو بغیر ولی کے نکاح ہوتا ہے اس میں جو امام محمد رحمہ اللہ کا مرجوع إليه قول ہے اس کے اعتبار پر یہ مسئلہ امام ‏محمد رحمہ اللہ کے قول پر ہو سکتا ہے۔ بات سمجھ میں آگئی ۔ پھر ترجمہ ذرا دیکھ لو کہتے ہیں وهذا الوضع إنما يصح یہ جو مسئلہ وزرا کیا صاحبِ قدوری نے ‏إنما يصح یہ تبھی صحیح ہو سکتا ہے على قول محمد رحمہ اللہ امام محمد رحمہ اللہ کے قول پر۔ یہ امام محمد رحمہ اللہ کے ‏قول پر یہ وضعِ مسئلہ تبھی صحیح ہو سکتا ہے على اعتبار قوله المرجوع إليه جب اعتبار کیا جائے امام محمد رحمہ اللہ کے ‏مرجوع إليه قول کا فی النكاح بغير الولي بغیر ولی کے نکاح کے مسئلے میں جب ان کے مرجوع إليه قول کا اعتبار کیا ‏جائے وقد صح ذلك اور تحقیق امام محمد رحمہ اللہ کا وہ رجوع صحیح ہے (یعنی واقعی انہوں نے کیا کیا تھا؟ رجوع فرما ‏رکھا تھا) تو کہتے ہیں وقد صح ذلك اور تحقیق امام محمد رحمہ اللہ کا وہ رجوع صحیح ہے وهذه شهادة صادقة عليه اور یہ ‏جو مسئلہ ہے یہ سچی گواہی ہے اس پر اس مسئلے سے گواہی مل گئی اس مسئلے سے پتہ چل گیا کہ واقعی امام محمد ‏رحمہ اللہ نے رجوع فرما لیا تھا کیونکہ اگر ان کا پہلا قول لیا جائے تو اس پر تو یہ مسئلہ کی وضع ہی نہیں ہو سکتی بات ‏سمجھ میں آگئی۔ تو صاحبِ ہدایہ نے اس مقام کی یہ تقریر کی کہ اس یہ مسئلہ کس صورت میں صحیح ہو سکتا ہے جب امام محمد رحمہ اللہ ‏کا مرجوع إليه قول اس کا اعتبار کیا جائے۔ جبکہ بعض شارحین فرماتے ہیں کہ امام محمد رحمہ اللہ کے پہلے قول پر بھی ‏اس مسئلے کی وضع ہو سکتی ہے۔ پہلا قول کیا تھا؟ کہ وہ نکاح موقوف رہے گا۔ کہ وہ نکاح موقوف رہے گا اس پر بھی ‏اس مسئلے کی وضع ہو سکتی ہے۔ کس طرح؟ کہ مثلاً ولی سے اجازت لی عاقلہ بالغہ نے ولی سے اجازت لے لی ولی نے ‏اجازت دے دی لیکن اس نے مہر نہیں ذکر کیا اب اس نے جا کر ولی کی اجازت سے نکاح کیا ہے لیکن مہر بہت تھوڑا ‏رکھا۔ اب دیکھا ولی کی اجازت تھی نکاح تو منعقد ہو گیا نکاح تو منعقد ہو گیا دیکھو امام محمد رحمہ اللہ کے پہلے قول کے ‏مطابق ولی سے اجازت لے کر نکاح کیا ہے تو اس پہلے قول کے مطابق بھی نکاح ہو گیا لیکن اس نے مہر بہت کم رکھا ‏ہے تو ولی کیا کر سکتا ہے اس پر اعتراض کر سکتا ہے تو بہرحال بعض شارحین نے یہ صورت ذکر کی ہے اگرچہ یہ ‏بعید صورت ہے ظاہر یہی ہے جو صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں بھئی کہ امام محمد رحمہ اللہ کے مرجوع إليه قول پر ہی ‏اس مسئلے کی وضع ہے بھئی اگرچہ وہ پہلے قول پر بھی اس مسئلے کی وضع ہو سکتی ہے لیکن وہ ایک بعید صورت ‏ہے ولی نے اجازت دے دی لیکن مہر ذکر نہیں کیا بھئی عمولی اگر اجازت دے گا تو وہ تو نکاح بھی خود ہی کروائے گا ‏تو بہرحال بعض شارحین نے یہ صورت ذکر کی ہے اگرچہ کچھ بعید صورت ہے ظاہر یہی ہے صاحبِ ہدایہ کی بات قوی ‏ہے بھئی۔ آگے دیکھئے لهما أن ما زاد على العشرة حقها ومن أسقط حقه لا يعترض عليه كما بعد التسمية.‏ اب دلیل ذکر فرما رہے ہیں۔ صاحبین کے نزدیک اولیاء کو اعتراض کا حق حاصل نہیں۔ وجہ کیا؟ صاحبین کی دلیل ذکر ‏فرما رہے ہیں یاد رکھو یہ جو مہر ہے نا مہر آگے مہر ہی کا باب شروع ہونے والا ہے بھئی۔ اور وہاں آپ کو بتائیں گے ‏کہ کم سے کم مہر جو ہے نکاح کے اندر وہ 10 درہم ہو سکتا ہے۔ اس کا ذکر حدیث وغیرہ میں آتا ہے 10 درہم سے مہر ‏کم نہیں ہو سکتا۔ کوئی بھی عورت نکاح کرے تو کم از کم مہر کتنا ہوگا؟ 10 درہم اس سے کم نہیں ہو سکتا۔ اور زیادہ ‏زیادہ کی کوئی حد نہیں ہے جتنا بھی مہر رکھوایا جائے ہزار درہم ہے، لاکھ درہم ہے، 10 لاکھ درہم ہے زیادہ کی کوئی ‏حد نہیں ہے۔ تو معلوم ہوا 10 درہم سے مہر کم نہیں ہو سکتا معلوم ہوا یہ شریعت کا حق ہے۔ مہر کم سے کم 10 درہم ہونا ‏چاہیے یہ کس کا حق ہے؟ شریعت کا حق ہے یہ شریعت کا حکم ہے اس سے کم نہیں ہو سکتا۔ بات چل رہی تھی صاحبین ‏کی دلیل صاحبین فرماتے ہیں اولیاء کو اعتراض کا حق نہیں۔ وجہ یہ کہ وہ فرماتے ہیں کہ دیکھو یہ 10 درہم تو شریعت کا ‏حق ہے دس سے زائد یہ اس عورت کا حق ہے اور یہ عورت اپنے حق میں جتنا بھی کمی کرے یہ اس کی مرضی ہے ‏صاحبِ حق اپنے حق میں جتنی کمی کرنا چاہے وہ کر سکتا ہے کسی کو اعتراض کا حق نہیں مثلاً کہتے ہیں دیکھو کسی ‏عورت کا نکاح ہوا اور مہر ایک لاکھ درہم مقرر ہوا بعد میں نکاح کے بعد عورت نے اپنے خاوند سے کہا کہ ایک لاکھ ‏مہر دینے کی ضرورت نہیں ہے مجھے صرف 10 ہزار درہم مہر دے دو۔ تو دیکھو عورت مہر کے مقرر کرنے کے بعد بعد میں اس میں کمی کر سکتی ہے اور کسی کو اعتراض کا حق نہیں ہے ‏اولیاء بھی اعتراض نہیں کر سکتے کہ نہیں تمہیں ایک لاکھ ہی لینا پڑے گا اولیاء بھی اعتراض نہیں کر سکتے کیونکہ یہ ‏اس عورت کا حق ہے بھئی تو وہ اپنے حق میں جتنی مرضی کمی کر سکتی ہے تو جیسے مہر کو مقرر کرنے کے بعد ‏عورت اس میں جتنا چاہے کمی کر سکتی ہے اسی طرح ابتداباً بھی 10 درہم سے جو زائد ہے وہ عورت کا حق ہے وہ اس ‏میں جتنا کمی کرنا چاہے کر سکتی ہے تو اس نے اگر مہرِ مثل سے کم بھی مہر مقرر کیا ہے تو وہ اس نے اپنا حق چھوڑا ‏ہے لہٰذا اولیاء کو اس پر اعتراض کا حق نہیں۔ مسئلہ سمجھ میں آیا۔ دیکھیے کہتے ہیں لہما صاحبین کی دلیل یہ ہے کہ انما زاد على العشرة حقها کہ وہ جو 10 درہم پر زائد ‏ہے وہ اس عورت کا حق ہے بھئی 10 درہم تو شریعت کا حق اس سے کم تو ہو نہیں سکتا اور 10 سے زیادہ کیا ہے ‏عورت کا حق ہے ومن أسقط حقه لا يعترض عليه اور جو شخص اپنا حق ساقط کر دے لا يعترض عليه اس پر کوئی ‏اعتراض نہیں کیا جا سکتا كما بعد التسمية جیسے کہ ذکر کرنے کے بعد۔ تسمیہ کا جو بھی ترجمہ آپ کر لیں مقرر کرنا یا ذکر کرنا۔ بھئی جب نکاح کیا جاتا ہے مہر کو مقرر کیا جاتا ہے یا مہر ‏کو ذکر کیا جاتا ہے اس کو کیا کہتے ہیں تسمیہ تسمی یسمی تسمیۃ۔ بھئی نکاح میں جیسے میں نے مثال ذکر کر دی مہر ‏کتنا مقرر ہوا ایک لاکھ ایک لاکھ درہم اور بعد میں عورت کیا کہتی ہے اپنے خاوند سے کہتی ہے مجھے ایک لاکھ مہر ‏دینے کی ضرورت نہیں مجھے کتنا مہر دے دو بس 10 ہزار درہم دے دو تو دیکھو تسمیہ کے بعد یعنی ذکر کرنے کے ‏بعد اور مقرر کرنے کے بعد جب عورت اپنے مہر میں کمی کرے تو کسی کو اعتراض کا حق نہیں ہے تو جیسے بعد میں ‏وہ اپنے مہر میں کمی کر سکتی ہے تو ابتدا میں بھی مہر میں کمی کر سکتی ہے تو جیسے بعد میں وہ اپنے مہر میں کمی ‏کر سکتی ہے تو ابتدا میں بھی کیا کر سکتی ہے مہر میں کمی کر سکتی ہے ہاں 10 درہم سے کم نہیں کر سکتی۔ یہ معنی ہے ومن أسقط حقه لا يعترض عليه اور جو شخص اپنا حق ساقط کر دیتا ہے لا يعترض عليه اس پر اعتراض نہیں ‏کیا جا سکتا كما بعد التسمية جیسے کہ مہر کو ذکر کرنے کے بعد۔ ولي أبي حنيفة رحمه الله و امام صاحب کی دلیل ادھر دیکھیے۔ امام صاحب فرماتے ہیں کہ یہ جو اولیاء ہیں عورت کے جو ‏اولیاء ہیں وہ مہر زیادہ ہو تو اس پر فخر کرتے ہیں کہ ہماری عورتوں کا تو اتنا اتنا مہر ہوتا ہے اور مہر کم ہو تو اس پر ‏عار محسوس کرتے ہیں۔ لہٰذا یہ کفائیت کے مشابہ ہوا کفائیت میں وہ چیزیں ذکر تھیں جن پر لوگ فخر کرتے ہیں۔ نسب پر ‏لوگ فخر کرتے ہیں دین پر لوگ فخر کرتے ہیں اور آزادی پر لوگ فخر کرتے ہیں اسلام پر لوگ فخر کرتے ہیں پیشوں ‏پر لوگ فخر کرتے ہیں اور ان میں کمی آ جائے تو اس کو عار محسوس کرتے ہیں۔ اسی طرح مہر کے اندر زیادتی پر ‏اولیاء فخر کرتے ہیں اور مہر میں کمی ہو تو اس میں عار محسوس کرتے ہیں لہٰذا یہ مہر بھی کس کی طرح ہوا؟ وہ ‏کفائیت والی چیزوں کی طرح ہوا۔ اس پر لوگ کیا کرتے ہیں؟ فخر محسوس کرتے ہیں اور عار محسوس کرتے ہیں اگر ‏کمی آ جائے تو لہٰذا یہ کفائیت کی طرح مشابہ ہوا لہٰذا اس میں اولیاء کو اعتراض کا حق ہے۔ تو کہتے ہیں ولي أبي حنيفة رحمه الله اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے کہ ان الأولياء يفتخرون بغلاء المهور مہر جمع ہے ‏مہر کی غلا کا معنی مہنگا ہونا زیادہ ہونا ان الأولياء يفتخرون کہ اولیاء جو ہیں وہ فخر کرتے ہیں بغلاء المهور مہروں کے ‏مہنگے ہونے پر ويتعرون بنقصانها اور اس میں کمی کی وجہ سے عار محسوس کرتے ہیں فاشبه الكفاءة لہٰذا یہ جو مہر ‏کے اندر کمی بیشی ہے یہ بھی کس کے مشابہ ہو گئی؟ کفائیت کے مشابہ ہو گئی یاد رکھو یہ اسی لیے یہ مسئلہ یہاں ذکر ‏کیا صاحبِ ہدایہ نے۔ فقہاء نے یہ جو مسائل جمع کیے ہیں بے ترتیب نہیں جمع کیے بھئی ایک ایک مسئلہ انتہائی سوچ سمجھ کر کس کو کہاں ‏رکھنا ہے کس کو پہلے رکھنا ہے کس کو بعد میں رکھنا ہے تو یہ فقہاء نے دیکھو اپنی زندگیاں اس کے اندر لگا دیں اب یہ ‏جو مسئلہ ذکر کیا بظاہر اس فصل کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں بنتا فصل کیا چل رہی ہے؟ کفائیت کے بارے میں۔ اور کفائیت کے بیچ میں اچانک صاحبِ قدوری اور صاحبِ ہدایہ نے مسئلہ ذکر کر دیا کہ عورت اگر اپنا مہر کم رکھے گی ‏تو اولیاء اعتراض کر سکتے ہیں یا اعتراض نہیں کر سکتے۔ تو بتلایا اعتراض کر سکتے ہیں کیونکہ یہ کس کے مشابہ ہو ‏گیا؟ کفائیت کے مشابہ ہو گیا ہے تو چونکہ یہ بھی کفائیت کے مشابہ ہوا یہ مسئلہ اس لیے اس کو کفائیت کے مسئلوں کے ‏اندر ذکر کیا۔ کفائیت کی فصل میں اس کو ذکر کیا۔ تو کہتے ہیں فاشبہ الكفاءة تو یہ کفائیت کے مشابہ ہوا بخلاف الإبراء بعد التسمية ابرا کا معنی معاف کرنا بخلاف معاف کرنا ‏بعد التسمية ذکر کرنے کے بعد (یعنی مقرر کرنے کے بعد) لانہ لا يتعير به کیونکہ اس کے ذریعے عار محسوس نہیں کی ‏جاتی۔ بھئی صاحبین کی دلیل کیا تھی؟ کہ جیسے مہر مقرر کرنے کے بعد عورت اپنے مہر کو معاف کر سکتی ہے یا کم کر ‏سکتی ہے ایسے ہی ابتدا میں بھی کم کر سکتی ہے تو امام صاحب اس کا جواب دے رہے ہیں کہ بخلاف الإبراء بعد التسمية ‏کہ بعد میں معاف کرنے کے تو اور بات ہے کیونکہ اس کے ذریعے عار محسوس نہیں کی جاتی۔ بھئی دیکھو شوہر نے شادی کے وقت ایک لاکھ مہر مقرر کیا اور محفل میں اعلان ہوا کہ اس کا مہر کتنا ہے؟ ایک لاکھ ‏درہم ہے۔ اب اولیاء کی ناک اونچی ہو گئی اولیاء نے اس پر فخر کر لیا سب لوگوں کو پتہ چل گیا کہ اس کا مہر ایک لاکھ ‏ہے اب اس کے بعد اگر عورت نے اپنے خاوند کو معاف کر دیا یا کمی کر دی وہ تو گھر کے اندر کا معاملہ ہے کسی کو ‏پتہ ہی نہیں چلا لہٰذا جب کسی کو پتہ ہی نہیں چلا تو اولیاء کو کوئی عار محسوس نہیں ہوئی اس پر تو بعد میں معاف کرنے ‏میں کوئی عار نہیں ہوتی اس لیے وہ معاف کرنا جائز ہے اور ابتدا میں اگر مہر کم مقرر کیا تو وہ تو پورے محفل میں ‏اعلان ہوگا اور سب لوگوں کو پتہ چل جائے گا کہ اس کا مہر تو بہت کم ہے تو اس پر تو اولیاء کو عار محسوس ہوگی تو ‏اس لیے ابتداء میں کم مقرر کرنا اور بعد میں معاف کرنے میں فرق معلوم ہو گیا۔ بات سمجھ میں آگئی تو کہلا کہتے ہیں بخلاف الإبراء بعد التسمية بخلاف معاف کرنے کے بعد التسمية ذکر کرنے کے بعد ‏لانہ لا يتعیر به کیونکہ اس کے ذریعے عار محسوس نہیں کی جاتی۔ بھئی صاحبین کی دلیل کیا تھی؟ کہ جیسے مہر مقرر کرنے کے بعد عورت اپنے مہر کو معاف کر سکتی ہے یا کم کر ‏سکتی ہے ایسے ہی ابتدا میں بھی کم کر سکتی ہے تو امام صاحب اس کا جواب دے رہے ہیں کہ بخلاف الإبراء بعد التسمية ‏کہ بعد میں معاف کرنے کے تو اور بات ہے کیونکہ اس کے ذریعے عار محسوس نہیں کی جاتی۔ مسئلہ سمجھ میں آگیا۔ آگے دیکھئے وإذا زوج الابن ابنتة الصغيرة ونقص من مهرها أو ابنة الصغير وزاد في مهر امرأته جاز ذلك عليهما ولا يجوز ‏ذلك لغير الأب والجد۔ بھئی یہ بات پہلے بھی ذکر ہو چکی کہ اگر باپ یا دادا صغیر یا صغیرہ کا نکاح کروائیں گے تو بالغ ہونے کے بعد بھی ان ‏کو کوئی اختیار نہیں ہے جبکہ اور اولیاء اگر نکاح کروائیں گے تو ان کو خیارِ بلوغ ملے گا بالغ ہونے پر وہ اس نکاح کو ‏فسخ کر سکتے ہیں۔ اور میں نے آپ کو یہ بھی بتلایا تھا کہ باپ اور دادا اگر چاہے غیر کف میں نکاح کروا دیں چاہے مہر صغیرہ کا مہر بہت ‏کم مقرر کر دیں یا صغیر کا نکاح کروایا تھا اور اس کی بیوی کا مہر بہت زیادہ مقرر کر دیا اب دیکھو اس میں صغیر یا ‏صغیرہ کا نقصان ہے لیکن پھر بھی یہ نکاح منعقد ہو جائے گا اور صغیر اور صغیرہ کو کوئی اختیار نہیں ہوگا بالغ ہونے ‏کے بعد۔ وجہ یہ کہ باپ اور دادا کی شفقت بڑی کامل ہے بھئی معلوم ہوا انہوں نے کوئی بہت بڑا فائدہ دیکھ کر ہی اس ‏طرح یہ فیصلہ کیا ہوگا تو یہ نکاح نافذ ہوگا اور صغیر اور صغیرہ کو بالغ ہونے کے بعد کوئی اختیار نہیں۔ اب اسی کو ‏ذکر کر رہے ہیں کہتے ہیں وإذا زوج الابن ابنته الصغيرة اور جب نکاح کروایا باپ نے اپنی نابالغ بیٹی کا ونقص من ‏مهرها اور کم کر دیا اس کے مہر میں سے (یعنی مہرِ مثل سے بہت کم رکھا تھوڑا بہت فرق تو آتا ہی ہے اس کی بات نہیں ‏کر رہے زیادہ) ونقص من مهرها اور اس کے مہرِ مثل میں کم کر دی او ابنه الصغير یا باپ نے نکاح کروایا اپنے نابالغ ‏بیٹے کا و زاد فی مهر امرأته اور بڑھا دیا اس کی بیوی کے مہر میں بیوی کا مہر ایک لاکھ ہونا چاہیے تھا اس صغیر کا ‏جہاں نکاح کروایا ہے باپ نے دو لاکھ مقرر کر دیا جاز ذلك عليهما تو یہ صغیر اور صغیرہ پر جائز ہے (یعنی باپ یہ کر ‏سکتا ہے اور دادا کا بھی یہی حکم) ولا يجوز ذلك لغير الأب والجد اور باپ اور دادا کے علاوہ یہ کسی کے لیے جائز نہیں ‏یعنی باپ اور دادا کے علاوہ کوئی اور اولیاء نکاح کرواتے ہیں تو صغیر یا صغیرہ کا نکاح مہرِ مثل کے ساتھ ہی کرنا ‏پڑے گا۔ کہتے ہیں وهدا عند أبي حنيفة رحمه الله یہ امام صاحب کے نزدیک ہے و قالا صاحبین فرماتے ہیں لا يجوز الحط ‏والزيادة إلا بما يغاب الناس فيه۔ بھئی غبن۔ غبن اور تغابن کا معنی سمجھ لیں۔ غبن کہتے ہیں دوسرے کو نقصان دینا غبن کا کیا معنی؟ دوسرے کو نقصان ‏دینا، دھوکہ دینا اور تغابن کا معنی نقصان دینا بھی اور نقصان کھانا بھی۔ نقصان دینا بھی اور نقصان کھانا بھی۔ بھئی بابِ تفاعل ہے نا جانبین سے فعل چاہتا ہے ایک شخص دوسرے کو دھوکہ دے ‏رہا ہے تو دوسرا دھوکہ کھا رہا ہے صورت سمجھ میں آگئی تو اس کا معنی دھوکہ دینا بھی اور دھوکہ کھانا بھی۔ وقال صاحبین فرماتے ہیں لا يجوز الحط والزيادة حد کا معنی کمی کرنا کہتے ہیں صاحبین فرماتے ہیں لا يجوز الحط ‏والزيادة کہ کمی یا زیادتی جائز نہیں ہے الا بما يغاب الناس فيه مگر اتنی مقدار کے جتنے لوگ باہم دھوکہ دیتے یا دھوکہ ‏کھاتے ہیں۔ بھئی دیکھو بازار میں آپ کوئی چیز فروخت کرتے ہیں مثلاً وہ 100 روپے کی چیز ہے تو ایک دکاندار کے پاس لے کر ‏جائیں گے ہو سکتا ہے وہ اس کی قیمت 100 روپے ہی لگائے کہ میں آپ سے یہ 100 روپے میں خریدتا ہوں دوسرے ‏کے پاس جائیں گے وہ 100 روپے نہیں لگائے گا ہو سکتا ہے وہ کچھ کم لگا دے کہ میں آپ سے یہ چیز 95 میں لے لوں ‏گا۔ ایک اور دکاندار کے پاس لے گئے اس کو خیال وہ ہو سکتا ہے آپ کو کہہ دے میں آپ سے 105 روپے کی یہ چیز ‏خرید لوں گا۔ تو یہ جو دکاندار ہوتے ہیں یہ چیزوں کی جو قیمت لگاتے ہیں یہ قریب قریب ہوتی ہے۔ اس کو غبنِ یسیر ‏کہتے ہیں یہ تو تھے آپ ایک چیز بیچنے گئے دکاندار کے پاس ایک یہ ہے کہ آپ دکاندار سے کوئی چیز خریدنے گئے ‏آج کل تو چیزوں پر قیمتیں لکھی ہوتی ہیں لیکن جن چیزوں پر قیمتیں نہ لکھی ہوں اس میں بھی آپ دیکھیں ایک دکاندار ‏مثلاً آپ کو کہتا ہے 100 روپے کی چیز ہے وہ آپ کو کہے گا میں یہ آپ کو 105 روپے کی دوں گا دوسرے کے پاس ‏جاتے ہیں ہو سکتا ہے وہ آپ کو 100 روپے میں ہی دے دے وہ چیز تیسرے کے پاس جا کر پتہ کریں گے وہ آپ کو ‏کہے گا میں 95 یا 90 روپے کی آپ کو یہ چیز دوں گا تو دیکھا دکاندار جو قیمتیں وغیرہ لگاتے ہیں چیزوں کی وہ قریب ‏قریب ہوتی ہیں۔ اس کو غبنِ یسیر کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ غبنِ یسیر غبنِ یسیر یعنی تھوڑا بہت دھوکہ ہو ہی جاتا ہے آپ جب ایک چیز لینے جا رہے ہیں خریدنے جا ‏رہے ہیں یا بیچنے جا رہے ہیں تھوڑا بہت کیونکہ پوری پوری جتنی اس چیز کی قیمت بنتی ہے ویسا تو کم ہی ہوگا کہ ‏اتنے میں آپ کو وہ چیز مل جائے تو وہ تھوڑی بہت کمی بیشی ہوگی اس کو کیا کہتے ہیں غبنِ یسیر تھوڑا بہت دھوکہ چیز ‏میں لگ ہی جاتا ہے انسان کو ہو سکتا ہے آپ کی چیز 100 روپے کی تھی لیکن آپ سے دکاندار نے صرف 90 روپے ‏میں خرید لی یا 95 میں خرید لی لیکن یہ غبنِ یسیر ہے۔ لیکن یہی چیز اگر آپ سے کوئی دکاندار 50 روپے میں خریدتا ہے تو یہ تو غبنِ فاحش ہے بھئی بہت زیادہ دھوکہ ہے عام ‏لوگ اس طرح دھوکہ نہیں کھاتے۔ تو لہٰذا صاحبین فرماتے ہیں توجہ سے سنو امام صاحب کیا فرماتے ہیں؟ باپ یا دادا اگر ‏بہت زیادہ فرق کے ساتھ بھی مہرِ مثل سے بہت کم مہر رکھتی ہے صغیرہ کا یا صغیر کا نکاح جس عورت سے کروایا ‏مہر بہت زیادہ رکھ دیا لاکھ کی جگہ دو لاکھ رکھ دیا امام صاحب فرماتے ہیں اگر باپ اور دادا نکاح کروائیں گے تو نکاح ‏منعقد ہو جائے گا جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ باپ اور دادا جب نکاح کروائیں تو ضروری ہے کہ وہ مہرِ مثل کے ساتھ ‏نکاح کروائیں۔ کس کے ساتھ؟ یعنی جتنا اس صغیرہ کا مہر ہونا چاہیے اتنا مہر ہو اور صغیر کی اس کی بیوی کا جتنا مہر ہونا چاہیے ‏اتنا مہر ہونا چاہیے یا غبنِ یسیر ہو یعنی تھوڑا بہت فرق آ جائے تھوڑا بہت فرق ا ہی جاتا ہے بھئی تو غبنِ یسیر کے ساتھ ‏اگر یہ نکاح کروائیں گے تو پھر یہ نکاح ہو جائے گا اور اگر غبنِ فاحش کے ساتھ ہو یہ نکاح یعنی صغیرہ کا مہر ہونا ‏چاہیے تھا دو لاکھ اور باپ اور دادا نے مہر صرف ایک لاکھ رکھ دیا اور یا صغیر کا نکاح کروا رہے تھے اس کی بیوی ‏کا مہر ہونا چاہیے تھا ایک لاکھ اور باپ دادا نے دو لاکھ مہر رکھوا دیا تو دیکھو یہ تو غبنِ فاحش ہے تو غبنِ فاحش جائز ‏نہیں۔ امام صاحب کیا فرماتے ہیں؟ چاہے غبنِ یسیر ہو چاہے غبنِ فاحش ہو باپ دادا کے لیے سب جائز ہے صاحبین کیا فرماتے ‏ہیں؟ باپ دادا کے لیے غبنِ یسیر تو جائز ہے غبنِ فاحش جائز نہیں ہے یہ معنی ہے وقال صاحبین فرماتے ہیں لا يجوز ‏الحط والزيادة إلا بما يغاب الناس فيهه کہ کمی یا زیادتی جائز نہیں مگر اتنی مقدار جتنے میں لوگ دھوکہ کھا لیتے ہیں۔ و معنى هذا الكلام اب صاحبِ ہدایہ صاحبین کے قول کا معنی بیان کر رہے ہیں صاحبین نے کیا فرمایا غبنِ یسیر جائز ہے ‏غبنِ فاحش جائز نہیں۔ اس سے کیا پتہ چلا ؟ بظاہر یوں لگتا ہے کہ غبنِ فاحش کے ساتھ اگر باپ اور دادا نکاح کروائیں گے تو نکاح ہو جائے گا ‏البتہ یہ کمی بیشی جائز نہیں۔ دیکھو نا عبارت دیکھو پیچھے وقال لا يجوز الحط والزيادة کمی زیادتی جائز نہیں ہے۔ یعنی ‏غبنِ فاحش کے ساتھ اگرچہ مہر کم زیادہ کیا تو نکاح تو ہو جائے گا البتہ وہ غبنِ فاحش صحیح نہیں۔ وہاں مہرِ مثل ہی آ جائے گا۔ بظاہر یوں لگتا ہے۔ نکاح ہو جائے گا بھئی یاد رکھو یاد رکھو ایک مسئلہ یہاں۔ آگے صاحبِ ہدایہ بھی بیان فرمائیں گے۔ ‏نکاح میں مہر کا ہونا ضروری ہے۔ مہر کے بغیر نکاح ہو ہی نہیں سکتا۔ توجہ ہے؟ جب بھی کوئی شخص کسی عورت ‏سے نکاح کرے گا وہاں مہر کا ہونا ضروری ہے۔ اور مہر کی کم سے کم مقدار 10 درہم ہے ابھی بیان ہو گیا۔ اس سے کم ‏مہر نہیں ہو سکتا۔ اور یہ بھی یاد رکھنا اگر مہر کو ذکر ہی نہیں کیا نکاح کرتے ہوئے تو بھی نکاح منعقد ہو جائے گا۔ مثلاً ایک مرد اور عورت نکاح کر رہے ہیں اور مہر کو سرے سے ذکر ہی نہیں کیا تو مہر تو ضرور آئے گا بھئی انہوں ‏نے بیشک نہیں ذکر کیا لیکن وہاں خود بخود مہرِ مثل آ جائے گا یعنی اس جیسی عورت کا جو مہر ہوتا ہے اس کے خاندان ‏میں اتنا ہی مہر ہوگا۔ مہر کو ذکر نہ کریں پھر بھی کیا آ جاتا ہے؟ مہرِ مثل اور اگر باقاعدہ طے کر لیا کہ میں تم سے نکاح کر رہا ہوں لیکن ‏مہر کچھ نہیں ہوگا۔ مہر کی باقاعدہ نفی کر دی پھر بھی مہر خود بخود آ جائے گا۔ پھر بھی کیوں کہ نکاح مہر کے بغیر ہو ہی نہیں سکتا۔ اب ‏اب دیکھو معلوم ہوا جب بھی نکاح کیا جائے مہر کو چاہے ذکر کریں چاہے ذکر نہ کریں چاہے باقاعدہ مہر کی نفی کر دیں ‏پھر بھی نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑتا نکاح ہو جائے گا۔ جی مہر کی کمی بیشی سے یا نہ ہونے سے نکاح پر اثر نہیں پڑتا نکاح ہو جائے گا۔ ہاں البتہ مہرِ مثل پھر آ جائے گا۔ بات ‏سمجھ میں آگئی۔ تو یہاں پر بھی تو یہاں پر بھی صاحبین کیا فرما رہے ہیں؟ کہ غبنِ یسیر کے ساتھ جائز ہے غبنِ فاحش ‏کے ساتھ کمی زیادتی جائز نہیں۔ اس سے معلوم یوں ہوتا ہے کہ شاید نکاح ہو جائے گا کیونکہ مہر کی کمی بیشی سے تو ‏نکاح پہ کوئی اثر نہیں پڑتا۔ تو غبنِ فاحش کے ساتھ بھی اگر نکاح کریں گے باپ دادا تو غبنِ فاحش جائز نہیں۔ توجہ ہے یہ لفظوں پہ نظر رکھو وقال لا يجوز الحط والزيادة اور صاحبین فرماتے ہیں کہ کمی بیشی جائز نہیں مگر اتنی ‏مقدار جس میں لوگ دھوکہ کھا جاتے ہیں کمی بیشی جائز نہیں معلوم غبنِ فاحش کے ساتھ اگر کمی بیشی کریں گے وہ کمی ‏بیشی جائز نہیں۔ معلوم غبنِ فاحش کے ساتھ اگر کمی بیشی کریں گے وہ کمی بیشی جائز نہیں۔ بظاہر شبہ ہوتا ہے شاید ‏نکاح تو ہو جائے گا نکاح تو مہر مقرر نہ بھی کریں پھر بھی ہو جاتا ہے تو بظاہر لگتا ہے نکاح ہو جائے گا البتہ وہ غبنِ ‏فاحش صحیح نہیں ہوگا مہرِ مثل آ جائے گا۔ تو صاحبِ ہدایہ بتلائیں گے کہ نہیں اس کلام کا مطلب یہ ہے کہ وہ نکاح ہی ‏منعقد نہیں ہوگا صاحبین کے قول کا یہ معنی ہے۔ بات سمجھ میں آگئی۔ تو یہ معنی ہے وقال صاحبین کے اس کلام کا معنی یہ ہے کہ انہ لا يجوز العقد عندهما کہ ان کے نزدیک یہ عقد جائز ہی ‏نہیں ہے لأن الولاية مقيدة بشرط النظر صاحبین کی دلیل ذکر فرما رہے ہیں۔ صاحبین فرماتے ہیں دیکھو یہ باپ دادا کو جو ‏صغیر اور صغیرہ پر ولایت دی گئی تھی یہ کس لیے دی گئی تھی؟ شفقت کی وجہ سے کہ باپ اور دادا کیا کرتے ہیں ‏صغیر اور صغیرہ پر شفقت کرتے ہیں ان کی اولاد ہے یا اولاد کی اولاد ہے تو وہ ان پر شفقت کرتے ہیں لیکن جب وہ ‏مہر میں کمی یا زیادتی کر رہے ہیں تو اس میں تو کوئی شفقت نہیں۔ اور یہ ولایت کیوں تھی؟ شفقت کی وجہ سے اور جب شفقت نہیں تو ولایت بھی نہیں۔ بات سمجھیں تو شفقت شرط اور ‏ولایت مشروط شرط ہے تو مشروط ہے شرط نہیں تو مشروط بھی نہیں۔ شفقت ہوگی تو ولایت بھی حاصل رہے گی شفقت ‏نہیں ہوگی تو ولایت بھی حاصل نہیں۔ جیسے وضو ہوگا تو نماز ہوگی وضو نہیں تو نماز بھی نہیں۔ تو کہتے ہیں لأن الولاية مقيدة بشرط النظر اس لیے کہ یہ والی جو ولایت ہے یہ مقید ہے بشرط النظر شفقت کی شرط کے ‏ساتھ فعند فواته يبتل العقد تو جس وقت یہ شفقت فوت ہو جائے یعنی نہ پائی جائے يبتل العقد تو عقد باطل ہوگا عقد ہوگی ہی ‏نہیں۔ وھذا اور یہ اس لیے لأن الحط عن مهر المثل ليس من النظر في شيء لأن الحط عن مهر المثل اس لیے کہ مہرِ مثل سے ‏کمی کرنا ليس من النظر فی شئي یہ شفقت میں سے نہیں ہے کسی بھی چیز میں (یعنی کسی بھی لحاظ سے یہ شفقت میں نہیں ‏ہے) كما في البیع جیسے کس کے اندر؟ بیع کے اندر۔ بھئی یہ بات بھی پیچھے ذکر ہو چکی ہے۔ توجہ ہے؟ بھئی بات یہ گزری تھی کہ صغیرہ یا صغیرہ کے نکاح کا معاملہ ‏ہے۔ تو باپ اور دادا کو بھی ولایتِ اجبار حاصل ہے اور اولیاء کو بھی ولایتِ اجبار حاصل ہے۔ لیکن باپ اور دادا کو ولایتِ ‏اجبار جو حاصل ہے وہ ولایتِ الزام ہے یعنی وہ صغیر اور صغیرہ پر وہ نکاح لازم ہو جائے گا وہ بڑے ہو کر بالغ ہو ‏کر بھی اس کو فسخ نہیں کر سکتے۔ جبکہ دیگر اولیاء اگر نکاح کروائیں گے تو بالغ ہو جانے کے بعد صغیر اور صغیرہ ‏کو خیارِ بلوغ ملے گا وہ اس نکاح کو فسخ کر سکتے ہیں۔ توجہ ہے؟ تو نکاح کے اندر ولایت باپ دادا کے علاوہ اور ‏اولیاء کو بھی حاصل ہے لیکن مال کے اندر جو ولایت ہے صغیر یا صغیرہ کے مال کے اندر تصرف کرنا یہ صرف ‏ولایت باپ اور دادا کو حاصل ہے۔ اور کسی اولیاء کو یہ ولایت حاصل نہیں۔ صغیرہ یا صغیرہ کو کسی نے مال دے دیا ‏مثلاً کوئی شخص مرنے لگا اس نے وصیت کر دی میرے مرنے کے بعد وہ جو زید کا نابالغ بیٹا ہے 10 لاکھ روپے ‏میرے مرنے کے بعد میری میرے مال میں سے اس کو دے دینا۔ تو اب وہ صغیر کو دیکھو 10 لاکھ روپے مل گئے اب ‏باپ اور دادا تو اس مال میں تصرف کر سکتے ہیں اگر باپ اور دادا وفات پا چکے ہیں تو پھر کسی اور ولی کو اس مال ‏میں تصرف کا حق نہیں۔ بات سمجھ میں آگئی۔ یہ تو میں نے مثال دی کسی نے وصیت کی تھی 10 لاکھ روپے کی یا اسی ‏طرح کوئی وصیت کر دیتا ہے کہ میرے مرنے کے بعد یہ گاڑی جو ہے زید کے نابالغ بیٹے کو دے دینا یا میرے مرنے ‏کے بعد میرا یہ پلاٹ یا یہ گھر جو ہے زید کے نابالغ بیٹے کو دے دینا۔ اب باپ اور دادا اس مال کے اندر تصرف کرنا ‏چاہتے ہیں اور کسی کو تصرف کا حق نہیں ان کو حق ہے اور یہ بھی یاد رکھو یہ جو صغیرہ یا صغیرہ کے لیے کوئی ‏چیز بیچیں گے یا خریدیں گے تو وہ ثمنِ مثل کے ساتھ بیچنا اور خریدنا ضروری ہے۔ کس کے ساتھ؟ یعنی وہ غبنِ فاحش کے ساتھ کوئی چیز خرید یا بیچ نہیں سکتے۔ ایک پلاٹ صغیر کو ملا ہوا ہے وہ باپ یا دادا پلاٹ کو بیچنا چاہتے ہیں مثلاً اس پلاٹ کی قیمت ہے 50 لاکھ اور باپ دادا ‏اس کو 25 لاکھ میں یا 20 لاکھ میں بیچنا چاہتے ہیں نہیں یہ غبنِ فاحش کے ساتھ آپ کو بیچنے کی اجازت نہیں ہے۔ بات ‏سمجھ میں آگئی تو صاحبین فرماتے ہیں صاحبین کی دلیل چل رہی ہے صاحبین کیا فرماتے ہیں کہ باپ اور دادا کو ہم نے ‏ولایتِ اجبار دی۔ کس لیے دی تھی؟ کیونکہ ان کی شفقت بڑی کامل ہے۔ تو اگر یہ مہر میں غبنِ فاحش کے ساتھ کمی کر ‏دیں گے یا زیادتی کر دیں گے تو اس میں تو کوئی شفقت نہیں۔ لھذا اس صورت میں ان کو ولایت ہی حاصل نہیں ہوگی وہ نکاح ہو گی ہی نہیں۔ یہ اسی طرح ہے جیسے بیع کے اندر۔ باپ ‏اور دادا کو صغیر کے مال کے اندر ولایتِ اجبار حاصل ہے لیکن اگر وہ غبنِ فاحش کے ساتھ کوئی چیز خریدنا یا بیچنا ‏چاہیں گے تو باپ دادا کو بھی حاصل نہیں۔ تو نکاح میں بھی اسی طرح ہوگا۔ بات سمجھ میں آگئی تو انہوں نے یہ نکاح کو قیاس کیا بیع پر۔ جیسے بیع کے اندر باپ اور دادا غبنِ فاحش کی ان کو ‏اجازت نہیں اسی طرح نکاح میں بھی ان کو غبنِ فاحش کی اجازت نہیں ہوگی یہ معنی ہے كما في البیع جیسے کہ بیع کے ‏اندر ہے۔ ولھذا لم يملك ذلك غير هما اسی لیے اس کا مالک نہیں ہے غير هما باپ اور دادا کے علاوہ یہ جو کمی کی ہے ذالك کے ‏ذریعے اشارہ ہے جو پیچھے آیا تھا لان الحط عن مهر المثل مہرِ مثل میں یہ جو کمی ہے اس کا مالک باپ دادا کے علاوہ ‏اور کوئی نہیں۔ وهذا لم يملك ذالك غير هما اور اسی لیے مہر میں یہ جو کمی ہے یا اس میں جو زیادتی ہے اس کا مالک نہیں ہے غير هما ‏باپ اور دادا کے علاوہ۔ بھئی دیکھو یہ كما في البیع ذرا اس عبارت کو نکال دو۔ اور باقی عبارت کو جوڑو دیکھو ولھذا لان الحط عن مهر المثل ليس من النظر في شئي اس لیے کہ مہرِ مثل میں کمی کرنا ‏اس میں شفقت نہیں ہے في شئي کسی بھی چیز میں (یعنی کسی بھی اعتبار سے مہرِ مثل میں کمی کر دی جائے) وھذا لم ‏يملك ذالك غير هما اسی لیے اس کے مالک باپ دادا کے علاوہ اور کوئی بھی نہیں ہے (یعنی باپ دادا غبنِ یسیر کے ساتھ ‏کمی کر سکتے ہیں اور باقی اولیاء غبنِ یسیر کے ساتھ کمی بھی نہیں کر سکتے)۔ بات سمجھیں؟ باپ دا دیکھو صاحبین کیا فرماتے تھے باپ اور دادا غبنِ یسیر کر سکتے ہیں مہر میں۔ غبنِ فاحش نہیں۔ اور ‏امام صاحب کے نزدیک غبنِ یسیر بھی کر سکتے ہیں اور غبنِ فاحش بھی تو معلوم ہوا غبنِ یسیر تو بلاتفاق امام صاحب ‏کے نزدیک بھی باپ اور دادا کر سکتے ہیں اور صاحبین کے نزدیک تو صاحبین فرماتے ہیں کہ دیکھو یہ جو مہر میں ‏کمی کی گئی ہے اس میں کسی بھی اعتبار سے شفقت نہیں ہے اسی لیے اس کمی کے مالک باپ دادا کے علاوہ اور کوئی ‏نہیں۔ باپ دادا کے علاوہ کوئی اور یہ کمی نہیں کر سکتا یعنی یہ جو غبنِ یسیر بھی کرنا ہے یہ صرف کون کر سکتے ہیں؟ باپ ‏اور دادا کر سکتے ہیں باقی اولیاء اگر کریں گے ان کو غبنِ یسیر کی بھی اجازت نہیں ہے ان کو مہرِ مثل میں ہی کروانا ‏پڑے گا۔ ان کو عبارت سمجھ میں آئی کیا کہنا چاہ رہے ہیں؟ کہ یہ مہرِ مثل میں کمی کی جائے گی یہ تو کیا ہے؟ اس میں شفقت ‏نہیں۔ لہٰذا مہرِ مثل میں کمی کے مالک باپ دادا کے علاوہ کوئی نہیں اور باپ دادا بھی کتنے کے مالک ہیں؟ غبنِ یسیر کے ‏مالک ہیں باقی اولیاء وہ غبنِ یسیر کے مالک بھی نہیں ہیں۔ یہ معنی ہے ولهذا لم يملك ذالك غيرهما اور اسی لیے مہر میں ‏اس کمی کے مالک باپ دادا کے علاوہ اور کوئی بھی نہیں ہے (یعنی باپ دادا غبنِ یسیر کے ساتھ کمی کر سکتے ہیں اور ‏باقی اولیاء غبنِ یسیر کے ساتھ کمی بھی نہیں کر سکتے۔ ولابي حنيفة رحمة الله اب امام صاحب کی دلیل آگئی۔ امام صاحب فرماتے ہیں کہ یہاں باپ اور دادا نے نکاح کروایا ہے۔ ‏اور نکاح میں بہت سی مصلحتیں اور مقاصد ہوتے ہیں جو مہر سے بڑھ کر ہوتے ہیں۔ صرف نکاح میں عورت کے لیے مہر ہی نہیں مقصود ہوتا بلکہ اس نے گھر بسانا ہے آگے اولاد حاصل ہوگی۔ اولاد کی ‏تربیت کرنی ہے تو اچھا خاندان ہو، اچھی جگہ ملے گی تو تمام زندگی راحت کے ساتھ گزرے گی۔ تو نکاح کے مقاصد ‏صرف مہر ہے یا مہر سے بھی بڑھ کر اور مقاصد موجود ہیں نکاح کے اندر؟ اور مقاصد بھی نکاح میں موجود ہیں۔ لہذا باپ اور دادا نے نکاح کروایا۔ اب انہوں نے مہر تو بہت کم یا بہت زیادہ مقرر کر دیا۔ صغیرہ ہے تو مہر بہت کم کر دیا یا صغیر تھا تو اس کی بیوی کا ‏مہر بہت زیادہ رکھوا دیا تو اب مہر میں تو کمی بیشی کر دی۔ لیکن صرف مہر تو مقصود نہیں ہوتا، نکاح میں تو اور بھی ‏مقاصد ہوتے ہیں۔ تو ہو سکتا ہے کسی اور بڑی مصلحت اور بڑے فائدے کی وجہ سے باپ اور دادا نے اس طرح نکاح ‏کروایا ہو۔ لہذا یہ جو صغیر اور صغیرہ کا نکاح کروایا، باپ اور دادا نے مہر بہت کم ہے یا بہت زیادہ ہے، لیکن اس میں فائدہ ہے یا ‏نقصان، یہ پوری طرح ظاہر نہیں۔ مہر کے اعتبار سے دیکھیں تو بہت نقصان ہو رہا ہے، لیکن ہو سکتا ہے اس کے مقابلے میں کوئی بہت بڑا فائدہ ان کے ‏سامنے ہو۔ تو لہذا فائدہ یا نقصان تو پوری طرح ظاہر نہیں۔ جب ایک چیز کا پوری طرح پتہ نہیں چل سکتا، تو پھر اس ‏چیز کی جو دلیل ہے، اس پر حکم کا مدار ہو جائے گا۔ پھر سنو، باپ اور دادا نے نکاح کروایا۔ باپ اور دادا کو اختیار کیوں دیا تھا شریعت نے؟ شفقت کی وجہ سے۔ لیکن اب یہ ‏جو نکاح کروایا مہر تھوڑا ہے یا زیادہ، اب پتہ نہیں اس میں شفقت ہے یا شفقت نہیں۔ یہ امر باطنی ہے۔ پوری طرح واضح نہیں، ہو سکتا ہے مہر میں نقصان ہو رہا ہے، لیکن کوئی اور دوسرا بہت بڑا فائدہ دیکھ کر باپ یا دادا ‏نے یہ نکاح کروایا ہے۔ لہذا شفقت ہے یا شفقت نہیں، یہ ایک امر باطنی بن گیا، پوری طرح یہ بات واضح نہیں کہ اس ‏نکاح میں شفقت ہے یا شفقت نہیں، یعنی فائدہ ہے یا نقصان ہے تو یہ امر باطنی ہوا۔ جب شفقت کا پتہ نہیں چل سکتا، تو ‏دلیل شفقت پر حکم کا مدار ہو جائے گا اور دلیل شفقت کیا ہے؟ وہ قرب قرابت ہے۔ یہ اس کے قریبی رشتے دار ہیں صغیر ‏یا صغیرہ کے۔ باقییوں کے ساتھ رشتہ بھی باپ اور دادا کے واسطے سے ہے، تو قرب قرابت جو ہے یعنی شفقت کی جو دلیل ہے، اس پر ‏حکم کا مدار ہو جائے گا۔ اور قرب قرابت تو موجود ہے، لہذا یہ نکاح جائز ہو جائے گا۔ نہیں توجہ، نہیں توجہ، اچھی طرح سمجھ لو۔ دیکھو، بعض اوقات کسی حکم کی علت پر انسان مطلع نہیں ہو سکتا، تو پھر اس حکم کا مدار سبب پر کر دیا جاتا ہے۔ جیسے وضو ‏جو ہے، خروج نجاست کی صورت میں وضو ٹوٹ جاتا ہے، اور کوئی شخص سویا ہو، تو پھر بھی اس وقت بھی احتمال ‏ہے خروج نجاست کا، لہذا کوئی پہلو کے بل سویا ہو، تو وضو ٹوٹنے کا حکم لگایا جائے گا۔ تو اب دیکھو، یہاں نیند کی حالت میں خروج نجاست کا علم نہیں ہو سکتا، تو اس خروج نجاست کا جو سبب ہے، یعنی یہ جو ‏نیند ہے، اس پر حکم کا مدار کر دیا جائے گا۔ تو یہاں بھی اسی طرح ہے، دیکھو باپ اور دادا نے نکاح کروایا، مہر بہت کم ‏یا زیادہ ہے، تو اب پتہ نہیں اس نکاح میں فائدہ ہے یا نقصان ہے، ہو سکتا ہے کوئی اور فائدہ دیکھ کر انہوں نے کروایا ‏ہو، تو فائدہ یا نقصان ہونا وہ امر باطنی بن گیا، یا یوں کہو اس نکاح میں شفقت ہے یا شفقت نہیں ہے، یہ امر باطنی بن گیا، ‏اس کا پوری طرح پتہ نہیں چل سکتا، جب یہ امر باطنی ہے شفقت کا ہونا یا نہ ہونا، تو پھر اس شفقت کی جو دلیل ہے، جو اس شفقت کی دلیل ہے، اس پر حکم کا مدار ہو جائے گا، اور شفقت کی دلیل کیا ہے؟ قرب قرابت، یہ قریبی رشتے دار ہیں باپ اور دادا، تو قریبی رشتہ ہونا یہ دلیل ہے شفقت کی، تو جب شفقت کا پتہ نہیں چل ‏سکتا، تو یہ جو شفقت کی دلیل ہے یعنی قرب قرابت، اس پر حکم کا مدار ہو جائے گا، اور قرب قرابت تو موجود ہے، لہذا ‏یہ نکاح منعقد ہو جائے گا۔ صاحبین تو فرماتے ہیں نکاح منعقد نہیں ہوگا، لیکن امام صاحب کیا فرماتے ہیں؟ نکاح منعقد ہو جائے گا۔ ولابی حنیفہ رحمہ اللہ اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے کہ ان الحکم یدار علی دلیل النظر کہ حکم کا دارو مدار جو ہے علی ‏دلیل النظر شفقت کی دلیل پر ہوگا۔ شفقت ہے یا شفقت نہیں، یہ تو پتہ نہیں چل سکتا، یہ تو امر باطنی ہے، لہذا شفقت پر حکم کا مدار نہیں ہوگا کیونکہ اس کا ‏پتہ نہیں چل سکتا، تو پھر شفقت کی دلیل کیا ہے؟ کیسے آپ نے کہا یہ ان میں شفقت ہے؟ قرب قرابت کی وجہ سے، قریبی رشتے کی، وہ قریبی رشتہ تو موجود ہے نا، جب ‏قریبی رشتہ موجود ہے، تو پھر یہ نکاح منعقد ہو جائے گا۔ ولابی حنیفہ امام صاحب کی دلیل یہ ہے کہ ان الحکم یدار علی دلیل النظر کہ حکم جو ہے اس کا دارو مدار جو ہے، وہ ‏شفقت کی دلیل پر ہوگا وھو قرب القرابۃ اور وہ قریبی رشتہ داری ہے۔ وفی النکاح مقاصد تربو علی المہر۔ اور نکاح کے اندر ایسے مقاصد ہوتے ہیں تربو، ربایربو کا معنی ہے زائد ہونا۔ وفی النکاح مقاصد اور نکاح میں ایسے ‏مقاصد ہوتے ہیں تربو علی المہر جو مہر سے بڑھ کر ہوتے ہیں۔ بھئی نکاح کے اندر مہر کے علاوہ بھی اور بہت مقاصد ‏ہوتے ہیں، صرف مہر کا ملنا لڑکی کو یہ مقصود نہیں ہوتا، بلکہ اور بھی مقاصد ہوتے ہیں، گھر بسانا ہے، اولاد حاصل ‏ہوگی اور اولاد کی تربیت کرنی ہے، تو یہ سارے مقاصد نکاح کے اندر ہوتے ہیں، لہذا اگر ایک جگہ کمی آئی ہے اور ‏باپ اور دادا کروا رہے ہیں، معلوم ہے دوسری طرف کوئی فائدہ ہو رہا ہے، جبی وہ اس کم مہر میں راضی ہوئے ہیں۔ تو کہتے ہیں وفی النکاح مقاصد تربو علی المہر اور نکاح کے اندر ایسے بہت سے مقاصد ہوتے ہیں جو مہر سے بڑھ کر ‏ہوتے ہیں۔ نکاح میں صرف عورت کے لیے مہر ہی مقصود نہیں ہے بلکہ نکاح میں اور بھی بہت سے مقاصد ہوتے ہیں ‏جو مہر سے بڑھ کر ہوتے ہیں، بات سمجھ میں آگئی۔ اما المالیۃ ہی المقصودۃ فی التصرف المالی یہ اب جواب دے رہے ہیں صاحبین کے قیاس کا۔ صاحبین نے نکاح کو قیاس کیا ‏تھا کس پر؟ بیع پر۔ اور بیع کے اندر باپ اور دادا کے لیے غبن فاحش جائز نہیں، تو نکاح میں بھی غبن فاحش جائز نہیں۔ ‏اس کا جواب دے رہے ہیں کہ بھئی بیع پر آپ نکاح کو قیاس نہیں کر سکتے کیونکہ بیع کے اندر صرف مالیت ہی مقصود ‏ہوتی ہے۔ بیع کے اندر صرف مالیت، صرف مال مقصود ہوتا ہے، وہاں اور فائدے نہیں دیکھے جاتے، باپ پچاس لاکھ کا پلاٹ بیس ‏لاکھ میں بیچ رہا ہے، تو سراسر نقصان ہی نقصان ہے، اور کوئی فائدہ یہاں پر نہیں، جبکہ نکاح میں صرف مہر مقصود ‏ہوتا ہے یا اور بھی مقاصد ہوتے ہیں؟ نکاح میں تو اور بھی مقاصد ہیں، صرف مہر کی مالیت مقصود نہیں ہے، جبکہ بیع ‏میں صرف مالیت مقصود ہے، لہذا آپ نکاح کو بیع پر قیاس نہیں کر سکتے۔ کہتے ہیں اما المالیۃ ہی المقصودۃ فی التصرف المالی باقی مالیت جو ہے وہی مقصود ہوتی ہے مالی تصرف میں یعنی بیع ‏وغیرہ کے اندر۔ والدلیل عدمناه فی حق غیرہما اور دلیل عدمناہ ہم نے اس کو نہیں پایا ہے، عدیما یعدمو کے معنی ہیں نہ ‏پانا۔ والدلیل عدمناہ فی حق غیرہما اور دلیل ہم نے نہیں پائی باپ دادا کے علاوہ کے حق میں۔ بھئی دیکھیے امام صاحب کی دلیل چل رہی ہے، امام صاحب کیا فرماتے ہیں؟ کہ جو باپ دادا نے غبن فاحش کے ساتھ نکاح کروایا، نکاح کے تو اور بھی مقاصد ہو سکتے ہیں، تو مہر کے اعتبار سے ‏دیکھیں نقصان ہے، لیکن ہو سکتا ہے کوئی اور فائدہ بھی ہو اس میں، تو لہذا اس نکاح میں شفقت ہے یا شفقت نہیں، یہ ایک ‏امر باطنی ہو گیا، اس کا پتہ نہیں چل سکتا پوری طرح، جب ایک چیز کا پوری طرح پتہ نہ چل سکے، تو پھر اس کی دلیل ‏پر حکم کا مدار ہو جاتا ہے، اور دلیل شفقت تو یہاں موجود ہے اور وہ کیا ہے کہ باپ اور دادا میں قرب قرابت ہے، قریبی ‏رشتہ داری ہے، تو اب حکم کا مدار قرب قرابت پر ہوگا کہ یہ نکاح کرواتے ہیں غبن فاحش کے ساتھ ہونا چاہیے یا نہیں ‏ہونا چاہیے؟ آپ نے کیا کہا تھا؟ صاحبین نے کہا تھا اس میں شفقت نہیں ہے۔ صاحبین نے کہا تھا اس نکاح میں شفقت نہیں۔ لہذا باپ دادا کو ولایت بھی نہیں ہے، امام صاحب فرماتے ہیں نہیں شفقت ہے ‏یا شفقت نہیں، یہ پتہ نہیں چل سکتا کیونکہ ہو سکتا ہے کوئی اور بڑا فائدہ یہاں موجود ہو۔ جب شفقت کا پتہ نہیں چل سکتا، ‏تو دلیل شفقت کے اوپر حکم کا مدار ہو جائے گا اور دلیل شفقت تو یہاں موجود ہے اور وہ کیا ہے؟ قرب قرابت۔ جبکہ باقی ‏رشتہ دار جو ہیں، وہاں قرب قرابت یعنی دلیل شفقت موجود نہیں ہے، لہذا وہ تو غبن فاحش کے ساتھ نکاح کروائیں گے، ‏نہیں ہو سکتا، لیکن باپ اور دادا غبن فاحش کے ساتھ نکاح کروائیں گے تو نکاح ہو جائے گا۔ یہ معنی ہے والدلیل عدمناہ فی حق غیرہما اور دلیل ہم نے اس کو معدوم پایا ہے باپ دادا کے علاوہ کے حق میں، یعنی ان ‏میں قرب قرابت نہیں۔ لہذا جب ان میں قرب قرابت نہیں تو وہ غبن فاحش کے ساتھ نکاح نہیں کروا سکتے اور باپ اور دادا میں قرب قرابت ‏موجود ہے تو وہ غبن فاحش کے ساتھ نکاح کروا سکتے ہیں کیونکہ ہو سکتا ہے مہر میں تو کمی ہو لیکن کسی دوسری ‏چیز کا بہت بڑا فائدہ وہاں موجود ہو۔ حاصل کلام پھر سمجھ لیں بھئی اس مسئلے کا۔ مسئلہ یہ ہے، باپ اور دادا صغیر یا صغیرہ کا نکاح کرواتے ہیں غبن فاحش کے ساتھ مہر کے اندر، یعنی صغیرہ کا مہر ‏ہونا چاہیے تھا دو لاکھ، باپ اور دادا نے ایک لاکھ مقرر کر دیا۔ یا صغیر کا نکاح کروا رہے ہیں کسی لڑکی سے اور اس ‏لڑکی کا مہر تو ایک لاکھ ہونا چاہیے تھا لیکن انہوں نے اس کا مہر دو لاکھ مقرر کر دیا۔ تو امام صاحب فرماتے ہیں باپ اور دادا کو اختیار ہے وہ غبن فاحش کے ساتھ نکاح کروا سکتے ہیں، جبکہ صاحبین ‏فرماتے ہیں کہ باپ اور دادا ان کے لیے غبن یسیر تو جائز ہے، غبن فاحش جائز نہیں۔ اس پر شبہ ہوا کہ شاید صاحبین کے ‏قول کا یہ مطلب ہے کہ نکاح ہو جائے گا اگر باپ اور دادا غبن فاحش سے کروائیں گے تو نکاح ہو جائے گا، لیکن وہ غبن ‏فاحش جائز نہیں ہوگا۔ صاحب ہدایہ نے آپ کو بتلایا نہیں، صاحبین کے قول کا مطلب یہ ہے کہ باپ اور دادا غبن فاحش ‏کے ساتھ نکاح کروائیں گے تو نکاح منعقد ہی نہیں ہوگا۔ بھئی کیوں نہیں منعقد ہوگا؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ باپ اور ‏دادا کو یہ ولایت ہم نے دی تھی شفقت کی وجہ سے۔ تو شفقت ہوگی تو ان کو ولایت بھی ہوگی، ولایتِ اجبار، اور شفقت ‏نہیں تو ولایتِ اجبار بھی نہیں۔ لہذا جب یہ غبن فاحش کے ساتھ نکاح کروا رہے ہیں، تو اس میں تو شفقت تو نہیں ہے، جب ‏شفقت نہیں ہے تو ان کو ولایتِ اجبار بھی نہیں ہے، لہذا نکاح ہی نہیں ہوگا۔ بات سمجھ میں آگئی؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ ‏مہر کے اندر کمی یا بیشی کرنا اس کے اندر کسی بھی اعتبار سے شفقت نہیں ہے، جیسے بیع کے اندر، باپ اور دادا کو ‏صغیر اور صغیرہ کے مال میں تصرف کا حق حاصل ہے، وہ اس کے لیے کوئی چیز خرید بھی سکتے ہیں اور بیچ بھی ‏سکتے ہیں، لیکن وہاں بالاتفاق وہ غبن فاحش کے ساتھ کوئی چیز خرید اور بیچ نہیں سکتے بھئی۔ تو جیسے بیع کے اندر باپ اور دادا کو غبن فاحش کا اختیار نہیں، اسی طرح نکاح میں بھی ان کو غبن فاحش کا اختیار نہیں ‏ہوگا، تو باپ اور دادا غبن یسیر کے ساتھ کر سکتے ہیں اور یہ غبن یسیر بھی کہتے ہیں صرف باپ اور دادا کو اختیار ‏ہے، باقی اگر اولیاء نکاح کروائیں گے تو ان کو غبن یسیر کا اختیار بھی نہیں، بلکہ ان کو محرمِ مثل کے ساتھ ہی نکاح ‏کروانا پڑے گا۔ اور پھر امام صاحب کی طرف سے جواب دیا۔ امام صاحب فرماتے ہیں کہ آپ نے کہا کہ اس ولایت کا دارو مدار شفقت پر ‏ہے، شفقت ہوگی تو ولایت ہے، شفقت نہیں تو ولایت بھی نہیں۔ اور مہر کم کر دیا تو شفقت نہیں ہے، ہم کہتے ہیں نہیں، ‏نکاح کے اندر صرف مہر مقصود نہیں ہوتا عورت کے لیے، بلکہ اور بھی مقاصد ہوتے ہیں بھئی، لہذا ہو سکتا ہے مہر ‏میں تو کمی آ گئی لیکن ہو سکتا ہے کوئی اور بڑا فائدہ وہاں موجود ہو جس کی وجہ سے انہوں نے نکاح کروایا ہے۔ لہذا یہ جو باپ اور دادا نے غبن فاحش کے ساتھ نکاح کروایا، آپ نے کہا اس میں شفقت نہیں ہے، آپ نے کیا کہا اس میں ‏شفقت نہیں، ہم کہتے ہیں نہیں، اس میں شفقت ہے یا نہیں، یہ پوری طرح واضح نہیں۔ ہو سکتا ہے شفقت ہو، پھر بھی کوئی ‏اور فائدہ ہو، تو شفقت کا ہونا یا نہ ہونا ظاہر نہیں۔ جب شفقت امر باطنی ہو گئی یہاں پر، اور اس کا پتہ نہیں چل سکتا، تو ‏جو شفقت کی دلیل ہے اس پر حکم کا مدار ہو جائے گا، اور شفقت کی دلیل کیا تھی؟ کس سے پتہ چلا تھا کہ یہ شفقت ہے ‏یہاں پر؟ قرب قرابت کی وجہ سے ہی تو ہم نے ان کو اختیار دیا تھا، تو قرب قرابت جو ہے، اس پر حکم کا مدار ہو جائے ‏گا اور قرب قرابت تو باپ اور دادا میں موجود ہے، لہذا ان کو یہ غبن فاحش کے ساتھ بھی نکاح کا اختیار ہوگا اور باقی ‏اولیاء کے اندر قرب قرابت نہیں ہے، لہذا ان کو غبن فاحش کے ساتھ بھی نکاح کا اختیار نہیں۔ اور دوسرا آپ نے نکاح کو ‏بیع پر قیاس کیا تھا، ہم کہتے ہیں نہیں، بیع کے اندر صرف مالیت مقصود ہوتی ہے اور نکاح کے اندر بہت سے مقاصد ‏ہوتے ہیں، تو لہذا آپ نکاح کو بیع پر قیاس نہیں کر سکتے۔ آگے دیکھیے بھئی۔ کہتے ہیں ومن زوج ابنتہ وھی صغیرۃ عبدا او زوج ابنہ وھو صغیر امۃ فھو جائز صورتِ مسئلہ یہ ہے کہ باپ یا دادا نے صغیر یا صغیرہ کا نکاح غیرِ کف میں کروا دیا، تو امام صاحب فرماتے ہیں کہ یہ ‏باپ اور دادا کے لیے جائز ہے۔ صغیرہ یا صغیرہ کا نکاح غیرِ کف میں کروانا باپ اور دادا کے لیے جائز ہے اور کسی اور ولی کے لیے یہ جائز نہیں ‏ہے۔ کہتے ہیں ومن زوج ابنہ وھی صغیرۃ اور جس شخص نے نکاح کروایا اپنی بیٹی کا وھی صغیرۃ اس حال میں کہ وہ ‏صغیرہ ہے یعنی نابالغہ ہے، کس سے نکاح کروایا؟ عبدا کسی غلام سے۔ عبد سے، غلام سے غلام ہی نہیں مراد کہ ‏صغیرہ کا نکاح غلام سے کروا دیا، مراد ہے غیرِ کف۔ کس سے نکاح کروایا؟ غیرِ کف سے اور غلام کا غیرِ کف ہونا تو ‏ظاہر ہے کیونکہ غلام آزاد کا کف نہیں ہوتا بھئی۔ تو کہتے ہیں جس شخص نے نکاح کروایا اپنی بیٹی کا وھی صغیرۃ اس حال میں کہ وہ صغیرہ ہے عبدا کسی غلام سے او ‏زوج ابنہ وھو صغیر امۃ یا نکاح کروایا اپنے بیٹے کا وھو صغیر اس حال میں کہ وہ صغیر ہے یعنی نابالغ ہے، اما کسی ‏باندی سے، فھو جائز تو یہ جائز ہے، یعنی باپ اور دادا کے لیے۔ قال رضی اللہ تعالی عنہ یہ قال سے مراد صاحب ہدایہ ہیں۔ صاحب ہدایہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں وھذا عند ابی حنیفۃ رحمہ اللہ ‏تعالی ایضا یہ بھی امام صاحب کے نزدیک ہے لأن الاعراض عن الکفاءۃ لمصلحت تفوقہا اس لیے کیونکہ یہاں جو کفائت ‏سے اعراض کیا گیا، کفائت کا خیال نہیں رکھا باپ دادا نے بلکہ غیرِ کف میں نکاح کروایا، تو یہ جو کفائت سے منہ موڑا ‏گیا، کفائت سے اعراض کیا گیا، لمصلحت یہ کسی ایسی مصلحت کی وجہ سے ہوگا تفوقھا جو اس کفائت سے بڑھ کر ہے۔ کسی اور بڑی مصلحت کی وجہ سے کیا ہوگا، لہذا جائز ہے و عندھما اور صاحبین کے نزدیک وھو ضرار ظاہر یہ ‏ظاہری ضرر اور نقصان ہے۔ غیرِ کف میں نکاح کروا رہا ہے، تو اس میں صغیر یا صغیرہ کا نقصان ہے اور جو ظاہر ‏ہے لعدم الکفاءۃ کفائت نہ ہونے کی وجہ سے۔ کفائت نہیں ہے تو ان کا نقصان ہے، فلا یجوز تو لہذا یہ جائز نہیں۔ واللہ اعلم ‏اور اللہ خوب جاننے والے ہیں۔ دلیل سمجھ میں آئی؟ کیا؟ امام صاحب فرماتے ہیں باپ یا دادا صغیر یا صغیرہ کا نکاح کروائیں غیرِ کف میں تو بھی جائز۔ کیونکہ ہو سکتا ہے وہاں کوئی اور مصلحت دیکھ کر انہوں نے نکاح کیا ہو۔ اور میں نے بتایا کہ باندی اور غلام کے ساتھ نکاح کا ذکر ہے، باندی اور غلام ہی نہیں مراد، مراد غیرِ کف ہے۔ تو باپ ‏اور دادا غیرِ کف میں نکاح کروا سکتے ہیں اور مہر میں غبنِ فاحش کے ساتھ بھی نکاح کروا سکتے ہیں امام صاحب کے ‏نزدیک۔ جبکہ صاحبین جیسے، جیسے مہر کے سلسلے میں کہتے ہیں باپ اور دادا غبنِ فاحش کے ساتھ نکاح نہیں کروا ‏سکتے، اسی طرح وہ کہتے ہیں باپ اور دادا غیرِ کف میں بھی نکاح نہیں کروا سکتے اس لیے کہ اس میں صغیر اور ‏صغیرہ کا نقصان ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ آگے دیکھیے بھئی۔ فصل فی الوکالۃ بالنکاح وغیرھا یہ غیرھا کی ھا ضمیر راجع ہے وکالت کو۔ یہ فصل ہے نکاح کی وکالت کے بیان میں و غیرھا اور وکالت کے علاوہ اور ‏چیزیں۔ اور وکالت کے علاوہ اور چیزیں جو ہیں، ان کے بارے میں۔ بھئی دیکھو، اس باب میں کسی کو نکاح کا وکیل بنایا جائے۔ ‏مثلاً ایک آدمی کسی دوسرے کو کہتا ہے آپ میرا فلاں جگہ نکاح کروا دیں، تو دیکھو اس آدمی نے اس شخص کو وکیل بنا ‏دیا۔ اسی طرح اس میں فضولی کا نکاح بھی آئے گا۔ فضولی میں نے بتلایا غیر متعلقہ آدمی۔ مثلاً میں اپنی گاڑی فروخت کرنا چاہتا ہوں۔ تو میں اپنی گاڑی بیچ سکتا ہوں کیونکہ میں گاڑی کا مالک ہوں۔ یا میں کسی کو وکیل بناتا ہوں کہ آپ جا کر میری یہ گاڑی فروخت کر دیں، تو اب یہ شخص میرا وکیل ہے، یہ بھی میری ‏گاڑی لے جا کر بیچ سکتا ہے۔ تو میری گاڑی ہے تو اگر میں بیچوں تو میں اصیل کہلاؤں گا۔ کیا کہلاؤں گا؟ اصیل یعنی ‏جو صاحبِ اختیار ہوتا ہے۔ جس کا وہ اختیار ہے وہ کیا ہے؟ اصیل۔ اور کسی دوسرے کو کہا تو وہ کیا ہے؟ وکیل، دوسرے کو اختیار دے دیا۔ اور ‏اگر ایک تیسرا آدمی ہے وہ خود ہی میری گاڑی بیچ دیتا ہے، وہ اصیل بھی نہیں کیونکہ اصیل تو میں ہوں اور وکیل بھی ‏نہیں، میں نے اسے وکیل بھی نہیں بنایا۔ اب ایک شخص میری گاڑی فروخت کر دیتا ہے اور پھر مجھے آکر بتلاتا ہے، ‏میں نے آپ کی گاڑی زید کو دس لاکھ روپے میں فروخت کر دی۔ تو یہ شخص جو غیر متعلقہ ہے، نہ اصیل ہے، نہ وکیل ہے، یہ فضولی کہلاتا ہے۔ کیا کہلاتا ہے؟ فضولی یعنی غیر متعلقہ ‏آدمی۔ تو اب یہاں پر فضولی کا نکاح بھی ذکر ہوگا کہ کوئی غیر متعلقہ آدمی کسی دوسرے کا نکاح کروا دیتا ہے۔ یہ بات پیچھے گزر چکی ہے کہ احناف کے ہاں فضولی بھی اگر کسی کی طرف سے کوئی عقد کروا دے، تو وہ عقد منعقد ‏ہو جائے گا، البتہ اس صاحبِ اختیار کے یا صاحبِ تصرف کی اجازت پر موقوف رہے گا۔ مثلاً ایک آدمی میری گاڑی فروخت کر کے آ گیا، خود ہی مجھ سے پوچھے بغیر، تو وہ عقد منعقد تو ہوا، البتہ میری ‏اجازت پر موقوف ہے۔ میں اجازت دے دوں گا، تو وہ عقد نافذ ہو جائے گا اور میں اجازت نہیں دوں گا، تو وہ نافذ نہیں ‏ہوگا، باطل ہو جائے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہاں وکالت کا بھی ذکر ہوگا اور اسی طرح فضولی یا ولی کسی کا نکاح ‏کرواتا ہے وہ بھی ذکر ہوگا، تو یہ فصل ہے فصل فی الوکالت بالنکاح وغیرھا یہ فصل ہے وکالت بن نکاح کے بارے میں ‏اور وکالت بن نکاح کے علاوہ میں یعنی فضولی وغیرہ کے نکاح یا ولی کا نکاح جو ہے وہ بھی اس میں ذکر ہوگا۔ آگے دیکھیے، کہتے ہیں و یجوز لابن العم ان یزوج بنت عمہ من نفسہ وقال زفر رحمہ اللہ لا یجوز بھئی یاد رکھیے، یہاں وہ مسئلہ ذکر کر رہے ہیں جب ایک ہی شخص دونوں جانب سے نکاح کا متولی ہو جائے۔ یہ مسئلہ جہاں کتاب النکاح ہم نے شروع کی تھی، تو ابتدائی دو تین سطروں کے اندر ہی یہ مسئلہ ذکر ہوا تھا۔ ایک ہی شخص نکاح کی دونوں جانب کا متولی اور ذمہ دار بن سکتا ہے، نکاح کا۔ لیکن بیع کے اندر ایک ہی شخص ‏دونوں جانب کا متولی نہیں بن سکتا۔ ایک ہی شخص نکاح کا متولی بنے گا، مثلاً دیکھو، مثلاً دیکھو، زید ہے۔ زید، لڑکے والوں نے بھی زید کو اپنا وکیل بنا دیا کہ آپ ہمارے لڑکے کا فلاں جگہ نکاح کروا دیں۔ ‏اور لڑکی والوں نے بھی اسی زید ہی کو وکیل بنا دیا اپنا کہ آپ اس لڑکے سے اس لڑکی کا نکاح کروا دیں۔ تو اب دیکھو، زید دونوں طرف نکاح کا متولی ہو گیا، لڑکے والوں کی طرف سے بھی اور لڑکی والوں کی طرف سے ‏بھی۔ متولی یعنی ذمہ دار ہو گیا۔ اب زید دو گواہوں کو بٹھاتا ہے اور ان دو گواہوں کے سامنے زید کہتا ہے میں نے فلاں لڑکے کا فلاں لڑکی سے نکاح ‏کروا دیا۔ یاد رکھو، نکاح منعقد ہو گیا۔ زید کا صرف یہ کہنا میں نے فلاں کا فلانی سے نکاح کروا دیا، دو گواہوں کے سامنے، یہ نکاح منعقد ہو گیا۔ یہ جو زید کا ‏کلام ہے، یہ ایجاب اور قبول دونوں کے قائم مقام ہے۔ اس نے ایجاب اور قبول الگ الگ نہیں کیا، توجہ ہے؟ تو زید کا قول ایجاب اور قبول دونوں کے قائم مقام ہو گیا، یہ دو ‏کلاموں کے درجے میں ہوا۔ وجہ یہ کہ لڑکی والوں نے بھی اس کو وکیل بنایا ہے، لڑکے والوں نے بھی اس کو وکیل بنایا ‏ہے، تو اس کا کلام دو کلاموں کے درجے میں ہے۔ گویا یہ ایجاب بھی ہے اور قبول بھی ہے، اور دو گواہ بھی موجود ہیں، ‏اور دو گواہوں کے سامنے جب یہ کلام پایا گیا، تو لہذا نکاح منعقد ہو گیا، اب وہ آپس میں میاں بیوی بن گئے۔ جن کا نکاح کروایا گیا وہ کیا بن گئے؟ میاں بیوی بن گئے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو دیکھو ایک ہی شخص نکاح کی ‏دونوں جانب کا متولی اور ذمہ دار بن گیا۔ اور دوسری طرف بیع کے اندر ایسا جائز نہیں ہے، میں اپنی گاڑی فروخت کرنا چاہتا ہوں، میں نے زید کو وکیل بنا دیا کہ ‏آپ میری یہ گاڑی فروخت کر دیں۔ عمر ایک گاڑی خریدنا چاہتا تھا، اس نے بھی زید ہی کو وکیل بنایا، کہ میں آپ کو وکیل بناتا ہوں میرے لیے گاڑی خرید کے لے آؤ۔ اور زید نے پھر کیا کہا، میں نے فلاں کی گاڑی فلاں کو بیچ دی۔ کیونکہ وہ دونوں طرف کا متولی ہے، کہتے ہیں نہیں، بیع کے اندر ایک آدمی دونوں طرف کا متولی نہیں ہو سکتا اور اس ‏کے قول سے وہ عقد منعقد نہیں ہوگا بھئی۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ اور دلیل اس کی، دلیل ابھی آگے صاحبِ ہدایہ بھی بیان کریں گے، وہاں میں تفصیل بیان کرتا ‏ہوں۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ حاصلِ کلام کیا؟ کہ نکاح میں ایک ہی شخص دونوں جانب کا متولی ہو سکتا ہے، ‏لیکن بیع وغیرہ کے اندر ایک شخص دونوں جانب کا متولی نہیں ہو سکتا۔ دیکھیے بھئی، کہتے ہیں و یجوز لابن العم ان یزوج بنت عمہ من نفسہ صورتِ مسئلہ یہ ہے کہ ایک صغیرہ ہے، اس کا باپ بھی فوت ہو چکا، دادا بھی فوت ہو چکا۔ اب اس ولایت اس کے بھائیوں کے پاس آئے گی یا بھائیوں کی اولاد کے پاس آئے گی، لیکن اس کا کوئی بالغ بھئی بھی ‏نہیں اور بھائیوں کی کوئی بالغ اولاد بھی نہیں ہے۔ تو اب یہ ولایت مل گئی چچا کو، لیکن چچا کا بھی انتقال ہو چکا۔ اب چچا کا بیٹا زندہ ہے، تو اس کو ولایت مل گئی اور ‏چچا کے بیٹے کا اپنی بھتیجی سے نکاح جائز ہے۔ لہذا یہ جو چچا کا بیٹا جو ولی ہے، اس کو ولایتِ اجبار حاصل ہے، عصبات میں سے ہے نا، تو اس کو ولایتِ اجبار مل ‏گئی اور عصبات تو قریبی والے ہیں نہیں، یہ اس صغیرہ کا نکاح اپنے ساتھ کرواتا ہے۔ اب دیکھو، کس کے ساتھ نکاح کروا رہا ہے؟ اپنے ساتھ، تو خود ہوا یہ اصیل۔ اور صغیرہ کا نکاح کروا رہا ہے، صغیرہ کے لیے یہ کیا ہے؟ ولی۔ توجہ ہے؟ اب یہ دو گواہوں کو بٹھاتا ہے اور ان کے سامنے کہتا ہے کہ وہ جو فلانی ہے، وہ میرے چچا کی بیٹی صغیرہ، ‏اس کا میں اپنے ساتھ نکاح کرتا ہوں، بس یہ کہتے ہی نکاح ہو گیا۔ یہ کہتے ہی نکاح ہو گیا بھئی۔ ہاں، وہ صغیرہ کو پھر اختیار ملے گی، جب وہ بالغ ہوگی تو اس کو خیارِ بلوغ ملے گا، وہ اس کو قبول کرتی ہے یا رد ‏کرتی ہے۔ تو اب ایک ہی شخص نکاح کا متولی ہوا اور کیا کیا ہے؟ وہ اصیل ہے اور ولی ہے، توجہ ہے؟ تو یہ نکاح ہو جائے گا عند الاحناف، جبکہ امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں نہیں، ‏ایک ہی شخص نکاح کی دونوں جانب کا متولی نہیں ہو سکتا، دیکھیے بھئی کتاب پر۔ کہتے ہیں و یجوز لابن العم اور چچا کے بیٹے کے لیے جائز ہے ان یزوج بنت عمہ کہ وہ نکاح کروا دے اپنے چچا کی ‏بیٹی کا من نفسہ اپنے ساتھ۔ وقال زفر رحمہ اللہ لا یجوز اور امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ جائز نہیں۔ بھئی ایک ہی شخص نکاح کی دونوں جانب کا متولی ہوا، کس طرح؟ ایک میں نے مثال ذکر کی، دونوں طرف سے وکیل ‏تھا۔ دوسری مثال کتاب میں آ گئی، کیسے؟ کہ ایک ہی شخص نکاح کی دونوں جانب کا متولی ہے، وہ اصیل بھی ہے اور ولی بھی ہے۔ اب تیسری صورت آ گئی، ‏کہتے ہیں و اذا اذنت المراۃ للرجل ان یزوجھا من نفسہ فاقد بحضرۃ شاہدین جائز تیسری صورت ادھر دیکھیے، ایک عورت ‏ہے، اس نے ایک آدمی سے کہا کہ تم اپنے ساتھ میرا نکاح کر دو۔ ‏(یعنی عورت نے اس کو وکیل بنا دیا اور کس کے ساتھ نکاح کروانے کا وکیل بنایا؟ اپنے ساتھ، وہ وکیل ہی اپنے ساتھ ‏نکاح کروائے گا۔ اب یہ وکیل جو ہے، جو عورت کی طرف سے وکیل ہے اور اپنے لیے اصیل ہے، اپنے ساتھ نکاح کروا رہا ہے، یہ دو ‏گواہوں کے سامنے کہتا ہے کہ میں نے فلانی کا اپنے ساتھ نکاح کر دیا۔ یاد رکھو نکاح منعقد ہو گیا۔ یہ ایک ہی شخص نکاح کی دونوں جانب کا متولی ہو گیا اور اپنے لیے کیا ہے؟ اصیل اور عورت کے لیے کیا ہے؟ وکیل۔ ‏تو پچھلے مسئلے میں کیا تھا؟ ایک ہی شخص متولی تھا، اپنے لیے کیا تھا؟ اصیل اور صغیرہ کے لیے کیا تھا؟ ولی۔ اور یہ شخص اپنے ساتھ نکاح کروا ‏رہا ہے دوسرا شخص، یہ اپنے لیے کیا ہے؟ اصیل، دوسرے کے لیے کیا ہے؟ وکیل۔ تو دیکھو ایک ہی شخص دونوں ‏جانب نکاح کا متولی ہوا۔ کہتے ہیں و اذا اذنت المراۃ للرجل اور جب اجازت دی کسی عورت نے کسی آدمی کو ان یزوجھا من نفسھ کہ وہ اس عورت ‏کا نکاح کروا دے من نفسہ اپنے ساتھ، فاقد بحضرۃ شاہدین تو اس آدمی نے عقد کروا دیا دو گواہوں کی موجودگی میں، تو یہ ‏جائز ہے۔ وقال زفر والشافعی رحمہما اللہ لا یجوز امام زفر اور امام شافعی رحمہما اللہ فرماتے ہیں جائز نہیں۔ وہ فرماتے ہیں نہیں، ایک شخص نکاح کی دونوں جانب کا متولی نہیں ہو سکتا۔ لھما ان الواحد لا یتصور ان يكون مملكاو ‏متملکا مملك، ملکہ یملک تملیْک کا معنی ہے دوسرے کو مالک بنانا۔ تو مملك اس میں فاعل ہے، دوسرے کو مالک بنانے والا، اور تملک کا معنی ہے خود مالک بننا، تو متملک کا معنی ہے ‏خود مالک بننا۔ مملك کا معنی دوسرے کو مالک بنانے والا اور متملک کا معنی خود مالک بننے والا۔ لھما امام زفر اور امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل یہ ہے کہ ان الواحد لا یتصور ان يكون مملکا و متملکا کہ ایک ہی شخص ‏کے بارے میں یہ تصور نہیں کیا جا سکتا کہ وہ مملك، کہ وہ مالک بنانے والا بھی ہو و متملکا اور مالک بننے والا بھی ‏ہو۔ مالک بنانے والا اور ہوتا ہے اور مالک بننے والا اور ہوتا ہے۔ مثلاً میرے پاس یہ کتاب ہے، میں آپ کو کتاب دیتا ہوں کہ ‏لیجیے یہ میری طرف سے تحفے کے طور پر یہ کتاب آپ کی ہو گئی، تو میں ہوا مملك، مالک بنانے والا، اور آپ کیا ‏ہوئے؟ متملک، مالک بننے والے۔ تو مالک بنانے والا اور ہوتا ہے اور مالک بننے والا اور ہوتا ہے۔ بات سمجھ میں آ ‏گئی؟ ایک ہی شخص مملك اور متملک نہیں ہو سکتا۔ یہ یاد رکھو یہ تفصیل، یہ دلیل اور یہ تفصیل جہاں کتاب النکاح ہم نے شروع کی تھی، وہاں دوسری یا تیسری سطر کے ‏اندر یہ مسئلہ آیا تھا اور میں نے کچھ تفصیل وہاں بیان کی۔ مسئلہ یہ تھا کہ بیع کے اندر ایک شخص دونوں جانب کا متولی نہیں ہو سکتا۔ لیکن نکاح میں ایک شخص دونوں جانب کا ‏متولی ہو سکتا ہے۔ وجہ یہ کہ بیع جو ہے، بیع، بیع کے اندر ایک شخص دوسرے کو ایک چیز کا مالک بناتا ہے۔ مثلاً آپ کے پاس ایک کتاب ہے، میں آپ سے خریدتا ہوں، میں آپ سے کہتا ہوں یہ کتاب میں نے آپ سے سو روپے میں ‏خرید لی۔ اور آپ نے کہا کہ مجھے قبول ہے، جیسے ہی آپ نے قبول ہے کہا ساتھ ہی میں اس کتاب کا مالک بن گیا، تو دیکھو آپ ‏ہوئے مملك، مالک بنانے والے، اور میں ہوا متملک یعنی مالک بننے والا۔ تو بیع میں کیا کیا جاتا ہے؟ دوسرے کو کسی چیز کا مالک بنایا جاتا ہے اور مالک بنانے والی ہمیشہ اور ذات ہوتی ہے ‏اور مالک بننے والی اور ذات ہوتی ہے۔ ایک ہی شخص مملك بھی ہو اور متملک بھی ہو، ایسا نہیں ہو سکتا بھئی۔ یہ اسی کو دوسرے لفظوں میں، ایک ہے طالب، ایک ہے مطالب۔ مثلاً آپ کے ساتھ میں نے بیع کر لی کتاب کی، تو اب میں آپ سے مطالبہ کروں گا کہ لو بھئی یہ کتاب میں مالک بن گیا ‏ہوں، میرے حوالے کرو۔ تو دیکھو میں ہوا مطالب، اور کس سے مطالبہ کیا؟ بیچنے والے سے، وہ ہوا مطالب، تو ہمیشہ مطالبہ کرنے والا وہ اور ‏ہوتا ہے اور جس سے مطالبہ کیا جائے وہ اور ہوتا ہے، ایک ہی شخص مطالب اور مطالب نہیں ہو سکتا۔ یا، مثلاً بیچنے ‏والا مجھ سے مطالبہ کرتا ہے کہ بھئی کتاب آپ نے خرید لی، اب لائیے ثمن میرے حوالے کر دیجیے، تو وہ ہوا مطالب، ‏ثمن کا مطالبہ کرنے والا، اور میں کیا ہوا؟ مطالب بن گیا جس سے مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ پہلے میں کیا تھا؟ میں مبیع کا مطالبہ کر رہا تھا، میں تھا مطالب، اور بیچنے والا تھا مطالب، اور ثمن کے اعتبار سے دیکھیں، تو وہ اب ثمن ‏کا مجھ سے مطالبہ کر رہا ہے، تو بیچنے والا کیا ہوا؟ مطالب، اور خریدنے والا کیا ہوا؟ مطالب بن گیا جس سے مطالبہ ‏کیا جا رہا ہے۔ پہلے میں کیا تھا؟ میں مبیع کا مطالبہ کر رہا تھا، میں تھا مطالب، اور بیچنے والا تھا مطالب، اور ثمن کے اعتبار سے دیکھیں، تو وہ اب ثمن ‏کا مجھ سے مطالبہ کر رہا ہے، تو بیچنے والا کیا ہوا؟ مطالب، اور خریدنے والا کیا ہوا؟ مطالب۔ تو دلیل چل رہی ہے امام زفر اور امام شافعی رحمہ اللہ کی۔ وہ فرماتے ہیں جب دو آدمیوں کے درمیان ایک عقد ہوتا ہے، ‏تو ایک شخص مثلاً ایک چیز کا دوسرے کو مالک بناتا ہے، تو مالک بنانے والا ہمیشہ وہ اور ہوتا ہے اور مالک بننے ‏والا وہ اور ہوتا ہے۔ ایک ہی شخص مملك اور متملک نہیں ہو سکتے۔ یا یوں کہو، ایک ہی شخص مطالِب اور مطالَب نہیں ‏ہو سکتے۔ لہذا ایک ہی شخص نکاح کی دونوں جانب کا متولی نہیں ہو سکتا وہ کہتے ہیں۔ اچھا جی دیکھیے بھئی کتاب پر، وقال زفر والشافعی رحمہما اللہ لا یجوز امام زفر اور امام شافعی رحمہما اللہ فرماتے ہیں یہ جائز نہیں۔ لھما ان الواحد لا یتصور ان يكون مملاکا و متملکا کہ ایک ہی شخص کے بارے میں یہ تصور نہیں کیا جا سکتا کہ وہ مالک ‏بنانے والا بھی ہو، اور مالک بننے والا بھی ہو، کما فی البیع جیسے کس کے اندر ہے؟ بیع کے اندر ہے کہ ایک ہی آدمی جو ہے وہ مملك اور متملک نہیں ہو سکتا، الا ان الشافعی رحمہ اللہ یقول مگر امام شافعی ‏رحمہ اللہ فرماتے ہیں فی الولی ضرورۃ ولی کے اندر تو ضرورت ہے۔ لہذا وہ جو چچا زاد بیٹے نے اپنی بھتیجی سے نکاح کیا تھا، وہاں امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں وہاں چونکہ ضرورت ‏ہے اور کوئی ذمہ دار ہے ہی نہیں اس مسئلے کا، وہ خود ہی ذمہ دار ہے، لہذا وہاں نکاح ہو جائے گا۔ لیکن وکیل والے مسئلے میں وہ فرماتے ہیں وہاں تو ضرورت نہیں ہے، ایک عورت ایک آدمی سے نکاح کرنا چاہتی ہے، ‏اسی آدمی کو وکیل بنانے کی کیا ضرورت ہے؟ کسی اور آدمی کو وکیل بنا دو۔ کہتے ہیں یقول فی الولی ضرورۃ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ولی کے اندر ضرورت ہے انہ لا یتولاہ سواہ کیونکہ ‏اس کے علاوہ کوئی اور اس کا متولی نہیں ہے، کوئی اور اس کا ذمہ دار نہیں ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں دیکھو ‏دو صورتیں ذکر ہوئیں پیچھے، ایک صورت کیا تھی؟ چچا زاد نے اپنی بھتیجی سے نکاح کیا۔ چچا زاد خود ہی متولی ہو گیا، لیکن اپنے لیے وہ اصیل تھا اور صغیرہ کے لیے ولی تھا، تو یہاں وہ ولی تھا، یہاں تو ‏ضرورت ہے، اس کے علاوہ اور کوئی اس کا ذمہ دار ہی نہیں۔ لہذا وہ خود ہی ذمہ دار ہے، لہذا وہاں نکاح ہو جائے گا۔ لیکن وککیل والے مسئلے میں ایک ہی شخص دونوں جانب کا متولی ہو جائے یہاں کوئی ضرورت نہیں۔ لہذا ایک عورت ایک آدمی سے نکاح کرنا چاہتی ہے، اسی آدمی کو وکیل بنانے کی کیا ضرورت ہے، کسی اور آدمی کو ‏وکیل بنا دو۔ کہتے ہیں یقول فی الولی ضرورۃ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ولی کے اندر ضرورت ہے انہ لا یتولاہ سواہ کیونکہ ‏اس کے علاوہ کوئی اور اس کا متولی نہیں ہے، کوئی اور اس کا ذمہ دار نہیں ہے امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں دیکھو ‏دو صورتیں ذکر ہوئیں پیچھے، ایک صورت کیا تھی؟ چچا زاد نے اپنے بھتیجے سے نکاح کیا تھا۔ چچا زاد خود ہی متولی ہو گیا، لیکن اپنے لیے وہ اصیل تھا اور صغیرہ کے لیے ولی تھا، تو یہاں وہ ولی تھا، یہاں تو ‏ضرورت ہے، اور کوئی ذمہ دار ہیں ہی نہیں اس مسئلے کا، وہ خود ہی ذمہ دار ہے، لہذا وہاں نکاح ہو جائے گا۔ لیکن وککیل والے مسئلے میں ایک ہی شخص دونوں جانب کا متولی ہو جائے یہاں کوئی ضرورت نہیں۔ لہذا ایک عورت ایک آدمی سے نکاح کرنا چاہتی ہے، اسی آدمی کو وکیل بنانے کی کیا ضرورت ہے، کسی اور آدمی کو ‏وکیل بنا دو۔ کہتے ہیں یقول فی الولی ضرورۃ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ولی کے اندر ضرورت ہے انہ لا یتولاہ سواہ کیونکہ ‏اس کے علاوہ کوئی اور اس کا متولی نہیں ہے، کوئی اور اس کا ذمہ دار نہیں۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں دیکھو دو ‏صورتیں ذکر ہوئیں پیچھے، ایک صورت کیا تھی؟ چچا زاد نے اپنی بھتیجی سے نکاح کیا تھا۔ چچا زاد خود ہی متولی ہو گیا، لیکن اپنے لیے وہ اصیل تھا اور صغیرہ کے لیے ولی تھا، تو یہاں وہ ولی تھا، یہاں تو ‏ضرورت ہے، اور کوئی ذمہ دار ہیں ہی نہیں اس مسئلے کا، وہ خود ہی ذمہ دار ہے، لہذا وہاں نکاح ہو جائے گا۔ لیکن وکیل والے مسئلے میں ایک ہی شخص دونوں جانب کا متولی ہو جائے یہاں کوئی ضرورت نہیں۔ لہذا ایک عورت ایک آدمی سے نکاح کرنا چاہتی ہے، اسی آدمی کو وکیل بنانے کی کیا ضرورت ہے، کسی اور آدمی کو ‏وکیل بنا دو۔ کہتے ہیں یقول فی الولی ضرورۃ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ولی کے اندر ضرورت ہے انہ لا یتولاہ سواہ کیونکہ ‏اس کے علاوہ کوئی اور اس کا متولی نہیں ہے، کوئی اور اس کا ذمہ دار نہیں ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ‏ولی کے اندر تو ضرورت ہے، انہ لا یتولاہ سواہ کیونکہ اس کے علاوہ اور کوئی اس کا متولی نہیں ہے، کوئی اور اس کا ‏ذمہ دار نہیں ہے، ولا ضرورۃ فی الوکیل اور وکیل میں کوئی ضرورت نہیں ہے، لہذا وکیل والے مسئلے میں نکاح نہیں ‏ہوگا۔ ولنا اب ہماری دلیل آئی ہم، ہماری دلیل یاد رکھو۔ ہم کہتے ہیں کہ نکاح کے اندر ایک شخص دونوں جانب کا متولی ہو سکتا ہے، وجہ یہ کہ نکاح کے اندر جو وکیل ہوتا ہے، وہ صرف ‏سفیر ہے، وہ پیغام رساں ہے، پیغام پہنچانے والا ہے، وہ صرف الفاظ کو ادا کرنے والا ہے، اس عقد کے جو حقوق ہیں، ‏ان کا تعلق وکیل سے نہیں ہے بھئی۔ ان کا تعلق وکیل سے نہیں ہے، مثلاً دیکھو جب نکاح ہو جائے، تو لڑکا مطالبہ کر سکتا ہے کہ اب میری بیوی میرے حوالے کی جائے، میرا نکاح ہو گیا۔ اور اسی طرح لڑکی مطالبہ کر سکتی ہے کہ نکاح ہو گیا اب میرا مہر میرے حوالے کیا جائے۔ تو یاد رکھو، یہ جو عقد نکاح ہے، اس میں یہ جو حقوق ہیں، ان کا تعلق وکیل سے نہیں ہے۔ وکیل صرف پیغام پہنچانے ‏والا ہے۔ حقوق کا تعلق وکیل سے نہیں ہوتا، جبکہ بیع کے اندر حقوق عقد کا تعلق وکیل سے ہوتا ہے۔ مثلاً میں نے ایک آدمی کو بھیجا کہ جاؤ جا کر میرے لیے گاڑی خرید کر لے آؤ۔ وہ گیا اور اس نے میرے لیے گاڑی خرید لی، تو یاد رکھو اب اس گاڑی کا مطالبہ کرنا بیچنے والے سے کہ لو اب گاڑی ‏میرے حوالے کرو، یہ وکیل ہی مطالبہ کہے گا، میں جا کر مطالبہ نہیں کر سکتا۔ میں نے وکیل کو بھیجا جاؤ جا کر میرے لیے گاڑی خرید لو، اس نے جا کر عقد تو کر لیا، ابھی گاڑی وصول نہیں کی، ‏میں چلا گیا اور میں نے جا کر ان سے کہا کہ بھئی میرے وکیل نے آپ سے گاڑی خریدی تھی، لاؤ میری گاڑی میرے ‏حوالے کرو۔ تو وہ مجھے کہیں گے بھئی آپ کے ساتھ تو ہمارا عقد نہیں ہوا، ہمارا عقد تو آپ کے وکیل کے ساتھ ہوا ہے، ‏وہ آ کر ہم سے مطالبہ کر سکتا ہے، آپ ہم سے گاڑی وغیرہ کا مطالبہ نہیں کر سکتے۔ تو بیع کے اندر جو حقوق کا تعلق ہوتا ہے، یعنی مطالبہ کرنا یا وصول کرنا یا پیسے ادا کرنا، یہ سارا وکیل ہی کے ذمے ‏ہوتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ چنانچہ اسی لیے آپ دیکھتے ہیں، جب کسی آدمی کو آپ وکیل بناتے ہیں بیع و شراء کے ‏لیے، کہ جا کر میرے لیے گاڑی خرید لاؤ، تو وہ وکیل جا کر آپ کا نام نہیں ذکر کرتا کہ میں فلاں کے لیے ایک گاڑی خریدنا ‏چاہتا ہوں۔ نہیں، وہ خود ہی جائے گا ایک گاڑی خریدے گا، میرا نام بھی ذکر نہیں کرے گا اور لا کر پھر مجھے دے دے گا۔ جبکہ نکاح کے اندر وکیل باقاعدہ نام ذکر کرتے ہیں۔ کہ میں فلاں کا نکاح کرواتا ہوں فلانی کے ساتھ، دیکھو ان کے موکلوں کے نام ذکر کیے جا رہے ہیں، تو نکاح میں موکل ‏کے نام ذکر کیے جاتے ہیں اور بیع میں مؤکل کا نام وغیرہ ذکر نہیں کیا جاتا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو حاصلِ کلام کیا؟ حقوقِ عقد کا تعلق بیع میں کس سے ہوتا ہے؟ وکیل سے۔ وہ جو عقد کرنے والے وکیل ہیں وہ ہے مطالب اور مطالب۔ جبکہ نکاح کے اندر وکیل مطالب اور مطالب نہیں۔ وہ صرف پیغام پہنچا رہے ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو ہماری دلیل چل رہی تھی، ہم نے فرق بیان کر دیا کہ عقد نکاح میں اور عقد بیع میں فرق ہے۔ عقد ‏بیع میں جو ہے وہ حقوقِ عقد کا تعلق وکیل سے ہوتا ہے، وہ وکیل مطالب یا مطالب بنے گا۔ جبکہ نکاح کے اندر وکیل مطالب اور مطالب نہیں بنے گا، وہ صرف پیغام پہنچا رہے ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو ہماری دلیل چل رہی تھی، ہم نے فرق بیان کر دیا کہ عقدِ نکاح میں اور عقدِ بیع میں فرق ہے۔ عقدِ ‏بیع میں جو ہے وہ حقوقِ عقد کا تعلق وکیل سے ہوتا ہے، وہ وکیل مطالب یا مطالب بنے گا۔ جبکہ نکاح کے اندر وکیل مطالب اور مطالب نہیں، وہ صرف پیغام پہنچا رہے ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو ہماری دلیل چل رہی تھی، ہم نے فرق بیان کر دیا کہ عقدِ نکاح میں اور عقدِ بیع میں فرق ہے۔ عقدِ ‏بیع میں جو ہے وہ حقوقِ عقد کا تعلق وکیل سے ہوتا ہے، وہ وکیل مطالب یا مطالب بنے گا۔ جبکہ نکاح کے اندر وکیل مطالب اور مطالب نہیں۔ وہ صرف پیغام پہنچا رہے ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو ہماری دلیل چل رہی تھی، ہم نے فرق بیان کر دیا کہ عقدِ نکاح میں اور عقدِ بیع میں فرق ہے۔ دیکھیے اب صاحبِ ہدایہ اس کو اور بہتر الفاظ میں ذکر فرمائیں گے و لنا اور ہماری دلیل یہ ہے کہ ان الوکیل فی النکاح ‏معبر و سفیر کہ وکیل جو ہوتا ہے نکاح کے اندر معبر و سفیر۔ عبر یعبر تعبیر کا معنی ہے ادا کرنا یعنی الفاظ بولنا۔ اور سفیر کا معنی ہے پیغام رساں، کہ جو وکیل ہوتا ہے نکاح میں یہ معبر ہے یعنی تعبیر کرنے والا ہے، الفاظ کو زبان ‏سے ادا کرنے والا ہے۔ اور سفیر اور پیغام پہنچانے والا ہے، ‏(یعنی حقوق کا تعلق اس سے نہیں، مطالب اور مطالب یہ نہیں، مملك اور متملک یہ نہیں، یہ صرف سفیر ہے۔ توجہ ہے؟ و التمانع فی الحقوق دون التعبیر اور تمانع (یعنی ممانعت اور منافات) فی الحقوق حقوق میں ہوتی ہے، دون التعبیر ‏تعبیر (یعنی الفاظ ادا کرنے میں) نہیں۔ بھئی دیکھو، دونوں طرف سے جب وکیل ہے، نکاح کے اندر، تو وہ صرف الفاظ دونوں کی طرف سے ادا کر رہے ہیں، حقوق کا تعلق ان سے نہیں۔ لہذا ایک ہی شخص دونوں کی طرف سے وکیل بن جائے، اس نے الفاظ ہی ادا کرنے ہیں، حقوق کا تعلق ہے ہی نہیں اس ‏سے، یہ مطالب اور مطالب بن ہی نہیں رہا۔ اگر یہ مطالب اور مطالب بنتا، تو پھر خرابی لازم آئے گی۔ ایک ہی شخص مملك اور متملک بن جائے، تو پھر خرابی لازم آئے گی۔ کیونکہ یہ تو صرف الفاظ ادا کر رہا ہے، حقوق تو ان کی طرف نہیں لوٹتے، بخلاف البیع بخلاف بیع کے، لانہ مباشر ‏کیونکہ بیع کے اندر جو وکیل ہوتا ہے، مباشِر، وہ اس عقد کو سرانجام دینے والا ہے، حتی رجعت الحقوق الیہ یہاں تک کہ حقوق بھی اسی کی طرف لوٹتے ہیں، وہ مطالب یا مطالب وکیل ہی ہوگا، کوئی اور ‏نہیں ہو سکتا۔ و اذا تولا طرفیہ بھئی یہ اب وہی بات بیان کرنے لگے ہیں، میں نے کیا بتایا؟ ایک ہی شخص دونوں جانب کا نکاح کا ‏متولی ہو سکتا ہے۔ جب دونوں طرف سے نکاح کا متولی ہو گیا، اب دو گواہوں کے سامنے وہ کیا کہتا ہے؟ میں نے فلانی کا فلاں سے نکاح کر دیا، بس اس کا یہ ایک ہی کلام یہ ایجاب اور قبول دونوں کے قائم مقام ہو گیا، الگ ‏الگ ایجاب اور قبول کرنے کی بھی حاجت نہیں۔ تو کہتے ہیں و اذا تولا طرفیہ اور جب ایک شخص متولی ہو گیا طرفیہ نکاح کی دونوں جانب کا، فقولہ تو اس کا یہ کہنا ‏زوجت میں نے نکاح کر دیا (یعنی فلاں کا فلانی سے) یتضمن الشطرین، یاد رکھو شطر کا معنی ہے آدھا اور نصف۔ شطر ‏الشئ کسی چیز کا آدھا حصہ، کسی چیز کا نصف۔ تو نصف کو کیا کہتے ہیں؟ شطر۔ اسی طرح شطر کا معنی جز کے بھی ہیں، تو یہاں جز کا معنی کر لیں کیا ترجمہ کر ‏لیں؟ جز۔ دیکھو عقد کے دو جز ہوتے ہیں، ایک ایجاب اور ایک قبول۔ ایجاب اور قبول دونوں ہوں گے تو عقد پایا جائے گا، صرف ‏ایجاب ہو تو عقد نہیں ہو سکتا۔ تو کہتے ہیں فقولہ زوجت تو یہ وکیل جو دونوں طرف کا متولی ہے، اس کا زوجت کہنا یتضمن الشطرین یہ نکاح کے ‏دونوں جزوں کو متضمن ہے، عقد کے، عقد کے دونوں جز (یعنی ایجاب اور قبول) کو متضمن ہے، ولا يحتاج الی القبول ‏اور یہ قبول کا محتاج نہیں۔ یہ ایجاب اور قبول دونوں پر مشتمل ہے، دونوں اسی کے اندر آ گئے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ حاصلِ کلام کیا؟ کہ امام شافعی اور امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایک ہی شخص نکاح کی دونوں جانب کا متولی نہیں ہو سکتا۔ وجہ یہ کہ ایک شخص مملك ہے تو دوسرا متملک ہے۔ ایک آدمی مملك بھی ہو جائے اور متملک بھی ہو جائے، ایسا نہیں ‏ہو سکتا۔ توجہ ہے؟ لیکن آپ کے ذہن میں بھئی ایک اشکال آ سکتا ہے، پھر سمجھ لیں بات کو۔ آپ کے ذہن میں اشکال آ سکتا ہے ایک ہی شخص مملك بھی ہو سکتا ہے اور متملک بھی ہو سکتا ہے، مثلاً کس طرح؟ ‏دیکھو، دیکھو۔ مثلاً میں نے آپ کو کتاب دی۔ میں نے کہا یہ کتاب میری طرف سے تحفہ ہے، تو میں کیا ہوا؟ مملك، مالک بنانے والا، اور آپ کیا ہوئے؟ متملک۔ تھوڑی دیر بعد پھر آپ وہ کتاب اٹھاتے ہیں اور مجھے دیتے ہیں، اور کہتے ہیں یہ کتاب اب میری طرف سے آپ کی ہوئی ‏تو اب آپ کیا بن گئے؟ مملك، اور میں کیا بن گیا؟ متملک، مالک بننے والا۔ تو دیکھو اسی کتاب کے اعتبار سے پہلے میں کیا تھا؟ مملك، اب کیا ہوں؟ متملک، تو ایک ہی ‏آدمی مملك بھی ہو گیا اور متملک بھی ہو گیا۔ تو جواب یہ کہ بھئی چیز بھی ایک ہو اور زمانہ بھی ایک ہو، ایک ہی وقت کے اندر میں مملك بھی ہوں اور متملک بھی ‏ہوں، ایک ہی چیز کے اعتبار سے ایسا نہیں ہو سکتا۔ پہلے ایک زمانے کے اندر میں جب میں کتاب آپ کو دے رہا تھا، میں اس وقت صرف مملك تھا۔ جی اور اب دوسرے زمانے میں جب آپ وہ چیز مجھے واپس دے رہے ہیں، تو اب میں کیا ہوں؟ متملک، تو ایک ہی چیز کے ‏اعتبار سے، ایک ہی زمانے کے اندر، ایک ہی شخص مملك بھی ہو جائے اور متملک بھی ہو جائے، یہ نہیں ہو سکتا۔ ہاں، چیز بدل جائے، یا زمانہ بدل جائے، پھر ایک شخص مملك اور متملک ہو سکتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو دلیل چل رہی تھی، امام زفر اور امام شافعی رحمہ اللہ کی۔ وہ فرماتے ہیں ایک ہی شخص مملك اور متملک نہیں ہو سکتا جیسے بیع کے اندر ‏ہے۔ ہم کہتے ہیں نکاح کے اندر جو وکیل ہوتا ہے، وہ صرف پیغام پہنچانے والا ہے، سفیر ہے۔ وہ صرف الفاظ کو زبان ‏سے ادا کر رہا ہے۔ حقوقِ عقد کا تعلق اس سے نہیں۔ اور حقوق کے اندر منافات ہو سکتی ہے، یعنی ایک ہی شخص مطالب اور مطالب بنے، تو پھر خرابی لازم آئے گی۔ ایک ہی شخص مملك اور متملک بنے، پھر خرابی لازم آئے گی۔ لیکن نکاح کے اندر تو وہ صرف معبر ہے، تعبیر کر رہا ‏ہے، وہ تو مملك اور متملک ہے ہی نہیں، وہ تو مطالب اور مطالب ہے ہی نہیں، جبکہ بیع کے اندر حقوقِ عقد کا تعلق وکیل ‏سے ہوتا ہے، وہ وکیل مطالب یا مطالب بنتا ہے۔ لہذا ایک ہی شخص مملك یا متملک بیع کے اندر نہیں بن سکتا۔ اور پھر انہوں نے آپ کو یہ بھی بتلایا کہ جب ایک ہی شخص دونوں طرف سے نکاح کا متولی ہو جائے، تو اس کا کلام ‏دونوں کے قائم مقام ہو جاتا ہے۔ الگ سے قبول کہنے کی بھی حاجت نہیں۔ تو جو چچا زاد بیٹے نے اپنی بھتیجی سے نکاح کرتے وقت صرف اتنا کہا، دو گواہوں کے سامنے، کہ میں نے فلانی اپنی ‏بھتیجی سے اپنا نکاح کر دیا۔ تو اس نکاح منعقد ہو گیا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ وہاں کسی قبول وغیرہ کی ضرورت نہیں ہے۔ یہاں تک حل ہو گیا، بات سمجھ میں آگئی۔ بھئی یہاں اعتراض ہوتا ہے، اعتراض یہ کہ صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ولی کے مسئلے میں تو چونکہ ‏ضرورت ہے، اسی لیے ولی کے مسئلے میں ایک ہی شخص دونوں جانب کا متولی ہو سکتا ہے، وہ جو چچا زاد بیٹے نے ‏اپنی بھتیجی سے نکاح کیا تھا، تو وہ چچا زاد بیٹا اپنا نکاح کر رہا ہے، وہ ہے اصیل، اور کس سے کر رہا ہے؟ صغیرہ ‏سے، اور صغیرہ کے لیے وہ ولی ہے۔ تو ایک ہی شخص اصیل بھی ہوا اور ولی بھی ہوا، دونوں جانب کا متولی ہو گیا۔ امام شافعی فرماتے ہیں یہاں چونکہ ‏ضرورت ہے، اور کوئی ذمہ دار ہے ہی نہیں اس مسئلے کا، وہ خود ہی ذمہ دار ہے، لہذا یہاں نکاح ہو جائے گا۔ تو اس پر اشکال ہوتا ہے کہ اے صاحبِ ہدایہ آپ نے ہمیں پیچھے بتایا تھا کہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک تو ولایتِ ‏اجبار چچا کے بیٹے کو ملتی ہی نہیں ہے، امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک ولایتِ اجبار صرف باپ اور دادا کو ملتی ہے، ‏چچا کے بیٹے کو تو ملتی ہی نہیں۔ جب چچا کے بیٹے کو ولایتِ اجبار ملتی ہی نہیں ہے، تو چچا کا بیٹا تو ولی بن ہی نہیں سکتا صغیرہ کا، تو پھر وہ اس ‏نکاح کو کیسے جائز کہہ سکتے ہیں؟ تو یہ اشکال ہوتا ہے صاحبِ ہدایہ نے جو مسئلہ بیان کیا اس پر۔ تو مَحشِی حضرات یہ اعتراض ذکر کرتے ہیں اور پھر ‏جواب دیتے ہیں کہ اس مسئلے کا یہی جواب دیا جا سکتا ہے کہ شاید اس مسئلے میں امام شافعی رحمہ اللہ سے دو روایتیں ‏ہوں۔ ہمارے نزدیک بھئی ولایتِ اجبار باپ اور دادا کو بھی ملتا ہے اور اگر باپ اور دادا نہ ہوں تو اور جو عصبات ہیں وہ بھی ‏اولیاء بنیں گے صغیرہ یا صغیرہ کے، ان کو بھی ولایتِ اجبار ملے گی، اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک ولایتِ ‏اجبار صرف باپ اور دادا کو ملے گی اور کسی کو نہیں۔ تو یوں کہا جائے کہ یہ مسئلہ امام شافعی رحمہ اللہ کے دوسرے قول پر مبنی ہے بھئی۔ ورنہ اعتراض ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک تو چچا کا بیٹا ولی بن ہی نہیں سکتا۔ بات سمجھ میں آ گئی، حل ہو گیا؟ چلیے بس بھئی، ہذا ہو المرام، واللہ اعلم بحقیقتِ کلام۔
24 approved lectures · 24 of 24
First Previous
Current dars-024