Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء ثاني · dars-021

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Muhammad Ghayyas
📍 Location Lahore, Pakistan
📅 Approved Date 09 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 19
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
سبق دیکھیے بھئی آگے! فأن زوّجہما الابو او الجد یعنی الصغیر و الصغیرۃ فلا خیار لہما بعد بلوغہما لأنہما کامل الرأی وافر ‏الشفقۃ فیلزم العقد بمباشرتہما کما إذا باشرہ و برضائہما بعد البلوغ وأن زوّجہما غیر الاب والجد فلکل واحد منہما الخیار إذا بلغ ‏إن شاء أقام علی النکاح و إن شاء فسخا۔ گذشتہ سبق میں ولایت اجبار کی تفصیل بیان فرما رہے تھے صاحب ہدایہ۔ صاحب ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ صغیر اور ‏صغیرۃ جو ہیں، ان کا ولی جب ان کا نکاح کروا دے تو وہ نکاح منعقد ہو جائے گا اور وہ صغیرۃ چاہے بالغہ ہو، چاہے ‏باکرہ، دونوں صورتوں میں اس پر ولی کو ولایت اجبار حاصل ہے۔ اور پھر یہ بھی آپ کو بتلایا کہ ولی جو ہے ہمارے ‏نزدیک عصبات ہیں بھئی۔ اور یہ اسی ترتیب سے ہیں جس ترتیب سے وہ وراثت کے اندر بیان ہوئے ہیں کہ سب سے پہلا ‏درجہ جو ہے، وراثت کے اندر کیا بیان ہوا؟ کہ سب سے پہلے درجے کے عصبات میت کی اولاد ہوتی ہے یعنی بیٹا، پوتا، ‏پڑپوتا وغیرہ۔ اور دوسرے درجے میں میت کے جو اصول ہیں، یعنی باپ، دادا، پردادا وغیرہ، اور تیسرے درجے میں اصل قریب کا جز ‏جو ہے، یعنی باپ کی اولاد یعنی بھئی اور اسی طرح بھائیوں کی اولاد نیچے تک بھئی۔ اور پھر چوتھے درجے میں جو ‏ہیں وہ اصل بعید کے جز جو ہیں، یعنی چچا اور چچا کی اولاد نیچے تک، تو یہ عصبات ہیں۔ تو عصبات وہ مذکر رشتے ‏دار کے جن کے ساتھ رشتہ جوڑنے میں درمیان میں عورت کا واسطہ نہ آئے بھئی۔ تو عند الاحناف یہ عصبات اولیاء ہیں۔ ‏البتہ ان میں سے جو سب سے قریبی ہوگا، قریب درجے والا ہوگا وہ ولی بنے گا اور اس کے ہوتے ہوئے باقیوں کو ولایت ‏حاصل نہیں ہوگی بھئی۔ جبکہ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ صغیر اور صغیرۃ پر صرف باپ کو ولایت حاصل ہے اور وہ بھی خلاف ‏القیاس نص سے ثابت ہے۔ وجہ یہ کہ ولایت شریعت تب دیتی ہے جب جہاں حاجت اور ضرورت ہو اور صغیر اور ‏صغیرۃ کو تو کوئی حاجت نہیں کیونکہ ان میں شہوت نہیں ہے تو ان کو نکاح کی حاجت نہیں، لہذا ان پر کسی کو ولایت ‏بھی حاصل نہیں ہے۔ تو لہذا صغیر اور صغیرۃ پر کسی کو ولایت حاصل ہی نہیں ہونی چاہیے بھئی۔ قیاس تو یہ تقاضا ‏کرتا ہے لیکن نص خلاف القیاس جو ہے باپ کے لیے یہ ولایت ثابت ہے کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ نے ‏اپنی بیٹی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہ کا نکاح حضور علیہ السلام سے کروایا چھ سال کی عمر میں۔ اور ‏حضور علیہ السلام نے اس نکاح کو برقرار رکھا۔ معلوم ہوا باپ کو ولایت حاصل ہے۔ تو یہ ولایت خلاف القیاس نص کے ذریعے باپ کو حاصل ہے اور وہ حکم جو خلاف القیاس ہوتا ہے وہ اپنے مورد پر بند ‏رہتا ہے، لہذا یہ ولایت صرف باپ ہی کو حاصل ہوگی، کسی اور کو حاصل نہیں ہوگی۔ کسی اور کو ہم باپ پر قیاس نہیں ‏کر سکتے بھئی۔ تو ہم جواب دیتے ہیں امام مالک رحمہ اللہ کو کہ نہیں، یہ جو صغیر یا صغیرۃ پر باپ کو ولایت حاصل ہے، یہ خلاف ‏القیاس نہیں ہے بلکہ یہ قیاس کے موافق ہے۔ وجہ یہ کہ نکاح جو ہے صرف شہوت کی حاجت کی وجہ سے نہیں کیا جاتا ‏بلکہ نکاح کی اور بھی مصلحتیں ہوتی ہیں۔ اور یہ مصلحتیں عموماً ہم پلّہ لوگوں کے درمیان ہی کامل طور پر حاصل ہوتی ‏ہیں اور ہم پلّہ اور برابر کے لوگوں کا ہر وقت ملنا دشوار ہوتا ہے، لہذا باپ وغیرہ کو ولایت حاصل ہونی چاہیے تاکہ اگر ‏بچپن میں بھی کہیں برابر کا رشتہ مل جائے تو وہاں پر وہ اس صغیر یا صغیرۃ کا نکاح کروا سکیں تو یہ قیاس کے موافق ‏ہے۔ فھر اس کے بعد امام شافعی رحمہ اللہ کا مذہب ذکر فرمایا۔ امام شافعی رحمہ اللہ ہم سے دو مسئلوں میں اختلاف فرماتے ہیں: ‏ایک تو وہ فرماتے ہیں کہ یہ ولایت صرف باپ اور دادا کو حاصل ہے اور عصبات کو حاصل نہیں۔ دوسرا وہ اختلاف یہ ‏کرتے ہیں کہ صغیرۃ اگر ثیبہ ہے تو پھر اس پر بھی کسی کو ولایت اجبار حاصل نہیں ہے، کیونکہ اس کو ایک دفعہ نکاح ‏کا تجربہ ہو چکا ہے تو اس کی کچھ نہ کچھ رائے بن گئی ہوگی، کچھ نہ کچھ اس کو نکاح کی سمجھ آ گئی ہوگی، لہذا اس ‏پر کسی کو ولایت اجبار حاصل نہیں۔ جبکہ ہمارے نزدیک صغیرۂ ثیبہ جو ہے، وہ اگرچہ اس کو نکاح کا تجربہ ہو چکا ہے لیکن وہ تجربہ صغر کی حالت میں ‏ہوا جس وقت شہوت ہی موجود نہیں۔ جب شہوت ہی موجود نہیں تو اس ممارست کی وجہ سے، اس تجربے کی وجہ سے ‏اس کی کوئی رائے نہیں بن سکتی بھئی۔ اور یہ صغیرۂ ثیبہ یہ بھی محتاج ہے نکاح کی مصلحتوں کو حاصل کرنے کے ‏لیے، لہذا اس پر بھی ولایت ہونی چاہیے کیونکہ یہ صغیرۃ ہے، نا سمجھ ہے تو ولی کو ولایت حاصل ہونی چاہیے کہ ‏جہاں چاہے اس کا نکاح کروا دے بھئی۔ اور نیز دوسرا اختلاف ہم سے کیا امام شافعی رحمہ اللہ نے کہ یہ ولایت صرف باپ اور دادا کو حاصل ہے، ہمارے ‏نزدیک تو اور عصبات کو بھی حاصل ہے۔ ان کے نزدیک صرف باپ اور دادا کو یہ ولایت حاصل ہے۔ وہ فرماتے ہیں ‏وجہ یہ کہ اس ولایت کی بنیاد شفقت ہے کہ صغیر اور صغیرۃ پر شفقت ہو اور یہ شفقت باپ اور دادا میں تو کامل طور پر ‏موجود ہے۔ جیسے باپ اپنی اولاد پر انتہائی شفقت کرتا ہے، اسی طرح دادا بھی اپنی اولاد اور پھر اولاد کی اولاد وغیرہ ‏پر بے انتہا شفقت کرتا ہے تو باپ اور دادا کو یہ ولایت ملنی چاہیے کیونکہ ان میں شفقت زیادہ ہے، جبکہ باقی جو ‏عصبات ہیں وہ تو دور کے رشتے دار ہیں، ان سے تو جو رشتہ ہے وہ باپ اور دادا کے واسطے سے ہے تو جب وہ دور ‏کے رشتے دار ہیں تو ان کی شفقت میں کمی آ گئی، لہذا ان کو یہ ولایت اجبار حاصل نہیں ہونی چاہیے۔ نیز وہ فرماتے ہیں کہ اے احناف! تمہارے نزدیک بھی ولایت فی المال صرف باپ اور دادا کو حاصل ہوتی ہے۔ میں نے ‏آپ کو بتلایا تھا کہ عند الاحناف ولایت اجبار تو باپ اور دادا اور اس کے بعد اور عصبات کو بھی ملے گی، لیکن ولایت ‏فی المال جو ہے، یہ صرف باپ اور دادا کو حاصل ہوتی ہے اور عصبات کو یہ ولایت نہیں ملے گی۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل چل رہی تھی۔ وہ فرماتے ہیں کہ اے احناف! ایک تصرف فی المال ہے اور ایک تصرف ‏فی النفس ہے کہ اس کا نکاح کروا دیا جائے۔ اور تصرف فی المال ادنی درجے کا ہے اور تصرف فی النفس اعلیٰ درجے ‏کا ہے۔ وجہ یہ کہ جان اعلیٰ ہے، مال ادنیٰ ہے۔ مال تو جان کی حفاظت کے لیے ہوتا ہے، لہذا معلوم ہوا تصرف فی النفس ‏اعلیٰ ہوا اور تصرف فی المال ادنیٰ۔ اور اے احناف! آپ تصرف فی المال کی ولایت وہ تو صرف باپ دادا کو دیتے ہیں اور ‏کسی کو نہیں دیتے، یعنی جو ادنی چیز ہے اس کا اختیار صرف باپ دادا کو دیا اور جو اعلی چیز ہے یعنی تصرف فی ‏النفس، وہ آپ نے باپ دادا کے علاوہ اوروں کو بھی دے دیا۔ حالانکہ جب ادنی کا اختیار صرف باپ اور دادا کو ہے تو ‏اعلی کا اختیار بھی صرف باپ اور دادا کو ہونا چاہیے۔ تو پھر ہم نے جواب دیا تھا کہ یہ جو ولایت شریعت دیتی ہے، یہ شفقت کی وجہ سے ہے اور باپ اور دادا کو بھی اسی لیے ‏یہ ولایت دی گئی کیونکہ ان میں بھی شفقت ہے، البتہ باقیوں کے اندر شفقت کم ہوتی ہے، یہ بات ہمیں تسلیم ہے۔ تسلیم ہے، ‏لیکن ہم نے اس کو ظاہر کر دیا بھئی، احکام کے اندر فرق کر دیا۔ وہ اس طرح کہ باپ اور دادا کو جو ولایت دی ہے وہ ‏ولایت الزام ہے، جبکہ باقی اولیاء جو ہیں ان کو ولایت الزام نہ دی۔ اس طرح تلافی ہو جائے گی۔ اس طرح کیا ہے؟ تلافی ‏ہو جائے گی۔ ولایت الزام میں نے بتلایا کہ ولایت الزام یہ ہے جو آج آگے صاحب ہدایہ بھی بیان فرمائیں گے کہ باپ اور دادا اگر صغیر ‏یا صغیرۃ کا نکاح کروا دیں گے تو اب یہ نکاح لازم ہو گیا۔ اب اس نکاح کو وہ بالغ ہونے کے بعد بھی فسخ نہیں کر ‏سکتے، جبکہ باقی اولیاء کو ولایت الزام نہیں۔ وہ نکاح تو کروا سکتے ہیں صغیر یا صغیرۃ کا، لیکن اس کو ان پر لازم ‏نہیں کر سکتے۔ چنانچہ صغیر یا صغیرۃ جب بالغ ہو جائیں تو وہ اس نکاح کو فسخ کر سکتے ہیں۔ وجہ یہ کہ باقیوں کی ‏شفقت میں کمی ہے، تو کہیں ایسا نہ ہو نکاح کی مصلحتوں میں خلل آ جائے، ہو سکتا ہے انہوں نے کہیں اچھی جگہ رشتہ ‏نہ کروایا ہو، یہ احتمال بھی ہے، لہذا اس لیے صغیر اور صغیرۃ کو خیار مل جائے گا جب وہ بالغ ہوں گے کہ وہ نکاح کو ‏فسخ کر سکتے ہیں۔ تو ہم نے فرق کر دیا شفقت کے فرق کی جن میں شفقت کامل تھی، ان کو ہم نے ولایت الزام دے دی یعنی باپ اور دادا اور ‏جن میں شفقت کی کمی تھی، ان کو ہم نے ولایت الزام نہیں دی، لہذا یہ جن میں شفقت کی کمی ہے یہ جب نکاح کریں گے تو ‏اس کی تلافی ممکن ہے، اگر خلل اور خرابی آئے یعنی اچھی جگہ رشتہ نہیں کروایا تو اس کی تلافی ممکن ہے کہ ان بچوں ‏کو اختیار دے دیا جائے بالغ ہونے پر۔ تو دیکھا تصرف فی النفس کے اندر تلافی ممکن ہے۔ کم شفقت والوں کو بھی اختیار ‏دے دیا، پھر بھی وہاں تلافی ممکن ہے کہ وہ اس نکاح کو فسخ کر دیں۔ جبکہ مال جو ہے اس کا اختیار ہم نے باپ دادا کے علاوہ اور کسی کو نہیں دیا، وجہ یہ کہ مال کے اندر اگر کوئی خلل آ ‏گیا تو پھر اس خلل کی تلافی ممکن نہ رہے گی، اس لیے کہ مال ایک ہاتھ سے نکلتا ہے دوسرے ہاتھ میں چلا جاتا ہے، ‏دوسرے سے نکلتا ہے تیسرے ہاتھ میں چلا جاتا ہے، وہاں تلافی نہیں ہو سکتی۔ مثلاً یہ صغیر یا صغیرۃ کی کوئی زمین ‏ہے اور وہ ولی اس زمین کو آگے بیچ دیتا ہے تو پھر اب تلافی نہیں ہو سکتی، یہ زمین واپس ان کے پاس نہیں آ سکتی، ‏کیونکہ جو خریدار ہوگا وہ آگے کسی اور کو بیچ دے گا، اس سے اگلا خریدار ہوگا وہ کسی اور کو بیچ دے گا، تو دیکھو ‏اس تصرف فی المال کے اندر تکرار ہوتا چلا جاتا ہے، وہاں تلافی کی کوئی صورت نہیں۔ اور ہم یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ خریدار کو کہیں کہ بھئی یہ زمین آپ نے اپنے پاس رکھنی ہے، آپ نے اس کو آگے نہیں ‏بیچنا، یہ صغیر اور صغیرۃ کی زمین تھی، یہ جب بالغ ہو جائیں گے تاکہ ان کے پاس فسخ کا اختیار رہے۔ بھئی، پھر تو ‏کوئی خریدے گا ہی نہیں کس کے جب میں آگے زمین کو بیچ ہی نہیں سکتا، تو پھر میرے خریدنے کا کیا فائدہ ہے؟ لہذا ‏معلوم ہوا تصرف فی المال کے اندر تکرار ہوتا ہے اور وہاں جب خرابی آ جائے تو پھر وہاں تلافی کی کوئی صورت نہیں ‏رہتی۔ لہذا تصرف فی المال جو ہے صرف ان اولیاء کو ملنا چاہیے جن کو ولایت الزام ہے جہاں شفقت کامل ہے، جو ایک ‏دفعہ تصرف کر دیں تو وہاں اس کو پھر فسخ کرنے کی حاجت پیش نہ آئے بھئی۔ تو اس لیے ہم نے صرف باپ اور دادا کو تصرف فی المال دیا کیونکہ صرف ان کے پاس ولایت الزام ہے، جبکہ باقیوں ‏کے پاس ولایت الزام نہیں ہے، لہذا ان کو تصرف فی المال کا حق بھی نہیں دیا۔ فھر اس کے بعد صاحب ہدایہ نے امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل ذکر فرمائی۔ وہ فرماتے ہیں کہ یہ صبیبہ صغیرۃ پر ولایت ‏اجبار کسی کو حاصل نہیں۔ وجہ یہ کہ اس کو ایک دفعہ نکاح کا تجربہ ہو چکا ہے، لہذا اس کی کچھ نہ کچھ رائے بن گئی ‏ہوگی نکاح کے بارے میں کیونکہ اس کو ایک دفعہ تجربہ ہو چکا ہے، لیکن سمجھ اس کو آئی ہے یا نہیں، عقل اس کو آئی ‏ہے یا نہیں، یہ تو ایک باطنی چیز ہے، اس کا ویسے تو پتہ نہیں چل سکتا، تو جب حکم کی علت جو ہے اس پر مطلع ہونا ‏مشکل ہو جائے، دشوار ہو جائے تو پھر اس صورت میں اس حکم کا دارومدار سبب پر کر دیا جاتا ہے۔ تو لہذا تو ولایت اجبار کا دارومدار تھا سمجھ ہونے پر۔ اگر سمجھ ہے تو ولایت اجبار نہیں، اگر سمجھ نہیں ہے تو ولایت ‏اجبار ہے، لیکن وہ تو پتہ نہیں چل سکتی سمجھ اور عقل کا تو پتہ نہیں چل سکتا، لہذا اس کا دارومدار جو ہے وہ صبیبہ ‏ہونے پر کر دیا گیا۔ صبیبہ ہے تو معلوم ہوا سمجھ ہے اور ولایت اجبار کسی کو نہیں۔ اور اگر صبیبہ نہیں، معلوم ہوا نا ‏سمجھ ہے تو اب ولایت اجبار اولیاء کو حاصل ہوگی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اور پھر صاحب ہدایہ نے یہ بھی بتلایا کہ ہم نے جو کہا تھا کہ ولایت باپ دادا کے علاوہ اور عصبات کو بھی حاصل ‏ہوگی، ہماری اس بات کی تائید حدیث سے بھی ہوتی ہے۔ حدیث میں بھی آتا ہے: النکاح الی العصابات، نکاح جو ہے ‏عصبات کے سپرد ہے۔ اور میں نے بتلایا بعض احادیث میں نکاح کی جگہ الانکاح آیا ہے، نکاح کروانا: الانکاح الی ‏العصابات، نکاح کروانا عصبات کے سپرد ہے۔ تو یہاں پر دیکھو باقی عصبات اور باپ دادا میں کوئی فرق نہیں کیا گیا، ‏مطلقا تمام عصبات مراد ہیں یہاں پر۔ اور پھر آخر میں صاحب ہدایہ نے بتلایا تھا کہ عصبات کے اندر جو ہے درجہ بدرجہ ہر ایک کو ولایت ملے گی۔ پہلے ‏درجے والے اگر موجود ہیں یعنی اولاد تو انہی کو ولایت ملے گی اور کسی کو ولایت نہیں۔ اور اولاد میں پھر ایک درجے ‏والے اگر کئی ہوں تو پھر ان میں سے جو سب سے قریب والا ہو تو اس کو ولایت ملتی ہے۔ بیٹا اور پوتا دونوں پہلے ‏درجے والے ہیں، اگر دونوں موجود ہیں تو ان میں سے پھر قریب والے کو جو ہے ولایت یعنی بیٹے کو ولایت ملے گی، ‏پوتے کو نہیں۔ اگر بیٹا نہ ہو پھر پوتے کو، اگر پوتا بھی نہ ہو پھر پڑپوتے کو۔ تو یہ ولایت درجہ بدرجہ لوگوں کو ملے ‏گی اور اس میں اگر ایک ہی درجے والے کئی افراد ہوں تو اس سب سے قریب والے کو دیکھا جائے گا۔ اور اور دوسرا ‏درجہ اصول کا ہے اور تیسرا درجہ جو ہے اصل قریب کا جز یعنی بھئی اور نیچے ان کی مذکر اولاد ہے نیچے تک ‏بھئی۔ اور چوتھا درجہ جو ہے اصل بعید یعنی دادا کی اولاد، چچا اور ان کی چچا کی نیچے تک مذکر اولاد ہے یہ سب اس ‏میں داخل ہیں۔ اور پھر میں نے یہ بھی بتلایا تھا اگر ایک ہی درجے والے ایک ہی درجے والے دو برابر افراد موجود ہیں، ‏برابر کے افراد ہیں جہاں قرابت برابر درجے کی ہے جیسے دو بھئی ہیں یا دو چچا ہیں تو پھر ان میں سے جہاں قوت ‏قرابت ہوگی اس کو یہ اختیار ہوگا بھئی۔ مثلاً ایک بھئی حقیقی بھئی ہے اور ایک علاتی بھئی ہے تو حقیقی بھئی کو ‏اختیار ہوگا، علاتی کو نہیں۔ اور یا ایک حقیقی چچا ہے اور ایک علاتی چچا ہے تو حقیقی چچا مقدم ہوگا۔ اگر حقیقی چچا ‏نہیں تو پھر علاتی چچا۔ اگر علاتی چچا بھی نہیں تو پھر حقیقی چچا کی اولاد۔ اگر حقیقی چچا کی اولاد بھی نہیں تو پھر ‏علاتی چچا کی اولاد۔ ترتیب سمجھ میں آ رہی ہے؟ اب آئیے آج کے سبق پر: فأن زوّجہما الابو او الجد یعنی الصغیر و الصغیرۃ فلا خیار لہما بعد بلوغہما لأنہما کامل الرأی وافر ‏الشفقۃ فیلزم العقد بمباشرتہما کما إذا باشرہ و بضراہما بعد البلوغ۔ بھئی اب صاحب ہدایہ وہ ولایت الزام بیان کر رہے ہیں۔ میں نے گزشتہ سبق میں ذکر کر دیا تھا کہ باپ اور دادا جو ہیں ان ‏کو ولایت الزام حاصل ہے۔ یعنی ولایت اجبار تو باپ دادا کو بھی حاصل ہے اور باقی اولیاء کو بھی درجہ بدرجہ لیکن باپ ‏اور دادا کو جو ولایت اجبار حاصل ہے وہ ولایت الزام ہے، یعنی وہ اگر صغیر یا صغیرۃ کا نکاح کروا دیں گے، اب ‏صغیر یا صغیرۃ بالغ ہونے کے بعد بھی اس کو فسخ نہیں کر سکتے، جبکہ باقی اولیاء اگر نکاح کروائیں گے وہ نکاح ‏منعقد تو ہو جائے گا، لیکن ان کو ولایت الزام نہیں ہے، وہ اس نکاح کو ان پر لازم نہیں کر سکتے، لہذا صغیر یا صغیرۃ ‏کو بالغ ہونے کے بعد اختیار مل جائے گا، وہ اگر اس نکاح کو فسخ کرنا چاہتے ہیں تو فسخ کر دیں گے۔ اور یہ بھی یاد رکھنا بھئی کہ باپ اور دادا جہاں بھی نکاح کروا دیں، چاہے اپنے برابر والوں میں کروائیں، چاہے اپنے ‏سے کم درجے والوں میں کروائیں۔ اور نیز چاہے وہ مہر مثل کے اندر لڑکی کا نکاح کروائیں، چاہے بہت کم مہر کے اندر ‏نکاح کروا دیں۔ یا اگر لڑکے صغیر کا نکاح کروا رہے ہیں تو جہاں نکاح کروایا مثلاً اس لڑکی کا مہر پانچ لاکھ ہونا ‏چاہیے تھا، انہوں نے دس لاکھ میں مہر کے اندر نکاح کروا دیا تو جس طرح بھی باپ اور دادا نکاح کروا دیں گے وہ لازم ‏ہو جائے گا وہاں یہ صغیر اور صغیرۃ کو بالغ ہونے کے بعد بھی کوئی اختیار نہیں ہوگا، وجہ یہ ہے کہ باپ اور دادا کو ‏ولایت الزام حاصل ہے۔ وہ جو یہ تصرف کریں گے وہ صغیر یا صغیرۃ پر لازم ہو جائے گا۔ بھئی جبکہ باقیوں کو ولایت ‏الزام حاصل نہیں۔ لہذا اگر وہ نکاح کروائیں گے وہ نکاح منعقد ہو جائے گا منعقد ہو جائے گا، لیکن اگر انہوں نے لیکن اگر ‏انہوں نے کم درجے والوں میں نکاح کروایا تو پھر وہ نکاح ہی نہیں ہوگا۔ یا انہوں نے لڑکی کا مہر بہت کم مقرر کر دیا ‏صغیر کا، تو بھی نکاح ہوگا ہی نہیں۔ یا انہوں نے لڑکے کا نکاح کروانا تھا صغیر کا بہت زیادہ مہر مقرر کر دیا تو اس ‏صورت میں بھی نکاح ہوگا ہی نہیں۔ تو باقی اولیاء کو ولایت الزام بھی نہیں اور نیز وہ مہر مثل وغیرہ کے اندر ہی نکاح ‏کروا سکتے ہیں اور کف میں نکاح کروا سکتے ہیں، غیر کف میں، غیر برابر کے لوگوں میں جو لوگ برابر کے نہیں ہیں ‏ان میں نکاح بھی نہیں کروا سکتے۔ اب دیکھیے بھئی کہتے ہیں فأن زوّجہما الابو او الجد اور اگر اس صغیر یا صغیرۃ کا ‏نکاح باپ یا دادا نے کروا دیا فأن زوّجہما، یہ ہما ضمیر ان دونوں کا نکاح کروا دیا، اب اس سے کیا مراد ہے صاحب ہدایہ ‏ضمیر کا مرجع بتلا رہے ہیں یعنی صغیر و صغیرۃ یعنی صغیر اور صغیرۃ کا نکاح اگر باپ دادا نے کروا دیا، فلا خیار ‏لہما تو ان دونوں کو کوئی اختیار نہیں ہوگا بعد بلوغہما ان کے بالغ ہونے کے لیے لأنہما کامل الرأی وافر الشفقۃ اس لیے ‏کیونکہ یہ دونوں یعنی باپ اور دادا جو ہیں کامل رائے والے ہیں۔ کامل رائے والے ہیں، سمجھدار ہیں وافر الشفقۃ اور خوب ‏کثیر شفقت والے ہیں۔ تو ان کی شفقت بھی کامل اور سمجھ اور عقل بھی کامل، لہذا ان کے یہ نکاح کریں گے تو وہ لازم ہو جائے گا۔ بھئی ‏عبارت دیکھ لیجیے لأنہما کامل الرأی کام یہ اصل میں تثنیہ ہے کاملانی لأنہما کاملانی اور اس کی اضافت ہو رہی ہے ‏الرأی کی طرف تو نون تثنیہ والا جو ہے وہ اضافت کی وجہ سے گر گیا اور پھر الف بھی گر جائے گا اجتماع ساکنین کی ‏کیسے تو کیسے پڑھیں گے؟ لأنہما کامل الرأی کہ یہ دونوں کامل رائے والے ہیں، اسی طرح آگے آ رہا ہے وافرہ وافرۃ ‏الشفقۃ یہ اصل میں ہے وافرانی وافرانی یہ بھی تثنیہ ہے تو الشفقۃ کی طرف اس کی اضافت ہوئی تو نون گر گیا اور پھر ‏الف بھی اجتماع ساکنین سے گر گیا۔ تو یہ دونوں وافر شفقت والے ہیں، یعنی کثیر شفقت والے ہیں۔ تو کہتے ہیں لأنہما کامل الرأی وافر الشفقۃ اس لیے کیونکہ یہ ‏دونوں کامل رائے والے ہیں کثیر شفقت والے ہیں، فیلزم العقد بمباشرتہما تو عقد لازم ہو جائے گا بمباشرتہما ان دونوں کے ‏سر انجام دینے سے۔ مباشرت کا معنی ہے کسی کام کو سر انجام دینا، خود کرنا۔ تو فیلزم العقد تو یہ عقد لازم ہو جائے گا ‏بمباشرتہما ان دونوں کے سر انجام دینے سے کما إذا باشرہ برضائہما بعد البلوغ کہتے ہیں یہ اسی طرح ہے جیسے بالغ ‏ہونے کے بعد ان کے باپ اور دادا نکاح کرواتے ہیں۔ اور ان سے اجازت لے کر نکاح کرواتے ہیں تو پھر وہ نکاح نافذ ہو جاتا ہے۔ تو جیسے بالغ ہونے کے بعد اس لڑکے یا ‏لڑکی کی رضامندی سے باپ یا دادا نکاح کرواتے ہیں تو وہ نکاح لازم ہو جاتا ہے کیونکہ ان کی رضامندی ہے بھئی۔ تو ‏جیسے وہ نکاح لازم ہوتا ہے یہاں یہ نکاح بھی اس صغیر اور صغیرۃ پر لازم ہو جائے گا۔ یہ معنی ہے کما إذا باشرہ ‏جیسے کہ یہ باپ دادا نے اس عقد کو سر انجام دیا ہو برضائہما ان دونوں کی رضامندی سے بعد البلوغ بالغ ہونے کے بعد ‏تو یہ اسی طرح ہوگا یہ اسی طرح ہوگا جیسے باپ اور دادا نے اس صغیر یا صغیرۃ کا نکاح ان کی مرضی سے کروایا ‏ہے بالغ ہونے کے بعد بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے فیلزم العقد بمباشرتہما کما إذا باشرہ برضائہما بعد البلوغ کہ یہ عقد لازم ہو جائے گا باپ اور دادا ‏کے سر انجام دینے سے جیسے کہ ان دونوں نے اس عقد کو سر انجام دیا ہو صغیر اور صغیرۃ کی رضامندی سے بعد ‏البلوغ بالغ ہونے کے بعد یہ اسی طرح ہوگا۔ آگے دیکھیے: وأن زوّجہما غير الاب والجد فلكل واحد منہما الخیار إذا بلغ إن شاء أقام علی النکاح و إن شاء فسخا۔ وأن زوّجہما ‏غیر الاب والجد اور اگر باپ اور دادا کے علاوہ کوئی اور اس صغیر یا صغیرۃ کا نکاح کروائے فلكل واحد منہما الخیار إذا ‏بلغ تو ان میں سے ہر ایک کو اختیار ہوگا جب یہ بالغ ہو جائیں إن شاء أقام علی النکاح اگر چاہیں تو نکاح پر قائم رہیں اور ‏إن شاء فسخا اور اگر چاہیں تو فسخ کر دیں۔ وھذا عند ابی حنیفۃ و محمد رحمہما اللہ اور یہ مذہب ہے امام ابو حنیفہ اور امام محمد رحمہما اللہ کا۔ وقال ابویوسف رحمہ اللہ ‏لاخیار لہما اعتبارا بالاب والجد اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کوئی اختیار نہیں، قیاس کرتے ہوئے باپ اور ‏دادا پر۔ بھئی یہ جگہ اچھی طرح سمجھ لیں۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں جیسے باپ اور دادا جو ہیں وہ نکاح کروا ‏دیں تو وہ لازم ہو جاتا ہے۔ اس کو فسخ نہیں کیا جا سکتا بالغ ہونے کے بعد بھی۔ اسی طرح اگر اور اولیاء بھی نکاح ‏کروائیں گے تو وہ بھی شفقت والے ہیں باپ اور دادا کی طرح۔ لہذا ان کا کروایا ہوا نکاح بھی یہ فسخ نہیں کر سکتے بالغ ‏ہونے کے بعد۔ معلوم ہوا یہ جو فسخ کا اختیار دیتے ہیں، یہ صرف ٹرینڈ دے رہے ہیں۔ باقی اولیاء اگر نکاح کروائیں گے باپ اور دادا کے علاوہ تو پھر فسخ کا اختیار ہوگا صغیر یا صغیرۃ کو بالغ ہونے پر یہ ‏اختیار کس کے نزدیک ہے؟ امام ابو حنیفہ اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ‏جیسے باپ اور دادا کا نکاح کروایا ہوا لازم ہو جاتا ہے، باقی اولیاء کا کروایا ہوا نکاح بھی لازم ہو جاتا ہے، اس کو فسخ ‏کرنے کا اختیار صغیر یا صغیرۃ کو نہیں ہے۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک کیونکہ باقی اولیاء بھی باپ کی طرح ‏شفقت والے ہیں، تو جیسے باپ دادا کے نکاح میں فسخ کا اختیار نہیں، باقی اولیاء کے نکاح میں بھی فسخ کا اختیار نہیں۔ تو یہ اختلاف ہو گیا تو صاحب ہدایہ فرماتے ہیں ولہما اور طرفین کی دلیل یہ ہے۔ اب طرفین کی دلیل آ گئی، وہ کیا فرماتے ‏ہیں؟ باپ اور دادا کے علاوہ کوئی اور ولی کروائے گا تو وہاں وہ صغیر اور صغیرۃ فسخ کر سکتے ہیں۔ وجہ یہ کہ ‏باقیوں کی قرابت باپ اور دادا کے واسطے سے ہے، تو ان کی قرابت ذرا دور کی ہوئی، تو ان میں شفقت کی کمی آ گئی تو ‏اب پتہ نہیں وہ نکاح کی مصلحتیں حاصل ہوں گی یا نہیں، پتہ نہیں انہوں نے اچھی جگہ نکاح کروایا ہے یا نکاح نہیں ‏کروایا، اگر اچھی جگہ کروایا پھر تو مصلحتیں حاصل ہو جائیں گی، لیکن احتمال یہ بھی ہے، ہو سکتا ہے انہوں نے زیادہ ‏اچھی جگہ نکاح نہ کروایا ہو تو وہ نکاح کی مصلحتیں حاصل نہیں ہوں گی، ان میں خلل آ جائے گا، لہذا اس لیے اب صغیر ‏اور صغیرۃ کو اختیار ملنا چاہیے جب وہ بالغ ہوں گے کہ وہ نکاح کو فسخ کر سکتے ہیں۔ تو ولہما طرفین کی دلیل یہ ہے ‏کہ أن قرابۃ الاخ ناقصۃ کہ بھئی کی قرابت یعنی رشتہ داری ناقصۃ وہ ناقص ہے، کم درجے کی ہے، کیونکہ باپ کے ‏واسطے سے ہے براہ راست رشتہ داری نہیں۔ اور دیکھو باقی اولیاء میں سے بھئی کو ذکر کیا۔ پہلا درجہ کس کو ہے یہ ‏صغیر یا صغیرۃ پر کس کو ولایت ہے؟ باپ کو۔ یا اگر باپ نہیں ہے تو دادا کو، دادا نہیں ہے تو پردادا کو۔ ان کے بعد جو ‏باقی عصبات جو ہیں ان میں بھئی کا نمبر پہلا ہے۔ جی۔ باپ اور دادا کے بعد اگلا نمبر کس کا ہے؟ بھئی کا ہے اور صاحب ہدایہ فرما رہے ہیں أن قرابۃ الاخ ناقصۃ بھئی کی جو ‏قرابت اور رشتہ داری ہے اس میں کمی ہے۔ تو جب باپ اور دادا کے بعد جس کا درجہ ہے، جب اس کی قرابت میں کمی ‏ہے تو اس سے اگلے درجے والوں میں تو بطریق اولی کیا ہوگی؟ کمی ہوگی وہ آپ اسی پر قیاس کر سکتے ہیں۔ تو کہتے ‏ہیں أن قرابۃ الاخ ناقصۃ طرفین فرماتے ہیں کہ بھئی کی رشتہ داری جو ہے اس میں کمی ہے والنقصان یشعور بقصور ‏الشفقۃ اور رشتہ داری میں جو یہ کمی ہے یشعور یہ خبر دیتی ہے بقصور الشفقۃ شفقت کی کمی کا، جب رشتہ داری میں ‏کمی ہے تو معلوم ہوا شفقت میں بھی کمی ہوگی فیتطرّق الخلل الی المقاصد عسا تترّق کا معنی ہے داخل ہونا، پہنچنا فیتطرّق ‏الخلل تو خلل آ جائے گا الخلل تو خلل داخل ہوگا الی المقاصد مقاصد کی طرف (یعنی وہ جو نکاح کے مقاصد ہیں، ان کے ‏اندر خلل آ جائے گا) عسا شاید۔ ‏ دیکھو یہاں صاحب ہدایہ نے صرف عسا ذکر فرمایا، یہ جو عسا ہے یہ ترجی کے لیے آتا ہے اور آپ نے پڑھا ہے اس ‏کے لیے ایک اسم چاہیے اور ایک خبر چاہیے، لیکن صاحب ہدایہ نے عسا کے بعد نہ اس کے اسم کو ذکر کیا اور نہ اس ‏کی خبر کو ذکر کیا۔ جی تو عام علمائے عربیت فرماتے ہیں کہ عربی زبان میں یہ اس طرح استعمال نہیں ہوتا۔ (یعنی یہ ‏ثابت نہیں ہے کہ عسا استعمال ہو جائے بغیر اپنے اسم اور بغیر اپنی خبر کے)۔ جی لیکن صاحب ہدایہ نے استعمال فرمایا ‏ہے بھئی ہو سکتا ہے آپ لوگوں کے نزدیک ثابت نہ ہو، لیکن صاحب ہدایہ تو بہت بڑے ادیب ہیں، ان کی یہ کتاب ‏فصاحت و بلاغت کا شاہکار ہے بھئی۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا علامہ انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں ‏ہدایہ جیسی چند سطریں بھی نہیں لکھ سکتا۔ اتنی فصیح و بلیغ عبارتیں ہیں ہدایہ کی، تو جب صاحب ہدایہ عسا ذکر فرما ‏رہے ہیں بغیر اسم اور خبر کے تو معلوم ہوا ان کے نزدیک ثابت ہوگا جبھی وہ استعمال کر رہے ہیں، ویسے وہ استعمال ‏نہ کرتے بھئی۔ تو ترجمہ کیسے کریں گے؟ دیکھو عسا کا معنی کر لیں گے شاید۔ ادھر دیکھیے باقی رشتہ داروں میں ‏رشتہ داری میں کمی ہے تو شفقت میں بھی کمی ہوگی اور جب شفقت میں کمی ہے تو شاید کہیں نکاح کے مقاصد میں خلل ‏نہ آجائے خرابی نہ آجائے، اچھی جگہ رشتہ نہ کروائے تو نکاح کے مقاصد میں خلل آجائے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں فیتطرّق الخلل الی المقاصد تو خلل داخل ہو جائے گا مقاصد میں عسا شاید یعنی (شاید کو ذرا شروع میں لے ‏آئیں اردو کے مطابق تو شاید نکاح کے جو مقاصد ہیں ان میں خلل آجائے۔) والتدارک ممکن بخیار الادراک ادرک کا معنی ‏بھی بالغ ہونا۔ بلوغ کا معنی بھی بالغ ہونا۔ اور ادراک یدرک ادراک کا ایک معنی کیا ہے؟ بالغ ہونا۔ تو کہتے ہیں والتدارک ‏ممکن بخیار الادراک اور تلافی ممکن ہے خیار بلوغ کے ذریعے یہ جو صغیر اور صغیرۃ کو بالغ ہونے پر شریعت اختیار ‏دیتی ہے نکاح کے فسخ کرنے کا، اس کو خیار بلوغ کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ خیار بلوغ۔ تو کہتے ہیں یہاں پر اگرچہ ان ‏کی شفقت میں کمی ہے اور اس کی وجہ سے مقاصد میں خلل آ سکتا ہے لیکن بہرحال اس کی تلافی ممکن ہے کہ صغیر ‏اور صغیرۃ کو خیار بلوغ دے دیا جائے۔ آگے دیکھیے: وإطلاق الجواب في غير الاب والجد يتناول الام والقاضي وہو الصحيح من الرواية۔ بھئی میں نے آپ کو رشتہ ‏داروں میں ترتیب بتلایا تھی کہ عصبات جو ہیں وہ مرد رشتے دار ہیں کہ جن کے ساتھ رشتہ جوڑنے میں درمیان میں ‏عورت کا واسطہ نہ آئے اور عصبات کے علاوہ اور جو رشتے دار ہیں ان کو ذوی الارحام کہتے ہیں بھئی۔ جی ذوی ‏الارحام کہتے ہیں اور میں نے بتلایا تھا کہ اگر عصبات میں سے کوئی نہ ہو تو پھر ذوی الارحام کو ولایت مل جائے گی ‏ولایت اجبار بھئی۔ تو ذوی الارحام میں تمام عورتیں بھی داخل ہوگئیں (یعنی ماں ہے، خالہ ہے، پھو پھی وغیرہ) اور نیز ‏وہ مرد بھی داخل ہوگئے جن سے عورت کے واسطے سے رشتہ ہے جیسے نانا ہے، نانا سے ماں کے واسطے سے رشتہ ‏اور ماموں ہے، ماموں ماموں کے ساتھ بھی رشتہ پہلے ماں سے ہے، پھر نانا سے ہے، پھر یہ نانا کا بیٹا ہے تو ماں اور ‏نانا کے واسطے سے ماموں سے رشتہ تو دیکھو درمیان میں عورت کا واسطہ آگیا تو ذوی الارحام میں سب عورتیں بھی ‏داخل ہوگئیں اور وہ مرد رشتے دار بھی داخل ہوگئے جہاں درمیان میں عورت کا واسطہ آ رہا ہو اور میں نے آپ کو کل ‏بتلایا تھا کہ عصبات نہ ہوں تو پھر ذوی الارحام جو ہیں ان کو بھی ولایت اجبار ملے گی اور ان میں سب سے پہلے ‏درجے پر ماں ہے تو ماں کو ولایت اجبار ملے گی صغیر اور صغیرۃ پر۔ اگر ماں نہیں ہے وفات پا چکی ہے تو پھر دادی ‏کو یہ ولایت اجبار ملے گی۔ اگر دادی بھی نہیں ہے تو پھر نانی کو یہ ولایت اجبار ملے گی، اگر نانی بھی نہیں ہے پھر نانا ‏کو ولایت اجبار ملے گی اور اگر نانا بھی نہیں ہے پھر اس صغیر یا صغیرۃ کی اگر بالغ بہنیں ہیں ان کو ولایت اجبار ملے ‏گی، پھر بہنوں کے اندر جو حقیقی بہنیں ہیں وہ مقدم ہوں گی علاتی بہنوں پر بات سمجھ میں آ رہی ہے۔ بات چل رہی تھی وإطلاق الجواب في غير الاب والجد کہ اوپر متن میں انہوں نے بتلا دیا کہ باپ اور دادا کو ولایت الزام ہے ‏باپ اور دادا کے علاوہ اور کسی کو ولایت الزام نہیں۔ باقی سب کے اندر صغیر اور صغیرۃ کو خیار بلوغ ملے گا بالغ ‏ہونے پر۔ اور باقی سب کے اندر ماں بھی آ گئی اور باقی سب کے اندر قاضی بھی آ گیا میں نے بتایا اگر عصبات بھی نہیں ‏ہیں، ذوی الارحام بھی نہیں ہیں تو سب سے آخر میں قاضی کو یہ اختیار ملتا ہے لیکن قاضی کو بھی یہ اختیار تب ملے گا ‏جب بادشاہ نے اس کو باقاعدہ اجازت دی ہو کہ تم یتیموں کا نکاح کروا سکتے ہو بھئی۔ ورنہ اگر اجازت نہیں دی تو پھر ‏قاضی کو یہ اختیار نہیں ہے تو سب سے اخری درجہ قاضی کا ہے تو جب انہوں نے کہا باپ اور دادا کے علاوہ سب میں ‏خیار بلوغ ملے گا تو اس میں ماں بھی داخل ہوگئی معلوم ہوا ماں بھی اگر نکاح کروائے گی تو صغیر اور صغیرۃ کو خیار ‏بلوغ ملے گا۔ قاضی بھی نکاح کروائے گا تو صغیر اور صغیرۃ کو خیار بلوغ ملے گا۔ بات سمجھ میں آگئی۔ اب دیکھیے کتاب پر وإطلاق الجواب فی غیر الاب والجدی يتناول الام والقاضي وہو الصحيح من الرواية۔ کہ یہ جواب کا ‏مطلق ہونا في غیر الاب والجدی باپ اور دادا کے علاوہ میں يتناول الام والقاضي یہ ماں اور قاضی کو بھی شامل ہے وہو ‏الصحيح من الرواية اور یہی صحیح ہے روایت میں سے۔ (یعنی یاد رکھو اس میں امام صاحب سے ایک اور روایت بھی آتی ‏ہے امام صاحب کی ایک شاگرد روایت فرماتے ہیں کہ اگر قاضی نکاح کروا دے گا تو پھر قاضی جو ہے اس کو کامل ‏ولایت حاصل ہوتی ہے، لہذا وہاں خیار بلوغ نہیں ملے گا۔ لیکن صاحب ہدایہ کیا فرما رہے ہیں کہ صحیح یہ ہے کہ قاضی ‏بھی نکاح کروا دے تو خیار بلوغ ملے گا بھئی۔)‏ تو یہ کہتے ہیں وہو الصحيح من الرواية اور یہی صحیح ہے روایت میں سے لقصور الرأي في أحدهما ونقصان الشفقۃ فی ‏الاخر اس لیے کیونکہ ایک میں رائے کی کمی ہے اور دوسرے میں شفقت کی کمی ہے دیکھو ماں جو ہے ماں کی شفقت تو ‏کامل ہے لیکن ماں عورت ہے اور عورتیں کیا ہیں ناقصات العقل ہیں حدیث کے اندر آیا ہے معلوم ہوا ان کی عقل میں کچھ ‏فرق ہے کچھ کمی ہے بھئی جبھی حدیث کے اندر ذکر آیا لہذا اس کی عقل جب کامل نہیں ہے تو ماں کی شفقت تو کامل ‏لیکن اس کی رائے اور عقل کامل نہیں لہذا خیار بلوغ ملے گا اور قاضی قاضی اگرچہ اس کی رائے کامل ہے وہ سمجھدار ‏ہے لیکن وہ تو اجنبی ہے بھئی یہ معنی ہے لقصور الرأي في أحدهما رائے کی کمی کی وجہ سے ایک میں (یعنی ماں میں) ‏ونقصان الشفقۃ في الاخر اور شفقت کی کمی کی وجہ سے دوسرے میں (یعنی قاضی میں کہ قاضی تو اجنبی ہے اس میں ‏شفقت نہیں ہے تو ان دونوں کی وجہ سے دونوں کے اندر عذر موجود ہے تو اس کو خیار بلوغ ملے گا)۔ فیتخير لہذا اختيار ہوگا (یعنی ہر ایک کو صغیر اور صغیرۃ میں سے ہر ایک کو اختیار ہوگا خیار بلوغ ہوگا) ويشترط فيہ ‏القضاء بخلاف خيار العتق۔ ویشترط فیہ القضاء بخلاف خیار العتق اور نیز اس کے اندر قضاء بھی شرط ہوگی بخلاف خیار ‏عتق کے۔ بھئی ایک تو ہے خیار بلوغ ابھی ذکر گزر گیا صغیر اور صغیرۃ کا اگر نکاح کروایا ہے باپ اور دادا کے ‏علاوہ کسی اور نے تو بالغ ہونے پر ان کو خیار بلوغ ملے گا۔ یہ اپنا نکاح فسخ کر سکتے ہیں لیکن یاد رکھو یاد رکھو یہ ‏کہہ دیں ہم نے نکاح فسخ کیا تو اس سے فورا نکاح فسخ نہیں ہوگا، باقاعدہ قاضی کے پاس جا کر فسخ کروانا پڑے گا۔ ‏باقاعدہ قاضی کے پاس جا کر فسخ کروانا پڑے گا۔ تو معلوم ہوا خیار بلوغ کے اندر قضا قاضی ضروری ہے قاضی فیصلہ کرے گا پھر ان میں جدائی آجائے گی اس سے ‏پہلے فسخ نہیں ہوگا۔ لیکن یاد رکھنا یاد رکھنا لڑکی کی خاموشی رضامندی ہوتی ہے باکرہ کی خاموشی بھی کیا ہے؟ ‏رضامندی ہے لہذا لڑکی جس مجلس میں بالغ ہو جس مجلس میں اس کو حیض شروع ہو اس کو فورا خیار بلوغ کا استعمال ‏کرنا ضروری ہے۔ وہ فورا کہے میں اس نکاح کو فسخ کرتی ہوں یعنی یوں سمجھو اس کے ذہن میں پہلے سے ایک بات ‏موجود ہو وہ اپنے اس نکاح پر وہ صغیر مثلاً خوش نہیں ہے تو وہ اپنے ذہن میں یہ بات رکھے جس مجلس میں بالغ ہو ‏جس مجلس میں حیض شروع ہو فورا کہے میں اپنے اس نکاح کو فسخ کرتی ہوں یہ جو میرے اولیاء نے میرا نکاح کروایا ‏تھا فلاں جگہ میں اس کو فسخ کرتی ہوں یہ اس کا کہنا ضروری ہے یہ کہے گی اور پھر بعد میں قاضی کے پاس بھی چلی ‏جائے کہ قاضی صاحب میں نے اپنا یہ اختیار استعمال کیا تھا اب آپ ہم دونوں میں جدائی کروا دیں لیکن اگر یہ اس وقت ‏خاموش رہی پھر یہ نکاح پر راضی ہو گئی جب نکاح پر راضی ہو گئی تو اب اس کا اختیار ختم ہو گیا اب یہ قاضی کے ‏پاس جا کر تفریق نہیں کر سکتی بات سمجھ میں آگئی اب اختیار اس کے ہاتھ سے نکل گیا جبکہ لڑکا جو ہے وہ جب بالغ ‏ہوتا ہے لڑکے کا زبان سے رضامندی کا اظہار ضروری ہوگا یا کوئی ایسا عمل کر دے جس سے رضامندی کا پتہ چل ‏جائے مثلاً اس لڑکی کو اس نے مہر بھجوا دیا معلوم ہوا یہ اس نکاح پر راضی ہے بات سمجھ میں آگئی بات چل رہی تھی ‏خیار بلوغ کی تو لڑکا جب بالغ ہو جائے تو اس کے خاموش رہنے سے اس کا خیار بلوغ ختم نہیں ہوگا اس لیے کیونکہ اس ‏کی خاموشی اس کی رضامندی کی علامت نہیں ہے جب تک وہ زبان کے ذریعے ذکر نہ کر دے کہ میں اجازت دیتا ہوں یا ‏اجازت نہیں دیتا پھر سنیں پھر سنیں یہ مسئلہ بار بار آگے چلتا رہے گا۔ یاد رکھو یہ جن کو خیار بلوغ ملتا ہے یہ تین قسم کے افراد ہو سکتے ہیں یا جس کا نکاح کروایا گیا ہے وہ صغیر تھا یعنی ‏لڑکا تھا اب اب بالغ ہوا یا وہ صغیرۃ تھی اب بالغہ ہوئی لیکن صغیرۃ میں تو دو صورتیں ممکن ہیں یا وہ صغیرۃ باکرہ ‏ہوگی یا وہ صغیرۃ ثیبہ ہوگی یعنی خاوند اس کے ساتھ بالغ ہونے سے پہلے ہی صحبت کر چکا ہے۔ تو گویا تین قسم کے ‏افراد ہو گئے جن کو خیار بلوغ ملتا ہے ایک باکرہ ہے ایک ثیبہ ہے اور ایک لڑکا ہے بھئی۔ تو یہ تین قسم کے افراد ہیں ‏جن کو خیار بلوغ مل سکتا ہے یعنی صغیر اور صغیرۃ ثیبہ اور صغیرۃ باکرہ۔ ان تینوں کی ابتدا نکاح کے اندر ان کی حالت دیکھ لو جو وہاں ان کا حکم تھا یہاں پر بھی ان کا وہی حکم ہوگا یعنی ان کا ‏خیار بلوغ کب تک رہے گا اور کب ان کا خیار بلوغ جو ہے وہ باطل ہو جائے گا تو ان کی ابتدا نکاح کی حالت دیکھ ‏لیجیے ابتدا نکاح جب یہ تینوں بالغ ہوں مثلاً باکرہ بالغہ ہو یا ثیبہ بالغہ ہو یا لڑکا بالغ ہو آپ جانتے ہیں کہ بالغ پر کسی ‏کو ولایت اجبار حاصل نہیں ہوتی ولی زبردستی ان کا نکاح جہاں چاہے نہیں کروا سکتا بلکہ ان سے اجازت لینا پڑے گی ‏اب ان سے اجازت کا کیا طریقہ ہے آپ کو صاحب ہدایہ نے بتلایا تھا کہ اگر وہ بالغہ جو ہے وہ باکرہ ہے تو اس کی ‏خاموشی بھی رضامندی کی علامت ہے۔ ولی اس کا نکاح کروانا چاہتا ہے اور اس سے جا کر پوچھتا ہے کہ میں فلاں جگہ ‏فلاں شخص سے تمہارا نکاح کروانا چاہ رہا ہوں کیا تمہاری طرف سے اجازت ہے؟ تو باکرہ بالغہ خاموش رہی تو یہ ‏خاموشی بھی رضامندی کی علامت ہے۔ جبکہ ثیبہ بالغہ اور جو لڑکا ہیں ان کا زبان سے اجازت دینا ضروری ہے ان کی ‏خاموشی رضامندی کی علامت نہیں۔ توجہ ہے میں نکاح کی بات کر رہا ہوں یہ خیار بلوغ کے مسئلے کو ذرا چھوڑ دیں ‏نکاح کے مسئلے میں ولی ان کا نکاح کروانا چاہتا ہے تینوں سے اجازت لینا پڑے گی لیکن باکرہ بالغہ کے اندر اجازت ‏لیتے ہوئے اگر وہ خاموش بھی رہی تو یہ خاموشی رضامندی کی علامت ہے جبکہ ثیبہ بالغہ یا وہ لڑکا جو بالغ ہے ان ‏سے جب ولی اجازت لینے گیا تو ان کی خاموشی رضامندی کی علامت نہیں ہے بلکہ ان کا باقاعدہ زبان سے اجازت دینا ‏ضروری ہے۔ اسی طرح یہاں پر بھی جب یہ بالغ ہوں گے تو وہی احوال یہاں بھی جاری ہوں گے۔ ابتدا نکاح کے موقع پر یہ ان تینوں کے ‏جو احوال تھے وہی احوال یہاں پر بھی خیار بلوغ کے موقع پر بھی جاری ہوں گے۔ تو اب دیکھو ایک ایک کی حالت ‏دیکھتے جائیں ابتدائے نکاح کو بھی اور یہاں پر بھی۔ اب باکرہ جو ہے وہ بالغ ہوئی تو اس کو خیار بلوغ ملے گا تو اس کو ‏فوراً اعلان کرنا پڑے گا کہ میں اس نکاح کو فسخ کرتی ہوں یا میں اس نکاح کو رد کرتی ہوں وجہ یہ ہے کہ اگر اس نے ‏کچھ دیر بھی گزار دی تو خاموشی پائی گئی اور باکرہ کی خاموشی رضامندی کی علامت ہوتی تھی جب ولی اس سے نکاح ‏کی اجازت لینے آتا تھا تو اس کی خاموشی رضامندی کی علامت سمجھی جاتی تھی تو یہاں پر بھی جب اس کو خیار بلوغ ‏ملا تو اس کو فوراً اس اختیار کو استعمال کرتے ہوئے نکاح کو رد کرنا پڑے گا اگر یہ تھوڑی دیر بھی خاموش رہی تو ‏خاموشی پائی گئی اور باکرہ کی خاموشی تو رضامندی کی علامت ہوتی ہے لہذا یہ نکاح اس پر لازم ہو جائے گا اب یہ ‏قاضی کے پاس جا کر بھی تفریق نہیں کر سکتی بھئی۔ جبکہ اس کے مقابلے میں جب ثیبہ بالغ ہوئی تو ثیبہ بالغہ سے جب ولی نکاح کی اجازت لیتا تھا تو زبان سے اس کا ‏کہنا ضروری ہوتا تھا اسی طرح لڑکا بالغ ہو تو ولی اس کا نکاح کروانا چاہے تو زبان سے لڑکے کی اجازت ضروری ‏ہے لہذا یہ جو ثیبہ بالغہ ہوئی یا یہ جو لڑکا بالغ ہوا ان کو خیار بلوغ ملے گا لیکن ان کا خیار بلوغ خاموش رہنے سے ‏باطل نہیں ہوگا یہ جب تک زبان سے یہ نہیں کہہ دیں گے کہ ہم اس نکاح پر راضی ہیں تب تک ان کو خیار بلوغ رہے گا ‏بھئی یا کوئی ایسا عمل کر دیں جس سے رضامندی کا اظہار ہو جائے جو رضامندی پر دلالت کر دے مثلاً لڑکا بالغ ہو گیا ‏اب اس کو خیار بلوغ شریعت نے دے دیا یہ اپنی اس بیوی کو مہر بھجوا دیتا ہے تو معلوم ہوا یہ اس نکاح پر راضی ہے ‏اب اس کا خیار بلوغ ختم ہوا یا یہ اس بیوی سے صحبت کر لیتا ہے یا اس کا بوسہ لے لیتا ہے معلوم ہوا وہ اس نکاح پر ‏راضی ہے لہذا اب اس کا خیار بلوغ باطل ہوگیا۔ جبکہ اسی طرح ثیبہ جب بالغ ہو گئی تو اس کے لیے بھی زبان سے اجازت وہ دے گی پھر ہی اس کا خیار بلوغ ساقط ‏ہوگا بھئی اور وہ زبان سے اجازت دے دے یا کوئی ایسا عمل کر دے جو دلالت کرے اس کی رضامندی پر مثلاً لڑکے ‏نے اس کو مہر بھجوایا تھا اس نے وہ مہر قبول کر لیا لے کر رکھ لیا معلوم ہوا کہ یہ اس نکاح پر راضی ہے تو پھر خیار ‏بلوغ ختم ہو جائے گا بات سمجھ میں آگئی۔ حاصل کلام کیا کہ خیار بلوغ تین قسم کے افراد کو ملتا ہے یا وہ باکرہ ہوگی یا ثیبہ ہوگی یا لڑکا ہوگا۔ باکرہ کو خیار ‏بلوغ ملا ہے تو وہ تھوڑی دیر بھی خاموش رہی تو اس کی خاموشی رضامندی کی علامت ہے لہذا اب اس کا خیار بلوغ ‏باطل نکاح لازم ہو گیا اب قاضی کے پاس جا کر بھی جدائی نہیں کروا سکتی اور ثیبہ جب بالغ ہوئی تو اس کو خیار بلوغ ‏ملے گا لیکن اس کا زبان سے اجازت دینا ضروری ہے یا کوئی ایسا فعل کرے جو رضامندی پر دلالت کرے پھر خیار ‏بلوغ باطل ہوگا ویسے باطل نہیں۔ اسی طرح لڑکا بالغ ہوا ہے تو اس کا بھی خیار بلوغ باقی رہے گا جب تک وہ زبان سے ‏اجازت نہ دے دے یا کوئی ایسا فعل نہ کر لے جو رضامندی پر رضامندی پر دلالت کر رہا ہو۔ باکرہ کا اختیار تھوڑی دیر ‏بھی خاموش رہی تو وہ اختیار ختم لیکن ثیبہ بالغہ اور لڑ وہ لڑکا جو بالغ ہے ان کا اختیار ختم نہیں ہوگا جب تک یہ زبان ‏سے اجازت یا رد کا اعلان نہ کر دیں بھئی۔ بات سمجھ میں آرہی ہے۔ پھر دیکھیے کتاب پر ویشترط فیہ القضاء بخلاف خیار العتق کہ یہ جو خیار بلوغ ہے اس کے اندر قضاء قاضی ضروری ‏ہے قاضی ان دونوں میں جدائی کروائے گا تفریق قاضی ضروری ہے وہ جو بالغ ہونے والا ہے اس نے بے شک نکاح ‏کے فسخ کا اعلان کر دیا ہے لیکن صرف اس کے اعلان سے نکاح فسخ نہیں ہوگا بلکہ باقاعدہ قاضی کو جدائی کروانا ‏پڑے گی۔ جبکہ اس کے مقابلے میں ایک خیار عتق ہے بھئی۔ ایک تو تھا خیار بلوغ دوسرا کیا ہے خیار عتق خیار عتق کسے کہتے ہیں کہ ایک باندی کا آقا نے کسی جگہ نکاح کروایا ‏ہوا تھا تو یہ باندی ہے اور یاد رکھو باندی کی دو طلاقیں ہوتی ہیں آزاد عورت پر خاوند تین طلاقوں کا مالک ہوتا ہے ‏جبکہ باندی پر خاوند دو طلاقوں کا مالک ہوتا ہے تو ہمارے ہاں طلاق کا دارومدار عورت پر ہے اگر عورت آزاد تو ‏خاوند کو تین طلاقوں کا حق ہے اور اگر عورت باندی ہے تو خاوند کو دو طلاقوں کا حق ہے خاوند پر نہیں اعتبار خاوند ‏چاہے غلام ہو چاہے آزاد ہو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا غلام کے عقد میں بھی اگر آزاد عورت ہے تو آزاد عورت کی ‏تین طلاقیں ہوتی ہیں لہذا اس غلام کو تین طلاقوں کا حق ہوگا اور آزاد کے حق میں اگر باندی ہے تو باندی پر خاوند کو تو ‏دو طلاقوں کا حق ہوتا ہے تو آزاد کو بھی دو ہی طلاقوں کا حق ہوگا معلوم ہوا طلاقوں کا دارومدار کس پر ہے عورت پر ‏ہے عورت پر ہے اب مسئلہ یہ کہ ایک باندی تھی آقا نے اس کا نکاح کروا دیا تھا کسی جگہ پر تو اب اس کا خاوند اس پر ‏دو طلاقوں کا مالک ہے کیونکہ یہ باندی ہے پھر اس باندی کو آقا نے آزاد کر دیا کہ جاؤ تم آج سے آزاد ہو اور جیسے ہی ‏یہ آزاد ہوگی اب اس کی دو طلاقوں کی جگہ تین طلاقیں ہو جائیں گی اس پر گویا پہلے اس کے گلے میں دو رسیاں تھیں ‏جو خاوند کے ہاتھ میں تھیں اور اب اس کے گلے میں تین رسیاں ہو جائیں گی معلوم ہوا خاوند کی ملکیت اس پر بڑھ رہی ‏ہے لہذا شریعت اس کو اختیار دیتی ہے یہ بھی نکاح کو فسخ کر سکتی ہے یہ باندی جس کو آقا نے آزاد کیا ہے یہ منکوحہ ‏ہے کسی کی تو پہلے اس پر خاوند کو دو طلاقوں کا حق تھا اب آزادی کے بعد وہ طلاقیں بڑھ کر کتنی ہو جائیں گی تین ہو ‏جائیں گی تو اس کے اوپر خاوند کی ملکیت بڑھ رہی ہے اس کو نقصان ہو رہا ہے لہذا شریعت نے اس کو اختیار دے دیا ‏کہ تم چاہو تو نکاح کو فسخ کر سکتی ہو اس کو کہتے ہیں خیار عتق بھئی خیار عتق (یعنی آزادی کی وجہ سے جو اختیار ‏ملا ہے باندی کو فسخ نکاح کا) تو خیار بلوغ میں بھی فسخ نکاح ہوتا ہے خیار عتق میں بھی فسخ نکاح ہوتا ہے لیکن علماء ‏نے دونوں میں فرق کیا ہے دونوں میں کئی فرق ہیں بھئی۔ خیار بلوغ کے اندر اگر وہ فسخ نکاح کرتے ہیں بالغ ہونے والے لڑکا یا لڑکی تو ان کے فسخ کرنے سے نکاح فسخ نہیں ‏ہے بلکہ قاضی کا فیصلہ بھی ضروری ہے کہ قاضی جدائی کروائے۔ جبکہ خیار عتق جو ہے اس کے اندر قاضی کی ‏تفریق ضروری نہیں۔ باندی نے جب کہہ دیا میں نے یہ نکاح فسخ کیا تو وہ نکاح فسخ ہو گیا اب قاضی کے پاس جانے کی ‏بھی کوئی ضرورت نہیں۔ فرق سمجھ میں آیا؟ وجہ کیا ہے اس کی وجہ بھی یہیں سمجھ لو۔ یاد رکھو یہ جو فسخ نکاح کیا جا ‏رہا ہے چاہے خیار بلوغ میں ہے چاہے خیار عتق میں اس میں دیکھا جائے تو دو پہلو ہیں بھئی ایک ہے نقصان کو دور ‏کرنا اور ایک ہے اس میں دوسرے پر ایک چیز کو لازم کرنا۔ بھئی دیکھو نا صغیر یا صغیرۃ ہیں وہ بالغ ہوئے ہیں کسی اور ولی نے ان کا نکاح کروایا تھا تو نقصان کا احتمال ہے، ‏کہیں ایسی جگہ نکاح نہ کروایا ہو جو اچھی نہیں ہے تو نقصان کا احتمال ہے اور ہر عقل بالغ آدمی کو اختیار ہے وہ اپنے ‏آپ کو نقصان سے بچائے بھئی تو لہذا یہ بھی اپنے آپ کو نقصان سے بچا سکتے ہیں تو دیکھا جائے یہ جو نکاح فسخ کر ‏رہے ہیں یہ اپنے سے نقصان کو دور کر رہے ہیں یہ خیار بلوغ یا خیار عتق والے یہ فسخ نکاح کر رہے ہیں گویا اپنے ‏سے نقصان کو دور کر رہے ہیں۔ صغیر اور صغیرۃ وہاں تو ہو سکتا ہے اچھی جگہ نکاح نہ کروایا ہو ولی نے وہ اپنے سے اس نقصان کو دور کر رہے ‏ہیں اور وہ جو باندی آزاد ہوئی ہے اس کے اوپر پہلے دو طلاقوں کا حق تھا اب خاوند کو تین طلاقوں کا حق مل جائے گا ‏تو وہ اپنے سے نقصان کو دور کر رہی ہے کہ میرے اوپر نقصان نہ آجائے۔ معلوم ہوا خیار بلوغ میں بھی دفع ضرر ہے ‏اور خیار عتق میں بھی دفع ضرر ہے اور دیکھا جائے تو دونوں کے اندر الزام بھی ہے یعنی دوسرے پر ایک چیز کو ‏لازم کر رہے ہیں بھئی دیکھیے بھئی یہ صغیر یا صغیرۃ جب بالغ ہوں گے یہ نکاح کو فسخ کریں گے تو یہ نکاح صرف ‏اس صغیر یا صغیرۃ کے لیے فسخ ہوا یا ان کا جو خاوند یا بیوی ہے اس کے لیے بھی فسخ ہو گیا اس کے لیے بھی فسخ ہو ‏گیا اس کے لیے بھی فسخ ہو گیا مثلاً دیکھو صغیر ہے تو صغیر کا کسی سے نکاح کروایا ہوا ہے وہ اس کا خاوند ہے تو ‏صغیر جب فسخ نکاح کرے گی یہ بالغ ہونے کے بعد فسخ نکاح کرے گی تو یہ فسخ نکاح صرف اس پر نافذ ہوگا یا اس ‏کے خاوند پر بھی نافذ ہوگا اس کے خاوند پر بھی نافذ ہوگا کیونکہ نکاح ان دونوں کے درمیان ہی تو ہے تو یہ تو ہم نہیں ‏کہہ سکتے اس کے لیے نکاح فسخ ہوا ہے اس کے خاوند کے لیے نکاح فسخ نہیں ہوا فسخ ہوا ہے تو دونوں کے لیے فسخ ‏ہوا ہے تو لہذا یہ خیار بلوغ ہو یا خیار عتق ہو دونوں کے اندر نکاح کو فسخ کیا جاتا ہے اور فسخ نکاح میاں بیوی میں ‏سے صرف ایک کے لیے نہیں ہوتا دوسرے کے لیے بھی فسخ نکاح ہوتا ہے گویا اس میں دوسرے پر بھی ایک چیز کو ‏لازم کیا جا رہا ہے۔ صغیرۃ نے اپنا نکاح فسخ کر دیا تو یہ فسخ صرف اس پہ نافذ ہوگا یا اس کے خاوند پر بھی نافذ ہوگا خاوند پر بھی نافذ ‏ہوگا کیونکہ نکاح ان دونوں کے درمیان ہی تو ہے گویا صغیرۃ ایک بات کو اپنے خاوند پر لازم کر رہی ہے حالانکہ ‏شریعت نے آپ کو یہ اختیار نہیں دیا کہ آپ کسی اور پر بھی کوئی چیز لازم کر سکیں۔ اسی طرح باندی جب اپنی نکاح کو ‏فسخ کرے گی تو یہ فسخ صرف باندی کے حق میں نہیں ہے بلکہ یہ فسخ باندی کے خاوند کے حق میں بھی فسخ ہے تو ‏دیکھو باندی بھی خاوند پر اس فسخ کو لازم کر رہی ہے۔ تو معلوم ہوا یہ جو خیار بلوغ اور خیار عتق ہے ان میں دو پہلو ہیں۔ ایک اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ فسخ کرنے والے ‏اپنے آپ سے نقصان کو دور کر رہے ہیں یعنی دفع ضرر کر رہے ہیں کیا کر رہے ہیں؟ دفع ضرر اور دیکھا جائے تو ‏دوسرے اعتبار سے یہ دوسرے شخص پر بھی اس فسخ کو لازم کر رہے ہیں تو یہ من وجہ الزام بھی ہے۔ دیکھا جائے تو ‏یہ خیار بلوغ اور خیار عتق من وجہ نقصان اور من وجہ دفع ضرر ہے اور من وجہ الزام علی الغير ہے۔ اور دفع ضرر کا تو شریعت نے آپ کو اختیار دیا ہے آپ اپنے آپ سے ضرر کو دور کر سکتے ہیں لیکن الزام علی الغير ‏کا شریعت نے آپ کو اختیار نہیں دیا کہ آپ غیر پر بھی کوئی چیز لازم کر سکیں۔ الزام علی الغير کے لیے پھر قاضی کی ‏ضرورت پڑے گی قاضی کیا کرے گا جدائی کروائے گا اور اس کو دوسرا جو خاوند ہے مثلاً اس پر بھی اس کو لازم کر ‏دے گا۔ یہاں تک بات سمجھ میں آگئی حاصل کلام کیا کہ خیار بلوغ ہو یا خیار عتق یہ بعض اعتبار سے دفع ضرر ہے اور ‏بعض اعتبار سے یہ الزام علی الغير ہے۔ تو اس میں دونوں پہلو ہیں لیکن صغیر اور صغیرۃ کے مسئلے میں ہم نے دفع ضرر کا اعتبار نہیں کیا اس کو الزام قرار ‏دیا۔ صغیر یا صغیرۃ خیار بلوغ کے ذریعے اپنا نکاح فسخ کریں گے اور اس میں دونوں پہلو ہیں دفع ضرر والا بھی پہلو اور ‏الزام علی الغير والا بھی پہلو ہم نے الزام علی الغير کا اعتبار کیا دفع ضرر کا اعتبار نہیں کیا یوں کہیں گے یہ جو صغیر ‏اور صغیرۃ اپنا نکاح فسخ کر رہے ہیں یہ الزام علی الغير ہے۔ یہ بھئی کیوں یہ الزام علی الغير ہے کہتے ہیں وجہ یہ کہ ان ‏کے اوپر جو نقصان آ رہا ہے وہ قطعی اور یقینی نہیں۔ کسی اور ولی نے نکاح کروایا تھا نا ہو سکتا ہے اس نے اچھی ‏جگہ نکاح نہ کروایا ہو لیکن یہ بھی تو احتمال ہے ہو سکتا ہے اچھی جگہ ہی کروایا ہو۔ تو معلوم ہوا یہاں نقصان ظاہر ‏نہیں ہے یہاں نقصان ظاہر نہیں ہے تو یہاں دونوں پہلو تھے دفع ضرر کا بھی پہلو تھا اور یہاں الزام علی الغير کا بھی پہلو ‏تھا لیکن وہ جو ضرر ہے وہ تو خفی ہے۔ وہ تو خفی ہے وہ ضرر نقصان تو ظاہر نہیں ہے ہو سکتا ہے بھئی یہ اچھا ہی ‏رشتہ ہو تو اس میں ضرر خفی کو دفع کرنا پایا جا رہا ہے لہذا اس دفع کا ہم نے اعتبار نہیں کیا بلکہ یہاں صرف الزام کا ‏اعتبار کیا کہ یہ جو صغیر اور صغیرۃ نکاح فسخ کر رہے ہیں یہ غیر پر ایک چیز کو لازم کرنا چاہتے ہیں۔ لہذا اس لیے اس میں قاضی کی تفریق ضروری ہے قاضی کے پاس جانا ضروری ہے کیونکہ یہ دفع ضرر ہے ہی نہیں ‏یوں سمجھو یہ کیا ہے؟ الزام علی الغير پھر سمجھو دفع ضرر تو ہے لیکن وہ ضرر خفی ہے ظاہر نہیں لہذا اس دفع ضرر کا اعتبار ہی نہیں کیا ہم ‏نے یوں سمجھو یہاں دفع ضرر ہے ہی نہیں صرف الزام علی الغير ہے اور الزام علی الغير کے اندر تو قاضی یہ کام کر ‏سکتا ہے آپ خود نہیں کر سکتے غیر پر کوئی چیز لازم کر دیں۔ جبکہ باندی کے مسئلے میں وہاں بھی دفع ضرر بھی ہے ‏اور الزام بھی ہے لیکن وہاں ہم نے اس کے دفع ضرر ہونے کا اعتبار کیا اس لیے کیونکہ وہاں ظاہری طور پر باندی پر ‏ملکیت بڑھ رہی تھی خاوند کی طلاقیں دو سے بڑھ کر کتنی ہو رہی تھیں تین ہو رہی تھیں تو وہاں ضرر جلی تھا ظاہر تھا ‏لہذا اس کا اعتبار کرنا پڑے گا تو باندی جو فسخ نکاح کر رہی ہے وہ دفع ضرر ہے۔ وہ الزام نہیں ہے۔ وہ دفع اور یہ جو ‏صغیر اور صغیرۃ جو نکاح فسخ کر رہے ہیں یہ دفع ضرر نہیں کیونکہ ضرر خفی ہے یہ الزام ہے۔ تو صغیر اور صغیرۃ ‏کا خیار بلوغ کس لیے ہے؟ اس سے الزام آئے گا دوسرے پر۔ دفع ضرر ہے تو لیکن اس کا اعتبار نہیں ہے۔ اور باندی جو نکاح فسخ کرتی ہے وہاں ‏کیا ہے؟ دفع ضرر ہے کیونکہ وہاں ضرر ظاہر ہے تو اس دفع ضرر کا اعتبار کرنا پڑے گا ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس ‏دفع ضرر کا کوئی اعتبار ہی نہیں ہے کیونکہ دفع ضرر ظاہر ہے باندی کے اوپر دو سے بڑھ کر طلاقیں کتنی ہو رہی ہیں ‏تین ہو رہی ہیں تو لہذا باندی جو خیار عتق استعمال کرے گی وہاں نکاح فسخ ہو جائے گا اور قاضی کے پاس جانے کی ‏بھی کوئی ضرورت نہیں۔ فرک سمجھ میں آیا؟ وجہ کیا ہے اس کی وجہ بھی یہیں سمجھ لو۔ یاد رکھو یہ جو فسخ نکاح کیا جا رہا ہے چاہے خیار بلوغ ‏میں ہے چاہے خیار عتق میں اس میں دیکھا جائے تو دو پہلو ہیں بھئی ایک ہے نقصان کو دور کرنا اور ایک ہے اس میں ‏دوسرے پر ایک چیز کو لازم کرنا۔ بھئی دیکھو نا صغیر یا صغیرۃ ہیں وہ بالغ ہوئے ہیں کسی اور ولی نے ان کا نکاح کروایا تھا تو نقصان کا احتمال ہے، ‏کہیں ایسی جگہ نکاح نہ کروایا ہو جو اچھی نہیں ہے تو نقصان کا احتمال ہے اور ہر عقل بالغ آدمی کو اختیار ہے وہ اپنے ‏آپ کو نقصان سے بچائے بھئی تو لہذا یہ بھی اپنے آپ کو نقصان سے بچا سکتے ہیں تو دیکھا جائے یہ جو نکاح فسخ کر ‏رہے ہیں یہ اپنے سے نقصان کو دور کر رہے ہیں یہ خیار بلوغ یا خیار عتق والے یہ فسخ نکاح کر رہے ہیں گویا اپنے ‏سے نقصان کو دور کر رہے ہیں۔ صغیر اور صغیرۃ وہاں تو ہو سکتا ہے اچھی جگہ نکاح نہ کروایا ہو ولی نے وہ اپنے سے اس نقصان کو دور کر رہے ‏ہیں اور وہ جو باندی آزاد ہوئی ہے اس کے اوپر پہلے دو طلاقوں کا حق تھا اب خاوند کو تین طلاقوں کا حق مل جائے گا ‏تو وہ اپنے سے نقصان کو دور کر رہی ہے کہ میرے اوپر نقصان نہ آجائے۔ معلوم ہوا خیار بلوغ میں بھی دفع ضرر ہے ‏اور خیار عتق میں بھی دفع ضرر ہے اور دیکھا جائے تو دونوں کے اندر الزام بھی ہے یعنی دوسرے پر ایک چیز کو ‏لازم کر رہے ہیں بھئی دیکھیے بھئی یہ صغیر یا صغیرۃ جب بالغ ہوں گے یہ نکاح کو فسخ کریں گے تو یہ نکاح صرف ‏اس صغیر یا صغیرۃ کے لیے فسخ ہوا یا ان کا جو خاوند یا بیوی ہے اس کے لیے بھی فسخ ہو گیا اس کے لیے بھی فسخ ہو ‏گیا مثلاً دیکھو صغیر ہے تو صغیر کا کسی سے نکاح کروایا ہوا ہے وہ اس کا خاوند ہے تو صغیر جب فسخ نکاح کرے ‏گی یہ بالغ ہونے کے بعد فسخ نکاح کرے گی تو یہ فسخ نکاح صرف اس پر نافذ ہوگا یا اس کے خاوند پر بھی نافذ ہوگا اس ‏کے خاوند پر بھی نافذ ہوگا کیونکہ نکاح ان دونوں کے درمیان ہی تو ہے تو یہ تو ہم نہیں کہہ سکتے اس کے لیے نکاح ‏فسخ ہوا ہے اس کے خاوند کے لیے نکاح فسخ نہیں ہوا فسخ ہوا ہے تو دونوں کے لیے فسخ ہوا ہے تو لہذا یہ خیار بلوغ ہو ‏یا خیار عتق ہو دونوں کے اندر نکاح کو فسخ کیا جاتا ہے اور فسخ نکاح میاں بیوی میں سے صرف ایک کے لیے نہیں ‏ہوتا دوسرے کے لیے بھی فسخ نکاح ہوتا ہے گویا اس میں دوسرے پر بھی ایک چیز کو لازم کیا جا رہا ہے۔ صغیرۃ نے اپنا نکاح فسخ کر دیا تو یہ فسخ صرف اس پہ نافذ ہوگا یا اس کے خاوند پر بھی نافذ ہوگا خاوند پر بھی نافذ ‏ہوگا کیونکہ نکاح ان دونوں کے درمیان ہی تو ہے گویا صغیرۃ ایک بات کو اپنے خاوند پر لازم کر رہی ہے حالانکہ ‏شریعت نے آپ کو یہ اختیار نہیں دیا کہ آپ کسی اور پر بھی کوئی چیز لازم کر سکیں۔ اسی طرح باندی جب اپنی نکاح کو ‏فسخ کرے گی تو یہ فسخ صرف باندی کے حق میں نہیں ہے بلکہ یہ فسخ باندی کے خاوند کے حق میں بھی فسخ ہے تو ‏دیکھو باندی بھی خاوند پر اس فسخ کو لازم کر رہی ہے۔ تو معلوم ہوا یہ جو خیار بلوغ اور خیار عتق ہے ان میں دو پہلو ہیں۔ ایک اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ فسخ کرنے والے ‏اپنے آپ سے نقصان کو دور کر رہے ہیں یعنی دفع ضرر کر رہے ہیں کیا کر رہے ہیں؟ دفع ضرر اور دیکھا جائے تو ‏دوسرے اعتبار سے یہ دوسرے شخص پر بھی اس فسخ کو لازم کر رہے ہیں تو یہ من وجہ الزام بھی ہے۔ دیکھا جائے تو ‏یہ خیار بلوغ اور خیار عتق من وجہ نقصان اور من وجہ دفع ضرر ہے اور من وجہ الزام علی الغير ہے۔ اور دفع ضرر کا تو شریعت نے آپ کو اختیار دیا ہے آپ اپنے آپ سے ضرر کو دور کر سکتے ہیں لیکن الزام علی الغير ‏کا شریعت نے آپ کو اختیار نہیں دیا کہ آپ غیر پر بھی کوئی چیز لازم کر سکیں۔ الزام علی الغير کے لیے پھر قاضی کی ‏ضرورت پڑے گی قاضی کیا کرے گا جدائی کروائے گا اور اس کو دوسرا جو خاوند ہے مثلاً اس پر بھی اس کو لازم کر ‏دے گا۔ یہاں تک بات سمجھ میں آگئی۔ حاصل کیا کہ خیار بلوغ ہو یا خیار عتق یہ بعض اعتبار سے دفع ضرر ہے اور بعض اعتبار سے یہ الزام علی الغير ہے۔ تو اس میں دونوں پہلو ہیں لیکن صغیر اور صغیرۃ کے مسئلے میں ہم نے دفع ضرر کا اعتبار نہیں کیا اس کو الزام قرار ‏دیا۔ صغیر یا صغیرۃ خیار بلوغ کے ذریعے اپنا نکاح فسخ کریں گے اور اس میں دونوں پہلو ہیں دفع ضرر والا بھی پہلو اور ‏الزام علی الغير والا بھی پہلو ہم نے الزام علی الغير کا اعتبار کیا دفع ضرر کا اعتبار نہیں کیا یوں کہیں گے یہ جو صغیر ‏اور صغیرۃ اپنا نکاح فسخ کر رہے ہیں یہ الزام علی الغير ہے۔ یہ بھئی کیوں یہ الزام علی الغير ہے کہتے ہیں وجہ یہ کہ ان ‏کے اوپر جو نقصان آ رہا ہے وہ قطعی اور یقینی نہیں۔ کسی اور ولی نے نکاح کروایا تھا نا ہو سکتا ہے اس نے اچھی ‏جگہ نکاح نہ کروایا ہو لیکن یہ بھی تو احتمال ہے ہو سکتا ہے اچھی جگہ ہی کروایا ہو۔ تو معلوم ہوا یہاں نقصان ظاہر ‏نہیں ہے یہاں نقصان ظاہر نہیں ہے تو یہاں دونوں پہلو تھے دفع ضرر کا بھی پہلو تھا اور یہاں الزام علی الغير کا بھی پہلو ‏تھا لیکن وہ جو ضرر ہے وہ تو خفی ہے۔ وہ تو خفی ہے وہ ضرر نقصان تو ظاہر نہیں ہے ہو سکتا ہے بھئی یہ اچھا ہی ‏رشتہ ہو تو اس میں ضرر خفی کو دفع کرنا پایا جا رہا ہے لہذا اس دفع کا ہم نے اعتبار نہیں کیا بلکہ یہاں صرف الزام کا ‏اعتبار کیا کہ یہ جو صغیر اور صغیرۃ نکاح فسخ کر رہے ہیں یہ غیر پر ایک چیز کو لازم کرنا چاہتے ہیں۔ لہذا اس لیے اس میں قاضی کی تفریق ضروری ہے قاضی کے پاس جانا ضروری ہے کیونکہ یہ دفع ضرر ہے ہی نہیں ‏یوں سمجھو یہ کیا ہے؟ الزام علی الغير پھر سمجھو دفع ضرر تو ہے لیکن وہ ضرر خفی ہے ظاہر نہیں لہذا اس دفع ضرر کا اعتبار ہی نہیں کیا ہم ‏نے یوں سمجھو یہاں دفع ضرر ہے ہی نہیں صرف الزام علی الغير ہے اور الزام علی الغير کے اندر تو قاضی یہ کام کر ‏سکتا ہے آپ خود نہیں کر سکتے غیر پر کوئی چیز لازم کر دیں۔ جبکہ باندی کے مسئلے میں وہاں بھی دفع ضرر بھی ہے ‏اور الزام بھی ہے لیکن وہاں ہم نے اس کے دفع ضرر ہونے کا اعتبار کیا اس لیے کیونکہ وہاں ظاہری طور پر باندی پر ‏ملکیت بڑھ رہی تھی خاوند کی طلاقیں دو سے بڑھ کر کتنی ہو رہی تھیں تین ہو رہی تھیں تو وہاں ضرر جلی تھا ظاہر تھا ‏لہذا اس کا اعتبار کرنا پڑے گا تو باندی جو فسخ نکاح کر رہی ہے وہ دفع ضرر ہے۔ وہ الزام نہیں ہے۔ وہ دفع اور یہ جو ‏صغیر اور صغیرۃ جو نکاح فسخ کر رہے ہیں یہ دفع ضرر نہیں کیونکہ ضرر خفی ہے یہ الزام ہے۔ تو صغیر اور صغیرۃ ‏کا خیار بلوغ کس لیے ہے؟ اس سے الزام آئے گا دوسرے پر۔ دفع ضرر ہے تو لیکن اس کا اعتبار نہیں ہے۔ اور باندی جو نکاح فسخ کرتی ہے وہاں ‏کیا ہے؟ دفع ضرر ہے کیونکہ وہاں ضرر ظاہر ہے تو اس دفع ضرر کا اعتبار کرنا پڑے گا ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس ‏دفع ضرر کا کوئی اعتبار ہی نہیں ہے کیونکہ دفع ضرر ظاہر ہے باندی کے اوپر دو سے بڑھ کر طلاقیں کتنی ہو رہی ہیں ‏تین ہو رہی ہیں تو لہذا باندی جو خیار عتق استعمال کرے گی وہاں نکاح فسخ ہو جائے گا اور قاضی کے پاس جانے کی ‏بھی کوئی ضرورت نہیں۔ باندی کا اختیار تھوڑی دیر بھی خاموش رہی تو وہ اختیار ختم لیکن ثیبہ بالغہ اور لڑ وہ لڑکا جو بالغ ہے ان کا اختیار ختم ‏نہیں ہوگا جب تک یہ زبان سے اجازت یا رد کا اعلان نہ کر دیں بھئی۔ بات سمجھ میں آرہی ہے۔ پھر دیکھیے کتاب پر ویشترط فیہ القضاء بخلاف خیار العتق کہ یہ جو خیار بلوغ ہے اس کے اندر قضاء قاضی ضروری ‏ہے قاضی ان دونوں میں جدائی کروائے گا تفریق قاضی ضروری ہے وہ جو بالغ ہونے والا ہے اس نے بے شک نکاح ‏کے فسخ کا اعلان کر دیا ہے لیکن صرف اس کے اعلان سے نکاح فسخ نہیں ہوگا بلکہ باقاعدہ قاضی کو جدائی کروانا ‏پڑے گی۔ جبکہ اس کے مقابلے میں ایک خیار عتق ہے بھئی۔ ایک تو تھا خیار بلوغ دوسرا کیا ہے خیار عتق خیار عتق کسے کہتے ہیں کہ ایک باندی کا آقا نے کسی جگہ نکاح کروایا ‏ہوا تھا تو یہ باندی ہے اور یاد رکھو باندی کی دو طلاقیں ہوتی ہیں آزاد عورت پر خاوند تین طلاقوں کا مالک ہوتا ہے ‏جبکہ باندی پر خاوند دو طلاقوں کا مالک ہوتا ہے تو ہمارے ہاں طلاق کا دارومدار عورت پر ہے اگر عورت آزاد تو ‏خاوند کو تین طلاقوں کا حق ہے اور اگر عورت باندی ہے تو خاوند کو دو طلاقوں کا حق ہے خاوند پر نہیں اعتبار خاوند ‏چاہے غلام ہو چاہے آزاد ہو اس سے کوئی فرق نہیں پڑता‏ غلام کے عقد میں بھی اگر آزاد عورت ہے تو آزاد عورت کی ‏تین طلاقیں ہوتی ہیں لہذا اس غلام کو تین طلاقوں کا حق ہوگا اور آزاد کے حق میں اگر باندی ہے تو باندی پر خاوند کو تو ‏دو طلاقوں کا حق ہوتا ہے تو آزاد کو بھی دو ہی طلاقوں کا حق ہوگا معلوم ہوا طلاقوں کا دارومدار کس پر ہے عورت پر ‏ہے عورت پر ہے اب مسئلہ یہ کہ ایک باندی تھی آقا نے اس کا نکاح کروا دیا تھا کسی جگہ پر تو اب اس کا خاوند اس پر ‏دو طلاقوں کا مالک ہے کیونکہ یہ باندی ہے پھر اس باندی کو آقا نے آزاد کر دیا کہ جاؤ تم آج سے آزاد ہو اور جیسے ہی ‏یہ آزاد ہوگی اب اس کی دو طلاقوں کی جگہ تین طلاقیں ہو جائیں گی اس پر گویا پہلے اس کے گلے میں دو رسیاں تھیں ‏جو خاوند کے ہاتھ میں تھیں اور اب اس کے گلے میں تین رسیاں ہو جائیں گی معلوم ہوا خاوند کی ملکیت اس پر بڑھ رہی ‏ہے لہذا شریعت اس کو اختیار دیتی ہے یہ بھی نکاح کو فسخ کر سکتی ہے یہ باندی جس کو آقا نے آزاد کیا ہے یہ منکوحہ ‏ہے کسی کی تو پہلے اس پر خاوند کو دو طلاقوں کا حق تھا اب آزادی کے بعد وہ طلاقیں بڑھ کر کتنی ہو جائیں گی تین ہو ‏جائیں گی تو اس کے اوپر خاوند کی ملکیت بڑھ رہی ہے اس کو نقصان ہو رہا ہے لہذا شریعت نے اس کو اختیار دے دیا ‏کہ تم چاہو تو نکاح کو فسخ کر سکتی ہو اس کو کہتے ہیں خیار عتق بھئی خیار عتق (یعنی آزادی کی وجہ سے جو اختیار ‏ملا ہے باندی کو فسخ نکاح کا) تو خیار بلوغ میں بھی فسخ نکاح ہوتا ہے خیار عتق میں بھی فسخ نکاح ہوتا ہے لیکن علماء ‏نے دونوں میں فرق کیا ہے دونوں میں کئی فرق ہیں بھئی۔ خیار بلوغ کے اندر اگر وہ فسخ نکاح کرتے ہیں بالغ ہونے والے لڑکا یا لڑکی تو ان کے فسخ کرنے سے نکاح فسخ نہیں ‏ہے بلکہ قاضی کا فیصلہ بھی ضروری ہے کہ قاضی جدائی کروائے۔ جبکہ خیار عتق جو ہے اس کے اندر قاضی کی ‏تفریق ضروری نہیں۔ باندی نے جب کہہ دیا میں نے یہ نکاح فسخ کیا تو وہ نکاح فسخ ہو گیا اب قاضی کے پاس جانے کی ‏بھی کوئی ضرورت نہیں۔ فرق سمجھ میں آیا؟ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے فیشترط فیہ القضاء بخلاف خیار العتق اور یہ خیار بلوغ کے اندر قضا یعنی قاضی کے فیصلے کی ‏شرط لگائی جائے گی بخلاف خیار عتق کے یعنی اس میں قضا قاضی کی ضرورت نہیں ہوگی لأن الفسخ ہنالی دفع ضرر ‏خفی اس لیے کیونکہ فسخ کرنا یہاں پر (یعنی خیار بلوغ میں یہ جو فسخ ہے لدافع ضرر خفی) یہ ضرر خفی کو دور کرنے ‏کے لیے ہے ایک نقصان ہے لیکن وہ ظاہر نہیں ہے چھپا ہوا نقصان ہے اس چھپے ہوئے نقصان کو دور کرنے کے لیے ‏ہے وہو تمکن الخلل اور وہ نقصان کیا تھا؟ کہ خلل آگیا ہو نکاح کے مقاصد میں کیا آگیا ہو؟ خلل آگیا ہو اچھی جگہ ہو سکتا ہے نکاح نہ کروایا ہو ولہذا يشمل الذکر ‏والانثی اور اسی لیے یہ جو خیار بلوغ ہے مذکر اور مونث دونوں کو شامل ہے بھئی خیار عتق اور خیار بلوغ ایک فرق ‏تو یہ ذکر ہو گیا ان دونوں میں کیا فرق ہے؟ کہ خیار بلوغ کو الزام شمار کیا جاتا ہے لہذا وہاں قضا قاضی کی ضرورت ہے اور خیار عتق کو دفع ضرر شمار کیا جاتا ‏ہے لہذا وہاں قضا قاضی کی ضرورت نہیں۔ دوسرا فرق یہ ہے کہ خیار بلوغ جو ہے اس میں وہ نقصان آیا کہ وہ نکاح ‏کے مقاصد میں خلل آگیا ہوگا ہو سکتا ہے اچھی جگہ نکاح نہیں کروایا تو ہو سکتا ہے اس میں خلل آگیا ہو اور یہ خلل تو ‏صغیر اور صغیرۃ دونوں کے حق میں ہو سکتا ہے لہذا صغیر اور صغیرۃ دونوں کو یہ خیار بلوغ ملے گا۔ دونوں میں ‏احتمال ہے کہ باپ دادا کے علاوہ نے کسی نے نکاح کروایا ہے ہو سکتا ہے اچھی جگہ نہ کروایا ہو تو یہ احتمال تو ‏صغیر کے لیے بھی ہے اور صغیر لہذا دونوں کو اختیار ملے گا۔ جبکہ باندی کو جو خیار عتق ملتا ہے وہ ملکیت کی زیادتی کی وجہ سے ملتا ہے تو وہ صرف باندی کو ملے گا غلام کو ‏نہیں ملے گا مثلاً غلام کا آقا نے کسی جگہ نکاح کروایا ہوا تھا تو غلام کو کتنی طلاقوں کا حق ہوگا؟ دو نہیں بھئی عورت کو دیکھیں گے اگر غلام کی بیوی آزاد عورت ہے تو اس کو تین طلاقوں کا حق ہے اور اگر اب ‏باندی ہے اس کی بیوی تو اس کو دو طلاقوں کا حق ہے تو اب غلام کو آقا نے آزاد کر دیا تو یہ اب غلام جو ہے اس کو ‏خیار عتق نہیں ملے گا کیوں نہیں ملے گا؟ کیونکہ غلام پر تو ملکیت نہیں بڑھ رہی باندی پر تو دو طلاقوں سے بڑھ کر تین ہو رہی تھیں وہاں تو ملکیت بڑھ رہی تھی ‏لیکن غلام پر تو کوئی ملکیت نہیں بڑھ رہی لہذا یہاں جو خیار عتق ہے وہ صرف باندی کو ملتا ہے غلام کو نہیں ملتا تو یہ ‏دوسرا فرق آیا۔ پہلا فرق کیا تھا خیار بلوغ اور خیار عتق میں کہ خیار بلوغ وہ الزام علی الغير شمار کیا جاتا ہے اور خیار عتق جو ہے ‏اس کو دفع ضرر شمار کیا جاتا ہے دوسرا فرق یہ کہ خیار بلوغ صغیر اور صغیرۃ دونوں کو ملے گا جبکہ خیار عتق ‏صرف باندی کو ملے گا غلام کو نہیں ملے گا۔ بات سمجھ میں آگئی۔ دیکھیے بھئی پھر ترجمہ دیکھ لیجیے لأن الفسخ ہنالی دفع ضرر خفی اس لیے کیونکہ یہاں پر جو فسخ ہے یعنی خیار بلوغ ‏کے اندر وہ ضرر خفی کو دور کرنے کے لیے ہے وہو تمکن الخلل اور وہ نقصان کیا ہے خلط کا آنا ہے یعنی نکاح کے ‏مقاصد میں خلل کا آنا ہے ولہذا يشمل الذکر والانثی اور اسی لیے یہ خیار بلوغ شامل ہے مذکر اور مونث دونوں کو یعنی ‏صغیر کو بھی ملے گا اور صغیرۃ کو بھی ملے گا فجعل التزاما في حق الآخر تو چون کہ یہ ضرر خفی ہے یہ ضرر کیا ‏ہے؟ خفی ہے فجعل التزاما تو لہذا اس لیے خیار بلوغ کو الزام قرار دیا گیا في حق الآخر دوسرے کے حق میں فيفتقر الی ‏القضاء تو لہذا اس لیے یہ قضا قاضی کا محتاج ہے قاضی کے فیصلے کا محتاج ہے وخيار العتق لداف ضرر جلي اور ‏خیار عتق ضرر جلی کو دور کرنے کے لیے ہے جلی کا معنی ظاہر ظاہر کہتے ہیں وخيار العتق لداف ضرر جلي اور ‏خیار عتق جو ہے وہ ظاہری نقصان کو دور کرنے کے لیے ہے وہو زیادۃ الملک علیہا اور وہ ضرر جلی کیا ہے؟ زیادۃ ‏الملک علیہا باندی کے اوپر ملکیت کا زیادہ ہونا ہے کہ خاوند کی ملکیت اس پر بڑھ رہی ہے دو کے بجائے اب تین ‏طلاقوں کا مالک بن رہا ہے ولہذا يختص بالانثی اسی لیے یہ خیار عتق جو ہے وہ مؤنث کے ساتھ خاص ہے (یعنی صرف ‏باندی کو ملے گا) فاعتبر دفعا لہذا اس لیے اس کو دفع اعتبار کیا گیا (اس میں بھی الزام علی الغير ہے لیکن یہاں چونکہ ‏نقصان زیادہ آ رہا ہے لہذا اس کو دفعہ اعتبار کیا گیا) اور دفع لا يفتقر الی القضاء اور نقصان کو دور کرنا یہ قضا قاضی ‏کا محتاج نہیں ہے تو کہتے ہیں والدفع لا يفتقر الی القضاء اور دور کرنا (نقصان کو) یہ قضا قاضی کا محتاج نہیں ہے۔ آگے دیکھیے: ثم عندہما إذا بلغتی الصغیرۃ وقد علمت بالنکاح فسكتت فہو رضا وإن لم تعلم بالنکاح فلہا الخیار حتی تعلم ‏فتسقطا۔ بھئی یہاں سے یہ بتلا رہے ہیں کہ اگر صغیر یا صغیرۃ ان کا کسی نے پہلے سے نکاح کروا دیا کسی ولی نے باپ ‏دادا کے علاوہ۔ اب ان کو بالغ ہونے پر خیار بلوغ ملے گا۔ تو اگر ان کو نکاح کا پتہ ہی نہ ہوا نکاح کا بعد میں پتہ چلا بالغ ہونے کے کافی عرصے بعد جا کر پتہ چلا تو کیا ان کا ‏نکاح سے لاعلم ہونا عذر ہے؟ کیا ان کو پھر شریعت خیار بلوغ دے گی؟ تو جواب دیں گے صاحب ہدایہ کہ ہاں بھئی۔ ‏اصل نکاح سے جب یہ لاعلم ہیں تو یہ عذر ہے۔ لہذا ان کو جب نکاح کا علم ہو جائے گا تو پھر ان کو پھر خیار بلوغ مل ‏جائے گا۔ لیکن اگر ان کو نکاح کا تو پتہ تھا لیکن خیار بلوغ کا پتہ نہیں تھا کہ شریعت نے ہمیں اختیار دیا ہوا ہے یہ انہیں پتہ ہی نہیں ‏تھا بالغ ہونے کے عرصے بعد ان کو جا کر پتہ چلا خیار بلوغ کا کہ ہمیں شریعت نے خیار بلوغ کا اختیار دیا تھا تو کیا یہ ‏خیار بلوغ سے لاعلمی یہ عذر شمار ہوگی؟ کیا ان کو پھر شریعت خیار بلوغ دے گی اس وقت؟ کہتے ہیں نہیں خیار بلوغ ‏سے لاعلمی کوئی عذر نہیں۔ کیونکہ یہ ان کا اپنا قصور ہے۔ نکاح سے لاعلمی تو عذر تھا کیونکہ نکاح کا پتہ ہی نہیں ہے ‏پتا ہوگا تو پھر ہی اس کی اجازت دیں گے یا اس کو رد کریں گے تو وہ تو عذر تھا ٹھیک ہے پتہ چل گیا ہے اب آپ کو ‏اختیار ہے آپ اپنا اختیار استعمال کر لیں لیکن خیار بلوغ سے لاعلمی اس کو عذر شمار نہیں کیا جائے گا کیونکہ یہ دار ‏الاسلام میں رہتے ہیں یہاں تعلیم کے مواقع موجود ہیں اور نیز تعلیم کا حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے بھئی۔ حدیث میں آتا ہے طلب العلم فريضة علی كل مسلمين علم کا حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے تو یہ ان کی اپنی کوتاہی ‏ہے کہ انہوں نے علم حاصل نہیں کیا اور ان کو خیار بلوغ کا پتہ نہ چلا لہذا اب یہ کوئی عذر نہیں ہے بعد میں پتہ چلا ہے ‏تو اب ان کو خیار بلوغ نہیں ملے گا بھئی۔ دیکھیے بھئی۔ ثم عندہما إذا بلغتی الصغیرۃ ثم عندہما پھر طرفین کے نزدیک بھئی طرفین کو ذکر کیا۔ امام ابو یوسف رحمہ ‏اللہ کو ذکر نہیں کیا۔ وجہ یہ ہے کہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ تو خیار بلوغ کے قائل ہی نہیں ہیں ان کے نزدیک تو خیار ‏بلوغ ملتا ہی نہیں ہے چاہے باپ دادا کروائے چاہے کوئی اور نکاح کروا دے۔ بات سمجھ میں آگئی اس لیے طرفین کو ذکر کیا کہتے ہیں ثم عندہما پھر طرفین کے نزدیک اذا بلغتی الصغیرۃ جب صغیرۃ ‏بالغ ہو گئی وقاد علمت بالنکاح اس حال میں کہ وہ نکاح کے بارے میں جانتی تھی فسکتت تو یہ خاموش رہی فہو رزن تو ‏یہ رضامندی ہے وإن لم تعلم بالنکاح اور اگر اس کو نکاح کا علم نہیں تھا فلہا الخیار حتی تعلم فتسقطا تو اس کو اختیار ہے ‏یہاں تک کہ اس کو معلوم ہو جائے پھر یہ خاموش رہے تو یہ اختیار ختم ہو جائے گا۔ شرط العلم باص یہاں سے وہی بات کر رہے ہیں جو میں نے پہلے بیان کر دی۔ صاحب ہدایہ فرما رہے ہیں کہ امام محمد ‏رحمہ اللہ نے اصل نکاح سے لاعلمی کو ذکر کیا کہ اصل نکاح سے لاعلمی عذر ہے یہ جو اوپر متن میں آیا۔ لیکن خیار ‏بلوغ سے لاعلمی جو ہے اس کو ذکر نہیں کیا کیونکہ اس سے لاعلمی یہ کوئی عذر نہیں۔ تو کہتے ہیں شرط العلم باص امام محمد رحمہ اللہ نے اصل نکاح کے علم کی شرط لگائی لأنہا لا تتمکن من التصرف إلا به ‏اس لیے کیونکہ یہ صغیرۃ جو بالغ ہو گئی ہے یہ قادر ہی نہیں ہے تصرف کرنے پر الا بہ مگر اس علم کے ذریعے۔ (یعنی ‏اس کو نکاح کا علم ہوگا تبھی تو تصرف کر سکے گی کہ اجازت دے گی یا اجازت نہیں دے گی تو اس کے بغیر تو یہ ‏تصرف پر ہی قادر نہیں ہوگی والولي يتفرد بہ اور ولی جو ہے وہ اکیلا ہوتا ہے اس اختیار میں۔ اس نکاح کروانے میں ولی تو کیا ہے؟ اکیلا۔ بھئی دیکھو یہ جو ولایت اجبار دی ہے شریعت نے ولی کو۔ یہ باپ دادا کے علاوہ کی بات ہو رہی ہے کیونکہ باپ دادا میں تو خیار بلوغ نہیں ملتا۔ جو بھی ولی ہے اس کو شریعت نے ‏ولایت اجبار کی ہے یعنی یہ صرف ولی کا اختیار ہے اس میں اس کو صغیر یا صغیرۃ سے مشورے کی ضرورت ہی ‏نہیں ہے۔ جب ان سے مشورے کی ضرورت نہیں ہے اختیار اس کا اپنا ہے تو وہ نکاح کروا دے گا صغیر اور صغیرۃ ‏سے پوچھے گا بھی نہیں تو ان کو تو نکاح کا پتہ ہی نہیں چلے گا لہذا یہ عذر ہے۔ ان کو نکاح کا پتہ ہی نہیں چلے گا لہذا ‏یہ عذر ہے ان کو نکاح کا پتہ ہی نہیں چلے گا تو اب ان کو اختیار ہے جب پتہ چلے گا تب وہ اپنا اختیار استعمال کریں ‏گے۔ تو ولی اس میں اکیلا ہوتا ہے فعزرت بالجہل تو لہذا یہ جو صغیرۃ جو بالغ ہو گئی فوعذرت بالجہل یہ معذور ہے لا ‏علمی کی وجہ سے جہاں لعلعت کی وجہ سے۔ ولم يشترط العلم بالخیار اور امام محمد رحمہ اللہ نے علم بالخیار کی شرط نہیں لگائی کہ اس کو خیار بلوغ کا علم ہونا چاہیے ‏اس کی شرط نہیں لگائی لأنہا تتفرغ لمعرفة أحکام الشرعی اس لیے کیونکہ اس کو فراغت ہوتی ہے شری احکام کے جاننے ‏کے لیے۔ بھئی باندی ہے وہ تو کام کاج میں مصروف رہے گی وہ تو اقا کی خدمت میں مصروف رہے گی جبکہ یہ جو صغیرۃ آزاد ‏ہے یہ تو فارغ ہے یہ تو شری احکام سیکھ سکتی ہے یہ شری احکام کے لیے فارغ ہے دار الاسلام میں رہتی ہے اور ‏شری احکام کا بھی حکم ہے کہ طلب علم فريضة علی كل مسلمين لہذا اس کو مسائل سیکھنے چاہئیں تھے اس نے نہیں ‏سیکھے تو لہذا یہ اسی کا قصور ہے۔ کہتے ہیں لأنہا تتفرغ لمعرفة أحكام الشرعي اس لیے کیونکہ یہ جو صغیرۃ تھی اب جو بالغہ ہو گئی ہے یہ فارغ تھی شری ‏احکام جاننے کے لیے ودار دار العلمي اور یہ جو وطن ہے یہ بھی دار العلم ہے یعنی دار الاسلام جو ہے وہ بھی دار العلم ‏ہے بھئی یہاں تعلیم کے مواقع موجود ہیں تعلیم کے ادارے موجود ہیں تو لہذا اس کو مسائل کا علم ہونا چاہیے تھا فلام تعزر ‏بالجہل لہذا یہ معذور نہیں سمجھی جائے گی لا علمی کی وجہ سے بخلاف المعتقد بخلاف معتقہ کے یعنی وہ باندی جس کو ‏آزاد کر دیا گیا بھئی اگر باندی کو علم نہیں تھا خیار عتق کا اقا نے اس کو آزاد کر دیا تو کیا باندی کو بھی خیار عتق سے ‏لاعلمی کی وجہ سے معذور سمجھا جائے گا تو جواب دیں گے ہاں باندی معذور ہے کیوں معذور ہے؟ کیونکہ باندی تو اقا کی خدمت میں مصروف رہتی ہے اس کو فراغت نہیں ملتی کہ وہ شری احکام جا کر سیکھے اس لیے ‏اس کو معذور سمجھا جائے گا تو یہ فرق ہے خیار بلوغ میں اور خیار عتق میں تو معلوم ہوا خیار بلوغ میں جو صغیرۃ ہے ‏اس کو لاعلمی کی وجہ سے اگر خیار کا علم نہیں ہے تو اس کو عذر نہیں سمجھا جائے گا اور باندی کو اگر خیار عتق کا ‏علم نہیں ہے تو اس کو عذر سمجھا جائے گا یہ دونوں میں فرق ہے۔ دیکھیے بھئی بخلاف المعتقد بخلاف معتقہ کے یعنی وہ باندی جسے آزاد کر دیا گیا لأن الامة لا تتفرغ لمعرفہا اس لیے ‏کیونکہ باندی کے پاس تو فراغت نہیں ہوتی احکام شریعت کے جاننے کی فوعذرت بجلت ببوت الخيار تو لہذا اس کو معذور ‏سمجھا جائے گا جہالت کی وجہ سے اور خیار کے ثبوت میں۔ بھئی یہاں ترجمہ سمجھ لو یہاں ترجمہ مشکل ہے۔ فوعذرت تو اس کو معذور سمجھا جائے گا بالجہل جہالت کی وجہ سے ‏ببوت الخيار ثبوت خیار سے (یعنی خیار کے ثبوت سے لاعلمی کی وجہ سے اس کو معذور سمجھا جائے گا یعنی باندی کو ‏اگر خیار عتق کا علم نہیں ہے تو یہ جہالت عذر ہے اس کے لیے اور اس کو خیار عتق مل جائے گا)۔ یہاں ایک اشکال ہوتا ہے اشکال یہ ہوتا ہے کہ صغیر یا صغیرۃ یعنی نابالغ جو بچے ہوتے ہیں وہ تو مکلف نہیں۔ ان پر تو شری احکام لاگو نہیں ہوتے لیکن آپ کی تقریر سے یہ لازم آیا کہ معلوم ہوا صغیر یا صغیرۃ پر بھی تعلیم واجب ‏تھی ضروری شری احکام کو سیکھنا ان پر واجب تھا یہ تو آپ نے بچوں کو بھی مکلف بنا دیا حالانکہ بچے تو مکلف نہیں ‏ہوتے تو جواب یاد رکھنا علماء فرماتے ہیں کہ جب صغیر یا صغیرۃ بلوغت کے قریب پہنچ جائیں تو اب ان پر ضروری ‏شری مسائل کا سیکھنا واجب ہو جاتا ہے۔ یا ان کا جو ولی ہے اس پر واجب ہو جاتا ہے کہ ان کو تعلیم دے ضروری مسائل کی بھئی۔ چنانچہ اسی لیے حدیث میں آتا ‏ہے کہ سات سال کی عمر میں بچوں کو نماز کا حکم دو اور دس سال کی عمر میں ان کی پٹائی کرو یعنی اگر نماز نہ ‏پڑھیں تو پٹائی کرو تو دیکھو نماز کا حکم دینے کا کہا گیا اور نماز کے چھوڑنے پر پٹائی کرنے کا حکم دیا گیا تو معلوم ‏ہوا ان پر یہ نماز اور دیگر ضروری مسائل کا سیکھنا لازم ہو جاتا ہے بالغ ہونے سے پہلے ہی بھئی بات سمجھ میں آ گئی ‏چلیے بس بھئی ہدایہ ہو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔
24 approved lectures · 21 of 24