آگے سبق دیکھیے: ویجوز نکاح الصغیر والصغیرۃ اذا زوجہما ولی بکراً کانت صغیرۃ او ثیبًا۔ والولی ہو العصبۃ ومالک رحمہ اللہ یخالفنا فی غیر الاب وشافعی رحمہ اللہ تعالی فی غیر الاب والجد۔ وفی الثیب الصغیرۃ ایضا۔
گذشتہ سبق میں استیمار کا مسئلہ ذکر فرمایا تھا صاحب ہدایہ نے کہ ولی جو ہے باکرہ بالغہ سے اجازت لے گا تو اگر وہ خاموش رہی تو اس کی یہ خاموشی بھی رضامندی کی دلیل ہے۔ اس لیے کیونکہ یہ جو خاموشی ہے اس میں اگرچہ دونوں جہتیں ہیں، ہو سکتا ہے خاموشی اس لیے ہو کہ راضی ہے، ہو سکتا ہے خاموشی اس لیے ہو کہ وہ رد کر رہی ہے، لیکن اس کے اندر رضامندی والی جہت راجح ہے۔ وجہ یہ کہ یہ باکرہ ہے اس میں بے انتہا زیادہ حیا ہے، لہذا اس کے لیے بہت مشکل ہے کہ یہ رضامندی کا اظہار کرے اور نکاح کے اندر اپنی رغبت کو ظاہر کرے، جبکہ رد کرنے کے اندر تو کوئی حیا وغیرہ مانع نہیں۔ تو لہذا اگر رد کرنا چاہتی تو وہ رد کرتی ظاہراً بھئی! لہذا یہ خاموشی اس کو کس پر محمول کیا جائے گا؟ رضامندی پر۔ اور نیز حدیث کے اندر بھی آتا ہے کہ البکر تستامر فی نفسہا فان سکتت فقد رضیت۔ کہ باکرہ سے مشورہ لیا جائے گا اس کی ذات کے بارے میں، اگر وہ خاموش رہی تو تحقیق وہ راضی ہے بھئی۔
اور پھر جیسے خاموشی دلیل ہے رضامندی پر، اسی طرح ہنسنا اس میں تو باقاعدہ اس کی طرف سے ایک فعل بھی آ گیا ہنسنے والا، لہذا یہ زیادہ دلالت کرتا ہے رضامندی پر۔ اور رونے کے اندر میں نے بتلایا تھا اگر بغیر آواز کے روئے تو یہ رونا بھی رضامندی کی دلیل ہے، معلوم ہوا وہ گھر والوں سے جدائی کے خیال سے اس کے آنسو بہہ رہے ہیں، اور اگر وہ آواز سے رو رہی ہے، معلوم ہوا اس کو یہ بات پسند نہیں آئی، اس کو یہ نکاح پسند نہیں آیا وہ اس کو رد کر رہی ہے۔
یہ تو تھا ولی کے اندر، ولی کے اندر خاموشی وغیرہ رضامندی کی دلیل ہے، اگر غیر ولی یہ مشورہ لینے کے لیے گیا یا دور والا ولی جو ہے وہ مشورہ لینے کے لیے گیا تو پھر جب تک وہ زبان سے رضامندی کا اظہار نہیں کرے گی تب تک اس خاموشی یا اس ہنسنے کو رضامندی نہیں سمجھا جائے گا۔ وجہ یہ کہ ولی کے علاوہ باقیوں کے سامنے یہ جو خاموشی ہے وہ دراصل ان کے کلام کی طرف کم توجہ کرنے کی وجہ سے ہے، گویا وہ ان کے کلام کی طرف توجہ ہی نہیں کر رہی کہ یہ کون ہیں میرے نکاح کے معاملے میں دخل دینے والے، اس لیے خاموش رہتی ہے اور جواب ہی نہیں دیتی، لہذا اسے رضامندی پر دلالت نہیں ہوگی، اور اگر اسے رضامندی پر دلالت مان بھی لیا جائے تو بھی اس میں دوسری جانب کا بھی احتمال ہے، ہو سکتا ہے اس لیے خاموش ہو کہ وہ رد کر رہی ہے بھئی۔
اور ولی کے اندر تو حاجت کی وجہ سے ہم نے اس دلیل پر اکتفا کر لیا تھا۔ ولی کے معاملے میں تو حاجت تھی، ولی تو اس کا نکاح کروانا چاہتا ہے اور وہ حیا کی وجہ سے بولتی نہیں ہے، تو اگر اس کے بولنے کو لازم قرار دیا جائے پھر تو اس کے نکاح کی مصلحتوں میں خلل آئے گا، اس کا نکاح کروانا مشکل ہو جائے گا، بات سمجھ میں آ گئی، لہذا ولی کے سلسلے میں تو خاموشی کو دلیل مانا جائے گا، غیر ولی کے اندر ان چیزوں کی حاجت نہیں، وہاں زبان سے کہنا اس کے لیے کوئی مشکل نہیں، لہذا وہاں زبان سے ہی اس کی اجازت دینا ضروری ہے۔ ہاں اگر وہ اجازت لینے والا وہ ولی کا پیغام رساں ہے، ولی نے اس کو بھیجا ہے پوچھنے کے لیے اور وہ آ کر بتلاتا ہے کہ مجھے آپ کے ولی نے بھیجا ہے، آپ کے والد صاحب نے بھیجا ہے یہ پوچھنے کے لیے، تو پھر ولی کے رسول کا بھی وہی حکم ہے جو ولی کا تھا اور ولی کے سامنے تو خاموشی دلیل تھی رضامندی کی، تو اس کے سامنے بھی خاموشی اور ہنسنا اور بغیر آواز کے رونا یہ سب رضامندی کی دلیلیں ہوں گی۔
اور پھر صاحب ہدایہ نے یہ بھی بتایا کہ مشورے کے اندر خاوند کا نام ذکر کرنا اور اس کی پہچان کروانا بھی ضروری ہے۔ اگر اس کے بغیر نکاح کی اجازت لی اور خاوند کا نام وغیرہ نہیں لیا کہ کس سے نکاح کروا رہے ہیں، تو پھر اس اجازت کا اعتبار نہیں ہے، بلکہ خاوند کی پہچان کروانا ضروری ہے بھئی۔ جبکہ مہر کا ذکر ضروری نہیں ہے، ہاں اگر مہر بہت زیادہ کم رکھا ہے ولی نے، تو پھر اس صورت میں مہر کا بتلانا بھی ضروری ہے بھئی۔ اور میں نے بتلایا تھا کہ نکاح سے پہلے اجازت لینا یا نکاح کے بعد اجازت لی جائے دونوں کا ایک ہی حکم ہے، ایک صورت تو یہ ہے نکاح سے پہلے ہی آیا کہ میں فلاں جگہ فلاں آدمی سے آپ کا نکاح کروا رہا ہوں، اور دوسری صورت یہ ہے کہ ولی نے نکاح کروا دیا ہے اب آ کر اس کو اطلاع دے رہا ہے، تو یاد رکھو اس صورت میں اگر یہ اجازت دے گی تو وہ نکاح منعقد ہو جائے گا، اگر اجازت نہیں دے گی تو وہ نکاح منعقد نہیں ہوگا، تو یہ جو نکاح کے بعد اجازت لینے آیا ہے ولی، اس کے اندر بھی وہی اسی طرح خاموشی رضامندی کی دلیل ہوگی، ہنسنا اور بغیر آواز کے رونا رضامندی کی دلیل ہوگی۔
پھر اس کے انہوں نے یہ بھی بتلایا کہ اگر یہ جو نکاح کروانے کے بعد خبر دی گئی، ایک تو صورت یہ ہے ولی نے خود آ کر خبر دی، ولی نے، اور دوسرا ہے کوئی اور آ کر خبر دیتا ہے، تو یہ جو خبر دے رہا ہے، یہ مین وجہ خبر ہے اور مین وجہ شہادت ہے۔ کیونکہ یہاں خاموشی کی وجہ سے اس لڑکی پر نکاح لازم ہو رہا ہے۔ خاموش رہے گی تو کیا ہوگا؟ نکاح لازم ہو جائے گا تو دیکھو جیسے شہادت کے اندر ایک چیز دوسرے پر لازم کر دی جاتی ہے، زید اور عمر میں جھگڑا ہوا ایک چیز کے بارے میں، زید کہتا ہے یہ چیز میری ہے، عمر کہتا ہے یہ چیز میری ہے، زید نے دو گواہ پیش کر دیے، گواہوں نے گواہی دے دی کہ قاضی صاحب زید اس چیز کا مالک ہے، کیونکہ زید نے یہ چیز خریدی تھی ہمارے سامنے، تو اب دیکھو قاضی ان دو گواہوں کی وجہ سے عمر کے خلاف فیصلہ کر دے گا، تو دیکھو وہ دو گواہوں کا قول حامر پر نافذ ہو گیا، اس پر لازم ہو گیا، تو معلوم ہوا گواہی کے اندر دوسرے پر کوئی چیز لازم کی جاتی ہے، تو یہاں پر بھی یہ لڑکی جب خاموش رہے گی تو یہ نکاح اس پر لازم ہو جائے گا، تو دیکھا جائے بعض اعتبار سے یہ جو نکاح کی خبر لائے ہیں، بعض اعتبار سے یہ خبر ہی ہے، ایک بات بتلا رہے ہیں، اور دوسرے اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ نکاح لڑکی پر لازم ہو رہا ہے، تو یہ شہادت بھی ہے، تو بعض اعتبار سے یہ شہادت ہے، بعض اعتبار سے یہ شہادت نہیں ہے، تو لہذا اس کے اندر شہادت کے اندر دو چیزیں ہوتی ہیں، ایک عدد کہ گواہ دو ہونے چاہیے کم از کم، اور نیز ایک ان کی عدالت کہ گواہ عادل اور قابلِ اعتماد ہونے چاہیے، تو پھر ہی قاضی ان کے گواہی پر فیصلہ کرنا اس پر لازم ہو جاتا ہے، تو گواہی کے اندر دو چیزیں ہیں، اور یہ جو لڑکی کو آ کر خبر دی ہے، یہ مین وجہ خبر ہے، مین وجہ شہادت ہے، یا یوں کہو یہ مین وجہ شہادت ہے، مین وجہ شہادت نہیں ہے، تو اس کے اندر شہادت کی دونوں چیزیں ضروری نہیں ہوں گی، ہاں دونوں میں سے ایک کا ہونا ضروری ہے۔
بعض اعتبار سے یہ شہادت ہے، لہذا ایک چیز ضرور ہونی چاہیے، بعض اعتبار سے یہ شہادت نہیں ہے، لہذا دوسری چیز ضروری نہیں ہے، تو یا تو عدد ہونا یہ خبر لانے والے جو فضولی ہیں، دو افراد ہونے چاہیے، یا اگر ایک ہے، تو پھر وہ کم از کم قابلِ اعتماد ہونا چاہیے، سچا آدمی ہونا چاہیے، بات سمجھ میں آ گئی۔
جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ نہیں، یہ تو خبر ہی ہے، اس میں شہادت نہیں، لہذا اس کے اندر ایک آدمی بھی خبر دے گا تو کافی ہے بھئی۔ جبکہ اس کے مقابلے میں اگر خبر دینے والے کو خود ولی نے بھیجا ہے، وہ اس کا پیغام رساں ہے، تو پھر اس کا تو بالاتفاق وہی حکم ہے جو ولی کا تھا، اور ولی جو ہے نہ وہاں پر عدد کی شرط تھی، نہ عدالت کی شرط تھی، تو اس پیغام رساں کے اندر بھی ان دونوں شرطوں میں سے کوئی شرط نہیں ہوگی بھئی، وہ اطلاع دے گا، یہ خاموش رہے گی تو نکاح لازم ہو جائے گا۔ لیکن فضولی کے مسئلے میں اگر اطلاع دی، اگر وہ دو تھے یا وہ ایک تھا اور قابلِ اعتماد تھا اور لڑکی باکرہ ہے وہ خاموش رہی یا ہنس پڑی، تو یہ نکاح منعقد ہو جائے گا، لیکن اگر وہ فضولی اس کے اندر نہ عدد ہے نہ عدالت ہے، دو نہیں ہیں، ایک ہے اور نیز عادل بھی نہیں ہے، تو پھر اس صورت میں یاد رکھو اس لڑکی کی خاموشی یا ہنسنا یہ رضامندی کی دلیل نہیں ہوگی، وہ نکاح ابھی بھی موقوف ہے جب تک یہ زبان سے اس کی اجازت نہ دے، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو اجازت دے دے گی یا پھر رد کر دے گی۔
صاحب ہدایہ نے یہ بھی بتایا کہ اس کی اور بھی نظیریں ہیں، مثلاً جہاں پر بعض اوقات خبر جو ہے وہ مین وجہ شہادت ہوتی ہے اور مین وجہ خبر ہوتی ہے، جیسے وکیل کو معزول کرنے کی خبر دی جائے۔ بھئی جب آپ کسی کام میں کسی کو وکیل بناتے ہیں، وہ جا کر وہ تصرف کرتا ہے، تو وہ تصرف موکل پر لازم ہوتا ہے، کیونکہ موکل نے اس کو بھیجا تھا، لیکن اگر موکل نے اس کو معزول کر دیا اور اس نے پھر بھی جا کر وہ تصرف کر لیا، تو وہ پھر وکیل پر ہی لازم ہو جائے گا، موکل کے اوپر وہ لازم نہیں ہوگا، تو دیکھو، تو مین وجہ صرف اس کو خبر دی جا رہی ہے آپ کو معزول کر دیا، لیکن دوسرے اعتبار سے اب جو وہ تصرف اگر پھر بھی کرے گا تو وہ اسی کے وکیل کے اوپر ہی لازم ہو جائے گا، تو مین وجہ اس کے اندر الزام بھی ہے، لہذا یہ شہادت بھی ہے، تو لہذا معزول کرنے کی جو خبر ہے وہ مین وجہ خبر ہے، مین وجہ شہادت ہے، تو اس میں بھی شہادت کی دو چیزوں میں سے ایک کا ہونا ضروری ہے، یا معزولی کی خبر دینے والے دو افراد ہونے چاہیے، یا ایک ہو لیکن قابلِ اعتماد ہو، عادل ہو بھئی۔
اس کے بعد پھر صاحب ہدایہ نے بتلایا کہ اگر صبیحہ یعنی جو غیر کنواری ہے، اس سے اگر اجازت لی جائے تو پھر اس کی خاموشی رضا کی دلیل نہیں۔ بلکہ وہاں پر اس کا زبان سے بولنا ضروری ہے، یہ اسی طرح ہے جیسے ولی کسی بالغ لڑکے کا نکاح کروا دے، تو وہاں بالغ لڑکے کا نکاح بھی موقوف رہے گا اس کی اجازت پر، جب وہ اپنی زبان سے اجازت دے دے گا تو نکاح منعقد ہو جائے گا، اور اگر اجازت نہیں دے گا تو وہ نکاح منعقد نہیں ہوگا بھئی۔
پھر اس کے بعد صاحب ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ اگر باکرہ کی بقارت جو ہے کسی سبب سے بقارت اس کی زائل ہو جائے، ختم ہو جائے، مثلاً اچھلنے کودنے کی وجہ سے بقارت زائل ہو گئی، یا حیض کی کثرت کی وجہ سے، یا کسی زخم کی وجہ سے، یا زیادہ عمر گزر گئی ہے اور ابھی تک اس کی شادی نہیں ہوئی، تو اس کی وجہ سے اگر بقارت زائل ہو جائے، تو پھر یہ کس کے حکم میں ہے؟ باکرہ کے حکم میں ہے یا یہ اب صبیحہ کے حکم میں ہے؟ تو بتلایا یہ اب بھی باکرہ کے حکم میں ہے، اس لیے کیونکہ یہ عربی زبان کے اعتبار سے ابھی بھی باکرہ ہے۔ کیونکہ بکر مادہ با کاف را، یہ مادہ جہاں بھی آتا ہے وہاں اول ہونے والا معنی پایا جاتا ہے، تو اس کے ساتھ جو بھی نکاح کرے گا وہ اس کو اول پانے والا ہوگا، تو یہ حقیقت میں ابھی بھی باکرہ ہے اگرچہ اس کی بقارت زائل ہو چکی ہے، تو بکر کا مادہ جہاں بھی آئے وہاں اول ہونے کا معنی ہوتا ہے، جیسے یہ باکرہ ہے، اسی طرح باکورا وہ پہلا پھل جو کسی موسم میں آتا ہے اس کو باکورا کہتے ہیں، اسی طرح صبح کا اول وقت جو ہوتا ہے اس کو بکرۃ کہتے ہیں، تو معلوم ہوا باف را مادہ جہاں بھی آئے گا وہاں اول ہونے کا معنی ہوگا، اور یہ باکرہ کے اندر بھی موجود ہے، تو یہ حقیقتاً باکرہ ہی ہے بھئی۔ لہذا اس سے ولی نے نکاح کے بارے میں آ کر پوچھا تو باکرہ والا حکم ہے، لہذا اس کی خاموشی رضامندی کی دلیل ہوگی۔
اور اگر لڑکی کی بقارت زنا کی وجہ سے زائل ہو گئی، تو امام صاحب فرماتے ہیں ابھی بھی اس کا باکرہ والا حکم ہے، جبکہ صاحبین اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، یہ تو اب صبیحہ ہو چکی ہے، حقیقت کے اعتبار سے یہ صبیحہ ہو چکی ہے، اور صییب صییب صاب یصوب صوبن سے ہے، اور صاب یصوب صوبن کا معنی ہے لوٹنا، واپس آنا، تو یہاں پر بھی دیکھو یہ صییب ہے یعنی جو پانے والا ہے اس کو، وہ اس کو پہلا پانے والا نہیں، لہذا یہ صییب ہے، تو صاحبین اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک یہ صییب ہے، لہذا اب اس کی خاموشی رضامندی کی دلیل نہیں۔ ولی نکاح کروائے تو اس کا زبان سے کہنا ضروری ہے، جبکہ امام صاحب فرماتے ہیں کہ اگرچہ اس کی بقارت زنا سے زائل ہوئی ہے، لیکن لوگ تو ابھی بھی اس کو باکرہ ہی جانتے ہیں، سب کو تو اس بات کا پتہ نہیں۔ لہذا اگر یہ اپنی زبان سے بولے گی تو پھر لوگ اس کو عیب بنا لیں گے۔ زبان سے بولنا اس کے لیے کیا بن جائے گا؟ عیب بن جائے گا، لہذا یہ بولے گی نہیں، خاموش رہے گی، اور جس کی وجہ سے اس کے نکاح کی مصلحتوں میں خلل آئے گا، پھر تو اس کا نکاح کروانا مشکل ہو جائے گا، اور نیز آپ اس کو وطی بشبہ اور نکاح فاسد پر بھی قیاس نہیں کر سکتے۔ میں نے بتلایا تھا وطی بشبہ کہ جہاں کسی شبہ کی وجہ سے وطی کر لی جائے، مثلاً ایک شخص نے اپنی بیوی کو طلاق بائن دے دی ہے، اور اب اس کے لیے اس بیوی سے صحبت جائز نہیں، لیکن یہ پھر بھی صحبت کر لیتا ہے اور کہتا ہے مجھے تو علم نہیں تھا، میں تو سمجھ رہا تھا کہ عدت کے دوران ابھی بھی یہ عورت میرے لیے حلال ہے، تو یہ وطی بشبہ ہے بھئی، اور اسی طرح نکاح فاسد جو ہے جس میں نکاح کی شرطوں میں سے کوئی شرط پوری نہ ہو، مثلاً گواہ موجود نہیں ہیں، یا پانچویں عورت سے نکاح کر رہا ہے ایک ہی وقت میں، یا اسی طرح دو عورتوں کو جن کو جمع کرنا جائز نہیں ہے، دو بہنوں کو جمع کر رہا ہے ایک شخص نکاح کے اندر، تو یہ سب کیا ہیں؟ نکاح فاسد، اور یہ بات گزر چکی کہ نکاح فاسد اور باطل کا ایک ہی معنی ہے، چاہے نکاح فاسد کہہ لیں، چاہے نکاح باطل۔ بیع کے اندر فرق ہے، بیع فاسد اور ہوتی ہے، بیع باطل اور ہوتی ہے، بیع باطل وہ ہے جو ذات کے اعتبار سے ہی جائز نہ ہو وہ بیع ہے، اور بیع فاسد وہ ہے جو ذات کے اعتبار سے تو جائز ہے، لیکن وصف کے اعتبار سے اس میں کوئی خرابی آ رہی ہے، جبکہ نکاح کے باب میں فاسد اور باطل کا ایک ہی معنی ہے، چاہے نکاح فاسد کہیں، چاہے نکاح باطل کہیں بھئی۔ تو یہ نکاح فاسد باطل ہے، اس کا کوئی اعتبار ہی نہیں، نکاح ہوا ہی نہیں۔ تو اس نکاح فاسد کا کوئی حکم نہیں ہے، نہ اس کی وجہ سے مہر آئے گا، نہ اس کی وجہ سے حرمت مصاہرت آئے گی، نہ اس کی وجہ سے عورت پر عدت آئے گی، جب تک صحبت نہ کر لے۔ ہاں اگر نکاح فاسد کے بعد صحبت کر لی، تو یہ وطی بشبہ پائی گئی، تو وہی وطی بشبہ والے سارے احکام آ جائیں گے، یعنی جیسے وطی بشبہ کے اندر عورت پھر نئے سرے سے عدت گزارتی ہے، یہاں بھی دوبارہ اس کو تین حیض گزارنے پڑیں گے، اس سے پہلے اس کا آگے نکاح ہی جائز نہیں ہوتا۔ اسی طرح اس عورت کو یہ جو آدمی جس نے وطی کی ہے، اس کو مہر بھی دینا پڑے گا، کیونکہ مملکت اسلامیہ کے اندر وطی پر دو چیزوں میں سے ایک ضرور آئے گی، یا مہر دینا پڑے گا، یا حد آئے گی۔ یا کیا آئے گی؟ حد، یاد رکھو قیمتی بات ہے، مملکت اسلامیہ کے اندر جو شخص بھی وطی کرتا ہے، کسی عورت سے صحبت کرتا ہے، دو چیزوں میں سے ایک اس پر ضرور آئے گی، یا تو اگر یہ اس نے حرام وطی کی ہے، تو پھر اس صورت میں حد آئے گی، حد آئے گی، اور اگر یہ حلال وطی کی ہے، تو وہاں معلوم ہو وہ بیوی ہے، وہاں مہر دینا پڑتا ہے، اور اگر وطی بشبہ کی ہے، شبہ کی وجہ سے یہ سمجھا یہ عورت میرے لیے حلال ہو چکی ہے، تو اس صورت میں بھی مہر دینا پڑے گا۔ تو دارالاسلام کے اندر وطی کی وجہ سے دو چیزوں میں سے ایک ضرور آئے گی، یا حد آئے گی یا مہر آئے گا، تو یہاں پر وطی بشبہ کی ہے یعنی نکاح فاسد کی اور وطی کر لی ہے، تو پھر اس صورت میں مہر بھی دینا پڑے گا، اس عورت پر عدت بھی لازم ہوگی، اور نیز اگر اس وطی سے بچہ پیدا ہوا تو وہ بچہ اسی شخص کا شمار ہوگا، یہ ولد الزنا شمار نہیں ہوگا بھئی، بات سمجھ میں آ گئی بھئی۔
تو امام صاحب کی دلیل چل رہی ہے بھئی۔ امام صاحب فرماتے ہیں یہ جو لڑکی جس کی بقارت زنا کی وجہ سے زائل ہوئی ہے، یہ ابھی بھی باکرہ کے حکم میں ہے، اور آپ اس کو اس عورت کے ساتھ جس کے ساتھ وطی بشبہ کی گئی، یا نکاح فاسد کر کے پھر وطی اس کے ساتھ کی گئی، آپ اس پر اس کو قیاس نہیں کر سکتے، اس لیے کیونکہ اس لڑکی نے تو زنا کیا ہے، اور شریعت نے زنا کو چھپانے کا حکم دیا ہے، جبکہ وطی بشبہ اور وطی نکاح فاسد جو ہے، اس کے تو شریعت نے باقاعدہ احکام ذکر فرمائے ہیں کہ وہاں نسب بھی ثابت ہوگا، عدت بھی گزارنا پڑے گی، مہر بھی دینا پڑے گا، تو وہاں تو شریعت نے پردہ نہیں ڈالا، بلکہ جب احکام بتلائے ہیں، معلوم ہوا شریعت نے تو اس کو ظاہر کیا ہے بھئی۔ تو ایک چیز وہ ہے جس کو چھپایا جانا چاہیے، اور ایک چیز وہ ہے جس کو شریعت خود ظاہر کر رہی ہے، تو آپ ایک کو دوسری پر قیاس نہیں کر سکتے۔ وطی بشبہ اور نکاح فاسد کی وجہ سے تو وہ عورت یا وہ لڑکی جو ہے اب وہ صبیحہ ہی شمار ہوگی، لیکن یہ زنا والی جو ہے، یہ صبیحہ شمار نہیں ہوگی۔ الا یہ کہ اس کے زنا جو ہے وہ مشہور ہو جائے، مثلاً اس کی عادت ہی یہ بن گئی ہے، یا اس پر حد زنا جاری ہو گئی ہے، اب تو سب کو پتہ چل گیا ہے، تو اب یہ صبیحہ کے حکم میں ہے، اب اس کی خاموشی رضامندی کی دلیل نہیں ہے۔
اور پھر اس کے بعد صاحب ہدایہ نے بتلایا کہ اگر خاوند اور بیوی میں اختلاف ہوا نکاح کے بارے میں، خاوند کہتا ہے کہ جب تمہیں نکاح کی خبر پہنچی تھی تو تم خاموش رہی تھی، اور بیوی کہتی ہے نہیں میں نے تو رد کر دیا تھا، تو ہمارے ائمہ فرماتے ہیں کہ اس صورت میں عورت کا قول معتبر ہے، وجہ یہ کہ خاوند دعویٰ نکاح کر رہا ہے کہ نکاح ہو چکا ہے، اور وہ لڑکی اس کو رد کر رہی ہے، تو وہ منکر ہے، اور قول جو ہے وہ منکر کا معتبر ہوتا ہے۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ حدیث میں آتا ہے البینۃ علی المدعی والیمین علی من انکر کہ بینہ مدعی کے ذمے ہے کہ وہ دو گواہ پیش کرے، اور اگر وہ گواہ پیش نہ کر سکے، تو پھر مدعا علیہ جو ہے، منکر جو ہے اس سے قسم لی جائے گی، اور میں نے یہ بھی بتلایا تھا آپ کو کہ قسم ہمیشہ نفی پر ہوتی ہے، اس بات کے لیے نہیں کہ یہ چیز واللہ میری ہے، نہیں، اس بات کے لیے بینہ چاہی ہوتی ہے، ہاں انکار پر قسم ہوتی ہے کہ واللہ یہ کتاب زید کی نہیں ہے بھئی۔ تو لہذا یہاں پر خاوند مدعی ہوا اور باکرہ لڑکی جو ہے وہ مدعا علیہ ہوئی، لہذا اس کا قول معتبر ہے، جبکہ امام زفر فرماتے ہیں نہیں، خاوند کا قول معتبر ہے، بھئی خاوند کا قول کیسے معتبر ہے؟ وہ تو مدعی ہے، کہتے ہیں نہیں مدعیہ اصل میں عورت ہے، وجہ یہ کہ خاوند دعویٰ کر رہا ہے کہ تم خاموش رہی تھیں، وہ خاموشی کا دعویٰ کر رہا ہے، اور وہ جو عورت ہے وہ رد کا دعویٰ کر رہی ہے کہ میں نے رد کر دیا تھا، اور خاموشی اصل ہے، خاموشی میں عدمِ کلام ہے، اور رد کے اندر کلام ہوتا ہے، تو خاموشی اصل ہے، اور رد جو ہے وہ خلاف الاصل ہے، اور ضابطہ یہ ہے کہ جو خلاف الاصل کا دعویٰ کرے وہ مدعی ہوتا ہے، اور رد خلاف الاصل ہے، اور رد عورت کر رہی ہے، تو عورت خلاف الاصل دعویٰ کر رہی ہے، لہذا وہ مدعیہ ہوئی، اور خاوند سکوت خاموشی کا دعویٰ کر رہا ہے، اور خاموشی تو اصل ہے، تو وہ اصل کا دعویٰ کر رہا ہے، لہذا وہ مدعا علیہ ہوا بھئی۔ لہذا یہاں عورت مدعیہ ہے اور خاوند مدعا علیہ ہوا بھئی، اور قول مدعا علیہ کا معتبر ہوتا ہے، لہذا خاوند کا قول معتبر ہے۔ وہ فرماتے ہیں امام زفر یہ اسی طرح ہے جیسے مشروط لہ الخیار۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ بیع کے اندر شریعت نے اختیار دیا ہے، خریدار یا بیچنے والا تین دن تک کے لیے اپنے پاس اختیار رکھ سکتے ہیں بیع کو فسخ کرنے کا۔ زید اور عمر میں بیع ہوئی۔ ایک بائع ہے، ایک مشتری ہے، لیکن دونوں میں سے ایک کہتا ہے بھئی میں بیع تو تمہارے ساتھ کر رہا ہوں، لیکن مجھے مثلاً ایک دن یا دو دن یا تین دن کے لیے اختیار ہے، میں ذرا سوچ بھی لوں، اپنے ساتھیوں سے مشورہ بھی کر لوں، اگر یہ مناسب مجھے بیع معلوم ہوئی تو میں اس کی اجازت دے دوں گا، ورنہ میں تین دن کے اندر اس کو رد کر سکتا ہوں۔ جتنی دیر کا بھی خیال رکھے ایک یا دو یا تین، لیکن زیادہ سے زیادہ تین دن تک یہ اختیار ہو سکتا ہے۔
تو لہذا اس نے اپنے لیے اختیار رکھ لیا، تو اب اس کو اختیار ہے تین دن کے اندر بیع فسخ کر سکتا ہے، تو یہ اختیار بائع بھی رکھ سکتا ہے اور مشتری بھی رکھ سکتا ہے، تو جس نے خیال رکھا اس کو کہیں گے مشروط لہ الخیار، وہ آدمی جس کے لیے خیار کی شرط لگائی گئی ہے۔ تو امام زفر فرماتے ہیں کہ یہ جو مشروط لہ الخیار ہے، مدت گزر گئی، مدت کے گزرنے کے بعد اب دوسرا آدمی کہتا ہے کہ لاؤ بھئی مبیع یا پیسے میرے حوالے کرو، اور مشروط لہ الخیار کہتا ہے بھئی میں نے تو رد کر دیا تھا، مدت کے گزرنے کے بعد وہ جو اختیار والی مدت رکھی تھی ایک دن رکھا تھا یا دو دن رکھے تھے یا تین دن رکھے تھے، اس کے بعد اب یہ جھگڑا ہوا ہے دونوں کے اندر۔ دوسرا آدمی کیا کہہ رہا ہے لاؤ ثمن یا مبیع دو، اور مشروط لہ الخیار کیا کہہ رہا ہے؟ میں نے مدت کے اندر رد کر دی تھی یہ بیع۔ تو یہاں پر بالاتفاق مشروط لہ الخیار جو رد کا دعویٰ کر رہا ہے، اس کا قول معتبر نہیں۔ رد کے دعویٰ کرنے والے کا قول معتبر نہیں، تو یہاں پر اس نکاح کے مسئلے میں بھی یہ باکرہ لڑکی رد کا دعویٰ کر رہی ہے، لہذا اس کا بھی قول معتبر نہیں ہونا چاہیے۔ جبکہ ہم کہتے ہیں کہ ٹھیک ہے ظاہراً کے اعتبار سے عورت مدعیہ بن رہی ہے، اور مرد جو ہے مدعا علیہ بن رہا ہے، لیکن عقدوں کے اندر اعتبار معنی کا ہوتا ہے، الفاظ کا اور ظاہر کا اعتبار نہیں ہوتا، اور معنی کے اعتبار سے ہم نے غور کیا تو یہ مرد جو ہے نکاح کا دعویٰ کر رہا ہے، اور عورت نکاح کا انکار کر رہی ہے۔ مرد کہتا ہے یہ نکاح تم پر لازم ہو چکا، عورت کہہ رہی ہے میرے اوپر یہ لازم نہیں ہوا، تو مرد ہوا مدعی اور عورت ہوئی مدعیہ، لہذا عورت کا قول معتبر ہے، اور نیز آپ نے اس کو قیاس کیا تھا مشروط لہ الخیار پر، ہم اس کو قیاس کرتے ہیں مودع پر، جس کے پاس امانت رکھوائی گئی، ایک آدمی نے دوسرے کے پاس امانت رکھوائی، اور پھر پھر کچھ عرصے کے بعد اس کو کہتا ہے کہ بھئی وہ امانت میرے حوالے کرو۔ وہ کہتا ہے بھئی امانت تو میں آپ کو لوٹا چکا ہوں، تو دیکھو مودع جس یعنی جس کے پاس امانت رکھوائی گئی تھی، وہ وہ رد کا دعویٰ کر رہا ہے، اور بالاتفاق یہاں مودع کا قول معتبر ہے۔ وجہ یہ کہ معنی کے اعتبار سے آپ دیکھیں، معنی کے اعتبار سے آپ دیکھیں، تو گویا مودع جس سے امانت رکھوائی تھی، وہ ضمان کا دعویٰ کر رہا ہے کہ مجھے تم نے امانت نہیں لوٹائی، اب کیا دینا پڑے گا؟ ضمان تمہیں دینا پڑے گا، اور مودع کہہ رہا ہے میں تو امانت لوٹا چکا ہوں، لہذا میرے اوپر کوئی ضمان نہیں آئے گا، تو مودع گویا ضمان کا مطالبہ کر رہا ہے اور مودع جو ہے وہ انکار کر رہا ہے، اور قول کس کا معتبر ہوتا ہے؟ منکر کا، اس لیے مودع اگرچہ رد کر رہا ہے لیکن اس کا قول معتبر ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی کیونکہ اعتبار معانی کا ہوتا ہے عقدوں کے اندر، اور باقی جو آپ نے مسئلہ خیار ذکر کیا تھا، مسئلہ خیار کے اندر مشروط لہ الخیار کا قول اس لیے نہیں قبول کیا گیا تھا، کیونکہ ظاہر اس کے خلاف تھا۔
کیونکہ ظاہر اس کے خلاف تھا۔ ظاہر کیا تھا؟ جھگڑا کب ہوا ہے؟ مدت کے گزرنے کے بعد، جب مدت گزر چکی ہے، پھر تو عقد کو لازم ہو جانا چاہیے، اب وہ کہہ رہا ہے میں نے مدت کے اندر رد کیا تھا، تو اس کے اس قول کی طرف نہیں دیکھا جائے گا کیونکہ ظاہر بتلا رہا ہے کہ یہ عقد اب لازم ہونا چاہیے، کیونکہ جھگڑا کب ہوا ہے؟ مدت کے گزرنے کے بعد جبکہ اس کا اختیار ختم ہو چکا ہے۔ لہذا اب اس کے قول کی طرف نہیں دیکھا جائے گا، تو میں نے پھر آپ کو ضابطہ بتلایا تھا کہ کہ یاد رکھو قول اس کا معتبر ہوتا ہے جس کی تائید ظاہر کر رہا ہو۔
جس کی تائید ظاہر کر رہا ہو، تو یہ تین دن گزرنے کے بعد اب جھگڑا ہوا ہے، اب ظاہر کیا تقاضا کر رہا ہے؟ کہ مدتِ خیار تو گزر چکی ہے، اب تو عقد کو لازم ہونا چاہیے بھئی۔ اس لیے مشروط لہ الخیار کا رد معتبر نہیں ہے، دوسرے آدمی کا قول معتبر ہے، کیونکہ ظاہر اس کی تائید کر رہا ہے۔
اور میں نے بتایا مثلاً ظاہر جس کی تائید کرے اس کا قول معتبر ہوتا ہے، مثلاً زید کے پاس ایک گاڑی ہے، دوسرے شخص نے آ کر دعویٰ کر دیا کہ یہ گاڑی میری ہے، تو اب دعویٰ کرنے والے کے ذمے بینہ، اگر وہ گواہ پیش نہ کر سکا، تو زید کی قسم پر قاضی فیصلہ کر دے گا۔ زید قسم کھائے گا کہ واللہ قاضی صاحب یہ گاڑی اس آدمی کی نہیں ہے بھئی، نفی پر قسم کھائے گا، اور ظاہر دیکھو زید کا مئید ہے، کیونکہ گاڑی کس قبضے میں ہے؟ زید کے قبضے میں ہے تو ظاہر یہی لگ رہا ہے کہ گاڑی کا مالک زید ہی ہے، تو ظاہر جس کی تائید کرتا ہے اس کا قول معتبر ہوتا ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟
اب آئیے آج کے سبق پر: ویجوز نکاح الصغیر والصغیرۃ اذا زوجہما ولی بکراً کانت صغیرۃ او سییبًا۔ اب یہ ولایتِ اجبار کو بیان کر رہے ہیں، پہلے ولایتِ ندب کو بیان کیا، یعنی عاقلہ بالغہ لڑکی جو ہے ولی اس کا نکاح کرواتا ہے، ولی کو ولایت حاصل ہے، تو اس کو ولایتِ ندب کہتے ہیں، لیکن میں نے بتایا کہ یہ حقیقت میں یہ توکیل ہے، گویا لڑکی نے اس کو ولی کو اپنا وکیل بنایا ہوا ہے نکاح کا، یہاں پر ولی زبردستی نہیں کر سکتا، لڑکی اجازت دے گی تو نکاح ہوگا، وہ اجازت نہیں دے گی تو نکاح بھی نہیں ہوگا، یہ تھی ولایتِ ندب بھئی، تو اس کو ولایت کا نام دیا، حقیقت میں یہ وکالت ہے، یہ ولایت نہیں ہے بھئی، جبکہ اب ولایتِ اجبار کا حکم آیا، میں نے آپ کو بتایا تھا کہ باپ جو ہے نابالغ بچوں کا جہاں چاہے اپنی مرضی سے نکاح کروا سکتا ہے، اس کو کہتے ہیں ولایتِ اجبار، کوئی ان بچوں سے پوچھنے کی اور ان سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں، تو یہ ہے ولایتِ اجبار بھئی۔
تو اب ولایتِ اجبار کو بیان کرنے لگے ہیں، صاحب ہدایہ آپ کو بتائیں گے کہ ولایتِ اجبار کس پر حاصل ہوتی ہے؟ اور کس کو حاصل ہوتی ہے؟ تو بتلائیں گے کہ ولایتِ اجبار صغیر اور صغیرہ یعنی نابالغ بچے اور نابالغ بچی پر حاصل ہوتی ہے، اور کس کو حاصل ہوتی ہے؟ تو یاد رکھو عند الاحناف عصبات کو حاصل ہوتی ہے۔ کس کو؟ عصبات، یاد رکھو عصبات سے مراد عصبہ بنفسہ ہیں، یعنی وہ مرد جن کے ساتھ رشتہ جوڑنے میں درمیان میں عورت کا واسطہ نہ آئے، وہ مرد جن کے ساتھ رشتے کے جڑنے میں درمیان میں کسی عورت کا واسطہ نہ آئے، ان کو عصبات کہتے ہیں، جیسے کسی شخص کی مذکر اولاد ہے، بیٹا ہے، پوتا ہے، پڑپوتا ہے، دیکھو یہ سب اس کی اولاد ہیں، اس کے جز ہیں بھئی، اور درمیان میں کسی عورت کا واسطہ نہیں، مثلاً براہ راست اس کا بیٹا ہے، پھر بیٹے کا بیٹا ہے، پھر بیٹے کا بیٹا ہے، دیکھو درمیان میں کسی عورت کا واسطہ نہیں۔
نواسا اس میں داخل نہیں، کیونکہ نواسا وہ تو بیٹی کا بیٹا ہے، تو وہاں درمیان میں عورت کا رشتہ آ گیا، اور اپنے اطراف میں دیکھے، مثلاً بھائی، بھائی جو ہیں، یہ عصبات میں داخل ہیں، وجہ یہ کہ ان کے ساتھ باپ کے واسطے سے رشتہ ہے۔ آپ کہیں گے یہاں تو عورت یعنی ماں بھی موجود ہے، ماں کے واسطے سے بھی ہے، تو جواب یہ کہ مرد کے واسطے سے رشتہ ہونا چاہیے، عورت اس کے علاوہ آ رہی ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ یا یوں کہو کہ جب مرد کے واسطے سے رشتہ آ رہا ہے، تو عورت کے واسطے کا کوئی اعتبار ہی نہیں ہے، تو بھائی سے رشتہ کس کے واسطے سے ہے؟ باپ کے واسطے سے تو بھائی بھی عصبہ ہوا۔ بھائی کا بیٹا، دیکھو یہاں بھی جب بھائی کے ساتھ رشتے میں کوئی عورت نہیں تو بھائی کے بیٹے کے ساتھ بھی کسی عورت کا بیچ میں واسطہ نہیں، پھر بھائی کا پوتا، پھر بھائی کا پڑپوتا، یہ سارے عصبات میں ہیں، توجہ ہے؟
بھائی کا بیٹا، بھائی کا پوتا ہے، اس سے کیسے رشتہ ہے؟ اس شخص کا پہلے رشتہ باپ سے، پھر باپ کے واسطے سے بھائی سے، پھر بھائی کے واسطے سے اس کے بیٹے سے، پھر اس بھائی کے بیٹے کے واسطے سے اس کے پوتے تک، تو دیکھو درمیان میں کہیں عورت کا واسطہ نہیں آ رہا۔ تو بھائی اور بھائیوں کی اولاد جو مذکر اولاد ہے، یہ سب بھی کس میں داخل؟ عصبات میں، اسی طرح باپ کے جو بھائی ہیں، یعنی چچا، چچا یہ بھی عصبات میں ہیں۔ توجہ ہے؟ چچا کے ساتھ کس کے واسطے سے رشتہ ہے؟ دادا کے واسطے سے، کیونکہ باپ جیسے دادا کی اولاد ہے، اسی طرح چچا بھی دادا کی اولاد ہے، تو چچا سے کیسے رشتہ ہوا؟ پہلے باپ آیا بیچ میں، پھر دادا آیا، پھر دادا سے چچا کی طرف رشتہ آ گیا، دیکھو درمیان میں کوئی عورت نہیں ہے۔ پھر اسی طرح چچا کے مذکر اولاد جو ہے، چچا کا بیٹا، چچا کا پوتا، چچا کا پڑپوتا یہ سارے عصبات کے اندر داخل ہیں۔
تو ہمارے نزدیک صغیر اور صغیرہ پر ولایتِ اجبار حاصل ہے اور تمام عصبات کو حاصل ہے، البتہ درجہ بدرجہ، یعنی جو قریبی ہوگا اس کو حق ملے گا، دور والے اس ولایت سے محروم ہوں گے، ان کو یہ ولایت نہیں ملے گی۔ جب باپ موجود ہے، تو پھر بھائی کو ولایت حاصل نہیں، کیونکہ بھائی سے رشتہ کس کے واسطے سے؟ باپ کے واسطے سے، تو خود جب باپ موجود ہے تو اس کو ولایت حاصل ہوگی، بھائی کو ولایت حاصل نہیں۔
تو ہمارے نزدیک کس پر ولایتِ اجبار ہوتی ہے؟ صغیر اور صغیرہ پر، نابالغ اور نابالغہ پر، اور کن کو ولایت ہوتی ہے؟ عصبات کو، اور پھر ان عصبات میں بھی ترتیب ہے بھئی، بات سمجھ میں آگئی؟ آخر میں پھر انشاءاللہ صاحب ہدایہ اس کو ذکر کریں گے، وہاں میں مزید تفصیل بیان کر دوں گا۔ بس اتنا یاد رکھیں، عصبات وہ مذکر رشتہ دار جن کے ساتھ رشتہ جوڑنے میں درمیان میں عورت کا واسطہ نہ آئے، ان سب کو ولایت حاصل ہوتی ہے، جبکہ امام مالک رحمۃ اللہ فرماتے ہیں کہ ولایتِ اجبار صرف باپ کو حاصل ہے اور کسی کو نہیں۔ دادا کو بھی نہیں۔ جبکہ امام شافعی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں کہ ولایتِ اجبار باپ اور دادا کو حاصل ہے، عصبات میں سے اور کسی اور کو ولایتِ اجبار حاصل نہیں۔
ہمارے نزدیک ولایتِ اجبار تمام عصبات کو ملے گی، لیکن اپنے اپنے مقام پر، اولاً اگر باپ موجود ہے، تو اس کو حاصل ہے اور کسی کو حاصل نہیں۔ اگر باپ نہیں ہے، تو پھر دادا کو دیکھیں گے، دادا کو ولایتِ اجبار ہوگی، اگر دادا بھی نہ ہوا، پھر اس کے بعد پردادا کو ولایتِ اجبار حاصل ہوگی، لیکن اگر باپ موجود ہے، پھر دادا یا پردادا کو ولایتِ اجبار نہیں ہوگی بھئی، اور پھر اس کے بعد اگر باپ بھی نہیں ہے، دادا پردادا بھی نہیں ہے، تو پھر جو حقیقی بھائی اگر ہے تو اس کو ولایت حاصل ہوگی، بھائی موجود ہے تو کوئی اور ولی نہیں بنے گا، یہی ولی ہے، اگر بھائی کا بھی انتقال ہو چکا ہے، تو بھائی کا جو بیٹا ہے وہ کیا ہے؟ عصبہ بنے گا، اگر وہ بھی نہیں ہے تو بھائی کا جو پوتا ہے وہ عصبہ بنے گا، اگر بھائی کی اولاد میں سے بھی کوئی نہیں ہے تو پھر چچا جو ہے وہ عصبہ بنے گا، اگر چچا کا بھی انتقال ہو چکا ہے، تو پھر چچا کا بیٹا بنے گا۔ بات سمجھ میں آرہی ہے؟
ترتیب آگے میں بیان کروں گا انشاءاللہ پوری ترتیب کہ کس ترتیب سے یہ ہوں گے، بس اتنا یاد رکھیں ہمارے نزدیک ولایتِ اجبار باپ اور دادا کے علاوہ اور عصبات کو بھی ملے گی، جب باپ دادا وغیرہ نہ ہوں بھئی، جبکہ امام مالک رحمۃ اللہ فرماتے ہیں ولایتِ اجبار صرف باپ کو حاصل ہے۔ جبکہ امام شافعی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں کہ باپ اور دادا کو صرف حاصل ہے اور کسی کو ولایتِ اجبار حاصل نہیں، اب تفصیل دیکھیے کتاب پر۔
کہتے ہیں و یجوز نکاح الصغیر والصغیرۃ اذا زوجہما الولی کہ جائز ہے صغیر اور صغیرہ کا نکاح، صغیر اور صغیرہ یعنی نابالغ بچہ اور نابالغ بچی، ان کا نکاح جائز ہے اذا زوجہما الولی جب ولی ان کا نکاح کروا دے، بکرام کانت الصغیرۃ او سییبًا۔ یہ صغیرہ چاہے باکرہ ہو یا سییب۔ صغیرہ کیا ہو؟ چاہے باکرہ ہو، چاہے سییب، یہ دراصل امام شافعی رحمۃ اللہ کا رد فرما رہے ہیں۔ امام شافعی رحمۃ اللہ کے نزدیک یہ جو ولایتِ اجبار ہے، یہ لڑکی کے اندر کیوں حاصل ہوتی ہے؟ بقارت کی وجہ سے۔ کس کی وجہ سے؟ بقارت کی وجہ سے، لہذا وہ صغیرہ ہو یا بالغہ ہو، جب بقارت اس میں ہے، تو اس پر ولایتِ اجبار بھی ولی کو حاصل ہے۔ اور اگر وہ سییب ہو چکی ہے، مثلاً صغیرہ ہے اور سییب ہو گئی، صغیرہ ہے اور سییب۔ مثلاً صغیرہ تھی، باپ نے نکاح کروا دیا کسی سے، اور اس آدمی نے بلوغت سے پہلے ہی اس کے ساتھ صحبت کر لی، تو اب یاد رکھو یہ صغیرہ ہے، نابالغہ ہے، لیکن اب یہ سییب ہو چکی۔
تو یہ سییب ہو چکی، اور پھر مثلاً خاوند نے بعد میں کسی وجہ سے طلاق دے دی، تو یہ جو صغیرہ سییب ہے، یہ صغیرہ سییب جو ہے، امام شافعی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں، اس پر ولایتِ اجبار حاصل نہیں باپ دادا کو۔ وجہ یہ کہ یہ سییب ہو چکی ہے، اس میں ولایتِ اجبار کی جو علت تھی بقارت، وہ اب موجود نہیں۔ تو لہذا باپ یا دادا اس کا زبردستی نکاح نہیں کروا سکتا، اس کی اجازت ضروری ہوگی۔ جبکہ ہمارے نزدیک ولایتِ اجبار کی علت صغر ہے، نابالغ ہونا، تو چاہے وہ نابالغہ سییب ہو، چاہے باکرہ ہو، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، صغر تو موجود ہے، نابالغہ تو ہے، جب نابالغہ ہے تو باپ اور اولیاء کو ولایتِ اجبار حاصل ہوگی، یہ معنی ہے۔ پھر ترجمہ دیکھیے و یجوز نکاح الصغیر والصغیرۃ اذا زوجہما الولی اور جائز ہے صغیر اور صغیرہ کا نکاح جب ولی ان کا نکاح کروائے، بکرام کانت الصغیرۃ او سییبًا۔ وہ صغیرہ چاہے باکرہ ہو یا سییب، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، دونوں پر ولایتِ اجبار حاصل ہے ہمارے نزدیک بھئی۔
و و الولی ہو العصبۃ و اور ولی جو ہے، وہ عصبہ ہیں بھئی۔ میں نے بتایا ہمارے نزدیک ولی وہ عصبات ہیں۔ یعنی وہ مرد جن کے ساتھ رشتہ جوڑنے میں درمیان میں کسی عورت کا واسطہ نہ آئے بھئی۔ آگے تفصیل میں بیان کروں گا کون کون ہیں ترتیب کے ساتھ بھئی۔
و مالک رحمہ اللہ یعالفنا فی غیر الاب اور امام مالک رحمۃ اللہ ہماری مخالفت کرتے ہیں، باپ کے علاوہ میں، یعنی باپ میں تو ہم اختلاف نہیں کرتے، کہتے ہیں باپ کو بھی ولایتِ اجبار ہے، لیکن باقی دادا وغیرہ اور عصبات کے اندر وہ مخالفت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ اور کسی کو ولایتِ اجبار حاصل نہیں، صرف باپ کو حاصل ہے بھئی۔
و شافعی رحمہ اللہ تعالی فی غیر الاب والجد، اور امام شافعی رحمۃ اللہ ہماری مخالفت کرتے ہیں، باپ اور دادا کے علاوہ میں۔ یعنی باپ اور دادا میں وہ بھی مانتے ہیں ان کو ولایتِ اجبار ہے، لیکن اوروں میں اختلاف کرتے ہیں کہ اور کسی کو ولایتِ اجبار حاصل نہیں ہے بھئی۔ و فی السیبی الصغیرۃ ایضا۔ اور نیز وہ سییب صغیرۃ کے اندر بھی اختلاف کرتے ہیں امام شافعی رحمۃ اللہ۔ ہمارے نزدیک صبیحہ صغیرہ اس پر ولایتِ اجبار حاصل ہے، کیونکہ صغیر ہے، اور امام شافعی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں کہ صبیحہ صغیرہ پر ولایتِ اجبار حاصل نہیں، کیونکہ وہ سییب ہو چکی ہے بھئی۔
آگے دیکھیے بھئی، وجہ قول مالک رحمہ اللہ ان الولایۃ علی الحرۃ باعتبار الحاجۃ ولا حاجۃ لعدام الشہوۃ۔ امام مالک رحمۃ اللہ فرماتے ہیں صرف باپ کو ولایتِ اجبار حاصل ہے صغیر یا صغیرہ پر اور کسی کو ولایتِ اجبار حاصل نہیں۔ اب اس کی دلیل ذکر کر رہے ہیں۔
امام مالک رحمۃ اللہ فرماتے ہیں کہ جو شریعت کسی پر ولایت دیتی ہے کسی کو، یہ حاجت اور ضرورت کی وجہ سے دیتی ہے، جہاں حاجت اور ضرورت ہوگی وہاں ولایت حاصل ہوگی، اور جہاں حاجت اور ضرورت نہیں ہوگی وہاں ولایت بھی نہیں ہوگی۔ اور قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ صغیر اور صغیرہ پر کسی کو بھی ولایت نہیں ہونی چاہیے، کیونکہ حاجت نہیں۔ وجہ یہ ہے کہ ان میں شہوت نہیں ہے، جب شہوت نہیں ہے تو ان کو نکاح کی حاجت نہیں ہے، جب نکاح کی حاجت نہیں ہے، تو پھر باپ کسی کو ان پر ولایت بھی نہیں ہونی چاہیے۔ قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے ان پر کسی کو بھی ولایت نہیں ہونی چاہیے، کیونکہ یہاں نکاح کی کوئی حاجت نہیں ہے، کیونکہ ان میں شہوت نہیں ہے۔
ہاں، البتہ باپ کو ہم نے خلاف القیاس ولایت دے دی، کیونکہ وہ نصر سے ثابت ہے، کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی بیٹی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا کا نکاح حضور سے کروایا چھ سال کی عمر میں۔ کتنی عمر میں؟ چھ سال کی عمر میں نکاح کروایا، اور نو سال کی عمر میں جب بالغہ ہوئیں، تو پھر رخصتی کر دی گئی۔ تو دیکھو، حضرت صدیق نے اپنی نابالغہ بیٹی کا نکاح کروایا اور حضور نے اس کو برقرار رکھا۔
تو قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ صغیر اور صغیرہ کو نکاح کی حاجت نہیں۔ جب حاجت نہیں تو کسی کو ان پر ولایت نہیں ہونی چاہیے، حتی کہ باپ کو بھی ان پر ولایت نہیں ہونی چاہیے، لیکن خلاف القیاس نَص کے ذریعے صغیر اور صغیرہ پر باپ کی ولایت ثابت ہے، تو ہم نے باپ کے لیے یہ ولایت ثابت کر دی، خلاف القیاس نَص کی وجہ سے، اور جو چیز خلاف القیاس ہوتی ہے، وہ اپنے مورد پر بند ہوتی ہے۔ لہذا نَص میں صرف باپ کے لیے یہ ولایت ثابت ہے، تو صرف باپ کے لیے ہی یہ ولایت ثابت ہوگی، دادا وغیرہ اور کسی کے لیے یہ ولایت ثابت نہیں ہوگی، بات سمجھ میں آ گئی؟
وجہ قول مالک رحمہ اللہ امام مالک رحمۃ اللہ کے قول کی وجہ یہ ہے کہ ان الولایۃ علی الحرۃ باعتبار الحاجۃ کہ حرہ یعنی آزاد عورت پر جو ولایت ہوتی ہے، وہ حاجت کے اعتبار سے ہوتی ہے و لا حاجۃ لعدام الشہوۃ، اور کوئی حاجت نہیں ہے یہاں پر، شہوت نہ ہونے کی وجہ سے۔ صغیر اور صغیرہ میں تو شہوت نہیں، جب شہوت نہیں تو نکاح کی حاجت نہیں، تو لہذا قیاس کہتا ہے ان پر کسی کو ولایت نہیں ہونی چاہیے۔ الا ان ولایۃ الاب ثبتت نصا بخلاف القیاس، مگر یہ کہ باپ کی ولایت وہ ثابت ہے نَصاً بخلاف القیاس، خلاف القیاس طریقے پر۔
خلاف القیاس طریقے پر یہ باپ کی ولایت نَص سے ثابت ہے و الجد لیس فی معناہ، اور دادا جو ہے، وہ تو باپ کے معنی میں نہیں ہے، یعنی دادا کے اندر اتنی شفقت نہیں ہوتی جتنی باپ کے اندر شفقت ہوتی ہے، فلا یلحق بہ، لہذا دادا کو باپ کے ساتھ نہیں ملایا جائے گا، یہ ولایت دادا کو بھی نہیں ملے گی۔ یہ معنی ہے و الجد لیس فی معناہ، اور دادا جو ہے، وہ باپ کے معنا میں نہیں ہے، یعنی اس کی طرح شفقت کرنے والا نہیں ہے، فلا یلحق بہ، لہذا دادا کو باپ کے ساتھ نہیں ملایا جائے گا اس حکم میں، تو دادا کو ولایت نہیں ہوگی۔
قلنا ہم کہتے ہیں، امام مالک رحمۃ اللہ کو اب جواب دے رہے ہیں صاحب ہدایہ۔ قلنا ہم کہتے ہیں: لا بل ہو موافق للقیاس۔ امام مالک رحمۃ اللہ کیا فرماتے ہیں کہ صغیر اور صغیرہ میں شہوت ہی نہیں ہے، تو ان کے نکاح کی کوئی حاجت نہیں۔ جب نکاح کی کوئی حاجت نہیں تو کسی کو ولایت نہیں ہونی چاہیے۔ اور اگر باپ کے لیے ثابت بھی ہے، تو وہ خلاف القیاس طریقے سے ثابت ہے۔ ہم کہتے ہیں نہیں، بلکہ یہ صغیر اور صغیرہ پر ولایت کا ہونا، یہ قیاس کے موافق ہے، قیاس بھی اس کی تائید کرتا ہے کہ ان پر باپ دادا کو ولایت ہونی چاہیے۔
دیکھیے بھئی، قلنا ہم کہتے ہیں، لا بل ہو موافق للقیاس، بلکہ یہ ثبوت ولایت جو ہے، یہ قیاس کے موافق ہے، لان النکاح یتضمن المصالحہ، اس لیے کیونکہ نکاح جو ہے وہ متضمن ہوتا ہے مصلحتوں کو۔ نکاح بہت سی مصلحتوں پر مشتمل ہوتا ہے، صرف شہوت پورا کرنا ہی اس میں مقصود نہیں ہوتا، بلکہ گھر بسانا بھی مقصود ہے، اولاد کا حصول بھی مقصود ہے، خاندان آباد کرنا، ایک نیا خاندان بنانا بھی مقصود ہے، گھر کا نظام چلانا بھی مقصود ہے، زندگی کے اندر اطمینان اور سکون بھی مقصود ہے، تو نکاح کی بہت ساری مصلحتیں ہیں، صرف شہوت اس کا مقصد نہیں ہے۔
تو کہتے ہیں لان النکاح یتضمن المصالحہ، اس لیے کیونکہ نکاح جو ہے وہ متضمن ہوتا ہے مصلحتوں کو۔ و لا تتوفر الا بین المٹکافعین عادتاً۔ و لا تتوفر، توفر کا معنی ہوتا ہے مہیا ہونا، موجود ہونا، یعنی یوں کہو حاصل ہونا۔ و لا تتوفر، اور یہ مصلحتیں حاصل نہیں ہوتیں الا بین المٹکافعینی، مگر وہ جو دو ہم پلہ ہوں، ہم مرتبہ ہوں عادتاً۔
بھئی دیکھو، نکاح کی بہت سی مصلحتیں ہیں، لیکن یہ مصلحتیں تب ہی حاصل ہوں گی جب میاں بیوی ہم پلہ ہوں، برابر کے ہوں، ایک جیسے خاندانوں سے تعلق ہو، ایک جیسا مزاج ہو، تو پھر ہی وہ ساری نکاح کی مصلحتیں حاصل ہوں گی بھئی، اور اگر دونوں کے مزاج ہی نہیں ملتے، دونوں ہم پلہ نہ ہوں، تو پھر نکاح کی مصلحتوں کا حاصل ہونا دشوار ہے۔ تو نکاح کے لیے دونوں کا ہم پلہ ہونا ضروری ہے، اور ہم پلہ کا ملنا آسان نہیں ہوتا، لہذا باپ کو ولایت ہونی چاہیے، کہ جہاں کہیں اس کو ہم پلہ رشتہ مل جائے، وہ بچپن میں ہی رشتہ کروا سکے، کیونکہ بڑے ہونے کے بعد پتہ نہیں ہم پلہ رشتہ ملتا ہے یا نہیں ملتا۔
بات سمجھ میں آرہی ہے کیا حاصل کلام کیا؟ کہ ہمارے نزدیک صغیر اور صغیرہ کو بھی نکاح کی حاجت ہے، کیونکہ یہ بھی محتاج ہیں نکاح کی مصلحتیں حاصل کرنے کے، کہ یہ بڑے ہو کر ان کو بھی نکاح کی مصلحتیں حاصل ہوں، اور نکاح کی مصلحتیں تو ہم پلہ اور ہم رتبہ لوگوں میں یعنی برابر کے لوگوں میں ہی ملتی ہیں، اور برابر کا رشتہ تو ہمیشہ نہیں ملتا، لہذا باپ دادا کو ولایت ہونی چاہیے کہ بچپن میں ہی اگر ہم پلہ رشتہ مل گیا ہے، تو نکاح کروا سکیں، تاکہ جی آگے زندگی میں ان کو نکاح کی پھر مصلحتیں حاصل ہو جائیں۔
اگر باپ دادا کو آپ ولایت نہیں دیں گے، تو یہ رشتہ تو ہاتھ سے نکل جائے گا، پھر بعد میں پتہ نہیں ایسا ہم پلہ اور برابر کا رشتہ ملتا ہے یا نہیں ملتا۔ تو لہذا قیاس بھی کیا تقاضا کرتا ہے کہ باپ دادا کو یہ ولایت حاصل ہونی چاہیے۔
پھر ترجمہ دیکھیے قلنا ہم کہتے ہیں، لا بل ہو موافق للقیاس، بلکہ یہ ثبوت ولایت قیاس کے موافق ہے، لان النکاح یتضمن المصالحہ، اس لیے کیونکہ نکاح جو ہے، مصلحتوں پر مشتمل ہوتا ہے، ولا تتوفر الا بین المٹکافعینی عادتاً، اور یہ مصلحتیں حاصل نہیں ہوتی، مگر عادت کے اعتبار سے دو ہم پلہ لوگوں کے درمیان ہی۔ ولا یتفق الکفؤ فی کل زمان، اور اتفاق نہیں ہوتا کف کا ہر زمانے میں۔ (یعنی ایسا اتفاق نہیں ہوتا کہ کف ہر زمانے میں مل جائے)۔
فاسبتنا الولایۃ فی حالۃ الصغر احرازا للکفء۔ فابتنا الولایتہ، تو ہم نے ولایت ثابت کر دی فی حالۃ الصغر، بچپن کی حالت میں بھی، احرازا للکفء، کف کو سمیٹنے کے لیے، کف کو محفوظ کرنے کے لیے، کہ کف مل گیا ہے بس نکاح کر دو تاکہ یہ محفوظ ہو جائے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
آگے دیکھیے بھئی، وجہ قول الشافعی رحمہ اللہ ان النظر لا یتم بالتفویض الی غیر الاب والجد لقصور شفقتہ و بعد قرابتہ۔
اب امام شافعی رحمہ اللہ کے قول کی وجہ ذکر کر رہے ہیں۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں، کہ باپ اور دادا کو ولایت حاصل ہوگی اور کسی کو ولایت حاصل نہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ اگر باپ اور دادا کے علاوہ اوروں کو ولایت دے دی جائے تو اس میں صغیر اور صغیرہ پر شفقت نہیں ہے۔ وجہ یہ کہ باپ اور دادا کا تو قریبی رشتہ ہے، اور باقی باپ اور دادا کے واسطے سے جن کے ساتھ رشتہ ہے، مثلاً بھائی ہے، بھائی کے ساتھ باپ کے واسطے سے رشتہ، چچا ہے، چچا کے ساتھ دادا کے واسطے سے رشتہ، تو اگر یہ ولایتِ اجبار اوروں کو دی جائے گی تو اس میں صغیر اور صغیرہ پر شفقت نہیں ہے۔ اس لیے کیونکہ جو باقی رشتہ دار ہیں، یہ دور کے رشتہ دار ہیں، تو ان میں شفقت کی کمی ہوتی ہے۔
یہ معنی ہے و وجہ قول الشافعی رحمہ اللہ امام شافعی رحمہ اللہ کے قول کی وجہ یہ ہے کہ ان النظر لا یتم بالتفویض الی غیر الاب والجد کہ نظر (نظر کہتے ہیں شفقت کو) کہ شفقت تمام نہیں ہوتی، بالتفویض الی غیر الاب والجد، سپرد کرنے میں، باپ اور دادا کے علاوہ کو، یعنی باپ اور دادا کے علاوہ کو اگر یہ ولایتِ اجبار سپرد کی جائے تو صغیر اور صغیرہ پر شفقت تمام نہیں ہوتی۔ لقصور شفقتہ و بعد قرابتہ، اس وجہ سے کہ ان کی شفقت میں کمی ہے و بعد قرابتہ، اور ان میں رشتہ داری کی دوری ہے۔ یعنی وہ دور کے رشتہ دار ہیں، وہ باپ اور دادا کے واسطے سے رشتہ دار ہیں، تو دور کے ہوئے، جب دور کے ہوئے تو ان کی شفقت میں بھی کمی ہے، لہذا ان کو ولایتِ اجبار نہیں ہونی چاہیے صغیر اور صغیرہ پر بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی۔
تو کہتے ہیں وجہ قول الشافعی رحمہ اللہ ان النظر لا یتم بالتفویض الی غیر الاب والجد، امام شافعی رحمہ اللہ کے قول کی وجہ یہ ہے کہ شفقت تمام نہیں ہوتی، باپ اور دادا کے علاوہ کو سپرد کرنے میں، لقصور شفقتہ و بعد قرابتہ، اس وجہ سے کہ ان کی شفقت میں کمی ہے اور ان کے رشتے میں دوری ہے۔
و لہذا لا یملک التصرف فی المال۔ بھئی یاد رکھیے، یاد رکھیے، عند الاحناف صغیر یا صغیرہ کے مال میں صرف باپ یا دادا کو تصرف کا حق ہوتا ہے، اور کسی کو تصرف کا حق نہیں۔ باپ اور دادا وہ ان کے مال کو جہاں ان کا فائدہ ہو وہاں خرچ کر سکتے ہیں۔
صغیرہ یا صغیرہ کا نکاح کروانا ہے، تو عند الاحناف باپ، دادا اور اولیاء جو بھی ہوں، وہ ان کا نکاح کروا سکتے ہیں جہاں چاہیں۔ لیکن مال کے اندر جو تصرف ہے، وہ صرف باپ اور دادا کو یہ ولایت حاصل ہے، وہ وہ کر سکتے ہیں، کوئی اور نہیں کر سکتا۔
تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دیکھیے ایک ہے جان اور ایک ہے مال۔ کس کا درجہ اعلیٰ؟ جان کا درجہ اعلیٰ ہے، مال تو جان کو بچانے کے لیے ہوتا ہے، تو لہذا جان کا درجہ اعلیٰ ہے۔ تو جب اے احناف، آپ مال کے اندر جو ولایت ہے، جو کم درجے والی ولایت ہے، وہ آپ باپ دادا کے علاوہ کسی اور کو نہیں دیتے، تو جان کے اندر جو ولایت اعلیٰ درجے کی ہے، وہ آپ کیسے دے سکتے ہیں اور اولیاء کو؟ بات سمجھ میں آ گئی؟
کیا مذہب ہوا احناف کے نزدیک؟ صغیر یا صغیرہ کے مال میں صرف باپ اور دادا کو تصرف کا حق ہے، کسی اور کو تصرف کا حق نہیں۔ تو امام شافعی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں کہ اے احناف، عجیب بات ہے، آپ مال جو کم درجے کا ہے، اس میں تو صرف باپ اور دادا کو تصرف کا حق دیتے ہیں کسی اور کو تصرف کا حق نہیں دیتے، اور جان جو اس سے قیمتی ہے، اس کے اندر آپ تصرف کا حق باپ اور دادا کے علاوہ اوروں کو بھی دیتے ہیں، حالانکہ جب مال کے اندر اور اولیاء کو تصرف کا حق نہیں ہے، تو پھر جان جو اعلیٰ درجے کی ہے، اس میں بطریق اولیٰ اور اولیاء کو تصرف کا حق نہیں ہونا چاہیے، اور اولیاء کو ولایتِ اجبار نہیں ملنی چاہیے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
تو کہتے ہیں و لہذا لا یملک التصرف فی المال۔ بھئی پھر ترجمہ دیکھیے و انہ و اعلا کو ذرا نکال دیں اس کے، اس کے علاوہ عبارت دیکھیں۔ و لہذا لا یملک التصرف فی المال، اسی لیے باپ اور دادا کے علاوہ اور اولیاء جو ہیں، وہ صغیر اور صغیرہ کے مال میں تصرف کے مالک نہیں۔ مع انہ ادنی رتبتاً، حالانکہ مال تو کم درجے والا ہے، فلأن لا یملک التصرف فی النفس، تو یہ کہ وہ باپ اور دادا کے علاوہ جو اولیاء ہیں، وہ صغیر اور صغیرہ کے نفس میں بھی تصرف کے مالک نہ ہوں، اولیٰ، یہ زیادہ لائق ہے۔
جب مال میں وہ تصرف کے مالک نہیں ہیں، تو نفس میں بطریق اولیٰ وہ تصرف کے مالک نہیں ہونے چاہئیں، اور درمیان میں بتایا و انہ اعلا، اور حال یہ ہے کہ یہ تصرف فی النفس تو اعلیٰ ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آئی؟ یہ اعلیٰ ہے تو اس میں بطریق اولیٰ ان کو ولایت حاصل نہیں ہونی چاہیے۔
و لنا اب جواب دے رہے ہیں ہماری طرف سے۔ ولانا ان القرابۃ داعیۃ الی النظر، ہم جواب دیتے ہیں، کہ یہ جو رشتہ داری ہے، یہ نظر اور شفقت کی طرف دعوت دیتی ہے، انسان اپنے رشتہ داروں پر شفقت کرتا ہے، جیسے کہ باپ اور دادا میں ہے۔ باپ اور دادا دیکھو رشتہ دار ہیں، اسی لیے وہ شفقت کرتے ہیں۔ ہاں، البتہ آپ کی بات ٹھیک ہے، باپ اور دادا میں شفقت کامل، اور باقیوں میں شفقت کم درجے کی ہے، تو ہم نے اس شفقت کے اندر جو کمی ہے، اس کو اس طرح ظاہر کیا، کہ باپ اور دادا کو ہم نے ولایتِ الزام دے دی، اور باقیوں کو ہم نے ولایتِ الزام نہ دی۔
یاد رکھو، باپ اور دادا جب صغیر یا صغیرہ کا نکاح کر دیں، تو پھر یہ بالغ ہونے کے بعد بھی اس نکاح کو فسخ نہیں کر سکتے،ینی باپ اور دادا کو ولایتِ الزام ہے، یہ نکاح کر دیں گے تو وہ لازم ہو گیا، انہوں نے لازم کر دیا، اب اس کے فسخ کی کوئی صورت نہیں۔ وہ صغیر یا صغیرہ بالغ ہونے کے بعد بھی ان کو اختیار نہیں ہوگا اس کو فسخ کرنے کا۔
جبکہ باپ دادا کے علاوہ جو اور اولیاء ہیں، وہ جب نکاح کرواتے ہیں، تو ان کو ولایتِ الزام نہیں حاصل۔ یعنی وہ جو نکاح کروائیں گے، وہ صغیر یا صغیرہ پر لازم نہیں ہوا، جب وہ بالغ ہوں، تو وہ اس کو فسخ کر سکتے ہیں۔ تو باپ اور دادا کا کروایا ہوا نکاح لازم، اور اولیاء کا کروایا ہوا نکاح لازم نہیں۔
تو ہم جواب دے رہے ہیں امام شافعی رحمۃ اللہ کو، امام شافعی رحمۃ اللہ نے کیا کہا تھا کہ باپ اور دادا کے علاوہ اوروں کی شفقت میں کمی ہے، ہم کہتے ہیں ہاں، ہم نے بھی تسلیم کیا کہ باقیوں میں شفقت کم ہے، اور ہم نے اس کا اظہار بھی کر دیا، اس کو ظاہر بھی کر دیا شریعت احکام کے اندر، اس طرح کہ باپ اور دادا کو ہم نے ولایتِ الزام دے دی، اور باقیوں کو ہم نے ولایتِ الزام نہ دی۔
تو لہذا باپ اور دادا نکاح کروائیں گے تو وہ لازم ہو جائے گا، اور باقیوں نے نکاح کروایا تو وہ نکاح لازم نہیں ہوگا، اس کی تلافی ہو سکتی ہے کہ وہ بڑے ہو کر اس نکاح کو فسخ کر دیں۔ تو لہذا جن میں ولایت کی کمی تھی، ہم نے وہاں اس کمی کو ظاہر کر دیا، کس طرح کہ ان سے ولایتِ الزام سلب کر لی، ولایتِ الزام کی نفی کر دی، کہ باپ اور دادا کے علاوہ کسی اور کو ولایتِ الزام حاصل نہیں ہے۔
یہ معنی ہے و ما فیہ من القصور، اور وہ باپ دادا کے علاوہ جو اولیاء ہیں، جن کی شفقت میں کمی ہے، اظہارناہ، ہم نے اس کمی کو ظاہر کر دیا فی سلب ولایۃ الالزام، ولایتِ الزام کے سلب میں، یعنی ہم نے ان سے ولایتِ الزام سلب کر لی، کہ باپ اور دادا کے علاوہ کسی اور کو ولایتِ الزام حاصل نہیں ہے۔ تو یہ جو ولایتِ الزام کی ہم نے نفی کر دی، کہ باپ اور دادا کے علاوہ کسی اور کو ولایتِ الزام حاصل نہیں ہے، تو ہم نے اسی وجہ سے اس کی کمی کو ظاہر کر دیا۔
یہ معنی ہے و ما فیہ من القصور، اور وہ باپ دادا کے علاوہ جو اولیاء ہیں، جن کی شفقت میں کمی ہے، اظہارناہ، ہم نے اس کمی کو ظاہر کر دیا فی سلب ولایۃ الالزامی، ولایتِ الزام کی نفی کرنے میں، کہ اس کی ہم نے نفی کر دی کہ باپ اور دادا کے علاوہ کسی اور کو ولایتِ الزام حاصل نہیں ہے۔
بخلاف التصرف فی المال، اب وہ جو امام شافعی رحمۃ اللہ نے دلیل دی تھی کہ اے احناف، ایک ہے جان اور ایک ہے مال۔ کس کا درجہ اعلیٰ؟ جان کا درجہ اعلیٰ ہے، مال تو جان کو بچانے کے لیے ہوتا ہے، تو لہذا جان کا درجہ اعلیٰ ہے۔ تو جب اے احناف، آپ مال کے اندر جو ولایت ہے، جو کم درجے والی ولایت ہے، وہ آپ باپ دادا کے علاوہ کسی اور کو نہیں دیتے، تو جان کے اندر جو ولایت اعلیٰ درجے کی ہے، وہ آپ کیسے دے سکتے ہیں اور اولیاء کو؟ بات سمجھ میں آ گئی؟
تو اب اس کا جواب دے رہے ہیں صاحب ہدایہ۔ کہتے ہیں بخلاف التصرف فی المال، اب وہ جو امام شافعی رحمۃ اللہ نے قیاس کیا تھا کہ مال کے اندر ہم نے تصرف کی اجازت نہیں دی، تو نفس کے اندر بھی اجازت نہیں ہونی چاہیے، تو صاحب ہدایہ فرماتے ہیں کہ تصرف فی المال اور چیز ہے، اور تصرف فی النفس (یعنی نکاح کروانا) یہ اور چیز ہے۔
تصرف فی المال جو ہے، وہاں تو تلافی کی صورت نہیں۔ مال اگر ضائع ہو گیا تو وہ واپس نہیں آ سکتا، اس لیے وہاں تلافی کی کوئی صورت نہیں، لہذا وہ ولایت صرف باپ اور دادا کو ملنی چاہیے، اور جن میں شفقت کی کمی ہے ان کو مال میں ولایتِ تصرف کا حق نہیں ہونا چاہیے۔
اور تصرف فی النفس (یعنی نکاح کروانا) وہاں تو تلافی کی صورت ہے، اگرچہ ہم نے اولیاء کو ولایت دے دی، لیکن صغیر یا صغیرہ جب بالغ ہوں گے، ان کو اختیار ہوگا اس نکاح کو فسخ کرنے کا۔ تو چونکہ وہاں پر تلافی کی صورت ہے، اس لیے ہم نے وہ ولایت اور اولیاء کو بھی دے دی۔
یہ معنی ہے بخلاف التصرف فی المال، برخلاف تصرف فی المال کے، انہ یتکرر، اس لیے کیونکہ تصرف فی المال جو ہوتا ہے یہ مکرر ہوتا ہے، فلا یمکن تدارک الخلل، لہذا یہاں جو خلل اور خرابی آئے گی اس کی تلافی ممکن نہیں ہے۔
بھئی دیکھیے، تصرف فی المال یہ مکرر ہوتا ہے، مثلاً صغیر یا صغیرہ کی زمین ہے، جائیداد ہے، اب اگر اس کو آگے بیچا جائے گا، تو اگر وہاں خلل اور خرابی آئی یعنی اچھی قیمت نہیں مل رہی تھی، پھر بھی بیچ دیا، تو پھر وہاں تلافی کی کوئی صورت نہیں، اس لیے کیونکہ یہ زمین واپس نہیں آ سکتی، جو خریدنے والا ہوگا، وہ کچھ دن کے بعد پھر اس کو آگے جہاں اچھی قیمت ملے گی وہ اس کو بیچ دے گا۔ پھر اگلا خریدار جو ہے، وہ اس کو بھی جہاں اچھی قیمت ملے گی وہ آگے بیچ دے گا۔ تو دیکھو یہ جو تصرف فی المال ہے، یہ مکرر ہوتا ہے، چیز ایک ہاتھ سے اگلے ہاتھ میں نکلتی ہے، اور دوسرے سے اگلے ہاتھ میں منتقل ہوتی چلی جاتی ہے، لہذا وہاں تلافی کی کوئی صورت نہیں۔
اور ہم یہ بھی نہیں کر سکتے کہ جس کو بیچ رہے ہیں، اس کو کہہ دیں کہ آپ نے آگے نہیں بیچنا اس کو، یہ صغیر اور صغیرہ جب بالغ ہو جائیں گے، تاکہ اگر اس نکاح کو فسخ کرنا چاہیں تو فسخ بھی کر سکیں، بھئی پھر تو وہ خریدے گا ہی نہیں جب وہ آگے نہیں بیچ سکتا تو اس کو خریدنے کا کیا فائدہ بھئی؟ لہذا معلوم ہوا تصرف فی المال جو ہے، وہ مکرر ہوتا ہے، اور وہاں پھر تلافی کی کوئی صورت نہیں رہتی، تو لہذا یہ تصرف فی المال کی ولایت ان کو صرف ملنی چاہیے جن کو ولایتِ الزام حاصل ہے، یعنی جہاں شفقت کامل ہو۔
اور باقیوں کے اندر چونکہ شفقت میں کمی ہے، تو ہم نے ان کو ولایتِ مال نہیں دی، اور تصرف فی النفس میں چونکہ تلافی ہو سکتی ہے، لہذا ہم نے وہاں ولایت دے دی، کیونکہ صغیر اور صغیرہ جب بالغ ہوں گے، ان کو حق حاصل ہے کہ وہ اس نکاح کو فسخ کر دیں۔ تو لہذا یہ فرق ہے تصرف فی المال اور تصرف فی النفس میں، اس لیے امام شافعی رحمۃ اللہ کا یہ قیاس مع الفارق ہوا، صحیح قیاس نہیں ہے۔
دیکھیے بھئی کتاب پر کہتے ہیں بخلاف التصرف فی المال، بخلاف تصرف فی المال کے، انہ یتکرر، اس لیے کیونکہ یہ جو تصرف فی المال ہوتا ہے یہ مکرر ہوتا ہے، فلا یمكن تدارک الخلل، لہذا یہاں جو خلل اور خرابی آئے گی اس کی تلافی ممکن نہیں ہے۔
تصرف فی النفس کے اندر خرابی آجائے، تو وہاں تو تلافی کی صورت ہے کہ نکاح کروا دیں گے اور اولیاء لیکن بالغ ہوتے ہی صغیر یا صغیرہ کو نکاح فسخ کرنے کا اختیار مل جائے گا، تو تصرف فی النفس کے اندر تو اگر کوئی خلل آجائے، وہاں پر تلافی کی صورت ہے کہ وہ بالغ ہو کر نکاح کو فسخ کر دیں۔
لیکن اگر مال کے اندر تصرف کی اجازت دی جائے، وہاں تو تلافی کی کوئی صورت نہیں ہے، لہذا اس لیے ہم نے وہاں باپ دادا کے علاوہ کسی اور کو تصرف فی المال نہیں دیا، کیونکہ وہاں تلافی کی کوئی صورت نہیں ہے۔
یہ معنی ہے فلا یمكن تدارک الخلل، تو ممکن نہیں ہے خلل اور خرابی کی تلافی مال کے اندر، فلا تفید الولایۃ الا ملزمۃ، تو مال کے اندر جو ہے وہ ولایت فائدہ نہیں دیتی الا ملزمتن، مگر اس حال میں کہ وہ ولایت جو ہے لازم کر دینے والی ہو۔
و مع القصور لا یثبوت ولایۃ الالزام، اور شفت میں کمی کے ساتھ تو ولایتِ الزام ثابت نہیں ہوتی۔ اسی لیے ہم نے کہا کہ باپ اور دادا ان کو ولایتِ الزام ہے، کیونکہ شفقت کامل ہے، اور باقیوں میں شفقت میں کمی ہے تو ان کو ولایتِ الزام حاصل نہیں ہے۔
آگے دیکھیے وجہ قولی شافعی رحمہ اللہ ان النظر لا یتم بالتفویض الی غیر الاب والجد، بھئی امام شافعی رحمۃ اللہ سے ہمارا دوسرا اختلاف جو ہے وہ صبیحہ صغیرہ کے بارے میں تھا۔ پہلا اختلاف تو کیا تھا؟ کہ ہمارے نزدیک باپ اور دادا کے علاوہ اور بھی اولیاء ہیں جن کو ولایتِ اجبار حاصل ہوتی ہے، امام شافعی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں نہیں، اوروں کو ولایتِ اجبار حاصل نہیں، صرف باپ اور دادا کو حاصل ہے۔
دوسرا اختلاف یہ تھا کہ امام شافعی رحمۃ اللہ کے نزدیک صبیحہ صغیرہ جو ہے، یعنی ایک نابالغ لڑکی ہے، اور یہ صبیحہ ہے، کیسے؟ مثلاً باپ یا دادا نے اس کا نکاح کروا دیا تھا، اور اس صغیرہ تھی، اور اس کے خاوند نے اس کے صغر میں ہی اس سے صحبت کر لی، تو یہ صبیحہ ہو گئی، اور بعد میں کسی وجہ سے طلاق دے دی، تو اب یہ صبیحہ ہے صغیرہ۔
تو صبیحہ صغیرہ ہمارے نزدیک اس پر بھی ولایتِ اجبار حاصل ہے، کیونکہ صغیرہ ہے۔ جبکہ امام شافعی رحمۃ اللہ کے نزدیک بلاشبہ صغیرہ ہے، لیکن ہے تو صبیحہ، اور جب صبیحہ ہے تو صبیحہ پر ولایتِ اجبار کسی کو نہیں ہوتی، بھئی۔
تو کہتے ہیں وجہ قولی شافعی رحمہ اللہ اور امام شافعی رحمۃ اللہ کے قول کی وجہ دوسرے مسئلے میں، دوسرا مسئلہ پہلا اختلاف کس میں تھا کہ ولایتِ اجبار تمام اولیاء کو ہے ہمارے نزدیک، ان کے نزدیک صرف باپ اور دادا کو۔
اور دوسرا مسئلہ جو تھا کہ صبیحہ صغیرہ پر ولایتِ اجبار ہمارے نزدیک ہے، ان کے نزدیک نہیں ہے، وہ ذکر کر رہے ہیں۔ تو کہتے ہیں وجہ قولی شافعی رحمۃ اللہ ان السیابۃ سیابۃ یعنی صبیحہ ہونا سبب لحدث الرای، یہ سبب ہے رائے کے بننے کا۔ صبیحہ ہونا رائے کے بننے کا سبب ہے، کیوں؟ لوجود الممارستیں، تجربہ پائے جانے کی وجہ سے، کہ اس کو مرد کا تجربہ ہو چکا ہے۔
تو اس کی کچھ رائے بن چکی ہوگی نکاح کے بارے میں، اس کو نکاح کی سمجھ آ چکی ہوگی۔ اب دیکھو امام شافعی رحمۃ اللہ کے نزدیک جو تجربہ کار ہوگا، جس کو سمجھ ہوگی، اس پر کسی کو ولایتِ اجبار حاصل نہیں ہوگی۔ اور یہ صبیحہ جو ہے، یہ بھی تجربہ کار ہو چکی ہے نکاح کے معاملے میں، اس کو سمجھ آ چکی ہے نکاح کے معاملے کی، لہذا اس پر کسی کو ولایت حاصل نہیں ہوگی، کیونکہ اس کی رائے بن چکی ہے۔
اس کو سمجھ آ چکی ہوگی نکاح کی۔ ہم کہتے ہیں، کہ سمجھ کا آنا یا نہ آنا، یہ تو ایک باطنی چیز ہے، ظاہر میں تو پتہ نہیں چلے گا، کہ اس کو ایک بات کی سمجھ آ گئی ہے، اس کی عقل آ گئی ہے اتنی، یہ عقل نہیں آئی، یہ تو ایک امر باطنی ہے، اور جب حکم کی علت امر باطنی ہو، جس پر مطلع ہونا دشوار ہو، تو پھر یاد رکھو حکم کا مدار سبب پر کر دیا جاتا ہے۔
حکم کا مدار سبب پر کر دیا جاتا ہے۔ جب ایک حکم کی علت کا پتہ نہ چل سکے، تو حکم کا مدار جو ہے وہ سبب پر کر دیا جاتا ہے۔ جیسے دیکھو نیند، نیند کی وجہ سے انسان کے اعضاء اور بدن ڈھیلا پڑ جاتا ہے، اور نیند کی وجہ سے عموماً خروج نجاست ہو گی، یعنی ہوا خارج ہوگی، لیکن کیونکہ انسان سویا ہوا ہے، اس کو پتہ نہیں چلے گا، تو یہ خروج نجاست کی وجہ سے اس کا وضو ٹوٹے گا، تو یہاں دیکھو وضو ٹوٹنے کی جو علت ہے، وہ خروج نجاست ہے، لیکن اس خروج نجاست پر مطلع ہونا دشوار ہے، ممکن نہیں ہے، تو لہذا اس خروج نجاست کا جو سبب ہے، یعنی نیند، اسی کو علت کے قائم مقام کر دیا، اسی پر حکم کا مدار کر دیا گیا کہ جو شخص بھی پہلو کے بل سوئے یا اس طریقے سے سوئے جس میں اعضاء ڈھیلے پڑ جاتے ہیں، تو پھر اس صورت میں وضو ٹوٹنے کا حکم لگا دیا جائے گا۔
اب لوگوں کے لیے آسانی ہو گئی، اب جو بھی پہلو کے بل سو گیا، آسانی سے وہ فیصلہ کر لے گا کہ میرا وضو ٹوٹ چکا ہے، مجھے دوبارہ وضو کرنا چاہیے۔ تو جب بھی حکم کی علت پر مطلع ہونا دشوار ہو، تو پھر حکم کا دارومدار سبب پر کر دیا جاتا ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہاں پر بھی یہ جو صبیحہ ہونا ہے، اس کی وجہ سے لڑکی کو سمجھ آ گئی نکاح کی، اور جب سمجھ آ گئی، تو اب اس پر کسی کو ولایتِ اجبار حاصل نہیں۔ تو ولایتِ اجبار نہ ہونے کی علت کیا ہے؟ سمجھ کا آنا، لیکن سمجھ تو ایک امر باطنی ہے اس کا تو پتہ نہیں چل سکتا، تو اس سمجھ کا جو سبب ہے، یعنی صبیحہ ہونا، اسی پر حکم کا مدار کر دیا گیا، آسانی کے لیے کہ جو صبیحہ ہے، بس یوں سمجھو اس کو سمجھ ہے، اس پر ولایتِ اجبار حاصل نہیں، اور جو صبیحہ نہیں، معلوم ہوا اس کو نکاح کی سمجھ نہیں ہے، اس پر ولایتِ اجبار حاصل ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
یہ معنی ہے امام شافعی رحمۃ اللہ کے قول کی وجہ یہ ہے کہ ان السیابۃ سبب لحدث الرایی، کہ صبیحہ ہونا یہ رائے کے بننے کا سبب ہے لوجود الممارستی تجربے کے پائے جانے کی کس کو مرد کا تجربہ ہو چکا ہے۔ تو اب نکاح کے بارے میں اس کی رائے بن چکی ہوگی، فادرنا الحکم علی الصغر، تو ہم نے بھی صبیحہ ہونے پر ہی حکم کا مدار کر دیا، تیسیران آسانی کے لیے۔
آسانی اسی میں ہے، یہ تو پتہ نہیں چل سکتا اس کو سمجھ آئی ہے یا سمجھ نہیں آئی، تو آسانی اس میں ہے کہ بس صبیحہ ہونے پر ہی حکم کا مدار کر دو، اس پر حکم کا مدار کر دیا جائے، صبیحہ ہے، تو اس پر ولایتِ اجبار حاصل نہیں۔ اور غیر صبیحہ ہے، تو اس پر ولایتِ اجبار حاصل ہے بھئی۔
و لنا اور ہماری دلیل، ہمارے نزدیک صغیرہ صبیحہ ہی کیوں نہ ہو، اس پر ولایتِ اجبار حاصل ہے، اب اس کی دلیل ذکر کریں گے۔
ولنا اور ہماری دلیل جو ہے ما ذکرنا من تحقیق الحاجۃ، وہ جو ہم نے ذکر کر دیا، یعنی حاجت کا پایا جانا، صغیرہ یا صغیرہ بھی نکاح کی مصلحتوں کے محتاج ہیں، تو محتاج ہیں نکاح کے، و وفور الشفقتی، و فور کا معنی ہے وافر ہونا، کثیر ہونا، و وفور الشفقتی، اور شفقت کا کافی ہو جانا، کثیر ہونا۔ بھئی ہم نے کیا کہا؟
کہ صغیرہ یا صغیرہ، یہ بھی نکاح کے محتاج ہیں، چاہے باکرہ ہو، چاہے ثیبہ، وہ نکاح کے آگے اب محتاج ہیں، ان کو حاجت ہے نکاح کی مصلحتیں حاصل کرنے کے، کہ یہ بڑے ہو کر ان کو بھی نکاح کی مصلحتیں حاصل ہوں، اور نکاح کی مصلحتیں تو ہم پلہ اور ہم رتبہ لوگوں میں یعنی برابر کے لوگوں میں ہی ملتی ہیں، اور برابر کا رشتہ تو ہمیشہ نہیں ملتا، لہذا باپ دادا کو ولایت ہونی چاہیے کہ بچپن میں ہی اگر ہم پلہ رشتہ مل گیا ہے، تو نکاح کروا سکیں، تاکہ جی آگے زندگی میں ان کو نکاح کی پھر مصلحتیں حاصل ہو جائیں۔
اور نیز باپ اور دادا میں شفقت کامل ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ پھر دیکھئے دلیل، کہتے ہیں و لنا اور ہماری دلیل جو ہے ما ذکرنا من تحقیق الحاجۃ، وہ جو ہم نے ذکر کر دیا، یعنی حاجت کا پایا جانا، صغیرہ یا صغیرہ بھی نکاح کی مصلحتوں کے محتاج ہیں، تو محتاج ہیں نکاح کے، و ووفور الشفقة، و فور کا معنی ہے وافر ہونا، کثیر ہونا، و وفور الشفقة، اور شفقت کا کافی ہو جانا، کثیر ہونا کہ باپ اور دادا کی شفقت بھی کثیر ہے، اور نیز و لا ممارست تحدث الرای بدون الشہوۃ۔ امام شافعی رحمۃ اللہ فرماتے تھے کہ یہ صغیرہ صبیحہ ہو گئی ہے، اس کو نکاح کا تجربہ ایک دفعہ ہو چکا ہے، لہذا اس کی رائے بن گئی ہوگی، اس کو سمجھ آ چکی ہوگی نکاح کی، ہم کہتے ہیں، کہ جب یہ صبیحہ ہوئی تھی، جب خاوند نے اس سے صحبت کی تھی، یہ اس وقت نابالغہ تھی، تو اس وقت تو اس میں شہوت ہی نہیں تھی، جب شہوت ہی نہیں تھی، تو اس صحبت سے بھی اس کو کوئی نکاح کی سمجھ نہیں آئی بھئی۔
تو ہم کہتے ہیں و لا ممارست تحدث الرای بدون الشہوۃ، اور تجربہ جو ہے یہ رائے نہیں بناتا، یعنی مرد کا تجربہ ہو جانا، یہ لڑکی کی رائے نہیں بناتا بدون الشہوۃ، بغیر شہوت کے۔
فیدر الحکم علی الصغر، لہذا حکم کا مدار صغر پر ہی ہوگا۔ یعنی بچپنے پر ہی دارومدار ہوگا، صمہل الذي یوید کلامنا فیما تقدم قوله علیہ السلام، کہتے ہیں پھر وہ چیز جو تائید کرتی ہے ہمارے اس کلام کی جو ماقبل میں گزر چکا، بھئی ہم نے ماقبل میں کیا کہا تھا؟
کہ ولایتِ نکاح، وہ صرف باپ اور دادا کو حاصل ہے یا اور اولیاء کو بھی حاصل ہے؟ اور اولیاء کو بھی حاصل ہے۔ اب اس کے لیے حدیث ذکر کر رہے ہیں، کہ وہ جو ہم نے ولایت کو مطلق رکھا تھا، باپ اور دادا کے اندر بند نہیں کیا تھا، بلکہ اور اولیاء کو بھی ولایتِ اجبار حاصل ہوگی، ہمارے اس کلام کی تائید ہوتی ہے حدیث سے بھی۔
دیکھیے بھئی، کہتے ہیں صمہل الذي یوید کلامنا فیما تقدم، پھر وہ چیز جو تائید کرتی ہے، قوت دیتی ہے ہمارے کلام کو، فیما تقدم، ہمارا وہ کلام جو ان چیزوں میں تھا جو ماقبل میں گزر چکیں (یعنی ولایت کا مطلق ہونا)، اس کے بارے میں جو ہمارا کلام تھا، ہمارے اس کلام کو جو چیز قوت دیتی ہے، قوله علیہ السلام، حضور علیہ السلام کا یہ قول جو ہے، قوت دیتا ہے۔
النکاح الی العسابات، نکاح عصبات کے سپرد ہے۔ حدیث کا ترجمہ دیکھ لو، النکاح الی العسابات، نکاح عصبات کے حوالے ہے۔ اور یاد رکھو، بعض احادیث میں انکاح کا لفظ آیا ہے۔ کیا لفظ آیا ہے؟ انکاح، النکاح الی العسابات، نکاح کروانا عصبات کے سپرد ہے۔
تو اب اس کے اندر دیکھو یہاں عصبات مطلقا ذکر ہیں، باپ اور دادا ذکر نہیں ہیں، یہ معلوم ہوا تمام عصبات کا یہی حکم ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
دیکھیے پھر ترجمہ دیکھ لیجیے، صمہل الذي یوید کلامنا فیما تقدم، پھر وہ جو تائید کرتا ہے، قوت دیتا ہے ہمارے کلام کو فیما تقدم، ان چیزوں میں جو ماقبل میں گزر چکیں، قوله علیہ السلام، وہ حضور علیہ السلام کا یہ قول ہے النکاح الی العسابات، نکاح عصبات کے سپرد ہے من غیر فصل، بغیر کسی فصل کے، (یعنی بغیر کسی فرق کے، یہاں باپ اور دادا اور عصبات میں کوئی فرق نہیں کیا گیا)۔
و الترتیب فی العصبات فی ولایت النکاح كالترتیب فی الیرسی، اور عصبات کے اندر جو ترتیب ہے فی ولایت النکاح، ولایتِ نکاح کے بارے میں، کترتیب فی المرسی، یہ اسی طرح ہے جیسے کہ ترتیب ہوتی ہے وراثت میں۔
بھئی اب ترتیب سمجھ لو بھئی۔ ولایت کس کو حاصل ہوگی؟
یاد رکھو یہ ولایتِ اجبار جن عصبات کو ملے گی، یہ عصبات کی وہی ترتیب ہے جو وراثت کے اندر ہے۔ سراجی کے اندر اس کی پوری تفصیل آجاتی ہے، پورا باب ذکر ہوتا ہے عصبات کے بارے میں۔ اور عصبات میں نے بتایا وہ عصبہ بنفسہ مراد ہیں۔ یعنی وہ مرد کہ جن کے ساتھ رشتہ جوڑنے میں درمیان میں عورت کا واسطہ نہ آئے بھئی۔
اور ان کے درجے یاد رکھیں، یاد رکھو عصبات میں سب سے پہلا درجہ اولاد کا ہے۔ (یعنی بیٹا، پوتا، پڑپوتا وغیرہ نیچے تک، دیکھو مذکر ہونے چاہیے اور درمیان میں عورت کا واسطہ نہ آئے، نواسہ داخل نہیں، کیونکہ نواسے کے ساتھ رشتہ بیٹی کے واسطے سے ہوتا ہے، اور وہاں درمیان میں عورت آگئی۔ اسی طرح نانا بھی داخل نہیں، کیونکہ نانا کے ساتھ رشتہ ماں کے واسطے سے ہے، تو درمیان میں عورت آگئی، تو یہاں عصبات کی بات چل رہی ہے جو مرد ہوں اور درمیان میں عورت کا رشتہ بھی نہ آئے بھئی۔ تو سب سے پہلے درجے والے عصبات وہ اولاد ہیں، بیٹا پوتا وغیرہ۔
دوسرے درجے والے عصبات اصول ہیں، باپ، دادا، پردادا اوپر تک۔ یہ سارے اصول، یہ دوسرے درجے والے ہیں۔ تیسرے درجے والے عصبات، یہ جو اصل قریب ہے، باپ دادا وغیرہ ہمارے اصول ہیں۔ اور ان میں سب سے قریبی اصل کیا ہے؟ باپ۔ تو اصل قریب کی جو اولاد ہے، (یعنی بھائی، بھائی اور اسی طرح ان بھائیوں کی نیچے تک جو اولاد ہے، تو یہ تیسرے درجے والے ہوئے (یعنی بھائی، بھائی کا بیٹا، بھائی کا پوتا، بھائی کا پڑپوتا یہ تیسرے درجے والے ہوئے۔
چوتے درجے میں ہے، دادا کی اولاد، پہلے تھا باپ کی اولاد (یعنی بھائی وغیرہ)۔ اب ہے دادا کی جو اولاد ہے، (یعنی چچا) اور چچا کی اولاد نیچے تک، چچا کا بیٹا، پوتا، پڑپوتا وغیرہ۔
تو یہ ترتیب ہے، اور اس سے اگلا درجہ پھر آئے گا پردادا کی اولاد، اسی طرح اوپر چلتے چلے جائیں گے۔
تو پہلا درجہ کس کا ہے؟ اولاد، بیٹا پوتا وغیرہ، دوسرا درجہ اصول کا ہے، باپ دادا پردادا وغیرہ، تیسرا درجہ اصل قریب کی اولاد، (یعنی بھائی اور اسی طرح ان بھائیوں کی نیچے تک جو اولاد ہے، چوتھا درجہ اصل بعید یعنی دادا کی اولاد (یعنی چچا اور چچا کی اولاد جو ہے)۔
تو یاد رکھو، جب پہلے درجے والا موجود ہو، تو دوسرے درجے والا اس کو ولایت نہیں ہوگی۔ (یعنی اگر ایک عورت ہے اس کا نکاح کروانا ہے، اگر اس کا بالغ بیٹا موجود ہے، تو بیٹا ولی ہوگا، اس کو ولایتِ نکاح حاصل ہے، اب اس عورت کا باپ بھی موجود ہے، لیکن جب پہلے درجے والا ولی جو ہے، (یعنی اولاد موجود ہے) تو اس کو ولایت حاصل ہوگی، باپ کو ولایت حاصل نہیں ہوگی۔
تو جب پہلے درجے والا موجود ہے، تو دوسرے درجے والے کو ولایت نہیں۔ اور اگر پہلے درجے والا نہیں موجود، تو پھر دوسرے درجے میں چلے جائیں گے۔ وہاں اگر کوئی موجود ہے، تو پھر تیسرے درجے والوں کو نہیں دیکھیں گے۔ اور اگر دوسرے درجے والا بھی کوئی نہیں ہے، پھر تیسرے درجے میں چلے جائیں گے۔ جب تیسرے درجے والا کوئی مل جائے، تو چوتھے درجے والے کو نہیں دیکھیں گے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
پھر ایک ہی درجے کے اگر کئی اولیاء موجود ہیں، مثلاً بیٹا بھی ہے، پوتا بھی ہے، پڑپوتا بھی ہے، یہ سب پہلے درجے والے ہیں۔ تو پھر ان میں قریبی کو دیکھیں گے۔ ان میں سب سے قریبی بیٹا ہے، لہذا وہ ولی ہے، جب وہ موجود ہے تو پوتوں اور پڑپوتے کو نہیں دیکھیں گے۔
اور اگر بیٹا نہیں موجود، پوتے کو پھر ولایت حاصل ہوگی۔ پوتا بھی نہیں موجود، پھر پڑپوتے کو ولایت حاصل ہوگی۔ اور اگر پہلے درجے والا کوئی بھی نہیں موجود، پھر اس کے بعد دوسرے درجے والے۔ اور دوسرے درجے والوں میں سب سے قریب باپ ہے، تو باپ کو ولایت ہوگی، اگر باپ نہیں ہے، پھر دادا کو ولایت ہوگی۔ اگر باپ موجود ہے، پھر دادا کو کوئی ولایت نہیں ہے، کیونکہ جب قریب والا موجود ہو، تو بعید والا محروم ہوتا ہے، اس کو وہ ولایت نہیں ملتی۔ تو باپ کے ہوتے ہوئے دادا کو کوئی ولایت نہیں ہے۔
لیکن اگر باپ اور دادا پردادا ان میں سے کوئی بھی نہیں ہے، پھر اس کے بعد بھائی کو ولایت مل جائے گی۔ بھائی کو ولایت ملے گی، تو یہ تیسرے درجے والے ہیں۔ اور اس میں میں نے بتایا بھائی اور اس کی ساری مذکر اولاد بھی آ گئی، اور ان کے اندر پھر اگر مثلاً بھائی فوت ہو چکا ہے، تو بھائی کا جو بیٹا ہے، وہ پھر اس کو ولایت ملے گی، بات سمجھ میں آ گئی، تو جب قریب والا موجود ہو، تو دور والے کو ولایت حاصل نہیں ہوگی۔
اور میں نے بتایا، ایک ہی درجے کے کئی افراد ہوں، تو پھر جو ان میں سب سے قریب والا ہو، اس کو ولایت ہوگی، باقیوں کو ولایت نہیں۔ باپ دادا پردادا تینوں موجود ہیں، تو باپ قریبی ہے، وہ موجود ہے تو اس کو ولایت ہے، دادا اور پردادا کو کوئی ولایت نہیں ہے، وہ ان کا نکاح نہیں کروا سکتا زبردستی۔
اور پھر یہ بھی یاد رکھنا، کہ قوت قرابت کا بھی اعتبار ہے، بھئی! (یعنی جس کے ساتھ رشتے میں قوت زیادہ، اس کا درجہ پہلے، اور جس کے ساتھ قوت کم، اس کا درجہ بعد میں۔
مثلاً دیکھو، ایک عورت ہے، اس کے پہلے درجے والے عصبات (یعنی اولاد) میں سے بھی کوئی نہیں ہے۔ دوسرے درجے والے عصبات (یعنی اصول) میں سے بھی کوئی نہیں ہے، لیکن تیسرے درجے والے عصبات (یعنی بھائی ہیں، بھئی۔
لیکن بھائی اس کے پھر دو قسم کے ہیں، کچھ علاتی بھائی ہیں، کچھ حقیقی بھائی ہیں۔ حقیقی بھائی وہ ہے جہاں ماں اور باپ دونوں ایک ہی ہوتے ہیں، یعنی سگے بھائی بہن، حقیقی بھائی بہن۔
اس عورت کا اور اس بھائی کے دونوں کا باپ اور ماں ایک ہی ہیں، تو اس کو کہیں گے حقیقی بھائی، اور اگر باپ ایک ہے، ماں الگ ہیں، تو اس کو کیا کہیں گے علاتی بھائی۔
تو لہذا اب ایک عورت ہے، اس کے نکاح کا معاملہ ہے، اب بھائی موجود ہیں، لیکن حقیقی بھائی بھی موجود، اور علاتی بھائی بھی موجود، اب یہ دونوں تیسرے درجے کے عصبہ ہیں، لیکن ان میں حقیقی بھائی کے اندر قوت قرابت زیادہ ہے، اس کے ساتھ باپ کے واسطے سے بھی رشتہ اور ماں کے واسطے سے بھی رشتہ، تو قوت قرابت زیادہ ہے، لہذا حقیقی بھائی جب موجود ہے، تو علاتی بھائی پر یہ مقدم ہوگا، کیونکہ علاتی بھائی سے جو رشتہ ہے وہ صرف باپ کے واسطے سے ہے، ماں کے واسطے سے نہیں۔
ضابطہ سمجھ میں آیا؟ حاصل کلام کیا؟
سب سے پہلے عصبات میں کون ہے؟ اولاد، دوسرے درجے میں اصول، تیسرے درجے میں اصل قریب کی اولاد نیچے تک، اور چوتھے درجے میں اصل بعید (یعنی دادا کی اولاد یعنی چچا وغیرہ نیچے تک، بھائی، اور پھر جب قریب والے درجے کے موجود ہوں تو بعید والے درجے کو ولایت حاصل نہیں ہوگی، اور پھر ایک ہی درجے کے کئی افراد ہیں تو پھر جو ان میں سب سے قریب والا ہو اس کو ولایت ہوگی، باقیوں کو ولایت نہیں۔
پھر اگر ایک ہی درجے والے کئی افراد ہیں، اور قرب و بُعد بھی ایک جیسا ہے، مثلاً دونوں بھائی ہیں، یا دونوں چچا ہیں، تو پھر قوت قرابت کو دیکھا جائے گا، اگر ایک حقیقی بھائی ہے اور ایک علاتی بھائی ہے، تو حقیقی بھائی کو ولایت حاصل ہوگی، جبکہ علاتی بھائی کو ولایت حاصل نہیں ہوگی۔ اسی طرح ایک حقیقی چچا ہے، ایک علاتی چچا ہے، بھئی۔
اگر چچا ولی بن رہا ہے، باقی اور کسی درجے والا کوئی شخص موجود نہیں، چچا کو ولایت مل رہی ہے، اور لیکن چچا تو دو قسم کے ہیں، ایک حقیقی چچا ہے، ایک علاتی چچا ہے، تو حقیقی مقدم ہوگا، اس کو ولایتِ نکاح حاصل ہوگی، علاتی کو ولایتِ نکاح حاصل نہیں ہوگی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں والترتیب فی العصبات فی ولایت النکاح، اور ولایت نکاح کے اندر جو عصبات کی ترتیب ہے کترتیب فی الارث، یہ اسی طرح ہے جیسے کہ وراثت میں عصبات کی ترتیب ہوتی ہے. والابعد محجوب بالاقرب، اور دور والا جو ہے وہ محروم ہوتا ہے قریب والے کی وجہ سے. بیٹا اور پوتا اور پڑپوتا تینوں موجود ہیں تو بیٹا ولی بنے گا، دور والے جو ہیں یعنی پوتا اور پڑپوتا وہ محروم ہو جائیں گے بیٹے کی وجہ سے، یعنی بیٹا ان کے لیے رکاوٹ بن جائے گا. یہ معنی ہے والابعد اور دور والا جو ہے محجوب بالاقرب وہ محروم ہوگا بالاقرب قریب والے کی وجہ سے.
بات سمجھ میں آ گئی؟ اب یاد رکھنا، یہ جو صغیر اور صغیرہ کی بات چل رہی ہے، یہاں اول درجے والے یعنی بیٹے پوتے تو ہو ہی نہیں سکتے، کیونکہ صغیرہ ہے، تو لہٰذا یہاں سب سے پہلے ولایت حاصل ہوگی باپ کو، اگر باپ موجود ہے اس کو ولایتِ اجبار حاصل ہے اور کسی کو نہیں. اگر باپ نہیں ہے تو پھر دادا کو دیکھیں گے، دادا کو ولایتِ اجبار ہوگی. اگر دادا بھی نہ ہوا، پھر اس کے بعد پردادا کو ولایتِ اجبار حاصل ہوگی. لیکن اگر باپ موجود ہے پھر دادا یا پردادا کو ولایتِ اجبار نہیں ہوگی بھئی. اور پھر اس کے بعد، اگر باپ بھی نہیں ہے، دادا پردادا بھی نہیں ہے، تو پھر جو حقیقی بھائی اگر ہے تو اس کو ولایت حاصل ہوگی. اگر حقیقی بھائی نہیں ہے تو پھر علاتی بھائی کو ولایت حاصل ہوگی. اور اسی طرح پھر اگر یہ جو مرد ہیں، یہ جو عصبات ہیں، ان میں سے کوئی بھی نہ ہوا تو پھر ماں کو ولایت حاصل ہوگی. اب ماں کی باری آئی ہے بھئی. یاد رکھو، یہ جو مرد جن کے ساتھ رشتہ جوڑنے میں درمیان میں کوئی عورت نہ آئے ان کو عصبات کہتے ہیں. اور ان کے علاوہ باقی تمام رشتہ داروں کو ذوی الارحام کہتے ہیں. کیا کہتے ہیں؟ ذوی الارحام. لہٰذا معلوم ہوا یہ نواسہ اور نواسی بھی کیا ہیں؟ ذوی الارحام ہیں، عصبات نہیں ہیں. نانا اور نانی یہ بھی کیا ہیں؟ ذوی الارحام ہیں. تو ذوی الارحام میں عورتیں بھی آ گئیں اور باقی رشتہ دار بھی آ گئے. تو لہٰذا اگر عصبات میں سے کوئی بھی نہیں ہے پہلے، دوسرے، تیسرے، چوتھے، پانچویں درجے والا کوئی ایک بھی عصبہ نہیں ملا یا ہمیں معلوم نہیں ہے، تو پھر یاد رکھو اب ذوی الارحام جو ہیں ان کو ولایت ملے گی. اور ان میں سب سے پہلا درجہ ماں کا ہے، ماں کا ہے. اگر ماں بھی زندہ نہیں ہے، تو پھر یاد رکھو ولایتِ اجبار مل جائے گی دادی کو. اگر دادی بھی زندہ نہیں ہے، تو پھر اس کے بعد ولایتِ اجبار ملے گی نانی کو. بات سمجھ میں آ گئی؟ اور پھر اس کے بعد نانی کے بعد نانا کا درجہ ہے بھئی. اگر نانی بھی زندہ نہیں ہے تو پھر نانا کو ولایتِ اجبار حاصل ہوگی اور اگر نانا بھی زندہ نہیں ہے پھر حقیقی بہن جو ہے اس کو جو ہے ولایتِ اجبار حاصل ہو جائے گی. صغیرہ کی جو حقیقی بہن ہے. اگر وہ بھی نہیں ہے تو پھر جو علاتی بہن ہے اس کو ولایتِ اجبار حاصل ہو جائے گی. ترتیب سمجھ میں آ رہی ہے؟ اور اگر کوئی بھی نہیں ہے نہ عصبات میں سے کوئی ہے نہ ذوی الارحام میں سے کوئی ہے، تو پھر آخر میں قاضی جو ہے اس کو ولایت حاصل ہو جائے گی بشرطیکہ بادشاہ نے اس کو اجازت دی ہوئی ہے یتیموں کا نکاح کروانے کی.
بادشاہ نے اس کو یتیموں کا نکاح کروانے کی اس کو اجازت دی ہوئی ہے; تو جب عصبات میں سے بھی کوئی نہیں، ذوی الارحام میں سے بھی کوئی نہیں، تو پھر قاضی کو یہ ولایت حاصل ہو جائے گی. بات سمجھ میں آ گئی؟ چلیے بس بھئی ھذا ھو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام.