دیکھیے بھئی سبق اگے:
ولا يتزوج المولى امته ولا المراة عبدها؛ لان النكاح ما شرع الا مثمرا بثمرات مشتركة بين المتناكحين، والمملوكية تنافي المالكية، فيمتنع وقوع الثمرة على الشركة۔
بھئی، گزشتہ سبق میں صاحبِ ہدایہ نے آپ کو مسئلہ بتلایا تھا کہ اگر کوئی شخص کسی حلال عورت کو بھی چھو لے گا، تو اس صورت میں حرمتِ مصاہرت آ جائے گی۔ مثلاً، ایک شخص کی باندی ہے، تو یہ باندی کے ساتھ آقا کے لیے صحبت جائز ہوتی ہے، لیکن آقا نے اس سے صحبت نہیں کی، تو اس باندی کے اصول و فروع ابھی بھی اس آقا پر حلال ہیں۔ لیکن جس وقت یہ باندی آقا کو شہوت کے ساتھ ہاتھ لگا دے، یا آقا جو ہے وہ شہوت کے ساتھ باندی کو ہاتھ لگا دے، بغیر کسی حائل کے، درمیان میں کوئی کپڑا وغیرہ نہ ہو، تو اس صورت میں حرمتِ مصاہرت آ جائے گی، اور دونوں کے اصول و فروع ایک دوسرے پر حرام ہو جائیں گے۔ تو اس طرح کا چھونا، یہ چاہے مرد کی طرف سے ہو، چاہے عورت کی طرف سے، دونوں صورتوں میں حرمتِ مصاہرت آ جاتی ہے۔
بلکہ صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ شہوت کے ساتھ دیکھنا، یہ بھی حرمتِ مصاہرت کا سبب بنتا ہے، اور وہ کب؟ جب عورت مرد کی شرمگاہ کی طرف دیکھے شہوت کے ساتھ، یا مرد جو ہے شہوت کے ساتھ عورت کی شرمگاہ کی طرف دیکھے بھئی۔ اور میں نے بتلایا تھا کہ یہاں فرج سے مراد فرجِ داخل ہے بھئی، فرجِ خارج مراد نہیں، اس لیے کیونکہ حقیقت کے اندر فرج جو ہے وہ داخل ہے، جبکہ خارج وہ تو بعض اعتبار سے فرج ہے، بعض اعتبار سے فرج نہیں۔ تو فرجِ داخل کا اعتبار ہے، کیونکہ حقیقت میں وہی فرج ہے بھئی۔
اور پھر میں نے یہ بھی بتلایا تھا کہ شہوت کی قید ضروری ہے بھئی۔ چھوتے وقت یا دیکھتے وقت شہوت ہوگی، تو حرمتِ مصاہرت آئے گی، اور اگر اس وقت شہوت نہیں ہے، تو پھر حرمتِ مصاہرت بھی نہیں آئے گی بھئی۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ چھونا اور دیکھنا شہوت کے ساتھ، یہ صحبت کے حکم میں نہیں ہے، لہٰذا ان دونوں کو صحبت کے ساتھ نہیں ملایا جا سکتا۔ صحبت کا حکم اور ہے اور شہوت سے دیکھنے اور شہوت سے چھونے کا حکم اور ہے۔
مثلاً، کوئی شخص حج پر جاتا ہے، تو حالتِ احرام میں اس کے اس پر بہت سی پابندیاں لگ جاتی ہیں، ان میں سے ایک پابندی یہ بھی ہے کہ وہ اپنی بیوی سے صحبت نہیں کر سکتا احرام کے دوران۔ تو اگر کوئی شخص وقوفِ عرفہ سے پہلے بیوی کے ساتھ صحبت کر لے گا، تو یاد رکھو اس کا حج ہی فاسد ہو گیا، اور اب اس کو اگلے سال پھر آ کر اس حج کی قضا کرنا پڑے گی، اور یہ جو حج ہے اس کو بھی یہ چھوڑے گا نہیں، اسی طرح اس کے افعال کو ادا کرتا چلا جائے گا۔ اگرچہ حج فاسد ہو گیا، لیکن اس کے افعال کو آخر تک ادا کرتا چلا جائے گا۔ اسی طرح احرام کے اندر بیوی کو چھونا بھی منع ہے، لیکن اگر کوئی شخص بیوی کو چھو لیتا ہے شہوت سے وقوفِ عرفہ سے پہلے، تو اس صورت میں اس پر دم آئے گا، ایک جانور کی قربانی کرنا پڑے گی، اس کا احرام اور حج فاسد نہیں ہو گا۔
تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ شہوت کے ساتھ چھونے اور شہوت سے دیکھنے کا وہ حکم نہیں ہے جو صحبت کا ہے۔ نیز، اسی طرح کوئی شخص اپنی بیوی سے صحبت کرے، تو اس پر غسل فرض ہو جاتا ہے، لیکن اگر بیوی کو شہوت سے چھوئے یا شہوت سے اس کی طرف دیکھے، تو اس صورت میں غسل واجب نہیں ہوتا۔ تو دیکھو، دونوں کا حکم الگ الگ ہے، لہٰذا شہوت سے چھونے اور شہوت سے دیکھنے کو صحبت کے ساتھ نہیں ملایا جا سکتا، ان کو صحبت والا حکم نہیں دیا جا سکتا۔
اور نیز، وہ فرماتے ہیں کہ روزے کے اندر دیکھ لیجیے، روزے کے اندر بیوی سے صحبت منع ہے، لیکن اگر کوئی شخص بیوی کو شہوت سے چھو لے یا شہوت سے اس کی طرف دیکھے، تو یہ منع نہیں ہے اور اس سے روزے پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ تو دیکھو، معلوم ہوا شہوت سے چھونے اور شہوت سے دیکھنے کا وہ حکم نہیں ہے جو صحبت کا ہے، تو لہٰذا ان دونوں کو صحبت کے ساتھ نہیں ملایا جائے گا۔
ہم جواب دیتے ہیں کہ شہوت سے چھونا اور شہوت سے دیکھنا، یہ دواعیِ وطی ہیں، یہ لے جانے والے ہیں وطی کی طرف۔ یہ وطی کی طرف لے جانے والے ہیں اور یہ مقام احتیاط کا ہے، لہٰذا یہاں جو وطی کا سبب ہے، اس کو بھی وطی کے قائم مقام کر دیا جائے گا۔ اس لیے کیونکہ عورت کے حلال اور حرام ہونے کا معاملہ ہے، تو احتیاط اسی میں ہے کہ اس کو حرمتِ مصاہرت کا سبب قرار دیا جائے بھئی۔
اور پھر اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی بتلایا تھا کہ شہوت کا پتہ کیسے چلے گا بھئی؟ تو بتلایا عورت کے اندر تو اس کی کوئی علامت نہیں ہے، ہاں یہ کہ عورت دل میں لذت محسوس کرے اور اس مرد کی طرف اس کا دل مائل ہو، جبکہ مرد کے اندر بھی بعض علماء نے اسی طرح لکھا کہ وہ دل میں لذت محسوس کرے اور عورت کی طرف اس کا دل مائل ہو، اس سے صحبت کرنے کی خواہش دل میں پیدا ہو، تو یہ معلوم ہوا شہوت ہے بھئی۔ لیکن صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ صحیح قول یہ ہے کہ مرد کے اندر ایک ظاہری نشانی موجود ہے کہ مرد کا آلۂ تناسل جو ہے، اس میں انتشار آ جائے، اور اگر پہلے سے انتشار موجود تھا، تو اس میں زیادتی ہو جائے، تو یہ علامت ہے شہوت کی، اور یہی معتبر ہے، اسی پر فتویٰ دیا جائے گا۔
اور پھر صاحبِ ہدایہ نے آپ کو یہ بھی بتلایا کہ فرج کی طرف شہوت سے دیکھنے کے اندر فرجِ داخل معتبر ہے بھئی، اس لیے کیونکہ فرجِ داخل جو ہے وہ ہے حقیقت کے اندر فرج، جبکہ فرجِ خارج وہ تو بعض اعتبار سے فرج ہے اور بعض اعتبار سے فرج نہیں ہے، تو لہٰذا فرجِ داخل کا اعتبار ہے۔ اور پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ فرجِ داخل پر کیسے نظر پڑ سکتی ہے؟ تو بتلایا کہ عام احوال میں تو واقعی فرجِ داخل پر نظر پڑنے کی صورت نہیں، ہاں ایک صورت ہے کہ اگر عورت نے کپڑے نہ پہنے ہوئے ہوں اور وہ دیوار یا تکیے کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھی ہوئی ہو، تو اس وقت فرجِ داخل پر نظر پڑنے کا احتمال ہے۔
اور پھر صاحبِ ہدایہ نے آپ کو یہ بھی بتلایا کہ یہ جو شہوت کے ساتھ چھوا اور اس کے اندر مرد کو انزال ہو گیا، تو پھر حرمتِ مصاہرت نہیں آئے گی بھئی۔ بعض علماء فرماتے ہیں، بعض فقہاء پھر بھی حرمتِ مصاہرت آ جائے گی، لیکن صحیح قول کے مطابق اگر مرد کو انزال ہو گیا اس شہوت کے ساتھ چھونے یا دیکھنے میں، تو پھر حرمتِ مصاہرت نہیں آئے گی۔ وجہ یہ کہ یہ جو شہوت سے چھونا اور دیکھنا تھا، یہ پہنچانے والا تھا وطی تک، یہ سبب ہیں وطی کا، تو اس لیے ہم نے ان کو وطی کے قائم مقام کر دیا، لیکن جب انزال ہو گیا تو پتہ چل گیا کہ یہ والا چھونا اور یہ والا دیکھنا وطی تک پہنچانے والا نہیں، کیونکہ انزال کی وجہ سے خواہش اور شہوت پوری ہو گئی۔
اور بتلایا تھا: وعلى هذا اتيان المراة في الدبر، اور اسی پر ہے عورت کے پاس آنا فی الدبر، اس کے پچھلے مقام میں، یعنی وہ بھی اسی طرح ہے۔ اس میں بھی اگر کسی شخص نے اس طرح عورت سے وطی کی اور اس کو انزال ہو گیا، تو پھر حرمتِ مصاہرت نہیں آئے گی، اور اگر انزال نہ ہوا، تو پھر حرمتِ مصاہرت آ جائے گی، اس لیے کیونکہ ابھی تک شہوت اور خواہش پوری نہیں، تو یہ شہوت ابھی بھی پہنچا سکتی ہے اگلے مقام میں وطی تک، بات سمجھ میں آگئی۔
اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ جب کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاقِ بائن دے دے یا طلاقِ رجعی دے دے اور وہ عورت ابھی عدت میں ہے، تو اس دوران یہ اس بیوی کی بہن سے نکاح نہیں کر سکتا۔ اس لیے کیونکہ ابھی بھی نکاح کے کچھ اثرات موجود ہیں، تو اگر یہ اس کی بہن سے نکاح کر لے گا، تو یہ پہلی بہن میں بھی نکاح کے اثرات موجود، دوسری بہن سے بھی نکاح کر لیا، یہ تو جامع بین الاختین بن جائے گا، لہٰذا اس کی اجازت نہیں ہے بھئی۔ تو پہلی بہن کو جب طلاق دے دی ہے اور وہ ابھی عدت کے اندر ہے، اس دوران دوسری بہن سے نکاح نہیں ہو سکتا، وہ عدت کے بعد ہی ہو سکتا ہے۔
جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ جو عدت ہے، اگر طلاقِ بائن سے ہے، یعنی طلاقِ بائن دی ہے یا تین طلاقیں دی ہیں، تو پھر اب عدت کے دوران بھی اس کی بہن سے نکاح کر سکتا ہے۔ وجہ یہ کہ طلاقِ بائن، یہ جو تین طلاقیں ہیں، انہوں نے نکاح کو بالکل ختم کر دیا، توڑ دیا بھئی، یہ قاطعِ نکاح ہیں۔ یہ کیا ہیں؟ قاطع۔ ایک طلاقِ رجعی ہوتی ہے، اس کے اندر عدت کے اندر خاوند رجوع کر سکتا ہے، وہاں دوبارہ نکاح کی ضرورت بھی نہیں، نکاح اسی طرح موجود ہے، ہاں اگر رجوع نہ کیا تو عدت گزرنے کے بعد اب نکاح ٹوٹ جائے گا، عورت جہاں مرضی چاہے نکاح کر سکتی ہے۔ لیکن عدت کے اندر خاوند رجوع کر سکتا ہے طلاقِ رجعی میں، اور میں نے بتایا رجوع زبان کے ذریعے بھی ہو سکتا ہے اور ایسے کسی ایسے عمل کے ساتھ بھی کسی ایسے عمل کے ذریعے بھی ہو سکتا ہے جس کی اجازت صرف بیوی کے ساتھ ہے، بات سمجھ میں آگئی۔ تو رجوع جو ہے قول کے ذریعے بھی ہو سکتا ہے اور فعل کے ذریعے بھی ہو سکتا ہے، جبکہ طلاقِ بائن اور تین طلاقوں میں تو پھر رجوع کی صورت نہیں ہوتی۔
تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس صورت میں نکاح پوری طرح ٹوٹ گیا، طلاقِ بائن نکاح کو قطع کرنے والی ہے اور اسی طرح تین طلاقیں بھی نکاح کو قطع کرنے والی ہیں، پوری طرح اس کو ختم کرنے والی ہیں۔ تو لہٰذا ان کی وجہ سے نکاح پوری طرح ٹوٹ چکا ہے اور جب نکاح ٹوٹ گیا، ختم ہو گیا، تو اب اس کی بہن سے عدت کے اندر بھی نکاح کرے گا، تو یہ شخص جامع بین الاختین نہیں بنے گا، یہ دو بہنوں کو ایک نکاح میں جمع نہیں کر رہا، کیونکہ پہلی بہن کے ساتھ تو نکاح بالکل ٹوٹ چکا ہے، ختم ہو چکا ہے۔
اور پھر وہ فرماتے ہیں کہ آپ، اے احناف! آپ خود بھی تو کہتے ہیں کہ یہ جو عورت جس کو خاوند نے طلاقِ بائن دی ہے یا تین طلاقیں دی ہیں، اگر اس کے ساتھ خاوند صحبت کر لے عدت کے دوران، باوجود اس کے کہ اس کو علم تھا یہ میرے اوپر حرام ہو چکی ہے کیونکہ میں اس کو طلاقِ بائن دے چکا ہوں یا تین طلاقیں دے چکا ہوں، تو یہ شخص اس کے ساتھ اگر خاوند اس معتدہ کے ساتھ صحبت کر لے گا، تو اے احناف! آپ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ خاوند پر حد آئے گی، اسے حدِ زنا لگائی جائے گی۔ حالانکہ حد، حد کا معاملہ تو بڑا نازک ہے بھئی، ادنیٰ شبہے سے بھی حد ساقط ہو جایا کرتی ہے۔ اگر نکاح کے کچھ اثرات باقی ہوتے، تو پھر تو حد نہیں آنی چاہیے تھی بھئی۔ حد تو ادنیٰ شبہے سے بھی کیا ہو جاتی ہے؟ ساقط ہو جاتی ہے، تو اگر نکاح کا کچھ اثر ابھی بھی باقی ہے، اے احناف! آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ عدت کے اندر نکاح کا اثر ابھی بھی باقی ہے، لہٰذا اس کی بہن کے ساتھ ابھی نکاح نہیں کر سکتا، تو پھر اگر نکاح کے اثرات ابھی بھی باقی ہیں، تو پھر تو اس عورت کے ساتھ اگر خاوند جانتے بوجھتے صحبت بھی کر لے، پھر بھی حدِ زنا نہیں آنی چاہیے بھئی۔ حدِ زنا نہیں آنی چاہیے کیونکہ حدِ زنا تو ادنیٰ شبہے سے بھی ختم ہو جاتی ہے بھئی۔ لیکن آپ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ اس خاوند پر اگر اس نے جانتے بوجھتے ہوئے علم کے باوجود کہ یہ مجھ پر عورت حرام ہے، پھر اس سے عدت میں صحبت کر لی، تو اس پر حدِ زنا آ جاتی ہے۔ تو اے احناف! آپ کا بیان کیا ہوا یہ مسئلہ بتلا رہا ہے کہ آپ کے نزدیک بھی نکاح پوری طرح ٹوٹ چکا ہے، بات سمجھ میں آگئی۔
تو یہ امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل تھی۔ اس کے بعد ہماری دلیل آئی، تو صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ ہمارے نزدیک جو ہے پہلی کا نکاح ابھی بھی موجود ہے، اس لیے کیونکہ اس نکاح کے احکام ابھی بھی باقی ہیں۔ یہ عدت کا نفقہ جو ہے، یاد رکھو یہ خاوند کے ذمے ہوتا ہے۔ تو خاوند کے ذمے نفقے کا رہنا، یہ علامت ہے اس بات کی کہ نکاح ابھی بھی باقی ہے کسی درجے میں۔ کیونکہ نفقہ تو منکوحہ کا آیا کرتا ہے، غیر منکوحہ کا نفقہ تو خاوند پر نہیں آتا، لیکن عدت کے اندر خاوند پر نفقہ آ رہا ہے، یہ بتلا رہا ہے کہ ابھی بھی یہ اس کی منکوحہ ہے، اگرچہ بعض اعتبارات سے ہے، پورے طور پر اب نہیں ہے۔ نیز، خاوند عدت کے دوران بھی اس معتدہ کو گھر سے نکلنے سے روک سکتا ہے۔ بھئی یہ روکنے کا حق تو خاوند کو شریعت نے اپنی منکوحہ کے لیے دیا تھا، لیکن یہ طلاق کے باوجود اس کو روکنے کا حق ہے، معلوم ہوا یہ ابھی بھی بعض اعتبار سے کیا ہے؟ اس کی منکوحہ ہے، ابھی بھی کچھ نہ کچھ نکاح کے اثرات باقی ہیں بھئی۔
اور نیز، بیوی جب اولاد کو جنم دیتی ہے، تو وہ خاوند کی شمار ہوتی ہے۔ یہ جو معتدہ ہے، اگر اس نے بھی عدت کے گزرنے کا اقرار نہیں کیا اور دو سال سے پہلے پہلے اس نے بچے کو جنم دے دیا، تو بچہ خود بخود اسی خاوند کا شمار ہوگا۔ اور بچہ تو کسی شخص کا اس وقت شمار ہوتا ہے جب وہ عورت اس کی فراش ہو بھئی۔ عورت کیا ہو اس کی؟ فراش ہو، معلوم ہوا ابھی بھی یہ عورت اس کی فراش ہے، جبھی تو اس عورت سے پیدا ہونے والے بچے کا نسب اس سابقہ خاوند سے ثابت ہو رہا ہے۔ اور آزاد عورت تو فراش کب ہوتی ہے کسی کے لیے؟ جب وہ اس کی منکوحہ ہوتی ہے، بات سمجھ میں آگئی۔ تو اس عورت کا فراش ہونا، یعنی اس عورت سے پیدا ہونے والے بچے کا نسب خاوند سے ثابت ہو جانا، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ نکاح کے اثرات ابھی بھی باقی ہیں۔ بات سمجھ میں آگئی۔
تو جب نکاح کے یہ اثرات باقی ہیں، معلوم ہوا نکاح ابھی پوری طرح ٹوٹا نہیں ہے۔ اور باقی جو آپ نے کہا تھا کہ یہ جو طلاقِ بائن ہے اور اسی طرح تین طلاقیں ہیں، یہ قاطعِ نکاح ہیں، ان کی وجہ سے نکاح بالکل ٹوٹ جاتا ہے، ہمیں بھی آپ کی یہ بات تسلیم ہے کہ ان کی وجہ سے نکاح بالکل ٹوٹ جاتا ہے، لیکن ان کا عمل فوری نہیں آتا، بلکہ ان کا عمل عدت کے اختتام تک کے لیے مؤخر ہو جاتا ہے۔ کچھ چیزوں میں حرمت آ گئی، یعنی اب عورت سے وطی کرنا حرام ہے، لیکن کچھ احکام ابھی بھی اس نکاح کے باقی ہیں جیسے ہم نے بیان کر دیا۔ معلوم ہوا اس قاطع کا عمل پوری طرح ابھی آیا نہیں، بلکہ عدت کے ختم ہونے پر پورا عمل آ جائے گا اور نکاح بالکل ختم ہو جائے گا، پھر وہ اس کی بہن سے نکاح کر سکتا ہے۔
اور اس کا عمل مؤخر ہو گیا ہے، آپ بھی دیکھتے ہیں کہ یہ جو طلاقِ بائن والی معتدہ ہے یا طلاقِ ثلاثہ والی معتدہ ہے، یہ آگے نکاح نہیں کر سکتی جب تک عدت میں ہے۔ اے شوافع! آپ بھی تسلیم کرتے ہیں عدت کے اندر عورت نکاح نہیں کر سکتی، عدت کے بعد کرے گی، تو معلوم ہوا ابھی بھی پچھلے نکاح کا اثر باقی ہے، اگر اثر باقی نہ ہوتا تو اس کو تو اجازت ہونی چاہیے تھی کہ عدت کے اندر بھی جہاں چاہے نکاح کر سکے بھئی۔
اور یہاں میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ یہ جو فراش ہے، یہ تین قسم پر ہے۔ فراش کسے کہتے ہیں؟ کسی عورت کا مختص ہونا کسی مرد کے بچوں کو جنم دینے کے لیے، یا یوں دوسرے لفظوں میں یوں کہو کہ اس عورت سے جو اولاد پیدا ہو اس کا نسب ثابت ہو سکے، تو یہ کیا کہلاتی ہے؟ یہ اس شخص کی فراش کہلاتی ہے، اس شخص کا فراش کہلاتی ہے۔ اور فراش تین قسم پر ہیں: ایک فراشِ قوی ہے، ایک فراشِ ضعیف ہے، اور ایک فراشِ متوسط ہے۔ فراشِ قوی جو ہے وہ منکوحہ کا ہے جس سے انسان نکاح کرتا ہے۔ منکوحہ سے یاد رکھو جو بھی اولاد پیدا ہو، وہ خود بخود خاوند کی شمار ہوتی ہے۔ اور فراشِ ضعیف جو ہے وہ باندی ہے۔ آقا جب کوئی باندی خرید لیتا ہے، وہ آقا کے لیے حلال ہے، تو یہ باندی اگر کسی بچے کو جنم دے گی، تو یاد رکھو یہ خود بخود آقا کا شمار نہیں ہوگا، بلکہ جب آقا اقرار کر لے کہ یہ بچہ میرا ہے، پھر یہ بچہ آقا کا شمار ہوگا۔ دیکھو بیوی سے پیدا ہونے والی اولاد خود بخود خاوند کی شمار ہوتی ہے، اور باندی سے پیدا ہونے والی اولاد خود بخود آقا کی شمار نہیں ہوتی، تو یہ باندی فراش تو ہے اس کا، جائز تو ہے اس کے لیے اس سے صحبت، لیکن یہ فراشِ ضعیف ہے۔ اور فراشِ متوسط جو ہے، یہ امِ ولد ہے بھئی۔ یہ باندی جب بچے کو جنم دے دے اور آقا کہہ دے کہ یہ میری اولاد ہے، تو یہ آقا کی امِ ولد بن گئی، یعنی آقا کے بچے کی ماں۔ اور بچہ آقا کا آزاد ہے، تو اب آزادی اس باندی کا بھی حق بن گئی، اب آقا کے مرنے کے بعد یہ خود بخود آزاد ہو جائے گی۔ اس کا بچہ جو ہے وہ اس کو آزادی تک لے جائے گا، وہ اس کی آزادی کا سبب بن جائے گا۔ تو لہٰذا یہ جو باندی نے بچے کو جنم دے دیا اور آقا نے کہہ دیا کہ یہ میری اولاد ہے، یہ باندی اب اس آقا کی امِ ولد بن گئی۔ اب اس امِ ولد سے آگے جو بھی بچہ پیدا ہوگا، وہ خود بخود اسی آقا کا شمار ہوگا۔ وہ خود بخود اسی آقا کا شمار ہوگا، لیکن اگر آقا اس کا انکار کرنا چاہے، تو بغیر لعان کے بھی انکار کر سکتا ہے، بغیر لعان کے بھی انکار کر سکتا ہے۔
جبکہ منکوحہ کے اندر خاوند جو ہے، اس بیوی سے پیدا ہونے والے بچے کا انکار ویسے نہیں کر سکتا، اس کو لعان کرنا پڑے گا۔ کیا کرنا پڑے گا؟ لعان کرنا پڑے گا اور وہ بھی بچے کی پیدائش کے ابتدائی دنوں میں۔ یعنی ابتدائی دنوں میں جب بچے کی پیدائش ہوئی ہے، ان چند دنوں کے اندر اگر یہ بچے کے نسب کا انکار کرتا ہے کہ یہ میرا بچہ نہیں ہے، تو پھر اس وقت یہ لعان کر سکتا ہے اور لعان کے لیے قاضی کے پاس جانا پڑے گا۔
لعان کسے کہتے ہیں؟ یہ اچھی طرح سمجھ لو، آگے صاحبِ ہدایہ بھی آپ کو بتلائیں گے۔ یاد رکھو، لعان یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی بیوی پر مثلاً زنا کی تہمت لگا دیتا ہے، یا بیوی سے پیدا ہونے والے بچے کا انکار کر دیتا ہے کہ یہ میرا بچہ نہیں ہے۔ اب دیکھو، عام حالات کے اندر اگر کوئی شخص کسی عورت پر زنا کا الزام لگاتا ہے، تو شریعت نے کہا ہے کہ چار گواہ لے کر آؤ بھئی۔ اب اس آدمی کو چار گواہ لانے پڑیں گے، اگر وہ چار گواہ پیش نہ کر سکا، تو پھر اس شخص پر حدِ قذف جاری ہوگی کہ اس نے ایک مسلمان پاکدامن عورت پر زنا جیسا عظیم بہتان لگایا، تو اس کو اسی کوڑے لگائے جائیں گے بھئی۔ یہ ہے حدِ قذف۔ لیکن خاوند بھئی، خاوند نے اگر بیوی کو زنا کرتے ہوئے دیکھ لیا، تو اب وہ چار گواہ کہاں سے لے کر آئے بھئی؟ تو لہٰذا خاوند کے لیے یہ حکم نہیں ہے کہ اب اس کو چار گواہ پیش کرنا پڑیں گے، بلکہ اب وہ قاضی کے پاس جا کر دعویٰ کرے گا اور پھر وہاں قاضی ان دونوں میں لعان کروائے گا اور پھر لعان کے بعد خاوند اور بیوی کے اندر قاضی جدائی کروا دے گا۔
یا اگر خاوند نے بچے کا انکار کر دیا، اور یہ یاد رکھنا، بچے کی پیدائش کے ابتدائی دنوں میں یہ بچے کے نسب کی نفی ہو سکتی ہے۔ اگر بعد میں نسب کی نفی کرنا چاہتا ہے، سال بعد یا دو سال بعد جا کر نسب کی نفی کرنا چاہتا ہے کہ یہ میرا بچہ نہیں ہے، پھر نسب کی نفی نہیں کر سکتا بھئی۔ اگر آپ کو نسب کی نفی کرنا تھی، تو بچے کی پیدائش کے ابتدائی دنوں میں آپ کو یہ مقدمہ کرنا چاہیے تھا۔ تو لہٰذا بچے کے نسب کی نفی کی صورت میں بھی لعان کرنا پڑے گا قاضی کے پاس جا کر۔
اور لعان، لعان پورا باب آگے آ جائے گا، صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ لعان جو ہے وہ چار شہادتوں کا نام ہے مرد کی طرف سے بھی اور عورت کی طرف سے، چار شہادتیں جو مؤکد ہوں گی قسم کے ساتھ۔ یعنی ان کے ساتھ قسم بھی کھائے گا، مرد بھی اور عورت بھی۔ پہلے جو ہے مرد چار شہادتیں دے گا قسم کے ساتھ اور یوں کہے گا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ واللہ میں نے اس بیوی پر، اس عورت پر جو زنا کا الزام لگایا ہے، اس میں میں سچا ہوں۔ تو اگر زنا کا الزام لگایا ہے، تو یہ الفاظ کہے گا۔ اگر بچے کے نسب کی نفی کرنا چاہتا ہے، تو یوں کہے گا کہ میں گواہی دیتا ہوں واللہ اس بچے کے نسب کی جو میں نے اپنے آپ سے نفی کی ہے، میں اس کے اندر سچا ہوں بھئی۔ اور اگر دونوں الزام لگائے ہیں، مثلاً صراحۃً وہ زنا کا الزام بھی لگا رہا ہے اور بچے کے نسب کی نفی بھی کر رہا ہے، تو دونوں کو ملا دے گا کہ میں گواہی دیتا ہوں واللہ میں نے جو اس عورت پر زنا کا الزام لگایا ہے اور میں نے جو اس بچے کے نسب کی نفی کی ہے اپنے آپ سے، اس میں میں سچا ہوں۔ چار مرتبہ یہ شہادتیں دے گا، اور پانچویں مرتبہ میں پھر خاوند کہے گا کہ مجھ پر اللہ کی لعنت ہو اگر میں اس الزام کے اندر جھوٹا ہوں۔
پھر اس کے بعد قاضی جو ہے عورت سے چار شہادتیں لے گا اور اس میں بھی وہ قسم کھائے گی۔ عورت کہے گی کہ میں گواہی دیتی ہوں واللہ اس شخص نے مجھ پر یہ جو زنا کا الزام لگایا ہے یا یہ جو بچے کے نسب کی اس نے نفی کی ہے، اس کے اندر یہ جھوٹا ہے۔ چار مرتبہ یہ شہادتیں دے گی، اور پانچویں مرتبہ کہے گی کہ مجھ پر اللہ کا غضب ہو اگر یہ آدمی اپنے اس دعوے کے اندر سچا ہے۔ تو پھر قاضی ان کے درمیان جدائی کروا دے گا اور اس بچے کے نسب کی نفی کر دے گا قاضی، اب وہ اس خاوند کا بچہ شمار نہیں ہوگا، صرف اس عورت کا بچہ شمار ہوگا۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو یہ ہے لعان۔
تو منکوحہ جو ہے، یہ فراشِ قوی ہے۔ اس کے اندر جو بھی بچہ پیدا ہوگا، خود بخود خاوند کا شمار ہوگا، اور اگر وہ بچے کے نسب کی نفی کرنا چاہتا ہے، تو بچے کی پیدائش کے ابتدائی دنوں میں نفی کر سکتا ہے اور اس میں بھی لعان کرنا پڑے گا، ویسے بچے کی نفی نہیں ہوگی۔ اور فراشِ متوسط جو ہے، امِ ولد ہے۔ اس سے پیدا ہونے والا بچہ بھی خود بخود آقا کا شمار ہوگا، لیکن وہاں آقا بچے کے نسب کی نفی کرنا چاہے، تو بغیر لعان کے ہی نفی کر سکتا ہے، وہ کہہ دے کہ یہ میرا بچہ نہیں ہے، تو اس کا بچہ شمار نہیں ہوگا بھئی۔ اور فراشِ ضعیف جو ہے عام باندی ہے، کہ اس سے پیدا ہونے والا بچہ خود بخود آقا کا شمار نہیں ہوگا جب تک آقا خود اقرار نہ کر دے کہ یہ میرا بچہ ہے۔
اس کے بعد امام شافعی رحمہ اللہ نے جو اپنی دلیل میں ذکر فرمایا تھا کہ اے احناف! تمہارے نزدیک بھی یہ نکاح ٹوٹ چکا ہے، جبھی تو تم کہتے ہو کہ اگر یہ شخص اس عورت سے عدت کے دوران صحبت کر لیتا ہے، باوجود اس کے کہ اس کو علم ہے کہ یہ مجھ پر حرام ہو چکی ہے، تو اس پر آپ بھی کہتے ہیں اے احناف کہ اس پر حدِ زنا آئے گی۔ تو آپ کا اس پر حدِ زنا کو واجب کرنا، یہ بتلا رہا ہے کہ آپ کے نزدیک بھی نکاح ٹوٹ چکا ہے۔ اگر نکاح باقی ہوتا، پھر تو حدِ زنا نہیں آنی چاہیے تھی بھئی۔ نکاح کے کچھ بھی اثرات باقی ہوتے، تو پھر تو شبہ آ جاتا اور حد ادنیٰ شبہے سے بھی ساقط ہو جاتی ہے، لہٰذا اس پر حد نہیں آنی چاہیے تھی، لیکن تمہارے نزدیک بھی اس شخص پر حد واجب ہے۔ یہ مسئلہ بتلا رہا ہے کہ تمہارے نزدیک بھی یہ نکاح پورے طور پر ٹوٹ چکا ہے۔
تو اس کا جواب دیا صاحبِ ہدایہ نے، دو جواب دیے، ایک منعی اور ایک تسلیمی۔ منعی جواب کہ ہمیں ہمیں آپ کی یہ بات تسلیم ہی نہیں ہے کہ ہمارے نزدیک اس پر حد آئے گی۔ تسلیمی جواب کہ ہاں ہمیں آپ کی بات تسلیم ہے، ہمارے نزدیک بھی اس پر کیا آئے گی؟ حد آئے گی، تو وہ دو جواب ذکر کریں گے۔ پہلا جواب منعی، کہ ہمیں آپ کی بات تسلیم ہی نہیں کہ اس شخص پر حد آئے گی۔ امام محمد کی کتاب مبسوط جو ہے، اس کی کتاب الطلاق سے اشارۃً یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اس شخص پر حد نہیں آئے گی بھئی۔ معلوم ہوا ہمارے نزدیک اس پر حد نہیں آئے گی، تو لہٰذا آپ کو یہ مسئلہ دلیل کے طور پر پیش کرنا ہی صحیح نہیں ہے بھئی۔
اور دوسرا جواب تسلیمی، کہ ہمیں آپ کی بات تسلیم ہے کہ اسی مبسوط کی کتاب الحدود کے اندر امام محمد رحمہ اللہ صاف لفظوں میں فرماتے ہیں کہ اس شخص پر حد واجب ہوگی، تو ہمیں آپ کی بات تسلیم ہے، ہمارے نزدیک اس شخص پر حد آئے گی۔ لیکن اس کی وجہ آگے پھر صاحبِ ہدایہ بتلاتے ہیں کہ حد اس لیے آئے گی کیونکہ یہ جو خاوند کی ملکیت ہے عورت پر، بعض اعتبارات سے ابھی بھی باقی ہے اور بعض اعتبار سے ختم ہو گئی ہے۔ حلت کے اعتبار سے خاوند کی ملکیت ختم ہو گئی، یہ عورت اب اس کے لیے حلال نہ رہی۔ جب اس نے طلاقِ بائن دے دی یا تین طلاقیں دے دیں، تو یہ عورت اب اس کے لیے کسی طرح بھی حلال نہ رہی، جب حلال نہ رہی اور اس نے پھر بھی صحبت کر لی جانتے بوجھتے، تو لہٰذا اب زنا پایا گیا اور جب زنا پایا جائے، تو اس صورت میں حد واجب ہوتی ہے، اس لیے ہمارے نزدیک اس پر حد واجب ہوگی، کیونکہ حلت ختم ہو چکی تھی، جی۔ اور بعض اعتبار سے خاوند کی ملکیت ابھی بھی ختم نہیں ہوئی کہ خاوند کو اس عدت کے دوران نفقہ بھی دینا پڑتا ہے، اور خاوند اس کو گھر سے نکلنے سے بھی روک سکتا ہے، اور عدت کے دوران وہ عورت بچے کو جنم دے گی تو وہ بچہ بھی خاوند کا شمار ہوتا ہے، یہ سب چیزیں بتلا رہی ہیں کہ خاوند کی ابھی تک ملکیت پوری طرح ختم نہیں ہوئی۔ جب ختم نہیں ہوئی، تو اب اس عورت کی بہن کے ساتھ عدت کے دوران نکاح کی اجازت نہیں ہونی چاہیے، اگر نکاح کی اجازت ہو جائے گی، پھر تو یہ جامع بین الاختین بن جائے گا نکاح کے اعتبار سے کہ دو بہنوں کو نکاح میں جمع کر رہا ہے۔ پہلی میں بھی نکاح کے اثرات ابھی تک باقی ہیں اور دوسری کے ساتھ بھی نکاح کر رہا ہے، تو یہ کیا بن جائے گا؟ جامع بین الاختین، اور وہ تو جائز نہیں، بات سمجھ میں آگئی۔
اب آئیے آج کے سبق پر:
ولا يتزوج المولى امته ولا المراة عبدها؛ لان النكاح ما شرع الا مثمرا بثمرات مشتركة بين المتناكحين۔
یاد رکھیے بھئی، ایک شخص ہے، اس کی ایک مملوکہ باندی ہے، وہ آقا اپنی اس باندی سے نکاح کرنا چاہتا ہے، یاد رکھو یہ جائز نہیں۔ آقا اپنی باندی سے نکاح نہیں کر سکتا، اس لیے کیونکہ باندی اس کی مملوک ہے اور جب نکاح کرے گا، تو بیوی بن جائے گی اور بیوی مالکن ہوتی ہے بھئی، بیوی کے خاوند پر حقوق ہوتے ہیں۔ تو لہٰذا وہی باندی وہ مملوک بھی بن گئی اور مالکن بھی بن گئی، اور مملوکیت اور مالکیت کے اندر تو منافات ہے۔ ایک ہی شخص مملوک بھی ہو جائے اور مالک بھی ہو جائے، ایسا نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا اگر آقا اس سے نکاح کرنا چاہتا ہے اپنی اس باندی سے، تو پھر اس باندی کو آزاد کر دے۔ جب باندی آزاد ہو گئی، اب یہ اس کی مملوک نہ رہی، اب اس سے نکاح کرنا چاہتا ہے، تو نکاح کر لے۔
اسی طرح اگر کوئی عورت ہے، وہ اپنے غلام سے نکاح کرنا چاہتی ہے، مثلاً ایک مالدار عورت ہے، اس کا ایک غلام ہے، اب وہ اس غلام سے نکاح کرنا چاہتی ہے، نہیں بھئی، مالکن اپنے غلام سے نکاح نہیں کر سکتی۔ وجہ یہ کہ غلام اس کا مملوک ہے اور جب نکاح کرے گا، تو یہ خاوند بن جائے گا اور خاوند تو مالک ہوتا ہے، خاوند تو بیوی پر کئی حقوق کا مالک ہوتا ہے، تو ایک ہی شخص مملوک بھی بن گیا اور مالک بھی بن گیا، اور یہ نہیں ہو سکتا، کیونکہ مالکیت اور مملوکیت میں منافات ہے بھئی، بات سمجھ میں آگئی۔ ہاں، البتہ اگر نکاح کرنا چاہتی ہے وہ عورت اس غلام سے، تو اس کو آزاد کر دے، اور پھر اس کے بعد نکاح کرنا چاہے، تو نکاح کر سکتی ہے۔
تو کہتے ہیں: ولا يتزوج المولى امته، اور نکاح نہیں کر سکتا آقا اپنی باندی سے، ولا المراة عبدها، اور نہ کوئی عورت جو ہے وہ نکاح کر سکتی ہے عبدها اپنے غلام سے، لان النكاح ما شرع، اس لیے کیونکہ یہ جو نکاح ہے یہ مشروع نہیں ہوا، مشروع نہیں ہوا یعنی شریعت نے اس کی اجازت نہیں دی، الا مثمرا بثمرات مشتركة بين المتناكحين، مگر یہ کہ یہ فائدے دیتا ہے، اثمر یثمر اثمار کا معنی ہے فائدہ دینا ثا کے ساتھ، الا مثمرا مگر یہ کہ یہ فائدہ دیتا ہے بثمرات ایسے منافع کا مشتركة بين المتناكحين جو مشترک ہوتے ہیں دونوں نکاح کرنے والوں کے درمیان۔ نکاح جو ہے، اس کو شریعت نے اس لیے جائز قرار دیا ہے، اس کو مشروع قرار دیا ہے کہ اس کی وجہ سے ایسے منافع حاصل ہوتے ہیں جو میاں اور بیوی کے درمیان مشترک ہوتے ہیں بھئی۔ یعنی بعض منافع خاوند کو حاصل ہوتے ہیں، تو بعض منافع بیوی کو حاصل ہوتے ہیں۔ بیوی کو دیکھو، بیوی کے نفقے کا بندوبست ہو گیا، خاوند پر اس کا حق ہے کہ وہ اس کو نفقہ دے۔ اسی طرح بیوی کے لیے رہائش کا بندوبست ہو گیا، خاوند پر حق ہے بیوی کا کہ بیوی کو وہ رہائش مہیا کرے۔ اور اسی طرح خاوند کا حق ہے بیوی پر کہ وہ جب چاہے اپنی بیوی سے صحبت کر سکتا ہے۔ اسی طرح خاوند کا حق ہے کہ وہ اپنی بیوی کو گھر سے باہر نکلنے سے منع کر سکتا ہے۔ اور اسی طرح اس نکاح سے دونوں کو اولاد حاصل ہوگی، تو دیکھو نکاح کی وجہ سے ایسے فوائد حاصل ہو رہے ہیں جو دونوں کے درمیان مشترک ہیں، یعنی مجموعی اعتبار سے مشترک ہیں، کچھ فوائد بیوی کو حاصل ہو رہے ہیں اور کچھ فوائد خاوند کو حاصل ہو رہے ہیں بھئی۔
تو کہتے ہیں: لان النكاح ما شرع الا مثمرا، اس لیے کیونکہ نکاح جو ہے وہ مشروع نہیں ہوا مگر یہ کہ وہ فائدے دیتا ہے بثمرات ایسے منافع کا مشتركة بين المتناكحين کہ وہ فائدے مشترک ہوتے ہیں دونوں نکاح کرنے والوں کے درمیان، یعنی دونوں ان فائدوں کے مالک ہوتے ہیں۔ والمملوكية تنافي المالكية، اور مملوک ہونا تو مالک ہونے کے منافی ہے، نکاح کس سے کیا ہے؟ باندی سے، وہ مملوک ہے، اور مملوک ہونے کے ساتھ وہ مالک بھی بن جائے، ایسا نہیں ہو سکتا، کیونکہ مملوکیت اور مالکیت میں منافات ہے، ایک ہی شخص مالک بھی ہو جائے، مملوک بھی ہو جائے، ایسا نہیں ہو سکتا۔ اور اسی طرح، اسی طرح کوئی عورت اپنے غلام سے نکاح کرے گی، تو غلام تو اس کا مملوک ہے، اور جب نکاح کرے گی تو وہ حقوق کا مالک بن جائے گا، تو ایک ہی شخص مالک بھی بن جائے گا اور مملوک بھی بن جائے گا، حالانکہ مالکیت اور مملوکیت میں منافات ہے، ایک ہی شخص مالک یا مملوک نہیں ہو سکتا۔ یہ معنی ہے: والمملوكية تنافي المالكية، اور مملوک ہونا تو مالک ہونے کے منافی ہے، فيمتنع وقوع الثمرة على الشركة، تو ممتنع ہو جائے گا کہ وہ فائدہ واقع ہو یعنی ثابت ہو علی الشرکة، شرکت کے طریقے پر۔
بھئی، نکاح کی وجہ سے میاں بیوی دونوں کو فائدے حاصل ہوتے ہیں، یعنی ان فوائد میں دونوں کی شرکت ہوتی ہے۔ کچھ فائدے بیوی کے ہیں، تو کچھ فائدے خاوند کے ہیں، تو دونوں کی ان فوائد میں شرکت ہوتی ہے، لیکن یہاں جس سے نکاح کیا جا رہا ہے، وہ باندی ہے یا غلام ہے، تو باندی اور غلام وہ تو ان کے مملوک ہیں، تو لہٰذا ان فائدوں کے اندر وہ ساتھ شریک نہیں ہو سکیں گے، کیونکہ یہ مملوک ہیں اور جب مملوک ہیں تو پھر وہ فائدوں کے مالک نہیں ہو سکتے بھئی، کیونکہ ان دونوں میں منافات ہے بھئی۔ یہ معنی ہے: فيمتنع وقوع الثمرة على الشركة، تو اس فائدے کا شرکت کے طریقے پر آنا، اس فائدے کا شرکت کے طریقے پر واقع ہونا ممتنع ہو جائے گا، یعنی اس فائدے میں دونوں شریک نہیں ہو سکیں گے، کیوں نہیں ہو سکیں گے؟ کیونکہ یہ غلام یا باندی مملوک ہیں اور یہ مالک نہیں ہو سکتے، جب مالک نہیں ہو سکتے تو اس فائدے میں شریک بھی نہیں، اس فائدے کا مالک ہی تو بننا تھا بھئی، بات سمجھ میں آ رہی ہے۔
پھر ترجمہ دیکھ لیجیے، کہتے ہیں: ولا يتزوج المولى امته ولا المراة عبدها، اور نکاح نہیں کر سکتا آقا اپنی باندی سے اور نہ کوئی عورت اپنے غلام سے، لان النكاح ما شرع الا مثمرا بثمرات مشتركة بين المتناكحين، اس لیے کیونکہ یہ جو نکاح ہے یہ مشروع نہیں ہوا یعنی شریعت نے اس کی اجازت نہیں دی، کہ یہ نکاح مشروع نہیں ہوا مگر یہ کہ فائدہ دیتا ہے ایسے منافع کا کہ وہ فائدے مشترک ہوتے ہیں دونوں نکاح کرنے والوں کے درمیان، یعنی دونوں ان فائدوں کے مالک ہوتے ہیں۔ والمملوكية تنافي المالكية، اور مملوک ہونا تو مالک ہونے کے منافی ہے، ایک ہی شخص مالک اور مملوک نہیں ہو سکتا، فيمتنع وقوع الثمرة على الشركة، تو پھر وہ جو فائدہ ہے، وہ شرکت کے طریقے پر واقع ہو، یعنی شرکت کے طریقے پر وہ فائدہ حاصل ہو جائے، یہ ممتنع ہو جائے گا، کیونکہ مملوک تو اس فائدے کا مالک نہیں، جب مالک نہیں بنے گا تو شرکت تو آئی نہیں رہی، بات سمجھ میں آگئی۔
یہاں سوال پیدا ہوتا ہے، سوال یہ کہ نکاح کی وجہ سے ایک شخص منافعِ نکاح کا مالک بنتا ہے اور غلام اور باندی تو مملوک ہیں، یہ تو منافع کے مالک نہیں بن سکتے، تو پھر تو باندی کا نکاح سرے سے جائز ہی نہیں ہونا چاہیے، غلام کا نکاح تو سرے سے جائز ہی نہیں ہونا چاہیے۔ حالانکہ آقا کی اجازت سے اگر غلام نکاح کرتا ہے، تو ہمارے نزدیک اس کا نکاح منعقد ہو گیا، تو یہ مملوک بھی ہوا اور مالک بھی ہو گیا۔ اسی طرح باندی بھی جو ہے، آقا کی اجازت سے کسی اور سے نکاح کر سکتی ہے، تو یہی باندی مملوک بھی ہو گئی اور مالک بھی ہو گئی، کیونکہ بیوی ہے بھئی اور بیوی کیا ہوتی ہے؟ مالک ہوتی ہے حقوق کی اپنے خاوند پر۔
تو جواب یہ کہ ہاں، قیاس تو یہی تقاضا کرتا ہے کہ غلام یا باندی جو ہیں ان کو ان کا نکاح جائز نہیں ہونا چاہیے، لیکن چونکہ حاجت تھی، یہ بھی نکاح کے محتاج ہیں، اس لیے ان کے نکاح کی اجازت دے دی گئی۔ یہ بھی کیا ہیں؟ نکاح کے محتاج ہیں، تو اس حاجت کی وجہ سے شریعت نے اجازت دے دی، اور آپ نے ضابطہ پڑھا ہے: الضرورات تبیح المحظورات، کہ ضرورت جو ہے ممنوع چیزوں کو جائز قرار دیتی ہے، تو یہاں بھی ضرورت اور حاجت کی وجہ سے ان کے نکاح کو جائز قرار دیا گیا، لیکن بہرحال اپنے مالک کے ساتھ ان کا نکاح نہیں ہو سکتا بھئی۔
صاحبِ ہدایہ نے اسی بات کو، اس دلیل کو اس انداز میں ذکر فرمایا تھا کہ یہ جو نکاح کی شریعت نے اجازت دی ہے، اس وجہ سے کہ اس نکاح کی وجہ سے ایسے فوائد حاصل ہوتے ہیں جو میاں اور بیوی دونوں کے درمیان مشترک ہوتے ہیں۔ نکاح کی وجہ سے ایسے فائدے حاصل ہوتے ہیں جو میاں بیوی کے درمیان مشترک ہوتے ہیں، یعنی دونوں ان فائدوں کے مالک ہوتے ہیں، اور جب یہ باندی یا غلام سے نکاح کیا جائے گا، تو یہ تو ان کے مملوک ہیں اور مملوک جو ہے وہ مالک نہیں ہو سکتا انہی کے اوپر حقوق کا، تو یہ مملوک مالک نہیں بن سکتے، جب مالک نہیں بن سکتے تو ان منافع کے اندر شرکت ہی نہیں آئی۔
بھئی دیکھیے نا، ایک فائدہ حاصل ہو رہا ہے، میں اور زید مل کر کاروبار کر رہے ہیں، تو جب مل کر کاروبار کر رہے ہیں، تو جو بھی نفع آئے گا، اس میں ہم دونوں شریک ہوں گے۔ لیکن اگر کوئی رکاوٹ آ جائے کہ جو مال آ رہا ہے، زید اس میں شریک ہی نہیں ہو سکتا، اس کا مالک ہی نہیں بن سکتا، تو شرکت تو ختم ہو گئی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو یہاں پر بھی نکاح کی وجہ سے ایسے فائدے حاصل ہوتے ہیں جن میں میاں اور بیوی دونوں شریک ہوتے ہیں، لیکن جب ان میں سے ایک مملوک ہے، تو وہ اس فائدے کا مالک نہیں بنے گا، جب مالک نہیں بنے گا، تو فائدے کے اندر شرکت نہیں آئے گی، حالانکہ نکاح کی تو اجازت ہی شریعت نے کیوں دی ہے؟ کہ اس میں فائدے میں دونوں شریک ہوتے ہیں۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو جب دونوں فائدے کے اندر شریک نہیں ہو سکتے، تو یہ نکاح بھی جائز نہیں ہو گا، بات سمجھ میں آگئی۔
آگے دیکھیے:
ويجوز تزوج الكتابيات؛ لقوله تعالى: {والمحصنات من الذين اوتوا الكتاب}۔
بھئی، آگے صاحبِ قدوری آپ کو بتلائیں گے کہ کتابیہ عورتوں سے نکاح جائز ہے۔ کتابیہ یعنی اہل کتاب عورتوں سے نکاح جائز ہے، یعنی یہودی اور عیسائی، جو آسمانی دین کو مانتی ہیں اور آسمانی کتاب کو تسلیم کرتی ہیں، ان کے ساتھ نکاح جائز ہے بھئی۔ جبکہ مشرک، بت پرست یا آتش پرست عورتیں جو ہیں، ان کے ساتھ نکاح جائز نہیں، ان کے ساتھ نکاح جائز نہیں جو مشرک ہیں، یا بت پرست ہیں، یا آتش پرست وغیرہ، ان کے ساتھ نکاح جائز نہیں۔ تو غیر مسلم عورتوں میں سے صرف جو اہل کتاب ہیں، یعنی یہودی یا عیسائی ہیں، ان کے ساتھ نکاح جائز ہے، بات سمجھ میں آگئی۔
اور اسی طرح یہ بھی یاد رکھنا کہ آقا کے لیے اپنی باندی سے صحبت جائز ہوتی ہے۔ یاد رکھنا اگر آقا کی باندی غیر مسلم ہے، تو اگر وہ اہل کتاب سے ہے، تو اس کے ساتھ آقا کے لیے صحبت جائز ہوگی، اور اگر وہ مشرکہ ہے یا آتش پرست ہے، تو پھر اس صورت میں یاد رکھو اس کے ساتھ آقا کے لیے صحبت بھی جائز نہیں ہے۔ تو مسلمان کے لیے باندی بھی وہ والی حلال ہے جو یا تو مسلمان ہو یا اہل کتاب ہو بھئی۔
تو کہتے ہیں: ويجوز تزوج الكتابيات، اور جائز ہے نکاح کرنا کتابی عورتوں سے، لقوله تعالى، اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے: {والمحصنات من الذين اوتوا الكتاب}، محصنات شادی شدہ عورتوں کو بھی کہتے ہیں، اور اسی طرح پاکدامن عورتوں کو بھی محصنات کہتے ہیں، تو یہاں یہ پاکدامن کے معنی میں ہے محصنات، {والمحصنات من الذين اوتوا الكتاب}، اور وہ پاکدامن عورتیں ان لوگوں میں سے ہیں جو اہل کتاب ہیں، جن کو کتاب دی گئی۔ دیکھا، اہل کتاب عورتیں جو ہیں، وہ بھی انسان پر حلال ہیں بھئی، یہ ان عورتوں کا ذکر فرما رہے ہیں اللہ جن سے نکاح حلال ہے، تو اللہ کیا فرماتے ہیں: {والمحصنات من الذين اوتوا الكتاب}، اور وہ پاکدامن عورتیں جو کس میں سے ہیں؟ اہل کتاب میں سے ہیں بھئی۔
اور یاد رکھو، یہ جو محصنات کی قید لگائی کہ وہ پاکدامن ہونی چاہییں، یہ قیدِ اتفاقی ہے۔ میں نے بتلایا تھا ایک قیدِ اتفاقی ہوتی ہے، ایک قیدِ احترازی۔ قیدِ احترازی وہ ہے جس کے ذریعے کسی سے احتراز کیا جائے، کسی کو نکالنا مقصود ہو، تو یہاں پر جو محصنات کی قید لگائی گئی، یہ احتراز کے لیے نہیں ہے، اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اگر کوئی عیسائی یا یہودی عورت بدکار ہے، زانیہ ہے، اس سے نکاح نہیں جائز، نہیں، اس سے بھی نکاح جائز ہے۔ اس سے بھی نکاح جائز ہے، تو یہ جو محصنات کی قید آئی، یہ قیدِ احترازی نہیں ہے، قیدِ اتفاقی ہے۔ کیا ہے؟ قیدِ اتفاقی ہے، اور اس کو اس لیے ذکر کیا کیونکہ عام طور پر نکاح پاکدامن عورت سے ہی کیا جاتا ہے بھئی، تو یہ عادۃً چونکہ ایسا ہوتا ہے، اس لیے یہ صفت ذکر کی گئی۔ یا اولویت کو بیان کیا گیا، استحباب کو بیان کیا گیا کہ اگر عیسائی یا یہودی عورت سے نکاح کرنا ہو، تو کس قسم کی عورت سے نکاح کرنا اولیٰ اور افضل ہے؟ پاکدامن کے ساتھ نکاح کرنا اولیٰ اور افضل ہے بھئی، بات سمجھ میں آگئی۔
تو کہتے ہیں: {والمحصنات من الذين اوتوا الكتاب}، اي العفائف، یہ ای العفائف یہ معنی بیان کر رہے ہیں صاحبِ ہدایہ محصنات کا۔ عفائف جمع ہے عفیفہ کی، عفیفہ پاکدامن عورت کو کہتے ہیں، ای العفائف یعنی پاکدامن عورتیں۔ بھئی دراصل صاحبِ ہدایہ یہ محصنات کا معنی العفائف کے ساتھ بیان کر کے احتراز کر رہے ہیں ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی تفسیر سے۔ انہوں نے محصنات کی تفسیر مسلمات کے ساتھ کی ہے کہ محصنات سے کون مراد ہیں؟ مسلمان عورتیں من الذین اوتوا الکتاب، ان لوگوں میں سے جو اہل کتاب، یعنی اہل کتاب میں سے جو مسلمان ہو جائیں، وہ عورتیں مراد ہیں۔ اہل کتاب میں سے جو مسلمان ہو جائیں، وہ عورتیں مراد ہیں، تو تو صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ نہیں، المحصنات سے مراد مسلمات نہیں ہے بلکہ پاکدامن عورتیں ہیں۔ وجہ یہ کہ محصنات کا ترجمہ مسلمات کے ساتھ اگر کیا جائے، تو من الذین اوتوا الکتاب کی قید بے فائدہ ہو جائے گی۔ من الذین اوتوا الکتاب کی قید بے فائدہ ہو جائے گی اس لیے کیونکہ کیا ترجمہ ہوا؟ اور وہ مسلمان عورتیں من الذین اوتوا الکتاب، جو کس میں سے ہوں؟ اہل کتاب میں سے، یعنی اہل کتاب میں سے جو عورتیں مسلمان ہو جائیں، وہ بھی تمہارے لیے حلال ہیں، حالانکہ مسلمان ہونے والی عورت چاہے پہلے اہل کتاب تھی، چاہے پہلے مشرکہ تھی، چاہے پہلے آتش پرست تھی، چاہے بت پرست تھی، جو بھی تھی، جب ایک دفعہ عورت مسلمان ہو گئی ہے، وہ تو ہر حال میں مسلمان کے لیے حلال ہو گئی بھئی۔ تو معلوم ہوا محصنات سے مسلمات مراد نہیں ہے، ورنہ تو من الذین اوتوا الکتاب کی قید بے فائدہ ہو جائے گی۔ جب مسلمان ہو جائیں، تو ہر ایک کے ساتھ نکاح جائز ہے، بات سمجھ میں آگئی۔ تو صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں: اي العفائف، یعنی پاکدامن عورتیں۔
ولا فرق بين الكتابية الحرة والامة على ما نبين ان شاء الله۔
صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلا رہے ہیں کہ کتابیہ آزاد اور باندی کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ اس آیت سے اتنا پتہ چل گیا کہ اہل کتاب عورتیں بھی مسلمان کے لیے حلال ہیں۔ اب چاہے وہ آزاد عورت ہے اہل کتاب یا باندی ہے، دونوں کا ایک ہی حکم ہے۔ اس آیت سے پتہ چل گیا اہل کتاب عورتیں مسلمانوں کے لیے حلال ہیں، تو چاہے وہ آزاد عورت ہے، اس سے مسلمان نکاح کرنا چاہتا ہے، یہودی یا عیسائی ہے اور آزاد عورت ہے، مسلمان اس سے نکاح کرنا چاہتا ہے، کر سکتا ہے، اور اسی طرح اگر وہ عیسائی یا یہودی باندی ہے اور اس کے ساتھ مسلمان نکاح کرنا چاہتا ہے، تو جائز ہے، کیونکہ باندی اور آزاد میں اس معاملے میں کوئی فرق نہیں ہے، بس اہل کتاب عورت حلال ہے اتنا پتہ چل گیا، اب چاہے وہ آزاد ہو یا باندی، دونوں کا یہی حکم ہے۔
جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں نہیں، اہل کتاب باندی کے ساتھ نکاح جائز نہیں۔ اہل کتاب باندی کے ساتھ نکاح جائز نہیں، دو چار سطروں کے بعد صاحبِ ہدایہ اس کی تفصیل بیان کریں گے بھئی، تو وہاں وہ بتلائیں گے کہ یہ جو باندی سے نکاح کی اللہ تعالیٰ نے اجازت دی ہے، یہ ضرورت کی وجہ سے دی ہے، اور ضرورت مسلمان باندی کے ذریعے پوری ہو جاتی ہے، مسلمان باندی سے نکاح کر لے انسان تو اس کی ضرورت پوری ہو گئی، لہٰذا اہل کتاب باندی سے اس کو نکاح کی اجازت نہیں ہوگی۔ جبکہ عند الاحناف چاہے وہ کتابیہ آزاد ہو یا باندی ہو، دونوں برابر ہیں، دونوں سے نکاح جائز ہے بھئی۔
کہتے ہیں: ولا فرق بين الكتابية الحرة والامة، اور کوئی فرق نہیں ہے کتابیہ آزاد عورت میں اور کتابیہ باندی کے اندر، على ما نبين ان شاء الله، بوجہ اس دلیل کے جو ہم بیان کریں گے ان شاء اللہ، چار پانچ سطروں کے بعد صاحبِ ہدایہ پھر بیان کریں گے بھئی۔
آگے دیکھیے:
ولا يجوز تزوج المجوسيات۔
اور جائز نہیں ہے آتش پرست عورتوں سے نکاح کرنا۔ مجوسی عورتیں بھئی، جو آتش پرست ہیں، آگ کی عبادت کرتی ہیں، اور یہ آتش پرست کو یاد رکھو آج کل پارسی کہتے ہیں۔ تو پارسی مذہب کی کوئی عورت ہے، اس کے ساتھ نکاح جائز نہیں ہے بھئی۔
کہتے ہیں: ولا يجوز تزوج المجوسيات، اور جائز نہیں ہے آتش پرست عورتوں سے نکاح کرنا، لقوله عليه السلام، حضور علیہ السلام کے اس قول کی وجہ سے کہ آپ نے فرمایا: ”سنوا بهم سنة اهل الكتاب“۔ سنو بھم، سنّ یسنّ کا معنی ہے سلوک کرنا، معاملہ کرنا۔ سنو بھم کہ تم لوگ معاملہ کرو ان ان مجوسیوں سے، سنة اهل الكتاب، اہل کتاب والا معاملہ۔ یعنی جیسے اہل کتاب غیر مسلموں سے تم معاملہ کرتے ہو، وہی اسی قسم کا معاملہ، اسی قسم کا سلوک تم ان مجوسیوں سے بھی کرو۔ لیکن ایک فرق ہے کہ اہل کتاب کی عورتوں سے نکاح جائز ہے اور اسی طرح اہل کتاب کا ذبیحہ بھی حلال ہے، لیکن یہ جو مجوسی ہیں، ان کی عورتوں سے نکاح بھی جائز نہیں اور ان کا ذبیحہ بھی حلال نہیں۔ تو باقی ان کے ساتھ اسی طرح کا معاملہ کرو جس طرح کا تم اہل کتاب سے کرتے ہو۔
جیسے اہل کتاب کو تم لوگ امان دے سکتے ہو، وہ مامون ہو جاتا ہے جب آپ اس کو امان دے دیتے ہیں، مثلاً دار الحرب سے آیا، آپ نے اس کو امان دے دی، تو کیا بن گیا؟ مامون ہو گیا۔ یا اسی طرح اہل کتاب جیسے آپ کے وطن میں جزیہ دے کر مامون ہو جاتے ہیں، جزیہ یعنی سالانہ ٹیکس دیتے ہیں اور پھر وہ ذمی کہلاتے ہیں اور اسلامی حکومت ان کے جان و مال کی حفاظت کی ذمہ دار بن جاتی ہے۔ اسلامی حکومت ان کے جان و مال کی حفاظت کی ذمہ دار بن جاتی ہے، اس لیے یہ ذمی کہلاتے ہیں۔ تو جیسے اہل کتاب کے لیے ذمی ہونا جائز ہے، اسی طرح اس مجوسی کو ذمی بنانا بھی جائز ہے، ان کے ساتھ اہل کتاب والا ہی معاملہ کیا جائے گا، سوائے نکاح اور ذبیحے کے حلال ہونے کے۔
تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”سنوا بهم سنة اهل الكتاب“، کہ تم مجوسیوں کے ساتھ وہ سلوک کرو، وہ معاملہ کرو جو تم اہل کتاب کے ساتھ سلوک کرتے ہو، غیر ناکحی نسائهم ولا اكلی ذبائحهم، علاوہ اس کے کہ نکاح کرو ان کی عورتوں سے، ولا اكلی ذبائحهم، اور علاوہ اس کے کہ تم ان کے ذبیحے کو کھاؤ۔ یعنی ان کی عورتوں سے نکاح کرنے اور ان کے ذبیحے کو کھانے کے علاوہ، باقی معاملات میں ان کے ساتھ اہل کتاب جیسا معاملہ کرو۔
ناکحی اصل میں تھا ناکحین، اسم فاعل ہے نا، ناکح نکاح کرنے والا، ناکحون حالتِ رفعی میں واؤ نون کے ساتھ، اور حالتِ نصبی جری میں ناکحین، اور پھر یہ نون جمع کا اور تثنیہ کا جو ہوتا ہے وہ اضافت سے گر جاتا ہے، تو یہ ناکحین تھا پھر نون گر گیا ناکحی نسائھم، علاوہ اس کے کہ ان کی عورتوں سے نکاح کرو، ولا اکلی، اکلی یہ اصل میں تھا اکلین، جمع مذکر سالم ہے، اکلون حالتِ رفعی میں اور اکلین حالتِ نصبی جری میں، اور پھر نون اضافت سے گر گیا۔ تو غیر ناکحی نسائهم علاوہ اس کے کہ ان کی عورتوں سے نکاح کرو، ولا اكلی ذبائحهم اور علاوہ اس کے کہ ان کے ذبیحے کو کھاؤ۔
آگے دیکھیے:
قال: ولا الوثنيات؛ لقوله تعالى: {ولا تنكحوا المشركات حتى يؤمن}۔
قال، میں نے آپ کو بتلایا کہ بھئی یہ متن سے پہلے جگہ جگہ قال ذکر ہوگا، اور یہ اکثر عبارتیں کس کی ہیں؟ قدوری کی، تو یہ قال سے صاحبِ قدوری مراد ہوں گے، اور بعض جگہ جامعِ صغیر سے بھی صاحبِ ہدایہ متن لیتے ہیں اور جامعِ صغیر امام محمد رحمہ اللہ کی کتاب ہے۔ تو کبھی اس قال سے مراد صاحبِ قدوری ہوں گے اور کبھی اس قال سے مراد امام محمد ہوں گے بھئی۔ تو یہ جو آگے عبارت آ رہی ہے ولا الوثنیات، یہ قدوری کی عبارت ہے، تو یہ قال کے اندر ضمیر کس کو راجع؟ صاحبِ قدوری کو۔
قال، صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ولا الوثنيات، اور نہ ہی بت پرست عورتوں سے۔ وہ عورتیں جو بتوں کی عبادت کرتی ہیں، ان سے بھی نکاح جائز نہیں ہے، لقوله تعالى، اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے: {ولا تنكحوا المشركات حتى يؤمن}، اور تم لوگ نکاح نہ کرو مشرکہ عورتوں سے، حتی يؤمن یہاں تک کہ وہ ایمان لے آئیں۔ مشرکہ عورتوں سے بھی نکاح جائز نہیں یہاں تک کہ وہ ایمان لے آئیں، جب وہ مسلمان ہو گئیں اب ان کے ساتھ نکاح جائز ہے بھئی۔ اور حتی يؤمن، یہاں نون مشدد ہے بھئی، تو یہ نونِ ثقیلہ نہ سمجھنا بھئی، ایک تو آمن یؤمن کا اپنا نون ہے اور ایک نون جمع مؤنث کی ضمیر ساتھ مل گئی، تو دو نون جمع ہوئے تو ان کا ادغام کر دیا گیا، تو کیا بن گیا؟ حتی يؤمن، یہاں تک کہ وہ عورتیں ایمان لے آئیں بھئی۔ اور میں نے آپ کو بتلایا کہ جیسے آتش پرست اور مشرکہ عورتوں سے نکاح جائز نہیں، اسی طرح آتش پرست اور مشرکہ باندیوں سے آقا کے لیے صحبت بھی جائز نہیں ہے بھئی۔
آگے دیکھیے:
ويجوز تزوج الصابئيات ان كانوا يؤمنون بدين ويقرون بكتاب۔
آگے صابی عورتوں کا مسئلہ آیا۔ یاد رکھو، صابی عورتیں ان کے بارے میں اختلاف ہے۔ امام صاحب، امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں صابی عورتوں سے نکاح جائز ہے، جبکہ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں صابی عورتوں کے ساتھ نکاح جائز نہیں بھئی۔ وجہ یہ کہ امام صاحب کی تحقیق کے مطابق صابی جو ہیں، صابی یہ یہودیوں یا عیسائیوں سے نکلا ہوا ہی ایک گروہ ہے۔ یہ یہ وہ لوگ ہیں جو یہودی یا عیسائی تھے اور ان سے پھر الگ ہو گئے، اپنا الگ گروہ بنا لیا، الگ فرقہ بنا لیا، اور یہ لوگ ستاروں کی تعظیم کرتے ہیں۔
آگے چل کر بتلائیں گے صاحبین کے نزدیک یہ صابی ستاروں کی عبادت کرتے ہیں، باقاعدہ عبادت۔ امام صاحب فرماتے ہیں نہیں، امام صاحب کی تحقیق کے مطابق یہ ستاروں کی تعظیم کرتے ہیں، ستاروں کی عبادت نہیں کرتے۔ یہ اسی طرح ہے جیسے مسلمان بیت اللہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے ہیں۔ اب دیکھو، بیت اللہ کی طرف رخ کر کے ہم نماز پڑھتے ہیں، سجدہ کرتے ہیں، تو دیکھو اس میں بیت اللہ کی تعظیم ہے، اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم بیت اللہ کی عبادت کر رہے ہیں۔ اگر کسی کے ذہن میں یہ بات آتی ہے کہ ہم بیت اللہ کی عبادت کر رہے ہیں، بیت اللہ ہمارا معبود ہے، پھر تو وہ اسلام سے ہی نکل گیا بھئی۔ تو جس طرح مسلمان بیت اللہ کی تعظیم کرتے ہیں، اسی طرح یہ صابی بھی ستاروں کی تعظیم کرتے ہیں اور یہ یہودیوں یا عیسائیوں سے جدا ہونے والا ایک گروہ ہے، تو یہ اہل کتاب ہیں بھئی، اور اہل کتاب کے ساتھ تو نکاح جائز ہے بھئی۔ قرآن میں اللہ کیا فرماتے ہیں: {والمحصنات من الذين اوتوا الكتاب}، تو یہ ان میں داخل ہیں بھئی۔
جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ نہیں، یہ صابی جو ہیں یہ ستاروں کی باقاعدہ عبادت کرتے ہیں، ستاروں کے لیے جو سجدہ کرتے ہیں وہ تعظیم کے طور پر نہیں کرتے بلکہ ان کی باقاعدہ عبادت کرتے ہیں، ستاروں کو اپنا معبود سمجھتے ہیں، تو یہ مشرک ہوئے اور جب مشرک ہوئے تو ان کے ساتھ نکاح جائز نہیں بھئی۔
دیکھیے بھئی، کہتے ہیں: ويجوز تزوج الصابئيات، اور جائز ہے صابی عورتوں سے نکاح کرنا، ان كانوا يؤمنون بدين، اگر صابی جو ہیں وہ ایمان رکھتے ہیں کسی دین پر، ويقرون بكتاب، اور اقرار کرتے ہیں کسی کتاب کا۔ یعنی صابیوں کے بارے میں دیکھا جائے گا۔ صاحبین اور امام صاحب میں تو اختلاف آ گیا، امام صاحب کی تحقیق اور، صاحبین کی تحقیق اور۔ تو ان کے بارے میں غور کیا جائے گا، دیکھا جائے گا کہ یہ ستاروں کی صرف تعظیم کرتے ہیں یا ان کی عبادت کرتے ہیں؟ اور نیز کیا یہ کسی آسمانی دین کو مانتے ہیں اور کسی کتاب کو مانتے ہیں یا نہیں؟ اگر آسمانی دین کو اور کتاب کو مانتے ہیں اور صرف ستاروں کی تعظیم کرتے ہیں، تو یہ اہل کتاب میں سے ہوئے، تو ان سے نکاح جائز ہوگا، اور اگر یہ ستاروں کی عبادت کرتے ہیں اور کوئی کتاب وغیرہ نہیں مانتے، تو معلوم ہوا یہ ان کے ساتھ پھر نکاح جائز نہیں، پھر یہ اہل کتاب میں داخل نہیں۔
تو کہتے ہیں: ان كانوا يؤمنون بدين، اگر یہ کسی دین پر ایمان رکھتے ہیں، ويقرون بكتاب، اور کسی کتاب کا اقرار کرتے ہیں، تو ان سے نکاح جائز ہے، لانهم من اهل الكتاب، کیونکہ یہ اہل کتاب میں سے ہیں، وان كانوا يعبدون الكواكب، اور اگر یہ لوگ ستاروں کی عبادت کرتے ہیں، ولا كتاب لهم، اور ان کی کوئی کتاب نہیں ہے، فلم تجز مناكحتهم، تو ان کے ساتھ باہم نکاح جائز نہیں، لانهم مشركون، کیونکہ یہ لوگ مشرک ہیں، والخلاف المنقول فيهم محمول على اشتباه مذهبهم، اور وہ جو اختلاف نقل کیا گیا ہے صابی کے بارے میں، کس کا؟ صاحبین اور امام صاحب کا، کہتے ہیں یہ: محمول على اشتباه مذهبهم، یہ محمول ہے ان کے مذہب کے مشتبہ ہونے پر۔ یعنی ان کے مذہب میں چونکہ اشتباہ ہے، اس لیے صاحبین اور امام صاحب کا اختلاف آیا ہے، ان کا مذہب پوری طرح واضح نہیں ہے۔
پھر ترجمہ دیکھ لیجیے، کہتے ہیں: والخلاف المنقول فيهم محمول على اشتباه مذهبهم، اور وہ اختلاف جو ان کے بارے میں نقل کیا گیا ہے، وہ محمول ہے ان کے مذہب کے مشتبہ ہونے پر، فكل اجاب على ما وقع عنده، فكل اجاب، تو ہر ایک نے جواب دیا، یعنی امام صاحب نے اور صاحبین نے، ان میں سے ہر ایک نے جواب دیا، على ما وقع عنده، اسی کے مطابق جو اس کے نزدیک واقع ہے، وقع عنده اي ثبت عنده، جو اس کے نزدیک ثابت ہے۔ امام صاحب کے نزدیک جو ثابت تھا، انہوں نے اس کے مطابق جواب دیا کہ یہ اہل کتاب ہیں لہٰذا نکاح جائز، صاحبین کے نزدیک جو ثابت تھا، اس کے مطابق انہوں نے جواب دیا کہ یہ ستاروں کی عبادت کرتے ہیں، مشرک ہیں، ان سے نکاح جائز نہیں۔ یہ معنی ہے: فكل اجاب على ما وقع عنده، تو ہر ایک نے جواب دیا جو اس کے نزدیک ثابت تھا، وعلى هذا حال ذبيحتهم، اور اسی پر ان کے ذبیحے کا حال بھی ہے، یعنی ان کے بارے میں دیکھا جائے گا، اگر یہ اہل کتاب میں سے ہیں اور ستاروں کی عبادت نہیں کرتے، صرف تعظیم کرتے ہیں، تو ان کا ذبیحہ حلال ہوگا، اور اگر یہ مشرکین میں سے ہیں، تو پھر ان کا ذبیحہ حلال نہیں ہوگا۔
آگے دیکھیے:
قال: ويجوز للمحرم والمحرمة ان يتزوجا في حالة الاحرام۔
یاد رکھو بھئی، محرم وہ شخص جو حالتِ احرام میں ہے۔ عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں کہ احرام ان دو چادروں کا نام ہے، وہ جو حج یا عمرے پر جانے والا دو چادریں باندھ لیتا ہے، لوگ سمجھتے ہیں شاید اس کا نام احرام ہے۔ نہیں نہیں، اس کو بھی ویسے احرام کہہ دیتے ہیں، لیکن اصل میں احرام انسان کی حالت کا نام ہے، کس کا نام ہے؟ حالت کا نام ہے۔ جیسے اس وقت ہم حالتِ احرام میں نہیں ہیں، تو اس کو کہیں گے حلال، ہم حلال حالت میں ہیں۔ حلال حالت میں ہمارے اوپر عام چیزوں میں کوئی پابندی نہیں۔ لیکن جب انسان احرام باندھ لیتا ہے، یعنی احرام کی نیت کر لیتا ہے حج یا عمرے پر جانے کے لیے، تو شرعاً اس پر بہت سی پابندیاں آ جاتی ہیں۔ مثلاً، وہ اپنے ناخن نہیں کاٹ سکتا، وہ اپنے بال نہیں کاٹ سکتا، اب وہ خوشبو نہیں لگا سکتا، اب وہ بیوی سے صحبت نہیں کر سکتا، شہوت سے بیوی کو ہاتھ بھی نہیں لگا سکتا، بات سمجھ میں آگئی؟ تو دیکھو، یہ وہ چیزیں تھیں جو عام حالت کے اندر جائز تھیں، لیکن احرام کے اندر ان کی پابندی آ گئی، انسان پر یہ پابندی لگ گئی۔
تو اسی احرام کی حالت میں سلے ہوئے کپڑے پہننا منع ہے کہ مرد سلے ہوئے کپڑے نہیں پہن سکتا۔ عورت کے تو وہی جو عام استعمال کے کپڑے ہیں، انہی میں احرام ہو جائے گا، لیکن مرد جو ہے سلے ہوئے کپڑے نہیں پہن سکتا، احرام کے اندر یہ پابندی مرد پر آ جاتی ہے۔ تو لہٰذا اس لیے وہ دو چادریں باندھتا ہے، اور لوگ سمجھتے ہیں شاید ان ہی دو چادروں کا نام احرام ہے۔ ان چادروں کو بھی احرام کہہ دیتے ہیں، لیکن حقیقت میں احرام اس آدمی کی حالت کا نام ہے جس میں وہ داخل ہو چکا ہے اور اس پر پابندیاں لگ چکی ہیں، اب جب تک وہ حج یا عمرہ کے افعال سرانجام دے کر ان کو پورا نہیں کرے گا اور پھر حلال نہیں ہوگا، تب تک وہ پابندیاں برقرار رہیں گی بھئی۔
تو اب یہ حالتِ احرام کے اندر کوئی شخص نکاح کرنا چاہے، تو کیا نکاح کر سکتا ہے یا نہیں؟ تو عند الاحناف، یاد رکھو محرم شخص نکاح کر سکتا ہے۔ محرم شخص نکاح کر سکتا ہے، اس لیے کیونکہ نکاح صرف ایجاب اور قبول کا نام ہے، مرد مثلاً کہتا ہے کسی عورت سے میں نے تم سے نکاح کر لیا اور وہ عورت کیا کہتی ہے؟ میں نے قبول کیا، تو صرف اس ایجاب اور قبول کا نام ہے نکاح بھئی۔ اور جیسے محرم بیع وغیرہ عقد کر سکتا ہے، محرم بیع وغیرہ کر سکتا ہے، تو جیسے بیع ایک عقد کا نام ہے، ایجاب اور قبول کا نام ہے، اسی طرح نکاح بھی ایجاب اور قبول کا نام ہے، تو جب وہ بیع کر سکتا ہے تو نکاح بھی کر سکتا ہے، بات سمجھ میں آ رہی ہے۔
جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک محرم نکاح نہیں کر سکتا بھئی۔ اصل میں اس سلسلے میں اختلاف جو ہے وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے جو نکاح فرمایا، اس کے بارے میں مختلف روایات ملتی ہیں بھئی۔ بعض روایات سے پتہ چلتا ہے کہ حضور علیہ السلام اس وقت حالتِ احرام میں تھے۔ اور بعض روایات سے پتہ چلتا ہے کہ حضور علیہ السلام اس وقت حالتِ احرام میں نہیں تھے، حضور علیہ السلام حلال تھے بھئی۔ تو ہم نے احرام والی روایات کو ترجیح دی کہ حضور دیکھو احرام میں تھے، پھر بھی نکاح فرما رہے ہیں، تو معلوم ہوا نکاح جائز ہے۔ اور شوافع نے ان روایات کو ترجیح دی جن سے پتہ چل رہا ہے کہ حضور علیہ السلام حلال تھے، تو وہ کہتے ہیں دیکھا حضور حلال تھے، اس وقت نکاح فرمایا ہے، احرام کی حالت میں نکاح نہیں کر سکتا انسان۔
اور بھی ان کے دلائل ہیں، یاد رکھیے بھئی، صاحبِ ہدایہ کا طریقہ یہ ہے کہ وہ کسی بھی فریق کے سارے دلائل ذکر نہیں کرتے بھئی، کوئی ایک آدھ موٹی سی دلیل ذکر کر دیتے ہیں قرآن یا حدیث سے، اور پھر ساتھ اگر قیاس وغیرہ سے بھی یعنی کوئی عقلی دلیل بھی ہو تو اس کو بھی ساتھ ذکر کر دیتے ہیں، تو اس کا یہ معنی نہیں کہ ان کے پاس یہی دلائل ہیں، اور دلائل نہیں۔ ان کے پاس اور بھی دلائل ہیں، اور نیز اسی طرح ہمارے پاس بھی صرف یہی دلائل نہیں ہیں جو یہاں صاحبِ ہدایہ ذکر فرماتے ہیں، ہمارے پاس بھی اور بہت سے دلائل ہوتے ہیں، بات سمجھ میں آگئی۔
تو حاصل کلام کیا ہوا؟ ہمارے نزدیک محرم نکاح کر سکتا ہے، ہاں بیوی سے صحبت نہیں کر سکتا، صحبت احرام کی حالت میں منع ہے، بلکہ شہوت کے ساتھ بیوی کو چھونا بھی منع ہے میں نے بتلا دیا بھئی۔ لیکن نکاح، وہ تو صرف ایجاب اور قبول کا نام ہے، وہ ایک عقد کا نام ہے، زبان سے صرف کیا جائے گا، اس کے کرنے میں کوئی رکاوٹ اور ممانعت نہیں ہے بھئی۔
قال، صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ويجوز للمحرم والمحرمة ان يتزوجا في حالة الاحرام، اور جائز ہے محرم مرد اور محرم عورت کے لیے کہ وہ دونوں نکاح کریں فی حالة الاحرام، احرام کی حالت میں۔ وقال الشافعي رحمه الله: لا يجوز، اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جائز نہیں ہے، یعنی محرم مرد اور محرم عورت نکاح نہیں کر سکتے۔ وتزويج الولي المحرم وليته على هذا الخلاف، اور ولیِ محرم کا نکاح کروانا ولیته اپنی مولیہ کا علی ھذا الخلاف، وہ بھی اسی اختلاف پر ہے۔ یعنی جیسے محرم اپنا نکاح خود نہیں کر سکتا، اسی طرح اپنی مولیہ کا نکاح بھی خود نہیں کروا سکتا۔
بھئی دیکھو، ولایت کہتے ہیں کسی پر اختیار حاصل ہونا۔ باپ کو شریعت نے اختیار دیا ہے کہ وہ اپنے نابالغ بچوں کا نکاح جہاں چاہے وہ کروا سکتا ہے، اس کو کہتے ہیں ولایت۔ یہ جو کسی دوسرے فرد پر شریعت کسی کو اختیار دے دیتی ہے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ ولایت۔ تو جس کو اختیار دیا، وہ کہلاتا ہے ولی، تو باپ کیا ہوا اپنی نابالغ اولاد پر؟ ولی ہوا بھئی۔ اور یہ ولی یہ حالتِ احرام میں ہے اور یہ اپنے کسی نابالغ صغیر یا صغیرہ کا نکاح کروانا چاہتا ہے حالتِ احرام میں، تو امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک جیسے محرم اپنا نکاح خود نہیں کر سکتا، اسی طرح وہ اپنے اپنے صغیر یا صغیرہ کا نکاح بھی نہیں کروا سکتا، اس کے لیے یہ جائز نہیں ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: وتزويج الولي المحرم وليته، ولی، میں نے بتلایا بھئی جس کو ولایت حاصل ہو، اس کو کیا کہتے ہیں؟ ولیّ، یہ صفتِ مشبہ ہے فعیل وزن پر، اصل میں کیا ہے؟ ولییٌ، فعیلٌ، پھر دو یا جمع ہوئیں تو یا کا یا میں ادغام کر دیا گیا تو کیا بن گیا؟ ولیّ بھئی۔ اور آگے ہے ولیتہ، اسی ولی کی مؤنث ولیہ ہے اور یہ ولیہ یاد رکھو یہاں مولیہ کے معنی میں ہے۔ بھئی ولی کسے کہتے ہیں؟ جس کو اختیار حاصل ہے، اسی سے مؤنث بنا لو ولیہ بھئی، گول تا ساتھ ملا دو، تو اس کا بھی کیا معنی؟ وہ عورت جس کو اختیار حاصل ہے، لیکن یہاں ولیہ بمعنی مولیہ کے ہے، یعنی جس پر اختیار حاصل ہے، یعنی جس پر اختیار۔ ایک وہ ہے جس کو اختیار حاصل ہے، ایک وہ ہے جس پر اختیار حاصل ہے، تو یہاں ولیہ بول کر مولیہ مراد ہے بھئی۔ بھئی جس کو اختیار حاصل ہے، وہ ہوا ولی، اور جس پر اختیار حاصل ہو، اس کو کہتے ہیں مولیّ، مولیّ اسمِ مفعول ہے بھئی، رمی یرمی رمیاً فھو رامٍ ورمی یرمی رمیاً فذاک مرمِیٌّ، مولیٌّ، دیکھا یہ اسمِ مفعول ہے بھئی، یعنی جس پر ولایت دی گئی ہے۔ مولیّ جس کے اوپر ولایت کسی کو دی گئی ہے، وہ مولیّ ہے، تو یہاں ولیہ بول کر کیا مراد ہے؟ مولیہ مراد ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: وتزويج الولي المحرم وليته، اور نکاح کروانا ولیِ محرم کا ولیتہ اپنی مولیہ کا، ولیِ محرم اپنی مولیہ کا نکاح کروائے، وہ بھی: على هذا الخلاف، وہ بھی اس اختلاف پر ہے۔ ہمارے نزدیک ولیِ محرم اپنا نکاح کر سکتا ہے، تو اپنی مولیہ کا بھی نکاح کروا سکتا ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک ولیِ محرم اپنا نکاح نہیں کر سکتا، تو اپنی مولیہ کا نکاح بھی نہیں کروا سکتا۔
لہ، اب امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل ذکر کر رہے ہیں، کہتے ہیں: له قوله عليه السلام، امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل حضور علیہ السلام کا یہ قول ہے، حضور علیہ السلام نے فرمایا: ”لا يَنكِح المحرم ولا يُنكِح“۔ ”لا يَنكِح المحرم“، محرم نکاح نہیں کر سکتا، ”ولا يُنكِح“، اور نہ نکاح کروا سکتا ہے۔ محرم نہ تو خود نکاح کر سکتا ہے اور نہ کسی دوسرے کا نکاح کروا سکتا ہے۔
تو دیکھو، یہاں پر نفی ہے۔ ایک ہوتی ہے نفی اور ایک ہے نہی۔ نہی وہ ہے جس میں کسی کو کسی کام سے روکا جائے، ”لا تضرب“، تو پٹائی نہ کر، یہ دیکھو روکا جا رہا ہے۔ اور ایک ہے نفی، جس میں ایک چیز کی صرف نفی کو بیان کیا جاتا ہے، ”لا يضرب زيد“، زید پٹائی نہیں کر رہا، زید پٹائی نہیں کر رہا، دیکھا روکا نہیں جا رہا بلکہ صرف بیان کیا جا رہا ہے۔ تو یہاں پر حدیث میں جو آئی، یہ ہے نفی، لیکن یہ نہی کے حکم میں ہے۔ محرم نکاح نہیں کر سکتا یعنی محرم نکاح نہ کرے، ”ولا يُنكِح“ اور نہ نکاح کروائے بھئی، تو یہ نفی کس معنی میں ہے؟ نہی کے معنی میں ہے۔ اور یاد رکھو، نفی جو ہے وہ نہی کے لیے استعمال ہوتی ہے، بلکہ جب مقام ہو نہی کا اور استعمال کر لیا جائے نفی کو، تو اس کے اندر زیادہ زور آ جاتا ہے۔ اس میں زیادہ زور آ جاتا ہے۔
دیکھو، مثلاً آپ کسی سے کہتے ہیں یہ کام نہ کرو، ہو سکتا ہے وہ کرے، ہو سکتا ہے نہ کرے، آپ نے تو منع کر دیا، لیکن ہو سکتا ہے وہ کرے، ہو سکتا ہے نہ کرے۔ لیکن جب آپ نفی کرتے ہیں، بھئی اس کام کی کوئی گنجائش ہی نہیں ہے، دیکھا، آپ نے روکا نہیں ہے، روکا نہیں ہے، آپ نے صرف نفی بیان کی ہے، اس کام کی کوئی گنجائش ہی نہیں ہے، دیکھو اس کے اندر زور زیادہ ہے روکنے سے، بات سمجھ میں آگئی کہ کوئی گنجائش ہی نہیں ہے، کوئی صورت ہی نہیں ہے اس کام کے کرنے کی بھئی۔ تو اس کے اندر زیادہ زور اور تاکید ہوتی ہے۔ تو حضور فرماتے ہیں: ”لا يَنكِح المحرم ولا يُنكِح“، نہ تو محرم نکاح کر سکتا ہے اور نہ کسی دوسرے کا نکاح کروا سکتا ہے۔
ولنا، اب ہماری دلیل آ گئی: ولنا ما روي انه عليه السلام تزوج بميمونة رضي الله تعالى عنها وهو محرم، ہماری دلیل وہ حدیث ہے جس کے روایت کیا گیا ہے کہ حضور علیہ السلام نے نکاح فرمایا ام المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے، یہ حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی خالہ تھیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: ما روي انه عليه السلام تزوج بميمونة وهو محرم، کہ وہ جو روایت کیا گیا ہے کہ حضور علیہ السلام نے حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے نکاح فرمایا وهو محرم، اس حال میں کہ حضور محرم تھے، دیکھا حالتِ احرام میں نکاح فرمایا۔
وما رواه محمول على الوطء، اب جواب دے رہے ہیں امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل کا، وما رواه، اور وہ حدیث جس کو امام شافعی رحمہ اللہ نے روایت کیا، محمول على الوطء، وہ محمول ہے وطی پر، یعنی وہاں نکاح سے وطی مراد ہے۔ ”لا يَنكِح المحرم“، محرم وطی نہیں کر سکتا، صحبت نہیں کر سکتا، اور یہ تو ہم بھی کہتے ہیں بھئی۔ عقد کر سکتا ہے کیونکہ وہ تو صرف ایجاب اور قبول کا نام ہے، اس میں تو کوئی ممنوع چیز نہیں، زبان سے صرف نکاح کرنا ہے، اور باقی وطی احرام کے اندر منع ہوتی ہے، تو اس سے منع کیا جا رہا ہے حدیث کے اندر۔ اور آپ پڑھ چکے ہیں شروع میں میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ نکاح کا لغوی معنی کیا ہے؟ بعضوں نے کہا اس کا لغوی معنی وطی کے ہیں، اور بعض کے نزدیک اس کا لغوی معنی عقد کے ہیں، یہ جو عقد کیا جاتا ہے ایجاب اور قبول۔ تو معلوم ہوا نکاح کا لغوی معنی وطی بھی ہے، تو یہاں یہ وطی کے معنی میں ہے۔
تو اب ہمارے نزدیک حدیث کا ترجمہ سنو بھئی: ”لا يَنكِح المحرم“، محرم وطی نہیں کر سکتا، ”ولا يُنكِح“، اور نہ وطی کروا سکتا ہے۔ نہ خود وطی کر سکتا ہے اور نہ وطی کروا سکتا ہے۔ اب سوال پیدا ہوا، خود وطی نہ کرنا یہ تو معلوم ہے، ظاہر ہے معنی، لیکن وطی کروا نہیں سکتا، اس کا کیا معنی ہوا؟ تو اس کا جواب بھی دیتے ہیں شارحین بھئی، وہ کہتے ہیں کہ یہاں وطی کروانے سے مراد ہے وطی پر قدرت دینا۔ محرم نہ خود وطی کر سکتا ہے، نہ وطی پر قدرت دے سکتا ہے۔ نہ وطی پر قدرت دے سکتا ہے۔ تو سوال: یہ معنی آپ نے کہاں سے نکال لیا کہ قدرت نہیں دے سکتا؟ کہتے ہیں بھئی دیکھو، طعم یطعم طعاماً کا معنی ہے خود کھانا کھانا، اور اطعم یطعم اطعاماً کا معنی ہے دوسرے کو کھانا کھلانا۔ کوئی شخص آ کر کہتا ہے بھئی میں نے فلاں کو اج کھانا کھلایا، تو آپ اس کا کیا معنی سمجھتے ہیں؟ کہ اس نے ایک ایک لقمہ توڑ کر اس کے منہ میں ڈالا؟ نہیں، بلکہ اس نے اس کو کھانے پر قدرت دی، طعام لا کر اس کے سامنے رکھ دیا کہ لو کھاؤ بھئی، تو کھانے پر قدرت دینے کے لیے آتا ہے اطعام، دوسرے کو کھلانا، بات سمجھ میں آگئی۔ یہاں بھی انکح ینکح کا کیا معنی ہے؟ وطی کروانا یعنی دوسرے کو وطی پر قدرت دینا، یعنی محرم نہ خود وطی کر سکتا ہے، نہ دوسرے کو وطی پر قدرت دے سکتا ہے، یعنی میاں بیوی ایک دوسرے کو وطی پر قدرت نہیں دے سکتے جب حالتِ احرام میں ہوں بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو ایک یہ جواب۔
تو کہتے ہیں: وما رواه محمول على الوطء، اور وہ حدیث جس کو امام شافعی رحمہ اللہ نے روایت کیا، وہ وطی پر محمول ہے، کہ اس کے اندر نکاح سے کیا مراد ہے؟ وطی مراد ہے۔
یا ہم یہ کہتے ہیں کہ اگر نکاح سے نکاح ہی مراد لے لیں، وطی مراد نہ لیں بلکہ عقد ہی مراد لیں، تو اس صورت میں اس میں اولویت کی نفی کی جا رہی ہے، افضلیت کی نفی کی جا رہی ہے کہ محرم کے لیے نکاح کرنا افضل نہیں ہے، اولیٰ نہیں ہے، حلال ہونے کے بعد نکاح کرنا چاہیے، تو صرف اولویت کی نفی ہے۔ اس کا یہ معنی نہیں کر ہی نہیں سکتا، کرے گا تو ہو جائے گا لیکن اولیٰ اور بہتر نہیں ہے بھئی کہ محرم نکاح کرے یا نکاح کروائے بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی، حل ہو گیا۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله اعلم بحقيقة الكلام۔