Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء ثاني · dars-013

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Muhammad Ghayyas
📍 Location Lahore, Pakistan
📅 Approved Date 08 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 27
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
دیکھیے بھئی سبق کتاب پر: ”ومن مسته امرأة بشهوة حرمت عليه أمها وبنتها، وقال الشافعي رحمه الله: لا تحرم، وعلى هذا الخلاف مسه امرأة بشهوة ونظره إلى فرجها ونظرها إلى ذكره عن شهوة“. گزشتہ سبق میں حرمتِ مصاہرت کا مسئلہ صاحبِ ہدایہ نے بیان فرمایا تھا۔ آپ نے پڑھا کہ میاں بیوی پر ایک دوسرے کے اصول اور فروع حرام ہوتے ہیں۔ نکاح کرتے ہی بیوی کے اصول حرام ہو گئے، اور جب صحبت کر لے گا تو بیوی کے فروع بھی حرام ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح خاوند کے جو اصول اور فروع ہیں وہ بھی بیوی پر حرام ہیں۔ تو میاں بیوی کے اصول اور فروع ایک دوسرے پر حرام ہو جاتے ہیں اور اس کو کہتے ہیں حرمتِ مصاہرت بھئی۔ حرمت کا معنی ہے حرام ہونا، یا حرمت کا معنی کر لیں احترام بھئی، اور مصاہرت کہتے ہیں سسرالی رشتے کو۔ تو حرمتِ مصاہرت کا معنی ہوا سسرالی رشتوں کا حرام ہونا، یا یوں کہہ لیں سسرالی رشتوں کا احترام۔ تو ہمارے نزدیک جیسے حلال وطی جو ہے وہ حرمتِ مصاہرت کا سبب بنتی ہے اسی طرح حرام وطی، یعنی اگر کوئی زنا بھی کرے گا تو واطی اور موطوءہ پر ایک دوسرے کے اصول اور فروع حرام ہو جائیں گے۔ اصول اور فروع حرام ہو جائیں گے حرمتِ مصاہرت کی وجہ سے۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حرام وطی یعنی زنا جو ہے وہ تو فعلِ محظور ہے بھئی، وہ تو فعلِ ممنوع ہے اور حرمتِ مصاہرت وہ تو ایک نعمت ہے، سسرالی رشتوں کا ملنا اور سسرالی رشتوں کا بننا ایک نعمت ہے، اور فعلِ ممنوع اور فعلِ حرام جو ہے وہ سزا کا مستحق ہوتا ہے اس پر انعام نہیں مل سکتا۔ جبکہ ہمارے فقہاء فرماتے ہیں کہ نہیں، زنا جو ہے اس کی وجہ سے بھی حرمتِ مصاہرت آ جائے گی، بلکہ زنا چھوڑیے، دواعیِ زنا جو ہیں ان کی وجہ سے بھی حرمتِ مصاہرت آ جائے گی۔ دواعیِ زنا یعنی وہ چیزیں جو زنا کی طرف لے جانے والی ہیں، یعنی شہوت سے عورت کو ہاتھ لگا دیا بغیر حائل کے، درمیان میں کوئی کپڑا وغیرہ نہیں تھا، یا اسی طرح عورت کا بوسہ لے لیا تو یہ سب دواعیِ وطی ہیں، یہ وطی کی طرف لے جانے والے ہیں لہٰذا ان کی وجہ سے بھی حرمتِ مصاہرت آ جائے گی۔ اور ہمارے فقہاء نے غور کیا اس کے اندر کہ یہ جو میاں بیوی کے اصول اور فروع ایک دوسرے پر حرام ہوتے ہیں اس کی وجہ کیا ہے؟ تو علت یہ معلوم ہوئی کہ یہ میاں بیوی کے درمیان جو وطی ہے یہ پہنچانے والی ہے ولد تک، یہ سبب ہے ولد کا، اور ولد جو ہے وہ اس کے اندر میاں بیوی دونوں کے جز اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ وہ ولد جز ہوتا ہے خاوند کا بھی اور وہ ولد جز ہوتا ہے بیوی کا بھی۔ تو اسی لیے تو دونوں میں سے ہر ایک کی طرف اس کی نسبت کر دیتے ہیں پورے بچے کی، کبھی کیا کہتے ہیں یہ بچہ مثلاً زید کا ہے، پورے بچے کی نسبت زید کی طرف کر دی، اور کبھی پورے بچے کی نسبت جو ہے اس کی ماں کی طرف کر دی جاتی ہے کہ یہ مثلاً زینب کا بچہ ہے، تو یہ بچہ کیا ہے؟ میاں بیوی کا جز ہے۔ تو دونوں کی طرف سے جز آ گئے بچے میں، تو دونوں کے جزوں میں اتحاد آ گیا۔ جب دونوں کے جزوں میں اتحاد آ گیا تو بیوی خاوند کا جز بن گئی اور خاوند بیوی کا جز بن گیا، تو دونوں کے اصول و فروع ایک دوسرے کے اصول اور فروع بن گئے۔ دونوں کے اصول و فروع ایک دوسرے کے اصول اور فروع بن گئے، تو جب دونوں کے اصول و فروع اپنے بن گئے تو اپنے اصول و فروع تو انسان پر حرام ہوتے ہیں۔ تو جیسے خاوند پر اپنے اصول و فروع حرام تھے، اسی طرح بیوی کے اصول و فروع بھی اس کے اپنے اصول و فروع بن گئے تو وہ بھی اس پر کیا ہو گئے؟ حرام۔ اور جیسے بیوی پر اپنے اصول اور فروع حرام تھے، اسی طرح خاوند کے اصول و فروع بھی اس کے اپنے اصول و فروع بن گئے، اور اپنے اصول و فروع تو انسان پر حرام ہوتے ہیں، تو خاوند کے اصول و فروع بھی بیوی پر حرام ہو گئے کیونکہ وہ اس کے اپنے اصول و فروع ہیں۔ بھئی دیکھیے! کس طرح اتحاد آتا ہے؟ دیکھو یہ بچہ جو ہے جز ہے خاوند کا مثلاً، پہلے خاوند کی طرف سے دیکھ لیں، مثلاً یہ بچہ جز ہے خاوند کا، اور اس بچے کا ایک جز بیوی کی طرف سے بھی ہے، گویا بیوی بھی اس بچے کا جز ہوئی۔ تو بچہ جز ہوا خاوند کا اور بچے کا جز کیا ہوا؟ بیوی، یعنی وہ جو ماں ہے اس کی، بیوی اس کا جز ہوئی۔ تو بیوی جو ہے خاوند کے جز کا جز ہوئی۔ بیوی کیا ہو گئی؟ خاوند کا جز جو بچہ ہے اس کا جز ہو گئی، اور جز کا جز بھی اپنا ہی جز ہوتا ہے۔ اپنے، یوں کہو، اپنے جز کا جز بھی اپنا ہی جز ہوتا ہے۔ مثلاً میرا ہاتھ جو ہے یہ میرا جز ہے اور اس ہاتھ کا ایک جز انگلی ہے تو انگلی میرے جز کا جز ہوئی اور اپنے جز کا جز بھی اپنا جز ہوتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ انگلی بھی میری اپنی ہے، میرا اپنا جز ہے کیونکہ اپنے جز کا جز اپنا جز ہوتا ہے۔ تو بیوی کیا ہوئی؟ خاوند کے بچے کا جز، اور بچہ کیا ہے؟ خاوند کا اپنا جز، تو بیوی کیا بن گئی؟ خاوند کے اپنے جز کا جز بن گئی، تو بیوی بھی گویا خاوند کا جز بن گئی۔ جب بیوی خاوند کا جز بن گئی تو بیوی کے اصول و فروع خاوند کے بھی اصول و فروع بن گئے، دونوں ایک فرد کے درجے میں ہو گئے۔ بیوی کیا بن گئی؟ خاوند کا جز بن گئی۔ اور اب بیوی کی طرف سے دیکھو، یہ بچہ کس کا جز؟ بیوی کا اپنا جز، یہ بچہ بیوی کا اپنا جز، بیوی کی طرف سے ہم دیکھ رہے ہیں، اور اس بچے کا ایک جز کس کی طرف سے؟ خاوند کی طرف سے، تو خاوند بھی اس بچے کا جز ہو گیا۔ تو یہ بچہ جو بیوی کا اپنا جز ہے اس کا ایک جز خاوند ہو گیا، تو یہ بیوی کے اپنے جز کا جو جز ہے وہ بھی بیوی کا اپنا جز ہے، تو خاوند بھی بیوی کا اپنا جز ہو گیا۔ تو یعنی دونوں میں اتحاد آ گیا، دونوں فردِ واحد کے حکم میں ہو گئے۔ خاوند جو ہے بیوی کا جز بن گیا اور بیوی خاوند کا جز بن گئی، گویا ایک ہی فرد کے درجے میں ہو گئے۔ تو لہٰذا خاوند کے اصول و فروع بیوی کے اصول و فروع بن گئے اور بیوی کے اصول و فروع خاوند کے اصول و فروع بن گئے، تو اس لیے دونوں پر ایک دوسرے کے اصول و فروع حرام ہو گئے کیونکہ وہ ان کے اپنے اصول و فروع بن گئے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ پھر اس پر اشکال ذکر کیا صاحبِ ہدایہ نے، حاصلِ اشکال پھر دوبارہ سن لیں۔ حاصلِ اشکال یہ ہوا کہ اے احناف! آپ نے ہمیں کیا ضابطہ بتایا کہ یہ وطی پہنچانے والی ہے ولد تک، اور ولد میں آ کر خاوند اور بیوی کا اتحاد ہو گیا، دونوں ایک دوسرے کا جز بن گئے۔ لہٰذا اس لیے دونوں پر ایک دوسرے کے اصول و فروع حرام ہو گئے کیونکہ وہ ان کے اپنے اصول و فروع بن گئے۔ تو اس پر اشکال ہوتا ہے: اے احناف! یہ آپ کی عجیب دلیل ہے، اصول و فروع تو آپ کہہ رہے ہیں حرام ہو گئے حالانکہ ضابطہ ہے کہ استحقاقِ حرمت میں اصل جو ہے وہ جز ہوتا ہے۔ استحقاقِ حرمت یعنی حرام ہونے کا جو مستحق ہے وہ اصل میں جز ہوتا ہے۔ تو بچہ کس کا جز؟ خاوند کا جز، اور بچے کا ایک جز کس کی طرف سے؟ بیوی کی طرف سے، تو بیوی بھی کیا ہو گئی؟ خاوند کا جز ہو گئی۔ تو جب بیوی خاوند کا جز ہو گئی تو پھر تو بیوی کو بھی تو حرام ہونا چاہیے خاوند پر، آپ نے اصول اور فروع کو تو حرام قرار دے دیا اور جو استحقاقِ حرمت میں اصل ہے یعنی جز اس کو نہیں حرام قرار دے رہے؟ اشکال سمجھ میں آ رہا ہے؟ کیا اشکال ہوا؟ کہ بیوی خاوند کا جز بن گئی اور جز تو انسان پر کیا ہوتا ہے؟ حرام، تو بیوی کو بھی کیا ہونا چاہیے؟ حرام، آپ جز کو حرام قرار نہیں دے رہے اور اصول و فروع کو حرام قرار دے رہے ہیں۔ تو یہ کیسی دلیل ہے؟ یہاں تو پھر آپ کی اس دلیل کے مطابق جیسے میاں بیوی پر ایک دوسرے کے اصول و فروع حرام ہیں، ایک ہی وطی کے بعد، ایک ہی صحبت کے بعد میاں بیوی کو بھی ایک دوسرے پر حرام ہو جانا چاہیے کیونکہ انہوں نے وطی کر لی اور یہ وطی کہاں تک پہنچانے والی ہے؟ بچے تک، اور بچے میں دونوں کے اجزاء کیا ہو جائیں گے؟ متحد ہو جائیں گے، دونوں ایک دوسرے کا جز بن گئے، اور جب جز بن گئے ایک دوسرے کا تو جز تو انسان پر حرام ہوتا ہے۔ جیسے اپنا بیٹا بیٹی انسان پر کیا ہیں؟ حرام ہیں، اپنا پوتا پوتی، اپنا نواسہ نواسی انسان پر کیا ہیں؟ حرام ہیں کیونکہ یہ جز ہیں انسان کے، تو استحقاقِ حرمت میں اصل کون ہوتا ہے؟ جز، تو آپ نے اصول و فروع کو تو حرام قرار دے دیا اور بیوی جو جز بن گئی ہے اس کو حرام قرار نہیں دیا۔ اسی طرح خاوند بیوی کا جز بن گیا تو خاوند کو بھی بیوی پر کیا ہو جانا چاہیے؟ حرام ہو جانا چاہیے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو آپ نے میاں بیوی کے اصول و فروع کو تو ان پر حرام قرار دے دیا لیکن خود میاں بیوی کو بھی تو پھر ایک دوسرے پر حرام ہو جانا چاہیے ایک ہی وطی کے بعد۔ اسی طرح زانی اور مزنیہ جو ہیں ان میں بھی ایک ہی وطی کے بعد دونوں کے اصول و فروع بھی ایک دوسرے پر حرام ہونے چاہییں، اور زانی اور مزنیہ دونوں ان کو خود بھی یعنی واطی اور موطوءہ ان کو بھی ایک دوسرے پر حرام ہو جانا چاہیے، لیکن آپ کہتے ہیں کہ وہ ایک دوسرے پر حرام نہیں۔ اسی طرح آپ کہتے ہیں میاں بیوی ایک دوسرے پر حرام نہیں۔ تو صاحبِ ہدایہ اس کا جواب دیتے ہیں کہ بھئی: ”الضرورات تبیح المحظورات“، کہ ضرورت جو ہے وہ ممنوع چیزوں کو مباح کر دیتی ہے۔ اصل ضابطہ تو یہی تھا، میاں بیوی کو بھی ایک دوسرے پر حرام ہو جانا چاہیے، واطی اور موطوءہ کو بھی ایک دوسرے پر حرام ہو جانا چاہیے، لیکن چونکہ وہاں حاجت تھی، ضرورت تھی۔ وہاں حاجت تھی اور ضرورت تھی کیونکہ اس طرح تو جہاں بھی وطی پائی جائے گی اور واطی اور موطوءہ ایک ہی وطی کے بعد ایک دوسرے پر حرام ہو جائیں گے تو انسان اپنا گھر کیسے بسائے گا بھئی؟ ایک ہی وطی کے بعد بیوی خاوند پر حرام ہو رہی ہے اور خاوند بیوی پر حرام ہو رہا ہے تو پھر آگے اولاد کا سلسلہ کیسے چلے گا بھئی؟ تو لہٰذا وہاں چونکہ حاجت تھی، ضرورت تھی اور اس ضرورت کی بناء پر پھر شریعت نے واطی اور موطوءہ کو ایک دوسرے پر حرام قرار نہیں دیا، ورنہ ضابطہ تو یہی بنتا ہے کہ استحقاقِ حرمت میں اصل جز ہے، جب ایک دوسرے کا جز بن گئے تو دونوں کو ایک دوسرے پر حرام ہو جانا چاہیے تھا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے: ”والاستمتاع بالجزء حرام إلا في موضع الضرورة وهي الموطوءة“، اور جز سے نفع اٹھانا حرام ہے مگر صرف ضرورت کے محل میں، اور وہ کیا ہے؟ موطوءہ ہے، یعنی اس میں ضرورت ہے، اس کے سوا چارہ نہیں ہے بھئی، وہ اگرچہ جز بن گئی ہے لیکن ضرورت کی بناء پر وہ مباح ہے بھئی۔ اور پھر اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل کا جواب دیا تھا کہ وہ فرماتے ہیں کہ زنا جو ہے وہ فعلِ حرام ہے اور حرمتِ مصاہرت ایک نعمت ہے، اور فعلِ حرام کے ذریعے جو ہے وہ نعمت حاصل نہیں ہو سکتی، فعلِ حرام کی وجہ سے انعام نہیں مل سکتا، تو اس کا جواب دیا کہ یہ جو وطی ہے اس کے اندر دو حیثیتیں ہیں: یہ ایک اعتبار سے تو زنا ہے، فعلِ حرام ہے، اور دوسرے اعتبار سے یہ وطی جو ہے پہنچانے والی ہے ولد تک، اس کی وجہ سے ولد حاصل ہوگا، تو یہ سبب ہے ولد کا، اور ولد تو آپ جانتے ہیں وہ استحقاقِ حرمت میں اصل ہوتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو اس وطی کے اندر دو حیثیتیں آ گئیں: ایک حیثیت سے دیکھیں تو یہ فعلِ ممنوع ہے اور زنا ہے، دوسری حیثیت سے دیکھیں تو یہ سبب ہے ولد کا۔ تو یہ جو وطی ہے یہ حرمتِ مصاہرت کا سبب بنے گی ولد کے اعتبار سے کہ یہ ولد کا سبب ہے بھئی۔ یہ وطی، اس وطی کی وجہ سے حرمتِ مصاہرت آئے گی لیکن اس حیثیت سے نہیں کہ یہ فعلِ ممنوع ہے بلکہ اس حیثیت سے کہ یہ ولد تک پہنچانے والی ہے۔ یہ میں نے بتایا یہ اسی طرح ہے جیسے مٹی، مٹی اپنی ذات کے اعتبار سے ملوث ہے، چیزوں کو میلا کرتی ہے، گندا کرتی ہے، لیکن یہی مٹی جب پانی کے قائم مقام ہو جاتی ہے تو یہ مطہر بن جاتی ہے۔ آپ کو پانی نہیں مل رہا، کہیں آس پاس پانی نہیں ہے تو پھر اسی مٹی سے آپ تیمم کر لیتے ہیں۔ تو دیکھو مٹی اپنی ذات کے اعتبار سے ملوث اور پانی کے قائم مقام ہونے کی حیثیت سے یہ مطہر بن گئی، تو اس میں دیکھو دو حیثیتیں آ گئیں۔ اسی طرح یہاں یہ جو وطی تھی اس وطی کے اندر بھی دو حیثیتیں ہیں: ایک حیثیت سے یہ سببِ ولد ہے اور ایک حیثیت سے یہ فعلِ ممنوع یعنی زنا ہے۔ تو یہ جو حرمتِ مصاہرت آ رہی ہے وہ سببِ ولد ہونے کی وجہ سے آ رہی ہے، فعلِ محظور ہونے کی وجہ سے نہیں آ رہی۔ اور بعض علماء نے اس کا اور بڑا پیارا جواب دیا، وہ امام شافعی رحمہ اللہ کو جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آپ نے حرمتِ مصاہرت کو نعمت قرار دیا، حالانکہ حرمتِ مصاہرت نعمت نہیں ہے بلکہ مصاہرت نعمت ہے۔ بلکہ مصاہرت کا کیا معنی؟ سسرالی رشتہ ہونا، اور حرمت کا کیا معنی؟ حرام ہونا۔ تو حرمتِ مصاہرت، سسرالی رشتوں کا حرام ہونا۔ تو دیکھو حرمتِ مصاہرت کی وجہ سے تو دائرۂ نکاح تنگ ہو جائے گا، کچھ عورتیں جو پہلے آپ کے لیے حلال تھیں اب سسرالی رشتے کی وجہ سے کیا بن گئیں؟ حرام بن گئیں، تو حرمت کی وجہ سے نکاح کا دائرہ تنگ ہو جائے گا اور نکاح کا دائرہ تنگ ہونا یہ کوئی انعام نہیں ہے، یہ کوئی انعام نہیں ہے۔ تو لہٰذا یوں نہ کہیں کہ حرمتِ مصاہرت نعمت ہے بلکہ دونوں کو الگ الگ کریں: مصاہرت نعمت ہے، حرمت نعمت نہیں ہے۔ اور یہ جو وطیِ حرام کی یعنی یہ جو زنا کیا، یہ زنا مصاہرت کا سبب نہیں ہے، اس کی وجہ سے سسرالی رشتے نہیں بنے، ہاں یہ جو زنا ہے یہ حرمت کا باعث بنے گا۔ تو یہ فعلِ محظور ہے اور یہ انعام کا سبب نہیں بن رہا، مصاہرت کا سبب نہیں بن رہا۔ اس زنا کی وجہ سے وہ جو مزنیہ ہے اس کے اصول و فروع جو ہیں اس واطی کے اصول و فروع نہیں بنتے، وہاں کوئی سسرالی رشتہ نہیں آیا، ہاں حرمت آئی ہے۔ کیا آئی ہے؟ حرمت آئی ہے۔ تو نعمت مصاہرت ہے، وہ یہاں آئی ہی نہیں۔ اور حرمت تو نعمت نہیں ہے، وہ آئی ہے یہاں پر۔ لہٰذا یہ کہنا کہ حرمتِ مصاہرت جو ہے وہ نعمت ہے، زنا اس کا سبب نہیں بن سکتا، زنا سے یہ حرمتِ مصاہرت حاصل نہیں ہو سکتی، تو جواب یہ کہ حرمت اور مصاہرت کو الگ الگ کریں: مصاہرت جو ہے یہ ہے انعام، اور یہ تو زنا کی وجہ سے نہیں آیا، اور حرمت آئی ہے اور حرمت تو کوئی نعمت نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ اب آئیے آج کے سبق پر۔ کہتے ہیں: ”ومن مسته امرأة بشهوة حرمت عليه أمها وبنتها، وقال الشافعي رحمه الله: لا تحرم“. ”ومن مسته امرأة“، اور جس شخص کو کسی عورت نے چھو لیا، ”بشهوة“، شہوت کے ساتھ، ”حرمت عليه أمها وبنتها“، تو حرام ہو جائے گی علیہ، اس شخص پر، اس آدمی پر، ”أمها وبنتها“، اس عورت کی ماں اور اس عورت کی بیٹی۔ یاد رکھو، یاد رکھو بھئی! یہاں پر حلال مس کی بات ہو رہی ہے، حلال چھونا۔ حلال چھونا، کوئی مرد یا عورت جو ہے جو ایک دوسرے کے لیے حلال ہو چکے ہیں وہ ایک دوسرے کو چھو لیتے ہیں تو کیا اس کی وجہ سے بھی حرمتِ مصاہرت آئے گی یا حرمتِ مصاہرت نہیں آئے گی؟ اب اس کو بیان کرنے لگے ہیں۔ مثلاً ایک شخص نے ایک باندی خرید لی، اور آپ جانتے ہیں کہ جب کوئی شخص کسی باندی کا مالک بن جاتا ہے تو اس کے لیے باندی کے ساتھ صحبت جائز ہو جاتی ہے۔ اور باندی کو ہمیشہ وطی کے لیے ہی نہیں خریدا جاتا بلکہ اس کو عموماً کام کاج کے لیے خریدا جاتا ہے، لیکن بہرحال باندی کے ساتھ صحبت بھی آقا کے لیے جائز ہے بھئی۔ تو ایک شخص نے ایک باندی کو خرید لیا، اب اس باندی کے جو اصول اور فروع ہیں وہ ابھی بھی اس آدمی کے لیے حلال ہیں۔ کیا ہیں؟ حلال ہیں۔ اس باندی کی کوئی بیٹی ہے پہلے سے یہ اس سے نکاح کرنا چاہتا ہے، کر سکتا ہے۔ اس باندی کی ماں زندہ ہے یہ اس سے نکاح کرنا چاہتا ہے، یہ اس سے نکاح کر سکتا ہے، یا اگر وہ باندیاں ہیں تو ان کو خرید کر ان سے صحبت کر سکتا ہے۔ لیکن جس وقت یہ اس باندی سے صحبت کر لے گا یہ شخص، تو اب باندی کے اصول اور فروع اس آدمی پر حرام ہو گئے۔ بھئی جیسے حلال وطی کے ذریعے بیوی کے اصول اور فروع خاوند پر کیا ہو جاتے تھے؟ حرام ہو جاتے تھے، اسی طرح یہاں باندی کے ساتھ جب صحبت کرے گا تو باندی کے اصول اور فروع بھی حرام ہو جائیں گے۔ اب صاحبِ ہدایہ بتلانے یہ لگے ہیں کہ اگر صحبت نہیں کرتا، صرف شہوت کے ساتھ باندی کو ہاتھ لگا لیتا ہے یا باندی جو ہے اس آقا کو شہوت کے ساتھ ہاتھ لگا لیتی ہے تو اس صورت میں بھی حرمتِ مصاہرت آ جائے گی، اور اس آقا کے اصول اور فروع اس باندی پر حرام ہو جائیں گے اور اس باندی کے اصول اور فروع جو ہیں اس آقا پر حرام ہو جائیں گے۔ یعنی حلال مس کی وجہ سے بھی، حلال طور پر چھونا شہوت کے ساتھ، شہوت کی قید ضروری ہے ہمیشہ یاد رکھنا بھئی، شہوت کے ساتھ یہ آقا اپنی اس باندی کو صرف چھو لیتا ہے بغیر حائل کے، درمیان میں کوئی کپڑا وغیرہ نہیں تھا، یا اگر کوئی اتنا باریک کپڑا ہے کہ اس سے جسم کی حرارت محسوس ہوتی ہے تو اس کا بھی یہی حکم ہے، وہ کپڑا بھی لا کپڑے کی طرح ہے، گویا کوئی کپڑا درمیان میں ہے ہی نہیں۔ تو لہٰذا اگر آقا اپنی اس باندی سے صحبت نہیں کرتا، صرف شہوت سے ہاتھ لگا دیتا ہے بغیر کسی حائل اور رکاوٹ کے، یعنی درمیان میں کوئی کپڑا وغیرہ نہیں، یا باندی اس طرح کر لیتی ہے، آقا کو شہوت کے ساتھ ہاتھ لگا لیتی ہے تو دونوں کے اصول اور فروع ایک دوسرے پر حرام ہو گئے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ اب دیکھیے، دیکھیے پہلے صاحبِ ہدایہ نے مسئلہ بیان کیا تھا کہ ایک شخص جب کسی عورت سے نکاح کرتا ہے، نکاح کرتے ہی اس عورت کی ماں اس پر حرام ہو جاتی ہے۔ اس عورت کی ماں یعنی اصول کیا ہیں؟ خاوند پر حرام ہو جاتے ہیں نکاح کرتے ہی۔ اور جب اس بیوی کے ساتھ صحبت کر لے گا تو اس بیوی کے فروع جو ہیں یعنی اگر بیٹی ہے پہلے خاوند سے تو وہ بھی اس پر حرام ہو جائے گی۔ تو دیکھو معلوم ہوا حلال وطی کی وجہ سے کیا آتی ہے؟ حرمتِ مصاہرت آتی ہے۔ پھر اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے آپ کو یہ بتلایا کہ حرام وطی کی وجہ سے بھی حرمتِ مصاہرت آ جائے گی، اگر کوئی شخص کسی عورت سے زنا کر لے گا تو وہاں بھی حرمتِ مصاہرت آ جائے گی۔ اور اب جو ہے حلال چھونے کی بات کر رہے ہیں کہ اس سے بھی حرمتِ مصاہرت آ جائے گی، اور میں نے بتلایا تھا کہ دواعیِ وطی یعنی وہ چیزیں جو وطی کی طرف انسان کو لے جانے والی ہیں، یعنی شہوت سے ہاتھ لگانا یا بوسہ لے لینا، یہ بھی کیا ہیں؟ حرمتِ مصاہرت کا سبب ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو حلال وطی کو بھی بیان فرمایا صاحبِ ہدایہ نے، حرام وطی کو بھی بیان فرمایا، اب حلال چھونے کو ذکر کر رہے ہیں کہ صرف وطی نہیں، شہوت کے ساتھ حلال طریقے سے چھو لے گا تو بھی حرمتِ مصاہرت آ جائے گی۔ اور اسی پر قیاس کر لیں حرام چھونے کو بھی، جیسے حلال وطی کی وجہ سے حرمتِ مصاہرت آتی تھی اور اسی کے مطابق حرام وطی میں بھی کیا ہے؟ حرمتِ مصاہرت آ جاتی ہے۔ تو جب یہاں آپ کو بتلا دیں گے کہ حلال طور پر چھونے کی وجہ سے جب حرمتِ مصاہرت آ جاتی ہے تو حرام طور پر جب چھونا ہوگا بغیر حائل کے تو اس صورت میں بھی حرمتِ مصاہرت آ جائے گی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو یہ کس کی بات ہو رہی ہے؟ حلال چھونے کی بات ہو رہی ہے، مثلاً باندی کی مثال میں نے ذکر کر دی: ایک باندی خریدی ہے تو اس باندی کے اصول اور فروع اس آقا پر ابھی بھی حلال ہیں، لیکن جس وقت یہ باندی سے صحبت کر لے گا اس کے اصول اور فروع کیا ہو جائیں گے؟ حرام۔ اسی طرح اگر اس باندی کو شہوت سے چھو لے گا یا باندی اس کو شہوت سے چھو لیتی ہے تو بھی دونوں کے اصول اور فروع ایک دوسرے پر حرام ہو جائیں گے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔ اور اسی طرح، اسی طرح کوئی شخص نکاح کرتا ہے تو نکاح کرتے ہی اس عورت کی ماں، بیوی کی ماں خاوند پر فوراً حرام ہو جاتی ہے، اور اس بیوی کی بیٹی جو پہلے خاوند سے ہے وہ کب حرام ہوگی؟ جب اس بیوی سے صحبت کر لے گا۔ کیا کر لے گا؟ جب اس بیوی سے صحبت کرے گا تو پھر اس بیوی کی جو بیٹی ہے پہلے خاوند سے وہ بھی اس خاوند پر حرام ہو جائے گی۔ اور اب آپ کو بتلا رہے ہیں کہ حلال چھونے سے بھی حرمتِ مصاہرت آ جایا کرتی ہے، لہٰذا یہ جو خاوند ہے اس نے بیوی سے صحبت نہیں کی، صرف شہوت سے اس کو چھو لیا یا بیوی نے اس کو شہوت سے چھو لیا تو بھی بیوی کی جو بیٹی ہے پہلے خاوند سے وہ اس پر حرام ہو جائے گی، یعنی جیسے وطی کی وجہ سے سوتیلی بیٹی حرام ہو رہی تھی، شہوت کے ساتھ ایک دوسرے کو چھو لینے سے بھی وہ سوتیلی بیٹی خاوند پر کیا ہو جائے گی؟ حرام ہو جائے گی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ دیکھیے بھئی کتاب پر، کہتے ہیں: ”ومن مسته امرأة“، امرأةٌ اس کو مرفوع پڑھنا ہے، یہ فاعل ہے ”مست“ کا، ”ومن مسته امرأة بشهوة“، اور وہ شخص جس کو چھو لیا کسی عورت نے شہوت کے ساتھ، ”حرمت عليه أمها وبنتها“، تو حرام ہو جائے گی اس آدمی پر اس عورت کی ماں اور اس کی بیٹی۔ اور میں نے بتایا کس چھونے کی بات ہو رہی ہے؟ حلال چھونے کی بات ہو رہی ہے۔ آپ کہیں گے کہ یہاں تو کوئی حلال یا حرام کا ذکر نہیں ہے کہ جس شخص کو بھی کسی عورت نے شہوت سے چھو لیا اس کی ماں اور بیٹی اس پر کیا ہو جائے گی؟ حرام۔ تو جواب یہ کہ بھئی یہاں حلال چھونے کی بات ہو رہی ہے، آگے صاحبِ ہدایہ بھی یہی فرما رہے ہیں: ”وقال الشافعي رحمه الله: لا تحرم“، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس چھونے کی وجہ سے اس عورت کے اصول اور فروع مرد پر حرام نہیں ہوں گے۔ توجہ ہے؟ تو صاحبِ ہدایہ کی یہ عبارت دلالت کر رہی ہے کہ حلال چھونے کی بات ہو رہی ہے، حرام چھونے کی بات نہیں ہو رہی۔ بھئی کس طرح؟ صاحبِ ہدایہ کی عبارت سے کیسے یہ آپ دلیل پکڑ رہے ہیں؟ کہتے ہیں دیکھو پیچھے حرمتِ مصاہرت کا ذکر آیا تھا ابھی، کہ ایک شخص ایک عورت سے زنا کر لے تو اس عورت کے اصول اور فروع انسان پر حرام ہو جاتے ہیں عند الاحناف، جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں؟ کہ زنا فعلِ حرام ہے اور حرام کی وجہ سے حرمتِ مصاہرت نہیں آ سکتی کیونکہ حرمتِ مصاہرت تو نعمت ہے بھئی۔ تو معلوم ہوا ان کے نزدیک کسی عورت سے کوئی شخص زنا کرتا ہے تو اس عورت کے اصول اور فروع اس آدمی پر حرام نہیں ہیں۔ بھئی جب زنا کرنے سے عورت کے اصول اور فروع حرام نہیں ہو رہے تو صرف چھونے سے، صرف چھونے سے تو بطریقِ اولیٰ حرام نہیں ہوں گے اصول اور فروع۔ توجہ ہے؟ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک ایک عورت کے ساتھ انسان جو ہے زنا کر لے، آخری حد تک بھی چلا جائے تو بھی اس عورت کے اصول اور فروع اس آدمی پر حرام نہیں، تو جب زنا کی وجہ سے اصول اور فروع عورت کے حرام نہیں ہو رہے تو چھونا تو بہت کم درجہ ہے، تو چھونے کی وجہ سے تو بطریقِ اولیٰ اس عورت کے اصول اور فروع مرد پر حرام نہیں ہوں گے۔ یہ بات تو پیچھے بالکل ظاہر تھی، اس کو بیان کرنے کی ضرورت ہی نہیں۔ جب زنا سے عورت کے اصول اور فروع نہیں حرام ہو رہے تو چھونے سے بطریقِ اولیٰ حرام نہیں ہوں گے، لیکن یہاں وہ پھر فرما رہے ہیں: ”وقال الشافعي رحمه الله: لا تحرم“، اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ چھونے سے حرام نہیں ہوں گے۔ اگر یہ حرام چھونے کی بات چل رہی ہوتی وہ تو پیچھے سے ہی ظاہر تھا کہ جب زنا سے حرمت نہیں آ رہی تو چھونے سے تو بطریقِ اولیٰ نہیں آئے گی، لیکن یہاں پھر فرما رہے ہیں امام شافعی رحمہ اللہ کہ چھونے سے حرمت نہیں آئے گی، معلوم ہوا یہ کس کی بات ہو رہی ہے؟ حلال چھونے کی بات ہو رہی ہے۔ اور جیسے حلال وطی کی وجہ سے حرمتِ مصاہرت آتی تھی، اسی طرح حلال چھونے سے بھی کیا آئے گی؟ حرمتِ مصاہرت آئے گی۔ ہاں آگے حرام چھونے کو آپ اسی پر قیاس کر لیں، عند الاحناف جیسے حرام وطی کی وجہ سے حرمتِ مصاہرت آ جایا کرتی تھی تو حرام چھونے سے بھی کیا ہوگی؟ حرمتِ مصاہرت آ جائے گی۔ تو کہتے ہیں: ”ومن مسته امرأة بشهوة حرمت عليه أمها وبنتها“، اور وہ آدمی جس کو چھو لیا کسی عورت نے شہوت کے ساتھ، تو حرام ہو گئی اس آدمی پر اس عورت کی ماں اور اس کی بیٹی۔ ”وقال الشافعي رحمه الله: لا تحرم“، اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ حرام نہیں ہوتی۔ ”وعلى هذا الخلاف مسه امرأة بشهوة“، بھئی متن میں تو کیا آیا؟ عورت اگر مرد کو شہوت سے چھو لے۔ تو آگے صاحبِ ہدایہ بتلا رہے ہیں کہ مرد کا بھی یہی حکم ہے، اگر مرد شہوت سے چھو لے تو بھی یہی حکم ہے۔ عورت جب شہوت سے مرد کو چھوئے گی تو حرمتِ مصاہرت آئے گی، اسی طرح اگر مرد عورت کو شہوت سے چھوئے گا تو بھی حرمتِ مصاہرت آئے گی۔ یہ معنی ہے: ”وعلى هذا الخلاف مسه امرأة بشهوة“، اور اسی اختلاف پر ہے مرد کا عورت کو چھو لینا شہوت کے ساتھ، یعنی اس میں بھی امام شافعی رحمہ اللہ اختلاف کرتے ہیں۔ ”ونظره إلى فرجها ونظرها إلى ذكره عن شهوة“، فرج کہتے ہیں عورت کی شرمگاہ کو اور ذکر کہتے ہیں مرد کی شرمگاہ کو۔ تو کہتے ہیں، صاحبِ ہدایہ بتلا رہے ہیں ادھر دیکھیے بھئی، کہ صرف شہوت کے ساتھ چھو لینا یہی حرمتِ مصاہرت کا سبب نہیں ہے بلکہ شہوت کے ساتھ دیکھنا، مرد کا عورت کی شرمگاہ کی طرف یا عورت کا مرد کی شرمگاہ کی طرف شہوت سے دیکھنا یہ بھی حرمتِ مصاہرت کا سبب ہے۔ یہ بھی کیا ہے؟ حرمتِ مصاہرت کا سبب ہے بھئی۔ اور آگے صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے بھئی کہ فرج میں نے بتلایا عورت کی شرمگاہ کو کہتے ہیں، صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ فرجِ خارج کو دیکھنے سے حرمتِ مصاہرت نہیں آئے گی۔ فرجِ خارج کو دیکھنے سے حرمتِ مصاہرت نہیں آئے گی بلکہ فرجِ داخل کو دیکھنے سے حرمتِ مصاہرت آئے گی۔ شہوت سے فرجِ داخل کو دیکھے تو پھر حرمتِ مصاہرت آئے گی۔ تو اس پر ذہنوں میں اشکال پیدا ہوتا ہے کہ فرجِ داخل کو کیسے دیکھ سکتے ہیں؟ تو صاحبِ ہدایہ اس کی بھی صورت بتلائیں گے کہ بھئی عام حالت میں بیٹھی ہو یا کھڑی ہو پھر تو فرجِ داخل کے دیکھنے کی کوئی صورت نہیں ہے، ہاں ایک صورت ہے: عورت نے کپڑے نہیں پہنے اور ٹیک لگا کر بیٹھی ہوئی ہے تو وہاں احتمال ہے فرجِ داخل پر بھی نظر پڑنے کا۔ تو اگر فرجِ داخل کو بھی شہوت سے دیکھ لیا، یاد رکھنا یہ شہوت کی قید بہت ضروری ہے۔ ویسے نظر پڑے گی تو حرمت نہیں آئے گی، لیکن دیکھنا شہوت کے ساتھ ہو پھر ہی حرمتِ مصاہرت آئے گی۔ چھونا بھی کس کے ساتھ ہو؟ شہوت کے ساتھ، اور دیکھنا بھی کس کے ساتھ ہو؟ شہوت کے ساتھ، پھر ہی حرمتِ مصاہرت آئے گی۔ تو جیسے عورت کے فرجِ داخل کو دیکھنے سے حرمتِ مصاہرت آ جاتی ہے، اسی طرح اگر عورت نے مرد کی شرمگاہ کی طرف دیکھا، مثلاً مرد نے کپڑے نہیں پہنے ہوئے، عورت نے اس کی شرمگاہ کی طرف شہوت کے ساتھ دیکھا تو اس صورت میں بھی حرمتِ مصاہرت آ جائے گی، دونوں پر ایک دوسرے کے اصول اور فروع حرام ہو جائیں گے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ جی دوبارہ دیکھیے، کہتے ہیں: ”وعلى هذا الخلاف مسه امرأة بشهوة“، اور اسی اختلاف پر ہے مرد کا چھونا عورت کو شہوت کے ساتھ، ”ونظره إلى فرجها“، اور مرد کا دیکھنا عورت کی شرمگاہ کی طرف، ”ونظرها إلى ذكره عن شهوة“، اور عورت کا دیکھنا مرد کی شرمگاہ کی طرف ”عن شهوة“، کس کے ساتھ؟ شہوت کے ساتھ۔ یہ عورت کا دیکھنا یا مرد کا جو دیکھنا ہو یہ شہوت کے ساتھ ہو، یہ قید بہت ضروری ہے بھئی۔ اسی وقت شہوت ہو، اسی وقت، اگر اس وقت شہوت نہیں آئی بعد میں خیال آیا اور پھر شہوت آ گئی پھر حرمت نہیں آئے گی بھئی، پھر حرمت نہیں آئے گی بھئی، اسی وقت شہوت کا ہونا ضروری ہے۔ اب ان کی دلیل بھئی: امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک یہ حرمتِ مصاہرت کا سبب نہیں ہے۔ ”له“، امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل یہ ہے: ”أن المس والنظر ليسا في معنى الدخول“، کہ چھونا اور دیکھنا، یہ دونوں ليس، یہ دونوں نہیں ہیں ”في معنى الدخول“، دخول کے معنی میں۔ یہ دونوں دخول کے معنی میں یعنی دخول اور صحبت کے معنی میں نہیں ہیں۔ ایک ہے دیکھنا اور چھونا اور ایک ہے صحبت کرنا، دونوں کا حکم الگ الگ ہے، دونوں ایک چیز ہیں ہی نہیں، جب ایک چیز نہیں ہے تو دونوں کو آپ ایک حکم کیسے دے سکتے ہیں؟ تو چھونا اور دیکھنا یہ صحبت کے حکم میں نہیں۔ کہتے ہیں آپ دیکھتے نہیں کہ ایک شخص ہے وہ اپنی بیوی کو چھو لیتا ہے یا اس کی طرف شہوت سے دیکھتا ہے بھئی، بغیر حائل کے شہوت سے دیکھتا ہے تو اس سے غسل نہیں واجب ہوگا۔ ہاں بیوی سے جب صحبت کرے گا اب غسل واجب ہو جائے گا۔ دیکھا؟ شہوت سے چھونا اور شہوت سے دیکھنا بغیر کسی حائل کے تو اس صورت میں شریعت غسل واجب قرار نہیں دیتی، ہاں صحبت کی صورت میں غسل واجب قرار دیتی ہے۔ معلوم ہوا چھونے اور دیکھنے کا حکم اور ہے اور صحبت کا حکم اور ہے، لہٰذا آپ دونوں کو ایک حکم نہیں دے سکتے۔ اسی طرح یاد رکھیے، حج کے اندر انسان حالتِ احرام میں ہوتا ہے اور حالتِ احرام میں انسان پر بہت سی پابندیاں لگ جاتی ہیں: اس کے لیے ناخن کاٹنا حرام، اس کے لیے بال کاٹنا حرام، اس کے لیے بیوی سے صحبت حرام، خوشبو کا استعمال کرنا حرام، یہ ساری چیزوں کی اس پر پابندیاں لگ جاتی ہیں۔ اور حالتِ احرام کے اندر اگر انسان حج کے اندر وقوفِ عرفہ سے پہلے اگر اس نے بیوی سے صحبت کر لی تو یاد رکھیں اس کا حج ہی فاسد ہو گیا۔ وقوفِ عرفہ سے پہلے اس نے کیا کر لی؟ صحبت کر لی، اس کا حج ہی فاسد ہو گیا، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اب وہ حج کے افعال چھوڑ دے، نہیں، حج کے وہ سارے افعال کرتا چلا جائے گا، ہاں اس کو دوبارہ آ کر اگلے سال پھر حج کرنا پڑے گا۔ اس حج کی قضاء کرنا پڑے گی اسے، بات سمجھ میں آ رہی ہے۔ تو دیکھو وقوفِ عرفہ سے پہلے صحبت کر لی تو حج ہی فاسد۔ اسی طرح بیوی کے ساتھ جیسے جماع منع تھا حج کے اندر اسی طرح شہوت سے بیوی کو چھونا بھی منع ہے، احرام کی حالت میں بیوی کو شہوت سے چھونا بھی منع ہے۔ تو اگر وقوفِ عرفہ سے پہلے اگر کوئی شخص بیوی کو شہوت سے چھو لیتا ہے تو اس صورت میں یاد رکھو دم آئے گا، قربانی دینا پڑے گی، حج فاسد نہیں ہوگا۔ ایک جانور کی قربانی اسے کرنا پڑے گی لیکن حج فاسد نہیں، تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں دیکھا؟ صحبت کا حکم اور ہے اس میں حج ہی فاسد ہو رہا ہے اور دیکھنے اور چھونے کا وہ حکم نہیں ہے، معلوم ہوا دونوں ایک چیز نہیں ہیں بھئی۔ اسی طرح امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ روزے کے اندر دیکھو انسان کھانے پینے سے بھی اپنے آپ کو روکتا ہے اور بیوی سے صحبت سے بھی اپنے آپ کو روکتا ہے، تو روزے کے اندر بیوی سے صحبت ممنوع ہے۔ تو اب اگر یہ کوئی شخص جو ہے صحبت کرے گا تو روزہ ہی فاسد ہو جائے گا، لیکن اگر کوئی شخص بیوی کو شہوت سے چھوتا ہے یا دیکھتا ہے تو اس سے روزہ فاسد نہیں ہوگا بھئی۔ اس سے روزہ فاسد نہیں ہوگا، تو دیکھو بیوی کو شہوت سے چھونے اور دیکھنے کا حکم اور ہے روزے میں اور اس کے ساتھ صحبت کرنے کا حکم اور ہے، لہٰذا آپ چھونے اور دیکھنے کو صحبت کے ساتھ نہیں ملا سکتے، صحبت والا حکم نہیں دے سکتے۔ صحبت کے اندر اصول اور فروع ایک دوسرے پر حرام ہو جاتے ہیں، شہوت کے ساتھ دیکھنے اور چھونے سے اصول اور فروع ایک دوسرے پر حرام نہیں ہوتے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”له أن المس والنظر ليسا في معنى الدخول“، امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل یہ ہے کہ چھونا اور دیکھنا یہ دونوں دخول کے حکم میں نہیں ہیں، ”ولهذا لا يتعلق بهما فساد الصوم والإحرام ووجوب الاغتسال“، اور اسی لیے ان دونوں سے تعلق نہیں ہے، کس چیز کا؟ چھونے اور دیکھنے سے کس چیز کا تعلق نہیں ہے؟ ”فساد الصوم“، روزے کے فاسد ہونے کا، ان دونوں کی وجہ سے روزہ فاسد نہیں ہوگا۔ اسی طرح ”والإحرام“، اي فساد الاحرام، احرام کا عطف ہے صوم پر، تو اسی طرح چھونے اور دیکھنے سے احرام کے فاسد ہونے کا تعلق نہیں ہے، صحبت سے تو احرام فاسد ہوگا، چھونے اور دیکھنے سے احرام فاسد نہیں ہوگا۔ ”ووجوب الاغتسال“، اسی طرح صحبت سے جو ہے وہ غسل واجب ہوگا، شہوت کے ساتھ چھونے اور دیکھنے سے غسل واجب نہیں ہوگا۔ تو کہتے ہیں: ”ووجوب الاغتسال“، اور اسی طرح چھونے اور دیکھنے سے غسل کے واجب ہونے کا تعلق نہیں ہے، ”فلا يلحقان به“، لہٰذا شہوت کے ساتھ چھونے اور دیکھنے کو وطی کے ساتھ نہیں ملایا جائے گا، یعنی دونوں کا ایک حکم نہیں ہوگا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ آگے دیکھیے: ”ولنا أن المس والنظر سبب داع إلى الوطء فيقام مقامه في موضع الاحتياط“. ہم کہتے ہیں کہ چھونا اور دیکھنا، یہ دواعیِ وطی میں سے ہیں، یہ کس کی طرف لے جانے والے ہیں انسان کو؟ وطی کی طرف لے جانے والے ہیں، لہٰذا یہ احتیاط کا مقام ہے تو دواعیِ وطی کو بھی وطی والا ہی حکم دیا جائے گا۔ دواعیِ وطی کو بھی وطی والا حکم دیا جائے گا، اس لیے کیونکہ یہ عورت کے حلال اور حرام ہونے کا معاملہ ہے بھئی۔ بھئی احتیاط کس میں زیادہ؟ کہ وہ عورت جس کو شہوت سے انسان نے چھوا ہے، اس کے اصول اور فروع کو انسان پر حرام قرار دیا جائے، احتیاط اس میں زیادہ ہے، اس لیے کیونکہ احتمال دونوں ہیں: ہو سکتا ہے آپ کی دلیل کے مطابق حرمت نہ آئی ہو، ہو سکتا ہے ہماری دلیل کے مطابق حرمت آ چکی ہو، تو اگر حرمت آ چکی ہے اور نکاح کی اجازت دے دی جائے پھر تو دیکھو ساری عمر ایک حرام عورت کے ساتھ وہ بسر کرے گا۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ لہٰذا احتیاط ہمارے قول کے اندر ہے کہ چھونے کو بھی وطی والا ہی حکم دیا جائے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ ”ولنا“، اور ہماری دلیل یہ ہے: ”أن المس والنظر سبب داع إلى الوطء“، ”المس“، الف لام آیا، ”النظر“، الف لام آیا، ہر چھونا نہیں مراد، وہ چھونا جو شہوت کے ساتھ ہو، ”النظر“، ہر نظر نہیں مراد، وہ نظر ہے جو شہوت کے ساتھ ہو۔ ”ولنا“، ہماری دلیل یہ ہے کہ ”المس والنظر“، کہ شہوت کے ساتھ چھونا اور دیکھنا جو ہے، ”سبب داع إلى الوطء“، یہ سببِ داعی ہے وطی کی طرف یعنی ایسا سبب ہے جو لے جانے والا ہے وطی کی طرف، ”فيقام مقامه في موضع الاحتياط“، لہٰذا اس کو وطی کے قائم مقام کر دیا جائے گا احتیاط کے مقام میں۔ ”ثم إن المس بشهوة أن تنتشر الآلة أو تزداد انتشارا“، اب بتلانے لگے ہیں کہ پتہ کیسے چلے گا شہوت آئی ہے یا شہوت نہیں آئی؟ تو یاد رکھیں عورت میں تو اس کی کوئی علامت نہیں ہے۔ عورت کے اندر کوئی ظاہری علامت نہیں ہے، بس شہوت یہ ہے کہ اس کو دل میں لذت محسوس ہو اور اس کا دل اس مرد کی طرف مائل ہو، معلوم ہوا یہ کیا ہے؟ شہوت ہے بھئی۔ اور مرد کے اندر، مرد کے اندر بھی بعض علماء نے لکھا کہ مرد کے دل میں لذت محسوس ہو اور اس عورت کی طرف اس کا دل مائل ہو کہ اس سے صحبت کر لے، تو یہ ہے شہوت، لیکن، لیکن صاحبِ ہدایہ بتلا رہے ہیں کہ صحیح قول یہ ہے کہ مرد کے اندر اس کی علامت یہ ہے کہ اس کے آلۂ تناسل میں انتشار آ جائے بھئی۔ انتشار کا معنی ہے پھیل جانا، ایک چیز کا پھیل جانا۔ مرد کے آلۂ تناسل میں انتشار آ جائے، اگر پہلے انتشار نہیں تھا تو پھر اس نظر یا اس مس کی وجہ سے کیا آ جائے؟ انتشار آ جائے، اور اگر پہلے سے انتشار موجود تھا تو پھر اس میں زیادتی ہو جائے، کیا ہو جائے؟ زیادتی ہو جائے۔ تو کہتے ہیں: ”ثم إن المس بشهوة“، پھر شہوت کے ساتھ چھونا جو ہے وہ یہ ہے: ”أن تنتشر الآلة“، کہ مرد کا آلۂ تناسل جو ہے اس میں انتشار آ جائے، ”أو تزداد انتشارا“، یا اس کے اندر انتشار بڑھ جائے، ”هو الصحيح“، یہی قول، یہی قول صحیح ہے، اور وہ جو بعض فقہاء نے کہا کہ صرف دل میں لذت محسوس ہو یہ شہوت کی علامت ہے؟ نہیں، مرد کے اندر یہ علامت موجود ہے بھئی اور اسی پر حکم لگایا جائے گا۔ ”والمعتبر النظر إلى الفرج الداخلي“، میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ فرجِ خارج کی طرف دیکھنے کا اعتبار نہیں بلکہ فرجِ داخل کا اعتبار ہے، وہی بیان کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: ”والمعتبر النظر إلى الفرج الداخلي“، اور وہ دیکھنا جو معتبر ہے وہ فرجِ داخل کی طرف دیکھنا ہے، اس لیے کیونکہ فرجِ داخل جو ہے وہ ہے حقیقت کے اندر فرج، جبکہ فرجِ خارج وہ تو بعض اعتبار سے فرج ہے اور بعض اعتبار سے فرج نہیں ہے، تو لہٰذا فرجِ داخل کا اعتبار ہے۔ ”ولا يتحقق ذلك إلا عند اتكائها“، اور یہ نہیں پایا جا سکتا مگر اس عورت کے ٹیک لگاتے وقت، یعنی وہ عورت نے کپڑے نہیں پہنے اور دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھی ہوئی ہے اسی صورت میں ایسا ہو سکتا ہے، فرجِ داخل پر نظر پڑ سکتی ہے ویسے نہیں۔ ”ولو مس فأنزل“، اور اگر عورت کو چھوا، جی بھئی یاد رکھو انہوں نے مسئلہ آپ کو بتلا دیا کہ شہوت کے ساتھ چھونے سے بھی حرمتِ مصاہرت آ جائے گی، اور شہوت کے ساتھ دیکھنے سے بھی حرمتِ مصاہرت آ جائے گی، لیکن اگر چھونے کی وجہ سے انزال ہو جائے یعنی خروجِ منی ہو جائے تو پھر اس صورت میں حرمتِ مصاہرت نہیں آئے گی۔ ایک مرد نے ایک عورت کو شہوت سے چھوا اور اس کی وجہ سے اس کو انزال ہو گیا تو اس صورت میں حرمتِ مصاہرت نہیں آئے گی۔ وجہ یہ کہ جب اس کو انزال ہو گیا تو اس کی شہوت ختم ہو گئی، معلوم ہوا یہ والا چھونا یہ اب وطی تک پہنچانے والا نہیں۔ بھئی یہ چھونا حرمتِ مصاہرت کا سبب کیوں بن رہا تھا؟ کیونکہ یہ کہاں تک پہنچاتا ہے؟ وطی تک پہنچاتا ہے، جب مرد کو انزال ہو گیا اس کی شہوت ختم ہو گئی، اب یہ چھونا وطی تک پہنچانے والا نہیں ہے تو لہٰذا اب یہ حرمتِ مصاہرت کا سبب بھی نہیں بنے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: ”ولو مس فأنزل“، اور اگر اس مرد نے چھوا تو اس کو انزال ہو گیا، ”فقد قيل إنه يوجب الحرمة“، تو تحقیق کہا گیا ہے کہ یہ بھی حرمت کو ثابت کر دے گا، ”والصحيح أنه لا يوجبها“، لیکن صحیح قول یہ ہے کہ یہ حرمتِ مصاہرت کو ثابت نہیں کرے گا، ”لأنه بالإنزال تبين أنه غير مفض إلى الوطء“، اس لیے کیونکہ انزال کی وجہ سے یہ بات ظاہر ہو گئی کہ یہ والا جو چھونا ہے ”غير مفض إلى الوطء“، یہ پہنچانے والا نہیں ہے وطی تک۔ ”وعلى هذا إتيان المرأة في الدبر“، اور اسی پر ہے عورت کے پاس آنا فی الدبر، اس کے پچھلے مقام میں۔ کوئی شخص عورت کے ساتھ پچھلے مقام کے اندر وہ وطی کرتا ہے اور انزال ہو جاتا ہے تو اس صورت میں بھی حرمتِ مصاہرت نہیں آئے گی۔ کوئی شخص کسی عورت سے پچھلے مقام میں وطی کرتا ہے اور انزال ہو جاتا ہے تو اب بھی حرمتِ مصاہرت نہیں آئے گی کیونکہ انزال ہو گیا، شہوت ختم ہو گئی، اب یہ شہوت جو ہے اگلے مقام میں وطی تک پہنچانے والی نہیں ہے کیونکہ شہوت پوری ہو گئی۔ اور اگر انزال نہ ہوا تو پھر حرمتِ مصاہرت آ جائے گی، اس لیے کیونکہ ابھی تک شہوت اور خواہش پوری نہیں، تو یہ شہوت ابھی بھی پہنچا سکتی ہے اگلے مقام میں وطی تک۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ ”وإذا طلق امرأته طلاقاً بائناً أو رجعياً لم يجز له أن يتزوج بأختها حتى تنقضي عدتها“. بھئی پہلے یہاں طلاقِ بائن اور طلاقِ رجعی کو اچھی طرح سمجھ لیں، آگے صاحبِ ہدایہ بھی تفصیل کے ساتھ بیان فرمائیں گے۔ طلاقِ رجعی اس طلاق کو کہتے ہیں جس میں خاوند رجوع کر سکتا ہے۔ رجوع کر سکتا ہے، مثلاً ایک شخص صاف الفاظ میں اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہے کہ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، تو یاد رکھو یہ جو صاف الفاظ کے ساتھ طلاق دی جائے یہ طلاقِ رجعی کہلاتی ہے بھئی۔ اور اس کے اندر خاوند اپنی بیوی سے رجوع کر سکتا ہے جب تک یہ تین طلاقیں پوری نہ ہو جائیں۔ اگر تین پوری ہو گئی ہیں پھر تو رجوع نہیں کر سکتا کیونکہ طلاقوں کی زیادہ سے زیادہ تعداد ہی کتنی ہے؟ تین ہے، تو اس کے بعد تو رجوع نہیں ہو سکتا، لیکن اگر تین سے کم ہیں، ایک ہے یا دو ہیں، تو اس کے اندر خاوند رجوع کر سکتا ہے۔ اور عورت کی عدت جو ہے تین حیض ہیں۔ تو یہ شخص عدت کے اندر اندر رجوع کر سکتا ہے یہ خاوند، اور یہ پھر اسی طرح میاں بیوی ہیں بھئی۔ البتہ ایک طلاق دے دی ہے تو باقی اب تمام زندگی صرف دو طلاقوں کا حق رہ گیا اس آدمی کے پاس۔ تو طلاقِ رجعی کے اندر عدت کے اندر خاوند رجوع کر سکتا ہے، زبان کے ذریعے کہہ دے مثلاً میں رجوع کرتا ہوں، یا کوئی ایسا عمل کر لے جو بیوی کے ساتھ جائز ہے مثلاً بیوی کو شہوت سے چھو لیا یا بیوی کا بوسہ لے لیا یا اس کے ساتھ صحبت کر لی، اب اس نے بے شک زبان سے تو نہیں کہا میں رجوع کرتا ہوں لیکن اس کا یہ عمل بتلا رہا ہے کہ وہ رجوع کر رہا ہے بھئی۔ تو طلاقِ رجعی وہ ہے جس کے اندر خاوند رجوع کر سکتا ہے، دوبارہ نکاح کی حاجت ہی نہیں۔ ہاں اگر عدت گزر گئی اس کے بعد پھر اس بیوی کو واپس رکھنا چاہتا ہے تو پھر نیا نکاح کرنا پڑے گا اور نیا مہر مقرر کرنا پڑے گا۔ جبکہ دوسری طلاقِ بائن ہے، طلاقِ بائن کے اندر مثلاً خاوند بیوی کو بائن کا لفظ ساتھ ملا دیتا ہے کہ میں تمہیں طلاقِ بائن دیتا ہوں، بائن، بان یبین سے ہے یعنی جدا کرنے والی۔ کون سی طلاق؟ جدا کرنے والی، کہ وہ جو بیوی کو خاوند سے جدا کر دیتی ہے یعنی اس میں پھر رجوع نہیں کر سکتا۔ رجوع نہیں کر سکتا۔ تو بائن کا لفظ ساتھ ملا دے کہ میں تمہیں طلاقِ بائن دیتا ہوں، یا مثلاً ساتھ کوئی اور لفظ ملا دیتا ہے: میں تمہیں پہاڑ جیسی طلاق دیتا ہوں، بات سمجھ میں آ گئی؟ یا میں تمہیں بہت بڑی طلاق دیتا ہوں، کوئی تشبیہ وغیرہ ذکر کر دے تو یاد رکھو اس صورت میں جو طلاق ہوگی وہ طلاقِ بائن ہوگی بھئی۔ اور طلاقِ بائن کے اندر خاوند رجوع نہیں کر سکتا۔ عورت عدت گزارنے کے بعد جہاں چاہے نکاح کرے۔ ہاں اگر خاوند دوبارہ اس عورت سے نکاح کرنا چاہتا ہے تو خاوند عدت کے اندر بھی نکاح کر سکتا ہے اور عدت کے بعد بھی کر سکتا ہے۔ اس عورت نے اگر اسی خاوند سے وہ دوبارہ نکاح کرنا چاہتی ہے تو اس عدت کے اندر بھی نکاح کر سکتی ہے اور عدت کے بعد بھی نکاح کر سکتی ہے، لیکن اگر کسی اور سے نکاح کرنا چاہتی ہے تو وہ عدت کے بعد ہی کرے گی۔ حاصلِ کلام کیا ہوا؟ طلاقِ رجعی کے اندر عدت کے اندر اندر خاوند رجوع کر سکتا ہے، کسی نئے نکاح کی ضرورت نہیں، جبکہ طلاقِ بائن کے اندر نکاح ٹوٹ چکا ہے، اب اگر اس عورت کو بیوی بنا کر رکھنا چاہتا ہے تو نئے سرے سے نکاح کرنا پڑے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ اب صورتِ مسئلہ یہ ہے: پیچھے آپ نے پڑھا تھا کہ کوئی شخص دو بہنوں کو نکاح میں جمع نہیں کر سکتا۔ اب صورت یہ ہے: ایک شخص نے ایک عورت کو طلاق دے دی، چاہے طلاقِ بائن دی ہو چاہے طلاقِ رجعی دی ہو۔ اب وہ اس عورت کی بہن سے نکاح کرنا چاہتا ہے تو یاد رکھیے عند الاحناف جب تک اس پہلی بیوی کی عدت پوری نہیں ہوگی تب تک اس کی بہن سے نکاح نہیں کر سکتا۔ اس لیے کیونکہ یہ عدت بھی اسی نکاح کا اثر ہے۔ یہ بیوی جس کو طلاق دی ہے جب تک عدت پوری نہیں ہوتی یہ آگے نکاح نہیں کر سکتی، معلوم ہوا یہ پہلے نکاح کا اثر ابھی تک باقی ہے۔ پہلے نکاح کا اثر ابھی تک باقی ہے، اسی وجہ سے یہ عدت گزار رہی ہے، تو لہٰذا اگر اسی عدت کے اندر یہ شخص اس بیوی کی بہن سے نکاح کرے گا تو بھی یہ جامع بین الاختین ہو جائے گا، اس شخص نے گویا دو بہنوں کو ایک نکاح میں جمع کر دیا، اور دو بہنوں کو تو ایک نکاح میں جمع کرنا جائز نہیں، لہٰذا عدت کے دوران یہ شخص اس کی بہن سے نکاح کر ہی نہیں سکتا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ ورنہ کیا خرابی لازم آئے گی؟ دو بہنوں کا ایک شخص کے نکاح میں جمع ہونا بھئی۔ دیکھیے بھئی، کہتے ہیں: ”وإذا طلق امرأته طلاقاً بائناً أو رجعياً“، اور جب کسی شخص نے طلاق دے دی اپنی بیوی کو طلاقِ بائن دی یا طلاقِ رجعی دی، ”لم يجز له أن يتزوج بأختها حتى تنقضي عدتها“، تو اس شخص کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ نکاح کرے اس عورت کی بہن سے، ”حتى تنقضي عدتها“، یہاں تک کہ اس کی عدت پوری ہو جائے۔ جب عدت پوری ہو جائے گی پھر اس کی بہن سے نکاح کر سکتا ہے۔ اور اسی طرح ہے مسئلہ یاد رکھو چار بیویوں والا بھی: ایک شخص کے نکاح میں چار بیویاں ہیں، اب وہ کسی اور عورت سے نکاح کرنا چاہتا ہے تو ان میں سے ایک کو وہ طلاق دیتا ہے، تو عدت کے اندر اندر اب اس عورت سے نکاح نہیں کر سکتا بلکہ یہ جس عورت کو طلاق دی ہے اس کی جب عدت پوری ہو جائے گی، نکاح کا اثر پورے طور پر ختم ہو گیا تو اب اس صورت میں یہ اس عورت سے نکاح کر سکتا ہے، کیونکہ اگر اس سے پہلے نکاح کرے گا پھر تو یہ پانچ عورتیں گویا اس کے نکاح میں ہو جائیں گی حالانکہ چار سے زائد نکاح بیک وقت کوئی شخص نہیں کر سکتا۔ ”وقال الشافعي رحمه الله: إن كانت العدة عن طلاق بائن أو ثلاث يجوز لانقطاع النكاح بالكلية إعمالاً للقاطع“. امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر خاوند نے طلاقِ بائن دی ہے تو طلاقِ بائن کی وجہ سے نکاح بالکل ٹوٹ گیا۔ بھئی طلاقِ رجعی کے اندر تو خاوند رجوع کر سکتا ہے، دوبارہ نکاح کی ضرورت بھی نہیں، خاوند صرف اتنا کہہ دے: میں نے رجوع کر لیا، یا بیوی کو شہوت سے ہاتھ لگا دے یا اس کا بوسہ لے لے یا صحبت کر لے، کوئی بھی ایسا عمل کر لے جس کی اجازت صرف بیوی کے ساتھ ہے تو گویا اس نے رجوع کر لیا، دوبارہ نکاح کی حاجت نہیں۔ جبکہ طلاقِ بائن کے اندر نکاح بالکل ٹوٹ جاتا ہے، حتیٰ کہ یہ خاوند اب رجوع نہیں کر سکتا، اب اس عورت کو وہ اپنے عقد میں رکھنا چاہتا ہے تو پھر نیا نکاح کرنا پڑے گا، نیا مہر مقرر کرنا پڑے گا۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ طلاقِ رجعی کے اندر تو نکاح گویا موجود ہے، خاوند رجوع کر لیتا ہے دوبارہ نکاح کی تو ضرورت نہیں، عدت کے اندر اندر خاوند کیا کر سکتا ہے؟ رجوع کر سکتا ہے، دوبارہ نکاح کی ضرورت ہے؟ نہیں، تو گویا نکاح ابھی بھی موجود ہے، لہٰذا طلاقِ رجعی کے اندر تو وہ بھی کہتے ہیں کہ اس مطلقہ کی بہن سے خاوند نکاح نہیں کر سکتا، ورنہ تو دو بہنوں کو ایک شخص کے نکاح میں جمع کرنا لازم آئے گا۔ ہاں اگر طلاقِ بائن دے دی ہے، بھئی طلاقِ بائن سے تو نکاح بالکل ٹوٹ چکا ہے، یا تین طلاقیں کسی شخص نے دے دی ہیں، تین یعنی پوری ہو گئی ہیں تو تین کے بعد بھی وہاں نکاح کی کوئی صورت اور گنجائش نہیں، نکاح مکمل طور پر ٹوٹ چکا ہے، لہٰذا اب اس کی بہن سے وہ نکاح کر سکتا ہے عدت کے اندر بھی۔ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاقِ بائن دے چکا ہے یا تین طلاقیں دے چکا ہے تو عدت کے اندر بھی اس کی بہن سے نکاح کر سکتا ہے، اس لیے کیونکہ نکاح بالکل ٹوٹ چکا ہے۔ طلاقِ بائن کیا کرتی ہے؟ نکاح کو بالکل توڑ دیتی ہے، اب وہ خاوند بھی اس بیوی کو رکھنا چاہے تو دوبارہ نکاح کرنا پڑتا ہے ویسے نہیں رکھ سکتا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وقال الشافعي رحمه الله“، اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”إن كانت العدة عن طلاق بائن أو ثلاث يجوز“، کہ اگر وہ جو عدت ہے وہ طلاقِ بائن سے ہے یا تین طلاقوں کی وجہ سے ہے، ”يجوز“، تو اس شخص کے لیے اس کی بہن سے نکاح جائز ہے، ”لانقطاع النكاح بالكلية“، اس وجہ سے کہ نکاح جو ہے وہ منقطع ہو چکا ہے، ٹوٹ چکا ہے، ”بالكلية“، پورے طور پر۔ تو لہٰذا اب نکاح کرے گا تو جمع بین الاختین لازم نہیں آئے گا۔ ”إعمالاً للقاطع“، عمل دیتے ہوئے قاطع کو، وہ چیز جو توڑنے والی ہے۔ وہ چیز جو نکاح کو توڑنے والی ہے، کس چیز نے نکاح کو توڑا ہے؟ طلاقِ بائن نے، یا تین طلاقوں نے، انہوں نے نکاح کو بالکل توڑ دیا ہے۔ یہ چیزیں یعنی طلاقِ بائن اور تین طلاقیں یہ قاطعِ نکاح ہیں، تو ان کو پورا عمل دیا جائے گا، اور ان کا پورا عمل اسی صورت میں ہوگا کہ یوں کہا جائے کہ نکاح بالکل ختم ہو چکا۔ ”إعمالاً للقاطع“، عمل دیتے ہوئے اس چیز کو جو توڑنے والی ہے نکاح کو۔ اس طلاق کو پورے طور پر عمل دینے کے لیے، اس طلاق کو پورے طور پر عمل کب کہیں گے؟ کہ جب آپ نکاح کی اجازت دے دیں۔ آپ عدت کے اندر نکاح کی اجازت دیں گے تو اس کا مطلب ہے آپ نے یہ جو طلاقِ بائن یا طلاقِ ثلاث تھیں ان کو پورا قاطع قرار دے دیا۔ کیا قرار دیا؟ پورا قاطع۔ بھئی پورا اگر آپ اجازت نہیں دیتے تو اس کا مطلب ہے یہ تو قاطع نہ ہوئی نا، نکاح ابھی آپ کہہ رہے ہیں ابھی بھی نکاح باقی ہے حالانکہ طلاقِ بائن تو نکاح کو بالکل توڑنے والی ہے، تین طلاقیں تو نکاح کو بالکل توڑنے والی ہیں، اس کا تو مطلب ہے آپ نے قاطع کو پورا عمل نہیں دیا، آپ کہہ رہے ہیں نہیں بھئی ابھی بھی نکاح کا اثر باقی ہے لہٰذا آگے نکاح نہیں کر سکتا اس کی بہن سے جب تک عدت پوری نہ ہو جائے۔ حالانکہ طلاقِ بائن اور طلاقِ ثلاث تو پورے طور پر نکاح کو توڑ دیتی ہیں، تو پورے طور پر توڑنا یہ تقاضا کرتا ہے کہ اس کی بہن سے اب نکاح جائز ہونا چاہیے، نکاح ٹوٹ چکا ہے، چاہے بے شک عدت چل رہی ہے لیکن نکاح پورے طور پر ٹوٹ چکا ہے، اب آگے بہن سے نکاح جائز ہونا چاہیے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ کہتے ہیں: ”إعمالاً للقاطع“، اس نکاح کو توڑنے والی چیز جو ہے یعنی اس طلاق کو پورا عمل دینے کے لیے۔ ”ولهذا لو وطئها مع العلم بالحرمة يجب الحد“، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”ولهذا“، اور اسی وجہ سے، اسی وجہ سے ”لو وطئها مع العلم بالحرمة يجب الحد“، اگر اس خاوند نے صحبت کر لی ”مع العلم بالحرمة“، باوجود اس کو حرمت کا علم ہونے کے، ”يجب الحد“، اس پر حد واجب ہوگی یعنی حدِ زنا۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اے احناف! آپ بھی کہتے ہو کہ اگر یہ شخص جس نے اپنی بیوی کو طلاقِ بائن دے دی ہے یا تین طلاقیں دے دی ہیں اور اس نے اس عدت کے اندر اے احناف آپ بھی کہتے ہیں کہ اگر خاوند نے اس بیوی سے صحبت کر لی اور خاوند کو پتہ بھی ہے کہ یہ عورت مجھ پر حرام ہو چکی ہے تو اس صورت میں آپ بھی کہتے ہیں اس پر حد آئے گی، اس آدمی کو حدِ زنا لگائی جائے گی۔ ہاں اگر اس عورت سے صحبت کر لیتا ہے اور کہتا ہے مجھے تو پتہ ہی نہیں تھا، میں تو سمجھ رہا تھا کہ ابھی عدت ہے، عدت کے اندر ابھی بھی میں اس سے صحبت کر سکتا ہوں، تو اگر وہ کہے مجھے اس کے حرام ہونے کا پتہ ہی نہیں تھا تو پھر تو حد نہیں آئے گی کیونکہ حد جو ہے ادنیٰ شبہے سے بھی ساقط ہو جاتی ہے۔ حد کیا ہے؟ جہاں ذرا بھی شک اور شبہ آ جائے وہاں حد ساقط ہو جاتی ہے، تو اگر اس نے کہا کہ مجھے تو علم ہی نہیں تھا کہ میرے لیے یہ بیوی عدت کے اندر بھی حرام ہو چکی ہے تو پھر اس صورت میں حد نہیں آئے گی۔ اور اگر وہ یہ کہتا ہے کہ مجھے پتہ تھا یہ میرے اوپر حرام ہو چکی ہے پھر بھی میں نے اس سے وطی کر لی، تو یاد رکھو اس صورت میں اس پر حدِ زنا آئے گی۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اے احناف! آپ کے نزدیک بھی یہ شخص جانتے بوجھتے ہوئے اگر اس عورت سے صحبت کرے گا تو آپ بھی کہتے ہیں اس پر حدِ زنا آئے گی۔ اس پر حدِ زنا کا آنا بتلا رہا ہے کہ نکاح بالکل ٹوٹ چکا ہے۔ اگر نکاح کے کچھ اثرات بھی باقی ہوتے تو آپ کبھی بھی اس پر حد کے قائل نہ ہوتے بھئی۔ نکاح کے اگر کچھ اثرات ہوتے پھر تو حد نہیں آ سکتی بھئی، بتایا نا حد تو ادنیٰ شبہے سے بھی کیا ہو جاتی ہے؟ ساقط ہو جاتی ہے۔ تو اے احناف! آپ کا بیان کیا ہوا یہ مسئلہ بتلا رہا ہے کہ آپ کے نزدیک بھی نکاح پوری طرح ٹوٹ چکا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ ”ولهذا لو وطئها مع العلم بالحرمة يجب الحد“، اور اسی وجہ سے اگر صحبت کر لی اس شخص نے اس عورت سے باوجود حرمت کا علم ہونے کے تو اس پر حد واجب ہوگی۔ اب ہماری دلیل آ گئی۔ ”ولنا أن النكاح الأولى قائم لبقاء أحكامه كالبقاء أحكامه كالبقاء أحكامه كالنفقة والمنع والفراش“، ہماری دلیل یہ ہے، امام شافعی رحمہ اللہ تو فرماتے ہیں نکاح ٹوٹ چکا ہے لہٰذا اس عورت کی بہن سے یہ نکاح کر سکتا ہے، ہماری دلیل یہ ہے کہ ”أن النكاح الأولى قائم“، کہ پہلی عورت کا نکاح ابھی بھی قائم ہے، ابھی بھی موجود ہے، ”لبقاء أحكامه“، کیونکہ اس نکاح کے احکام ابھی تک باقی ہیں، ”كالنفقة والمنع والفراش“، جیسے نفقہ ہے، منع ہے اور فراش ہے۔ یاد رکھو عدت کے اندر کا نفقہ خاوند کے ذمے ہوتا ہے۔ جب کوئی شخص کسی عورت کو طلاق دے دے تو وہ عورت آگے کسی اور سے نکاح نہیں کر سکتی جب تک وہ اپنی عدت پوری نہ کر لے بھئی۔ تو یہ جو عورت پر پابندی لگائی شریعت نے عدت کی، یہ اس پہلے خاوند کی وجہ سے ہے تاکہ پتہ چل جائے کہ کہیں یہ عورت حاملہ تو نہیں، کہیں اس کے پیٹ میں اس پہلے خاوند کی اولاد تو نہیں، تو لہٰذا شریعت نے یہ جو عورت پر پابندی لگائی اس پہلے خاوند کی وجہ سے پابندی لگائی ہے لہٰذا اس مدت کا نفقہ بھی خاوند کے ذمے ہوگا۔ لہٰذا عدت کا نفقہ کون دے گا؟ خاوند دے گا۔ یہ علامت ہے اس بات کی کہ نکاح کے اثرات ابھی بھی باقی ہیں۔ اسی طرح یاد رکھو جب کوئی عورت کسی شخص سے نکاح کرتی ہے تو اس پر کچھ پابندیاں آ جاتی ہیں شرعاً، ان میں سے ایک پابندی یہ ہے کہ یہ عورت جو منکوحہ ہے یہ اپنے خاوند کی اجازت کے بغیر اپنے گھر سے کہیں نہیں جا سکتی بھئی۔ تو جس طرح منکوحہ جو ہے وہ اپنے خاوند کی اجازت کے بغیر گھر سے باہر نہیں جا سکتی اسی طرح یہ جو معتدہ ہے، یہ عورت جس کو خاوند نے تین طلاقیں دی ہیں یا طلاقِ بائن دی ہے، یہ بھی، یہ بھی اس عدت کے دوران خاوند کی اجازت کے بغیر گھر سے باہر نہیں جا سکتی، خاوند اس کو منع کر سکتا ہے کہ کہیں اور جانے کی اجازت نہیں ہے۔ شریعت نے جو خاوند کو روکنے اور منع کرنے کا اختیار دیا ہے اس سے معلوم ہوا کہ ابھی بھی نکاح کے اثرات باقی ہیں بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ نکاح ابھی پوری طرح ٹوٹا نہیں ہے بھئی۔ اور اسی طرح ”والفراش“، فراش کا معنی سمجھ لو، یاد رکھو فراش عربی زبان میں بچھونے اور بستر کو کہتے ہیں، لیکن یہ اصطلاحی لفظ ہے فقہ کے اندر بھئی۔ فراش کہتے ہیں کسی عورت کا کسی مرد کے بچوں کو جنم دینے کے لیے مختص ہونا۔ بھئی جب کوئی شخص کسی عورت سے نکاح کر لیتا ہے تو یہ اب اس کی منکوحہ بن گئی، اب اس عورت سے جو اولاد پیدا ہوگی وہ اسی شخص کی شمار ہوگی بھئی، تو یہ یوں کہیں گے کہ یہ عورت اس شخص کا فراش ہے۔ یہ عورت اس شخص کا فراش ہے بھئی، یعنی یہ اس مرد کے بچوں کو جنم دینے کے لیے خاص ہو چکی ہے، یا دوسرے لفظوں میں یوں کہو کہ عورت ایسی ہو جائے کہ اس سے پیدا ہونے والے بچوں کا نسب ثابت ہو سکے۔ عورت کا کسی کے لیے فراش ہو جانے کا کیا معنی؟ کہ اس عورت سے جو بچے پیدا ہوں گے ان کا نسب ثابت ہو سکتا ہے۔ پھر یاد رکھنا یہ جو فراش ہے یہ تین قسم پر ہے بھئی: ایک فراشِ قوی ہے، ایک فراشِ متوسط ہے اور ایک فراشِ ضعیف ہے۔ ایک فراشِ قوی ہے، ایک فراشِ متوسط ہے اور ایک فراشِ ضعیف ہے۔ فراشِ قوی جو ہے وہ بیوی ہے بھئی بیوی، منکوحہ۔ یاد رکھو جس عورت سے کوئی شخص نکاح کر لیتا ہے تو وہ عورت اس کا فراش ہو گئی یعنی اس کے بچوں کو جنم دینے کے لیے خاص ہو گئی، اور نیز اس عورت سے جو بچے پیدا ہوں گے وہ خود بخود اسی خاوند کے شمار ہوں گے۔ وہ خود بخود اسی خاوند کے شمار ہوں گے، تو یہ فراشِ قوی ہے۔ اور اگر خاوند اپنے سے ان بچوں کی نفی کرنا چاہتا ہے تو پھر لعان کرنا پڑے گا، معلوم ہوا وہ اپنی بیوی پر زنا کا الزام لگا رہا ہے تو اس کو لعان کرنا پڑے گا۔ یاد رکھو لعان یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی بیوی پر مثلاً زنا کی تہمت لگا دیتا ہے یا بیوی سے پیدا ہونے والے بچے کا انکار کر دیتا ہے کہ یہ میرا بچہ نہیں ہے۔ اب دیکھو عام حالات کے اندر اگر کوئی شخص کسی عورت پر زنا کا الزام لگاتا ہے تو شریعت نے کہا ہے کہ چار گواہ لے کر آؤ بھئی، اب اس آدمی کو چار گواہ لانے پڑیں گے، اگر وہ چار گواہ پیش نہ کر سکا تو پھر اس شخص پر حدِ قذف جاری ہوگی کہ اس نے ایک مسلمان پاکدامن عورت پر زنا جیسا عظیم بہتان لگایا تو اس کو اسی کوڑے لگائے جائیں گے بھئی، یہ ہے حدِ قذف۔ لیکن خاوند بھئی، خاوند نے اگر بیوی کو زنا کرتے ہوئے دیکھ لیا تو اب وہ چار گواہ کہاں سے لے کر آئے بھئی؟ تو لہٰذا خاوند کے لیے یہ حکم نہیں ہے کہ اب اس کو چار گواہ پیش کرنا پڑیں گے بلکہ اب وہ قاضی کے پاس جا کر دعویٰ کرے گا اور پھر وہاں قاضی ان دونوں میں لعان کروائے گا، اور پھر لعان کے بعد خاوند اور بیوی کے اندر قاضی جدائی کروا دے گا۔ یا اگر خاوند نے بچے کا انکار کر دیا، اور یہ یاد رکھنا بچے کی پیدائش کے ابتدائی دنوں میں یہ بچے کے نسب کی نفی ہو سکتی ہے۔ اگر بعد میں نسب کی نفی کرنا چاہتا ہے، سال بعد یا دو سال بعد جا کر نسب کی نفی کرنا چاہتا ہے کہ یہ میرا بچہ نہیں ہے پھر نسب کی نفی نہیں کر سکتا بھئی، اگر آپ کو نسب کی نفی کرنا تھی تو بچے کی پیدائش کے ابتدائی دنوں میں آپ کو یہ مقدمہ کرنا چاہیے تھا۔ تو لہٰذا بچے کے نسب کی نفی کی صورت میں بھی لعان کرنا پڑے گا قاضی کے پاس جا کر۔ اور لعان، لعان پورا باب آگے آ جائے گا، صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ لعان جو ہے وہ چار شہادتوں کا نام ہے، مرد کی طرف سے بھی اور عورت کی طرف سے، چار شہادتیں جو مؤکد ہوں گی قسم کے ساتھ، یعنی ان کے ساتھ قسم بھی کھائے گا مرد بھی اور عورت بھی۔ پہلے جو ہے مرد چار شہادتیں دے گا قسم کے ساتھ اور یوں کہے گا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ واللہ میں نے اس بیوی پر، اس عورت پر جو زنا کا الزام لگایا ہے اس میں میں سچا ہوں۔ تو اگر زنا کا الزام لگایا ہے تو یہ الفاظ کہے گا، اگر بچے کے نسب کی نفی کرنا چاہتا ہے تو یوں کہے گا کہ میں گواہی دیتا ہوں واللہ اس بچے کے نسب کی جو میں نے اپنے آپ سے نفی کی ہے میں اس کے اندر سچا ہوں بھئی۔ اور اگر دونوں الزام لگائے ہیں مثلاً صراحتاً وہ زنا کا الزام بھی لگا رہا ہے اور بچے کے نسب کی نفی بھی کر رہا ہے تو دونوں کو ملا دے گا کہ میں گواہی دیتا ہوں واللہ میں نے جو اس عورت پر زنا کا الزام لگایا ہے اور میں نے جو اس بچے کے نسب کی نفی کی ہے اپنے آپ سے، اس میں میں سچا ہوں۔ چار مرتبہ یہ شہادتیں دے گا اور پانچویں مرتبہ میں پھر خاوند کہے گا کہ مجھ پر اللہ کی لعنت ہو اگر میں اس الزام کے اندر جھوٹا ہوں۔ پھر اس کے بعد قاضی جو ہے عورت سے چار شہادتیں لے گا اور اس میں بھی وہ قسم کھائے گی، عورت کہے گی کہ میں گواہی دیتی ہوں واللہ اس شخص نے مجھ پر یہ جو زنا کا الزام لگایا ہے یا یہ جو بچے کے نسب کی اس نے نفی کی ہے، اس کے اندر یہ جھوٹا ہے۔ چار مرتبہ یہ شہادتیں دے گی اور پانچویں مرتبہ کہے گی کہ مجھ پر اللہ کا غضب ہو اگر یہ آدمی اپنے اس دعوے کے اندر سچا ہے۔ تو پھر قاضی ان کے درمیان جدائی کروا دے گا اور اس بچے کے نسب کی نفی کر دے گا قاضی، اب وہ اس خاوند کا بچہ شمار نہیں ہوگا، صرف اس عورت کا بچہ شمار ہوگا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ ہے لعان۔ جی بات چل رہی تھی فراش کی، میں نے بتایا جو منکوحہ ہے یہ ہے فراشِ قوی، اس سے جو بھی بچہ پیدا ہوگا وہ خود بخود خاوند کا شمار ہوگا۔ اور اگر خاوند اپنے سے بچے کے نسب کی نفی کروانا چاہتا ہے تو صرف کہنے سے نفی نہیں ہوگی، باقاعدہ قاضی کے پاس جا کر لعان کرنا پڑے گا اور وہ بھی بچے کی پیدائش کے ابتدائی دنوں میں۔ بچہ جب پیدا ہوا ہے انہی چند دنوں کے اندر جا کر ایسا کرنا پڑے گا، بعد میں زندگی میں وہ ایسا نہیں کر سکتا۔ یہ ہے فراشِ قوی جس میں بچے کا نسب خود بخود ثابت اور بچے کے نسب کی نفی بغیر لعان کے نہیں ہو سکتی۔ دوسرا فراش ہے باندی بھئی۔ یاد رکھو باندی سے جو اولاد پیدا ہو وہ خود بخود آقا کی شمار نہیں ہوتی جب تک آقا کہہ نہ دے کہ یہ میری اولاد ہے۔ جب آقا کہہ دے گا یہ میری اولاد ہے اب یہ باندی اس آقا کی امِ ولد بن گئی یعنی اس کے بچے کی ماں۔ اب یہ باندی کیا بن گئی؟ اس آقا کے بچے کی ماں بن گئی اور آزادی اس کا حق ہو گیا، اب اس آقا کے مرنے کے بعد یہ عورت آزاد ہو جائے گی اور یہ بچہ آزاد ہے کیونکہ اپنا بچہ مملوک نہیں ہوتا بھئی، تو یہ آزاد ہے، اور جب بچہ آزاد ہے تو یہ بچہ اب اپنی ماں کی آزادی کا بھی سبب بن گیا، اب آقا کے مرنے کے بعد یہ عورت بھی آزاد ہو جائے گی۔ اور آقا کے لیے یہ عورت، یہ جو امِ ولد ہے، یہ آقا اس کو آگے نہیں بیچ سکتا کیونکہ اس کا حقِ آزادی ضائع ہوگا۔ آگے جو خریدے گا وہ تو اس کو آزاد نہیں چھوڑے گا بھئی، لہٰذا اس کو بیچنے کی اجازت نہیں، اب آزادی اس کا حق بن چکی ہے۔ تو یاد رکھو یہ جو باندی ہے یہ فراشِ ضعیف ہے۔ باندی سے جو بچہ پیدا ہوتا ہے وہ خود بخود آقا کا شمار نہیں ہوتا جب تک آقا اس کا دعویٰ نہ کرے، تو یہ باندی فراشِ ضعیف ہے۔ اور ایک فراشِ متوسط ہے۔ فراشِ متوسط یہی باندی جس نے آقا کے ایک بچے کو جنم دے دیا ہے، اب یہ فراشِ متوسط بن گئی۔ یہ آقا کی امِ ولد بن گئی، آقا نے کہہ دیا یہ میری اولاد ہے تو یہ آقا کی کیا بن گئی؟ امِ ولد۔ اب امِ ولد نے آگے چل کر ایک اور بچے کو جنم دیا، یاد رکھو امِ ولد جو ہے جب بچے کو جنم دیتی ہے اب وہ بھی خود بخود آقا کا شمار ہوگا۔ جب پہلے بچے کا اس نے اقرار کر لیا تھا کہ یہ میرا بچہ ہے تو اگلا بچہ بھی آقا کا شمار ہوگا، لیکن آقا اس کی نفی کرنا چاہے تو نفی بھی کر سکتا ہے، آقا کہہ دے نہیں یہ والا بچہ میرا نہیں ہے، اور اس میں کسی لعان کی بھی ضرورت نہیں۔ منکوحہ میں تو بچے کے نسب کی نفی کے لیے کیا ضروری تھا؟ لعان، اور یہاں بغیر لعان کے بھی بچے کے نسب کی نفی ہو جائے گی۔ تو حاصلِ کلام کیا کہ فراش تین قسم کے ہو گئے: ایک فراشِ قوی، ایک فراشِ متوسط اور ایک فراشِ ضعیف۔ فراشِ قوی منکوحہ ہے کہ اس سے پیدا ہونے والا ہر بچہ اسی خاوند کا شمار ہوتا ہے اور اس بچے کے نسب کی نفی کوئی آسان کام نہیں، اس کے لیے لعان کرنا پڑے گا اور ابتدائی دنوں میں کرنا پڑے گا۔ اور فراشِ متوسط جو ہے وہ باندی ہے جو پہلے ایک بچے کو جنم دے چکی ہے اور آقا اس کا اقرار کر چکا ہے، اس فراشِ متوسط سے جو بچہ پیدا ہوگا وہ خود بخود آقا کا شمار ہوگا لیکن اگر آقا اس کی نفی کرنا چاہے تو نفی بھی کر سکتا ہے بغیر لعان کے۔ اور سب سے فراشِ ضعیف باندی کا ہے کہ اس سے جو بچہ پیدا ہوگا اس کا آقا سے نسب ثابت ہی نہیں ہوگا الا یہ کہ آقا خود کہہ دے یہ میرا بچہ ہے، اب نسب ثابت ہو جائے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو اب دیکھو یہاں بات آئی، صاحبِ ہدایہ نے کیا فرمایا: ”لبقاء أحكامه كالنفقة والمنع والفراش“، فراش کا ذکر آیا، میں نے فراش کی تفصیل بیان کر دی کہ فراش تین قسم پر ہے۔ اب یاد رکھو یہ جو حمل ہے، حمل کی کم سے کم مدت جو ہے وہ چھ ماہ ہے اور زیادہ سے زیادہ مدت دو سال ہے۔ کم سے کم مدت کتنی؟ چھ ماہ، یعنی چھ ماہ کے اندر ایک صحیح سلامت بچے کو ایک عورت جنم دے سکتی ہے، اس سے کم عمر والا بچہ صحیح سلامت نہیں ہو سکتا۔ تو حمل کی کم سے کم مدت کتنی ہے؟ چھ ماہ، اور زیادہ سے زیادہ دو سال ہے، یعنی دو سال تک بچہ ماں کے پیٹ میں رہ سکتا ہے، اس سے زیادہ بالکل نہیں رہ سکتا۔ لہٰذا اب ایک شخص نے اپنی بیوی کو طلاقِ بائن دے دی یا اس کو تین طلاقیں دے دی ہیں، اور یہ جو مطلقہ ہے اس نے طلاق کے بعد دو سال ابھی پورے نہیں ہوئے تھے مثلاً ڈیڑھ سال گزر گیا تھا اس کے بعد ایک بچے کو جنم دیا، تو یاد رکھو طلاق سے لے کر دو سال کے پورا ہونے سے پہلے پہلے جس بچے کو بھی یہ عورت جنم دے گی یہ اسی پہلے خاوند کا شمار ہوگا بھئی، الا یہ کہ اس عورت نے اقرار کر لیا تھا شروع میں کہ میری عدت گزر گئی، میرے تین حیض پورے ہو گئے۔ جب بھئی یہ خود اقرار کر چکی ہے مجھے تین حیض آ چکے ہیں طلاق کے بعد تو معلوم ہوا اب جو بچہ پیدا ہوا ہے یہ اس خاوند کا نہیں ہے، پھر تو بچے کا نسب ثابت نہیں ہوگا، لیکن اگر عورت نے اقرار نہیں کیا اور دو سال کے اندر اندر عورت نے بچے کو جنم دے دیا تو وہ اسی خاوند کا بچہ شمار ہوگا۔ کس کا؟ پہلے خاوند، حالانکہ وہ تو طلاق دے چکا ہے، معلوم ہوا ابھی بھی یہ عورت اس کا فراش ہے۔ فراش کس کو کہتے ہیں؟ کہ وہ عورت جس سے پیدا ہونے والے بچے کا نسب ثابت ہو سکے، وہ عورت جس سے پیدا ہونے والے بچے کا نسب ثابت ہو سکے، اور اس بچے کا بھی نسب اس خاوند سے ثابت ہو رہا ہے، معلوم ہوا ابھی بھی یہ اس کا فراش ہے۔ تو دیکھو عدت کے اندر نفقہ بھی خاوند کو دینا پڑے گا، خاوند اس کو باہر جانے سے بھی روک سکتا ہے اور نیز وہ عورت ابھی بھی اس کا فراش ہے، اگر اس نے دو سال کے اندر بچے کو جنم دے دیا تو وہ اسی خاوند کا شمار ہوگا، تو معلوم ہوا نکاح کے اثرات ابھی بھی باقی ہیں۔ جب نکاح کے اثرات ابھی بھی باقی ہیں تو اب اس عورت کے خاوند کے لیے جائز نہیں ہے کہ اس کی بہن سے نکاح کر لے، جب عدت گزر جائے گی پھر نکاح کرے ورنہ تو ابھی بھی نکاح کے اثرات باقی ہیں، نکاح کر لے گا یہ تو جامع بین الاختین بن جائے گا، دو بہنوں کو نکاح میں جمع کرنے والا ہو جائے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ یہ معنی ہے: ”ولنا أن النكاح الأولى قائم لبقاء أحكامه“، اور ہماری دلیل یہ ہے کہ پہلی کا نکاح جو ہے وہ قائم ہے، موجود ہے، ”لبقاء أحكامه“، اس لیے کیونکہ اس نکاح کے احکام باقی ہیں، ”كالنفقة“، جیسے نفقہ ہے وہ بھی خاوند کو دینا پڑے گا، ”والمنع“، اور منع کرنا ہے، یہ بھی خاوند کر سکتا ہے کہ گھر سے نہ نکلو، ”والفراش“، اور جیسے کہ فراش ہونا کہ یہ عورت بچے کو جنم دے گی تو وہ اسی خاوند کا شمار ہوگا جب تک یہ عدت کے گزرنے کا اقرار نہ کر لے۔ ”والقاطع تأخر عمله ولهذا بقي القيد“، اب یہ جواب دے رہے ہیں، امام شافعی رحمہ اللہ کیا فرماتے تھے کہ یہ طلاقِ بائن اور تین طلاقیں قاطعِ نکاح ہیں، یہ نکاح کو کاٹنے والی ہیں، جب یہ نکاح کو کاٹنے والی ہیں تو پھر اس کی بہن سے نکاح جائز ہونا چاہیے کیونکہ انہوں نے کیا کیا؟ نکاح کو کاٹ دیا۔ تو اب اگر اس کی بہن سے نکاح کرے گا تو جامع بین الاختین یہ نہیں ہوگا کیونکہ ایک سے نکاح کٹ چکا ہے، ٹوٹ چکا ہے، تو اب اس کا جواب دے رہے ہیں کہ ہاں یہ طلاقِ بائن یہ بھی قاطع ہے اور تین طلاقیں یہ بھی قاطع ہیں، ہمیں تسلیم ہے، لیکن ان کا عمل مؤخر ہو گیا۔ یہ قاطع تو ہیں لیکن ان کا عمل مؤخر ہو گیا ہے، عدت کے گزرنے پر ان کا عمل پوری طرح مکمل ہوگا، اس سے پہلے ان کا عمل مکمل نہیں ہے بھئی۔ یہ معنی ہے: ”والقاطع تأخر عمله“، اور قاطع جو ہے اس کا عمل مؤخر ہو گیا، ”ولهذا بقي القيد“، اور اسی لیے تو قید ابھی بھی باقی ہے۔ یہ عورت بھئی عدت سے پہلے کسی اور جگہ نکاح کر سکتی ہے؟ نہیں، یہ عورت نے عدت سے پہلے کہیں اور نکاح نہیں کر سکتی، تو یہ جو قید باقی ہے اس عورت پر، جو پابندی باقی ہے یہ اسی نکاح کا تو اثر ہے۔ اگر اس طلاق نے نکاح کو پورے طور پر کاٹ دیا تھا اور توڑ دیا تھا تو پھر تو عورت کو طلاق ملتے ہی آگے نکاح کی اجازت ہونی چاہیے تھی، لیکن شریعت نے کیا پابندی لگائی اس پر؟ کہ اس پر عدت کا گزارنا واجب ہے، اس پر پابندی لگائی، یہ پابندی کس وجہ سے ہے؟ اسی پہلے نکاح کی وجہ سے ہی تو ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔ ”والقاطع تأخر عمله“، اور نکاح کو توڑنے والی چیز جو ہے اس کا عمل مؤخر ہو گیا، ”ولهذا بقي القيد“، اور اسی لیے عورت پر یہ قید باقی ہے کہ وہ آگے نکاح نہیں کر سکتی بھئی۔ اگر قاطع کا اثر پوری طرح ہو چکا ہوتا پھر تو اس کو فوراً ہی آگے نکاح کی اجازت ہونی چاہیے تھی بھئی۔ آگے دیکھیے، کہتے ہیں: ”والحد لا يجب على إشارة كتاب الطلاق وعلى عبارة كتاب الحدود يجب“، یہاں سے جواب دے رہے ہیں وہ جو امام شافعی رحمہ اللہ نے دلیل ذکر فرمائی تھی کہ اے احناف! آپ کے نزدیک بھی یہ جو طلاقِ بائن والی معتدہ ہے یا طلاقِ ثلاثہ والی معتدہ ہے، یہ اگر اس معتدہ سے عدت کے اندر صحبت کر لے باوجود اس کے کہ اس کو علم ہے کہ یہ عورت اس پر حرام ہو چکی ہے تو اس پر حد واجب ہوگی۔ اے احناف! تمہارے نزدیک بھی اس شخص پر کیا واجب ہوگی؟ حد، اور اس پر حد کا واجب ہونا بتلا رہا ہے کہ تمہارے نزدیک بھی نکاح پورے طور پر ٹوٹ چکا ہے۔ تو اس کا جواب اب دینے لگے ہیں صاحبِ ہدایہ، دو جواب دیں گے: ایک جوابِ منعی اور ایک جوابِ تسلیمی۔ جوابِ منعی یہ دیں گے کہ ہمیں آپ کی یہ بات تسلیم ہی نہیں ہے کہ اس شخص پر حد آئے گی۔ ہمیں یہ بات تسلیم ہی نہیں ہے، اس لیے کیونکہ مبسوط کی جو کتاب الطلاق ہے اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ اس شخص پر حد واجب نہیں ہوگی۔ یاد رکھو مبسوط جو ہے امام محمد رحمہ اللہ کی کتاب ہے اور اس کے اندر ذکر فرمائیں گے صاحبِ ہدایہ کہ اس کے اندر جو کتاب الطلاق آتی ہے اس کتاب الطلاق سے اشارۃً یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اس شخص پر حد واجب نہیں ہوگی، یعنی صاف لفظوں میں تو نہیں لکھا کہ اس شخص پر حد واجب نہیں ہوگی لیکن کتاب الطلاق کی عبارت سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ اس شخص پر حد نہیں آنی چاہیے۔ اس شخص پر حد نہیں آنی چاہیے، یہ اشارہ ملتا ہے۔ اور دوسرا مبسوط کی جو کتاب الحدود ہے وہاں باقاعدہ عبارت کے اندر صراحتاً امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس شخص پر حد واجب ہوگی۔ یہ خاوند جس نے جانتے بوجھتے ہوئے عدت کے اندر معتدہ سے صحبت کی ہے اس پر حد آئے گی۔ تو کتاب الطلاق سے اشارۃً کیا بات معلوم ہوئی؟ کہ حد نہیں آئے گی، اور مبسوط کی کتاب الحدود کی عبارت میں صاف لفظوں سے کیا پتہ چلا کہ اس پر حد واجب ہوگی۔ تو صاحبِ ہدایہ دو جواب دیں گے: ایک منعی اور ایک تسلیمی۔ پہلا جواب منعی کہ بھئی ہمیں آپ کی یہ بات تسلیم ہی نہیں ہے کہ عند الاحناف اس آدمی پر حد آئے گی، اس لیے کیونکہ مبسوط کی کتاب الطلاق سے یہ اشارہ ہوتا ہے کہ اس پر حد نہیں آئے گی۔ اور دوسرا جواب تسلیمی کہ ہاں ٹھیک ہے آپ کی بات ہمیں تسلیم ہے، مبسوط کی کتاب الحدود کے اندر صاف لفظوں میں لکھا ہے کہ اس پر حد آئے گی، ہمیں آپ کی بات تسلیم ہے اس شخص پر حد آئے گی، لیکن آگے پھر اس کی علت بھی صاحبِ ہدایہ بیان کریں گے کہ بھئی یہاں پر یہ جو اس خاوند کو ملکیت حاصل تھی بیوی پر، خاوند کو ملکیت حاصل تھی بیوی پر، وہ ملکیت حلال ہونے کے حق میں تو ختم ہو گئی۔ جب طلاقِ بائن دے دی ہے یا تین طلاقیں دے دی ہیں تو حلال ہونے کی ملکیت کیا ہو گئی؟ ختم، اب یہ عورت خاوند کے لیے کسی طرح بھی حلال نہیں، جب حلال نہیں اور اس نے اس کے ساتھ صحبت کر لی تو یہ زنا ہوا اور زنا میں کیا آیا کرتی ہے؟ حد آیا کرتی ہے، اس لیے اس پر حد آئے گی۔ اور لیکن یہی ملکیت اور چیزوں کے حق میں ابھی بھی موجود ہے، یہ خاوند کی ملکیت اس پر ابھی بھی موجود ہے، یہ عورت آگے ابھی بھی نکاح نہیں کر سکتی، اور نیز یہ عورت جو ہے بچے کو جنم دے گی تو وہ اسی خاوند کا شمار ہوگا، اور نیز خاوند اس کو گھر سے نکلنے سے منع کر سکتا ہے، اور نیز خاوند جو ہے اس کو نفقہ بھی دے گا اس دوران، یہ ساری چیزیں کیا بتلاتی ہیں؟ کہ ابھی بھی خاوند کی ملکیت اس عورت پر باقی ہے۔ معلوم ہوا بعض اعتبار سے خاوند کی ملکیت ختم ہو رہی ہے اور بعض اعتبار سے خاوند کی ملکیت ابھی بھی باقی ہے جب تک عدت چل رہی ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ جواب دے رہے ہیں صاحبِ ہدایہ کس کا؟ امام شافعی رحمہ اللہ کا۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے کیا فرمایا تھا کہ اے احناف! تمہارے نزدیک بھی شخص پر حد آئے گی اگر یہ اس عورت سے جانتے بوجھتے کیا کر لے؟ صحبت کر لے، تو معلوم ہوا اس سے نکاح پوری طرح ٹوٹ چکا ہے جبھی تو حد آئے گی ورنہ حد تو ادنیٰ شبہے سے بھی ساقط ہو جاتی ہے۔ تو جواب دے رہے ہیں کہ نہیں ہمیں آپ کی بات تسلیم ہی نہیں ہے، حد آئے گی نہیں کیونکہ کتاب الطلاق سے کیا اشارہ ملتا ہے کہ اس پر حد نہیں آئے گی۔ اور پھر دوسرا جواب تسلیمی کہ ہاں مبسوط کی کتاب الحدود کو دیکھیں تو ہمیں آپ کی بات تسلیم ہے، اس شخص پر کیا آئے گی؟ حد آئے گی، لیکن اس کی وجہ پھر آگے ذکر فرمائیں گے صاحبِ ہدایہ کہ وجہ یہ ہے کہ خاوند کی جو ملکیت تھی اس عورت پر، بعض اعتبار سے وہ ملکیت ختم ہے، بعض اعتبار سے ملکیت ابھی بھی موجود ہے۔ حلال ہونے کے اعتبار سے ملکیت ختم ہو گئی، اب یہ عورت اس خاوند کے لیے حلال نہیں، جب حلال نہیں اور اس نے صحبت کر لی تو اب زنا ہوا اور جب زنا ہوا ہے تو اس پر حدِ زنا آئے گی۔ اور بعض اعتبارات سے خاوند کی ملکیت ابھی بھی موجود ہے جو چیزیں ہم نے پیچھے ذکر کر دیں کہ نفقہ بھی خاوند کو دینا پڑے گا، خاوند اس کو گھر سے نکلنے سے بھی روک سکتا ہے عدت کے دوران، اور بچے کو یہ جنم دے گی عدت کے دوران تو وہ بھی کس کا شمار ہوگا؟ خاوند کا شمار ہوگا، معلوم ہوا بعض اعتبار سے ملکِ نکاح باقی ہے بھئی۔ جب بعض اعتبار سے ملکِ نکاح باقی ہے تو اب اگر اس عدت کے اندر یہ اس کی بہن سے نکاح کرے گا تو جمع بین الاختین لازم آئے گا نکاح کے اعتبار سے کہ پہلی کے ساتھ بھی نکاح بعض اعتبار سے باقی ہے اور اس نے دوسری کے ساتھ بھی کیا کر لیا؟ نکاح کر لیا، تو دو بہنوں کا نکاح میں جمع کرنا لازم آئے گا اور وہ تو جائز نہیں بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔ دیکھیے بھئی کتاب پر: ”والحد لا يجب على إشارة كتاب الطلاق“، اور حد جو ہے یہ واجب نہیں ہوتی کتاب الطلاق کے اشارے پر، کتاب الطلاق کے اشارے سے یہ حد واجب نہیں ہوتی، یہ منعی جواب دے دیا کہ ہمیں یہ تسلیم ہی نہیں ہے کہ اس پر حد آئے گی بھئی۔ ”وعلى عبارة كتاب الحدود يجب“، اور کتاب الحدود کی عبارت پر حد واجب ہوگی، یہ تسلیمی جواب دے رہے ہیں کہ ہمیں آپ کی بات تسلیم ہے اس شخص پر حدِ زنا آئے گی، لیکن اس کی وجہ کیا ہے اب وہ وجہ بھی آگے بیان کر رہے ہیں، کہتے ہیں: ”لأن الملك قد زال في حق الحل فيتحقق الزنا“، اس لیے کیونکہ خاوند کی جو ملکیت ہے ”قد زال في حق الحل“، وہ حلال ہونے کے حق میں تو ختم ہو گئی۔ حلال ہونے کے حق میں ملکیت زائل ہو گئی، اب یہ عورت اس کے لیے کسی بھی طرح حلال نہیں، تو حلال ہونے کے اعتبار سے خاوند کی ملکیت ختم ہو گئی، ”فيتحقق الزنا“، تو زنا پایا گیا کیونکہ عورت حلال نہ رہی اور اس نے پھر بھی کیا کر لی؟ صحبت کر لی تو زنا پایا گیا لہٰذا حد آئے گی۔ ”ولم يرتفع في حق ما ذكرنا“، لیکن یہ جو خاوند کی ملکیت ہے ان چیزوں کے حق میں ختم نہیں ہوئی جو ہم نے ذکر کر دیں۔ وہ جو چیزیں ہم نے ذکر کر دیں کہ نفقہ بھی بیوی کو دینا پڑے گا عدت کے دوران، خاوند اس کو گھر سے نکلنے سے منع بھی کر سکتا ہے، اور یہ بیوی اگر بچے کو جنم دے گی تو وہ بچہ کس کا شمار ہوگا؟ خاوند کا شمار ہوگا، یہ چیزیں بتلا رہی ہیں کہ نکاح ابھی پوری طرح ختم نہیں ہوا بھئی۔ تو لہٰذا خاوند کی ملکیت بعض چیزوں کے اعتبار سے ختم ہے اور بعض چیزوں کے اعتبار سے خاوند کی ملکیت ختم نہیں ہے۔ تو بعض چیزوں کے اعتبار سے ملکیت ختم نہیں تو لہٰذا اب اگر یہ اس کی بہن سے نکاح کرے گا عدت کے دوران تو کیا بن جائے گا؟ ”فيصير جامعا“، تو لہٰذا یہ شخص جامع بن جائے گا اگر اس کی بہن سے نکاح کر لے، لہٰذا اس لیے عدت کے دوران اس کی بہن سے نکاح نہیں کر سکتا بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔ پھر دیکھیے ترجمہ، کہتے ہیں: ”لأن الملك قد زال في حق الحل فيتحقق الزنا“، اس لیے کیونکہ ملکیت جو ہے وہ زائل ہو گئی، ختم ہو گئی فی حق الحل، حلال ہونے کے حق میں کہ یہ عورت اب اس کے لیے حلال نہیں، ”فيتحقق الزنا“، تو زنا پایا گیا لہٰذا حد آئے گی، ”ولم يرتفع في حق ما ذكرنا“، اور خاوند کی ملکیت نہیں اٹھی یعنی نہیں ختم ہوئی فی حق ما ذکرنا، ان چیزوں کے حق میں جو ہم نے ذکر کر دیں، ”فيصير جامعا“، تو لہٰذا یہ شخص جامع بن جائے گا اگر اس کی بہن سے نکاح کر لے، لہٰذا اس لیے عدت کے دوران اس کی بہن سے نکاح نہیں کر سکتا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ حل ہو گیا۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔
24 approved lectures · 13 of 24