Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء ثاني · dars-005

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Muhammad Ghayyas
📍 Location Lahore, Pakistan
📅 Approved Date 07 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 33
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
اگے سبق دیکھیے بھئی: لأن التزويج للتلفيق والنكاح للضم ولا ضم ولا ازدواج بين المالك والمملوك أصلا ولنا أن التمليك سبب لملك المتعة في محلها بواسطة ملك الرقبة وهو الثابت بالنكاح والسببية طريق المجاز گزشتہ سبق میں صاحبِ قدوری نے وہ الفاظ ذکر فرمائے تھے جن سے نکاح منعقد ہو جاتا ہے اور بتلایا کہ نکاح، تزویج، ہبہ، تملیک اور صدقہ ان سب لفظوں سے نکاح منعقد ہو جاتا ہے۔ اور میں نے تفصیل بتلائی تھی کہ ان میں سے نکاح اور تزویج یہ نکاح کے اندر صریح ہیں، نکاح وہ بھی نکاح کرنے یا نکاح کروانے کے لیے یہ لفظ استعمال ہوتا ہے، اور تزویج کا معنی بھی شادی کروانا یا اسی سے تزوج ہے شادی کرنا یعنی نکاح کرنا اور نکاح کروانے کے لیے استعمال ہوتا ہے، تو ان لفظوں کا اور کوئی معنی نہیں تو یہ لفظ صریح ہیں نکاح کے اندر۔ ان کا معنی ہی کیا ہے؟ نکاح کرنا یا نکاح کروانا، تو ان سے نکاح منعقد ہو جائے گا، اس میں کسی نیت وغیرہ کی ضرورت نہیں۔ یہ آگے تفصیل آگے آئے گی بھئی طلاق کے مسئلے میں بھی کہ صریح لفظ جو ہے وہاں مثلاً جو لفظ طلاق کے لیے صریح ہے، جیسے لفظِ طلاق، طلاق کا معنی ہی طلاق ہے، اس کا اور کوئی معنی نہیں، تو جب کوئی خاوند اپنی بیوی سے کہہ دے کہ میں نے تجھے طلاق دے دی تو اس میں نیت نہیں دیکھی جائے گی بس طلاق ہو گئی کیونکہ اس لفظ کا اور کوئی معنی ہی نہیں ہے۔ تو یہ صریح ہے طلاق کے اندر بھئی یہ لفظِ طلاق۔ اسی طرح یہ جو نکاح اور تزویج ہیں یہ نکاح کے باب میں صریح ہیں، ان کا معنی ہی نکاح کرنا اور نکاح کروانا ہے لہٰذا یہاں نیت کو نہیں دیکھا جائے گا، جب ان لفظوں کو ذکر کیا جائے گا تو ان سے نکاح منعقد ہو جائے گا بھئی۔ البتہ ہبہ، تملیک اور صدقہ یہ جو ہیں یہ کنایہ ہیں نکاح سے۔ کنایہ میں نے بتلایا تھا کہ بات کو ذرا گھما کر ذکر کرنا، صاف لفظوں میں بات نہ کرنا بلکہ ایسے لفظوں سے بات ذکر کرنا جس میں اور معنی بھی ہو بھئی۔ تو اب دیکھو ہبہ کا ویسے معنی تو ہے تحفہ دینا، اسی طرح تملیک کا معنی ہے مالک بنانا اور اسی طرح صدقے کا معنی ہے اللہ کی رضا کے لیے کسی کو کوئی چیز دینا، اس کو اس چیز کا مالک بنانا، تو ان کا معنی نکاح نہیں لیکن نکاح کے اندر بھی ان کو استعمال کیا جائے تو ان سے نکاح منعقد ہو جائے گا بھئی۔ تو یہ نکاح کے اندر یہ الفاظ کنایہ ہیں، کیا ہیں؟ کنایہ۔ اور کنائے کے اندر چونکہ اور بھی معنی کا احتمال ہوتا ہے لہٰذا وہاں کوئی دلیل چاہیے جس سے پتہ چلے کہ یہ ان سے نکاح کیا جا رہا ہے اور وہ دلیل کیا ہے؟ کہ نیت ہونی چاہیے۔ تو کنائے کے اندر ہمیشہ نیت کی ضرورت پڑے گی، دلیل چاہیے ہوگی جس سے پتہ چلے کہ یہ معنی مراد ہے بھئی۔ تو یہاں پر بھی کوئی شخص ہبہ، صدقہ یا تملیک کے الفاظ کو نکاح کے لیے استعمال کرتا ہے اور نکاح کی نیت کرتا ہے تو اس سے نکاح منعقد ہو جائے گا بھئی۔ تو یہ کنایہ ہیں اور کنائے کے لیے کیا چاہیے؟ دلیل، اور دلیل کیا ہوگی؟ اس کی نیت۔ اگر نیت نہیں ہے پھر نکاح منعقد نہیں ہوگا۔ اور پھر بعض اوقات نیت کے ساتھ ساتھ لفظوں میں بھی دلیل آ جاتی ہے۔ مثلاً ایک شخص دوسرے شخص سے کسی عورت کا نکاح کرواتا ہے تو وہ جو عورت کا وکیل ہے وہ یہ الفاظ مثلاً بولتا ہے کہ میں نے فلاں عورت آپ کو ہبہ کر دی اور ایک لاکھ روپے بطورِ مہر کے، تو یہ جو ایک لاکھ روپے بطورِ مہر کے یہ جو ساتھ ذکر کیا اس سے پتہ چل گیا کہ یہاں ہبہ بول کر ہبہ کا ارادہ نہیں ہے بلکہ نکاح کا ارادہ ہے، تو دیکھو یہ دلیل بھی آ گئی۔ تو دلیل کیا ہے؟ اصل تو نیت ہے اور کبھی کبھی لفظوں میں یا کوئی اور ساتھ کوئی اور قرینہ وغیرہ بھی مل جائے گا، وہ دلیل بن جائے گی۔ تو حاصلِ کلام کیا کہ صریح لفظ کے اندر نیت کی ضرورت نہیں اور کنائے کے اندر نیت کی ضرورت ہوگی۔ اور اس کے بعد پھر امام شافعی رحمہ اللہ کی بات آئی تھی۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نکاح اور تزویج یہ تو صریح لفظ ہیں ان سے تو نکاح منعقد ہو جائے گا لیکن باقی جو لفظ ہیں ہبہ، تملیک اور صدقہ وغیرہ ان کے ذریعے نکاح منعقد نہیں ہوگا بھئی۔ اور پھر میں نے تفصیل بیان کی تھی کہ امام شافعی رحمہ اللہ کی بات سمجھنے کے لیے یاد رکھیں حقیقت اور مجاز کو۔ ایک لفظ کا حقیقی معنی ہوتا ہے اور ایک اس کا مجازی معنی۔ حقیقی معنی وہ ہے جس کے لیے کسی لفظ کو وضع کیا جائے، مقرر کیا جائے اور اس معنی کے علاوہ کسی اور معنی میں اس لفظ کو استعمال کر لیا جائے تو وہ اس کا مجازی معنی کہلاتا ہے۔ جیسے لفظِ شیر، لفظِ شیر اردو زبان میں ایک جنگلی درندے کے لیے وضع ہے، تو جنگلی درندہ شیر کا حقیقی معنی ہوا اور یہی لفظ بہادر آدمی کے لیے بھی استعمال کر لیا جاتا ہے تو بہادر آدمی اس کا مجازی معنی ہوا بھئی۔ اور میں نے یہ بھی بتلایا تھا کہ جب بھی لفظ کو ذکر کیا جاتا ہے تو ذہن فوراً پہلے حقیقی معنی کی طرف جاتا ہے لیکن اگر آپ اس کو مجازی معنی میں استعمال کرنا چاہتے ہیں تو وہاں کوئی قرینہ ہونا چاہیے۔ کیا ہونا چاہیے؟ قرینہ۔ پھر قرینہ کسے کہتے ہیں؟ یہ لفظ تو ہر جگہ آتا ہے کتابوں میں تو آپ کو اس کا معنی آنا چاہیے۔ قرینہ وہ چیز ہے جو مطلوب اور مقصود کی طرف اشارہ کر دے۔ مثلاً آپ نے شیر کا لفظ بولا ہے اور آپ ارادہ کس کا کر رہے ہیں؟ بہادر آدمی کا۔ تو اس کے لیے کوئی قرینہ چاہیے کیونکہ یہ تو آپ کے دل کی بات ہے کہ آپ نے شیر سے کیا مراد لیا ہے بہادر آدمی، یہ تو آپ کے دل کی بات ہے، سننے والے کو تو آپ کے دل کا پتہ نہیں چلے گا تو اس کے لیے کوئی قرینہ چاہیے، اس قرینے سے اس کو پتہ چل جائے گا کہ یہاں کہنے والے کی مراد حقیقی معنی کی نہیں ہے بلکہ مجازی معنی کی ہے۔ اور یہ قرینہ لفظوں میں بھی ہو سکتا ہے تو اس کو قرینہ لفظیہ کہتے ہیں، اور لفظ کے علاوہ بھی ہو سکتا ہے تو وہ قرینہ غیر لفظیہ ہے۔ تو قرینہ یہی دو قسم پر ہوتا ہے، یا وہ قرینہ لفظیہ ہوتا ہے یا قرینہ غیر لفظیہ کہتے ہیں اور پھر ان کے نام مختلف ہیں کبھی اسی جو غیر لفظیہ ہے اس کو کہہ دیں گے قرینہ معنویہ، کبھی کہہ دیں گے کہ وہ قرینہ حالیہ ہے، یا اس طرح اور بھی جو بھی موقع کے مطابق کوئی نام ذکر کر دیا جائے گا، لیکن آپ مختصر لفظوں میں یاد رکھیں کہ قرینہ دو ہی قسم پر ہے یا وہ لفظیہ ہوگا یا غیر لفظیہ ہوگا بھئی۔ قرینہ لفظیہ ہوگا یعنی لفظوں سے ہی پتہ چل جائے گا کہ یہاں حقیقی معنی مراد نہیں ہے بلکہ مجازی معنی مراد ہے۔ مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں: کل میں نے ایک شیر کو ہنستے ہوئے دیکھا، تو آپ کو یہاں فوراً پتہ چل گیا کہ شیر سے حقیقی معنی یعنی جنگلی درندہ مراد نہیں ہے بلکہ اس کا مجازی معنی بہادر آدمی مراد ہے، اور قرینہ کیا ہے؟ یہ جو ہنسنے کا فعل ذکر ہوا کیونکہ یہ جو ہنسنے کا فعل ہے یہ انسان کی صفت ہے اور حیوانات کی صفت نہیں ہے، اس سے پتہ چل گیا کہ یہاں شیر کا مجازی معنی یعنی بہادر آدمی ہے بھئی۔ اسی طرح یا دوسری مثال لے لیں: کل میں نے ایک شیر کو تیر چلاتے ہوئے دیکھا، تو یہاں بھی قرینہ لفظیہ ہے، یہ جو تیر چلانا ہے یہ بتلا رہا ہے کہ شیر کا یہاں حقیقی معنی مراد نہیں بلکہ مجازی معنی مراد ہے۔ اور کبھی جو ہے کوئی اور قرینہ وہاں ہوگا، حالت ہوگی یا کوئی اور چیز ہوگی تو اس کو قرینہ غیر لفظیہ کہیں گے۔ مثلاً آپ کا ساتھی مسجد میں آیا اور آپ نے کہا: شیر آ گیا، تو اب یہاں پر یہ جو مسجد میں اس وقت تو کوئی جنگلی درندہ داخل نہیں ہوا، ایک انسان داخل ہوا ہے، معلوم ہوا آپ کا ارادہ شیر سے بہادر آدمی کا ہے۔ اس حالت نے بتلا دیا ہے، کس نے؟ یہ جو حالت ہے کہ مسجد کے اندر جنگلی درندہ نہیں آیا بلکہ کون آیا ہے؟ ایک انسان آیا ہے، یہ بتلا رہا ہے کہ یہاں آپ نے شیر کے لفظ سے جنگلی درندے کا ارادہ نہیں کیا بلکہ مجازی معنی کا ارادہ کیا ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اور پھر میں نے آپ کو یہ بھی بتلایا تھا کہ لفظ کو جب اپنے حقیقی معنی میں استعمال کیا جائے تو اس کو حقیقت کہتے ہیں۔ کل میں چڑیا گھر گیا تھا وہاں میں نے ایک شیر دیکھا، یہ لفظِ شیر کیا ہے؟ حقیقت ہے۔ کل میں نے ایک شیر کو ہنستے ہوئے دیکھا، یہ شیر کیا ہے؟ مجاز ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ جیسے اسم، فعل اور حرف لفظ کی قسمیں ہیں، لفظ کی قسموں میں جو زید ہے یہ کیا ہے؟ اسم، اس کا نام ہی اسم ہے، یہ فلاں اسم والی قسم ہے، اسی طرح ضرب یہ کیا ہے؟ یہ فعل ہے، یہ کون سی قسم ہے؟ فعل، اس کو فعل کہتے ہیں، اس کا نام فعل ہے، اور من اور الیٰ یہ کیا ہیں؟ حرف ہیں۔ اسی طرح یہ جو کل میں چڑیا گھر گیا تھا وہاں میں نے شیر دیکھا، اس لفظِ شیر کا نام کیا ہے؟ حقیقت۔ یہ کیوں حقیقت کیوں ہے؟ کیونکہ یہ کس معنی میں استعمال ہوا ہے؟ حقیقی معنی میں۔ اور کل میں نے ایک شیر کو ہنستے ہوئے دیکھا، یہاں یہ جو لفظِ شیر آیا اس کو کیا کہیں گے؟ مجاز کہیں گے۔ تو جب آپ کو کوئی بتا دے یہ لفظ حقیقت ہے کسی جملے میں کسی کلام میں کوئی لفظ آئے اور وہ آپ کو کیا کہے؟ یہ حقیقت ہے، آپ سمجھ گئے کہ اس کا یہاں کون سا معنی کرنا ہے؟ حقیقی معنی، اور اگر کوئی بتلا دے کہ یہ اس جملے کے اندر یہ جو لفظ آ رہا ہے یہ مجاز ہے، آپ سمجھ گئے کہ اس کا حقیقی معنی یہاں مراد نہیں بلکہ مجازی معنی مراد ہے۔ اور میں نے بتلایا تھا یہ حقیقت اور مجاز استعمال کے اعتبار سے قسمیں ہیں۔ جب تک ایک لفظ کو کوئی استعمال نہیں کرے گا کلام میں، آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ حقیقت ہے یا مجاز۔ مثلاً میں آپ کے سامنے کہوں کہ بتائیے بھئی لفظِ شیر یہ کیا ہے حقیقت ہے یا مجاز؟ کون سا لفظ؟ شیر، تو آپ کہیں گے: اس کو استعمال تو کریں کسی جملے میں پھر ہی ہمیں پتہ چلے گا کہ یہ حقیقت ہے یا مجاز ہے، تو استعمال سے پہلے کوئی لفظ نہ حقیقت ہے اور نہ مجاز ہے بھئی۔ اور پھر میں نے یہ بھی بتلایا تھا کہ معنیٰ حقیقی اور معنیٰ مجازی میں ہمیشہ کوئی نہ کوئی ربط ہوگا، تعلق ہوگا، بغیر ربط کے آپ ایک لفظ کو کسی معنی میں استعمال نہیں کر سکتے۔ میں بکری کا لفظ بولوں اور ارادہ ہاتھی کا کروں، بھئی بکری اور ہاتھی میں تو کوئی مناسبت نہیں ہے لہٰذا بکری کا لفظ بول کر میں ہاتھی کا ارادہ نہیں کر سکتا، تو حقیقی معنی اور مجازی معنی میں کوئی نہ کوئی ربط اور تعلق ہوگا بھئی۔ اور یہ ربط اور تعلق جو ہے کئی قسم پر ہو سکتا ہے۔ یہ ربط اور تعلق اگر تشبیہ والا ہو تو پھر اس مجاز کو استعارہ کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ استعارہ۔ مثلاً مسجد میں ایک شخص آیا اور میں نے کہا: شیر آ گیا۔ تو اب میں نے شیر کے کون سا معنی کا ارادہ کیا؟ مجازی معنی کا، اور حقیقی معنی کیا ہے؟ جنگلی درندہ، اور میں نے کس کا ارادہ کیا؟ بہادر آدمی کا۔ ان دونوں میں تعلق اور ربط چاہیے، یہاں کون سا تعلق ہے؟ تشبیہ والا ہے، معلوم ہوا میں اس آدمی کو جو مسجد میں آیا ہے اس کو میں تشبیہ دے رہا ہوں اس جنگلی درندے کے ساتھ یعنی جیسے جنگلی درندہ بہادر ہوتا ہے یہ بھی کیا ہے؟ بہادر، تو یہاں جو دونوں میں تعلق ہے حقیقی معنی اور مجازی معنی میں وہ تشبیہ والا ہے۔ تو اور جب یہ تعلق تشبیہ والا ہو تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ استعارہ، اس کو استعارہ۔ اور اگر تشبیہ کے علاوہ کوئی اور تعلق ہو دونوں معانی کے اندر تو اس کو مجازِ مرسل کہتے ہیں۔ ایک لفظ ہے اس کا حقیقی معنی لیکن آپ نے حقیقی معنی کے بجائے اور معنی میں استعمال کر لیا تو یہ جو مجازی معنی ہے اس کا حقیقی معنی کے ساتھ کون سا تعلق ہو؟ تشبیہ کے علاوہ کوئی تعلق ہو تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ مجازِ مرسل کہتے ہیں۔ اور مجازِ مرسل کے اندر کتنے قسم کے تعلق ہو سکتے ہیں؟ علماء نے کوئی بیس پچیس علاقے ذکر فرمائے ہیں، بیس پچیس قسم کے ربط ذکر فرمائے ہیں۔ مثلاً ایک ربط کیا ہے کہ جز بول کر کل کا ارادہ کر لیا جائے، دوسرا مثلاً تعلق کیا ہے؟ کل بول کر جز کا ارادہ کر لیا جائے یعنی پہلے کے برعکس، پہلے میں کیا تھا؟ جز بول کر کل کا ارادہ، اور پھر اس کا برعکس کر لو، کل بول کر جز کا ارادہ، دیکھو یہ دو تعلق ہو گئے۔ تیسرا تعلق مثلاً ظرف بول کر مظروف کا ارادہ کر لیتے ہیں، چوتھا تعلق مثلاً مظروف بول کر ظرف کا ارادہ کر لیتے ہیں، یا اسی طرح آپ جو ہے وہ سبب بول کر مسبب کا ارادہ کر لیتے ہیں یا مسبب بول کر سبب کا ارادہ کر لیتے ہیں، تو یہ مختلف علاقے ہیں مجازِ مرسل کے بھئی۔ جیسے قرآن میں اس کی مثال ہے، قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: يجعلون أصابعهم في آذانهم، وہ اپنے کانوں میں انگلیاں ڈال لیتے ہیں۔ اب أصابع جمع ہے اصبع کی اور انگلی کو کہتے ہیں لیکن کان میں تو انگلی نہیں ڈالی جاتی، کان میں تو انگلی کا ایک حصہ، ایک پورا داخل کیا جاتا ہے، تو اور ذکر تو انگلیوں کا ہے تو معلوم ہوا یہاں انگلی بول کر اس کا جز یعنی پورا مراد ہے تو یہ مجازِ مرسل ہے، کیا ہے؟ مجازِ مرسل ہے بھئی۔ اور میں نے بتلایا تھا کہ آپ بھی اپنے کلام میں اس طرح استعمال کرتے ہیں اس کو۔ مثلاً آپ ایک ساتھی کے پاس گئے، آپ کو ساتھی نے شربت پلایا اور پھر اب وہ آپ سے کہتا ہے: اور پیجیے، آپ کہتے ہیں کہ میں نے دو گلاس پی لیے ہیں اور نہیں پیوں گا۔ بھئی آپ نے دو گلاس پیے ہیں، گلاس تو بھئی سٹیل یا شیشے کا ہوگا، تو آپ نے سٹیل یا شیشے کا گلاس نہیں پیا بلکہ اس کے اندر جو شربت تھا وہ شربت پیا ہے، تو یہاں گلاس بول کر یعنی ظرف بول کر کیا مراد ہے؟ مظروف جو اس کے اندر شربت تھا وہ مراد ہے۔ یا اسی طرح آپ کہتے ہیں: دریا بہہ رہا ہے یا نہر بہہ رہی ہے، بھئی دریا دریا تو اس جگہ کا نام ہے، نہر تو اس جگہ کا نام ہے اور اس کے اندر پانی بہتا ہے، تو بہتا تو پانی ہے لیکن آپ نے کس کو ذکر کر دیا؟ اس جگہ کو یعنی ظرف کو، تو یہاں پر بھی ظرف بول کر کیا مراد ہے؟ مظروف کہ یعنی نہر کے اندر پانی بہہ رہا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ اس کے بعد میں نے آپ کو کنائے کے بارے میں بھی بتلایا تھا کہ علمِ بلاغت کے اندر کنایہ اس کو کہتے ہیں کہ ملزوم بول کر لازم کا ارادہ کیا جائے۔ ملزوم بول کر لازم، مثلاً زید کا قد لمبا ہے اور آپ کسی کو بتلانا چاہتے ہیں، ایک طریقہ تو یہ ہے کہ آپ صاف لفظوں میں کہیں: زید لمبے قد والا ہے، یا یوں کہیں زید کا قد لمبا ہے، اور ایک اسی بات کو آپ ذرا گھما کر کہیں کہ زید کی قمیص لمبی ہے، یا یوں کہیں زید لمبی قمیص والا ہے، اور ارادہ کس کا؟ کہ زید لمبے قد والا ہے۔ تو دیکھو ذکر تو آپ نے لمبی قمیص کو کیا لیکن ارادہ لمبے قد کا ہے، تو یہ لفظ تو آپ نے معنیٰ موضوع لہ میں استعمال کیا یا غیر موضوع لہ میں؟ یہ معنیٰ غیر موضوع لہ میں استعمال کیا، تو دیکھا کنائے کے اندر بھی لفظ غیر موضوع لہ میں استعمال ہوتا ہے اور مجاز کے اندر بھی لفظ معنیٰ غیر موضوع لہ میں استعمال ہوتا ہے، تو پھر دونوں میں فرق کیا ہے؟ میں نے بتلایا تھا کہ فرق یہ کہ کنائے کے اندر آپ وہیں پر حقیقی معنی کا بھی اگر ارادہ کریں تو کلام غلط نہیں ہوتا۔ مثلاً آپ نے کیا کہا: زید لمبی قمیص والا ہے، اور ارادہ کس کا کیا؟ کہ اس کا قد لمبا ہے، لیکن اگر آپ حقیقی معنی کا ہی ارادہ کر لیں یہاں پر کہ لمبی قمیص سے لمبی قمیص ہی مراد ہے، قد نہیں مراد، تو بھی کلام آپ کا صحیح ہے کہ زید لمبی قمیص والا ہے۔ لیکن مجاز کے اندر آپ حقیقی معنی کا ارادہ نہیں کر سکتے ورنہ وہاں کلام غلط ہو جائے گا۔ ہاں مثلاً آپ نے کہا: میں نے کل ایک شیر کو ہنستے ہوئے دیکھا، اور یہاں شیر سے کیا مراد ہے؟ بہادر آدمی، لیکن اگر آپ حقیقی معنی کا یہاں ارادہ کر لیں تو پھر آپ کا کلام غلط ہو گیا کیونکہ جنگلی درندہ وہ تو نہیں ہنس سکتا، ہنسنا تو صرف کس کی صفت ہے؟ انسان کی۔ تو فرق سمجھ میں آیا؟ مجاز کے اندر بھی لفظ معنیٰ غیر موضوع لہ میں استعمال ہوتا ہے، کنائے میں بھی لفظ غیر موضوع لہ میں استعمال ہوتا ہے اور کنائے کے اندر وہیں پر اگر حقیقی معنی کا ارادہ کیا جائے تو بھی کلام صحیح رہتا ہے، اور مجاز کے اندر اگر معنیٰ حقیقی کا ارادہ کیا جائے تو پھر کلام صحیح نہیں رہتا۔ پھر میں نے آپ کو یہ بھی بتلایا تھا کہ کتابوں میں آپ کو ملے گا کہ الكناية أبلغ من الصريح، کہ کنایہ جو ہے وہ افضل ہوتا ہے صریح کے مقابلے میں اور اس کی وجہ کیا ہے؟ وجہ یہ ہے کہ کنائے کے اندر دعوے کے ساتھ ساتھ دلیل بھی آ جاتی ہے۔ آپ نے کہا: زید کی قمیص لمبی ہے، اور ارادہ کس معنی کا کیا؟ کہ اس کا قد لمبا ہے، تو آپ نے ذکر تو قمیص کو کیا تو ملزوم بولا اور ارادہ کس کا کیا؟ لازم کا کیا کیونکہ قمیص کے لمبا ہونے کے ساتھ قد کا لمبا ہونا لازم ہے، قمیص اسی کی لمبی ہوگی جس کا قد لمبا ہوگا بھئی، تو آپ نے ذکر کیا ملزوم کا اور ارادہ کس کا کیا؟ لازم کا، تو یہ صرف دعویٰ ہی نہیں ہے بلکہ دعوے کے ساتھ دلیل بھی آ گئی۔ صریح کے اندر صرف دعویٰ ہوتا ہے جبکہ کنائے کے اندر دعوے کے ساتھ دلیل بھی آ جاتی ہے، کیا آ جاتی ہے؟ اگر آپ صرف یہ کہتے ہیں: زید کا قد لمبا ہے، تو یہ تو صریح لفظ، صاف لفظوں میں آپ نے ایک بات کی تو اس میں دعویٰ تو ہو گیا لیکن دلیل نہ آئی، جبکہ کنائے میں دعوے کے ساتھ ساتھ دلیل بھی آ جاتی ہے کہ زید کی قمیص لمبی ہے، اور ارادہ کیا؟ کہ اس کا قد لمبا ہے، تو دعویٰ یہ ہو گیا کہ زید کا قد لمبا ہے اور ساتھ دلیل بھی آ گئی، کیا دلیل ہے؟ کہ اس کی قمیص لمبی ہے، یہی تو دلیل ہے اس بات کی کہ اس کا قد لمبا ہے، اور ظاہر سی بات ہے ایک صرف دعویٰ ہو اور ایک دعویٰ مع الدلیل ہو، دعوے کے ساتھ دلیل بھی ذکر ہو، کون سی صورت اعلیٰ ہے؟ کہ دعوے کے ساتھ دلیل کو بھی ذکر کیا جائے، اس لیے الكناية أبلغ من الصريح أي أفضل من الصريح، میں نے بتایا ابلغ کس معنی میں ہے؟ افضل کے معنی میں ہے، تو کنایہ صریح کے مقابلے میں افضل ہوتا ہے کیونکہ اس میں دعوے کے ساتھ ساتھ دلیل بھی آ جاتی ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ کی بات چل رہی تھی، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نکاح اور تزویج کے لفظ سے تو نکاح منعقد ہو جائے گا کیونکہ یہ نکاح کے باب میں صریح ہیں، ان کا معنی ہی نکاح کرنا اور نکاح کروانے کے ہے لیکن باقی یہ جو لفظ ہیں ہبہ، تملیک اور صدقہ ان کے اندر دوسرے کو ایک چیز کا مالک بنایا جاتا ہے تو یہ سارے تملیک پر دلالت کرتے ہیں، کس پر؟ ہاں وہ ضابطہ بھی رہ گیا، ضابطہ میں نے بتلایا تھا کہ ہمیں کیسے پتہ چلے گا کہ کس لفظ کے ذکر کرنے سے نکاح منعقد ہوگا اور کس لفظ کے ذکر کرنے سے نکاح منعقد نہیں ہوگا؟ تو میں نے بتلایا تھا کہ فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ جس لفظ کے ذریعے بھی تین فائدے حاصل ہوں گے اس کے ذریعے نکاح منعقد ہو جائے گا اور وہ تین فائدے کیا ہیں؟ تمليك العين في الحال، تمليك العين في الحال یعنی تملیک کا فائدہ ہو کہ اس میں دوسرے کو مالک بنایا جائے اور تملیک بھی عین کی ہو، میں نے بتایا تھا ایک ہے عین، ایک ہے منافع، عین ذات کو کہتے ہیں تو تملیک کس کی ہو؟ ذات کی تملیک ہو، اس میں منافع کی تملیک نہ ہو بھئی۔ میں نے بتلایا تھا کبھی کبھار دوسرے کو عین کا مالک بنایا جاتا ہے، کبھی دوسرے کو منافع کا مالک بنایا جاتا ہے، جیسے آپ بازار سے کوئی چیز خریدنے گئے، آپ پیسے ادا کرتے ہیں اور وہ چیز لے آتے ہیں، اب آپ اس چیز کی ذات ہی کے مالک بن گئے، عین ہی کے آپ مالک بن گئے، اور کبھی کبھار آپ چیز کی عین کے مالک نہیں بنتے بلکہ اس کے صرف منافع کے مالک بنتے ہیں، جیسے آپ کرائے پر بازار سے کوئی چیز لے آئے تو اب آپ صرف اس کے منافع کے مالک ہوئے ہیں، آپ اس کو استعمال کریں گے اور پھر مقررہ وقت پر واپس دے دیں گے، تو دیکھا اس چیز کے آپ مالک نہیں بنے، صرف اس کے استعمال اور اس کے منافع کے مالک بنے تھے۔ تو تملیک کبھی عین کی ہوتی ہے اور کبھی تملیک منافع کی ہوتی ہے۔ اگر عین کی تملیک ہو تو پھر یہ کبھی بالعوض ہوگی اور کبھی بلا عوض۔ اسی طرح منافع کی تملیک جو ہے، منافع کا کسی کو مالک بنانا وہ بھی کبھی بالعوض ہوگا اور کبھی بلا عوض ہوگا۔ اگر تملیک العین ہو، کسی چیز کی ذات کا مالک بنایا جائے بالعوض، عوض کے ساتھ تو اس کو بیع کہتے ہیں۔ بیع کے اندر بھی کیا ہوتا ہے؟ آپ ایک چیز کے مالک بنتے ہیں لیکن عوض آپ اس کا ادا کرتے ہیں، تو تمليك العين بالعوض اس کو کیا کہتے ہیں؟ بیع۔ آپ لفظوں میں بیع ذکر کریں یا نہ کریں یہ ہے بیع ہی۔ مثلاً آپ مثلاً تحفہ ذکر کر دیتے ہیں، آپ اپنے ساتھی کے پاس گئے اور اس کو کہا: یہ کتاب میں آپ کو تحفے کے طور پر دیتا ہوں لیکن شرط یہ ہے اپنا یہ قلم مجھے دے دیں۔ اب وہ قلم مثلاً فرض کریں وہ صرف دس روپے کا ہے اور کتاب پانچ سو روپے کی ہے، تو یہ اس کی قیمت تو نہیں ہے لیکن بہرحال آپ بدل اور عوض لے رہے ہیں یا نہیں لے رہے؟ تو اعتبار معانی کا ہوتا ہے اور یہاں پر دونوں طرف سے عوض آ رہا ہے اور دونوں طرف سے عوض جب آئے یعنی مال ہو دونوں طرف سے تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ بیع، تو یہ بیع ہو رہی ہے۔ لفظ آپ نے بے شک تحفے کا ذکر کیا کہ میں یہ کتاب آپ کو تحفے کے طور پر دے رہا ہوں لیکن حقیقت میں یہ کیا ہے؟ بیع ہے بھئی۔ تو تمليك العين بالعوض ہو تو یہ بیع، اور اگر تمليك العين بلا عوض ہو تو اس کو ہبہ اور تحفہ کہتے ہیں بھئی۔ اور اگر تمليك المنافع ہو، منافع کا مالک بنایا جائے اس میں عوض بھی لیا جائے تو یہ اجارہ ہے، کرائے پر کوئی چیز دینا، کہ آپ مثلاً گاڑی کرائے پر لاتے ہیں تو آپ صرف گاڑی کے منافع اور اس کے فائدوں کے مالک ہوئے ہیں، آپ اس پر سفر وغیرہ کر سکتے ہیں، آپ گاڑی کے مالک نہیں ہوئے۔ تو تمليك المنافع بالعوض ہو اس کو کیا کہتے ہیں؟ اجارہ، کرائے پر کوئی چیز دینا۔ اور اگر تمليك المنافع بلا عوض ہو تو اس کو عاریت کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ عاریت کہتے ہیں۔ جیسے گھروں کے اندر مہمان آئے تو ہمسایوں سے برتن استعمال کے لیے لے لیے جاتے ہیں، تو دیکھو یہاں ان برتنوں کو استعمال کے بعد واپس کیا جاتا ہے تو آپ برتنوں کے منافع کے مالک ہوئے ہیں، ان برتنوں کی عین کے مالک نہیں اور بلا عوض ہوئے ہیں تو یہ عاریت ہے۔ تو تملیک العین بالعوض ہو یہ بیع، تملیک العین بلا عوض ہو یہ یہ ہبہ ہے، اور تملیک المنافع بالعوض ہو تو یہ اجارہ ہے، اجارہ ہے، اور اگر تملیک المنافع بلا عوض ہو تو یہ عاریت ہے بھئی۔ تو فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ جو لفظ بھی تین فائدے دے گا اس میں عقدِ نکاح کی نیت کی جائے تو نکاح منعقد ہو جائے گا اور وہ تین فائدے کیا ہیں؟ تمليك العين في الحال، کہ تملیک بھی ہو، مالک بنانا بھی ہو اور مالک بھی منافع کا نہ بنایا جائے بلکہ عین کا، اس چیز کی ذات کا مالک بنایا جائے، اور نیز مالک بھی مستقبل وغیرہ میں نہ ہو، بعد میں نہ ہو بلکہ فی الحال اسی زمانے میں ہو۔ تو جو لفظ بھی ان تینوں چیزوں کا فائدہ دے گا، تملیک بھی ہو اور تملیک بھی عین کی ہو اور فی الحال ہو، اس میں نکاح کی نیت کی جائے گی تو نکاح منعقد ہو جائے گا۔ اب آپ غور کر لیں: ہبہ، تحفہ دینا، جب آپ کسی کو تحفہ دیتے ہیں تو دیکھو آپ اس کو مالک بنا رہے ہیں اور کس چیز کا مالک بنا رہے ہیں؟ صرف منافع کا یا یا اس چیز کا ہی مالک بنا رہے ہیں؟ اس چیز کا ہی یعنی عین کا ہی مالک بنا رہے ہیں، اور کس وقت؟ اسی وقت مالک بنے گا یا پھر آگے کسی زمانے میں جا کر مالک بنے گا؟ وہ اسی وقت کیا ہے؟ مالک بن جائے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو معلوم ہوا ہبہ ایسا لفظ ہے جو تمليك العين في الحال کا فائدہ دیتا ہے لہٰذا اس کے ذریعے نکاح منعقد ہو جائے گا اگر نکاح کی نیت کریں گے آپ۔ اور اسی طرح تملیک کا لفظ ہے، تملیک کا معنی مالک بنانا، آپ کسی کو کہتے ہیں: لو بھئی میں نے اس چیز کا آپ کو مالک بنا دیا، ہبہ کا لفظ نہیں بولتے بلکہ کیا لفظ بولتے ہیں؟ مالک بنانا۔ اس میں بھی دیکھو تملیک العین ہوگا اور فی الحال اسی وقت مالک بنتا ہے لہٰذا اس تملیک کے لفظ کو بھی اگر آپ نکاح کے اندر استعمال کریں تو نکاح منعقد ہو جائے گا۔ اسی طرح صدقہ، صدقہ جو ہے اس میں کسی کو مالک بنایا جاتا ہے چیز کا اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے، کسی کو کوئی چیز دی جائے اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے اس کو کیا کہتے ہیں؟ صدقہ۔ تو صدقے کے اندر بھی دیکھو جب آپ کسی فقیر یا محتاج کو کوئی چیز دیتے ہیں تو آپ نے اس کو اس چیز کا مالک بنا دیا، تو تملیک بھی ہے، مالک بنانا بھی ہے اور تملیک بھی کس کی ہے؟ عین کی ہے، اس چیز کا ہی آپ نے اس کو مالک بنا دیا اور اسی وقت وہ مالک بن گیا، تو معلوم ہوا صدقہ بھی تمليك العين في الحال کا فائدہ دیتا ہے لہٰذا اس کے ذریعے بھی اگر نکاح کی نیت کی جائے تو عقدِ نکاح منعقد ہو جائے گا۔ اسی طرح بیع بھی ہے، آگے چل کر بیع بھی بتلائیں گے، بیع بھی کس چیز کا فائدہ دیتی ہے؟ تملیک العین کا فی الحال، آپ گئے، آپ نے دکاندار کو پیسے دیے اور اس سے کوئی چیز لی، آپ اس چیز کے مالک بن گئے۔ تو تملیک کس چیز کی ہوئی؟ عین کی ہوئی اور اسی وقت ہو گئی، تو بیع کا لفظ بھی تملیک العین تملیک العین فی الحال کا فائدہ دیتا ہے لہٰذا بیع کا لفظ بولا جائے اور نکاح کا ارادہ کیا جائے تو اس سے بھی عقدِ نکاح منعقد ہو جائے گا۔ اسی طرح ایک لفظ ہے اباحت اور احلال، مباح کرنا اور حلال کرنا، دونوں کا ایک ہی معنی ہے، مباح کرنا یعنی جائز کر دینا، اجازت دے دینا، حلال کر دینا۔ آپ دعوت پر جاتے ہیں تو وہاں پر آپ کے لیے کھانا حلال کر دیا جاتا ہے، مباح کر دیا جاتا ہے کہ آپ جتنا کھانا چاہیں کھا سکتے ہیں لیکن آپ کو اس کھانے کا مالک نہیں بنایا گیا، کھانے کا مالک نہیں بنایا گیا، لہٰذا اسی لیے اگر کوئی وہ کھانا لے جانا چاہے تو کوئی بھی اس کو اچھا محسوس نہیں کرے گا کہ بھئی اس شخص نے آپ کے لیے کھانا مباح کیا ہے، حلال کیا ہے، آپ کو کھانے کا مالک نہیں بنایا، تو معلوم ہوا اباحت اور احلال اس میں تملیک ہے ہی نہیں۔ سرے سے تملیک ہی نہیں ہے تو معلوم ہوا ان سے نکاح بھی منعقد نہیں ہوگا کیونکہ نکاح صرف ان لفظوں سے منعقد ہوتا ہے جو تمليك العين في الحال کا فائدہ دیں اور ان میں تو تملیک ہی نہیں ہے سرے سے۔ اسی طرح وصیت کے لفظ کے ساتھ اگر کوئی شخص نکاح کرتا ہے کہ وکیل آ کر کہتا ہے کہ میں فلاں جو عورت ہے اس کی آپ کے لیے وصیت کرتا ہوں دس لاکھ روپے بطورِ مہر کے، نہیں بھئی وصیت کے اندر مالک تو بنایا جاتا ہے اور مالک بھی عین کا بنایا جاتا ہے لیکن فی الحال یا موت کے بعد؟ موت کے بعد مالک بنایا جاتا ہے، ایک شخص کہتا ہے: میرے مرنے کے بعد میری یہ گاڑی زید کو دے دینا، تو دیکھو اس نے مالک بنایا اور عین یعنی ذات کا مالک گاڑی کی ذات کا مالک بنایا لیکن اسی وقت یا موت کے بعد؟ موت کے بعد، تو اس لیے لہٰذا وصیت کے لفظ سے بھی عقدِ نکاح منعقد نہیں ہوگا۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ کی بات چل رہی تھی، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عقدِ نکاح جو ہے نکاح اور تزویج کے لفظ سے ہی منعقد ہوگا اور کسی لفظ سے نہیں۔ ان سے کیوں منعقد ہوگا؟ کیونکہ ان کا معنی ہی نکاح کرنا اور کروانا ہے اور ان کا کوئی معنی ہی نہیں، تو یہ صریح ہیں نکاح کے باب میں لہٰذا ان سے تو نکاح منعقد ہو جائے گا، لیکن یہ جو باقی الفاظ ہیں یہ نکاح اور تزویج سے نہ تو حقیقت ہیں اور نہ اس سے مجاز ہیں۔ نہ تو اور نہ مجاز، یعنی ہبہ، تملیک اور صدقہ نہ تو ان کا حقیقی معنی نکاح ہے اور نہ ان کا مجازی معنی نکاح ہے لہٰذا ان سے نکاح نہیں ہو سکتا کیونکہ لفظ کے تو دو ہی معنی ہوتے ہیں، یا وہ اپنے حقیقی معنی میں استعمال ہوتا ہے یا مجازی معنی میں، اور ہبہ، تملیک اور صدقہ کیا ان کا حقیقی معنی نکاح ہے؟ ان کا تو حقیقی معنی نکاح نہیں، یہ بات تو سب کو پتہ ہے کہ ان کا معنی نکاح نہیں۔ معلوم ہوا یہ تزویج اور نکاح کے اندر یہ تینوں لفظ حقیقت نہیں ہیں، اگر استعمال کریں بھی آپ تو یہ حقیقت نہیں بن سکتے کیونکہ ان کا حقیقی معنی ہے ہی نہیں، کس کا؟ ہبہ، تملیک اور صدقہ، ان کا حقیقی معنی نہ نکاح ہے اور نہ تزویج، تو یہ نکاح کے اندر حقیقت بھی نہیں۔ اور نکاح کے اندر یہ مجاز بھی نہیں ہے بھئی، کیونکہ حقیقی اور مجازی معنی کے درمیان ربط ضروری ہے، مناسبت ضروری ہے اور یہاں حقیقی اور مجازی معنی میں کوئی مناسبت نہیں۔ حقیقی اور مجازی معنی میں بھئی لفظ کے استعمال کے دو ہی طریقے ہیں: یا حقیقی معنی میں استعمال ہوگا یا مجازی معنی میں۔ یہ ہبہ، تملیک اور صدقہ یہ نکاح اور تزویج کے لیے حقیقت بھی نہیں یعنی ان کا حقیقی معنی بھی یہ نہیں ہے اور ان کا مجازی معنی بھی نکاح اور تزویج کے نہیں کیا جا سکتا، ان کو مجازاً بھی استعمال نہیں کیا جا سکتا نکاح اور تزویج کے لیے۔ کیوں نہیں کیا جا سکتا؟ کیونکہ معنیٰ حقیقی اور معنیٰ مجازی میں کیا ہونی چاہیے؟ مناسبت، بغیر مناسبت کے میں نے بتایا بکری کا لفظ ہے، آپ اس کو ہاتھی کے لیے استعمال نہیں کر سکتے، تو حقیقی اور مجازی معنی میں مناسبت ہوتی ہے اور یہاں ہبہ، تملیک اور صدقہ ان کا مجازی معنی بھی نکاح اور تزویج نہیں ہو سکتا کیونکہ ان کے حقیقی معنی کی نکاح اور تزویج کے ساتھ کوئی مناسبت نہیں ہے۔ اب آگے آج کا سبق شروع ہوگا جہاں امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل ذکر ہوگی، وہ بتلائیں گے کہ کیسے ان کا مجازی معنی بھی نکاح اور تزویج نہیں ہو سکتا۔ کون سے تین لفظ؟ ہبہ، تملیک اور صدقہ۔ ان کا حقیقی معنی تو نکاح نہیں ہے، یہ تو سب کو پتہ ہے، ان کا حقیقی معنی نکاح اور تزویج نہیں، اور وہ آگے فرماتے ہیں کہ ان کا مجازی معنی بھی نکاح اور تزویج آپ نہیں کر سکتے بھئی۔ تو جب نہ ان کا حقیقی معنی نکاح اور تزویج ہے، نہ ان کا مجازی معنی نکاح اور تزویج ہے تو پھر ان سے نکاح کیسے ہو سکتا ہے؟ لفظ کے استعمال کے تو دو ہی طریقے ہوتے ہیں: یا اس کو حقیقی معنی میں استعمال کرتے ہیں یا مجازی معنی میں استعمال کرتے ہیں، ان کا حقیقی معنی بھی نکاح اور تزویج نہیں اور مجازی معنی بھی نکاح اور تزویج نہیں کر سکتے تو پھر ان سے نکاح منعقد نہیں ہوگا، آپ بے شک یہ لفظ استعمال کر لیں اور آپ بے شک نیت کر لیں نکاح کی، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں نکاح منعقد نہیں ہوگا۔ عند الاحناف نکاح منعقد ہو جائے گا لیکن امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں نکاح منعقد نہیں ہوگا۔ اب آگے ان کی دلیل ذکر کرنے لگے ہیں کہ امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل کیا ہے کہ ان کا مجازی معنی نکاح اور تزویج کیوں نہیں ہو سکتا؟ ان کا ان کا مجازی معنی نکاح اور تزویج کیوں نہیں ہو سکتا؟ جی جی اب دیکھیے آگے سبق بھئی، کہتے ہیں: لأن التزويج للتلفيق والنكاح للضم ولا ضم ولا ازدواج بين المالك والمملوك أصلا بھئی اب امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل آ گئی، توجہ سے سنیں بھئی یہ ذرا مشکل جگہ ہے بھئی۔ دلیل کس چیز کی بیان ہوگی؟ کہ ہبہ، صدقہ اور تملیک ان تین لفظوں کا مجازی معنی بھی نکاح اور تزویج نہیں ہو سکتا۔ ان کا مجازی معنی بھی نکاح اور تزویج نہیں ہو سکتا اس لیے کیونکہ حقیقی اور مجازی معنی میں کچھ نہ کچھ مناسبت ہونی چاہیے لیکن یہاں ان کے حقیقی معنی کی نکاح اور تزویج کے ساتھ کوئی مناسبت موجود نہیں ہے بھئی۔ دیکھیے بھئی، کہتے ہیں: لأن التزويج للتلفيق، اس لیے کیونکہ تزویج جو ہے وہ تلفیق کے لیے ہوتی ہے۔ یاد رکھو لَفَّقَ يُلَفِّقُ تَلْفِيْقًا کا معنی ہے دو کپڑوں کو ملا کر سی دینا یعنی اس کی دو تہیں بنا دینا، اس کی دو تہیں بنا دینا یعنی کپڑا دوہرا ہو گیا، دوہرا ہو گیا تو دیکھو اس میں کپڑے کی مضبوطی بڑھ گئی۔ ایک تہہ ہوتی تو اس میں اتنی مضبوطی نہیں، لیکن جب دو تہہ والا ہو گیا کپڑا تو اب وہ مضبوط ہو گیا، اب اس کو پھاڑنا آسان کام نہیں، تو اس کو تلفیق کہتے ہیں، دو کپڑوں کو ملا کر سی دینا، اس کی دو تہیں بنا دینا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ ہے تلفیق بھئی، لَفَّقَ يُلَفِّقُ تَلْفِيْقًا دو کپڑوں کو ملا کر سینا، اس کو دوہرا کر لینا۔ اسی طرح مجرد سے بھی استعمال ہوتا ہے، لَفَقَ يَلْفِقُ اس کا بھی یہی معنی ہے، دو کپڑوں کو ملا کر سینا، اس کو دوہرا کر لینا۔ اور اس میں دیکھو جب دو کپڑوں کو آپ نے ملا کر سیا تو اس میں دونوں کپڑوں کے اندر مضبوطی آ گئی کیونکہ ہر کپڑے کو دوسرے کپڑے سے سہارا مل گیا۔ صرف ایک کپڑا ہوتا تو اس میں وہ مضبوطی نہیں لیکن ساتھ جب دوسرا کپڑا آ گیا تو دونوں ایک دوسرے کو مضبوط بنانے والے بن گئے، پہلی تہہ دوسری تہہ کی وجہ سے مضبوط ہو گئی اور دوسری تہہ پہلی تہہ کی وجہ سے مضبوط ہو گئی، تو دیکھو اس میں دونوں کے اندر مضبوطی آ گئی۔ یہ تو میں نے لغوی معنی بیان کیا تلفیق کا، لیکن یہاں تلفیق سے مراد نکاح کی مصلحتیں ہیں۔ دیکھو نکاح کے اندر نکاح کے اندر جو مصلحتیں اور فائدے حاصل ہوتے ہیں وہ صرف مرد کو یا صرف عورت کو حاصل نہیں ہوتے بلکہ دونوں کو حاصل ہوتے ہیں، دونوں کو اس کی وجہ سے اولاد بھی حاصل ہوگی، دونوں کی شہوت کا علاج بھی ہوگا، دونوں کا گھر بھی بس جائے گا اور دونوں کو اطمینان اور سکون والی زندگی مل جائے گی بھئی، تو دیکھو تزویج کس لیے ہوتی ہے؟ تلفیق کے لیے یعنی نکاح کی مصلحتوں کے لیے۔ کیا معنی نکاح کی مصلحتیں؟ یعنی دونوں کو یہ فائدے حاصل ہوتے ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو یہ معنی ہے کہ تزویج جو ہے وہ تلفیق کے لیے ہوتی ہے یعنی نکاح کی مصلحتوں کو حاصل کرنے کے لیے ہوتی ہے اور صرف ایک شخص کو وہ فائدے حاصل نہیں ہوتے بلکہ دونوں کو فائدے حاصل ہوتے ہیں، جن دونوں کا بھی نکاح کروایا گیا ہے یا جن دونوں نے بھی نکاح کیا ہے وہ مصلحتیں اور فائدے دونوں کو حاصل ہوں گے۔ آگے کہتے ہیں: والنكاح للضم، یہ نکاح کا عطف تزویج پر ہو رہا ہے اور تزویج جو ہے ان کا اسم ہے، منصوب ہے، تو کیسے پڑھیں گے؟ والنكاح للضم، اور نکاح ضم کے لیے آتا ہے، ملانے کے لیے۔ ضم کا کیا معنی؟ ملانا اور جوڑنا۔ بھئی دیکھیے، میں نے آپ کو شروع میں چند بحثیں لکھوائی تھیں بھئی اور میں نے بتلایا تھا کہ نکاح کا معنی عربی زبان کے اندر وطی کے بھی ہیں اور عقد کے بھی ہیں۔ پھر بعض علماء فرماتے ہیں کہ یہ دونوں اس کے حقیقی معنی ہیں، نکاح کے بھئی نکاح شریعت میں تو نکاح کہتے ہیں: هو عقد يفيد ملك المتعة قصدا، وہ عقد ہے جو قصداً ملکِ متعہ کا فائدہ دے، لیکن یہ تو شریعت میں ہے، فقہ میں ہے۔ عربی زبان میں نکاح کسے کہتے ہیں؟ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ اس کا عربی زبان میں اس کا معنی وطی کے بھی ہیں، وطی کرنا، صحبت کرنا، اور اس کا معنی عقد کے بھی ہیں۔ اور پھر بعض علماء فرماتے ہیں یہ دونوں اس کے حقیقی معنی ہیں یعنی اس کو دونوں معانی کے لیے وضع کیا گیا ہے یعنی یہ لفظِ مشترک ہے، یہ لفظ مشترک ہے تو یہ مشترک لفظی اس کو قرار دیتے ہیں۔ اور جبکہ بعض علماء فرماتے ہیں نہیں، وطی اس کا حقیقی معنی ہے اور عقد اس کا مجازی معنی ہے، اور بعض علماء اس کے برعکس فرماتے ہیں کہ نہیں، عقد اس کا حقیقی معنی ہے عربی زبان میں اور وطی اس کا مجازی معنی ہے۔ اور بعض علماء فرماتے ہیں کہ نکاح جو ہے اس کا حقیقی معنی نہ وطی ہے، نہ عقد ہے، اس کا حقیقی معنی ہے: ضم الشيء إلى الشيء، ایک چیز کو ملانا دوسری چیز کے ساتھ۔ تو نکاح کا حقیقی معنی کیا ہوا؟ ضم الشيء إلى الشيء، یا یوں کہو مختصراً ضم، ملانا ہے۔ نکاح کا معنی کیا ہے؟ ملانا اور جوڑنا ہے، اور یہ معنی صادق آتا ہے وطی پر بھی اور عقد پر بھی۔ عقد کے اندر بھی ایک مرد اور ایک عورت کو ملا دیا گیا، اب وہ میاں بیوی کہلاتے ہیں، پہلے ایک دوسرے کے لیے حرام تھے اب دونوں ایک دوسرے کے لیے حلال ہو گئے، تو یہاں پر بھی دیکھو ملانا ہے، ایک مرد اور عورت کو کیا کر دیا گیا؟ ملا دیا گیا۔ اسی طرح وطی کے اندر بھی ملانے والا معنی ہے کہ ایک شرمگاہ کو ملا دیا گیا دوسری شرمگاہ سے، تو دیکھو دونوں میں ملانے کا معنی ہے۔ تو یہ علماء کیا فرماتے ہیں کہ نکاح کا حقیقی معنی کیا ہے؟ ضم ہے، ملانا ہے اور یہ معنی صادق آتا ہے وطی پر بھی اور عقد پر بھی، تو یہ مشترکِ معنوی ہے، مشترکِ لفظی نہیں۔ مشترکِ لفظی کس کو کہتے ہیں؟ کہ ایک ہی لفظ کے کئی معانی ہوں۔ اور مشترکِ معنوی کسے کہتے ہیں؟ کہ جو معنی کے اعتبار سے کئی چیزوں پر صادق آئے۔ معنی کے اعتبار سے جیسے نکاح کا کیا معنی بیان کیا؟ عقد بھی نہیں، وطی بھی نہیں ہے، یہ بعض علماء کا جو قول ہے اس کی تقریر میں کر رہا ہوں۔ نکاح کا معنی عقد بھی نہیں اور وطی بھی نہیں بلکہ وہ فرماتے ہیں نکاح کا کیا معنی ہے؟ ضم الشيء إلى الشيء، یا یوں کہو ضم، ملانا ہے، اور یہ ملانا عقد میں بھی پایا جاتا ہے اور یہ ملانا وطی میں بھی پایا جاتا ہے، تو یہ نکاح کا لفظ عقد اور وطی پر صادق تو آتا ہے لیکن خود اس کا معنی عقد یا وطی نہیں ہے، یہ ان پر صادق آتا ہے۔ تو یہاں پر بھی امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل چل رہی ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں کہ تزویج کس لیے ہوتی ہے؟ تلفیق کے لیے، نکاح کی مصلحتوں کے لیے، اور وہ مصلحتیں صرف مرد کے حاصل ہوتی ہیں یا عورت کو بھی حاصل ہوتی ہیں؟ دونوں کو حاصل ہوتی ہیں۔ اسی طرح والنكاح للضم، اور نکاح جو ہے ملانے کے لیے ہے، جوڑنے کے لیے ہے، تو نکاح بھی کیا کرتا ہے؟ مرد کو عورت کے ساتھ جوڑ دیتا ہے اور صرف ایک کا فائدہ ہوتا ہے یا دونوں کو فائدہ حاصل ہوتا ہے نکاح کا؟ دونوں کو فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ حاصلِ کلام یہ ہوا کہ تزویج تلفیق کے لیے ہے یعنی مصلحتیں ہیں اور دونوں کی مصلحتیں ہیں، اور نکاح جوڑنے کے لیے ہے اور جوڑنے کے اندر بھی کیا ہے؟ دونوں کی مصلحتیں اور فائدے ہیں۔ لیکن آگے دیکھیے: لأن التزويج للتلفيق والنكاح للضم ولا ضم ولا ازدواج بين المالك والمملوك أصلا ولا ضم ولا ازدواج بين المالك والمملوك أصلا ضم، ضم کا کیا معنی؟ ملانا۔ ازدواج کا معنی، یاد رکھو ازدواج اسی تزویج سے ہے، اس کا مادہ بھی ز، و، ج ہے۔ اور ازدواج کا معنی ہے جوڑا ہونا، دو ہونا۔ ازدواج کا کیا معنی؟ کوئی چیز دو ہو یا جوڑا ہو، تو یہ جوڑا ہونا اور دو ہونا یہ کیا ہے؟ ازدواج۔ اسی طرح دو چیزوں کے درمیان مناسبت ہو اس کو بھی ازدواج کہتے ہیں، دو چیزیں ایک دوسرے کے ہم شکل ہوں اس کو بھی کیا کہتے ہیں؟ ازدواج۔ تو یہاں اس کو معنی مناسبت کے کر لیں، کیا کر لیں؟ مناسبت کے، تو کہتے ہیں: ولا ضم ولا ازدواج، اور نہ کوئی جوڑ ہے اور نہ کوئی مناسبت ہے بين المالك والمملوك، مالک اور مملوک کے درمیان، أصلا أي قطعا، مالک اور مملوک میں قطعاً کوئی مناسبت نہیں۔ توجہ ہے؟ یہ مشکل مقام ہے، اچھی طرح سمجھ لیں اس کو بھئی۔ دیکھو بھئی، بات چل رہی ہے امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ جو لفظ ہیں ہبہ، تملیک اور صدقہ، یہ سب تملیک کا فائدہ دیتے ہیں۔ اے احناف! آپ نے ان سے نکاح کو جائز قرار دیا کیونکہ یہ سب کس چیز کا فائدہ دیتے ہیں؟ تملیک کا فائدہ دیتے ہیں لیکن تملیک جو ہے، تملیک کا نہ تو معنیٰ حقیقی نکاح اور تزویج ہے اور نہ اس کا معنیٰ مجازی نکاح اور تزویج ہو سکتا ہے۔ وجہ یہ کہ معنیٰ حقیقی اور معنیٰ مجازی کے درمیان مناسبت کا ہونا ضروری ہے اور یہاں تملیک اور نکاح و تزویج کے درمیان کوئی مناسبت نہیں ہے۔ کیوں نہیں مناسبت؟ کہتے ہیں: دیکھو تملیک کا مطلب ہے مالک بنانا۔ جب آپ نے ایک شخص کو ایک چیز کا مالک بنا دیا تو وہ شخص ہوا مالک اور وہ چیز کیا ہوئی؟ مملوک، اور مالک اور مملوک میں کوئی مناسبت نہیں ہوتی، کوئی جوڑ نہیں ہوتا۔ آپ نے ایک غلام کسی شخص کو دیا یا ایک باندی کسی شخص کو دی، وہ اس کا کیا بن گیا؟ مالک بن گیا، وہ مالک بنا اور وہ غلام اور باندی کیا ہیں اس کے؟ وہ مملوک ہیں، اور مجھے بتائیے، مالک جب کوئی غلام یا باندی خریدتا ہے تو اس میں مالک اپنا نفع دیکھتا ہے یا غلام کا بھی نفع دیکھتا ہے؟ مالک اپنا نفع دیکھتا ہے، غلام یا باندی کا نفع نہیں دیکھتا۔ تو دیکھو تملیک کے اندر دونوں کا فائدہ نہیں ہوتا، مالک بنانا جو ہے اس میں مالک اور مملوک دونوں کا فائدہ نہیں ہوتا بلکہ صرف کس کا فائدہ دیکھا جاتا ہے؟ مالک کا فائدہ دیکھا جاتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ مالک اور مملوک میں کوئی مناسبت نہیں ہے بھئی، مالک جو ہے وہ صاحبِ تصرف ہوتا ہے، وہ جس قسم کا تصرف کرنا چاہے کر سکتا ہے، وہ اپنا نکاح جہاں چاہے کر سکتا ہے، وہ بیع و شراء وغیرہ کاروبار جو کرنا چاہے کر سکتا ہے، لیکن غلام یا باندی وہ اپنے مالک کی اجازت کے بغیر نکاح بھی نہیں کر سکتے، وہ اپنے مالک کی اجازت کے بغیر کوئی تجارت وغیرہ بھی نہیں کر سکتے، تو مالک کیا ہے؟ صاحبِ تصرف، اور غلام یا باندی تو صاحبِ تصرف نہیں ہیں، تو دیکھو تملیک کے اندر مالک اور مملوک دونوں کا فائدہ ہے یا صرف مالک کا فائدہ ہے؟ صرف مالک کا فائدہ ہے۔ تو نکاح اور تزویج، اس میں تو مصلحتیں ہیں، ملانا ہے، دونوں کے فائدے، اور تملیک کے اندر صرف مالک کا فائدہ ہے، مملوک کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ پھر سنو، نکاح اور تزویج میں دونوں کے فائدے اور مصلحتیں اور تملیک کے اندر صرف مالک کا فائدہ یعنی دونوں کے مصلحتیں نہیں ہیں، تو یہ تو دونوں کے اندر منافات ہے بھئی۔ نکاح اور تزویج میں دونوں کے فائدے اور تملیک کے اندر ایک کا فائدہ، دونوں کے فائدے نہیں، تو لہٰذا دونوں میں مناسبت ہی کوئی نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو نکاح اور تزویج جو ہے اس کی تملیک کے ساتھ کوئی مناسبت نہیں ہے کیونکہ تملیک میں دونوں کے فائدے اور مصلحتیں نہیں ہوتیں جبکہ نکاح اور تزویج میں دونوں کے فائدے اور دونوں کی مصلحتیں ہوتی ہیں، تو دونوں میں کوئی مناسبت نہیں ہے۔ یوں کہو دونوں متنافیین ہیں، ایک دوسرے کے منافی ہیں، ایک دوسرے کے کیونکہ دو چیزوں میں سے ایک ہوگی، یا دونوں کا فائدہ ہوگا یا ایک کا فائدہ ہوگا، دیکھو ایک ہے دونوں کا فائدہ ہونا اور ایک ہے صرف ایک کا فائدہ ہونا، یہ تو ایک دوسرے کے منافی ہیں، ان دو صورتوں میں سے ایک ہی ہوگی، یا تو دونوں کا فائدہ ہوگا یا ایک کا فائدہ ہوگا، ان دونوں میں منافات ہے۔ جہاں دونوں کا فائدہ ہو وہ اور چیز ہے، جہاں صرف ایک کا فائدہ ہو وہ اور چیز ہے، دونوں میں کوئی مناسبت نہیں ہے، دونوں اکٹھے نہیں ہو سکتے۔ جہاں دونوں کا فائدہ ہے آپ یہ نہیں کہہ سکتے صرف ایک کا فائدہ ہوا، اور جہاں صرف ایک کا فائدہ ہے وہاں آپ یہ نہیں کہہ سکتے دونوں کا فائدہ ہوا، تو ایک وقت میں دونوں میں سے ایک ہو سکتا ہے، دونوں نہیں ہو سکتے، یا تو دونوں کا فائدہ ہوگا یا صرف ایک کا فائدہ ہوگا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو نکاح اور تزویج میں دونوں کا فائدہ، اور تملیک میں صرف ایک کا فائدہ، تو یہ دونوں ایک دوسرے کے منافی ہیں، یہ تو ایک دوسرے کی ضد ہو گئے۔ جیسے صبح اور شام، یا صبح کا وقت ہوگا یا شام، ایک ہی وقت صبح بھی ہو جائے اور شام بھی ہو جائے ایسا نہیں ہو سکتا۔ جیسے سردی اور گرمی، سردی اور ہے، گرمی اور ہے، ایک ہی وقت گرمی بھی ہو اور سردی بھی ہو ایسا نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح یا دونوں کا فائدہ ہوگا یا صرف ایک کا فائدہ ہوگا، دونوں کا فائدہ ہے تو آپ یہ نہیں کہہ سکتے صرف ایک کا فائدہ ہے، اور صرف ایک کا فائدہ ہو تو آپ یہ نہیں کہہ سکتے دونوں کا فائدہ ہے، یہ دونوں چیزیں اکٹھی نہیں ہو سکتیں جیسے صبح اور شام اکٹھی نہیں ہو سکتے، سردی اور گرمی اکٹھے نہیں ہو سکتے۔ اسی طرح یہ تملیک اور تزویج اور نکاح اکٹھے نہیں ہو سکتے، یہ ایک دوسرے کے منافی ہیں، ایک دوسرے کے مخالف ہیں، دونوں چیزوں میں سے ایک چیز پائی جائے گی، یا دونوں کا فائدہ ہوگا یا دونوں کا فائدہ نہیں ہوگا بھئی، تو جہاں دونوں کا فائدہ ہے وہ الگ چیز، جہاں صرف ایک کا فائدہ ہے وہ الگ چیز ہے، یہ اکٹھی ہو ہی نہیں سکتی، ان میں کوئی مناسبت ہے ہی نہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو لہٰذا معلوم ہوا تملیک کا مجازی معنی بھی نکاح اور تزویج نہیں کر سکتے کیونکہ مجازی معنی کی حقیقی معنی کے ساتھ مناسبت ہوتی ہے اور یہاں تو کوئی مناسبت نہیں، دونوں میں منافات ہے۔ آپ صبح کا لفظ بولیں، شام کا ارادہ کر سکتے ہیں؟ نہیں، کیونکہ صبح اور شام میں منافات ہے بھئی، یہ دونوں اکٹھے ہو ہی نہیں سکتے، یہ الگ الگ چیزیں ہیں۔ آپ سردی بول کر گرمی کا ارادہ کر سکتے ہیں؟ نہیں، کیونکہ دونوں میں منافات ہے، یہ اکٹھے ہی نہیں ہو سکتے، ایک وقت میں ایک چیز ہو سکتی ہے، کسی یعنی کسی قسم کے ان میں مناسبت موجود نہیں، تو یہاں پر بھی اسی طرح نکاح اور تزویج کے اندر دونوں کی مصلحتیں ہیں اور تملیک کے اندر صرف ایک کی مصلحت اور فائدہ ہے، تو یہ دونوں اکٹھے ہو ہی نہیں سکتے، ان میں کسی قسم کی مناسبت موجود نہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ دونوں کیا ہیں؟ متنافیین ہیں، ایک دوسرے کے منافی ہیں۔ دونوں کی مصلحتیں یہ اور چیز ہے اور صرف ایک کی مصلحت یہ اور چیز ہے، تو دونوں میں کوئی مناسبت نہیں، اور مجاز کے لیے کیا ضروری ہے؟ معنیٰ حقیقی کے ساتھ مناسبت ضروری ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی اچھی طرح؟ اب پھر دیکھیے عبارت بھئی، کہتے ہیں: لأن التزويج للتلفيق، کہتے ہیں اس لیے کیونکہ تزویج جو ہے وہ تلفیق کے لیے آتی ہے یعنی نکاح کی مصلحتوں کے لیے تزویج ہوتی ہے یعنی جس میں دونوں کے لیے فائدہ اور مصلحت ہوتی ہے، والنكاح للضم، اور نکاح جو ہے وہ جوڑنے اور ملانے کے لیے آتا ہے اور اس جوڑنے اور ملانے میں بھی کیا ہوتا ہے؟ دونوں کی مصلحتیں ہوتی ہیں، لیکن ولا ضم ولا ازدواج بين المالك والمملوك، لیکن تملیک کے اندر ایک ادھر دیکھیے، تملیک کے اندر ایک مالک بنتا ہے اور ایک مملوک بنتا ہے، ولا ضم، اور وہاں کوئی جوڑ بھی نہیں ہوتا، ولا ازدواج، اور کوئی مناسبت بھی نہیں ہوتی بين المالك والمملوك، مالک اور مملوک کے درمیان، أصلا أي قطعا، یعنی سرے سے کوئی مناسبت نہیں ہوتی۔ تو ایک کے اندر مناسبت ہے، نکاح اور تزویج میں دونوں کی مصلحتیں ہیں، دونوں میں مناسبت آ گئی، میاں بیوی میں مناسبت آ گئی، دونوں کی مصلحتیں ہیں۔ اور تملیک کے اندر صرف مالک کی مصلحت تو ہے، غلام کی مصلحت نہیں، تو دونوں میں کیا ہے؟ یہ تملیک اور نکاح و تزویج میں منافات ہے، ان میں کیا ہے؟ منافات، اور احد المتنافیین کو دوسرے کے لیے مجازاً استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ صبح کو بول کر شام کا ارادہ نہیں کیا جا سکتا، گرمی کو بول کر سردی کا ارادہ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ دونوں میں منافات ہے بھئی، ایک وقت میں ایک چیز ہو سکتی ہے، دونوں نہیں ہو سکتیں۔ یا تو دونوں کا فائدہ ہوگا یا صرف ایک کا فائدہ ہوگا، ایک چیز ہو سکتی ہے۔ آپ بولنا کیا چاہتے ہیں؟ تملیک، تملیک سے کیا پتہ چلا؟ ایک کا فائدہ ہے، ارادہ کس کا کر رہے ہیں؟ نکاح اور تزویج کا، اور اس میں کیا ہوتا ہے؟ دو کا فائدہ، تو یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ لفظ وہ بول رہے ہیں جس سے ایک کے فائدے کا پتہ چل رہا ہے اور ارادہ کس کا کر رہے ہیں؟ جس میں دونوں کا فائدہ ہے، لہٰذا جو دونوں ایک دوسرے کے منافی ہیں تو آپ تملیک کا لفظ بول کر یا ہبہ یا صدقہ کا لفظ بول کر نکاح اور تزویج کا ارادہ نہیں کر سکتے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو یہ معنی ہے، کہتے ہیں: ولا ضم ولا ازدواج بين المالك والمملوك أصلا اور کوئی جوڑ اور کوئی مناسبت نہیں ہے مالک اور مملوک کے درمیان اصلاً یعنی قطعی طور پر۔ اب آگے ہماری دلیل آئے گی: ولنا أن التمليك سبب لملك المتعة في محلها بواسطة ملك الرقبة ہم کہتے ہیں کہ نہیں، دونوں میں مناسبت موجود ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں کہ تملیک کے اندر اور تزویج اور نکاح کے اندر ان کے معنی میں کوئی مناسبت موجود نہیں، ہم کہتے ہیں نہیں، ان کے اندر مناسبت موجود ہے۔ تملیک کا معنی ہے مالک بنانا اور جب کسی کو کسی چیز کا مالک بنایا جائے گا، مثلاً کسی کو باندی کا مالک بنایا تو اس کو ملکِ رقبی حاصل ہوئی، کیا حاصل ہوئی؟ ملکِ رقبی حاصل ہوئی، رقبہ سے مراد ذات ہے بھئی ذات۔ تو کسی کو باندی کا مالک بنایا تو وہ صرف رقبہ یعنی باندی کی گردن کا مالک نہیں ہوا بلکہ پوری باندی کا مالک بن گیا، لیکن عربی زبان میں بعض اعضاء کے ساتھ پورے انسان کو تعبیر کیا جاتا ہے، رقبہ بول کر پوری ذات اس کی مراد ہوتی ہے، اسی طرح راس بول کر پورا انسان مراد ہوتا ہے، یا اسی طرح چہرہ بول کر پورا انسان مراد ہوتا ہے۔ رأس القوم، قوم کا سردار، دیکھا قوم کے سردار کے لیے راس کا لفظ استعمال کر لیا اور مراد اس کی پوری ذات ہے، یا اسی طرح قوم کے سردار کے لیے وجہ کا لفظ بھی استعمال کر لیتے ہیں، وجه القوم، وجه القوم، تو جیسے چہرہ جو ہے انسان کی پہچان کا باعث ہوتا ہے اسی طرح قوم کا جو سردار ہے وہ بھی کسی قوم کی پہچان کا باعث ہوتا ہے۔ تو عربی زبان میں رقبہ، راس اور وجہ کے ساتھ پوری ذات تعبیر کی جاتی ہے۔ تو بات یہ چل رہی تھی کہ جب اب کوئی شخص جو ہے باندی کا مالک بنتا ہے تو اس کو کیا حاصل ہوئی؟ باندی کا مالک بن گیا یعنی اسے ملکِ رقبی حاصل ہوئی، پوری باندی کی ذات کا وہ مالک بن گیا، اور آپ جانتے ہیں کہ جو شخص باندی کا مالک ہو اس کے لیے اس باندی سے صحبت جائز ہوتی ہے، اس کے لیے اس باندی سے صحبت جائز ہوتی ہے الا یہ کہ کوئی مانع موجود ہو تو پھر جائز نہیں ہوگا، باندی کا مالک بھی ہوگا لیکن صحبت جائز نہیں ہوگی۔ مثلاً اس باندی کا کسی سے نکاح کروایا گیا ہے پہلے سے، یا اب آقا نے نکاح کروا دیا تو اب آقا کے لیے صحبت جائز نہیں، یا مثلاً وہ باندی دو یا زیادہ افراد کے درمیان مشترک ہے، ایک اکیلا آدمی اس کا مالک نہیں ہے، دو یا تین نے مل کر خریدا ہے خدمت کے لیے تو کسی ایک کے لیے بھی اس سے صحبت جائز نہیں۔ تو مانع کوئی نہ ہو، ویسے کوئی شخص جب باندی کا مالک بنتا ہے تو اس کے لیے باندی سے صحبت جائز ہوتی ہے۔ تو دیکھو باندی کے اندر اولاً جب اس کو خریدا، اولاً کیا حاصل ہوئی؟ ملکِ رقبی، اور ملکِ رقبی کی وجہ سے ہی پھر کیا حاصل ہوئی؟ ملکِ متعہ بھی حاصل ہو گئی۔ متعہ کا معنی ہے فائدہ، فائدہ، لیکن یہاں ہر فائدہ نہیں مراد بلکہ صحبت کا فائدہ مراد ہے، ورنہ تو فائدہ اور ہر چیز میں ہوگا، مثلاً آپ گاڑی خریدتے ہیں، گاڑی بھی آپ اپنے فائدے کے لیے خریدتے ہیں کہ آپ اس میں سفر کرتے ہیں، یا اور بھی کوئی چیز خریدتے ہیں آپ اپنے فائدے کے لیے خریدتے ہیں، تو فائدہ یا متعہ تو ہر چیز میں ہوگا لیکن یہاں ہر فائدہ مراد نہیں ہے بلکہ ایک مخصوص متعہ، ایک مخصوص فائدہ یعنی صحبت کی بات چل رہی ہے۔ جب کوئی شخص کسی باندی کا مالک بنتا ہے، کوئی مانع نہ ہو تو اس کے لیے باندی سے صحبت جائز ہو جاتی ہے۔ تو معلوم ہوا تملیک کی وجہ سے ملکِ رقبی آتی ہے اور ملکِ رقبی کی وجہ سے پھر کیا آتا ہے؟ ملکِ متعہ آتا ہے، معلوم ہوا تملیک سبب ہوا ملکِ متعہ کا۔ تملیک کہاں تک پہنچا دیتا ہے؟ ملکِ متعہ تک پہنچا دیتا ہے، اور نکاح کے اندر بھی کیا حاصل ہوتی ہے؟ ملکِ متعہ ہی تو حاصل ہوتی ہے، جب ایک مرد کا ایک عورت سے نکاح کروا دیا جائے تو اس مرد کے لیے اس عورت سے صحبت جائز ہو جاتی ہے، وہ میاں بیوی بن گئے، وہ ایک دوسرے کے لیے حلال ہو گئے۔ تو دیکھو نکاح سے بھی کیا حاصل ہوا؟ ملکِ متعہ، اور تملیک نے بھی بالاخر کہاں تک پہنچا دیا؟ ملکِ متعہ تک۔ تو تملیک سبب ہے ملکِ رقبی کا، اور ملکِ رقبی سبب ہے ملکِ متعہ کا، تو گویا تملیک کہاں تک پہنچا دیتی ہے؟ ملکِ متعہ تک، تو تملیک سبب ہوا ملکِ متعہ کا۔ تملیک ملکِ متعہ کا سبب ہوا بھئی، اور سبب بول کر مسبب کا ارادہ کیا جا سکتا ہے بھئی، کلامِ عرب میں اس طرح استعمال ہوتا ہے کہ ذکر کس کو کرتے ہیں؟ سبب کو، اور ارادہ کس کا کرتے ہیں؟ مسبب کا کرتے ہیں، جیسے عرب کہتے ہیں: عظمت يد فلان، عظمت، ظ کے ساتھ ہے بھئی، ط، ظ، عظم کا کیا معنی؟ بڑا ہونا، عظمت بڑا ہوا يد فلان، فلاں کا ہاتھ بھئی، ید کسے کہتے ہیں؟ ہاتھ کو، اور عظمت دیکھو مؤنث کا فعل لائے، مؤنث کا فعل لائے اور ید کیا ہے؟ فاعل۔ وجہ یہ کہ یہ جو انسانی اعضاء دو دو ہیں یہ عربی میں مؤنث استعمال ہوتے ہیں، جیسے آنکھیں دو ہیں بھئی اور ہاتھ دو ہیں، پاؤں دو ہیں، گھٹنے دو ہیں، کہنیاں دو ہیں، تو یہ جو دو دو اعضاء ہیں انسان کے یہ عربی میں مؤنث استعمال ہوتے ہیں۔ تو یہاں ید فاعل بن رہا تھا تو اس کے لیے مذکر کا فعل نہیں لائے بلکہ مؤنث کا فعل لائے: عظمت يد فلان، فلاں کا ہاتھ بڑا ہے، اور مراد اس سے سخاوت ہوتی ہے۔ جب کوئی شخص بڑا سخی ہو تو عربی میں کہتے ہیں: عظمت يد زيد، زید کا ہاتھ بڑا ہے یعنی زید بڑا سخی ہے، معنی کیا ہوتا ہے؟ زید بڑا سخی ہے۔ تو یہاں دیکھو ید بولا اور ید بول کر کس کا ارادہ کیا؟ سخاوت کا۔ بھئی ید بول کر سخاوت کا کیسے ارادہ کیا؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ ید وہ سبب ہے سخاوت کا۔ ہاتھ کیا ہے؟ سخاوت کا سبب ہے، ہاتھ کے ذریعے لوگوں کو عطیے دیتا ہے، چیزیں دیتا ہے، سخاوت کرتا ہے تو ہاتھ ہوا سبب۔ ہاتھ کیا ہوا؟ سبب ہوا، کس چیز کا؟ سخاوت کا۔ تو عظمت يد فلان، کیا ترجمہ؟ فلاں بڑا سخی ہے۔ میں نے تو لغوی معنی کیا نا فلاں کا ہاتھ بڑا ہے، یہ لغوی معنی نہیں یہاں مراد ہوتا بلکہ کیا معنی ہے؟ فلاں بڑا سخی ہے۔ تو ذکر کیا ہاتھ کو اور ارادہ کس کا کیا؟ سخاوت کا، اور ہاتھ کیا ہے؟ سخاوت کا سبب ہے، تو ہاتھ ہوا سبب اور سخاوت ہوئی مسبب، تو سبب بول کر مسبب کا ارادہ کیا گیا ہے۔ تو عربی زبان میں یہ شائع ہے اور رائج ہے کہ سبب بول کر مسبب کا ارادہ کیا جاتا ہے۔ اسی طرح کبھی مسبب بول کر سبب کا بھی ارادہ کرتے ہیں، جیسے عربی میں کہتے ہیں: أمطرت السماء نباتا، أمطرت السماء نباتا، أمطر کا معنی ہے برسانا، أمطرت السماء، آسمان نے برسایا نباتا، سبزے کو۔ أمطرت السماء نباتا، آسمان نے سبزہ برسایا۔ بھئی آسمان سبزہ برساتا ہے یا بارش برساتا ہے؟ بارش برساتا ہے، تو یہاں نبات بول کر بارش مراد ہے، اور بارش کو نبات سے کیوں تعبیر کیا؟ کیونکہ بارش سبب ہے اور اس بارش کی وجہ سے سبزہ پیدا ہوگا بھئی، تو بارش ہوئی سبب اور سبزہ کیا ہوا؟ مسبب، اور ذکر کس کو کیا؟ مسبب کو، سبزے کو ذکر کیا، نباتا، اور ارادہ کس کا کیا؟ سبب یعنی بارش کا۔ تو أمطرت السماء نباتا، یہاں دیکھو مسبب بول کر سبب کا ارادہ کیا گیا یعنی یہاں مسبَبیت والا تعلق ہے، معنیٰ حقیقی اور معنیٰ مجازی میں کون سا تعلق ہے؟ مسبَبیت والا، مسبب ہونے والا۔ جبکہ عظمت يد فلان، فلاں بڑا سخی ہے، یہاں ید بول کر سخاوت کا ارادہ کیا گیا اور اس ید میں اور سخاوت میں کون سا تعلق ہے؟ سبَبیت والا۔ دیکھو سبب بول کر مسبب کا ارادہ کریں تو ہم کہیں گے سبَبیت والا تعلق ہے، کون سا؟ یہ سبب ہے۔ اور اگر مسبب کو ذکر کیا اور ارادہ سبب کا کیا جائے تو ہم کیا کہیں گے کون سا علاقہ ہے؟ جو ذکر ہے وہ بولو، مسبَبیت والا تعلق ہے۔ پھر سنو، عظمت يد فلان، فلاں بڑا سخی ہے، ذکر ہاتھ کو کیا اور ہاتھ کیا ہے؟ سبب، اور ارادہ کس کا کیا؟ مسبب، تو جو ذکر کیا ہے اسی کو بول دو کہ یہاں سبَبیت والا تعلق ہے، سبب کو ذکر کیا نا تو سبَبیت والا تعلق ہے۔ اور أمطرت السماء نباتا، یہاں کس کو ذکر کیا؟ مسبب کو، تو ہم کہیں گے مسبَبیت والا تعلق ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو بات یہ چل رہی تھی، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تملیک بول کر نکاح اور تزویج کا ارادہ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ دونوں میں منافات ہے، دونوں کے معانی میں کوئی مناسبت موجود نہیں ہے۔ نکاح اور تزویج میں دونوں کا فائدہ ہوتا ہے اور تملیک میں صرف ایک کا فائدہ ہوتا ہے، جبکہ ہم کہتے ہیں نہیں ان میں مناسبت موجود ہے۔ تملیک جو ہے اس کی وجہ سے کیا آئے گی؟ ملکِ رقبی، اور ملکِ رقبی سے پھر کیا آئے گی؟ ملکِ متعہ آئے گی، تو تملیک نے کہاں تک پہنچا دیا؟ ملکِ متعہ تک، تو تملیک سبب ہوئی اور ملکِ متعہ کیا ہوا؟ مسبب ہوا، اور سبب بول کر مسبب کا ارادہ کرنا جائز ہے، کلامِ عرب میں اس طرح کیا جاتا ہے۔ تو ذکر کس کو کیا؟ تملیک، اور ارادہ کس کا کیا؟ ملکِ متعہ، ملکِ متعہ کس میں ہوتا ہے؟ نکاح میں، کس میں؟ نکاح، تو دیکھا معلوم ہوا تملیک بول کر نکاح کا ارادہ صحیح ہے۔ تملیک بول کر نکاح کا ارادہ کیونکہ نکاح میں بھی ملکِ متعہ حاصل ہوتا ہے اور تملیک نے بھی کہاں تک پہنچایا؟ ملکِ متعہ تک، تو تملیک بول کر ملکِ متعہ یعنی نکاح اور تزویج کا ارادہ کرنا صحیح ہے کیونکہ ان میں سبَبیت والا علاقہ ہے۔ معلوم ہوا کہ ہبہ، تملیک، صدقہ، بیع وغیرہ ان کے ذریعے نکاح کا ارادہ کرنا صحیح ہے تو نکاح اور تزویج ان کا مجازی معنی ہو سکتا ہے، سبب بول کر کس کا ارادہ کیا جائے؟ مسبب کا ارادہ کیا جائے، اور میں نے آپ کو بتلایا کہ مجازی معنی کے لیے ہمیشہ کوئی نہ کوئی قرینہ چاہیے، ایک تو نیت چاہیے اور ساتھ قرینہ بھی چاہیے، سننے والے کو بھی پتہ چلے ورنہ تو لفظ سنتے ہی ذہن فوراً کس طرف جاتا ہے؟ حقیقی معنی کی طرف ذہن جاتا ہے، مجازی معنی کی طرف نہیں جاتا، مجازی معنی کے لیے کوئی قرینہ چاہیے۔ اور قرینہ میں نے آپ کو بتلایا تھا وہ لفظیہ بھی ہو سکتا ہے اور غیر لفظیہ بھی ہو سکتا ہے، تو کبھی تو اس مقام پر قرینہ لفظیہ موجود ہوگا، مثلاً وہ مہر کو ساتھ ذکر کر دیتا ہے: میں نے فلاں عورت آپ کو بیچ دی ایک لاکھ روپے مہر کے عوض، تو اس نے مہر کو ذکر کر دیا، بھئی بیع و شراء کے اندر تو مہر نہیں آیا کرتا، مہر تو کس میں آتا ہے؟ نکاح میں، معلوم ہوا بیع بول کر کس کا ارادہ ہے؟ نکاح کا، یا اس نے صدقے اور ہبہ کا لفظ بولا ہے یا تملیک کا لفظ بولا ہے اور ساتھ مہر کو ذکر کر دیا، بھئی مہر تو ان چیزوں میں نہیں آتا، معلوم ہوا یہ ہبہ، صدقہ وغیرہ بول کر کس کا ارادہ ہے؟ نکاح کا ارادہ ہے، کس سے پتہ چلا؟ مہر سے پتہ چلا یعنی مہر کے لفظ سے پتہ چلا تو یہ قرینہ لفظیہ ہوا، کیا ہوا؟ قرینہ لفظیہ ہوا۔ لیکن بعض اوقات نکاح میں مہر کو ذکر ہی نہیں کیا جاتا تو پھر مہرِ مثل آ جاتا ہے، آگے تفصیل آ جائے گی بھئی مہر کے بارے میں۔ تو بہرحال مہر کو کبھی ذکر نہیں کیا جاتا، پھر بھی قرینہ تو چاہیے کیونکہ آپ بیع یا ہبہ یا تملیک یا صدقہ کے لفظ کو کس میں استعمال کر رہے ہیں؟ مجازی معنی میں، اور مجاز کے لیے کیا چاہیے؟ قرینہ چاہیے، تو قرینہ یہاں موجود ہے کہ آپ ایک آزاد عورت کا نکاح کروا رہے ہیں اور آزاد عورت کا ہبہ نہیں کیا جا سکتا، آزاد عورت کو کسی کے مملوکہ نہیں بنایا جا سکتا، آزاد عورت کو کسی پر صدقہ نہیں کیا جا سکتا، آزاد عورت کو کسی کے ہاتھ بیچا نہیں جا سکتا، تو یہ محل ہی نہیں ہے ہبہ کا، یہ عورت جو آزاد عورت ہے، نہ یہ ہبہ کا محل ہے، نہ یہ تملیک کا محل ہے، نہ یہ صدقے کا محل ہے، نہ یہ بیع کا محل ہے، تو اس کا آزاد ہونا ہی بتلا رہا ہے کہ یہاں ان لفظوں کے حقیقی معنی مراد نہیں، تو یہ قرینہ ہو جائے گا کہ یہاں حقیقی معنی مراد نہیں بلکہ مجازی معنی مراد ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ اب دیکھیے کتاب پر، کہتے ہیں: ولنا أن التمليك سبب لملك المتعة اور ہماری دلیل یہ ہے کہ یہ جو تملیک ہے، مالک بنانا جو ہے، یہ سبب ہے ملکِ متعہ کا، اور متعہ کا کیا معنی؟ فائدہ، اور ہر فائدہ یہاں مراد ہے یا خاص متعہ خاص فائدہ مراد ہے اور وہ کیا؟ صحبت کرنا، وہ مراد ہے، تو یہ تملیک جو ہے یہ سبب ہے ملکِ متعہ کا یعنی متعۂ مخصوص کا، في محلها اپنے محل میں۔ کس میں؟ تملیک جو ہے ملکِ متعہ کا سبب ہے لیکن اپنے محل میں۔ کیا معنی؟ في محلها، ہا ضمیر راجع ہے متعہ کو، في محلها أي في محل المتعة، تملیک کس چیز کا سبب ہے؟ ملکِ متعہ کا، لیکن ہر جگہ نہیں، اپنے محل میں۔ دیکھو آپ موٹر سائیکل لائے، آپ گاڑی لائے، آپ کوئی حیوان خرید کر لائے، آپ غلام خرید کر لائے، تو مجھے بتائیے کیا یہاں وہ مخصوص متعہ کا فائدہ ہے؟ کیا یہاں صحبت کی صورت ہے؟ نہیں، تو تملیک صحبت تک پہنچائے گی ہر جگہ یا جہاں صحبت جائز ہوگی وہاں پر؟ ہاں وہاں تملیک جو ہے صحبت تک پہنچائے گی، ہر جگہ وہ ملکِ متعہ حاصل نہیں ہوگا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے: أن التمليك سبب لملك المتعة في محلها کہ تملیک جو ہے، یہ سبب ہے ملکِ متعہ کا في محلها، متعہ کے محل میں یعنی جہاں پر وہ نفع جائز بھی ہو بھئی، وہ نفع جائز بھی ہو اور وہ کس میں صرف جائز ہے؟ باندی کے اندر جائز ہے اور جگہ جائز نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں پھر دیکھیے: ولنا أن التمليك سبب لملك المتعة في محلها کہ تملیک جو ہے یہ سبب ہے ملکِ متعہ کا في محلها، متعہ کے محل میں، بواسطة ملك الرقبة اور یہ کس کے واسطے سے ملکِ متعہ آئے گا؟ ملکِ رقبہ کے واسطے سے آئے گا بھئی۔ تملیک کہاں تک پہنچائے گی اولاً؟ ملکِ رقبہ تک، اور ملکِ رقبہ کہاں تک پہنچائے گا؟ ملکِ متعہ تک، تو تملیک نے ملکِ متعہ تک پہنچا دیا، کس کے واسطے سے؟ ملکِ رقبہ کے واسطے سے۔ یہ معنی ہے: بواسطة ملك الرقبة، ملکِ رقبہ کے واسطے سے، وهو الثابت بالنكاح اور یہی ثابت ہے نکاح کے ذریعے۔ یہی ملکِ متعہ ثابت ہوتا ہے کس کے ذریعے؟ نکاح کے ذریعے، نکاح سے بھی کیا آتی ہے؟ ملکِ متعہ، تملیک نے بھی کہاں تک پہنچایا؟ ملکِ متعہ تک پہنچایا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: وهو الثابت بالنكاح، اور یہی ملکِ متعہ ہی تو ثابت ہے نکاح کے ذریعے، بھئی یہاں یاد رکھنا: هو یہ ہے مبتدا، الثابت یہ ہے خبر، یہ کیا ہے؟ خبر۔ بھئی یاد رکھو، مبتدا تو عموماً معرفہ ہوتا ہے، هو ضمیر ہے اور ضمیر معرفہ ہے، اور خبر نکرہ ہوتی ہے، خبر کے اندر اصل کیا ہے؟ وہ کیا ہونی چاہیے؟ نکرہ، لیکن کبھی کبھار خبر کو بھی معرفہ لے آتے ہیں اور یہ پھر حصر کا فائدہ دیتی ہے۔ خبر کو بھی اگر کیا لے آئیں؟ معرفہ، تو پھر یہ بعض اوقات، ہمیشہ نہیں، جہاں حصر کا ارادہ ہو تو یہ خبر بھی معرفہ ہو تو یہ پھر حصر کا فائدہ دیتی ہے جیسے یہاں پر۔ اگر یہ صرف ثابت ہوتا، الف لام نہ ہوتا: وهو ثابت بالنكاح اور ملکِ متعہ ثابت ہے نکاح کے ذریعے، توجہ ہے؟ لیکن یہاں صاحبِ ہدایہ معرفہ لے کر آئے: وهو الثابت اور یہی ثابت ہے، دیکھو حصر آ گیا۔ بالنكاح کس کے ذریعے؟ نکاح کے ذریعے، ترجمے میں فرق سمجھ میں آ رہا ہے؟ هو ثابت بالنكاح ترجمہ کرو: یہ نکاح کے ذریعے ثابت ہے۔ وهو الثابت بالنكاح یہی ثابت ہے نکاح کے ذریعے، جیسے دیکھو سورۂ فاتحہ کے اندر ہے: إياك نعبد، دیکھو ہونا تو یوں چاہیے: نعبدك، نعبد ہم عبادت کرتے ہیں، آگے کاف ضمیر آ گئی، آپ کی، ہم اے اللہ ہم آپ کی عبادت کرتے ہیں، نعبدك یوں ہونا چاہیے لیکن اگر یوں ہوتا تو اس میں اللہ کی عبادت کا اقرار تو آ جاتا لیکن کسی اور کی عبادت کی نفی نہ ہوتی، تو اس لیے یہاں کاف ضمیر کو نعبد پر مقدم کیا گیا اور کلام کیا بن گیا؟ إياك نعبد، اور جب ضمیر کو مقدم کر دیا تو کلام میں حصر آ گیا یعنی تخصیص آ گئی۔ اب کیا معنی ہوا؟ اے اللہ ہم آپ ہی کی عبادت کرتے ہیں، معلوم ہوا کسی اور کی عبادت نہیں کرتے۔ اسی طرح یہاں اگر نکرہ ہوتا: وهو ثابت بالنكاح اور یہ ملکِ متعہ ثابت ہے نکاح کے ذریعے، یہ ملکِ متعہ ثابت ہے نکاح کے ذریعے، لیکن الثابت لے آئے، اب حصر آ گیا: وهو الثابت بالنكاح اور یہ ملکِ متعہ ہی تو ثابت ہے نکاح کے ذریعے، نکاح کے ذریعے ملکِ متعہ ہی ثابت ہوتا ہے اور تو کچھ نہیں، تو اور تملیک نے بھی کہاں تک پہنچا دیا؟ ملکِ متعہ تک پہنچا دیا لہٰذا تملیک بول کر نکاح کا ارادہ صحیح ہے کیونکہ تملیک نے اسی چیز تک پہنچا دیا جس کا فائدہ نکاح دیتا ہے اور نکاح کسی اور چیز کا فائدہ نہیں دیتا بھئی۔ تو کہتے ہیں: وهو الثابت بالنكاح، اور ملکِ متعہ ہی ثابت ہوتی ہے نکاح کے ذریعے، والسببية طريق المجاز اور سبب ہونا یہ مجاز کا طریقہ ہے۔ تو تملیک سبب ہوئی کس کے لیے؟ ملکِ متعہ کے لیے، اور سبب بول کر مسبب کا ارادہ صحیح ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ والسببية طريق المجاز اور سبب ہونا یہ مجاز کا طریقہ ہے، تو سببیت مجاز کا ایک طریقہ ہے، مجازِ مرسل کے میں نے بتلایا تھا کوئی بیس پچیس علاقے ہیں ان میں سے ایک علاقہ سببیت والا بھی ہے، تو لہٰذا یہاں مجاز کا طریقہ موجود ہے تو تملیک بول کر نکاح اور تزویج کا ارادہ صحیح ہے بھئی۔ آگے دیکھیے بھئی، کہتے ہیں: وينعقد بلفظ البيع اور اسی طرح نکاح جو ہے وہ منعقد ہو جاتا ہے لفظِ بیع سے بھی۔ بیع کے اندر ادھر دیکھیے، بیع کسے کہتے ہیں؟ تمليك العين بالعوض، عوض کے ساتھ دوسرے کو چیز کا مالک بنانا، تو بیع کے اندر تملیک بھی ہے اور تملیک کس چیز کی ہوتی ہے؟ عین کی یا منافع کی؟ عین کی، جب آپ کوئی چیز خریدتے ہیں آپ اس چیز کی ذات کے مالک بن جاتے ہیں، تو تملیک العین بھی ہے اور اسی وقت مالک بن جاتے ہیں، تو بیع بھی تمليك العين في الحال کا فائدہ دیتی ہے لہٰذا بیع کا لفظ بول کر نکاح کا ارادہ صحیح ہے۔ تو کہتے ہیں: وينعقد بلفظ البيع، اور نکاح منعقد ہو جاتا ہے لفظِ بیع سے بھی، هو الصحيح یہی قول صحیح ہے۔ دیکھو پھر حصر آیا، هو ہے مبتدا اور الصحيح یہ ہے خبر، اور خبر کو بھی معرفہ لے آئے اور خبر کو بھی معرفہ عموماً کس لیے لاتے ہیں؟ حصر پیدا کرنے کے لیے، تو هو الصحيح، یہی صحیح ہے، معلوم ہوا دوسرا قول صحیح نہیں۔ یہاں ایک اور نکتہ جو میں بیان کرتا ہوں، پرانے طلباء کو تو پتہ ہوگا، نئے طلباء سمجھ لیں، بھئی ایک ہوتا ہے لفظ صحیح، ایک ہوتا ہے اصح۔ کبھی صاحبِ ہدایہ فرمائیں گے کہ هذا صحيح یا هو صحيح، یہ صحیح ہے، اور کبھی فرمائیں گے: هو أصح، اسمِ تفضیل لے آئیں گے، یہ زیادہ صحیح ہے۔ کبھی کیا فرمائیں گے؟ هذا صحيح، یہ صحیح ہے، اور کبھی کیا فرمائیں گے؟ هذا أصح، یہ زیادہ صحیح ہے۔ اب مجھے آپ بتائیے کس میں قوت زیادہ ہے؟ اصح میں طلباء عموماً یہی کہتے ہیں کہ اصح میں زیادہ قوت ہے کیونکہ اصح کا کیا معنی ہے؟ زیادہ صحیح، اس کے اندر زیادہ کا لفظ آ رہا ہے لیکن ایسا نہیں ہے، یاد رکھو صحیح کے اندر قوت زیادہ ہے، اس لیے کیونکہ جب صاحبِ ہدایہ نے کہہ دیا: هذا صحيح، یہ صحیح ہے، اس کا مطلب ہے دوسرا قول غیر صحیح ہے، وہ صحیح نہیں ہے، تو جب صحیح کہہ دیا تو دوسرے قول کو بالکل رد کر دیا کہ وہ صحیح نہیں۔ لیکن جب کہا: هذا أصح، یہ قول زیادہ صحیح ہے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ دوسرا بھی صحیح ہے لیکن یہ والا قول زیادہ صحیح ہے، تو اصح کے اندر دوسرے کا رد نہیں ہوتا، ہاں ایک قول کا اعلیٰ ہونا بیان کر دیا جاتا ہے، ایک قول کا اصح ہونا تو بیان ہو گیا لیکن دوسرے قول کی تردید نہیں، وہ بھی صحیح ہے لیکن یہ والا قول زیادہ صحیح ہے، تو کس میں قوت زیادہ؟ صحیح میں کہ اس میں دوسرا قول بالکل ہی رد ہو جاتا ہے کہ وہ صحیح ہی نہیں ہے۔ تو صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں: وينعقد بلفظ البيع، اور نکاح منعقد ہو جاتا ہے لفظِ بیع سے، هو الصحيح، یہی قول صحیح ہے، لوجود طريق المجاز اس لیے کیونکہ مجاز کا طریقہ پایا گیا۔ مجاز کا طریقہ پائے جانے کی وجہ سے بیع کے اندر بھی مجاز کا طریقہ پایا گیا، کس طرح؟ بیع کس چیز کا فائدہ دیتی ہے؟ تملیک کا، بیع میں کیا ہوتی ہے؟ تملیک ہوتی ہے اور تملیک جو ہے کہاں تک پہنچاتی ہے؟ ملکِ رقبی تک، اور ملکِ رقبی کہاں تک پہنچاتی ہے؟ ملکِ متعہ تک، محلۂ متعہ میں۔ آپ بھئی ایک باندی کو خریدیں گے، آپ مالک بن گئے تو ملکِ متعہ حاصل ہوا یا نہیں ہوا آپ کو؟ تو دیکھا، تو بیع تملیک ہے اور اس تملیک نے کیا فائدہ دیا؟ ملکِ رقبی کا، آپ اس باندی کے مالک بن گئے اور ملکِ رقبی نے کہاں تک پہنچایا؟ ملکِ متعہ تک کہ اس باندی سے صحبت آپ کے لیے کیا ہو گئی؟ جائز ہو گئی، تو معلوم ہوا بیع بول کر بھی نکاح کا ارادہ صحیح ہے کیونکہ بیع کہاں تک پہنچانے والی ہے؟ ملکِ متعہ تک، تو بیع گویا سبب ہے اور ملکِ متعہ مسبب ہے اور سبب بول کر مسبب یعنی ملکِ متعہ یعنی نکاح کا ارادہ صحیح ہے۔ یہ معنی ہے: لوجود طريق المجاز، مجاز کا طریقہ پائے جانے کی وجہ سے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ صاحبِ ہدایہ نے فرمایا: هو الصحيح، یہی صحیح ہے، یہی صحیح ہے۔ دراصل اس کے ذریعے صاحبِ ہدایہ رد کر رہے ہیں ابوبکر اعمش رحمہ اللہ کے قول کو۔ صاحبِ ہدایہ کس کے قول کو رد کر رہے ہیں؟ ابوبکر اعمش، ابوبکر اعمش بہت بڑے فقیہ گزرے ہیں احناف کے بھئی، اور ان کی البتہ تاریخِ وفات عام کتابوں میں مجھے نہیں ملی، البتہ ان کے شاگرد جو ہیں وہ ابوجعفر ہندوانی ہیں۔ ابوجعفر ہندوانی یہ بہت مشہور فقیہ گزرے ہیں احناف کے اور یہ فقہ کے اتنے بڑے ماہر تھے کہ ان کو علماء ابوحنیفۂ صغیر کہتے تھے یعنی یہ تو چھوٹے ابوحنیفہ ہیں بھئی، یعنی اتنے فقہ کے اندر ماہر تھے اور ایسے مقام پر پہنچ گئے تھے کہ ہر ہر مسئلہ قرآن و حدیث سے نکال کر پیش فرماتے، تو علماء ان کی ذہانت دیکھ کر دنگ رہ جاتے تو ان کا نام انہوں نے کیا رکھ دیا؟ ابوحنیفۂ صغیر رکھ دیا۔ تو یہ جو ابوجعفر ہندوانی ہیں یہ شاگرد ہیں ابوبکر اعمش کے، اور ان کی وفات ہوئی ہے 362 ہجری میں، تو جب شاگرد جو ہیں ابوجعفر ان کی وفات 362 میں ہوئی ہے تو استاد کی وفات بھی اسی زمانے کے قریب میں ہوئی ہوگی۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو لیکن بہرحال ان کی تاریخِ وفات عام کتابوں میں ملی نہیں تو یہی 320، 30 یا 40 اس کے لگ بھگ زمانے میں ان کی وفات ہوئی ہوگی بھئی۔ کتابوں میں آپ کو امام اعمش کا لفظ بھی ملے گا لیکن یاد رکھنا یہ امام اعمش اور ہیں بھئی، وہ محدث ہیں بھئی اور ان کی شہرت زیادہ ہے، تو کہیں آپ کو امام اعمش کا لفظ ملے تو یہ نہ سمجھیں کہ یہ شاید ابوبکر اعمش مراد ہیں، نہیں، ابوبکر اعمش بھی بہت بڑے فقیہ گزرے لیکن شہرت زیادہ امام اعمش کی ہے اور وہ محدث ہیں بھئی فقیہ نہیں ہیں، محدث کے اعتبار سے ان کی شہرت ہے۔ تو صاحبِ ہدایہ نے کیا فرمایا؟ بیع کے لفظ سے نکاح منعقد ہو جائے گا۔ کس کا قول رد کر رہے ہیں؟ ابوبکر اعمش کا، ابوبکر اعمش۔ اور ابوبکر اعمش فرماتے ہیں کہ بیع کے لفظ سے نکاح منعقد نہیں ہوگا۔ کیوں؟ کہتے ہیں اس لیے کہ بیع کہتے ہیں: مبادلة المال بالمال، بیع کسے کہتے ہیں؟ مبادلة المال بالمال، مال کا مال کے ساتھ تبادلہ کرنا یہ کیا ہے؟ بیع ہے، اور نکاح کے اندر نکاح کے اندر خاوند کے ذمے مہر آ جاتا ہے اور خاوند بیوی سے نفع اٹھانے کا مالک بن جاتا ہے، تو خاوند کی طرف سے تو مال آ رہا ہے لیکن بیوی کی طرف سے تو صرف نفع کا مالک بن رہا ہے، تو ایک طرف سے تو مال ہے دوسری طرف سے مال نہیں ہے۔ بیع کے اندر دونوں طرف سے مال ہوتا ہے اور نکاح میں ایک طرف مال ہے اور ایک طرف صرف کیا ہے؟ منافع ہیں، لہٰذا بیع بول کر نکاح کا ارادہ صحیح نہیں۔ لیکن صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلا دیا کہ بیع تملیک کا فائدہ دیتی ہے اور تملیک کہاں تک پہنچاتا ہے؟ ملکِ رقبی تک، اور ملکِ رقبی پھر کہاں تک پہنچاتی ہے؟ ملکِ متعہ تک، معلوم ہوا بیع سبب ہے ملکِ متعہ کا، لہٰذا بیع بول کر یعنی سبب بول کر ملکِ متعہ یعنی نکاح کا ارادہ صحیح ہے بھئی، کیونکہ یہاں سببیت موجود ہے، مجاز کا طریقہ موجود ہے بھئی۔ آگے دیکھیے، کہتے ہیں: ولا ينعقد بلفظ الإجارة في الصحيح اور عقدِ نکاح منعقد نہیں ہوتا اجارہ کے لفظ سے في الصحيح، صحیح قول میں۔ صحیح قول کے مطابق اجارہ کے لفظ سے نکاح منعقد نہیں ہوگا، بھئی کیوں نہیں ہوگا؟ وجہ میں بیان کر چکا ہوں۔ بھئی وجہ یہ میں نے ذکر کیا ہے کہ اجارہ یہ تملیکِ عین کا فائدہ نہیں دیتا بلکہ تملیکِ منافع کا فائدہ دیتا ہے، اور نکاح تو ان لفظوں سے منعقد ہوگا جو تملیکِ عین فی الحال کا فائدہ دیں، تملیک بھی کس کی ہو؟ عین کی ہو، منافع کی صرف نہ ہو۔ تو اجارہ تملیکِ عین کا فائدہ نہیں دیتا، وہ تو تملیکِ منافع کا فائدہ دیتا ہے اس لیے اجارہ کے لفظ سے نکاح منعقد نہیں ہوگا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ولا ينعقد بلفظ الإجارة في الصحيح اور نکاح منعقد نہیں ہوگا اجارہ کے لفظ سے في الصحيح، صحیح قول میں، لأنه ليس بسب لملك المتعة اس لیے کیونکہ اجارہ جو ہے وہ ملکِ متعہ کا سبب نہیں ہے۔ اجارہ کبھی بھی ملکِ متعہ تک نہیں پہنچاتا۔ مثلاً مثلاً کوئی شخص باندی کو کرائے پر، اجرت پر لے آتا ہے کہ یہ دس دن تک یا ایک ماہ تک میرے بچوں کی خدمت کرے گی، اجارے پر لے آتا ہے، اس کے مالک کو کیا دے دی؟ اجرت دے دی، تو باندی کو اجارے پر لے آیا۔ تو مجھے بتائیے کیا اس باندی سے اس شخص کے لیے صحبت جائز ہو جائے گی؟ اس شخص کے لیے اس باندی سے صحبت جائز نہیں، معلوم ہوا دیکھو اجارہ ملکِ متعہ تک نہیں پہنچاتا۔ بیع سبب بنتا ہے، پہنچاتا ہے، ملکِ رقبی آئے گی اور پھر ملکِ رقبی کے واسطے سے ملکِ متعہ آئے گی، لیکن اجارے میں ملکِ رقبی آئے گی ہی نہیں، جب ملکِ رقبی نہیں تو ملکِ متعہ بھی نہیں۔ یہ معنی ہے: لأنه ليس بسب لملك المتعة اس لیے کیونکہ اجارہ جو ہے وہ ملکِ متعہ کا سبب نہیں ہے۔ یہاں جو متن میں آیا ہے نا کہ صحیح قول کے مطابق اجارے سے نکاح منعقد نہیں ہوگا، اس کے ذریعے رد کر رہے ہیں امام کرخی رحمہ اللہ کے قول کو۔ امام کرخی رحمہ اللہ بہت بڑے احناف کے فقیہ گزرے ہیں اور 340 ہجری میں ان کی وفات ہوئی ہے، یعنی وہی زمانہ ہے ابوبکر اعمش کا اور امام کرخی کا اور اسی طرح فقیہ ابوجعفر ہندوانی، ان سب کا تقریباً ایک زمانہ ہے۔ تو امام کرخی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اجارے کے لفظ سے نکاح منعقد ہو جائے گا۔ اجارے کے لفظ سے نکاح منعقد ہو جائے گا لیکن صاحبِ ہدایہ نے فرمایا: نہیں، صحیح قول کے مطابق اجارے سے نکاح منعقد نہیں ہوگا۔ وجہ کیا؟ امام کرخی کیوں فرماتے ہیں نکاح منعقد ہو جائے گا؟ کہتے ہیں اس لیے، امام کرخی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اجارے کے اندر بھی تملیکِ منافع ہوتی ہے، کیا؟ تملیکِ منافع ہوتی ہے، اور اور نکاح کے اندر بھی کیا ہوتی ہے؟ ملکِ منافع ہی تو حاصل ہوتی ہے۔ نکاح کے اندر ایک شخص جو ہے بیوی کا مالک بن جاتا ہے یا اس کو صرف ملکِ متعہ حاصل ہوتی ہے؟ صرف ملکِ متعہ حاصل ہوتی ہے، اس سے نفع اٹھانا یعنی صحبت جائز ہوتی ہے، وہ بیوی کا مالک نہیں بنا بھئی، بیوی آزاد ہے بھئی، بیوی کوئی اس کی مملوکہ نہیں، وہ ایک آزاد عورت ہے۔ تو اجارے کے اندر بھی منافع حاصل ہوتے ہیں اور نکاح میں بھی منافع حاصل ہوتے ہیں، تو امام کرخی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اجارے کے لفظ سے نکاح منعقد ہو جائے گا، اس لیے اجارے کا لفظ بول کر نکاح کا ارادہ صحیح ہے، نکاح منعقد ہو جائے گا۔ لیکن صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتایا کہ صحیح قول یہ ہے کہ اجارے کے ساتھ نکاح منعقد نہیں ہوگا، اس لیے کیونکہ اجارہ وہ صرف منافع کا مالک بناتا ہے، ذات کا مالک نہیں یعنی وہاں ملکِ رقبی نہیں، اور جب ملکِ رقبی نہیں تو ملکِ متعہ بھی نہیں، جیسے میں نے مثال ذکر کر دی: ایک شخص ایک باندی کو اجرت پر لے کر آیا کس لیے؟ کام کاج کے لیے، تو اس شخص کے لیے اس باندی سے صحبت جائز نہیں ہے۔ صحیح قول کے مطابق اجارے کے لفظ سے نکاح منعقد نہیں ہوگا، اس لیے کیونکہ اجارے سے منافع کا انسان مالک بنتا ہے، رقبے کا مالک نہیں، جب ملکِ رقبی نہیں تو ملکِ متعہ بھی حاصل نہیں، تو اجارہ ملکِ متعہ تک پہنچاتا ہی نہیں ہے لہٰذا اس کے ذریعے نکاح بھی منعقد نہیں ہوگا۔ آگے دیکھیے بھئی، کہتے ہیں: ولا بلفظ الإباحة والإحلال والإعارة اور اسی طرح نکاح منعقد نہیں ہوتا اباحت، احلال اور اعارہ کے لفظ سے بھی۔ اباحت بھئی، مباح کرنا، احلال کا معنی حلال کرنا، ان سے بھی نکاح منعقد نہیں ہوگا کیونکہ مباح کرنا یا حلال کرنا اس میں دوسرے کو مالک نہیں بنایا جاتا، اس کو اجازت دی جاتی ہے، اس کے لیے جائز کر دیا جاتا ہے، جیسے آپ دعوت پر گئے تو آپ کے لیے وہ کھانا کھانا جائز ہے، آپ اس کھانے کے مالک نہیں، تو لہٰذا اباحت اور احلال میں سرے سے تملیک ہے ہی نہیں۔ کن لفظوں سے نکاح منعقد ہوگا؟ جو کس کا فائدہ دیں؟ تملیک کا، اور تملیک بھی کس چیز کی ہو؟ عین کی، اور کس وقت؟ فی الحال یعنی اسی زمانے میں، جبکہ اباحت اور احلال اس میں حلال کرنا ہے، اس میں تو سرے سے تملیک ہے ہی نہیں، مالک بنایا ہی نہیں جاتا لہٰذا ان کے ذریعے بھی نکاح منعقد نہیں۔ اسی طرح عاریت جو ہے، اعارہ، عاریتاً کسی کو کوئی چیز دینا تو اس میں بھی منافع کا مالک بنایا جاتا ہے، کس کا؟ منافع کا مالک بنایا جاتا ہے، عین کا مالک نہیں بنایا جاتا جبکہ نکاح کے اندر ضروری ہے کہ نکاح اسی لفظ سے منعقد ہوگا جس میں تملیکِ عین ہو جبکہ اعارے میں تملیکِ عین نہیں بلکہ تملیکِ منافع ہے، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو کہتے ہیں: ولا بلفظ الإباحة والإحلال والإعارة اور نکاح منعقد نہیں ہوتا اباحت، احلال اور اعارے کے لفظ سے بھی، لما قلنا اسی وجہ سے جو ہم نے کہا، کہ یہ ملکِ متعہ کا سبب نہیں، یہ ملکِ متعہ تک پہنچاتے نہیں۔ ملکِ متعہ تک جو لفظ پہنچائے، کیسے پہنچاتا ہے ملکِ متعہ تک؟ اولاً ملکِ رقبی آتی ہے پھر ملکِ متعہ آتی ہے متعہ کے محل کے اندر بھئی، جہاں متعہ جائز بھی ہو۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو یہ جو ہیں یہ ملکِ متعہ تک نہیں پہنچاتے کیونکہ ان میں ملکِ رقبی ہی حاصل نہیں ہوتی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ ولا بلفظ الوصية اور اسی طرح نکاح منعقد نہیں ہوتا وصیت کے لفظ سے بھی، لأنها توجب الملك مضافا إلى ما بعد الموت اس لیے کیونکہ وصیت کا لفظ جو ہے، توجب الملك أي تثبت الملك، یہ ملکیت کو ثابت کرتا ہے۔ یاد رکھو فقہ کی کتابوں میں وجب يجب، ثبت يثبت کے معنی میں عام استعمال ہوتا ہے، اسی طرح أوجب يوجب فقہ کی کتابوں میں أثبت يثبت کے معنی میں عام استعمال ہوتا ہے، تو جہاں بھی وجب کا لفظ آ جائے تو آپ نے اس کا ترجمہ ہمیشہ واجب کے نہیں کرنے، اسی طرح اوجب کا لفظ آ جائے اور آپ ہمیشہ اس کا معنی واجب کرنے کے کریں، ایسا نہیں ہے، کہیں اس کا معنی واجب کرنا ہوگا اور کہیں ثابت کرنا، تو یہاں توجب کس معنی میں ہے؟ تثبت کے معنی میں ہے۔ کہتے ہیں: ولا بلفظ الوصية، اور جو نکاح جو ہے وصیت کے لفظ سے بھی منعقد نہیں ہوتا، لأنها توجب الملك، اس لیے کیونکہ وصیت کا جو لفظ ہے توجب الملك أي تثبت الملك، یہ ملکیت کو ثابت کرتا ہے، مضافا إلى ما بعد الموت، اس حال میں کہ یہ منسوب ہوتا ہے موت کے مابعد کی طرف۔ بھئی مثلاً ایک شخص کہتا ہے: میرے مرنے کے بعد میری یہ گاڑی زید کو دے دینا، تو دیکھو زید اس گاڑی کا مالک بنے گا لیکن ابھی بنے گا یا وصیت کرنے والے کی موت کے بعد؟ اس کی موت کے بعد جو ہے مالک بنے گا، تو وصیت تملیک کا فائدہ دیتی ہے اور تملیک بھی کس چیز کی ہے؟ عین کی ہے لیکن فی الحال ہے یا ما بعد الموت ہے؟ ما بعد الموت ہے لہٰذا اس کے ذریعے بھی نکاح منعقد نہیں ہوگا۔ جی پھر ترجمہ دیکھ لیجیے، کہتے ہیں: ولا بلفظ الوصية اور نکاح منعقد نہیں ہوگا وصیت کے لفظ سے، لأنها توجب الملك مضافا إلى ما بعد الموت اس لیے کیونکہ وصیت کا لفظ جو ہے توجب الملك، یہ ملکیت کو ثابت کرتا ہے مضافا إلى ما بعد الموت، اس حال میں کہ یہ ملکیت جو ہے اس کی نسبت ہوتی ہے موت کے بعد کی طرف، موت کے بعد کے وقت کی طرف اس کی نسبت ہوتی ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ حل ہو گیا۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام، والله أعلم بحقيقة الكلام۔
24 approved lectures · 5 of 24