Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

تيسير المنطق · dars-042

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Muhammad Ghais
📍 Location Lahore, Pakistan
📅 Approved Date 07 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 33
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
اچھا بھئی! ہم بدیہیات کی چھ قسمیں پڑھ رہے تھے، آگے دیکھیے کتاب پر۔ مشاہدات: وہ قضایا ہیں کہ جن میں حکم حواسِ ظاہری یا باطنی کے ذریعہ سے کیا جائے، جیسے سورج روشن ہے، آنکھ ‏کے ذریعہ سے اس میں حکم روشن ہونے کا کیا گیا ہے، اور جیسے ہم کو بھوک یا پیاس لگتی ہے اس میں باطنی حواس ‏کے ذریعہ سے حکم کیا گیا ہے۔ تجریبیات: وہ قضیے ہیں کہ کئی مرتبہ ایک بات مشاہدہ کر کے عقل اس میں حکم کرے، جیسے گلِ بنفشہ کو تم نے کئی ‏مرتبہ دیکھا کہ زکام میں فائدہ کرتا ہے، تو کلی حکم کر دیا کہ گلِ بنفشہ زکام کے لیے فائدہ مند ہے۔ متواترات: وہ قضیے ہیں کہ ان کے یقینی ہونے کا حکم ایسی جماعت کے کہنے اور متفرق خبروں سے کیا گیا ہو کہ ان ‏سب خبروں کو جھوٹ نہ کہہ سکتے ہوں، جیسے یہ قضیہ کلکتہ ایک بڑا شہر ہے، اس کا یقینی ہونا ہم کو ایسی خبروں ‏سے معلوم ہے کہ ان خبروں کو ہم جھوٹ نہیں کہہ سکتے۔ اچھا بھئی! ہم دسویں سبق میں مادۂ قیاس کا بیان پڑھ رہے تھے۔ آپ نے پڑھا ایک قیاس کی صورت ہے اور ایک مادہ ‏ہے۔ صورت قیاس کی وہ چار شکلیں ہیں: شکلِ اول، شکلِ ثانی، شکلِ ثالث اور شکلِ رابع۔ اور مادۂ قیاس آپ نے پڑھا وہ ‏تصدیقات ہیں جن سے قیاس بنے بھئی، کہ وہ یقینی ہیں یا یقینی نہیں ہیں، ظنی وغیرہ ہیں۔ تو اس اعتبار سے آپ نے پڑھا ‏تھا کہ مادے کے اعتبار سے قیاس کی پانچ قسمیں ہیں اور ان کو صناعاتِ خمسہ کہتے ہیں، اور وہ یہ ہیں: قیاسِ برہانی، ‏قیاسِ جدلی، قیاسِ خطابی، قیاسِ شعری اور قیاسِ سفسطی۔ آپ نے پڑھا کہ ان میں سے صرف قیاسِ برہانی معتبر ہے بھئی، کیونکہ قیاسِ برہانی وہ قیاس ہے جو مقدماتِ یقینیہ سے ‏مرکب ہو، جس میں صغریٰ اور کبریٰ بڑے یقینی ہوں، کیا ہوں؟ آپ نے پڑھا تھا نا تصدیق کی چار قسمیں ہیں: یا ظن ‏ہوگی، یا تقلید، یا یقین اور یا جہلِ مرکب۔ ظن جس میں ذہن ایک چیز کو مان لیتا ہے لیکن دوسری جانب کا بھی تھوڑا کچھ ‏خیال آ جاتا ہے۔ مثلاً آپ نے مان لیا کہ زید عالم ہے، لیکن ساتھ ساتھ ذہن میں یہ بھی آ جاتا ہے کہ ہو سکتا ہے وہ عالم نہ ‏ہو، لیکن زیادہ خیال اس کے عالم ہونے کا ہے اور تھوڑا خیال اس کے عالم نہ ہونے، تو یہ جو زیادہ خیال ہے اس کو کیا ‏کہتے ہیں؟ ظن۔ اور یہ تصدیق کی قسم ہے، جبکہ وہ جو تھوڑا خیال ہے وہ وہم ہے اور وہ تصور کی قسم ہے۔ تو یہ ظن ‏تصدیق کا پہلا درجہ ہے۔ اس سے زیادہ یقین ہو جائے کہ جس میں جانبِ مخالف کا ذرا بھی خیال نہ آتا ہو، اتنا پکا ذہن نے مان لیا، لیکن ہے البتہ ‏ایسا کہ تشکیکِ مشکک سے وہ زائل ہو سکتا ہے وہ وہ علم تشکیکِ مشکک سے زائل ہو سکتا ہے، ختم ہو سکتا ہے تو ‏اس کو کیا کہتے ہیں؟ تقلید بھئی۔ تشکیکِ مشکک جانتے ہیں یا نہیں؟ کوئی شک ڈالنے والا کیا کرے؟ آپ کے ذہن میں ‏شک ڈالے۔ مثلاً آپ کو یقین ہے کہ زید عالم ہے اور عالم نہ ہونے کا خیال بھی ذہن میں نہیں آتا، آپ نے بالکل یقینی طور ‏پر مان لیا ہے کہ زید عالم ہے، لیکن اب اگر آ کر کوئی شخص آپ کے ذہن میں شک ڈالتا ہے، دلائل پیش کرتا ہے، باتیں ‏کرتا ہے اور چنانچہ وہ یقین آپ کے ذہن سے ختم ہو جاتا ہے تو معلوم ہوا کہ یہ جو زید عالم ہے، یہ کس قبیل سے تھا؟ ‏تقلید کی قبیل سے۔ کس قبیل سے تھا؟ تقلید وہ ہے نا وہ علم جو تشکیکِ مشکک سے، تشکیک کا معنی میں نے بتلایا تھا کہ ‏شک ڈالنا اور مشکک شک ڈالنے والا، تو جو کسی شک ڈالنے والے کے شک ڈالنے سے جو علم زائل ہو جائے جو جس ‏پر یقین تو تھا لیکن تشکیکِ مشکک سے زائل ہو جاتا ہے، یا زائل ہوتا نہیں یا ہونا نہیں ضروری لیکن مطلب اس درجے ‏کا ہے کہ تشکیکِ مشکک سے کیا ہو جائے؟ زائل ہو جائے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ تقلید کہتے ہیں۔ اور ایک ہے اس سے اوپر والا درجہ یقین کا، کہ جس میں کوئی ہزار شک بھی آپ کے ذہن میں ڈالے پھر بھی اس بات کو ‏آپ کے دل سے نہیں نکال سکتا اور اس کے بارے میں آپ کے ذہن میں شک پیدا نہیں کر سکتا، جیسے اللہ ایک ہے۔ تو اب ‏کوئی ہزار شک بھی ڈالے یہ بات آپ کے ذہن سے نہیں نکال سکتا، تو اس کو کہیں گے یقین بھئی، کیا کہیں گے؟ یقین۔ یہ ‏جو یقین ہے، یہ واقعے کے مطابق ہوگا۔ اور اگر ایک بات پر یقین تو ہے اتنا کہ تشکیکِ مشکک سے وہ زائل نہیں ہوتی، ‏لیکن وہ واقعے کے مطابق نہیں ہے تو اس کو جہلِ مرکب کہتے ہیں بھئی۔ یاد آئیں ساری صورتیں بھئی؟ تو یہ چار ‏صورتیں تصدیق کی ہیں اور انہی کے اعتبار سے ان تصدیقات سے بننے والے جو قیاس ہوں گے ان کے نام بھی مختلف ‏ہوں گے، تو ان میں سے ایک قیاسِ برہانی ہے، ایک قیاسِ جدلی ہے، ایک قیاسِ خطابی ہے، ایک قیاسِ شعری ہے اور ‏ایک قیاسِ سفسطی ہے۔ ان میں سب سے اعلیٰ درجہ کس کا ہے؟ قیاسِ برہانی کا، کیونکہ اس کے اندر وہ قضایا آئیں گے ‏جو یقینی ہیں بھئی، یعنی یقین ہے جن کا، جو یقین ہے بھئی۔ پھر یہ مقدمات جو یقینی ہیں، یہ بدیہی بھی ہو سکتے ہیں اور نظری۔ بدیہی آپ نے پڑھا تھا جس میں بغیر غور و فکر نہ ‏کرنا پڑے، دلیل کی ضرورت نہ ہو، فوراً ذہن خود ہی تسلیم کر لے مان لے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ بدیہی۔ اور نظری کسے ‏کہتے ہیں؟ جس میں غور و فکر کی ضرورت پڑے بھئی، دلیل کی ضرورت پڑے بھئی، تو وہ نظری ہے۔ تو یہ جو ‏مقدمات ہیں برہان کے، قیاسِ برہانی کے، یہ یقینی ہوں گے، البتہ بدیہی بھی ہو سکتے ہیں اور نظری بھی۔ پھر آپ نے پڑھا کہ یہ جو بدیہیات ہیں یہ چھ قسم کے ہیں بھئی۔ میں نے بتلایا تھا مناطقہ نے، علماء نے غور کیا کہ بھئی ‏کون کون سی باتیں بدیہی ہیں وہ کتنی قسم کی ہیں، تو خوب غور کرنے کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ بدیہی چیزیں ‏چھ قسم کی ہیں، چھ۔ اور وہ ہم نے پڑھنا شروع کی تھیں، تین قسمیں ہم پڑھ چکے تھے: اولیات، فطریات اور حدسیات۔ اولیات آپ نے پڑھا وہ بدیہیات ہیں جن میں ذہن دلیل کی طرف جاتا ہی نہیں، موضوع اور محمول کے سامنے آتے ہی ذہن ‏فوراً اس کو تسلیم کر لیتا ہے، مثلاً کل جز سے بڑا ہوتا ہے۔ آپ نے کل کے معنی کی طرف گئے، کل کسے کہتے ہیں، جز ‏کے معنی، جز کسے کہتے ہیں اور ساتھ ہی مان لیا کہ ہاں کل کیا ہوتا ہے؟ جز سے بڑا ہوتا ہے، دلیل کی طرف جانے کی ‏ضرورت پیش نہ آئی، صرف کل کا مفہوم اور جز کا مفہوم جیسے ہی ذہن میں آتے ہی ساتھ ہی واضح ہو گیا کہ یہ بات ‏ایسی ہی ہے، کل ہمیشہ کیا ہوتا ہے؟ جز سے بڑا ہوتا ہے۔ تو یہ اولیات ہیں بھئی۔ تو یہاں یہ نہیں کہ دلیل ہوتی نہیں ہے، ‏دلیل موجود ہوتی ہے لیکن دلیل کی طرف ذہن جاتا ہی نہیں، یا جیسے میں نے اور مثال دی تھی: ایک ہے دس کا عدد، ایک ‏ہے چار کا عدد، تو اب میں کہتا ہوں دس کا عدد چار کے عدد سے بڑا ہے، آپ فوراً تسلیم کر لیتے ہیں، دیکھا دلیل کی ‏طرف جانے کی ضرورت ہی نہیں۔ یا جیسے سو کا نوٹ پچاس کے نوٹ سے بڑا ہوتا ہے، آپ فوراً تسلیم کر لیتے ہیں، ‏کسی دلیل وغیرہ کی طرف ذہن نہیں جاتا، اس کو کیا کہتے ہیں؟ اولیات بھئی۔ توجہ ہے؟ ہم کس کی بات کر رہے ہیں؟ ‏بدیہیات، اور بدیہی کس کو کہتے ہیں جس میں ذہن غور و فکر کرتا ہی نہیں، دلیل کی طرف جاتا ہی نہیں۔ تو یہ اولیات ہیں۔ دوسری قسم تھی بدیہیات کی فطریات بھئی، فطریات۔ فطریات وہ قضیے آپ نے پڑھا کہ جب ذہن میں آتے ہیں ساتھ ہی ‏دلیل آ جاتی ہے، ذہن کو دلیل کی طرف نہیں جانا پڑتا، سوچنا نہیں پڑتا، غور و فکر نہیں کرنا پڑتا، جیسے ہی وہ قضیہ ‏سامنے آتا ہے ساتھ ہی دلیل بھی آ جاتی ہے، جیسے آپ نے پڑھا کہ چار جفت ہے۔ فوراً ذہن نے مان لیا کہ چار جفت ہے، ‏کیونکہ ساتھ ہی دلیل آ گئی کیونکہ چار کے دو برابر حصے ہوتے ہیں۔ میں مثلاً اور کہتا ہوں: پچاس جفت ہے، دیکھیں ‏جیسے ہی میں نے کہا پچاس جفت ہے ساتھ ہی ذہن میں یہ آیا کہ یہ بات ٹھیک ہے، اس کے دو برابر حصے ہو سکتے ‏ہیں، یہ جفت ہے۔ میں کہتا ہوں: ایک سو ایک یہ طاق ہے، آپ فوراً تسلیم کر لیتے ہیں اور ساتھ ہی دلیل بھی ذہن میں آ گئی، ‏ادھر ایک سو ایک طاق ہے یہ بات آئی اور ساتھ ہی کیا آ گئی؟ دلیل، کیونکہ اس کے دو برابر حصے نہیں ہوتے، معلوم ‏ہوا یہ جفت نہیں ہے بلکہ کیا ہے؟ طاق ہے بھئی۔ ان کو میں نے بتلایا تھا، ان کو کہتے ہیں قضایا قیاساتہا معہا، یہ ایسے ‏قضیے ہیں کہ جن کے قیاس یعنی جن کی دلیلیں ان کے ساتھ ہی ہوتی ہیں بھئی۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ ایک اولیات اور ‏ایک فطریات بھئی۔ تو دلیل اولیات میں بھی ہوتی ہے، دلیل فطریات میں بھی ہوتی ہے، لیکن بات چل رہی ہے بدیہی کی بھئی، بدیہی وہ ہے ‏جس میں غور و فکر نہیں کرنا پڑتا ذہن، فوراً تسلیم کر لیتا ہے ایک بات کو۔ تو دونوں ہیں بدیہی، البتہ فرق صرف اتنا ہے ‏کہ اولیات میں ذہن دلیل کی طرف جاتا ہی نہیں ہے، نہ دلیل ساتھ آتی ہے نہ ذہن دلیل کی طرف جاتا ہے، جبکہ فطریات میں ‏بھی ذہن دلیل کی طرف نہیں جاتا لیکن دلیل خود بخود ساتھ آ جاتی ہے بھئی، دلیل خود بخود ساتھ آ جاتی ہے، تو اولیات ‏میں دلیل ساتھ نہیں آتی اور فطریات میں دلیل ساتھ آ جاتی ہے دلیل۔ تو یوں کہو اولیات میں کوئی واسطہ ساتھ ہے ہی نہیں ‏اور فطریات میں واسطہ ہوتا ہے یعنی دلیل ہوتی ہے لیکن وہ ساتھ ہی آ جاتا ہے۔ تو یہ ہیں اولیات۔ ہاں میں نے بتلایا تھا ہو سکتا ہے ایک آدمی کا ذہن کمزور ہو، آپ کے نزدیک ایک چیز اولیات میں سے ‏ہے، سنتے ہی آپ مان لیتے ہیں کہ ہاں ایسا ہی ہے، لیکن ہو سکتا ہے اس کو اس کے لیے وہ فطریات کی قبیل سے ہو ‏بھئی، اس کے ساتھ ہی کیا آ جاتی ہے؟ دلیل بھی ذہن میں آتی ہے، تو ہو سکتا ہے یہ اس کے لیے کس قبیل سے ہو؟ ‏فطریات۔ یا یہ بھی آپ نے میں نے بتلایا تھا کہ ضروری نہیں جو چیزیں آپ کے لیے بدیہی ہوں ہر ایک کے لیے بدیہی ‏ہوں بھئی، یہ لوگ لوگ اس اعتبار سے مختلف ہوتے ہیں۔ ایک چیز ہو سکتا ہے آپ کے لیے بدیہی ہو لیکن دوسرے کے ‏لیے کیا ہوگی؟ نظری ہوگی، اس کو غور و فکر کرنا پڑتا ہے۔ تو لیکن عام لوگوں کے اعتبار سے کل اپنے جز سے بڑا ‏ہوتا ہے یہ اولیات کی قبیل سے ہے، اور چار کا عدد جفت ہے یا دس کا عدد جفت ہے یا بیس کا عدد جفت ہے، یہ کس کی ‏کس قبیل سے ہے؟ یہ فطریات کی قبیل سے ہے بھئی۔ اور اس کے بعد ہم نے حدسیات کے بارے میں پڑھا تھا بھئی، حدسیات۔ حدسیات کے ساتھ آپ کو میں نے نظر و فکر کے ‏بارے میں بتلایا تھا کہ نظر و فکر کسے کہتے ہیں؟ میں نے بتلایا تھا نظر و فکر میں ذہن دو حرکتیں کرتا ہے، کتنی ‏حرکتیں؟ دو حرکتیں کرتا ہے۔ مثلاً آپ انسان کی حقیقت معلوم کرنا چاہتے ہیں، انسان کے بارے میں بہت سی باتیں آپ کے ‏ذہن میں موجود ہیں، اب آپ جاننا چاہتے ہیں انسان کی حقیقت کیا ہے؟ تو آپ آپ کا ذہن اولاً حرکت کرتا ہے اور فوراً اس ‏حصے میں جاتا ہے جہاں انسان کے بارے میں ساری باتیں محفوظ ہیں، اور ان سب باتوں میں غور کرتا ہے اور بالاخر ‏اس میں سے دو چیزیں نکال کر لے آتا ہے: ایک حیوان اور ایک ناطق، کہ حیوان اس کے ذریعے جنس کا تعین ہوگا اور ‏ناطق کے ذریعے انسان کا دوسرے حیوانات سے فصل ہوگا۔ تو یہ ایک جنس کو لے آیا اور دوسرا کس کو لے آیا؟ ناطق، ‏ناطق فصل کو لے آیا، جنس اور فصل کو۔ تو یہ ذہن کی پہلی حرکت تھی۔ دوسری حرکت پھر ذہن یہ کرتا ہے کہ ان دونوں ‏کو آپس میں جوڑتا ہے، جنس کو پہلے لاتا ہے اور فصل کو بعد میں، کہ پہلے جنس کا پتہ چلے کہ کیا کون سی جنس ہے؟ ‏حیوان، پھر باقی حیوان حیوانات تو بہت سے ہیں تو ان باقیوں سے جدا کیسے ہوگا؟ وہ پھر آگے فصل کو ساتھ جوڑتا ہے، ‏تو کیا بن جاتا ہے؟ حیوانِ ناطق لفظ بن گیا۔ تو حیوانِ ناطق سے اب فوراً نتیجے تک پہنچ گیا کہ یہ ہے انسان کی حقیقت۔ تو ‏یہ دوسری حرکت ہوئی۔ پہلی حرکت کیا تھی؟ کہ ذہن نے حرکت کی اور وہ چیزیں اور وہ پرزے نکال لیے جن کے ‏ذریعے انسان کی حقیقت کا پتہ چلے گا، اور دوسری حرکت یہ ہوئی کہ ان پرزوں کو ترتیب دیا، جوڑا اور کہاں تک پہنچ ‏گیا؟ نتیجے تک پہنچ گیا۔ تو کتنی حرکتیں ہوئیں؟ دو حرکتیں۔ پہلی حرکت کیا؟ کہ ان معلوم تصورات کا انتخاب کیا جو ہمیں ‏کہاں تک پہنچائیں گے آگے؟ مجہول تصور تک۔ تو پہلی حرکت تھی ان کو منتخب کرنا، کیا کرنا؟ منتخب کرنا۔ اور ‏دوسری حرکت کیا تھی؟ کہ ان کو ترتیب دے کر کہاں تک پہنچنا؟ نتیجے تک پہنچنا، تو یہ دو حرکتیں ہیں۔ پہلی پھر ‏دہرائیے بھئی، پہلی حرکت کیا تھی؟ ان معلوم تصورات کو منتخب کرنا جو ہمیں چاہییں بھئی، اور دوسری حرکت کیا ‏تھی؟ ان کو آپس میں جوڑ کر، ترتیب دے کر کہاں تک پہنچنا؟ نتیجے تک پہنچنا، تو یہ دو حرکتیں کرتا ہے نظر و فکر ‏میں بھئی، نظر و فکر میں۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو نظر و فکر میں ذہن دو حرکتیں کرتا ہے اور جبکہ حدس، حدس حدس کا معنی ہے انسان ایک دم نتیجے تک پہنچ جائے ‏بھئی، اس کو حدس کہتے ہیں، ح، د ساکن ہے اور س ہے، حدس۔ یاد رکھیے حدس جو ہے یا تو بعض لوگوں کا ذہن ہی اللہ ‏نے بہت تیز بنایا ہوتا ہے اور من جانب اللہ جو ہے ان کو یہ نعمت ملی ہوتی ہے، وہ بات کو سنتے ہی فوراً نتیجے تک ‏پہنچ جاتے ہیں، وہ بات کو سنتے ہی فوراً نتیجے تک پہنچ جاتے ہیں یا یوں کہیں بات کی تہہ تک پہنچ جاتے ہیں، تو اس ‏کو حدس کہتے ہیں۔ جبکہ عام لوگ جو ہیں وہ اپنے مسلسل محنت اور کوشش کے ذریعے وہ کسی چیز میں مہارت حاصل ‏کر لیتے ہیں اور ان کو حدس حاصل ہو جاتا ہے بعض چیزوں کے اندر۔ مثلاً جیسے دیکھیے میں نے مثال ذکر کی تھی: ‏بچے کے سامنے آپ ا، ب، ت لکھیں، اس کو آپ نے ا، ب، ت پوری پڑھا دی، اب اس کے سامنے "ب" لکھیں تو وہ اور ‏کہیں کہ پڑھو یہ کیا ہے، تو وہ چند لمحے غور کرتا ہے اور پھر کہتا ہے کہ یہ "ب" ہے بھئی۔ یہ دراصل وہ دو حرکتیں ‏ہیں، پہلی حرکت کیا ہوئی؟ ذہن فوراً اس خانے میں گیا جہاں آپ نے اس کو پہچان کروائی تھی، دو نقطے اوپر ہوں تو وہ ‏‏"ت" ہوتی ہے، ایک نقطہ نیچے ہو تو وہ "ب" ہوتی ہے، تو وہ فوراً اس خانے میں گیا اور اس نے ان چیزوں میں سے ‏پرکھا کہ استاد نے اس کا کیا نام بتلایا تھا، اور پھر وہ دوسری حرکت ہوتی ہے اور نتیجے تک پہنچتا ہے کہ ہاں اس کا یہ ‏نام استاد نے بتلایا تھا۔ یا اسی کی مثال دوسری مثال میں نے دی تھی کہ جیسے آپ نحو پڑھتے ہیں، عبارت کیسے پڑھی جائے گی، کہاں زبر ‏پڑھیں گے، کہاں زیر، کہاں پیش پڑھیں گے، تو تو آپ اس کے لیے قوانین یاد کرتے ہیں بھئی، اور پھر جب عبارت تیار ‏کرنے لگتے ہیں تو پھر آپ کا ذہن وہی دو حرکتیں کرتا ہے۔ پہلی حرکت مثلاً ایک جگہ فاعل آیا، آپ کا ذہن فوراً اس ‏الماری کے خانے میں چلا گیا جہاں پر باتیں محفوظ تھیں نحو کی کہ یہاں پر کیا پڑھنا ہے، تو ذہن میں سے وہ ضابطہ ذہن ‏نے نکال لیا کہ فاعل کیا ہوتا ہے؟ مرفوع۔ اور پھر دوسری حرکت کی کہ جب فاعل مرفوع ہوتا ہے تو یہ بھی فاعل ہے، ‏اس کو بھی کیا پڑھنا ہے؟ مرفوع پڑھنا ہے، اور پھر آپ اس پر پیش پڑھ دیتے ہیں۔ تو شروع کے اندر دیکھیے آپ کو ‏بہت غور کرنا پڑتا ہے یہ دو حرکتوں میں، بڑا سوچنا پڑتا ہے، پھر جا کر آپ چند لفظوں کا اعراب نکال لیتے ہیں۔ لیکن ‏آہستہ ہوتے ہوتے آپ کو اتنی مہارت ہو جاتی ہے کہ آپ عبارت پر نظر دوڑاتے چلے جاتے ہیں اور آپ کو خود بخود ‏اعراب کا پتہ چلتا جاتا ہے بھئی، آپ بڑی رفتار سے عبارت پڑھتے ہیں۔ تو یہ تو یہ دراصل وہ بار بار کوشش اور محنت ‏سے آپ کو مہارت حاصل ہو گئی، آپ کو حدس حاصل ہو گیا کس چیز میں؟ عبارت کے پڑھنے میں بھئی۔ تو اس طرح یہ ‏بار بار کی کوشش سے بھی ذہن جو ہے اس میں ایک چیز کی مہارت اور حدس پیدا ہو جاتا ہے۔ تو یاد رکھیے حدس میں بھی دو حرکتیں ہوتی ہیں، کتنی حرکتیں؟ دو حرکتیں ہوتی ہیں، لیکن حدس کے اندر یہ حرکتیں ‏اتنی آنً فاناً اور اتنی رفتار سے ہوتی ہیں کہ پتہ ہی نہیں چلتا، محسوس ہی نہیں ہوتا۔ دیکھیے آپ کو پہلے ایک لفظ کا ‏اعراب نکالنے کے لیے کتنا سوچنا پڑتا تھا، کتنا سوچنا پڑتا تھا، اور کئی کئی منٹ لگ جاتے پھر جا کر آپ کو جواب ملتا ‏کہ یہاں یہ پڑھنا ہے میں نے۔ لیکن پھر بعد میں جب عبارت پڑھ رہے ہیں اتنی رفتار سے آپ عبارت پڑھتے ہیں، اتنے ‏ماہر بن جاتے ہیں عبارت کے کہ آپ عبارت پڑھتے جا رہے ہیں اور ذہن آپ کو بتلاتا جا رہا ہے کہ یہاں رفع پڑھنا ہے، ‏یہاں زیر پڑھنا ہے، یہاں پیش پڑھنا ہے اور وجہ بھی ذہن میں آتی جا رہی ہے، یہ نہیں کہ بغیر وجہ کے آپ زبر، زیر، ‏پیش پڑھتے جا رہے ہیں۔ تو اس کو کہتے ہیں حدس بھئی، حدس بھئی۔ تو حدس میں بھی دو حرکتیں ہیں تو ہونا تو اس کو ‏نظر نظر و فکر کے قبیل سے چاہیے کیونکہ نظر و فکر میں ذہن سوچتا ہے یا نہیں سوچتا؟ تو اس میں بھی دو حرکتیں ‏ہوتی ہیں تو یہاں بھی دو حرکتیں ہیں، تو پھر اس کو تو بدیہیات میں سے شمار کرنا ہی نہیں چاہیے، اس کو کس میں شمار ‏کرنا چاہیے؟ نظر و فکر میں۔ لیکن دراصل یہاں وہ دو حرکتیں اتنی رفتار سے ہوتی ہیں کہ گویا ہیں ہی نہیں۔ جب ہیں ہی ‏نہیں تو یوں سمجھو یہ کس میں سے ہے؟ بدیہیات میں سے ہے، گویا یہاں غور و فکر ہے ہی نہیں بھئی۔ یا دوسری مثال لے لو بھئی، آپ صرف پڑھتے ہیں، صرف کے اندر آپ سے جب صیغے پوچھے جاتے ہیں شروع میں ‏آپ کو بڑا غور کرنا پڑتا ہے۔ مثلاً آپ سے کوئی صیغہ پوچھا جاتا ہے تو فوراً ذہن حرکت کرتا ہے اور دماغ کے اس ‏خانے میں جاتا ہے جہاں پر یہ سارے اوزان محفوظ ہوتے ہیں کہ یہ کون سا وزن ہے، اور پھر ان میں سے ایک وزن ‏نکالتا ہے اور پھر بالاخر اس کے اس کے ساتھ ملاتا ہے اور کہاں تک پہنچ جاتا ہے؟ نتیجے تک کہ یہ فلاں صیغہ ہے۔ ‏تو یہ ہے غور و فکر آپ کرتے ہیں اور پھر بالاخر نتیجہ نکل آتا ہے کہ یہ فلاں صیغہ ہے، آپ بتا دیتے ہیں۔ تو اول غور ‏و فکر میں دیکھو ان دو حرکتوں میں کافی وقت لگتا ہے آپ کو، لیکن اسی کے اندر جب آپ محنت کرتے ہیں تو آپ کو اتنی ‏مہارت ہو جاتی ہے کہ جیسے ہی صیغہ آپ کے سامنے آتا ہے اگلے ہی لمحے ذہن بتا دیتا ہے کہ یہ فلاں صیغہ ہے، تو ‏اب بھی وہ دو حرکتیں ہوئیں لیکن اتنی رفتار سے ہوئیں کہ پتہ ہی نہیں چلا، یوں محسوس ہوا جیسے آپ کے لیے یہ چیز ‏نظری ہے ہی نہیں بلکہ کیا ہے؟ بدیہی ہے، کیونکہ وہ حرکت اتنی رفتار سے ہوئی۔ تو یہ جو حدس ہے تو اس میں بھی دو ‏حرکتیں ہوتی ہیں تو اس کو ہونا تو نظری میں سے چاہیے لیکن وہ حرکتیں اتنی رفتار سے ہوتی ہیں کہ گویا ہیں ہی نہیں، ‏جب ہیں ہی نہیں تو پھر اس کو کس میں سے شمار کرتے ہیں؟ بدیہیات میں سے شمار کرتے ہیں۔ تو اولیات یہ بھی بدیہیات کی قسم ہوئی، فطریات یہ بھی کس کی قسم ہوئی؟ بدیہیات، اور اسی طرح حدسیات بھی کس کی ‏قسم ہوئی؟ بدیہیات کی قسم ہوئی۔ اب آگے دیکھیے بھئی، مشاہدات بھئی۔ مشاہدات وہ قضایا ہیں، دیکھ رہے ہیں بھئی کتاب پر؟ مشاہدات وہ قضایا ہیں کہ جن میں حکم حواسِ ظاہری یا باطنی کے ‏ذریعہ سے کیا جائے، جیسے سورج روشن ہے، آنکھ کے ذریعہ سے اس میں حکم روشن ہونے کا کیا گیا ہے، اور جیسے ‏ہم کو بھوک یا پیاس لگتی ہے اس میں باطنی حواس کے ذریعہ سے حکم کیا گیا ہے۔ اچھا آج ہم مشاہدات، تجریبیات اور متواترات کے بارے میں ان شاء اللہ پڑھیں گے بھئی۔ انہوں نے آپ کو بتلایا کہ ‏مشاہدات وہ قضایا ہیں جن میں حکم لگایا جاتا ہے حواسِ ظاہری یا حواسِ باطنی کے ذریعے بھئی۔ کس کے ذریعے؟ ‏حواسِ ظاہری یا حواسِ باطنی کے ذریعے، یہ حواس کا بیان بڑا لطیف ہے بھئی، بڑا پیارا بیان، اور انسان اللہ کی قدرتوں ‏پر اللہ کی قدرت کی نیرنگیوں پر حیران رہتا ہے بھئی۔ انسان کو اللہ نے اشرف المخلوقات بنایا، تمام مخلوقات میں اس کا ‏اعلیٰ درجہ، اور اس کو علم جیسی عظیم نعمت نصیب فرمائی بھئی، علم بہت بڑی دولت ہے بھئی، بہت بڑی دولت۔ تو ‏چنانچہ انسان جو ہے مختلف چیزوں کا علم حاصل کرتا ہے، تو حصولِ علم کے لیے اللہ نے اس کو مختلف آلات دے دیے، ‏مختلف آلات دے دیے۔ جیسے مثلاً جیسے مثلاً قلم جو ہے وہ آپ کا آلہ ہے جس کے ذریعے آپ لکھتے ہیں بھئی، تو قلم لکھنے کا آلہ ہوا بھئی، ‏لکھنے کا آلہ۔ تو جب بھی آپ نے کوئی چیز لکھنی ہوتی ہے کس کی مدد سے لکھتے ہیں؟ قلم کی مدد سے، کیونکہ یہ آلہ ‏ہے لکھنے کا۔ اسی طرح گاڑی جو ہے گاڑی، وہ سفر کرنے کا یا گھومنے پھرنے کا آلہ ہے بھئی، آپ گاڑی میں سوار ‏ہوتے ہیں اور اس کو چلاتے ہیں جس طرف کو آپ کا دل چاہتا ہے سفر کرتے ہیں، تو گاڑی آپ کا آلۂ سفر ہے بھئی، اس ‏کے ذریعے کیا کرتے ہیں؟ سفر۔ تو یاد رکھیے اسی طرح اللہ نے انسان کو مختلف آلات نصیب فرمائے جن کے ذریعے وہ ‏علم حاصل کرتا ہے۔ یاد رکھیے، اصل مدرک جو ہے وہ روح ہے، یہ بدن اس کا آلہ ہے۔ مدرک یعنی مدرک ادراک کرنے والی، ادراک کا معنی ‏ہے جاننا، پہچاننا، علم حاصل کرنا، تو اصل مدرک جو ہے وہ انسان کی روح ہے بھئی۔ انسان کی روح ہے جس کو ‏حکماء نفس کہتے ہیں، تو اصل مدرک نفس ہے اور یہ بدن اس کا آلہ ہے، جیسے قلم آپ کا آلہ ہے لکھنے کا، جیسے گاڑی ‏آپ کے لیے سفر کرنے کا آلہ ہے۔ اسی طرح اس دنیا کے اندر مختلف کام سرانجام دینے کے لیے اللہ نے روح کو یہ بدن ‏کا آلہ دے دیا، روح جو کام کرنا چاہتی ہے بدن کے ذریعے وہ کام کرتی ہے۔ کسی چیز کو اٹھانا ہے، کسی چیز کو رکھنا ‏ہے، کسی چیز کو دھکیلنا ہے، کسی چیز کو کھینچنا ہے، کہیں کسی طرف کو جانا ہے، یہ سارے کام روح کس کے ‏ذریعے کرتی ہے؟ جسم کے ذریعے، تو یہ جسم کیا ہے؟ روح کا آلہ ہے، اس کے ذریعے روح یہ سارے کام سرانجام دیتی ‏ہے۔ تو یہ بدن اس کا آلہ ہے، آپ خود دیکھتے ہیں کہ دیکھیں جب کسی شخص کی موت آتی ہے تو روح بدن سے نکل جاتی ‏ہے، پھر بدن وہی ہوتا ہے لیکن اب وہ ہاتھ حرکت نہیں کر سکتے، کسی چیز کو نہیں پکڑ سکتے، وہی پاؤں ہیں لیکن اب ‏چل نہیں سکتے، وہی آنکھیں ہیں لیکن اب دیکھ نہیں سکتیں، وہی زبان ہے لیکن اب کسی چیز کو چکھ نہیں سکتی، کیوں؟ ‏کیونکہ وہ اصل جو حاکم تھا، جو اصل جو چیز تھی جس کا یہ آلہ تھا وہ اس سے نکل گئی، جیسے گاڑی میں سے ڈرائیور ‏نکل جائے تو گاڑی اب خود بخود سفر نہیں کر سکتی بھئی، یا قلم آپ ہاتھ سے رکھ دیں تو قلم خود بخود کچھ نہیں لکھ ‏سکتا بھئی۔ تو اسی طرح روح جو ہے وہ اصل ہے، جب وہ بدن سے نکل گئی بدن تو اس کا صرف آلہ تھا تو وہ بیکار رہ ‏گیا بھئی، اب اس میں کسی قسم کی حرکت نہیں، کوئی کام سرانجام نہیں دے سکتا۔ تو معلوم ہوا یہ بدن کیا ہے؟ آلہ ہے، اور ‏روح اصل، تو جسے نفس کہتے ہیں۔ تو یاد رکھیے اصل مدرک نفس ہے، یہ مختلف چیزوں کا علم حاصل کرتا ہے۔ اصل مدرک کون ہے؟ نفس، ادراک کا کیا ‏معنی؟ جاننا، جاننا بھئی، پہچاننا۔ تو اصل مدرک یعنی اصل ادراک کرنے والی یہ روح ہے، یہ نفس ہے بھئی، نفس ہے۔ اچھا تو اس نفس کو اللہ نے حصولِ علم کے مختلف ذرائع نصیب فرمائے ہیں، مختلف ذرائع، اور جن کے ذریعے مختلف ‏چیزوں کا علم حاصل کرتی ہے۔ اور علم تو دو طرح کے ہیں، چیزیں تو دو طرح کی ہیں: کچھ کلیات ہیں اور کچھ جزئیات ‏ہیں بھئی، تو نفس کو کلیات کا بھی علم چاہیے اور جزئیات کا بھی علم چاہیے۔ کلیات، مثلاً یہ کتاب مثلاً کتاب بھئی، ‏دیکھیے یہ بھی کتاب، وہ سامنے بھی کتاب، آپ کے سامنے وہ بھی کتاب، ہر ایک کو کیا کہہ سکتے ہیں؟ کتاب، تو دیکھو ‏معلوم ہوا کتاب کلی ہے۔ اسی طرح انسان بھئی، انسان بھی کلی ہے کیونکہ کلی کسے کہتے ہیں جو کثیرین پر صادق آئے ‏اور جزئی وہ ہے جو کثیرین پر صادق نہ آئے، تو انسان یہ کلی ہے۔ زید بھی انسان، عمرو بھی انسان، بکر بھی انسان، ‏خالد بھی انسان، دیکھو سب پر یہ لفظ بولا جا رہا ہے، معلوم ہوا یہ کیا ہے؟ کلی ہے۔ جبکہ کچھ چیزیں جزئیات ہیں، جیسے ‏زید، عمرو، بکر وغیرہ، زید ایک جزئی ہے، زید کا لفظ ذاتِ زید پر ہی بولا جا سکتا ہے، عمرو یا خالد پر نہیں بولا جا ‏سکتا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو نفس کو دونوں قسم کا علم چاہیے، کلیات کا بھی علم چاہیے اور جزئیات کا بھی علم چاہیے، تو اس کو اللہ نے ہر طرح ‏کے آلات دے دیے جن کے ذریعے یہ کلیات کا بھی علم حاصل کرتا ہے اور جزئیات کا بھی علم حاصل کرتا ہے۔ تو اللہ ‏نے نفس کو عقل کی قوت نصیب فرمائی جس کے لیے جس کے ذریعے وہ علم حاصل کرتا ہے بھئی۔ اصل مدرک کون؟ ‏نفس، اور اس نفس کو اللہ نے عقل کی قوت نصیب فرمائی، عقل ایک قوت کا نام ہے، کس چیز کا نام ہے؟ قوت کا نام ہے، ‏عقل کوئی کوئی عضو وغیرہ نہیں ہے، یہ ایک قوت ہے جو اللہ نے روح کو نصیب فرمائی ہے جس کے ذریعے وہ کیا ‏کرتا ہے؟ مختلف چیزوں کا علم حاصل کرتا ہے، علم حاصل کرتا ہے۔ آپ خود بھی دیکھتے ہیں بھئی، کہ بعض اوقات کسی حادثے میں کسی شخص کے سر پر چوٹ وغیرہ لگتی ہے اور اس ‏کی عقل چلی جاتی ہے، اب وہی شخص ہے، نہ اس کو نہ اس کو کھانے کا ہوش ہے، نہ پہننے کا ہوش ہے، نہ بات کرنے ‏کا ہوش ہے، کیونکہ وہ یہ قوت کہاں رکھی اللہ نے؟ سر میں رکھی، دماغ میں رکھی اور وہاں خرابی آ گئی، وہ قوت ختم ہو ‏گئی چلی گئی، اب وہ شخص علم حاصل نہیں کر سکتا، کس کیا بولتا ہے، کیا کرتا ہے، کیا اسے کچھ سمجھ نہیں، کچھ پتہ ‏نہیں بھئی۔ تو یہ ایک قوت ہے جو کس کو اللہ نے نصیب فرمائی ہے؟ نفس کو اللہ نے نصیب فرمائی ہے، جس کے ‏ذریعے نفس علم حاصل کرتا ہے مختلف چیزوں کا۔ اب یہ جو عقل ہے، یاد رکھیے یہ عقل اس نے اس نے کلیات کا بھی علم حاصل کرنا ہے اور جزئیات، تو کلیات کا علم تو ‏عقل براہِ راست حاصل کرتی ہے، عقل براہِ راست، اور جزئیات جزئیات کا علم عقل کہتے ہیں براہِ راست نہیں کر سکتی ‏کیونکہ جزئیات اور چیز ہیں، کلیات اور چیز ہیں، تو جب دو مختلف چیزیں ہیں تو اس کے لیے آلات بھی مختلف چاہییں، ‏ایک آلہ کلیات کا حصول کر رہا ہے تو دوسرا کس کا کرے گا؟ جزئیات کا، ایک ہی آلہ دونوں کا دونوں کا علم حاصل نہیں ‏کر سکتا۔ تو لہٰذا اللہ نے نفس کو عقل کی قوت نصیب فرمائی، اور عقل جو ہے کلیات کا ادراک تو براہِ راست خود کرتی ‏ہے لیکن جزئیات کا علم حاصل نہیں کر سکتی براہِ راست، تو جزئیات کے لیے اللہ نے آگے عقل کو آلات دے دیے، عقل ‏ایک قوت ہے اور پھر اس عقل کو آگے اللہ نے مزید آلات دے دیے۔ یہ اسی طرح ہے مثلاً دیکھو بھئی، عقل کی مثال یوں سمجھو جیسے آپ آٹھ دس آدمیوں کو مقرر کر دیں، ایک آدمی کو ‏کہیں بھئی کہ تم شہر کے فلاں چوک میں کھڑے ہو جاؤ اور صبح سے شام تک جو کچھ پیش آئے آپ نے شام کو آ کر ‏مجھے ساری اطلاع دینی ہے، دوسرے کو کہا کہ تم شہر کے فلاں کونے میں چلے جاؤ، سارا دن دیکھو جو خبریں پیش ‏آئیں، جو واقعات پیش آئیں آپ نے شام کو آ کر سارے مجھے بتانے ہیں، تیسرے کو کسی اور جگہ پر، چوتھے کو کسی ‏اور جگہ پر، تو یہ سارے کیا کرتے ہیں؟ آپ کو شام کو سارے خبریں آپ کو پہنچاتے ہیں، تو گویا جیسے یہ آدمی آپ کے ‏آلات ہیں، ان کے ذریعے آپ کیا حاصل کر رہے ہیں؟ مختلف قسم کی معلومات حاصل کر رہے ہیں اور ان کو جمع کر ‏رہے ہیں۔ یہ ہے جیسے عقل، یہ کس کی طرح ہے؟ یہ ساری خبریں کہاں آ رہی ہیں؟ تو یہ آلات ہیں نا، آپ کے لیے ایک ‏کیا کر رہے ہیں؟ خبریں جمع کر رہے ہیں یا نہیں؟ علم تحصیلِ علم ہو رہا ہے یا نہیں؟ مختلف چیزوں کا علم آپ کو ہو رہا ‏ہے، مختلف باتوں کا پتہ چل رہا ہے۔ جیسے یہ آلات ہیں بھئی آپ کے، تو اللہ نے اسی طرح عقل نصیب فرمائی، عقل کے ‏ذریعے انسان کلیات اور جزئیات دونوں کا علم حاصل کرتا ہے لیکن عقل کلیات کا ادراک تو کر سکتی ہے جزئیات کا ‏ادراک نہیں کر سکتی، تو آگے عقل کو اللہ نے مزید قوتیں نصیب فرمائیں جن کے ذریعے عقل کیا کرتی ہے؟ جزئیات کا ‏علم حاصل کرتی ہے، تو عقل میں جزئیات کا علم آئے گا تو صحیح، پہنچے گا تو صحیح، لیکن کس کے واسطے سے؟ ‏آگے مزید آلات دے دیے، آگے مزید آلات دے دیے یعنی حواسِ خمسہ باطنہ دے دیے، کیا دے دیے اللہ نے؟ حواسِ خمسہ ‏باطنہ دے دیے۔ یہ جو ہمارا دماغ ہے نا دماغ، سر کے اندر، یاد رکھیے اس کا دماغ کا جو آگے والا حصہ ہے یعنی پیشانی کے قریب، اس ‏میں دو دو قوتیں اللہ نے رکھیں: ایک کا نام ہے حسِ مشترک، ح، س مشدد ہے، حسِ مشترک، اور ایک خیال بھئی، ایک ‏حسِ مشترک اور ایک خیال۔ تو یہ دماغ کے اگلے حصے میں کون سی دو قوتیں ہیں؟ یہ نام یاد کریں بھئی، اگلے حصے ‏میں کون سی دو قوتیں ہیں؟ حسِ مشترک اور خیال۔ پھر دہرائیے بھئی، اگلے حصے میں کون سی قوتیں ہیں؟ حسِ مشترک ‏اور خیال۔ اسی طرح جو دماغ کا آخری پچھلا حصہ ہے، گردن کے قریب، سر کے پچھلے حصے کی طرف، اس میں اس ‏میں اللہ نے دو قوتیں رکھیں: ایک کو کہتے ہیں وہم اور ایک کو کہتے ہیں حافظہ، کیا کہتے ہیں؟ وہم اور حافظہ۔ اور جبکہ ‏دماغ کا جو درمیان والا حصہ ہے، اس میں اللہ نے قوتِ متصرفہ رکھی، قوتِ متصرفہ۔ تو یہ ہیں حواسِ خمسہ باطنہ، ‏حواسِ خمسہ باطنہ۔ تو یہ کتنی قوتیں ہو گئیں؟ پانچ قوتیں بھئی۔ پہلی کیا ہے؟ حسِ مشترک، خیال، وہم، حافظہ اور قوتِ متصرفہ۔ پھر دہراؤ، ‏نمبر ایک: حسِ مشترک، نمبر دو: خیال، نمبر تین: وہم، نمبر چار: حافظہ، اور نمبر پانچ: قوتِ متصرفہ، نمبر پانچ: قوتِ ‏متصرفہ، ص کے ساتھ ہے بھئی، قوتِ متصرفہ۔ پھر دہراؤ بھئی، نمبر ایک: حسِ مشترک، نمبر دو: خیال، نمبر تین: وہم، ‏نمبر چار: حافظہ، اور نمبر پانچ: قوتِ متصرفہ۔ تو یہ پانچ قوتیں اللہ نے نصیب فرمائیں عقل کو بھئی۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ عقل ایک آلہ ہے جو اللہ نے کس کو نصیب فرمایا؟ نفس کو، اور پھر آگے عقل کو پانچ قوتیں ‏نصیب فرمائیں، کون سی قوتیں؟ حسِ مشترک، خیال، وہم، حافظہ اور قوتِ متصرفہ۔ ان میں سے حسِ مشترک اور خیال یہ ‏کہاں پر ہیں؟ دماغ کے اگلے حصے میں، اور قوتِ متصرفہ کہاں پر ہے؟ درمیان والے حصے میں، اور وہم اور حافظہ ‏کہاں پر ہیں؟ آخری حصے میں بھئی، آخری حصے میں۔ تو یہ عقل کو آلات دیے اللہ نے، کس کو دیے؟ میں مثال ذکر کر ‏رہا تھا جیسے آپ نے چار پانچ آدمی مقرر کیے، وہ کیا کرتے ہیں؟ آپ کو علم لا کر دیتے ہیں، یہ عقل کی مثال، میں نے ‏تو پانچ آدمی کہے نا، پانچ یوں سمجھو پانچ آلات ہیں، اللہ نے ایک ہی آلہ دے دیا جو سارے کام کر رہا ہے اور وہ کیا ہے؟ ‏عقل، وہ کیا ہے؟ عقل۔ تو آپ نے یہ پانچ، یا پھر دوسری صورت لے لو: مثلاً آپ کا ایک مرکزی دفتر ہے اسلام آباد میں ‏اور ایک دفتر کہاں پر ہے؟ لاہور میں۔ لاہور والا لاہور کی خبریں اکٹھی کر کے کس کو دے گا؟ اسلام آباد والے کو، اور ‏اسلام آباد والے دفتر پھر آپ کو خبر پہنچائے گا۔ تو اسلام آباد کے دفتر کی مثال لے لیں عقل ہے بھئی، اور عقل کو آگے ‏آلات دے دیے کہاں کا دفتر؟ لاہور یا کراچی جہاں کا بھی دفتر ہے، وہ عقل کے آلات ہیں۔ تو مرکزی دفتر ان سب سے کیا ‏کرتا ہے؟ معلومات کو حاصل کرتا ہے، خود بھی حاصل کرتا ہے اسلام آباد کے اندر کی خبریں سمجھ لو اور اردگرد کی ‏خبریں کہاں سے حاصل کرتا ہے؟ دوسرے دفتروں کے ذریعے، تو یہ دوسرے دفتر یوں سمجھیں یہ حواسِ باطنہ ہیں، کیا ‏ہیں؟ اور مرکزی دفتر کس کی طرح ہوا؟ عقل کی طرح ہوا بھئی، عقل کی طرح۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو نفس کو اللہ نے کون سی قوت نصیب فرمائی؟ عقل، اور عقل صرف کلیات کا ادراک کرتی ہے، جزئیات کا ادراک براہِ ‏راست نہیں کر سکتی۔ ہاں کرتی ہے جزئیات کا ادراک، پھر وہ کس کے ذریعے کرتی ہے؟ حواسِ خمسہ باطنہ، جو پانچ ‏آلات اللہ نے دے دیے: حسِ مشترک، خیال، وہم، حافظہ اور قوتِ متصرفہ۔ یہ تو تھے حواسِ خمسہ باطنہ، باطن جو اندر ہیں باطن، صورت سمجھ میں آ گئی؟ جبکہ پانچ حواسِ خمسہ ظاہرہ بھی ہیں ‏بھئی، جو ظاہری اعضاء میں اللہ نے قوتیں رکھیں۔ حواسِ خمسہ باطنہ، باطن کا معنی اندر اندر، بطن پیٹ کو کہتے ہیں، ‏بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو یہ پانچ قوتیں اللہ نے ظاہری اعضاء میں رکھیں یا دماغ کے مختلف حصوں میں رکھیں؟ ‏دماغ، اور دماغ باہر ہے یا اندر ہے؟ تو اس لیے ان کو کیا کہتے ہیں؟ حواسِ خمسہ باطنہ، یہ اندر قوتیں اللہ نے رکھی ہیں ‏بھئی۔ اور کچھ قوتیں اللہ نے ظاہری اعضاء میں رکھی ہیں اور وہ ہیں حواسِ خمسہ ظاہرہ، حواسِ خمسہ ظاہرہ بھئی۔ اور ‏وہ حواسِ خمسہ ظاہرہ کیا ہیں؟ وہ پانچ قوتیں اللہ نے نصیب فرمائیں انسان کو: نمبر ایک دیکھنے کی قوت، نمبر دو سننے ‏کی قوت، نمبر تین سونگھنے کی قوت، نمبر چار چکھنے کی قوت، اور نمبر پانچ چھونے کی قوت بھئی، پانچ قوتیں اللہ ‏نے نصیب فرمائیں۔ تو پہلی قوت کیا؟ سننے کی قوت بھئی، اس کو قوتِ باصرہ کہتے ہیں، ص کے ساتھ ہے، باصرہ، بصر بینائی کو کہتے ‏ہیں نا، تو قوتِ باصرہ دیکھنے کی طاقت، دیکھنے کی قوت، یہ اللہ نے آنکھوں میں رکھی ہے۔ اس کے ذریعے انسان ‏مختلف چیزیں دیکھتا ہے کہ دن ہے یا رات ہے، کوئی آ رہا ہے کوئی جا رہا ہے، مختلف قسم کے رنگ ہیں، مختلف قسم ‏کی چیزیں ہیں، یہ سارا آپ کس کے ذریعے دیکھتے ہیں؟ آنکھوں کے ذریعے، یہ طاقت اللہ نے آنکھوں میں رکھی ہے۔ کچھ چیزوں کا علم ہمیں سننے سے ہوتا ہے، اس کو قوتِ سامعہ کہتے ہیں، اور یہ طاقت اللہ نے کانوں میں رکھی ہے۔ اس ‏کانوں کے ذریعے آپ مختلف قسم کی آوازیں سنتے ہیں، کہیں پر شور ہو رہا ہے، کہیں پر سکون ہے کوئی شور نہیں، یہ ‏یہ کون بتلاتا ہے؟ یہ کان آپ کو بتلاتے ہیں۔ زید آپ کا دوست ہے وہ دیوار کے پیچھے سے بھی بات کرتا ہے آپ فوراً ‏پہچان لیتے ہیں کہ یہ کون بول رہا ہے؟ زید بول رہا ہے، تو یہ آپ کو کون خبر دیتا ہے؟ کان بتلاتے ہیں، یہ قوتِ سامعہ، ‏یہ کیا ہے؟ قوتِ سامعہ، پہلی کیا تھی؟ قوتِ باصرہ، یہ کیا ہے؟ قوتِ سامعہ۔ پھر اللہ نے سونگھنے کی طاقت ناک میں رکھی بھئی، اس کو کہتے ہیں قوتِ شامہ، ش، ا، م مشدد ہے اور گول ت، قوتِ ‏شامہ۔ شم یشم کا معنی ہوتا ہے سونگھنا، سونگھنا، تو یہ قوتِ شامہ ہے، یہ اللہ نے ناک میں رکھی ہے۔ اس کے ذریعے ‏مختلف قسم کی بو کا آپ کو پتہ چلتا ہے، آپ کو پتہ چلتا ہے کہ فلاں خوشبو تو بہت اعلیٰ درجے کی ہے، فلاں اس سے ذرا ‏کم درجے کی ہے، تو اس کا پتہ کس سے چلتا ہے؟ قوتِ شامہ سے، قوتِ شامہ سے۔ تو پہلی کیا ہے؟ قوتِ باصرہ، دیکھنے ‏کی طاقت، یہ اللہ نے کہاں رکھی؟ آنکھوں میں۔ دوسری قوت ہے سننے کی قوتِ سامعہ، یہ اللہ نے کانوں میں رکھی، اور ‏ایک قوت ہے شامہ سونگھنے والی، یہ اللہ نے کہاں رکھی؟ ناک میں۔ اور چوتھی قوت ہے قوتِ ذائقہ، چکھنے کی قوت بھئی، یہ قوتِ ذائقہ اللہ نے زبان میں رکھی ہے، زبان کے ذریعے آپ ‏چیزوں کو چکھتے ہیں، آپ کو پتہ چلتا ہے کوئی چیز کڑوی ہے، کوئی میٹھی ہے، کوئی کھٹی ہے، کوئی پھیکی ہے، یہ ‏سب ذائقے ان کا پتہ کس سے چلتا ہے؟ زبان کے ذریعے چلتا ہے، تو یہ قوتِ ذائقہ اللہ نے زبان میں رکھی ہے بھئی۔ اور پانچویں جو قوت ہے وہ چھونے کی قوت ہے، کسی چیز کو آپ چھوتے ہیں ہاتھ لگاتے ہیں، آپ کو ہاتھ لگاتے ہی پتہ ‏چل جاتا ہے یہ چیز خشک ہے یا گیلی ہے، آنکھیں بے شک بند ہوں آپ کو پتہ چلتا ہے یا نہیں کہ خشک ہے یا گیلی ہے، ‏سخت ہے یا نرم ہے، ہموار ہے یا کھردری ہے؟ تو یہ ساری چیزیں ان کا پتہ کس کے ذریعے چلتا ہے؟ چھونے سے، تو ‏یہ چھونے کی قوت، اس کا نام ہے قوتِ لامسہ، لمس کا معنی ہوتا ہے چھونا، چھونا، تو قوتِ لامسہ، ل، ا، م، س اور گول ‏ت، لامسہ۔ تو یہ پانچ قوتیں اللہ نے انسان کو نصیب فرمائیں، ان کو کہتے ہیں حواسِ خمسہ ظاہرہ، حواسِ خمسہ ظاہرہ، کیونکہ یہ ‏ظاہری اعضاء کے اندر اللہ نے یہ قوتیں رکھی ہیں۔ اور آپ دیکھتے ہیں کہ یہ مختلف قسم کے علم حاصل کرتی ہیں یہ ‏قوتیں اور پھر آگے ذہن تک، دماغ تک، عقل تک پہنچاتی ہیں بھئی۔ دیکھیں کچھ چیزوں کا علم آنکھیں حاصل کرتی ہیں، ‏آپ کو آنکھیں بتلاتی ہیں کہ دن ہے یا رات ہے، اور روشنی تھوڑی ہے یا روشنی زیادہ ہے، بادل آ رہے ہیں یا بادل جا ‏رہے ہیں، اور مختلف کہ یہ کوئی چیز قریب ہے کوئی دور ہے، مختلف رنگ وغیرہ، یہ ساری چیزیں جن کو آپ آنکھوں ‏سے دیکھتے ہیں تو آنکھیں آنکھیں وہ جو معلومات اکٹھی کرتی ہیں یہ ان میں کون سی قوت اللہ نے رکھی؟ قوتِ باصرہ، ‏اس کے ذریعے یہ ساری معلومات اکٹھی کرتی ہے اور اوپر عقل تک پہنچاتی ہے۔ لیکن آنکھ ہر چیز کا علم نہیں حاصل کر سکتی۔ مثلاً آوازیں ہیں، اب کسی کو دیکھیں بہرا ہوتا ہے، آنکھیں موجود ہیں لیکن ‏اسے کچھ پتہ نہیں چلتا کہ آس پاس لوگ کیا باتیں کر رہے ہیں، آوازیں ہیں یا نہیں، کیونکہ وہ کان کے اندر وہ قوت موجود ‏نہیں، تو آنکھیں جن چیزوں کا تعلق دیکھنے سے ہے وہ علم تو دماغ تک پہنچائیں گی لیکن ہر طرح کا علم تو وہ نہیں ہوا، ‏وہ تو صرف دیکھی جانے والی چیزیں ہیں، کچھ چیزیں تو کیا ہیں؟ سننے سے ان کا پتہ چلتا ہے جیسے مختلف قسم کی ‏آوازیں ہیں، تو ان کے لیے اللہ نے پھر کون سی طاقت دے دی انسان کو؟ قوتِ سامعہ، اور یہ کانوں کے اندر رکھی، تو کان ‏یہ ساری معلومات اکٹھی کر کے دماغ تک پہنچاتے ہیں کہ اس وقت زید کی آواز آ رہی ہے یا بکر کی آواز آ رہی ہے، یا ‏اس وقت شور ہے یا خاموشی چھائی ہوئی ہے، یہ ساری خبریں عقل تک کون پہنچاتا ہے؟ کون پہنچاتی ہے؟ قوتِ سامعہ ‏پہنچاتی ہے۔ اسی طرح ایک قسم کی خبریں جن کا تعلق مختلف قسم کی بو سے ہے کہ یہ اچھی بو ہے یا بری بو ہے، یا گلاب کی ‏خوشبو ہے یا موتیے کی خوشبو ہے یا عود کی خوشبو ہے، یہ ساری خبریں کس کے ذریعے عقل تک پہنچتی ہیں؟ قوتِ ‏شامہ کے ذریعے بھئی۔ اور کچھ چیزوں کا علم جو ہے وہ قوتِ ذائقہ کے ذریعے دماغ تک پہنچتا ہے، اور کچھ چیزوں کا ‏علم قوتِ لامسہ کے ذریعے پہنچتا ہے بھئی۔ اور یاد رکھیے یہ جو قوتِ لامسہ ہے یہ پورے بدن میں پھیلی ہوئی ہے، یہ ‏صرف ہاتھوں میں نہیں ہے، آپ کے بدن کے جس حصے پر بھی چیونٹی چل رہی ہو آپ کو فوراً محسوس ہو جاتا ہے یا ‏نہیں محسوس ہوتا؟ دیکھا یہ وہ قوتِ لامسہ بتلاتی ہے کہ بدن کے فلاں حصے پر کچھ حرکت ہو رہی ہے، تو یہ قوتِ ‏لامسہ ہے۔ تو یہ مختلف قوتیں انسان کو اللہ نے نصیب فرمائیں حصولِ علم کے ذریعے، یہ ساری قوتیں کیا کرتی ہیں؟ مختلف قسم کے ‏علوم حاصل کرتی ہیں اور کہاں تک پہنچاتی ہیں؟ عقل تک پہنچاتی ہیں۔ اب یاد رکھیے، پھر ترتیب ان میں یاد رکھیے، کہ ‏اصل مدرک تو نفس ہے، اس نفس کو اللہ نے قوتِ عاقلہ نصیب فرمائی یا یوں کہیں عقل نصیب فرمائی۔ عقل ایک قوت ہے ‏نا تو اس کو قوتِ عاقلہ بھی کہتے ہیں، تو قوتِ عاقلہ کہہ لیں یا عقل کہہ لیں، ایک ہی بات ہے، تو اس کو اللہ نے قوتِ عاقلہ ‏نصیب فرمائی۔ اور قوتِ عاقلہ تو صرف کلیات کا ادراک کرتی ہے جزئیات کا ادراک نہیں کر سکتی، تو جزئیات کا ادراک ‏کرنے کے لیے اللہ تعالی نے اس کو حواسِ خمسہ باطنہ نصیب فرما دیے، حواسِ خمسہ باطنہ نصیب فرما دیے۔ پھر حواسِ ‏خمسہ باطنہ کو آگے اللہ نے حواسِ خمسہ ظاہرہ کی قوتیں نصیب فرما دیں۔ تو ترتیب ان میں سمجھ میں آ گئی؟ اصل مدرک کیا؟ نفس، نفس کو اللہ نے کیا نصیب فرمائی؟ قوتِ عاقلہ، قوتِ عاقلہ کو ‏آگے کتنی قوتیں نصیب فرمائیں؟ پانچ، حواسِ خمسہ باطنہ، کون کون سے؟ حسِ مشترک، خیال، قوتِ متصرفہ، وہم اور ‏قوتِ حافظہ۔ پھر دہراؤ، کون سے؟ حسِ مشترک اور خیال اور قوتِ متصرفہ اور وہم اور حافظہ۔ اور پھر حواسِ خمسہ ‏باطنہ کو کتنی قوتیں نصیب فرمائیں؟ پانچ، حواسِ خمسہ ظاہرہ، کون کون سی ہیں؟ نمبر ایک: قوتِ باصرہ، اور قوتِ ‏سامعہ، اور اور قوتِ شامہ، اور اور قوتِ ذائقہ، اور اور قوتِ لامسہ بھئی، قوتِ لامسہ۔ اور قوتِ باصرہ کہاں پر اللہ نے ‏رکھی؟ آنکھوں میں۔ قوتِ سامعہ کہاں رکھی؟ کانوں میں۔ قوتِ شامہ کہاں پر رکھی؟ ناک میں۔ قوتِ ذائقہ کہاں رکھی؟ زبان ‏میں، اور قوتِ لامسہ کہاں رکھی؟ پورے بدن کے اندر بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ بھئی یاد رکھیے، علماء نے عقل کی بڑی پیاری مثال بیان کی، علماء فرماتے ہیں کہ عقل کی مثال ایک آئینے کی طرح ‏ہے، آئینہ، شیشہ جس میں آپ اپنی صورت دیکھتے ہیں، اپنے آپ کو سنوارتے ہیں۔ تو علماء فرماتے ہیں کہ عقل کی مثال ‏ایک آئینے کی طرح ہے، اور جیسے آئینے کے سامنے جو چیز آتی ہے آئینے میں اس کی صورت آ جاتی ہے، اسی طرح ‏عقل کے سامنے بھی جو چیز ایک دفعہ آئے عقل میں اس کی صورت آ جاتی ہے۔ لیکن آئینہ جو ہے اس میں صرف دیکھی ‏جانے والی چیزیں آتی ہیں، صرف دیکھی جا جو آنکھوں سے دکھائی دیں وہ چیز ان چیزوں کی صورت آئینے میں آتی ‏ہے، اور جو چیزیں آنکھوں سے دکھائی نہ دیں ان کی صورت آئینے میں نہیں آتی، جیسے دیکھو بہادری ہے، سخاوت ہے، ‏بزدلی ہے، دیکھو ان کی صورت یہ آنکھوں سے چونکہ نظر نہیں آتیں، سخاوت سخاوت تو ایک صفت کا نام ہے، بہادری ‏اور بزدلی یہ تو صفت کا نام ہے، بھوک اور پیاس یہ کیا ہے؟ یہ تو صفات ہیں، ان کی کوئی شکل نہیں ہوتی، جب کوئی ‏شکل نہیں کوئی صورت نہیں تو ان کی صورت آنکھوں سے نظر نہیں آتی تو آئینے میں بھی ان کی شکل نہیں آتی۔ تو ‏آئینے میں صرف کون سی چیزوں کی صورت نظر آئے گی؟ جو آنکھوں سے دکھائی دیتی ہوں، جو کس سے؟ یوں کہیں ‏آئینے میں صرف ان چیزوں کی صورت نظر آئے گی جو محسوسات کے قبیل سے ہوں، جو محسوسات ہوں۔ کیا ہوں؟ اچھا اب یہاں محسوس کا لفظ آ گیا تو اب ایک بات یاد رکھیں، یہ تفصیل بھی بیان کر دیتا ہوں۔ یاد رکھیے عام لوگ جو ہیں ‏محسوس اس چیز کو کہتے ہیں جو آنکھوں سے نظر آئے، یہ کتاب آپ کو نظر آ رہی ہے؟ تو یہ محسوسات کے قبیل سے ‏ہے یعنی یہ محسوس ہے۔ یہ قلم آپ کو نظر آ رہا ہے؟ یہ کیا ہے؟ محسوسات کے قبیل سے ہے۔ تو کتاب بھی محسوس، قلم ‏بھی محسوس، گاڑی آپ کو نظر آتی ہے یہ بھی کیا ہے؟ محسوس، درخت آپ کو نظر آتا ہے یہ بھی کیا ہے؟ محسوس، ‏کمرہ اور کھڑکی وغیرہ آپ کو نظر آتے ہیں یہ بھی کیا ہیں؟ محسوس، تو یہ محسوسات کے قبیل سے ہیں، کس قبیل سے؟ ‏تو یاد رکھیے محسوسات کا لفظ جب عام لوگ آپس میں استعمال کریں کہ یہ چیز محسوس ہے یا یوں کہیں یہ چیز حسی ‏ہے، کیا ہے؟ حسی ہے، وہی محسوس کی طرف نسبت ہے۔ تو یہ چیز حسی ہے یعنی تو یعنی حس والی ہے، تو معنی یہ ‏ہوتا ہے کہ یہ چیز آنکھوں سے نظر آنے والی ہے۔ جب عام لوگ کیا کہیں کہ یہ چیز محسوس ہے تو کیا معنی ہوتا ہے؟ یہ ‏آنکھوں سے نظر آنے والی ہے، تو یہ جو آئینہ ہے نا آئینہ، اس میں صرف محسوسات کی صورت آتی ہے غیر محسوسات ‏کی صورت نہیں آتی۔ اور محسوسات کسے کہتے ہیں؟ جو آنکھوں سے نظر آئیں۔ یاد رکھیے یہ محسوسات جو ہیں نا یہ دو جگہ استعمال ہوتا ہے: ‏ایک عام لوگوں میں، عام لوگوں میں محسوسات کا معنی میں نے بیان کر دیا، عام لوگ محسوسات کن کو کہتے ہیں؟ ‏محسوسات اور حسی چیز کس کو کہتے ہیں؟ جو آنکھوں سے نظر آئیں بھئی۔ جبکہ منطق کے اندر یاد رکھیے محسوسات ‏وہ ہیں جن کا ادراک حس کرے، جس کا ادراک حواس کریں، جس کا ادراک کون کریں؟ حواس کریں بھئی، حواس۔ اور ‏حواس حواس تو آنکھیں دیکھنے والی چیزوں کا ادراک کرتی ہیں، کان کس کا ادراک کرتے ہیں؟ آوازیں، علمِ منطق کے ‏اندر جب محسوسات کا لفظ بولا جائے تو اس کے اندر یہ پھر یہ جو حواسِ خمسہ ظاہرہ جن جن چیزوں کا ادراک کرتے ‏ہیں، یہ سب کس کے اندر داخل ہیں؟ محسوسات میں داخل ہیں، کس میں داخل ہیں؟ محسوسات میں داخل ہیں۔ اور حواسِ ‏خمسہ ظاہرہ کس کس چیز کا ادراک کرتے ہیں؟ جو آنکھوں سے نظر آتی ہیں ان کا بھی ادراک کرتے ہیں، اور آوازوں ‏کے آوازوں کا بھی ادراک کرتے ہیں، اور سونگھنے سونگھی جانے والی مختلف خوشبوؤں کا بھی ادراک کرتے ہیں، اور ‏مختلف قسم کے ذائقوں کا بھی ادراک کرتے ہیں، اور اسی طرح چھو کر بھی مختلف چیزوں کا ادراک کرتے ہیں، تو یہ ‏سارے محسوسات ہیں، یہ کیا ہیں؟ محسوسات۔ تو علمِ منطق میں جب محسوس کا لفظ بولا جائے تو یہ پانچوں چیزیں مراد ‏ہوتی ہیں کیونکہ یہ سب محسوس ہیں کیونکہ اس یہ سب کا پتہ حواس سے چل رہا ہے، اور جس کا پتہ حواس سے چلے گا ‏وہ کیا ہوئی؟ محسوس، تو وہ محسوسات میں سے ہوئی، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو لہٰذا جب عام لوگوں کے اندر کہا جائے یہ چیز محسوسات کی قبیل سے ہے یا یوں کہیں یہ چیز حسی ہے، یہ چیز کیا ‏ہے؟ حسی، یا یوں کہہ دیں یہ چیز محسوس ہے، سب کا ایک ہی معنی ہے: یہ محسوسات کے قبیل میں سے ہے یوں کہہ ‏دیں، یا یہ چیز محسوس ہے یوں کہہ دیں، یا یوں کہہ دیں یہ چیز حسی ہے، کیا ہے؟ حسی۔ تو عام لوگوں میں جب یہ لفظ ‏بولا جائے تو اس کا کیا معنی ہوتا ہے؟ جو صرف آنکھوں سے دکھائی دے، جو صرف کس سے دکھائی دے؟ آنکھوں سے ‏دکھائی دے۔ اور جب علمِ منطق کے اندر کہا جائے یہ چیز محسوسات کے قبیل سے ہے یا حسی ہے یا محسوس ہے، تو اس ‏سے کیا مراد ہوتا ہے؟ جو حواسِ خمسہ ظاہرہ کے ذریعے جن جن چیزوں کا ادراک ہوتا ہے، وہ سب اس میں آ گئیں، اس ‏میں آوازیں بھی آ گئیں، اس میں ذائقے بھی آ گئے، اس میں مختلف قسم کی بو بھی آ گئی اور اسی طرح مختلف چیزیں جن ‏کا چھونے سے علم ہوا وہ بھی داخل ہو گئیں، مختلف قسم کے ذائقے بھی اس میں داخل ہو گئے، تو یہ سب کیا ہیں؟ ‏محسوسات۔ فرق سمجھ میں آ رہا ہے؟ ایک محسوس کا لفظ کون بولتے ہیں؟ عام لوگ، محسوس کسے کہتے ہیں؟ جو ‏آنکھوں سے دکھائی دے، اور ایک محسوس کا لفظ کون بولتے ہیں؟ علمِ منطق والے، منطق کی کتابوں میں استعمال ہوتا ‏ہے، وہ محسوس کسے کہتے ہیں؟ جن کا ادراک انسان کس کے ذریعے کرتا ہے؟ حواسِ خمسہ ظاہرہ کے ذریعے کرتا ‏ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔ اچھا میں بات کر رہا تھا کہ علماء نے انسانی عقل کے لیے بڑی پیاری مثال بیان کی، وہ فرماتے ہیں کہ عقل کی مثال ایک ‏آئینے کی طرح ہے، جیسے آئینے کے سامنے کوئی بھی محسوس چیز نہ آ جائے، دیکھا محسوس، کون سی محسوس سے ‏کیا مراد ہے؟ آنکھوں سے جو نظر آئے وہ مراد ہے۔ آئینے کے سامنے جب بھی کوئی محسوس چیز آتی ہے تو آئینے میں ‏فوراً اس کی صورت آ جاتی ہے، صورت آ جاتی ہے۔ لیکن جو چیز غیر محسوس ہو یعنی آنکھوں سے دکھائی نہ دے، ‏آئینے میں اس کی صورت نہیں آتی، جیسے مختلف آوازیں ہیں ان کی کوئی صورت آئینے میں نظر نہیں آتی، مختلف قسم ‏کی خوشبوئیں ہیں ان کی کوئی صورت آئینے میں نظر نہیں آتی، مختلف قسم کے ذائقے وغیرہ ہیں ان کی کوئی صورت ‏آئینے میں نظر نہیں آتی۔ تو آئینہ صرف کن چیزوں کی صورت دکھاتا ہے؟ جو محسوسات ہوں یعنی آنکھوں سے دکھائی ‏دینے والی ہوں۔ تو عقل بھی ایک آئینے کی طرح ہے۔ تو آئینے میں تو صرف محسوس چیزوں کی صورت نظر آتی ہے لیکن عقل اللہ نے ایک ایسا عجیب و غریب آئینہ بنایا ہے ‏جس میں آنکھوں سے دکھائی دینے والی چیزوں کی بھی صورت آتی ہے اور ایسی چیزوں کی بھی صورت اور پہچان آ ‏جاتی ہے جو آنکھوں سے نظر نہیں آتیں، دیکھو آپ مختلف آوازیں سنتے ہیں، آپ کو پتہ چلتا ہے یا نہیں پتہ چلتا؟ یہ جو ‏مختلف آوازیں ہیں، یہ جو عقل میں ان کی پہچان آ رہی ہے اس کو کہتے ہیں صورت ہی کہ اس کو بھی کیا کہہ دیتے ہیں؟ ‏صورت، یہ مختلف قسم، صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ یعنی پہچان۔ تو عام آئینے میں صرف آنکھوں سے نظر آنے والی ‏چیزوں کی صورت بنتی ہے لیکن عقل ایک ایسا آئینہ ہے جس میں ہر طرح کی چیزوں کی صورت آ جاتی ہے۔ اور پھر دوسرا فرق یہ ہے کہ عام آئینے کے سامنے سے جب چیز ہٹ جائے تو آئینے میں سے اس کی صورت بھی ختم ‏ہو جاتی ہے، لیکن عقل اللہ نے ایسا عجیب آئینہ بنایا ہے اس میں ایک دفعہ جس کی صورت آ جائے یہ اس کو محفوظ کر ‏لیتی ہے، وہ سامنے سے ہٹ بھی جائے پھر وہ ختم نہیں ہوتی۔ آپ سے دس دن پہلے ایک آدمی ملا، اچانک راستے میں ‏ملاقات ہوئی، اس نے آپ سے ایک دو باتیں کیں اور پھر پھر چلا گیا۔ اب پھر دس دن بعد وہ پھر کہیں پر ملتا ہے، آپ فوراً ‏پہچان لیں گے یا نہیں کہ یہ تو وہی آدمی ہے؟ تو دیکھا یہ کہاں سے آپ نے پہچانا؟ یہ وہ جو اس کی سامنے ایا تھا عقل ‏نے اس کی صورت اس کی اس کی جو جو نشانیاں تھیں وہ عقل نے محفوظ کر لی تھیں، دوبارہ اب وہ آپ کے پاس سے ‏بھی چلتے ہوئے گزرے گا آپ کو پتہ چل جائے گا کہ فلاں آدمی جا رہا ہے، اس نے میرے ساتھ اس دن یہ بات کی تھی۔ تو ‏عقل ایسا آئینہ ہے کہ جس میں چیزوں کی صورت بھی آتی ہے، پہچان بھی آتی ہے، اور پھر عقل ان کو محفوظ بھی کر ‏لیتی ہے، کیا کر لیتی ہے؟ محفوظ بھی کر لیتی ہے، اور پھر ضرورت پڑنے پر انسان کو یاد بھی آتا ہے کہ یہ چیز میں ‏نے دیکھی تھی، یا سنی تھی، یا چکھی تھی، یا سونگھی تھی، مختلف ساری چیزیں عقل محفوظ رکھتی ہے، بات سمجھ میں آ ‏رہی ہے؟ تو عقل بھی ایک روحانی آئینہ ہے جس میں چیزوں کی صورت بنتی ہے۔ اب دیکھیے بھئی توجہ سے، توجہ سے۔ اب اور لطیف بیان شروع ہوگا بھئی، اللہ کی قدرت کی نیرنگیاں انسان سن کر، ‏پڑھ کر حیران رہتا ہے کہ اللہ نے کیا کیا چیزیں پیدا فرمائی ہیں، اور انسان جتنا گہرائی میں جاتا ہے اتنی ہی اس کی ‏حیرت بڑھتی چلی جاتی ہے بھئی۔ اب دیکھیے، کچھ چیزوں کا علم تو حواسِ خمسہ ظاہرہ دماغ کو پہنچاتے ہیں، کچھ ‏چیزیں؟ حواسِ خمسہ ظاہرہ ذہن تک پہنچاتے ہیں، لیکن کچھ چیزیں ایسی ہیں جن کا ادراک حواسِ خمسہ ظاہرہ بھی نہیں ‏کر سکتے، حالانکہ حواسِ خمسہ ظاہرہ کتنی چیزوں کا ادراک کر رہے ہیں؟ نظر آنے والی چیزوں کا ادراک بھی کر رہے ‏ہیں، آوازوں کا ادراک بھی کر رہے ہیں، مختلف قسم کی خوشبوؤں وغیرہ کا ادراک بھی کر رہے ہیں، مختلف ذائقوں کا ‏ادراک بھی کر رہے ہیں، جن چیزوں کو چھو کر محسوس کیا جا سکتا ہے ان کا ادراک بھی کر رہے ہیں، لیکن پھر بھی ‏کچھ چیزیں ایسی ہیں جن کا جن کا علم یہ بھی نہیں کر سکتے، مثلاً خوشی۔ خوشی جانتے ہیں یا نہیں جانتے؟ آپ زید کو ‏دیکھ کر خوش ہو گئے، آپ نے کہا کتنا نیک آدمی ہے، کیسا اللہ کا ولی ہے، تو آپ کے دل میں اس کی محبت ائی کہ یہ تو ‏اللہ کا ولی ہے مجھے اس سے محبت رکھنی چاہیے دل کے اندر۔ اب دیکھو یہ محبت دل کے اندر ائی زید کی، اس کا ‏ادراک نہ آنکھوں سے ہو سکتا ہے، نہ کانوں سے ہو سکتا ہے، نہ ناک سے ہو سکتا ہے، نہ زبان سے ہو سکتا ہے، نہ ‏قوتِ لامسہ سے ہو سکتا ہے بھئی۔ تو معلوم ہوا ابھی بھی کچھ چیزیں ایسی ہیں جن کا ادراک یہ حواسِ خمسہ ظاہرہ نہیں ‏کر سکتے۔ تو یوں کہیں کہ چونکہ یہ جزئیات جو ہیں، کلیات کا ادراک تو کون کرتی ہے؟ کلیات کا ادراک تو عقل خود کرتی ہے، ‏کلیات کا ادراک عقل خود کرتی ہے، اور جزئیات کے لیے اللہ نے اس کو کیا دیے؟ حواسِ خمسہ باطنہ، اور پھر حواسِ ‏خمسہ باطنہ کو کون سے آلات دیے؟ حواسِ خمسہ ظاہرہ۔ کلیات کا ادراک تو عقل کرتی ہے اور جزئیات کا ادراک، تو ‏جزئیات تو دو قسم کے ہیں، دو قسم کے ہیں: کچھ کا ادراک حواسِ خمسہ ظاہرہ نے کر لیا اور کچھ ایسے ہیں جن کا ادراک ‏حواسِ خمسہ ظاہرہ بھی نہیں کر سکتے، تو اس کے لیے پھر ایک اور قوت کی ضرورت تھی کہ جس کے ذریعے انسان ‏کیا کرے؟ معانیِ جزئیہ کا ادراک کرے، وہ اللہ نے قوتِ وہم رکھی ہے۔ تو یوں کہیں آسان لفظوں میں دیکھیے، کہ کہ اللہ ‏نے انسان کو ہاں بلکہ پہلے یوں سمجھیں، یوں سمجھیں۔ دیکھیں یہ جو حواسِ خمسہ ظاہرہ جتنی چیزیں اکٹھی کرتے ہیں، ‏جتنی معلومات اکٹھی کرتے ہیں، آنکھیں ایک چیز کو دیکھ رہی ہیں، کان اس ایک چیز کو سن رہے ہیں، زبان ایک چیز کو ‏چکھ رہی ہے، ناک ایک چیز کو سونگھ رہی ہے، یہ ساری معلومات جمع ہوتی ہیں حسِ مشترک میں، کس کے اندر؟ یہ ‏ساری معلومات، آنکھوں نے جس چیز جس جس چیز کو بھی دیکھا یہ کہاں جا رہی ہیں معلومات؟ کہاں جا کر دماغ کے ‏کس حصے میں پہنچ رہی ہیں؟ حسِ مشترک کے اندر۔ کان جو کچھ سن سن رہے ہیں یہ ساری معلومات مرکزی دفتر میں ‏پہنچا رہے ہیں، مرکزی دفتر کون سا ہے؟ حسِ مشترک۔ ناک جو کچھ سونگھ رہی ہے یہ معلومات کہاں پہنچا رہی ہے؟ ‏مرکزی دفتر کون سا ہے؟ حسِ مشترک۔ زبان جو کچھ چکھ رہی ہے جس طرح کے ذائقوں کا اسے پتہ چل رہا ہے وہ ‏ساری معلومات کہاں پہنچا رہی ہے؟ حسِ مشترک۔ تو حسِ مشترک مرکزی دفتر ہے جہاں پانچ قسم کی معلومات آ رہی ہیں: ‏دیکھی جانے والی چیزوں کی معلومات بھی ہے، سننے والی معلومات بھی ہیں، سونگھنے والی، ذائقے والی، لمس والی، یہ ‏ساری کہاں جمع ہو رہی ہیں؟ حسِ مشترک، تو حسِ مشترک یوں کہیں مرکزی دفتر ہے جہاں پانچ طرف سے معلوم پانچ ‏قسم کی معلومات اکٹھی ہوتی ہیں، یا یوں کہہ لو یہ ایک مرکزی حوض ہے، مرکزی تالاب ہے جس میں پانچ طرف سے ‏پانی کی نہریں آ رہی ہیں، مسلسل یہ جو معلومات ہیں نا پانی کی طرح، یہ معلومات ہیں مسلسل یہ کہاں پر پہنچ رہی ہیں؟ ‏اس مرکزی تالاب حسِ مشترک میں، جس میں کتنی نہریں آ رہی ہیں؟ پانچ قسم کی نہریں آ رہی ہیں اور ان ساروں کا پانی ‏اس مرکزی تالاب میں پہنچتا ہے، تو ان پانچ حواسِ ظاہرہ کا سارا علم پہنچتا ہے حسِ مشترک میں۔ اور ابھی میں نے بتایا کہ عقل جو ہے اس کے سامنے جب ایک چیز ایک دفعہ آ جائے وہ پھر چیز سامنے سے ہٹ بھی ‏جائے، عقل اس کو یاد رکھتی ہے، یاد رکھتی ہے۔ تو لہٰذا صرف معلومات جمع کرنے کی طاقت ہی نہیں تھی کافی، ان ‏معلومات کو محفوظ رکھنے کے لیے بھی ایک طاقت کی ضرورت تھی، قوت کی ضرورت تھی، تو وہ اللہ نے خیال بنا ‏دی، کون سی قوت ہے؟ خیال۔ تو جو جو معلومات حسِ مشترک میں پہنچتی ہیں، حسِ مشترک ان کو فوراً خیال کے اندر ‏محفوظ کرتی جاتی ہے۔ یوں سمجھو خیال اس کا گودام ہے، اس کا اسٹور ہاؤس ہے، اس کی الماری ہے، وہ ساری معلومات ‏جو آ رہی ہیں وہ ضائع نہیں ہو رہیں، وہ حسِ مشترک کہاں جمع کرتی جا رہی ہے؟ خیال میں۔ دیکھو آپ کے ایک ساتھی ‏نے دعوت کی اور اس نے کھانا وغیرہ بنایا، آپ نے اس کا کھانا کھایا تو اتنا زبردست کھانا بنایا کہ آپ کو بے انتہا پسند ‏آیا۔ اب کھانا کھا کر آپ آ گئے لیکن جہاں کہیں بھی بات ہوتی ہے آپ سب کو کہتے ہیں کہ بھئی اس نے کھانا بڑا زبردست ‏بنایا تھا، اور وہ ذائقے کا خیال آ جاتا ہے آپ کے ذہن میں۔ بھئی وہ ذائقہ تو گزر چکا، اس کو تو کئی دن گزر گئے، یہ ‏کہاں سے آتا ہے؟ وہ خیال جو اسٹور ہاؤس میں محفوظ تھا نا وہ اس کی صورت نکال کے آپ کو پہچان کرواتا ہے کیسا ‏ذائقہ تھا، ایسے زبردست کھانے تھے بھئی۔ تو یہ وہ اسٹور ہاؤس کے اندر وہ چیزیں محفوظ ہو گئیں۔ بات سمجھ میں آ ‏گئی؟ تو حواسِ خمسہ ظاہرہ جتنی چیزیں جمع کرتے ہیں کہاں پہنچتی ہیں؟ حسِ مشترک، اور حسِ مشترک ان کو پھر کہاں ‏محفوظ کر لیتی ہے؟ خیال کے اندر۔ تو خیال ان کا گودام ہے اور اسٹور ہاؤس ہے، یا یوں کہیں الماری ہے بھئی، الماری ‏ہے۔ لیکن میں نے ابھی آپ کو بتایا کہ حواس حواسِ خمسہ ظاہرہ نے پانچ قسم کی معلومات جمع کر لیں لیکن پھر بھی کچھ ‏چیزیں ایسی ہیں جو ان کے جو ان کے علاوہ رہ گئیں، مثلاً میں نے ابھی مثال ذکر کی، مثلاً آپ کو کوئی چیز دیکھ کر ‏خوشی محسوس ہوتی ہے، کبھی کسی چیز کا آپ کو خوف محسوس ہوتا ہے، کبھی کسی بات پر آپ کو غم محسوس ہوتا ‏ہے، تو دیکھیں یہ خوشی کسی چیز پر خوشی، ویسے تو مطلق خوشی، خوشی کسے کہتے ہیں؟ اس کا ادراک تو عقل کرے ‏گی، خوشی، غم، کیونکہ کلی ہے نا، خوشی کیا ہے؟ ایک کلی ہے، خوشی مختلف چیزوں پر ہو سکتی ہے تو یہ ایک کلی ‏ہے بھئی۔ اسی طرح غم بھی کیا ہے؟ ایک کلی، آپ کا بھی غم ہو سکتا ہے، زید کا بھی ہو سکتا ہے، بکر کا بھی ہو سکتا ‏ہے۔ خوشی بھی کلی ہے، اپ کی بھی خوشی ہو سکتی ہے، زید کی بھی خوشی ہو سکتی ہے، بکر کی بھی خوشی، تو یہ ‏جو کلی خوشی ہے، کلی غم جو ہے ان کا ادراک تو عقل کرتی ہے۔ کس کا؟ کلی کلی یہ جو کلی معانی ہیں، کیا کلی؟ بھئی ‏یاد رکھو، یہ جو حواسِ خمسہ ظاہرہ، توجہ ہے؟ حواسِ خمسہ ظاہرہ، یہ جتنی معلومات اکٹھی کرتے ہیں ان کو کہتے ہیں ‏صورت، کیا کہتے ہیں؟ صورت۔ ہم تو عام زبان میں صورت صرف تصویر کو کہتے ہیں نا، لیکن علمِ منطق کی اصطلاح ‏میں ان سب کو صورت کہتے ہیں، صورت سے مراد ہے پہچان، کیا ہے؟ پہچان۔ دیکھو مختلف چیزوں کو آپ دیکھتے ہیں، ‏آپ کے ذہن میں اس کی صورت محفوظ ہو جاتی ہے۔ مختلف ذائقے آپ چکھتے ہیں، ان کی صورت یعنی ان کی پہچان آپ ‏کے عقل میں محفوظ ہو جاتی ہے۔ مختلف قسم کی خوشبوئیں آپ سونگھتے ہیں تو ان کی جو پہچان ہے یعنی ان کی جو ‏صورت ہے وہ کہاں محفوظ ہو گئی؟ عقل میں۔ مختلف قسم کے ذائقے آپ چکھتے ہیں تو ان ذائقوں کی جو پہچان ہے یعنی ‏صورت جو ہے کہاں محفوظ ہو جاتی ہے؟ عقل میں، صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو یہ جو یہ جو حواسِ خمسہ ظاہرہ ‏جن جن چیزوں کا ادراک کرتے ہیں یعنی آواز کا، ذائقے کا، خوشبو کا وغیرہ یہ چیزیں جن کا ادراک کرتے ہیں، ان کو ‏کہتے ہیں صورتیں، کیا کہتے ہیں؟ کیا معنی صورتوں سے؟ پہچان، کیا معنی ہے؟ پہچان، تو ان کو صورتیں کہتے ہیں۔ لیکن انسان کی معلومات کیا صرف یہ صورتیں ہیں؟ نہیں، بلکہ ابھی میں نے بتایا: خوشی، غم وغیرہ یہ بھی کیا ہیں؟ ‏مختلف قسم کی چیزیں ہیں لیکن ان کو کہتے ہیں معانی، کیا کہتے ہیں؟ معانی، کیونکہ ان کی کوئی صورت نہیں ہے۔ ان ‏کی؟ خوشی، غم، خوشی کی کوئی صورت آپ نے کبھی دیکھی ہے؟ نہیں۔ اچھا غم کی کوئی صورت دیکھی ہے کبھی؟ ‏سخاوت؟ نہیں۔ اور بخل؟ نہیں بھئی، یعنی بخل یعنی کنجوسی، تو دیکھو یہ صفات ہیں، یہ معانی ہیں، ان کی کوئی صورت ‏نہیں ہے، صورت نہیں ہے۔ پھر یہ معانی دو قسم کے ہیں: کچھ معانی کلی ہیں اور کچھ معانی کیا ہیں؟ جزئی ہیں۔ جو معانی ‏کلی ہیں جیسے خوشی، مطلق خوشی، ایک ہے مطلق خوشی، تو خوش تو آپ بھی ہو سکتے ہیں، زید بھی ہو سکتا ہے، بکر ‏بھی ہو سکتا ہے، خالد بھی ہو سکتا ہے، تو خوشی ویسے تو کیا ہے؟ کلی ہے، کیا ہے؟ کلی۔ لیکن آپ نے آپ نے زید کو ‏دیکھا اور آپ کو خوشی ہوئی کہ کتنا نیک آدمی ہے، تو یہ کلی خوشی ہے یا جزئی خوشی ہے؟ یہ جزئی خوشی ہے، یہ ‏کس کے دیکھنے پر ہوئی ہے؟ زید کو دیکھنے پر ہوئی ہے۔ بکر کو دیکھ کر آپ خوش ہوئے، یہ بھی جزئی خوشی ہے، ‏یہ بکر کو دیکھ کر خوشی ہوئی ہے۔ عمرو کو آپ نے دیکھا، عمرو کو دیکھ کر خوشی ہوئی، یہ کس کے دیکھنے پر ‏خوشی ہے؟ عمرو، تو یہ سب کیا ہیں؟ جزئی خوشی ہیں۔ یا زید کو آپ نے دیکھا اور کسی بات پر اس کی کسی بات سے ‏آپ کو غم ہو گیا، دکھ ہوا، تو دیکھا یہ یہ کلی دکھ ہے یا جزئی دکھ ہے؟ یہ جزئی دکھ ہے، یہ زید کی وجہ سے پہنچا ہے، ‏بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو یہ جو معانی ہیں یہ دو قسم کے ہیں: کچھ کلیات ہیں اور کچھ جزئیات۔ تو کلیات جو ہیں ان کا ادراک تو میں پہلے بیان کر ‏چکا کون کرتی ہے؟ عقل، لیکن معانیِ جزئیہ وہ رہ گئے یا نہیں رہ گئے؟ تو جو صورتیں تھیں صورتیں جزئیہ صورتیں، ‏جزئی صورتیں تھیں، جزئی جزئی صورتیں تھیں ان کا ادراک تو حسِ مشترک کر رہی تھی۔ توجہ ہے؟ کس کا ادراک؟ ‏جزئی صورتیں، صورتیں کس کو کہتے ہیں؟ جو آوازیں سن رہے ہیں آپ، جو ذائقے چکھ رہے ہیں آپ، جو خوشبوئیں ‏سونگھ رہے ہیں آپ، یہ سب صورتیں ہیں نا، اور جزئی ہیں کہ نہیں؟ جزئی ہیں، جو بھی آپ صورت دیکھیں گے، جو بھی ‏آواز سنیں گے وہ کوئی ایک خاص آواز ہوگی، تو یہ سب جزئی صورتیں ہیں۔ ان جزئی صورتوں کا ادراک کون کرتی ‏ہے؟ حسِ مشترک، کون کرتی ہے؟ حسِ مشترک۔ تو جزئی صورتوں کا ادراک تو حسِ مشترک نے کر لیا اور جزئی ‏معانی رہ گئے، کیا رہ گئے؟ تو ان کے لیے بھی ایک قوت کی ضرورت تھی جو اور وہ قوت اللہ نے قوتِ وہم اللہ نے ‏انسان کو نصیب فرمائی۔ یہ جو حواسِ خمسہ باطنہ تھے نا، ان میں سے یہ جو وہم ہے یہ کیا کرتا ہے؟ معانیِ جزئیہ کا ‏ادراک کرتا ہے، کس کا؟ معانیِ جزئیہ کا ادراک۔ مثلاً آپ نے زید کو دیکھا اور آپ کو خوشی محسوس ہوئی، تو یہ جزئی ‏خوشی ہے۔ آپ نے مثلاً عمرو کو دیکھا اور اس کی کسی بات سے آپ کو دکھ ہوا، غم ہوا تو یہ کیا ہے؟ جزئی غم ہے۔ اور ‏اسی طرح آپ نے خالد کو دیکھا کہ اتنا نیک آدمی ہے، یہ تو اللہ کا ولی آدمی ہے، اس سے تو محبت رکھنی چاہیے، اور ‏چنانچہ آپ کے دل میں اس کی محبت آ گئی، یہ جزئی محبت ہے۔ تو یہ سب جزئی معانی ہیں، ان کی کوئی صورت نہیں۔ ‏صورت ہوتی تو پھر تو حواسِ خمسہ ظاہرہ سے ان کا پتہ چل جاتا، اور یہ خوشی اور غم وغیرہ ان کا پتہ تو حواسِ خمسہ ‏ظاہرہ سے نہیں چلتا، معلوم ہوا ان کی کوئی صورت نہیں، یہ کیا ہیں؟ معانی ہیں۔ اور کلی معانی ہیں یا جزئی معانی ہیں؟ ‏جزئی معانی، تو جب جزئی معانی ہیں تو جزئی معانی کا ادراک کون کرتا ہے؟ وہم کرتا ہے، صورت سمجھ میں؟ اور پھر ان جزئی معانی کو بھی محفوظ رکھنا ہے یا نہیں رکھنا؟ رکھنا ہے، تو اس کے لیے اللہ نے وہ حافظہ نصیب فرما ‏دیا، تو یہ جزئی معانی جو وہم جن جزئی معانی کا ادراک کرتی ہے ان کو کہاں محفوظ کرتی ہے؟ حافظے میں۔ دیکھو ‏خوف ایک کلی معنی ہے، آپ ایک چیز سے بھی خوف کر سکتے ہیں، دوسری سے بھی خوف کر سکتے ہیں، تیسری سے ‏بھی، لیکن مثلاً آپ کے سامنے ایک سانپ آیا اور اس سانپ کو دیکھ کر آپ ڈر گئے، اب یہ عام خوف ہے یا اس سانپ کا ‏خوف ہے؟ سانپ کا خوف، تو یہ ایک جزئی خوف ہوا بھئی، تو اس جزئی خوف کا ادراک کون کرے گا؟ وہم کرے گا، ‏اور پھر کس میں محفوظ کرے گا؟ حافظے میں محفوظ کر لے گا۔ تو دیکھا، معلوم ہوا حسِ مشترک یہ صورتوں کا ادراک ‏کرتی ہے اور وہم جو ہے وہ معانیِ جزئیہ کا ادراک کرتا ہے، کس کا؟ پھر دہراؤ، وہم کس چیز کا ادراک کرتا ہے؟ معانیِ ‏جزئی، اور کلیات کا ادراک کون کرتی ہے؟ عقل کرتی ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یوں کہو آسان لفظوں میں کہ اللہ نے انسان کو دو طرح کے کیمرے نصیب فرمائے ہیں، دو طرح کے آئینے نصیب ‏فرمائے ہیں: ایک آئینے میں صورتیں آتی ہیں تو ایک آئینے کے اندر معانی آتے ہیں، معانیِ جزئیہ، صورت سمجھ میں آ ‏گئی؟ اور پھر دونوں کو محفوظ کرنے کی ضرورت ہے یا نہیں؟ تو دونوں کو الماریاں اور گودام بھی نصیب فرما دیے، ‏حسِ مشترک کے اندر جو صورتیں آئیں وہ اس نے کہاں پر محفوظ کر لیں؟ خیال میں، اور وہم کے اندر جو معانیِ جزئیہ ‏کا ادراک اس نے کیا وہ اس نے کہاں محفوظ کر لیے؟ حافظے میں، حافظے میں، صورت سمجھ میں آ گئی۔ پھر یاد رکھیے، یہ جو قوتِ متصرفہ ہے، اب قوتِ متصرفہ رہ گئی، یہ جو قوتِ متصرفہ ہے نام سے ہی پتہ چل رہا ہے ‏یہ مختلف قسم کے تصرفات کرتی ہے۔ یوں کہیں یہ جو قوتِ متصرفہ ہے یاد رکھیے یہ جوڑ توڑ کا کام کرتی ہے، تو یہ ‏جو قوتِ متصرفہ ہے یہ جوڑ توڑ والا کام کرتی ہے۔ یہ حافظے سے وہ جو اسٹور ہاؤس ہے حافظہ، وہاں سے کچھ چیزیں ‏لیتی ہے اور اسی طرح کچھ چیزیں خیال سے لیتی ہے، خیال بھی کیا ہے؟ اسٹور ہاؤس، ان دونوں سے چیزیں لیتی ہے ‏اور ان کا جوڑ توڑ کر کے نئی چیزیں بناتی ہے، نئی صورتیں بناتی ہے۔ یہ آپ کے ذہن میں جو نئی نئی باتیں آتی ہیں کہ ‏یوں کرنے سے یہ فائدہ ہوگا، اس طرح کیا جائے تو یہ ہوگا، یہ سائنسدان تو یہ مختلف قسم کے یہ جو سائنسدان تجربات ‏کرتے ہیں، نئی نئی باتیں سوچتے ہیں اور کرتے ہیں، یہ سارا قوتِ متصرفہ کرتی ہے۔ قوتِ متصرفہ دونوں اسٹور ہاؤس ‏سے جو جو چیزیں اس کے اندر ہیں ان کو ان میں جوڑ توڑ کرتی ہے کہ یوں کرنا چاہیے تو پھر یہ ہوگا، یا یوں کرنا ‏چاہیے تو یہ ہوگا، مختلف صورتیں وہ بنا کر پیش کرتی ہے۔ مثلاً فرض کرو فرض کرو ذرا میں آپ کو مثال دیتا ہوں، آپ ‏کو بات سمجھ میں آ جائے گی: آپ کو سانپ کا بھی پتہ ہے اور سانپ کا خوف بھی ہے آپ کے دل میں، تو قوتِ متصرفہ ‏بعض اوقات کیا کرے گی؟ بعض اوقات کیا کرے گی؟ ایک رسی پڑی ہوئی ہے ذرا اندھیرے کے اندر، قوتِ متصرفہ وہ ‏خیال میں سے سانپ کی صورت لے گی اور اس رسی کو پہنا دے گی، اور یوں آپ کو لگے گا جیسے یہ کیا ہے؟ سانپ ‏ہے۔ حالانکہ سانپ تو نہیں ہے لیکن اس کو سانپ کی صورت بنا کر پیش کر دیا، کس نے؟ قوتِ متصرفہ نے۔ تو یہ سانپ ‏کی صورت کہاں سے لی اس نے؟ سانپ کی صورت کہاں سے لی؟ خیال سے، اور سانپ کا خوف بھی تو ہوتا ہے، سانپ ‏سے آپ ڈرتے ہیں یا نہیں ڈرتے؟ تو وہ سانپ کا خوف بھی ساتھ ملا دیا۔ تو آپ اس سے دیکھ کر ڈر گئے کہ یہ تو شاید ‏سانپ ہے۔ تو یہ دیکھا صورت کہاں سے لی؟ خیال سے، اور وہ خوف کہاں سے لیا؟ حافظے سے لیا، اور اس رسی کو ‏پہنا دیا، سانپ کی صورت بھی پہنا دی، سانپ والا خوف بھی پہنا دیا اور آپ اس کو دیکھ کر ڈر گئے ایک دم کہ شاید یہ ‏سانپ ہے بھئی۔ تو دیکھا یہ جوڑ والا کام کیا، صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ یا اور مثال لے لیں بھئی، اور مثال لے لیں۔ بھئی زید آپ کا ایک ساتھی ہے، زید آپ کا ایک ساتھی ہے، فرض کرو بھئی ‏زید جا رہا ہے اور اس کا سر کٹا ہوا ہے، فرض کرو ذرا، تصور کر لیا؟ زید چل رہا ہے اور اس کا سر کٹا ہوا ہے اور ‏وہ تیزی سے دوڑتا ہوا جا رہا ہے، تصور کیا یا نہیں کیا؟ ذہن میں صورت بن گئی؟ زید کا سر کٹا ہوا ہے اور وہ دوڑتا ‏ہوا جا رہا ہے، دیکھا یہ قوتِ متصرفہ نے کیا، اس نے کیا کیا؟ زید سے اس کا سر علیحدہ کیا، توڑ دیا، جدا کر دیا اور زید ‏سر کے بغیر ہی چلتا جا رہا ہے آپ کے خیال میں، خیال میں۔ اور کبھی یہ جوڑ والا کام کرتی ہے، بھئی فرض کرو زید ‏جا رہا ہے اور اس کے کندھے پر ایک سر نہیں ہے دو سر لگے ہوئے ہیں، ذرا تصور کرو، کر لیا؟ اب یہ دو سر والا زید ‏چلتا ہوا جا رہا ہے، یہ کس نے کیا یہ جوڑ والا کام؟ قوتِ متصرفہ نے اسی زید کے سر کندھے پر ایک اور سر جوڑ دیا ‏اور آپ کے خیال میں اس کو دکھا دیا، تو یہ قوتیں یہ جو قوتِ متصرفہ ہے یہ نئی نئی چیزیں ہم سوچتے ہیں کہ یوں کرنا ‏چاہیے تو یوں ہوگا، یہ یہ جوڑ توڑ مختلف معانی کو لے کر یہ سارا کام کون کرتی ہے؟ قوتِ متصرفہ کرتی ہے بھئی، ‏قوتِ متصرفہ۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ یہ ہیں جی حواسِ خمسہ ظاہرہ اور یہ ہیں حواسِ خمسہ باطنہ بھئی۔ حاصلِ کلام مختصراً ‏پھر سن لو: کہ انسان میں اصل مدرک نفس ہے، نفس جو ہے وہ کلیات کا بھی ادراک کرتا ہے اور جزئیات کا بھی ادراک ‏کرتا ہے۔ کلیات کا ادراک کے لیے تو اللہ نے اس کو قوتِ عاقلہ یعنی عقل نصیب فرمائی، اور جزئیات کا ادراک بھی اس ‏کو چاہیے تھا اور جزئیات جو ہیں وہ دو قسم کے ہیں: ایک کیا؟ صورتیں، اور ایک معانیِ جزئیہ۔ تو صورتوں کا ادراک ‏بھی چاہیے تھا اور معانی کا ادراک معانیِ جزئیہ کا ادراک بھی چاہیے۔ تو صورتوں کے ادراک کے لیے اللہ نے اس کو ‏حسِ مشترک کی قوت نصیب فرمائی، اور معانیِ جزئیہ کے لیے اللہ نے اس کو وہم کی قوت نصیب فرمائی۔ اور پھر ان کو ‏محفوظ بھی کرنا تھا، دو کیمرے تو مل گئے اب ان کی تصویروں کو محفوظ بھی کرنا تھا، صورتوں کو محفوظ کرنے کے ‏لیے اللہ نے خیال کی قوت نصیب فرمائی، اور معانیِ جزئیہ کو محفوظ کرنے کے لیے اللہ نے حافظے کی قوت نصیب ‏فرمائی۔ پھر ان کے اندر جوڑ توڑ والا بھی کام کرنا تھا تاکہ نئی چیزیں سوچی جائیں، نئی چیزیں بنائی جائیں، نئے نئے ‏کام کیے جائیں وغیرہ، تو اس کے لیے بھی ایک قوت کی ضرورت تھی تو اس کے لیے اللہ نے اس کو قوتِ متصرفہ ‏نصیب فرما دی۔ اور پھر مختلف چیزوں کی صورت لینے کے لیے حسِ مشترک کو آگے پانچ قوتیں یعنی حواسِ خمسہ ‏ظاہرہ نصیب فرما دیں، تو یہ چیزیں یہ ہیں وہ آلات جس کے جن کے ذریعے انسان مختلف چیزوں کا علم حاصل کرتا ہے ‏اور اس کو اپنے ذہن میں محفوظ کرتا ہے۔ تو ان ساری چیزوں کا ادراک پھر عقل کرتی ہے، عقل کلیات کا ادراک تو خود ‏کرتی ہے اور جزئیات کا ادراک ان قوتوں کے ذریعے کرتی ہے، اور پھر یہ ساری خبریں کس تک پہنچتی ہیں؟ نفس تک ‏پہنچتی ہیں، تو اصل مدرک نفس ہے، وہ ان آلات کے ذریعے مختلف قسم کی خبریں اور مختلف قسم کے علوم حاصل کرتا ‏ہے اور ان کو محفوظ کرتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ ان کو کہتے ہیں مشاہدات، کیا کہتے ہیں؟ مشاہدات۔ ہاں اس میں ایک بات رہ گئی تھی وہ یاد رکھنا، یہ جو حواسِ خمسہ ‏ظاہرہ، حواسِ خمسہ ظاہرہ جن صورتوں کا ادراک کرتے ہیں ان کو محسوسات کہتے ہیں، میں پہلے بتا چکا، حواسِ خمسہ ‏ظاہرہ جن صورتوں کا ادراک کرتے ہیں ان کو کیا کہتے ہیں؟ محسوسات، اس میں آوازیں بھی آ گئیں، اس میں ذائقے بھی آ ‏گئے، اس میں مختلف قسم کی خوشبوئیں وغیرہ بھی آ گئیں اور اور دیکھنے والی چیزیں وغیرہ بھی آ گئیں۔ اور یہ جو وہم ‏جن معانیِ جزئیہ کا ادراک کرتا ہے، توجہ ہے؟ وہم جن معانیِ جزئیہ کا ادراک کرتا ہے ان کو وجدانیات کہتے ہیں، کیا ‏کہتے ہیں؟ وجدانیات۔ تو حواسِ خمسہ ظاہرہ یا یوں کہو حسِ مشترک کہہ لو، حواسِ خمسہ ظاہرہ کی ساری باتیں کہاں ‏اکٹھی ہوتی ہیں؟ حسِ مشترک، تو حسِ مشترک کن چیزوں کو جن چیزوں کا علم حاصل کرتی ہے ان کو کیا کہتے ہیں؟ ‏محسوسات، اور وہم جن چیزوں کا ادراک کرتا ہے ان کو کیا کہتے ہیں؟ وجدانیات، کیا کہتے ہیں؟ وجدانیات۔ تو جب اگر آ ‏جائے کہیں پر یہ وجدانیات کی قبیل سے ہے، کہیں پر آ جائے گا یہ محسوسات کی قبیل سے ہے، آپ سمجھ جائیں ‏محسوسات کی قبیل جن کا ادراک حواسِ خمسہ ظاہرہ نے کیا اور کہاں پر یہ معلومات جمع ہوئیں؟ حسِ مشترک کے اندر، ‏اور جب کہا جائے یہ وجدانیات کی قبیل سے ہے، آپ سمجھ جائیں یہ صورتیں نہیں ہیں یہ جزئی معانی ہیں جن کا ادراک ‏کس نے کیا ہے؟ وہم نے کیا ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔ اب آئیے کتاب پر بھئی۔ کتاب پر دیکھیے بھئی: بدیہیات کی چوتھی قسم ہم مشاہدات ہم پڑھ رہے ہیں بھئی، مشاہدات وہ ‏قضایا ہیں کہ جن میں حکم حواسِ ظاہری یا باطنی کے ذریعہ سے کیا جائے۔ جن میں حکم کس سے کیا جائے؟ حواسِ ‏ظاہری، وہی حواسِ خمسہ ظاہرہ، یا باطنی، یہ کیا ہیں؟ حواسِ خمسہ باطنہ۔ تو وہ قضایا ہیں کہ جن میں حکم حواسِ ظاہری ‏یا باطنی کے ذریعہ سے کیا جائے، یعنی حواسِ ظاہری یا باطنی سے جن کا پتہ چلتا ہے۔ مثلاً آپ پہاڑی علاقے میں سیر ‏کرنے گئے اور سامنے پہاڑ پھیلے ہوئے ہیں، سبزہ ہر طرف پھیلا ہوا ہے، آپ کہتے ہیں: کتنا حسین منظر ہے! یہ ‏ادراک، یہ علم کہاں سے آیا؟ آنکھوں سے، کس سے آیا؟ آنکھوں سے آیا۔ تو دیکھو آنکھوں نے یہ حکم لگایا کہ یہ منظر کیا ‏ہے؟ بڑا حسین ہے، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ خوبصورت، دلکش منظر آپ کو آنکھوں نے دکھایا، تو اس منظر کو ‏حسین آپ نے شمار کیا کس کے واسطے سے؟ آنکھوں کے، دیکھا تو یہ ہے، وہ قضایا تو یہ جو آپ نے حکم لگایا حواسِ ‏خمسہ ظاہرہ کے ذریعے لگایا۔ تو وہ قضایا ہیں کہ جن میں حکم حواسِ ظاہری یا باطنی کے ذریعہ سے کیا جائے، جیسے سورج روشن ہے، جیسے ‏سورج روشن ہے۔ تو بھئی یہ سورج کے روشن ہونے کا پتہ کس سے چلا؟ آنکھ سے، تو دیکھا یہ آنکھ کے ذریعے آپ ‏نے حکم لگا دیا کہ سورج کیا ہے؟ روشن۔ آگے دیکھیے کتاب پر: آنکھ کے ذریعہ سے اس میں حکم روشن ہونے کا کیا گیا ‏ہے۔ تو یہ کس قبیل سے ہوا؟ محسوسات یا وجدانیات؟ یہ محسوسات۔ اور جیسے ہم کو بھوک یا پیاس لگتی ہے اس میں ‏باطنی حواس کے ذریعہ سے حکم کیا گیا ہے۔ بھئی آپ کہتے ہیں: مجھے بھوک لگ رہی ہے، یہ آپ کو کس سے پتہ چلا؟ ‏اس کا ادراک کس سے ہوا؟ یہ عام بھوک ہے یا خاص بھوک ہے جو اس وقت آپ کو لگی ہوئی ہے؟ خاص بھوک، تو یہ ‏کیا ہوئی؟ یہ ہے معانی، جزئی معنی ہے، اور جزئی معنی کا ادراک کس کے ذریعے ہوتا ہے؟ اس کا نام کیا ہے؟ ‏وجدانیات، یہ وجدان ہے، یہ کیا ہے؟ اور وجدانیات کا ادراک کس کے ذریعے ہوتا ہے؟ وہم کے ذریعے، معلوم ہوا دیکھا ‏یہ قوتِ وہم نے آپ کو بتلایا کہ آپ کو اس وقت بھوک لگ رہی ہے، یا آپ اس وقت اس وجہ سے خوش ہیں، یا اس وجہ ‏سے آپ غمگین ہیں، یا اس وجہ سے آپ کو خوف ہے، یا اس وقت آپ کو پیاس لگ رہی ہے، یہ کس سے پتہ چلتا ہے؟ وہم ‏کے ذریعے، اور یہ کس قبیل سے ہے؟ وجدانیات۔ تو مجھے اس وقت بھوک لگی، تو میں نے بھوک لگنے کا حکم لگایا ‏اپنے اوپر کیا لگایا؟ کیا کہتے ہیں؟ موضوع پر محمول کا حکم لگایا جاتا ہے یا نہیں؟ زید عالم ہے، میں نے زید پر کس ‏چیز کا حکم لگایا؟ عالم ہونے کا، تو اسی طرح جب میں نے کہا مجھے بھوک لگی ہے میں نے اپنے اوپر کس چیز کا حکم ‏لگایا؟ بھوک لگنے کا، تو یہ بھوک لگنے کا حکم کس کے واسطے سے کیا گیا؟ حواسِ خمسہ باطنہ کے ذریعے بھئی، ‏بات سمجھ میں آ گئی۔ اور جیسے ہم کو بھوک یا پیاس لگتی ہے، اس میں باطنی حواس کے ذریعہ سے حکم کیا گیا ہے۔ تو یہ ہیں مشاہدات بھئی، ‏ان سب کو کیا کہتے ہیں؟ مشاہدات۔ اس میں محسوسات بھی آ گئے اور اس میں وجدانیات بھی آ گئے، توجہ ہے؟ مشاہدات ‏کس چیز کا نام ہے؟ مشاہدات کس چیز کا نام ہے؟ وجدانیات اور محسوسات، جو جن چیزوں کا ہم جن چیزوں کا ادراک ہم ‏کس کے ذریعے کریں؟ وہم کے ذریعے یعنی وجدانیات، اور جن چیزوں کا ادراک ہم کس کے ذریعے کریں؟ حسِ مشترک ‏یعنی محسوسات، تو یہ جو وجدانیات اور محسوسات ہیں ان کو کیا کہتے ہیں؟ مشاہدات کہتے ہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ ‏تو یہ ہیں مشاہدات بھئی۔ آگے دیکھیے بھئی: تجریبیات، تجربۃ عربی میں جو ہے نا یہ ر کے نیچے زیر ہے، اردو میں تو ہم کہتے ہیں نا تجربہ ‏تجربہ، تو یہ تجربیات نہیں ہے یہ تجریبیات ہے، تفعلۃ وزن ہے، تفعلۃ وزن پڑھا ہے یا نہیں مصدر کے اندر آپ نے؟ تو ‏یہ تفعلۃ تجربۃ ہے اور اسی کے ساتھ یاء مشدد ملا دی نسبت کے لیے، تجریبیات۔ تجریبیات وہ قضیے ہیں کہ کئی مرتبہ ‏ایک بات مشاہدہ کر کے... اچھا بھئی پہلے اس کو سمجھ لیں، آسان ہے، آپ تجربیات کہہ لیں بے شک اس کو، عربی کے ‏اعتبار سے کیا لفظ بولنا ہے؟ تجریبیات، تجریبیات، بولو! جی بولو! ہاں تجربیات نہیں، تجریبیات، تجریبیات، تجریبیات، ‏بات سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ یہ تفعلۃ وزن ہے، تفعیلیات، اچھا، اچھا تجربی اردو میں تجربیات آپ کہہ لو۔ تجربیات کس ‏کو کہتے ہیں؟ تجربیات یہ ہیں کہ آپ ایک چیز کا بار بار تجربہ آپ کو ہوتا ہے اور پھر آپ ایک حکم لگا دیتے ہیں۔ مثلاً ‏ایک غذا ہے، آپ جب بھی کھاتے ہیں آپ کا اس سے گلا خراب ہو جاتا ہے، تو آپ حکمِ کلی لگا دیتے ہیں یہ چیز جب بھی ‏کھاؤ گلا خراب ہو جاتا ہے۔ بھئی آپ نے تو آٹھ دس دفعہ کھائی ہے یا پندرہ دفعہ تجربہ کیا ہے، لیکن حکم کلی لگا دیا کہ ‏جب بھی اس چیز کو کھاؤ گے کیا ہوگا؟ کیونکہ آپ نے دس پندرہ دفعہ جتنی دفعہ بھی آپ نے تجربہ کیا ہمیشہ یہی نتیجہ ‏نکلا کہ اس سے آپ کا گلا خراب ہو جاتا ہے، تو آپ نے ایک حکمِ کلی لگا دیا کہ اس چیز کو جب بھی کھاؤ گے اس سے ‏کیا ہوگا؟ گلا خراب ہوگا، دیکھا یہ تجربے سے آپ کو بات معلوم ہوئی بھئی۔ یا جیسے آپ ایک چیز ہے وہ آپ جب بھی ‏کھاتے ہیں کسی مرض کے اندر مثلاً زکام وغیرہ میں آپ کو اس سے ہمیشہ فائدہ ہوتا ہے، مثلاً گلِ بنفشہ، گلِ بنفشہ ایک ‏دوا ہے وہ زکام کے اندر فائدہ دیتی ہے، تو آپ نے حکماء نے تجربات کیے دس دفعہ، پندرہ دفعہ، بیس دفعہ، ہر دفعہ یہی ‏نتیجہ نکلا کہ اس کے کھانے سے زکام میں فائدہ ہوتا ہے، تو انہوں نے حکمِ کلی لگا دیا کہ گلِ بنفشہ سے زکام میں فائدہ ‏ہوتا ہے۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ انہوں نے تو کتنی دفعہ تجربہ کیا ہوگا، کوئی تعداد ہوگی نا، دس ہوگی، بیس ہوگی، ‏تیس ہوگی، لیکن حکم کیسا لگا دیا؟ کلی لگا دیا کہ گلِ بنفشہ سے ہمیشہ زکام میں فائدہ ہوتا ہے، یہ ہے تجریبیات بھئی، جو ‏اب مختلف قسم کی چیزیں ہیں آپ کے تجربے میں آتی ہیں اور پھر آپ ان کا آگے خیال رکھتے ہیں، یہ سب کیا ہیں؟ ‏تجریبیات۔ اب دیکھیے کتاب پر: تجریبیات وہ قضیے ہیں کہ کئی مرتبہ ایک بات مشاہدہ کر کے عقل اس میں حکم کرے، جیسے گلِ ‏بنفشہ کو تم نے کئی مرتبہ دیکھا کہ زکام میں فائدہ کرتا ہے، تو کلی حکم کر دیا کہ گلِ بنفشہ زکام کے لیے فائدہ مند ہے۔ یہ ‏سمجھ میں آ گیا بھئی؟ تجریبیات۔ آگے دیکھیے بھئی: متواترات، متواترات وہ قضیے ہیں کہ ان کے یقینی ہونے کا حکم ایسی جماعت کے کہنے اور متفرق ‏خبروں سے کیا گیا ہو کہ ان سب خبروں کو جھوٹ نہ کہہ سکتے ہوں۔ متواترات یہ بھی آسان ہے بھئی، متواترات، بھئی ‏متواترات یہ ہے کہ ایک بات آپ کو تواتر یعنی تسلسل کے ساتھ بار بار پہنچی اور آپ نے اس خبر کا یقین کر لیا، کیا کر ‏لیا؟ کیونکہ وہ خبر دینے والے مختلف قسم کے اتنے زیادہ لوگ ہیں کہ عقل آپ کو خود بتا دیتی ہے کہ اتنے لوگ جھوٹ ‏نہیں بول سکتے، جب اتنے لوگ یہ بات کر رہے ہیں تو یقیناً بات ایسی ہی ہے۔ مثلاً مثلاً مکہ مکرمہ ایک شہر ہے بھئی، اور آپ بھی مانتے ہیں یا نہیں مانتے؟ حالانکہ آپ تو کبھی وہاں گئے ہی نہیں، ‏لیکن اتنے لوگوں نے آپ کو بتایا کہ مکہ مکرمہ ایک مبارک شہر ہے جہاں بیت اللہ واقع ہے اور لوگ وہاں حج کے لیے ‏جاتے ہیں، عمرے کے لیے جاتے ہیں، اور وہ آ کر بتلاتے ہیں کہ ہم مکہ مکرمہ گئے تھے، ہم نے بیت اللہ کو دیکھا ‏وغیرہ، تو تو اتنے لوگ خبر دینے والے ہیں کہ انسان مانتا ہے کہ ہاں بات واقعی ایسی ہی ہے، اس میں کسی قسم کا شک ‏اور شبہ نہیں، ان کو متواترات کہتے ہیں۔ یا جیسے امریکہ، آپ نے امریکہ دیکھا تو نہیں، آپ امریکہ گئے تو نہیں، لیکن ‏کتنے لوگ آپ کو بتاتے ہیں، کتنی کتابوں میں آپ پڑھتے ہیں، کتنے لوگ آپ کو خبر دیتے ہیں، کتنے اخبارات میں آپ ‏پڑھتے ہیں کہ امریکہ کا وجود ہے، امریکہ ایک ملک ہے، امریکہ میں ایسا ہوا، مختلف باتیں آتی ہیں، تو آپ نے یقین کر ‏لیا کہ یقیناً امریکہ ایک ملک ہے۔ دیکھو آپ تو کبھی نہیں گئے وہاں پر، لیکن آپ کو یقین ہے کہ یقین نہیں؟ یقین، کسی قسم ‏کا شک ہے اس میں؟ نہیں، حالانکہ آپ کبھی بھی نہیں گئے، کیوں یقین ہے؟ کیونکہ اتنے لوگ اتنے لوگ خبر دینے والے ‏ہیں، اتنی جگہ سے اس کی خبریں مل رہی ہیں کہ ذہن خود بخود مان لیتا ہے کہ جب اتنے لوگ خبر دے رہے ہیں تو یقیناً ‏یہ سچ بول رہے ہیں، اتنے لوگ کبھی بھی مل کر جھوٹ نہیں بول سکتے بھئی۔ اس کو کہتے ہیں متواترات۔ بات سمجھ ‏بھی آ گئی اچھی طرح؟ اب دیکھیے کتاب پر: متواترات وہ قضیے ہیں کہ ان کے یقینی ہونے کا حکم ایسی جماعت کے کہنے اور متفرق خبروں ‏سے کیا گیا ہو کہ ان سب خبروں کو جھوٹ نہ کہہ سکتے ہوں، یعنی اتنے خبریں دینے والے ہیں، اور متفرق، کوئی آج دے ‏رہا ہے، کوئی کل دے رہا ہے، کوئی یہ بھی نہیں کہ اکٹھے آ کر سارے خبر دے رہے ہیں۔ سمجھ میں آئی بات بھئی؟ ‏متفرق طرح کتابوں میں بھی لکھا ہے، لوگ بتانے والے ہیں، مسلسل بار بار خبریں آ رہی ہیں پتہ چل رہا ہے، کبھی ایک ‏سے ایک بات سنتے ہیں امریکہ کی، کبھی دوسرے سے، کبھی تیسرے سے، تو دیکھو اکٹھی خبریں آ رہی ہیں یا الگ ‏الگ؟ تو یہ متفرق ہو گئیں، دیکھا؟ تو لوگ بھی بہت زیادہ اور خبریں بھی متفرق، تو اس کی وجہ سے آپ نے یقین کر لیا، ‏تو یہ متواترات میں سے ہے۔ جیسے یہ قضیہ کہ کلکتہ ایک بڑا شہر ہے، کلکتہ شہر کا نام ہے بھئی، ہندوستان کے ایک، ‏تو کلکتہ ایک بڑا شہر ہے۔ اب دیکھو کلکتہ ایک بڑا شہر ہے، اب ہم تو نہیں گئے کبھی کلکتہ، ہم نے تو نہیں دیکھا، لیکن ‏لوگ بتانے والے ہیں، اتنے لوگ آ کر بتاتے ہیں کہ ہم کلکتہ گئے تھے، یا کتابوں میں اس کا ذکر آتا ہے، یا اخبارات میں ‏ذکر آتا ہے کہ کلکتہ میں یہ واقعہ ہوا یا یہ واقعہ ہوا، تو یہ ساری خبریں مل کر آپ کو یقین دلا دیتی ہیں کہ یقیناً کلکتہ کیا ‏ہے؟ ایک شہر ہے، آپ کو اس میں ذرہ برابر بھی شک نہیں رہتا۔ یقین ہے یا نہیں؟ جیسے ہندوستان، ایک ملک ہے کہ ‏نہیں؟ آپ کو یقین ہے کہ نہیں یقین؟ آپ کو یقین ہے، حالانکہ آپ کبھی نہیں گئے ادھر، یقین کیوں ہے؟ کیونکہ مختلف ‏ذرائع سے آپ کو جو خبریں پہنچ رہی ہیں، آپ کا ذہن خود مان لیتا ہے کہ یقیناً بات ایسی ہی ہے، اتنے لوگ کہہ رہے ہیں، ‏باتیں کر رہے ہیں، بتا رہے ہیں، معلوم ہوا یہ ایک ملک ہے، اگر ایسا نہ ہوتا تو اتنے لوگ جھوٹ نہیں بول سکتے تھے ‏بھئی۔ یقیناً ایسا ہی ہے، اتنے لوگ جھوٹ نہیں بول سکتے، اتنے لوگ جھوٹ پر اکٹھے نہیں ہو سکتے، جب سب بتا رہے ‏ہیں تو یقیناً بات ایسی ہی ہے، یہ کیا ہے؟ متواترات بھئی۔ دیکھیے کتاب پر: جیسے یہ قضیہ کہ کلکتہ ایک بڑا شہر ہے، اس کا یقینی ہونا ہم کو ایسی خبروں سے معلوم ہے کہ ان ‏خبروں کو ہم جھوٹ نہیں کہہ سکتے۔ چلیے بس بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ تھیں بدیہیات کی چھ قسمیں: اول کیا تھی؟ اولیات، دوسرا فطریات، تیسرا ‏حدسیات، اور تین آج ہم نے پڑھے: مشاہدات، تجریبیات اور متواترات بھئی۔ یہ چھ بدیہیات کی قسمیں ہیں بھئی۔ اور تو یہ جو قیاسِ برہانی ہے وہ انہی وہ وہ آپ نے پڑھا کہ اس کے مقدمات یقینی ہوں گے، اور وہ بدیہی بھی ہو سکتے ‏ہیں اور نظری بھی ہو سکتے ہیں، نظری بھی ہو سکتے ہیں، لیکن یاد رکھیے اس کے جو نظری مقدمات ہوں گے وہ بھی ‏ان کی بھی بنیاد بدیہی مقدمات پر ہوگی۔ قیاسِ برہانی کے مقدمات کیسے ہوتے ہیں؟ بدیہی بھی ہو سکتے ہیں اور؟ تو آپ ‏نے پڑھا کہ قیاسِ برہانی جو ہے وہ مقدماتِ یقینیہ سے مرکب ہوگا، اور وہ مقدماتِ یقینیہ بدیہی بھی ہو سکتے ہیں اور ‏نظری بھی، لیکن یاد رکھیے وہ جو نظری ہوں گے ان کی بھی بنیاد بدیہی پر ہی ہوگی، کس پر ہوگی؟ بدیہی پر ہی ہوگی، ‏یعنی ان کے دلائل بدیہی ہی ہوں گے، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو آسان لفظوں میں گویا یوں کہو کہ قیاسِ برہانی جو ہے وہ ‏ہمیشہ بدیہیات ہی سے بنتا ہے، کس سے بنتا ہے؟ اور وہ بدیہیات یہ چھ ہیں بھئی، انہی سے بنتا ہے۔ اگر کوئی نظری ہوا ‏بھی ان میں سے مقدمات نظری ہوئے بھی، تو ان نظری کی بنیاد بھی کس پر ہوگی؟ بدیہی پر ہوگی، یعنی ان کے دلائل ‏بدیہی ہی ہوں گے۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ اور تو وہ ان بدیہیات سے مل کر بنیں گے، اور بدیہیات کی چھ قسمیں ‏ہیں جو الحمد للہ ہم نے پڑھ لیں بھئی۔ چلیے بس بھئی، ھٰذا ھو المرام، واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔
44 approved lectures · 42 of 44