اچھا بھئی، آگے کتاب پر سبق دیکھیے: سبقِ ہفتم، قیاس کی قسمیں۔ قیاس کی دو قسمیں ہیں: قیاسِ استثنائی، قیاسِ اقترانی۔ قیاسِ استثنائی وہ قیاس ہے جو دو قضیوں سے مرکب ہو اور پہلا قضیہ شرطیہ ہو اور ان دونوں کے درمیان لفظِ "لیکن" آئے اور خود نتیجہ یا نتیجہ کی نقیض اس قیاس میں مذکور ہو، جیسے جب سورج نکلے گا دن موجود ہوگا لیکن سورج موجود ہے، پس دن موجود ہے۔ دیکھو اس قیاس میں نتیجہ بعینہٖ مذکور ہے۔ جیسے جب سورج نکلے گا دن موجود ہوگا لیکن دن موجود نہیں ہے، پس سورج نہیں ہے۔ دیکھو اس قیاس میں نتیجہ کی نقیض یعنی سورج نکلے گا مذکور ہے۔
آج ہم قیاس کی قسمیں پڑھیں گے۔ اور یہ آپ کو بتلائیں گے کہ قیاس کی دو قسمیں ہیں: ایک قیاسِ استثنائی اور ایک قیاسِ اقترانی۔ آئیے پہلے ذرا گزشتہ سبق کا خلاصہ کر لیتے ہیں جلدی جلدی تاکہ وہ سبق کا وہ سبق آپ کے ذہن میں تازہ ہو جائے، پھر ان شاء اللہ اس سبق کو سمجھنا بالکل آسان ہو جائے گا۔
گزشتہ سبق کے اندر ہم قیاس کی بحث پڑھ رہے تھے۔ آپ نے پڑھا تھا کہ حجت جو ہے وہ تین قسم پر ہے: یا وہ قیاس ہوگا، یا استقراء، یا تمثیل۔ پھر اس قیاس کی بحث ہم نے شروع کی تھی اور انہوں نے آپ کو بتلایا کہ قیاس وہ مرکب کلام ہے جو دو یا زیادہ قضیوں سے مل کر بنے اور اگر ان دو قضیوں کو آپ مان لیں تو آپ کو ایک اور قضیہ بھی ماننا پڑتا ہے جس کو نتیجہ قیاس کہتے ہیں۔ اور یہ جو نتیجہ ہے، نتیجہ کا موضوع اصغر کہلاتا ہے اور نتیجہ کا محمول اکبر کہلاتا ہے۔ اور یہ اصغر اور اکبر کہاں سے آتے ہیں؟ یہ قیاس کے دو مقدموں سے ہی آتے ہیں، جیسے ہر انسان جاندار ہے اور ہر جاندار جسم ہے، نتیجہ کیا نکلا؟ ہر انسان جسم ہے۔ تو یہ ہر انسان دیکھو یہ مقدمہ اولیٰ میں مذکور ہے اور جسم ہے یہ مقدمہ ثانیہ میں مذکور ہے، تو نتیجہ قیاس کے اندر ہی ہوتا ہے وہیں سے آتا ہے۔ اور اس میں جو مکرر حصہ ہے اس کو کیا کہتے ہیں؟ حدِ اوسط۔
تو قیاس کے پہلے مقدمے کو صغریٰ کہتے ہیں کیونکہ اس کے اندر اصغر مذکور ہوتا ہے، اور دوسرے مقدمے کو کبریٰ کہتے ہیں کیونکہ اس کے اندر اکبر مذکور ہوتا ہے۔ تو اسی اصغر اور اکبر سے تو یہ نتیجہ بنے گا بھئی۔ اور وہ جو حصہ مکرر ہے دونوں قضیوں یا دونوں مقدموں کے درمیان اس کو کیا کہتے ہیں؟ حدِ اوسط۔ اور نتیجہ نکالنے کا کیا طریقہ ہے؟ کہ حدِ اوسط کو گرا دیں اور جو باقی بچے ان کو آپس میں جوڑ دیں، تو کیا مل جائے گا آپ کو؟ نتیجہ حاصل ہو جائے گا بھئی۔
اور پھر آپ نے یہ بھی پڑھا کہ یہ جو حدِ اوسط جو ہے یہ مقدمہ اولیٰ میں محمول بن رہا ہے اور مقدمہ ثانیہ میں موضوع بن رہا ہے، تو یہ جو اس کی خاص ترتیب ہے خاص صورت ہے اس کو شکلِ اول کہتے ہیں۔ اور شکلیں کل کتنی ہیں؟ چار ہیں۔ تو یہ پہلی شکل ہے، اس کے اندر نتیجہ فوراً ذہن میں آ جاتا ہے بہت آسانی سے، فوراً ذہن نتیجے تک پہنچ جاتا ہے اس لیے اس کا پہلا نمبر رکھا کہ یہ شکلِ اول۔ تو شکلِ اول کے اندر حدِ اوسط صغریٰ میں کہاں آئے گا؟ محمول کی جگہ، اور کبریٰ میں کہاں آئے گا؟ موضوع کی جگہ آئے گا۔ اور اگر اس کا برعکس ہو جائے یعنی صغریٰ میں تو حدِ اوسط جو ہے موضوع کی جگہ آئے اور کبریٰ میں محمول کی جگہ آئے تو وہ کون سی شکل تھی؟ وہ شکلِ رابع تھی۔ اور اگر دونوں کے اندر محمول کی جگہ آ جائے حدِ اوسط تو یہ شکلِ ثانی ہے، اور دونوں میں اگر حدِ اوسط موضوع کی جگہ آئے تو وہ شکلِ ثالث ہے بھئی۔
اور پھر آپ نے یہ بھی پڑھا کہ نتیجہ ہمیشہ ارذل و اخس کے تابع ہوتا ہے۔ ارذل جو ادنیٰ درجے والا ہے، اخس اس کا بھی وہی معنی جو کم درجے والا ہے، اور یاد رکھیے ایک ہے موجبہ ایک ہے سالبہ۔ موجبہ میں اثبات ہوتا ہے، سالبہ میں نفی۔ تو موجبہ کا درجہ اعلیٰ ہے جس میں آپ ایک چیز کے لیے دوسری چیز کا اثبات کرتے ہیں جبکہ دوسری میں تو اسی چیز کی نفی کرتے ہیں، تو ایجاب والی صورت اعلیٰ اور نفی والی صورت ادنیٰ، تو موجبہ ہوا اعلیٰ اور سالبہ ہوا ادنیٰ۔ تو جب اگر ایک مقدمہ موجبہ ہو اور دوسرا سالبہ ہو تو نتیجہ ہمیشہ کیا آئے گا؟ سالبہ آئے گا کیونکہ ادنیٰ در نتیجہ کس کے مطابق آتا ہے؟ ادنیٰ درجے والے کے۔ اور اگر ایک مقدمہ کلیہ ہو اور ایک جزئیہ ہو تو کلیہ اعلیٰ درجے کا ہے کہ اس میں آپ سارے افراد پر حکم لگا رہے ہیں اور جزئیہ ادنیٰ درجے کا ہے کہ اس میں آپ کچھ افراد پر حکم لگا رہے ہیں، تو لہٰذا اگر قیاس کے دو مقدموں میں سے ایک کلیہ ہو اور ایک جزئیہ ہو تو نتیجہ ہمیشہ کس کے تابع ہوگا؟ ادنیٰ درجے یعنی جزئیہ ہوگا۔
صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو لہٰذا اگر قیاس کے دونوں مقدمے جزئیہ ہوں تو نتیجہ جزئیہ آئے گا، اگر دونوں مقدمے موجبہ ہوں تو نتیجہ موجبہ آئے گا، اگر دونوں کلیہ ہوں تو پھر کبھی کلیہ آئے گا اور کبھی جزئیہ آئے گا یہ میں آپ کو بتلا چکا بھئی، اور اگر ایک مقدمہ کلیہ ہے اور دوسرا جزئیہ ہے تو نتیجہ جزئیہ آئے گا اور اگر ایک موجبہ ہے اور ایک سالبہ ہے تو نتیجہ سالبہ آئے گا بھئی۔
پھر آپ نے یہ بھی پڑھا کہ یہ جو چار شکلیں ہیں یہ فوراً نتیجہ نہیں دیتیں بلکہ ان کی شرائط ہیں، وہ شرائط پوری ہوں گی تو پھر نتیجہ نکلے گا۔ ہم نے شرطِ اول کی دو شرائط پڑھ لی تھیں، باقیوں کی شرائط آپ ان شاء اللہ اگلی کتابوں میں پڑھ لیں گے۔ شکلِ اول کی کیا شرط تھی؟ ایجابِ صغریٰ، اور دوسری شرط کیا تھی؟ کلیتِ کبریٰ۔ صغریٰ کیا ہونا چاہیے؟ موجبہ ہونا چاہیے، اس میں نفی نہ ہو بلکہ اثبات ہو۔ اور کبریٰ کیا ہو؟ کلیہ ہو، جزئیہ نہ ہو۔ تو شکلِ اول کے نتیجہ دینے کے لیے کتنی شرطیں ہیں؟ دو شرطیں۔ پہلی شرط؟ ایجابِ صغریٰ، اور دوسری شرط؟ کلیتِ کبریٰ۔ یہاں تک بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟
اب آئیے آج کے سبق کی طرف۔ بحث چل رہی ہے حجت کی، حجت انہوں نے بتلایا اس کی تین قسمیں ہیں: قیاس، استقراء اور تمثیل۔ اور ان تین میں سے قیاس کی بحث ہم نے شروع کی تھی۔ قیاس کی تفصیل بیان کر دی کہ وہ دو یا زیادہ مقدموں سے مرکب ہوگا اور ان قضیوں کو مان لیں تو ایک اور قضیہ بھی آپ کو ماننا پڑے گا جس کو نتیجہ قیاس کہتے ہیں۔ آج آپ کو اس قیاس کی مزید تفصیل بتلا رہے ہیں اور بتلا رہے ہیں کہ اس قیاس کی دو قسمیں ہیں: ایک قیاسِ اقترانی ہے اور ایک قیاسِ استثنائی ہے۔
تو قیاس کی یہ قسمیں سمجھنے سے پہلے بھئی، آئیے وہ قضیے کی قسمیں ذرا ذہن میں دوبارہ تازہ کر لیں بھئی۔ وہ قضیے کی جو قسمیں ہم نے جو قضیہ کی بحث جہاں شروع ہوئی تھی اور اس کی جو تفصیل ہم نے پڑھی تھی، اگر وہ قسمیں آپ کے ذہن میں ہوں گی تو آپ ان شاء اللہ فوراً سمجھ جائیں گے۔ آپ نے پڑھا تھا قضیہ اس کلام کو کہتے ہیں جس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا کہا جا سکے۔ قضیہ کسے کہتے ہیں؟ جس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا کہا جا سکے، یعنی آسان لفظوں میں کہو وہ جملہ خبریہ کا نام ہے۔ جملہ خبریہ بھی کسے کہتے ہیں جس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا کہا جا سکے؟ تو قضیہ وہ مرکب قول ہے جس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا کہا جا سکے، اور پھر یہ دو قسم پر ہے: ایک قضیہ حملیہ ہے اور ایک قضیہ شرطیہ ہے۔
قضیہ حملیہ دو مفردوں سے مل کر بنتا ہے۔ ایک مفرد کے لیے دوسرے مفرد کا ثبوت ہوتا ہے یا نفی۔ ثبوت ہو تو وہ موجبہ کہلاتا ہے، نفی ہو تو سالبہ کہلاتا ہے، جیسے زید عالم ہے۔ دیکھو ایجاب ہے، یا زید عالم نہیں ہے، اس میں کیا ہے؟ اس میں سلب ہے تو یہ سالبہ ہوا۔ تو یہ قضیہ حملیہ ہے۔ تو قضیہ حملیہ کس سے مل کر بنتا ہے؟ دو مفردوں سے مل کر بنتا ہے، دو مفردوں سے۔ اور اس کے پہلے جز کو موضوع کہتے ہیں اور دوسرے جز کو محمول کہتے ہیں۔
جبکہ قضیے کی دوسری قسم قضیہ شرطیہ ہے۔ قضیہ شرطیہ دو قضیوں سے مل کر بنتا ہے اور اس کے پہلے جز کو مقدم کہتے ہیں اور دوسرے کو تالی کہتے ہیں، مثلاً اگر سورج نکلے گا تو دن ہوگا۔ تو اگر سورج نکلے گا یہ ایک قضیہ ہے، دن ہوگا یہ دوسرا قضیہ ہے۔ یہ اس میں آپ اگر یہ لفظِ اگر کو ہٹا دیں نا اگر کو، پہلا قضیہ کیا اس میں؟ اگر سورج نکلے گا، اگر کو ہٹا دو، سورج نکلے گا، گا کے بجائے دوسرا لے آؤ، سورج نکلا ہوتا ہے، یوں بنا لو۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ یہ لفظ ہوگا، ہو رہا ہے وغیرہ ان سے کوئی فرق نہیں پڑتا مختلف بھی ہوں، سورج کے نکلنے کی بات ہم نے کرنی ہے تو سورج نکلا ہوتا ہے تو یہ ایک قضیہ، دن موجود ہوتا ہے یہ دوسرا قضیہ، یوں کہو سورج نکلا ہے یہ پورا قضیہ ہے یا نہیں؟ دن موجود ہے یہ ایک پورا قضیہ ہے۔ تو دیکھا کتنے قضیے ہیں یہاں پر؟ دو۔ ان کو آپس میں اگر شروع میں اگر لے آئے، درمیان میں تو کا لفظ لے آئے اور پھر دونوں آپس میں جڑ گئے، اور موقع کے مطابق ہوگا یا ہو رہا ہے وغیرہ وہ لفظ آپ لے آئے ساتھ بھئی۔ اگر سورج نکلے گا تو دن موجود ہوگا، یہ کون سا قضیہ ہے؟ قضیہ شرطیہ۔
تو قضیہ شرطیہ ہمیشہ دو قضیوں سے مرکب... قضیہ حملیہ کس سے مرکب تھا؟ دو مفردوں سے۔ پہلے کو کیا کہتے تھے؟ موضوع اور دوسرے کو محمول، جبکہ قضیہ شرطیہ دو قضیوں سے مرکب ہوتا ہے۔ پہلے قضیہ کو کیا کہتے ہیں؟ مقدم، اور دوسرے کو کیا کہتے ہیں؟ تالی۔ مقدم، جس کو مقدم کا معنی ہے آگے کیا ہوا یعنی اس کو پہلے لایا گیا ہے آگے کیا گیا ہے، اور تالی کا معنی ہے بعد میں آنے والا پیچھے آنے والا تو وہ بعد میں آیا ہے اس لیے اس کو کیا کہتے ہیں؟ تالی۔
اور پھر آپ نے پڑھا تھا یہ قضیہ شرطیہ دو قسم پر ہے: یا متصلہ ہوگا یا منفصلہ۔ متصلہ میں اتصال، جوڑ کو بیان کیا جاتا ہے دو چیزوں میں، اگر سورج نکلے گا تو دن موجود ہوگا۔ دیکھا؟ سورج کے نکلنے اور دن کے ہونے میں جوڑ بیان کیا گیا ربط بیان کیا گیا کہ ایک ہوگا تو دوسرا بھی ہوگا، اس کو کیا کہتے ہیں؟ قضیہ شرطیہ متصلہ۔ اور ایک قضیہ شرطیہ کی قسم ہے منفصلہ، جس میں دو چیزوں میں انفصال یعنی جدائی بیان کی جاتی ہے، جیسے یہ عدد یا تو طاق ہے یا جفت ہے۔ طاق جو دو سے تقسیم نہ ہو اور جفت جو دو سے تقسیم ہو جائے۔ تو یہ عدد یا تو طاق ہے یا جفت ہے، تو دیکھو ان میں یا کا لفظ آیا، کیا آیا؟ یا کا لفظ آیا۔ دو چیزوں میں جدائی بیان کر دی گئی تو یہ لفظ یا تو طاق ہوگا یا کیا ہوگا؟ جفت، دونوں نہیں ہو سکتے۔ تو قضیہ شرطیہ کتنی قسم پر ہوا؟ ایک متصلہ اور ایک منفصلہ۔
پھر یہ جو متصلہ ہے، آپ نے پڑھا تھا دو قسم پر ہے: کبھی یہ لزومیہ ہوگا کبھی اتفاقیہ۔ مثلاً متصلہ میں آپ کیا کرتے ہیں؟ دو چیزوں کے درمیان جوڑ بیان کرتے ہیں، تو اگر یہ دونوں کے درمیان جو جوڑ ہے وہ لازمی ہو، ضروری ہو، جب بھی پہلا پایا جائے دوسرا ضرور پایا جائے تو اس کو کہتے ہیں متصلہ لزومیہ۔ اور اگر دونوں میں یہ جو جوڑ اور ربط ہے یہ لازمی نہیں ہے، اتفاقاً جمع ہو گئے ہیں، مثلاً زید اگر درجہ اولیٰ میں پڑھتا ہے تو بکر درجہ ثانیہ میں پڑھتا ہے۔ اگر، دیکھو میں اگر لے کر آ رہا ہوں، قضیہ شرطیہ ہے، اگر زید درجہ اولیٰ میں پڑھتا ہے یہ پہلا قضیہ مقدم، تو بکر درجہ ثانیہ میں پڑھتا ہے یہ کیا ہے؟ تالی۔ دیکھو زید کے درجہ اولیٰ میں ہونے کے ساتھ لازم نہیں ہے کہ بکر کس میں پڑھے؟ ثانیہ میں پڑھے، لیکن اتفاقاً ایسا ہو گیا ہے کہ زید اولیٰ میں ہے تو وہ ثانیہ میں ہے۔ لیکن پہلی مثال میں دیکھیں، سورج کے ساتھ دن کا ہونا لازم ہے، سورج جب بھی نکلے گا کیا ہوگا؟ دن ضرور ہوگا۔ تو یہاں جہاں مقدم کے ساتھ تالی کا اتصال ضروری ہو اس کو کہتے ہیں متصلہ لزومیہ، اور جہاں اتصال ضروری نہ ہو اتفاقاً ہو گیا ہو اس کو کہتے ہیں متصلہ اتفاقیہ۔
اسی طرح منفصلہ کے اندر بھی دو چیزوں کے درمیان کیا بیان کیا کیا بیان کیا جاتا ہے؟ انفصال۔ اگر یہ انفصال اتفاقاً ہو گیا ہو تو اس کو منفصلہ اتفاقیہ کہتے ہیں اور اگر ضروری ہو تو پھر اس کو منفصلہ عنادیہ کہتے ہیں۔ کبھی کبھار انفصال اتفاقاً ہو گیا ہوگا، مثلاً زید یا شاعر ہے یا منطقی ہے، یا یوں کہیں زید یا شاعر ہے یا کاتب ہے۔ اب دیکھو، شاعر اور کاتب ہونا ان میں تو کوئی مخالفت نہیں ہے، ایک ہی آدمی دونوں ہو سکتا ہے لیکن اتفاقاً زید ان میں سے ایک ہے اور ایک نہیں، تو انفصال جو آیا وہ اتفاقاً آ گیا کوئی ضروری نہیں۔ لیکن کبھی کبھی انفصال ضروری ہوتا ہے، مثلاً یہ عدد یا تو طاق ہے یا جفت ہے، دیکھو طاق اور جفت میں عناد ہمیشہ ہوگا کبھی دونوں اکٹھے ہو ہی نہیں سکتے، کوئی ایک ہی عدد طاق بھی ہو اور جفت ہو ایسا نہیں۔ تو اگر مقدم اور تالی کے درمیان اگر انفصال لازمی ہے ضروری ہے اور مخالفت ہے ہمیشہ سے تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ عنادیہ، منفصلہ عنادیہ، اور اگر اتفاقاً انفصال ہوا ہے تو اس کو منفصلہ اتفاقیہ کہتے ہیں۔
پھر آپ نے یہ بھی پڑھا تھا کہ یہ جو منفصلہ ہے پھر تین قسم پر ہے: یا یہ حقیقیہ ہوگا، یا مانعۃ الجمع ہوگا، یا مانعۃ الخلو۔ منفصلہ حقیقیہ کا معنی یہ ہے کہ جو مقدم اور تالی ہیں یہ دونوں کبھی بھی جمع نہیں ہو سکتے اور دونوں اٹھ بھی نہیں سکتے، دونوں میں سے ایک کا ہونا ضروری تو دوسرے کا نہ ہونا ضروری۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ دونوں ہو جائیں، اور یہ بھی نہیں ہو سکتا کہ دونوں ہی نہ ہوں کوئی تیسری صورت ہو جائے، نہیں نہیں۔ یہ مانعۃ الجمع اور مانعۃ الخلو کا مجموعہ ہے، اس میں دونوں چیزیں ہیں، جمع ہونا بھی دونوں کا منع اور دونوں سے خالی ہونا بھی منع، جیسے یہ عدد طاق ہے یا جفت ہے۔ دیکھو، جو بھی عدد ہوگا طاق اور جفت میں سے ایک ہو سکتا ہے دونوں نہیں، تو دونوں جمع نہیں ہو سکتے، اور دونوں اٹھ بھی نہیں سکتے کہ کوئی عدد ایسا ہو جو نہ طاق ہو اور نہ جفت ہو، ایک ضرور ہوگا۔ تو یہ کیا ہے؟ منفصلہ حقیقیہ۔
اور اگر مقدم اور تالی جو ہیں ان کا جمع ہونا تو منع ہے دونوں کا اٹھ جانا منع نہیں تو اس کو مانعۃ الجمع کہتے ہیں۔ جیسے یہ کاغذ یا تو سفید ہے یا کالا ہے، یہ کاغذ یا تو سفید ہے یا کالا ہے۔ اب یہ قضیہ منفصلہ ہے، یا کا لفظ آ رہا ہے جدائی بیان کی جا رہی ہے اور یہ مانعۃ الجمع ہے یعنی یہ دونوں جمع نہیں ہو سکتے، ایک صفحہ پورا کا پورا سفید ہو اور وہی صفحہ کا پورا کا پورا کیا ہو؟ کالا، یعنی دونوں اکٹھے نہیں ہو سکتے، دونوں اکٹھے نہیں ہو سکتے۔ ہاں دونوں اٹھ سکتے ہیں کہ نہ سفید ہو اور نہ کالا ہو بلکہ سبز ہو، یا نیلا ہو، یا سرخ ہو۔ تو مانعۃ الجمع میں دونوں مقدم اور تالی کا جمع ہونا منع ہوتا ہے، ان دونوں کا اٹھ جانا اور ان دونوں سے خالی ہو جانا منع نہیں ہوتا۔
جبکہ قضیہ مانعۃ الخلو اس کے اندر دونوں سے خالی ہونا منع ہوتا ہے جمع ہونا منع نہیں، مثلاً یا تو زید دریا میں ہے یا وہ ڈوبنے والا نہیں ہے۔ یہ مثال گزری تھی میں نے بڑی لمبی تفصیل بیان کی تھی۔ یا تو زید کیا ہے؟ دریا میں ہے، یا ڈوبنے والا نہیں ہے۔ یہ دونوں سے خالی نہیں ہو سکتا۔ یا تو زید کس میں ہوگا؟ دریا میں ہوگا، یا ڈوبنے والا نہیں ہوگا۔ یوں کہو پانی میں ہوگا، یا تو زید پانی میں ہوگا یا زید ڈوبنے والا نہیں ہوگا۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ یا تو ڈوبنے والا نہیں ہو ڈوبنے والا نہیں ہے، مطلب ڈوب رہا ہے تو پھر ظاہر سی بات ہے پہلی بات ہوگی، زید کس میں ہوگا؟ پانی میں ہوگا۔ پانی میں ہوگا۔ یا وہ کیا ہوگا؟ ڈوبنے والا دو ہی صورتیں ہیں نا یا ڈوبنے والا ہوگا یا ڈوبنے والا... اگر ڈوبنے والا ہے تو پہلی صورت، وہ کس میں ہے؟ پانی میں ہوگا۔ اور ڈوبنے والا نہیں ہے تو کون سی صورت ہوگی؟ وہ کہیں بھی ہو سکتا ہے لیکن ڈوبنے والا نہیں دوسری تو دو ہی صورتیں ہیں یا ڈوبنے والا ہے یا ڈوبنے والا نہیں، لیکن میں یہ دو لے کر نہیں آیا کیونکہ اگر ان دونوں کو میں لے کر آؤں تو پھر تو یہ حقیقیہ بن جائے گا: زید یا تو ڈوبنے والا ہے یا ڈوبنے والا... دونوں جمع ہو سکتے ہیں؟ کہ ڈوبنے والا ہو بھی اور نہ بھی ہو، ایسا ہو سکتا ہے؟ نہیں، دونوں جمع نہیں ہو سکتے۔ یا نہیں ڈوب رہا یا ڈوب رہا ہے، دو چیزوں میں سے ایک ہو سکتی ہے۔ اور دونوں ہی نہ ہوں یہ بھی نہیں ہو سکتا، دو ہی تو صورتیں ہیں یا ڈوبنے والا ہے یا ڈوبنے والا نہیں ہے، باہر ہے تو وہ ڈوبنے والا نہیں ہے۔ تو لہٰذا یہ نہیں میں کہتا کہ ڈوبنے والا ہے یا ڈوبنے والا نہیں ہے ورنہ تو یہ قضیہ منفصلہ حقیقیہ بن جائے گا جس میں جمع ہونا بھی منع ہوتا ہے اور خالی ہونا بھی منع ہوتا ہے، بلکہ میں صورت کون سی بنا رہا ہوں کہ خالی ہونا منع ہو جمع ہونا منع... تو میں نے کیا کہا؟ زید یا تو پانی میں ہے یا ڈوبنے والا نہیں ہے۔ اب مجھے بتاؤ، اگر وہ ڈوب رہا ہے تو پھر کون سی صورت ہو گئی؟ پانی میں ہے۔ اور اگر ڈوب نہیں رہا تو کون سی صورت ہو گئی؟ پانی میں نہیں ہے۔ تو معلوم ہوا دونوں میں سے ایک کا ہونا ضروری ہے۔ دونوں میں سے ایک کا ہونا ضروری ہے۔ پانی میں ہے تو پھر ہی ڈوب سکتا ہے نا، تو پھر ہے ڈوبنے والا، ورنہ وہ ڈوبنے والا... دونوں سے خالی نہیں ہو سکتا۔ ہاں دونوں جمع ہو سکتے ہیں، خالی نہیں ہو سکتا، یا تو وہ دریا میں ہے یا وہ ڈوبنے والا نہیں ہے۔
اس سے علاوہ کوئی مجھے بتائیے، کوئی صورت بتا دیجیے جو ان دو سے خالی ہو۔ میں کیا کہہ رہا ہوں؟ زید دریا زید پانی میں ہے یا زید ڈوبنے والا... ہاں کوئی زید کی صورت بتاؤ جو ان دو کے علاوہ ہو۔ زید زمین پر ہے، یہ تو دوسری صورت بن گئی، زید ڈوبنے والا نہیں ہے۔ زید شہر میں ہے، یہ بھی دوسری صورت ہے۔ زید کشتی میں بیٹھا ہوا ہے، یہ بھی کون سی صورت ہے؟ دوسری، زید ڈوبنے والا نہیں ہے۔ زید پانی میں تیر رہا ہے، یہ بھی کون سی صورت ہو گئی؟ دوسری صورت ہو گئی، زید ڈوبنے والا نہیں ہے۔ اور اور کیا صورت ہو سکتی ہے؟ ڈوب رہا ہے، تو اس میں وہ پہلی صورت آ جائے گی دریا میں ہے۔ تو دونوں سے خالی نہیں ہو سکتا۔ زید کی مجھے کوئی حالت بتا دو جو ان دو کے علاوہ ہو۔ یا تو وہ دریا میں ہوگا یا پانی میں ہوگا یا ڈوبنے والا... ہاں دونوں جمع ہو سکتے ہیں، جمع ہو سکتے ہیں، پانی میں بھی ہو اور ڈوب بھی نہ رہا ہو مثلاً تیر رہا ہو، یا کشتی میں بیٹھا ہوا ہو، تو دونوں جمع تو ہو سکتے ہیں لیکن دونوں سے خالی نہیں ہو سکتا۔
صورت سمجھ میں آ گئی؟ اچھی طرح؟ تو قضیہ شرطیہ دو قسم پر: ایک متصلہ جس میں اتصال بیان کیا جائے، ایک منفصلہ جس میں انفصال بیان کیا جائے۔ پھر منفصلہ جو ہے یا حقیقیہ ہوگا، یا مانعۃ الجمع، یا مانعۃ الخلو۔ منفصلہ حقیقیہ وہ جس میں مقدم اور تالی کا جمع ہونا بھی منع ہو اور دونوں کا علیحدہ ہونا بھی منع ہو، ایک ہونا ضروری ہوگا۔ جبکہ مانعۃ الجمع میں جمع ہونا منع ہے، دونوں سے خالی ہونا منع نہیں۔ اور مانعۃ الخلو میں دونوں سے خالی ہونا منع ہے، دونوں کا جمع ہونا منع نہیں۔ اچھی طرح بات سمجھ میں آ گئی؟
اب آئیے آج کے سبق کی طرف بھئی۔ انہوں نے کہا قیاس کی دو قسمیں ہیں: قیاسِ استثنائی اور قیاسِ اقترانی۔ ادھر دیکھیے بھئی، ادھر۔ ابھی آپ نے پڑھا، قیاس کی بحث شروع کی، آپ نے پڑھا قیاس کتنے قضیوں سے مرکب ہوگا؟ دو قضیوں سے، کم از کم دو قضیے، اور ان کو مانیں گے تو ایک تیسرا قضیہ بھی آپ کو ماننا پڑے گا اور اس کو کیا کہتے ہیں؟ نتیجہ قیاس۔ قیاس کم از کم دو قضیوں سے مرکب ہوتا ہے، کم از کم۔ اور قضیہ وہ تو حملیہ بھی ہو سکتا ہے اور شرطیہ بھی ہو سکتا ہے۔ تو ایک ہے قیاسِ اقترانی، ایک ہے قیاسِ استثنائی۔ یہ جو ابھی تک ہم نے قیاس کی بحث پڑھی نا کہ ہر انسان جاندار ہے اور ہر جاندار جسم ہے، تو دیکھو ہر انسان جاندار ہے یہ ایک مقدمہ اور ہر جاندار جسم ہے یہ دوسرا مقدمہ، اور یہ دونوں قضیہ حملیہ ہیں۔ اس میں کوئی شرطیہ ہے؟ اگر کے ساتھ کوئی بات کی گئی ہے؟ نہیں، اتصال کہیں نہیں بیان کیا گیا۔ اور کہیں یا کا لفظ آیا؟ نہیں، تو اس میں قضیہ شرطیہ نہیں ہے، یہ دونوں قضیہ حملیہ ہیں۔ یہ کیا ہیں؟ دونوں قضیہ حملیہ کس کو کہتے تھے جو دو مفرد سے مل کر بنے، ایک کو کیا کہتے ہیں؟ موضوع، دوسرے کو محمول کہتے ہیں۔ تو یہ جو ابھی تک قیاس کی ہم قسمیں پڑھ رہے تھے یہ قیاسِ اقترانی ہے۔ اقتران کا معنی ہے ملنا، ملنا۔ دیکھو اس میں بھی اصغر، اکبر اور حدِ اوسط وغیرہ آپس میں ملے ہوتے ہیں، جڑے ہوتے ہیں، اس لیے اس کو کیا کہتے ہیں؟ قیاسِ اقترانی کہتے ہیں۔
اور اس میں یہ بھی دیکھ لو کہ نتیجہ، نتیجہ کیا تھا؟ ہر انسان جسم ہے۔ تو ہر انسان یہ ایک ٹکڑا ہے نتیجے کا، موضوع، اور جسم ہے یہ کیا ہے؟ دوسرا ٹکڑا ہے، اور اوپر جو قیاس تھا جو دو مقدمے ہیں وہ ہے قیاس اور یہ کیا ہے؟ نتیجہ قیاس۔ تو قیاس اور ہے نتیجہ قیاس اور ہے۔ نتیجہ قیاس کیا؟ ہر انسان جسم ہے۔ یہ ہر انسان جسم ہے یہ قیاس کے اندر پورا کا پورا ذکر تھا یا ٹکڑے ٹکڑے کر کے ذکر تھا؟ ٹکڑے ٹکڑے کر کے ذکر تھا۔ ہر انسان صغریٰ میں تھا تو جسم ہے کس کے اندر تھا؟ کبریٰ کے اندر تھا۔ تو قیاسِ اقترانی یاد رکھو، وہ مرکب ہوتا ہے قضیہ حملیہ سے، کس سے؟ قضیہ حملیہ سے مل کر بنتا ہے۔ اور اس کو اقترانی کہتے ہیں، اقتران کا معنی ہے ملا ہونا، جڑ جانا، مل جانا۔ تو اس کے اندر بھی اس کے اندر بھی چونکہ اصغر اور اکبر اور حدِ اوسط ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں ملے ہوتے ہیں اس لیے اس کو کیا کہتے ہیں؟ قیاسِ اقترانی کہتے ہیں بھئی، قیاسِ اقترانی۔ اور اس کے اندر جو نتیجہ آیا وہ نتیجہ قیاس کے اندر اکٹھا ذکر نہیں تھا، الگ الگ ٹکڑے ذکر تھے، موضوع الگ تھا محمول الگ۔
تو یاد رکھو، اچھا ایک بات یاد رکھنا، یہ جو نتیجہ ہوتا ہے نا نتیجہ، یہ قیاس کے اندر ہوتا ضرور ہے کیونکہ وہیں سے نتیجہ آنا ہوتا ہے نا کہیں باہر سے تو نہیں لانا نتیجہ، تو نتیجہ قیاس کے اندر ذکر ہمیشہ ہوتا ہے، لیکن کبھی کبھی وہ اس کے ٹکڑے الگ الگ ہوں گے، موجود ہے لیکن ٹکڑے الگ الگ ہوں گے۔ کبھی پورا کا پورا نتیجہ ہی مذکور ہوگا قیاس کے اندر، اور کبھی کبھار نتیجہ نتیجہ نہیں، نتیجے کی نقیض مذکور ہوگی۔ کیا مذکور ہوگی؟ نقیض۔ نقیض کسے کہتے تھے؟ کہ ایک موجبہ ہو، دوسرا سالبہ ہو۔ اور دونوں میں سے ایک سچا ہو اور ایک جھوٹا ہو، اور دونوں جمع بھی نہ ہو سکیں اور دونوں اٹھ بھی نہ سکیں۔ یہ چیز پتھر ہے، یہ چیز پتھر نہیں ہے، دیکھو ایک موجبہ ہے ایک سالبہ، اور ایک سچا ہے ایک جھوٹا، یا تو یہ چیز پتھر ہے یا پتھر نہیں ہے، تو ایک سچا ہے اور ایک جھوٹ، اور دونوں جمع نہیں ہو سکتے، یہی چیز پتھر ہو بھی اور پتھر نہ بھی ہو ایسا نہیں ہو، اور دونوں اٹھ بھی نہیں سکتے یہ بھی نہیں ہو سکتا یہ چیز پتھر پتھر بھی نہ ہو اور پتھر نہیں ہے یہ بھی نہ ہو۔ یا تو پتھر ہے یا پتھر نہیں، دونوں ہی اٹھ جائیں، پتھر ہونا بھی اٹھ جائے اور پتھر نہ ہونا بھی اٹھ جائے، نہیں نہیں، یہ نہیں ہو سکتا، یا تو پتھر ہے یا پتھر نہیں ہے تیسری کوئی صورت ہے ہی نہیں یہاں پر۔ جو بھی صورت بنا لیں دیکھیں ان دو میں ضرور آئے گی، وہ لکڑی ہے تو کس میں بات داخل ہو گئی؟ پتھر نہیں ہے۔ وہ وہ روئی ہے، کس میں داخل ہو گئی؟ پتھر نہیں ہے۔ وہ درخت ہے، کس میں داخل ہو گئی؟ پتھر نہیں ہے۔ ایسا ہو ہی نہیں سکتا کہ وہ چیز ان دو سے خارج ہو جائے۔ تو ان دونوں کو ان دونوں قضیوں کو ایک دوسرے کی نقیض کہتے ہیں۔ نقیض کسے کہتے ہیں کہ اگر ایک قضیے کے اندر اثبات ہے تو دوسرے میں اسی چیز کی نفی ہو، اور ان دونوں میں سے ایک کیا ہوتا ہے؟ ایک موجبہ ہوتا ہے ایک سالبہ، ایک سچا ہوتا ہے اور ایک جھوٹا، دونوں جمع بھی نہیں ہو سکتے اور دونوں اٹھ بھی نہیں سکتے، تو ان کو نقیضین کہتے ہیں اور ایک ایک کو نقیض کہتے ہیں۔
اب مجھے نقیض بتائیے ذرا: یہ گھوڑا ہے، نقیض بتاؤ اس کی؟ یہ گھوڑا نہیں ہے۔ یہ قلم ہے، نقیض بتاؤ؟ یہ قلم نہیں ہے۔ وہ طالب علم نہیں ہے؟ وہ طالب علم ہے۔ آسان ہے، کوئی مشکل نہیں ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو بات میں کر رہا تھا کہ یہ جو قیاس ہے نا قیاس، اس کے اندر نتیجہ ہمیشہ مذکور ہوتا ہے۔ ہمیشہ مذکور... ہاں کبھی نتیجہ ٹکڑے ٹکڑے کر کے ہوگا، موضوع الگ ہوگا محمول الگ جیسے ابھی آپ نے ابھی تک پڑھا ہے، اور کبھی پورا کا پورا نتیجہ قیاس کے اندر بھی ذکر ہوگا، کس کے اندر؟ اور کبھی نتیجہ تو نہیں نتیجے کی نقیض قیاس کے اندر ذکر ہوگی۔ تو ابھی تک جو ہم نے پڑھا یہ ہے قیاسِ اقترانی۔ قیاس کی دوسری قسم قیاسِ استثنائی ہے۔ قیاسِ استثنائی، یہ جو اتنی لمبی بحث میں نے کی اب آپ کو اس کا فائدہ معلوم ہوگا بھئی۔ تو قیاس کی دوسری قسم قیاسِ استثنائی ہے۔
یاد رکھو قیاسِ استثنائی کے اندر بھی دو مقدمے ہوتے ہیں، لیکن یہاں پر پہلا مقدمہ قضیہ شرطیہ ہوگا۔ کیا ہوگا؟ قضیہ شرطیہ، اور جو دوسرا مقدمہ ہوگا وہ قضیہ حملیہ ہوگا۔ کیا ہوگا؟ قضیہ حملیہ، توجہ ہے؟ قیاسِ استثنائی کے اندر پہلا مقدمہ ہمیشہ کیا ہوگا؟ شرطیہ ہوگا، اور دوسرا مقدمہ ہمیشہ کیا ہوگا؟ حملیہ ہوگا، اور دونوں کے درمیان لفظِ "لیکن" آئے گا۔ کیا آئے گا؟ "لیکن" کا لفظ آئے گا، اور یہ "لیکن" کا لفظ استثناء کے لیے آتا ہے، کس کے لیے؟ ایک چیز کو دوسری چیز سے نکالنے کے لیے، اور اس کے لیے عربی میں لفظ کیا ہے؟ استثناء، استثناء۔ اس لیے اس کا نام قیاسِ استثنائی ہے کہ پہلا مقدمہ اور تالی کے درمیان کیا آ رہا ہے؟ حرفِ استثناء آ رہا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو قیاسِ استثنائی میں پہلا مقدمہ ہمیشہ کیا ہوگا؟ قضیہ شرطیہ، دوسرا مقدمہ ہمیشہ کیا ہوگا؟ قضیہ حملیہ۔
اچھا جب پہلا مقدمہ قضیہ شرطیہ ہے تو قضیہ شرطیہ تو دو قسم پر ہے، کبھی وہ کیا ہوتا ہے؟ یا قضیہ شرطیہ وہ متصلہ ہوگا یا کیا ہوگا؟ منفصلہ۔ متصلہ میں دو چیزوں میں اتصال بیان ہوتا ہے اگر کے ساتھ، اگر کے ساتھ، اگر کا لفظ آتا ہے، اور منفصلہ میں لفظِ حرفِ "یا" آتا ہے، یا کا کہ یہ لفظ یہ عدد یا تو جفت ہے یا طاق۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو پہلا مقدمہ ہمیشہ کیا ہوگا؟ قضیہ شرطیہ۔ اور جب وہ قضیہ شرطیہ ہے تو قضیہ شرطیہ تو دو قسم پر ہے، یا وہ متصلہ ہوتا ہے یا منفصلہ، تو وہ جو پہلا مقدمہ ہے وہ یا متصلہ ہوگا یا منفصلہ۔
پھر یہ بھی یاد رکھو کہ متصلہ کے اندر متصلہ لزومیہ آئے گا یہاں پر، اتفاقیہ نہیں، اتفاقیہ نہیں، بات سمجھ میں آ گئی؟ جس میں ایک چیز کے ہونے پر دوسری چیز کا ہونا ضروری ہو۔ سورج نکلے گا تو دن ہوگا۔ اگر زید درجہ اولیٰ میں پڑھتا ہے تو بکر درجہ ثانیہ میں پڑھتا ہے، یہ تو اتفاقاً جمع ہو گئے اس کی بات یہاں نہیں ہوگی بلکہ کس کی بات ہوگی؟ متصلہ لزومیہ کا ذکر آئے گا۔ اسی طرح اگر منفصلہ آتا ہے تو منفصلہ بھی اتفاقیہ یہاں نہیں آ سکتا کیونکہ وہ تو اتفاقاً دو چیزوں میں انفصال آ گیا ہے بلکہ یہاں کون سا آئے گا؟ منفصلہ عنادیہ آئے گا بھئی، عنادیہ آئے گا۔ پھر اس میں منفصلہ حقیقیہ بھی ہو سکتا ہے جس میں جمع ہونا بھی منع اور خالی ہونا بھی منع، یا منفصلہ مانعۃ الجمع بھی ہو سکتا ہے یا منفصلہ مانعۃ الخلو بھی ہو سکتا ہے، لیکن دوسرا مقدمہ ہمیشہ کیا ہوگا؟ قضیہ حملیہ، اور درمیان میں کون سا لفظ آئے گا؟ "لیکن"، اور اس حرف کو کیا کہتے ہیں؟ حرفِ استثناء۔ اسی لیے اس قیاس کا کیا نام ہے؟ قیاسِ استثنائی ہے۔
اور یاد رکھو، یہ جو قیاسِ اقترانی تھا نا قیاسِ اقترانی، اس میں پورا نتیجہ قیاس میں ذکر تھا اکٹھا؟ ابھی جو مثال پڑھی گزشتہ سبق میں: ہر انسان جاندار ہے اور ہر جاندار جسم ہے، نتیجہ کیا نکلا؟ ہر انسان جسم ہے۔ تو یہ ہر انسان جسم ہے یہ نتیجہ پورا کا پورا اکٹھا یہ قیاس میں تھا؟ اکٹھا نہیں تھا، الگ الگ اجزاء تھے، ہر انسان ایک جگہ تھا اور جسم ہے دوسری جگہ تھا۔ نتیجہ موجود تو ہوتا ہے قیاس میں لیکن کبھی الگ ہوتا ہے کبھی اکٹھا، تو یہاں پر کیا ہے؟ الگ الگ ہے۔ تو قیاسِ اقترانی کے اندر نتیجہ ہوتا ہے لیکن موضوع اور محمول الگ الگ پڑے ہوتے ہیں، الگ الگ موجود ہوتے ہیں، جبکہ قیاسِ استثنائی میں پورا کا پورا نتیجہ اکٹھا موجود ہوتا ہے اور کبھی نتیجہ نہیں ہوتا نتیجے کی نقیض موجود ہوتی ہے۔ کیا موجود ہوتی ہے؟ نقیض۔ ابھی میں نے بتا دیا، دن موجود ہے اس کی نقیض بناؤ؟ دن موجود نہیں ہے۔ اسی کی نفی کر دو، نفی ہو تو اثبات کر دو اثبات ہو تو نفی۔ دن موجود ہے، نقیض بناؤ؟ دن موجود نہیں ہے۔ سورج نکلا ہوا ہے؟ سورج نہیں نکلا ہوا، دیکھا یہ اس کی نقیض آ گئی۔ اور اگر میں کہوں دن موجود نہیں ہے، اس کی نقیض بناؤ؟ دن موجود ہے۔ نفی ہو تو اثبات کر دو اثبات ہو تو نفی کر دو۔ تو وہ جو قیاسِ استثنائی ہے کبھی اس میں پورا کا پورا نتیجہ ذکر ہوگا اور کبھی نتیجے کی نقیض ذکر ہوگی۔
مثلاً ادھر دیکھیے، میں کہتا ہوں، قیاسِ استثنائی بنانے لگا ہوں آپ کے سامنے، آپ نے پھر مجھے نتیجہ بتانا ہے۔ اگر سورج نکلا ہوگا تو دن موجود ہوگا لیکن سورج نکلا ہوا ہے، "لیکن" لایا یا نہیں میں؟ دیکھو اگر سورج نکلا ہوگا تو دن موجود ہوگا، یہ کیا ہے؟ کتاب پر آؤ، ذرا کتاب پر آؤ۔ کتاب پر ذرا عبارت دیکھو: سبقِ ہفتم، ساتواں سبق، قیاس کی قسمیں۔ قیاس کی دو قسمیں ہیں: قیاسِ استثنائی، قیاسِ اقترانی۔ آگے بھئی یہ بہت لمبا حاشیہ دیا ہوا ہے دو صفحوں پر، اس کے بعد آ رہا ہے: قیاسِ استثنائی وہ قیاس ہے جو دو قضیوں سے مرکب ہو اور پہلا قضیہ شرطیہ ہو اور ان دونوں کے درمیان لفظِ "لیکن" آئے اور خود نتیجہ یا نتیجہ کی نقیض اس قیاس میں مذکور ہو، یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ جیسے اب قیاس شروع ہونے لگا ہے: جب سورج نکلے گا دن موجود ہوگا، جب کے بجائے ذرا اگر لے آؤ آپ کو بات اچھی طرح سمجھ میں آ جائے گی، چاہے جب کہہ لو چاہے اگر کہہ لو بات ایک ہی ہے بھئی۔ جب سورج نکلے گا دن موجود ہوگا، یہ کون سا قضیہ ہے؟ شرطیہ ہے۔ اور کون سا ہے شرطیہ؟ متصلہ۔ جب سورج نکلے گا تو دن ہوگا، تو جب سورج نکلے گا دن موجود ہوگا یہ ہے پہلا مقدمہ سارا کا سارا، یہ ہے قضیہ شرطیہ۔ اب آگے آ گیا "لیکن"، "لیکن" کے بعد دوسرا مقدمہ ہی آتا ہے اور دوسرا مقدمہ کیا ہے؟ یہ قضیہ حملیہ ہے: لیکن سورج موجود ہے۔
ادھر دیکھو، اگر سورج نکلے گا تو دن موجود ہوگا لیکن سورج نکلا ہوا ہے، نتیجہ کیا نکلا؟ دن موجود ہے۔ پھر سنو، اگر سورج نکلے گا تو دن موجود ہوگا لیکن سورج نکلا ہوا ہے، پیچھے بتا دیا نا سورج جب بھی ہوگا کیا ہوگا؟ اور میں نے اب آپ کو بتا دیا کہ سورج تو ہے، تو آپ کو کیا پتہ لگا؟ دن بھی موجود ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ پھر سنو، اگر سورج نکلے گا تو دن موجود ہوگا لیکن سورج موجود ہے، دن موجود ہے۔
اب دیکھیے کتاب پر، جیسے جب سورج نکلے گا دن موجود ہوگا، دیکھو دو چیزوں میں اتصال بیان کر دیا کہ سورج کے نکلنے کے ساتھ دن کا موجود ہونا ضروری، پھر آگے "لیکن" کے ساتھ بتا بھی دیا اس وقت کیا صورتحال ہے، کیا صورتحال ہے؟ سورج موجود ہے۔ جب سورج موجود ہے تو پیچھے اتصال بیان کیا تھا یا نہیں؟ دن کب ہوتا ہے؟ جب سورج ہو۔ تو جب بتا دیا سورج موجود ہے تو معلوم ہوا اس وقت کیا ہے؟ دن ہے، دن ہے۔ دیکھا نتیجہ آیا، پس دن موجود ہے، یہ نتیجہ ہے، پس کے ساتھ کیا بتا رہے ہیں؟ نتیجہ، پس دن موجود ہے۔ جب سورج موجود ہے تو دن موجود ہے۔
آگے دیکھیے کتاب پر: دیکھو اس قیاس میں نتیجہ بعینہٖ مذکور ہے۔ قیاس کہاں سے کہاں تک ہے ذرا مجھے بتاؤ؟ جب سورج نکلے گا دن موجود ہوگا لیکن سورج موجود ہے، یہاں تک ہے قیاس۔ آگے ہے، پس دن موجود ہے، یہ ہے نتیجہ قیاس۔ نتیجہ قیاس کیا ہے؟ دن موجود ہے یعنی دن کے موجود ہونے کا ذکر ہے یا دن کے موجود ہونے کی نفی ہے؟ کیا ہے؟ دن کے موجود ہونا ذکر ہے، دن کے موجود ہونے کا اثبات ہے یا دن کے موجود ہونے کی نفی ہے؟ اثبات ہے۔ اور پیچھے ذرا اس قیاس میں آ جاؤ، جب سورج نکلے گا دن موجود ہوگا، تو یہاں بھی دن کے وجود کا اثبات ذکر ہے۔ صورت سمجھ میں آئی؟ ہوگا وغیرہ ان لفظوں کو نہ دیکھیں کہ ادھر تو ہے دن موجود ہوگا اور نتیجے میں آ رہا ہے دن موجود ہے، یہ ہے، ہوگا وغیرہ نہ دیکھیں کیونکہ وہاں پر اگر کا لفظ آیا تھا نا، اگر کی وجہ سے ہمیں کچھ ہوگا یا ہو رہا ہے یا ہونے والا ہے کچھ تو لفظ بدلنے پڑتے ہیں، لیکن موضوع اور محمول اسی طرح ہیں یا نہیں؟ کس چیز کا ذکر ہے؟ دن کے موجود ہونے کا ذکر ہے، اور نتیجے میں بھی کیا ہے؟ دن کے موجود ہونے کا ذکر ہے، تو پورا کا پورا نتیجہ مذکور ہے کس کے اندر؟ قیاس میں۔ صورت اچھی طرح سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو انہوں نے آپ کو بتایا ادھر دیکھیے، قیاسِ استثنائی کسے کہتے ہیں؟ جس میں پہلا مقدمہ کیا ہو؟ قضیہ شرطیہ، اور دوسرا مقدمہ کیا ہو؟ قضیہ حملیہ، اور درمیان میں کیا لفظ آئے؟ "لیکن" کا لفظ آئے، اور اس میں نتیجہ یا نتیجے کی نقیض قیاس کے اندر ہی مذکور ہو۔ ابھی نتیجہ کیا آیا؟ دن موجود ہے، اور اسی دن کے موجود ہونے کا ذکر اسی طرح اثبات کے ساتھ کس میں مذکور تھا؟ قیاس میں بھی تھا، وہاں دن کے موجود ہونے کی نفی تھی یا دن موجود ہوگا تھا؟ دن موجود ہوگا تھا، نفی نہیں تھی تو بعینہٖ نتیجہ وہاں بھی مذکور تھا۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟
اور کبھی اس کا عکس ہوتا ہے، نتیجہ خود نہیں مذکور ہوتا نتیجے کی نقیض مذکور ہوتی ہے۔ کیا مذکور ہوتی ہے؟ نقیض۔ نتیجے کی نقیض مذکور ہوتی ہے، جیسے اگلی مثال دیکھیے کتاب پر: جیسے جب سورج نکلے گا دن موجود ہوگا، یہ پہلا قضیہ شرطیہ، لیکن دن موجود نہیں ہے، نتیجہ کیا نکلا؟ سورج موجود نہیں ہے۔ مشکل ہے یا آسان ہے؟ بالکل آسان ہے۔ پس دیکھا خود بتلا رہے ہیں نتیجہ، پس سورج نہیں ہے۔ یہ کیا ہے؟ پس سورج نہیں ہے، یہ نتیجہ ہے۔ تو نتیجے میں سورج کے ہونے کا ذکر ہے یا نہ ہونے کا ذکر؟ نہ ہونے کا ذکر، اور قیاس کے اندر کیا تھا؟ سورج نکلے گا یعنی سورج کے نکلنے اور ہونے کا ذکر تھا۔ سورج کے ہونے کا ذکر تھا اور نتیجے میں کیا ہے؟ نہ نکلنے کا ذکر ہے، تو قیاس میں نتیجہ ذکر ہے یا نتیجے کی نقیض ذکر ہے؟ نقیض ذکر ہے، نتیجے میں تو کیا ہے؟ سورج نکلا نہیں ہے، اور قیاس میں کیا تھا؟ سورج نکلے گا تو دن ہوگا، تو سورج کے نکلنے کا ذکر ہے نہ نکلنے کا ذکر نہیں، اور نتیجے میں کیا ہے؟ سورج کے نہ نکلنے کا ذکر ہے، اور قیاس میں کیا تھا؟ سورج کے نکلنے کا ذکر ہے، تو دونوں کیا ہے ایک دوسرے کی نقیض ہیں، تو دیکھو نتیجے کی نقیض کس کے اندر مذکور تھی؟ قیاس کے اندر۔
اچھی طرح بات سمجھ میں آ گئی؟ بہت آسان ہے، بہت آسان ہے۔ تو آگے دیکھیے کتاب پر: دیکھو اس قیاس میں نتیجہ کی نقیض یعنی سورج نکلے گا مذکور ہے۔ اب آپ مجھے بتائیے، میں آپ کے سامنے کچھ قیاسِ استثنائی ذکر کرتا ہوں، آپ نے مجھے نتیجہ بتانا ہے۔ اگر بارش ہوگی تو سردی ہو جائے گی لیکن بارش تو ہو رہی ہے، تو سردی ہے، دیکھا؟ اگر بارش ہوگی تو سردی ہوگی لیکن بارش ہو رہی ہے، تو سردی موجود ہے یہ نتیجہ نکلا ہے۔ اور سردی موجود ہونے کا ذکر پیچھے بھی تھا یا نہیں؟ اگر بارش ہوگی تو سردی ہوگی یعنی سردی موجود ہوگی، دیکھا وہاں بھی پورا نتیجہ تھا۔ اور مثال لے لیں: اگر بارش ہوگی تو سردی ہوگی لیکن سردی نہیں ہے، بارش نہیں ہو رہی۔ اور پیچھے کیا ذکر تھا؟ بارش نہ ہونے کا ذکر تھا یا اگر بارش ہوگی ذکر تھا؟ تو معلوم ہوا نتیجے کی نقیض ذکر تھی وہاں۔ اب بات سمجھ میں آ گئی اچھی طرح؟
آگے دیکھیے بھئی: قیاسِ اقترانی وہ ہے جس میں حرفِ "لیکن" مذکور نہ ہو۔ بھئی میں نے ابھی بتایا، قیاسِ اقترانی کس کو کہتے ہیں؟ وہی جو ابھی تک ہم نے گزشتہ سبق میں پڑھا تھا وہ کیا ہے؟ قیاسِ اقترانی ہے۔ تو کہتے ہیں قیاسِ اقترانی وہ ہے جس میں حرفِ "لیکن" مذکور نہ ہو، اس میں حرفِ "لیکن" مذکور تھا؟ جی؟ نہیں تھا، اسی لیے ذکر کر رہے ہیں قیاسِ اقترانی وہ ہے جس میں حرفِ "لیکن" مذکور نہ ہو اور نتیجہ یا نقیضِ نتیجہ بعینہٖ مذکور نہ ہو یعنی پورا کا پورا اسی طرح مذکور نہ ہو، جیسے ہر انسان جاندار ہے اور ہر جاندار جسم ہے، پس ہر انسان جسم ہے، تو وہاں دیکھو پورا نتیجہ اکٹھا تھا ہی نہیں جبکہ یہاں پر پورا نتیجہ یا نتیجے کی نقیض پوری ذکر تھی قیاسِ استثنائی میں۔ دیکھیے کتاب پر: دیکھو اس میں نتیجہ کے اجزاء انسان اور جسم الگ الگ تو قیاس میں مذکور ہیں مگر نتیجہ بعینہٖ یا اس کی نقیض مذکور نہیں ہے اور نہ اس میں حرفِ "لیکن" ہے۔
اب پھر دہراؤ، قیاسِ استثنائی کسے کہتے ہیں؟ جس میں پہلا مقدمہ قضیہ شرطیہ ہو اور دوسرا مقدمہ قضیہ حملیہ ہو اور دونوں کے درمیان لفظِ "لیکن" آئے، اور اس قیاس میں نتیجہ پورا کا پورا یا اس نتیجے کی نقیض مذکور ہوگی۔
یہ تو تھا اگر سورج نکلے گا تو دن ہوگا، قضیہ شرطیہ آیا یا نہیں؟ اور یہ متصلہ تھا، کیا تھا؟ ذرا منفصلہ میں آ جاؤ، منفصلہ میں آ جاؤ، یہ کہ عدد یا تو طاق ہوتا ہے یا جفت ہوتا ہے، یہ قضیہ منفصلہ ہے۔ عدد یا تو طاق ہوتا ہے یا جفت ہوتا ہے لیکن یہ عدد جفت ہے، کیا نتیجہ نکلا؟ طاق سیدھی سی بات ہے جب یہ جفت ہے تو طاق نہیں ہے۔ یا یوں کہو عدد یا تو طاق ہوتا ہے یا جفت ہوتا ہے لیکن یہ عدد جفت نہیں ہے، نتیجہ کیا نکلا؟ یہ عدد طاق ہے۔ یا میں کہتا ہوں کہ عدد طاق ہوتا ہے یا جفت ہوتا ہے لیکن یہ عدد طاق ہے، جفت نہیں ہے۔ آسان ہے یا نہیں بھئی؟ بالکل آسان ہے، بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟
اب اس میں ایک تھوڑی تفصیل اور یاد رکھیں بھئی، تھوڑی سی تفصیل۔ دیکھیے بھئی، اگر یہ جو قیاسِ استثنائی ہے، اس کا پہلا جز ہمیشہ کیا ہوتا ہے؟ قضیہ شرطیہ، پہلا مقدمہ کیا ہوتا ہے قضیہ؟ وہ پھر متصلہ بھی ہو سکتا ہے اور منفصلہ بھی۔ تو متصلہ کے اندر کیا بیان کیا جاتا ہے؟ دو چیزوں کے اندر اتصال۔ تو عقلاً چار صورتیں وہاں بنتی ہیں، کتنی صورتیں؟ عقلاً، عقل ہمیں بتلاتی ہے کہ یہاں چار صورتیں ہونی چاہییں چاروں میں نتیجہ آنا چاہیے۔ کس طرح؟ دیکھو ادھر دیکھو میری طرف دیکھو، یہ میرے سامنے قضیہ شرطیہ متصلہ ہے، کیا ہے؟ اس متصلہ میں کیا کیا جاتا ہے؟ دو چیزوں میں اتصال، کہ یہ پہلی ہے تو دوسری بھی ہے۔ تو یہاں چار صورتیں بن گئیں: "لیکن" کے بعد ذکر ہوگا، "لیکن" کے بعد ذکر ہوگا، لیکن پہلی چیز ہے، نتیجہ کیا نکلے گا؟ تو دوسری بھی ہے۔ اتصال ہے نا، سورج ہے تو دن بھی ہے۔ تو عقلاً چار صورتیں بنتی ہیں۔ "لیکن" کے بعد کیا ذکر ہوگا؟ پہلی کا اثبات ہوگا: لیکن سورج ہے۔ نتیجہ کیا نکلے گا؟ نہیں توجہ میرا خیال سبق کی طرف۔
دیکھو پہلا جز کیا ہے؟ قیاسِ استثنائی کا پہلا مقدمہ کیا ہے؟ قضیہ شرطیہ، کیا ہے؟ اس قضیہ شرطیہ یہ متصلہ بھی ہو سکتا ہے اور... ابھی ہم صرف متصلہ کی بات کرتے ہیں۔ متصلہ کے اندر دیکھو "لیکن" سے پہلے پورا متصلہ ذکر ہوگا اور "لیکن" کے بعد ایک قضیہ حملیہ ذکر ہوگا، تو "لیکن" کے بعد مثلاً یہ ہے: اگر سورج نکلے گا تو دن موجود ہوگا۔ ان دونوں میں اتصال ہے یا نہیں؟ سورج کے نکلنے کے ساتھ کس کا اتصال ہے؟ دن کے نکلنے کا اتصال بیان کر دیا، اب آگے کہہ رہے ہیں اسی قیاس کے اندر ہی کہہ رہے ہیں: لیکن سورج نکلا ہوا ہے، یہ پہلے حصے کا ذکر ہے یا دوسرے کا؟ مقدم، مقدم۔ پھر آؤ مقدم پہ، پھر آؤ مقدم پر، یہ میرے سامنے قضیہ شرطیہ متصلہ ہے، توجہ ہے؟ یہ کیا ہے؟ قضیہ شرطیہ متصلہ کے اندر کتنے جز ہوتے ہیں؟ دو۔ قیاس کے اندر پہلا مقدمہ کیا ہوگا قیاسِ استثنائی میں؟ قضیہ شرطیہ، اور دوسرا کیا ہوگا؟ حملیہ، تو یہ دونوں مقدمے ہیں، پہلا مقدمہ اور دوسرا مقدمہ۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟
تو قیاسِ استثنائی میں پہلا مقدمہ ہمیشہ کیا ہوگا؟ قضیہ شرطیہ، دوسرا مقدمہ ہمیشہ کیا ہوگا؟ قضیہ حملیہ۔ جب سورج نکلے گا دن موجود ہوگا یہ کیا ہے؟ پہلا مقدمہ، لیکن سورج موجود ہے یہ کیا ہے؟ دوسرا مقدمہ ہے۔ تو پہلا مقدمہ ہمیشہ کیا ہوگا؟ قضیہ شرطیہ، دوسرا مقدمہ ہمیشہ کیا ہوگا؟ قضیہ حملیہ ہوگا بھئی۔ تو یہ جو قیاس ہے اس کے پہلے حصے کو پہلا مقدمہ کہیں گے اور دوسرے کو دوسرا مقدمہ کہیں گے بھئی۔ مقدم اور تالی وہ قضیہ شرطیہ کے پہلے جز کو مقدم کہتے ہیں اور دوسرے کو کیا کہتے ہیں؟ تالی کہتے ہیں، یہاں پر کیا کہتے ہیں؟ مقدمہ اولیٰ اور مقدمہ ثانیہ کہیں گے بھئی۔ تو لہٰذا جب سورج نکلے گا دن موجود ہوگا یہ کیا ہے؟ مقدمہ اولیٰ ہے، اور لیکن سورج موجود ہے یہ کیا ہے؟ مقدمہ ثانیہ ہے بھئی۔ تو پہلا مقدمہ وہ کیا ہے؟ قضیہ شرطیہ، دوسرا مقدمہ وہ کیا ہے؟ قضیہ حملیہ۔
تو اب دیکھیے قضیہ شرطیہ کی بات میں کرتا ہوں صرف، کس کی بات؟ قضیہ شرطیہ، قضیہ شرطیہ وہ متصلہ بھی ہو سکتا ہے اور منفصلہ، ہم پہلے صرف متصلہ کی بات کرتے ہیں۔ قضیہ متصلہ کے اندر کتنے جز ہوتے ہیں؟ دو: ایک مقدم، ایک تالی، اور دونوں میں کیا بیان کیا جاتا ہے؟ اتصال، پہلا ہے تو دوسرا بھی ہے، پہلا نہیں تو دوسرا بھی نہیں۔ تو یہاں چار صورتیں بنتی ہیں: پہلا ہے تو دوسرا بھی ہے، پہلا نہیں تو دوسرا بھی نہیں۔ دوسرا ہے تو پہلا بھی ہے، دوسرا نہیں تو پہلا بھی نہیں۔ عقلاً کتنی صورتیں یہی بنتی ہیں نا؟ پہلے پہ بھی نظر رکھو اس کے بعد دوسرے پہ ذرا نظر رکھو، پہلا ہے تو دوسرا بھی ہے، اگر پہلا نہیں تو دوسرا بھی نہیں۔ اب ذرا دوسرے پہ آ جاؤ، اگر دوسرا ہے تو پہلا بھی ہے، دن ہے تو سورج بھی نکلا، اگر دن نہیں تو سورج بھی نہیں نکلا، تو کل چار صورتیں بن گئیں۔ پہلے کا اثبات ہوگا یا پہلے کی نفی، دوسرے کا اثبات ہوگا یا دوسرے کی نفی، یوں کہو مقدم کا قضیہ شرطیہ ہے نا؟ اس میں ایک کیا ہوگا؟ مقدم، ایک تالی۔ تو مقدم کا اثبات ہوگا یا مقدم کی نفی، اور پھر تالی کا اثبات ہوگا یا تالی کی نفی، تو کتنی صورتیں ہو گئیں؟ چار۔ اگر مقدم کا اثبات ہو تو تالی کا بھی اثبات ہوگا، اگر مقدم کی نفی ہو تو تالی کی بھی نفی ہوگی، اگر تالی کا اثبات ہو تو مقدم کا بھی اثبات ہوگا، اگر تالی کی نفی ہو تو مقدم کی بھی نفی ہوگی۔
پہلے حصے کو پکڑو اس کے ساتھ اثبات اور نفی جوڑو، پھر دوسرے حصے کو پکڑو یعنی تالی کو اس کے ساتھ بھی کیا جوڑو؟ اثبات اور نفی۔ پہلے کا اثبات ہوا تو دوسرے کا بھی اثبات ہوا، پہلے کی نفی ہوئی تو دوسرے کی بھی نفی۔ اور اگر تالی کا اثبات کر دیں آپ تو کیا ہوگا؟ مقدم کا بھی اثبات، اگر دن موجود ہے معلوم ہوا سورج بھی... بلکہ مثال سے سمجھو، دیکھو اگر سورج موجود ہے اگر سورج نکلے گا تو دن تو دن ہوگا، اگر سورج نکلے گا تو دن ہوگا۔ تو سورج کے نکلنے کے ساتھ کس کا اتصال ہے؟ دن کا اتصال ہے۔ اب اگر میں کہوں سورج نکلا ہے، نتیجہ کیا نکلے گا؟ دن ہے۔ اگر میں کہوں سورج نہیں نکلا، تو نتیجہ کیا نکلے گا؟ دن نہیں ہے۔ اور اگر میں کہوں دن ہے، میں کہتا ہوں اگر سورج نکلے گا تو دن ہوگا لیکن دن ہے، نتیجہ کیا نکلے گا؟ سورج ہے، دیکھا تالی کا اثبات کیا تو مقدم کا اثبات۔ اور اگر میں کہوں دن نہیں ہے، تالی کی نفی کروں تو تو مقدم یعنی سورج کی بھی نفی ہو جائے گی۔
تو کتنی صورتیں بنیں عقلاً؟ چار صورتیں، یا کیا کرو گے؟ ادھر دیکھو ادھر دیکھو، یہ میرے سامنے قیاسِ استثنائی ہے، اس کا پہلا مقدمہ کیا ہے؟ شرطیہ متصلہ، کیا ہے؟ اور پھر "لیکن" آیا، اور "لیکن" کے بعد پھر ایک قضیہ حملیہ ہے۔ کیا ہے؟ اس قضیہ حملیہ میں یا تو آپ جو پہلا حصہ کیا تھا؟ شرطیہ تھا نا، اس شرطیہ میں کیا تھا؟ ایک مقدم اور ایک تالی۔ پھر کیا آیا؟ "لیکن" آیا، پھر؟ تو اس "لیکن" کے بعد آپ اس قضیہ شرطیہ کے مقدم کا یا اثبات کریں گے یا مقدم کی نفی کریں گے، یا تالی کا اثبات کریں گے یا تالی کی نفی کریں گے۔ مثلاً اگر سورج نکلے گا تو دن موجود ہوگا لیکن سورج موجود ہے، دن موجود ہے، دیکھو میں نے مقدم کا اثبات کیا تو تالی کا بھی اثبات ہو گیا۔ اگر میں مقدم کی نفی کروں: اگر سورج نکلے گا تو دن ہوگا لیکن سورج نہیں نکلا، دن موجود نہیں، دیکھو میں نے "لیکن" کے بعد کیا کی؟ مقدم کی نفی کر دی۔ اب "لیکن" کے بعد ذرا تالی کا اثبات لاؤ: اگر سورج نکلے گا تو دن ہوگا لیکن دن نکلا ہے، تو سورج بھی نکلا ہے۔ اور اگر میں تالی کی "لیکن" کے بعد نفی کروں: اگر سورج نکلے گا تو دن ہوگا لیکن دن موجود نہیں ہے، تو مقدم کی بھی کیا ہو گئی؟ نفی۔
تو کل کتنی صورتیں ہیں یہاں؟ چار صورتیں ہیں کہ "لیکن" کے بعد آپ اس کے جو ماقبل میں قضیہ شرطیہ متصلہ آیا ہے، "لیکن" کے بعد آپ اس کے مقدم کا اثبات کریں گے تو تالی کا آگے نتیجے میں کیا ہو جائے گا؟ اثبات۔ اگر آپ "لیکن" کے بعد مقدم کی نفی کریں گے تو نتیجے میں تالی کی بھی نفی ہو جائے گی۔ اور اگر "لیکن" کے بعد آپ تالی کا اثبات کریں تو نتیجے میں تو نتیجے میں مقدم کا اثبات ہو جائے گا۔ اور اگر آپ "لیکن" کے بعد کیا کریں؟ تالی کی نفی کریں تو نتیجے میں کیا ہوگا؟ مقدم کی نفی ہو جائے گی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اچھی طرح؟
تو عقلاً چار صورتیں بنتی ہیں کہ "لیکن" کے بعد جو قضیہ حملیہ آنا ہے، اس "لیکن" کے بعد قضیہ حملیہ میں یا مقدم کا اثبات ہوگا یا مقدم کی نفی ہوگی، یا تالی کا اثبات ہوگا یا تالی کی نفی ہوگی اور پھر آگے فوراً آپ کو نتیجہ بھی پتہ چل جائے گا۔ پھر ایک دفعہ سن لو بھئی، مشکل بحث ہے۔ اگر سورج نکلے گا تو دن موجود ہوگا، سورج کا نکلنا ہے مقدم اور دن کا ہونا ہے تالی۔ اگر سورج کا نکلنا ثابت ہو جائے تو دن بھی ثابت، اگر سورج نکلنے کی نفی ہو جائے تو دن کی بھی نفی۔ اسی طرح تالی کو ذرا پکڑیں، اگر دن کا ہونا ثابت ہو جائے تو سورج کا نکلنا بھی ثابت ہو جائے گا اور اگر دن کی نفی ہو جائے تو سورج کے نکلنے کی بھی کیا ہو جائے گی؟ نفی ہو جائے گی، اب بات سمجھ میں آ گئی؟
تو لہٰذا ان چار میں سے ایک چیز "لیکن" کے بعد ذکر ہوگی، چار میں سے۔ تو کل کتنی صورتیں بنتی ہیں یہاں؟ چار، لیکن یاد رکھیے چاروں کے چاروں کے اندر نتیجہ نہیں نکلتا، منطق کے قوانین کلی ہوتے ہیں وہ ایسا قانون بناتے ہیں کہ کوئی صورت اس سے باہر نہ رہے، جہاں بھی وہ قانون لگاؤ نتیجہ اسی کے مطابق آئے۔ تو مناطقہ نے غور کیا، مناطقہ نے غور کیا کہ "لیکن" کے بعد کس کے بعد؟ اگر مقدم کا اثبات ہوگا تو نتیجہ نکلے گا اور تالی کا بھی کیا ہوگا؟ اثبات۔ اگر سورج نکلے گا تو دن ہوگا لیکن سورج نکلا ہوا ہے، نتیجہ کیا ہوا؟ تو دیکھا "لیکن" کے بعد مقدم کا اثبات کیا کہ سورج نکلا ہوا ہے تو نتیجہ کیا آیا؟ دن بھی نکلا ہوا ہے، دن بھی موجود ہے۔ تو اس صورت میں نتیجہ صحیح آتا ہے ہمیشہ۔ اور اسی طرح اگر آپ تالی کی نفی کر دیں تو نتیجہ ہمیشہ صحیح آئے گا، کس کی؟ تالی کون تھا؟ دن موجود ہوگا، یہ کیا ہے؟ تالی۔ "لیکن" کے بعد اس تالی کی نفی کرو، لیکن دن موجود نہیں ہے، نتیجہ کیا نکلا؟ سورج موجود نہیں، صرف یہ دو صورتیں ہیں جن میں نتیجہ صحیح نکلتا ہے۔ ان میں...
اللہ! چلیے بھئی، لگتا ہے اب حضرات تھک گئے ہیں، مشکل بحث ہے تو باقی ان شاء اللہ پھر اگلے سبق میں کر لیں گے بھئی۔ بہ حاصلِ کلام مختصراً ایک مرتبہ پھر سمجھ لو کہ قیاس دو قسم پر ہے: ایک قیاسِ اقترانی اور ایک قیاسِ استثنائی۔ قیاسِ اقترانی وہ ہے جس میں جس میں حدِ اوسط آتا ہے اور نتیجے کا موضوع وہ اصغر کہلاتا ہے، نتیجے کا محمول اکبر کہلاتا ہے، اور قیاس کے اندر اکبر اور اصغر الگ الگ ہوتے ہیں اکٹھے نہیں ہوتے۔ جبکہ قیاسِ استثنائی وہ ہے جس کے اندر پہلا جو مقدمہ ہے وہ قضیہ شرطیہ ہوتا ہے اور دوسرا قضیہ کیا ہے وہ قضیہ حملیہ ہوتا ہے، اور قیاس کے اندر ہی پورا کا پورا نتیجہ یا نتیجے کی نقیض مذکور ہوتی ہے بھئی، نتیجے کی نقیض مذکور ہوتی ہے۔ اور اس کو قیاسِ استثنائی اس لیے کہتے ہیں کیونکہ اس میں حرفِ استثناء "لیکن" ذکر ہوتا ہے، پہلا مقدمہ کیا ہوتا ہے قضیہ شرطیہ اور دوسرا مقدمہ کیا ہوتا ہے قضیہ حملیہ ہوتا ہے اور درمیان میں "لیکن" کا لفظ آتا ہے۔ چلیے بس بھئی، ھٰذا ھو المرام، واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔