Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

تيسير المنطق · dars-040

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Muhammad Ghais
📍 Location Lahore, Pakistan
📅 Approved Date 07 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 37
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
کتاب پر دیکھیے: سبقِ دہم: مادہ قیاس کا بیان۔ جاننا چاہیے کہ ہر قیاس کی ایک صورت ہے اور ایک مادہ۔ صورت قیاس کی تو اس کی وہ ہیئت ہے جو اس کے مقدمات کے ترتیب دینے سے اور حدِ اوسط کے ملانے سے اس کو حاصل ہوتی ہے، اور مادہ قیاس وہ مضامین اور معانی ہیں جو مقدمات قیاس کے ہیں، یعنی یہ مقدمات یقینی ہیں یا ظنی وغیرہ ہیں۔ پس قیاس کی باعتبارِ مادہ کے پانچ قسمیں ہیں اور ان کو صناعاتِ خمسہ کہتے ہیں: قیاسِ برہانی، قیاسِ جدلی، قیاسِ خطابی، قیاسِ شعری، اور قیاسِ سفسطی۔ آج ہم مادہ قیاس کے بارے میں پڑھیں گے بھئی، مادہ قیاس کے بارے میں۔ ایک ہوتی ہے قیاس کی صورت اور ایک ہے قیاس کا مادہ۔ قیاس تو جانتے ہیں آپ، کسے کہتے ہیں؟ دلیل کو، دلیل اور حجت۔ آپ نے پڑھا حجت کتنی قسم پر ہے؟ تین قسم پر ہے: قیاس، استقراء اور تمثیل۔ تو قیاس وہ دلیل اور اسی دلیل اور حجت کا نام ہے۔ آپ اپنی کوئی بات ثابت کرنا چاہتے ہیں، اپنا کوئی دعویٰ ثابت کرنا چاہتے ہیں تو دلیل پیش کرتے ہیں۔ تو یہ جو قیاس ہے، ایک اس کی صورت ہے اور ایک اس کا مادہ۔ صورت جو ہے آپ پڑھ چکے ہیں کہ قیاس کی چار صورتیں یعنی چار شکلیں ہیں: شکلِ اول، شکلِ ثانی، شکلِ ثالث، اور شکلِ رابع۔ چار شکلیں ہیں۔ اور اسی طرح ایک قیاس کا مادہ ہے۔ اور قیاس کے مادے کے اعتبار سے قیاس کی پانچ قسمیں ہیں جو یہ آج کے سبق میں ذکر کر رہے ہیں۔ ابھی آپ نے پڑھا کہ مادے کے اعتبار سے قیاس کی پانچ قسمیں ہیں، ان کو صناعاتِ خمسہ کہتے ہیں اور وہ کیا کیا ہیں؟ قیاسِ برہانی ہے، قیاسِ جدلی ہے، قیاسِ خطابی ہے، قیاسِ شعری ہے، اور قیاسِ سفسطی ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو صورت کے اعتبار سے کتنی قسم پر قیاس؟ چار قسم پر: شکلِ اول، شکلِ ثانی، شکلِ ثالث، اور شکلِ رابع۔ اور مادے کے اعتبار سے قیاس کتنی قسم پر ہے؟ پانچ قسم پر ہے بھئی، پانچ قسم پر۔ تفصیلِ کلام، یاد رکھیے، بھئی دیکھیے آپ جب بھی کوئی چیز بنانا چاہتے ہیں تو دو چیزوں کے بارے میں سوچتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ کس چیز سے اس کو بنایا جائے، اس کا مٹیریل کیا ہو، کس چیز سے اس کو بنائیں؟ اور دوسرا اس کی صورت کیسی ہوگی، کون سی شکل اس کو دیں؟ مثلاً آپ اگر گلاس بنانا چاہتے ہیں تو سوچیں گے کہ کس چیز سے اس کو بنایا جائے؟ شیشے کا بنانا چاہتے ہیں یا مٹی کا بنانا چاہتے ہیں یا اسٹیل کا بنانا چاہتے ہیں یا پیتل کا بنانا چاہتے ہیں، تو اس کے لیے آپ مٹیریل کا انتخاب کرتے ہیں، اس کو مادہ کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ مادہ۔ جس سے کوئی چیز بنے، اس کو اس کا مادہ کہتے ہیں، مادہ کہتے ہیں۔ مثلاً شیشے کا گلاس ہے، اس کا مادہ کیا ہے؟ شیشہ۔ اسٹیل کا گلاس ہے، اس کا مادہ کیا ہے؟ اسٹیل ہے۔ اور تانبے کا گلاس ہے، اس کا مادہ کیا ہے؟ تانبا ہے۔ اسی طرح مٹی کا گلاس ہے تو اس کا مادہ کیا ہے؟ مٹی ہے بھئی۔ تو یہ ہے مادہ۔ تو مادہ وہ چیز جس سے کوئی چیز بنے بھئی، کوئی چیز بنے۔ اور دوسری اس کی صورت ہے بھئی، صورت ہے۔ مثلاً گلاس کی کئی صورتیں آپ دیکھتے ہیں، بازار کے اندر جاتے ہیں، بعض گلاس بعض گلاسوں کی ایک شکل ہوتی ہے، بعض کی دوسری شکل، بعض چھوٹے ہیں، بعض بڑے ہیں، مختلف قسم کے، یہ ہے صورت بھئی۔ یہ کیا ہے؟ صورت ہے۔ اور آپ دیکھتے ہیں بعض اوقات مادہ اور صورت دونوں ایک جیسے ہوتے ہیں۔ مادہ اور صورت دونوں ایک جیسے ہوتے ہیں۔ مثلاً شیشے کے گلاس لے لیں، آپ پورا سیٹ خریدتے ہیں، اس میں کتنے مثلاً چھ گلاس ہیں، اور سارے کس کے بنے ہوئے ہیں؟ شیشے کے، سب کا مادہ بھی ایک۔ اور سب کی شکل ایک جیسی ہوتی ہے یا نہیں؟ تو دیکھو، مادہ بھی ایک ہے اور صورت بھی ایک ہے ان سب گلاسوں کی۔ بعض اوقات مادہ الگ ہوتا ہے، صورت ایک ہوتی ہے۔ مثلاً آپ نے ایک جیسے گلاس بنا لیے، ایک گلاس ہے شیشے کا، ایک ہے اسٹیل کا، ایک ہے تانبے کا، ایک ہے مٹی کا، لیکن صورت سب کو ایک ہی جیسی دی، تو دیکھو، صورت ایک ہی ہے لیکن مادہ سب کا الگ الگ ہے، تو کبھی مادہ الگ ہوتا ہے صورت ایک ہوتی ہے۔ کبھی صورت الگ ہوتی ہے اور مادہ ایک ہی ہوتا ہے۔ مثلاً آپ نے شیشے کے گلاس بنائے، لیکن ہر گلاس کی صورت الگ بنائی، تو ہیں تو سب شیشے کے لیکن صورت ہر ایک کی کیا ہے؟ الگ۔ یا آپ نے اسٹیل کے گلاس بنائے لیکن ہر گلاس کی صورت الگ رکھی، تو دیکھو مادہ ایک ہے لیکن صورت الگ الگ۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ مادہ کسے کہتے ہیں؟ جس سے کوئی چیز بنے۔ اور صورت؟ صورت وہ خاص شکل جو آپ کسی چیز کو دیتے ہیں، وہ اس کی صورت ہے، صورت ہے۔ اسی کو ہیئت بھی کہتے ہیں، صورت، ہیئت، شکل، جو بھی لفظ آپ استعمال کر لیں۔ اسی طرح جب ہم کوئی بات کرتے ہیں تو یہ بات پہلے ذہن میں سوچتے ہیں اور پھر زبان سے بولتے ہیں۔ تو یہ جو ہمارے ذہن میں بات آتی ہے، اس کی بھی مختلف صورتیں ہیں بھئی، مختلف صورتیں ہیں۔ مثلاً بھئی، مثلاً بھئی میں آپ سے کہتا ہوں: ضرب زید، زید نے پٹائی کی۔ ضرب فعل اور زید اس کے لیے فاعل۔ اور آپ نے پڑھا ہے، اگر فعل پہلے آئے تو اس کو جملہ فعلیہ کہتے ہیں اور اگر اسم پہلے آئے، جملے کا پہلا جز اسم ہو تو اس کو جملہ اسمیہ کہتے ہیں۔ تو دیکھو ضرب زید، یہ کون سا جملہ ہے؟ جملہ فعلیہ ہے، کیونکہ ضرب فعل ہے پہلا جز بھئی۔ اور زید اس کے لیے فاعل ہے، تو ضرب زید یہ جملہ فعلیہ ہوا۔ اور مادہ اس کا کیا ہے؟ ضرب اور زید، یہ دو لفظ ہیں نا، یہ اس کا مادہ ہے۔ اور اگر آپ اس کی ترتیب بدل دیں، زید کو پہلے لے آئیں اور ضرب کو بعد میں لے جائیں: زید ضرب، اب دیکھو یہ جملہ اسمیہ بن گیا۔ مادہ وہی ہے: زید اور ضرب۔ تو دیکھو ہمارے کلام کی بھی مختلف صورتیں ہیں بھئی، جیسے ایک جیسے الفاظ تھے لیکن اسی سے ایک جملہ بنایا تو وہ جملہ اسمیہ کہلایا اور دوسرا جملہ بنایا تو وہ جملہ فعلیہ کہلایا بھئی، فعلیہ کہلایا۔ اب آئیے مادے کی طرف بھئی، مادے کی طرف۔ دیکھیے مثلاً ابھی میں نے مثال ذکر کی، آپ ایک برتن بناتے ہیں، اس کا مادہ مختلف ہو سکتا ہے۔ ایک ہی مثلاً گلاس یا کپ آپ ہو سکتا ہے مٹی کا بنا لیں، ہو سکتا ہے شیشے کا بنائیں، ہو سکتا ہے اسٹیل کا بنائیں، ہو سکتا ہے تانبے کا بنائیں، تو وہ مختلف دیکھو مادے مختلف ہو گئے، گلاس کو شیشے سے بنایا ہے تو اس کو شیشے کا گلاس کہیں گے، اسٹیل سے بنایا ہے تو اس کو اسٹیل کا گلاس کہیں گے، اور مٹی سے بنایا ہے تو اسے مٹی کا گلاس کہیں گے۔ اور اسی طرح مختلف قسم کے کپڑے دیکھتے ہیں، ان کا مادہ الگ ہوتا ہے تو ان کے نام بھی الگ ہوتے ہیں۔ بعض کپڑے ریشم کے بنے ہوتے ہیں تو آپ کہتے ہیں یہ ریشمی کپڑا ہے، بعض کپڑے کپاس سے روئی سے بنے ہوتے ہیں تو آپ کہتے ہیں یہ سوتی کپڑا ہے، دیکھو اس کے اعتبار سے ہی مادہ ان کا مختلف تو اسی اعتبار سے ان کا نام بھی مختلف۔ اسی طرح آپ مکان بناتے ہیں تو بعض اوقات مکان مٹی گارے وغیرہ سے مکان بنایا، بعض اوقات پتھروں سے مکان بناتے ہیں، بعض اوقات اینٹوں سے بناتے ہیں، اور بعض اوقات سنگِ مرمر وغیرہ ان چیزوں سے بناتے ہیں، تو اسی اعتبار سے اس مکان کا نام بھی ہوگا۔ اگر صرف مٹی اور گارے کا بنایا ہو تو لوگ کہیں گے یہ کچا مکان ہے، کچا مکان، یا مٹی گارے والا مکان ہے۔ اور اگر آپ نے پتھروں کا بنایا ہے تو وہ پتھروں کا مکان اس کا نام ہوتا ہے، اور اگر اینٹوں سے بنایا ہے تو اینٹوں کا مکان۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اور اگر بہت اعلیٰ زبردست سنگِ مرمر وغیرہ کا بنایا تو لوگ کہیں گے یہ کوٹھی ہے یا اس کو کیا کہیں گے؟ یہ محل ہے۔ تو اسی اعتبار سے اس کے نام ہوتے ہیں۔ اسی طرح یہ جو ہم کلام کرتے ہیں، کلام، اس کی بھی کئی اقسام ہوتی ہیں، یعنی یہ جو جملے اور قضیے ہم بولتے ہیں، یہ مختلف قسم کے ہوتے ہیں۔ اسی طرح ہمارا کلام بھی مختلف قسم کا ہوتا ہے، اور قیاس بھی چونکہ کلام سے ہی بنا ہے، جملوں اور قضیوں سے ہی مل کر بنا ہے، جن جملوں اور قضیوں سے قیاس بنے گا، اسی کے اعتبار سے قیاس کا درجہ بھی ہوگا اور مقام بھی ہوگا۔ اگر قیاس جن مقدموں سے اور جن جملوں سے یا جن قضیوں سے قیاس بنا ہے، اگر وہ مضبوط ہیں، یقینی ہیں، تو ان سے بننے والا قیاس بھی بڑا یقینی ہوگا۔ اور اگر وہ جملے یا وہ قضیے جن سے مل کر قیاس بنا ہے وہ مضبوط نہیں تو ان سے بننے والا قیاس بھی مضبوط درجے کا نہیں ہوگا بھئی، مضبوط درجے کا نہیں ہوگا۔ اور قیاس آپ کا مضبوط درجے کا ہوگا تو آپ کا دعویٰ بھی اتنی ہی قوت کے ساتھ ثابت ہو جائے گا، اور اگر آپ کا قیاس مضبوط نہیں، قیاس قوی نہیں تو اس کو بھی آپ پورے طور پر ثابت نہیں کر سکتے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یاد رکھیے، یہ جو منطق اس کا تعلق بولنے سے ہے، بولنے سے۔ آپ کو جتنی اس علم میں اس فن میں مہارت ہوگی، کوئی آپ کے ساتھ بحث وغیرہ میں مقابلہ نہیں کر سکے گا بھئی، کیونکہ آپ کو آپ کو دلائل، دلائل کی قسمیں، صغریٰ، کبریٰ، قضیے وغیرہ ان سب چیزوں کا پتہ ہوگا، جہاں کوئی ذرا غلطی کرے گا آپ فوراً اس کو پکڑ لیں گے بھئی، جہاں کوئی دلیل پیش کرتا ہے، اپنی بات منوانا چاہتا ہے، آپ فوراً اپنی دلیل ذکر کر کے اس کو جواب دے دیں گے، اس کو رد کر دیں گے بھئی۔ یا جہاں اس کی دلیل میں کمزوری ہوگی، آپ فوراً بتا دیں گے: بھئی آپ کی دلیل کمزور ہے، اس کے ذریعے آپ کا دعویٰ ثابت نہیں ہو سکتا، آپ اپنی بات ہم سے اس طرح نہیں منوا سکتے، مضبوط دلیل لے کر آئیں پھر ہم آپ کی بات تسلیم کر لیں گے۔ تو یہ جو قیاس جو ہے، قیاس، اس کے اندر جس طرح کے آپ مقدمات لائیں گے، اسی درجے کا قیاس ہوگا۔ اگر اعلیٰ درجے کے مضبوط اور یقینی قضیے اور مقدمے لے کر آئے تو قیاس بھی بڑا مضبوط ہوگا، اور جب قیاس بڑا مضبوط ہے تو اس سے جو نتیجہ نکلے گا وہ بھی بڑا مضبوط اور یقینی ہوگا اور اس کو دوسرے کو تسلیم کرنا ہی پڑے گا بھئی۔ اب یاد رکھیے، یہ جو قیاس ہے، اس کے جو قضیے ہیں، ان کا تصدیق ہونا ضروری ہے۔ قضیوں کا تصدیق ہونا ضروری ہے۔ سب سے پہلی بات تو یہ یاد رکھیں کہ قیاس جن قضیوں سے مرکب ہو ان کا کیا ہونا ضروری ہے؟ تصدیق ہونا ضروری ہے۔ تصور سے قیاس نہیں بنایا جا سکتا۔ آپ کہیں گے: بھئی تصور سے قیاس کیسے بن سکتا ہے؟ قیاس کے لیے تو ہمیشہ کیا چاہیے؟ قضیہ چاہیے۔ قضیے چاہیے یا نہیں؟ اس میں تو دو مقدمے آئیں گے: پہلا مقدمہ اور دوسرا مقدمہ، جس کے اندر حدِ اوسط ہوگا، پھر حدِ اوسط کو ہم گرائیں گے تو کیا نکل آئے گا؟ نتیجہ۔ تو قیاس تو ہمیشہ تصدیق سے بنتا ہے، یہاں تصور کی بات کیسے آ گئی؟ تو یاد رکھیے بھئی، تصور کی بھی بعض صورتیں ایسی ہیں جن کو قضیے اور جملے کہا جا سکتا ہے۔ تو لہٰذا بس آپ نے اتنا یاد رکھنا ہے کہ آپ جو بھی قیاس پیش کریں، اس کے مقدمات وہ ہمیشہ کس قبیل سے ہوں؟ تصدیق کی قبیل سے ہونے چاہئیں، تصور کی قبیل سے نہیں ہونے چاہئیں۔ آئیے ذرا تصور کی آپ کو قسمیں بتا دوں، پھر آپ کو پتہ چل جائے گا کہ تصور کی بعض قسمیں ایسی ہیں کہ جن پر قضیے اور جملے کا اطلاق ہو سکتا ہے بھئی۔ آپ نے پڑھا تھا سب سے پہلے تو تصدیق کے بارے میں کہ تصدیق کسے کہتے ہیں؟ کہ جس میں ایک شے کے لیے دوسری شے کا اثبات ہو، مثلاً: زید عالم ہے۔ یا ایک شے سے دوسری شے کی نفی ہو کہ زید عالم نہیں ہے۔ تو یہ ہے تصدیق۔ تو تصدیق میں ہمیشہ دو چیزیں ہوتی ہیں: ایک وہ چیز جس کے لیے ثابت کر رہے ہیں، اور ایک وہ چیز جو ثابت کر رہے ہیں۔ مثلاً: زید عالم ہے، کس کے لیے ثابت کر رہے ہیں؟ زید کے لیے، اور کیا ثابت کر رہے ہیں؟ عالم ہونا۔ تو دیکھا دو چیزیں ہیں: ایک زید اور ایک عالم ہونا۔ تو ہم نے زید کے لیے عالم ہونا ثابت کیا کہ زید عالم ہے، یا آپ زید سے عالم ہونے کی نفی کرتے ہیں کہ زید عالم نہیں ہے۔ پہلے کو کہیں گے موجبہ جس میں جس میں اثبات تھا، اور دوسرے کو کیا کہیں گے؟ سالبہ جس میں نفی تھی۔ تو تصدیق میں ہمیشہ دو چیزیں ہوتی ہیں: ایک چیز کے لیے دوسری چیز کا اثبات ہوتا ہے یا دوسری چیز کی نفی ہوتی ہے۔ جبکہ تصور، تصور آپ نے پڑھا تھا کہ اس میں تصور میں کبھی تو صرف ایک چیز ہوگی۔ مثلاً صرف آپ کے ذہن میں زید کا خیال آیا، تو مفرد ہے۔ کیا ہے؟ تو یہ تصور ہے، کیونکہ اس میں ایک شے کا اثبات دوسری شے کے لیے نہیں ہے۔ تو صرف ایک چیز کا خیال آئے، یہ بھی تصور۔ ایک سے زیادہ چیزوں کا خیال آیا لیکن ان میں کوئی تعلق نہیں، کوئی نسبت نہیں: زید، درخت، مدرسہ، قلم۔ دیکھو، ایک ایک چیز کا خیال آیا لیکن چیزیں تو ایک سے زیادہ لیکن ان کا آپس میں کوئی تعلق وغیرہ نہیں، سب الگ الگ ہیں، یہ بھی تصور۔ تو دیکھو، ایک چیز ہو وہ بھی کیا؟ تصور۔ کئی چیزیں ہوں لیکن ان میں کوئی تعلق اور نسبت وغیرہ نہ ہو، وہ بھی کیا ہے؟ تصور۔ اسی طرح ایک سے زیادہ چیزیں ہیں، ان میں نسبت بھی ہے لیکن نسبت پوری نہیں، یعنی بات پوری نہیں، نسبتِ تامہ نہیں ہے یعنی بات پوری نہیں ہے۔ مثلاً موصوف صفت آ گئے۔ موصوف صفت: خوبصورت کتاب۔ دیکھو خوبصورت صفت اور کتاب موصوف۔ بھئی عربی میں صفت بعد میں آتی ہے، اردو میں صفت پہلے آتی ہے۔ تو خوبصورت کتاب، اور خوبصورت اور کتاب الگ الگ ہیں یا آپس میں جڑے ہوئے ہیں؟ خوبصورت کتاب، میں خوبصورت کوئی اور چیز بتا رہا ہوں یا کتاب ہی بتلا رہا ہوں؟ تو پھر جڑے ہوئے ہیں آپس میں، آپس میں جڑے ہوئے۔ خوبصورت کتاب، لیکن کیا بات پوری ہے؟ آپ کہیں گے: بھئی کیا ہوا خوبصورت کتاب کو؟ بات تو پوری کریں، تو دیکھیں دونوں کے درمیان جوڑ ہے، نسبت ہے لیکن نسبتِ تامہ نہیں، پوری نسبت نہیں یعنی بات پوری نہیں۔ تو یہ یہ دونوں موصوف صفت ہیں۔ کبھی مضاف مضاف الیہ ہوتے ہیں، مثلاً: زید کا غلام۔ اب زید اور غلام ان دونوں میں جوڑ ہے، دونوں آپس میں کیا ہیں؟ مضاف اور مضاف الیہ۔ غلام کی نسبت ہو رہی ہے کس کی طرف؟ زید کی طرف، یہ زید کا ہے کسی اور کا نہیں۔ تو زید کا غلام، یہاں نسبتِ اضافی، نسبت موجود، تو یہاں نسبت موجود ہے۔ لیکن بات پوری نہیں، آپ کہیں گے بھئی کیا ہوا زید کے غلام کو؟ اب بات تو پوری کریں، تو معلوم ہوا یہاں بات پوری نہیں، نسبت تو موجود تو نسبتِ غیر تامہ ہے۔ نسبتِ غیر تامہ۔ تو یہ یہ بھی تصور ہے۔ پھر دیکھیے، اگر صرف ایک چیز کا تصور صرف ایک چیز ذہن میں آئی، یہ بھی کیا ہے؟ تصور۔ ایک سے زیادہ چیزیں آئیں لیکن ان میں کوئی جوڑ نہیں، کوئی ربط نہیں، کوئی نسبت نہیں، اس کو بھی کیا کہیں گے؟ تصور۔ ایک سے زیادہ چیزیں ذہن میں آئیں، ان میں جوڑ بھی ہے، ربط اور نسبت بھی ہے لیکن بات پوری نہیں، اس کو بھی کیا کہیں گے؟ تصور کہیں گے، جیسے خوبصورت کتاب یا خوبصورت قلم یا بہادر آدمی، یہ سب کیا ہے؟ موصوف صفت۔ تو نسبت تو موجود ہے لیکن نسبتِ غیر تامہ ہے: زید کا غلام، اس میں بھی نسبت موجود ہے لیکن نسبتِ غیر تامہ ہے۔ نسبتِ تامہ اس کو کہتے ہیں کہ جملہ ہو، بات پوری ہو۔ تو یہ بھی تصور ہے۔ اسی طرح نسبتِ تامہ آتی ہے، بات پوری ہے، جملہ پورا ہے لیکن ہے جملہ انشائیہ، یہ بھی تصور ہے، آپ پڑھ چکے ہیں۔ مثلاً آپ کا ایک ساتھی آپ سے کہتا ہے کہ آپ مت کھیلو۔ آپ کا ایک ساتھی آپ سے کیا کہتا ہے؟ آپ مت کھیلو۔ دیکھو، وہ آپ کو ایک حکم دے رہا ہے، ایک بات کر رہا ہے۔ یہ جملہ انشائیہ ہے۔ جملہ انشائیہ وہ ہے جس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا نہ کہا جا سکے۔ اب وہ آپ سے کیا کہتا ہے؟ آپ مت کھیلو، کوئی اس کو کہہ سکتا ہے کہ آپ جھوٹ بول رہے ہو؟ یا کہہ سکتا ہے آپ سچ بول رہے ہو؟ نہیں، وہ کہے گا بھئی میں نے تو بات ہی کوئی نہیں کی، میں نے تو اس کو کھیلنے سے روکا ہے، میں نے تو بات کی ہی نہیں، میں نے کوئی بات بتلائی ہوتی پھر آپ کہتے یہ سچ بول رہا ہے یا جھوٹ بول رہا ہے، تو آپ مت کھیلو، یہ تو حکم ہے، امر ہے اور امر کس کی قسم ہے؟ بلکہ یہ مت کھیلو، یہ تو نہی ہے، روک رہا ہے، کیا کر رہا ہے؟ روک رہا ہے، تو نہی کس کی قسم؟ جملہ انشائیہ۔ اسی طرح حکم دیتا ہے: آپ کھیلو، یہ بھی کیا ہے؟ یہ امر ہے۔ آپ مت کھیلو یہ کیا ہے؟ نہی، روکنا، اور آپ کھیلو یہ کام کے کرنے کا حکم دے رہا ہے، یہ بھی امر، یہ بھی انشا ہے، یہ بھی انشا ہے۔ اسی طرح کوئی قسم اٹھاتا ہے کہ خدا کی قسم، صرف یہ قسم: خدا کی قسم، اس پر کوئی کسی کو سچا یا جھوٹا نہیں کہہ سکتا۔ ہاں آگے کوئی بات کرے گا اس پہ سچا یا جھوٹا کہہ سکتے ہیں، مثلاً وہ کہتا ہے خدا کی قسم زید آ گیا ہے۔ اب زید آ گیا ہے اس میں تو کوئی اس کو سچا یا جھوٹا کہہ سکتا ہے لیکن اس کی بات نہیں کر رہے، صرف قسم کی بات کر رہے ہیں: خدا کی قسم یا اللہ کی قسم، اس لفظ میں غور کریں، یعنی اللہ کی قسم کا کیا معنی؟ میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں، یہی معنی ہے نا؟ تو بات پوری ہے کہ نہیں؟ بات پوری ہے، بات قسم یعنی پوری ہے، قسم کیا ہے؟ پوری ہے۔ کس بات پر کھائی ہے وہ ابھی آگے ذکر نہیں ہوئی لیکن بہرحال قسم کیا ہے؟ پوری ہے۔ تو بات پوری ہے لیکن اس کو بھی یہ بھی انشا ہے بھئی، جملہ انشائیہ ہے، اس پر کوئی کسی کو سچا یا جھوٹا نہیں کہہ سکتا۔ ہاں آگے جو جوابِ قسم آئے گا، یہ ہے قسم، آگے جس بات پر قسم کھائی اس کو کیا کہتے ہیں؟ جوابِ قسم۔ مثلاً ایک آدمی نے کیا کہا: اللہ کی قسم زید آ گیا ہے، تو اللہ کی قسم یہ ہے قسم، اور زید آ گیا ہے وہ کیا ہے؟ جوابِ قسم۔ تو جوابِ قسم پر تو کسی کو آپ سچا یا جھوٹا کہہ سکتے ہیں کہ وہ سچ بول رہا ہے یا جھوٹ، لیکن قسم پر کوئی کسی کو سچا یا جھوٹا نہیں کہہ سکتا کیونکہ قسم کس کی قسم ہے؟ انشا کی۔ تو یہ اور انشا کس کی قسم ہے؟ تصور کی، تو تصور کی کئی قسمیں دیکھا آپ نے؟ کبھی صرف ایک چیز ہوگی، وہ بھی تصور۔ بعض اوقات ایک سے زیادہ چیزیں ہوں گی لیکن درمیان میں کوئی ربط، نسبت اور تعلق نہیں، وہ بھی کیا ہے؟ تصور۔ بعض اوقات ایک سے زیادہ چیزیں درمیان میں نسبت موجود ہے لیکن نسبتِ غیر تامہ ہے، پوری بات نہیں ہے، اس کو بھی کیا کہیں گے؟ تصور۔ بعض اوقات نسبت پوری ہوتی ہے، تامہ ہوتی ہے لیکن جملہ انشائیہ ہوتا ہے، وہ بھی کیا ہے؟ تصور ہے۔ اسی طرح یاد رکھیے، ہمارے ذہن میں جب کوئی بات آتی ہے، آپ پڑھ چکے نا کہ ایک قولِ معقول ہے، ایک قولِ ملفوظ۔ جو بات ذہن میں آئے، جو بھی بات ہوتی ہے پہلے ذہن میں آتی ہے پھر ہم اس کو زبان سے ادا کرتے ہیں۔ تو جب تک ذہن میں بات ہے اس کو کیا کہتے ہیں؟ قولِ معقول، اور جب زبان سے ادا کریں تو وہ ہے قولِ ملفوظ۔ اور منطقی کی اصل توجہ کس کی طرف؟ قولِ معقول کی طرف۔ تو منطقی جب کہتا ہے نا زید زید عالم ہے، یہ زبان سے کہنا ضروری نہیں، ذہن میں بھی اگر یہ آ گیا زید عالم ہے، تو اس کو وہ کیا کہے گا؟ یہ قضیہ ہے، یہ کیا ہے؟ قضیہ۔ اگرچہ آپ نے زبان سے اس کو ادا بھی نہیں کیا، کیونکہ اصل تو قولِ معقول ہی ہے، زبان تو صرف ہمیں بتاتی ہے کہ ذہن میں یہ چیز ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو ہمارے ذہن میں جو بات آتی ہے، جو جملے آتے ہیں، اس کی کئی صورتیں ہیں۔ مثلاً میں ذہن میں سوچتا ہوں زید عالم ہے، زید عالم ہے۔ اس کی اب کئی صورتیں ہیں۔ مثلاً ذہن میں کون سی بات آتی ہے؟ کہ زید عالم ہے، یعنی قولِ معقول کی بات کر رہا ہوں، قولِ ملفوظ کا بھی یہی حکم ہے۔ تو صرف قولِ معقول سے سمجھ لیں، قولِ ملفوظ کے بھی وہی نام آ جائیں گے۔ دیکھیے میرے ذہن میں کیا آیا؟ زید عالم ہے۔ یہ بات ذہن میں آئی اور آ کے نکل کے چلی گئی، میں نے کوئی توجہ ہی نہیں کی اس کی طرف، آئی اور چلی گئی۔ یاد رکھیے، اس کو کہتے ہیں تخییل۔ کیا کہتے ہیں؟ خیال آنا۔ ت، خ، دو ی ہیں: تخیی اور پھر آخر میں ل ہے، تخییل۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ خیال سے ہی ہے نا، خیال سے ہی تخییل بن گیا۔ دو ی ہیں یہ خ کے بعد، خ اور ل کے درمیان دو ی ہیں، تخییل۔ دیکھو ہمارے ذہن میں جو جو کچھ آ سکتا ہے، مناطقہ نے اس کے نام رکھ دیے تاکہ نام لیتے ہی آپ سمجھ جائیں اچھا اس چیز کی بات ہو رہی ہے۔ آپ بھی بعض اوقات ایسا دیکھتے ہیں یعنی ایک خیال سا ذہن میں آتا ہے اور نکل کے چلا جاتا ہے، آپ اس کے بارے میں زیادہ سوچتے ہی نہیں۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ تخییل کہتے ہیں۔ اور اگر بات ذہن میں آئی کہ زید عالم ہے، اور رکی، اور ساتھ ہی آپ کے ذہن میں دوسری طرف کا بھی خیال آتا ہے، ایک طرف خیال آتا ہے کہ ہو سکتا ہے زید عالم ہے، پھر دوسری طرف کبھی خیال آتا ہے کہ ہو سکتا ہے زید عالم نہ ہو، عالم نہیں ہے۔ تو دیکھو دونوں طرف کا خیال آ رہا ہے، تو اگر دونوں طرف کا خیال برابر ہے یعنی جانبین برابر ہیں یوں کہو، کیا؟ جانبین، جتنا خیال ہونے کا ہے اتنا ہی خیال نہ ہونے کا بھی ہے تو اس کو کیا کہیں گے؟ شک کہتے ہیں، آپ پڑھ چکے بھئی۔ شک میں کیا ہوتا ہے؟ جانبین برابر۔ تخییل میں کیا ہوتا ہے؟ خیال آتا ہے اور ذہن میں ٹھہرتا ہی نہیں، نکل جاتا ہے، وہاں جانبِ مخالف کا خیال یا بات مضبوط ہے اس طرف بھی ذہن ہی نہیں جاتا۔ تو آپ کے ذہن میں آیا کہ زید عالم ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی خیال آ جاتا ہے کہ وہ عالم شاید عالم نہیں، تو دیکھو دونوں طرف کا خیال آتا ہے اور دونوں جانبیں برابر ہیں، پچاس فیصد خیال ہے ہونے کا تو پچاس فیصد خیال ہے نہ ہونے کا، اس کو کہتے ہیں شک بھئی۔ تو منطق والے اس کو کہیں گے کہ شک میں جانبین برابر ہوتی ہیں۔ کیا ہوتی ہیں؟ جانبین برابر۔ آپ سمجھ گئے یا نہیں، کیا معنی جانبین؟ کیا معنی دونوں طرف؟ یعنی جتنا خیال ہونے کا ہے، اتنا ہی خیال نہ ہونے کا بھی ہے، تو اس کو کہتے ہیں جانبین برابر ہیں۔ اور اگر ایک جانب کا خیال زیادہ ہے اور دوسری جانب کا تھوڑا ہے، تو زیادہ والے کو کہتے ہیں ظن، ط ظ، ظ کے ساتھ ہے بھئی: ظن۔ ن مشدد ہے، ظنٌ۔ تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ ظن۔ اور جو تھوڑا خیال ہے، اس کو وہم کہتے ہیں بھئی۔ اور ظن یہ تصدیق کی قسم ہے، جبکہ وہم یہ تصور کی قسم ہے۔ اگر زیادہ خیال آئے اس کو کیا کہتے ہیں؟ ظن، اور جو تھوڑا خیال آئے وہ ہے وہم۔ مثلاً آپ کے ذہن میں آیا کہ زید عالم ہے، آپ کا غالب گمان یہی ہے کہ وہ عالم ہے لیکن تھوڑا سا خیال کبھی یہ بھی آ جاتا ہے کہ شاید کہ وہ عالم نہیں ہے، تو تھوڑا سا خیال یہ بھی آ جاتا ہے، تو گویا زید عالم ہے اس کا زیادہ خیال آ رہا ہے، یہ کیا ہے؟ ظن، اور وہ جو تھوڑا سا خیال آ رہا ہے وہ کیا ہے؟ وہم ہے۔ اور اس سے اگلی صورت یہ ہے کہ آپ کے ذہن میں آیا کہ زید عالم ہے، اور جانبِ مخالف کا خیال ہی نہیں آیا، یعنی اس طرف ذہن ہی نہیں گیا کہ وہ عالم نہیں ہے، بس ذہن نے مان لیا کہ زید کیا ہے؟ عالم ہے، عالم نہ ہونے کا خیال ہی نہیں آتا، اتنا یقین ہے آپ کو، تو اس کو کہتے ہیں یقین بھئی۔ کیا کہتے ہیں؟ یقین کہتے ہیں۔ تو دیکھو، جو ہمارے ذہن میں باتیں آتی ہیں وہ کئی قسمیں ہو گئیں: کبھی وہ تخییل ہوتی ہے، ذہن میں ہلکی سی بات آئی اور نکل گئی، ہم نے بھی توجہ ہی نہیں دی، آئی اور نکل گئی، اس کو کیا کہتے ہیں؟ تخییل۔ اور اگر ذہن میں آئی اور پھر آپ کو اس کے ہونے کا جتنا خیال اتنا ہی نہ ہونے کا بھی خیال، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ شک۔ اور اگر ذہن میں آئی لیکن ایک جانب کا زیادہ خیال ہے اور دوسری جانب کا تھوڑا خیال، تو جس کا زیادہ خیال ہے اس کو کہتے ہیں ظن، اور جو تھوڑا خیال ہے اس کو کہتے ہیں وہم۔ اور اگر ذہن نے بات آئی اور بڑی مضبوط بات آئی، آپ نے اس کو مان لیا، دوسری طرف ذہن جاتا ہی نہیں ہے، ذہن تسلیم کر لیتا ہے کہ وہ عالم ہے، عالم نہ ہونے کا خیال بھی ذہن میں نہیں آتا، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ یقین۔ تو کتنے نام ہو گئے ان کے؟ پانچ نام: تخییل، شک، ظن، وہم اور یقین۔ ان میں سے یاد رکھیے: تخییل، شک اور وہم، یہ تین تصور کی قسمیں ہیں۔ تخییل وہ جو خیال آیا اور چلا گیا۔ اسی طرح شک جس میں جانبین کیا ہیں؟ برابر ہیں۔ اور وہم جس کا تھوڑا خیال ہے، یہ سب تصور ہیں۔ یہ کیا ہیں؟ تصور۔ جبکہ ظن اور یقین یہ ہیں تصدیق بھئی، یہ ہیں تصدیق۔ تو اب دیکھا آپ نے، تصور کئی قسمیں ہو گئیں: ایک ہی چیز کا خیال آئے، زید یا صرف کتاب یا صرف قلم، یہ بھی کیا ہے؟ تصور۔ کئی چیزوں کا خیال آیا لیکن درمیان میں کوئی ربط اور جوڑ نہیں، کوئی نسبت نہیں، وہ بھی کیا ہے؟ تصور۔ کئی چیزوں کا خیال آیا اور ان کے درمیان نسبت بھی ہے لیکن نسبتِ غیر تامہ ہے، یعنی صرف موصوف صفت ہیں یا مضاف مضاف الیہ ہیں، بات پوری نہیں، یہ بھی کیا ہے؟ تصور ہے۔ بات تو پوری ہے، نسبتِ تامہ ہے لیکن وہ جملہ انشائیہ ہے، وہ بھی کیا ہے؟ تصور ہے۔ اور اسی طرح اگر وہ نسبتِ تامہ ہے، جملہ ہے لیکن وہ تخییل ہے یا شک ہے یا وہم ہے، یہ بھی کس قبیل سے ہیں؟ تصور کے قبیل سے۔ تو دیکھا یہ جو تخییل ہے، یہ جو شک ہے، یہ جو وہم ہے، یہ ان میں بھی بات تو پوری ہوتی ہے، بات تو پوری ہوتی ہے لیکن اس کا یا کم خیال ہوتا ہے یا وہ ذہن میں آئی اور نکل گئی یا اس میں دوسری جانب بھی اس کے برابر ہے، تو بات تو پوری ہے لیکن ان میں دیکھیں ان میں بعض کا خیال آیا اور گزر گیا، بعض میں دوسری جانب کا بھی ساتھ خیال آتا ہے، اور بعض کا تھوڑا خیال آتا ہے، تو یہ بھی دیکھو ان کو بھی جملہ اور قضیہ کہہ سکتے ہیں، ان کو بھی جملہ اور قضیہ۔ بات سمجھ بھی آ رہی ہے کہ نہیں؟ بحث یہاں سے چلی تھی، میں نے آپ کو بتایا تھا کہ قیاس جو ہے نا قیاس، وہ کس سے مل کر بنتا ہے؟ تصدیق سے مل کر بنتا ہے، کس سے؟ یوں کہیں، قیاس جو ہے مقدموں سے مل کر بنتا ہے، اور میں نے بتلایا کہ وہ مقدمے تصدیق ہونے چاہئیں، تصور نہیں ہونے چاہئیں۔ تو آپ کے ذہن میں سوال پیدا ہوا کہ وہ تصدیق ہی ہوں گے، تصور کیسے ہو سکتے ہیں؟ اب آپ نے دیکھ لیا کہ تخییل، شک اور وہم، یہ جملے ہیں یا نہیں؟ ان میں بات پوری ہے کہ نہیں؟ بات پوری ہے، لیکن یہ تصور کے قبیل سے ہیں، تصدیق کے قبیل سے نہیں۔ لہٰذا ان کو قیاس میں نہیں لا سکتے۔ کیونکہ قیاس کے مقدمات کا کیا ہونا ضروری؟ تصدیق ہونا ضروری ہے، اور تخییل تو کس قسم سے؟ تصور۔ شک کس قسم سے؟ تصور۔ اور وہم کس قسم سے؟ تصور کی قسم سے، تو ان کو نہیں لا سکتے قیاس کے اندر۔ اب بات سمجھ میں آ گئی کہ قیاس کے جو مقدمات ہیں، ان کا کیا ہونا ضروری ہے؟ تصدیق ہونا ضروری ہے۔ اب آئیے ذرا تصدیق کی قسمیں بھی پڑھ لیں، یہ آپ پہلے آپ نے نہیں پڑھیں، آپ اب اچھی طرح ان کو یاد کر لیجیے گا بھئی۔ آپ نے پڑھ لیا کہ ظن جو ہے وہ تصدیق ہے۔ آپ کے ذہن میں ایک بات آئی اور اس کا زیادہ خیال ہے، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ ظن کہتے ہیں، اور ظن کس قبیل سے ہے؟ تصدیق کے قبیل سے۔ تو یاد رکھیے، یاد رکھیے، یہ جو ظن ہے نا ظن، یہ تصدیق کا سب سے ادنیٰ درجہ ہے، یا یوں کہو تصدیق کا شروع کا درجہ ہے۔ تصدیق کا؟ آپ کے ذہن میں ایک بات آئی اور آپ کا زیادہ خیال ہے کہ ایسا ہی ہے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ ظن، اور یہ کیا ہے؟ تصدیق۔ اس سے اوپر والا درجہ ہے کہ بات ذہن میں آئی اور آپ کو یقین ہو گیا، آپ نے مان لیا کہ ایسا ہی ہے، جانبِ مخالف کا خیال ہی نہیں آتا، اس کو کہتے ہیں یقین۔ کیا کہتے ہیں؟ یقین۔ جانبِ مخالف کا خیال ہی نہیں آتا، تو پھر یاد رکھو، یہ تشکیکِ مشکک سے زائل ہوگا یا تشکیکِ مشکک سے زائل نہیں ہوگا؟ اگر تشکیکِ مشکک سے یہ زائل ہو جائے تو اس کو کہتے ہیں تقلید۔ کیا کہتے ہیں؟ تقلید۔ ت، ق دو نقطوں والا، ل، ی، د، تقلید۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تصدیق کا ادنیٰ درجہ کیا؟ ظن، کہ آپ کے ذہن میں ایک بات آئی اور آپ کا زیادہ خیال یہی ہے کہ ایسا ہے، یہ ہے ظن اور یہ کیا ہے؟ تصدیق۔ تو دیکھو ظن کے اندر جانبِ مخالف کا بھی خیال ہوتا ہے لیکن تھوڑا سا ہوتا ہے، زیادہ نہیں۔ جبکہ اس سے اوپر والا درجہ یہ ہے کہ جس میں جانبِ مخالف کا خیال آتا ہی نہیں، مثلاً زید عالم ہے، یہ آپ کے ذہن میں آیا، آپ نے اس کو مان لیا اور زید کے عالم نہ ہونا ذہن میں آتا ہی نہیں، تو یہ جو زید عالم ہے اب یہ پھر اس کو دیکھیں کہ یہ تشکیکِ مشکک سے زائل ہوتا ہے یا زائل نہیں؟ اگر زائل ہو جاتا ہے تو اس کا نام ہے تقلید، اور اگر زائل نہیں ہوتا تو اس کا نام ہے یقین۔ توجہ ہے؟ اب تشکیکِ مشکک کسے کہتے ہیں، یہ سمجھ لو۔ بھئی ہمارے ذہن میں جو باتیں ہیں، یہ جو باتیں ہمارے ذہن میں آتی ہیں اور جن کو ہم مان لیں، ان کا یقین کر لیں کہ بات ایسی ہی ہے اور دوسری طرف کا خیال بھی ذہن میں نہیں آتا، یہ دو قسم کی ہو سکتی ہیں۔ یا تو یہ بات ایسی ہوگی کہ ہمیں تو یقین ہے کہ ایسا ہی ہے، دوسری جانب کا ذہن میں خیال بھی نہیں آتا، لیکن اگر کوئی آدمی آتا ہے، آ کر ہمیں سمجھاتا ہے، بحث کرتا ہے، دلائل وغیرہ دیتا ہے، تو بالاخر ہم اس بات کو چھوڑ دیتے ہیں کہ واقعی ایسا نہیں۔ توجہ ہے؟ ہمارے ذہن میں ایک بات تھی، ہمیں اس کا بڑا یقین تھا، دوسری جانب کا ذہن میں خیال بھی نہیں آتا، اب کوئی آدمی آتا ہے، آ کر وہ ہم سے بحث کرتا ہے، دلائل پیش کرتا ہے اور بالاخر ہم اس کی بات مان لیتے ہیں، اور وہ جو پہلے بات جو ہمارے ذہن میں ہم نے جس پہ یقین کیا ہوا تھا، مانا ہوا تھا، اس بات کو چھوڑ دیتے ہیں کہ ایسا نہیں۔ تو دیکھو، ایک بات ہمارے ذہن میں یقینی تھی لیکن جب دلائل آئے تو ختم ہو گئی یا نہیں؟ تو دیکھو، بات تو یقینی تھی لیکن تشکیکِ مشکک سے زائل ہو گئی۔ زائل ہونے کا مطلب ہے ختم ہونا، زائل ہونے کا کیا معنی؟ تشکیک، شکک یشکک تشکیک کا معنی ہے شک ڈالنا۔ شکک یشکک تشکیک کا کیا معنی؟ شک ڈالنا، بابِ تفعیل ہے نا، صرف پڑھ رہے ہیں یا نہیں پڑھ رہے؟ یہ بابِ تفعیل ہے۔ اور اسی سے مشکک، اسمِ فاعل ہے، شک ڈالنے والا۔ دیکھو وہ آدمی آیا، آپ کو تو ایک بات پہ پکا یقین تھا لیکن اس نے آپ کے ذہن میں شک ڈال دیا یا نہیں؟ اور آپ نے اس بات کو چھوڑ دیا یا نہیں؟ چھوڑ دیا۔ تو دیکھو وہ بات جس پر آپ کو یقین تھا، تشکیکِ مشکک سے ختم ہو گئی، زائل ہو گئی، شک ڈالنے والے کے شک ڈالنے سے وہ تشکیکِ مشکک کا کیا معنی؟ شک ڈالنے والے کا شک ڈالنا، یا یوں کہو مشکک کا شک ڈالنا۔ مشکک نے شک ڈالا آپ کے ذہن میں تو آپ کے ذہن سے وہ بات کیا ہو گئی؟ ختم ہو گئی۔ توجہ ہے؟ آپ ایک بات کو مان رہے تھے، آپ کو اس کا یقین تھا، اب کوئی آ کر آپ کو دلائل سے بحث وغیرہ کے ذریعے قائل کر لیتا ہے، آپ اس بات کو چھوڑ دیتے ہیں تو معلوم ہوا وہ بات آپ کے ذہن میں یقینی تو تھی لیکن اعلیٰ درجے کا یقین نہیں تھا، دیکھو تشکیکِ مشکک سے کیا ہوا؟ زائل ہو گئی وہ بات، ختم ہو گئی۔ تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ تقلید۔ کیا کہتے ہیں؟ تقلید۔ پھر سنو، میرے ذہن میں آیا کہ زید عالم ہے اور میرا غالب گمان یہی ہے کہ زید کیا ہے؟ عالم ہے۔ لیکن تھوڑا سا یہ بھی خیال آ جاتا ہے کہ شاید عالم نہ ہو۔ تو یہ جو میرے ذہن میں غالب گمان ہے کہ زید عالم ہے، اس کو کیا کہیں گے؟ ظن، اور یہ کیا ہے؟ تصدیق ہے، یہ ادنیٰ درجہ۔ اس سے اونچا درجہ کہ میرے ذہن میں ہے کہ زید عالم ہے اور میں نے اس کا یقین کر لیا، زید کے عالم نہ ہونے کا خیال بھی نہیں آتا، میں نے پکا مان لیا، کیا؟ کہ زید کیا ہے؟ عالم ہے۔ لیکن ایک آدمی آیا، اس نے زید کے خلاف ایسی باتیں شروع کر دیں کہ میں نے کہا ہاں یہ کام تو عالم نہیں کر سکتے، معلوم ہوا زید عالم نہیں ہے۔ دیکھا؟ میں پہلے مان رہا تھا زید عالم ہے، مجھے یقین تھا، عالم نہ ہونے کا خیال بھی نہیں آ رہا تھا، لیکن جب کوئی دلیل دوسرے نے دلیل دی وہ علم کیا ہوا؟ زائل ہو گیا، ختم ہو گیا۔ تو معلوم ہوا وہ جو میرے ذہن میں تھا کہ زید عالم ہے اور بڑا یقین تھا مجھے اس بات پر، وہ کون سے درجے کی تصدیق تھی؟ اس کو کیا کہتے ہیں؟ اس کا نام کیا تھا؟ اس کو تقلید کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ تقلید۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اس سے اعلیٰ درجہ یقین کا یہ ہے جو تشکیکِ مشکک سے زائل نہیں ہوتا۔ تشکیکِ مشکک سے؟ کوئی شک ڈالنے والا ہزار شک ڈالے لیکن آپ کے ذہن سے وہ بات ختم نہیں کر سکتا، یہ ہے سب سے اعلیٰ درجہ یقین کا، اور اس کا نام ہے یقین۔ منطق میں جب لفظِ یقین بولا جائے تو یہ مراد ہوتا ہے۔ تو تصدیق کبھی ظن ہوگی، کبھی تقلید ہوگی، کبھی یقین ہوگا۔ یقین کسے کہتے ہیں؟ جو تشکیکِ مشکک سے زائل دیکھو تقلید بھی یقینی چیز اور یقین بھی یقینی چیز، لیکن تقلید کس قسم کی ہوتی ہے؟ جو تشکیکِ مشکک سے زائل ہو سکتی ہے، جبکہ یقین جو ہوتا ہے وہ تشکیکِ مشکک سے بھی زائل نہیں ہوتا۔ مثلاً ہم سب مانتے ہیں کہ اللہ ایک ہے۔ اللہ ایک ہے۔ اب کوئی آ کر ہزار دلیلیں بھی دے دے، آپ پھر بھی کبھی ماننے پر تیار نہیں ہوں گے کہ ایسا نہیں ہے۔ کوئی آ کر ہزار دلیلیں بھی دے دے، آپ کے ذہن میں پھر بھی شک پیدا نہیں کر سکتا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے پیغمبر ہیں، اس کا کیا نام ہوگا اس تصدیق کا؟ یقین بھئی، کہ کوئی ہزار شک بھی ڈالے، ہمارے ذہن سے اس بات کو نہیں نکال سکتا۔ تو صورت سمجھ میں آ گئی؟ کہ جو بات ہمارے ذہن میں آتی ہے، اگر اس کے ساتھ اگر اس کا غالب گمان ہو اور دوسری جانب کا بھی کچھ خیال آ جاتا ہے، تو اس کو کیا کہیں گے؟ ظن، اور یہ کیا ہے؟ تصدیق۔ اس سے اعلیٰ درجہ تصدیق کا یہ ہے کہ ایک بات کو آپ تسلیم کر لیتے ہیں لیکن اگر کوئی مشکک آ گیا تو وہ آپ کے سے اس بات کو آپ کے ذہن سے کوئی مشکک آ گیا تو آپ کے یقین کو وہ ختم کر سکتا ہے، توڑ سکتا ہے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ تقلید۔ آنا ضروری نہیں کوئی آ کر زید آپ کے ذہن میں ہے زید عالم ہے، کوئی آ کر شک ڈالے گا تو پھر اس کو تقلید کہیں گے، نہیں نہیں۔ بس جو بھی باتیں آپ مانتے ہیں، اگر وہ تشکیکِ مشکک سے زائل ہو سکتی ہیں تو وہ تقلید کہلائیں گی، اور جو باتیں تشکیکِ مشکک سے بھی زائل نہ ہو سکیں، ان کو کیا کہیں گے؟ یقین کہیں گے۔ تو پہلا درجہ ظن، دوسرا درجہ تقلید، تیسرا درجہ یقین، اور یقین سب سے اعلیٰ درجہ ہے بھئی تصدیق کا، جہاں اس بات کو کوئی بھی آپ کے ذہن سے زائل نہیں کر سکتا۔ پھر یہ جو بات جس کو کوئی آپ کے ذہن سے نہیں نکال سکتا، آپ کو اس پر بے انتہا یقین ہے، دیکھو نا ہمارے ذہن میں جو باتیں آتی ہیں، یا اس کا کیا ہوگا؟ غالب گمان، یا ہمیں اس کا یقین تو ہے لیکن اگر کسی نے دلیلیں پیش کیں تو ہو سکتا ہے ہم اس کو چھوڑ بھی دیں، اس کو کیا کہیں گے؟ تقلید۔ اور جو باتیں جن کو ہم جن کو جو تشکیکِ مشکک سے بھی زائل نہ ہوں، کوئی دلائل دے کر بھی ان کو ہمارے ذہن سے نہیں نکال سکتا اور ہمارے یقین کو متزلزل نہیں کر سکتا، تو اس کو کیا کہیں گے؟ یقین۔ لیکن یقین، یقین میں تو یقین تب ہے جب یہ بات واقع کے بھی مطابق ہو۔ کس کے؟ واقع کے۔ جیسے ہم کہتے ہیں اللہ ایک ہے اور یہ بات واقع کے بھی مطابق ہے، تو یہ کیا ہے؟ یقین۔ جیسے ہم کہتے ہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے پیغمبر ہیں، یہ واقع کے بھی مطابق ہے۔ ہم کہتے ہیں قیامت قائم ہوگی، دیکھو یہ واقع کے بھی مطابق۔ ہم کہتے ہیں جنت موجود ہے، جہنم موجود ہے، دیکھو یہ سب کیا ہیں؟ یقین ہیں اور کس کے مطابق ہیں؟ واقع کے مطابق ہیں، واقع میں بھی ایسا ہے۔ لیکن اگر ایک چیز کو اتنا مضبوط کسی نے مان لیا کہ وہ تشکیکِ مشکک سے بھی زائل نہیں ہو سکتی، اتنا مضبوط اس کا اس پر یقین اعتماد ہے، لیکن واقع کے خلاف ہے، اس کو یاد رکھیے جہلِ مرکب کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ جہل، جہالت سے ہے، جہالت۔ جہلِ مرکب، یعنی مرکب جہالت ہے، کیا ہے؟ مرکب جہالت۔ ایک ویسے جہالت ہوتی ہے، آپ کو ایک بات کا پتہ نہیں، یہ دیکھو یہ جیسے یہ جو ہم بحث پڑھ رہے ہیں، آپ کو اس بحث کا پہلے پتہ تھا؟ نہیں، تو آپ آپ اس بحث سے لاعلم تھے، کیا تھے؟ یا یوں کہیں آپ اس بحث سے جاہل تھے، جاہل کا کیا معنی؟ لاعلم نا، آپ اس بحث سے کیا تھے؟ جاہل تھے، یوں کہہ لو لاعلم تھے۔ لیکن جب آپ نے سبق پڑھا تو عالم اس کے بن گئے، اس کو جان لیا یا نہیں جان لیا؟ تو اس کے عالم بن گئے۔ تو یاد رکھیے ایک ویسے جہل ہے، ایک جہلِ مرکب ہے۔ ویسے جہل یہ نقصان دہ نہیں، کیونکہ آپ کو ایک چیز کا پتہ نہیں ہے، آپ اس کو جان لیں گے، سیکھ لیں گے، پڑھ لیں گے، اس کو جان لیں گے۔ اور ایک ہے جہلِ مرکب، جہلِ مرکب یعنی یوں کہو دگنا جہل ہے، مرکب ہے بھئی۔ مرکب جس میں ایک سے زیادہ چیزیں ہوتی ہیں نا، تو یہ بھی گویا یوں سمجھو دگنا جہل ہے بھئی۔ ایک تو ایسی بات مانی جو واقع کے مطابق نہیں، مثلاً بت جو ایک آدمی بتوں کو سجدہ کرتا ہے، بتوں کو کیا کرتا ہے؟ کیا کہتا ہے؟ بت خدا ہیں۔ اب یہ بت کیا بت خدا ہیں، یا یہ اس کی بات واقع کے مطابق ہے یا خلاف ہے؟ یہ واقع کے خلاف ہے۔ لیکن یہ بات اس کے ذہن میں اتنی مضبوط ہے کہ آپ اس کو ہزار دلائل بھی دیتے ہیں، سمجھاتے بھی ہیں، پھر بھی وہ نہیں مانتا، بلکہ کیا کہتا ہے؟ میں ٹھیک ہوں اور تم لوگ غلط، تو اس کو کہتے ہیں جہلِ مرکب۔ کیا کہتے ہیں؟ ایک تو نہیں جانتا اور پھر یہ سمجھتا ہے کہ میں جانتا ہوں اور کوئی بھی نہیں جانتا، اس کا علاج پھر کوئی نہیں بھئی، یہ سب سے ادنیٰ درجہ ہے جہالت کا، سب سے اور اس کا کوئی علاج نہیں، کیونکہ اگر عام جہالت ہوتی تو پھر ہم دلیل وغیرہ پیش کرتے وہ کیا کر لیتا؟ مان لیتا۔ لیکن یہاں وہ جانتا بھی نہیں اور سمجھتا یہ ہے کہ میں سب سے زیادہ جانتا ہوں، تو اس کا تو علاج ہی یا جیسے آپ بھی دیکھتے ہیں ایک آدمی اس کی تھوڑی سی تعلیم ہوتی ہے لیکن وہ اپنے آپ کو سب سے زیادہ پڑھا لکھا سمجھتا ہے، یا اس کی تھوڑی سی عقل ہوتی ہے لیکن وہ اپنے آپ کو سب سے زیادہ عقلمند سمجھتا ہے، تو جب سب سے زیادہ عقلمند سمجھتا ہے تو کسی اور کی بات وہ مانے گا؟ اب تو وہ کسی کی بات ہی نہیں مانے گا، تو اس کا تو علاج ہی پھر کوئی نہیں ہوتا، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ جہلِ مرکب، کہ جاہل تو ہے لیکن پھر بھی اپنے آپ کو سب سے زیادہ عالم سمجھتا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو جہلِ مرکب میں بھی کیا ہوتا ہے؟ ایک جو بات ہے وہ ذہن میں اتنی مضبوط ہے کہ تشکیکِ مشکک سے بھی زائل نہیں ہو سکتی۔ تشکیک کے؟ بھئی وہ بتوں کی عبادت کر رہا ہے، آپ ہزار دلائل بھی دیں لیکن وہ ٹس سے مس نہیں ہوتا، اس پہ کوئی اثر ہی نہیں ہوتا۔ دیکھا تشکیکِ مشکک سے وہ بات زائل نہیں ہو رہی، اور واقع کے مطابق ہے یا واقع کے خلاف ہے؟ واقع کے خلاف ہے، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ جہلِ مرکب۔ تو صرف یقین اور جہلِ مرکب میں یہ فرق ہے: یقین میں بھی بات اتنی ہی ذہن میں مضبوط، جہلِ مرکب میں بھی بات اتنی ہی ذہن میں مضبوط، لیکن یقین میں وہ واقع کے مطابق ہوتی ہے، واقع میں بھی ویسا ہی ہوتا ہے، اور جہلِ مرکب میں وہ واقع کے خلاف ہوتی ہے۔ تو لہٰذا تصدیق کے چار درجات ہو گئے بھئی، چار درجات بھئی: پہلا کیا؟ ظن، جس میں جانبِ مخالف کا بھی تھوڑا سا خیال آتا ہے۔ دوسرا ہے تقلید، جس میں یقین تو ہوتا ہے لیکن اگر کوئی شک ڈالے گا تو وہ شک کے ذریعے اس یقین کو ختم بھی کر سکتا ہے۔ اور تیسرا کیا ہے؟ یقین ہے، کہ جس میں جو تشکیکِ مشکک سے بھی زائل نہیں ہوتا، اتنا اعلیٰ درجے کا یقین ہے اور واقع کے بھی مطابق ہے۔ اور اسی طرح ایک جہلِ مرکب بھی ہے جس میں جو تشکیکِ مشکک سے زائل نہیں ہوتا لیکن وہ واقع کے خلاف۔ اب ان میں ترتیب بھی یاد رکھو، ان میں سب سے اعلیٰ درجہ، سب سے بلند درجہ یقین کا ہے، جو تشکیکِ مشکک سے بھی زائل نہیں ہوتا اور جو واقع کے بھی مطابق ہے، یہ ہے سب سے اعلیٰ درجہ۔ اس سے نچلا درجہ ہے تقلید کا، جس میں بات ذہن میں خوب مضبوط ہے، یقین ہے، جانبِ مخالف کا خیال بھی نہیں آتا، لیکن اگر کسی نے دلائل پیش کیے اور بحث کی تو ہو سکتا ہے زائل بھی کر دے، تو تشکیکِ مشکک سے وہ زائل ہو سکتا ہے۔ آپ بھی غور کر لینا کتنی باتیں ہیں، مثلاً ایک آدمی کے بارے میں آپ بہت نیک ہونے کا یقین کرتے ہیں، خراب ہونے کا کبھی تصور بھی نہیں آیا ذہن میں، لیکن پھر آ کر کوئی آدمی آپ کو اس کی باتیں بتاتا ہے، تو اب اب آپ اس کو نیک سمجھتے ہیں کہ نیک نہیں سمجھتے؟ اب نیک نہیں، دیکھا؟ پہلے نیک ہونے کا بڑا ہی یقین تھا لیکن تشکیکِ مشکک سے کیا ہو گیا؟ زائل۔ معلوم ہوا وہ جو آپ اس کو نیک جانتے تھے، وہ تصدیق کس درجے کی تھی؟ کس درجے کی تھی وہ؟ تقلید کے درجے کی تھی، اسی لیے تو تشکیکِ مشکک سے زائل ہو گئی۔ اگر وہ یقین ہوتا تو تشکیکِ مشکک سے زائل ہو سکتا تھا؟ نہیں بھئی۔ تو لہٰذا سب سے اعلیٰ درجہ تصدیق میں کس کا ہے؟ یقین کا ہے، اس سے نیچے والا درجہ تقلید کا ہے، اس سے نیچے والا درجہ ظن کا ہے، اور سب سے ادنیٰ درجہ تصدیق میں وہ جہلِ مرکب کا ہے، کیونکہ اس میں اگرچہ یقین تو بہت قوی ہے حتیٰ کہ تشکیکِ مشکک سے بھی زائل نہیں ہوتا، لیکن ہے تو واقع کے خلاف بھئی، تو یہ سب سے ادنیٰ اور گھٹیا درجہ ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو پھر دہراؤ بھئی، سب سے اعلیٰ درجہ تصدیق کا کون سا؟ یقین۔ اس سے نیچے؟ تقلید۔ اس سے نیچے؟ ظن۔ اور اس سے نیچے؟ جہلِ مرکب۔ تو تصدیق کی گویا چار قسمیں ہو گئیں، چار قسمیں ہو گئیں۔ اور قیاس بھی کس سے بنتا ہے؟ تصدیق سے ہی بنتا ہے، وہ مقدمات کس پر مشتمل ہوتے ہیں؟ تصدیق پر۔ لہٰذا معلوم ہوا قیاس کے جو دو مقدمات ہیں وہ انہی چار قسموں میں سے کسی پر مشتمل ہوں گے: یا کیا ہوں گے؟ یا یقین ائے گا، یا تقلید ہوگی، یا ظن ہوگا، یا جہلِ مرکب۔ اور تو قسم ہی نہیں ہے نا، تصدیق کی یہی تو چار قسمیں ہیں تو یہی آئیں گے اس میں، تو اسی اعتبار سے قیاس کی قسمیں بنیں گی۔ تو یہ جو تصدیقات جو کس کے اندر آئیں گی؟ قیاس کے اندر، یہ ہیں قیاس کا مادہ۔ قیاس کا؟ بحث کہاں سے شروع کی تھی؟ ایک ہے قیاس کی صورت، ایک ہے قیاس کا مادہ۔ قیاس کی صورت وہ جو شکلِ اول، شکلِ ثانی، شکلِ ثالث، شکلِ رابع جو آپ نے پڑھا تھا کہ حدِ اوسط اگر صغریٰ اور صغریٰ کے اندر محمول کی جگہ آئے اور کبریٰ میں موضوع کی جگہ آئے تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ شکلِ اول۔ اور اگر اس کا برعکس ہو جائے یعنی صغریٰ کے اندر حدِ اوسط موضوع کی جگہ آئے اور کبریٰ میں محمول کی جگہ آئے، اس کو کیا کہتے تھے؟ شکلِ رابع کہتے تھے، اور اگر دونوں میں حدِ اوسط محمول کی جگہ آئے، اس کو کیا کہتے تھے؟ شکلِ ثانی کہتے تھے، شکلِ ثانی کہتے تھے، اور اگر دونوں جگہ حدِ اوسط موضوع کی جگہ آئے تو اس کو کیا کہتے تھے؟ شکلِ ثالث کہتے تھے۔ تو وہ تھی قیاس کی صورت، تو اس اعتبار سے کتنی صورتیں قیاس کی؟ چار۔ اور اب آیا مادہ قیاس بھئی۔ مادہ قیاس آپ نے پڑھا کہ قیاس کا مادہ وہ تصدیقات ہیں جن سے مل کر قیاس بنتا ہے، اور وہ مادہ قیاس وہ تصدیقات ایک ہی قسم کی ہیں یا چار قسم کی ہو سکتی ہیں؟ وہ چار قسم کی ہو سکتی ہیں، جب تصدیقات کی کئی قسمیں تو ان سے بننے والے قیاس بھی کئی قسم کے ہو گئے۔ صورت سمجھ میں آ گئی اچھی طرح؟ تو ان میں اب یاد رکھیے، یاد رکھیے۔ قیاس کے اندر قیاس کی قسمیں ہم پڑھ رہے ہیں نا، کس اعتبار سے؟ مادے کے اعتبار سے۔ اب مجھے بتائیے، سب سے مضبوط قیاس کون سا ہوگا؟ جس کے مقدمات کون سے ہوں؟ یقین والے ہوں، کون سے ہوں؟ یقین والے ہوں۔ اور اگر وہ تقلید والے ہوں تو اس سے ادنیٰ درجہ، اگر وہ ظن والے ہیں تو اس سے ادنیٰ درجہ، اور اگر وہ جہلِ مرکب والے ہیں تو سب سے ادنیٰ درجہ۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو اس اعتبار سے یاد رکھیے، قیاس کا سب سے اعلیٰ درجہ وہ ہے کہ اس کے مقدمات یقینی ہوں بھئی، یقینی ہوں، اور اس کو قیاسِ برہانی کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے بتلایا ہے نا قیاس کے پانچ قیاس کی پانچ قسمیں بتلائیں: برہانی، جدلی، خطابی، شعری، اور سفسطی، یہ پانچ قسمیں۔ اس میں سے جو قیاسِ برہانی ہے، اس کے جو مقدمات ہیں وہ اس یقینی وہ یقینی ہوں گے، یہ سب سے اعلیٰ درجے کا قیاس ہے بھئی، اور اس سے حاصل ہونے والا نتیجہ بھی سب سے اعلیٰ درجے کا ہے بھئی، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ قیاسِ برہانی بھئی۔ جبکہ قیاس کی باقی قسمیں جو ہیں: قیاسِ جدلی، قیاسِ خطابی، قیاسِ شعری، اور قیاسِ سفسطی، ان کے اندر باقی قسمیں آ جائیں گی قیاس کی جس جس کے مقدمات جو ہیں وہ ظن پر مشتمل ہوں گے یا تقلید پر مشتمل ہوں گے یا جہلِ مرکب وغیرہ پر مشتمل ہوں گے۔ تو اس اعتبار سے، اس مادے کے اعتبار سے، کون سا مادہ؟ کہ قیاس کے جو مقدمات ہیں وہ یقینی ہیں یا غیر یقینی ہیں، اس اعتبار سے قیاس کی یہ پانچ قسمیں بنتی ہیں۔ بات سب کو اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ اب دیکھیے کتاب پر بھئی۔ دیکھیے بھئی، سبقِ دہم، دسواں سبق: مادہ قیاس کا بیان۔ جاننا چاہیے کہ ہر قیاس کی ایک صورت ہے اور ایک مادہ۔ صورت کون سی تھی میں نے ابھی کیا بیان کیا؟ وہ شکلیں، اور مادہ کیا ہے؟ جن تصدیقات سے مل کر وہ بنے کہ وہ یقینی ہیں یا غیر یقینی۔ دیکھیے خود بیان کر رہے ہیں: صورت قیاس کی تو اس کی وہ ہیئت ہے، ہیئت؟ شکل، صورت۔ صورت قیاس کی تو اس کی وہ شکل ہے جو اس کے مقدمات کے ترتیب دینے سے اور حدِ اوسط کے ملانے سے اس کو حاصل ہوتی ہے، اور مادہ قیاس وہ مضامین اور معانی ہیں جو مقدمات قیاس کے ہیں۔ بھئی دیکھو، تصدیق میں ہمیشہ کوئی بات بیان ہوگی نا؟ مثلاً: زید عالم ہے، یہ کیا ہے؟ تصدیق، اور اس میں کیا بیان ہو رہا ہے؟ زید کے عالم ہونا۔ تو دیکھو یاد رکھو، اصل چیز لفظ نہیں ہے، اصل معنی ہے، کیا ہے؟ معنی۔ میں اس میں کیا بیان کر رہا ہوں؟ زید کے عالم ہونے کو بیان کر رہا ہوں، لفظ تو بس یوں سمجھو ایک ایک برتن ہے جس میں میں آپ کو معنی پیش کر رہا ہوں۔ میں آپ کو بتلانا چاہتا ہوں کہ زید عالم ہے، کیا بتلانا چاہتا ہوں؟ زید عالم ہے۔ تو دیکھو مثلاً عربی میں لے لو، وہاں آپ کے لیے مثال سمجھنا آسان ہو جائے گا۔ میں مثلاً میں آپ کو کہنا چاہتا ہوں: زید کھڑا ہے۔ زید کھڑا۔ تو عربی میں مثال دیکھ لیں، آسانی سے آپ کو ذرا بات سمجھ میں آئے گی۔ یہ زید کھڑا ہے، اس کو میں کئی لفظوں سے ادا کر سکتا ہوں، مثلاً میں کہہ سکتا ہوں: قام زید، صورت سمجھ میں آ گئی؟ میں یہ بھی کہہ سکتا ہوں: زید قام۔ میں یہ بھی کہہ سکتا ہوں: زید قائم۔ میں یہ بھی کہہ سکتا ہوں: ان زیدا قائم۔ میں یہ بھی کہہ سکتا ہوں: واللہ ان زیدا لقائم۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ اچھی طرح؟ تو دیکھو ایک ہی بات ہے، اسی کو میں ادا کر رہا ہوں، آپ تک پہنچا رہا ہوں، ایک ہی معنی ہے لیکن لفظ مختلف استعمال کر رہا ہوں۔ کبھی میں کیا کہہ دیتا ہوں؟ قام زید، کبھی میں کیا کہتا ہوں؟ زید قام، کبھی میں کہتا ہوں: زید قائم، کبھی میں کہتا ہوں: ان زیدا قائم وغیرہ بھئی۔ تو یہ جو دیکھو وہی معنی میں آپ کو پہنچا رہا ہوں، تو اصل چیز ہے معنی، اور یہ جو الفاظ ہیں نا الفاظ، یوں کہو یہ وہ سانچے ہیں جس کے اندر یا یوں کہو یہ وہ برتن ہیں جس میں رکھ کے وہ چیز پیش کی جاتی ہے۔ اصل تو کھانا ہے نا کہ برتن اصل ہوتے ہیں؟ کھانا اصل ہے، تو کھانا اب اسی کھانے کو آپ مختلف قسم کے برتنوں میں پیش کر سکتے ہیں۔ مثلاً ایک ہی کھانا ہے، آپ اس کو شیشے کے برتن میں بھی پیش کر سکتے ہیں، آپ اس کو اسٹیل کے برتن میں بھی پیش کر سکتے ہیں، آپ اس کو مٹی کے برتن میں بھی پیش کر سکتے ہیں، آپ اس کو تانبے کے برتن میں بھی پیش کر سکتے ہیں۔ تو اصل کھانا ہے، وہ برتن اصل نہیں ہے یعنی وہ مقصود نہیں۔ تو اسی طرح اصل مقصود معانی ہوتے ہیں، الفاظ مقصود نہیں۔ الفاظ صرف وہ سانچے ہیں، وہ برتن ہیں جن کے اندر رکھ کر وہ معنی پیش کیا جاتا ہے۔ تو لہٰذا تصدیق، میں نے کہا مثلاً: زید عالم ہے، اب یہاں اصل الفاظ ہیں یا وہ معنی ہے؟ معنی ہے، تو اصل وہ معانی ہوتے ہیں، پھر انہی معانی کو کس شکل میں آپ ذکر کرتے ہیں؟ تصدیق کی صورت دیتے ہیں اور پیش کرتے ہیں۔ تو کہتے ہیں: مادہ قیاس وہ مضامین اور معانی ہیں، وہ مضامین اور معانی جو مقدمات قیاس کے ہیں، بھئی جو قیاس کے مقدمات ہیں، اس میں کوئی نہ کوئی مضمون بیان ہو رہا ہوگا، مضمون سے مراد ہے بات بات، اس میں کوئی نہ کوئی بات ذکر ہو رہی ہوگی، کوئی نہ کوئی معنی بیان ہو رہا ہوگا، تو وہ مضمون اور وہ معنی وہ اصل ہے جو مقدماتِ قیاس میں موجود ہے۔ وہ معنی اور وہ وہ معنی اور وہ مضمون، مضمون کا بھی کیا معنی؟ وہ بات وہ معنی وہ بات جو ذکر کی جا رہی ہے، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو مادہ قیاس وہ مضامین اور معانی ہیں جو مقدمات قیاس کے ہیں، یعنی جو قیاس کے مقدمات کے اندر جو معانی اور مضامین ہیں وہ کیا ہیں؟ مادہ۔ خود بیان کر رہے ہیں، بھئی کیا معنی وہ معانی ہیں جو مقدمات قیاس کے ہیں؟ کہتے ہیں: یعنی یہ مقدمات یقینی ہیں یا ظنی وغیرہ ہیں۔ کہ وہ مقدمات یقینی ہیں یا ظنی وغیرہ۔ آپ نے بھی پڑھا یا نہیں؟ قیاس کس سے بنے گا؟ تصدیقات سے، اور تصدیقات بعض ظنی ہیں، بعض یقینی ہیں، بعض جہلِ مرکب وغیرہ ہیں، یہ کیا ہیں؟ مادہ قیاس۔ پس قیاس کی باعتبارِ مادہ کے پانچ قسمیں ہیں اور ان کو صناعاتِ خمسہ کہتے ہیں، پانچ صنعتیں: قیاسِ برہانی، قیاسِ جدلی، قیاسِ خطابی، قیاسِ شعری، قیاسِ سفسطی۔ تو یہ پانچ قسمیں ہیں، آگے ان کی تفصیل آ رہی ہے بھئی، سب کی آگے تفصیل بیان کریں گے کہ قیاسِ برہانی کسے کہتے ہیں، جدلی، خطابی، شعری، سفسطی کسے کہتے ہیں، وہ آگے بیان کریں گے بھئی۔ چلیے، حاصلِ کلام پھر سن لیجیے بھئی۔ آپ نے پڑھا کہ قیاس کی صورت ہے اور ایک مادہ۔ صورت تو وہ شکلیں ہیں، چار شکلیں، اور مادہ وہ قیاس کے مقدمات ہیں جن سے قیاس مل کر بنے، اور مقدمات وہ کبھی یقینی ہوں گے اور کبھی ظنی، اور یہ مقدمات یہ ان کے الفاظ اصل ہیں یا ان مقدمات کے مضامین اور معانی اصل ہیں؟ معانی اور مضامین۔ مضامین کیا معنی؟ جو اس کے اندر باتیں ذکر ہیں، وہ یعنی وہ معانی جو ذکر ہیں وہ اصل ہیں۔ اور پھر آپ نے پڑھا کہ آپ جب بھی کوئی چیز بنانے لگتے ہیں تو پہلے اس کی کوئی صورت بھی سوچتے ہیں اور کس چیز سے اس کو بنائیں گے وہ بھی سوچتے ہیں، تو جس چیز سے وہ چیز بنے گی وہ اس کا مٹیریل اور مادہ کہلاتا ہے، اور جو اس کو شکل دیں گے وہ اس کی صورت۔ اسی طرح جو ہمارا کلام ہے، اس کی بھی مختلف صورتیں ہو سکتی ہیں۔ مثلاً: ضرب زید، یہ جملہ فعلیہ ہے، تو زید ضرب یہ کیا ہے؟ جملہ اسمیہ۔ تو کلام کی بھی مختلف صورتیں اور مختلف مادے ہو سکتے ہیں۔ تو اس اعتبار سے قیاس کی پانچ قسمیں بنتی ہیں، لیکن اس میں میں نے آپ کو بتایا تھا کہ ضروری ہے کہ یہ جو قیاس کے مقدمات ہوں وہ تصدیق ہونے چاہئیں، تصور نہ ہونے چاہئیں۔ اس پر ذہن میں سوال پیدا ہوا کہ تصور میں تو بات ہی پوری نہیں ہوتی، وہ کیسے قیاس کا مقدمہ بن سکتا ہے؟ میں نے تفصیل بیان کر دی کہ بھئی تصور کی بھی بعض صورتیں ایسی ہیں جن کو جملہ اور قضیہ کہہ سکتے ہیں، جیسے تخییل، شک اور وہم۔ تو یہ تو جو قیاس کے مقدمات ہیں وہ تخییل، شک یا وہم پر مشتمل نہیں ہونے چاہئیں، بلکہ اس کے اندر کیا آنا چاہیے؟ صرف صرف تصدیق ہونی چاہیے بھئی۔ اور آپ نے پڑھا کہ تخییل کس چیز کا نام ہے؟ کہ ایک بات ذہن میں آتی ہے اور پھر نکل جاتی ہے، اس میں ماننے یا نہ ماننے یا جانبِ مخالف کا خیال ہوتا ہی نہیں کیونکہ وہ بات ٹھہری نہیں، آئی اور نکل گئی ذہن سے، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ تخییل۔ اور یہ تصور کی قسم میں ہے۔ اسی طرح شک جس میں دونوں جانبین جس میں جانبین برابر ہوں، یہ بھی کیا ہے؟ تصور ہے۔ اور جو ایک بات کا ذہن میں خیال آیا اور غالب گمان ہے، تو یہ جو غالب گمان ہے اس کو کہتے ہیں ظن، اور جو جانبِ مخالف کا تھوڑا سا خیال آیا اس کو کیا کہتے ہیں؟ وہم، اور وہم بھی کس قبیل سے ہے؟ تصور کے قبیل سے۔ تو دیکھو تخییل، شک اور وہم، یہ تصور کے قبیل سے ہیں، لیکن لیکن ان کو قضیہ اور جملہ کہہ سکتے ہیں، تو آپ کے قیاس کے مقدمات یہ ان پر مشتمل نہیں ہونے چاہئیں، بلکہ کس پر مشتمل ہونے چاہئیں؟ تصدیق پر مشتمل ہونے چاہئیں۔ اور پھر تصدیق آپ نے پڑھا چار قسم پر ہے: یا وہ ظن ہوگی، یا تقلید ہوگی، یا یقین ہوگا، یا جہلِ مرکب۔ ظن جس میں جس میں غالب گمان ہوتا ہے۔ تقلید جس میں یقین ہوتا ہے لیکن ایسا یقین جو تشکیکِ مشکک سے زائل ہو سکتا ہے، جبکہ اس سے اعلیٰ درجہ کس کا ہے؟ یقین کا ہے جو تشکیکِ مشکک سے زائل نہیں ہوتا اور وہ واقع کے بھی مطابق ہوتا ہے، اور اگر وہ واقع کے مطابق نہ ہو تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ جہلِ مرکب کہتے ہیں۔ اور ان میں سب سے اعلیٰ درجہ کس کا؟ یقین کا، اس سے نچلا درجہ تقلید کا، اس سے نچلا درجہ ظن کا، اور سب سے نچلا درجہ جہلِ مرکب کا ہے کہ اس میں دگنی جہالت ہے، ایک تو نہیں جانتا اور پھر یہ بات بھی نہیں مانتا کہ میں نہیں جانتا بھئی۔ اور انہی سے مل کر قیاس بنتا ہے، انہی چار قسم کی تصدیقات سے، اور ان میں سب سے اعلیٰ درجے کی تصدیقات سے جو قیاس بنے گا وہ قیاسِ برہانی کہلاتا ہے اور وہ سب سے اعلیٰ درجے کا ہے اور اس سے حاصل ہونے والا نتیجہ بھی بڑا ہی اعلیٰ درجے کا اور بڑا ہی یقینی ہوگا، جبکہ باقی قسمیں جو قیاس کی ہیں: جدلی، خطابی، شعری اور سفسطی، وہ جو ہیں وہ تصدیق کی باقی قسموں سے بنیں گی اور اسی اعتبار سے ان کے نام ہوں گے۔ تو یہ ہیں مادہ قیاس۔ یہ ہیں، یہ جہلِ مرکب، ظن، تقلید اور یقین، یہ کیا ہیں؟ مادہ قیاس ہیں۔ اور ان میں سے بعض یقینی ہیں اور بعض ظنی غیر یقینی ہیں، اور انہی کے اعتبار سے ان کے نام بھی مختلف ہیں، جب مادہ مختلف تو نام بھی مختلف ہو گئے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله اعلم بحقیقة الکلام۔
44 approved lectures · 40 of 44