اچھا بھئی! گزشتہ سبق میں ہم کتاب میں سے سبقِ ہفتم یعنی ساتواں سبق پڑھ رہے تھے، جس میں قیاس کی قسمیں بیان ہوئی تھیں۔ اور آپ نے پڑھا تھا کہ قیاس جو ہے دو قسم پر ہے: ایک قیاسِ استثنائی اور ایک قیاسِ اقترانی، قیاسِ اقترانی۔ تو قیاسِ اقترانی وہ قیاس ہے جس میں صغریٰ اور کبریٰ آپ ملاتے ہیں اور پھر اس سے نتیجہ حاصل ہوتا ہے حدِ اوسط کو گرانے سے۔ اور جو نتیجے کا موضوع یعنی اصغر، وہ صغریٰ میں ہوگا اور نتیجے کا محمول یعنی اکبر، وہ کبریٰ کے اندر ہوگا۔ تو پورا کا پورا نتیجہ وہ قیاس میں موجود تو ہے لیکن اکٹھا نہیں ہے، بلکہ اس کا موضوع الگ جگہ ہے اور محمول الگ جگہ۔ جیسے اس کی مثال آئی تھی: ہر انسان جاندار ہے، اور ہر جاندار جسم ہے۔ تو نتیجہ کیا نکلا؟ ہر انسان جسم ہے۔ حدِ اوسط وہ حصہ جو دونوں میں مکرر آیا ہے، ایک جیسا ہے، اس کو حدِ اوسط کہتے ہیں۔ اس کو نکال دیا تو باقی نتیجہ رہ گیا۔ پہلا مقدمہ کیا تھا؟ ہر انسان جاندار ہے، اور دوسرا مقدمہ تھا: ہر جاندار جسم ہے۔ تو پہلے میں بھی جاندار کا ذکر آیا صغریٰ میں بھی اور کبریٰ میں بھی، تو اس کو کہتے ہیں حدِ اوسط، وہ حصہ جو دونوں کے اندر مکرر آئے، اس کو نکال دیا تو باقی صغریٰ میں سے کیا رہ گیا؟ ہر انسان، اور کبریٰ میں سے کیا رہ گیا؟ جسم ہے۔ ان دونوں کو ملا دیا تو نتیجہ کیا نکلا؟ ہر انسان جسم ہے۔
میں نے دوسری مثال ذکر کی تھی کہ زید درجہ اولیٰ کا طالب علم ہے، اور درجہ اولیٰ کا ہر طالب علم منطقی ہے۔ نتیجہ کیا نکلا؟ زید منطقی ہے۔ دیکھو، زید درجہ اولیٰ کا طالب علم ہے، یہ درجہ اولیٰ کا طالب علم یہ صغریٰ میں بھی آ رہا ہے اور اگلے مقدمے کبریٰ میں بھی آ رہا ہے، اس کو نکال دیں گے تو نتیجہ آ جائے گا۔ زید درجہ اولیٰ کا طالب علم ہے، اور درجہ اولیٰ کا ہر طالب علم منطقی ہے، نتیجہ کیا نکلا؟ زید بھی منطقی ہے بھئی۔ یہ ہے قیاسِ اقترانی۔ قیاسِ اقترانی میں دیکھو، زید منطقی ہے، یہ نتیجہ آیا، اور قیاس کے اندر بھی یہ نتیجہ موجود تھا لیکن اکٹھا نہیں تھا، بلکہ اس کا ایک حصہ زید یہ صغریٰ میں تھا اور منطقی ہے یہ جو دوسرا حصہ ہے نتیجے کا، یہ کبریٰ کے اندر مذکور تھا۔ تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ قیاسِ اقترانی۔ تو قیاسِ اقترانی کے اندر نتیجے کا موضوع الگ موجود ہوتا ہے، نتیجے کا محمول الگ موجود ہوتا ہے، دونوں اکٹھے نہیں ہوتے قیاس میں، الگ الگ ہوتے ہیں، اور نتیجے میں آ کر پھر اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ اس کو قیاسِ اقترانی کہتے ہیں۔
قیاس کی دوسری قسم قیاسِ استثنائی ہے، اور آپ نے پڑھا تھا قیاسِ استثنائی کہ اس کے اندر اس کے اندر بھی دو مقدمے ہوں گے، لیکن پہلا مقدمہ قضیہ شرطیہ ہوگا۔ ابھی جو قیاسِ اقترانی پڑھا نا، زید درجہ اولیٰ کا طالب علم ہے، دیکھو یہ قضیہ حملیہ ہے، شرطیہ نہیں ہے۔ قضیہ شرطیہ میں کیا پڑھا تھا آپ نے؟ یا اس میں اتصال بیان ہوتا ہے دو قضیوں کے درمیان یا انفصال۔ اگر سورج نکلے گا تو دن ہوگا، دیکھو سورج کا نکلنا یہ ہے ایک قضیہ، اور دن کا ہونا یہ ہے دوسرا قضیہ، دو چیزیں ذکر ہو رہی ہیں۔ اگر سورج نکلے گا تو دن ہوگا، اور اس کو قضیہ متصلہ، قضیہ شرطیہ متصلہ کہتے ہیں کیونکہ دونوں میں اتصال یعنی جوڑ اور ربط بیان کیا جا رہا ہے، یہ دونوں چیزیں آپس میں جڑی ہوئی ہیں۔ سورج کا نکلنا اور دن کا ہونا، سورج نکلے گا تو دن ہوگا، اور اگر دن ہے تو معلوم ہوا سورج نکلا ہوا ہے، دونوں میں اتصال ہے اور ربط ہے۔ اور اس کے لیے شروع میں اگر وغیرہ کا لفظ لاتے ہیں۔ اگر سورج نکلے گا تو دن ہوگا، تو دیکھو دو قضیے ہیں، یہ قضیہ شرطیہ متصلہ ہے، دونوں میں کیا بیان کیا جا رہا ہے؟ اتصال اور جوڑ بیان کیا جا رہا ہے۔
یا دوسری مثال لے لو، اگر بارش ہوگی تو ٹھنڈ ہو جائے گی۔ دیکھو بارش کا ہونا ایک قضیہ اور ٹھنڈ کا ہونا دوسرا قضیہ، اور دونوں میں ربط اور جوڑ ہے۔ بارش ہوگی تو کیا ہو جائے گی؟ ٹھنڈ ہو جائے گی۔ تو یہ قضیہ شرطیہ متصلہ ہے، اور دوسری قسم ہے قضیہ شرطیہ منفصلہ بھئی۔ قضیہ شرطیہ منفصلہ کے اندر دو قضیوں کے درمیان انفصال بیان ہوتا ہے۔ مثلاً آپ کہتے ہیں: یہ عدد یا تو طاق ہے یا جفت ہے۔ تو اب دیکھیے، طاق اور جفت ہونا ان دونوں میں انفصال بیان کیا گیا لفظِ یا کے ساتھ۔ لفظِ یا، جیسے آپ کہتے ہیں یا تو گرمی ہوگی یا سردی ہوگی، تو دیکھو یا کے ساتھ دو قضیوں میں انفصال بیان کیا گیا۔ تو یہ قضیہ شرطیہ کتنی قسم پر؟ دو قسم پر، یا متصلہ ہوگا یا منفصلہ۔ متصلہ میں کیا آئے گا؟ اتصال بیان ہوگا اگر وغیرہ کے ساتھ، اور منفصلہ میں انفصال اور جدائی بیان ہوگی کہ ان دو چیزوں میں جدائی ہے، انفصال ہے، یا یہ چیز ہوگی یا یہ چیز۔
تو بات چل رہی تھی قیاسِ استثنائی کی بھئی، قیاسِ استثنائی اور قیاسِ استثنائی اور قیاسِ اقترانی۔ اچھا، چلیے دوبارہ سن لیں، دوبارہ سن لیں بھئی۔ قضیے کی ساری بحث میں پھر ذکر کر دیتا ہوں، پھر آپ کے لیے یہ سمجھنا آسان ہوگا، اگرچہ میں نے گزشتہ سبق میں بھی ذکر کیا تھا لیکن دوبارہ ذکر کر دیتا ہوں تاکہ خوب اچھی طرح ذہن نشین ہو جائیں۔ آپ نے پڑھا قضیہ کسے کہتے ہیں؟ وہ مرکب کلام جس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا کہا جا سکے، اسے قضیہ کہتے ہیں۔ اور پھر یہ قضیہ دو قسم پر ہے: یا یہ قضیہ حملیہ ہوگا یا قضیہ شرطیہ ہوگا۔ قضیہ حملیہ میں ایک مفرد کا دوسرے مفرد کے لیے ثبوت ہوگا یا نفی ہوگی۔ زید عالم ہے، دیکھو زید کے لیے عالم ہونے کا ثبوت ہے۔ یا یوں کہیں: زید عالم نہیں ہے، تو زید سے عالم ہونے کی نفی ہے۔ اگر ثبوت ہو تو اس کو موجبہ کہتے ہیں، اگر نفی ہو تو اس کو سالبہ کہتے ہیں۔ تو قضیہ حملیہ میں کیا ہوتا ہے؟ ایک مفرد کا دوسرے مفرد کے لیے ثبوت ہوتا ہے یا نفی ہوتی ہے۔
جبکہ قضیے کی دوسری قسم قضیہ شرطیہ ہے۔ قضیہ شرطیہ کے اندر دو قضیے ہوں گے۔ قضیہ شرطیہ کے اندر کتنے قضیے ہوں گے؟ دو۔ اور پہلے کو کہیں گے مقدم اور دوسرے کو کہیں گے تالی۔ اگر سورج نکلے گا تو دن ہوگا۔ اگر سورج نکلے گا یہ ہے مقدم، اور دن ہوگا یہ کیا ہے؟ تالی ہے۔ اسی طرح: یہ عدد یا تو طاق ہے یا جفت ہے، تو یہ عدد طاق ہے یہ ہے مقدم، یا جفت ہے یہ کیا ہے؟ تالی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ قضیہ شرطیہ میں کتنے قضیے ہوں گے؟ دو قضیے ہوں گے، اور ان میں اتصال بیان ہوگا یا انفصال۔ اتصال بیان ہو تو متصلہ، انفصال بیان ہو تو منفصلہ۔ اور جب دو قضیے ہیں کس کے اندر؟ قضیہ شرطیہ میں، تو پہلے جز کو کیا کہیں گے؟ مقدم، اور دوسرے کو تالی۔ جبکہ قضیہ حملیہ جس میں ایک چیز کا دوسری کے لیے ثبوت تھا یا نفی تھی، زید عالم ہے، زید کے لیے عالم ہونے کا ثبوت، یا آپ نفی میں کہتے ہیں زید عالم نہیں ہے، دیکھو زید سے عالم ہونے کی نفی، یہ تھا قضیہ حملیہ۔
اور قضیہ حملیہ کے اندر بھی دو جز ہوں گے، ایک ہوگا موضوع، ایک ہوگا محمول۔ موضوع وہ حصہ جس کے بارے میں بات کی جائے، اور محمول وہ حصہ جو بات کی جائے۔ زید عالم ہے، میں نے کس کے بارے میں بات کی؟ زید کے بارے میں، تو یہ ہے موضوع، اور کیا بات کی؟ کہ وہ عالم ہے، یہ ہوا محمول۔ توجہ ہے؟ تو قضیہ حملیہ کے بھی دو جز، قضیہ شرطیہ کے بھی دو جز۔ لیکن قضیہ حملیہ کے دونوں جز مفرد ہوں گے، اور قضیہ شرطیہ کے دونوں جز قضیے ہوں گے۔ دونوں جز کیا ہوں گے؟ قضیہ شرطیہ میں دو قضیے ہوتے ہیں نا، تو اس میں دو جز مقدم اور تالی دونوں کیا ہوں گے؟ قضیے۔ جبکہ قضیہ حملیہ کے اندر دونوں جز کیا ہوں گے؟ مفرد۔ دیکھو، زید عالم ہے، زید بھی مفرد اور عالم ہے یہ بھی مفرد ہے۔ جبکہ قضیہ شرطیہ میں: اگر سورج نکلے گا تو دن ہوگا، دیکھو اگر سورج نکلے گا یہ پہلا جز، یہ پورا قضیہ ہے۔ تو دن نکلے گا، یہ دن کا نکلنا یہ بھی کیا ہے؟ پورا قضیہ ہے۔ تو قضیہ حملیہ کے پہلے جز کو کیا کہتے ہیں؟ موضوع، دوسرے کو کیا کہتے ہیں؟ محمول۔ جبکہ قضیہ شرطیہ کے پہلے جز کو کیا کہتے ہیں؟ مقدم، اور دوسرے جز کو کیا کہتے ہیں؟ تالی کہتے ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
پھر آپ نے پڑھا قضیہ شرطیہ کے اندر دو چیزوں کے درمیان یا تو اتصال بیان ہوگا اگر کے ساتھ یا جب کے لفظ کے ساتھ، اگر سورج نکلے گا تو دن موجود ہوگا۔ اگر بارش ہوگی تو سردی ہو جائے گی۔ تو دیکھا، یہ دونوں کے درمیان اتصال بیان ہو رہا ہے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ قضیہ شرطیہ متصلہ۔ اور اگر دو چیزوں میں انفصال بیان ہو کہ یہ عدد یا تو طاق ہے یا جفت ہے، تو اس کو کہتے ہیں قضیہ منفصلہ۔ پھر اس کے اندر آپ نے پڑھا تھا کہ یہ جو منفصلہ ہے، منفصلہ، اس کے اندر جن دو چیزوں میں انفصال بیان کیا جا رہا ہے، تو یہ پھر تین قسم پر ہے: یا حقیقیہ ہوگا، یا مانعۃ الجمع ہوگا، یا مانعۃ الخلو ہوگا۔ حقیقیہ کا معنی یہ کہ یہ جو دو قضیے ہیں، کس کے جز ہیں؟ قضیہ شرطیہ میں، اور کون سا قضیہ شرطیہ؟ منفصلہ ہے جس میں حرفِ یا آ رہا ہے دو چیزوں کے درمیان، یہ عدد یا تو طاق ہے یا جفت ہے۔ یہ جو قضیہ شرطیہ ہے، یا یہ حقیقیہ ہوگا، یا مانعۃ الجمع ہوگا، یا مانعۃ الخلو۔
حقیقیہ ہونے کا معنی یہ کہ یہ دونوں مقدم اور تالی جمع نہیں ہو سکتے اور دونوں اٹھ بھی نہیں سکتے۔ دونوں جمع ہو جائیں یعنی دونوں سچے ہو جائیں، ایک ہی عدد طاق بھی ہو جائے اور جفت بھی ہو جائے، ایسا کبھی نہیں ہو سکتا۔ نیز دونوں کبھی اٹھ بھی نہیں سکتے، کوئی ایسا عدد ہو جو طاق بھی نہ ہو اور جفت بھی نہ ہو، تو ایسا بھی نہیں ہو سکتا۔ تو مقدم اور تالی، کس کی بات کر رہا ہوں؟ مقدم اور تالی، کس میں؟ قضیہ منفصلہ میں۔ منفصلہ میں کیا ہوتا ہے؟ مقدم اور تالی میں حرفِ یا ذکر ہوتا ہے کہ یہ چیز یا تو یہ ہے یا یہ ہے۔ تو اس میں جو قضیہ حقیقیہ ہوتا ہے، اس میں یہ دونوں مقدم اور تالی جمع بھی نہیں ہو سکتے اور دونوں اٹھ بھی نہیں سکتے۔ جمع ہونے کا کیا معنی؟ کہ دونوں سچے ہو جائیں، ایک ہی عدد طاق بھی ہو جائے اور ایک ہی عدد کیا ہو جائے؟ جفت، ایسا نہیں ہو سکتا۔ اور دونوں اٹھ جائیں یعنی دونوں ہی جھوٹے ہو جائیں، کوئی ایسا عدد مل جائے جو طاق بھی نہیں ہے اور جفت بھی نہیں ہے، ایسا بھی نہیں ہو سکتا۔ ان دونوں میں سے ہمیشہ ایک کا ہونا ضروری اور دوسرے کا نہ ہونا ضروری ہے۔ دونوں جمع بھی نہیں ہو سکتے یعنی یہ مانعۃ الجمع بھی ہیں۔ دونوں اٹھ بھی نہیں سکتے یعنی دونوں مانعۃ الخلو بھی ہیں۔ اور تو اور ان میں تو ایک ہوگا اور ایک نہیں ہوگا، یا تو عدد طاق ہوگا اور جفت نہیں ہوگا، یا جفت ہوگا اور طاق نہیں ہوگا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو قضیہ حقیقیہ میں دونوں قضیوں کا جمع ہونا بھی ممکن نہیں ہوتا، دونوں کا دونوں کا اٹھ جانا بھی ممکن نہیں ہوتا، بلکہ ایک کا ہونا ضروری اور ایک کا نہ ہونا ضروری ہے۔
جبکہ قضیہ مانعۃ الجمع، کس کی بات کر رہا ہوں؟ قضیہ شرطیہ منفصلہ کی، جس میں دو چیزوں میں کیا بیان ہوتی ہے؟ انفصال اور جدائی یا کے ساتھ۔ تو مانعۃ الجمع میں لفظ ہی پتہ چل رہا ہے مانعۃ الجمع، دونوں کا جمع ہونا منع ہوتا ہے۔ مثلاً میں کہتا ہوں: یہ رنگ سفید ہے یا سیاہ ہے۔ یہ رنگ سفید ہے یا سیاہ ہے۔ دیکھو، اب یہ دونوں جمع نہیں ہو سکتے، یا تو رنگ سفید ہوگا یا سیاہ یعنی کالا، یہ رنگ سفید ہے یا کالا ہے، تو دونوں میں سے ایک ہو سکتا ہے، دونوں نہیں ہو سکتے بھئی۔ جمع ہونا ان کا منع ہے، دیکھو انفصال بیان ہوا حرفِ یا کے ساتھ، یہ رنگ یا تو سفید ہے یا کالا ہے۔ تو انفصال بیان ہوا، تو دونوں کا جمع ہونا تو منع ہے، ایک ہی رنگ سفید بھی ہو جائے اور کالا بھی ہو جائے، ایسا نہیں ہو سکتا۔ ہاں، دونوں کا اٹھ جانا ممکن ہے کہ وہ رنگ نہ سفید ہو نہ کالا ہو، بلکہ سبز ہو یا سرخ ہو یا نیلا ہو، کوئی اور رنگ ہو جائے۔ تو دونوں کا جمع ہونا تو منع ہے لیکن دونوں کا اٹھنا منع نہیں، تو اس کو کہتے ہیں مانعۃ الجمع۔
اور تیسرا ہے مانعۃ الخلو، توجہ ہے؟ مانعۃ الخلو میں دونوں کا سے خالی ہونا منع ہوتا ہے، جمع ہونا منع نہیں ہوتا، خالی ہونا۔ مثلاً کہ زید یا تو پانی میں ہے یا ڈوبنے والا نہیں ہے۔ زید یا تو پانی میں ہے یا ڈوبنے والا نہیں ہے۔ ان دو باتوں میں سے ایک ضرور ہوگی۔ یا تو زید کس میں ہوگا؟ پانی میں، اگر وہ ڈوب رہا ہے، یا وہ پانی میں نہیں ہوگا، تو زید یا تو پانی میں ہے یا ڈوبنے والا نہیں ہے۔ زید کی کوئی ایسی حالت بتاؤ کہ ان دونوں کے علاوہ ہو جائے، کوئی ایسی ممکن ہی نہیں ہے۔ زید یا تو پانی میں ہے یا ڈوبنے والا نہیں ہے۔ مجھے زید کی کوئی حالت بتاؤ، زید مثلاً گھر پر ہے، تو کون سی صورت ہے؟ یا تو زید پانی میں ہے یا ڈوبنے والا نہیں ہے، کون سی صورت ہے؟ ڈوبنے والا نہیں ہے، جب گھر پہ ہے تو ڈوبنے والا نہیں ہے۔ کوئی اور حالت بتاؤ، زید شہر میں ہے، اب کون سی حالت ہے؟ ڈوبنے والا نہیں ہے۔ زید کشتی میں بیٹھا ہوا ہے، کون سی حالت ہے؟ ڈوبنے والا نہیں ہے۔ زید پانی میں تیر رہا ہے، کون سی حالت ہے؟ ڈوبنے والا نہیں ہے، بلکہ یہاں تو اگر پانی میں ہے، کشتی میں ہے یا تیر رہا ہے تو پھر تو دونوں آ گئے۔
اور ہم بھی کون سی صورت کر رہے ہیں؟ کہ خالی ہونا منع ہے، ان دو میں سے ایک صورت ضرور ہوگی۔ یہ نہیں ہو سکتا نہ پہلی ہو اور نہ، ہاں جمع ہو سکتی ہیں دونوں۔ جیسے ابھی مثال کیا ہوئی؟ پانی میں تیر رہا ہے، دیکھو پانی میں بھی ہے اور ڈوبنے والا نہیں بھی ہے، دیکھو دونوں صورتیں جمع ہو گئیں۔ یا پانی میں ہے، دریا میں کشتی میں ہے، تو اب پانی میں بھی ہے اور ڈوبنے والا نہیں، دونوں چیزیں جمع ہو گئیں۔ لیکن دونوں کا اٹھنا منع ہے، مجھے آپ سوچ کر زید کی کوئی ایک حالت بتا دو کہ وہ ان دو کے علاوہ ہو۔ آپ چاہے شہر میں بتائیں، چاہے سڑک پہ بتائیں، چاہے گاڑی پر بتائیں، چاہے ہوا میں بتائیں، ان دو میں سے ایک ضرور ہوگی، یا وہ پانی میں ہوگا یا ڈوبنے والا نہیں۔ وہ ہوا میں بھی اڑ رہا ہے، جہاز میں ہے، تو بھی، دوسری صورت ہے یا نہیں؟ پانی میں ڈوبنے والا نہیں ہے۔ وہ زمین پر چل رہا ہے، تب بھی کیا ہے؟ پانی میں ڈوبنے والا نہیں ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو زید کی کوئی ایسی حالت ممکن ہی نہیں ہے کہ دونوں سے خالی ہو جائے۔ کون سی دو حالتیں؟ یا تو زید پانی میں ہے یا ڈوبنے والا نہیں ہے، ان دو سے خالی نہیں ہو سکتا۔ ہاں دونوں جمع ہو سکتی ہیں کہ پانی میں بھی ہو اور ڈوبے بھی نہ، یعنی تیر رہا ہو یا کشتی میں سفر کر رہا ہو، تو یہ کیا ہے؟ مانعۃ الخلو۔
تو مانعۃ الخلو میں کیا ہوتا ہے؟ دونوں سے خالی ہونا منع ہوتا ہے، دونوں کا جمع ہونا منع نہیں۔ اور مانعۃ الجمع میں؟ دونوں کا جمع ہونا منع ہوتا ہے، خالی ہونا منع نہیں، جیسے یہ رنگ سفید ہے یا کالا ہے، دونوں کا جمع ہونا ایک ہی رنگ سفید اور کالا ہو جائے ایسا نہیں ہو، ہاں دونوں اٹھ سکتے ہیں، نہ سفید ہو نہ کالا ہو بلکہ کیا ہو؟ سبز۔ تو مانعۃ الجمع میں دونوں کا جمع ہونا منع، مانعۃ الخلو میں دونوں سے خالی ہونا منع۔ اور جبکہ حقیقیہ میں دونوں جمع ہوتے ہیں، حقیقیہ اس میں مانعۃ الجمع بھی ہوتا ہے مانعۃ الخلو بھی، یعنی جمع ہونا بھی منع ہوتا ہے اور خالی ہونا بھی منع، جیسے یہ عدد طاق ہے یا جفت ہے۔ دونوں جمع نہیں ہو سکتے، ایک ہی عدد طاق بھی ہو اور جفت بھی ہو، ایسا کبھی بھی نہیں ہو سکتا۔ تو دونوں یہ مانعۃ الجمع بھی ہوا، اور مانعۃ الخلو بھی ہے، دونوں اٹھ بھی نہیں سکتے، کوئی ایسا عدد بتا دو جو نہ طاق ہو اور نہ جفت ہو، ایسا بھی نہیں۔ تو ایک سچا ہوگا، ایک ہمیشہ کیا ہوگا؟ جھوٹا ہوگا۔ تو حقیقیہ اس میں جمع ہونا بھی منع ہوتا ہے اور خالی ہونا بھی منع ہوتا ہے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟
یہ تھا قضیہ شرطیہ۔ میں نے میں یہ تفصیل بار بار بیان کر رہا ہوں، کیونکہ جب آپ کے ذہن میں قضیہ شرطیہ ہوگا تو پھر آپ کو قیاسِ استثنائی سمجھ میں اچھی طرح آئے گا، ورنہ سمجھ میں نہیں آئے گا۔ اب آئیے قیاسِ استثنائی پر۔ قیاسِ اقترانی پہلے سن لیں، ابھی میں نے پہلے بھی بیان کیا، قیاسِ اقترانی میں کیا ہوتا ہے؟ دو قضیہ حملیہ جڑتے ہیں آپس میں، پہلے کو کہتے ہیں صغریٰ، دوسرے کو کیا کہتے ہیں؟ کبریٰ۔ صغریٰ اور کبریٰ کے درمیان ایک حصہ مشترک ہوتا ہے، ایک حصہ مکرر ہوتا ہے، اس کو حدِ اوسط کہتے ہیں، اس کو نکال دیا جائے تو ہمیں پھر کیا مل جاتا ہے؟ نتیجہ۔ کیا ملتا ہے ہمیں؟ نتیجہ مل جاتا ہے۔ جیسے: زید درجہ اولیٰ میں پڑھتا ہے، اور درجہ اولیٰ کا پڑھنے والا ہر طالب علم بڑا منطقی ہے، نتیجہ کیا نکلا؟ زید بڑا منطقی ہے۔ تو یہ تھا قیاسِ اقترانی، کیا تھا؟ ادھر دیکھیے: زید درجہ اولیٰ کا طالب علم ہے، اور درجہ اولیٰ کا ہر طالب علم بڑا منطقی ہے، یہ ہے قیاس۔ ابھی نتیجہ نہیں آیا، نتیجہ الگ چیز ہے، قیاس الگ چیز ہے۔ یہ ابھی صرف کیا ذکر ہو رہا ہے؟ قیاس۔ کیا؟ زید درجہ اولیٰ کا طالب علم ہے، یہ ہے پہلا مقدمہ، اس کو کہتے ہیں صغریٰ۔ اور درجہ اولیٰ کا ہر طالب علم بڑا منطقی ہے، یہ ہے کبریٰ۔ تو یہ قیاس کے دو مقدمے آ گئے: صغریٰ اور کبریٰ۔ ان دونوں کو ملایا، اب آخر میں آ کے نتیجہ وہ نکلے گا۔ نتیجہ کیا نکلا؟ کہ زید بڑا منطقی ہے۔
تو یہ جو زید بڑا منطقی ہے، یہ نتیجہ ہے۔ اس کا موضوع کیا؟ زید، اور اس کا محمول کیا؟ بڑا منطقی ہے۔ تو موضوع دیکھو صغریٰ میں موجود ہے اور محمول بڑا منطقی وہ کبریٰ میں موجود ہے۔ توجہ ہے؟ تو موضوع کس میں موجود؟ صغریٰ میں، اور محمول کہاں موجود؟ کبریٰ میں، کس کا؟ نتیجے کا، نتیجے کا۔ تو قیاس کے اندر پورا کا پورا نتیجہ موجود ہے لیکن اکٹھا نہیں ہے، نتیجے کا ایک حصہ کہاں پر ہے؟ صغریٰ میں، اور دوسرا حصہ کہاں پر ہے؟ کبریٰ میں ہے۔ یہ ہے قیاسِ اقترانی۔ تو قیاسِ اقترانی دو قضیہ حملیہ سے بنتا ہے، کس سے؟ اور اس میں ایک حصہ مشترک ہوتا ہے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ حدِ اوسط، اور اس کو ہٹا دیا جائے تو پھر کیا حاصل ہو جاتا ہے؟ نتیجہ حاصل ہو جاتا ہے۔ یعنی پورا نتیجہ قیاس میں موجود تو ہوتا ہے لیکن اکٹھا نہیں ہوتا، الگ الگ حصے ہوتے ہیں اس کے۔
جبکہ دوسری قسم ہے قیاسِ استثنائی، اب وہ سمجھو بھئی۔ قیاسِ استثنائی، اس میں بھی دو مقدمے ہوں گے۔ کتنے مقدمے؟ دو مقدمے۔ لیکن پہلا جو مقدمہ ہوگا وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ قضیہ شرطیہ ہوگا۔ کیا ہوگا؟ اور دوسرا قضیہ قضیہ حملیہ ہوگا۔ قضیہ حملیہ۔ اور دونوں کے درمیان لفظِ لیکن آئے گا۔ توجہ ہے؟ یہ آپ حضرات کے لیے دوبارہ تفصیل ذکر کر رہا ہوں، یہ گزر چکی ہے، یہ سب گزر چکی ہے، ٹھیک ہے؟ توجہ سے بیٹھو۔ تو قیاسِ استثنائی کے اندر پہلا مقدمہ ہمیشہ کیا ہوگا؟ قضیہ شرطیہ، کیا ہوگا؟ اور دوسرا مقدمہ کیا ہوگا؟ قضیہ حملیہ، اور دونوں کے درمیان لفظِ لیکن آئے گا۔ اور یہ لفظِ لیکن کو عربی زبان میں حرفِ استثنا کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ حرفِ استثنا، لاکن، عربی میں لٰکن کہتے ہیں، ٹھیک ہے؟ تو وہ حرفِ استثنا، اور چونکہ دیکھو اس قیاس کے اندر حرفِ استثنا آتا ہے، اس لیے اس کا نام ہی استثنائی رکھ دیا، قیاسِ استثنائی۔ تو قیاسِ استثنائی میں پہلا مقدمہ کیا ہوگا؟ قضیہ شرطیہ، دوسرا مقدمہ کیا ہوگا؟ قضیہ حملیہ، اور دونوں کے درمیان کیا آئے گا؟ لیکن کا لفظ آئے گا۔ اور نیز اس قیاس کے اندر پورا کا پورا نتیجہ یا نتیجے کی نقیض ذکر ہوتی ہے۔ اس قیاس کے اندر ہی پورا کا پورا نتیجہ ذکر ہوتا ہے یا نتیجے کی نقیض ذکر ہوتی ہے۔
مثلاً دیکھیے بھئی: اگر سورج نکلے گا تو دن موجود ہوگا۔ توجہ ہے؟ یہ کون سا قضیہ؟ اگر سورج نکلے گا تو دن موجود ہوگا، قضیہ شرطیہ، کون سا شرطیہ ہے یہ؟ متصلہ ہے، کیا ہے؟ متصلہ ہے۔ دو چیزوں میں اتصال بیان ہوا کہ جب بھی سورج نکلے گا، کیا موجود ہوگا؟ دن موجود ہوگا۔ یہ پہلا مقدمہ بن گیا قیاس کا، اور اس کے بعد لاؤ لفظِ لیکن، اور لیکن کے بعد پھر ایک قضیہ حملیہ لاؤ۔ اسی اچھا، یہ جو ابھی قضیہ شرطیہ گزرا ذرا زبان سے دہراؤ: اگر سورج نکلے گا تو دن موجود ہوگا۔ بلکہ یوں کریں، یہ ذرا کاپیوں پر لکھیں، اپنے سامنے لکھیں بھئی۔ لکھیں بھئی جلدی کریں، ایک ہی سطر میں لکھنا ہے آپ نے، ایک ہی سطر میں: اگر سورج نکلے گا تو دن موجود ہوگا۔ اگر سورج نکلے گا، اگر سورج نکلے گا، جلدی کرو بھئی، اگر سورج نکلے گا تو دن موجود ہوگا۔ تو دن موجود ہوگا۔ لکھ لیا؟ آگے لکھو ابھی: لیکن، لیکن دن موجود ہے۔ لیکن، اگلی سطر میں لکھ لیں اگر پورا نہیں ہوتا، لیکن دن موجود ہے۔ لیکن کو واضح کر کے لکھو بھئی، لیکن الگ سطر میں لکھ لو اگر جگہ نہیں ہے، لیکن، لیکن دن موجود ہے۔ لیکن دن موجود ہے۔ لکھ لیا بھئی؟ اگر سورج نکلے گا تو دن موجود ہوگا، لیکن دن موجود ہے۔
تو یہ لکھ لیا بھئی؟ یہ ہے قیاسِ استثنائی جو آپ نے لکھا۔ اس پہ نظر رکھو ذرا، اس کاغذ پہ نظر رکھو، پھر آپ کو یہ بحث سمجھ میں آئے گی بھئی۔ دیکھیے بھئی، یہ ہے قیاسِ استثنائی۔ اس کا پہلا مقدمہ قضیہ شرطیہ ہے: اگر سورج نکلے گا تو دن موجود ہوگا، یہ سارا کیا ہے؟ قضیہ شرطیہ، اور یہ ہے متصلہ، دو چیزوں میں کیا بیان کیا جا رہا ہے؟ اتصال بیان کیا جا رہا ہے۔ اور دوسرا مقدمہ لیکن کے بعد ہے اور وہ قضیہ حملیہ ہے، وہ کیا ہے؟ قضیہ حملیہ ہے۔ وہ قضیہ حملیہ ہے: لیکن دن موجود ہے، لیکن دن موجود ہے۔ نتیجہ کیا نکلا؟ جب دن موجود ہے تو سورج نکلا، تو نتیجہ کیا نکلے گا؟ نتیجہ، لیکن نہیں، نتیجے میں لیکن نہ لاؤ، نتیجے میں پس، یوں کہو پس، پس دن موجود ہے۔ نتیجہ کیا نکلا؟ اوہو، لیکن دن موجود ہے یہ تو قضیے میں آ رہا ہے۔ دن موجود ہے، معلوم ہوا سورج نکلا ہوا ہے۔ تو نتیجہ کیا نکلا؟ پس سورج نکلا ہوا ہے۔ پیچھے دو چیزوں میں اتصال بیان ہوا تھا نا، اگر سورج نکلے گا تو کیا ہوگا؟ دن۔ اس سے دیکھو جب دو چیزوں میں آپ کو اتصال کا پتہ چل گیا تو یہ بھی پتہ چل گیا، اگر سورج نکلے گا تو دوسری چیز یعنی دن ہوگا، اور اگر دوسری چیز ہے معلوم ہوا پہلی چیز یعنی سورج نکلا ہوا ہے۔
توجہ ہے؟ قضیہ شرطیہ متصلہ میں کیا ہوتا ہے؟ دو چیزوں کے درمیان اتصال بیان ہوتا ہے کہ اگر پہلی چیز ہوئی تو دوسری بھی ہوگی۔ لہٰذا اگر آپ کو کہہ دیا جائے پہلی چیز ہے، معلوم ہوا دوسری بھی ہوگی۔ اور یا کہہ دیا جائے دوسری ہے، معلوم ہوا پہلی بھی ہوگی، کیونکہ دونوں میں اتصال ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو دیکھیے یہاں پر آپ غور کریں، قضیہ شرطیہ پہلا مقدمہ، اور قضیہ حملیہ دوسرا مقدمہ، اور پورا قیاس کیا بن گیا؟ اگر سورج نکلے گا تو دن موجود ہوگا، لیکن دن موجود ہے۔ لیکن دن موجود ہے۔ نتیجہ کیا نکلا؟ جب دن موجود ہے تو پس سورج نکلا ہوا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ اس طرح نتیجہ آتا ہے۔ تو نتیجہ کیا آیا؟ پس سورج نکلا ہوا ہے۔ یہ نتو توجہ ہے؟ یہ جو آپ نے لکھا یہ سارا قیاس ہے، آگے اس کا نتیجہ نکلے گا، نتیجہ کیا نکلے گا؟ جب دن نکل موجود ہے تو نتیجہ نکلا: پس سورج نکلا ہوا ہے۔
تو دیکھیے، پس سورج، نتیجے میں سورج کے نکلنے کا ذکر آیا نہ نکلنے کا ذکر ہے؟ نکلنے کا، اور اس قیاس کے اندر بھی کہیں ذکر ہے سورج کے نکلنے کا؟ ہے۔ شروع میں ہی کیا آیا: اگر سورج نکلے گا، یہ اگر کو ہٹا دیں، ویسے سورج کے نکلنے کا ذکر ہے یا نہیں؟ نتیجے میں بھی کیا آیا؟ سورج نکلا ہوا ہے۔ اور قیاس میں بھی کیا ذکر تھا؟ سورج کے نکلنے کا ذکر تھا، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو دیکھو پورا کا پورا نتیجہ قیاس کے اندر اکٹھا ذکر ہے۔ کیا ذکر ہے شروع میں؟ اگر سورج نکلے گا، دیکھو اگر کو آپ چھوڑ دیں، یہ تو قضیہ شرطیہ بنانے کے لیے اگر لائے تھے نا، اور گا گے یا ہو رہا ہے یا ہوگا وغیرہ یہ اس لفظ کو بھی نہ دیکھیں، صرف یہ دیکھیں، سورج کے نتیجہ کیا نکلا؟ سورج نکلا ہوا ہے، اور قیاس کے اندر بھی سورج کے نکلنے کا ذکر ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟
تو قیاس میں بھی سورج کے نکلنے کا ذکر، تو دیکھو پورا کا پورا نتیجہ قیاس میں اکٹھا ذکر ہے، سورج کے نکلنے کا اکٹھا ذکر ہے۔ قیاسِ اقترانی میں کیا تھا؟ زید بڑا منطقی ہے، زید الگ جگہ تھا اور بڑا منطقی الگ جگہ تھا، لیکن اکٹھا نہیں تھا، یہاں پر اکٹھا ہے۔ اگر سورج نکلے گا، صرف اگر کو ہٹا دو، سورج نکلے گا یا سورج نکلا ہے، ایک ہی بات ہے یا نہیں؟ سمجھ میں آیا؟ وہ صرف شرطیہ بنانے کے لیے اگر کا لفظ لاتے ہیں اور ہوگا یا گا وغیرہ لفظ ملا دیتے ہیں، ورنہ تو سورج موجود ہے، یہ پورا قیاس میں بھی موجود اور یہی نتیجہ بھی نکل آیا۔ تو قیاسِ استثنائی میں کیا ہوتا ہے؟ پورا کا پورا نتیجہ قیاس کے اندر ہی ذکر ہوتا ہے۔ آپ دیکھ رہے ہیں پورا کا پورا نتیجہ، نتیجہ کیا نکلا؟ سورج نکلا ہوا ہے، اور یہی سورج کے نکلنے کا پورا ذکر کس میں ہے؟ قیاس میں بھی ہے بھئی۔ تو قیاسِ استثنائی میں پورا کا پورا نتیجہ قیاس کے اندر بھی ذکر ہوتا ہے۔
اور بعض اوقات نتیجہ نہیں ذکر ہوتا، نتیجے کی نقیض ذکر ہوتی ہے۔ کیا ذکر ہوتی ہے؟ نقیض۔ نقیض کسے کہتے ہیں؟ اسی چیز، نفی کا اثبات اور اثبات کی نفی۔ زید عالم ہے، اس کی نقیض آئے گی: زید عالم نہیں ہے۔ کیا ہے؟ یہ درخت ہے، یہ درخت نہیں ہے۔ تو نفی کے لیے اثبات لے آؤ، اثبات کے لیے نفی لے آؤ، یہ ہے نقیض۔ زید زید انسان ہے، زید انسان نہیں ہے۔ یہ جو نقیض ہے دونوں میں نقیضوں میں سے ایک دونوں جمع بھی نہیں ہو سکتیں، دونوں اٹھ بھی نہیں سکتیں، ایک سچی ہوگی ایک جھوٹی۔ زید انسان ہے، زید انسان نہیں ہے، دیکھو دونوں میں سے ایک بات سچی ہوگی، یا تو وہ انسان ہے یا انسان نہیں۔ یہ درخت ہے یا درخت نہیں ہے، دیکھو دونوں میں سے ایک بات سچی ہوگی، یہ نہیں ہو سکتا کوئی ایک بھی سچی نہ ہو۔ تو کبھی کبھار قیاسِ استثنائی کے اندر پورا کا پورا نتیجہ ہوتا ہے، کبھی نتیجے کی نقیض ہوتی ہے، یعنی نقیض یعنی اگر نتیجہ مثبت ہے تو قیاس میں نفی ذکر ہوگی۔ قیاس میں کیا ذکر ہوگی؟
مثلاً: اگر سورج نکلے گا تو دن ہوگا، لیکن سورج نہیں نکلا ہوا۔ نتیجہ کیا نکلا؟ معلوم ہوا دن بھی موجود نہیں۔ اور قیاس کے اندر کیا ذکر تھا؟ دن موجود نہیں ہے یا دن موجود ہوگا؟ اس قیاس پہ نظر رکھو، پھر قیاس پہ نظر رکھو جو میں نے آپ کو لکھوایا ہے، ذرا دیکھو: اگر سورج نکلے گا تو دن موجود ہوگا، لیکن سورج موجود نہیں ہے۔ سورج موجود نہیں۔ نتیجہ کیا نکلا؟ معلوم ہوا پس دن موجود نہیں۔ تو نتیجہ نکلا دن کے موجود نہ ہونا، اور قیاس کے اندر دن کا موجود ہونا ذکر ہے یا موجود نہ ہونا؟ موجود ہونا ذکر ہے۔ اگر سورج نکلے گا تو دن موجود ہوگا، دیکھو وہاں موجود ہونا ذکر ہے، اور نتیجے میں دن کا موجود نہ ہونا۔ تو قیاس کے اندر نتیجہ ذکر ہے یا نتیجے کی نقیض ذکر ہے؟ نقیض ذکر ہے، نتیجہ تو نفی میں آیا لیکن قیاس میں اثبات ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اچھی طرح؟
تو یہ جو قیاسِ استثنائی ہوتا ہے، پھر سنیں، قیاسِ استثنائی کے اندر پہلا مقدمہ جو ہے وہ ہمیشہ قضیہ شرطیہ ہوتا ہے، اور دوسرا مقدمہ قضیہ حملیہ ہوتا ہے، اور دونوں کے درمیان لفظِ لیکن آتا ہے، اور اسی قیاس کے اندر ہی پورا کا پورا نتیجہ یا نتیجے کی نقیض ذکر ہوتی ہے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟
اب دیکھو بھئی، توجہ سے، اب اس یہ جو میں نے لکھوایا ذرا اس پہ نظر رکھو، اس پہ نظر رکھو۔ اس میں پہلا حصہ کیا ہے؟ پہلا مقدمہ کیا ہے؟ اگر سورج نکلے گا تو دن موجود ہوگا، تو اگر سورج نکلے گا یہ کیا ہے؟ مقدم، اور تو دن ہوگا یہ کیا ہے؟ قضیہ شرطیہ ہے نا، اس کا پہلا جز مقدم کہلاتا ہے اور دوسرا جز تالی۔ اگر سورج نکلے گا یہ کیا ہے؟ مقدم، تو دن ہوگا یہ کیا ہے؟ تالی۔ یاد رکھو، یہ لیکن کے بعد نا لیکن کے بعد، اسی مقدم کا کبھی اثبات ہوگا کبھی نفی ہوگی، نظر ہے؟ یہ جو لیکن کے بعد ہے نا، اس یہ جو ماقبل میں کیا آیا؟ قضیہ لیکن سے پہلے کیا ہے؟ قضیہ شرطیہ، اس میں ایک مقدم ہے اور ایک تالی۔ تو لیکن کے بعد اسی مقدم کا یا تو اثبات ہوگا یا کیا ہوگی؟ نفی، یا پھر تالی کا اثبات ہوگا یا تالی کی نفی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ بس یہ بات سمجھ میں آ گئی تو یہ سارا مسئلہ حل ہو جائے گا۔ پہلا مقدمہ کیا؟ اگر سورج نکلے گا تو دن موجود ہوگا۔ یہ کیا ہے؟ قضیہ شرطیہ، اس کا پہلا حصہ کیا؟ مقدم، دوسرا کیا؟ تالی۔ لیکن کے بعد اسی مقدم یا تالی نے ہی آنا ہے، کسی اور چیز نے نہیں آنا۔ کس کے بعد؟ لیکن کے بعد، ہاں اسی مقدم یا تالی نے آنا ہے، لیکن کبھی مقدم کا اثبات ہوگا لیکن کے بعد، کبھی کیا ہوگا؟ مقدم کی نفی ہوگی، کبھی تالی کا اثبات ہوگا یا تالی کی نفی ہوگی، نتیجہ آپ کو خود بخود پتہ چل جائے گا۔
مثلاً ادھر دیکھیے، ادھر دیکھیے۔ مقدم کا اثبات کریں لیکن کے بعد، قضیہ شرطیہ پہلے بناؤ: اگر سورج نکلے گا تو دن موجود ہوگا، مقدم کیا ہے؟ اگر سورج نکلے گا۔ لیکن کے بعد اس کا اثبات کر دو: لیکن سورج نکلا ہوا ہے۔ اچھا، لیکن کے بعد اس کی نفی کر دو: لیکن سورج نہیں نکلا ہوا۔ دیکھا؟ یا لیکن کے بعد تالی کا اثبات کر دو: لیکن دن موجود ہے۔ اچھا، تالی کی نفی کر دو: لیکن دن موجود نہیں ہے۔ دیکھا، یہی چار صورتیں ہیں۔ قضیہ شرطیہ پہلا مقدمہ آئے گا، اس کے بعد کیا آئے گا؟ لیکن، اور لیکن کے بعد اسی مقدم کا یا اثبات ہوگا یا نفی، یا تالی کا اثبات ہوگا یا تالی کی نفی۔ مثلاً: اگر سورج نکلے گا تو دن موجود ہوگا لیکن، مقدم کا اثبات کرو: لیکن سورج نکلا ہوا ہے۔ یا مقدم کی نفی کرو: لیکن سورج نہیں نکلا ہوا۔ تالی کا اثبات کرو: لیکن دن موجود ہے۔ تالی کی نفی کرو: لیکن دن موجود نہیں ہے۔ یہ چار صورتیں بنتی ہیں یہاں، اور آپ کو خود بخود نتیجہ پتہ چل جائے گا۔
اگر میں کہوں: لیکن سورج موجود ہے، میں نے مقدم کا اثبات کیا۔ جب مقدم کا اثبات ہوا تو پس، جب سورج موجود ہے پس نتیجہ بنا لو: پس دن موجود ہے۔ اور اگر لیکن کے بعد آ جائے مقدم کی نفی: لیکن سورج نکلا ہوا نہیں ہے، نتیجہ بنا لو، پس کے ساتھ نتیجہ بناؤ: پس دن موجود نہیں ہے۔ اچھا، لیکن کے بعد تالی تالی کا اثبات کرو: لیکن دن موجود ہے، پس پس سورج نکلا ہوا ہے یا سورج موجود ہے۔ لیکن کے بعد تالی کی نفی کرو: لیکن دن موجود نہیں ہے، پس سورج نکلا ہوا نہیں ہے۔ نہیں سمجھ میں آ رہی بات، نہیں سمجھ میں۔ ادھر دیکھو نا، یہ ہے قضیہ شرطیہ، یہ کیا ہے؟ یہ میرے سامنے قضیہ شرطیہ آپ کو نظر آ رہا ہے؟ یہ ہے مقدم: اگر سورج نکلے گا، اور دوسرا کیا ہے؟ تو دن موجود ہوگا۔ لیکن، لیکن کے بعد انہی دو چیزوں میں سے ایک نے آنا ہے، یا مقدم آئے گا یا تالی آئے گا۔ اور پھر اس میں دو دو صورتیں ہیں، یا لیکن کے بعد مقدم اگر آیا تو اس کا اثبات ہوگا یا نفی، اور اگر تالی آیا تو اس میں بھی یا اس کا اثبات ہوگا یا نفی ہوگی۔ اور مقدم کیا ہے؟ اگر سورج نکلے گا۔ لہٰذا لیکن کے بعد لاؤ، اگر سور پہلے پورا سن لو قیاس: اگر سورج نکلے گا تو دن موجود ہوگا، لیکن، مقدم کا اثبات کرو: لیکن سورج نکلا ہوا ہے، نتیجہ بھی نکال لو: پس دن موجود ہے۔
اب ذرا لیکن کے بعد مقدم کی نفی کرنا، پھر نتیجہ نکالنا: لیکن سورج نکلا ہوا نہیں ہے، نتیجہ نکال لو: پس دن موجود نہیں ہے۔ اب کیا کرو؟ لیکن کے بعد تالی کا اثبات کرو، لیکن، اگر سورج نکل دوبارہ سنو: اگر سورج نکلے گا تو دن موجود ہوگا، لیکن، لیکن دن موجود ہے، اثبات کرو، لیکن دن تالی کا اثبات ہے، لیکن دن موجود ہے، پس پس سورج نکلا ہوا ہے، یا کہہ دو پس سورج موجود ہے۔ لیکن کے بعد تالی کی نفی کرو: لیکن دن موجود نہیں ہے، پس سورج نکلا ہوا نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ کہ قیاسِ اقترانی میں کیا ہوتا ہے؟ پہلا مقدمہ کیا ہوتا ہے؟ قضیہ شرطیہ۔ قضیہ شرطیہ کے اندر ایک کیا ہوگا؟ مقدم، ایک کیا ہے؟ تالی۔ اس مقدم کا اثبات بھی ہو سکتا ہے اور نفی، اسی طرح اس تالی کا اثبات بھی ہو سکتا ہے اور نفی۔ اگر سورج نکلے گا یعنی سورج کے نکلنے کا ذکر ہے، تو نفی کیا ہوگی؟ سورج کا نہ نکلنا، سورج نکلا ہوا نہیں ہے۔ تو دن ہوگا، یہ دن کا ہونے کا ذکر ہے، تو کبھی کیا ہوگی؟ دن کی نفی۔ تو لیکن کے بعد انہی مقدم یا تالی میں سے ایک نے آنا ہے، کس نے آنا ہے؟ مقدم نے یا تالی نے، اور پھر مقدم کا اثبات بھی ہو سکتا ہے مقدم کی نفی بھی۔ اگر مقدم کا اثبات ہوگا تو نتیجے میں تالی کا بھی اثبات۔ اگر مقدم کی نفی ہوئی لیکن کے بعد تو نتیجے میں کیا ہوگی؟ تالی کی نفی ہوگی۔ اور اگر لیکن کے بعد قیاس میں تالی کا اثبات ہوا تو نتیجے میں تالی کا اگر اثبات ہوا تو مقدم کا اثبات ہوگا، کس کا؟ نتیجے میں مقدم کا، اور اگر تالی کی نفی ہوئی تو نتیجے میں؟ ابھی بھی بعض طلبہ پریشان بیٹھے ہیں، کیا بات ہے؟ پھر دیکھو، ذرا یہ جو کاغذ پہ لکھا ہے اس پہ نظر رکھو، کاغذ پہ جو لکھا ہے۔
اگر سورج نکلے گا تو دن موجود ہوگا۔ اگر سورج نکلے گا یہ کیا ہے؟ مقدم، تو دن ہوگا یہ کیا ہے؟ تالی، اور یہ سارا کیا ہے؟ پہلا مقدمہ ہے قضیہ شرطیہ۔ اور لیکن کے بعد اب اسی مقدم یا تالی میں سے آئے گا۔ مقدم کیا تھا؟ اگر سورج، تو لیکن کے بعد سورج کے نکلنے ہی کا اثبات ہوگا یا سورج کے نکلنے کی نفی۔ لیکن سورج نکلا ہوا ہے، یہ بھی کہہ سکتے ہیں، یا ہو سکتا ہے: لیکن سورج نکلا ہوا نہیں ہے، یہ بھی کہہ سکتے ہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ دیکھو، مقدم جو ہے مقدم، مقدم کیا ہے؟ اگر سورج نکلے گا، لیکن کے بعد آگے سورج کے نکلنے کا اثبات ہوگا یا سورج کے نکلنے کی نفی۔ لیکن سورج نکلا ہوا ہے، نتیجہ نکال لو: پس دن موجود ہے، دیکھو نتیجہ خود بخود آ گیا۔ اچھا، لیکن کے بعد اس مقدم کی نفی کر دو: لیکن، مقدم مقدم کی نفی کرو: لیکن سورج نکلا ہوا نہیں ہے، نتیجہ خود نکل آیا: پس دن موجود نہیں ہے۔
اسی طرح لیکن کے بعد یہ جو تالی ہے نا تالی، اس کا اثبات بھی ہو سکتا ہے اور نفی بھی۔ اب ذرا تالی کا اثبات کرو لیکن کے بعد: لیکن دن، تالی کیا ہے؟ تالی پہ ذرا نظر رکھو: دن موجود ہوگا۔ ہاں اسی کو لیکن کے بعد لے آؤ: لیکن دن موجود ہے، نتیجہ کیا نکلا؟ پس سورج نکلا ہوا ہے۔ اچھا، لیکن کے بعد تالی کی نفی کر دو: لیکن دن موجود نہیں ہے، نتیجہ کیا نکلا؟ پس سورج نکلا ہوا نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو لیکن کے بعد چار صورتیں بنتی ہیں: یا مقدم کا اثبات، یا مقدم کی نفی، یا تالی کا اثبات، یا تالی کی نفی، تو چار ہی صورتیں بنتی ہیں اور چاروں کا نتیجہ آسان ہے یا مشکل ہے؟ آسان، کیونکہ جب دونوں میں اتصال ہے تو ایک چیز ہوگی تو دوسری بھی ہوگی، اور ایک کی نفی ہوگی تو دوسرے کی بھی نفی ہوگی۔ اگر سورج ہے تو دن بھی ہوگا، اگر سورج نہیں تو دن بھی نہیں۔ اور اگر دن ہے تو سورج بھی ہے، اور اگر دن نہیں تو سورج بھی نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اچھی طرح؟
اللہ اللہ، درود شریف پڑھو سارے، تھک گئے ہو لگتا ہے۔ اہم بات حل ہو گئی ہے، ٹھیک ہے؟ اب آگے تھوڑا سا تھوڑا سا رہ گیا ہے، بات اصل آپ کو سمجھ میں آ گئی کہ لیکن کے بعد کیا آ سکتا ہے؟ کتنی شکلیں صورتیں بنتی ہیں؟ چار: یا مقدم کا اثبات یا نفی، یا تالی کا اثبات یا نفی، اور فوراً نتیجے کا بھی پتہ چلے گا یا نہیں؟ ہاں دیکھا، تو اصل بات آپ سمجھ گئے ہیں، اب تھوڑی سی بحث ہے بس ذرا شوق سے بیٹھو۔ اچھا، تو درود پڑھ لو بھئی دو چار دفعہ۔
اچھا تو آپ نے دیکھا کہ لیکن کے بعد مقدم کا اثبات بھی ہو سکتا ہے، مقدم کی نفی بھی ہو سکتی ہے، تالی کا اثبات بھی ہو سکتا ہے، اور تالی کی نفی بھی ہو سکتی ہے۔ تو اگر ادھر دیکھیے بھئی، اگر پہلا مقدمہ قضیہ شرطیہ متصلہ ہو، قضیہ شرطیہ دو قسم پر ہے نا: متصلہ یا منفصلہ۔ تو پہلا مقدمہ ہمیشہ قضیہ شرطیہ ہوگا، اس کے بعد لیکن آئے گا اور لیکن کے بعد ایک کیا ائے گا؟ قضیہ حملیہ آئے گا، اور اس قضیہ حملیہ میں یا مقدم کا اثبات ہوگا یا نفی ہوگی، یا تالی کا اثبات ہوگا یا تالی کی نفی ہوگی۔ تو اب یہاں پر یہ جو پہلا مقدمہ وہ کیا ہوگا؟ لیکن سے پہلے؟ قضیہ شرطیہ، وہ کیا ہے؟ توجہ ہے؟ لیکن سے پہلے کون سا قضیہ ہوتا ہے؟ قضیہ شرطیہ۔ تو قضیہ شرطیہ جو آپ نے مثال پڑھی، اگر سورج نکلے گا تو دن ہوگا، یہ تو شرطیہ متصلہ ہے، ایک قضیہ منفصلہ بھی ہے کہ نہیں؟ تو وہ قضیہ منفصلہ بھی یہاں پر آ سکتا ہے، تو قضیہ شرطیہ متصلہ بھی آ سکتا ہے اور منفصلہ۔ ابھی ہم صرف متصلہ کو حل کر رہے ہیں۔
یاد رکھو، اگر پہلا قضیہ متصلہ ہو، کیا ہو؟ قضیہ متصلہ ہو، تو لیکن کے بعد عقلاً چار صورتیں بنتی ہیں، ابھی میں نے بتایا۔ کتنی صورتیں؟ چار۔ ہماری عقل کہتی ہے کہ چار صورتوں میں نتیجہ آنا چاہیے، چاروں میں نتیجہ آنا چاہیے، کیا؟ اگر آپ کہہ دیں لیکن کے بعد: لیکن سورج نکلا ہوا ہے، تو نتیجہ کیا رہے گا؟ پس دن موجود ہے۔ اور اگر لیکن کے بعد اگر مقدم کی نفی آ جائے: لیکن سورج موجود نہیں ہے، پس دن موجود نہیں ہے۔ اور اگر تالی کا اثبات آ جائے: لیکن دن موجود ہے، تو نتیجہ کیا نکلے گا؟ پس سورج نکلا ہوا ہے۔ اور اگر لیکن کے بعد تالی کی نفی آ جائے: لیکن دن موجود نہیں ہے، پس پس سورج نکلا ہوا نہیں ہے۔ تو لیکن کے بعد کل کتنی صورتیں بنتی ہیں؟ چار۔ تو ہماری عقل یہ کہتی ہے کہ چاروں میں نتیجہ آنا چاہیے۔
لیکن یاد رکھو، چاروں صورتوں میں نتیجہ نہیں آتا، صرف دو صورتوں میں نتیجہ آتا ہے۔ کتنی صورتوں میں؟ دو صورتوں میں۔ بھئی کیوں نہیں آتا؟ ابھی تو ہم نے بتایا، سورج نکلے گا تو کیا ہوگا؟ دن ہوگا، اور دن ہوگا تو کیا ہوگا؟ سورج نکلا ہوگا، اور اگر سورج نہیں نکلا ہوا تو دن نہیں ہے، اور اگر دن نہیں ہے تو سورج نکلا ہوا نہیں ہے، نتیجہ تو چاروں میں آ رہا ہے اور بالکل صحیح آ رہا ہے؟ جواب کہ بھئی منطق کے قوانین کلی ہوتے ہیں، وہ صرف اسی ایک مثال کو دیکھ کر قانون نہیں بناتے، انہوں نے ایسا قانون بنانا ہوتا ہے جو ہر جگہ پر لگے، کوئی ایک صورت بھی اس سے باہر نہ ہو۔ لہٰذا انہوں نے غور کیا کہ صورتیں تو چار بنتی ہیں، لیکن چاروں میں ہمیشہ نتیجہ ٹھیک نہیں نکلتا، ہاں دو صورتیں ان میں ایسی ہیں کہ ان میں ہمیشہ نتیجہ ٹھیک نکلتا ہے، اور وہ کون سی؟ وہ یہ کہ لیکن کے بعد مقدم کا اثبات ہو، کیا ہو؟ مقدم کا اثبات۔ جب لیکن کے بعد مقدم کا اثبات ہوگا تو نتیجے میں تالی کا اثبات۔ لیکن سورج نکلا ہوا ہے، دیکھو یہ مقدم کا کیا کر رہا ہوں میں؟ اثبات، تو نتیجہ کیا نکلے گا؟ تو دن موجود ہے، جب مقدم کا اثبات ہوگا تو نتیجے میں تالی کا بھی اثبات، ایک یہ صورت، اس میں نتیجہ ہمیشہ ٹھیک آتا ہے۔
اور دوسرا، جب لیکن کے بعد تالی کی نفی کرو، کیا کرو؟ تالی کی نفی۔ لیکن دن موجود نہیں ہے، نتیجہ کیا نکلا؟ پس سورج موجود نہیں ہے۔ تو صرف یہ دو صورتیں ہیں جن میں ہمیشہ نتیجہ نکلتا ہے۔ کون سی دو صورتیں؟ لیکن کے بعد اگر کیا ہو؟ مقدم کا اثبات ہو، پھر بھی نتیجہ ٹھیک نکلے گا، اور لیکن کے بعد اگر تالی کی نفی ہو، پھر بھی ہمیشہ نتیجہ ٹھیک نکلے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ کون سی دو صورتیں ہیں؟ پھر دہراؤ، ابھی پھر ہم کتاب پر پڑھتے ہیں آپ نے دیکھنا ہے۔ کون سی دو صورتوں میں نتیجہ ائے گا؟ قضیہ شرطیہ متصلہ کی بات کر رہا ہوں، جب قیاس کے اندر مقدم کیا ہو؟ قضیہ شرطیہ متصلہ ہو، کیا ہو؟ منفصلہ کی ابھی میں نے بات نہیں کی، قضیہ شرطیہ متصلہ ہو، تو پھر لیکن کے بعد چار صورتیں عقلاً بنتی ہیں، لیکن کتنوں میں نتیجہ ہمیشہ صحیح آتا ہے؟ دو میں۔ کون سی؟ اگر لیکن کے بعد کیا ہو؟ مقدم کا اثبات ہو، اس کو یاد کر لو، لیکن کے بعد مقدم کا اثبات ہو تو نتیجے میں تالی کا بھی اثبات ہوگا، نتیجہ نکل آئے گا۔ اور دوسری صورت کیا ہے؟ کہ لیکن کے بعد تالی کی نفی ہو تو نتیجے میں مقدم کی نفی ہو جائے گی، باقی صورتوں میں ایسا ہمیشہ نتیجہ نہیں نکلے گا۔ یہاں تو نکل رہا ہے، اس میں تو آپ کہہ سکتے ہیں دن ہے تو سورج ہے، دن نہیں تو سورج نہیں ہے، سورج نہیں تو دن نہیں، دن نہیں تو سورج نہیں۔ لیکن ہر جگہ ایسا نہیں ہوتا، قیاس یہ منطق کے قوانین تو کلی ہوتے ہیں، اس میں ساری صورتیں آنی چاہئیں، تو صرف یہ دو صورتیں جن میں لیکن کے بعد مقدم کا اثبات یا لیکن کے بعد تالی کی نفی، ان دو صورتوں میں نتیجہ ہمیشہ آتا ہے۔
اور اگر لیکن کے بعد مقدم کی نفی ا جائے، اثبات نہیں بلکہ کیا آئے؟ تو ضروری نہیں تالی کی بھی نفی ہو۔ اسی طرح اگر لیکن کے بعد تالی کا اثبات ا جائے، تو ضروری نہیں کہ مقدم کا بھی اثبات ہو۔ اچھا پھر دہراؤ، پھر دہراؤ، کتنی صورتوں میں نتیجہ ائے گا؟ دو میں۔ کون سی؟ اگر لیکن کے بعد کیا ہو؟ مقدم کا اثبات ہو یا تالی کی نفی ہو۔ اور اگر لیکن کے بعد مقدم کی نفی ہو؟ تو تالی کی نفی ہونا ضروری نہیں۔ اسی طرح لیکن کے بعد اگر تالی کا اثبات ہو تو مقدم کا اثبات ہونا ضروری نہیں۔ یہاں پر ہو رہا ہے جو ابھی ہم نے مثال ذکر کی، اب ذرا میں ایک اور مثال آپ کے سامنے لاتا ہوں، آپ خود دیکھنا کہ واقعی ایسا ہے۔
اگر کمرے میں بلب جلے گا تو کمرے میں روشنی ہوگی۔ اگر کمرے میں بلب جلے گا تو کمرے میں روشنی ہوگی۔ بس یہ کمرے کا لفظ ہٹا دو، یہ دونوں جگہ آ رہا ہے نا، اس کی ضرورت نہیں ہے، بات لمبی ہو رہی ہے۔ اگر بلب جلے گا تو روشنی ہوگی، اور میں کس کی بات کر رہا ہوں؟ کمرے کی۔ اگر بلب جلے گا تو روشنی ہوگی، یہ ہے قضیہ شرطیہ متصلہ: اگر بلب جلے گا تو تو روشنی ہوگی۔ مقدم کیا؟ اگر بلب جلے گا۔ تالی کیا؟ تو روشنی ہوگی۔ لیکن کے بعد اب وہ چاروں صورتیں ذرا لے کر آؤ، آپ دیکھیں گے دو میں نتیجہ ٹھیک آتا ہے، دو میں نتیجہ ٹھیک نہیں آتا۔ لیکن کے بعد ذرا مقدم کا اثبات کرو: اگر بلب جلے گا تو روشنی ہوگی، لیکن بلب جل رہا ہے، لیکن نتیجہ کیا نکلا؟ روشنی ہے۔ تو جب بھی کمرے میں بلب جلے گا روشنی ہوگی یا نہیں؟ ہوگی۔ تو آپ نے لیکن کے بعد کیا کیا؟ مقدم کا اثبات کیا، تو نتیجہ بالکل ٹھیک ایا، ٹھیک ہے؟ ہم نے بھی یہی کہا تھا، جب لیکن کے بعد مقدم کا کیا کرو؟ اثبات، تو نتیجہ بھی کیا ائے گا؟ ٹھیک ائے گا، ٹھیک ائے گا۔
اور اگر لیکن کے بعد آپ مقدم کی نفی کر دیں، لیکن کے بعد، کیسے؟ اگر اگر بلب جلے گا تو روشنی ہوگی، لیکن بلب نہیں جل رہا، تو روشنی نہیں ہے۔ یہ تو ضروری نہیں ہے، دیکھو اس وقت دن ہے، اگر بلب نہ جل رہا ہو پھر بھی کمرے میں روشنی ہے یا نہیں؟ دیکھا؟ تو بلب کے نہ جلنے سے روشنی کی نفی ہوئی؟ نہیں۔ اس وقت دن ہے یا نہیں؟ جی، اس وقت بلب جلے یا نہ جلے دونوں صورتوں میں کمرے میں روشنی ہوگی یا نہیں؟ ہوگی۔ تو اب اگر میں کہوں: اگر کمرے میں بلب جلے گا تو روشنی ہوگی، لیکن بلب تو نہیں جل رہا، نتیجہ کیا نکلا؟ روشنی جو نتیجہ اس قیاس کے مطابق نکالو نا، لیکن بلب نہیں جل رہا تو روشنی نہیں ہے، یہ ٹھیک بات ہو رہی ہے اس وقت؟ روشنی نہیں ہے؟ روشنی تو ہے، تو دیکھا روشنی اور وجہ سے بھی ہو سکتی ہے اور سورج وغیرہ کی وجہ سے بھی ہو سکتی ہے۔ تو مقدم کے اثبات سے، اگر بلب جلے گا تو کمرے میں کیا ہوگی؟ روشنی ہوگی، مقدم کا اثبات کیا تو تالی کا بھی اثبات، لیکن مقدم کی نفی سے تالی کی نفی نہ ہوئی، دیکھا نتیجہ ٹھیک نہیں ایا۔
اب ذرا تالی پہ ا جاؤ، تالی کی کون سی صورت میں نتیجہ صحیح اتا تھا؟ تالی کی نفی کرو تو نتیجہ ائے گا، تالی کا اثبات کرو تو نتیجہ ٹھیک نہیں۔ ذرا تالی کی نفی کرو: کمرے میں روشنی نہیں ہے، معلوم ہوا بلب نہیں جل رہا۔ اب بات ٹھیک ہے، جب روشنی نہیں ہے معلوم ہوا بلب نہیں جل رہا۔ لیکن تالی کا ذرا اثبات کرو: لیکن کمرے میں روشنی ہے، تو کیا اس سے بلب کا جلنا ثابت ہوا؟ نہیں، ہو سکتا ہے روشنی کس کی وجہ سے ہو؟ سورج کی وجہ سے ہو۔ اب بات سمجھ میں آ گئی؟ ہاں، کہ یہاں پر قیاس کی چار صورتوں میں سے کہ لیکن کے بعد چار صورتیں اتی ہیں، اگر مقدم کا اثبات کریں گے تو تالی کا اثبات ہوگا، لیکن مقدم کی نفی سے تالی کی نفی نہیں ہوگی۔ اور اگر لیکن کے بعد تالی کا اثبات کریں تو مقدم کا اثبات نہیں ضروری، ہاں تالی کی نفی کریں تو مقدم کی نفی ہو جائے گی۔ صورت سمجھ میں آ گئی اچھی طرح؟
اب آئیے اگر مقدمہ اگر پہلا مقدمہ قضیہ منفصلہ ہو، کیا ہو؟ قضیہ منفصلہ ہو۔ اب قضیہ شرطیہ منفصلہ آپ نے پڑھا ہے تین قسم پر ہے: یا وہ کیا ہوگا؟ حقیقیہ، یا کیا ہوگا؟ مانعۃ الجمع، یا کیا ہوگا؟ مانعۃ الخلو۔ حقیقیہ میں کیا ہوتا ہے؟ قضیہ منفصلہ حقیقیہ میں، مثلاً یہ عدد طاق ہے یا جفت ہے، اس میں دونوں کا جمع ہونا بھی منع ہوتا ہے، دونوں سے خالی ہونا بھی منع ہوتا ہے، ایک کا ہونا اور ایک سے خالی ہونا ضروری ہوتا ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ یہ قیاسِ استثنائی چل رہا ہے نا، قیاسِ استثنائی میں کیا اتا ہے؟ حرفِ لیکن آتا ہے، لیکن سے پہلے کیا ذکر ہوتا ہے؟ قضیہ شرطیہ۔ شرطیہ کون سا ہو سکتا ہے؟ متصلہ، متصلہ کے اندر ہم نے بتا دیا، دو صورتوں میں نتیجہ ہمیشہ ائے گا، باقی دو صورتوں میں ہمیشہ ضروری نہیں۔
اب منفصلہ کی بات آ گئی، منفصلہ تین قسم پر ہے: یا وہ کیا ہوگا؟ حقیقیہ، یا کیا ہوگا؟ مانعۃ الجمع، یا کیا ہوگا؟ مانعۃ الخلو۔ یاد رکھیے، قضیہ حقیقیہ، قضیہ جس میں کیا ہوتا ہے؟ دونوں کا جمع ہونا بھی منع ہوتا ہے، دونوں کا دونوں کی نفی بھی، یہ عدد طاق ہے یا جفت ہے، ایک ہی عدد طاق اور جفت دونوں ہو جائے ایسا کبھی نہیں ہو سکتا، یہ جمع نہیں ہو سکتے، اور کوئی عدد ایسا ہو جو طاق بھی نہ ہو اور جفت بھی نہ ہو دونوں ہی اٹھ جائیں، ایسا بھی نہیں ہو سکتا، بلکہ ایک کا ہونا ضروری اور دوسرے کا نہ ہونا ضروری ہے۔ اگر طاق ہے تو جفت کی نفی ہو گئی، اور اگر جفت ہے تو طاق کی نفی ہو جائے گی۔ اب اگر یہ جو قیاسِ استثنائی ہے، ادھر دیکھیے بھئی، اگر قیاسِ استثنائی کا جو پہلا مقدمہ انا ہے، کون سا مقدمہ انا ہے؟ قضیہ شرطیہ، اگر اس کی جگہ منفصلہ حقیقیہ ا جائے، کون سا ا جائے؟ منفصلہ حقیقیہ، تو یاد رکھیے پھر چاروں صورتوں میں نتیجہ ائے گا۔ کیا ائے گا؟ آپ لیکن کے بعد مقدم کا اثبات کریں، تو نتیجے میں تالی کا اثبات، ہاں ہاں متصلہ کی بات نہیں کر رہا، منفصلہ کی بات کر رہا ہوں، پھر اب قیاس بنا لو ذرا۔ سنو سنو: عدد یا تو طاق ہوتا ہے یا جفت ہوتا ہے، یہ ہے مقدمہ اولیٰ۔ عدد یا تو طاق ہوتا ہے یا جفت ہوتا ہے، لیکن یہ عدد طاق ہے، معلوم ہوا نتیجہ کیا نکلا؟ جفت، توجہ نہیں ہے توجہ نہیں ہے، ادھر دیکھو بھئی۔ پہلا مقدمہ کیا؟ یہ عدد کی بات بعد میں کروں گا، پہلے ویسے کہہ لو: عدد یا طاق ہوتا ہے یا جفت ہوتا ہے، لیکن یہ عدد، اچھا چلو سنو، غور سے سنو بھئی، غور سے سنو۔
قضیہ شرطیہ منفصلہ حقیقیہ، قضیہ شرطیہ منفصلہ حقیقیہ، بھئی منفصلہ حقیقیہ میں کیا ہوتا ہے؟ اگر میں کہہ دوں یہ عدد طاق ہے، تو کیا نتیجہ کیا نکلے گا؟ جفت نہیں ہے، دیکھا؟ مقدم کے اثبات سے تالی کی نفی ہوگی۔ پہلے متصلہ میں تو کیا تھا؟ مقدم کے اثبات سے تالی کا بھی کیا ہوتا تھا؟ اثبات ہوتا تھا، وہ تو ظاہر سی بات ہے، اور یہ ان میں تو عناد ہے، یہ مخالفت ہے، ایک چیز ہے تو معلوم ہوا دوسری نہیں ہے۔ تو لہٰذا یہاں آپ نے یہ خیال رکھنا ہے۔ میں کہوں: لیکن یہ عدد طاق ہے، نتیجہ کیا نکلا؟ جفت نہیں ہے۔ اور اگر میں کہوں: لیکن یہ عدد طاق نہیں ہے، معلوم ہوا جفت ہے۔ اور اگر میں تالی کی بات کروں: لیکن یہ عدد جفت ہے، معلوم ہوا طاق نہیں ہے۔ اور اگر میں تالی کی نفی کروں: لیکن یہ جفت نہیں ہے، تو یہ طاق ہے۔ تو دیکھا، اس میں چاروں صورتوں میں نتیجہ ائے گا، کس کے اندر؟ قضیہ منفصلہ حقیقیہ، قضیہ منفصلہ حقیقیہ۔ کیسے بنے گا قیاس؟ عدد یا تو طاق ہوتا ہے یا جفت ہوتا ہے، لیکن یہ عدد طاق ہے، نتیجہ کیا نکلا؟ پس یہ جفت نہیں ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ چاروں صورتیں سمجھ میں آ گئیں اچھی طرح؟
یہ تو تھا قضیہ منفصلہ حقیقیہ۔ اگر کیا ہو؟ اگر منفصلہ مانعۃ الجمع ا جائے، کیا ا جائے؟ مانعۃ الجمع ا جائے۔ مانعۃ الجمع میں کیا منع ہوتا ہے؟ جمع ہونا منع ہوتا ہے، جمع یعنی دونوں نہیں ہو سکتے۔ مانعۃ الجمع میں جمع ہونا منع ہوتا ہے، خالی ہونا منع نہیں، مثلاً یہ رنگ سفید ہے یا کالا، دونوں جمع نہیں ہو سکتے، یا سفید ہوگا یا کالا، لیکن دونوں کا اٹھ جانا منع نہیں، ہو سکتا ہے نہ سفید ہو نہ کالا ہو بلکہ سبز یا سرخ ہو۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو اگر یہ قیاس کا پہلا مقدمہ منفصلہ مانعۃ الجمع ہو، کیا ہو؟ مانعۃ الجمع ہو، تو پھر صرف چار میں سے دو صورتوں میں نتیجہ ائے گا، چار میں سے دو صورتوں میں۔ کون سی دو صورتیں؟ جس کا جس میں جمع ہونے کا پتہ چل رہا ہو کہ یہ جمع نہیں ہو سکتے۔ مثلاً میں کہتا ہوں، اب تو غور سے سننا آپ نے مجھے نتیجہ بتانا ہے: کہ رنگ یا سفید ہوتا ہے یا کالا ہوتا ہے، رنگ یا سفید ہوتا ہے یا کالا ہوتا ہے، لیکن یہ رنگ سفید ہے، معلوم ہوا کالا نہیں ہے، کیونکہ جمع نہیں ہو سکتے، جب ایک ا گیا تو دوسرا نہیں ا سکتا۔ اور پھر میں کہتا ہوں: یہ رنگ سفید ہوتا ہے یا کالا ہوتا ہے، لیکن یہ کالا نہیں ہے، سفید ہے، کالا نہ ہو تو سفید ہونا ضروری ہے؟ نہیں، دیکھا نفی کی صورت میں نتیجہ نہیں آ رہا۔
توجہ ہے؟ ہاں، پھر میں کہتا ہوں: رنگ یا سفید ہوتا ہے یا کالا ہوتا ہے، لیکن یہ رنگ سفید نہیں ہے، جب سفید نہیں ہے تو کالا ہونا ضروری ہے؟ نہیں، دیکھا اب بھی نتیجہ نہیں ایا۔ تو دیکھو یہاں پر نفی والی صورتوں میں نتیجہ نہیں اتا، ایک کی نفی کرو، سفید نہیں ہے، تو اس سے کالا ہونا ثابت نہیں ہوتا، یا کالے ہونے کی نفی کرو تو اس سے سفید ہونا ثابت نہیں ہوتا۔ صرف اثبات والی صورتوں میں نتیجہ ائے گا، کس طرح؟ لیکن یہ رنگ سفید ہے، معلوم ہوا کالا نہیں ہے، یہ پکی بات ہے۔ یا میں کہوں: لیکن یہ رنگ کالا ہے، نتیجہ کیا نکلا؟ سفید نہیں ہے، یہ پکی بات ہے۔ دیکھا تو صرف اثبات والی صورتوں میں نتیجہ آ رہا ہے۔ کون سے قیاس کی کون سی صورت ہے؟ قضیہ متصلہ مانعۃ الجمع، کن دو صورتوں میں نتیجہ ائے گا؟ جی، ہاں اثبات والی صورتوں میں، اثبات والی صورتوں میں نتیجہ ائے گا، مقدم کا اثبات کریں گے تو تالی کی نفی، اور تالی کا اثبات کریں گے تو مقدم کی نفی۔ جب سفید کہہ دیں گے تو کالا نہیں ہے، اور کالا کہہ دیں گے تو سفید نہیں ہے، لیکن دونوں کی نفی کی صورت میں نتیجہ نہیں ائے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
تیسری قسم ہے مانعۃ الخلو، مانعۃ الخلو میں کیا ہوتا ہے؟ خالی ہونا منع ہوتا ہے، جمع ہو سکتے ہیں، جیسے زید پانی میں ہے یا ڈوبنے والا نہیں ہے، دونوں میں سے زید کی کوئی بھی حالت نہ ہو ایسا نہیں ہو سکتا، ہاں دونوں ہو سکتے ہیں، پانی میں بھی ہو اور ڈوبنے والا نہ بھی ہو یعنی تیر رہا ہو یا کشتی میں ہو۔ تو یہ جو مانعۃ الخلو ہے، اس کے اندر اچھا، مانعۃ الجمع میں کون سی دو صورتوں میں نتیجہ اتا تھا؟ اثبات کی، کس والی؟ اثبات والی۔ کالے ہونے کا اثبات کر دو تو سفید ہونے کی نفی نتیجہ ائے گا، اور سفید ہونے کا اثبات کر دو تو کالے ہونے کی نفی ائے گی نتیجہ۔ تو مانعۃ الجمع میں اثبات والی صورتوں میں نتیجہ اتا ہے، اور مانعۃ الخلو میں نفی والی صورتوں میں نتیجہ ائے گا صرف دو صورتوں میں، کتنی صورتوں میں؟ دو صورتوں میں۔
زید پانی میں ہے یا وہ ڈوبنے والا نہیں ہے، نتیجہ کن دو صورتوں میں ائے گا؟ نفی، یعنی مقدم کی نفی کرو گے تو نتیجہ ائے گا، مقدم کی نفی کرو گے تو تالی کا اثبات ہو جائے گا، اور تالی کی نفی کرو گے تو مقدم کا اثبات ہو جائے گا۔ ذرا ابھی نتیجے پہ غور کرنا آپ کو خود سمجھ میں آ جائے گا۔ زید پانی میں ہے یا ڈوبنے والا نہیں ہے، یہ کون سی مثال ہے؟ مانعۃ الخلو، ان دو سے خالی نہیں ہو سکتا، جمع ہو سکتے ہیں۔ لیکن زید پانی میں نہیں ہے، زید پانی میں نہیں ہے، میں نے مقدم کی نفی کر دی، اور دونوں نہیں ہو سکتے، ایسا ہو سکتا ہے یا ایک کا ہونا ضروری؟ مانعۃ الخلو ہے نا، ایک کا ہونا ضروری۔ جب میں نے پہلی حالت کی نفی کر دی، معلوم ہوا دوسری حالت پھر ضرور ہے، اور اگر میں دوسری حالت کی نفی کروں گا، معلوم ہوا پہلی حالت ضرور ہے، لہٰذا میں نے کہا: یا زید پانی میں ہے یا ڈوبنے والا نہیں، لیکن وہ پانی میں نہیں ہے، معلوم ہوا ڈوبنے والا نہیں ہے، پھر یہ بات پکی ہے۔ یا میں کہوں، میں دوسرے کی نفی کرتا ہوں، کیا کرتا ہوں؟ دوسرے کی نفی۔ دوسرا کیا تھا؟ پانی میں نہیں ہے، پانی میں، زید پانی میں ہے یا ڈوبنے والا نہیں ہے، تو ڈوبنے والا نہیں ہے، اس کی میں نفی کرتا ہوں، معلوم ہوا کیا ہوا؟ ڈوبنے ڈوبنے والا نہیں ہے، اس کو الٹ دو، نفی کر دو، معلوم ہوا ڈوبنے والا ہے! ایک ہے نا ڈوبنے والا نہیں ہے، اس کی نفی کر دو، کیا بن جائے گا؟ ڈوبنے والا ہے، کیا؟ ڈوبنے والا ہے۔
زید پانی میں ہے یا ڈوبنے والا نہیں ہے، لیکن وہ ڈوبنے والا ہے، یہ میں نے کیا کی؟ دوسرے کی نفی کر دی، جب دوسرے کی نفی کرو تو دونوں میں سے تو خالی ہو ہی نہیں سکتا، جب دوسرے سے خالی ہے تو پہلا کیا ہوگا؟ ثابت ہوگا یا نہیں؟ معلوم ہوا وہ کہاں پر ہے؟ پانی میں ہے، ڈوبنے والا ہے تو کہاں پر ہے؟ پانی میں ہے۔ دیکھو دونوں سے یہ خالی نہیں ہو سکتا، اگر پہلا کہہ آپ کہہ دو نا پہلی صورت نہیں ہے تو پھر تو دوسری صورت ہے، اور اگر آپ کہہ دو دوسری صورت نہیں ہے تو ظاہر سی بات ہے پھر کون سی صورت ہے؟ پہلی صورت۔ جب میں نے کہا پانی میں نہیں ہے، تو خود بخود ا گیا معلوم ہوا وہ ڈوبنے والا نہیں ہے۔ اور اگر آپ کہہ دو وہ ڈوبنے والے ڈوبنے والا نہیں ہے اس کی نفی کر دو، معلوم ہوا ڈوبنے والا ہے۔ جب ڈوبنے والا ہے، دوسرے کی نفی کر دی، تو پہلے کا کیا ہو گیا؟ اثبات، معلوم ہوا کہاں پر ہے؟ پانی میں ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یاد رکھو نفی پر جب نفی داخل ہو نا وہ اثبات کا فائدہ دیتی ہے۔
کس پر؟ توجہ ہے؟ نفی پر نفی داخل ہو وہ کس کا فائدہ دیتی ہے؟ اثبات کا فائدہ دیتی ہے۔ مثلاً آپ اپنے ساتھی سے کہتے ہیں: میں کل نہیں آؤں گا، کل آپ آنے کی بات کر رہے ہیں یا نہ آنے کی بات کر رہے ہیں؟ نہ آنے کی۔ اس پہ ایک اور ذرا نفی لے آؤ: ایسا نہیں ہو سکتا کہ میں کل نہ آؤں، کیا مطلب؟ آؤں گا، دیکھا نفی پہ نفی لے ایا میں! ایسا نہیں ہو سکتا کہ میں نہ آؤں، تو نہ آنے پر کیا لے آئے؟ نہیں، تو کیا معنی؟ میں آؤں گا، دیکھا تو نفی پر نفی جب ائے وہ کس چیز کا فائدہ دیتی ہے؟ اثبات کا۔ تو وہ ابھی جو ہم مثال پڑھ رہے تھے مانعۃ الخلو کی، زید پانی میں ہے یا ڈوبنے والا نہیں ہے، اس ڈوبنے والا نہیں ہے، نہیں ہے، اس پہ ایک اور نفی لے آؤ، تو نفی پہ نفی ائے گی کس چیز کا فائدہ دے گی؟ اثبات، تو معلوم ہوا کیا ہے؟ پانی میں ڈوبنے والا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ جب پانی میں ڈوبنے والا ہے تو دوسرے کا اثبات ہوا یا نفی ہوئی؟ اوہو! نفی ہو رہی ہے، دوسرے میں تو کیا تھا؟ ڈوبنے والا نہیں ہے، ہم اس کی کیا کر رہے ہیں؟ نفی۔ جب دوسرے کی نفی کر دی تو پہلا ثابت ہوا یا نہیں؟ کون سا؟ پانی میں ہے، معلوم ہوا وہ پانی میں، جب ڈوب رہا ہے تو معلوم ہوا پانی میں ہے۔
بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ دیکھو، تو مانعۃ الخلو میں جب پہلے کی نفی کرو گے تو دوسرے کی دوسرے کا اثبات ہو جائے گا، اور دوسرے کی نفی کرو گے تو پہلے کا اثبات ہو جائے گا۔ یہ دو نتیجے ہیں نفی والے، پہلے کی نفی کرو نتیجہ ٹھیک ائے گا، دوسرے کی نفی کرو نتیجہ ٹھیک۔ لیکن پہلے کے اثبات سے دوسرے کی نفی نہیں ہوگی۔ پہلے کے اثبات سے دوسرے کی نفی نہیں ہوگی، کیسے؟ تو توجہ سے سنو: یا زید پانی میں ہے یا ڈوبنے والا نہیں، لیکن زید پانی میں ہے، جب پہلے کو میں نے اثبات کر دیا، تو جی دوسرے کا کیا ہوگا؟ ڈوبنے والا ہے؟ ضروری تو نہیں ہے، تیر رہا ہو یا کشتی میں بیٹھا ہو۔ یا آپ کیا کہیں؟ ڈوبنے والا نہیں ہے؟ نہیں، یہ بھی نہیں ضروری، ہو سکتا ہے ڈوب رہا ہو۔ تو پہلے کے اثبات سے نہ دوسرے کا اثبات ہوتا ہے نہ دوسرے کی نفی۔ پہلے کی نفی سے تو دوسرے کا اثبات ہو رہا تھا، اور دوسرے کی نفی سے پہلے کا اثبات ہو رہا تھا۔
اچھا دوسرے کے دوسرے کا اثبات کرو: زید ڈوبنے والا نہیں ہے، زید مان لیا زید ڈوبنے والا نہیں ہے، دوسرے کو مان لیا، تو کیا اس سے پہلے کا پہلے بھی ماننا پڑے گا؟ نہیں۔ زید جب ڈوبنے والا نہیں ہے تو کیا وہ پانی میں ہونا ضروری ہے اس کا؟ ہو سکتا ہے پانی میں ہو، کشتی میں بیٹھا ہو، ہو سکتا ہے دریا سے باہر ہو۔ تو پہلے کی نہ نفی ہوئی نہ اثبات ہوا۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو لہٰذا یہاں پر حاصل تو لہٰذا مانعۃ الخلو میں پہلے کی نفی کرو گے تو دوسرے کا اثبات ہوگا، دوسرے کی نفی کرو گے تو پہلے کا اثبات۔ لیکن پہلے کی نفی سے دوسرے کی نفی یا اثبات نہیں ہو سکتا، اور دوسرے کی نفی سے پہلے کا، مانعۃ الخلو میں پہلے کی اگر نفی کرو گے تو دوسرے کا کیا ہو جائے گا؟ اثبات، اور دوسرے کی نفی کرو گے تو پہلے کا کیا ہو جائے گا؟ اثبات، کیونکہ دونوں سے تو خالی نہیں ہو سکتا، ایک کا تو ہونا ضروری ہے۔ لیکن اگر پہلے کا اثبات کرو تو اس سے دوسرے کا خالی ہونا بھی ضروری نہیں اور اس کا اثبات بھی ضروری نہیں۔ اور دوسرے کا اثبات، معلوم ہوا یہاں اثبات والی صورتوں میں نتیجہ نہیں ائے گا، کس صورت میں ائے گا؟ نفی والی۔ اور مانعۃ الجمع میں؟ اثبات والی صورتوں میں نتیجہ ائے گا۔ اور حقیقیہ میں؟ چاروں صورتوں میں نتیجہ ائے گا۔ اور متصلہ میں؟ دو صورتوں میں، کیا؟ مقدم کے اثبات یا تالی کی نفی۔ بس بھئی، سبق مکمل ہوا، اور اب ذرا کتاب پر پھر دیکھ لیں، اب آپ کو بات سمجھ میں آئے گی بھئی۔ سبقِ ہفتم دیکھ لیں بھئی۔
سبقِ ہفتم: قیاس کی قسمیں: قیاس کی دو قسمیں ہیں: قیاسِ استثنائی، قیاسِ اقترانی۔ قیاسِ استثنائی وہ قیاس ہے جو دو قضیوں سے مرکب ہو اور پہلا قضیہ شرطیہ ہو اور ان دونوں کے درمیان لفظِ لیکن آئے اور خود نتیجہ یا نتیجہ کی نقیض اس قیاس میں مذکور ہو، جیسے: جب سورج نکلے گا دن موجود ہوگا، لیکن سورج موجود ہے۔ آگے نتیجہ بھی ہے: پس دن موجود ہے۔ لیکن کے بعد کیا ایا؟ لیکن کے بعد: لیکن سورج موجود ہے۔ یہ کیا ہے؟ مقدم ہے یا تالی ہے؟ مقدم ہے، یہ کیا ہے؟ مقدم، اور اس کا اثبات ہے یا نفی؟ اثبات، دیکھو صرف وہ صورت ذکر کی، مقدم کا اثبات ہوا تو تالی کا بھی اثبات۔ دیکھو اس قیاس میں نتیجہ بعینہٖ مذکور ہے یعنی دن موجود ہونے کا ذکر قیاس میں بھی ہے۔ جیسے: جب سورج نکلے گا دن موجود ہوگا، لیکن دن موجود نہیں ہے، یہ لیکن کے بعد کیا آ رہا ہے؟ یہ کیا ہے؟ تالی کی نفی ہے دیکھو، لیکن دن موجود نہیں ہے پس سورج نہیں ہے، دیکھو اس قیاس میں نتیجہ کی نقیض یعنی سورج نکلے گا مذکور ہے۔
نتیجہ کی نقیض، نتیجہ کیا نکلا ذرا یہ مجھے بتاؤ؟ سورج نہیں ہے، پس سورج نہیں ہے، یہ کیا ہے؟ نتیجہ، اور قیاس میں کیا تھا؟ سورج کے نکلنے کا ذکر تھا یا نہ نکلنے کا؟ سورج نکلے گا، جب سورج نکلے گا تو دن موجود ہوگا، تو وہاں بھی سورج کا نکلنا ذکر تھا اور نتیجے میں کیا ہے؟ سورج کا نہ نکلنا۔ تو قیاس میں نتیجہ نہیں، نتیجے کی نقیض موجود ہے۔ قیاسِ اقترانی وہ ہے جس میں حرفِ لیکن مذکور نہ ہو اور نتیجہ یا نقیضِ نتیجہ بعینہٖ مذکور نہ ہو، جیسے: ہر انسان جاندار ہے، اور ہر جاندار جسم ہے، پس ہر انسان جسم ہے، دیکھو صغریٰ اور کبریٰ ملائے اور حدِ اوسط تھا اس کو گرا دیا، نتیجے کا موضوع اور نتیجے کا محمول، یہ قیاس میں موجود ہیں لیکن اکٹھے نہیں ہیں، الگ الگ ہیں۔ ہر انسان الگ جگہ ہے، اور جسم ہے الگ جگہ ہے۔ دیکھو اس میں نتیجہ کے اجزاء انسان اور جسم الگ الگ تو قیاس میں مذکور ہیں مگر نتیجہ بعینہٖ یا اس کی نقیض مذکور نہیں ہے، اور نہ اس میں حرفِ لیکن ہے۔ اس میں حرفِ لیکن بھی نہیں۔ تو قیاسِ اقترانی میں لیکن نہیں آتا، اور قیاسِ استثنائی میں کیا آتا ہے؟ لیکن، اور اس میں خود نتیجہ یا نتیجہ کی نقیض مذکور ہوتی ہے۔
حاصلِ کلام سن لو بھئی، حاصلِ کلام: قیاسِ استثنائی کے اندر پہلا مقدمہ کیا ہوگا؟ قضیہ شرطیہ۔ پس اگر وہ قضیہ شرطیہ متصلہ ہو تو پھر دو صورتوں میں نتیجہ ائے گا، اور وہ دو صورتیں کیا؟ لیکن کے بعد کیا ہو؟ مقدم کا اثبات ہوا تو نتیجے میں تالی کا بھی اثبات ا جائے گا۔ اور دوسری صورت کیا؟ لیکن کے بعد تالی کی نفی ہوئی تو نتیجے میں مقدم کی بھی نفی ہو جائے گی۔ اور اگر پہلا مقدمہ قیاسِ استثنائی کا وہ منفصلہ حقیقیہ ہو، کیا ہو؟ تو وہاں چاروں صورتوں میں نتیجہ ائے گا۔ لیکن کے بعد مقدم کا اثبات کی کریں یا مقدم کی نفی کریں، یا تالی کا اثبات کریں یا تالی کی نفی، چاروں صورتوں میں نتیجہ ائے گا۔ اور اگر مقدمہ اولیٰ جو ہے وہ مانعۃ الجمع ہوا، منفصلہ مانعۃ الجمع، تو پھر صرف دو صورتوں میں نتیجہ ائے گا اور وہ کون سی صورتیں ہیں؟ اثبات والی۔ وہاں جمع ہونا منع تھا نا، تو جب ایک ثابت ہوا تو دوسرے کی نفی ہو جائے گی، اور اگر دوسرا ثابت ہوا تو پہلے کی، تو مقدم کا اثبات ہوا تو تالی کی نفی ہوگی، اور اگر تالی کا اثبات ہوا تو مقدم کی نفی ہو جائے گی، باقی دو صورتوں میں نتیجہ نہیں آتا۔
اور اگر وہ منفصلہ جو ہے منفصلہ مانعۃ الخلو ہو، تو پھر نفی والی صورتوں میں نتیجہ ائے گا۔ اگر لیکن کے بعد مقدم کی نفی ہوئی تو نتیجے میں تالی کا اثبات ہوگا۔ اور اگر لیکن کے بعد تالی کی نفی ہوئی تو نتیجے میں مقدم کا کیونکہ اس میں خالی ہونا منع ہے نا، جب ایک کی نفی کرو گے تو خالی تو ہو نہیں سکتے دونوں سے، تو جب ایک کی نفی کرو گے تو ظاہر سا بات ہے دوسرے کا کیا ہو جائے گا؟ اثبات ہو جائے گا، تو صرف ان دو صورتوں میں نتیجہ ائے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله اعلم بحقیقة الکلام۔