Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

تيسير المنطق · dars-035

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Muhammad Ghais
📍 Location Lahore, Pakistan
📅 Approved Date 07 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 32
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
اچھا بھئی، گزشتہ سبق میں ہم نے کتاب میں سے سبق ششم، یعنی حجت کی قسمیں پڑھنا شروع کیا تھا بھئی۔ حجت کی تعریف آپ نے کتاب کے آغاز میں ہی پڑھ لی تھی کہ دو معلوم تصدیقیں جو ہمیں کہاں تک پہنچا دیں؟ کسی مجہول تصدیق تک، تو ان معلوم تصدیقوں کو دلیل اور حجت کہتے ہیں۔ تو اس کو دلیل اور حجت کہتے ہیں، اور کل کے سبق میں آپ نے پڑھا کہ حجت کی تین قسمیں ہیں: قیاس، استقراء اور تمثیل۔ سب سے پہلے ہم نے قیاس کے بارے میں پڑھنا شروع کیا۔ آپ نے پڑھا کہ قیاس وہ قول ہے جو دو یا زیادہ ایسے قضیوں سے مرکب ہو کہ اگر ان قضیوں کو مان لیا جائے تو ایک اور قضیے کو بھی ماننا پڑے، اور اس قضیے کو کیا کہتے ہیں؟ نتیجہ قیاس۔ مثلاً آپ کہتے ہیں کہ انسان جاندار ہے، اور ہر جاندار سانس لیتا ہے۔ تو اس سے خود بخود ایک اور قضیہ بھی آپ کو ماننا پڑے گا کہ انسان بھی سانس لیتا ہے بھئی، سانس لیتا ہے۔ اور میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ یہ جو نتیجہ قیاس ہے، اس کے موضوع کو اصغر کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ اور اس کے محمول کو اکبر کہتے ہیں۔ اصغر کو اصغر کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ اس کے افراد کم ہوتے ہیں اکبر کے مقابلے میں عموماً بھئی، اور اکبر کو اکبر کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ اس کے افراد جو ہیں عموماً اصغر کے مقابلے میں زیادہ ہوتے ہیں۔ اور یہ جو اصغر اور اکبر ہیں، یہ قیاس کے اندر بھی مذکور ہوتے ہیں وہیں سے تو یہ نتیجہ آتا ہے بھئی۔ تو قیاس کے اندر جس مقدمے کے اندر اصغر مذکور ہو اس کو صغریٰ کہتے ہیں، اور جس میں اکبر مذکور ہو اس کو کبریٰ کہتے ہیں۔ قیاس کے اندر دو یا زیادہ قضیے ہوں گے، کیا ہوں گے؟ اور ان میں سے ہر ایک کو مقدمہ کہیں گے۔ تو قیاس کے اندر جو ہے کم از کم دو مقدمے ہوں گے: پہلا مقدمہ اور دوسرا۔ پہلے کو کیا کہیں گے؟ صغریٰ، دوسرے کو کیا کہیں گے؟ کبریٰ، اور جس مقدمے کے اندر اصغر مذکور ہو اس کو صغریٰ کہتے ہیں اور جس میں اکبر مذکور ہو اس کو کبریٰ کہتے ہیں بھئی، کبریٰ کہتے ہیں۔ اور وہ حصہ جو دونوں کے اندر مکرر آیا ہے یعنی دونوں میں ایک جیسا ہے، اس کو حد اوسط کہتے ہیں۔ حد اوسط کو حد اوسط کیوں کہتے ہیں؟ میں نے بتلایا تھا اس لیے کیونکہ یہ دونوں کے بیچ میں آیا۔ کیا معنی دونوں کے بیچ میں آیا؟ یعنی دونوں کو جوڑ رہا ہے، دونوں کے اندر یہ واسطہ ہے بھئی، واسطہ ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ دونوں میں ربط دے رہا ہے۔ تو اس کو حد اوسط کہتے ہیں۔ اور اس کے لیے، اس کے لیے انہوں نے یہ نقشہ دیا تھا کتاب کے اندر، دیکھیے قیاس کے اندر، یرحمک اللہ، دیکھیے قیاس کے اندر دو مقدمے ہیں۔ ایک طرف مقدمہ اول ہے، دوسری طرف مقدمہ دوم ہے۔ مقدمہ اول کا نام انہوں نے اس کے نیچے لکھا ہے صغریٰ اور مقدمہ دوم کا نام کبریٰ۔ اور اس کے نیچے، نیچے والی ذرا سطر چھوڑ دیں، اصغر اور حد اوسط والی، نیچے مثال دی ہے: ہر انسان جاندار ہے۔ دیکھو یہ کیا ہے؟ صغریٰ۔ اور ہر جاندار جسم ہے، یہ ہے کبریٰ، کبریٰ۔ پھر ان دونوں میں سے صغریٰ اور کبریٰ میں دیکھیے، ایک موضوع ہے اور ایک محمول ہے۔ دیکھیے صغریٰ کے اندر "ہر انسان" یہ کیا ہے؟ موضوع، تو اس موضوع کا نام ہے اصغر۔ اور "جاندار ہے" یہ کیا ہے؟ محمول ہے اور اس کا نام کیا ہے یہاں؟ حد اوسط، کیونکہ یہ مکرر آئے گا۔ پھر کبریٰ کے اندر بھی دیکھیے، موضوع جو ہے "ہر جاندار" اور محمول کیا ہے؟ "جسم ہے"، اور یہ جو موضوع ہے کبریٰ کے اندر یہ وہ حد اوسط ہے کیونکہ یہ مکرر آ رہا ہے، اور "جسم ہے" یہ اکبر ہے۔ تو دیکھیے، نیچے پھر نتیجہ دیا ہوا ہے۔ نتیجے میں کیا آیا؟ "ہر انسان جسم ہے"۔ یہ "ہر انسان" یہ کہاں سے آیا؟ یہ صغریٰ میں سے، اور "جسم ہے" یہ کہاں سے آیا؟ یہ کبریٰ میں سے آیا، اور درمیان میں جو جاندار ہے، یہ جو مکرر حصہ آیا تھا، جو حد اوسط اس کو ختم کر دیا۔ تو پھر انہوں نے آپ کو طریقہ بھی بتلایا بھئی کہ قیاس کے اندر نتیجہ نکالنے کا طریقہ کیا ہے؟ کہ جو حصہ مکرر ہو، یعنی حد اوسط، اس کو نکال دو اور باقی دونوں حصوں کو جوڑ دو آپس میں، تو یہ نتیجہ نکل آئے گا۔ جیسے "ہر انسان جاندار ہے" اس میں سے "جاندار ہے" کو نکال دیا، اور "ہر جاندار جسم ہے" اس میں سے "ہر جاندار" کو نکال دیا، تو نتیجہ کیا نکلا؟ "ہر انسان جسم ہے"۔ تو یہ "ہر انسان" یہ صغریٰ میں سے آیا اور "جسم ہے" یہ کبریٰ میں سے آیا، اور درمیان میں جو حد اوسط جو مکرر تھا اس کو ختم کر دیا، تو نتیجہ نکالنے کا کیا طریقہ ہے؟ کہ قیاس کے مقدمات جوڑیں اور اس میں سے کیا کر دیں؟ حد اوسط کو نکال دیں، تو باقی نتیجہ آپ کے سامنے آ جائے گا بھئی، نتیجہ آپ کے سامنے۔ یہاں تک بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اچھی طرح؟ قیاس کم از کم کتنے مقدموں سے مرکب ہو گا؟ دو: مقدمہ اولیٰ اور مقدمہ ثانیہ۔ مقدمہ اولیٰ کو کیا کہتے ہیں؟ صغریٰ، اور مقدمہ ثانیہ کو کیا کہتے ہیں؟ کبریٰ۔ اور صغریٰ کو صغریٰ کیوں کہتے ہیں؟ ہاں ہاں صغریٰ کو صغریٰ کیوں کہتے ہیں؟ میں اصغر کی بات نہیں کر رہا، صغریٰ کو صغریٰ کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ اس کے اندر اصغر ذکر ہوتا ہے۔ صغریٰ کو صغریٰ کیوں کہتے ہیں؟ اس کے اندر اصغر مذکور ہوتا ہے، اور کبریٰ کو کبریٰ کیوں کہتے ہیں؟ اس کے اندر اکبر مذکور ہوتا ہے۔ اچھا اب آؤ اصغر اور اکبر، اصغر کو اصغر کیوں کہتے ہیں؟ کہ اس کے افراد تھوڑے ہوتے ہیں اکبر کے مقابلے میں، اور اکبر کو اکبر کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ اس کے افراد زیادہ ہوتے ہیں اصغر کے مقابلے میں۔ اور میں نے بتلایا تھا یہ عموماً ہے، ہمیشہ نہیں ہو گا کہ اصغر کے افراد تھوڑے ہوں اور اکبر کے زیادہ ہوں، ہمیشہ ایسا نہیں ہوتا لیکن اکثر ایسا ہوتا ہے۔ کبھی دونوں کے افراد برابر بھی ہو سکتے ہیں اور کبھی اصغر کے افراد زیادہ ہوں اور اکبر کے کم ہوں، ایسا بھی ہو سکتا ہے۔ اب آگے سمجھیے بھئی۔ دیکھیے یہ جو دو، یہ جو مقدمہ انہوں نے ذکر کیا نقشے کے اندر، آپ دیکھ رہے ہیں کہ حد اوسط جو ہے، صغریٰ کے اندر محمول ہے۔ نقشے پہ نظر ہے؟ حد اوسط جو ہے، یہ صغریٰ میں محمول ہے۔ بولیے نا، سمجھ میں آ رہی ہے بات؟ ہاں تو مجھے جواب دیں میں تکرار کروا رہا ہوں۔ حد اوسط صغریٰ میں کیا ہے؟ محمول ہے، اور یہ حد اوسط کبریٰ میں کیا ہے؟ موضوع ہے، موضوع ہے۔ تو یہ جو حد اوسط، حد اوسط صغریٰ میں کہاں پر واقع ہے اور حد اوسط کبریٰ میں کہاں پر واقع ہے، اس اعتبار سے قیاس کی جو صورت بنی اس کو شکل کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ شکل کہتے ہیں۔ دیکھو، یہ جو شکل ہے اس کو کہتے ہیں شکل اول۔ کیا کہتے ہیں؟ شکل اول۔ شکل اول کے اندر ادھر دیکھیے بھئی، شکل اول میں جو حد اوسط ہوتا ہے، وہ صغریٰ کے اندر محمول ہوتا ہے اور کبریٰ میں موضوع ہوتا ہے۔ یہ کیا ہے؟ پھر نقشے پہ دیکھو یہ کیا ہے؟ شکل اول، شکل اول۔ اس شکل اول میں دیکھو، حد اوسط صغریٰ میں کہاں پر ہے؟ جی؟ محمول ہے، حد اوسط صغریٰ میں کہاں پر ہے؟ محمول۔ موضوع کسے کہتے ہیں؟ پہلے حصے کو، جس کے بارے میں بات کی جائے۔ اور محمول کسے کہتے ہیں؟ جو بات کی جائے، دوسرا حصہ۔ "ہر انسان جاندار ہے" موضوع کیا ہے؟ اور محمول کیا ہے؟ اچھا دوسرے کبریٰ میں آؤ، "ہر جاندار جسم ہے" موضوع کیا؟ اور محمول کیا؟ جسم ہے۔ تو اس میں آپ دیکھ رہے ہیں، ایک ایک حصہ جو ہے جو مکرر آ رہا ہے اس کو حد اوسط کہتے ہیں، اور حد اوسط دیکھو موضوع کی جگہ بھی آ سکتا ہے اور محمول کی جگہ بھی آ سکتا ہے، لیکن ہو گا مکرر دونوں کے اندر۔ یعنی جو ایک چیز صغریٰ میں آئی ہو گی، وہی چیز کس میں موجود ہو گی؟ کبریٰ میں بھی ضرور موجود ہو گی، کیونکہ حد اوسط ان دو باقیوں کو جوڑنے والا ہے۔ اس جملے کے اندر "ہر انسان" کو نتیجے پہ ذرا نظر کرو، "ہر انسان جسم ہے" یہ "ہر انسان" کو "جسم ہے" کے ساتھ کس نے جوڑا؟ حد اوسط نے، کیونکہ حد اوسط نے بتلا دیا، حد اوسط سے ہمیں پتہ چلا کہ ہر انسان کیا ہے؟ جسم ہے۔ کیونکہ اوپر تو صرف اتنا کہا تھا: "ہر انسان جاندار ہے"، اور پھر آگے بتلایا تھا "ہر جاندار جسم"۔ جب ہر انسان جاندار ہے اور ہر جاندار کیا ہے؟ جسم، تو خود بخود نتیجہ نکل آیا کہ ہر انسان جسم ہے، حالانکہ انہوں نے تو ہمیں نہیں بتلایا تھا کہ ہر انسان کیا ہے؟ جسم۔ تو یہ ہر انسان پر جو آپ نے جسم ہونے کا حکم لگایا، اس کا پتہ کہاں سے چلا؟ اس حد اوسط کی وجہ سے، کس کی وجہ سے؟ حد اوسط نے ان دونوں حصوں کو جوڑ دیا۔ جب آپ کو پتہ چل گیا ہر انسان جاندار ہے، اور ہر جاندار کیا ہوتا ہے؟ جسم ہوتا ہے، تو نتیجہ کیا نکلا؟ ہر انسان جسم۔ تو حد اوسط نے وہ صغریٰ کے ایک حصے کو جوڑ دیا کبریٰ کے ایک حصے کے ساتھ بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ جیسے میں نے مثال ذکر کی تھی، مثال ذکر کی تھی کہ آپ مثلاً میرے دوست ہیں، اور آپ کا دوست کون ہے؟ زید ہے۔ زید سے میری واقفیت نہیں، لیکن جب آپ کے ساتھ میری دوستی ہو گئی تو ظاہر سی بات ہے اب زید کے ساتھ بھی کیا ہو جائے گی؟ عموماً دوستی ہو جائے گی بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ زید اور میرا واسطہ کیسے بنا؟ بیچ میں آپ آئے، جس کا تعلق دونوں سے تھا۔ تو یہاں بھی اسی طرح حد اوسط کا تعلق دونوں سے ہوتا ہے اور پھر وہ ان دونوں کو آپس میں جوڑ دیتا ہے۔ جب ہر انسان جاندار ہے اور ہر جاندار کیا ہوتا ہے؟ جسم ہوتا ہے، تو نتیجہ خود بخود کیا نکل آیا کہ ہر انسان جسم۔ تو یہ ہر انسان کو جسم ہونے کا آپ کو پتہ چلا، یہ کس کی وجہ سے پتہ چلا؟ حد اوسط، حد اوسط ان کے بیچ میں آیا وہ واسطہ آیا، اس نے ان دونوں کو جوڑ دیا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اگر حد اوسط نکال دیں پھر نہیں جڑیں گے۔ مثلاً میں کہتا ہوں: ہر انسان سانس لیتا ہے، ہر انسان؟ اور ہر جاندار جسم ہے۔ ہر انسان؟ اور ہر جاندار؟ اب کوئی جڑیں گے آپس میں؟ نہیں۔ ایک میں سانس لینے والے کا ذکر ہے، ایک میں جاندار اور چیز کا ذکر ہے۔ حد اوسط تو آیا ہی نہیں، حد اوسط تو کسے کہتے ہیں؟ کہ ایک ہی چیز دو دفعہ آئے، پہلے میں بھی آئے اور پھر وہی ان دونوں کو آپس میں جوڑ دے گی، لیکن یہاں تو حد اوسط ہے ہی نہیں، چیزیں ہی الگ الگ ذکر ہیں۔ یا مثلاً یوں کہیں: زید درجہ ثانیہ میں پڑھتا ہے، عمرو درجہ رابعہ میں پڑھتا ہے، اب جڑیں گے یہ دونوں؟ نہیں، کیونکہ ایک مکرر چیز دونوں میں ہے ہی نہیں۔ ہاں، لیکن اگر میں کہوں: زید درجہ ثانیہ میں پڑھتا ہے، اور درجہ ثانیہ کا ہر طالب علم بڑا منطقی ہے، نتیجہ خود بخود نکل آیا، کیا؟ زید بھی بڑا منطقی ہے۔ تو دیکھا، وہ اس حصے کا دونوں میں مشترک ہونا ضروری ہے، پھر ہی یہ دونوں آپس میں جڑیں گے۔ تو یہ جو حد اوسط، یہ موضوع بھی بن سکتا ہے، آنا تو اس نے ضرور ہے، اس کے بغیر دونوں جڑیں گے؟ توجہ ہے، حد اوسط کے بغیر یہ اصغر اور اکبر آپس میں جڑ سکتے ہیں؟ نہیں جڑ سکتے، تو حد اوسط تو ضرور آئے گا۔ یعنی ایک ہی حصہ مکرر آئے گا دو دفعہ۔ اب وہ حد اوسط کہاں پر آتا ہے؟ یاد رکھیے، صغریٰ کے اندر بھی ایک موضوع ہوتا ہے ایک، توجہ سبق کی طرف ہے؟ صغریٰ میں ایک موضوع ہوتا ہے تو ایک محمول۔ اسی طرح کبریٰ کے اندر بھی ایک موضوع ہے تو ایک محمول۔ تو یہ حد اوسط نے آنا تو دونوں کے اندر ہے، تو صغریٰ میں یہ موضوع کی جگہ بھی آ سکتا ہے اور محمول کی جگہ بھی، اور کبریٰ کے اندر بھی اس نے آنا تو ضرور ہے لیکن یہ موضوع کی جگہ پر بھی آ سکتا ہے اور محمول کی جگہ پر بھی آ سکتا ہے۔ تو یہ جو حد اوسط کس مقام پر آیا، ہو سکتا ہے یہ دونوں میں کہاں پر آئے؟ دونوں میں موضوع کی جگہ آ جائے۔ کہاں پر؟ صغریٰ میں بھی حد اوسط موضوع کی جگہ آیا، کبریٰ میں بھی حد اوسط کہاں آیا؟ موضوع کی جگہ۔ ہو سکتا ہے دونوں میں یہ محمول کی جگہ آئے، صغریٰ میں بھی حد اوسط کہاں آیا؟ محمول کی جگہ، کبریٰ میں بھی حد اوسط کہاں آیا؟ محمول کی جگہ۔ اور ہو سکتا ہے پہلے کے اندر موضوع کی جگہ آئے اور دوسرے میں محمول کی جگہ آئے، مثلاً صغریٰ میں حد اوسط کہاں آ جائے؟ موضوع کی جگہ، اور کبریٰ میں کہاں آ جائے؟ محمول کی جگہ۔ یا اس کا برعکس ہو جائے، صغریٰ میں محمول کی جگہ آئے اور کبریٰ میں موضوع کی جگہ آ جائے، تو دیکھو کل چار صورتیں بن گئیں۔ کتنی صورتیں بن گئیں؟ چار صورتیں۔ کیسے؟ دونوں میں حد اوسط کہاں آ جائے؟ موضوع کی جگہ۔ دوسری صورت: دونوں میں کہاں آ جائے؟ محمول کی جگہ۔ دوسری صورت۔ تیسری صورت: کہ صغریٰ میں تو کہاں آئے؟ موضوع کی جگہ، اور کبریٰ میں کہاں آئے؟ محمول کی جگہ، تیسری صورت۔ چوتھی صورت: صغریٰ میں کہاں آئے؟ محمول کی جگہ، اور کبریٰ میں کہاں آئے؟ موضوع کی جگہ، تو چار شکلیں ہو گئیں۔ کتنی شکلیں ہو گئیں؟ چار شکلیں۔ اور یہ جو کتاب میں اس وقت نقشے کے اندر مذکور ہے، دیکھو حد اوسط کہاں آ رہا ہے؟ صغریٰ میں محمول کی جگہ، اور کبریٰ میں موضوع کی جگہ، اس کو شکل اول کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ شکل اول کہتے ہیں بھئی، شکل اول۔ اور اگر، اور اگر حد اوسط صغریٰ اور کبریٰ دونوں میں محمول ہو، ادھر دیکھیے بھئی، اس وقت کیا ہے یہ؟ شکل اول۔ شکل اول میں حد اوسط کہاں آئے گا؟ صغریٰ میں محمول اور کبریٰ میں موضوع۔ اور اگر دونوں کے اندر حد اوسط محمول بنے، کیا بنے؟ تو اس کو کہتے ہیں شکل ثانی۔ نام ان کے یاد رکھنا اسی ترتیب سے۔ یہ جو اس وقت مذکور ہے جس میں صغریٰ کے اندر حد اوسط کہاں؟ محمول، اور کبریٰ میں کہاں؟ موضوع، اس کو کہتے ہیں شکل اول۔ اور اس کا اگر برعکس کر دو، یوں کہو برعکس کر دو، یعنی صغریٰ میں موضوع کہاں ہو؟ موضوع کی جگہ، برعکس کر دو نا، الٹ دو۔ صغریٰ میں کہاں ہو؟ موضوع کی جگہ، اور کبریٰ میں کہاں ہو؟ محمول کی جگہ، تو یاد رکھنا وہ شکل رابع ہے، چوتھی شکل ہے۔ وہ کیا ہے؟ چوتھی شکل۔ تو اس وقت جو کتاب میں نقشے میں مذکور یہ کیا ہے؟ شکل اول، اور اسی کو برعکس کر دو تو پھر وہ شکل، وہ شکل رابع، وہ کیا ہے؟ شکل رابع ہے، چوتھی شکل ہے۔ اور اگر حد اوسط دونوں میں محمول ہو تو وہ شکل ثانی ہے، شکل ثانی۔ اور اگر دونوں میں حد اوسط موضوع ہو تو وہ شکل ثالث ہے۔ یاد رہے گا؟ کتنی شکلیں ہیں؟ چار۔ یہ کس اعتبار سے ہیں؟ حد اوسط کے اعتبار سے کہ کہاں کہاں پر آیا۔ تو چار شکلیں بن گئیں یا نہیں؟ مختلف صورتیں ہیں کہ مختلف صورتیں نہیں ہیں؟ ہر ایک کی صورت الگ ہے تو چار شکلیں بن گئیں۔ تو اب مجھے بتائیے، اگر حد اوسط صغریٰ میں محمول ہو اور کبریٰ میں موضوع ہو، یہ کون سی شکل؟ یہ شکل اول ہے، یہ نقشے میں دی ہوئی ہے۔ اگر اس کا برعکس ہو جائے، صغریٰ میں موضوع ہو جائے اور کبریٰ میں محمول ہو جائے، وہ کون سی شکل؟ وہ شکل رابع ہے۔ اور اگر دونوں میں محمول ہو جائے، وہ؟ وہ شکل ثانی ہے، اور اگر دونوں میں موضوع ہو جائے حد اوسط، پھر؟ وہ شکل ثالث ہے۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ اب دیکھیے ذرا کتاب پر۔ اس کے بعد یہ سمجھو کہ حد اوسط کو اصغر اور اکبر کے پاس ہونے سے جو قیاس کی ہیئت حاصل ہوتی ہے اس کو شکل کہتے ہیں۔ کیا کہا؟ حد اوسط کو اصغر اور اکبر کے پاس ہونے سے جو قیاس کی، بھئی دیکھیے نا، حد اوسط کے علاوہ کیا کیا رہ جاتا ہے؟ قیاس پہ ذرا نظر رکھو، پہلے پھر اس نقشے پہ آؤ۔ نقشے پہ آؤ، صغریٰ میں دیکھو، ایک طرف حد اوسط ہے، کبریٰ میں بھی دیکھو ایک طرف کیا ہے؟ اچھا حد اوسط کے علاوہ صغریٰ میں جو رہ گیا وہ کیا ہے؟ اصغر، اور کبریٰ میں جو رہ گیا وہ؟ اکبر۔ تو حد اوسط ہمیشہ کن کے پاس آئے گا؟ اصغر اور اکبر کے ساتھ آئے گا، کس کے ساتھ آئے گا؟ ہاں، لیکن اس کی جگہ بدلے گی کبھی موضوع کی جگہ کبھی محمول۔ تو صغریٰ کے اندر، ادھر دیکھو، صغریٰ میں حد اوسط کے ایک حصہ تو حد اوسط کہلائے گا دوسرا کیا کہلائے گا؟ اصغر، اور کبریٰ میں ایک حصہ تو حد اوسط کہلائے گا دوسرا کیا کہلائے گا؟ اکبر۔ تو یہ جب حد اوسط کی جگہیں بدل رہی ہیں، تو اصغر اور اکبر کی بھی بدل رہی ہے یا نہیں؟ کس کی؟ ظاہر سی بات ہے، جب حد اوسط محمول ہے تو اصغر کیا ہو گا؟ موضوع۔ اور اگر حد اوسط موضوع ہے تو اصغر کیا ہو گا؟ محمول ہو گا۔ اسی طرح کبریٰ میں دیکھ لو، اگر حد اوسط موضوع ہے تو اکبر کیا ہو گا؟ محمول ہو گا، اور اگر حد اوسط محمول ہے تو اکبر کیا ہو گا؟ موضوع ہو گا۔ تو حد اوسط ہمیشہ کس کے پاس آئے گا؟ اصغر اور اکبر کے پاس آئے گا۔ یہی بات بیان کر رہے ہیں، اب پھر دیکھیے کتاب پر: اس کے بعد یہ سمجھو کہ حد اوسط کو اصغر اور اکبر کے پاس ہونے سے جو قیاس کی ہیئت یعنی ہیئت کا معنی ہے صورت، قیاس کی جو صورت حاصل ہوتی ہے، اس کو شکل کہتے ہیں۔ اب بات سمجھ میں آ گئی؟ حد اوسط نے ہمیشہ کس کے پاس آنا ہے؟ اصغر اور اکبر کے پاس، اور جگہیں ان کے پاس وہ کس اعتبار سے ہے؟ موضوع کی جگہ ہے یا محمول کی جگہ ہے، اور دوسرے میں بھی موضوع کی جگہ ہے یا محمول۔ تو اس اعتبار سے قیاس کی جو صورت حاصل ہوتی ہے اس کو شکل کہتے ہیں، اور شکلیں کل چار ہیں۔ دیکھ رہے ہیں کتاب پر؟ اور شکلیں کل چار ہیں۔ اگر حد اوسط صغریٰ میں محمول اور کبریٰ میں موضوع ہو تو اس کو شکل اول کہتے ہیں۔ مثال اس کی نقشہ مذکور میں ہے، اوپر نقشے میں دیکھو یہ کیا ہے؟ شکل اول۔ حد اوسط کیا ہے؟ صغریٰ میں محمول، اور کبریٰ میں موضوع۔ آگے دیکھیے کتاب پر: اور حد اوسط صغریٰ اور کبریٰ دونوں میں محمول ہو، تو وہ شکل ثانی ہے بھئی، شکل ثانی ہے، جیسے: ہر انسان جاندار ہے، اور کوئی پتھر جاندار نہیں۔ توجہ ہے؟ ذرا اس مثال پہ غور کرو، یہ کیا ہے؟ شکل ثانی۔ شکل ثانی میں کیا بتلایا؟ حد اوسط دونوں میں کیا آئے گا؟ محمول آئے گا۔ دیکھو: "ہر انسان جاندار ہے"، یہ "جاندار ہے" یہ کیا ہے؟ حد اوسط، محمول کی جگہ آیا۔ اور "کوئی پتھر جاندار نہیں"، دیکھو یہاں بھی جاندار کی نفی ہو رہی ہے تو جاندار کہاں آیا؟ محمول کی جگہ۔ اور نتیجہ، آگے دیکھیے کتاب پر: نتیجہ اس کا، "کوئی انسان پتھر نہیں ہے"۔ قیاس کیا تھا؟ "ہر انسان جاندار ہے، اور کوئی پتھر جاندار نہیں"، نتیجہ اس کا: "کوئی انسان پتھر نہیں ہے"۔ نتیجے تک پہنچے؟ نہیں، اتنی آسانی سے نہیں پہنچ سکتے۔ پہلی شکل جو تھی، پہلی شکل، اس میں فوراً ہی آپ نتیجے تک پہنچ گئے تھے۔ اور بھی کوئی مثال بنا لو، آپ فوراً نتیجے تک پہنچ جائیں گے، اسی لیے اس کو پہلی شکل کہتے ہیں کیونکہ وہ بڑی واضح ہے، فوراً انسان نتیجے تک پہنچ جاتا ہے۔ مثلاً میں کہتا ہوں: ہر انسان ضاحک ہے، ہر انسان؟ دیکھو پہلی شکل میں فوراً نتیجہ آتا ہے، ذرا بھی غور نہیں کرنا پڑتا۔ جبکہ باقی جتنی شکلیں ہیں ان میں بڑا غور کرنا پڑتا ہے، فوراً نتیجہ ذہن میں نہیں آتا بھئی۔ اسی لیے پہلی شکل کو پہلا درجہ دیا کیونکہ اس میں نتیجہ فوراً آ جاتا ہے، فوراً ذہن اس تک پہنچ جاتا ہے، ذرا بھی غور و فکر نہیں کرنا پڑتا۔ مثلاً میں کہتا ہوں: ہر انسان ضاحک ہے، اور ہر ضاحک عقل والا ہے۔ ہر انسان؟ اور ہر ضاحک؟ نتیجہ کیا نکلا؟ کہ ہر انسان عقل والا ہے، دیکھا فوراً نتیجے تک ذہن چلا گیا۔ اب ذرا پھر کتاب پر دیکھیے، یہ جو شکل ثانی تھی: "ہر انسان جاندار ہے، اور کوئی پتھر جاندار نہیں ہے"، نتیجہ اس کا: "کوئی انسان پتھر نہیں ہے"۔ دیکھو نتیجے تک ذہن فوراً نہیں جا رہا، غور کرنا پڑے گا آپ کو، پھر آپ کہیں گے ہاں واقعی نتیجہ یہی نکلتا ہے، کیونکہ ہر انسان کیا ہے؟ جاندار، اور کوئی پتھر جاندار نہیں۔ جب ہر انسان جاندار ہے اور پتھروں میں سے کوئی بھی جاندار نہیں، معلوم ہوا کوئی انسان پتھر نہیں ہے بھئی۔ تو نتیجہ یہ نکلا اس کا کہ کوئی انسان پتھر نہیں ہے۔ آگے دیکھیے کتاب پر: اور اگر حد اوسط صغریٰ اور کبریٰ دونوں میں موضوع ہو تو اس کو شکل ثالث کہتے ہیں۔ کیا؟ کیا بتلا رہے ہیں؟ حد اوسط کہاں آئے گا؟ دونوں میں موضوع کی جگہ، صغریٰ میں بھی موضوع اور کبریٰ میں بھی موضوع۔ دیکھیے کتاب پر: جیسے "ہر انسان جاندار ہے، اور بعض انسان لکھنے والے ہیں"۔ دیکھا "ہر انسان" پہلے میں بھی آ رہا ہے، اور "بعض انسان" وہاں پر بھی آ، تو انسان انسان دونوں جگہ رہا۔ یہ بعض اور کل کو نہ دیکھیں، یہ تو سور ہے، اصل کیا ہے؟ انسان۔ پہلے میں بھی موضوع کیا؟ انسان، دوسرے میں بھی موضوع کیا؟ انسان۔ تو "ہر انسان جاندار ہے، اور بعض انسان لکھنے والے ہیں"، نتیجہ: "بعض جاندار لکھنے والے ہیں"۔ دیکھو وہ انسان دونوں جگہ آ رہا تھا نا، وہ حد اوسط تھا، اور حد اوسط کو کیا کر دیتے ہیں؟ گرا دیتے ہیں، تو حد اوسط کو گرا دیا، نتیجہ کیا نکلا؟ "بعض جاندار لکھنے والے ہیں"۔ دیکھو یہاں بھی آپ کو غور کرنا پڑتا ہے، فوراً نتیجے کی طرف ذہن نہیں جاتا۔ اور اگر حد اوسط صغریٰ میں موضوع اور کبریٰ میں محمول، یہ شکل اول کا عکس ہے۔ شکل اول میں کیا تھا؟ حد اوسط صغریٰ میں محمول تھا اور کبریٰ میں موضوع تھا، اب دیکھیے کتاب پر، یہ آخری شکل بیان ہو رہی ہے: اگر حد اوسط صغریٰ میں موضوع اور کبریٰ میں محمول ہو تو وہ شکل رابع ہے، جیسے "ہر انسان جاندار ہے، اور بعض لکھنے والے انسان ہیں"۔ دیکھو "ہر انسان" پہلے میں موضوع ہے، اور دوسرے میں "انسان ہیں" یہ کیا ہے؟ محمول۔ تو اس انسان کو نکال دیا، نتیجہ کیا نکلا؟ "بعض جاندار لکھنے والے ہیں"۔ تو کل کتنی شکلیں ہیں؟ چار شکلیں ہیں۔ شکل اول میں حد اوسط کہاں آئے گا؟ صغریٰ میں محمول اور کبریٰ میں موضوع۔ اور اگر دونوں کے اندر حد اوسط محمول کی جگہ آئے تو یہ شکل، دونوں میں اگر حد اوسط محمول کی جگہ آئے تو یہ شکل ثانی۔ اور اگر دونوں میں حد اوسط موضوع کی جگہ آئے تو یہ شکل ثالث۔ اور اگر صغریٰ کے اندر تو حد اوسط موضوع کی جگہ آئے اور کبریٰ میں محمول کی جگہ آئے تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ شکل رابع کہتے ہیں بھئی، شکل رابع۔ اور ان میں سے یاد رکھیے، یہ جو پہلی شکل ہے یہ سب سے آسان ہے، اس کو سنتے ہی فوراً ذہن نتیجے تک چلا جاتا ہے۔ اسی لیے اس کو پہلا درجہ دیا، پہلے نمبر پہ رکھا کہ یہ آسان ہے، اس کو ہر ایک سمجھ لیتا ہے، فوراً نتیجہ سامنے آ جاتا ہے تو یہ ہے شکل اول۔ اور باقیوں کے نام درجہ بہ درجہ: شکل ثانی، شکل ثالث، شکل رابع۔ ان کے نام یہ ثانی، ثالث، رابع کا یہ درجہ کیوں رکھا؟ کہتے ہیں: جو جتنا شکل اول سے دور ہوا، اس کو اتنا ہی دور والا درجہ دیا۔ جو جتنا کس سے دور ہوا؟ شکل اول سے دور ہوا اس کو اتنا ہی دور والا نمبر دیا، اور شکل رابع وہ تو شکل اول سے بالکل ہی دور ہے، بالکل اس کے الٹ ہے، نہ موضوع اس کی طرح اور نہ محمول۔ شکل اول میں موضوع کہاں تھا؟ شکل اول میں، صغریٰ کے اندر محمول تھا اور کبریٰ میں موضوع تھا، اور دیکھو شکل رابع میں برعکس، نہ موضوع موضوع کی جگہ نہ محمول محمول کی جگہ۔ وہاں موضوع، وہاں حد اوسط نہ صغریٰ میں اپنی جگہ پر نہ کبریٰ میں اپنی جگہ پر۔ صغریٰ میں، شکل اول میں، توجہ ہے؟ صغریٰ میں شکل اول میں حد اوسط کہاں آیا تھا؟ محمول کی جگہ، اور شکل رابعہ میں کہاں چلا گیا؟ موضوع کی جگہ، دیکھو بالکل اس کے برعکس ہو گیا۔ اور کبریٰ کے اندر شکل اول میں حد اوسط کہاں آیا تھا؟ موضوع میں، اور شکل رابعہ میں کہاں چلا گیا؟ محمول کی جگہ۔ تو اس میں بالکل ہی، شکل اول کے ساتھ کسی بھی اعتبار سے اس کی مناسبت نہیں، اس کے بالکل مخالف ہے تو لہٰذا اس کو سب سے آخری درجہ دیا۔ باقیوں کی کچھ نہ کچھ مطابقت ہے، دیکھو دونوں میں جب محمول ہے، دونوں میں محمول، اس کو دوسرا درجہ دیا کیونکہ شکل اول میں بھی ایک جگہ، پہلے میں صغریٰ میں محمول تھا یا نہیں حد اوسط؟ توجہ نہیں ہے میرا خیال۔ بس اتنا یاد رکھیں، زیادہ تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں، بس۔ سب سے آسان نتیجہ کس سے ملتا ہے؟ شکل اول سے۔ تو جو شکل اول جیسا، جس کی شکل اول سے مناسبت زیادہ اس کو دوسرا درجہ دیا، جس کی اس سے مناسبت کم اس کو تیسرا درجہ دیا، اور جو شکل اول کے بالکل ہی مخالف تھا اس کو آخری درجہ دے دیا، اور تو باقیوں کے اندر غور و فکر کرنا پڑتا ہے۔ یہاں تک بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ اب ایک اور قیمتی بات یاد رکھنا، قیمتی بات۔ بھئی یاد رکھو، ایک ہے ایجاب ایک ہے سلب۔ ایجاب اور سلب۔ ایجاب کا درجہ اعلیٰ ہوتا ہے، سلب کا درجہ ادنیٰ ہوتا ہے، کم ہوتا ہے۔ کیا ہوتا ہے؟ اعلیٰ درجہ کس کا؟ ایجاب۔ آپ نے کہا: "زید عالم ہے"، تو زید کے لیے آپ عالم ہونے کا اثبات کر رہے ہیں۔ اور ایک آپ کہتے ہیں: "زید عالم نہیں ہے"، آپ زید سے کیا کر رہے ہیں؟ عالم ہونے کی نفی۔ یاد رکھو ایجاب کا درجہ اعلیٰ ہے کہ آپ ایک چیز کے لیے دوسری چیز کو باقاعدہ ثابت کر رہے ہیں بھئی، اور سلب کا درجہ اس سے کیا ہوتا ہے؟ کم ہوتا ہے۔ پھر ایک اور بات یاد رکھنا، ایک ہے کلیہ ایک ہے جزئیہ، اور کلیہ کا درجہ اعلیٰ اور جزئیہ کا درجہ کم۔ کیونکہ کلیہ میں آپ سارے افراد کے لیے حکم ثابت کرتے ہیں اور جزئیہ میں بعض افراد کے لیے۔ تو ایجاب و سلب میں سے اعلیٰ درجہ کس کا؟ جی؟ اور کم درجہ کس کا؟ سلب کا۔ اچھا اور کلیہ اور جزئیہ میں اعلیٰ درجہ کس کا؟ کلیہ کا، اور ادنیٰ درجہ کس کا؟ جزئیہ کا۔ اب ایک ضابطہ یاد رکھنا، آپ کو ہر جگہ کام آئے گا کہ یہ جو نتیجہ آتا ہے نا قیاس کے اندر، چاروں شکلیں آپ نے پڑھ لیں، چاروں شکلوں کے سے متعلق یہ بات ہے کہ نتیجہ ہمیشہ ارذل و اخس کے تابع ہوتا ہے، یہ آپ پڑھیں گے منطق کی کتابوں میں جا کر۔ نتیجہ کیا ہوتا ہے؟ ارذل: الف، را، ذال، لام، ارذل۔ ارذل رذیل سے ہے، رذیل کہتے ہیں گھٹیا کو، جو گھٹیا ہو، ادنیٰ درجے کا ہو۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اسی طرح اخس خسیس سے ہے: الف، خا، اور سین مشدد ہے، اخس۔ یہ کس سے ہے؟ خسیس، خسیس کا معنی بھی گھٹیا، کم درجے والا۔ تو نتیجہ ارذل و اخس کے تابع ہوتا ہے یعنی نتیجہ ہمیشہ جو ادنیٰ درجے والا ہو نا، اس کے مطابق آتا ہے۔ کس کے مطابق آتا ہے؟ بھئی دیکھو، قیاس کے اندر دو مقدمے ہوں گے، کم از کم کتنے ہوں گے؟ دو مقدمے ہوں گے۔ تو ظاہر سی بات ہے یا ان میں ایجاب ہو گا یا کیا ہو گا؟ سلب، یا وہ کلیہ ہوں گے یا کیا ہوں گے؟ جزئیہ، یا ایک کلیہ ہو گا ایک جزئیہ، یا ایک موجبہ ہو گا ایک سالبہ ہو گا۔ تو اب نتیجہ کیسے آئے گا؟ ہمیں کیسے پتہ چلے گا؟ تو منطق والوں نے ایک قانون بتا دیا کہ آپ فوراً نتیجے تک پہنچ سکتے ہیں، وہ یہ کہ نتیجہ ہمیشہ ارذل و اخس کے تابع ہوتا ہے، کس کے؟ تابع ہوتا ہے یعنی اس کے مطابق ہوتا ہے، اس کے آسان، یہ ارذل و اخس کا لفظ اگر آپ کو یاد کرنا مشکل ہے، یاد کر لیں تو اچھی بات ہے، اگر یاد کرنا مشکل ہے تو اتنا یاد رکھیں: نتیجہ کم درجے والے جیسا ہو گا۔ نتیجہ کم درجے والے جیسا ہو گا۔ لہٰذا قیاس کا ایک مقدمہ ہے کلیہ اور دوسرا مقدمہ ہے جزئیہ، تو ان دونوں میں سے کم درجے والا کون؟ جزئیہ، تو نتیجہ ہمیشہ جزئیہ آئے گا۔ اگر قیاس کے دونوں مقدمے موجبہ ہوں تو نتیجہ بھی موجبہ ہو گا۔ اگر قیاس کے دونوں مقدمے جزئیہ ہوں تو نتیجہ بھی کیا ہو گا؟ جزئیہ ہو گا۔ اگر قیاس کے دونوں مقدمے کلیہ ہوں تو اس صورت میں پھر یاد رکھیے، کبھی نتیجہ کلیہ ہو گا اور کبھی جزئیہ۔ دونوں مقدمے کیا ہوں؟ کلیہ ہوں، کیا ہوں؟ کلیہ ہوں، تو پھر نتیجہ ضروری نہیں کہ کلیہ ہی آئے، بظاہر تو یہی لگتا ہے جب دونوں کلیہ ہوں گے تو نتیجہ کیا آئے گا؟ کلیہ، لیکن نتیجہ ہمیشہ کلیہ نہیں آتا، کبھی کلیہ آتا ہے اور کبھی جزئیہ بھی آ جاتا ہے، صورت سمجھ میں آ گئی؟ لیکن اگر ایک کلیہ ہوا اور ایک جزئیہ، چاہے پہلا کلیہ ہو چاہے دوسرا دوسرا کلیہ ہو چاہے پہلا کلیہ، تو جزئیہ چاہے پہلے ہو چاہے بعد میں ہو، کلیہ چاہے پہلے ہو چاہے بعد، جب ایک کلیہ ہو اور ایک جزئیہ ہو تو نتیجہ ہمیشہ کیا آئے گا؟ جزئیہ آئے گا، کیونکہ نتیجہ ادنیٰ درجے والے کے مطابق آتا ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ اسی طرح ایک ہے ایجاب ایک ہے سلب۔ ایجاب اور سلب میں سے ادنیٰ درجہ کس کا؟ سلب کا، لہٰذا لہٰذا اگر قیاس کے دو مقدموں میں سے ایک موجبہ ہو اور ایک سالبہ ہو، تو نتیجہ ہمیشہ کیا آئے گا؟ سالبہ آئے گا۔ ضابطہ سمجھ میں آیا بھئی؟ نتیجہ ہمیشہ کس کے تابع ہوتا ہے؟ ارذل و اخس کے تابع ہوتا ہے، جو کم درجے والا ہوتا ہے اس کے مطابق ہوتا ہے۔ لہٰذا قیاس کے دو مقدموں میں سے ایک کلیہ اور ایک جزئیہ ہو تو نتیجہ ہمیشہ کیا آئے گا؟ جزئیہ، اور ایک ان میں سے موجبہ ہو اور ایک سالبہ ہو تو نتیجہ کیا آئے گا؟ سالبہ آئے گا بھئی۔ اسی لیے آپ دیکھیے ذرا پھر دیکھیے، پہلی شکل کی مثال کیا ہے؟ "ہر انسان جاندار ہے"، یہ کلیہ ہے جزئیہ ہے؟ کلیہ ہے، کل کا ذکر ہو رہا ہے۔ موجبہ ہے یا سالبہ ہے؟ موجبہ ہے۔ دوسرے پہ آ جاؤ، کبریٰ پہ: "ہر جاندار جسم ہے"، کلیہ ہے جزئیہ ہے؟ کلیہ ہے۔ جب دونوں کلیہ تو نتیجہ بھی دیکھ لو کلیہ ہے: "ہر انسان جسم"۔ اور دونوں موجبہ ہیں تو نتیجہ بھی دیکھ لو موجبہ ہی آ رہا ہے: "ہر انسان جسم ہے"۔ اب آ جاؤ ذرا شکل ثانی کی جو مثال انہوں نے ذکر کی تھی: "ہر انسان جاندار ہے، اور کوئی پتھر جاندار نہیں"۔ مجھے بتائیے، "ہر انسان جاندار ہے" کلیہ ہے جزئیہ ہے؟ کلیہ، اور "کوئی پتھر جاندار نہیں" یہ بھی کلیہ ہے۔ تو نتیجہ بھی دیکھ لو: "کوئی انسان پتھر نہیں ہے"، نتیجہ بھی کلیہ آ رہا ہے۔ یہ "کوئی" کا لفظ کس لیے آتا ہے؟ نفی میں کل کے لیے آتا ہے، ہر فرد سے ایک چیز کی کیا کی جاتی ہے؟ نفی۔ تو دیکھو، اور پھر دیکھو، پھر آؤ، "ہر انسان جاندار ہے اور کوئی پتھر جاندار نہیں"، پہلا موجبہ ہے یا سالبہ؟ موجبہ، اور دوسرا "کوئی پتھر جاندار نہیں" وہ کیا ہے؟ سالبہ۔ ایک موجبہ ایک سالبہ، نتیجہ کیا آنا چاہیے؟ سالبہ، دیکھیے نتیجہ سالبہ ہے: "کوئی انسان پتھر نہیں ہے"۔ تو نتیجہ ہمیشہ کس کے تابع ہوتا ہے؟ ارذل و اخس۔ یاد کر لو لفظ: الف، را، ذال اور لام: ارذل، ارذل۔ اور دوسرا ہے اخس: الف، یہ الف ہے؟ ہمزہ ہے دراصل، کیا ہے؟ ہمزہ۔ تو ہمزہ، خا اور سین مشدد ہے: اخسّ۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ خسیس سے ہے، خسیس کا معنی بھی گھٹیا، ادنیٰ، اور رذیل کا معنی بھی گھٹیا اور ادنیٰ۔ تو نتیجہ ہمیشہ کس کے تابع ہوتا ہے؟ ارذل و اخس کے تابع ہوتا ہے۔ اگر ایک موجبہ ہو مقدمہ اور ایک سالبہ ہو تو نتیجہ کیا آئے گا؟ سالبہ، اور اگر ایک مقدمہ کلیہ ہو اور ایک جزئیہ ہو تو نتیجہ کیا آئے گا؟ جزئیہ آئے گا، یہ بات سمجھ میں آ گئی۔ اب یہ بھی یاد رکھیے، یہ شکلیں چار ہیں، یہ قانون تو چاروں سے متعلق تھا، یہ ضابطہ تو چاروں میں نتیجہ ارذل و اخس کے تابع ہوتا ہے، لیکن اس کے علاوہ بھی ہر شکل کی کچھ شرائط ہیں جو مناطقہ نے ذکر کی ہیں، وہ شرطیں پوری کرو گے تو فوراً نتیجہ ملے گا، اگر وہ شرطیں پوری نہیں کرو گے تو نتیجے کا ملنا یقینی نہیں، پھر نتیجہ نہیں آئے گا۔ ان میں سے مثلاً شکل اول ہے، شکل اول میں آپ کہیں گے ہم آسانی سے نتیجہ نکال لیتے ہیں، کیا تھی شکل اول؟ مثلاً حد اوسط کہاں آنا چاہیے؟ صغریٰ میں محمول اور کبریٰ میں موضوع۔ "ہر انسان جاندار ہے، اور ہر جاندار جسم ہے"، نتیجہ کیا نکلا؟ "ہر انسان جسم ہے"۔ یہ جو شکل اول ہے نا، اس کے نتیجے کے لیے شرط ذکر کرتے ہیں، دو شرطیں ذکر کرتے ہیں مناطقہ: ایک ایجاب صغریٰ، توجہ ہے؟ ادھر دیکھو، ایجاب صغریٰ۔ کیا معنی ایجاب صغریٰ؟ کہ صغریٰ موجبہ ہونا چاہیے، سالبہ نہیں ہونا چاہیے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ پہلی شرط کیا؟ ایجاب صغریٰ۔ شکل اول میں نتیجہ آئے گا فوراً، لیکن یہ شرطیں پوری ہوں گی تو پھر آئے گا، شرطیں پوری نہیں تو پھر نتیجہ بھی نہیں۔ مثلاً پہلی شرط کیا؟ ایجاب صغریٰ، کیا معنی ایجاب صغریٰ؟ صغریٰ میں ایجاب ہو، موجبہ ہونا چاہیے، اس میں نفی کا ذکر، اور اب آپ یہاں پر بھی آپ دیکھ لیجیے: "ہر انسان جاندار ہے"، یہ موجبہ ہے یا سالبہ ہے؟ موجبہ، تو دیکھو پہلی شرط پوری: ایجاب صغریٰ۔ اور دوسری شرط ہے کلیت کبریٰ، کبریٰ کو کلیہ ہونا چاہیے، کیا ہونا چاہیے؟ کلیہ ہونا چاہیے۔ مثلاً یہاں دیکھ لیجیے: "ہر جاندار جسم ہے"، یہ کیا ہے؟ کلیہ ہے بھئی۔ تو شکل اول کے نتیجہ دینے کے لیے کتنی شرطیں ہیں؟ دو شرطیں، کیا کیا؟ ایجاب صغریٰ اور کلیت کبریٰ۔ پھر دہراؤ، زبان سے دہراؤ بھئی میں آپ کے لیے بار بار تکرار کروا رہا ہوں۔ شکل اول کے نتیجہ دینے کے لیے کیا شرط ہے؟ ایجاب صغریٰ اور کلیت کبریٰ۔ پھر دہراؤ: ایجاب صغریٰ اور کلیت کبریٰ۔ ایجاب صغریٰ کا کیا معنی؟ کہ صغریٰ موجبہ ہونا چاہیے، سالبہ نہیں ہونا چاہیے، اور دوسری شرط کیا ہے؟ کلیت کبریٰ یعنی کبریٰ کو کیا ہونا چاہیے؟ کلیہ ہونا چاہیے، جزئیہ نہیں ہونا چاہیے۔ یہ تھی شکل اول کی شرائط، یہ اگر پوری ہوں گی تو فوراً نتیجہ نکل آئے گا۔ اسی طرح ہر شکل کی شرائط ہیں، ہر شکل کی: شکل ثانی، ثالث، رابع، لیکن وہ تفصیل بیان نہیں کی کیونکہ وہ شکلیں مشکل ہیں، وہ آپ اگلی کتابوں میں پڑھ لیں گے۔ بس اتنا یاد رکھیں کہ صغریٰ کسے کہتے ہیں، کبریٰ کسے کہتے ہیں، اصغر کیا ہوتا ہے، اکبر کیا ہوتا ہے، حد اوسط کسے کہتے ہیں، شکل اول کیسے بنتی ہے وغیرہ بھئی۔ اور شکل ثانی میں کیسے، شکل ثانی کیسے بنتی ہے، شکل ثالث کیسے بنتی ہے اور شکل رابع، باقی تفصیل اور شرائط جو ہیں وہ اگلی کتابوں میں آ جائیں گی بھئی۔ تو شکل اول کے نتیجہ دینے کے لیے کیا شرط ہے؟ ایجاب صغریٰ اور کلیت کبریٰ بھئی، کلیت کبریٰ۔ بھئی دیکھو بھئی، ادھر دیکھیے۔ اچھا ذرا اس نقشے پہ نظر رکھو یہ جو دیا ہوا ہے شکل اول والا: "ہر انسان جاندار ہے"، یہ کیا ہے؟ صغریٰ، اور یہ موجبہ ہے یا سالبہ؟ موجبہ، تو یہ ایجاب صغریٰ یہاں پورا ہو رہا ہے، اور "ہر جاندار جسم ہے"، یہ کلیہ ہے جزئیہ ہے؟ کلیہ، تو کلیت کبریٰ یہاں پوری بات پوری ہے۔ اگر آپ یہ شرطوں کی لحاظ نہیں رکھیں گے پھر نتیجہ نہیں نکلے گا۔ ذرا شرطیں ختم کرو، "ہر انسان جاندار ہے" اس کی جگہ کوئی نفی والا لے آؤ، سالبہ بنا دو۔ وہ مثال بناؤ جو میں نے بتائی تھی بھئی۔ زید درجہ اولیٰ میں پڑھتا ہے، یا یوں کہو: زید درجہ اولیٰ کا طالب علم ہے، اور درجہ اولیٰ کا ہر طالب علم بڑا منطقی ہے، نتیجہ کیا نکلا؟ زید بڑا منطقی ہے، دیکھو یہ شکل اول ہے فوراً نتیجہ آ گیا۔ اب ذرا اس میں دیکھ لو، "زید درجہ اولیٰ میں پڑھتا ہے" دیکھو ایجاب صغریٰ ہے یا نہیں؟ موجبہ ہے۔ اور "درجہ اولیٰ کا ہر طالب علم بڑا منطقی ہے" دیکھو یہ کلیہ ہے، ہر طالب علم کی بات ہو رہی ہے درجہ اولیٰ کے۔ اس میں سے ذرا پہلی شرط ختم کرو، ہم نے کیا شرط لگائی تھی؟ ایجاب صغریٰ، اس کو ذرا نفی سے بدل دو: زید درجہ اولیٰ میں نہیں پڑھتا۔ پہلے کیا تھا درجہ اولیٰ کا طالب علم ہے، اب کہو درجہ اولیٰ کا طالب علم، زید درجہ اولیٰ کا طالب علم نہیں ہے، اور درجہ اولیٰ کا ہر طالب علم بڑا منطقی ہے۔ اب کوئی نتیجہ نکلے گا؟ زید درجہ اولیٰ میں جب پڑھتا ہی نہیں ہے اور ہم بات کر رہے ہیں ان کی کہ وہ طالب علم بڑا منطقی ہے، تو اب تو آپ نہیں کہہ سکتے کہ زید بڑا منطقی ہے کیونکہ وہ تو ان میں پڑھتا ہی نہیں ہے، تو نتیجہ نکلا؟ نہیں، دیکھا ایجاب صغریٰ والی شرط ختم ہوئی تو نتیجہ بھی ختم۔ دوسری شرط ذرا ختم کرو، کیا؟ کلیت کبریٰ۔ کلیت، توجہ ہے؟ پہلے کو اسی طرح رکھو، دوسرے کے اندر ذرا شرط ختم کر دو، ایجاب صغریٰ رکھو: زید درجہ اولیٰ میں پڑھتا ہے، اور دوسرا کیا تھا؟ درجہ اولیٰ کا ہر طالب علم بڑا منطقی ہے، اس کو کلیہ نہ کرو اس کو جزئیہ بنا دو: درجہ اولیٰ کے بعض طالب علم بڑے منطقی ہیں۔ زید درجہ اولیٰ میں پڑھتا ہے، اور درجہ اولیٰ کے بعض طالب علم بڑے منطقی ہیں، اب بھی نتیجہ نہیں کہ زید بڑا منطقی ہے، کیونکہ درجہ اولیٰ کے سب طالب علم تو منطقی ہیں ہی نہیں، بعض ہیں، اب پتہ نہیں زید ان میں سے ہے یا ان میں سے نہیں ہے، تو لہٰذا اب نتیجہ نہیں آئے گا۔ اب صورت سمجھ میں آ گئی کہ ایجاب صغریٰ اور کلیت کبریٰ ہو گی تو پھر ہم نتیجے تک فوراً پہنچ جائیں گے اور ورنہ نتیجہ نہیں آئے گا بھئی۔ بات اچھی طرح سب کو سمجھ میں آ گئی؟ اب آئیے بھئی یہ سوالات دیے ہوئے ہیں آخر میں، یہ بھی حل کر لیں۔ ذیل میں چند قیاس لکھے جاتے ہیں، ان میں اصغر و اکبر، ان میں اصغر و اکبر و حد اوسط و صغریٰ و کبریٰ کو شناخت کرو اور نتائج بھی بیان کرو۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ کیا پوچھ رہے ہیں؟ اصغر بھی بیان کرنا ہے، اکبر بھی، حد اوسط بھی، اور یہ بھی بتانا ہے صغریٰ کون سا ہے اور کبریٰ کون سا۔ "ہر انسان ناطق ہے، اور ہر ناطق جسم ہے"، نتیجہ کیا نکلے گا؟ پھر غور کرو، "ہر انسان ناطق ہے، اور ہر ناطق جسم"، جو مشترک حصہ ہے، جو مکرر حصہ ہے اس کو ختم کر دو۔ "ہر انسان جسم ہے"، ہر انسان جسم ہے۔ اب مجھے بتائیے، نتیجے پہ نظر رکھو، نتیجے کا جو موضوع ہوتا ہے اس کو اصغر کہتے ہیں، اور نتیجے کا جو محمول ہوتا ہے اس کو اکبر کہتے ہیں، اور یہ وہ تو نتیجے میں ہے، اس وقت آپ کے سامنے جو ہے یہ قیاس ہے جس دو جس میں دو مقدمے ہیں، پہلا مقدمہ وہ صغریٰ ہے اور دوسرا کیا ہے؟ کبریٰ۔ تو "ہر انسان ناطق ہے" یہ کیا ہے؟ صغریٰ، اور "ہر ناطق جسم ہے" یہ کیا ہے؟ کبریٰ ہے۔ تو "ہر انسان ناطق ہے" یہ کیا ہے؟ صغریٰ، اور "ہر ناطق جسم ہے" یہ کیا ہے؟ کبریٰ۔ اچھا حد اوسط پہلے میں کیا ہے؟ ناطق ہے، جب یہ نکال دیا باقی کیا رہ گیا؟ "ہر انسان"، یہ کیا ہے؟ اصغر ہے کیونکہ صغریٰ میں ہے۔ اور دوسرے میں وہ مکرر حصہ کون سا ہے؟ "ہر ناطق"، اس کو ختم کر دو باقی کیا رہ گیا؟ "جسم ہے"، یہ کیا ہے؟ یہ اکبر ہے، اور حد اوسط کیا ہے؟ یہ ناطق جو ہے یہ حد اوسط ہے بھئی۔ آگے دیکھیے، دوسری مثال: "ہر انسان جاندار ہے، اور کوئی جاندار پتھر نہیں"، نتیجہ کیا نکلا؟ "کوئی انسان پتھر نہیں"۔ "جاندار ہے" دونوں جگہ مکرر ہے اس کو ختم کر دیا: "کوئی انسان پتھر نہیں"۔ نفی میں، نفی میں ہر فرد سے نفی کے لیے "کوئی" کا لفظ لاتے ہیں کلیت کے لیے۔ تو نتیجہ کیا نکلا؟ "کوئی انسان پتھر نہیں"۔ اچھا صغریٰ کیا ہے؟ صغریٰ صغریٰ، پہلا مقدمہ: "ہر انسان جاندار ہے" یہ ہے صغریٰ۔ کبریٰ کیا ہے؟ "کوئی جاندار پتھر نہیں ہے"۔ حد اوسط کیا ہے؟ "جاندار ہے"، یہ جاندار حد اوسط ہے۔ اچھا اصغر کیا ہے؟ "ہر انسان"، اور اکبر کیا ہے؟ پتھر بھئی، اکبر کیا ہے؟ پتھر بھئی۔ تیسرے قیاس پر آئیے بھئی: "بعض جاندار گھوڑے ہیں، اور ہر گھوڑا ہنہنانے والا ہے"۔ مکرر حصہ کون سا؟ گھوڑا، اس کو ختم کر دو، نتیجہ کیا نکلا؟ "بعض جاندار ہنہنانے والے ہیں"۔ اچھا صغریٰ کون سا مقدمہ؟ "بعض جاندار گھوڑے ہیں" یہ کیا ہے؟ صغریٰ، اور "ہر گھوڑا ہنہنانے والا ہے" یہ کبریٰ۔ حد اوسط کیا ہے؟ ہاں ایک جیسا کس جو دونوں میں ہے؟ گھوڑا، یہ ہے حد اوسط۔ اچھا اور اصغر کیا ہے؟ "بعض جاندار"، اور اکبر کیا ہے؟ "ہنہنانے والا"۔ چوتھی مثال میں آئیے: "بعض مسلمان نمازی ہیں، اور ہر نمازی اللہ کا پیارا ہے"۔ اچھا پہلے نتیجہ بولیں، نتیجہ کیا؟ جی مکرر حصہ کون سا ہے؟ نمازی، اس کو ختم کر دیں، نتیجہ نکل آئے گا۔ "بعض مسلمان اللہ کے پیارے ہیں"۔ اچھا تو حد اوسط کیا؟ نمازی۔ اچھا صغریٰ کون سا مقدمہ ہے؟ "بعض مسلمان نمازی ہیں"، کبریٰ کون سا ہے؟ "ہر نمازی اللہ کا پیارا ہے"، اور اصغر کیا ہے؟ "بعض مسلمان"، اکبر کیا ہے؟ "اللہ کا پیارا"۔ پانچویں پانچویں قیاس پر آئیے بھئی: "بعض مسلمان داڑھی منڈانے والے ہیں"، یعنی کٹوانے والے ہیں، "بعض مسلمان داڑھی منڈانے والے ہیں، اور کوئی داڑھی منڈانے والا اللہ کو نہیں بھاتا"، یعنی اللہ کو پسند نہیں ہے۔ پہلے نتیجہ نکال لیں، مکرر حصہ کون سا؟ "داڑھی منڈانے والے"، اس کو ہٹا دیں، کیا نتیجہ نکلا؟ "بعض مسلمان اللہ کو نہیں بھاتے"۔ دیکھو ایک موجبہ تھا ایک سالبہ، تو نتیجہ کیا آیا ہے؟ سالبہ: "بعض مسلمان اللہ کو نہیں بھاتے" یعنی اللہ کو پسند نہیں۔ صغریٰ کون سا مقدمہ؟ "بعض مسلمان داڑھی منڈانے والے ہیں"، اور کبریٰ کیا ہے؟ "کوئی داڑھی منڈانے والا اللہ کو نہیں بھاتا" یہ کبریٰ ہے۔ اچھا حد اوسط کیا؟ "داڑھی منڈانے والے"، اصغر کیا؟ "بعض مسلمان"، اکبر کیا؟ "اللہ کو نہیں بھاتا"۔ نمبر چھ پر آئیے بھئی: "ہر نمازی سجدہ کرنے والا ہے، اور ہر سجدہ کرنے والا اللہ کا مطیع ہے"، یعنی اللہ کا فرمانبردار ہے۔ نتیجہ بولیے بھئی: "ہر نمازی اللہ کا مطیع ہے"، کیونکہ "سجدہ کرنے والا" یہ تھا حد اوسط، سجدہ کرنے والا؟ اس کو ختم کیا تو نتیجہ آیا: "ہر نمازی اللہ کا مطیع ہے"۔ تو یہ صغریٰ بولیے کون سا مقدمہ ہے؟ "ہر نمازی سجدہ کرنے والا ہے" یہ ہے صغریٰ، اور کبریٰ بولیے: "اور ہر سجدہ کرنے والا اللہ کا مطیع ہے" یہ ہے کبریٰ۔ حد اوسط کیا ہے؟ "سجدہ کرنے والا"، اصغر کیا ہے؟ "ہر نمازی"، اکبر کیا ہے؟ "اللہ کا مطیع ہے"۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ چلیے بس بھئی، ھٰذا ھو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔
44 approved lectures · 35 of 44