Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

تيسير المنطق · dars-033

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Muhammad Ghais
📍 Location Lahore, Pakistan
📅 Approved Date 07 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 32
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
اچھا بھئی، آج کے سبق میں ہم تناقض کی آخری بحث بھی پڑھیں گے، اس کے سوالات بھی حل کریں گے اور پانچواں سبق عکسِ مستوی بھی پڑھیں گے بھئی، عکسِ مستوی بھی ان شاء اللہ۔ تو پہلے وہ گزشتہ سبق بھئی یاد کر لیا آپ نے؟ وہ اشعار یاد ہیں بھئی؟ چلیے میں چند طلبہ سے سن لیتا ہوں۔ چلیے بھئی، آپ سنائیے بھئی۔ در تناقض ہشت وحدت شرط داں وحدت موضوع و محمول و مکاں وحدت شرط و اضافت، جزو و کل قوت و فعل است در آخر زماں شاباش! ماشاء اللہ، بہترین یاد کیا۔ چلیے بھئی، آپ سنائیے بھئی۔ در تناقض ہشت وحدت شرط داں وحدت موضوع و محمول و مکاں وحدت شرط و اضافت، جزو و کل قوت و فعل است در آخر زماں شاباش! جی، آپ سنائیے بھئی۔ در تناقض ہشت وحدت شرط داں وحدت موضوع و محمول و مکاں وحدت شرط و اضافت، جزو و کل قوت و فعل است در آخر زماں شاباش بھئی! جی۔ در تناقض ہشت وحدت شرط داں وحدت موضوع و محمول و مکاں وحدت شرط و اضافت، جزو و کل قوت و فعل است در آخر زماں در آخر زماں، شاباش! اچھا بھئی، دیکھیے آگے پہلے ذرا سبق دیکھ لیجیے اگلا۔ سبقِ پنجم: عکسِ مستوی کی بحث۔ عکسِ مستوی کسی قضیے کا یہ ہے کہ اس قضیے کے اول جز کو دوسرا جز کر دیا جائے اور دوسرے جز کو پہلا جز بنا دیا جائے یعنی بالکل الٹ دیا جائے، اور یہ الٹ پلٹ ایسے طور پر کریں کہ اگر پہلا قضیہ سچا ہے تو دوسرا جو اس کا الٹا ہے وہ بھی سچا ہی رہے۔ اور پہلا اگر موجبہ ہے تو دوسرا بھی موجبہ ہی ہو، پہلا اگر سالبہ ہو تو دوسرا بھی سالبہ ہی ہو۔ اور اس دوسرے الٹے ہوئے قضیے کو پہلے کا عکسِ مستوی کہتے ہیں۔ جیسے ہر انسان جاندار ہے، اس کا عکس یہ نکلے گا کہ بعض جاندار انسان ہیں۔ اچھا بھئی، پہلے تو ہم گزشتہ تناقض کا جو سبق تھا اس کی آخری بحث ہم کر رہے تھے بھئی۔ بھئی، آپ نے پڑھا تناقض کا معنی ہے ٹکراؤ اور مخالفت۔ بعض اوقات لوگ ایک دوسرے سے کہہ دیتے ہیں کہ آپ کی باتوں میں ٹکراؤ یا مخالفت ہے، کچھ دیر پہلے آپ نے ایک بات کی تھی اور اب آپ دوسری بات کر رہے ہیں۔ تو یہ جو ٹکراؤ اور مخالفت ہے اس کو تناقض کہتے ہیں۔ اور یہ تناقض اس کے لیے مناطقہ نے غور و فکر کیا اور آٹھ چیزیں نکالیں کہ یہ آٹھ چیزیں دونوں قضیوں میں ایک جیسی ہوں گی تو پھر تناقض ہوگا، ورنہ تناقض نہیں۔ لہٰذا اگر کوئی شخص کم فہمی کی وجہ سے بات اس کو پوری سمجھ میں نہیں آئی اور وہ کسی کو ٹوک دیتا ہے کہ بھئی آپ کی دونوں باتوں میں تو ٹکراؤ ہے، تو دوسرا جواب دے دیتا ہے اس کو فوراً کہ نہیں بھئی، پہلی بات جو کی میں نے وہ اس لحاظ سے کی تھی اور دوسری بات جو کی وہ میں نے اس لحاظ سے کی، لہٰذا دونوں میں کوئی ٹکراؤ نہیں۔ تو یہ جو چیزیں ہیں یہ جو مناطقہ نے جمع کی ہیں اگر یہ آپ کے ذہن میں ہوں گی تو آپ فوراً پتہ چلا سکتے ہیں کہ کن دو باتوں میں ٹکراؤ ہے اور کن دو باتوں میں ٹکراؤ نہیں۔ تو یہ سبق آپ کو بحث وغیرہ میں بے انتہا کام آئے گا بھئی، بے انتہا۔ تو مناطقہ نے وہ چیزیں جمع کیں جن کی وجہ سے یہ کہا جائے کہ ان دو باتوں کے اندر ٹکراؤ ہے اور ان کے اندر مخالفت ہے۔ اس ٹکراؤ اور مخالفت کو تناقض کہتے ہیں، اور تناقض کے لیے آٹھ چیزوں میں وحدت ضروری ہے۔ یعنی پہلے قضیے کے اندر جس طرح یہ چیزیں ہوں، دوسرے میں بھی اسی طرح ان کا ہونا ضروری ہے یعنی ان میں وحدت ہونی چاہیے، کوئی فرق نہیں ہونا چاہیے۔ تو مناطقہ نے ان چیزوں کو جمع کیا کہ جن کی وجہ سے جن کو تناقض کے اندر دیکھا جائے گا۔ اور وہ چیزیں آٹھ ہیں۔ اگر ان آٹھ چیزوں کے اندر وحدت پائی جائے گی یعنی ایک قضیے میں جس طرح وہ آٹھ چیزیں ہیں اسی طرح دوسرے قضیے کے اندر بھی ہیں، ان میں وحدت ہے، اتفاق ہے، دونوں قضیوں میں ایک جیسی ہیں تو پھر ان میں تناقض ہوگا، ورنہ تناقض نہیں ہوگا۔ اور ان آٹھ چیزوں کو وحداتِ ثانیہ کہتے ہیں بھئی، وحداتِ ثانیہ۔ تو جن دو قضیوں میں تناقض ہوگا، اس میں اول تو یہ ضروری ہے کہ ان میں سے ایک موجبہ ہو تو دوسرا سالبہ ہو۔ اور یہ جو دو قضیے جن کے اندر تناقض ہے، ان کو یہ دونوں قضیے ایک دوسرے کی نقیض کہلاتے ہیں۔ پہلا قضیہ دوسرے کی نقیض ہے اور دوسرا قضیہ پہلے کی نقیض، اور ان دونوں کو نقیضین کہتے ہیں۔ اور یہ بھی یاد رکھیے کہ تناقض کے اندر یہ بھی ضروری ہے کہ دونوں قضیے سچے بھی نہ ہو سکیں اور دونوں جھوٹے بھی نہ ہو سکیں، ایک کا سچا ہونا اور ایک کا جھوٹا ہونا ضروری ہے بھئی۔ کس کے اندر؟ تناقض میں۔ اگر دونوں جھوٹے ہوئے تو بھی تناقض نہیں ہے۔ اگر دونوں سچے ہو گئے تو بھی تناقض نہیں ہے۔ تو تناقض میں ضروری ہے کہ ایک قضیہ موجبہ ہو تو دوسرا سالبہ ہو، اور ایک سچا ہو تو دوسرا جھوٹا ہو بھئی۔ اور وہ آٹھ وحدتیں آپ نے ابھی شعر سنایا: در تناقض ہشت وحدت شرط داں وحدت موضوع و محمول و مکاں وحدت شرط و اضافت، جزو و کل قوت و فعل است در آخر زماں تو یہ آٹھ وحدتیں ہیں بھئی۔ دونوں قضیوں کا موضوع ایک ہونا چاہیے، دونوں قضیوں کا محمول ایک جیسا ہونا چاہیے، دونوں قضیوں کے اندر جگہ ایک ہی ذکر ہونی چاہیے، دونوں قضیوں کے اندر زمانہ ایک ہی ذکر ہونا چاہیے۔ قوت و فعل کے اندر اتحاد ہونا چاہیے یعنی اگر ایک میں قوت کا ذکر ہے تو دوسرے میں بھی قوت کا ذکر ہو، ایک میں فعل کا ذکر ہے تو دوسرے میں بھی فعل کا ذکر ہو۔ اور نیز اسی طرح دونوں کے اندر شرط بھی ایک جیسی ہونی چاہیے، ایک میں جو شرط ذکر کی گئی ہے دوسرے میں بھی بعینہٖ وہی شرط ذکر ہونی چاہیے۔ اور ساتویں وحدت یہ کہ جزو و کل میں دونوں میں اتفاق ہو، ایک میں اگر جز کا ذکر ہو رہا ہے تو دوسرے میں بھی جز ہی کا ذکر ہونا چاہیے اور اگر ایک میں کل کا ذکر ہے تو دوسرے میں بھی کل کا ذکر ہونا چاہیے بھئی۔ جز، جز کا کیا معنی؟ یعنی بعض۔ اگر ایک میں تمام افراد کا ذکر ہے تو دوسرے میں بھی تمام افراد کا ذکر ہونا چاہیے، ایک میں اگر بعض افراد کا ذکر ہے تو دوسرے میں بھی بعض افراد کا ذکر ہونا چاہیے، اس کو جزو و کل کہتے ہیں۔ کل کا معنی تمام، جز کا معنی بعض۔ تو کل اور جز میں اتحاد ہونا چاہیے، ایک میں کل ہے تو دوسرے میں بھی کل کا ذکر، ایک میں جز کا ذکر دوسرے میں بھی جز کا ذکر ہونا چاہیے۔ اور نیز اضافت کے اندر بھی وحدت ہونی چاہیے۔ اضافت کا معنی ہے نسبت کرنا، نسبت کرنا۔ ایک قضیے کے اندر اگر ایک اضافت کی گئی ہے یعنی ایک نسبت سے کلام کیا گیا ہے تو دوسرے قضیے کے اندر بھی اسی نسبت سے کلام ہونا چاہیے۔ مثلاً آپ نے ایک قضیے میں کہا زید عمرو کا بیٹا ہے، تو دوسرے قضیے میں بھی یہی ہونا چاہیے صرف نفی کے ساتھ ہو، زید عمرو کا بیٹا نہیں ہے۔ اب یہ تناقض ہے، دونوں میں سے ایک چیز ہو سکتی ہے یا تو زید عمرو کا بیٹا ہوگا یا عمرو کا بیٹا نہیں ہوگا۔ لیکن اگر اضافت بدل دیں تو پھر تناقض نہ رہے گا، مثلاً آپ کہتے ہیں زید عمرو کا بیٹا ہے، زید بکر کا بیٹا نہیں ہے۔ دیکھو اب تو تناقض نہ رہا بھئی، دونوں سچے ہو سکتے ہیں، زید جو ہے وہ عمرو کا بیٹا ہو اور بکر کا بیٹا نہ ہو۔ جی، تو دونوں سچے ہو گئے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اس کے بعد آخر میں جو بحث رہ گئی تھی وہ قضیہ محصورہ کے بارے میں تھی۔ یہ تو آٹھ وحدتیں ضروری ہیں قضیہ مخصوصہ کے اندر۔ قضیہ مخصوصہ کسے کہتے ہیں؟ وہ قضیہ جس کا موضوع کوئی شخصِ معین، کوئی ذاتِ معین ہو بھئی، تو اس میں یہ آٹھ وحدتیں ضروری ہیں تناقض کے لیے۔ جبکہ قضیہ محصورہ، قضیہ محصورہ کسے کہتے ہیں؟ جس میں سور ذکر ہو یعنی کل یا بعض کا ذکر ہو کہ یہ حکم تمام افراد کے لیے ہے یا بعض افراد کے لیے ہے۔ اور وہ قضیہ محصورہ آپ نے پڑھا چار قسم پر ہے، یا وہ موجبہ کلیہ ہوگا، یا سالبہ کلیہ ہوگا، یا موجبہ جزئیہ ہوگا، یا سالبہ جزئیہ ہوگا بھئی۔ تو یہ جو قضیہ محصورہ ہے، اس کے اندر تناقض کے لیے وہ آٹھ شرطیں بھی ضروری، وہ آٹھ وحدتیں بھی ضروری اور ایک اور شرط بھی ہے، توجہ ہے؟ وہ آٹھ وحدتیں بھی ضروری، ایک شرط اور بھی یہاں ضروری، وہ یہ کہ یہ دو قضیہ محصورہ جن میں آپ تناقض چاہتے ہیں اس میں ضروری ہے کہ ایک کلیہ ہو تو دوسرے کو جزئیہ ہونا چاہیے۔ یہ ایسا نہ ہو کہ دونوں کلیہ ہوں یا دونوں جزئیہ ہوں، نہیں نہیں، کلیت اور جزئیت کے اندر دونوں میں اختلاف ہونا چاہیے۔ کیا ہونا چاہیے؟ اختلاف۔ اور یہ تو آپ پہلے ہی پڑھ چکے کہ جن دو قضیوں میں تناقض ہوتا ہے، ان میں ایک موجبہ ہوتا ہے ایک سالبہ ہوتا ہے۔ اور اب ایک نئی شرط یہ پڑھ لی کہ اگر محصورہ ہوں تو ایک اگر کلیہ ہے تو دوسرا کیا ہوگا؟ جزئیہ۔ اور اگر پہلا جزئیہ ہے تو دوسرا کلیہ ہوگا، تو کلیت اور جزئیت میں اختلاف شرط ہے بھئی۔ کیا ہے؟ یہ کس کے اندر؟ قضیہ محصورہ کے اندر، قضیہ محصورہ کے اندر۔ وجہ اس کی یہ ہے، وجہ اس کی یہ ہے کہ اگر دونوں کلیہ ہوں، آپ تناقض چاہتے ہیں نا دو قضیوں کے اندر کہ تناقض ہے یا تناقض نہیں، تو تناقض کے لیے کیا ضروری قضیہ محصورہ میں؟ ایک کلیہ ہو تو دوسرا جزئیہ ہو، یہ ضروری ہے۔ وجہ اس کی یہ ہے بھئی کہ اگر دونوں کلیہ ہوں تو کبھی دونوں سچے ہو جائیں گے اور کبھی دونوں جھوٹے ہو جائیں گے، حالانکہ تناقض میں تو کیا ضروری؟ ایک سچا ہو اور ایک جھوٹا ہونا چاہیے، ایک جھوٹا ہونا چاہیے۔ تو ایک کا کلیہ اور دوسرے کا جزئیہ ہونا ضروری ہے بھئی۔ دونوں کلیہ ہوں، دونوں کلیہ ہوں تو یاد رکھیے کبھی تناقض ہوگا اور کبھی تناقض نہیں ہوگا۔ تناقض ہوگا اور کبھی تناقض نہیں ہوگا۔ مثلاً آپ کہتے ہیں ہر انسان پتھر ہے، ہر انسان پتھر ہے۔ اس کی ذرا نقیض لاؤ، کوئی انسان پتھر نہیں۔ کوئی انسان... دیکھو ہر انسان پتھر ہے یہ ہوا جھوٹا، اور کوئی انسان پتھر نہیں یہ کیا ہوا؟ سچا۔ تو معلوم ہوا ان میں تناقض ہے، ایک موجبہ ہے ایک سالبہ ہے اور... توجہ ہے سبق کی طرف؟ بات میں یہ کر رہا ہوں کہ مناطقہ نے کہا ہے قضیہ محصورہ میں تناقض کے لیے ایک اور شرط بھی ضروری کہ اگر ایک کلیہ ہو تو دوسرے کو جزئیہ ہونا چاہیے یعنی کلیت اور جزئیت کے اندر دونوں کا اختلاف ہونا چاہیے، ایسا نہ ہو کہ پہلا کلیہ ہو تو دوسرا بھی کلیہ ہو، پہلا جزئیہ ہو تو دوسرا بھی جزئیہ ہو، ایسا نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اگر ایک جزئیہ ہے تو دوسرے کو کلیہ ہونا چاہیے اور اگر پہلا کلیہ ہے تو دوسرے کو جزئیہ ہونا چاہیے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ اگر دونوں کلیہ ہوں یا دونوں جزئیہ ہوں تو پھر کبھی تناقض ہوگا اور کبھی تناقض نہیں ہوگا، حالانکہ مناطقہ کے قوانین ایسے ہوتے ہیں کہ جو ہر جگہ پر جاری ہونے چاہییں، کوئی ایک صورت بھی اس سے باہر نہیں ہونی چاہیے۔ تو کہیں پر قانون لگے اور کہیں نہ لگے وہ ایسا ضابطہ نہیں بناتے، بلکہ ایسا ضابطہ بناتے ہیں جس میں ساری صورتیں آ جائیں، جس میں کیا ہوں؟ تو بعض اوقات دیکھو دونوں کلیہ ہوں تو تناقض آئے گا اور کبھی تناقض... تو اگر ہم یہ کہہ دیں کہ دیکھو ایک جگہ تناقض آ رہا ہے، کیا ہو رہا ہے؟ دونوں کلیہ ہیں لیکن کیا آ رہا ہے ان میں؟ تناقض آ رہا ہے۔ مثلاً ابھی مثال میں نے ذکر کی، کوئی انسان پتھر نہیں، اور اس کی نقیض لے آؤ، ہر انسان پتھر ہے۔ دیکھو پہلا سچا ہے اور دوسرا جھوٹا ہے، اور دونوں جمع بھی نہیں ہو سکتے اور دونوں اٹھ بھی نہیں سکتے، تو ایک سچا ہے ایک جھوٹا ہے اور ان میں تناقض موجود ہے۔ اور کوئی انسان پتھر نہیں، توجہ ہے؟ یہ بھی کلیہ، اور ہر انسان پتھر ہے یہ بھی کیا ہے؟ کلیہ۔ تو دیکھو تناقض ہے دونوں میں۔ مثلاً میں کہتا ہوں ہر انسان جاندار ہے، ہر انسان جاندار، اب اسی کو نفی میں لے آؤ، کوئی انسان جاندار نہیں، ہر انسان جاندار ہے، کوئی انسان جاندار نہیں۔ ان میں کیا ہے؟ ان میں بھی تناقض موجود ہے، پہلا بھی کلیہ کیا ہے ہر انسان جاندار اور دوسرا بھی کلیہ ہے کوئی انسان جاندار نہیں، ایک پہلا موجبہ ہے تو دوسرا سالبہ اور ان میں کیا موجود ہے؟ تناقض موجود ہے، لیکن ہمیشہ نہیں ہوگا۔ دوسری مثال لے لو، مثلاً میں کہتا ہوں ہر حیوان انسان ہے، ہر حیوان انسان، سچا ہے یا جھوٹا ہے؟ جھوٹا ہے۔ ہر حیوان تو انسان نہیں ہے، اس میں تو گائے بیل وغیرہ بھی آ گئے۔ تو ہر حیوان انسان ہے یہ کیا ہوا؟ جھوٹا۔ اسی کا اسی کی نقیض لے آؤ اور کلیہ ہی لے کر آؤ۔ پہلا کیا تھا؟ ہر حیوان انسان ہے، ہر حیوان... یہ قضیہ سچا ہے، جھوٹا ہے؟ جھوٹا ہے کیونکہ ہر حیوان تو انسان نہیں ہے اس میں تو گائے بیل بکری بھی شامل ہیں، تو ہر حیوان اور قضیہ کیا بنایا ہر حیوان انسان یہ کیا ہوا؟ جھوٹا۔ تو اس کی ذرا نقیض بناؤ، اور ہر انسان حیوان ہے یہ کلیہ ہے، جزئیہ ہے؟ کلیہ۔ تو نقیض لاؤ لیکن اس کو بھی ذرا کلیہ ہی رکھو۔ کوئی حیوان انسان... کوئی حیوان کو موضوع ہی رکھو، موضوع کو نہیں بدلنا۔ پہلا کیا تھا؟ ہر حیوان انسان ہے، ہر حیوان انسان ہے۔ اب لاؤ، کوئی حیوان انسان نہیں ہے، کوئی حیوان انسان... یہ بھی کیا ہوا؟ کوئی حیوان انسان نہیں ہے؟ ہے، انسان بھی تو حیوان ہے۔ تو لہٰذا یہ بھی جھوٹا ہوا، دیکھو دونوں جھوٹے ہو گئے۔ ہر حیوان انسان ہے، اور کوئی حیوان انسان نہیں، دیکھا؟ ہم نے تناقض پیدا کرنے کی کوشش کی، ایک کو موجبہ رکھا ایک کو سالبہ بنایا، ایک کلیہ تھا دوسرے کو بھی کلیہ رکھا، جو ایک کا موضوع تھا وہی دوسرے کا موضوع رکھا، جو ایک کا محمول تھا وہی دوسرے کا بھی محمول، تو پہلا قضیہ کیا ہوا؟ ہر حیوان انسان ہے، اور دوسرا کوئی حیوان انسان نہیں، اور دونوں جھوٹے ہو گئے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو دیکھو آپ نے دونوں کو کلیہ رکھا اور آپ نے دیکھا کہ دونوں جھوٹے ہو گئے تو ان میں تناقض نہیں ہے، کیونکہ تناقض کے لیے تو کیا ضروری؟ ایک قضیہ سچا ہو تو دوسرا جھوٹا ہو، دونوں جھوٹے بھی نہیں ہو سکتے یعنی دونوں اٹھ بھی نہیں سکتے اور دونوں سچے بھی نہیں ہو سکتے یعنی دونوں جمع بھی نہیں ہو سکتے۔ تو یہاں پر ہر حیوان انسان ہے، کوئی حیوان انسان نہیں، دونوں جھوٹے ہیں۔ تو اگر دونوں کو دیکھو قضیہ محصورہ میں اگر پہلا کلیہ ہو دوسرے کو بھی کلیہ رکھیں تو کبھی کبھار دونوں کیا ہو جاتے ہیں؟ جھوٹے ہو جاتے ہیں، ان میں تناقض نہیں رہتا۔ اور کبھی تناقض رہتا ہے، جیسے ابھی مثال ذکر کی تھی، ہر انسان جاندار ہے، کوئی انسان جاندار نہیں، دیکھو ہر انسان جاندار ہے، سچا ہے یا جھوٹا ہے؟ ہر انسان جاندار ہے، سچا ہے، اور کوئی انسان جاندار نہیں یہ جھوٹا ہے تو دیکھو اب تناقض ہے۔ دونوں کلیہ ہیں، ہر انسان جاندار ہے، کوئی انسان جاندار نہیں۔ تو اگر دونوں کو کلیہ رکھا جائے، اب بات سمجھ میں آئی سب کو؟ اگر دونوں قضیہ محصورہ ان میں آپ تناقض چاہتے ہیں، اگر دونوں کلیہ ہوں تو کبھی تو ان میں تناقض ہوگا اور کبھی ایسا ہوگا کہ ان میں تناقض نہیں ہوگا دونوں ہی کیا ہو جائیں گے؟ دونوں جھوٹے ہو جائیں گے، دونوں جھوٹے ہو جائیں گے۔ جبکہ مناطقہ کے قوانین عام ہوتے ہیں، وہ ایسا قانون بناتے ہیں کہ کوئی ایک بھی صورت اس سے باہر نہ رہے، تو اگر مناطقہ یہ قانون بنا دیں کہ کلیہ کی نقیض کلیہ ہی آتی ہے، کلیہ کی نقیض کلیہ ہی تو پھر بعض صورتیں تو آ جائیں گی ان میں تو تناقض آئے گا، اور بعض تو کلیہ ہوں گے لیکن ان میں تناقض نہیں ہوگا تو ان کا قانون عام رہے گا یا کچھ صورتیں اس سے نکل گئیں؟ کچھ صورتیں اس سے نکل جائیں گی، جبکہ مناطقہ ان کے قوانین عام ہوتے ہیں، وہ ہر جگہ لاگو ہوتے ہیں، کوئی صورت اس سے باہر نہیں ہوتی۔ اسی طرح اگر دونوں جزئیہ ہوں تو بھی کبھی تناقض ہوگا کبھی تناقض نہیں، مثلاً میں کہتا ہوں بعض انسان مسلمان ہیں، بعض انسان جزئیہ ہے کلیہ ہے؟ جزئیہ ہے۔ کیا ہے؟ تو بعض انسان مسلمان ہیں، سچا ہے جھوٹا ہے؟ جی؟ بعض انسان مسلمان ہیں، سچا ہے، جزئیہ ہے اور سچا ہے۔ اس کی ذرا نقیض لاؤ، بعض انسان مسلمان نہیں ہیں، اسی طرح جزئیہ ہی رکھو ذرا۔ جزئیہ کی نقیض ہم کیا لا رہے ہیں؟ جزئیہ ہی لانا چاہ رہے ہیں، تو بعض انسان مسلمان ہیں، بعض انسان مسلمان نہیں، دونوں سچے ہیں بھئی۔ تو جزئیہ کی نقیض ہم نے جزئیہ لانے کی کوشش کی لیکن تناقض نہیں ہے، دونوں سچے ہیں، تناقض میں تو کیا ضروری؟ ایک سچا ہو اور ایک جھوٹا ہونا ضروری ہے۔ تو یہ دونوں سچے ہیں۔ اچھا جب دونوں سچے ہو گئے ان میں تناقض رہا؟ ہم نے جزئیہ کی نقیض جزئیہ ہی کو بنانے کی کوشش کی، بعض انسان مسلمان ہیں یہ بھی جزئیہ، نقیض بھی کیا لائے؟ بعض انسان مسلمان نہیں، دیکھو تناقض نہیں آیا حالانکہ ایک کا جو موضوع تھا وہی دوسرے کا موضوع، ایک کا جو محمول تھا وہی دوسرے کا محمول، ایک میں ایجاب تھا تو دوسرے میں سلب، تو تناقض ہونا چاہیے تھا لیکن تناقض نہیں ہے کیونکہ دونوں جزئیہ ہیں، دونوں جزئیہ۔ تو دیکھا آپ نے؟ آپ نے دونوں قضیوں کو جزئیہ رکھا تو تناقض نہ ہوا، تو دونوں قضیے اگر کلیہ ہوں تو کبھی تناقض ہوگا کبھی تناقض نہیں، اسی طرح دونوں قضیوں کو اگر جزئیہ رکھیں تو تب بھی تناقض کا ہونا ضروری نہیں۔ لہٰذا مناطقہ مجبور ہوئے کیونکہ ان کے قانون تو عام ہوتے ہیں، وہ ساری صورتوں کو شامل ہوتے ہیں، لہٰذا انہوں نے دیکھا کہ اگر کلیہ کی نقیض جزئیہ بنائی جائے تو وہ ہر جگہ چلتی ہے، ہر جگہ پر وہ بات وہاں تناقض آتا ہے۔ کیا کیا جائے؟ ایک قضیہ اگر کلیہ ہو تو دوسرے کو کیا ہونا چاہیے؟ جزئیہ، پھر ہمیشہ تناقض ہوتا ہے۔ لہٰذا انہوں نے قانون بنا دیا کہ ہمیشہ کلیہ کی نقیض کیا آئے گی؟ جزئیہ، اور جزئیہ کی نقیض کیا آئے گی؟ کلیہ آئے گی کیونکہ وہاں کوئی استثناء نہیں، کوئی صورت اس سے باہر نہیں رہتی۔ آپ دنیا کی جو بھی مثال لے آئیں، کوئی سے دو قضیہ محصورہ لے آئیں، ان میں سے ایک کیا ہو؟ کلیہ ہو، دوسرا کیا ہو؟ جزئیہ ہو، اور ایک موجبہ ہو اور ایک کیا ہو؟ سالبہ ہو، اور ان میں وہ آٹھ شرطیں موجود ہوں تو ہمیشہ ان کے اندر تناقض ہوگا۔ کیا ہوگا؟ کس صورت میں؟ ایک کلیہ ہو اور ایک جزئیہ ہو۔ اگر دونوں کلیہ ہوں تو تناقض کبھی ہوگا اور کبھی نہیں، اسی طرح دونوں جزئیہ ہوں تب بھی ہمیشہ تناقض کا ہونا ضروری نہیں، البتہ ایک کلیہ ہو اور دوسرا جزئیہ ہو تو پھر ہمیشہ تناقض پایا جائے گا جب باقی ساری شرطیں پوری ہوں۔ چنانچہ انہوں نے قانون بنا دیا کہ قضایائے محصورہ جو ہیں ان کے اندر تناقض کے لیے ضروری ہے کہ آٹھ وحدتوں کے ساتھ ساتھ ایک شرط اور ہونی چاہیے، وہ یہ کہ اگر پہلا قضیہ کلیہ ہو تو دوسرا کیا ہونا چاہیے؟ جزئیہ، اور اگر پہلا جزئیہ ہے تو دوسرا کلیہ ہونا چاہیے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ قضایائے محصورہ چار ہیں بھئی، چار قسم کے، کون کون سے؟ موجبہ کلیہ، موجبہ جزئیہ، سالبہ کلیہ، سالبہ جزئیہ۔ اب ہر ایک کی نقیض کیا آئے گی؟ آپ آرام سے نکال سکتے ہیں۔ مجھے بتائیے، موجبہ کلیہ اس کی نقیض کیا آئے گی؟ موجبہ اور ایک کو سالبہ، یہ تو ہمیشہ تناقض میں ہوتا ہی یہ ہے، ایک موجبہ ہو قضیہ تو دوسرا کیا ہوتا ہے؟ سالبہ، لہٰذا وہ تو بتانے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ تو اگر پہلا قضیہ ہو موجبہ کلیہ تو دوسرا کیا ہوگا؟ سالبہ جزئیہ، شاباش! موجبہ کو بدل دیا سالبہ سے اور کلیہ کو بدل دیا جزئیہ سے، تو موجبہ کلیہ کی نقیض کیا آئے گی؟ سالبہ جزئیہ۔ اور موجبہ جزئیہ کی نقیض کیا آئے گی؟ سالبہ کلیہ اس کی نقیض آئے گی۔ اور سالبہ کلیہ کی نقیض کیا آئے گی؟ موجبہ جزئیہ آئے گی۔ اور سالبہ جزئیہ کی نقیض کیا آئے گی؟ موجبہ کلیہ آئے گی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ ضابطے اچھی طرح سمجھ میں آ گئے؟ اب دیکھیے کتاب پر بھئی، آخری پیرا دوبارہ دیکھ لیجیے: یہ آٹھ چیزیں ہیں جن میں دو قضیوں کا متفق ہونا تناقض کے لیے ضروری ہے، یہ وحداتِ ثانیہ کہلاتی ہیں۔ یہ تو مخصوصہ قضیے کا بیان تھا، اور اگر وہ دونوں قضیے محصورہ ہوں تو ان میں بھی ان آٹھ چیزوں میں اتفاق ضروری ہے، اور علاوہ اس کے ایک شرط ان میں اور ہونی چاہیے، وہ یہ کہ ان میں سے اگر ایک کلیہ ہو تو دوسرا جزئیہ ہو، پس موجبہ کلیہ کی نقیض سالبہ جزئیہ ہوگی۔ جیسے ہر انسان جاندار ہے، توجہ ہے؟ ہر انسان جاندار ہے، موجبہ ہے یا یہ سالبہ ہے؟ موجبہ ہے۔ کلیہ ہے یا جزئیہ ہے؟ کلیہ۔ تو یہ موجبہ کلیہ ہوا، توجہ ہے؟ ادھر دیکھیے، موجبہ کلیہ، اس کی نقیض کیا آئے گی؟ سالبہ جزئیہ۔ لہٰذا بعض کا لفظ لے آؤ اور نفی کا لفظ لے آؤ، پہلا کیا تھا؟ ہر انسان جاندار ہے، اس کی نقیض بناؤ، بعض انسان جاندار نہیں ہیں، شاباش! تو یہ دیکھیے کتاب پر، جیسے ہر انسان جاندار ہے، موجبہ کلیہ ہے، اس کی نقیض یہ ہوگی بعض انسان جاندار نہیں ہیں، اور سالبہ کلیہ کی نقیض موجبہ جزئیہ ہوگی، جیسے کوئی انسان پتھر نہیں ہے۔ دیکھیے بھئی، غور کیجیے، کوئی انسان پتھر نہیں ہے، موجبہ ہے یا سالبہ؟ سالبہ ہے۔ کلیہ ہے یا جزئیہ ہے؟ جی؟ کلیہ ہے، تو یہ کیا ہوا؟ سالبہ کلیہ۔ ادھر دیکھیے، سالبہ کلیہ، اس کی نقیض کیا آئے گی؟ موجبہ جزئیہ۔ بنائیے، بعض انسان پتھر ہیں، دیکھا؟ شاباش! تو جیس... اب دیکھیے کتاب پر، جیسے کوئی انسان پتھر نہیں ہے، یہ سالبہ کلیہ ہے، جس کی نقیض بعض انسان پتھر ہیں ہوگی۔ بحث سمجھ میں آ گئی اچھی طرح؟ اب آئیے سوالات بھئی، دیکھیے سوالات: ان قضایا کی نقیض بتاؤ، اور جو دو قضیے یکجا لکھے جاتے ہیں یعنی اکٹھے لکھے جاتے ہیں ان میں تمہارے نزدیک تناقض ہے یا نہیں؟ اگر نہیں تو کون سی شرط نہیں؟ یہ ایک ایک قضیہ دیں گے، ادھر دیکھیے، ایک ایک قضیہ، آپ نے اس کی نقیض بتانی ہوگی۔ اور اگر دو قضیے اکٹھے دے دیں تو پھر آپ نے بتانا ہوگا کہ تناقض ہے یا تناقض نہیں، اگر نہیں ہے تو اس کی کیا وجہ ہے؟ پہلی مثال: ہر گھوڑا جاندار ہے، ہر گھوڑا جاندار ہے، یہ مجھے بتائیے کلیہ ہے جزئیہ ہے؟ کلیہ۔ موجبہ ہے یا سالبہ ہے؟ موجبہ۔ تو یہ ہوا موجبہ کلیہ، اس کی نقیض کیا آئے گی؟ پہلے پہلے بتا دو، موجبہ کلیہ ہے یہ، اس کی نقیض کیا آئے گی؟ سالبہ جزئیہ۔ ترتیب بھی یہی رکھو، صرف نفی کا لفظ لے آؤ اور جزئیہ بنا دو، بعض کا لفظ لے آؤ۔ یہ کیا، ہر گھوڑا جاندار ہے، اب کیا کہیں گے؟ بعض گھوڑے جاندار نہیں ہیں، بعض گھوڑے جاندار نہیں ہیں۔ اگلی دوسرے سوال پہ آئیے: بعض جانداروں میں سے بکری ہے۔ کلیہ ہے یا جزئیہ؟ جزئیہ ہے۔ موجبہ ہے یا سالبہ؟ موجبہ ہے۔ تو یہ موجبہ جزئیہ ہوا، اس کی نقیض کیا آئے گی؟ سالبہ کلیہ۔ بس اس کو کلی بنا دو، ترتیب ساری یہی رکھو، کلی بنا دو اور نفی بیچ میں لے آؤ۔ ہر جاندار میں سے بکری نہیں ہے، اور نفی میں ہر کے بجائے کیا لاتے ہیں؟ کوئی، کوئی۔ کوئی جاندار بکری نہیں ہے، دیکھا؟ کوئی جاندار بکری نہیں ہے۔ اگلے اگلے سوال، سوال نمبر تین بھئی: کوئی انسان درخت نہیں ہے، جی، کلیہ ہے جزئیہ ہے؟ کلیہ ہے، کوئی کا لفظ آیا۔ اچھا سالبہ ہے یا موجبہ ہے؟ سالبہ ہے، نہیں ہے۔ تو یہ کیا ہوا؟ توجہ نہیں ہے سب کی میرا خیال ہے۔ موجبہ ہے... پہلے یہ بتائیے، کلیہ ہے جزئیہ ہے؟ کلیہ ہے۔ اچھا سالبہ ہے یا موجبہ ہے؟ سالبہ، تو یہ سالبہ کلیہ ہوا۔ سالبہ کلیہ کی نقیض کیا آئے گی؟ موجبہ جزئیہ بناؤ، بعض کا لفظ لے آؤ اور نفی کو ختم کر دو، بعض انسان درخت ہیں۔ اگلی مثال دیکھیے: عمرو مسجد میں ہے، عمرو گھر میں نہیں ہے، دو قضیے اکٹھے ذکر کر دیے۔ اب مجھے بتائیے ان میں تناقض ہے یا تناقض نہیں؟ جی؟ عمرو مسجد میں ہے، عمرو گھر میں نہیں ہے۔ تناقض نہیں ہے، کیوں نہیں ہے؟ ہاں مکان ایک نہیں ہے، ایک میں مسجد کی بات ہے تو دوسرے میں گھر کی بات ہو رہی ہے، دونوں سچی ہو سکتی ہیں، حالانکہ تناقض میں تو کیا ضروری؟ ایک سچا ہو تو ایک جھوٹا۔ عمرو مسجد میں ہو اور گھر میں نہ ہو یہ ممکن ہے یا نہیں؟ وہ مسجد میں بیٹھا ہوا ہے، تو مسجد میں ہے اور گھر میں نہیں ہے، دیکھا دونوں سچے ہو گئے۔ لہٰذا ان میں تناقض نہیں کیونکہ مکان ایک نہیں ہے، تو وحدتِ مکان یہاں نہیں۔ پانچویں مثال: بکر زید کا بیٹا ہے، بکر عمرو کا بیٹا نہیں ہے، تناقض ہے کہ نہیں؟ نہیں ہے، کیوں؟ وجہ؟ جی، بکر زید کا بیٹا ہے، بکر عمرو کا بیٹا نہیں ہے۔ جی؟ موضوع تو ایک میں بھی بکر ہے، دوسرے میں بھی بکر ہے۔ محمول بھی ایک میں بیٹا ہے، ایک میں بیٹا نہیں ہے۔ شرط کدھر؟ شرط اگر کا لفظ کہیں آیا؟ اضافت میں وحدت نہیں ہے، ایک میں کہا جا رہا ہے زید کا بیٹا اور دوسرے میں کہا جا رہا ہے عمرو کا بیٹا، تو اضافت ایک نہیں ہے، تو ان میں اس لیے تناقض نہیں۔ چھٹی مثال: فرنگی گورا ہے، فرنگی گورا نہیں ہے، فرنگی انگریز کو کہتے ہیں۔ فرنگی گورا ہے، فرنگی گورا نہیں ہے، تناقض ہے کہ نہیں؟ جی؟ تناقض ہے بھئی، دونوں میں سے ایک بات ہو سکتی ہے دونوں نہیں، یا تو گورا ہوگا یا گورا نہیں ہوگا، ایک سچی ایک جھوٹی۔ فرنگی گورا ہے، فرنگی گورا نہیں ہے ان میں تناقض ہے۔ کیونکہ ایک میں انگریز کے گورا ہونے کا ذکر ہے تو دوسرے میں اسے گورا ہونے کی نفی، تو ان دو قضیوں کے اندر تناقض ہوگا اگر وہ آٹھ وحدتیں یہاں تسلیم کی جائیں، اور ظاہر سی بات ہے کہ آٹھ وحدتیں ہوں گی بھئی کیونکہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو یہ بتلائے کہ وحدت نہیں ہے، تو بظاہر یہی ہے کہ ان آٹھوں چیزوں میں یہاں پر کیا ہوگی؟ وحدت ہوگی۔ تو یہ اسی کی طرح مثال ہوئی جیسے سبق کے اندر مثال گزری تھی کہ حبشی کالا ہے اور حبشی کالا نہیں ہے۔ تو یہ بھی اسی کی طرح ہے، فرنگی گورا ہے یعنی انگریز گورا ہے، انگریز گورا نہیں ہے۔ اگر دونوں میں کل مراد ہو کہ انگریز پورا کا پورا گورا ہے یا انگریز پورا کا پورا گورا نہیں ہے تو پھر تناقض ہے کیونکہ دونوں میں کل مراد ہے، اور پھر یہ دوسرا قضیہ صحیح ہو جائے گا کہ گورا نہیں ہے کیونکہ اس کے بال تو کالے ہیں بھئی، اور پہلا جھوٹا ہو جائے گا، اور تناقض میں بھی کیا ایک سچا ہوتا ہے اور ایک جھوٹا ہوتا ہے۔ اور اگر اسے جز مراد لے لیں یعنی اس کی جلد مراد لے لیں یعنی اس فرنگی کی جلد گوری ہے اور اس کے وہ پورا اور اس کی جلد گوری نہیں ہے، تو پھر اس صورت میں پہلا قضیہ سچا ہو جائے گا اور دوسرا جھوٹا ہو جائے گا، پھر بھی تناقض موجود ہے۔ حاصلِ کلام یہ کہ ان قضیوں کے اندر تناقض ہے اگر کل اور جز میں اتفاق ہو، پہلے سے بھی کل مراد لیں دوسرے سے بھی کل مراد لیں تو پھر تناقض ہے۔ اسی طرح اگر پہلے سے بھی جز مراد لیں اور دوسرے سے بھی جز مراد لیں یعنی جز اور کل میں وحدت رکھیں، دونوں میں کل مراد لے لیں یا دونوں میں جز مراد لے لیں تو پھر تناقض ہے، اور اگر ایک میں کل مراد لیں اور ایک میں جز مراد لیں پھر تناقض نہیں رہے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اگلی مثال دیکھیے، ہر انسان جسم ہے، یہ کیا ہے؟ کلیہ ہے جزئیہ ہے؟ کلیہ۔ موجبہ ہے یا سالبہ ہے؟ موجبہ، تو یہ موجبہ کلیہ ہوا، اس کی نقیض کیا آئے گی؟ سالبہ جزئیہ، تو نفی بھی لے آؤ اور جزئیہ بنا دو، بعض... ترتیب وہی رکھو، بعض انسان جسم نہیں ہیں، یہ اس کی نقیض آ گئی۔ اگلی مثال دیکھیے: بعض سفید جاندار ہیں، کلیہ ہے جزئیہ ہے؟ جزئیہ ہے۔ موجبہ ہے سالبہ ہے؟ موجبہ ہے، تو یہ کیا ہوا؟ موجبہ جزئیہ، اس کی نقیض کیا آئے گی؟ سالبہ کلیہ، تو اس کو کلی بنا دو اور نفی لے آؤ، اور سالبہ کلیہ کے اندر کلی کے لیے کیا لفظ لاتے ہیں؟ کوئی، تو لے آؤ، کوئی سفید جاندار نہیں ہے، دیکھا؟ جی۔ اگلی مثال دیکھیے: بعض جاندار گدھے نہیں ہیں، جی، کلیہ ہے جزئیہ ہے؟ جزئیہ ہے، اور سالبہ ہے یا موجبہ ہے؟ تو یہ سالبہ جزئیہ ہوا، اب اس کو بنا دو موجبہ... نقیض کیا آئے گی؟ موجبہ کلیہ، نفی کو ختم کر دو اور کلی بنا دو جزئی کے بجائے، ہر جاندار گدھا ہے، ہر جاندار گدھا ہے۔ اگلی مثال دیکھیے: بعض انسان لکھنے والے ہیں، کلیہ ہے جزئیہ ہے؟ جزئیہ ہے، اور موجبہ ہے سالبہ ہے؟ موجبہ ہے، تو یہ موجبہ جزئیہ ہوا، موجبہ جزئیہ کی نقیض کیا آتی ہے؟ سالبہ کلیہ، تو نفی بھی لے آؤ اور کلی بنا دو اس کو، ترتیب وہی رکھیں، ہاں کوئی انسان لکھنے والا نہیں ہے۔ اگلی مثال دیکھیے: بعض بکریاں کالی نہیں، موجبہ ہے سالبہ ہے؟ سالبہ، کلیہ ہے یا جزئیہ ہے؟ جزئیہ، تو یہ سالبہ جزئیہ ہوا، سالبہ جزئیہ کی نقیض کیا آتی ہے؟ موجبہ کلیہ، تو لہٰذا موجبہ بنا دو نفی ختم کر دو اور کلی بنا دو، ہر بکری کالی ہے، شاباش! اگلی مثال دیکھیے: زید رات کو سوتا ہے، زید دن کو نہیں سوتا، دو قضیے ہیں، ان میں تناقض ہے؟ تناقض نہیں ہے، کیوں نہیں تناقض؟ ہاں کیونکہ دونوں میں وقت یعنی زمانہ ایک نہیں، سونے کا ذکر ہے تو رات کو اور سونے کی نفی ہے تو دن کو، حالانکہ زمانہ ایک ہونا چاہیے تھا، تو دونوں میں تناقض نہیں ہے کیونکہ زمانہ ایک نہیں ہے۔ اگلا سبق دیکھیے بھئی، سبقِ پنجم: عکسِ مستوی کی بحث۔ عکسِ مستوی کسے کہتے ہیں پہلے سمجھ لیجیے بھئی، ادھر دیکھیے۔ عکس کا معنی ہے الٹنا، الٹنا۔ عکس کا کیا معنی ہے؟ الٹنا۔ عکس یہ ہے کہ قضیے کے پہلے جز کو الٹا کر دوسرا جز بنا دیتے ہیں اور دوسرے جز کو اٹھا کر پہلا بنا دیتے ہیں یعنی یوں کہو موضوع کو محمول بنا دیتے ہیں اور محمول کو موضوع، اس کو کہتے ہیں عکس۔ اور مستوی، مستوی، مستوی کا معنی ہے سیدھا، سیدھا۔ تو اس کو کہتے ہیں عکسِ مستوی، کیا کہتے ہیں؟ عکسِ مستوی، یعنی یہ بڑا سیدھا سادا اور آسان سا ہوتا ہے، فوراً سمجھ میں آ جاتا ہے کہ کیا کرو، موضوع کو کیا بنا دو؟ محمول، اور محمول کو کیا بنا دو؟ موضوع بنا دو۔ جبکہ ایک عکسِ نقیض بھی آتا ہے لیکن وہ ذرا مشکل ہے وہ آپ اگلی کتابوں میں پڑھیں گے، اس کا یہ جو ہم پڑھ رہے ہیں اس کا کیا نام ہے؟ عکسِ مستوی نام ہے۔ اس میں یاد رکھیے کیا یہ جاتا ہے کہ موضوع کو اٹھا کر محمول بنا دیتے ہیں اور محمول کو اٹھا کر موضوع بنا دیتے ہیں، البتہ یہ ضروری ہے کہ یہ جو آپ الٹ پلٹ کریں ایک حصے کو دوسرے کی جگہ لے جائیں اور دوسرے کو پہلے کی جگہ لے جائیں تو آپ نے یہ خیال رکھنا ہے کہ اگر پہلا موجبہ تھا تو دوسرا بھی کیا ہونا چاہیے؟ موجبہ، اگر پہلا سالبہ تھا تو دوسرے کو بھی کیا ہونا چاہیے؟ سالبہ، اگر پہلا سچا تھا تو دوسرے کو بھی کیا ہونا چاہیے؟ سچا ہونا چاہیے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ الٹ الٹ کرنا ہے لیکن ساری چیزیں اسی طرح ہونی چاہییں، پہلے سچا تھا اب بھی کیا ہو؟ سچا، پہلے اگر موجبہ تھا اب بھی کیا ہو؟ موجبہ، پہلے اگر سالبہ تھا اب بھی کیا ہو؟ سالبہ ہی ہو۔ بہت آسان ہے، دیکھیے ہماری عقل بھی یہی کہتی ہے، مثلاً میں کہتا ہوں پاکستان ہمارا وطن ہے، جب پاکستان ہمارا وطن ہے یہ کہنا ٹھیک ہے تو یہ کہنا بھی ٹھیک ہونا چاہیے ہمارا وطن پاکستان ہے۔ دیکھو پاکستان پہلا حصہ تھا اور ہمارا وطن دوسرا یعنی پاکستان موضوع تھا اور ہمارا وطن محمول، اب میں نے محمول کو موضوع کی جگہ لے گیا، ہمارا وطن اس کو موضوع بنا دیا اور پاکستان کو کیا بنا دیا؟ محمول۔ تو ہماری عقل کہتی ہے ہم یوں کہیں پاکستان ہمارا وطن ہے تو یہ بھی ٹھیک ہونا چاہیے کہ ہمارا وطن پاکستان ہے۔ اسی طرح اگر میں یہ کہوں بکری میں میں کرتی ہے، یہ ٹھیک ہے یا نہیں؟ تو یہ بھی ٹھیک ہونا چاہیے، میں میں کرنے والی بکری ہوتی ہے، ٹھیک ہے یا نہیں؟ تو یہ بھی سچا ہے۔ اسی طرح مثلاً میں کہتا ہوں انسان ضاحک ہوتا ہے، اگر یہ کلام صحیح ہے تو ضاحک انسان ہوتا ہے یہ کلام بھی کیا ہونا چاہیے؟ صحیح ہونا چاہیے۔ اسی طرح اگر میں کہتا ہوں کوئی پتھر انسان نہیں ہے، کوئی پتھر... تو یہ بھی ٹھیک ہونا چاہیے، کوئی انسان پتھر نہیں ہے، صورت سمجھ میں آ گئی؟ پتھر کو انسان کی جگہ لے گیا اور انسان کو پتھر کی جگہ لے گیا، یہ ہے عکسِ مستوی۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ دیکھیے اب کتاب پر: عکسِ مستوی کی بحث۔ عکس کا کیا معنی؟ الٹنا، اور مستوی کا معنی؟ سیدھا، سیدھا۔ چونکہ یہ بڑا سیدھا اور واضح اور آسان ہے اس لیے اس کو کیا کہتے ہیں؟ عکسِ مستوی، اور ایک کیا ہوتا ہے؟ عکسِ نقیض، وہ ذرا مشکل ہے وہ اتنا واضح نہیں تو وہ اگلی کتابوں میں آپ پڑھیں گے، یہ آسان ہے اس لیے اس کو عکسِ مستوی کہتے ہیں بھئی، سیدھا یعنی واضح ہے بھئی۔ کتاب پر دیکھیے بھئی: عکسِ مستوی کسی قضیے کا یہ ہے کہ اس قضیے کے اول جز کو دوسرا جز کر دیا جائے اور دوسرے جز کو پہلا جز بنا دیا جائے یعنی بالکل الٹ دیا جائے، اور یہ الٹ پلٹ ایسے طور پر کریں کہ اگر پہلا قضیہ سچا ہے تو دوسرا جو اس کا الٹا ہے وہ بھی سچا ہی رہے، اور پہلا اگر موجبہ ہے تو دوسرا بھی موجبہ ہی ہو اور پہلا اگر سالبہ ہو تو دوسرا بھی سالبہ ہی ہو، اور اس دوسرے الٹے ہوئے قضیے کو پہلے کا عکسِ مستوی کہتے ہیں۔ پہلے کا... پاکستان ہمارا وطن ہے اس کا عکسِ مستوی کیا ہوگا؟ پھر سنو، پھر سنو، پاکستان ہمارا وطن ہے اس کا عکسِ مستوی کیا ہوگا؟ ہمارا وطن پاکستان ہے۔ بکری میں میں کرتی ہے اس کا عکسِ مستوی کیا ہوگا؟ میں میں کرنے والی بکری ہوتی ہے۔ اچھا انسان ضاحک ہے اس کا عکسِ مستوی کیا ہوگا؟ ضاحک انسان ہے، شاباش! تو اس اب دیکھیے کتاب پر: تو اس دوسرے الٹے ہوئے قضیے کو پہلے کا عکسِ مستوی کہتے ہیں، جیسے ہر انسان جاندار ہے اس کا عکس یہ نکلے گا کہ بعض جاندار... ہاں دیکھو ادھر دیکھیے ادھر دیکھیے، ہر انسان جاندار ہے، ہر انسان جاندار ہے، اس کا ذرا عکس بنانے کی کوشش کرو، جاندار کو انسان کی جگہ لے آؤ اور انسان کو... اب بولو، ہر جاندار... پہلے کیا تھا؟ ہر انسان جاندار ہے، یہ سچا ہے جھوٹا ہے؟ ہر انسان جاندار ہے، یہ سچا ہے جھوٹا ہے؟ سچا ہے، ہر انسان جاندار ہے۔ اس کا ذرا عکس بنانے کی کوشش کرو، انسان کی جگہ جاندار لے آؤ اور جاندار کی جگہ انسان۔ ہر جاندار انسان ہے، تو کیا ہر جاندار انسان ہے؟ یہ تو جھوٹا ہو گیا، ہم نے تو کیا کہا تھا؟ اگر پہلا سچا ہو تو دوسرے کو بھی کیا ہونا چاہیے؟ سچا۔ تو اب کیا کرو؟ اس کلیہ کو بدل دو جزئیہ سے، بعض جاندار انسان ہیں، بعض جاندار... اب بات ٹھیک ہو گئی یا نہیں؟ تو دیکھا، معلوم ہوا عکسِ مستوی میں عکسِ مستوی میں کلیہ کا عکس جزئیہ آتا ہے، کیا آتا ہے؟ جزئیہ آتا ہے، صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ اچھا دیکھیے ذرا کتاب پر میں ابھی تفصیل بیان کرتا ہوں: جیسے ہر انسان جاندار ہے، یہ کیا ہے؟ کلیہ۔ اس کا عکس یہ نکلے گا کہ بعض جاندار انسان ہیں، دیکھو جزئیہ آ گیا۔ یہ نہ نکلے گا کہ ہر جاندار انسان ہے کیونکہ یہ غلط ہو جائے گا، اس واسطے موجبہ کلیہ کا عکس موجبہ جزئیہ آتا ہے اور سالبہ کلیہ کا عکس سالبہ کلیہ آئے گا بھئی، جیسے کوئی انسان پتھر نہیں، اس کا عکس کوئی پتھر انسان نہیں آئے گا بھئی۔ بھئی یاد رکھو، محصورات کتنے ہیں؟ چار ہیں، کتنے ہیں؟ چار ہیں، دیکھیے مثلاً ایک کیا ہے؟ موجبہ کلیہ، ایک موجبہ جزئیہ، اور ایک سالبہ کلیہ اور ایک سالبہ جزئیہ۔ ان میں سے ہر ایک کا عکس کیا آئے گا؟ توجہ سے سمجھ لو بھئی، توجہ سے۔ یاد رکھیے موجبہ کلیہ کا عکس موجبہ جزئیہ آتا ہے، توجہ ہے؟ موجبہ کلیہ کا عکس موجبہ جزئیہ، ابھی آیا، ہر انسان جاندار ہے یہ کیا تھا؟ موجبہ کلیہ، کیا تھا؟ توجہ ہے؟ ہر انسان جاندار ہے یہ کلیہ ہے جزئیہ ہے؟ اور موجبہ ہے سالبہ ہے؟ تو یہ موجبہ کلیہ ہے، ابھی پڑھا آپ نے اس کا عکسِ مستوی کیا آتا ہے؟ بعض جاندار انسان ہیں، دیکھو موجبہ جزئیہ آیا، تو معلوم ہوا موجبہ کلیہ کا عکس کیا آتا ہے؟ موجبہ جزئیہ آتا ہے۔ کیونکہ اگر موجبہ کلیہ کا عکس موجبہ کلیہ ہی لاؤ، کیا لاؤ؟ توجہ ہے؟ موجبہ کلیہ کا عکس کیا لاؤ؟ موجبہ کلیہ لاؤ تو کبھی وہ عکس صحیح بنے گا کبھی عکس صحیح نہیں بنے گا، اور مناطقہ کے قوانین تو کیا ہوتے ہیں؟ عام ہوتے ہیں، وہ تو وہ ایسا ہونا چاہیے کہ ہر صورت اس کے اندر آ جائے، یہ نہیں کہ کبھی عکس اس قانون کے تحت بناؤ تو بنے اور کبھی بناؤ تو نہ بنے، تو لہٰذا مناطقہ نے دیکھا کہ موجبہ کلیہ کا عکس موجبہ جزئیہ بناؤ تو یہ ہر جگہ چل جاتا ہے، کوئی بھی کلام لے آؤ، کوئی بھی جملہ لے آؤ اگر وہ کیا ہو؟ موجبہ کلیہ، تو اس کا عکس کیا بناؤ؟ موجبہ جزئیہ، وہ ہمیشہ اگر پہلا سچا ہے تو دوسرا بھی کیا رہے گا؟ سچا۔ لیکن اگر کلیہ کا عکس کلیہ ہی بنا دو تو کبھی عکس سچا ہوگا اور کبھی سچا نہیں ہوگا، اس لیے انہوں نے قانون بنا دیا، کیا؟ کہ موجبہ کلیہ کا عکس کیا آئے گا؟ موجبہ جزئیہ آئے گا۔ ہر انسان جاندار ہے، اس کا عکس کیا آئے گا؟ بعض جاندار انسان ہیں بھئی۔ اور موجبہ جزئیہ کا عکس موجبہ جزئیہ ہی آتا ہے، کس کا؟ موجبہ جزئیہ، اب بناؤ کوئی ایسا جملہ جو جزئیہ ہو اور موجبہ ہو۔ بعض جاندار انسان ہیں، توجہ ہے؟ بعض جاندار کلیہ ہے جزئیہ ہے؟ جزئیہ ہے۔ موجبہ ہے سالبہ ہے؟ موجبہ، تو دیکھو یہ موجبہ جزئیہ آ گیا۔ بعض انسان جاندار ہیں، اس کا عکس کرو۔ پہلے میں نے کیا کہا؟ پہلے میں نے کیا کہا؟ بعض جاندار انسان ہیں، انسان محمول ہے اب انسان کو موضوع بنا دو، بعض انسان جاندار ہیں، دیکھو موجبہ جزئیہ کا عکس کیا آیا؟ کیا بنایا آپ نے؟ بعض انسان جاندار ہیں، میرا کلام صحیح ہے یا غلط ہے؟ بعض انسان جاندار ہیں، جی؟ بعض انسان جاندار ہیں، میرا کلام صحیح ہے یا غلط ہے؟ صحیح ہے، آپ کہیں گے بھئی انسان تو سارے جاندار ہیں، بھئی میں نے باقیوں کی نفی کب کی ہے، میں نے تو صرف بعض کی بات کی ہے کہ بعض انسان کیا ہیں؟ اور باقی بعض وہ جاندار ہیں یا نہیں میں نے تو کوئی ان کے بارے میں ذکر ہی نہیں کیا، تو لہٰذا میرا یہ کلام بھی سچا۔ پہلا کلام پہلا کیا تھا؟ بعض جاندار انسان ہیں وہ بھی سچا، اور بعض انسان جاندار ہیں یہ بھی کیا ہوا؟ سچا ہوا، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو لہٰذا موجبہ جزئیہ کا عکس کیا آئے گا؟ موجبہ جزئیہ آئے گا۔ سالبہ کلیہ کا عکس سالبہ کلیہ ہی آئے گا، آسان ہے بھئی پریشان نہیں ہونا ابھی میں خلاصہ بیان کروں گا آپ کہیں گے بالکل آسان ہے۔ سالبہ کلیہ کا عکس کیا آئے گا؟ سالبہ کلیہ ہی۔ کوئی انسان پتھر نہیں، سالبہ کلیہ ہے نا؟ کوئی انسان پتھر نہیں، اس کا عکس بناؤ، کوئی پتھر انسان نہیں، وہ بھی سالبہ کلیہ تھا یہ بھی سالبہ وہ بھی سچا تھا یہ بھی سچا، دیکھا؟ تو سالبہ کلیہ کا عکس کیا آئے گا؟ سالبہ کلیہ۔ ہاں سالبہ جزئیہ جو ہے سالبہ جزئیہ، اس کا عکس نہیں آتا۔ سالبہ جزئیہ کا عکس نہیں آتا، آتا تو ہے کبھی ٹھیک ہوتا ہے کبھی ٹھیک نہیں ہوتا، اور مناطقہ کے قوانین تو کیا ہوتے ہیں؟ عام ہوتے ہیں، کلی ہوتے ہیں، اس میں ایسا نہیں کہ کبھی بنے چیز اس کے مطابق پوری اس کے مطابق بن جائے اور کبھی نہ بنے، تو جب وہ ہر دفعہ صحیح بنتا ہی نہیں ہے تو مناطقہ نے گویا قانون بنا دیا کہ اس کا عکس آتا ہی نہیں یعنی ضروری نہیں ہے، ہو سکتا ہے آ جائے ہو سکتا ہے نہ آئے۔ اب پھر دہراؤ، موجبہ کلیہ اس کا عکس کیا آتا تھا؟ موجبہ جزئیہ، صرف اس میں اختلاف آ رہا ہے، موجبہ کلیہ کا عکس موجبہ جزئیہ، اور موجبہ جزئیہ کا عکس موجبہ جزئیہ ہی، اور سالبہ کلیہ کا عکس سالبہ کلیہ ہی، اور سالبہ جزئیہ کا عکس... یرحمک اللہ... اور سالبہ جزئیہ کا عکس وہ وہ ہمیشہ آتا ہی نہیں، کبھی ہو سکتا ہے آ جائے، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اچھا جی، اب دیکھیے کتاب پر۔ تو کہتے ہیں ہر پھر مثال سے دیکھو، جیسے ہر انسان جاندار ہے اس کا عکس یہ نکلے گا کہ بعض جاندار انسان ہیں، یہ نہ نکلے گا کہ ہر جاندار انسان ہے کیونکہ یہ غلط ہو جائے گا، اس واسطے موجبہ کلیہ کا عکس موجبہ جزئیہ آتا ہے اور سالبہ کلیہ کا عکس سالبہ کلیہ ہی آئے گا، جیسے کوئی انسان پتھر نہیں، اس کا عکس کوئی پتھر انسان نہیں آئے گا، اور سالبہ جزئیہ کا عکس ہر جگہ لازمی طور سے نہیں آتا، ہر جگہ لازمی طور سے نہیں آتا۔ مثلاً دیکھو کتاب پر دیکھیے بھئی، دیکھو بعض جاندار انسان نہیں، توجہ ہے؟ کلیہ ہے جزئیہ ہے؟ جزئیہ ہے۔ بعض جاندار انسان نہیں، کلیہ ہے جزئیہ ہے؟ جزئیہ ہے۔ سالبہ ہے یا موجبہ ہے؟ سالبہ ہے، تو یہ سالبہ جزئیہ ہوا۔ اس کا عکس بناؤ، ترتیب بدل دو، بعض انسان جاندار نہیں، جاندار کی جگہ انسان لے آئے انسان کی جگہ جاندار، بعض انسان جاندار نہیں، اور یہ درست ہے؟ یہ تو جھوٹا ہو گیا، ہر انسان جاندار ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو دیکھیے کتاب پر کہ بعض جاندار انسان نہیں، سالبہ جزئیہ ہے، اس کا عکس بعض انسان جاندار نہیں اگر نکالیں تو صادق نہ ہوگا، بات سمجھ میں آ گئی؟ اب دیکھیے سوالات بھی دیکھ لیجیے بھئی، پھر بلکہ ایک دفعہ خلاصۂ کلام پھر سمجھ لو۔ عکسِ مستوی کسے کہتے ہیں؟ کہ جو قضیے کو الٹ دینا، موضوع کو محمول بنا دو اور محمول کو موضوع بنا دو، البتہ یہ خیال رہے کہ پہلا اگر موجبہ ہے تو دوسرا بھی موجبہ ہو، اگر پہلا سالبہ ہے تو دوسرا بھی سالبہ ہو، اور پہلا اگر سچا ہے تو دوسرا بھی سچا ہونا چاہیے اور اگر پہلا جھوٹا ہے تو دوسرے کو بھی جھوٹا ہونا چاہیے، جیسا پہلا ہے بس بعینہٖ دوسرے کو بھی ویسا ہی ہونا چاہیے، صرف موضوع کو اٹھا کر کیا بنانا ہے؟ محمول، اور محمول کو اٹھا کر موضوع۔ اور پھر اس میں آپ نے پڑھا تھا، موجبہ کلیہ اس کا اس کا عکس کیا آتا ہے؟ موجبہ جزئیہ۔ کس کا؟ موجبہ کلیہ کا عکس کیا آتا ہے؟ موجبہ جزئیہ، اور سالبہ کلیہ کا عکس سالبہ کلیہ ہی آتا ہے، اور موجبہ جزئیہ کا عکس موجبہ جزئیہ ہی آتا ہے، ہاں البتہ سالبہ جزئیہ کا عکس لازمی طور پر نہیں آتا، کبھی آتا ہے اور کبھی نہیں آتا، اور منطقی قوانین تو عام ہوتے ہیں لہٰذا مناطقہ سے اگر پوچھیں کہ بھئی سالبہ جزئیہ کا عکس آتا ہے یا نہیں آتا؟ وہ کہیں گے نہیں آتا، اس کا عکس... یعنی کیا معنی نہیں آتا؟ یعنی لازمی طور پر نہیں آتا، ہو سکتا ہے آ جائے ہو سکتا ہے نہ آئے، کوئی قانون نہیں ہے کہ اس یہ صورت اختیار کرو تو ہو جائے گا۔ اب دیکھیے سوالات بھئی: مندرجۂ ذیل قضایا کا عکس لکھیں، جی یہ دلچسپ سوالات ہیں بھئی، حل کریں کون حل کر سکتا ہے۔ نمبر ایک: ہر انسان جسم ہے، سچا ہے جھوٹا ہے؟ سچا ہے۔ اس کو الٹ دو، اور پہلا سچا تھا تو دوسرا بھی سچا ہونا چاہیے۔ ہر جسم انسان ہے، یہ سچا ہے؟ ہر جسم انسان ہے؟ پھر کیا کریں؟ اس کو سچا بناؤ، بعض جسم انسان ہے، دیکھا؟ یہ تھا موجبہ کلیہ، موجبہ کلیہ، اور اس کے عکس کیا آیا؟ موجبہ جزئیہ بنا دو، بعض جسم انسان ہیں۔ کوئی گدھا بے جان نہیں، پہلے تو یہ مجھے بتاؤ، کوئی گدھا بے جان نہیں، موجبہ ہے سالبہ؟ سالبہ ہے۔ اور کلیہ ہے یا جزئیہ؟ کلیہ، تو یہ سالبہ کلیہ، اور سالبہ کلیہ کا عکس سالبہ کلیہ ہی آتا ہے۔ جی، کوئی گدھا بے جان نہیں، عکس بناؤ، کوئی بے جان گدھا نہیں۔ اچھا کوئی گھوڑا عاقل نہیں ہے، کلیہ ہے جزئیہ ہے؟ کلیہ۔ سالبہ ہے موجبہ ہے؟ سالبہ، تو یہ سالبہ کلیہ ہوا۔ اور سالبہ کلیہ کا عکس کیا آتا ہے؟ سالبہ کلیہ ہی آتا ہے، بناؤ بھئی، کوئی عاقل گھوڑا نہیں ہے یعنی کوئی عقل والا گھوڑا نہیں ہے۔ ہر حریص ذلیل ہے، کلیہ ہے جزئیہ ہے؟ جی؟ کلیہ ہے۔ موجبہ ہے سالبہ ہے؟ موجبہ ہے، تو یہ کیا ہوا؟ موجبہ کلیہ، اور موجبہ کلیہ کا عکس کیا آتا ہے؟ موجبہ جزئیہ، تو جزئیہ بنا دو اس کو، بعض... ہاں جگہ بھی تو بدلو، بعض ذلیل حریص ہیں۔ اچھا پانچویں مثال: ہر قناعت کرنے والا عزیز ہے، کلیہ ہے جزئیہ ہے؟ کلیہ۔ موجبہ ہے سالبہ ہے؟ موجبہ ہے، تو موجبہ کلیہ ہوا، عکس کیا آئے گا؟ موجبہ جزئیہ، جی اور جگہ بھی بدل دو اور اور جزئیہ بھی بنا دو، ہاں بعض عزیز یعنی عزت عزت والے، بعض عزت والے قناعت کرنے والے ہیں، تو بعض عزیز قناعت کرنے والے ہیں۔ ہر نمازی سجدہ کرنے والا ہے، کلیہ ہے جزئیہ ہے؟ کلیہ۔ ایجاب ہے یا سلب ہے؟ ایجاب ہے، تو یہ ہوا موجبہ کلیہ، اس کی اس کے عکس کیا آئے گا؟ پہلے یہ تو بتا دو، موجبہ کلیہ کا عکس کیا آئے گا؟ موجبہ جزئیہ، تو اس کو جزئی بنا دو، بعض سجدہ کرنے والے نمازی ہیں، شاباش! ساتویں مثال: ہر مسلمان خدا کو ایک جاننے والا ہے، کلیہ ہے جزئیہ ہے؟ کلیہ۔ موجبہ ہے سالبہ؟ تو یہ موجبہ کلیہ ہوا، اور اس کا عکس کیا آتا ہے؟ موجبہ جزئیہ، تو اس کو جزئیہ بنا دو، جزئیہ بنا دو، بعض خدا کو ایک جاننے والے مسلمان ہیں، بعض خدا کو ایک جاننے والے مسلمان ہیں۔ نمبر آٹھ: بعض مسلمان نماز نہیں پڑھتے، سالبہ ہے موجبہ؟ سالبہ۔ کلیہ ہے جزئیہ؟ یہ سالبہ جزئیہ ہوا، کیا ہوا؟ اس کا عکس بناؤ، بعض نماز نہ پڑھنے والے مسلمان ہیں، تو یہ کیا ہے؟ سالبہ جزئیہ اور اس کا عکس آ گیا، اور اوپر انہوں نے بتایا تھا آپ کو ہمیشہ نہیں آتا کبھی آ جائے گا اور کبھی نہیں۔ اچھا اگلی مثال، نویں مثال: بعض مسلمان روزہ رکھتے ہیں، کلیہ ہے جزئیہ؟ جزئیہ ہے۔ موجبہ ہے سالبہ؟ موجبہ ہے، تو یہ موجبہ جزئیہ ہوا، اور موجبہ جزئیہ کا عکس کیا آتا ہے؟ موجبہ جزئیہ ہی آتا ہے، بنائیے بھئی، بعض روزہ رکھنے والے مسلمان ہیں۔ آخری سوال ہے دس نمبر: بعض مسلمان نمازی ہیں، کلیہ ہے جزئیہ؟ جزئیہ ہے۔ موجبہ ہے سالبہ؟ موجبہ، تو یہ موجبہ جزئیہ ہوا، اور موجبہ جزئیہ کا عکس کیا آتا ہے؟ موجبہ جزئیہ ہی آتا ہے، بنائیے، بعض نمازی مسلمان ہیں بھئی، چلیے شاباش بھئی شاباش! بات اچھی طرح سب کو سمجھ میں آ گئی؟ چلیے بس بھئی، ھٰذا ھو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔
44 approved lectures · 33 of 44