Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

تيسير المنطق · dars-039

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Muhammad Ghais
📍 Location Lahore, Pakistan
📅 Approved Date 07 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 37
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
دیکھیے بھئی آگے کتاب پر۔ سبقِ نہم: دلیلِ لمی اور دلیلِ انی جاننا چاہیے کہ نتیجہ کا علم ہم کو قیاس کے دو قضیوں کے ماننے سے جو ہوتا ہے یہ حدِ اوسط کی وجہ سے ہوتا ہے۔ دیکھو ہر انسان جاندار ہے، ہر جاندار جسم والا ہے۔ ان دونوں مقدموں سے ہم کو یہ علم ہوا کہ جسم ہر انسان کے لیے ثابت ہے۔ یہ حدِ اوسط یعنی جاندار کی وجہ سے ہوا ورنہ قیاس میں اس کے سوا کوئی اور شے ایسی نہیں جس کی وجہ سے ہم کو یہ علم ہو۔ پس معلوم ہوا کہ اکبر (محمولِ نتیجہ) کا جو اصغر (یعنی نتیجہ کے موضوع) کے لیے ثابت ہونا ہم کو معلوم ہوا، اس علم کی علت حدِ اوسط ہے۔ پھر جیسے حدِ اوسط ہمارے اس علم کی علت ہے، اگر حقیقت میں بھی اکبر کے اصغر کے لیے ثابت ہونے کی علت یہی ہو تو یہ دلیلِ لمی ہے۔ اچھا بھئی، آج ہم پڑھیں گے دلیلِ لمی اور دلیلِ انی کے بارے میں۔ قیاس میں کیا کرتے ہیں؟ صغریٰ اور کبریٰ کو ملاتے ہیں اور پھر اس میں سے حدِ اوسط کو ہٹا دیتے ہیں تو آپ کو نتیجہ مل جاتا ہے۔ مثلاً آپ نے کہا ہر انسان جاندار ہے اور کبریٰ کیا ہے؟ ہر جاندار جسم والا ہے، نتیجہ کیا نکلا؟ ہر انسان جسم والا ہے۔ تو دیکھو نتیجے میں آپ کو انسان کے جسم ہونے کا پتہ چلا۔ تو نتیجہ، توجہ ذرا رکھو، نتیجہ کیا ہے؟ ہر انسان جسم ہے۔ تو یہ نتیجے میں جو ہر انسان یعنی موضوع ہے اس کو کیا کہتے ہیں؟ اصغر۔ اور جو نتیجے کا محمول ہے جسم ہے اس کو کیا کہتے ہیں؟ اکبر کہتے ہیں۔ تو دیکھو آپ نے اصغر کے لیے اکبر کو ثابت کر دیا یعنی انسان کے لیے جسم ہونے کو ثابت۔ تو یہ جو انسان کے لیے آپ نے جسم ہونا ثابت کیا یعنی اصغر کے لیے جو آپ نے اکبر کو ثابت کیا، یہ حدِ اوسط کی وجہ سے ہے۔ کس کی وجہ سے؟ حدِ اوسط نے ان دونوں کو ملا دیا ورنہ قیاس کے اندر دیکھیں آپ غور کریں، اصغر صغریٰ میں ہے، اکبر کبریٰ میں ہے، دونوں الگ الگ ہیں، دونوں کا آپس میں کوئی جوڑ ہی نہیں کوئی ربط ہی نہیں، لیکن پھر ان کو جوڑا کس نے؟ حدِ اوسط نے، کیونکہ حدِ اوسط دونوں کے ساتھ جڑی۔ انسان کے ساتھ بھی جڑی کہ انسان کیا ہے؟ جاندار۔ اور یہی جاندار جسم کے ساتھ بھی جڑی کہ ہر جاندار کیا ہوتا ہے؟ جسم۔ تو یہ دونوں کے ساتھ جڑی اور پھر ان دونوں کو اس نے کیا کیا؟ آپس میں، خود درمیاں سے نکل کر دونوں کو آپس میں ملا دیا جوڑ دیا۔ دوسری مثال جو ہم نے پڑھی تھی کہ زید درجہ اولیٰ کا طالب علم ہے اور درجہ اولیٰ کا ہر طالب علم منطقی ہے، نتیجہ نکلا کہ زید بھی منطقی ہے بھئی۔ تو زید درجہ اولیٰ کا طالب علم ہے، یہاں پر بھی دیکھیں درمیان میں حدِ اوسط آ رہی ہے، آگے پھر حدِ اوسط وہی مکرر جو آ رہی ہے، درجہ اولیٰ کا ہر طالب علم بڑا منطقی ہے۔ تو یہ جو اصغر اور اکبر کو آپس میں جوڑتی ہے اور ربط دیتی ہے یہ ہے حدِ اوسط۔ حدِ اوسط کو حدِ اوسط کہتے ہی اس لیے ہیں کہ یہ دونوں کو جوڑتی ہے، ربط دیتی ہے، دونوں کے بیچ آتی ہے۔ اگر یہ دونوں کے بیچ نہ آتی تو یہ دونوں جڑتے ہی نہ۔ مثلاً زید درجہ اولیٰ کا طالب علم ہے، اس میں حدِ اوسط کیا بن رہی تھی؟ درجہ اولیٰ کا طالب علم۔ ذرا اس کو بدل دو، زید درجہ ثانیہ کا طالب علم ہے اور درجہ اولیٰ کا ہر طالب علم بڑا منطقی ہے، اب کوئی نتیجہ نکلے گا؟ نہیں، اب نتیجہ نہیں کیونکہ اب حدِ اوسط نہیں ہے۔ معلوم ہوا دونوں کو جوڑنے والی، دونوں کے بیچ آنے والی وہ کیا چیز تھی؟ حدِ اوسط تھی۔ تو یہ حدِ اوسط اس پر قیاس کی بنیاد ہے کہ یہ دو چیزوں کو جوڑتی ہے جو جڑی نہیں ہوتیں ان کو جوڑ کر ایک نتیجہ آپ کو دے دیتی ہے بھئی، نتیجہ۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی کہ یہ نتیجے کے موضوع یعنی اصغر، اس کے لیے جو آپ نے نتیجے کا محمول یعنی اکبر کو ثابت کیا وہ کس کی وجہ سے؟ حدِ اوسط کی وجہ سے۔ اب ایک اور بات سمجھ لیجیے، یاد رکھیے ایک ہے علت اور ایک ہے معلول۔ ایک ہے علت اور ایک ہے معلول۔ علت وہ چیز جو دوسری چیز کو وجود دے، مثلاً سورج نکلتا ہے تو دن ہوتا ہے، تو سورج کا نکلنا یہ وجود دیتا ہے، کس کو؟ دن کو۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یا جیسے آگ ہے یہ وجود دیتی ہے دھوئیں کو، آگ ہوگی تو دھواں ہوگا۔ آگ ہوگی تو حرارت ہوگی۔ تو جو چیز دوسری چیز کو وجود دے اس کو کہتے ہیں علت۔ تو سورج کا طلوع ہونا علت ہے دن کے لیے، آگ کا روشن ہونا علت ہے دھوئیں کے لیے۔ اور وہ چیز جس کو اس نے وجود دیا اس کو کہتے ہیں معلول۔ تو دھواں کیا ہوا؟ معلول۔ آگ ہوئی علت اور دھواں ہوا معلول۔ اسی طرح سورج کا نکلنا ہوا علت اور دن کا ہونا معلول ہوا۔ اسی طرح چابی گھومے گی تو تالا کھل جائے گا، تو چابی کا گھومنا ہوا علت اور تالے کا کھلنا ہوا معلول۔ تو دیکھو جو چیز دوسری چیز کو وجود دے، جو چیز دوسری چیز کے لیے سبب ہو، جو چیز دوسری چیز کے لیے وجہ ہو، اس کو کیا کہتے ہیں؟ علت۔ اور جس چیز کو وہ وجود دے اس کو کیا کہتے ہیں؟ معلول۔ معلول بھی کہہ لیں یا علامت بھی کہہ لیں۔ یہ کیا ہے؟ معلول بھی کہہ سکتے ہیں اور اس کو علامت۔ دھواں یہ معلول ہے کس کا؟ آگ کا۔ یا یوں کہو دھواں علامت ہے آگ کی، دھوئیں سے آپ کو کس کا پتہ چلے گا؟ آگ کا۔ یا یوں کہیں دن جو ہے وہ معلول ہے کس کا؟ سورج کے نکلنے کا۔ یا یوں کہیں دن علامت ہے کس چیز کی؟ سورج کے نکلنے کی۔ یا یوں کہیں کہ تالے کا کھلنا یہ معلول ہے کس کا؟ چابی کے گھومنے کا۔ یا یوں کہیں تالے کا کھلنا یہ علامت ہے کس کی؟ چابی کے گھومنے کی۔ تو علت اور معلول کا پتہ چل گیا؟ علت کسے کہتے ہیں؟ کہ اس کی وجہ سے دوسری چیز کا وجود ہو، اس کی وجہ سے دوسری چیز کا وجود ہو۔ اور جس چیز کا وجود ہو اس کو کیا کہتے ہیں؟ معلول بھی کہتے ہیں اور علامت بھی آپ اس کو کہہ لیں۔ تو جیسے یہ ساری کائنات یہ اللہ کے وجود پر علامت ہے۔ اللہ اس کے لیے علت اور یہ کیا ہے؟ معلول۔ اللہ نے ان سب چیزوں کو پیدا فرمایا، تو یہ اللہ کے وجود پر علامت ہیں بھئی، علامت ہیں۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ پہلی بات آپ نے کیا سمجھی کہ قیاس کے اندر اصل چیز حدِ اوسط ہے، سارا دارومدار کس پر ہوتا ہے؟ حدِ اوسط پر۔ کیونکہ وہی اصغر اور اکبر کو جوڑتی ہے۔ دوسری بات آپ نے علت اور معلول کے بارے میں جان لیا کہ علت کسے کہتے ہیں اور معلول کسے کہتے ہیں۔ اب یاد رکھیے، یاد رکھیے، آپ جب ایک چیز کو ثابت کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے دلیل بناتے ہیں۔ کیا کرتے ہیں؟ دلیل بناتے ہیں۔ مثلاً آپ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ دن موجود ہے، کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں؟ دن موجود ہے۔ تو آپ دوسرے کو دلیل دیتے ہیں کہ اس وقت سورج نکلا ہوا ہے اور جب سورج نکلا ہوتا ہے تو دن ہوتا ہے، معلوم ہوا اس وقت بھی دن ہے۔ پھر سنو، اس وقت سورج نکلا ہوا ہے اور جب سورج نکلا ہوتا ہے تو دن ہوتا ہے، معلوم ہوا اس وقت دن ہے کیونکہ سورج نکلا ہوا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ پھر سنو، دوبارہ اب ذرا قیاس پہ غور کرنا: اس وقت سورج نکلا ہوا ہے اور جس وقت سورج نکلا ہوتا ہے تو دن ہوتا ہے۔ حدِ اوسط کیا؟ سورج کا نکلنا۔ حدِ اوسط کیا؟ سورج کا نکلنا۔ پھر سنو یہ دو دفعہ آئے گا سورج کا نکلنا۔ اس وقت سورج نکلا ہوا ہے اور جب سورج نکلا ہوتا ہے تو دن ہوتا ہے، تو سورج کا نکلنا یہ کیا ہوا؟ حدِ اوسط۔ اور اس کے ذریعے آپ کو کس چیز کا پتہ چلا؟ دن کے ہونے کا۔ نتیجہ کیا نکلا کہ اس وقت دن موجود ہے۔ تو دیکھو آپ نے علت کے ذریعے دلیل بنائی کس پر؟ معلول پر۔ کس کو ثابت کیا؟ دن کو، اور دن علت ہے یا معلول تھا؟ معلول۔ تو آپ نے معلول کو ثابت کیا، کس کے ذریعے؟ علت، آپ نے کہا علت موجود ہے یعنی سورج نکلا ہوا ہے اور جب سورج نکلا ہوا ہے تو دن بھی... تو یہ جو علت کے ذریعے دلیل بنانا کس پر؟ معلول پر یعنی علت کو حدِ اوسط بنا دینا، کیا بنا دینا؟ حدِ اوسط۔ بھئی قیاس میں سارا دارومدار کس پر ہوتا ہے؟ حدِ اوسط۔ حدِ اوسط کی وجہ سے نتیجہ آتا ہے، تو اگر آپ نے حدِ اوسط علت کو بنایا اور کس کو ثابت کیا؟ معلول کو، تو اس کو کہتے ہیں دلیلِ لمی۔ کیا کہتے ہیں؟ دلیلِ لمی۔ اور اگر اس کا برعکس کریں، برعکس کریں، آپ ثابت یہ کرنا چاہتے ہیں کہ سورج نکلا ہوا ہے، پہلے کیا ثابت کرنا چاہتے تھے کہ دن موجود ہے، اب آپ ثابت کیا کرنا چاہتے ہیں کہ سورج نکلا ہوا ہے، تو اب ظاہر سی بات ہے علامت کے ذریعے آپ دلیل پکڑیں گے۔ پہلے علت کے ذریعے کس پہ دلیل پکڑی تھی؟ علت کو دلیل بنایا تھا اور کس کو ثابت کیا تھا؟ معلول کو۔ اب معلول کو دلیل بنائیں گے اور کس کو ثابت کر دیں گے؟ علت کو۔ مثلاً آپ ثابت اب کیا کرنا چاہتے ہیں؟ کہ سورج نکلا ہوا ہے، اور سورج نکلنا یہ کیا ہے؟ علت ہے، اب آپ اس کو ثابت کرنا چاہتے ہیں تو آپ یوں کہتے ہیں: اس وقت دن موجود ہے اور جب دن موجود ہوتا ہے تو سورج نکلا ہوتا ہے، تو دیکھو دن موجود ہے یہ دو دفعہ ذکر ہو رہا ہے اور یہ معلوم ہوا حدِ اوسط ہے۔ حدِ اوسط، پھر سن لو، اس وقت دن موجود ہے اور جب دن موجود ہوتا ہے تو سورج نکلا ہوتا ہے، نتیجہ کیا نکلا؟ سورج نکلا ہوا ہے۔ تو دیکھو حدِ اوسط آپ نے معلول کو بنایا یا یوں کہو حدِ اوسط آپ نے علامت کو بنایا، تو علامت کے ذریعے آپ نے دلیل بنائی اور کس کو ثابت کیا؟ علت کو۔ اس کو کہتے ہیں دلیلِ انی۔ کیا کہتے ہیں؟ دلیلِ انی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ ہاں آپ اپنے دلیلوں پر غور کر لیں، جب بھی آپ نے ایک بات ثابت کرنی ہو آپ کبھی کبھار علت کے ذریعے معلول کو ثابت کرتے ہیں اور کبھی کبھار معلول یا علامت کے ذریعے کس کو ثابت کرتے ہیں؟ علت کو ثابت کرتے ہیں۔ اگر آپ علت کو دلیل بنائیں اور کس کو ثابت کریں؟ معلول کو، اس کو کہتے ہیں دلیلِ لمی۔ اور اگر آپ معلول کو دلیل بنائیں، علامت کو دلیل بنائیں اور کس کو ثابت کریں؟ علت کو، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ دلیلِ انی کہتے ہیں۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ یا یوں کہو دوسرے لفظوں میں ادھر دیکھیے بھئی، آپ نے ثابت کیا کرنا ہے؟ دن موجود، اور دن موجود ہونے کی دلیل کیا دی آپ نے؟ سورج نکلا ہوا ہے، اور حقیقت میں بھی سورج کا نکلنا ہی علت ہے یا نہیں دن کے لیے؟ حقیقت میں بھی کیا ہے یہ؟ علت ہی ہے۔ ادھر دیکھو پھر دیکھو، آپ نے کیا ثابت کرنا ہے؟ دن کا ہونا، اور دن کے ہونے کو کس کے ذریعے آپ ثابت کرتے ہیں؟ سورج کے نکلنے سے۔ تو آپ کہتے ہیں دیکھو سورج نکلا ہوا ہے اور جب سورج نکلا ہوا ہے تو معلوم ہوا اس وقت کیا ہے؟ دن ہے۔ اور حقیقت میں بھی سورج کا نکلنا ہی علت ہوتا ہے کس کی؟ دن کی۔ تو اس میں حدِ اوسط کیا آیا؟ علت آیا، علت آیا۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ تو دلیلِ لمی میں کیا ہوتا ہے؟ علت کے ذریعے دلیل بنائی جاتی ہے اور کس کو ثابت کرتے ہیں؟ معلول کو۔ اور دلیلِ انی میں کس کو دلیل بناتے ہیں؟ معلول کو دلیل بناتے ہیں اور کس کو ثابت کرتے ہیں؟ علت کو ثابت کرتے ہیں۔ اور اس کی مثال لے لیں جیسے حاشیے میں دی گئی ہے: آپ نے آگ جلتی ہوئی دیکھی، کسی فیکٹری کے اندر آگ جلتی ہوئی دیکھی، آگ کا اوپر والا حصہ وہ نظر نہیں آ رہا تھا وہ آگے آڑ تھی۔ نیچے والا حصہ تو نظر آ رہا ہے، آدھی آگ آپ کو نظر آ رہی ہے، اوپر والا حصہ نظر نہیں... جب اوپر والا نہیں نظر آ رہا تو دھواں بھی آپ کو نظر نہیں آ رہا، آپ اندر کھڑے ہیں فیکٹری کے وہ دھواں اوپر کو نکل رہا ہے۔ تو اب آپ کہتے ہیں کہ آگ موجود ہے اور جب آگ موجود ہوتی ہے تو دھواں بھی موجود ہوتا ہے، تو معلوم ہوا اس وقت بھی دھواں موجود ہے۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو آپ نے کس سے کس پر استدلال کیا؟ علت سے معلول پر، تو یہ کون سی دلیل ہوئی؟ دلیلِ لمی ہوئی۔ اور اگر آپ اس کا برعکس کر لیں، آپ باہر دور کہیں کھڑے تھے آپ نے فیکٹری سے دھواں اٹھتے ہوئے دیکھا، آپ نے کہا کہ دھواں موجود ہے اور جب دھواں موجود ہوتا ہے تو آگ ضرور موجود ہوتی ہے، تو معلوم ہوا آگ بھی موجود ہے۔ تو آپ نے دھوئیں سے کس کو ثابت کیا؟ آگ کو، تو یہ کون سی دلیل ہوئی؟ دلیلِ انی ہوئی بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اچھا اب دیکھیے ذرا کتاب پر بھئی۔ دلیلِ لمی اور دلیلِ انی: جاننا چاہیے کہ نتیجہ کا علم ہم کو قیاس کے دو قضیوں کے ماننے سے جو ہوتا ہے یہ حدِ اوسط کی وجہ سے ہوتا ہے۔ دیکھو ہر انسان جاندار ہے اور ہر جاندار جسم والا ہے، ان دونوں مقدموں میں سے ہم کو یہ علم ہوا کہ جسم ہر انسان کے لیے ثابت ہے، یہ حدِ اوسط یعنی جاندار کی وجہ سے ہوا ورنہ قیاس میں اس کے سوا کوئی اور شے ایسی نہیں جس کی وجہ سے ہم کو یہ علم ہو۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ ہر انسان جسم والا ہے، یہ جسم والے کو، جسم والا ہونا یہ انسان کے لیے کس کی وجہ سے جڑا؟ حدِ اوسط کی وجہ سے۔ پس معلوم ہوا کہ اکبر یعنی محمولِ نتیجہ (اکبر نتیجے کے محمول کو کہتے ہیں، دیکھیے کتاب پر)، پس معلوم ہوا کہ اکبر یعنی محمولِ نتیجہ کا جو اصغر یعنی نتیجہ کے موضوع کے لیے ثابت ہونا ہم کو معلوم ہوا اس علم کی علت حدِ اوسط ہے۔ پھر جیسے حدِ اوسط ہمارے اس علم کی علت ہے... اچھا ادھر دیکھیے بھئی، دیکھیے، ایک ہے حقیقت میں علت، ایک ہے ہمارے علم کی علت۔ ایک کیا ہے؟ حقیقت میں دن سورج نکلنے کی علت ہے یا سورج کا نکلنا دن ہونے کی علت ہے؟ سورج کا نکلنا علت ہے اور دن کا ہونا معلول ہے، معلول ہے۔ لیکن آپ قیاس میں دیکھ لیں کبھی آپ کو دن کے ہونے کی وجہ سے سورج کا نکلنے کا پتہ چل رہا ہے اور کبھی سورج کے نکلنے کی وجہ سے دن کے ہونے کا پتہ چل رہا ہے۔ قیاس میں غور کر رہے ہیں؟ سورج کا نکلنا آپ کو پہلے سے پتہ تھا، اس وقت سورج نکل... دیکھو غور کرو ذرا قیاس پہ، اس وقت سورج نکلا ہوا ہے اور جب سورج نکلا ہوتا ہے تو دن موجود ہوتا ہے، معلوم ہوا اس وقت دن موجود ہے، تو آپ کو دن کے موجود ہونے کا پتہ چلا، کس کی وجہ سے؟ سورج کے نکلنے کی وجہ سے۔ تو آپ کو جو علم ہوا دن کے نکلنے کا، آپ کے اس علم کی علت کیا ہے؟ وجہ کیا ہے؟ سورج کا نکلنا۔ تو سورج کے نکلنے سے آپ کو دن کے ہونے کا علم ہوا، اور حقیقت اور واقعے کے اندر بھی سورج کا نکلنا علت ہے کس کے لیے؟ دن کے لیے۔ آپ کے علم کے میں آپ کو علم کس چیز کا ہوا؟ دن کے ہونے کا، کس کا علم ہوا؟ دن کے ہونے کا۔ اور اس دن کے ہونے کے جو علم ہوا اس علم کا وجہ کیا ہے؟ کس کی وجہ سے پتہ چلا؟ سورج کے نکلنے۔ تو آپ کے اس علم کی علت کیا ہے؟ سورج کا نکلنا۔ اور حقیقت اور واقعے میں بھی دن کے ہونے کی علت کیا ہے؟ سورج کا نکلنا۔ تو اگر آپ کے علم کی جو علت ہے واقع اور حقیقت میں بھی وہی علت ہو تو اس کو کہتے ہیں دلیلِ لمی۔ وہی بات جو میں نے آسان لفظوں میں کہی تھی اسی کو یہ ذرا علمی انداز میں آپ کو سمجھا رہے ہیں۔ میں نے کیا بتایا تھا؟ اگر دلیل بنائیں کس پر؟ معلول، اگر معلول کو ثابت کریں کس کے ذریعے؟ علت کے ذریعے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ دلیلِ لمی۔ اور اگر علت کو ثابت کریں کس کے ذریعے؟ معلول کے ذریعے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ دلیلِ انی کہتے ہیں۔ تو دلیلیں دونوں طرح بنائی جاتی ہیں، کبھی آپ کو ضرورت پڑے گی سورج کے نکلنے کو ثابت کرنا چاہتے ہیں دوسرا نہیں مان رہا، یہ ویسے مثال دے رہا ہوں علم میں مختلف قسم کے دلائل آتے ہیں لیکن ہوتا اسی طرح ہے، ایک کبھی علت کے ذریعے معلول کو ثابت کرتے ہیں کبھی معلول کے ذریعے علت کو ثابت کرتے ہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ سورج کا نکلنا ثابت ہو جائے گا تو کیا ثابت ہو جائے گا؟ دن کا ہونا، تو گویا سورج کا علم یہ علت ہوا کس چیز کی؟ دن کے علم، جو ہمیں علم ہو رہا ہے نا دن کا وہ کس کی وجہ سے ہو رہا ہے؟ اس کی علت کیا ہے؟ سورج کا نکلنا۔ تو ہمارا علم میں جو علت ہے حقیقت میں بھی وہی علت ہے، یہی ہے دلیلِ لمی۔ اور ایک چیز اگر ہمارے علم میں تو علت ہو لیکن ہوا واقعے کے اندر وہ علت نہ ہو وہ دلیلِ انی ہے۔ مثلاً دیکھو، میں ثابت کرنا چاہتا ہوں کہ سورج نکلا ہوا ہے، کیا نکلا ہوا ہے؟ سورج نکلا ہوا ہے۔ میں کہتا ہوں دن موجود ہے اور دن جب موجود ہو تو سورج بھی نکلا ہوتا ہے، نتیجہ کیا نکلا؟ سورج نکلا ہوا ہے۔ تو دیکھو آپ کو کس چیز کا علم ہوا؟ سورج کے نکلنے کا، کس سے؟ دن کے ہونے سے۔ تو دن کا ہونا یہ علت ہوا آپ کے علم کے لیے، کون سا علم؟ سورج... آپ کو کس چیز کا پہلے پتہ چلا؟ دن کے ہونے کا، اور پھر کس چیز کا علم ہوا؟ سورج کے نکلنے کا۔ تو دن کا ہونا آپ کے علم کی علت بنا، کس علم کی؟ علت کا معنی ہوتا ہے سبب اور وجہ، سبب اور وجہ۔ اچھا کس چیز کا پتہ چلا آپ کو؟ سورج کے نکلنے کا، اس کی وجہ کیا ہے؟ کیونکہ دن موجود ہے، دن موجود ہے۔ گویا آپ کا جو علم ہے کہ سورج نکلا ہوا ہے، اس علم کی وجہ کیا ہے؟ دن کا نکل، دن کے نکلنے سے آپ کو سورج کے نکل، دن کے ہونے سے آپ کو سورج کے نکلنے کا پتہ... میں علم کی بات کر رہا ہوں آپ واقعے پہ نہ دیکھیں کہ واقعے کے اندر کون علت، نہیں نہیں، آپ کو کس چیز کا پتہ چل رہا ہے؟ ابھی نتیجہ کیا آیا؟ سورج نکلا ہوا ہے، اور یہ یہ نتیجہ کس وجہ سے آیا؟ دن موجود ہونے۔ گویا دن کا موجود ہونا علت بن رہا ہے اور اس سے پتہ کس کا چل رہا ہے؟ سورج کے نکلنے کا، تو سورج کا نکلنا معلول بن رہا ہے، تو گویا آپ کے علم میں دن کا نکلنا علت ہے اور سورج کا نکلنا معلول ہے، لیکن حقیقت میں دیکھو تو برعکس ہے، سورج کا نکلنا علت ہوتا ہے کس کے لیے؟ دن کے لیے، تو اس کو کہتے ہیں دلیلِ انی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ پھر آؤ ذرا، ذرا برعکس کرو۔ سورج کے نکلنے کو آپ دلیل بناتے ہیں کس پر؟ دن کے ہونے پر۔ میں کہتا ہوں سورج نکلا ہوا ہے اور جب سورج نکلا ہوتا ہے تو دن موجود ہوتا ہے، نتیجہ؟ دن موجود ہے۔ آپ کو دن کے موجود ہونے کا علم ہوا، اس کی وجہ کیا؟ سورج کا نکلنا۔ تو سورج کے نکلنے کا علم یہ علت ہے کس کے علم کی؟ دن کے علم۔ اور واقعے اور تو یہ تو علم کے اندر علت ہے، واقع اور حقیقت کے اندر بھی سورج کا نکلنا علت ہے تو اس کو کیا کہیں گے؟ دلیلِ لمی۔ یوں کہو دلیلِ لمی میں جو علت بیان کی واقعے میں بھی وہی علت ہے۔ دلیلِ لمی میں جو علت بیان کی جاتی ہے وہ واقع اور حقیقت میں بھی وہی علت ہوتی ہے جبکہ دلیلِ انی میں علم کے اندر تو علت ہوتی ہے واقعے میں وہ علت نہیں ہوتی۔ جیسے پھر دیکھو، دن موجود ہے اور جب دن موجود ہوتا ہے تو سورج بھی نکلا ہوتا ہے، نتیجہ کیا نکلا؟ سورج نکلا ہوا ہے۔ دیکھو آپ کو سورج کے نکلنے کا پتہ چلا اور اس کی وجہ اور علت کیا ہے؟ دن کا موجود ہونا۔ گویا آپ دن کے موجود ہونے کو علت قرار دے رہے ہیں، کس کے لیے؟ سورج کے نکلنے کے لیے، اور کیا واقعی میں دن کا نکلنا علت ہے؟ نہیں۔ واقعے میں تو دن کا نکلنا علت نہیں، معلوم ہوا صرف آپ کے علم میں علت ہے واقعے میں یہ علت نہیں، اس کو کہتے ہیں دلیلِ انی۔ اب بات سمجھ میں آ گئی؟ اب دیکھیے کتاب پر۔ پس معلوم ہوا کہ اکبر یعنی محمولِ نتیجہ کا جو اصغر یعنی نتیجہ کے موضوع کے لیے ثابت ہونا ہم کو معلوم ہوا، اس علم کی علت حدِ اوسط ہے۔ پھر جیسے حدِ اوسط ہمارے اس علم کی علت ہے، اگر حقیقت میں بھی اکبر کے اصغر کے لیے ثابت ہونے کی علت یہی ہو تو یہ دلیلِ لمی ہے، جیسے زمین دھوپ والی ہو رہی ہے اور ہر دھوپ والی شے روشن ہوتی ہے، پس زمین روشن ہے۔ یہ پس کے ساتھ کیا ذکر کرتے ہیں؟ نتیجہ۔ نتیجہ کیا نکلا؟ زمین روشن ہے، اور دلیل کس کو بنایا؟ دھوپ کو، کس کو؟ دھوپ کو۔ اور مجھے بتائیے، دھوپ پڑتی ہے پھر زمین روشن ہوتی ہے یا پہلے زمین روشن ہوتی ہے تو پھر دھوپ پڑتی ہے؟ دھوپ کی وجہ سے ہی تو روشن، تو دھوپ ہے علت اور زمین کا روشن ہونا ہے معلول۔ اور یہاں پر کس کو دلیل بنایا گیا ہے؟ دھوپ کو، دھوپ کو علت بنایا گیا زمین کے روشن ہونے کے لیے، اور واقعے کے اندر بھی دھوپ ہی علت ہے تو یہ کیا ہوئی؟ دلیلِ لمی۔ دیکھو اس مثال میں جیسے دھوپ والی ہونے سے ہم کو زمین کے روشن ہونے کا علم ہوا، اسی طرح حقیقت میں بھی دھوپ والی ہونا روشن ہونے کی علت ہے۔ اور اگر حدِ اوسط صرف ہمارے علم ہی کی علت ہو اور حقیقت میں نہ ہو تو وہ دلیلِ انی ہے، جیسے یوں کہیں زمین روشن... اب برعکس کر دو، زمین روشن ہے اور ہر روشن شے دھوپ والی ہوتی ہے، پس زمین دھوپ والی ہے۔ تو کس کو کس کے لیے علت بنایا؟ روشن ہونے کو۔ نتیجے پہ نظر رکھو، نتیجہ کیا آیا؟ دھوپ والی ہے، اور دھوپ والی ہونے کا پتہ کس سے چلا؟ روشن ہونے سے۔ تو گویا آپ نے روشن ہونے کو علت بنا دیا کس کے لیے؟ دھوپ والے کے لیے۔ بھئی روشن ہونے سے کس کا پتہ چلا؟ روشن ہے معلوم ہوا دھوپ والی بھی ہے، تو روشن ہے کو آپ نے علت بنا دیا اور اسی سے کس کا پتہ چلا؟ دھوپ والے ہونے کا بھی۔ اور کیا واقعے کے اندر بھی روشن ہونا علت ہے؟ نہیں، بلکہ واقعے میں تو دھوپ کیا ہے؟ علت، تو یہ کون سی دلیل ہوئی؟ دلیلِ انی ہوئی۔ دیکھو اس مثال میں زمین کی روشنی سے ہم کو اس کے دھوپ والی ہونے کا علم ہوا ہے اور حقیقت میں دھوپ والی ہونے کی علت روشنی نہیں بلکہ برعکس ہے بھئی۔ بات اچھی طرح سب کو سمجھ میں آ گئی؟ حاصلِ کلام یہ ہوا کہ اگر علت کے ذریعے معلول پر دلیل بنائی جائے اور معلول کو ثابت کیا جائے تو اس کو کہتے ہیں دلیلِ لمی، اور اگر معلول کو دلیل بنایا جائے کس کے ثابت کرنے کے لیے؟ علت کے ثابت کرنے کے لیے، تو اس کو کہتے ہیں دلیلِ انی۔ اب اس کو لمی اور انی کیوں کہتے ہیں وہ بھی سمجھ لو۔ لمی لمیّت سے ہے، کس سے؟ لمیّت سے۔ لمیّت، لمیّت کا معنی ہے علت ہونا۔ لمیّت مصدر ہے مصدر۔ لمیّت کیا معنی؟ علت ہونا۔ یہ مصدر بنا لیا، تھا نہیں عربی میں ایسا نہیں تھا ویسے بنا لیا گیا۔ اور یہ لفظِ لِمَ سے ہے، لِمَ، لِمَ، لِمَ کا معنی ہے کیوں؟ تو کیوں کے ذریعے دیکھو علت پوچھی جاتی ہے، کوئی آپ سے پوچھتا ہے دن کیوں ہے؟ آپ کیا کہیں گے؟ سورج نکلا ہوا ہے۔ کوئی آپ سے پوچھتا ہے دھواں کیوں ہے؟ آپ کیا کہیں گے؟ آگ جل رہی ہے۔ تو کیوں کے ذریعے علت کا پوچھ کے بارے میں پوچھا جاتا ہے، تو لہٰذا اسی سے ایک لفظ بنا لیا منطق والوں نے اور اس کا نام رکھا لمیّت۔ اور لمیّت کا کیا معنی؟ علت ہونا۔ تو دلیلِ لمی کے اندر بھی علت کے ذریعے چونکہ دلیل بنائی جاتی ہے لہٰذا اس کو کیا کہتے ہیں؟ دلیلِ لمی۔ اور اِنَّ، اِنَّ وہی حرف از حروفِ مشبہ بالفعل ہے جو یقین کے لیے آتا ہے، ایک چیز کے دوسری چیز کے ثبوت کے لیے آتا ہے، اِنَّ زَیْدًا عَالِمٌ یقیناً زید عالم ہے۔ تو دیکھو اِنَّ نے کیا کیا؟ عالم ہونے کی صفت ثابت کر دی کس کے لیے؟ زید کے لیے۔ تو یہ ثبوت کے لیے آتا ہے، تو دلیلِ انی میں بھی علامت کے ذریعے علت ثابت کی جاتی ہے۔ جب علامت موجود ہے معلوم ہوا علت بھی موجود ہے، اس لیے اس کو دلیلِ انی کہتے ہیں بھئی، جس میں ثبوت ہے ایک چیز کا دوسری چیز کے لیے، یقینی ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ چلیے بس بھئی، ھٰذا ھو المرام، واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔
44 approved lectures · 39 of 44