اچھا بھئی، ہم نے سبق دہم "مادۂ قیاس کا بیان" پڑھنا شروع کیا تھا، آگے دیکھیے کتاب پر:
برہان: وہ قیاس ہے جو مقدمات یقینیہ سے مرکب ہو، خواہ وہ مقدمات بدیہی ہوں یا نظری۔ جیسے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اور ہر اللہ کا رسول واجب الاطاعت ہے۔ نتیجہ کیا ہے آگے؟ پس محمد صلی اللہ علیہ وسلم واجب الاطاعت ہیں۔
بدیہیات کی چھ قسمیں ہیں: اولیات، فطریات، حدسیات، مشاہدات، تجربیات، متواترات۔
اولیات وہ قضیے ہیں کہ موضوع و محمول کے صرف ذہن میں آنے سے ہی عقل ان کو تسلیم کر لے، دلیل کی بالکل ضرورت نہ ہو؛ جیسے کل اپنے جز سے بڑا ہوتا ہے۔
فطریات وہ قضیے ہیں کہ جب وہ ذہن میں آئیں تو ان کی دلیل ذہن سے غائب نہیں ہوتی؛ جیسے چار جفت ہے اور تین طاق ہے۔ دیکھو اس قضیہ میں چار کے جفت ہونے کی دلیل اس کے ساتھ ہی ذہن میں آتی ہے، وہ یہ ہے کہ اس کے دو برابر حصے ہوتے ہیں۔
اچھا بھئی، گزشتہ سبق میں ہم نے مادۂ قیاس کے بارے میں پڑھنا شروع کیا تھا۔ اور آپ کو میں نے بتلایا تھا کہ ایک قیاس کی صورت ہے اور ایک اس کا مادہ۔ آپ جو بھی چیز بناتے ہیں، اس کا ایک مادہ ہوتا ہے، ایک یعنی مٹیریل جس سے وہ چیز تیار کرتے ہیں اور ایک پھر اس کی صورت ہوتی ہے آخر میں جب وہ چیز بن کر تیار ہو جائے۔ تو اسی طرح قیاس کی بھی ایک صورت ہے، یعنی اس کی شکل ہے، اور ایک اس کا مادہ ہے، یعنی جس جس قسم کے قضیوں سے وہ مل کر بنے گا وہ کیا ہیں؟ اس کا مادہ ہیں۔ اور قیاس کی صورت آپ پڑھ چکے کہ چار شکلیں ہیں بھئی: شکل اول، شکل ثانی، شکل ثالث اور شکل رابع بھئی۔
جبکہ مادۂ قیاس کے بارے میں تفصیل میں نے گزشتہ سبق میں بیان کی تھی کہ قیاس کے اندر کم از کم دو تصدیقات ہوں گی، دو مقدمے ہوں گے اور پھر ان سے کیا حاصل ہوگا؟ نتیجہ حاصل ہوگا۔ تو یہ جو تصدیق ہے، اس تصدیق کی کئی قسمیں ہیں۔ آپ کو میں نے بتلایا تھا کہ قیاس کے جو مقدمات ہیں وہ تصدیق ہونے چاہییں، تصور نہیں ہونے چاہییں۔
اور پھر تصور کی قسمیں بھی میں نے بیان کی تھیں کہ کبھی کبھار ایک ہی چیز ہوتی ہے وہ بھی تصور ہے۔ کبھی ایک سے زیادہ چیزیں ہوتی ہیں لیکن درمیان میں کوئی ربط اور تعلق نہیں ہوتا؛ جیسے کتاب، قلم، گلاس، دیوار، گھر، مکان، دیکھو الگ الگ چیزیں ہیں ان میں کوئی نسبت نہیں۔ تو ایک سے زیادہ چیزیں ہیں لیکن درمیان میں کوئی تعلق اور نسبت نہیں، یہ بھی کیا ہے؟ تصور ہے۔ بعض اوقات ایک سے زیادہ چیزیں ہوتی ہیں لیکن درمیان میں تعلق ہوتا ہے، لیکن بات پوری نہیں ہوتی۔ یعنی نسبت تو ہوتی ہے لیکن نسبت غیر تامہ ہوتی ہے، تام کا معنی پورا۔ نسبت غیر تامہ ہوتی ہے، یعنی اس میں بات پوری نہیں ہوتی، جیسے "زید کا بھئی"۔ اب دیکھو اس بھئی کی نسبت کس کی طرف ہو رہی ہے؟ زید کی طرف۔ تو نسبت تو ہے لیکن بات پوری نہیں۔ آپ کہیں گے بھئی اس کو کیا ہوا؟ بات تو پوری کریں۔ یا جیسے "بہادر آدمی"، دیکھو بہادر کی نسبت کس کی طرف ہے؟ آدمی کی طرف، یہ اس کی صفت بن رہا ہے۔ تو لیکن بات پوری نہیں، آپ کہیں گے بھئی بہادر آدمی کو کیا ہوا؟ آپ بات پوری کریں۔ تو بعض اوقات کئی چیزیں ہوتی ہیں اور درمیان میں نسبت بھی ہوتی ہے لیکن نسبت غیر تامہ ہوتی ہے، یہ بھی کیا ہے؟ تصور۔
اور بعض اوقات نسبت تام ہوتی ہے لیکن جملہ انشائیہ ہوتا ہے۔ جملہ انشائیہ، مثلاً آپ کسی کو کسی کام کے کرنے کا حکم دیتے ہیں کہ "جاؤ یہ کام کرو"، تو یہ امر ہے اور آپ جانتے ہیں امر کس قبیل سے ہے؟ انشاء کی۔ تو یہ نسبت تامہ تو ہے لیکن کون سی کون سا ہے؟ انشائیہ ہے، یہ بھی تصور ہے۔ یا اسی طرح آپ دوسرے سے کہتے ہیں "یہ کام مت کرو"، دیکھو منع کر رہے ہیں، یہ نہی ہے نہی، اور نہی بھی کس قبیل سے ہے؟ انشاء کے قبیل سے ہے۔ یا قسم ہے، یا ندا ہے، مختلف قسمیں آپ نحو میں پڑھ چکے ہیں، وہ سب انشاء ہیں۔ انشاء کا فرق یہ ہے، انشاء اور ایک جملہ ایک خبر ہے، انشاء کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا نہیں کہا جا سکتا، جبکہ خبر کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا کہا جا سکتا ہے۔ دیکھو ایک آدمی آپ سے کہتا ہے "یہ کام مت کرو"، کبھی بھی اس کو کوئی نہیں کہے گا کہ یہ جھوٹ بول رہا ہے، وہ کہے گا میں نے تو کوئی بات تو کی نہیں جس میں آپ سچ اور جھوٹ کا کہیں، میں تو ایک کام سے منع کر رہا ہوں بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو انشاء کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا نہیں کہہ سکتے، جبکہ خبر کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا کہہ سکتے ہیں۔ تو اگر نسبت تامہ ہو لیکن جملہ انشائیہ ہو تو وہ بھی تصور ہے۔
اور بعض اوقات نسبت تامہ ہوگی لیکن وہ تخیل، شک یا وہم کی قبیل سے ہوگی، وہ بھی تصور ہے۔ تخیل کسے کہتے ہیں؟ میں نے بتلایا تھا کہ کوئی بات آپ کے ذہن میں آئی اور آ کر نکل کر پھر چلی گئی، آپ نے اس کی طرف توجہ ہی نہیں کی کہ یہ سچ ہے یا جھوٹ ہے، یہ ٹھیک ہے یا غلط ہے، سوچا ہی نہیں، بس ایک بات ویسی ذہن میں آئی اور پھر نکل بھی گئی۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ تخیل بھئی، تخیل، خیال۔ یوں کہیں خیال، کیا ہے؟ خیال ہے۔ اور دوسرا یہ کہ بات ذہن میں آئی اور ٹھہر گئی، لیکن آپ کو شک ہے کہ پتہ نہیں ایسا ہے یا ایسا نہیں۔ تو اگر دونوں جانبیں برابر ہوں، اس چیز کے ہونے کا جتنا خیال ہے نہ ہونے کا بھی اتنا ہی خیال ہو، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ شک بھئی، اور یہ بھی تصور ہے۔ تخیل بھی تصور اور شک بھی تصور۔
یا ایک چیز آپ کے ذہن میں آئی تو آپ کا زیادہ خیال ہے کہ یہ ایسا ہی ہے، لیکن تھوڑا خیال ہے کہ ایسا نہیں۔ جو زیادہ خیال ہے کہ ایسا ہی ہے اس کو کہتے ہیں ظن۔ اور ظن کس قبیل سے ہے؟ وہ تصدیق ہی قبیل سے ہے۔ لیکن یہ جو تھوڑا خیال آ جاتا ہے کہ ہو سکتا ہے ایسا نہ ہو، یہ اس کو کہتے ہیں وہم۔ اور وہم کس قبیل سے ہے؟ تصور کے قبیل سے ہے۔ تو آپ نے غور کیا کہ تخیل میں بھی بات پوری ہوتی ہے۔ مثلاً آپ کے ذہن میں بات آئی "زید عالم ہے" اور پھر فوراً نکل بھی گئی۔ تو یہ کیا ہے؟ تخیل۔ یا آپ کے ذہن میں آیا کہ "زید عالم ہے" لیکن ساتھ ہی ذہن میں یہ بھی خیال آتا ہے کہ وہ عالم نہیں، تو دونوں جانبیں برابر، تو یہی کیا بن گیا؟ شک۔ یا آپ کے ذہن میں آیا کہ "زید عالم ہے" اور آپ کا غالب گمان یہی ہے کہ وہ عالم ہے، ہاں تھوڑا سا کچھ یہ بھی خیال آ جاتا ہے کہ ہو سکتا ہے وہ عالم نہ ہو، تو جو زیادہ خیال ہے وہ کیا ہے؟ وہ ظن ہے، وہ تصدیق ہے اور جو تھوڑا خیال ہے وہ کیا ہے؟ وہم۔ تو دیکھو یہ تخیل، شک اور وہم، ان کو قضایا اور جملے کہہ سکتے ہیں اور لیکن لیکن یہ قیاس کے اندر ان کا دخل نہیں۔ کیونکہ یہ تصور ہیں بھئی، تخیل، شک اور وہم کیا ہیں؟ تصور۔ اور قیاس تو کس قسم کے قضایا سے بنے گا؟ جو کس قبیل سے ہوں؟ تصدیق کی قبیل سے ہوں۔
اور پھر تصدیق کی کتنی قسمیں ہیں، وہ بھی میں نے بتلائی تھیں۔ تصدیق کا سب سے ادنیٰ درجہ اور شروع کا درجہ یہ ہے کہ غالب گمان ہو، جس کو ظن کہتے ہیں۔ آپ نے ایک بات کو مان تو لیا ہے لیکن پھر بھی دوسری جانب کبھی کچھ تھوڑا خیال آ جاتا ہے، یہ تصدیق کا ادنیٰ درجہ۔ اس سے اونچا درجہ ہے تقلید بھئی۔ تقلید میں آپ ایک بات کو مان لیتے ہیں اور دوسری جانب کا ذہن میں خیال بھی نہیں آتا، لیکن اگر کوئی شک ڈالنے والا شک ڈالے تو اس کو ختم کر سکتا ہے، کوئی اپنے دلائل وغیرہ بیان کرے تو اس بات کو آپ کے ذہن سے نکال سکتا ہے۔ آپ کو یقین تھا لیکن آپ کے ذہن سے وہ اس بات کو نکال سکتا ہے، اس بات کو آپ کے ذہن سے نکال سکتا ہے، آپ کے یقین کو توڑ سکتا ہے، یوں کہیں۔ تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ تقلید، تقلید۔
اور ایک اس سے اوپر والا درجہ ہے جس کا نام ہی یقین ہے اور یقین کے اندر جو بات آپ نے مان لی ہے، تسلیم کر لی ہے، اب وہ تشکیکِ مشکک سے بھی زائل نہیں ہوتی، کوئی ہزار دلائل بھی دے دے اس بات کو آپ کے ذہن سے نہیں نکال سکتا، اس کو کیا کہتے ہیں؟ یقین بھئی۔ لیکن یقین میں یہ ہے کہ جو بات آپ نے مانی ہے وہ واقع کے بھی مطابق ہو؛ جیسے اللہ ایک ہے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے پیغمبر ہیں، قیامت قائم ہوگی، جنت ہے، جہنم ہے، اسلام دین برحق ہے، قرآن اللہ کی کتاب ہے، فرشتے موجود ہیں، دیکھو یہ سب باتیں کیا ہیں؟ یہ یقین کے قبیل سے ہیں اور واقع کے مطابق ہیں۔ اور اگر ہو یقین لیکن واقع کے مطابق نہ ہو تو پھر اس کو کیا کہتے ہیں؟ جہل مرکب کہتے ہیں، جہل مرکب۔ جہل یعنی جہالت بھی ہے اور مرکب ہے، یہ یوں سمجھ لو، یوں کہو دگنی گویا جہالت ہے۔ اس کا کوئی علاج ہی نہیں ہے، ایک آدمی نہیں جانتا لیکن تسلیم کرتا ہے کہ میں نہیں جانتا تو وہ سیکھ لے گا، وہ جان لے گا اور ایک آدمی نہیں جانتا اور کہتا ہے میں سب سے زیادہ جانتا ہوں، اس کا کوئی علاج پھر نہیں ہے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ جہل مرکب۔ تو اس کو آپ ہزار دلائل دیں، وہ بات اس کے ذہن سے نہیں نکلتی بھئی، ذہن سے نہیں نکلتی۔
تو یقین جو ہے، یقین بھی تشکیکِ مشکک سے زائل نہیں ہوتا، جہل مرکب بھی تشکیکِ مشکک سے زائل نہیں ہوتا، دونوں میں انتہائی پکا یقین ہوتا ہے۔ لیکن یقین جو ہوتا ہے وہ واقع کے مطابق ہوتا ہے اور جہل مرکب واقع کے مطابق نہیں ہوتا۔ اور یقین سے نچلا درجہ کس کا ہے؟ تقلید کا ہے کہ اس میں یقین تو ہوتا ہے لیکن اگر کوئی دلائل دے تو کوئی شک ڈالے تو شک ڈال کر اس بات کو ذہن سے ختم کر سکتا ہے، آپ کے یقین کو توڑ سکتا ہے۔ بات سمجھ میں آگئی؟ اس کو کیا کہتے ہیں؟ تقلید۔ تقلید سے نچلا درجہ کس کا ہے؟ ظن کا اور جہل مرکب کا سب سے نچلا درجہ کیونکہ وہ تو واقع کے مطابق ہی نہیں ہوتا، وہ تو گمراہی ہے، غلطی ہے بھئی۔ تو سب سے اعلیٰ درجہ کس کا؟ یقین۔ اس سے نیچے؟ تقلید بھئی۔ اس سے نیچے؟ ظن اور اس سے نیچے؟ جہل مرکب بھئی۔
اور یہ جو قیاس ہے، وہ انہی تصدیقات سے مرکب ہوتا ہے۔ انہی تصدیقات سے، ظن کے اندر یا کیا ائے گا؟ یقین، جو مقدمات آ رہے ہیں، جو تصدیقات استعمال ہو رہی ہیں یا وہ یقین ہوں گی یا وہ تقلید ہوں گی یا ظن ہوگا یا جہل مرکب۔ تو جس قسم کے مقدمات سے قیاس بنے گا اسی قسم کا اس کا نام بھی ہوگا، اسی قسم کا اس کا درجہ بھی ہوگا۔ جو یقین سے مرکب ہوگا، اس قیاس کا درجہ سب سے اعلیٰ ہے کیونکہ اس کے مقدمات میں کسی قسم کا کوئی شک اور شبہ نہیں اور وہ تشکیکِ مشکک سے زائل بھی نہیں ہو، لہٰذا اس سے جو نتیجہ آئے گا وہ بھی بڑا ہی قوی اور مضبوط نتیجہ ہوگا۔ اور یہ جو قیاس جو یقین سے مرکب ہو اس کو کہتے ہیں برہان۔ کیا کہتے ہیں؟ برہان۔
جبکہ باقی، آپ پڑھ چکے قیاس کی پانچ قسمیں ہیں بھئی، پانچ قسمیں۔ جبکہ باقی جو قیاس ہیں یعنی قیاسِ جدلی، قیاسِ خطابی، قیاسِ شعری اور قیاسِ سفسطی، یہ جو قیاس ہیں ان کے اندر تصدیق کی باقی قسمیں آئیں گی۔ کسی میں ظن آئے گا، کسی میں جہل مرکب آئے گا، کسی میں تقلید آئے گی۔ تو ہر ایک کے مختلف اعتبار سے نام مختلف ہیں بھئی۔ البتہ جو قیاسِ برہانی ہے اس کے اندر کون سے مقدمات آئیں گے؟ یقین والے بھئی، جو وہ تصدیقات جو یقین ہوں گی۔ تو یہ سب سے اعلیٰ درجے کا قیاس اور اس سے حاصل ہونے والا نتیجہ بھی سب سے اعلیٰ درجے کا۔
تو اب ہر قیاس کی تفصیل بیان کرنے لگے ہیں۔ سب سے اعلیٰ درجے کا قیاس وہ برہان ہے اور اسی کا اعتبار ہے، باقی جو قیاس ہیں ان کا کوئی اعتبار نہیں۔ قیاس میں کیا کرتے ہیں؟ آپ کوئی دعویٰ کرتے ہیں، دلیل کے ذریعے اس کو ثابت کرتے ہیں تو یہ دلیل جو ہے اگر برہان ہو، کیا ہو؟ برہان ہو یعنی مقدماتِ یقینیہ سے مرکب ہو تو پھر تو معتبر ہے۔ باقی؟ باقیوں کا اعتبار نہیں، لہٰذا اسی لیے سب سے زیادہ تفصیل اسی کی بیان کریں گے جبکہ باقی کے بارے میں مختصر کلام کریں گے بھئی۔ تو سب سے اعلیٰ درجے کا قیاس کون سا ہے؟ برہان۔ اور برہان کس قسم کے مقدمات سے بنے گا؟ صغریٰ اور کبریٰ کس قسم کے ہوں گے؟ یقینی یقینی ہوں گے بھئی، یعنی یقین سے مرکب ہوں گے، یقین سے بنے ہوں گے، یقین پر مشتمل ہوں گے۔ صغریٰ اور کبریٰ یقین پر مشتمل ہوں گے۔ اور یہ جو مقدمات ہیں اس کے، وہ بدیہی بھی ہو سکتے ہیں اور نظری بھی ہو سکتے ہیں۔
بدیہی کسے کہتے ہیں؟ جس میں غور و فکر کی ضرورت نہ ہو؛ جیسے آگ جلانے والی ہے، اس میں کسی غور و فکر کی ضرورت نہیں، ہر ایک جانتا ہے۔ اور بعض چیزیں وہ ہیں جن میں آپ کو غور و فکر کرنا پڑتا ہے، جس میں غور و فکر کرنا پڑتا ہے اس میں اس کے لیے دلیل کی ضرورت ہوتی ہے۔ مثلاً محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے پیغمبر ہیں، دیکھو اس کے لیے دلیل کی ضرورت ہے، یہ بدیہی نہیں ہے۔ جبھی تو کفار نہیں مانتے، جبھی تو کیا کرتے ہیں؟ کفار نہیں مانتے، اس کا انکار کرتے ہیں کیونکہ یہ اس کے لیے دلیل چاہیے۔ دلیل چاہیے، اگر بدیہی ہوتی بدیہی کو تو کوئی بھی انکار نہیں کرتا، بدیہی کو تو ہر ایک تسلیم کر لیتا ہے، ہر ایک مانتا ہے کہ آگ جلانے والی ہے۔ تو بدیہی کسے کہتے ہیں؟ جس میں ذرا بھی غور و فکر کی ضرورت نہ ہو۔ اور نظری وہ جس میں غور و فکر کرنا پڑے، نظر اور فکر ہو، دلیل ہو، صغریٰ کبریٰ وہاں بنانا پڑے، اس میں جہاں نظر و فکر کی ضرورت ہو، دماغ لڑانا پڑے بھئی، صغریٰ کبریٰ ملانا پڑے بھئی، اس کو کیا کہتے ہیں؟ نظری کہتے ہیں، نظری کہتے ہیں۔
اب دیکھیے ذرا کتاب پر: "برہان وہ قیاس ہے جو مقدماتِ یقینیہ سے مرکب ہو"، یعنی کس قسم کے مقدمات سے بنے؟ یقینی مقدمات سے۔ "خواہ وہ مقدمات بدیہی ہوں یا نظری"، یعنی وہ مقدمات بدیہی بھی ہو سکتے ہیں اور نظری بھی۔ "جیسے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں"، دیکھو محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول، یہ بدیہی ہے یا نظری؟ نظری ہے۔ اگر بدیہی ہوتا پھر تو ہر ایک تسلیم کرتا، لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ کفار اس بات کو تسلیم نہیں کرتے۔ تو معلوم ہوا یہ کیا ہے؟ نظری ہے، آپ کو دلیل دینا پڑتی ہے اس کے لیے۔ "اور ہر اللہ کا رسول واجب الاطاعت ہے"، یعنی اس کی اطاعت اور فرمانبرداری واجب ہے، ضروری ہے۔ ہر اللہ کا رسول واجب الاطاعت ہے، کیا معنی؟ اللہ کے ہر پیغمبر کی اطاعت اور فرمانبرداری واجب ہے، ضروری ہے۔ یہ بھی نظری ہے بھئی، دلیل دینا پڑتی ہے آپ کو کہ دیکھو یہ اللہ کا پیغمبر ہے، اللہ کی طرف سے اس پر وحی آتی ہے، اللہ کی طرف سے اس پر احکامات آتے ہیں، لہٰذا اس کی ہر بات ماننا واجب ہے، آپ کو دلائل دینا پڑیں گے بھئی۔ تو یہ دو مقدمات ہوئے: محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، دیکھو یہ یقینی ہے، مقدمہ کس قسم کا ہے؟ یقینی۔ اور ہر اللہ کا رسول واجب الاطاعت ہے، یہ بھی کیا ہے؟ یقینی، لیکن ہیں دونوں نظری۔ آگے نتیجہ ذکر کر رہے ہیں کتاب میں: "پس محمد صلی اللہ علیہ وسلم واجب الاطاعت ہیں"۔ پھر دیکھو، قیاس کیا بنایا؟ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے پیغمبر ہیں، اللہ کے رسول ہیں اور ہر اللہ کا رسول واجب الاطاعت ہوتا ہے، پس نتیجہ کیا نکلا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی واجب الاطاعت ہیں، تو دیکھو یہ نتیجہ نکل آیا۔ تو یہ برہان ہے بھئی، کیا ہے؟ اس کے مقدمات یقین پر مشتمل ہیں، یہ ایک ایک بات جو ذکر ہوئی یہ یقینی ہے، البتہ ہے نظری، اس کے لیے کیا چاہیے؟ دلیل چاہیے۔
اور آپ نے پڑھا برہان جو قیاس ہے، اس کے مقدمات ہوتے تو یقینی ہیں لیکن وہ نظری بھی ہو سکتے ہیں اور بدیہی بھی۔ نظری کی مثال ذکر کر دی۔ بدیہی کے بارے میں اب تفصیل بیان کرنے لگے ہیں کہ بدیہیات کی چھ قسمیں ہیں۔ بھئی مناطقہ نے غور کیا، غور کیا اور استقراء کیا۔ آپ پڑھ چکے، استقراء کسے کہتے ہیں؟ تلاش اور جستجو۔ انہوں نے غور کیا، تلاش اور جستجو کی کہ یہ بدیہیات کتنی قسم پر ہیں؟ بدیہیات، غور کیا خوب تلاش اور جستجو کی، خوب کوشش کی، ہر قسم کے بدیہی کو ٹٹولتے رہے، ہر قسم کے بدیہی کو دیکھتے رہے یہ کون سی قسم ہے، یہ کون سی قسم ہے اور بالاخر اس نتیجے پر پہنچے کہ بدیہیات جو ہیں وہ چھ قسم کے ہیں۔ بدیہیات کتنے ہیں؟ چھ قسم کے ہیں۔ لیکن یہ انہوں نے استقراء کے ذریعے معلوم کیا ہے اور آپ پڑھ چکے استقراء یقین کا فائدہ نہیں دیتی، لہٰذا اگر آپ تلاش اور جستجو کرتے ہیں، آپ کو کوئی اور قسم مل جاتی ہے تو آپ بھی اس کا بھی اضافہ کر سکتے ہیں، لیکن بہرحال مناطقہ نے خوب جستجو کے بعد یہ چھ قسمیں بنائیں اور علماء نے بھی دیکھا کہ اس سے باہر اور کوئی قسم نہیں ہے، سب اسی کے اندر داخل ہیں۔ تو بہرحال یہ کس کے ذریعے ان کا پتہ چلا؟ استقراء کے ذریعے بھئی۔
تو کہتے ہیں بدیہیات کی چھ قسمیں ہیں: اولیات، دیکھیے کتاب پر بھئی، تو بدیہی بدیہیات کی چھ قسمیں ہیں: اولیات، فطریات، حدسیات، مشاہدات، تجربیات، متواترات، یہ چھ قسمیں ہیں۔ اب یہ کس کو کہتے ہیں؟ آسان ہیں بھئی۔
اولیات: ادھر دیکھیے بھئی۔ بھئی اولیات وہ قضیے ہیں، بات قضیوں کی چل رہی ہے نا؟ کون سے قیاس کی بات چل رہی ہے؟ قیاسِ برہانی کی، کس کی؟ اور قیاسِ برہانی کے مقدمات نظری بھی ہو سکتے ہیں اور بدیہی بھی۔ ہاں وہ بدیہی کتنی کتنی قسم کے ہوتے ہیں، اب وہ بدیہی قضایا بیان کرنے لگے ہیں، بدیہی قضایا۔ تو کہتے ہیں بدیہی قضایا وہ چھ قسم کے ہو سکتے ہیں اور ان میں سے پہلی قسم کیا ہے؟ اولیات۔ اولیات کون سے بدیہی قضیے ہوتے ہیں؟ بدیہی کس کو کہتے ہیں؟ جس میں غور و فکر نہیں کرنا پڑتا، فوراً ذہن ایک بات کو تسلیم کر لیتا ہے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ بدیہی۔ تو یہ بدیہی چھ قسم کے ہوتے ہیں اور ان میں سے پہلی قسم اولیات ہے، اولیات۔
اولیات یہ ہیں کہ آپ کے سامنے جیسے ہی قضیہ آیا، آپ نے موضوع کو دیکھا اور محمول کو دیکھا، قضیہ کس پر مشتمل ہوتا ہے؟ ایک موضوع ہوتا ہے اور ایک محمول۔ آپ نے جیسے ہی موضوع اور محمول کو دیکھا، دیکھتے ہی فوراً ذہن نے ذہن نے تسلیم کر لیا کہ ایسا ہی ہے۔ دلیل کی طرف ذہن گیا ہی نہیں، دلیل ہوتی ہے وہاں پر لیکن دلیل کی طرف ذہن جاتا ہی نہیں۔ بات سمجھ میں آرہی ہے؟ آپ کے سامنے کیا آیا؟ قضیہ آیا، تصدیقات کی بات چل رہی ہے نا، تصدیق قضیے کو کہتے ہیں اور اس میں کتنے جز ہوں گے؟ ایک موضوع اور ایک محمول۔ آپ کے سامنے قضیہ آیا، قضیہ کس پر مشتمل ہے؟ ایک پہلا جز موضوع، دوسرا جز محمول۔ آپ کے سامنے جیسے ہی قضیہ آیا، آپ نے جیسے ہی موضوع کو دیکھا اور پھر محمول کو دیکھا، فوراً آپ نے تسلیم کر دیا کہ بات ایسی ہی ہے۔ مثلاً "کل جز سے بڑا ہوتا ہے"، کل ایک ہے کل اور ایک ہے جز، تو آپ کے سامنے کسی نے قضیہ ذکر کیا: "کل جز سے بڑا ہوتا ہے"۔ آپ نے فوراً دیکھا کل کسے کہتے ہیں، ساتھ ہی دیکھا جز کسے کہتے ہیں اور فوراً مان لیا کہ ہاں کل کیا ہوتا ہے؟ جز سے بڑا ہوتا ہے۔ اب دلیل کی طرف جانے کی ضرورت نہیں، فوراً ذہن نے خود مان لیا۔ یا جیسے آپ کے سامنے کوئی کہے: "دس کا عدد آٹھ کے عدد سے بڑا ہے"، دس کا عدد؟ فوراً ذہن نے تسلیم کر لیا، کوئی دلیل کی طرف جانے کی ضرورت نہیں، دلیل وہاں موجود ہوگی لیکن دلیل کی طرف ذہن جاتا ہی نہیں۔ یا آپ کے سامنے کوئی کہے کہ "سو کا نوٹ پچاس کے نوٹ سے بڑا ہوتا ہے"، فوراً آپ جیسے آپ نے کہا سو کا نوٹ، پچاس کا نوٹ، ان دو کی طرف دیکھا اور فوراً کہہ دیا ہاں بات ایسی ہی ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو اولیات کون سے قضایا کو کہتے ہیں؟ جہاں ذرا بھی غور و فکر، نہیں غور و فکر تو ہوگا ہی نہیں، جہاں دلیل کی طرف بھی ذہن نہیں جاتا بالکل اور فوراً ہی سنتے ہی ذہن تسلیم کر لیتا ہے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ اولیات۔
دیکھیے اب کتاب پر، تو کہتے ہیں: "اولیات وہ قضیے ہیں کہ موضوع و محمول کے صرف ذہن میں آنے سے عقل ان کو تسلیم کر لے، دلیل کی بالکل ضرورت نہ ہو؛ جیسے کل اپنے جز سے بڑا ہوتا ہے"۔ کل اپنے جز سے بڑا ہوتا ہے، دیکھو اس میں کسی دلیل کی ضرورت نہیں۔ یا جیسے میں نے اور مثال ذکر کر دی کہ دس کا عدد آٹھ کے عدد سے بڑا ہوتا ہے، یا اور مثال میں نے ذکر کر دی کہ سو کا نوٹ پچاس کے نوٹ سے بڑا ہوتا ہے۔ بات سمجھ میں آرہی ہے؟ ان کو کیا کہتے ہیں؟ اولیات، جس میں دلیل کی طرف ذہن جاتا ہی نہیں بالکل، بالکل نہیں جاتا۔
ہاں یہ جو اولیات ہیں، آپ نے کیا پڑھا؟ دلیل کی طرف ذہن جاتا ہی نہیں اور فوراً انسان اس کو تسلیم کر لیتا ہے۔ ہاں ہو سکتا ہے کوئی بہت ہی کمزور ذہن والا ہو تو وہ ہو سکتا ہے اس کو اس میں بھی غور و فکر کی ضرورت پڑے اور ہو سکتا ہے وہ اس میں بھی غلطی بھی کر جائے، لیکن وہ اس کے کمزور ذہن ہونے کی وجہ سے ہوگا؛ جیسے مثلاً بچہ ہے۔ بچے سے آپ پوچھیں: "مور بڑا ہوتا ہے کہ اس کی دم بڑی ہوتی ہے؟" دیکھی ہے مور کی دم کتنی بڑی ہوتی ہے؟ تو آپ نے بچے سے پوچھا: "مور بڑا ہوتا ہے کہ اس کی دم بڑی ہوتی ہے؟" تو بچہ فوراً کہے گا: "دم بڑی ہوتی ہے"۔ حالانکہ مور کے اندر دم بھی شامل تھی یا نہیں؟ ایک طرف صرف دم، ایک طرف دم کے ساتھ ساتھ باقی جسم بھی، تو مور بڑا ہوا۔ لیکن بچہ چونکہ چھوٹا ہے، کمزور ذہن والا ہے ابھی اس کو، تو ہو سکتا ہے وہ یہ کہہ دے۔ تو یہ اولیات میں سے ہے، لیکن یہ اس کی اس کی عمر کم ہے، چھوٹا ہے، ابھی اتنی سوچ نہیں اس کی، تو لہٰذا ہو سکتا ہے وہ یہ جواب دے دے یا کوئی کمزور ذہن والا بھی یہ جواب دے دے۔ لیکن بہرحال، عام انسان اس میں غلطی نہیں کرتا، فوراً بھئی جیسے ہی سامنے آتا ہے اس کو تسلیم کر لیتا ہے کہ بات ایسی ہی ہے، غور و فکر وغیرہ کی ضرورت ہی نہیں، نہ اس میں غلطی ہوتی ہے بھئی۔
آگے دیکھیے کتاب پر: "فطریات: فطریات وہ قضیے ہیں کہ جب ذہن میں آئیں تو ان کی دلیل ذہن سے غائب نہیں ہوتی"۔ اچھا بھئی، یہ بھی سمجھ لیں، ادھر دیکھیے۔ فطریات، فطریات وہ تصدیقات ہیں، وہ قضیے ہیں جو ذہن میں آتے ہیں تو ساتھ ہی ان کی دلیل بھی آ جاتی ہے، ذہن ان کو فوراً تسلیم کر لیتا ہے۔ ذہن ان کو فوراً؟ لیکن ساتھ ہی ان کی دلیل خود بخود آ جاتی ہے، ان کو کہتے ہیں قضایا قیاساتہا معہا، یہ وہ قضایا ہیں کہ ان کے قیاس ان کے ساتھ ہی آتے ہیں، ان کی دلیل ان کے ساتھ خود ہی آ جاتی ہے۔ دلیل، ذہن کو سوچنا نہیں پڑتا، غور و فکر نہیں کرنا پڑتا۔ بات بدیہیات کی چل رہی ہے نا، بدیہیات میں تو غور و فکر کرنا ہی نہیں پڑتا، تو لہٰذا اس میں بھی فطریات کے اندر بھی وہ جیسے ہی آپ کے سامنے قضیہ آتا ہے، آپ کی نظر جیسے ہی موضوع اور محمول پر پڑتی ہے ساتھ ہی دلیل خود بخود ذہن میں آ جاتی ہے، سوچنا نہیں پڑتا اور آپ اس کو تسلیم کر لیتے ہیں۔
مثلاً "دو جفت ہے"، دو جفت ہے اور "تین طاق ہے"، فوراً آپ نے اس بات کو تسلیم کر لیا۔ اور ساتھ دلیل بھی خود بخود آگئی، سوچنا پڑا آپ کو؟ جیسے کسی نے آپ کے سامنے کہا کہ "چار جفت ہے"، آپ فوراً مان گئے۔ لیکن ساتھ ہی خود بخود دلیل بھی آگئی یا نہیں؟ جیسے یہ آیا چار جفت ہے، ساتھ ہی ایک اور بات بھی ذہن میں، اس کے ساتھ ساتھ آئی کہ اس کے دو برابر حصے ہو سکتے ہیں، لہٰذا یہ کیا ہے؟ جفت۔ مثلاً میں کہتا ہوں: "پینتالیس طاق ہے"، فوراً مان گئے یا نہیں؟ اور ساتھ ہی اسی لمحے میں اس کے ساتھ دلیل بھی آگئی کہ اس کے دو برابر حصے نہیں ہو سکتے۔ میں کہتا ہوں: "دس لاکھ، دس لاکھ جفت ہے"، فوراً ساتھ ہی دلیل ساتھ ہی ذہن میں آگئی کہ اس کے دو برابر حصے ہو سکتے ہیں۔ سوچنا نہیں پڑا، دماغ کو ذرا بھی اس طرف متوجہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ بات سمجھ میں، حالانکہ دس لاکھ کتنا بڑا عدد ہے، اب حساب اگر لگانے بیٹھیں تو حساب کاپی پکڑیں گے، اس کو دو سے تقسیم کریں گے، کیا تقسیم ہوتا ہے، کس طرح ہوتا ہے، لیکن فوراً جیسے ہی آیا ساتھ ہی اس کی دلیل بھی آگئی، سوچنا نہیں پڑا بھئی، فوراً آپ نے کہہ دیا ہاں بالکل ٹھیک بات ہے، یہ دس لاکھ کیا ہے؟ جفت ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے سب کو؟ تو فطریات وہ قضایا ہیں کہ جن کو سنتے ہی ذہن تسلیم کر لیتا ہے لیکن ان کے ساتھ ہی، ان کے ذہن میں آتے ہی ساتھ ان کی دلیل بھی آ جاتی ہے۔ تو ان کو کہتے ہیں: قضایا قیاساتہا معہا، یہ وہ قضیے ہیں قیاسات معہا جن کے قیاس ان کے ساتھ ہی ہوتے ہیں، یعنی دلیل ان کے ساتھ ہی خود بخود ذہن میں آ جاتی ہے۔
اب دیکھیے کتاب پر: "فطریات وہ قضیے ہیں کہ جب وہ ذہن میں آئیں تو ان کی دلیل ذہن سے غائب نہیں ہوتی"۔ دیکھا، ساتھ ہی فوراً دلیل بھی خود بخود آ جاتی ہے، وہ ذہن سے غائب نہیں ہوتی، آپ کو سوچنا نہیں پڑتا۔ "جب وہ ذہن میں آئیں تو ان کی دلیل ذہن سے غائب نہیں ہوتی؛ جیسے چار جفت ہے اور تین طاق ہے۔ دیکھو اس قضیہ میں چار کے جفت ہونے کی دلیل اس کے ساتھ ہی ذہن میں آتی ہے اور وہ یہ ہے کہ اس کے دو برابر حصے ہوتے ہیں"۔ تو اولیات اور فطریات بالکل قریب قریب ہیں، فرق اتنا: اولیات میں دلیل نہ ذہن میں آتی ہے، نہ دلیل کی طرف ذہن جاتا ہے۔ اولیات میں ذہن میں دلیل بھی نہیں آتی اور دلیل کی طرف ذہن بھی نہیں جاتا، بس موضوع محمول سنتے ہی ذہن مان لیتا ہے ہاں جی بات ایسی ہی ہے، سو کا نوٹ پچاس کے نوٹ سے بڑا ہوتا ہے، دیکھا سنتے ہی، نہ کسی دلیل کسی دلیل وغیرہ کی ضرورت نہیں۔ جبکہ فطریات میں دلیل ساتھ آتی ہے، دلیل؟ اولیات میں دلیل کی طرف ذہن جاتا ہی نہیں، نہ ذہن میں دلیل آتی ہے جبکہ فطریات کے اندر دلیل ساتھ ہی ذہن میں آ جاتی ہے۔ ذہن کو نہیں جانا پڑتا دلیل کی طرف، دلیل خود ہی ساتھ آ جاتی ہے۔ اگر ذہن دلیل کی طرف جائے گا، یہ تو غور و فکر ہو جائے گا اور بدیہیات میں تو غور و فکر نہیں ہوتا۔ فرق سمجھ میں آیا بھئی دونوں میں؟
ہاں اگر کوئی شخص، کوئی شخص اس کے سامنے آپ ذکر کریں کہ "کل اپنے جز سے بڑا ہوتا ہے" اور اس کا ذہن کس کی طرف چلا گیا؟ دلیل کی طرف چلا گیا، سوچنے لگ گیا۔ سمجھ جائیں اس کے لیے یہ بدیہی ہے ہی نہیں، یہ اس کے لیے نظری ہے۔ کیونکہ بدیہی اور نظری ہونا لوگوں کے اعتبار سے بدلتا ہے، ایک ہی چیز ایک آدمی کے لیے بدیہی ہو، ہو سکتا ہے دوسرے کے لیے وہ کیا ہو؟ نظری ہو، اس کا ذہن کمزور ہو، تو آپ کے لیے تو "کل اپنے جز سے بڑا ہوتا ہے" یہ بدیہی ہے، بلکہ اولیات میں سے ہے کہ جہاں آپ کو دلیل کی بھی نہیں ضرورت، سنتے ہی فوراً آپ نے مان لیا، لیکن ہو سکتا ہے دوسرا آدمی کیا کرنے لگے؟ غور و فکر کرنے لگ جائے تو سمجھ جائیں اس کے نزدیک تو یہ بدیہی ہی نہیں سرے سے، بلکہ کیا ہے؟ نظری۔ یا ہو سکتا ہے آپ کے نزدیک تو یہ اولیات سے ہے، کسی دوسرے کے لیے یہ فطریات کی قبیل سے ہو، جیسے ہی اس کے ذہن میں کیا آتا ہے کہ "کل اپنے جز سے بڑا ہوتا ہے"، ساتھ ہی اس کے دلیل بھی آتی ہے، دلیل بھی ساتھ اس کے آتی ہے، ذہن تسلیم کر لیتا ہے، تو یہ کس قبیل سے ہو جائے گا؟ فطریات کی قبیل سے۔ فرق سمجھ میں آ رہا ہے؟ تو اولیات میں دلیل کی طرف ذہن جاتا ہی نہیں، اور فطریات میں دلیل خود بخود، ذہن نہیں جاتا لیکن خود بخود دلیل ساتھ آ جاتی ہے اور ان کو کیا کہتے ہیں؟ قضایا قیاساتہا معہا۔ دہرائیں زبان سے: قضایا قیاساتہا معہا، ایسے قضیے قیاساتہا جن کے قیاس یعنی جن کے دلائل معہا ان کے ساتھ ہی ہوتے ہیں، ایسے قضیے جن کے دلائل ان کے ساتھ ہی ہوتے ہیں۔
آگے دیکھیے: "حدسیات: حدسیات وہ قضیے ہیں کہ ان کی دلیلوں کی طرف ذہن جائے لیکن صغریٰ اور کبریٰ کی ترتیب دینے کی ضرورت نہ پڑے"۔ اچھا بھئی، دیکھیے بھئی حدسیات سمجھ لیں، ادھر دیکھیے۔ حدسیات کے ساتھ فکریات بھی سمجھ لیں، نظر و فکر جانتے ہیں یا نہیں؟ نظر و فکر۔ تو نظر و فکر جب ذہن میں ہوگی تو حدس کا سمجھنا بھی آسان ہے۔ حدس: ح، د، س، دال ساکن ہے، حدس۔
آپ نے پڑھا ہے ایک ہے بدیہی، ایک ہے نظر و فکر۔ بدیہی کسے کہتے ہیں؟ جس میں غور و فکر نہیں کرنا پڑتا اور ذہن فوراً ہی ایک بات کو تسلیم کر لے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ بدیہی۔ جبکہ ایک نظری ہے اور جس میں نظر و فکر کی ضرورت پڑے اور نظر و فکر کسے کہتے تھے؟ غور و فکر کو، کس کو کہتے ہیں؟ غور و فکر۔ اب نظر و فکر ابھی تک آپ نے پڑھا، اب تفصیل سمجھو نظر و فکر کسے کہتے ہیں۔ بھئی دیکھیے، نظر و فکر کہتے ہیں غور و فکر کرنے کو اور اس میں ذہن دو مرتبہ دو حرکتیں کرتا ہے، کتنی حرکتیں؟ دو حرکتیں کرتا ہے، دو حرکتیں کرتا ہے اور پھر جا کے نتیجے پر پہنچتا ہے، مطلوب چیز پھر اس کو حاصل ہوتی ہے۔ مثلاً آپ انسان کی حقیقت معلوم کرنا چاہ رہے تھے، کس کی؟ انسان کی۔ تو آپ نے چاہا میں انسان کی حقیقت معلوم کروں کہ انسان کی حقیقت کیا ہے، مطلوب کیا ہے؟ کس کی حقیقت؟ انسان، فوراً آپ کا ذہن حرکت کرتا ہے اور اس الماری میں جا کر چیزیں ڈھونڈنا شروع کر دیتا ہے جہاں اس نے ساری باتیں محفوظ کی ہوئی ہیں۔
جو چیزیں ذہن میں آتی ہیں ذہن ان کو محفوظ کرتا ہے یا نہیں کرتا؟ ایک آدمی سے آپ کی ملاقات ہوتی ہے آج، آج اس کو آپ دیکھ لیتے ہیں، دس دن بعد بھی آپ کے سامنے آتا ہے آپ کہتے ہیں ہاں یہ تو وہی آدمی ہے جس سے دس دن پہلے میری ملاقات ہوئی تھی، تو یہ اس کی پہچان اور یہ اس کی صورت کہاں محفوظ تھی؟ ذہن کے اندر۔ تو ذہن کے سامنے جو جو چیزیں آتی ہیں وہ ذہن کے اندر محفوظ ہوتی چلی جاتی ہیں۔ تو لہٰذا انسان کے بارے میں بہت سی چیزیں آپ کے ذہن میں محفوظ تھیں، مثلاً یہ کہ انسان دو پاؤں پر چلتا ہے، اس کے دو ہاتھ ہوتے ہیں، دو آنکھیں ہوتی ہیں اور یہ چلتا پھرتا بھی ہے، دوڑتا بھی ہے، یہ بہادر بھی ہوتا ہے، یہ بزدل بھی ہوتا ہے، مختلف قسم کی اس کی باتیں آپ کے ذہن میں تھیں۔ اب آپ کیا معلوم کرنا چاہ رہے ہیں؟ اس کی حقیقت، کہ جس سے اس کی حقیقت کا پتہ چل جائے، یہ دوسری چیزوں سے ممتاز ہو جائے، پتہ چلے اس کی حقیقت اور ماہیت کیا ہے۔ تو ذہن کتنی حرکتیں؟ یاد رکھنا یہاں دو حرکتیں کرے گا، پھر جا کے نتیجہ اس کو ملے گا۔ پہلی حرکت کیا؟ آپ کیا تلاش کرنا چاہ رہے ہیں؟ انسان کی حقیقت، فوراً ذہن حرکت کرے گا اور اس خانے میں جا کر جہاں انسان کے بارے میں چیزیں جمع کی ہوئی ہیں، ان ساری چیزوں کو میں پلٹنا شروع کر دے گا کہ کون سی چیز جو ہے جو انسان کی حقیقت کے موافق ہے جس سے انسان کیا ہو جائے؟ دوسری چیزوں سے ممتاز اور جدا ہو جائے۔ تو پہلی حرکت وہاں جا کر چیزیں تلاش کرے گا اور پھر وہاں جا کر اس نے انسان کے بارے میں ساری چیزیں دیکھیں کہ انسان کی دو آنکھیں ہیں، دو پاؤں ہیں، دو کان ہیں، وہ چلتا پھرتا ہے، وہ سخی ہوتا ہے، وہ بہادر ہوتا ہے اور مختلف جو بھی صفات تھیں، اور غور کرتے کرتے بالاخر دو چیزیں اس کو مل گئیں: ایک حیوان اور ایک ناطق۔ حیوان جنس مل گئی اور ناطق اس کا فصل مل گیا جس کے ذریعے وہ باقی حیوانات سے کیا ہے؟ وہ جدا ہو جاتا ہے۔ حیوان سے جنس کا پتہ چل گیا کہ اس کی جنس کیا ہے؟ حیوان، اور ناطق سے باقی حیوانات سے جدا ہو رہا ہے کہ یہ عقل و شعور رکھنے والا ہے، باقی حیوانات میں تو عقل و شعور نہیں، نیز یہ بولنے والا ہے، باقی حیوانات تو بولنے اور باتیں کرنے والے نہیں ہیں، باقی حیوانات تو بولنے اور باتیں کرنے والے نہیں ہیں۔
صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو آپ نے ذہن کو جیسے ہی یہ دو چیزیں ملیں ذہن کو، یہ دو چیزیں لے کر ذہن واپس آ گیا۔ یہ پہلی حرکت۔ کہاں گیا ذہن؟ اس حصے میں گیا جہاں ساری معلومات موجود تھیں اور پھر واپس آ گیا، صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ اچھا پھر جب یہ چیزیں آ گئیں، اب دوسری حرکت ہوتی ہے، ان دو کو ذہن ترتیب دیتا ہے: کس کو پہلے لاؤں، کس کو بعد میں؟ دیکھا تو حیوان جو ہے وہ جنس ہے، اس کو پہلے آنا چاہیے، ناطق جو ہے فصل ہے، اس کو فصل کو بعد میں آنا چاہیے، پہلے جنس کا پتہ چلے پھر باقی جنس والوں سے جدا ہو جائے وہ لفظ بھی آنا چاہیے، تو ان کو ترتیب دیا کیا بنا؟ حیوانِ ناطق۔ اور ان کو ترتیب دیا اور پھر ترتیب دے کر حرکت ہوئی اور آگے نتیجہ مل گیا کہ یہ ہے انسان کی حقیقت۔ تو کتنی حرکتیں ہوئیں؟ دو حرکتیں۔ پہلی حرکت، پہلی حرکت؟ نظر و فکر کسے کہتے تھے؟ دو یا زیادہ معلوم تصوروں کو جوڑنا کہ وہ ہمیں کہاں تک پہنچا دیں؟ مجهول تصور تک۔ دو یا زیادہ معلوم تصوروں کو جوڑنا کہ وہ ہمیں کہاں تک پہنچا دیں؟ مجهول تصور تک۔ تو دیکھا دو معلوم تصور ذہن لے کر آیا یا نہیں؟ حیوان اور ناطق، یہ دو تصور کیسے تھے؟ معلوم۔ ان کو لے کر آیا اور پھر ان کو کیا کیا؟ ترتیب دیا، تو کہاں تک پہنچ گیا؟ نتیجے تک پہنچ گیا، مجهول یعنی انسان کی حقیقت کا پتہ چل گیا۔
تو نظر و فکر میں یاد رکھو ہمیشہ ذہن دو حرکتیں کرتا ہے، کتنی حرکتیں؟ دو حرکتیں، یعنی جو سوچتا ہے نا سوچ میں، یہ چلنے پھرنے والی حرکت مراد نہیں ہے، یہ سوچ میں، سوچ میں دو قسم کی حرکتیں ہوتی ہیں۔ دو حرکتیں کیا؟ پہلی حرکت کیا ہوتی ہے؟ کہ وہ چیزیں یعنی وہ پرزے نکالتا ہے جن کی اس کو ضرورت ہے۔ دوسری حرکت کیا ہوتی ہے کہ ان کو ترتیب دے کر کہاں تک پہنچتا ہے؟ نتیجے تک پہنچتا ہے۔ کتنی حرکتیں کرتا ہے نظر اور فکر میں ذہن؟ دو حرکتیں، پہلی حرکت کیا؟ وہ پرزے نکالتا ہے تلاش کرکے اپنی معلومات، ذہن میں تو ہزاروں لاکھوں چیزیں محفوظ ہیں نا، تو ان میں سے وہ چیزیں دو یا تین جتنے پرزے ضرورت ہیں وہ معلومات لے کر ذہن آتا ہے، یہ پہلی حرکت ہوئی۔ فکر میں حرکت مراد ہے، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ کوئی چلنے پھرنے والی حرکت مراد، یہ فکر میں پہلی حرکت ہوئی، وہ وہ پرزے یا وہ معلوم چیزیں ذہن فوراً نکال کے لے آیا کہ یہ دو تین چیزیں کام کی ہیں اور پھر ان کو ترتیب دے کر کہاں تک پہنچتا ہے؟ نتیجے تک پہنچتا ہے، یہ کون سی حرکت ہے؟ دوسری حرکت ہے۔
تو نظر اور فکر اس میں ہمیشہ ذہن دو حرکتیں کرتا ہے۔ آپ کسی سے کوئی بات پوچھتے ہیں، وہ سوچ میں ڈوب جاتا ہے۔ یہ وہ دو حرکتیں ہیں اس کی، یہ وہ دو حرکتیں ہیں، وہ جواب دینے کے لیے سوچ میں ڈوبا یا نہیں؟ یہ ذہن چلا گیا الماری کے اس خانے میں جہاں ساری چیزیں جمع ہیں، اب جو آپ نے پوچھا ہے ان کو وہ تلاش کر رہا ہے کہ کیا تھا، اس کا جواب کیا تھا، میں نے پڑھا تو تھا کیا جواب ہے؟ اور پھر لا کر آپ کے سامنے اس کو پیش کرتا ہے، یہ کیا ہے؟ نظر اور فکر ہے بھئی۔ اچھی طرح بات سمجھ میں آگئی؟ یہ بات چل رہی تھی نظر اور فکر کی اور بدیہی اور نظر و فکر ایک دوسرے کی ضد ہیں، جو بدیہی ہے وہاں غور و فکر نہیں، جو نظر و فکر ہے اس میں کیا ہے؟ غور اور فکر، اور غور اور فکر میں کتنی حرکتیں؟ دو حرکتیں ہیں۔
بدیہی کے اندر کوئی حرکت نہیں، دیکھو اولیات کے اندر جیسے ہی موضوع اور محمول آپ کے سامنے آئے، ابھی آپ نے پڑھا نا؟ اولیات میں موضوع اور محمول سنتے ہی آپ نے اس کو مان لیا، کوئی حرکت کی، سوچنے کی ضرورت نہیں۔ اور دوسرا فطریات میں جیسے ہی قضیہ آپ کے سامنے آیا ساتھ ہی خود بخود دلیل آگئی، ذرا بھی سوچنے کی ضرورت نہیں۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آگئی بھئی؟
اب بات چل رہی تھی حدسیات کی، تیسری قسم ہے، تیسری قسم بدیہیات کی۔ حدسیات میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے، ذہن میں دو حرکتیں ہوتی ہیں۔ اچھا حدسیات کہتے کسے ہیں؟ حدسیات اسے کہتے ہیں کہ ذہن ایک دم نتیجے تک پہنچ جائے، کہاں تک پہنچ جائے؟ ایک دم نتیجے تک پہنچ جائے۔ پہلے جائے گا فوراً دلیل کی طرف، پہلی حرکت کرے گا اور پھر فوراً دلیل لے کر واپس آئے گا اور کیا پیش کر دے گا؟ نتیجہ پیش کر دے گا۔ تو حدس میں بھی دو حرکتیں، کتنی حرکتیں؟ لیکن یہ حرکتیں اتنی آنن فاناً اور اتنی تیز ہوتی ہیں کہ پتہ بھی نہیں چلتا۔ دیکھو مثال سے وضاحت ہوگی۔
آپ بچے کو قاعدہ پڑھاتے ہیں، اس کے سامنے الف لکھا ہوتا ہے، آپ کہتے ہیں پڑھو، وہ کیا کہتا ہے؟ الف۔ پھر آپ اس کے سامنے با لکھتے ہیں، دیکھو اس کے نیچے ایک نقطہ ہے، پڑھو یہ کیا ہے؟ با۔ پھر تا لکھتے ہیں، اس کے اوپر دو نقطے ڈالتے ہیں کہ یہ کیا ہے؟ تا۔ اب آپ جب بھی بچے کے سامنے قاعدہ رکھیں اور اس کو کہیں پڑھو بھئی، یہ کیا لکھا ہے؟ کسی ایک حرف پہ انگلی رکھ دیتے ہیں، اب وہ سوچ میں ڈوب جائے گا۔ وہ فوراً کیا کر رہا ہے؟ وہ دو حرکتیں کر رہا ہے، اس کا ذہن کہاں گیا؟ وہ جو معلومات آپ نے اس کو یاد کروائی تھیں، اس کا ذہن فوراً حرکت میں آیا اور وہاں چلا گیا، اب وہ ڈھونڈ رہا ہے کہ یہ جو سیدھی لکیر ہو گول سی اور اس کے نیچے ایک نقطہ ہو، اس کا نام کیا بتایا تھا استاد جی نے؟ پھر اس کو یاد آیا کہ ہاں اس کا کیا نام بتایا تھا؟ با۔ اب وہاں سے وہ واپس آتا ہے اور پھر فوراً آپ کو کیا کرتا ہے؟ وہ آپ کو بتلاتا ہے۔ تو یہ ہے غور و فکر، دیکھا وہ سوچ میں ڈوب گیا، سوچ میں ڈوب گیا، یہ ہے غور و فکر، نظر اور فکر۔
اور یہی با میں آپ کے سامنے لکھوں اور آپ سے پوچھوں، جیسے ہی میں لکھوں گا آپ فوراً کہیں گے با، جیسے ہی میں تا لکھوں گا آپ فوراً کہیں گے تا۔ دیکھا آپ کے ذہن میں بھی وہ دو حرکتیں ہوئیں، کیونکہ نقطوں سے ہی آپ پہچان رہے ہیں نا، با اور تا میں کس کا فرق ہے؟ نقطوں کا۔ لیکن تو جیسے ہی تا لکھی، آپ کا ذہن فوراً اس خانے، الماری کے خانے کی طرف گیا اور وہاں اس نے دیکھا کہ یہ جو دو نقطے ہوتے ہیں یہ کیا ہوتی ہے؟ تا، اور پھر آپ فوراً آئے اور آپ نے آ کر مجھے جواب بتا دیا۔ لیکن یہ اتنی تیز حرکت تھی گویا سوچنا پڑتا ہی نہیں۔ اب آپ کے سامنے کوئی با، تا، جیم، ثا وغیرہ لکھے، سوچنا پڑتا ہے؟ نہیں، جیسے لکھے اسی لمحے میں آپ فوراً بتا دیتے ہیں کہ یہ با ہے، یہ تا ہے، یہ جیم ہے، یہ حاہے، تو حرکتیں اب بھی وہ دو ہیں لیکن کتنی تیز رفتار ہیں کہ پتہ ہی نہیں چلتا۔
یا اسی طرح ہے جیسے آپ نحو کے قوانین پڑھتے ہیں کہ فاعل کیا ہوتا ہے؟ مرفوع، مبتدا بھی مرفوع ہوتا ہے، خبر بھی مرفوع ہوتی ہے اور مضاف الیہ کیا ہوتا ہے؟ مجرور، اور یہ حروفِ جارہ کیا کرتے ہیں؟ جر دیتے ہیں۔ دیکھو شروع میں آپ جب عبارت تیار کرتے ہیں آپ کو بڑا غور کرنا پڑتا ہے، بڑی غلطیاں ہوتی ہیں، ذہن میں وہ جو دو حرکتیں کر رہا ہے نا ذہن، جاتا ہے اور پھر آ کر نتیجہ دیتا ہے، اس میں وہ غور اور فکر کرتا ہے، وقت لگاتا ہے۔ لیکن پھر ایک وقت آتا ہے، آپ چوتھے پانچویں سال میں جب پہنچتے ہیں تو اتنی مہارت ہو جاتی ہے کہ آپ بغیر سوچے عبارت ایسی رفتار سے پڑھ رہے ہوتے ہیں، ذہن میں وہ چیزیں آ رہی ہیں، کہاں زبر پڑھنا ہے کہاں زیر پڑھنا ہے، یہ خود بخود ہوتا ہے یا سوچنا پڑتا ہے کہ یہ فاعل ہے یہ مفعول ہے وغیرہ؟ سوچنا تو پڑتا ہے، لیکن وہ کتنی برق رفتاری سے ذہن سوچتا جا رہا ہے کہ اسی لمحے میں سوچتا بھی جا رہا ہے اور زبان پر پڑھتا بھی چلا جا رہا ہے بغیر رکے، رفتار کے ساتھ بھئی، اس کو کہتے ہیں حدس۔ کیا کہتے ہیں؟ حدس۔ یعنی یعنی یوں کہو، حدس کہتے ہیں ذہن کا فوراً ہی نتیجے تک پہنچ جانا، فوراً ہی نتیجے تک۔ اور اس میں کیا دلیل آئے گی یا نہیں؟ دلیل اس میں آئے گی، بغیر دلیل کے نہیں، وہ دو حرکتیں یہاں بھی ہوں گی لیکن وہ اتنی رفتار سے ہوں گی گویا کہ ہیں ہی نہیں، گویا کہ ہیں ہی نہیں۔ تو لہٰذا جب اس میں دو حرکتیں ہیں کس میں؟ حدس میں، تو اس کو بدیہی نہیں کہنا چاہیے، کیا کہنا چاہیے؟ نظر اور فکر کی قبیل سے کہنا چاہیے۔ لیکن چونکہ یہ حرکتیں اتنی رفتار سے ہوتی ہیں گویا پتہ ہی نہیں چلتا، گویا ہیں ہی نہیں اتنی رفتار ہوتی ہے، تو اس لیے اس کو بدیہیات میں شمار کرتے ہیں، ورنہ اس کو شمار تو کس میں سے کرنا چاہیے تھا؟ نظریات میں سے۔
اب دیکھیے کتاب پر: "حدسیات وہ قضیے"، اچھا ہاں ایک اور بات، کتاب والے اس کی تعریف کریں گے لیکن یہ درست تعریف نہیں، اس میں کچھ کمی ہے۔ میں نے بتلایا کہ حدسیات کے اندر بھی ذہن کتنی حرکتیں کرتا ہے؟ دو حرکتیں کرتا ہے لیکن البتہ وہ حرکتیں اتنی تیزی سے ہوتی ہیں، اتنی رفتار سے ہوتی ہیں کہ پتہ ہی نہیں چلتا بھئی، پتہ ہی نہیں چلتا۔ جبکہ کتاب کے اندر یہ ذرا مختلف تعریف کرتے ہیں، دیکھیے بھئی، یہ کہتے ہیں: "حدسیات وہ قضیے ہیں کہ ان کی دلیلوں کی طرف ذہن جائے لیکن صغریٰ و کبریٰ کی ترتیب دینے کی ضرورت نہ پڑے بھئی"۔ صغریٰ کبریٰ کو ترتیب دینے کی ضرورت نہ پڑے بھئی۔ بھئی صغریٰ کبریٰ کو یہاں بھی ترتیب دینے کی ضرورت پڑتی ہے، دلیلوں کی طرف ذہن بھی جاتا ہے اور پھر ذہن صغریٰ اور کبریٰ کو ملا کر کہاں تک پہنچتا ہے؟ نتیجے تک بھی پہنچتا ہے، لیکن یہ اتنا آنن فاناً اور اتنی رفتار سے ہوتا ہے کہ پتہ ہی نہیں چلتا۔ تو صاحبِ کتاب کی اس تعریف میں تسامح ہے، یعنی کچھ کمی ہے۔ تو صاحبِ کتاب کیا فرما رہے ہیں کہ حدسیات وہ قضیے کہ دلیلوں کی طرف بھی ذہن جاتا ہے لیکن صغریٰ کبریٰ کو ملانے کی ضرورت نہیں پڑتی، یعنی یوں کہیں گویا ان کے نزدیک یہاں ایک ہی حرکت ہے، ذہن دلیل کی طرف تو گیا لیکن صغریٰ کبریٰ یعنی دوسری حرکت کی ضرورت نہیں ہے، حالانکہ یہاں بھی دو حرکتیں ہیں بھئی، دو حرکتیں ہیں۔ دو حرکتیں ہیں اور چنانچہ دیگر کتابوں میں اس کی تصریح ہے اور جیسے اس کتاب کے حاشیے میں بھی مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ نے یہی بات لکھی ہے کہ حدس کے اندر بھی دو حرکتیں ہوتی ہیں ذہن کی بھئی، یہ آپ بعد میں حاشیہ پڑھ لیجیے گا۔ تو درست تعریف کیا ہے کہ دلیل کی طرف بھی ذہن جاتا ہے اور صغریٰ کبریٰ کو بھی ترتیب دینے کی ضرورت پڑتی ہے وہاں پر۔
تو حدسیات وہ، اب دیکھیے کتاب پر: "حدسیات وہ قضیے ہیں کہ ان کی دلیلوں کی طرف ذہن جائے لیکن صغریٰ و کبریٰ کی ترتیب دینے کی ضرورت نہ پڑے"، دیکھا صغریٰ کبریٰ کو ترتیب دینے کی ضرورت نہ پڑے، حالانکہ ترتیب دینے کی ضرورت پڑتی ہے لیکن بہت رفتار سے ہوتا ہے یہ۔ "جیسے کسی مفتی کامل سے"، کامل یعنی بڑا ماہر مفتی تھا، "کسی مفتی کامل سے پوچھا کہ چوہا کنویں میں گر پڑا، کتنے ڈول نکالیں؟ اور وہ فوراً جواب دے کہ تیس ڈول نکالنا واجب ہے، تیس ڈول نکالنا ضروری ہے۔ تو یہ قضیہ کہ تیس ڈول نکالنا واجب ہے، حدسی ہے کہ اس مفتی کا ذہن دلیل کی طرف گیا لیکن صغریٰ کبریٰ ملانے کی ضرورت نہیں پڑی"۔ نہیں، صغریٰ کبریٰ یہاں بھی ملانا پڑے گا کیونکہ دلیل بنتی کس سے ہے؟ صغریٰ اور کبریٰ سے، لیکن اتنی رفتار سے ہوا کہ بیان سے باہر بھئی۔ یہ جو مثال ذکر کی، مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ حاشیے میں فرماتے ہیں کہ یہ خطابیات کی قبیل سے ہے بھئی، خطابیات، خا کے فتحہ کے ساتھ۔ یہ خطابیات کی قبیل سے ہے جو آگے آ رہا ہے قیاسِ خطابی بھئی۔ قیاسِ؟ یہ قیاسِ خطابی کی مثال ہے، مصنف نے یہ مثال یہاں ذکر کر دی حدسیات کے اندر، حالانکہ یہ قیاسِ خطابی کی مثال ہے اور اس کو خطابیات کے اندر ذکر کرنا چاہیے تھا بھئی۔
اور یہ عموماً یاد رکھیے، یہ جو حدس ہے نا، یہ یہ پیدائشی بھی ہو سکتا ہے، بعض لوگوں کو اللہ نے تیز ذہن دیا ہوتا ہے، وہ اشارے سے ہی فوراً نتیجے تک پہنچ جاتے ہیں، اشارہ بھی دے دو وہ بات کی تہہ تک پہنچ جاتے ہیں۔ تو اللہ کے خاص انوارات اور خاص برکات ان کے ساتھ ہوتی ہیں، اللہ نے ذہن تیز دیا ہوتا ہے، وہ فوراً نتیجے تک پہنچ جاتے ہیں، غور و فکر کی ان کو ضرورت نہیں پڑتی بھئی۔ اور جبکہ عام لوگوں میں یہ کوشش سے بنتا ہے بھئی؛ جیسے بچہ الف، با، تا شروع میں مشکل تھی لیکن جب وہی اس نے کوشش کی، اب اس کے لیے کیا بن گئے؟ پہلے نظری اور فکری تھے اب کیا بن گئے؟ حدسی بن گئے۔ یا جیسے آپ کے لیے نحو کے قوانین پہلے کیا تھے؟ فکری اور نظری تھے، پھر کیا بن گئے؟ حدسی بن گئے۔ تو عام لوگوں میں اس میں عام لوگوں میں حدس کیسے آتا ہے؟ محنت اور کوشش سے آ جاتا ہے بھئی۔
اچھا، چلیے یہاں تک بات اچھی طرح سمجھ میں آگئی۔ حاصلِ کلام کیا ہوا کہ آپ نے پڑھا کہ قیاس کی پانچ قسمیں ہیں: قیاسِ برہانی، قیاسِ جدلی، قیاسِ خطابی، قیاسِ شعری اور قیاسِ سفسطی۔ ان میں سب سے اعلیٰ درجے کا قیاس کون سا؟ قیاسِ برہانی، اور قیاسِ برہانی وہ قیاس ہے جس کے مقدمات یقینی ہوتے ہیں، یعنی یقین پر مشتمل ہوتے ہیں اور یہ نظری بھی ہو سکتے ہیں اور بدیہی بھی۔ اور جو بدیہیات ہیں وہ پھر انہوں نے آپ کو بتلایا چھ قسم پر ہیں، ان میں سے ہم نے تین قسمیں پڑھ لیں: نمبر ایک اولیات، نمبر دو فطریات، نمبر تین حدسیات۔
اولیات وہ ہیں کہ جیسے ہی آپ کے سامنے قضیہ آتا ہے، موضوع و محمول کی طرف دیکھتے ہی آپ فوراً مان لیتے ہیں کہ ایسا ہی ہے، دلیل کی طرف ذہن جاتا ہی نہیں بالکل بھئی، دلیل موجود ہوتی ہے لیکن اس طرف ذہن جاتا ہی نہیں۔ تو یہ بدیہی ہے، بدیہی میں بھی غور و فکر نہیں کرنا پڑتا۔
دوسری قسم ہے فطریات بھئی، فطریات وہ ہیں کہ جہاں وہ قضیہ ہے کہ جیسے ہی آپ کے سامنے آتا ہے ساتھ ہی اس کی دلیل بھی ذہن میں آ جاتی ہے بھئی، ساتھ ہی دلیل، دلیل ذہن سے غائب نہیں ہوتی، اس کے ساتھ ہی آ جاتی ہے اور ان کو کیا کہتے ہیں؟ قضایا قیاساتہا معہا۔ پھر دہرائیں: قضایا قیاساتہا معہا، یہ ایسے قضیے ہیں قیاساتہا کہ جن کے قیاس جو ہیں معہا ان کے ساتھ ہی ہوتے ہیں۔
اور تیسرے حدسیات ہیں بھئی، حدسیات۔ اور میں نے بتایا حدسیات کہ ذہن کا فوراً کہاں تک پہنچنا؟ نتیجے تک، اس کو حدس کہتے ہیں۔ اور اس میں بھی ذہن کی دو حرکتیں ہوتی ہیں، جیسے نظر اور فکر میں دو حرکتیں تھیں، پہلی حرکت کیا کہ ذہن حرکت کرتا ہے اور معلومات میں سے وہ مطلوبہ چیزیں نکال لیتا ہے، وہ ضرورت کی چیزیں نکال لیتا ہے اور دوسری حرکت پھر کیا ہوتی ہے کہ ان کو ترتیب دے کر کہاں تک پہنچتا ہے؟ نتیجے تک پہنچتا ہے۔ تو نظر اور فکر میں یہ دو حرکتیں ہوتی ہیں، حدس میں بھی یہی ہوتا ہے لیکن حدس کے اندر اتنی مہارت ہو جاتی ہے یا اللہ نے ایسا زبردست ذہن دیا ہوتا ہے کہ یہ اتنے آنن فاناً، اتنی رفتار سے ہوتا ہے کہ گویا پتہ ہی نہیں چلتا، یوں لگتا ہے کہ بغیر سوچے ہی فوراً ہو گیا، اتنی رفتار سے ذہن نتیجے تک پہنچتا ہے، اس کو حدس کہتے ہیں۔
چلیے بس بھئی، ھٰذا ھو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔