Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

مختصر القدوری · dars-005

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Shabeer Ahmad
📍 Location Peshawar, Pakistan
📅 Approved Date 13 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★ Very Good
👁️ Total Views 8
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
والمعانی الناقضۃ للوضوء کل ما خرج من السبیلین والدم والقیح والصدید اذا خرج من البدن فتجاوز الی موضع یلحقہ حکم التطھیر۔ اچھا بھئی۔ غسل کے فرائض وضو کے فرائض بھی بیان ہوگئے اس کی سنتیں اور مستحبات بھی ذکر ہوگئے۔ اب وضو کو توڑنے والی چیزوں کا ذکر ہوگا بھئی، وضو کو توڑنے والی۔ والمعانی الناقضۃ اور وہ اسباب وہ علتیں الناقضۃ للوضوء جو وضو کو توڑنے والی ہیں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ یاد رکھو فقہ کی کتابوں میں معنی کا لفظ ائے بھئی تو عموماً اس کا معنی جو ہے سبب اور علت کے ساتھ کریں گے۔ سبب اور علت کے ساتھ کریں گے۔ قیمتی نقطہ ہے مولانا یاد رکھنا، آگے تمام کتابوں میں آپ کے کام آئے گا۔ ہر جگہ تو نہیں لیکن اکثر جو ہے یہ معنی ہوگا۔ تو کہتے ہیں والمعانی الناقضۃ للوضوء وضو کو توڑنے والے اسباب بھئی۔ کون کون سے ہیں؟ کہتے ہیں کل ما خرج من السبیلین ہر وہ چیز جو خارج ہو من السبیلین دو راستوں سے پیشاب پخانے کے دو راستوں سے جو کچھ نکلے وہ وضو کو توڑنے والا ہے بھئی۔ والدم اور اسی طرح خون مولانا بدن سے کہیں سے خون نکل آئے اس سے وضو کیا ہوگا؟ ٹوٹ جائے گا بھئی ٹوٹ جائے گا۔ لیکن یاد رکھیے خون ایسا ہو جو بہنے والا ہو، بہنے کے قابل ہو۔ سمجھ میں آیا؟ پھر وضو ٹوٹے گا۔ فرض کریں آپ کہیں گر گئے آپ کے ہاتھ پر خراش آگئی، اب اس خراش کے اوپر خون بھئی نکل آیا جمع ہوا، لیکن تھوڑا سا ہوتا ہے آپ دیکھتے ہیں بہتا نہیں ہے بھئی، بہتا نہیں ہے، تھوڑا سا ہے تو یاد رکھیے اس سے وضو نہیں ٹوٹے گا بھئی، کیونکہ میں نے بتلایا کون سے خون سے وضو ٹوٹے گا؟ بہنے والا۔ یعنی اتنا ہو کہ بہہ سکے بھئی، بہہ سکے بس۔ یا کوئی کانٹا چبھ گیا بھئی، سوئی چبھ گئی تھوڑا سا خون انگلی پہ نکل آیا مولانا، لیکن بہا نہیں، وہ زخم کے منہ پر ہی رہا، اس سے وضو نہیں ٹوٹے گا بھئی جو بہنے والا ہو۔ والقیح اور اسی طرح پیپ ہے مولانا، زخم میں سے پیپ نکل آئے اس سے بھی وضو کیا ہوگا؟ ٹوٹ جائے گا۔ والصدید اور کچ لہو کچ لہو یعنی وہ پیپ جو خون کے ساتھ ملی ہوئی ہو بھئی۔ بھئی بعض اوقات زخم سے صرف پیپ نکلے گی بعض اوقات اس کے ساتھ کیا ملا ہوا ہوگا؟ خون بھی ملا ہوا ہوگا اس پیپ کے ساتھ، اسے کچ لہو کہتے ہیں مولانا۔ اس سے بھی وضو ٹوٹ جائے گا۔ إذا خرج من البدن جب یہ کیا ہو؟ بدن سے نکلے فتجاوز پس تجاوز کر جائے بڑھ جائے الی موضع ایسی جگہ کی طرف یلحقہ حکم التطھیر کہ ملا ہوا ہو اس کے ساتھ پاکی کا حکم۔ پاک کرنے کا حکم ملا ہوا ہو۔ بھئی دیکھیے بھئی، کہ بدن سے خون نکلا، خون نکلنے کے بعد زخم کے منہ پر ہی رہتا ہے، ادھر ادھر پھیلتا نہیں، تو اس سے وضو ٹوٹے گا یا نہیں ٹوٹے گا؟ اس لیے کہ خون، پیپ، کچ لہو ان سے وضو اسی وقت ٹوٹتا ہے جب یہ بدن سے نکلیں بھی اور ایسی جگہ کی طرف تجاوز کر جائیں، بڑھ جائیں، جس کے دھونے کا، پاک کرنے کا غسل یا وضو میں کیا دیا گیا ہے؟ حکم دیا گیا ہے۔ اب یہ زخم کے منہ پر خون نکلا اور یہ پھیل کر ادھر ادھر جلد پر لگ گیا، اب زخم کے جو ارد گرد جگہ ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ جلد جو ہے یہ جگہ غسل اور وضو میں دھونا فرض ہوگا یا نہیں بھئی؟ جی غسل بھئی وضو میں اگر مثلاً کسی ایسی جگہ پر بھی زخم ہے جو وضو میں نہیں دھوئی جاتی مثلاً گھٹنے وغیرہ پر ہے، لیکن اس جگہ کو غسل میں دھویا جاتا ہے یا نہیں دھویا جاتا؟ غسل میں تو دھویا جاتا ہے، تو بس ان تینوں میں سے کوئی چیز نکلے اور اپنی جگہ سے تجاوز کر جائے ایسی جگہ کی طرف جس کا دھونا غسل یا وضو میں فرض ہو، تو اس سے کیا ہوجائے گا وضو ٹوٹ جائے گا۔ ضابطہ سمجھ میں آیا؟ لہذا اب سوئی لگی ہاتھ میں، تھوڑا سا خون نکل آیا اوپر، لیکن کیا اس خون نے ادھر ادھر کھال کی طرف تجاوز کیا؟ ادھر ادھر زخم سے دائیں بائیں کسی طرف وہ خون نہیں پھیلا، اگر ادھر ادھر پھیل جاتا تو ہم کہتے یہ خون بڑھ گیا، تجاوز کر گیا، ایسی جگہ تک پہنچ گیا جس کا دھونا غسل میں کیا تھا؟ فرض تھا، لیکن یہ تو ایسی جگہ چونکہ نہیں پہنچا، لہذا اس سے وضو اور اگر یہ خون بڑھ جاتا ہے، ایک قطرے کے قریب نکل آیا وہ لازمی بات ہے زخم کے منہ پر نہیں رہے گا بلکہ بہہ جائے گا تھوڑا سا ایک طرف، تو اب اس نے کیا کیا بھئی؟ تجاوز کر گیا ایسی جگہ کی طرف جس کا دھونا غسل میں یا وضو میں فرض تھا یا وضو میں فرض تھا، تو لہذا اب وضو کیا ہوگا؟ ٹوٹ جائے گا۔ معلوم ہوا اتنی مقدار نکل آئے تو وضو ٹوٹ جائے گا، یہ ضروری نہیں کہ تجاوز کر جائے لیکن عموماً تجاوز کر جائے گا بھئی۔ مثلاً ایک آدمی ہے وہ زخم سے اس کے خون نکل رہا ہے اور وہ کپڑے یا روئی سے اس کو بار بار صاف کرتا چلا جا رہا ہے، اب یہ خون اس نے کوئی تجاوز کیا ایسی جگہ کی طرف؟ اس نے تجاوز کرنے ہی نہیں دیا، لیکن اگر وہ اس کو چھوڑ دیتا تو تجاوز کرتا یا نہ کرتا؟ کرتا، تو اب چاہے اس نے تجاوز نہیں کرنے دیا لیکن حکم اس کا وہی ہے جیسے تجاوز کر چکا ہو، لہذا اب اس کی وجہ سے کیا ہوگا؟ وضو ٹوٹ جائے گا۔ مسئلہ سب کو سمجھ میں آیا بھئی؟ لہذا کبھی خراش وغیرہ آئے، خون نکلے، تو اس کو دیکھ کر پھر بھئی اگر تھوڑا خون ہے، زخم کے منہ پر ہی ہے، ادھر ادھر نہیں پھیلا تو شک کرنے کی، پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، فورا کیا فتویٰ لگا دیں؟ کہ وضو نہیں ٹوٹا بھئی، اور اگر ذرا زیادہ نکلا ہے، تو پھر وضو ٹوٹنے کا حکم لگا دیں بھئی اس پر۔ بات سب کو سمجھ میں آگئی بھئی؟ अच्छा अब मुझे आप मसला बताइए भाई। ایک شخص کی آنکھ میں دانہ تھا، وہ دانہ آنکھ کے اندر ہی پھٹ گیا اور اس میں سے پانی وغیرہ نکل آیا، وہ آنکھ کے اندر ہی ہے بھئی، باہر نہیں نکلا لیکن پھیل گیا ہے، اب آپ بتائیے کیا حکم لگائیں گے بھئی؟ وضو ٹوٹے گا کہ نہیں ٹوٹے گا؟ کیوں نہیں ٹوٹے گا؟ بھئی کیونکہ اس نے ایسی جگہ کی طرف تجاوز ہی نہیں کیا، آنکھ کے اندر کا دھونا کوئی وضو یا غسل میں فرض ہے؟ نہیں، لہذا سیدھا سا حکم لگا دیں گے آپ۔ اچھا بھئی۔ تو اسی لیے کہتے ہیں والدم والقيع خون اور پیپ والصدید اور کچ لہو اذا خرج من البدن جب یہ بدن سے خارج ہوں فتجاوز پس یہ تجاوز کر جائیں الی موضع ایسی جگہ کی طرف یلحقہ حکم التطھیر جس کے ساتھ ملا ہوا ہو پاک کرنے کا احکام۔ والقیء اذا کان ملء الفم اور اسی طرح قے اذا کان ملء الفم جب وہ منہ بھر ہو بھئی۔ ملا یملئ کا معنی کیا ہوتا ہے؟ بھرنا کسی چیز کا بھئی۔ تو ملء الفم، فم منہ کو کہتے ہیں، ملء الفم منہ بھر ہو بھئی۔ منہ بھر ہو کر یہ کیا معنی بھئی؟ اتنی قے نہیں کہ منہ کو بھر دے بھئی، سمجھ میں آیا؟ بھئی وہ قے جسے انسان روک نہ سکے بس۔ کیا کرے؟ روک نہ سکے مولانا۔ آسان لفظوں میں یوں کہو، تھوڑی سی بھی قے آئی تو وضو ٹوٹ گیا۔ تھوڑی سی بھی قے آگئی تو وضو کیا ہوگا؟ ہاں، اتنی قے تھی، بعض اوقات تو حلق وغیرہ میں آتی ہے مولانا، یا منہ تک آگئی، لیکن باہر نہیں آئی، تھوڑی سی تھی بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اس سے نہیں بھئی، تو یہاں پر یاد رکھو بھئی۔ منہ بھر سے کیا مراد ہے؟ جسے انسان آسانی سے روک نہ سکے، ہاں، منہ بھر کا یہ ترجمہ، لفظی ترجمہ نہ کرنا کہ منہ کو بھر دے، وہ منہ بھر نہیں بھئی، جسے انسان آسانی سے روک نہ سکے، اور اس میں تو جو صرف منہ تک آئی، بس واپس ہو گئی، بھئی اس سے وضو نہیں ٹوٹا، ہاں منہ سے باہر نکل آئی، تو پھر وضو ٹوٹ گیا۔ سمجھ میں آیا؟ تو یہاں منہ کو ہم داخل کا حکم دے دیتے ہیں، کس چیز کا حکم؟ داخل کا، تو وہ قے جو خارج الی الفم ہو، لفظوں پر غور کرنا، وہ قے جو خارج الی الفم ہو، منہ تک آئے بس، اس سے وضو نہیں اور وہ قے جو خارج من الفم ہو، منہ سے خارج ہو جائے، اس سے کیا ہوگا؟ وضو ٹوٹ جائے گا، باضابطہ سمجھ میں آیا؟ منہ کو ہم نے کس کا حکم دیا؟ بدن کے اندر کا ہی حکم دیا، جو قے خارج الی الفم آئی، منہ تک آئی گویا خارج ہی نہیں ہوئی، اور جب خارج ہی نہیں ہوئی تو وضو بھی نہیں۔ اور وہ قے جو خارج من الفم ہو گئی، منہ سے نکل آئی، بس اب کیا ہوگا؟ وضو ٹوٹ جائے گا۔ تو منہ کو ہم نے کون سا حکم دے دیا؟ اندر کے بدن والا بھئی، داخل کا حکم بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ وہ ضابطہ اوپر گزر گیا بھئی، دانت سے خون نکلتا ہے بھئی، کلی کرنا فرض ہے یا نہیں غسل میں؟ جی، غسل میں، غسل میں، وضو میں تو سنت ہے، غسل میں کیا ہے؟ کلی کرنا فرض ہے، تو دانتوں سے خون نکل آیا، منہ میں پھیل گیا، وضو ٹوٹ جائے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں والقیء اذا کان ملء الفمی اور قے جب وہ منہ بھر ہو، والنوم مستجیعا او متکیا او مستندا اور نیند بھئی سونا، نیند بھئی، مستجیعا بھئی، پہلو لگائے ہوئے، پہلو کے بل مولانا، ایک پہلو کے بل سو جانا بھئی، ایک پہلو کے بل سو جانا۔ او متکیا، اچھا اتکا مولانا اتکا، اتکا کہتے ہیں دونوں گھٹنوں پر سر سا رکھنا، یہ کیا کہلاتا ہے؟ اتکا، بھئی رکھ سکتے ہیں یا نہیں آپ دونوں گھٹنوں پر سر بھئی؟ جی، رکھ سکتے ہیں۔ بھئی آپ نے دیکھا ہوا ہوگا، بعض لوگ بیٹھے ہوئے ہیں، تھکے ہوئے ہیں، بھئی گھٹنوں کو پکڑ کر بیٹھے ہیں، گھٹنوں پر ہی سر رکھا ہوا ہے۔ تو گھٹنوں پر سر رکھ کر سر رکھنا یہ کیا کہلاتا ہے؟ اتکا کہلاتا ہے، اتکا، یعنی تکیہ اپنے ہی عضو پر اس نے لگایا ہوا ہے، گھٹنے پر ہی، یہ اتکا کہلاتا ہے۔ بعض کہتے ہیں اتکا ہے، پہلو کے بل، پہلو کے بل ٹیک لگانا بھئی، ایک پہلو پر کیا ہو؟ بھئی دیکھیے، اب میں نے اس وقت ٹیک لگائی ہے، پہلو پر ہوں یا سیدھا ہوں بھئی؟ اس وقت، اس وقت، سیدھے، سیدھے میں نے ٹیک لگائی ہوئی ہے کمر کے۔ اب یہی میں ذرا ایک سائیڈ پر ہو کر ٹیک لگاتا ہوں بھئی، تکیہ وغیرہ پڑا ہو تو آدمی اس طرح بھی بیٹھ جاتا ہے، یہ کیا کہلاتا ہے؟ یہ اتکا ہے مولانا، کیا ہے؟ اتکا ہے۔ تو اتکا کے دونوں معنی میں نے بیان کردیے بھئی، ایک کیا؟ گھٹنوں پر سر رکھنا اور دوسرا پہلو پر ٹیک لگانا۔ او مستنداً، یا کیا ہو؟ او مستنداً، یہ مستنداً، استناد کا معنی بھی وہی ہے، سہارا لینا، ٹیک لینا بھئی، کمر کے ساتھ بھئی، جیسے اس وقت میں بیٹھا ہوں بھئی، کمر کے ساتھ کسی چیز کے ساتھ کوئی ٹیک لگا لے بھئی۔ چاہے تکیہ ہو، چاہے دیوار ہے، چاہے ستون ہے، یہ کیا کہلاتا ہے؟ استناد کہلاتا ہے۔ کیا کہلاتا ہے؟ استناد کہلاتا ہے۔ تو ان تینوں حالتوں میں سے کسی حالت میں بھی نیند ہو، جی، تو وضو ٹوٹ جائے گا۔ تو کہتے ہیں والنوم اور نیند جو ہے مستجیعاً، پہلو کے بل او متکیماً یا گھٹنوں پر یا پہلو پر ٹیک او مستنداً الی شیء، یا ٹیک لگائے ہوئے کسی چیز کے ساتھ بھئی، میں نے بتلایا کسی بھی چیز کے ساتھ ٹیک لگائی جائے، کمر کے ساتھ، یہ کیا کہلاتا ہے؟ استناد کہلاتا ہے۔ لیکن نیند ایسی ہو، اتنی ہو جائے لو اوزیلا، اگر اس چیز کو ہٹا دیا جائے لسقط عنہ، تو وہ اس آدمی اس سے گر جائے۔ سمجھ میں ہلکی سی اونگھ آئی ہے مولانا، اب اگر اس چیز کو ہٹا دیں ایک طرف، تو وہ آدمی نہیں گرا، نہیں ایکدم سنبھل گیا۔ سمجھ میں آیا؟ اور تھوڑی سی ذرا سی زیادہ ہو گئی، اب اگر اس چیز کو ہٹائیں گے وہ آدمی کیا ہوگا؟ گر جائے گا، تو تھوڑی اتنی آجائے کہ وہ اس چیز کو ہٹانے سے وہ آدمی گر جائے، تو اس یہ نیند جو ہے، اس سے وضو ٹوٹے گا مولانا۔ سمجھ میں آئی بات بھئی؟ ہلکی اونگھ آگئی یا کچھ نہیں۔ اس سے نہیں بھئی، اسی طرح نماز کی حالت میں کوئی سو جائے مولانا، کھڑے ہوئے یا تحیات کی شکل میں، یا سجدے میں، یا رکوع میں، تو اس سے وضو نہیں ٹوٹے گا بھئی۔ اس سے وضو نہیں ٹوٹے گا۔ اچھا، بھئی ان حالتوں میں سونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، کیوں وضو ٹوٹتا ہے؟ کہتے ہیں اس لیے کہ نیند کی حالت میں انسان غافل ہو جاتا ہے، اسے پتہ نہیں چل سکتا، ہو سکتا ہے اس کے بدن سے کوئی نجاست خارج ہوئی ہو۔ تو اب نیند میں ہے، اس کا پتہ تو چل نہیں سکتا، لہذا ہم نے نیند تو بھئی نیند کے اندر ہم وضو ٹوٹنے کا حکم لگاتے تھے بے ہوشی تو اس سے بڑھ کر ہے نیند میں تو ہاتھ لگاؤ گے دوسرے کو فورا جاگ جائے گا بے ہوشی میں تو جاگے گا بھی نہیں تو بے ہوشی تو اس سے بھی بڑھ کر ہے لہذا جب نیند میں وضو ٹوٹنے کا حکم تھا تو بے ہوشی میں بطریق اولی کیا ہوگا وضو کے ٹوٹنے کا حکم۔ والجنون اور جنون والا نہ کسی کو جنون لاحق ہوا بھئی پاگل پن بھئی تو جنون میں تو عقل پہ بے ہوشی میں یا نیند میں تو عقل پر غفلت طاری ہو جاتی ہے بھئی جبکہ جنون کے اندر تو عقل سرے سے ہی زائل ہو جاتی ہے ختم ہو جاتی ہے لہذا اس میں بھی کیا ہوگا وضو ٹوٹ جائے گا۔ والقہقہۃ فی کل صلاۃ ذات رکوع وسجود اور اسی طرح قہقہہ ہر ایسی نماز کے اندر جو رکوع اور سجدے والی ہے جو رکوع اور سجدے والی ہے اچھا بھئی تو یاد رکھیے مولانا نماز کے اندر قہقہہ لگائے گا بھئی تو نماز تو ٹوٹ گئی ساتھ وضو بھی کیا ہوا؟ ٹوٹ گیا ٹوٹ گیا بھئی ٹوٹ گیا سمجھ میں آیا بھئی تو نماز میں کوئی قہقہہ لگائے بھئی کیا حکم لگائیں گے آپ فورا؟ نماز تو ٹوٹی ہی وضو بھی ٹوٹ گیا جائے دوبارہ وضو کر کے آئے مولانا سمجھ میں آیا؟ دوبارہ اور وہ نماز بھی رکوع اور سجدے والی ہو نماز بھی کیا ہو؟ رکوع اور سجدے والی ہو لہذا ایک آدمی مولانا نماز جنازہ کے اندر قہقہہ لگا کر ہنس پڑا آپ کیا حکم لگائیں گے؟ نہیں وضو نہیں ٹوٹا کیوں؟ کیونکہ ایسی نماز کا ہونا ضروری تھا جو رکوع اور سجدے والی ہو نماز جنازہ میں رکوع اور سجدہ نہیں ہے صورت سمجھ میں آگئی؟ یا اسی طرح کوئی سجدہ تلاوت کے اندر قہقہہ لگا دیتا ہے تو یہ بھی مولانا اس میں بھی دیکھو رکوع وغیرہ نہیں ہے مولانا تو اس کے اندر بھی نہیں بھئی۔ تو پوری نماز ہو رکوع اور سجدے والی اس کے اندر قہقہہ لگائے تو وضو ٹوٹ جائے گا۔ अच्छा और याद रखें यहां तीन लफ्ज़ याद रखना तीन लफ्ज़ याद रखना قہقہہ ضحک اور تبسم بھئی ضحک ضاد حا چھوٹا کاف بھئی ضاد حا چھوٹا کاف اور تبسم یاد رکھیے تبسم وہ ہے ہاں قہقہہ قہقہہ وہ ہے جس کے اندر پاس والے بھی آواز سنتے ہیں ہنسی کی بھئی۔ پاس والے اگر آواز ہنسی کی سن لیتے ہیں تو یہ کیا کہلاتا ہے؟ قہقہہ کہلاتا ہے۔ اور اگر پاس والے آواز نہیں سنتے صرف دانت ظاہر ہوئے خود ہی آواز سن لی اپنی ہلکی سی تو یہ ضحک کہلاتا ہے۔ کیا کہلاتا ہے؟ ضحک۔ ضحک میں کیا ہوتا ہے؟ پاس والے آواز نہیں دانت ظاہر ہو جائیں گے اور خود آواز سن لے گا بس بہت ہلکی سی آواز اور ایک ہے تبسم مولانا تبسم تبسم کے اندر تو خود بھی آواز نہیں سنتا مولانا۔ خود بھی آواز نہیں سنتا بھئی۔ تو یاد رکھیے قہقہہ سے نماز بھی گئی وضو بھی گیا۔ ضحک سے نماز تو گئی لیکن وضو نہیں گیا۔ اور تبسم سے نہ وضو گیا اور نہ نماز گئی۔ صورت سمجھ میں آگئی قہقہہ کی صورت میں نماز بھی ٹوٹ گئی وضو بھی ٹوٹ گیا۔ ضحک کی صورت میں نماز تو ٹوٹی لیکن وضو نہیں ٹوٹا۔ اور تبسم کی صورت میں نماز بھی نہیں ٹوٹی اور وضو بھی نہیں ٹوٹا۔ وجہ بھی آپ سوچتے ہوں گے بھئی یہ کیا وجہ ہے؟ قہقہے سے چلو نماز تو ٹھیک ہے ٹوٹ گئی ہے وضو ٹوٹنے کا حکم کیوں لگا؟ یاد رکھیے یہ حدیث میں آتا ہے مولانا حدیث شریف میں آتا ہے ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھا رہے تھے صحابہ پیچھے ساری جماعت ہے۔ ایک صحابی تشریف لائے ان کی نظر کمزور تھی بڑی مسجد کے اندر کوئی گڑھا وغیرہ تھا وہ ان کو نظر نہیں آیا اس کے اندر گر گئے بھئی۔ پچھلی صفوں میں کچھ صحابہ تھے ان کی نظر پڑی وہ قہقہہ لگا کر ہنس پڑے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سلام پھیرا تو پوچھا یہ کس نے قہقہہ لگایا تھا؟ جس جس نے قہقہہ لگایا تھا وہ جائے جا کر وضو بھی دوبارہ کرے اور نماز بھی دوبارہ۔ سمجھ میں آیا؟ تو بطور ڈانٹ کے فرمایا کہ بھئی نماز جیسے عبادت کے اندر بھئی قہقہہ لگایا تو وضو بھی دوبارہ کرو بھئی سمجھ میں آیا بھئی نماز کے اندر بطور سزا کے سزا کے وضو آپ کے ذہن میں اشکال آسکتا ہے مولانا کہ صحابہ تو سب سے زیادہ دین پر چلنے والے تھے انہوں نے کیسے نماز کے اندر قہقہہ لگایا؟ تو یاد رکھنا مولانا یہ پچھلی صفوں میں کھڑے ہوئے تھے اور نئے نئے مسلمان ہوئے تھے ابھی ان کو پورا نماز وغیرہ چیزوں کا پتہ ہی نہیں تھا بھئی سمجھ میں آیا؟ تو نئے نئے مسلمان لوگ آتے تھے مسلمان ہوتے تھے نہ نماز آتی ہے نہ کلمہ آتا ہے کسی چیز کا پتہ نہیں مولانا آہستہ آہستہ وہاں رہتے سیکھتے کچھ بھی پتہ نہیں ہوتا تھا شروع میں تو بالکل نئے نئے مسلمان ہوئے تھے مولانا صورت سمجھ میں آگئی تو ابھی ان کو احکام وغیرہ کا پتہ نہیں تھا بھئی۔ تو کہتے ہیں والقہقہۃ فی کل صلاۃ اور قہقہہ ہر ایسی نماز کے اندر ذات رکوع وسجود جو رکوع اور سجدے والی ہو چلیے مولانا ہذا هو المراد واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام
7 approved lectures · 5 of 7