Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

مختصر القدوری · dars-001

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Shabeer Ahmad
📍 Location Peshawar, Pakistan
📅 Approved Date 08 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★ Good
👁️ Total Views 31
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
اچھا بھئی، ہمارے بزرگوں کا طریقہ ہے ہر کتاب کے شروع میں دعا کرتے ہیں، بھئی بزرگوں کے ہر کام میں بڑی برکت ہے۔ आइए, हम भी दुआ कर लें, भाई, किताब के शुरू में। بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ الحمدللہ رب العالمين۔ اللہم صل علی سیدنا و مولانا محمد و علی الہ و اصحابہ و بارک وسلم۔ اللہم صل علی سیدنا و مولانا محمد و علی الہ و اصحابہ و بارک وسلم۔ اللہم صل علی سیدنا و مولانا محمد و علی الہ و اصحابہ و بارک وسلم۔ ربنا یسر لنا ھذا الکتاب ولا تعسرہ وتممہ بالخیر وبک نستعین، یا فتاح یا علیم۔ ربنا یسر لنا ھذا الکتاب ولا تعسرہ وتممہ بالخیر وبک نستعین، یا فتاح یا علیم۔ ربنا یسر لنا ھذا الکتاب ولا تعسرہ وتممہ بالخیر وبک نستعین، یا فتاح یا علیم۔ اللہم نور قلوبنا بنور معرفتک وطہر قلوبنا عمّن سواک۔ یا منور القلوب۔ یا منور القلوب۔ یا منور القلوب۔ یا ارحم الراحمین۔ یا ارحم الراحمین۔ یا ارحم الراحمین۔ اللہم اصلح قلوبنا بالإيمان والعمل الصالح۔ اللہم اجعل حبک احب الأشیاء إلینا۔ اللہم اجعل حبک وحب نبیک صلی اللہ علیہ وسلم وحب القرآن وحب الإسلام وحب الصحابۃ رضی اللہ تعالی عنہم احب الأشیاء إلینا۔ اللہم نور قلوبنا۔ اللہم قلب قلوبنا إلیک۔ اللہم قلب قلوبنا إلی سنۃ نبیک صلی اللہ علیہ وسلم۔ اللہم قلب قلوبنا إلی الإسلام۔ اللہم قلب قلوبنا إلی حب القرآن وإلی العمل بالقرآن۔ اللہم أنت ربنا۔ اللہم أنت ربنا۔ اللہم أنت ربنا۔ ربنا نور قلوبنا۔ یا منور القلوب۔ یا منور القلوب۔ یا منور القلوب۔ یا قاضی الحاجات۔ یا قاضی الحاجات۔ اللہم یسر أمورنا ولا تعسرھا ولا تعسرھا ولا تعسرھا۔ اللہم ہب لنا من انوار احادیث نبیک صلی اللہ علیہ وسلم ولا تجعلنا محرومین من برکات سنۃ نبیک صلی اللہ علیہ وسلم۔ اللہم یسر أمورنا ولا تعسرھا وتممھا بالخیر۔ اللہم یسر لنا فہم سنۃ نبیک صلی اللہ علیہ وسلم وفہم ما فی ھذا الکتاب۔ اللہم نور قلوبنا واشرح صدورنا۔ یا منور القلوب یا شارح الصدور۔ اللہم حبب إلینا سنۃ نبیک صلی اللہ علیہ وسلم وحبب إلینا درسنانا ودراستنا وفہمھا۔ اللہم وفقنا للخیر والعمل الصالح۔ اللہم ارزقنا الأعمال الصالحۃ وأجرنا من السیئات واغفر ذنوبنا۔ یا قاضی الحاجات۔ یا دافع البلیات۔ یا رافع الدرجات۔ اللہم اجعلنا ممن أحیا سنۃ رسولک صلی اللہ علیہ وسلم۔ یا کریم، یا غفار، یا ستار، یا اللہ، یا اللہ، یا اللہ۔ اللہم صل علی سیدنا و مولانا محمد و علی الہ و اصحابہ و بارک وسلم۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ اللہم اجعل توفیقک وعونک خیر رفیقنا فی أمورنا وفی لیالینا وفی نھورنا وفی حرکاتنا وفی سکناتنا وفی جمیع أمورنا وفی حرکاتنا وفی بیوتنا وفی خارج بیوتنا۔ اللہم نور قلوبنا واشرح صدورنا ولا منور إلا أنت ولا شارح إلا أنت۔ اللہم نور قلوبنا یا عزیز یا لطیف۔ یا عزیز یا لطیف۔ یا عزیز یا لطیف۔ اللہم أنت المستعان وعلیک الإتماد والتوکل۔ اللہم أنت ربنا أنت حسبنا نعم المولٰی ونعم النصیر ونعم الوکیل۔ اللہم اغفر ذنوبنا ببرکۃ ھذہ العلوم ونقنا من الخطایا کما ینقّی الثوب الأبیض من الدنس۔ اللہم آمن روعاتنا۔ ربنا آمن روعاتنا۔ ربنا آمن روعاتنا۔ واستر عوراتنا واسترفع عوراتنا واسترفع عوراتنا وقنا شر ما قضیت وقنا شر ما قضیت وقنا شر ما قضیت۔ یا غفار، یا ستار، یا غفار، یا ستار، یا غفار، یا ستار۔ ربنا یسر لنا فہم ھذہ العلوم وفہم أسرارھا وفہم حقائقھا وفہم دقائقھا۔ اللہم إنّا نسألک العافیۃ والمعافاۃ والسلامۃ الظاہرۃ والباطنۃ فی الدنیا والآخرۃ۔ اللہم اقض لنا بالخیر۔ اللہم ارحمنا ربنا ارحمنا۔ ربنا ارحمنا ربنا ارحمنا وأعذنا من کل آفت ومن کل معصیۃ ومن کل حادث ومن کل خوف وحزن۔ اللہم وفقنا لمطالعۃ ھذہ المسائل والاحکام والأسرار والفوائد۔ ربنا افتح لنا أسرار ھذا العلم وحقائقہ۔ یا منور القلوب۔ یا منور القلوب۔ ربنا زدنا نوراً۔ ربنا زدنا نوراً۔ ربنا زدنا نوراً۔ ربنا زدنا علما۔ ربنا زدنا علما۔ ربنا زدنا علما۔ ربنا زدنا حباً لک وحباً لرسولک صلی اللہ علیہ وسلم وحباً للقرآن وحباً للعمل بالقرآن وحب صحابۃ نبیک وحب الصالحین۔ آمین یا رب العالمین۔ ربنا إنک علی کل شیء قدیر وبالإجابۃ جدییر۔ ربنا أجب دعائنا۔ ربنا أجب دعائنا۔ ربنا أجب دعائنا۔ آمین آمین آمین آمین ثم آمین۔ یا عزیز، یا غفار، یا فتاح، یا علیم، یا خبیر، یا اللہ، یا اللہ، یا اللہ۔ یا قاضی الحاجات۔ یا رافع الدرجات۔ یا قاضی الحاجات۔ یا منور القلوب۔ یا شارح الصدور۔ عجب دعائنا ولا تجعلنا محرومین ولا تجعلنا محرومین ولا تجعلنا محرومین۔ آمین ثم آمین۔ اللہم صل علی سیدنا و مولانا محمد و علی الہ و اصحابہ و بارک وسلم۔ اللہم صل علی سیدنا و مولانا محمد و علی الہ و اصحابہ و بارک وسلم۔ اللہم صل علی سیدنا و مولانا محمد و علی الہ و اصحابہ و بارک وسلم۔ اچھا بھئی، اب کتاب بھی تھوڑی سی عبارت پڑھ لیجیے، بھئی۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ الحمدللہ رب العالمین والعاقبت للمتقین والصلاۃ والسلام علی رسولہ محمد و آلہ و اصحابہ اجمعین۔ قال الشیخ الإمام الأجل الزاہد أبو الحسن بن أحمد بن محمد بن جعفر البغدادی المعروف بالقدوری۔ قال الشیخ الإمام الأجل الزاہد أبو الحسن بن أحمد بن محمد بن جعفر البغدادی المعروف بالقدوری۔ قال اللہ تعالی: ﴿یٰأَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوا بِرُءُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ﴾. اچھا بس۔ اچھا بھئی، آپ سب یہاں علم دین سیکھنے کے لیے جمع ہوئے ہیں، بھئی۔ آپ اللہ کے چنے ہوئے بندے ہیں، بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ چنے ہوئے بندے ہیں۔ علم دین ہر ایک کو نہیں دیا جاتا، بھئی۔ جو اللہ کے چنے ہوئے بندے ہوں اور جن کے ساتھ اللہ بھلائی کا ارادہ فرماتے ہیں، ان کو علم دین کے لیے بھیج دیا جاتا ہے، بھئی۔ علم دین کے لیے شوق اور تڑپ اس کے دل میں ڈال دی جاتی ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے: من یرد اللہ بہ خیراً یفقہہ فی الدین۔ جس کے ساتھ اللہ بھلائی کا ارادہ فرماتے ہیں، اسے دین کی سمجھ دے دیتے ہیں۔ یعنی اس کے دل میں علم کی شوق، لگن اور جستجو پیدا ہو جاتی ہے، مسائل سیکھنے کا شوق پیدا ہو جاتا ہے، بھئی۔ ضروری مسائل کا جاننا ہر مسلمان پر فرض ہے، بھئی۔ یعنی جو چیز فرض ہے مسلمان پر، اس کے مسائل کا جاننا بھی فرض ہے۔ مثلاً نماز فرض ہے، تو اس کے مسائل کا جاننا، جو پیش اتے ہیں، اس سے ان کا جاننا اس کے لیے فرض ہے، بھئی۔ اسی طرح جن چیزوں کا کرنا مستحب ہے، ان کے مسائل کا جاننا بھی مستحب ہے۔ روزہ مثلاً فرض ہے, تو اس کے مسائل کا جاننا بھی فرض، زکوٰۃ جیسے فرض ہے، تو اس کے مسائل کا جاننا بھی فرض ہے۔ اسی طرح ایک تاجر ہے، تجارت میں اس کو تجارت کا ضروری علم جو مسائل اس کو پیش آتے ہیں، ان کا جاننا اس پر فرض ہے۔ زندگی کے جس شعبے سے بھی وہ تعلق رکھتا ہے، اس میں پیش آنے والے مسائل کا جاننا اس پر فرض ہے، بھئی۔ تو آپ علم دین پڑھنے آئے ہیں، بھئی۔ علم دین کی بڑی فضیلت ہے، بڑی فضیلت، بھئی۔ حدیث شریف میں آتا ہے بھئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، جو شخص علم کی طلب میں کسی راستے پر چلتا ہے، اسے اللہ جنت کے راستوں میں سے کسی راستے پر لے جاتے ہیں۔ اور طالب علم کی ایسی بلند شان ہے کہ اس کے لیے رحمت کے فرشتے جو ہیں اپنے پر بچھاتے ہیں بھئی کہ تعظیم کرتے ہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ کہ یہ رحمت کے پر بچھاتے ہیں۔ میں نہیں کہہ رہا بھئی، سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے ہیں اور یقیناً ان کی ہر بات سچی ہے، وہ اللہ کی جانب سے بتلا رہے ہیں۔ آپ چلتے ہیں، پھرتے ہیں، یقیناً وہ رحمت کے فرشتے آپ کے لیے پر بچھاتے ہیں۔ ہاں اللہ دکھاتے نہیں۔ ایمان بالغیب ضروری ہے۔ اگر اللہ دکھا دیں، پھر تو آپ کو مدرسے میں جگہ ہی نہیں ملے گی۔ سارے لوگ ادھر آئیں گے بھئی، پھر آپ کو کون بیٹھنے دے گا یہاں؟ موقع ہی کہاں کس کو ملتا ہے، کس کو نہیں ملتا بھئی۔ یہاں سے آپ کتنی رحمتیں، کتنی برکتیں لے کر جاتے ہیں اپنے ساتھ، آپ کو نظر تو نہیں آتی۔ لیکن احادیث سے پتہ چلتا ہے، قرآن سے پتہ چلتا ہے بھئی۔ ایمان بالغیب ضروری ہے۔ ہاں آخرت میں اللہ پھر دکھلائیں گے۔ وہاں پتہ لگے گا بھئی۔ اور یہ رحمت کے فرشتے پر بچھاتے ہیں، عجیب بھئی۔ معتزلہ ایک گمراہ فرقہ گزرا ہے بھئی۔ بزرگوں نے بڑے واقعات بھی ذکر کیے ہیں۔ ایک عالم دین فرماتے ہیں، اس وقت طالب علم تھے کہ میں علم حدیث پڑھنے کے لیے جاتا تھا کسی بزرگ کے پاس، کسی بڑے عالم کے پاس۔ ایک دن ذرا دیر ہو گئی، تو میں جلدی سے نکلا، تیز تیز جا رہا ہوں۔ راستے میں کوئی اور بھی ملا وہاں پڑھنے والا طالب علم، وہ معتزلہ ہی تھا بھئی۔ وہ ان چیزوں کو نہیں مانتے کہ رحمت کے پر بچھاتے ہیں وغیرہ۔ میں بڑا تیز تیز چل رہا تھا، اس نے مجھے مذاق کیا۔ کہتا ہے، بھئی آہستہ چلو، کہیں وہ فرشتے کے پروں کو زخمی نہ کر دینا بھئی۔ دیکھو حدیث کا مذاق ہو گیا۔ کہتے ہیں، اس نے یہ لفظ ہی کہا تھا کہ اسی وقت اس کے پاؤں سوکھ گئے، مولانا شل ہو گئے، وہیں گر گیا۔ تو عالم کی بڑی فضیلت ہے، مولانا۔ اس کے لیے تمام مخلوقات دعائیں کرتی ہیں، حتّی کہ فرشتے اور آسمان اور زمین کی تمام مخلوقات بھئی، حیوان تمام حیوانات بھئی۔ حتّی کہ احادیث میں چیونٹیوں کا صراحتاً ذکر، چیونٹیاں بھی اس کے لیے اپنے بلوں میں دعا کرتی ہیں، استغفار کرتی ہیں، اور مچھلیاں، تمام جاندار بھئی۔ تو علم دین سیکھنے آئے ہیں تو اس کے لیے اس کے آداب کا بھی خیال رکھیں بھئی۔ جتنا ادب زیادہ ہوگا، اتنا، اتنا سینے کا نور بڑھتا جائے گا بھئی۔ مسائل سیکھتے جائیں، ساتھ ساتھ ان پر عمل بھی کرتے جائیں۔ جو جو مسئلہ سیکھتے جائیں، اس پر عمل کریں۔ دوسروں کو سکھا سکتے ہیں تو دوسروں کو بھی سکھائیں۔ ایک صحیح عالم جو ہے، احادیث میں آتا ہے مولانا کہ صحیح عالم کے چہرے کی طرف دیکھنا بھی عبادت ہے۔ کتنی بڑی فضیلت، کتنی بڑی فضیلت ہے علم کی۔ تو یہاں سبق میں بھی آپ آئیں بھئی۔ باوضو ہونا چاہیے آپ کو، اہتمام اور توجہ سے بیٹھنا چاہیے۔ ہر چیز کا احترام ہو بھئی۔ اپنے اساتذہ کا احترام ہو، اپنی کتابوں کا احترام ہو، اس درسگاہ کا احترام ہو بھئی۔ یہ سپاہیاں پڑی ہیں آپ کی، اس کا احترام ہو بھئی۔ اور توجہ سے بیٹھیں، سبق میں کوئی بات سمجھ میں نہ آئے، آپ پوچھیں بھئی، دوبارہ پوچھیں، سہ بارہ پوچھیں۔ سمجھ میں آیا؟ تو پوچھنے سے ہی علم زیادہ ہوتا ہے۔ جس کے ذہن میں سوال آتا ہے، بات سمجھ میں نہیں آئی، اور اس نے سوال بھی پھر پوچھا بھی نہیں، سمجھنے کی کوشش بھی نہیں کی، اس کا تو آدھا علم تو اسی وقت چلا گیا بھئی۔ اور ساتھ ساتھ دعا بھی کرو بھئی، اللہ تعالی ان علوم کو ہمارے لیے، سب کے لیے بھئی، بے انتہا نافع بنائے اور آخرت میں بھی خصوصاً اللہ اس سے نافع بنائے ہمارے لیے، کہ ہمارے لیے وبال نہ بن جائے بھئی، کہ جانتے ہوئے کوئی عمل نہیں کرتا علم پر، تو اس کے لیے وبال بن جاتا ہے۔ اچھا بھئی، چلیے بس بھئی، کل انشاءاللہ پھر سبق باقاعدہ شروع کریں گے، انشاءاللہ۔
3 approved lectures · 1 of 3
Current dars-001
Next Last