Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

مختصر القدوری · dars-002

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Shabeer Ahmad
📍 Location Peshawar, Pakistan
📅 Approved Date 08 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★ Good
👁️ Total Views 31
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
اچھا بھئی! کل کچھ میں نے فضیلتِ علم وغیرہ کے بارے میں آپ کو بتلایا تھا۔ اسی طرح یاد رکھو، بعض احادیث میں آتا ہے کہ علم جو ہے جمعرات کے دن حاصل کی جائے اس سے اس میں سہولت ہوتی ہے، آسانی فرما دیتے ہیں اللہ تعالی۔ بعض احادیث میں پیر کے دن کا ذکر آتا ہے اور بعض احادیث میں بدھ کے دن کا ذکر آتا ہے بھئی۔ چنانچہ فقہ حنفی کی عظیم کتاب ہدایہ کے مصنف، صاحبِ ہدایہ جو ہیں، وہ اپنے اسباق ہمیشہ بدھ کے دن شروع کرواتے تھے۔ اور فرماتے تھے جو کام بدھ کو شروع کیا جائے، وہ اس میں برکت ہوتی ہے اور اختتام تک پہنچتا ہے بھئی۔ اسی طرح امامِ اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے بارے میں بھی آتا ہے بھئی کہ وہ بھی بدھ کے دن شروع فرماتے تھے بھئی سب۔ تو اسی لیے ہم نے بھی بدھ کے دن سبق شروع کیا بھئی۔ اچھا بھئی! اب یہ کچھ ضروری مباحث ہیں مولانا وہ لکھ دیجیے بھئی۔ ابتداء کے اندر مختصر سے بھئی۔ کسی بھی علم کو شروع کرنے سے پہلے، کسی بھی علم کو شروع کرنے سے پہلے، اس علم کی تعریف، اس علم کی تعریف، اس علم کا موضوع، اس علم کا موضوع، اور اس علم کی غرض و غایت کا جاننا نہایت ضروری ہے، اور اس علم کی غرض و غایت کا جاننا نہایت ضروری ہے۔ قدوری آپ جانتے ہیں بھئی علمِ فقہ کی کتاب ہے تو تعریف لکھیجیے، علمِ فقہ کی تعریف بھئی۔ علمِ فقہ کی تعریف۔ هو علمٌ، هو علمٌ بالاحکام الشرعیۃ، هو علمٌ بالاحکام الشرعیۃ العملیۃ، العملیۃ، عن ادلتھا، عن ادلتھا التفصیلیۃ، التفصیلیۃ صاد کے ساتھ بھئی۔ لکھ لی تعریف بھئی؟ دوبارہ سن لیجیے: هو علمٌ بالاحکام الشرعیۃ العملیۃ عن ادلتھا التفصیلیۃ۔ یعنی علمِ فقہ، وہ ان احکامِ شرعیہ کے جاننے کا نام ہے، ان احکامِ شرعیہ کے جاننے کا نام ہے جن کا تعلق عمل سے ہو، اور ادلہ تفصیلیہ کا مطلب یہ ہے، اور ادلہ تفصیلیہ کا مطلب یہ ہے کہ ہر ہر مسئلے کے، کہ ہر ہر مسئلے کو اس کے دلائل کے ساتھ جانا جائے، کہ ہر ہر مسئلے کو اس کے دلائل کے ساتھ جانا جائے، بات سمجھ میں آرہی ہے بھئی؟ دیکھیے اب لفظوں پر غور کیجیے عربی کے: هو علمٌ۔ علمِ فقہ کیا ہے؟ وہ جاننا ہے، کس چیز کا جاننا؟ بالاحکام الشرعیۃ، کون سے احکام؟ شرعی احکام کے جاننے کا نام ہے، تو شرعی کی قید آگئی تو غیرِ شرعی احکام کیا ہو گئے؟ نکل گئے بھئی۔ سمجھ میں آیا، ان کے بارے میں ہم بحث نہیں کریں گے اس علم میں، صرف شرعی احکام کی بحث ہوتی ہے۔ العملیۃ کی قید آگئی، معلوم ہوا صرف ان احکام کے بارے میں بحث ہوگی جن کا تعلق عمل سے ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا، آپ نماز پڑھتے ہیں، روزہ رکھتے ہیں، زکوٰۃ دیتے ہیں، یہ سارے عمل سے متعلق ہیں بھئی۔ کچھ چیزیں عقیدے سے متعلق ہوتی ہیں بھئی، جیسے اللہ ایک ہے، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے آخری پیغمبر ہیں، قیامت قائم ہوگی، جنت ہے، جہنم ہے، فرشتے ہیں وغیرہ بھئی۔ دیکھو اب اس میں آپ کو کوئی عمل کرنا پڑتا ہے یا صرف ذہن میں ایک عقیدہ بنانا پڑتا ہے؟ صرف عقیدہ بنایا عمل نہیں کرنا پڑا اس میں۔ تو یہ علمِ عقائد اس کو کہتے ہیں، یہ اس سے خارج ہو گیا بھئی۔ عقیدے کی بحث ہم یہاں نہیں کریں گے بھئی، سمجھ میں آیا؟ صرف عمل سے متعلق، عقیدے سے متعلق جو مباحث ہیں، وہ آپ آگے جا کر بھئی علمِ کلام کے اندر پڑھیں گے۔ اس علم کا کیا نام ہے؟ علمِ کلام۔ اس کے اندر عقیدے کے بارے میں بحثیں ہوتی ہیں بھئی۔ اور ادلہ تفصیلیہ کا معنی میں نے بتلا دیا بھئی۔ ادلہ تفصیلیہ کس کو کہتے ہیں؟ تفصیلی دلائل ہیں، یعنی کہ ہر ہر مسئلے کے دلائل ساتھ۔ عرض کرنا، جی علمِ فقہ کا موضوع بھئی۔ علمِ فقہ کا موضوع۔ فعلِ مکلف، علمِ فقہ کا موضوع ہے فعلِ مکلف۔ مکلف یعنی عاقل بالغ آدمی بھئی، عاقل بالغ بھئی۔ عاقل بالغ کے جو فعل ہوتا ہے، اس کے بارے میں بھئی بحث ہوگی بھئی۔ سمجھ میں آیا، عاقل بالغ، یہ اس کا موضوع ہے۔ کہ عاقل آدمی، عاقل بالغ کا جو بھی فعل ہے، وہ کس طرح شریعت کے مطابق ہوگا، اس کے بارے میں شریعت کے کیا کیا احکامات ہیں بھئی، وہ سب پڑھے جائیں گے۔ کوئی شخص زندگی کے کسی بھی شعبے سے تعلق رکھتا ہو بھئی، اس ہر ایک، ہر ہر شعبے کے بارے میں احکامِ شریعت بیان ہوں گے۔ علمِ فقہ کی غرض و غایت بھئی۔ علمِ فقہ کی غرض و غایت۔ یعنی مقصد بھئی، مقصد۔ مقصد کیا ہے اس علم کے حاصل کرنے کا؟ غرض و غایت کا کیا معنی ہوتا ہے؟ مقصد بھئی ایک چیز کا، یہ علم کیوں پڑھتے ہیں، کیا فائدہ؟ تو غرض و غایت ہے سعادت الدارین۔ سعادت الدارین، یعنی دونوں جہانوں کی خوش بختی اور سعادت حاصل کرنا، دونوں جہانوں کی سعادت اور خوش بختی حاصل کرنا۔ ایک دارِ دنیا ہے، دنیا بھئی، اور ایک آخرت ہے بھئی۔ دنیا کے اندر بھی انسان جو ہے، سعادتیں سمیٹے اور آخرت میں بھی اللہ کی طرف سے سعادتیں اسے حاصل ہوں۔ یہ اس کا مقصد ہے بھئی۔ تو یہ علمِ فقہ کی تعریف بھی آ گئی، موضوع بھی آ گیا، اور اس کی غرض و غایت بھی آ گئی، اب یہ کتاب جو علمِ فقہ میں ہے، یہ قدوری ہے مولانا، تو مصنف کے احوال بھی جاننا ضروری ہیں بھئی، تاکہ پتہ لگے بھئی، اس کے لکھنے والے کون ہیں، یہ کس درجے کی کتاب ہے، اس کا کیا مقام و مرتبہ ہے؟ تو احوالِ مصنف بھی لکھ لیجیے بھئی مختصراً۔ احوالِ مصنف۔ احوالِ مصنف۔ صاحبِ قدوری کی کنیت، صاحبِ قدوری کی کنیت، ابوالحسین، ابوالحسین ہے، ان کا نام احمد، ان کا نام احمد، احمد ہے، اور یہ، اور یہ امامِ قدوری کے نام سے مشہور ہیں بھئی، یہ امامِ قدوری کے نام سے مشہور ہیں بھئی، اور آپ کی پیدائش 362 ہجری میں ہوئی بھئی۔ 362 ہجری میں ہوئی، 362۔ آپ قدوری کے نام سے کیوں مشہور ہوئے؟ آپ قدوری کے نام سے کیوں مشہور ہیں؟ قدور جمع ہے قدرٌ کی، قدور جمع ہے قدرٌ کی، اور قدرٌ ہانڈی اور دیگ کو کہتے ہیں، اور قدرٌ ہانڈی اور دیگ وغیرہ کو کہتے ہیں بھئی، تو شاید یہ ان قدور کے، یا ان ہانڈی اور دیگ بنانے یا بیچنے کا کام کرتے تھے، بنانے یا بیچنے کا کام کرتے تھے، اسی لیے اس نسبت سے مشہور ہو گئے، اس لیے اس نسبت سے مشہور ہو گئے، یا ان کو قدوری اس لیے کہا جاتا ہے، کہ یہ قدور گاؤں کے رہنے والے تھے، کہ یہ قدور گاؤں کے رہنے والے تھے، تو قدور کو، تو وہ گاؤں والے کہیں یہ دیگ وغیرہ بنانے یا بیچنے کا کام کرتے ہوں گے، تو گاؤں ہی قدوری کے نام سے مشہور ہو گیا، تو یہ بھی چونکہ اسی گاؤں کے تھے، اس لیے یہ بھی کس نام سے مشہور ہو گئے؟ قدوری بھئی۔ جیسے کوئی لاہور والا ہو تو لاہوری کے نام سے مشہور ہو جائے گا، تو یہ قدوری کے۔ یہ بھی بعض علماء فرماتے ہیں بھئی۔ امامِ قدوری نہایت جلیل القدر، محدث اور فقیہ تھے، نہایت جلیل القدر، محدث اور فقیہ تھے، جلیل القدر، محدث اور فقیہ تھے، وہ نہایت، نہایت متقی اور پرہیزگار انسان تھے، نہایت متقی اور پرہیزگار انسان تھے، قرآنِ کریم کی تلاوت نہایت کثرت سے کیا کرتے تھے، قرآنِ کریم کی تلاوت نہایت کثرت سے کیا کرتے تھے، اللہ تعالی نے، اللہ تعالی نے انہیں بہترین دل و دماغ نصیب فرمایا تھا، اللہ تعالی نے انہیں بہترین دل و دماغ نصیب فرمایا تھا۔ اسی لیے ان کی تقریر و تحریر میں، ان کی تقریر و تحریر میں نہایت حسن و جمال تھا۔ نہایت حسن و جمال تھا۔ انہوں نے بہت سی کتابیں لکھیں، لیکن سب سے زیادہ مقبولیت قدوری کو حاصل ہوئی۔ لیکن سب سے زیادہ مقبولیت قدوری کو حاصل ہوئی بھئی۔ علماء لکھتے ہیں کہ صاحب قدوری نے اپنی اس کتاب میں، اپنی اس کتاب میں علم فقہ کے، علم فقہ کے تقریباً بارہ ہزار مسائل بیان فرمائے ہیں۔ تقریباً بارہ ہزار مسائل تحریر فرمائے ہیں اور جمع کیے ہیں۔ اس کتاب کی مقبولیت کا اندازہ اس کتاب کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک ہزار سال سے، کہ ایک ہزار سال سے اس کتاب کو پڑھا اور پڑھایا جا رہا ہے کہ ایک ہزار سال سے اس کتاب کو پڑھا اور پڑھایا جا رہا ہے اور آج بھی تمام مدارس اسلامیہ کے نصاب میں اور آج بھی تمام مدارس دینیہ کے نصاب میں شامل ہے جو کہ اس کتاب کے، جو کہ اس کتاب کے عند اللہ مقبول ہونے کی بھی بڑی علامت ہے۔ جو کہ اس کتاب کے عند اللہ مقبول ہونے کی بھی بڑی علامت ہے بات سمجھ میں آئی بھئی؟ معلوم ہوا یہ کتاب اللہ کے نزدیک بھی بڑی مقبول ہے بھئی، اسی لیے تو اللہ نے اسے علماء و طلباء کی نگاہوں کا مرکز بنا دیا ہے۔ یہ اتنی مبارک کتاب ہے، یہ اتنی مبارک کتاب ہے کہ بہت سے اولیاء اللہ اور علماء بیان فرماتے ہیں کہ کبھی کسی پر کوئی مصیبت یا تکلیف آ جائے تو اس کتاب کو پڑھنے سے تو اس کتاب کو پڑھنے سے اللہ تعالی وہ تکلیف اور پریشانی دور فرما دیتے ہیں۔ وہ تکلیف اور پریشانی دور فرما دیتے ہیں اور ہم نے کئی موقع پر اس کا تجربہ کیا اور ایسا ہی ہوا۔ اور ہم نے کئی موقع پر ایسا کیا تو اللہ نے اس تکلیف اور پریشانی کو دور فرما دیا۔ اس تکلیف اور پریشانی کو دور فرما دیا۔ علماء لکھتے ہیں، علماء لکھتے ہیں کہ امام قدوری نے جب اس کتاب کو مکمل فرمایا کہ امام قدوری نے جب اس کتاب کو مکمل فرمایا تو اسے اپنے ساتھ سفر حج پر لے گئے تو اسے اپنے ساتھ سفر حج پر لے گئے اور بیت اللہ کا طواف کرنے کے بعد اور بیت اللہ کا طواف کرنے کے بعد اللہ سے دعا مانگی، اللہ سے دعا مانگی کہ اے اللہ! یہ کتاب میں نے آپ کے لیے لکھی ہے، کہ اے اللہ! یہ کتاب میں نے آپ کے لیے لکھی ہے، اگر اس میں کہیں مجھ سے کوئی غلطی یا کوتاہی ہوئی ہو تو مجھے اس پر مطلع فرما تو مجھے اس پر مطلع فرما۔ چنانچہ جب دعا مانگنے کے بعد اپنی کتاب کو کھول کر دیکھا کھول کر دیکھا تو پانچ چھ بلکہ پوری کتاب میں پانچ چھ جگہ سے پوری کتاب میں پانچ چھ جگہ سے کچھ مسائل مٹ چکے تھے کچھ مسائل مٹ چکے تھے اور یہ ان کی بڑی کرامت تھی اور یہ ان کی بڑی کرامت تھی بھئی۔ معلوم ہوا نصرت غیبی کے ذریعے ان مسائل کو ختم فرما دیا گیا ان مسائل کو ختم فرما دیا گیا جن میں کوئی کوتاہی ہوئی تھی جن میں کوئی غلطی ہوئی تھی۔ آپ کی وفات آپ کی وفات بروز اتوار، بروز اتوار 66 سال کی عمر میں بغداد میں ہوئی۔ 66 سال کی عمر میں بغداد میں ہوئی۔ تاریخ وفات ہے، تاریخ وفات ہے 5 رجب 428 ہجری۔ 5 رجب 428 ہجری۔ اللہ تعالی آپ کے کروڑ ہا درجات بلند فرمائے بھئی۔ بڑی عظیم اور قیمتی اور پیاری کتاب لکھی بھئی۔ یاد رکھیے بھئی! جی، یہ احوال مصنف ختم ہوئے، دو تین چیزیں اور چھوٹی چھوٹی ہیں وہ بھی لکھ لیجیے۔ یاد رکھیے، فقہ میں چار ائمہ بڑے ہیں، مولانا۔ چار ائمہ بڑے ہیں۔ چار ائمہ بڑے ہیں۔ نمبر ایک، امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ امام مالک رحمہ اللہ، امام مالک رحمہ اللہ امام شافعی رحمہ اللہ، امام شافعی رحمہ اللہ اور امام احمد ابن اور امام احمد ابن حنبل امام احمد بن حنبل ح، ب، ن، با، لام۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ۔ سمجھ میں آیا بھئی! فقہ کے چار بڑے ائمہ ہیں مولانا، جن کی فقہ کو اللہ تعالی نے پوری دنیا کے اندر پھیلا دیا بھئی۔ امام صاحب کی فقہ پر عمل کرنے والے حنفی ہیں، اسی طرح مالکی ہیں، کچھ شافعی ہیں، کچھ حنبلی ہیں بھئی، چار فقہیں اللہ فقہاء بڑے بڑے تھے مولانا، لیکن اللہ نے باقیوں کی فقہ کو وہ مقبولیت نصیب نہیں فرمائی جو مقبولیت ان چار ائمہ کی فقہ کو نصیب فرما دی۔ فقہ حنفی کے بڑے ائمہ تین ہیں۔ فقہ حنفی کے بڑے ائمہ تین ہیں۔ فقہ حنفی کے بڑے ائمہ تین ہیں۔ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ، امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ، امام ابو یوسف رحمہ اللہ، امام ابو یوسف رحمہ اللہ اور امام محمد رحمہ اللہ اور امام محمد رحمہ اللہ۔ یہ ہمارے ائمہ ثلاثہ ہیں بھئی، کیا ہیں؟ یہ ہمارے ائمہ ثلاثہ بھئی۔ فقہ حنفی میں جب ائمہ ثلاثہ بولا جائے بھئی کہ فقہ حنفی کے ائمہ ثلاثہ، تو یہ تین مراد ہوتے ہیں بھئی۔ تو یہ تین مراد ہوتے ہیں۔ پھر یہ تین اصطلاحات بھی یاد رکھیں مولانا جو ہماری کتب فقہ کے اندر بکثرت استعمال ہوتی ہیں۔ تین اصطلاحات جو ہماری کتب فقہ میں بکثرت استعمال ہوتی ہیں، شیخین، شیخین، صاحبین، ص، الف، باء، یا، نون، باء کے ساتھ، صاحبین اور طرفین بھئی، طاء کے ساتھ۔ اور طرفین بھئی، طاء کے ساتھ۔ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے بھی شاگرد ہیں۔ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ دونوں کے استاد ہوئے جبکہ امام محمد رحمہ اللہ دونوں کے شاگرد ہوئے۔ لکھیے بھئی! لکھیے جلدی۔ تو امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ دونوں کے استاد ہیں، جبکہ امام محمد رحمہ اللہ دونوں کے شاگرد ہیں۔ تو جب شیخین کا لفظ آئے تو اس سے مراد دونوں استاد، یعنی امام ابو حنیفہ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ ہوتے ہیں۔ اور اگر صاحبین کا لفظ آئے تو اس سے مراد دونوں شاگرد، یعنی امام ابو یوسف اور امام محمد رحمہ اللہ ہوتے ہیں۔ اور اگر طرفین کا لفظ آئے تو اس سے مراد امام ابو حنیفہ اور امام محمد رحمہ اللہ ہوتے ہیں، کیونکہ اس میں دونوں طرف آ گئیں، دونوں طرف بھئی، یعنی طرف اعلی بھی آ گئی اور طرف ادنی بھی۔ طرف اعلی ابو حنیفہ رحمہ اللہ ہیں کیونکہ وہ دونوں کے استاد ہیں، اور طرف ادنی امام محمد رحمہ اللہ ہیں کیونکہ وہ دونوں کے شاگرد ہیں۔ تو یہاں تک بات سمجھ میں آئی سب کو بھئی؟ دیکھو! یہ اصطلاحات ہیں، یہ ہماری کتابوں میں کثرت سے جابجا آئیں گی۔ یہ ہر وقت ہر طالب علم کو پتہ ہونا چاہیے۔ کہیں آئے گا بھئی اس مسئلہ میں شیخین یوں فرماتے ہیں، کبھی آئے گا اس مسئلہ میں صاحبین یوں فرماتے ہیں، کبھی آئے گا اس مسئلہ میں طرفین یوں فرماتے ہیں۔ اب آپ کو پتہ ہونا چاہیے شیخین سے کون مراد، صاحبین سے کون مراد اور طرفین سے کون مراد۔ آسان بات ہے بھئی! دیکھو، تین ائمہ ہیں ہمارے: امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ، امام ابو یوسف رحمہ اللہ اور امام محمد رحمہ اللہ۔ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ ان دونوں کے استاد ہیں، تو یہ دونوں ساتھی ہیں مولانا، کیا ہیں؟ ساتھی ہیں ایک دوسرے کے، امام صاحب کے شاگرد ہونے میں، تو اس لیے ان کو صاحبین کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ صاحبین، ایک دوسرے کے ساتھی ہیں کس چیز میں؟ شاگرد ہونے میں۔ اور ان میں پھر امام محمد رحمہ اللہ نے جیسے امام صاحب سے پڑھا، اسی طرح پھر کس سے پڑھا؟ امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے بھی پڑھا، تو یہ دونوں استاد ہیں امام محمد رحمہ اللہ کے۔ تو جب شیخین کا لفظ آئے تو اس سے کون مراد ہوتے ہیں؟ یہ دونوں استاد مراد ہوتے ہیں، یہ دونوں شیخ ہیں مولانا، استاد ہیں امام محمد کے۔ تو جب آ جائے شیخین یوں فرماتے ہیں، آپ فورا سمجھ جائیں، کون مراد ہیں اس سے؟ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ۔ بعض جگہ آئے گا بھئی طرفین اس مسئلہ میں یوں فرماتے ہیں۔ اب دیکھیے مولانا! دونوں کے اس اس طرفین کیوں کہتے ہیں؟ طرف اعلی اور طرف ادنی۔ اعلی اور ادنی دونوں کس میں آ گئیں؟ دونوں طرفین، دونوں جانبین، دونوں کنارے آ گئے مولانا۔ اونچا کنارہ کون بھئی؟ اس پر کون ہے؟ امام صاحب دونوں کے استاد۔ نچلا کنارہ کون؟ امام محمد رحمہ اللہ کیونکہ وہ دونوں کے شاگرد۔ تو دونوں طرفین آ گئیں بھئی، تو اس لیے ان کو کیا کہتے ہیں؟ طرفین بھئی، اس مسئلہ میں یوں فرماتے ہیں۔ تو یہ ہر طالب علم کو ہر وقت پتہ ہونا چاہیے بھئی۔ اچھا جی! پڑھیے بھئی کتاب اب۔ الحمدللہ رب العالمین تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں رب العالمین جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے بھئی، تمام جہانوں کا رب ہے، والعاقبت للمتقین اور انجام ہے متقیوں کے لیے، والعاقبت عاقبت کہتے ہیں انجام کو، انجام ہے نتیجہ ہے کس کے لیے؟ متقی۔ بھئی انجام تو سب کا ہونا ہے، کوئی متقی ہو یا غیر متقی، متقی ہوگا تو جنت میں جائے گا بھئی، غیر متقی ہے تو یا یوں کہیں مومن نہیں ہے کوئی شخص تو وہ کدھر جائے گا؟ جہنم میں جائے گا اور اگر مومن ہے لیکن غیر متقی ہے تو اس کو اللہ تعالی ہو سکتا ہے معاف فرما دیں اور ہو سکتا ہے اسے سزا بھگتنی پڑے بھئی۔ تو انجام تو ہر ایک کا کچھ نہ کچھ ہونا ہے، پھر کیا معنی والعاقبت للمتقین؟ تو یاد رکھو یہاں مضاف محذوف ہے، بین السطور لکھا ہوا ہے آپ کے، ای حسن العاقبت ای حسن العاقبت حسن یعنی اچھا انجام ہے بھئی، حسن العاقبت انجام کا اچھا ہونا کس کے لیے ہے؟ متقیوں کے لیے، یعنی متقیوں کا اچھا انجام ہوگا بھئی۔ والصلوۃ والسلام علی رسولہ محمد والہ واحبہ اجمعین اور رحمت ہو، سلامتی ہو اللہ کے رسول پر کہ جن کا نام محمد ہے، والہ اور ان کی آل پر بھی، ان کی آل بھئی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آل بھئی حضور کے اتباع کرنے والے مراد ہیں یا متقی متبعین مراد ہیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے جو راستے پر چلتے ہیں، متقی وہ مراد ہیں بھئی، واحبہ اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ پر بھی صلوۃ و سلام ہو مولانا اجمعین سب کے سب پر مولانا، کس پر؟ سب کے سب تو تمام صحابہ کو صلوۃ و سلام میں ملا دیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ۔ قال الشیخ الامام الاجل الزاہد فرمایا شیخ نے یہ بھئی کوئی ان کے شاگرد وغیرہ لکھ رہے ہیں بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ کوئی شاگرد لکھ رہے ہیں۔ شیخ نے الامام جو کہ امام ہیں، الاجل بڑے بزرگ ہیں، الزاہد بھئی تاریک دنیا ہیں مولانا، دنیا سے محبت کرنے والے نہیں ہیں بھئی دنیا کی طرف توجہ بھی نہیں کرتے۔ ابو الحسن بھئی۔ بھئی ابو الحسن بعض نسخوں میں یہ ہے بھئی، میں نے کنیت ابو الحسین لکھوائی بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو علماء نے لکھا ہے بھئی کہ ان کی کنیت ابو الحسن نہیں ہے یہ کتابت کی غلطی ہے، ابو الحسین کنیت تھی۔ ابو الحسن کے آگے لفظ ابن آ رہا ہے پھر آگے کیا لکھا ہے مولانا؟ احمد۔ نہیں بھئی! ابو الحسن احمد کے بیٹے نہیں ہیں، وہ خود کون ہیں؟ ان کا اپنا کیا نام ہے؟ احمد، والد کا ان کا نام محمد ہے تو یہاں ابو الحسن کے بعد جو ابن کا لفظ آیا یہ بھی کتابت کی غلطی ہے مولانا، بات سمجھ میں آئی بھئی؟ تو یوں ہونا چاہیے تھا: ابو الحسن احمد بن محمد ابن اچھا بھئی! ابو الحسن احمد بن محمد ابن اچھا بھئی! محمد ابن کے بعد کیا رہا ہے؟ جعفر۔ بھئی جعفر نہیں ہونا چاہیے، محمد ابن احمد ابن جعفر بھئی۔ محمد ابن ایک اور احمد یہاں آنا چاہیے بھئی! ان کے پردادا کا ان کے دادا کا بھی کیا نام تھا بھئی؟ احمد تھا، اور جعفر ان کے پردادا ہیں بھئی، پردادا تو محمد کے بعد ایک کیا انا چاہیے؟ محمد ابن احمد ابن احمد ابن یہ لفظ بھی ہونا چاہیے بھئی۔ احمد ابن اچھا بھئی! جعفر البغدادیو۔ البغدادیو یہ صفت ہے مولانا، یہ ابو الحسن احمد کی بھئی، یہ امام قدوری بھئی، کہاں پھر رہائش اختیار کی انہوں نے؟ بغداد میں بھئی۔ المعروف بالقدوری اور کس نسبت سے مشہور ہیں؟ قدوری کی نسبت سے مشہور ہیں بھئی۔ समझ में आई भाई عبارت؟ تو دیکھیے پھر قال الشیخ الامام الاجل الزاہد ابو الحسن احمد بن محمد بن احمد بن جعفر البغدادی المعروف بالقدوری۔ اچھا چلیے بس مولانا! ہذا ہو المرام، واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔
3 approved lectures · 2 of 3