Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

مختصر القدوری · dars-003

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Shabeer Ahmad
📍 Location Peshawar, Pakistan
📅 Approved Date 13 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 7
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
کتاب الطہارت قال اللہ تعالی: یا ایہا الذین آمنوا اذا قمتم الی الصلاۃ فاغسلو وجوہکم و ایدیکم الی المرافق وامسحوا بروسکم وارجلکم الی الکعبین۔ اچھا بھئی۔ کتاب الطہارت بھئی۔ بھئی یاد رکھیے۔ یہ ہمارے بزرگوں کا طریقہ ہے کہ کتاب کے اندر ایک جیسے جو مسائل ہیں ان کو اکٹھا یا کجا ذکر کرتے ہیں کتاب کے عنوان کے تحت۔ تو اس سلسلے میں جو ایک جنس کے مسائل ہوتے ہیں وہ سارے اس میں سب سے بڑا عنوان جو دیتے ہیں کتاب کے نام سے۔ اس کے نیچے جو عنوان آتا ہے وہ باب کے نام سے ہوتا ہے بھئی۔ اور اس سے نیچے جو عنوان ہے وہ فصل کے تو کتاب باب فصل وغیرہ۔ تو یہاں پر فصلیں تو نہیں، البتہ صاحب قدوری کتاب ذکر کرتے ہیں جس میں ایک جنس کے مسائل ہوتے ہیں اور پھر اس جنس کے تحت جو مختلف انواع کے مسائل ہوتے ہیں وہ باب کے عنوان کے تحت ذکر کرتے ہیں بھئی۔ کتاب الطہارت بھئی۔ الطہارت کا معنی پاکی حاصل کرنا بھئی۔ تو اس کتاب میں پاکی کا بیان ہوگا بھئی۔ وضو کا طریقہ بتلائیں گے، غسل کا طریقہ بتلائیں گے اور مختلف نجاستوں کو جو کپڑے یا بدن پر لگ گئی ہوں ان کو دور کرنا ہے، پاکی حاصل کرنی ہے، یہ سارا کچھ اس باب میں بیان ہوگا۔ تو یاد رکھیے، ترکیب یاد رکھیے بھئی۔ کتاب میں عنوانات آتے جائیں گے۔ سب کی یہی ترکیب آپ کر سکتے ہیں۔ دو تین ترکیبیں میں آپ کو بتا دیتا ہوں اسان سی۔ بعض اوقات امتحان میں بعض اساتذہ پوچھ لیتے ہیں۔ آپ ابھی یاد کر لیں ہمیشہ آپ کو کام آئیں گی بھئی۔ پہلی ترکیب: کتاب الطہارت اس کو خبر بنا لیں اور اس کے لیے مبتدا محذوف نکال لیں: ہذا۔ ہذا کتاب الطہارت۔ یہ ہے طہارت کی کتاب۔ تو ہذا مبتدا۔ کتاب الطہارت، کتاب مضاف اور الطہارت مضاف الیہ۔ مضاف اور مضاف الیہ مل کر خبر۔ مبتدا اور خبر مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔ بھئی۔ ترکیب سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ اسان ترکیب ہے۔ تو کتاب الطہارت کو کیا بنائیں گے؟ یہ خبر بنائیں گے اور اس کے لیے کیا محذوف نکال لیں گے؟ مبتدا اور وہ کیا ہے؟ ہذا۔ بس بھئی، اسان سی ترکیب۔ یا اس کو مبتدا بنا لو اور اس کی خبر محذوف نکال لو۔ کیسے؟ کتاب الطہارت ہذا۔ کتاب الطہارت یہ۔ وہی پہلے ہذا آپ نے مبتدا محذوف نکالا تھا، اب اس کو کیا نکال لو؟ خبر بھئی۔ کتاب الطہارت یہ ہے۔ پہلے کیا ترجمہ تھا؟ یہ کتاب الطہارت ہے۔ اب کیا ہو جائے گا ترجمہ؟ کتاب الطہارت یہ ہے۔ یہ ایک تیسری ترکیب بھی یاد رکھیں۔ ابھی تک تو کتاب لفظ کو مرفوع پڑھ رہے تھے کیونکہ مبتدا اور خبر کیا ہوتے ہیں؟ مرفوع۔ پہلی ترکیب میں یہ خبر بنی تھی، یہ لفظ خبر بنا تھا تو مرفوع تھا۔ دوسری ترکیب میں یہ مبتدا بنا تو بھی مرفوع۔ تیسری ترکیب یہ کہ اس کو منسوب پڑھیں مولانا۔ اقرا کتاب الطہارت۔ اقرا کتاب الطہارت۔ اقرا امر کا صیغہ ہے۔ اے مخاطب پڑھو بھئی۔ اے مخاطب تم پڑھو! کیا؟ کتاب الطہارت۔ یہ مفعول بن جائے گا مولانا۔ اقرا فعل، انت ضمیر اس کے اندر فاعل اور کتاب الطہارت مضاف مضاف الیہ مل کر اس کے لیے کیا بن گئے؟ مفعول اور مفعول کیا ہوتا ہے؟ منسوب بھئی۔ تو تین ترکیبیں یاد رہیں گی بھئی؟ یہ یاد رکھیں بھئی۔ کہیں کبھی کوئی استاد پوچھ لیتے ہیں، یہ اسان ترین تراکیب ہیں بھئی۔ اقرا کتاب الطہارت۔ تو معلوم ہوا دو طرح یہاں پڑھ سکتے ہیں۔ کتاب الطہارت بھی پڑھ سکتے ہیں اور کتاب الطہارت بھی پڑھ سکتے ہیں۔ قال اللہ تعالی: اللہ تعالی فرماتے ہیں: یا ایہا الذین آمنوا: اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! اذا قمتم الی الصلاۃ: جب تم کھڑے ہو نماز کے لیے۔ بھئی ذکر قیام ہے، قمتم کس باب سے ہے بھئی؟ قام یقوم بھئی، قیام سے۔ اذا قمتم، جمع مخاطب کا صیغہ ہے بھئی۔ جب تم کھڑے ہو نماز کے لیے۔ بھئی کھڑے ہونے سے مراد ہے ارادہ، ارادہ قیام بول کر ارادہ قیام مراد ہے بھئی۔ عربی میں کبھی ایسا ہوتا ہے فعل بول کر ارادہ فعل مراد ہوتا ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ دیکھو، اللہ کیا فرما رہے ہیں؟ اے ایمان والو! اذا قمتم، جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو، فاغسلو وجوہکم، آگے پھر وضو بیان ہو رہا ہے کہ تو پھر وضو کر لو۔ تو کیا نماز کے لیے جب آپ کھڑے ہو جاتے ہیں، تب وضو کر لیتے ہیں یا جب نماز کا ارادہ ہوتا ہے تو تب وضو کرتے ہیں؟ ارادہ ہوتا ہے بھئی۔ یہ تو نہیں آپ صف میں جا کر کھڑے ہو گئے، پھر وضو شروع کر دیا بھئی۔ پہلے ارادہ بنا، وضو کیا، پھر جا کر تو یہاں قیام سے کیا مراد ہے؟ ارادہ قیام۔ قیام سے کیا مراد ہے؟ ارادہ قیام۔ یا ایہا الذین آمنوا: اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! اذا قمتم الی الصلاۃ: جب تم ارادہ کرو نماز کے لیے کھڑے ہونے کا، فاغسلو وجوہکم: تو پس تم دھو لو اپنے چہروں کو، وایدیکم الی المرافق: اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں تک بھئی۔ اپنے ہاتھوں کو کہنیوں تک دھو لو، وامسحوا بروسکم: اور تم مسح کرو اپنے سروں کا، و ارجلکم۔ بھئی ارجل کا عطف یاد رکھیں، روس پر نہیں ہے۔ واؤ کس لیے آتا ہے؟ عطف کے لیے۔ تو یہاں ارجل کا عطف روس پر نہیں ہے، ورنہ روس تو مجرور ہے بھئی، اس پر کیا داخل ہو رہی ہے؟ بائے جارہ داخل ہو رہی ہے بھئی، برووسکم۔ اور ارجلکم وہ کیا ہے؟ ارجلہ کا لفظ کیا ہے؟ منسوب ہے، اس پر زبر پڑھ رہے ہیں آپ بھئی۔ تو اس کا عطف دراصل ہے ایدیہ پر۔ کس پر؟ ایدیہ پر بھئی۔ یا وجوہکم پر اس کا عطف ہے۔ سر کے لیے کیا حکم بیان ہوا؟ مسح کرنے کا، اور ایدی اور وجوہ کے لیے کیا حکم بیان ہوا؟ جی دھونے کا حکم۔ تو جب ارجل کا عطف بھی ایدی اور وجوہ پر ہوا، تو اس کے لیے بھی کون سا حکم آیا؟ دھونے کا حکم آیا۔ سمجھ میں آیا؟ تو معلوم ہوا پاؤں کو دھونا ہے بھئی، پاؤں کو دھونا ہے۔ و ارجلکم: اور تم اپنے پاؤں کو دھو لو الی الکعبین: ٹخنوں تک بھئی۔ اپنے پاؤں کو دھو لو ٹخنوں تک بھئی۔ کعب ٹخنے کو کہتے ہیں بھئی، ابھری ہوئی ہڈی بھئی۔ ترجمہ سمجھ میں آگیا بھئی؟ دوبارہ سن لیجیے: قال اللہ تعالی: اللہ تعالی فرماتے ہیں: یا ایہا الذین آمنوا: اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! اذا قمتم الی الصلاۃ: جب تم ارادہ قیام کرو نماز کے لیے، فاغسلو وجوہکم: تو تم اپنے چہروں کو دھو لو، وایدیکم الی المرافق: اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں تک، وامسحوا بروسکم: اور مسح کرو تم اپنے سروں کا، و ارجلکم: اور دھو لو تم اپنے پاؤں، الی الکعبین: کہاں تک؟ ٹخنوں تک بھئی۔ ففرض الطہارۃ غسل الاعضاء الثلاثۃ۔ بھئی یاد رکھیے۔ مثلاً آپ نماز پڑھتے ہیں، نماز میں کچھ چیزیں ضروری ہیں بہت۔ اگر آپ ان کو چھوڑ دیں گے تو نماز ہی نہیں ہوگی۔ تو ایسی چیز جس کے چھوڑ دینے سے وہ عبادت ہی نہ ہو، وہ فرض کہلاتی ہے۔ کیا کہلاتی ہے؟ فرض کہلاتی ہے۔ تو نماز میں کچھ چیزیں فرض ہیں، اگر آپ ان میں سے کسی ایک کو چھوڑ دیں گے، چاہے جان بوجھ کر چھوڑیں، چاہے بھول کر چھوڑیں، نماز ہی نہیں۔ اسی طرح کچھ چیزیں سنت ہیں مولانا۔ کچھ چیزیں واجب ہیں، کچھ مستحب ہیں بھئی۔ تو یہاں پر بھی وضو کے اندر بھی یاد رکھیے کچھ چیزیں فرض ہیں۔ بعض چیزیں فرض ہیں، اگر ان میں سے کوئی چیز چھوٹ گئی چاہے بھولے سے چھوٹی، چاہے جان کی۔ بھئی وضو تو نام ہی ان چیزوں کا تھا، آپ نے ان میں سے ایک چیز نہیں کی تو معلوم ہوا آپ کا وضو بھی نہیں۔ اب کیا چیزیں فرض ہیں اور کیا چیزیں سنت ہیں؟ تو یاد رکھیے یہ چار چیزیں جن کا پتہ قرآن سے چل رہا ہے، جو قرآن میں آئی ہیں، یہ چار چیزیں فرض ہیں وضو کے اندر بھئی۔ کون سی؟ چار چیزیں، دیکھیے یہ آیت کے اندر آئی ہیں بھئی۔ پہلی کیا تھی؟ فاغسلو وجوہکم بھئی۔ کیا کرو اپنے چہروں کو؟ معلوم ہوا چہرے کا دھونا وضو میں فرض ہے۔ اور کہاں تک شمار ہوگا چہرہ بھئی؟ شاباش بھئی۔ پیشانی کے بالوں سے لے کر ٹھوڑی کے نیچے تک اور ایک کان کی لو سے لے کر دوسرے کان کی لو تک۔ سمجھ میں آیا؟ یہ داڑھی کے بال اور کان کے درمیان کچھ جگہ خالی ہے۔ اس کا دھونا بھی فرض ہے بھئی۔ سمجھ میں کیونکہ ایک کان کی لو سے دوسرے کان کی لو تک کہا تو یہ بھی بیچ میں آ گیا تو یہ جگہ اگر کسی کی خشک رہ گئی اس کا بھی وضو نہیں ہوا۔ اس کے بعد ہاتھ آ گئے بھئی۔ ہاتھوں کو کہاں تک دھوئیں گے؟ کہنیوں تک دھوئیں گے بھئی، کہنیوں تک۔ تو کہنیوں کا دھونا بھی فرض ہے ہمارے نزدیک۔ اور اس کے بعد سر کا مسح کرنا ہے بھئی، اور آخر میں پاؤں دھونے ہیں ٹخنوں سمیت بھئی۔ یہ چیزیں فرض ہیں، یہ چاروں آیت کے اندر ذکر ہو رہی ہیں تو تین اعضا کا دھونا اور سر کا مسح کرنا یہ چار فرائض ہیں وضو کے۔ ففرض الطہارۃ غسل الاعضاء الثلاثۃ ومسح الرؤس۔ پس فرائض فرض جو ہیں طہارت کے۔ وضو کے یعنی غسل الاعضاء الثلاثۃ۔ ایک ہے غسل، ایک ہے غسل بھئی۔ غسل کا معنی دھونا اور غسل کا معنی نہانا بھئی، غسل کرنا۔ تو یہ فرق یاد رکھنا جہاں غسل پڑھنے کا موقع ہے، دھونے کا ترجمہ ہوگا وہاں غسل پڑھیں، ورنہ غسل پڑھیں۔ کہتے ہیں ففرض الطہارۃ، پس طہارت کے فرض جو ہے غسل الاعضاء الثلاثۃ، وہ دھونا ہے تین اعضا کا۔ ومسح الرؤس: اور سر کا مسح۔ یہ چار فرائض ہو گئے۔ والمرفقان والکعبان تدخلان في فرض الغسل عند علمائنا الثلاثۃ خلافاً لذفر رحمہ اللہ۔ اچھا، اب اس میں اختلاف ہے علماء کا مولانا۔ اللہ تعالی نے تو قرآن میں فرما دیا اپنے ہاتھوں کو دھو لو کہنیوں تک، اپنے پاؤں کو دھو لو ٹخنوں تک۔ اب یہ کہنیاں یہ بھی فرض ہیں ان کا دھونا یا یہ فرض میں شامل نہیں بھئی؟ اسی طرح ٹخنوں کا دھونا بھی فرض ہے یا یہ فرض میں شامل نہیں بھئی؟ اس میں علماء کا اختلاف ہے۔ ہمارے ائمہ ثلاثہ بھئی۔ کون ہیں ہمارے ائمہ ثلاثہ؟ شاباش۔ ہمارے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ، امام ابو یوسف رحمہ اللہ اور امام محمد رحمہ اللہ یہ تین ہمارے ائمہ ثلاثہ ہیں۔ یہ تینوں فرماتے ہیں کہ کہنیوں کا دھونا بھی فرض، ٹخنوں کا دھونا بھی۔ یعنی یہ بھی فرض کے اندر داخل ہیں۔ البتہ ہمارے ایک اور امام ہیں امام زفر رحمہ اللہ۔ یہ بھی امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے شاگرد ہیں مولانا، بہت بڑے امام ہیں بھئی، بڑا علم اللہ نے ان کو دیا تھا بھئی۔ یہ البتہ اختلاف کرتے ہیں، یہ کہتے ہیں نہیں کہنیوں کا دھونا فرض نہیں ہے۔ کہنی تک دھو لو، کہنی کا دھونا فرض نہیں۔ ٹخنوں تک دھو لو، ٹخنوں کا دھونا فرض نہیں۔ یعنی ایک آدمی ہے اس نے وضو کیا، کہنی اس کی رہ گئی۔ تو ہمارے نزدیک وضو ہی نہیں ہوا۔ امام زفر کیا فرماتے ہیں؟ ہو گیا بھئی کیونکہ اس کا دھونا تو فرض ہی نہیں تھا۔ ایک آدمی نے پاؤں دھوئے مولانا، ٹخنے رہ گئے بھئی۔ ہمارے نزدیک وضو ہی نہیں۔ اور امام زفر رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں؟ وضو ہو گیا کیونکہ اس کا دھونا تو فرض ہی نہیں ہے۔ دلیل کیا ہے؟ دلیل۔ تو یاد رکھو، یہاں دو لفظ ہیں، ایک غایا ایک مغیا۔ پڑھا ہوا ہے آپ نے پہلے یا نہیں بھئی؟ غایا اور مغیا۔ یاد رکھو کبھی کسی کلام میں کسی چیز کی حد بیان کی جاتی ہے۔ کیا بیان کی جاتی ہے؟ حد۔ حد بیان کی جاتی ہے۔ جس چیز کی حد بیان کی جائے اسے مغیا کہتے ہیں اور وہ جو حد ہوتی ہے وہ غایا کہلاتی ہے۔ بھئی مثلاً میں آپ کو بتلاتا ہوں بھئی۔ یہ زمین میری ہے۔ یہاں سے لے کر وہ اس دیوار تک یہ زمین میری ہے۔ میں کس چیز کی کو بیان کر رہا ہوں بھئی؟ حد کس چیز کی بیان کر رہا ہوں؟ زمین، اپنی زمین کی۔ تو میری زمین ہوئی مغیا اور وہ جو حد ہوئی وہ غایا ہوئی۔ بات سمجھ میں آگیا؟ تو یہاں پر بھی دیکھیے بھئی دھونے کا حکم بیان ہو رہا ہے۔ اور حد بیان ہو رہی ہے۔ تو کس چیز کو ہم یہاں مغیا کہیں گے بھئی؟ ہاتھ، ہاتھ بھئی۔ کیا ہاتھ کیا ہیں؟ یہ دھونے کے۔ دھونے کے، دھونے کا حکم بیان ہو رہا ہے وہ حکم بھئی۔ تو یہ جو ہاتھوں کا دھونا بیان ہوا یہ کیا ہے؟ مغیا اور حد کیا بیان ہوئی؟ کہنیاں بھئی۔ حد کیا ہو جائیں گی؟ کہنیاں۔ تو یہ ہاتھ ہوئے ایدی ہوئے مغیا، اور مرفقین یہ کیا ہوئے؟ غایا بھئی۔ اسی طرح ارجل یہ کیا ہوئے؟ مغیا، اور کعبین کیا ہوئے؟ غایا۔ تو اب ضابطہ یہ ہے إلى الليل رات تک بھئی۔ اب آپ مجھے بتائیے روزہ رات شام تک رکھا جاتا ہے یا رات کو بھی رکھا جاتا ہے؟ شام تک۔ شام تک رکھا معلوم ہوا لیل روزے کے حکم میں داخل نہیں۔ تو یہاں بھی اسی طرح ہے۔ دیکھو وہاں ایا ثم اتم الصیام پھر روزے کو کیا کرو؟ پورا کرو۔ کہاں تک پورا کرو؟ إلى الليل رات تک تو لیل بیان ہو گئی غایہ۔ روزے کی حد کیا بیان ہوئی؟ لیل تو روزہ ہوا مغیا اور رات کیا ہو گئی؟ غایہ۔ تو یہاں اب آپ بتائیے غایہ مغیا میں داخل ہے رات کو بھی روزہ رکھا جاتا ہے یا وہ خارج ہے؟ خارج ہے۔ کہتے ہیں دیکھو یہاں پر یہ پتہ لگ گیا کہ غایہ مغیا کے اندر داخل نہیں ہوتا۔ صورت سمجھ میں آئی؟ دلیل ان کی سمجھ میں آ گئی؟ خلاصہ دلیل یہ ہوا وہ فرماتے ہیں کہ غایہ مغیا کے اندر داخل نہیں ہوتا جیسے ثم اتم الصیام الی الليل کے اندر جو ہے غایہ مغیا کے اندر داخل نہیں ہے بھئی لیل صوم کے اندر داخل نہیں ہے۔ ہم جواب دیتے ہیں مولانا ائمہ ثلاثہ کی طرف کہ غایہ اور مغیا ہمیشہ ایسا نہیں ہے کہ غایہ مغیا میں داخل نہیں ہوگا۔ بلکہ اگر غایہ مغیا کی جنس میں سے ہے تو اس میں داخل ہوگا۔ اگر اس کی جنس میں سے نہیں ہے تو داخل نہیں ہوگا۔ کیا ضابطہ بیان ہوا؟ زبان سے دہراؤ بھئی میں کس لیے بار بار پوچھتا ہوں بعض طلباء کیوں خاموش بیٹھے ہیں بھئی زبان سے دہراؤ بھئی چیز یاد ہو جاتی ہے۔ اچھا ضابطہ ہم یہ بیان کرتے ہیں بھئی کہ غایہ اگر مغیا کی جنس میں سے ہو تو وہ اس میں شامل ہوگا اور اگر غایہ مغیا کی جنس میں سے نہ ہو تو اس کے حکم میں شامل نہیں ہوگا۔ اب آپ بتلائیے یہ جو کہنیاں ہیں یہ ہاتھ کی جنس میں سے ہیں یا کوئی الگ چیز ہیں؟ ہاتھ کی جنس میں سے ہیں ٹخنے پاؤں کی جنس میں سے ہیں یا کوئی الگ چیز ہیں؟ تو لہذا یہاں پر غایہ مغیا کی جنس سے ہے تو یہ اس کے حکم میں بھی داخل ہوگا اور ہاتھ کا حکم تھا دھونا تو کہنی کا بھی کیا حکم ہوگا؟ دھونا۔ اسی طرح ٹخنے جو ہیں بھئی وہ غایہ مغیا کی جنس سے ہے تو وہ اس کے حکم میں بھی داخل ہوگا۔ پاؤں کا حکم کیا تھا؟ اس کو دھولو فاغسلو اس کو دھولو تو ٹخنوں کا بھی کیا حکم ہوگا؟ ان کو بھی دھولو صورت سمجھ میں آئی؟ اور اگر غایہ مغیا کی جنس میں سے نہ ہو تو وہ اس کے حکم میں بھی داخل نہیں ہوگا۔ جیسے ہے دن اور رات بتائیے رات اور دن ایک ہی جنس کے ہیں یا الگ الگ چیزیں ہیں؟ الگ الگ ہیں مولانا अलग-अलग तो वहां पर रात जो है क्योंकि उसकी جنس الگ ہے تو وہ دن کے حکم میں داخل اس دن اس کے اندر روزہ نہیں ہوگا بھئی۔ ضابطہ سمجھ میں آ گیا سب کو اچھی طرح؟ تو امام زفر رحمہ اللہ نے دلیل دی تھی بھئی کہ کہ یہ غایہ مغیا کے اندر داخل نہیں ہوتا جیسے ثم اتم الصیام الی الليل کے اندر ہے کہ لیل جو ہے روزے کے حکم میں داخل نہیں ہم جواب دیتے ہیں نہیں یہاں تفصیل ہے۔ کہ تفصیل یہ کہ غایہ اگر مغیا کی جنس میں سے ہوگا تو اس کے حکم میں داخل ہوگا اور اگر غایہ مغیا کی جنس میں سے نہیں تو اس کے حکم میں بھی داخل نہیں ہوگا بھئی۔ کہتے ہیں والمرفقان والکعبانی اور دونوں کہنیاں والکعبانی اور دونوں ٹخنے تدخلانی یہ دونوں داخل ہیں فی فرض الغسل کس کے اندر بھئی دھونے کے فرض میں داخل ہیں عند علمائنا ثلاثہ ہمارے تین علماء کے نزدیک یعنی ہمارے تین ائمہ فقہاء کے نزدیک۔ خلافا لزفر رحمہ اللہ بخلاف کس کے امام زفر رحمہ اللہ کے بھئی لزفر پڑھا میں نے یاد رکھنا یہ غیر منصرف ہے زفر بروزن عمر ہے اور عمر کا لفظ آپ نے پڑھا ہے وہ کیا ہے؟ غیر منصرف ہے بھئی۔ تو اس کے اندر دو سبب کون کون سے ہیں بھئی؟ چلیے یہ تو آپ پڑھیں گے بھئی نحم میں اچھا والمفروض والمفروض فی مسح الراس مقدار الناصية अच्छा भाई देखिए आगे والمفروض في مسح الراس مقدار الناصية وهو ربع الراس لما روى المغيرة بن شعبة ان النبي صلى الله عليه وسلم اتى سباطة قوم فبال وتوضا ومسح على الناصية وخفيه والمفروض في مسح الرأس اور مسح رأس کے اندر جو فرض مقدار ہے مولانا مقدار الناصية فرض کتنا ہے سر کے مسح میں مقدار ناصیہ کی مقدار ناصیہ۔ یاد رکھو ناصیہ سر کے اگلے حصے کو کہتے ہیں۔ سر کے اگلے حصے کو کیا کہتے ہیں؟ ناصیہ چوتھائی سر، چوتھائی سر، چوتھائی۔ تقریبا یہ پیشانی کے برابر بن جاتا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں فرض جو ہے سر کے مسح میں مقدار الناصية وہ کتنی مقدار ہے؟ ناصیہ کی مقدار ہے اور ناصیہ کس کو کہتے ہیں بھئی؟ اگلے حصے کو بھئی اگلے حصے کو۔ وهو ربع الرأس اور وہ کتنا ہے؟ سر کا سر کا چوتھا حصہ ہے۔ اچھا بھئی اب سوال پیدا ہوا کہ قران میں تو ایا تھا کیا؟ وامسحوا برؤسكم اپنے سروں کا مسح کرو۔ بھئی وہاں تو نہیں ایا تھا کہ ناصیہ کی مقدار فرض ہے اور اس کے علاوہ فرض نہیں۔ یہ کہاں سے دلیل؟ تو اب اس کی دلیل ذکر کر رہے ہیں بھئی کہ حدیث میں ایا ہے بھئی حدیث سے ثبوت ہے اس کا۔ کیسے؟ لما بوجہ اس ماء مولانا ماء سے مراد حدیث ہے مولانا سمجھ میں آیا؟ لما بوجہ اس حدیث کے روى المغيرة بن شعبة جس کو روایت کیا ہے کس نے؟ حضرت مغیرہ ابن شعبہ حضرت مغیرہ ابن شعبہ رضی اللہ تعالی عنہ نے کہ ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور صلی اللہ علیہ وسلم أتا تشریف لائے صباطة قوم صباطة کہتے ہیں مولانا کوڑی کو بھئی۔ بھئی وہ گاؤں میں ایک جگہ متعجن ہوا کرتی تھی جب بستیوں وغیرہ میں لوگ کوڑا وغیرہ اس پر لا کر ڈالتے تھے بھئی۔ دیہات میں رہنے والے شاید آپ میں سے اب بھی جانتے ہوں بھئی ایسی جگہ ہوتی ہیں جہاں کیا کرتے ہیں کوڑا وغیرہ لا کر ڈالتے ہیں بھئی بستی کے بالکل ساتھ ہی ہوتی ہے یہ نہیں کہ وہ دور لے جا کر ڈال رہے ہیں نہیں بھئی اور اس کو کوڑی کہتے ہیں کوڑی۔ اباس کہتے ہیں بعضوں سے میں نے روڑی سنا ہے بھئی روڑی بھی کہتے ہیں ہاں ہاں کتابوں میں کوڑی بھی پڑھا اور روڑی بھی سنا بھئی تو روڑی بھئی اور یاد رکھو کوڑا کرکٹ ڈالتے ہیں اس پر کہتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے فبال پس آپ نے پیشاب فرمایا وتوضا اور وضو پھر کیا ومسح على الناصية وخفيه اور مسح کیا کس پر؟ ناصیہ پر کیا مطلب؟ سر کے اگلے حصے پر مسح فرمایا وخفيه اور کس پر مسح کیا؟ موزوں پر ومسح على الناصية وخفيه وخفيه اصل میں کیا تھا؟ خفينہی خفین تثنیہ کا صیغہ تھا مولانا پھر نون اضافت کی وجہ سے گر گیا۔ خفيه تو اور موزوں پر مسح فرمایا بھئی۔ اچھا تو دیکھو یہ روایت ہے حضرت مغیرہ ابن شعبہ کی جس کے اندر وہ بیان فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایک قوم کی روڑی پر تشریف لائے وہاں پیشاب کیا وضو فرمایا اس کے بعد اور اس وضو میں کیا کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے؟ ناصیہ پر مسح فرمایا اور موزوں پر مسح فرمایا۔ یہ دلیل ہے اس بات کی کہ سارے سر کا مسح فرض نہیں۔ کس بات کی دلیل ہے؟ سارے سر کا مسح فرض نہیں۔ بھئی اگر سارے سر کا مسح فرض ہوتا تو کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم صرف ناصیہ پہ مسح فرماتے یا پورے سر کا مسح فرماتے؟ ورنہ تو وضو ہی نہیں ہونا تھا بھئی فرض رہ جاتا بھئی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم وضو فرما رہے ہیں صرف کتنے حصے مسح فرما رہے ہیں صرف کتنے حصے پر؟ ناصیہ پر معلوم ہوا باقی حصہ فرض نہیں اگر فرض ہوتا ویسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ یہ تھی کہ پورے سر کا مسح فرما دیتے سمجھ میں آئے آگے آئے گا سنتوں کے اندر جی تو پورے سر کا مسح۔ लेकिन यहां इस रिवायत में आ रहा है कि सिर्फ कितने पर किया؟ चौथाई मालूम हो वो उम्मत को बतलाना चाहते थे कि मैं पूरे सर का مسح तो करता ہوں لیکن سارے کے سارے سر کا مسح فرض نہیں اگر سارے کا مسح فرض ہوتا تو میں آج بھی پورے سر پر مسح کرتا لیکن میں نے کیا کیا صرف؟ اس حدیث سے پتہ چلا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کم سے کم جو مسح فرمایا ہے سر پر وہ کتنے پہ فرمایا ہے؟ चौथाई मालूम हो चौथाई जरूर फर्ज है इससे कम कभी हुजूर से साबित नहीं है यह दलील है। دلیل سب کو سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو دوبارہ سنیے بھئی کہتے ہیں والمفروض في مسح الراس مقدار الناصية اور فرض جو ہے سر کے مسح کے اندر وہ ناصیہ کی مقدار ہے وهو ربع الرأس اور وہ سر کا چوتھائی ہے لما بوجہ اس حدیث کے روى المغيرة بن شعبة رضي الله تعالى عنه جن کو حضرت مغیرہ ابن شعبہ رضی اللہ تعالی عنہ نے روایت کیا ہے کہ ان النبي صلى الله عليه وسلم کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور صلی اللہ علیہ وسلم أتا تشریف لائے صباطة قوم ایک قوم کی روڑی پر فبال وتوضا پیشاب اور وضو فرمایا ومسح على الناصية اور مسح کیا سر کے اگلے حصے پر وخفيه اور اپنے موزوں پر۔ اچھا یہاں آپ کے ذہن میں ایک اشکال آ سکتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کیسے روڑی پر تشریف لائے بھئی؟ وہ تو کیا ہے؟ غلاظت کی جگہ ہے اور نہیں بھئی یاد رکھو دیہات میں رہنے والا جانتا ہوگا اس بات کو بھئی۔ یہ شہروں کی گندگی میں تعفن وغیرہ ہوتا ہے دیہات میں آپ نے دیکھا ہو اب تو شاید دیہات بھی بدل رہے ہیں آہستہ آہستہ وہاں بھی یہی صورتحال ہے ان کا کوڑے کرکٹ میں صرف مٹی اور تنکے ہوتے ہیں اور کچھ نہیں ہوتا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ صرف مٹی اور تنکے جو گھر میں صفائی وغیرہ کی تنکے وغیرہ بچوں نے گرائے ہوئے ہیں تو یہ اور چیزیں باقی نہیں ہوتیں تو وہ جو روڑی بھی ہوتی ہے کوئی تعفن والی جگہ نہیں ہوتی بھئی بلکہ اس کے اوپر باقاعدہ راستے بنے ہوئے ہیں کوئی ادھر کو نکل رہا ہے کوئی ادھر کو نکل رہا ہے بس یوں ہوتے ہیں جیسے بہت سارے تنکے وغیرہ اکٹھے ہو گئے ہیں یا زیادہ سے زیادہ اس کے اندر راکھ وغیرہ ہوتی ہے وہ تھوڑی بہت ہوتی ہے اس کا تو وہ بالکل عام زمین کی طرح ہی قریب قریب جگہ بنی ہوتی ہے سمجھ میں آیا بھئی؟ تو وہ کوئی تعفن والی جگہ نہیں ہوتی بھئی۔ اسی لیے میں نے کہا بالکل بستی کے ساتھ ہوتی ہے بلکہ بیچ میں ہی ہوتی ہے تقریبا۔ بیچ میں ہی ہوتی ہے حالانکہ یہاں شہر کے اندر ہو سکتا ہے بھئی کوڑے کی جگہ بیچ میں ہی بنا دیں جہاں کوڑے کا ڈرم پڑا ہو اس کے قریب سے کوئی نہیں گزر سکتا بھئی وہاں نہیں بھئی وہاں بالکل بدبو وغیرہ تعفن نہیں ہوتا۔ اچھا بھئی و سنن الطهارة غسل اليدين ثلاثا قبل ادخالهما الإناء بھئی فرائض بیان ہو گئے اب وضو کی سنتیں بیان ہوں گی بھئی۔ وضو کی سنتیں بیان ہوں گی بھئی۔ سمجھ میں آیا وضو کی بڑی فضیلت آئی ہے مولانا حدیث شریف میں آتا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جو شخص باوضو رہنے کی طاقت جس میں ہے اسے ہر وقت باوضو رہنا چاہیے بھئی جس شخص میں بھی باوضو رہنا چاہیے مولانا اللہ کی طرف سے بڑے انوارات حاصل ہوتے ہیں بھئی جتنا جتنا رہ سکے باوضو کی حالت میں وضو کی حالت میں۔ اور اگر اسے وضو کی حالت میں جس شخص کی موت آ جائے اسے شہادت کا رتبہ ملتا ہے بھئی تو کتنی عظیم فضیلت ہے بھئی۔ چلیے مولانا رحمہ اللہ تعالی فی حقیقۃ الکلام
7 approved lectures · 3 of 7