Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

مختصر القدوری · dars-011

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Shabeer Ahmad
📍 Location Peshawar, Pakistan
📅 Approved Date 08 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★ Fair
👁️ Total Views 30
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
باب التیمم ومن لم يجد الماء وهو مسافر أو خارج المصري وبينه وبين المصري نحو الميل أو أكثر أو كان يجد الماء إلا أنه مريض فخاف إن استعمل الماء اشتد مرضه أو خاف الجنب أن أو خاف الجنب إن اغتسل بالماء يقتله البرد أو يمرضه فإنه يتيمم بالصعيد. تیمم کے بارے میں آج ہم پڑھیں گے۔ تو شروع میں پاکی وغیرہ کے مسائل بیان کیے بھئی اور وضو کا بیان ہوا غسل وغیرہ کا بیان اب تیمم کو بیان کریں گے کیونکہ تیمم نائب ہے وضو کا بھئی سمجھ میں آیا تیمم نائب ہے تو اس لیے تیمم کا باب ذکر کیا اس کے بعد بھئی۔ یاد رکھیے تیمم کا لغوی معنی ہے ارادہ کرنا بھئی تیمم کا لغوی کیا معنی ہے ارادہ کرنا ارادہ کرنا۔ کوئی ترکیبی باب سے پوچھے مولانا یہاں تو کیا ترکیب کریں گے؟ جی تین طرح سے جی تین طرح سے ہر جگہ وہی تین ترکیبیں جو میں نے آپ کو بتلا دیں وہ ہر جگہ ہو جائیں گی۔ پہلی ترکیب کیا؟ ھذا باب التیمم ھذا مبتدا باب التیممی مضاف مضاف الیہ یہ خبر بھئی۔ یہ اس کو مبتدا بنا لو خبر محذوف نکال لو باب التیممی ھذا اور تیسری ترکیب کیا تھی؟ اقرأ باب التیممی پھر یہ منصوب ہوگا بھئی۔ تو تیمم لغت میں کہتے ہیں ارادہ کرنے کو بھئی۔ لغت میں اور اصطلاح شریعت میں آپ جانتے ہیں مولانا دو ضربیں مارنا زمین پر اور مسح کرنا ان کے ساتھ اپنے چہرے کا اور دونوں ہاتھوں کا بھئی۔ تو کہتے ہیں ومن لم يجد الماء اور وہ شخص جو پانی نہ پائے وہ مسافر یا خارج المصري اور وہ کیا ہو؟ مسافر ہو یا شہر سے باہر ہو اس حال میں کہ وہ مسافر ہو یا شہر سے باہر ہو وبينه وبين المصري نحو الميل اور اس کے بیچ اور شہر کے بیچ ایک میل کی مقدار ہو نحو یہاں بمعنی مقدار کے ہے مولانا ایک معنی اس کا مقدار کے بھی آتے ہیں بھئی۔ اس کی اور شہر کے بیچ ایک میل کی مقدار ہو اور یاد رکھنا یہ میل شرعی مراد ہے ایک میل آپ استعمال کرتے ہیں عام بول چال میں مولانا وہ انگریزی میل ہے وہ اس سے کم ہوتا ہے شرعی میل بڑا ہے انگریزی میل چھوٹا ہے۔ تو اس کی اور شہر کے بیچ ایک میل کی مقدار ہو أو أكثر یا اس سے یا اس سے زیادہ کی مقدار ہو یہ تو ایک صورت ہو گئی مولانا پانی نہیں پا رہا پانی مل ہی نہیں رہا اس کو بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی پانی مل ہی نہیں رہا دوسری صورت أو كان يجد الماء یا وہ شخص پانی کو تو پاتا ہے پانی تو اسے ملا ہے إلا انه مریض مگر وہ کیا ہے؟ مریض ہے بیمار ہے فخفا اسے خوف ہے ان استعمل الماء اشتد مرضہ کہ اگر اس نے پانی استعمال کر لیا تو اس کا اس کی بیماری شدید ہو جائے گی بڑھ جائے گی بھئی۔ اس کی بیماری کیا ہوگی؟ بڑھ جائے گی اور خاف الجنب یا خوف ہوا جنبی کو جو حالت جنابت میں ہے جس پر غسل فرض ہے اس کو خوف ہے ان اغتسل بالماء اگر اس نے غسل کیا پانی کے ساتھ يقتله البرد تو سردی اسے مار ڈالے گی۔ شدید سردی کے ایام ہیں بھئی یا ایسی جگہ ہے جہاں زبردست سردی پڑتی ہے اب وہاں پر اسے اندازہ وہ خوف ہے کہ اگر میں نہایا ٹھنڈا پانی ہے پھر بعد میں کوئی گرم کرنے والی چیز بھی نہیں ہے رضائی وغیرہ یہ چیز کوئی نہیں ہے بھئی آگ بھی نہیں ہے تو سردی یہ سردی تو مجھے کیا کر دے گی؟ مار ڈالے گی۔ أو يمرضه یا اسے کیا کر دے گی؟ بیمار یہ خوف تو نہیں ہے کہ سردی سے میں مر جاؤں گا لیکن یہ خوف ہے کہ سردی سے کیا ہو جاؤں گا؟ بیمار ہو جاؤں گا فانہ یتیمم بالصعيد تو یہ شخص کیا کرے؟ پاک مٹی سے تیمم کر لے تیمم کر لے بھئی مٹی سے۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ ایک شخص وہ ہے جس کو پانی مل ہی نہیں رہا۔ اور شہر کی قید ویسے لگائی مولانا۔ سمجھ میں آیا؟ بس مطلب ہے اس کے یعنی شہر میں عموما پانی مل جاتا ہے بھئی تو یعنی اس کے اور ایک شخص جنگل میں جا رہا ہے بھئی اسے اب پانی اس کے پاس ختم ہو گیا اور اسے نماز کے لیے وضو کی حاجت ہے تو اگر اس کا گمان یہ ہے کہ ایک میل کے اندر اندر اگر میں تلاش کروں کچھ علامتیں اس نے دیکھیں نشانیوں سے اندازہ ہو گیا ایک میل کے اندر مجھے پانی ضرور مل جائے گا تو پھر اس کے لیے تیمم جائز نہیں بلکہ کیا کرے پہلے پانی تلاش کرے اگر پانی نہیں ملتا پھر کیا کر لے؟ تیمم کر لے۔ تیمم اور اگر اس کا یہ گمان نہیں ہے بھئی کہ ایک میل میں پانی مل جائے گا تو پھر تلاش کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہے بھئی بس تیمم کر لے اور اس سے پڑھ لے بھئی نماز وغیرہ۔ تو یہ تو ایک صورت ہوئی کہ پانی ہے ہی نہیں۔ اور دوسری صورت کیا ہوئی؟ پانی تو ہے لیکن یا تو وہ مریض ہے بیمار ہے پانی کے استعمال پر قادر نہیں اسے پتہ ہے کہ اگر میں نے پانی استعمال کیا تو میرا میری بیماری بڑھ جائے گی۔ یا خوف ہے اس کو بھئی کہ اگر میں نے کیا کیا؟ غسل کر لیا پانی سے جنبی ہے تو سردی سے میں کیا؟ یہ سردی مجھے مار ڈالے گی یا یہ میرے مجھے بیمار کر دے گی بھئی تو پھر بھی اس صورت میں شریعت نے کس چیز کی اجازت دے دی؟ تیمم کی اجازت دے دی بھئی۔ समझ में आया भाई? भाई इतना पानी होना जरूरी नहीं जिससे पूरा वضو कर ले भाई। समझ में आया जो बयान हुआ भाई وضو کے سنتیں بھی اور سرا کچھ ادا ہو جائے؟ نہیں بس اتنا پانی اگر ہے جس سے ایک دفعہ چہرہ دھو سکتا ہے ایک ایک دفعہ ہاتھوں کو دھو سکتا ہے اور ایک ایک مرتبہ پاؤں کو دھو سکتا ہے بس۔ بھئی سنت تو کیا طریقہ تھا کتنی دفعہ دھوئیں ان سب کو؟ تین دفعہ تین دفعہ لیکن تین فرض تو ایک دفعہ ہے تو لہذا اگر صرف اتنا پانی ہے کہ ایک ایک دفعہ ان کو دھو سکتا ہے تو بھی مولانا اب تیمم جائز نہیں بلکہ کیا کرے؟ وضو کرے۔ وضو کرے۔ ہاں اگر ایسی جگہ ہے اسے پتہ ہے بھئی میں جنگل میں ہوں اب اگر اس پانی میرے پاس پانی تو پڑا ہے لیکن اگر میں نے پانی استعمال کیا مجھے قریب کہیں پانی ملنے کے آثار نظر نہیں آرہے بھئی سفر میں ہے تو پھر پیاس سے ہی میں مر جاؤں گا تو اس صورت میں بھی اب اگرچہ اتنا پانی ہے جس سے وہ وضو کر سکتا ہے لیکن پھر بھی اسے خوف ہے تو اس صورت میں شریعت نے کیا اجازت دی دی؟ اس صورت میں بھی تیمم وہ کر سکتا ہے بھئی تیمم کر سکتا ہے۔ اور یہ یاد رکھو مولانا جتنی پاکی وضو اور غسل سے حاصل ہوتی ہے اتنی ہی پاکی کس سے حاصل ہوتی ہے؟ تیمم سے تو تیمم کرنے کے بعد ذہن میں یہ وسوسہ اور خیال نہ لائے کوئی بھی کہ میں تو پوری طرح پاک نہیں ہوا بھئی جتنی پاکی وضو سے حاصل ہوتی ہے یا وضو کا تیمم کیا ہے تو جتنی پاکی وضو سے حاصل ہوئی تھی اتنی ہی پاکی تیمم سے اور اگر غسل کا تیمم کیا ہے تو جتنی پاکی غسل سے حاصل ہوتی تھی اتنی پاکی کس سے حاصل ہو چکی؟ تیمم سے حاصل ہو چکی تو یہ دل میں خیال نہ لائے اور یہ نہ سمجھے کہ میں اچھی طرح پاک نہیں ہوا بھئی۔ اچھا اسی طرح یہ بھی یاد رکھو بھئی۔ ایک آدمی ہے سفر میں جا رہا ہے جنگل میں اب اسے اس کا یہ گمان ہے بھئی قریب ایک میل کے اندر مجھے کسی کہیں بھی پانی نہیں ملے گا کسی طرف بھی۔ چنانچہ اس نے تیمم کیا اور تیمم کے ساتھ نماز پڑھ لی لیکن اسے پتہ ہی نہیں یہ جو میرے قریب درخت ہیں ان کے پیچھے ٹھیک ٹھاک پانی موجود ہے مولانا بڑی مقدار ہے پانی کی تو کوئی حرج نہیں مولانا۔ اب اگر اسے پتہ بھی لگ جاتا ہے تو تو تیمم اور نماز صحیح ہوئے ان کو دہرانے کی ضرورت کیونکہ جب اس نے تیمم کیا تھا جب نماز پڑھی تھی اس وقت اس کا کیا گمان تھا؟ کہ پانی کہیں قریب میں اگرچہ پانی اس کے قریب ہی سو ڈیڑھ سو گز کے فاصلے پر قریبی موجود تھا لیکن چونکہ اسے خبر نہیں تھی تو لہذا تیمم صحیح ہوا اور نماز صحیح ہوئی دوبارہ اب لوٹانے کی ضرورت نہیں ہے بھئی۔ अच्छा दूसरी बात مولانا یہاں پر ذکر آیا میل کا بھئی میل کا میں نے بتایا ایک انگریزی میل ہے جو اب یہاں عام استعمال ہوتا ہے ایک شرعی میل ہے اور شرعی میل کیا ہوتا ہے انگریزی میل سے بڑا ہوتا ہے۔ انگریزی میل چھوٹا ہے۔ समझ में आया? याद रखो। چھ ترکی گھوڑے کی دم کے چھ بال لیں بھئی۔ ترکی گھوڑے کی ترکی گھوڑے کی دم کے چھ بال لیں ان کو ایک دوسرے کے ساتھ چوڑائی میں رکھیں تو یہ ایک جو کے دانے کے برابر چوڑائی ہو جائے گی۔ جو جانتے ہو نہیں جانتے بھئی؟ جی وہ گندم کی طرح دانے ہوتے ہیں اس کے بھی بھئی۔ تو چھ ترکی گھوڑے کی دم کے بال چوڑائی میں ایک دوسرے کے ساتھ رکھیں تو یہ کتنی چوڑائی ہو گئی? ایک جو کے دانے کے برابر چوڑائی کے اس کی لمبائی کی بات نہیں کر رہا اس کی چوڑائی کے برابر یہ ہو گئے جی۔ اب چھ جو کے دانے ایک دوسرے کے ساتھ चौड़ाई में रखें लंबाई में नहीं छह जौ के दाने एक दूसरे के साथ चौड़ाई में रखें तो यह एक उंगली की मोटाई इसकी उंगली की चौड़ाई کے برابر ہو گئے بھئی۔ छह जौ के दाने एक दूसरे के साथ चौड़ाई में रखें तो यह कितनी चौड़ाई हुई भाई? एक उंगली की चौड़ाई के बराबर हो गई समझ में आया? ایک उंगली। تو چھ ترکی گھوڑے کی ترکی گھوڑے کی دوم کے بال چوڑائی میں ہوں تو یہ برابر ہیں ایک جو کے برابر چوڑائی میں اور چھ جو کے دانے چوڑائی میں رکھیں تو یہ کتنے ہوئے? ایک انگلی کے برابر چوڑائی میں بھئی۔ समझ में आया? یک انگلی جتنی چوڑی ہوتی ہے آپ کی ہاتھ کی انگلی مراد ہے۔ اچھا 24 انگلیاں چوڑائی میں ایک دوسرے کے ساتھ ہوں تو یہ ایک زراع بنتا ہے۔ کتنا بنتا ہے? ایک زراع آپ نے پڑھا یا نہیں بھئی? زراع کس کو کہتے ہیں? شرعی گز شرعی گز مولانا اس کو کیا کہتے ہیں? زراع کتنا ہوتا ہے میں نے آپ کو بتلایا تھا یہ ڈیڑھ فٹ کے ڈیڑھ فٹ کے برابر ہے اور ہاتھ کی زری بھی میں نے بتایا تھا کہنی سے لے کر یہ ہاتھ کو انگلیوں کو سیدھا رکھیں تو کہنی سے لے کر یہ درمیانی انگلی کے سرے تک یہ کتنا بنتا ہے? یہ ایک زراع ہے ڈیڑھ فٹ اور یہ کتنا ہوا کتنے اصبوع ہوئے? اصبوع کتنی انگلیاں ہوئیں بھئی? 24 24 انگلیوں کی چوڑائی کے برابر ہے تو 24 اصبوع ہوں 24 انگلیاں ہوں چوڑائی میں تو یہ کتنا ہوا? ایک ذراع مولانا یاد رکھو۔ اور چار ذراع ہوں تو یہ ایک باعه کہلاتا ہے بھئی۔ کتنے? چار ذراع چار ذراع ہوں تو یہ ایک باعه کہلاتا ہے با ع الف عین بھئی باعه۔ باعه بھئی سمجھ میں آیا بھئی? باعه کس کو کہتے ہیں? چار چار ذراع کو کہتے ہیں۔ بھئی آپ اپنے ہاتھوں کو دونوں طرف پھیلا دیں سیدھا دائیں ہاتھ کو دائیں طرف پھیلا دیا بائیں ہاتھ کو بائیں طرف سیدھا کر دیا بھئی۔ اب دائیں ہاتھ کی درمیانی انگلی کے سرے سے لے کر بائیں ہاتھ کی درمیانی انگلی کے سرے تک یہ ایک باعه ہے مولانا یہ کتنا ہے? اور یہ کتنا ہوا? چار ذراع بھئی کتنے? چار ذراع آپ دیکھ بھی سکتے ہیں چار ذراع ہے یا نہیں دیکھو مولانا بتاؤ مجھے یہ چار ذراع بنتے ہیں یا نہیں بنتے بھئی? بنتے ہیں۔ چار بن گئے بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی? اور ایک ہزار باعه ہوں تو یہ ایک شرعی میل ہے بھئی۔ ایک ہزار باعه ہوں تو یہ کتنا بن گیا? ایک شرعی میل بن گیا۔ یہ تو تھا تو گویا۔ कितने बार भाई? 1000 1000 बार हो तो यह कितना बन गया? ایک شری ایک شرعی میل بن گیا۔ تو بھئی ایک شرعی میل میں کتنے ذراع ہوئے? چار ہزار کتنے? چار بھئی ایک ہزار باعت تھے نا اور ہر باعت میں کتنے ذراع ہیں? چار تو چار سے ضرب دے دو کتنے ہیں ذراع? چار ہزار تو ایک شرعی میل چار ہزار ذراع ہوا چار ہزار ذراع۔ جى اور ہر ذراع ہے ڈیڑھ فٹ کا تو اس کو ڈیڑھ کے ساتھ ضرب دے دیں تو یہ کتنا بن گیا? چھ ہزار فٹ بھئی تو ایک شرعی میل کتنا ہوا? چھ ہزار فٹ چھ ہزار فٹ ہے یہ ایک شرعی میل ہے بھئی۔ چھ ہزار یعنی چار ہزار شرعی گز ہوں تو یہ ایک شرعی میل بنتا ہے۔ लेकिन आम गज़ों में बात करें مولانا आजकल अंग्रेजी गज़ राइज है یہاں پر بھئی اور وہ کتنے فٹ کا ہے میں نے بتلایا تھا تین فٹ کا ہے تین فٹ کا تو کتنا ہوا? جی۔ بھئی چار ہزار شرعی گز تھے کتنے تھے? ایک میل میں کتنے ذراع تھے? چار ہزار چار ہزار اور دو ذراع کا کیا بنتا ہے? ایک انگریزی گز بھئی دو ذراع کا ڈیڑھ ڈیڑھ فٹ کتنے ہو گئے? تین تو انگریزی گز کتنے فٹ کا ہے? تین فٹ کا تو وہ دو ذراع کے برابر ہے تو چار ہزار کو دو سے تقسیم کر دو آسان سا مسئلہ ہے کتنا ہو گیا? دو ہزار معلوم ہوا آج کل جو رائج ہیں یہ والے دو ہزار گز ہوں تو کتنا بن جاتا ہے? ایک شرعی میل۔ مسئلہ سمجھ میں آئے بھئی? فاصلے سمجھ میں آ رہے ہیں بھئی? باب التیمم ومن لم يجد الماء وهو مسافر أو خارج المصري وبينه وبين المصري نحو الميل أو أكثر أو كان يجد الماء إلا أنه مريض فخاف إن استعمل الماء اشتد مرضه أو خاف الجنب أن أو خاف الجنب إن اغتسل بالماء يقتله البرد أو يمرضه فإنه يتيمم بالصعيد. تیمم کے بارے میں آج ہم پڑھیں گے۔ تو شروع میں پاکی وغیرہ کے مسائل بیان کیے بھئی اور وضو کا بیان ہوا غسل وغیرہ کا بیان اب تیمم کو بیان کریں گے کیونکہ تیمم نائب ہے وضو کا بھئی سمجھ میں آیا تیمم نائب ہے تو اس لیے تیمم کا باب ذکر کیا اس کے بعد بھئی۔ یاد رکھیے تیمم کا لغوی معنی ہے ارادہ کرنا بھئی تیمم کا لغوی کیا معنی ہے ارادہ کرنا ارادہ کرنا۔ کوئی ترکیبی باب سے پوچھے مولانا یہاں تو کیا ترکیب کریں گے؟ جی تین طرح سے جی تین طرح سے ہر جگہ وہی تین ترکیبیں جو میں نے آپ کو بتلا دیں وہ ہر جگہ ہو جائیں گی۔ پہلی ترکیب کیا؟ ھذا باب التیمم ھذا مبتدا باب التیممی مضاف مضاف الیہ یہ خبر بھئی۔ یہ اس کو مبتدا بنا لو خبر محذوف نکال لو باب التیممی ھذا اور تیسری ترکیب کیا تھی؟ اقرأ باب التیممی پھر یہ منصوب ہوگا بھئی۔ تو تیمم لغت میں کہتے ہیں ارادہ کرنے کو بھئی۔ لغت میں اور اصطلاح شریعت میں آپ جانتے ہیں مولانا دو ضربیں مارنا زمین پر اور مسح کرنا ان کے ساتھ اپنے چہرے کا اور دونوں ہاتھوں کا بھئی۔ تو کہتے ہیں ومن لم يجد الماء اور وہ شخص جو پانی نہ پائے وہ مسافر یا خارج المصري اور وہ کیا ہو؟ مسافر ہو یا شہر سے باہر ہو اس حال میں کہ وہ مسافر ہو یا شہر سے باہر ہو وبينه وبين المصري نحو الميل اور اس کے بیچ اور شہر کے بیچ ایک میل کی مقدار ہو نحو یہاں بمعنی مقدار کے ہے مولانا ایک معنی اس کا مقدار کے بھی آتے ہیں بھئی۔ اس کی اور شہر کے بیچ ایک میل کی مقدار ہو اور یاد رکھنا یہ میل شرعی مراد ہے ایک میل آپ استعمال کرتے ہیں عام بول چال میں مولانا وہ انگریزی میل ہے وہ اس سے کم ہوتا ہے شرعی میل بڑا ہے انگریزی میل چھوٹا ہے۔ تو اس کی اور شہر کے بیچ ایک میل کی مقدار ہو أو أكثر یا اس سے یا اس سے زیادہ کی مقدار ہو یہ تو ایک صورت ہو گئی مولانا پانی نہیں پا رہا پانی مل ہی نہیں رہا اس کو بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی پانی مل ہی نہیں رہا دوسری صورت أو كان يجد الماء یا وہ شخص پانی کو تو پاتا ہے پانی تو اسے ملا ہے إلا انه مریض مگر وہ کیا ہے؟ مریض ہے بیمار ہے فخفا اسے خوف ہے ان استعمل الماء اشتد مرضہ کہ اگر اس نے پانی استعمال کر لیا تو اس کا اس کی بیماری شدید ہو جائے گی بڑھ جائے گی بھئی۔ اس کی بیماری کیا ہوگی؟ بڑھ جائے گی اور خاف الجنب یا خوف ہوا جنبی کو جو حالت جنابت میں ہے جس پر غسل فرض ہے اس کو خوف ہے ان اغتسل بالماء اگر اس نے غسل کیا پانی کے ساتھ يقتله البرد تو سردی اسے مار ڈالے گی۔ شدید سردی کے ایام ہیں بھئی یا ایسی جگہ ہے جہاں زبردست سردی پڑتی ہے اب وہاں پر اسے اندازہ وہ خوف ہے کہ اگر میں نہایا ٹھنڈا پانی ہے پھر بعد میں کوئی گرم کرنے والی چیز بھی نہیں ہے رضائی وغیرہ یہ چیز کوئی نہیں ہے بھئی آگ بھی نہیں ہے تو سردی یہ سردی تو مجھے کیا کر دے گی؟ مار ڈالے گی۔ أو يمرضه یا اسے کیا کر دے گی؟ بیمار یہ خوف تو نہیں ہے کہ سردی سے میں مر جاؤں گا لیکن یہ خوف ہے کہ سردی سے کیا ہو جاؤں گا؟ بیمار ہو جاؤں گا فانہ یتیمم بالصعيد تو یہ شخص کیا کرے؟ پاک مٹی سے تیمم کر لے تیمم کر لے بھئی مٹی سے۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ ایک شخص وہ ہے جس کو پانی مل ہی نہیں رہا۔ اور شہر کی قید ویسے لگائی مولانا۔ سمجھ میں آیا؟ بس مطلب ہے اس کے یعنی شہر میں عموما پانی مل جاتا ہے بھئی تو یعنی اس کے اور ایک شخص جنگل میں جا رہا ہے بھئی اسے اب پانی اس کے پاس ختم ہو گیا اور اسے نماز کے لیے وضو کی حاجت ہے تو اگر اس کا گمان یہ ہے کہ ایک میل کے اندر اندر اگر میں تلاش کروں کچھ علامتیں اس نے دیکھیں نشانیوں سے اندازہ ہو گیا ایک میل کے اندر مجھے پانی ضرور مل جائے گا تو پھر اس کے لیے تیمم جائز نہیں بلکہ کیا کرے پہلے پانی تلاش کرے اگر پانی نہیں ملتا پھر کیا کر لے؟ تیمم کر لے۔ تیمم اور اگر اس کا یہ گمان نہیں ہے بھئی کہ ایک میل میں پانی مل جائے گا تو پھر تلاش کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہے بھئی بس تیمم کر لے اور اس سے پڑھ لے بھئی نماز وغیرہ۔ تو یہ تو ایک صورت ہوئی کہ پانی ہے ہی نہیں۔ اور دوسری صورت کیا ہوئی؟ پانی تو ہے لیکن یا تو وہ مریض ہے بیمار ہے پانی کے استعمال پر قادر نہیں اسے پتہ ہے کہ اگر میں نے پانی استعمال کیا تو میرا میری بیماری بڑھ جائے گی۔ یا خوف ہے اس کو بھئی کہ اگر میں نے کیا کیا؟ غسل کر لیا پانی سے جنبی ہے تو سردی سے میں کیا؟ یہ سردی مجھے مار ڈالے گی یا یہ میرے مجھے بیمار کر دے گی بھئی تو پھر بھی اس صورت میں شریعت نے کس چیز کی اجازت دے دی؟ تیمم کی اجازت دے دی بھئی۔ بھئی اتنا پانی ہونا ضروری نہیں جس سے پورا وضو کر لے بھئی۔ سمجھ میں آیا جو بیان ہوا بھئی وضو کے سنتیں بھی اور سارا کچھ ادا ہو جائے؟ نہیں بس اتنا پانی اگر ہے جس سے ایک دفعہ چہرہ دھو سکتا ہے ایک ایک دفعہ ہاتھوں کو دھو سکتا ہے اور ایک ایک مرتبہ پاؤں کو دھو سکتا ہے بس۔ بھئی سنت تو کیا طریقہ تھا کتنی دفعہ دھوئیں ان سب کو؟ تین دفعہ تین دفعہ لیکن تین فرض تو ایک دفعہ ہے تو لہذا اگر صرف اتنا پانی ہے کہ ایک ایک دفعہ ان کو دھو سکتا ہے تو بھی مولانا اب تیمم جائز نہیں بلکہ کیا کرے؟ وضو کرے وضو کرے۔ ہاں اگر ایسی جگہ ہے اسے پتہ ہے بھئی میں جنگل میں ہوں اب اگر اس پانی میرے پاس پانی تو پڑا ہے لیکن اگر میں نے پانی استعمال کیا مجھے قریب کہیں پانی ملنے کے آثار نظر نہیں آرہے بھئی سفر میں ہے تو پھر پیاس سے ہی میں مر جاؤں گا تو اس صورت میں بھی اب اگرچہ اتنا پانی ہے جس سے وہ وضو کر سکتا ہے لیکن پھر بھی اسے خوف ہے تو اس صورت میں شریعت نے کیا اجازت دی دی؟ اس صورت میں بھی تیمم وہ کر سکتا ہے بھئی تیمم کر سکتا ہے۔ اور یہ یاد رکھو مولانا جتنی پاکی وضو اور غسل سے حاصل ہوتی ہے اتنی ہی پاکی کس سے حاصل ہوتی ہے؟ تیمم سے تو تیمم کرنے کے بعد ذہن میں یہ وسوسہ اور خیال نہ لائے کوئی بھی کہ میں تو پوری طرح پاک نہیں ہوا بھئی جتنی پاکی وضو سے حاصل ہوتی ہے یا وضو کا تیمم کیا ہے تو جتنی پاکی وضو سے حاصل ہوئی تھی اتنی ہی پاکی تیمم سے اور اگر غسل کا تیمم کیا ہے تو جتنی پاکی غسل سے حاصل ہوتی تھی اتنی پاکی کس سے حاصل ہو چکی؟ تیمم سے حاصل ہو چکی تو یہ دل میں خیال نہ لائے اور یہ نہ سمجھے کہ میں اچھی طرح پاک نہیں ہوا بھئی۔ اچھا اسی طرح یہ بھی یاد رکھو بھئی۔ ایک آدمی ہے سفر میں جا رہا ہے جنگل میں اب اسے اس کا یہ گمان ہے بھئی قریب ایک میل کے اندر مجھے کسی کہیں بھی پانی نہیں ملے گا کسی طرف بھی۔ چنانچہ اس نے تیمم کیا اور تیمم کے ساتھ نماز پڑھ لی لیکن اسے پتہ ہی نہیں یہ جو میرے قریب درخت ہیں ان کے پیچھے ٹھیک ٹھاک پانی موجود ہے مولانا بڑی مقدار ہے پانی کی تو کوئی حرج نہیں مولانا۔ اب اگر اسے پتہ بھی لگ جاتا ہے تو تو تیمم اور نماز صحیح ہوئے ان کو دہرانے کی ضرورت کیونکہ جب اس نے تیمم کیا تھا جب نماز پڑھی تھی اس وقت اس کا کیا گمان تھا؟ کہ پانی کہیں قریب میں اگرچہ پانی اس کے قریب ہی سو ڈیڑھ سو گز کے فاصلے پر قریبی موجود تھا لیکن چونکہ اسے خبر نہیں تھی تو لہذا تیمم صحیح ہوا اور نماز صحیح ہوئی دوبارہ اب لوٹانے کی ضرورت نہیں ہے بھئی۔ اچھا دوسری بات مولانا یہاں پر ذکر آیا میل کا بھئی میل کا میں نے بتایا ایک انگریزی میل ہے جو اب یہاں عام استعمال ہوتا ہے ایک شرعی میل ہے اور شرعی میل کیا ہوتا ہے انگریزی میل سے بڑا ہوتا ہے انگریزی میل چھوٹا ہے۔ سمجھ میں آیا؟ یاد رکھو۔ چھ ترکی گھوڑے کی دم کے چھ بال لیں بھئی۔ ترکی گھوڑے کی ترکی گھوڑے کی دم کے چھ بال لیں ان کو ایک دوسرے کے ساتھ چوڑائی میں رکھیں تو یہ ایک جو کے دانے کے برابر چوڑائی ہو جائے گی۔ جو جانتے ہو نہیں جانتے بھئی؟ جی وہ گندم کی طرح دانے ہوتے ہیں اس کے بھی بھئی۔ تو چھ ترکی گھوڑے کی دم کے بال چوڑائی میں ایک دوسرے کے ساتھ رکھیں تو یہ کتنی چوڑائی ہو گئی ایک جو کے دانے کے برابر چوڑائی کے اس کی لمبائی کی بات نہیں کر رہا اس کی چوڑائی کے برابر یہ ہو گئے جی۔ اب چھ جو کے دانے ایک دوسرے کے ساتھ چوڑائی میں رکھیں تو یہ ایک انگلی کی موٹائی اس کی انگلی کی چوڑائی کے برابر ہو گئے بھئی۔ چھ جو کے دانے ایک دوسرے کے ساتھ چوڑائی میں رکھیں تو یہ کتنی چوڑائی ہوئی بھئی؟ ایک انگلی کی چوڑائی کے برابر ہو گئی سمجھ میں آیا؟ ایک انگلی۔ تو چھ ترکی گھوڑے کی ترکی گھوڑے کی دوم کے بال چوڑائی میں ہوں تو یہ برابر ہیں ایک جو کے برابر چوڑائی میں اور چھ جو کے دانے چوڑائی میں رکھیں تو یہ کتنے ہوئے ایک انگلی کے برابر چوڑائی میں بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ ایک انگلی جتنی چوڑی ہوتی ہے آپ کی ہاتھ کی انگلی مراد ہے۔ اچھا 24 انگلیاں چوڑائی میں ایک دوسرے کے ساتھ ہوں تو یہ ایک زراع بنتا ہے کتنا بنتا ہے؟ ایک زراع آپ نے پڑھا یا نہیں بھئی؟ زراع کس کو کہتے ہیں؟ شرعی گز شرعی گز مولانا اس کو کیا کہتے ہیں؟ زراع کتنا ہوتا ہے میں نے آپ کو بتلایا تھا یہ ڈیڑھ فٹ کے ڈیڑھ فٹ کے برابر ہے اور ہاتھ کی زری بھی میں نے بتایا تھا کہنی سے لے کر یہ ہاتھ کو انگلیوں کو سیدھا رکھیں تو کہنی سے لے کر یہ درمیانی انگلی کے سرے تک یہ کتنا بنتا ہے؟ یہ ایک زراع ہے ڈیڑھ فٹ اور یہ کتنا ہوا کتنے اصبوع ہوئے? اصبوع کتنی انگلیاں ہوئیں بھئی? 24 24 انگلیوں کی چوڑائی کے برابر ہے تو 24 اصبوع ہوں 24 انگلیاں ہوں چوڑائی میں تو یہ کتنا ہوا؟ ایک ذراع مولانا یاد رکھو۔ اور چار ذراع ہوں تو یہ ایک باعه کہلاتا ہے بھئی۔ کتنے؟ چار ذراع چار ذراع ہوں تو یہ ایک باعه کہلاتا ہے با ع الف عین بھئی باعه۔ باعه بھئی سمجھ میں آیا بھئی؟ باعه کس کو کہتے ہیں؟ چار چار ذراع کو کہتے ہیں۔ بھئی آپ اپنے ہاتھوں کو دونوں طرف پھیلا دیں سیدھا دائیں ہاتھ کو دائیں طرف پھیلا دیا بائیں ہاتھ کو بائیں طرف سیدھا کر دیا بھئی۔ اب دائیں ہاتھ کی درمیانی انگلی کے سرے سے لے کر بائیں ہاتھ کی درمیانی انگلی کے سرے تک یہ ایک باعه ہے مولانا یہ کتنا ہے؟ اور یہ کتنا ہوا؟ چار ذراع بھئی کتنے؟ چار ذراع آپ دیکھ بھی سکتے ہیں چار ذراع ہے یا نہیں دیکھو مولانا بتاؤ مجھے یہ چار ذراع بنتے ہیں یا نہیں بنتے بھئی؟ بنتے ہیں۔ چار بن گئے بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ اور ایک ہزار باعه ہوں تو یہ ایک شرعی میل ہے بھئی۔ ایک ہزار باعه ہوں تو یہ کتنا بن گیا؟ ایک شرعی میل بن گیا۔ یہ تو تھا تو گویا۔ کتنے بار بھئی؟ 1000 1000 بار ہو تو یہ कितना بن گیا؟ ایک شری ایک شرعی میل بن گیا۔ تو بھئی ایک شرعی میل میں کتنے ذراع ہوئے؟ چار ہزار کتنے؟ چار بھئی ایک ہزار باعت تھے نا اور ہر باعت میں کتنے ذراع ہیں؟ چار تو چار سے ضرب دے دو کتنے ہیں ذراع؟ چار ہزار تو ایک شرعی میل چار ہزار ذراع ہوا چار ہزار ذراع۔ جى اور ہر ذراع ہے ڈیڑھ فٹ کا تو اس کو ڈیڑھ کے ساتھ ضرب دے دیں تو یہ کتنا بن گیا؟ چھ ہزار فٹ بھئی تو ایک شرعی میل کتنا ہوا؟ چھ ہزار فٹ چھ ہزار فٹ ہے یہ ایک شرعی میل ہے بھئی۔ چھ ہزار یعنی چار ہزار شرعی گز ہوں تو یہ ایک شرعی میل بنتا ہے۔ لیکن عام گزوں میں بات کریں مولانا आजकल अंग्रेजी گز راइज ہے یہاں پر بھئی اور وہ کتنے فٹ کا ہے میں نے بتلایا تھا تین فٹ کا ہے تین فٹ کا تو کتنا ہوا؟ جی۔ بھئی چار ہزار شرعی گز تھے کتنے تھے؟ ایک میل میں کتنے ذراع تھے؟ چار ہزار چار ہزار اور دو ذراع کا کیا بنتا ہے؟ ایک انگریزی گز بھئی دو ذراع کا ڈیڑھ ڈیڑھ فٹ کتنے ہو گئے؟ تین تو انگریزی گز کتنے فٹ کا ہے؟ تین فٹ کا تو وہ دو ذراع کے برابر ہے تو چار ہزار کو دو سے تقسیم کر دو آسان سا مسئلہ ہے کتنا ہو گیا؟ دو ہزار معلوم ہوا آج کل جو رائج ہیں یہ والے دو ہزار گز ہوں تو کتنا بن جاتا ہے؟ ایک شرعی میل۔ مسئلہ سمجھ میں آئے بھئی؟ فاصلے سمجھ میں آ رہے ہیں بھئی؟ چونا بھئی اس پہ تو تاریخ صادق ہی نہیں آ رہی کیونکہ ہم نے کیا کہا تھا وہ چیز اگ میں نہ جلے لیکن چونا اگ میں جل جاتا ہے। چونا کیا ہے اگ میں جل جاتا ہے لیکن وہ اس قاعدے سے مستثنی ہے اس کو نکال دیا گیا اس قاعدے سے پھر بھی وہ زمین کی جنس سے بھئی اور اس کے ساتھ تیمم کرنا جائز ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی تو ضابطہ یہ ہے کہ جو دو چیزیں اس ضابطے سے مستثنی ہیں ضابطہ یہ ہوا کہ جو چیز اگ میں نہ جلے اور نہ جلے وہ زمین کی جنس سے ہے بھئی۔ البتہ دو چیزیں خارج ہیں مولانا ایک راکھ اور ایک چونا بھئی۔ راکھ کو اس میں داخل ہونا چاہیے تھا لیکن پھر بھی ہم نے اسے خارج کر دیا اور چونے کو اس سے خارج ہونا چاہیے تھا لیکن پھر بھی ہم نے اسے داخل کر دیا اس ضابطے کی ان چیزوں میں بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی۔ والنیة فرض فی التمیم اور نیت فرض ہے تیمم کے اندر، نیت کیا ہے فرض ہے تیمم کے اندر۔ ومستحبة فی الوضوء اور نیت مستحب ہے کس کے اندر بھئی؟ وضو میں بھئی جیسے صاحب قدوری نے بتلایا تھا کہ نیت کرنا کیا ہے وضو میں مستحب ہے مولانا لیکن میں نے بتلایا تھا بھئی کہ علماء محققین کیا فرماتے ہیں بھئی نیت سنت ہے وضو کے اندر بھئی سنت ہے بھئی۔ تو دلائل ہیں ہر ایک کے اپنے بھئی صاحب قدوری کے نزدیک یہ مستحبات میں ہوگی بھئی۔ تیمم کیوں بھئی تیمم کے اندر نیت کیوں فرض ہے؟ وضو یہ نائب کس کا ہے؟ وضو کا اور وضو میں نیت مستحب ہے یا سنت ہے تو اس کے اندر بھی کیا ہونی چاہیے نیت؟ مستحب یا سنت لیکن کہتے ہیں نہیں بھئی تیمم کے اندر نیت فرض ہے ہمارے فقہاء کرام فرماتے ہیں کیونکہ تیمم کا معنی ہی کیا ہے ارادہ کرنا نیت کرنا لہذا اس کے سمجھ میں آیا تو اس کے اندر نیت کیا ہے فرض دلائل ہیں مولانا بڑی دلائل ہیں ایک وجہ میں نے ذکر کر دی کیونکہ اس کا معنی ہی کیا ہے نیت کرنا تو اس کا معنی ہی بتلا رہا ہے بھئی اس میں نیت ضرور ہونی چاہیے۔ اچھا معلوم ہوا جس نے نیت نہیں کی اس کا تیمم بھی نہیں ہوگا لہذا۔ ایک آدمی دو آدمی سفر میں جا رہے ہیں بھئی پانی ختم ہے اور قریب میں کہیں پانی ملنے کا امکان نہیں اب نماز کا وقت ہوا اب دونوں کیا کرتے ہیں تیمم کرنا چاہیے بھئی نماز کا وقت ہو گیا پانی تو کہیں ملے گا نہیں ایک کہتا ہے بھئی مجھے تو تیمم کا طریقہ ہی نہیں آتا تو دوسرا اس کو بتلاتا ہے کہتا ہے دیکھو تیمم یوں کرتے ہیں اس کے سامنے تیمم کرکے اسے دکھاتا ہے۔ کیا کرتا ہے؟ اس کے سامنے تیمم کرکے دکھایا لیکن نیت خود نہیں کی بس اس کو سکھا رہا ہے۔ تو تیمم ہوا یا نہیں ہوا مولانا؟ نہیں ہوا معلوم ہوا کسی کو سکھانے کے لیے دکھانے کے لیے اگر تیمم کیا جائے اور ارادہ پاکی کا نیت نہیں کی تو تیمم نہیں لیکن اگر نیت کر لی تو پھر اس کا بھی تیمم کیا ہو جائے گا؟ ہو جائے گا تو اس کو دکھانا بھی ہو گیا اور پاکی بھی ہو گئی۔ وینقض التمیم کل شیء ینقض الوضوء۔ اور توڑ دیتی ہے تیمم کو کل شیء ہر وہ چیز ینقض الوضوء جو وضو کو توڑ دیتی ہے۔ بھئی جن جن چیزوں سے وضو ٹوٹتا تھا جو گزر گئیں پیچھے بحث کے اندر بھئی ان تمام چیزوں سے تیمم بھی ٹوٹ جائے گا۔ صورت سمجھ میں آئی؟ یہ تو تیمم ٹوٹ جائے گا۔ علماء فرماتے ہیں بھئی۔ صاحب قدوری کی عبارت کے بجائے دوسرے بعض علماء نے جو عبارت نقل کی ہے اپنی کتابوں میں وہ بہتر ہے بھئی۔ وہ فرماتے ہیں کہ جو چیز اصل کو توڑنے والی ہے وہ تیمم کو بھی توڑ دے گی اور جو چیز اصل کو نہیں توڑنے والی وہ تیمم کو بھی نہیں توڑے گی۔ سمجھ میں آیا؟ صحیح صاحب قدوری نے کیا فرمایا بھئی؟ ہر وہ چیز جو وضو کو توڑ دے گی وہ تیمم کو بھی توڑ دے گی لیکن بھئی تیمم تو دو قسم پر ہے مولانا ایک تیمم وضو کا ہوتا ہے اور ایک تیمم غسل کا ہوتا ہے تو غسل کے تیمم تو یہ وضو کو توڑنے والی چیزیں اس تیمم کو نہیں توڑیں گی مولانا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اس کو نہیں توڑیں گے۔ یہ معنی نہیں ایک آدمی پہ غسل کا غسل واجب ہوا پانی نہیں ملا اس نے کیا کر لیا؟ تیمم کر لیا کیا کر لیا؟ تیمم کر لیا مولانا اب وہ حالت جنابت میں ہے یا پاک ہو گیا؟ پاک ہو گیا کسی قسم کا شک کرنے کی ضرورت نہیں پاک ہو گیا۔ اچھا اچھا اس کے لیے اس نے کیا کیا مثلاً ایک نماز وغیرہ بھی پڑھ لی بھئی۔ اب اس نے پیشاب وغیرہ کر لیا۔ اب آپ بتائیے کیا ہوگا حکم؟ اوہو وضو تو ٹوٹ گیا یا نہیں ٹوٹ گیا؟ وضو تو ٹوٹ گیا اور نماز کے لیے تو وضو ضروری ہے پھر اب وضو کے لیے کیا کرے گا؟ لیکن وہ غسل والا تیمم نہیں ٹوٹا بایں معنی کہ اب دوبارہ یہ جنابت میں نہیں ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ ہاں یہ معنی یہ معنی نہیں کہ اب وضو ٹوٹتا رہے وہ نمازیں پڑھتا رہے جو غسل والا تو ٹوٹتا ہی نہیں بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو لہذا جو چیز اصل کو توڑنے والی ہے وہ تیمم کو بھی توڑے گی۔ تو وضو کے تیمم کے لیے اصل کیا ہے؟ وضو۔ بھئی وضو کے لیے نائب ہے تیمم اسی طرح غسل کے لیے نائب ہے تو تیمم کے لیے دو اصل ہوئے کون کون سے؟ وضو اور غسل۔ تو یہ کبھی نائب ہوتا ہے وضو کا تو اس کے لیے اصل ہے وضو، یہ کبھی نائب ہوتا ہے کس کا؟ غسل کا تو اس کا اصل کون ہوا؟ غسل تو جو چیز اس کے اصل کو توڑ دے گی وہ اس تیمم کو بھی توڑ دے گی۔ لہذا ایک آدمی نے جنابت کی حالت میں ہے بھئی تیمم کر لیا جنابت تھی اور پھر پانی نہیں ملا اس نے تیمم کر لیا۔ تو اب یہ جنابت والا تیمم نہیں ٹوٹتا لیکن اگر اس کو پھر جنابت لاحق ہوئی مولانا۔ سمجھ میں آیا؟ تو اب جنابت آتی تھی تو اس سے کیا ہوتا تھا؟ غسل واجب ہو جاتا تھا بھئی تو یہاں پر بھی اب دوبارہ وہ تیمم ٹوٹ چکا ہے دوبارہ کیا کرنا پڑے گا؟ تیمم۔ مسئلہ سب کو سمجھ میں آ رہا ہے بھئی؟ وینقض تو لہذا مولانا پانی نہیں مل رہا تھا۔ اب ایک آدمی کو پانی مل گیا اس کو جنابت لاحق ہوئی اور وہ جُنبی ہوا پانی نہیں ملا اس نے کیا کیا؟ تیمم کر لیا بھئی غسل کے لیے تیمم کر لیا۔ تو تیمم کر لیا بھئی۔ اچھا ایک آدمی تھا اس کو اس نے تیمم کیا ہے غسل کا مولانا۔ اب وہ سفر کرتے چلتے اس کو ایک لوٹا پانی کا مل گیا۔ ایک لوٹا کس کا مل گیا؟ جس سے خوب سکون سے وضو ہو سکتا ہے۔ اب آپ بتائیے مولانا اس کا تیمم ٹوٹے گا یا نہیں ٹوٹے گا؟ جی۔ بھئی میں نے کیا بیان کیا کون سا تیمم کرکے وہ چل رہا ہے؟ غسل والا اور یہ پانی جو ملا کیا اب اس سے غسل ہو سکتا ہے؟ نہیں جب اس سے غسل نہیں ہو سکتا تو غسل والا تیمم بھی اس سے نہیں ٹوٹے گا۔ ہاں وضو والا تیمم کیا ہوتا تو یہ پانی مل گیا اس سے وضو ہو سکتا ہے آرام سے بھئی۔ لہذا وہ تیمم کیا ہوگا؟ ٹوٹ جائے گا۔ مسئلہ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو وہ چیز جو اصل کو توڑنے والی ہے وہ تیمم کو بھی توڑے گی۔ سمجھ میں آیا؟ تو غسل اتنا پانی مل جائے جس سے غسل کر سکے پھر وہ تیمم ٹوٹ جائے گا اب غسل کرنا پڑے گا۔ مسئلہ سب کو سمجھ میں آ گیا؟ تو کہتے ہیں وینقض التمیم کل شیء ینقض الوضوء اور توڑ دیتی ہے تیمم کو ہر وہ ہر وہ چیز جو توڑ دیتی ہے وضو کو وینقضہ ایضاً رؤیة الماء اذا قدر علی استعمالہ اور توڑ دیتی ہے ایضاً کا معنی بھی کے کریں گے بھی۔ اچھا اور توڑ دیتی ہے رویت الماء پانی کا دیکھنا بھی پانی کا دیکھنا بھی اس تیمم کو توڑ دیتا ہے اذا قدر علی استعمالہ جب وہ قادر ہو اس کے استعمال پر۔ جب وہ قادر ہو اس کے استعمال استعمال صرف پانی مل جائے بھئی آپ فوراً حکم لگا دیں بھئی ہم نے قدوری کے اندر مسئلہ پڑھا تھا پانی مل جائے تو تیمم کیا ہوگا؟ ٹوٹ جائے گا نہیں بھئی نہیں پانی تو مل گیا لیکن وہ جس نے تیمم کیا وہ تو مریض ہے اب بھی کیا کرتا ہے پانی استعمال کرے گا تو اس کا مرض بڑھ گیا تو معلوم ہوا وہ ابھی بھی پانی پر قادر نہیں۔ تو گویا پانی یوں سمجھا جائے گا ہے ہی نہیں۔ یوں سمجھا جائے گا ہے ہی نہیں۔ تو لہذا صرف پانی کے ملنے سے نہیں بلکہ پانی ملے بھی اور وہ اس کے استعمال پر قادر بھی ہو اسی لیے کہا وینقضہ ایضاً رؤیة الماء اذا قدر علی استعمالہ اور توڑ دیتا ہے پانی کا دیکھنا بھی تیمم کو جب وہ شخص قادر ہو اس پانی کے استعمال پر۔ ولا یجوز التمیم الا بصعید طاہر۔ اور جائز نہیں ہے مولانا تیمم مگر پاک مٹی کے ساتھ بھئی۔ تیمم صرف کس کے ساتھ جائز ہے؟ بھئی زمین کی جنس میں سے ہو لیکن اس کا پاک ہونا ضروری ہے۔ چنانچہ فقہاء کرام لکھتے ہیں مولانا۔ ایک زمین ہے اس پر کسی نے پیشاب وغیرہ کر دیا لیکن وہ زمین دھوپ کے اثر سے خشک ہو گئی اور پیشاب کا اثر وغیرہ بو وغیرہ وہاں سے بالکل ختم ہو گئی اس زمین پر نماز پڑھ سکتا ہے لیکن اس سے تیمم کرنا جائز نہیں۔ کیونکہ تیمم کے لیے کیا شرط ضروری ہے بھئی؟ پاک ہونا۔ زمین تو وہ پاک ہو گئی لیکن تیمم کرنا اس سے جائز نہیں۔ ہاں اگر پتہ نہیں ہے تو پھر پھر ایسے کبھی شک وہم نہیں کرنا چاہیے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ پتہ نہ ہو تو پھر شک اور وہم نہیں کرنا چاہیے۔ ہاں پتہ ہو تو پھر اس جگہ سے تیمم نہیں کر سکتے بھئی۔ اور میں نے آپ کو بتایا بھئی تیمم کن چیزوں سے جائز ہے؟ جو چیزیں زمین کی جنس میں سے ہیں۔ لیکن اگر زمین کی جنس سے نہ ہو مثلاً غلہ پڑا ہوا ہے یا کپڑے پڑے ہیں یا لکڑی پڑی ہے ان پر گرد اور مٹی پڑی ہوئی ہے تو پھر اس صورت میں ان سے بھی کیا ہے تیمم کرنا جائز ہے۔ جب کہ جو چیزیں زمین کی جنس میں سے ہیں ان پر بالکل سرے سے کوئی گرد نہ ہو پھر بھی ان سے تیمم جائز۔ لہذا ایک پتھر پڑا ہے ایک اینٹ پڑی ہے اس پر کوئی گرد نہیں ہے پھر بھی اس سے تیمم اور اگر بالکل دھولا ہوا ہے صاف ستھرا پتھر چمک رہا ہے مولانا پھر بھی اس سے تیمم جائز ہے۔ یہی راز ضرور یاد رکھنا بھئی زمین کی جنس میں سے ہو تو پھر اس پر گرد کا ہونا ضروری نہیں۔ بالکل صاف ستھرا ہو پھر بھی تیمم ہو جائے۔ جی چلیے مولانا۔ بس مولانا ہذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔
3 approved lectures · 3 of 3
First Previous
Current dars-011