Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

شرح التهذيب · dars-051

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor NOMAN AHMAD
📍 Location PESHAWAR, Pakistan
📅 Approved Date 15 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 66
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
دیکھیے بھئی شرح کے اندر کل ایک مقام جو رہ گیا تھا قَوْلُهُ أَوْ أَمْكَنَتْ أَيْ لَمْ يَمْتَنِعْ أَفْرَادُهُ فَيَشْمَلُ الْوَاجِبَ وَالْمُمْكِنَ الْخَاصَّ كِلَيْهِمَا۔ اچھا بھئی کل ہم پڑھ رہے تھے کلی اور جزئی کے بارے میں اور میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ یہ مقاصد کا بیان شروع ہو رہا ہے کیونکہ منطق کا مقصد کیا ہے نظر اور فکر میں انسان کو غلطی سے بچانا اور نظر اور فکر کسے کہتے تھے کچھ معلوم تصورات یا معلوم تصدیقات کو ترتیب دے کر نامعلوم تصور یا نامعلوم تصدیق تک پہنچنا تو یہ جو معلوم تصور جن کو ہم ترتیب دیتے ہیں ان کا کلی ہونا ضروری ہے بھئی کیونکہ جزئی نہ کاسب ہے اور نہ مکتسب یعنی جزئی کے ذریعے کسی دوسری جزئی تک ہم نہیں پہنچ سکتے اور نیز کسی نامعلوم جزئی کو معلوم جزئی کے ذریعے حاصل بھی نہیں کیا جا سکتا تو جن کے ذریعے حاصل کیا جائے وہ ہیں کاسب اور جن کو حاصل کیا وہ ہے مکتسب تو جزئی نہ کاسب بن سکتی ہے اور نہ مکتسب یعنی نہ اس کے ذریعے کسی کو حاصل کیا جا سکتا ہے اور نہ اس کو حاصل کیا جا سکتا ہے کسی کے ذریعے ہاں کلیات وہ کاسب بھی ہوتی ہیں اور مکتسب بھی ہوتی ہیں بھئی تو لہذا یہاں پر وہ ہوئی کلی اور جزئی کا بیان شروع ہوا جزئی اور کلی کے بارے میں بتایا کہ مفہوم جو ہے اگر عقل اس کے کثیرین پر صادق آنے کو جائز سمجھے جائز قرار دے تو اس کو کلی کہتے ہیں اور اگر عقل اس کے کثیرین پر صادق آنے کو جائز قرار نہ دے تو اسے جزئی کہتے ہیں بھئی اور ان میں سے پھر کلی جو ہے وہ مقاصد کے اندر داخل ہے جزئی مقاصد میں داخل نہیں لیکن وَبِضِدِّهَا تَتَبَيَّنُ الْأَشْيَاءُ چیزوں کا پتہ ان کی ضد سے چلتا ہے اس لیے کلی کو سمجھانے کے لیے جزئی کا بھی ذکر کرنا پڑا کیونکہ جب جزئی سمجھ میں آ جائے گی تو کلی بھی خود بخود سمجھ میں آ جائے گی کہ جزئی وہ کثیرین پر صادق نہیں آتی تو معلوم ہوا کلی کیا ہے وہ کثیرین پر صادق آتی ہے بھئی۔ اور اس کے بعد پھر انہوں نے کلی کی چھ قسمیں آپ کو بتلائی تھیں کہ کلی اپنے افراد کے اعتبار سے اس کی چھ قسمیں ہیں۔ کلی کے افراد یا تو ممتنع ہوں گے ناممکن ہوں گے ان کا وجود ہو ہی نہیں سکتا تو ایک قسم یہ یا اس کے افراد کیا ہوں گے ممکن کلی کے افراد ناممکن ہوں مثلا لا شے لا وجود اور شریک باری تعالیٰ بھئی کہ یہ ممکن ہی نہیں کیونکہ لا شے کیا معنی جو شے نہ ہو اس کا وجود ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ جب بھی اگر وجود پایا گیا وہ تو پھر لا شے نہ رہے گی کیا بن جائے گی شے بن جائے گی اور اسی طرح لا وجود اس کا وجود ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ جب بھی وجود پایا جائے گا تو پھر وہ لا وجود نہ رہے گا بلکہ وجود ہو جائے گا تو یہ کلی کی ایک قسم جس کے افراد ممتنع ہیں۔ کلی کی دوسری قسم کہ جس کے افراد ممکن ہوں تو پھر وہ دو حال سے خالی نہیں کہ کوئی فرد پایا بھی گیا ہے یا آج تک پایا ہی نہیں گیا۔ اگر پایا ہی نہیں گیا تو یہ دوسری قسم ہو گئی جیسے عنقا، ایک فرضی پرندہ ہے مناطقہ کہتے ہیں فلاسفہ ایک فرضی پرندہ فرض کر لیا کہ جس کا ایک پر مشرق میں ہے تو ایک پر مغرب میں ہے بھئی لیکن آج تک یہ پرندہ ملا نہیں دیکھا نہیں گیا۔ تو یہ ایسی کلی ہے جس کا وجود ممکن تو ہے ہو تو سکتا ہے لیکن ہمیں ملا آج تک نہیں۔ تو یہ دوسری قسم ہوئی۔ تیسری قسم کلی کی کہ اس کے افراد ممکن ہیں اور افراد ملے بھی ہیں لیکن پھر وہ دو حال سے خالی نہیں یا تو صرف ایک ہی فرد ملا ہے یا ایک سے زیادہ افراد ملے ہیں۔ تو اگر ایک ہی فرد ملا ہے تو پھر اس میں دو حال ہیں یا تو مزید افراد ممکن ہوں گے یا مزید افراد ممکن نہیں ہوں گے۔ اگر ایک ہی فرد ملا ہے اور مزید افراد بھی ممکن ہیں تو یہ کلی کی تیسری قسم ہو گئی جیسے سورج اور چاند۔ سورج اور چاند کہ ایک ہی فرد ہمیں ملا ہے اور افراد بھی ممکن ہیں بھئی لیکن ہمیں ملے نہیں۔ اور چوتھی صورت کہ کلی کا ایک ہی فرد ملا ہے اور افراد ممکن ہی نہیں اور جیسے وَاجِبُ الْوُجُودِ بھئی۔ وَاجِبُ الْوُجُودِ اگر ایک اور ہو تو وہ کیا بن جائے گا وَاجِبُ الْوُجُودِ کا شریک ہو جائے گا یا نہیں اور ابھی پڑھا کہ شریک وَاجِبُ الْوُجُودِ تو کیا ہے ممتنع ہے بھئی ممکن ہی نہیں ہے۔ تو جو وَاجِبُ الْوُجُودِ ایسی کلی ہے جس کا ایک ہی فرد ہے اور مزید افراد ممکن ہی نہیں یہ چوتھی قسم۔ پانچویں قسم کلی کی یہ ہے کہ اس کے افراد کثیر ہیں پھر ان میں دو صورتیں ہیں یا تو وہ افراد محدود ہوں گے یا لامحدود ہوں گے۔ اگر وہ محدود ہیں تو یہ پانچویں قسم اور اگر وہ لامحدود ہیں تو یہ چھٹی قسم۔ پانچویں قسم کہ کلی کے افراد ملے بھی ہیں اور محدود ہیں اس کی مثال جیسے انسان بھئی۔ دیکھو انسانوں کی اگرچہ تعداد کروڑوں اربوں میں ہے لیکن بہرحال ایک محدود تعداد ہے کیونکہ یہ نظام ختم ہو جائے گا قیامت قائم ہو گی بھئی۔ جبکہ فلاسفہ کیا کہتے ہیں جو قیامت کے قائل نہیں ہیں وہ کیا کہتے ہیں کہ یہ نظام ہمیشہ سے چل رہا ہے اور ہمیشہ چلتا رہے گا۔ جب ہمیشہ چلتا رہے گا تو معلوم ہوا انسانوں کی بھی کوئی حد نہیں وہ بڑھتے ہی چلے جائیں گے۔ تو ہمارے نزدیک انسان کس کی مثال ہے وہ کلی جس کے افراد کیا ہوں محدود اور ان کے نزدیک وہ کلی ہے جس کے افراد لامحدود۔ یہ دوسری مثال جس کے افراد محدود ہوں کواکب سیارہ۔ میں نے آپ کو بتلایا کہ یہ آسمان پر ستارے آپ دیکھتے ہیں رات کو چمکتے ہوئے یہ دو قسم کے ہیں۔ کچھ وہ ہیں جن کی روشنی اپنی ہے اور کچھ وہ ہیں جن کی روشنی اپنی نہیں وہ کسی سیارے کے گرد گھومتے ہیں ان کو سیارہ کہتے ہیں کیا کہتے ہیں سیارہ۔ تو یہ جو کواکب سیارہ ہیں قدیم علم فلکیات کے مطابق ان کی تعداد سات ہے بھئی تو دیکھو محدود ہیں اور یہ بین السطور ان کے نام بھی لکھے ہوئے تھے کتاب میں قَمَر، عُطَارِد، زُهْرَة، شَمْس، مِرِّيخ، زُحَل، مُشْتَرِي بھئی۔ تو یہ مِرِّيخ میں نے بتلایا عربی میں مِرِّيخ لفظ ہے اگرچہ اردو میں کیا بولا جاتا ہے مریخ بولا جاتا ہے۔ تو یہ آیا تو اردو میں بھی عربی ہی سے ہے معلوم ہوا اردو میں غلط رائج ہو گیا بھئی لیکن بہرحال اب یہ رائج ہی اسی طرح ہے۔ تو یہ سات ہیں جبکہ جدید ہیئت کے مطابق یہ چاند جو ہے یہ سیاروں میں سے نہیں ہے۔ یہ تو خود ایک سیارے یعنی زمین کے گرد گھومتا ہے تو یہ سیارچہ ہے۔ اس کو سیارہ نہیں کہتے بلکہ سیارچہ چھوٹا سیارہ۔ سیارہ تو وہ ہے نا جو کسی ستارے کے گرد گھومے سیارہ کیا ہے؟ جو کسی ستارے کے گرد چکر لگائے اس کے تابع ہو اور سیارچہ وہ ہے جو کسی سیارے کے تابع ہو اس سیارے کے گرد گھومے۔ تو جدید فلکیات کے مطابق یہ سارے سیارے نظام شمسی میں جو ہیں یہ سورج کے گرد گھومتے ہیں اسی لیے اس کو نظام شمسی کہتے ہیں سورج کا نظام بھئی۔ اور ان میں سے ہر ایک کے گرد پھر مختلف ہیں ان کے گرد چاند بھی ہیں بھئی سیارچے بھی کافی سارے ہیں تو ان کے نزدیک تعداد زیادہ ہو گئی بھئی۔ اور میں نے یہ بھی بتلایا تھا کہ ستارے کی روشنی اپنی ہوتی ہے جبکہ سیارے کی روشنی اپنی نہیں ہوتی وہ ستارے سے روشنی حاصل کرتا ہے جیسے زمین سورج کے گرد گھومتی ہے اور زمین کی اپنی روشنی نہیں ہے بلکہ سورج کی روشنی کے ذریعے یہ روشن ہوتی ہے بھئی۔ اور پھر وہ کلی جس کے افراد لامحدود ہوں اس کی ایک اور مثال کیا تھی اللہ تعالیٰ کی معلومات بھئی۔ یہ ان کی کوئی حد نہیں لامحدود ہیں بھئی۔ تو یہ چھ قسمیں ہو گئیں کلی کی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ پھر اس کے بعد کل شرح کے اندر یہ مقام آیا تھا قَوْلُهُ أَوْ أَمْكَنَتْ أَيْ لَمْ يَمْتَنِعْ أَفْرَادُهُ فَيَشْمَلُ الْوَاجِبَ وَالْمُمْكِنَ الْخَاصَّ كِلَيْهِمَا۔ یہ دراصل شارح ایک اعتراض کا جواب دے رہے ہیں۔ أَوْ أَمْكَنَتْ أَيْ لَمْ يَمْتَنِعْ یہ کیا کر رہے ہیں ایک اعتراض کا جواب دے رہے ہیں بھئی۔ اعتراض کیا ہوتا ہے؟ دیکھو ذرا اوپر متن میں آؤ۔ دیکھیے الْمَفْهُومُ إِنِ امْتَنَعَ فَرْضُ صِدْقِهِ عَلَى كَثِيرِينَ فَجُزْئِيٌّ وَإِلَّا فَكُلِّيٌّ کہ مفہوم اگر اس کے کثیرین پر صادق آنے کو عقل جائز قرار نہ دے فَجُزْئِيٌّ تو وہ جزئی ہے وَإِلَّا اور اگر ایسا نہ ہو یعنی عقل جائز قرار دے کثیرین پر صادق آنے کو فَكُلِّيٌّ تو وہ کلی ہے۔ آگے کلی کی تقسیم شروع کر دی کہ وہ کلی امْتَنَعَتْ أَفْرَادُهُ أَوْ أَمْكَنَتْ اس کلی کے افراد خارج میں یا تو ممتنع ہوں گے یا أَمْكَنَتْ یعنی یا ممکن ہوں گے۔ کیا ہوں گے؟ یا ممتنع ہوں گے یا ممکن ہوں گے۔ اب دیکھیے یہاں دو چیزوں کے درمیان أَوْ آیا أَوْ۔ امْتَنَعَتْ أَوْ أَمْكَنَتْ اور أَوْ سے ماقبل اور أَوْ کا مابعد ایک دوسرے سے غیر ہوتے ہیں۔ مثلاً میں کہتا ہوں یہ آدمی یا تو زید ہے یا خالد ہے۔ ایک آدمی ہے میں پہچان نہیں پایا لیکن میں نے کہا یا تو یہ زید ہے یا خالد تو دیکھا اردو میں أَوْ کے لیے کیا لاتے ہیں یا یا۔ اور یا سے ماقبل اور یا کا مابعد کیا ہوتا ہے ایک دوسرے کے مخالف الگ ہوتا ہے۔ تو یہاں پر بھی أَوْ آیا اور أَوْ کیا تقاضا کرتا ہے مابعد اور ماقبل میں کیا ہو تغایر ہونا چاہیے۔ تو معلوم ہوا یہ ایک دوسرے کے مقابل ہیں۔ جو ممتنع ہے وہ ممکن نہیں جو ممکن ہے وہ ممتنع نہیں۔ تو اشکال یہ ہوتا ہے کہ آپ نے کہا أَمْكَنَتْ یعنی ممکن ہوں گے یعنی امکان امکان۔ کس کو ذکر کیا؟ أَمْكَنَ يُمكنُ إِمْكَان۔ یا ماقبل میں ہے امتناع اور أَوْ کے مابعد کیا ہے؟ امکان توجہ ہے؟ تو آپ نے امکان ذکر کیا۔ اس امکان سے آپ کی کیا مراد ہے؟ امکان تو دو قسم کا ہے۔ ایک امکان خاص ایک امکان عام۔ امکان کتنی قسم کا ہے؟ دو قسم کا ہے۔ ایک امکان خاص اور ایک امکان عام۔ اگر اس امکان سے مراد امکان خاص ہے۔ کیا مراد ہے؟ اگر اس امکان سے مراد امکان خاص ہے تو امکان خاص کے اندر واجب داخل نہیں ہوتا۔ امکان خاص یا یوں کہو ممکن خاص کیا کہو؟ ممکن خاص اسے کہتے ہیں جس کا ہونا اور نہ ہونا برابر ہو۔ اور آگے جتنی قسمیں ہیں وہ اسی امکان کے اندر بیان ہو رہی ہیں۔ پہلی قسم ممتنع بیان ہوئی اگلی ساری کیا ہو رہی ہیں امکان والی۔ کلی کی کتنی قسمیں بیان ہوئیں؟ چھ۔ پہلی قسم کیا جو جس کے افراد کیا ہوں گے ممتنع۔ باقی جن کے افراد کیا ہوں گے ممکن۔ پھر اس ممکن کے اندر پانچ قسمیں بیان کر دیں۔ تو اگلی ساری قسمیں کس کی ہیں ممکن کی۔ اور انہی ممکن کے اندر ایک قسم وَاجِبُ الْوُجُودِ بھی ہے یا نہیں؟ وَاجِبُ الْوُجُودِ بھی ہے۔ تو امکان سے کیا مراد ہے؟ امکان عام مراد لیتے ہو یا امکان خاص۔ اگر آپ اس سے امکان خاص مراد لیتے ہیں تو امکان خاص کا تو عدم اور وجود برابر ہوتا ہے۔ نہ عدم ضروری اور نہ وجود ضروری۔ تو اس میں تو واجب داخل ہی نہیں ہو سکتا۔ پھر آگے واجب قسم کیسے آپ نے بنا دی؟ واجب کا تو ہونا ضروری ہے۔ اشکال سمجھ میں آ رہا ہے؟ اور یا پھر امکان سے مراد امکان عام ہے۔ اگر امکان عام مراد لیتے ہیں تو امکان عام کی ایک قسم ممتنع بھی ہے۔ کس کی؟ امکان عام کی۔ امکان عام کی ایک قسم ممتنع بھی ہے۔ تو ممتنع اس کے اندر داخل ہوا۔ جب اس کے اندر داخل ہے تو جب مصنف نے کہا أَوْ أَمْكَنَتْ تو أَمْكَنَتْ کے ضمن میں أَمْكَنَتْ کے اندر امْتَنَعَتْ بھی آ گیا یا نہیں؟ امْتَنَعَتْ بھی آ گیا۔ تو ماقبل میں بھی امْتَنَعَتْ اور مابعد میں بھی امْتَنَعَتْ تو گویا کلام یوں ہو گیا امْتَنَعَتْ أَوْ امْتَنَعَتْ۔ دونوں طرف ایک ہی چیز آ گئی۔ جیسے ایک ہی آدمی کے بارے میں میں کہوں یا تو یہ زید ہے یا زید ہے۔ اور یہ کہنا درست ہے؟ نہیں۔ یا کے ماقبل مابعد مغایرت ایک دوسرے کے غیر ایک دوسرے کے مقابل ہوتے ہیں۔ تو أَوْ اور یا کے دونوں طرف ایک ہی چیز نہیں ہو سکتی۔ تو أَوْ کا ایک ماقبل ہے اور مابعد ہے۔ تو أَوْ کا ماقبل اور مابعد ایک دوسرے کے مخالف ہوتے ہیں۔ اور اگر آپ اس امکان سے امکان عام مراد لیتے ہیں تو امتناع امکان عام کے اندر داخل ہے۔ امکان عام کی ایک قسم کیا ہے؟ ممتنع بھی ہے۔ تو ممتنع اس کے اندر داخل ہوا۔ جب اس کے اندر داخل ہے تو جب مصنف نے کہا أَوْ أَمْكَنَتْ تو أَمْكَنَتْ کے ضمن میں أَمْكَنَتْ کے اندر امْتَنَعَتْ بھی آ گیا یا نہیں؟ امْتَنَعَتْ بھی آ گیا۔ تو ماقبل میں بھی امْتَنَعَتْ اور مابعد میں بھی امْتَنَعَتْ۔ تو یہ تو درست نہیں ہے بھئی کہ أَوْ کا ماقبل اور مابعد دونوں ایک ہی جیسے ہو گئے۔ یہ تو اسی طرح ہے جیسے کوئی شخص کہے کہ یا تو اس وقت سورج نکلا ہوا ہے یا تو سورج نکلا ہوا ہے۔ دیکھا دونوں طرف ایک ہی بات کر دی۔ سورج سمجھ میں آ گئی؟ تو اشکال کیا ہوا؟ کہ یہ جو آپ نے امکان ذکر کیا اس سے امکان عام مراد ہے کہ امکان خاص۔ اگر امکان خاص مراد ہے تو پھر تو اس کے اندر واجب داخل نہیں کیونکہ امکان خاص کسے کہتے ہیں جس کا ہونا نہ ہونا برابر ہو اور واجب واجب کا تو ہونا نہ ہونا برابر نہیں ہے اس کا تو ہونا ضروری ہے۔ تو اگر اس سے امکان خاص مراد لیں تو واجب اس کے اندر داخل نہیں ہوتا تو آگے پھر آپ نے واجب کی تو قسم ایک بنائی ہے اس کا داخل وہ داخل ہی نہیں ہوتی تو وہ قسم کیسے بنا دی؟ اور اگر امکان سے مراد امکان عام ہے تو پھر امکان عام کے اندر تو امتناع بھی داخل ہے۔ تو پھر تو دونوں طرف گویا امتناع آ گیا اور أَوْ کے دونوں طرف امتناع ہو یعنی ایک ہی چیز ہو یہ درست نہیں۔ اشکال سمجھ میں آ گیا؟ تو جواب اس کا یاد رکھیے۔ جواب اس کا یہ ہے کہ یہاں امکان سے مراد امکان عام ہے۔ امکان عام۔ اور امکان عام یاد رکھیے دو قسم پر ہے۔ ایک امکان عام مقید بجانب الوجود اور اس کو لَا يَمْتَنِعُ سے تعبیر کرتے ہیں۔ دہراؤ بھئی یہ بار بار یہ لفظ آئیں گے آپ کے ذہن میں بیٹھنے چاہئیں میں بار بار تکرار کرواؤں گا بس آپ توجہ سے بیٹھیں۔ امکان عام کی کتنی قسمیں؟ دو قسمیں۔ ایک امکان عام مقید بجانب الوجود اور اس کو لَا يَمْتَنِعُ سے تعبیر کرتے ہیں۔ اور ایک امکان عام مقید بجانب العدم اور اس کو لَا يَجِبُ سے تعبیر کرتے ہیں۔ تو یہاں امکان عام کی ایک خاص قسم مراد ہے مطلقاً امکان عام مراد نہیں۔ یہاں امکان عام مقید بجانب الوجود مراد ہے۔ اور اس کو تعبیر کس سے کرتے ہیں؟ لَا يَمْتَنِعُ سے۔ ایک ہے امکان عام کی دو قسمیں ایک امکان عام مقید بجانب الوجود اور اس کو لَا يَمْتَنِعُ سے تعبیر کرتے ہیں یعنی جو ناممکن نہ ہو۔ لَا يَمْتَنِعُ جو ناممکن نہ ہو۔ يَمْتَنِعُ کا کیا معنی ناممکن ممتنع کسے کہتے ہیں ناممکن کو تو لَا يَمْتَنِعُ جو ناممکن نہ ہو۔ تو یہاں کون سی قسم مراد ہے امکان عام کی؟ مقید بجانب الوجود۔ وجود ایک چیز کا ہونا اور عدم نہ ہونا۔ تو امکان عام دو قسم پر ہے ایک امکان عام مقید بجانب الوجود اور اس کو کس سے تعبیر کرتے ہیں لَا يَمْتَنِعُ سے۔ اور امکان عام کی دوسری قسم ہے امکان عام مقید بجانب العدم اور اسے لَا يَجِبُ سے تعبیر کرتے ہیں۔ کس کے ساتھ تعبیر کرتے ہیں؟ لَا يَجِبُ سے تعبیر کرتے ہیں۔ تو یہاں امکان عام مقید بجانب الوجود مراد ہے اور ممتنع اس کے اندر داخل نہیں۔ آپ کا اشکال کیا تھا؟ کہ یا تو امکان خاص مراد ہے یا امکان عام۔ امکان خاص تو مراد لے نہیں سکتے ورنہ تو واجب خارج ہو جائے گا۔ اور امکان عام مراد لیں تو پھر تو اس میں ممتنع بھی داخل ہو جائے گا۔ تو بتلا دیا کہ امکان عام کی ایک قسم مراد ہے مطلقاً امکان عام مراد نہیں۔ کون سا امکان عام؟ امکان عام مقید بجانب الوجود۔ اور وہ کیا ہوتا ہے؟ اسے کس سے تعبیر کرتے ہیں؟ لَا يَمْتَنِعُ۔ تو ماقبل میں ہے يَمْتَنِعُ یعنی امتناع۔ ماقبل میں کیا ہے؟ امْتَنَعَتْ ہے۔ تو مابعد میں آ گیا لَمْ يَمْتَنِعْ لَا يَمْتَنِعُ ہے نا؟ تو اسی سے بنا لو لَمْ يَمْتَنِعْ۔ ماقبل میں آ گیا امْتَنَعَتْ مابعد میں کیا آیا؟ لَمْ يَمْتَنِعْ۔ تو اسی پر نفی آ گئی کہ نہیں آ گئی؟ تو ایک دوسرے کی ضد بن گئے یا نہیں بن گئے؟ ماقبل میں ہے ناممکن اور مابعد میں کیا ہے لَمْ يَمْتَنِعْ جو ناممکن نہ ہو۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو کون سا کیا جواب ہوا کہ کیا مراد ہے؟ امکان عام کی ایک خاص قسم مراد ہے۔ کون سی قسم؟ امکان عام مقید بجانب الوجود۔ اور اسے کس کے ساتھ تعبیر کرتے ہیں؟ لَا يَمْتَنِعُ کے ساتھ تعبیر کرتے ہیں۔ جب وہ لَا يَمْتَنِعُ ہے تو ماقبل میں تو ہے يَمْتَنِعُ أَوْ سے پہلے کیا ہے کتاب متن میں امْتَنَعَتْ ہے یا نہیں؟ تو ماقبل میں يَمْتَنِعُ ہے اور أَوْ کے بعد کیا آیا لَا يَمْتَنِعُ۔ تو ایک يَمْتَنِعُ اور ایک لَا يَمْتَنِعُ ایک دوسرے کی ضد بن گئے یا نہیں بن گئے؟ تو سارا اشکال ختم ہوا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ ہاں تفصیل ذرا لکھ لیجیے بھئی یہ آپ کے کام آئے گی امکان عام اور امکان خاص کسے کہتے ہیں یہ عموماً طلبہ کو سمجھ میں ہی نہیں آتا۔ لکھیے بھئی جلدی جلدی لکھیے بھئی۔ امکان دو قسم پر ہے۔ ایک امکان عام اور ایک امکان خاص۔ اب تعریف آگے لکھیے۔ الْإِمْكَانُ الْعَامُّ هُوَ سَلْبُ الضَّرُورَةِ عَنِ الْجَانِبِ الْمُخَالِفِ۔ سلب سین لام با۔ الضَّرُورَةِ ضاد کے ساتھ ہے ص ض۔ سلب الضرورۃ عن الجانب المخالف۔ یعنی امکان عام میں جانب مخالف سے ضرورت کا سلب ہوتا ہے۔ یعنی ضرورت کی نفی ہوتی ہے۔ یعنی جانب مخالف ضروری نہیں ہوتی۔ اور امکان عام کی دو قسمیں ہیں۔ یا یوں کرو امکان خاص کی تعریف پہلے لکھ لو۔ الْإِمْكَانُ الْخَاصُّ هُوَ سَلْبُ الضَّرُورَةِ عَنِ الْجَانِبَيْنِ۔ یعنی امکان خاص میں دونوں جانب سے ضرورت کا سلب ہوتا ہے۔ الگ سطر لکھیے بھئی۔ امکان عام کی دو قسمیں ہیں۔ نمبر ایک امکان عام مقید بجانب الوجود۔ اسے لَا يَمْتَنِعُ سے تعبیر کرتے ہیں۔ اور دوسری قسم امکان عام مقید بجانب العدم۔ اور اسے لَا يَجِبُ سے تعبیر کرتے ہیں۔ بھئی معنی سمجھ میں آ رہا ہے لَا يَمْتَنِعُ کا کیا معنی ہے؟ جو ناممکن نہ ہو۔ يَمْتَنِعُ کا معنی جو ناممکن ہو اور لَا يَمْتَنِعُ جو ناممکن نہ ہو۔ اور يَجِبُ کا کیا معنی ہوتا ہے؟ جو ضروری ہو جس کا ہونا لازمی ہو اور لَا يَجِبُ جس کا ہونا ضروری نہیں۔ آگے لکھیے۔ قضیہ موجبہ میں امکان عام ذکر ہو تو یہ امکان عام مقید بجانب الوجود ہے۔ اور اگر قضیہ سالبہ میں امکان عام ذکر ہو تو امکان عام مقید بجانب العدم ہے۔ یعنی امکان عام کی دوسری قسم۔ الگ سطر میں آگے لکھیے۔ امکان خاص میں جانبین سے ضرورت کا سلب ہوتا ہے۔ اور اسے لَا يَجِبُ لَا يَمْتَنِعُ سے تعبیر کرتے ہیں۔ لکھ لیا؟ اسے امکان خاص کو لَا يَجِبُ لَا يَمْتَنِعُ سے تعبیر کرتے ہیں۔ یعنی امکان خاص مقید بجانب الوجود بھی ہوتا ہے اور مقید بجانب العدم بھی۔ قضیہ موجبہ کس چیز کی بحث چل رہی ہے؟ امکان کی۔ امکان کی اردو میں آپ کیا کہتے ہیں؟ ممکن ہے۔ ممکن ہے، ہو سکتا ہے۔ قضیہ موجبہ میں ہو تو وہ کیا ہے؟ امکان عام مقید بجانب الوجود۔ اگر قضیہ سالبہ میں ہو تو امکان عام مقید بجانب العدم ہے۔ قضیہ موجبہ میں کس چیز کا ذکر؟ ہونے کا۔ ہونے کی مخالف کیا ہے؟ نہ ہونا۔ تو قضیہ موجبہ میں کس کا ذکر؟ ہونے کا۔ تو جانب مخالف کیا ہوئی؟ نہ آنا۔ تو اس سے ضرورت کی نفی کر دو۔ نہ آنا ضروری نہیں۔ جب میں نے کہہ دیا ہو سکتا ہے زید آیا ہو، معلوم ہوا اس کا نہ آنا ضروری نہیں، اس کے آنے کا بھی احتمال ہے۔ اب بات سمجھ میں آئی؟ جانب مخالف سے کیا ہوئی؟ ضروری ہونے کی نفی ہو گئی۔ اس کا برعکس کرو۔ دوسرا جملہ لکھو اسی کے نیچے۔ ہو سکتا ہے زید نہ آیا ہو۔ اب مجھے بتائیے یہ موجبہ ہے یا سالبہ؟ سالبہ۔ تو امکان عام میں کیا ہوتا ہے؟ جانب مخالف سے ضرورت کا سلب ہوتا ہے۔ جملے میں کیا ذکر ہے؟ نہ آنا۔ اس کی جانب مخالف کیا؟ آنا۔ اس سے ضرورت کی نفی کر دو۔ آنا ضروری نہیں۔ بن گئی یا نہیں صورت؟ جو دیکھا جانب مخالف سے ضروری ہونے کی نفی کر دی۔ نہ آنا ضروری نہیں جب میں نے کہہ دیا ہو سکتا ہے زید آیا ہو معلوم ہوا اس کا نہ آنا ضروری نہیں اس کے آنے کا بھی احتمال ہے۔ یہ تو تھی مثال امکان عام کی۔ امکان خاص کیا ہے جس کے جانبین سے ضرورت کا سلب ہو۔ اب مجھے بتاؤ امکان خاص جو ہے اس میں دونوں چیزوں کا ہو سکتا ہے۔ زید کا آنا بھی ہو سکتا ہے اور نہ آنا بھی۔ کوئی بھی چیز ضروری نہیں۔ نہ آنا ضروری ہے نہ نہ آنا ضروری ہے۔ اب وہ جملہ اپلائی کرو۔ میں کہوں ہو سکتا ہے زید آیا ہو۔ تو میں امکان خاص مراد لوں اگر اس سے تو کیا مطلب بنے گا کہ اس کا آنا بھی ضروری نہیں اور نہ آنا بھی ضروری نہیں۔ نہ آنا ضروری اور نہ نہ آنا ضروری۔ امکان عام میں ایک طرف کی نفی ہوتی تھی کہ ایک طرف ضروری نہیں دوسری طرف ہو سکتا ہے ضروری ہو۔ قضیہ موجبہ میں امکان عام ذکر ہو تو یہ امکان عام مقید بجانب الوجود ہے اور یہ امکان عام مقید بجانب الوجود ہے اور اگر قضیہ سالبہ میں امکان عام ذکر ہو تو امکان عام مقید بجانب العدم ہے۔ سَالِبَة۔ اچھا کس چیز کا ذکر ہے؟ آنے کا ذکر ہے یا نہ آنے کا ذکر ہے؟ نہ آنے کا۔ جب نہ آنے کا ذکر ہے، تو جانب مخالف کیا؟ آنا۔ جانب مخالف کیا ہوا؟ آنا۔ اس سے ضرورت کی نفی کر دو۔ آنا ضروری نہیں۔ جب میں نے کہا ہو سکتا ہے زید نہ آیا ہو، کیا مطلب؟ معلوم ہوا زید کا آنا ضروری نہیں۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ جانب مخالف سے کیا ہو رہی ہے؟ ضرورت کی نفی ہو رہی ہے۔ تو إِمْكَان عَام میں کیا ہوتا ہے؟ جانب مخالف سے ضرورت کی نفی ہوتی ہے کہ جانب مخالف ضروری نہیں ہوتی۔ اور جانب مخالف میں نے بتا دیا۔ کیا مطلب ہے جانب مخالف؟ مطلب یہ ہے کہ اگر ہونے کا ذکر ہے، تو جانب مخالف کیا ہوگی؟ نہ ہونا۔ اور اگر نہ ہونے کا ذکر ہے، تو اس کی جانب مخالف کیا ہوگی؟ ہونا۔ جیسے اوپر والے جملے میں کس کا ذکر تھا؟ آنے کا۔ تو جانب مخالف کیا ہوئی؟ نہ آنا۔ معلوم ہوا نہ آنا ضروری نہیں۔ زید کا نہ آنا ضروری نہیں، میرا مطلب یہ ہے۔ یعنی لازمی نہیں کہ زید نہ آیا ہو۔ جب میں نے کہا ہو سکتا ہے زید آیا ہو، کیا مطلب؟ جانب مخالف ضروری نہیں۔ یعنی نہ آنا ضروری نہیں۔ نہ آنا ضروری نہیں، یعنی نہ آنا لازمی نہیں۔ اگر تو نہ آنا لازمی ہوتا، پھر تو میں کہہ ہی نہیں سکتا ہو سکتا ہے زید آیا ہو۔ جب ایک بات لازمی ہے کہ زید نے نہیں آنا، ٹھیک ہے، اب میں کہوں گا ہو سکتا ہے زید آ گیا ہو؟ نہیں، اب تو میں نہیں کہوں گا کیونکہ اس کا نہ آنا لازمی ہے، ضروری ہے۔ ٹھیک ہے؟ لیکن یہاں پر إِمْكَان عَام ہے۔ کیا معنی؟ جب میں نے کہا ہو سکتا ہے زید آیا ہو۔ تو جانب مخالف کیا ہوئی؟ نہ آنا۔ معلوم ہوا نہ آنا ضروری نہیں۔ نہ آنا لازمی نہیں۔ اور اگر نہ آنے کو میں ذکر کروں، ہو سکتا ہے زید نہ آیا ہو، کیا معنی؟ اس کی جانب مخالف کیا؟ آنا۔ معلوم ہوا آنا ضروری نہیں۔ لازمی نہیں، ہو سکتا ہے نہ آیا ہو، میرا یہ مطلب ہے۔ اب بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو قَضِيَّة مُوجِبَة میں إِمْكَان عَام ذکر ہو، تو وہ إِمْكَان عَام مُقَيَّد بِجَانِبِ الْوُجُود۔ مُوجِبَة میں وُجُود کا ذکر ہوتا ہے نا، اور سَالِبَة میں عَدَم کا ذکر ہوتا ہے۔ تو قَضِيَّة مُوجِبَة میں کیا ہوگا؟ وہ مُقَيَّد ہوگا بِجَانِبِ الْوُجُود۔ اور قَضِيَّة سَالِبَة میں وہ ہوگا مُقَيَّد بِجَانِبِ الْعَدَم۔ یہاں تک بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ مثلاً میں کہتا ہوں، ہو سکتا ہے ہر آگ گرم ہو۔ کیا معنی؟ جانب مخالف لاؤ ذرا۔ گرم نہ ہونا۔ یعنی یوں کہو ٹھنڈا ہونا۔ گرم نہیں تو کیا ہے؟ ٹھنڈا ہے۔ تو جانب مخالف یعنی ٹھنڈا ہونا، وہ ضروری نہیں۔ معلوم ہوا کسی بھی آگ کا ٹھنڈا ہونا ضروری نہیں۔ یا یوں کہو کسی بھی آگ کا ٹھنڈا ہونا ضروری نہیں۔ جب میں نے کہہ دیا ہو سکتا ہے ہر آگ گرم ہو۔ معلوم ہوا کسی بھی آگ کا ٹھنڈا ہونا لازمی اور ضروری نہیں ہے۔ میرے کہنے کا یہ مطلب ہے۔ تو میں نے کیا جملہ بولا؟ ہو سکتا ہے ہر آگ گرم ہو۔ دیکھو مُوجِبَة ہے۔ ذرا سَالِبَة میں لے آؤ۔ ہو سکتا ہے کوئی بھی آگ ٹھنڈی نہ ہو۔ تو یہ دیکھو سلب آ گیا، نفی آ گئی۔ ٹھنڈے نہ ہونا، اس کی جانب مخالف کیا ہے؟ گرم ہونا۔ چاہے اسی کو لے آؤ، ادھر ہے ٹھنڈی نہ ہونا، ادھر ہے ٹھنڈا ہونا۔ جب کیا کہا؟ ہو سکتا ہے کوئی بھی آگ ٹھنڈی نہ ہو۔ تو جانب مخالف ہے ٹھنڈا ہونا۔ ادھر ہے ٹھنڈی نہ ہونا، دوسری طرف کیا ہے؟ ٹھنڈا ہونا۔ تو جب کہہ دیا ہو سکتا ہے کوئی بھی آگ ٹھنڈی نہ ہو۔ تو معلوم ہوا، جانب مخالف یعنی ٹھنڈا ہونا، کسی بھی آگ کا ٹھنڈا ہونا ضروری نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ ہے جانب مخالف بھئی، اس سے ضرورت کا سلب۔ جبکہ إِمْكَان خَاص اس میں دونوں جانب سے ضرورت کی نفی ہوتی ہے۔ ہونا اور نہ ہونا دونوں کیا ہوتے ہیں؟ برابر ہوتے ہیں۔ اور اس کو کس سے تعبیر کرتے ہیں؟ لَا يَجِبُ، لَا يَمْتَنِعُ۔ دونوں چیزیں اس میں آ جاتی ہیں۔ لَا يَجِبُ اس کا ہونا لازمی نہیں، اور لَا يَمْتَنِعُ اس کا نہ ہونا بھی لازمی نہیں۔ یعنی وہ مُمْتَنِع بھی نہیں اور وَاجِب بھی نہیں۔ تو یہ عام ہمارے کلام کی باتیں ہیں جن کو علمی رنگ دے دیا بھئی۔ ایک اور چھوٹا سا نقشہ ذرا بناؤ۔ اس سے آپ کو اور بات سمجھ میں آ جائے گی۔ کتاب کا اعتراض حل ہو جائے گا۔ یوں کرو صفحے کے درمیان میں ایک نقطہ لگاؤ۔ درمیان میں اس، جی۔ اس نقطے سے تین خط دائیں بائیں اوپر یعنی پنکھے جیسی شکل بنا دو۔ زیادہ لمبے خط نہیں کھینچنے کوئی ایک ایک انچ کے خط کھینچ لو یا ڈیڑھ ڈیڑھ انچ جتنی جگہ ہو۔ ڈیڑھ دو انچ کے خط کھینچ دو۔ پنکھا بنا دو اس نقطے سے۔ ذرا دو دو انچ کے خط کھینچو کیونکہ ہم نے لکھنا بھی ہے تاکہ ایک دوسرے سے الگ الگ رہیں جو جو لکھیں ہم۔ یاد رکھو کُلِّی جو مفہوم جو ہے نا، کُلِّی، کوئی بھی مفہوم، اپنے افراد کے اعتبار سے تین قسم کا ہو سکتا ہے۔ توجہ ہے؟ ادھر سنو، مفہوم جو ہے، وہ اپنے افراد کے اعتبار سے تین قسم کا ہو سکتا ہے۔ یا یوں کہو کُلِّی اپنے افراد کے اعتبار سے اِبْتِدَاءً، بنیادی طور پر تین ہی قسمیں بنتی ہیں کُلِّی کی۔ انہوں نے تو چھ قسمیں بنائیں نا، لیکن بنیادی طور پر کتنی قسمیں بنتی ہیں؟ تین قسمیں بنتی ہیں۔ اسی میں پھر ایک فرد ہوگا اور ممکن ہیں یا نہیں، محدود ہیں یا لامحدود ہیں، چھ قسمیں بنا دیں۔ لیکن دراصل بنیادی قسمیں کتنی بنتی ہیں؟ تین۔ یا تو کُلِّی کے جو افراد ہیں ان کا ہونا ضروری ہوگا۔ یعنی وَاجِب ہوگا۔ یا اس کے افراد کا ہونا مُمْتَنِع ہوگا۔ یا اس کے افراد کا ہونا نہ ہونا برابر ہوگا۔ نہ ہونا ضروری اور نہ نہ ہونا ضروری۔ کتنی قسمیں؟ تین۔ آپ نے تین خط کھینچے، ایک خط کے کنارے پر لکھ دیں وَاجِب۔ ایک قسم یہ ہوئی۔ یہ جو آپ نے پنکھا نما شکل بنائی، ایک خط کے سرے پر کیا لکھ دیں؟ وَاجِب لکھ دیں۔ یہ ایک قسم، افراد کے اعتبار سے کُلِّی کی۔ دوسری قسم پر لکھ دیں مُمْتَنِع۔ جلدی جلدی لکھیے بھئی، مُمْتَنِع۔ اور تیسرے کنارے پر لکھ دیں مُمْكِن۔ وَاجِب کا کیا معنی؟ جس کا ہونا ضروری ہے، لازم ہے۔ مُمْتَنِع کا کیا معنی؟ جس کا نہ ہونا ضروری ہے۔ مُمْتَنِع ہے، ہو ہی نہیں سکتا۔ یعنی نہ ہونا ضروری ہے۔ وَاجِب کا ہونا ضروری، مُمْتَنِع کا نہ ہونا ضروری، اور مُمْكِن اس کا ہونا نہ ہونا برابر ہے۔ بھئی صورت سمجھ میں آ گئی؟ اچھا، وَاجِب جو ہے، اس کو ہم تعبیر کس سے کرتے ہیں؟ يَجِبُ سے۔ جس کا ہونا وَاجِب ہے، یعنی يَجِبُ۔ تو اس وَاجِب کے ساتھ لکھ لیں يَجِبُ۔ دائیں بائیں اوپر نیچے جہاں بھی لکھنا چاہیں۔ يَجِبُ لکھ دیں اس کے ساتھ۔ اور مُمْتَنِع جو ہے، وہ يَمْتَنِعُ ہے۔ اس کے ساتھ اس کو تعبیر کرتے ہیں يَمْتَنِعُ سے۔ مُمْتَنِع کے ساتھ يَمْتَنِعُ لکھ دیں۔ لکھ دیا؟ اچھا، بھئی ایک ہے وَاجِب۔ توجہ ہے؟ کتنے کنارے ہیں، کتنی قسمیں ہیں؟ تین۔ اور تینوں ایک دوسرے کے مخالف ہیں یا نہیں؟ تینوں الگ الگ قسمیں ہیں۔ تو جو وَاجِب ہے، وہ مُمْتَنِع نہیں یا مُمْكِن نہیں۔ اور جو مُمْتَنِع ہے، وہ وَاجِب نہیں اور مُمْكِن نہیں۔ تو ایک قسم کیا ہوئی؟ وَاجِب۔ توجہ ہے؟ پھر ذرا نقشے پہ نظر رکھو۔ ایک قسم کیا ہوئی؟ وَاجِب۔ اور اس کو کس سے تعبیر کرتے ہیں؟ يَجِبُ۔ جب اس کو يَجِبُ سے تعبیر کرتے ہیں، تو معلوم ہوا باقی دونوں قسمیں لَا يَجِبُ ہیں۔ یہ جب يَجِبُ ہے تو باقی دو کیا ہیں؟ لَا يَجِبُ۔ وہ يَجِبُ ہیں؟ نہیں۔ يَجِبُ تو صرف یہ ہے۔ تو باقی دو پھر کیا ہو گئے؟ لَا يَجِبُ۔ تو ان کے ساتھ لَا يَجِبُ لکھو۔ مُمْتَنِع کے ساتھ بھی لَا يَجِبُ لکھو، اور مُمْكِن کے ساتھ بھی لَا يَجِبُ لکھو۔ لکھ دیا؟ ایک وَاجِب کے ساتھ کیا لکھا؟ يَجِبُ۔ اور مُمْتَنِع کے ساتھ کیا لکھا؟ لَا يَجِبُ۔ اور مُمْكِن کے ساتھ بھی کیا لکھا؟ لَا يَجِبُ۔ اچھا ان میں سے ایک قسم ہے مُمْتَنِع۔ کیا ہے؟ مُمْتَنِع۔ جب یہ مُمْتَنِع ہے، باقی دونوں مُمْتَنِع ہیں؟ نہیں، تو ان کے ساتھ لکھو، کیا؟ لَا يَمْتَنِعُ لکھو دونوں کے ساتھ۔ وَاجِب کے ساتھ بھی لکھ دو لَا يَمْتَنِعُ۔ اور مُمْكِن کے ساتھ بھی لکھو لَا يَمْتَنِعُ۔ جی، اب صورت سمجھ میں آ رہی ہے کچھ؟ تو دیکھو بھئی، دیکھو توجہ، نقشے پہ نظر رکھو، جب میں کہوں يَجِبُ تو کتنی قسمیں داخل؟ نقشے پہ دیکھو نا، جب میں کہوں يَجِبُ کتنی قسمیں داخل؟ ایک ہی قسم کون سی؟ وَاجِب۔ وَاجِب، مُمْتَنِع، اور مُمْكِن ان تین کا آپ نے نام لینا ہے۔ کس کا؟ وَاجِب، مُمْتَنِع، اور مُمْكِن۔ جب میں نے کہا يَجِبُ، تو اس میں کون داخل؟ وَاجِب داخل۔ مُمْتَنِع داخل ہوا؟ نہیں، پھر سنو، توجہ سے سنو، ادھر دیکھو۔ جب میں نے کہا يَجِبُ۔ صرف کون داخل ہوا؟ وَاجِب داخل ہے۔ مُمْكِن داخل ہے؟ نہیں۔ مُمْتَنِع داخل ہے؟ نہیں۔ اچھا، اب میں کہتا ہوں يَمْتَنِعُ۔ میں نے کیا کہا؟ يَمْتَنِعُ۔ کون داخل؟ مُمْتَنِع داخل، اور دو داخل ہیں؟ نہیں، اور دونوں داخل نہیں۔ اچھا اب سنو، اب میں کہتا ہوں لَا يَمْتَنِعُ۔ کون کون داخل؟ وَاجِب بھی داخل، اور مُمْكِن بھی داخل۔ توجہ ہے؟ میں نے کیا کہا؟ لَا يَمْتَنِعُ۔ کون کون آ گئے؟ وَاجِب اور مُمْكِن۔ وَاجِب اور مُمْكِن دونوں داخل ہو گئے۔ جب میں نے کہا نا، ایک چیز ناممکن نہیں ہے۔ ناممکن نہیں ہے۔ تو وَاجِب بھی اس میں آ گیا، کیونکہ وَاجِب کا تو ہونا ضروری، تو وہ ناممکن ہے یا ممکن ہے؟ وہ تو ضروری ہے۔ ناممکن سے نکل گیا یا نہیں؟ تو لَا يَمْتَنِعُ میں کون کون آ گئے؟ نقشے پہ پھر دیکھیں۔ لَا يَمْتَنِعُ میں کون داخل؟ وَاجِب بھی، اور مُمْكِن بھی۔ اچھا، اب دیکھو لَا يَجِبُ۔ لَا يَجِبُ میں کون کون داخل؟ مُمْتَنِع اور مُمْكِن۔ مُمْتَنِع بھی، اور مُمْكِن بھی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اور مُمْكِن میں آپ دیکھ رہے ہیں؟ اس کے ساتھ کیا لکھا ہے؟ لَا يَجِبُ، لَا يَمْتَنِعُ۔ معلوم ہوا یہ کون سا مُمْكِن ہے؟ مُمْكِن عَام ہے یا مُمْكِن خَاص ہے؟ مُمْكِن خَاص ہے۔ اس کو کس سے تعبیر کرتے ہیں؟ سَلْبُ الضَّرُورَةِ عَنِ الْجَانِبَيْنِ۔ یعنی لَا يَجِبُ وَ لَا يَمْتَنِعُ۔ نہ ہونا ضروری، اور نہ نہ ہونا ضروری۔ تو میں نے آپ کو لکھوایا تھا، اگر آپ وہ تقریر دیکھیں کہ مُمْكِن خَاص کو یا إِمْكَان خَاص کو کس سے تعبیر کرتے ہیں؟ لَا يَجِبُ لَا يَمْتَنِعُ۔ یہاں آپ دیکھ رہے ہیں نقشے میں، مُمْكِن کے ساتھ کیا آ گیا؟ لَا يَجِبُ لَا يَمْتَنِعُ۔ معلوم ہوا یہ کون سا مُمْكِن ہے؟ مُمْكِن خَاص ہے۔ اور پھر إِمْكَان عَام کی ایک قسم کیا ہے؟ مُقَيَّد بِجَانِبِ الْوُجُود۔ اس کو کس کے ساتھ تعبیر کرتے ہیں؟ اس کو لَا يَمْتَنِعُ سے۔ کس سے تعبیر کرتے ہیں؟ لَا يَمْتَنِعُ سے تعبیر کرتے ہیں۔ اور لَا يَمْتَنِعُ اس میں کون کون آ گئے؟ وَاجِب بھی آیا، اور مُمْكِن خَاص بھی آیا۔ اور اگر إِمْكَان عَام مُقَيَّد بِجَانِبِ الْعَدَم ہو، اس کو کس سے تعبیر کرتے ہیں؟ لَا يَجِبُ سے۔ اور لَا يَجِبُ میں کون کون داخل؟ مُمْتَنِع بھی داخل، اور مُمْكِن بھی داخل ہے۔ توجہ ہے؟ پھر دہرا لو۔ لَا يَمْتَنِعُ میں کون داخل؟ لَا يَمْتَنِعُ کون سا امکان ہے؟ إِمْكَان عَام مُقَيَّد بِجَانِبِ الْوُجُود۔ ہاں، کیا؟ لَا يَمْتَنِعُ سے کون سا امکان مراد ہے؟ إِمْكَان عَام مُقَيَّد بِجَانِبِ الْوُجُود۔ اچھا، اب آؤ اشکال پر۔ اشکال کیا تھا کتاب میں؟ کہ آپ نے ذکر کیا کہ امکان سے إِمْكَان عَام مراد ہے یا إِمْكَان خَاص۔ إِمْكَان خَاص مراد لو تو اس میں وَاجِب داخل نہیں۔ إِمْكَان خَاص میں وَاجِب داخل نہیں، آپ بھی دیکھ رہے ہیں۔ مُمْكِن خَاص اور وَاجِب ایک دوسرے کے مقابل ہیں یا نہیں؟ ابھی جو آپ نے نقشہ بنایا، کیا ہے؟ وَاجِب، مُمْتَنِع، اور مُمْكِن خَاص۔ دیکھو مُمْكِن خَاص بالکل الگ ہے۔ جب مُمْكِن خَاص بولیں تو اس میں وَاجِب داخل ہو رہا ہے؟ نہیں۔ اس میں تو وَاجِب داخل نہیں ہو رہا۔ وَاجِب تو اس کے مقابلے میں ہے۔ لہٰذا اگر آپ کی مراد یہ ہے کہ امکان سے مراد امتناع، اگر امتناع مراد لیں، تو امتناع تو کیا ہوتا ہے؟ لَا يَجِبُ، لَا يَمْتَنِعُ۔ تو اس میں وَاجِب داخل ہو رہا ہے؟ اس میں تو وَاجِب داخل نہیں ہو رہا۔ اور اگر اس سے إِمْكَان عَام مراد لیتے ہیں، تو بھی بات درست نہیں۔ کیونکہ إِمْكَان عَام کے اندر تو مُمْتَنِع بھی داخل ہو جاتا ہے۔ إِمْكَان عَام میں مُمْتَنِع بھی داخل ہو جاتا ہے؟ تو دونوں طرف امتناع آ گیا۔ گویا ماقبل میں بھی امتناع کا ذکر، اور او کے مابعد بھی امتناع کا ذکر ہے۔ تو جواب دیا کہ یہاں إِمْكَان عَام مُطْلَقاً نہیں مراد۔ إِمْكَان عَام مراد ہے لیکن مُطْلَقاً نہیں، بلکہ اس کی ایک خاص قسم مراد ہے۔ اور وہ کیا؟ إِمْكَان عَام مُقَيَّد بِجَانِبِ الْوُجُود۔ اور اس کو کس سے تعبیر کرتے ہیں؟ لَا يَمْتَنِعُ سے۔ اور لَا يَمْتَنِعُ میں کون کون داخل ہو رہے ہیں، ذرا نقشے پہ دیکھ کے مجھے بتاؤ۔ لَا يَمْتَنِعُ میں وَاجِب بھی داخل ہو گیا یا نہیں؟ آپ کہہ رہے تھے وَاجِب نکل رہا ہے۔ وَاجِب بھی داخل ہو گیا، اور کون لَا يَمْتَنِعُ میں داخل ہوا؟ مُمْكِن خَاص بھی داخل ہو گیا۔ تو مُمْتَنِع کے علاوہ ساری چیزیں آ گئیں یا نہیں؟ تین ہی تو قسم کی چیزیں تھیں۔ تینوں میں سے دونوں قسمیں آ گئیں۔ إِمْكَان عَام مُقَيَّد بِجَانِبِ الْوُجُود کے اندر آ گئیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ معنی ہے۔ اب دیکھیے بھئی، شرح کے اندر دیکھیے۔ قولہ او امکنت مصنف کا قول او امکنت کہتے ہیں ای لم یمتنع افرادہ، لَا يَمْتَنِعُ آ گیا یا نہیں؟ لَمْ يَمْتَنِعْ وہی ہے نا لا يمتنع۔ دیکھا، ای لم یمتنع افرادہ، اس کے افراد مُمْتَنِع نہ ہوں۔ جب لم یمتنع کہا، کون کون آ گئے؟ پھر دیکھو نقشے پہ۔ وَاجِب اور مُمْكِن خَاص۔ یہی بیان کر رہے ہیں۔ فیشمل الواجب والممکن الخاص کلیہما، تو یہ وَاجِب کو بھی شامل ہوا اور مُمْكِن خَاص کلَیھما ان دونوں کو یہ شامل ہوا۔ وَاجِب اور مُمْكِن خَاص دونوں کو یہ شامل ہوا۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ یہ ہے إِمْكَان خَاص اور إِمْكَان عَام بھئی۔ إِمْكَان خَاص میں دونوں جانب سے ضرورت کا سلب ہوتا ہے۔ ہونا بھی ضروری نہیں، اور نہ ہونا بھی ضروری نہیں۔ اور اس کو تعبیر کس سے کرتے ہیں؟ لَا يَجِبُ، لَا يَمْتَنِعُ کے ساتھ تعبیر کرتے ہیں۔ لَا يَجِبُ، یعنی ہونا ضروری نہیں، اور لَا يَمْتَنِعُ، نہ ہونا بھی ضروری نہیں۔ اور میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ کائنات میں اللہ کے علاوہ جتنی بھی چیزیں ہیں، ان کو کیا کہتے ہیں؟ مُمْكِن۔ یعنی ان کا نہ ہونا اور ہونا برابر ہے۔ تو جب میں کہوں نا لَا يَمْتَنِعُ ناممکن نہیں ہے۔ تو اس میں وَاجِب بھی آ جاتا ہے۔ وَاجِب ناممکن ہے کوئی؟ نہیں، اس کا تو ہونا ضروری ہے۔ تو وہ ناممکن تو نہیں ہے۔ تو وہ بھی اس کے اندر داخل۔ إِمْكَان عَام میں، اور مُمْكِن خَاص بھی اس کے اندر داخل ہے۔ اور إِمْكَان خَاص کو إِمْكَان خَاص کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ اس میں دونوں قیدیں ہیں۔ إِمْكَان عَام میں تو ایک قید ہوتی ہے، یا لَا يَجِبُ کی قید ہوتی ہے یا لَا يَمْتَنِعُ کی قید ہوتی ہے۔ دونوں قیدوں میں سے ایک قید ہوتی ہے۔ لیکن اس میں دونوں قیدیں ہیں، اور ظاہر سی بات ہے چیزوں میں جوں جوں قیدیں بڑھتی جائیں وہ خاص ہوتی چلی جاتی ہے۔ مثلاً میں کہوں مسلمان۔ دیکھو ساری دنیا کے مسلمان آ گئے اس میں۔ اور جب میں کہوں پاکستانی مسلمان۔ قید بڑھا دی یا نہیں؟ اب مسلمان اب خاص ہو گئے یا نہیں؟ مسلمان کم ہو گئے۔ اب میں اس میں اور قید بڑھا دوں۔ پاکستانی لاہوری مسلمان۔ دیکھا اور بھی خاص ہو گئے۔ افراد کم سے کم ہوتے چلے گئے۔ تو جتنی قید بڑھتی ہے چیز میں تخصیص آتی جاتی ہے، اس کے افراد کم ہوتے جاتے ہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو جب کہا کہ جب اس میں لَا يَجِبُ کی بھی قید اور لَا يَمْتَنِعُ کی بھی قید، تو یہ خاص ہوا، اور إِمْكَان عَام میں ایک قید ہوتی ہے، یا لَا يَجِبُ کی قید ہوتی ہے یا لَا يَمْتَنِعُ کی قید ہوتی ہے۔ تو یہ اس کے مقابلے میں خاص ہوا۔ اب عبارت سمجھ میں آ گئی؟ پھر دیکھ لیں او امکنت، ای لم یمتنع افرادہ، فیشمل الواجب والممکن الخاص کلیہما۔ امکنت سے کیا مراد ہے؟ کہتے ہیں ای لم یمتنع، جو مُمْتَنِع نہ ہوں۔ افرادہ اس کے افراد، جس کے افراد مُمْتَنِع نہ ہوں۔ فیشمل الواجب والممکن الخاص کلیہما تو یہ وَاجِب اور مُمْكِن خَاص دونوں کو شامل ہوا۔ اشکال حل ہو گیا؟ اشکال کیا تھا؟ امکان آیا اوپر لفظ امکنت۔ اس سے إِمْكَان خَاص مراد ہے یا إِمْكَان عَام؟ اگر إِمْكَان خَاص مراد لیں، تو اس صورت میں تو وَاجِب اس میں داخل ہی نہیں ہوتا، کیونکہ مُمْكِن خَاص تو وہ ہے جس کا ہونا نہ ہونا برابر۔ اور وَاجِب کا تو ہونا ضروری۔ اور اگر آپ امکان عام مراد لیتے ہیں، تو بھی بات درست نہیں۔ کیونکہ إِمْكَان عَام کے اندر تو مُمْتَنِع بھی داخل ہو جاتا ہے۔ إِمْكَان عَام کی دیکھو پھر اب نقشے پہ ذرا آؤ۔ إِمْكَان عَام، ایک تھا مُقَيَّد بِجَانِبِ الْوُجُود۔ اس کو کس سے تعبیر کیا؟ لَا يَمْتَنِعُ سے۔ اور لَا يَمْتَنِعُ میں کون کون داخل ہوئے پھر نقشے پہ دیکھو۔ لَا يَمْتَنِعُ میں وَاجِب بھی داخل، اور مُمْكِن خَاص بھی۔ اور اگر إِمْكَان عَام ہوتا مُقَيَّد بِجَانِبِ الْعَدَم، اس کو کس سے تعبیر کرتے ہیں؟ لَا يَجِبُ سے۔ ذرا دیکھو لَا يَجِبُ کس کس کے ساتھ ہے نقشے میں؟ مُمْتَنِع کے ساتھ بھی ہے، اور مُمْكِن خَاص کے ساتھ۔ تو اگر یہ امکان عام ہوتا مُقَيَّد بِجَانِبِ الْعَدَم، تو اس میں کون داخل تھا؟ مُمْتَنِع داخل تھا یا نہیں؟ لَا يَجِبُ کے اندر مُمْتَنِع بھی داخل ہے۔ تو ماقبل میں بھی امتناع، مابعد میں بھی مُمْتَنِع آ گیا، امتناعت آ گیا۔ تو دونوں طرف ایک ہی چیز، تو جواب دے دیا کہ مطلقا إِمْكَان عَام کی ہر قسم یہاں مراد نہیں، بلکہ صرف کون سی قسم مراد ہے؟ ایک قسم، إِمْكَان عَام مُقَيَّد بِجَانِبِ الْوُجُود۔ اور اس کو کس سے تعبیر کرتے ہیں؟ لَا يَمْتَنِعُ سے۔ اور اس میں وَاجِب بھی داخل، اور مُمْكِن خَاص بھی داخل ہے۔ اچھی طرح بات سمجھ میں آ گئی؟ کل پھر بھی انشاءاللہ اس کا مختصر تکرار کر لیں گے، انشاءاللہ اور بھی ذہن میں اچھی طرح بیٹھ جائے گا بھئی۔ تو یہ عام ہیں، إِمْكَان عَام جو ہم عام باتوں میں ذکر کرتے ہیں، آپ کہتے ہیں ہو سکتا ہے، ہو سکتا ہے زید آیا ہو، ہو سکتا ہے زید نہ آیا ہو، ہو سکتا ہے استاذ یہ سوال پوچھ لیں، ہو سکتا ہے یہ والا پوچھ لیں۔ دیکھا؟ تو یہ جو ہو سکتا ہے، یعنی مُمْكِن ہے، تو اس میں کون سی صورت ہوتی ہے، آج آپ نے تفصیل پڑھ لی۔ تو اسی کو امکان کے ساتھ ذکر کرتے ہیں۔ چلیے۔ بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَام، وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَام۔
115 approved lectures · 51 of 115