جی دیکھیے بھئی آگے سبق، متن دیکھ لیجیے:
"وَقَدْ يُصَرَّحُ بِكَيْفِيَّةِ النِّسْبَةِ فَمُوَّجَّهَةٌ، وَمَا بِهِ الْبَيَانُ جِهَةٌ، وَإِلَّا فَمُطْلَقَةٌ، فَإِنْ كَانَ الْحُكْمُ فِيهَا بِضَرُورَةِ النِّسْبَةِ مَا دَامَ ذَاتُ الْمَوْضُوعِ مَوْجُودَةً فَضَرُورِيَّةٌ مُطْلَقَةٌ، أَوْ مَا دَامَ وَصْفُهُ فَمَشْرُوطَةٌ عَامَّةٌ، أَوْ فِي وَقْتٍ مُعَيَّنٍ فَوَقْتِيَّةٌ مُطْلَقَةٌ، أَوْ غَيْرِ مُعَيَّنٍ فَمُنْتَشِرَةٌ مُطْلَقَةٌ، أَوْ بِدَوَامِهَا مَا دَامَ الذَّاتُ فَدَائِمَةٌ مُطْلَقَةٌ، أَوْ مَا دَامَ الْوَصْفُ فَعُرْفِيَّةٌ عَامَّةٌ۔"
گزشتہ سبق میں آپ نے قضیہ خارجیہ، قضیہ حقیقیہ اور قضیہ ذہنیہ کے بارے میں پڑھا۔ انہوں نے آپ کو بتلایا تھا کہ قضیہ موجبہ کے اندر وجود موضوع ضروری ہے، اس قضیے کے صادق آنے کے لیے۔ وجود موضوع ہوگا تو قضیہ صادق آئے گا، اگر وجود موضوع نہیں تو قضیہ صادق بھی نہیں آ سکتا۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ قضیے میں وجود موضوع ضروری ہوتا ہے، کبھی حکم کے اعتبار سے اور کبھی صدق کے اعتبار سے۔ اگر حکم کے اعتبار سے دیکھا جائے تو پھر قضیہ موجبہ کے ساتھ ساتھ قضیہ سالبہ میں بھی وجود موضوع ضروری ہے۔ اس لیے کیونکہ قضیہ موجبہ میں ایک چیز کا اثبات کیا جاتا ہے دوسری چیز کے لیے، اور قضیہ سالبہ میں ایک چیز کی نفی کی جاتی ہے دوسری چیز سے۔ یعنی یہ جو اثبات یا نفی کا حکم ہے، یہ موضوع پر آپ تب ہی لگائیں گے جب پہلے آپ موضوع کا تصور کریں گے۔ پہلے آپ کیا کرتے ہیں؟ موضوع کا تصور کرتے ہیں، پھر ایک چیز کو اس کے لیے ثابت کرتے ہیں قضیہ موجبہ میں، یا ایک چیز کی اس سے نفی کرتے ہیں قضیہ سالبہ میں۔
تو حکم کے اعتبار سے وجود موضوع ضروری ہے، قضیہ موجبہ میں بھی اور قضیہ سالبہ میں بھی۔ جبکہ صدق کے اعتبار سے صرف قضیہ موجبہ میں وجود موضوع ضروری ہے، قضیہ سالبہ میں وجود موضوع ضروری نہیں۔ تو قضیہ موجبہ میں وجود موضوع ہوگا تو وہ صادق آئے گا۔ اگر اس میں وجود موضوع ہی نہیں ہے تو قضیہ بھی صادق نہیں آ سکتا بھئی۔ جیسے "زَيْدٌ قَائِمٌ"، آپ زید کے لیے قیام ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ پہلے زید کا وجود تو ہونا چاہیے، پھر ہی اس کے لیے قیام ثابت ہوگا اور یہ قضیہ صادق آئے گا۔ تو وجود موضوع ضروری ہے یا تو حکم کے اعتبار سے یا صدق کے اعتبار سے۔ حکم کے اعتبار سے وجود موضوع ضروری ہے قضیہ موجبہ میں بھی اور قضیہ سالبہ میں بھی، جبکہ صدق کے اعتبار سے وجود موضوع ضروری ہے صرف قضیہ موجبہ میں۔ جبکہ قضیہ سالبہ میں وجود موضوع ہو یا نہ ہو دونوں صورتوں میں وہ صادق آ سکتا ہے۔
اور اس کے بعد پھر انہوں نے آپ کو بتلایا کہ قضیہ کی وجود موضوع کے اعتبار سے تین قسمیں ہیں: یا قضیہ خارجیہ ہوگا، یا قضیہ حقیقیہ ہوگا، یا قضیہ ذہنیہ ہوگا۔ تو یہ تین قسمیں ہیں وجود موضوع کے اعتبار سے۔ قضیے کی یہ تین قسمیں کس اعتبار سے ہیں؟ وجود موضوع کے اعتبار سے۔ اگر وجود موضوع محقق ہو تو وہ قضیہ خارجیہ، اور اگر وجود موضوع مقدر ہو تو وہ قضیہ حقیقیہ، اور اگر وجود موضوع ذہنی ہو تو پھر وہ قضیہ ذہنیہ ہے بھئی۔ تفصیل میں نے بیان کی تھی کہ قضیہ خارجیہ میں قضیے کا جو موضوع ہوتا ہے وہ وجود محقق ہوتا ہے، یعنی اس میں ان افراد پر حکم لگایا جاتا ہے جو خارج میں بالفعل موجود ہوتے ہیں۔ جیسے "كُلُّ إِنْسَانٍ حَيَوَانٌ"، تو خارج میں انسان کے جو افراد بالفعل یعنی فی الحال موجود ہیں، ان پر حکم لگایا جا رہا ہے کہ وہ سب کیا ہیں؟ حیوان ہیں۔ تو قضیہ خارجیہ میں ان افراد پر حکم ہوتا ہے جو خارج میں بالفعل موجود ہوتے ہیں۔
جبکہ قضیہ حقیقیہ کا موضوع جو ہے، وہ وجود مقدر ہوتا ہے یعنی جو فرض کر لیا جائے۔ یعنی اس میں حکم ان افراد پر ہوتا ہے جو خارج میں ممکن الوجود ہوتے ہیں، یعنی جن کا خارج میں وجود ممکن ہوتا ہے۔ پھر بالفعل موجود ہوں یا نہ ہوں، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اگر بالفعل بھی موجود ہیں پھر تو اور زیادہ اچھی بات ہے۔ ہم نے بھی کیا کہا تھا کہ یہ چیز مثلاً "كُلُّ إِنْسَانٍ حَيَوَانٌ"، جبکہ اس کا موضوع کیا ہو، وجود مقدر ہو۔ پہلی صورت میں کیا تھا؟ یہی قضیہ تھا "كُلُّ إِنْسَانٍ حَيَوَانٌ"، وہاں موضوع کیا تھا؟ وجود محقق، جو اب خارج میں بالفعل اس کے افراد موجود ہیں۔ دوسری صورت، میں افراد محققہ پر حکم نہیں لگا رہا بلکہ افراد مقدرہ پر حکم لگا رہا ہوں، یعنی انسان کے جو بھی افراد خارج میں ممکن ہیں، وہ حیوان ہوں گے۔ "كُلُّ إِنْسَانٍ حَيَوَانٌ"، انسان کے جو بھی افراد خارج میں ممکن ہوں وہ سب کیا ہوں گے؟ حیوان ہوں گے۔ تو میں حکم کس پر لگا رہا ہوں؟ افراد مقدرہ پر۔ کس پر؟ یعنی جو خارج میں ممکن الوجود ہیں، جن کا خارج میں ہونا ممکن ہے۔
اب چاہے وہ بالفعل ہوں یا نہ ہوں، اس سے بحث نہیں ہماری۔ بالفعل ہیں تو اور اچھی بات ہے۔ میں نے بھی حکم کس پر لگایا تھا؟ انسان کے ان افراد پر جو خارج میں ممکن ہیں۔ جب بالفعل موجود ہیں، پھر تو بات اور واضح ہو گئی کہ واقعی یہ ممکن ہیں، بالفعل بھی موجود ہیں خارج میں بھئی، بات سمجھ میں آگئی۔ بہرحال بالفعل ہوں یا نہ ہوں، اس سے فرق نہیں پڑتا۔ حکم یہاں پر کس پر لگایا جاتا ہے؟ افراد مقدرہ پر، یعنی جو خارج میں ممکن ہیں، خارج میں ممکن ہیں۔ اور تیسرا جو ہے وہ قضیہ ذہنیہ تھا، اس میں ان افراد پر حکم لگایا جاتا ہے جو ذہن میں ممکن الوجود ہیں۔ قضیہ ذہنیہ کا موضوع وجود ذہنی ہے، یعنی ان افراد پر حکم لگایا جاتا ہے جو ذہن میں ممکن الوجود ہیں۔ چاہے بالفعل ہوں یا نہ ہوں اس سے فرق نہیں پڑتا، لیکن ہونے کیا چاہییں؟ ذہن میں ممکن الوجود۔ حقیقیہ میں تھے خارج میں ممکن الوجود، اور قضیہ ذہنیہ میں ذہن میں جو ممکن الوجود افراد ہیں ان پر حکم لگایا جاتا ہے۔ تو جو ذہن میں ممکن الوجود ہیں، جیسے "شَرِيكُ الْبَارِي مُمْتَنِعٌ"، آپ کیا کہتے ہیں؟ شریک الباری ممتنع ہے۔ شریک الباری، اللہ کا شریک، بھئی خارج میں تو ممتنع ہے ممکن ہی نہیں ہے، لیکن ذہن میں ہم تصور کر سکتے ہیں۔
ذہن میں یہ ممکن الوجود ہے، لیکن جو بھی شریک الباری آپ ذہن میں تصور کریں گے اس پر ممتنع ہونے کا حکم لگانا پڑے گا۔ اس پر ذہن میں، یعنی آپ ذہن میں جو بھی شریک الباری فرض کریں گے اس پر امتناع والا حکم لگانا پڑے گا کہ یہ چیز خارج میں ممتنع ہے۔ آپ ذہن میں شریک الباری کا جو فرد بھی تصور کر لیں اس پر کیا حکم لگانا پڑے گا؟ امتناع والا حکم لگانا پڑے گا کہ یہ کیا ہے؟ ممتنع ہے۔ آپ کے ذہن میں اشکال آئے گا کہ ایک طرف آپ کہہ رہے ہیں کہ فرض کر لیں، جب فرض کر لیا تو ممتنع کہاں رہا، ممکن ہو گیا یا نہیں ذہن میں؟ آپ کیا کہہ رہے ہیں کہ شریک الباری ممتنع ہے، اور پھر کہہ رہے ہیں جو بھی آپ شریک الباری کا فرد ذہن میں تصور کریں گے تو اس پر کیا حکم لگانا پڑے گا؟ امتناع والا، کہ یہ ممتنع ہے۔ بھئی آپ نے فرض کیا ہے ذہن میں، اور امتناع والا جو حکم لگا رہے ہیں وہ خارج کے اعتبار سے لگا رہے ہیں کہ یہ جو چیز میں نے ذہن میں فرض کی اور جس پر کیا صادق آ رہا ہے کہ یہ شریک الباری ہے، یہ چیز جو ہے خارج میں ممتنع ہے، خارج میں ہو ہی نہیں سکتی۔ خارج میں، تو یہ جو امتناع والا حکم ہے یہ خارج کے اعتبار سے ہے۔ ذہن، ذہن میں تو ناممکن چیز بھی انسان فرض کر سکتا ہے، جیسے ابھی آپ نے شریک الباری کو فرض کیا۔
شریک الباری کیا ہے؟ اس کو آپ نے فرض کر لیا، اگرچہ یہ ناممکن ہے شریک الباری ہو ہی نہیں سکتا، تو ذہن میں فرض تو ناممکن چیز کو بھی کیا جا سکتا ہے۔ تو آپ نے ذہن میں کس کا تصور کیا؟ شریک الباری کے ایک فرد کا، تو اس کو کس وصف کے ساتھ موصوف کرنا پڑے گا؟ اس پر کیا حکم لگانا پڑے گا؟ امتناع والا، کہ یہ جو چیز ہے جس کو ہم نے کیا فرض کیا ہے؟ شریک الباری، یہ ممتنع ہے۔ کیا معنی، کہاں ممتنع ہے؟ خارج میں ممتنع ہے، ذہن میں تو آپ فرض کر رہے ہو۔ بات سمجھ میں آگئی۔ تو ذہن میں یہ ممکن الوجود ہے لیکن خارج کے اعتبار سے یہ کیا ہے؟ ممتنع۔ تو آپ ذہن میں شریک الباری کا جو بھی فرد تصور کر لیں گے، اس پر امتناع والا حکم ماننا پڑے گا آپ کو کہ یہ کیا ہے خارج میں؟ ممتنع ہے۔ تو جو بھی چیز آپ فرض کریں گے اس پر امتناع والا حکم آپ کو ماننا پڑے گا کہ یہ جو چیز ہے خارج میں ممتنع ہے، یعنی خارج میں یہ چیز یعنی شریک الباری ہو ہی نہیں سکتا بھئی، بات سمجھ میں آگئی۔ تو یہ امتناع والا جو حکم لگایا کس اعتبار سے لگایا؟ خارج کے اعتبار سے لگایا کہ خارج میں اس کا ہونا ناممکن ہے۔ ذہن میں تو ہم نے فرض کر لیا، اور میں نے بتایا تھا فرض تو ناممکن چیز کو بھی انسان کر سکتا ہے بھئی۔
اس کے بعد انہوں نے آپ کو بتلایا تھا کہ کبھی کبھار حرف سلب کو قضیے کے موضوع یا محمول یا دونوں کا جز بنا دیا جاتا ہے، اور اس طرح کے قضیے کو معدولہ کہتے ہیں۔ اور یہ تین قسم پر ہے: یا تو حرف سلب جز ہوگا موضوع کا تو اس کو معدولۃ الموضوع کہیں گے، یا حرف سلب جز ہوگا محمول کا تو اس کو معدولۃ المحمول کہیں گے، یا حرف سلب جز ہوگا دونوں کا تو اس کو معدولۃ الطرفین کہیں گے۔ اور میں نے آپ کو یہ بھی بتلایا تھا کہ ان تین میں سے صرف معدولۃ المحمول جو ہے وہ منطق کے اندر معتبر ہے، باقی دو قسمیں معتبر نہیں ہیں۔ اور اس کو معدولہ کیوں کہتے ہیں؟ میں نے وجہ بھی بتلائی تھی کہ اس میں حرف سلب جو ہے اس کو اپنے عام طریقے سے پھیرا گیا ہے، ہٹایا گیا ہے۔ تو حرف سلب اپنے عام طریقے سے چونکہ اس کو ہٹایا گیا ہے، اس لیے یہ حرف سلب کیا ہوا؟ معدول ہوا، اور اس حرف سلب کی وجہ سے پورے قضیے کو ہی کیا کہہ دیا؟ معدولہ کہہ دیا، معدولہ کہہ دیا۔
جبکہ اس کے مقابلے میں قضیہ محصلہ ہے۔ قضیہ محصلہ وہ ہے جس میں حرف سلب نہ موضوع کا جز ہو اور نہ محمول کا جز ہو، تو اس کو قضیہ محصلہ کہیں گے۔ محصلہ حاصل سے ہے حاصل۔ دیکھو افعال عامہ آپ نے پڑھے ہیں: کون، ثبوت، وجود اور حصول، اور ان سب کا کیا معنی ہے؟ ہونا۔ کون، ثبوت، وجود اور حصول، سب کا معنی ہے ہونا۔ تو یہاں بھی محصلہ، محصلہ کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ موضوع اس میں بھی حرف سلب جز نہیں، محمول اس میں بھی حرف سلب جز نہیں، تو دونوں وجودی ہیں یعنی حاصل ہیں۔ کیا ہیں؟ حاصل ہیں۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ وہ دیکھو کون، ثبوت، وجود اور حصول، دیکھو یہ دونوں وجودی ہیں، کسی کے ساتھ بھی حرف سلب جڑا ہوا نہیں، یا دونوں یوں کہو حاصل ہیں۔ یا دونوں کیا ہیں؟ کائن ہیں، کائن یعنی ثابت ہیں۔ ثابت کہہ لو، یا وجودی کہہ لو، یا حاصل کہہ لو، تو یہ دونوں وجودی ہیں۔ جیسے "زَيْدٌ قَائِمٌ" اور "زَيْدٌ لَيْسَ بِقَائِمٍ"۔ "زَيْدٌ" اس کے ساتھ بھی کوئی حرف سلب نہیں جڑا ہوا، اور "قَائِمٌ" اس کے ساتھ بھی کوئی حرف سلب نہیں جڑا ہوا، تو اس کو قضیہ محصلہ کہیں گے۔ اور پھر یہ موجبہ بھی ہو سکتا ہے اور سالبہ بھی۔ "زَيْدٌ قَائِمٌ" یہ کیا ہے؟ موجبہ، اور "زَيْدٌ لَيْسَ بِقَائِمٍ" یہ کیا ہے؟ سالبہ۔ "زَيْدٌ لَيْسَ بِقَائِمٍ" اس میں اگرچہ حرف سلب موجود ہے لیکن وہ موضوع کا جز بھی نہیں اور محمول کا جز بھی نہیں، یہاں وہ نسبت کی نفی کے لیے آ رہا ہے اور ہم نے بھی یہی کہا تھا کہ قضیہ محصلہ میں موضوع یا محمول ان کا جز حرف سلب نہیں ہوگا، اور یہاں بھی ایسے ہی ہے تو اس کو کیا کہیں گے؟ "زَيْدٌ لَيْسَ بِقَائِمٍ" یہ کیا ہے؟ قضیہ محصلہ ہے، بات سمجھ میں آگئی۔
اب آئیے جی آگے سبق دیکھیے، کہتے ہیں: "وَقَدْ يُصَرَّحُ بِكَيْفِيَّةِ النِّسْبَةِ فَمُوَّجَّهَةٌ، وَمَا بِهِ الْبَيَانُ جِهَةٌ، وَإِلَّا فَمُطْلَقَةٌ"۔ موجہات کا بیان آیا بھئی موجہات کا۔ یاد رکھو یہ بڑی مشکل بحث ہے منطق کی، دعا کرو اللہ تعالیٰ خوب آسان فرما دیں بھئی۔ یاد رکھو قضیہ حملیہ کے اندر موضوع کی طرف جو محمول کی نسبت ہوتی ہے وہ کبھی ایجابی ہوتی ہے اور کبھی سلبی۔ "زَيْدٌ قَائِمٌ"، زید کے لیے میں نے قیام کو ثابت کیا، اور "زَيْدٌ لَيْسَ بِقَائِمٍ" دیکھو اس میں میں نے زید سے قیام کی نفی کی۔ تو قضیہ حملیہ کے اندر موضوع کے لیے محمول کا یا تو اثبات ہوگا یا نفی۔ تو یہ جو قضیے کے اندر موضوع کے لیے محمول کا اثبات یا نفی ہے، یہ نفس الامر اور واقع میں اس کی کوئی نہ کوئی کیفیت ہوگی بھئی۔ کیا ہوگی؟ اس کی نفس الامر اور واقع میں کوئی نہ کوئی کیفیت ہوگی۔ میں نے مثلاً کہا "زَيْدٌ قَائِمٌ"، خارج میں اور واقع کے اندر دیکھو زید کھڑا ہے، زید کیا ہے؟ ایک تو میں قضیے میں لفظوں کے اندر بیان کر رہا ہوں، اور ایک نفس الامر اور واقع میں آپ دیکھیں تو زید کیا ہے مثلاً؟ زید کھڑا ہے، تو یہ جو زید کے لیے قیام کا ثبوت ہے نفس الامر اور واقع میں، اس کی کوئی نہ کوئی کیفیت ضرور ہوگی۔ یعنی یہ قیام زید کے لیے یا تو وجوبی ہوگا، یا امتناعی ہوگا، یا امکانی ہوگا، یا دائماً ہوگا، یا تین زمانوں میں سے کسی زمانے میں ہوگا۔
نفس الامر اور واقع میں ایک چیز کا ثبوت یا ایک چیز کی نفی دوسری چیز سے، توجہ ہے؟ قضیے کی بات میں نہیں کر رہا، قضیے میں میں نے کہا "زَيْدٌ قَائِمٌ"۔ اس قضیے کو ایک طرف رکھیں، نفس الامر اور واقع میں دیکھیں کہ زید کے لیے قیام کا ثبوت جو ہے، یعنی یوں کہو خارج میں، خارج میں زید موجود ہے اور زید اس وقت کھڑا ہے، تو زید کے لیے یہ جو قیام کا ثبوت ہے اس کی کوئی نہ کوئی کیفیت ضرور ہوگی۔ یا تو زید کے لیے یہ قیام لازمی ہوگا، کیا ہوگا؟ یا زید کے لیے قیام ممتنع ہوگا، یا زید کے لیے یہ قیام ممکن ہوگا، پھر زید کے لیے یہ قیام دائماً ہوگا یا تین زمانوں میں سے کسی زمانے میں ہوگا۔ اب آپ مجھے بتائیے، واقع میں زید کھڑا ہے، واقع میں؟ معلوم ہوا زید کے لیے قیام ثابت ہے۔ زید کے لیے؟ اب مجھے بتائیے، کیا زید کے لیے یہ قیام ضروری ہے؟ کیا زید قیام کے بغیر نہیں ہو سکتا؟ ہو سکتا ہے۔ معلوم ہوا زید کے لیے یہ قیام ضروری اور واجبی نہیں۔ ضروری نہیں، تو کیا زید کے لیے یہ قیام ممتنع ہے؟ زید کھڑا ہو ہی نہیں سکتا، ممکن ہی نہیں ہے؟ نہیں۔ اچھا، تو کیا زید کے لیے یہ قیام ممکن ہے؟ ہاں ممکن ہے، زید کھڑا ہو اور ممکن ہے کھڑا نہ ہو۔ تو معلوم ہوا کہ واقع اور نفس الامر میں زید کے لیے جو قیام ثابت ہے، اس کی کوئی نہ کوئی کیفیت ضرور ہوگی۔ یا یہ واجب ہوگا یعنی اس کا ہونا ضروری ہوگا، اس کے بغیر زید ہو ہی نہیں سکتا، زید ہو اور قیام نہ ہو ایسا نہیں ہو سکتا؟ نہیں نہیں ایسا تو نہیں ہے۔ یا زید کے لیے قیام ممتنع ہوگا، یعنی زید ہو اور اس کے لیے قیام پایا جائے ایسا ہو ہی نہیں سکتا؟ نہیں ایسا بھی یہاں نہیں ہے۔ یا امکانی ہوگا، یعنی زید کے لیے قیام ممکن ہے، ہو سکتا ہے زید کھڑا ہو، ہو سکتا ہے کھڑا نہ ہو بیٹھا ہوا ہو یا لیٹا ہوا ہو۔
دوسری مثال لے لو، جیسے دیکھو میں کہتا ہوں "كُلُّ إِنْسَانٍ حَيَوَانٌ"، ہر انسان حیوان ہے۔ تو نفس الامر اور واقع میں انسان کے جو افراد ہیں، ان کے لیے حیوان ہونا یا تو ضروری ہوگا، یا ممتنع ہوگا، یا امکانی ہوگا، اور پھر یا دوام کے ساتھ ہوگا، یا تین زمانوں میں سے کسی ایک زمانے میں ہوگا۔ اب آپ مجھے بتائیے، "كُلُّ إِنْسَانٍ حَيَوَانٌ"، واقع میں انسان کے جو افراد ہیں کیا ان کے لیے حیوان ہونا ممکن ہے؟ یعنی ہو سکتا ہے حیوان ہوں، ہو سکتا ہے نہ ہوں۔ آپ کہیں گے نہیں نہیں ممکن نہیں ہے، بلکہ ہر انسان کے لیے کیا ضروری ہے؟ وہ حیوان ہو۔ تو یہ جو واقع میں ہر انسان کے لیے حیوان ہونا ثابت ہے، یہ ضروری ہے، لازمی ہے بھئی۔ ضروری ہے، انسان ہو اور حیوان نہ ہو ایسا ہو ہی نہیں سکتا۔ جو بھی انسان کا فرد واقع میں ہوگا وہ قطعی اور لازمی طور پر کیا ہوگا؟ حیوان ہوگا۔ تو دیکھا، واقع کے اندر انسان کے لیے جو حیوان ہونا ثابت ہوا وہ اس کی کیا کیفیت ہے؟ لازمی ہے، ضروری ہے، کیا ہے؟ لازمی اور ضروری ہے، جو بھی انسان ہوگا اس کا حیوان ہونا ضروری ہے۔ ایسا نہیں ہو سکتا انسان تو ہو واقع میں اور حیوان نہ ہو، معلوم ہوا انسان کے لیے حیوان ہونا ضروری ہے، اور زید کے لیے قیام کیا تھا؟ ممکن تھا، ضروری نہیں تھا۔
اور پھر یہ بتائیے، زید کے لیے یہ جو قیام ہے یہ دائماً ہے یا تین زمانوں میں سے کسی زمانے میں ہے؟ دائماً کا معنی یہ ہے، ہر وقت قیام ہے اس کے لیے۔ زید جب بھی آپ زید کو دیکھیں گے اس کے لیے قیام ہوگا، نہ وہ کبھی بیٹھتا ہے نہ کبھی لیٹتا ہے، کیا ایسا ہو سکتا ہے؟ نہیں۔ زید کے لیے قیام دائماً نہیں ہے، تین زمانوں میں سے کسی ایک زمانے میں ہوگا، کیونکہ کبھی وہ کھڑا ہوگا، کبھی بیٹھا ہوگا، کبھی لیٹا ہوگا۔ تو قیام جب بھی اس کے لیے ثابت ہوگا، ہر وقت نہیں ہوگا دائماً نہیں ہوگا، بلکہ تین زمانوں میں سے کسی ایک زمانے میں وہ کھڑا ہوگا۔ صبح کھڑا ہے یا شام کو کھڑا ہے یا دوپہر کو کھڑا ہے، بہرحال تین زمانوں میں سے کسی ایک زمانے کے اندر اس کے لیے قیام ثابت ہوگا، ہر وقت اس کے لیے قیام ثابت نہیں ہوگا۔
اور مثال دیکھ لیں اور مثال، جیسے دیکھو فلاسفہ یونان کا نظریہ یہ ہے کہ آسمان نو ہیں بھئی۔ ہمارے نزدیک تو آسمان سات ہیں بھئی، قرآن ہمیں کیا بتلاتا ہے؟ آسمان کتنے ہیں؟ سات ہیں بھئی۔ تو قرآن ہمیں بتلاتا ہے کہ آسمان سات ہیں، لیکن فلاسفہ یونان کا عقیدہ یہ تھا کہ آسمان نو ہیں بھئی۔ اور یہ جو سورج، چاند، ستارے وغیرہ ہیں یہ آسمانوں کے اندر اس طرح جڑے ہوئے ہیں جیسے یہ آپ کی چھت میں یہ پنکھا اور یہ بلب جڑے ہوئے ہیں۔ جیسے چھت میں پنکھا جڑا ہوا ہے، جیسے چھت میں بلب وغیرہ جڑے ہوئے ہیں، وہ فلاسفہ کہتے تھے یہ جو چاند ہے، سورج ہیں، ستارے ہیں، یہ مختلف آسمانوں کے اندر اسی طرح جڑے ہوئے ہیں۔ اور یہ آسمان ہر وقت گھومتے رہتے ہیں، ان سے حرکت کبھی بھی جدا نہیں ہوتی، یعنی یہ دائماً متحرک ہیں، یہ آسمان دائماً۔ یعنی یہ ان کا وصف ہے جو ان سے کبھی جدا نہیں ہوتا۔ تو یہ جو ہمیں سورج مشرق سے نکلتا اور مغرب میں غروب ہوتا نظر آتا ہے، وہ کہتے تھے یہ دراصل سورج حرکت نہیں کر رہا، یہ سورج ایک آسمان کے اندر جڑا ہوا ہے اور وہ آسمان جب گھومتا ہے تو اس کے ساتھ ساتھ یہ سورج بھی گھومتا چلا جاتا ہے۔ جیسے دیکھو یہ چھت اگر گھومنے لگے تو اس میں جو بلب اور پنکھے لگے ہوئے ہیں وہ بھی ساتھ ساتھ گھومتے چلے جائیں گے کیونکہ وہ چھت میں جڑے ہوئے ہیں۔ تو وہ فلاسفہ یونان کیا کہتے تھے؟ یہ سورج، چاند، ستارے وغیرہ مختلف آسمانوں میں جڑے ہوئے ہیں، اور ان کی جو حرکت ہمیں مشرق سے مغرب کی طرف دکھائی دیتی ہے یہ ان آسمانوں کی حرکت ہے۔ وہ آسمان گھوم رہے ہیں اور انہی کے اندر یہ جڑے ہوئے ہیں تو یہ بھی ہمیں گھومتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ سورج یہ جو روزانہ مشرق سے طلوع ہوتا ہے اور مغرب میں غروب ہوتا ہے، یہ اس وجہ سے کہ یہ جس آسمان میں جڑا ہوا ہے وہ ہر وقت گھومتا رہتا ہے مشرق سے مغرب کی طرف، تو سورج بھی اس کے ساتھ ساتھ ہمیں مشرق سے مغرب کی طرف حرکت کرتا ہوا معلوم ہوتا ہے۔ اسی طرح چاند ہے، اسی طرح ستارے ہیں بھئی، بات سمجھ میں آگئی۔
تو فلاسفہ یونان کا عقیدہ یہ تھا کہ آسمان ہر وقت حرکت میں ہیں، ان سے یہ حرکت جدا نہیں ہوتی۔ یہ حرکت جدا نہیں ہوتی، ہر وقت حرکت کرتے رہتے ہیں۔ اب آپ مجھے بتائیے کہ واقع اور نفس الامر میں آسمانوں کے لیے جو یہ حرکت ثابت ہے، یہ جو فلاسفہ یونان مانتے ہیں ان کے عقیدے کے مطابق آسمانوں کے لیے یہ جو حرکت ثابت ہے، کیا یہ حرکت تین زمانوں میں سے کسی زمانے میں ہوتی ہے یا دائماً ان کے ساتھ ہوتی ہے؟ دائماً۔ تو دیکھا معلوم ہوا، یہ معلوم ہوا جو حرکت ثابت ہے آسمانوں کے لیے اس کی کیفیت دائمی ہے، اس کی کیفیت کیا ہے؟ دائمی ہے۔ پھر سنو بھئی، نفس الامر اور واقع میں ایک چیز کا ثبوت ہو دوسری چیز کے لیے یا ایک چیز کی نفی ہو دوسری چیز سے، تو یہ کسی نہ کسی کیفیت کے ساتھ ضرور مکیف ہوگی۔ جیسے مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں "زَيْدٌ قَائِمٌ"، دیکھو قضیے میں موضوع کیا ہے؟ "زَيْدٌ"، اور محمول کیا ہے؟ "قَائِمٌ"۔ میں نے زید کے لیے کیا ثابت کیا؟ قیام۔ اس قضیے کو ایک طرف رکھیں، نفس الامر میں اور واقع میں دیکھو، زید کے لیے قیام ثابت ہے تو اس کی کوئی نہ کوئی کیفیت ضرور ہوگی اگرچہ ہم قضایا میں اکثر ذکر نہیں کرتے۔ مثلاً آپ اپنے ساتھی کو بتاتے ہیں "زَيْدٌ قَائِمٌ"، زید کیا ہے؟ کھڑا ہے۔ آپ نے صرف یہ بتلایا کہ زید کے لیے قیام ثابت ہے، لیکن نفس الامر میں اور واقع میں یہ جو قیام ثابت ہے زید کے لیے، اس کی کوئی نہ کوئی کیفیت ضرور ہوگی۔ یا تو یہ قیام زید کے لیے ضروری ہوگا، یا ممتنع ہوگا، یا امکانی ہوگا، پھر یا دائمی ہوگا یا تین زمانوں میں سے کسی زمانے کے اندر ہوگا۔ تو یہاں پر زید کے لیے جو قیام ثابت ہے وہ امکانی ہے، ممکن ہے، زید ہو سکتا ہے کھڑا ہو ہو سکتا ہے کھڑا نہ ہو، دونوں احتمال اس میں ہیں۔ یعنی کبھی کھڑا ہوگا اور کبھی کھڑا نہیں ہوگا، یعنی ضروری نہیں ہے اس کے لیے، اور نیز ممتنع بھی نہیں ہے کہ زید ہو اور قیام اس کے لیے ثابت ہی نہ ہو سکے، نہیں ایسا بھی نہیں ہو سکتا۔ اور پھر دائماً بھی نہیں ہے بلکہ تین زمانوں میں سے کسی زمانے کے اندر ہوگا، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟
تو نفس الامر اور واقع میں ایک چیز کا ثبوت دوسری چیز کے لیے یا ایک چیز کی نفی دوسری چیز سے، اس کی کوئی نہ کوئی کیفیت ضرور ہوگی۔ اور کوئی مثال لے آئیں، کوئی اور مثال لے آئیں۔ مثلاً "زَيْدٌ ضَاحِكٌ"، زید کیا ہے؟ ضاحک۔ ضاحک ایک ہے اس میں ضحک کی صلاحیت، صلاحیت تو ہر انسان میں اللہ نے رکھی ہے، یہاں صلاحیت نہیں مراد بلکہ بالفعل ہنسنا مراد ہے، بالفعل ہنسنا۔ اب میں کہتا ہوں "زَيْدٌ ضَاحِكٌ"، زید ہنس رہا ہے یا زید ہنسنے والا ہے۔ تو یہ تو میں نے قضیہ کہا، زبان سے الفاظ ادا کیے۔ نفس الامر میں دیکھیں اور واقع میں دیکھیں، زید کے لیے یہ جو ضحک ثابت ہے یہ ضروری ہے؟ لازمی ہے؟ زید کے لیے ضحک ضرور ہوگا، زید ہو اور ہنس نہ رہا ہو ایسا نہیں ہو سکتا؟ کیا ایسا ہے؟ نہیں، ہر وقت کیا زید ہنستا رہتا ہے؟ نہیں، دائماً بھی نہیں۔ اچھا، کیا ضحک زید کے لیے ممتنع ہے؟ یعنی زید ہنس ہی نہیں سکتا، ممکن ہی نہیں ہے کہ زید ہنسے؟ نہیں، امتناعی بھی نہیں ہے۔ معلوم ہوا یہ امکانی ہے، ممکن ہے زید ہنسے، ہو سکتا ہے ہنسے اور ہو سکتا ہے، یعنی کسی وقت اس کے لیے ہنسنا ہوگا اور کسی وقت اس کے لیے ہنسنا نہیں ہوگا۔ یعنی یوں کہو تین زمانوں میں سے ایک زمانے میں اس کے لیے یہ ہنسنا ثابت ہے، تین زمانوں میں سے ایک زمانے میں اس کے لیے ہنسنا ثابت ہوگا۔ جب بھی وہ ہنسے گا کچھ دیر کے لیے ہنسے گا اور وہ کوئی نہ کوئی زمانہ ہوگا۔ تو معلوم ہوا زید کے لیے جو ہنسنا ہے وہ لازم نہیں، جبکہ انسان کے لیے حیوان ہونا لازم ہے بھئی لازم ہے، یہ اس سے جدا ہی نہیں ہو سکتا۔
یہ تو تھیں ایجاب کی مثالیں، نفی کی مثال دیکھ لیں۔ مثلاً میں آپ کو کہتا ہوں "زَيْدٌ لَيْسَ بِقَائِمٍ"، زید کھڑا نہیں ہے۔ دیکھو میں نے زید سے قیام کی نفی کی، لیکن نفس الامر میں دیکھیں، میرے لفظوں کو چھوڑیں، نفس الامر میں دیکھیں، نفس الامر اور واقع میں زید سے قیام کی نفی ہے۔ تو کیا زید سے قیام کی نفی واجب ہے؟ زید کبھی کھڑا ہو ہی نہیں سکتا؟ نہیں، زید سے قیام کی نفی واجب نہیں۔ کیا زید سے قیام کی نفی دائماً ہے، ہمیشہ وہ کھڑا ہو ہی نہیں سکتا کبھی بھی یہ اس کے لیے ثابت نہیں ہوگی؟ نہیں، ہاں تین زمانوں میں سے کسی ایک زمانے کے اندر ہے۔ میں نے زید سے قیام کی نفی کی تو یہ تین زمانوں میں سے کسی ایک زمانے میں کبھی وہ کھڑا نہیں ہوگا تو کبھی وہ کھڑا ہوگا، تو یہ جو قیام کی زید سے نفی ہے یہ تین زمانوں میں سے کسی زمانے میں ہوگی۔ اور نیز زید سے یہ جو قیام کی نفی ہے یہ ممکن ہے، کیا ہے؟ ہو سکتا ہے زید کھڑا ہو ہو سکتا ہے کھڑا نہ ہو، تو میں نے نفی کی، تو جیسے زید کے لیے کھڑا ہونا ممکن ہے اسی طرح کھڑا نہ ہونا یعنی بیٹھا ہوا ہونا بھی ممکن ہے۔
اور مثال لے لیں، مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں "كُلُّ كَاتِبٍ مُتَحَرِّكُ الْأَصَابِعِ"، "كُلُّ كَاتِبٍ مُتَحَرِّكُ الْأَصَابِعِ"، جو بھی لکھنے والا ہے اس کی انگلیاں حرکت کرتی ہیں۔ جو شخص بھی کچھ لکھ رہا ہو اس کی انگلیاں حرکت کرتی ہیں۔ جی اب آپ مجھے بتائیے، کیا ہر کاتب کے لیے انگلیوں کا حرکت کرنا ضروری ہے؟ ہر کاتب کے لیے انگلیوں کا حرکت کرنا ضروری ہے؟ جی، جب بھی کوئی کتابت کرے گا جب بھی کوئی لکھے گا، وہ لکھا ہی انگلیوں سے جاتا ہے تو انگلیوں کا حرکت کرنا ضروری ہے۔ ایسا کبھی نہیں ہو سکتا کوئی کاتب تو ہو یعنی لکھ رہا ہو لیکن اس کی انگلیاں حرکت نہ کر رہی ہوں۔ تو ہر کاتب کے لیے انگلیوں کا حرکت کرنا ضروری ہے، تو نفس الامر اور واقع میں جو بھی کاتب ہوگا اس کی انگلیوں کا حرکت کرنا ضروری ہے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آگئی؟ پھر سنو حاصل کلام، پھر سن لو: نفس الامر اور واقع میں ایک چیز کے لیے دوسری چیز کا ثبوت یا ایک چیز سے دوسری چیز کی نفی، قضیے کو چھوڑ دیں میں قضیے کی بات نہیں کر رہا، بلکہ نفس الامر اور واقع میں ایک چیز کے لیے دوسری چیز کا ثبوت یا ایک چیز سے دوسری چیز کی نفی، یہ اس کی کوئی نہ کوئی کیفیت ضرور ہوگی۔ جیسے نفس الامر میں زید کے لیے قیام ہے تو زید کے لیے قیام ضروری نہیں ہے بلکہ ممکن ہے، اور ہمیشہ نہیں ہے بلکہ تین زمانوں میں سے کسی زمانے میں ہے۔ اور جیسے انسان کے لیے حیوان ہونے کا ثبوت نفس الامر میں، یعنی واقع میں انسان کے جو بھی افراد ہوں گے ان کے لیے حیوان ہونا ضروری ہے، اور جیسے نفس الامر اور واقع میں ہر کاتب کے لیے، ہر لکھنے والے کے لیے اس کی انگلیوں کا حرکت کرنا ضروری ہے، اگر انگلیاں حرکت نہیں کریں گی تو وہ لکھے گا کیسے بھئی؟ تو جب بھی وہ لکھے گا اس کی انگلیاں حرکت کریں گی بھئی۔
نفس الامر اور واقع میں ایک چیز کا ثبوت ہو دوسری چیز کے لیے یا ایک چیز کی نفی ہو دوسری چیز سے، اس کی کوئی نہ کوئی کیفیت ضرور ہوگی۔ یا تو وہ واجب اور ضروری ہوگا یا وہ ممتنع ہوگا، ایک چیز کا دوسری چیز کے لیے ثبوت ہے یا ایک چیز کی دوسری چیز سے نفی، یہ یا تو واجب ہوگا، یا ممتنع ہوگا، یا ممکن ہوگا، یا دائماً ہوگا، یا تین زمانوں میں سے کسی زمانے کے اندر ہوگا۔ جیسے میں نے مثال ذکر کی، کیا مثال ذکر کی؟ کہ ہر آسمان متحرک ہے۔ فلاسفہ یونان کا کیا نظریہ ہے کہ ہر آسمان متحرک ہیں، تو مجھے بتائیے یہ جو نفس الامر اور واقع میں آسمانوں کے لیے جو حرکت وہ ثابت مانتے ہیں، یہ حرکت کیا یہ دائماً ہوتی ہے یا تین زمانوں میں سے کسی زمانے میں؟ دائماً، یعنی ہر وقت اس کے لیے یہ حرکت ثابت ہے۔ اور کیا یہ حرکت اس کے لیے ضروری ہے؟ آسمان ہو اور متحرک نہ ہو، کیا ایسا ہو سکتا ہے یا نہیں؟ ہو تو سکتا ہے، کیونکہ یہ تو اس کا وصف ہے وصف جدا ہو سکتا ہے، لیکن جدا ہوتا نہیں۔ یعنی یہ اس کی، دیکھو انسان کے لیے حیوان ہونا ضروری ہے، جو بھی انسان ہوگا وہ حیوان ہوگا، یہ حیوان ہونا انسان سے جدا ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ یہ اس کی ذات کا حصہ ہے۔ حیوان اس سے جدا کر دیں گے تو انسان ہی نہیں رہے گا بھئی، تو انسان کے لیے حیوان ہونا ضروری ہے۔ اور جو آسمان کی جو حرکت ہے یہ حرکت اس کی ذات کا حصہ نہیں ہے، ہاں وہ ہر وقت حرکت میں تو رہتا ہے لیکن یہ حرکت اس کی ذات کا جز نہیں، جدا ہو تو سکتی ہے لیکن ہوتی نہیں۔ ہو سکتی ہے، حرکت کے بغیر بھی آسمان ہو سکتا ہے لیکن اس سے جدا ہوتی نہیں۔ تو مجھے بتائیے، آسمان کے لیے جو حرکت ہے یہ ضروری ہے؟ ضروری نہیں ہے، ضروری نہیں ہے، اور کیا ممتنع ہے؟ ممتنع بھی نہیں، وہ باقاعدہ حرکت کر رہا ہے بھئی، اور امکانی؟ ممکن ہے، آسمان کے لیے حرکت کرنا ممکن ہے ممکن ہے، اور یہاں بالفعل بھی وہ حرکت کر رہا ہے۔ اور نیز یہ حرکت اس کے لیے دائمی ہے یا تین زمانوں میں سے کسی ایک زمانے میں ہے؟ دائمی ہے، یہ اس سے کبھی جدا ہوتی نہیں، جدا ہو سکتی ہے لیکن ہوتی نہیں ہے، تو یہ حرکت اس کے لیے دائمی ہے۔
تو دیکھو ایک چیز کے لیے دوسری چیز کا ثبوت ہوا دائماً بھئی۔ آسمان کے لیے حرکت ثابت ہوئی دائماً۔ نفس الامر میں اور واقع میں آسمان کے لیے یہ حرکت دائماً ثابت ہے۔ دیکھو یہ اس کی کیفیت ہے، آسمان کے لیے کیا ثابت ہے؟ حرکت، اور اس کی کیفیت کیا ہے؟ دائماً ہے، کیا ہے؟ دائماً ہے۔ تو یہ تو تھا اثبات، نفی میں بھی اسی طرح ہوتا ہے۔ ایک چیز سے دوسری چیز کی نفی، اس کی بھی کوئی نہ کوئی کیفیت ضرور ہوگی، کوئی نہ کوئی کیفیت۔ جیسے مثلاً میں کہتا ہوں، کوئی بھی آسمان ساکن نہیں ہے فلاسفہ کے نظریے کے مطابق۔ کوئی بھی آسمان ساکن نہیں ہے، دیکھا سکون کی نفی کر دی آسمان سے۔ اور یہ سکون کی جو نفی ہے یہ دائماً ہے یا تین زمانوں میں سے کسی ایک زمانے میں ہے؟ دائماً ہے بھئی، دائماً جب اس کے لیے حرکت ہے تو دائماً اس سے سکون کی نفی ہے۔ تو نفس الامر اور واقع میں ایک چیز کے لیے دوسری چیز کا ثبوت ہو یا ایک چیز سے دوسری چیز کی نفی ہو، اس کی کوئی نہ کوئی کیفیت ضرور ہوگی۔ یا تو وہ واجب ہوگی، ضروری ہوگی، یا ممتنع ہوگی، یا ممکن ہوگی، یا دائمی ہوگی، یا تین زمانوں میں سے کسی زمانے میں ہوگی۔ کوئی کیفیت ضرور ہوگی، اور اس کیفیت کو مادہ قضیہ کہتے ہیں۔ یہ جو نفس الامر میں ایک شے کا دوسری شے کے لیے ثبوت ہو جس کیفیت کے ساتھ، اس کو مادہ قضیہ کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ مادہ قضیہ۔ آسمان کے لیے حرکت ثابت ہے، مادہ قضیہ کیا؟ آسمان کے لیے حرکت ثابت ہے لیکن مادہ قضیہ کیا، کیفیت کیا ہے؟ دائماً دائماً، یہ ہے مادہ قضیہ۔ ایک چیز کا ثبوت دوسری چیز کے لیے یا ایک چیز کی نفی دوسری چیز سے جس کیفیت کے ساتھ ہو، اس کو کیا کہتے ہیں؟ مادہ قضیہ۔ زید کے لیے قیام ثابت ہے واجب ہے ممتنع ہے یا ممکن ہے؟ ممکن ہے، تو مادہ قضیہ ہے یہاں امکان بھئی، کیا ہے؟ امکان ہے۔ ہر انسان کے لیے حیوان ہونا ضروری ہے تو اس کی کیفیت کیا ہے؟ ضروری ہے، ضروری ہے، تو یہ ہے مادہ قضیہ۔
واقع اور نفس الامر میں ایک چیز کا ثبوت ہو دوسری چیز کے لیے یا ایک چیز کی نفی ہو دوسری چیز سے، اس کی کوئی نہ کوئی کیفیت ضرور ہوگی۔ یا وہ واجب ہوگا یا ممتنع ہوگا یا ممکن ہوگا یا دائمی ہوگا یا تین زمانوں میں سے کسی ایک زمانے میں ہوگا، تو بہرحال جو بھی کیفیت ہو اس کو مادہ قضیہ کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ مادہ قضیہ کہتے ہیں۔ اور یہ مادہ قضیہ، اس کو کبھی کبھار قضیے کے اندر بھی ذکر کرتے ہیں، اور قضیے میں جب اس کو ذکر کیا جائے تو اس کو جہت قضیہ کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ جہت قضیہ۔ نفس الامر اور واقع میں جو کیفیت ہے اس کا کیا نام؟ مادہ قضیہ، اور قضیے میں جب اس کو ذکر کیا جائے تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ جہت قضیہ۔ جیسے دیکھو، ایک ہے ذات زید اور ایک ہے لفظ زید، ذات زید اور چیز، لفظ زید اور چیز۔ لفظ زید تو جو میں زبان سے ادا کر رہا ہوں اور ذات اس کی جو خارج اور واقع میں موجود ہے، تو اسی طرح نفس الامر اور واقع کے اندر جو کیفیت ہے وہ کیفیت کیا کہلاتی ہے؟ مادہ قضیہ، لیکن اسی کو لفظوں میں ذکر کرو تو اس کا کیا نام ہے؟ جہت قضیہ۔ جیسے لفظ زید یہ ہے دال، میں نے جیسے ہی لفظ زید کہا آپ کے ذہن میں کس کی صورت آگئی؟ زید کی صورت آگئی، تو لفظ زید ہوا دال اور ذات زید ہوئی مدلول۔ یہاں پر بھی اسی طرح ہے، جہت قضیہ ہے دال اور مادہ قضیہ ہے مدلول۔ یہ جہت جو قضیے میں میں نے لفظ ذکر کیا جو اس مادے پر دلالت کر رہا ہے۔
مثلاً میں کہتا ہوں "زَيْدٌ قَائِمٌ بِالْإِمْكَانِ"، زید کا کھڑا ہونا ممکن ہے۔ دیکھو نفس الامر اور واقع کے اندر بھی زید کے لیے قیام جو ثابت ہے اس کی کیا کیفیت ہے؟ ممکن ہے، اور میں نے قضیے میں لفظ بھی کیا ذکر کیا؟ "بِالْإِمْكَانِ" یعنی ممکن ہونے کو ذکر کیا، تو یہ جو قضیے کا لفظ ہے وہ جو نفس الامر میں کیفیت ہے اس پر دلالت کر رہا ہے۔ اس سے آپ کو پتہ چل گیا، میں نے کیا کہا "زَيْدٌ قَائِمٌ بِالْإِمْكَانِ"، زید کا کھڑا ہونا ممکن ہے، آپ کو پتہ چل گیا کہ نفس الامر میں زید کے لیے جو قیام ثابت ہے وہ اس کی کیفیت کیا ہے؟ ممکن ہے۔ تو یہ جہت دلالت کرتی ہے کس پر؟ مادہ قضیہ پر، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ جیسے لفظ زید میں نے کہا تو آپ کے ذہن میں کس کی صورت آئی؟ زید کی صورت آئی، تو یہاں پر بھی قضیے کے اندر جب جہت ذکر کی جاتی ہے تو آپ کے ذہن میں مادہ قضیہ آ جاتا ہے۔ میں نے کہا "زَيْدٌ قَائِمٌ بِالْإِمْكَانِ"، زید کا کھڑا ہونا ممکن، میں نے تو "بِالْإِمْكَانِ" لفظ بولا لیکن آپ کے ذہن میں نفس الامر اور واقع میں وہ جو کیفیت ہے وہ آپ کے ذہن میں آگئی کہ معلوم ہوا زید کے لیے کھڑا ہونا نفس الامر اور واقع میں ممکن ہے۔ تو مادہ قضیہ کسے کہتے ہیں؟ نفس الامر میں جو کیفیت ہے اس کو کیا کہتے ہیں؟ مادہ قضیہ، اور جس لفظ کے ساتھ اس کو ذکر کیا جائے اس کو کیا کہتے ہیں؟ جہت قضیہ۔ جیسے دیکھو آسمان کے لیے حرکت دائمی ہے، نفس الامر اور واقع میں تو یہ ہے مادہ قضیہ، یہ کیا ہے؟ یہ جو نفس الامر اور واقع میں آسمان کے لیے حرکت دائمی ہے کس میں؟ نفس الامر اور واقع میں، تو یہ کیا ہے؟ مادہ قضیہ۔ اسی کو میں قضیے کے اندر جب ذکر کر دوں گا تو اس کو کیا کہیں گے؟ جہت قضیہ۔ مثلاً میں کہتا ہوں "كُلُّ فَلَكٍ مُتَحَرِّكٌ دَائِمًا" یا "كُلُّ فَلَكٍ مُتَحَرِّكٌ بِالدَّوَامِ"، ہر فلک کیا ہے؟ ہر آسمان متحرک ہے بالدوام بھئی، دوام کے ساتھ یعنی دائمی طور پر، تو یہ جو قضیے کے اندر میں لفظ لایا "بِالدَّوَامِ" یہ کیا ہے؟ جہت قضیہ، اور اس نے کس پر دلالت کی؟ مادہ قضیہ جو واقع اور نفس الامر میں ہے۔ اس سے آپ کو پتہ چلا کہ واقع اور نفس الامر میں آسمان کے لیے جو حرکت ہے وہ دائمی طور پر ثابت ہے، تو یہ ہے جہت قضیہ بھئی۔
تو یہ جہت کبھی قضیے میں ذکر کی جاتی ہے اور کبھی ذکر نہیں کی جاتی۔ مثلاً کبھی کہتے ہیں "زَيْدٌ قَائِمٌ" اور کبھی کہتے ہیں "زَيْدٌ قَائِمٌ بِالْإِمْكَانِ"۔ کبھی کیا کہتے ہیں؟ "زَيْدٌ قَائِمٌ"، دیکھو جہت ذکر نہیں۔ اور کبھی جہت کو ذکر کرتے ہیں "زَيْدٌ قَائِمٌ بِالْإِمْكَانِ"۔ یاد رکھو جب قضیے میں جہت ذکر نہ ہو تو اس کو قضیہ مطلقہ کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ مطلقہ، مطلقہ یعنی آزاد ہے اس میں کسی قسم کی کوئی قید موجود نہیں ہے۔ تو وہ قضیہ جس کے اندر جہت ذکر نہ ہو اس کو کیا کہتے ہیں؟ قضیہ مطلقہ۔ "زَيْدٌ قَائِمٌ" یہ کون سا قضیہ ہے؟ مطلقہ۔ "زَيْدٌ لَيْسَ بِقَائِمٍ" یہ بھی کون سا قضیہ ہے؟ قضیہ مطلقہ ہے، چاہے اثبات ہو چاہے نفی، جب جہت مذکور نہیں تو اس کو کیا کہیں گے؟ قضیہ مطلقہ۔ اور اگر جہت ذکر ہے تو پھر اس کو قضیہ موجہہ کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ قضیہ موجہہ۔ "زَيْدٌ قَائِمٌ بِالْإِمْكَانِ"، یہ کون سا قضیہ ہے؟ قضیہ موجہہ، کیونکہ اس میں جہت ذکر ہے۔ "زَيْدٌ لَيْسَ بِقَائِمٍ بِالْإِمْكَانِ"، یہ بھی کون سا ہے؟ قضیہ موجہہ۔ تو قضیہ موجہہ موجبہ بھی ہو سکتا ہے اور سالبہ بھی، جب اس میں جہت ذکر ہو تو اس کو موجہہ کہیں گے اور اگر جہت ذکر نہ ہو تو اس کو مطلقہ کہیں گے۔
اور یہ جو موجہہ ہے اس کا ایک نام رباعیہ بھی ہے بھئی۔ تو قضیہ موجہہ کا دوسرا نام رباعیہ ہے، جس قضیے کے اندر جہت ذکر ہو اس کو قضیہ موجہہ بھی کہتے ہیں اور قضیہ رباعیہ بھی۔ موجہہ تو نام سے ہی پتہ چل رہا ہے، اس کو قضیہ موجہہ کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ اس میں جہت مذکور ہے۔ رباعیہ کیوں کہتے ہیں؟ یاد رکھو رباعیہ اس کو اس لیے کہتے ہیں کیونکہ اس قضیے کے چار جز ہو گئے۔ آپ نے پہلے پڑھا تھا کہ قضیہ حملیہ کے تین جز ہیں: کون کون سے؟ موضوع، محمول اور رابطہ۔ اب چوتھی چیز جہت بھی آگئی تو یہ چار اجزا۔
قضیہ مو جہہ کا دوسرا نام کیا ہے؟ قضیہ رباعیہ، کیونکہ اس کے چار اجزا ہو گئے موضوع، محمول، رابطہ اور جہت۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی۔
یہاں ایک اور بات یاد رکھیں بھئی۔ جہات بہت سی ہیں، لیکن وہ جہات جن کے بارے میں منطقی بحث کرتے ہیں، وہ چار جہتیں ہیں۔ وہ کتنی جہتیں ہیں؟ جہتیں بہت سی ہیں لیکن جن کے بارے میں منطقی بحث کرتے ہیں اور جو مناطقہ کے نزدیک معتبر ہیں، وہ چار ہیں۔ ایک، ایک جس کو وہ تعبیر کرتے ہیں بِالضَّرُوْرَةِ کے ساتھ۔ جب ایک چیز کا ثبوت یا ایک چیز کی نفی دوسری چیز سے ضروری ہو، لازمی ہو، تو اس کو وہ بِالضَّرُوْرَةِ سے تعبیر کرتے ہیں۔
جیسے میں کہتا ہوں: ”كُلُّ إِنْسَانٍ حَيَوَانٌ“۔ ہر انسان کیا ہے؟ حیوان۔ مجھے بتائیے، نفس الامر اور واقع میں ہر انسان کے لیے حیوان ہونا ضروری ہے یا ممکن ہے؟ ضروری ہے۔ جو بھی انسان ہو گا وہ لازمی لازمی کیا ہو گا؟ حیوان۔ تو ہر انسان کے لیے حیوان ہونا ضروری ہے، لازمی ہے، واجب ہے۔ اس کو وہ بِالضَّرُوْرَةِ سے تعبیر کرتے ہیں۔ کس سے؟ بِالضَّرُوْرَةِ سے۔ تو میں یوں کہوں گا: ”كُلُّ إِنْسَانٍ حَيَوَانٌ بِالضَّرُوْرَةِ“، ”كُلُّ إِنْسَانٍ حَيَوَانٌ بِالضَّرُوْرَةِ“، یعنی ہر انسان کے لیے حیوان ہونا ضروری ہے۔ تو جب ایک چیز کا اثبات یا ایک چیز کی نفی دوسری چیز سے یہ ضروری ہو، لازمی ہو، تو اس کو وہ بِالضَّرُوْرَةِ سے تعبیر کرتے ہیں۔
تو چار جہتیں ان کے نزدیک معتبر ہیں۔ ایک کو تعبیر کرتے ہیں بِالضَّرُوْرَةِ سے، ایک کو تعبیر کرتے ہیں بِالْإِمْكَانِ سے، ایک کو تعبیر کرتے ہیں بِالدَّوَامِ سے، اور ایک کو تعبیر کرتے ہیں بِالْفِعْلِ سے۔ کتنی جہتیں ہیں جو مناطقہ جن کے بارے میں بحث کرتے ہیں؟ چار ہیں۔ ایک کو تعبیر کس سے کرتے ہیں؟ بِالضَّرُوْرَةِ، اور ایک کو تعبیر کرتے ہیں بِالْإِمْكَانِ، اور ایک کو تعبیر کرتے ہیں بِالدَّوَامِ کے ساتھ، اور ایک کو تعبیر کرتے ہیں بِالْفِعْلِ۔
بِالضَّرُوْرَةِ میں نے ذکر کیا۔ بِالضَّرُوْرَةِ کا کیا معنی ہے؟ بِالضَّرُوْرَةِ کا معنی ہے ضروری ہے، لازمی ہے، واجب۔ بِالْإِمْكَانِ کا کیا معنی؟ ممکن ہے۔ بِالدَّوَامِ کا کیا معنی؟ دائمی ہے یعنی ہمیشہ ہے۔ اور بِالْفِعْلِ کا معنی ہے تین زمانوں میں سے کسی ایک زمانے میں۔ نفس الامر اور واقع میں جب ایک چیز دوسری چیز کے لیے ثابت ہو گی، یا تو وہ ضروری ہو گی یا ممکن ہو گی، پھر یا دائمًا ہو گی یا تین زمانوں میں سے کسی ایک زمانے میں ہو گی۔ تو یہ چار جہتیں مناطقہ کے نزدیک معتبر ہیں۔ کون کون سی؟ پھر دہرائیں: نمبر ایک بِالضَّرُوْرَةِ، نمبر دو بِالْإِمْكَانِ، نمبر تین بِالدَّوَامِ، اور نمبر چار بِالْفِعْلِ۔
بِالضَّرُوْرَةِ کا کیا معنی؟ جہاں ایک چیز کا ثبوت یا ایک چیز کی نفی دوسری چیز سے ضروری ہو، لازمی ہو، واجب ہو۔ اور بِالْإِمْكَانِ کا کیا معنی؟ یعنی ممکن ہے۔ جیسے زید کے لیے قیام ممکن ہے، ہو سکتا ہے کھڑا ہو، ہو سکتا ہے کھڑا نہ ہو، اس کے لیے کھڑا ہونا بھی ممکن اور بیٹھنا بھی ممکن ہے۔ یا یوں کہیں، اس کے لیے قیام کا ثبوت بھی ممکن اور اس سے قیام کی نفی بھی ممکن ہے۔ اور کبھی کبھار ایک چیز کا ثبوت یا ایک چیز کی نفی دوسری چیز سے وہ دائمًا ہوتی ہے، جیسے آسمان کے لیے حرکت کا ثبوت دائمًا ہے، اور آسمان سے سکون کی نفی دائمًا ہے۔ تو اس کو کس سے تعبیر کرتے ہیں؟ بِالدَّوَامِ کے ساتھ۔
اور کبھی یہ جو ایک چیز کا ثبوت یا ایک چیز کی نفی دوسری چیز کے لیے، یہ تین زمانوں میں سے کسی زمانے میں ہو گی، جیسے زید کے لیے قیام۔ زید کبھی کسی زمانے میں کھڑا ہو گا تو کسی زمانے میں کھڑا نہیں ہو گا۔ تو ”زَيْدٌ قَائِمٌ“ یہ کیا ہے؟ بِالْفِعْلِ۔ کیا ہے؟ بِالْفِعْلِ، یعنی تین زمانوں میں سے کسی ایک زمانے میں۔ یا میں کہتا ہوں ”زَيْدٌ لَيْسَ بِقَائِمٍ“، زید کھڑا نہیں ہے، تو یہ بھی تین زمانوں میں سے کسی ایک زمانے میں ہو گا۔ تو میں یوں کہوں گا: ”زَيْدٌ لَيْسَ بِقَائِمٍ بِالْفِعْلِ“، ”زَيْدٌ قَائِمٌ بِالْفِعْلِ“، اور ”زَيْدٌ لَيْسَ بِقَائِمٍ بِالْفِعْلِ“۔ زید کے لیے قیام بھی تین زمانوں میں سے کسی زمانے میں ہو گا، اور زید سے قیام کی نفی بھی تین زمانوں میں سے کسی زمانے میں ہو گی۔
بات سمجھ میں آ گئی؟ پھر دہرا لیں۔ کتنی جہتیں معتبر ہیں مناطقہ کے نزدیک؟ چار۔ ایک کو کس سے تعبیر کرتے ہیں؟ بِالضَّرُوْرَةِ، دوسرا بِالْإِمْكَانِ، تیسرا بِالدَّوَامِ، چوتھا بِالْفِعْلِ۔ بِالضَّرُوْرَةِ کا کیا معنی؟ ایک چیز کا دوسری چیز کے لیے ثبوت۔ دیکھو ثبوت کے ساتھ میں نفی کو بار بار ساتھ ذکر کر رہا ہوں۔ ثبوت بھی ضروری ہو سکتا ہے کبھی، اور نفی بھی ضروری ہو سکتی ہے۔ جیسے دیکھو، ”كُلُّ إِنْسَانٍ حَيَوَانٌ“، ہر انسان کے لیے حیوان ہونا ضروری ہے۔ دیکھو یہاں ہونا ضروری ہے، اور کبھی نہ ہونا ضروری ہو گا۔ ”لَا شَيْءَ مِنَ الْإِنْسَانِ بِحَجَرٍ“، کوئی انسان پتھر نہیں۔ یعنی ہر انسان سے پتھر کی نفی ضروری ہے بھئی۔ ایسا ہو ہی نہیں سکتا، انسان ہو اور پتھر ہو بھئی۔ تو اثبات بھی ضروری ہو سکتا ہے اور نفی بھی ضروری۔
تو سب میں اسی طرح ہے کہ ایک چیز کا ثبوت دوسری چیز کے لیے، یا ایک چیز کی نفی دوسری چیز سے، یا تو وہ بِالضَّرُوْرَةِ ہو گی یعنی ضروری ہو گی، یا بِالْإِمْكَانِ ہو گی یعنی ممکن ہو گی، یا بِالدَّوَامِ ہو گی یعنی دائمی ہو گی، یا بِالْفِعْلِ ہو گی یعنی تین زمانوں میں سے کسی زمانے میں ہو گی۔ بات سمجھ میں آ گئی یہاں تک؟
اب اس کے بعد وصف عنوانی کو سمجھ لیں بھئی، وصف عنوانی۔ یاد رکھو، ایک ہے وہ لفظ جس کے ساتھ آپ موضوع کو ذکر کرتے ہیں، اور ایک ہے ذات موضوع۔ ایک ہے وہ لفظ جس کے ساتھ آپ کسی چیز کو ذکر کرتے ہیں، اور ایک اس کی ذات ہے۔ جیسے دیکھو، ایک ہے لفظ زید۔ میں نے کہا ”زَيْدٌ قَائِمٌ“، ایک تو ایک ہے لفظ زید اور ایک ہے ذات زید۔ لفظ زید دلالت کرتا ہے کس پر؟ ذات زید پر۔ تو لفظ زید ہوا دال اور ذات زید کیا ہوئی؟ مدلول۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ یا جیسے جہت قضیہ، جہت کیا ہے؟ دال۔ اور مادہ قضیہ کیا ہے؟ مدلول ہے۔ جہت جس لفظ کے ساتھ اس کو ذکر کیا جائے، اور مادہ قضیہ جو نفس الامر اور واقع میں اس کی کیفیت ہے، وہ کیا ہے؟ مادہ قضیہ۔
تو جس لفظ کے ساتھ موضوع کو ذکر کیا جائے اس کو کہتے ہیں عنوان موضوع اور وصف موضوع۔ توجہ ہے؟ جس لفظ کے ساتھ موضوع کو ذکر کیا جائے اس کو کیا کہتے ہیں؟ عنوان موضوع اور وصف موضوع۔ مثلاً میں نے کہا: ”زَيْدٌ قَائِمٌ“، ”زَيْدٌ قَائِمٌ“۔ مجھے بتائیے، میں نے زید لفظ ذکر کیا، تو کیا اس لفظ زید کے لیے میں قیام ثابت کر رہا ہوں یا وہ جو ذات زید ہے اس کے لیے قیام ثابت کر رہا ہوں؟ پھر سنو: ”زَيْدٌ قَائِمٌ“۔ میں نے تو زبان سے لفظ زید کہا ہے اور آگے اس کے لیے کیا ثابت کر رہا ہوں؟ قیام ثابت کر رہا ہوں۔ تو کیا یہ قیام میں اس لفظ زید کے لیے ثابت کر رہا ہوں یا ذات زید کے لیے؟ ذات زید کے لیے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے کہ ذات زید جو ہے اس کے لیے قیام والی صفت ثابت ہے۔ تو یہ جو لفظ ذکر کیا گیا یہ ہے عنوان موضوع، اور وہ جو زید ہے وہ ہے ذات موضوع۔
توجہ ہے؟ ذات موضوع اور عنوان موضوع میں فرق سمجھ میں آیا؟ عنوان موضوع کسے کہتے ہیں؟ جس لفظ کے ساتھ موضوع کو ذکر کیا جائے۔ ”كُلُّ إِنْسَانٍ حَيَوَانٌ“، یہ دیکھا انسان کے افراد کو لفظ انسان کے ساتھ ذکر کیا تو یہ ہے عنوان موضوع۔ ذات زید کو میں نے لفظ زید کے ساتھ ذکر کیا تو یہ کیا ہے؟ عنوان موضوع۔ تو جس لفظ کے ساتھ، جس لفظ کے ساتھ موضوع کو ذکر کیا جائے وہ کیا کہلاتا ہے؟ عنوان موضوع اور وصف موضوع۔ اور جو اس کا مصداق ہے، جو اس کا مدلول ہے، جس پر وہ صادق آ رہا ہے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ ذات موضوع۔ تو موضوع کو جس لفظ سے تعبیر کیا جائے اس کو کیا کہتے ہیں؟ ذات موضوع اور وصف موضوع۔ اور یاد رکھنا، اسی کو وصف عنوانی بھی کہتے ہیں۔ اسی ذات موضوع اور وصف موضوع، اسی کو وصف عنوانی بھی کہتے ہیں، یعنی عنوان والا وصف، وصف عنوانی۔
”زَيْدٌ قَائِمٌ“، میں نے ذات زید کو کس لفظ کے ذریعے ذکر کیا؟ لفظ زید کے ذریعے، تو یہ لفظ زید جو ہے وصف عنوانی ہے۔ یا یوں کہو، یہ عنوان موضوع ہے۔ یا یوں کہو، یہ وصف موضوع ہے۔ وصف موضوع کہہ لیں، عنوان موضوع کہہ لیں، یا وصف عنوانی کہہ لیں، ایک ہی بات ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو ”زَيْدٌ قَائِمٌ“، یہ لفظ زید کیا ہے؟ عنوان موضوع۔ اور واقع میں جو زید کی ذات ہے وہ کیا ہے؟ وہ ہے ذات موضوع بھئی۔ تو عنوان موضوع اور چیز ہے، ذات موضوع اور چیز ہے۔ یہ عنوان سے ذات کا پتہ چلتا ہے، جیسے مضمون کے اوپر عنوان دیا جاتا ہے۔ آپ جو بھی مضمون لکھتے ہیں اوپر عنوان دیتے ہیں، تو جیسے اس عنوان سے پورے مضمون کا پتہ چل جاتا ہے کہ یہ مضمون کس بارے میں ہے۔ یا جیسے خط کے لفافے کے اوپر عنوان اور پتہ لکھا ہوتا ہے، اس پتے سے پتہ چل جاتا ہے یہ کس کا خط ہے، کس کی طرف بھیجا گیا ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو یہاں پر بھی یہ جو لفظ جس کے ذریعے موضوع کو تعبیر کیا گیا ہے، اس کو ذکر کیا گیا ہے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ عنوان موضوع۔ اور جو اس کا مدلول ہے وہ کیا ہے؟ ذات موضوع ہے۔
پھر یاد رکھنا، یہ عنوان موضوع، عنوان موضوع، یہ کبھی عین موضوع ہوتا ہے، کبھی جز موضوع ہوتا ہے، کبھی وصف موضوع ہوتا ہے۔ توجہ ہے؟ یہ جو عنوان موضوع ہے، عنوان موضوع کیا چیز؟ وہ لفظ جس کے ساتھ موضوع کو ذکر کیا جا رہا ہے۔ یہ جو عنوان موضوع ہے کبھی عین موضوع ہوتا ہے، کبھی جز موضوع، کبھی وصف موضوع۔ عین موضوع مثلاً ”كُلُّ إِنْسَانٍ حَيَوَانٌ“، ہر انسان کیا ہے؟ حیوان ہے۔ تو دیکھو یہاں جو عنوان موضوع ہے وہ عین موضوع ہے۔ کیا ہے؟ عین موضوع۔ عین بھی کیا؟ انسان۔ اور نام بھی کیا ذکر کر رہا ہوں؟ انسان۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ مدلول بھی کون؟ انسان۔ اور لفظ بھی کیا ذکر کیا؟ انسان۔ یعنی انسان بولا تو پوری حقیقت آ گئی۔ انسان کے افراد کیا ہیں؟ حیوان ناطق ہیں۔ تو انسان کہہ دو یا حیوان ناطق کہہ دو، بات ایک ہی ہے۔ تو انسان جب کہا تو پوری حقیقت آ گئی یا نہیں اس کے اندر؟
اور کبھی کبھار جو عنوان موضوع ہوتا ہے وہ جز ہوتا ہے موضوع کا۔ جیسے دیکھو، میں کہتا ہوں: ”اَلْحَيَوَانُ مَاشٍ“، ”اَلْحَيَوَانُ مَاشٍ“۔ یا یوں کہیں: ”كُلُّ حَيَوَانٍ مَاشٍ“، ہر حیوان کیا ہے؟ ماشی ہے۔ خارج میں مجھے بتائیے، حیوان کے جو افراد ہیں، ان کی پوری حقیقت ہے حیوان یا ان کی حقیقت کا جز ہے حیوان؟ خارج میں جو حیوان کے افراد ہیں، کیا ان کی پوری حقیقت حیوان ہی ہے یا حیوان ان کی حقیقت کا جز ہے؟ ان کی حقیقت کا جز ہے، کیونکہ حیوان کے افراد خارج میں کون ہیں؟ انسان ہے، گائے بیل ہے، بکری ہے، گھوڑا ہے وغیرہ جتنے بھی ہیں، لیکن حیوان ان سب کی حقیقت کا جز ہے، کل نہیں۔ تو دیکھا، یہاں دیکھو عنوان موضوع، موضوع کا جز ہے۔
”كُلُّ حَيَوَانٍ مَاشٍ“، عنوان موضوع کیا؟ حیوان۔ اور یہ حیوان موضوع کا کل ہے یا جز ہے؟ جز ہے۔ ”كُلُّ إِنْسَانٍ حَيَوَانٌ“، انسان تو کیا تھا؟ موضوع کا عین تھا یعنی سارا تھا، لیکن ”كُلُّ حَيَوَانٍ مَاشٍ“، یہاں جو حیوان آیا، یہ اپنے موضوع کا جز ہے۔ حیوان کے جتنے بھی افراد دیکھ لیں، یہ حیوان ان کا جز ہے، جیسے انسان۔ انسان کی پوری حقیقت حیوان ہے یا حیوان ناطق؟ حیوان ناطق، تو حیوان اس کا جز ہے۔ گھوڑے کی پوری حقیقت حیوان ہے یا حیوان صاہل؟ حیوان صاہل، دیکھو حیوان اس کا جز ہے۔ اور گدھے کی پوری حقیقت حیوان ہے یا حیوان ناہق؟ حیوان ناہق، دیکھو حیوان اس کا جز ہے۔ تو کبھی یہ عنوان موضوع یا تو عین یعنی پورا موضوع ہوتا ہے، یا موضوع کا جز ہوتا ہے، اور کبھی اس سے خارج یعنی اس کا وصف ہوتا ہے۔
عین موضوع کی مثال میں نے ذکر کر دی کہ عنوان کیا ہے؟ عین موضوع، جیسے ”كُلُّ إِنْسَانٍ حَيَوَانٌ“، یہ انسان کیا ہے؟ عین موضوع ہے۔ وہ موضوع جو ہے وہ بھی ہے انسان، اور ذکر بھی کس سے کیا؟ انسان سے۔ اور ایک ہے ”كُلُّ حَيَوَانٍ مَاشٍ“، ہر حیوان چلنے والا ہے۔ یا ”كُلُّ حَيَوَانٍ مُتَحَرِّكٌ بِالْإِرَادَةِ“، ہر حیوان کیا ہے؟ متحرک بالارادہ۔ تو یہاں ”كُلُّ حَيَوَانٍ“ میں نے ذکر کیا، تو یہ حیوان کیا ہے؟ عنوان موضوع۔ یہ اس موضوع کا جز ہے، کل نہیں ہے۔ اور کبھی یہ عنوان موضوع جو ہے موضوع سے خارج ہوتا ہے یعنی اس کا وصف ہوتا ہے۔ مثلاً میں کہتا ہوں: ”كُلُّ كَاتِبٍ مُتَحَرِّكُ الْأَصَابِعِ“، ہر کاتب متحرک الاصابع ہوتا ہے یعنی اس کی انگلیاں حرکت کرتی ہیں۔ اس کی انگلیاں حرکت کرتی ہیں۔ اب بتائیے، عنوان موضوع کیا؟ ”كُلُّ كَاتِبٍ“ یا یوں کہیں کاتب ہے۔ عنوان موضوع کیا ہے؟ کاتب ہے۔ اور مجھے بتائیے، یہ کاتب جو لکھنے والا ہے، لکھنے والا ہے، یہ اس کی ذات ہے؟ لکھنے والا تو انسان ہے۔ اس کی حقیقت تو کیا ہے؟ حیوان ناطق۔ انسان کے افراد لکھنے والے ہیں تو ان کی حقیقت کیا ہے؟ کیا وہ ان کی حقیقت کاتب ہے یا وہ حیوان ناطق ہیں؟ حیوان ناطق ہیں۔ تو عنوان موضوع میں کیا لایا؟ ”كُلُّ كَاتِبٍ“، تو کاتب میں عنوان موضوع لایا۔ اور جو ذات موضوع ہے یہ نہ اس کی پوری حقیقت ہے، نہ یہ اس کا جز ہے، بلکہ اس کی حقیقت سے خارج ہے یعنی یہ اس کا ایک وصف ہے۔
یہ اس کا ایک وصف ہے کہ انسان ہاتھ سے کتابت کرنے والا ہے، لکھنے والا ہے۔ تو یہ ”كُلُّ كَاتِبٍ مُتَحَرِّكُ الْأَصَابِعِ“، یہاں عنوان موضوع کیا؟ عنوان موضوع کاتب۔ اور یہ کاتب اپنے موضوع کی پوری حقیقت ہے، یا جز حقیقت ہے، یا حقیقت سے خارج ہے؟ حقیقت سے خارج ہے۔ معلوم ہوا یہ وصف موضوع ہے، کیا چیز ہے؟ یہ وصف موضوع ہے۔ کبھی جو عنوان موضوع جو ہے وہ عین موضوع ہوتا ہے، کبھی جز موضوع ہوتا ہے، اور کبھی وصف موضوع ہوتا ہے۔ تو جس لفظ کے ساتھ موضوع کو ذکر کیا جائے اس کو عنوان موضوع کہتے ہیں۔ پھر دہرائیں۔ جس لفظ کے ساتھ موضوع کو قضیے میں ذکر کیا جائے وہ کیا کہلاتا ہے؟ عنوان موضوع اور وصف موضوع کہلاتا ہے۔
اور کیفیتیں سمجھ میں آ گئیں۔ نفس الامر اور واقع میں ایک چیز کا اثبات ہو دوسری چیز کے لیے، یا ایک چیز کی نفی ہو دوسری چیز سے، اس کی کوئی نہ کوئی کیفیت ضرور ہو گی۔ اس کیفیت کو کیا کہتے ہیں؟ مادہ قضیہ۔ اور جس لفظ کے ساتھ اس کو قضیے میں ذکر کیا جائے اس کو کیا کہتے ہیں؟ جہت قضیہ۔ اور جس لفظ کے ساتھ موضوع کو ذکر کیا جائے اس کو کیا کہتے ہیں؟ عنوان موضوع اور وصف موضوع۔ تو عنوان موضوع اور وصف موضوع اور چیز، اور ذات موضوع اور چیز۔ عنوان موضوع دال ہے، دلالت کرنے والا ہے، اور ذات موضوع کیا ہے؟ مدلول ہے، مدلول ہے۔
اور یہ بھی میں نے آپ کو بتایا کہ جہتیں بہت سی ہیں، لیکن وہ جہتیں جو مناطقہ کے نزدیک معتبر ہیں وہ چار ہیں۔ اور کون کون سی؟ نمبر ایک بِالضَّرُوْرَةِ، نمبر دو بِالْإِمْكَانِ، اور نمبر تین بِالدَّوَامِ، چار بِالْفِعْلِ۔ یاد رکھو، ان میں سے بھی یہ جو بِالضَّرُوْرَةِ ہے، یہ نقیض ہے بِالْإِمْكَانِ کی۔ بِالضَّرُوْرَةِ نقیض ہے کس کی؟ بِالْإِمْكَانِ کی، اور یہ جو بِالْفِعْلِ ہے، یہ نقیض ہے بِالدَّوَامِ کی۔ بِالضَّرُوْرَةِ اور بِالْإِمْكَانِ ایک دوسرے کی نقیض ہیں۔ جو بِالضَّرُوْرَةِ ہو گا وہ بِالْإِمْكَانِ نہیں، اور جو بِالْإِمْكَانِ ہے وہ بِالضَّرُوْرَةِ نہیں۔ کوئی بھی چیز یا تو انسان ہو سکتی ہے یا لا انسان۔ انسان کی نقیض کیا ہے؟ لا انسان۔ جو انسان ہے وہ لا انسان نہیں، اور جو لا انسان ہے وہ انسان نہیں۔ اسی طرح یہاں پر بھی یہ جو یہ جو بِالضَّرُوْرَةِ ہے، اس کی نقیض ہے بِالْإِمْكَانِ۔
بِالْإِمْكَانِ میں بتایا جاتا ہے ایسا ہونا ممکن ہے، اور بِالضَّرُوْرَةِ میں بتایا جاتا ہے ایسا ہونا ضروری ہے۔ تو دو میں سے ایک ہی ہو سکتا ہے۔ یہ ایک چیز کا ثبوت یا نفی دوسری چیز کے لیے یا تو ضروری ہو گی یا ممکن ہو گی، دونوں نہیں ہو سکتے۔ اور اسی طرح بِالدَّوَامِ اور بِالْفِعْلِ ایک دوسرے کی نقیض ہیں، ایک دوسرے کی ضد ہیں، بات سمجھ میں آ رہی ہے۔ ایک چیز کا ثبوت دوسری چیز کے لیے، یا ایک چیز کی نفی دوسری چیز سے، یا تو بِالدَّوَامِ ہو گی یا بِالْفِعْلِ یعنی تین زمانوں میں سے کسی ایک زمانے میں۔ اگر بِالدَّوَامِ ہے تو بِالْفِعْلِ نہیں، اور بِالْفِعْلِ ہے تو بِالدَّوَامِ نہیں۔
پھر ایک اور بات یاد رکھنا۔ وہ قضایائے موجہہ جن سے مناطقہ بحث کرتے ہیں وہ پندرہ ہیں۔ کتنے ہیں؟ پندرہ ہیں۔ ویسے تو موجہات بہت زیادہ کیونکہ جہات زیادہ تو موجہات بھی زیادہ، لیکن ان جہات میں سے چار جہتیں معتبر ہیں: بِالضَّرُوْرَةِ، بِالْإِمْكَانِ، بِالدَّوَامِ، اور بِالْفِعْلِ۔ تو چار جہتیں معتبر ہیں اور اس اعتبار سے وہ مناطقہ صرف پندرہ موجہات ہیں جن سے وہ بحث کرتے ہیں، باقی سے وہ بحث نہیں کرتے۔ پھر یہ پندرہ جو ہیں، ان میں سے آٹھ بسیطہ ہیں اور سات مرکبہ ہیں۔ آٹھ بسیط ہیں اور سات مرکب ہیں۔
موجہہ بسیطہ اس قضیے کو کہتے ہیں جس میں جہت ہو گی، توجہ ہے؟ اور اس میں صرف ایجاب ہو گا یا صرف سلب ہو گا یعنی نفی ہو گی۔ بسائط وہ موجہات جن میں صرف ایجاب ہو یا صرف سلب ہو۔ جبکہ آگے مرکبات آئیں گے، مرکبات وہ موجہات ہیں کہ ایک ہی قضیے کے اندر ایجاب بھی ہو گا اور سلب بھی ہو گا۔ ایک ہی قضیے میں ایجاب بھی ہو گا اور سلب بھی ہو گا۔ تو بسائط جو ہیں بسائط، ان میں یا صرف ایجاب ہو گا یا صرف سلب ہو گا۔ مثلاً میں کہتا ہوں: ”كُلُّ إِنْسَانٍ حَيَوَانٌ بِالضَّرُوْرَةِ“، ہر انسان کا حیوان ہونا ضروری ہے۔ دیکھو صرف ایجاب ذکر ہے، تو یہ بسیط ہوا۔ یہ قضیہ بسیطہ ہوا، موجہہ یہ موجہہ بسیطہ ہوا۔ یا میں کہتا ہوں: ”لَا شَيْءَ مِنَ الْإِنْسَانِ بِحَجَرٍ بِالضَّرُوْرَةِ“، کوئی بھی انسان پتھر نہیں ہے بِالضَّرُوْرَةِ یقینی طور پر، لازمی طور پر۔ دیکھو اس میں صرف نفی ذکر ہے۔
تو قضیہ موجہہ بسیطہ میں صرف کیا ذکر ہو گی؟ یا صرف اثبات ہو گا یا صرف نفی ہو گی، دونوں نہیں ہوں گے۔ جبکہ آگے جو مرکبات آئیں گے، ان میں ایک ہی قضیے کے اندر ایجاب بھی ہو گا اور سلب بھی ہو گا یعنی نفی بھی ہو گی، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو قضائے موجہہ بسائط کن کو کہتے ہیں؟ کہ ان میں صرف کیا ہو؟ ایجاب، یا صرف کیا ہو؟ نفی۔ اور موجہات مرکبہ کن کو کہتے ہیں؟ ایک ہی قضیے میں ایجاب بھی ہو اور سلب بھی ہو یعنی نفی بھی ہو۔ یہ ساری مثالیں آگے آ جائیں گی خوب تفصیل سے بھئی۔
اب دیکھیے بھئی کتاب پر۔ کہتے ہیں: ”وَقَدْ يُصَرَّحُ بِكَيْفِيَّةِ النِّسْبَةِ فَمُوَجَّهَةٌ“، اور کبھی کبھار تصریح کی جاتی ہے کیفیت کی۔ کبھی کبھار قضیے میں میں نے بتایا نفس الامر میں ایک چیز کا ثبوت ہو یا نفی ہو، اس کی کوئی نہ کوئی کیفیت ضرور ہو گی۔ اگر اس کیفیت کی تصریح یعنی اس کیفیت کو قضیے میں بھی ذکر کر دیں تو اس قضیے کو کیا کہتے ہیں؟ موجہہ۔ اور جو لفظ اس کیفیت کو بیان کر رہا ہے اس کو کیا کہتے ہیں؟ جہت۔ اور نفس الامر میں جو ایک چیز کا ثبوت دوسری چیز کے لیے ہے یا ایک چیز کی نفی دوسری چیز سے ہے، اس کے لیے جو کیفیت ہو گی اس کو کیا کہتے ہیں؟ مادہ قضیہ بھئی، مادہ قضیہ۔
تو کہتے ہیں: ”وَقَدْ يُصَرَّحُ بِكَيْفِيَّةِ النِّسْبَةِ فَمُوَجَّهَةٌ“، اور کبھی کبھار تصریح کی جاتی ہے یعنی ذکر کیا جاتا ہے ”بِكَيْفِيَّةِ النِّسْبَةِ“ نسبت کی کیفیت کی، ”فَمُوَجَّهَةٌ“ تو وہ قضیہ کون سا ہے؟ موجہہ ہے، موجہہ ہے۔ یاد رکھو اس کو ”فَمُوَجَّهَةٌ“ یوں بھی پڑھ سکتے ہیں۔ عبارت یوں ہے: ”فَالْقَضِيَّةُ مُوَجَّهَةٌ“، مبتدا محذوف نکال لو، اور ”مُوَجَّهَةٌ“ کو کیا بنا دو؟ اس کی خبر۔ ”فَالْقَضِيَّةُ“ تو وہ قضیہ ”مُوَجَّهَةٌ“ موجہہ ہے، یعنی جس میں جہت ذکر ہے۔ توجہ ہے؟ تو ”مُوَجَّهَةٌ“ مرفوع بھی پڑھ سکتے ہیں۔ اور اس پر نصب بھی پڑھ سکتے ہیں: ”فَمُوَجَّهَةً“، ”أَيْ فَتُسَمَّى الْقَضِيَّةُ مُوَجَّهَةً“، تو پھر اس قضیے کو کیا کہتے ہیں؟ موجہہ کہتے ہیں۔ تو اگر ”فَتُسَمَّى“ فعل نکال لیں تو پھر یہ ”مُوَجَّهَةً“ اس کے لیے مفعول بہ بن جائے گا، منصوب ہو گا۔ عبارت سمجھ میں آ گئی؟ ”فَمُوَجَّهَةٌ“ بھی پڑھ سکتے ہیں اور ”فَمُوَجَّهَةً“ بھی۔
اور آگے بھی جتنے آگے آ رہے ہیں، دیکھو سب پر فا داخل ہو رہی ہے۔ ”فَمُطْلَقَةٌ“، آگے آ رہا ہے ”فَضَرُوْرِيَّةٌ مُطْلَقَةٌ“، آگے ہے ”فَمَشْرُوْطَةٌ عَامَّةٌ“، آگے ہے ”فَوَقْتِيَّةٌ مُطْلَقَةٌ“، آگے ہے ”فَمُنْتَشِرَةٌ مُطْلَقَةٌ“، ان سب میں بھی اسی طرح ہے۔ ان پر رفع بھی پڑھ سکتے ہیں اور نصب بھی پڑھ سکتے ہیں۔ رفع پڑھیں گے کیوں؟ خبر بنائیں گے اور اس کے لیے مبتدا ”اَلْقَضِيَّةُ“ محذوف نکال لو، ”فَالْقَضِيَّةُ وَقْتِيَّةٌ“۔ اور اگر نصب پڑھتے ہیں تو ”تُسَمَّى“ فعل نکال لیں، ”فَتُسَمَّى الْقَضِيَّةُ مُطْلَقَةً“، مثلاً اس قضیے کو پھر مطلقہ کہتے ہیں۔
تو کہتے ہیں: ”وَقَدْ يُصَرَّحُ بِكَيْفِيَّةِ النِّسْبَةِ فَمُوَجَّهَةٌ“، اور کبھی کبھار قضیے کے اندر نسبت کی کیفیت کی تصریح کر دی جاتی ہے کہ یہ نسبت کس قسم کی ہے، بِالضَّرُوْرَةِ ہے یا بِالْإِمْكَانِ ہے یا بِالدَّوَامِ ہے یا بِالْفِعْلِ ہے۔ تو کبھی کبھار تصریح کر دی جاتی ہے نسبت کی کیفیت کی، ”فَمُوَجَّهَةٌ“ تو وہ قضیہ موجہہ ہے، ”وَمَا بِهِ الْبَيَانُ جِهَةٌ“ اور وہ چیز جس کے ذریعے کیفیت کو بیان کیا جائے، ”جِهَةٌ“ وہ کیا ہے؟ جہت، اس کو جہت کہتے ہیں، ”وَإِلَّا“ اور اگر ایسا نہ ہو یعنی کیفیت کو بیان نہ کیا جائے، ”فَمُطْلَقَةٌ“ تو وہ قضیہ کون سا ہے؟ مطلقہ ہے۔
”فَإِنْ كَانَ الْحُكْمُ فِيْهَا بِضَرُوْرَةِ النِّسْبَةِ مَا دَامَ ذَاتُ الْمَوْضُوْعِ مَوْجُوْدَةً فَضَرُوْرِيَّةٌ“، ”فَإِنْ كَانَ الْحُكْمُ فِيْهَا“ اگر قضیے کے اندر یہ حکم لگایا جائے، کیا؟ ”بِضَرُوْرَةِ النِّسْبَةِ“ کہ یہ نسبت ضروری ہے، لازمی ہے، واجب ہے، ”مَا دَامَ ذَاتُ الْمَوْضُوْعِ مَوْجُوْدَةً“ جب تک ذات موضوع موجود ہے، ”فَضَرُوْرِيَّةٌ مُطْلَقَةٌ“ تو وہ قضیہ کیا ہے؟ ضروریہ مطلقہ ہے۔ ضروریہ مطلقہ کو یہیں سمجھ لیں، ضروریہ مطلقہ۔ بھئی ضروریہ مطلقہ وہ قضیہ ہے، توجہ ہے؟ ضروریہ مطلقہ وہ قضیہ ہے جس میں یہ بیان کیا جائے کہ یہ جو موضوع ہے اس کے لیے یہ والا محمول ضروری ہے جب تک یہ موضوع کی ذات موجود ہے، اس کے لیے یہ والا محمول ضروری ہے، لازمی ہے۔
مثلاً ”كُلُّ إِنْسَانٍ حَيَوَانٌ“، ہر انسان کیا ہے؟ حیوان ہے بِالضَّرُوْرَةِ، ضروری طور پر، لازمی طور پر۔ جب تک انسان کی ذات موجود ہے اس کے لیے حیوان ہونا ضروری ہے۔ جب بھی انسان کی ذات پائی جائے گی، اس کے لیے حیوان ہونا ضروری ہے۔ اور ”لَا شَيْءَ مِنَ الْإِنْسَانِ بِحَجَرٍ“، کوئی بھی انسان پتھر نہیں ہے بِالضَّرُوْرَةِ، لازمی طور پر۔ یعنی انسان کا فرد جب بھی پایا جائے اس سے حجر کی نفی ضروری ہے۔ تو کبھی اثبات ضروری ہوتا ہے اور کبھی نفی۔ تو ضروریہ مطلقہ کسے کہتے ہیں؟ جس میں جب تک موضوع کی ذات ہے اس کے لیے یہ والا محمول ضروری ہے۔ توجہ ہے؟ جب تک موضوع کی ذات ہے اس کے لیے یہ والا محمول ضروری ہے۔ جیسے جب تک انسان کی ذات ہے اس کے لیے حیوان ہونا ضروری۔ اور سالبہ میں لے آؤ، کبھی سلب ضروری ہوتا ہے۔ جب تک انسان ہے اس سے پتھر کی نفی ضروری ہے۔
یاد رکھو یہ جو ضرورت ہے نا، ضروری ہونا، ضروری ہونا، کبھی ذات کے اعتبار سے ہوتا ہے، کبھی وصف کے اعتبار سے ضروری ہونا ہوتا ہے، اور کبھی وقت کے اعتبار سے ہوتا ہے۔ توجہ ہے؟ موضوع کے لیے محمول کا ثبوت ضروری ہو گا یا موضوع سے محمول کی نفی ضروری ہو گی، تو یہ جو ضروری ہونا ہے، یا یوں کہیں یہ جو ضرورت ہے، یہ ذاتی بھی ہو سکتی ہے، وصفی بھی ہو سکتی ہے، وقتی بھی ہو سکتی ہے۔ توجہ ہے؟ یہ ضرورت ذاتی بھی ہو سکتی ہے، وصفی بھی ہو سکتی ہے اور وقتی بھی ہو سکتی ہے۔ یہ ضرورت ذاتی ہو، معنی یہ ہے جب تک یہ ذات ہے اس کے لیے یہ والا محمول ضروری ہے۔ وصفی، وصفی ضرورت کبھی وصفی ہو گی، جب تک یہ وصف ہے یہ والا محمول ضروری ہے۔ اور کبھی وقتی ہو گی، پھر وہ وقتی اس میں کبھی وقت معین ذکر ہو گا، کبھی وقت غیر معین۔ یعنی اس وقت معین میں اس کے لیے یہ والا محمول ضروری ہے، یا کبھی ضرورت جو ہے وقت غیر معین میں ہو گی کہ کسی غیر معین وقت میں اس کے لیے اس چیز کا ثبوت ضروری ہے۔ نہیں سمجھ میں آ رہی؟ میں بار بار تکرار کرواؤں گا، آپ نے پریشان نہیں ہونا، ان شاء اللہ خوب ذہن نشین ہو جائیں گی چیزیں۔
دیکھو، کتنی جہتوں سے بحث کریں گے؟ چار۔ کون کون سی؟ ایک بِالضَّرُوْرَةِ، ایک بِالْإِمْكَانِ، ایک بِالدَّوَامِ، اور ایک بِالْفِعْلِ۔ یہ جو بِالضَّرُوْرَةِ ہے یعنی ضروری ہونا، یہ تین قسم پر ہو سکتا ہے۔ کبھی ضروری ہو گا ذات کے اعتبار سے، کبھی ضروری ہو گا وصف کے اعتبار سے، اور کبھی ضروری ہو گا وقت کے اعتبار سے۔ پھر وقت کے اعتبار سے کبھی وقت معین مراد ہو گا اور کبھی وقت غیر معین۔ دیکھو مثالوں سے بات سمجھ میں آ جائے گی۔ مثلاً میں نے کہا: انسان کے لیے حیوان ہونا ضروری ہے۔ یہ ذات کے اعتبار سے ضروری ہے، انسان کی ذات جب بھی پائی جائے گی اس کے لیے حیوان ہونا ضروری ہے۔ اس کے لیے حیوان ہونا نفی کی بھی مثال کر لو۔ ہر انسان سے پتھر کی نفی ضروری ہے، انسان کی ذات ہی یہ تقاضا کرتی ہے کہ اس کے لیے پتھر ثابت یہ پتھر نہیں ہو سکتا۔
اور کبھی یہ ضروری ہونا وصف کے اعتبار سے ہو گا۔ مثلاً میں کہتا ہوں: ہر کاتب کی انگلیاں حرکت کرتی ہیں۔ ہر کاتب کی تو محمول کیا ہے؟ محمول کیا ہے؟ انگلیوں کا حرکت کرنا۔ یہ انگلیوں کا حرکت کرنا اس موضوع کے لیے ضروری ہے جب تک یہ وصف اس کے اندر ہے۔ ”كُلُّ كَاتِبٍ مُتَحَرِّكُ الْأَصَابِعِ“، ہر کاتب کی انگلیاں حرکت کرتی ہیں۔ موضوع کیا؟ ”كُلُّ كَاتِبٍ“۔ محمول کیا؟ ”مُتَحَرِّكُ الْأَصَابِعِ“۔ یہ متحرک الاصابع ہونا ہر کاتب کے لیے ضروری ہے، لیکن کیا ذات کے اعتبار سے، یا یہ وصف کتابت کے اعتبار سے؟ وصف کتابت۔ جب تک وہ کتابت کرے گا اس کی انگلیاں حرکت کرتی رہیں گی، کتابت چھوڑ دے پھر ہو سکتا ہے انگلیاں وہ حرکت نہ کریں۔ لیکن جب تک یہ وصف ہے اس کے لیے انگلیوں کا متحرک ہونا ضروری ہے، کیا ہے؟ ضروری ہے۔
یہ تو تھا اثبات میں۔ نفی میں کر لو۔ کوئی بھی کاتب وہ ساکن الاصابع نہیں ہے۔ دیکھو، کاتب سے ساکن الاصابع ہونے کی نفی کر دی، اس کی انگلیاں ساکن نہیں۔ یعنی یوں کہیں، لکھنے والے سے ساکن الاصابع کی نفی ضروری ہے، کب تک؟ جب تک یہ وصف ہے اس کے لیے۔ یہ کیا ہے اس کے لیے؟ جب تک وہ لکھ رہا ہے اس کی انگلیاں ساکن نہیں ہو سکتیں، ضروری ہے۔ توجہ نہیں ہے؟ جب تک وہ لکھ رہا ہے، جب لکھ رہا ہے پھر تو انگلیاں حرکت کر رہی ہیں، معلوم ہوا ساکن نہیں۔ تو جب لکھ رہا ہے تو اس کی انگلیوں کا ساکن نہ ہونا ضروری ہے۔ اور اس کی ذات کی وجہ سے یا اس کی اس کتابت کے وصف کی وجہ سے؟ کتابت کے وصف کی وجہ سے۔ تو کبھی ضروری کس اعتبار سے ہوتا ہے؟ ذات کے اعتبار سے، جیسے ہر انسان کے لیے حیوان ہونا ضروری ہے ذات کے اعتبار سے۔ اور کبھی ضروری ہوتا ہے وصف کے اعتبار سے، جیسے ہر کاتب کے لیے انگلیوں کا حرکت کرنا ضروری ہے کس اعتبار سے؟ اس کے اس وصف کتابت کے اعتبار سے۔ وصف کتابت ہے تو انگلیوں کا حرکت کرنا ضرور ہو گا اس کے لیے، وصف کتابت نہ ہو پھر اس کی نفی ہو سکتی ہے، ویسے نفی نہیں ہو سکتی۔
اور کبھی، کبھی ضرورت ہوتی ہے وقت کے اعتبار سے، کس اعتبار سے؟ پھر وہ وقت کبھی متعین ہوتا ہے اور کبھی غیر متعین ہوتا ہے۔ وقت متعین جیسے یاد رکھو، یہ جو زمین ہے یہ سورج کے گرد گھوم رہی ہے۔ زمین سورج کے گرد گھوم رہی ہے، اور پورے سال میں یہ ایک چکر سورج کے گرد پورا کرتی ہے، اور اسی وجہ سے یہ موسم یہ مختلف موسم بنتے ہیں۔ کبھی سردی، کبھی گرمی، کبھی بہار، کبھی خزاں۔ یہ جو موسم بدلتے ہیں، یہ جو زمین سورج کے گرد گھوم رہی ہے، سورج ایک آگ کا ایک بہت بڑا گولا ہے، زمین گیند کی طرح فضا میں تیرتی ہوئی سورج کے گرد سال میں ایک چکر پورا کرتی ہے، مسلسل گھوم رہی ہے سورج کے گرد۔
اور اسی طرح یہ جو چاند ہے یہ زمین کے گرد گھوم رہا ہے۔ چاند زمین کے گرد گھوم رہا ہے۔ اور یہ جو چاند اور زمین ہیں یہ خود روشن نہیں۔ ان پر جو روشنی ہوتی ہے وہ سورج کی وجہ سے ہوتی ہے۔ آپ بھی دیکھتے ہیں سورج نکلتا ہے تو دن ہے، سورج ڈوب گیا تو رات ہے۔ تو یہ زمین اور چاند جو ہیں یہ اپنی روشنی سورج سے حاصل کرتے ہیں۔ جیسے ایک گیند ہے، ایک گیند ہے، رات کا وقت ہے، گاڑی کی لائٹیں آپ سامنے سے جلائیں اور اس کے سامنے ایک گیند رکھ دیں، دیکھو گیند کا جو حصہ گاڑی کی طرف ہے وہ روشن ہو جائے گا، سفید، اور جو گیند کا دوسری طرف پیچھے والا حصہ ہے وہ تاریک ہے، اس پر اندھیرا ہے۔ تو اسی طرح زمین کا جو حصہ سورج کے سامنے ہوتا ہے وہاں دن ہوتا ہے، اور جو حصہ پیچھے چلا جاتا ہے وہاں رات ہوتی ہے۔ تو یہ زمین سورج کے گرد بھی گھوم رہی ہے، پورے سال میں ایک چکر لگاتی ہے، اور یہ زمین سورج کے گرد چلتے ہوئے اپنے محور پر بھی گھوم رہی ہے لٹو کی طرح۔ جیسے لٹو گھوم رہا ہوتا ہے نا، دیکھو لٹو تیزی سے گھوم بھی رہا ہوتا ہے اور تھوڑا تھوڑا کبھی ایک طرف کو جا رہا ہوتا ہے، دیکھا ہوا ہے آپ نے؟ اسی طرح یہ زمین گھومتی ہوئی سورج کے گرد چلتی ہے، اور یہ چوبیس گھنٹے میں یہ زمین اپنے محور کے گرد ایک دفعہ گھوم جاتی ہے، اور اس گھومنے کی وجہ سے دن اور رات بنتے ہیں۔ جو سورج کے گرد پورے سال میں چکر لگاتی ہے اس کی وجہ سے چار موسم بنتے ہیں، اور یہ جو اپنے محور کے گرد لٹو کی طرح گھوم رہی ہے یہ پورا ایک چکر چوبیس گھنٹے میں یہ لگا لیتی ہے اور اس کی وجہ سے دن اور رات بنتے ہیں۔
دیکھو، زمین گھوم رہی ہے، سامنے سے سورج کی روشنی پڑ رہی ہے، گھومتے گھومتے جو حصہ زمین کا سورج کے سامنے ہے وہاں دن، اور پھر یہ گھومتے گھومتے یہ حصہ اندھیرے کی طرف آ جاتا ہے تو پھر وہاں کیا ہو جاتی ہے؟ رات۔ اور اگلے دن پھر وہ سورج کے سامنے آتا ہے تو پھر وہاں دن ہو جاتا ہے۔ تفصیل سمجھ میں آ رہی ہے؟ اور یہ جو چاند ہے یہ زمین کے گرد گھوم رہا ہے۔ چاند زمین کے گرد گھوم رہا ہے بھئی، اور یہ چاند اور زمین دونوں اپنی روشنی سورج سے حاصل کرتے ہیں۔ ان کا جو حصہ سورج کے سامنے ہوتا ہے وہاں دن ہوتا ہے، اور جو حصہ پیچھے کی طرف ہوتا ہے وہاں رات ہوتی ہے۔ میں نے مثال دے دی، جیسے کوئی ٹارچ جلائیں اور اس کے سامنے ایک گیند رکھ دیں تھوڑے فاصلے پر، تو گیند کا ایک حصہ تو ٹارچ کی طرف ہے، اس پہ تو روشنی پڑ رہی ہے، اور جو پیچھے والا حصہ ہے دوسری جانب گیند کے وہاں تو روشنی نہیں پڑ رہی، وہاں اندھیرا ہے، وہاں رات ہے بھئی۔ تو زمین اور چاند دونوں اپنی روشنی کس سے حاصل کرتے ہیں؟ سورج سے۔ تو یہ جو چاند ہے یہ زمین کے گرد گھوم رہا ہے، یہ چاند گھومتے گھومتے کبھی کبھار زمین اور سورج کے بالکل بیچ میں آ جاتا ہے۔ چنانچہ چاند کا سایہ زمین پہ پڑتا ہے۔
چاند کا سایہ چاند کہاں آ گیا؟ سورج اور زمین کے درمیان۔ روشنی آ رہی ہے سورج کی طرف سے اور کس پر پڑ رہی تھی؟ زمین پر، لیکن بیچ میں کون آ گیا؟ چاند۔ اب چاند کا جو حصہ سورج کی طرف ہے اس پہ تو روشنی پڑ رہی ہے، لیکن پیچھے اس کا جو سایہ آ رہا ہے وہ کس پر پڑے گا؟ زمین پر پڑے گا۔ تو اس حالت کو کہتے ہیں سورج گرہن۔ کیا کہتے ہیں؟ سورج گرہن، یعنی سورج ہم سے چھپ جائے گا چاند کی وجہ سے، سورج دکھائی نہیں دے گا۔ آپ اخبارات میں پڑھتے رہتے ہیں کہ سورج گرہن ہو گا، کیا معنی ہوتا ہے؟ کہ زمین اور سورج کے بیچ کون آ گیا؟ چاند آ گیا، تو سورج کو گرہن لگ گیا، اب وہ پورا دکھائی نہیں دے رہا، اور یہ تھوڑی دیر کے لیے ہوتا ہے، چند منٹوں کے لیے، چند منٹوں کے لیے یا ایک آدھ گھنٹے کے لیے، تو وہ پھر آگے نکل جاتا ہے چاند، کیونکہ وہ گھومتا جا رہا ہے زمین کے گرد بھئی۔ جب چاند زمین اور سورج کے درمیان آیا تو چاند کا سایہ کس پر پڑا؟ زمین پر، اور زمین والوں سے سورج چھپ گیا، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ سورج گرہن۔
اور پھر چاند جب گھومتے گھومتے دوسری طرف آتا ہے تو کبھی زمین کا سایہ پھر چاند پر پڑتا ہے۔ چاند کس کے گرد گھوم رہا ہے؟ زمین کے گرد۔ تو چاند گھومتے گھومتے دوسری جانب آیا زمین کے، اور چاند پر روشنی کس سے آ رہی ہے؟ سورج سے، تو زمین بیچ میں آ گئی۔ اور چاند دوسری طرف ہے، زمین سورج اور چاند کے بیچ میں آ گئی۔ اب زمین کا سایہ چاند پر پڑتا ہے، اس کو چاند گرہن کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ چاند گرہن، اور واضح چاند پر زمین کا سایہ پڑتا ہوا نظر آتا ہے، اور یہ بھی کچھ دیر کے لیے ہوتا ہے اور پھر آگے نکل جاتا ہے چاند۔ سورج گرہن سمجھ میں آ گیا؟ سورج گرہن کب لگتا ہے؟ جب چاند زمین اور سورج کے درمیان آ جائے۔ اور چاند گرہن کب لگتا ہے؟ جب زمین چاند اور سورج کے درمیان آ جائے بھئی، آ جائے۔
اب دیکھیے، مثلاً میں کہتا ہوں: چاند کو گرہن لگنا ضروری ہے۔ توجہ ہے؟ بات ضرورت کی چل رہی تھی کہ ضرورت کبھی ذات کے اعتبار سے ہوتی ہے، کبھی وصف کے اعتبار سے ہوتی ہے اور کبھی وقت کے اعتبار سے، پھر وقت کبھی متعین ہو گا اور کبھی غیر متعین۔ وقت متعین کی مثال: چاند کے لیے گرہن ہونا ضروری ہے جب زمین چاند اور سورج کے بیچ آ جائے۔ توجہ ہے؟ جب زمین چاند اور سورج کے درمیان آ جائے تو چاند کے لیے گرہن لگنا ضروری ہے۔ گرہن لگے گا یا نہیں اسے بھئی؟ اور یہ گرہن لگنا ضروری ہے کیونکہ زمین کس کے بیچ آ چکی ہے؟ چاند اور اور یہ جو چاند کو گرہن لگا، کیا یہ اس کی ذات کی وجہ سے ضروری ہے؟ توجہ ہے؟ میں نے کہا چاند کے لیے گرہن لگنا ضروری ہے، دیکھو ضروری ہونے کو میں ذکر کر رہا ہوں۔ اب مجھے بتائیے، کیا چاند کو گرہن لگنا ضروری ہے چاند کی ذات کی وجہ سے؟ نہیں، کیا اس کے وصف کی وجہ سے؟ نہیں، ہاں ایک وقت ہے، ایک متعین وقت اور وہ کب؟ جب زمین ان دونوں کے درمیان آ جائے۔ ایک متعین وقت میں چاند پر گرہن لگنا ضروری ہے، اور وہ کون سا متعین وقت ہے؟ جب زمین چاند اور سورج کے بیچ میں آ جائے۔
تو ضروری کبھی ذات کے اعتبار سے ہوتا ہے، کبھی وصف کے اعتبار سے، اور کبھی وقت کے اعتبار سے، اور وہ وقت کبھی متعین ہو گا اور کبھی غیر متعین۔ جیسے میں نے کیا کہا؟ چاند پر گرہن لگنا ضروری ہے۔ کیا ہر وقت یا ایک خاص وقت میں؟ خاص وقت میں، اور وہ کون سا وقت ہے؟ جب زمین چاند اور سورج کے بیچ میں آ جائے۔ اور کبھی کبھار وقت غیر متعین میں ایک چیز ضروری ہوتی ہے، وقت غیر متعین۔ مثلاً میں کہتا ہوں: ہر انسان کے لیے سانس لینا ضروری ہے کسی نہ کسی وقت میں۔ ہر انسان کے لیے سانس لینا ضروری ہے کسی نہ کسی وقت میں۔
بھئی دیکھو، یہ جو ہم سانس لیتے ہیں نا، یہ جو ہم ہوا پھیپھڑوں میں لے کر جاتے ہیں، اندر کو سانس کھینچتے ہیں، یہ ہے سانس لینا۔ سانس ہم اندر کھینچتے ہیں، پھر اس کے بعد پھر سانس کو ہم باہر نکالتے ہیں، تو گویا اس وقت ہم سانس نہیں لے رہے۔ جو اندر کھینچ رہے ہیں یہ کیا کر رہے ہیں؟ سانس لے رہے ہیں، اور جو باہر نکال رہے ہیں یہ تو ہم سانس نہیں لے رہے، بلکہ اس میں تو ہم ہوا کو پھیپھڑوں سے خارج کر رہے ہیں۔ ہا والا قضیہ ہو گیا۔ لہٰذا اس کو رُبَاعِیَّۃ بھی کہتے ہیں۔ قضیۂ موجہہ کا دوسرا نام کیا ہے؟ قضیۂ رُبَاعِیَّۃ، کیونکہ اس کے چار اجزا ہو گئے: موضوع، محمول، رابطہ اور جہت۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی۔
یہاں ایک اور بات یاد رکھیں بھئی، جہات بہت سی ہیں لیکن وہ جہات جن کے بارے میں منطقی بحث کرتے ہیں وہ چار جہتیں ہیں۔ وہ کتنی جہتیں ہیں؟ جہتیں بہت سی ہیں لیکن جن کے بارے میں منطقی بحث کرتے ہیں اور جو مناطقہ کے نزدیک معتبر ہیں وہ چار ہیں۔ ایک، ایک جس کو وہ تعبیر کرتے ہیں بِالضَّرُوْرَۃ کے ساتھ۔ جب ایک چیز کا ثبوت یا ایک چیز کی نفی دوسری چیز سے ضروری ہو، لازمی ہو تو اس کو وہ بِالضَّرُوْرَۃ سے تعبیر کرتے ہیں۔
جیسے میں کہتا ہوں: كُلُّ إِنْسَانٍ حَيَوَانٌ۔ ہر انسان کیا ہے؟ حیوان۔ مجھے بتائیے، نفس الامر اور واقع میں ہر انسان کے لیے حیوان ہونا ضروری ہے یا ممکن ہے؟ ضروری ہے۔ جو بھی انسان ہو گا وہ لازمی، لازمی کیا ہو گا؟ حیوان۔ تو ہر انسان کے لیے حیوان ہونا ضروری ہے، لازمی ہے، واجب ہے۔ اس کو وہ بِالضَّرُوْرَۃ سے تعبیر کرتے ہیں۔ کس سے؟ بِالضَّرُوْرَۃ سے۔ تو میں یوں کہوں گا: كُلُّ إِنْسَانٍ حَيَوَانٌ بِالضَّرُوْرَةِ، كُلُّ إِنْسَانٍ حَيَوَانٌ بِالضَّرُوْرَةِ۔ یعنی ہر انسان کے لیے حیوان ہونا ضروری ہے۔ تو جب ایک چیز کا اثبات یا ایک چیز کی نفی دوسری چیز سے، یہ ضروری ہو، لازمی ہو تو اس کو وہ بِالضَّرُوْرَۃ سے تعبیر کرتے ہیں۔
تو چار جہتیں ان کے نزدیک معتبر ہیں۔ ایک کو تعبیر کرتے ہیں بِالضَّرُوْرَۃ سے، ایک کو تعبیر کرتے ہیں بِالْإِمْكَان سے، ایک کو تعبیر کرتے ہیں بِالدَّوَام سے اور ایک کو تعبیر کرتے ہیں بِالْفِعْل سے۔ کتنی جہتیں ہیں جو مناطقہ جن کے بارے میں بحث کرتے ہیں؟ چار ہیں۔ ایک کو تعبیر کس سے کرتے ہیں؟ بِالضَّرُوْرَۃ، اور ایک کو تعبیر کرتے ہیں بِالْإِمْكَان، اور ایک کو تعبیر کرتے ہیں بِالدَّوَام کے ساتھ اور ایک کو تعبیر کرتے ہیں بِالْفِعْل۔
بِالضَّرُوْرَۃ میں نے ذکر کیا۔ بِالضَّرُوْرَۃ کا کیا معنی ہے؟ بِالضَّرُوْرَۃ کا معنی ہے ضروری ہے، لازمی ہے، واجب۔ بِالْإِمْكَان کا کیا معنی؟ ممکن ہے۔ بِالدَّوَام کا کیا معنی؟ دائمی ہے یعنی ہمیشہ ہے، اور بِالْفِعْل کا معنی ہے تین زمانوں میں سے کسی ایک زمانے میں۔ نفس الامر اور واقع میں جب ایک چیز دوسری چیز کے لیے ثابت ہو گی، یا تو وہ ضروری ہو گی، یا ممکن ہو گی، پھر یا دائمًا ہو گی، یا تین زمانوں میں سے کسی ایک زمانے میں ہو گی۔ تو یہ چار جہتیں مناطقہ کے نزدیک معتبر ہیں۔ کون کون سی؟ پھر دہرائیں: نمبر ایک بِالضَّرُوْرَۃ، نمبر دو بِالْإِمْكَان، نمبر تین بِالدَّوَام اور نمبر چار بِالْفِعْل۔
بِالضَّرُوْرَۃ کا کیا معنی؟ جہاں ایک چیز کا ثبوت یا ایک چیز کی نفی دوسری چیز سے ضروری ہو، لازمی ہو، واجب ہو۔ اور بِالْإِمْكَان کا کیا معنی؟ یعنی ممکن ہے۔ جیسے زید کے لیے قیام ممکن ہے، ہو سکتا ہے کھڑا ہو، ہو سکتا ہے کھڑا نہ ہو، اس کے لیے کھڑا ہونا بھی ممکن اور بیٹھنا بھی ممکن ہے۔ یا یوں کہیں، اس کے لیے قیام کا ثبوت بھی ممکن اور اس سے قیام کی نفی بھی ممکن ہے۔
اور کبھی کبھار ایک چیز کا ثبوت یا ایک چیز کی نفی دوسری چیز سے، وہ دائمًا ہوتی ہے۔ جیسے آسمان کے لیے حرکت کا ثبوت دائمًا ہے اور آسمان سے سکون کی نفی دائمًا ہے۔ تو اس کو کس سے تعبیر کرتے ہیں؟ بِالدَّوَام کے ساتھ۔ اور کبھی یہ جو ایک چیز کا ثبوت یا ایک چیز کی نفی دوسری چیز کے لیے، یہ تین زمانوں میں سے کسی زمانے میں ہو گی، جیسے زید کے لیے قیام۔ زید کبھی کسی زمانے میں کھڑا ہو گا تو کسی زمانے میں کھڑا نہیں ہو گا۔ تو زَيْدٌ قَائِمٌ، یہ کیا ہے؟ بِالْفِعْل۔ کیا ہے؟ بِالْفِعْل، یعنی تین زمانوں میں سے کسی ایک زمانے میں۔ یا میں کہتا ہوں: زَيْدٌ لَيْسَ بِقَائِمٍ، زید کھڑا نہیں ہے، تو یہ بھی تین زمانوں میں سے کسی ایک زمانے میں ہو گا۔ تو میں یوں کہوں گا: زَيْدٌ لَيْسَ بِقَائِمٍ بِالْفِعْلِ۔ زَيْدٌ قَائِمٌ بِالْفِعْلِ اور زَيْدٌ لَيْسَ بِقَائِمٍ بِالْفِعْلِ۔ زید کے لیے قیام بھی تین زمانوں میں سے کسی زمانے میں ہو گا اور زید سے قیام کی نفی بھی تین زمانوں میں سے کسی زمانے میں ہو گی۔
بات سمجھ میں آ گئی؟ پھر دہرا لیں: کتنی جہتیں معتبر ہیں مناطقہ کے نزدیک؟ چار۔ ایک کو کس سے تعبیر کرتے ہیں؟ بِالضَّرُوْرَۃ، دوسرا بِالْإِمْكَان، تیسرا بِالدَّوَام، چوتھا بِالْفِعْل۔ بِالضَّرُوْرَۃ کا کیا معنی؟ ایک چیز کا دوسری چیز کے لیے ثبوت، دیکھو ثبوت کے ساتھ میں نفی کو بار بار ساتھ ذکر کر رہا ہوں، ثبوت بھی ضروری ہو سکتا ہے کبھی اور نفی بھی ضروری ہو سکتی ہے۔ جیسے دیکھو، كُلُّ إِنْسَانٍ حَيَوَانٌ، ہر انسان کے لیے حیوان ہونا ضروری ہے، دیکھو یہاں ہونا ضروری ہے، اور کبھی نہ ہونا ضروری ہو گا۔ لَا شَيْءَ مِنَ الْإِنْسَانِ بِحَجَرٍ، کوئی انسان پتھر نہیں، یعنی ہر انسان سے پتھر کی نفی ضروری ہے بھئی، ایسا ہو ہی نہیں سکتا انسان ہو اور پتھر ہو بھئی۔ تو اثبات بھی ضروری ہو سکتا ہے اور نفی بھی ضروری۔ تو سب میں اسی طرح ہے کہ ایک چیز کا ثبوت دوسری چیز کے لیے، یا ایک چیز کی نفی دوسری چیز سے، یا تو وہ بِالضَّرُوْرَۃ ہو گی یعنی ضروری ہو گی، یا بِالْإِمْكَان ہو گی یعنی ممکن ہو گی، یا بِالدَّوَام ہو گی یعنی دائمی ہو گی، یا بِالْفِعْل ہو گی یعنی تین زمانوں میں سے کسی زمانے میں ہو گی۔
بات سمجھ میں آ گئی یہاں تک؟ اب اس کے بعد وصفِ عنوانی کو سمجھ لیں بھئی، وصفِ عنوانی۔ یاد رکھو، ایک ہے وہ لفظ جس کے ساتھ آپ موضوع کو ذکر کرتے ہیں اور ایک ہے ذاتِ موضوع۔ ایک ہے وہ لفظ جس کے ساتھ آپ کسی چیز کو ذکر کرتے ہیں اور ایک اس کی ذات ہے۔ جیسے دیکھو، ایک ہے لفظِ زید، میں نے کہا: زَيْدٌ قَائِمٌ۔ ایک تو ایک ہے لفظِ زید اور ایک ہے ذاتِ زید۔ لفظِ زید دلالت کرتا ہے، کس پر؟ ذاتِ زید پر۔ تو لفظِ زید ہوا دال اور ذاتِ زید کیا ہوئی؟ مدلول۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یا جیسے جہتِ قضیہ، جہت کیا ہے؟ دال، اور مادۂ قضیہ کیا ہے؟ مدلول ہے۔ جہت جس لفظ کے ساتھ اس کو ذکر کیا جائے اور مادۂ قضیہ جو نفس الامر اور واقع میں اس کی کیفیت ہے، وہ کیا ہے؟ مادۂ قضیہ۔
تو جس لفظ کے ساتھ موضوع کو ذکر کیا جائے، اس کو کہتے ہیں عنوانِ موضوع اور وصفِ موضوع۔ توجہ ہے؟ جس لفظ کے ساتھ موضوع کو ذکر کیا جائے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ عنوانِ موضوع اور وصفِ موضوع۔ مثلاً میں نے کہا: زَيْدٌ قَائِمٌ۔ مجھے بتائیے، میں نے زید لفظ ذکر کیا، تو کیا اس لفظِ زید کے لیے میں قیام ثابت کر رہا ہوں یا وہ جو ذاتِ زید ہے اس کے لیے قیام ثابت کر رہا ہوں؟ پھر سنو: زَيْدٌ قَائِمٌ، میں نے تو زبان سے لفظِ زید کہا ہے اور آگے اس کے لیے کیا ثابت کر رہا ہوں؟ قیام ثابت کر رہا ہوں۔ تو کیا یہ قیام میں اس لفظِ زید کے لیے ثابت کر رہا ہوں یا ذاتِ زید کے لیے؟ ذاتِ زید کے لیے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ کہ ذاتِ زید جو ہے اس کے لیے قیام والی صفت ثابت ہے۔ تو یہ جو لفظ ذکر کیا گیا، یہ ہے عنوانِ موضوع اور وہ جو زید ہے وہ ہے ذاتِ موضوع۔ توجہ ہے؟ ذاتِ موضوع اور عنوانِ موضوع میں فرق سمجھ میں آیا؟ عنوانِ موضوع کسے کہتے ہیں؟ جس لفظ کے ساتھ موضوع کو ذکر کیا جائے۔
كُلُّ إِنْسَانٍ حَيَوَانٌ، یہ دیکھا انسان کے افراد کو لفظِ انسان کے ساتھ ذکر کیا تو یہ ہے عنوانِ موضوع۔ ذاتِ زید کو میں نے لفظِ زید کے ساتھ ذکر کیا تو یہ کیا ہے؟ عنوانِ موضوع۔ تو جس لفظ کے ساتھ، جس لفظ کے ساتھ موضوع کو ذکر کیا جائے وہ کیا کہلاتا ہے؟ عنوانِ موضوع اور وصفِ موضوع، اور جو اس کا مصداق ہے، جو اس کا مدلول ہے، جس پر وہ صادق آ رہا ہے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ ذاتِ موضوع۔ تو موضوع کو جس لفظ سے تعبیر کیا جائے اس کو کیا کہتے ہیں؟ ذاتِ موضوع اور وصفِ موضوع، اور یاد رکھنا، اسی کو وصفِ عنوانی بھی کہتے ہیں۔ اسی ذاتِ موضوع اور وصفِ موضوع، اسی کو وصفِ عنوانی بھی کہتے ہیں، یعنی عنوان والا وصف، وصفِ عنوانی۔ زَيْدٌ قَائِمٌ، میں نے ذاتِ زید کو کس لفظ کے ذریعے ذکر کیا؟ لفظِ زید کے ذریعے، تو یہ لفظِ زید جو ہے وصفِ عنوانی ہے۔ یہ یوں کہو یہ عنوانِ موضوع ہے، یہ یوں کہو یہ وصفِ موضوع ہے۔ وصفِ موضوع کہہ لیں، عنوانِ موضوع کہہ لیں، یا وصفِ عنوانی کہہ لیں، ایک ہی بات ہے۔
بات سمجھ میں آ گئی؟ تو زَيْدٌ قَائِمٌ، یہ لفظِ زید کیا ہے؟ عنوانِ موضوع، اور واقع میں جو زید کی ذات ہے وہ کیا ہے؟ وہ ہے ذاتِ موضوع بھئی۔ تو عنوانِ موضوع اور چیز ہے، ذاتِ موضوع اور چیز ہے۔ یہ عنوان سے ذات کا پتہ چلتا ہے، جیسے مضمون کے اوپر عنوان دیا جاتا ہے، آپ جو بھی مضمون لکھتے ہیں اوپر عنوان دیتے ہیں، تو جیسے اس عنوان سے پورے مضمون کا پتہ چل جاتا ہے کہ یہ مضمون کس بارے میں ہے۔ یا جیسے خط کے لفافے کے اوپر عنوان اور پتہ لکھا ہوتا ہے، اس پتے سے پتہ چل جاتا ہے یہ کس کا خط ہے، کس کی طرف بھیجا گیا ہے، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو یہاں پر بھی یہ جو لفظ جس کے ذریعے موضوع کو تعبیر کیا گیا ہے، اس کو ذکر کیا گیا ہے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ عنوانِ موضوع، اور جو اس کا مدلول ہے وہ کیا ہے؟ ذاتِ موضوع ہے۔
پھر یاد رکھنا، یہ عنوانِ موضوع، عنوانِ موضوع، یہ کبھی عینِ موضوع ہوتا ہے، کبھی جزوِ موضوع ہوتا ہے، کبھی وصفِ موضوع ہوتا ہے۔ توجہ ہے؟ یہ جو عنوانِ موضوع ہے، عنوانِ موضوع کیا چیز؟ وہ لفظ جس کے ساتھ موضوع کو ذکر کیا جا رہا ہے۔ یہ جو عنوانِ موضوع ہے، کبھی عینِ موضوع ہوتا ہے، کبھی جزوِ موضوع، کبھی وصفِ موضوع۔ عینِ موضوع مثلاً كُلُّ إِنْسَانٍ حَيَوَانٌ، ہر انسان کیا ہے؟ حیوان ہے۔ تو دیکھو یہاں جو عنوانِ موضوع ہے وہ عینِ موضوع ہے، کیا ہے؟ عینِ موضوع۔ عین بھی کیا؟ انسان، اور نام بھی کیا ذکر کر رہا ہوں؟ انسان۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ مدلول بھی کون؟ انسان، اور لفظ بھی کیا ذکر کیا؟ انسان۔ یعنی انسان بولا تو پوری حقیقت آ گئی۔ انسان کے افراد کیا ہیں؟ حیوانِ ناطق ہیں۔ تو انسان کہہ دو یا حیوانِ ناطق کہہ دو، بات ایک ہی ہے۔ تو انسان جب کہا، تو پوری حقیقت آ گئی یا نہیں اس کے اندر؟
اور کبھی کبھار جو عنوانِ موضوع ہوتا ہے وہ جزو ہوتا ہے موضوع کا۔ جیسے دیکھو، میں کہتا ہوں: اَلْحَيَوَانُ مَاشٍ، اَلْحَيَوَانُ مَاشٍ، یا یوں کہیں: كُلُّ حَيَوَانٍ مَاشٍ، ہر حیوان کیا ہے؟ ماشٍ ہے۔ خارج میں مجھے بتائیے، حیوان کے جو افراد ہیں، ان کی پوری حقیقت ہے حیوان یا ان کی حقیقت کا جزو ہے حیوان؟ خارج میں جو حیوان کے افراد ہیں کیا ان کی پوری حقیقت حیوان ہی ہے یا حیوان ان کی حقیقت کا جزو ہے؟ ان کی حقیقت کا جزو ہے، کیونکہ حیوان کے افراد خارج میں کون ہیں؟ انسان ہے، گائے بیل ہے، بکری ہے، گھوڑا ہے وغیرہ جتنے بھی ہیں، لیکن حیوان ان سب کی حقیقت کا جزو ہے، کُل نہیں ہے۔ تو دیکھا، یہاں دیکھو عنوانِ موضوع، موضوع کا جزو ہے۔ كُلُّ حَيَوَانٍ مَاشٍ، عنوانِ موضوع کیا؟ حیوان، اور یہ حیوان موضوع کا کُل ہے یا جزو ہے؟ جزو ہے۔ كُلُّ إِنْسَانٍ حَيَوَانٌ، انسان تو کیا تھا؟ موضوع کا عین تھا یعنی سارا تھا، لیکن كُلُّ حَيَوَانٍ مَاشٍ، یہاں جو حیوان آیا یہ اپنے موضوع کا جزو ہے۔ حیوان کے جتنے بھی افراد دیکھ لیں، یہ حیوان ان کا جزو ہے، جیسے انسان، انسان کی پوری حقیقت حیوان ہے یا حیوانِ ناطق؟ حیوانِ ناطق، تو حیوان اس کا جزو ہے۔ گھوڑے کی پوری حقیقت حیوان ہے یا حیوانِ صاہل؟ حیوانِ صاہل، دیکھو حیوان اس کا جزو ہے۔ اور گدھے کی پوری حقیقت حیوان ہے یا حیوانِ ناہق؟ حیوانِ ناہق، دیکھو حیوان اس کا جزو ہے۔
تو کبھی یہ عنوانِ موضوع یا تو عین یعنی پورا موضوع ہوتا ہے، یا موضوع کا جزو ہوتا ہے، اور کبھی اس سے خارج یعنی اس کا وصف ہوتا ہے۔ عینِ موضوع کی مثال میں نے ذکر کر دی کہ عنوان کیا ہے؟ عینِ موضوع، جیسے كُلُّ إِنْسَانٍ حَيَوَانٌ، یہ انسان کیا ہے؟ عینِ موضوع ہے۔ وہ موضوع جو ہے وہ بھی ہے انسان اور ذکر بھی کس سے کیا؟ انسان سے۔ اور ایک ہے كُلُّ حَيَوَانٍ مَاشٍ، ہر حیوان چلنے والا ہے، یا كُلُّ حَيَوَانٍ مُتَحَرِّكٌ بِالْإِرَادَةِ، ہر حیوان کیا ہے؟ متحرک بالارادہ۔ تو یہاں كُلُّ حَيَوَانٍ میں نے ذکر کیا تو یہ حیوان کیا ہے؟ عنوانِ موضوع، یہ اس موضوع کا جزو ہے، کُل نہیں ہے۔
اور کبھی یہ عنوانِ موضوع جو ہے، موضوع سے خارج ہوتا ہے یعنی اس کا وصف ہوتا ہے۔ مثلاً میں کہتا ہوں: كُلُّ كَاتِبٍ مُتَحَرِّكُ الْأَصَابِعِ، ہر کاتب مُتَحَرِّكُ الْأَصَابِعِ ہوتا ہے یعنی اس کی انگلیاں حرکت کرتی ہیں، اس کی انگلیاں حرکت کرتی ہیں۔ اب بتائیے، عنوانِ موضوع کیا؟ كُلُّ كَاتِبٍ یا یوں کہیں کاتب ہے۔ عنوانِ موضوع کیا ہے؟ کاتب ہے، اور مجھے بتائیے یہ کاتب جو لکھنے والا ہے، لکھنے والا ہے، یہ اس کی ذات ہے؟ لکھنے والا تو انسان ہے، اس کی حقیقت تو کیا ہے؟ حیوانِ ناطق۔ انسان کے افراد لکھنے والے ہیں، تو ان کی حقیقت کیا ہے؟ کیا ان کی حقیقت کاتب ہے یا وہ حیوانِ ناطق ہیں؟ حیوانِ ناطق ہیں۔ تو عنوانِ موضوع میں کیا لایا؟ كُلُّ كَاتِبٍ، تو کاتب میں عنوانِ موضوع لایا اور جو ذاتِ موضوع ہے، یہ نہ اس کی پوری حقیقت ہے، نہ یہ اس کا جزو ہے بلکہ اس کی حقیقت سے خارج ہے یعنی یہ اس کا ایک وصف ہے۔ یہ اس کا ایک وصف ہے کہ انسان ہاتھ سے کتابت کرنے والا ہے، لکھنے والا ہے۔ تو یہ كُلُّ كَاتِبٍ مُتَحَرِّكُ الْأَصَابِعِ، یہاں عنوانِ موضوع کیا؟ عنوانِ موضوع کاتب، اور یہ کاتب اپنے موضوع کی پوری حقیقت ہے، یا جزوِ حقیقت ہے، یا حقیقت سے خارج ہے؟ حقیقت سے خارج ہے، معلوم ہوا یہ وصفِ موضوع ہے، کیا چیز ہے؟ یہ وصفِ موضوع ہے۔
کبھی جو عنوانِ موضوع جو ہے وہ عینِ موضوع ہوتا ہے، کبھی جزوِ موضوع ہوتا ہے اور کبھی وصفِ موضوع ہوتا ہے۔ تو جس لفظ کے ساتھ موضوع کو ذکر کیا جائے اس کو عنوانِ موضوع کہتے ہیں۔ پھر دہرائیں: جس لفظ کے ساتھ موضوع کو قضیے میں ذکر کیا جائے وہ کیا کہلاتا ہے؟ عنوانِ موضوع اور وصفِ موضوع کہلاتا ہے۔
اور کیفیتیں سمجھ میں آ گئیں؟ نفس الامر اور واقع میں ایک چیز کا اثبات ہو دوسری چیز کے لیے، یا ایک چیز کی نفی ہو دوسری چیز سے، اس کی کوئی نہ کوئی کیفیت ضرور ہو گی۔ اس کیفیت کو کیا کہتے ہیں؟ مادۂ قضیہ، اور جس لفظ کے ساتھ اس کو قضیے میں ذکر کیا جائے اس کو کیا کہتے ہیں؟ جہتِ قضیہ، اور جس لفظ کے ساتھ موضوع کو ذکر کیا جائے اس کو کیا کہتے ہیں؟ عنوانِ موضوع اور وصفِ موضوع۔ تو عنوانِ موضوع اور وصفِ موضوع اور چیز، اور ذاتِ موضوع اور چیز۔ عنوانِ موضوع دال ہے، دلالت کرنے والا ہے، اور ذاتِ موضوع کیا ہے؟ مدلول ہے، مدلول ہے۔
اور یہ بھی میں نے آپ کو بتایا کہ جہتیں بہت سی ہیں لیکن وہ جہتیں جو مناطقہ کے نزدیک معتبر ہیں وہ چار ہیں، اور کون کون سی؟ نمبر ایک بِالضَّرُوْرَۃ، نمبر دو بِالْإِمْكَان، اور نمبر تین بِالدَّوَام، چار بِالْفِعْل۔ یاد رکھو، ان میں سے بھی یہ جو بِالضَّرُوْرَۃ ہے، یہ نقیض ہے بِالْإِمْكَان کی، بِالضَّرُوْرَۃ نقیض ہے کس کی؟ امکان کی، اور یہ جو بِالْفِعْل ہے، یہ نقیض ہے [unclear] کی، بِالضَّرُوْرَۃ اور بِالْإِمْكَان ایک دوسرے کی نقیض ہیں۔ جو بِالضَّرُوْرَۃ ہو گا وہ بِالْإِمْكَان نہیں، اور جو بِالْإِمْكَان ہے وہ بِالضَّرُوْرَۃ نہیں۔ کوئی بھی چیز یا تو انسان ہو سکتی ہے یا لا انسان۔ انسان کی نقیض کیا ہے؟ لا انسان۔ جو انسان ہے وہ لا انسان نہیں، اور جو لا انسان ہے وہ انسان نہیں۔ اسی طرح یہاں پر بھی یہ جو یہ جو بِالضَّرُوْرَۃ ہے اس کی نقیض ہے بِالْإِمْكَان۔ بِالْإِمْكَان میں بتایا جاتا ہے ایسا ہونا ممکن ہے، اور بِالضَّرُوْرَۃ میں بتایا جاتا ہے ایسا ہونا ضروری ہے۔ تو دو میں سے ایک ہی ہو سکتا ہے، یا ایک چیز کا ثبوت یا نفی دوسری چیز کے لیے یا تو ضروری ہو گی یا ممکن ہو گی، دونوں نہیں ہو سکتے۔ اور اسی طرح بِالدَّوَام اور بِالْفِعْل ایک دوسرے کی نقیض ہیں، ایک دوسرے کی ضد ہیں، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ ایک چیز کا ثبوت دوسری چیز کے لیے، یا ایک چیز کی نفی دوسری چیز سے، یا تو بِالدَّوَام ہو گی یا بِالْفِعْل یعنی تین زمانوں میں سے کسی ایک زمانے میں۔ اگر بِالدَّوَام ہے تو بِالْفِعْل نہیں، اور بِالْفِعْل ہے تو بِالدَّوَام نہیں۔
پھر ایک اور بات یاد رکھنا، وہ قضایائے موجہہ جن سے مناطقہ بحث کرتے ہیں وہ پندرہ ہیں۔ کتنے ہیں؟ پندرہ ہیں۔ ویسے تو موجہات بہت زیادہ کیونکہ جہات زیادہ تو موجہات بھی زیادہ، لیکن ان جہات میں سے چار جہتیں معتبر ہیں: بِالضَّرُوْرَۃ، بِالْإِمْكَان، بِالدَّوَام اور بِالْفِعْل۔ تو چار جہتیں معتبر ہیں اور اس اعتبار سے وہ مناطقہ صرف پندرہ موجہات ہیں جن سے وہ بحث کرتے ہیں، باقی سے وہ بحث نہیں کرتے۔ پھر یہ پندرہ جو ہیں، ان میں سے آٹھ بسیطہ ہیں اور سات مرکبہ ہیں۔ آٹھ بسیط ہیں اور سات مرکب ہیں۔
موجہہ بسیطہ اس قضیے کو کہتے ہیں جس میں جہت ہو گی، توجہ ہے؟ اور اس میں صرف ایجاب ہو گا یا صرف سلب ہو گا یعنی نفی ہو گی۔ وسائط وہ موجہات جن میں صرف ایجاب ہو یا صرف سلب ہو۔ جبکہ آگے مرکبات آئیں گے، مرکبات وہ موجہات ہیں کہ ایک ہی قضیے کے اندر ایجاب بھی ہو گا اور سلب بھی ہو گا۔ ایک ہی قضیے میں ایجاب بھی ہو گا اور سلب بھی ہو گا۔ تو وسائط جو ہیں وسائط، ان میں یا صرف ایجاب ہو گا یا صرف سلب ہو گا۔ مثلاً میں کہتا ہوں: كُلُّ إِنْسَانٍ حَيَوَانٌ بِالضَّرُوْرَةِ، ہر انسان کا حیوان ہونا ضروری ہے، دیکھو صرف ایجاب ذکر ہے تو یہ بسیط ہوا، یہ قضیہ بسیطہ ہوا، موجہہ یہ موجہہ بسیطہ ہوا۔ یا میں کہتا ہوں: لَا شَيْءَ مِنَ الْإِنْسَانِ بِحَجَرٍ بِالضَّرُوْرَةِ، کوئی بھی انسان پتھر نہیں ہے بِالضَّرُوْرَۃ، یقینی طور پر، لازمی طور پر، دیکھو اس میں صرف نفی ذکر ہے۔ تو قضیہ موجہہ بسیطہ میں صرف کیا ذکر ہو گی؟ یا صرف اثبات ہو گا یا صرف نفی ہو گی، دونوں نہیں ہوں گے، جبکہ آگے جو مرکبات آئیں گے ان میں ایک ہی قضیے کے اندر ایجاب بھی ہو گا اور سلب بھی ہو گا یعنی نفی بھی ہو گی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو قضایائے موجہہ وسائط کن کو کہتے ہیں؟ کہ ان میں صرف کیا ہو؟ ایجاب، یا صرف کیا ہو؟ نفی۔ اور موجہاتِ مرکبہ کن کو کہتے ہیں؟ ایک ہی قضیے میں ایجاب بھی ہو اور سلب بھی ہو یعنی نفی بھی ہو۔ یہ ساری مثالیں آگے آ جائیں گی خوب تفصیل سے بھئی۔
اب دیکھیے بھئی کتاب پر۔ کہتے ہیں: وَقَدْ يُصَرَّحُ بِكَيْفِيَّةِ النِّسْبَةِ فَمُوَجَّهَةٌ، اور کبھی کبھار تصریح کی جاتی ہے کیفیت کی۔ کبھی کبھار قضیے میں، میں نے بتایا نفس الامر میں ایک چیز کا ثبوت ہو یا نفی ہو اس کی کوئی نہ کوئی کیفیت ضرور ہو گی، اگر اس کیفیت کی تصریح یعنی اس کیفیت کو قضیے میں بھی ذکر کر دیں تو اس قضیے کو کیا کہتے ہیں؟ موجہہ، اور جو لفظ اس کیفیت کو بیان کر رہا ہے اس کو کیا کہتے ہیں؟ جہت، اور نفس الامر میں جو ایک چیز کا ثبوت دوسری چیز کے لیے ہے یا ایک چیز کی نفی دوسری چیز سے ہے اس کے لیے جو کیفیت ہو گی اس کو کیا کہتے ہیں؟ مادۂ قضیہ بھئی، مادۂ قضیہ۔
تو کہتے ہیں: وَقَدْ يُصَرَّحُ بِكَيْفِيَّةِ النِّسْبَةِ فَمُوَجَّهَةٌ، اور کبھی کبھار تصریح کی جاتی ہے یعنی ذکر کیا جاتا ہے نسبت کی کیفیت کی: فَمُوَجَّهَةٌ، تو وہ قضیہ کون سا ہے؟ موجہہ ہے، موجہہ ہے۔ یاد رکھو اس کو فَمُوَجَّهَةٌ یوں بھی پڑھ سکتے ہیں، عبارت یوں ہے: فَالْقَضِيَّةُ مُوَجَّهَةٌ، مبتدا محذوف نکال لو اور مُوَجَّهَةٌ کو کیا بنا دو؟ اس کی خبر۔ فَالْقَضِيَّةُ تو وہ قضیہ مُوَجَّهَةٌ موجہہ ہے یعنی جس میں جہت ذکر ہے۔ توجہ ہے؟ تو مُوَجَّهَةٌ مرفوع بھی پڑھ سکتے ہیں اور اس پر نصب بھی پڑھ سکتے ہیں: فَمُوَجَّهَةً، أَيْ فَتُسَمَّى الْقَضِيَّةُ مُوَجَّهَةً، تو پھر اس قضیے کو کیا کہتے ہیں؟ موجہہ کہتے ہیں۔ تو اگر فَتُسَمَّى فعل نکال لیں تو پھر یہ مُوَجَّهَةً اس کے لیے مفعول بہ بن جائے گا، منصوب ہو گا۔ عبارت سمجھ میں آ گئی؟ فَمُوَجَّهَةٌ بھی پڑھ سکتے ہیں اور فَمُوَجَّهَةً بھی۔
اور آگے بھی جتنے آگے آ رہے ہیں دیکھو سب پر فا داخل ہو رہی ہے: فَمُطْلَقَةٌ، آگے آ رہا ہے فَضَرُوْرِيَّةٌ مُطْلَقَةٌ، آگے فَمَشْرُوْطَةٌ عَامَّةٌ، آگے فَوَقْتِيَّةٌ مُطْلَقَةٌ، آگے ہے فَمُنْتَشِرَةٌ مُطْلَقَةٌ، ان سب میں بھی اسی طرح ہے، ان پر رفع بھی پڑھ سکتے ہیں اور نصب بھی پڑھ سکتے ہیں۔ رفع پڑھیں گے کیوں؟ خبر بنائیں گے اور اس کے لیے مبتدا الْقَضِيَّةُ محذوف نکال لو: فَالْقَضِيَّةُ وَقْتِيَّةٌ، اور اگر نصب پڑھتے ہیں تو تُسَمَّى فعل نکال لیں: فَتُسَمَّى الْقَضِيَّةُ مُطْلَقَةً، مثلاً اس قضیے کو پھر مطلقہ کہتے ہیں۔
تو کہتے ہیں: وَقَدْ يُصَرَّحُ بِكَيْفِيَّةِ النِّسْبَةِ فَمُوَجَّهَةٌ، اور کبھی کبھار قضیے کے اندر نسبت کی کیفیت کی تصریح کر دی جاتی ہے کہ یہ نسبت کس قسم کی ہے، بِالضَّرُوْرَۃ ہے، یا بِالْإِمْكَان ہے، یا بِالدَّوَام ہے، یا بِالْفِعْل ہے۔ تو کبھی کبھار تصریح کر دی جاتی ہے نسبت کی کیفیت کی: فَمُوَجَّهَةٌ، تو وہ قضیہ موجہہ ہے، وَمَا بِهِ الْبَيَانُ جِهَةٌ، اور وہ چیز جس کے ذریعے کیفیت کو بیان کیا جائے جِهَةٌ وہ کیا ہے؟ جہت، اس کو جہت کہتے ہیں، وَإِلَّا، اور اگر ایسا نہ ہو یعنی کیفیت کو بیان نہ کیا جائے، فَمُطْلَقَةٌ، تو وہ قضیہ کون سا ہے؟ مطلقہ ہے، فَإِنْ كَانَ الْحُكْمُ فِيْهَا بِضَرُوْرَةِ النِّسْبَةِ مَا دَامَ ذَاتُ الْمَوْضُوْعِ مَوْجُوْدَةً فَضَرُوْرِيَّةٌ، فَإِنْ كَانَ الْحُكْمُ فِيْهَا، اگر قضیے کے اندر یہ حکم لگایا جائے، کیا؟ بِضَرُوْرَةِ النِّسْبَةِ، کہ یہ نسبت ضروری ہے، لازمی ہے، واجب ہے، مَا دَامَ ذَاتُ الْمَوْضُوْعِ مَوْجُوْدَةً، جب تک ذاتِ موضوع موجود ہے، فَضَرُوْرِيَّةٌ مُطْلَقَةٌ، تو وہ قضیہ کیا ہے؟ ضروریہ مطلقہ ہے۔
ضروریہ مطلقہ کو یہیں سمجھ لیں، ضروریہ مطلقہ۔ بھئی ضروریہ مطلقہ وہ قضیہ ہے، توجہ ہے؟ ضروریہ مطلقہ وہ قضیہ ہے جس میں یہ بیان کیا جائے کہ یہ جو موضوع ہے، اس کے لیے یہ والا محمول ضروری ہے جب تک یہ موضوع کی ذات موجود ہے، اس کے لیے یہ والا محمول ضروری ہے، لازمی ہے۔ مثلاً كُلُّ إِنْسَانٍ حَيَوَانٌ، ہر انسان کیا ہے؟ حیوان ہے، بِالضَّرُوْرَةِ، ضروری طور پر، لازمی طور پر۔ جب تک انسان کی ذات موجود ہے اس کے لیے حیوان ہونا ضروری ہے، جب بھی انسان کی ذات پائی جائے گی اس کے لیے حیوان ہونا ضروری ہے۔ اور لَا شَيْءَ مِنَ الْإِنْسَانِ بِحَجَرٍ، کوئی بھی انسان پتھر نہیں ہے بِالضَّرُوْرَةِ، لازمی طور پر۔ یعنی انسان کا فرد جب بھی پایا جائے اس سے حجر کی نفی ضروری ہے، تو کبھی اثبات ضروری ہوتا ہے اور کبھی نفی۔ تو ضروریہ مطلقہ کسے کہتے ہیں؟ جس میں جب تک موضوع کی ذات ہے اس کے لیے یہ والا محمول ضروری ہے۔ توجہ ہے؟ جب تک موضوع کی ذات ہے اس کے لیے یہ والا محمول ضروری ہے۔ جیسے جب تک انسان کی ذات ہے اس کے لیے حیوان ہونا ضروری، اور سالبہ میں لے آؤ، کبھی سلب ضروری ہوتا ہے، جب تک انسان ہے اس سے پتھر کی نفی ضروری ہے۔
یاد رکھو یہ جو ضرورت ہے نا، ضروری ہونا، ضروری ہونا، کبھی ذات کے اعتبار سے ہوتا ہے، کبھی وصف کے اعتبار سے ضروری ہونا ہوتا ہے، اور کبھی وقت کے اعتبار سے ہوتا ہے۔ توجہ ہے؟ موضوع کے لیے محمول کا ثبوت ضروری ہو گا یا موضوع سے محمول کی نفی ضروری ہو گی، تو یہ جو ضروری ہونا ہے، یا یوں کہیں یہ جو ضرورت ہے، یہ ذاتی بھی ہو سکتی ہے، وصفی بھی ہو سکتی ہے، وقتی بھی ہو سکتی ہے۔ توجہ ہے؟ یہ ضرورت ذاتی بھی ہو سکتی ہے، وصفی بھی ہو سکتی ہے اور وقتی بھی ہو سکتی ہے۔ یہ ضرورت ذاتی ہو، معنی یہ ہے جب تک یہ ذات ہے اس کے لیے یہ والا محمول ضروری ہے۔ وصفی، وصفی، ضرورت کبھی وصفی ہو گی، جب تک یہ وصف ہے یہ والا محمول ضروری ہے۔ اور کبھی وقتی ہو گی، پھر وہ وقتی اس میں کبھی وقتِ معین ذکر ہو گا، کبھی وقتِ غیر معین۔ یعنی اس وقتِ معین میں اس کے لیے یہ والا محمول ضروری ہے، یا کبھی ضرورت جو ہے وقتِ غیر معین میں ہو گی کہ کسی غیر معین وقت میں اس کے لیے اس چیز کا ثبوت ضروری ہے۔
نہیں سمجھ میں آ رہی؟ میں بار بار تکرار کرواؤں گا، آپ نے پریشان نہیں ہونا، ان شاء اللہ خوب ذہن نشین ہو جائیں گی چیزیں۔ دیکھو، کتنی جہتوں سے بحث کریں گے؟ چار۔ کون کون سی؟ ایک بِالضَّرُوْرَۃ، ایک بِالْإِمْكَان، ایک بِالدَّوَام اور ایک بِالْفِعْل۔ یہ جو بِالضَّرُوْرَۃ ہے یعنی ضروری ہونا، یہ تین قسم پر ہو سکتا ہے: کبھی ضروری ہو گا ذات کے اعتبار سے، کبھی ضروری ہو گا وصف کے اعتبار سے، اور کبھی ضروری ہو گا وقت کے اعتبار سے۔ پھر وقت کے اعتبار سے، کبھی وقتِ معین مراد ہو گا اور کبھی وقتِ غیر معین۔ دیکھو مثالوں سے بات سمجھ میں آ جائے گی، مثلاً میں نے کہا: انسان کے لیے حیوان ہونا ضروری، یہ ذات کے اعتبار سے ضروری ہے، انسان کی ذات جب بھی پائی جائے گی اس کے لیے حیوان ہونا ضروری ہے، اس کے لیے حیوان ہونا نفی کی بھی مثال کر لو، ہر انسان سے پتھر کی نفی ضروری ہے، انسان کی ذات ہی یہ تقاضا کرتی ہے کہ اس کے لیے پتھر ثابت، یہ پتھر نہیں ہو سکتا۔
اور کبھی یہ ضروری ہونا وصف کے اعتبار سے ہو گا، مثلاً میں کہتا ہوں: ہر کاتب کی انگلیاں حرکت کرتی ہیں، تو محمول کیا ہے؟ محمول کیا ہے؟ انگلیوں کا حرکت کرنا۔ یہ انگلیوں کا حرکت کرنا اس موضوع کے لیے ضروری ہے جب تک یہ وصف اس کے اندر ہے۔ كُلُّ كَاتِبٍ مُتَحَرِّكُ الْأَصَابِعِ، ہر کاتب کی انگلیاں حرکت کرتی ہیں، موضوع کیا؟ كُلُّ كَاتِبٍ، محمول کیا؟ مُتَحَرِّكُ الْأَصَابِعِ۔ یہ مُتَحَرِّكُ الْأَصَابِعِ ہونا ہر کاتب کے لیے ضروری ہے، لیکن کیا ذات کے اعتبار سے یا یہ وصفِ کتابت کے اعتبار سے؟ وصفِ کتابت، جب تک وہ کتابت کرے گا اس کی انگلیاں حرکت کرتی رہیں گی، کتابت چھوڑ دے پھر ہو سکتا ہے انگلیاں وہ حرکت نہ کریں، لیکن جب تک یہ وصف ہے اس کے لیے انگلیوں کا متحرک ہونا ضروری ہے، کیا ہے؟ ضروری ہے۔ یہ تو تھا اثبات میں، نفی میں کر لو: کوئی بھی کاتب وہ ساکن الاصابع نہیں ہے، دیکھو کاتب سے ساکن الاصابع ہونے کی نفی کر دی، اس کی انگلیاں ساکن نہیں، یعنی یوں کہیں لکھنے والے سے ساکن الاصابع کی نفی ضروری ہے، کب تک؟ جب تک یہ وصف ہے اس کے لیے۔ یہ کیا ہے اس کے لیے؟ جب تک وہ لکھ رہا ہے اس کی انگلیاں ساکن نہیں ہو سکتیں، ضروری ہے۔
توجہ نہیں ہے، جب تک وہ لکھ رہا ہے، جب لکھ رہا ہے پھر تو انگلیاں حرکت کر رہی ہیں، معلوم ہوا ساکن نہیں، تو جب لکھ رہا ہے تو اس کی انگلیوں کا ساکن نہ ہونا ضروری ہے۔ اور اس کی ذات کی وجہ سے یا اس کی اس کتابت کے وصف کی وجہ سے؟ کتابت کے وصف کی وجہ سے۔ تو کبھی ضروری کس اعتبار سے ہوتا ہے؟ ذات کے اعتبار سے، جیسے ہر انسان کے لیے حیوان ہونا ضروری ہے ذات کے اعتبار سے، اور کبھی ضروری ہوتا ہے وصف کے اعتبار سے، جیسے ہر کاتب کے لیے انگلیوں کا حرکت کرنا ضروری ہے کس اعتبار سے؟ اس کے اس وصفِ کتابت کے اعتبار سے۔ وصفِ کتابت ہے تو انگلیوں کا حرکت کرنا ضرور ہو گا اس کے لیے، وصفِ کتابت نہ ہو پھر اس کی نفی ہو سکتی ہے، ویسے نفی نہیں ہو سکتی۔
اور کبھی، کبھی ضرورت ہوتی ہے وقت کے اعتبار سے، کس اعتبار سے؟ پھر وہ وقت کبھی متعین ہوتا ہے اور کبھی غیر متعین ہوتا ہے۔ وقتِ متعین، جیسے یاد رکھو یہ جو زمین ہے یہ سورج کے گرد گھوم رہی ہے، زمین سورج کے گرد گھوم رہی ہے اور پورے سال میں یہ ایک چکر سورج کے گرد پورا کرتی ہے اور اسی وجہ سے یہ موسم، یہ مختلف موسم بنتے ہیں، کبھی سردی، کبھی گرمی، کبھی بہار، کبھی خزاں۔ یہ جو موسم بدلتے ہیں، یہ جو زمین سورج کے گرد گھوم رہی ہے، سورج آگ کا ایک بہت بڑا گولا ہے، زمین گیند کی طرح فضا میں تیرتی ہوئی سورج کے گرد سال میں ایک چکر پورا کرتی ہے، مسلسل گھوم رہی ہے سورج کے گرد۔ اور اسی طرح یہ جو چاند ہے، یہ زمین کے گرد گھوم رہا ہے، چاند زمین کے گرد گھوم رہا ہے۔ اور یہ جو چاند اور زمین ہیں یہ خود روشن نہیں، ان پر جو روشنی ہوتی ہے وہ سورج کی وجہ سے ہوتی ہے۔ آپ بھی دیکھتے ہیں سورج نکلتا ہے تو دن ہے، سورج ڈوب گیا تو رات ہے۔ تو یہ زمین اور چاند جو ہیں یہ اپنی روشنی سورج سے حاصل کرتے ہیں۔
جیسے ایک گیند ہے، ایک گیند ہے، رات کا وقت ہے، گاڑی کی لائٹیں آپ سامنے سے جلائیں اور اس کے سامنے ایک گیند رکھ دیں، دیکھو گیند کا جو حصہ گاڑی کی طرف ہے وہ روشن ہو جائے گا، سفید، اور جو گیند کا دوسری طرف پیچھے والا حصہ ہے وہ تاریک ہے، اس پر اندھیرا ہے۔ تو اسی طرح زمین کا جو حصہ سورج کے سامنے ہوتا ہے وہاں دن ہوتا ہے اور جو حصہ پیچھے چلا جاتا ہے وہاں رات ہوتی ہے۔ تو یہ زمین سورج کے گرد بھی گھوم رہی ہے، پورے سال میں ایک چکر لگاتی ہے اور یہ زمین سورج کے گرد چلتے ہوئے اپنے محور پر بھی گھوم رہی ہے لٹو کی طرح، جیسے لٹو گھوم رہا ہوتا ہے نا، دیکھو لٹو تیزی سے گھوم بھی رہا ہوتا ہے اور تھوڑا تھوڑا کبھی ایک طرف کو جا رہا ہوتا ہے، دیکھا ہوا ہے آپ نے؟ اسی طرح یہ زمین گھومتی ہوئی سورج کے گرد چلتی ہے اور یہ چوبیس گھنٹے میں یہ زمین اپنے محور کے گرد ایک دفعہ گھوم جاتی ہے اور اس گھومنے کی وجہ سے دن اور رات بنتے ہیں۔ جو سورج کے گرد پورے سال میں چکر لگاتی ہے اس کی وجہ سے چار موسم بنتے ہیں، اور یہ جو اپنے محور کے گرد لٹو کی طرح گھوم رہی ہے یہ پورا ایک چکر چوبیس گھنٹے میں یہ لگا لیتی ہے اور اس کی وجہ سے دن اور رات بنتے ہیں۔ دیکھو زمین گھوم رہی ہے، سامنے سے سورج کی روشنی پڑ رہی ہے، گھومتے گھومتے جو حصہ زمین کا سورج کے سامنے ہے وہاں دن، اور پھر یہ گھومتے گھومتے یہ حصہ اندھیرے کی طرف آ جاتا ہے تو پھر وہاں کیا ہو جاتی ہے؟ رات، اور اگلے دن پھر وہ سورج کے سامنے آتا ہے تو پھر وہاں دن ہو جاتا ہے۔ تفصیل سمجھ میں آ رہی ہے؟
اور یہ جو چاند ہے یہ زمین کے گرد گھوم رہا ہے، چاند زمین کے گرد گھوم رہا ہے بھئی، اور یہ چاند اور زمین دونوں اپنی روشنی سورج سے حاصل کرتے ہیں۔ ان کا جو حصہ سورج کے سامنے ہوتا ہے وہاں دن ہوتا ہے اور جو حصہ پیچھے کی طرف ہوتا ہے وہاں رات ہوتی ہے۔ میں نے مثال دے دی، جیسے کوئی ٹارچ جلائیں اور اس کے سامنے ایک گیند رکھ دیں تھوڑے فاصلے پر، تو گیند کا ایک حصہ تو ٹارچ کی طرف ہے اس پہ تو روشنی پڑ رہی ہے اور جو پیچھے والا حصہ ہے دوسری جانب گیند کے وہاں تو روشنی نہیں پڑ رہی، وہاں اندھیرا ہے، وہاں رات ہے بھئی۔ تو زمین اور چاند دونوں اپنی روشنی کس سے حاصل کرتے ہیں؟ سورج سے۔ تو یہ جو چاند ہے یہ زمین کے گرد گھوم رہا ہے، یہ چاند گھومتے گھومتے کبھی کبھار زمین اور سورج کے بالکل بیچ میں آ جاتا ہے، چنانچہ چاند کا سایہ زمین پہ پڑتا ہے۔ چاند کا سایہ، چاند کہاں آ گیا؟ سورج اور زمین کے درمیان۔ روشنی آ رہی ہے سورج کی طرف سے اور کس پر پڑ رہی تھی؟ زمین پر، لیکن بیچ میں کون آ گیا؟ چاند۔ اب چاند کا جو حصہ سورج کی طرف ہے اس پہ تو روشنی پڑ رہی ہے لیکن پیچھے اس کا جو سایہ آ رہا ہے وہ کس پر پڑے گا؟ زمین پر پڑے گا۔ تو اس حالت کو کہتے ہیں سورج گرہن۔ کیا کہتے ہیں؟ سورج گرہن، یعنی سورج ہم سے چھپ جائے گا چاند کی وجہ سے، سورج دکھائی نہیں دے گا۔ آپ اخبارات میں پڑھتے رہتے ہیں کہ سورج گرہن ہو گا، کیا معنی ہوتا ہے؟ کہ زمین اور سورج کے بیچ کون آ گیا؟ چاند آ گیا، تو سورج کو گرہن لگ گیا، اب وہ پورا دکھائی نہیں دے رہا، اور یہ تھوڑی دیر کے لیے ہوتا ہے، چند منٹوں کے لیے، چند منٹوں کے لیے یا ایک آدھ گھنٹے کے لیے، تو وہ پھر آگے نکل جاتا ہے چاند کیونکہ وہ گھومتا جا رہا ہے زمین کے گرد بھئی۔
جب چاند زمین اور سورج کے درمیان آیا تو چاند کا سایہ کس پر پڑا؟ زمین پر، اور زمین والوں سے سورج چھپ گیا تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ سورج گرہن۔ اور پھر چاند جب گھومتے گھومتے دوسری طرف آتا ہے تو کبھی زمین کا سایہ پھر چاند پر پڑتا ہے۔ چاند کس کے گرد گھوم رہا ہے؟ زمین کے گرد، تو چاند گھومتے گھومتے دوسری جانب آیا زمین کے، اور چاند پر روشنی کس سے آ رہی ہے؟ سورج سے، تو زمین بیچ میں آ گئی اور چاند دوسری طرف ہے، زمین سورج اور چاند کے بیچ میں آ گئی۔ اب زمین کا سایہ چاند پر پڑتا ہے، اس کو چاند گرہن کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ چاند گرہن، اور واضح چاند پر زمین کا سایہ پڑتا ہوا نظر آتا ہے، اور یہ بھی کچھ دیر کے لیے ہوتا ہے اور پھر آگے نکل جاتا ہے چاند۔ سورج گرہن سمجھ میں آ گیا؟ سورج گرہن کب لگتا ہے؟ جب چاند زمین اور سورج کے درمیان آ جائے۔ اور چاند گرہن کب لگتا ہے؟ جب زمین چاند اور سورج کے درمیان آ جائے بھئی، آ جائے۔
اب دیکھیے، مثلاً میں کہتا ہوں: چاند کو گرہن لگنا ضروری ہے، توجہ ہے؟ بات ضرورت کی چل رہی تھی کہ ضرورت کبھی ذات کے اعتبار سے ہوتی ہے، کبھی وصف کے اعتبار سے ہوتی ہے اور کبھی وقت کے اعتبار سے، پھر وقت کبھی متعین ہو گا اور کبھی غیر متعین۔ وقتِ متعین کی مثال: چاند کے لیے گرہن ہونا ضروری ہے جب زمین چاند اور سورج کے بیچ آ جائے۔ توجہ ہے؟ جب زمین چاند اور سورج کے درمیان آ جائے تو چاند کے لیے گرہن لگنا ضروری ہے، گرہن لگے گا یا نہیں اسے بھئی؟ اور یہ گرہن لگنا ضروری ہے کیونکہ زمین کس کے بیچ آ چکی ہے؟ چاند اور سورج کے۔ اور یہ جو چاند کو گرہن لگا، کیا یہ اس کی ذات کی وجہ سے ضروری ہے؟ توجہ ہے؟ میں نے کہا چاند کے لیے گرہن لگنا ضروری ہے، دیکھو ضروری ہونے کو میں ذکر کر رہا ہوں۔ اب مجھے بتائیے، کیا چاند کو گرہن لگنا ضروری ہے چاند کی ذات کی وجہ سے؟ نہیں، کیا اس کے وصف کی وجہ سے؟ نہیں، ہاں ایک وقت ہے، ایک متعین وقت اور وہ کب؟ جب زمین ان دونوں کے درمیان آ جائے۔ ایک متعین وقت میں چاند پر گرہن لگنا ضروری ہے، اور وہ کون سا متعین وقت ہے؟ جب زمین چاند اور سورج کے بیچ میں آ جائے۔
تو ضروری کبھی ذات کے اعتبار سے ہوتا ہے، کبھی وصف کے اعتبار سے، اور کبھی وقت کے اعتبار سے، اور وہ وقت کبھی متعین ہو گا اور کبھی غیر متعین۔ جیسے میں نے کیا کہا: چاند پر گرہن لگنا ضروری ہے، کیا ہر وقت یا ایک خاص وقت میں؟ خاص وقت میں، اور وہ کون سا وقت ہے؟ جب زمین چاند اور سورج کے بیچ میں آ جائے۔ اور کبھی کبھار وقتِ غیر معین میں ایک چیز ضروری ہوتی ہے، وقتِ غیر معین۔ مثلاً میں کہتا ہوں: ہر انسان کے لیے سانس لینا ضروری ہے کسی نہ کسی وقت میں، ہر انسان کے لیے سانس لینا ضروری ہے کسی نہ کسی وقت میں۔ بھئی دیکھو، یہ جو ہم سانس لیتے ہیں نا، یہ جو ہم ہوا پھیپھڑوں میں لے کر جاتے ہیں، اندر کو سانس کھینچتے ہیں یہ ہے سانس لینا۔ سانس ہم اندر کھینچتے ہیں پھر اس کے بعد پھر سانس کو ہم باہر نکالتے ہیں، تو گویا اس وقت ہم سانس نہیں لے رہے۔ جو اندر کھینچ رہے ہیں یہ کیا کر رہے ہیں؟ سانس لے رہے ہیں، اور جو باہر نکال رہے ہیں یہ تو ہم سانس نہیں لے رہے بلکہ اس میں تو ہم ہوا کو پھیپھڑوں سے خارج کر رہے ہیں۔ تو جس وقت ہم سانس اندر لے کر جاتے ہیں تو اس وقت گویا ہم سانس لے رہے ہیں، اور جب سانس باہر نکال رہے ہیں تو گویا اس وقت ہم سانس نہیں لے رہے، اس وقت تو ہم سانس نہیں لے رہے، اس وقت تو وہی ہوا جو ہم نے پھیپھڑوں میں داخل کی تھی اسی کو کیا کر رہے ہیں؟ خارج کر رہے ہیں۔ تو سانس لینے کا کیا معنی؟ ہوا کو ہم اندر کھینچیں، یہ ہے سانس لینا، اور یہ جو باہر نکالنا ہے یہ سانس لینا نہیں ہے۔
تو دیکھو، جب ہم سانس اندر کھینچ رہے ہیں ہم سانس لے رہے ہیں، اور جب ہم سانس باہر نکال رہے ہیں تو گویا اس وقت ہم سانس نہیں لے رہے تو انسان کے لیے سانس لینا ضروری ہے ہر وقت نہیں بلکہ کسی نہ کسی وقت میں، کسی نہ کسی وقت میں۔ تو یہ کیا ہے؟ یہ وقتِ غیر معین میں ضروری ہے۔ اب مجھے بتائیے، انسان کے لیے سانس لینا ضروری ہے کس اعتبار سے؟ وقت کے اعتبار سے، اور وہ وقت متعین ہے یا غیر متعین؟ غیر متعین ہے، ہر انسان کے لیے سانس لینا ضروری ہے کسی نہ کسی وقت میں۔ تو ضرورت کبھی ذات کے اعتبار سے ہو گی، کبھی وصف کے اعتبار سے ہو گی اور کبھی وقت کے اعتبار سے ہو گی، پھر وقت کبھی متعین ہو گا اور کبھی غیر متعین ہو گا۔
پھر نکال رہے ہیں، تو گویا اس وقت ہم سانس نہیں لے رہے۔ تو مثلاً میں کہتا ہوں، ہر انسان کے لیے سانس لینا ضروری ہے کسی وقت۔ یا یوں کہو، ہر انسان سانس لینے والا ہے کسی نہ کسی وقت۔ اور ہر انسان سانس لینے والا نہیں ہے کسی وقت۔ کسی وقت ہم سانس لے رہے ہیں اور کسی وقت سانس نہیں لے رہے۔ ہر انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ سانس لینے والا ہو کسی وقت۔ اور اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ سانس نہ لینے والا ہو کسی وقت۔ دیکھو، مسلسل ہے نا، ہم سانس اندر کھینچتے ہیں اور پھر باہر نکالتے ہیں۔ تو اندر سانس لے جانا ضروری اور پھر اس کو نکالنا بھی ضروری۔ تو متنفس ہونا بھی ضروری، متنفس سانس لینے والا۔ انسان کے لیے متنفس ہونا بھی ضروری، اس کے بغیر وہ زندہ نہیں رہے گا۔ اور غیر متنفس ہونا بھی ضروری، سانس باہر نہیں نکالے گا تو بھی زندہ نہیں رہے گا۔ انسان کے لیے سانس لینا بھی یعنی متنفس ہونا بھی ضروری اور غیر متنفس ہونا بھی ضروری۔ لیکن کسی معین وقت میں یا کسی نہ کسی وقت میں؟ کسی نہ کسی وقت میں۔ یا یوں کہو، کسی وقت میں انسان کے لیے متنفس ہونا ضروری ہے اور کسی وقت میں انسان کے لیے غیر متنفس ہونا ضروری ہے، اس میں معین وقت نہیں ہے۔ چاند پر گرہن لگنا، وہ ایک معین وقت میں تھا، جب زمین ان دونوں کے درمیان آ جائے۔ لیکن یہ سانس لینے میں کوئی متعین وقت نہیں ہے۔ کسی وقت سانس لیتے ہیں اور کسی وقت ہم سانس نہیں لیتے۔ تو سانس لینا بھی ہمارے لیے ضروری اور نہ لینا بھی ہمارے لیے ضروری ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟
تو معلوم ہوا ضرورت چار قسم پر ہو سکتی ہے۔ یہ ضرورت یا تو ذات کے اعتبار سے ہوتی ہے یا وصف کے اعتبار سے ہوتی ہے یا وقت کے اعتبار سے ہوتی ہے اور پھر وہ وقت جو ہے، وہ یا متعین ہوگا یا غیر متعین ہوگا۔ تو چار قسمیں بن جائیں گی۔ اگر ذات کے اعتبار سے ایک چیز کا ثبوت یا نفی ضروری ہے، تو اس کو ضَرُورِيَّة مُطْلَقَة کہیں گے۔ کیا کہیں گے؟ ضَرُورِيَّة مُطْلَقَة۔ اگر وصف کے اعتبار سے ضروری ہو، تو اس کو مَشْرُوطَة عَامَّة کہیں گے۔ کیا کہیں گے؟ مَشْرُوطَة عَامَّة۔ اور اگر وقت معین کے اندر ضروری ہو، تو اس کو وَقْتِيَّة مُطْلَقَة کہتے ہیں۔ اور اگر وقت غیر معین میں ضروری ہو، تو اس کو مُنْتَشِرَة مُطْلَقَة کہتے ہیں۔
کتاب پہ نظر ہے؟ چار قسمیں آپ نے پڑھ لیں مُوَجَّهَات کی۔ بھئی، یہ ضرورت کس اعتبار سے ہوگی؟ یا ذات کے اعتبار سے یا وصف کے اعتبار سے یا وقت کے اعتبار سے، پھر وہ وقت یا متعین ہوگا یا غیر متعین۔ یعنی وقت متعین میں ضروری ہوگا موضوع کے لیے محمول کا ثبوت یا موضوع سے محمول کی نفی، کسی معین وقت میں ہوگی یا وقت غیر معین میں۔ اگر ذات کے اعتبار سے محمول کا ثبوت موضوع کے لیے... توجہ ہے؟ ساری بات نسبت کی چل رہی ہے، نسبت چاہے ایجابی ہو چاہے سلبی ہو۔ تو وہ نسبت چاہے ایجابی ہو یا سلبی، وہ ضروری ہوگی یا تو ضروری ہوگی ذات کے اعتبار سے یا وصف کے اعتبار سے یا وقت کے اعتبار سے۔ اور پھر وقت کے اعتبار سے یا تو کسی متعین وقت کے اعتبار سے ضروری ہوگی یا کسی غیر متعین وقت کے اعتبار سے ضروری۔ تو ضرورت کی چار قسمیں بن گئیں۔ کتنی؟ چار۔ ایک کیا؟ ذات کے اعتبار سے۔ ایک وصف کے اعتبار سے۔ ایک وقت متعین کے اعتبار سے۔ اور ایک وقت غیر متعین کے اعتبار سے۔
فَإِنْ كَانَ الْحُكْمُ فِيهَا اگر اس قضیے کے اندر حکم ہو بِضَرُورَةِ النِّسْبَةِ کس چیز کا حکم ہو؟ نسبت کے ضروری ہونے کا۔ دیکھا؟ بِضَرُورَةِ کی بات آ گئی۔ کہتے ہیں فَإِنْ كَانَ الْحُكْمُ فِيهَا بِضَرُورَةِ النِّسْبَةِ اگر قضیے کے اندر نسبت کے ضروری ہونے کا حکم ہو مَا دَامَ ذَاتُ الْمَوْضُوعِ مَوْجُودَةً جب تک ذَات مَوْضُوع موجود ہے، یعنی ذات کے اعتبار سے۔ جب تک ذَات مَوْضُوع ہے، اس کے لیے محمول کا ہونا ضروری ہے۔ جیسے كُلُّ إِنْسَانٍ حَيَوَانٌ، ہر انسان کے لیے حیوان ہونا ضروری۔ جب تک ذات انسان موجود ہے، اس کے لیے حیوان ہونا ضروری۔ یہ نہیں ہو سکتا انسان تو ہو اور حیوان نہ ہو۔ تو کہتے ہیں فَإِنْ كَانَ الْحُكْمُ فِيهَا بِضَرُورَةِ النِّسْبَةِ اگر قضیے کے اندر نسبت کے ضروری ہونے کا حکم ہو، مَا دَامَ ذَاتُ الْمَوْضُوعِ مَوْجُودَةً جب تک ذَات مَوْضُوع موجود ہے، فَضَرُورِيَّةٌ مُطْلَقَةٌ تو وہ قضیہ ضَرُورِيَّة مُطْلَقَة ہے۔
أَوْ مَا دَامَ وَصْفُهُ یہ أَوْ مَا دَامَ وَصْفُهُ کا عطف کریں مَا دَامَ ذَاتُ الْمَوْضُوعِ مَوْجُودَةً پر۔ اور فَإِنْ كَانَ الْحُكْمُ فِيهَا بِضَرُورَةِ النِّسْبَةِ یہ سب سے جڑتا جائے گا۔ اور اگر قضیے میں حکم ہو نسبت کے ضروری ہونے کا مَا دَامَ وَصْفُهُ جب تک اس موضوع کے لیے وہ والا وصف ہے۔ جب تک اس موضوع کے لیے وہ والا وصف ہے فَمَشْرُوطَةٌ عَامَّةٌ تو وہ قضیہ مَشْرُوطَة عَامَّة ہے۔
أَوْ فِي وَقْتٍ مُعَيَّنٍ یا کسی معین وقت میں۔ یعنی پھر اس کو جوڑو، اگر قضیے کے اندر حکم ہو نسبت کے ضروری ہونے کا... توجہ ہے؟ فَإِنْ كَانَ الْحُكْمُ فِيهَا بِضَرُورَةِ النِّسْبَةِ اس کو ہر ایک کے ساتھ جوڑنا ہے۔ اور اگر قضیے کے اندر حکم ہو نسبت کے ضروری ہونے کا فِي وَقْتٍ مُعَيَّنٍ کسی معین وقت میں کہ یہ کسی معین وقت میں یہ نسبت ضروری ہے، فَوَقْتِيَّةٌ مُطْلَقَةٌ تو وہ کیا ہے وَقْتِيَّة مُطْلَقَة ہے۔ أَوْ غَيْرِ مُعَيَّنٍ یا وہ نسبت ضروری ہے کسی غیر معین وقت میں، فَمُنْتَشِرَةٌ مُطْلَقَةٌ تو وہ مُنْتَشِرَة مُطْلَقَة ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ دیکھیے اب شرح میں دیکھیے بھئی اب۔
قَوْلُهُ بِكَيْفِيَّةِ النِّسْبَةِ، کہتے ہیں نِسْبَةُ الْمَحْمُولِ إِلَى الْمَوْضُوعِ سَوَاءٌ كَانَتْ إِيجَابِيَّةً أَوْ سَلْبِيَّةً کہ محمول کی جو نسبت ہوتی ہے موضوع کی طرف، برابر ہے چاہے وہ ایجابی ہو یا سلبی ہو، تَكُونُ لَا مَحَالَةَ مُكَيَّفَةً فِي نَفْسِ الْأَمْرِ وَالْوَاقِعِ بِكَيْفِيَّةٍ کہ تَكُونُ لَا مَحَالَةَ، لَا مَحَالَةَ قطعی طور پر یا یقینی طور پر، تو کہتے ہیں یقینی طور پر وہ نسبت جو ہے وہ مکیف ہوگی، نفس الامر اور واقع میں کسی کیفیت کے ساتھ۔ یعنی نفس الامر اور واقع میں بھی اس کی کوئی نہ کوئی کیفیت وہ جو ایک چیز کا اثبات کر رہے ہیں دوسری چیز کے لیے یا ایک چیز کی نفی کر رہے ہیں، اس کی کوئی نہ کوئی کیفیت نفس الامر میں ضرور ہوگی، مِثْلِ الضَّرُورَةِ أَوِ الدَّوَامِ أَوِ الْإِمْكَانِ أَوِ الِامْتِنَاعِ وَغَيْرِ ذَلِكَ جیسے کہ ضروری ہونا یا دائمی ہونا یا ممکن ہونا یا ممتنع ہونا یا اس کے علاوہ، فَتِلْكَ الْكَيْفِيَّةُ الْوَاقِعَةُ فِي نَفْسِ الْأَمْرِ تُسَمَّى مَادَّةَ الْقَضِيَّةِ پس وہ کیفیت جو نفس الامر میں واقع ہو، اس کو مَادَّة قَضِيَّة کہتے ہیں۔ نفس الامر میں جو کیفیت ہے اس کو کیا کہتے ہیں؟ مَادَّة قَضِيَّة۔ ثُمَّ قَدْ يُصَرَّحُ فِي الْقَضِيَّةِ بِأَنَّ تِلْكَ النِّسْبَةَ مُكَيَّفَةٌ فِي نَفْسِ الْأَمْرِ بِكَيْفِيَّةِ كَذَا پھر کبھی کبھار تصریح کی جاتی ہے قضیے میں بھی کہ بِأَنَّ تِلْكَ النِّسْبَةَ مُكَيَّفَةٌ فِي نَفْسِ الْأَمْرِ کہ وہ نسبت جو ہے مکیف ہے نفس الامر میں بِكَيْفِيَّةِ كَذَا اس طرح کی کیفیت کے ساتھ۔
بھئی دیکھیے، زید کے لیے نفس الامر میں قیام ثابت ہے۔ یہ ضروری ہے یا ممکن ہے؟ ممکن ہے۔ تو کبھی کبھار پھر قضیے میں بھی بیان کر دیا جاتا ہے کہ زَيْدٌ قَائِمٌ بِالْإِمْكَانِ۔ قضیے میں بھی بِالْإِمْكَانِ کو کیا کر دیا جاتا ہے؟ ذکر۔ جب ذکر کر دیا جائے، تو اس وقت اس قضیے کو مُوَجَّهَة کہتے ہیں، یہی بیان کر رہے ہیں۔ تو کہتے ہیں ثُمَّ قَدْ يُصَرَّحُ فِي الْقَضِيَّةِ پھر کبھی قضیے میں بھی تصریح کر دی جاتی ہے بِأَنَّ تِلْكَ النِّسْبَةَ مُكَيَّفَةٌ فِي نَفْسِ الْأَمْرِ بِكَيْفِيَّةِ كَذَا کہ یہ والی نسبت جو ہے، مکیف ہے نفس الامر میں بِكَيْفِيَّةِ كَذَا اس طرح کی کیفیت کے ساتھ، یہ مکیف ہے فَالْقَضِيَّةُ حِينَئِذٍ تُسَمَّى مُوَجَّهَةً تو اس وقت قضیے کو مُوَجَّهَة کہتے ہیں، وَقَدْ لَا يُصَرَّحُ بِذَلِكَ اور کبھی اس کیفیت کی تصریح نہیں کی جاتی فَتُسَمَّى الْقَضِيَّةُ مُطْلَقَةً تو پھر قضیے کو مُطْلَقَة کہتے ہیں۔
وَاللَّفْظُ الدَّالُّ عَلَيْهَا فِي الْقَضِيَّةِ الْمَلْفُوظَةِ اور وہ لفظ جو دلالت کر رہا ہو اس کیفیت پر قَضِيَّة مَلْفُوظَة میں وَالصُّورَةُ الْعَقْلِيَّةُ الدَّالَّةُ عَلَيْهَا فِي الْقَضِيَّةِ الْمَعْقُولَةِ اور وہ صُورَة عَقْلِيَّة جو دلالت کر رہی ہو اس کیفیت پر قَضِيَّة مَعْقُولَة میں تُسَمَّى جِهَةَ الْقَضِيَّةِ اس کو جِهَة قَضِيَّة کہتے ہیں۔
بھئی دیکھو، ادھر دیکھیے۔ صُورَة عَقْلِيَّة کی بات آ گئی۔ میں نے آپ کو بتایا نفس الامر میں ایک چیز کے لیے دوسری چیز کا ثبوت یا ایک چیز سے دوسری چیز کی نفی، اس کی کوئی نہ کوئی کیفیت ضرور ہوگی۔ اور یہی کیفیت اگر قضیے میں ذکر کر دی جائے تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ جہت کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ جہت۔ اور نفس الامر اور واقع میں یہ کیفیت جو ہے، اس کا کیا نام ہے؟ مَادَّة قَضِيَّة۔ اور قضیے کے لفظوں میں اس کو ذکر کریں تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ جِهَة قَضِيَّة۔ اور یہ جِهَة قَضِيَّة کیا کرتی ہے؟ اس مَادَّة قَضِيَّة پر دلالت کرتی ہے، اس سے وہ سمجھ میں آتی ہے۔
اور قضیہ، قضیہ تو آپ نے پڑھا ہے قَوْلٌ يَحْتَمِلُ الصِّدْقَ وَالْكَذِبَ۔ وہ قول ہے جو صِدْق اور كِذْب کا احتمال رکھے۔ یہاں ایک اعتراض ہوا تھا کہ قول سے تو لفظ مراد ہے۔ اور قضیہ تو مَلْفُوظَة بھی ہوتا ہے اور مَعْقُولَة بھی۔ میں جو کچھ بول رہا ہوں، زبان ویسے ہی چل رہی ہے یا ذہن میں سوچتا جا رہا ہوں؟ ذہن میں سوچ۔ تو قضیہ تو دو قسم پر ہے۔ ایک مَعْقُولَة ہے جو ذہن میں ہے۔ اور ایک مَلْفُوظَة ہے جو کس سے ادا کیا؟ زبان سے۔ تو جہت صرف قَضِيَّة مَلْفُوظَة میں نہیں ہوتی، جہت قَضِيَّة مَعْقُولَة میں بھی ہوتی ہے۔
لیکن جو قَضِيَّة مَلْفُوظَة ہے، اس میں جہت جو آئے گی وہ لفظ ہوگی۔ زَيْدٌ قَائِمٌ بِالْإِمْكَانِ، یہ بِالْإِمْكَانِ کیا ہے؟ لفظ ہے۔ تو قَضِيَّة مَلْفُوظَة میں جہت لفظ کی صورت میں آئے گی اور قَضِيَّة مَعْقُولَة میں صُورَة عَقْلِيَّة کی شکل میں آئے گی۔ کس میں؟ صُورَة عَقْلِيَّة میں۔ یعنی یہی چیز ذہن میں سوچی، تو کوئی نہ کوئی چیز بِالْإِمْكَانِ پر دلالت کر رہی ہے یا نہیں ذہن میں؟ کر رہی ہے۔ لیکن وہ لفظ نہیں، لفظ تو وہ ہوتا ہے جو کس سے ادا کرتے ہیں؟ زبان سے۔ زَيْدٌ قَائِمٌ جب میں نے زبان سے کہا، پھر تو یہ قَضِيَّة مَلْفُوظَة ہے۔ لیکن یہی قضیہ میں نے ذہن میں... میرے ذہن میں ہے، تو پھر یہ قَضِيَّة مَعْقُولَة۔ اور قَضِيَّة مَلْفُوظَة میں جیسے جہت آتی ہے، اسی طرح قَضِيَّة مَعْقُولَة میں بھی جہت آتی ہے۔ تو قَضِيَّة مَلْفُوظَة میں جہت کوئی نہ کوئی لفظ ہوگا۔ زَيْدٌ قَائِمٌ بِالْإِمْكَانِ۔ توجہ ہے؟ اور ذہن میں بھی یہی ہے زَيْدٌ قَائِمٌ بِالْإِمْكَانِ، لیکن اس کو تو لفظ نہیں کہیں گے، لفظ تو وہ ہوتا ہے جو کس سے ادا کرتے ہیں؟ زبان سے۔ تو ذہن میں جو چیز اس جہت پر دلالت کرے، اس کو کہیں گے صُورَة عَقْلِيَّة۔ کوئی صورت ہوگی نا جو اس پر کیا کر رہی ہوگی؟ دلالت کر رہی ہوگی۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ صُورَة عَقْلِيَّة۔ یعنی کوئی پہچان ہے اس کی ذہن میں، کیا ہے؟ صُورَة سے صُورَة نہ مراد لیں کہ تصویر ہے، مراد ہے اس کی جو پہچان ہے ذہن میں۔ میرے ذہن میں بھی یہ پہچان ہے کہ زید کے لیے یہ جو قیام ثابت ہے، یہ کوئی لازمی یا وجوبی نہیں ہے، بلکہ یہ ممکن ہے، امکان ہے۔ تو ذہن میں جو چیز اس جہت پہ دلالت کرے، یعنی یوں کہو قَضِيَّة مَعْقُولَة میں جو چیز جہت پہ دلالت کرے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ صُورَة عَقْلِيَّة۔ کیا کہتے ہیں؟ صُورَة عَقْلِيَّة۔
ذہن میں جو چیز اس پر دلالت کرے وہ کیا ہے؟ صُورَة عَقْلِيَّة اور وہی جہت ہے۔ وہی کیا ہے؟ جہت۔ قَضِيَّة مَعْقُولَة میں بھی جہت ہو سکتی ہے اور قَضِيَّة مَلْفُوظَة میں بھی۔ لیکن قَضِيَّة مَلْفُوظَة میں جہت ہوگی وہ کوئی لفظ ہوگا، اور ذہن میں جو جہت ہے وہ صُورَة عَقْلِيَّة ہے۔ وہ کیا ہے؟ صُورَة عَقْلِيَّة ہے۔
مثلاً میں کہتا ہوں زَيْدٌ قَائِمٌ بِالْإِمْكَانِ، زید کا کھڑا ہونا ممکن ہے۔ یہ زبان ویسے چل پڑی یا پہلے میں نے ذہن میں تصور کیا؟ پہلے ذہن میں بھی تصور کیا کہ زید کے لیے قیام ممکن ہے۔ تو وہاں بھی میں جہت لے کر آیا، لیکن وہ جہت کیا لفظ تھی؟ نہیں، وہ صُورَة عَقْلِيَّة تھی۔ کیا تھی؟ صُورَة عَقْلِيَّة تھی۔ تو جہت جو ہے، قَضِيَّة مَلْفُوظَة میں بھی ہوگی اور جہت قَضِيَّة مَعْقُولَة میں بھی۔ قَضِيَّة مَلْفُوظَة میں جہت کس شکل میں ہوگی؟ لفظ کی صورت میں۔ اور قَضِيَّة مَعْقُولَة میں صُورَة عَقْلِيَّة کی صورت میں ہوگی، بات سمجھ میں آ گئی؟
کہتے ہیں وَاللَّفْظُ الدَّالُّ عَلَيْهَا فِي الْقَضِيَّةِ الْمَلْفُوظَةِ پس وہ لفظ جو دلالت کر رہا ہے اس کیفیت پر فِي الْقَضِيَّةِ الْمَلْفُوظَةِ، قَضِيَّة مَلْفُوظَة میں وَالصُّورَةُ الْعَقْلِيَّةُ الدَّالَّةُ عَلَيْهَا فِي الْقَضِيَّةِ الْمَعْقُولَةِ اور وہ صُورَة عَقْلِيَّة جو اس کیفیت پر دلالت کر رہی ہے قَضِيَّة مَعْقُولَة میں تُسَمَّى جِهَةَ الْقَضِيَّةِ اس کو جِهَة قَضِيَّة کہتے ہیں۔
معلوم ہوا جِهَة قَضِيَّة، قَضِيَّة مَلْفُوظَة میں... کوئی لفظ ہوگا۔ زَيْدٌ قَائِمٌ بِالْإِمْكَانِ۔ تو قَضِيَّة مَلْفُوظَة میں جہت پر کیا لفظ دلالت کر رہا ہے؟ بِالْإِمْكَانِ۔ اسی طرح ذہن کے اندر بھی کوئی چیز اس کیفیت پر دلالت کر رہی ہوگی، اس کا نام اس کو کیا کہہ دیا؟ صُورَة عَقْلِيَّة کہہ دیا۔ تو جو صُورَة عَقْلِيَّة بھی اس کیفیت پر قَضِيَّة مَعْقُولَة کے اندر دلالت کر رہی ہو، اس کو جِهَة قَضِيَّة کہتے ہیں۔
فَإِنْ طَابَقَتِ الْجِهَةُ الْمَادَّةَ صَدَقَتِ الْقَضِيَّةُ اگر جہت مطابق ہو گئی مادہ کے تو قضیہ صادق ہے۔
مثلاً مجھے بتائیے، زید کے لیے خارج میں یا واقع میں قیام ثابت ہے۔ زید کے لیے واقع میں قیام ثابت ہے۔ اور اس کی کیا کیفیت ہے؟ یہ ضروری ہے، دائمی ہے یا ممکن ہے؟ ممکن ہے۔ تو نفس الامر میں یہ کیفیت کیا ہے؟ بِالْإِمْكَانِ ہے۔ توجہ ہے؟ نفس الامر میں یہ زید کے لیے جو یہ قیام ثابت ہے، اس کی کیفیت کیا؟ بِالْإِمْكَانِ۔ تو اگر قضیے کے اندر بھی میں اس کو ذکر کروں اسی طرح، میں کہتا ہوں زَيْدٌ قَائِمٌ بِالْإِمْكَانِ۔ تو دیکھو بِالْإِمْكَانِ جو قضیے میں لفظ آیا، یہ ہے جِهَة قَضِيَّة۔ اور واقع کے اندر بھی یہی کیفیت ہے، وہ کیا ہے؟ مَادَّة قَضِيَّة۔ اور یہ جِهَة قَضِيَّة مَادَّة قَضِيَّة کے مطابق ہے۔ جِهَة قَضِيَّة کیا ہے؟ بِالْإِمْكَانِ۔ اور واقع میں بھی کیا ہے؟ بِالْإِمْكَانِ۔ تو بِالْإِمْكَانِ بِالْإِمْكَانِ کے مطابق ہو گیا۔ تو ہم کہیں گے یہ قضیہ صادق ہے۔ یہ کیا ہے؟ صادق ہے۔
اب دیکھو نفس الامر میں زید کھڑا ہے۔ اب دیکھو مثلاً میں جملہ بولتا ہوں زَيْدٌ قَائِمٌ بِالضَّرُورَةِ۔ زَيْدٌ قَائِمٌ بِالضَّرُورَةِ۔ بھئی زید کے لیے قیام واقع میں ہے یا نہیں؟ واقع میں ہے۔ میں نے بھی کیا کہا؟ زَيْدٌ قَائِمٌ۔ واقع میں زید کے لیے قیام کس کیفیت سے ہے؟ ممکن ہے۔ اور میں کیا لے آیا؟ بِالضَّرُورَةِ۔ تو یہاں پر جِهَة قَضِيَّة مَادَّة قَضِيَّة کے مطابق نہیں، لہٰذا اس کو کاذب کہیں گے۔ یہ قضیہ کاذب ہے، جھوٹ ہے، سچ نہیں ہے۔ زَيْدٌ قَائِمٌ بِالضَّرُورَةِ، جہت میں کیا لے کر آیا؟ بِالضَّرُورَةِ۔ اور نفس الامر اور واقع میں کیا ہے؟ بِالْإِمْكَانِ۔ تو یہ بِالضَّرُورَةِ بِالْإِمْكَانِ کے مطابق ہے؟ نہیں، یہ تو اس کے مطابق نہیں، لہٰذا اس قضیے کو کاذب کہیں گے۔ حالانکہ دیکھو، واقع میں زید کے لیے قیام ہے اور میں نے بھی کیا کہا ہے؟ زَيْدٌ قَائِمٌ، زید کے لیے کیا ثابت ہے قیام۔ لیکن صرف جہت غلط لے آیا تو ہم کیا کہیں گے، قضیہ کاذب ہے۔ تو صرف زَيْدٌ قَائِمٌ کہوں، تو قضیہ صادق۔ اور ساتھ جہت میں غلط لے آؤں تو سارے قضیے کو ہی کیا کہنا پڑے گا؟ کاذب کہنا پڑے گا۔ زید کے لیے تو قیام واقع میں ممکن ہے اور میں نے تو کیا کہہ دیا؟ زید کے لیے قیام بِالضَّرُورَةِ ضروری ہے، واجب ہے، تو جِهَة قَضِيَّة مَادَّة قَضِيَّة کے مطابق نہیں، لہٰذا اس قضیے کو کیا کہنا پڑے گا؟ کاذب۔
تو کہتے ہیں فَإِنْ طَابَقَتِ الْجِهَةُ الْمَادَّةَ صَدَقَتِ الْقَضِيَّةُ اگر جہت جو ہے مطابق ہو جائے مادہ کے، تو وہ قضیہ صادق ہے۔ كَقَوْلِنَا جیسے ہمارا یہ قول الْإِنْسَانُ حَيَوَانٌ بِالضَّرُورَةِ کہ انسان حیوان ہے بِالضَّرُورَةِ یقینی طور پر۔ انسان حیوان ہے بِالضَّرُورَةِ۔
جی اب مجھے بتائیے، ہر انسان کا حیوان ہونا ضروری ہے، ممکن ہے یا ممتنع ہے؟ ممتنع ہے، کہنا چاہیے تھا كُلُّ إِنْسَانٍ حَجَرٌ بِالِامْتِنَاعِ، ہر انسان کا حجر ہونا ممتنع ہے۔ دیکھو، جِهَة قَضِيَّة بدل گئی، غلط لے آئے۔ تو اس قضیے کو کیا کہیں گے؟ کاذب کہیں گے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ یا اس کے بجائے اور مثال لے آؤ تو بات اور واضح ہو جائے گی۔ مثلاً دوسری مثال لے آئیں مثلاً میں کہتا ہوں كُلُّ إِنْسَانٍ كَاتِبٌ، ہر انسان کاتب ہے۔ ایک ہے کتابت کی صلاحیت، وہ تو ہر انسان میں اللہ نے رکھی ہے، لیکن یہاں کتابت کی صلاحیت نہ مراد لیں۔ بِالْفِعْلِ کتابت لیں۔ یعنی واقع بِالْفِعْلِ کیا کرے ہاتھ سے کوئی چیز لکھے۔ تو اب میں کہتا ہوں كُلُّ إِنْسَانٍ كَاتِبٌ، ہر انسان ہاتھ سے کتابت کرنے والا ہے۔ اب مجھے بتائیے ہر انسان کا ہاتھ سے کتابت کرنا، ضروری ہے، ممتنع ہے، یا ممکن ہے؟ ممکن ہے، امکان ہے، اگر سیکھ لے گا تو پھر ہاتھ سے لکھ سکتا ہے۔ تو معلوم ہوا نفس الامر میں اور واقع میں، انسان کے لیے جو بِالْفِعْلِ کتابت ہے، وہ ممکن ہے، نفس الامر اور واقع میں وہ کیا ہے؟ ممکن ہے۔ تو قضیے میں مجھے یوں کہنا چاہیے، كُلُّ إِنْسَانٍ كَاتِبٌ بِالْإِمْكَانِ۔ لیکن میں بِالْإِمْكَانِ کی بجائے کہہ دیتا ہوں بِالضَّرُورَةِ۔ یا یوں کہوں میں کہہ دیتا ہوں بِالدَّوَامِ۔ كُلُّ إِنْسَانٍ كَاتِبٌ بِالدَّوَامِ، ہر انسان کتابت کرنے والا ہے ہاتھ سے لکھتا ہے بِالدَّوَامِ ہر وقت۔ کیا ہر وقت ہر انسان لکھتا رہتا ہے؟ نہیں۔ تو دیکھو، مَادَّة قَضِيَّة کیا تھا؟ بِالْإِمْكَانِ۔ اور جہت میں کیا لے آیا؟ بِالدَّوَامِ لے آیا۔ تو دیکھو جِهَة قَضِيَّة، مَادَّة قَضِيَّة کے مطابق نہیں، تو اس قضیے کو کیا کہیں گے؟ کاذب کہیں گے۔ تو كُلُّ إِنْسَانٍ كَاتِبٌ بِالْإِمْكَانِ کہیں تو ٹھیک۔ اور بِالضَّرُورَةِ یا بِالدَّوَامِ کہیں تو یہ درست نہیں ہے۔ تو پھر یہ قضیہ کاذب ہوگا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
حاصل کلام پھر سن لیں، آج آپ نے مُوَجَّهَات کے بارے میں پڑھا۔ کہ نفس الامر میں ایک چیز کا ثبوت دوسری چیز کے لیے، یا ایک چیز کی نفی دوسری چیز سے، اس کی کوئی نہ کوئی کیفیت ضرور ہوگی۔ یا تو یہ ضروری ہوگا، یا ممکن ہوگا، یا دائمی ہوگا، یا تین زمانوں میں سے کسی ایک زمانے میں ہوگا۔ تو اس کو مَادَّة قَضِيَّة کہتے ہیں۔ اور قضیے کے اندر اگر کوئی ایسا لفظ لے آئیں جو اس پر دلالت کرے، تو اس کو جِهَة قَضِيَّة کہتے ہیں۔ اور یہ جِهَة قَضِيَّة، مَادَّة قَضِيَّة کے مطابق ہوگی تو قضیہ صادق ہے، اگر مطابق نہیں تو قضیہ کاذب ہے۔ اور جس قضیے کے اندر جہت آئے، اس کو مُوَجَّهَة بھی کہتے ہیں، اور اس کو رُبَاعِيَّة بھی کہتے ہیں۔ اور جس قضیے میں جہت ذکر نہ ہو، اس کو قَضِيَّة مُطْلَقَة کہتے ہیں۔ اور اس کے بعد پھر میں نے آپ کو عُنْوَان مَوْضُوع اور وَصْف مَوْضُوع کے بارے میں بھی بتلایا تھا، کہ جس لفظ کے ذریعے موضوع کو تعبیر کیا جائے، وہ عُنْوَان مَوْضُوع اور وَصْف مَوْضُوع کہلاتا ہے۔ ایک ہے عُنْوَان مَوْضُوع، ایک ہے ذَات مَوْضُوع۔ عُنْوَان مَوْضُوع اور چیز، اور ذَات مَوْضُوع اور چیز۔ مثلاً زَيْدٌ قَائِمٌ، عُنْوَان مَوْضُوع کیا؟ زید، یہ لفظ زید ہے۔ اور ذَات مَوْضُوع کیا ہے؟ وہ زید کی جو ذات ہے جو واقع کے اندر موجود ہے۔ تو عُنْوَان مَوْضُوع اور چیز اور ذَات مَوْضُوع اور چیز۔ اور اس کو عنوان کہتے ہیں، اس لیے کیونکہ جس طرح کسی مضمون کے اوپر جو عنوان دیا جاتا ہے، اس سے مضمون کا پتہ چل جاتا ہے کہ یہ کس بارے میں ہے، یا جس طرح خط کے اوپر عنوان یعنی پتہ وغیرہ ہوتا ہے، اور وہ پتہ ہمیں بتلا دیتا ہے یہ خط کس کے لیے ہے، تو اسی طرح یہاں بھی عُنْوَان مَوْضُوع کیا کرتا ہے؟ ذَات مَوْضُوع کا پتہ دیتا ہے۔ زید کہا تو ذَات زَيْد ذہن میں آ گئی۔ تو عُنْوَان مَوْضُوع سے معرفت ہوتی ہے کس کی؟ ذَات مَوْضُوع کی۔ اور میں نے بتایا تھا کہ یہ عُنْوَان مَوْضُوع یا وَصْف مَوْضُوع کبھی موضوع کا عین ہوتا ہے، کبھی موضوع کا جز ہوتا ہے، اور کبھی موضوع کا وصف ہوتا ہے۔
اور پھر میں نے آپ کو یہ بھی بتلایا کہ یہ مُوَجَّهَات جو ہیں، یہ بہت زیادہ ہیں، لیکن مَنَاطِقَة جس سے بحث کرتے ہیں وہ پندرہ ہیں۔ پندرہ ہیں۔ آٹھ ان میں سے بَسَائِط ہیں اور سات مُرَكَّبَات ہیں۔ بَسَائِط، قَضِيَّة مُوَجَّهَة بَسِيطَة کس کو کہیں گے؟ جس میں صرف إِيجَاب ہو یا صرف سَلْب ہو۔ جبکہ مرکب وہ ہے جس میں إِيجَاب کے ساتھ ساتھ سَلْب۔ ایک ہی قضیے میں إِيجَاب بھی ہوگا اور سَلْب بھی ہوگا، تو وہ مُرَكَّبَة کہلائے گا۔ تو بَسَائِط آٹھ ہیں اور مُرَكَّبَات سات ہیں۔
پھر یہ جو ضرورت ہے، ضرورت کبھی ذات کے اعتبار سے ہوتی ہے، اور کبھی وصف کے اعتبار سے، اور کبھی وقت کے اعتبار سے، یا یوں کہو کہ ضرورت یا تو ذاتی ہوگی یا وصفی ہوگی یا وقتی ہوگی۔ اور پھر وقتی دو قسم پر ہے، یا تو کسی وقت معین میں ضروری ہوگی، یا کسی وقت غیر معین میں وہ چیز وہ نسبت ضروری ہوگی۔ تو اس اعتبار سے چار قسمیں ہو گئیں۔ اگر یہ نسبت موضوع کی ذات کے اعتبار سے ضروری ہے، تو اس کو ضَرُورِيَّة مُطْلَقَة کہتے ہیں۔ اور اگر یہ نسبت وصف موضوع کے اعتبار سے ضروری ہے، تو اس کو مَشْرُوطَة عَامَّة کہتے ہیں۔ اور اگر کسی وقت معین کے اعتبار سے یہ نسبت ضروری ہے، تو پھر اس کو وَقْتِيَّة مُطْلَقَة کہتے ہیں۔ اور اگر کسی وقت غیر معین کے اعتبار سے یہ نسبت ضروری ہے، تو اس کو مُنْتَشِرَة مُطْلَقَة کہتے ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔