دیکھیے بھئی آگے سبق۔
فَصْلٌ: اَلتَّنَاقُضُ اخْتِلَافُ الْقَضِیَّتَیْنِ بِحَیْثُ یَلْزَمُ لِذَاتِہٖ مِنْ صِدْقِ كُلٍّ كِذْبُ الْأُخْرٰی أَوْ بِالْعَكْسِ، وَلَا بُدَّ مِنَ الِاخْتِلَافِ فِي الْكَمِّ وَالْكَیْفِ وَالْجِهَةِ، وَالِاتِّحَادِ فِیْمَا عَدَاهَا۔
اچھا بھئی، گزشتہ سبق میں آپ نے پڑھا تھا کہ قضیہ شرطیہ وہ بھی کبھی محصورہ ہوتا ہے، کبھی شخصیہ ہوتا ہے، اور کبھی مہملہ ہوتا ہے۔ کیونکہ قضیہ شرطیہ میں اگر حکم جو ہے مقدم کے تمام احوال پر لگایا جائے تو وہ کلیہ ہے۔ قضیہ شرطیہ میں اگر مقدم کے تمام احوال پر حکم لگایا جائے تو وہ کلیہ ہے۔ جیسے كُلَّمَا كَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَةً فَالنَّهَارُ مَوْجُوْدٌ، سورج جب بھی طلوع ہوگا تو دن موجود ہوگا۔ تو اگر شرطیہ کے اندر جو حکم لگایا جا رہا ہے وہ مقدم کے تمام احوال پر ہو تو وہ کلیہ ہے۔ اور اگر بعض احوال پر ہو تو پھر وہ بعض احوال معین ہوں گے یا غیر معین۔ اگر غیر معین ہیں تو وہ جزئیہ ہے، وہ جزئیہ ہے۔
جیسے قَدْ یَكُوْنُ إِذَا كَانَ الشَّیْءُ حَیَوَانًا كَانَ إِنْسَانًا، کبھی کبھار جب کوئی چیز حیوان ہوتی ہے تو وہ انسان ہوتی ہے۔ تو دیکھو بعض احوال پر حکم لگایا گیا اور وہ معین نہیں ہیں۔ اور اگر وہ بعض احوال معین ہوں تو وہ شخصیہ ہے۔ جیسے اس کی مثال انہوں نے ذکر کی تھی إِنْ جِئْتَنِيَ الْیَوْمَ فَأَكْرَمْتُكَ، اگر آج آپ میرے پاس آئیں گے تو میں آپ کا اکرام کروں گا۔ دیکھو مقدم کے ایک معین حالت پر اکرام کا حکم لگایا گیا ہے۔ مقدم کیا تھا إِنْ جِئْتَنِيْ، اگر آپ میرے پاس آئیں گے، فَأَكْرَمْتُكَ تو میں کیا کروں گا؟ اکرام۔ لیکن آنے کے ساتھ ایک حالت معین کر دی، اَلْیَوْمَ، آج کے دن۔ اگر آج آپ میرے پاس آئیں گے تو میں آپ کا اکرام کروں گا۔ دیکھو مقدم کی بعض معین حالت پر اکرام کرنے کا حکم لگایا ہے۔
میں نے بتایا تھا دیکھو یہاں ایک صورت یہ ہے کہ تمام احوال پر یہ حکم لگایا جائے، كُلَّمَا جِئْتَنِيْ فَأَكْرَمْتُكَ، آپ جب بھی میرے پاس آئیں گے میں آپ کا اکرام کروں گا۔ تو اگر كُلَّمَا ہوتا تو پھر یہ آنے کے تمام احوال پر اکرام کا حکم تھا۔ كُلَّمَا ہوتا تو تمام احوال پر حکم ہوتا۔ اور اگر كُلَّمَا نہ ہوتا، یوں ہوتا إِنْ جِئْتَنِيْ فَأَكْرَمْتُكَ، اگر آپ میرے پاس آئیں گے تو میں آپ کا اکرام کروں گا، تو پھر یہ مہملہ بن جاتا۔ کیا بن جاتا؟ مہملہ بن جاتا۔ کیونکہ اس میں احوال کی مقدار بیان نہیں کی گئی کہ ہمیشہ آئیں گے تو اکرام کروں گا یا کبھی آئیں گے تو میں آپ کا اکرام۔ مطلقاً ذکر کیا گیا إِنْ جِئْتَنِيْ فَأَكْرَمْتُكَ، اگر آپ میرے پاس آئیں گے تو میں آپ کا اکرام کروں گا۔ اور اگر بعض معین احوال پر حکم لگایا جائے تو پھر وہ شخصیہ ہے۔ جیسے إِنْ جِئْتَنِيَ الْیَوْمَ، آج اگر آپ میرے پاس آئیں گے فَأَكْرَمْتُكَ تو میں آپ کا اکرام کروں گا۔
تو قضیہ شرطیہ کے اندر حکم جو ہے اگر مقدم کے تمام احوال پر ہو تو وہ کلیہ، اگر بعض احوال پر ہو تو وہ بعض احوال معین ہوں گے یا غیر معین۔ اگر معین ہیں تو وہ شخصیہ، اور اگر غیر معین ہیں وہ بعض احوال تو وہ جزئیہ ہے۔ اور اگر یہ بیان نہ کیا جائے کہ یہ حکم مقدم کے تمام احوال پر ہے یا بعض احوال پر ہے تو وہ قضیہ شرطیہ مہملہ ہے بھئی۔
اس کے بعد انہوں نے آپ کو بتلایا تھا کہ قضیہ شرطیہ کی جو دو طرفین ہیں، وہ اصل کے اندر یعنی ادات اتصال و انفصال کے داخل ہونے سے پہلے دو قضیے تھے۔ یہ جو مقدم اور تالی ہے، یہ ادات اتصال و انفصال کے داخل ہونے سے پہلے دو الگ الگ قضیے تھے بھئی۔ مقدم بھی الگ قضیہ تھا اور تالی بھی الگ قضیہ تھا۔ لیکن پھر ان پر ادات اتصال و انفصال داخل ہوئے اور انہوں نے ان کو پورا قضیہ ہونے سے نکال دیا۔ اب وہ جیسے اَلشَّمْسُ طَالِعَةٌ، یہ الگ قضیہ تھا، اَلنَّهَارُ مَوْجُوْدٌ، دن موجود ہے، یہ الگ قضیہ تھا۔ پھر اس پر اِنْ داخل ہوا، إِنْ كَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَةً، اگر سورج طلوع ہے، فَالنَّهَارُ مَوْجُوْدٌ تو دن موجود ہے۔ تو دیکھو ادات اتصال نے ان دونوں کو ملا کر ایک بنا دیا۔ اب ان میں سے صرف ایک کو ذکر کریں ادات اتصال یا انفصال کے ساتھ تو پھر قضیہ پورا نہیں۔
پہلے کیا تھا؟ اَلشَّمْسُ طَالِعَةٌ۔ اِنْ داخل ہوا، إِنْ كَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَةً، اگر سورج طلوع ہے۔ آپ بار بار کسی کو کہتے رہیں اگر سورج طلوع ہے، تو وہ کہے گا بھئی آپ بات پوری کریں، کیا کہنا چاہتے ہیں؟ اگر سورج طلوع ہے تو کیا ہوا؟ آگے آپ جزا بھی تو ذکر کریں۔ تو یہ دیکھو ادات شرط نے ان کو تام ہونے سے نکال دیا۔ پہلے اَلشَّمْسُ طَالِعَةٌ یہ مرکب تام تھا، یہ پورا قضیہ تھا۔ اب إِنْ كَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَةً جب اِنْ داخل ہو گیا تو اب یہ پورا قضیہ نہیں ہے، اب یہ مرکب ناقص ہے۔ تو اس کو ادات اتصال و انفصال نے تام ہونے سے نکال دیا۔ اب دونوں ملیں گے تو اب ایک پورا قضیہ بنے گا۔
پہلے کیا تھے؟ پہلے مقدم الگ قضیہ تھا اور تالی الگ تھا۔ پھر ادات اتصال نے آ کر ان کو پورا ہونے سے نکالا۔ اب مقدم اور تالی جڑیں گے تو پورا قضیہ بنے گا، ویسے پورا قضیہ نہیں بنے گا۔ لیکن پہلے کیا تھے دونوں؟ پورے پورے قضیے تھے۔ اور قضیہ تو تین قسم پر ہوتا ہے۔ کبھی وہ قضیہ حملیہ ہوتا ہے، کبھی شرطیہ متصلہ ہوتا ہے، اور کبھی شرطیہ منفصلہ۔ تو یہ جو مقدم ہے اس میں بھی تینوں احتمال۔ کیا؟ مقدم کیا ہو؟ قضیہ حملیہ ہو، یا مقدم کیا ہو؟ قضیہ متصلہ ہو، یا مقدم کیا ہو؟ قضیہ منفصلہ ہو، شرطیہ منفصلہ ہو۔ اور تالی کے اندر بھی یہی احتمال، یا تالی ہو سکتا ہے وہ قضیہ حملیہ ہو، ہو سکتا ہے وہ قضیہ شرطیہ متصلہ ہو، اور ہو سکتا ہے وہ قضیہ شرطیہ منفصلہ ہو۔ توجہ ہے؟ تو یہ مقدم میں بھی تین احتمال اور تالی میں بھی تین احتمال۔ اور یہ مقدم اور تالی متصلہ میں بھی ہو سکتے ہیں اور منفصلہ میں بھی ہو سکتے ہیں۔ تو متصلہ میں بھی مقدم اور تالی ہوتا ہے، منفصلہ میں بھی مقدم اور تالی۔
تو متصلہ کے مقدم میں بھی تین احتمال اور تالی میں بھی تین احتمال۔ اور منفصلہ کے مقدم میں اور تالی میں بھی تین تین احتمال۔ اور پھر اس میں کل صورتیں جو بنتی تھیں وہ متصلہ کے اندر نو صورتیں بنتی تھیں اور منفصلہ میں چھ صورتیں بنتی تھیں۔ کتنی؟ چھ۔ چھ صورتیں بنتی تھیں۔ کس طرح؟ قضیہ متصلہ ہے اور اس کا مقدم اور تالی ہے۔ مقدم اور تالی کس میں؟ قضیہ متصلہ میں۔ مقدم اور تالی دونوں جو ہیں وہ حملیہ ہوں گے، یا دونوں متصلہ ہوں گے، یا دونوں منفصلہ ہوں گے، تین یہ صورتیں۔ اور چھ صورتیں جن میں دونوں مختلف ہوں گے۔ مثلاً مقدم حملیہ ہے، تالی متصلہ ہے۔ اور پھر ان دونوں کی جگہ بدل دو، مقدم جو ہے اگر وہ متصلہ ہے تو تالی حملیہ ہے۔ اور اس سے اگلی صورت کہ مقدم اگر حملیہ ہے تو تالی منفصلہ ہے، پھر ان دونوں کی جگہ بدل دو کہ مقدم اگر منفصلہ ہے تو تالی حملیہ ہے۔ یا مقدم جو ہے متصلہ ہے اور تالی جو ہے منفصلہ ہے، اور پھر ان دونوں کی جگہ بدل دو، مقدم جو ہے وہ منفصلہ ہے اور تالی متصلہ۔ تو یہ نو صورتیں بنتی ہیں کس کے اندر؟ شرطیہ متصلہ کے اندر۔
اور چھ صورتیں بنتی ہیں کس میں؟ منفصلہ میں۔ کیونکہ منفصلہ میں بھی مقدم اور تالی ہے، مقدم میں بھی تین احتمال، تالی میں بھی تین احتمال۔ اور پھر تین صورتیں تو وہ ہیں جس میں دونوں متفق ہوں مقدم اور تالی۔ یہ دونوں کیا ہوں گے؟ حملیہ، یا دونوں کیا ہوں گے؟ متصلہ، یا دونوں کیا ہوں گے؟ منفصلہ۔ تو تین یہ صورتیں۔ اور تین صورتیں اور آ گئیں، کون سی؟ کہ مثلاً مقدم جو ہے وہ حملیہ ہے تو تالی متصلہ ہے، پھر ان کی چاہے جگہ بدل دو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اور یا مقدم حملیہ ہے اور تالی منفصلہ ہے، ان کی جگہ بدل دو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اور یا مقدم متصلہ ہے اور تالی منفصلہ ہے اور پھر ان کی جگہ بدل دو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ تو اختلاف جس میں مقدم اور تالی مختلف ہیں وہ تین صورتیں بنتی ہیں منفصلہ میں، اور چھ صورتیں بنتی ہیں متصلہ میں۔ تو متصلہ کی کل صورتیں ہو گئیں نو اور منفصلہ کی کل صورتیں ہو گئیں چھ۔
بھئی میں نے وجہ بھی بیان کی تھی کہ متصلہ میں اختلافی صورتیں چھ کیوں بنتی ہیں اور منفصلہ میں تین کیوں بنتی ہیں۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ جو منفصلہ ہے اس میں مقدم اور تالی صرف لفظوں میں مقدم اور تالی ہیں، ان کی جگہ بدل دو تو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ جی، توجہ ہے؟ تو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ جبکہ متصلہ کے اندر مقدم اور تالی کی جگہ بدلیں گے تو معنی بدل جاتا ہے۔ لہٰذا وہاں چھ صورتیں بن جائیں گی۔ کتنی؟ چھ۔ پہلا حملیہ ہے اور دوسرا متصلہ، تو متصلہ کو آگے کر دو اور حملیہ کو پیچھے کر دو تو یہ الگ قسم بن جائے گی کہ مقدم متصلہ ہو جائے اور تالی جو ہے وہ حملیہ ہو جائے۔ توجہ ہے؟ تو وہاں جگہ بدلنے سے معنی بدل جاتا ہے۔ جبکہ منفصلہ میں دو نسبتوں میں انفصال بیان ہو رہا ہے، چاہے مقدم کریں چاہے مؤخر کریں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ جیسے میں نے مثال ذکر کی تھی کہ هٰذَا الْعَدَدُ إِمَّا زَوْجٌ أَوْ فَرْدٌ، زوج پہلے ہے فرد بعد میں۔ آپ جگہ بدل دیں، هٰذَا الْعَدَدُ إِمَّا فَرْدٌ أَوْ زَوْجٌ، کوئی فرق نہیں پڑا بھئی۔
لیکن قضیہ متصلہ میں مقدم اور تالی کی جگہ بدلیں گے تو معنی بدل جائے گا، کیونکہ مقدم ہوتا ہے ملزوم اور تالی اس کے ساتھ ہوتا ہے لازم۔ جیسے إِنْ كَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَةً فَالنَّهَارُ مَوْجُوْدٌ، اس میں کیا بتایا گیا؟ کہ طلوع آفتاب کے ساتھ دن کا ہونا لازم ہے۔ جب بھی طلوع آفتاب ہوگا دن پایا جائے گا۔ تو یہ جو اول ہے مقدم، یہ کیا ہے؟ ملزوم۔ اور ثانی کیا ہے؟ لازم۔ اب ان کی آپ جگہ اگر بدل دیتے ہیں تو پھر پہلے کیا تھا؟ مقدم ملزوم تھا اور تالی لازم، تو ان دونوں میں تو لزوم کا تعلق ہے لیکن دونوں کی جگہ بدلیں تو تالی مقدم آ گیا اور مقدم تالی چلا گیا، تو اب پتہ نہیں ان میں لزوم والا علاقہ ہے یا نہیں۔
جیسے دیکھو، میں نے مثال ذکر کی تھی کہ اگر سورج نکلے گا تو یہ مسجد روشن ہوگی، یا یوں کہو اگر سورج نکلے گا تو اس مسجد میں روشنی ہوگی۔ دیکھو معلوم ہوا سورج کے نکلنے کے ساتھ اس مسجد میں روشنی ہونا لازمی ہے۔ لیکن ذرا جگہ بدل دو، اگر اس مسجد میں روشنی ہو تو معلوم ہوا سورج نکلا ہوا ہے، حالانکہ یہ ضروری تو نہیں۔ مسجد میں تو روشنی، رات کا وقت ہے آپ نے بلب جلائے ہوئے ہیں تو مسجد میں کیا ہے؟ روشنی۔ تو مسجد میں روشنی ہونے کے ساتھ سورج کا نکلنا لازمی نہیں، ہاں سورج کے نکلنے کے ساتھ مسجد کا روشن ہونا لازم تھا۔ تو دیکھا دونوں طرف سے لزوم ضروری نہیں ہوتا، کبھی لزوم ہوتا ہے اور کبھی لزوم نہیں ہوتا۔ تو پہلے نے بننا ہے ملزوم یعنی مقدم نے بننا ہے ملزوم متصلہ کے اندر، اور تالی نے بننا ہے لازم۔ لہٰذا وہاں مقدم اور تالی کی جگہ بدلیں گے تو معنی بدل جائے گا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی اچھی طرح؟
اب آئیے آج کے سبق پر۔
فَصْلٌ: اَلتَّنَاقُضُ اخْتِلَافُ الْقَضِیَّتَیْنِ بِحَیْثُ یَلْزَمُ لِذَاتِہٖ مِنْ صِدْقِ كُلٍّ كِذْبُ الْأُخْرٰی أَوْ بِالْعَكْسِ۔ تناقض کا بیان بھئی۔
بھئی یاد رکھیے، قضایا کی اقسام مکمل ہو گئیں۔ انہوں نے آپ کو بتلا دیا کہ قضیہ یا حملیہ ہوتا ہے یا شرطیہ۔ پھر اس کے بعد قضیہ حملیہ کی مختلف تقسیمات آپ کو بتائیں، اور پھر اس میں بتایا کہ موضوع کے اعتبار سے وہ چار قسم پر ہے۔ حملیہ کے اندر حکم یا تو جزئی پر ہوگا یا کلی پر۔ اگر جزئی پر حکم ہے تو وہ شخصیہ اور مخصوصہ ہے۔ اور اگر کلی پر حکم ہے تو کلی کی ماہیت اور حقیقت پر حکم ہوگا یا اس کے افراد پر۔ کلی کی ماہیت پر حکم ہے تو وہ قضیہ طبعیہ ہے۔ اور اگر افراد پر حکم ہے تو پھر افراد کی کلیت و جزئیت کو اس میں بیان کیا جائے گا یا بیان نہیں کیا جائے گا۔ اگر کلیت و جزئیت کو بیان کیا جائے تو وہ محصورہ ہے اور وہ مسورہ ہے، دو نام ہیں۔ اور اگر افراد کی تعداد کو بیان نہ کیا جائے، کلیت اور جزئیت کو بیان نہ کیا جائے تو وہ مہملہ ہے۔
اور انہوں نے آپ کو بتلایا تھا کہ ان میں سے علوم کے اندر جو معتبر ہیں قضیہ حملیہ میں سے وہ محصورات اربعہ ہیں۔ محصورات اربعہ جن میں سور ذکر ہوتا ہے یعنی کلی ہے یا جزئی، تو وہ دو قسم پر ہو گیا یا کلی ہوگا یا جزئی۔ اور پھر وہ کلی موجبہ ہوگا یا سالبہ۔ اسی طرح جزئی جو ہے وہ بھی کیا ہوگا؟ موجبہ ہوگا یا سالبہ۔ تو یہ ہیں محصورات اربعہ بھئی۔ کلیہ یا جزئیہ، پھر کلیہ جو ہے موجبہ ہوگا یا سالبہ، اسی طرح جو جزئیہ ہے وہ بھی موجبہ ہوگا یا سالبہ ہوگا۔
اور اس کے بعد پھر قضیہ شرطیہ کی بھی تفصیل انہوں نے بتائی کہ وہ دو قسم پر ہے، یا متصلہ ہوگا یا منفصلہ۔ پھر جو متصلہ ہے وہ لزومیہ ہوگا یا اتفاقیہ ہوگا، اور ان میں سے میں نے بتایا لزومیہ معتبر ہے۔ متصلہ میں سے صرف لزومیہ معتبر ہے۔ اس کے بعد پھر انہوں نے آپ کو بتلایا کہ منفصلہ جو ہے وہ یا حقیقیہ ہوگا یا مانعۃ الجمع ہوگا یا مانعۃ الخلو۔ اور پھر یہ تینوں قسمیں یا تو عنادیہ ہوں گی یا اتفاقیہ ہوں گی، اور ان میں سے پھر یہ صرف عنادیہ معتبر ہیں، اتفاقیہ معتبر نہیں ہیں۔
تو یہ قضایا کی اقسام کا بیان مکمل ہو گیا۔ اب قضایا کے احکام بیان کرنے لگے ہیں۔ کیا کرنے لگے ہیں؟ مختلف احکام جو قضیوں سے متعلق ہیں وہ بیان کرنے لگے ہیں۔ ان میں سے سب سے پہلے تناقض کو بیان کر رہے ہیں بھئی۔
تناقض کو اچھی طرح سمجھ لیں بھئی۔ تناقض یہ باب تفاعل ہے، تَفَاعُلٌ، اور تناقض کا مادہ جو ہے وہ نقض ہے، ن، ق اور ض، نقض۔ نقض کا معنی ہے باطل کرنا۔ نقض کا معنی ہے باطل کرنا، اور باب تفاعل ہے اور باب تفاعل جانبین سے فعل کو چاہتا ہے۔ تو تناقض اس کو کہتے ہیں کہ دو قضیوں کے اندر ایسا اختلاف ہو کہ ان میں سے ایک کا صادق آنے کے ساتھ لازم ہو دوسرے کا کاذب ہونا۔ یعنی دونوں صادق نہیں ہونے چاہییں اور دونوں کاذب بھی نہیں ہونے چاہییں، بلکہ ایک صادق ہو اور ایک کاذب ہونا۔ اگر پہلا صادق ہے تو دوسرا کاذب ہونا چاہیے اور اگر دوسرا صادق ہے تو پہلا کاذب ہونا چاہیے۔ تو دیکھو یہ دو قضیے ہیں اور ان میں سے ہر ایک کی ذات تقاضا کر رہی ہے کہ دوسرا قضیہ باطل ہے۔
مثلاً دیکھو، میں کہتا ہوں زَیْدٌ حَیَوَانٌ اور زَیْدٌ لَیْسَ بِحَیَوَانٍ۔ ایک میں ہے کہ زید حیوان ہے اور دوسرے میں ہے کہ زید حیوان نہیں ہے۔ تو دیکھو ان دونوں کی ذات ہی تقاضا کر رہی ہے، ایک کو سچا مانتے ہیں دوسرے کو جھوٹا ماننا پڑے گا۔ زید اگر حیوان ہے تو زَیْدٌ لَیْسَ بِحَیَوَانٍ یہ جھوٹا ہے۔ اور اگر یہ مان لیا جائے کہ زید حیوان نہیں ہے تو پھر زَیْدٌ حَیَوَانٌ کو باطل ماننا پڑے گا۔ تو ان دونوں قضیوں میں سے ہر ایک کی ذات تقاضا کر رہی ہے کہ دوسرا قضیہ باطل ہے، کیونکہ دونوں نہیں ہو سکتے۔ تو یہ جو تناقض جن قضیوں میں ہوتا ہے یاد رکھنا، وہ دونوں صادق نہیں ہو سکتے اور دونوں کاذب بھی نہیں ہو سکتے، بلکہ ان میں ایسا اختلاف ہو کہ ایک صادق ہو اور دوسرا کیا ہو؟ کاذب۔ اگر پہلا صادق ہے تو دوسرا کاذب، اور اگر دوسرا صادق ہے تو پہلا کاذب۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
تناقض کا مادہ کیا ہے؟ نقض۔ نقض کا کیا معنی؟ باطل کرنا۔ اور تناقض باب تفاعل ہے اور باب تفاعل جانبین سے فعل کو چاہتا ہے۔ یعنی دونوں قضیے ایک دوسرے کو باطل کر رہے ہیں۔ پہلے کو مانتے ہو تو وہ ثانی کو باطل کرتا ہے کہ وہ جھوٹا ہے، اور اگر ثانی کو مانتے ہو کہ یہ سچا ہے تو وہ پہلے کو باطل کرتا ہے کہ وہ جھوٹا ہے۔ زَیْدٌ حَیَوَانٌ اور زَیْدٌ لَیْسَ بِحَیَوَانٍ، زَیْدٌ حَیَوَانٌ کو مانتے ہو، زید کے لیے حیوان ہونے کا ثبوت ہے، تو دوسرے میں زید سے حیوان ہونے کی نفی ہے۔ اگر زید کے لیے حیوان کا ثبوت مانتے ہو تو زید سے حیوان کی نفی کو باطل ماننا پڑے گا۔ اور اگر دوسرے کو سچا مانتے ہو کہ زید سے حیوان کی نفی ہے تو پھر پہلے کو باطل ماننا پڑے گا کیونکہ اس میں تو زید کے لیے حیوان کا ثبوت ہے۔
تو تناقض جن قضیوں میں ہوگا، ان میں سے ہر ایک تقاضا کرتا ہے دوسرے کے باطل ہونے کا، کاذب ہونے کا۔ ایک کو سچا مانو گے تو دوسرے کو جھوٹا ماننا پڑے گا۔ دونوں سچے نہیں ہو سکتے، دونوں جھوٹے نہیں ہو سکتے۔ ایک کا سچا ہونا ضروری اور ایک کا جھوٹا ہونا ضروری ہے۔ تو یہ دونوں جمع بھی نہیں ہو سکتے اور یہ دونوں اٹھ بھی نہیں سکتے۔ دونوں جمع بھی نہیں ہو سکتے، پہلا بھی سچا ہو جائے دوسرا بھی سچا ہو جائے ایسا نہیں ہو سکتا۔ اور دونوں اٹھ بھی نہیں سکتے یعنی پہلا بھی جھوٹا ہو جائے دوسرا بھی جھوٹا ہو جائے ایسا بھی نہیں ہو سکتا۔ بلکہ ایک کا سچا ہونا اور دوسرے کا جھوٹا ہونا ضروری ہے۔ پہلے کو سچا مانو گے تو دوسرے کا جھوٹا ہونا ضروری، اور دوسرے کو سچا مانو گے تو پہلے کا جھوٹا ہونا ضروری ہے۔
تو تناقض کسے کہتے ہیں؟ کہ دو قضیوں میں ایسا اختلاف ہو کہ اس اختلاف کی ذات ہی یہ تقاضا کرتی ہے، یعنی ایسا اختلاف ہے ان دونوں میں کہ وہ اختلاف ہی تقاضا کر رہا ہے کہ ایک کو سچا مانو گے تو دوسرے کو جھوٹا ماننا پڑے گا۔
دیکھیے بھئی، کہتے ہیں فَصْلٌ: اَلتَّنَاقُضُ اخْتِلَافُ الْقَضِیَّتَیْنِ، تناقض جو ہے وہ دو قضیوں کا اختلاف ہے، بِحَیْثُ اس طور پر کہ یَلْزَمُ لِذَاتِہٖ، لِذَاتِہٖ کی ہا ضمیر راجع ہے اختلاف کو، کہ لازم ہو اس اختلاف کی ذات کے ساتھ، اس اختلاف کی ذات کے ساتھ ہی لازم ہو۔ مِنْ صِدْقِ كُلٍّ، أَيْ كُلِّ وَاحِدٍ، ان ایک کے صدق سے كِذْبُ الْأُخْرٰی دوسرے کا کذب۔ ایک کے صدق سے دوسرے کا کذب لازم ہو۔ یعنی وہ اختلاف جو ہے، وہ اختلاف کی ذات ہی تقاضا کر رہی، بھئی دونوں میں اختلاف ہونا چاہیے۔ دونوں میں کیا ہونا چاہیے؟ دونوں میں تناقض میں دونوں قضیوں میں اختلاف ہوگا لیکن ہر اختلاف نہیں مراد، بلکہ وہ اختلاف مراد ہے جس کی ذات ہی یہ تقاضا کرے کہ ایک کے صادق آنے سے دوسرا کاذب ہوگا۔
جی، تو یَلْزَمُ لِذَاتِہٖ أَيْ لِذَاتِ الِاخْتِلَافِ، تو کہتے ہیں تناقض کہتے ہیں اخْتِلَافُ الْقَضِیَّتَیْنِ وہ دو قضیوں کا اختلاف بِحَیْثُ اس طور پر کہ یَلْزَمُ لِذَاتِہٖ کہ اس اختلاف کی ذات کے ساتھ لازم ہو، کیا لازم ہو؟ مِنْ صِدْقِ كُلٍّ كِذْبُ الْأُخْرٰی، ایک کے صادق آنے سے دوسرے کا کاذب ہونا۔ اس اختلاف کی ذات کے ساتھ ہی لازم ہو ایک کے صادق آنے سے دوسرے کا کاذب ہونا۔ أَوْ بِالْعَكْسِ یا اس کا برعکس یعنی ایک کے کاذب آنے سے دوسرے کا صادق آنا۔ بھئی پہلے کیا بیان ہوا؟ مِنْ صِدْقِ كُلٍّ كِذْبُ الْأُخْرٰی، ایک کے صادق آنے سے دوسرے کا کذب، وَبِالْعَكْسِ، بالعکس کا کیا معنی؟ کہ ایک کے کذب سے دوسرے کا صدق، بات سمجھ میں آ گئی؟
بھئی دیکھیے، یہاں آیا مِنْ صِدْقِ كُلٍّ كِذْبُ الْأُخْرٰی، مِنْ صِدْقِ كُلٍّ، میں نے آپ کو بتایا تھا کہ یہ جو كُلٌّ ہے اور اسی طرح بَعْضٌ ہے یہ مضاف الیہ چاہتے ہیں۔ كُلٌّ کا معنی سارا۔ بھئی کیا چیز ساری؟ كُلُّ كُتُبٍ یا كُلُّ أَقْلَامٍ یا كُلُّ طَلَبَةٍ، کیا چیز ساری ہے؟ سارے طلبہ ہیں یا سارے قلم ہیں یا ساری کتابیں ہیں، تو آگے مضاف الیہ چاہیے۔ اور کبھی اس کے مضاف الیہ کو حذف کر لیتے ہیں اور اس کے عوض اس پر تنوین لے آتے ہیں۔ تو یہاں پر بھی مِنْ صِدْقِ كُلٍّ، یہ جو كُلٌّ پر تنوین ہے یہ عوض ہے مضاف الیہ سے اور اصل میں یوں ہے مِنْ صِدْقِ كُلِّ وَاحِدٍ، ہر ایک کے صدق سے كِذْبُ الْأُخْرٰی دوسرے کا کذب لازم آئے بھئی۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟
تو تناقض وہ دو قضیوں کا اختلاف ہے اس طور پر کہ یَلْزَمُ لِذَاتِہٖ کہ اس اختلاف کی ذات کے ساتھ ہی لازم ہو، کیا لازم ہو؟ مِنْ صِدْقِ كُلٍّ كِذْبُ الْأُخْرٰی أَوْ بِالْعَكْسِ، ایک کے صادق آنے سے دوسرے کا کاذب ہونا یا اس کا برعکس یعنی ایک کے کاذب ہونے سے دوسرے کا صادق ہونا اس کے ساتھ لازم ہو۔ یہ ایسا اختلاف، ہر اختلاف نہیں، ہر اختلاف نہیں۔
مثلاً دیکھو، مثلاً دیکھو بَعْضُ الْحَیَوَانِ إِنْسَانٌ، توجہ ہے؟ بَعْضُ الْحَیَوَانِ إِنْسَانٌ اور بَعْضُ الْحَیَوَانِ لَیْسَ بِإِنْسَانٍ۔ بعض حیوان انسان ہیں، بعض حیوان انسان نہیں ہیں۔ دیکھو دونوں میں اختلاف ہے یا نہیں؟ ایک میں ایجاب ہے تو ایک میں سلب ہے۔ اختلاف تو یہ بھی ہے لیکن یہ اختلاف نہیں معتبر بھئی، کیونکہ یہ تو دونوں صادق آ گئے۔ توجہ ہے؟ تناقض کس کا نام تھا؟ دو قضیوں میں ایسا اختلاف ہو کہ اس اختلاف کی ذات ہی تقاضا کرتی ہے کہ ایک کو صادق مانو گے تو دوسرا کاذب ہے، اور دوسرے کو صادق مانو گے تو پہلا کاذب ہے۔
لہٰذا بَعْضُ الْحَیَوَانِ إِنْسَانٌ اور بَعْضُ الْحَیَوَانِ لَیْسَ بِإِنْسَانٍ، اختلاف تو ان میں بھی ہے، ایک موجبہ ہے دوسرا کیا ہے؟ سالبہ۔ لیکن یہ اختلاف نہیں معتبر، کیوں؟ کیونکہ یہ تو دونوں سچے ہیں۔ ہم نے کہا تھا ایسا اختلاف کہ ان کی ذات ہی کیا تقاضا کرے؟ ایک سچا ہے تو دوسرا جھوٹا ہے، دونوں سچے نہیں ہو سکتے اور دونوں جھوٹے نہیں ہو سکتے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
پھر اس میں یاد رکھنا، مناطقہ کے قوانین کلی ہوتے ہیں۔ وہ ایسے قانون بناتے ہیں جو ہر جگہ پر صادق آئے۔ لہٰذا اگر کہیں پر اختلاف ایسا آ گیا کہ ایک کو صادق مانیں تو دوسرے کو جھوٹا ماننا لازم آتا ہے، اس کو بھی وہ تناقض نہیں کہیں گے جب تک تمام ان صورتوں میں ویسا ہی نہ ہو۔ توجہ ہے؟ مثلاً ایک جگہ دو قضیے ایسے آ گئے کہ ان دونوں میں ایسا اختلاف ہے کہ ایک کو سچا مانو گے تو دوسرے کو جھوٹا ماننا پڑے گا، لیکن اسی جیسے اور قضیے ڈھونڈ کے لے کر آؤ تو ان میں ایسا نہیں ہوتا۔ یہاں تو ایک کو سچا مانو گے دوسرے کو جھوٹا ماننا پڑے گا لیکن باقی جگہ اسی طرح کے قضیے لے کر آؤ، موضوع محمول بدلتے جاؤ، موضوع محمول اور قضیے لے آؤ تو ان میں ایسا نہیں ہے تو مناطقہ کے نزدیک یہ اختلاف معتبر نہیں ہے۔ ایسا اختلاف ہو، قانون ایسا بناؤ کہ جہاں بھی اس جیسی شکل آئے وہ اس پر پورا اترتا ہو جو آپ نے قانون بنا دیا۔ کیا بنا دیا جو آپ نے؟ قانون۔ دیکھو مثال سے، مثال سے بات سمجھ میں آئے گی۔
مثلاً ایک تو بات طے ہے کہ ایک قضیہ موجبہ ہو تو دوسرا کیا ہونا چاہیے؟ سالبہ۔ یہ اختلاف ضروری ہے، یہ اختلاف ضروری ہے۔ تو ایک موجبہ ہونا چاہیے تو دوسرا سالبہ ہونا چاہیے۔ پھر دیکھو، مثلاً اب ہم ایک موجبہ قضیہ لائیں گے اور ایک سالبہ، لیکن دونوں کلی لے آتے ہیں، پہلا بھی کلیہ اور دوسرا بھی کلیہ لے آتے ہیں، توجہ ہے؟ جیسے مثلاً كُلُّ إِنْسَانٍ حَیَوَانٌ، یہ کلیہ ہے جزئیہ ہے؟ کلیہ ہے۔ اب دوسرا کلیہ لے کر آؤ لیکن وہ سالبہ ہونا چاہیے، اور اس میں کل کا ذکر ہے، اس میں بھی وہ بھی کلیہ ہونا چاہیے اور سالبہ کلیہ کا سور کیا ہے؟ لَا شَیْءَ ہے۔ تو یہاں کیا ہے كُلُّ إِنْسَانٍ حَیَوَانٌ، دوسرا بنا لیں لَا شَیْءَ مِنَ الْإِنْسَانِ بِحَیَوَانٍ۔ توجہ ہے؟ كُلُّ إِنْسَانٍ اس میں کیا بیان ہوا؟ ہر انسان کیا ہے؟ حیوان ہے۔ اور دوسرے میں کیا بیان ہوا؟ لَا شَیْءَ مِنَ الْإِنْسَانِ بِحَیَوَانٍ، پہلا بھی کلیہ، دوسرا بھی کلیہ۔ بلکہ یہ اپنے سامنے لکھیں ذرا، اپنے سامنے لکھیں تاکہ آپ کے سامنے ہوگا تو آپ کو بات اچھی طرح سمجھ میں آئے گی۔
بھئی میں دراصل سمجھانا یہ چاہتا ہوں کہ ہر اختلاف معتبر نہیں۔ دو قضیوں میں اختلاف آ جائے تو آپ کو بظاہر نظر آئے تو آپ نے فوراً اس پہ تناقض کا حکم نہیں لگانا، بلکہ تناقض کا حکم مناطقہ وہاں لگاتے ہیں جہاں قانون کلی ہو یعنی اس جیسی تمام صورتوں میں تناقض آتا ہو، کیا آتا ہو؟ تناقض آتا ہو۔ اس جیسے کوئی سے دو قضیے آپ لے کر آئیں گے تو ان میں تناقض ہوگا۔ مثلاً دیکھو بھئی، لکھو مثال كُلُّ إِنْسَانٍ حَیَوَانٌ، كُلُّ إِنْسَانٍ حَیَوَانٌ، اس سے تھوڑا سا فاصلہ ایک لفظ کا فاصلہ چھوڑ کر آگے لکھیں لَا شَیْءَ مِنَ الْإِنْسَانِ بِحَیَوَانٍ، لَا شَیْءَ مِنَ الْإِنْسَانِ بِحَیَوَانٍ۔
توجہ ہے؟ جی، پہلا قضیہ کیا؟ كُلُّ إِنْسَانٍ حَیَوَانٌ، موجبہ ہے۔ دوسرا کیا ہے؟ لَا شَیْءَ مِنَ الْإِنْسَانِ بِحَیَوَانٍ، یہ سالبہ۔ اور پہلا بھی کلیہ ہے اور دوسرا بھی کلیہ ہے۔ پہلا موجبہ کلیہ اور دوسرا سالبہ کلیہ۔ پہلے میں کیا ذکر ہے؟ ہر انسان حیوان ہے۔ دوسرے میں ہے کوئی انسان حیوان نہیں ہے، ہر انسان سے حیوان ہونے کی نفی کر دی۔ اور دیکھیے، ایک صادق ہے پہلا، ہر انسان کیا ہے؟ حیوان۔ اور دوسرا صادق نہیں۔ پہلے کو مانو گے تو دوسرا، دوسرے کو کاذب ماننا پڑے گا۔ اور اگر آپ دوسرے کو مانتے ہو تو پھر پہلے کو کاذب ماننا پڑے گا۔ بھئی ایک میں ہے انسان حیوان ہے، دوسرے میں ہے انسان حیوان نہیں ہے۔ ایک چیز مانو گے تو دوسری کو کاذب ماننا پڑے گا۔ اگر پہلے کو مانتے ہو تو دوسرا کاذب، اور اگر آپ دوسرے کو مانتے ہیں تو پھر پہلا کاذب ماننا پڑے گا۔ تو یہاں تو پہلا صادق ہے تو دوسرے کو کیا ماننا پڑے گا؟ کاذب ماننا پڑے گا۔ لیکن دونوں کلیہ ہیں، دونوں کیا ہیں؟ کلیہ ہیں۔
یہاں بھی دیکھو دونوں میں اختلاف آیا اور ایک کو صادق مانتے ہو تو دوسرے کو کیا ماننا پڑے گا؟ کاذب۔ لیکن مناطقہ کے نزدیک یہ اختلاف معتبر نہیں۔ بھئی کیوں نہیں؟ ساری شرطیں تو پوری ہیں، آپ نے کیا کہا تھا؟ قضیوں میں اختلاف ہو، ان میں بھی اختلاف ہے، ایک موجبہ ہے تو دوسرا سالبہ۔ پھر آپ نے کہا تھا کہ یہ اختلاف ایسا ہو کہ ایک کو صادق مانیں تو دوسرے کو کاذب ماننا پڑے، وہ بھی یہاں پر ہے۔ پھر تناقض کیوں نہیں؟ کہتے ہیں بھئی وہ اختلاف ایسا ہو کہ اس کی ذات ہی تقاضا کرے، اس اختلاف کی ذات ہی تقاضا کرے یعنی جہاں بھی وہ اختلاف پایا جائے ایک کو صادق ماننا پڑے گا اور دوسرے کو کاذب۔ اور آپ نے ایک موجبہ کلیہ ہے اور ایک سالبہ کلیہ، تو ہمیشہ موجبہ کلیہ اور سالبہ کلیہ میں تناقض اس طرح نہیں ہوتا۔ مناطقہ کے قوانین کلی ہوتے ہیں۔ یہ کون کون سے قضیے ہیں ذرا دیکھو؟ موجبہ کلیہ اور سالبہ کلیہ۔ اگر ہر جگہ موجبہ کلیہ اور سالبہ کلیہ میں اسی طرح رہا، ایک کو صادق مانو گے تو دوسرے کو کاذب، پھر تو ہم مناطقہ اس کو تناقض کہیں گے، لیکن ہر جگہ ایسا ہوتا ہی نہیں۔
یہ کیا کیا ہے؟ موجبہ کلیہ اور سالبہ کلیہ۔ ہم دو اور قضیے لائیں گے، وہ بھی موجبہ کلیہ ہوں گے اور سالبہ کلیہ، اور آپ دیکھیں گے کہ ان میں تناقض نہیں ہے۔ اگلی مثال لکھیے اسی کے نیچے كُلُّ حَیَوَانٍ إِنْسَانٌ، كُلُّ حَیَوَانٍ إِنْسَانٌ اور لَا شَیْءَ مِنَ الْحَیَوَانِ بِإِنْسَانٍ، لَا شَیْءَ مِنَ الْحَیَوَانِ بِإِنْسَانٍ۔
توجہ ہے؟ موضوع محمول کو نہیں بدلنا، موضوع محمول اسی طرح ہونا چاہیے۔ ایک میں جو موضوع ہے دوسرے میں بھی وہی موضوع ہونا چاہیے، ایک میں جو محمول ہے دوسرے میں بھی وہی محمول ہونا چاہیے۔ اب دیکھیے، پہلا کیا ہے؟ كُلُّ حَیَوَانٍ إِنْسَانٌ، یہ موجبہ کلیہ۔ اور دوسرا کیا ہے؟ لَا شَیْءَ مِنَ الْحَیَوَانِ بِإِنْسَانٍ، یہ سالبہ کلیہ ہے۔ تو دیکھو یہ بالکل اسی طرح کے موجبہ کلیہ اور سالبہ کلیہ ہم لے آئے لیکن موضوع محمول کو ہم نے بدل دیا۔ ادھر دیکھیے، اگر وہ اختلاف ایسا ہوتا کہ اس کی ذات ہی تقاضا کرتی ایک سچا ہے اور دوسرا جھوٹا تو پھر یہاں بھی ایسا ہی ہونا چاہیے تھا لیکن یہاں ایسا نہیں، آپ ذرا غور کریں۔ كُلُّ حَیَوَانٍ إِنْسَانٌ، ہر حیوان انسان ہے۔ جی، مجھے بتائیے، کیا ہر حیوان انسان ہے؟ نہیں، یہ کاذب ہے۔ وَلَا شَیْءَ مِنَ الْحَیَوَانِ بِإِنْسَانٍ اور کوئی حیوان انسان نہیں ہے، کیا کوئی حیوان انسان نہیں ہے؟ نہیں، یہ بھی کاذب ہے۔ تو دیکھا دونوں کاذب آ گئے۔
معلوم ہوا ایک ہے موجبہ کلیہ، ایک ہے سالبہ کلیہ، ان دونوں میں بھی اختلاف ہوتا ہے لیکن یہ اختلاف ایسا نہیں کہ اس کی ذات ہی تقاضا کرے کہ ایک کو صادق مانو گے تو دوسرے کو کاذب، ورنہ ہر جگہ ایسا ہوتا۔ ایک جگہ تو آپ نے دیکھا ایک کو صادق مانتے ہیں تو دوسرے کو کاذب ماننا پڑتا ہے جیسے پہلی مثال میں تھا، اور دوسرے میں آپ دیکھتے ہیں تو دونوں ہی کاذب ہو گئے۔ معلوم ہوا موجبہ کلیہ اور سالبہ کلیہ میں ہمیشہ تناقض نہیں ہے جس کی ذات ہی کیا تقاضا کرے کہ ایک کو صادق مانو گے تو دوسرے کو کاذب ماننا پڑے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
چلو اب ہم یوں کرتے ہیں، ذرا دونوں جزئیہ بنا کر دیکھ لیتے ہیں کہ پھر ایسا اختلاف آتا ہے یا نہیں آتا دونوں میں۔ اگلی مثال لکھیے بَعْضُ الْإِنْسَانِ حَیَوَانٌ، بَعْضُ الْإِنْسَانِ حَیَوَانٌ۔ اس کے آگے ایک لفظ چھوڑ کر تھوڑا سا فاصلہ دے کر آگے لکھیں بَعْضُ الْإِنْسَانِ لَیْسَ بِحَیَوَانٍ، بَعْضُ الْإِنْسَانِ لَیْسَ بِحَیَوَانٍ۔ دیکھو قضیوں میں اختلاف ہے؟ قضیوں میں اختلاف ہے، ایک موجبہ ہے تو دوسرا سالبہ ہے۔ لیکن دونوں جزئیہ ہیں۔ پہلا ہے موجبہ جزئیہ کیونکہ بعض کا ذکر ہے، اور دوسرا سالبہ جزئیہ ہے کیونکہ اس میں بھی بعض کا ذکر ہے۔ پہلے میں کیا ذکر؟ بعض انسان حیوان ہیں۔ مجھے بتائیے، صادق ہے کاذب ہے؟ صادق ہے۔ ہم نے تو یہ کہا کہ بعض انسان حیوان ہیں، باقیوں کی ہم نے بات ہی نہیں کی کہ باقی بھی حیوان ہیں یا نہیں ہیں، ان کے بارے میں ہم خاموش ہیں۔ ہم نے تو ان کو ان کی نفی نہیں کی کہ باقی انسان کیا ہیں حیوان نہیں، ہم نے تو صرف بعض کی بات کی ہے تو یہ صادق ہے، بعض انسان کیا ہیں؟ حیوان۔ وَبَعْضُ الْإِنْسَانِ لَیْسَ بِحَیَوَانٍ اور بعض انسان حیوان نہیں۔
توجہ ہے؟ تو یہ دیکھو دونوں قضیے، ان میں اختلاف آ گیا۔ ایک موجبہ ہے اور ایک سالبہ، ایک موجبہ جزئیہ ہے تو دوسرا سالبہ جزئیہ۔ اور ان میں سے ایک کو سچا مانو گے تو دوسرے کو جھوٹا ماننا پڑے گا۔ ایک میں تو ہے بعض انسان حیوان ہیں اور ایک میں ہے بعض انسان حیوان نہیں، تو ان میں سے ایک کو سچا مانو گے تو دوسرے کو جھوٹا ماننا پڑے گا۔ لیکن یہ اختلاف ایسا نہیں کہ جہاں بھی موجبہ جزئیہ آئے اور اس کے مقابلے میں سالبہ جزئیہ آئے تو وہاں ہمیشہ ایسا ہی اختلاف ہو۔ میں نے بتایا مناطقہ کس طرح کا قانون بناتے ہیں جو کیا ہونا چاہیے؟ کلی ہونا چاہیے۔ اگر ہر جگہ موجبہ جزئیہ اور سالبہ جزئیہ میں ایسا ہی اختلاف ہوا تو ہم اس کو تناقض کہیں گے، ورنہ تناقض نہیں۔ یہاں کیسا اختلاف ہے؟ ایک کو سچا مانو تو دوسرے کو کیا ماننا پڑتا ہے؟ جھوٹا ماننا پڑتا ہے۔ اب ہم دوسرے دو موجبہ جزئیہ اور سالبہ جزئیہ لاتے ہیں، ذرا ان کو دیکھنا وہاں یہ صورت نہیں ہوگی، وہاں دونوں کیا ہو جائیں گے؟ صادق ہو جائیں گے۔
جیسے لکھو بھئی بَعْضُ الْحَیَوَانِ إِنْسَانٌ، بَعْضُ الْحَیَوَانِ إِنْسَانٌ وَبَعْضُ الْحَیَوَانِ لَیْسَ بِإِنْسَانٍ، وَبَعْضُ الْحَیَوَانِ لَیْسَ بِإِنْسَانٍ۔ بھئی ابھی جو دو قضیے پہلے لکھوائے ذرا، کون سے؟ بَعْضُ الْإِنْسَانِ حَیَوَانٌ اور بَعْضُ الْإِنْسَانِ لَیْسَ بِحَیَوَانٍ، دیکھو دونوں میں اختلاف تھا، ایک موجبہ تھا تو ایک سالبہ، ایک کو سچا ماننے سے دوسرے کو جھوٹا ماننا پڑتا تھا، لیکن یہ ہر جگہ نہیں ہے۔ جیسے اب میں نے یہ نئی مثال لکھوائی بَعْضُ الْحَیَوَانِ إِنْسَانٌ، مجھے بتائیے صادق ہے کاذب ہے؟ صادق ہے، بعض حیوان کیا ہیں؟ انسان ہیں۔ وَبَعْضُ الْحَیَوَانِ لَیْسَ بِإِنْسَانٍ اور بعض حیوان انسان نہیں ہیں، یہ بھی کیا ہے؟ صادق ہے۔ تو دیکھو دونوں صادق آ گئے حالانکہ ایک موجبہ جزئیہ ہے اور ایک سالبہ جزئیہ ہے۔ تو موجبہ جزئیہ اور سالبہ جزئیہ میں اگر ہر جگہ ویسا اختلاف ہوتا تو ہم اس کو تناقض کہتے، لیکن ہر جگہ ایسا اختلاف نہیں ہے۔
حاصل کلام کیا ہوا؟ دونوں کیا ہوں؟ دونوں قضیے اگر کلیہ ہوں، ایک موجبہ ہو اور ایک سالبہ، تو ان میں بھی تناقض ہمیشہ نہیں ہوتا۔ اور اسی طرح دونوں اگر جزئیہ ہوں، ایک موجبہ ہو اور ایک سالبہ، تو اس میں بھی ہمیشہ تناقض نہیں ہوتا، کبھی دونوں سچے بھی ہو جاتے ہیں۔ حاصل کلام یہ: موجبہ کلیہ اور سالبہ کلیہ، ان دونوں میں ہمیشہ تناقض نہیں ہوگا، کبھی ہوگا اور کبھی نہیں ہوگا۔ جیسے پہلی مثال تھی كُلُّ إِنْسَانٍ حَیَوَانٌ اور لَا شَیْءَ مِنَ الْإِنْسَانِ بِحَیَوَانٍ، کاپی پہ نظر ہے؟ اور لَا شَیْءَ مِنَ الْإِنْسَانِ بِحَیَوَانٍ، ان دونوں میں تناقض ہے۔ لیکن كُلُّ حَیَوَانٍ إِنْسَانٌ وَلَا شَیْءَ مِنَ الْحَیَوَانِ بِإِنْسَانٍ، یہ بھی موجبہ کلیہ اور سالبہ کلیہ ہیں لیکن یہ دونوں کاذب ہیں۔ معلوم ہوا موجبہ کلیہ اور سالبہ کلیہ میں ہمیشہ تناقض نہیں ہوتا۔ اسی طرح موجبہ جزئیہ اور سالبہ جزئیہ میں بھی ہمیشہ تناقض نہیں ہوتا بلکہ دونوں صادق بھی آ سکتے ہیں، جیسے بَعْضُ الْحَیَوَانِ إِنْسَانٌ وَبَعْضُ الْحَیَوَانِ لَیْسَ بِإِنْسَانٍ۔
تو مناطقہ پھر کلی قانون بناتے ہیں۔ مناطقہ کے نزدیک موجبہ کلیہ کی نقیض سالبہ جزئیہ آئے گی، موجبہ کلیہ کی نقیض سالبہ جزئیہ آئے گی بھئی۔ جیسے كُلُّ حَیَوَانٍ إِنْسَانٌ، كُلُّ حَیَوَانٍ إِنْسَانٌ، اس کی نقیض لاؤ۔ یہ موجبہ ہے تو آپ کیا لے آؤ؟ سالبہ۔ یاد رکھو موضوع محمول کو نہیں بدلنا۔ موجبہ کے مقابلے میں کیا لے آؤ؟ سالبہ۔ اور ایک کلیہ ہے تو دوسرا کیا لے آؤ؟ جزئیہ۔ ایک میں کل کا ذکر ہے تو دوسرے میں بعض کا ذکر ہونا چاہیے۔ كُلُّ حَیَوَانٍ إِنْسَانٌ، لکھو اپنے سامنے، کاپی پر لکھو بھئی۔
كُلُّ حَیَوَانٍ إِنْسَانٌ، كُلُّ حَیَوَانٍ إِنْسَانٌ، آگے سالبہ جزئیہ لکھو بھئی، سالبہ جزئیہ کیسے ہوگا؟ موضوع یہی ہو، محمول یہی ہو، سالبہ اور بعض کی بات کر دو۔ یہاں کیا تھا كُلُّ حَیَوَانٍ، آپ کیا لے آئیں؟ بَعْضُ الْحَیَوَانِ، لکھیں آگے بَعْضُ الْحَیَوَانِ، اور یہ موجبہ تھا آپ سالبہ لے آئیں، بَعْضُ الْحَیَوَانِ لَیْسَ بِإِنْسَانٍ۔ ایک میں کیا ذکر ہے؟ ہر حیوان انسان ہے۔ دوسرے میں کیا ذکر؟ بعض حیوان انسان نہیں ہیں۔
دوسرا صادق ہے۔ بعض حیوان انسان نہیں ہیں، وہ گائے بیل وغیرہ ہیں اور پہلا ”كُلُّ حَيَوَانٍ إِنْسَانٌ“ یہ کیا ہے؟ کاذب ہے۔ تو ان دونوں کی ذات ہی تقاضا کرتی ہے، ایک کو سچا مانو گے تو دوسرے کو جھوٹا ماننا پڑے گا۔ تو مناطقہ کے نزدیک قانون کیسا ہونا چاہیے؟ کلی۔ لہٰذا اب آپ کوئی دو قضیے لے آئیں، کوئی دنیا کے قضیے لے آئیں، موضوع محمول کو نہیں بدلنا، ایک کو کلی رکھو دوسرے کو جزئی، ایک کو اگر کلیہ موجبہ ہے تو دوسرے کو کیا لے آؤ؟ سالبہ لے آؤ۔ اور اور مثال لے لو، ”كُلُّ إِنْسَانٍ حَيَوَانٌ“ یہ لکھو، ”كُلُّ إِنْسَانٍ حَيَوَانٌ“۔ جی، اس کی نقیض لائیں۔ یہ کلی ہے، کلی کو کلیت کو بدل دیں کس سے؟ جزئیت سے اور یہ موجبہ ہے تو کیا لے آؤ؟ سالبہ۔ بنائیے بھئی، ”بَعْضُ الْإِنْسَانِ لَيْسَ بِحَيَوَانٍ“، یہ اس کی نقیض آ گئی۔
”كُلُّ إِنْسَانٍ حَيَوَانٌ“ اور ”بَعْضُ الْإِنْسَانِ لَيْسَ بِحَيَوَانٍ“ ان میں تناقض ہے۔ ایک کو سچا مانو گے تو دوسرے کو جھوٹا ماننا پڑے گا۔ اگر ہر انسان حیوان ہے اس کو سچا مانتے ہو تو بعض انسان حیوان نہیں ہیں اس کو کیا ماننا پڑے گا؟ جھوٹا۔ اور اگر دوسرے کو مانتے کہ بعض انسان حیوان نہیں ہیں، اگر اس کو سچا مانتے ہو تو پھر ”كُلُّ إِنْسَانٍ حَيَوَانٌ“ اس کو جھوٹا ماننا پڑے گا۔ تو تناقض کے لیے یاد رکھنا دونوں قضیوں کے اندر جن میں تناقض ہے، ان میں کیفیت میں اختلاف ہونا چاہیے۔ توجہ ہے؟ ادھر دیکھیے، کیفیت میں اختلاف ہونا چاہیے۔ اگر ایک موجبہ ہے تو دوسرا سالبہ ہونا چاہیے اور اگر پہلا سالبہ ہے تو دوسرا موجبہ ہونا چاہیے۔ نیز کم، کم کا معنی ہے مقدار، مقدار میں بھی اختلاف ہونا چاہیے۔ اگر پہلا کلیہ ہے تو دوسرا جزئیہ ہونا چاہیے اور اگر پہلا جزئیہ ہے تو دوسرا کلیہ ہونا چاہیے۔
تو تناقض کے لیے کیا ضروری؟ دو قضیوں کے اندر کیفیت میں بھی اختلاف ضروری اور کمیت کے اندر بھی اختلاف ضروری۔ کیفیت کا معنی ایجاب اور سلب اور کمیت کا معنی کلیت اور جزئیت۔ تو معلوم ہوا کہ موجبہ کلیہ کی نقیض سالبہ جزئیہ آئے گی۔ موجبہ کلیہ کی نقیض سالبہ جزئیہ آئے گی۔ دیکھو اختلاف آ گیا کلیت اور جزئیت میں بھی، ایک کلیہ ہے تو دوسرا جزئیہ، اور کیفیت میں بھی اختلاف آ گیا، ایک موجبہ ہے تو دوسرا سالبہ ہے۔ دیکھیے بھئی اب کتاب پر۔ کہتے ہیں ”وَلَا بُدَّ مِنَ الِاخْتِلَافِ فِي الْكَمِّ وَالْكَيْفِ وَالْجِهَةِ“ اور ضروری ہے ان قضیوں میں اختلاف کا ہونا ”فِي الْكَمِّ“، کس چیز میں؟ مقدار میں، یعنی ایک کلی ہے تو دوسرا جزئی ہونا چاہیے، ”وَالْكَيْفِ“ اور کس میں اختلاف ضروری؟ کیفیت، کیا معنی؟ یعنی ایک موجبہ ہے تو دوسرا سالبہ ہونا چاہیے، ”وَالْجِهَةِ“ اور جہت میں بھی اختلاف ہونا چاہیے۔
آپ نے موجہات پڑھے بھئی، موجہات پڑھے۔ موجہات میں کبھی بالضرورت کی جہت آتی ہے، کبھی بالامکان العام کی جہت اور کبھی بالدوام کی جہت اور کبھی بالفعل کی جہت۔ تو دو قضیے اگر موجہہ ہیں تو ان میں جہت بھی مختلف ہونی چاہیے۔ ایک میں ایک جہت ہے تو دوسرے میں دوسری جہت ہونی چاہیے ورنہ تناقض نہ رہے گا، تناقض نہ رہے گا۔ آگے مثالیں آ رہی ہیں شرح کے اندر، وہاں مثال کر لیں گے، جہت میں اختلاف کیوں ضروری ہے۔ تو کہتے ہیں ”وَلَا بُدَّ مِنَ الِاخْتِلَافِ فِي الْكَمِّ وَالْكَيْفِ وَالْجِهَةِ“ اور ضروری ہے ان قضیوں میں اختلاف کا ہونا کمیت یعنی مقدار میں، ایک جزئی ہے تو دوسرا کلی ہونا چاہیے، ”وَالْكَيْفِ“ اور کیفیت میں یعنی ایک موجبہ ہے تو دوسرا سالبہ ہونا چاہیے، ”وَالْجِهَةِ“ اور جہت میں بھی اختلاف ہونا چاہیے، ”وَالِاتِّحَادِ فِيمَا عَدَاهَا“، اتحاد کا عطف ہے اختلاف پر اور ضروری ہے اتحاد کا ہونا ان میں ”فِيمَا عَدَاهَا“ ان چیزوں کے علاوہ، یعنی کم، کیفیت اور جہت ان کے علاوہ باقی تمام چیزوں میں اتحاد ضروری ہے۔
”وَالِاتِّحَادِ فِيمَا عَدَاهَا“ اور کیا ضروری؟ ”فِيمَا عَدَاهَا“ ان تین چیزوں کے علاوہ باقی چیزوں میں اتحاد ضروری ہے۔ دونوں کا موضوع ایک ہونا چاہیے، دونوں کا محمول ایک ہونا چاہیے، دونوں کی جگہ ایک ہونی چاہیے، دونوں کا زمانہ ایک ہونا چاہیے، دونوں کی شرطیں ایک ہونی چاہئیں، دونوں میں قوت اور فعل میں اتحاد ہونا چاہیے، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ یہ یہ آٹھ آٹھ چیزوں میں اتحاد ضروری ہے، وہ آگے شرح میں آ جائے گا بھئی شرح میں۔ تو یہ تین چیزوں میں اختلاف ضروری اور باقی چیزوں میں اتحاد ضروری ہے، کس کے لیے؟ تناقض کے لیے۔ آئیے اب شرح میں دیکھیے بھئی۔ کہتے ہیں ”قَوْلُهُ: اخْتِلَافُ الْقَضِيَّتَيْنِ“، ”قَيَّدَ بِالْقَضِيَّتَيْنِ“ متن نے مقید کیا اختلاف کو قضیتین کے ساتھ کہ تناقض کس کا نام ہے؟ ”اخْتِلَافُ الْقَضِيَّتَيْنِ“، دو قضیوں میں اختلاف۔ حالانکہ نقیض تو مفرد میں بھی آتی ہے، انسان کی نقیض کیا ہے؟ لا انسان، قلم کی نقیض کیا ہے؟ لا قلم، حیوان کی نقیض کیا ہے؟ لا حیوان، حجر کی نقیض کیا ہے؟ لا حجر، کتاب کی نقیض کیا ہے؟ لا کتاب، تو نقیض تو مفرد میں بھی آتی ہے اور یہاں پر اس متن نے کیا قید لگا دی؟ ”اخْتِلَافُ الْقَضِيَّتَيْنِ“، یہ قید کیوں لگائی بھئی؟ تو آپ کو شرح میں آپ کو بتائیں گے کہ بھئی یا تو اس لیے کہ بعض علماء کا کہنا ہے کہ یہ جو تناقض ہے حقیقت میں قضیوں میں ہی ہوتا ہے۔ یہ تناقض حقیقت میں کس میں ہوتا ہے؟ قضیوں میں ہی ہوتا ہے اور جو مفردات میں تناقض آتا ہے وہ حقیقتاً نہیں ہے، وہ مجازاً ہے۔ وہ حقیقت میں تناقض نہیں، اس کو ہم مجازاً کیا کہہ دیتے ہیں؟ تناقض کہہ دیتے ہیں، تناقض کہہ دیتے ہیں۔
یا قضیتین کی قید اس لیے لگائی کیونکہ یہاں بحث قضیوں کی چل رہی ہے تو اسی کا تناقض یہاں بیان کریں گے، مفردات کی بحث یہاں نہیں چل رہی۔ جواب سمجھ میں آیا؟ کیا؟ کہ قضیتین کی قید کیوں لگائی؟ یا تو اس لیے کیونکہ مصنف کے نزدیک تناقض قضیوں ہی میں ہوتا ہے، مفردات میں ہوتا ہی نہیں، اگر ہوتا بھی ہے تو وہ مجازاً ہے۔ اور یا اس لیے کیونکہ یہ بیان کس کا چل رہا ہے؟ قضیوں کا بیان چل رہا ہے تو یہاں قضیوں ہی کا تناقض بیان کر رہے ہیں، سب کا تناقض یہاں بیان ہی نہیں کر رہے وہ۔ تو کہتے ہیں ”قَيَّدَ بِالْقَضِيَّتَيْنِ دُونَ الشَّيْئَيْنِ“ کہ متن نے مقید کیا قضیتین کے ساتھ اختلاف کو ”دُونَ الشَّيْئَيْنِ“، نہ کہ دو چیزوں کے ساتھ مقید نہیں کیا، یہ نہیں کہا ”اخْتِلَافُ الشَّيْئَيْنِ“، دو چیزوں میں اختلاف۔ اس میں مفرد بھی آ جاتا اور قضیہ بھی آ جاتا۔ کیوں؟ کہتے ہیں ”إِمَّا لِأَنَّ التَّنَاقُضَ لَا يَكُونُ بَيْنَ الْمُفْرَدَاتِ عَلَى مَا قِيلَ“ اس لیے کیونکہ تناقض جو ہے وہ مفردات میں نہیں ہوتا ”عَلَى مَا قِيلَ“ بنا بر اس کے جو کہا گیا ہے کہ تناقض مفردات میں نہیں ہوتا بنا بر اس کے جو کہا گیا ہے۔ شارح کو چونکہ یہ قول پسند نہیں تھا اس لیے ”عَلَى مَا قِيلَ“ قائل کی طرف نسبت کر دی۔ بنا بر اس کے جو کہا گیا ہے، یعنی میں تو ایسا نہیں کہتا، بعضوں نے کیا کہا ہے کہ مفردات میں تناقض نہیں ہے بلکہ تناقض حقیقت میں ہے ہی کس میں؟ قضیوں میں ہے۔
آپ بھی ایسا کرتے ہیں، آپ کو جب کسی بات پر اعتماد نہ ہو تو اس کی نسبت دوسرے کی طرف کر دیتے ہیں اور جب اعتماد ہو تو پھر نسبت نہیں کرتے۔ مثلاً کسی نے آپ کو آ کر بتایا کہ زید آ گیا ہے، زید آ گیا ہے۔ اب آگے آپ سے کوئی پوچھتا ہے کہ بھئی زید آیا کہ نہیں آیا؟ تو اگر آپ کو اس آدمی پہ اعتماد تھا جس نے آپ کو کیا بتایا تھا کہ زید آیا ہے تو دوسرے کو آپ بتاتے ہیں کہ بھئی زید آ گیا ہے۔ اور اگر آپ کو اس بتانے والے پر اعتماد نہیں تو پھر آپ کہتے ہیں، بھئی وہ فلاں آدمی کہہ رہا تھا کہ زید آ گیا ہے۔ اس نے پوچھا زید آیا یا نہیں، آپ کیا کہتے ہیں؟ فلاں آدمی کہہ رہا تھا زید آ گیا، دیکھا نسبت اس کی طرف کر دی کیونکہ آپ کو اس پر اعتماد نہیں۔ تو جب اعتماد ہوتا ہے تو انسان نسبت دوسرے کی طرف نہیں کرتا اور جب اعتماد نہیں ہوتا تو قائل ہی کی طرف قول کی نسبت کر دی جاتی ہے کہ اس نے یوں کہا ہے، یعنی ہمیں اس پر اعتماد نہیں۔ اس لیے ”عَلَى مَا قِيلَ“ کہا۔ دیکھیے پھر ترجمہ بھئی۔ کہتے ہیں ”قَيَّدَ بِالْقَضِيَّتَيْنِ دُونَ الشَّيْئَيْنِ“ متن نے مقید کیا اختلاف کو قضیتین کے ساتھ نہ کہ شیئین کے ساتھ، ”إِمَّا لِأَنَّ التَّنَاقُضَ لَا يَكُونُ بَيْنَ الْمُفْرَدَاتِ عَلَى مَا قِيلَ“ یا تو اس لیے کیونکہ تناقض جو ہے وہ مفردات کے درمیان نہیں ہوتا ”عَلَى مَا قِيلَ“ بنا بر اس کے جو کہا گیا ہے، ”وَإِمَّا“ یا اس وجہ سے ”لِأَنَّ الْكَلَامَ فِي تَنَاقُضِ الْقَضَايَا“ اس لیے کیونکہ یہ کلام جو ہے قضایا کے تناقض میں ہے، یعنی ان کے بارے میں یہ کلام کیا جا رہا ہے، مطلق تناقض کو یہاں بیان نہیں کیا جا رہا، بات سمجھ میں آ گئی؟
”قَوْلُهُ: بِحَيْثُ يَلْزَمُ لِذَاتِهِ“ الیٰ آخرہٖ، ”خَرَجَ بِهَذَا الْقَيْدِ الِاخْتِلَافُ الْوَاقِعُ“، بھئی انہوں نے کیا کہا تھا؟ متن میں دیکھیے۔ ”التَّنَاقُضُ اخْتِلَافُ الْقَضِيَّتَيْنِ بِحَيْثُ يَلْزَمُ لِذَاتِهِ“، تناقض وہ دو قضیوں میں اختلاف ہے ”بِحَيْثُ“ اس طور پر کہ ”يَلْزَمُ لِذَاتِهِ“ اس اختلاف کی ذات ہی کے ساتھ لازم ہو، کیا لازم ہو؟ ایک کے صادق آنے سے دوسرے کا کاذب ہونا۔ توجہ ہے؟ میں نے تو مثالیں بھی آپ کو لکھوا دیں کہ اختلاف تھا لیکن تناقض نہیں تھا بھئی۔ تو ”لِذَاتِهِ“ کی قید اس لیے لگائی کہ وہ اختلاف تناقض کہلائے گا جس کی ذات ہی تقاضا کرے کہ ہر جگہ پر کیا آنا چاہیے؟ جہاں بھی ویسی صورت آئے کیا ہونا چاہیے؟ تناقض ہونا چاہیے۔ کہتے ہیں ”خَرَجَ بِهَذَا الْقَيْدِ الِاخْتِلَافُ الْوَاقِعُ بَيْنَ الْمُوجِبَةِ وَالسَّالِبَةِ الْجُزْئِيَّتَيْنِ“، کہتے ہیں اس قید کے ذریعے نکل گیا وہ اختلاف جو واقع ہے کس کے درمیان؟ ”بَيْنَ الْمُوجِبَةِ وَالسَّالِبَةِ الْجُزْئِيَّتَيْنِ“، موجبہ اور سالبہ جزئیتین میں۔ بھئی ایک موجبہ جزئیہ، ایک سالبہ جزئیہ، توجہ ہے؟ ایک موجبہ جزئیہ، ایک سالبہ جزئیہ، میں نے مثال آپ کو لکھوائی، ”بَعْضُ الْإِنْسَانِ حَيَوَانٌ“ اور ”بَعْضُ الْإِنْسَانِ لَيْسَ بِحَيَوَانٍ“، یہ دونوں کیا ہیں؟ جزئیہ ہیں اور ایک موجبہ ہے اور ایک سالبہ۔ ان میں تو تناقض ہے لیکن ہر جگہ پر تناقض اس میں نہیں ہوتا۔ کہتے ہیں ”خَرَجَ بِهَذَا الْقَيْدِ الِاخْتِلَافُ الْوَاقِعُ بَيْنَ الْمُوجِبَةِ وَالسَّالِبَةِ الْجُزْئِيَّتَيْنِ“، اس قید کے ذریعے نکل گیا وہ جو اختلاف ہوتا ہے موجبہ اور سالبہ جزئیتین کے درمیان، ”فَإِنَّهُمَا قَدْ تَصْدُقَانِ مَعًا“ اس لیے کیونکہ کبھی کبھار وہ دونوں اکٹھے صادق ہو جاتے ہیں، ”نَحْوُ: بَعْضُ الْحَيَوَانِ إِنْسَانٌ وَبَعْضُهُ لَيْسَ بِإِنْسَانٍ“۔ بعض حیوان انسان ہیں، یہ بھی صادق، ”وَبَعْضُهُ لَيْسَ بِإِنْسَانٍ“ اور بعض حیوان انسان نہیں ہیں، دیکھو ایک موجبہ جزئیہ ہے ایک سالبہ جزئیہ، لیکن دونوں صادق ہیں، ”فَلَمْ يَتَحَقَّقِ التَّنَاقُضُ بَيْنَ الْجُزْئِيَّتَيْنِ“، تو تناقض نہیں پایا گیا دو جزئیوں کے درمیان۔ دو جزئیوں کے درمیان تناقض نہیں، تناقض تو کیا تقاضا کرتا تھا؟ ایک صادق ہو تو دوسرا کیا ہونا چاہیے؟ کاذب، لیکن کبھی کبھار دونوں کیا ہیں؟ صادق بھی آ جاتے ہیں۔
”قَوْلُهُ: أَوْ بِالْعَكْسِ“، بالعکس کا کیا معنی؟ کہتے ہیں ”أَيْ وَيَلْزَمُ مِنْ كِذْبِ كُلٍّ مِنَ الْقَضِيَّتَيْنِ صِدْقُ الْأُخْرَى“، یعنی لازم ہو دونوں قضیوں میں سے ہر ایک کے کذب کے ساتھ ”صِدْقُ الْأُخْرَى“ دوسرے کا صدق۔ تو کہتے ہیں ”خَرَجَ بِهَذَا الْقَيْدِ الِاخْتِلَافُ الْوَاقِعُ بَيْنَ الْمُوجِبَةِ وَالسَّالِبَةِ الْكُلِّيَّتَيْنِ“، اس قید کے ذریعے نکل گیا وہ جو اختلاف واقع ہوتا ہے موجبہ اور سالبہ کلیتین میں۔ ایک موجبہ کلیہ ہو اور ایک سالبہ کلیہ ہو، ان میں بھی کبھی تو تناقض ہو گا لیکن ہمیشہ تناقض نہیں۔ ایک موجبہ کلیہ اور ایک سالبہ کلیہ، تو وہ بھی نکل گئے کیونکہ یہ دونوں کبھی دونوں ہی جھوٹے ہو جاتے ہیں جیسے میں نے مثال لکھوائی تھی، ”فَإِنَّهُمَا قَدْ تَكْذِبَانِ مَعًا“ اس لیے کیونکہ یہ موجبہ کلیہ اور سالبہ کلیہ کبھی کبھار یہ دونوں اکٹھے جھوٹے ہو جاتے ہیں، جیسے ”لَا شَيْءَ مِنَ الْحَيَوَانِ بِإِنْسَانٍ وَكُلُّ حَيَوَانٍ إِنْسَانٌ“۔ کوئی حیوان انسان نہیں اور ہر حیوان انسان ہے۔ کوئی حیوان انسان نہیں، یہ بھی کاذب اور ہر حیوان انسان ہے، یہ بھی کاذب۔ تو ایک موجبہ کلیہ ہے ایک سالبہ کلیہ ہے اور کبھی تو ان میں تناقض ہوتا ہے لیکن کبھی دونوں ہی جھوٹے ہو جاتے ہیں، جیسے اس مثال میں۔ ”فَلَا يَتَحَقَّقُ التَّنَاقُضُ بَيْنَ الْكُلِّيَّتَيْنِ أَيْضًا“، پس تناقض نہیں پایا جاتا دو کلیوں کے درمیان بھی۔
”فَقَدْ عُلِمَ أَنَّ الْقَضِيَّتَيْنِ لَوْ كَانَتَا مَحْصُورَتَيْنِ“ پس یہ بات معلوم ہو گئی کہ دو قضیے اگر وہ محصورہ ہوں ”فَيَجِبُ اخْتِلَافُهُمَا فِي الْكَمِّ“ تو ان کا آپس میں اختلاف ضروری ہے ”فِي الْكَمِّ“ مقدار میں بھی، یعنی ایک کلی ہو تو دوسرا جزئی ہونا چاہیے، ”كَمَا سَيُصَرِّحُ الْمُصَنِّفُ بِهِ أَيْضًا“ جیسے کہ عنقریب اس کی تصریح مصنف بھی کریں گے۔ ہم نے تو آپ کو یہیں بتا دیا کہ دونوں جزئیہ ہوں تو بھی ہمیشہ تناقض نہیں ہوتا، دونوں کلیہ ہوں تو بھی ہمیشہ تناقض نہیں ہوتا۔ تو اس سے معلوم ہوا کہ دو محصورہ کے درمیان تناقض کے لیے ضروری ہے ایک کلی ہو تو دوسرا جزئی ہونا چاہیے ”وَسَيُصَرِّحُ الْمُصَنِّفُ بِهِ أَيْضًا“ اور عنقریب مصنف بھی اس کی تصریح کریں گے یعنی اس کو بیان کریں گے۔ تصریح کہتے ہیں صاف لفظوں میں ایک چیز کو بیان کرنا، کس کو بیان کرنا؟ صاف لفظوں میں ایک چیز کو بیان کرنا۔ دیکھو اور یہ شرح کس کی چل رہی ہے؟ دیکھو شرح میں، ”قَوْلُهُ: أَوْ بِالْعَكْسِ“ یہ کس کی شرح چل رہی ہے؟ بالعکس کی۔ اب متن میں آؤ ذرا، متن میں کیا ہے؟ ”بِالْعَكْسِ“، اس کی شرح چل رہی ہے۔ اور اس سے آگے دیکھو مصنف نے پھر تصریح کر دی صاف لفظوں میں بتا دیا کہ ”وَلَا بُدَّ مِنَ الِاخْتِلَافِ فِي الْكَمِّ“ کہ کم میں بھی اختلاف ضروری ہے، توجہ ہے؟ تو یہی شرح میں بیان کر رہے ہیں کہ ”يَجِبُ اخْتِلَافُهُمَا فِي الْكَمِّ“ کہ اختلاف فی الکم بھی ضروری ہے، مقدار میں بھی اختلاف ضروری ہے یعنی ایک کلیہ ہو تو دوسرا جزئیہ ہونا چاہیے، ”كَمَا سَيُصَرِّحُ الْمُصَنِّفُ رَحِمَهُ اللهُ بِهِ أَيْضًا“ جیسے عنقریب مصنف بھی اس کی تصریح کریں گے۔ اور پھر آگے مصنف نے دو تین لفظوں کے بعد ہی اس کی تصریح کر بھی دی، اوپر متن ہی میں کہہ دیا ”وَلَا بُدَّ مِنَ الِاخْتِلَافِ فِي الْكَمِّ“، بات سمجھ میں آ گئی۔
اور دیکھیے یہ شرح میں بھئی، شرح میں آیا اوپر ”قَوْلُهُ: بِحَيْثُ يَلْزَمُ لِذَاتِهِ“ الیٰ آخرہٖ اور اس کے نیچے آیا ”قَوْلُهُ: أَوْ بِالْعَكْسِ“، مل گیا بھئی؟ ”قَوْلُهُ: بِحَيْثُ يَلْزَمُ لِذَاتِهِ“ الیٰ آخرہٖ ایک یہ شرح، یہاں شرح کر رہے ہیں اور ایک اس سے آگے ہے ”قَوْلُهُ: أَوْ بِالْعَكْسِ“ ایک یہ شرح کر رہے ہیں، توجہ ہے؟ پہلے میں کیا کہا؟ ”قَوْلُهُ: بِحَيْثُ يَلْزَمُ لِذَاتِهِ“ الیٰ آخرہٖ، ”خَرَجَ بِهَذَا الْقَيْدِ“، اس قید کے لیے نکل گیا وہ جو اختلاف واقع ہے موجبہ اور سالبہ جزئیتین میں۔ کس میں؟ بھئی اس قید سے موجبہ اور سالبہ جزئیتین کے درمیان جو اختلاف ہے وہ نکل گیا اور آگے شرح میں آیا ”أَوْ بِالْعَكْسِ“، ”أَيْ وَيَلْزَمُ مِنْ كِذْبِ كُلٍّ مِنَ الْقَضِيَّتَيْنِ صِدْقُ الْأُخْرَى“، اس میں کہا ”خَرَجَ بِهَذَا الْقَيْدِ الِاخْتِلَافُ الْوَاقِعُ بَيْنَ الْمُوجِبَةِ وَالسَّالِبَةِ الْكُلِّيَّتَيْنِ“، اس قید کے ذریعے موجبہ کلیہ اور سالبہ کلیہ کے درمیان جو اختلاف ہے وہ نکل گیا۔ وہ توجہ ہے؟ ”بِحَيْثُ يَلْزَمُ لِذَاتِهِ“ سے کون سا اختلاف نکلا؟ موجبہ جزئیہ اور سالبہ جزئیہ والا، اور یہ بالعکس کے ذریعے کون سا اختلاف نکلا؟ موجبہ کلیہ اور سالبہ کلیہ۔ تو ایک میں جزئیہ والا اختلاف نکل گیا ایک قید سے اور دوسری قید سے کلیہ والا اختلاف نکل گیا۔ وہ کس طرح؟ دیکھو بھئی، اوپر ذرا متن پہ دیکھیے، ”بِحَيْثُ يَلْزَمُ لِذَاتِهِ مِنْ صِدْقِ كُلٍّ كِذْبُ الْأُخْرَى“، اس قید سے دو جزئیہ کا اختلاف نکل گیا، ایک موجبہ ہو اور ایک سالبہ۔ کیوں؟ اس میں کیا بیان ہوا؟ ایک کے صادق آنے سے دوسرے کا کذب لازم ہو، توجہ ہے؟ ایک کے صدق سے دوسرے کا کذب لازم ہو، حالانکہ کبھی دونوں جزئیہ صادق ہوتے ہیں جیسے انہوں نے مثال دی، شرح میں دیکھو مثال دی، ”بَعْضُ الْحَيَوَانِ إِنْسَانٌ وَبَعْضُهُ لَيْسَ بِإِنْسَانٍ“، مل گیا؟ بعض حیوان کیا ہیں؟ انسان، اور یہ صادق ہے، اور اس کا صادق آنا کیا تقاضا کر رہا ہے کہ دوسرا کیا ہونا چاہیے؟ متن میں کیا بتایا؟ ”مِنْ صِدْقِ كُلٍّ كِذْبُ الْأُخْرَى“، ایک کے صدق سے کیا آنا چاہیے؟ دوسرے کا کذب لازم آنا چاہیے۔ یہاں ”بَعْضُ الْحَيَوَانِ إِنْسَانٌ“ صدق آیا یا نہیں؟ ”بَعْضُ الْحَيَوَانِ إِنْسَانٌ“ بعض حیوان کیا ہیں؟ انسان، صادق ہے کاذب؟ صادق ہے، اور متن میں کیا بتایا ایک کے صادق ہونے کے ساتھ لازم ہو دوسرے کا کاذب ہونا، تو دوسرے کو کیا ہونا چاہیے؟ کاذب، لیکن دوسرا بھی جزئیہ ہے اور وہ سالبہ ہے، ”بَعْضُهُ“ ای ”بَعْضُ الْحَيَوَانِ لَيْسَ بِإِنْسَانٍ“ اور بعض حیوان انسان نہیں ہیں، یہ بھی صادق ہے۔ پہلا صادق، دوسرا بھی صادق، حالانکہ انہوں نے متن میں کیا بتایا تھا ایک کے صدق سے دوسرے کا کذب لازم آنا چاہیے، تو یہاں ایک کے صدق سے دوسرے کا کذب نہیں لازم آ رہا بلکہ دوسرا بھی صادق ہے، لہٰذا یہ جو جزئیتین میں اختلاف ہے وہ اس سے نکل گیا۔ کس میں؟ یہ دونوں جزئیہ ہیں نا اور دونوں ایک موجبہ ہے اور ایک سالبہ، اختلاف تو ہے لیکن کس میں اختلاف ہے؟ دو جزئیہ میں، یہ جزئیہ والا اختلاف نکل گیا، کیوں نکل گیا؟ کیونکہ انہوں نے کیا کہا تھا ایک کے صدق سے دوسرے کا کذب لازم آنا چاہیے اور یہاں تو ایک کے صدق سے دوسرے کا کذب لازم نہیں آ رہا، دونوں صادق ہیں، تو یہ دونوں پہلی قید سے نکل گئے۔
اور آگے کیا کہا؟ ”وَبِالْعَكْسِ“ اور بالعکس جو ہے اس کے ذریعے جو دو کلیوں میں اختلاف ہے وہ نکل گیا، توجہ ہے؟ کس طرح؟ کس طرح؟ ”وَبِالْعَكْسِ“ کا کیا معنی؟ دیکھو پہلے تھا ”مِنْ صِدْقِ كُلٍّ“، ایک کے صدق سے دوسرے کا کذب، اور اس کا عکس کیا؟ ایک کے کذب سے دوسرے کا صدق لازم آنا چاہیے، ایک کے کذب سے دوسرے کا صدق لازم آنا چاہیے اور یہاں مثال کیا دی اسی بالعکس میں شرح کے اندر؟ ”لَا شَيْءَ مِنَ الْحَيَوَانِ بِإِنْسَانٍ وَكُلُّ حَيَوَانٍ إِنْسَانٌ“۔ ”لَا شَيْءَ مِنَ الْحَيَوَانِ بِإِنْسَانٍ“ کوئی حیوان انسان نہیں، کاذب ہے صادق ہے؟ کوئی حیوان انسان نہیں، کاذب ہے اور کیا بتایا ایک کے کذب سے دوسرے کا صدق آنا چاہیے، یہ پہلا کاذب یہ یہ تقاضا کرتا ہے دوسرے کو کیا ہونا چاہیے؟ صادق ہونا چاہیے لیکن ”وَكُلُّ حَيَوَانٍ إِنْسَانٌ“ ہر حیوان انسان ہے، یہ بھی کاذب ہے۔ اب بات سمجھ میں آ گئی؟ تو ”مِنْ صِدْقِ كُلٍّ كِذْبُ الْأُخْرَى“ اس سے وہ اختلاف نکل گیا جو دو جزئیتین میں ہو، ایک موجبہ ہو اور ایک سالبہ کیونکہ دونوں دونوں صادق ہوتے ہیں کبھی کبھار، اور ”وَبِالْعَكْسِ“ اس کے ذریعے وہ اختلاف نکل گیا جو کس کے درمیان ہو؟ جو دو کلیہ قضیوں کے درمیان ہوں کیونکہ ایک کے کذب سے دوسرے کا صادق لازم ہونا چاہیے لیکن کبھی کبھار دونوں کیا ہوتے ہیں؟ کاذب ہوتے ہیں، بات سمجھ میں آ گئی۔
”قَوْلُهُ: وَلَا بُدَّ مِنَ الِاخْتِلَافِ“، جی متن میں آیا تھا اور اختلاف ضروری ہے، کتنی چیزوں میں اختلاف ضروری؟ کم، کیف اور جہت۔ کم کا کیا معنی؟ مقدار یعنی کلیت اور جزئیت میں، کیف کا کیا معنی؟ ایجاب و سلب، ایک موجبہ ہو تو دوسرا سالبہ، اور جہت میں بھی کیا ہونا چاہیے؟ اختلاف، اگر جہت ذکر ہے۔ ”أَيْ يُشْتَرَطُ فِي التَّنَاقُضِ أَنْ يَكُونَ إِحْدَى الْقَضِيَّتَيْنِ مُوجِبَةً وَالْأُخْرَى سَالِبَةً“، شرط ہے تناقض میں کہ دو قضیوں میں سے ایک موجبہ ہو اور دوسرا سالبہ ہو، ”ضَرُورَةَ أَنَّ الْمُوجِبَتَيْنِ وَكَذَا السَّالِبَتَيْنِ قَدْ تَجْتَمِعَانِ فِي الصِّدْقِ وَالْكِذْبِ مَعًا“، ضرورةً اس بات کی یقینی ہونے کی وجہ سے کہ دو موجبہ ”وَكَذَا السَّالِبَتَيْنِ“ اور اسی طرح دو سالبہ جو ہیں ”قَدْ تَجْتَمِعَانِ“ کبھی دونوں جمع ہو جاتے ہیں ”فِي الصِّدْقِ وَالْكِذْبِ مَعًا“، صدق اور کذب میں اکٹھے۔ ادھر دیکھیے، تناقض کے لیے ضروری ہے کہ دو قضیوں میں سے ایک موجبہ ہو تو دوسرا کیا ہونا چاہیے؟ سالبہ۔ اگر دونوں موجبہ ہوں یا دونوں کیا ہوں؟ سالبہ ہوں پھر تناقض نہیں ہو گا بلکہ کبھی دونوں ہی صادق ہو جائیں گے اور کبھی دونوں ہی کاذب ہو جائیں گے بھئی۔ یہ معنی ہے ”ضَرُورَةَ“ اس بات کی یقینی ہونے کی وجہ سے کہ ”أَنَّ الْمُوجِبَتَيْنِ وَكَذَا السَّالِبَتَيْنِ“ کہ دو موجبہ ”وَكَذَا السَّالِبَتَيْنِ“ اور دو سالبہ ”قَدْ تَجْتَمِعَانِ“ کبھی دونوں جمع ہو جاتے ہیں ”فِي الصِّدْقِ“، صدق میں یعنی دونوں صادق آ جاتے ہیں، ”وَالْكِذْبِ مَعًا“ یا کذب میں اک یعنی اکٹھے۔
ہم نے تو کیا کہا تھا؟ تناقض میں کیا ضروری؟ ایک صادق ہو تو دوسرا کاذب ہونا چاہیے لیکن اگر دونوں موجبہ ہوں تو کبھی دونوں صادق ہوتے ہیں اور کبھی دونوں کاذب، اور اگر دونوں سالبہ ہوں تو بھی کبھی دونوں صادق ہوتے ہیں اور کبھی دونوں کاذب۔ جیسے دیکھو، ادھر دیکھیے، دونوں موجبہ لے آؤ۔ ”كُلُّ إِنْسَانٍ حَيَوَانٌ“، ہر انسان کیا ہے؟ حیوان ہے۔ ہر انسان؟ حیوان۔ دوسرا قضیہ لاؤ، موضوع محمول یہی رکھو اور دونوں کو موجبہ رکھو۔ پہلا کیا ہے؟ ”كُلُّ إِنْسَانٍ حَيَوَانٌ“، دوسرا قضیہ بناؤ اس میں موضوع یہی ہونا چاہیے محمول بھی یہی، لیکن دونوں موجبہ بنانے ہیں۔ جب دونوں موجبہ ہوں گے کچھ نہ کچھ اختلاف تو ضرور چاہیے کیونکہ تناقض میں اوپر بتایا تھا کہ قضیوں میں کیا ہوتا ہے؟ اختلاف، تو اب کیا اختلاف کر سکتے ہیں؟ ایجاب و سلب والا اختلاف تو نہیں کر سکتے، دونوں ہم نے کیا بنانے ہیں؟ موجبہ، تو پھر کون سا اختلاف کر دو؟ مقدار والا۔ ایک پہلا کلی ہے تو دوسرا کیا بنا دو؟ بعض والا یعنی جزئی بنا دو۔ جی ”كُلُّ إِنْسَانٍ حَيَوَانٌ“ یہ موجبہ، دوسرا موجبہ لاؤ؟ ”بَعْضُ الْإِنْسَانِ حَيَوَانٌ“۔ ”كُلُّ إِنْسَانٍ حَيَوَانٌ“ یہ بھی صادق، ”بَعْضُ الْإِنْسَانِ حَيَوَانٌ“ یہ بھی صادق ہے، دونوں صادق آ گئے؟ اور کبھی دونوں موجبہ ہوں گے اور دونوں کاذب ہوں گے، جیسے ”كُلُّ إِنْسَانٍ حَجَرٌ“، ”كُلُّ إِنْسَانٍ حَجَرٌ“، اسی کے مقابل بناؤ صرف کلیت جزئیت بدلو، دونوں موجبہ ہمیں چاہئیں۔ ”بَعْضُ الْإِنْسَانِ حَجَرٌ“۔ ”كُلُّ إِنْسَانٍ حَجَرٌ“ وہ بھی کاذب، ”بَعْضُ الْإِنْسَانِ حَجَرٌ“ وہ بھی کاذب۔ دیکھا دونوں موجبہ ہوں گے تو کبھی دونوں صادق ہوں گے کبھی دونوں کاذب ہوں گے۔
اور اسی طرح سلب میں لے آؤ۔ دو دو سالبہ بناؤ اور پھر اس میں بھی آپ دیکھیں گے کبھی دونوں صادق ہوں گے کبھی دونوں کاذب۔ سالبہ بناؤ ایک کلیہ، ”لَا شَيْءَ مِنَ الْإِنْسَانِ بِحَجَرٍ“، کوئی انسان پتھر نہیں، کلیہ ہے، لا شئی لے کر آیا۔ دوسرا لے کر آؤ، یہ کلیہ ہے اب جزئیہ لے آؤ۔ ”لَا شَيْءَ مِنَ الْإِنْسَانِ بِحَجَرٍ“ کوئی انسان پتھر نہیں، آگے کہو بعض انسان پتھر نہیں۔ ”بَعْضُ الْإِنْسَانِ“، موضوع محمول نہیں بدلنے، پہلے میں موضوع انسان ہے اور محمول کیا ہے؟ حجر، تو آپ نے آگے بھی کیا بنانا ہے، موضوع کو انسان اور محمول کو حجر۔ ”بَعْضُ الْإِنْسَانِ لَيْسَ بِحَجَرٍ“، ”بَعْضُ الْإِنْسَانِ لَيْسَ بِحَجَرٍ“، پہلا بھی سالبہ، دوسرا بھی سالبہ، دو سالبہ ہم لے آئے۔ دو سالبہ لے آئے لیکن اختلاف تو ضرور چاہیے تھا کیونکہ تناقض میں کیا ہوتا ہے؟ اختلاف تو ضرور ہوتا ہے، تو پہلے کو کلیہ رکھا دوسرے کو ہم نے جزئیہ، دونوں سالبہ ہیں اور دونوں صادق ہیں۔ کوئی انسان پتھر نہیں اور بعض انسان پتھر نہیں، میں نے بعض کی بات کی ہے سب کی بات تو نہیں کی، میں نے تو کہا بعض انسان پتھر نہیں، باقی انسان پتھر ہیں یا نہیں میں ان کے بارے میں خاموش ہوں۔ ”بَعْضُ الْإِنْسَانِ لَيْسَ بِحَجَرٍ“ یہ بھی صادق اور ”لَا شَيْءَ مِنَ الْإِنْسَانِ بِحَجَرٍ“ یہ بھی صادق، تو دیکھا ایجاب و سلب میں مخالفت نہیں ہے، دونوں سالبہ ہیں تو کبھی دونوں کیا ہو جاتے ہیں؟ دونوں صادق ہو جاتے ہیں اور کبھی دونوں ہی کاذب ہو جائیں گے، کبھی دونوں ہی کاذب ہو جائیں گے۔
جیسے دیکھو، ”لَا شَيْءَ مِنَ الْإِنْسَانِ بِحَيَوَانٍ“، ”لَا شَيْءَ مِنَ الْإِنْسَانِ بِحَيَوَانٍ“، کوئی انسان حیوان نہیں، کاذب ہے۔ دوسرا لاؤ؟ موضوع محمول کو اسی طرح رکھنا ہے، ”بَعْضُ الْإِنْسَانِ لَيْسَ بِحَيَوَانٍ“، یہ بھی کاذب۔ ”لَا شَيْءَ مِنَ الْإِنْسَانِ بِحَيَوَانٍ“ یہ بھی کاذب اور ”بَعْضُ الْإِنْسَانِ لَيْسَ بِحَيَوَانٍ“ یہ بھی کاذب۔ تو دیکھا دونوں موجبہ رکھو گے تو کبھی دونوں سچے اور کبھی دونوں جھوٹے، اور دونوں سالبہ رکھو گے تو کبھی دونوں سچے اور کبھی دونوں جھوٹے۔ معلوم ہوا ایجاب اور سلب میں بھی اختلاف ضروری ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔ یہ معنی ہے ”أَيْ يُشْتَرَطُ فِي التَّنَاقُضِ“، شرط ہے تناقض میں ”أَنْ يَكُونَ إِحْدَى الْقَضِيَّتَيْنِ مُوجِبَةً وَالْأُخْرَى سَالِبَةً“ کہ دو قضیوں میں سے ایک موجبہ ہو اور دوسرا سالبہ ہو، ”ضَرُورَةَ أَنَّ الْمُوجِبَتَيْنِ وَكَذَا السَّالِبَتَيْنِ قَدْ تَجْتَمِعَانِ فِي الصِّدْقِ وَالْكِذْبِ مَعًا“، ضرورت کا ترجمہ کریں یقیناً، اس بات کے یقینی ہونے کی وجہ سے کہ دو موجبہ جو ہیں اور اسی طرح دو سالبہ جو ہیں ”قَدْ تَجْتَمِعَانِ“ کبھی دونوں جمع ہو جاتے ہیں ”فِي الصِّدْقِ وَالْكِذْبِ مَعًا“ صدق اور کذب میں اکٹھے، کبھی دونوں صادق اور کبھی دونوں کاذب۔
”ثُمَّ إِنْ كَانَ الْقَضِيَّتَانِ مَحْصُورَتَيْنِ يَجِبُ اخْتِلَافُهُمَا فِي الْكَمِّ أَيْضًا كَمَا مَرَّ“، پھر دونوں قضیے اگر محصورہ ہوں تو ”يَجِبُ اخْتِلَافُهُمَا فِي الْكَمِّ أَيْضًا“ تو ان دونوں کا اختلاف کم یعنی مقدار میں بھی ضروری ہے ”كَمَا مَرَّ“ جیسے یہ بات گزر گئی۔ ”ثُمَّ إِنْ كَانَتَا مُوَجَّهَتَيْنِ“ پھر اگر وہ دو قضیے موجہہ ہیں ”فَيَجِبُ اخْتِلَافُهُمَا فِي الْجِهَةِ“ تو ان دونوں میں اختلاف ضروری ہے جہت میں بھی، ”فَإِنَّ الضَّرُورِيَّتَيْنِ قَدْ تَكْذِبَانِ مَعًا“ اس لیے کیونکہ دو ضروری قضیے جو ہیں وہ کبھی جھوٹے ہو جاتے ہیں اکٹھے۔ دونوں ہی کیا ہو جاتے ہیں؟ جھوٹے، جب کیا ہو؟ ضرورت کی جہت ہو، ضروری قضیے یعنی دونوں میں ضرورت کی جہت ہو، جیسے ”نَحْوُ: لَا شَيْءَ مِنَ الْإِنْسَانِ بِكَاتِبٍ بِالضَّرُورَةِ وَكُلُّ إِنْسَانٍ كَاتِبٌ بِالضَّرُورَةِ“۔ میری کتاب میں یہ ”لَا شَيْءَ مِنَ الْإِنْسَانِ“ یہ سالبہ پہلے ہے اور ”كُلُّ إِنْسَانٍ كَاتِبٌ“ یہ موجبہ بعد میں، بعض کتابوں میں موجبہ پہلے ہو گا اور سالبہ بعد میں ہو گا، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ جیسے ”لَا شَيْءَ مِنَ الْإِنْسَانِ بِكَاتِبٍ بِالضَّرُورَةِ“، کوئی انسان کاتب نہیں بالضرورة، یقینی طور پر، یعنی ہر انسان سے کتابت کی نفی ضروری ہے۔ توجہ ہے؟ ”لَا شَيْءَ مِنَ الْإِنْسَانِ بِكَاتِبٍ“، انسان کے لیے کتابت کا اثبات ہے یا نفی کی جا رہی ہے؟ نفی، اور بالضرورت کی جہت ہے، معلوم ہوا ہر انسان سے کاتب ہونے کی نفی ضروری ہے، ضروری ہے کہ کوئی بھی انسان کاتب نہ ہو۔ اور اگلے میں ہے ”كُلُّ إِنْسَانٍ كَاتِبٌ بِالضَّرُورَةِ“، ہر انسان کاتب ہے بالضرورة، یقینی طور پر۔ ہر انسان کیا ہے؟ یقینی طور پر، اور یہ دونوں جھوٹے ہیں، دونوں کیا ہیں؟ جھوٹے ہیں بھئی۔
بھئی یہ کاتب ہونے کی صلاحیت انسان میں اللہ نے رکھی ہے لیکن کیا یہ کاتب ہونے کی صلاحیت کے بغیر انسان نہیں ہو سکتا؟ ہو سکتا ہے، کیونکہ یہ کاتب ہونا انسان کے لیے صفت ہے، یہ اس کی ذات میں داخل نہیں، کیا ہے؟ بھئی ایک چیز ذات میں داخل ہو اس کے بغیر تو وہ چیز نہیں ہو سکتی، وہ اس کے لیے ضروری ہے جیسے حیوان۔ حیوان انسان کی حقیقت میں داخل ہے، انسان کی حقیقت کیا؟ حیوان ناطق، تو یہ حیوان ہونا انسان کے لیے ضروری ہے کیونکہ حیوان کے بغیر انسان ہو ہی نہیں سکتا لیکن کاتب ہونا یا نہ ہونا یہ تو انسان کے لیے ضروری نہیں ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔ کوئی انسان کاتب نہیں ہو سکتا یہ ضروری ہے، یہ قضیہ بھی کیا ہے؟ کاذبہ، اور ہر انسان کے لیے کاتب ہونا ضروری ہے، یہ بھی کیا ہے؟ کاذب ہے۔ انسان کے لیے نہ کتابت ضروری ہے اور نہ عدم کتابت ضروری ہے، ہاں انسان کے لیے حیوان ہونا بھی ضروری کیونکہ اس کے بغیر وہ ہو ہی نہیں سکتا اور ہر انسان کے لیے ناطق ہونا بھی ضروری ہے۔ تو دیکھو یہ دونوں جھوٹے ہو گئے، دونوں قضیہ دونوں میں جہت ایک ہے اور دونوں کیا ہیں؟ جھوٹے، معلوم ہوا ان میں تناقض نہیں کیونکہ تناقض میں تو اختلاف کس قسم کا ہونا چاہیے؟ ایک صادق ہو تو دوسرا کاذب ہو، دونوں میں اختلاف تو ہے لیکن ایسا اختلاف نہیں ہے کہ ایک کو صادق مانیں تو دوسرا کاذب ماننا پڑے بلکہ دونوں ہی کاذب ہیں۔
”وَالْمُمْكِنَتَيْنِ“ اور ممکنَتین دونوں کیا ہوں؟ ممکنہ ہوں، دونوں ممکنہ ہوں ”قَدْ تَصْدُقَانِ مَعًا“ تو وہ دونوں کبھی صادق آ سکتے ہیں بھئی، جہت نہیں بدلی۔ پہلے میں جہت دونوں میں کیا رکھی؟ بالضرورت، تو دونوں کاذب ہو گئے۔ اور آگے دو قضیے لائیں گے، دونوں ممکنہ ہوں گے یعنی دونوں میں بالامکان العام کی جہت ہو گی تو دونوں کیا ہوں گے؟ صادق ہو جائیں گے۔ معلوم ہوا ان میں تناقض نہیں، اگر جہت نہیں بدلو گے تو تناقض نہیں، کبھی دونوں کاذب ہوں گے اور کبھی دونوں صادق ہوں گے۔ دیکھیے بھئی، ”وَالْمُمْكِنَتَيْنِ قَدْ تَصْدُقَانِ مَعًا“ اور دو ممکنہ جو ہیں وہ کبھی اکٹھے ہی دونوں صادق ہو جاتے ہیں، ”كَقَوْلِنَا“ جیسے ہمارا یہ قول ”كُلُّ إِنْسَانٍ كَاتِبٌ بِالْإِمْكَانِ الْعَامِّ“، ہر انسان کاتب ہے بالامکان العام، یعنی ہر انسان کا کاتب ہونا ممکن ہے، ”وَلَا شَيْءَ مِنَ الْإِنْسَانِ بِكَاتِبٍ بِالْإِمْكَانِ الْعَامِّ“ اور یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی انسان کاتب نہ ہو۔ پہلے میں کیا بتایا؟ معلوم ہوا ہر انسان کا کاتب ہونا ممکن ہے، ہر انسان کاتب ہو یہ بھی یہ بھی سچا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی انسان کاتب نہ ہو، توجہ ہے؟ یہ بھی ممکن ہے، امکان ہے نا، امکان ہے ہو سکتا ہے ہر انسان کیا ہو؟ کاتب ہو اور یہ بھی امکان ہے کہ کوئی بھی انسان کاتب نہ ہو، تو دیکھو دونوں میں امکان عام کی جہت لے کر آئے اور ایک موجبہ ہے اور ایک سالبہ ہے، اختلاف تو موجود ہے لیکن جہت ایک جیسی ہے اس لیے ان میں تناقض نہیں۔ معلوم ہوا تناقض کے لیے کیا ضروری؟ کہ جہت بھی مختلف ہونی چاہیے۔
دیکھیے ”لَا شَيْءَ مِنَ الْإِنْسَانِ بِكَاتِبٍ بِالضَّرُورَةِ وَكُلُّ إِنْسَانٍ كَاتِبٌ بِالضَّرُورَةِ“، توجہ ہے؟ آپ کے ذہن میں اشکال آئے گا کہ یہ دونوں کلیہ ہیں، ”لَا شَيْءَ مِنَ الْإِنْسَانِ بِكَاتِبٍ بِالضَّرُورَةِ“ یہ سالبہ کلیہ ہے اور ”كُلُّ إِنْسَانٍ كَاتِبٌ بِالضَّرُورَةِ“ یہ موجبہ کلیہ ہے حالانکہ مقدار میں اختلاف ہونا چاہیے تو بھئی آپ بے شک مقدار میں اختلاف کر لیں پھر بھی بات وہی ہے۔ مثلاً کیا ہے؟ ”لَا شَيْءَ مِنَ الْإِنْسَانِ بِكَاتِبٍ بِالضَّرُورَةِ“ یہ کلیہ ہے تو دوسرے کو کیا بنا لو؟ جزئیہ بنا لو، ”بَعْضُ الْإِنْسَانِ كَاتِبٌ بِالضَّرُورَةِ“، بعض انسان کیا ہیں؟ کاتب ہیں بالضرورت، یعنی بعض انسانوں کا کاتب ہونا ضروری ہے۔ پہلے میں کیا بیان ہوا؟ یہ ضروری ہے کہ کوئی بھی انسان کاتب نہ ہو، کوئی بھی انسان، اور دوسرے میں کیا آیا؟ کہ یہ ضروری ہے کہ بعض انسان کاتب ہوں، تو دیکھو دونوں جو ہیں جھوٹے ہیں بھئی۔ کوئی بھی انسان کاتب نہ ہو یہ ضروری ہے، حالانکہ یہ تو ضروری نہیں ہے، اور اسی طرح بعض انسان کا کاتب ہونا ضروری، یہ بھی درست نہیں ہے، کیونکہ صفت ہے نا صفت ہے۔ ضروری تو وہ چیز ہوتی ہے جو ذات میں داخل ہو، صفت تو ضروری نہیں، صفت کے بغیر تو موصوف ہو سکتا ہے، ہاں اپنی ذاتی کے بغیر کوئی ذات نہیں ہو سکتی۔ تو یہ دونوں مثالیں کلیہ ہیں، یہ والی بھی اور اسی طرح ”كُلُّ إِنْسَانٍ كَاتِبٌ بِالْإِمْكَانِ الْعَامِّ“ یہ بھی دونوں کلیہ ہیں، آپ نے پریشان نہیں ہونا، آپ ایک کو کلی کر دیں دوسرے کو جزئی بنا دیں، جس کو بھی جزئی بنانا چاہیں چاہے پہلے کو چاہے دوسرے کو، آپ دیکھیں گے بات اسی طرح رہتی ہے۔ پہلی صورت میں دونوں جھوٹے ہیں تو دوسری صورت میں دونوں سچے ہوں گے، بات سمجھ میں آ گئی۔
آگے بھئی، ”قَوْلُهُ: وَالِاتِّحَادِ فِيمَا عَدَاهَا“ اور اتحاد ہو اس کے علاوہ میں۔ اس کے علاوہ میں کیا ہونا چاہیے؟ اتحاد ہونا چاہیے۔ شرح دیکھیے، ”قَوْلُهُ: وَالِاتِّحَادِ فِيمَا عَدَاهَا أَيْ وَيُشْتَرَطُ فِي التَّنَاقُضِ اتِّحَادُ الْقَضِيَّتَيْنِ فِيمَا عَدَا الْأُمُورِ الثَّلَاثَةِ الْمَذْكُورَةِ أَعْنِي الْكَمَّ وَالْكَيْفَ وَالْجِهَةَ“ اور شرط ہے تناقض میں ”اتِّحَادُ الْقَضِيَّتَيْنِ“ کہ دو قضیوں کے اندر اتحاد ہو ”فِيمَا عَدَا الْأُمُورِ الثَّلَاثَةِ الْمَذْكُورَةِ“ تینوں مذکورہ امور کے علاوہ میں۔ تین مذکورہ امور جو ہیں یعنی کم، کیف اور جہت کے علاوہ باقی چیزوں میں کیا ہونا چاہیے؟ اتحاد ہونا چاہیے۔ ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ کہتے ہیں ”وَيُشْتَرَطُ فِي التَّنَاقُضِ اتِّحَادُ الْقَضِيَّتَيْنِ فِيمَا عَدَا الْأُمُورِ الثَّلَاثَةِ الْمَذْكُورَةِ“ اور شرط ہے تناقض کے اندر کہ دو قضیوں کے اندر اتحاد ہو مذکورہ تین امور کے علاوہ چیزوں میں، مذکورہ تین چیزیں کون سی؟ کہتے ہیں ”أَعْنِي الْكَمَّ وَالْكَيْفَ وَالْجِهَةَ“، میری مراد جو ہے کم، کیف اور جہت ہے، ان کے علاوہ میں اتحاد ہونا چاہیے، ”وَقَدْ ضَبَطُوا هَذَا الِاتِّحَادَ“ اور تحقیق مناطقہ نے ضبط کیا ہے اس اتحاد کو ”فِي ضِمْنِ الِاتِّحَادِ فِي الْأُمُورِ الثَّمَانِيَةِ“ آٹھ چیزوں میں اتحاد کے ضمن میں۔ ”فِي ضِمْنِ الِاتِّحَادِ فِي الْأُمُورِ الثَّمَانِيَةِ“، آٹھ، آخر سے ترجمہ کر رہا ہوں، آٹھ چیزوں میں اتحاد کے ضمن میں۔
بھئی باقی چیزوں میں کیا ہونا چاہیے؟ اتحاد ہونا چاہیے، وہ کتنی چیزیں ہیں؟ مناطقہ نے اس کو ضبط کیا ہے، کیا کیا ہے؟ ضبط، یا یوں کہہ لیں جمع کیا ہے وہ ساری چیزیں، کتنے میں جمع کر لیں؟ آٹھ چیزوں میں۔ کیا کر لیں؟ آٹھ چیزوں میں وہ باقی چیزیں جمع کر لیں جن میں اتحاد ہونا چاہیے۔ تناقض کے لیے کیا ضروری تھا؟ تین چیزوں میں اختلاف ہو تو باقی ساری چیزوں میں اتحاد ہونا چاہیے، وہ باقی چیزیں کتنی ہیں؟ ان کو مناطقہ نے ضبط کر لیا کتنی چیزوں میں؟ آٹھ چیزوں میں کہ آٹھ چیزوں میں اتحاد ہو گیا تو سب چیزوں میں گویا اتحاد ہو گیا۔ یہ معنی ہے ”وَقَدْ ضَبَطُوا هَذَا الِاتِّحَادَ فِي ضِمْنِ الِاتِّحَادِ فِي الْأُمُورِ الثَّمَانِيَةِ“ اور تحقیق ضبط کیا ہے اس اتحاد کو مناطقہ نے، کس نے؟ ”فِي ضِمْنِ الِاتِّحَادِ فِي الْأُمُورِ الثَّمَانِيَةِ“، آٹھ چیزوں میں اتحاد کے ضمن میں۔ ”قَالَ قَائِلُهُمْ“ کہا ہے ان میں سے کہنے والے نے، مناطقہ میں سے کہنے والے نے کہا ہے، ”قِطْعَةٌ“، آگے اشعار ہیں بھئی، در تناقض ہشت وحدت شرط دان / وحدتِ موضوع و محمول و مکان / وحدتِ شرط و اضافت، جزو و کل / قوّت و فعل است، در آخر زمان۔ در تناقض ہشت وحدت شرط دان، تناقض میں آٹھ وحدتوں کو شرط سمجھو، دان کا معنی؟ سمجھو، دانِستن کا معنی ہوتا ہے جاننا، دان اسی سے امر ہے تو جان لے، جیسے کہتے ہیں نا نحو میر وغیرہ میں آپ نے پڑھا ہے، بدان کہ، تو جان لے کہ، تو یہ وہی دان ہے۔ در تناقض ہشت وحدت، ہشت کا معنی ہے آٹھ، در تناقض ہشت وحدت شرط دان، تناقض میں آٹھ وحدتوں کو شرط دان تو شرط جان لے، وحدتِ موضوع و محمول و مکان، موضوع، محمول اور مکان ان میں وحدت ہونی چاہیے، موضوع بھی ایک ہونا چاہیے دونوں قضیوں کا، محمول بھی ایک ہونا چاہیے، مکان بھی دونوں قضیوں میں ایک ہونا چاہیے، وحدتِ شرط و اضافت، جزو و کل، شرط میں بھی وحدت ہونی چاہیے، اضافت میں بھی وحدت ہونی چاہیے، جزو اور کل میں بھی وحدت ہونی چاہیے۔ جزو و کل کا معنی؟ کمیت، کمیت میں وحدت، یہاں انہوں نے جزو و کل کو کس میں داخل کر دیا؟ وحدت میں داخل کر دیا، وہ اشعار ہیں نا، تو بعد میں اس کی توجیہ کریں گے شارح کہ بھئی جزو و کل میں تو ہم نے کیا پڑھا تھا؟ اختلاف پڑھا تھا، یہاں اشعار میں انہوں نے کس میں ذکر کر دیا؟ وحدت میں، اس کی توجیہ آگے شارح کر دیں گے۔ قوّت و فعل است، در آخر زمان، قوّت اور فعل میں بھی وحدت ہونی چاہیے اور آخری چیز کیا ہے؟ زمان، زمانے میں بھی کیا ہونی چاہیے؟ وحدت ہونی چاہیے۔ تو یہ آٹھ چیزیں ہیں جن میں کیا ہونی چاہیے؟ وحدت ہونی چاہیے۔
وحدت ہونی چاہیے۔ ایک شرط اگر ایک قضیے میں ہے تو دوسرے میں بھی وہی شرط ہونی چاہیے۔ اضافت کا معنی ہے نسبت، نسبت میں بھی وحدت ہونی چاہیے۔ ایک قضیے میں ایک چیز کی طرف نسبت ہے تو دوسرے میں بھی اسی کی طرف نسبت ہونی چاہیے۔ جز و کل میں بھی اتحاد ہونا چاہیے دونوں قضیوں میں، یعنی ایک میں اگر کل پر حکم لگایا جا رہا ہے تو دوسرے میں بھی کل پر حکم ہونا چاہیے۔ یہ نہیں کہ ایک میں کل پر حکم ہے اور دوسرے میں جز پر حکم ہے، تو جز و کل میں بھی وحدت ہونی چاہیے۔ قوّت و فعل است، اور قوّت اور فعل میں بھی وحدت ہونی چاہیے۔ یعنی ایک ہے بِالْقُوَّةِ اور ایک ہے بِالْفِعْلِ۔ بِالْقُوَّةِ کا کیا معنی؟ صلاحیت ہو، جیسے ہر انسان بِالْقُوَّةِ کاتب ہے، یعنی اس میں کتابت کی صلاحیت اللہ نے رکھی ہے۔ اور ایک ہے باقاعدہ لکھتا ہے، وہ کیا ہے؟ بِالْفِعْلِ کاتب ہے۔ تو قوّت اور فعل میں بھی وحدت ہونی چاہیے۔ ایک قضیے میں اگر بِالْقُوَّةِ چیز ذکر ہے تو دوسرے میں بھی وہ بِالْقُوَّةِ ہی ہونی چاہیے، یہ نہیں کہ ایک میں بِالْفِعْلِ ہے اور دوسرے میں بِالْقُوَّةِ ہے۔
در آخر زماں، آخر میں زمان بھئی، زمانے کے اندر بھی وحدت ضروری ہے۔ زمانے میں بھی، یعنی ایک کے اندر ایک زمانہ ذکر ہے تو دوسرے قضیے میں بھی وہی زمانہ ذکر ہونا چاہیے، زمانے میں بھی وحدت ہونی چاہیے۔ تو یہ آٹھ چیزیں ہیں، کون کون سی؟ گنیں: وحدتِ موضوع ایک، وحدتِ محمول دو، وحدتِ مکان تین، وحدتِ شرط چار، وحدتِ اضافت پانچ، وحدتِ جز و کل چھ، وحدتِ قوّت و فعل سات، اور وحدتِ زمان، یہ کتنے ہو گئے؟ آٹھ۔ اور یہ جو آیا نا در آخر زماں، اور آخر میں زمانہ۔ اس کا یہ معنی نہیں کہ سب سے آخر میں زمانے کی وحدت ہوگی، نہیں نہیں، یہ شعر کا وزن رکھنے کے لیے کہ ہم نے سات گنوا دیا اور آخر میں کیا رہ گیا؟ زمانہ، یعنی یہ کل آٹھ چیزیں ہیں۔
اب ان سب کی مثالیں دیکھ لیں بھئی، یہ حاشیے میں آپ کی دی ہوئی ہیں۔ دیکھیے بھئی یہ حاشیہ بھئی، میری کتاب میں فِيْ ضِمْنِ الْاِتِّحَادِ فِي الْأُمُوْرِ الثَّمَانِيَةِ اس پر حاشیہ دیا ہوا ہے، میری کتاب میں ہے ایک نمبر حاشیہ، آپ کی کتاب میں؟ ایک نمبر، دیکھیے بھئی۔ سب کی یہ مثالیں دیں گے۔ کہتے ہیں: فِي الْأُمُوْرِ الثَّمَانِيَةِ فَإِنَّهُ لَا تَنَاقُضَ عِنْدَ اخْتِلَافِ الْمَوْضُوْعِ۔ قَوْلُهُ فِي الْأُمُوْرِ الثَّمَانِيَةِ، دیکھ رہے ہیں حاشیہ بھئی؟ قَوْلُهُ فِي الْأُمُوْرِ الثَّمَانِيَةِ، آٹھ چیزیں بھئی، ان میں اتحاد ہونا چاہیے۔ فَإِنَّهُ لَا تَنَاقُضَ عِنْدَ اخْتِلَافِ الْمَوْضُوْعِ، اس لیے کیونکہ تناقض نہیں ہوگا جب موضوع مختلف ہو۔ نَحْوُ: زَيْدٌ قَائِمٌ وَعَمْرٌو لَيْسَ بِقَائِمٍ۔ دیکھو ادھر دیکھیے، ایک ہے زَيْدٌ قَائِمٌ اور ایک ہے عَمْرٌو لَيْسَ بِقَائِمٍ۔ ایک میں ایجاب ہے، ایک میں سلب ہے لیکن موضوع الگ الگ ہے۔ ایک میں موضوع کون ہے؟ زید، دوسرے میں کون ہے؟ عمرو۔ تو قیام کا ثبوت کس کے لیے؟ زید کے لیے، اور قیام کی نفی کس سے؟ عمرو سے۔ تو ان میں تو تناقض نہیں ہو سکتا بھئی، کیونکہ موضوع کیا ہیں؟ الگ۔ دونوں جمع ہو سکتے ہیں، زید کھڑا ہو اور عمرو کھڑا نہ ہو، دونوں جمع ہو سکتے ہیں۔
وَعِنْدَ اخْتِلَافِ الْمَحْمُوْلِ، اور اسی طرح اختلافِ محمول کے وقت بھی تناقض نہیں ہوگا۔ نَحْوُ: زَيْدٌ قَائِمٌ وَزَيْدٌ لَيْسَ بِقَاعِدٍ۔ ادھر دیکھیے، ایک میں کیا ہے؟ زَيْدٌ قَائِمٌ اور دوسرے میں ہے زَيْدٌ لَيْسَ بِقَاعِدٍ۔ ایک میں زید کے لیے قیام کا ثبوت ہے، دوسرے میں قیام کی نفی نہیں ہے بلکہ بیٹھنے کی نفی ہو رہی ہے۔ تو زید کھڑا ہے، دونوں صادق آ گئے، زَيْدٌ قَائِمٌ یہ بھی صادق، اور زَيْدٌ لَيْسَ بِقَاعِدٍ زید بیٹھا ہوا نہیں ہے، یہ بھی اس وقت کیا ہو رہا ہے؟ صادق۔ یہ خرابی کیوں لازم آئی؟ کیونکہ محمول الگ الگ ہیں۔ ہم نے کہا تھا تناقض کے لیے محمول میں وحدت ضروری ہے۔
اسی طرح، وَعِنْدَ اخْتِلَافِ الْمَكَانِ، اسی طرح جگہ مختلف ہونے سے بھی تناقض نہ رہے گا۔ جیسے زَيْدٌ جَالِسٌ أَيْ فِي السُّوْقِ وَزَيْدٌ لَيْسَ بِجَالِسٍ أَيْ فِي الدَّارِ۔ ادھر دیکھیے، ایک آدمی کہتا ہے: زَيْدٌ جَالِسٌ اور پھر اگلے ہی لمحے کہتا ہے: زَيْدٌ لَيْسَ بِجَالِسٍ۔ آپ کہیں گے بھئی یہ کیا معنی زَيْدٌ جَالِسٌ ہے یا زَيْدٌ لَيْسَ بِجَالِسٍ؟ کہتا ہے بھئی میرا کہنے کا مطلب ہے زَيْدٌ جَالِسٌ فِي الْمَسْجِدِ، مسجد میں بیٹھا ہے، اور لَيْسَ بِجَالِسٍ سے مراد یہ ہے بازار میں نہیں بیٹھا ہوا۔ تو دونوں صادق آ گئے یا نہیں؟ تو یہ جگہ مختلف ہو گئی، جگہ ایک ہونی چاہیے۔ اگر قضیہ کے اندر جُلُوْسٌ فِي الْمَسْجِدِ ذکر ہے ایک قضیے میں، تو دوسرے میں بھی نفی بھی کس کی ہونی چاہیے؟ جُلُوْسٌ فِي الْمَسْجِدِ ہی کی نفی ہونی چاہیے، جگہ الگ الگ نہیں ہونی چاہیے۔
وَعِنْدَ اخْتِلَافِ الشَّرْطِ، اور شرط مختلف ہونے سے، جیسے الْجِسْمُ مُفَرِّقٌ لِلْبَصَرِ أَيْ بِشَرْطِ كَوْنِهِ أَبْيَضَ وَلَيْسَ بِمُفَرِّقٍ لِلْبَصَرِ أَيْ بِشَرْطِ كَوْنِهِ أَسْوَدَ۔ یہ بھئی قدیم مناطقہ کا نظریہ، قدیم فلاسفہ کا۔ بعض کا نظریہ یہ تھا، یہ جو چیزیں ہمیں دکھائی دیتی ہیں مختلف رنگوں کی، یہ ہماری آنکھوں سے نور نکلتا ہے، روشنی کس سے نکلتی ہے؟ آنکھوں سے۔ اور جو سفید چیز ہوتی ہے، اس پر روشنی پڑ کر، یہ نور آنکھوں کا نور جب پڑتا ہے تو وہ پھیل جاتا ہے، تو وہ چیز ہمیں سفید نظر آتی ہے۔ اور یہ جو کالی چیز ہے، کالی چیز پر جب نظر پڑتی ہے تو وہ جو آنکھوں کا نور ہے اس کو اپنے اندر جذب کر لیتی ہے۔ جب نور کو اس نے جذب کر لیا تو اب ہمیں وہ کالی نظر آتی ہے۔ سفید چیز کیا کرتی ہے؟ جیسے دیکھو بھئی شیشہ سامنے رکھو اور اس پر ٹارچ جلاؤ، تو وہ شیشہ روشنی کو منعکس کرے گا یا نہیں واپس؟ واپس پلٹے گی۔ تو اسی طرح بعض کا نظریہ تھا جو سائنس نے غلط ثابت کر دیا کہ آنکھوں سے کوئی روشنی نہیں نکلتی بلکہ چیزوں پر روشنی پڑتی ہے تو آنکھوں میں اس کا عکس دکھائی دیتا ہے، جیسے کیمرے کے اندر تصویر لیتے ہیں۔ کیمرے کے اندر روشنی نہیں ہوتی، باہر چیزوں پر روشنی ہوتی ہے تو کیمرے کے اندر اس کی صورت آ جاتی ہے۔ اسی طرح باہر روشنی ہے اور وہ روشنی جب باہر ہو تو آنکھ کے اندر اس چیز کا عکس بن جاتا ہے، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟
تو ان کا کیا نظریہ تھا؟ آنکھوں سے روشنی یا نور نکلتا ہے اور چیزوں پر پڑتا ہے اور یہ چیزوں کے مختلف رنگ ہمیں اس لیے نظر آتے ہیں، کچھ چیزیں جو ہیں اس روشنی کو ساری کو واپس منتشر کرتی ہیں، کچھ ساری روشنی کو جذب کرتی ہیں، کچھ تھوڑی روشنی کو جذب کرتی ہیں اور کچھ کو پھیلاتی ہیں تو مختلف رنگ نظر آتے ہیں۔ اگر کوئی چیز ساری روشنی واپس پھیلا دے تو وہ ہمیں سفید لگتی ہے، اور اگر کوئی چیز ساری روشنی کو اپنے اندر جذب کر لے تو وہ ہمیں کالی لگتی ہے، اور جو چیزیں کچھ روشنی جذب کرتی ہیں اور کچھ پھیلاتی ہیں تو وہ ہمیں مختلف رنگوں کی نظر آتی ہیں جتنی جتنی روشنی جذب کرتی ہیں اور جتنی پھیلاتی ہیں۔ تو یہ مختلف رنگ ہمیں اس طرح نظر آتے ہیں۔
تو یہ مُفَرِّقٌ کا معنی ہے پھیلانا۔ الْجِسْمُ مُفَرِّقٌ لِلْبَصَرِ، جسم جو ہے نگاہوں کو پھیلا دیتا ہے، یعنی نگاہ سے نکلنے والے نور کو پھیلا دیتا ہے۔ أَيْ بِشَرْطِ كَوْنِهِ أَبْيَضَ، اس شرط پر کہ وہ کیا ہو؟ سفید ہو۔ وَلَيْسَ بِمُفَرِّقٍ لِلْبَصَرِ، اور جسم جو ہے وہ نگاہ کو نہیں پھیلاتا، یعنی اس نگاہ کے نور کو نہیں پھیلاتا، أَيْ بِشَرْطِ كَوْنِهِ أَسْوَدَ، اس شرط پر کہ وہ کیا ہو؟ کالا ہو۔ ادھر دیکھیے، ایک آدمی کہتا ہے: الْجِسْمُ مُفَرِّقٌ لِلْبَصَرِ اور پھر کہتا ہے: الْجِسْمُ لَيْسَ بِمُفَرِّقٍ لِلْبَصَرِ۔ آپ کہیں گے بھئی کیسی بات کر رہے ہیں، ابھی آپ نے کہا تھا الْجِسْمُ مُفَرِّقٌ لِلْبَصَرِ اور اب آپ کہہ رہے ہیں الْجِسْمُ لَيْسَ بِمُفَرِّقٍ لِلْبَصَرِ؟ پہلے کہا جسم جو ہے وہ آنکھ کے نور کو پھیلا دیتا ہے، اب کہہ رہے ہیں جسم جو ہے وہ آنکھ کے نور کو نہیں پھیلاتا۔ وہ کہے گا بھئی پہلے میں آنکھ کے نور کو پھیلاتا ہے اس شرط پر کہ وہ سفید ہو، پہلے میں میرا سفید مراد تھا۔ اور میں نے کہا جسم جو ہے وہ آنکھ کے نور کو نہیں پھیلاتا، وہ اس شرط پر کہ وہ کیا ہو وہ جسم؟ کالا ہو۔ تو دونوں میں شرطیں الگ الگ ہیں، تو یہ تو دونوں صادق آ گئے بھئی۔ سفید ہو تو وہ آنکھ کے نور کو پھیلاتا ہے اور کالا ہو تو آنکھ کے نور کو وہ جذب کر لیتا ہے یعنی نہیں پھیلاتا۔ تو یہ دونوں صادق آ گئے، تو ان میں تناقض نہیں۔ کیوں نہیں تناقض؟ کیونکہ شرط الگ الگ ہے حالانکہ شرط میں وحدت ضروری ہے۔
اس سے بہتر آسان مثال لکھ لو بھئی، آسان مثال لکھ لو۔ اسی شرط کی مثال لکھ لو: زَيْدٌ مُتَحَرِّكُ الْأَصَابِعِ، زَيْدٌ مُتَحَرِّكُ الْأَصَابِعِ أَيْ بِشَرْطِ كَوْنِهِ كَاتِبًا، أَيْ بِشَرْطِ كَوْنِهِ كَاتِبًا۔ اور زَيْدٌ لَيْسَ بِمُتَحَرِّكِ الْأَصَابِعِ، زَيْدٌ لَيْسَ بِمُتَحَرِّكِ الْأَصَابِعِ أَيْ بِشَرْطِ كَوْنِهِ غَيْرَ كَاتِبٍ، أَيْ بِشَرْطِ كَوْنِهِ غَيْرَ كَاتِبٍ۔ لکھ لیا؟ جی، یہ مثال مکمل ہوئی۔ دیکھیے، ایک آدمی ہے آپ کا ایک ساتھی ہے، وہ آپ کو کہتا ہے بھئی زَيْدٌ مُتَحَرِّكُ الْأَصَابِعِ اور پھر کیا کہتا ہے؟ زَيْدٌ لَيْسَ بِمُتَحَرِّكِ الْأَصَابِعِ۔ آپ اس کو کہتے ہیں بھئی یہ ایک بات ہو سکتی ہے، یا تو زید متحرک الاصابع ہے یا متحرک الاصابع نہیں۔ وہ کہے گا بھئی اصل میں جب میں نے کہا تھا زَيْدٌ مُتَحَرِّكُ الْأَصَابِعِ تو میرا مطلب تھا جب وہ کتابت کرتا ہے، اور جب میں نے کہا اس کی انگلیاں حرکت نہیں کرتیں تو میرا مطلب یہ تھا کہ جب وہ کتابت نہیں کرتا۔ تو دیکھا، یہ دونوں صادق آ گئے۔ کیوں صادق آئے؟ کیونکہ اس نے دونوں میں شرط الگ الگ کر دی، تو شرط ایک ہو تو پھر ہی تناقض ہوتا ہے ورنہ دونوں صادق آ سکتے ہیں جیسے ابھی دونوں صادق آ گئے۔ آگے دیکھیے حاشیے میں بھئی۔
وَعِنْدَ اخْتِلَافِ الْإِضَافَةِ، اسی طرح اضافت کا معنی ہے نسبت۔ نسبت کے مختلف ہونے سے بھی تناقض نہ رہے گا، جیسے زَيْدٌ أَبٌ لِعَمْرٍو۔ مثلاً آپ کو ایک آدمی کہتا ہے: زَيْدٌ أَبٌ، زید باپ ہے، اور پھر کہتا ہے: زَيْدٌ لَيْسَ بِأَبٍ، زید باپ نہیں ہے۔ آپ کہیں گے بھئی ایک بات ہو سکتی ہے، یا زید باپ ہے یا باپ نہیں۔ تو وہ کہے گا بھئی اصل میں میں نے نسبت الگ اعتبار کیا، زَيْدٌ أَبٌ أَيْ لِعَمْرٍو، کس کا باپ ہے؟ عمرو کا۔ اور جو میں نے نفی کی وہ دوسری نسبت کی، کس سے کی؟ أَيْ زَيْدٌ لَيْسَ بِأَبٍ أَيْ لِخَالِدٍ، یعنی وہ خالد کا باپ نہیں ہے۔ تو یہ تو دونوں صادق آ گئے۔ یہ کیوں دونوں صادق آئے؟ کیونکہ دونوں میں نسبت ایک نہیں، نسبت میں وحدت ضروری ہے تناقض کے لیے ورنہ دونوں صادق آ سکتے ہیں۔
وَعِنْدَ اخْتِلَافِ الْجُزْءِ وَالْكُلِّ، اور اسی طرح جز اور کل میں بھی اختلاف ضروری ہے، اس کے بغیر تناقض نہیں ہوگا۔ جیسے الزَّنْجِيُّ أَسْوَدُ، ایک آدمی کہتا ہے: الزَّنْجِيُّ أَسْوَدُ، حبشی کالا ہے، اور پھر کہتا ہے: الزَّنْجِيُّ لَيْسَ بِأَسْوَدَ، حبشی کالا نہیں ہے۔ آپ کہیں گے بھئی ایک بات کریں آپ تو، کہتا ہے بھئی یہ دونوں صادق ہیں۔ آپ نے کہا کیسے دونوں صادق ہیں؟ اس نے کہا الزَّنْجِيُّ أَسْوَدُ، میری مراد تھی اس کا کل یعنی اس کا جسم کیا ہے؟ کالا ہے۔ اور جب میں نے کہا تھا الزَّنْجِيُّ لَيْسَ بِأَسْوَدَ، حبشی کالا نہیں ہے، تو مراد میری اس کا جز تھا، کیا تھا؟ جز تھا یعنی اس کے دانت، وہ تو کالے نہیں۔ اب دیکھو دونوں صادق آ گئے، حبشی کالا ہے یعنی کل کے اعتبار سے، اور حبشی کالا نہیں اس کے جز کے اعتبار سے۔ تو یہ جز اور کل میں بھی اتحاد ہونا چاہیے، وحدت ہونی چاہیے۔ اگر ایک میں جز پر حکم لگایا جا رہا ہے تو دوسرے میں بھی جز پر حکم لگنا چاہیے، اور اگر ایک قضیے میں کل پر حکم ہے تو دوسرے میں بھی کل پر حکم ہونا چاہیے ورنہ دونوں صادق آ سکتے ہیں جیسے اس مثال میں تھا۔
آگے ہے: وَعِنْدَ اخْتِلَافِ الْقُوَّةِ وَالْفِعْلِ، قوّت اور فعل میں بھی اختلاف کے وقت بھی تناقض نہ رہے گا۔ جیسے الْخَمْرُ مُسْكِرٌ فِي الدَّنِّ، دَنٌّ مٹکے کو کہتے ہیں، ظرف کہہ لو برتن، الْخَمْرُ مُسْكِرٌ فِي الظَّرْفِ۔ ایک آدمی کہتا ہے آپ سے کہ یہ جو شراب ہے یہ نشہ آور ہے، یہ شراب نشہ آور ہے فِي الظَّرْفِ جو کس میں ہے؟ برتن میں ہے، مٹکے میں ہے۔ دَنٌّ، دال اور نون مشدد ہے، مٹکے کو کہتے ہیں۔ اور دوسرا: الْخَمْرُ لَيْسَ بِمُسْكِرٍ فِي الدَّنِّ، یہ جو اس مٹکے میں شراب ہے یہ نشہ آور نہیں ہے۔ آپ اس کو کہیں گے بھئی ایک بات ہو سکتی ہے، ایک بات کہیں۔ ایک طرف آپ کہہ رہے ہیں کہ یہ جو مٹکے میں شراب ہے یہ نشہ آور ہے، الْخَمْرُ مُسْكِرٌ فِي الدَّنِّ، یہ جو مٹکے میں شراب ہے یہ نشہ آور ہے۔ دوسری طرف کہہ رہے ہیں الْخَمْرُ لَيْسَ بِمُسْكِرٍ فِي الدَّنِّ، یہ شراب جو کس میں ہے؟ مٹکے میں ہے، یہ نشہ آور نہیں ہے۔ تو وہ کہتا ہے بھئی دراصل یہ دونوں باتیں میری صحیح ہیں۔ جس میں میں نے کہا یہ نشہ آور ہے، جس میں میں نے کہا نشہ آور ہے معنی یہ ہے اس میں نشہ آور ہونے کی صلاحیت ہے، کوئی پیئے گا تو اس کو نشہ چڑھے گا۔ اور جس میں میں نے کہا یہ نشہ آور نہیں ہے، اس سے مراد میری ہے بِالْفِعْلِ، یعنی بِالْفِعْلِ اس وقت تو یہ مٹکے میں ہے، اس وقت تو یہ نشہ نہیں دے رہی کسی کو، سمجھ میں آیا؟
تو اس کی دونوں باتیں صادق آ گئیں، اور یہ تناقض نہ رہا۔ یہ تناقض کیوں نہیں ہوا؟ کیونکہ یہاں بِالْقُوَّةِ اور بِالْفِعْلِ میں فرق ہے۔ تناقض میں ضروری ہے ایک میں اگر بِالْفِعْلِ کوئی بات کو ذکر کیا جا رہا ہے تو دوسرے میں بھی بِالْفِعْلِ ہو، اور اگر ایک میں بِالْقُوَّةِ ہے تو دوسرے میں بھی بِالْقُوَّةِ ہو۔ بات سمجھ میں آئی کہ مٹکے میں شراب نشہ آور ہے، یعنی اس میں صلاحیت ہے، میرا مطلب یہ ہے۔ اور میں نے کہا مٹکے میں جو شراب ہے وہ نشہ آور نہیں ہے، یعنی بِالْفِعْلِ اس وقت یہ نشہ نہیں دے رہی، کیوں؟ کیونکہ مٹکے میں پڑی ہے، کوئی پیئے گا تو پھر نشہ دے گی، ابھی تو نشہ نہیں دے رہی۔ تو دونوں صادق آئے کیونکہ دونوں میں قوّت اور فعل میں اختلاف ہے۔ تو تناقض کے لیے ضروری ہے کہ قوّت اور فعل میں اتحاد ہو، وحدت ہو۔
اور اسی طرح، وَعِنْدَ اخْتِلَافِ الزَّمَانِ، زمانے میں بھی اختلاف ہو تو تناقض نہ رہے گا۔ جیسے آپ کہتے ہیں: زَيْدٌ قَائِمٌ اور زَيْدٌ لَيْسَ بِقَائِمٍ۔ ایک آدمی ایک ہی وقت میں کہتا ہے زَيْدٌ قَائِمٌ اور زَيْدٌ لَيْسَ بِقَائِمٍ۔ آپ کہیں گے بھئی یہ دونوں تو صادق نہیں ہو سکتے۔ وہ کہے گا: میری قائم سے مراد ہے زَيْدٌ قَائِمٌ أَيْ فِي الْيَوْمِ، دن کے وقت کیا ہے وہ قائم ہے۔ اور زَيْدٌ لَيْسَ بِقَائِمٍ، اور جو میں نے قیام کی نفی کی أَيْ فِي اللَّيْلِ، وہ کس وقت میں کی؟ رات۔ دن کے وقت وہ قائم ہے، رات کے وقت وہ قائم نہیں، تو یہ تو دونوں صادق آ گئے بھئی۔ یہ دونوں کیوں صادق آئے؟ کیونکہ یہاں زمانے میں وحدت نہیں۔ ایک میں رات کے زمانے کی بات ہو رہی ہے تو دوسرے میں دن کی بات ہو رہی ہے، تو زمانے میں وحدت نہیں۔ تو تناقض کے لیے کیا ضروری ہے؟ وحدت ضروری ہے۔ کتنی چیزوں میں؟ آٹھ چیزوں میں وحدت ضروری ہے۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی، یہ معنی ہے۔
دیکھیے بھئی شرح میں پھر:
قِطْعَةٌ:
دَرْ تَنَاقُضْ ہَشْتْ وَحْدَتْ شَرْطْ دَاں
وَحْدَتِ مَوْضُوْعْ وَ مَحْمُوْلْ وَ مَکَاں
وَحْدَتِ شَرْطْ وَ اِضَافَتْ جُزْءْ وَ کُلّ
قُوَّتْ وَ فِعْلَسْتْ دَرْ آخِرْ زَمَاں
کہ دَرْ تَنَاقُضْ ہَشْتْ وَحْدَتْ شَرْطْ دَاں، کہ تناقض میں آٹھ وحدتیں شرط جان لے، آٹھ وحدتوں کو شرط جان لے۔ وَحْدَتِ مَوْضُوْعْ وَ مَحْمُوْلْ وَ مَکَاں، موضوع، محمول اور مکان میں وحدت ہونی چاہیے۔ وَحْدَتِ شَرْطْ وَ اِضَافَتْ جُزْءْ وَ کُلّ، شرط، اضافت یعنی نسبت اور جز و کل میں وحدت ہونی چاہیے۔ قُوَّتْ وَ فِعْلَسْتْ دَرْ آخِرْ زَمَاں، اور قوّت اور فعل یعنی بِالْقُوَّةِ اور بِالْفِعْلِ ہونے میں بھی وحدت ہونی چاہیے، وَ دَرْ آخِرْ زَمَاں اور آخر میں زمانہ رہ گیا، اس میں بھی وحدت ہونی چاہیے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
تو یہ آٹھ چیزیں انہوں نے بیان کی جن میں وحدت ہونی چاہیے۔ جبکہ بعض مناطقہ نے کہا کہ بس دو چیزوں میں وحدت ضروری ہے: موضوع اور محمول۔ بھئی بعضوں نے آٹھ ذکر کیا اور بعضوں نے دو ذکر کیں، بھئی وہ کہتے ہیں کہ یہ جو آٹھ چیزیں ہیں، ان میں سے کوئی بھی چیز بدلے گی تو پھر یا تو موضوع بدل جائے گا یا محمول بدل جائے گا۔ مثلاً ایک محمول میں بِالْقُوَّةِ مراد ہے اور دوسرے میں بِالْفِعْلِ مراد ہے تو دیکھو محمول تو بدل گئے، ایک محمول دوسرے محمول سے الگ ہے۔ تو موضوع اور محمول میں اتحاد ہونا چاہیے، اور یہ جو آٹھوں چیزیں ہیں ان کے بدلنے سے یا تو موضوع بدل جاتا ہے یا محمول بدل جائے گا۔ تو گویا ان آٹھوں کو انہوں نے سمیٹ دیا دو کے اندر بھئی، دو چیزوں میں کہ کس چیز میں اتحاد ہونا چاہیے؟ موضوع میں اور محمول میں۔ ان آٹھ میں سے کوئی بھی چیز بدلے گی تو موضوع بدل جائے گا یا محمول بدل جائے گا اور بات وہی ہے بھئی کہ پھر تناقض نہ رہے گا۔
جبکہ بعض مناطقہ نے تو کہا کہ صرف نسبت میں اتحاد ضروری ہے۔ انہوں نے موضوع اور محمول دو کے بجائے ایک چیز کہہ دی۔ بعضوں نے تو کہا تھا آٹھ چیزوں میں وحدت ضروری، بعضوں نے کیا کہا؟ صرف دو چیزوں میں وحدت ضروری ہے، وہ آٹھ بھی سمٹ کر انہی دو میں آ جاتی ہیں۔ اور بعضوں نے کہا کہ صرف نسبت میں اتحاد ضروری ہے، اور وہ ساری چیزیں اس کے اندر آ گئیں۔ کیونکہ اگر ایک بھی چیز ان آٹھ میں سے بدلے گی تو نسبت بدل جائے گی۔ نسبت ایک جیسی ہونی چاہیے، ایک میں موجبہ ہے تو دوسرے میں سالبہ ہونی چاہیے بھئی۔ نسبت ایک جیسی ہونی چاہیے اور ان میں سے ایک بھی چیز بدلے گی تو نسبت ایک جیسی نہ رہے گی۔
اچھا بھئی حاصلِ کلام یہ کہ آج ہم نے تناقض کے بارے میں پڑھا۔ انہوں نے آپ کو بتلایا کہ تناقض جو ہے وہ دو قضیوں کے اندر ایسا اختلاف کہ اس اختلاف کی ذات ہی یہ تقاضا کرے کہ ان میں سے ایک صادق ہو تو دوسرا کاذب ہو بھئی۔ اور پھر انہوں نے یہ بھی بتایا کہ دو قضیوں میں تناقض کے لیے تین چیزوں میں اختلاف ضروری اور آٹھ چیزوں میں اتحاد ضروری ہے بھئی۔ تین چیزیں کون سی ہیں؟ کم ہے، کیف ہے اور جہت۔ ان میں اختلاف ضروری۔ کم کا کیا معنی؟ مقدار، یعنی کلی اور جزئی ہونا۔ اگر ایک قضیہ کلی ہو تو دوسرا جزئی ہونا چاہیے اور اگر پہلا جزئی ہے تو دوسرا کلی ہونا چاہیے۔ اور نیز اختلاف کیفیت میں بھی ہو دونوں قضیوں میں، یعنی اگر ایک موجبہ ہے تو دوسرا سالبہ ہو۔ اور نیز جہت میں بھی اختلاف ہونا چاہیے کہ اگر ایک قضیے میں ایک جہت ذکر ہے تو دوسرے میں دوسری جہت ذکر ہونی چاہیے۔ اور اس کے علاوہ باقی چیزوں میں اتحاد ہونا چاہیے۔ اور وہ باقی چیزیں مناطقہ نے ضبط کی ہیں اور یعنی یوں کہیں جمع کی ہیں، وہ کتنی ہیں؟ آٹھ چیزیں ہیں، اور وہ آٹھ چیزیں ان اشعار میں ہیں۔ اور یہ دو شعر جو ہیں یہ تو عموماً طلبہ کو زبانی یاد ہوتے ہیں بھئی:
دَرْ تَنَاقُضْ ہَشْتْ وَحْدَتْ شَرْطْ دَاں
وَحْدَتِ مَوْضُوْعْ وَ مَحْمُوْلْ وَ مَکَاں
وَحْدَتِ شَرْطْ وَ اِضَافَتْ جُزْءْ وَ کُلّ
قُوَّتْ وَ فِعْلَسْتْ دَرْ آخِرْ زَمَاں
بات سمجھ میں آ گئی؟ چلیے بس بھئی هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔