اچھا بھئی آگے سبق دیکھیے بھئی، مَتْن دیکھیے پہلے:
”وَالْخَاصَّتَانِ عُرْفِيَّةً لَا دَائِمَةً فِي الْبَعْضِ، وَالْبَيَانُ فِي الْكُلِّ أَنَّ نَقِيضَ الْعَكْسِ مَعَ الْأَصْلِ يُنْتِجُ الْمُحَالَ، وَلَا عَكْسَ لِلْبَوَاقِي بِالنَّقْضِ“۔
بھئی گزشتہ سبق کے اندر آپ نے پڑھا تھا کہ خَاصَّتَانِ جو ہیں ان کا عکس جو ہے حِینِیَّہ لَا دَائِمَہ آتا ہے، حِینِیَّہ لَا دَائِمَہ۔ اور خَاصَّتَانِ جو ہیں اس سے مراد جو ہیں عُرْفِیَّہ خَاصَّہ اور مَشْرُوطَہ خَاصَّہ ہیں۔ اور مَشْرُوطَہ خَاصَّہ کسے کہتے تھے؟ وہی مَشْرُوطَہ عَامَّہ جب وہ مقید ہو جائے لَا دَوَام کے ساتھ تو وہ مَشْرُوطَہ خَاصَّہ کہلاتا ہے۔ اور اسی طرح وہی عُرْفِیَّہ عَامَّہ جب وہ مقید ہو جائے لَا دَوَام کے ساتھ تو وہ عُرْفِیَّہ خَاصَّہ کہلاتا ہے۔
تو دونوں خَاصَّتَانِ یعنی عُرْفِیَّہ خَاصَّہ اور مَشْرُوطَہ خَاصَّہ، ان کے اندر مَشْرُوطَہ عَامَّہ بھی آ گئے اور عُرْفِیَّہ عَامَّہ بھی۔ اور اس سے پہلے گزر چکا ہے کہ عُرْفِیَّہ عَامَّہ اور مَشْرُوطَہ عَامَّہ کا عکس جو ہے وہ حِینِیَّہ مُطْلَقَہ آتا ہے۔ کیا آتا ہے؟ گویا خَاصَّتَانِ کے اندر دو جز ہو گئے، اول جز ان کا یا عُرْفِیَّہ عَامَّہ ہے یا مَشْرُوطَہ عَامَّہ، اور ان کا عکس تو حِینِیَّہ مُطْلَقَہ آتا ہے، تو پہلے جز کا عکس حِینِیَّہ مُطْلَقَہ آتا ہے یہ تو ثابت ہو چکا ہے۔ البتہ انہی خَاصَّتَانِ کا دوسرا جز کیا تھا؟ لَا دَوَام۔ کیا تھا؟ لَا دَوَام۔ اس لَا دَوَام کا عکس جو ہے وہ حِینِیَّہ مُطْلَقَہ کا لَا دَوَام آتا ہے، یہ ثابت کرنا تھا۔
بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو چنانچہ اس کے لیے میں نے پھر آپ کو عکس بھی لکھوایا اور صورتیں بنوائیں اور دلیلِ خلف سے ثابت کیا کہ خَاصَّتَانِ کا عکس کیا آتا ہے؟ حِینِیَّہ لَا دَائِمَہ آتا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے آپ کو بتلایا کہ جو وَقْتِیَّتَانِ، وُجُودِیَّتَانِ اور مُطْلَقَہ عَامَّہ، یہ جو پانچ مُوَجَّہَات ہیں، ان کا عکس مُطْلَقَہ عَامَّہ آتا ہے۔ اس کی بھی سب کی میں نے مثالیں آپ کو لکھوائیں اور میں نے یہ بھی آپ کو بتایا کہ وَقْتِیَّتَانِ سے مراد وہ مرکب وَقْتِیَّتَانِ ہیں بھئی۔ یعنی وَقْتِیَّہ اور مُنْتَشِرَہ، وَقْتِیَّہ اور مُنْتَشِرَہ۔
ایک بَسَائِط کے اندر بھی وَقْتِیَّتَانِ آئے تھے، لیکن وہ تھا وَقْتِیَّہ مُطْلَقَہ اور مُنْتَشِرَہ مُطْلَقَہ۔ ان کی بات نہیں کی کیونکہ وہ غیر مشہور ہیں، ان کو اس لیے ترک کر دیا اور میں نے شارح کی عبارت بھی آپ کو دکھائی تھی جہاں انہوں نے ذکر کیا تھا کہ انہوں نے سب کی نقیضیں ذکر کر دیں لیکن وَقْتِیَّہ مُطْلَقَہ کی نقیض بھی ذکر نہیں کی اور مُنْتَشِرَہ مُطْلَقَہ کی نقیض بھی ذکر نہیں کی، اور وہاں انہوں نے وجہ بتائی تھی کہ آگے عکسوں کی بحث آ رہی ہے اور وہاں ان کے ساتھ کسی غرض کا تعلق نہیں۔ تو معلوم ہوا یہ جو وَقْتِیَّتَانِ ہیں اس سے مراد وہ مرکب ہیں بھئی، یعنی وَقْتِیَّہ اور مُنْتَشِرَہ۔
اور وُجُودِیَّتَانِ سے کیا مراد ہے؟ وہی مُطْلَقَہ عَامَّہ، وہ کبھی مقید ہوتا ہے لَا دَوَام کے ساتھ، کبھی لَا ضَرُورَۃ کے ساتھ۔ جب مُطْلَقَہ عَامَّہ مقید ہو لَا دَوَام کے ساتھ تو وہ وُجُودِیَّہ لَا دَائِمَہ کہلاتا ہے، اور وہی مُطْلَقَہ عَامَّہ جب مقید ہو لَا ضَرُورَۃ کے ساتھ تو وہ وُجُودِیَّہ لَا ضَرُورِیَّہ کہلاتا ہے۔ تو دونوں وَقْتِیَّہ جو ہیں اور دونوں وُجُودِیَّہ اور مُطْلَقَہ عَامَّہ، ان کا عکس مُطْلَقَہ عَامَّہ آتا ہے۔
اور آگے بتلایا تھا: ”وَلَا عَكْسَ لِلْمُمْكِنَتَيْنِ“، جو دو مُمْكِنَہ ہیں، یعنی مُمْكِنَہ خَاصَّہ اور مُمْكِنَہ عَامَّہ، ان کا عکس نہیں آتا۔ اور پھر اس کے بارے میں انہوں نے آپ کو شرح میں تفصیل بیان کی تھی کہ دراصل اس مُمْكِنَتَیْن کے عکس میں فارابی اور شیخ بو علی سینا کا اختلاف ہے۔ فارابی کے نزدیک مُمْكِنَتَیْن کا عکس آ سکتا ہے، جبکہ شیخ کے نزدیک مُمْكِنَتَیْن کا عکس نہیں آتا بھئی، مُمْكِنَتَیْن کا عکس۔
وجہ اس اختلاف کی یہ ہے کہ یہ جو قضیے کا موضوع ہوتا ہے، یعنی جو قضیے میں جو موضوع ذکر ہوتا ہے، یعنی یہ جو وصفِ عنوانی ہے، یہ وصفِ عنوانی صادق آتا ہے ذاتِ موضوع پر۔ میں نے کہا: ”كُلُّ كَاتِبٍ مُتَحَرِّكُ الْأَصَابِعِ“، تو یہ کاتب صادق آیا، کس پر؟ جو کاتب کی ذات ہے اس پر۔ لفظِ کاتب صادق آیا، کس پر؟ ذاتِ کاتب پر۔ تو ذاتِ موضوع کو جس لفظ سے ذکر کیا جائے اس کو عنوانِ موضوع، اور اسی طرح وصفِ موضوع، اور اسی طرح وصفِ عنوانی کہتے ہیں۔ تو یہ وصفِ عنوانی جو ہے، یہ صادق آتا ہے کس پر؟ ذاتِ موضوع پر۔
”كُلُّ كَاتِبٍ مُتَحَرِّكُ الْأَصَابِعِ“، میں نے لفظ کیا ذکر کیا؟ کاتب، یہ ہے وصفِ عنوانی، یعنی یہ لفظ جو ہے۔ اور جس پر صادق آیا وہ کیا ہے؟ وہ ذاتِ موضوع۔ تو یہ جو وصفِ عنوانی صادق آتا ہے کس پر؟ ذاتِ موضوع پر۔ تو شیخ بو علی سینا فرماتے ہیں کہ یہ بالفعل ہوتا ہے۔ یہ جو وصفِ عنوانی کا صادق آنا ہے ذاتِ موضوع پر، یہ بالفعل ہوتا ہے۔ یعنی اس سے مراد وہ ذات ہے جو بالفعل کاتب ہے۔ جو بالفعل کیا ہے؟ کاتب۔ جبکہ فارابی کے نزدیک یہ جو وصفِ موضوع صادق آتا ہے ذاتِ موضوع پر، یہ بالامکان ہوتا ہے۔
تو ”كُلُّ كَاتِبٍ“ جو ذکر کیا، تو اس سے ہر وہ کاتب نہیں مراد جو بالفعل کاتب ہو، بلکہ وہ مراد ہے جس کا کاتب ہونا ممکن ہے۔ تو یہ جو وصفِ موضوع صادق آتا ہے کس پر؟ ذاتِ موضوع پر، یہ فارابی کے نزدیک بالامکان ہوتا ہے اور شیخ بو علی سینا کے نزدیک یہ بالفعل ہوتا ہے۔ لہٰذا فارابی کے مذہب کے مطابق تو عکس آ جائے گا مُمْكِنَتَیْن کا۔
کس طرح؟ مثلاً میں کہتا ہوں: ”كُلُّ جَ بَ بِالْإِمْكَانِ“، ہر ج جو ہے وہ ب ہے بالامکان، یعنی ہر ج کا ب ہونا ممکن ہے۔ توجہ ہے؟ ”كُلُّ جَ بَ بِالْإِمْكَانِ“، ہر ج کا ب ہونا ممکن ہے۔ اور یہ جو ج ذکر ہوا ”كُلُّ جَ“، اس سے بھی کیا مراد ہے؟ جس پر ج صادق آئے بالامکان۔ ”كُلُّ جَ بَ“، موضوع کیا؟ ج۔ محمول کیا؟ ب۔ تو محمول کے ساتھ تو بالامکان لفظوں میں لگا ہوا ہے، معلوم ہوا یہ مُمْكِنَہ عَامَّہ ذکر ہو رہا ہے کہ ہر ج کا ب ہونا ممکن ہے، یا جیسے یوں کہو، ہر انسان کا حیوان ہونا ممکن ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟
تو ہر ج کا ب ہونا ممکن ہے، تو ب کا جو حمل ہو رہا ہے ج پر وہ تو امکان ساتھ واضح لفظوں میں ذکر ہے، لیکن یہ جو ج ذکر ہوا، ج سے کیا مراد ہے؟ ذاتِ ج۔ ج سے کیا مراد ہے؟ ذاتِ ج۔ تو یہ جو ج صادق آ رہا ہے ذاتِ ج پر، یہ بھی بالامکان ہے فارابی کے نزدیک۔ تو گویا یوں بن گیا کلام، ہر وہ چیز جس پر ج کا صادق آنا ممکن ہے اس پر ب کا صادق آنا بھی ممکن ہے۔
اور اس کا عکس تیار کرو، موجبہ کلیہ کا عکس کیا آتا ہے؟ موجبہ جزئیہ آتا ہے۔ تو ب کو ج کی جگہ لے جاؤ اور ج کو ب کی جگہ لے آؤ، تو کیا بنے گا؟ ”بَعْضُ بَ جَ بِالْإِمْكَانِ“۔ اب ترجمہ کیا ہوگا فارابی کے مذہب کے مطابق؟ ہر وہ چیز جس پر ب کا صادق آنا ممکن ہے اس پر ج کا صادق آنا بھی ممکن ہے، اور اس میں کوئی خرابی نہیں۔ دیکھو، فارابی کے مذہب کے مطابق عکس آرام سے نکل آیا۔
لیکن شیخ کے مذہب کے مطابق عکس نہیں نکلتا مُمْكِنَہ عَامَّہ کا، کیونکہ شیخ کا مذہب کیا ہے کہ یہ جو وصفِ موضوع صادق آتا ہے کس پر؟ ذاتِ موضوع پر، یہ بالفعل ہوتا ہے۔ تو ”كُلُّ جَ بَ بِالْإِمْكَانِ“، توجہ ہے؟ ”كُلُّ جَ بَ بِالْإِمْكَانِ“، تو ب کا حمل جو ج پر ہے وہ تو بالامکان ہے لفظوں میں ذکر ہے، لیکن خود ج جو صادق آ رہا ہے کس پر؟ ”كُلُّ جَ بَ بِالْإِمْكَانِ“، ج موضوع ہے نا، وصفِ موضوع ہے، اور وصفِ موضوع کس پر صادق آتا ہے؟ ذات پر۔ تو یہ جو ج ذکر ہوا یہ صادق آیا کس پر؟ ذاتِ موضوع پر، شیخ کے نزدیک یہ بالفعل ہے۔ یعنی ہر وہ چیز، یوں ترجمہ ہوگا، ہر وہ چیز جس پر ج بالفعل صادق ہے اس پر ب بالامکان صادق ہے، یعنی اس پر ب کا صادق ہونا ممکن ہے۔
اور اس کا عکس نکالیں گے، اب دیکھو ب کا صادق آنا وہ بالامکان ذکر ہو رہا ہے، ب کا صادق آنا بالامکان، اور ج کا صادق آنا کیا ذکر ہو رہا ہے؟ بالفعل۔ تو اب ذرا اس کا عکس نکالیں: ”بَعْضُ بَ جَ بِالْإِمْكَانِ“، ”بَعْضُ بَ جَ بِالْإِمْكَانِ“، تو کیا بن جائے گا کہ بعض وہ چیزیں جن پر ب بالفعل صادق ہے ان پر ج کا صادق آنا ممکن ہے۔ حالانکہ یہ درست نہیں بنتا۔ اصل کے اندر ب کا صادق آنا بالامکان تھا اور عکس کے اندر ب کا صادق آنا بالفعل ہو گیا، یہ تو درست نہیں ہے بھئی۔
اور پھر اس کی مثال بھی انہوں نے دی تھی، مثلاً زید جو ہے وہ صرف گھوڑوں پر سوار ہوتا ہے، یا صرف ایک گھوڑا ہے اس پر سوار ہوتا ہے، تو زید کا مرکوب بالفعل کیا ہے؟ گھوڑا ہے۔ زید کا مرکوب صرف کیا ہے؟ گھوڑا۔ زید بالفعل صرف گھوڑے پر سوار ہوتا ہے، لیکن زید کا گدھے پر سوار ہونا بھی تو ممکن ہے، زید کا گدھے پر سوار ہونا بھی ممکن ہے۔ تو اس کے لیے انہوں نے کیا قضیہ بنایا تھا کہ ہر حمار جو ہے زید کی سواری ہونا ممکن ہے، ہر گدھے کا زید کی سواری ہونا ممکن ہے۔ تو ہر گدھا ذکر ہوا موضوع کے اندر، اور شیخ کے مذہب کے مطابق گدھے سے مراد کیا ہے؟ ذاتِ گدھا۔ اور یہ جو حمار صادق آ رہا ہے ذاتِ حمار پر، یہ کیا ہے؟ بالفعل ہے۔ یعنی ہر وہ چیز جس پر حمار بالفعل صادق آ رہا ہے وہ زید کی سواری بن سکتی ہے۔ ہر وہ چیز جس پر حمار، یعنی بالفعل یعنی واقع کے اندر جو گدھے ہیں وہ زید کی سواری بن سکتے ہیں، اور یہ قضیہ بالکل ٹھیک ہے۔ زید تو گھوڑوں پر سواری کرتا ہے لیکن جو بھی گدھا ہے وہ اس پر سوار ہونا ممکن ہے یا نہیں؟ انہوں نے بھی یہی بیان کیا۔
لیکن اس کے عکس میں اب خرابی لازم آئے گی، کیا؟ کہ اس کا عکس کیا نکلے گا کہ بعض وہ جو زید کی سواریاں ہیں وہ حمار ہیں بالامکان۔ اصل کیا تھا؟ ”كُلُّ حِمَارٍ مَرْكُوبُ زَيْدٍ بِالْإِمْكَانِ“، ہر وہ چیز جو حمار ہے مرکوبِ زید وہ زید کی سواری ہے بالامکان، تو حمار تھا موضوع اور مرکوبِ زید کیا تھا؟ محمول تھا۔ اب جگہ بدل دی عکس کے اندر، اور یہ موجبہ کلیہ ہے، اب آپ موجبہ جزئیہ بنائیے: بعض وہ جو مرکوبِ زید ہیں وہ حمار ہیں بالامکان، بعض وہ جو مرکوبِ زید ہیں وہ حمار ہیں بالامکان۔ اور مرکوبِ زید سے شیخ کے مذہب کے مطابق جن کا مرکوب ہونا ممکن ہے یا جو بالفعل ہیں؟ جو بالفعل ہیں۔ تو ترجمہ یہ ہو گیا، بعض وہ جو زید کے مرکوب بالفعل ہیں ان کا گدھا ہونا ممکن ہے، ان کا گدھا ہونا ممکن ہے۔
اور زید کا مرکوب بالفعل گدھا ہے، گھوڑا ہے؟ گھوڑا ہے، اور اس گھوڑے کا گدھا ہونا ممکن ہے؟ گھوڑا تو گھوڑا ہے اور گدھا تو گدھا ہے، جو گھوڑا ہے وہ گدھا نہیں ہو سکتا اور جو گدھا ہے وہ گھوڑا، تو ترجمہ تو یوں ہو گیا، وہ جو زید کا بالفعل مرکوب، زید کی بالفعل جو سواری ہے، اور وہ تو کون ہے؟ گھوڑا، اور اس کا بھی اس کا گدھا ہونا ممکن ہے۔ بھئی گھوڑے کا گدھا ہونا ممکن ہے؟ نہیں، تو یہ خرابی لازم آئی، بات سمجھ میں آ گئی؟
اس کے بعد سَوَالِب کا عکس بیان کرنا شروع کیا تھا کہ جو مُوَجَّہَاتِ سَالِبَہ ہیں بھئی، اور بتلایا تھا کہ ان میں سے جو دَائِمَتَانِ ہیں یعنی ضَرُورِیَّہ مُطْلَقَہ اور دَائِمَہ مُطْلَقَہ، ان کا عکس دَائِمَہ مُطْلَقَہ آتا ہے۔ اور جو عَامَّتَانِ ہیں ان کا عکس عُرْفِیَّہ عَامَّہ آتا ہے۔ عَامَّتَانِ کون؟ مَشْرُوطَہ عَامَّہ اور عُرْفِیَّہ عَامَّہ، ان کا عکس کیا آتا ہے؟ عُرْفِیَّہ عَامَّہ آتا ہے۔ مَشْرُوطَہ عَامَّہ میں کیا ذکر ہوتا ہے؟ ضرورتِ وصفی، اور عُرْفِیَّہ عَامَّہ میں کیا ذکر ہوتا ہے؟ دوامِ وصفی ذکر ہوتا ہے۔
اب آئیے آج کے سبق پر بھئی، مَتْن دیکھیے پہلے۔ کہتے ہیں: ”وَالْخَاصَّتَانِ عُرْفِيَّةً لَا دَائِمَةً فِي الْبَعْضِ“، اور جو دو خَاصَّہ ہیں یعنی مَشْرُوطَہ خَاصَّہ اور عُرْفِیَّہ خَاصَّہ، ان کا عکس جو ہے عُرْفِیَّۃً لَا دَائِمَۃً فِي الْبَعْضِ آتا ہے۔ جو دو خَاصَّتَانِ ہیں ان کا عکس کیا آتا ہے؟ عُرْفِیَّہ لَا دَائِمَہ فِي الْبَعْض۔
لَا دَائِمَہ فِي الْبَعْض سے کیا مراد ہے؟ بھئی دیکھیے، لَا دَائِمَہ سے اشارہ ہوتا ہے کس کی طرف؟ آپ پڑھ چکے ہیں، لَا دَائِمَہ وہی لَا دَوَام ہے، اس کے ذریعے کس کی طرف اشارہ ہوتا ہے؟ لَا ضَرُورَۃ کے ذریعے اشارہ ہوتا ہے کس کی طرف؟ مُمْكِنَہ عَامَّہ کی طرف، جانبِ مخالف ضروری نہیں، لَا ضَرُورَۃ، تو وہ کس میں ہوتا ہے؟ مُمْكِنَہ عَامَّہ میں ہوتا ہے، اور یہ جو لَا دَائِمَہ ہے اس کے ذریعے اشارہ ہوتا ہے کس کی طرف؟ مُطْلَقَہ عَامَّہ کی طرف۔
تو لَا دَائِمَہ فِي الْبَعْض سے مراد، توجہ سے، انہوں نے کہا یہ جو دو خَاصَّہ ہیں یعنی عُرْفِیَّہ خَاصَّہ اور مَشْرُوطَہ خَاصَّہ، ان کا عکس جو ہے عُرْفِیَّہ لَا دَائِمَہ فِي الْبَعْض آتا ہے، یعنی ایسا عُرْفِیَّہ عَامَّہ جو مقید ہو کس کے ساتھ؟ لَا دَائِمَہ فِي الْبَعْض کے ساتھ، کس کے ساتھ؟ اور لَا دَائِمَہ کے ذریعے اشارہ ہوتا ہے کس کی طرف؟ مُطْلَقَہ عَامَّہ کی طرف، اور وہ مُطْلَقَہ عَامَّہ فِي الْبَعْض ہونا چاہیے یعنی کل میں نہیں، کل میں نہیں، یعنی جزئیہ ہونا چاہیے، کیا ہونا چاہیے؟ یعنی موجبہ جزئیہ، مُطْلَقَہ عَامَّہ مُوجِبَہ جُزْئِیَّہ۔
تو یہ جو لَا دَائِمَہ آیا، لَا دَائِمَہ فِي الْبَعْض، اس کے ذریعے اشارہ ہے کس کی طرف؟ ایسا مُطْلَقَہ عَامَّہ جو جزئیہ ہو، جو جزئیہ ہو، اور موجبہ ہو۔ موجبہ کیوں ہو؟ کیونکہ یہ سالبہ کا بیان چل رہا ہے، مُوَجَّہَاتِ سَالِبَہ کا، اور مُوَجَّہَاتِ سَالِبَہ کے ساتھ جب لَا دَائِمًا آئے گا، تو ہم جب وہ قضیہ بناتے تھے، لَا دَائِمًا کو کھولتے تھے تو مُطْلَقَہ عَامَّہ بناتے تھے، اس میں کمیت کو برقرار رکھتے تھے۔ اگر وہ جو قضیہ ساتھ جڑا ہوا ہے، اگر وہ کلیہ ہوتا تھا تو لَا دَائِمًا بھی کیسا نکالتے تھے؟ کلیہ۔ اگر وہ جزئیہ ہوتا تھا تو یہ لَا دَائِمًا بھی کیسا بناتے؟ جزئیہ بناتے تھے۔ موضوع نہیں بدلنا، موضوع کو وہی رکھنا ہے۔ البتہ اگر پہلا موجبہ ہوتا تھا تو اس کو سالبہ، یعنی کیفیت بدلتے تھے، اور اگر وہ سالبہ ہو تو یہ موجبہ۔
تو یہ سَوَالِب کا بیان چل رہا ہے، لہٰذا جو آگے لَا دَائِمًا آئے گا وہ موجبہ ہوگا، سالبہ ہوگا؟ وہ موجبہ، کیونکہ ماقبل کا قضیہ کیا؟ سالبہ، تو آگے لَا دَائِمًا کیا نکلے گا؟ موجبہ۔ اور موجبہ فِي الْبَعْض ہونا چاہیے، کیا معنیٰ؟ موجبہ فِي الْكُل نہیں، معلوم ہوا موجبہ جزئیہ ہونا چاہیے۔ تو لَا دَائِمَہ فِي الْبَعْض کے ذریعے اشارہ ہوا کس کی طرف؟ مُطْلَقَہ عَامَّہ مُوجِبَہ جُزْئِیَّہ کی طرف، مُطْلَقَہ عَامَّہ مُوجِبَہ جُزْئِیَّہ کی طرف۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
اب یہ کیسے ہوگا؟ لکھیے بھئی، یہ عکس لکھ لیجیے، پھر شرح میں بھی وہ بیان کریں گے بھئی۔ بلکہ پہلے سمجھ لو، ادھر دیکھیے، ادھر دیکھیے، پہلے سمجھ لو پھر میں آپ کو قیاس لکھواتا ہوں اس کا۔ دیکھو، خَاصَّتَانِ کے عکس کی بات چل رہی ہے، کس کے؟ اور خَاصَّتَانِ کے اندر کیا کیا ہے؟ مَشْرُوطَہ خَاصَّہ ہو تو اس کے ساتھ کیا لازم؟ مَشْرُوطَہ عَامَّہ لازم، اس کے اندر کیا ہوتا ہے؟ مَشْرُوطَہ خَاصَّہ کے اندر کون ہوتا ہے؟ اس کے اندر مَشْرُوطَہ عَامَّہ ہوتا ہے، اور عُرْفِیَّہ خَاصَّہ کے اندر کون ہوتا ہے؟ عُرْفِیَّہ عَامَّہ۔
البتہ یہ دونوں مقید ہو جائیں ہوتے ہیں کس کے ساتھ؟ لَا دَوَام، توجہ ہے؟ وہی عُرْفِیَّہ عَامَّہ مقید ہوا لَا دَوَام کے ساتھ تو وہ کیا بن گیا؟ عُرْفِیَّہ خَاصَّہ۔ وہی مَشْرُوطَہ عَامَّہ مقید ہوا لَا دَوَام کے ساتھ تو وہ کیا بن گیا؟ مَشْرُوطَہ خَاصَّہ۔ معلوم ہوا مَشْرُوطَہ خَاصَّہ ہو تو اس کے ساتھ مَشْرُوطَہ عَامَّہ لازم ہے، اس کے اندر آئے گا، اور عُرْفِیَّہ خَاصَّہ کے ساتھ عُرْفِیَّہ عَامَّہ لازم ہے۔ توجہ ہے؟ معلوم ہوا یہ جو خَاصَّتَانِ ہیں ان کے ساتھ عَامَّتَانِ لازم ہیں۔ توجہ ہے؟ گویا ان دونوں کا ایک ایک جز عَامَّتَانِ آئے گا، اور عَامَّتَانِ کا عکس کیا آتا ہے؟ ابھی بیان کیا تھا پیچھے: ”وَالْعَامَّتَانِ عُرْفِيَّةً عَامَّةً“، متن میں آیا تھا۔
عَامَّتَانِ کا عکس کیا آتا ہے؟ عُرْفِیَّہ عَامَّہ۔ معلوم ہوا یہ جو خَاصَّتَانِ ہیں، ان کا عکس عُرْفِیَّہ عَامَّہ آئے گا پہلے جز کا عکس، ان کے پہلے جز کا عکس عُرْفِیَّہ عَامَّہ آئے گا۔ لیکن یہ خَاصَّتَانِ میں لَا دَوَام کی قید بھی ہے، اس لَا دَوَام کا عکس کیا آئے گا؟ تو انہوں نے آپ کو بتلا دیا کہ یہ جو عُرْفِیَّہ عَامَّہ کا لَا دَوَام ہے فِي الْبَعْض، وہ آئے گا اس کا عکس۔
خَاصَّتَانِ میں کون کون ہیں؟ عُرْفِیَّہ عَامَّہ اور مَشْرُوطَہ عَامَّہ، لیکن یہ مقید ہیں کس کے ساتھ؟ لَا دَوَام کے ساتھ۔ تو یہ جو مَشْرُوطَہ عَامَّہ ہے اور عُرْفِیَّہ عَامَّہ، ان دونوں کا عکس کیا آتا ہے؟ یہ تو پہلے بیان ہو چکا، کیا عکس آتا ہے؟ عُرْفِیَّہ عَامَّہ، وہ تو پہلے جز کا عکس تو عُرْفِیَّہ عَامَّہ آئے گا، متن میں آپ کو بتا چکے ہیں، اور کل کے سبق میں آپ قیاس بھی نکال چکے ہیں اس کا۔ تو البتہ ایک جز رہ گیا خَاصَّتَانِ کا کہ وہ مقید تھے کس کے ساتھ؟ لَا دَوَام، اس لَا دَوَام کا عکس کیا آئے گا؟ تو انہوں نے بتلا دیا کہ اس کا عکس کیا آئے گا؟ وہی جو عُرْفِیَّہ عَامَّہ ہے اس کا لَا دَوَام فِي الْبَعْض آئے گا، لَا دَوَام فِي الْبَعْض، یعنی ایسا مُطْلَقَہ عَامَّہ جو موجبہ جزئیہ ہوگا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
اب لکھیے بھئی آگے، قیاس پورا لکھ لیجیے، یہاں سمجھ لیں گے پھر شرح میں سمجھنا آسان ہوگا۔ اوپر لکھیے بھئی:
”تَنْعَكِسُ الْخَاصَّتَانِ“، ”تَنْعَكِسُ الْخَاصَّتَانِ“، وہی متن کی عبارت لکھنی ہے، بس ”تَنْعَكِسُ“ شروع میں ساتھ جوڑ دیں۔ ”تَنْعَكِسُ الْخَاصَّتَانِ عُرْفِيَّةً لَا دَائِمَةً فِي الْبَعْضِ“، ”تَنْعَكِسُ الْخَاصَّتَانِ عُرْفِيَّةً لَا دَائِمَةً فِي الْبَعْضِ“، لکھ لیا؟ اسی کے آگے بین القوسین لکھ لیں، یہ جو آپ نے لکھا ”لَا دَائِمَةً فِي الْبَعْضِ“، اس سے کیا مراد ہے؟ میں نے کیا بتایا؟ مُطْلَقَہ عَامَّہ مُوجِبَہ جُزْئِیَّہ۔ یہ اسی کے آگے بین القوسین لکھ لیں بھئی، بریکٹ میں لکھ لیں:
”أَيْ مُطْلَقَةً عَامَّةً مُوجِبَةً جُزْئِيَّةً“، ”أَيْ مُطْلَقَةً عَامَّةً مُوجِبَةً جُزْئِيَّةً“، لکھ لیا؟
آگے لکھیے بھئی نیچے:
”اَلْأَصْلُ“، ”اَلْأَصْلُ“، اور آگے دو نقطے لگائیے۔ ”اَلْأَصْلُ“، دو نقطے لگائیے، لکھیے بھئی۔ کون سے موجہات چل رہے ہیں، موجبہ یا سالبہ؟ سالبہ چل رہے ہیں، سالبہ۔ لکھیے بھئی:
”اَلْأَصْلُ: لَا شَيْءَ مِنَ الْكَاتِبِ بِسَاكِنِ الْأَصَابِعِ“، ”لَا شَيْءَ مِنَ الْكَاتِبِ بِسَاكِنِ الْأَصَابِعِ“، ”لَا شَيْءَ مِنَ الْكَاتِبِ بِسَاكِنِ الْأَصَابِعِ بِالضَّرُورَةِ أَوْ بِالدَّوَامِ“، ”بِالضَّرُورَةِ أَوْ بِالدَّوَامِ مَا دَامَ كَاتِبًا“، ”مَا دَامَ كَاتِبًا“، ”مَا دَامَ كَاتِبًا لَا دَائِمًا“، ”لَا دَائِمًا“، یہ لَا دَائِمَہ کے ساتھ بھی مقید کرو اس کو، ”لَا دَائِمًا“، لکھ لیا؟
بھئی، ”لَا شَيْءَ مِنَ الْكَاتِبِ بِسَاكِنِ الْأَصَابِعِ بِالضَّرُورَةِ أَوْ بِالدَّوَامِ مَا دَامَ كَاتِبًا لَا دَائِمًا“، لکھ لیا؟ جی، اس میں دو قیدیں ہیں بھئی، ”بِالضَّرُورَةِ أَوْ بِالدَّوَامِ“، یہ دو قیدیں کیوں لائے؟ دو جہتیں کیوں لائے؟ کیونکہ یہ دونوں کی مثال ہے، مَشْرُوطَہ خَاصَّہ کی بھی اور عُرْفِیَّہ خَاصَّہ کی بھی۔ مَشْرُوطَہ خَاصَّہ میں بالضرورۃ ہوتا ہے اور عُرْفِیَّہ خَاصَّہ میں بالدوام، تو دونوں قیدیں ذکر کر دیں، ایک ہی مثال دونوں کی بن جائے گی بھئی۔ تو دوبارہ نئے سرے سے قیاس بنانے کی ضرورت نہیں۔
اصل کیا لکھا؟ ”لَا شَيْءَ مِنَ الْكَاتِبِ بِسَاكِنِ الْأَصَابِعِ بِالضَّرُورَةِ أَوْ بِالدَّوَامِ مَا دَامَ كَاتِبًا لَا دَائِمًا“۔ اب اس ”لَا دَائِمًا“ کو بھی ہم نے کھولنا ہے۔ آگے لکھیں ”أَيْ“، حرفِ تفسیر ہے، اب ہم یہ ”لَا دَائِمًا“ کو کھولنے لگے ہیں، یہ جو اصل میں ہے۔ جی، کیا بنے گا؟ پہلے مجھے بتائیے، ”لَا دَائِمًا“ سے اشارہ ہوتا ہے کس کی طرف؟ مُطْلَقَہ عَامَّہ کی طرف، اور یہ مُطْلَقَہ عَامَّہ کیسا ہوتا ہے؟ کمیت میں ماقبل کے مطابق ہوتا ہے، البتہ کیفیت میں اس کے مخالف، وہ موجبہ ہو تو یہ سالبہ اور وہ سالبہ ہو تو یہ موجبہ۔
تو اب ہم نے ”لَا دَائِمًا“ سے مُطْلَقَہ عَامَّہ نکالنا ہے لیکن وہ کیسا ہوگا؟ موجبہ ہوگا، اور یہ کلیہ ہے تو وہ بھی کیا ہوگا؟ کلیہ، تو ہم نے موجبہ کلیہ بنانا ہے بھئی، موجبہ کلیہ۔ بنائیے بھئی، ”لَا دَائِمًا“ کے آگے لکھیں ”أَيْ“، موجبہ کلیہ بنائیے بھئی، موضوع کو موضوع کی جگہ رکھیں، محمول کو محمول کی جگہ رکھیں، کیونکہ عکس نہیں بنا رہے ہم، عکس میں جگہ بدلتے ہیں۔ شاباش!
”كُلُّ كَاتِبٍ سَاكِنُ الْأَصَابِعِ“، ”كُلُّ كَاتِبٍ سَاكِنُ الْأَصَابِعِ بِالْفِعْلِ“، ”بِالْفِعْلِ“، بالفعل لگائیں کیونکہ مُطْلَقَہ عَامَّہ ہے۔ لکھ لیا؟ ”كُلُّ كَاتِبٍ سَاكِنُ الْأَصَابِعِ بِالْفِعْلِ“۔
تو اصل پورا کیا بن گیا ”لَا دَائِمًا“ کو کھولنے کے بعد؟ ”لَا شَيْءَ مِنَ الْكَاتِبِ بِسَاكِنِ الْأَصَابِعِ بِالضَّرُورَةِ أَوْ بِالدَّوَامِ مَا دَامَ كَاتِبًا لَا دَائِمًا، أَيْ كُلُّ كَاتِبٍ سَاكِنُ الْأَصَابِعِ بِالْفِعْلِ“۔
اس کا اب عکس ہم نکالیں گے، نیچے لکھیے بھئی: ”عَكْسُ الْأَصْلِ“، ”عَكْسُ الْأَصْلِ“۔ عکس میں کیا کرتے ہیں؟ موضوع کو محمول کی جگہ اور محمول کو موضوع کی جگہ، اور نیز یہ موجبہ کلیہ ہے یا سالبہ کلیہ؟ سالبہ کلیہ، اور سالبہ کلیہ کا عکس کیا آتا ہے؟ انہوں نے آپ کو بتایا تھا، سالبہ کلیہ ہی آئے گا۔ تو موضوع اور محمول کی جگہ بدلیں اور سالبہ کلیہ بنائیے بھئی۔
بنائیے، ”عَكْسُ الْأَصْلِ“ لکھ کے آگے سالبہ کلیہ عکس بنائیے بھئی۔ کیا بنے گا؟ ہاں شاباش!
”لَا شَيْءَ مِنْ سَاكِنِ الْأَصَابِعِ بِكَاتِبٍ“، ”لَا شَيْءَ مِنْ سَاكِنِ الْأَصَابِعِ بِكَاتِبٍ مَا دَامَ“، ”مَا دَامَ“، ”مَا دَامَ“، جی آگے کیا آئے گا؟ موضوع آئے گا، موضوع، ”مَا دَامَ“، یہاں موضوع کیا ہے؟ ساکن الاصابع ہے، ”مَا دَامَ سَاكِنَ الْأَصَابِعِ“، ”مَا دَامَ سَاكِنَ الْأَصَابِعِ“۔
آگے جہت بھی لکھو بھئی، جہت کیا آئے گی؟ جہت بتائیے کیا آئے گی؟ اوپر ”بِالضَّرُورَةِ أَوْ بِالدَّوَامِ“ ہے، یہاں جہت کیا آئے گی عکس میں؟ توجہ ہے سبق کی طرف؟ کیا آئے گی جہت؟ ابھی تو بتایا بھئی کہ خَاصَّتَانِ کا عکس کیا آتا ہے؟ عُرْفِیَّہ لَا دَائِمَہ، عُرْفِیَّہ بناؤ، عُرْفِیَّہ میں کیا آتا ہے؟ بالدوام، کیا آتا ہے؟ بالدوام، تو یہاں لکھ لیں، ”دَائِمًا“ لکھ لیں بھئی، بالدوام لکھ لیں یا دائماً ایک ہی بات ہے، ”دَائِمًا“ بھئی، ”دَائِمًا“۔
اچھا، اور لَا دَوَام بھی لکھیں ساتھ، کیا آئے گا ساتھ؟ کیا عکس تھا بھئی؟ اوپر متن میں کیا بتایا؟ خَاصَّتَانِ کا عکس کیا آئے گا؟ عُرْفِیَّہ لَا دَائِمَہ فِي الْبَعْض۔ تو اس کے ساتھ لکھ لیں ”لَا دَائِمًا فِي الْبَعْضِ“، ”لَا دَائِمًا فِي الْبَعْضِ“۔
”عَكْسُ الْأَصْلِ“، عکسِ اصل لکھ لیا؟ کیا لکھا؟ ”لَا شَيْءَ مِنْ سَاكِنِ الْأَصَابِعِ بِكَاتِبٍ دَائِمًا مَا دَامَ سَاكِنَ الْأَصَابِعِ لَا دَائِمًا فِي الْبَعْضِ“، ”لَا دَائِمًا فِي الْبَعْضِ“۔
اب اس ”لَا دَائِمًا فِي الْبَعْضِ“ کو بھی ہم کھولتے ہیں بھئی۔ ”لَا دَائِمًا فِي الْبَعْضِ“ میں نے بتلایا تھا یہ کیا ہے؟ اوپر میں نے بین القوسین لکھوایا تھا: مُطْلَقَہ عَامَّہ مُوجِبَہ جُزْئِیَّہ، مُطْلَقَہ عَامَّہ مُوجِبَہ جُزْئِیَّہ۔ اب بنائیے آپ، موجبہ جزئیہ بنائیے، موضوع کو موضوع رکھیں، یہ جو جس قضیے کے ساتھ یہ جڑا ہوا ہے اسی سے بنانا ہے، موضوع کو موضوع رکھیں، محمول کو محمول رکھیں۔ شاباش!
”أَيْ بَعْضُ سَاكِنِ الْأَصَابِعِ كَاتِبٌ بِالْفِعْلِ“، ”أَيْ بَعْضُ سَاكِنِ الْأَصَابِعِ كَاتِبٌ بِالْفِعْلِ“، لکھ لیا؟
یہ دیکھو، پورا عکس کیا بنا اصل کا ”لَا دَائِمًا“ کو کھولنے کے بعد؟ ”لَا شَيْءَ مِنْ سَاكِنِ الْأَصَابِعِ بِكَاتِبٍ دَائِمًا مَا دَامَ سَاكِنَ الْأَصَابِعِ لَا دَائِمًا فِي الْبَعْضِ، أَيْ بَعْضُ سَاكِنِ الْأَصَابِعِ كَاتِبٌ بِالْفِعْلِ“۔ لکھ لیا سارا؟
ہمارا دعویٰ یہ ہے، ہمارا دعویٰ یہ ہے کہ خَاصَّتَانِ کا عکس ایسا عُرْفِیَّہ عَامَّہ آتا ہے، خَاصَّتَانِ کا عکس ایسا عُرْفِیَّہ عَامَّہ آتا ہے جو مقید ہوتا ہے کس کے ساتھ؟ لَا دَائِمَہ فِي الْبَعْض کے ساتھ، مقید ہوتا ہے لَا دَائِمَہ فِي الْبَعْض کے ساتھ۔ تو خَاصَّتَانِ کے اندر کیا ہیں؟ عَامَّتَانِ ہیں۔ تو گویا دعوے میں دو چیزیں آ گئیں کہ خَاصَّتَانِ کا عکس عُرْفِیَّہ عَامَّہ بھی آئے گا اور لَا دَائِمَہ فِي الْبَعْض بھی آئے گا۔ تو عُرْفِیَّہ عَامَّہ یہ پہلا دعویٰ، یہ تو ثابت ہم کر چکے، کیونکہ خَاصَّتَانِ کے اندر کون موجود؟ عَامَّتَانِ، اور عَامَّتَانِ کا عکس کیا آتا ہے؟ عُرْفِیَّہ عَامَّہ، یہ ہم پہلے ثابت کر چکے۔
دوسرا جز رہ گیا کہ یہ جو خَاصَّتَانِ میں لَا دَوَام تھا اس کا عکس کیا آئے گا؟ لَا دَائِمَہ فِي الْبَعْض، لَا دَائِمَہ فِي الْبَعْض آئے گا، وہ اب ہم نے ثابت کرنا ہے۔ اگر آپ ہمارا دعویٰ نہیں مانیں گے، یعنی ہمارا دعویٰ کیا ہے کہ یہ جو ہم نے اصل میں لَا دَوَام آیا تھا، اس کا عکس جو ہے یہ عکسِ اصل کے اندر جو لَا دَوَام آیا ہم نے کھولا، کیا؟ ”أَيْ بَعْضُ سَاكِنِ الْأَصَابِعِ كَاتِبٌ بِالْفِعْلِ“، یہ لَا دَائِمَہ آئے گا، لَا دَائِمَہ فِي الْبَعْض۔ اگر آپ ہمارے اس دعوے کو نہیں مانتے تو اس کی نقیض کو ماننا پڑے گا، اس کی نقیض کو ماننا پڑے گا۔
نقیض نکالیں اب اس کی، نیچے لکھیں:
”نَقِيضُ لَا دَوَامِ الْعَكْسِ“، ”نَقِيضُ لَا دَوَامِ الْعَكْسِ“، اور دو نقطے لگائیے۔ ”نَقِيضُ لَا دَوَامِ الْعَكْسِ“، لکھ لیا؟ یہ کس کی نقیض ہے؟ بتا تو رہا ہوں، لَا دَوَامِ عکس کی نقیض ہے۔ کون سا لَا دَوَام جو کس میں آیا ہے؟ عکس میں آیا ہے۔ یہ لفظ میں نے لکھوایا ”نَقِيضُ لَا دَوَامِ الْعَكْسِ“، عکس کا جو لَا دَوَام ہے اس کی نقیض۔
عکس کا لَا دَوَام کیا کھولا تھا آپ نے؟ کیا لکھا تھا؟ ”بَعْضُ سَاكِنِ الْأَصَابِعِ كَاتِبٌ بِالْفِعْلِ“، اس کی نقیض تیار کیجیے۔ نقیض کیسے بناتے ہیں؟ نقیض کیسے تیار کرتے ہیں؟ تین چیزیں بدل دیتے ہیں، کون کون سی؟ کمیت بھی بدلتے ہیں، کیفیت بھی بدلتے ہیں، اور جہت بھی بدلتے ہیں۔ یہ موجبہ ہے یا سالبہ؟ یہ موجبہ، تو آگے ہم سالبہ بنائیں گے۔ یہ جزئیہ ہے یا کلیہ؟ یہ جزئیہ، تو ہم کلیہ بنائیں گے۔ معلوم ہوا سالبہ کلیہ بنانا ہے، سالبہ کلیہ بنائیے بھئی۔
سالبہ کلیہ بنائیے، ہاں شاباش!
”لَا شَيْءَ مِنْ سَاكِنِ الْأَصَابِعِ بِكَاتِبٍ“، ”لَا شَيْءَ مِنْ سَاكِنِ الْأَصَابِعِ بِكَاتِبٍ“، لکھ لیا؟ ”لَا شَيْءَ مِنْ سَاكِنِ الْأَصَابِعِ بِكَاتِبٍ“، اور جہت کی بھی نقیض نکالنی ہے۔ آپ نے پڑھا تھا، مُطْلَقَہ عَامَّہ کی نقیض کیا آتی ہے؟ دَائِمَہ مُطْلَقَہ بھئی، دَائِمَہ مُطْلَقَہ، اور دَائِمَہ مُطْلَقَہ میں کیا، کون سی جہت ہوتی ہے؟ بالدوام، تو آگے آخر میں لکھ لیں ”دَائِمًا“ بھئی، ”دَائِمًا“۔
”لَا شَيْءَ مِنْ سَاكِنِ الْأَصَابِعِ بِكَاتِبٍ دَائِمًا“، یہ آ گئی نقیض لَا دَوَامِ عکس کی۔
آگے لکھیے:
”اَلْقِيَاسُ“، ”اَلْقِيَاسُ“، دو نقطے لگائیے، دو نقطے لگائیے۔ آگے لکھیے: لَا دَوَامِ اصل، لَا دَوَامِ اصل، ”وَنَقِيضُ لَا دَوَامِ الْعَكْسِ“، ”وَنَقِيضُ لَا دَوَامِ الْعَكْسِ“، لکھ لیا؟
قیاس ہم کیا کریں گے؟ ادھر دیکھیے بھئی، جو اصل ہے اس کا لَا دَوَام لیں گے، اور یہ جو لَا دَوَامِ عکس کی ہم نے نقیض نکالی اس کو لیں گے، ان دونوں مقدموں کو ملائیں گے۔ کس کس کو لیں گے؟ میں نے لکھوا دیا آپ کو، کس کس کو لیں گے؟ لَا دَوَامِ اصل ”وَنَقِيضُ لَا دَوَامِ الْعَكْسِ“، ان دونوں کو لیں گے۔
اب اس سے نچلی سطر میں بھئی، لَا دَوَامِ اصل اور نقیضِ لَا دَوَامِ عکس کو لے آئیں بھئی، وہ لکھیں۔ لَا دَوَامِ اصل کیا ہے؟ لَا دَوَامِ اصل، لکھیے بھئی، لَا دَوَامِ اصل کے نیچے لکھ لیجیے پورا جو لَا دَوَامِ اصل تھا وہ:
”كُلُّ كَاتِبٍ سَاكِنُ الْأَصَابِعِ بِالْفِعْلِ“، ”كُلُّ كَاتِبٍ سَاكِنُ الْأَصَابِعِ بِالْفِعْلِ“۔
اور آگے اس کے ساتھ واؤ لکھیں اور پھر نقیضِ لَا دَوَامِ عکس لکھ دیں، وہ کیا ہے؟ ”لَا شَيْءَ“، تو آگے لکھیے:
”وَلَا شَيْءَ مِنْ سَاكِنِ الْأَصَابِعِ“، ”وَلَا شَيْءَ مِنْ سَاكِنِ الْأَصَابِعِ بِكَاتِبٍ دَائِمًا“، ”لَا شَيْءَ مِنْ سَاكِنِ الْأَصَابِعِ بِكَاتِبٍ دَائِمًا“، لکھ لیا؟
تو یہ قیاس بن گیا ہمارا، کیا قیاس بنا؟ پھر سن لیں:
”كُلُّ كَاتِبٍ سَاكِنُ الْأَصَابِعِ بِالْفِعْلِ، وَلَا شَيْءَ مِنْ سَاكِنِ الْأَصَابِعِ بِكَاتِبٍ دَائِمًا“۔
نیچے لکھیے: نتیجہ بھئی، نتیجہ۔ سب سے پہلے تو یہ دیکھ لیں، قیاس کی شرائط پوری ہیں؟ شکلِ اول کی کیا شرائط تھیں؟ ایجابِ صغریٰ اور کلیتِ کبریٰ۔ دیکھو، پہلا کیا ہے؟ ”كُلُّ كَاتِبٍ سَاكِنُ الْأَصَابِعِ“، یہ موجبہ ہے، ایجابِ صغریٰ کی شرط پوری۔ دوسرا قضیہ کیا ہے؟ ”وَلَا شَيْءَ مِنْ سَاكِنِ الْأَصَابِعِ بِكَاتِبٍ“، یہ کلیہ ہے، تو ایجابِ صغریٰ اور کلیتِ کبریٰ دونوں شرطیں پوری ہیں۔
اب نتیجہ، نتیجہ کیسے نکالتے ہیں شکلِ اول کا؟ دیکھیے، دونوں مقدموں پر ذرا نظر رکھیں بھئی، میں نے آپ کو بتایا تھا کہ قیاس کا نتیجہ ارذل و اخس کے تابع ہوتا ہے۔ اخس سین کے ساتھ ہے، میں بار بار دہرا رہا ہوں تاکہ خوب ذہن میں بات بیٹھ جائے، ایک اخص صاد کے ساتھ ہوتا ہے اس کا معنیٰ ہے زیادہ خاص، یہ اخس سین کے ساتھ ہے جو زیادہ خسیس ہے، ادنیٰ ہے، ارذل و اخس کا ایک معنیٰ ہے، ادنیٰ بھئی۔ اچھا، مجھے بتائیے بھئی، اگر ایک مقدمہ کلیہ ہو اور ایک جزئیہ ہو تو نتیجہ کیا آئے گا؟ جزئیہ۔ اور اگر ایک موجبہ ہو اور ایک سالبہ ہو تو نتیجہ کیا آئے گا؟ سالبہ آئے گا۔
اب دیکھیے بھئی، یہ دونوں مقدمے، یہ دونوں کلیہ ہیں یا ان میں سے کوئی جزئیہ بھی ہے؟ دونوں کلیہ ہیں، معلوم ہوا نتیجہ بھی کلیہ آئے گا۔ اور ان میں سے کوئی سالبہ ہے؟ ایک سالبہ بھی ہے، معلوم ہوا نتیجہ کیا آئے گا؟ سالبہ کلیہ آئے گا۔ اب سالبہ کلیہ بنائیے بھئی، سالبہ کلیہ کیسے بنانا ہے؟ موضوع کہاں سے لینا ہے؟ صغریٰ سے۔ محمول کہاں سے لینا ہے؟ کبریٰ سے۔ تو صغریٰ کا موضوع لیں اور کبریٰ کا محمول لیں اور ایک سالبہ کلیہ تیار کریں۔
ہاں، ”لَا شَيْءَ مِنَ الْكَاتِبِ“، یہ صغریٰ کا موضوع لیا، اور سالبہ کلیہ ہم بنا رہے ہیں: ”لَا شَيْءَ مِنَ الْكَاتِبِ“، اور کبریٰ کا محمول کیا؟ وہ بھی کاتب ہے، تو ”لَا شَيْءَ مِنَ الْكَاتِبِ بِكَاتِبٍ“، ”بِكَاتِبٍ دَائِمًا“، ”دَائِمًا“، ”لَا شَيْءَ مِنَ الْكَاتِبِ بِكَاتِبٍ دَائِمًا“۔
تو نتیجہ کیا آیا؟ ”لَا شَيْءَ مِنَ الْكَاتِبِ بِكَاتِبٍ دَائِمًا“۔ کوئی کاتب کاتب نہیں ہے، دیکھو کاتب سے کاتب کی نفی کر دی، اور یہ تو محال ہے بھئی، شئے سے، کسی شئے سے اپنی ہی ذات کی نفی محال ہے۔ اور یہ محال کیوں لازم آیا؟ خرابی کس میں تھی؟ قیاس میں کوئی خرابی نہیں، قیاس کی شرطیں پوری۔ اور صغریٰ جو تھا وہ تو لَا دَوَامِ اصل ہے، اس میں بھی کوئی خرابی نہیں۔ معلوم ہوا خرابی کس کے اندر ہے؟ کبریٰ کے اندر ہے، وہ جو لَا دَوَامِ عکس کی نقیض آپ نے نکالی تھی اس کی وجہ سے خرابی لازم آئی۔ معلوم ہوا لَا دَوَامِ عکس کی نقیض باطل ہے، کیونکہ جو چیز مستلزمِ محال ہو وہ خود محال ہوتی ہے، یا یوں کہیں، جو چیز مستلزمِ باطل ہو وہ خود باطل ہوتی ہے۔ تو جو نقیض ہے لَا دَوَامِ عکس کی وہ باطل ہے، اور جب وہ باطل ہے تو لَا دَوَامِ عکس ثابت ہو گیا، یعنی وہ جو لَا دَوَام فِي الْبَعْض تھا وہ ہمارا دعویٰ ثابت ہو گیا۔
اب آئیے بھئی کتاب پر۔ تو یہ معنیٰ ہے، متن دیکھ لیجیے، کہتے ہیں: ”وَالْخَاصَّتَانِ عُرْفِيَّةً لَا دَائِمَةً فِي الْبَعْضِ“، اور دو خاصہ جو ہیں ان کا عکس عُرْفِیَّہ لَا دَائِمَہ فِي الْبَعْض آتا ہے۔
اب شرح میں آئیے: ”قَوْلُهُ: وَالْخَاصَّتَانِ“۔ بھئی، خاصتان سے کیا مراد ہے؟ میں نے آپ کو بتایا تھا مَشْرُوطَہ خَاصَّہ اور عُرْفِیَّہ خَاصَّہ، وہی بیان کر رہے ہیں: ”أَيِ الْمَشْرُوطَةُ الْخَاصَّةُ وَالْعُرْفِيَّةُ الْخَاصَّةُ“، یہ دونوں جو ہیں: ”تَنْعَكِسَانِ عُرْفِيَّةً أَيْ عُرْفِيَّةً عَامَّةً سَالِبَةً كُلِّيَّةً مُقَيَّدَةً بِاللَّادَوَامِ فِي الْبَعْضِ“، یعنی یہ دونوں منعکس ہوتے ہیں عرفیہ کی طرف، ”أَيْ عُرْفِيَّةً“ یعنی ایسا عُرْفِیَّہ عَامَّہ جو عام ہے، ”سَالِبَةً كُلِّيَّةً“ اور کیا ہے؟ سالبہ کلیہ ہے، اور یہ سالبہ کلیہ ہے۔
سالبہ کلیہ کیوں ہے؟ بھئی، کیونکہ سالبہ کلیہ کا عکس کیا آتا ہے؟ سالبہ کلیہ، اور یہ سَوَالِب کا بیان چل رہا ہے، جو میں نے آپ کو اصل لکھوایا وہ سالبہ کلیہ تھا، تو اس کا عکس بھی ظاہر سی بات ہے وہ کیا آئے گا؟ سالبہ کلیہ آئے گا۔ یہ معنیٰ ہے: ”عُرْفِيَّةً أَيْ عُرْفِيَّةً عَامَّةً سَالِبَةً كُلِّيَّةً“، یعنی ایسا عُرْفِیَّہ عَامَّہ جو سالبہ کلیہ ہوگا، ”مُقَيَّدَةً بِاللَّادَوَامِ فِي الْبَعْضِ“ اور وہ مقید ہوگا لَا دَوَام فِي الْبَعْض کے ساتھ۔
”وَهُوَ إِشَارَةٌ إِلَى مُطْلَقَةٍ عَامَّةٍ مُوجِبَةٍ جُزْئِيَّةٍ“، اور یہ لَا دَوَام فِي الْبَعْض جو ہے یہ اشارہ ہے کس کی طرف؟ ”إِلَى مُطْلَقَةٍ عَامَّةٍ مُوجِبَةٍ جُزْئِيَّةٍ“، میں نے آپ کو بین القوسین لکھوایا تھا، تو یہ اشارہ ہے ایسے مُطْلَقَہ عَامَّہ کی طرف جو موجبہ جزئیہ ہے۔
”فَنَقُولُ“، پس ہم کہتے ہیں: ”إِذَا صَدَقَ“، اب وہی قیاس بنائیں گے، وہی جو میں نے آپ کو لکھوایا وہ سارے قضیے نکالیں گے یہ۔ ”فَنَقُولُ“، ہم کہتے ہیں: ”إِذَا صَدَقَ“، جب یہ ہمارا قول صادق ہو کہ: ”لَا شَيْءَ مِنَ الْكَاتِبِ بِسَاكِنِ الْأَصَابِعِ مَا دَامَ كَاتِبًا لَا دَائِمًا“۔
اس میں دیکھو، بالضرورۃ اور بالدوام کی قید نہیں لگائی، بالضرورۃ اور بالدوام، ہاں لیکن آپ سمجھ جائیں کیونکہ بات کس کی چل رہی ہے؟ خَاصَّتَانِ کی، اور خَاصَّتَانِ میں اگر وہ مَشْرُوطَہ...
مَشْرُوطَة خَاصَّة ہے تو بِالضَّرُورَة کی قید ہوتی ہے۔ اور عُرْفِيَّة خَاصَّة ہے تو اس میں بِالدَّوَام کی قید ہوتی ہے۔ کہ جب بھی ہمارا یہ قول صادق آئے گا کہ لَا شَيْءَ مِنَ الْكَاتِبِ بِسَاكِنِ الْأَصَابِعِ مَا دَامَ كَاتِبًا لَا دَائِمًا تو صَدَقَ تو یہ قول بھی صادق آئے گا۔ آگے اب وہ عکس ذکر کرنے لگے ہیں کیونکہ میں نے آپ کو بتایا تھا اصل کے ساتھ عکس کیا ہوتا ہے؟ لَازِم، عکس اصل صادق آ رہا ہے تو عکس بھی صادق آئے گا۔ تو جب ہمارا یہ اصل صادق آئے گا تو صَدَقَ یہ عکس بھی صادق آئے گا کہ لَا شَيْءَ مِنَ السَّاكِنِ بِكَاتِبٍ مَا دَامَ سَاكِنًا لَا دَائِمًا فِي الْبَعْضِ۔ لَا دَائِمًا فِي الْبَعْضِ، لَا شَيْءَ مِنَ السَّاكِنِ اور مختصر کر دیا۔ سَاكِنِ الْأَصَابِعِ کے بجائے کیا کہہ دیا؟ السَّاكِن کہہ دیا۔ السَّاكِن اور مراد کیا ہے؟ سَاكِنِ الْأَصَابِعِ ہے۔ یعنی کوئی بھی چیز جس کی انگلیاں ساکن ہوں وہ کاتب نہیں ہے مَا دَامَ سَاكِنًا جب تک وہ ساکن ہے۔ ہم نے بھی یہی نکالا تھا نا؟ مَا دَامَ سَاكِنَ الْأَصَابِعِ، مَا دَامَ سَاكِنًا لَا دَائِمًا فِي الْبَعْضِ۔ اور پھر اس لَا دَائِمًا فِي الْبَعْضِ کو ہم نے کھولا تھا کیا بنایا تھا جو لکھا تھا اس پہ نظر رکھیں۔ لَا دَائِمًا فِي الْبَعْضِ کو ہم نے کھولا تھا أَيْ بَعْضُ سَاكِنِ الْأَصَابِعِ كَاتِبٌ بِالْفِعْلِ یہ بھی یہی بیان کر رہے ہیں دیکھیے بھئی أَيْ بَعْضُ السَّاكِنِ كَاتِبٌ بِالْفِعْلِ۔
أَمَّا الْجُزْءُ الْأَوَّلُ تو دو جز ہو گئے بھئی۔ ادھر دیکھیے۔ خَاصَّتَان کے دو جز ہو گئے۔ پہلا جز عُرْفِيَّة عَامَّة یا مَشْرُوطَة عَامَّة۔ اور دوسرا جز لَا دَوَام۔ توجہ ہے؟ لَا دَوَام۔ تو پہلے جز کا عکس کیا آئے گا؟ عُرْفِيَّة عَامَّة وہ تو ہم پہلے بیان کر چکے۔ دوسرے جز کا بیان باقی تھا کہ اس کا عکس لَا دَوَامَ فِي الْبَعْضِ کیسے آئے گا؟ تو اب بیان کر رہے ہیں۔ دیکھیے۔ کہتے ہیں أَمَّا الْجُزْءُ الْأَوَّلُ تو جز اول جو ہے فَقَدْ مَرَّ بَيَانُهُ تو تحقیق اس کا بیان گزر چکا ہے۔ مِنْ أَنَّهُ یعنی یہ کہ مِنْ أَنَّهُ لَازِمٌ لِلْعَامَّتَيْنِ یہ کہ وہ لازم ہے کس کے ساتھ؟ کیا لازم ہے؟ عَامَّتَيْنِ کے ساتھ عُرْفِيَّة عَامَّة لازم ہے۔ یہ بات اوپر گزر چکی۔ عَامَّتَان کا عکس کیا آتا ہے؟ متن میں کیا آیا تھا؟ کل کے سبق کے آخر میں آیا تھا، اوپر متن میں دیکھ لیں۔ عَامَّتَان کا عکس کیا ہے؟ عُرْفِيَّة عَامَّة۔ یعنی جہاں عَامَّتَان آئیں گے ان کے ساتھ عُرْفِيَّة عَامَّة لازم ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ ادھر دیکھیے۔ یہ آپ کو دلیل یہ دیں گے کہ جہاں بھی عَامَّتَان آئیں گے، ان کے ساتھ کیا لازم؟ عُرْفِيَّة عَامَّة لازم ہے۔
تو یہ جو دو خَاصَّتَان ہیں، ان کے ساتھ عَامَّتَان لازم ہیں۔ یہ جو دو خَاصَّتَان ہیں، ان کے ساتھ عَامَّتَان کیونکہ خَاصَّة کہتے ہی کس کو ہیں؟ وہی عَامَّة ہوتا ہے اور مقید ہوتا ہے کس کے ساتھ؟ لَا دَوَام کے ساتھ۔ تو خَاصَّتَان کے ساتھ کیا لازم؟ عَامَّتَان۔ خَاصَّتَان کے ساتھ کیا لازم؟ خَاصَّة بنتا ہی کس سے ہے؟ عَامَّة سے۔ تو خَاصَّتَان کے ساتھ کیا لازم؟ عَامَّتَان لازم۔ اور عَامَّتَان کے ساتھ کیا لازم؟ عُرْفِيَّة عَامَّة لازم۔ معلوم ہوا کہ خَاصَّتَان کے ساتھ بھی عُرْفِيَّة عَامَّة لازم ہے، کیونکہ لَازِم کا لَازِم بھی لَازِم ہوتا ہے۔ لَازِم کا لَازِم بھی، خَاصَّتَان کے ساتھ کیا لازم؟ عَامَّتَان۔ اور عَامَّتَان کے ساتھ کیا لازم؟ عُرْفِيَّة عَامَّة۔ تو معلوم ہوا یہ عُرْفِيَّة عَامَّة خَاصَّتَان کے ساتھ بھی لازم ہے۔ جیسے دیکھو، انسان کے ساتھ حَيَوَان ہونا لازم۔ اور حَيَوَان کے لیے مُتَحَرِّك بِالْإِرَادَة ہونا لازم۔ تو جب ہر انسان کیا ہے؟ حَيَوَان۔ اور حَيَوَان تو کیا ہے؟ مُتَحَرِّك بِالْإِرَادَة ہے۔ یا اور دیکھ لو، مثلا کوئی بھی مثال ویسے بنا لیں، مثلا سورج نکلے گا تو روشنی ہوگی۔ اور روشنی ہوگی تو دن ہوگا۔ تو سورج کے نکلنے کے ساتھ روشنی کا ہونا لازم۔ اور روشنی کے ہونے کے ساتھ دن کا ہونا لازم۔ تو سورج کے ساتھ روشنی لازم۔ روشنی کے ساتھ دن لازم۔ اور لَازِم کا لَازِم بھی کیا ہوتا ہے؟ لَازِم۔ تو گویا سورج کے ساتھ دن کا ہونا لازم۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو خَاصَّتَان کے ساتھ کیا لازم؟ عَامَّتَان۔ اور عَامَّتَان کے ساتھ کیا لازم؟ عُرْفِيَّة عَامَّة۔ تو معلوم ہوا خَاصَّتَان کے ساتھ بھی عُرْفِيَّة عَامَّة لازم ہے۔
یہ پہلے جز کی دلیل آ گئی۔ پہلے جز کی کہ خَاصَّتَان کا عکس کیا آتا ہے؟ ایسا عُرْفِيَّة عَامَّة جو مقید ہوتا ہے لَا دَوَامَ فِي الْبَعْضِ کے ساتھ۔ تو عُرْفِيَّة عَامَّة پہلے جز کا عکس کیا آتا ہے؟ عُرْفِيَّة عَامَّة وہ ہم نے ثابت کر دیا۔ کیونکہ خَاصَّتَان کے ساتھ کیا لازم؟ عَامَّتَان۔ اور عَامَّتَان کے ساتھ کیا لازم؟ عُرْفِيَّة عَامَّة۔ تو عُرْفِيَّة عَامَّة تو ضرور آئے گا عکس میں۔ البتہ ساتھ لَا دَوَامَ فِي الْبَعْضِ بھی آئے گا وہ اب ہم نے ثابت کرنا ہے۔ تو کہتے ہیں فَقَدْ مَرَّ بَيَانُهُ اس کا بیان پہلے گزر چکا ہے مِنْ أَنَّهُ لَازِمٌ لِلْعَامَّتَيْنِ کہ وہ عُرْفِيَّة عَامَّة جو ہے وہ عَامَّتَيْنِ کے ساتھ لازم ہے وَهُمَا لَازِمَتَانِ لِلْخَاصَّتَيْنِ اور وہ دونوں یعنی عَامَّتَيْنِ لازم ہیں خَاصَّتَيْنِ کے ساتھ وَلَازِمُ اللَّازِمِ لَازِمٌ اور لازم کا جو لازم ہے وہ لازم ہوتا ہے۔ یہ پہلے جز کی دلیل آ گئی۔ معلوم ہوا کیا؟ کہ خَاصَّتَان کے ساتھ عُرْفِيَّة عَامَّة لازم ہے۔ لیکن یہ عُرْفِيَّة عَامَّة مقید ہوگا کس کے ساتھ؟ لَا دَوَامَ فِي الْبَعْضِ کیوں؟ کیونکہ خَاصَّتَان مقید ہیں لَا دَوَام کے ساتھ۔ تو ان کا عکس بھی مقید ہوگا کس کے ساتھ؟ لَا دَوَامَ فِي الْبَعْضِ اب اس کی دلیل رہ گئی اب وہ ذکر کرنے لگے ہیں۔
کہتے ہیں وَأَمَّا الْجُزْءُ الثَّانِي اور باقی دوسرا جز جو ہے کہ ان کے ساتھ لَا دَوَامَ فِي الْبَعْضِ لازم ہے فَلِأَنَّهُ لَوْ لَمْ يَصْدُقْ لَصَدَقَ نَقِيضُهُ اس لیے کیونکہ لَا دَوَامَ فِي الْبَعْضِ جو ہے اگر وہ صادق نہیں آئے گا لَصَدَقَ نَقِيضُهُ تو اس کی نقیض صادق آئے گی اور کیا نقیض ہم نے نکالی تھی ذرا دیکھیے بھئی کیا میں نے لکھوایا تھا؟ نقیض لَا دَوَام عکس کی کیا لکھوائی تھی؟ لَا شَيْءَ مِنْ سَاكِنِ الْأَصَابِعِ بِكَاتِبٍ دَائِمًا یہی بتلا رہے ہیں۔ کہتے ہیں اگر وہ صادق نہیں آئے گا لَصَدَقَ نَقِيضُهُ تو اس کی نقیض صادق آئے گی وَهُوَ اور وہ یہ ہے لَا شَيْءَ مِنَ السَّاكِنِ بِكَاتِبٍ دَائِمًا دیکھو وہی نقیض آ گئی۔ فَهَذَا مَعَ اللَّادَوَامِ الْأَصْلِيِّ تو اس کو پھر ملائیں گے کس کے ساتھ؟ بھئی یہ یہ نقیض آئی کس کی؟ آپ نے کاپی پر کیا لکھا تھا؟ نقیض لَا دَوَام عکس نکال کر پھر آپ نے قیاس بنایا تھا۔ اس نقیض کو کس کے ساتھ جوڑا تھا؟ لَا دَوَام اصل کے ساتھ وہی بیان کر رہے ہیں۔ فَهَذَا مَعَ اللَّادَوَامِ الْأَصْلِيِّ تو یہ لَا دَوَام اصل کے ساتھ اور وہ لَا دَوَام اصل کیا ہے ذرا کاپی پہ دیکھیے كُلُّ كَاتِبٍ سَاكِنُ الْأَصَابِعِ بِالْفِعْلِ وہی بیان کر رہے ہیں کہ یہ لَا دَوَام اصل کے ساتھ وَهُوَ كُلُّ كَاتِبٍ سَاكِنُ الْأَصَابِعِ بِالْفِعْلِ اس کے ساتھ يُنْتِجُ یہ یہ نتیجہ دیتی ہے لَا شَيْءَ مِنَ الْكَاتِبِ بِكَاتِبٍ دَائِمًا کوئی بھی کاتب کاتب نہیں ہے دَائِمًا هَذَا خُلْفٌ اور یہ خلف ہے۔ دلیل سمجھ میں آ گئی بھئی۔
وَإِنَّمَا لَمْ يَلْزَمِ اللَّادَوَامُ فِي الْكُلِّ اچھا بھئی انہوں نے کیا کہا ادھر دیکھیے۔ بلکہ متن پہ دیکھیے۔ متن میں کہ خَاصَّتَان کا عکس کیا آئے گا؟ ایسا عُرْفِيَّة عَامَّة جو لَا دَائِمَة فِي الْبَعْضِ ہوگا۔ سوال، لَا دَائِمَة فِي الْكُلِّ کیوں نہیں آئے گا؟ لَا دَائِمَة فِي الْبَعْضِ کیا نکالا تھا؟ مُطْلَقَة عَامَّة مُوجِبَة جُزْئِيَّة۔ تو مُطْلَقَة عَامَّة مُوجِبَة كُلِّيَّة کیوں نہیں آتا اس کا عکس؟ اعتراض سمجھ میں آ رہا ہے؟ کہ انہوں نے کیا کہا تھا لَا دَائِمَة فِي الْبَعْضِ آئے گا۔ مُوجِبَة كُلِّيَّة کیوں نہیں آئے گا؟ اب اس کی وجہ ذکر کرنے لگے ہیں۔ کہتے ہیں وَإِنَّمَا لَمْ يَلْزَمِ اللَّادَوَامُ فِي الْكُلِّ کہتے ہیں اس کے ساتھ لَا دَوَامَ فِي الْكُلِّ لازم نہیں لِأَنَّهُ يَكْذِبُ فِي مِثَالِنَا هَذَا اس لیے کیونکہ وہ جھوٹا ہو جاتا ہے ہماری اس مثال میں فِي مِثَالِنَا هَذَا ہماری اس مثال میں كُلُّ سَاكِنٍ كَاتِبٌ بِالْفِعْلِ۔ بھئی ذرا کاپی پہ نظر رکھیں۔ جو آپ نے لکھا تھا۔ لَا دَوَامَ فِي الْبَعْضِ کو آپ نے کھولا تھا۔ کیا بنا تھا؟ نقیض سے پہلے پھر اسی کی آپ نے نقیض تیار کی تھی۔ بَعْضُ سَاكِنِ الْأَصَابِعِ كَاتِبٌ بِالْفِعْلِ۔ یہ بعض کی بات کیوں کل کی کیوں نہیں کی؟
کہتے ہیں اگر ہم کل کی بات کرتے دیکھو اسی پہ نظر رکھو کاپی پہ ہی۔ اگر ہم یوں کہتے كُلُّ سَاكِنِ الْأَصَابِعِ كَاتِبٌ بِالْفِعْلِ ہر سَاكِنِ الْأَصَابِعِ کون ہے؟ کاتب ہے بِالْفِعْلِ، ہر سَاكِنِ الْأَصَابِعِ کاتب ہے بِالْفِعْلِ اگر ہم یوں کہہ دیتے تو یہ جھوٹا ہو جاتا۔ دیکھو اب بیان کریں گے۔ کہتے ہیں لِأَنَّهُ يَكْذِبُ فِي مِثَالِنَا هَذَا اس لیے کیونکہ یہ جھوٹا ہو جاتا ہماری اس مثال میں کس طرح جھوٹا ہوتا؟ یہ اب وہ بنا رہے ہیں بھئی لَا دَوَامَ فِي الْكُلِّ بنا رہے ہیں اسی سے لَا دَوَامَ فِي الْكُلِّ كُلُّ سَاكِنٍ كَاتِبٌ بِالْفِعْلِ، ہر ساکن یعنی سَاكِنِ الْأَصَابِعِ ہر سَاكِنِ الْأَصَابِعِ کاتب بِالْفِعْلِ ہے۔ تو یہ ہماری مثال جھوٹی ہو جاتی کیوں لِصِدْقِ قَوْلِنَا اس وجہ سے کہ ہمارا یہ والا قول صادق آتا ہے یہ جو اس کی نقیض ہے کہ بَعْضُ السَّاكِنِ لَيْسَ بِكَاتِبٍ دَائِمًا کہ بعض ساکن جو ہیں وہ کاتب نہیں ہوتے ہمیشہ كَالْأَرْضِ جیسے زمین۔ انہوں نے کیا کہا؟ کہ بعض سَاكِنِ الْأَصَابِعِ جو ہیں وہ کاتب نہیں ہیں یعنی ان سے کتابت کی نفی ہے ہمیشہ۔ ان سے کتابت کی نفی ہے ہمیشہ كَالْأَرْضِ جیسے کہ زمین۔ آپ کہیں گے زمین کی تو انگلیاں ہی نہیں۔ تو وہ سَاكِنِ الْأَصَابِعِ کیسے؟
تو یہاں پر بعضوں نے اعتراض کیا کہ اس کی مثال میں زمین کو نہیں ذکر کرنا چاہیے تھا کیونکہ زمین کی تو انگلیاں ہی نہیں ہیں بلکہ پرندوں کو ذکر کرنا چاہیے تھا۔ تو پھر بات ٹھیک تھی۔ کہ بعض سَاكِنِ الْأَصَابِعِ یعنی جو پرندے ہیں ان سے کتابت کی نفی ہے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ لیکن انہوں نے مثال میں کس کو ذکر کیا؟ زمین کو ذکر کیا۔ تو وہ جواب دیتے ہیں، سَاكِنِ الْأَصَابِعِ کا کیا معنی ہوتا ہے؟ جس کی انگلیاں حرکت نہ کریں۔ توجہ ہے؟ سَاكِنِ الْأَصَابِعِ کا کیا معنی ہوتا ہے؟ جس کی انگلیاں حرکت نہ کریں۔ تو یہ اس پر بھی صادق آئے گا جس کی انگلیاں تو ہیں حرکت نہیں کر رہیں اور جس کی انگلیاں سرے سے ہیں ہی نہیں اس کے بارے میں بھی ہم کہہ سکتے ہیں اس کی انگلیاں حرکت نہیں کرتیں۔ اس کی انگلیاں حرکت نہیں کرتیں کیوں نہیں کرتیں؟ انگلیاں ہیں ہی نہیں تو حرکت کہاں سے کریں؟ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو لہذا کہتے ہیں زمین کو اس کی مثال میں ذکر کرنا ٹھیک ہے، کیونکہ انہوں نے کیا کہا بَعْضُ سَاكِنِ الْأَصَابِعِ یعنی بعض وہ جن کی انگلیاں حرکت نہیں کرتیں وہ دَائِمًا ان سے کتابت کی نفی ہے۔ اور بعض وہ جن کی انگلیاں حرکت نہیں کرتیں ان میں زمین بھی ہے کیونکہ زمین کی جب انگلیاں ہی نہیں ہیں تو انگلیوں کی حرکت کی اس سے نفی ہو گئی یا نہیں ہو گئی؟ انہوں نے کیا کہا بعض ساکن، ساکن سے کیا مراد جن کی انگلیاں حرکت نہیں کرتیں۔ ساکن وہی ہے نا اس کی جس کی انگلیاں حرکت نہ کریں۔ جب انگلیاں ہی نہیں ہوں گی تو انگلیوں کی حرکت کی نفی ہو گئی یا نہیں ہو گئی؟ تو لہذا اس تو کہتے ہیں زمین کو مثال میں ذکر کرنا ٹھیک ہے۔ جبکہ بعض نے کہا کہ نہیں اس کے بجائے طُيُور جو ہیں پرندے، پرندوں کو مثال میں ذکر کرنا چاہیے تھا۔
آگے دیکھیے۔ قَالَ الْمُصَنِّفُ رَحِمَهُ اللَّهُ السِّرُّ فِي ذَلِكَ أَنَّ لَا دَوَامَ السَّالِبَةِ مُوجِبَةٌ انہوں نے کیا کہا؟ کہ خَاصَّتَان کا عکس کیا آئے گا؟ ایسا عُرْفِيَّة جو مقید ہوگا کس کے ساتھ؟ لَا دَوَامَ فِي الْبَعْضِ کے ساتھ۔ کیونکہ لَا دَوَامَ فِي الْكُلِّ لَا وہ تو کاذب ہو جاتا ہے۔ وہ آگے مصنف نے بھی اس مقام کی جو شرح کی انہوں نے فرمایا کہ اس میں راز یہ ہے نکتہ بیان کیا مصنف نے نکتہ یہ ہے کہ یہ جو لَا دَوَام ہے کس میں؟ اصل میں۔ توجہ ہے؟ اصل میں جو لَا دَوَام تھا وہ مُوجِبَة كُلِّيَّة تھا۔ اور مُوجِبَة كُلِّيَّة کا عکس کیا آتا ہے؟ مُوجِبَة جُزْئِيَّة۔ وہ لَا دَوَام کیا تھا جو اصل میں تھا؟ وہ مُوجِبَة كُلِّيَّة تھا۔ تو اس کا عکس کیا آیا؟ مُوجِبَة جُزْئِيَّة آیا۔ بھئی مُوجِبَة كُلِّيَّة کا عکس مُوجِبَة جُزْئِيَّة آتا ہے۔ وہ مُوجِبَة كُلِّيَّة کیسے تھا؟ کیونکہ سَوَالِب کا بیان چل رہا ہے۔ ذرا مثال پہ نظر رکھو میں نے اصل کیا لکھوایا؟ لَا شَيْءَ مِنَ الْكَاتِبِ بِسَاكِنِ الْأَصَابِعِ كُلِّيَّة ہے، جُزْئِيَّة ہے؟ كُلِّيَّة ہے۔ اور كُلِّيَّة کے ساتھ جب لَا دَوَام آ جائے تو لَا دَوَام کو جب ہم کھولتے ہیں تو لَا دَوَام کے ذریعے کون سا قضیہ بناتے ہیں؟ مُطْلَقَة عَامَّة بناتے ہیں۔ اور یہ مُطْلَقَة عَامَّة کیسا ہوتا ہے؟ مقدار میں مطابق ہوتا ہے اور کیفیت میں مخالف۔ ما قبل میں اگر كُلِّيَّة تھا تو یہ بھی کیا ہوگا؟ كُلِّيَّة۔ البتہ وہ سَالِبَة ہے تو یہ کیا ہوگا؟ مُوجِبَة۔ تو یہ جو لَا دَوَام اصل کے اندر آیا تھا یہ کون سا لَا دَوَام تھا؟ مُوجِبَة كُلِّيَّة تھا۔ اور مُوجِبَة كُلِّيَّة کا عکس کیا آتا ہے؟ مُوجِبَة جُزْئِيَّة آتا ہے۔ اسی لیے ہم نے کہا کہ اس کا عکس جو ہے لَا دَوَامَ فِي الْبَعْضِ آئے گا، لَا دَوَامَ فِي الْكُلِّ نہیں آئے گا۔
بات سمجھ میں آ گئی؟ قَالَ الْمُصَنِّفُ مصنف یعنی علامہ تفتازانی فرماتے ہیں السِّرُّ فِي ذَلِكَ کہ اس میں راز یہ ہے، راز اس کے اندر یہ ہے کہ أَنَّ لَا دَوَامَ السَّالِبَةِ مُوجِبَةٌ کہ اس لیے کیونکہ لَا دَوَام سَالِبَة سَالِبَة کا جو لَا دَوَام ہوتا ہے مُوجِبَةٌ وہ کیا ہوتا ہے؟ یعنی سَالِبَة كُلِّيَّة کا لَا دَوَام مُوجِبَة كُلِّيَّة ہوتا ہے۔ وَهِيَ إِنَّمَا تَنْعَكِسُ جُزْئِيَّةً اور مُوجِبَة كُلِّيَّة جو ہے اس کا عکس مُوجِبَة جُزْئِيَّة آتا ہے۔ نکتہ سمجھ میں آیا؟ اس پر آگے شارح اعتراض کریں گے۔ وَفِيهِ تَأَمُّلٌ مصنف کے اس قول میں نظر ہے۔ یعنی یہ محل نظر ہے اس پر اشکال ہوتا ہے۔ اشكال یہ ہوتا ہے کہ آپ کی اس تقریر سے معلوم ہوا کہ مُوَجَّهَاتِ مُرَكَّبَة جو ہیں ان کا عکس کیسے نکالیں گے؟ ہر ہر جز کا الگ الگ عکس نکالیں گے۔ توجہ ہے؟ آپ نے کہا کہ اصل کے اندر جو لَا دَوَام تھا وہ مُوجِبَة كُلِّيَّة تھا۔ اور مُوجِبَة كُلِّيَّة کا عکس کیا آتا ہے؟ مُوجِبَة جُزْئِيَّة۔ اس لیے ہم نے کہا کہ اس کا عکس جو ہے لَا دَوَامَ فِي الْبَعْضِ آئے گا۔ آپ کی اس تقریر سے لازم آیا کہ مرکبات جو ہیں مُوَجَّهَات ان میں ہر ایک میں دو دو جز ہیں۔ تو ہر جز کا الگ الگ عکس نکالنا پڑے گا۔ حالانکہ ایسا تو نہیں ہے۔ ہر ہر جز کا الگ الگ عکس نکالتے ہیں حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ اعتراض سمجھ میں آ گیا؟ اب تقریر دیکھیے بھئی۔ یہ اعتراض کی تقریر آگے کریں گے۔
کہتے ہیں وَفِيهِ تَأَمُّلٌ مصنف کی اس تقریر میں تامل ہے یعنی یہ محل نظر ہے اس پر اشکال ہو سکتا ہے۔ إِذْ لَيْسَ انْعِكَاسُ الْمَجْمُوعِ إِلَى الْمَجْمُوعِ مَنُوطًا بِانْعِكَاسِ الْأَجْزَاءِ إِلَى الْأَجْزَاءِ اس لیے کیونکہ مجموعے کا منعکس ہونا مجموعے کی طرف یہ موقوف نہیں ہے اجزاء کے منعکس ہونے پر اجزاء کی طرف اس پر۔ اجزاء کے انْعِكَاسِ إِلَى الْأَجْزَاءِ یہ اس پر موقوف نہیں ہے۔ كَمَا يَشْهَدُ بِذَلِكَ جیسے اس پر گواہی دیتا ہے ملاحظہ کرنا کس کو؟ مُوَجَّهَاتِ مُوجِبَة کے انعکاس کو ملاحظہ کرنا اس پر گواہی دیتا ہے بنا بر اس کے جو گزر گیا۔ فَإِنَّ الْخَاصَّتَيْنِ الْمُوجِبَتَيْنِ تَنْعَكِسَانِ إِلَى الْحِينِيَّةِ اللَّادَائِمَةِ اس لیے کیونکہ وہ جو دو خَاصَّة جو مُوجِبَة ہیں وہ منعکس ہوتے ہیں کس کی طرف؟ حِينِيَّة لَا دَائِمَة کی طرف۔ مَعَ أَنَّ الْجُزْءَ الثَّانِيَ مِنْهُمَا وَهُوَ الْمُطْلَقَةُ الْعَامَّةُ السَّالِبَةُ لَا عَكْسَ لَهَا حالانکہ ان کا جز ثانی جو ہے وہ مُطْلَقَة عَامَّة سَالِبَة ہے اور اس کا کوئی عکس نہیں آتا۔ فَتَدَبَّرْ آپ اس میں غور کر لیجیے۔ اس میں اشارہ ہے کہ ہم نے تو مصنف پر اعتراض کر دیا کہ مجموعے کا عکس مجموعہ تب ہی آئے اگر اجزاء کا عکس اجزاء آتا ہو ایسا حالانکہ نہیں ہے۔ لیکن مصنف کی طرف سے جواب دیا جا سکتا ہے کہ نہیں ایسا ہی ہے۔ مجموعے کا عکس مجموعہ تب ہی آئے گا جب اجزاء کا عکس اجزاء آتا ہو۔ اگر وہ جو اجزاء ہیں مجموعے کے اجزاء اگر وہ قابل انعکاس ہوئے مثلا مُرَكَّبَة میں دو جز ہوتے ہیں نا؟ مصنف کی طرف سے یہ جواب دیا جا سکتا ہے کہ نہیں مجموعے کے عکس کا دارومدار اجزاء کے عکس پر ہے۔ اجزاء کا عکس آئے گا تو مجموعے کا بھی عکس آئے گا ورنہ عکس نہیں آئے گا۔ اس لیے کیونکہ مجموعے کے اندر اجزاء ہیں۔ اگر ان اجزاء کا عکس نہیں آتا اگر مجموعے میں جو اجزاء ہیں اگر وہ قابل انعکاس ہوئے تو اس مجموعے کا بھی عکس آئے گا۔ اور اگر اس کے اجزاء قابل انعکاس نہ ہوئے تو اس مجموعے کا بھی عکس نہیں آنا چاہیے۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ اجزاء کا عکس نہ آتا ہو پھر بھی مجموعے کا عکس آ جاتا ہے۔ جیسے کہ خَاصَّتَان کا عکس حِينِيَّة لَا دَائِمَة آتا ہے مُوجِبَة کے اندر۔
تقریر سمجھ میں آ گئی؟ دیکھیے کتاب پر۔ کہتے ہیں وَفِيهِ تَأَمُّلٌ اور مصنف کی اس تقریر میں تامل ہے یعنی یہ محل نظر ہے اس پر اشکال ہو سکتا ہے إِذْ لَيْسَ انْعِكَاسُ الْمَجْمُوعِ إِلَى الْمَجْمُوعِ مَنُوطًا بِانْعِكَاسِ الْأَجْزَاءِ إِلَى الْأَجْزَاءِ اس لیے کیونکہ مجموعے کا منعکس ہونا مجموعے کی طرف یہ موقوف نہیں ہے اجزاء کے منعکس ہونے پر اجزاء کی طرف اس پر۔ اجزاء کے انْعِكَاسِ إِلَى الْأَجْزَاءِ یہ اس پر موقوف نہیں ہے۔ كَمَا يَشْهَدُ بِذَلِكَ جیسے اس پر گواہی دیتا ہے ملاحظہ کرنا کس کو؟ مُوَجَّهَاتِ مُوجِبَة کے انعکاس کو ملاحظہ کرنا اس پر گواہی دیتا ہے بنا بر اس کے جو گزر گیا۔ فَإِنَّ الْخَاصَّتَيْنِ الْمُوجِبَتَيْنِ تَنْعَكِسَانِ إِلَى الْحِينِيَّةِ اللَّادَائِمَةِ اس لیے کیونکہ وہ جو دو خَاصَّة جو مُوجِبَة ہیں وہ منعکس ہوتے ہیں کس کی طرف؟ حِينِيَّة لَا دَائِمَة کی طرف۔ مَعَ أَنَّ الْجُزْءَ الثَّانِيَ مِنْهُمَا وَهُوَ الْمُطْلَقَةُ الْعَامَّةُ السَّالِبَةُ لَا عَكْسَ لَهَا حالانکہ ان کا جز ثانی جو ہے وہ مُطْلَقَة عَامَّة سَالِبَة ہے اور اس کا کوئی عکس نہیں آتا۔ فَتَدَبَّرْ آپ اس میں غور کر لیجیے۔ اس میں اشارہ ہے کہ مصنف کی طرف سے یہ جواب دیا جا سکتا ہے کہ جو مجموعے کے اجزاء قابل انعکاس ہیں، ان کا عکس آئے گا تو مجموعے کا عکس آئے گا۔ پس چونکہ حِينِيَّة لَا دَائِمَة کا جز ثانی مُطْلَقَة عَامَّة سَالِبَة قابل انعکاس نہیں ہے، اس لیے اس کا عکس نہیں آتا۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ بات درست نہیں ہے۔ اگر ایسا ہو تو پھر خَاصَّتَان کا عکس حِينِيَّة لَا دَائِمَة کیسے آتا ہے؟ اس کا بھی جز ثانی مُطْلَقَة عَامَّة سَالِبَة ہے، اور اس کا عکس نہیں آتا، پھر بھی مجموعے کا عکس آ رہا ہے۔ اس لیے مجموعے کے عکس کا مدار اجزاء کے عکس پر نہیں ہے۔
آگے دیکھیے۔ وَلَا عَكْسَ لِلْبَوَاقِي مِنَ السَّوَالِبِ وَالْبَيَانُ فِي الْكُلِّ أَنَّ نَقِيضَ الْعَكْسِ مَعَ الْأَصْلِ يُنْتِجُ الْمُحَالَ اور باقیوں کا عکس نہیں آتا۔ کن باقیوں کا؟ سَوَالِب میں سے جو باقی بچ گئے۔ کن کا عکس آ گیا؟ سَالِبَة میں سے سائل نے سوال کیا کہ سَالِبَة کی جو باقی قسمیں بچ گئیں ان کا عکس کیوں نہیں آتا؟ تو جواب دیا کہ ان کا عکس اس لیے نہیں آتا کہ ان میں وہ شرط نہیں پائی جاتی جو عکس کے لیے ضروری ہے۔ عکس کے لیے ضروری ہے کہ اصل کے صادق آنے پر عکس بھی صادق آئے۔ لیکن ان باقی سَوَالِب میں ایسا نہیں ہوتا۔ اگر ان کا عکس نکالا جائے تو وہ صادق نہیں آتا، بلکہ کاذب ہو جاتا ہے۔ اور اس کی دلیل کیا ہے؟ دلیل یہ ہے کہ اگر ان کا عکس صادق ہوتا، تو ان کی نقیض کاذب ہوتی۔ لیکن جب ہم ان کی نقیض کو اصل کے ساتھ ملاتے ہیں، تو اس سے محال لازم آتا ہے۔ اور جو چیز محال کو لازم کرے، وہ خود بھی باطل ہوتی ہے۔ اس لیے ان کا عکس باطل ہے، اور ان کا کوئی عکس نہیں آتا۔
وَالْبَيَانُ فِي الْكُلِّ اور ان سب میں بیان کی دلیل یہ ہے۔ أَنَّ نَقِيضَ الْعَكْسِ کہ عکس کی نقیض مَعَ الْأَصْلِ اصل کے ساتھ مل کر يُنْتِجُ الْمُحَالَ محال نتیجہ دیتی ہے۔ یہ ایک عام قاعدہ بیان کر دیا کہ جہاں بھی آپ نے عکس کو ثابت کرنا ہو، وہاں یہ قاعدہ استعمال کریں۔ کہ اگر کوئی کہے کہ اس کا عکس یہ نہیں آتا، تو آپ کہیں کہ اگر یہ عکس نہیں آتا، تو پھر اس کی نقیض صادق آنی چاہیے۔ اور جب آپ اس نقیض کو اصل کے ساتھ ملاتے ہیں، تو اس سے ایسا نتیجہ نکلے گا جو محال ہوگا۔ اور جب نتیجہ محال ہوگا، تو اس کا مطلب ہے کہ وہ نقیض باطل ہے۔ اور جب نقیض باطل ہو گئی، تو ہمارا عکس ثابت ہو گیا۔ سمجھ آ گئی بات؟ کہتے ہیں وَالْبَيَانُ فِي الْكُلِّ کہ ان تمام میں دلیل یہ ہے أَنَّ نَقِيضَ الْعَكْسِ کہ عکس کی جو نقیض ہے مَعَ الْأَصْلِ اس کو جب ہم اصل کے ساتھ ملاتے ہیں يُنْتِجُ الْمُحَالَ تو وہ محال نتیجہ دیتی ہے اور جو چیز مستلزم محال ہو وہ خود محال ہوتی ہے تو لہذا وہ نقیض باطل ہوئی جب نقیض باطل ہوئی تو وہ جو ہمارا دعوی تھا جس کو ہم نے عکس مانا تھا وہ حق ثابت ہو گیا۔
ذکر کیا تھا، اس کا عکس ہونا ثابت ہو گیا۔ یاد رکھیے، یہ لفظ مُحَالٌ ہے عربی میں، مُحَالٌ۔ ہاں، اردو میں محال رائج ہے میم کے فتحہ کے ساتھ۔ میم کے فتحہ کے ساتھ، لیکن اب یہ رائج ہو گیا ہے تو یہ اسی طرح بولا جائے گا۔ کیونکہ ضابطہ ہے بھئی علم بلاغت کا۔ بلاغت کا ضابطہ ہے: اَلْغَلَطُ الرَّائِجُ فَصِیْحٌ۔ وہ غلط جو رائج ہو جائے، پھیل جائے، شایع ہو جائے سب لوگوں میں، وہ فصیح ہوتا ہے۔ اب اس کو غلط یا غیر فصیح آپ نہیں کہہ سکتے۔
اور نیز ہر زبان کے اپنے اصول و ضوابط ہوتے ہیں۔ بعض چیزیں عربوں کے لیے ثقیل ہیں ہمارے لیے ثقیل نہیں، اور بعض ہمارے لیے ثقیل ہیں ان کے لیے ثقیل نہیں۔ تو ان کے لیے، وہ ان کا لفظ عربی میں مُحَالٌ ہے۔ ہمارے لیے ثقیل تھا تو اس کو کس سے بدل دیا؟ محال سے، اور تمام لوگ اسی طرح استعمال کرتے ہیں۔
دیکھیے آگے، کہتے ہیں: وَلَا عَکْسَ لِلْبَوَاقِی بِالنَّقْضِ۔ اور باقیوں کا عکس نہیں آتا بِالنَّقْضِ، نقض کی وجہ سے۔ کس کی وجہ سے؟ نقض کی وجہ سے۔ نقض کا معنی ہے توڑنا بھئی، توڑنا۔ نقض کا معنی توڑنا۔ مراد یہ ہے آپ کو بتائیں گے بھئی، منطق کے قوانین کلی ہوتے ہیں۔ تو یہ جو چھ، چھ موجہات ہیں، ان کا تو، یہ جب سالبہ ہوں، کیا ہوں؟ سالبہ، یہ جب سالبہ ہوں تو ان چھ کا عکس آتا ہے۔ باقیوں کا عکس ہم نکالتے ہیں تو بعض جگہ عکس ٹھیک نکلتا ہے اور بعض مادوں کے اندر وہ عکس ٹھیک نہیں نکلتا۔ اور منطق کے قوانین تو کلی ہوتے ہیں، جب ایک جگہ بھی قانون ٹوٹ جائے تو پھر وہ قانون نہیں رہتا۔ تو یہ معنی ہے: وَلَا عَکْسَ لِلْبَوَاقِی بِالنَّقْضِ، کہ باقیوں کا عکس، یعنی باقی سالبہ جو ہیں موجہات، ان کا عکس نہیں آتا بِالنَّقْضِ۔ کس کی وجہ سے؟ نقض کی وجہ سے۔ یعنی وہ ٹوٹ جاتے ہیں وہ قوانین۔ کیا معنی؟ یعنی بعض جگہ اصل تو صادق آتا ہے، عکس صادق نہیں آتا۔ توجہ ہے؟ بھئی، جہاں اصل صادق آئے وہاں عکس کو بھی صادق آنا چاہیے۔ اگر سو جگہ اصل صادق آتا ہے تو عکس بھی صادق آتا ہے۔ لیکن اگر ایک جگہ بھی ایسی آ گئی جہاں اصل تو صادق آ رہا ہے لیکن عکس صادق نہیں آ رہا تو قانون ٹوٹ گیا، تو وہ قانون نہیں رہے گا۔ تو بعض جگہیں ایسی ہمیں ملیں، ہم نے کوشش کی، بعض جگہیں ہمیں ایسی ملیں ان سالبہ کے اندر کہ وہاں پر اصل تو صادق آتا تھا لیکن عکس صادق نہیں آتا تھا۔ معلوم ہوا، باقی سالبہ کا عکس کلی طور پر نہیں آتا۔
اب آئیے شرح پر بھئی۔ قَوْلُہٗ: یُنْتِجُ اِلٰی آخِرِہٖ، فَھٰذَا الْمُحَالُ۔ بھئی، ان سب سے محال لازم آیا۔ محال لازم آیا۔ اور محال، میں نے آپ کو بتایا تھا، محال کیوں لازم آتا تھا؟ جی؟ محال یا تو خرابی تھی صغریٰ میں، یا خرابی کس میں؟ کبریٰ میں، یا خرابی کس میں؟ قیاس میں۔ اور ہم نے بتایا تھا کہ قیاس کے اندر کوئی خرابی نہیں، ہر جگہ پر ایجاب صغریٰ اور کلیت کبریٰ۔ نیز صغریٰ یا کبریٰ جو بھی اصل ہم لیتے تھے، وہ ان میں سے ایک تو اصل ہوتا تھا، اس میں بھی کوئی خرابی نہیں ہوتی تھی۔ تو معلوم ہوا خرابی کس میں ہوتی تھی؟ نقیض کے اندر۔ کس کے اندر؟ نقیض کے اندر خرابی ہوتی تھی جس کی وجہ سے محال نتیجہ آتا تھا۔ اور جو چیز مستلزم محال ہو وہ خود کیا ہوتی ہے؟ محال ہوتی ہے۔
کہتے ہیں: فَھٰذَا الْمُحَالُ اِمَّا اَنْ یَّکُوْنَ نَاشِئًا عَنِ الْاَصْلِ اَوْ عَنْ نَّقِیْضِ الْعَکْسِ اَوْ عَنْ ھَیْئَۃِ تَاْلِیْفِھِمَا۔ اور یہ جو محال جو ہے، یہ پیدا ہوتا تھا عَنِ الْاَصْلِ، یا تو کس سے؟ اصل سے، اَوْ عَنْ نَّقِیْضِ الْعَکْسِ، یا عکس کی نقیض سے، اَوْ عَنْ ھَیْئَۃِ تَاْلِیْفِھِمَا، یا ان کی ترکیب کی ہیئت سے۔ یعنی جو قیاس کو ہم جوڑتے تھے، اس کی شکل بناتے تھے، یا اس قیاس کی ہیئت کہتے ہیں شکل کو، تالیف کا معنی جوڑنا۔ تالیف کا معنی جوڑنا۔ ھَیْئَۃِ تَاْلِیْفِھِمَا، یہ جو اصل اور نقیض عکس کو جوڑنے کی صورت سے۔ ان دو کو ہم جوڑ کر قیاس بناتے تھے یا نہیں؟ تو ان دو کو جوڑنے سے جو صورت بنتی تھی، یا تو اس میں خرابی ہے یعنی قیاس میں خرابی ہے۔ دیکھیے پھر ترجمہ۔ کہتے ہیں: یہ محال یا تو پیدا ہوتا تھا اصل سے، اَوْ عَنْ نَّقِیْضِ الْعَکْسِ، یا عکس کی نقیض سے، اَوْ عَنْ ھَیْئَۃِ تَاْلِیْفِھِمَا، یا یہ عکس اور نقیض عکس کو جوڑنے کی جو صورت ہوتی تھی اس سے۔
لٰکِنَّ الْاَوَّلَ مَفْرُوْضُ الصِّدْقِ۔ لیکن پہلا تو مفروض الصدق تھا، کون؟ اصل۔ اصل تو کیا تھا؟ مفروض الصدق، وہ تو آپ جب اصل قضیہ لکھتے تھے تو سچا ہی لے کر آتے تھے، تو اس کے صدق کو تو فرض کیا جاتا تھا کہ یہ سچا ہے۔ تو کہتے ہیں: لٰکِنَّ الْاَوَّلَ مَفْرُوْضُ الصِّدْقِ، لیکن اول یعنی اصل جو ہے وہ تو مفروض الصدق ہوتا تھا یعنی اس کے تو صدق کو فرض کیا جاتا تھا۔ وَالثَّالِثَ ھُوَ الشَّکْلُ الْاَوَّلُ، اور تیسری چیز جو ہے وہ تو شکل اول ہے، اَلْمَعْلُوْمُ صِحَّتُہٗ وَاِنْتَاجُہٗ، کہ جس کا صحیح ہونا اور اس کا نتیجہ، نتیجے والا ہونا معلوم ہے۔ جس کا صحیح ہونا اور اس کا نتیجہ دینا معلوم ہے کہ وہ صحیح ہوتی ہے اور نتیجہ دیتی ہے۔ فَتَعَیَّنَ الثَّانِی، تو متعین ہو گیا ثانی ہی۔ یہ محال کس سے پیدا ہوا ہے؟ ثانی سے، یعنی وہ جو نقیض عکس ہے۔ فَیَکُوْنُ النَّقِیْضُ بَاطِلًا، تو وہ نقیض باطل ہو گئی۔ فَیَکُوْنُ الْعَکْسُ حَقًّا، تو عکس حق ہوا۔ جب نقیض باطل تو عکس کیا ہوا؟ وہ حق ہو گیا، وہ سچا ثابت ہو گیا۔
قَوْلُہٗ: وَلَا عَکْسَ لِلْبَوَاقِی۔ ماتن کا قول کہ باقی جو سالبہ موجہات ہیں ان کا عکس نہیں آتا۔ باقی سے کیا مراد؟ اَیِ السَّوَالِبِ الْبَاقِیَۃِ، یعنی وہ جو سالبہ باقی موجہات ہیں، وَھِیَ تِسْعَۃٌ، اور وہ نو ہیں جن کا عکس نہیں آتا: اَلْوَقْتِیَّۃُ الْمُطْلَقَۃُ، وَالْمُنْتَشِرَۃُ الْمُطْلَقَۃُ، وَالْمُطْلَقَۃُ الْعَامَّۃُ۔ دیکھو یہاں آ گیا، وہ مطلقہ عامہ کا دیکھو عکس نہیں آتا جو پیچھے ابھی ذکر ہوا تھا۔ وَالْمُطْلَقَۃُ الْعَامَّۃُ، وَالْمُمْکِنَۃُ الْعَامَّۃُ مِنَ الْبَسَائِطِ، یہ بسائط میں سے ہیں، ان کا عکس نہیں آتا سالبہ میں۔ وَالْوَقْتِیَّتَانِ، وَالْوُجُوْدِیَّتَانِ، وَالْمُمْکِنَۃُ الْخَاصَّۃُ مِنَ الْمُرَکَّبَاتِ، اور مرکبات میں سے ان کا عکس نہیں آتا۔
آگے: قَوْلُہٗ: بِالنَّقْضِ۔ باقیوں کا عکس نہیں آتا۔ کیوں نہیں آتا؟ نقض کی وجہ سے۔ کس کی وجہ سے؟ نقض۔ نقض کا کیا معنی میں نے بیان کیا؟ توڑنا، توڑنا۔ یعنی بعض جگہ وہ قانون ٹوٹ جاتا ہے، اصل تو صادق آتا ہے لیکن عکس صادق نہیں آتا، حالانکہ جہاں اصل صادق آئے وہاں عکس کا صادق آنا لازمی ہے۔
کہتے ہیں: اَیْ بِدَلِیْلِ التَّخَلُّفِ فِی مَادَّۃٍ۔ تخلف کا معنی ہے پیچھے رہ جانا۔ فِی مَادَّۃٍ، کسی مادے میں، یعنی کسی جگہ پر۔ یعنی بعض جگہ پر عکس پیچھے رہ جاتا ہے اصل سے۔ جہاں اصل صادق آئے وہاں عکس صادق آنا چاہیے، لیکن بعض جگہ عکس پیچھے رہ جاتا ہے، اصل تو صادق آ جاتا ہے لیکن عکس صادق نہیں آتا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تخلف کا کیا معنی؟ پیچھے رہ جانا یعنی صادق نہیں آتا۔ کہتے ہیں: بِالنَّقْضِ اَیْ بِدَلِیْلِ التَّخَلُّفِ فِی مَادَّۃٍ، یعنی تخلف کی دلیل کی سے فِی مَادَّۃٍ کسی مادہ میں، بِمَعْنٰی بایں معنی کہ: اَنَّہٗ یَصْدُقُ الْاَصْلُ فِی مَادَّۃٍ بِدُوْنِ الْعَکْسِ، کہ صادق آتا ہے اصل کسی مادہ میں بغیر عکس کے، فَیُعْلَمُ بِذٰلِکَ اَنَّ الْعَکْسَ غَیْرُ لَازِمٍ لِّھٰذَا الْاَصْلِ، تو اس سے معلوم ہو جاتا ہے کہ عکس جو ہے وہ لازم نہیں ہے اس اصل کے ساتھ۔ اس اصل کے ساتھ عکس لازم نہیں۔ اگر اصل کے ساتھ عکس لازم ہوتا پھر تو ہر جگہ آنا چاہیے تھا۔ پھر تو ہر جگہ آنا چاہیے تھا۔
وَبَیَانُ التَّخَلُّفِ فِی تِلْکَ الْقَضَایَا، اور تخلف کا بیان ان قضایا میں۔ اب دلیل ذکر کریں گے، یہ نو قضیے موجہہ اوپر ذکر کیے، ان کے سالبہ کے اندر عکس ہمیشہ نہیں آتا۔ اب دلیل ذکر کریں گے، عجیب دلیل دیتے ہیں بھئی۔ نو کے لیے ایک ہی مختصر سی دلیل بنائیں گے، دیکھیے بھئی۔ وَبَیَانُ التَّخَلُّفِ فِی تِلْکَ الْقَضَایَا، اور تخلف کا بیان، یعنی عکس کے پیچھے رہ جانے کا بیان، عکس کے صادق نہ آنے کا بیان فِی تِلْکَ الْقَضَایَا ان قضایا میں، یعنی ان نو قضیوں میں، وہ یہ ہے: اَنَّ اَخَصَّھَا وَھِیَ الْوَقْتِیَّۃُ، کہ ان میں سب سے خاص جو ہے وہ وقتیہ ہے۔ سب سے خاص وقتیہ ہے۔ اور اب ہم آپ کو بتائیں گے، یہ جو سب سے خاص ہے، اس کا عکس نہیں آتا۔ اس کا عکس ہمیشہ صادق نہیں آتا۔ تو جب سب سے اخص کا عکس نہیں آتا، تو اعم کا عکس بطریق اولیٰ نہیں آئے گا۔ کیونکہ اخص کے اندر اعم ہوتا ہے۔ ابھی آپ نے پڑھا، خاصتان کے اندر کیا تھے؟ عامتان تھے۔ تو اخص کے اندر اعم ہوتا ہے۔ تو اخص کا جب عکس ہر جگہ نہیں آتا تو اسی سے پتہ چل گیا کہ باقی جو اعم ہیں ان کا عکس بھی نہیں آئے گا۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟
کہتے ہیں: اَنَّ اَخَصَّھَا وَھِیَ الْوَقْتِیَّۃُ، کہ ان میں جو سب سے اخص ہے وہ وقتیہ ہے، قَدْ تَصْدُقُ بِدُوْنِ الْعَکْسِ، یہ کبھی صادق آتا ہے بغیر عکس کے، فَاِنَّہٗ یَصْدُقُ، اس لیے کیونکہ صادق آتا ہے یہ والا قضیہ بھئی: لَا شَیْئَ مِنَ الْقَمَرِ بِمُنْخَسِفٍ وَقْتَ التَّرْبِیْعِ لَا دَائِمًا۔ لَا شَیْئَ مِنَ الْقَمَرِ بِمُنْخَسِفٍ، کسی چاند کو گرہن نہیں لگتا، وَقْتَ التَّرْبِیْعِ، کس وقت؟ تربیع کے وقت، لَا دَائِمًا، ہمیشہ نہیں۔ بھئی دیکھیے، میں نے آپ کو بتایا تھا کہ سورج گرہن کب لگتا ہے؟ جب چاند زمین اور سورج کے بیچ آ جائے۔ جب چاند بیچ میں آ گیا تو سورج ہم سے چھپ گیا، تو دیکھو سورج کو گرہن لگ گیا۔ چاند کا سایہ زمین پہ پڑے گا، سورج چھپ جائے گا۔ اور ایک ہے چاند گرہن۔ چاند گرہن کب لگتا ہے؟ جب زمین بیچ میں آ جائے چاند اور سورج کے، تو زمین کا سایہ چاند پر پڑتا ہے، یہ ہے چاند گرہن۔ اور تربیع، چاند جو ہوتا ہے تربیع میں، زمین کے دائیں یا بائیں ہوتا ہے اور سامنے سورج ہوتا ہے۔ سامنے سورج ہوتا ہے۔ جب چاند زمین کے ساتھ ہے دائیں طرف یا بائیں طرف اور سامنے سورج ہے تو کسی کا سایہ کسی پر نہیں پڑے گا، تو اس وقت چاند گرہن نہیں ہو گا بھئی۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ ہاں، اگر چاند زمین کے پیچھے ہے پھر زمین کا سایہ اس پر پڑے گا اور چاند گرہن ہو گا۔ لیکن تربیع میں کیا ہوتا ہے؟ چاند زمین کے دائیں طرف ہوتا ہے یا بائیں طرف اور سامنے کیا ہوتا ہے؟ سورج، تو اس صورت میں زمین کا سایہ چاند پر کبھی نہیں پڑ سکتا، تو اس وقت چاند کو کبھی بھی گرہن نہیں لگے گا۔ یہی بیان کر رہے ہیں۔
کہتے ہیں کہ ہمارا یہ قضیہ صادق ہے: لَا شَیْئَ مِنَ الْقَمَرِ بِمُنْخَسِفٍ وَقْتَ التَّرْبِیْعِ لَا دَائِمًا، کہ کوئی بھی چاند جو ہے اس کو گرہن نہیں لگتا تربیع کے وقت، یعنی جب وہ زمین کے ساتھ ہو چاند، جب زمین بیچ میں نہ ہو بھئی چاند اور سورج کے، لَا دَائِمًا، ہمیشہ نہیں۔ یہ صادق ہے۔ مَعَ کِذْبِ، بَعْضُ الْمُنْخَسِفِ، یہ کون سا قضیہ ہے؟ سالبہ ہے؟ سالبہ ہے؟ کلیہ ہے؟ جزئیہ ہے؟ کلیہ، اور سالبہ کلیہ کا عکس کیا آنا چاہیے؟ سالبہ کلیہ آنا چاہیے۔ لیکن ذرا دیکھیں، سالبہ کلیہ آگے نہیں ذکر کر رہے، اس کا عکس سالبہ جزئیہ ذکر کر رہے ہیں۔
کہتے ہیں: مَعَ کِذْبِ: بَعْضُ الْمُنْخَسِفِ لَیْسَ بِقَمَرٍ بِالْاِمْکَانِ الْعَامِّ۔ مَعَ کِذْبِ، باوجود اس کے کہ یہ جو عکس ہے یہ جھوٹا ہے۔ کون سا؟ کہ بَعْضُ الْمُنْخَسِفِ، بعض وہ جن کو گرہن لگتا ہے، لَیْسَ بِقَمَرٍ، وہ چاند نہیں ہیں، بِالْاِمْکَانِ الْعَامِّ، بعض وہ جن کو گرہن لگتا ہے ان کا چاند نہ ہونا ممکن ہے۔ ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ بعض وہ چیزیں جن کو گرہن لگتا ہے ان کا چاند نہ ہونا ممکن ہے، یہ عکس صادق نہیں آ رہا۔ صادق نہیں آ رہا۔ بھئی، کیوں نہیں صادق آ رہا؟ کہتے ہیں: لِصِدْقِ نَقِیْضِہٖ، کیونکہ اس کی نقیض صادق آ رہی ہے، وَھُوَ، اور وہ یہ ہے۔
بَعْضُ الْمُنْخَسِفِ لَیْسَ بِقَمَرٍ بِالْاِمْکَانِ الْعَامِّ، یہ موجبہ ہے، سالبہ ہے؟ سالبہ ہے۔ جزئیہ ہے، کلیہ ہے؟ جزئیہ۔ تو یہ سالبہ جزئیہ ہوا، اور سالبہ جزئیہ کی نقیض کیا آتی ہے؟ موجبہ کلیہ۔ سالبہ جزئیہ کی نقیض کیا آتی ہے؟ موجبہ کلیہ۔ اور وہ آگے ہے: وَھُوَ: کُلُّ مُنْخَسِفٍ قَمَرٌ بِالضَّرُوْرَۃِ، ہر وہ چیز جس کو گرہن لگے، قَمَرٌ، وہ چاند ہے، بِالضَّرُوْرَۃِ، یقینی طور پر۔ دیکھا، یہ موجبہ کلیہ نقیض نکال لی۔ تو جب نقیض صادق ہے، معلوم ہوا یہ جو عکس تھا بَعْضُ الْمُنْخَسِفِ لَیْسَ بِقَمَرٍ بِالْاِمْکَانِ الْعَامِّ، یہ صادق نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ دونوں ایک دوسرے کی نقیض ہیں اور اجتماع نقیضین نہیں ہو سکتا۔ جب اس کی نقیض صادق ہے تو یہ والا عکس صادق نہیں ہو سکتا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
کُلُّ مُنْخَسِفٍ، ہر وہ چیز جس کو گرہن لگے، قَمَرٌ، وہ چاند ہے یقینی طور پر۔ ہر وہ چیز جس کو گرہن لگے وہ چاند ہے یقینی طور پر۔ آپ مجھے بتائیے، جس کو بھی گرہن لگے وہ چاند ہی ہوتا ہے؟ نہیں، یا کبھی سورج کو بھی لگتا ہے؟ سورج کو بھی لگتا ہے۔ اور یہ تو کیا کہہ رہے ہیں؟ ہر وہ چیز، کُلُّ مُنْخَسِفٍ، ہر وہ چیز جس کو گرہن لگے، قَمَرٌ بِالضَّرُوْرَۃِ، اس کا چاند ہونا ضروری ہے۔ بھئی، وجہ یہ ہے۔ اردو میں تو دونوں کے لیے گرہن کا لفظ بولتے ہیں، لیکن عربی میں سورج گرہن کے لیے کسوف کا لفظ بولتے ہیں، چھوٹا کاف، سین، واؤ اور فا: کسوف۔ اور چاند گرہن کے لیے خسوف بولتے ہیں۔ اور خسوف تو چاند ہی کو لگ سکتا ہے، کسی اور کو نہیں۔ اسی لیے کہا: کُلُّ مُنْخَسِفٍ قَمَرٌ بِالضَّرُوْرَۃِ، ہر وہ چیز جس کو خسوف ہو وہ چاند ہو گی یقینی طور پر۔ اب بات سمجھ میں آ گئی؟
اچھا، انہوں نے کیا کہا؟ کہ: وَھُوَ کُلُّ مُنْخَسِفٍ قَمَرٌ بِالضَّرُوْرَۃِ، ہر وہ چیز جس کو خسوف لگتا ہے وہ چاند ہے بِالضَّرُوْرَۃِ یقینی طور پر۔ جب یہ نقیض صادق ہے، تو معلوم ہوا وہ جو عکس ہم نے نکالا تھا بَعْضُ الْمُنْخَسِفِ لَیْسَ بِقَمَرٍ بِالْاِمْکَانِ الْعَامِّ، وہ کیا ہوا؟ کاذب ہوا، کاذب ہوا۔ اور وہ عکس ہم نے کس کا نکالا تھا؟ وقتیہ کا۔ کس کا؟ وقتیہ کا، وقتیہ کا۔ یہ: لَا شَیْئَ مِنَ الْقَمَرِ بِمُنْخَسِفٍ وَقْتَ التَّرْبِیْعِ لَا دَائِمًا، اور وقتیہ سب سے اخص ہے۔ تو جب سب سے اخص جو ہے اس کا عکس نہیں آ رہا، تو اعم کا بھی عکس، یہ معلوم ہوا باقی بھی کسی کا عکس نہیں آئے گا۔ دلیل سمجھ میں آ رہی ہے؟
کہتے ہیں آگے دیکھیے، کہتے ہیں: وَاِذَا تَحَقَّقَ التَّخَلُّفُ وَعَدَمُ الْاِنْعِکَاسِ فِی الْاَخَصِّ تَحَقَّقَ فِی الْاَعَمِّ۔ کہتے ہیں جب تخلف یعنی پیچھے رہنا، وَعَدَمُ الْاِنْعِکَاسِ، اور عکس کا نہ آنا فِی الْاَخَصِّ، جب اخص کے اندر یہ پایا گیا کہ اس میں تخلف ہے اور عکس نہیں آتا، تَحَقَّقَ فِی الْاَعَمِّ، تو اعم کے اندر بھی تخلف اور عدم انعکاس پایا گیا۔
دیکھو، ترجمہ سنو: وَاِذَا تَحَقَّقَ التَّخَلُّفُ، جب تخلف پایا گیا، کیا معنی تخلف؟ آگے یہ واؤ عاطفہ ہے اور یہ معطوف علیہ معطوف سے غیر ہوتا ہے۔ لیکن کبھی کبھار آگے حرف عطف کے ذریعے اسی کی تفسیر بیان کی جاتی ہے۔ کیا کی جاتی ہے؟ تفسیر۔ تو اس صورت میں جو معطوف ہوتا ہے وہ معطوف علیہ سے غیر نہیں ہوتا۔ یہاں پر بھی تخلف کی تفسیر کی جا رہی ہے: تخلف پایا گیا، کیا معنی تخلف؟ یعنی عدم انعکاس فی الاخص، یعنی عکس کا نہ ہونا۔ بعض صورتوں میں عکس نہیں آتا فِی الْاَخَصِّ، کس کے اندر؟ اخص۔ تو جب تخلف پایا گیا اور عکس کا نہ ہونا اخص کے اندر، تَحَقَّقَ فِی الْاَعَمِّ، تو اعم کے اندر بھی تخلف اور عدم انعکاس پایا گیا، اس میں بھی یہ دونوں چیزیں ہوں گی۔
اِذِ الْعَکْسُ لَازِمٌ لِّلْقَضِیَّۃِ، اس لیے کیونکہ عکس جو ہوتا ہے وہ قضیے کے ساتھ لازم ہوتا ہے۔ فَلَوِ انْعَکَسَ الْاَعَمُّ اِنْعَکَسَ الْاَخَصُّ، اگر اعم منعکس ہو تو اخص بھی منعکس ہوتا ہے۔ یہاں شاید آپ کی کتابوں میں تھوڑی سی عبارت بعض کے اندر مختلف ہو لیکن مفہوم یہی ہو گا جو اب میں بیان کر رہا ہوں، بس آپ مفہوم پہ نظر رکھنا۔ دو چار لفظوں کا فرق آئے گا بس۔ کہتے ہیں: فَلَوِ انْعَکَسَ الْاَعَمُّ اِنْعَکَسَ الْاَخَصُّ، اگر اعم جو ہے اس کا عکس آئے تو اخص کا بھی عکس آتا ہے، لِاَنَّ الْعَکْسَ یَکُوْنُ لَازِمًا لَّہٗ، یہ کتابت کی غلطی ہے، لَازِمًا لَّہٗ ہونا چاہیے۔ اس لیے کیونکہ عکس جو ہے وہ اعم کے ساتھ لازم ہے۔
ادھر دیکھیے، بتائیں گے آپ کو یہ کہ جب اعم کا عکس آئے گا تو اخص کا بھی عکس آئے گا۔ کیوں؟ کیونکہ عکس جو ہوتا ہے لازم ہوتا ہے۔ تو جب اعم کا عکس آ رہا ہے تو اعم کے ساتھ معلوم ہوا عکس لازم ہے۔ اعم کے ساتھ عکس لازم، اور اخص کے ساتھ کون لازم؟ اعم لازم ہے۔ اور لازم کا لازم کیا ہوتا ہے؟ لازم۔ معلوم ہوا اخص کے ساتھ بھی عکس لازم ہو گا۔ تو کہتے ہیں: فَلَوِ انْعَکَسَ الْاَعَمُّ اِنْعَکَسَ الْاَخَصُّ، اگر اعم منعکس ہو تو اخص بھی منعکس ہوتا ہے، لِاَنَّ الْعَکْسَ یَکُوْنُ لَازِمًا لَّہٗ، اس لیے کیونکہ عکس جو ہے وہ اعم کے ساتھ لازم ہوتا ہے، وَالْاَعَمُّ لَازِمٌ لِّلْاَخَصِّ، اور اعم جو ہوتا ہے وہ اخص کے ساتھ لازم ہوتا ہے، وَلَازِمُ اللَّازِمِ لَازِمٌ، اور لازم کا جو لازم ہوتا ہے وہ لازم ہوتا ہے، فَیَکُوْنُ الْعَکْسُ لَازِمًا لِّلْاَخَصِّ اَیْضًا، تو عکس جو ہے وہ اخص کے ساتھ بھی لازم ہو گا۔ وَقَدْ بَیَّنَّا عَدَمَ انْعِکَاسِہٖ، اور تحقیق ہم بیان کر چکے ہیں اخص کا عدم انعکاس۔ اخص کا منعکس نہ ہونا ہم بیان کر چکے ہیں، ابھی اوپر مثال ذکر کی تھی: لَا شَیْئَ مِنَ الْقَمَرِ بِمُنْخَسِفٍ والی مثال میں۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ فھٰذا خُلفٌ، یہ کیا ہے؟ خلف ہے۔ یعنی جب اخص میں عکس نہیں آ رہا تو اعم میں بھی عکس نہیں آئے گا۔ اگر آیا پھر تو یہ کیا ہو جائے گا؟ خلاف مفروض ہو جائے گا۔ معلوم ہوا جس کو آپ نے اخص بنایا تھا وہ اخص ہے ہی نہیں، اگر وہ اخص ہوتا اور اخص کا عکس نہیں آیا تو اعم کا بھی عکس نہیں آنا چاہیے تھا۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟
وَإِنَّمَا اخْتَرْنَا فِي الْعَكْسِ الْجُزْئِيَّةَ لِأَنَّهَا أَعَمُّ مِنَ الْكُلِّيَّةِ۔ بھئی، میں نے آپ کو بتلایا تھا اوپر، ذرا وہ مثال پر آئیے۔ مثال کیا تھی؟ لَا شَیْئَ مِنَ الْقَمَرِ بِمُنْخَسِفٍ وَقْتَ التَّرْبِیْعِ لَا دَائِمًا۔ اس کا عکس انہوں نے کیا بنایا تھا؟ بَعْضُ الْمُنْخَسِفِ لَیْسَ بِقَمَرٍ بِالْاِمْکَانِ الْعَامِّ۔ تو یہ اصل کیا تھا؟ سالبہ کلیہ۔ لَا شَیْئَ مِنَ الْقَمَرِ کیا تھا؟ سالبہ کلیہ، اور سالبہ کلیہ کا عکس انہوں نے بتایا تھا کیا آتا ہے؟ سالبہ کلیہ آتا ہے۔ لیکن انہوں نے سالبہ جزئیہ نکالا۔ بھئی، سالبہ جزئیہ کیوں نکالا؟ اب وجہ بتانے لگے ہیں، توجہ ہے؟ کہ سالبہ کلیہ کا عکس تو سالبہ کلیہ آتا ہے، آپ نے اس کا عکس سالبہ جزئیہ کیوں نکالا؟ ایک بات یہ ذکر کریں گے۔ دوسری بات یہ ذکر کریں گے کہ یہ جو وقتیہ ہے اس کا عکس تو نہیں آتا۔ توجہ ہے؟ یہ جو وقتیہ ہے اس کا عکس نہیں آتا۔ اگر آئے بھی تو بالفعل آنا چاہیے، یعنی مطلقہ عامہ آنا چاہیے۔ توجہ ہے؟ بالفعل کس میں ہوتا ہے؟ مطلقہ عامہ۔ مطلقہ عامہ آنا چاہیے، آپ نے بالامکان العام کو یعنی ممکنہ عامہ کو ذکر کر دیا۔ تو دو چیزیں ہیں یہاں پر: ایک تو سالبہ کلیہ کا عکس سالبہ کلیہ آنا چاہیے تھا، آپ نے سالبہ کلیہ نہیں نکالا بلکہ سالبہ جزئیہ نکالا، اس کی کیا وجہ؟ دوسرا، اگر عکس آتا بھی تو پھر بالفعل ہونا چاہیے تھا یعنی مطلقہ عامہ ہونا چاہیے تھا، آپ نے کیا نکالا؟ ممکنہ عامہ نکال دیا۔ اعتراض سمجھ میں آئے؟ دو اعتراض، اب ان کا جواب دیں گے۔
پہلے سمجھ لو، یاد رکھو، ایک ہے کلیہ، ایک ہے جزئیہ۔ ایک ہے کلیہ، ایک ہے جزئیہ۔ کلیہ اخص ہے اور جزئیہ اعم ہے۔ کلیہ اخص ہے اور جزئیہ اعم ہے۔ کس طرح؟ کہ جہاں پر کہ جہاں پر کلیہ صادق آتا ہے وہاں جزئیہ ضرور صادق آتا ہے۔ لیکن جہاں پر جزئیہ صادق آئے وہاں کلیہ صادق آنا ضروری نہیں۔ میں کہتا ہوں: کُلُّ اِنْسَانٍ حَیَوَانٌ، ہر انسان کیا ہے؟ حیوان۔ کلیہ ہے، جزئیہ ہے؟ کلیہ۔ جب یہ کلیہ ہے تو جزئیہ بھی ضرور: بَعْضُ الْاِنْسَانِ حَیَوَانٌ، یہ بھی صادق ہے یا نہیں؟ جب سارے انسان حیوان ہیں تو بعض انسان بھی کیا ہیں؟ حیوان۔ تو جہاں کلیہ صادق آئے گا وہاں جزئیہ ضرور صادق آئے گا۔ لیکن جہاں جزئیہ صادق آئے وہاں کلیہ کا صادق آنا ضروری نہیں۔ جیسے: بَعْضُ الْحَیَوَانِ اِنْسَانٌ، بعض حیوان کیا ہیں؟ انسان۔ تو کیا کُلُّ حَیَوَانٍ اِنْسَانٌ ہے؟ نہیں، تو یہاں جزئیہ تو صادق آ رہا ہے لیکن کلیہ صادق نہیں۔ تو دیکھو، جہاں کلیہ صادق آئے گا وہاں جزئیہ ضرور صادق آئے گا، لیکن جہاں جزئیہ صادق آئے وہاں کلیہ کا صادق آنا ضروری نہیں۔ معلوم ہوا زیادہ اعم کون؟ جزئیہ۔ جزئیہ ہر جگہ صادق آئے گا، کلیہ صادق آئے یا کلیہ صادق نہ آئے، اور کلیہ وہیں صادق آئے گا جہاں جزئیہ صادق آئے، جیسے انسان اور حیوان۔ جو بھی انسان ہے وہ کیا ہے؟ حیوان، اور لیکن جو حیوان ہے وہ انسان نہیں۔ اسی طرح جو بھی کلیہ ہے وہاں جزئیہ ضرور، لیکن جہاں جزئیہ ہو وہاں کلیہ ضروری نہیں۔ تو کلیہ کیا ہوا؟ اخص، اور جزئیہ کیا ہوا؟ اعم۔
تو دیکھو میں نے بتایا، کلیہ کیا ہے؟ اخص، اور جزئیہ کیا ہے؟ اعم۔ تو اعم کی نفی سے تو اخص کی نفی ہو جاتی ہے، لیکن اخص کی نفی سے اعم کی نفی نہیں ہوتی۔ جیسے انسان ہے اخص اور حیوان ہے اعم، تو حیوان کی جب نفی کرو گے، اعم کی نفی کرو گے تو اخص کی بھی کیا ہو جائے گی؟ نفی ہو جائے گی۔ لیکن اخص کی نفی کرو تو اعم کی نفی نہیں، آپ انسان کی نفی کریں تو ضروری نہیں کہ حیوان کی بھی نفی ہو جائے۔ جب میں ایک چیز کے بارے میں کہوں یہ حیوان نہیں، یہ یعنی اعم کی نفی کر دی، تو اخص کی بھی نفی ہو گئی، معلوم ہوا یہ انسان بھی نہیں ہے۔ اور اگر میں اخص کی نفی کروں تو اس سے اعم کی نفی نہیں ہو گی، میں ایک چیز کے بارے میں کہوں یہ انسان نہیں ہے تو اس سے حیوان کی نفی ضروری نہیں، کیونکہ ہو سکتا ہے وہ گائے، بیل، بکری ہو بھئی۔ تو اعم کی نفی سے اخص کی نفی ہو جاتی ہے لیکن اخص کی نفی سے اعم کی نفی نہیں ہوتی۔ لہٰذا ہم جزئیہ لے آئے، کیا لے آئے؟ اعم لے آئے، جب اعم کی نفی ہو گی تو اخص کی بھی کیا ہو جائے گی؟ نفی ہو جائے گی۔ کلیہ ہے اخص اور جزئیہ ہے اعم، تو اعم کی نفی ہو گی تو اخص کی بھی، حیوان کی نفی ہو گی تو انسان کی بھی نفی، تو جب اعم کی نفی ہو گی تو اخص کی نفی ہو جائے گی۔ لیکن اگر ہم کلیہ لے آتے تو اخص کی تو نفی ہو جاتی لیکن اعم کی نفی تو، انسان کی نفی تو ہو جاتی لیکن انسان کی نفی سے تو حیوان کی نفی نہیں ہوتی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو لہٰذا ہم اعم کو لے کر آ گئے، کس کو لے آئے؟ اعم کو لائے۔
نیز ہم ممکنہ لائے، ممکنہ لائے۔ دوسرا اعتراض کیا تھا؟ آپ ممکنہ عامہ لائے، حالانکہ اگر ہوتا بھی تو کیا آنا چاہیے تھا؟ مطلقہ عامہ بالفعل والا آنا چاہیے تھا۔ کہتے ہیں بھئی، یہ جو ممکنہ عامہ ہے یہ سب سے اعم ہے۔ ممکنہ عامہ یہ سب سے اعم ہے، ہم سب سے اعم لے آئے۔ ادھر کلیہ اور جزئیہ میں جزئیہ اعم تھا، ہم جزئیہ لے آئے۔ اور باقی یہ جتنے ذکر ہیں ان سب میں سے اعم کون سا ہے؟ ممکنہ عامہ، ہم وہ ممکنہ عامہ لے آئے۔ یعنی جو ان میں سب سے اعم ہے ممکنہ عامہ اس کو لائے اور پھر ممکنہ عامہ کے اندر جو سب سے اعم صورت تھی وہ کون سی تھی؟ جزئیہ والی، وہ جزئیہ ہم لے کر آئے، تو سب سے اعم صورت ہم نے اختیار کی۔ سب سے اعم صورت ہم نے اختیار کی۔ اور جب اعم کی نفی ہو گی تو اخص کی بھی کیا ہو جائے گی؟ نفی۔ حیوان کی نفی ہو گی تو انسان کی بھی کیا ہو جائے گی؟ نفی ہو جائے گی۔ تو ہم سب سے اعم لے کر آئے۔
بھئی، یہ ممکنہ عامہ اعم کیسے ہے؟ سب سے زیادہ اعم کیسے ہے؟ یہ بھی سمجھ لیں۔ مثلاً میں کہتا ہوں ادھر دیکھیے: بَعْضُ الْحَجَرِ لَیْسَ بِاِنْسَانٍ، بعض حجر انسان نہیں ہے۔ بعض حجر انسان نہیں ہے بالفعل، کیا معنی؟ تین زمانوں میں سے کسی زمانے میں۔ جب تین زمانوں میں سے کسی زمانے میں بعض پتھر انسان نہیں ہیں، تو میرا یہ کہنا صحیح ہے یا نہیں کہ بعض پتھروں کا انسان نہ ہونا ممکن ہے؟ معلوم ہوا جب وہ تین زمانوں میں سے کسی زمانے میں نفی ہے تو معلوم ہوا نفی کا ہونا، میں نے کیا کہا؟ بَعْضُ الْحَجَرِ انسان، حجر سے میں نے کس کی نفی کی؟ انسان کی، کب نفی کی؟ بالفعل یعنی تین زمانوں میں۔ جب تین زمانوں میں نفی ہو سکتی ہے تو معلوم ہوا نفی کا ہونا ممکن ہے یا نہیں؟ اور اگر میں دائماً نفی کروں تو بھی نفی کا ہونا ممکن ہے یا نہیں؟ دیکھا، اور اگر میں کسی وقت معین میں نفی کروں تو بھی نفی کا ہونا ممکن ہے یا نہیں؟ اگر میں کسی وقت غیر معین میں نفی کروں تو بھی نفی کا ہونا ممکن ہے یا نہیں؟ دیکھا، ممکن ہے سب میں آ رہا ہے، تو امکان عام یہ سب سے اعم ہے۔ امکان عام ان میں سب سے اعم۔ تو کلیہ اور جزئیہ میں سے زیادہ اعم کیا؟ جزئیہ، اس کو اختیار کیا، اور ان نو میں سے سب سے اعم کون سا؟ ممکنہ، اس کو اختیار کیا۔ اور جب اعم کی نفی ہو جائے گی تو اخص کی بھی، باقی سارے خاص ہیں۔ باقیوں کی مثال جیسے ایک ہے حیوان اور باقی انسان، گھوڑا، گدھا، بیل وغیرہ۔ جب حیوان کی نفی ہو جائے گی تو ان ساروں کی نفی۔ تو لہٰذا سب سے اعم ممکنہ عامہ لائے اور اس کے اندر بھی سب سے اعم صورت جو تھی جزئیہ لے کر آئے، تو جب اعم کی سب سے اعم صورت کی نفی ہو گئی تو باقی سب اخص بھی اور ان کی اخص صورتیں بھی، سب کی کیا ہو گئی؟ نفی ہو گئی۔ تقریر سمجھ میں آ گئی؟
دیکھیے بھئی، تو کہتے ہیں: وَإِنَّمَا اخْتَرْنَا فِي الْعَكْسِ الْجُزْئِيَّةَ لِأَنَّهَا أَعَمُّ مِنَ الْكُلِّيَّةِ وَالْمُمْكِنَةَ الْعَامَّةَ لِأَنَّهَا أَعَمُّ مِنْ سَائِرِ الْمُوَجَّهَاتِ۔ شارح وجہ ذکر کر رہے تھے۔ شارح نے کہا کہ اوپر ہم نے ایک قضیہ ذکر کیا تھا وقتیہ: لَا شَیْئَ مِنَ الْقَمَرِ بِمُنْخَسِفٍ وَقْتَ التَّرْبِیْعِ لَا دَائِمًا، اور اس کا عکس ہم نے نکالا تھا: بَعْضُ الْمُنْخَسِفِ لَیْسَ بِقَمَرٍ بِالْاِمْکَانِ الْعَامِّ۔ تو اصل جو ہے وہ تو سالبہ کلیہ ہے اور سالبہ کلیہ کا عکس تو کیا آنا چاہیے؟ سالبہ کلیہ، لیکن آپ نے جزئیہ نکالا: بَعْضُ الْمُنْخَسِفِ لَیْسَ بِقَمَرٍ، تو آپ نے سالبہ جزئیہ نکالا عکس۔ اور نیز وقتیہ کا عکس تو نہیں آتا، اگر آتا بھی تو مطلقہ عامہ یعنی بالفعل والا آنا چاہیے تھا لیکن آپ نے بالامکان العام یعنی ممکنہ عامہ کو ذکر کر دیا۔ تو دو اعتراض ہوئے بھئی شارح پر۔ پہلا اعتراض کیا؟ کہ آپ جو عکس ہے وہ کلیہ کے بجائے کیا لے آئے؟ جزئیہ۔ دوسرا اعتراض یہ کہ آپ عکس جو ہے وہ مطلقہ عامہ کے بجائے کیا لے آئے؟ ممکنہ عامہ لے آئے۔
تو اس کا جواب دے رہے تھے شارح۔ شارح نے کہا بھئی، ایک ہے کلیہ، ایک ہے جزئیہ، ان میں سے جو کلیہ ہے وہ اخص ہے اور جزئیہ جو ہے وہ اعم ہے، اس لیے کیونکہ جہاں پر بھی کلیہ صادق آئے گا وہاں جزئیہ ضرور صادق آئے گا، لیکن جہاں جزئیہ صادق آئے وہاں کلیہ کا صادق آنا ضروری نہیں۔ جیسے مثلاً میں کہتا ہوں: کُلُّ اِنْسَانٍ حَیَوَانٌ، ہر انسان حیوان ہے، جب ہر انسان حیوان ہے تو پھر بعض انسان بھی کیا ہیں؟ حیوان ہیں۔ تو جب کُلُّ اِنْسَانٍ حَیَوَانٌ صادق ہے تو بَعْضُ الْاِنْسَانِ حَیَوَانٌ بھی صادق ہو گا۔ جب تمام انسان کیا ہیں؟ حیوان، تو بعض انسان بھی کیا ہیں؟ حیوان۔ تو جہاں کلیہ صادق آتا ہے وہاں جزئیہ بھی صادق آتا ہے، لیکن جہاں جزئیہ صادق آئے وہاں کلیہ کا صادق آنا ضروری نہیں، جیسے ہم کہتے ہیں: بَعْضُ الْحَیَوَانِ اِنْسَانٌ، بعض حیوان کیا ہیں؟ انسان، تو یہاں جزئیہ تو صادق آ رہا ہے لیکن کلیہ صادق نہیں آ رہا کہ کُلُّ حَیَوَانٍ اِنْسَانٌ، وہ صادق نہیں، ہر حیوان انسان نہیں ہے بھئی۔
تو لہٰذا معلوم ہوا جو کلیہ ہے وہ ہے اخص اور جو جزئیہ ہے وہ ہے اعم۔ تو ہم جزئیہ عکس اس لیے لائے کہ جزئیہ ہے اعم، اور جب اعم عکس نہیں آ سکتا تو اخص بطریق اولیٰ نہیں آ سکتا۔ اعم کی نفی سے اخص کی بھی نفی ہو جاتی ہے، جیسے جب کوئی چیز حیوان نہیں ہے تو وہ انسان بھی نہیں ہے۔ تو جب اعم کی نفی ہو جائے گی یعنی جزئیہ کی، تو اخص یعنی کلیہ عکس کی بطریق اولیٰ نفی ہو جائے گی۔ جب عکس جزئیہ نہیں آ سکتا تو عکس کلیہ بطریق اولیٰ نہیں آ سکتا۔ تو اس لیے ہم نے اعم والی صورت اختیار کی۔
اور نیز ہم نے مطلقہ عامہ کے بجائے ہم نے ممکنہ عامہ کو ذکر کیا، اس لیے کیونکہ ممکنہ عامہ ان سب سے زیادہ اعم ہے۔ یہ نو قضیے ہیں، ان میں سب سے اعم کون سا ہے؟ ممکنہ عامہ ہے۔ تو جب اعم کی نفی ہو گی تو اخص کی بھی نفی ہو جائے گی۔ جب ممکنہ عامہ عکس نہیں آ سکتا تو بالفعل یا بالدوام یا بالضرورت، وہ بطریق اولیٰ نہیں آ سکتا۔ کیونکہ ان میں سب سے اعم کیا؟ ممکنہ عامہ، یہ سب سے اعم ہے اور باقی کیا ہیں؟ اخص ہیں، اور اعم کی نفی سے اخص کی بھی نفی ہو جاتی ہے۔ جب میں کہہ دوں یہ چیز حیوان نہیں ہے، معلوم ہوا انسان بھی نہیں ہے، تو اعم کی نفی سے اخص کی نفی ہو جاتی ہے۔ تو ممکنہ عامہ ان میں سب سے اعم تھا، جب ممکنہ عامہ عکس نہیں آ سکتا یہاں پر تو بالفعل والا یا بالدوام یا بالضرورت والا، یہاں پر بطریق اولیٰ عکس نہیں آ سکتا۔ تقریر سمجھ میں آ گئی؟
تو ہم نے کلیہ اور جزئیہ میں سے بھی جو اعم تھا یعنی جزئیہ اس کو اختیار کیا، اور جہات میں سے بھی ہم نے ممکنہ عامہ کو اختیار کیا جو سب سے اعم تھا، تو ممکنہ عامہ کے اندر جو سب سے اعم صورت تھی جزئیہ والی وہ ہم لے آئے، اگر یہ والا عکس صادق نہیں آ رہا جیسے ہم نے بتا دیا، تو معلوم ہوا جو اخص ہوں گے وہ بطریق اولیٰ صادق نہیں، جب حیوان صادق نہیں آ رہا تو معلوم ہوا انسان بطریق اولیٰ یہاں صادق نہیں۔ تو جب ممکنہ عامہ جزئیہ عکس نہیں بن سکتا یہاں پر، تو باقی بطریق اولیٰ عکس نہیں بن سکتے۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟
یہ معنی ہے، کہتے ہیں: وَإِنَّمَا اخْتَرْنَا فِي الْعَكْسِ الْجُزْئِيَّةَ، اور ہم نے اختیار کیا عکس کے اندر جزئیہ کو، لِأَنَّهَا أَعَمُّ مِنَ الْكُلِّيَّةِ، کیونکہ یہ کلیہ سے زیادہ اعم ہے، وَالْمُمْكِنَةَ الْعَامَّةَ، اور ہم نے ممکنہ عامہ کو اختیار کیا عکس کے اندر، لِأَنَّهَا أَعَمُّ مِنْ سَائِرِ الْمُوَجَّهَاتِ، اس لیے کیونکہ یہ سب سے زیادہ اعم ہے تمام موجہات میں سے۔ سائر کا معنی کر لیں باقی، باقی: لِأَنَّهَا أَعَمُّ مِنْ سَائِرِ الْمُوَجَّهَاتِ، اس لیے کیونکہ یہ زیادہ اعم ہے باقی موجہات سے۔
وَإِذَا لَمْ يَصْدُقِ الْأَعَمُّ لَمْ يَصْدُقِ الْأَخَصُّ بِالطَّرِيقِ الْأَوْلَى۔ اور جب اعم صادق نہیں آیا، ہم نے عکس میں کس کو ذکر کیا؟ جزئیہ کو اور ممکنہ عامہ، اور جزئیہ بھی اعم اور ممکنہ عامہ بھی اعم، اور یہ والا عکس صادق نہیں آ رہا جو سب سے اعم ہے تو پھر اخص بطریق اولیٰ صادق نہیں، جیسے کسی جگہ پر جب حیوان صادق نہیں آ رہا تو وہاں انسان بھی صادق نہیں آ سکتا۔ دلیل سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو کہتے ہیں: وَإِذَا لَمْ يَصْدُقِ الْأَعَمُّ، جب عکس کے اندر سب سے اعم جو ہے وہ صادق نہیں آ رہا، وہ عکس بھی صحیح نہیں بن رہا، لَمْ يَصْدُقِ الْأَخَصُّ بِالطَّرِيقِ الْأَوْلَى، تو اخص بھی صادق نہیں آئے گا بطریق اولیٰ۔
بِخِلَافِ الْعَکْسِ الْکُلِّیَّۃِ۔ جی، میری کتاب میں ہے: بِخِلَافِ الْعَکْسِ الْکُلِّیَّۃِ۔ یاد رکھیے، یہاں تین قسم کے نسخے ہیں۔ بعضوں میں یہی عبارت ہے جو میں نے ذکر کی: بِخِلَافِ الْعَکْسِ الْکُلِّیَّۃِ۔ بعض نسخوں کے اندر ہے: بِخِلَافِ الْعَکْسِ الْکُلِّیِّ۔ اور بعض نسخوں کے اندر ہے: بِخِلَافِ الْعَکْسِ، وہاں کلیہ یا کلی کا لفظ نہیں ہے۔ اور وہی نسخہ صحیح ہے۔ اس عکس کے ساتھ نہ کلیہ آنا چاہیے اور نہ کلی آنا چاہیے بھئی۔ کلیہ تو اس لیے نہیں آئے گا کیونکہ عکس مذکر ہے تو مذکر کی صفت کُلِّیٌّ آنی چاہی، بِخِلَافِ الْعَکْسِ الْکُلِّیِّ، مذکر صفت آنی چاہیے، مؤنث صفت نہیں آ سکتی۔ اور بِخِلَافِ الْعَکْسِ الْکُلِّیِّ، ہاں یہ عبارت بن جاتی ہے کہ ہم نے جزئیہ اختیار کیا۔ عکس کے اندر ہم نے کس کو اختیار کیا؟ جزئیہ کو، کیونکہ وہ اعم ہے۔ وہ اعم ہے، تو جب اعم یعنی جزئیہ صادق نہیں آیا تو لَمْ یَصْدُقِ الْاَخَصُّ، تو اخص یعنی کلیہ بھی صادق نہیں آئے گا، بِخِلَافِ الْعَکْسِ الْکُلِّیِّ، بخلاف عکس کلی کے کہ اس میں ایسا نہیں ہے، کیونکہ وہ تو اخص ہے، اور اخص کی نفی سے تو اعم کی نفی نہیں ہوتی۔ کوئی چیز انسان نہیں ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ حیوان بھی نہ ہو، ہو سکتا ہے وہ پھر بھی کیا ہو؟ حیوان ہو، کوئی گائے، بیل، بکری، کوئی اور چیز ہو۔ لیکن سب سے بہتر یہ ہے، جو سب سے بہتر نسخہ کہ جس میں عکس کے ساتھ کوئی صفت نہ لگائی جائے، یوں کہا جائے: بِخِلَافِ الْعَکْسِ، بخلاف عکس کے۔ بخلاف عکس کے۔
یاد رکھو، یہ جو عکس ہے نا، عکس تین قسم پر ہے، میں پہلے بھی بیان کر چکا ہوں۔ ایک عکس لغوی ہے، ایک عکس منطقی ہے، اور ایک عکس عرفی ہے۔ عکس لغوی اور عکس منطقی دونوں میں موضوع اور محمول کی جگہ بدلتے ہیں۔ عکس لغوی اور عکس منطقی دونوں میں موضوع اور محمول کی جگہ بدلتے ہیں، موضوع کو محمول بنا دیتے ہیں اور محمول کو موضوع بنا دیتے ہیں۔ البتہ فرق یہ ہے کہ عکس لغوی میں مقدار کو برقرار رکھتے ہیں جبکہ عکس منطقی میں صدق کو برقرار رکھتے ہیں۔ عکس لغوی میں مقدار کو برقرار رکھتے ہیں، یعنی اگر اصل جو تھا وہ کلیہ تھا تو عکس بھی کیا ہونا چاہیے؟ کلیہ، اگر وہ جزئیہ تھا تو عکس بھی جزئیہ ہونا چاہیے۔ جبکہ منطقی عکس کے اندر جو ہے مقدار کو برقرار نہیں رکھتے بلکہ صدق کو برقرار رکھتے ہیں، لہٰذا موجبہ کلیہ کا عکس موجبہ جزئیہ آتا ہے۔ کُلُّ اِنْسَانٍ حَیَوَانٌ، عکس کیا آیا؟ بَعْضُ الْحَیَوَانِ اِنْسَانٌ۔ دیکھا، مقدار کو برقرار نہیں رکھا بلکہ صدق کو برقرار رکھا ہے۔
تو یہ ہے عکس منطقی بھئی۔ مثلاً میں کہتا ہوں: کُلُّ اِنْسَانٍ حَیَوَانٌ، ہر انسان حیوان ہے، وَلَا عَکْسَ، لیکن اس کا عکس نہیں ہے۔ اس کا عکس نہیں۔ معلوم ہوا کون سا عکس مراد ہے؟ غور کرو: کُلُّ اِنْسَانٍ حَیَوَانٌ، ہر انسان کیا ہے؟ حیوان۔ موجبہ کلیہ موجبہ جزئیہ ہے؟ موجبہ کلیہ ہے، اور موجبہ کلیہ کا عکس کیا آتا ہے، منطقی عکس؟ موجبہ جزئیہ آتا ہے، تو موجبہ جزئیہ تو اس کا عکس آتا ہے، لیکن میں کیا کہہ رہا ہوں؟ کُلُّ اِنْسَانٍ حَیَوَانٌ وَلَا عَکْسَ، لیکن اس کا عکس نہیں ہے، معلوم ہوا منطقی عکس مراد نہیں وہ تو آ سکتا ہے، معلوم ہوا یہاں لغوی عکس مراد ہے اور اس میں مقدار برقرار رکھتے ہیں۔ یعنی کُلُّ اِنْسَانٍ حَیَوَانٌ، ہر انسان تو حیوان ہے لیکن اس کا عکس نہیں یعنی ہر حیوان انسان نہیں ہے بھئی۔ یعنی ہر انسان تو حیوان ہے لیکن ہر حیوان انسان ہو ایسا نہیں ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کُلُّ اِنْسَانٍ حَیَوَانٌ وَلَا عَکْسَ، اس عکس سے کون سا عکس مراد ہے؟ عکس لغوی مراد ہے، عکس منطقی تو یہاں ٹھیک بن جاتا ہے۔ تو عکس لغوی میں کس کو برقرار رکھتے ہیں؟ مقدار کو، کمیت کو، کمیت کو برقرار رکھتے ہیں، اور عکس منطقی میں صدق کو برقرار رکھتے ہیں۔
جبکہ ایک ہے عکس عرفی، عکس عرفی کا معنی ہوتا ہے برعکس یعنی جو اول کے برعکس ہو، جو چیز ایک چیز ذکر کی جاتی ہے اور آگے عکس ذکر کیا جاتا ہے یعنی اس کے برعکس، یعنی اس کے برعکس نہیں ہے، کہہ دیتے ہیں: وَلَا عَکْسَ، اس کا برعکس نہیں ہے۔ اور یہ جو عکس عرفی ہوتا ہے، اس میں موضوع اور محمول کی جگہ نہیں بدلتے بلکہ پہلی بات اگر ایک چیز کے بارے میں تھی تو عموماً دوسری بات دوسری چیز کے بارے میں ہو گی۔
جیسے بھئی، کتاب کے شروع میں آیا تھا: شکر اور حمد۔ شکر جو ہے وہ زبان سے بھی ہوتا ہے، وہ دل سے بھی ہوتا ہے، وہ اعضاء سے بھی ہوتا ہے۔ تو شکر کا مورد عام، مورد کے اعتبار سے شکر عام ہے، وہ تینوں چیزوں سے ہو سکتا ہے: زبان سے بھی، دل سے بھی، اور اعضاء سے بھی۔ جبکہ حمد صرف زبان سے ہوتی ہے۔ تو شکر جو ہے مورد کے اعتبار سے عام اور حمد جو ہے مورد کے اعتبار سے خاص، صرف زبان سے ہوتی ہے۔ جبکہ متعلق کے اعتبار سے شکر جو ہے وہ خاص ہے اور حمد عام ہے۔ حمد نعمت کے مقابلے میں بھی ہو سکتی ہے کس نے آپ کے ساتھ احسان کیا ہے اور غیر نعمت کے مقابلے میں بھی ہو سکتی ہے، جبکہ شکر جو ہے وہ ہمیشہ کس کے مقابلے میں ہوتا ہے؟ نعمت کے مقابلے میں ہوتا ہے۔ تو متعلق کے اعتبار سے شکر خاص اور حمد عام، اور مورد کے اعتبار سے شکر عام اور حمد خاص ہے۔ مورد جس سے ادا ہو، جس سے ادا ہو۔ حمد صرف کس کے مقابلے میں آتی ہے؟ نعمت کے۔
چاہے نعمت ہو، انعام ہو یا انعام نہ ہو تو یہ عام ہے۔ اور شکر صرف کس کے مقابلے میں آتا ہے؟ انعام کے مقابلے میں۔ کسی نے آپ سے احسان کیا ہے تو پھر آپ اس کی تعریف کرتے ہیں تو یہ شکر کہلائے گا ورنہ شکر نہیں کہلائے گا۔ تو لہٰذا شکر جو ہے، متعلق کے اعتبار سے شکر کیا ہے؟ خاص۔ متعلق کے اعتبار سے شکر کیا ہے؟ خاص۔ اور حمد کیا ہے؟ عام۔ وہ انعام کے مقابلے میں بھی ہو سکتی ہے اور غیرِ انعام کے مقابلے میں بھی ہو سکتی ہے۔ جبکہ مورد کے اعتبار سے شکر عام ہے۔ شکر ادا ہوتا ہے زبان سے بھی، دل سے بھی اور اعضاء سے بھی، جبکہ حمد ادا ہوتی ہے صرف زبان سے۔
تو حمد کے بارے میں مثلاً میں کہتا ہوں کہ حمد جو ہے، یہ یہ مورد کے اعتبار سے خاص ہے اور متعلق کے اعتبار سے عام ہے۔ توجہ ہے؟ حمد مورد کے اعتبار سے خاص ہے اور متعلق کے اعتبار سے عام ہے، وَالشُّكْرُ بِالْعَكْسِ اور شکر اس کے برعکس ہے۔ شکر اس کے برعکس ہے۔ یہاں دیکھو یہ جو عکس آیا یہ عکسِ عرفی ہے۔ یعنی شکر اس کے برخلاف ہے۔ یعنی شکر مورد کے اعتبار سے عام ہے اور متعلق کے اعتبار سے خاص ہے۔ حمد تو کیا تھی؟ حمد تو متعلق کے اعتبار سے عام تھی اور مورد کے اعتبار سے خاص، جبکہ شکر اس کے برعکس ہے یعنی شکر مورد کے اعتبار سے عام ہے اور متعلق کے اعتبار سے خاص ہے۔
تو دیکھا، یہاں کوئی موضوع محمول کی جگہ بدلی؟ نہیں، بلکہ پہلی بات تھی حمد کے بارے میں تو دوسری کس کے بارے میں ہے؟ شکر کے بارے میں ہے۔ تو یہ عکسِ عرفی ہے بھئی، جو پہلے کے برخلاف ہو۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو یہاں پر جو آیا، کہتے ہیں بِخِلَافِ الْعَكْسِ، بخلاف عکس کے، اس سے عکسِ لغوی مراد لیں، کیا مراد لے لیں؟ اور اس کو جوڑیں ذرا، دیکھیے کہتے ہیں: وَإِذَا لَمْ يَصْدُقِ الْأَعَمُّ لَمْ يَصْدُقِ الْأَخَصُّ بِالطَّرِيقِ الْأَوْلَى. جب اعم صادق نہیں آئے گا تو اخص بھی صادق نہیں، جب ممکنہ عامہ صادق نہیں آ رہا تو بالفعل ولا مطلقہ عامہ بطریقِ اولیٰ صادق نہیں آئے گا۔ جب جزئیہ صادق نہیں آ رہا تو کلیہ بطریقِ اولیٰ صادق نہیں آئے گا۔
تو یہاں کیا کہتے ہیں؟ کہتے ہیں: وَإِذَا لَمْ يَصْدُقِ الْأَعَمُّ جب اعم صادق نہیں آیا تو لَمْ يَصْدُقِ الْأَخَصُّ بِالطَّرِيقِ الْأَوْلَى تو اخص بھی صادق نہیں آئے گا بطریقِ اولیٰ، بِخِلَافِ الْعَكْسِ بخلاف عکس کے۔ بخلاف عکس کے کیا معنی؟ کہ اخص صادق نہ آئے تو اعم بھی صادق نہ آئے ایسا نہیں ہے۔ کیا بتایا؟ جب اعم صادق نہیں آتا تو اخص بھی صادق، جب کوئی چیز حیوان نہیں تو اخص یعنی انسان بھی نہیں۔ تو جب اعم ممکنہ عامہ صادق نہیں تو بالفعل ولا مطلقہ عامہ بطریقِ اولیٰ صادق نہیں، تو اعم کی نفی سے اخص کی نفی ہو جاتی ہے لیکن بِخِلَافِ الْعَكْسِ بخلاف عکس کے، یعنی اخص کی نفی سے اعم کی نفی نہیں ہوتی۔ اگر کوئی چیز انسان نہیں، اس کا یہ معنی نہیں کہ وہ حیوان بھی نہ ہو بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو اس عکس سے کیا عکس مراد لے لیں؟ عکسِ لغوی۔ یعنی اعم صادق نہ آئے تو اخص بھی صادق نہیں آتا لیکن اس کا عکس نہیں ہے یعنی اخص کے صادق نہ آنے سے اعم بھی صادق نہ آئے، ایسا نہیں ہے۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی۔
پھر سنیں، ہم نے کیا طریقہ اختیار کیا کہ قضیہ سب سے پہلے قضیہ کون سا لیا؟ وقتیہ، جو سب سے اخص تھا اور اخص کے ساتھ اعم کیا ہوتا ہے؟ لازم۔ جب اخص کا عکس نہیں آتا تو معلوم ہو جائے گا اعم کا بھی عکس جیسے جیسے خاصتان وہ وہ اخص ہیں کس کے مقابلے میں؟ عامتان کے مقابلے میں اور خاصتان کے ساتھ کیا لازم؟ عامتان لازم اور عامتان کا عکس آتا ہے تو خاصتان کا بھی عکس آتا ہے۔ تو ان میں سب سے اخص کون سا ہے؟ وقتیہ، وقتیہ لیا اور اخص کے ساتھ اعم کیا ہوتے ہیں؟ لازم۔ معلوم ہوا باقی جو ہیں وہ اس وقتیہ کے ساتھ لازم ہیں جتنی بھی جہتیں ہیں وہ اس کے ساتھ لازم، اور اگر ان کا عکس آتا تو اس اخص کا بھی عکس آتا لیکن اس کا عکس نہیں آیا معلوم ہوا باقی جو اعم ہیں جو نو میں سے باقی اعم ہیں ان میں سے بھی کسی کا عکس نہیں آئے گا۔ دلیل سمجھ میں آ گئی اچھی طرح؟
چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔