Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

شرح التهذيب · dars-029

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor NOMAN AHMAD
📍 Location PESHAWAR, Pakistan
📅 Approved Date 13 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 79
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
اچھا بھئی آگے دیکھیے بھئی شرح میں۔ قَوْلُهُ الْقِسْمُ الْأَوَّلُ لَمَّا عُلِمَ ضِمْنًا فِي قَوْلِهِ فِي تَحْرِيرِ الْمَنْطِقِ وَالْكَلَامِ أَنَّ كِتَابَهُ عَلَى قِسْمَيْنِ لَمْ يَحْتَجْ إِلَى التَّصْرِيحِ بِهَذَا فَصَحَّ تَعْرِيفُ الْقِسْمِ الْأَوَّلِ بِلَامِ الْعَهْدِ لِكَوْنِهِ مَعْهُودًا ضِمْنًا وَهَذَا بِخِلَافِ الْمُقَدِّمَةِ فَإِنَّهَا لَمْ يُعْلَمْ وُجُودُهَا سَابِقًا فَلَمْ تَكُنْ مَعْهُودَةً فَلِذَا نَكَّرَهَا وَقَالَ مُقَدِّمَةٌ. گزشتہ سبق میں قسم اول شروع ہوئی تھی بھئی اور آپ نے پڑھا کسی شے کی جو صورت ذہن میں حاصل ہو وہ اس شے کا علم ہے بھئی، علم ہے۔ اور اسی علم کا دوسرا نام ادراک ہے۔ اور یہ علم پھر دو قسم پر ہے، یا وہ تصور ہوگا یا تصدیق ہوگا۔ اور تصور اور تصدیق میں سے آپ نے پڑھا کہ تصدیق اس ادراک کا نام ہے جس میں نِسْبَت تَامَّہ خَبَرِيہ ہو اور آپ کو اس کا یقین ہو، اس کو آپ مان لیں، تسلیم کر لیں، اس میں کسی قسم کا شک اور شبہ اور انکار باقی نہ رہے، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ تصدیق کہتے ہیں۔ تو تصدیق میں ہمیشہ دو چیزیں ہوتی ہیں، ایک وہ چیز جس پر حکم لگایا، اور ایک دوسری چیز جس کا حکم لگایا۔ مثلاً میں نے کہا زَيْدٌ قَائِمٌ، تو زید وہ زید ہے مَحْكُومٌ عَلَيْهِ اور مَوْضُوع بھی اسے کہتے ہیں، یعنی جس پر حکم لگایا گیا ہے، جس پر حمل کیا گیا ہے۔ اور دوسرا حصہ جو عَالِمٌ ہے، وہ مَحْكُومٌ بِهِ ہے اور اسی کو مَحْمُول بھی کہتے ہیں۔ آسان لفظوں میں میں نے بتلایا تھا کہ مَحْكُومٌ عَلَيْهِ اور مَوْضُوع وہ چیز ہے جس کے بارے میں بات کی جائے۔ اور مَحْكُومٌ بِهِ اور مَحْمُول وہ چیز ہے وہ جو بات کی جائے۔ اسے مَحْمُول بھی کہتے ہیں، اور مَحْكُومٌ بِهِ بھی کہتے ہیں۔ علم آپ نے پڑھ لیا دو قسم پر ہے یا تصور اور یا تصدیق۔ تو تصدیق کسے کہتے ہیں کہ جس میں دو چیزیں ہوں اور ایک کا ثبوت یا ایک کی نفی ہو دوسری چیز سے، اور پھر اس میں اِذْعَان بھی ضروری ہے، یعنی تسلیم کر لینا اور مان لینا بھی ضروری ہے۔ اور اس کے علاوہ باقی تمام صورتیں تصور کے اندر داخل ہو گئیں۔ تو تصور کی پانچ صورتیں بن گئیں۔ یا تو ادراک ہوگا ایک ہی چیز کا، یہ بھی تصور ہے۔ یا ایک سے زیادہ چیزوں کا ادراک ہوگا، لیکن ان میں کوئی نسبت نہیں ہوگی، یہ بھی کیا ہے تصور ہے۔ یا دو یا دو سے زیادہ چیزوں کا ادراک ہے اور ان میں نسبت بھی موجود ہے لیکن یہ نسبت تام نہیں ہے۔ یہ نسبت تام نہیں ہے، جیسے مُضَاف اور مُضَافٌ إِلَيْهِ کے درمیان نسبت ہوتی ہے، مَوْصُوف اور صِفَت کے درمیان بھی نسبت یعنی تعلق اور جوڑ اور ربط ہوتا ہے، لیکن تام نہیں ہے نسبت یعنی بات اس میں پوری نہیں۔ غُلَامُ زَيْدٍ، آپ کو کوئی پوری بات سمجھ میں نہیں آئی، آپ فوراً کہیں گے بات تو پوری کریں کہ زید کے غلام کو کیا ہوا؟ زندہ ہے، مر گیا ہے، چلا گیا ہے، آ گیا ہے، بات تو پوری کریں۔ یا میں کہتا ہوں رَجُلٌ عَالِمٌ ایک عالم آدمی۔ تو دیکھو یہ مَوْصُوف صِفَت ہے ان میں بھی ایک ربط ہے، نسبت ہے، جوڑ ہے، لیکن بات پوری نہیں۔ میں دس دفعہ بھی کہہ دوں رَجُلٌ عَالِمٌ آپ کو بات سمجھ میں نہیں آئے گی، آپ کہیں گے بات تو پوری کریں کہ عالم آدمی کو کیا ہوا؟ تو یہاں نسبت تو ہے لیکن تام نہیں، تام نہیں۔ تو یہ بھی کس کے اندر داخل تصور میں۔ تو تین قسمیں ہو گئیں تصور کی ایک صورت کیا، ایک ہی چیز کا ادراک ہو۔ دوسری صورت، کئی چیزوں کا ادراک لیکن درمیان میں کسی قسم کی کوئی نسبت نہیں۔ تیسری صورت کہ درمیان میں نسبت بھی ہے دو یا تین چیزیں ہیں، ان میں نسبت ہے لیکن نسبت تام نہیں، یعنی مُرَكَّب إِضَافِي ہے یا مُرَكَّب تَوْصِيفِي وغیرہ ہے۔ یہ بھی تصور ہے۔ چوتھی صورت کہ ادراک ہو نسبت کا اور وہ نسبت تام بھی ہے، بات پوری بھی ہے، لیکن نسبت اِنْشَائِي ہے۔ کون سی نسبت ہے؟ اِنْشَائِي ہے۔ جیسے آپ پڑھ چکے اِنْشَاء کی قسمیں پڑھ چکے ہیں، کسی کو آواز دی جائے یہ بھی کیا ہے اِنْشَاء، يَا زَيْدُ یہ کیا ہے اِنْشَاء، یا آپ قسم کھاتے ہیں وَاللّٰهِ یہ بھی کیا ہے اِنْشَاء، یا آپ کسی کو حکم دیتے ہیں اِضْرِبْ یہ بھی اِنْشَاء ہے، یا لَا تَضْرِبْ جو نَہْي ہے یہ بھی کیا ہے اِنْشَاء، یا آپ سوال پوچھتے ہیں کسی سے مَا اسْمُكَ آپ کا کیا نام ہے؟ یہ بھی کیا ہے اِنْشَاء۔ تو جتنی اِنْشَاء کی صورتیں ہیں وہ ان میں بات تو پوری ہوتی ہے، دوسرا سمجھ جاتا ہے کہ کیا بات کی جا رہی ہے، لیکن یہ نسبت اِنْشَائِي ہے تو یہ بھی تصور ہی میں شامل ہے، تصور ہی میں داخل ہے۔ اور تصور کی پانچویں قسم وہ ہے کہ جس میں نسبت تام بھی ہے، خبری بھی ہے، لیکن یقین نہیں ہے۔ تو اس میں شَكّ بھی داخل ہوا، وَهْم بھی اور تَخَيُّل بھی۔ آپ نے پڑھا کہ مثلاً کوئی بات ہے، مثلاً زید عالم ہے، یا زید آ گیا ہے، یا بارش ہو رہی ہے، کوئی بھی بات ہو اور اس میں آپ کو شک ہو، تو یعنی جانبین برابر ہوں۔ کیا ہوں؟ جانبین برابر ہوں۔ جتنا خیال آپ کو اس کے ہونے کا ہے اتنا ہی خیال نہ ہونے کا بھی ہے۔ مثلاً آپ کمرے میں بیٹھے ہیں، آپ کے ساتھی نے بتلایا کہ باہر بارش ہو رہی ہے۔ اب آپ کو یقین نہیں آیا، اور البتہ دونوں جانبیں برابر ہیں، آپ کے ذہن میں کبھی تو یہ خیال آتا ہے کہ بارش ہو رہی ہے، کبھی خیال آتا ہے کہ اس نے صحیح بات نہیں کی بارش نہیں ہو رہی۔ تو جتنا خیال ہونے کا ہے، اتنا ہی خیال نہ ہونے کا۔ تو جب ایک چیز کے ہونے اور نہ ہونے کا خیال بالکل برابر ہو، دونوں جانبیں برابر، یعنی جتنا خیال ہونے کا اتنا ہی خیال نہ ہونے کا، تو اس کو علم منطق کی اصطلاح میں شَكّ کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ شَكّ۔ ایک ہم عام زبان میں شک بولتے ہیں اس میں دونوں جانبوں کا برابر ہونا ضروری نہیں، لیکن منطق کی اصطلاح میں شک اسی کو کہیں گے جس میں دونوں جانبیں کیا ہوں؟ برابر ہوں۔ اور کبھی کبھار شک تو ہوگا آپ کو لیکن دونوں جانبیں برابر نہیں ہوں گی، ایک جانب کا زیادہ خیال ہوگا۔ مثلاً اس ساتھی نے آپ کو آ کر کہا باہر بارش ہو رہی ہے، تو آپ کے ذہن میں اب نوے فیصد یہی خیال ہے کہ باہر بارش ہو رہی ہے، لیکن تھوڑا سا خیال ساتھ یہ بھی آ جاتا ہے کہ شاید اس نے مذاق کیا ہو، ہو سکتا ہے بارش نہ ہو رہی ہو۔ تو اب ستر، اسی یا نوے فیصد خیال ہے بارش ہونے کا، لیکن تھوڑا سا خیال ہے بارش کے نہ ہونے کا۔ تو اب دیکھو دونوں جانبیں برابر نہیں۔ تو اس صورت میں یہ جو زیادہ خیال ہے، اس کو کہتے ہیں ظَنّ۔ ظا اور نون ہے، نون مشدد ہے، ظَنٌّ۔ اور یہ یاد رکھیے یہ تصدیق کی قسم ہے۔ کس کی قسم ہے؟ تصدیق کی۔ جبکہ وَهْم وہ جو تھوڑا سا خیال ہے، اس کو وَهْم کہتے ہیں، اور وہ بھی تصور کی قسم ہے۔ اسی طرح تَخَيُّل، تَخَيُّل یہ ہے کہ بعض اوقات آپ کے ذہن میں کوئی بات آتی ہے اور آتے ہی پھر فوراً نکل بھی گئی، اس پر یقین کرنے یا نہ کرنے تک نوبت ہی نہیں پہنچی۔ یعنی کہ آپ نے اس کو مانا یا نہ مانا، یہاں تک ابھی بات پہنچی نہیں تھی، بس ذرا سا ہلکا سا خیال آیا اور ذہن سے نکل گیا۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ تَخَيُّل۔ تَخَيُّل کہتے ہیں بھئی، خیال سے ہے، خیال سے۔ بَاب تَفْعِيل ہے نا؟ تَخَيُّلٌ۔ تو یہ بھی یاد رکھیے یہ تصور کی قسم ہے۔ تو تصور کی پانچ قسمیں آپ نے پڑھ لیں، ایک صورت کیا، میں بار بار تکرار کروا رہا ہوں تاکہ اچھی طرح ذہن نشین ہو جائے بھئی۔ تو تصدیق میں دو چیزیں ہوں گی، اور اس میں نِسْبَت تَامَّہ خَبَرِيہ ہوگی، اور نِسْبَت تَامَّہ خَبَرِيہ کا یقین ہوگا، یعنی آپ اس کا اِذْعَان کر لیں گے، یعنی مان لیں گے، اِذْعَان کا کیا معنی؟ مان لینا، تسلیم کر لینا کہ اس میں شک اور انکار باقی نہ رہے۔ اور اس کے علاوہ باقی ساری پانچ صورتیں جو بنیں وہ ساری تصور کے اندر داخل ہو گئیں۔ تصور میں پانچ صورتیں کون سی؟ ایک صورت یہ کہ صرف ایک ہی چیز کا ادراک ہو۔ دوسری صورت یہ کہ دو یا زیادہ چیزوں کا ادراک لیکن درمیان میں کسی قسم کا کوئی ربط جوڑ اور نسبت نہیں۔ تیسری صورت کہ درمیان میں نسبت بھی ہے دو یا تین چیزیں ہیں، ان میں نسبت ہے لیکن نسبت تام نہیں۔ جیسے مُرَكَّب إِضَافِي اور مُرَكَّب تَوْصِيفِي کے اندر۔ اور چوتھی صورت ہے کہ نسبت تام بھی ہے لیکن اِنْشَائِي ہے، وہ بھی کیا ہے تصور۔ اور پانچویں صورت یہ ہے کہ نسبت تام خبری ہے، لیکن آپ کو یقین نہیں ہے۔ تو یہ بھی تصور ہے اور اس میں کون کون آ گئے؟ اس میں شَكّ بھی داخل ہوا جس میں دونوں جانبیں برابر ہوتی ہیں۔ اس میں وَهْم بھی داخل ہوا جس میں تھوڑا سا خیال ہوتا ہے۔ اور اس میں تَخَيُّل بھی داخل ہو گئی جو بات ذہن میں آئی اور ہو کر نکل گئی۔ تو علم کتنی قسم کا؟ دو ہی قسم۔ یا تصور یا تصدیق۔ اس کے علاوہ اور کوئی صورت نہیں بھئی۔ تو جب بھی بات آ جائے تصور کی، آپ سمجھ جائیں یہ علم کی بات ہو رہی ہے لیکن علم کی فلاں قسم ہے۔ جب بھی بات آ جائے تصدیق کی، آپ سمجھ جائیں یہ کس کی بات ہو رہی ہے؟ علم کی بات ہو رہی ہے کیونکہ تصدیق اور تصور علم ہی کا نام ہے، البتہ یہ علم کی فلاں قسم ہے۔ اور علم کے مقابلے میں آتا ہے جَهْل۔ جَهْل کا کیا معنی؟ علم نہ ہونا۔ ایک چیز کا پتہ نہ ہونا۔ اور جس چیز کا آپ کو پتہ ہے، مثلاً آپ زید کو جانتے ہیں، تو آپ کے بارے میں کہیں گے کہ آپ زید کے عَالِم ہیں۔ یعنی زید کو جاننے والے ہیں۔ اور اگر آپ زید کو نہیں جانتے تو کہیں گے آپ زید سے جَاهِل ہیں، یعنی آپ زید کو نہیں جاننے والے، آپ کو زید کا پتہ نہیں ہے۔ تو جس چیز کا علم آپ کو ہے، آپ اس کے عَالِم ہیں، اور جس چیز کا علم آپ کو نہیں، آپ اس سے جَاهِل ہیں۔ اور جو چیز آپ کو جس کا علم ہو گیا، اس کو کہتے ہیں مَعْلُوم۔ اور جس چیز کا ابھی آپ کو علم نہیں، وہ ہے مَجْهُول۔ تو مَجْهُول لفظ آئے پریشان نہیں ہونا کہ کیا معنی، مَجْهُول کا معنی ہے نامعلوم، نامعلوم جس کا آپ کو علم نہیں ہے بھئی۔ علم نہیں ہے۔ اب دیکھیے آگے شرح میں نیا سبق دیکھیے بھئی۔ اَلْقِسْمُ الْأَوَّلُ فِي الْمَنْطِقِ قسم اول ہے فِي الْمَنْطِقِ أَيْ فِي بَيَانِ الْمَنْطِقِ، کس کے بیان میں؟ علم منطق کے۔ تو یہ آپ نے پڑھ لیا، اس کتاب میں دو چیزیں بیان ہوں گی، ایک علم منطق اور ایک علم کلام۔ تو پہلی قسم علم منطق کے بارے میں ہے، اور دوسری قسم علم کلام کے بارے میں ہے، یہی بیان کیا تھا ماتن نے متن میں، کہ اَلْقِسْمُ الْأَوَّلُ فِي الْمَنْطِقِ کہ پہلی قسم ہے، فِي بَيَانِ الْمَنْطِقِ کس کے بیان میں؟ علم منطق کے بیان میں ہے۔ پہلی قسم علم منطق کے بیان میں ہے۔ اور پھر اس کے بعد آگے مُقَدِّمَةٌ کہہ کر مقدمہ شروع کیا تھا مصنف نے۔ تو یہاں پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ مصنف جو ہے، اَلْقِسْمُ الْأَوَّلُ کو مَعْرِفَہ کیوں لائے؟ اور مُقَدِّمَةٌ کو نَكِرَہ کیوں لائے؟ سوال کیا پیدا ہوتا ہے؟ اَلْقِسْمُ الْأَوَّلُ کو مَعْرِفَہ اس پر الف لام لائے ہیں یا نہیں لائے بھئی؟ تو اس پر الف لام لائے ہیں، تو اس کو مَعْرِفَہ کیوں لائے؟ اور مُقَدِّمَةٌ کو نَكِرَہ کیوں لائے؟ یا تو دونوں کو مَعْرِفَہ لاتے، یا دونوں کو نَكِرَہ لاتے۔ اشکال سمجھ میں آیا؟ جواب سے پہلے الف لام کی قسمیں آپ کو یاد ہونی چاہئیں۔ شاید غالباً ہم نے آغاز میں بھی الف لام کی قسمیں کی تھیں بھئی۔ لیکن پھر دوبارہ سن لیجیے بھئی۔ یاد رکھیے الف لام جو ہے یہ دو قسم پر ہے، ایک الف لام اِسْمِي ہے، اور ایک الف لام حَرْفِي ہے۔ الف لام اِسْمِي، نام سے ہی پتہ چل رہا ہے وہ الف لام جو اِسْم ہے۔ الف لام حَرْفِي، نام سے ہی پتہ چل رہا ہے جیسے لَاهُورِي کا کیا معنی ہوتا ہے؟ لاہور والا۔ پَاكِسْتَانِي کا کیا معنی؟ پاکستان والا۔ پَاكِسْتَانِيٌّ یہ یا کیا ہے؟ مشدد۔ لَاهُورِيٌّ یا مشدد ہے۔ تو اسی طرح اِسْمِيٌّ، حَرْفِيٌّ، تو اِسْمِي اسم والا، حَرْفِي حرف والا، یعنی حرف کی طرف جو منسوب ہے، جو حرف ہے۔ تو الف لام دو قسم پر ہے، یا الف لام اِسْمِي ہوگا، یا الف لام حَرْفِي۔ یاد رکھیے، الف لام اِسْمِي وہ ہے جو اِسْم فَاعِل اور اِسْم مَفْعُول کے صیغوں پر داخل ہو۔ بھئی ایک ہوتا ہے فَاعِل، ایک ہے اِسْم فَاعِل۔ فَاعِل وہ ہے جس کو فِعْل رفع دے۔ ضَرَبَ زَيْدٌ، یہ زَيْدٌ کیا ہے؟ فَاعِل ہے۔ اور ایک ہے اِسْم فَاعِل، اِسْم فَاعِل وہ مخصوص وزن اور مخصوص صیغے کا نام ہے جو آپ نے گردانوں میں پڑھا۔ ضَارِبٌ، فَاتِحٌ، مَانِعٌ، مُكْرِمٌ، مُسْتَخْرِجٌ وغیرہ یہ سب کیا ہیں؟ اِسْم فَاعِل کے صیغے ہیں۔ تو فَاعِل کیا ہے؟ جس کو فِعْل یا صِفَت کا صیغہ رفع دے۔ اور اِسْم فَاعِل کیا ہے؟ وہ مخصوص صیغے کا نام ہے۔ اسی طرح ایک ہے مَفْعُول اور ایک ہے اِسْم مَفْعُول۔ مَفْعُول وہ ہے جس کو فِعْل یا صِفَت کا صیغہ نصب دے۔ ضَرَبْتُ زَيْدًا، یہ زَيْدًا کیا ہے؟ مَفْعُول ہے۔ اس کو ضَرَبْتُ نے نصب دیا۔ تو جس کو فِعْل یا صِفَت کا صیغہ نصب دے، وہ ہے مَفْعُول۔ اور ایک ہے اِسْم مَفْعُول، اِسْم مَفْعُول وہ مخصوص صیغہ ہے جو آپ نے گردانوں میں پڑھا۔ مَضْرُوبٌ، مَمْنُوعٌ، مَفْتُوحٌ، مُكْرَمٌ، مُسْتَخْرَجٌ وغیرہ بھئی۔ تو یہ کیا ہیں اِسْم مَفْعُول۔ تو یہ جو صِفَت کے دو صیغے ہیں، اِسْم فَاعِل اور اِسْم مَفْعُول، ان دو صیغوں پر جو الف لام داخل ہو، وہ الف لام اِسْمِي ہے۔ اور یہ دراصل اِسْم مَوْصُول ہوتا ہے۔ جیسے اَلضَّارِبُ، اَلضَّارِبُ، ضَارِبٌ کون سا صیغہ؟ اِسْم فَاعِل۔ تو اس پر یہ جو اس وقت الف لام داخل ہو رہا ہے، یہ الف لام اِسْمِي ہے۔ اسی طرح اَلْمَضْرُوبُ، یہ الف لام جو اس پر داخل ہو رہا ہے مَضْرُوب اِسْم مَفْعُول پر، یہ الف لام اِسْمِي ہے۔ اور یاد رکھیے یہ الف لام جو ہے اِسْم فَاعِل، اِسْم مَفْعُول کے صیغوں پر جو داخل ہوتا ہے، یہ اِسْم ہوتا ہے، یہ اِسْم مَوْصُول ہے۔ اِسْم مَوْصُول ہے، اور تو یہ الف لام بمعنی اَلَّذِي کے ہے۔ تو اَلضَّارِبُ بمعنی ہوا اَلَّذِي يَضْرِبُ۔ ضَارِبٌ کو کس معنی میں لے لو؟ فِعْل کے معنی میں۔ اَلضَّارِبُ کس معنی میں ہوا؟ اَلَّذِي يَضْرِبُ۔ اور اَلْمَضْرُوبُ کس معنی میں ہوا؟ اَلَّذِي يُضْرَبُ کے معنی میں ہوا۔ تو بات سمجھ میں آ گئی الف لام اِسْمِي کسے کہتے ہیں؟ جو کس پر داخل ہو صِفَت کے صیغوں پر۔ اور یہ خود اِسْم ہے، اور خود مَعْرِفَہ ہے کیونکہ اِسْم مَوْصُول ہے نا؟ اِسْم مَوْصُول کس کی قسم ہے؟ مَعْرِفَہ کی قسم ہے۔ تو یہ خود مَعْرِفَہ ہوتا ہے، اِسْم مَوْصُول ہے۔ جبکہ اس کے علاوہ جتنے لفظوں پر الف لام آئیں گے، وہ الف لام حَرْفِي ہے بھئی۔ اِسْم فَاعِل اور اِسْم مَفْعُول کے علاوہ صیغوں پر جو الف لام آئے گا وہ الف لام حَرْفِي ہے۔ تو اِسْم فَاعِل اور اِسْم مَفْعُول کے صیغوں کے علاوہ کسی لفظ پر جو الف لام آئے وہ کیا ہے؟ الف لام حَرْفِي ہے، الف لام حَرْفِي ہے۔ جیسے رَجُلٌ پر داخل ہوا الف لام تو کیا بن گیا اَلرَّجُلُ تو یہ کیا ہے الف لام حَرْفِي۔ تو یاد رکھیے الف لام حَرْفِي وہ ہے جس کے ذریعے کسی چیز کی طرف اشارہ کیا جائے۔ یہ تعریف ہمیشہ یاد رکھنا الف لام حَرْفِي کی۔ الف لام حَرْفِي وہ ہے جس کے ذریعے کسی چیز کی طرف اشارہ کیا جائے بھئی۔ اور یاد رکھیے یہ الف لام حَرْفِي، خود تو حَرْف ہے، لیکن جس اِسْم پر بھی یہ داخل ہوگا، اس کو مَعْرِفَہ بنا دے گا۔ جیسے رَجُلٌ نَكِرَہ تھا، اس پر الف لام لائے اَلرَّجُلُ بن گیا تو یہ کیا بن گیا؟ مَعْرِفَہ۔ عَالِمٌ، یہ کیا ہے؟ نَكِرَہ، لیکن اس پر الف لام آیا تو یہ کیا بن گیا؟ مَعْرِفَہ۔ تو الف لام اِسْمِي وہ خود مَعْرِفَہ تھا۔ وہ خود کیا تھا؟ کیونکہ اِسْم مَوْصُول ہے۔ جبکہ الف لام حَرْفِي، خود تو حَرْف ہے، لیکن جس اِسْم پر داخل ہوگا، اس کو کیا بنا دے گا؟ مَعْرِفَہ بنا دے گا۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ اور الف لام حَرْفِي کے ذریعے کیا کیا جاتا ہے؟ کسی چیز کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔ جیسے رَجُلٌ کا معنی ہے کوئی ایک آدمی، اور اَلرَّجُلُ مَعْرِفَہ ہے، تو اس کا ترجمہ کریں گے وہ آدمی۔ دیکھا؟ کسی خاص آدمی کی طرف اشارہ ہو رہا ہے، کس نے بتایا؟ الف لام نے۔ تو اس کا ترجمہ کریں گے وہ آدمی، وہ آدمی۔ جیسے آپ نے مثال پڑھی أُصُولُ الشَّاشِي میں کسی خاوند نے اپنی بیوی سے کہا، إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ فَأَنْتِ طَالِقٌ، تو إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ، اَلدَّارَ مَعْرِفَہ لایا، تو ترجمہ عموماً طلباء یہ کرتے ہیں، إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ اگر تو گھر میں داخل ہوئی۔ بھئی گھر؟ گھر تو نَكِرَہ ہے۔ اور یہاں تو کیا آ رہا ہے؟ اَلدَّارَ، کوئی خاص گھر کی طرف اشارہ ہے۔ اگر تو اس گھر میں داخل ہوئی تو تجھے طلاق۔ تو کسی مخصوص گھر کی طرف اشارہ ہے۔ تو الف لام جو حَرْفِي ہوتا ہے، اس کے ذریعے کسی چیز کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔ یہ جس لفظ پر داخل ہوتا ہے، اس کو مَعْرِفَہ بنا دیتا ہے، اور اس کی پھر چار قسمیں ہیں۔ یہ الف لام جِنْسِي ہوگا، یا اِسْتِغْرَاقِي ہوگا، یا عَهْد خَارِجِي ہوگا، یا عَهْد ذِهْنِي ہوگا۔ الف لام جِنْسِي، نام سے ہی پتہ چل رہا ہے۔ کہ وہ الف لام حَرْفِي ہے جس کے ذریعے جِنْس اور مَاهِيَّة کی طرف اشارہ کیا جائے۔ بھئی الف لام حَرْفِي کے ذریعے کیا ہوگا؟ کسی چیز کی طرف اشارہ ہوگا۔ اب اگر یہ اشارہ جِنْس اور مَاهِيَّة کی طرف ہو۔ جس سے وہ چیز بنی ہے، جِنْس اور مَاهِيَّة کی طرف اشارہ ہو، تو پھر یہ الف لام جِنْسِي۔ ایک تو جِنْس اور مَاهِيَّة ہے، جس سے کوئی چیز بنے۔ اور ایک اس چیز کے اَفْرَاد ہیں۔ کیا ہیں؟ اَفْرَاد۔ اَفْرَاد ہیں۔ مثلاً دیکھو، اِنْسَان۔ اِنْسَان کی حقیقت کیا ہے؟ حَيَوَان نَاطِق۔ تو یہ ہے انسان کی مَاهِيَّة، انسان کی جِنْس بھئی۔ اور ایک وہ جس کے جو اس کے خارج میں اَفْرَاد آپ کو چلتے پھرتے نظر آتے ہیں، مثلاً زید، عمرو، بکر، یہ اس کے اَفْرَاد ہیں۔ یہ کیا ہیں؟ اَفْرَاد۔ تو الف لام کے ذریعے اگر کسی چیز کی جِنْس اور مَاهِيَّة کی طرف اشارہ ہو، اَفْرَاد کی طرف اشارہ نہ ہو، تو پھر اس کو کہتے ہیں الف لام جِنْسِي۔ اور اگر اَفْرَاد کی طرف اشارہ ہو، تو پھر دو حال سے خالی نہیں۔ یا تو تمام اَفْرَاد کی طرف اشارہ ہوگا، یا بعض کی طرف۔ اگر تمام اَفْرَاد کی طرف اشارہ ہو، تو اس کو کہتے ہیں الف لام اِسْتِغْرَاقِي۔ اِسْتِغْرَاق کا معنی گھیر لینا۔ اس نے بھی کیا کیا ہے؟ تمام اَفْرَاد کو گھیر لیا ہے۔ اور پھر اگر بعض اَفْرَاد کی طرف اشارہ ہے، تو پھر وہ بعض خارج میں مُتَعَيَّن ہوں گے، یا مُتَعَيَّن نہیں ہوں گے۔ اگر وہ بعض اَفْرَاد خارج میں مُتَعَيَّن ہیں، تو اس کو کہتے ہیں الف لام عَهْد خَارِجِي۔ اور اگر وہ بعض اَفْرَاد خارج میں مُتَعَيَّن نہیں، تو پھر اس کو کہتے ہیں الف لام عَهْد ذِهْنِي۔ پھر سنو، دوبارہ سنو۔ الف لام دو قسم پر، یا الف لام اِسْمِي ہوگا، یا الف لام حَرْفِي۔ الف لام اِسْمِي وہ ہے جو اِسْم فَاعِل اور اِسْم مَفْعُول کے صیغوں پر آئے۔ اور یہ بمعنی اَلَّذِي کے ہوتا ہے، یہ خود ہی اِسْم مَوْصُول ہے اور مَعْرِفَہ ہے۔ دوسرا الف لام حَرْفِي ہے۔ اِسْم فَاعِل اور اِسْم مَفْعُول کے صیغوں کے علاوہ، اور جتنے بھی اِسْم ہیں، ان پر جب الف لام آئے تو وہ الف لام کیا ہوتا ہے؟ حَرْفِي۔ الف لام حَرْفِي کے ذریعے کسی چیز کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔ اور یہ لفظ جس لفظ پر داخل ہوتا ہے اس کو مَعْرِفَہ بنا دیتا ہے۔ تو اگر اشارہ، اشارہ یا تو جِنْس کی طرف ہوگا یا اَفْرَاد کی طرف۔ کس کی طرف ہوگا؟ جِنْس یا اَفْرَاد۔ جِنْس جس سے وہ چیز بنی ہے، اس کی مَاهِيَّة بھئی۔ تو اشارہ یا تو جِنْس کی طرف ہوگا یا اس چیز کے اَفْرَاد کی۔ اگر جِنْس کی طرف اشارہ ہو تو اس کو کہتے ہیں الف لام جِنْسِي۔ اگر اَفْرَاد کی طرف اشارہ ہے، پھر یا تو تمام اَفْرَاد کو اشارہ ہوگا یا بعض کو۔ اگر تمام اَفْرَاد کو اشارہ ہے تو یہ الف لام اِسْتِغْرَاقِي ہے۔ اور اگر بعض کو اشارہ ہے پھر دو حال سے خالی نہیں، یا تو بعض کی طرف جو اشارہ ہے وہ خارج میں مُتَعَيَّن ہوں گے یا مُتَعَيَّن نہیں ہوں گے۔ اگر مُتَعَيَّن ہیں، تو یہ الف لام عَهْد خَارِجِي ہے، اور اگر مُتَعَيَّن نہیں، تو یہ الف لام عَهْد ذِهْنِي ہے۔ مثالوں سے بات اور واضح ہو جائے گی۔ مثلاً میں کہتا ہوں، اَلرَّجُلُ خَيْرٌ مِنَ الْمَرْأَةِ۔ اَلرَّجُلُ خَيْرٌ مِنَ الْمَرْأَةِ۔ تو یہ رَجُلٌ پر الف لام داخل ہے۔ اور رَجُلٌ اِسْم فَاعِل یا اِسْم مَفْعُول کا صیغہ ہے؟ نہیں۔ تو معلوم ہوا یہ الف لام کون سا ہے؟ حَرْفِي ہے۔ اسی طرح اَلْمَرْأَةُ، مَرْأَة عورت کو کہتے ہیں اِمْرَأَةٌ۔ تو اس پر الف لام داخل ہے۔ اور اِمْرَأَةٌ کیا اِسْم فَاعِل یا اِسْم مَفْعُول کا صیغہ ہے؟ نہیں۔ تو معلوم ہوا یہ بھی کیا ہے الف لام حَرْفِي۔ اب ہم یہ دیکھنا چاہتے ہیں الف لام حَرْفِي تو چار قسم کا ہے، یہ کون سی قسم ہے؟ جِنْس کی طرف اشارہ ہے یا اَفْرَاد کی طرف؟ تو یاد رکھیے یہ جِنْس کی طرف اشارہ ہے۔ اور معنی یوں کریں گے، جِنْس رَجُل، جِنْس مرد، جو ہے، وہ اعلیٰ ہے، خَيْرٌ اعلیٰ ہے، افضل ہے، مِنَ الْمَرْأَةِ، جِنْس عورت سے، جِنْس عورت سے۔ اَفْرَاد نہیں۔ اَفْرَاد نہیں مراد۔ کہ مرد والے کے اَفْرَاد جو ہوتے ہیں وہ عورت سے افضل ہوتے ہیں۔ نہیں۔ آپ خود دیکھ لیں۔ اگر عورت ایمان والی ہے، اور مرد کافر ہے، تو کون افضل؟ عورت افضل ہے۔ پھر تو یہ کلام غلط ہو جائے گا۔ آپ نے تو کیا کہا؟ مرد بہتر ہے کس سے؟ عورت سے۔ تو یہاں اَفْرَاد نہیں مراد۔ بلکہ جِنْس مراد ہے۔ کہ یہ جو جِنْس رَجُل ہے، یہ والی جو جِنْس ہے، اس کو اللہ نے فضیلت دی ہے کس پر؟ عورتوں پر فضیلت دی ہے۔ آپ بھی دیکھتے ہیں دنیا کا نظام کس کے ہاتھوں میں ہے؟ مرد کے ہاتھ میں ہے۔ بہادر کون ہے؟ مرد ہے۔ طاقتور کون ہے؟ مرد ہے۔ تو اس جِنْس کو اللہ نے فضیلت نصیب فرمائی، اس کو افضل بنایا ہے۔ تو معلوم ہوا اَلرَّجُلُ، اور اَلْمَرْأَةُ جو اس کلام میں آئے، اَلرَّجُلُ خَيْرٌ مِنَ الْمَرْأَةِ، یہ الف لام کون سے ہیں؟ الف لام جِنْسِي ہیں۔ الف لام جِنْسِي ہیں۔ جِنْس رَجُل بہتر ہے کس سے؟ جِنْس اِمْرَأَة سے۔ اور اگر الف لام کے ذریعے اشارہ ہو اَفْرَاد کی طرف، تو پھر تمام اَفْرَاد مراد ہوں گے یا بعض۔ اگر تمام اَفْرَاد ہوں، تو اس کی بہترین مثال ہے۔ وَالْعَصْرِ إِنَّ الْإِنْسَانَ لَفِي خُسْرٍ۔ إِنَّ الْإِنْسَانَ، تو اَلْإِنْسَانَ پر کیا آیا؟ الف لام۔ تو یہ الف لام اِسْتِغْرَاقِي ہے۔ وَالْعَصْرِ قسم ہے زمانے کی۔ إِنَّ الْإِنْسَانَ لَفِي خُسْرٍ، یقیناً تمام انسان خسارے میں ہیں۔ اگر کوئی آپ سے کہے بھئی یہاں تو تمام یا کُلّ کا لفظ نہیں آیا، تو آپ کیا کہیں گے یہ جو الف لام ہے، یہ کون سا ہے؟ اِسْتِغْرَاقِي ہے، اور اس کا ترجمہ تمام یا کُلّ کے ساتھ کرتے ہیں۔ اَلْإِنْسَانَ سے کیا مراد ہوئے؟ تمام انسان۔ تمام انسان خسارے میں ہیں سوائے ان کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے۔ اور پھر، اگر تمام اَفْرَاد کی طرف اشارہ نہیں، بعض اَفْرَاد کی طرف اشارہ ہے۔ تو پھر وہ خارج میں مُتَعَيَّن ہوں گے یا مُتَعَيَّن نہیں ہوں گے۔ خارج میں مُتَعَيَّن ہوں، مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں، کہ جَاءَنِي رَجُلٌ أَمْسِ، کل میرے پاس کوئی ایک آدمی آیا تھا۔ آپ چونکہ اس کو نہیں جانتے، اس لیے میں رَجُلٌ نَكِرَہ لایا۔ جَاءَنِي رَجُلٌ، میرے پاس کوئی ایک آدمی آیا تھا أَمْسِ کل رات۔ اب میں دوبارہ اسی آدمی کا ذکر کرنا چاہتا ہوں اور آپ کو کہنا چاہتا ہوں، تو میں نے اس آدمی کا اکرام کیا، تو یاد رکھیے اب میں الف لام لاؤں گا۔ اور میں یوں کہوں گا، فَأَكْرَمْتُ الرَّجُلَ، الف لام لے آیا۔ ترجمہ کیا کریں گے؟ پھر میں نے اکرام کیا۔ اَلرَّجُلَ، اس آدمی کا۔ دیکھو، آپ سمجھ گئے یا نہیں سمجھ گئے کون سے آدمی کی بات ہو رہی ہے؟ دیکھا؟ ایک دفعہ جب چیز ذکر ہو گئی، تو اب الف لام کے ذریعے اسی کی طرف اشارہ کر دیا۔ اور یہ جو خارج میں اَفْرَاد ہیں، ایک بھی ہو سکتے ہیں، دو بھی، یا زیادہ بھی۔ اگر ایک تھا تو اَلرَّجُلُ کہیں گے، وہ ایک آدمی۔ اَلرَّجُلَانِ، وہ دو آدمی۔ اَلرِّجَالُ، وہ سب آدمی۔ تو دیکھو، ایک بھی ہو سکتے ہیں، دو بھی، یا زیادہ بھی، جن کی طرف الف لام کے ذریعے کیا کیا جا رہا ہے؟ اشارہ، اور وہ خارج میں مُتَعَيَّن ہیں۔ یا مثلاً آپ سے میں کہتا ہوں، اَلرِّجَالُ مُجْتَهِدُونَ، وہ آدمی جو ہیں محنتی ہیں۔ اس میں ضروری ہے آپ کو پہلے سے پتہ ہو۔ اگر آپ کو پہلے سے پتہ نہیں ہوگا، آپ فوراً کہیں گے، بھئی وہ آدمی کون سے آدمی، مجھے تو نہیں پتہ کس کی آپ بات کر رہے ہیں۔ تو یہ اَلرِّجَالُ وہیں پر آپ لائیں گے جب سننے والے کو پہلے پتہ ہو۔ جیسے ابھی میں نے کہا تھا، جَاءَنِي رَجُلٌ، فَأَكْرَمْتُ الرَّجُلَ، تو میں نے اس آدمی کا اکرام کیا۔ آپ سمجھ گئے یا نہیں سمجھ گئے؟ دیکھا؟ کیونکہ ایک دفعہ رَجُل کا ذکر پہلے ہو گیا تھا۔ جب ایک دفعہ چیز کا ذکر ہو جائے، تو وہ کیا ہو جاتی ہے؟ مُتَعَيَّن۔ اب اسی کی طرف میں نے الف لام کے ذریعے اشارہ کیا کہ میں نے اس آدمی کا اکرام کیا، آپ سمجھ گئے، وہ آدمی جو کل رات آیا تھا، اس کی بات ہو رہی ہے۔ اور چوتھی الف لام کی، کہ الف لام جو اشارہ ہو بعض اَفْرَاد کی طرف اور وہ خارج میں مُتَعَيَّن نہ ہو۔ جیسے حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹوں سے فرمایا تھا، جب وہ ضد کر رہے تھے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کو ہم اپنے ساتھ جنگل میں لے جاتے ہیں کھلانے کے لیے۔ تو حضرت یعقوب علیہ السلام فرمانے لگے، إِنِّي أَخَافُ أَنْ يَأْكُلَهُ الذِّئْبُ۔ مجھے خوف ہے، أَنْ يَأْكُلَهُ کہ ان کو کھا لے گا، اَلذِّئْبُ بھیڑیا۔ اَلذِّئْبُ دیکھو ذِئْبٌ بھیڑیے کو کہتے ہیں اور یہاں اس پر الف لام داخل ہے۔ لیکن یہ الف لام نہ جِنْسِي ہے، نہ اِسْتِغْرَاقِي ہے، نہ عَهْد خَارِجِي ہے، بلکہ یہ عَهْد ذِهْنِي ہے۔ دیکھیے آپ خود دیکھ لیجیے۔ کیا الف لام اگر ہم جِنْسِي مراد لیں، تو ترجمہ ہوگا۔ مجھے خوف ہے کہ اس کو بھیڑیے کی جِنْس کھا لے گی۔ کیا کھا لے گی؟ یعنی مَاهِيَّة جس چیز سے بھیڑیا بنا ہے۔ بھئی یاد رکھیے بھیڑیے کی جِنْس نہیں کسی چیز کو کھاتی، اس کے اَفْرَاد جو خارج میں موجود ہیں، وہ کیا ہیں چیزوں کو کھا جاتے ہیں۔ تو الف لام جِنْسِي مراد نہیں ہو سکتا۔ اچھا، پھر کیا الف لام اِسْتِغْرَاقِي مراد لیں، تو معنی یہ ہوگا۔ إِنِّي أَخَافُ، مجھے خوف ہے أَنْ يَأْكُلَهُ الذِّئْبُ، تمام دنیا کے بھیڑیے جو ہیں، وہ مل کر اس کو ان کو کھا جائیں گے۔ اور یہ تو ممکن ہی نہیں ہے کہ تمام دنیا کے بھیڑیے وہاں جمع ہو جائیں۔ معلوم ہوا الف لام اِسْتِغْرَاقِي بھی نہیں۔ اور یہ معنی بھی نہیں کر سکتے کہ کسی خاص بھیڑیے کی طرف اشارہ تھا، اور یوں فرما رہے ہیں کہ مجھے خوف ہے وہ بھیڑیا ان کو کھا جائے گا۔ تو کیونکہ وہاں کوئی خاص مُتَعَيَّن بھیڑیا بھی نہیں تھا۔ معلوم ہوا الف لام عَهْد خَارِجِي بھی نہیں۔ تو پھر یہ کیا ہے؟ الف لام عَهْد ذِهْنِي ہے۔ یاد رکھیے الف لام عَهْد ذِهْنِي، جس لفظ پر داخل ہوتا ہے، لفظوں کے اعتبار سے وہ مَعْرِفَہ بن جاتا ہے۔ یعنی مُبْتَدَأ بن سکتا ہے۔ مُبْتَدَأ میں اصل کیا ہے؟ مَعْرِفَہ۔ تو لفظوں کے اعتبار سے وہ مَعْرِفَہ بن جائے گا، لیکن معنی کے اعتبار سے وہ نَكِرَہ ہی رہتا ہے۔ لہٰذا ذِئْبٌ کا کیا معنی تھا؟ کوئی بھیڑیا، کوئی ایک بھیڑیا۔ اَلذِّئْبُ کا بھی وہی معنی ہے، جبکہ الف لام کون سا ہو عَهْد ذِهْنِي۔ تو اس کا معنی بھی کوئی ایک بھیڑیا، اسی لیے ترجمے میں بھی اسی کے مطابق کیا۔ إِنِّي أَخَافُ أَنْ يَأْكُلَهُ الذِّئْبُ، مجھے خوف ہے کہ ان کو کوئی بھیڑیا کھا جائے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو اس الف لام عَهْد ذِهْنِي کے ذریعے بھی اشارہ ہے، لیکن کس کی طرف؟ ذہن میں بھیڑیے کا کوئی ایک جِنْس کا فرد تصور کر لیا، اور الف لام کے ذریعے اس کی طرف اشارہ کر دیا، کہ کوئی ایک بھیڑیا اس کو کھا جائے گا۔ یعنی خارج میں وہ مُتَعَيَّن نہیں ہے، بلکہ کہاں مُتَعَيَّن ہے؟ ذہن میں، یعنی ذہن میں کوئی ایک فرد کا تصور کر کے اس کی طرف اشارہ کر دیا۔ اسی لیے اس کو عَهْد ذِهْنِي کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ عَهْد ذِهْنِي۔ عَهْد کا معنی مُتَعَيَّن ہونا۔ مَعْهُود وہ جو مُتَعَيَّن ہے۔ مَعْهُود کسے کہیں گے؟ جو مُتَعَيَّن۔ اِسْم مَفْعُول کا صیغہ ہے نا؟ مُتَعَيَّن کیا ہوا۔ عَهْد کا کیا معنی؟ مُتَعَيَّن کرنا۔ اور مَعْهُود جس کو مُتَعَيَّن کر دیا گیا۔ تو الف لام عَهْد خَارِجِي میں، الف لام کیا ہوتا ہے؟ کسی مُتَعَيَّن کی طرف اشارہ ہوتا ہے۔ جَاءَنِي رَجُلٌ فَأَكْرَمْتُ الرَّجُلَ، میرے پاس کوئی ایک آدمی آیا تھا تو میں نے اس آدمی کا اکرام کیا۔ تو الف لام کے ذریعے کیا ہوا؟ اشارہ۔ کس کی طرف؟ ایک شخص کی طرف، شخص کی طرف جو مُتَعَيَّن ہے یعنی مَعْهُود ہے۔ کیا ہے؟ مَعْهُود ہے۔ تو مَعْهُود کا کیا معنی؟ مُتَعَيَّن۔ عَهْد کا کیا معنی؟ مُتَعَيَّن ہونا، مُتَعَيَّن کرنا۔ اب یاد رکھیے، جیسے غَائِب کی ضمیر کے لیے ضروری ہے کہ اس کا مَرْجِع پہلے گزرا ہو۔ ضمیر کے لیے غَائِب کی ضمیر کے لیے ہمیشہ کیا چاہیے؟ مَرْجِع۔ ضمیریں آپ جانتے ہیں تین قسم کی ہیں، یا تو مُتَكَلِّم کی ضمیر ہوگی، یا مُخَاطَب جس سے بات کی جا رہی ہے وہ ضمیر ہوگی، یا غَائِب کی ضمیر ہوگی۔ ایک ہے مُتَكَلِّم کی ضمیر أَنَا اور نَحْنُ وغیرہ۔ ایک ہے مُخَاطَب کی ضمیر أَنْتَ، أَنْتُمَا وغیرہ۔ اور ایک ہے غَائِب کی ضمیر هُوَ، هُمَا، هُمْ وغیرہ۔ یاد رکھیے مَرْجِع صرف غَائِب کی ضمیر کا ہوتا ہے۔ مُتَكَلِّم اور مُخَاطَب کی ضمیر کا مَرْجِع نہیں ہوتا۔ مُتَكَلِّم، أَنَا، أَنَا سے کون مراد ہے؟ بھئی أَنَا، مُتَكَلِّم بات کرنے والا، جو بول رہا ہے وہ اس سے مراد ہے۔ اب مثلاً میں أَنَا کہوں، آپ کو کوئی شبہ آیا کہ أَنَا سے کون مراد ہے؟ نہیں، آپ کو پتہ ہے یہ جو بول رہا ہے، بات کر رہا ہے، أَنَا سے یہ خود ہی مراد ہے۔ اور جب میں کہتا ہوں أَنْتَ یا أَنْتُمَا یا أَنْتُمْ۔ تو اس میں بھی کسی قسم کا شبہ نہیں کیونکہ میرے سامنے جو بیٹھے ہوئے ہیں، وہ سب اس سے مراد ہیں بھئی۔ تو نہ مُتَكَلِّم کی ضمیر میں کوئی شبہ، نہ مُخَاطَب کی ضمیر میں شبہ۔ مُتَكَلِّم بولنے والا ہوتا ہے، اور مُخَاطَب جو جِنْس جو سن رہے ہیں جن سے وہ خطاب کر رہا ہے۔ ان دونوں میں کوئی شبہ نہیں۔ لہٰذا ان کا مَرْجِع نہیں ہوتا۔ تو کبھی بھی آپ مُخَاطَب یا مُتَكَلِّم کی ضمیر کا مَرْجِع تلاش نہ کریں۔ اگر مَرْجِع تلاش کر رہے ہیں، سننے والا سمجھے گا معلوم ہوا اس کو نَحْو کا کچھ پتہ ہی نہیں ہے بھئی۔ مَرْجِع صرف غَائِب کی ضمیر کا ہوتا ہے۔ مثلاً میں کہتا ہوں هُوَ، تو آپ فوراً پوچھیں گے بھئی هُوَ سے کا معنی ہے وہ، کون مراد ہے، زید مراد ہے، عمرو مراد ہے، بکر مراد ہے، خالد مراد ہے، کیا چیز مراد ہے؟ تو اس غَائِب کی ضمیر کے لیے ہمیشہ کیا چاہیے؟ مَرْجِع۔ مُتَكَلِّم اور مُخَاطَب ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہیں، وہاں کسی قسم کا شبہ نہیں۔ لیکن هُوَ میں شبہ ہے کہ کون مراد ہے؟ تو اس کے لیے مَرْجِع چاہیے۔ تو غَائِب کی ضمیر کے لیے ہمیشہ مَرْجِع چاہیے۔ پھر اس کے بعد ضمیر لائی جاتی ہے، اور سننے والا اس کو سمجھ جاتا ہے۔ مثلاً میں کہتا ہوں جَاءَنِي رَجُلٌ أَمْسِ، کل رات میرے پاس ایک آدمی آیا تھا۔ فَأَكْرَمْتُهُ۔ اب آپ سمجھ گئے یا نہیں هَا ضمیر سے کون مراد ہے؟ ہاں دیکھا پہلے رَجُلٌ آیا، اب هُوَ، أَكْرَمْتُهُ کی هَا ضمیر معلوم ہوا اسی کو راجع ہے۔ میں نے اس کا اکرام کیا۔ تو جیسے غَائِب کی ضمیر کے لیے ضروری ہے کہ پہلے اس کا مَرْجِع گزرا ہو۔ اسی طرح الف لام عَهْد خَارِجِي جو ہے، اس میں بھی ضروری ہے کہ پہلے کوئی کسی چیز کا ذکر گزرا ہو، پھر الف لام کے ذریعے اس کی طرف اشارہ کیا جائے گا۔ جیسے جَاءَنِي رَجُلٌ أَمْسِ، کل میرے پاس کوئی ایک آدمی آیا تھا۔ دیکھو رَجُل کا ذکر ایک دفعہ ہو گیا۔ اب آگے میں کہتا ہوں، فَأَكْرَمْتُ الرَّجُلَ، تو میں نے اس آدمی کا اکرام کیا۔ تو یہ کون سا الف لام ہے؟ الف لام عَهْد خَارِجِي۔ تو الف لام عَهْد خَارِجِي کے ذریعے کیا ہوتا ہے؟ بعض اَفْرَاد کی طرف اشارہ ہوتا ہے۔ تو ضروری ہے کہ ان بعض کا پہلے ذکر ہوا ہو۔ ان بعض کا پہلے، تو جیسے غَائِب کی ضمیر کے لیے پہلے مَرْجِع کا ہونا ضروری، اسی طرح الف لام عَهْد خَارِجِي کے لیے بھی ضروری کہ جس چیز کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہے، اس کا پہلے ذکر ہو چکا ہو۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ اب آئیے کتاب پر بھئی۔ اشکال۔ اشکال میں نے آسان لفظوں میں یہ کیا تھا، کہ اَلْقِسْمُ الْأَوَّلُ کو مَعْرِفَہ کیوں لائے؟ اور مُقَدِّمَةٌ کو نَكِرَہ کیوں لائے؟ یا تو دونوں کو کیا کرتے؟ مَعْرِفَہ لاتے۔ یا دونوں کو نَكِرَہ لاتے۔ اب سنو بھئی، اب آپ کو پوری بات سمجھ میں آ گئی، اب سنو اعتراض یہاں کیا ہوتا ہے؟ اعتراض یہ ہوتا ہے کہ اَلْقِسْمُ الْأَوَّلُ کو مَعْرِفَہ کیوں لائے؟ اس پر الف لام عَهْد خَارِجِي ہے۔ کیا ہے؟ الف لام عَهْد خَارِجِي ہے۔ اور الف لام عَهْد خَارِجِي کے لیے کیا ضروری؟ ایک چیز کا پہلے ذکر ہوا ہو، پھر اس الف لام کے ذریعے اس کی طرف کیا کیا جائے؟ اشارہ۔ اور پیچھے تو کہیں قسم اول یا قسم ثانی کا ذکر ہوا ہی نہیں، تو پھر اَلْقِسْمُ الْأَوَّلُ کا ذرا معنی کرو۔ اَلرَّجُلُ کا کیا معنی کیا تھا؟ وہ آدمی۔ اب ذرا ترجمہ کرو اَلْقِسْمُ الْأَوَّلُ فِي الْمَنْطِقِ، وہ قسم اول علم منطق کے بیان میں ہے۔ وہ والی قسم اول علم منطق کے بیان میں ہے۔ وہ وہ قسم اول، دیکھا اشارہ ہو رہا ہے یا نہیں ہو رہا الف لام کے ذریعے؟ بھئی کون سی قسم اول، پیچھے تو ذکر ہی نہیں ہوا۔ تو اشکال سمجھ میں آ گیا؟ اشکال یہ ہے کہ اَلْقِسْمُ الْأَوَّلُ پر الف لام عَهْد خَارِجِي ہے۔ اور ماقبل میں قسم اول کا ذکر ہی نہیں، یہ قسم اول وہ مَعْهُود ہی نہیں، مقرر ہی نہیں، تو پھر اس کی طرف الف لام کے ذریعے اشارہ کیسے صحیح ہوا؟ لہٰذا اس کو بھی کیا لانا چاہیے تھا؟ نَكِرَہ لانا چاہیے تھا، جیسے مُقَدِّمَةٌ مصنف کیا لائے؟ نَكِرَہ لائے۔ ماقبل میں چونکہ کہیں مقدمہ کا ذکر نہیں ہوا تھا، کہیں پر بھی مقدمہ کا ذکر نہیں ہوا۔ جب مقدمہ ذکر نہیں، تو الف لام کے ذریعے اس کی طرف اشارہ بھی نہیں ہو سکتا تھا، اس لیے الف لام نہیں لائے، اَلْمُقَدِّمَةُ نہیں کہا، ورنہ تو ترجمہ ہوتا وہ مقدمہ۔ بھئی مقدمہ تو پیچھے ذکر ہی نہیں ہوا۔ تو چونکہ وہاں مقدمہ پیچھے ذکر نہیں تھا، اس لیے اس کو مَعْرِفَہ بھی نہیں لائے، بلکہ کیا لائے؟ نَكِرَہ لائے۔ اشکال سمجھ میں آ گیا؟ تو شارح آپ کو جواب دیں گے کہ بھئی اَلْقِسْمُ الْأَوَّلُ کا ذکر پہلے گزر چکا ہے۔ آپ نے شاید غور نہیں کیا۔ پیچھے آیا تھا وَبَعْدُ فَهَذَا غَايَةُ تَهْذِيبِ الْكَلَامِ فِي تَحْرِيرِ الْمَنْطِقِ وَالْكَلَامِ۔ یہ انتہا درجے کا مہذب کلام ہے، علم منطق اور علم کلام کے بیان میں۔ کس کے بیان میں؟ علم منطق اور علم کلام کے بیان میں۔ تو جب مصنف نے آپ کو بتا دیا تھا کہ میری اس کتاب میں کس چیز کا بیان ہوگا؟ ایک علم منطق کا اور ایک علم کلام کا۔ تو صراحتاً، صراحتاً کا معنی ہوتا ہے صاف لفظوں میں۔ مصنف اگر یوں فرماتے میری اس کتاب میں دو قسمیں آئیں گی، تو آپ کہتے مصنف نے صراحتاً دونوں قسموں کو ذکر کر دیا، صاف لفظوں میں۔ واضح لفظوں میں ایک بات کریں۔ اس کو کہتے ہیں صراحت کرنا۔ مثلاً میں کہتا ہوں زید لمبے قد والا ہے۔ دیکھا میں نے صراحتاً، صاف لفظوں میں کہہ دیا کہ زید کیا ہے؟ لمبے قد والا ہے۔ اور ایک ہے میں دوسرے رنگ میں کہتا ہوں، زید لمبی قمیص والا ہے۔ اب بھی میرا ارادہ وہی ہے کیا کہ زید لمبے قد والا ہے۔ لیکن اب میں نے صراحتاً نہیں، صاف لفظوں میں نہیں کہا کہ زید لمبے قد والا ہے، بات کو ذرا گھما کر کہا، کہ زید لمبی قمیص والا ہے، جب لمبی قمیص ہے تو معلوم ہوا اس کا قد بھی لمبا ہے۔ تو ایک ہوتا ہے کسی بات کو صاف لفظوں میں ذکر کرنا اس کو کہتے ہیں صراحت۔ تو یہاں پر بھی صراحتاً کیسے مصنف کو ذکر کرنا چاہیے تھا کہ میری اس کتاب میں دو قسمیں ہیں۔ تو پھر ہم کہتے مصنف نے صراحتاً ذکر کر دیا، صاف لفظوں میں خود کہہ دیا کہ دو قسمیں ہیں۔ لیکن مصنف نے یہاں صراحتاً تو ذکر نہیں کیا، لیکن جب کہہ دیا ہے میری یہ کتاب علم منطق اور علم کلام کے بیان میں ہے، تو اسی سے یہ اشارتاً اور ضمناً یہ بات بھی پتہ چل گئی کہ کتنی قسمیں ہوں گی؟ دو قسمیں ہوں گی۔ تو صراحتاً تو ذکر نہیں، لیکن ضمناً ذکر ہو گیا۔ ضمناً ذکر ہو گیا۔ تو شارح آپ کو جواب دیں گے کہ بھئی اَلْقِسْمُ الْأَوَّلُ کا ذکر پہلے گزر چکا ہے۔ آپ نے شاید غور نہیں کیا۔ پیچھے آیا تھا وَبَعْدُ فَهَذَا غَايَةُ تَهْذِيبِ الْكَلَامِ فِي تَحْرِيرِ الْمَنْطِقِ وَالْكَلَامِ۔ یہ انتہا درجے کا مہذب کلام ہے، علم منطق اور علم کلام کے بیان میں۔ تو جب مصنف نے آپ کو بتا دیا تھا کہ میری اس کتاب میں کس چیز کا بیان ہوگا؟ ایک علم منطق کا اور ایک علم کلام کا۔ تو صراحتاً تو ذکر نہیں، لیکن ضمناً ذکر ہو گیا۔ جب صراحتاً ذکر نہیں تو الف لام کے ذریعے اشارہ کیسے صحیح ہوا؟ لہٰذا اس کو بھی نَكِرَہ لانا چاہیے تھا۔ جیسے مُقَدِّمَةٌ مصنف نَكِرَہ لائے۔ ماقبل میں چونکہ کہیں مقدمہ کا ذکر نہیں ہوا تھا، جب مقدمہ ذکر نہیں، تو الف لام کے ذریعے اس کی طرف اشارہ بھی نہیں ہو سکتا تھا، اس لیے الف لام نہیں لائے۔ تو شارح جواب دیں گے کہ اَلْقِسْمُ الْأَوَّلُ کا ذکر پہلے گزر چکا ہے۔ وَبَعْدُ فَهَذَا غَايَةُ تَهْذِيبِ الْكَلَامِ فِي تَحْرِيرِ الْمَنْطِقِ وَالْكَلَامِ۔ یہ انتہا درجے کا مہذب کلام ہے، علم منطق اور علم کلام کے بیان میں۔ تو جب مصنف نے آپ کو بتا دیا تھا کہ میری اس کتاب میں کس چیز کا بیان ہوگا؟ ایک علم منطق کا اور ایک علم کلام کا۔ تو اسی سے یہ اشارتاً اور ضمناً یہ بات بھی پتہ چل گئی کہ کتنی قسمیں ہوں گی؟ دو قسمیں ہوں گی۔ تو صراحتاً تو ذکر نہیں، لیکن ضمناً ذکر ہو گیا۔ یہ انتہا درجے کا مہذب کلام ہے، علم منطق اور علم کلام کے بیان میں۔ تو جب شارح نے بتا دیا کہ میری اس کتاب میں دو چیزوں کا بیان ہوگا، ایک علم منطق کا اور ایک علم کلام کا۔ تو صراحتاً تو ذکر نہیں، لیکن ضمناً ذکر ہو گیا۔ ضمناً ذکر ہو گیا۔ تو جب ضمناً ذکر ہو گیا تو یہ مَعْهُود ہو گیا، مُتَعَيَّن ہو گیا۔ اب اسی کی طرف الف لام کے ذریعے اشارہ کر دیا اَلْقِسْمُ الْأَوَّلُ۔ تو صراحتاً تو ذکر نہیں، لیکن ضمناً ذکر ہو گیا۔ جب ضمناً ذکر ہو گیا تو یہ مَعْهُود ہو گیا، مُتَعَيَّن ہو گیا۔ اب اسی کی طرف الف لام کے ذریعے اشارہ کر دیا اَلْقِسْمُ الْأَوَّلُ۔ تو صراحتاً ذکر نہیں، لیکن ضمناً ذکر ہو گیا۔ یہ انتہا درجے کا مہذب کلام ہے، علم منطق اور علم کلام کے بیان میں۔ تو جب مصنف نے آپ کو بتا دیا تھا کہ میری اس کتاب میں کس چیز کا بیان ہوگا؟ ایک علم منطق کا اور ایک علم کلام کا۔ تو اسی سے یہ اشارتاً اور ضمناً یہ بات بھی پتہ چل گئی کہ کتنی قسمیں ہوں گی؟ دو قسمیں ہوں گی۔ تو صراحتاً تو ذکر نہیں، لیکن ضمناً ذکر ہو گیا۔ ضمناً ذکر ہو گیا۔ ضمنن تو یہ بات پتہ چل گئی، اسی کے اندر، ضمن اسی کے اندر اسے ہمیں یہ بات بھی پتہ چل گئی ۔ اسی کے ضمن میں، اسی کے اندر یہ بات آگئی کہ میری اس کتاب میں کتنی قسمیں ہوں گی؟ دو قسمیں ہوں گی۔ تو پیچھے مصنف نے صراحتا ذکر کیا یا ضمنا یہ بات معلوم ہو گئی کہ یہ دو قسمیں ہوں گی؟ ضمنا معلوم کس سے؟ کہ میری اس کتاب میں علم منطق اور علم کلام کا بیان ہے بھئی۔ تو دیکھیے یہی جواب دے رہے ہیں، قَوْلُهُ الْقِسْمُ الْأَوَّلُ مصنف کا قول اَلْقِسْمُ الْأَوَّلُ اب جواب دینے لگے ہیں۔ کہتے ہیں لَمَّا عُلِمَ ضِمْناً جب یہ بات معلوم ہو گئی تھی ضمنی طور پر فِي قَوْلِهِ مصنف کے اس قول میں فِي تَحْرِيرِ الْمَنْطِقِ وَالْكَلَامِ مصنف کا جو قول گزرا تھا فِي تَحْرِيرِ الْمَنْطِقِ وَالْكَلَامِ اس سے یہ بات جب ضمنی طور پر معلوم ہو گئی تھی کہ أَنَّ كِتَابَهُ عَلَى قِسْمَيْنِ کہ مصنف کی یہ کتاب جو ہے یہ دو قسموں پر مشتمل ہے، کس پر ہے؟ دو قسموں تو یہاں سے ضمنا یہ بات معلوم ہو گئی تھی، تو لَمْ يَحْتَجْ إِلَى التَّصْرِيحِ بِهَذَا یا لَمْ يَحْتَجْ، اِحْتَاجَ يَحْتَاجُ کے معنی محتاج ہونا۔ تو لَمْ يَحْتَجْ، مصنف محتاج نہیں ہوئے إِلَى التَّصْرِيحِ بِهَذَا کہ وہ اس کی تصریح کریں، کیا کریں؟ اس کی تصریح کریں جب ضمنا آپ کو پتہ چل گیا کہ میری کتاب میں کتنی قسمیں ہیں؟ دو تو اب مصنف کو ضرورت ہی نہیں پڑی کہ وہ اب صاف لفظوں میں کیا کہتے کہ میری کتاب میں دو قسمیں ہیں۔ جب وہاں سے ضمنا معلوم ہو گیا، تو آگے انہوں نے ذکر کیا بھی نہیں، لیکن چونکہ ذکر معلوم ہو چکا تھا تو اَلْقِسْمُ الْأَوَّلُ کے ذریعے اسی کی طرف اشارہ کر دیا کہ وہ قسم اول جو کہاں سے معلوم ہوئی آپ کو؟ میری اس فِي تَحْرِيرِ الْمَنْطِقِ وَالْكَلَامِ کی عبارت سے آپ کو معلوم ہو گئی۔ دیکھیے دوبارہ ترجمہ، کہتے ہیں لَمَّا عُلِمَ ضِمْناً فِي قَوْلِهِ فِي تَحْرِيرِ الْمَنْطِقِ وَالْكَلَامِ أَنَّ كِتَابَهُ عَلَى قِسْمَيْنِ جب یہ بات ضمنی طور پر معلوم ہو گئی تھی مصنف کے اس قول میں فِي تَحْرِيرِ الْمَنْطِقِ وَالْكَلَامِ، یہ معلوم ہو گئی تھی یہ بات کہ أَنَّ كِتَابَهُ عَلَى قِسْمَيْنِ کہ مصنف کی یہ کتاب جو ہے یہ دو قسموں پر مشتمل ہے، تو لَمْ يَحْتَجْ إِلَى التَّصْرِيحِ بِهَذَا تو مصنف محتاج نہیں ہوئے، مصنف کو ضرورت نہیں پڑی کہ وہ اس بات کی تصریح کرتے کہ میری کتاب دو قسموں پر مشتمل ہے۔ فَصَحَّ تَعْرِيفُ الْقِسْمِ الْأَوَّلِ بِلَامِ الْعَهْدِ پس صحیح ہوا، کیا صحیح ہوا؟ تَعْرِيفُ الْقِسْمِ الْأَوَّلِ قسم اول کو معرفہ لانا صحیح ہوا کیا؟ قسم اول کو معرفہ لانا بِلَامِ الْعَهْدِ کس کے ذریعے؟ لام عہدی کے ذریعے یعنی عہد خارجی کے ساتھ اس کو معرفہ لانا صحیح ہوا لِكَوْنِهِ مَعْهُوداً ضِمْناً اس لیے کیونکہ وہ متعین تھا، ضمنی طور پر، قسم اول کیا ہو چکی تھی؟ جب ایک دفعہ ایک چیز آ گئی تو متعین ہو گئی یا نہیں ہو گئی؟ جَاءَنِي رَجُلٌ فَأَكْرَمْتُ الرَّجُلَ میرے پاس ایک آدمی کل رات آیا تھا تو میں نے اس آدمی کا اکرام کیا، تو ایک آدمی کا ذکر پیچھے میں نے کیا صراحتا، جب صراحتا ذکر کیا تو وہ کیا ہو گیا؟ متعین، تو اب الف لام کے ذریعے اس کی طرف اشارہ کرنا صحیح۔ یہاں پر بھی اسی طرح ہے، فِي تَحْرِيرِ الْمَنْطِقِ وَالْكَلَامِ اگرچہ صراحتا تو دو قسمیں ذکر نہیں کیں، لیکن ضمنا دو قسموں کا ذکر آ گیا یا نہیں؟ جب آ گیا تو متعین ہو گئیں یا نہیں ہو گئیں؟ جب متعین اور معہود ہو گئیں، تو ان کی طرف الف لام کے ذریعے اشارہ کرنا صحیح ہوا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے فَصَحَّ تَعْرِيفُ الْقِسْمِ الْأَوَّلِ بِلَامِ الْعَهْدِ لِكَوْنِهِ مَعْهُوداً ضِمْناً تو صحیح ہوا قسم اول کو معرفہ لانا لام عہد خارجی کے ذریعے لِكَوْنِهِ مَعْهُوداً ضِمْناً اس لیے کیونکہ وہ قسم اول معہود ہو چکی ہے متعین ہو چکی ہے، ضمنا، ضمنی طور پر، کیونکہ ایک دفعہ ضمنا اس کا ذکر آ گیا۔ وَهَذَا بِخِلَافِ الْمُقَدِّمَةِ اور یہ جو قسم اول ہے یہ مقدمہ کے برخلاف ہے، یعنی مقدمہ میں ایسا نہیں، یہ تو ضمنا متعین ہو چکی، لیکن مقدمہ تو کہیں بھی پیچھے ذکر نہیں تو وہ متعین نہیں، جب متعین نہیں تو اس پر الف لام بھی نہیں لائے کیونکہ اگر الف لام لاتے پھر مسئلہ بننا تھا کہ وہ مقدمہ بھئی پیچھے تو کہیں ذکر ہی نہیں کون سا مقدمہ؟ اس لیے چونکہ وہ مقدمہ متعین نہیں پہلے ذکر نہیں ہوا تو اس پر الف لام بھی نہیں لائے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے وَهَذَا بِخِلَافِ الْمُقَدِّمَةِ اور یہ جو قسم اول ہے یہ مقدمہ کے برخلاف ہے، یعنی اس میں ایسا نہیں فَإِنَّهَا لَمْ يُعْلَمْ وُجُودُهَا سَابِقاً پس وہ جو مقدمہ ہے لَمْ يُعْلَمْ وُجُودُهَا اس کا وجود معلوم نہیں ہے سَابِقاً ماقبل میں، پہلے سے اس کا ذکر معلوم نہیں پہلے کہیں ذکر نہیں آیا، فَلَمْ تَكُنْ مَعْهُودَةً تو وہ متعین بھی نہیں فَلِذَا نَكَّرَهَا اسی لیے اس کو مصنف نے، مصنف نکرہ لائے وَقَالَ مُقَدِّمَةٌ اور کیا کہا مُقَدِّمَةٌ بغیر الف لام کے کہا۔ اچھا بھئی آگے دیکھیے بھئی، قَوْلُهُ فِي الْمَنْطِقِ مصنف کا قول فِي الْمَنْطِقِ فَإِنْ قِيلَ لَيْسَ الْقِسْمُ الْأَوَّلُ إِلَّا الْمَسَائِلَ الْمَنْطِقِيَّةَ فَمَا تَوْجِيهُ الظَّرْفِيَّةِ بھئی پہلے متن میں آ جائیے۔ اَلْقِسْمُ الْأَوَّلُ فِي الْمَنْطِقِ اچھا بھئی اَلْقِسْمُ الْأَوَّلُ اس میں کیا بیان ہوگا؟ علم منطق تو وہی تو قسم اول خود اسی منطق ہی کا نام ہے۔ قسم اول میں کیا بیان ہوگا؟ سارے منطق کے علم بیان ہوگا تو قسم اول خود ہی کیا ہے؟ منطق اور آگے آ رہا ہے فِي الْمَنْطِقِ تو قسم اول کی جگہ اٹھا کر رکھ دو اَلْمَنْطِقُ، کیونکہ قسم اول کس کا نام ہے؟ منطق کا، تو عبارت یوں بن گئی اَلْمَنْطِقُ فِي الْمَنْطِقِ کیا بن گئی؟ اَلْمَنْطِقُ فِي الْمَنْطِقِ اشکال سمجھ میں آ رہا ہے؟ اس کو کہتے ہیں ظَرْفِيَّةُ الشَّيْءِ لِنَفْسِهِ، ایک چیز اپنے لیے ہی ظرف بن جائے۔ بھئی فِي ہے نا فِي ظرفیت کے لیے آتا ہے۔ کرنا۔ آپ محنت کریں گے تو آپ کو مَلَكَة حاصل ہو جائے گا۔ اور علم کیا ہے؟ علم کو حاصل کرنا پڑتا ہے۔ تو ایک ہے حُصُول اس کا کیا معنی؟ حاصل ہونا۔ اور ایک کیا ہے؟ تَحْصِيل کیا معنی؟ حاصل کرنا۔ تو علم خود حاصل ہوتا ہے یا حاصل کرنا پڑتا ہے؟ حاصل کرنا پڑتا ہے۔ لہٰذا جہاں پر علم کا لفظ آیا تھا، تمام مسائل کا علم یا قَدْرِ مُعْتَدّ بِهِ مسائل کا علم وہاں تَحْصِيل کا لفظ مقدر نکالیں گے۔ اَلْقِسْمُ الْأَوَّلُ فِي تَحْصِيلِ عِلْمِ الْمَسَائِلِ، فِي تَحْصِيلِ عِلْمِ جَمِيعِ الْمَسَائِلِ، یا فِي تَحْصِيلِ عِلْمِ الْقَدْرِ الْمُعْتَدِّ بِهِ مِنَ الْمَسَائِلِ۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو بعض صورتوں میں کیا نکالیں گے؟ بَيَان۔ اور بعض صورتوں میں؟ تَحْصِيل۔ علم جہاں پر علم آیا تھا، تمام مسائل کا علم یا قَدْرِ مُعْتَدّ بِهِ مسائل کا علم وہاں کیا نکالیں گے؟ تَحْصِيل۔ جہاں مَلَكَة آیا تھا وہاں کیا نکالیں گے؟ حُصُول۔ محنت کی جائے تو مَلَكَة حاصل ہو جاتا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ حُصُول۔ جبکہ بعض نے لکھا کہ وہاں بھی تَحْصِيل نکالیں گے مَلَكَة مہارت حاصل کر لی جاتی ہے جب خوب محنت کی جائے تو مَلَكَة آئے تو وہاں حُصُول بھی نکال سکتے ہیں اور تَحْصِيل بھی۔ اسی طرح جہاں علم آیا تھا وہاں کیا نکالیں گے؟ تَحْصِيل۔ جبکہ بعضوں نے بعض کہتے ہیں حُصُول وہاں بھی نکال سکتے ہیں آپ بھی غور کر لیں جہاں آپ کو جیسا مناسب لگے۔ اور جب منطق سے مراد تمام مسائل خود مراد لے لیں یا قَدْرِ مُعْتَدّ بِهِ مسائل مراد لے لیں تو پھر لفظ بَيَان کیا کریں گے مقدر نکالیں گے۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ چلیے کل إِنْ شَاءَ اللّٰهُ میں اس کا نقشہ بھی بنوا دوں گا، یہ 35 احتمالات کیسے بنتے ہیں اور کہاں پر حُصُول نکالیں گے، کہاں تَحْصِيل اور کہاں پر بَيَان بھئی۔ حاصل کلام آخر میں پھر سن لو بھئی۔ آج ہم نے پڑھا اشکال یہ ہوا تھا کہ اَلْقِسْمُ الْأَوَّلُ پر الف لام عَهْد خَارِجِي ہے۔ اور الف لام عَهْد خَارِجِي کے ذریعے کسی چیز کی طرف اشارہ ہوتا ہے، تو ماقبل میں تو کہیں قسم اول کا ذکر نہیں ہوا تو پھر یہ الف لام کے ذریعے پھر الف لام کیوں لائے، کس کی طرف اشارہ ہے؟ یا یوں کہیں کہ یہ الف لام کا لانا ٹھیک نہیں ہے۔ تو جواب دے دیا کہ ماقبل میں اگرچہ صراحتاً قسم اول اور ثانی کا ذکر تو نہیں ہوا، لیکن ضمناً کیا ہو چکا قسم اول اور ثانی کا ذکر ہو چکا۔ جب ایک دفعہ ذکر ہو گیا تو وہ مَعْهُود ہو گیا مُتَعَيَّن ہو گیا تو اب الف لام عَهْد خَارِجِي کے ذریعے اس کی طرف اشارہ کرنا صحیح ہے۔ اور مقدمہ کا تو چونکہ پیچھے کہیں ذکر آیا ہی نہیں تھا اس لیے اس کو نَكِرَہ لے کر آئے اس پر الف لام عَهْد خَارِجِي نہیں لے کر آئے۔ اس کے بعد پھر اشکال ہوا کہ اَلْقِسْمُ الْأَوَّلُ فِي الْمَنْطِقِ، قسم اول سے بھی منطق مراد ہے اور فِي کے مابعد بھی منطق ہے تو عبارت یوں بن گئی اَلْمَنْطِقُ فِي الْمَنْطِقِ یا یوں کہہ لو منطق سے مراد ہیں مَسَائِل مَنْطِقِيَّة اور قسم اول سے بھی کیا مراد ہیں مَسَائِل مَنْطِقِيَّة تو وہی بات آئی اَلْمَسَائِلُ الْمَنْطِقِيَّةُ فِي الْمَسَائِلِ الْمَنْطِقِيَّةِ تو پھر کیا خرابی لازم آئی ظَرْفِيَّةُ الشَّيْءِ لِنَفْسِهِ کی خرابی لازم آئی اور ظَرْفِيَّةُ الشَّيْءِ لِنَفْسِهِ تو کیا ہے؟ بَاطِل ہے۔ درست نہیں ہے۔ تو جواب دے دیا انہوں نے ایک جواب یہ دیا کہ اَلْقِسْمُ الْأَوَّلُ سے مراد لے لیں الفاظ اور عبارتیں اور منطق سے مراد لے لیں مَعَانِي تو اب ظرف اور مظروف ایک دوسرے سے غیر ہو گئے تو اب وہ ظَرْفِيَّةُ الشَّيْءِ لِنَفْسِهِ والی خرابی لازم نہیں آئے گی۔ معنی کیا ہوا؟ یہ الفاظ اور عبارتیں ہیں ان مَعَانِي کے بیان میں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اور پھر انہوں نے یہ بھی بتایا کہ یہاں پر اور بھی وجوہ اور بھی احتمالات ہیں، اور کل 35 احتمال بنتے ہیں۔ وہ کس طرح کہ قسم اول سے کیا مراد ہیں قسم اول میں سات احتمال اور منطق میں پانچ احتمال۔ قسم اول میں سات احتمال کیا؟ نمبر ایک نُقُوش، نمبر دو أَلْفَاظ، نمبر تین مَعَانِي اور نمبر چار نُقُوش اور أَلْفَاظ، نمبر پانچ نُقُوش اور مَعَانِي، نمبر چھ أَلْفَاظ اور مَعَانِي اور نمبر سات تینوں کا مجموعہ یعنی نُقُوش أَلْفَاظ اور مَعَانِي۔ یہ سات احتمال ہیں قسم اول میں۔ اور منطق کے اندر پانچ احتمال، نمبر ایک مَلَكَة یعنی مہارت، نمبر دو تمام مسائل کا علم، تمام مسائل سے مراد منطق کے مسائل مراد ہیں تمام مسائل منطق کا علم، دوسرا قَدْرِ مُعْتَدّ بِهِ مسائل کا علم جن کے ذریعے خطا سے حفاظت ہو جائے نظر و فکر میں۔ اور چوتھا احتمال خود نَفْسِ جَمِيعِ مَسَائِل مراد ہوں۔ یا پانچویں صورت کہ قَدْرِ مُعْتَدّ بِهِ مسائل خود قَدْرِ مُعْتَدّ بِهِ مسائل مراد ہوں۔ تو یہ پانچ احتمال ہوئے۔ اور پھر یہ بھی انہوں نے آپ کو بتلایا کہ ان سب کے اندر ایک مُضَاف کو محذوف نکالنا پڑے گا، لفظ منطق سے پہلے اور وہ محذوف جو ہے مقدر جو ہے لفظ بَيَان بھی ہو سکتا ہے، تَحْصِيل بھی اور حُصُول بھی ہو سکتا ہے۔ جہاں جس کو عقلِ سلیم مناسب سمجھے ان تین میں سے کوئی ایک کو مقدر نکال لے۔ بعض احتمالات میں بَيَان کا لفظ مقدر نکالیں گے، بعض احتمالات میں تَحْصِيل کا لفظ مقدر نکالیں گے اور بعض احتمالات میں حُصُول کا لفظ مقدر نکالیں گے۔ تو مثلاً اَلْقِسْمُ الْأَوَّلُ سے ہم مراد لیں نُقُوش اور منطق سے مراد لیں پہلا احتمال مَلَكَة مراد لیں۔ تو پھر اس صورت میں حُصُول کا لفظ مقدر نکالیں گے کیونکہ مَلَكَة حاصل ہوتا ہے۔ تو اَلْقِسْمُ الْأَوَّلُ فِي حُصُولِ الْمَنْطِقِ کیونکہ مَلَكَة کیا ہے؟ حاصل۔ جبکہ بعض نے لکھا کہ یہاں بھی پھر تَحْصِيل نکالیں گے۔ تو جو بھی آپ کو مناسب سمجھے آپ موقع کے مطابق نکال سکتے ہیں۔ اَلْقِسْمُ الْأَوَّلُ فِي تَحْصِيلِ الْمَلَكَةِ مَلَكَة کے حاصل کرنے کے بارے میں کہ اس فن میں کیسے مَلَكَة حاصل کیا جائے بھئی۔ اور اگر منطق سے مراد لیں ان مسائل کا علم تمام مسائل کا علم یا قَدْرِ مُعْتَدّ بِهِ مسائل کا علم۔ تو اس صورت میں پھر تَحْصِيل کا لفظ مقدر نکالیں گے کیونکہ علم کو کیا کیا جاتا ہے؟ تَحْصِيل تو پھر تَحْصِيل مقدر نکالیں گے اَلْقِسْمُ الْأَوَّلُ فِي تَحْصِيلِ الْمَنْطِقِ۔ اور اگر منطق سے آپ مراد لیتے ہیں نَفْسِ مَسَائِل تمام مسائل یا قَدْرِ مُعْتَدّ بِهِ مسائل۔ تو پھر بَيَان کا لفظ مقدر نکالیں گے کیونکہ مسائل کو بیان کیا جاتا ہے۔ تو کل إِنْ شَاءَ اللّٰهُ میں اس کا نقشہ بھی بنوا دوں گا یہ 35 احتمالات کیسے بنتے ہیں اور کہاں پر حُصُول نکالیں گے، کہاں تَحْصِيل اور کہاں پر بَيَان بھئی۔ چلیے بس بھئی هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
115 approved lectures · 29 of 115