درس نمبر۔46
دیکھیے بھئی آگے سبق:
وإنما جعل الإعراب في آخر الاسم المعرب لأن نفس الاسم يدل على المسمى، والإعراب على صفته، ولا شك أن الصفة متأخرة عن الموصوف، فالأنسب أن يكون الدال عليها أيضا متأخرا عن الدال عليه۔
اچھا بھئی، گزشتہ سبق میں اعراب کی تعریف ہم پڑھ رہے تھے۔ صاحبِ قافیہ نے اعراب کی تعریف کی: "الإعراب ما اختلف آخره به ليدل على المعاني المعورة عليه"، کہ اعراب وہ چیز ہے کہ جس کے سبب سے معرب کا آخر بدلتا ہے تاکہ یہ معرب کے آخر کا بدلنا یا یہ جو اعراب ہے، یہ دلالت کرے ان معانی پر "المعورة عليه" جو اس معرب پر باری باری آ رہے ہیں۔ یعنی کبھی اس میں فاعلیت والا معنیٰ آتا ہے، کبھی مفعولیت والا معنیٰ آتا ہے اور کبھی اضافت والا معنیٰ آتا ہے یعنی مضاف الیہ ہونے والا معنیٰ۔ تو یہ اعراب جو ہیں ان معانی پر دلالت کرتے ہیں۔
صاحبِ جامی نے آپ کو بتلایا تھا کہ مصنف کی تعریف جو ہے "الإعراب ما اختلف آخره به"، یہاں تک جب تعریف ہو گئی تو اب یہ تعریف جو معرب کی ہے یہ جامع بھی ہے، مانع بھی ہے۔ تو "ليدل على المعاني المعورة عليه" اس کا تعریف کے جامع مانع ہونے میں کوئی دخل نہیں۔ لیکن یہ تعریف کے بعد صاحبِ قافیہ ذکر تو فرما رہے ہیں تو بعض شارحین نے کیا کیا؟ انہوں نے کہا کہ بہٖ تک تعریف جامع مانع ہو گئی، لہٰذا اب "ليدل" جو ہے اس کے ذریعے تو کسی کو بھی نہیں نکالا جا رہا، تو اس کو اسی تعریف سے متعلق نہ کرو، اس کے لیے الگ متعلق محذوف نکال لو اور وہ کیا ہے؟ "وضع الإعراب"، یہ محذوف نکال لو، اور "ليدل" کو اس "وضع الإعراب" سے جوڑ دو۔ "وضع" میں فعل ہے بھئی اور فعل کے ساتھ جار مجرور متعلق ہوتے ہیں آپ نے پڑھا ہے بھئی۔ تو معنیٰ یوں ہو جائے گا: "وضع الإعراب"، اعراب کو وضع کیا گیا ہے، مقرر کیا گیا ہے تاکہ وہ دلالت کریں ان معانی پر جو اس معرب پر باری باری آ رہے ہیں۔
تو شارحِ جامی فرما رہے ہیں کہ نہیں بھئی، "ليدل" کو "وضع الإعراب" سے متعلق نہ کرو۔ "الإعراب ما اختلف آخره به"، یہاں تک آ کر تعریف جامع مانع ہو گئی اور آگے جو "ليدل" ہے اس کے ذریعے کسی کو نکالنا تو مقصود نہیں لیکن وہ تعریف ہی کا حصہ ہے۔ جامع مانع ہونے کے اعتبار سے تعریف کا حصہ نہیں ہے بلکہ ایک مزید فائدے کے اعتبار سے وہ تعریف کا حصہ ہے کہ اس میں مصنف یہ بتلانا چاہتے ہیں، یہ جو مختلف اعراب وضع کیے گئے اس کے فائدے پر متنبہ کرنا چاہتے ہیں۔
تعریف تو جامع مانع ہو گئی بھئی لیکن آگے مصنف کیا بتلانا چاہتے ہیں کہ یہ جو اعراب کو وضع کیا گیا اور مختلف طور پر یعنی فاعلیت کے لیے رفع وضع کیا گیا، مفعولیت کے لیے نصب وضع کیا گیا اور مضاف الیہ کے لیے جر وضع کیا گیا تو یہ جو وضعِ اعراب کا اختلاف ہے، مختلف قسم کے اعراب ہیں، اس کا فائدہ بھی بتلانا چاہتے ہیں بھئی۔ اس کا کہ یہ اعراب کیوں ہیں؟ کیونکہ معرب پر مختلف معانی آتے ہیں اور یہ جو اعراب ہیں یہ ان معانی پر دلالت کرتے ہیں تو جب وہ معانی مختلف ہیں تو یہ اعراب بھی مختلف ہونے چاہئیں بھئی۔ ایک ہی اعراب مقرر کر دیا جائے پھر تو پتہ نہیں چلے گا کہ کون سا معنیٰ ہے یہاں پر، کیونکہ معانی تو تین قسم کے ہیں جو معرب پر آ رہے ہیں، تو اعراب بھی کتنی قسم کے ہونے چاہئیں؟ تین قسم کے تاکہ ہر اعراب اپنے معنیٰ پر دلالت کرے۔
تو حاصلِ کلام یہ کہ "ليدل" سے آگے جو تعریف کا حصہ ہے وہ تعریف سے متعلق تو ہے، تعریف کا حصہ تو ہے لیکن یہ تعریف کا حصہ اس اعتبار سے نہیں ہے کہ یہ تعریف کو جامع مانع بنا رہا ہے بلکہ اس لحاظ سے یہ تعریف کا حصہ ہے کہ یہ ایک الگ فائدہ بتلا رہا ہے، اس سے ایک الگ فائدہ حاصل ہو رہا ہے کہ یہ اعراب مختلف قسم کے کیوں وضع کیے گئے بھئی۔
چنانچہ صاحبِ جامی فرماتے ہیں کہ صاحبِ قافیہ نے جو قافیہ کی شرح جب لکھی تو اس میں اس مقام تک یعنی بہٖ تک جب انہوں نے شرح کر لی تو اگلی عبارت جو آ رہی تھی "ليدل على المعاني المعورة عليه"، اس کے بارے میں انہوں نے فرمایا کہ "ليس هذا من تمام الحد"، یہ تمامِ حد میں سے نہیں ہے۔ یہ تمامِ حد میں سے نہیں ہے یعنی یہ حد کو پورا کرنے والی چیز نہیں ہے، حد تو پوری ہو چکی ہے جامع مانع ہونے کے اعتبار سے بھئی۔ تو گویا وہ بھی اسی معنیٰ کی طرف اشارہ کر رہے تھے جو ہم نے کہا۔ ہم نے کہا کہ یہ تعریف کا حصہ ہے لیکن جامع مانع ہونے کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک الگ فائدے کی حیثیت سے۔ لہٰذا، اس کے لیے "وضع الإعراب" الگ محذوف نکالنے کی حاجت نہیں، اس کو اسی "اختلف آخره" سے جوڑا جائے گا بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔
اس کے بعد "ليدل على المعاني المعورة عليه"، "ليدل" کے اندر ضمیر جو ہے وہ کس کو راجع ہے، وہ بتلایا آپ کو صاحبِ جامی نے۔ دیکھیے، میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ معرب پر سب سے پہلے اعراب داخل ہوتا ہے، توجہ ہے؟ اعراب داخل ہوتا ہے، پھر وہ اعراب اس میں فاعلیت یا مفعولیت یا اضافت والا معنیٰ اس میں پیدا کرتا ہے اور پھر یہ معنیٰ اس میں اعراب کا تقاضا کرتا ہے کہ اس پر یہ والا اعراب آنا چاہیے اور پھر جب وہ والا اعراب آتا ہے تو معرب کا آخر مختلف ہو جاتا ہے۔ معلوم ہوا اعراب جو ہے یہ سببِ قریب ہے اختلافِ آخر کے لیے۔ اعراب سببِ قریب ہے اختلافِ آخر کے لیے۔ تو اعراب اور چیز ہے، اختلافِ آخر اور چیز ہے۔ اعراب سبب ہے اور اختلافِ آخر مسبب ہے۔ تو اب "ليدل" کی ضمیر میں دونوں احتمال ہیں۔ اس ضمیر کو اختلاف کی طرف بھی راجع کیا جا سکتا ہے تاکہ وہ اختلافِ آخر جو ہے وہ دلالت کرے ان معانی پر، تاکہ وہ اختلافِ آخر جو ہے وہ دلالت کرے ان معانی پر۔ اور نیز "ليدل" کی ضمیر جو ہے اس کو اس کو اعراب کی طرف بھی راجع کر سکتے ہیں، اختلاف کی طرف بھی اور اعراب کی طرف بھی۔ اختلاف کی طرف میں نے ابھی بیان کر دیا تاکہ وہ اختلافِ آخر دلالت کرے ان معانی پر، یا اعراب کو ضمیر لوٹا دو تاکہ وہ اعراب دلالت کریں کس پر؟ ان معانی پر۔ تو اختلاف اور چیز اور اعراب اور چیز ہے بھئی۔ اسی لیے انہوں نے کہا: "ليدل الاختلاف أو ما به الاختلاف"، تاکہ دلالت کرے وہ اختلاف ان معانی پر، "أو ما به الاختلاف" یا دلالت کرے وہ چیز جس کی وجہ سے اختلاف ہے یعنی اعراب۔ "ما به الاختلاف" سے کیا مراد ہے؟ اعراب، تاکہ وہ اعراب دلالت کرے ان معانی پر۔ فرق سمجھ میں آ گیا؟ دونوں صورتوں میں جس طرف بھی آپ ضمیر لوٹا دیں، چاہے اختلاف کی طرف لوٹا دیں، چاہے ما بہ الاختلاف یعنی جس کے ذریعے اختلاف ہو رہا ہے یعنی کہ اعراب کی طرف بھئی، دونوں صورتوں میں معنیٰ درست بنتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
اس کے بعد پھر انہوں نے آپ کو یہ بتلایا کہ "المعورة"، اس کو اسمِ فاعل کا صیغہ پڑھنا۔ بعض شارحین نے اس کو "المعورة"، اسمِ مفعول کا صیغہ بنایا۔ کہتے ہیں نہیں بھئی، اس کو اسمِ فاعل کا صیغہ پڑھو۔ اور یہ جو "عليه" ہے اس میں ہا ضمیر معرب کو راجع ہے۔ "المعورة على المعرب"، وہ معانی جو معرب پر آتے ہیں باری باری۔ اس پر پھر اشکال ہوا کہ اعتور یعتور یہ فعل تو براہِ راست مفعول کو نصب دیتا ہے تو یہ جو علیہ کے اندر ہا ضمیر آ رہی ہے، اس ہا کو یہ براہِ راست نصب دے سکتا ہے، اور جب براہِ راست نصب دے سکتا ہے تو پھر علیٰ کو بیچ میں لانے کی ضرورت نہیں۔ اسی طرح کہہ دیتے: "المعورة إياه"۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ مفعول کی ضمیر لے آتے بھئی، اور مفعول کیا ہوتا ہے؟ منصوب۔ تو "المعورة هو" نہیں کہیں گے کیونکہ ھو ضمیر تو مرفوع ہوتی ہے، وہ تو مبتدا بنے گی یا فاعل بنے گی، یہ یہ تو مفعول ہمیں چاہیے، تو مفعول کیا ہوتا ہے؟ منصوب۔ تو ہمیں غائب کی وہ ضمیر چاہیے جو منصوب ہو بھئی، اور وہ کون سی ہے؟ ایاہ۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو ھو ضمیر کیا؟ مرفوع، یہ بھی غائب کی ضمیر ہے۔ اور ایاہ، یہ ضمیر بھی غائب کی ہے لیکن یہ منصوب۔ اور علیہ کی ہا ضمیر، یہ اس کے اوپر علیٰ داخل ہے، یہ مجرور ہے۔ تو تینوں غائب کی ضمیریں ہیں لیکن جو مقام ہوگا اس کے مطابق ضمیر استعمال کی جاتی ہے۔ تو اگر علیہ کی ضرورت نہیں، اس کے بغیر ہی یوں عبارت ہونی چاہیے تھی: "ليدل على المعاني المعورة إياه"، تاکہ وہ دلالت کرے جو اس پر باری باری معانی آ رہے ہیں بھئی۔
پھر اس کے بعد بتلایا تھا کہ بھئی اعتیوار کے معنیٰ ہیں ایک چیز کو باری باری لینا۔ عربی میں کہتے ہیں: "اعتوروا الشيء" یا "تعاوروا الشيء"، کب؟ جب ایک جماعت کے بعد دوسری جماعت ایک چیز کو باری باری لے بھئی۔ اس کے لیے اعتیوار اور تعاور کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ تو یہاں پر اعتیوار کے ساتھ جو علیٰ لے کر آئے یہ کس لیے ہے؟ تضمین کے لیے ہے۔ تضمین اسے کہتے ہیں کہ ایک فعل کے اندر دوسرے فعل کا معنیٰ ملحوظ ہو اور آگے کوئی قرینہ ہو جو بتلائے کہ اس فعل کے اندر یہ والا معنیٰ بھی ملحوظ ہے۔ اعتور کا معنیٰ تو ہے باری باری ایک چیز کو لینا اور اس کے لیے صلہ علیٰ نہیں آتا یعنی اس کے ساتھ علیٰ حرفِ جر استعمال کرنے کی ضرورت نہیں، یہ براہِ راست خود مفعول کو نصب دیتا ہے۔ لیکن اس کے اندر ورود یا استیلاء کا معنیٰ ملحوظ ہے اور ورود اور استیلاء کے ساتھ تو علیٰ استعمال ہوتا ہے، تو اس علیٰ نے دلالت کر دی کس بات پر؟ بھئی یہ علیٰ تو اعتیوار کے ساتھ استعمال نہیں ہوتا لیکن لے کر آئے، معلوم ہوا یہاں کسی اور فعل کا معنیٰ ملحوظ ہے جس کا صلہ علیٰ آتا ہے اور وہ کیا مناسب جو بھی مناسب بنتا ہو، اور یہاں کیا مناسب بنتا ہے؟ ورود اور استیلاء۔ ورود کا معنیٰ ہے آنا، آنا، وارد ہونا، اور استیلاء کا معنیٰ ہے غالب ہونا۔
تو دیکھو دونوں کا معنیٰ میں لے آؤں گا اس میں: "ليدل على المعاني المعورة عليه"، تاکہ یہ دلالت کرے ان معانی پر "المعورة عليه" جو اس پر باری باری وارد ہو رہے ہیں، وارد ہو رہے ہیں، ان کا ورود ہو رہا ہے، وہ باری باری اس کے اوپر آ رہے ہیں تاکہ یہ اختلافِ آخر کس پر دلالت کرے؟ ان معانی پر جو باری باری اس معرب پر آ رہے ہیں، دیکھو ورود کا معنیٰ میں نے کر لیا اس کے اندر۔ یا استیلاء کا معنیٰ کر لو تاکہ یہ اختلافِ آخر جو ہے، یہ دلالت کرے ان معانی پر جو باری باری معرب پر غالب آ رہے ہیں، دیکھو اب غالب آنے کا استیلاء کا معنیٰ میں نے کر لیا۔
جی اور پھر اس کے بعد حاصلِ کلام انہوں نے بتلایا تھا کہ یہ معانی جب باری باری آتے ہیں معرب پر یعنی اکٹھے نہیں آتے، اکٹھے کیوں نہیں آ سکتے؟ کیونکہ یہ معانی ایک دوسرے کی ضد ہیں، یہ اکٹھے ہو ہی نہیں سکتے۔ یا فاعلیت والا معنیٰ آئے گا یا مفعولیت والا معنیٰ آئے گا یا مضاف الیہ والا معنیٰ آئے گا، اکٹھے ہو ہی نہیں سکتے تو باری باری آتے ہیں کبھی ایک معنیٰ، کبھی دوسرا معنیٰ۔ جب یہ معانی اکٹھے نہیں ہو سکتے تو ان کی جو علامتیں ہیں وہ بھی اسی طرح ہونی چاہئیں، الگ الگ ہونی چاہئیں تاکہ وہ ان معانی پر دلالت کریں اور جیسے وہ معانی اکٹھے نہیں ہو سکتے تو علامتیں بھی اکٹھی نہیں ہو سکتیں، تو اس لیے چونکہ ہر معنیٰ کی علامت الگ ہے تو اس کی وجہ سے معرب کا آخر مختلف ہو گیا، کبھی ایک معنیٰ آئے گا تو اس کی علامت آئے گی، کبھی دوسرا معنیٰ آئے گا تو اس کی علامت آئے گی، کبھی تیسرا معنیٰ آئے گا تو اس کی علامت آئے گی تو اس وجہ سے معرب کا آخر بدلتا ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔
اب آئیے آج کے سبق پر بھئی۔ کہتے ہیں: "وإنما جعل الإعراب في آخر الاسم المعرب لأن نفس الاسم يدل على المسمى، والإعراب على صفته"۔ بھئی یہ اعراب جو ہیں یہ معرب کے آخر میں آتے ہیں: "جاءني زيدٌ"، "رأيت زيدا"، "مررت بزيدٍ"۔ تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ آخر میں کیوں آتے ہیں؟ درمیان میں کیوں نہیں آ جاتے معرب کے یا اس کے شروع میں کیوں نہیں آ جاتے؟ تو اب وجہ بیان کرنے لگے ہیں صاحبِ جامی۔ اور وہ فرماتے ہیں کہ دیکھو، یہ جو اسم ہوتا ہے یہ دلالت کرتا ہے مسمیٰ پر۔ اسم کس پر دلالت کرتا ہے؟ مسمیٰ پر۔ میں نے جیسے ہی زید کہا آپ کے ذہن میں زید کی صورت آ گئی، دیکھا؟ لفظِ زید نے کس پہ دلالت کی؟ ذاتِ زید پر۔ تو یہ لفظِ زید یہ اسم ہے اور ذاتِ زید اس کا مسمیٰ ہے جس پر یہ اسم دلالت کر رہا ہے۔ میں نے جیسے ہی کتاب کہا آپ کے ذہن میں فوراً کتاب کی صورت آ گئی، تو یہ لفظِ کتاب یہ ہوا دال اور وہ مسمیٰ کیا ہوا؟ مدلول بھئی، یہ اس پر دلالت کر رہی ہے۔ میں نے جیسے ہی کہا قلم، فوراً آپ کے ذہن میں قلم کی صورت آ گئی، تو لفظِ قلم کیا ہوا؟ دالٌ، یہ دلالت کر رہا ہے، اور کس پر دلالت کر رہا ہے؟ قلم یعنی مسمیٰ پر دلالت کر رہا ہے جو آپ کے ذہن میں آ گیا۔ میں نے جیسے ہی کہا بکری، آپ کے ذہن میں فوراً ایک حیوان کی صورت آ گئی، دیکھا وہ ہے مسمیٰ۔ تو یہ لفظِ بکری کیا ہے؟ اسم، اور وہ جو صورت ذہن میں آ گئی وہ کیا ہے؟ مسمیٰ ہے، توجہ ہے؟
تو لفظِ زید ہوا مثلاً اسم اور ذاتِ زید کیا ہوئی؟ مسمیٰ ہوئی۔ تو یہ جو اسم ہوتا ہے یہ مسمیٰ پر دلالت کرتا ہے، مسمیٰ اس کا مدلول ہوتا ہے۔ اور یہ جو اعراب ہے، یہ فاعلیت یا مفعولیت یا اضافت پر دلالت کرتا ہے۔ کس پر دلالت کرتا ہے؟ فاعلیت، مفعولیت اور اضافت پر دلالت کرتا ہے۔ تو اعراب ہوا دالٌ، یہ دلالت کر رہا ہے، اور کس چیز پر دلالت کر رہا ہے؟ فاعلیت یا مفعولیت یا یا اضافت، اور یہ تینوں صفات ہوتی ہیں مسمیٰ کی۔ یہ فاعل ہونا اس مسمیٰ کی صفت ہوتی ہے، یا مفعول ہونا اس مسمیٰ کی صفت ہوگی، یا مضاف الیہ ہونا یہ اس مسمیٰ کی صفت ہوگی، توجہ ہے؟ تو معلوم ہوا اسم دلالت کر رہا ہے ذاتِ مسمیٰ پر، اسم دلالت کر رہا ہے مسمیٰ پر، اور اعراب دلالت کر رہا ہے اس مسمیٰ کی صفت پر۔
"ضرب زيدٌ"، زید نے پٹائی کی، توجہ ہے؟ "ضرب زيدٌ"، زید نے پٹائی کی۔ جیسے ہی میں نے زید کہا، آپ کے ذہن میں فوراً آپ کا ایک ساتھی ہے جس کا نام زید ہے، فوراً اس کی صورت آ گئی، آپ سمجھ گئے کہ زید سے کون سا شخص مراد ہے، اس کی صورت اور اس کی پہچان آپ کے ذہن میں آ گئی۔ اور نیز نیز "ضرب زيدٌ"، اس سے کیا پتہ چلا کہ زید نے کسی کی پٹائی کی ہے؟ معلوم ہوا یہ ضاربیت زید کی صفت ہے، توجہ ہے؟ زید نے جب کسی کی پٹائی کی ہے تو یہ ضارب ہونا اس کی صفت ہو گئی، وہ ضارب ہے، مضروب نہیں ہے، تو یہ ضارب ہونا اس کی صفت ہے۔ تو مثلاً میں نے کیا کہا: "ضرب زيدٌ"، زید نے کس پہ دلالت کی؟ مسمیٰ پر، اور یہ رفع نے کس پہ دلالت کی؟ اس کے اس کے فاعل ہونے پر۔ کس پر؟ بھئی زید نے کسی کی پٹائی کی ہے تو زید ضارب ہوا یا مضروب ہوا؟ تو ضارب ہونا زید کی صفت ہے، توجہ ہے؟ تو ایک ہے ذاتِ زید، ایک ہے اس کی صفت۔ ذاتِ زید اور، صفت اور، جیسے مثلاً عمرو اور ہے، عمرو کی سخاوت اور۔ عمرو ایک ذات کا نام ہے اور سخاوت اس کی صفت ہے۔ اسی طرح زید ایک ذات کا نام ہے اور فاعل ہونا اس کی صفت ہے۔ تو اس کی ذات پر کس نے دلالت کی؟ لفظِ زید نے، اور اس کی صفت یعنی فاعلیت پر کس نے دلالت کی؟ یہ جو زیدٌ کے آخر میں رفع آیا۔
اس زیدٌ یہ رفع کس چیز کی علامت ہے؟ فاعلیت کی علامت ہے، اس رفع نے کیا بتلایا کہ زید کس صفت کے ساتھ موصوف ہو رہا ہے؟ فاعل ہونے کے ساتھ، اس نے کسی کی پٹائی کی ہے۔ تو لفظِ زید کس پر دلالت کرتا ہے؟ مسمیٰ پر، اور یہ رفع کس پر دلالت کرتا ہے؟ اس مسمیٰ کی صفت پر، بات سمجھ میں آ گئی؟ اور ظاہر سی بات ہے موصوف مقدم ہوتا ہے، صفت مؤخر ہوتی ہے۔ موصوف ہے تو صفت ہے، موصوف نہیں تو صفت کہاں سے؟ زید ہے تو زید کی ضاربیت ہے، زید نہیں تو اس کی ضاربیت کیسے ہو سکتی ہے؟ عمرو ہے تو عمرو کی سخاوت ہے، عمرو نہیں تو اس کی سخاوت کہاں ہو سکتی ہے؟ تو موصوف مقدم ہوتا ہے اور صفت مؤخر کیونکہ صفت اس کی اس کے ساتھ قائم ہے، موصوف ہے تو صفت ہے، موصوف نہیں تو صفت بھی نہیں۔ معلوم ہوا نفسِ اسم کس پر دلالت کرتا ہے؟ مسمیٰ پر، اور اس کا اعراب کس پر دلالت کرتا ہے؟ اس مسمیٰ کی صفت پر۔ اور جیسے مسمیٰ مقدم ہوتا ہے اور صفت مؤخر ہوتی ہے، تو اسی طرح معرب کا لفظ جو ہے وہ مقدم ہوگا اور اعراب اس کے آخر میں آئے گا، بات سمجھ میں آ گئی اچھی طرح؟ کیونکہ موصوف مقدم ہوتا ہے اور صفت مؤخر، تو لہٰذا اعراب کو بھی آخر میں آنا چاہیے کیونکہ وہ صفت پر دلالت کر رہا ہے۔
تو کہتے ہیں: "وإنما جعل الإعراب في آخر الاسم المعرب"، اعراب جو ہے اس کو اسمِ معرب کے آخر میں کیا گیا "لأن نفس الاسم يدل على المسمى"، اس لیے کیونکہ نفسِ اسم جو ہے وہ دلالت کرتا ہے مسمیٰ پر "والإعراب على صفته"، اور اعراب جو ہے اس مسمیٰ کی صفت پر دلالت کرتا ہے۔ "والإعرابَ"، اس کا عطف جو ہے نفس الاسم پر کر لیں اور وہ تو منصوب ہے، ان کا اسم ہے، تو "الإعرابَ" بھی کیا ہوگا؟ منصوب۔ تو کہتے ہیں: "لأن نفس الاسم يدل على المسمى"، اس لیے کیونکہ نفسِ اسم دلالت کرتا ہے مسمیٰ پر "والإعراب على صفته"، اور اعراب جو ہے اس مسمیٰ کی صفت پر دلالت کرتا ہے۔
"ولا شك أن الصفة متأخرة عن الموصوف"، اور اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ صفت جو ہے موصوف سے مؤخر ہوتی ہے۔ موصوف ہے تو صفت ہے، موصوف نہیں تو صفت بھی نہیں۔ تو کہتے ہیں: "ولا شك أن الصفة متأخرة عن الموصوف"، اور اس بات میں کوئی شک نہیں کہ صفت جو ہے وہ موصوف سے مؤخر ہوتی ہے "فالأنسب أن يكون الدال عليها أيضا متأخرا عن الدال عليه"۔ جی ادھر دیکھیے، موصوف مقدم ہوتا ہے اور صفت مؤخر۔ تو نفسِ اسم کس پر دلالت کرتا ہے؟ مسمیٰ پر، اور اعراب اس مسمیٰ کی صفت پر۔ تو گویا نفسِ اسم ہوا دال علی المسمیٰ، اور اعراب ہوا دال علی الصفت۔ توجہ ہے؟ اسم کیا ہوا؟ دال علی المسمیٰ، مسمیٰ پہ دلالت کر رہا ہے، اور اعراب دال علی الصفت ہوا، یہ صفت پہ دلالت کر رہا ہے۔ تو جب صفت مؤخر ہوتی ہے موصوف سے، تو دال علی الصفت کو بھی مؤخر ہونا چاہیے دال علی المسمیٰ پر بھئی۔ تو کہتے ہیں: "فالأنسب أن يكون الدال عليها أيضا متأخرا عن الدال عليه"، تو مناسب یہ ہے کہ وہ جو دلالت کر رہا ہے علیہا یعنی علی الصفت، ایضاً متاخراً اس کو بھی مؤخر ہونا چاہیے عن الدال علیہ، اس لفظ سے جو اس مسمیٰ پر دلالت کر رہا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اسم کس پہ دلالت کر رہا ہے؟ مسمیٰ پر، اور اعراب کس پہ دلالت کر رہا ہے؟ صفت پر، اور صفت مؤخر ہوتی ہے۔ جب صفت موصوف سے مؤخر ہے تو لہٰذا دال علی الصفت کو بھی مؤخر ہونا چاہیے دال علی المسمیٰ پر۔
"وهو مأخوذ من أعربه"۔ اب اس کی وجہِ تسمیہ ذکر کر رہے ہیں: اعراب کو اعراب کیوں کہتے ہیں؟ کہتے ہیں یا تو یہ ماخوذ ہے "أعربه" سے، "أعرب الكلامَ"، "زيدٌ أعرب الكلامَ"، تو یہ "أعربه" سے ماخوذ ہے۔ "أعرب الكلامَ" کا معنیٰ ہے واضح کلام کرنا۔ "زيدٌ أعرب الكلامَ"، زید نے واضح کلام کیا، یعنی عربی ضابطوں وغیرہ کے مطابق کلام کیا جو واضح ہے، جس کا معنیٰ خوب سمجھ میں آ رہا ہے، تو عربی میں کہتے ہیں: "أعرب الكلامَ"، اس نے واضح کلام کیا۔ تو چونکہ یہ اعراب بھی ان معانی کی وضاحت کر دیتا ہے، جب رفع آ جائے معرب پر تو پتہ چل جاتا ہے اس میں کون سا معنیٰ ہے؟ فاعلیت والا۔ جب نصب آتا ہے تو بتلا دیتا ہے اس میں مفعولیت والا معنیٰ ہے، اور معرب پر جب جر آ جائے تو پتہ چل جاتا ہے کہ اس کہ اس میں مضاف الیہ والا معنیٰ ہے۔ تو جیسے "أعرب الكلامَ" کا معنیٰ ہے واضح کرنا، تو اسی طرح یہ جو اعراب ہے، یہ بھی اس معنیٰ کی وضاحت کر دیتا ہے جو معرب پر آ رہا ہوتا ہے، اس لیے اس کو اعراب کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ اعراب کو اعراب کیوں کہتے ہیں؟ یہ بھی وضاحت کرتا ہے اس معنیٰ کی جو معرب پر آ رہا ہوتا ہے۔
ادھر دیکھیے: "ضرب زيدٌ عمرا"، زید نے پٹائی کی عمرو کی، فاعل کون؟ زيدٌ، یہ رفع اس کا بتلا رہا ہے، اور عمراً یہ کیا ہے؟ مفعول ہے، اس کا نصب بتلا رہا ہے۔ لیکن دیکھو اگر میں بغیر اعراب کے کہتا "ضرب زيد عمر"، "ضرب زيد عمر"، جی اب کچھ پتہ چلا آپ کو کہ کون فاعل ہے اور کون مفعول ہے؟ نہیں، تو دیکھو اعراب آ کر وضاحت کر دیتے ہیں تو تو اعراب کو اعراب اس لیے کہتے ہیں کیونکہ یہ بھی وضاحت کا فائدہ دیتے ہیں۔ تو اعراب کا معنیٰ وضاحت کرنا۔
تو کہتے ہیں: "وهو مأخوذ من أعربه"، اور یہ ماخوذ ہے یعنی اعراب کا لفظ اعراب کا نام جو ہے وہ لیا گیا ہے "أعربه" سے "إذا أوضحه"، جب کوئی کلام واضح کرے تو اس وقت کہتے ہیں "أعربه"۔ "فإن الإعراب يوضح المعاني المقتضية"، اس لیے کیونکہ اعراب جو ہے وہ وضاحت کرتا ہے ان معانی کی جو تقاضا کرنے والے ہیں، وہ معانی جو تقاضا کرنے والے ہیں بھئی، کس چیز کا تقاضا کرنے والے ہیں؟ اعراب کا۔ کس کا؟ فاعلیت کس کا تقاضا کرتی ہے؟ رفع کا۔ مفعولیت کس کا تقاضا کرتی ہے؟ نصب کا۔ اور مضاف الیہ کس کا تقاضا کرتا ہے؟ جر کا۔ تو کہتے ہیں دوبارہ دیکھیں: "وهو مأخوذ من أعربه إذا أوضحه"، کہ اعراب کا لفظ جو ہے یہ "أعربه" سے ماخوذ ہے "إذا أوضحه"، جب وہ کوئی شخص کلام کو واضح کر دے۔ "فإن الإعراب يوضح المعاني المقتضية"، اس لیے کیونکہ اعراب بھی ان معانی کی وضاحت کر دیتا ہے جو اعراب کا تقاضا کرنے والے ہیں۔
"أو من عربت معدته"، یا یہ اعراب ماخوذ ہے "عربت معدته" سے یعنی عَرِبَ فعل سے ماخوذ ہے، کس سے؟ عَرِبَ کا معنیٰ ہوتا ہے ایک چیز کا خراب ہو جانا، اس کے لیے عَرِبَ کا لفظ عربی میں بولتے ہیں۔ مثلاً کسی شخص کا معدہ خراب ہو گیا، بدہضمی وغیرہ ہو گئی یا کچھ بیمار ہو گیا تو عربی میں کہتے ہیں: "عربت معدته"، اس کا معدہ خراب ہے۔ اس کا معدہ خراب ہے۔ تو دیکھو یہ عَرِبَ فساد کے معنیٰ میں ہے کہ اس کا معدہ فاسد ہے، توجہ ہے؟ پھر اس عَرِبَ کو بابِ افعال میں لے گئے تو اس میں شروع میں ہمزہ کا اضافہ کر دیا، اب کیا بن گیا؟ "أعرب يعرب"، توجہ ہے؟ اور آپ جانتے ہیں ہر باب کے اپنے اپنے خاصے ہوتے ہیں، اس میں جب کسی لفظ کو لے جاتے ہیں تو وہاں کوئی خاص معنیٰ مقصود ہوتا ہے۔ جیسے "ضرب زيدٌ عمرا"، اس کا کیا معنیٰ ہے؟ زید نے عمرو کی پٹائی کی، لیکن اگر آپ کسی کو یہ بتلانا چاہتے ہیں کہ زید اور عمرو دونوں نے ایک دوسرے کی پٹائی کی تو اب "ضرب زيدٌ عمرا" سے تو یہ سمجھ میں نہیں آتا تو پھر اس کو آپ بابِ مفاعلہ میں لے جاتے ہیں: "ضارب زيدٌ عمرا"، اب دیکھو زيدٌ فاعل ہے اور عمراً مفعول ہے لیکن ضارب کون سے باب سے لے آئے آپ؟ بابِ مفاعلہ سے، اور بابِ مفاعلہ جانبین سے فعل کو چاہتا ہے، اب اس کا ترجمہ یہ نہ کرنا "ضارب زيدٌ عمرا" کہ زید نے عمرو کی پٹائی کی بلکہ معنیٰ ہوگا زید اور عمرو دونوں نے ایک دوسرے کی پٹائی کی۔ زید نے عمرو کی پٹائی کی ہے اور عمرو نے زید کی پٹائی کی ہے کیونکہ یہ خاصہ ہے کس کا؟ بابِ مفاعلہ کا، وہ جانبین سے فعل چاہتا ہے۔ تو ہر باب کے اسی طرح مختلف خاصے ہیں تو اسی طرح بابِ افعال کے بھی کئی خاصے ہیں، مثلاً ایک خاصہ ہے بابِ افعال کا کہ کسی لفظ کو آپ نے متعدی بنانا ہو تو بابِ افعال میں لے جاتے ہیں: جلس کا معنیٰ بیٹھنا، لیکن اگر آپ متعدی بنانا چاہتے ہیں تو اس کو بابِ افعال میں لے جائیں گے: اجلس، اجلس کا معنیٰ ہے بٹھانا۔ جلستُ کا معنیٰ میں خود بیٹھا، لیکن میں بتانا چاہتا ہوں میں نے دوسرے کو بٹھایا تو اب جلس سے تو کام نہیں چلے گا تو پھر میں بابِ افعال میں لے جاؤں گا اور یوں کہوں گا: "أجلست زيدا"، میں نے زید کو بٹھایا۔ دیکھو اب یہ متعدی بن گیا، یہ مفعول کو نصب دے رہا ہے۔ اسی طرح ذہبتُ کا معنیٰ میں خود گیا، اور اذہبتُ کا معنیٰ ہے میں دوسرے کو لے گیا، تو یہ متعدی ہو جاتا ہے بابِ افعال میں جب کسی فعل کو لے جائیں۔
اسی طرح بابِ افعال کا ایک خاصہ ہے سلبِ ماخذ۔ سلبِ ماخذ یعنی ماخذ کا سلب کر دیتا ہے، اس کی نفی کر دیتا ہے۔ نفی کر دیتا ہے جیسے فلوس عربی میں پیسوں کو کہتے ہیں اور اسی کو بابِ افعال میں لے گئے: "أفلس يفلس إفلاسا"، تو افلس کا معنیٰ پیسے ہونا نہیں بلکہ مفلس ہونا ہے: "أفلس يفلس إفلاسا فهو مفلس"، اب دیکھو یہ مفلس کس سے بنا ہے؟ اسی فلوس سے بنا ہے، اس میں وہی مادہ ہے: فا، لام اور سین، لیکن اس کو بابِ افعال میں لے گئے تو بابِ افعال میں گویا ایک ہمزہ شروع میں بڑھا دیا: "أفلس يفلس"، اور اب کیا معنیٰ؟ مفلس کسے کہتے ہیں؟ جس کے پاس پیسے ہوں یا نہ ہوں؟ جس کے پاس پیسے نہ ہوں اس کو مفلس کہتے ہیں کہ فلاں آدمی بڑا مفلس ہے۔ فلوس تو پیسوں کو کہتے ہیں لیکن بابِ افعال میں لے گئے تو تو یہ ہمزہ جو شروع میں بڑھایا یہ کس لیے آیا؟ سلبِ ماخذ، اس نے ماخذ کی نفی کر دی، ماخذ کیا تھا؟ فلوس تھا، پیسے، تو مفلس کسے کہتے ہیں؟ اس کے پاس فلوس ہیں یا فلوس نہیں ہیں؟ فلوس نہیں ہیں تو دیکھو یہ سلبِ ماخذ کے لیے آیا، اس ماخذ یعنی فلوس کی نفی کر دی۔
اسی طرح یہاں عَرِبَ کا کیا معنیٰ بتلایا؟ فاسد ہونا، ایک چیز کا خراب ہونا، لیکن اسی کو بابِ افعال میں لے گئے: "أعرب يعرب"، اب معنیٰ ہوگا خرابی کو دور کرنا۔ فساد کو ختم کرنا، جیسے مفلس کسے کہتے تھے؟ جس کے پاس فلوس نہیں ہوتے تھے۔ تو "أعرب يعرب إعرابا فهو معرب وأعرب يعرب إعرابا فذاك معرب"، تو معرب کس کو کہیں گے؟ جس سے فساد کو دور کر دیا گیا۔ جس سے تو دیکھو عَرِبَ کا معنیٰ تھا فاسد ہونا اور اعرب کا معنیٰ ہے فساد کو دور کرنا۔ تو بابِ افعال کا ہمزہ کبھی کس لیے آتا ہے؟ سلبِ ماخذ کے لیے، تو عَرِبَ کا معنیٰ تو تھا فاسد ہونا لیکن جب بابِ افعال میں لے گئے تو اب اس کا معنیٰ کیا ہوا؟ فساد کو دور کرنا۔ تو اعراب بھی کیا کرتا ہے؟ فساد کو دور کر دیتا ہے۔ فساد کو دور کر دیتا ہے۔
"ضرب زيد عمر"، میں نے اعراب نہیں پڑھے، "ضرب زيد عمر"، معنیٰ سمجھ میں آیا کون فاعل ہے کون مفعول ہے؟ نہیں، پتہ نہیں زید یا عمرو ان میں سے کون فاعل ہے اور کون مفعول ہے، کوئی پتہ نہیں چل رہا۔ لیکن جب میں اسی پر اعراب پڑھوں گا "ضرب زيدٌ عمرا"، دیکھو اعراب نے اس فساد کو، خرابی کو دور کر دیا یا نہیں؟ تو پہلے اس میں ابہام تھا کہ پتہ نہیں کون فاعل ہے کون مفعول ہے، لیکن اعراب نے آ کر اس ابہام کے فساد کو دور کر دیا، اب ابہام نہیں ہے، اب پتہ چل گیا: "ضرب زيدٌ عمرا"، کہ زید فاعل ہے اور عمرو مفعول ہے۔
تو کہتے ہیں: "أو من عربت معدته"، یا یہ ماخوذ ہے "عربت معدته" سے، عربی میں کہتے ہیں "عربت معدته إذا فسدت"، جب کسی کا معدہ فاسد ہو جائے، خراب ہو جائے۔ "على أن يكون الهمزة للسلب"، بنا بر اس کے کہ اس کا جو ہمزہ ہے وہ سلب کے لیے ہوگا، بابِ افعال کا یہ ہمزہ کس لیے ہو جائے گا؟ سلب۔ تو عَرِبَ کو کس میں لے گئے؟ بابِ افعال میں: "أعرب يعرب إعرابا"، تو یہ اعراب بابِ افعال کا مصدر ہے بھئی، تو عَرِبَ کو لے گئے بابِ افعال میں تو اس کا ہمزہ جو ہے سلب کے لیے ہوگا "فيكون معناه إزالة الفساد"، تو اعراب کا معنیٰ ہوگا "إزالة الفساد"، فساد کو زائل کرنا، اس کو ختم کرنا۔ "سمي به"، تو اعراب کو یہ نام دیا گیا "لأنه يزيل فساد التباس بعض المعاني ببعض"، اس لیے کیونکہ یہ اعراب جو ہے یہ بھی دور کر دیتا ہے، کس چیز کو دور کرتا ہے؟ "فساد التباس بعض المعاني ببعض"، وہ جو بعض معانی کا بعض کے ساتھ التباس لازم آ رہا تھا، اس فساد کو یہ دور کر دیتا ہے۔ اگر اعراب نہ پڑھتے تو پھر تو پتہ ہی نہیں چلنا تھا کہ یہ فاعل ہے یا مفعول، تو معانی کا آپس میں التباس لازم آتا۔ "ضرب زيد عمر"، دیکھو معانی کا التباس ہے، پتہ نہیں کس میں فاعلیت والا معنیٰ ہے اور کس میں مفعولیت والا، لیکن جب اعراب آیا تو اس نے اس التباس کے فساد کو دور کر دیا۔ "لأنه يزيل فساد التباس بعض المعاني ببعض"، اس لیے کیونکہ یہ بعض معانی کا بعض کے ساتھ جو التباس آتا ہے اس کے فساد کو دور کر دیتا ہے، ختم کر دیتا ہے۔
"وأنواعه أي أنواع إعراب الاسم ثلاثة رفع ونصب وجر"۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ جی، اب پہلے متن متن دیکھ لیجیے۔ کہتے ہیں: "وأنواعه رفع ونصب وجر"، اور اعراب کی قسمیں جو ہیں وہ رفع، نصب اور جر ہیں۔
"فالرفع علم الفاعلية، والنصب علم المفعولية، والجر علم الإضافة"۔ تو رفع جو ہے وہ فاعل کی علامت ہے، "علم الفاعلية"، علم یہاں بمعنی علامت کے ہے تو "فالرفع علم الفاعلية"، تو رفع جو ہے فاعل ہونے کی علامت ہے "والنصب علم المفعولية"، اور نصب جو ہے وہ مفعول ہونے کی علامت ہے "والجر علم الإضافة"، اور جر جو ہے وہ مضاف الیہ ہونے کی علامت ہے بھئی۔
بھئی یاد رکھو، یہاں تین قسم کے نام ہیں: "رفعٌ، نصبٌ، جرٌ"، اور ایک "ضمٌ، فتحٌ، كسرٌ"، یہ دوسرا، اور تیسرا ہے اسی کے ساتھ گول تا جوڑ دیں: "ضمةٌ، فتحةٌ، كسرةٌ"۔ کتنی قسم کے نام؟ تین۔ نمبر ایک: "رفعٌ، نصبٌ، جرٌ"، دوسرا ہے "ضمٌ، فتحٌ، كسرٌ"، اور تیسرا اسی کے ساتھ گول تا جوڑ دیں: "ضمةٌ، فتحةٌ، كسرةٌ"۔ اس میں یاد رکھیے "رفعٌ، نصبٌ، جرٌ"، یہ نام خاص ہیں معرب کے ساتھ۔ یہ نام خاص ہیں کس کے ساتھ؟ معرب کے ساتھ، معرب کبھی مرفوع ہوگا، کبھی منصوب ہوگا، کبھی مجرور ہوگا۔ اور "ضمٌ، فتحٌ، كسرٌ" بغیر گول تا کے، یہ خاص ہیں مبنی کے ساتھ بھئی، کبھی مبنی وہ مبنی علی الضم ہوگا، کبھی مبنی علی الفتح ہوگا اور کبھی مبنی علی الکسر ہوگا۔ "يا رجلُ"، دیکھو یہ مبنی علی الضم ہے۔ یا اسی طرح دیکھ لو: "جاء هؤلاءِ"، یہ ھؤلاء فاعل بن رہا ہے لیکن یہ مبنی ہے تو اس پر اعراب ظاہر نہیں ہوا اور آخر میں وہ کسرہ اسی طرح رہا تو اس کو کہیں گے کہ یہ مبنی علی الکسر ہے۔ یہ مبنی علی الکسر، تو "رفعٌ، نصبٌ، جرٌ"، یہ نام خاص ہیں معرب کے ساتھ، "ضمٌ، فتحٌ، كسرٌ" بغیر گول تا کے، یہ نام خاص ہیں مبنی کے ساتھ، اور "ضمةٌ، فتحةٌ، كسرةٌ"، یہ نام دونوں کے ساتھ استعمال ہوتے ہیں: معرب کے ساتھ بھی اور مبنی کے ساتھ بھی، بات سمجھ میں آ گئی۔
اب آئیے کتاب پر۔ کہتے ہیں: "وأنواعه أي أنواع إعراب الاسم ثلاثة رفع ونصب وجر"۔ بھئی متن میں آیا "وأن"، توجہ سے: "وأنواعه رفع ونصب وجر"، اور اعراب کی قسمیں تین ہیں: "رفع ونصب وجر"، توجہ ہے؟ تین قسمیں ہیں۔ صاحبِ جامی "وأنواعه" جو مبتدا آیا، اس کے بعد آگے ذکر کرتے ہیں: "أي أنواع إعراب الاسم"، یعنی اسم کے اعراب کی یہ تین قسمیں ہیں: رفع، نصب اور جر۔ کس کے اعراب کی؟ اسم کے۔ سوال: بھئی یہ عبارت نکالنے کی کیا ضرورت ہے؟ دراصل یہاں شبہ پیدا ہو سکتا ہے کسی کے ذہن میں کہ بھئی اعراب تو چار قسم پر ہے: رفع بھی ہے، نصب بھی ہے، جر بھی ہے اور اسی طرح فعلِ مضارع کے اندر جزم بھی آتا ہے: "يضربُ"، "لن يضربَ" اور "لم يضربْ"۔ "يضربُ" دیکھو رفع آ رہا ہے، "لن يضربَ" دیکھو نصب آ رہا ہے، اور "لم يضربْ" دیکھو جزم آ رہا ہے۔ تو اسم میں رفع، نصب، جر آتا ہے اور فعلِ مضارع میں رفع، نصب اور جزم آتا ہے۔ تو اعراب کی ایک چوتھی قسم بھی ہے گویا یہاں پر: رفع، نصب، جر اور جزم۔ جزم، تو چار قسم کا اعراب ہے تو انہوں نے تین کہا، تو شارحِ جامی جواب دے رہے ہیں کہ یہاں ہم اسم کے اعراب کی قسمیں بیان کر رہے ہیں، فعلِ مضارع کی نہیں۔ تو اسم کی تو یہی تین قسمیں ہیں، وہ جو جزم چوتھی قسم ہے وہ فعلِ مضارع کے اندر ہے بھئی۔ یہ معنیٰ ہے: "وأنواعه أي أنواع إعراب الاسم"، اور اسم کے اعراب کی جو قسمیں ہیں "ثلاثة"، تین ہیں بھئی۔
بھئی "رفع ونصب وجر"، یہ خبر ہے "وأنواعه" کی۔ عبارت پہ توجہ ہے؟ "وأنواعه" یہ ہے مبتدا اور "رفع ونصب وجر" یہ ہے اس کی خبر، اور اسم کے اعراب کی قسمیں جو ہیں رفع، نصب اور جر ہیں۔ تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ بھئی یہاں تو حمل ٹھیک نہیں بن رہا، تو یہ اس کی خبر ہے تو یہاں پر صاحبِ جامی نے یہ "رفع ونصب وجر"، اس سے پہلے "ثلاثة" کا لفظ نکالا، یہ کیا بتلانا چاہتے ہیں وہ "ثلاثة" کے ذریعے؟ کہ "وأنواعه أي أنواع إعراب الاسم ثلاثة"، اسم کے اعراب کی تین قسمیں ہیں، آگے آ گیا "رفع ونصب وجر"۔ یہ "ثلاثة" کا لفظ وہ کیوں لے کر آئے بھئی؟ بھئی وجہ یہ ہے کہ یہاں اعتراض ہوتا ہے، اعتراض یہ: "وأنواعه"، انواع جمع ہے، انواع جمع ہے کہ اسم کے اعراب کی انواع جو ہیں اس کی اقسام جو ہیں وہ "رفع ونصب وجر"، یہاں رفعٌ کا حمل انواع پر نہیں ہو سکتا۔ اکیلے رفعٌ جو خبر میں آ رہا ہے: "رفع ونصب وجر"، تو یہ جو رفعٌ ہے اس کا حمل انواع پر نہیں ہو سکتا کیونکہ انواع کیا ہے؟ جمع، اور رفع یہ تو ایک نوع ہے۔ اسی طرح نصبٌ کا حمل بھی نہیں ہو سکتا یوں کہا جائے: "وأنواعه نصبٌ"، یہ بھی درست نہیں۔ اسی طرح جر کا حمل بھی نہیں ہو سکتا: "وأنواعه جرٌ"۔ اشکال سمجھ میں آ رہا ہے؟ کیونکہ مبتدا جمع ہے اور خبر کے اندر رفع، نصب، جر تینوں مفرد ہے، الگ الگ ہیں بھئی۔
تو شارحِ جامی "ثلاثة" کے لفظ کے ذریعے یہ بتلانا چاہتے ہیں کہ بھئی یہاں عطف مقدم ہے حمل پر۔ یہاں عطف مقدم ہے حمل پر، کبھی حمل مقدم ہوتا ہے، کبھی عطف مقدم ہوتا ہے، یہاں عطف مقدم ہے۔ یعنی انواع جو ہے وہ تو ہے جمع اور ادھر خبر جو آ رہی ہے وہ تین چیزیں مفرد الگ، رفع اور نصب اور جر، ان میں واو آ رہا ہے، واو عطف کے لیے آتا ہے تو پہلے عطف کرو۔ جب عطف ہو جائے گا تو تینوں مل جائیں گے، جب تین مل گئے تو جمع بن گئے کہ نہیں؟ تین مل گئے تو جمع بن گئے تو اب اس کا عطف جو ہے انواعہ پر صحیح ہو جائے گا کہ اس کی اقسام کیا ہیں؟ صرف رفع نہیں، صرف نصب نہیں، صرف جر نہیں بلکہ یہ تینوں ہیں، اس کی اقسام رفع، نصب اور جر ہیں۔ تو یہ "ثلاثة" نکال کر بتلانا یہ چاہتے ہیں کہ یہ تینوں مل کر خبر بن رہے ہیں، ان میں سے اکیلا اکیلا کوئی خبر نہیں ہے بھئی۔ تو یہاں معلوم ہوا پہلے عطف کرنا پڑے گا، تینوں مل جائیں گے پھر اس کا حمل کریں گے یعنی اس کو خبر بنائیں گے انواعہ کے لیے۔
تو کہتے ہیں: "وأنواعه أي أنواع إعراب الاسم ثلاثة رفع ونصب وجر"، "وأنواعه" اور اس کی انواع یعنی اسم کے اعراب کی جو انواع ہیں تین ہیں: رفع، نصب اور جر۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو "ثلاثة" کے ذریعے کیا بتلانا چاہتے ہیں؟ کہ یہاں عطف مقدم ہے حمل پر۔ یہ تو ایک تقریر کی "ثلاثة" کی، کیا بتلانا چاہتے ہیں؟ کہ عطف مقدم ہے حمل پر۔ دوسرا جواب یہ بھی دیا جا سکتا ہے کہ یہ جو "ثلاثة" کا لفظ نکالا صاحبِ جامی نے، اس کے ذریعے وہ یہ بتلانا چاہتے ہیں کہ یہ "رفع ونصب وجر"، یہ انواعہ کی خبر یہ نہیں ہے بلکہ اس کی خبر محذوف ہے جو "ثلاثة" ہے۔ "وأنواعه ثلاثة"، اعراب کی کتنی قسمیں ہیں؟ تین قسمیں ہیں، اور پھر آگے "رفع ونصب وجر"، اس کو بدل بنائیں گے "ثلاثة" سے، اور بدل اور مبدل منہ کا اعراب ایک ہوتا ہے تو "ثلاثة" مرفوع تھا خبر ہے انواع کی، تو "رفع ونصب وجر" یہ جو بدل ہے یہ بھی مرفوع ہے بھئی۔ تو ایک ترکیب یہ کہ اگر "ثلاثة" کو خبر بناؤ تو "رفع ونصب وجر" اس کو بدل بنا دو۔
دوسری صورت یہ ہے کہ "رفع ونصب وجر"، ان کے لیے مبتدا محذوف نکال لیں اور ان کو پھر اس کے لیے خبر بنا دیں۔ یا تو ایک ہی مبتدا نکالو تینوں کے لیے اور وہ کیا؟ ہِیَ، "هي رفع ونصب وجر"، ہِیَ، جمع بتاویل جماعت کس کے حکم میں ہے؟ واحد مؤنث، تو ہِیَ ضمیر راجع کر دیں ثلاثہ کی طرف اور "رفع ونصب وجر" جو ہے اس کو اس کے لیے خبر بنا دیں، ہِیَ مبتدا اور یہ معطوف اور معطوف علیہ مل کر یہ خبر۔ یا ہر ایک کے لیے الگ الگ مبتدا نکال لو: "أحدها رفعٌ، وثانيها نصبٌ، وثالثها جرٌ"، تو أحدها مبتدا اور رفعٌ اس کی خبر، ان میں سے ایک رفع ہے۔ "وثانيها نصبٌ"، ثانيها مضاف مضاف الیہ مل کر مبتدا اور نصبٌ اس کی خبر، اور ان میں سے دوسرا نصب ہے۔ "وثالثها جرٌ"، اور ان میں سے تیسرا جر ہے۔
آگے دیکھیے، کہتے ہیں: "هذه الأسماء الثلاثة مختصة بالحركات والحروف الإعرابية"۔ میں نے آپ کو بتلایا: رفع، نصب اور جر، یہ خاص ہیں کس کے ساتھ؟ معرب کے ساتھ، اور ضم، فتح، کسر، یہ خاص ہیں مبنی کے ساتھ، اور ضمہ، فتحہ، کسرہ، یہ دونوں کے ساتھ استعمال ہوتے ہیں۔ اب یہی بیان کرنے لگے ہیں، کہتے ہیں: "هذه الأسماء الثلاثة مختصة بالحركات والحروف الإعرابية"، یہ تین نام جو ہیں یہ خاص ہیں حرکات اور حروفِ اعرابیہ کے ساتھ۔ تو کہتے ہیں: "هذه الأسماء الثلاثة مختصة بالحركات والحروف الإعرابية"، کہ یہ جو تین نام ہیں یعنی رفع، نصب اور جر، یہ خاص ہیں حرکات و حروفِ اعرابیہ کے ساتھ۔ آپ جانتے ہیں اعراب کبھی حرف کے ساتھ آتا ہے، کبھی حرکت کے ساتھ۔ اعراب بالحرف جیسے "جاءني أبوك"، "رأيت أباك"، "مررت بأبيك"، یہ واو، الف اور یا کے ساتھ اعراب ہے تو حروف کے ساتھ ہے۔ اور کبھی اعراب حرکت کے ساتھ آتا ہے: "جاءني زيدٌ"، "رأيت زيدا"، "مررت بزيدٍ"۔ تو کبھی کبھار اعراب بالحرف آتا ہے اور کبھی اعراب بالحرکۃ آتا ہے، تو یہ جو رفع، نصب والے نام ہیں یہ اعراب کے ساتھ خاص ہیں، یعنی وہ جو اعرابی حرکات ہیں یا اعرابی حروف ہیں ان پر یہ بولا جاتا ہے یعنی معرب پر بولا جاتا ہے آسان لفظوں میں، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: "هذه الأسماء الثلاثة مختصة بالحركات والحروف الإعرابية"، اور یہ تین نام جو ہیں وہ خاص ہیں حرکات و حروفِ اعرابیہ کے ساتھ یعنی وہ حروف اور وہ حرکات جو اعراب والی ہوتی ہیں "ولا تطلق على الحركات البنائية أصلا"، اور ان کا اطلاق نہیں کیا جاتا یعنی یعنی ان کو بولا نہیں جاتا حرکاتِ بنائیہ پر اصلاً، ای قطعاً، ان کو قطعی طور پر وہ جو مبنی پر حرکتیں آتی ہیں ان کے لیے نہیں بولا جاتا، استعمال نہیں کیا جاتا، معنیٰ سمجھ میں آ گیا؟ تو کہتے ہیں: "ولا تطلق على الحركات البنائية أصلا"، اور ان کا اطلاق حرکاتِ بنائیہ پر قطعاً نہیں ہوتا "بخلاف الضمة والفتحة والكسرة"، بخلاف ضمہ، فتحہ اور کسرہ کے۔ میں نے بتلایا بھئی، ان کے ساتھ جب گول تا جڑی ہوئی ہو ضمہ، فتحہ، کسرہ تو پھر یہ دونوں کے لیے استعمال ہوتے ہیں، معرب کے لیے بھی اور مبنی کے لیے بھی۔ یہی آپ کو بتلائیں گے کہ جب ان کے ساتھ گول تا جڑی ہوئی ہو ضمہ، فتحہ، کسرہ تو پھر یہ حرکاتِ بنائیہ کے لیے بھی استعمال ہوتے ہیں اور حرکاتِ اعرابیہ کے لیے بھی استعمال ہوتے ہیں یعنی دونوں پر ان کا اطلاق ہوتا ہے۔ "بخلاف الضمة والفتحة والكسرة فإنها مستعملة في الحركات البنائية غالبا وفي الحركات الإعرابية على قلة"، بخلاف ضمہ، فتحہ اور کسرہ کے، اس لیے کیونکہ یہ استعمال ہوتے ہیں حرکاتِ بنائیہ میں بھی غالباً، زیادہ تر، "وفي الحركات الإعرابية"، اور یہ استعمال ہوتے ہیں حرکاتِ اعرابیہ میں "على قلة"، قلت کے طریقے پر۔ یعنی استعمال دونوں میں ہوتے ہیں لیکن حرکاتِ بنائیہ میں یہ زیادہ استعمال ہوتے ہیں اور حرکاتِ اعرابیہ میں کم استعمال ہوتے ہیں۔
جی، متن ہم نے حل کر لیا تھا، متن کیا تھا؟ "فالرفع علم الفاعلية، والنصب علم المفعولية، والجر علم الإضافة"، اب شرح کے ساتھ اس کو دیکھیے بھئی۔ کہتے ہیں: "فالرفع"، رفع جو ہے، "حركة كان أو حرفا"، چاہے وہ حرکت ہو یا حرف ہو۔ بھئی آپ پڑھ چکے ہیں کہ اعراب کبھی بالحرف آتا ہے اور کبھی بالحرکۃ آتا ہے تو وہی بیان کر رہے ہیں کہ رفع چاہے حرکت کے ساتھ آئے چاہے حرف کے ساتھ آئے۔ حرکت کے ساتھ رفع آئے گا "زيدٌ"، اور کبھی رفع حرف کے ساتھ آئے گا "مسلمون" یا "أبوك"، واو آ رہا ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: "فالرفع حركة كان أو حرفا علم الفاعلية"، رفع جو ہے وہ حرکت ہو یا حرف ہو "علم الفاعلية أي علامة كون الشيء فاعلا"، تو دیکھو متن میں آیا "علم الفاعلية"، اور آگے شارحِ جامی نے اس کی شرح کی: "أي علامة كون الشيء فاعلا"، ایک تو یہ بتلا دیا کہ یہ علم بمعنی علامت کے ہے اور دوسرا فاعلیت جو ہے اس کے اندر یہ جو یا مشدد اور گول تا آخر میں جڑی ہوئی ہے یہ نسبت کے لیے نہیں ہے، مصدر کے لیے ہے، کس کے لیے ہے؟ مصدریت کے لیے ہے بھئی۔ بھئی دیکھو یہ یا مشدد جو ہے نسبت کے لیے بھی کبھی جوڑتے ہیں: لاہور، اور اس کے ساتھ یا مشدد جوڑ دی: لاہوریٌ، لاہور والا، اور اگر وہ مؤنث چیز ہو تو کیا کہتے ہیں؟ لاہوریۃٌ، لاہور والی۔ تو یہاں پر بھی فاعلیت میں آپ یہ نہ سمجھنا کہ یہ یا نسبت والی ہے بلکہ یہ یا مصدریت والی ہے، مصدر بنانے کے لیے لائی جاتی ہے، تو فاعلیت کا کیا معنیٰ ہوگا؟ فاعل ہونا۔ فاعل ہونا، چنانچہ اسی لیے آگے کیا کہا: "أي علامة كون الشيء فاعلا"، "علامة كون الشيء فاعلا"، ایک شے کے فاعل ہونے کی علامت۔ "كون الشيء فاعلا"، یہ کس کا ترجمہ کر رہے ہیں؟ فاعلیت کا، اور کون کیا ہے؟ مصدر۔ "كون الشيء فاعلا"، ایک شے کا فاعل ہونا۔ تو دیکھو فاعلیت کا ترجمہ مصدر کے ساتھ کیا، بتلا دیا کہ یہ جو آخر میں یا مشدد اور گول تا ہے یہ مصدر والی ہے، نسبت والی نہیں ہے۔
تو کہتے ہیں: "علم الفاعلية أي علامة كون الشيء فاعلا حقيقة أو حكما"، یعنی علامت ہے ایک شے کے فاعل ہونے کی، "حقيقة أو حكما"، آگے بتلا رہے ہیں فاعل ہونا عام ہے، حقیقتاً ہو یا حکماً ہو۔ حقیقتاً ہو یا حکماً ہو۔ بھئی حقیقتاً تو فاعل وہ ہے جس کو فعل رفع دیتا ہے: "ضرب زيدٌ"، یہ ہے یہ کیا ہے؟ حقیقتاً فاعل ہے۔ لیکن رفع صرف فاعل پر آتا ہے یا مبتدا، خبر وغیرہ پر بھی رفع آتا ہے؟ مبتدا اور خبر وغیرہ پر بھی رفع آتا ہے تو وہ تو فاعل نہیں، وہ تو مبتدا اور خبر ہیں، تو بتلا دیا کہ فاعل ہونا عام ہے چاہے حقیقتاً فاعل ہو چاہے حکماً فاعل ہو۔ یہ مبتدا، خبر وغیرہ یہ حقیقتاً تو فاعل نہیں لیکن یہ حکماً فاعل ہیں یعنی فاعل کے حکم میں ہیں، ان کو کیا حکم دے دیا؟ یہ بھی کس کے درجے میں ہیں؟ فاعل کے درجے میں ہیں۔ کس طرح فاعل کے درجے میں ہیں؟ یعنی جس طرح فاعل کلام میں عمدہ واقع ہوتا ہے، مبتدا اور خبر بھی کلام میں عمدہ واقع ہوتے ہیں۔ کیا واقع ہوتے ہیں؟
بھئی میں نے آپ کو بتلایا تھا، ایک ہے عمدہ، ایک ہے فضلہ۔ عمدہ اور فضلہ ایک دوسرے کے مقابل ہیں۔ جو عمدہ ہے وہ فضلہ نہیں، جو فضلہ ہے وہ عمدہ نہیں، اور عمدہ کسے کہتے ہیں؟ عمدہ کہتے ہیں کلام کا وہ ضروری حصہ جس کے بغیر کلام پورا ہی نہ ہو سکے اور وہ صرف دو حصے ہوتے ہیں: ایک کو کہتے ہیں مسند بہ اور ایک کو کہتے ہیں مسند الیہ۔ تو مسند الیہ اور مسند بہ، یہ عمدہ ہوتے ہیں کلام کے اندر، توجہ ہے؟ تو جملہ اسمیہ اس کے اندر مبتدا، خبر آتے ہیں، مبتدا ہوتا ہے مسند الیہ اور خبر ہوتی ہے مسند، تو مسند الیہ یہ بھی عمدہ اور مسند یہ بھی عمدہ۔ تو جملہ اسمیہ میں مبتدا اور خبر دونوں عمدہ ہیں اور اسی طرح جملہ فعلیہ کے اندر فعل آتا ہے اور اس کے بعد آگے فاعل یا نائب فاعل آتے ہیں تو فعل جو ہے وہ مسند بنتا ہے اور فاعل یا نائب فاعل مسند الیہ بنتے ہیں، اور مسند بھی کلام کا ضروری حصہ ہے اور مسند الیہ بھی کلام کا ضروری حصہ ہے، ان کے بغیر کلام پورا ہو ہی نہیں سکتا۔ تو مبتدا اور خبر یہ دونوں بھی عمدہ، اور فعل اور فاعل یا نائب فاعل یہ بھی کیا ہیں؟ عمدہ ہیں بھئی۔ تو عمدہ کلام کا وہ ضروری حصہ جس کے بغیر کلام پورا ہی نہ ہو سکے اور وہ دو ہوتے ہیں: مسند اور مسند الیہ، تو یہ دونوں عمدہ ہوتے ہیں اور ان کو حذف کرنا جائز نہیں، الا یہ کہ کوئی قرینہ موجود ہو جو ہمیں بتلائے کہ مبتدا حذف ہے یا خبر حذف ہے وغیرہ، بات سمجھ میں آ گئی۔
اور دوسرا جو ہے وہ فضلہ۔ فضلہ کہتے ہیں کلام کا زائد حصہ جس جس کے بغیر بھی کلام پورا ہو۔ جیسے "ضرب زيدٌ عمرا"، زید نے عمرو کی پٹائی کی، ضرب مسند، زيدٌ مسند الیہ، اور عمراً یہ مفعول ہے، یہ فضلہ ہے، نہ یہ مسند ہے نہ یہ مسند الیہ ہے تو یہ جتنے منصوبات ہیں یہ سارے فضلہ ہیں یعنی ان کے بغیر بھی کلام پورا ہے۔ میں نے پہلے کیا کہا تھا: "ضرب زيدٌ عمرا"، میں اگر مفعول کو حذف بھی کر دوں کلام پھر بھی پورا ہے: "ضرب زيدٌ"، زید نے پٹائی کی۔ اب اگرچہ میں نے مفعول ذکر نہیں کیا لیکن آپ کو بات پوری سمجھ میں آ گئی کہ زید نے پٹائی کی ہے تو کوئی نہ کوئی مضروب تو ہوگا اگرچہ میں نے ذکر نہیں کیا۔ تو کلام کے لیے اصل چیز کیا چاہیے؟ مسند اور مسند الیہ، تو یہ جو مفعول وغیرہ ہوتے ہیں، یہ جو جار مجرور ہوتے ہیں یہ یہ سب فضلہ ہیں، زائد ہیں۔
بات چل رہی تھی کہ فاعل چاہے حقیقتاً ہو یا حکماً ہو۔ حقیقتاً تو فاعل جیسے "ضرب زيدٌ"، یہ زيدٌ کیا ہے؟ فاعل، اور حکماً فاعل تاکہ یہ مبتدا، خبر وغیرہ جو اور مرفوعات ہیں وہ بھی اس کے اندر داخل ہو جائیں، کیونکہ وہ حقیقت میں تو فاعل نہیں ہیں، وہ تو مبتدا ہے یا خبر ہے وغیرہ، لیکن حکماً وہ بھی کیا ہیں؟ فاعل، یعنی ان کو فاعل والا حکم دے دیا، یعنی وہ کلام جیسے فاعل کلام کا میں عمدہ ہوتا ہے، اہم رکن ہے کلام کا، اسی طرح مبتدا اور خبر بھی عمدہ ہیں، کلام کا اہم رکن ہوتے ہیں۔
تو کہتے ہیں: "أي علامة كون الشيء فاعلا حقيقة أو حكما"، یعنی یہ علامت ہے ایک شے کے فاعل ہونے کی چاہے وہ فاعل حقیقتاً ہو یا حکماً ہو۔ "ليشمل الملحقات بالفاعل أيضا كالمبتدأ والخبر وغيرهما"، صاحبِ جامی نے بتلایا کہ فاعل ہونا عام ہے چاہے حقیقتاً ہو یا حکماً۔ یہ عام کیوں کیا انہوں نے؟ کہتے ہیں تاکہ اور مرفوعات بھی اس کے اندر داخل ہو جائیں یعنی مبتدا، خبر وغیرہ، وہ بھی کیا ہیں؟ فاعل ہونے کی علامت پر مشتمل، توجہ ہے؟ انہوں نے کیا کہا؟ ادھر دیکھیے: رفع کس کی علامت ہے؟ فاعل ہونے کی علامت ہے۔ بھئی مبتدا تو فاعل نہیں ہے، خبر تو فاعل نہیں ہے، وہ تو نہیں داخل ہو رہے تھے حالانکہ ان پر بھی کیا آتا ہے؟ رفع۔ تو بتلایا کہ رفع فاعل ہونے کی علامت ہے لیکن فاعل ہونا عام ہے چاہے حقیقتاً فاعل ہو یا حکماً فاعل ہو۔ جب حکماً فاعل کہہ دیا تو اب یہ جو فاعل کے ساتھ ملحق چیزیں ہیں وہ بھی اس کے اندر داخل ہو گئیں یعنی مبتدا، خبر وغیرہ بھی۔ تو کہتے ہیں: "ليشمل الملحقات بالفاعل أيضا"، تاکہ یہ شامل ہو جائے فاعل کے جو ملحقات ہیں ان کو بھی "كالمبتدأ والخبر وغيرهما"، جیسے کہ مبتدا اور خبر وغیرہ ہیں۔
"والنصب حركة كان أو حرفا"، اور نصب جو ہے چاہے حرکت ہو یا حرف ہو "علم المفعولية"، وہ مفعول ہونے کی علامت ہے "أي علامة كون الشيء مفعولا حقيقة أو حكما"، ایک شے کے مفعول ہونے کی علامت ہے چاہے حقیقتاً مفعول ہو چاہے حکماً۔ دیکھا؟ مفعول ہونا بھی عام ہے، اس لیے کیونکہ منصوبات وہ صرف مفعول تو نہیں منصوب ہوتا بلکہ حال بھی منصوب ہوتا ہے، تمیز بھی منصوب ہوتی ہے، اور بھی چیزیں کلامِ عرب میں منصوب اتی ہیں تو اگر یہ مفعول ہونے کی علامت ہے تو پھر ان پر نصب کیوں آ رہا ہے؟ تو جواب دے دیا کہ مفعول ہونا عام ہے چاہے حقیقتاً ہو یا حکماً، تو باقی منصوبات جو ہیں وہ حقیقتاً تو مفعول نہیں لیکن حکماً وہ بھی مفعول ہیں، مفعول کے حکم میں ہیں۔ یعنی فضلہ ہیں، جیسے مفعول فضلہ ہوتا ہے یہ بھی فضلہ ہیں، زائد ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: "أي علامة كون الشيء مفعولا"، یعنی کسی شے کے مفعول ہونے کی علامت ہے یہ نصب جو ہے "حقيقة أو حكما"، اور یہ مفعول ہونا حقیقتاً ہو یا حکماً ہو "ليشمل الملحقات به"، تاکہ یہ شامل ہو جائے مفعول کے ملحقات کو۔
"والجر حركة كان أو حرفا علم الإضافة"، اور جر جو ہے حرکت ہو یا حرف ہو وہ اضافت کی علامت ہے "أي علامة كون الشيء مضافا إليه"، یعنی ایک شے کے مضاف الیہ ہونے کی علامت ہے۔ "وإذا كانت الإضافة بنفسها"، جی یہاں سے یہ بتلانا چاہتے ہیں کہ دیکھیے، پیچھے آیا تھا "علم الفاعلية"، وہاں یا مشدد اور گول تا ساتھ جوڑ دی تھی، اور آگے آیا "علم المفعولية"، وہاں پر بھی یا مشدد اور گول تا جوڑ دی، تو اضافت کے اندر یا مشدد اور گول تا کیوں نہیں جوڑی؟ تو اس کو بتلانے لگے ہیں کہ بھئی اضافت خود مصدر ہے۔ وہاں جو یا مشدد اور گول تا ملائی تھی کس لیے؟ تاکہ وہ مصدر بن جائے۔ فاعل، فاعل تو صفت ہے، مصدر تو نہیں ہے تو ہم نے مصدر بنا دیا: فاعلیت، فاعل ہونا۔ مفعول تو ایک صفت ہے تو ہم نے اس کو مصدر بنا دیا: مفعولیت، مفعول ہونا۔ اور اضافت، یہ تو خود ہی مصدر ہے، اس کے ساتھ یا مشدد اور تا جوڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔
تو کہتے ہیں: "وإذا كانت الإضافة بنفسها مصدرا"، اور جب اضافت جو ہے وہ خود مصدر ہے "لم تحتج إلى إلحاق الياء المصدرية إليها"، تو یہ محتاج نہیں ہوا کہ اس کے ساتھ یا مصدریہ کو ملایا جائے، یہ محتاج نہ ہوا، یہ اضافت محتاج نہ ہوا کہ اس کے ساتھ اس کے ساتھ یا مصدریہ کو ملایا جائے، ترجمہ سمجھ میں آ گیا؟ پھر دیکھ لیں، کہتے ہیں: "وإذا كانت الإضافة بنفسها مصدرا"، اور جب اضافت جو ہے وہ خود مصدر ہے "لم تحتج إلى إلحاق الياء المصدرية إليها"، تو یہ محتاج نہیں ہے کہ ملایا جائے یا مصدریہ کو الیہا، اس کے ساتھ "كما في الفاعلية والمفعولية"، جیسے کہ فاعلیت اور مفعولیت میں تھا، یہ ان کی طرح محتاج نہیں ہے یا کے ملانے کا۔
"وإنما اختص الرفع بالفاعل والنصب بالمفعول والجر بالمضاف إليه"۔ سوال: بھئی فاعل کو رفع والی علامت کیوں دے دی، اس کو نصب یا جر کیوں نہیں دیا؟ اور مفعول کو نصب والی علامت کیوں دی، اس کو رفع یا جر کیوں نہیں دیا؟ اور مضاف الیہ کو جر والی علامت دے دی، اس کو رفع یا نصب کیوں نہیں دیا؟ سوال سمجھ میں آیا؟ تو اب بتلانے لگے ہیں کہ بھئی دیکھیے، رفع جو ہے سب سے ثقیل حرکت ہے، اس کی زبان پر ادائیگی سب سے مشکل ہے۔ اور فاعل اور مفعول ان میں سے کم جو ہے وہ فاعل ہے، فاعل ایک ہی قسم ہے بھئی۔ فاعل کے افراد تو بہت ہوں گے: "ضرب زيدٌ"، یہ زيدٌ بھی فاعل ہے، "جاء عمرو"، یہ عمرو بھی فاعل ہے، "ذهب خالدٌ"، یہ خالد بھی کیا ہے؟ فاعل۔ افراد تو بہت ہیں لیکن یہ قسم ایک ہی ہے، جبکہ مفعول وہ تو پانچ قسم پر ہے: مفعولِ مطلق ہوتا ہے، اسی طرح مفعول بہ ہوتا ہے، اور مفعول لہ ہوتا ہے، مفعول معہ ہوتا ہے اور اور مفعول فیہ ہوتا ہے، پانچ قسم کے مفعول ہیں۔ تو مفعول کی قسمیں ہوئیں زیادہ اور فاعل کی قسم ایک ہی ہے وہ قلیل ہوئی، تو جو قلیل تھی اس کو رفع والی علامت دے دی کیونکہ رفع سب سے ثقیل ہے بھئی۔ اور جو جو قسمیں زیادہ تھیں اس کو نصب دے دیا کیونکہ نصب سب سے ہلکی علامت ہے یعنی اس کی زبان پر ادائیگی سب سے آسان ہے۔ تو قلیل کو ثقیل علامت دے دی، قلیل جو تھا فاعل اس کو ثقیل، ثقیل جس کی زبان پر ادائیگی دشوار ہو۔ تو جو قلیل تھا اس کو ثقیل والی علامت دے دی، اور جو کثیر تھا اس کو خفیف یعنی ہلکی والی علامت دے دی جو زبان پر آسانی سے ادا ہو جاتی ہے، جو زبان سے آسانی سے ادا ہو جاتی ہے۔ اور پھر باقی مضاف الیہ رہ گیا تو اب اس کو مجبورا جر والی حرکت دینا پڑی کیونکہ اور کوئی حرکت باقی ہی نہیں بچی تھی بھئی۔
کہتے ہیں: "وإنما اختص الرفع بالفاعل والنصب بالمفعول والجر بالمضاف إليه"، خاص کیا گیا رفع کو فاعل کے ساتھ اور نصب کو مفعول کے ساتھ اور جر کو مضاف الیہ کے ساتھ "لأن الرفع ثقيل"، کیونکہ رفع ثقیل ہے یعنی اس کی زبان پر ادائیگی دشوار ہے "والفاعل قليل"، اور فاعل قلیل، بلکہ "والفاعلَ" پڑھیں بھئی، اس کا عطف کس پر کریں؟ "الرفعَ" پر اور وہ ان کا اسم ہے، منصوب ہے، تو یہ اس کا عطف بھی اس پر یہ بھی منصوب ہوگا۔ تو کہتے ہیں: "لأن الرفع ثقيل والفاعل قليل"، کیونکہ رفع ثقیل ہے اور فاعل قلیل ہے، ایک ہی ہے، قلیل ہے "لأنه واحد"، کیونکہ وہ ایک ہی ہے یعنی ایک ہی قسم ہے "فأعطي الثقيل القليلَ"، تو ثقیل جو ہے وہ دے دیا گیا قلیل کو "والنصب خفيف"، اور نصب خفیف ہے یعنی زبان پر آسانی سے ادا ہو جاتا ہے "والمفاعيل كثيرة"، یا یوں پڑھو: "والنصبَ خفيف"، اس نصب کا عطف بھی اسی "الرفعَ" پر کریں: "لأن الرفع ثقيل"، اور رفع منصوب تھا وہ ان کا اسم ہے تو اسی طرح "والنصبَ"، اور آگے "والمفاعيلَ" آ رہا ہے دونوں کو منصوب پڑھیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: "والنصبَ خفيف والمفاعيلَ كثيرة"، اور اس لیے کیونکہ نصب خفیف ہے اور مفاعیل کثیر ہیں "لأنها خمسة"، کیونکہ وہ پانچ ہیں "فأعطي الخفيف الكثيرَ"، تو جو خفیف علامت تھی وہ کثیر کو دے دی گئی، وہ کثیر کو دے دی گئی یعنی نصب جو ہے مفاعیل کو دے دیا گیا۔ "ولما لم يبق للمضاف إليه علامة غير الجر"، اور جب کوئی علامت باقی نہ رہی مضاف الیہ کے لیے علاوہ جر کے "جعل علامة له"، تو پھر اس جر کو مضاف الیہ کے لیے علامت بنا دیا گیا۔
رفع فاعل کو دے دیا گیا، نصب مفعول کو دے دیا گیا تو اب جر ہی باقی بچ گیا تھا تو وہ اب مضاف الیہ کو دے دیا گیا۔ یہ معنیٰ ہے: "ولما لم يبق للمضاف إليه علامة غير الجر جعل علامة له"، اور جب باقی نہ رہی مضاف الیہ کے لیے کوئی ایسی علامت جو جر کے علاوہ ہو تو اس تو اس جر کو اس کے لیے علامت بنا دیا گیا، بات سمجھ میں آ گئی۔
اچھا بعض شارحین نے اور وجہ ذکر کی اس کی بھئی۔ ملا جامی رحمہ اللہ نے تو آپ کو بتلایا کہ فاعل جو ہے اس کو رفع والی علامت دی گئی کیونکہ رفع ثقیل ہے اور فاعل قلیل ہے تو قلیل کو ثقیل والی علامت دے دی گئی۔ اور مفاعیل جو ہیں وہ کثیر ہیں اور فتحہ خفیف ہے تو جو کثیر تھے ان کو خفیف والی حرکت یعنی نصب دے دیا گیا۔ اور آخر میں صرف جر باقی بچ گیا تھا تو مضاف الیہ کو مجبورا جر والی حرکت دینا پڑی بھئی۔ تو معلوم ہوا جو مضاف الیہ کو جر والی حرکت دی وہ مجبوری کی وجہ سے دی ہے۔ بعض شارحین نے اور تقریر کی، اس کے اندر پھر یہ مجبوری کی بات کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے بلکہ ان کی تقریر کے مطابق ہر ایک کو جو حرکت دی گئی وہ اس کے مناسب تھی، اس کے ساتھ اس کی مناسبت تھی بھئی۔ تو مضاف الیہ کو بھی جو جر کی حرکت دی گئی وہ جر کی اس کے ساتھ مناسبت تھی اس لیے دی گئی، مجبوری کی وجہ سے نہیں دی گئی بھئی۔
چنانچہ وہ فرماتے ہیں کہ ایک ہے فاعل، ایک ہے مفعول، ایک ہے مضاف الیہ۔ فاعل سب سے قوی ہے کیونکہ کلام میں عمدہ واقع ہوتا ہے، کلام کا رکن ہے، اس کے بغیر کلام پورا ہی نہیں ہوتا۔ اور مفعول جو ہوتا ہے یہ فضلہ ہوتا ہے، کلام میں زائد چیز ہوتی ہے، تو یہ سب سے ضعیف۔ فاعل سب سے قوی کیونکہ وہ کلام میں عمدہ ہے، کلام کا بنیادی رکن ہے، اس کے بغیر کلام پورا ہی نہیں ہو سکتا۔ اور یہ جو مفعول ہے یہ فضلہ ہے، زائد ہے، اس کے بغیر بھی کلام پورا ہو جاتا ہے تو یہ سب سے ضعیف ہے۔ فاعل سب سے قوی اور مفعول سب سے ضعیف بھئی۔ اور یہ جو مضاف الیہ ہے یہ متوسط ہے دونوں کے درمیان ہے، اس لیے کیونکہ مضاف الیہ جو ہے یہ کبھی کبھار کلام کا رکن بنتا ہے اور کبھی رکن نہیں بنتا۔ کبھی رکن بنے گا جیسے "زيدٌ في الدارِ"، یہ دیکھو جار مجرور جو ہیں یہ کلام کا رکن بن رہے ہیں یعنی مضاف الیہ۔ "زيدٌ في الدارِ"، یہ فی تو صرف حرف ہے نا، تو یہ کبھی کلام کا رکن بنتا ہے مضاف الیہ اور کبھی رکن نہیں بنتا۔ رکن کب؟ مثلاً: "ضرب زيدٌ بالعصا"، ضرب فعل، زيدٌ فاعل، اور بالعصا جار مجرور متعلق ہیں کس سے؟ ضرب سے۔ تو ضرب ہوا مسند اور زيدٌ فاعل جو ہے وہ مسند الیہ، اور یہ بالعصا نہ یہ مسند ہے اور نہ یہ مسند الیہ ہے تو دیکھو یہ کلام میں فضلہ واقع ہو رہا ہے، زائد چیز ہے بھئی۔ اور کبھی کبھار یہ جار مجرور جو ہے یہ فضلہ نہیں ہوتا بلکہ یہ کلام کا رکن بنتا ہے، مثلاً میں کہتا ہوں "زيدٌ في الدارِ"، تو دیکھو زيدٌ ہے مبتدا اور فی الدار ہے خبر ہے بھئی، تو یہ کلام کا رکن بن رہا ہے باقاعدہ، اس وقت یہ فضلہ نہیں ہے بلکہ عمدہ ہے بھئی۔ تو یہ جار مجرور ہیں اس میں جو یہ مجرور ہے یہ ہے مضاف الیہ بھئی، مضاف الیہ۔ تو دیکھو ان دو مثالوں میں: "ضرب زيدٌ بالعصا"، اس میں بالعصا یعنی جار مجرور کہہ لو یا یوں کہہ لو یہ جو مجرور ہے یعنی مضاف الیہ، وہ فضلہ واقع ہو رہا ہے۔ اور "زيدٌ في الدارِ"، اس کے اندر جو الدار جو ہے مجرور جو ہے وہ ظرف کا حصہ ہے اور یہ کلام کا رکن بن رہا ہے۔ تو معلوم ہوا مضاف الیہ جو ہے وہ کبھی کلام کا رکن بنتا ہے اور کبھی فضلہ بنتا ہے، یعنی کبھی عمدہ ہوتا ہے اور کبھی فضلہ۔ تو اس کا درجہ متوسط ہے۔ سب سے اعلیٰ درجہ فاعل کا کہ وہ ہمیشہ عمدہ ہے، کلام کا اعلیٰ رکن ہے۔ اور سب سے کمزور درجہ مفعول کا ہے کہ وہ ہمیشہ فضلہ بنتا ہے۔ اور مضاف الیہ جو ہے وہ متوسط ہے، کبھی وہ کلام میں عمدہ بنتا ہے، رکن بنتا ہے اور کبھی وہ فضلہ بنتا ہے۔
تو حرکتیں بھی تین قسم کی: رفع جو ہے وہ سب سے قوی حرکت ہے، اور جو فتحہ ہے وہ سب سے خفیف اور ضعیف حرکت ہے، اور کسرہ جو ہے وہ متوسط درجے کا ہے۔ تو حرکتیں بھی تین قسم کی ہو گئیں: رفع ہے قوی، نصب ہے ضعیف اور جر ہے متوسط۔ اسی طرح فاعل ہے قوی، مفعول ہے ضعیف بھئی اور مضاف الیہ ہے متوسط۔ تو قوی کو قوی حرکت دے دی، فاعل کو رفع دے دیا۔ متوسط کو متوسط حرکت دے دی یعنی مضاف الیہ کو جر دے دیا، اور ضعیف کو ضعیف حرکت دے دی یعنی مفعول کو نصب دے دیا۔ دیکھا؟ اب اس تقریر کو لیں گے تو جو جر دیا مضاف الیہ کو، وہ مجبوری کی وجہ سے نہیں دیا بلکہ اس کے ساتھ اس کی مناسبت ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو یہ بعض شارحین نے تقریر کی بھئی۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔